چوتھا سال: 1922ء
محمد یاسین جہازی قاسمی؛ 9891737350
9،10؍ فروری1922ء کو منعقد مجلس منتظمہ کے اجلاس میں جمعیت عاملہ(مجلس عاملہ) تشکیل کی گئی۔اسی اجلاس میں سول نافرمانی کے عہد کو دہرایا گیا اور مذہبی و ملکی ضرورتوں کے پیش نظر نیشنل والنیٹر کور کا عہد نامہ تیار کیا گیا۔
ملکی سطح پر امیر الہند کا انتخاب نہ ہوپانے کی وجہ سے،3-4-5؍مارچ1922ء کو اجمیر میں منعقد ایک خصوصی اجلاس میںیہ فیصلہ لیا گیا کہ پہلے ریاستی سطح پر ریاستی امیر کا انتخاب کیا جائے۔ مالیباری کانسٹرکشن کمیٹی نے اپنی تجاویز میں مساجد کو بغاوت کی پرورش گاہیں قرار دیا ، جس کے خلاف جمعیت نے شدید احتجاج درج کرایا۔
5؍اپریل 1922ء کو حضرت مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی گرفتار کیے گئے۔ اور 3؍نومبر 1922ء کو رہائی کی امید ظاہر کی گئی۔
خلافت کے تحفظ کے لیے دعا مانگتے ہوئے، پورے بھارت میں7؍ اپریل 1922ء یوم جمعہ کو ’یوم دعا‘ کے طور پر منایا گیا۔
20؍جولائی 1922ء کو ایک استفتا کے جواب میں فتویٰ دیا گیا کہ تحریک خلافت میں شرکت لازم ہے۔
صلح ترکی اور جنگ انگورہ و یونان میں انگریزوں کی بد عہدی کے خلاف ،18،19، 20ء اکتوبر1922ء کو دہلی میں منعقد مجلس منتظمہ کے اجلاس سے اس فیصلہ کا اعادہ کیا کہ برطانوی حکومت کا ہر طرح سے بائیکاٹ دین کا لازمی حصہ ہے۔علاوہ ازیں جمعیۃ الطلبا کی امداد کی منظوری، سکھوں پر مظالم کی مذمت، اخبار مسلم کو خرید کر اس کا نام العلما کرنے کا فیصلہ، اخبار العلما کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل،رپورٹ مالابارکی اشاعت کی منظوری اور دیگر تجاویز کے علاوہ مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی کو نائب ناظم منتخب کیا گیا۔
3؍نومبر1922ء کو مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی کی رہائی کی امید ظاہر کی گئی۔
11؍نومبر1922ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں آئندہ ہونے والے انتخاب میں حصہ لینے سے متعلق شرعی رہ نمائی کی گئی۔
24،25، 26؍ دسمبر1922ء کو گیا (بہار) میں جمعیت علمائے ہند کا چوتھا اجلاس عام کیا گیا، جس میں طے پایا کہ آئندہ جنرل الیکشن میں کھڑا ہونا، یا اس سلسلہ میں کوئی کوشش کرنا شریعت کے منافی ہے۔ہندستان کی آزادی حاصل کرنے کے لیے ہندوؤں اور مسلمانوں کے اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے کانگریس، مسلم لیگ، خلافت کانفرنس اور جمعیت علمائے ہند کے نمائندوں پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا گیا۔ اسی طرح پیسا باغ ڈویژن ضلع سلہٹ و آسام میں گورکھوں کی طرف سے قرآن کی بے حرمتی کرنے پر سخت احتجاج درج کرایا۔ سلطان عبدالمجید کی خلافت کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ مصطفی کمال پاشا کو مجدد خلافت کے خطاب سے نوازا گیا۔ مولانا آزاد کی اسارت و خدمات پر انھیں مبارک باد دی گئی۔ مراکشیوں کو اپنے وطن کی آزادی کے لیے جہاد کرنے پر مبارک باد پیش کی گئی۔ برطانوی مصنوعات کے بائیکاٹ کا سلسلہ جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔ اور امیر شریعت بہار مقرر کیے جانے پر ان کو تہنیت پیش کی گئی۔