20 Jan 2026

جمعیت علمائے ہند قدم بہ قدم: تیسرا سال: 1921

 تیسرا سال:1921ء 

محمد یاسین جہازی قاسمی

9891737350

18؍فروری1921ء کو منعقد مجلس منتظمہ کے اجلاس میں جمعیت علمائے ہند کے حسابات کی جانچ اور ان کی تصدیق کی گئی۔ 

کفرستان ہند میں شرعی مسائل کے حل اور ایک امیر کے ما تحت اسلامی زندگی گذارنے کے لیے 25،26؍ جون1921ء کو پتھر کی مسجد پٹنہ بہار میں امارت شرعیۂ بہار کا قیام عمل میں آیا۔ حضرت شاہ بدر الدین صاحب پھلواریؒ کو امیر شریعت اور اس فکر کے عملی بانی مبانی ابوالمحاسنحضرت مولانا محمد سجاد صاحب ؒ کو نائب امیر منتخب کیا گیا۔

8؍اگست1921ء کو دہلی پولیس نے ترک موالات کے فتویٰ کو ضبط کرلیا۔

23؍اگست1921ء کو صوبہ دہلی کے اجلاس میں برطانیہ کے مظالم کی تفصیلات بیان کی گئیں۔

23؍ اگست 1921ء کو جمعیت علمائے صوبہ دہلی نے عظیم الشان اجلاس کیا، جس میں اسلامی ممالک کے خلاف  انگریزوں کی مکاریوں اور ریشہ دوانیوں سے عوام الناس کو روشناس کرایا گیا۔

6؍ستمبر1921ء کو منعقد مجلس منتظمہ کے اجلاس میں مفتی اعظم ہند مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کی عارضی صدارت کو استقلالی صدارت میںتبدیل کیا گیا۔

14؍ستمبر1921ء کو مولانا محمد علی صاحب اور 18؍ستمبر1921ء کو مولانا حسین احمدمدنی صاحب کو گرفتار کیا گیا۔ 

21؍ستمبر1921ء کو مجلس منتظمہ کا اجلاس ہوا، جس میں دہلی پولیس کے ذریعہ ترک موالات کے فتویٰ کو ضبط کرنے پر احتجاج کیا گیا۔ اسی طرح 8-9-10؍جولائی 1921ء کو منعقد خلافت کانفرنس کے اجلاس میں ترک موالات کے فتویٰ کی تائید میں تقریرکرنے کے جرم میں گرفتار کیے گئے افراد کی گرفتاری کی مخالفت کی گئی۔ 

 اکتوبر1921ء کی کسی تاریخ میں مولانا احمد سعید صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند بھی اسیر قید فرنگ کرلیے گئے۔اور درجنوں لیڈران جمعیت گرفتار کیے گئے۔  

 18،19،20؍ نومبر1921ء کو لاہور میں تیسرا سالانہ اجلاس عام کیا گیا، جس میں دیگر تجاویز کے ساتھ ساتھ انگریزوں کے ذریعہ موپلے مسلمانوں کے متعلق لوگوں کو جبرا مسلمان بنانے کی افواہ کی سازش سے پردہ اٹھایا، کیوں کہ حکومت اسے ہندو مسلم فرقہ وارانہ رنگ دینا چاہتی تھی۔اسی اجلاس میں دیگر تمام قابل ذکر تنظیموں سے پہلے ہندستان کی مکمل آزادی کی تجویز منظور کرتے ہوئے کہاگیا کہ بھارت کو آزاد کرانا، مسلمانوں کے لیے نہ صرف وطنی فریضہ ہے؛ بلکہ مذہبی نصب العین بھی ہے۔علاوہ ازیں ولایتی مال کا بائیکاٹ، امیر الہند منتخب کرنے کا مطالبہ، بدایوں میں خصوصی اجلاس کرنے کی تجویزاور مجاہدین آزادی کی گرفتاری پر احتجاج کیا گیا۔ 

 جمعیت نے خلافت اسلامیہ اور غازی مصطفی کمال پاشا کے تعاون کے لیے اندرون ہند تبلیغی وفود بھیجے اور سمرنا و انگورہ فنڈ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

9؍ دسمبر1921ء کو بدایوں میں منعقد اجلاس میں امیر الہند کے اختیارات و فرائض کا مسودہ پیش کیا گیا۔ اس اجلاس کے ملتوی ہونے کی افواہ کی وجہ سے کورم پورا نہ ہونے اور اس سے قبل اکابرین کی گرفتاری ہوجانے کی وجہ سے کل ہند سطح پر امیر کا انتخاب نہ ہوسکا۔

10؍دسمبر1921ء کو رکن جمعیت مولانا ابوالکلام آزاد ؒ گرفتار کرلیے گئے۔ 

علاوہ ازیں مجموعی اعتبار سے مختلف المسالک کے علما کو متحد، قوم میں مذہبی احساس بیدار، مذہب وسیاست میں ہم آہنگی، بیرون ہند مسلمانوںکے مذہبی حقوق کے تحفظ، مسلمانوں کو خلافت کمیٹی اور کانگریس کی امدادو شرکت کی ترغیب اور ان جیسے بڑے بڑے کارہائے نمایاں انجام دیے۔