تحریک مدح صحابہ اور جمعیت علمائے ہند
محمد یاسین جہازی
تمہید
صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین وہ مقدس جماعت ہے، جن کے توسط سے دین اسلام اطراف عالم میں پہنچا۔ ان کی صداقت اور تقویٰ و طہارت کی گواہی خود خالق کائنات نے دے کر انھیں رضی اللہ عنہم کا طغریٰ امتیاز عطاکردیا ہے اور تاروں کی مانند ان کے روشن کرداروںکو واضح کرکے ملت مسلمہ کی کامیابی ان پیروی میں رکھ دی گئی ہے۔ یہی وجوہات ہیں کہ صحابہ کی تحمیدو توصیف میں مسلمانان عالم کی زبانیں رطب اللسان رہتی ہیں۔ ان حقائق کے باوجود ہمارے زمانے کے کچھ دریدہ دہن لوگ ان کی پاک سیرت اور مقدس کردار پر تبریٰ وتشمیت سے اپنی خطب دماغی اور فکری دیوالیہ پن کا اظہار و اعلان سے باز نہیں آتے۔
ہم ذیل میں تحریک صحابہ رضی اللہ عنہم کے متعلق جمعیت علمائے ہند کے وہ واضح و روشن کردار درج کرتے ہیں، جو اس نے صحابہ کرام پر بدزبانی کرنے والوں کا تعاقب کرتے ہوئے مختلف تناظر میں پیش کیے ہیں۔
تحریک مدح صحابہ کا بنیادی محرک شیعوں کو تبرا اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پر دشنام طرازی ہے۔ اس حوالے سے جمعیت علمائے ہند کی تاریخ میں شیعہ سنی تصادم کا پہلا تذکرہ 1927ئ میں ملتا ہے۔
وادی تیراہ کا واقعہ اور جمعیت علمائے ہند کی نصیحت
واقعہ یہ ہوا کہ وادی تیراہ (Tirah Valley) جوموجودہ پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں واقع ایک پہاڑی خطہ ہے، اور افغانستان کی سرحد کے قریب ہے۔ اس کے اہم حصے خیبر اور اورکزئی کا کلایا ہیں۔ اس خطے میں آفریدی اور اورکزئی سمیت مختلف پشتون قبائل آباد ہیں۔مقامی روایت کے مطابق 1926ئ میں اخونزادہ ملا محمود نامی شخص نے اہلِ سنت قبائل میں شیعوں کے خلاف تقاریر کیں اور اس کے بعد 1927ئ میں کلایا پر حملہ ہوا۔
اے آئی سرچ کے مطابق برطانوی دور کی کتاب
)A Collection of Treaties, Engagements and Sanads(
کے شمال مغربی سرحدی صوبے سے متعلق حصے میں درج ہے کہ:
1927ئ میں سنی اورکزئی قبائل نے ملا محمود کی ترغیب پر آفریدی قبائل کے ساتھ مل کر مستورہ وادی میں شیعوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کیا۔1928ئ میں حکومت نے شیعوں کی باقی ماندہ زمینوں کو محفوظ علاقہ قرار دیا۔مارچ 1930ئ میں امن کا معاہدہ طے پایا، جس کے تحت شیعوں کو ان زمینوں پر واپس بحال کیا جانا تھا، جن پر وہ 1927ئ سے پہلے قابض تھے۔
اس کے حوالے سے الجمعیۃ نے درج ذیل خبر شائع کی :
’’الٰہ آباد، 9/ ستمبر۔ پایونیر کی اطلاع مظہر ہے کہ کوہاٹ کے شمال میں کلایا کے مقام پر شیعہ سنیوں میں جو لڑائی ہوئی ہے، وہ سابقہ اطلاع سے زیادہ وسیع پیمانہ پر ہوئی تھی، کڑک، زئی سنیوں کی کمک پر آفریدیوں کا لشکر تھا ، جس کی تعداد کم از کم 20/ ہزار تھی۔ شیعہ تعداد کے اعتبار سے کمزور تھے؛ مگر نہایت بہادری سے لڑے۔ آفریدیوں کی طرف سے نقصان جان بہت ہوا ہے۔ تازی ترین اعداد سے معلوم ہوا ہے کہ پانسو آفریدی قتل ہوئے ۔‘‘
(مزید تفصیلات کے لیے دیکھیں: الجمعیۃ29/ ستمبر1927ئ)
تیراہ میںشیعہõ سنی مخاصمت پر اظہار رنج
انھی دنوں جمعیت علمائے ہند کا آٹھواں اجلاس عام،2-3-4-5/دسمبر1927ئ کو منعقد ہوا، جس کی تجویز نمبر(20) میں شیعہ سنی کی اس مخاصمت پر رنج و غم کا اظہار کیا گیا۔ تجویز میں کہا گیا کہ:
جمعیت علمائے ہند کا یہ جلسہ تیراہ میں سنیوں اور شیعوں کی باہمی مخاصمت پر اپنے دلی رنج و افسوس کا اظہار کرتا ہے اور دونوں فریقوں سے درخواست کرتا ہے کہ وہ اِن اختلافات کو باہمی صلح سے جلد از جلد رفع کرلیں۔ مسلمان اِس امر کو برداشت نہیں کرسکتے کہ بیچ بچا¶ کے لیے گورنمنٹ مداخلت کرے اور تیراہ کی Èزادی بھی دوسرے علاقوں کی طرح انگریزی اثر میں Èجائے۔
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، تجاویز اور فیصلوں کی روشنی میں، جلد اول، ص/234)
تحریکِ مدحِ صحابہ: آغاز، پس منظر اور شیعہ سنی اختلافات
لکھنومیں تحریکِ مدحِ صحابہ کا پس منظر بیسویں صدی کے اوائل میں شیعہ سنی اختلافات، محرم کے جلوسوں سے متعلق تنازعات اور سیاسی و خاندانی رقابتوں سے وابستہ ہے۔ مولانا مظہر علی اظہر کی کتاب تحریکِ مدحِ صحابہ اور چودھری خلیق الزماں کی کتاب شاہراہِ پاکستان کے حوالے سے معلوم ہوتا ہے کہ 1905ئ سے پہلے لکھنومیں شیعہ، سنی اور ہندو محرم کے تعزیہ جلوسوں اور مجالس میں مشترکہ طور پر شریک ہوتے تھے۔ تاہم، بیرونی واعظوں کے اثرات اور مذہبی رسوم کے طریقہ¿ کار پر اختلافات کے باعث باہمی کشیدگی بڑھنے لگی۔
چودھری خلیق الزماں ’’شاہراہ پاکستان‘‘ کے ص/614-615 پر لکھتے ہیں کہ:
’’بدقسمتی سے ایک صاحب مقبول احمد نامی رام پور سے 1902ئ میں لکھن¶ آئے۔ اور انھوں نے نئے نئے انداز سے شیعوں کو مخاطب کرنا شروع کیا۔ میونسپل اور دیگر انتخابات میں شیعہ سُنّی سوال کھڑا ہو جاتا تھا، جس سے شیعہ امیدواروں کو ناکامی ہوتی تھی۔ اس لیے قدرتی طور پر مقبول احمد صاحب کو اپنے مواعظ میں دبے ہوئے جذبات کو ابھارنے کا اچھا موقع مل گیا تھا۔ اور یہ انھی کے مواعظ کا نتیجہ تھا کہ شیعوں کو اعتراض ہوا کہ سُنّی اپنے تعزیے تال کٹورے شیعہ کربلا میں نہ لے جائیں، کیوںکہ سُنّی تعزیوں کے ساتھ عشرہ کے دن کچھ ایسے اعمال بھی کرتے ہیں، جو محرم جیسے دن کے لیے نہایت قبیح ہیں۔ سُنّیوں نے اپنی کربلا ’’پھول کٹورا‘‘ کے نام سے لکھن¶ سے تین میل دور کاکوری روڈ پر1903ئ میں بنا لی۔
اس تفریق سے لکھن¶ کے محرم کا رنگ õجسے دیکھنے کے لیے ہندستان بھر سے لوگ آیا کرتے تھے õ نسبتاً بہت پھیکا ہو گیا۔ (کاروان احرار، جلد دوم، ص/408)
1905ئ میں محرم کے موقع پر شیعوں کی طرف سے تال کٹورا کے کربلا میں داخلے کے لیے ننگے سر اور ننگے پا¶ں ہونے سمیت بعض پابندیاں عائد کی گئیں، جن پر سنی مسلمانوں نے اعتراض کیا۔ چنانچہ انتظامیہ کی ہدایت پر سنیوں 1906ئ میں شیعہ اور سنی جلوس الگ الگ راستوں سے نکلنے لگے۔ بڑھتے ہوئے اختلافات کے نتیجے میں 1908ئ میں لکھن¶ میں شیعہ سنی فساد بھی پیش آیا۔
پیگوٹ کمیشن
اس اختلاف کا ایک اہم پہلو مدحِ صحابہ، یعنی حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہم کی تعریف و توصیف، اور اس کے مقابلے میں بعض شیعہ حلقوں کی طرف سے تبرا کے مسئلے سے متعلق تھا۔ اہلِ سنت خلفائے راشدین کی تعظیم اور مدح کو اپنے دینی عقیدے کا حصہ سمجھتے تھے ، جب کہ بعض شیعہ حلقوں کو محرم کے جلوسوں اور مجالس کے دوران مدحِ صحابہ پر اعتراض تھا۔ 30/اکتوبر 1908ئ کو حکومت یوپی نے اختلافات کے حل کے لیےمسٹر پیگوٹ (Mr. Piggott) کی صدارت میں کمیشن قائم کیا، اس کمیشن کا نام پیگوٹ کمیشن (Piggott Commission) تھا،جس نے 7/جنوری 1909ئ کو اپنی رپورٹ پیش کی۔جس میں کہا گیا کہ:
1۔ آئندہ تعزیہ کے جلوس کو شیعہ/سُنّی جلوس کی بجائے صرف تعزیہ کا جلوس کہا جائے۔
2۔ پھول کٹورا اور تال کٹورا جانے والے تعزیے ایک ہی راستے پر چلیں اور آگے جا کر اپنی اپنی کربلا کو چلے جائیں۔
3۔ عشرہ محرم، چہلم اور 21/ رمضان کے دنوں میں مدح صحابہ پر پابندی عائد کر دی۔ اس کی وضاحت میں کہا گیا کہ ان تین دنوں میں کوئی شخص ایسے اشعار، یا نظمیں نہ پڑھے، جن میں (حضرت) ابو بکر، (حضرت) عمر اور (حضرت) عثمان کی تعریف، یا مدح کی گئی ہو۔ یہاں تک کہ ’’رضی اللہ تعالیٰ عنہ‘‘ بھی نہیں کہہ سکتا۔
4۔ اشعار، یا نظمیں تعزیوں، یا کسی اور اسلامی جلوس کے راستے میں نہ پڑھے جائیں۔ اور کسی ایسی جگہ بھی نہ پڑھے جائیں، جہاں سے جلوس تک ان اشعار کی آواز پہنچ سکے۔
5۔ کسی مجمع، یا پبلک مقام پر ایسے مدحیہ اشعار نہ پڑھے جائیں۔
6۔ اگر کسی شخص نے مذکورہ بالا احکام کی خلاف ورزی کی، تو اسے فوراً گرفتار کر لیا جائے گا۔ اور اس پر دفعہ 298، یا کسی اور مناسب دفعہ تعزیراتِ ہند کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔
پیگوٹ کمیشن کی تائید میں حکومتِ یوپی نے حسبِ ذیل بیان جاری کیا:
’’بہت پرجوش سُنّی کے لیے بھی اس امر پر استدلال کرنا ممکن نہیں کہ لکھن¶ میں ان کے ہم مذہبوں کو یہ اختیار حاصل ہے کہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کی یادگار میں جو جلوس لکھن¶ کی سڑکوں پر نکالے جاتے ہیں اور جن میں شرکت کی اس کو اجازت دی گئی ہے، ان جلوسوں کو بے وقوف اور بلا اختیار حضرت ابو بکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان کی مدح سرائی کے جلوس میں مبدل کر دے۔
کمیشن کی اکثریت کی رائے ، جس سے لیفٹیننٹ گورنر کو کلی اتفاق ہے، یہ ہے کہ اس خرابی کو اس حد تک دور کیا جائے، جہاں تک کہ اس سے کوئی غیر ضروری مداخلت سُنّیانِ لکھن¶ کے اس حق میں نہ ہو، جو ان کو ہز مجسٹی کی رعایا ہونے کی حیثیت سے تمام دیگر رعایا کے ساتھ حاصل ہے کہ وہ مناسب مقامات کے اوپر اپنے عقائد کے خصوصی اصولوں کا اعلان کریں۔ اگر سُنّی گواہان õجن کی شہادت کمیٹی کے سامنے ہوئی ہےõ ان کا ہر لفظ بھی مان لیا جائے، پھر بھی یہ سوال باقی رہے گا کہ جس کی وجہ سے لکھن¶ کے محرم کا طریقہ کلیتہً بدلنے کا اندیشہ ہے۔ وہ کسی ایسی کارروائی سے رفع ہو سکتی ہے کہ جو تجویز متذکرۃ الصدر سے کم ہو‘‘۔
پیراگراف3 مذکورہ بالا بحث سے یہ امر واضح ہوجاتا ہے کہ پیگوٹ کمیشن اور حکومتِ یوپی نے محض تین ایام، یعنی ایامِ عشرہ محرم، چہلم اور 21/ رمضان کو مدح صحابہ پر پابندی عائد کی ہے۔‘‘(تحریک مدح صحابہ، ص/ 435 تا 457۔ بحوالہ:کاروان احرار، جلد دوم، ص/409)
حکومت یوپی نے اس کمیٹی کی سفارشات کو قبول کرکے نافذ العمل کردیا کیا۔لیکن اس کے برعکس، شیعہ حلقوں کا مطالبہ تھا کہ 28/ذوالحجہ سے 8/ربیع الاول تک مدحِ صحابہ پر پابندی رہے۔ یوں مذہبی اختلاف کے ساتھ جلوسوں، مذہبی آزادی اور انتظامی پابندیوں کا تنازع بھی جڑ گیا۔
1936ئ کے انتخابات کے زمانے میں یہ اختلاف مزید سیاسی رنگ اختیار کر گیا۔ مولانا مظہر علی اظہر کے بیان کے مطابق، لکھنوکے بعض شیعہ اور سنی بااثر خاندانوں کے درمیان خاندانی رقابت اور انتخابی مفادات نے بھی کشیدگی کو بڑھانے میں کردار ادا کیا۔ مولانا اپنی کتاب ’’تحریک مدح صحابہ‘‘، ص/58پر لکھتے ہیں کہ:
’’لکھن¶ کے شیعہ حضرات بھی جانتے تھے کہ مدح صحابہ کی تحریک کو تقویت دینے والی قوت شیعانِ یوپی کی باہمی کشمکش بھی تھی۔
لاہور سے بعض شیعہ احباب تحریک تبرا کے سلسلہ میں کام کرتے ہوئے سمجھ گئے اور لاہور واپس آکر انھوں نے مجھ سے اور دیگر احباب سے دورانِ گفتگو اس حقیقت کا اظہار کیا کہ اب تو لکھن¶ کے شیعہ حضرات فرماتے ہیں۔ مدح صحابہ کے معاملہ میں مہاراجہ محمود آباد اور سر وزیر حسن کے خاندان کی باہمی رنجش کا بھی دخل ہے۔
موجودہ مہاراجہ محمود آباد کے ایک بھائی ہیں، جو وزیر حسن کے خاندان سے قرابت داری کے تعلق رکھتے ہیں۔ جب سابق مہاراجہ محمود آباد وفات پا گئے، تو دونوں بھائیوں کی وراثت کا مقدمہ چلا، جس کے سبب سے دونوں بھائیوں اور ان کے طرف داروں میں رقابت ہو گئی۔ موجودہ راجہ صاحب کوõجو مسلم لیگ کے رکنِ رکین تھے اور ہیںõ کامیابی ہوئی اور اس طرح ان میں اور سر وزیر حسن کے خاندان میں ناچاقی ہو گئی۔ ہر دو فریق کے تعلقات سُنّی احباب سے تھے، جیسے کہ ہر مقام پر صاحب افراد اور صاحب جائیداد لوگوں کے ہوتے ہیں۔ راجہ محمود آباد نہیں چاہتے تھے کہ وزیر حسن کے فرزند مسٹر علی ظہیر لکھن¶ سے اسمبلی کے ممبر منتخب ہوسکیں۔ اس لیے انھوں نے اپنے دوست چودھری خلیق الزماں کوõجو خود مسلم لیگ کے مقتدر لیڈر تھے ، اور یوپی اسمبلی میں مسلم لیگ پارٹی کے لیڈر ہیںõ سید علی ظہیر کے مقابلے پر کھڑا کیا۔
لکھن¶ کے سُنّی مدت کی باہمی کشمکش کے باوجود سید علی ظہیر کو اپنا نمائندہ چنتے رہے۔ لیکن اب ان کی شکست کے لیے سُنّیوں کو ان سے برگشتہ کرنے کی ضرورت تھی۔ اس لیے شیعوں کی باہمی رنجش نے ایک فریق کو اس بات پر آمادہ کیا کہ وہ شیعہ سُنّی کشمکش کو بڑھا کر اپنے حریف کو شکست دیں اور اس بات کا انتظام ہو جائے کہ سُنّی علی ظہیر کو ووٹ نہ دیں؛ بلکہ چودھری خلیق الزماں کے لیے امداد کریں۔ ‘‘ (کاروان احرار، جلد دوم، ص/407)
اسی دوران بازاروں میں صحابہ¿ کرام کی توہین کے واقعات کی شکایات سامنے آئیں، جس پر مجلس احرار نے مداخلت کی۔
تحریک مدح صحابہ کا باقاعدہ آغاز
3/ جون 1936ئ یعنی پیغمبراسلام ﷺ کے یوم ولادت کے دن،مدحِ صحابہ جلوس نکالنے کا اعلان کیا گیا۔ لکھن¶ کے پولیس کمشنر نے فساد کے خطرے کو بھانپتے ہوئے اس پر پابندی لگا دی۔ پھر بھی سنیوں نے 3/ جون 1936ئ کو یہ جلوس نکالا، جس میں قرآن سے صرف وہ آیات پڑھی گئیں، جن میں صحابہؓ کی تعریف بیان ہوئی تھی۔ لیکن شیعوں میں یہ افواہ پھیلی کہ مدحِ صحابہ پڑھی گئی تھی اور انھوں نے بھی جوابی طور پر تبرا کا جلوس نکال دیا، جو آگے چل کر فرقہ وارانہ کشیدگی میں بدل گیا۔
انھی حالات میںتحریک مدحِ صحابہ کی باقاعدہ سول نافرمانی کا آغاز 10/جولائی 1936ئ کو ہوا، جب مجلس احرار کے ذمہ دار کارکنوں نے مدحِ صحابہ پڑھ کر گرفتاری پیش کرنا شروع کی۔ رضاکارمدح صحابہ پر مشتمل اشعارپڑھتے اور گرفتار کر لیے جاتے تھے۔ اس سے قبل یہ تحریک جمعیت علمائے ہند کی نگرانی میں آئینی طریقے سے چل رہی تھی، لیکن آئندہ انتخابات میں مسلم لیگ سے اتحاد اور اپنی تنظیمی قوت کو منتشر نہ کرنے کے پیش نظر جمعیت نے تحریک کی ذمہ داری صوبائی مجلس احرار کے سپرد کر دی۔
اس طرح لکھنو میں محرم کے جلوسوں اور مذہبی رسوم سے شروع ہونے والا اختلاف، جو رفتہ رفتہ شیعہ سنی کشیدگی اور سیاسی رقابتوں سے متاثر ہوا، بالآخر مدحِ صحابہ کی منظم سول نافرمانی کی تحریک میں تبدیل ہوگیا۔
تحریک مدح صحابہ کا التوا
صحابہ¿ کرام کی عزت واحترام کے لیے 10/جولائی 1936ئ کوجو سول نافرمانی تحریک شروع کی گئی تھی، نومبر کے وسط تک یوپی کے جیلوں میں ایک ہزار سے زائد احراری رضا کار جا چکے تھے۔ گورنر سے گفت وشنید کے بعد 19/نومبر1936ئ کو تحریک ملتوی کردی گئی۔ جناب جاں باز مرزا لکھتے ہیں کہ:
رضا کاروں کی قربانی اور کونسل کی کارروائی پر جس انداز سے بحث ہوئی، 14/نومبر 1936 ئ کو گورنر یورپی نے صحابہ کمیٹی کا ایک وفد حالات کے لیے بلا بھیجا۔ کافی دیرگفتگو کے بعد گور ز نے ارکان وفد کو یقین دلایا کہ اہل سنت کی شکایت پر وہ غور کریںگے بشرطیکہ سول نافرمانی کی تحریک بند کر دی جائے۔
گورنر سے ملاقات کے بعد لکھنوکے مسلم اکابر نے احرار رہنما¶ں سے درخواست کی کہ آپ ہماری گذارشات مان کر اپنی تحریک عارضی طور پر ملتوی کردیں۔ چنانچہ 19/نومبر (1936ئ) کہ احرار پر رہنما¶ں نے سول نافرمانی کی تحریک کچھ دنوں کے لیے ملتوی کردی۔‘‘ (کاروان احرار، جلد دوم، ص/468)
صحابہ کمیٹی کے متعلق حکومت یوپی کا رویہ
جناب جاں باز مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ:
10/جون(1937ئ) کو سرکاری سطح پر قائم کردہ کمیٹی کی رپورٹ گورنر یوپی کے سامنے آئی۔ اس نے اس پر غور کرنے کے بعد یہ رپورٹ نواب چھتاری کو بھیج دی، جو اس وقت عارضی حکومت کے وزیر اعظم تھے۔ اس سے پیشتر گورنر یو پی تحریک مدح صحابہ کے تمام قیدی رہا کر چکے تھے۔
15/جون (1937ئ)کو سرکاری رپورٹ ، یوپی کے عارضی وزیر اعظم نواب چھتاری کے سامنے پیش کی گئی۔ راجہ سلیم پور بھی ان کی وزارت میں شامل تھے۔ دونوں عقیدتا شیعہ تھے۔ اگروہ چاہتے ،تو اس دیرینہ قضیہ کو ختم کرسکتے تھے۔ لیکن اس وقت کی تاریخ گواہ ہے کہ انھوں نے یہ کاغذات اپنے جانشینوں کے ہی سپر د کرنا مناسب سمجھا۔
(کاروان احرار، جلدسوم، ص/ 98)
پھر آگے لکھتے ہیں کہ:
نواب آف چھتاریõ جو عقید تا شیعہ تھےõ تقریبا تین ماہ تک یوپی گورنمنٹ میں لائ اینڈ آرڈر کے مالک رہے۔ اگر چاہتے، تو لکھنو میں مدح صحابہ کے معاملات کو سلجھا سکتے تھے۔ سنی حضرات یقینا ان کی بات مان لیتے ، لیکن انھوں نے اراد تا اس پر خاموشی اختیار کی۔ جب کانگریس نے حکومت کا کاروبار اپنے ذمہ لیا ، تو شیعہ حضرات وفد کی صورت میں مہاتما گاندھی سے ملنے راجکوٹ گئے۔ اس سے پیشتر کانگریس حکومت نے سال میں ایک دن سنی مسلمانوں کو مدح صحابہ کی اجازت دے رکھی تھی۔ صرف ایک دن کی اجازت بھی شیعہ حضرات کو پسند نہ آئی اور وہ کانگریس کے اس رویے کی شکایت کرنے کا گاندھی جی کے پاس پہنچے۔ ان دنوں شیعہ حضرات نے لکھنو میں تبرہ ایجی ٹیشن شروع کر رکھی تھی۔ پنجاب کا شیعہ اس تحریک کا رہنما تھا۔ پنجاب مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی کے ممبر شیخ کرامت علی تبرہ ایجی ٹیشن کے منتظم تھے۔ ان کی شہ پر شیعہ رضاکار صحابہ پر سب وشتم کرنے لکھنو جاتے اور گرفتار ہوجانے کا مطلب تھاکہ کانگریس حکومت نے سنی مسلمانوں کو سال میں ایک دن مدح صحابہ کی جو اجازت دی ہے ، اسے منسوخ کر دیا جائے۔
گاندھی جی õجو اس سے پیشتر کانگریسی وزرا کو حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق کے نقش قدم پر چلنے کی تلقین کرچکے تھےõ بھلا وہ تبرہ ایجی ٹیشن کی حمایت کیا کرتے۔
گاندھی جی کے بعد میں وفد مولانا ابوالکلام آزاد سے ملنے کلکتے گیا۔مولانا نے کہا: پہلے آپ سول نافرمانی بند کریں۔ پھر فریقین کے اہل الرائے حضرات کو بلا کر سمجھوتے کی کوشش کی جائے گی۔
یوپی حکومت تبرہ ایجی ٹیشن کے پیش نظر لکھنو اور مضافات میں دفعہ(144)نافذ کررکھی تھی ، تاکہ فریقین میں تصادم نہ ہو۔ سنی مسلما کرفیو کے نفاذ کا کوئی نقصان نہ تھا، کیوں کہ انھیں صرف12/ربیع الاول کے دن مدح صحابہ پڑھنے کی اجازت تھی؛ لیکن شیعہ مجالس کی تعداد ایک سال میں ایک سو چالیس تھی، جو دفعہ(144)کے باعث ختم ہوچکی تھیں۔ اس گھاٹے کے سودے کو شیعہ حضرات نے محسوس کرتے ہوئے تبرہ جیسی نامناسب اور غیر اخلاقی تحریک خود بخود ختم کردی۔ (کاروان احرار، جلد سوم، ص/122)
آلسوپ کمیٹی کی تشکیل
بعد ازاں آلسوپ کمیٹی (Allsop Committee) نے اسی مسئلے پر دوبارہ غور کیا۔ اس کے قیام کی صحیح تاریخ دستیاب معلومات میں واضح نہیں، البتہ اس کی رپورٹ 28/ مارچ 1938ئ کو پیش کی گئی، جس میں پیگوٹ کمیشن کے فیصلے کی تائید اور ایامِ عزاداری میں علانیہ مدحِ صحابہ پر پابندی برقرار رکھنے کی حمایت کی گئی۔ ان پابندیوں کے خلاف اہلِ سنت میں ناراضی بڑھی اور تحریکِ مدحِ صحابہ کی سول نافرمانی کو تقویت ملی۔
آلسوپ کمیٹی کے متعلق سہ روزہ الجمعیۃ لکھتا ہے کہ:
’’ 1936ئ کے آخر تک دونوں فریقوں نے مسئلے کے حل کے لیے حکومت سے رجوع کیا اورتینوں فریقوں میں مذاکرات کا آغاز ہوا۔ تاہم یہ مذاکرات تعطل کو ختم کرنے میں ناکام ہوگئے اور حکومت نے صورتِ حال کا جائزہ لینے کے لیے جسٹس آلسوپ کی سربراہی میں ایک اور کمیٹی بنا دی۔ آلسوپ کمیٹیõ جس نے اپریل 1937ئ سے کام کا آغاز کیاõ کے ذمے دو سوالات کا حل سونپا گیا تھا:
اول: کیا 7/ جنوری 1909ئ کو پیگٹ کمیٹی کی رپورٹ کی سفارشات کی روشنی میں لاگو کیے گئے سرکاری فیصلے کے اصول و ضوابط میں کسی تبدیلی کی ضرورت ہے؟
دوم: کیا امن و امان قائم رکھنے کے لیے لکھن¶کی ضلعی انتظامیہ کی طرف سے سنیوں کے بارے میں اٹھائے گئے اقدامات کا طریقہ بدلنا چاہیے؟
20/اپریل1937ئ کو چیف کورٹ کی عدالت میں مدح صحابہ کمیٹی نے مسٹر جسٹس آلسوپ کی صدارت میں اپنا کام شروع کر دیا اور حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی دیوبندی نے اپنا بیان کمیٹی کے سامنے دیا۔ کارروائی چوںکہ کھلی عدالت میں ہو رہی ہے، اس لیے بہت کافی مجمع نظر آتا تھا۔ سینیوں کی طرف سے مسٹرعبد العزیز، بیرسٹر مولانامحمد احمد کاظمی، سید ظہور احمد اور مسٹر غلام حسین بٹ نے پیروی کی اور شیعوں کی طرف سے مرزا عابد حسین، مسٹر حیدر مہدی اور مسٹر حبیب علی خاں نے پیروی کی۔
حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنیؒ نے اپنے بیان کے دوران میں فرمایا کہ صحابہ¿ کرامؓ کی تعریف کرنا ہماری مذہبی کتابوں میں تاکید کے ساتھ موجود ہے۔ پھر آپ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ خلفائے راشدین کی تعریف کرنا مستحب ہے؛ لیکن اگر اس سے روکا جائے، تو وہ فرض ہے اور یہی قاعدہ ہے کہ کسی ایسے امر کوجس کی شریعت نے اجازت دی ہو، اگر گوئی قوت منع کرے، تو مسلمانوں پر واجب ہے کہ اس کو انجام دیں، جب تک ان میں طاقت ہے۔ پھر آپ نے فرمایا کہ جس جگہ صحابہ¿ کرام ؓکے متعلق غلط فہمی پھیلائی گئی ہو، اس جگہ بھی یہ فعل مستحب واجب ہو جاتا ہے اور اسی طرح اگر کسی جگہ صحابہ¿ کرامؓ کا ذکر نہ کرنا مشا بہت پیدا کرتا ہو، تو بھی اس کا کرنا واجب ہو جاتا ہے۔
آپ نے اپنا بیان جاری رکھتے ہوئے فرمایاکہ صحابہ¿ کرامؓ کی تعریف ہر جمعہ، عیدین کے موقع پر اور حج کے موقع پر،جب کہ سال میں ایک مرتبہ دنیا کے مسلمان ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اور یہی تین بڑے مجمع مسلمانوں کے ہیں، ہر مذہبی تقریر میں صحابہ کا ذکر کرنا مستحب قرار دیا گیا ہے۔ تمام دنیا کے مسلمانوں میں یہی عمل نبوت کے بعدسے چلا آتا ہے۔ اور یہ رواج ہے۔ پھر آپ نے دریافت کرنے پر بتایا کہ مذہبی احکام اورعمل کسی دستور اور رواج پر مبنی نہیں ہے؛ بلکہ اجماع امت پر منحصر ہیں۔
پھر آپ نے فرمایا کہ قرآن شریف میں ایک نہیں؛ بہت سی جگہ صحا بہ¿ کرامؓ کی تعریف موجود ہے اور آپ نے سورہ آل عمران آٹھویں پارے کی ایک آیت تلاوت کی۔ پھر آپ نے فرمایا کہ محرم کی دسویں تاریخ بہت افضل دن قرار دیا گیا ہے۔ اس روز سنیوں کو روزہ رکھنا چاہیے اور اسی شب میں بکثرت عبادت کرنا چاہیے۔ سنیوںکا یہ فعل کر بلا کے واقعہ سے کوئی تعلق نہیں رکھتا۔
اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ قرآن شریف میں ہر موقع پر رونا دھونا اور نوحہ کر نا منع کیا گیا ہے اور صبر کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ قرآن شریف کی تقریبا ایک سو بیس آیات میں یہ موجود ہے۔ صحابہ کے واسطے دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ پھرآپ نے تاریخی نقطہ¿ نظر سے صحابہ کی تعریف کے متعلق بتایا اور کہا کہ صحابہ کی تعریف اس لیے نہیں کی جاتی ہے کہ کسی کی دل آزاری کی جائے؛ بلکہ مذہب خود اس بات کا مطالبہ کرتا ہے کہ جلسوں میں، اجتماع میں ان کا ذکر کرو،تعریف کرو اور کرنا چاہیے، کیوںکہ انھوں نے بہت بڑے بڑے کام کیے ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ محرم کی دسویں تاریخ کو اگر شہدائے کربلا کاذکر کیا جائے، تو لازمی ہے کہ ان کے ساتھ کی صحابہ¿ کرامؓ کی بھی تعریف کی جائے، اس وجہ سے کہ مخالف فرقوں کی مشابہت نہ ہو۔
جرح کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ صحابی وہ ہے، جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لایا ہواور بحالت ایمان اپنے ایمان پر قائم رہا ہو۔ پھر آپ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ میں یہ فیصلہ نہیں کر سکتا ہوں کہ شیعہ کافر ہیں یا نہیں اور پھر مجھ کو کسی دوسرے کے عقیدہ سے مطلب بھی نہیں ہے۔مجھے اپنے عقیدہ سے مطلب ہے۔ آپ نے فرمایا کہ خلفائے راشدین کے متعلق شیعوں کے کیا عقائد ہیں،مجھے اس سے کچھ مطلب نہیں ہے۔ اگر شیعہ خلفائے راشدین کے متعلق کوئی عقیدہ رکھتے ہیں، تو وہ غلط رکھتے ہیں۔ اور میرے نزدیک شیعہ غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ میںنے یہ بیان کیا ہے کہ جہاں مدح صحابہؓ کے متعلق غلط فہمی پھیلائی جارہی ہو، وہاں مدح صحابہؓ فرض ہو جاتا ہے۔
ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ مدح صحابہؓ کا جلوس نکالنا اور نظمیں پڑھنا بدعت نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں آپ نے بدعت کی تعریف اور درجات و قرون بتائے اور فرمایا کہ ہر زمانہ میںمدح صحابہؓ کا طریقہ جداگانہ تھا اور یہ طریقہ مدح صحابہؓ کا بدعت نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ایک مرتبہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ایک شخص نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی برائی کی تھی، توحضور نے مجمع عام میں حکم دیا تھا کہ حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی تعریف میں مجمع عام میں قصیدہ پڑھا جائے۔
آپ نے فرمایا کہ عاشورے کے دن سنیوں کے لیے علم اور تعزیہ وغیرہ کا جلوس نکا لنا جائز نہیں ہے،حرام ہے۔ اگر تعزیوں کے ساتھ منقبت پڑھی جائے، تو حرمت تو نہ جائے گی؛ مگر ہلکا ہوجائے گا۔اور اسی طرح مدح صحابہ سے اور ہلکا ہو جائے گا۔ پھر آپ نے جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ جس چیز کے لیے مذہب میں حکم ہوتا ہے، وہ سب عبادت ہوتی ہے۔ اور آپ نے فرمایا کہ اتحاد اس وقت معتبر ہوسکتا ہے، جب کوئی ہمارے مذہب میں دخل نہ دے۔
آپ نے فریق مخالف کے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ تعزیہ داری کیوں حرام ہے؟ فرمایا کہ محرم کے موقع پر تعزیہ داری میںوہی باتیں کی جاتی ہیں، جو دشمنان اہل بیت نے حضرت امام حسینؓ کو شہید کرنے کے بعد کیا تھا۔ شہید کرنے کے بعدانھوں نے اپنے گھروں میں روشنی کی تھی، چراغاں کیا تھا، مجلسیں منعقد کی تھیں، دلدل نکالا تھا اور اس کو گشت کرایا تھا۔ شہداکے سروں کو نیزوں پر پھرایا گیا تھا، یعنی تمام باتیں õجو دشمنان اہل بیت نے اس وقت حضرت امام حسین علیہ السلام کے شہید کرنے کے بعد کی تھیںõ وہی تمام باتیں تعزیہ داری میں ہوتی ہیں، اس لیے اس کو حرام کہا جاتا ہے۔ اور بھی بہت سے وجوہ اس کے حرام ہونے کے ہیں۔
آج کی کارروائی تقریبا ایک بجے ختم ہوگئی۔ کل دس بجے سے بیانات قلم بند کیے جائیںگے اور خیال ہے کہ کل حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب اور مولانا عبدالشکور صاحب اور دیگر علمائے کرام کے بیانات ہوں گے۔
(سہ روزہ الجمعیۃ،28/اپریل 1937ئ)
قضیہ¿ مدح صحابہ میں مولانا عبدالشکور صاحب کی شہادت
21/اپریل1937ئ کو مولانا عبدالشکور صاحب نے اپنے بیان میںکہا کہ سنیوں کے ےہاں سے مدح صحابہ مستحب ہے؛ مگر تین صورتوں میں واجب ہوجاتی ہے: ایک تویہ اس کو بزور روکا جائے۔ دوسرے یہ کہ اگر مسلمانوں کا کوئی ایسا جلسہ ہو، جس میں مدح صحابہ نہ پڑھنے کی وجہ سے کسی دوسرے فرقہ سے مشابہت پیدا ہو تی ہے، یا سنی کسی ایسے مقام پر موجود ہوں، جہاں خلفائے راشدین اور دوسرے صحابہ کے متعلق بد ظنی پھیلائی ہو، تو وہاں پرمدح صحابہ واجب ہوتی ہے۔ آپ نے بیان کیا کہ قرآن شریف میں صحابہ¿ کرام کی بہت سے مقام پر تعریف کی ہے۔ آپ نے کہا کہ تعزیہ رکھنااور اس کا اٹھانا بدعت و شرک اور حرام ہے؛ کیوںکہ اس اس سے مرادیں مانگی جاتی ہیں، اس پر چڑھاواچڑھایا جاتا ہے اور یہ کہ تعزیہ اور اس کے جلوس میں نقل کی جاتی ہے قاتلان حسین کی کہ جس وقت کہ ابن زیاد کے لشکر نے حسینؓ اور آپ کے ساتھیوں کو قتل کیا، تو ان کے سر اور ہاتھ نیزوں پر بلند کر کے بازاروںمیں گھومتے تھے۔ پھرآپ نے فرمایاکہ اگرکوئی شخص کسی آدمی کی مدح صرف اس وجہ سے کرتا ہے کہ اس نے ہمارے بزرگان دین کو قتل کیا ہے، یا تکلیف پہنچائی ہے، تو میرے جذبات مجروح ہوںگے؛ لیکن اگر کوئی شخص کسی آدمی کی مدح صرف اس وجہ سے کرتا ہے کہ وہ اس کا بزرگ ہے، تومجھے برا ماننے کی ضرورت نہیں ہے، چاہے وہ شخص جس کی مدح کی جاتی ہے، کسی مذہب کا بزرگ ہے۔ آپ نے بتایا کہ میں نے خود شیعہ حضرات کی مذہبی کتب میں مدح خلفائے راشدین دیکھی ہے اور اس وجہ سے نہیں کہہ سکتا ہوں کہ شیعہ کا کیا عقیدہ ہے۔
قضیہ¿ مدح صحابہ میں حضرت مفتی اعظم مفتی کفایت اللہؒ کی شہادت
21/اپریل1937ئ کو آپ نے بیان کیا کہ میں مدرسہ امینیہ کا مدرس ہوں اور مہتمم ہوں۔ اس اسکول میں مذہبی تعلیم دی جاتی ہے اور میں جمعیت علماکاممبر ہوں۔سنیوں کے مطابق مدح صحابہؓ پڑھنا مستحب ہے؛ لیکن وہ کئی حالتوں میں واجب ہوجاتا ہے، وہ حالتیں حسب ذیل ہیں:
اول یہ کہ کوئی اس کو جبرا روکے۔ دوسرے یہ کہ وہ کسی جلسہ، یا تقریب میںواجب ہوجاتی ہے،جہاںغیر سنیوں سے مشابہت ہونے کااندیشہ ہوتا ہے۔ تیسرے یہ کہ غیرمسلموں میں تبلیغ کی غرض سے صحابہ کرامؓ کی تعریف کرنا واجب ہوتا ہے۔ آپ نے کہا کہ جو شخص مدح صحابہؓ سے منع کرتا ہے، وہ دین میں داخلت کرتا ہے؛ کیوںکہ اس فعل کو جرم قرار دیا ہے۔ آپ نے کہا کہ مدح صحابہ جلوس کے ساتھ پڑھنا جائز ہے؛ لیکن اگر اس کو رد کیا جائے، تو واجب ہوتا ہے۔ آپ نے کہا کہ تعزیہ نکالنا ناجائز ہے اور مکروہ اور حرام بھی ہے۔ اسلام میں غم کی یاد گار قائم کرنا نا جائز ہے ۔سنی لوگ رسول(ﷺ) کے حکم کے مطابق عشرہ کے روز روزہ رکھتے ہیں۔ اور آپ(ﷺ) نے فرمایا ہے کہ جو ان لوگوں سے محبت کرے گا، وہ مجھ سے محبت کرے گا، اور جو کوئی ان سے عداوت کرے گا، وہ مجھ سے عداوت رکھے گا۔
سنیوں کے تمام بیانات ختم ہو چکے ہیں۔ اب شیعہ حضرات کی طرف سے آئندہ دو شنبہ سے بیانات لیے جائیں گے۔(سہ روزہ الجمعیۃ،28/اپریل1937ئ)
آلسوپ کمیٹی کی رپورٹ
آلسوپ کمیٹی نے جون 1937ئ میں صورتِ حال کو جوں کا توں رکھنے اور پیگوٹ کمیٹی کی سفارشات کی تائید پر مبنی رپورٹ جمع کرا دی۔ اس سے سنیوں کو رام کرنا مشکل تھا اور (کانگریس کی) حکومت نے مسلمانوں کی اکثریت کو ناراض کرنے کا خطرہ مول لینے کے بجائے آلسوپ کمیٹی کی رپورٹ کی اشاعت کو ملتوی کر دیا اور مولانا ابو الکلام آزاد کے ذریعے شیعوں اور سنیوں کے مابین تصفیہ کرانے کی کوشش کی۔ لیکن ان مذاکرات سے کوئی نتیجہ نہ نکلنے اور سنیوں کی طرف سے رپورٹ کو شائع نہ کرنے کے خلاف احتجاج کی دھمکی ملنے کے بعد حکومت نے 28/مارچ 1938ئ کو اس رپورٹ کے ساتھ اس کی سفارشات کو منظور کرنے کا سرکاری فیصلہ شائع کر دیا۔‘‘
اس فیصلے کے پیراگراف 5میں گورنمنٹ تحریر کرتی ہے :
’’گورنمنٹ اس بات کو صاف کردینا چاہتی ہے کہ سنیوں کا یہ حق ہرگز مابہ النزاع نہیں ہے کہ آیا انھیں مجالس عام، یا مجالس خاص میں خلفائے ثلاثہ کی مدح کرنے کا حق حاصل ہے، یا نہیں! بلا شک ان کو یہ حق حاصل ہے۔ جھگڑا صرف اس بات کا ہے کہ کس طریقہ اور کن حالات میں ان کو لکھنو میں مدح صحابہؓ پڑھنی چاہیے۔ جب مختلف اقوام کے عقائد اور نقطہ¿ نظر میں فرق ہو، تو گورنمنٹ کا یہ فرض ہوجاتا ہے کہ وہ امن عامہ کو قائم رکھنے کے لیے مداخلت کرے اور عام لوگوں کی سہولت کا خیال رکھے۔‘‘
اس طرح مدح صحابہ کا حق جیسے پہلے تسلیم کیا گیا تھا، گورنمنٹ کے اس فیصلے میں بھی تسلیم کیا گیا۔ لیکن وقت اور حالات کا تعین کچھ نہیں کیا گیا۔
(تاریخ احرار از افضل حق، ص/233۔ بحوالہ:شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری جلد دوم، ص/763)
تحریک مدح صحابہ پر اکابرین جمعیت کی میٹنگ
اس سرکاری رپورٹ پر غور وفکر کرنے کے لیے 23/اپریل 1938ئ کوحضرت مفتی اعظم مفتی محمد کفایت اللہ صاحب، مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہنداور مولانا ظفر الملک علوی دیوبند پہنچے اور خانقاہ مدنی میں شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒکے ساتھ خفیہ میٹنگ کی۔
’’مشورہ بند کمرے میں ہوا، یہاں تک کہ دوسرے کسی خاص آدمی نے شرکت نہیں کی، اگرچہ نتیجہ کے متعلق انتہائی رازداری سے کام لیا جارہا ہے، تاہم اتنا معلوم ہوا ہے کہ حضرت شیخ اعظم، حضرت مفتی اعظم اور جناب ناظم صاحب کی طرف سے ایک تار وزیر اعظم یوپی کو دیا گیا ہے۔ محتاط ابتدائی کارروائی کا تقاضا بھی یہ تھا کہ صورت حال کو ابتدائی مرحلہ پر خراب ہونے کا موقع نہ دیا جائے اور سنی نقطہ¿ نگاہ کی تائید کے لیے کوئی ایسی کارروائی نہ کی جائے، جس سے اصل مسئلہ پر نامناسب اثر پڑے۔‘‘
(سہ روزہ الجمعیۃ، 28/اپریل1938ئ)
اس تحریک میں مجلس احرار اسلام پیش پیش رہی۔ اس کے رضاکاروں نے مدح صحابہ کا مذہبی حق حاصل کرنے کے لیے تحریک سول نافرمانی شروع کی۔اس تحریک کے مرکزی قائد مولانا عبد الشکور صاحب لکھنو ی نے ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مدح صحابہ پڑھنے پر کسی ایک دن کی بھی پابندی نہیں لگائی جاسکتی۔ مولانا ظفر الملک علوی صاحب نے کہا کہ حکومت نے اگر مدح صحابہ کے فیصلے پر نظر ثانی نہیں کی، تو تحریک سول نافرمانی شروع کردیں گے۔ اگلے دن چہلم کے موقع پر شیعوں نے جلوس نکالا اور اس میں قدح صحابہ کے اشعار پڑھنے لگے، جس سے فساد ہوگیا ۔
’’ اس فساد کے سلسلہ میں 9/ اشخاص ہلاک، 160/مجروح،33/گرفتار اور9/ مکانات جلادیے گئے ۔ ہلاک ہونے والوں میں پانچ سنی اور چار شیعہ ہیں۔ مجروحین میں 80/اشخاص اسپتال میں میں اور باقی لوگوں کو خفیف چوٹیں آئیں۔ حکام نے فضا پر قابو پالیا ہے۔‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ، 28/اپریل1938ئ)
حکومت نے حالات کو قابو میں کرنے کے لیے مولانا عبد الشکور اور دیگر حضرات کو گرفتار کرلیا۔
’’لکھنو۔ 25/اپریل۔ اہل سنت والجماعت مسلمانوں کے مشہور مقتدا مولانا عبد الشکور صاحب اور سولہ دیگر علما کو آج مجسٹریٹ نے طلب کیا، تاکہ وہ وجہ بیان کریں کہ نقض امن کی بنا پر ان سے زیر دفعہ 107/ضابطہ¿ فوج داری ضمانت کیوں نہ طلب کرلی جائے۔ ان حضرات نے ضمانت داخل کرنے سے انکار کردیا اور جیل چلے گئے۔ مولانا عبد الشکور کا مکان اسی علاقہ میں ہے، جہاں فساد ہوچکا ہے ۔ اسی طرح سترہ شیعہ علما سے بھی ضمانتیں طلب کرلی گئی ہیں۔معلوم ہوا ہے کہ دفعہ (107)کے اور بھی بہت سے نوٹس جاری ہوچکے ہیں۔‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ، یکم مئی 1938ئ)
مدح صحابہ کے قضیہ حل کرنے کے لیے کانگریسی وزیروں اور اکابرین جمعیت نے انتھک کوششیں جاری رکھیں اور آنریبل حافظ محمد ابراہیم کی کوٹھی پر ایک میٹنگ کی گئی، جس میں ایک کمیٹی بنائی۔
لکھنو۔7/ مئی(1938ئ)۔ میں نہایت ہی ذمہ دارانہ طریقہ پر یہ کہہ سکتا ہوں کہ مدح صحابہ کے سلسلہ میں جمعیت علمائے ہند کے بزرگوں کی مداخلت بہت ہی مؤثر ثابت ہوئی۔ اگرچہ مسئلہ کی اہمیت کے پیش نظر مدح صحابہ کے اختلافی مسئلہ کا حل تلاش کرنے میں تاخیر کرنی پڑے گی؛ تاہم کانگریسی وزارت کی بہترین خواہشوں میں سے ایک خواہش یہ ہے کہ اس کا حل پیدا کرنے کے لیے ایک اور قدم اٹھایا جائے۔
گذشتہ ہفتہ آنریبل حافظ محمد ابراہیم کی کوٹھی میں وزرائے حکومت، کانگریسی زعمااور جمعیت علمائے ہند کے اکابر کی جو کا نفرنس ہوئی تھی، اس میں حضرت شیخ اعظم مولانا حسین احمد صاحب مدنی، پنڈت جواہر لال نہرو اور پنڈت پنتھ وزیر اعظم نے مدح صحابہ کے متعلق بہت صاف صاف گفتگو کی۔ مدح صحابہ کے متعلق غورو فکر کا یہ سلسلہ آج تک جاری تھا۔
اگرچہ مولانا عبد الشکور صاحب اور ان کے رفقا کی فوری رہائی کے مسئلہ پر کوئی قانونی وجوہ سے کوئی فیصلہ نہ ہوسکا، تاہم مسئلہ کو بنیادی اور اصولی طور پر حل کرنے کے لیے یہ طے شدہ امر ہے کہ یہ کام ایک کمیٹی کے سپرد ہوگا، جو پوری سنجیدگی کے ساتھ شیعہ سنی اختلاف کے تمام پہلووں پر غور کرکے متفقہ حل نکالے گی۔ کمیٹی کے ارکان: (۱) شیخ اعظم مولانا حسین احمد مدنی۔ (۲) مولانا ابوالکلام آزاد۔ (۳) پنڈت گوبند ولبھ پنتھ وزیر اعظم۔ ‘‘
(سہ روزہ الجمعیۃ، 9/مئی 1938ئ)
مولانا ابوالکلام آزادؒ کی کوشش
بقول مرزا صاحب:
ان دنوں مولانا ابوالکلام آزادشیعہ سنی رہنما¶ں سے لکھنو میں اس قضیے کو نپٹانے میں مصروف تھے، تاکہ دونوں فرقوں میں آبرومندانہ سمجھوتہ ہوجائے۔ اس کی ضرورت اس لیے پیش آئی کہ گذشتہ دنوں یوپی مجلس احرار نے کانگریس وزارت کو یاددہانی کرائی کہ تحریک مدح صحابہ کی طرف آپ نے کوئی توجہ نہیں کی۔اگر آپ کی لاپرواہی کا یہی عالم رہا، تو احرار مجبور ہو جائیںگے کہ موجودہ وزارت سے ٹکر لیں۔ اس کے جواب میں کانگریس وزارت کی طرف سے مولانا آزاد کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ حالات کا جائزہ لینے کے لیے فریقین سے بات کریں۔(کاروان احرار، جلد سوم، ص/ 233)
سنیوں سے مولانا حسین احمد مدنی کی اپیل
جناب جاں باز مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ :
ان دنوں(مئی 1938ئ) لکھنو میں شیعہ فرقہ کی طرف سے تبرا ایجی ٹیشن از سر نو شروع تھی۔ پنجاب اور دوسرے صوبوں سے سے اس تحریک میں شریک شیعہ رہنما ہر روز قافلوں کی صورت میں لکھنو پہنچ رہے تھے۔ باوجود کوشش کے کوئی بات طے نہ ہوسکی۔ اس حالت میں مقامی حکام نے صوبائی حکومت کو تجویز دی کہ دونوں فرقوں کے محلوں میں فریقین کے خرچ پر تعزیری چوکیاں قائم کردی جائیں۔ مدح صحابہ اور تبرا ایجی ٹیشن ایک ساتھ چل رہے تھے۔ شہر کا امن ختم ہوچکا تھا۔ احرار رہ نماؤں نے حکومت اور مقامی انتظام کی تجویز سے انکار کر دیا۔ ان کا موقف تھا کہ کسی مذہب کے بزرگ پر تبرا اخلاقی جرم قرار دیا جائے، جب کہ شیعہ حضرات اس بات پر مصر تھے کہ وہ صحابہ پرشب وستم کو اپنا مذہبی حق سمجھتے ہیں۔
دونوں طرف کے رضاکارا ن اپنے موقف کے پیش نظر گرفتار ہو رہے تھے۔کانگریس حکومت نے اس قضیہ کو طے کرنے کے لیے ایک کمیٹی مقرر کردی، جس کے صدر صوبہ کے وزیراعظم مسٹر پنتھ تھے؛ لیکن تحریک کے دنوں نہ تو پنتھ لکھنو میں تھے اور نہ ہی کوئی دوسرا وزیر۔ اس پر3/ جون(1938ئ) کو لکھنو کے سنی مسلمانوں نے مدح صحابہ کی تحریک کو مزید تیز کر دیا۔ اور شہر بھر میں گرفتاریاں شرع ہوگئیں، جس کی بنا پر وزیراعظم سمیت تمام وزرا لکھنو آن پہنچے اور فریقین کی کانفرس کی تجویز ہونے لگی۔ لیکن گرفتاریاں شروع رہیں۔
(کاروان احرار، جلد سوم، ص/352)
انھی حالات میںحضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ 20/مئی 1938ئ کو لکھنو تشریف لے گئے اور شیعہ سنی میں مفاہمت پیدا کرنے کے لیے سنی مسلمانوں سے تحریک سول نافرمانی ترک کرنے کی اپیل کی۔
مولانا موصوف ایک بیان کے دوران میں فرماتے ہیں کہ صوبہ جاتی کانگریس کمیٹی کی ایگزیکٹو کمیٹی نے اپنی اپریل کی میٹنگ میں ایک سب کمیٹی بنائی ہے، میں بھی اس کاممبر ہوں۔ یہ سوال کمیٹی کے زیر غور ہے۔ کمیٹی عنقریب مستقبل میں ہی اپنے فیصلہ کو پبلک کے روبرو پیش کرے گی۔ لہذا دریں اثنا یہ امرنہایت ہی ضروری ہے کہ موجودہ فضا کو صاف کیا جائے۔ اور امن وامان کو بحال کیا جائے۔ میں لکھنو اور دیگر مقامات کے سنیوں سے پر زور الفاظ میں اپیل کرتا ہوں کہ وہ مدح صحابہ کے ایجی ٹیشن کے سلسلہ میں تحریک سول نافرمانی کو ترک کر دیں اور کمیٹی کے فیصلہ کا انتظار کریں۔ جب کمیٹی اپنے فیصلہ پر پہنچ جائے گی اور یہ معلوم ہو جائے گا کہ وہ کوئی اطمینان بخش حل تجویز نہیں کر سکی، تو میں خود ہی سنیوں کو یہ مشورہ دوں گا کہ وہ اس معاملہ میں کوئی مؤثر قدم اٹھائیں۔
(سہ روزہ الجمعیۃ،20/مئی 1938ئ)
’’لکھنو۔20/مئی ۔ مولانا حسین احمد مدنی نے آج صبح مقامی جیل میں سنی لیڈروں سے ملاقات کی، جن میں مولانا عبد الشکور اور مولانا ظفر الملک بھی شامل ہیں اور جن کو مدح صحابہ ایجی ٹیشن کے سلسلہ میں گرفتار کیا گیا تھا۔
مولانا حسین احمد صاحب ؒنے سنی لیڈروں سے مدح صحابہ کے قضیہ کے بارے میں بہت دیر تک تبادلہ¿ خیالات کیا۔ توقع کی جاتی ہے کہ اب یہ قضیہ طے ہوجائے گا۔ معلوم ہوا ہے کہ مولانا حسین احمد صاحب کی اپیل کے پیش نظر سینیوں نے کل سے تحریک سول نافرمانی بند کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے ۔ توقع کی جاتی ہے کہ شیعہ اور سنیوں کے درمیان سمجھوتہ کی گفت و شنید کے لیے سہولتیں بہم پہنچانے کے لیے پرسوں کچھ گرفتار شدہ لیڈروں کو رہا کردیا جائے گا۔‘‘
(سہ روزہ الجمعیۃ، 20/مئی 1938ئ)
قضیہ¿ مدح صحابہؓ میں حکومت صوبہ متحدہ سے مطالبہ
جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ منعقدہ:3/ اگست 1938ئ میں، زیر صدارت حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہند درج ذیل فیصلہ لیا گیا:
’’جمعیت عاملہ کا یہ اجلاس لکھنو کے مدح صحابہؒ کے قضیہ میں حکومت صوبہ¿ متحدہ کے اس فیصلہ کے پیش نظرõ کہ سنیوں کو مدح صحابہؓ کرنے کا عام اور پرائیویٹ مقامات پر حق حاصل ہےõ حکومت صوبہ¿ متحدہ کو تو جّہ دلاتا ہے کہ وہ جلد از جلد اُن رکا وٹوں کو دور کر دے، جو حکام کی طرف سے اس حق کے استعمال میں برؤے کار لائی جاتی ہیں۔
( جمعیت علمائے ہند کی تاریخ تجاویز اور فیصلوں کی روشنی میں، جلد اول، ص/368۔ (سہ روزہ الجمعیۃ 20/اگست1938ئ)
مدح صحابہؓپر صدر اجلاس جمعیت کا تبصرہ
جناب جاں باز مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ:
اقتدار کے سنگھاسن پر جو بیٹھتا ہے، وہ اپنے اصول وضع کرتا ہے۔حقیقت خواہ کچھ ہو، یوپی کانگریس حکومت کو یہ علم تھا کہ انگریز نے اپنی ضرورت کے لیے لکھنو کے شیعہ عقائد رکھنے والوں کو مدح صحابہ کے خلاف اکسا رکھا تھا؛ورنہ گالیاں دینا تو کسی مذہب میں روا نہیں۔ اور اس قضیہ پر سے صدیاں بیت چکیں کہ ایک ہی شہر کے دو مسلمان عقیدے کی لڑائی میں ایسے الجھے کہ غیر ملکی حکمرانوں نے مدتوں یہ تماشہ کیا۔ یقین تھا کہ جیسے ہی آئین کروٹ لے گا، پرانی عمارت کے کھنڈرات آپ سے آپ گرتے چلے جائیںگے، لیکن برا ہو اقتدار کا کہ نئے حکمرانوں نے بھی باہم دست وگر بیان کو ہی اپنے لیے جائز قرار دیا۔
کانگریسی حکومت کی مسلسل سرد مہری اور ٹال مٹول کی پالیسی دیکھتے ہوئے مجلس احرار نے مولانا عبدالشکور کی معیت میں 12/اکتوبر(1938ئ) کو مدح صحابہ پر سول نافرمانی کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی شیعہ پولیٹیکل کا نفرنس نے اپنے اجلاس میں یوپی حکومت کو متنبہ کیا کہ اگرسی مسلمانوں نے مدح صحابہ پڑھی، تو شیعہ اس کے مقابل تبرا کریںگے۔
یہ حالات دیکھ کر یوپی مجلس احرار نے کانگریس گورنمنٹ کو نوٹس دیا ہے کہ اگر11/ نومبر(1938ئ) حکومت نے شیعہ سنی تنازعہ کا کوئی حل تلاش نہ کیا، یا اس جھگڑے کا کوئی تصفیہ نہ ہوا، تو احرار حکومت کے خلاف سول نافرمانی شروع کر دیںگے۔
حکومت کے گذشتہ فیصلے میں سنی مسلمانوں کا مدح صحابہ کا حق تسلیم کیا جا چکا ہے، اس کے باوجود مدح صحابہ پر پابندیاں موجود ہیں۔ کیوں ؟ احرار، کانگریس حکومت سے اس سوال کا جواب چاہتے ہیں۔(کاروان احرار، جلد سوم، ص/409)
تحریک مدح صحابہ کا دوبارہ آغاز
حکومت یوپی سے سمجھوتے کے تحت یکم مارچ(1939ئ) تک کے لیے لکھنو میں تحریک ملتوی کر دی گئی تھی؛ لیکن جب مجلس احرار یوپی کو حکومت کی نیت واضح نظر نہ آئی، تو اس نے مقررہ تاریخ کا انتظار کیے بغیر20/ فروری(1939ئ) کو سول نافرمانی شروع کردی۔ چنانچہ مولانا عبد الشکور ،مولانا ظفر الملک، حافظ محمد اسحاق ، حاجی محمد کامل اور مولانا عبد السلام پرمشتمل پر پہلا قافلہ مدح صحابہ پڑھتا ہوا مسجد ٹیلا والی سے روانہ ہوا ، جسے گرفتار کر لیا گیا۔ ضمانت پر رہا ہونے سے انکار کرنے پر انھیں اسی وقت ایک ایک سال کی قید سنا دی گئی۔ دوسرے روز ایک سو رضا کاروں کا قافلہ نکلا، جو گرفتار کر لیا گیا۔ تحریک شہر بھر میں پھیل گئی۔ دوسری طرف حکومت نے مقامی جیل میں عدم گنجائش کے باعث صوبہ کی دوسری جیلوں سے قیدی تبدیل کرنے شروع کر دیے۔ اس کے ساتھ ہی حضرت مدنی اور احرار رہنما حکومت سے مصالحت کی گفتگو کر رہے ہیں۔(کاروان احرار، جلد چہارم، ص/28)
اس کے بعد 3-4-5-6/مارچ1939ئ کو جمعیت علمائے ہند کا گیارھواں اجلاس عام ہوا، جس کی صدارت شیخ التفسیرحضرت علامہ مولانا سیّد عبدالحق صاحب مدنیؒ نے فرمایا۔ انھوں نے اپنے صدارتی خطبے میں حالات حاضرہ پر تبصرہ کے ضمن میں تحریک مدح صحابہ پر بھی تبصرہ فرمایا۔ چنانچہ حضرت شیخ نے تحریر فرمایاکہ:
دور حاضر کی مشکلات میں وہ ہنگامہ بھی ہے، جو لکھنؤ میں مدح صحابہ کے متعلق عرصہ سے ظہور پذیر ہورہا ہے۔
مدح صحابہؓ، اہل سنت کا مذہبی شہری حق ہے۔ جب کہ دُنیا کی ہر قوم اپنے بزرگوں کا ذکر خیر ہر موقع پر کرسکتی ہے، تو ہمیں تعجب ہے کہ مسلمانانِ لکھنؤ کو صحابہ¿ کرامؓ کے ذکر سے کیوں روکا جاتا ہے۔ اگر بالفرض کسی قسم کے فتنہ کا خطرہ ہے ،تو حکومت کا فرض فتنہ کو دبانا ہے۔
کسی اقلیت، یا اکثریت کو اپنے جائز حقوق سے محروم کردینا سراسر ظلم کہلاتا ہے اور اس طرح اگر فتنہ کا انسداد کیا جائے ،تو وہ انصاف نہیں ہوگا۔ ہمیں تعجب اور افسوس ہے کہ اس معاملہ میں کانگریسی حکومت بھی انگریزی حکومت کی تقلید کررہی ہے اور اپنے اعلانات کے برخلاف عملی اقدام کرکے بہت زیادہ فضا کو مکدر کرتی جارہی ہے۔
(سہ روزہ الجمعیۃ،5/ مارچ 1939ئ)
قضیہ¿ مدح صحابہؓ پر حکومت یوپی کے رویہ کی مذمت
اسی (گیارھواں اجلاس عام منعقدہ : 3تا6/ مارچ 1939ئ) کی ایک تجویز میں مدح صحابہ کے حوالے سے یوپی حکومت کے رویے کی مذمت کی گئی۔ تجویز میں کہا گیاکہ:
’’جمعیت علمائے ہند کا یہ جلسہ حکومت یوپی کے اس طرزِ عمل پر õجو اس نے مدحِ صحابہ¿ کرام رضی اللہ عنہم کے قضیہ میں لکھنو میں اختیار کیا ہے õاپنے غم و غصہ کا اظہار کرتا ہے، جب کہ اُس نے اصولاً تسلیم کرلیا ہے کہ پبلک مقامات پر بھی مدحِ صحابہؓ کرنے کا سنّیوں کو حق ہے، اس کے باوجود اُس نے مولانا عبدالشکور صاحبؒ و مولانا ظفر الملک صاحبؒ و مولانا عبدالسلام صاحب ؒوغیرہ کو صرف ایک جلسہ کا اعلان شائع کرنے پر گرفتار کرکے ایک ایک سال کی سزا دے دی۔ یہ کارروائی سراسر ناانصافی اور بے Èئینی پر مبنی ہے۔ حکومت پر لازم ہے کہ وہ جلد ازجلد اپنی اس غلطی کا تدارک کرے اور گرفتار شدہ اور قید شدہ اشخاص کو فوراً رہا کردے اور سنّیوں کو اپنے شہری اور مذہبی حق کے استعمال کا موقع بہم پہنچائے۔ لکھنؤ کے سنّیوں نے اپنے اس حق کے حاصل کرنے کے لیے مجبور و مضطرب ہوکر سوِل نافرمانی شروع کی ہے، یہ جلسہ سنّیوں کو اس اقدام پر مبارک باد دیتا ہے اور مسلمانوں سے توقع رکھتا ہے کہ وہ اپنے اس مطالبہ کو حاصل کرنے کے لیے سرفروشانہ جدوجہد جاری رکھیں گے۔
یہ جلسہ Èل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ہائی کمانڈ سے پُرزور درخواست کرتا ہے کہ وہ حکومت یوپی کو ہدایت کرے کہ سنّیوں کے تسلیم کردہ حق پر سے پابندیاں اُٹھالے اور اپنی غلطی کا جلد از جلد تدارک کرے۔‘‘
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص/358)
حکومت کا رویہ کیا تھا
اس سال قضیہ مدح صحابہ کے حوالے سے سنی مسلمان، شیعہ حضرات اور حکومت کا کیا رویہ رہا، اس کا اندازہ مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نائب امیر شریعت صوبہ بہار کے اس بیان کے ابتدائی اقتباس سے لگایا جاسکتا ہے:
’’31/مارچ1939ئ کو حکومت کے مدح صحابہ کے کمیونک (Communique) شائع کرنے اور سول نافرمانی کے بند کرنے کے بعد مسلمانوں کی صحیح اطلاع کے لیے یہ بیان مولانا محمد اسماعیل صاحب ایم ایل اے کو اخبارات میں شائع کرنے کے لیے دیا گیا:
لکھنو میں حکومت یوپی کے ایک ریزولیشن اور آرڈر سے ابتدا میں سال میں تین دن (عشرہ محرم، چہلم اور اکیس رمضان ) مدح صحابہ یعنی مدح خلفائے ثلاثہ کو پبلک مقامات پر ممنوع قرار دیا گیا۔ لیکن مقامی انتظامی حکام نے اس تین دن کی ممانعت سے ناجائز فائدہ اٹھاکر تمام سال کے ایام میں مدح صحابہ کو پبلک مقامات پر روک دیا؛ بلکہ بعض اوقات مجالس خاص میں مدح صحابہ کو قابل سرزنش سمجھا گیا۔
(سہ روزہ الجمعیۃ، 24/اپریل 1939ئ)
چوں کہ یہ سراسر مداخلت فی الدین تھا، اس لیے تمام مسلمانوں نے اپنا مذہبی فرض سمجھتے ہوئے حکومت یوپی کے اس ریزولیشن کے خلاف جدوجہد شروع کرتے ہوئے اس وقت تک تحریک سول نافرمانی جاری رکھنے کا اعلان کیا ، جب تک کہ حکومت یوپی صاف صاف اعلان نہ کردے کہ سال کے تین سو پینسٹھ دنوں میں ایک دن بھی مدح صحابہ قانونا ممنوع نہیں ہے۔ چنانچہ اس کا آغاز کرتے ہوئے 20/فروری 1939ئ کو مولانا عبد الشکور صاحب نے یہ اعلان کیا کہ یکم محر م الحرام کو خلیفہ¿ ثانی کی تدفین عمل میں آئی تھی، اس لیے اس مناسبت سے یکم محرم(1358ھ، مطابق20/فروری 1939) کو ساڑھے چار بجے امین الدولہ پارک لکھنو میں سیرت فاروق اعظم ؓ پر جلسہ ہوگا۔ اس اشتہار کی بنا پر حکومت نے مولانا اور ان کے ساتھ دیگر تحریک مدح صحابہ کے رہنماوں کو گرفتار کرلیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیں: سہ روزہ الجمعیۃ،9 و 13/مارچ 1939ئ، ص/۶) ۔
جناب مرزا لکھتے ہیں کہ:
انھی دنوں لکھنو میں شیعہ اور سنی ایک دوسرے کے مقابل تحریکات چلا رہے تھے۔ مجلس مجلس احرار اور جمعیت علمائے ہند کے رہنما یو پی گورنمنٹ سے محو گفتگو تھے۔ 7/ مارچ (1939ئ) تک دو صد سے زائد سنی مدح صحابہ پڑھتے ہوئے اور ستائیس شیعہ صحابہ پر تبرا کرتے ہوئے گرفتار ہوچکے تھے۔ اہل سنت کا مطالبہ تھا کہ جب حکومت ان کے مطالبات منظور کرچکی ہے، تو انھیں کیوں اجازت نہیں کہ وہ سر عام جہاں چاہیں، صحابہ کی تعریف کریں۔ اس پر شیعہ حضرات بضد تھے کہ اگر سنیوں کو یہ حق دے دیا گیا، تو وہ صحابہ کرام پ تبرہ کریں گے۔ بہر حال بات چلی ہے دیکھیں کہاں تک پہنچے۔(کاروان احرار، جلد سوم، ص/31)
اس گرفتاری کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے حکومت یوپی سے کہا کہ :
’’مدح صحابہ کا حق ہم نے شہری اور مذہبی حیثیت سے طلب کیا ، جس کو ہمیشہ حکومت ٹھکراتی رہی۔ حکومت سنیوں کو اب تک آج کل پر ٹال کر بیوقوف بناتی رہی؛ بلکہ اس نے سنیوں کو مدح صحابہ کے مسلمہ حق سے محروم رکھنے کے لیے علم بردار امان و صلح کے بھینس میں ہر ممکن ناجائز دباو اور طاقت سے کام لیا۔ مولانا عبد الشکور صاحب ، مولانا ظفر الملک صاحب اور ان کے رفقا گرفتار کرلیے گئے ہیں۔ سنیوں میں سخت ہیجان پھیلا ہوا ہے اور عوام اپنے حقوق طلبی سے سول نافرمانی پر تلے ہوئے ہیں اور گرفتار کرلیے گئے ہیں۔
ہندستان خصوصا یوپی اور لکھنو کے تمام سنیوں کواس ایجی ٹیشن پر نہایت پر امن طریقہ سے حصہ لینا چاہیے اور ان کو چاہیے کہ تمام ہندستان کی طرف سے اس بدسلوکی کے خلاف احتجاج کریں۔ یہ تحریک فرقہ وارانہ نہیں ہے؛ بلکہ اپنے تمدنی اور شہری حق کا مطالبہ ہے۔‘‘
(سہ روزہ الجمعیۃ، 28/فروری و یکم مارچ 1939ئ)
چنانچہ اس کے بعد بڑے زورو شور کے ساتھ تحریک مدح صحابہ دوبارہ شروع ہوگئی اور شیخ الاسلام ؒ کے اشارہ پر ایک دن میں پونے چار سو سے زائد فداکاروں نے گرفتاریاں پیش کیں۔ (سہ روزہ الجمعیۃ، 28/مارچ1939ئ) ۔
مدح صحابہ کے متعلق حضرت شیخ الاسلام ؒ کی اپیل
مدح صحابہ کی تحریک کو مہمیز کرنے کے لیے8/مارچ1939ئ کو حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ نے درج ذیل اپیل شائع کی:
محترم برادران و بزرگان اہل سنت و الجماعت باشندگان لکھنو وغیرہ ! زیدت عنایتکم، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔
میں مندرجہ ذیل عریضہ آپ کے سامنے سچائی سے پیش کرتا ہوں اور متنبہ کرتا ہوں کہ اس کو اپنا مذہبی ، انسانی اور شہری حق سمجھ کر آپ اس کو حاصل کرنے کے لیے کوشش کریںگے۔ تفرقہ اندازی کا خیال نہ لائیں۔مدح صحابہ رضی اللہ عنہم اہل سنت و الجماعت کا مذہبی شعار اور مذہبی، انسانی اور شہری حق ہے، خواہ مقامات عامہ میں ہو، یا مقامات خاصہ میں، خواہ مجالس و میلاد وغیرہ میں ہو، یا ان مجالس میں، جو صرف اسی نام پر منعقد کی گئی ہوں، اور علی ہذاالقیاس اس کے لیے شاہرا ہ¿ عام پر جلوس نکالنا اور اشعار مدحیہ پڑھنا ان کا شہری اورمذہبی حق ہے، ان میں کسی حکومت ،یا کسی قوم کار کاوٹ ڈالنا مداخلت فی الدین ہے، اس لیے حکومت یو پی حکومت لکھنو کااس بارے میں سنیوں کو روکنا اور باوجود بار بار مطالبہ کے کئی اقدام پر پابندیاں عائد کرنا اورسنیوں پر تشدد اور گرفتاری اور مقدمہ وغیرہ چلانے کی پالیسی اختیار کرنا سراسر ظلم اور بے آئینی ہے۔ میں مسلمانان لکھنو اور دیگر مسلمانان یوپی سے پر زور طریقہ پردرخواست کرتا ہوں کہ وہ اس حق کے حاصل کرنے کے لیے مذہبی زندگی اور غیرت کا ثبوت دیں۔
اس ملک ہندستان میں بہت سے مذاہب بستے ہیں اور تمام اہل مذاہب باوجو د انتہائی بعد اور مخالفت کے اپنے اپنے پیشوا¶ںکے جلوس نکالتے اور مدحیہ جلسے وغیرہ منعقد کر تے رہتے ہیں۔ ان سبھوں کو عام اجازت ہے۔ اور کسی کی دل شکنی کا خیال نہیں ہے؛ مگر سنیوں کے لیے ممانعت چلی آتی ہے۔ بعض بیوقوف خیال کرتے ہیں کہ مدح صحابہ مثل تبراکے ہے، حالاں کہ حسب قانون تعزیرات ہند (298) تبرا ممنوع ہے، اس لیے مدح صحابہ کو تبرا پر قیاس کرنا بالکل غلط ہے۔ تبرا دوسری قوم یعنی سنیوں کے پیشوا¶ں کی توہین اور تذلیل کا نام ہے،جو کہ انسانی فطرت اور قوانین اقوام کے لحاظ سے بھی ممنوع ہے اور حکومت ایرانیہ (شیعی حکومت) میں بھی قانوناً جرم ہے،بخلاف مدح صحابہ کے کہ وہ صرف اپنے پیشوا¶ں کی مدح وثنا کا نام ہے، یہ امر کسی طرح بھی کسی قوم، کسی ملک، کسی زمانہ میں جرم قرار نہیں دیا گیا۔ بہر حال مسلمانان لکھنو اور جمعیت احرار کو چاہیے کہ اس حق کو جاری رکھنے کے لیے ہرقسم کی قربانی پیش کریں اور اللہ تعالیٰ پر توکل کرکے با من دیگر اتفاق و اتحاد کے ساتھ سول نافرمانی کرتے ہوئے اس حق کو منوانے میں پوری جدوجہد کریں، میں پوری کوشش کر رہا ہوں۔ ننگ اسلاف حسین احمد غفر لہ13/محرم 1358ھ۔ (8/مارچ 1939ئ)
(سہ روزہ الجمعیۃ، یکم اپریل 1939ئ)
تحریک مدح صحابہ کا عظیم الشان کانفرنس
تحریک مدح صحابہ کے سلسلے میں 17/مارچ1939ئ کو لکھنو میں عظیم الشان احتجاجی اجلاس ہوا، جس کی اخباری رپورٹ درج ذیل ہے:
تحریک مدح صحابہ کی تاریخ میں سول نافرمانی کا ایسا زبردست اور عظیم الشان مظاہرہ کبھی دیکھنے میںنہیںآیا،جیسا کہا آج مسجد ٹیلہ لکھنوپردیکھنے میں آیا، جہاںانسانوں کا ایک موجیں مارتا ہوا سمندر نظر آرہا تھا۔ غالباً مختلف حیثیتوں سے سول نافرمانی کے سلسلہ میں اتنی گرفتاریاں ایک دن میں کبھی نہیں ہوئی ہوگی، جتنی کہ ایک رو زمیں آج مسجد ٹیلہ سے ہوئیں۔ ہر دل میں یہ جذبہ موجود تھا اور ہرایک شخص اس بات کی کوشش کر رہا تھا کہ وہ آج ہی جیل چلا جائے۔ مسجدکا ہر گوشہ، مسجد کے قریب کی ہرزمین انسانوں سے لبریز نظر آتی تھی۔ اگرچہ بانیان جلسہ نے آج مسجد کے اندر اور باہر لاؤڈسپیکر بھی لگادیے تھے؛ لیکن اس کے باوجود نعرہ¿ تکبیر کی گونج ،اس کی آواز کو بھی دبادیتی تھی۔ آج قانون امتناع مدح صحابہ کے خلاف سول نا فرمانی کرتے ہوئے 378/ مسلمان گرفتار ہوئے اور تقریباًپانچ سو رضا کاروں کے نام درج رجسٹرڈ نہیں ہو سکے تھے، اس لیے ان کو روک دیا گیا ہے۔
مسجد ٹیلہ پرآج بارہ بجے ہی سے مسلمان جوق درجوق آنا شروع ہو گئے تھے اور ایک بجے تک مسجد کے ارد گرد کہیں کوئی جگہ خالی نہیں باقی رہی۔ ٹرافک کو ایک فرلانگ کے فاصلہ سے روک دیا گیا؛ کیوںکہ آدمیوں کے سوا کہیں کوئی جگہ خالی نہیں باقی رہی تھی۔ سڑکوں پر بھی ایک فرلانگ تک ایک میلہ لگا ہوا نظرآتا تھا؛لیکن باوجود اس قدر زبر دست اجتماع کے اس کو نہایت عمدگی سے منظم رکھاگیا تھا ۔سڑک کے کنارے کنارے احراری رضا کار لوگوں کو ایک ہی حیثیت سے رہنے کی ہدایت کر رہے تھے۔ اور نظم پر پورا قا بو حاصل تھا۔ ذمہ دار افسران اور پولیس کافی تعداد میں سڑک کے کنارے موجود تھی۔اور پولیس کی لاریاں متعدد سڑکوں پر موجود تھیں۔
نماز جمعہ کے بعد جلسہ کا آغاز ہوا اورجلسہ کی صدارت مولانا سجاد صاحبؒ نے کی۔
امیر شریعت نے بحیثیت صدر جلسہ مدح کی تاریخی اور مذہبی اور شرعی حق کی حیثیت سے تبصرہ کرتے ہوئے قانون انتہائے مدح صحابہ کو ایک ظلم اور نا انصافی بتایا۔
شیخ الاسلام مولانامدنی کی ولولہ انگیز تقریر
شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی نعرہ¿ تکبیر کی گونج میں تقریر کرنے کھڑے ہوئے۔ آپ نے فرمایاکہ حکومت کو اب آنکھیں کھولنا چاہیے اور اس کوبے ہوش نہ ہونا چاہیے۔ اب یہ تحریک صرف لکھنو کی تحریک نہیں ہے؛ بلکہ یہ آل انڈیا تحریک ہے اور ہندستان کے گوشہ گوشہ میں اس تحریک کی آگ پھیل رہی ہے اور تمام صوبہ جاتی حکومتوں میںبھی یہی ہوگا اور ہر جگہ کے مسلمان اس تحریک میں حصہ لینے کے واسطے اور قربانی پیش کرنے کے واسطے تیار ہیں۔ آپ نے کہا کہ یہی نہیں؛ بلکہ تمام ایسے قو انین کے خلاف سول نافرمانی کی جائے گی، جس کے ماتحت مسلمانوں کے شرعی اور مذہبی حق کو تباہ کر رکھا ہے۔
آپ نے فرمایا کہ میں اتنے عرصہ تک یہاں سے غیر حاضر رہا ہوں؛ لیکن یہ سمجھنا چاہیے کہ میں غیر حاضر رہا، اسی سلسلہ میں کام کرتا رہا ہوں۔ جمعیت علمائے ہند کے پلیٹ فارم سے، مجلس احرار کے پلیٹ فارم سے تحریک کے سلسلہ میں تجاویز پاس کی گئیں اور اس کے علاوہ بھی میں برابر اس کام کے واسطے مصروف رہا اور ایک منٹ بھی اس سے غافل نہیں رہا ہوں۔
مجلس تحفظ ناموس صحابہ کا اعلان
آخر میں آپ نے حکومت کو متنبہ کیا کہ وہ جلد از جلد اس قانون کو منسوخ کر دے۔ اس کے بعد مجلس تحفظ ناموس صحابہ کی طرف سے جلسہ میں مسلمانوں کو ایک اعلان سنایا گیا اور جس میں اس کے سلسلہ میں جو مطالبات ہیں، ان کو پیش کیا گیا، جو حسب ذیل ہیں:
’’مجلس تحفظ ناموس صحابہ، جو اٹھائیس برس کی الجھی ہوئی گتھی کو سلجھانے اور امتناع مدح صحابہ کالعنتی قانون کو توڑنے کے لیے ملک کے نوکروڑ مسلمانوں کی طرف سے عموماً اور اٹھاسی ہزارسنیان لکھنو کی جانب سے خصوصاً بحیثیت ایک نمائندہ اور با وقار جماعت ہونے کے اپنے بے شمار وفادار رضا کاروں کی واقفیت اور آگاہی کے لیے اعلان کرتی ہے کہ ہم سول نافرمانی کی پر امن جنگ کو اس وقت تک ملتوی نہ کریں گے، جب تک حکومت ہمارے تمام مطالبات کو منظور کر کے ان پربلاقید وقت و مقام استعمال کرنے کا موقع نہ دے دے۔ ہمارے مطالبات کا خلاصہ یہ ہے:
حکومت وہ اپنا لعنتی ریزولیوشنõجس کی رو سے مدح صحابہ کے متعلق ممانعت کی جاتی ہےõ قطعا منسوخ کردے اور سنیوں کو عام اجازت دے دے کہ وہ بلاقید وقت و مقام جلسہ میں ،یا جلوس میں، عام گزرگاہوں اور پبلک مقامات پر جہاں چاہیں، نظم و نثر میں مدح صحابہ پڑھ سکتے ہیں اور کر سکتے ہیں۔ اگر حکومت ہمارے ان مطالبات کو منظور کر کے سنیوں کو ان کا غصب کیا حق بلا شرط واپس کر دے، توخیر؛ورنہ اب تک تو مجلس نے صرف چھ سو رضا کاروں سے جیل خانہ کو آباد کیا ہے، حکومت کے ذمہ داروں کو یقین رکھنا چاہے کہ ہم لعنتی قانون سے آزادی حاصل کرنے کے لیے نہ صرف ساری یو پی کو دنیا کا ایک عظیم الشان جیل خانہ بنادینے کا عزم مصم کر چکے ہیں؛ بلکہ اس کے عوض میں مجلس اپنے رضا کاروں کا قیمتی خون بھی اس قربان گاہ پر بھینٹ چڑھانے کے لیے آمادہ وتیار ہے۔ بہرحال کھلے الفاظ میں ہم نے اپنے تمام مطالبات پیش کر دیے۔ اس کے سوا اگر حکومت نے اس میں ایک حرف کی بھی ترمیم چاہی، یا کسی اور پارٹی سے میثاق صلح منظور کر لیا، تو وہ چیز ہماری مجلس کے لیے کسی طرح قابل قبول نہ ہوگی، جس کے تمام رضا کار پورے جوش کے ساتھ اپنی بے نظیر قربانیوں کا سلسلہ جاری رکھیں، ان شائ اللہ ان کا یہ ایثار اور مخلصانہ نظام کار دنیا ئے مظلومیت میں رنگین حروف میں لکھا جائے گا۔
اس اعلان کے بعد مسجد سے جتھے روانہ ہونے شروع ہوئے اورجتھے مسلسل نکل رہے تھے، یہاں تک کہ اکثر اوقات میں پولیس کی لاریاں کم پڑ جاتی تھیں اور تقاضا کیا جاتا تھا کہ ان کو جلد گرفتار کر کے روانہ کیجیے۔
چنانچہ فورا ہی اور لاریوں کا انتظام کیا گیا او ر ہر ہر لمحہ نعرہ¿ تکبیر اور نعرہ¿ مستانہ کی صدا¶ں سے فضاگونج جاتی تھی۔ اس طرح شام تک378 رضا کار گرفتار ہوئے اور ہر مرتبہ مجمع کے سیکڑوں آدمی بار بار اس بات کی کوشش کر رہے تھے کہ وہ ایک ساتھ جلوس کی صورت میں مدح صحابہ پڑھتے ہوئے چلیں؛ لیکن ان کو روکا جارہا تھا اور ہر حالت میں مجمع کو پر امن و پرسکون رکھنے کی زبردست کوشش کی گئی۔
مجلس احرار کے پرجوش اور سرخ پوش رضا کا ر
ان گرفتار شدگان میں مجلس احرار کے سرخ پوش رضا کار بھی شامل تھے، جن کی تعداد 98 تھی اور باقی افرادمجلس تحفظ ناموس صحابہ کی طرف سے جیل گئے اور یہ سلسلہ شام کے ساڑھے پانچ بجے تک قائم رہا۔ مسٹر جے ایم چارلس سٹی مجسٹریٹ، مسٹر ایجنسی بیر پرشاد سٹی ڈپٹی سپرنڈنٹ پولیس، خان بہادر، رحمان بخش قادری موقع پر موجود تھے اور متعدد سب انسپکٹران اور پولیس سوار بھی موجود تھی۔ مجلس احراراور مجلس تحفظ صحابہ کے رضا کار مجمع پر قابورکھنے اور ان کو پورے قاعدہ اور نظم رکھنے میں پوری کوشش کر رہے تھے اور ان کی کوشش کامیاب بھی تھی۔ مجلس احرار کی طرف سے اطلاع ملی ہے کہ سرخ پوش احرار جو آج سول نافرمانی میں شریک تھے اور مدح صحابہ پڑھ کر گرفتار ہوئے تھے،کانپور کا آمدہ ایک جتھاõ جو سرخ پوش رضاکاروں پر مشتمل تھاõ احمد بیگ صاحب کی قیادت میں گرفتار ہوا۔ چوںکہ احرار کیمپ میں سرخ قمیضیں ناکافی تھیں، اس لیے بہت سے رضا کاروں کو سرخ جھنڈہ لے کر روانہ کیا گیا اور جب سرخ جھنڈ ے بھی نہ ر ہے، تو ان کو روک لیا گیا۔ احرار کے ذمہ داروں میں حافظ مشتاق احمد، مسٹر وصی احمد، مولانا ابو القاسم، مسٹر تاج الدین، مولانا محمد اسماعیل ایم ایل اے وغیرہ موجود تھے۔
طول و عرض ہند میں تحریک کی گونج
یہ بھی اطلاع ملی ہے کہ لکھنو احرار کیمپ میں بریلی، بالاولی اور کانپور کے جتھے پہنچ گئے ہیں اور تار کے ذریعہ اطلاع ملی ہے کہ صاحب زادہ محمود علی خان رئیس سہارنپور سے ایک جتھا بن کر کل صبح دہرادون اکسپریس سے لکھنو پہنچ رہا ہے۔ ایک اور تار موصول ہواہے کہ آگرہ کا ایک جتھا کل صبح لکھنو پہنچ رہا ہے ۔ مجلس احرار دہلی کی طرف پینتالیس رضا کار سرخ پوشوں کا ایک جتھا لکھنو احرار کیمپ کے لیے روانہ ہوئے تھے، ان کو وہیں گرفتار کر لیا گیا۔ مولانا عطائ اللہ شاہ بخاری، مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی بھی عنقریب لکھنو پہنچ رہے ہیں اور اسی سلسلہ میں یہ بھی بتایا گیاہے کہ آئند ہ 20/مارچ کو مسجد ٹیلہ پرمجلس احرار کی طرف سے ایک جلسہ¿ عام مسلمانوںکا ہوگا، جس میں تمام بیرونی جتھے بھی گرفتار ہوں گے اور وہیں سول نا فرمانی ہوگی۔(سہ روزہ الجمعیۃ،28/مارچ1939ئ)
عاشقان صحابہ کی محیر العقول قربانیاں
24/مارچ 1939ئ کو مدح صحابہ ایجی ٹیشن کا اکتیسواں دن تھا۔ مجلس تحفظ ناموس صحابہ کی جانب سے حسب اعلان ایک عظیم الشان جلسہ ٹیلہ پیر محمد شاہ صاحب زیر صدارت حضرت امیر الہند مولانا سید حسین احمد صاحب مدنی ( قائد اعظم تحریک مدح صحابہ)منعقد ہوا۔ جلسہ کے تمام انتظامات ایک دن پہلے ہی مکمل ہوچکے تھے۔ مجمع پر قابو پانے کے لیے ہر چہار طرف سے پوری حد بندی کر دی گئی؛ مجاہدین ورضا کاران کے قیام اور دفتر کے لیے متعددوسیع کیمپ قائم کیے گئے تھے۔ خواتین کی نشست گاہ اور پردہ کا خاص انتظام تھا۔
مجاہدین اور تمام مہمانوں کے طعام کا انتظام بذریعہ ٹکٹ کے ایک علاحدہ کیمپ میں کیا گیا تھا۔ پورے جلسہ گاہ اور مسجد کے اوپر ہر ہر گوشہ میں مجلس تحفظ ناموس صحابہ رضی اللہ عنہم اور احرار اسلام کے چھوٹے بڑے پرچم لہرار ہے تھے۔ مجاہدین کے قیام گاہ میں تمام مقامات کی نام بنام تختیاں لگائی گئی تھیں۔ دوسو سے زائد والینٹر رضا کارانہ خدمات کے لیے مامور تھے۔ جلسہ گاہ میں تقریباً دس ہی بجے سے چہل پہل نظر آرہی تھی۔ شہرسے ٹیلہ تک آنے والوں کے تانتے بندھے ہوئے تھے۔
عام طور پریہ اندازہ کیا جارہا ہے کہ آج تک اس کی تاریخ میں ایسا عظیم الشان اور منظم اجتماع کبھی دیکھنے میں نہیں آیا اور نہ اس قسم کی تحریکات میں بیک وقت اتنی گرفتاریاں عمل میں آئیں۔ مسلمانوںنے چند گھنٹوں میں صدہا قربانیاں پیش کر کے دنیا کے اندر ایک تاریخی ریکارڈ قائم کر دیا۔ آج کے اجلاس میں ملک کے مشاہیر علما نے شرکت فرمائی، جن میں سے مولانا ابوالمحاسن مولانا محمد سجاد صاحب نائب امیر شریعت، مولانا منظور احمد صاحب نعمانی، مولانا عبد الحلیم صاحب صدیقی خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
بعد نماز جمعہ جلسہ کی کارروائی شروع ہوئی۔ تلاوت کلام پاک کے بعد جناب صدر نے نہایت مختصر تقریر کی۔ آپ نے مسلمانوں کو وقت اور مذہب کے اس اہم فریضہ اور اسلامی ذمہ داری کی طرف پرزور الفاظ میں توجہ دلائی۔ دوران تقریر میں آپ نے مسلمانان لکھنو کے بڑھتے ہوئے جوش کو دیکھ کر ان کی خدمت میں تمام اسلامیان ہند کی جانب سے ہدیہ¿ تبریک پیش کیا۔ نیز ان بیرونی مجاہدین کا بھی شکریہ ادا کیا، جو اس فریضہ میں نہایت دل چسپی سے حصہ لے رہے ہیں اور تمام مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ نہایت پر امن طریقہ پر اس جنگ کو جاری یکھیں۔
آپ کے بعد مولانا منظور احمد صاحب نعمانی اور مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی ڈکٹیٹر پنجم نے بھی تقریریں کیں۔ آج کی نظموں میں اثر صاحب زبیری کی اور حاجی حمید صاحب کی نظمیں بہت زیادہ پسند کی گئیں۔ حمید صاحب کی نظم پر باربار نعرہ¿ تحسین اورنعرہ¿ تکبیر بلند ہورہے تھے۔ تقریباً تین بجے سے گرفتاریاں شروع ہوئیں اور چھ بجے تک برا بر سلسلہ رہا۔ آج کی گرفتاریوں کی صحیح تعداد (571) ہے، جن میں (483)مجلس تحفظ ناموس صحابہ کے پلیٹ فارم سے ہیں اوربقیہ مجلس احرار کے پلیٹ فارم سے۔ مجلس احرار کے(38) لڑکوں کو کو توالی کے دروازے پر رہا کر دیا گیا۔ اس مرتبہ ہماری مجلس کی طرف سے اس کا خاص لحاظ رکھا گیا تھا کہ سولہ سال سے کم عمر والے بچوں کے نام درج نہ کیے جائیں اور ان کو قطعاً جانے کی اجازت نہ دی جائے۔ جلسہ گاہ میں بھی بار بار اس کا اعلان بذریعہ لا¶ڈ اسپیکر کیا جاتا رہا، چنانچہ رضا کاران اور محرران نے نہایت سختی سے اس پر عمل کیا اور سیکڑوں لڑکوں کو واپس کر دیا۔
آج حسب ذیل مقامات :بمبئی، کان پور، بریلی، سہارنپور،فیض آباد، سلطان پور، جون پور،غازی پور،مئو اعظم گڑہ، بھاگلپور (بہار)، امر وہہ، مبارکپور، پرتاب گڑھ ، ہلدور،ملیح آباد،گونڈہ، نان پارہ، مظفر نگر، خالص پور کے مجاہدین نے اپنی قربانیاں پیش کیں۔ اور سب سے زیادہ بڑی تعداد میں لکھنو کے مسلمانوں نے حصہ لیا اور گرفتارہوئے۔ بمبئی کا جتھہ وہاں کے بڑے بڑے àپر مشتمل تھا، اس لیے وہ خاص طور پر قابل شکر یہ ہے کہ انھوں نے تمام کاروبار کو چھوڑ کر اسلامی ہمدردی کو کا ثبوت دیا۔ آج کے تمام جتھوں کی قیادت حسب الحکم عبد الحلیم صاحب فاروقی (فاضل دیوبند) ڈکٹیٹر پنجم ،قاری عبد العزیز صاحب بریلوی نے فرمائی۔ اور آج کے جمعہ میں مدح صحابہ کو پڑھتے ہوئے اپنے کو گرفتاری کے لیے پیش کیا۔
ابھی ابھی بذریعہ ٹیلیگرام معلوم ہوا ہے کہ بمبئی کا دوسراجتھہ بھی روانہ ہو چکا ہے۔ امروہہ اور مظفر نگر سے بھی رضا کار آرہے ہیں ۔(سہ روزہ الجمعیۃ،یکم اپریل 1939ئ)
یوم مدح صحابہ منانے کی اپیل
تحریک کے قائد حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے 21/مارچ 1939ئ کو درج ذیل اپیل کی:
31/مارچ1939ئ مطابق 9/صفر(1358ھ) کو مسلمانوں کو چاہیے کہ بعد نماز جمعہ جلسہ کریں اوراس میں یوپی گورنمنٹ کے اس فعل پر کہ اس نے مسلمانوں کے مذہبی،انسانی، شہری حق مدح صحابہ میں جائز مداخلت کر کے ان کے صحیح جذبات کو نا قابل برداشت ٹھیس لگائی ہے، جس کی وجہ سے ہزاروں مسلمان جیل کی کوٹھریوں میں قید ہوچکے ہیں، صدائے احتجاج بلند کریں اور مطالبہ کریں کہ وہ جلد از جلد مدح صحابہ کے جلسوں اور جلوسوں پرسے ہر قسم کی پابندیاں اٹھائے اور جس طرح دوسری اقوام اور مذاہب کے لیے آزادی ہے کہ وہ اپنے پیشوا¶ں کے جلسے اور جلوس پبلک مقامات پر عمل میں لا سکتے ہیں، اسی طرح سینیوں کا عملی حق تسلیم کرے اور جاری کرادے۔ اور اگر کوئی شخص، یا قوم سنیوں کو اس حق پر عمل کرنے سے روکے، تو اس کو قرار واقعی سزا دے۔ اور ان مجاہدین ملت کو مبارک باد دیں، جنھوں نے ملت اور مذہب اورحق قومی کے لیے اپنے آرام وراحت چھوڑتے ہوئے قانون شکنی اور سول نافرمانی اختیار فرمائی ہے اور اسی طرح ان کے اعزہ واقارب کو بھی اس کی مبارک بادی پیش کریں۔ نیز اس سلسلے میں جس قدر بھی اعانت مالی،یا بدنی ممکن ہو، مجلس تحفظ ناموس صحابہ لکھنو اور مجلس احرار اسلام امین آباد کو پہنچائیں۔ ریز ولیوشنوں کی نقلیں اخبار وں میں بھیجی جائیں اور ایک ایک نقل گاندھی جی،دشیو گاواں ضلع واردھا، پنڈت جواہرلال نہرو آنندبھون الٰہ آباد، بابو سبھاش چندر بوس(کلکتہ)اور وزیر اعظم یوپی لکھنو، مولانا ابوالکام آزاد (نمبر ۹۱، بی گنج، سرکلر روڈ کلکتہ )کو بذریعہ ڈاک بھیجی جائیں۔ کسی کوتار ہر گز نہ دیں۔ اس تاریخ کا ہر جگہ زائد سے زائد سول نافرمانی کے لیے رضاکار بھرتی کیے جائیں۔
ننگ اسلاف حسین احمد غفر لہ۔ 28/محرم الحرام1358ھ۔
(سہ روزہ الجمعیۃ،یکم اپریل 1939ئ)
تحریک مدح صحابہ کی تحریک ختم کرنے کا اعلان
چنانچہ 31/مارچ 1939ئ کوپورے ہندستان میں پورے جوش و خروش کے ساتھ یوم مدح صحابہ منایا گیا۔ (سہ روزہ الجمعیۃ، یکم اپریل 1939ئ ) ۔
اس تحریک کا اثر یہ ہوا کہ حکومت یوپی نے سنیوں کے مطالبات کو منظور کرلیے،اور 31/ مارچ 1939ئ کو ایک کمیونک شائع کیا، جس کا متن آگے درج ہے، جس کی وجہ سے اس تحریک کو بند کرنے کا اعلان کیا گیا۔
31/مارچ 1939ئ کو شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی صاحب نے اعلان کیا ہے کہ حکومت نے سنیوں کے مطالبات منظور کرلیے ہیں، اور تحریک مدح صحابہ کامیابی کے ساتھ ختم کردی گئی ہے، اس لیے اب کسی جگہ سے سول نافرمانی کرنے کے لیے جتھے نہ بھیجے جائیں۔
31/مارچ 1939ئ کو دو ہزار سے زائد گرفتاریوں کے بعد حکومت یوپی کو سنیوں کے مطالبات بالآ خرمنظور کرنے پڑے اور مدح صحابہ کے قضیہ کو سنیوں کے منشا کے مطابق طے کرنا پڑا۔اب لکھنومیں سول نافرمانی کے ختم کردینے کا اعلان شیخ الاسلام مولانا حسین احمد نے õجن کے ہاتھوں میں تحریک کی قیادت تھی õکر دیا ہے۔
حکومت کی طرف سے حسب ذیل بیان شائع ہوا ہے:
حکومت نے گذشتہ نومبر میں اپنے بیان کے دوران میں لکھا تھا کہ سنی اپنے گھروں، مسجدوں اور میلاد شریف کے موقع پر مدح صحابہ بغیر کسی مداخلت کے پڑھ سکتے ہیں۔ جو کچھ طے ہونا باقی رہ گیا تھا، وہ یہ تھا کہ حکومت سنیوں کو کسی عام جلسہ، یا جلوس میں مدح صحابہ پڑھنے کی اجازت دے۔ اس کے متعلق حکومت نے یہ کہا تھا کہ حکومت ایسا کرنے کا ارادہ رکھتی ہے؛ لیکن چوںکہ شیعوں اور سنیوں کے ساتھ بات چیت ہورہی تھی، اس لیے حکومت کے لیے اپنا فیصلہ دینا مناسب نہیں تھا ،اس وقت سے حکومت کی توجہ اس مسئلہ کی جانب لگی ہوئی تھی؛ کیوںکہ ایک طرف تو لکھنو کی غیر تسلی بخش اور مخدوش فضاتھی۔ اور دوسرے حکومت یہ چاہتی تھی کہ سنیوں اور شیعوں ہی میںباہمی فیصلہ ہو جائے، اس لیے حکومت نے اپنے فیصلہ کا اعلان نہیں کیا تھا۔
گذشتہ نومبر میں حکومت نے جو بیان شائع کیا تھا، اس کے سلسلے میں حکومت اعلان کرتی ہے کہ سنیوں کو بارہ وفات کے روز ہر سال ایک عام جلسہ اور جلوس میںمدح صحابہ پڑھنے کا موقع دیا جائے گا؛ لیکن اس کے ساتھ یہ شرط ہوگی کہ وقت، جگہ اور راستہ ضلع حکام مقررکریں گے۔
محمد اسماعیل ممبر اسمبلی پریسیڈنٹ مجلس احرار نے 29/ مارچ کو وزیر اعظم کو ایک چٹھی لکھی تھی، جس کا وزیر اعظم کی طرف سے 30/ مارچ کو جواب دیا گیا تھا۔ وزیر اعظم نے چٹھی کے جواب میں مذکور ہ سر کا ری بیان کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ سر کا ری بیان سے آپ کو اصلی پوزیشن معلوم ہو جائے گی؛ لیکن میں یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اگر سنیوں نے تحریک سول نافرمانی بند نہ کی، تو حکومت سنیوں کو مدح صحابہ پڑھنے کی اجازت دینے کے متعلق اپنے فیصلہ کو عملی جامہ پہنانے سے قاصر رہے گی۔ یہ تحریک قطعی غیر ضروری طور پر شروع کی گئی تھی؛ کیوںکہ حکومت پہلے ہی یہ ارادہ ظاہر کر چکی تھی کہ وہ اس معاملہ پر غور کر رہی ہے۔ (سہ روزہ الجمعیۃ، 5/اپریل1939ئ)
حضرت مفتی اعظم ہند کا اعلان
لیکن شیعہ حضرات اپنی مہم سے باز نہ آئے اور صحابہ¿ کرام کے خلاف تبرا بازی کرتے رہے۔ اس پر حضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے اعلان کیا کہ :
’’لکھنو میں شیعوں نے تبرابازی کی جو مہم شروع کر رکھی ہے، اس کو ذی عقل و صاحب بصیرت انسان بنظر استحسان نہیں دیکھ سکتا ۔ خلفائے ثلاثہ اور صحابہ¿ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کو سر بازار سب و شتم اور لعنت کرنا ،نہ صرف سنیوں کے لیے ناقابل برداشت ہے؛ بلکہ ہر منصف مزاج انسان کے نزدیک قابل نفرت حرکت ہے۔
یہ ہنگامہ قانون، اخلاق، انسانیت اور اسلام کی رو سے ناجائز اور مستحق نفریں ہے اور ملک کے امن و امان اور قومی وحدت کے حق میں سم قاتل ہے۔
میں اہل علم اور انصاف پسند شیعہ حضرات سے مخلصانہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس تحریک کے دور رس نتائج پر ٹھنڈے دل سے غور کریں اور اس ہنگامہ کو روکنے میں جلد از جلد اورکافی جدوجہد کام میں لائیں۔ اسلام اور تہذیب کے ایک بدیہی مسئلہ کو اس بیداری کے ساتھ پامال نہ کریں اور فتنہ و فساد کی آگ کو مشتعل ہونے سے قبل بجھا دیں۔‘‘
(سہ روزہ الجمعیۃ، 28/اپریل و یکم مئی 1939ئ)
مدح صحا بہؓ کے متعلق حکومت یوپی کا کمیونک
یوپی حکومت نے31/مارچ 1939ئ کو بارہ وفات کے موقع پر اہلِ سنت کو مدحِ صحابہ کے جلسے اور جلوس کی اجازت دینے کے حوالے سے درج ذیل کمیونک شائع کیا:
‘‘The Sunnis will in any circumstances be given the opportunity of reciting MadheõSahaba at a public meeting, and in a procession every year on the barawafat day subject to the condition that the time, place and route thereof shall be fixed by district authorities.’’
اہل سنت کو ہر صورت میں یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ ہر سال بارہ وفات کے دن کسی عوامی جلسے میں مدحِ صحابہ پڑھیں اور جلوس میں بھی اس کی تلاوت کریں، بشرطیکہ اس کا وقت، مقام اور راستہ ضلعی حکام مقرر کریں۔
اتر پردیش اسٹیٹ آرکائیوز، لکھن¶: فائل 113ß1939 (Public Information)۔
حضرت علامہ مولانا عبید اللہ صاحب سندھیؒ رکن منتظمہ جمعیت علمائے ہند کی صدارت میں جمعیت علما کیمجلس مرکزیہ کا ایک اہم اجلاس 27،28،29/ مئی 1939ئ کو منعقد ہوا،اس میں حکومت یوپی کے اس کمونک کے متعلق درج ذیل قرارداد منظور کی گئی:
’’ جمعیت علمائے ہند کی مجلس مرکز یہ کا یہ اجلاس مدح صحابہؓ کے متعلق صوبہ متحدہ کی حکومت کے کمیو نک مؤرخہ30/ مارچ1939ئ کو (درست تاریخ 31/مارچ ہے)õجو سنّیوں کے جائز اور مبنی بر انصاف مطالبات سے بہت کم ہے õمو جودہ حالات کے پیش نظر غنیمت سمجھتا ہے اور بہ نظر استحسان دیکھتا ہے۔ اور حکومت یوپی کو متنبہ کرتا ہے کہ وہ اس کمیونک کو õجو سنّیوں کے ایک مذہبی آئینی و شہری حق کے استعمال کی آخری حد ہےõ شیعوں کے امن سوز پروپیگنڈے سے مرعوب ہوکر تبدیل کرنے کی کوشش نہ کرے۔
جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس ان مسا عی کی پرز ور مذ مت کرتا ہے، جو بعض حلقوں کی طرف سے حکومت ہند اور حکومت بر طانیہ کو یہ باور کرانے کے لیے کی جارہی ہیں کہ مدح صحابہؓ سنّیوں کا اخلاقی و مذہبی و آئینی حق نہیں ہے اور یہ کہ تبرا اور مدح صحابہؓ کی حیثیت یکساں ہے۔ اگر حکومت ہند ،یا حکومت بر طانیہ کی طرف سے اقلیتوں کے حقوق کے نام پر سنّیوں کے اس مسلّمہ حق میں کوئی مداخلت کی گئی، تو مجلس مرکز یہ کی رائے میں اس کے نتائج نہایت دور رس اور تباہ کن ثابت ہوں گے۔
جمعیت مرکز یہ کا یہ اجلاس بعض مخصوص افراد اور جماعتوں کے اس گمراہ کن اور شرارت آمیز پرو پیگنڈہ کی پر زور تر دید کرتا ہے کہ مدح صحابہؓ کے ایجی ٹیشن میں حکومت یوپی کا ہاتھ ہے اور اس نے سنیوں کو اس مطا لبہ پرõ جو ایک عرصہ¿ دراز سے مسلسل پیش کیا جا رہا تھاõ آمادہ کیا ہے۔ اس قسم کا پر و پیگنڈہõ جیسا کہ ظاہر ہےõ حکومت یوپی کے خلاف نہیں ہے؛ بلکہ سنیوں کے ایک قدیم مطالبہ کے حصول کو خطرہ میں ڈالنے کے لیے ہے۔ اور اس کی ذمہ داری اسی جماعت پر عائد ہوتی ہے، جو سنّیوں کو اپنے حق کے استعمال سے ہر طرح سے روکنے کی کوشش کررہی ہے۔‘‘
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص/394)
شیعوں کے تبرا پر اظہار نفرت
جناب جاں بازمرزا صاحب لکھتے ہیں کہ:
مسلمانان لکھنو کی تحریک سول نافرمانی کے نتیجے میں حکومت یوپی نے اپنے فیصلے کے مطابق سنی مسلمانوں کو بارہ ربیع الاول کے موقع پر مدح صحابہ کرنے اور جلوس نکالنے کی اجازت دے دی تھی۔ اس پر شیعہ رہنماؤں نے تحریک تبرا شروع کردی اور اس کے لیے پنجاب سے شیعہ جتھے لکھنو پہنچنے لگے۔ یہ وسط مئی کا ذکر ہے۔ شہر میں شیعہ سنی فساد شروع ہوگیا ۔گھر گھر صف ماتم بچھ گئی۔یوپی کانگریس وزارت مسلمانوں کا یہ تماشہ دیکھتی رہی۔
(کاروان احرار، جلد چہارم، ص/130)
انھی حالات کے پیش نظر جمعیت علمائے ہند نے اپنی مجلس مرکزیہ منعقدہ: 27، 28، 29/ مئی 1939ئ میں درج ذیل تجویز منظور کرتے ہوئے اس پر نفرت کا اظہار کیا۔
جمعیت علمائے ہند کی مجلس مرکز یہ کا یہ اجلاس لکھنؤ میں شیعوں کی طرف سے تبرا ایجی ٹیشن کو انتہائی نفرت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اس خلاف آئین و انسانیت حرکت کو ملک کے امن کے لیے خطرہ¿ عظیم سمجھتا ہے۔ تبّرا کسی حالت میں ،کسی وقت بھی قابلِ برداشت نہیں ہے۔ نہ اس کو کوئی ذی فہم انسان ایک لمحہ کے لیے جائز قرار دے سکتا ہے۔ اس لیے یہ اجلاس حکومت سے پر زور طریق پر استد عا کرتا ہے کہ وہ اس ہنگامہ¿ شر و فساد کو جلد ازجلد ختم کر دے۔
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص/393)
تبرا کی وجہ سے شیعہ سنی فساد کا ہول ناک منظر
جناب جاں باز مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ:
’’ان ہول ناک اور خوں ریز دنوں میںõ جب کہ دنیا آگ کے دریا سے گزر رہی تھیõ خود ہندستان غیر ملکی جوا اتار پھینکنے میں مصروف تھا؛ لکھنو کے شیعہ سنی اپنی پرانی ڈگر پر گامزن تھے۔ صحابہ کرام ؓ پر تبرا شیعہ اپنا حق سمجھتے تھے۔ سنی صحابہ ؓ کی تعریف کرنا اپنا ایمان سمجھتے۔
کانگریس اور لیگی رہنماوں کے سمجھانے پر اثنا عشری اور دوسرے مسلمان اس حق سے دست بردار ہونے کو تیار نہیں تھے۔ بات بڑھتی گئی ، یہاں تک کہ شہر میں قتل و غارت شروع ہوگئی۔ اس فساد میں دونوں طرف سے کافی مسلمان مارے گئے۔ آخر 27/ مئی1940ئ کو عید میلاد کے موقع پر سنی مسلمانوں نے جلوس نکالنا چاہا، جس کی اجازت حکومت یوپی دے چکی تھی، اس پر بھی حکومت نے جلوس روکنے کی کوشش کی؛ لیکن سنی مسلمان اس پر آمادہ نہ ہوئے اور گرفتاریاں شروع ہوگئیں۔‘‘ (کاروان احرار، جلد چہارم، ص/388)
سُنّیوں سے اپیل
حالات کی انھی سنگینی کی بنیاد پر جمعیت علمائے ہند نے اپنی مجلس مرکزیہ منعقدہ: 27، 28، 29/ مئی 1939ئ میں سنیوں سے ایک اپیل کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظورکی:
جمعیت علمائے ہند کی مجلس مرکزیہ کا یہ اجلاس سنّیوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ لکھنؤ کے شیعوں کے تبّرا ایجی ٹیشن سے اس درجہ متأثر نہ ہوں کہ لکھنؤ سے باہر کوئی صورت حال پیدا ہو جائے۔ اگرچہ شیعوں کا یہ اقدام نا قابلِ بر داشت ہے؛ تاہم ملک کا امن و امان بہرصورت قائم کرنا ان کا فرض ہے۔
سنّیوں کو صبر و سکون کے ساتھ اپنی اپنی جگہ دستور قدیم کے مطابق عمل پیرا ہوتے ہوئے حالات کا بغور ملا حظہ کرنا لازم ہے۔ اور تاو قتیکہ ذمہ دار علما اعلان نہ کریں؛ لکھنؤ سے باہر کوئی نئی صورت حالات پیدا نہ ہونے دینی چاہیے۔
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول،ص/393)
مدحِ صحابہؓ سنیوں کا مذہبی حق ہے
اس کے بعد جمعیت علما کا بارھواں اجلاس عام7،8،9/ جون1940ئ کو حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہند کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں جمعیت علمائے ہند نے فیصلہ کیا کہ:
’’جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس اس امر کا اعلان ضروری سمجھتا ہے کہ لکھنومیں مدحِ صحابہؓ کی تحریک سنّیوں کی تیس سالہ تحریک ہے، جو وہ اپنے ایک مذہبی اور شہری حق کی تحصیل کے لیے جاری کیے ہوئے ہیں اور یہ کہ مسٹر گوپی ناتھ سری واستو نے اپنی کتاب ’’کانگریسی دورِ حکومت‘‘ میں بالکل غلط لکھا ہے کہ یہ تحریک سنّیوں نے کانگریسی حکومت کو مشکلات میں پھنسانے کے لیے جاری کی تھی۔
یہ اجلاس مدحِ صحابہؓ کے متعلق اپنی تجویز منظور شدہ اجلاس دہلی کی مکررتوثیق کرتا ہے کہ خلفائے راشدین اور صحابہ¿ کرام رضی اللہ عنہم کی علیٰ الاعلان مدح و ثنا کرنا سنّیوں کا مذہبی حق ہے ، وہ اس کو کسی حال میں چھوڑنے کے لیے تیار نہیں ہیں اور نہ اس پر کسی پابندی کو قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔
یہ اجلاس ان سنّی مسلمانوں کے رویہ پر دِلی افسوس کا اظہار کرتا ہے، جو معاملات سے واقفیت بہم پہنچانے سے پہلے شیعوں کے ناجائز اور خلافِ عقل و نقل رویّہ کی قولی، یا عملی تائید کرتے اور سنّیوں کے جائز اور مذہبی اور شہری حق کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
محرک: مولانا شاہد میاں فاخریؒ۔مؤید: مولانا محمد اسماعیل صاحب مرادÈبادیؒ۔
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص/426)
مظالم شیعہ کی تحقیقات کے لیے وفد کی تشکیل
20، 21/ اپریل 1941ئ کو مجلس عاملہ کی میٹنگ میں ریاست محمود آباد میں راجہ محمود آباد کی زیر سر پرستی شیعوں نے جو مظالم مسلمانوں پر کیے تھے، ان کی تحقیقات کے لیے مولوی محمد احمد صاحب کا ظمیؒ ایم ایل اے مرکزی اور جناب ڈاکٹر عبد العلی صاحبؒ ناظم ندوۃ العلمائ لکھنو پر مشتمل ایک کمیٹی مقرر کی گئی۔اور ان دونوں کو اختیار دیا گیا کہ وہ اگر چاہیں، تو ایک ممبر کا اضافہ کرلیں۔
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص/456)
شیعان لکھنو کی طرف داری پر گورنر یوپی کو تار
22/ اپریل 1941ئ کو لکھنو کے مخصوص حالات کے تناظر میں حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ صدر جمعیت علمائے ہند نے درج ذیل تار گورنر صوبہ یو پی کے نام ارسال کیا:
’’ لکھنو کے مقامی حکام نے شیعوں کو ایک مقابل جلوس کی اجازت دے کر اور سنیوں کو ان کے قانونی حق سے محروم کر کے جو غلطی کی ہے، یہ امن کے لیے سخت خطرناک ہے۔برائے کرم فورا مداخلت کیجیے اور شیعوں کے مقابل جلوس کی اجازت منسوخ کیجیے۔
(ریکارڈ روم جمعیت علمائے ہند/مرکزی کارروائی /1941ئ)
تحریک مدح صحابہؓ کے متعلق ایک بیان مرتب کرنے کا فیصلہ
جمعیت علما کی مجلس عا ملہ کا ایک اجلاس : 25/ جون1941 ئ کو ہوا، جس میں مدح صحابہؓ کے متعلق مجلس عاملہ منعقدہ بجنور(بتاریخ:20-21/ اپریل 1941ئ ) کے فیصلہ (مظالم شیعہ کی تحقیقات کے لیے وفد کی تشکیل) کو بحال رکھا گیا۔ اور مزید طے پایا کہ ایک بیان مرتب کیا جائے، جس پر تحریک مدح صحابہؓ میں کام کرنے والی مختلف جماعتوں کے نمائندوں کے دستخط ہوں۔ اور’’ انجمن تحفظ نا موس صحابہؓ لکھنو‘‘کی زیر سرکردگی تحریک جاری اور باقی رکھی جائے اور اسی انجمن کی ذمہ داری پر تمام کام انجام پائیں۔
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اولد، ص/459)
ریاست محمود آباد میں نادر شاہی دور حکومت
اس فیصلے کے مطابق ریاست محمودآبادمیں شیعوں کے مظالم کی تحقیقات کے لیے ایک وفد بھیجا گیا، لیکن وہاں دفعہ 144/لگاکر وفد کو آنے کی اجازت نہیں دی گئی، جس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے 4/جولائی 1941ئ کو درج ذیل بیان شائع کیا گیا:
جمعیت علمائے ہند کے تمام ممبران پر دفعہ 144 لگا دی گئی۔ ریاست محمود آباد میں سنیوں پر شیعوں کی بے جا دست درازی اور تشدد کی خبر جمعیت علمائے ہندکومختلف ذریعے سے پہنچی، جس کو نظر انداز نہیں کر سکتی تھی، تاہم جمعیت علما نے احتیاطی پہلو کو اختیار کیا اور اپنے جلسہ منعقدہ بجنور:20-21/ اپریل 1941ئ میں اس نے تجویز پاس کی کہ اس سلسلے میں بیان کردہ واقعات کی تحقیقات کرا لی جائے ،اس کے بعد مناسب اقدام کیا جائے۔ انصاف و عقل و آئین کے مطابق یہ راستہ درست راستہ تھا۔ جمعیت علما نے تحقیقاتی کمیشن کے منتخب کرنے میں بھی اس قدر صحیح طرز عمل ظاہر کیاکہ اس سے زیادہ متوقع نہیں۔ مولانا احمد صاحب کاظمی ایڈوکیٹ الہ آباد اور ممبر مرکزی اسمبلی جیسے ذمہ دار بزرگوں کورکن وفد مقرر کیا اور مولانا شاہد میاں صاحب فاخری الہ آبادی کو،جو فرقہ وارانہ معاملات میں اتفاق و اتحاد پیدا کرنے کے لیے ہمیشہ ساعی رہتے ہیں اور مولانا محمد شعیب صاحب وکیل رائے بریلی کو رفیق اور رکن وفد مقرر کیا۔ ان تینوں حضرات کی طرف سے کسی ایسی بات کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا، جو نقض امن کی موجب ہو، یا جس سے فضا کی تلخی زیادہ بڑھے۔ سیتاپور کے سب ڈویژنل مجسٹریٹ درجہ¿ اول سدھولی õجن کو تحقیقاتی کمیشن کے ارکان کے اسمائے گرامی اور ان کے مقصد سے اطلاع کر دیا گیا تھاõ نے جمعیت علماکی اس محتاط اور مناسب کارروائی کے ساتھ جو پالیسی اختیار کی، اس کی معقولیت پر ہر منصف مزاج شہری کو تعجب اور حیرت سے انگشت بدنداں ہے۔ مجسٹریٹ صاحب نے فورا àکے تحت نوٹس جاری کر دیا کہ چوںکہ عرصہ سے قصبہ محمود آباد میں شیعہ سنی سے ماحول خراب ہے، اس لیے موجودہ فضا میں کسی قسم کی تحقیقات ہونے سے نقض امن کا خطرہ ہے اور میں ان اختیارات کے ماتحت õجو مجھے سب ڈویژنل مجسٹریٹ کی حیثیت سے حاصل ہےõ حکم دیتا ہوں کہ نہ صرف ارکان کمیشن ؛بلکہ جمعیت علمائے ہند کا کوئی ممبر محمود آباد میں؛ بلکہ اس کے آس پاس پانچ میل تک علاقے میں داخل نہ ہو۔ یہ حکم دو ماہ تک جاری رہے گا۔
مولانا محمد احمد صاحب قاظمی پر اس نوٹس کی تعمیل الٰہ آباد میں کرائی گئی اور مولانا شاہد صاحب فاخری الٰہ آبادیõ جو محمود آباد پہنچ گئے تھےõ ان کو بارہ گھنٹے کے اندر وہاں سے نکل جانے کا حکم دے دیا گیا۔
عدم تشدد اور غیر معقول پالیسی کا صحیح جواب یہی تھا کہ دفعہ 144 àآزادی کا ہنگامہ قائم کر دیا جاتا؛ مگر جمعیت علما تحقیقات واقعات پر اس قسم کی بے چینی پیدا کرنے کو مناسب نہیں سمجھتی، تاہم وہ اپنے نقطہ¿ نظر سے ہٹنے اور مجسٹریٹ صاحب کے بے بنیاد اندیشہ¿ نقض امن کی بنا پر تحقیقات کو ملتوی کرنے اور سنیوں کو ان کے بیان کردہ مصیبتوں میں بے یار و مددگار چھوڑنے کے لیے تیار نہیں۔اس نے ارکان وفد کو ہدایت کر دی ہے کہ وہ پانچ میل سے باہر کسی مناسب جگہ قیام کر کے تحقیقات کریں اور یہ بھی پتہ لگائیں کہ مجسٹریٹ صاحب کا یہ نوٹس اور حکم بھی تو کہیں متمول اور تعلقہ دار اور حکام رس شیعوں کی ناجائز جنبہ داری پر مبنی نہیں ہے۔ مجسٹریٹ صاحب کے نوٹس میں صرف ارکان کمیشن ہی کو داخلہ¿ محمود آباد سے نہیں روکا گیا؛ بلکہ جمعیت علما کے ہزارہا ارکان میں سے ہر رکن پر محمود آباد کا داخلہ حرام قرار دے دیا گیا ہے، خواہ وہ داخلہ کی کسی تجارتی، معاشرتی، اقتصادی، علمی مقصد سے ہی کیوں نہ ہو۔ یہ نوٹس سیتاپور کے مجسٹریٹ کے نشہ¿ اقتدار کو جانچنے کا صحیح معیار ہے۔ اگر نوٹس میں صرف ارکان کمیشن پر بغرض تحقیقات داخل ہونے کے ممانعت ہوتی، تو اگرچہ یہ بے بنیاد خوف بھی نوٹس کی معقولیت کی دلیل نہیں بن سکتا تھا، تاہم مجسٹریٹ صاحب اپنے خوف کو اپنے نوٹس کے لیے عذر بنا سکتے تھے؛ مگر عموما تمام ارکان جمعیت علما پر مطلقاõ خواہ کسی مقصد اور غرض سے محمود آباد جاتے ہوõ پابندی عائد کردینا؛ یہ انھیں کے حاکمانہ دماغ کی خصوصیت ہے، جس کی نظیر بمشکل دستیاب ہو سکے گی۔
عبدالحلیم صدیقی ناظم جمعیت علمائے ہند دہلی۔(ریکارڈ روم جمعیت علمائے ہند)
مہاراجہ کشمیر کے نام صدر جمعیت کا تار
کشمیر سری نگر میں واقع خپلو سے شیعوں کی طرف سے صحابہ¿ کرام، ازواج مطہرات کی شان میں گستاخیوں اور اکثریت میں ہونے کی وجہ سے اقلیت میں پائے جانے والے سنی مسلمانوں پر حملے کے تسلسل کی خبر آنے پر، 4/نومبر1941ئ کو جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا حسین احمد مدنی ؒ نے مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ کے نام درج ذیل تار روانہ کیا:
’’ خپلو میں شیعوں نے وہاں کے شیعی جاگیردار کی حوصلہ افزائی پر ایک نہایت کو مشتعل کن نئی چیز ایجاد کی ہے اور غریب سنیوں پر عرصہ¿ زندگی تنگ کر دیا ہے۔ براہ رعیت پروری سنیوں کو شیعوں کے مظالم سے نجات دلائیے اور ان کی اشتعال انگیزی کا انسداد فرما کر غریب سنیوں کی دادرسی کیجیے۔ تمام ہندستان کے سنی آپ کے فیصلے کے بے چینی سے منتظر ہیں۔‘‘ حسین احمد صدر جمعیت علمائے ہند۔
اسی طرح ناظم جمعیت علمائے ہند مولانا عبدالحلیم صدیقی صاحب نے بھی مہاراجہ کے نام درج ذیل تار روانہ کیا:
ہز ہائی نس مہاراجہ کشمیر!وسط نومبر میں، میں نے جو تار خپلو میں سنیوں پر شیعہ مظالم کے متعلق جناب کی خدمت میں بھیجا تھا، اس کا جواب اب تک نہیں ملا۔ وہاں کے جاگیردار کی طرف سے سنیوں پر بے پناہ مظالم کی رپورٹ اب تک ا ٓرہی ہیں۔ مجھے آپ سے انصاف اور دادرسی کی توقع ہے اور امید ہے کہ ٓاپ یا تو ریاست کی طرف سے ایک ایسی تحقیقات کرائیںگے، جس پر کسی کا اثر نہ ہو، یا پھر ایک آزاد تحقیقات کی ہمیں اجازت دے کر اپنی مذہبی رواداری کا ثبوت دیںگے۔ برطانوی ہند کے سنی مسلمانوں کو امید ہے کہ آپ اس کی طرف ضرور توجہ کریںگے۔ برطانوی ہند کی دیگر اسلامی انجمنوں نے بھی آپ کی خدمت میں اسی قسم کے تار دیے ہیں؛ مگر ان کا بھی اب تک کوئی اثر نہیں ظاہر ہوا ہے۔ برائے کرم آپ جو فوری کاروائی اختیار کریں، اس سے مطلع فرمائیں اور جواب دے کر مسلمانوں کے بڑھتے اضطراب کوروکیں۔
عبدالحلیم صدیقی ناظم جمعیت علمائے ہند دہلی۔(ریکارڈ روم)
مدح صحابہؓ پر بندش حکومت کی غیر منصفانہ روش
جیسا کہ تفصیلات درج ہوچکی ہیں کہ28/مارچ 1938ئ کو جاری آل سوپ کمیٹی کی رپورٹ نے لکھنو میں مدحِ صحابہ پر سابقہ پابندی برقرار رکھنے کی سفارش کی، خصوصاً عزاداری کے دنوں میں۔اسی تناظر میں 31/مارچ 1939ئ کو یوپی حکومت نے اعلان کیا کہ اہلِ سنت کو بارہ وفات کے موقع پر عوامی جلسے اور جلوس میں مدحِ صحابہ پڑھنے کی اجازت ہوگی، بشرطیکہ وقت، مقام اور راستہ ضلعی حکام مقرر کریں۔
ان کوششوں کے باوجود شیعہ سنی تصادم نہیں روکا، تو ضلعی حکام نے عوامی مقامات پر جلسوں اور جلوسوں میں مدحِ صحابہ اور تبرّا پڑھنے پر پابندی عائد کر دی۔
جمعیت علمائے ہند کاچودھواں اجلاس عام،4تا7/ مئی 1945ئ کو منعقد ہوا، جس کی ایک تجویز میںحکومت یوپی کے رویہ کو غیر منصفانہ روش قرار دیتے ہوئے کہاگیا کہ:
جمعیت علمائے ہند کایہ اجلاس حکومت صوبہ جات متحدہ کی اس متشددانہ اور غیر منصفانہ روش پر شدید ناراضگی و ناپسندیدگی کا اظہار کرتا ہے، جو اس نے گذشتہ پانچ سال کے اندر لکھنو میں مدح صحابہؓ کی بندش کی صورت میں روا رکھی ہے۔ حکومت صوبہ نے جو وعدہ کیا تھا کہ خواہ حالات کچھ ہوں، لکھنؤ کے سنّیوں کو لازماًہر سال12/ ربیع الاول کو جلوس اور جلسہ¿ عام میں مدح صحابہؓ پڑھنے کا موقع دیا جائے گا، اس موثوق وعدہ کو کالعدم کردیا، بلکہ مقامی عمال کو اس امر کی اجازت دے دی کہ وہ گھروں تک میں صحابہ¿ کرام کی مدح و ثنا کو روک دیں۔
جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس حکومت صوبہ یوپی اور حکام لکھنوکی اس حرکت کو نہایت نفرت سے دیکھتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اس ناانصافی کو جلد ازجلد ختم کرکے مسلمانوں کو مطمئن کرے۔
محرک: مولانا محمد یاسین صاحبؒ۔مؤید:مولانا محمد عارف ربانیؒ میمن سنگھی۔
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص/518)
تحریک مدح صحابہ کے تیسرے دور کا آغاز
جناب جاں باز مرزا لکھتے ہیں کہ:
لکھنو میں مدح صحابہ پر پابندی بدستور قائم تھی اور سنی مسلمانوں کے قافلے اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ، احرار کی زیر ہدایت گرفتار ہو رہے تھے۔ انھی دنوں مولانا مظہر علی اظہر نے اپنے بڑے لڑکے قیصر مصطفے ایڈوکیٹ کو لاہور سے ایک قافلہ دے کر بھیجا کہ وہ لکھنو پہنچ کر مدح صحابہ پڑھیں (حالاںکہ وہ فقہ جعفریہ کے قائل تھے۔) یہ 18/ نومبر 1945ئ کا واقعہ ہے۔
قیصر مصطفے اپنے قافلے کے ساتھ لکھنو جاتے ہوئے سہارنپور پہنچے، تو ہزاروں مسلمانوں نے ان کا استقبال کیا اور جلوس نکالا۔ دوسرے دن لکھنو پہنچ کر مدح صحابہ کرتے ہوئے گرفتار ہو گئے۔
قیصر مصطفے کی گرفتاری سے اس تحریک نے خاصہ زور پکڑا، تو یوپی کے انگریز گورنر کو قانون میں ترمیم کرنی پڑی۔(کاروان احرار، جلد ششم، ص/380)
تحریک کے اس تیسرے دور کے بارے میں راقم کو بسیار تلاش کے باوجود مزید معلومات نہیں مل سکیں۔
مدح ِصحابہؓ کے متعلق حکومت یوپی کے رویے پر تشویش
اس کے بعد 9،10، 11/ مئی 1947ئ کو مجلس عاملہ مرکزیہ کا ہوا، جس میں حکومت یوپی کے سابقہ رویے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسی موقف کا اعادہ کیا گیا۔ تجویز میں کہا گیاکہ:
مرکزیہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس اس صورت حال کو õکہ حکومت یوپی نے مدح صحابہؓ کے متعلق یوپی کے عام قصبات اور شہروں کے خلاف لکھنو اور بعض خاص قصبات میں ایک جدا طرز عمل اختیار کر رکھا ہےõ سخت تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اور اس طرز عمل کو غیر معقول سمجھتا ہے کہ مذاہب کے تمام اکابر کی مدح پر õجب کہ عام شہری حقوق کے ماتحت اصولا کوئی پابندی عائد نہیں کی جاتیõ تو لکھنو اور بعض خاص قصبات میں مدح صحابہؓ پر یہ پابندی عائد کی جائے۔
اس لیے یہ اجلاس حکومت یوپی سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ لکھنو اور یوپی کے بعض دیگر قصبات اور شہروں کے متعلق اس سلسلہ میں وہ طرز عمل اختیار کرے ، جو یوپی کے عام شہروں اور قصبات میں اختیار کیے ہوئے ہے۔
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد او، ص/581)
لکھنو شیعہ سنی قضیہ
محرم کے جلوس کے پیش نظر25/جون 1997ئ کو لکھنو میں شیعہ سنی تصادم ہوا۔اسی تناظر میں، 1947ئ کے بعد جمعیت علمائے ہند کی تاریخ میں پھر لکھنو شیعہ سنی قضیہ کا تذکرہ 1997ئ میں ملتا ہے۔ اس کی مجلس عاملہ منعقدہ: 4،5/ اکتوبر1997ئ کے ایجنڈا نمبر (۹) دیگر امور باجازت صدر محترم پر گفتگو کرتے ہوئے مولانا عبدالعلیم فاروقی صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے لکھنو کے شیعہ سنی قضیہ کا پس منظر بیان کیا کہ شیعہ مقدمات ہارتے جارہے ہیں ، اس لیے وہ لکھنو میں ہنگامہ کر رہے ہیں۔ شیعہ اس بات پر بضد ہیں کہ ہم مدح صحابہؓ برداشت نہیں کرسکتے۔ وہاں کبھی بھی بڑا ہنگامہ ہوسکتا ہے ۔ خود ٹیلیفون پر مجھے دھمکیاں اور گالیاں دی جاتی ہیں۔ شیعوں نے میرے خلاف مغلظات سے بھرا ہوا انتہائی اشتعال انگیز پمفلٹ بھی تقسیم کیا ہے۔ مولانا فاروقی صاحب نے تجویز کیا کہ ملک کے دیگر مقامات پر بھی مدح صحابہؓ کانفرنس منعقد کی جائے اور صاف کہہ دیا جائے کہ ہم تبرا برداشت نہیں کرسکتے۔
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد چہارم، ص/337)
شیعہ سنی تنازعہ سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کی جائے
لکھن¶ میں 28/اپریل 1999ئ کو محرم کے جلوسوں کی تعداد اور اجازت کو لے کر شیعہ سنی اختلاف فرقہ وارانہ تشدد میں بدل گیا، جس میں میں تقریباً 40/افراد زخمی ہوئے۔
2/مئی 1999ئ کو جمعیت علمائے ہند کے مولانا اسعد مدنی صاحب ایک پریس بیان جاری کرکے لکھنو کے شیعہ سنی تنازع کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے اپیل کی کہ اس سے سیاسی فائدہ اٹھانے کی کوشش نہ کی جائے۔ انھوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ اس موقع سے فائدہ اٹھا کر شرپسندوں نے چھوٹے صنعت کاروں کی دکانوں اور ان کے کارخانوں کو تباہ کر دیا۔ انھوں نے مذہب کے نام پر اشتعال انگیزی کی سخت مذمت کی۔
مولانا مدنی نے کارگزار وزیر اعظم اٹل بہاری با جپئی، وزیر داخلہ لال کرشن ایڈوانی اور اتر پردیش کے وزیرا علیٰ کلیان سنگھ کے نام اپنے مراسلوں میں ان سے پر زور مطالبہ کیا ہے کہ شیعہ سنی تصادم سے ہونے والے نقصانات کی بھر پور تلافی کی جائے۔ متأثرین کو معقول معاوضہ ادا کیا جائے اور بے قصور گرفتار شدگان کو بلا شرط جلد از جلد رہا کیا جائے، تاکہ حالات فوری طور پر معمول پر آسکیں۔14-20/مئی 1999ئ)
شیعہ سنی فرقوں سے صبر و تحمل کی اپیل
اتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ کے قصبے مبارک پور میں 5/نومبر 2000ئ کی رات شیعہ سنی تشدد بھڑک اٹھا، جس میں کم از کم 11/افراد ہلاک اور 30/سے زائد زخمی ہوئے۔
17/نومبر2000ئ کو جمعیت علما کے صدر مولانا اسعد مدنی صاحب نے فساد زدہ مبارک پور کی حالت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے تکلیف دہ قرار دیا ہے۔ انھوں نے حالات کے بہتر نہ ہونے اور ازسرے نوکرفیو کے نفاذ کے لیے انتظامیہ اور فرقہ پرست طاقتوں کو ذمے دار قرار دیتے ہوئے ان کی سرگرمیوں کی سخت مذمت کی ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ شیعہ سنی تنازعہ کے بہانے سے مبارکپور کی اقتصادیات کو تباہ کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔ انھوں نے بی جے پی کے مقامی ایم پی کی سرگرمیوں کو مشتبہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ فضا کو مکدر کرکے، اپنے سیاسی مفادات حاصل کرنا چاہتا ہے۔ مولانا مدنی نے شیعہ سنی دونوں مسلک کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ فرقہ پرست اور اقلیت دشمن طاقتوں کی سازش کا شکارنہ ہوں، مسلکی اختلافات کی بنیاد پر قانون کو ہاتھ میں نہ لیں۔
(ہفت روزہ الجمعیۃ،یکم تا 7/دسمبر2000ئ)
لکھنو میں عاشورہ کے دن خوں ریز تصادم
20/فروری 2005ئ، بروز اتوار، یومِ عاشورا کے موقع پر لکھنو کا شیعہ سنی فساد بھڑک اٹھا۔فساد کی بنیادی وجہ محرم کے تعزیے کے جلوس کے راستے پر اختلاف تھا۔ جب جلوس سنی اکثریتی علاقے مفتی گنج سے گزرنے لگا، تو بعض افراد نے راستے اور مذہبی نعرے بازی پر اعتراض کیا، جس کے بعد پتھرا¶، فائرنگ اور دکانوں و مکانات کو آگ لگانے کے واقعات پیش آئے۔اس تشدد میں تین افراد ہلاک اور کم از کم 20/زخمی ہوئے۔ انتظامیہ نے متاثرہ علاقے میں کرفیو نافذ کر دیا۔
21/فروری 2005ئ کوصدر جمعیت علمائے ہند مولانا ارشد مدنی صاحب نے ایک پریس بیان میںاس خوںریز تصادم اور تشدد کوافسوس ناک اور قابل مذمت قرار دیا۔ تینوں شہید ہونے والے اور زخمی ایک طرف کے لوگ ہیں۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ دو طرفہ پتھرا¶ کا الزام لگانا کھلا ہوا جھوٹ ہے، یہ شرپسند عناصر کی کارستانیوں کا نتیجہ ہے۔
مولانا نے مطالبہ کیا کہ:
۱۔ غنڈہ گردی اور پتھرا¶ کرنے والوں کو فوراً گرفتار کیا جائے اور انھیں قرار واقعی سزا دی جائے۔
۲۔ اس واقعہ قتل و غارت گری کو دوطرفہ جھگڑا نہ بنایا جائے۔
۳۔ مقامی ایڈمنسٹریشن کی سرپرستی میں اس طرح کے قتل و غارت گری کے واقعات ان مقامات پر پہلے بھی متعدد بار ہوچکے ہیں۔ اس لیے ایسے پختہ انتظامات کیے جائیں کہ Èئندہ ایسے مذموم اور افسوس ناک پرتشدد واقعات نہ ہوں۔
(ہفت روزہ الجمعیۃ، 4-10/مارچ 2004ئ)
شیعہ سنی فساد پراظہار افسوس
ضلع مظفر نگر کے موضع بہاری کے متعلق30/اپریل2012ئ کو جمعیت علمائے ہند کے ایک پریس بیان میں شیعہ سنی فساد پر افسوس کا اظہار ملتا ہے۔ پریس بیان کا متن درج ذیل ہے:
شیعہ اور سنی مسلمانوں کے درمیان تعزیہ اور قبرستان کے قدیم تنازع کو لے کر موضع بہاری ضلع مظفر نگر میں کئی مرتبہ شدید جھگڑا ہوا، جس میں کئی افراد شدید طو رپر زخمی ہوئے۔ہر مرتبہ ضلع انتظامیہ اور دیگر معززافراد کی ثالثی سے دونوں فریق کے مابین تحریری فیصلہ ہوا؛ مگر ہر مرتبہ شیعہ حضرات کی جانب سے فیصلہ کی نافرمانی ہوئی اور ہر مرتبہ انھی کی جانب سے تنازع کی شروعات ہوئی، جس کے سبب 28/ اپریل2012ئ کو شیعہ حضرات کی جانب سے کچھ افراد نے منظم طریقے سے حملہ کردیا اور لاٹھی ڈنڈے اور گولیاں چلا کر آٹھ لوگوں کو زخمی کردیا۔ طرفہ تماشہ یہ کہ ضلع مظفر نگر شہر سیٹ سے ایم اے لے بن کر راجیہ سبھا منتری کا درجہ حاصل کرنے والے سپا لیڈر چترنجن سوروپ کی شیعہ طرف داری کی وجہ سے سیاسی دباؤ کے چلتے سنی حضرات کی ایف آئی آر تک درج نہیں کیا گیا۔ان تمام حالات کے مد نظر ناظم عمومی مولانا محمود مدنی صاحب 30/ اپریل 2012ئ کو فورا جائے حادثہ پر پہنچے اور حالات کے مکمل جائزے کے بعد وہاں کے ضلع انتظامیہ کے اعلیٰ افسران سے مطالبہ کیا کہ وہ غیر جانب داری سے کام لے کر گاؤں میں امن و امان کی فضا قائم رکھیں۔ مولانا مدنی نے دونوں فریقوں کو مشورہ دےتے ہوئے کہا کہ شیعہ سنی کے نام پر آپس میں لڑنا افسوس ناک بات ہے۔ دونوں فریقوں کو اگر کچھ نقصان بھی برداشت کرنا پڑے، پھر بھی آپس میں ہی اتحاد اور صلح کرلینی چاہیے۔ (ہفت روزہ الجمعیۃ،11-17/مئی 2012ئ)
مولانا حکیم الدین قاسمی کی ایک اہم اپیل
11/جون2025ئ کومرکزی دفتر جمعیت علمائے ہند کی مسجد عبدالنبی نئی دہلی میں جمعہ کے دن مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے عظمت صحابہ پر پرمغز خطاب فرمایا۔ اس کا پس منظر مولانا سلمان حسنی ندوی صاحب کی طرف سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی شان میں کی گئی گستاخی کا موضوع بحث بنا ہوا واقعہ تھا۔ اس لیے انھوں نے خطاب میں لوگوں سے اپیل کی کہ صحابہ¿ کرام کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو منھ توڑ جواب دینا چاہیے ۔
خلاصہ
تحریک مدح صحابہ اور جمعیت علمائے ہند
تاریخی پس منظر اور شیعہ سنی اختلافات کا آغاز
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی عظمت و محبت مسلمانوں کے دینی عقائد کا اہم حصہ ہے۔ ان کی مدح و ثنا اور ان کے احترام کے تحفظ کے سلسلے میں جمعیت علمائے ہند نے مختلف ادوار میں مذہبی، آئینی اور شہری حقوق کے لیے آواز اٹھائی، نیز فرقہ وارانہ کشیدگی کے موقع پر صلح، امن اور انصاف کی کوششیں بھی کیں۔
تحریک مدح صحابہ کے تاریخی پس منظر میں لکھن¶ کے محرم کے جلوسوں، مذہبی رسوم اور شیعہ سنی اختلافات کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ 1902ئ میں مقبول احمد رام پوری لکھن¶ آئے اور ان کے وعظ و تقریروں کے بعد اختلافا پیدا ہوئے، جس کی وجہ سے 1903ئ میں اہل سنت نے پھول کٹورا کے نام سے اپنی کربلا الگ قائم کی۔ 1905ئ میں تعزیوں کے جلوسوں سے متعلق پابندیوں پر اختلاف ہوا،جس کے باعث 1906ئ میں شیعہ اور سنی جلوس الگ الگ راستوں سے نکلنے لگے اورپھر بعد اسی وجہ سے 1908ئ میں لکھن¶ میں فساد ہوا۔
پیگوٹ کمیشن اور مذہبی پابندیاں
حالات کو قابو میں رکھنے کے لیے حکومت یوپی نے 30/اکتوبر 1908ئ کو مسٹر پیگوٹ کی صدارت میں کمیشن قائم کیا، جس نے 7/جنوری 1909ئ کو اپنی رپورٹ پیش کی۔ اس میں تعزیے کے جلوس کو شیعہ، یا سنی جلوس کے بجائے صرف تعزیے کا جلوس کہنے ، پھول کٹورا اور تال کٹورا کے جلوسوں کے لیے مشترکہ راستہ مقرر کرنے اور عشرہ¿ محرم، چہلم اور 21 /رمضان کے دنوں میں مدح صحابہ پر پابندی لگانے کی سفارش کی گئی۔ خلاف ورزی پر تعزیرات ہند کی دفعہ 298، یا کسی مناسب دفعہ کے تحت کارروائی کی گنجائش بھی رکھی گئی۔ حکومت یوپی نے یہ سفارشات نافذ کردیں، جب کہ بعض شیعہ حلقے 28/ذوالحجہ سے 8 / ربیع الاول تک پابندی چاہتے تھے۔
وادی تیراہ کا واقعہ اور جمعیت علما کا موقف
1926ئ میں وادی تیراہ کے علاقے میں اخونزادہ ملا محمود کی تقریروں کے بعد کشیدگی بڑھی اور 1927ئ میں کلایا اور مستورہ وادی میں شیعہ سنی تصادم ہوا، جس میں شیعوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کیے جانے کا ذکر ملتا ہے۔ 1928ئ میں حکومت نے شیعوں کی باقی ماندہ زمینوں کو محفوظ علاقہ قرار دیا، جب کہ مارچ 1930ئ میں ہونے والے امن معاہدے کے تحت انھیں ان کی سابقہ زمینوں پر واپس بحال کرنے کا فیصلہ ہوا۔ اس صورت حال پر جمعیت علمائے ہند نے اپنے آٹھویں اجلاس عام، منعقدہ 2 تا 5/دسمبر 1927ئ میں تجویز نمبر (20) کے ذریعے رنج و افسوس کا اظہار کیا اور دونوں فریقوں سے باہمی صلح کے ذریعے اختلاف ختم کرنے کی اپیل کی، تاکہ حکومتی مداخلت سے علاقے کی آزادی متاثر نہ ہو۔
تحریک مدح صحابہ کا باقاعدہ آغاز
1936ئ کے انتخابات کے زمانے میں لکھنو کے مذہبی اختلافات نے سیاسی اور خاندانی رقابتوں کا رنگ بھی اختیار کرلیا۔ 3/جون 1936ئ کو یوم ولادت رسول اللہ ﷺ کے موقع پر مدح صحابہ کا جلوس نکالنے کا اعلان ہوا۔ پولیس کی پابندی کے باوجود جلوس نکالا گیا، جس کے جواب میں تبرا کا جلوس نکلنے سے کشیدگی بڑھ گئی۔ بالآخر 10/جولائی 1936ئ کو مجلس احرار کے کارکنوں نے مدح صحابہ پڑھ کر گرفتاریاں پیش کرنے کی سول نافرمانی تحریک شروع کردی۔ اس سے قبل جمعیت علمائے ہند کی نگرانی میں تحریک آئینی طریقے سے چل رہی تھی، لیکن مسلم لیگ سے اتحاد اور تنظیمی مصلحتوں کے پیش نظر اس کی عملی ذمہ داری صوبائی مجلس احرار کے سپرد کردی گئی۔
نومبر 1936ئ کے وسط تک یوپی کی جیلوں میں ایک ہزار سے زائد احراری رضاکار پہنچ چکے تھے۔ گورنر سے مذاکرات کے بعد 14/نومبر 1936ئ کو وفد سے گفتگو ہوئی اور 19/نومبر 1936ئ کو تحریک عارضی طور پر ملتوی کردی گئی۔ 10/جون 1937ئ کو سرکاری کمیٹی کی رپورٹ گورنر یوپی کے سامنے آئی اور 15/جون 1937ئ کو نواب چھتاری کی عارضی حکومت کے سامنے پیش کی گئی۔
آلسوپ کمیٹی اور اکابر علمائے ہند کے بیانات
حکومتی مذاکرات ناکام ہونے پر جسٹس آلسوپ کی سربراہی میں کمیٹی قائم ہوئی، جس نے اپریل 1937ئ میں کام شروع کیا۔ 20/اپریل 1937ئ کو چیف کورٹ میں اس کی کارروائی شروع ہوئی، جس میں شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ نے مدح صحابہ کے حق میں تفصیلی بیان دیا۔ انھوںنے واضح کیا کہ صحابہ کرام کی مدح دینی تعلیمات کا حصہ ہے اور جہاں اس عمل کو روکا جائے، یا صحابہ کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلائی جائیں، وہاں اس کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے۔ 21/اپریل 1937ئ کو مولانا عبدالشکور لکھنوی اور حضرت مفتی اعظم ہندحضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒصاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے بھی اپنے بیانات میں مدح صحابہ کے مذہبی جواز اور بعض حالات میں اس کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
آلسوپ کمیٹی نے جون 1937ئ میں اپنی رپورٹ پیش کی، جس میں پیگوٹ کمیشن کی سفارشات برقرار رکھنے کی تائید کی گئی۔ رپورٹ کی اشاعت مؤخر رہی، لیکن بالآخر 28/ مارچ 1938ئ کو حکومت نے اس کی سفارشات کے ساتھ سرکاری فیصلہ شائع کردیا۔ اس میں اہل سنت کے مدح صحابہ کے حق کو تسلیم کیا گیا، تاہم اس کے استعمال کے طریقے اور حالات سے متعلق پابندیاں برقرار رہیں۔
1938ئ میں جمعیت کی مصالحتی کوششیں
23/اپریل 1938ئ کو حضرت مفتی محمد کفایت اللہؒ، حضرت مولانا احمد سعید اور حضرت مولانا ظفر الملک علوی نے دیوبند کی خانقاہ مدنی میں حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کے ساتھ مشاورت کی۔ اسی زمانے میں چہلم کے موقع پر ہونے والے فساد میں 9/افراد ہلاک، 160/زخمی، 33/گرفتار اور 9/مکانات نذر آتش ہوئے۔ 25/اپریل 1938ئ کو مولانا عبدالشکور اور دیگر علما کو ضمانت کے لیے طلب کیا گیا، جب کہ جمعیت کے اکابر نے معاملے کو اصولی طور پر حل کرنے کی کوشش جاری رکھی۔
7 /مئی 1938ئ کے آس پاس کانگریسی رہنما¶ں: پنڈت جواہر لال نہرو، پنڈت گووند ولبھ پنتھ اور جمعیت کے اکابر کی میٹنگ میں مسئلے کے حل کے لیے کمیٹی بنانے پر اتفاق ہوا۔ اور پنڈت پنتھ، مولانا ابوالکلام آزاد اور مولانا حسین احمد مدنی صاحبان پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔اس سلسلے میں مولانا ابوالکلام آزادؒ نے بھی دونوں فریقوں کے درمیان مفاہمت کی کوشش کی۔ 20/مئی 1938ئ کو مولانا حسین احمد مدنیؒ لکھن¶ پہنچے ، گرفتار سنی رہنما¶ں سے ملاقات کی اور اہل سنت سے اپیل کی کہ وہ سول نافرمانی عارضی طور پر روک کر کمیٹی کے فیصلے کا انتظار کریں۔
بعدازاں 3/جون 1938ئ کو تحریک مدح صحابہ دوبارہ شروع ہوگئی۔اس کے بعد جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے 3/اگست 1938ئ کو حکومت یوپی سے مطالبہ کیا کہ مدح صحابہ کے مسلمہ حق کے استعمال میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں۔
اس کے باوجود 12/اکتوبر 1938ئ کو مجلس احرار نے دوبارہ سول نافرمانی کا فیصلہ کیا اور حکومت کو نوٹس دیا کہ 11/نومبر 1938ئ تک تنازع حل نہ ہوا، تو تحریک شروع کردی جائے گی۔
1939ئ کی سول نافرمانی اور تحریک کی کامیابی
حکومت سے سمجھوتے کے تحت تحریک کو یکم مارچ 1939ئ تک ملتوی کیا گیا تھا، لیکن حکومت کی نیت واضح نہ ہونے پر مجلس احرار نے 20/فروری 1939ئ کو دوبارہ سول نافرمانی شروع کردی۔ مولانا عبدالشکور، مولانا ظفر الملک اور دیگر رہنما¶ں سمیت رضاکار گرفتار ہوئے اور انھیں سزائیں سنائی گئیں۔ 3 تا 6/مارچ 1939ئ کو جمعیت علمائے ہند کا گیارھواں اجلاس عام منعقد ہوا، جس کی صدارت علامہ مولانا سید عبدالحق مدنیؒ نے کی۔ اجلاس میں مدح صحابہ کو اہل سنت کا مذہبی اور شہری حق قرار دیتے ہوئے حکومت یوپی کے رویے کی مذمت کی گئی۔
8/مارچ 1939ئ کو شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ نے اپیل جاری کی، جب کہ 17/مارچ 1939ئ کو لکھن¶ میں ایک عظیم الشان احتجاجی اجلاس ہوا۔ 21/مارچ 1939ئ کو حضرت مدنیؒ نے 31/مارچ 1939ئ کو یوم مدح صحابہ منانے کی اپیل کی۔ 24/مارچ 1939ئ کو تحریک کے اکتیسویں دن ایک بڑے جلسے کا انعقاد ہوا۔ اس دوران ہزاروں افراد نے گرفتاریاں پیش کیں اور تحریک ملک کے مختلف علاقوں تک پھیل گئی۔
بالآخر 31/مارچ 1939ئ کو حکومت یوپی نے اہل سنت کو ہر سال بارہ وفات، یعنی 12/ربیع الاول کے موقع پر عوامی جلسے اور جلوس میں مدح صحابہ پڑھنے کی اجازت دینے کا اعلان کیا، بشرطیکہ وقت، مقام اور راستہ ضلعی حکام مقرر کریں۔ دو ہزار سے زائد گرفتاریوں کے بعد حکومت نے مطالبات تسلیم کیے اور مولانا حسین احمد مدنیؒ نے تحریک ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ اس طرح مدح صحابہ کے حق کو سرکاری طور پر تسلیم کرایا گیا، اگرچہ پابندیوں اور عملی رکاوٹوں کا مسئلہ باقی رہا۔
جمعیت علمائے ہند کی مجلس مرکزیہ نے 27، 28 اور 29/مئی 1939ئ کے اجلاس میں حکومتی اعلان کو موجودہ حالات میں غنیمت قرار دیا، تبرا کی تحریک کی مذمت کی اور سنی مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ اشتعال انگیزی کے باوجود امن و امان برقرار رکھیں اور ذمہ دار علما کی ہدایت کے بغیر لکھن¶ سے باہر کوئی نئی تحریک نہ چلائیں۔
1940ئ تا 1947ئ: جمعیت کا مسلسل موقف
جمعیت علمائے ہند کا بارھواں اجلاس عام 7 تا 9/جون 1940ئ کو مولانا حسین احمد مدنیؒ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اس میں واضح کیا گیا کہ تحریک مدح صحابہ سنی مسلمانوں کی تقریباً تیس سالہ جدوجہد ہے ، جس کا مقصد مذہبی اور شہری حق حاصل کرنا تھا، نہ کہ کانگریسی حکومت کو مشکلات میں ڈالنا۔ اجلاس نے خلفائے راشدین اور صحابہ کرام کی اعلانیہ مدح و ثنا کو اہل سنت کا مذہبی حق قرار دیتے ہوئے اس پر پابندی قبول نہ کرنے کا اعلان کیا۔
20 اور21/اپریل 1941ئ کو جمعیت کی مجلس عاملہ نے ریاست محمود آباد میں مسلمانوں کے خلاف مبینہ مظالم کی تحقیقات کے لیے مولانا محمد احمد کاظمی اور ڈاکٹر عبدالعلی پر مشتمل وفد مقرر کیا۔ 22 /اپریل 1941ئ کو مولانا حسین احمد مدنیؒ نے گورنر یوپی کو تار بھیج کر سنی مسلمانوں کو ان کے قانونی حق سے محروم کرنے اور مقابل جلوس کی اجازت دینے پر اعتراض کیا۔ 25/جون 1941ئ کو مجلس عاملہ نے تحقیقاتی وفد کے فیصلے کی توثیق کی اور تحریک کے کام کو انجمن تحفظ ناموس صحابہ، لکھن¶ کی زیر نگرانی جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
ریاست محمود آباد میں وفد کو دفعہ (144) کے تحت داخلے سے روک دیا گیا، جس پر 4/ جولائی 1941ئ کو جمعیت نے احتجاجی بیان جاری کیا۔ اسی سال 4/نومبر 1941ئ کو حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ صدر جمعیت علمائے ہند نے کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ کو خپلو میں سنی مسلمانوں پر مبینہ مظالم کے خلاف تار بھیجا۔ ناظم جمعیت حضرت مولانا عبدالحلیم صدیقی صاحبؒ نے بھی کارروائی اور غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
4 تا 7/مئی 1945ئ کو جمعیت کا چودھواں اجلاس عام منعقد ہوا، جس میں حکومت یوپی کی جانب سے مدح صحابہ پر پابندیوں کو غیر منصفانہ قرار دیا گیا۔ اجلاس نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ 12 /ربیع الاول کے موقع پر جلسے اور جلوس میں مدح صحابہ کی اجازت دینے کے وعدے کی خلاف ورزی ختم کی جائے۔ اس کے بعد 18/نومبر 1945ئ کو قیصر مصطفیٰ ایڈووکیٹ لاہور سے ایک قافلے کے ساتھ لکھنوپہنچے اور مدح صحابہ پڑھنے پر گرفتار ہوئے ، جس سے تحریک کے تیسرے دور کو تقویت ملی۔
9 تا 11/مئی 1947ئ کو جمعیت کی مجلس عاملہ مرکزیہ نے حکومت یوپی کے دوہرے معیار پر تشویش ظاہر کی اور مطالبہ کیا کہ لکھن¶ اور دیگر مخصوص شہروں میں بھی وہی اصول نافذ کیے جائیں، جو صوبے کے دوسرے شہروں میں رائج تھے۔
1997ئ تا 2005ئ: بعد کے فرقہ وارانہ واقعات اور جمعیت کا کردار
آزادی کے بعد بھی شیعہ سنی اختلافات کے بعض واقعات پیش آتے رہے۔ 25/ جون 1997ئ کو محرم کے جلوسوں کے پس منظر میں لکھن¶ میں تصادم ہوا۔ جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کے 4 اور 5/اکتوبر 1997ئ کے اجلاس میں اس مسئلے پر گفتگو ہوئی۔ مولانا عبدالعلیم فاروقی صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے صورت حال بیان کرتے ہوئے تجویز پیش کی کہ ملک کے دیگر مقامات پر بھی مدح صحابہ کانفرنسیں منعقد کی جائیں اور تبرا کے خلاف واضح موقف اختیار کیا جائے۔
28/اپریل 1999ئ کو لکھن¶ میں محرم کے جلوسوں کی تعداد اور اجازت کے تنازع نے فرقہ وارانہ تشدد کی شکل اختیار کرلی، جس میں تقریباً 40/افراد زخمی ہوئے۔ 2/مئی 1999ئ کو حضرت مولانا اسعد مدنیؒ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے پریس بیان جاری کرکے واقعے پر افسوس کا اظہار کیا اور خبردار کیا کہ اس تنازع سے سیاسی فائدہ نہ اٹھایا جائے۔ انھوں نے شرپسند عناصر کی جانب سے چھوٹے صنعت کاروں کی دکانوں اور کارخانوں کو نقصان پہنچانے کی مذمت کی اور حکومت سے متاثرین کو معاوضہ دینے اور بے قصور گرفتار شدگان کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔
اعظم گڑھ کے قصبے مبارک پور میں 5/نومبر 2000ئ کو شیعہ سنی تشدد بھڑک اٹھا، جس میں کم از کم 11/افراد ہلاک اور 30/سے زائد زخمی ہوئے۔ 17/نومبر 2000ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ صدر جمعیت علمائے ہند نے حالات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے انتظامیہ اور فرقہ پرست طاقتوں کو ذمہ دار ٹھہرایا۔ انھوں نے دونوں مسلکوں کے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ سیاسی مفادات اور فرقہ پرست عناصر کی سازشوں کا شکار نہ ہوں اور قانون کو ہاتھ میں لینے سے گریز کریں۔
20/فروری 2005ئ کو یوم عاشورا کے موقع پر لکھن¶ میں تعزیے کے جلوس کے راستے کے تنازع پر خوںریز تصادم ہوا، جس میں تین افراد ہلاک اور کم از کم 20/زخمی ہوئے۔ 21/فروری 2005ئ کو صدر جمعیت علمائے ہند مولانا ارشد مدنی صاحب نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے شرپسندوں کی گرفتاری، ذمہ داروں کو سزا دینے اور اسے محض دوطرفہ جھگڑا قرار دینے سے گریز کا مطالبہ کیا۔
2012ئ: موضع بہاری کا واقعہ اور جمعیت کی مداخلت
ضلع مظفر نگر کے موضع بہاری میں تعزیے اور قبرستان کے پرانے تنازع پر پہلے بھی کئی مرتبہ جھگڑے ہوچکے تھے۔ 28/اپریل 2012ئ کو ایک حملے میں آٹھ افراد زخمی ہوئے۔ 30/اپریل 2012ئ کو جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی مولانا محمود مدنی صاحب جائے وقوعہ پر پہنچے اور ضلع انتظامیہ کے اعلیٰ افسران سے غیر جانب دارانہ کارروائی اور امن و امان کی بحالی کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے دونوں فریقوں کو باہمی اتحاد اور صلح کی تلقین کی اور واضح کیا کہ مسلکی اختلاف کی بنیاد پر باہم لڑنا افسوس ناک ہے۔
2025ئ: عظمت صحابہ کے تحفظ کی اپیل
11/جون 2025ئ کو جمعیت علمائے ہند کے مرکزی دفتر، مسجد عبدالنبی، نئی دہلی میں ناظم عمومی مولانا محمد حکیم الدین قاسمی صاحب نے عظمت صحابہ کے موضوع پر خطاب کیا۔ اس کا پس منظر مولانا سلمان حسینی ندوی کی جانب سے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیے گئے مبینہ گستاخانہ بیان سے متعلق تنازع تھا۔ مولانا محمد حکیم الدین قاسمی نے لوگوں سے اپیل کی کہ صحابہ کرام کی شان میں گستاخی کرنے والوں کو مؤثر جواب دیں۔
تحریک مدح صحابہ کی تاریخ محض ایک مذہبی تحریک کی داستان نہیں، بلکہ مذہبی آزادی، شہری حقوق، فرقہ وارانہ کشیدگی اور سیاسی مداخلت کے باہمی تعلق کی تاریخ بھی ہے۔ جمعیت علمائے ہند نے اس پورے عرصے میں مدح صحابہ کو اہل سنت کا مذہبی حق قرار دیا، حکومتی پابندیوں کے خلاف قراردادیں منظور کیں، تحقیقاتی وفود مقرر کیے ، اعلیٰ حکام سے رابطے کیے اور اپنے اکابر کے ذریعے مفاہمت کی کوششیں جاری رکھیں۔ جمعیت کی توجہ اس امر پر رہی کہ صحابہ کرام کے احترام کے ساتھ امن، انصاف، شہری حقوق اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی سے اجتناب کو اہمیت دی جائے۔