20 Jan 2026

جمعیت علمائے ہند قدم بہ قدم: دوسرا سال: 1920

 دوسرا سال: 1920ء

تحریر: محمد یاسین جہازی قاسمی

یکم جنوری 1920ء کو منعقدجمعیت علمائے ہند کے پہلے اجلاس عام کی تیسری نشست میں شیخ الہند اور امام الہند کی رہائی کی تجویز منظور کی گئی۔ اور اسی اجلاس میں پہلی مجلس منتظمہ تشکیل دی گئی، جس میں مختلف ریاستوں سے23؍ اراکین منتخب کیے گئے۔اور اغراض و مقاصد و دستور اساسی کا مسودہ پیش کیا گیا۔

 6؍ ستمبر1920ء کو کلکتہ میںجمعیت علمائے ہند کاایک خصوصی اجلاس ہوا، جس میں مولانا ابوالکلام آزاد کی تحریک پر ترک موالات کی تجویز منظور کی گئی۔ 

اور 8؍ ستمبر1920ء کو  ترک موالات کا سب سے پہلا فتویٰ ابو المحاسن حضرت مولانا محمد سجادؒ نے دیا ، جسے چار سو چوہتر علما کے دستخطوں سے شائع کیا گیا۔اس فتویٰ کی وجہ سے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے کچھ طلبہ نے یونی ورسٹی چھوڑ دی، جس کی تعلیم کے لیے16؍ صفر 1339ھ، مطابق 29؍ اکتوبر1920ء کو شیخ الہندؒ کے ہاتھوں جامعہ ملیہ اسلامیہ کا سنگ بنیاد رکھا گیا۔اور حکیم اجمل خاں صاحب، مولانا محمد احمد صاحب مہتمم دارالعلوم دیوبند اور دیگر حضرات نے اپنے خطابات واپس کردیے۔ مولانا ابوالکلام آزاد نے کلکتہ میں مسجد ناخدا میں ایک مدرسہ قائم کیا۔ دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنو نے ماہانہ سرکاری امداد قبول کرنے سے انکار کردیا۔اگرچہ مسٹر جناح، مولانا احمد رضا خاں، حلقۂ تھانہ بھون اور کچھ دیگر حضرات نے ترک موالات کی مخالفت کی؛ لیکن عوام پر اس کا کوئی اثر نہ ہوا، اور جمعیت علمائے ہند اپنی تحریک میں مکمل طور پر کامیاب رہی۔ 

28؍اکتوبر1920ء کو شیخ الہند مولانا محمود حسن صاحب دیوبندیؒ اور مفتی اعظم ہند مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے بھی ترک موالات کا فتویٰ دیا۔ 

19،20، و21؍ نومبر1920ء بمقام دہلی ، جمعیت علمائے ہند کا دوسرا اجلاس عام ہوا، جس میں درج ذیل اہم تجاویز منظور کی گئیں: برطانوی حکومت سے موالات حرام ہے۔ ترک موالات اسلامی احکام کی تعمیل ہے۔برادران وطن سے خوشگوار تعلقات قائم کرنے کی اپیل۔ مسلمانوں کے لیے قومی بیت المال کا قیام۔ترک موالات کے لیے شعبۂ تبلیغ کا قیام۔ علی گڑھ کالج کی مسجد میں نماز پڑھنے پر تعرض کی مذمت۔ بے گناہ اسیر علما اور خدام خلافت کی ایذا رسانی پر اظہار نفرت۔ترک موالات کی مخالفت کرنے والے علما سے اظہار برات۔ ترک موالات نہ کرنے والے اداروں کی امداد نہ کرنے کی اپیل۔ 

 اسی اجلاس میں مستقل عہدے داران کا انتخاب عمل میں آیا، جس میں حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کو صدر، مولانا مفتی محمد کفایت اللہ شاہ جہان پوری ثم دہلوی کونائب صدر،مولانا حافظ احمد سعید دہلویؒ کو ناظم اور ہر صوبے کی جمعیت کے صدر کواعزازی نائب صدر منتخب کیا گیا۔

لیکن شیخ الہندؒکا 30؍ نومبر1920ء کو وفات ہوگئی، جس سے محض دس دن بعد ہی جمعیت حضرت کی صدارت سے محروم ہوگئی۔

4؍دسمبر1920ء سے کچھ علمائے کرام نے بے وقت گائے کی قربانی کا مسئلہ اور ترک موالات نصاریٰ و یہود کے علاوہ ہنود ہند کا مدعی اٹھاکر ترک موالات کی تحریک کو کمزور کرنے کی کوشش کی، لیکن جمعیت علمائے ہند اپنے مشن پر برابر قائم رہی۔