Showing posts with label مقالات جہازی 1. Show all posts
Showing posts with label مقالات جہازی 1. Show all posts

2 Feb 2026

آج قلم کا دماغ معطر ہے

 الوداع

محمد یاسین جہازی

آج قلم کا دماغ معطر ہے،سیاہی باغ قرطاس کو سیراب کرنے کے لیے مضطرب و ملتہب ہے، کاغذ کا دل خوشیوں سے پھولے نہیں سمارہا ہے ، فضا مشکبار ہے، باد نسیم کے نم آلود جھونکے فرحت و مسرت کے نغمے سنارہے ہیں، باغ و راغ میں ایک ہلچل ہے، پھول مسکرا رہے ہیں ، عندلیبان گلشن ترانہ سنج ہیں اور موسم بہار اچھل اچھل کر ناچ رہا ہے؛ لیکن یہ سب کیوں ہورہا ہے؟ کیاا س لیے کہ باغ و بہار کی کہانی سنانی ہے؟ یا حسین موسم کی منظرکشی؟… نہیں، ایسا کچھ نہیں ہے؛ بلکہ یہ سب اس لیے ہورہا ہے کہ ’’ پرواز‘‘ ( جس نے تعلیمی سال کے آغاز میں جس منزل کی طرف پرواز کیا تھااور تاہنوز مسلسل محو پرواز اور جانب منزل رواں دواں ہے) اب وہ طویل اور مشکلات سے پر رہ گذر طے کرنے کے بعد وہ منزل پانا ہی چاہتا ہے، جہاں اسے ٹھہرنا اور کچھ وقفہ کے لیے سستانا ہے۔

چوں کہ قافلہ بغیر سالار قافلہ کے محو سفر نہیں ہوسکتا، جماعت کا تصور بدون امیر کے بے سود اور گاری بغیر ڈرائیور کے نہیں چل سکتی؛ بلکہ اس طلسمی کارخانہ کی تمام چیزیں ہی زریں اصولوں کا پابند ہیں ، بایں وجہ تعلیمی سال کے آغاز میں آپ تمام حضرات نے بندۂ ناتواں کو اس ’’پرواز‘‘ کی پروازی کا ذمہ دار ٹھہرایا اور عمدہ عمدہ و معیاری مضامین شائع کرنے کے ساتھ ساتھ وقت پر نکالنے کا مکلف بنایا، جس سے میں بارگاہ ایزدی میں حامد و شاکر ہوں کہ بحمد اللہ ہم نے آپ کی آرزووں کی تکمیل کا جامہ پہنانے میں پوری کوشش صرف کردی ، لیکن ہماری محنت کہاں تک کامیاب رہی ؟ اس کا فیصلہ تو آپ ہی کے ہاتھ میں ہے۔

ہم نے ماہنامہ ’’پرواز ‘‘ کی اشاعت کے تخیل کے ساتھ ہی یہ عزم کرلیا تھا کہ صحیح بات کہنی ہے ، خواہ وہ کسی کے مفاد میں ہو یا کسی کے خلاف۔ اور اس سلسلے میں نہ کسی کی ناراضگی کا خوف دامن گیر رہا اور نہ کسی کی خوشنودی کا حصول پیش نظر رہا۔ اگر چہ زمانے کی گروہ بندیوں اور انتہائی تعصب پرستیوں نے جانب داری اور آشنا پروری کا رجحان پیدا کردیا ہے۔ اور لوگ چاہتے بھی یہی ہیں کہ منکر کو منکر اور حق کو حق نہ کہاجائے؛ لیکن یہ ہمارے بس کی بات نہیں کہ پانی کو دودھ اور رات کو دن کہیں؛ بلکہ جب تک ہمارا قلم خشک نہیں ہوجاتا، ہاتھ کی انگلیاں حرکت کرنے سے تھک نہیں جاتیں، زندگی ساتھ نہیں چھوڑ دیتی اور روح تن سے جدا نہیں ہوجاتی، تب تک حق کو حق اور باطل کو باطل ہی کہتے رہیں گے اور لکھتے رہیں گے۔ اس سلسلہ میں فرزندان اسلام ہونے کے ناطے نہ کوئی خوف ڈرا سکتا ہے اور نہ کوئی طمع ہلاسکتی ہے۔ان شاء اللہ۔

بہرکیف! ’پرواز‘ کے آخری شمارہ ’’الوداعی نمبر‘‘ کی اشاعت کے تعلق سے پیدا ہونے والے پر کیف و نشاط آفریں موقع پر اللہ تعالیٰ کی حمد وستائش کے بعد من لم یشکر الناس، لم یشکر اللہ کے جذبے کے ساتھ ہم ان تمام حضرات کے شکر گزار ہیں، جنھوں نے یہ ذمہ داری سونپ کر کچھ سیکھنے کا حسین موقع فراہم کیا مزید برآں یہ کہ قدم قدم پر رہنمائی اور مفید مشوروں سے نواز کر آگے بڑھنے کا حوصلہ بخشا اور ہم ان معاونین کا کن الفاظ میں شکریہ ادا کریں، جن کی مخلصانہ جدوجہداو رتعاون سے ہی ’’پرواز‘‘ منزل مقصود کو پہنچا اور بندہ اس بارگراں سے سبکدوش ہوا، نیز ہم قارئین کا بھی دل کی اتھاہ گہرائیوں سے ممنون و مشکور ہیں ، جن کے حسن انتخاب نے ’’پرواز‘‘ کو شہرت کے آسمان پر پہنچا دیا۔


6 Feb 2019

paki ka falsafa


پاکی کا فلسفہ
محمد یاسین جہازی


اسلام کے فطری دین ہونے کی ایک خوبی یہ بھی ہے کہ اس نے زندگی میں قدم قدم پر پیش آنے والے تمام حالات و واقعات کے بارے میں انسانوں کی رہ نمائی فرمائی ہے اور رسول اللہ ﷺ کی سیرت اس کے عملی نمونے کے طور پر ہمارے سامنے احادیث کی شکل میں موجود ہے۔ انھیں ہدایات حیات کی ایک کڑی ہے : پاکی اور صفائی۔ پاکی اور صفائی کی دوسرے مذاہب میں جو بھی اہمیت ہو، لیکن اسے پوجا اور عبادت کا مقام حاصل نہیں ہے، لیکن اسلام میں یہ عبادت ؛ بلکہ مدارِ اسلام: ایمان کا نصف حصہ یہی پاکی ہی ہے۔پاک صاف اور صاف ستھرا رہنے والوں کی قرآن نے تعریف و توصیف کی ہے ۔ ارشاد خداوندی ہے کہ
فِیْہِ رِجَالٌ یُحِبُّونَ انْ یَّتَطَھَّرُوا واللّٰہُ یُحِبُّ المُتَطَھِّرِینَ۔ (التوبہ، ۱۰۸)
اس (قبا بستی) میں ایسے لوگ ہیں ، جو (ڈھیلے کے ساتھ پانی سے بھی ) پاکی حاصل کرتے ہیں ۔ پاک صاف بندے اللہ کو پسند ہیں۔ بدن تو انسانی وجود کا جوہر ہے؛ بدن کے ساتھ جو عرض ہے ، یعنی کپڑے کی پاکی صفائی پر بھی توجہ دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ
وَ ثِیَابَکَ فَطَہِّرْ، (سورہ المدثر، آیت: ۴، پارہ ۲۹)
اور اپنے کپڑے کو پاک رکھو۔احادیث میں بھی پاکی و صفائی پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں ہے کہ
الطَّھُورُنِصْفُ الِایْمَانِ۔ (ترمذی، باب منہ ، کتاب الدعوات)
پاکی آدھا ایمان ہے۔ ایک دوسری حدیث میں ہے کہ
مِفتَاحُ الصَّلاۃِ الطَّھُورُ،(ابو داود، کتاب الطھارۃ، باب فرض الوضو) 
نماز کی چابی پاکی ہے۔۔المختصر قرآن واحادیث میں پاکی و صفائی پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے ، اسی وجہ سے یہ صرف زندگی کا مہذب عمل ہی نہیں؛ بلکہ اس کے ساتھ عبادت بھی ہے۔ اس لیے آئیے ہم غور کریں کہ پاکی کی کیا اہمیت اور حقیقت ہے اور اس کے ساتھ اس میں کیا کیا اسرارو حکم پوشیدہ ہیں۔
پاکی کی اہمیت و حقیقت
حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ؒ نے دین اسلام کی بنیادوں کا خلاصہ کرتے ہوئے تحریر فرمایا ہے کہ شریعت کے اگرچہ بہت سے ابواب ہیں، اور ہر باب کے تحت سیکڑوں احکام ہیں، لیکن اپنی بے پناہ کثرت کے باوجود چار اصولی عنوان کے تحت آجاتے ہیں: طہارت، اخبات، سماحت اور عدالت۔ (حجۃ اللہ البالغۃ، جلد اول، القسم الاول، المبحث الرابع، باب ۴، الاصول التی یرجع الیھاتحصیل الطریقۃ الثانیۃ)۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ طہارت شریعت کا ایک چوتھائی حصہ ہے اور یہ دین کا ایک اہم شعبہ اور بذات خود مطلوب عبادت ہے۔ 
ابو حامد غزالی ؒ طہارت و پاکیزگی سے متعلق قرآن کی آیتیں اور احادیث لکھنے کے بعد تحریر فرماتے ہیں کہ ان ارشادات پر غور کرنے والے بہ خوبی سمجھ سکتے ہیں کہ ان ارشادات سے صرف ظاہری ہی پاکی مراد نہیں ہے ؛ بلکہ باطنی پاکیزگی بھی مطلوب ہے۔(احیاء علوم الدین، جلد اول،کتاب اسرار الطہارۃ)۔شاہ صاحب نے مذکورہ بالا حوالے کے مقام پر طہارت کی حقیقت بھی بیان فرمائی ہے ، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ پاکی اور ناپاکی انسانی روح اور طبیعت کی دو الگ الگ حالتوں کا نام ہے ۔ طہارت کی حالت فرشتوں کی حالت سے بہت زیادہ مناسبت رکھتی ہے ، اس لیے ہر وقت پاک و صاف رہنے سے ملکوتی کمالات و صفات انسان کے اندر پیدا ہوتے ہیں۔ اور ناپاکی کی حالت شیاطین کی حالت ہوتی ہے ، اس لیے جو شخص ہر وقت ناپاکی میں ڈوبا میں رہتا ہے، شیاطینی وساوس اور روح کی ظلمت اس کو گھیر لیتی ہے۔ 
پاکی کی صورتیں
قرآن و احادیث کے اشاروں سے پتہ چلتا ہے کہ پاکی و ناپاکی کی چار صورتیں ہیں:
(۱) باطنی پاکی و ناپاکی۔ (۲) معنوی پاکی و ناپاکی۔ (۳)ظاہری پاکی و ناپاکی۔ (۴) دلوں کی پاکی و ناپاکی۔
باطنی پاکی و ناپاکی سے مراد یہ ہے کہ انسان خود کو کفرو شرک کی ناپاکی اور گندگی سے پاک و صاف کرلے، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک ٹھہرائے جانے والے بت ناپاکی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ
فاجتنبوا الرجس من الاوثان (سورہ الحج، آیت : ۳۰، پارہ : ۱۷)
بتوں کی گندگی سے بچو۔ بتوں کی پوجا کرنا پلیدی اور گندگی سے کھیلنا ہے اور جوکوئی پلیدی میں لت پت ہوجائے ، اس سے پاکی و صفائی حاصل کرنا ضروری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص اسلام قبول کرتا ہے ، یعنی کفر و بت کی گندگی سے نجات حاصل کرنا چاہتا ہے اور اسلام کی پاک دامن میں پناہ لینا چاہتا ہے ، تو سب سے پہلے اسے حکم دیا جاتا ہے کہ پاک کلمہ زبان پرلانے کے لیے غسل کرنا پڑے گا۔ اور انسان کے لیے کفر کی گندگی سے بڑی کوئی اور ناپاکی نہیں ہے اور اسلام کی پاکیزگی سے بہتر کوئی اور پاکیزگی نہیں، انسان خوب نہائے ، سوچھتا کے بڑے بڑے ابھیان چلائے ،لیکن اگر اس باطنی ناپاکی سے خود کو پاکیزہ نہیں بناتا ، وہ کبھی بھی پاک اور صاف نہیں ہوسکتا۔
دوسری پاکی و ناپاکی معنوی پاکی وہ ناپاکی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان حدث سے طہارت ، یعنی جن حالتوں میں غسل یا وضو واجب اور مستحب ہے ، ان حالتوں میں غسل یا وضو کرکے شرعی پاکی حاصل کرے۔ اگرچہ بدن پر ظاہری ناپاکی کی کوئی چیز لگی ہوئی نہ ہو۔ مثال کے طور پر نماز پڑھنے کے لیے ، وضو کرنا ضروری ہے ۔اب اگر کسی کے بدن پر ظاہری نجاست لگی ہوئی ہو یا نہ ہو ، وضو نہیں ہے، تو اس کے لیے وضو کرنا ضروری ہوگا۔ خلاصہ کلام یہ کہ ایک مسلمان کے لیے باطنی پاکی حاصل کرنے کی طرح عبادات کو انجام دینے کے لیے معنوی طور پر بھی پاک و صاف رہنا ضروری ہے۔
تیسری پاکی و ناپاکی ہے : ظاہری پاکی و ناپاکی۔اس کا مطلب یہ ہے کہ ظاہری نجاست و گندگی سے اپنے جسم ، کپڑے اور جگہ کو پاک و صاف رکھنا۔آپ نے چھوٹا استنجا کیا یا بڑا استنجا کیا ، اس وقت ظاہری بدن پر لگی ناپاکی اور گندگی کو آپ نے دھویا، تو آپ نے یہ ظاہری پاکی حاصل کی۔ اسی طرح جسم کے مختلف حصوں میں خود بخود گندگیاں اور میل و کچیل پیدا ہوتی رہتی ہیں، جیسے دانت ، منھ ، ناک، ناخن وغیرہ میں خود بخود گندگی پیدا ہوتی رہتی ہے، ان چیزوں سے پاکی و صفائی حاصل کرنا بھی انسان کے لیے ضروری ہے۔ اس تیسری قسم کے بارے میں نبی کریم ﷺ کی ہدایت ہے کہ
عشر من الفطرۃ: (۱)قص الشارب،(۲)و اعفاء اللحیۃ، (۳) والسواک، (۴)و استنشاق الماء ، (۵) و قص الاظفار، (۶) و غسل البراجم، (۷) و نتف الابط، (۸) و حلق العانۃ، (۹) و انتقاص الماء ، (۱۰) والمضمضۃ۔ (المسلم، کتاب الطہارۃ، باب خصال الفطرۃ) 
دس چیزیں فطرت میں سے ہیں : مونچھ تراشنا۔ داڑھی بڑھانا۔ مسواک کرنا۔ ناک صاف کرنا۔ ناخن تراشنا۔ انگلیوں کے پوروں میں پھنسی گندگیوں کو صاف کرنا۔ بغل کی صفائی کرنا۔ زیر موئے ناف کی صفائی۔ استنجا۔ کلی کرنا۔ایک دوسری حدیث میں ایک اور چیز کااضافہ ہے ختنہ کرانا۔ 
اس حدیث کا خلاصہ یہ ہے کہ صفائی انسان کے لیے ایک فطری عمل ہے ۔ ایک صاحب عقل، نستعلیق اورسلیم الطبع آدمی کبھی ان صفائیوں سے گریز نہیں کرسکتا۔آئیے اب یہ غور کریں کہ شریعت نے کسی چیز کو تراشنا صفائی کیو ں قرار دیا ہے اور کسی کو بڑھانا پاکیزگی کا ذریعہ کیوں ٹھہرایا ہے۔
(۱)جہاں تک مونچھ تراشنے کی بات ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ مونچھ بعینہ ناک کے نیچے اور ہونٹ کے اوپر ہوتی ہے۔ ناک سانس لینے کا ذریعہ ہے اور سانس سے ہی زندگی برقرار رہتی ہے۔ اور نیچے منھ ہے، جو بقائے زندگی یعنی کھانے پینے کی جگہ ہے۔ اب اگر مونچھ میں لمبے لمبے بال رکھے جائیں، تو ظاہر سی بات ہے ، بالوں میں پھنسی گندگی یا تو سانس کے ذریعے اندر پہنچے گی یا پھر منھ کے ذریعے۔ اور اگر اندر گندگی پہنچ جائے ، تو انسان بیماری وغیرہ میں مبتلا ہوسکتا ہے۔ اس لیے اس کا حکم دیا کہ مونچھ کو تو صاف ہی کردو۔
(۲)داڑھی بڑھانا، یہ دوسری فطری بات ہے۔داڑھی مردوں کی شان ہے اور مرد ہونے کی سب سے بڑی علامت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے داڑھی مردوں کو اسی لیے عطا کی ہے تاکہ مذکرو مونث میں واضح فرق ہوسکے۔ اس کی فطری چیز ہونے کی ایک وجہ تو یہ تھی اور دوسری وجہ یہ ہے کہ داڑھی کے بال چوں کہ نیچے کی طرف لٹکتے ہیں، جہاں نہ تو سانس لینے کی مشین ہے اور نہ کھانا کھانے کی جگہ، لہذا اس کے بالوں کی وجہ سے صحت کو کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا۔ علاوہ ازیں جب دن رات میں وضو کے لیے پانچ پانچ مرتبہ داڑھی کے بالوں کو دھویا جائے گا ، تو اس میں گندگی کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔اس لیے داڑھی بڑھانا ایک فطری امر ہے۔ 
(۳) تیسری چیز مسواک کرنا ہے۔انسان اگر دانت کی صفائی کا خاص خیال نہیں رکھتا ہے، تو کئی طرح کی بیماریاں پیدا ہوجاتی ہیں: دانت میں کیڑے لگنے لگتے ہیں، اس میں پانی بھی لگتا ہے، گندگی کی وجہ سے مسوڑے کمزور ہوجاتے ہیں اور شدید درد شروع ہوجاتا ہے، جس کی وجہ سے کھانا پینا دشوار ہوجاتا ہے۔ علاوہ ازیں منھ کی صفائی نہ ہونے کی وجہ سے اس میں بدبو پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ بدبو ایسی پیدا ہوجاتی ہے کہ محفل میں بات کرو تو بدبو ، کسی کے سامنے منھ کھولو، تو بدبو، اپنوں سے سے قریب ہو تو بدبو کی وجہ سے پریشانی۔بہر کیف ان تمام پریشانیوں کا واحد علاج ہے کہ انسان منھ کی صفائی کرے اور اس کے لیے مسواک سے بہتر کوئی چیز نہیں ہے۔آج کل مارکیٹ میں ایک سے ایک ٹوٹھ پیسٹ بھی دستیاب ہیں، جس سے یہ سمجھا جاتا ہے کہ مسواک سے زیادہ منھ کی صفائی کرتا ہے۔ چلو ہم مان لیتے ہیں کہ کیمکل اور دوائی کے اثرات کی بنیاد پر وہ زیادہ صفائی کرتے ہیں، لیکن دیکھا یہ بھی گیا ہے کہ ٹوٹھ پیسٹ کرنے والے کبھی ان کیمکل کے اثرات سے متاثر ہوجاتے ہیں اور دانت میں کئی طرح کی بیماریاں بھی پیدا ہونے لگتی ہیں۔ اگر فوری طور پر وہ صفائی زیادہ کرتے ہیں، تو کبھی کبھی اس کا سائڈ ایفکٹ بھی ہوجاتا ہے۔ اس کے مقابل نبی کریم صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے بتائے طریقوں میں کبھی بھی سائڈ ایفیکٹ نہیں ہوتا۔
(۴) ناک کی صفائی بھی ایک فطری امر ہے۔ کیوں کہ گردو غبار جب اڑتے ہیں ، تو کہیں پہنچے یا نہ پہنچے ناک کے خیشوم میں ضرور پہنچ جاتی ہے۔ آپ اگر کمرے کی صفائی کر رہے ہیں، تو کہیں دھول کے اثرات دکھے یا نہ دکھے ، ناک میں ضرور پہنچ جاتی ہے، اور چوں کہ یہ سانس لینے کی جگہ ہے، اس لیے اس کی صفائی انتہائی ضروری ہے۔
(۵) ناخن تراشنا بھی صفائی کی چیز ہے۔ کیوں کہ اس میں گندگی بھی پھنستی ہے اور انسان کو کریہہ المنظر بھی بناتا ہے۔ 
(۶) انگلیوں کے جوڑوں میں بھی گندگی پھنستی ہے ۔ اگر برابر اس کی صفائی نہیں کی جاتی ہے ، تو جلدی امراض پیدا ہوجاتے ہیں۔چمڑے میں خشکی، موٹا پن، کھردرا پن اور کانٹے دار پھنسیاں پیدا ہونے لگتی ہیں۔ اس لیے ان کی صفائی ضروری ہے۔
(۷) بغل کے بالوں کو اکھاڑنا بھی صفائی کے لیے ضروری ہے، کیوں کہ گندگی جمع ہونے کی وجہ سے بدبو پیدا ہونے لگتی ہے اور بیماریاں جنم لینے لگتی ہیں۔
(۸) زیر موئے ناف بھی تراشنا ضروری ہے، کیوں کہ وہاں بھی گندگی جمع ہوتی ہے ، قوت باہ کو کمزور کردیتی ہے۔ اس لیے صفائی ضروری ہے۔
(۹)استنجا کرنا ۔ 
(۱۰) کلی کرنا
(۱۱) ختنہ کرانا
ان ہدایات سے آپ اندازہ لگاسکتے ہیں کہ اسلام نے ظاہری و باطنی ہر طرح کی گندگی سے پاکی و صفائی کا کس قدر اہتمام کیا ہے۔

5 Sept 2018

USTAZ

استاذ
5/ ستمبر یعنی یوم اساتذہ کی مناسبت پر بچی کے لیے لکھی گئی ایک تقریر

محمد یاسین قاسمی جہازی
9871552408

ناظرین و سامعین! میں جناب ۔۔۔کی نور نظر بی بی۔۔۔ ، کلاس ۔۔۔ کی طالبہ سب سے پہلے آپ تمام حضرات کادل کی اتھاہ گہرائیوں سے استقبال کرتے ہوئے آپ کی خدمت میں سلام کی سوغات پیش کرتی ہوں : السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔
میری پیاری پیاری سہیلیواور سامعین! جب گھڑی کی تینوں سوئیاں اپنی اپنی رفتار سے گھومتی ہوئی چوبیس کے علامتی دائرے کو مکمل کر لیتی ہیں ، تو ہماری زندگی سے ایک ’دن ‘نکل چکا ہوتا ہے اور ایک دوسرا’ڈے‘ ظہور پذیر ہوتا ہے۔ زندگی کے یہ ایام یوں ہی گذرتے رہتے ہیں۔ کچھ ڈے تو یوں ہی آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں ، ان میں نہ تو تذکرۂ سرورو مستی ہوتا ہے اور نہ ہی وہ لمحات رنج وغم فراہم کرتے ہیں، بس آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، لیکن کچھ ڈے ایسے بھی آتے ہیں ، جو ہماری زندگی کے لیے خوشیوں کی بہار کا نویدفرحت ہوتے ہیں ، پھر وہ دن ہماری زندگی کا ایک یادگار اور مسرت آمیز دن ہوتا ہے، جس کے ایک ایک لمحہ کو قیمتی جانتے ہوئے اپنے دامن میں خوشیاں سمیٹنے اور باٹنے کا کام کرتے ہیں ۔ یہ سال میں صرف ایک ہی دن، اور ایک ہی ڈے نہیں ہوتا، بلکہ ہماری شعبہ ہائے حیات سے وابستگی جس نوعیت کی ہوتی ہے، اس کے اعتبار سے یہ ایام بار بار ہمیں یہ موقع فراہم کرتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ اب ایک سال میں اتنے ڈے آنے لگے ہیں کہ کبھی ہم خود کنفیوز ہوجاتے ہیں کہ سال کے ایام زیادہ ہوتے ہیں یا پھر یہ ڈے۔ 
چنانچہ 
کبھی فادرس ڈے آتا ہے ، تو کبھی مدرس ڈے
کبھی واٹر ڈے آ دھمکتا ہے ، تو کبھی گڈ فرائڈے
کبھی فرینڈ شپ ڈے کی رنگینیاں آتی ہیں تو کبھی میرج ڈے
کبھی بینک ہولی ڈے ہوتا ہے، تو کبھی کرسمس ڈے 
مزدور ڈے، گاندھی ڈے، گرو نانک ڈے،شب معراج ڈے، آزادی دے ، برتھ ڈے اور خدا جانے کتنے ڈے ڈے ڈے۔ المختصر سلیبریشن اور جشن کے اتنے ڈے آتے ہیں کہ ہمارے ممی ڈیڈی، ان ڈیڈوں کے اخراجات اور فنکشن سے بس ڈیڈ ہوتے ہوتے ہی بچتے ہیں۔
میری ہم نفسو! ہوائیں ہر موسم میں چلتی ہیں، لیکن ساون کے مہینے کی باد نسیم کی خنکی کچھ اور ہی پیام لے کر آتی ہے، پرندوں کی چہچہاہٹ سب کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے ، لیکن کوئلوں کی کوں کوں اور پپیہوں کی پیہوں پیہوں کی صدائے نشاط سے کون جھومنے پر مجبور نہیں ہوتا،کھیتوں کی ہریالی، باغوں کی لہلہاہٹ ہمیں ضرور دعوت نظارہ دیتی ہے ، پر جو بات یاسمین و نسترن کی رنگت اور چمپاو چمیلی کی مہک میں ہوتی ہے ، اس کی بات ہی الگ ہے۔ اسی طرح سورج ہر دن نکلتا ہے ، شام ہر روز آتی ہے، لیکن جو بات ’یوم اساتذہ‘ میں ہے، وہ کسی اور ڈے میں نہیں۔ 
کیوں کہ جب ہم ان سلیبریشن ایام کا تجزیہ کرتے ہیں تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ان میں کچھ ڈے تو وہ ہیں ، جو صرف ہماری ذات سے تعلق رکھتے ہیں، جیسے :برتھ ڈے ، اور کچھ وہ ہوتے ہیں، جو ہماری عشق و شیفتگی اور الفت وارفتگی کا مظہر ہوتے ہیں جیسے شادی ڈے ، فرینڈشپ ڈے۔ کچھ ڈے ایسے ہوتے ہیں ، جو ہمیں ماضی کے سہانے ایام کی یاد دلاتے ہیں ، آزادی ڈے، کرسمس ڈے اس کی مثالیں ہیں۔ اور کچھ زندگی کے تلخ و کڑوی حقیقت سے روشناس کراتے ہیں ، مزدور ڈے اور وفات ڈے کی یہی خصوصیات ہوتی ہیں۔ یعنی یہ ڈیز یا تو ہمیں ماضی کی خوشیاں فراہم کرتے ہیں یا پھر اس کی کسی تاریخی سچائی سے روشناس کراتے ہیں ، ان میں ہمارے حال اور مستقبل کے لیے کوئی لائحۂ عمل یا درس عبرت نہیں ہوتا
لیکن 
میری باتمکین و شگفتین سہیلیوں اور معزز سماعتیں! یہ ٹیچرس ڈے، یہ یوم اساتذہ ، یہ گرو اتسو، یہ یوم المعلمین ہمیں کبھی ماضی میں بھی لے جاتا ہے اور جب کبھی ہمیں اپنا ماضی یاد آنے لگتا ہے تو ہمارے پہلے کے اساتذہ کی شفقتیں اور عنایتیں آنکھوں میں آنسو بن کرامتنان و تشکر کی سوغات پیش کرتی ہیں اور ہم بہ زبان قال نہ سہی، بہ زبان حال یہ ترانہ سنجی کرتی ہیں کہ ؂
کتنی حسین صبح ، حسیں شام آئے گی 
لیکن تمھاری یاد بھلائی نہ جائے گی
یہی ہمارے ماضی کے دھندلکے خواب ہمارے حال کے لائحۂ عمل طے کرنے کے لیے روشنی کا کام کرتے ہیں، اگر ہمارے سابقہ اساتذہ ہمیں تعلیم و تربیت کی شکل میں وہ خواب نہ دکھاتے ، تو آج حال کے اس پردے پر یہ تعبیر ہاں ہاں یہی تعبیر،جو آپ ہیں ،آپ ہیں اور آپ ہیں اور ہم سب ہیں،اسی’ ہم‘ میں سے ایک ۔۔۔ بیگم ،آپ کے سامنے کھڑی ہوکر ہمت و حوصلے سے الفاظ کے یہ موتی بکھیرنے کی قابل نہیں ہوتی ۔ آج میں بول رہی ہوں ، آپ بول رہے ہیں اور ہم سب بول رہے ہیں ، تو یہ انھیں اساتذہ کی کرشمہ سازیاں ہیں ۔ انھوں نے ہمیں زندگی کی تلخ راہوں میں چلنے کا شعور بخشتے ہوئے سکھایا کہ 
تیرے بال و پر کا مقصد ہے بلندیوں پہ جانا 
نہ سکوں نہ سیر گلشن نہ تلاش آب و دانہ
انھوں نے ہمیں حوصلہ دیا کہ ؂ 
نشیمن پر نشیمن اس قدر تعمیر کرتا جا 
کہ بجلی گرتے گرتے آپ ہی بیزار ہوجائے
چنانچہ ان اساتذہ کی ہدایات و ارشادات کی روشنی میں حال سے گذرتے ہوئے ہم مستقبل کو تلاش کرنے کے سفر پر نکلے ہوئے ہیں اور جب تک ہمیں اپنے مستقبل میں محفوظ منزل نہیں مل جاتی 
ہم چلتے ہی رہیں گے 
ہم بڑھتے ہی رہیں گے
اور قدم بڑھاتے ہی رہیں گے
لہذمیں اپنی طرف سے اور تمام سہیلیوں و ساتھیوں کی طرف سے 
زندگی کے اس موڑ پر 
شب و روز کی اس گردش پر
کلینڈرکی اس تاریخ پر 
میرا مطلب
’’یوم اساتذہ‘‘ کے اس حسین و خوب صورت جشن پر 
ٹیچرس ڈے کے اس سلیبریشن پر
اپنے ماضی وحال کے اساتذہ کے حضور، ممنونیت و مشکوریت کے پھول نچھاور کرتی ہوں اور رنگ ہائے رنگ سے آراستہ و پیراستہ گل دستۂ سلام و محبت پیش کرتی ہوں۔ اس جذباتی لمحات میں ان کی یاد نے میرے دل کے اندر وہ ہلچل پیدا کردی ہے کہ میں یہ کہنے پر پر مجبور ہوئی جارہی ہوں کہ 
ڈھونڈتا ہوں جہاں در جہاں
کھوگیا میرا بچپن کہاں
جی ہاں، وہ بچپن، بچپن کی وہ یادیں، میں ننھی منھی، میرے ننھے مننھے دوست، ہماری معصوم ذہانت، معصومیت و بے شعوری کی شوخی، کبھی ہنسنا، کبھی رونا، کبھی گڈے گڑیے کی لڑائی، کبھی ساتھیوں و ہم جولیوں کی محفل اور ان تمام کیفیتوں میں ہمارے ماں باپ اور اساتذہ کی شفقتیں و عنایتیں، جب کبھی مجھے یاد بن کر ستاتی ہیں ، تو میرا دل اس تمنا سے مچل مچل اٹھتا ہے کہ ؂
ہاں دکھادے ائے تصور ، پھر وہ صبح و شام تو 
لوٹ پیچھے کی طرف ائے گردش ایام تو
لہذاجشن یوم اساتذہ اس کے سلیبریٹی پر چھوڑ دیجیے ان باتوں کو اور فراموش کرجائیے، ماضی کی حسین یادوں کو ، جن کو دہرانے سے ماتم کے سوا کچھ ہاتھ آنے والا نہیں ہے، اگرچہ حقیقت یہ ہے کہ ؂
یہ سچ کہ سہانے ماضی کے لمحوں کو بھلانا کھیل نہیں
اوراق نظر سے جلووں کی تحریر مٹانا کھیل نہیں
لیکن ؂
لیکن یہ محبت کے نغمے اس وقت نہ گاؤ رہنے دو
جو آگ دبی ہے سینے میں ، ہونٹوں پہ نہ لاؤ رہنے دو
میرے ہم صفیرو! ہندی کاایک مشہور محاورہ ہے کہ پیدا کرنے والے سے ، پالنے والا کا مرتبہ بڑا ہوتا ہے ۔ ہمارے والدین ہماری زندگی کا سبب ہوتے ہیں،ہماری دنیاوی ضرورتوں کی تکمیل کرتے ہیں، لیکن اساتذہ ہمارے حال اور مستقبل کو سجانے اور سنوارنے میں سب سے بڑا کردار ادا کرتے ہیں ، یہ کردار کوئی معمولی کردار نہیں ہوتا۔ اگر والدین کی عنایتوں کے علاوہ اساتذہ کی رہنمائی ہمارے شامل حال نہ ہو ، تو یقین جانیے کہ ہماری زندگی لاحاصل اور بے مقصد ہوسکتی ہے، ہماری ترقی کے تمام راستے مسدود ہوجائیں گے ، ہمارے اور جانور میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا، گویا ہمیں صف انسان میں شامل ہونے کا شعور اساتذہ کی مرہون منت ہے، اس لیے آج اس یوم اساتذہ کے موقع پر اپنے تمام اساتذہ کے ادب و احترام کے عزم کا اعلان کرتے ہوئے یہ استدعا کرتی ہوں کہ جس طرح آپ نے اب تک ہماری بے لوث رہ نمائی فرمائی، ہم نے اپنی زندگی کے حسین لمحات آپ کے حوالے کیے۔
آپ نے ہمیں زیور تعلیم وتربیت سے مزین کیا، اس کے لیے آپ کا شکریہ۔ 
ہم کردار سے خالی تھے ، آپ نے ہمارے کرداروں میں اخلاق حسنہ کے پھولوں کے ہار پہنادیے، اس کے لیے بھی شکریہ ۔
ہم آداب گفتگو سے عاری تھے ،ہماری گفتارمیں شیرینی اور مٹھاس پیدا کی، اس کے لیے بھی شکریہ۔ 
ہم کردار سے نابلد تھے ،ہمارے کردار کوآپ نے معیار بخشا،اس کے لیے بھی شکریہ
راہ حیات کی پر خار وادی میں چلنے کا سلیقہ عطا کیا ،اس کے لیے بھی شکریہ
زمانے کی سرد و گرم ہواوں سے حفاظت کا طریقہ بتلایا،اس کے لیے بھی شکریہ
فکرو فن کا شعور دیا، اس کے لیے بھی شکریہ
اخوت و محبت کے درس دیے، اس کے لیے بھی شکریہ
فلسف�ۂ خیر وشرسمجھایا،اس کے لیے بھی شکریہ
حسن و عشق کے منطقی انجام سے آگاہ کیا،اس کے لیے بھی شکریہ
مستقبل کے حسین خواب دیکھنے کی حوصلہ افزائی کی،اس کے لیے بھی شکریہ
خواب کو شرمندۂ تعبیر کرنے کا گر بتایا،اس کے لیے بھی شکریہ
المختصر ہر وہ اس عمل کے لیے شکریہ، جوآپ نے ہمارے لیے کیا اور آئندہ آپ کا ہمارے تئیں جو بھی رول پلے ہوگا، ان کے لیے بھی شکریہ ،شکریہ، شکریہ۔
آخر میں سمع خراشی کی معذرت چاہتے ہوئے اپنے اساتذہ کے لیے دعا گو ہوں کہ ؂
تم سلامت رہو ہزاربرس
ہربرس کے دن ہو پچاس ہزار
اور 
آپ سلامت رہیں قیامت تک 
اور قیامت نہ آئے قیامت تک
اور آپ سے اس وعدے کے ساتھ اجازت چاہتی ہوں کہ ؂
شمع کی لو سے ستاروں کی ضو تک
تمھیں ہم ملیں گے جہاں رات ہوگی
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

2 Oct 2011

عورت فطرت کے آئینے میں

عورت فطرت کے آئینے میں
خالق ارض و سما نے اپنی تمام مخلوقات کو اپنی اپنی نوع میں دو الگ الگ فطری تقاضے اور مختلف فکری رجحانات ودیعت فرماکر پیدا کیا ہے۔ چنانچہ اگر اس خالق نے پھول بنائے ہیں تو ساتھ ہی کانٹوں کو بھی وجود بخشا ہے۔ دن بنایا ہے تو رات بھی بنائی ہے۔ زمین تخلیق کی ہے تو آسمانوں کو بھی پھیلایا ہے۔ اسی طرح آگ پانی، گرمی سردی، خوشی غم، خوبصورتی بدصورتی، کالا گورا، رنگ بے رنگ وغیرہ وغیرہ۔ نوعِ انسانی میں مرد و عورت کے دو الگ الگ رُوپ، قدرت کے اسی نظام تخلیق کا کرشمہ ہے۔
یہ اختلافی کرشمہ جہاں اس خلاق عالم کے حقیقی خالق ہونے پر واضح دلیل ہے،وہیں اس کائنات کی بوقلمونی ،رنگ برنگی اور زیب و زینت کا راز بھی ہے، کیوں کہ اگر صرف رات کی تاریکی ہوتی، تو دن کے اُجالے کی اہمیت کا کسے پتہ ہونا۔ صرف اگر پھولوں کی خوشبوں سے سارا چمن معطر رہتا، تو کانٹوں کی چبھن سے کون آشنا ہوتا۔ اگر صرف شمع جلاکرتی، تو پروانے کے جل جانے کی لذت کیسے میسر آتی۔ اگر صرف بے رنگی ہوتی، تو قوس و قزح کی رنگینیاں بے معنی نظر آتیں۔ اگر صرف یک رنگی ہوتی، تو تتلیوں کی رنگت بے رغبت ہوجاتی۔ قصہ مختصر اگر ہر مخلوق میں اس کا صنف مخالف نہ ہوتا تو نہ ترنم میں مزہ آتا، نہ سرسنگیت کے لیے راگ راگنی وجود میں آتی، نہ پھولوں میں دل کشی ہوتی، نہ چڑیوں کی چہچہاہٹ باعث خوشی ہوتی، نہ کوئل کی کوک فرحت و انبساط کا سامان بہم پہنچاتی، نہ کوئی دل بے قرار ہوتا، نہ ہی عشق و شیفتگی کا شرارہ اُڑتا، نہ زلف گھٹا بن کر لہراتی، نہ بادل برسنے کی کوشش کرتا، نہ پلکیں جھپکتیں ،نہ کسی کے دل پر قیامت گزرتی، نہ نقاب اُٹھتا اور نہ ہی کسی کے شباب میں آگ لگ جاتی:
گلہائے رنگارنگ سے ہی زینتِ چمن
اے ذوق اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے
اللہ تعالیٰ حکیم ہے، اس کا کوئی بھی کام حکمت سے خالی نہیں ہے۔ اس حکیم نے اپنی جملہ مخلوقات کی تمام نوعوں کو جو دو الگ الگ صنفوں میں تقسیم کیا ہے وہ بھی ایک عظیم حکمت پر مبنی ہے۔ انسانوں کو مرد و عورت کی صنفوں میں تقسیم کرکے انھیں اپنی اپنی صنف کے مطابق جسمانی صلاحیت، ساختیاتی شکل و ہیئت، فطری میلان اور زاویۂ فکر دے کر ان کی فطری ذمہ داریوں کو واضح کیا ہے اور ساتھ ہی یہ پیغام بھی دیا ہے کہ زندگی کے میدان میں گاڑی کے دو پہیے کی مانند دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں اور معاشرتی و مادّی زندگی میں دونوں صنفوں کے لیے الگ الگ طریقۂ کار فطری طور پر متعین کردیے گئے ہیں، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اگر دونوں اپنی فطری ذمہ داری سے ہٹ جائیں، تو سماجی و معاشرتی ڈھانچے کا تانابانا بکھر جائے گا اور زندگی کا حقیقی لطف اور چین و سکون غارت ہوجائے گا۔
نوعِ انسانی کی ایک صنف مخالف :عورت ہے، اسے صنف نازک بھی کہا جاتا ہے۔ اس صنفِ نازک کی تاریخ بتاتی ہے کہ کبھی یہ تمام مصیبتوں کا جڑ قرار دی گئی ہے تو کبھی سانپ کا دوسرا روپ سمجھا گیا ہے۔ کبھی برائیوں کی علامت کا نام دیا گیا ہے، تو کبھی گناہوں کا مجمسہ کہہ کر پکاری گئی ہے۔ حیرت کی بات تو یہ ہے کہ خود کو روشن خیال سمجھنے والے کچھ نام نہاد مفکروں نے اسے ذی روح اور شعور و احساس رکھنے والی مخلوق ماننے سے ہی انکار کردیا ہے، جب کہ بعض دیگر مورخوں نے اس کی زندگی کو تسلیم تو کیا ہے، لیکن اس کا فطری مقصد تخلیق کو نظرانداز کرتے ہوئے کہا کہ مرد و عورت دونوں برابر ہیں۔ دونوں میں کسی بھی اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔
مختلف ادوار میں عورتوں کے متعلق ان نظریاتی اختلاف کے اثرات براہِ راست ان کی زندگیوں پر پڑے۔ چنانچہ اوّل الذکر نظریے کے تناظر میں اس صنف نازک پر ہر طرح کا نظم و نسق روا رکھا گیا اور اتنی ستائی گئی کہ اس سے اس کے جینے کا حق بھی چھین لیا گیا، لیکن جب مغربی مورخین نے موخرالذکر نظریہ پیش کرکے عورتوں کی آزادی کا نعرہ لگایا تو وہ اپنی فطری ذمہ داری سے بغاوت پر اُتر آئی اور گھر آنگن کی محفوظ چہاردیواری سے نکل کر محفل محفل بے آبرو پھرنے لگی، اپنے حسن و جوانی کی نمائش اپنی آزادی کا حصہ تصور کرنے لگی، قلعۂ عزت و آبرو :گھر آنگن کو قیدخانہ سمجھنے لگی، زندگی کے ہر میدان میں مردوں کے شانہ بشانہ چلنے کو حالات سے سمجھوتہ اور خود کو مردوں سے کسی چیز میں پیچھے نہ رہنے والی ذات باور کرانے لگی اور تجارتی اشیا کے بجائے خود اپنی شکل و ہیئت کو ہی ایک مارکیٹ کی چیز بناکر دُنیا والوں کے سامنے پیش کیا:
پھول جو کونے میں کھل کر رہ گیا، بے کار ہے
پھول وہ ہے جو نگاہوں کے گلے کا ہار ہے
عورت بھی انسان ہے، مرد بھی انسان ہے ۔دونوں صنفوں کے انسان ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، اس لیے دونوں کے درمیان فرق کرتے ہوئے ایک صنف کو انسان اور ذی روح ہونے سے خارج ماننا، اس صنف پر صریح ظلم ہے، کیوں کہ مردوں کی طرح عورتیں بھی کھاتی پیتی ہیں، محبت و نفرت کا جذبہ دونوں کے اندر پایا جاتا ہے، افہام و تفہیم کی صلاحیت سے دونوں ہی لیس ہیں، جس طرح کپڑا، مکان، سواری اور زندگی کی دیگر ضروریات مردوں سے متعلق ہیں، اسی طرح یہ سب چیزیں عورت کی زندگی سے بھی وابستہ ہیں، لہٰذا انسانی بنیاد پر فرق و امتیاز کی باتیں کرنا سراسر فضول اور لایعنی ہے۔ البتہ یہ سوال بجا ہے کہ جب دونوں انسان ہیں تو کوئی مرد اور کوئی عورت کیوں ہیں؟ انسانی معاشرہ میں ایسا کیوں نہیں ہے کہ سبھی مرد ہوں یا سبھی صرف عورتیں ہوں، وہ کون سی ضرورت تھی، جس کی بنیاد پر نوعِ انسان کو دو الگ الگ صنفوں میں بانٹ دیا گیا اور کسی کو مرد اور کسی کو عورت بنادیا۔
مرد و عورت کے تخلیقی عمل، فطری عوارضات اور جسمانی ساختیار پر غور کرنے سے بخوبی واضح ہوتا ہے کہ انسانی معاشرے کی بقا و تحفظ اور نسل انسانی کی افزائش کے لیے ان دونوں صنفوں کا وجود انتہائی ناگزیر ہے، جس کے لیے ان دونوں صنفوں کے الگ الگ کردار متعین کردیے گئے ہیں۔ کردار کی یہ تعیین فطری ہے اور خود خالق فطرت نے یہ کردار متعین کیے ہیں۔ عورتوں کو نسل انسانی کی بقا کے لیے بچوں کی تولید، ان کی نشوونما اور ان کی پرورش و پرداخت کے فرائض سپرد کیے گئے ہیں اور ان فرائض کی ادائیگی کے لیے جو صلاحیتیں درکار تھیں فطرت نے انھیں فطری طور پر ودیعت فرمادیا ہے۔ اس کے برعکس مردوں کو انسانی معاشرہ میں ایک نگراں کا رول دیا گیا ہے، اسی کے پیش نظر مضبوط قوتِ ارادی، فکری ہم آہنگی، پختہ عزم و حوصلہ، جدوجہد کی لگن اور کسب معاش کے لیے ضروری صلاحیتیں دی گئی ہیں۔ ان فطری کرداروں کے تناظر میں عورتوں کا رول ایک معاشرہ میں صرف اتنا ہے کہ وہ ماں بنیں، بچوں کی پرورش و پرداخت کریں۔ ایک مثالی معاشرہ کے لیے نونہالانِ نسل کو تیار کریں۔ اگر عورت ایک ماں کے کردار میں ہے تو اسے اپنی ممتا کے فرائض کی ادائیگی میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ اگر عورت بیوی کی شکل میں کسی خاندان کا ایک فرد ہے تو اپنی بے لوث محبت و وفاداری اور لازوال عشق و شیفتگی سے گھر کو جنت نشاں بنانا اس کا لازمی فریضہ ہے۔ اگر عورت کسی کی بہن ہے، تو اپنے گھر کی عزت و آبرو کی حفاظت اپنا نصب العین جانے اور اگر عورت کسی کی بیٹی ہے تو اپنے والدین کی نگاہ میں نورِ نظر بنی رہنا اس کا اصلی معاشرتی رول ہے۔ اسی طرح اگر مرد کسی کا باپ ہے تو اپنے بچوں پر شفقت کے پھول نچھاور کرے، اگر کسی کا بیٹا ہے تو اپنے باپ کے نام کو روشن کرنا اس کا نصب العین ہونا چاہیے، اگر وہ کسی کا شوہر ہے تو اپنی بیوی کی نگاہ میں سب سے اچھا شوہر ثابت ہونا ایک معاشرتی ذمہ داری ہے اور اگر وہ کسی کا داماد ہے تو اپنے متعلقین کی نظر میں مثالی رشتہ داری بننا اس کا معاشرتی و اخلاقی فریضہ ہے۔ اب جس طرح مرد اپنے خاندان کی معاشی اور فطری ذمہ داری ادا کرنے کے لیے نوکری کرتا ہے، ملازمت کے خلاف پابندی تصور نہیں کی جاتی ہے، اسی طرح اگر عورت ماں بنتی ہے، بچوں کی پرورش کرتی ہے، ان پر ممتا کے پھول نچھاور کرتی ہے، اپنے گھر کے محفوظ پناہ گاہ میں رہ کر نونہالان کو ایک مثالی معاشرہ کے لیے بہتر افراد بنانے کی کوشش میں شب و روز مصروف رہتی ہے، جس کے باعث باہر کی زندگی میں قدم نہیں بڑھاتی ہے، تو اسے بھی غلامی اور آزادی پر پابندی سے تعبیر نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس صنف کے لیے کوئی شرم و عار کی بات ہے۔
جب دونوں صنفیں جدا جدا ہیں، دونوں کا مقصد تخلیق الگ الگ ہے، دونوں جسمانی ساختیات، ایک دوسرے سے مطابقت نہیں رکھتیں تو ظاہر ہے کہ معاشرہ میں دونوں کا کردار بھی ایک دوسرے سے مختلف ہوگا، دونوں کا میدانِ کار ایک دوسرے سے جدا ہوں گے۔ اس میں نہ مرد عورت کی جگہ لے سکتا ہے اور نہ ہی عورت مرد کے تمام فرائض کو بحسن و خوبی انجام دے سکتی ہے۔
اس اکیسویں صدی میں سائنسی و ٹیکنالوجی میں حیرت انگیز ترقی کے باعث جہاں علوم و فنون سیاسیات و اقتصادیات، المختصر تمام شعبۂ حیات میں جو نمایاں تبدیلی رونما ہوئی ہے وہیں افکار و نظریات اور سوچ و فکر کے زاویے میں بھی زبردست انقلاب آیا ہے۔ آج کا انسان ماضی کے انسانوں کی فکر و نظر کی ہنسی اُڑا رہا ہے، ان کی سادہ طرزِ زندگی آج کے لوگوں کے لیے ناقابل یقین بنتی جارہی ہے۔ یہ اسی فکری انقلاب کا نتیجہ ہے کہ آج کے زمانے کی خود کو ماڈرن سمجھنے والی عورتیں اپنی فطری ذمہ داریوں کو ادا کرنے میں شرم و جھجک محسوس کررہی ہیں، اپنی اصل ذمہ داری کو دقیانوسی اور پراگندہ خیالی سمجھ رہی ہیں اور مردوں کے کردار میں زندگی گزارنے میں خود کو ترقی یافتہ اور روشن خیال تصور کررہی ہیں، جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ انسانی معاشرہ تباہ و برباد ہوتا جارہا ہے۔ خاندانی نظام ختم ہوتا جارہا ہے اور لوگوں کی زندگی چین و سکون سے خالی ہوتی جارہی ہے۔ یا درکھنا چاہیے کہ جس طرح پھول کبھی کانٹا نہیں بن سکتا اور نہ ہی کانٹا کبھی پھول کا روپ دھار کر کسی کے لیے کشش کا سامان بہم پہنچا سکتا ہے، اسی طرح عورت خواہ کتنی ہی ماڈرن بن جائے اور اپنی فطری اصولوں سے بغاوت کرنے کی کوشش کرتی ر ہے تاہم زندگی کی حقیقی لطف کے لیے اسے اپنے فطری کردار میں آنا ہوگا اور اسی ذمہ داری کو ادا کرنا نصب العین بنانا ہوگا جس کے لیے وہ پیدا کی گئی ہے۔