22 Jan 2026

خلاصہ تحریک آزادی ہند اور جمعیت علمائے ہند


 خلاصہ تحریک آزادی ہند اور جمعیت علمائے ہند


محمد یاسین جہازی قاسمی 

9891737350

نحمدہٗ و نصلّی علٰی رسولہِ الکریم

ہندستان :دارالاسلام سے دارالحرب کی طرف

ملک ہندستان کا دارالحرب بن جانا مسلم ہندستان کی سیاسی تاریخ کا بہت اہم واقعہ تھا؛ لیکن ملک کی سیاسی نوعیت بدل جانے اور دار الاسلام سے دارالحرب ہو جانے کا عمل اتنی آہستگی سے ظہور میں آیا تھا کہ ایک صاحب نظر ہستی کو مستثنیٰ کر دینے کے بعد وقت کا کوئی مدبر اس کی آہٹ بھی نہ سن سکا۔ اتنا ہی نہیں؛ بلکہ متعدد اہل علم نے تو حالات کے انقلاب اور ملک کی سیاسی اور قانونی حیثیت یکسر بدل جانے کی نوعیت کو تسلیم کرنے ہی سے انکار کر دیا اور نہ صرف جنگ آزادی 1857ء کی ناکامی کے بعد بھی اس حقیقت کو نہ سمجھا؛ بلکہ  بعض حضرات تو جہاد آزادی کی حرمت کا اعلان کرتے رہے۔

جہاد آزادی کا پہلا اور دوسرافتویٰ

1806ء میں دہلی پر قبضہ کرنے کے بعد اگر چہ انگریزوں نے بساط سیاست پر ’’شاہ عالم‘‘ کو ایک تاج دار کی حیثیت سے نمایاں کیا اور مملکت اور حکومت میں ایک عجیب و غریب تقسیم کر کے یہ اعلان کیا کہ ’’ملک بادشاہ کا اور حکم انگریز بہادر کا‘‘۔ اس بنا پر کچھ علما کو یہ خیال بھی ہوا کہ ہندستان بدستور ’’دار الاسلام‘‘ ہے؛ مگر وہ مستثنیٰ شخصیت -جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے اور جس نے ملک کی سیاسی اور قانونی حیثیت بدل جانے کا سب سے پہلے ادراک اور انقلابی اعلان کیا تھا- حکیم الہند حضرت مولانا شاہ عبد العزیز محدث دہلوی قدس سرہ کی تھی۔ انھوں نے انیسویں صدی کی پہلی دہائی میں -جب کہ ہندستان کے تخت پر شاہ عالم ثانی رونق افروز تھے- فتوی دیا کہ ہندستان کی سیاسی حیثیت بدل گئی ہے۔

(شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد اول، ص؍ 82-83)

در اصل ملکی حالات کے تناظر میں رہ نماؤں کے سامنے چار راستے تھے:

۱۔ وقت کے تقاضے اور قوم کے سیاسی مفادات سے اغماض برتیں اور خاموش رہیں۔

۲۔ تن آساں علما کی طرح ہندستان کو بدستور دارالاسلام قرار دیتے رہیں۔

۳۔ ملک کو دارالحرب قرار دے کر ہجرت کرجائیں۔

۴۔ دارالحرب کی حیثیت کو بدلنے کے لیے دوبارہ دارالاسلام بنانے کی جدوجہد کریں۔

ابن الوقت رہ نماؤں نے ہمیشہ کی طرح پہلی شکل اختیارکی۔مفادپرستوں نے دوسرے طریقے کو اختیار کیا، جس میں قادیانی، بریلوی اور سید احمد خاں کے نام نمایاں ہیں۔ تیسری راہ کو اختیار کرنا انفرادی طور پر کچھ لوگوں کے لیے، یا ایک مختصر جماعت کے لیے ممکن ہو سکتا تھا؛ لیکن ہندستان میں پھیلے ہوئے کروڑوں مسلمانوں کے لیے عملاً ممکن نہ تھا کہ ہندستان سے ہجرت کرجائیں۔ اگر ان میں سے ایک جماعت چلی بھی جاتی، تو مسئلہ پھر بھی اپنی جگہ برقرار رہ جاتا اور پیچھے رہ جانے والے مسلمانوں کی حالت اور بھی ابتر ہو جاتی اور انھیں گویا کفر و طاغوت کے حوالے کر دینا ہوتا۔چوتھا راستہ عزیمت کاتھا، جو ہمیشہ اصحاب عزم کے لیے مخصوص رہا ہے اور یہ راستہ سب سے دشوار گزار راستہ ہے۔

ان راہوں میں حضرت مولانا شاہ عبد العزیز نور اللہ مرقدہ نے جو راہ اختیار فرمائی، وہ یہی چوتھا راستہ تھا۔ چنانچہ حضرت مرحوم نے 1808ء،یا 1809ء میں سب سے پہلے جہاد کا فتویٰ دیا۔ پھر14؍ستمبر1857ء کی جنگ شاملی وتھانہ بھون کے لیے بھی جہاد آزادی کا فتوی دیا گیا۔

ملکہ وکٹوریہ کا معافی نامہ

اس جنگ کے بعد مسلمانوں کی عسکری طاقت تقریبا ختم ہوچکی تھی۔ اور چوں کہ جنگ کی قیادت علمائے کرام نے کی تھی، اس لیے اس کے بعد جو وحشیانہ مظالم اور جس درندگی کا مظاہرہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے وحشی انگریزوں نے ہندستانیوں،بالخصوص مسلمانوںاور بالاخص علما کے ساتھ کیا،جس کی وجہ سے علما گوشہ نشینی پر مجبور ہوگئے ،اس سے برطانوی حکومت یہ سوچنے پرمجبور ہوگئی کہ اگر ہندستان کی حکومت ان خود غرض تجارت پیشہ لوگوں سے نہ لی گئی، توبرطانی قوم اور برطانوی تاج دنیا بھر میں بدنام ہوجائیںگے اور تہذیب وتمدن کا دعوی نیست و نابود ہو جائے گا،چنانچہ ہندستان میں ملکہ وکٹوریہ کی بادشاہت کا اعلاتے کرتے ہوئے یکم نومبر1858ء کو کوئین کاوہ نو نکاتی مشہور اعلان نافذ کیا گیا، جس میں مجرمین کے معاف کر دینے کا عام اعلان ہوا۔

آئینی آزادی کی پہلی قسط

1857ء کی جنگ سے ہندستان کو آئینی آزادی کی پہلی قسط ملی۔ 1861ء میں آئینی اصلاحات کا نفاذ کرتے ہوئے، ہندستان کی لیجیس لیٹیو کونسل میں تین ہندستانی نام زد کیے گئے۔

دارالعلوم دیوبند کا سنگ بنیاد

اس عام معافی کے اعلان کا فائدہ حجۃ الاسلام حضرت مولانامحمد قاسم نانوتویؒ کو بھی ہوا اور گرفتاری کا خوف جاتا رہا۔جنگ شاملی میں شکست سے حجۃ الاسلام نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ہندستان سے انگلستان تک منظم لیڈرشپ میں، تربیت یافتہ فوجوں کے ساتھ جدید اسلحہ سے لڑنے والی قوم کا ہم قیادت سے محروم غیر منظم عوام کے سہارے گھریلو ہتھیار لاٹھی ڈنڈوں سے مقابلہ نہیں کرسکتے، چنانچہ انھوں نے معرکۂ رزم کے بجائے معرکۂ بزم برپا کیا اور 30؍ مئی 1866ء کو دارالعلوم دیوبندکی بنیاد ڈالی، جس نے جہادی آزادی کے متوالے اور رجال کار پیدا کرنے میں اہم اور نمایاں کردار ادا کیا۔ 

کانگریس کا قیام، سرسید کی مخالفت اور شرکت کانگریس کا فتویٰ

پھر جب28؍ دسمبر 1885ء میں آل انڈیا کانگریس بنی، جس نے حکومت کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سوراج اور حقوق کا مطالبہ کرنا شروع کیا، تو جناب سرسید احمد خان صاحب نے8؍اگست1888ء کوانڈین پیٹر یٹس ایسوسی ایشن (انجمن محبان وطن) بناکر مسلمانوں کو انگریزوں کی وفاداری کی تلقین کرنی شروع کردی اور کانگریس میں شرکت سے ورغلاتے رہے۔ بریولی مکتب فکر کے علما نے بھی اسی کی ہمنوائی کی، جس کے خلاف علمائے لدھیانہ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒاور حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی نے 11؍دسمبر 1888ء کو کانگریس میں شرکت اور سرسید کے مشن کی مخالفت کا فتویٰ دیا۔

آئینی آزادی کی دوسری قسط

جناب سرسید احمد خاں صاحب سمیت رجعت پسندوں کی مخالفتوں کے باوجود کانگریس کے بڑھتے اثرات کے پیش نظر 1892ء کے انڈین کونسلز ایکٹ کے مطابق، سینٹرل لیجسلیٹو کونسل میں تین کے بجائے پانچ ہندستانیوں کو نمائندگی دی گئی۔ 

انگریزوں کی گھناونی سازش:مسلم لیگ اور ہندو مہاسبھا کا قیام

انجمن محبان وطن کی ناکامی کے بعد، دسمبر1893ء کو تشکیل کردہ’’محمڈن اینگلو اورینٹیل ایسوسی ایشن،اوربعد ازاں1901ء میں محمڈن پولیٹیکل آرگنائزیشن بھی ناکام ہوگئی، تو انگریزوں کی خطرناک خفیہ سازش کے تحت مسلمانوں میں30؍دسمبر 1906ء کو مسلم لیگ اور ہندوؤں میں مہاراجہ دربھنگہ کی صدارت میں بھارت مہا منڈل (جو بعد میں چل کر ہندو مہاسبھاکے نام میںتبدیل کی گئی) کی تشکیل عمل میں آئی اور فرقہ وارانہ خطوط پر فیصلہ ہونے لگے، جو انگریزکی پالیسی: ’’لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ پر مبنی تھی۔

آئینی آزادی کی تیسری قسط

چنانچہ 1909ء میں ہندستانی کونسل کے ممبران بذریعۂ انتخاب چننے اور مسلمانوں کے لیے جداگانہ انتخاب کا فیصلہ کیا گیا۔ اور یہیں سے ہندستان میں فرقہ وارانہ فسادات کا آغاز ہوا۔

تحریک ریشمی رومال

1915-1916ء میں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کی قیادت میں ’’ریشمی رومال تحریک‘‘ چلائی گئی،جس کا منصوبہ یہ تھا کہ برٹش سامراج کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے افغان اور ترکی سرکاروں کے تعاون سے ہندستان کی شمال مغربی سرحدپر حملہ کیا جائے اور ادھر ہندستان کے لوگ بھی بغاوت کی لہر پیدا کرکے سلطنت برطانیہ کو تباہ و بربادکردیں؛ لیکن قبل از وقت راز فاش ہونے کی وجہ سے یہ تحریک ناکام ہوگئی۔

میثاق لکھنو اورمسلم لیگ کی غلط قیادت

لکھنو میں کانگریس کا اجلاس: 26 سے 30 ؍دسمبر 1916ء تک ، اورمسلم لیگ کا اجلاس: 30 سے 31 ؍دسمبر 1916ء تک ہوا۔انھیں اجلاسوں میں انڈین نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ کے درمیان  میثاق لکھنو (Lucknow Pact)کے نام سے ایک  معاہدہ ہوا، جس میں سب سے خطرناک فیصلہیہ ہوا کہ  مسلمانوں کی نمائندگی ، ان کی آبادی کے تناسب سے گھٹا دی گئی۔ جس کی وجہ سے مسلمان بعض صوبوں میں اکثریت کے باوجود اقلیت میں آگئے۔

میثاق لکھنو پر مفتی اعظم ہند کا تبصرہ

ایسے وقت میں، جب کے مسلمانوں کے پاس مسلم لیگ کے علاوہ علما کی کوئی منظم جماعت نہیں تھی، تن تنہا مفتی اعظم ہند حضرت مولانا علامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے 1917ء میں اس پر تنقیدی تبصرہ کیا۔ اور جنگ عظیم اول کے خاتمے کے بعد ہندستانیوں کو اصلاحات دینے کے مقصد سے ، پورے ہندستان کا دورہ کرکے ہندستانیوں کے مطالبات مرتب کرنے والے ایڈون مانٹیگوتک مسلمانوں کے مطالبات پہنچاکر پوری ملت کی طرف سے فرض کفایہ ادا فرمایا۔ 

آئینی آزادی کی چوتھی قسط

جنگ عظیم اول میں ہندستانیوں سے حکومت خود اختیاری دینے کے وعدے سے مکرتے ہوئے، مان ٹیگو چیمس فورٹ اصلاحات نافذ کی گئیں، پھر یہی اصلاحات گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1919ء کی بنیاد بنیں،جن کی رو سے مرکزی اسمبلی میں امپریل لیجس لیٹیو کونسل کی جگہ دو ایوانی مقننہ قائم کی گئی۔ لیکن ہندستانی اس سے بالکل بھی خوش نہیں ہوئے۔بلکہ اس کے برعکس برطانوی حکومت نے دفاع ہندستان ایکٹ 1915ء کے تحت انقلابی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے 6؍فروری 1919ء کو رولٹ ایکٹ جیسا وحشیانہ قانون منظور کرنے کے لیے کونسل میں پیش کردیا۔

تحریک ترک موالات کا آغاز

 24؍فروری 1919ء تک اس قانون کو واپس لینے کے لیے گاندھی جی کے الٹی میٹم کے باوجودجب قانون واپس نہیں لیا گیا، تو 30؍مارچ1919ء سے گاندھی جی نے ترک موالا ت کی تحریک اعلان کردیا۔ چنانچہ اس تاریخ سے پوری شدت کے ساتھ تحریک ترک موالات کا آغاز ہوگیا۔ اور لوگ جگہ جگہ اس قانون کے خلاف دھرنے اور مظاہرے کرنے لگے۔ 

حادثہ جلیان والا باغ اور تحریک ترک موالات کا التوا

رولٹ ایکٹ کی مخالفت میں 13؍اپریل1919ء کو جلیان والا باغ میں ایک پرامن مظاہرہ ہورہا تھا، جس پر جنرل ڈائر نے گولیاں برساکر ہندستانیوں کو لہو لہان کردیا۔ اس کی تحقیقات کے لیے جب ہنٹر کمیٹی بنائی گئی، تو گاندھی جی نے یہ کہہ کر اس تحریک کے عارضی التوا کا اعلان کردیا کہ ستیہ گرہ کے دو بنیادی اصول: سچ اور اہنسا کے اعتبار سے ابھی عوام کی مکمل تربیت نہیں ہوپائی ہے۔ 

خلافت کا خاتمہ اور تحریک خلافت کا آغاز

جب جنگ عظیم اول(18؍جولائی1914ء -11؍نومبر1918ء) میں دول متحدہ کو فتح ملنے کے بعد ہندستانی مسلمانوں کے ساتھ کیے گئے خلافت اسلامیہ اور اماکن مقدسہ کے تحفظ کے وعدوں کو پامال کرتے ہوئے30؍اکتوبر1918ء کوہوئی عارضی صلح کے ذریعے ترکی حکومت کے حصے بخرے کردیے گئے، تو علمائے کرام گوشہ نشینی سے نکل کر میدان عمل میں کودپڑے۔ اور23-24؍نومبر1919ء کو پہلی باقاعدہ خلافت کانفرنس ہوئی، جس میں عارضی صلح کے پیش نظر جگہ جگہ محفل جشن کا بائیکاٹ کرنے اور خلافت کی بقا تک ترک موالات جاری رکھنے کا فیصلہ و فتویٰ دیا گیا۔

جمعیت علمائے ہند کا قیام اورتحریک خلافت میں شرکت 

اسی  آل انڈیا خلافت کانفرنس کے موقع پر ملک کے کونے کونے سے تشریف لائے علمائے کرام نے عقائد و مسالک کے اختلافات سے اوپر اٹھ کر23؍نومبر1919ء کوبعد نماز عشا، پتھر والا کنواں دہلی میں جمعیت علمائے ہند کی تشکیل کی۔اور28،31؍دسمبر 1919ء و یکم جنوری 1920ء کومنعقد اپنے پہلے اجلاس عام میں ہی یہ فیصلہ کیا کہ12؍فروری تا10؍ اپریل1920ء کو لندن میں منعقد ہونے والی صلح کانفرنس میں مسلم نمائندوں کی شرکت ضروری ہے ، تاکہ خلافت سے متعلق مسلمانوں کے متفقہ مذہبی مطالبات کے مطابق فیصلہ کیا جاسکے۔ لیکن اس کانفرنس کے نتیجے میں 10؍اگست 1920ء کو سیورے معاہدہ ہوا، جس کی رو سے خلافت اسلامیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا گیا، تو 6؍ستمبر1920ء کو جمعیت علمانے کلکتہ میں ایک خصوصی اجلاس بلایا اور حضرت مولانا ابوالکلام آزاد کی تحریک پریہ فیصلہ کیا گیا کہ انگریزی حکومت کا مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔اورپھر 8؍ستمبر1920ء کو اسی فیصلے کو شرعی تقاضاقرار دے کرترک موالات کا فتویٰ دیاگیا، جس پر تقریبا پانچ سو علمائے کرام نے دستخط کیے۔

بعد ازاں19-20-21؍نومبر1920ء میں جمعیت علما نے اپنے دوسرے اجلاس عام میں برطانیہ سے ترک موالات کے شرعی فیصلہ ہونے پر نقلی و عقلی دلائل پیش کیے۔ اور چوں کہ گاندھی جی نے تحریک خلافت کی بلاشرط حمایت کرکے ہندو مسلم اتحاد کا عملی نمونہ پیش کیا تھا، اس لیے اس اتحاد کی ستائش کی گئی۔

تحریک ہجرت ہند کا خاتمہ

پھر 18-19-20؍نومبر1921ء کو جمعیت علما نے اپناتیسرا اجلاس عام کیا،جس کے خطبۂ صدارت میں امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزاد ؒنے ہندستانی مسلمانوں کو ایک امام کے ماتحت شرعی زندگی گذارنے کی دعوت دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو ایک لمحہ بھی بغیر کسی امام کے بسر نہیں کرنا چاہیے، یا تو وہاں سے ہجرت کرجائیں اور یا ایک امیر نصب کرکے اپنے فرائض شرعیہ انجام دیں۔چنانچہ ان دنوں تحریک ہجرت چل رہی تھی، لیکن جمعیت علما کے ترک موالات کی تجویز نے اس تحریک کا خاتمہ کردیا۔

جمعیت کی طرف سے سب سے پہلے مکمل آزادی وطن کامطالبہ 

علاوہ ازیں اس اجلاس کاایک ممتاز کارنامہ یہ تھا کہ اسی میں ترک موالات کے مقصد میں خلافت اسلامیہ کے تحفظ کے ساتھ ساتھ آزادی وطن کا اضافہ کرتے ہوئے تمام تنظیموں کے بالمقابل سب سے پہلے جمعیت علمانے ہندستان کی مکمل آزادی کا مطالبہ کیا۔ لیکن 5؍فروری 1922ء کوگورکھ پور ضلع میں واقع چوراچوری میں ایک پرتشدد واقعہ پیش آنے کی وجہ سے گاندھی جی نے جب تحریک کو ملتوی کردیا، تو9-10؍فروری1922ء کو منعقد اپنی مجلس منتظمہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا کہ اگرچہ اجتماعی سول نافرمانی ابھی زیر غورہے؛ لیکن انفرادی سول نافرمانی بدستور جاری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب نومبر 1923ء میں الیکشن کا اعلان ہوا، تو جمعیت نے اپنی مجلس عاملہ منعقدہ: 11؍نومبر1923ء میں یہ فیصلہ کیا کہ کونسل کا الیکشن لڑنا جائز نہیں ہے۔ لیکن کانگریس کے ایک گروپ نے جمعیت علما سے الگ راہ اختیار کی اور الیکشن میں حصہ لیتے ہوئے، سوراج پارٹی کے ذریعہ 105منتخب کی گئی نشستوں میں 42 نشستوں پر جیت درج کرائی۔

آزادی ہند کی تحریک میں نفرت و شدھی کی رکاوٹ

گاندھی جی کی خلافت تحریک کی بلاشرط تائید کردینے کی وجہ سے ہندو مسلم اتحاد انتہائی عروج پر پہنچ گیا تھا، یہ چیز برطانوی حکومت کہاں برداشت کرنے والی تھی۔ چنانچہ اس نے ہندو مسلم اتحاد کو سبوتاژ کرنے کے لیے سوامی شردھانند کے ذریعہ شدھی اور پنڈت مدن موہن مالویہ کے ذریعہ سنگھٹن کی ارتدادی تحریکیں چلائیں، جنھیں جمعیت علمائے ہند نے13-16؍جولائی 1923ء کو منعقد مجلس منتظمہ کے اجلاس میں سخت ترین سیاسی حملہ قرار دیتے ہوئے ، ان کا زبردست مقابلہ کیا۔اور آزادی حاصل کرنے کے لیے باہمی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو ناگزیر قرار دیا۔

 اسی طرح 29-30-31؍دسمبر1923ء و یکم جنوری 1924ء کو جمعیت علما نے اپنے پانچویں اجلاس عام کے خطبۂ صدارت میں برطانوی حکومت ہند کا مقابلہ،جزیرۃ العرب کی آزادی کے ساتھ مقدس مقامات کا تحفظ اور ہندستان کی آزادی کو مسلمانان ہند کے ضروری فرائض قرار دیے۔اور مواثیق ملی پر اپنا واضح موقف پیش کیا۔

خاتمۂ خلافت کے اعلان پر جمعیت کی بے چینی 

3؍مارچ1924ء کو مجدد خلافت نے ایشائی مسلمانوںکے جذبات کے برعکس خلافت کا خاتمہ کرتے ہوئے ترکی حکومت کو پارلیمنٹری نظام کے ماتحت کردیا،جس پر جمعیت علما اور مرکزی خلافت کمیٹی نے مشترکہ طور پر 9؍مارچ 1924ء کو یہ فیصلہ کیا کہ مصطفی کمال پاشا کو تار بھیج کر خلافت کی بحالی کا مطالبہ کیا جائے؛ لیکن پاشا صاحب نے اسے ایک خیالی تصور قرار دے کر مسترد کردیا۔

ہندو مسلم اتحاد کی کوششیں

26؍ستمبر سے 2؍اکتوبر1924ء کو ہندو مسلم اتحاد کے لیے ملاپ کانفرنس کی گئی، جس میں جمعیت علمائے ہند نے زبردست کردار ادا کیا۔بعد ازاں 9؍ستمبر1927ء کو شملہ میں اتحاد کانفرنس ہوئی، اس میں جمعیت علما نے اتحاد کی مکمل کوشش کی۔بعد ازاں کلکتہ میں27؍اکتوبر 1927ء کو کلکتہ اتحاد کانفرنس ہوئی، جس کی ناکامیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے حضرت العلامہ انور شاہ کشمیری ؒ نے آٹھویں اجلاس عام (منعقدہ: 2-5؍دسمبر1927ء )کے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ :

 بہرحال فیصلہ ایک ہی اصول پر ہوسکتا ہے ،یا تو استیفائے حق کو بنائے فیصلہ قرار دے لیا جائے اور کوئی قید عائد نہ کی جائے، یا رواداری کو مدار فیصلہ قرار دیا جائے اور دونوں فریق کے لیے حدود رواداری معین کردی جائیں۔

سیاست عین دین ہے

الغائے خلافت نے ایشائی مسلمانوں کو بسمل بنادیا تھا اور ہندستانی علما کی سیاست سے بے اعتنائی انھیں نیم جاں کر رہی تھی، ایسے حالات میں 11تا 16؍جنوری 1925ء کو جمعیت علما نے اپنے چھٹے اجلاس عام کے خطبۂ صدارت میں زوال خلافت کے اسباب پر سیرحا صل بحث کرتے ہوئے یورپ کی تشریح حریت، جمہوریت فاسدہ اور وطنیت کی زمین پر قومیت کی تعمیر کو زہریلے جراثیم قرار دیتے ہوئے ’’سیاست عین دین ہے‘‘ کی حقیقت کو اجاگر کیا اور علمائے کرام کو میدان عمل میں آنے کی دعوت دی۔اور ہندستان کی مکمل آزادی کے حصول تک ترک موالات جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ 

کیا ترک موالات کا حکم اب بھی باقی ہے

ترک موالات کا بنیادی پس منظر تحفظ خلافت تھا، 3؍مارچ1924ء کو خاتمۂ خلافت کے اعلان کے بعد ، فتویٰ کی بعض وجوہات باقی نہیں رہی تھیں۔ نومبر1926ء میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے الیکشن ہونے والے تھے، اس لیے کچھ حلقوں کی طرف سے، ترک موالات کے فتویٰ میں تبدیلی کا مطالبہ سامنے آنے لگا۔ چنانچہ اسی مسئلے پر غور کرنے کے لیے تشکیل کی گئی ایک سب کمیٹی نے 22؍ستمبر1926ء کو اپنی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ اگر حقیقتا اعدائے دین سے موالات مقصود نہ ہو، تو قوم و وطن کے مفاد کے تحفظ کے لیے بقاعدۂ اھون البلیتین الیکشن میں شرکت کی گنجائش ہے۔ 

جداگانہ انتخاب کے حوالے سے جمعیت علمائے ہند کا موقف

 چنانچہ وزیر ہند مسٹر لارڈ برکن ہیڈ نے 1927 ء میںاعلان کیاکہ:

’’برطانیہ، ہندستان کو نئی اصلاحات دینے کا ارادہ رکھتا ہے؛ بشرطیکہ وہاں کے باشندے اپنے لیے مخلوط انتخاب پسند کریں؛ کیوںکہ اس کے بغیر ہندستان ترقی نہیں کر سکتا۔‘‘

اس اعلان کے پیش نظر،28؍ مارچ 1927ء کو مسلمان رہنماؤں نے،31؍مارچ 1927ء کو آل انڈیا کانگریس نے، 21؍اپریل1927ء کو ہندو مہاسبھا نے،22؍اپریل 1927ء کو پنجاب ہندو مہاسبھا نے،اور25؍اپریل1927ء کو سکھوں کے نمائندوں نے مخلوط اور جداگانہ انتخابات کے تعلق سے اپنے اپنے مطالبات کی فہرست پیش کی۔حالاں کہ مسلمانوں کی نجات جداگانہ انتخاب میں تھی،اس کے باوجود، آزادی ہندکے عزیز مقصد کو حاصل کرنے کے لیے، جمعیت علمائے ہند نے اپنے آٹھواں اجلاس عام، منعقدہ: 2-3-4-5؍ دسمبر1927ء میں سات مطالبات کی منظوری کے ساتھ مخلوط انتخاب کو قبول کرنے کا فیصلہ کیا۔اس کے بعد  یکم جنوری 1929ء کو منعقد آل مسلم پارٹیز کی کانفرنس میں بھی مسلمانوں کے لیے جداگانہ انتخاب کے فیصلے کا اعادہ کیا گیا؛ لیکن  مجلس عاملہ: منعقدہ: 3؍اگست 1931ء میںجب آزادی ہندستان کے لیے مسلمانوں کے حقوق پر مبنی ’’جمعیت علما کا فارمولا‘‘ منظور کیا گیا، تو اس کی دفعہ (۸) میں حتمی و قطعی فیصلہ کیا کہ:’’ طریقۂ انتخاب مخلوط ہوگا۔‘‘

سائمن کمیشن کا بائیکاٹ

ترکی کی جس خلافت اسلامیہ کے تحفظ کے لیے دنیا لڑ رہی تھی، اہل ترک نے خود اپنے ہی ہاتھوں اس کو دفن کرکے یورپین کی مدتوں کی سازش کو دفعۃ کامیاب کردیا، جس کی وجہ سے ہندستان میں بھی ہمیشہ کے لیے اس مسئلہ کا خاتمہ ہوگیا۔لیکن تحریک خلافت نے بھارتیوں کے دلوں میں اپنی غلامی کے تئیں جذبۂ آزادی کی جو آگ بھڑکادی تھی، اس نے برطانوی ہند کے ارباب اقتدار کو بھارتیوں کے مطالبات سننے پر مجبور کردیا، چنانچہ آئینی اصلاحات دینے کے وعدے کے ساتھ، گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1919ء کی شق 84(A)؍ کے تحت 1927ء میں تاج برطانیہ کی طرف سے ایک شاہی فرمان کے ذریعے8؍اکتوبر1927ء کو سائمن کمیشن کے قیام کا اعلان کیا گیا۔ چوں کہ اس میں ہندستانیوں کا کوئی نمائندہ شامل نہیں کیا گیا تھا، اس لیے صدر جمعیت علمائے ہند حضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ نے 18؍ نومبر 1927ء کو ،22؍نومبر1927ء کو ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب برد اللہ مضجعہ نے، بعد ازاں 2تا 5؍ دسمبر1927ء کو منعقد آٹھویں اجلاس عام میں جمعیت علمانے اس کے مقاطعہ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’سائمن کمیشن ہندستان کے باشندوں کی کھلی ہوئی توہین ہے ۔ ‘‘ اورجب 3؍فروری1928ء کو سائمن کمیشن ممبئی کے ساحل پر اترا، تو ’’سائمن کمیشن واپس جاؤ‘‘ کے نعرے کے ساتھ مکمل ہڑتال کرکے کمیشن کو اپنے مقصد میں ناکام کردیا۔ لیکن کمیشن نے جاتے جاتے بھارتیوں کو چیلنج دیا کہ دم ہے، تووہ فرقہ وارانہ اتحاد قائم کرکے دکھائیں اور اپنا نیا قانون بناکر پیش کریں۔ چنانچہ بھارتیوں نے چیلنج کو قبول کیا اور فرقہ وارانہ اتحاد کی کوششوں کے ساتھ، نہرورپورٹ کے نام سے ایک نیا آئین بھی بنانے کا اعلان کیا۔

نہرورپورٹ قطعی منظور نہیں

8؍ نومبر 1927ء کوسائمن کمیشن کا اعلان کرتے ہوئے وزیر ہند مسٹر لارڈ برکن ہیڈ نے کہاکہ: ’’میں پیش گوئی کرتا ہوں کہ ہندستان کے لوگ متحدہ آئین پیش نہیں کریںگے۔‘‘

اس جملے کو ہندستانیوں نے اپنے لیے چیلنج تصور کیا ۔ اور اس چیلنج کو نہ صرف قبول کیا؛بلکہ  سائمن کمیشن کا مکمل طور پر بائیکاٹ کرکے ایک متفقہ آئین بنانے کا عندیہ بھی دیا۔اور جواہر لال نہرو کی صدارت میں ایک کمیٹی تشکیل دے کر ’’نہرو رپورٹ ‘‘ تیار کی گئی۔ جب یہ رپورٹ 16؍ اگست 1928ء کو شائع کی گئی، تو مسلم حقوق کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہ ہونے اور مکمل آزادی کے بجائے ڈومینین اسٹیٹس کی سفارش کرنے کی وجہ سے27؍اگست1928ء کی مجلس عاملہ نے یہ فیصلہ کیا کہ اسے کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جاسکتا ؛ کیوں کہ جمعیت علمائے ہند اپنے نصب العین مکمل آزادی سے پیچھے نہیں ہٹ سکتی۔

اسی درمیان یکم جنوری 1929ء کو ہندستان کے مجوزہ دستور حکومت میںمسلمانوں کے مذہبی و قومی حقوق کے تحفظ کے لیے آل انڈیا مسلم کانفرنس میں ایک متفقہ فارمولاتیار کیا گیا۔آل انڈیا مسلم لیگ نے بھی 28؍مارچ 1929ء کو ایک فارمولا پیش کیا، جو ’’چودہ نکات‘‘ سے مشہور ہے۔

 جمعیت کی شدید مخالفت کے باوجود کانگریس نے 5؍نومبر1928ء کواس رپورٹ کو ایک سال کے لیے منظور کرلیا۔ لیکن جب کامل ایک سال گذرنے کے باوجودانگریزوں نے نہرو رپورٹ کو قابل اعتنا نہیں سمجھا، تو بالآخر مجبور ہوکر کانگریس نے بھی 28؍دسمبر1929ء کو اس رپورٹ کو دریائے راوی کے حوالے کرتے ہوئے مکمل آزادی کی تجویز منظور کی۔ اور اسے عملی جامہ پہناتے ہوئے 12؍مارچ1930ء کو نمک تحریک کا آغاز کیا۔

مجلس احرار اسلام ہند کا قیام

نہرو رپورٹ میں جہاں اقلیتوں کے مسائل و تحفظات کو یکسرنظر انداز کردیا گیا تھا، وہیں اسے دریابرد کرتے وقت مسلمانوں سے مشورہ لینا بھی مناسب نہیں سمجھا، جس سے دل برداشتہ ہوکر مسلمانوں کے کچھ رہنماؤں نے اپنی الگ تنظیم کی ضرورت کو شدت سے محسوس کرتے ہوئے، 29؍دسمبر1929ء کو کانگریس ہی کے پنڈال میں ’’مجلس احرار اسلام ہند‘‘ قائم کیا، جس نے آزادی ہند کی تحریکوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ 

 وطن کی شرعی حیثیت:جہاد آزادی میں غیر مسلموں سے تعاون کا مسئلہ

 جمعیت علمائے ہند نے 11تا14؍مارچ 1926ء کو منعقد اپنے ساتویں اجلاس عام میں، 18تا20؍نومبر 1921ء کو منعقدتیسرے اجلاس عام کے منظور کردہ’’ آزادی کامل‘‘ کے فیصلے کا اعادہ کرتے ہوئے حصول آزادی کو مسلمانوں کا مذہبی فرض قرار دیا،اور اس کے حصول کے لیے ترک موالات کے فتوے میں تبدیلی کے مطالبے کے باوجود 21-22 ؍ ستمبر 1926ء کی مجلس عاملہ میں یہ فیصلہ کیا کہ اھون البلیتین کے پیش نظر انگریزوں سے بائیکاٹ اور برادران وطن کا تعاون ضروری ہے، تو اہل علم کے درمیان یہ مسئلہ موضوع بحث بنا کہ ایک مذہبی فرض کی ادائیگی کے لیے کیا غیر مسلموں سے تعاون لیا، یا دیا جاسکتا ہے؟چنانچہ حضرت العلامہ انور شاہ کشمیری نور اللہ مرقدہ نے آٹھویں اجلاس عام (منعقدہ:2تا5؍دسمبر1927ء ) میں یہ حل پیش کیا کہ ہندستان نہ تو دارالاسلام ہے اور نہ ہی مکمل دارالکفر؛ بلکہ دارالامان ہے اور دارالامان میں مذہب کی آزادی اور بنیادی حقوق کے تحفظات کی ضمانت پر مبنی جمہوریت کی شرائط کے ساتھ غیروں کا تعاون لے بھی سکتے ہیں اوردے بھی سکتے ہیں۔ چنانچہ یہی شرعی حل آگے چل کر3تا6؍مئی 1930ء کو منعقد نویں اجلاس عام میں آل انڈیا کانگریس میں مسلمانوں کی شرکت کے فیصلے کا باعث بنا۔فیصلے میں کہا گیا کہ:

’’اس لیے یہ اجلاس مسلمانوں سے اپیل کرتا ہے کہ ملک و ملّت کی آزادی اور اپنے پرسنل لاء کی حفاظت کے لیے پورے جوش اور کامل استقلال سے احکام شرعیہ کے موافق کانگریس کے ساتھ اشتراکِ عمل کرتے ہوئے سرفروشانہ پُرامن جنگِ آزادی کی راہ میں گامزن ہوں۔‘‘

 نمک تحریک اور جمعیت علمائے ہند کا دائرۂ حربیہ

نمک تحریک کا آغاز ہوتے ہی انگریزوں نے کانگریسیوں اور جمعیت علما سے وابستہ افراد کی دھڑپکڑ شروع کردی۔ چنانچہ اس تحریک کے لیے افراد مہیا کرنے کے مقصد سے جہاں کانگریس نے جنگی کونسل بنائی، وہیں جمعیت علمائے ہند نے 13؍ جولائی 1930ء کو دائرۂ حربیہ کی تشکیل کرکے بے خطر میدان عمل میں کود پڑے،جن کی پاداش میں بھارتیوں نے اور جمعیت علما کے رہ نماؤں نے قیدوبند کی صعوبتیں جھیلیں؛ بالخصوص مفتی محمد نعیم صاحب لدھیانوی، مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی، مولانا حفظ الرحمان صاحب سیوہاروی،مولانا ابوالکلام آزاد،مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری،مولاناحسن سجاد ابن مولانا ابوالمحاسن مولانا محمد سجاد صاحب،مولانا احمد سعید صاحب،مولانا نور الدین صاحب بہاری،مفتی اعظم مفتی محمد کفایت اللہ صاحب،مولانا عبدالغفور لدھیانوی، مولانا محمد علی کاندھلوی کے علاوہ سینکڑوں کارکنان جمعیت علماکو پابند سلاسل کردیا۔ علاوہ ازیں 23؍ اپریل 1930ء کو قصہ خوانی بازار میں نہتے مظاہرین پر گولیاں برسائی گئیں۔ 7؍ اکتوبر 1930ء کو لاہور سازش مقدمے کے ذریعہ بھگت سنگھ اور اس کے ساتھیوں کو تختۂ دار پر لٹکانے کا جابرانہ فیصلہ کیا گیا، جس کے خلاف جمعیت علمانے 9؍ اکتوبر 1930ء کو زبردست احتجاج کیا۔ ان قربانیوں نے ہندستان کو آزادی کے قریب کردیا۔

پہلی گول میز کانفرنس لندن کی مخالفت

تحریک سول نافرمانی اور بدیشی مال کے بائیکاٹ نے تخت لندن کو ہلاکر رکھ دیا۔چنانچہ  جون1929ء میں برطانیہ کے عام انتخابات کے نتیجے میں جب ریمزے میکڈونالڈ (Ramazy Mac Donald  )وہاں کا وزیر اعظم بنا، تو انھوں نے ہندستان کے بارے میں اپنے مشیروں کے ساتھ صلاح ومشورے کے بعد سر جان سائمن کی سفارش منظور کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ برطانوی ہند میں آئینی تعطل کو دور کرنے کے لیے بھارت کے لیڈروں کو لندن بلاکر آئین کے بارے میں ان کی باہمی رضامندی حاصل کیا جائے۔

چنانچہ یکم نومبر1929ء کو وائسرائے ہند لارڈارون نے ایک اعلان کے ذریعہ،بظاہراسی مقصد سے 12؍ نومبر 1930ء ، تا 19؍ جنوری 1931ء تک پہلی گول میز کانفرنس لندن منعقد ہوئی۔لیکن برطانوی حکمت عملی کی وجہ سے یہ کانفرنس ہندو مسلم بحث کا اکھاڑا بن گئی ، کیوں کہ مسلمانوں نے مسٹر جناح کے بجائے سرآغا خاں کواپنا نمائندہ منتخب کیا، اور انھوں نے اپنی تمام تر وکالت سر محمد شفیع کے سپرد کردی، اس لیے مسٹر جناح کانفرنس میں شرکت کے باوجود الگ تھلگ رہے۔ کانگریس نے بھی شرکت سے انکار کردیا تھا۔ 

چوں کہ جمعیت علما انگریزوں کی فریب کاریوں سے بہ خوبی واقف تھی، اس لیے اس کانفرنس کے انعقاد سے پہلے ہی 7؍ نومبر 1929ء کو ایک بیان کے ذریعہ،اور کانفرنس کے انعقاد کے بعد،  اپنے نویں اجلاس عام (3-6؍مئی 1930ء) میں یہ فیصلہ کیا کہ جب تک اقلیتوں کو مطمئن کرنے والا فارمولہ تیار نہ ہوجائے، اس وقت تک کوئی گول میز کانفرنس کامیاب نہیں ہوسکتی۔ بعد ازاں 10؍ جون 1930ء کو ایک عظیم الشان اجلاس کے ذریعہ اس میں شرکت کی زبردست مخالفت کی۔

اس کانفرنس کے ایک اجلاس میں مولانا محمد علی جوہر صاحب نے یہ تاریخی جملہ کہا کہ: ’’ مائی لارڈ! تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کا دستور آج دنیا میں عام ہے، مگر ہندستان میں ہم تقسیم ہوتے ہیں اور آپ حکومت کرتے ہیں۔‘‘

بعد ازاں 19؍جنوری 1931ء کوبرطانوی وزیر اعظم کے ذریعہ پہلی گول میز کانفرنس کی کارروائیوں کے خلاصہ کا، اور 25؍جنوری 1931ء کو اسی سے متعلق وائسرائے ہند مسٹر ارون کا  اعلان شائع کیا گیا، تویکم فروری 1931ء کو مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ نے ان اعلانات کو بے حقیقت اور ناقابل عمل قرار دیا۔

گاندھی ارون معاہدہ

قصۂ مختصر بھارتیوں کے بائیکاٹ کی وجہ سے پہلی گول میز کانفرنس ناکام ہوگئی، تو برطانوی وزیر اعظم نے 19؍جنوری 1931ء کو اور ہندستانی وائسرائے ارون نے 25؍جنوری 1931ء کو ہندستانیوں کے ساتھ صلح کرنے کی پیشکش کی،جس کے نتیجے میں5؍مارچ 1931ء کو گاندھی ارون معاہدہ ہوا، جس کی رو سے جمعیت علما نے 19؍مارچ 1931ء کو عارضی طور پر دائرہ ٔ حربیہ کی سرگرمیوں کو مشروط طور پر ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا اور ہندو مسلم مسائل کے تصفیہ کے لیے کوششیں تیز کردی گئیں۔

ہندو مسلم اتحاد کو متعدد کوششیں

برطانوی حکومت ہند نے ایک عذر لنگ یہ بھی پیش کیا تھاکہ ہندستانی فرقہ وارانہ خطوط میں تقسیم ہیں، آخر حکومت خود اختیاری دی جائے، تو کس فرقہ اور مذہب کو دی جائے، جس کے لیے ہندستانیوں نے ہندو مسلم مفاہمت کی حتی الامکان کوشش کی۔ چنانچہ اس کے لیے 9؍ستمبر 1927ء کو منعقد ایک مشترک اجلاس میں ہندو مسلم دونوں نے اپنے مطالبات کی فہرست پیش کی، لیکن 13؍ستمبر1927ء کو گائے اور مسجد کے سامنے باجا بجانے کے مسئلے پر اتحادنہ ہوسکنے کی وجہ سے اتحاد کمیٹی ناکام ہوگئی۔ لیکن 27-28؍اکتوبر1927ء کو منعقد اجلاس میں اتحاد پیدا کرنے کی دوبارہ کوشش کی گئی۔ ہندو مسلم اتحاد کی کوششیں جاری تھیں کہ انگریزوں کی ایک خفیہ سازش کے تحت توہین رسالت پر مبنی کتاب’’رنگیلا رسول‘‘ کے مقدمہ میں، اس کے ناشر راجپال کو 5؍مئی 1927ء کو بری کردیا، اس سے حوصلہ پاکر کچھ اخبارات و رسائل نے بھی خاتم الانبیا ﷺ کی ذات گرامی پر کیچڑ اچھالا، جن سے ہندو مسلم کی اتحاد کی بنیادیں کمزور پڑنے لگیں ۔ جمعیت علما نے جہاں ایک طرف توہین رسالت کے مجرمین کے خلاف ملک گیر احتجاج کیے اور سخت قانونی کارروائی کی جدوجہد کی، وہیں حصول آزادی کے لیے ہندومسلم اتحاد کے لیے کوششیں برابر جاری رکھیں۔چنانچہ یکم جنوری 1929ء کو منعقد آل انڈیا مسلم کانفرنس میں مسلمانوںکے مذہبی و قومی حقوق کے تحفظ کے لیے ان کا ایک متفقہ فا رمولا تیار کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔علاوہ ازیں 3-6؍مئی 1930ء کے نویں اجلاس عام میں نہ صرف ہند و مسلم کا مشترکہ پلیٹ فارم کانگریس سے عملی طور پر شراکت کی؛ بلکہ باہمی اتحاد کے خلاف کام کرنے والے آریوں اور مہاسبھائیوں کو کانگریس سے باہر نکالنے کا مطالبہ بھی جاری رکھا۔

22؍مارچ 1931ء کو مسلم حقوق کے تحفظ پر مبنی ایک فارمولا گاندھی جی کو پیش کرتے ہوئے، اس کی منظوری کا مطالبہ کیا۔اس کے بعد نواب بھوپال کی زیرسرکردگی 10-11؍مئی 1931ء کو ، بعد ازاں 19-20؍جون1931ء کو شملہ میں ہندو مسلم مفاہمت کا مسودہ تیار کرنے کے لیے کانفرنسیں کی گئیں، لیکن یہ سب کوششیں ناکام رہیں۔

فرقہ وارانہ مسائل کے حل کے لیے31؍مارچ 1931ء کو کانگریس نے، مسلم نیشنلسٹ کی طرف سے ڈاکٹر مختار احمد انصاری نے،11؍مئی 1931ء کو ہندو مہاسبھا نے،22؍جولائی 1931ء کو مجلس احرار اسلام نے، ان کے علاوہ کئی اور تنظیموں نے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں۔ 3؍ اگست1931ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں کانگریس کے فارمولا پر غور کرتے ہوئے، جمعیت علما نے اپنا ایک فارمولا پیش کیا، جو تاریخ میں ’’جمعیت کا فارمولا‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ 

دوسری گول میز کانفرنس

فرقہ وارانہ مسائل کے تصفیہ کے لیے تجاویز کی تیاری کا ایک بنیادی مقصد دوسری گول میز کانفرنس میں پیش کرنا تھا۔ چنانچہبرطانوی ہندستان کے لیے آئینی اصلاحات پر تبادلۂ خیال کے مقصد سے دوسری گول میز کانفرنس 7؍ ستمبر1931ء سے یکم دسمبر 1931ء تک لندن میں منعقد ہوئی۔ چوں کہ گاندھی جی کا اصرار تھا کہ کانگریس کو سارے ہندستانیوں کی واحد نمائندہ جماعت تسلیم کی جائے، جو تسلیم نہیں کیا گیا۔ اسی طرح مسٹر جناح نے اپنے مشہور چودہ نکات پیش کیے، لیکن برطانیہ نے کوئی بھی مطالبہ منظور کیا؛ بلکہ برطانوی حکام نے ہندستان کی آزادی کے بجائے راجواڑوں پر توجہ دی اور گیارہ نکات پر مشتمل ’’اقلیتوں کا میثاق‘‘ کے نام سے ایک مشترکہ معاہدہ جاری کردیا، جسے ہندستانیوں نے قبول نہیں کیا، اور اس طرح یہ کانفرنس بھی ناکام رہی۔

ڈکٹیٹر شپ کا آغاز

دوسری گول میز کانفرنس کی ناکامی کے بعد وائسرائے ہند ولنگڈن نے ہندستان کو  اصلاحات دینے کے بجائے چار چار آرڈی نینس جاری کرتے ہوئے جبرو تشدد کا راستہ اختیار کیا،  جس کے خلاف خفتہ تحریک سول نافرمانی میں پھربیداری آگئی اور تمام حریت پسند میدان عمل میں کود پڑے۔ جمعیت علمائے ہند نے 29؍فروری تا 2؍مارچ1932ء کو منعقد اپنی مجلس عاملہ میں تحریک سول نافرمانی کو باقاعدہ اور منظم طور پر چلانے کے لیے صدور و نظمائے عمومی کے سلسلے کو توڑ کر ڈکٹیٹرانہ نظام کا آغاز کیا اور حضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے خود کو پہلا ڈکٹیٹر قرار دیتے ہوئے، اس سلسلے کا آغاز کیا۔ یکے بعد دیگرے بارہ ڈکٹیٹران فرنگی قیدو بند کے شکار ہوئے۔ 

برطانیہ کا کمیونل ایوارڈ اور ہندستانیوں کا رد عمل اور باہمی جوتم پیزار

خود ہندستانی باہمی فرقہ وارانہ حقوق کے تصفیہ کی جدوجہد میں مصروف تھے کہ 16؍اگست 1932ء کو برطانوی وزیر اعظم نے کمیونل ایوارڈ(فرقہ وارانہ تصفیہ ) کا ایک فارمولا شائع کیا۔ چوں کہ اس میںہندستانیوں کے طرف سے پیش کردہ کسی بھی مطالبہ کو معقول طورپر شامل نہیں کیا گیا تھا،اس لیے 18؍اگست 1932ء کو کانگریس نے، اور 20؍اگست 1932ء کو جمعیت علمائے ہند نے،27؍اگست 1932ء کو مجلس احرار اسلام ہند نے اسے نامنظور کرتے ہوئے مکمل آزادی کے حصول کی جدوجہد کو جاری رکھنے کا اعلان کیا۔2؍ستمبر1932ء کو مسلم لیگ نے بھی قبولیت کی غیریقینی موقف کا اظہار کیا۔

ادھر دوسری طرف وزیر اعظم برطانیہ نے اپنے  16؍اگست 1932ء کے بیان میں یہ بھی اعلان کیا تھا کہ اگر ہندستانی کمیونل ایوارڈ کے متعلق متفقہ طور پر کوئی فارمولا پیش کریں گے، تو اسے قبول کیا جائے گا۔ چنانچہ اسی مقصدکے پیش نظر  15-16؍ اکتوبر1932ء کو آل پارٹیز کانفرنس الٰہ آباد میں فرقہ وارانہ مسائل کے تصفیہ پر بحث و گفتگو کے بعد جمعیت کے فارمولے کو منظوری دی گئی۔پھر 3؍نومبر 1932ء سے مسلسل سترہ دنوں تک مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں کے درمیان فرقہ وارانہ حقوق پر بحث و گفتگو ہونے کے بعد ایک متحدہ مطالبہ کا مسودہ تیار کیا گیا۔بعد ازاں 10تا 12؍ دسمبر1932ء کو لکھنو میں آل پارٹیز مسلم کانفرنس کی گئی ، جس میں الٰہ آباد کانفرنس کے فیصلوں کی منظوری دی گئی۔پھر 13؍دسمبر سے 24؍ دسمبر تک الٰہ آبا دمیں ایک اور کانفرنس ہوئی، جس میں لکھنو آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں کی جزوی ترمیم کے بعد منظوری دی گئی۔ ان تمام کانفرنسوں میں جمعیت علما نے اہم کردار ادا کیا۔  پھر 29؍دسمبر1932ء سے 2؍جنوری 1933ء تک کلکتہ میں سبجیکٹ کمیٹی کے اجلاس ہوئے۔ لیکن نشستوں کے تعین کو لے کر فیصلہ نہ ہوسکنے کی وجہ سے یہ کانفرنسیں اپنے مقصد میں ناکام ہوگئیں، اس پر جمعیت علما نے 19تا 21؍اگست 1933ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں سخت افسوس کا اظہار کیا۔ 

 تیسری گول میز کانفرنس 

گول میز کانفرنس کا تیسرا اور آخری دور17؍ نومبر 1932ء سے 24؍ نومبر 1932ء تک لندن میں منعقد ہوا۔ چوں کہ ہندستانیوں کی طرف سے کوئی متفقہ مطالبہ تیار نہیں ہوسکا،  اسی وجہ سے مسلم لیگ اور کانگریس کی شرکت نہ کرنے کی وجہ سے کسی ٹھوس فارمولے پر اتفاق رائے نہ ہو سکا۔اور یہ کانفرنس بھی ناکامی کی شکار ہوگئی۔جمعیت علما نے اس کے انعقاد سے پہلے ہی یکم نومبر 1932ء کو عدم اعتماد کا اظہار کردیا تھا۔

قرطاس ابیض 

گول میز کانفرنس کے اختتام پر حکومت برطانیہ نے مختلف کمیٹیوں کی رپورٹوں، سفارشوں اور تجاویز پر مبنی ایک وضاحتی قرطاس ابیض(White Paper) 17؍مارچ 1933ء کو  شائع کیا گیا۔ چوں کہ اس میں بھی سابقہ اعلانات کے اعادے کے علاوہ کچھ نہیں تھا، اس لیے بھارتیوں نے بالکل بھی قبول نہیں کیا اور بھارت کی مکمل آزادی کے لیے سول نافرمانی کی ڈگر پر چلتے رہے۔24؍مارچ 1933ء کو حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے فرمایا کہ جن لوگوں کا مسلک مکمل آزادی ہے، ان کو کسی وائٹ پیپر سے کوئی تعلق نہیں ہے۔بعد ازاں 19تا 21؍ اگست 1933ء کو منعقد مجلس عاملہ نے جمعیت علمائے ہند نے اس نظریے پر مہر تصدیق ثبت کردی۔ 

پارلیمنٹری کمیٹی کی رپورٹ وائٹ پیپر سے بھی بدتر

 23؍نومبر1934ء کو جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کی رپورٹ شائع کی گئی، جس پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے یکم دسمبر 1934ء کو جمعیت نے اسے قرطاس ابیض سے بھی بد تر قرار دے کر مسترد کردیا۔ 

مرکزی قانون ساز اسمبلی کا الیکشن 

قرطاس ابیض اور مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی رپورٹ کے تناظر میں انڈیا ایکٹ 1935ء نافذ کیا جانے والے تھا۔اس ایکٹ کی رو سے جوکچھ بھی خود مختاری ہندستان کو مل رہی تھی، اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے مسلم لیگ اور کانگریس دونوں نے الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔ جمعیت علمائے ہند نے5؍نومبر1934ء کو مسلم یونٹی بورڈ کے امیدواروں کی مشروط حمایت کی۔

اواخر دسمبر1934ء تک مرکزی اسمبلی الیکشن کے نتائج سامنے آگئے

انڈیا ایکٹ 1935ء کی مخالفت

اس کے بعد 24؍جنوری 1935ء کو ایک میمورنڈم اور یکم فروری 1935ء کا انڈیا بل 1935ء کو شائع کیا گیا۔جس کی 24؍جون 1935ء کو پرزور مذمت کرتے ہوئے جمعیت علما نے اسے قبول نہ کرنے کا اعلان کیا۔بعد ازاں کئی ماہ کی مسلسل بحث وگفتگو کے بعد2؍ اگست 1935ء کو گیارہ بج کر چالیس منٹ پر ملک معظم نے انڈیا بل پر مہر تصدیق ثبت کردی۔ اس طرح برطانوی شہنشاہ نے اپنے نزدیک ہندستان کو آزادی دے دی اورانڈیا ایکٹ 1935ء کو آخری شکل میں منظور کر لیا۔

چوں کہ اس میں مکمل آزادی کے مطالبہ کو شامل نہیں کیا گیا تھا، اس لیے17؍جنوری 1936ء کو جمعیت علمائے ہند نے ایک عظیم الشان اجلاس کے ذریعہ اس ایکٹ کی شدید مخالفت کی۔

صوبائی انتخابات

انڈیا ایکٹ 1935ء کی رو سے جو بھی صوبائی خود مختاری ہندستان کو مل رہی تھی، اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ہر پارٹی نے الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا۔مسلمانوں کی طرف سے متحدہ پلیٹ فارم سے الیکشن میں حصہ لینے کے لیے 2؍اپریل 1936ء کو منعقد مسلم یونٹی بورڈ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ مسلم لیگ کے بجائے اس بورڈ کے بینر تلے الیکشن لڑا جائے۔بعد ازاں 26؍ اپریل1936ء میں جمعیت علمائے ہند نے اس الیکشن میں مسلم لیگ کی حمایت کا اعلان کیا۔ 

الیکشن کے نتائج

جنوری 1937ء سے الیکشن کا آغاز ہوا اور ہندستان کے کل گیارہ صوبوں میں انتخابات  ہوئے۔ اس انتخاب میں جمعیت علمائے ہند نے بہار میں مسلم انڈی پینڈنٹ پارٹی کی، یوپی میں مسلم لیگ کی اور صوبہ سرحد اوردیگر ریاستوں میںکانگریس کی حمایت کی۔ اورمختلف صوبوں کا دورہ کرکے حمایت کردہ پارٹی کے امیدواروں کے حق میں ووٹ دینے کی تحریک چلائی۔ چوں کہ یہ الیکشن جداگانہ انتخاب کے اصول پر مبنی تھا، اس لیے مسلم لیگ نے مسلم حلقوں میں اور کانگریس نے اپنے ہندو مسلم حلقوں میں زبردست کامیابی حاصل کی، جس کی وجہ سے بعض کانگریسی لیڈروں نے کامیابی کے زعم میں یہ بیان دینا شروع کردیا کہ حکومت سازی میں مسلم لیگ سے تعاون کی ضرورت نہیں، اس پر جمعیت علما نے تنبیہ کرتے ہوئے 13؍مارچ 1937ء کو گاندھی جی سے ملاقات کی اور اس فکر کو قومی یک جہتی کے لیے سم قاتل قرار دیا۔ 

یکم اپریل 1937ء سے انڈیا ایکٹ 1935ء کو نافذ العمل قرار دیا گیا۔ اس طرح ہندستانیوں کو آئینی آزادی کی پانچویں قسط ملی۔ جمعیت علما نے اس سے پہلے ہی 24؍مارچ 1937ء کویوم نفاذکو یوم مخالفت آئین کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ 

قبول اور عدم قبول وزارت کا مسئلہ

چوں کہ انڈیا ایکٹ 1935ء میں کل اختیارات انگریز گورنروں کو دیے گئے تھے، اس لیے انتخاب میں بھاری کامیابی کے باوجود کانگریس نے وزارت قبول نہ کرنے کا فیصلہ لیا، گاندھی جی نے مشورہ دیا کہ گورنروں سے عدم مداخلت کی تحریر لینے کے بعد وزارت قبول کریں؛جب کہ اس کے برعکس جمعیت علما نے 24؍مارچ 1937ء کویہ فیصلہ کیا کہ بلا شرط وزارتیں قبول کی جائیں ، جسے بعد میں کانگریس نے بھی تسلیم کیا اور حکومت سازی کی۔ 

مسلم لیگ سے جمعیت علما کی علاحدگی

5؍ اپریل 1936ء کو ایک میٹنگ میں فیصلہ کرنے کے بعد 26؍اپریل 1936ء کو اکابرین جمعیت نے مسلم لیگ پارلیمنٹری بورڈ کی رکنیت قبول کی تھی؛ لیکن مسٹر جناح کی اسلام مخالف پالیسی، فرقہ وارانہ خطوط پر جداگانہ انتخاب کے مطالبہ اور مکمل آزادی کی حمایت نہ کرنے کی وجہ سے 17؍ مئی 1937ء کو الٰہ آباد نیشنلسٹ کانفرنس میںبشمول جمعیت علمائے ہند تمام مسلم جماعتوں نے متفقہ طور پر کانگریس میں شرکت کا فیصلہ کرتے ہوئے مسلم لیگ کی رکنیت سے استعفی دے دیا۔

کانگریس، لیگ اتحاد کی کوشش اور کانگریس میں شرکت کا اعلان عام

جب پنڈت جواہر لال نے الیکشن میں ملی کامیابی کے زعم میں یہ کہہ دیا کہ ملک میں صرف دوہی جماعتیں ہیں: کانگریس اور گورنمنٹ ، تو مسٹر جناح کو اُن سے شکایت پیدا ہوگئی اور انھوں نے جواب میں اعلان کیا کہ ملک میں ایک تیسری جماعت مسلم لیگ بھی ہے۔یہ بدمزگی کی بنیاد تھی۔ اسی طرح مسلم اقلیت کے تعلق سے کانگریس کی پالیسی واضح نہ ہونے کی وجہ سے مسلم لیگ اور کانگریس میں مزید دوریاں پیدا ہوگئیں۔ جمعیت علمائے ہند نے دونوں میں دوریاں ختم کرنے کی انتھک کوششیں کیں۔ البتہ ملک کی آزادی کی خاطر کانگریس کے ساتھ اشتراک عمل کے فیصلہ پر قائم رہنے کا اعلان کیا۔ 

(جلدسوم)

متحدہ قومیت کا مسئلہ

7؍جنوری 1938ء کو حضرت شیخ الاسلام کی تقریر کے ایک جملہ ’’قومیں اوطان سے بنتی ہیں، نسل، یا مذہب سے نہیں‘‘ سے متحدہ قومیت اور وطنیت کے موضوع پر بحث کا ایک لامتناہی سلسلہ چھڑگیا۔ علامہ اقبال کے ایک قطعہ نے اس اختلاف کو اور بڑھکا دیا، جس سے نظریۂ پاکستان کے لیے بحث کا دروازہ کھل گیا۔

مسلم لیگ کا مصالحت سے انکار 

9؍جنوری1938ء کو صدرمسلم لیگ مسٹر جناح کو ایک تار بھیج کر یہ مشورہ دیا گیا کہ 3؍ جنوری1938ء کو منعقد کانگریس کے اجلاس میں ہندو مسلم سمجھوتہ کے لیے مسٹر جناح کو مصالحت کی دعوت فیصلے کے تناظر میں بہتر ہے کہ پہلے مسلم کنونشن کرلیا جائے؛ لیکن صدر لیگ نے اس مشورہ کو ٹھکرا دیا ؛ اس کے باوجود ہندستان کی مکمل آزادی ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مسلم حقوق کے تحفظ کے لیے مسلم لیگ اور کانگریس میں مصالحت کرانے کی کئی کوششیں کی گئیں؛ لیکن لیگ کے بے جا مطالبات کی وجہ سے ساری کوششیں رائیگاں ہوگئیں۔ 

فوجی بھرتی بل کی مخالفت

ہونے والی جنگ عظیم دو م کے لیے فوجی بھرتی کے لیے لائے گئے بل کی مخالفت کرتے ہوئے یکم ستمبر1938ء کو جمعیت علما نے اپیل کی کہ نوجوان اس میں بالکل بھی حصہ نہ لیں۔

 آرمی بل کے تحت ہندستانیوں کو فوج میں بھرتی کرنے کے خلاف مجلس احرار اسلام کے کارکنان نے پنجاب میں تحریک چھیڑ رکھی تھی، جس پر حکومت ڈیفنس ایکٹ کے تحت اس کے کارکنان کو اندھا دھند گرفتار کر رہی تھی، مجلس عاملہ منعقدہ 3،4؍ مارچ1940ء نے اس پر ایکشن لیتے ہوئے حکومت پنجاب کی سرزنش کی ۔ 

فیڈریشن قبول نہ کرنے کا اعلان

8-9؍اکتوبر1938ء کو مسلم لیگ نے ہندستان کو دو حصوں: مسلم حکومتوں کی فیڈریشن اور غیر مسلم حکومتوں کی فیڈریشن میں تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا۔بعد ازاں اس نظام سے جمہوریت کے پردے میںاکثریتی طبقہ کو فائدہ پہنچنے کی دلیل دے کر اس کی مخالفت کی، جس سے برطانوی حکومت ہند کومرکزی اسمبلی انتخابات نہ کرانے کا بہانہ مل گیا اور اس طرح سیاسی فضا میں جمود طاری ہوگیا۔ اس سلسلے میں جمعیت علمائے ہند کا یہ موقف تھا کہ فیڈریشن برطانوی ہندی تعلقات کا نقطۂ انکسار ہے، اور یہ اس وقت تک قابل قبول نہیں ہوسکتا، جب تک کہ انڈیا ایکٹ کی دفعہ (۵) کو عملہ جامہ نہ پہنادیا جائے۔  

جنگ عظیم دوم میں شرکت کی مخالفت کا فیصلہ 

3؍ ستمبر1939ء سے دوسری عالمی جنگ کا آغاز ہوا، جس میں برطانوی ہند نے ہندستانیوں سے مشورہ کیے بغیر جنگ میںبھارت کی شمولیت اعلان کردیا۔ اس کے خلاف 14؍ ستمبر 1939ء کو کانگریس نے اور 16تا 18؍ ستمبر1939ء  کو جمعیت علمائے ہند نے طویل غورو فکر کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ اپنی محکومیت کی عمر بڑھانے کے لیے ہم ہرگز جنگ میں شرکت نہیں کریںگے۔ اور برطانی ہند کے خلاف عملی طور پر مظاہرہ کرتے ہوئے 31؍ اکتوبر1939ء  تک کانگریسیوں نے وزارت سے استعفے دے دیے۔ جب کہ قادیانیوں اور مسلم لیگ نے جنگ میں برطانوی ہند کی حمایت کی اور وزارت کے استعفیٰ کو اپنے لیے ایک موقع سمجھتے ہوئے 22؍ دسمبر 1939ء  کو ’’یوم نجات ‘‘ منانے کا اعلان کیا۔ چوں کہ اس سے فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھنے اور ہندستان کی آزادی سے مسلمانوں کی بیزاری کا اظہار ہوتا تھا، اس لیے مولانا ابوالکلام آزادؒ اور دیگر مسلم لیڈروں نے مسلم لیگ کے اس رویہ کو تباہ کن قرار دیا۔

13؍جنوری 1940ء کو حضرت مولانا ابوالمحاسن محمدسجاد صاحب نے وائسرائے ہند کو ایک طویل مکتوب لکھ کر واضح کردیا کہ ہم اپنی غلامی کی زندگی کو دراز کرنے کے لیے برطانیہ کے ساتھ جنگ عظیم دوم میں شرکت نہیں کریں گے۔ 

علاوہ ازیں جنگ عظیم دوم میں ہندستانیوں کا تعاون حاصل کرنے کے لیے حکومت نے لچک رویہ اختیار کرتے ہوئے 8؍ اگست 1940ء کوہندستان کے کچھ نمائندہ لیڈروں کو اپنی ایگزیکیٹو کونسل میں شامل کرنے اور جنگ کے بعدمشاورتی کونسل قائم کرنے کی پیش کش کی۔ چوں کہ دوران جنگ قومی گورنمنٹ، یا بااختیار کیبنٹ کا فیصلہ نہیں کیا گیا تھا، اس لیے کانگریس نے بھی اسے تسلیم کرنے سے انکار کیا اور 12؍ اگست 1940ء کو ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند ابوالمحاسن حضرت مولانا محمد سجاد صاحبؒ نے ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علما اس طرح کی کسی بھی پیش کش کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں، جس میںہمارے فطری حق، یعنی مکمل آزادی کو تسلیم نہ کیا گیا ہو۔

اسی طرح تعاون کی پیشکش پر حکومت برطانیہ کی طرف سے لالچ دینے کو وعدۂ محبوب بتاتے ہوئے اعلان کیا کہ اس جنگ سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ 

29و 30؍ ستمبر و یکم و2؍ اکتوبر 1940ء کو منعقد مجلس عاملہ کی آخری تجویز میں جمعیت علمائے ہند نے حکومت کے تعاون کو ناجائز قرار دیتے ہوئے مکمل آزادی کے لیے جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ 

قرارداد پاکستان کی متحدہ مخالفت

برطانیہ نے ہندستان سے جنگ عظیم دوم کے درمیان امداد و تعاون کی خواہش کا اظہار کیا، جس پر جمعیت اور کانگریس نے مکمل آزادی، اور مسلم لیگ نے مذہبی خطوط پر وطن کو تقسیم کرنے اور مسلم لیگ کو مسلمانوں کی واحد نمائندہ تنظیم تسلیم کرنے کی شرط رکھی۔ حکومت نے ان مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ دونوں بڑی اکثریتی قومیں اگر متحدہ آواز سے کوئی بات کہیں، تو حکومت ہند اس پر غور کرے گی۔ چنانچہ اس کے لیے 3،4؍ مارچ1940ء کو جمعیت نے مجلس عاملہ کے اجلاس میں آل پارٹیز آزاد مسلم کانفرنس کی داعی ہونے کا فیصلہ لیا۔

بعد ازاں 23؍ مارچ1940ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کا تاریخی اجلاس لاہور کے منٹو پارک میں محمد علی جناح کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس میں وفاق سے گریز اختیار کرتے ہوئے ایک قرار داد منظور کی، جو بعد میں’’ قرار داد پاکستان‘‘ کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس میں مسلمانوں کی آبادی کی اکثریتی متصل علاقوں پر مشتمل ہندستان کے شمال مغرب اور مشرق میں آزاد خود مختار ریاستوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا تھا۔اس پر سب سے زیادہ خوشی برطانوی حکومت کو ہوئی؛ کیوں کہ اسے کانگریس کے مقابلے پر ایک مؤثر ہتھیار مسلم لیگ کی صورت میں ہاتھ لگ گیا تھا۔ 

اسی قرارداد پاکستان کے خلاف ہندستانی مسلمانوں کی طرف سے متفقہ آواز اٹھانے کے لیے،بشمول جمعیت علمائے ہند،نو مسلم سیاسی جماعتوں نے 27؍تا 30؍اپریل 1940ء کو دہلی میں آل پارٹیز آزاد مسلم کانفرنس کرکے نظریۂ پاکستان کو مسترد کرتے ہوئے ہندستان کی مکمل آزادی کا مطالبہ دہرایا۔

مسٹر جناح نے حضرت امام الہند کی توہین کی

 12؍ جولائی 1940ء کو کانگریس کے صدر مولانا ابوالکلام آزادؒ نے مسٹر جناح کو ایک تار بھیج کر یہ مطالبہ کیا تھاکہ ملک اور قوم کے بہترین مفاد پر مشتمل آزاد ہندستان کا دستور مرتب کرنے میں تعاون کریں ؛ لیکن مسٹر جناح نے اس میں نہ صرف تعاون نہ کرنے کا جواب دیا؛ بلکہ تار کے جواب میں جو زبان اور لہجہ استعمال کیا، اس پر آزاد قومی صحافت، سنجیدہ لیگی حلقوں اور جمعیت علمائے ہند نے اپنی سخت ناپسندیدگی کا اظہار کیا۔

انفرادی ستیہ گرہ 

 ہندستان کے وائسرائے لارڈ لن لتگھونے بھارتیوں کی رائے لیے بغیرجرمنی کے خلاف دوسری عالمی جنگ میں ہندستان کی شمولیت کا اعلان کردیا، اسی طرح ڈیفینس آف انڈیاایکٹ 1939ء پاس کرتے ہوئے اظہار رائے کی آزادی پر پابندی لگادی،جس سے پورا بھارت انگریزوں کے خلاف مشتعل ہوگیا۔ اس کے خلاف جب کانگریس نے 11؍ اکتوبر 1940ء کوانفرادی ستیہ گرہ تحریک کے پہلے مرحلے کا آغاز کیا، تو جمعیت علمائے ہندنے اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور نظم وضبط قائم رکھنے کے لیے مجلس عاملہ منعقدہ:5،6؍ جنوری 1941ء میں دس نکاتی ہدایات جاری کیں۔یہ مرحلہ 14؍ دسمبر 1940ء کو اختتام پذیر ہوا۔اوردوسرا مرحلہ: جنوری 1941ء میں شروع ہوا اور دسمبر 1941ء میں اختتام پذیر ہوا۔

کرپس اسکیم کا حشر

ادھرایک طرف جاپان جرمنی کا ساتھ دیتے ہوئے جنگ میں کود پڑا، تو وہیں دوسری طرف آزادی ہند فوج نے بھی امپھال کا محاصرہ کرکے ’’چلو چلو دلی چلو‘‘ کا نعرہ دیا، جس نے ہندستان میں انگریز حکومت کی بنیادیں ہلاکر رکھ دیں۔علاوہ ازیںمکمل آزادی کے نعرے کے ساتھ سول نافرمانی کی تحریک نے حالات کو اوردھماکہ خیز بنادیا۔ ان حالات کے پیش نظر حکومت برطانیہ نے 11؍ مارچ 1942ء میں اسٹفرڈ کرپس(Stafford Cripps) کو،تمام اہم سیاسی پارٹیوں کے لیڈران اور والیان ریاست کے نمائندوں سے گفتگو کرنے کے لیے ہندستان بھیجا۔ کرپس نے 29؍ مارچ 1942ء کو اپنی تجویز پیش کردی۔چوں کہ اس میں ہندستان کی مکمل آزادی کا تذکرہ نہیں تھا، اس لیے کانگریس نے اس کو کلیتاً مسترد کردیا اور فوری طور پر ملک میں خود مختار حکومت تشکیل دینے کا مطالبہ کیا۔ مسلم لیگ نے بھی کرپس مشن کویہ کہہ کرقبول کرنے سے انکارکردیا کہ اس میں مسلمانوں کے لیے ایک علاحدہ مملکت کے قیام کے لیے کوئی ٹھوس ضمانت نہیں دی گئی ہے۔جمعیت چوں کہ انگریزوں کی عیارانہ فطرت سے بہ خوبی واقف تھی، اس لیے کرپس کی تجویز پیش کرنے سے پہلے ہی 20/21/22؍ مارچ1942ء کواپنے تیرھویںاجلاس عام میں اس مشن کو مسترد کردیا، جس سے اس کو ناکامی کا منھ دیکھنا پڑا۔

ہندستان چھوڑ دو تحریک

جب کرپس مشن ناکام ہوگیا، توچرچل نے 12؍ اپریل 1942ء کو اسے لندن واپس بلالیا اور وائسرائے ہند لن لتھگوکو حکم دیا کہ وہ بھارتیوں کی تحریک آزادی کو ظلم و تشدد سے کچل ڈالے۔ چنانچہ لن لتھگو نے ہندستانیوں پر ظلم و ستم کا پہاڑ توڑنا شروع کردیا اور داروگیر کی رفتار بڑھادی، جس سے عاجز آکر گاندھی جی نے کرو یا مرو کا نعرہ دیااور 14؍ جولائی 1942ء کو کانگریس کی مجلس عاملہ نے’’ہندستان چھوڑ دو‘‘ تحریک(Quit India Movement ) کی تجویز پاس کی۔بعد ازاں7؍ اگست 1942ء کواپنے مجلس عاملہ کے اجلاس میں اس قرارداد کی تصدیق کرتے ہوئے 8؍ اگست 1942ء کو عملی طور پر تحریک کا آغاز کردیا،جس سے پورے ہندستان میں بھونچال آگیا۔انگریزوں نے کانگریس اور جمعیت علمائے ہند کے رہ نماؤں کو گرفتار کرنا شروع کردیا؛ حتیٰ کہ کانگریس کے صدر مولانا ابوالکلام آزاد ؒ، گاندھی جی اور دیگر بڑے رہ نماؤں کو9؍ اگست 1942ء کو ہی گرفتار کرلیا۔ اسی طرح جمعیت علما نے 17-18؍ اگست 1942ء کومجلس عاملہ کا اجلاس کیا، جس میں جنگ آزادی میں مسلمانوں کے کردار کے اعلان پرمبنی تجویز پاس کرکے اس کوہندستان کے گو شے گوشے میں پھیلادیا، جس کے نتیجے میںاس کے قائدین بھی تختۂ مشق ستم بنائے گئے اور شیخ الاسلام، مجاہد ملت اور سید الملت سمیت درجنوں شخصیات کو پابند سلاسل کردیاگیا، جس سے حالات مزید دھماکہ خیز ہوگئے۔ اس کے بالمقابل مسلم لیگ نے ہندستان چھوڑ دو تحریک کو بغاوت قرار دیتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کہ وہ اس تحریک سے لاتعلق رہیں؛ مگر مسلمانوں نے مسلم لیگ کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے، ہندستان آزاد ہونے تک تحریک جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

 گاندھی جی نے ایام اسیری میں بھی ہندستان کی آزادی کے قابل قبول حل نکالنے کے لیے فروری 1943ء تک خط و کتابت کرتے رہے؛ لیکن وائسرائے ہند لن لتھ گو ٹس سے مس نہ ہوا۔ بالآخر گاندھی جی نے آخری ہتھیار کے طور پر 10؍فروری سے 3؍ مارچ 1943ء تک اکیس روز کا برت رکھا۔ برت کے اختتام کے موقع پرحضرت مولانا احمد سعید صاحب ؒ نائب صدر جمعیت علمائے ہندنے ایک صلح کانفرنس کی قیادت کی، جس کی وجہ سے آپؒ کو گرفتار کرلیا گیا۔

راجا فارمولا

قرارداد پاکستان کے بعد انڈین نیشنل کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ کے درمیان مصالحت کرانے کی کئی کوششیں کی گئیں۔ چنانچہ اسی مقصد سے مسٹر راج گوپال آچاریہ سابق وزیر اعظم صوبہ مدراس نے 10؍اپریل 1944ء کو ایک فارمولا مرتب کرکے مسٹر جناح کے پاس بھیجا،جو ’’راجا فارمولا‘‘ کے نام سے مشہور ہوا، لیکن 30؍جولائی 1944ء کو مسٹر جناح نے یہ کہہ کر مسترد کردیا کہ ’’یہ محض سایہ، چھلکا، پوپلا، لنگڑا، اپاہج اور کرم خردہ پاکستان ہے۔‘‘

 سپرو کمیٹی کی سفارشات

 جنگ عظیم دوم (یکم ستمبر1939ء-2؍ ستمبر1945ء) کے دوران برطانوی حکومت ہند نے ہندستان کے آئینی مسائل حل کرنے کے بجائے بالکل خاموشی اختیار کرلی۔اسی آئینی جمود و تعطل کو ختم کرنے،اورہندستان کو فرقہ وارانہ خطوط پر تقسیم کے مطالبے کو مد نظر رکھتے ہوئے غیر جماعتی کانفرنس کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی طرف سے23؍جنوری 1945ء کو’’سپرو کمیٹی کی سفارشات‘‘ پیش کی گئیں۔ چوں کہ سپرو کمیٹی میں حق خود ارادیت کی کلیتا نفی، دستور ساز اسمبلی میں اچھوتوں کے لیے جداگانہ نیابت کا استحقاق اور آئندہ آزاد حکومت کی تشکیل کی بعض تفصیلات جمعیت علما کے فیصلوں کے خلاف تھیں، اس لیے 31؍جنوری تا 2؍فروری 1945ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں اس کی سفارشات کو نامنظور کرتے ہوئے آزاد بھارت کے آئین میں مسلمانوں کی حقیقی پوزیشن واضح کرتے ہوئے 3؍ اگست 1931ء کا ہی کے منظور کردہ فارمولا پیش کیا گیا، جو تاریخ میں ’’جمعیت علما کا فارمولا‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔اس فارمولے میں آزادیِ کامل، مسلم مذہب و تہذیب کی آزادی اور صوبوں کی مکمل خود مختاری کی دفعات شامل تھیں۔ علاوہ ازیں اقلیتوں پر اکثریت کے مظالم کی روک تھام کے لیے مرکزی ایوان کے ممبروں کی تعداد میں45؍ فی صد ہندو، 45؍ فی صد مسلم اور 10؍فی صد دیگر اقلیتوں کی سیٹیوں کی تخصیص، سپریم کورٹ میں مسلم و غیر مسلم ججوں کی تعداد کی برابری کے مطالبہ کے علاوہ یہ مطالبہ بھی شامل تھا کہ مرکزی حکومت میں اگر کسی بل، یا تجویز کو مسلم ارکان کی دو تہائی اکثریت اپنے مذہب، یا اپنی سیاسی آزادی، یا اپنی تہذیب و ثقافت پر مخالفانہ اثر انداز قرار دے، تو وہ بل، یا تجویز ایوان میں پیش ،یا پاس نہ ہوسکے گی۔

واویل پلان

وائسرائے ہند لن لتھ گو کی تشدد آمیز حرکتوں کے باوجود بھارتیوں کا جذبۂ آزادی سرد نہیں ہوا، تو حکومت برطانیہ نے یکم اکتوبر 1943ء میں واویل کو ہندستان کا وائسرائے بناکر بھیجا ۔ واویل نے ہندستان کے مسائل حل کرنے کے لیے واویل پلان(Wavell Plan)  پیش کیا۔اس پلان کے مطابق بھارت میں عارضی حکومت قائم کرنے کے لیے مختلف مذاہب کے لیڈروں پر مشتمل چودہ افراد کی ایک ایگزی کیٹو کونسل (Executive Council)تشکیل دینا تھا۔ جمعیت نے اس پلان پر غوروخوض کے لیے 28؍ جون 1945ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کیا، جس میںدوسری تنظیموں کے لیڈران بھی مدعو تھے۔ اس مشترک اجلاس میں ہندستان کے آئینی مسئلے کے حل ہونے کی امید پر یہ فیصلہ لیا گیا کہ واویل پلان عارضی وقت کے لیے مناسب ہے۔

 واویل پلان کے مطابق ایگزی کیٹو کونسل کے 14؍ممبران کے لیے چھ نام کانگریس کو ، پانچ نام مسلم لیگ کو اور تین نام دیگرفرقوں کی طرف سے پیش کیے جانے تھے۔ حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ کے حسن تدبر سے کانگریس نے اپنے کوٹے کو اس طرح تقسیم کیا تھا کہ اعلا ہندو تین، سکھ ایک، اچھوت ایک، مسلمان ایک۔اس کونسل کے لیے مسلم کو منتخب کرنے کا مسئلہ درپیش ہوا، تو کانگریس کے صدر حضرت مولانا ابوالکلام آزاد صاحبؒ کی دعوت پر3،4؍ جولائی 1945ء کوحضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب ؒصدر جمعیت علمائے ہند اورناظم عمومی حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحبؒ شملہ تشریف لے گئے اور ناموں کے انتخاب میں کانگریس کی رہ نمائی کی۔ کانگریس نے نام پیش کردیے؛ مگر مسلم لیگ نے اس بات پر اصرار کرتے ہوئے نام پیش کرنے سے انکار کردیا کہ کانگریس ہندوؤں کی جماعت ہے، اس لیے اسے مسلمان ممبروں کو نام زد کرنے کا حق نہیں ہے۔یہ حق صرف مسلم لیگ کو ہے؛ کیوں کہ وہی مسلمانوں کی واحد نمائندہ تنظیم ہے۔ اس بے جا اصرار کی وجہ سے 14؍ جولائی 1945ء کو کانفرنس کی ناکامی کا اعلان کردیا گیا۔ 

مسلم پارلیمنٹری بورڈ کا قیام

 19؍ ستمبر1945ء کو وائسرائے ہند واویل نے اعلان کیا کہ دسمبر 1945ء سے جنوری 1946ء کے درمیان مرکزی اور صوبائی لیجس لیٹیو کونسل کے انتخابات ہوںگے۔ساتھ ہی یہ بھی اعلان کیا کہ انتخابات کے بعد ایک ایگزی کیٹو کونسل تشکیل دی جائے گی اوراس کے بعد آئین سازی کے لیے اجلاس بلایا جائے گا۔

 اس اعلان کے بعد جمعیت نے آزاد ہندستان میں دین و ملت کی آزادی، شریعت غرہ کے تحفظ، مسلمانوں کے باعزت مقام اور ان مقاصد کو حاصل کرنے کے لیے آئندہ انتخابات میں علمائے کرام کی قیادت و شرکت کے حوالے سے غوروخوض کے لیے، مختلف مسلم تنظیموں اور لیڈروں پرمشتمل16تا 19؍ستمبر 1945 ء کو ’’مسلم آل پارٹیز کانفرنس‘‘ بلائی ، جس میں انتخابا ت میں مشترک طور پر حصہ لینے کے لیے متفقہ طور پر ’’مسلم پارلیمنٹری بورڈ‘‘ تشکیل دی گئی۔اور حضرت شیخ الاسلام ؒ کو بورڈ کا صدر منتخب کیا گیا۔بورڈ نے ہندستان کی مکمل آزادی اور جمہوریت کے نام پر ووٹ کی اپیل کی، جب کہ مسلم لیگ نے اسلامی مملکت کا دھوکہ دے کر حصول پاکستان کے نام پر ووٹ مانگا۔ لیگیوں نے الیکشن جیتنے کے لیے جمعیت کے رہ نماؤں؛بالخصوص حضرت شیخ الاسلامؒ، حضرت مجاہد ملتؒ،حضرت امام الہندؒ اوردیگر قومی قائدین کے ساتھ بد تمیزیوں کی انتہا کردی؛ حتیٰ کہ انھیں جان سے مارنے کی بھی کوششیں کیں۔لیکن یہ نڈر مجاہدین وطن و ملت اپنے مشن سے ایک انچ بھی پیچھے نہ ہٹے ۔لیگیوں نے فتوؤں کا بھی سہارا لیا اور پاکستان کی مخالفت کرنے والوں کو اسلام اور مسلمان کا دشمن قرار دیتے ہوئے، دائرۂ اسلام سے خارج کا حکم بھی صادر کرایا گیا۔

مرکز، صوبائی اور آئین ساز اسمبلی الیکشنز کے نتائج

آواخر دسمبر1945ء تک مرکزی قانون ساز اسمبلی کی 102 ؍نشستوں پر ہوئے الیکشن کے نتائج سامنے آگئے۔یہ الیکشن جداگانہ طریقۂ انتخاب پر مبنی تھا، یعنی مسلمان مسلمانوں کو ووٹ دیں گے اور ہندو ہندوؤں کو۔ مسلم لیگ نے پاکستان کے نعرے کے ساتھ الیکشن لڑا ، جب کہ جمعیت علمائے ہند نے آزادی ہند کے نام پرمسلم پارلیمنٹری بورڈ کے تحت کانگریس کی حمایت کی۔ اس میں 30؍ نشستیں مسلمانوں کے لیے مخصوص تھیں،ان سب نشستوں پر مسلم لیگ نے جیت درج کرالی، جب کہ کانگریس کو کل 57؍نشستیں ملیں۔ 

اس کے بعد فروری اورمارچ 1946ء میںصوبائی اسمبلیوں کی کل1585 ؍نشستوں پر الیکشن ہوئے۔ان میں کانگریس نے کل 923؍ سیٹوں پر(%58.23) جیت درج کرائی۔ جب کہ آل انڈیا مسلم لیگ نے مسلمانوں کے لیے مخصوص کل 492؍سیٹوں میں سے 425؍ (%26.81) نشستیں جیت کر دوسرے درجہ کی جماعت کا مقام حاصل کرلیا۔

اسی طرح آزاد ہندستان کے لیے آئین تیار کرنے کے لیے پہلی دستور ساز اسمبلی (Constituent Assembly) میں کل 389؍ نشستیں تھیں، جن میں سے 292؍ نشستیں برطانوی ہند کے صوبوں کے لیے اور 93؍ نشستیں دیسی ریاستوں کے لیے تھیں۔ دیسی ریاستوں کے نمائندوں کا انتخاب وہاں کے حکمرانوں کی مرضی سے ہوتا تھا۔جو نشستیں برطانوی ہند کے لیے مخصوص تھیں،اور جن پر صوبائی اسمبلیوں کے منتخب اراکین نے ووٹ دیے،ان پر جولائی 1946ء میں الیکشن ہوئے، جن میں کانگریس نے 207؍ نشستوں (کچھ ذرائع کے مطابق 208) اور مسلمانوں کے لیے مخصوص 78؍ نشستوں میں سے مسلم لیگ نے 73؍ نشستوں پر ،اس کے علاوہ دیگر پارٹیوں اور آزاد امیدواروں نے 28؍ نشستوں پر جیت درج کرائی۔ان تینوں انتخابات میں مسلم لیگ کی نمایاں جیت نے پاکستان کا راستہ کھول دیا۔

انڈین نیشنل آرمی کے سپاہیوں کی رہائی کا مطالبہ

حصول آزادی ہند کے لیے مسٹر سبھاش چندر بوس کی قیادت میں انڈین نیشنل آرمی کی تشکیل دی گئی، جس کا طریقۂ کار بذریعۂ جنگ و تشدد انگریزوں کو دیس نکالا دینا تھا۔ دوسری بڑی جنگ کے خاتمہ کے بعد انگریز حکومت ہند کی طرف سے آزادی وطن کے لیے لڑنے کے جرم میں انھیں پھانسی، عمر قید اور مقدمہ چلانے کا فیصلہ کیاگیا۔ جن کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے جمعیت علمائے ہند نے اپنی مجلس عاملہ منعقدہ18-19؍ستمبر1945ء کو آرمی کے تمام سپاہیوں کو بلاکسی سزا کے رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔ 

کیبنٹ مشن (وزارتی مشن)

انتخابات کے بعد حکومتی اختیارات منتقل کرنے کے لیے 17؍ فروی1946ء کو کیبنٹ مشن (Cabinet Mission) بھیجنے کا اعلان ہوا۔ 23؍ مارچ 1946ء کو کیبنٹ مشن ہندستان پہنچا اور کانگریس، لیگ اور دیگر لیڈروں سے صلاح و مشورے شروع کیے، لیکن اس نے  جمعیت علمائے ہندکو مدعو نہیں کیا،جس کے پیش نظر جمعیت نے 28-29؍ مارچ 1946ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا کہ اگر مسلمانوں کے مفاد کے خلاف کوئی دستوری دفعہ شامل کیا گیا، تو جمعیت اس کی مخالفت کرے گی۔آل انڈیا مسلم لیگ نے مشن سے ملاقات کرتے ہوئے 8-9؍ اپریل 1946ء کو دو آئین ساز ادارے بنانے اور ہندستان کو تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ 

جمعیت علما کی مجلس عاملہ کے فیصلے کا فوری اثر ہوا اور کیبنٹ مشن نے 16؍ اپریل 1946ء کو ملاقات کے لیے مدعو کیا۔ جمعیت علمانے ملاقات سے ایک دن پہلے 15؍ اپریل 1946ء کو مختلف قوم پرور مسلم جماعتوں کے ساتھ مشترکہ میٹنگ کی اور وزارتی مشن کے سامنے پیش کرنے کے لیے ایک فارمولا تیار کیا۔ اور پھر 16؍ اپریل1946ء کو مجلس عاملہ میں پاس کرکے، اسی دن صدر مسلم پارلیمنٹری بورڈ حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ صدر جمعیت علمائے ہندکی قیادت میں ایک وفد نے کیبنٹ مشن سے ملاقات کی اور فارمولا پیش کیا۔

بعد ازاں مشن نے مسلم لیگ اور کانگریس کے لیڈروں کو تبادلۂ خیالات کے لیے5؍ مئی 1946ء کو شملہ میںمدعو کیا، جس میں دونوں پارٹیوں نے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں۔ لیگ کے مطالبۂ پاکستان کے اصرار اور کانگریس کے اکھنڈ بھارت کے دعوے پرقائم رہنے کی وجہ سے یہ کانفرنس ناکام ہوگئی؛ تاہم مشن نے چوبیس نکاتی پلان پیش کیا،جس میںکانگریس کے چھ، مسلم لیگ کے پانچ اور دیگر فرقوں سے تین نام، کل چودہ ناموں پر مشتمل عارضی حکومت کے قیام کا خاکہ تھا۔چنانچہ مسلم لیگ نے 6؍ جون 1946ء کو اور کانگریس نے 25؍ جون 1946ء کو اسے قبول کرتے ہوئے حکومت سازی میں شرکت کی منظوری دی۔اسی درمیان از 10تا 12؍ جون 1946ء کو مجلس عاملہ مرکزیہ کا اجلاس ہوا، جس میں کیبنٹ مشن کی تجاویز کا تنقیدی جائزہ لے کر اپنا واضح موقف پیش کیا۔

ڈائریکٹ ایکشن ڈے اوراس کے خطرناک نتائج

 چوں کہ اس خاکہ میں مطالبۂ پاکستان کو یکسر مسترد کردیا گیا تھا، اس لیے لیگی حلقوںکے دباؤ کی وجہ سے مسٹر جناح صدرمسلم لیگ نے 27؍ جولائی 1946ء کو مشن پلان سے بیزاری کا اعلان کردیا اور ساتھ ہی16؍ اگست 1946ء کو ڈائریکٹ ایکشن ڈے مناکر پورے ہندستان میں فرقہ وارانہ فسادات کا لامتناہی سلسلہ شروع کردیا۔

 عارضی حکومت کا قیام

ان نازک حالات کے باوجود وائسرائے ہند نے 12؍ اگست 1946ء کو کانگریس کو عارضی حکومت بنانے کی دعوت دی، چنانچہ کانگریس اور دیگر فرقوں نے چودہ میں سے سات ارکان کے ساتھ 2؍ ستمبر 1946ء کو غلام بھارت میں پہلی مرتبہ عارضی حکومت قائم کرتے ہوئے رازداری کا حلف اٹھایا۔ 

کانگریس کی بے اعتنائی پر تنبیہ اور مکمل نمائندگی کا مطالبہ

چوں کہ مسلم لیگ نے کوئی نام پیش نہیں کیاتھا، تو کانگریس کے پارلیمنٹری بورڈ نے یہ فیصلہ کیا کہ ’’ تا قتیکہ لیگ کی جانب سے کوئی قطعی فیصلہ ہو، ان نشستوں کو عارضی طور پر پر کردیا جائے‘‘۔ چنانچہ کانگریس نے مسلم نشستوں کے لیے مسلم جماعتوں سے مشورہ کیے بغیر از خود سر شفاعت احمد خان اور مسٹر علی ظہیر کو نام زد کردیا۔اور تین نشستیں خالی چھوڑ دیں، جس سے مسلمانوں کی صحیح اور مکمل نمائندگی نہیں ہوسکی۔اس پر جمعیت علمائے ہند نے21تا 24؍ ستمبر1946ء کوایک اجلاس میں انتقال اختیارات کے لیے عارضی قومی حکومت کے قیام پر اطمینان کا اظہار تو کیا ؛ لیکن مسلم لیگ کی غلط قیادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے، کانگریس ہائی کمانڈ کے طریق کار پربھی  اعتراض ظاہر کیا ۔اور صدر دستور ساز اسمبلی بابو راجندر پرشاد سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کو صحیح نمائندگی دی جائے۔

مسلم لیگ کی قیادت کی بڑی سنگین غلطی

جب ڈائریکٹ ایکش ڈے منانے کے باوجود مسلم لیگ کو کچھ ہاتھ نہیں آیا، تو 15؍ اکتوبر 1946ء کو عارضی حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔لیکن مسلم لیگ نے سب سے بڑی تاریخی غلطی یہ کی کہ مسلمانوں کی واحد نمائندگی کا دعویٰ کرنے کے باوجود کیبنٹ مشن پلان کے مطابق پانچ مسلم ناموں میں ایک نام غیر مسلم دلت لیڈر جوگندر ناتھ منڈل کاشامل کردیا، جس سے وزارتی پلان میں مسلمانوں کی نمائندگی پینتالیس فی صد سے گھٹ کر پینتیس فی صد رہ گئی۔

 وزیر اعظم برطانیہ کی طرف سے آزادی کے اعلان کا خیرمقدم، مگر

وزیر اعظم برطانیہ مسٹرایٹلی نے 20؍ فروری 1947ء کو اعلان کیا کہ جون 1948ء تک ہندستان کو آزاد کردیا جائے گا۔ اس اعلان سے پیدا شدہ نازک صورت حال پر غورو خوض کرنے کے لیے 13تا 15؍ مارچ 1947ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس کیا گیا، جس کی پہلی تجویز میں مسٹر ایٹلی کے اعلان آزادی کا خیر مقدم کرتے ہوئے ، اسے جمعیت علمائے ہند کی طویل جدوجہد کا نتیجہ قرار دیا۔ دوسری تجویز میں فرقہ وارانہ خطوط پر ملک کی تقسیم کو ملک کے لیے بالعموم اور مسلمانوں کے لیے بالخصوص تباہ کن قرار دیا اور پنجاب کی تقسیم کے لیے کانگریس کی رضامندی پر حیرت کا اظہار کیا گیا۔ تیسری تجویز میںآزاد ہندستان میں مسلمانوں کے مذہبی اور قومی تحفظات کے لیے تمام مسلم جماعتوں کا ایک مشترکہ اجتماع بلانے پر زور دیاگیا۔ اور صدر مسلم لیگ کو دعوت عمل دیتے ہوئے متعدد خطوط لکھے، لیکن مسلم لیگ نے اسے منظور نہیںکیا ۔

ماؤنٹ بیٹن کا پلان 

مسٹر ایٹلی وزیر اعظم برطانیہ کے20؍ فروری کے اعلان کے مطابق جلد از جلد مکمل اختیارات ہندستانیوں کو منتقل کرنے کے لیے24؍ مارچ  1947ء کو وائسرائے ویول کی جگہ ماونٹ بیٹن کو ہندستان کا بیسواں اور آخری وائسرائے بناکر بھیجا گیا۔بیٹن نے ہندستان آتے ہی بھارتی لیڈروں کے نظریات اور رائے عامہ معلوم کرنے کے لیے میٹنگوں اور گفت و شنید کا سلسلہ شروع کردیا۔ انھوں نے بالعموم کیبنٹ مشن کو منظور کرلینے کا مشورہ دیااور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر یہ قابل قبول نہیں ہوگا، تو اس کی متبادل صورت بھی موجود ہے؛لیکن مسلم لیگ کا پاکستان کے لیے اصرار کے پیش نظر کیبنٹ مشن پلان منظور نہیں ہوا، تومتبادل کے طور پر ماؤنٹ بیٹن نے تقسیم ہند کا پلان پیش کردیا۔ان حالات کے پیش نظر از 9؍تا 11؍ مئی 1947ء کو لکھنو میں جمعیت علمائے ہند نے مجلس عاملہ اور مجلس مرکزیہ (جنرل کونسل) کا اجلاس کیا، جس کی پہلی تجویز میں مسٹر ایٹلی کے اعلان کا خیر مقدم کیا، لیکن فرقہ وارانہ خطوط پرملک کی تقسیم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کیبنٹ مشن پلان کو ہی قبول کرنے کا مشورہ دیا۔اورساتویں تجویز میں دستور ساز اسمبلی میں مسلمانوں کی صحیح نمائندگی دینے کا مطالبہ کیا۔

تقسیم ہند کا پلان اور جمعیت علمائے ہند کا اعلان بیزاری

جب مسلم لیگ نے کیبنٹ مشن کے پلان کو منظور نہیں کیا، تو ماونٹ بیٹن نے ہندستان کی تقسیم کا فارمولہ پیش کیا اور 2؍ جون 1947ء کو سبھی ہندستانی لیڈروں کو بلاکر اسے منظور کرالیا۔ پھر اسے مسلم لیگ نے 9-10؍ جون 1947ء کو ،اور14-15؍ جون 1947ء کو کانگریس نے اپنے اپنے اجلاس میں باقاعدہ منظوری دے دی۔ کانگریس کے اجلاس میں صرف مسٹر پروشتم داس ٹنڈن اور جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نور اللہ مرقدہ نے ہی اس تجویز کی مخالفت کی ۔ بعد ازاں 24؍ جون 1947ء کو جمعیت علما نے مجلس عاملہ کا اجلاس کیا،جس میں تقسیم ہند کو مسلمانوں کے لیے سخت نقصان قرار دیتے ہوئے اس سے بیزاری کا اعلان کیا۔

اور ہندستان آزاد ہوگیا

ان تمام کوششوں کے باوجود ہندستان کی تقسیم نہیں رک سکی اور 14؍ اگست 1947ء کو پاکستان ڈومینین کا اور 15؍ اگست 1947ء کو ہندستان کی مکمل آزادی کااعلان کردیا گیا۔

آزادی کی خوشی میں شرکت کا اعلان عام

ہندستان آزاد ہونے پر صرف ان ہی لوگوں کو کوئی خوشی نہیں تھی، جنھوں نے کوئی قربانی پیش نہیں کی تھی،یعنی جن سنگھ،ہندو مہاسبھااور آر ایس ایس سی وابستہ لوگوں کو؛ البتہ جن لوگوں نے اپنی جانی و مالی ہر طرح کی قربانیاں پیش کی تھیں،ان کے لیے یہ بہت اہم لمحہ تھا۔اورچوں کہ جمعیت علما نے انقلاب آمیز قائدانہ کردار ادا کیا تھا، اس لیے ناظم عمومی جمعیت علمائے ہندنے سبھی لوگوں سے دھام دھام سے جشن آزادی منانے کی اپیل کی۔ 

تقسیم ہند کے بعد کی بھیانک صورت حال

تقسیم ہند کا اعلان صرف نقشے پر کھینچی گئی ایک جغرافیائی لکیر نہیں تھی، بلکہ سینوں پر کھینچی گئی ایک گہری لکیر تھی،جس سے ایک ایسی خون آشام داستان کا آغاز ہوا، جس نے لاکھوں دلوں کو زخمی کر دیا۔ راتوں رات خاندان بٹ گئے، گھر اجڑ گئے اور انسانیت شرمسار ہوئی۔ ٹرینوں میں مسافروں کی جگہ لاشیں تھیں۔ جو کبھی اپنوں سے ملنے کی امید لے کر چلے تھے، وہ اب موت کی علامت بن گئے۔ عورتیں، بچے اور بوڑھے سب اس وحشت کا شکار ہوئے۔ فرقہ وارانہ فسادات نے گاؤں کے گاؤں جلا دیے، نفرت کی آگ نے ہر طرف تباہی مچائی۔ ہندستان اور پاکستان کی سرحدوں پر خون کی ندیوں نے زمین کو سرخ کر دیا۔ انسانیت کی چیخیں فضا میں گونجتی رہیں۔ یہ ایک ایسا وقت تھا جب مذہب، ذات اور قومیت کے نام پر انسان انسان کا دشمن بن گیا تھا۔

تقسیم ہند صرف ایک سیاسی فیصلہ نہ تھا، بلکہ ایک ایسی دل دہلا دینے والی حقیقت تھی، جس نے برصغیر کے لوگوں کے دل و دماغ پر ناقابل فراموش زخم چھوڑے۔ آج بھی وہ درد، وہ چیخیں، اور وہ خون آلود یادیں زندہ ہیں، جو ہمیں بتاتی ہیں کہ نفرت کی قیمت کتنی بھیانک ہو سکتی ہے۔

مسلمانوں کی صحیح رہ نمائی

تقسیم ہند کے انھیں خوف ناک اور بھیانک صورت حال کے پیش نظر ہندستان میں رہ جانے والے پانچ کروڑ مسلمانوں کے قومی و ملکی حقوق کے تحفظ کے لیے28-27؍ دسمبر 1947ء کو لکھنو میں امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ کی صدارت میں ’’لکھنومسلم کانفرنس ‘‘ بلائی گئی، جس میں سبھی مسلم جماعتوں نے متفقہ طور پران خوں آشام حالات کی ذمہ دار یعنی’’ فرقہ وارانہ پارلیمانی سیاست‘‘سے علاحدگی کا اعلان کرتے ہوئے، جمعیت علمائے ہند نے اپنا دائرۂ عمل تعمیری، تعلیمی اور تہذیبی دائرے تک محدود کرنے کا فیصلہ کیا۔اور شدید فرقہ وارانہ دباؤ کے باوجود جمہوری طرز حکومت اختیار کرنے پر 20-21؍مارچ 1948ء کوانڈین پارلیمنٹ کو مبارک باد پیش کی گئی۔ 

ہجرت، یا فرار

 تقسیم ہند کے شدائد سے پریشان ہوکر کچھ مسلمان ہجرت کے مقدس نام پر ترک وطن کرنے لگے، جس سے کچھ برادران وطن نے غداری کا الزام لگاکر وطن سے وفاداری کا ثبوت طلب کیا۔ چوںکہ پاکستان کوئی اسلامی ملک نہیں تھا، اس لیے جمعیت علما نے مختلف مواقع پرہجرت کے بجائے اسے فرار سے تعبیر کرتے ہوئے جہاں ایک طرف مسلمانوں سے یہ اپیل کی کہ وہ گھبراکر اپنے وطن کو نہ چھوڑیں، وہیںدوسری طرف وفاداری کا ثبوت مانگنے والوں کو کرار جواب دیتے ہوئے بتایا کہ دس فی صدآبادی کو مالی اور تعلیمی معیار کی بنا پر رائے دینے کا حق دیا گیا تھا، یعنی دس کروڑ مسلمانوں میں سے صرف ایک کروڑ کو رائے دینے کا حق حاصل تھا۔لیکن اس کے باوجودتقسیم کی حمایت میںصرف (4,51,156) ووٹ ڈالے گئے تھے، جس کے معنی یہ ہیں کہ دس کروڑ مسلم عوام میں سے صرف ساڑھے چارفی صد نے ہی تقسیم کے حق میں اپنی رائے ظاہر کی۔لہذاساڑھے چار فی صد کی رائے کو کس طرح پوری قوم کے سر تھوپا جاسکتا ہے اور کس طرح اس کی وفاداری، یا غیر وفاداری کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے؟

جمعیت علما کا ہاتھ تقسیم ہندکے خون سے پاک ہے

غلامی، تقسیم، تبادلۂ آبادی اور قتل و خوں کی اس طویل داستان وکوہ کن میں دل کو سمجھانے کے لیے، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ کا یہ جملہ بڑا حوصلہ افزا ثابت ہوتا ہے، جو انھوںنے سولھویں اجلاس عام (منعقدہ: 16، 17، 18؍اپریل1949ء )کے خطبۂ صدارت میں ارشاد فرمایا تھا۔ اس سلسلۂ تحریر کو انھیں کے مبارک ارشاد پرمکمل کرتے ہیں کہ:

’’اور جس وقت اس ہلاکت و بربادی کا تصور دل کے ہر ایک گوشہ میں اور سینہ و جگر کی ہر ایک رگ میں رنج والم کی بے پناہ سوزش پیدا کرتا ہے، تو صرف یہی ایک حقیقت دل و دماغ میں کسی قدر سکون کی خفیف سی لہر پیدا کردیتی ہے کہ جمعیت علمائے ہند اور اس کے ہم نواؤں کے ہاتھ تقسیم ہندستان کے خون سے پاک ہیں۔‘‘

محمد یاسین جہازی

خادم مرکز دعوت اسلام جمعیت علمائے ہند

۷؍اکتوبر۲۰۲۵ء


جمعیت علمائے ہند قدم بہ قدم: بارھواں سال: 1930ء

 بارھواں سال: 1930ء

محمد یاسین جہازی

9؍جنوری1930ء کو ساردا بل کے خلاف عملی جدوجہد کرنے کی اپیل کی گئی۔

13؍جنوری1930ء کو ساردا بل کے خلاف مظاہرے کے لیے جلوس کمیٹی کی تشکیل کی گئی۔

17؍جنوری1930ء کو ساردا بل کے خلاف عظیم الشان اجلاس اور احتجاجی جلوس نکالا گیا، جس میں کئی تجاویز منظور کرتے ہوئے ساردا بل کو مذہبی مداخلت قرار دیا گیا۔ اسی طرح تحفظ مویشیان بل کی بھی مخالفت کی گئی اور جناب عبدالحی صاحب کے قانون وراثت کی تائید کی گئی۔

24؍جنوری1930ء کو بلند شہر کے حکام کو مظالم کے خلاف تار بھیج کر متوجہ کیا گیا۔

اسی تاریخ کو ظفروال میں سکھوں کی چیرہ دستیوں کے خلاف آواز بلند کی گئی۔نیز ساردا بل کے متعلق وائسرائے کے بیان پر سخت تبصرہ کیا گیا۔

20؍مارچ 1930ء کو منعقد مجلس مرکزیہ میں ساردا بل کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک چلانے کی منظوری دی گئی۔ 

22؍مارچ1930ء کو دربھنگہ جمعیت علما کے اجلاس میں خالص اسلامی نظام کی ضرورت اور آزادی کامل کے اعلان کی تجاویز منظور کی گئیں۔

31؍مارچ1930ء کو ساردا ایکٹ کے خلاف عظیم الشان اجلاس میں یہ چیلنج دیا گیا کہ اگر ساردا ایکٹ کے تاریخ نفاذ :یکم اپریل سے پہلے پہلے مسلمانوں کو مستثنیٰ نہیں کیا گیا، تو سول نافرمانی کی تحریک شروع کردی جائے گی۔ 

یکم اپریل1930ء سے پورے ہندستان میں جگہ جگہ ساردا ایکٹ کے خلاف سول نافرمانی کرتے ہوئے کم سن بچے اور بچیوں کے نکاح کرائے گئے۔ اسی سلسلے میں جامع مسجد دہلی میں دس ہزار سے زائد مجمع میں صدراور ناظم عمومی نے متعدد نکاح پڑھائے۔ 

یکم اپریل1930ء کے الجمعیۃ کی اشاعت میں مولانا انور شاہ صاحب کے ایک فتویٰ کے متعلق اہم مضمون شائع کیا گیا، جس میں نمک پر محصول کو ناجائز قراردیا گیا۔

اسی تاریخ کی اشاعت میں ساردا ایکٹ کے خلاف سول نافرمانی سے متعلق غلط فہمیوں کی وضاحت کی گئی کہ یہ سول نافرمانی کانگریس کی نمک تحریک سے کوئی تعلق نہیں رکھتی ہے۔   

5؍اپریل1930ء کو مختلف مسلم زعمائے ہند نے مسلمانوں کو تحریک آزادی میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے نمک تحریک میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ 

13؍اپریل1930ء کو اخبار مدینہ نے جمعیت علمائے ہند کو مشورہ دیا کہ سول نافرمانی کی تحریک کو جنگ آزادی کی تحریک سے مربوط کردیا جائے۔

13؍اپریل1930ء کے الجمعیۃ کی اشاعت میں نویں سالانہ اجلاس عام کے ایجنڈے شائع کیے گئے۔ 

16؍اپریل1930ء کو صدر جمعیت نے ایک بیان جاری کرکے یہ مشورہ دیا کہ ساردا ایکٹ کے خلاف سول نافرمانی کے پیش نظر غیر ضروری طور پر نابالغ بچے بچیوں کے نکاح نہ کرائیں۔ 

20؍اپریل1930ء کو فریدآباد ضلع گوڑگاوں کی مساجد سے متعلق حکام سے رابطہ کرکے مسائل کو حل کرنے کی درخواست کی گئی۔

24؍اپریل1930ء کے الجمعیۃ میں شائع ایک خطاب میں ناظم عمومی صاحب نے اعلان کیا کہ یاتو انگریز کے غلام بن جاؤ، یا جنگ آزادی کے سپاہی بن جاؤ۔ 

3-4-5-6؍ مئی 1930ء کو جمعیت علمائے ہند کا نواں سالانہ اجلاس امروہہ میں کیا گیا ، جس میں نہرو رپورٹ کو کالعدم قرار دینے کے بعد مکمل آزای کی تجویز منظور کرنے کی وجہ سے جمعیت اور دیگر ملی تنظیموں نے کانگریس سے اشتراک عمل کیا اور مل کر آزادی کی لڑائی لڑنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ اس کے لیے عملی جدوجہد کرتے ہوئے جب کانگریس نے سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز 12؍مارچ1930ء کو نمک مارچ سے کرتے ہوئے حکومت کو ٹیکس نہ دینے، بدیسی سامان نہ خریدنے، کھدر کو فروغ دینے اور شراب بند کرنے اور جگہ جگہ جلسے جلوس سے کیا، تو جمعیت نے ایک مستقل نظام ’دائرۂ حربیہ‘‘ بناکر مجاہدانہ کردار ادا کرتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں گرفتاریاں پیش کیں۔ انگریز حکومت نے دائرۂ حربیہ کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مفتی اعظم مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند، مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند، مولانا ابوالکلام آزاد صاحب رکن جمعیت علمائے ہند، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب رکن جمعیت علمائے ہند اورہزاروں کی تعداد میں کارکنان جمعیت  کے علاوہ کانگریسی ڈکٹیٹروںکو بھی  گرفتار کرنا شروع کیا۔ 

سول نافرمانی کرتے ہوئے پشاور میں 23؍اپریل 1930ء کو ہزاروں لوگوں نے پرامن جلوس نکالا، لیکن انگریزوں نے مشین گن سے حملہ کرکے سیکڑوں لوگوں کو شہید کردیا، جس کے خلاف جمعیت نے صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے شہیدوں کو مبارک بادی اور اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہا ر کیا۔ 

موجودہ بجنور میں واقع ہرداس پور مانڈھے کی مسجدپر دفعہ 144؍لگانے کی مذمت و مخالفت کی۔برطانوی حکام نے انڈین پریس ایکٹ 1910ء کو دوبارہ نافذ العمل کرکے پریس کی آزادی کو چھیننے اور الجمعیۃ پر 500روپے کی زر ضمانت لگانے کے خلاف آواز بلند کی۔ 

آزادی کے لیے کانگریس کی ہندو مسلم متحدہ پارٹی میں آزادی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث آریوں اور مہا سبھائیوں کی شرکت کو کانگریس کے اصول کے منافی قرار دے کر انھیں نکال باہر کرنے کا مطالبہ کیا۔ 

جمعیت نے یہ موقف پیش کیا کہ راؤنڈ ٹیبل لندن کانفرنس میں شرکت اسی وقت مفید ہوگی ، جب کہ سبھی اقلیتوں کو مطمئن کرنے والا فارمولہ کو قابل عمل بنایا جائے۔ 

30؍مئی 1930ء کو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ سے غلط حالات بتاکر فتویٰ حاصل کرلیاگیا، جسے انجمن صیانۃ المسلمین عن خیانۃ غیر المسلمین نے تشہیر کرکے مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہوئے جنگ آزادی سے روکنے اور انگریزوں کے وفادار بنانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ 

8؍جون 1930ء کو ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب پر بزدلوں نے ممبئی میں حملہ کردیا، جس کی وجہ سے آپ کے سر میں شدید چوٹیں آئیں۔ 

10؍جون1930ء کو منعقد ایک اجلاس میں راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ 

13؍جون1930ء کو روزنامہ انقلاب نے شرکت کانگریس کی تجویز کا غلط مطلب نکال کر جمعیت پر کانگریس کی سازش کا بہتان لگایا، جس کا مفتی اعظم ہند نے مدلل جواب دیا۔ 

13؍جون1930ء کو شائع ایک خبر کے مطابق جمعیت علما اور کانگریس نے مل کر نمک تحریک کو مہمیز کرتے ہوئے شراب کی دکانوں پر پیکٹنگ شروع کی۔ 

13؍جون1930ء کو پولیس نے دفتر جمعیت علمائے ہند پر چھاپا مارا۔ 

14؍جون1930ء کو ناظم عمومی صاحب کی ممبئی سے دہلی آمد پر زبردست استقبالیہ جلوس نکالا گیا۔ 

14؍جون1930ء کو ایک تقریر میں مولانا حفظ الرحمان صاحب نے بتایا کہ سائمن کمیشن سے متعلق مسلمانوں میں جو خوش عقیدگی پیدا کی جارہی ہے، وہ ایک سازش ہے۔ 

18؍جون1930ء کو مہرولی مسجد کے قضیہ پر مسلمانوںسے صبروتحمل کی اپیل کی گئی۔ 

20؍جون1930ء کو یوم شہیدان پشاور کے عنوان سے عظیم الشان اجلاس منعقد کیا گیا۔ 

28؍جون1930ء کو صدر جمعیت نے سائمن کمیشن کی سفارشات کو ہندستانیوں کی توہین قرار دیا۔ 

8؍جولائی1930ء کو جمعیت علما اور کانگریس کے کئی رضاکار گرفتار کرکے جیل بھیج دیے گئے۔ 

12؍جولائی1930ء کو حالات حاضرہ سے متعلق مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی۔ 

13؍جولائی1930ء کو جمعیت وار کونسل (دائرۂ حربیہ) کی میٹنگ ہوئی۔ 

17؍جولائی1930ء کو سائمن کمیشن کی رپورٹ کی سخت مذمت کی گئی۔

19؍جولائی1930ء کو مہرولی مسجد کے متعلق احتجاجی اجلاس کیا گیا۔

24؍جولائی1930ء کوکارکنان جمعیت سے متعلق روزنامہ انقلاب کی ایک گمراہ کن خبر کی تردید کی گئی۔

28؍جولائی1930ء کو الامان کے ایک جھوٹے پروپیگنڈے کی تردید کی گئی۔ 

3؍اگست 1930ء کو مولانا عبدالحلیم صدیقی صاحب گرفتار کرلیے گئے۔

6؍اگست1930ء کو مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی کی گرفتاری کے خلاف ایک عظیم الشان احتجاجی اجلاس کیا گیا۔ 

8؍اگست1930ء کو مولانا حفظ الرحمان صاحب کی گرفتاری عمل میں آئی، جس کی وجہ سے 10؍اگست1930ء کو زبردست اجلاس گیا اور جلوس نکالا گیا۔ 

14؍اگست1930 ء کو مولانا شوکت علی صاحب نے جمعیت علمائے ہند اور دیگر مسلم لیڈران کے خلاف نامناسب باتیں کہیں۔ 

28؍اگست1930ء کو صدر اور ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے اپنی خدمات کانگریس ورکنگ کمیٹی کے پیش کیں۔ 

28؍اگست1930ء کو رکن دائرۂ حربیہ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری گرفتار کرلیے گئے۔ 

یکم ستمبر1930ء کو مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نے مسلم حامیان گول میز کانفرنس سے چند ضروری سوالات کیے۔

10؍ستمبر1930ء کو ابوالمحاسن حضرت مولانا محمد سجاد صاحب کے بڑے صاحب زادے : مولانا حسن سجاد صاحب گرفتار کرلیے گئے۔ 

10؍ستمبر1930ء کو شائع خبر شاہد ہے کہ مفتی محمد نعیم صاحب لدھیانوی کو استغاثہ کے متعلق بہت زیادہ پریشان کیا گیا۔ 

16؍ستمبر1930ء کو مفتی اعظم ہند مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب آل انڈیا ورکنگ کمیٹی کے رکن نام زد کیے گئے۔ 

19؍ستمبر1930ء کو مساجدو مقابر کے انہدام کے خلاف احتجاجی اجلاس کیا گیا۔ 

19؍ستمبر1930ء کو کمپنی باغ دہلی کے اجلاس میں ناظم عمومی نے زبردست خطاب کرتے ہوئے  جنگ آزادی میںمسلمانوں کے بھرپور حصہ لینے کی تحسین کی۔ 

20؍ستمبر1930ء کو ناظم عمومی مولانا احمد سعید صاحب گرفتار کرلیے گئے۔ 

20؍ستمبر1930ء کو ابوالمحاسن حضرت مولانا محمد سجاد صاحب کو قائم مقام ناظم عمومی بنایاگیا۔ 

اسی تاریخ کو ناظم عمومی کی گرفتاری پر مبارک باد دینے کے لیے عظیم الشان اجلاس کیاگیا، جلوس نکالا گیا اور جگہ جگہ ہڑتال کی گئی۔ 

23؍ستمبر1930ء کو قومی ہفتہ کا آخری دن منایا گیا، جس کے جلوس میں مفتی اعظم ہند نے زبردست خطاب فرمایا۔ 

25؍ستمبر1930ء کو باڑہ ہندو راؤ میں منعقد ایک اجلاس سے صدر جمعیت نے خطاب فرماتے ہوئے لوگوں کو تحریک سول نافرمانی میں شرکت کی اپیل کی۔ 

26؍ستمبر1930ء کو جامع مسجد میں خطاب کرتے ہوئے صدر جمعیت نے بدیسی مال کے بائیکاٹ کی اپیل کی۔

3؍اکتوبر1930ء کو رکن دائرۂ حربیہ مولانا نور الدین صاحب بہاری گرفتار کرلیے گئے۔

3؍اکتوبر1930ء کو طلبائے دارالعلوم دیوبند نے مجلس حربی جمعیت علمائے ہند میں شرکت کی۔ 

4؍اکتوبر1930ء کو مولانا فخرالدین اور مولانا محمدمیاں صاحبان کو گرفتار کرلیا گیا۔

4؍اکتوبر1930ء کوجامع مسجددہلی میں منعقد ایک اجلاس سے خطاب میں مفتی اعظم ہند نے آزادی ہند کے لیے عدم تشدد کی راہ اختیار کرنے کی اپیل کی۔ 

8؍اکتوبر1930ء کو حالات کو توڑ مروڑ کو پیش کرکے حضرت تھانوی ؒ سے لیے گئے فتویٰ کے سہارے مسلمانوں کو جنگ آزادی میں شرکت سے روکنے کی کوششوں کے خلاف صدر جمعیت علما نے فتویٰ کی حقیقت بتائی۔ 

9؍اکتوبر1930ء کو مقدمہ سازش لاہور کے خلاف احتجاجی اجلاس کیا گیا۔ 

11؍اکتوبر1930ء کو مفتی اعظم ہند کو سول نافرمانی میں شرکت کی وجہ سے گرفتار کرلیا گیا۔اور اسی تاریخ کو آپ نے حضرت مولانا حسین احمدمدنی صاحب کو قائم مقام صدر نام زد فرمایا۔ 

12؍اکتوبر1930ء کو صدرجمعیت مفتی اعظم ہند کی گرفتاری کے خلاف ملک گیر سطح پر احتجاجی اجلاس ، جلوس اور ہڑتال ہوئی۔ 

15؍اکتوبر1930ء کو رکن دائرۂ حربیہ مولانا عبدالغفور صاحب لدھیانوی گرفتار کرلیے گئے۔ 

17؍اکتوبر1930ء کو جامع مسجد دہلی میں منعقد ایک اجلاس سے قائم مقام صدر جمعیت نے صدارت کی ذمہ داری نبھانے سے متعلق لوگوں سے تعاون کی اپیل کی۔ 

21؍اکتوبر1930ء کو مسلمانان افریقہ نے مفتی اعظم ہند کو گرفتاری پر مبارک باد پیش کی۔

28؍اکتوبر1930ء کو نائب ناظم جمعیت علمائے ہند مولانا عبدالصمد رحمانی مونگیر نے مسلمانوں کو قومی و مذہبی فرض یاد دلاتے ہوئے جمعیت کے تعاون کی اپیل کی ۔

31؍اکتوبر1930ء کو جامع مسجد دہلی میں منعقد ایک اجلاس میں حضرت تھانوی ؒ کے فتویٰ کے سہارے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی سازش کو طشت ازبام کیا گیا۔

9؍نومبر1930ء کو مولانا محمد علی صاحب رکن دائرۂ حربیہ کو گرفتار کیا گیا۔ 

9؍نومبر1930ء کوجامع مسجد دہلی میں تحفظ مساجدسے متعلق ایک اجلاس عام کیا گیا۔

13؍نومبر1930ء کو اسیر فرنگ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کی صحت کے بارے میں استفسار کیا گیا۔

13؍نومبر1930ء کو رکن عاملہ مولانا عبدالغفور صاحب گرفتار کرلیے گئے۔ 

14؍نومبر1930ء کو مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری کی علالت پر صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔ 

16؍نومبر1930ء کو سیاسی قیدیوں سے متعلق وکلا کی ایک کارروائی پر ناراضگی کا اظہار کیا گیا۔

 22؍نومبر1930ء کو جمعیت علما کے دفترپرپولیس نے چھاپہ مارا۔ 

یکم دسمبر1930ء کو جمعیت علما کے ایک درجن سے زائد رضاکاروں کی گرفتاری عمل میں آئی۔ 

28؍نومبر1930ء کو رکن جمعیت مولانا محمدصدیق صاحب گرفتار کرلیے گئے۔ 

20؍دسمبر1930ء کی ایک خبرکے مطابق مفتی اعظم ہند کی ڈاک پر پابندی لگادی گئی ہے۔


جمعیت علمائے ہند قدم بہ قدم: گیارھواں سال:1929ء

 گیارھواں سال:1929ء

محمد یاسین جہازی

یکم جنوری 1929ء کو منعقد آل انڈیا مسلم کانفرنس میں بھارت میں مسلمانوں کے حقوق دلانے والادستوری فارمولہ تیار کرنے میں جمعیت نے غیر معمولی کردار ادا کیا۔

9؍فروری1929ء کو منعقد مجلس عاملہ میں کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے میٹنگ ملتوی کردی گئی۔ بعد ازاں یہی میٹنگ یکم و 2؍اپریل 1929ء کو منعقد ہوئی، جس میں افغانستان کی شورش پر جائزہ لیتے ہوئے صدر جمعیت علمائے ہند کی طرف سے ایک اعلان جاری کیا گیا اور مسئلۂ قضا کے متعلق مسودۂ قانون کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل دی گئی۔ 

5؍جولائی1929ء کو ایک مکتوب لکھ کر دھنورہ بلند شہر کے مسلمانوں پر ہندوجاٹوں کے ظلم کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

5؍جولائی1929ء کو پیش کردہ گوشوارۂ آمدو صرف میں 471روپے کی آمد اور 334؍ روپے کے اخراجات پیش کیے گئے۔

9؍جولائی1929ء کورنگون میئر کو برقی پیغام بھیج کر حلال ذبیحہ پر پابندی ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔

20؍جولائی1929ء کو یوم ولادر رسول پر شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے تبلیغی مظاہرے کی اپیل کی گئی۔ 

24؍جولائی1929ء کو وائسرائے ہند کی چائے کی دعوت میں شرکت پر وضاحتی بیان پیش کیا گیا۔

11؍اور 12؍اگست 1929ء کو مجلس مرکزیہ کے اجلاس میںساردا بل کے خلاف پوری قوت سے لڑائی لڑنے کے لیے’ ’مجلس تحفظ ناموس شریعت ‘‘ تشکیل دے کر عملی طور پر شدید مخالفت کی اور پورے ملک میں زبردست تاریخی ہڑتال کیا۔ گانگریس میں مسلمانوں کی شرکت کے حوالے سے یہ طے کیا کہ جمعیت خلافت، جمعیت علما اور مسلم لیگ کا مشترکہ وفد ’نہرو رپورٹ‘ میں ’’مکمل آزادی‘‘ شامل کرانے کی کوشش کرے۔ اور کانگریس جب تک یہ مطالبہ منظور نہ کرلے، تب تک شرکت کا فیصلہ نہ کیا جائے۔ ریاست الور کے قصبہ بہرور کی شاہی مسجد میں بت رکھ دینے ، موضع کراولی میں ہندوؤں کے مظالم، چوتروا میں نومسلموں پر جبرو تشدد،چوموں، بھساور اور دھنورہ میں غیر مسلموں کی زیادتی کے خلاف جدوجہد کی۔ سیاسی قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے پر سیاسی قیدیوں نے مقاطعۂ جوعی کیا، جس کے خلاف جمعیت نے حکومت کو ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے لیے متوجہ کیا۔ نہرو رپورٹ سے اتفاق اور عدم اتفاق پر مسلمانوں کے اختلاف کو پریس و اخبارات میں بہت زیادہ اچھالا گیا، جس پر جمعیت نے آپسی نفاق و شقاق دور کرنے اور اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے متفقہ جدوجہد کرنے کی اپیل کی۔ صدر جمعیت حضرت مولانا و مفتی محمد کفایت اللہ صاحب اور جنرل سکریٹری مولانا احمد سعید صاحب نے اپنا اپنا استعفیٰ پیش کیا؛ لیکن اراکین جمعیت نے ان پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے استعفیٰ منظور نہیں کیا۔

     13؍اگست1929ء کو ایک اپیل جاری کرکے یوم ولادت نبوی کے موقع پر ادا کی جانے والی رسوم سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے شریعت کے دائرے میں رہ کر تبلیغی مظاہرے کرنے کی اپیل کی گئی۔

19؍اگست1929ء کو بارہ ربیع الاول کی مناسبت سے سیرت النبی کے عنوان سے عظیم الشان اجلاس عام کیا گیا۔

3؍ستمبر1929ء کو مظلوم مسلمانان فلسطین کی حمایت میں عظیم الشان اجلاس کیا گیا۔

4؍ستمبر1929ء کو وائسرائے ہند کو برقی پیغام بھیج کر مسودۂ قانون ازدواج سے مسلمانوں کو مستثنیٰ کرنے کی اپیل کی۔

9؍ستمبر 1929ء کو افغانستان سے جنرل نادر خاں نے صدر جمعیت علمائے ہند کے نام ایک پیغام بھیج کر امداد طلب کی۔

13؍ستمبر1929ء کو دوبارہ ساردا بل کی مخالفت کرنے کی اپیل کی گئی۔

16؍ستمبر1929ء کو منعقد ایک میٹنگ میں جمعیت علمائے برما کو جمعیت علمائے ہند کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا گیا۔ 

27؍ستمبر1929ء کو دہلی میونسپل کمیٹی کی طرف سے قرآن مجید کی تعلیم پر روک لگانے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کے لیے عظیم الشان اجلاس عام کیا گیا۔

28؍ستمبر1929ء کو جاری ایک رپورٹ میں بھساور میں آریوں کی چیرہ دستیوں کو بے نقاب کیا گیا۔

 29؍ستمبر1929ء کو مسلم رہنمایان دہلی کا ایک اجتماع ہوا، جس میںساردا بل کے خلاف لڑائی لڑنے کی حکمت عملی پر غور وخوض کیا گیا۔

4؍اکتوبر1929ء کو ساردا بل کے خلاف زبردست اجلاس عام کیا گیا۔

8؍اکتوبر1929ء کو ساردا بل کے متعلق مسلمانوں کے متفقہ مطالبہ مرتب کرنے کے لیے مسلمانان دہلی کا ایک نمائندہ اجتماع کیا گیا۔

18؍اکتوبر1929ء کو کابل کی فتح پر مسرت کے اظہار کے لیے عظیم الشان جلسہ منعقد کیا گیا۔

20؍اکتوبر1929ء کو جماعت مرکزیہ فلسطین کی طرف سے امداد کی طلبی پر مسلمانوں سے مظلومین فلسطین کی امداد کی اپیل کی گئی۔

26؍اور 28؍اکتوبر1929ء کو مجلس مرکزیہ کے اجلاس میںفلسطینی مسلمانوں پر کیے جارہے ظلم و جور کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے انتداب فلسطین اور اعلان بالفور کی تنسیخ کا مطالبہ کیا۔ جنرل نادر خاں کے فتح کابل پر اظہار مسرت کرتے ہوئے انھیں مبارک باد پیش کی۔ کانپور میں منعقد ہونے والے سالانہ اجلاس کے لیے مولانا محمد علی جوہر صاحب کی صدارت کے لیے ہورہے جھگڑے کو سلجھاتے ہوئے مولانا محمد معین الدین اجمیریؒ کو صدر جلسہ قرار دیا گیا ۔ جمعیت علمائے صوبہ متحدہ کے قدیم عہدے داروں کی عدم دل چسپی کے باعث متحرک و فعال جدید عہدے داروں کا انتخاب کیا گیا۔ ساردا بل کے متعلق سب کمیٹی کا قیام عمل میںآیا۔دہلی میونسپل کمیٹی کی طرف سے جبری تعلیم قانون کے تحت بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم سے محروم رکھنے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔مسیحی مشنریوں کی طرف سے نبی اکرم ﷺ کی فرضی تصویر شائع کرنے پر احتجاج درج کرایا۔جمعیت علمائے ہند، اس کے ذمہ داروں اور شعبۂ تبلیغ پر غلط الزامات عائد کرنے کے جرم میں مولانا مظہر الدین صاحب مالک اخبار الامان اور مولانا سید حبیب شاہ مالک اخبار سیاست کو جمعیت کی ابتدائی رکنیت سے خارج کیا گیا۔علاوہ ازیںچوموںریاست جے پور کے واقعات پر غم و غصے کا اظہار،جوائنٹ کمیٹی وقف حاجی جیون بخش مرحوم کا شکریہ، رضا کاران عسکر اسلامیہ کا شکریہ اور مخلص میزبانوں کے شکریے کی تجاویز منظور کی گئیں۔ 

27؍اکتوبر 1929ء کو منعقد مختلف ملی تنظیموں کی شورائی میٹنگ میں ساردا بل کے خلاف لڑائی کی قیادت جمعیت علما کو سپرد کی گئی تھی، اس کے باوجود مولانا محمد علی جوہر صاحب نے شرکت عمل کے بجائے الگ سے کوشش شروع کی، جس سے عوام میں انتشار کا اندیشہ ہوا، تو جمعیت نے اتحاد و اتفاق کی اپیل کی۔

31؍اکتوبر1929ء کو عاشق رسول علم الدین کی پھانسی کے متعلق صدر جمعیت کو تار موصول ہوا۔ 

یکم نومبر1929ء کو وائسرائے ہند لارڈ ارون نے ہندستان کو درجۂ نو آبادیات دینے کے متعلق ایک بیان جاری کیا۔

 7؍نومبر1929ء کو وائسرائے کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اسے آزادی کامل کے حامیوں کے لیے بے وقعت بتایا۔

7؍نومبر1929ء کو وائسرائے ہند کے نام صدر جمعیت علمائے ہند نے ساردا بل کے خلاف ایک طویل مکتوب لکھ کر اسے مداخلت فی الدین قرار دے کر مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت قرار دیا۔

9؍نومبر1929ء کو ایک بیان جاری کرکے حکومت کی اس حرکت کو مستبدانہ قرار دیا کہ اس نے عاشق رسول جناب علم الدین کی تدفین جنازہ کی نماز پڑھائے بغیر کردی۔

9؍نومبر1929ء کو عامۂ مسلمین کی رائے کے برخلاف ساردا ایکٹ کے تعلق سے وائسرائے سے ملاقات کے لیے مرتب کردہ وفد کو خانہ سازوفد قرار دیا گیا۔

 9؍نومبر1929ء کو مولانا محمدعلی صاحب کی قیادت میں ایک وفد نے ساردا بل سے مسلمانوں کو مستثنیٰ کرانے کے لیے وائسرائے سے ملاقات کی، لیکن وائسرائے نے مایوس کن جواب دیا۔

20؍نومبر1929ء کومجلس تحفظ ناموس شریعت نے اعلان کیا کہ ساردا بل سے مسلمانوں کو مستثنیٰ کرانے کے لیے 29؍نومبر کو ملک گیر پیمانے پر احتجاج کریں۔

24؍نومبر1929ء کو ایک بیان میں صدر جمعیت علمائے ہند نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ حکومت ساردا بل کے خلاف مسلمانوں کی سول نافرمانی کی تحریک کو روکنے کے لیے تیاری کر رہی ہے۔

24؍نومبر1929ء کو جمعیت علمائے ہند کی طرف سے ارتداد کے خلاف جاری جدوجہد کا خلاصہ پیش کیا گیا۔

  26؍نومبر1929ء کو ساردا بل کے خلاف پشاور میں احتجاجی اجلاس میں شرکت کنندگان پر پولیس کی زیادتی کی مذمت کی گئی اور مسلمانان پشاور کے جذبۂ فداکاری پر تہنیت پیش کی گئی۔

29؍نومبر1929ء کو جمعیت علمائے ہند کی ہدایت کے مطابق ملک گیر سطح پر پرامن احتجاج اور ہڑتالیں ہوئیں۔

7؍دسمبر1929ء کو فاتح کابل جناب جنرل شاہ ولی خاں کا دہلی ریلوے اسٹیشن پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔

9؍دسمبر1929ء کو مجلس تحفظ ناموس شریعت نے کامیاب ہڑتال کے بعد دوسرا قدم اٹھاتے ہوئے ،صوبہ وار، ضلع وار اور مقامی سطحوں تک تحفظ ناموس شریعت کمیٹی تشکیل کرنے کی اپیل کی۔

20؍دسمبر1929ء کو دفتر جمعیت میں ساردا بل کے خلاف چار ہزار ہندو مسلمانوں کا محضرنامہ موصول ہوا۔ 

20؍دسمبر1929ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ کا اعلان کیاگیا۔ 

20؍دسمبر1929ء کو وائسرائے ہند کے حیدرآباد پہنچنے پر صدر جمعیت نے ایک برقی پیغام بھیج کر حیدرآباد کے وقار و اختیارات میں مداخلت نہ کرنے کی اپیل کی۔

21-22؍دسمبر1929ء کو مولانا محمد علی کی صدارت میں کانپور میں آل انڈیا مؤتمر اسلامی اور علما کانفرنس کی گئی، جس کا مقصد ساردا بل کے خلاف جمعیت علمائے ہند کی جدوجہد کو مل رہی کامیابی کے اثرات کو ختم کرنا تھا۔28؍دسمبر1929ء کو شائع الجمعیۃ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ کانفرنس اپنے مقصد میں بری طرح ناکام رہی۔   

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: دسواں سال: 1928ء

 دسواں سال: 1928ء

محمد یاسین جہازی

14؍جنوری1928ء کواخبار الجمعیۃ کی مالی مشکلات سے دوچار ہونے کی وجہ سے خریدار بننے کی اپیل کی گئی۔

25؍جنوری1928ء کو اپیل کی گئی کہ 3؍فروری کو سائمن کمیشن کے خلاف ملک گیر ہڑتال کی جائے۔ 

6؍فروری1928ء کو شدھی اور سنگھٹن کے ارتدادی طوفان کے مقابلے کے لیے مبلغین اسلام کی تبلیغی خدمات کی ایک رپورٹ پیش کی گئی۔

2؍مارچ1928ء کو چند افراد کو مشرف بہ اسلام کرنے میں کامیابی ملی۔

31؍مارچ1928ء کو مولانا احمد سعید صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند کو مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ کورٹ کا بلا مقابلہ ممبر منتخب کیا گیا۔ 

6؍اپریل1928ء کی ایک اپیل میں بتایا گیا کہ آریوں کے مقابلے کے لیے جگہ جگہ مدارس قائم کرنے کی وجہ سے جمعیت علمائے ہند مالی مشکلات کی شکار ہوگئی ہے۔

22؍اپریل1928ء کو کمسنی کی شادی پر مبنی قانون سازی کو مداخلت فی الدین قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی گئی۔

26 ؍اپریل1928ء کو جاری ایک رپورٹ میں کئی لوگوں کے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا گیا۔

10؍مئی1928ء کو جمعیت علمائے ہند اور الجمعیۃ کی سخت مالی مشکلات کے وقت سر محمد مزمل اللہ خاں صاحب کی طرف سے گراں قدر عطیہ ملنے پر ان کاشکریہ ادا کرتے ہوئے اس مثالی اور تقلیدی عمل کی دعوت دی گئی۔

22؍مئی1928ء کو ناظم عمومی نے ایک طویل مضمون میں اسلام مخالف بننے والے تین قوانین کا تجزیہ پیش کیا۔

26؍مئی1928ء کو گائے کی قربانی کی ممانعت کو مداخلت فی الدین قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف احتجاجی تار وائسرائے ہند کو بھیج کر مذہب کی آزادی کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔

29؍مئی1928ء کو جاری رپورٹ میں مختلف تاریخوں میں جگہ جگہ مدارس اسلامیہ کے قائم کرنے کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ 

7؍جون1928ء کو مختلف گاؤں میں آریوں کی منظم سازشوں کا پردہ فاش کیا گیا۔

16؍جون1928ء کو عید الاضحی کی مناسبت سے ملک کے کئی حصوں میں گائے کی قربانی کو لے کر ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے خلاف زبردست احتجاجی اجلاس کیا گیا۔

28؍جون1928ء کو مالی مشکلات کو دور کرنے کے لیے ایک اہم پیام جاری کیا گیا۔

27؍ اگست 1928ء کو لکھنو میں مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کا ایک اجلاس کیا گیا، جس میں 16؍ اگست 1928ء کو شائع ہونے والی ’’ نہرو رپورٹ‘‘ پر تنقیدی جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی، جس نے دسمبر میں ’’تنقید و تبصرہ‘‘ کے نام سے اپنا مفصل جائزہ پیش کرتے ہوئے خلاصہ کیا کہ چوں کہ یہ رپورٹ مکمل آزادی کی وکالت کرنے کے بجائے نو آبادیاتی طرز حکومت کی حامی ہے، نیز مسلمانوں کے مفادات کے سراسر خلاف ہے، اس لیے اسے کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جاسکتا۔

3؍ستمبر1928ء کو فضلکہ کے ہندو مسلم فساد کے متعلق گورنربہادر کو مکتوب لکھ کر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

2؍اکتوبر1928ء کو پولٹیکل اجمیر کے نام تار بھیج کر مسلمانوں کے ساتھ ہورہی زیادتی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

29؍اکتوبر1928ء کو مکرانہ فساد پر مجرمین کے خلاف کارروائی کی مانگ کی گئی۔ 


جمعیت علمائے ہند قدم بہ قدم: نواں سال:1927ء

 نواں سال:1927ء

محمد یاسین جہازی

18؍مئی 1927ء کو تحفہ پور میرٹھ میں منعقد چمار کانفرنس میں مبلغ جمعیت نے اسلام کی زبردست تبلیغ کی۔

29؍مئی1927ء کو موضع رام پور میں پھیلی شدھی کی افواہ غلط پائی گئی۔

14؍جون1927ء کو کٹرہ نیل کی مسجد کو جلانے کی کوشش کی مذمت کی گئی۔

18؍جون1927ء کو دہلی میں گائے کی قربانی کی ممانعت کو مذہبی مداخلت قرار دیتے ہوئے وائسرائے ہند سے قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیاگیا۔

 توہین رسالت پر مبنی رنگیلا رسول اور ورتمان نامی رسالہ لکھا گیا، جس کے خلاف 26؍جون 1927ء کوجمعیت علما نے سخت ایکشن لیتے ہوئے مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔

30؍جون1927ء کو توہین رسالت کے خلاف زبردست عظیم الشانی احتجاجی اجلاس کیا گیا۔

3-4؍جولائی1927ء کو منعقد مجلس عاملہ کی میٹنگ میں رنگیلا رسول نامی کتاب کے مقدمہ میں  جسٹس کنور دلیپ سنگھ کے تعصب اور جانب داری پر مبنی فیصلہ کرنے کی مذمت کرتے ہوئے جسٹس کی معطلی کامطالبہ کیا گیا۔ مسلم آؤٹ لک کے ایڈیٹر و ناشر کی سزایابی پر ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے حوالے سے تمام لوگوں کو متحد ہوکر کام کرنے کی اپیل کی گئی۔ایک دوسری تجویز میں ارکان وفد حجاز کی خدمات کا عتراف کیا گیا۔

18؍جولائی1927ء کو ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ گیارہ سو مرتدین مشرف بہ اسلام ہوگئے۔

22؍جولائی1927ء کو صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے توہین رسالت کے خلاف ملک گیر سطح پر احتجاجی اجلاس منعقد کرنے کی اپیل کی۔ 

6؍اگست1927ء کو ایک اپیل میں اندور فسادات سے متعلق جاری مقدمات کی پیروی کے لیے سرمایہ کی فراہمی کی اپیل کی گئی۔

18؍اگست1927ء کو انسداد توہین رسالت کے متعلق ایک اہم مشاورتی میٹنگ کی گئی،جس میں توہین رسالت کے متعلق قانون بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔اسی میں ملک گیر پیمانے پر ایک وفد تشکیل دے کر برطانوی حکومت ہند سے شملہ جاکر ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

22؍اگست1927ء کو جاری ایک رپورٹ میں مرتدین کی واپسی کی کوششوں کوسراہا گیا۔

2؍ستمبر1927ء کو ایک اجلاس میں پنجاب میں امارت شرعیہ کا قیام عمل میں آیا۔

6؍ستمبر1927ء کو مقبول وارثی کے متعلق جمعیت سے قطع تعلق کا اعلان کیا گیا۔

9؍ستمبر1927ء کومنعقد ایک اجلاس میں ہندو مسلم اتحاد کے لیے،دونوں فرقوں کے درمیان متنازہ فیہ مسائل کی فہرست پیش کی گئی۔

10؍ستمبر1927ء کو تبلیغ کے مقصد سے رسالہ تبلیغ جاری کرنے کا اعلان کیا گیا۔

11؍ستمبر1927ء کو دارالعلوم دیوبند میں طلبہ اور انتظامیہ کے درمیان ہوئے اختلافات کو تصفیہ کرانے میں جمعیت علما کو کامیابی ملی۔

13؍ستمبر1927ء کو پنڈت مدن موہن مالویہ نے صدر جمعیت کی دعوت اتحاد کے جواب میں متحدہ کمیٹی قائم کرنے کی بات کہی۔

22؍ستمبر1927ء کو درجنوں افراد کے قبول اسلام کی رپورٹ جاری کی گئی۔

22؍ستمبر1927ء کو شملہ میں منعقدکانفرنس، اتحاد کمیٹی میں گائے ذبیحہ اور مسجد کے سامنے باجہ بجانے کے مسئلے پر شدید اختلاف ہونے کی وجہ سے ناکام ہوگئی۔ 

6؍اکتوبر1927ء کو سید آل رسول خاں صاحب سجادہ نشین آستانہ خواجہ معین الدین کی دفتر جمعیت علمائے ہند میں آمد کو مسلکی اختلاف پر کاری ضرب قرار دیا گیا۔

27-28؍اکتوبر1927ء کو منعقد کلکتہ میں اتحاد کانفرنس میں تبدیلی مذہب، ذبیحہ گاؤ اور باجہ ، اور ہندو مسلم اتحاد کے لیے پروپیگنڈہ کرنے کی تجاویز منظور کی گئیں۔ 

14؍نومبر1927ء کو مجلس عاملہ کے لیے ایجنڈے جاری کیے گئے۔ اور آٹھویں اجلاس عام میں شرکت کی اپیل کی گئی۔

18؍نومبر1927ء کو صدر جمعیت علمائے ہندنے سائمن کمیشن کو ملک کے لیے بدنصیبی قرار دیا ۔ 

22؍نومبر1927ء کو سائمن کمیشن کو ناظم عمومی نے مسترد کرتے ہوئے جماعتی فیصلہ کے لیے اجلاس عام کے فیصلہ پر اپنی رائے کو ملتوی کیا۔ 

26؍نومبر1927ء کو آٹھویں اجلاس عام کے لیے ایجنڈے جاری کیے گئے۔ 

29؍نومبر1927ء کو منعقد مجلس عاملہ میں اجلاس عام کے لیے تجاویز کے مسودے تیار کیے گئے۔ 

2-3-4-5؍دسمبر1927ء کو منعقد آٹھویں اجلاس عام میں حالات حاضرہ کے متعلق درج ذیل فیصلے کیے گئے:تعزیت مولانا محمد علی مونگیری و مولانا خلیل احمد سہارنپوری۔ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری اور خواجہ عبدالرحمان کی گرفتاری۔مولانا محمد عرفان اور مولانا محمد اسحاق مانسہروی کی جلاوطنی۔ گڑھ مکھتیشریوپی میں ہندوؤں کی لوٹ کھسوٹ کی مذمت۔ بتیا بہار کے ہول ناک فسادات پر اظہار نفرت۔ دینی مدارس کے نصاب میں اصلاح۔ مدارس میں جسمانی ورزش کی ضرورت۔ بدعات و منہیات شرعیہ کی روک تھام۔ عورتوں کو میراث دینے کا مطالبہ۔ لڑکیوں کی شادی پر روپیہ لینے کی رسم کی مخالفت۔ملکی صنعت و تجارت کو فروغ دینے کے لیے صرف دیسی چیزوں کو استعمال کرنے کی اپیل۔صوبہ سرحد میں ایک دارالعلوم اور بیت المال قائم کرنے اور آئینی اصلاحات نافذ کرنے کا مطالبہ۔ برطانوی حکومت ہند سے بااختیار شرعی قاضی مقرر کرنے کا مطالبہ۔قرآن کریم کی اشاعت اور مختلف زبانوں میں ترجمے شائع کرنے کی اپیل۔ حصول آزادی کی کوشش مسلمانوں کے لیے نہ صرف وطنی فریضہ ہے؛ بلکہ یہ اس کا مذہبی فریضہ بھی ہے۔ مسلمانوں کے مذہب بیزار رجحانات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے شریعت کی پابندی کی تاکید کی گئی۔تیراہ میں شیعہ سنی لڑائی پر رنج و افسوس کا اظہار کیا گیا۔ ضروریات جدیدہ کے متعلق شرعی رہ نمائی کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل عمل میں آئی۔اوقاف کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ہندستان کے لیے نئے دستور بنانے والی برطانوی ٹیم ’’سائمن کمیشن ‘‘ کا مقاطعہ کیا گیا۔ مسلمانوں کے لیے جداگانہ حلقہائے انتخاب کا مطالبہ کرتے ہوئے مخلوط انتخاب کے لیے چند شرائط پیش کی گئیں۔اور آخری تجویز میں مجلس استقبالیہ اور رضاکاران پشاور کا شکریہ ادا کیا گیا۔ 

11؍دسمبر1927ء کو شاہ افغانستان کی ہندستان آمد پر خیرمقدمی کلمات پیش کیے گئے۔

13؍دسمبر1927ء کو برقی پیغام بھیج کر شاہ افغانستان کا خیر مقدم کیا گیا۔

29؍دسمبر1927ء کو حکیم اجمل خاں کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا گیا۔ 


20 Jan 2026

جمعیت علمائے ہند قدم بہ قدم: ساتواں سال: 1925ء

 ساتواں سال: 1925ء

11؍ جنوری 1925ء کو منعقد مجلس عاملہ کی میٹنگ میں، بعد ازاں 11؍تا 16؍ جنوری1925ء چھٹے اجلاس عام میں خطبۂ استقبالیہ اور خطبۂ صدارت کے علاوہ اہم تجاویز منظور کی گئیں۔ جن میں شاہ محمد محی الدین ؒ کو امیر شریعت ثانی منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کی گئی اور کوہاٹ، گلبرکہ اور بھارت کے دوسرے مقامات پر ہوئے فرقہ وارانہ و مسلکی جھگڑے پر شدید اضطراب کا اظہار کیاگیا۔ اسی طرح ایک طرف جہاںمراکش کی آزادی کے لیے غازی عبد الکریم و مجاہدین ریف کی سرفروشانہ جدوجہدکی تحسین کرتے ہوئے ان کے تعاون کا اعلان کیا، وہیں ترک موالات و عدم تعاون کی تحریک پر دوبارہ غورو فکر کرنے کے بعدبھی جمعیت نے یہی فیصلہ لیا کہ برطانیہ سے ہر قسم کے موالات حرام ہیں۔ بھارت کے مختلف کونوں میں مساجد کے انہدام کے بڑھتے واقعات کو دیکھتے ہوئے تحفظ مساجد کے لیے مشترکہ لائحۂ عمل طے کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔دیگر تجاویز میں سلطان ابن سعود کو شریفیوں سے حرمین شریفین کی تطہیر پر مبارک باد، صوبہ برار کو انگریزوں سے واپس کرنے کے مطالبہ کی تائید،عورتوں کووراثت سے محروم کرنے والے قوانین کی مخالفت، جزیرۃ العرب میں غیر مسلم مداخلت کی تنقید، مجاہدین ریف کو مبارک باد، مکہ معظمہ میں اشیائے خوردونوش کی بندش کی مذمت، تحفظ اسلام کی اپیل، مسلکی فسادات پر افسوس کا اظہار،منتشر قوتوں کی تنظیم اور اشتراک عمل کی دعوت،حکومت ترکیہ سے منصب خلافت قائم رکھنے کی اپیل، نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کی مسجد کو شہید نہ کرنے کا مطالبہ، حکومت پنجاب کے غیر معقول فعل کی مذمت اور دیگر فیصلے شامل ہیں۔ 

14؍جنوری1925ء کو منعقد مجلس مرکزیہ کے اجلاس میں جدید انتخابات عمل میں آئے اور مجلس عاملہ کے اراکین کا بھی انتخاب عمل میں آیا۔

15؍جنوری 1925ء کومنعقد تبلیغ کانفرنس میں مسلمانوں کو بالجبر مرتد بنانے پر حکومت سیام کو انتباہ،ہندو مسلم اتحاد کی ضرورت، فرقہ وارانہ تصفیہ کے لیے آل پارٹیز کانفرنس سے امیدیں، بچوںکوبنیادی تعلیم دلانے کی اپیل اور صدر اجلاس کا شکریہ پر مبنی تجاویز منظور کی گئیں۔  

19؍جنوری 1925ء کو عالمی مؤتمر اسلامی کے صدر نے صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کے نام بھیجے ایک تار میں کانفرنس منعقدنہ کرنے کے اسباب بتائے، جس کا جواب دیتے ہوئے صدر جمعیت نے ان کی تردید کی ۔ 

26؍ جنوری 1925ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں مسودہ حج کمیٹی کا جائزہ لینے کے بعد یہ اعلان کیا کہ موجودہ مسودہ حج کمیٹی امور مذہبی میں صریح مداخلت ہے ،اس لیے جمعیت بل کی زوردار مخالفت کرتی ہے۔

28؍جنوری 1925ء کو شعبۂ تبلیغ کے معائنہ کی رپورٹ پیش کی گئی۔ 

2؍فروری1925ء سے جمعیت علمائے ہند کا ترجمان سہ روزہ الجمعیۃ کا اجرا عمل میں آیا۔ 

اسی تاریخ کو شعبۂ تبلیغ اسلام کے کاموںکو جاری رکھنے کے لیے سرمایہ کی فراہمی کی اپیل شائع کی گئی۔

یکم مئی 1925ء کو علمائے مکہ نے صدر جمعیت علما کے نام لکھے ایک مکتوب میں حرمین شریفین کے حالات سے مطلع کرتے ہوئے دست تعاون بڑھانے کی اپیل کی۔

یکم مئی 1925ء کو حجاج کی پریشانیوں کے ازالے کے لیے مساعی حسنہ انجام دی گئیں۔ 

18؍مئی1925ء کو حج کے متعلق صدر جمعیت نے ایک اہم اعلان شائع کیا۔ 

اسی تاریخ کویہ اپیل کی گئی کہ ۲۲؍ مئی کو مجاہدین ریف کی فتح و نصرت کے لیے یوم دعا منائی جائے۔ بعدازاں اسی تاریخ کو صدر جمعیت نے سلطان ابن سعود کوایک تار بھیج کر حجاز کی روانگی سے متعلق اہم اطلاع دی۔

 نجد کے شہزادہ سلطان بن عبد العزیزکے حجاز پر حملہ کرکے طائف و مکہ پر قبضہ کرلینے اور وہاں کی شعائر مقدسہ کے حوالے سے طرح طرح کی خبریں موصول ہونے کی وجہ سے بھارتیوں میں پیدا اضطراب و بے چینی کے پیش نظر، 20؍ مئی 1925ء کو دیوبند میں منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں حالات حجاز کی تحقیقات کے لیے جمعیت علما، جمعیت خلافت وغیرہ کا مشترکہ وفد حجاز بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ اس اجلاس میں آل مسلم پارٹیز کانفرنس میں اس شرط کے ساتھ شرکت کا فیصلہ کیا کہ اس میں قادیانی مدعو نہ کیے جائیں، لیکن  لاہوریوں اور قادیانیوں کو مدعو کرنے کی وجہ سے جمعیت نے اس میں شرکت نہیں کی۔ 

5؍جون1925ء کو جمعیت اور خلافت کمیٹی کا مشترکہ وفد حجاز کے لیے روانہ ہوا۔ 

14؍جون1925ء کو وائسرائے کو تار بھیج کر حجاج کے جہاز کو پورٹ سوڈان پر روکنے کے خلاف حجاج کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا۔

18؍جون1925ء کو حج میں کفار سے مدد لینے اور کیا یہ ترک مولات کی خلاف ورزی نہیں ہے، پر مفتی اعظم ہند نے تسلی بخش فتویٰ دیا۔ 

اسی تاریخ کو سی آرداس کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا گیا۔

29؍جون1925ء کو موضع گھروڑا کے مسلمانوں پر ہورہے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی۔ 

2؍جولائی1925ء کو وفد جمعیت و خلافت کی طرف سے مولانا عبدالحلیم صدیقی صاحب نے سلطان ابن سعود کے سامنے خطاب فرمایا۔ 

10؍جولائی1925ء کو عطیۂ شاہی پر مہاراجہ الور کو شکرانہ کا تار ارسال کیا گیا۔

17؍جولائی1925ء کو اہل طرابلس کی طرف سے تعاون کے لیے شیخ سنوسی کا مکتوب موصول ہوا۔ 

18؍جولائی1925ء کو آل سعود کی حمایت کرنے پر سلطان ابن سعود کی طرف سے جمعیت علمائے ہند کو شکریہ کا مکتوب موصول ہوا۔ 

28؍جولائی1925ء کو حجاز کے مہمانوں کے لیے تقریب استقبالیہ منعقد کیا گیا۔ 

7؍اگست1925ء کو وفد حجازنے واپسی پر جامع مسجد دہلی میں منعقد ایک پروگرام میں حجاز کے حالات کے متعلق اپنے تأثرات بیان کیے۔

آل مسلم پارٹیز کانفرنس میں شرکت اور عدم شرکت کے مسئلے پر ڈاکٹر کچلو اور جمعیت علمائے ہند کے مابین 8؍اگست1925ء سے خط و کتابت ہوئی۔

10؍اگست1925ء کو ریاست جیند میں شعائر اسلام پر حملے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیاگیا۔ 

20؍اگست1925ء کو مولوی مظہر الدین صاحب ایڈیٹر الامان کے افسوس ناک رویہ کی حقیقت کا انکشاف کیا گیا۔

26؍اگست1925ء کو الجمعیۃ میں تصویریں چھپ جانے پر مدیر مسئول نے اعتذارپیش کیا۔ 

29؍اگست1925ء کو پانی پت فسادات کے تناظر میں انصاف کا مطالبہ کیا گیا۔

2؍ستمبر1925ء کو حرمین شریفین کے قبوں اور مزارات پر قائم عمارتوں کے انہدام کے متعلق فتویٰ شائع کیا گیا۔ 

5؍ستمبر1925ء کو ایک میٹنگ میں مولوی مظہرالدین اور مولانا احمد سعید کے درمیان مصالحت کرائی گئی۔ 

10؍ستمبر1925ء کو ناظم عمومی نے ایک مکتوب لکھ کر مولانا شوکت علی کی توہین کی سخت مذمت کی۔ 

21؍ستمبر1925ء کوتوہین پر مبنی اس کارٹون کی اشاعت پر غم و غصہ کا اظہار کیا گیا، جسے اسٹار لندن نے ۱۸؍اگست کو شائع کیا تھا۔ 

23؍ستمبر1925ء کو علی گڑھ میںہندو مسلم فساد کی مذمت کی گئی۔ 

الجمعیۃ کی مختلف اشاعتوں میں شائع رپورٹوںمی جمعیت نے تبلیغ اسلام کا شان دار فریضہ انجام دیتے ہوئے درجنوں افراد کو ارتداد سے بچایا اور کئی افراد کو مشرف بہ اسلام کیا۔ 

6؍اکتوبر1925ء کو صدر جمعیت نے حجاز اور شرق اردن کے درمیان سرحدوں کی تعینات کے لیے برطانی کمیشن کی آمد کی مذمت کی ۔ 

22؍اکتوبر1925ء کو ناظم عمومی نے مہاراجہ کشمیر کو تاج پوشی کی رسم پر مبارک باد پیش کی۔ 

23؍اکتوبر1925ء کو جمعیت اور خلافت کمیٹی کا ایک وفد حجاز کے لیے روانہ ہوا۔

25؍اکتوبر1925ء کو صدر جمعیت علمائے کے نام سلطان نجد عبد العزیز بن عبد الرحمان الفیصل آل سعود کا مکتوب موصول ہوا، جس میں حجاز کی حکومت کے مسئلہ کو عالم اسلامی کی ایک کانفرنس کے ذریعہ حل کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔

2؍نومبر1925ء کو مجلس عالیہ فلسطین کی طرف سے امداد کی اپیل کا تار موصول ہوا۔

7؍نومبر1925ء کوشرومنی گوردوارا پربندھک کمیٹی کو خط لکھ کر مسجد فتح پوری کے سامنے باجہ بجاکر فساد پھیلانے کی سکھوں کی شرانگیز کوشش کی مذمت کی گئی۔ 

29؍نومبر1925ء کو مسئلۂ شام پربرطانیہ کی خطرناک روش کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔

10؍دسمبر1925ء کو جمعیت علما کے ذریعہ قائم ایک مدرسہ کی رپورٹ پیش کی گئی۔ 

10؍دسمبر1925ء کو وفد حجاز کی طرف سے موصول تار سے معلوم ہوا کہ شریفیوں نے اہل مدینہ پر زبردست ظلم و ستم ڈھائے ہیں۔ 

22؍دسمبر1925ء کو مدیر مسئول مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے مختلف فیہ مسئلہ میں الجمعیۃ کے مسلک کی وضاحت پیش کی۔ 

24؍دسمبر1925ء کو امام عبدالعزیز کے ذریعہ موصول ایک تار میں جدہ فتح کی خوش خبری سنائی گئی۔ 

26؍دسمبر1925ء کو موصل اور عراق کے معاملہ پر جمعیت اقوام کے فیصلہ کو جگر سوز فیصلہ قرار دیا گیا۔  

30؍دسمبر1925ء کو مدینہ طیبہ اور جدہ کی فتح پر سلطان ابن سعود کو مبارک باد پیش کی گئی۔


جمعیت علمائے ہند قدم بہ قدم: چھٹا سال: 1924ء

 چھٹا سال: 1924ء

محمد یاسین جہازی قاسمی

 3 ؍فروری 1924ء کو گاندھی جی کی رہائی پر صدر جمعیت علمائے ہند نے مبارک بادی کا تار بھیجا۔

9؍ مارچ 1924ء کو منعقد جمعیت علمائے ہند اور مرکزی خلافت کمیٹی کے مشترکہ اجلاس ، اور 23؍ تا 25؍ جون 1924ء کو منعقد مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ خلافت کے خاتمہ کے خلاف جمعیت اور مرکزی خلافت کمیٹی کا ایک مشترکہ تار اور وفد بھیجا جائے گا، جو ترکی پہنچ کر مصطفی کمال پاشا سے ملاقات کرکے خلافت کی اہمیت اور ضرورت بتاتے ہوئے اسے بحال کرنے کی گذارش کرے گا۔ 

بھرت پور اور بھارت کے دوسرے مقامات پر انہدام مساجد کے مسلسل ہورہے واقعات کی روک تھام کے لیے جمعیت علمائے ہند کا سولہ رکنی وفد مہاراجہ کرشن سنگھ کے دربار میں پہنچا اور انہدام مساجد کو روکنے کی تجاویز پیش کیں۔

گڈہی پرسروہی میں مسلمانوں کی مذہبی رسوم کی ادائیگی میںرکاوٹ کے پیش نظر 14؍اگست1924ء کو  ڈپٹی کمشنر کو تار بھیج کر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

26، 27؍ اگست1924ء کو جمعیت تبلیغیہ کے اجلاس میں تحفظ و اشاعت اسلام کے حوالے سے کئی اہم تجاویز پاس کرکے عملی جامہ پہنایا گیا ، جن میں مدارس، مساجد اور کنویں کی تعمیر، مرتدین کی واپسی ، نو مسلموں کی تعلیم و تربیت اور ضرورت مندوں کی امداد جیسی نمایاں خدمات ہیں۔علاوہ ازیں نومسلمین کی تعلیم اور صنعت سکھانے کے لیے درس گاہوں کا قیام اور مختلف علاقوں میں صوبائی شعبۂ تبلیغ کے قیام کی منظوری دی گئی۔ 

26؍اگست1924ء کو جمعیت علمائے ہند کی چھ سالہ زندگی میں پہلی مرتبہ عوامی طور پر چندے کی اپیل کی گئی۔ 

27،29؍ اگست 1924ء کومنعقد مجلس منتظمہ کے اجلاس میں کشمیر کے ریشم مزدوروں کے پر امن احتجاجیوں پر ظلم وتشدد کرنے پر انگریز حکومت کے رویے کو قابل نفریں اور اقتدار کی رعونت قراردیا۔ مولانا حسرت موہانی کی رہائی پر مسرت کا اظہار کیا گیا۔تحفظ مساجد کے لیے متفقہ کوشش کرنے کی اپیل کی گئی۔ شعبۂ تبلیغ کی طرف سے الداعی اخبار نکالنے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے شائع نہیں ہوسکا۔ اسی طرح عنایت اللہ خاں مشرقی بانی خاکسار تحریک کی کتاب ’’تذکرہ ‘‘کو اسلام کے لیے سم قاتل قرار دیا۔

26؍ستمبر سے 2؍اکتوبر1924ء تک اتحاد کانفرنس ہوئی، جس میں جمعیت علمائے ہند نے اہم کردار ادا کیا۔اس کانفرنس کی تجویز نمبر(۱) کے تناظرمیں مرتد کی سزائے قتل پر مفتی محمد کفایت اللہ صاحب، مولانا حسین احمدمدنی صاحب، مولانا شوکت علی صاحب اور مولانا عبدالباری فرنگی محلی نوراللہ مرقدہم کے درمیان اہم مراسلات ہوئے۔ 

مولانا منیر الزماں صاحب اسلام آبادی، ناظمِ عمومی جمعیت علمائے بنگالہ کی جانب سے تبلیغی سرگرمیوں اور دیگر جماعتی امور کے لیے امداد کی درخواست پر 16؍ دسمبر 1924ء امداد کا فیصلہ کرتے ہوئے چوبیس روپے ارسال کیے گئے۔ 


جمعیت علمائے ہند قدم بہ قدم: پانچواں سال: 1923ء

 پانچواں سال: 1923ء

محمد یاسین جہازی قاسمی 9891737350

9،10؍ فروری1923ء کو منعقد منتظمہ کے اجلاس میں شدھی سنگھٹن اور دیگر ارتدادی تحریکات پر قدغن لگانے کے لیے شعبۂ تبلیغ و حفاظت اسلام اور انسداد فتنۂ قادیانی کمیٹی کی تشکیل عمل میں آئی۔ صوبہ سرحد کے محسودیوں پر گورنمنٹ کی ظالمانہ کارروائی اور 64؍ موپلوں کو گاڑی میں بند کرکے مارنے پر مذمت کی تجویز پاس کی ۔ اسی طرح اکالیوں پر جیل حکام کے جابرانہ تشدد کو غیر شریفانہ حرکت قرار دیااور عدم تشدد کا مثالی کردار ادا کرنے پر انھیںمبارک باد پیش کی گئی۔

 24؍فروری 1923ء کوشعبۂ تبلیغ و حفاظت اسلام کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے عارضی طور پر ایک مختصر سی جماعت منتخب کرکے کام شروع کردیاگیا۔

ایک غیر مسلم بی آر شرما کے ذریعہ سے تبلیغ و حفاظت اسلام کے مقصد سے 16 ؍اپریل 1923ء اور متعدد تواریخ اشتہارات چھپوائے گئے۔ 

 20؍ جون 1923ء کے اجلاس عاملہ میںترمیم شدہ اصول اساسی کو اجلاس عام میں پیش کرنے اور موپلہ فنڈ کی اشاعت کی منظوری دی گئی۔

 13؍ جولائی 1923ء کو ارکان انتظامیہ اور ارکان شوریٰ کی میٹنگ میں شعبۂ تبلیغ و حفاظت اسلام کا مسودہ منظور کیا گیا ۔ علاوہ ازیں سول نافرمانی تحریک کے تحت فلیگ ستیہ گرہ یعنی مظاہر قومی علم کے افراد پر جبرو استعداد کو حکومت کا ظالمانہ فعل قرار دیا۔ اسی طرح گائے کی قربانی کی مخالفت کو شریعت میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اس سے دستبردار نہ ہونے کا اعلان کیا، تاہم فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے برادران وطن کے جذبات کا خیال رکھنے کی اپیل کی گئی۔حکومت برطانیہ اور شریف مکہ کے درمیان ہوئے معاہدہ کو توہین کا باعث قرار دیا گیا۔ مسلمانوں میں پائے جارہے  اونچ نیچ اور چھوا چھوت کے نظریے کی تغلیط کی گئی۔مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کو شعبۂ تبلیغ کا عارضی صدر  منتخب کیا گیا۔ شدھی تحریک کو اسلام کے لیے سخت ترین سیاسی حملہ قرار دیتے ہوئے تمام مسلمانان ہند کے نام ایک متفقہ اپیل شائع کرنے کی اپیل کی گئی۔تبلیغی کارروائیوں کی اشاعت کے لیے کئی اخبارات سے معاہدے کیے گئے۔  

10؍اگست 1923ء کو دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا حبیب الرحمان صاحب نے حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے متعلق قادیانیوں کے جلسے میں شرکت نہ کرنے کی مسرت آمیز خبر سنائی۔

مرتد بنائے گئے مسلمانوں کو دوبارہ اسلام میں داخل کرنے کے مقصد سے ذمہ داران شعبۂ تبلیغ نے نقض امن کے اندیشے کے پیش نظر 11؍اگست 1923ء کومجسٹریٹ کورجسٹری بھیج کر تحفظ کا مطالبہ کیا۔ 

 20،21؍ستمبر1923ء کو مجلس منتظمہ کے اجلاس میں جزیرۃ العرب کو غیر مسلموں کے اثرات سے پاک کرنے اور حجاج کی تکالیف کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ۔اسی طرح حضرت اجمیری کی درگاہ پر گولی باری کی مذمت کی گئی۔

20؍اکتوبر1923ء کو سنٹرل سکھ لیگ کے اجلاس کے ذریعہ سکھ اسیروں کی گرفتاری پر انھیں مبارک بادپیش کی گئی۔ 

اسی طرح 20؍اکتوبر1923ء کو حکومت کے ذریعہ اجمیر میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد کو پابند سلاسل کرنے پر گرفتارشدگان کو مبارک بادی دی گئی ۔

30؍اکتوبر1923ء کو حضرت مجددخلافت غازی مصطفی کمال پاشا کی طرف سے صدر جمعیت علمائے ہند کے نام ایک تار موصول ہوا۔ 

6؍ نومبر 1923ء کو انسداد فتنہ قادیانی کی سب کمیٹی کی میٹنگ ہوئی، جس میں قادیانی اور لاہوری احمدی فرقہ کو خارج از اسلام قرار دیا۔اسی تاریخ کو سب کمیٹی آزادی جزیرۃ العرب کی بھی میٹنگ ہوئی، جس میں جزیرۃ العرب کی آزادی کی بابت ایک تجویز منظور کی گئی۔ 

 7؍ نومبر1923ء کو جمعیت تبلیغیہ کا اجلاس ہوا، جس میں ملک و بیرون ملک تبلیغی وفود بھیجنے کی تجویز منظور کی گئی۔شعبۂ تبلیغ اسلام نگرام کا مشروط تعاون، شعبۂ تبلیغ کی کارروائیوں کا جائزہ لینے کے لیے سب کمیٹی کی تشکیل اور شعبۂ تبلیغ کی کارروائیوں کی اشاعت کے لیے ایک صفحہ مخصوص کرنے پر الامان کے ایڈیٹر مولانا مظہر الدین صاحب کا شکریہ ادا کیا گیا۔ اس میں ’’الداعی‘‘ کے نام سے ہفت روزہ اخبار نکالنے کی تجویز بھی منظور ہوئی،لیکن وسائل کی قلت کی وجہ سے اسے عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا۔

 8؍ نومبر1923ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ میں گردوارہ پربندھک کمیٹی کے کارکنان کی گرفتاری پر ناراضگی کا اظہار کیاگیا۔

15؍نومبر1923ء کومسلمانان ہندسے یوم جزیرۃ العرب منانے کی اپیل کرنے کے لیے ٹیلی گرام بھیجا گیا۔  

29-30-31 ؍ دسمبر 1923ء ویکم جنوری 1924ء کو منعقد پانچویں اجلاس عام میں درج ذیل تجاویز منظور کی گئیں: کراچی مقدمہ میں ماخوذ افراد کی برات پر مبارک باد اور ان کی خدمات ملیہ کا اعتراف۔ مولانا حسرت موہانی صاحب کو مبارک باد۔ موپلہ شہیدوں کی یادگار قائم کرنے کی اپیل۔ حکومت ملیہ انگورہ پر کامل اعتماد کا اظہار۔ آزادی حاصل کرنے کے لیے فرقہ وارانہ ہم آہنگی ناگزیر۔ بھارت کے کامل سوراج کے لیے اسپیشل کانگریس دہلی اور بنگال پراونشل کانگریس کی طرف سے پیش کردہ ’’میثاق ملیۂ ہند‘‘ کے مسودہ پر غوروفکر کے لیے سب کمیٹی کی تشکیل۔ جزیرۃ العرب کا غیر مسلم تسلط سے آزاد رکھنا ضروری۔ فرقہ وارانہ فسادات پر اظہار تشویش۔ خواجہ اجمیری کی درگاہ پر گولی باری کی مذمت۔ گردوارہ پربندھک کمیٹی کو خلاف قانون قرار دینا مذہبی مداخلت۔ جزیرۃ العرب کی آزادی کے مظاہرین پر کارروائی مذہبی مداخلت۔ جدید دستورالعمل کی منظوری کاالتوا۔ اجلاس کی صدارت کے لیے مولانا حسین احمدمدنی صاحب کا شکریہ۔ عمومی تجویز شکریہ۔ 

جمعیت علمائے ہند قدم بہ قدم: چوتھا سال: 1922ء

 چوتھا سال: 1922ء

محمد یاسین جہازی قاسمی؛ 9891737350

9،10؍ فروری1922ء کو منعقد مجلس منتظمہ کے اجلاس میں جمعیت عاملہ(مجلس عاملہ) تشکیل کی گئی۔اسی اجلاس میں سول نافرمانی کے عہد کو دہرایا گیا اور مذہبی و ملکی ضرورتوں کے پیش نظر نیشنل والنیٹر کور کا عہد نامہ تیار کیا گیا۔

ملکی سطح پر امیر الہند کا انتخاب نہ ہوپانے کی وجہ سے،3-4-5؍مارچ1922ء کو اجمیر میں منعقد ایک خصوصی اجلاس میںیہ فیصلہ لیا گیا کہ پہلے ریاستی سطح پر ریاستی امیر کا انتخاب کیا جائے۔ مالیباری کانسٹرکشن کمیٹی نے اپنی تجاویز میں مساجد کو بغاوت کی پرورش گاہیں قرار دیا ، جس کے خلاف جمعیت نے شدید احتجاج درج کرایا۔

5؍اپریل 1922ء کو حضرت مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی گرفتار کیے گئے۔ اور 3؍نومبر 1922ء کو رہائی کی امید ظاہر کی گئی۔ 

 خلافت کے تحفظ کے لیے دعا مانگتے ہوئے، پورے بھارت میں7؍ اپریل 1922ء یوم جمعہ کو ’یوم دعا‘ کے طور پر منایا گیا۔

20؍جولائی 1922ء کو ایک استفتا کے جواب میں فتویٰ دیا گیا کہ تحریک خلافت میں شرکت لازم ہے۔ 

 صلح ترکی اور جنگ انگورہ و یونان میں انگریزوں کی بد عہدی کے خلاف ،18،19، 20ء اکتوبر1922ء کو دہلی میں منعقد مجلس منتظمہ کے اجلاس سے اس فیصلہ کا اعادہ کیا کہ برطانوی حکومت کا ہر طرح سے بائیکاٹ دین کا لازمی حصہ ہے۔علاوہ ازیں جمعیۃ الطلبا کی امداد کی منظوری، سکھوں پر مظالم کی مذمت، اخبار مسلم کو خرید کر اس کا نام العلما کرنے کا فیصلہ، اخبار العلما کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل،رپورٹ مالابارکی اشاعت کی منظوری اور دیگر تجاویز کے علاوہ مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی کو نائب ناظم منتخب کیا گیا۔

3؍نومبر1922ء کو مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی کی رہائی کی امید ظاہر کی گئی۔

11؍نومبر1922ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں آئندہ ہونے والے انتخاب میں حصہ لینے سے متعلق شرعی رہ نمائی کی گئی۔ 

24،25، 26؍ دسمبر1922ء کو گیا (بہار) میں جمعیت علمائے ہند کا چوتھا اجلاس عام کیا گیا، جس میں طے پایا کہ آئندہ جنرل الیکشن میں کھڑا ہونا، یا اس سلسلہ میں کوئی کوشش کرنا شریعت کے منافی ہے۔ہندستان کی آزادی حاصل کرنے کے لیے ہندوؤں اور مسلمانوں کے اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے کانگریس، مسلم لیگ، خلافت کانفرنس اور جمعیت علمائے ہند کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا۔ اسی طرح پیسا باغ ڈویژن ضلع سلہٹ و آسام میں گورکھوں کی طرف سے قرآن کی بے حرمتی کرنے پر سخت احتجاج درج کرایا۔ سلطان عبدالمجید کی خلافت کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ مصطفی کمال پاشا کو مجدد خلافت کے خطاب سے نوازا گیا۔ مولانا آزاد کی اسارت و خدمات پر انھیں مبارک باد دی گئی۔ مراکشیوں کو اپنے وطن کی آزادی کے لیے جہاد کرنے پر مبارک باد پیش کی گئی۔ برطانوی مصنوعات کے بائیکاٹ کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔ اور امیر شریعت بہار مقرر کیے جانے پر ان کو تہنیت پیش کی گئی۔


جمعیت علمائے ہند قدم بہ قدم: تیسرا سال: 1921

 تیسرا سال:1921ء 

محمد یاسین جہازی قاسمی

9891737350

18؍فروری1921ء کو منعقد مجلس منتظمہ کے اجلاس میں جمعیت علمائے ہند کے حسابات کی جانچ اور ان کی تصدیق کی گئی۔ 

کفرستان ہند میں شرعی مسائل کے حل اور ایک امیر کے ما تحت اسلامی زندگی گذارنے کے لیے 25،26؍ جون1921ء کو پتھر کی مسجد پٹنہ بہار میں امارت شرعیۂ بہار کا قیام عمل میں آیا۔ حضرت شاہ بدر الدین صاحب پھلواریؒ کو امیر شریعت اور اس فکر کے عملی بانی مبانی ابوالمحاسنحضرت مولانا محمد سجاد صاحب ؒ کو نائب امیر منتخب کیا گیا۔

8؍اگست1921ء کو دہلی پولیس نے ترک موالات کے فتویٰ کو ضبط کرلیا۔

23؍اگست1921ء کو صوبہ دہلی کے اجلاس میں برطانیہ کے مظالم کی تفصیلات بیان کی گئیں۔

23؍ اگست 1921ء کو جمعیت علمائے صوبہ دہلی نے عظیم الشان اجلاس کیا، جس میں اسلامی ممالک کے خلاف  انگریزوں کی مکاریوں اور ریشہ دوانیوں سے عوام الناس کو روشناس کرایا گیا۔

6؍ستمبر1921ء کو منعقد مجلس منتظمہ کے اجلاس میں مفتی اعظم ہند مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کی عارضی صدارت کو استقلالی صدارت میںتبدیل کیا گیا۔

14؍ستمبر1921ء کو مولانا محمد علی صاحب اور 18؍ستمبر1921ء کو مولانا حسین احمدمدنی صاحب کو گرفتار کیا گیا۔ 

21؍ستمبر1921ء کو مجلس منتظمہ کا اجلاس ہوا، جس میں دہلی پولیس کے ذریعہ ترک موالات کے فتویٰ کو ضبط کرنے پر احتجاج کیا گیا۔ اسی طرح 8-9-10؍جولائی 1921ء کو منعقد خلافت کانفرنس کے اجلاس میں ترک موالات کے فتویٰ کی تائید میں تقریرکرنے کے جرم میں گرفتار کیے گئے افراد کی گرفتاری کی مخالفت کی گئی۔ 

 اکتوبر1921ء کی کسی تاریخ میں مولانا احمد سعید صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند بھی اسیر قید فرنگ کرلیے گئے۔اور درجنوں لیڈران جمعیت گرفتار کیے گئے۔  

 18،19،20؍ نومبر1921ء کو لاہور میں تیسرا سالانہ اجلاس عام کیا گیا، جس میں دیگر تجاویز کے ساتھ ساتھ انگریزوں کے ذریعہ موپلے مسلمانوں کے متعلق لوگوں کو جبرا مسلمان بنانے کی افواہ کی سازش سے پردہ اٹھایا، کیوں کہ حکومت اسے ہندو مسلم فرقہ وارانہ رنگ دینا چاہتی تھی۔اسی اجلاس میں دیگر تمام قابل ذکر تنظیموں سے پہلے ہندستان کی مکمل آزادی کی تجویز منظور کرتے ہوئے کہاگیا کہ بھارت کو آزاد کرانا، مسلمانوں کے لیے نہ صرف وطنی فریضہ ہے؛ بلکہ مذہبی نصب العین بھی ہے۔علاوہ ازیں ولایتی مال کا بائیکاٹ، امیر الہند منتخب کرنے کا مطالبہ، بدایوں میں خصوصی اجلاس کرنے کی تجویزاور مجاہدین آزادی کی گرفتاری پر احتجاج کیا گیا۔ 

 جمعیت نے خلافت اسلامیہ اور غازی مصطفی کمال پاشا کے تعاون کے لیے اندرون ہند تبلیغی وفود بھیجے اور سمرنا و انگورہ فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

9؍ دسمبر1921ء کو بدایوں میں منعقد اجلاس میں امیر الہند کے اختیارات و فرائض کا مسودہ پیش کیا گیا۔ اس اجلاس کے ملتوی ہونے کی افواہ کی وجہ سے کورم پورا نہ ہونے اور اس سے قبل اکابرین کی گرفتاری ہوجانے کی وجہ سے کل ہند سطح پر امیر کا انتخاب نہ ہوسکا۔

10؍دسمبر1921ء کو رکن جمعیت مولانا ابوالکلام آزاد ؒ گرفتار کرلیے گئے۔ 

علاوہ ازیں مجموعی اعتبار سے مختلف المسالک کے علما کو متحد، قوم میں مذہبی احساس بیدار، مذہب وسیاست میں ہم آہنگی، بیرون ہند مسلمانوںکے مذہبی حقوق کے تحفظ، مسلمانوں کو خلافت کمیٹی اور کانگریس کی امدادو شرکت کی ترغیب اور ان جیسے بڑے بڑے کارہائے نمایاں انجام دیے۔ 


جمعیت علمائے ہند قدم بہ قدم: دوسرا سال: 1920

 دوسرا سال: 1920ء

تحریر: محمد یاسین جہازی قاسمی

یکم جنوری 1920ء کو منعقدجمعیت علمائے ہند کے پہلے اجلاس عام کی تیسری نشست میں شیخ الہند اور امام الہند کی رہائی کی تجویز منظور کی گئی۔ اور اسی اجلاس میں پہلی مجلس منتظمہ تشکیل دی گئی، جس میں مختلف ریاستوں سے23؍ اراکین منتخب کیے گئے۔اور اغراض و مقاصد و دستور اساسی کا مسودہ پیش کیا گیا۔

 6؍ ستمبر1920ء کو کلکتہ میںجمعیت علمائے ہند کاایک خصوصی اجلاس ہوا، جس میں مولانا ابوالکلام آزاد کی تحریک پر ترک موالات کی تجویز منظور کی گئی۔ 

اور 8؍ ستمبر1920ء کو  ترک موالات کا سب سے پہلا فتویٰ ابو المحاسن حضرت مولانا محمد سجادؒ نے دیا ، جسے چار سو چوہتر علما کے دستخطوں سے شائع کیا گیا۔اس فتویٰ کی وجہ سے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے کچھ طلبہ نے یونی ورسٹی چھوڑ دی، جس کی تعلیم کے لیے16؍ صفر 1339ھ، مطابق 29؍ اکتوبر1920ء کو شیخ الہندؒ کے ہاتھوں جامعہ ملیہ اسلامیہ کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔اور حکیم اجمل خاں صاحب، مولانا محمد احمد صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند اور دیگر حضرات نے اپنے خطابات واپس کردیے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے کلکتہ میں مسجد ناخدا میں ایک مدرسہ قائم کیا۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو نے ماہانہ سرکاری امداد قبول کرنے سے انکار کردیا۔اگرچہ مسٹر جناح، مولانا احمد رضا خاں، حلقۂ تھانہ بھون اور کچھ دیگر حضرات نے ترک موالات کی مخالفت کی؛ لیکن عوام پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا، اور جمعیت علمائے ہند اپنی تحریک میں مکمل طور پر کامیاب رہی۔ 

28؍اکتوبر1920ء کو شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب دیوبندیؒ اور مفتی اعظم ہند مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے بھی ترک موالات کا فتویٰ دیا۔ 

19،20، و21؍ نومبر1920ء بمقام دہلی ، جمعیت علمائے ہند کا دوسرا اجلاس عام ہوا، جس میں درج ذیل اہم تجاویز منظور کی گئیں: برطانوی حکومت سے موالات حرام ہے۔ ترک موالات اسلامی احکام کی تعمیل ہے۔برادران وطن سے خوشگوار تعلقات قائم کرنے کی اپیل۔ مسلمانوں کے لیے قومی بیت المال کا قیام۔ترک موالات کے لیے شعبۂ تبلیغ کا قیام۔ علی گڑھ کالج کی مسجد میں نماز پڑھنے پر تعرض کی مذمت۔ بے گناہ اسیر علما اور خدام خلافت کی ایذا رسانی پر اظہار نفرت۔ترک موالات کی مخالفت کرنے والے علما سے اظہار برات۔ ترک موالات نہ کرنے والے اداروں کی امداد نہ کرنے کی اپیل۔ 

 اسی اجلاس میں مستقل عہدے داران کا انتخاب عمل میں آیا، جس میں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کو صدر، مولانا مفتی محمد کفایت اللہ شاہ جہان پوری ثم دہلوی کونائب صدر،مولانا حافظ احمد سعید دہلویؒ کو ناظم اور ہر صوبے کی جمعیت کے صدر کواعزازی نائب صدر منتخب کیا گیا۔

لیکن شیخ الہندؒکا 30؍ نومبر1920ء کو وفات ہوگئی، جس سے محض دس دن بعد ہی جمعیت حضرت کی صدارت سے محروم ہوگئی۔

4؍دسمبر1920ء سے کچھ علمائے کرام نے بے وقت گائے کی قربانی کا مسئلہ اور ترک موالات نصاریٰ و یہود کے علاوہ ہنود ہند کا مدعی اٹھاکر ترک موالات کی تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش کی، لیکن جمعیت علمائے ہند اپنے مشن پر برابر قائم رہی۔  


جمعیت علمائے ہند قدم بہ قدم: پہلا سال: 1919

 پہلا سال: 1919ء

تحریر: محمد یاسین جہازی قاسمی

انگریزوں نے بھارت پربالجبر قبضہ کرکے ، یہاں کی عوام ؛بالخصوص مسلمانوں کو سیاسی، اقتصادی اور مذہبی طور پر تباہ کرنے کی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی۔ ادھر دوسری طرف علمائے امت کے مسلکی اختلافوں نے انھیں اور بھی بے جان کردیا تھا۔ ایسے پرآشوب حالات میں مفکر قوم و ملت حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمۃ اٹھے اور بھارت کے اکثر صوبوں میں دورہ کرکے علمائے کرام کو ایک متحدہ پلیٹ فارم تشکیل دینے کی دعوت دی، لیکن کسی نے بھی ان کی آواز پر لبیک نہیں کہا؛ بالآخر مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے آل انڈیا کے بجائے ریاستی سطح پر15؍ دسمبر 1917ء میں ’’انجمن علمائے بہار‘‘ کی داغ بیل ڈالی۔بعد ازاں23؍ نومبر 1919ء کو آل انڈیا خلافت کانفرنس کے موقع پر بھارت کے کونے کونے سے علمائے کرام دہلی میں جمع ہوئے تھے، اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ، مختلف مسالک کے علما23؍ نومبر1919ء اتوار کے دن فجر کی نماز کے بعد سید حسن رسول نما کے مزار پر حاضر ہوکر پہلے رازداری کا حلفیہ لیا۔ پھر اسی روز23؍ نومبر 1919ء کوبعد نماز عشا کرشنا تھیٹر ہال پتھر والا کنواں نئی دہلی میں ایک میٹنگ کی اور ’’جمعیت علمائے ہند ــ‘‘کی تشکیل کی۔ اس میٹنگ میں درج ذیل فیصلے کیے گئے:

(1) جشن صلح کے مقاطعہ کا فیصلہ کیا اور اس میں شرکت کے عدم جواز پر ایک فتویٰ بھی دیا گیا۔ 

(2) جمعیت علمائے ہند کے قیام پر کافی بحث و مباحثہ ہوا اور بالآخر اس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ 

(3) تمام حاضرین جمعیت کے رکن بنے اور آواخر دسمبر میں امرتسر میں جلسہ کرنے کی تجویز پاس کی۔

(4)  حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کوعارضی صدر اور حافظ احمد سعید صاحب کو عارضی ناظم بنایا گیا۔ 

(5) جمعیت کے مقاصد و ضوابط کا مسودہ تیار کرنے کا فیصلہ لیا اور مفتی محمد کفایت اللہ صاحب اور مولانا محمد اکرام خاں صاحب ایڈیٹر اخبار محمدی کو اس کی ذمہ داری سونپی گئی۔ 

 اس کا پہلا اجلاس عام 28و31؍ دسمبر 1919ء و یکم جنوری 1920ء امرتسر میں کیا گیا۔28؍ دسمبر1919ء بعد نمازعصر کو منعقد پہلی نشست میں باون علمائے کرام شریک ہوئے اور جمعیت علمائے ہند کے قیام کی ضرورت و اہمیت پر درج ذیل بحث و گفتگو ہوئی: 

(1) مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری نے انعقاد جمعیت اور جلسہ دہلی کی مختصر کیفیت بیان کی۔ 

(2) مولانا ابو تراب محمد عبد الحق صاحب نے سیاست و مذہب کی یگانگت پر تقریر کی۔ 

(3) مولانا عبد الرزاق صاحب نے انعقاد جمعیت کی ضرورت پر زور دیا۔ 

(4) جناب سید جالب صاحب ایڈیٹر اخبار ہمدم نے اپنے خطاب میں کہا کہ میرے نزدیک علما کو جداگانہ جمعیت قائم کرنے کی ضرورت نہیںہے۔ 

(5) مفتی محمدکفایت اللہ صاحبؒ نے جمعیت علمائے ہند کے قیام کی ضرورت پر خطاب کیا اور اس کے اغراض و مقاصد کا اجمالی خاکہ بھی پیش کیا۔ 

(6) مولانا ثناء اللہ صاحب نے مفتی اعظم صاحب کی تائید کی۔

(7) جناب غازی محمود صاحب نے مفتی صاحب کی باتوں سے مکمل اتفاق کا اعلان کیا۔ 

(8) مولانا منیرالزماں صاحب نے ملک گیر جمعیت کے قیام کی ضرورت بتائی۔

(9) مفتی اعظم ہند مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے اغراض و مقاصد کا اجمالی خاکہ پیش کیا۔ بعد ازاں دستوراساسی کو مرتب کرنے کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل عمل میں آئی۔ 

 (10) حاذق الملک حکیم حافظ محمد اجمل خاں صاحب نے جمعیت کے انعقاد پر اپنے دلی اتفاق کا اظہار کیا۔ 

31؍دسمبر1919ء کو دوسری نشست منعقد ہوئی، جس میں خلافت اسلامیہ کے خلیفہ محمد وحید الدین خاں کے نام کا خطبہ پڑھنے، صلح کانفرنس میں بھارتی مسلمانوں کے وفد کے بھیجنے اور اس تجویز کو برطانوی بھارتی بادشاہ جارج پنجم کوبھیجنے کی تجاویزمنظور کی گئیں۔ 

املا کے قاعدہ کی رو سے ’’جمعیت علمائے ہند‘‘ لکھنا چاہیے۔ 

 اس کا پہلا دفتر مدرسہ امینیہ اسلامیہ کشمیری گیٹ دہلی میں قائم کیا گیا۔