7 Oct 2026

آسام اور جمعیت علمائے ہند

 آسام اور جمعیت علمائے ہند

محمد یاسین جہازی

آسام کے مسلمانوں کے حوالے سے جمعیت علمائے ہند کے تین طرح کے کردار سامنے آتے ہیں:

(۱) شہری حقوق کا تحفظ۔

(۲) فسادات متاثرین کے لیے لیگل ایکشن، اور

 (۳)سیلاب و قحط زدگان کے لیے تعاون و باز آباد کاری۔

 انھی تناظر میں جمعیت علمائے ہند کی کارکردگیوں کا اختصارملاحظہ فرمائیں۔ 

جمعیت علمائے ہند کی تاریخ میں ریاست آسام کا پہلا تذکرہ1922ئ سے ملتا ہے۔ چنانچہ  24 تا 26/دسمبر 1922ئ کے چوتھے اجلاس عام میں آسام کے گورکھوں کی طرف سے قرآنِ پاک کی بے حرمتی کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے اپنی جارحانہ پالیسی ترک کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

 آزادی کی تحریک میں بھی آسام کی جمعیت نے فعال کردار ادا کیا؛ 8/جنوری 1931ئ کو سلہٹ پولیس نے جمعیت علمائے آسام کے دفتر پر چھاپہ مار کر کاغذات ضبط کیے اور ناظم اعلیٰ مولانا مرتاض جوہری کو گرفتار کرلیا۔ 13/جولائی 1930ئ کو قائم ہونے والے دائرہ¿ حربیہ کی جدوجہد کے تسلسل میں 29/فروری تا 2 مارچ 1932ئ جمعیت نے ڈکٹیٹر شپ کا نظام قائم کیا، جس میں مولانا عبد الحق، صدر جمعیت علمائے آسام، بارھویں اور آخری ڈکٹیٹر مقرر ہوئے ۔

آسام کے لائن سسٹم کے خلاف جمعیت کی جدوجہد :

لائن سسٹم 1920ئ میں کامروپ اور ناگا¶ں میں متعارف ہوا۔ اس کے تحت مشرقی بنگال (میمن سنگھ) سے آنے والے مسلمانوں کو مقامی آبادی سے الگ بسایا جاتا تھا۔ یہ ضلعی سطح کے بعض برطانوی افسروں کا بنایا ہوا نظام تھا، سرکاری پالیسی نہیں۔ جمعیت کے 11/ویں اجلاس عام، 3 تا 6 /مارچ 1939ئ میں اسے بنیادی حقوق کے منافی قرار دے کر منسوخی کا مطالبہ کیا گیا۔ انڈیا ایکٹ 1935ئ کے بعد مہاجرین کے رہنما عبدالحمید خاں بھسانی کے ساتھ جمعیت نے بھی یہ مسئلہ اٹھایا۔

 فروری 1945ئ کے کوا ئیماری فائرنگ واقعے اور مسلم کسانوں کے ساتھ زیادتی پر 14 و15/اپریل 1945ئ کی مجلس عاملہ نے لائن سسٹم کو انسانی بنیادی حقوق کے خلاف قرار دیتے ہوئے غیر جانب دارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا، جسے 4 تا 7/مئی 1945ئ کے چودھویں اجلاس میں بھی دہرایا گیا۔ 10 تا 12/جون 1946ئ کی مجلس عاملہ نے غیر قانونی طور پر آباد لوگوں کی بے دخلی روکنے اور مزید غیر قانونی آبادکاری پر پابندی کی سفارش کی۔ اسی سلسلے میں مولانا سید محمد میاںؒ کی قیادت میں جمعیت کا ایک وفد 12 تا 25/جون 1946ئ آسام گیا اور 28/جولائی 1946ئ کو اس کی رپورٹ مجلس عاملہ میں پیش ہوئی؛ جمعیت نے حکومت آسام سے منصفانہ حل اور کانگریس ہائی کمانڈ سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔

16 /اگست 1946ئ کو مسلم لیگ کے ڈائریکٹ ایکشن ڈے کے نتیجے میں سلہٹ میں فرقہ وارانہ کشیدگی اور فسادات ہوئے ، جن پر 21 تا 24/ستمبر 1946ئ کی مجلس عاملہ نے شدید افسوس اور غیظ و غضب کا اظہار کرتے ہوئے غیر جانب دارانہ تحقیقات، مجرموں کی سزا اور نقصانات کی تلافی کا مطالبہ کیا۔ اسی دوران مسلم لیگ نے 12/مئی 1946ئ کو پنجاب، سرحد، بلوچستان، سندھ، بنگال اور آسام کو ایک مسلم گروپ، یعنی مجوزہ پاکستان، میں شامل کرنے کی تجویز دی؛ لیکن جمعیت نے اس کے برعکس 24 تا 25/جون 1947ئ کو سلہٹ کو آسام ہی میں رکھنے کو مسلم مفاد کے لیے زیادہ مفید قرار دیا۔ 25/جون 1947ئ کو مولانا محمد حفظ الرحمانؒ نے بھی یہی موقف دوہرایا۔ 28/جون 1947ئ کو جمعیت کا ایک وفد سلہٹ ریفرنڈم میں شرکت کے لیے روانہ ہوا۔ تاہم 6 و7/جولائی 1947ئ کے ریفرنڈم میں 2,39,619 ووٹ مشرقی بنگال کے حق میں اور 1,84,041 آسام میں رہنے کے حق میں پڑے ؛ یوں 14/جولائی 1947ئ کو 55,578 ووٹوں کی برتری سے سلہٹ پاکستان میں چلا گیا۔

آزادی کے بعد بھی جمعیت نے آسام کے مسلمانوں کے مسائل کو اپنا مسئلہ سمجھا۔ 21 تا 26/مئی 1950ئ جمعیت کا ایک وفد، مولانا سید محمد میاںؒ کی قیادت میں، آسام پہنچا اور فسادات سے متاثرہ علاقوں کا جائزہ لیا۔ 21/جون 1955ئ کو مولانا محمد حفظ الرحمانؒ نے ہاوجانگ کے مسلمانوں اور مساجد کے مسائل پر وزیر اعلیٰ آسام کو مکتوب بھیجا، جب کہ 27/اپریل 1956ئ کو گولپاڑا کے مریچ باری میں مسلم متاثرین کے تقریباً 100/مکانات جلنے ، 12/افراد کے زخمی اور ایک شخص کے جاں بحق ہونے پر حکومت سے امداد اور بازآبادکاری کا مطالبہ کیا۔ 17/فروری 1961ئ کو اوٹنگ پوسٹی، کاکی اور ہا¶زا میں بے دخلی کے خلاف بھی حکومت آسام کو احتجاجی مکتوب ارسال کیا گیا۔

بعد ازاں 3 تا 19/جون 1962ئ کو جمعیت کے وفد نے سیلی گوڑی، مالدہ، کوچ بہار اور جلپائی گوڑی کے فسادات سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ کوچ بہار میں تقریباً 70/گھر لوٹے یا جلائے گئے ، 6/مسلمان قتل اور تقریباً 25/زخمی ہوئے ، جب کہ جلپائی گوڑی میں 6/بالغ اور 3/ بچے قتل اور تقریباً 15/گھر نذرِ آتش ہوئے۔ جمعیت نے متاثرین کو امداد فراہم کی اور تین اضلاع میں تقریباً 2,000/روپے تقسیم کیے۔ 

تقسیم ہند کے بعد آسام میں مشرقی پاکستان سے آنے والے مسلمانوں اور مقامی بنگالی مسلمانوں کو شہریت، زمین اور رہائش کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔  6/جنوری 1950 کو ناپسندیدہ مہاجرین کی بے دخلی کا آرڈیننس اور 13/فروری 1950 کو Immigrants (Expulsion from Assam) Act نافذ کیا گیا۔اس طرح 1951ئ کی مردم شماری میں آسام میں پہلی بار شہریوں کا قومی رجسٹر (NRC) تیار ہوا، جو بعد میں غیر ملکیوں کی شناخت کا ذریعہ بنا۔

چوں کہ 1950 کے فسادات میں تقریباً 40/ہزار سے ایک لاکھ مسلمان مشرقی پاکستان چلے گئے تھے۔ 8/اپریل 1950 کے نہروõلیاقت معاہدے کے بعد جب واپسی کی راہ کھلی، تو یہ لوگ واپس آنے لگے؛ لیکن درج بالا ایکٹ کی وجہ سے بعض مقامی مسلمانوں کو بھی ’’پاکستانی‘‘ قرار دے کر نکالنے کی کوشش کی گئی۔

1960 میں آسام میں آسامی زبان کو سرکاری زبان بنانے کے مسئلے نے بنگالی مسلمانوں کے خدشات بڑھا دیے۔ 19/مئی 1961 کو سِلچر میں زبان کے احتجاج پر پولیس فائرنگ سے 11/افراد ہلاک ہوئے، جس کے بعد مسلمانوں کی شہریت اور انھیں ’’پاکستانی‘‘ قرار دینے کا مسئلہ مزید سنگین ہوگیا۔

8/ستمبر 1962 کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے آسام میں بھارتی مسلمانوں کو پاکستانی قرار دے کر نکالے جانے کی شکایات پر تشویش ظاہر کی اور تحقیق کے لیے ایک وفد مقرر کیا۔ وفد میں مولانا سید اسعد مدنی، رکنِ پارلیمنٹ محب الحق اور مولانا وحید الدین قاسمی شامل تھے۔ وفد نے یکم اکتوبر 1962 سے تقریباً گیارہ دن تک کامروپ، گوالپاڑا، نوگاوں، سبساگر اور دیگر علاقوں کا دورہ کیا، سرکاری افسران سے ملاقاتیں کیں اور حالات کا جائزہ لیا۔

وفد نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ کئی ایسے مسلمانوں کو بھی ‘‘Quit India’’ نوٹس دیے گئے، جو خود کو بھارتی شہری ثابت کرنے کے لیے ووٹر لسٹ، زمین و جائیداد کے کاغذات، سرکاری رسیدیں اور دیگر ثبوت رکھتے تھے۔ بعض افراد کو رات کے وقت گرفتار کرکے پاکستان بھیجنے ، جائیداد نیلام کرنے اور مکانات منہدم کرنے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ 27/اپریل 1962 کی وزارتِ داخلہ کی اطلاع کے تحت پولیس کو غیر ملکیوں کے خلاف کارروائی کا اختیار دیا گیا تھا، مگر ’’پاکستانی شہری‘‘ کی واضح تعریف نہ ہونے سے اختیارات کے غلط استعمال کا خدشہ پیدا ہوا۔

جمعیت نے آئین کے آرٹیکل 5 اور 6(b) کا حوالہ دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ کسی شخص کو پاکستانی قرار دینے سے پہلے اسے عدالت میں بھارتی شہریت ثابت کرنے کا مکمل موقع دیا جائے۔ 1951 کی ووٹر لسٹ، سرکاری دستاویزات، زمین و جائیداد کے ثبوت اور 19/جولائی 1948 سے پہلے ہندستان میں رہائش کے شواہد کو معتبر تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

جمعیت نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان سے غیر قانونی آمد کے واقعات اپنی جگہ، لیکن آسام میں مسلمانوں کی آمد کی بعض وجوہ معاشی بھی تھیں۔ سیلاب، بے آباد زمین، سستی مزدوری اور مقامی زمینداروں کی ضرورت کے باعث مشرقی علاقوں سے مزدور اور کاشت کار آسام آتے رہے تھے۔ اس لیے ہر مسلمان کو ’’پاکستانی‘‘ قرار دینا درست نہ تھا۔

5، 6، 7 اور 13/دسمبر 1962 کو جمعیت نے آسام کے گرفتار افراد، بے دخلی اور پولیس کی مبینہ زیادتیوں کے بارے میں آسام کے وزیرِ اعلیٰ اور وزیرِ اعظم کو خطوط بھیجے۔ 11/جنوری 1963 کو بھی مولانا اسعد مدنی نے بتایا کہ خصوصاًچچر میں ہزاروں مسلمانوں کو بے دخلی کا خوف لاحق ہے۔ فروری 1963 میں سِلچر کے فسادات میں 9/افراد ہلاک ہوئے ، جس پر جمعیت نے سخت احتجاج کیا۔

22/جون 1963 کو مولانا اسعد مدنی نے دہلی میں پریس کانفرنس میں کہا کہ سرکاری اعداد و شمار میں بے دخل کیے جانے والے مسلمانوں کی حقیقی تعداد پوری طرح ظاہر نہیں ہوتی اور بعض بھارتی شہری بھی کارروائی کا شکار ہوئے ہیں۔ 10/ستمبر 1963 ئ کو جمعیت نے مطالبہ کیا کہ شہریت کے فیصلے انتظامیہ کے بجائے عدالتی طریقے سے کیے جائیں اور 1931، 1941، 1951 اور 1961 کی مردم شماریوں کو سامنے رکھ کر آبادی کا جائزہ لیا جائے۔

28/ستمبر 1963 کو مولانا اسعد مدنی اور مولانا وحید الدین قاسمی نے وزیر اعظم نہرو سے ملاقات کرکے آسام کے مسلمانوں کے مسائل اور دستاویزات پیش کیں۔ بعد ازاں حکومت نے دو جج مقرر کرنے کا فیصلہ کیا، تاکہ یہ طے کیا جاسکے کہ متعلقہ افراد بھارتی شہری ہیں یا نہیں؛ جب تک جج مطمئن نہ ہوں، پولیس کو بے دخلی کی اجازت نہ ہو۔ جمعیت نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا۔

9/نومبر 1963ئ کو جمعیت کی مجلس عاملہ نے مولانا اسعد مدنی کے خلاف شائع کیے گئے مبینہ اشتعال انگیز اور الزام تراش پمفلٹ کی مذمت کی۔ 

15/جنوری 1964 کو آسام میں مسلمانوں کو خوف زدہ کرکے پاکستانی حیثیت تسلیم کرنے والے بیانات پر دستخط کرانے کی شکایات بھی حکومت تک پہنچائی گئیں۔ 7–8/مارچ 1964ئ کو جمعیت نے غیر قانونی طور پر پاکستان سے آنے والوں کی بے دخلی کی اصولی حمایت کرتے ہوئے بھارتی مسلمان شہریوں کے ساتھ ناروا سلوک کی مخالفت کی۔

اسی پس منظر میں مجلس عاملہ( 27 تا 29/جون 1964ئ) نے اعلان کیا کہ مسلمانوں کی شہریت کی بنیاد 1951ئ کی مردم شماری کو بنانے کو سخت نقصان دہ قرار دیا، کیوں کہ فسادات کے سبب وہ مردم شماری ناقص تھی اور نہرو لیاقت معاہدے کے تحت لوٹنے والے مسلمان اس وقت موجود ہی نہ تھے۔ اس نے 1961ئ کی مردم شماری کو بنیاد بنانے کا مطالبہ کیا۔ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ناجائز طور پر آئے پاکستانیوں کا انخلا ضروری ہے۔ 25/جولائی 1964ئ کو مولانا اسعد مدنی نے آسام کے اہل علم سے اپیل کی کہ خوف چھوڑ کر آگے آئیں، لوگوں کو شہریت کی قانونی تعریف سے آگاہ کریں اور ڈومیسائل و شہریت جیسے بنیادی حقوق ترک نہ کریں۔

 23/ستمبر 1964ئ کوForeigners (Tribunals) Order, 1964 جاری کرکے غیر ملکی ہونے، یا نہ ہونے کے فیصلے کے لیے ٹریبونل قائم کیے گئے ، مگر ہندستانی مسلمانوں کو ’’کوئٹ انڈیا‘‘ نوٹس، پولیس دبا¶ اور جبری انخلا کی شکایات جاری رہیں۔ 21/ستمبر 1964ئ کو جمعیت نے وزیر داخلہ سے ملاقات اور تحریری احتجاج کرکے کم از کم قانونی مہلت، عدالتی سماعت اور پولیس کی زیادتی روکنے کا مطالبہ کیا۔29/ستمبر تا 3/اکتوبر 1964ئ مولانا اسعد مدنیؒ، ڈاکٹر گوپال سنگھ، گووند ریڈی اور بیگم انیس قدوائی پر مشتمل وفد نے آسام کا دورہ کیا اور ہندستانی مسلمانوں کے خلاف زیادتیوں کی نشاندہی کی۔ 18/اکتوبر 1964ئ کو وزیر اعظم لال بہادر شاستری نے بھی پولیس کی مبینہ زیادتیوں پر آسام حکومت سے بات کرنے کی یقین دہانی کرائی۔29–30/نومبر 1964ئ کے نیشنل جمہوری کنونشن میں جمعیت نے مطالبہ کیا کہ ٹریبونل کے عدالتی اختیارات مؤثر طور پر استعمال ہوں اور کسی ہندستانی شہری کو ترکِ وطن پر مجبور نہ کیا جائے۔

 13–14/جون 1965ئ کی مجلس عاملہ نے آسام سمیت سرحدی علاقوں میں مسلمانوں کی گرفتاری، پولیس دہشت اور فرقہ پرستانہ پروپیگنڈے کی مذمت کی۔  10 اور 11 جولائی 1965ئ کو جبل پور میں بھارتیہ جن سنگھ کی مجلس عاملہ نے سرحد پر دس میل کی پٹی خالی رکھنے کی تجویز منظور کی، جس کا پس منظر نانا جی دیش مکھ کی آسام میں مسلم آبادی کے اضافے سے متعلق رپورٹ تھی۔ 14 جولائی 1965ئ کو مولانا اسعد مدنی نے جواب دیا کہ سرحدی مسلمانوں پر بے وفائی کا الزام دراصل ملک کے دشمنوں کی خدمت ہے۔ انھوں نے رن آف کچھ کے تقریباً 98 /فی صد مسلمانوں کی وفاداری کا حوالہ دیا۔

 18–19/دسمبر 1965ئ کی مجلس منتظمہ نے مطالبہ کیا کہ 1951ئ کی مردم شماری کو ہندستانی مسلمانوں کی شہریت چھیننے کی بنیاد نہ بنایا جائے اور حقیقی شہریوں کو شہریت کا تحفظ دیا جائے۔ 24/دسمبر 1965ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ کی قیادت میں جمعیت علمائے آسام کے وفد نے وزیر داخلہ گلزاری لال نندا اور وزیر اطلاعات اندرا گاندھی سے ملاقات کرکے میمورنڈم پیش کیا۔

 4/جنوری 1966ئ کو وزیر داخلہ نندا نے 21/ستمبر 1964ئ کے خط کے جواب میں لکھا کہ نوٹس ایک ہفتے سے دس دن، اور ٹربیونل آرڈر کے تحت دو ہفتے کا دیا جاتا ہے۔ ان کے مطابق ٹربیونل کا فیصلہ آنے تک ملک چھوڑنے کے حکم پر عمل نہیں ہوتا۔

 15–17/اپریل 1966ئ کے بائیسویں اجلاس عام میں جمعیت نے واضح کیا کہ 1951ئ میں آسام کے مسلمانوں کی تعداد تقریباً  19/لاکھ اور 1961ئ میں 27/لاکھ تھی؛ اس اضافے کو محض بیرونی دراندازی قرار دینا درست نہیں، کیوںکہ 1950ئ کے فسادات کے بعد واپس آنے والے خاندان اور قدرتی آبادی میں اضافہ بھی اس کے اسباب تھے۔ اجلاس نے ہندستانی شہری مسلمانوں کو شناختی کارڈ دینے اور ان کی شکایات کا فوری ازالہ کرنے کا مطالبہ کیا۔  4/جون 1966ئ کو صدر جمعیت مولانا فخرالدین احمدؒ کی قیادت میں وزیر اعظم سے ملاقات کرکے بھی انخلا کی کارروائی مکمل طور پر عدلیہ کے سپرد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

 23–24/ستمبر1967ئ کی مجلس منتظمہ نے دوبارہ شکایت کی کہ 1951ئ کے قومی رجسٹر میں نام موجود ہونے کے باوجود مسلمانوں کو پاکستانی قرار دیا جا رہا ہے۔ اس نے مطالبہ کیا کہ 1950ئ کے فسادات کے بعد واپس آنے والوں کو ’’نئے داخل ہونے والے‘‘ نہ سمجھا جائے۔ جہاں قومی رجسٹر موجود نہ ہو، وہاں ووٹر لسٹ اور زبانی و دیگر معتبر شہادتوں کو تسلیم کیا جائے ، اور پولیس کی گھر گھر شہریت جانچنے کی مہم بند کی جائے۔

آسام میں مسلمانوں کے خلاف فرقہ وارانہ کشیدگی اور شہریت کے مسائل کے خلاف جمعیت علمائے ہند نے مسلسل جدوجہد کی۔ 2/مارچ 1968ئ کو کریم گنج میں فساد کے بعد ناظم عمومی مولانا اسعد مدنیؒ نے مرکزی و صوبائی حکومت کے ذمہ داروں کو برقیے بھیج کر مجرمین کی گرفتاری اور سزا کا مطالبہ کیا۔ 7/مارچ کو انھوں نے اندرا گاندھی سے فسادات کا سلسلہ روکنے کا مطالبہ کیا اور 8/مارچ کو وزیر داخلہ چوہان سے ملاقات میں کریم گنج کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا۔ اور 9/مارچ 1968ئ کو فساد زدہ علاقوں کا دورہ کیا، جہاں مسلمانوں کے تقریباً 100/مکانات اور 100/دکانیں جلانے و لوٹنے اور مدرسے پر حملے کی اطلاع ملی۔ 31/مارچ 1968ئ کو تین سکیا کے فسادات پر بھی حکومت کو احتجاج کیا گیا۔ 12/جولائی 1968ئ کو جمعیت نے جن سنگھ کے اس الزام کی تردید کی کہ وہ آسام کی تقسیم، یا مسلم اکثریتی یونٹ کا مطالبہ کرتی ہے۔ 23 تا 25/اگست 1968ئ کی مجلس عاملہ میں آسام کے ہندستانی مسلمانوں کو پولیس کی جانب سے ’’پاکستانی‘‘ قرار دینے اور جبری اخراج پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ شہریت کے تمام معاملات عدالتوں کے ذریعے طے کیے جائیں۔

1971ئ میں مشرقی پاکستان کے بحران کے دوران 25/مارچ کو آپریشن سرچ لائٹ شروع ہوا اور 26/مارچ کو بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان ہوا۔انھی حالات کی وجہ سے 13/ اپریل 1971ئ کو بدرپور (کچھار) میں ہندو مسلم فساد ہوا، جس پر مولانا اسعد مدنی نے 15/اپریل 1971ئ کو اندرا گاندھی کو تار بھیج کر مجرموں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ مجلس عاملہ 22، 23/دسمبر 1972ئ) نے آسام اور آندھرا کے لسانی فسادات پر تشویش ظاہر کی۔

آسام کے قحط اور سیلاب کے زمانے میں بھی جمعیت نے نمایاں امدادی خدمات انجام دیں۔ 9/نومبر 1974ئ کو ہوجائی میں ریلیف کمیٹی قائم کی گئی؛ نوگا¶ں سے 6,500/روپے فوری جمع ہوئے اور مزید 7,000 /روپے امداد بھیجی گئی۔ 8/مارچ 1975ئ تک مولانا اسعد مدنیؒ قحط زدگان کے لیے 30,000/روپے کی چھٹی قسط لے کر گوہاٹی پہنچے ، جب کہ اس سے قبل 30,000/روپے کے کپڑے اور 6,500/روپے نقد بھیجے جا چکے تھے۔ 9،10/اپریل 1975ئ کی مجلس عاملہ میں امدادی کاموں کا جائزہ لیا گیا اور 5/جولائی 1975ئ تک مرکزی و ریاستی ریلیف کمیٹیوں نے کپڑے ، بیج، نقد امداد اور دو یتیم خانوں کی تعمیر پر 1,18,675 روپے خرچ کیے۔

 شہریت اور جبری انخلا کا مسئلہ 1978ئ میں دوبارہ شدت اختیار کرگیا۔ 23،24/ستمبر 1978ئ کی مجلس عاملہ نے ہندستانی شہری مسلمانوں کو غیر ملکی قرار دے کر سرحد پار بھیجے جانے پر سخت احتجاج کیا اور واضح کیا کہ غیر ملکی ہونے کا فیصلہ صرف عدالت کرسکتی ہے ، پولیس یا انتظامیہ نہیں۔ 15/فروری 1979ئ اور 16/مارچ 1979ئ کو بھی جبری انخلا کے خلاف قراردادیں منظور ہوئیں، جب کہ 18/مارچ 1979ئ کو گوہاٹی کے اجلاس میں مولانا اسعد مدنیؒ نے اعلان کیا کہ جمعیت آسام کے مسلمانوں کو ’’غیر ملکی‘‘ کہہ کر ہندستان سے نکالنا برداشت نہیں کرے گی۔

اسی دوران AASU اور AAGSP کی قیادت میں غیر ملکیوں کے مسئلے پر تحریک شروع ہوئی۔ جولائی 1978ئ میں AASU نے غیر ملکیوں کے اخراج کو اپنے مطالبات میں شامل کیا، 24 تا 26/اکتوبر 1978ئ کو چیف الیکشن کمشنر ایس ایل شاکدھر نے انتخابی فہرستوں میں غیر ملکی ناموں پر تشویش ظاہر کی اور 28/اکتوبر 1978ئ کو احتجاج شروع ہوگیا۔ منگلدوئی ضمنی انتخاب میں تقریباً 47,000/مشتبہ نام سامنے آئے ، جن میں تقریباً 36,000 کی جانچ اور 26,000  (72/فی صد) کو غیر شہری قرار دینے کی اطلاعات نے تحریک کو شدت دی، جب کہ 8/جون 1979ئ کو ریاست گیر احتجاج شروع ہوا۔

 9/نومبر 1979ئ کو مولانا اسعد مدنی صاحب کی قیادت میں جمعیت کے پانچ رکنی وفد نے صدر جمہوریہ نیلم سنجیو ریڈی سے ملاقات کرکے مطالبہ کیا کہ غیر ملکی ہونے کے مقدمات انتظامی ٹریبونل کے بجائے خصوصی، یا دیوانی عدالتوں میں چلائے جائیں اور ثبوت کی ذمہ داری حکومت پر ہو۔

7/دسمبر 1979ئ کو جمعیت کے زیر اہتمام کل ہند آسام کنونشن منعقد ہوا، جس میں مولانا اسعد مدنیؒ نے آسام کی آبادی اور تاریخ کے حوالے سے غیر ملکیوں کی تعداد کے مبالغہ آمیز پروپیگنڈے کی تردید کی۔ انھوں نے واضح کیا کہ آسام میں مشرقی بنگال کے لوگوں کی آمد ایک صدی سے زیادہ عرصے سے جاری تھی اور تقسیم کے بعد تقریباً 7,60,000/مشرقی بنگال کے پناہ گزین بھی آسام آئے تھے۔ انھوں نے یہ بھی بتایا کہ آسام میں ووٹروں کی تعداد میں 18/فی صد اضافہ غیر معمولی نہیں، جب کہ تری پورہ میں 21/فی صد، میگھالیہ میں 19/فی صد اور کرناٹک میں 16/فی صد اضافہ ہوا تھا۔ کنونشن نے جائز شہریوں کی شہریت و انتخابی حقوق کے تحفظ، عدالتی طریقہ¿ کار اور انتظامی ٹریبونل کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

9/ستمبر 1979ئ کو یوگندر ناتھ ہزاریکا وزیر اعلیٰ بنے ، مگر 11/دسمبر 1979ئ کو ان کی وزارت ختم ہوگئی۔ جمعیت کے صدر مولانا اسعد مدنیؒ نے 12/دسمبر 1979ئ کو اس ناکام وزارت کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔

17/دسمبر 1979ئ کو جمعیت نے 28/دسمبر کو ’’یوم آسام‘‘ منانے کی اپیل کی اور آسام کے شہریوں کے تحفظ، عدالتی طریقہ¿ کار، ناجائز اخراج کی روک تھام اور این آر سی کی نقول جمعیت کے دفاتر کو واپس کرنے کے مطالبات کیے۔ 21/دسمبر 1979ئ کی پریس کانفرنس میں مولانا اسعد مدنیؒ نے بھی یہی مطالبات پیش کیے ،جب کہ 28/دسمبر 1979ئ کو ملک بھر میں یوم آسام منایا گیا۔

28،29/جنوری 1980ئ کی مجلس عاملہ نے آسام کی متشدد، علاحدگی پسند تحریک  اور گمنام پوسٹروں پر تشویش ظاہر کی گئی  اور مطالبہ کیا کہ شہریت کا فیصلہ عدلیہ سے ،جب کہ غیر ملکی ہونے کا ثبوت حکومت و پولیس کی جانب سے پیش کیا جائے۔ 25/مارچ 1980ئ اور 28،29/اپریل 1980ئ کی مجالس میں بھی مسلمانوں اور دیگر غیر آسامی شہریوں کے خلاف گرفتاری، ہراسانی اور جبری اخراج کی شکایات پر احتجاج کیا گیا اور شہری حقوق کے تحفظ کا مطالبہ دہرایا گیا۔ یکم جون 1980ئ کو جمعیت نے 6/جون کو ’’یوم آسام‘‘ منانے کی اپیل کرتے ہوئے واضح کیا کہ غیر ملکیوں کے اخراج کے نام پر تمام غیر آسامی باشندوں کو نکالنے کی کوشش ہندستان کی قومی وحدت کے لیے خطرناک ہے۔چنانچہ اس سرکلر کے مطابق 6/جون کو یوم آسام منایا گیا۔

 10/جون 1980ئ کو بیگم عابدہ احمد کی صدارت میں دہلی میں آسام کانفرنس ہوئی، جس میں ریاست سے باہر کے افسروں پر مشتمل ٹربیونل کا مطالبہ ہوا۔ مجلس عاملہ 20/جون 1980ئ نے پولیس کی زیادتیوں کی شکایت کی۔ 11/جولائی 1980ئ کو اندرا گاندھی کو میمورنڈم دیا گیا اور 14/جولائی 1980ئ کو مولانا مدنی نے راجیہ سبھا میں تقریر کی۔ مجلس عاملہ 9،10/دسمبر 1980ئ نے گوہاٹی میں سٹیزن پروٹیکشن کمیٹی کی تشکیل کی توثیق کی، جس کے صدر سید احمد علی، جنرل سکریٹری مولانا عبدالحق اور فنڈ پچاس ہزار روپے مقرر کیا گیا ۔

 مجلس عاملہ 7، 8/فروری 1981ئ نے بتایا کہ جنوری 1980ئ کے شمالی کامروپ کے قتل عام سے پہلے وشو ہندو مہاسبھا کے سمیلن ہوئے تھے اور 31/جنوری و یکم فروری 1981ئ کو نل باڑی میں بھی ایسا سمیلن ہوا۔ 

مجلس عاملہ 7، 8/اگست 1982ئ نے پولیس کی دہشت اور سرکاری زمینوں سے بے دخلی کی مذمت کی۔

18/فروری 1983ئ کو انتخابات کے دوران نیلی اور اس کے گرد تیرہ دیہات میں بنگالی مسلمانوں کا قتل عام ہوا، جس میں سرکاری ریکارڈ کے مطابق 1,819/افراد مارے گئے۔ مولانا مدنی نے 27/فروری 1983ئ کو بیان میں اس کی مذمت کی۔ 2/مارچ 1983ئ کو دو لاکھ روپے لے کر آسام گئے ۔اور مولانا علی احمد کی صدارت میں ریلیف کمیٹی بنائی گئی۔ مجلس عاملہ 5، 6 /مارچ 1983ئ میں آسام کے لیے ایک لاکھ روپے منظور کیے گئے اور قاتلوں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ 10/مارچ 1983ئ کی پریس کانفرنس میں مولانا مدنی نے اس فساد میں پولیس افسروں کے ملوث ہونے کا ذکر کیا۔

 14 تا 17/اپریل 1983ئ کو بغداد کی کانفرنس میں آسام فسادات کے تناظر میںپاکستان اور بنگلہ دیش نے ہندستان کے خلاف تجویز پیش کی،لیکن اسے اندرونی معاملہ بتاکر تجویز کو مسترد کرادی گئی۔اسی خبر کو یو این آئی نے ہندستان میں اس طرح شائع کیا کہ بغداد کانفرنس میں مولانا اسعد مدنی نے آسام فساد پر حکومت کو بری الذمہ قرار دے دیا۔ کانفرنس سے واپسی پر مولانا مدنی نے یو این آئی کی خبر کو گمراہ کن کہا اور واضح کیا کہ ایسی کوئی قرارداد نہیں آئی، البتہ فسادات پر  حکومت ہند کو بری الذمہ قرار نہیں دیا جاسکتا۔ مجلس عاملہ 8، 9/مئی 1983ئ نے دو لاکھ روپے کی مزید دو قسطیں منظور کیں اور مجلس منتظمہ 25، 26 نومبر 1983ئ نے وزیر اعلیٰ ہتیشور سیکیا کی کوششوں کو سراہا۔ 

تعلیمی و ملی کانفرنس 6 تا 8/اپریل 1984ئ کی تجویز نمبر 9 میں بھی آسام، بہار، گجرات اور راجستھان میں ’’دراندازی‘‘ کے بہانے ہراسانی کی مذمت کی گئی۔

مجلس عاملہ18/جنوری1985ئ اور6،7/مئی 1985ئ میں کہا گیا کہ آسوکے مطالبات نہ مانے جائیں۔ اسی دوران مولانا مدنی نے 28 /مارچ 1985ئ کو وزیر اعظم کو ایک مکتوب اور 12/اپریل 1985ئ کو کیبنٹ سکریٹری بی کے کول سے ملاقات کرکے آسام کے مسائل ان کے سامنے رکھے۔ مجلس عاملہ 12، 13/جولائی 1985ئ میں سیکیا وزارت کے خلاف سازشوں پر تشویش ظاہر کی گئی۔ 2/اگست 1985ئ کو مولانا مدنی نے راجیو گاندھی سے ملاقات کی اور نوٹ دیا کہ انتخابی فہرست میں اضافہ قومی اوسط کے مطابق ہے۔

در اصل آسام میں غیر ملکیوں کی شناخت کا مسئلہ 1979ئ سے پہلے ہی سے زیرِ بحث تھا؛ جولائی 1978ئ میں AASU نے اپنے 16/نکاتی مطالبات میں غیر ملکیوں کے اخراج کو شامل کیا اور 24–26/اکتوبر 1978ئ کو چیف الیکشن کمشنر ایس ایل شاکدھر کے بیان کے بعد 28/اکتوبر 1978ئ سے احتجاج شروع کیا۔ 1979ئ کے منگلدوئی ضمنی انتخاب کی انتخابی فہرستوں میں تقریباً 47/ہزار مشتبہ نام سامنے آنے کے بعد 8/جون 1979ئ کو ریاست گیر تحریک شروع ہوئی، جس کی قیادت AASU اور AAGSP نے کی۔ یہ مظاہرے، ہڑتال اور انتخابی بائیکاٹ 1985ئ تک جاری رہے۔ اسی دوران 18/فروری 1983ئ کو نیلی قتل عام سمیت شدید خون ریزی ہوئی۔ اور سرکاری ریکارڈ کے مطابق چھ سال میں 855/افراد مارے گئے (آسو کے مطابق 860)۔انھی حالات کے پیش نظر غیر ملکیوں کی شناخت کے لیے 15/ اکتوبر 1983ئ کو Ordinance اور 25/دسمبر 1983ئ کو Illegal Migrants (Determination by Tribunals) Act  (IMDT )نافذ کیا گیا، جس میں 25/مارچ 1971ئ کے بعد آنے والوں کی شناخت کے لیے ٹربیونل بنے۔ 

 بالآخر15/اگست 1985ئ کو راجیو گاندھی کی موجودگی میں آسام آندولن کے قائدین  آسو، گن سنگرام پریشد اور مرکزی و ریاستی حکومتوں کے درمیان آسام معاہدہ  ہوا۔ اس کے تحت یکم جنوری 1966ئ سے پہلے آنے والوں کو بھارتی شہری تسلیم کیا گیا، یکم جنوری 1966ئ سے 24/مارچ 1971ئ کے درمیان آنے والوں کے نام دس سال کے لیے ووٹر لسٹ سے نکال کر Foreigners Act کے تحت کارروائی کا فیصلہ کیا گیا، جب کہ 25/مارچ 1971ئ کے بعد آنے والوں کو غیر ملکی قرار دے کر نکالنے کی بات طے ہوئی۔ اس معاہدے کے ساتھ آسام کی چھ سالہ تحریک کا اختتام ہوا، لیکن اس کی یہی تاریخ بعد میں NRC کے سلسلے کی بنیاد بنی۔

15/اگست 1985ئ کو معاہدے کے وقت جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا سید اسعد مدنی برطانیہ کے دورے پر تھے۔ اطلاع ملنے پر انھوں نے معاہدے پر شدید تشویش ظاہر کی اور ناظم عمومی مولانا محمد اسرار الحق قاسمی کو آسام جا کر صورت حال کا جائزہ لینے کی ہدایت دی۔ ان کے نزدیک اقلیتوں سے رائے لیے بغیر عجلت میں کیا گیا یہ معاہدہ آسو اور گن سنگرام پریشد کو غیر معمولی طاقت دینے اور لاکھوں اقلیتوں کو حق شہریت سے محروم کرنے کا ذریعہ بن سکتا تھا۔

21/اگست 1985ئ کی شام محمد اسرار الحق قاسمی گوہاٹی پہنچے اور جمعیت علمائے آسام کے جنرل سکریٹری مولانا عبد الحق اور دیگر جماعتی ذمہ داران سے صورت حال پر گفتگو کی۔ 22/اگست کو دیش پور میں ریاستی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس کی صدارت مولانا احمد علی نے کی۔ تقریباً آٹھ گھنٹے کی تفصیلی بحث کے بعد معاہدے کی غیر ملکیوں سے متعلق دفعات اور خصوصاً دفعات 10، 11 اور 41 پر سخت تشویش ظاہر کی گئی اور انھیں اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کے لیے نقصان دہ قرار دے کر قرارداد منظور کی گئی۔ انتخابی فہرستوں سے اقلیتی ناموں کے اخراج اور انتخابی افسران کی بے ضابطگیوں پر بھی احتجاج کیا گیا۔

23/اگست 1985ئ کو محمد اسرار الحق قاسمی نے کارگزار وزیر اعلیٰ شری ہتیشور سیکیا سے ملاقات کی۔ مولانا احمد علی اور مولانا عبد الحق بھی موجود تھے۔ تقریباً 45 منٹ کی گفتگو میں اقلیتوں کے خدشات، انتخابی فہرستوں کی مشکلات اور معاہدے کے نقصانات سے آگاہ کیا گیا۔ وزیر اعلیٰ نے مرکزی وزیر داخلہ شری ایس بی چوہان سے بھی فون پر بات کی اور متعلقہ امور تحریری طور پر بھیجنے کی ہدایت دی۔ چیف الیکٹورل افسر پی این مسرا سے بھی گفتگو ہوئی، جنھوں نے زمین کے ریکارڈ، عدالتی فیصلوں اور دوسرے ثبوتوں کو قبول کرنے کے لیے سرکلر جاری کرنے کی یقین دہانی کرائی، مگر بعد میں اس پر مؤثر عمل نہ ہوسکا۔

24/اگست 1985ئ کو محمد اسرار الحق قاسمی نے مولانا عبد الحق کے ساتھ ضلع درنگ، کھاروپیٹا اور دیگر علاقوں کا دورہ کیا اور عوام کی مشکلات کا براہ راست مشاہدہ کیا۔ 29/اگست کو آسام سے واپسی کے بعد انھوں نے اخباری بیان کے ذریعے اقلیتوں کی پریشانی، آسو اور آر ایس ایس کی بڑھتی ہوئی قوت اور انتخابی فہرستوں میں دھاندلی کی تفصیلات بیان کیں۔ 4/ستمبر 1985ئ کو وزیر اعظم راجیو گاندھی کو چار صفحات پر مشتمل تفصیلی مراسلہ بھیجا گیا۔

اسی دوران صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی 21/اگست1985 ئ کی رات بیرون ملک سے ہندستان واپس آئے ، 24/اگست کو آسام کے لیے روانہ ہوئے ، 25/اگست کو کلکتہ میں جمعیت علمائے مغربی بنگال کی میٹنگ میں شریک ہوئے اور 26/اگست کو گوہاٹی پہنچ کر ہوجائی، نوگا¶ں اور موئرا باڑی کا دورہ کیا۔ وہاں انھوں نے ان شہریوں کی شکایات سنیں جن کے نام انتخابی فہرستوں سے نکالے جا رہے تھے۔ مقامی ذمہ داران نے بتایا کہ ہزاروں جائز ووٹروں کے نام کاٹے گئے ، 1971ئ کی فہرستیں قبول نہیں کی جارہیں، سماعتوں میں ناانصافیاں ہو رہی ہیں اور پہلے شہری تسلیم کیے جانے والے افراد پر بھی دوبارہ اعتراضات کیے جارہے ہیں۔ بعض علاقوں میں 1957ئ اور 1960ئ کی فہرستوں میں موجود افراد کے نام بھی حذف کیے گئے۔ بعض قبائلی علاقوں میں پوری مسلم آبادی کو انخلا کے نوٹس دیے گئے ،جب کہ NRC کی نقول حاصل کرنے کے لیے رشوت طلب کیے جانے کی شکایات بھی سامنے آئیں۔ اس موقع پر یہ بھی بتایا گیا کہ آسام کے لیے NRC کا قانون 1950ئ میں بنایا گیا اور 1951ئ میں NRC تیار ہوا، مگر اس کی باقاعدہ سالانہ نظرثانی نہیں ہوئی۔

28/اگست 1985ئ کو مولانا اسعد مدنی نے آسام کے وزیر مالیات، وزیر قانون اور دیگر وزرا سے ملاقات کی اور ان سے معاہدے کی خوبیوں کی وضاحت طلب کی؛ مگر وہ کوئی مؤثر جواب نہ دے سکے۔ صدر جمعیت نے اس کے نقصانات کے خلاف جدوجہد میں تعاون کی اپیل کی اور وزیر اعلیٰ سے بھی تفصیلی گفتگو کی۔

29/اگست 1985ئ کو گوہاٹی میں کل آسام اقلیتی کنونشن منعقد ہوا، جس کا اہتمام جمعیت علمائے آسام، شہری حقوق تحفظ کمیٹی اور آل آسام مائنارٹی فورم نے کیا تھا۔ مولانا اسعد مدنی نے واضح کیا کہ ہندستان مختلف مذاہب، تہذیبوں اور روایتوں کے ماننے والوں کا ملک ہے ؛ اگر اقلیتوں کے ساتھ انصاف نہ کیا گیا تو ملک تباہ ہوگا۔ 

انھوں نے کہا کہ اگر کوئی واقعی غیر ملکی ہے تو اس کے ساتھ ہمدردی نہیں، لیکن کسی ایک شہری کو بھی حق شہریت سے محروم کرنا ناقابل قبول ہے۔ انھوں نے آسام سمجھوتے کو آئین، بین الاقوامی معاہدوں اور انسانیت کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ حکومت نے آندولن کاریوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ہیں۔ تاہم انھوں نے واضح کیا کہ جدوجہد پرامن ہوگی، ملک یا قومی املاک کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا اور مقصد صرف انصاف کا حصول ہے۔

8/اکتوبر 1985ئ کو جمعیت علمائے ہند کے ایک وفد نے مولانا اسعد مدنی کی قیادت میں چیف الیکشن کمشنر آف انڈیا سے ملاقات کی اور آسام کی صورت حال پر میمورنڈم پیش کیا۔ وزیر اعظم سے ملاقات کے لیے بھی کئی روز کوشش کی گئی، مگر وقت نہیں ملا۔ 9/اکتوبر 1985ئ کو مولانا اسعد مدنی نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس کی اور اپنے آسام دورے کے مشاہدات کی بنیاد پر کہا کہ معاہدے نے مسلمانوں، بنگالی اور نیپالی ہندو¶ں سمیت لاکھوں مذہبی و لسانی اقلیتوں کے لیے ناقابل بیان مشکلات پیدا کردی ہیں۔ ان کے نزدیک یہ معاہدہ قومی اتحاد کے لیے مضر، آئینی حدود سے متجاوز اور لاکھوں شہریوں کے لیے تباہ کن ہے۔

10/اکتوبر 1985ئ کی مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند نے آسام سمجھوتے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے غیر انسانی، غیر آئینی، غیر منصفانہ اور قومی و بین الاقوامی قوانین کے خلاف قرار دیا۔ جمعیت کے نزدیک 1971ئ کے بجائے یکم جنوری 1966ئ کو عملی کٹ آف بنانا سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی کے موقف اور ان یقین دہانیوں سے انحراف تھا، جن میں 1971ئ تک آنے والوں کو شہری ماننے کا اصول برقرار رکھا گیا تھا۔ جمعیت نے اس امر پر بھی اعتراض کیا کہ سپریم کورٹ نے 1979ئ کی ووٹر فہرست کو جائز تسلیم کرکے 1983ئ کے آسام انتخابات کو قانونی قرار دیا تھا، مگر نئے سمجھوتے کے نتیجے میں انھی شہریوں کو مشکوک بنا دیا گیا۔

جمعیت نے معاہدے کی مختلف دفعات پر تفصیلی اعتراضات اٹھائے۔ اس کے نزدیک دفعہ 5 سابق ہندستانی و بنگلہ دیشی معاہدوں کے منافی تھی؛ دفعات 5(2) اور 5(3) نے شہریوں کو دو طبقات میں تقسیم کرکے ایک طبقے کو ووٹ کے حق سے محروم کردیا؛ دفعات 5(4) تا 5(9) نے انتظامی مشینری کو آسو اور گن سنگرام پریشد کے اثر میں دینے کا راستہ کھولا؛ دفعہ 8(2) نے تحریک کاروں کو غیر معمولی حیثیت دی؛ دفعہ 9(2) سے بے گھر ہونے کا خدشہ پیدا ہوا؛ دفعہ 10 سے ہزاروں مسلمانوں سمیت شہریوں کی زمین اور گھروں سے محرومی کا اندیشہ تھا؛ دفعہ 31 کے تحت امن و تعاون کی یقین دہانی کے باوجود تشدد جاری رہنے کی شکایت تھی، جبکہ دفعہ 41 کے تحت تشدد، قتل اور زیادتی کے ذمہ دار عناصر کو فائدہ پہنچنے کا اندیشہ ظاہر کیا گیا۔

جمعیت نے مطالبہ کیا کہ 24/مارچ 1971ئ تک آسام میں داخل ہونے والے تمام لوگوں کو شہریت کے مکمل حقوق دیے جائیں؛ کسی شخص کو متبادل سکونت، روزگار اور قابل کاشت زمین دیے بغیر اس کے گھر سے نہ نکالا جائے ؛ الیکشن کمیشن کی گھر گھر جاکر تیار کردہ یکم جنوری 1985ئ کی ووٹر لسٹ کو بنیادی فہرست مانا جائے ؛ اور جن افراد کے پاس مطلوبہ دستاویزات نہ ہوں، انہیں فوراً غیر ملکی قرار دے کر نکالنے کے بجائے قانون شہادت اور دوسرے قوانین کے مطابق شہریت ثابت کرنے کا مناسب موقع دیا جائے۔

اسی 10/اکتوبر 1985ئ کی مجلس عاملہ نے فیصلہ کیا کہ آسام کے مسئلے پر نومبر میں دہلی میں کل ہند کنونشن بلایا جائے۔ اس کے لیے تیاری کمیٹی میں مولانا سید اسعد مدنی، مولانا محمد اسرار الحق قاسمی، محمد حنیف دائم کمار ایڈووکیٹ، مولانا اسحاق سنبھلی، مولانا عبد الحق گوہاٹی، مولانا قاری محمد میاں اور مولانا سید احمد ہاشمی بطور کنوینر شامل کیے گئے۔

16/نومبر 1985ئ کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں شہری حقوق کنونشن کی قرارداد تیار کرنے کے لیے الگ کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں مولانا محمد اسرار الحق قاسمی، محمد حنیف دائم کمار ایڈووکیٹ، شکیل احمد سید ایڈووکیٹ، مولانا اسحاق سنبھلی اور حاجی عبد الر¶ف شامل تھے۔

 17/نومبر 1985ئ کو نئی دہلی میں جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام آل انڈیا شہری حقوق کنونشن منعقد ہوا، جس کی صدارت مولانا سید اسعد مدنی نے کی۔ مولانا سید احمد ہاشمی نے استقبالیہ خطاب میں آسام میں لاکھوں جائز شہریوں کے نام ووٹر لسٹ سے نکالے جانے کی مذمت کی۔ مولانا اسعد مدنی نے تقریباً 90 منٹ کی صدارتی تقریر میں آسام کے مظلوموں اور مذہبی و لسانی اقلیتوں کے خلاف جاری کارروائیوں کو بے نقاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ظلم جہاں بھی ہوگا، جمعیت شہریوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کرے گی۔ پروفیسر بالی مسرا نے اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیا، پروفیسر دلیپ چکرورتی نے واضح کیا کہ حملہ صرف مسلمانوں پر نہیں بلکہ بنگالی، نیپالی اور قبائلی اقلیتوں پر بھی ہے ، جب کہ چندرجیت یادو نے اپنی جماعت کی مکمل حمایت اور قربانی کا یقین دلایا۔ کنونشن صبح 10/بجے شروع ہوکر رات 10 بجے تک جاری رہا اور ایک اہم قرارداد منظور کی گئی۔

کنونشن کی قرارداد میں آسام سمجھوتے کو غیر قانونی، غیر انسانی، بین الاقوامی قوانین و معاہدوں اور انسانی حقوق کے خلاف قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ اسے منسوخ کرکے ایسا نیا سمجھوتہ کیا جائے جو تمام آسامی باشندوں کے لیے قابل قبول ہو اور جس میں آنجہانی وزیر اعظم اندرا گاندھی کے اعلانات، بالخصوص 15/اگست 1983ئ کی یقین دہانی، شامل ہو۔ 

15/اگست 1985ئ کو حکومت ہند، حکومت آسام، آل آسام اسٹوڈنٹس یونین (AASU) اور آل آسام گن سنگرام پریشد کے درمیان  ہونے والے آسام سمجھوتے کے تناظر میں Citizenship (Amendment) Act 1985 کے ذریعے شہریت ایکٹ 1955 میں دفعہ 6A شامل کی گئی۔جمعیت علمائے ہند نے ابتدا ہی سے اس سمجھوتے کو اقلیتوں، خصوصاً مسلمانوں کے لیے نقصان دہ قرار دیا۔ 

یکم اور 2 جنوری 1986ئ کو جمعیت کی مجلس منتظمہ نے آسام سمجھوتے کو قومی و بین الاقوامی قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں کے خلاف قرار دیا اور لاکھوں شہریوں کو حق شہریت و حق رائے دہی سے محروم کیے جانے پر تشویش ظاہر کی۔ 21، 22/فروری1986ئ کو مجلس عاملہ نے آسام کی صورت حال پر غور کرکے عدالتی کارروائی، مرکزی و ریاستی حکومتوں سے رابطہ، سیاسی دبا¶، اقلیتوں کے اتحاد اور جمعیتی تنظیم کو مضبوط کرنے کا فیصلہ کیا۔ فروری 1986 میں 6 سے 13/ فروری تک جمعیت کے دو رکنی وفد نے گوہاٹی، نوگانگ، درنگ، بارپیٹا، گوالپاڑہ، دھوبری، سلچر اور بانس کنڈی سمیت متعدد علاقوں کا دورہ کیا اور عوامی مشکلات کا جائزہ لیا۔ 27/فروری1986ئ  کو مولانا اسعد مدنی نے راجیہ سبھا میں آسام کے شہریوں کے ووٹ کے حق سے محرومی اور بے دخلی کے واقعات پر آواز اٹھائی۔ 7 سے 9/مارچ 1986ئ کو انھوں نے دوبارہ آسام کا دورہ کیا اور 19/اپریل 1986ئ کو وزیر اعظم راجیو گاندھی کو اقلیتوں کے جان، مال اور جائداد کے تحفظ کے لیے میمورنڈم دیا۔ 3/مئی 1986 کو مجلس عاملہ نے غیر آسامی شہریوں کی بے دخلی، روزگار اور معاشی حقوق سے محرومی کی شدید مذمت کی۔ 22/جون1986ئ کو مولانا اسعد مدنی نے دوبارہ آسام کا دورہ کیا اور اقلیت دشمن اقدامات پر تشویش ظاہر کی۔یکم نومبر 1986ئ کو مجلس منتظمہ نے حق شہریت کو ناقابل تنسیخ بنیادی حق قرار دیتے ہوئے شہریوں کو غیر ملکی قرار دینے ، زمینوں سے اجاڑنے اور معاشی ذرائع سے محروم کرنے کی مخالفت کی۔ 6 دسمبر1986ئ کو مجلس عاملہ نے بتایا کہ ہزاروں مسلمان بے دخل ہوچکے ہیں اور مزید ڈھائی لاکھ افراد کو نوٹس دیے گئے ہیں؛ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ مرکزی قانون اور عدالتی طریقہ¿ کار کی پابندی کی جائے۔

14/جنوری 1987 کو مولانا اسعد مدنی نے وزیر اعظم کو خط لکھ کر آسام تحریک کے عناصر سے کیے گئے سمجھوتے پر سخت اعتراض کیا۔ 16 سے 25/جنوری 1987ئ کو انھوں نے آسام کا دورہ کیا، بڑے عوامی اجتماعات سے خطاب کیا اور ظلم کے خلاف صبر و استقامت کی تلقین کی۔ 9، 10 فروری کو کچہار اور کریم گنج کا دوبارہ دورہ کیا۔ 27/مئی 1987ئ کو ریاستی جمعیت کے وفد نے صدر جمہوریہ سے ملاقات کرکے اقلیتوں کے مسائل پر میمورنڈم دیا اور 28/جولائی1987ئ کو جمعیت علمائے آسام کے 13 اضلاع کے 115 عہدے داروں و ارکان نے پارلیمنٹ ہا¶س کے سامنے دھرنا دیا۔ 17، 18/جولائی 1987 کی مجلس عاملہ نے پولیس کو شہریت کے فیصلوں میں اختیار دینے کی مخالفت کی۔7/نومبر1987ئ کو مجلس منتظمہ نے مسلمانوں، قبائلیوں اور دوسری اقلیتوں کو روزگار، لائسنس، پرمٹ اور دیگر معاشی حقوق سے محروم کرنے کی مذمت کی اور مطالبہ کیا کہ شہریت کے معاملے میں عدلیہ کے اختیارات محدود کرکے پولیس کو مزید اختیار نہ دیا جائے۔

 9، 10/جنوری 1988 کو مجلس عاملہ نے اقلیت دشمن پالیسی اور پولیس کو غیر ملکی شناخت کے اضافی اختیارات دینے کی مجوزہ ترمیم کی مخالفت کی۔ 9، 10/اپریل 1988 کو جمعیت نے دوبارہ آسام اکارڈ کو خصوصاً مسلمانوں کے لیے مضرت رساں قرار دیا اور ٹریبونل کے اختیارات کم کرکے پولیس کے اختیارات بڑھانے کی مخالفت کی۔

اگست 1988 کے آخری ہفتے میں آسام میں شدید سیلاب آیا، جس سے لاکھوں لوگ متاثر ہوئے۔ ستمبر 1988 میں مولانا اسعد مدنی نے وزیر اعظم راجیو گاندھی کے ساتھ متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا، جب کہ جمعیت نے ڈیڑھ لاکھ روپے کی ابتدائی امداد فراہم کی۔ اکتوبر میں ڈاکٹروں کی ٹیم، ادویات، غلہ اور دیگر سامان بھیجا گیا، 3075 کمبل فراہم کیے گئے اور 22 رضاکار امدادی کام کے لیے روانہ کیے گئے۔ جمعیت نے سیلاب زدگان کی امداد پر مجموعی طور پر تقریباً سات لاکھ روپے خرچ کیے۔ 26، 27/نومبر 1988 کو مجلس عاملہ نے حکومت آسام کی امدادی امتیازی پالیسی کی مذمت کی اور منصفانہ بازآبادکاری کا مطالبہ کیا۔

1989 میں آسام کی ووٹر لسٹ کا مسئلہ دوبارہ شدت اختیار کرگیا۔ 17/مئی 1989 کے سرکلر میں 1966ئ کی ووٹر لسٹ کو بنیاد بنانے کی ہدایت دی گئی، جس سے تقریباً 40 /لاکھ لسانی و مذہبی اقلیتوں کے حق شہریت اور حق رائے دہی کو خطرہ لاحق ہوا۔ جمعیت نے مرکزی حکومت، وزیر اعظم، وزیر داخلہ اور متعلقہ ذمہ داروں سے ملاقاتیں کرکے 1985 کی ووٹر لسٹ کو بنیاد بنانے کا مطالبہ کیا۔ مولانا اسعد مدنی نے اپنا بیرون ملک سفر مختصر کرکے دہلی پہنچ کر وزیر اعظم سے ملاقات کی اور پانچ صفحات کا میمورنڈم پیش کیا؛ وزیر اعظم نے یقین دہانی کرائی کہ ’ب‘ فہرست میں شامل افراد کو ووٹ کے حق سے محروم نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اواخر اگست 1989 میں جمعیت نے آسام کے سیلاب زدگان کے لیے مزید امداد بھیجی۔ 29/ستمبر1989ئ کو وزیر اعظم کو میمورنڈم دے کر شہریت کی تصدیق کے نام پر مسلمانوں کو ہراساں کرنے کا سلسلہ ختم کرنے ، 1985 کی ووٹر لسٹ کو بنیاد بنانے اور شہریت قانون میں ترمیم کا مطالبہ کیا گیا۔ 28/دسمبر 1989ئ کو مولانا اسعد مدنی نے راجیہ سبھا میں مطالبہ کیا کہ منصفانہ ووٹر لسٹ مکمل ہونے تک آسام میں انتخابات نہ کرائے جائیں۔

7/اپریل 1979 کو قائم ہونے والی ULFA نے آسام کو ہندستان سے الگ کرنے کے لیے مسلح جدوجہد شروع کی اور 1990 تک قتل، اغوا، بھتہ خوری اور حملوں کا سلسلہ بڑھ گیا۔ 9/مئی 1990 کو چائے باغان مالک سریندر پال قتل ہوئے اور 1990 میں ULFA سے منسوب 137 /واقعات میں 53 /افراد ہلاک ہوئے۔ 3/جون 1990کو جمعیت علمائے ہند نے ULFA کی متشدد سرگرمیوں کی مذمت کرتے ہوئے حکومت ہند سے سخت کارروائی اور آسام میں قانون کی بالادستی قائم کرنے کا مطالبہ کیا۔ 13 تا 19/ستمبر 1990ئ کو مولانا محمد اسرار الحق قاسمی نے گوالپاڑہ، جلیسر، دھوبری، بلسی پاڑہ، ہنوئی، بارپیٹا، نلباڑی، گوہاٹی، ناگا¶ں اور دیگر علاقوں کا دورہ کرکے مقامی صورت حال، ووٹر لسٹ اور شہریوں کی مشکلات کا جائزہ لیا۔ اسی دور میں اُلفا کی پرتشدد سرگرمیوں پر بھی جمعیت نے تشویش ظاہر کی۔بالآخر 28/نومبر 1990 کو آسام میں صدر راج نافذ ہوا، ULFA کو غیر قانونی قرار دیا گیا اور فوج نے آپریشن بجرنگ شروع کیا۔

3،4/اکتوبر 1993ئ کی تحفظ شریعت کانفرنس میں بنگلہ دیشی کے نام پر آسام کے مسلمانوں کو شہریت سے محروم کرنے کی مذمت کی گئی۔ 13/اکتوبر 1993ئ کو مولانا اسعد مدنی نے آسام کے کوکرا جھار اور بنگائی گا¶ں میں بوڈو انتہا پسندوں کے حملوں، مسلمانوں کی ہلاکت، مکانات کی تباہی اور ہزاروں افراد کی بے گھری پر حکومت کی بے حسی کی مذمت کی۔

1994ئ میں حالات مزید سنگین ہوئے۔ 9/ستمبر 1994ئ کو جمعیت علمائے ہند نے آسام کے فسادات کے سلسلے میں سپریم کورٹ میں رٹ داخل کی، جس میں مقتولین، زخمیوں اور لوٹ و آتش زدگی سے متاثرہ افراد کو معاوضہ، متاثرین کی بازآبادکاری اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ اسی سلسلے میں انسانی حقوق کمیشن سے بھی رجوع کیا گیا۔ 23/اکتوبر 1994ئ کی مجلس عاملہ نے آسام اور کرناٹک کے فسادات کی مذمت کرتے ہوئے آسام میں بنگائی گا¶ں، کوکرا جھار اور بارپیٹا کے مسلسل فسادات، سو سے زائد دیہات کی تباہی اور تقریباً بارہ سو مسلمانوں کی شہادت کا ذکر کیا۔ 8/دسمبر 1994ئ کو مولانا اسعد مدنی نے حقِ شہریت کے مسئلے پر میڈیا سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے واضح کیا کہ جمعیت کسی غیر ملکی کے حق میں نہیں، لیکن کسی ایک بھی ہندستانی شہری کو غیر ملکی قرار دینا برداشت نہیں کرسکتی۔

23/جنوری 1995ئ کی مجلس عاملہ میں آسام کی نئی ووٹر لسٹ کے مسئلے پر غور ہوا اور چوں کہ متعدد مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت تھے ، اس لیے عدالتی فیصلوں کا انتظار کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ 2/اپریل 1995ئ کو الیکشن کمیشن کے اقدامات کا جائزہ لے کر ہائی کورٹ میں قانونی کارروائی کا فیصلہ ہوا۔ 27،28،29/اکتوبر 1995ئ کی مجلس منتظمہ نے NRC کے ذریعے حقِ شہریت یقینی بنانے کا مطالبہ کیا اور D یعنی ڈا¶ٹ فل ووٹر کے نام پر شہریوں کو حقِ رائے دہی سے محروم کرنے اور غیر ملکی ہونے کے نوٹس بھیجنے پر تشویش ظاہر کی۔

12،13/اکتوبر 1996ئ کو IMDT Act پر مجلس عاملہ میں تفصیلی غور ہوا اور وزیر اعظم و وزیر داخلہ کو میمورنڈم دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ 9/نومبر 1996ئ کو آسام کے مسئلے پر حکومت سے براہِ راست بات چیت کے لیے مولانا اسحاق سنبھلی، شکیل احمد سید اور محمد حنیف دائما کمار کو ذمہ داری دی گئی۔ جمعیت نے اپنے موقف میں یہ بھی واضح کیا کہ IMDT Act کا بنیادی مقصد غیر ملکیوں کی شناخت کے ساتھ حقیقی ہندستانی شہریوں کو جھوٹی شکایات اور پولیس کی زیادتی سے تحفظ دینا ہے۔

18/جنوری 1998ئ کو جمعیت نے سپریم کورٹ میں رٹ داخل کرکے آسام کے 3/لاکھ 70 /ہزار ووٹروں کو مشتبہ قرار دے کر حقِ رائے دہی سے محروم کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو چیلنج کیا۔ 20/فروری 1998ئ کو مجلس عاملہ نے اس قانونی کارروائی کی تحسین کی اور مقدمے کے تمام اخراجات منظور کیے۔ 24،25/اپریل 1998ئ کی مجلس منتظمہ نے IMDT Act کو منسوخ کرنے کی کوشش کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے آسام میں لسانی و مذہبی اقلیتوں کا تحفظ متاثر ہوگا۔ 26/دسمبر 1998ئ کو مولانا اسعد مدنی نے گورنر ایس کے سنہا کی IMDT Act کو ختم کرنے کی سفارش پر سخت اعتراض کیا۔

28/جنوری 1999ئ کو مولانا اسعد مدنی کی قیادت میں جمعیت کے وفد نے منموہن سنگھ، راجیش پائلٹ اور ترن گوگوئی سے ملاقات کرکے آسام اور IMDT Act کے مسئلے پر گفتگو کی۔ 8/مارچ 1999ئ کی مجلس منتظمہ نے IMDT Act کو ختم کرنے کی کوششوں کی سخت مخالفت کی۔ 6/جون 1999ئ کے اقلیتی کنونشن میں مولانا اسعد مدنی نے کہا کہ غیر ملکی کی موجودگی کی حمایت نہیں، مگر پہلے کسی شخص کا غیر ملکی ہونا ثابت کیا جائے ؛ محض الزام کی بنیاد پر مسلمانوں کو ووٹ کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ 29/جولائی 1999ئ کو سپریم کورٹ نے آسام کے 3 لاکھ 17 ہزار ووٹروں سے متعلق جمعیت کی رٹ کو ستمبر کے دوسرے ہفتے میں آخری بحث کے لیے مقرر کرنے کا حکم دیا۔ 10/اگست 1999ئ کو مولانا مدنی نے آسام کے وزیر اعلیٰ کی برطرفی کا مطالبہ کیا۔ 13،14/اکتوبر اور یکم دسمبر 1999ئ کی مجلس عاملہ میں IMDT Act کے خاتمے کی کوششوں کے مضمرات پر دوبارہ غور کیا گیا۔

13/مئی 2000ئ کے جمعیت کے 26/ویں اجلاس عام میں IMDT Act برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا گیا۔ 8/جولائی 2000ئ کو مولانا محمود مدنی کی نگرانی میں ایک وفد نے دہلی میں بنگلہ زبان بولنے والے ان افراد کی صورت حال کا جائزہ لیا، جنھیں بنگلہ دیشی قرار دے کر حراست میں رکھا گیا تھا، اور مطالبہ کیا کہ IMDT Act کی طرح ایسا قانونی تحفظ پورے ملک میں فراہم کیا جائے۔ یکم مئی 2002ئ کو بھی جمعیت نے اپنے اسی موقف کا اعادہ کیا۔ 6/اپریل 2005ئ کو آسام میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کے خلاف رائے عامہ بیدار کرنے کی مہم کا فیصلہ ہوا اور 28/جون 2005ئ کو ووٹر لسٹ سے مسلمانوں کے ناموں کے اخراج کی اصلاح کے لیے تربیتی کیمپ لگانے اور 3 لاکھ روپے کی منظوری دی گئی۔

30/اکتوبر 2008ئ کو گوہاٹی، کوکرا جھار، بارپیٹا روڈ اور بونگائی گا¶ں میں سلسلہ وار بم دھماکے ہوئے ، جن میں سرکاری اعداد کے مطابق 89/افراد ہلاک اور 477/زخمی ہوئے۔ یکم نومبر 2008ئ کو جمعیت نے دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے انصاف، غیر جانب داری اور شفاف کارروائی کو امن و شہریوں کے تحفظ کے لیے ضروری قرار دیا۔

2011ئ میں آسام میں 1951ئ کے NRC کو اپ ڈیٹ کرنے کا مسئلہ دوبارہ نمایاں ہوا۔ 2010ئ میں کامروپ اور بارپیٹا کے دو علاقوں میں پائلٹ منصوبہ شروع ہوا، مگر رک گیا؛ جولائی 2011ئ میں آسام حکومت نے طریقہ¿ کار آسان بنانے کے لیے کابینہ کی ذیلی کمیٹی بنائی، جس نے مارچ 2012ئ میں رپورٹ پیش کی، اور 2013ئ میں NRC کی تجدید کا باضابطہ عمل شروع ہونے کی راہ ہموار ہوئی۔ 6،7/مارچ 2011ئ کی مجلس منتظمہ نے شہریوں کو D ووٹر قرار دینے ، شہریت کے ثبوت کے نام پر ہراساں کرنے اور غیر ملکی ہونے کے شبہ کے نوٹس دینے پر تشویش ظاہر کی۔

18،19/مئی 2012ئ کی مجلس منتظمہ نے واضح کیا کہ جمعیت کسی غیر ملکی کو ہندستانی شہری بنانے کے حق میں نہیں، لیکن کسی ہندستانی شہری کو زبان یا مذہب کی بنیاد پر شہریت اور ووٹ کے حق سے محروم کرنا بھی ناقابلِ قبول ہے۔ اس اجلاس نے D ووٹروں کے مسئلے ، پولیس کو شہریت کے فیصلے کا عملی اختیار دینے ، 24/مارچ 1971ئ کی حد کو تبدیل کرکے 1951ئ کرنے کی کوششوں اور شہریوں کے دستوری حقوق کے تحفظ پر تفصیلی مطالبات پیش کیے۔ اسی موقع پر دریا بردگی، بے گھر ہونے والے لوگوں، زمین کے پٹوں، برہم پتر کے پشتوں اور دھوبری میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے کیمپس سمیت متعدد مسائل اٹھائے گئے۔

19/جولائی 2012ئ کو کوکرا جھار میں مسلم طلبہ تنظیموں کے دو رہنما¶ں پر حملہ ہوا اور 20/جولائی 2012ئ کو چار سابق بوڈو عسکریت پسندوں کے قتل کے بعد کوکرا جھار، چِراںگ، باکسا اور دھوبری میں بڑے پیمانے پر تشدد پھیل گیا۔ ہزاروں خاندان بے گھر ہوئے اور چار لاکھ سے زائد افراد نے ریلیف کیمپوں میں پناہ لی۔ 8/اگست تک سرکاری اعداد کے مطابق 77 افراد ہلاک، 50 زخمی، 7 لاپتہ اور 5,367 مکانات جل چکے تھے۔ 24/جولائی 2012ئ کو جمعیت نے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ اور کانگریس صدر سونیا گاندھی کو خط لکھ کر بوڈو حملہ آوروں کے خلاف سخت کارروائی، متاثرین کے تحفظ اور بازآبادکاری کا مطالبہ کیا۔

آسام میں 2012ئ کے فسادات اور سیلاب کے بعد جمعیت علمائے ہند نے ریلیف، بازآبادکاری، قانونی امداد اور شہری حقوق کے تحفظ کے لیے وسیع سرگرمیاں شروع کیں۔ 29/ستمبر 2012ئ کو جاری بیان کے مطابق اٹھارہ اضلاع میں سیلاب سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے ،جب کہ جولائی کے فسادات سے بے گھر پانچ لاکھ افراد کی بازآبادکاری بھی جاری تھی؛ 24/ستمبر 2012ئ کو مولانا حفیظ الرحمان قاسمی اور مولانا محسن اعظم قاسمی پر مشتمل مرکزی وفد آسام پہنچا۔ 16/اکتوبر 2012ئ کو مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری کی قیادت میں وفد نے قومی اقلیتی کمیشن کے چیئرمین وجاہت حبیب اللہ سے ملاقات کرکے مسئلہ آسام، بے قصور مسلم نوجوانوں کی گرفتاری، معاوضہ، انسدادِ فرقہ وارانہ تشدد قانون، ریزرویشن اور اوقافی املاک کے تحفظ کے مطالبات پیش کیے۔ 17/اکتوبر 2012ئ کو جمعیت کے لیگل سیل کی کوشش سے گوہاٹی ہائی کورٹ نے فسادات کے الزام میں گرفتار چھ مسلم نوجوانوں کی ضمانت منظور کرکے رہائی کا حکم دیا، جب کہ 20/اکتوبر 2012ئ کو بلاسی پارہ پبلک ہائی اسکول کیمپ میں پولیس زیادتی کی مذمت کی گئی۔ 16/نومبر 2012ئ کو جمعیت نے آسام میں تازہ فرقہ وارانہ تشدد پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے شہری مسئلے کے منصفانہ حل کو امن کی بنیادی شرط قرار دیا۔ 28/نومبر 2012ئ کو جمعیت نے سرکاری طور پر پناہ گزینوں کی گھر واپسی کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے بتایا کہ بہت سے متاثرین محض ایک کیمپ سے دوسرے کیمپ منتقل ہوئے ہیں، بعض علاقوں میں خوراک، پانی، بجلی اور تحفظ کا فقدان ہے اور واپس جانے والوں کو سماجی و معاشی بائیکاٹ کا سامنا ہے۔ اس دوران جمعیت نے مکانات، کمبل، مکاتب، قربانی، طبی امداد اور قانونی کارروائی کا وسیع انتظام کیا اور تقریباً بیس ہزار ایف آئی آر درج کرانے میں مدد دی۔ 12/دسمبر 2012ئ کی مجلس عاملہ میں آسام کی رپورٹ پیش ہوئی، جس کے مطابق ریلیف کے لیے نقد و اشیا سمیت تقریباً نو کروڑ روپے پہنچ چکے تھے ، 23 ہزار مالی نقصانات کے مقدمات موجود تھے اور بازآبادکاری کے لیے مکانات کی منصوبہ بندی کی گئی۔

14/اپریل 2013ئ کی چشم دید رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2012ئ کے حملوں سے تباہ ہونے والے مسلم دیہات کے متعدد خاندان اب بھی خوف، بے گھری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں؛ جمعیت نے مدنی نگر اور احمد علی نگر کالونیوں، مساجد و مدارس کی مرمت، پانی کے نلوں، مکانات اور تعلیم کے منصوبے شروع کیے ، جب کہ7/مارچ 2013ئ کو مولانا محمود مدنی نے کھوٹاماری، کوکراجھار میں مدرسے کی بنیاد رکھی اور متاثرین کے سو یتیم بچوں کو گود لینے کا فیصلہ کیا۔ 13/مئی 2013ئ کو لکھی گنج، دھوبری میں 110/مسلم جوڑوں سمیت بوڈو، آدی واسی اور برمن برادریوں کے جوڑوں کی اجتماعی شادی کرائی گئی اور انھیں گھریلو سامان و رہائش فراہم کرنے کا انتظام کیا گیا۔ 6/جولائی 2013ئ کو لکھی گنج میں ریلیف و بازآبادکاری کے کام سے واپس آنے والی جمعیت کی ٹیم کے ساتھ پولیس نے مبینہ مارپیٹ کی، دستاویزات اور موبائل چھین لیے اور گرفتاری کی دھمکی دی، جس پر جمعیت نے قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا۔ 10/جولائی 2013ئ تک جمعیت نے تین مقامات پر کالونیوں کے لیے زمین خریدی، ہزاروں خاندانوں میں خوراک، کپڑے ، کمبل، خیمے اور دیگر ضروری سامان تقسیم کیا، تقریباً 50 ہزار افراد کا علاج کیا، مکاتب و مدارس قائم کیے ، چار زونوں میں لیگل سیل قائم کیے ، دو کالونیاں مکمل کیں اور مزید 500 مکانات، مساجد و مدارس کی تعمیر و مرمت شروع کی؛ طویل مدتی منصوبے میں کم از کم 5000 مکانات، 2000 مکانات کی مرمت، 1000 پانی کی نلیں، 500 کنویں اور 250 بیت الخلا بنانے کا ہدف رکھا گیا۔ 25/نومبر 2013ئ تک 500 مکانات میں سے 188 مکانات متاثرین کے حوالے کیے گئے ، جب کہ 47 مساجد اور پانچ مدارس کی تعمیر نو بھی کرائی گئی۔

4/مئی 2014ئ کو مولانا محمود مدنی نے آسام کے وزیر اعلیٰ ترون گوگوئی سے ملاقات کرکے بوڈو ایریا کی علاقائی کونسل کی معطلی، ذمہ دار عناصر کی گرفتاری، ناجائز اسلحہ ضبط کرنے ، متاثرین کو مناسب معاوضہ اور فوری بازآبادکاری کے مطالبات کیے ، جب کہ 9/مئی 2014ئ کو متاثرین کو ان کے سابقہ علاقوں میں محفوظ طریقے سے دوبارہ بسانے پر زور دیا گیا۔ 24/مئی 2014ئ کی مجلس عاملہ نے بنگلہ زبان بولنے والے مسلمانوں کو شہریت سے محروم کرنے کی کوششوں کی مخالفت کرتے ہوئے واضح کیا کہ شہریت کا فیصلہ پولیس نہیں؛ بلکہ عدالت کرے ؛ 1985ئ کے آسام معاہدے کے مطابق 25/مارچ 1971ئ تک آنے والوں کے شہری حقوق برقرار رکھنے ، NRC کے حصول کو آسان بنانے ، ڈی ووٹرز اور فارنرز سے متعلق مقدمات جلد نمٹانے ، شہریت کے ثبوت کا غیر منصفانہ بوجھ شہریوں پر نہ ڈالنے ، دریائے برہم پتر کے کٹا¶ سے متاثرین کو زمین کے پٹے دینے اور سیلابی علاقوں کے تحفظ کا مطالبہ کیا۔ اسی عرصے میں 1 تا 3/مئی 2014ئ کو باکسا اور کوکراجھار کے BTAD علاقوں میں مسلح حملوں میں بنگالی النسل مسلمانوں کے قتل، مکانات کی تباہی اور بڑے پیمانے پر بے گھری کے واقعات ہوئے ؛ 25،26/مئی 2014ئ کی مجلس منتظمہ نے 1993ئ سے جاری BTAD تشدد پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے غیر بوڈو اکثریتی علاقوں کو BTAD سے الگ کرنے ، ناجائز اسلحہ ضبط کرنے ، مجرموں کو سزا دینے ، مقتولین کو دس لاکھ اور زخمیوں کو پانچ لاکھ روپے معاوضہ دینے اور بے گھر افراد کی محفوظ واپسی کا مطالبہ کیا۔

5/مارچ 2015ئ کو کریم گنج کے سید فرید خان کو دِماپور، ناگالینڈ میں ہجوم نے جیل سے نکال کر تشدد کرکے قتل کردیا، جس پر 8/مارچ 2015ئ کو جمعیت نے سخت مذمت کرتے ہوئے مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا۔ 16/مئی 2015ئ کے بتیسویں اجلاس عام میں مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری نے جولائی 2012ئ کے بوڈو حملوں کو غیر بوڈو آبادی کو علاقے سے نکالنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ محض ریلیف اور بازآبادکاری کافی نہیں، بلکہ بوڈو مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنا اور بنیادی حالات درست کرنا ضروری ہے ؛ اسی اجلاس نے آسام میں سپریم کورٹ کی نگرانی میں جاری NRC کی مشکلات پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے 16/جولائی 2013ئ کے سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق 1951ئ کی NRC اور 24/مارچ 1971ئ کی نصف شب تک کے انتخابی ریکارڈ عوام کو فراہم کرنے ، پرانی ووٹر فہرستوں کی عدم دستیابی اور ریکارڈ کی غلطیوں کو دور کرنے ، 1966ئ تا 1971ئ کے دستاویزات رکھنے والوں اور 25/مارچ 1971ئ کے بعد پیدا ہونے یا دوسری ریاستوں سے آسام منتقل ہونے والوں کی شہریت کی قانونی حیثیت واضح کرنے اور NRC کا عمل جلد مکمل کرنے کا مطالبہ کیا۔ 

13/ستمبر2015ئ کو جاری پریس بیان کے مطابق مولانا حکیم الدین قاسمی، سکریٹری جمعیت علمائے ہند، نے آسام کے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا۔ جمعیت علمائے آسام، اجمل فا¶نڈیشن اور مرکز المعارف باہمی تعاون سے متاثرین کی راحت رسانی میں مصروف تھے۔ جمعیت کے وفد میں مولانا بدرالدین اجمل، حافظ بشیر احمد، مولانا محبوب حسن، مفتی محمد یحییٰ، مولانا عبدالمجید، مولانا سلیمان، حاجی عبدالخالق، مولانا ہاشم اور عبد الکریم وغیرہ شامل تھے۔ شدید سیلاب سے آسام کے 30 اضلاع میں سے 18 اضلاع متاثر ہوئے ، 1,814 گا¶ں تباہ ہوئے اور تقریباً 8 لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔ سڑکیں، پل، مکانات اور فصلیں بھی شدید متاثر ہوئیں۔ جمعیت نے بجنی کے مناکشا میں احمد علی نگر کالونی کے 107 خاندانوں سمیت مدرسہ گرائی ماری کوکری پارک کے 140، ناتھن گوری کے 105، مناکشا کے 52 اور بالاچر کے 48 خاندانوں کو رہائش، کھانے پینے اور ضروری اشیا فراہم کیں۔ سرکاری امداد کی صورت حال یہ تھی کہ ایک خاندان کو 15 دن میں صرف 3 کلو چاول ملے ، جس کے پیش نظر جمعیت علمائے ہند، اجمل فا¶نڈیشن اور مرکز المعارف نے امدادی سرگرمیاں تیز کردیں۔ اسی دوران مولانا حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں وفد نے کوکراجھار جیل کا بھی دورہ کیا، جہاں بنگلہ دیشی اور برما کے نام پر 121 عورتیں اور بچے اور دیگر جیلوں میں مرد قید تھے۔

18/ستمبر2015ئ کو جمعیت علمائے ہند نے گجرات، مغربی بنگال، آسام اور منی پور کے سیلاب متاثرین کے لیے مجموعی طور پر 54 لاکھ روپے کی امدادی رقم جاری کی، جس میں گجرات کے بناس کانٹھا و پٹن کے لیے 20 لاکھ، مغربی بنگال اور آسام کے لیے 10،10 لاکھ اور منی پور کے لیے 5 لاکھ روپے شامل تھے۔

27/جولائی2016ئ کو جمعیت کے لیگل سیل کی کوششوں سے آسام کے 2012ئ کے بوڈو فساد میں ماخوذ 34/مسلم نوجوانوں کو گوہاٹی ہائی کورٹ سے ضمانت مل گئی۔ ان پر قتل، لوٹ مار، آتش زنی اور ملک کے خلاف جنگ جیسے مقدمات قائم کیے گئے تھے۔ ایک ملزم اسامہ علی دوران حراست وفات پاچکا تھا، جب کہ باقی افراد کو عدالت نے 20/ہزار روپے کے مچلکے پر ضمانت دیتے ہوئے قرار دیا کہ مزید قید رکھنے کی کافی وجہ موجود نہیں۔

13/نومبر2016ئ کو منعقدہ تینتیسویں اجلاس عام میں آسام میں مذہبی و لسانی اقلیتوں کو غیر ملکی قرار دے کر ہراساں کیے جانے کے مسئلے پر اہم تجویز منظور ہوئی۔ جمعیت نے واضح کیا کہ کسی حقیقی غیر ملکی کے ساتھ اسے کوئی ہمدردی نہیں؛ لیکن کسی ہندستانی شہری کو بنگلہ دیشی یا غیر ملکی قرار دے کر پریشان کرنا بھی ناقابل قبول ہے۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ کسی شخص کو غیر ملکی قرار دے کر عدالت بھیجنے سے پہلے مقامی سطح پر مختلف سیاسی جماعتوں، مذاہب اور قبائل کے نمائندوں پر مشتمل ناگرک کمیٹیاں اس کے دستاویزات کی جانچ کریں۔ ساتھ ہی اب تک بے دخل کیے گئے لوگوں کو معاوضہ، سرکاری زمین پر 20،25 سال سے آباد لوگوں کو قانونی پٹہ اور بے سہارا افراد کو بے دخل کرنے سے پہلے متبادل زمین فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ حافظ بشیر احمد نے تجویز پیش کی اور مولانا محمود اسعد مدنی نے تائید کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت غیر ملکیوں کی قانونی شناخت کے خلاف نہیں؛ اصل مطالبہ یہ ہے کہ کسی ہندستانی شہری کو غیر ملکی بنا کر ذلیل نہ کیا جائے اور حکومت اگر واقعی مسئلہ حل کرنا چاہتی ہے تو جمعیت تعاون کے لیے تیار ہے۔

2017ئ میں NRC کی تجدید کے ساتھ آسام کے باشندوں کے حق شہریت کا مسئلہ مزید اہم ہوگیا۔ 6/اپریل2017ئ کی مجلس عاملہ میں حافظ بشیر احمد نے آسام کے شہریت مقدمات کی تفصیلات پیش کیں، جس پر مجلس نے فیصلہ کیا کہ قانونی مقدمات کی پیروی میں کوئی کسر نہ رکھی جائے گی اور ان کے اخراجات میں جمعیت علمائے ہند ہر ممکن تعاون کرے گی۔ 2/مئی2017ئ کو مفتی کفایت اللہ ہال، نئی دہلی میں آسام کے حق شہریت کے مسئلے پر اہم پریس کانفرنس ہوئی، جس میں مولانا محمود مدنی، مولانا بدرالدین اجمل، ایڈووکیٹ نیاز احمد فاروقی، مولانا حکیم الدین قاسمی، ایڈووکیٹ مظہر بھوٹیا، ایڈووکیٹ امین الاسلام اور ایڈووکیٹ قاسم نے شرکت کی۔ مولانا محمود مدنی نے مطالبہ کیا کہ آسام ایکورڈ 1985ئ کی مکمل پاسداری کرتے ہوئے شہریت کا فیصلہ کیا جائے اور مذہب کو شہریت کی بنیاد بنانے کی مخالفت کی۔ انھوں نے کہا کہ اگر کوئی غیر ملکی غیر قانونی طور پر مقیم ہے تو اسے قانون کے مطابق نکالا جائے ، لیکن کسی حقیقی ہندستانی شہری کو بلا وجہ پریشان نہ کیا جائے۔

جمعیت نے سپریم کورٹ میں آسام ایکورڈ کے دفاع میں اپنا مقدمہ پیش کرتے ہوئے 25/مارچ1971ئ کو شہریت کی بنیاد تسلیم کرنے کی وکالت کی۔ یکم مئی2017ئ کو جمعیت کی سینئر وکلا ٹیم نے سپریم کورٹ میں تحریری جواب اور متعلقہ دستاویزات داخل کیے۔ آسام کے شہریت مسئلے کی تاریخی سنگینی بیان کرتے ہوئے جمعیت نے 1978ئ تا 1985ئ کی تحریک، 1983ئ کی نیلی نسل کشی اور 1985ئ کے آسام ایکورڈ کا حوالہ دیا، جس کے تحت 25/مارچ1971ئ کو Cut-off date تسلیم کیا گیا تھا۔ بعد ازاں Citizenship Act 1955ئ میں Section 6-A شامل کیا گیا۔ لیکن 2009ئ اور 2012ئ میں بعض تنظیموں کی جانب سے سپریم کورٹ میں مقدمات دائر کرکے 1971ئ کے بجائے 1951ئ کو بنیاد بنانے اور آسام ایکورڈ و Section 6-A کو چیلنج کیا گیا۔ جمعیت نے ان کوششوں کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا اور آسام ایکورڈ کے دفاع میں مقدمہ لڑنے والی اہم تنظیموں میں شامل رہی۔ سپریم کورٹ کی پانچ رکنی آئینی بنچ کے سامنے جمعیت نے یکم مئی2017ئ کو 31/ سوالات کے جوابات داخل کیے ،جب کہ حتمی سماعت 8/مئی2017ئ سے شروع ہونے والی تھی۔

اسی دوران 28/فروری2017ئ کے گوہاٹی ہائی کورٹ کے اس فیصلے کے خلاف بھی جمعیت نے سپریم کورٹ میں اپیل کی، جس میں پنچایت سکریٹری کے جاری کردہ سرٹیفکیٹ کو شہریت کے ثبوت کے طور پر تسلیم کرنے پر سوال اٹھایا گیا تھا۔ 4/مئی2017ئ کو سپریم کورٹ نے NRC کوآرڈینیٹر سے جواب طلب کیا۔ جمعیت کو خدشہ تھا کہ اس فیصلے سے تقریباً 48 لاکھ افراد، خصوصاً خواتین، کی شہریت متاثر ہوسکتی ہے۔

28/اکتوبر2017ئ کی مجلس منتظمہ نے آسام کے شہریوں کو غیر ملکی قرار دے کر ہراساں کیے جانے کے خلاف سابقہ موقف دہراتے ہوئے کہا کہ معمولی دستاویزی غلطیوں، مثلاً نام کی املا یا عمر کے فرق، کو بنیاد بناکر حقیقی شہریوں کو غیر ملکی قرار دینا ناانصافی ہے۔ اجلاس نے 25/مارچ1971ئ کو بنیاد بناکر NRC تیار کرنے ، تمام حقیقی شہریوں کو غیر جانب دارانہ جانچ کے بعد NRC میں شامل کرنے اور مکمل NRC ایک ساتھ شائع کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس نے غیر ملکی قرار دے کر جیلوں میں بند افراد کے کاغذات دوبارہ جانچنے اور حقیقی شہریوں کو رہا کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ اجلاس نے متاثرہ عوام سے اشتعال سے بچنے اور دستور و عدلیہ سے انصاف کی امید رکھنے کی اپیل کی۔

29/نومبر2017ئ کو آسام میں NRC کے اندر Originally Inhabitant اور غیر اصلی مقیم شہری کی الگ الگ درجہ بندی کے خلاف جمعیت علمائے ہند کی پٹیشن پر سپریم کورٹ میں سماعت مکمل ہوئی اور فیصلہ محفوظ کرلیا گیا۔ اس سے قبل 12/اکتوبر2017ئ کو NRC کوآرڈینیٹر پرتیک ہزیلا نے حلف نامے میں بتایا تھا کہ 48 لاکھ پنچایت سرٹیفکیٹ جمع کرانے والوں میں تقریباً 17 لاکھ 40 ہزار کو Originally Inhabitant قرار دیا گیا ہے ، جب کہ باقی کی جانچ جاری ہے۔ جمعیت نے اس درجہ بندی کو غیر ضروری اور لاکھوں لوگوں کے حق شہریت کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے چیلنج کیا۔ عدالت نے بھی سوال اٹھایا کہ جب کوئی شخص دستاویزات سے اپنی شہریت ثابت کردے تو اسے اصلی یا غیر اصلی شہری میں تقسیم کرنے کی ضرورت کیا ہے۔ جمعیت کی طرف سے سینئر وکلا بی ایچ مارلاپلے ، راجو رام چندرن، اعجاز مقبول، شکیل احمد اور دیگر نے بحث میں حصہ لیا۔

اسی سلسلے میں 30/نومبر2017ئ کو سپریم کورٹ نے مرکزی و آسام حکومت کی NRC مکمل کرنے کی مقررہ تاریخ 31/دسمبر2017ئ سے بڑھا کر 31/جولائی2018ئ کرنے کی درخواست مسترد کردی اور بار بار مدت بڑھانے پر حکومتوں کو سرزنش کی۔ عدالت نے کہا کہ گزشتہ تین برس سے NRC کی تیاری جاری ہے اور متعدد مرتبہ تاریخیں تبدیل کی جاچکی ہیں۔ اس طرح آسام میں جمعیت علمائے ہند کی جدوجہد محض ریلیف اور فساد متاثرین کی بازآبادکاری تک محدود نہیں رہی؛ بلکہ 2012ئ سے 2017ئ تک اس نے امداد، مکانات، تعلیم، قانونی دفاع، متاثرین کے حقوق، فرقہ وارانہ تشدد کے خلاف آواز اور سب سے بڑھ کر آسام کے حقیقی باشندوں کے آئینی و شہری حقوق کے تحفظ کو اپنی مسلسل جدوجہد کا اہم حصہ بنائے رکھا۔

12/جون2018ئ کو مولانا قاری محمد عثمان منصورپوری کی قیادت میں جمعیت کے وفد نے قومی سلامتی مشیر اجیت ڈوال اور ہوم سکریٹری سے ملاقات کی۔ وفد نے ڈی ووٹرز اور ڈکلیئرڈ فارنرس کے رشتہ داروں کی دوبارہ جانچ، پنچایت لنک سرٹیفیکٹ، پرائیویٹ اسکول سرٹیفیکٹ اور ووٹر لسٹ کی مصدقہ نقول کو مسترد کیے جانے سمیت مختلف مسائل اٹھائے اور 22 نکات پر مشتمل یادداشت پیش کی۔ جمعیت نے خبردار کیا کہ اگر ڈی ووٹرز اور ڈکلیئرڈ فارنرس کے رشتہ داروں کو بھی محض رشتہ داری کی بنیاد پر مشکوک قرار دیا گیا، تو متاثرین کی تعداد بہت بڑھ سکتی ہے۔ 30/ جون2018ئ کی مجلس عاملہ میں ضرورت پڑنے پر شہریت کے مقدمات پوری قوت سے لڑنے کا فیصلہ کیا گیا۔

30/جولائی2018ئ کو این آر سی کا مکمل مسودہ جاری ہوا، جس میں 40/لاکھ سے زائد افراد کے نام شامل نہیں تھے۔ جمعیت نے اسے انسانی اور سماجی اعتبار سے سنگین مسئلہ قرار دیا اور اعلان کیا کہ آسام کے لوگوں کے حق کے لیے قانونی جدوجہد جاری رکھی جائے گی۔ جمعیت علمائے صوبہ آسام نے تقریباً 5100 وکلا اور دانش وروں کو مختلف اضلاع میں لوگوں کی مدد کے لیے متحرک کیا۔ 19/ستمبر2018ئ کو سپریم کورٹ میں ان 40 لاکھ افراد کے دعووں اور شہریت ثابت کرنے کے لیے مطلوبہ دستاویزات کے طریقہ¿ کار پر سماعت ہوئی، جسے جمعیت نے امید افزا قرار دیا۔29/اکتوبر2018ئ کو جمعیت علمائے صوبہ آسام نے سپریم کورٹ کی اجازت سے حلف نامہ داخل کرکے ان پانچ دستاویزات کی حیثیت بحال رکھنے کی وکالت کی، جنھیں این آر سی کوآرڈی نیٹر خارج کرنا چاہتے تھے۔ یکم نومبر2018ئ کو سپریم کورٹ نے یہ سفارش مسترد کرتے ہوئے 1971ئ سے قبل کے راشن کارڈ، ریفیوجی رجسٹریشن سرٹیفیکٹ، 1951ئ کا این آر سی اور 1966ئ و1971ئ کی ووٹر لسٹ سمیت پانچ دستاویزات کو دوبارہ قابل قبول قرار دیا۔

24/جنوری2019ئ کو سپریم کورٹ نے این آر سی کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے دعووں اور اعتراضات میں تمام افراد کو منصفانہ موقع دینے اور غیر ضروری پریشانی سے بچانے کی ہدایت کی۔ این آر سی کوآرڈی نیٹر کی رپورٹ کے مطابق تقریباً 36 لاکھ 20 ہزار افراد نے دعوے داخل کیے ، تقریباً 2 لاکھ افراد کے نام ہولڈ پر تھے اور تقریباً 2 لاکھ 10 ہزار اعتراضات داخل ہوئے۔ عدالت نے اعتراضات کے ذرائع کی تحقیق، ویری فکیشن عملے میں تبدیلی اور مکمل این آر سی کے لیے 31/جولائی2019ئ کی تاریخ مقرر کی۔ جمعیت نے امید ظاہر کی کہ حقیقی ہندستانیوں کو انصاف ملے گا۔

18/جولائی2019ئ کو مولانا محمود مدنی نے آسام اور بہار کے شدید سیلاب پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ابتدائی طور پر 50 لاکھ روپے کا امدادی فنڈ جاری کیا۔ آسام کے 30 اضلاع میں 50 لاکھ سے زائد افراد متاثر، تقریباً ڈیڑھ لاکھ ہیکٹر سے زیادہ فصلیں تباہ اور 82 افراد جاں بحق ہوچکے تھے۔ 31/اگست2019ئ کو این آر سی کی حتمی فہرست جاری ہوئی، جس میں 19 لاکھ سے زائد افراد کے نام شامل نہ ہوسکے۔

12/ستمبر2019ئ کی مجلس منتظمہ سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ این آر سی کا پس منظر 1985ئ کے آسام معاہدے سے جڑا ہوا ہے اور 2013ئ میں سپریم کورٹ میں دائر مفاد عامہ کی درخواستوں کے بعد یہ عمل عدالتی نگرانی میں آگے بڑھا۔ انھوں نے واضح کیا کہ جن حقیقی شہریوں کے نام فہرست میں شامل نہ ہوسکے ، جمعیت ان کی قانونی مدد جاری رکھے گی۔ مجلس منتظمہ نے بھی حتمی این آر سی کی اشاعت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے ان افراد کو قانونی امداد فراہم کرنے کا عزم کیا جن کے نام کسی وجہ سے شامل نہ ہوسکے۔

اسی عرصے میں قومی سطح پر این آر سی کے نفاذ کے بیانات سے پیدا ہونے والی تشویش کے پیش نظر جمعیت نے عوام سے ووٹر لسٹ، آدھار، پاسپورٹ، بینک کھاتوں اور راشن کارڈ وغیرہ میں اپنے اور والدین کے نام درست رکھنے کی اپیل کی۔ یکم ستمبر تا 15/اکتوبر2019ئ ووٹر لسٹ میں ناموں کے اندراج و تصحیح کے لیے بیداری مہم چلانے ، ائمہ مساجد، متولیان اور نوجوانوں کو ورکشاپس منعقد کرنے کی ترغیب دی گئی۔

21/ستمبر2019ئ کو مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری کی قیادت میں ایک وفد نے وزیر داخلہ امیت شاہ سے ملاقات کرکے آسام کے این آر سی اور ملک گیر نفاذ سے متعلق خدشات پر گفتگو کی۔ یکم اکتوبر2019ئ کو وزیر داخلہ امت شاہ نے کولکاتا میں این آر سی کو قومی سلامتی کے لیے ضروری قرار دیا، 7/اکتوبر2019ئ کو اسے بہتر حکمرانی سے جوڑا، 10/اکتوبر2019ئ کو غیر قانونی مقیم افراد کی شناخت اور اخراج کی بات کی، 14/اکتوبر2019ئ کو پورے ملک میں این آر سی نافذ کرنے کا اعلان کیا اور 15/اکتوبر2019ئ کو بھی مناسب وقت پر ملک گیر نفاذ کا اعادہ کیا۔ 6/اکتوبر2019ئ کو مولانا محمود مدنی نے ان بیانات میں مذہبی امتیاز کے خدشے کو دستور ہند کی دفعات 14 اور 15 کے تناظر میں اٹھایا اور واضح کیا کہ دراندازی اور پناہ گزینی الگ مسائل ہیں اور کسی مظلوم کو محض مذہبی شناخت کی بنیاد پر امتیاز کا سامنا نہیں ہونا چاہیے۔

آسام میں این آر سی کے بعد بے دخلی اور انسانی حقوق کا مسئلہ مزید نمایاں ہوا۔ ستمبر 2021ئ میں درانگ ضلع کے دھال پور میں سرکاری زمین سے مبینہ تجاوزات ہٹانے کی مہم کے دوران 20/ستمبر کو تقریباً 800 خاندان بے گھر ہوئے۔ 23/ستمبر کو بے دخلی کے خلاف احتجاج کے دوران پولیس اور مقامی باشندوں کے درمیان جھڑپ ہوئی، پولیس فائرنگ سے دو شہری ہلاک اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ 24/ستمبر2021ئ کو جمعیت علمائے ہند نے پولیس کارروائی، گھروں کی مسماری اور احتجاج کرنے والے شہریوں پر تشدد کی سخت مذمت کی۔ مولانا محمود مدنی نے وزیر اعلیٰ آسام، وزیر داخلہ، قومی اقلیتی کمیشن اور انسانی حقوق کے متعلقہ اداروں کو خطوط لکھ کر اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات، ملوث پولیس اہل کاروں کے خلاف کارروائی، جاں بحق افراد کے اہل خانہ کو معاوضہ اور بے دخل خاندانوں کی بازآبادکاری کا مطالبہ کیا۔

27/ستمبر2021ئ کو جمعیت علمائے ہند اور جماعت اسلامی ہند کے مشترکہ وفد نے وزیر اعلیٰ ہیمنت کمار بسوا شرما سے گوہاٹی میں ملاقات کرکے دھال پور واقعہ پر احتجاج کیا اور اعلیٰ سطحی عدالتی تحقیقات، جاں بحق افراد کے لیے 20 لاکھ اور زخمیوں کے لیے 10 لاکھ روپے معاوضہ، متاثرین کے لیے دوا، پانی و خوراک اور حکومت کی طرف سے وعدہ کردہ 6 بیگھہ زرعی و 1 بیگھہ رہائشی زمین جلد فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ 28/ستمبر2021ئ کو وفد نے دھال پور کا دورہ کرکے متاثرہ خاندانوں سے ملاقات کی۔ مقتول معین الحق کے اہل خانہ اور 14 سالہ شیخ فرید کے والدین کو جمعیت علمائے آسام اور اجمل فا¶نڈیشن کی جانب سے 2،2 لاکھ روپے دیے گئے۔ 900 خاندانوں میں غذائی کٹس تقسیم کی گئیں، جن میں چاول، دال، شکر، تیل، نمک، مصالحہ اور بچوں کے لیے بسکٹ شامل تھے ؛ 200 ٹیوب ویل اور 900 ٹینٹ بھی تقسیم کیے گئے ، جب کہ جماعت اسلامی ہند نے طبی کیمپ قائم کیا۔

12/فروری2023ئ کے چونتیسویں اجلاس عام کے صدارتی خطبے میں مولانا محمود اسعد مدنی نے آسام میں جبری بے دخلی پر شدید تشویش ظاہر کی۔ انھوں نے کہا کہ ہزاروں افراد کو سرکاری اراضی خالی کرانے کے نام پر ان کے گھروں اور دکانوں سے بے دخل کیا جارہا ہے ، پولیس و نیم فوجی دستوں کی موجودگی میں بلڈوزروں سے مکانات مسمار کیے گئے اور بے دخل افراد بھوک، بیماری، سردی اور غیر صحت مند حالات سے دوچار ہیں۔ انھوں نے دھال پور کے اس واقعے کو بھی ذکر کیا، جس میں ایک شہری کو پولیس فائرنگ کا نشانہ بنائے جانے کے بعد اس کے جسم کے ساتھ بدسلوکی کی ویڈیو سامنے آئی تھی۔

اسی چونتیسویں اجلاس عام میں آسام میں جبری انخلا کے سرکاری رویے کے خلاف قرارداد منظور کی گئی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ قدرتی آفات، غربت یا دیگر حالات سے بے گھر ہونے والے لوگوں کو حکومتی زمین خالی کرانے سے پہلے متبادل رہائش فراہم کرنا ضروری ہے۔ اجلاس نے بالخصوص مسلمانوں کے انخلا اور بنیادی حقوق کی پامالی پر تشویش ظاہر کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ بے گھر خاندانوں کی فوری بازآبادکاری کا انتظام کیا جائے۔ اسی قرارداد میں کم سنی کی شادی کے نام پر ہزاروں گرفتاریوں پر بھی تشویش ظاہر کی گئی اور حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ گرفتاری کو واحد حل بنانے کے بجائے غربت، جہالت اور سماجی پسماندگی جیسی بنیادی وجوہ کے خاتمے کے لیے م¶ثر لائحہ¿ عمل اختیار کیا جائے اور گرفتار افراد کو رہا کیا جائے۔

آسام میں زمین، شہریت، بے دخلی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے جمعیت علمائے ہند کی جدوجہد 2024ئ اور 2025ئ میں بھی مسلسل جاری رہی۔ 2024ئ میں آسام کے وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما کی حکومت نے سرکاری، جنگلاتی اور قبائلی زمینوں سے تجاوزات ہٹانے کی مہم تیز کردی، جس سے مختلف اضلاع میں ہزاروں خاندان متاثر ہوئے۔ سوناپور کے کچھوٹولی میں 12/ستمبر2024ئ کو قبائلی زمین سے بے دخلی کے دوران پولیس اور مقامی باشندوں میں تصادم ہوا، جس میں دو افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے۔ حکومت نے اسے سرکاری و محفوظ زمین واگزار کرانے کی کارروائی قرار دیا، جب کہ مخالفین نے بڑی تعداد میں بنگالی نژاد مسلمانوں کے متاثر ہونے اور مناسب بازآبادکاری نہ کیے جانے پر اعتراض کیا۔

ان حالات کے پیش نظر مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند کے 5-4/جولائی2024ئ کے اجلاس میں آسام لینڈ پالیسی 2019ئ کے تحت مذہبی و لسانی اقلیتوں کی بے دخلی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے آئینی مساوات کے منافی قرار دیا گیا اور مرکزی و ریاستی حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ آسامی باشندوں کے درمیان مساوات کے اصول کو برقرار رکھتے ہوئے اقلیتوں، بالخصوص مسلمانوں کو ان کے واجبی حقوق سے محروم نہ کیا جائے۔ اسی تجویز میں این آر سی آسام کو حتمی شکل دیے جانے کے باوجود اس کی عدم اشاعت پر بھی تشویش ظاہر کی گئی اور مرکزی حکومت اور رجسٹرار جنرل آف انڈیا سے این آر سی کی اشاعت کے لیے لازمی نوٹیفکیشن جاری کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

27/اگست2024ئ کو گوہاٹی میں آسام اسمبلی کے اجلاس کے دوران وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے ’’میاں مسلمانوں‘‘ کے بارے میں سخت اور اشتعال انگیز بیان دیا۔ اس کے جواب میں 31/اگست2024ئ کو صدر جمعیت علمائے ہند مولانا محمود اسعد مدنی نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان بیانات کو آئینی اصولوں سے انحراف قرار دیا۔ انھوں نے چیف جسٹس آف انڈیا، وزیر داخلہ اور بی جے پی کے قومی صدر کو خطوط لکھ کر وزیر اعلیٰ کے متعدد غیر آئینی اور اشتعال انگیز بیانات کی نشاندہی کی اور فوری کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے چیف جسٹس آف انڈیا سے ازخود کارروائی کی بھی اپیل کی۔ مولانا مدنی نے واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ کا منصب غیر جانب داری، آئینی ذمہ داری اور ریاست کے تمام شہریوں کے ساتھ مساوی سلوک کا تقاضا کرتا ہے ، لیکن آسام کے وزیر اعلیٰ کے بیانات میں ایک مخصوص لسانی و مذہبی اقلیت کو تحقیر آمیز انداز میں ’’میاں‘‘ کہنا، آسام کے مستقبل میں مسلم اکثریت بننے کے دعوے کرنا اور اختلافِ رائے کو ’’جہاد‘‘ قرار دینا سماجی انتشار اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو بڑھانے کے مترادف ہے۔ انھوں نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اس قول کی بھی یاد دہانی کرائی کہ ’’آئین ہمارے لیے رہنما اصول ہے‘‘ اور مطالبہ کیا کہ آسام حکومت بھی اسی آئینی اصول کی پابندی کرے۔

اسی دوران شہریت کے مسئلے پر جمعیت کی طویل قانونی جدوجہد کو 17/اکتوبر2024ئ کو ایک اہم کامیابی حاصل ہوئی، جب سپریم کورٹ نے شہریت ایکٹ 1955ئ کی دفعہ 6A کو 4:1 کی اکثریت سے آئینی قرار دیتے ہوئے آسام کے لیے 25/مارچ1971ئ کی حدِ تاریخ کو برقرار رکھا۔ عدالت نے بعد ازاں آنے والے غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت اور اخراج کے لیے قوانین کے مؤثر نفاذ پر بھی زور دیا۔ اسی روز مولانا محمود اسعد مدنی نے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے آسام کے لاکھوں لوگوں کے لیے تاریخی راحت اور جمعیت علمائے ہند کی طویل جدوجہد میں سنگِ میل قرار دیا۔ جمعیت علمائے آسام کے صدر مولانا بدرالدین اجمل نے بھی شہریت کے حقوق کے تحفظ میں کردار ادا کرنے والی تنظیموں اور افراد کا شکریہ ادا کیا۔یہ فیصلہ اس قانونی جدوجہد کا نتیجہ تھا جس میں جمعیت علمائے ہند اور جمعیت علمائے آسام گزشتہ تقریباً 15/برس سے سپریم کورٹ میں آسام معاہدے اور 25/مارچ1971ئ کی حدِ تاریخ کے تحفظ کے لیے سرگرم تھیں۔

2025ئ میں آسام میں شہریت اور بے دخلی کا مسئلہ مزید سنگین ہوگیا۔ 21/ جون 2025ئ کو جمعیت علمائے ہند نے وزارت داخلہ، حکومت ہند کو ایک تفصیلی میمورنڈم ارسال کرکے آسام پولیس کی جانب سے بے قصور شہریوں کو غیر ملکی یا غیر قانونی تارکین وطن قرار دے کر اٹھانے ، ہراساں کرنے اور دوبارہ حراست میں لینے کے واقعات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

اسی سال آسام میں بے دخلی کی مہم نے ایک نئے انسانی بحران کو جنم دیا۔ 12/ جولائی 2025ئ کو گولپاڑہ ضلع کے پائیکان ریزرو فارسٹ میں تقریباً 140 ہیکٹر جنگلاتی زمین پر قائم بستیوں کے خلاف بڑی انہدامی کارروائی کی گئی۔ 15/جولائی2025ئ کو جمعیت علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں ایک اعلیٰ سطحی وفد نے گوالپاڑہ کے آشودوبی اور ہسیلابیل علاقوں کا دورہ کیا، جہاں حکومتی کارروائی میں 3973 مکانات مسمار کیے جانے کی اطلاع تھی اور متاثرین کی اکثریت بنگالی نژاد مسلمانوں پر مشتمل تھی۔ جمعیت علمائے آسام نے بے گھر افراد کے لیے خیموں کا انتظام کیا۔ وفد نے متاثرین سے ملاقات کرکے ان کے حالات کا جائزہ لیا اور ہر ممکن مدد کی یقین دہانی کرائی۔ وفد نے ضلع مجسٹریٹ کے توسط سے وزیر اعلیٰ آسام کے نام یادداشت بھی پیش کی، جس میں انہدامی کارروائی کو غیر انسانی، غیر آئینی اور مذہبی تعصب پر مبنی قرار دیا گیا۔

جمعیت علمائے آسام کے صدر مولانا بدرالدین اجمل اور جنرل سکریٹری حافظ بشیر احمد قاسمی کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق گوالپاڑہ، دھوبڑی، نلباری اور دیگر علاقوں میں مجموعی طور پر 8115 خاندان، یعنی 32530 سے زائد افراد، جن میں خواتین، بچے اور بزرگ بھی شامل تھے ، متاثر ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق نومبر2023ئ سے جولائی2025ئ تک جاری انہدامی کارروائیوں میں 21 مساجد، 44 مکاتب و مدارس اور 9 عیدگاہیں بھی مسمار کی جاچکی تھیں۔ جمعیت علمائے ہند نے متاثرین کے لیے پناہ گاہ اور خوراک کا انتظام کیا، اگرچہ بڑھتے ہوئے انسانی بحران کے مقابلے میں یہ انتظامات ناکافی تھے۔

24/جولائی2025ئ کو جمعیت علمائے ہند کی جانب سے ارکان پارلیمنٹ کے لیے منعقدہ عشائیہ تقریب میں صدر جمعیت مولانا محمود اسعد مدنی نے آسام کی بے دخلی مہم کو ایک منظم اور منصوبہ بند عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اگر ترقی کے نام پر قانون کے مطابق نقل مکانی بھی ہو تو اس پر غور ضروری ہے ، لیکن کسی مخصوص کمیونٹی کو قانون شکنی کے ذریعے نشانہ بنانا ملک کے لیے نقصان دہ ہے۔ انھوں نے تمام پارٹیوں پر مشتمل آل پارٹی وفد یا ہم خیال جماعتوں کے ارکان پارلیمنٹ کا وفد آسام بھیجنے کی تجویز پیش کی، تاکہ زمینی حقائق سامنے آسکیں۔ ارکان پارلیمنٹ نے اس تجویز سے اتفاق کیا۔ ای ٹی بشیر نے مختلف مذاہب کے دانش وروں اور ارکان پارلیمنٹ پر مشتمل وفد کی ضرورت پر زور دیا، جب کہ مولانا محب اللہ ندوی، کشن گنج کے رکن پارلیمنٹ محمد جاوید، مغربی بنگال کے رکن پارلیمنٹ عیسیٰ خاں چودھری اور نیشنل کانفرنس کے میاں الطاف لاروی نے بھی آسام میں بنگالی زبان بولنے والے مسلمانوں، دلتوں، او بی سی اور دیگر متاثرہ طبقات کے مسائل پر تشویش ظاہر کی اور مشترکہ جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا۔

آسام میں ہر سال آنے والے سیلاب اور برہمپترا کے دریائی کٹا¶ نے بھی بے دخلی کے مسئلے کو مزید پیچیدہ کردیا۔ 30/مئی2025ئ کو شدید بارشوں کے باعث سیلاب کا پہلا بڑا دور شروع ہوا، جس نے جون کے ابتدائی دنوں میں ریاست کے متعدد اضلاع کو متاثر کیا۔ اس پس منظر میں مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کے 20/اگست2025ئ کے اجلاس نے آسام کے حالات پر تفصیلی تجویز منظور کی۔ تجویز میں کہا گیا کہ 1950ئ سے اب تک دریائی کٹا¶ کے باعث تقریباً 4,27,000 سیکٹر زمین دریا برد ہوچکی ہے ، جس سے ہزاروں خاندان سرکاری یا جنگلاتی زمینوں پر عارضی سکونت اختیار کرنے پر مجبور ہوئے۔ جمعیت نے واضح کیا کہ وہ روز اول سے سرکاری زمین پر ناجائز قبضے کی تائید نہیں کرتی، لیکن موجودہ کارروائیوں میں غیر انسانی سلوک، مذہبی تعصب، سوتیلے رویے اور نفرت انگیز بیانات نے پورے عمل کو انصاف اور انسانی ہمدردی کے دائرے سے خارج کردیا ہے۔ تجویز میں یہ بھی کہا گیا کہ مخلوط آبادی والے علاقوں میں مسلمانوں کو چن چن کر بے دخل کرنا، انھیں کبھی بنگلہ دیشی اور کبھی مشکوک شہری قرار دینا اور بے دخلی کے بعد بے سہارا چھوڑ دینا آئینی اصولوں کے منافی ہے۔ جمعیت نے متاثرہ خاندانوں کی فوری بازآبادکاری، شفاف و غیر جانب دار سروے ، قانونی تقاضوں کی پابندی، نفرت انگیز بیانات پر قدغن اور آئینی اداروں سے وزیر اعلیٰ کے خلاف مناسب کارروائی کا مطالبہ کیا۔

21/اگست2025ئ کو یہ تجویز اخبارات میں شائع ہوئی، تو وزیر اعلیٰ ہمنتا بسوا سرما نے جمعیت علمائے ہند اور اس کے صدر کے خلاف سخت ردعمل ظاہر کیا اور مولانا محمود اسعد مدنی کو بنگلہ دیش بھیجنے کی دھمکی دی۔ آسام میں مولانا مدنی کے خلاف مظاہرے بھی کیے گئے اور ان کا پتلہ نذر آتش کیا گیا۔ 23/اگست2025ئ کو موری گاؤں میں وزیر اعلیٰ نے بے دخلی مہم کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ آسام کے فیصلے آسام کے لوگ کریں گے ، جمعیت نہیں، اور مولانا مدنی کے بارے میں سخت کلمات کہے۔

ان حالات میں مولانا محمود اسعد مدنی نے خود آسام جانے کا فیصلہ کیا۔ یکم ستمبر2025ئ کی صبح وہ ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند کے ہمراہ دہلی سے روانہ ہوئے اور باگڈوگرا ایئرپورٹ پہنچ کر بذریعہ کار آسام کے لیے روانہ ہوئے۔ ان کے ہمراہ مفتی جاوید اقبال، صدر جمعیت علمائے کشن گنج، مولانا خالد کشن گنج اور دیگر حضرات بھی تھے۔ قافلے نے تقریباً 300 کلومیٹر کا سفر کرکے مختلف متاثرہ کیمپوں کا دورہ کیا اور گوہاٹی پہنچ کر آر کے ڈی ہوٹل میں پریس کانفرنس کی۔ مولانا مدنی نے اپنی آنکھوں سے دیکھے گئے حالات بیان کرتے ہوئے کہا کہ بے دخلی کی کارروائیاں انسانی بنیادوں اور سپریم کورٹ کی ہدایات کے خلاف ہیں اور مذہبی شناخت کی بنیاد پر لوگوں کو ’’میاں‘‘ اور ’’ڈاوٹ فل‘‘ جیسے تحقیر آمیز الفاظ سے پکارنا جسمانی انہدام سے بھی زیادہ ذلت آمیز ہے۔ انھوں نے واضح کیا کہ اگر کوئی واقعی غیر ملکی ہے تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے ، لیکن ہندستانی شہریوں کو اجاڑ کر بے یار و مددگار چھوڑنا قابل قبول نہیں۔ جہاں بے دخلی ناگزیر ہو وہاں سپریم کورٹ کی ہدایات اور انسانی ہمدردی کو مقدم رکھا جائے۔

مولانا مدنی نے وزیر اعلیٰ کی جانب سے انھیں بنگلہ دیش بھیجنے کی دھمکی کا جواب دیتے ہوئے اپنی آزادی کی جدوجہد میں اکابرین کی قربانیوں کا حوالہ دیا اور کہا کہ اگر ایک ایسے شخص کو بھی، جس کے آبا¶ اجداد نے آزادی کی جنگ میں جیلیں کاٹیں، اس طرح مخاطب کیا جاسکتا ہے تو عام مسلمانوں کے ساتھ رویے کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔

پریس کانفرنس میں مولانا محمد حکیم الدین قاسمی، مولانا محبوب حسن، مولانا عبدالقادر، مولانا فضل الکریم، مفتی سعد الدین گوالپاڑہ، مولانا ابوالہاشم کوکراجھار اور دیگر ذمہ داران موجود تھے۔ مولانا عبدالقادر نے بتایا کہ جمعیت کی طرف سے لکھی گنج، دھوبری میں 300 متاثرہ خاندانوں میں ضروریات زندگی کا سامان تقسیم کیا گیا۔ مولانا مدنی کے اس دورے اور بے دخلی کے خلاف جرأت مندانہ موقف کو مختلف قومی شخصیات نے بھی سراہا۔ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے سابق صدر نوید حامد نے سوشل میڈیا پر مولانا مدنی کی اس پہل کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ایسے نازک وقت میں متاثرین تک پہنچنا اور ان کی آواز اٹھانا قابلِ قدر اقدام ہے۔

آسام میں بے دخلی کے ساتھ ایک نیا مسئلہ ووٹر فہرست کی Special Revision یعنی ایس آر کا بھی سامنے آیا۔ 17/نومبر2025ئ کو الیکشن کمیشن نے آسام میں ووٹر فہرست کی خصوصی نظرثانی کا حکم دیا اور 22/نومبر2025ئ سے گھر گھر تصدیقی عمل شروع ہوا۔ این آر سی کے خصوصی پس منظر کے باعث آسام میں اس عمل کو خاص اہمیت حاصل تھی۔ جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کے 29/نومبر2025ئ کے اجلاس نے آسام میں بڑے پیمانے پر مسلمانوں کی بے دخلی اور اس کے بعد ایس آر کے نتیجے میں پیدا ہونے والی مشکلات پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔ تجویز کے مطابق گزشتہ مہینوں میں ساٹھ ہزار سے زائد شہری اپنے گھروں اور بستیوں سے محروم ہوکر مختلف اضلاع میں پناہ لینے پر مجبور ہوئے اور بہت سے خاندان کھلے آسمان کے نیچے زندگی گزار رہے تھے۔ اجلاس نے کہا کہ 22/نومبر2025ئ سے جاری ایس آر نے ان مشکلات میں مزید اضافہ کردیا ہے ، کیوںکہ بے دخلی کے شکار افراد کے نام نہ اصل علاقوں میں ووٹر فہرست میں شامل کیے جارہے ہیں اور نہ عارضی قیام گاہوں میں رہائشی ثبوت نہ ہونے کی بنیاد پر ان کی درخواستیں قبول کی جارہی ہیں۔ جمعیت نے خبردار کیا کہ اس صورت حال کے جاری رہنے سے ہزاروں خاندان ووٹر فہرست سے خارج ہوسکتے ہیں اور مستقبل میں ان کے حقِ شہریت پر بھی منفی اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔

29/نومبر2025ئ کی اس تجویز میں جمعیت علمائے ہند نے مطالبہ کیا کہ آسام میں غیر انسانی اور غیر قانونی بے دخلی فوراً روکی جائے ، متاثرہ خاندانوں کی بازآبادکاری کی جائے ، مرکزی و صوبائی حکومتیں بے گھر افراد کے ووٹر فہرست میں اندراج کے لیے واضح تحریری رہنما اصول جاری کریں، الیکشن کمیشن خصوصی ہدایات کے ذریعے عارضی یا خصوصی رہائشی ثبوت کی بنیاد پر متاثرین کو ووٹر فہرست میں شامل کرنے کا راستہ پیدا کرے ، متاثرہ علاقوں میں خصوصی کیمپ قائم کیے جائیں اور حکومت اس بحران کو محض انتظامی مسئلہ سمجھنے کے بجائے انسانی مسئلہ تسلیم کرتے ہوئے تمام بے گھر خاندانوں کی فوری امداد اور بازآبادکاری کو یقینی بنائے۔

3 Oct 2026

راشٹرواد

 

راشٹرواد

محمد یاسین جہازی

ہندو راشٹر کے حامیوں نے راشٹر کا ایک ایسا نظریہ پیش کیا ہے جس میں ہندو مذہب کے علاوہ مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے لیے قومیت اور وطنیت کے اعتبار سے مساوی گنجائش نظر نہیں آتی۔ بلکہ اس راشٹرواد کے حامی اپنے علاوہ باقی سبھی بالخصوص مسلمانوں کو غدار اور دیش دروہی کہنے سے، بلکہ ان کی ماب لنچنگ کرنے تک سے نہیں چونکتے ۔

ایسی صورتِ حال میں مسلمانوں سمیت تمام غیر ہندو شہریوں کے لیے یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ قومیت، وطنیت اور راشٹر کے بارے میں ان کے حقیقی اور مستند نظریات کو علمی بنیادوں پر عام کیا جائے، تاکہ غلط فہمیوں کا ازالہ ہو اور مستقبل میں ان کے حقوق، تشخص اور تحفظ سے متعلق بحث کو درست فکری بنیاد فراہم کی جاسکے۔

آئیے! اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے وطنیت، قومیت اور راشٹر کے حوالے سے پائے جانے والے مختلف نظریات کا مختصر مگر جامع جائزہ لیتے ہیں۔

ہندستانی مسلمانوں کا راشٹرواد

ہندستانی مسلمان ہندستان کے مول نواسی ہیں کہ نہیں، یہ سوال اپنی بنیاد میں ایک تاریخی سوال نہیں بلکہ ایک سیاسی فتنہ ہے۔ آزادی کے بعد فرقہ پرست عناصر نے اس سوال کو اس لیے زندہ کیا تاکہ اپنی ماضی کی غلطیوں پر پردہ ڈال سکے اور ہندستانی جمہوریت کی بنیاد کو کمزور کرکے ہندو راشٹر کے تصور کو فروغ دے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے ماننے والوں کے لیے یہ سرزمین اتنی ہی قدیم ہے جتنی خود انسان کی تاریخ۔ مورخ ملت حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب دیوبندی نے اپنے رسالے "ہمارا وطن اور اس کی فضیلت” میں اور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی نے اپنے رسالے "ہمارا ہندستان اور اس کے فضائل” میں تاریخی حوالوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ دنیا کے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کا ورود اسی سرزمین پر ہوا۔ اس لیے اس بحث کو ان دونوں کتابوں کے حوالے کرکے ہم اصل موضوع پر آگے بڑھتے ہیں ۔

دیگر مذاہب کے برعکس اسلام میں راشٹرواد کے متعلق واضح حکم موجود ہے ۔ وطن سے محبت اور اس کا تحفظ دونوں ہی شرعی حکم ہیں ۔ ایک مسلمان اس کے خلاف جاہی نہیں سکتا۔

(1 )ہندستان کا دارالاسلام سے داراالحرب بن جانا

یہی وجہ ہے کہ سن 1806 میں دہلی پر قبضے کے بعد انگریزوں نے شاہ عالم کو برائے نام تخت پر بٹھا کر یہ اعلان کیا کہ ملک بادشاہ کا اور حکم انگریز بہادر کا،تو اس ظاہری تقسیم کی وجہ سے اگرچہ بعض علما کو یہ گمان ہوا کہ ہندستان اب بھی دارالاسلام ہے۔ لیکن شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے ہجرت اور ترک وطن کا مشورہ دینے کے بجائے انیسویں صدی کی پہلی دہائی میں، جب کہ تخت پر شاہ عالم ثانی متمکن تھے، 1808 یا 1809ء میں ہندستان کو دارالحرب قرار دیتے ہوئے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ دیا۔ اس فتویٰ کا متن ’’فتاویٰ عزیزی‘‘ جلد اول، صفحات 16-17 میں موجود ہے۔

(2)جہادی آزادی ہند کا دوسرا فتویٰ

اسی طرح دوسرا فتویٰ جہاد شاملی کے عنوان سے مشہور ہے، جو اسی تحفظ وطن اور دفاع وطن کا تسلسل ہے ۔اس استفتا میں کہا گیا کہ جب انگریز دلی پر چڑھ آئے اور اہل اسلام کی جان و مال کا ارادہ رکھتے ہوں تو جہاد فرض ہے یا نہیں۔ اس کے جواب میں مفتی صدر الدین، مولانا نذیر حسین اور دیگر سمیت پینتیس علما نے دستخط کرکے فتویٰ دیا کہ اس شہر والوں پر جہاد فرض عین ہے اور اطراف والوں پر فرض کفایہ۔ یہ فتویٰ پہلے اخبار الظفر دہلی میں شائع ہوا اور پھر 26 جولائی 1857 کی اشاعت میں صادق الاخبار نے اسے نقل کیا۔
اسی فتوے کی بنیاد پر 14 ستمبر 1857 کو شاملی اور تھانہ بھون کی لڑائی لڑی گئی۔ اس جنگ کی ناکامی کے بعد علما پر بے پناہ مظالم ہوئے اور انھیں مجبوراً گوشہ نشینی اختیار کرنی پڑی۔
قصہ مختصر یہ کہ ان دونوں فتاوے کے تناظر میں اسلام کے راشٹرواد کے نظریہ کو سمجھا جاسکتا ہے کہ ترک وطن اور غلامی پر قناعت کے بجائے وطن کی حفاظت مسلمانوں کا مذہبی و شرعی فریضہ ہے۔

(3) ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے متحدہ قومیت کی راہ اختیار کرنا

1857ء کی جنگِ آزادی کی شکست سے اکابر دیوبند نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ:
(1)
تربیت یافتہ فوج، (2)جدید ہتھیاروں سے لیس، اور
(3)
ہندستان سے انگلستان تک منظم حکومت کا
(1)
غیر تربیت یافتہ عام ہندستانی عوام،
(2)
گھریلو ہتھیاروں اور (3)منتشر قیادت کے ذریعے مقابلہ نہیں کیا جاسکتا، اس لیےاکابر دیوبند نے میدانِ رزم کے بجائے میدانِ بزم برپا کرنے کے مقصد سے 30/ مئی 1866ء کو دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی۔ جس کے سرخیل حجۃ الاسلام حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔

اس کے بالمقابل سر سید احمد خان نے مسلمانوں کی نجات کا راستہ جدید تعلیم اور انگریزی حکومت سے مفاہمت میں تلاش کیا۔ یکم نومبر 1858ء کے ملکہ وکٹوریہ کے اعلانِ عام معافی کے بعد وہ مسلمانوں کے تعلیمی رہنما بن کر ابھرے، جس کے لیے 24/ مئی 1875ءکو علی گڑھ میں مدرسۃ العلوم قائم کیا۔ جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی بنی۔ ان کا خیال تھا کہ موجودہ حالات میں انگریزوں سے تصادم مسلمانوں کے مفاد میں نہیں۔ بعد میں جب 28/ دسمبر 1885ء کو بمبئی میں اے او ہیوم کی کوششوں سے انڈین نیشنل کانگریس قائم ہوئی اور ہندو مسلم سب کے لیے مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم سامنے آیا، تو سر سید نے اس کی مخالفت شروع کردی۔
18
؍دسمبر 1887ء کو لکھنؤ میں سر سید نے ایک تقریر میں کہا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں، اگر انگریز چلے گئے تو تخت پر دونوں نہیں بیٹھ سکتے۔ انتخابی حکومت میں ہندو ہندو کو اور مسلمان مسلمان کو ووٹ دیں گے تو تین چوتھائی اکثریت ہندوؤں کی ہوگی اور مسلمان دائمی غلام بن جائیں گے۔ اس لیے مسلمانوں کو کانگریس میں شریک نہیں ہونا چاہیے اور انگریزی حکومت پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

1888ء میں پرنسپل بیک اور دوسرے انگریز رفقا کے تعاون سے کانگریس کی مخالفت میں انڈین پیٹریاٹک ایسوسی ایشن قائم ہوئی، اور سر سید اس کے نمایاں حامی بنے۔
اس سیاسی موقف کے جواب میں علمائے حق نے کانگریس کے ساتھ تعاون کا راستہ اختیار کیا۔ حضرات علمائے لدھیانہ اور مولانا رشید احمد گنگوہی نے واضح کیا کہ ہندوؤں کے ساتھ دینی نہیں بلکہ مشترک دنیاوی اور ملکی مفاد کے لیے بلا ضرر تعاون جائز ہے۔ رسالہ ’’نصرۃ الابرار‘‘ میں یہ سب فتاویٰ موجود ہیں، جن میں کانگریس کے ایسے مقاصد، جو ہندو مسلم سب کے دنیاوی مفاد سے متعلق ہوں، میں شرکت کی گنجائش بیان کی گئی ہے۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن نے بھی 11 دسمبر 1888ء کو اس کی تائید کی۔

علمائے دیوبند کے اس موقف کی بنیاد یہ تھی کہ 1857ء کے بعد مسلمانوں کی فوجی اور سیاسی قوت باقی نہیں رہی تھی؛ اس لیے الگ اقتدار، یا دارالاسلام کے قیام کی کوشش کے بجائے ہندستان کے تمام باشندوں کو متحد کرکے انگریزی اقتدار کے خلاف مشترکہ جدوجہد ہی آزادی حاصل کرنے کا قابلِ عمل راستہ تھا۔ اسی فکر نے آگے چل کر متحدہ قومیت اور مشترکہ آزادی کی تحریک کی راہ ہموار کی ۔

متحدہ قومیت کے خلاف فرقہ پرستانہ ذہنیت کے فروغ کے لیے برطانوی حکومت ہند کی سازشیں

تقسیم کرو اور حکومت کرو: مسلم لیگ اور ہندو مہاسبھا  ا قیام

جیسا کہ عرض کیا گیا کہ علمائے دیوبند نے سرسید احمد خان کی اس سیاسی فکر کی مخالفت کی جس کے تحت مسلمانوں کو کانگریس سے الگ رہنے کی تلقین کی جا رہی تھی، اور اس کے برعکس متحدہ قومیت کی بنیاد پر ہندو مسلم اتحاد اور کانگریس کے ساتھ مشترکہ جدوجہد کی حمایت کی۔ جب ہندستانی عوام متحد ہوکر انگریزی اقتدار کے مقابل آنے لگے تو برطانوی حکومت کو یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ اگر یہ اتحاد مضبوط ہوگیا تو ہندوستان پر اس کی حکومت باقی نہیں رہے گی۔ چنانچہ ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کے تحت مذہبی بنیادوں پر سیاسی اختلافات کو ہوا دینے کا سلسلہ شروع کیا۔
اسی سیاسی پس منظر میں 1906 میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں آیا۔ سید طفیل احمد منگلوری اپنی کتاب ’’روشن مستقبل‘‘ میں لکھتے ہیں کہ تقسیمِ بنگال کی تیاریوں کے ساتھ ہی کونسلوں میں حقوق دینے کا ڈھونگ رچایا جا رہا تھا۔ وائسرائے کے پرائیویٹ سکریٹری کرنل ڈنلپ اسمتھ نے ایک مضمون تیار کرکے پرنسپل آرچ بولڈ کو دیا، جسے آرچ بولڈ نے 6 جولائی 1906 کو نواب محسن الملک کے پاس بھیجا۔ اس کے بعد نواب محسن الملک نے وائسرائے سے ملاقات کے لیے وفد مرتب کیا۔ یکم اکتوبر 1906 کو آغا خان کی قیادت میں یہ وفد شملہ میں وائسرائے منٹو سے ملا اور مسلمانوں کے لیے جداگانہ سیاسی نمائندگی کا مطالبہ پیش کیا۔
بالآخر 30 دسمبر 1906 کو ڈھاکہ میں نواب وقار الملک کی صدارت میں آل انڈیا مسلم لیگ قائم ہوئی۔ اس کے ابتدائی مقاصد میں مسلمانوں کے سیاسی حقوق و مفادات کا تحفظ اور فروغ، حکومت کے ساتھ وفاداری پیدا کرنا اور مسلمانوں کے درمیان حکومت کے متعلق پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کرنا شامل تھا۔
جب مسلم لیگ کے قیام کی خبر انگلستان پہنچی تو وہاں خوشی منائی گئی کہ اب ہندستان میں صلح نہ رہے گی۔
بالکل اسی طرز پر اور اسی مقصد کے تحت ہندوؤں میں بھی 1900ء میں مہاراجہ دربھنگہ رامیشور سنگھ کی قیادت میں بھارت دھرم مہامَنڈل قائم ہوا، جو بعد میں ہندو مہاسبھا میں تبدیل ہوگیا۔
اسی تسلسل میں وینایک دامودر ساورکر نے 1923ء میں اپنی کتاب Essentials of Hindutva، جسے Hindutva: Who Is a Hindu? کے نام سے بھی شائع کیا گیا، میں ’’ہندو راشٹر‘‘ کاتصور پیش کیا۔ بعد ازاں ایم۔ ایس۔ گولوالکر نے 1939ء میں اپنی کتاب We, or Our Nationhood Defined میں ہندو قومیت کے اس تصور کو مزید منظم اور تفصیلی شکل دی، جسے آر ایس ایس والے ہندو راشٹر کا نعرہ دے کر آگے بڑھا رہے ہیں۔
مسلم لیگ کے قیام کے بعد جداگانہ نمائندگی کا مطالبہ ہندستانی سیاست کا مستقل مسئلہ بن گیا اور 1909 کی منٹو مارلے اصلاحات میں مسلمانوں کے لیے جداگانہ انتخاب تسلیم کرلیا گیا۔
مسلم لیگ کا پہلا مسلم مخالف کارنامہ 1916 میں سامنے آیا جب کانگریس اور مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس لکھنؤ میں ہوئے۔ 29 دسمبر کو کانگریس نے اور 31 دسمبر کو جناح کی صدارت میں مسلم لیگ نے میثاق لکھنؤ منظور کیا جس میں پہلی بار فرقہ وارانہ بنیاد پر جداگانہ انتخاب اور مخصوص نمائندگی تسلیم کی گئی، پنجاب میں پچاس فیصد اور بنگال میں چالیس فیصد حالانکہ وہاں مسلمان اکثریت میں تھے۔ سید طفیل احمد لکھتے ہیں کہ یہ آئین امن عامہ کے لیے مہلک ثابت ہوا۔ اسی تسلسل میں 1930 میں ڈسٹرکٹ جج میرٹھ مسٹر پوڈن کا یہ خفیہ خط منظر عام پر ایا جس میں انگریزوں کو زیادہ دنوں تک بھارت میں ٹکے رہنے کے لیے تقسیم ہند کا نظریہ پیش کیا گیا تھا۔بعد ازاں چودھری رحمت علی نے 28 جنوری 1933 کو برطانیہ کے شہر کیمبرج سے اپنا مشہور پمفلٹ “Now or Never; Are We to Live or Perish Forever?” شائع کیا، جس میں پہلی مرتبہ ’’پاکستان‘‘ کے نام سے الگ مسلم ریاست کا مطالبہ پیش کیا گیا، بالآخر 22 اور 23 مارچ 1940 کو قرارداد لاہور منظور ہوئی۔ جو بعد میں تشکیل پاکستان کا سبب بنا۔
اس طرح انگریز اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا لیکن انھی ادوار میں مسلمانوں کی ایک بڑی تنظیم وجود میں آئی، جس نے قومی زندگی کی ہر شاہراہ پر قومیت متحدہ، راشٹرواد اور ہندستان کو متحد رکھنے کی آخری دم تک کوشش کرتی رہی۔ اور اسلامی مملکت اور ہندو راشٹر دونوں کی مخالفت کرتی رہی۔وہ کوششیں کیا ہیں ائیے سطور ذیل میں ملاحظہ کرتے ہیں۔

جمعیت علمائے ہند کے قیام کا پس منظر اور ایک راشٹرواد کا نظریہ

28 جولائی 1914ء تا 11 نومبر 1918ء ہونے والی پہلی جنگِ عظیم کے دوران فوجی اور مالی تعاون کے بدلے برطانیہ نے ہندستانیوں سے سوراج اور خود اختیاری کا وعدہ کیا، عالمِ اسلام کے مسلمانوں کو خلافتِ عثمانیہ کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی اور یہودیوں سے فلسطین میں قومی وطن کے قیام کا وعدہ کیا۔
مسلمانوں نے مقامات مقدسہ اور خلافت اسلامیہ کے تحفظ کی امید میں پونے نو لاکھ یا گیارہ لاکھ افراد سے مدد کی۔
لیکن جنگ کے بعد ان وعدوں کے برخلاف 30 اکتوبر 1918ء کی عارضی صلح اور 10 اگست 1920ء کے معاہدۂ سیورے نے خلافتِ عثمانیہ کو عملاً ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔

اسی طرح ادھر ہندستانی سوراج اور خود اختیاری کی امیدیں لگائے بیٹھے تھے، لیکن اس کے بجائے برطانوی حکومت ہند نے 19 مارچ 1919ء کو رولٹ ایکٹ نافذ کر کے ہندستانیوں کی غلامی کی زنجیروں کو مزید جکڑ دیا۔ جب اس کی مخالفت میں گاندھی جی کی قیادت میں 30 مارچ 1919 سے نان کوآپریشن یعنی تحریک عدم تعاون کو عملی شکل دیتے ہوئے پرامن احتجاج کیا گیا توجلیانوالہ باغ کا قتلِ عام (13 اپریل 1919ء) کا خونی سانحہ سامنے آیا۔
ادھر جب ہندستانی مسلمانوں کو خلافت عثمانیہ کی پامالی کی خبر ملی تو مسلمانوں نے آل انڈیا مسلم کانفرنس کے نام سے 18/ ستمبر 1919ء کو منعقد کانفرنس میں کی چھٹی تجویز میں 17/اکتوبر1919ء ملک گیر سطح پر یوم خلافت منانے کا فیصلہ کرتے ہوئے، یوم خلافت منایا۔
عارضی صلح کی خوشی میں برطانوی حکومت ہند نے 16 دسمبر 1919 کو جگہ جگہ جشن فتح منانے کا اعلان کیا تھا، اس لیے
3
نومبر 1919ء کو دہلی میں مولانا حسرت موہانی کی صدارت میں منعقدہ جلسے میں مہاتما گاندھی نے خلافت کے منصفانہ فیصلے تک صلح کا جشن نہ منانے اور ہندو مسلم اتحاد کے ذریعے مسلمانوں کے غم میں شریک ہونے کا اعلان کیا۔ ان کے اس پیغام نے پورے ہندستان میں خلافت کے حق میں ہندو مسلم یک جہتی کی فضا پیدا کر دی۔
اسی اجلاس کے موقع پر حضرت مولانا عبدالباری فرنگی محلی رحمۃ اللہ علیہ نے ہندستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ برطانوی حکومت ہند کے خلاف ترک موالات کا فتوی دیا
تحفظ خلافت کے اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے 23 نومبر 1919ء کو دہلی دہلی میں آل انڈیا خلافت کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ترک موالات کی تجویز اور ترک موالات کے فتوے کا اعادہ کیا گیا البتہ اس مرتبہ ترک موالات کا فتوی مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ نے دیا ۔
اسی کانفرنس میں یہ بات آئی کہ سیاست میں مذہبی رہنمائی کے لیے علما کی کوئی جماعت ہونی چاہیے چنانچہ 23 نمبر 1919 کو عشا کی نماز کے بعد جمیعت علمائے ہند کا قیام عمل میں آیا ۔
یہ ہندستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ کل ہند سطح پر مسلمانوں کی ایک تنظیم وجود میں آئی تھی۔

سوراج اور تحفظ خلافت کے وعدوں کی پامالی نے ہندستانی مسلمانوں کو بہت زیادہ برگشتہ کردیا، جس نے ہجرت کی تحریک کو ابھارا، لیکن جمعیت نے ہندستان چھوڑ کر افغانستان ہجرت کرنے کے بجائے ہندستان ہی میں رہ کر آزادی کی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔ چنانچہ 6 ستمبر 1920ء کو کلکتہ کے خصوصی اجلاس میں ترکِ موالات کی تجویز منظور کی اور 8 ستمبر 1920ء کو اس کی تائید میں سینکڑوں علما کے دستخطوں پر مشتمل فتویٰ جاری کیا ۔
اس کے بعد 18-19-20/نومبر1921 کو منعقد تیسرے اجلاس عام میں ہندستان کو آزاد کرانا مسلمانوں کا مذہبی فرض قرار دیتے ہوئے مکمل آزادی کا مطالبہ کیا۔
اس پورے پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ جمعیت نے ہندو مسلم اتحاد کے ساتھ برطانوی اقتدار سے عدمِ تعاون کو عملی تحریک بنایا۔ اور جب اسی زمانے میں بعض حلقوں کی جانب سے ہندستان سے افغانستان ہجرت کی تحریک سامنے آ رہی تھی، تو جمعیت علمائے ہند نے اس کے برعکس ہندستان میں قیام، ہندو مسلم اتحاد، ترکِ موالات اور مشترکہ قومی جدوجہد کا راستہ اختیار کرتے ہوئے۔ ڈومینین اسٹیٹس یا محدود خود اختیاری کے بجائے مکمل آزادی کو اپنا نصب العین بنایا اور متحدہ قومیت کی بنیاد پر ہندستانی مسلمانوں کے ایک ایسے راشٹرواد کو عملی صورت دی جس میں وطن کی آزادی کے لیے مختلف مذہبی و قومی طبقات کا باہمی اتحاد بنیادی حیثیت رکھتا تھا۔

ہندستانیوں کی قومیت کی مختلف تشریحات

ہندستان میں بسنے والے لوگوں کی قومیت کے بارے میں مختلف شخصیات نے مختلف تشریحات پیش کی ہیں،جس سے اس کے حب الوطنی کا معیار طے کیا جاتا ہے۔ اس تحریر میں ان سب کا احاطہ مقصود نہیں، البتہ صرف انھی شخصیات کے نظریات کا اختصار پیش کیا جا رہا ہے، جن کے نظریات نے ہندستانی سیاست میں انقلابی تبدیلی پیدا کی ہے۔ چوں کہ جمعیت علمائے ہند ایک ملک گیر تنظیم ہے اور اس کے نظریات کو عالمی سطح پر ہندستانی مسلمانوں کے نظریات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اس لیے جمعیت علمائے ہند کے پلیٹ فارم سے پیش کیے گئے اہم نظریات کو یہاں اختصار کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔

(1)سرسید احمد خان — جداگانہ قومیت

سرسید احمد خان نے 1867 کے اردو-ہندی تنازع کے پس منظر میں کہا تھا کہ ہندو اور مسلمان ایک قوم نہیں بن سکتے۔

(2)مولانا شبیر احمد عثمانی — وطن کا تحفظ

مولانا شبیر احمد عثمانی نے 19 تا 21 نومبر 1920 کے جمعیت علمائے ہند کے دوسرے سالانہ اجلاس میں فرمایا کہ وطن پرستی اور قوم پرستی اسلامی اصطلاح نہیں، شاید یورپ سے لی گئی ہیں؛ لیکن اپنی قوم اور وطن کا تحفظ ہمارے فرائض سے خارج نہیں۔ جو ملک مسلمانوں کے زیرِ اقتدار آ چکا ہو، اس کے ایک چپے کے دفاع کے لیے تمام اہلِ اسلام پر دفاع فرض ہو جاتا ہے۔

(3)جمعیت علمائے ہند — متحدہ قومیت

جمعیت علمائے ہند نے 29 دسمبر 1923 کو منعقد پانچویں اجلاس عام کی تجویز نمبر 5 میں کہا کہ
جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس ہر ایسی کارروائی کو جو ملکی اتفاق و اتحاد کی بنیادیں کمزور کرے نفرت کی نظر سے دیکھتا ہے اور ایسے لوگوں کو جو متحدہ قومیت ہند کو نقصان پہنچائیں اور متزلزل کریں نہ صرف وطن بلکہ قوم و ملت کا دشمن سمجھتا ہے ۔
اسی طرح 23 مارچ 1940 کو مسلم لیگ نے قرارداد لاہور منظور کی، جو قرارداد پاکستان سے مشہور ہوئی،تو اس کے جواب میں جمعیت اور دیگر قوم پرور جماعتوں نے 27 تا 30 اپریل 1940 کو منعقد کانفرنس میں اعلان کیا کہ ہندستان اپنی جغرافیائی حدود کے ساتھ ایک متحدہ ملک ہے جو تمام باشندوں کی مشترکہ ملکیت ہے اور اس کے چپے چپے میں مسلمانوں کی ملکیت اور شعائر موجود ہیں۔ اس کی تجویز نمبر چھ میں کہا گیا کہ ہندستان کو ہندو ہندستان اور مسلم ہندستان میں تقسیم کرنا ناقابل عمل اور مسلمانوں کے لیے مضر ہے اور اس سے برطانوی سامراج کو فائدہ پہنچے گا۔

(4)مولانا محمد سجاد — اسلامی قومیت

ابو المحاسن مولانا محمد سجاد: نے 11 تا 16 جنوری 1925 کے چھٹے اجلاس میں وطنی فدویت کو مہلک مرض قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی قومیت کی بنیاد کلمہ لا الٰہ الا اللہ پر ہے، جغرافیہ پر نہیں۔

(5)مولانا سید سلیمان ندوی — وطن سے محبت اور قومیت

حضرت مولانا سید سلیمان ندوی نے 11 تا 14 مارچ 1926 کے ساتویں اجلاس میں فرمایا کہ نسل، وطن اور زبان کی بنیاد پر یورپی طرز کی قوم پرستی جاہلیت کی عصبیت ہے، لیکن وطن سے محبت اور اس کی آزادی کے لیے جدوجہد ہر مسلمان کا فرض ہے۔ نیز پین اسلامزم اور نیشنلزم ایک ساتھ ممکن ہیں۔

(6)مولانا احمد سعید — وطن میں اشتراک

سبحان الہند حضرت مولانا احمد سعید ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے اپریل 1930 میں میرٹھ کے بیس ہزار کے اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’تمہارا مذہب انگریز اور ہندو دونوں سے الگ ہے، لیکن قومیت اور وطن میں تم ہندو کے شریک ہو، انگریز تمہارا ہم وطن نہیں۔‘‘
(7)علامہ محمد اقبال — مسلم خود مختاری

علامہ محمد اقبال نے 29 دسمبر 1930 کے خطبۂ الٰہ آباد میں پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان پر مشتمل خود مختار ریاست کی تجویز پیش کی۔ کیوں کہ وہ خالص مذہبی بنیاد پر قومیت کی تعمیر کا نظریہ رکھتے تھے۔

(8)مولانا حسین احمد مدنی — متحدہ وطنی قومیت
حضرت مولانا حسین احمد مدنی نے 7 جنوری 1938 کو باڑہ ہندو راؤ، دہلی میں فرمایا کہ موجودہ زمانے میں قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔ بعد میں متحدہ قومیت اور اسلام میں میثاقِ مدینہ کی مثال دیتے ہوئے واضح کیا کہ ہندستان کے تمام باشندے بحیثیتِ وطن ایک قوم بن کر بیرونی اقتدار کے خلاف متحد رہیں، جب کہ ہر مذہب اپنے عقائد میں آزاد رہے۔ اگست 1938 کی جون پور کانفرنس میں بھی اسی متحدہ قومیت کی وضاحت کی کہ باشندگانِ ہند مذہبی اختلاف کے باوجود بحیثیتِ ہندستانی مشترک قومیت رکھتے ہیں۔ 7 تا 9 جون 1940 کے بارہویں اجلاس میں فرمایا کہ باشندگانِ ہند بحیثیتِ ہندستانی ایک اشتراک رکھتے ہیں جو مذہبی اختلاف کے باوجود باقی رہتا ہے، جیسے آگ لگنے پر پورے گاؤں والے مل کر اسے بجھاتے ہیں۔

(9)مولانا سید عبدالحق مدنی — متحدہ قومیت کی وضاحت

مولانا سید عبدالحق مدنی نے 3 تا 6 مارچ 1939 کے گیارہویں اجلاس میں فرمایا: ’’ہم اس کے حامی ہیں کہ ہندستان کے تمام باشندے بیرونی اقوام کے مقابلے میں ہندستانی کہلائیں اور یہی متحدہ قومیت ہے، لیکن ہم برداشت نہیں کر سکتے کہ یہ ہمارے مذہبی عقائد پر اثر ڈالے۔‘‘

راشٹر کی غلامانہ حیثیت بدلنے کے لیے ہندستان کی شرعی حیثیت کا معاملہ

راشٹرواد کی اسی بحث کے دوران ہندستان کی تاریخ میں دوسری بار ایسا ہوا کہ اہل علم و فقہ کے درمیان اس کی شرعی حیثیت موضوع بحث بنی۔

صورت واقعہ یہ ہوئی کہ جمعیت کا دوسرا سالانہ اجلاس 19، 20، 21 نومبر 1920 کو ہوا۔ اس کی دو سالہ روداد میں اولین ناظم مولانا عبدالحلیم صدیقی صاحب نے لکھا کہ علما کا فرض صرف فقہی حکم بیان کرنا نہیں بلکہ اس کو نافذ کرنے والی طاقت پیدا کرنا بھی ہے اور اس کے لیے کامل آزادی شرط ہے۔
اسی اجلاس میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وطن پرستی اور قوم پرستی بے شک اسلامی اصطلاح نہیں اور شاید یورپ سے لی گئی ہیں لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ اپنی قوم اور وطن کا تحفظ ہمارے فرائض سے خارج ہے۔ جو ملک ایک بار مسلمانوں کے جھنڈے تلے آ جائے اس کا ایک چپہ بھی کفار لینا چاہیں تو شرق سے غرب تک کل اہل اسلام پر دفاع فرض ہو جاتا ہے۔

اس کے بعد تیسرے اجلاس 18، 19، 20 نومبر 1921 میں اعلان کیا گیا کہ ہندستان کو غلامی سے آزاد کرانا مسلمانوں کے مذہبی فرائض میں داخل ہے۔ چوتھے اجلاس 24 تا 26 دسمبر 1922 میں مولانا حبیب الرحمان عثمانی نے فرمایا کہ جمعیت کا نصب العین دو حصوں میں ہے، اندرون ملک مذہبی رہنمائی اور بیرون ملک مذہبی تعلقات کا تحفظ، اور دونوں آزادی کے بغیر ممکن نہیں۔ پانچویں اجلاس 29 دسمبر 1923 تا یکم جنوری 1924 میں حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نے مسلمانوں کے کئی فرائض گنوائے جن میں سے تیسرا فرض ہندستان کو آزاد کرانا تھا۔ انھوں نے قرآن کی آیات وقاتلوا فی سبیل اللہ اور واعدوا لہم ما استطعتم من قوۃ سے استدلال کیا کہ اس حکومت سے مقابلہ فرض ہے اور ہندستان کی آزادی انگلستان کی موت کے مترادف ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ جب بھارت کو آزاد کرانا مسلمانوں کے لیے مذہبی فرض ہے، اور چو ں کہ بھارت کے سیاسی حالات کے تناظر میں یہ فرض غیر مسلموں کو ساتھ لیے بغیر ممکن نہیں، تو اس مذہبی فرض کی ادائیگی میں غیر مسلموں کا تعاون لینے، یا ان کا تعاون کرنے کا معاملہ فقہی تشریح کا محتاج ہے۔ فخر المحدثین حضرت مولانا انور شاہ کشمیری نے اس کا حل یہ پیش کیا کہ ہندستان نہ تو دارالاسلام ہے کہ غیر مسلموں سے تعاون لینا ناجائز ہو اور نہ ہی دارالکفر ہے کہ مسلمانوں کا تعاون دینا ناجائز ہو، بلکہ یہ دارالامان ہے۔ چنانچہ انھوں نے 2 تا 5 دسمبر 1927 کو منعقد آٹھویں اجلاس عام کے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ شاہ عبدالعزیز نے جب کہ اسلامیت کا رنگ گہرا تھا تب اسے دارالاسلام نہیں کہا تو آج بدرجہ اولیٰ نہیں ہے، اس لیے دارالامان کے احکام تلاش کرکے رہنمائی کرنی چاہیے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے میثاق مدینہ کی طرف توجہ دلائی۔ اسی نظریے کی بنیاد پر 4، 5، 6 مئی 1930 کو جمعیت علمائے ہند نے جہادی آزادی میں کانگریس کے ساتھ اشتراک عمل کیا۔ اور اس طرح مشترکہ کوشش سے بالآخر 15/اگست 1947 کو ہندستان کو آزاد کرا لیا گیا۔

راشٹرواد کا ہندو ورژن

 

اسلام کے بالمقابل ہندو دھرم میں قومیت کا کوئی مذہبی تصور نہیں ملتا۔ اس حوالے سے ہندوتو کے ماہر حضرت مولانا عبدالحمید نعمانی صاحب سے بھی استفسار کیا تو انھوں نے بھی اسی بات کی تصدیق کی۔
دراصل ہندوؤں کے یہاں اسلامی فقہ کے طرز پر کوئی فقہ نہیں ہے۔ پہلے کی سماجی رسمیں بعد کے لوگوں کے لیے دھرمک حیثیت اختیار کرلیتی ہیں۔ایسی ہی رسوم میں رمائن میں راج دھرم نبھانے کا نظریہ پایا جاتا ہے۔
البتہ ساور کر کے یہاں ہندو قومیت کا تذکرہ ملتا ہے۔
ساورکر کے نزدیک ’’ہندو راشٹر‘‘ محض جغرافیائی وطن کا نام نہیں، بلکہ ایک مخصوص تاریخی، تہذیبی اور قومی شناخت کا تصور ہے۔ 1923 میں اشاعت پذیر ان کی کتاب Essentials of Hindutva میں ’’ہندو‘‘ کی بنیادی تعریف یہ کی گئی ہے کہ ہے کہ ہندستان اس کے لیے صرف پِتر بھومی (آبائی وطن) ہی نہیں بلکہ پُنیہ بھومی (مقدس سرزمین) بھی ہو۔ اسی بنیاد پر ساورکر ہندستانی مسلمانوں اور عیسائیوں کو اپنے متعین کردہ ’’ہندو‘‘ کے دائرے سے باہر رکھتے ہیں، کیوں کہ ان کے نزدیک ہندستان ان کا وطن تو ہے، لیکن ان کی مذہبی مقدس سرزمین نہیں۔کیو ں کہ مسلمانوں کی مذہبی سرزمین مکہ و مدینہ اور عیسائیوں کی یروشلم ہے۔
ساورکر لکھتے ہیں: “For though Hindusthan to them is Fatherland as to any other Hindu yet it is not to them a Holyland too.” یعنی ہندستان مسلمانوں اور عیسائیوں کے لیے وطن تو ہے، لیکن مقدس سرزمین نہیں۔ تاہم ساورکر کے ابتدائی تصور میں ان کے لیے یہ گنجائش موجود تھی کہ اگر وہ ہندستان کو پِتر بھومی کے ساتھ پُنیہ بھومی بھی تسلیم کریں تو ہندو قومی وحدت میں شامل ہو سکتے ہیں۔
بعد کے سیاسی دور میں ساورکر کا موقف مزید واضح ہوا۔ 1937ء کے احمد آباد میں منعقد ہندو مہاسبھا کے اجلاس میں انھوں نے کہاکہ: “there are two nations in the main; the Hindus and the Moslems” یعنی ہندستان میں بنیادی طور پر دو قومیں، ہندو اور مسلمان، موجود ہیں۔ تاہم ساورکر اس بنیاد پر ہندستان کی تقسیم کے حامی نہیں تھے؛ ان کا تصور یہ تھا کہ دونوں ایک ہی ریاست میں رہ سکتے ہیں، لیکن ہندو قوم کو ہندستان کی بنیادی قومی حیثیت حاصل ہو۔
یعنی ساورکر کے ’’ہندو راشٹر‘‘ اور ’’نیشنلزم کی دوسری تشریحات میں فرق یہ ہے کہ عمومی قومیت میں ہندستان میں رہنے والا ہر شخص محض مشترک وطن کی بنیاد پر ایک قوم کا حصہ ہے، جب کہ ساورکر کے نزدیک قومی شناخت کے لیے مشترک آبائی وطن کے ساتھ مشترک تاریخ، تہذیب اور ہندستان کو پُنیہ بھومی سمجھنے کا عنصر بھی اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے نظریے میں مسلمان ہندستان کے شہری تو ہو سکتے ہیں، مگر ان کی ’’ہندو راشٹر‘‘ کی تعریف میں ان کی حیثیت ہندوؤں کے برابر نہیں بنتی۔

اس کے بعد ہندووں کے دوسرے بڑے مفکر گولوالکر کے یہاں رشٹرواد پر بحث کی گئی ہے۔ گولوالکر نے اپنی کتاب We or Our Nationhood Defined 1939 میں قوم کے لیے پانچ وحدتیں بیان کیں:ملک، نسل، مذہب، ثقافت اور زبان۔ ان کے نزدیک جو ان پانچ ہندو عناصر سے باہر ہیں وہ اپنی جدا شناخت چھوڑ کر ہی قومی زندگی کا حصہ بن سکتے ہیں۔
1965
میں شائع ان کی اسی کتاب کے صفحہ 18، 40 سے 46 اور 130 پر انھوں نے لکھا کہ پاکستان بن جانے کے بعد مسلمان راتوں رات دیش بھکت نہیں بن گئے، بلکہ خطرہ سو گنا بڑھ گیا ہے۔
راشٹر کے متعلق گول والکر کے اسی نظریے کو واٹس ایپ گیان کے ذریعے، ہندو راشٹر کے حامی و کوشاں آر ایس ایس کے کیڈر کے ذہنوں میں یہ بٹھا دیا گیا ہے کہ جو بھی مسلمان ہوگا وہ کبھی بھارت راشٹر کا وفادار ہو ہی نہیں سکتا وہ دیش دروہ اور غدار ہی ہوگا۔ اور ہندستانی مسلمانوں کو اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے اسی نظریے کا علمی و سیاسی تعاقب کرنا ضروری ہے، ورنہ انھیں اسپین جیسے اپنے انجام بد دیکھنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

کیا پاکستان ہندستانی مسلمانوں کے راشٹرواد پر سوالیہ نشان ہے؟

تقسیم ہند کے بعد 14 اگست 1947ء کو پاکستان کے قیام کے ساتھ مسلم لیگی نظریات کے حامی بعض علما نے ہندستان سے پاکستان کی طرف ہجرت کو فرض قرار دیا، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر انسانی نقل مکانی ہوئی۔ اور تباہی کے شکار ہوئے۔ لیکن جمعیت علمائے ہند کا موقف اس سے بالکل مختلف تھا۔ فخر المحدثین حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری رحمۃ اللہ علیہ نے جمعیت علمائے ہند کے آٹھویں اجلاس عام 2 تا 5 دسمبر 1927ء میں انگریزی دور ہی میں ہندستان کو دارالامان قرار دے دیا تھا، اس لیے آزادی کے بعد تو بدرجۂ اولیٰ ہندستان دارالامان تھا، اس لیے جمعیت علمائے ہند کے نزدیک ہجرت کا شرعی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ علاوہ ازیں سید الملت حضرت مولانا محمد میاں دیوبندیؒ کے مطابق جن لوگوں کے سامنے نہ جان کا حقیقی خطرہ تھا اور نہ ارتداد کا، بلکہ روزگار، عزت، بچوں کے مستقبل یا خوف کی وجہ سے انھوں نے وطن چھوڑا، ان کا یہ ترکِ وطن شرعی ہجرت نہیں بلکہ صرف طلبِ دنیا تھا۔ اسی طرح امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ نے 24 اکتوبر 1947ء کو جامع مسجد دہلی سے خطاب کرتے ہوئے ہجرت کرنے والوں سے کہا کہ جس فرار کو تم نے ہجرت کا مقدس نام دیا ہے، اس پر غور کرو؛ دہلی کی تاریخ اور اس کی سرزمین تم سے سوال کر رہی ہے کہ تم نے اپنی تاریخ کہاں گم کردی۔

تقسیم کے بعد فرقہ پرست عناصر ہندستانی مسلمانوں کے شہری حقوق کے خلاف یہ دلیل پیش کرتے ہیں کہ 1945-46ء کے انتخابات میں مسلمانوں نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا۔ دسمبر 1945ء کے مرکزی انتخابات میں 102 نشستوں میں 30 مسلم نشستیں مخصوص تھیں اور مسلم لیگ نے تمام 30 جیتیں؛ جب کہ 1946ء کے صوبائی انتخابات میں 1585 نشستوں میں 492 مسلم نشستیں تھیں، جن میں مسلم لیگ نے 425 نشستیں حاصل کر لیں۔ اسی طرح جولائی 1946ء کی آئین ساز اسمبلی میں 73 نشستیں حاصل کرلیں ، اور یوں تقسیم ہند کے ذریعے مسلمانوں نے اپنا حصہ (پاکستان) حاصل کر لیا تھا؛ لہٰذا اب ہندستان میں مسلمانوں کا کوئی قانونی، یا اخلاقی حق اور حصہ باقی نہیں رہا۔

فرقہ پرستوں کایہ اعتراض تاریخی و ریاضیاتی حقائق کے رو سے مندرجہ ذیل وجوہات کی بنیاد پر درست نہیں ہے:

1۔ یہ انتخابات گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ء کے تحت سخت شرائط (جائیداد کی ملکیت، ٹیکس اور تعلیمی معیار) پر منعقد ہوئے تھے ، نہ کہ بالغ رائے دہی پر۔

2۔ برصغیر کے تقریباً 9/کروڑ مسلمانوں میں سے صرف 10/فی صد( 90 /لاکھ) کو ووٹ کا حق حاصل تھا، اور عملاً صرف 60 /لاکھ( 6 سے 7/فی صد) نے ووٹ ڈالا۔ تقریباً 93 سے 94 /فی صد عام مسلمان، کسان اور مزدور رائے شماری سے محروم رہے۔ چند فی صد مراعات یافتہ طبقے کی رائے کو پوری مسلم قوم کا حتمی فیصلہ قرار دینا صریح بددیانتی ہے۔
اس کا ایک جواب تو یہ تھا اور دوسرا جواب یہ ہے کہ جمعیت علمائے ہند کا تاریخی موقف ابتدا ہی سے واضح تھا ۔ جمعیت نے 30 مارچ 1919 سے شروع ہونے والی عدم تعاون تحریک سے لے کر 3 نومبر 1919 کو مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے ترک موالات کے فتوے تک، جس میں غیر مسلموں سے نہیں بلکہ انگریز حکومت سے بائیکاٹ کا کہا گیا تھا، ہمیشہ متحدہ قومیت کو بنیاد بنایا۔ 23 نومبر 1919 کو قیام سے لے کر آج تک وہ اسی پر قائم ہے جب کہ ٹو نیشن تھیوری کی اس نے کبھی تائید نہیں کی، اس نظریے پر مبنی تشکیل پاکستان اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تقسیم ہند کی شدت کے ساتھ مخالفت کی ۔
اس لیے 1945-46ء کے انتخابی نتائج کو ہندستانی مسلمانوں کی ابدی سیاسی شناخت قرار دینا، یا پاکستان کے قیام کو ہندستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کے شہری حقوق سے محرومی کی دلیل بنانا، جمعیت کے تاریخی موقف سے مطابقت نہیں رکھتا۔ جمعیت کے نزدیک ہندستانی مسلمان اس ملک کے برابر کے شہری تھے، ہیں اور اپنے شہری حقوق کے اسی اصول کے تحت مطالبہ کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔

الزام غداری اور وفاداری کا مطالبہ

جیسا کہ "راشٹرواد کا ہندو ورژن” میں آپ نے مطالعہ کرلیا کہ ساورکر اور گولوالکر کی ہندو راشٹر کی تعریف اور اس کے قیام کی کوششوں نے مسلمانوں کو ہندو قومی شناخت سے باہر قرار دے کر ان کی حب الوطنی کو مشکوک بنانے کی فکری بنیاد فراہم کی، جس کے نتیجے میں پاکستان بننے کے بعد ہندستانی مسلمانوں کی وفاداری پر سوال اٹھائے جانے لگے، ان سے حب الوطنی کے ثبوت اور وفاداری کا مطالبہ کیا جانے لگا اور انھیں مسلسل شک کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا، جس کا سلسلہ تاہنوز جاری ہے۔

اس حوالے سے سب سے پہلا سوال یہی ہوتا ہے کہ وفاداری کا سوال کس سے ہے؟ ملک اور دستور سے، یا حکومت اور حکمرانوں سے؟ جمعیت علمائے ہند کی تاریخ میں اس سوال کا جواب ابتدا ہی سے دوٹوک انداز میں دیا گیا ہے کہ وفاداری ملک اور دستور سے ہوتی ہے، کسی فرد، جماعت یا وقتی حکومت سے نہیں۔ اس موقف کی تاریخی تسلسل درج ذیل ہے:

1.    مولانا سید انور شاہ کشمیری — صدرِ اجلاس — 2 تا 5 دسمبر 1927، صدارتی خطبہ: مولانا انور شاہ کشمیری نے قرآن کریم کی آیات ’’إِلَّا الَّذِينَ عَاهَدْتُمْ مِنَ الْمُشْرِكِينَ‘‘ اور ’’فَمَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا لَهُمْ‘‘ سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر برادرانِ وطن مسلمانوں سے منصفانہ معاہدہ کرلیں، تو مسلمان انھیں پورے وفادار ملیں گے۔

2.    حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان — جمعیت علمائے ہند کے ناظمِ عمومی — 27، 28 دسمبر 1947، آزاد کانفرنس: فرمایا کہ ہم اس ملک کے باشندے اور وفادار ہیں، اگر پاکستان بھی حملہ کرے گا تو مسلمان سب سے پہلے اس ملک کا دفاع کریں گے۔ بعض حکام مسلمانوں کو ’’پانچواں کالم‘‘ کہتے ہیں، یہ غلط ہے؛ ہم اس ملک کو اسی طرح اپنا وطن سمجھتے ہیں، جس طرح ہندو۔ وفاداری کا مطالبہ تو غیر ملکی سے کیا جاتا ہے۔

3.    شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی — صدر جمعیت علمائے ہند — تقسیم کے بعد، دیوبند کی جامع مسجد: فرمایا کہ اس ملک کو تم نے اپنے خون سے سینچا ہے، آئندہ بھی سینچنے کا عزم رکھو، یہی حقیقی وفاداری ہے۔ وزراء کو یہ ثابت کرنا چاہیے کہ وہ عوام کے وفادار ہیں، عوام کو ان سے بازپرس کا حق ہے؛ پھر مسلمانوں سے اس غلامانہ انداز میں وفاداری کا اظہار کیوں کرایا جائے؟ انھوں نے بہار، گڑھ مکتسر، یوپی، دہلی، مشرقی پنجاب، کلکتہ، نواکھالی اور مغربی پنجاب کے واقعات کا حوالہ دے کر سوال کیا کہ ان مصائب کو کس غداری یا بے وفائی کا نتیجہ قرار دیا جا سکتا ہے؟

4.    مولانا احمد سعید — صدر جمعیت علمائے ہند — 26، 27، 28 اپریل 1948، پندرھواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ جو لوگ اس ملک کو اپنا ملک نہیں سمجھتے وہ چلے جائیں، بحری، بری اور ہوائی راستے کھلے ہیں۔ میں جان بوجھ کر ’’وفاداری‘‘ کا لفظ استعمال نہیں کر رہا، کیوں کہ جب یہ اپنا ملک ہے تو ثبوت کس کے سامنے پیش کیا جائے؟

5.    مولانا محمد حفظ الرحمان — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 26، 27، 28 اپریل 1948، پندرھواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ بلا شبہ جو لوگ پاکستان کی طرف تکتے ہیں وہ چلے جائیں، لیکن چار کروڑ مسلمان غدار نہیں۔ لیگ کے حامی عوام کو معاف کیا جا سکتا ہے، جیسے جرمن عوام کو ہٹلر ازم کی قیادت کی خطا کی بنیاد پر مٹا نہیں دیا گیا۔ وفاداری ڈرانے سے نہیں بلکہ پریم اور محبت سے پیدا ہوتی ہے۔

6.    جناب مقصود بن منصور مرادآبادی — صدرِ استقبالیہ — 27 تا 29 اپریل 1951، سترھواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ وفاداری کا سوال ملک اور دستور سے ہوتا ہے۔ میں اعلان کرتا ہوں کہ ہم اپنے ملک اور دستور کے وفادار ہیں اور ہر اس حکومت کے وفادار رہیں گے جو دستور پر پورا عمل کرے۔ مسلمانوں کو حجاز، ایران اور شام سے ہمدردی ہے تو کیا اس کا مطلب غداری ہے؟ خود حکومتِ ہند کو پاکستان سے ہمدردی ہے اور وفود بھی جاتے ہیں، تو کیا وہ غدار ہے؟

7.    مولانا محمد حفظ الرحمان — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 27 تا 29 اپریل 1951، سترھواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ غداری افراد میں ہو سکتی ہے، جماعت غدار نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کی طرف نظر اٹھانا اگر غداری ہے تو مہاتما گاندھی کے سینے میں گولی مارنا بھی کیا غداری نہیں ہے؟

8.    مولانا محمد حفظ الرحمان — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 9، 10، 11 دسمبر 1960، بیسواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ اگر کسی کو پنڈت نہرو سے وفاداری کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں تو حفظ الرحمان سے بھی نہیں ہے۔ ہندو، مسلم، سکھ سب ہندستان کے جسم کے ٹکڑے ہیں؛ ناخن میں تکلیف ہو تو پورے جسم کو تکلیف ہوتی ہے۔

9.    مولانا سید فخرالدین احمد — صدر جمعیت علمائے ہند — 15 تا 17 اپریل 1966، بائیسواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ حفاظتِ وطن کے دعوے دار پریشان تھے کہ چھ کروڑ مسلمانوں کا کردار کیا ہوگا، لیکن بریگیڈیئر عبدالحمید اور ان کے ساتھیوں نے اپنے عمل سے جواب دے دیا۔ اب بھی مسلمانوں سے وفاداری کا مطالبہ دستور کے احترام کو پامال کرنا ہے۔

10.                       مولانا شاہد فاخری — رکنِ جمعیت علمائے ہند — 15 تا 17 اپریل 1966، بائیسواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ ہماری وفاداری زمین اور ملک سے ہے، پارٹی سے نہیں؛ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں۔

11.                      جناب محمد امین انصاری — وزیر اوقاف، اترپردیش — 14، 15 جنوری 1983، مجلسِ منتظمہ: فرمایا کہ حب الوطنی ہمارا ایمان ہے۔

12.                       جناب عبدالرحمان انتولے — سابق وزیر اعلیٰ مہاراشٹر — 14، 15 جنوری 1983، مجلسِ منتظمہ: فرمایا کہ مسلمانوں کی وفاداری پر شیطان بھی شک نہیں کر سکتا۔

13.                       جناب فاروق عبداللہ — سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر — 25، 26 جنوری 1991، کل ہند اجتماع: فرمایا کہ مسلمان کسی سے وفاداری کا سرٹیفکیٹ نہ لیں۔

14.                       جسٹس سردار علی خان — 29 اکتوبر 1995، پچیسواں اجلاس: فرمایا کہ اس ہندستان پر مسلمانوں کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کسی اور کا۔

15.                       سیتا رام کیسری — مرکزی وزیر فلاح و بہبود — 29 اکتوبر 1995، پچیسواں اجلاس: فرمایا کہ کروڑوں مسلمانوں نے موت کے سائے میں ہندستان میں رہنا پسند کیا؛ اگر ان کی وفاداری پر شک ہے تو شک کرنے والوں کی وفاداری پر مجھے شک ہے۔

16.                       مولانا ارشد مدنی — رکن عاملہ جمعیت علمائے ہند — 6 جون 1999، اقلیتی کنونشن: فرمایا کہ مسلمان ایک ہزار سال سے یہاں رہ رہے ہیں، حاکم بھی رہے اور محکوم بھی، لیکن ہمیشہ مکمل وفاداری کا ثبوت دیا۔

17.                       مولانا اسعد مدنی — صدر جمعیت علمائے ہند — 25 مارچ 2000، بیان: آر ایس ایس سربراہ کے ایس سدرشن کے اس بیان پر کہ مسلمان ہندستان کو اپنا ملک سمجھیں، فرمایا کہ یہ کھلی شرارت ہے۔

18.                       مولانا اسعد مدنی — صدر جمعیت علمائے ہند — 17 اکتوبر 2000، آر ایس ایس کی راشٹریہ سرکشا مہاشور کے بعد بیان: فرمایا کہ آر ایس ایس کو اقلیتوں سے وفاداری کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں؛ اسے بتایا جائے کہ وہ خود جس ’’قومی دھارے‘‘ کی بات کرتی ہے، وہ کہاں بہہ رہا ہے۔

19.                       مولانا اسعد مدنی — صدر جمعیت علمائے ہند — 21 جون 2002، مشاورتی میٹنگ کا میمورنڈم: کہا گیا کہ مذہب کی بنیاد پر وفاداری پر انگلی اٹھانا قومی عداوت کے مترادف ہے۔

20.                       مولانا اسعد مدنی — صدر جمعیت علمائے ہند — 9 مارچ 2003، ستائیسواں اجلاس، صدارتی خطبہ: گولوالکر کے اس الزام کا جواب دیتے ہوئے کہ مسلمانوں کی وفاداریاں باہر ہیں اور ان کی آبادی 11 سے 22 فی صد ہوگئی ہے، فرمایا کہ سرکاری رپورٹ میں آج بھی مسلمانوں کی آبادی تقریباً 12 فی صد ہے؛ یہ دعویٰ اقلیتوں کے خلاف ماحول بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

21.                       کے رحمان — ڈپٹی چیئرمین راجیہ سبھا — 20، 21 اگست 2006، علماء کانفرنس: فرمایا کہ وطن سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔

22.                       مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 15 ستمبر 2006، پریس کانفرنس: فرمایا کہ وندے ماترم کو وفاداری سے جوڑنا ملک کو برباد کرنے کی سازش ہے۔ ملک ہمارے لیے پیارا ہے، قابلِ عبادت نہیں؛ جس چیز کی دستوری حیثیت نہیں، اسے وفاداری کا ثبوت نہیں بنایا جا سکتا۔

23.                       مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 10 ستمبر 2007، بیان: فرمایا کہ دہشت گردی کے کسی واقعے کے بعد بلا تحقیق مسلمانوں پر انگلی اٹھانا بند ہونا چاہیے۔

24.                       پرم جیت سنگھ سرنا — صدر دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی — 31 مئی 2008، دہشت گردی مخالف امن کانفرنس: فرمایا کہ ہم خود 1984 کے دور سے گزر چکے ہیں؛ ہمیں یہ صفائی دینے کی ضرورت نہیں کہ ہم وفادار ہیں۔ بدعنوانی دوسرے کریں اور صفائی ہم دیں، یہ درست نہیں۔

25.                       مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 9 نومبر 2008، انتیسواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ ہم اس ملک میں کرایہ دار نہیں ہیں؛ ہمیں کسی کا احسان نہیں چاہیے بلکہ وسائل میں ہمارا حق دیا جائے۔

26.                       مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 14 فروری 2009، امن کانفرنس: فرمایا کہ مسلمان اس ملک کے معمار ہیں، اس ملک کے مالک ہیں، کرایہ دار نہیں۔

27.                       مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 3 نومبر 2009، تیسواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ یاد رکھو، تم اس ملک کے حصہ دار ہو، کرایہ دار نہیں۔ جب میں دنیا کے کسی حصے سے ہندستان کی سرزمین پر قدم رکھتا ہوں تو لمبی سانس لیتا ہوں؛ جو خوشبو یہاں ملتی ہے وہ کہیں نہیں ملتی۔

28.                       سوامی اگنی ویش — سماجی و مذہبی رہنما — 3 نومبر 2009، تیسواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ مسلمانوں کو کسی وفاداری کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں؛ جمعیت کی قربانی خود ایک سرٹیفکیٹ ہے۔

29.                       مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 27 نومبر 2015، ریڈف انٹرویو: فرمایا کہ ’’ہم بائی چانس انڈین نہیں، بائی چوائس انڈین ہیں۔‘‘ انھوں نے وضاحت کی کہ ہمارے آباؤ اجداد کے پاس ایک ایسی ریاست میں جانے کا موقع تھا جو اسلامی تھی، لیکن انھوں نے اس ریاست میں رہنے کا انتخاب کیا جو اسلامی نہیں تھی؛ اس لیے ہندستان ہمارا ملک ہے اور ہم اس کے حصہ دار ہیں۔

30.                       مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 14 فروری 2016، میرٹھ، حصولِ انصاف کانفرنس: فرمایا کہ ’’مسلمان بائی چانس انڈین نہیں بلکہ بائی چوائس انڈین ہیں‘‘؛ وطن سے محبت ہی کی وجہ سے وہ تقسیم کے بعد بھی ہندستان میں رکے۔

31.                       مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 16 اپریل 2017، احمد آباد، جمعیت علمائے ہند کا کنونشن: فرمایا کہ ’’ہم بائی چوائس انڈین ہیں، بائی چانس نہیں‘‘؛ مسلمانوں نے ایک اسلامی ریاست کے بجائے ہندستان کو ترجیح دی اور انھیں اپنے اس انتخاب پر کوئی افسوس نہیں۔

32.                       مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 15 فروری 2019، بنارس، مولانا حبیب الرحمان اعظمی کی خدمات پر سیمینار: فرمایا کہ ہم ان لوگوں کے نام لیوا ہیں جنھوں نے مذہب کے نام پر تقسیم کی مخالفت کی اور اپنی مرضی سے اس ملک میں رہنا پسند کیا۔ ہمیں کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں، مگر بدقسمتی سے ہماری قوم ستر سال سے صفائی دیتی آ رہی ہے۔

33.                       پروفیسر اخترالواسع — معروف مسلم دانش ور و ماہرِ تعلیم — 25 ستمبر 2022، دھرم سنسد: فرمایا کہ مجھے فخر ہے کہ ہندستان میری ماتر بھومی بھی ہے اور پتر بھومی بھی، کیوں کہ ابوالبشر آدمؑ پر پیغامِ حق سب سے پہلے اسی سرزمین پر نازل ہوا۔

34.                       مولانا محمود مدنی — صدر جمعیت علمائے ہند — 12 فروری 2023، چونتیسواں اجلاسِ عام، صدارتی خطبہ ’’بھارت ہمارا وطن‘‘: فرمایا کہ بھارت ہمارا وطن ہے، جتنا مودی اور بھاگوت کا ہے اتنا ہی محمود کا ہے؛ نہ محمود ایک انچ آگے ہے نہ وہ ایک انچ پیچھے۔ یہ دھرتی اسلام کی جائے پیدائش اور مسلمانوں کا پہلا وطن ہے، اس لیے اسلام کو باہر سے آیا ہوا کہنا تاریخی طور پر بے بنیاد ہے۔ انھوں نے کہا کہ بھارت ہندی مسلمانوں کے لیے وطنی اور دینی دونوں حیثیتوں سے اہم ہے، تاہم اس کے لیے آئین، جمہوریت، انسانی حقوق اور مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور میڈیا کا درست طور پر کام کرنا ضروری ہے۔

35.                       مولانا محمد سلمان بجنوری — نائب صدر جمعیت علمائے ہند — 29 نومبر 2025، بھوپال، مجلسِ منتظمہ: فرمایا کہ ہم مدارس اور تمام مسلمانوں کی طرف سے واضح طور پر کہتے ہیں کہ ملک سے غداری کرنے والوں کے ساتھ کبھی نہیں ہوں گے۔ ملک سے وفاداری اور معاہدوں کی پابندی ہمارے مذہب کا حکم ہے۔ تاہم حکومت سے مطالبہ ہے کہ جس طرح ایک مسلمان کے مشتبہ ہونے پر کارروائی کی جاتی ہے، اسی طرح اپنے ہم مذہب بھائی کے معاملے میں بھی تحقیق کی جائے اور مجرم کو قرار واقعی سزا دی جائے۔

لمحوں کی خطا کیا تھی؟ صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

لمحوں کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟

جیسا کہ عرض کیا گیا ہے کہ ہمارے اکابر نے مذہبی آزادی اور تمام حقوق میں مکمل مساوات کی شرائط کے ساتھ جمہوری حکومت کی حمایت کی تھی،اور اسی متحدہ قومیت نظریے کی بنیاد پر نظریہ پاکستان کی مخالفت کی تھی ۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا اس وقت ہندستان میں جمہوریت اپنی حقیقی روح کے ساتھ باقی ہے؟

قوموں اور ملکوں کے عروج و زوال کا تجزیہ کرنے والے ماہرین کے مطابق دس پوائنٹس ایسے ہیں، جن کو معیار بناکر حالات کا تجزیہ کرنے سے کسی قوم کے عروج وزوال کا نتیجہ مرتب کرسکتے ہیں۔ وہ 10 پوائنٹس درج ذیل ہیں :
1
۔ روٹی کا مسئلہ
2
۔حفاظت جان و مال
3
۔عدل و انصاف
4
۔ مذہبی حقوق کی حفاظت
5
۔ تہذیب و زبان کی حفاظت
6
۔تعلیم
7
۔حقوق ملازمت
8
۔یکساں شہری حقوق اور مساوات
9
۔حقوق ملکیت میں آزادی
10
۔سیاسیات
ان دس پوائنٹس کے تناظر میں ٹو دہ پوائنٹ بات کی جائے، تو مختصر لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ:
1
۔ٹھیلہ وغیرہ پر نام لکھوانے کی تحریک چلاکر، یا صرف اپنے ہم مذہب سے خریداری کی اپیل کرنے جیسے معاملات سے سمجھا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے روزی روٹی کا مسئلہ پیدا کرنے کی منظم کوشش کی جارہی ہے۔
2
۔ ملک میں بڑھتے ہیٹ ریٹ، سفر وغیرہ میں مسلم شناخت والوں کے ساتھ تشدد، بعض بعض جگہوں پر مسلمانوں کے داخلے کی پابندی، خود ہی فرقہ وارانہ فسادات کر اکے ان کا الزام مسلمانوں پر ڈال کر بے قصور نوجوانوں کی اندھا دھند گرفتاری اور رہائی کے لیے وصولی کرنا، یا طول طویل عدالتی کارروائیاں اور بعد ازاں حکومت کا جبری بلڈوزر جیسی دہشت گردانہ حرکتیں اور مآب لنچنگ کے واقعات شاہد ہیں کہ مسلمانوں کے سامنے جان و مال کے تحفظ کا معاملہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔
3
۔ بابری مسجد پر سپریم کورٹ کا فیصلہ، دہلی اور پورے ملک میں آثار قدیمہ کے نام پر بند پڑی مساجد، گیان واپی مسجد،عیدگاہ متھرا اور تقریباً تین ہزار مساجد پر قانونی شکنجہ کسنے کے بعد عدالتوں کے فیصلے، اسی طرح تین طلاق اور شرعی محکمہ قضا کے فیصلوں کے متعلق حالیہ دنوں کے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں، نیز جدید وقف ایکٹ میں ظالمانہ ترمیمات پر اصرار سے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ مسلمانوں کے لیے ملک میں کتنا عدل و انصاف بچا ہوا ہے۔
4
۔وقف ایکٹ ،فتوی پر پابندی (ہماچل پردیش میں) مدارس اسلامیہ کو نوٹس، قربانی اور غیر قربانی کے مواقع پر گائے کے ذبح پر پابندی،یا ہنگامہ اور کسی بھی مسجد کو غیر قانونی تعمیرات کے بہانے شہید کردینے کے متواتر واقعات سے مسلمانوں کے مذہبی حقوق کس درجہ محفوظ ہیں، دانش ور خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔
5
۔ داڑھیوں کے خلاف مقدمے، تعلیم گاہوں میں برقعہ پوش خواتین کے ساتھ مسائل پیدا کرنا اور اردو زبان کے ساتھ تعصب انگیز رویہ سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کی تہذیب اور زبان کو مٹانے میں وہ کس حد تک کامیاب ہوچکے ہیں۔
6
۔ تعلیم کی بات کریں ،تو مسلمان کے اندر 42 فی صد جہالت ہے۔ آزاد مدارس کے سامنے تو مسائل پیدا کیے ہی جارہے ہیں ؛لیکن سرکاری تعلیمی اداروں سے وابستگی سے بھی ان کو چڑھ ہے، جیسا کہ کچھ دن پہلے جمعیت اسٹڈی سینٹر کے تحت نوائس سے امتحان دینے والے طلبہ و طالبات کی بڑھتی کامیابی کو دیکھتے ہوئے این سی پی سی آر کے چئیرمین نے زہر اگلتے ہوئے اسے ٹرر فنڈنگ کہا تھا۔ اس طرح کے اور بھی معاملات ہیں، جہاں مسلمانوں کو تعلیم سے محروم رکھنے کی مکمل سازش کی جارہی ہے۔
7
۔حقوق ملازمت کی بات کریں، تو سیکڑوں ایسے واقعات سامنے آچکے ہیں، جہاں مسلمانوں کے ساتھ ڈس کرمنیشن یعنی امتیازات سے کام لیا جارہا ہے۔
8
۔ یکساں شہری حقوق اور مساوات سے مراد حکومت کے جملہ وسائل میں بلا امتیاز مذہب وغیرہ یکساں شرکت ہے۔ سی اے بی، گجرات میں ڈسٹربڈ ایریا کا قانون اور نچلی ذاتوں اور مسلمان سمجھ کر بعض محکمہ جیسے ڈفنس میں مسلمانوں کو ملازمت، یا اعلی ملازمت نہیں دی جاتی۔گویا یکساں شہری حقوق اور مساوات پر بھی ڈاکہ ڈالا جارہا ہے۔
9
۔ حقوق ملکیت میں تو اب تک آزادی ہے، لیکن بعض مخدوش علاقوں میں محض مسلمان کا گھر ہونے کی وجہ سے جس طرح بغیر عدالتی کارروائی کے بلڈوزر چلادیا جاتا ہے، یہ بھی اس سے کم ظلم نہیں ہے کہ مسلمانوں کو ان کی ملکیت سے محروم کردیا جائے۔ اس سے واضح معاملہ یہ ہے کہ ایک خاص سازش کے تحت مسلمانوں کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس سے محرومی تقریباً تمام حقوق سے محرومی کا باعث بن جائے گی۔
10
۔البتہ سیاست میں مسلمان اب تک آزاد ہیں ،لیکن مسلم آبادی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے حلقہ ہائے انتخاب کی جس طرح حدبندی کی جاتی ہے، اس سے اس سازش کا اندازہ لگانا کوئی خاص مشکل نہیں ہے کہ مسلمانوں کی سیاسی طاقت کو بے وزن کرنے کی لگاتار کوشش کی جارہی ہے۔
علاوہ ازیں راہل گاندھی، پرینکا گاندھی کے علاوہ بھی کئی پارلیمنٹ کے بڑے لیڈربیان دے چکے ہیں کہ ہندستان میں جمہوریت بچی نہیں ہے۔
ان نتائج کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا شاید خلاف واقعہ نہیں ہوگا کہ بھارت ہندو راشٹر بن چکا اور جمہوریت اور دستور ایک قصہ پارینہ بن چکا ہے۔

انھیں حقائق کو دیکھتے ہوئے کچھ حضرات یہ دلیل دیتے ہیں کہ اکابر جمعیت کے نظریات کو موجودہ حالات نے غلط ثابت کر دیے ہیں اور سر سید اور مسٹر جناح کی پیش قیاسیاں حرف بہ حرف پوری ہو رہی ہیں ۔

سرسید مرحوم کی پیش قیاسی

جیسا کہ عرض کیا جاچکاہے کہ 18 ؍دسمبر 1887ء کو لکھنؤ میں سر سید نے ایک تقریر میں کہا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں، اگر انگریز چلے گئے تو تخت پر دونوں نہیں بیٹھ سکتے۔ انتخابی حکومت میں ہندو ہندو کو اور مسلمان مسلمان کو ووٹ دیں گے تو تین چوتھائی اکثریت ہندوؤں کی ہوگی اور مسلمان دائمی غلام بن جائیں گے۔ اس لیے مسلمانوں کو کانگریس میں شریک نہیں ہونا چاہیے اور انگریزی حکومت پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

مسٹر جناح کی پیشین گوئی

23 ؍مارچ 1940ء کے لاہور اجلاس میں محمد علی جناح نے پاکستان کے مطالبے کی ایک بنیادی دلیل یہ پیش کی کہ متحدہ ہندستان میں عددی ہندو اکثریت کے تحت مسلمان مستقل سیاسی اقلیت بن کر رہیں گے اور ان کے حقوق و مفادات اکثریتی غلبے سے محفوظ نہیں رہ سکیں گے؛ اسی لیے انھوں نے کہاکہ : “Muslim India cannot accept any constitution which must necessarily result in a Hindu majority government.” ان کے نزدیک پاکستان کا مقصد مسلمانوں کو اپنی سیاسی، معاشی، تہذیبی اور مذہبی زندگی اپنے اصولوں کے مطابق محفوظ رکھنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔
اسی طرح 6 /دسمبر 1945ء کے خطاب میں مسٹر جناح نے متحدہ ہندستان میں مسلمانوں کو “at the mercy of the perennial Hindu majority domination” قرار دیتے ہوئے پاکستان کو اس صورتِ حال سے نجات کا راستہ بتایا۔
اس کے علاوہ ہندستان کے آزاد ہونے کے بعد 25 اکتوبر 1947ء کو محمد علی جناح نے رائٹرز کے نمائندے ڈنکن ہوپر سے کہا کہ ہندستانی مسلمانوں سے “certain tests and standards of loyalty” یعنی ’’وفاداری کے مخصوص امتحانات اور معیار‘‘ طلب کیے جا رہے ہیں؛ یعنی تقسیم کے بعد بھی انھیں اپنی وفاداری ثابت کرنی پڑ رہی ہے۔
ان تمام تاریخی حالات، دلائل اور پیش قیاسیوں کے تناظر میں آج کا نوجوان یہ سوال اٹھاتا ہے کہ:

1.    کیا جمعیت علمائے ہند کا ’’متحدہ قومیت‘‘ کا نظریہ غلط ثابت ہوا؟

2.    کیا اس کے بالمقابل سر سید احمد خان کا موقف زیادہ درست تھا کہ مسلمانوں کو انگریزوں کا وفادار رہنا چاہیے

3.    یا مسٹر جناح کے دو قومی نظریہ پر عمل کرتے ہوئے، تقسیم کے وقت ہندستان چھوڑ کر ہمارے آباؤ اجداد کو پاکستان چلے جانا چاہیے تھا؟
بہ الفاظ مختصر یہ کہہ سکتے ہیں کہ آج جب ہندستان میں بعض مقامات پر فرقہ وارانہ کشیدگی، مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات اور امتیازی رویوں کے واقعات سامنے آتے ہیں تو مسلم نوجوان یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا سرسید احمد خان اور محمد علی جناح کا یہ موقف درست تھا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں اور مسلمانوں کا سیاسی تحفظ ایک الگ مملکت میں ہے؟ اور کیا جمعیت علمائے ہند کا متحدہ قومیت کا نظریہ تاریخی طور پر غلط ثابت ہوگیا؟

تو جوابات یہ ہیں ----

ان سوالات کے جوابات جذبات سے نہیں بلکہ تاریخ کے پورے پس منظر کو سامنے رکھ کر تلاش کرنا چاہیے۔
   
 (۱) سرسید مرحوم کا نظریہ یوں قابل عمل نہیں تھا؟  یعنی انگریزوں کی وفاداری کے بجائے آزادی کی راہ کیوں اختیار کی گئی؟
جہاں تک سر سید کے اس نظریے کا تعلق ہے کہ مسلمانوں کو برطانوی حکومت کے ساتھ وفاداری اختیار کرنی چاہیے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہندو مہاسبھا اور آر ایس ایس نے اسی نظریے پر عمل کرتے ہوئے جہاد ازادی ہند میں انگریزوں کی چاپلوسی کرتے رہے اور ہندستان کی غلامی کی عمر کو طویل کرتے رہے۔انگریز ہندستان کو لوٹتا رہا اور اس نظریے کے حامل افراد اور تنظیموں نے وطن سے غداری کرتے ہوئے ان لٹیروں کا ساتھ دیتے رہے۔
ظاہر سی بات ہے کہ یہ بات جہاں محبان وطن کی فطرت کے خلاف ہے وہی مسلمانوں کا مذہب بھی اس کی اجازت نہیں دیتا کیوں کہ مسلمانوں کے لیے اپنے وطن کی آزادی اور غیر ملکی اقتدار سے نجات محض سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ دینی و اخلاقی ذمہ داری بھی تھی؛ اسی لیے سوادِ اعظمِ مسلمین کے ایک بڑے حصے اور جمعیت علمائے ہند نے انگریزوں کا ساتھ دینے کے بجائے آزادی کی جدوجہد کو اختیار کیا۔

ہندستان کی آزادی کے لیے چند ضروری وجوہات

جمعیت علمائے ہند کے پانچویں اجلاس عام منعقدہ:29 ؍دسمبر 1923تا یکم جنوری 1924 کے خطبہ صدارت میں انگریزیوں کی غلامی  کے بجائے  ہندستان کو آزادی کیوں حاصل کرنا چاہیے،صدر اجلاس حضرت مولانا حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ نے اس کی درج ذیل وجوہات بیان فرمائیں:

1.    خلافت و اسلامی ممالک کا تحفظ: ہندستان آزاد ہوتا تو اس کی فوج اور مالی وسائل مسلمانوں کے خلاف بیرونی جنگوں میں استعمال نہ کیے جاسکتے۔ اس لیے آزادی حاصل کرنا ضروری ہے۔

2.    مقدس مقامات کا تحفظ: برطانوی پالیسی کے خاتمے سے جزیرۃ العرب اور مقدس مقامات کو بیرونی سیاسی مفادات سے محفوظ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، اس لیے آزادی حاصل کرنا ضروری ہے۔

3.    مسلمانوں کی جان و مال کا تحفظ: ہندستان کی فوج کو بیرونِ ملک مسلم قوموں کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا ضروری ہے، اس لیے آزادی حاصل کرنا ضروری ہے۔

4.    مؤثر سیاسی آواز: آزاد ہندستان ہی بیرونِ ملک مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف مؤثر احتجاج آزاد ملک ہی کرسکتا ہے، اس لیے آزادی حاصل کرنا ضروری ہے۔

5.    مالی و فوجی مدد کی آزادی: غلامی کی حالت میں ہندستانی مسلمان بیرونی مسلمانوں کی آزادانہ مالی یا دیگر امداد نہیں کرسکتے، اس لیے آزادی حاصل کرنا ضروری ہے۔

6.    برطانوی فوجی پالیسی سے نجات: ہندستانی فوج کے ذریعے دوسری مسلم قوموں کے خلاف کارروائیوں کواسی وقت روکا جاسکتا ہے، جب کہ ہندستان آزاد ہو، اس لیے آزادی حاصل کرنا ضروری ہے۔

7.    مذہبی آزادی: مصنف کے مطابق موجودہ حکومت کی پالیسی سے اسلامی احکام و شعائر متاثر ہورہے تھے، اس لیے آزادی حاصل کرنا ضروری ہے۔

8.    حقوقِ انسانی و شہری آزادی: مذہبی، معاشرتی، تمدنی اور انسانی حقوق کا  تحفظ اسی وقت ہوسکتا ہے ، جب کہ ہندستان آزاد ہو، اس لیے آزادی حاصل کرنا ضروری ہے۔

9.    معاشی خوش حالی: بھاری ٹیکس اور معاشی استحصال سے پیدا ہونے والی غربت کے خاتمے اور عوام کی خوش حالی کے لیے آزادی ضروری ہے اس لیے آزادی حاصل کرنا ضروری ہے۔

10.                       سیاسی خود اختیاری: چوں کہ ہندستان مسلمانوں کا بھی وطن تھا، اس لیے غلامی کے سیاسی، معاشی، تعلیمی اور معاشرتی نقصانات سب سے زیادہ مسلمانوں کا ہورہا تھا، اس لیے آزادی حاصل کرنا ضروری ہے۔

مزید یگر ضروری وجوہات

اسی طرح شیخ الاسلام حضرت حسین احمد مدنی صدر جمعیت علمائے ہند نے 7تا 9؍ جون 1940 کو منعقد بارھویں اجلاس عام کے صدارتی خطبے میں آزادی حاصل کرنے کی درج ذیل وجوہات بیان فرمائیں:

1۔ برطانوی قوم کا کردار:انگریز ہندستان میں آکر بالکل نیا انسان بن جاتا ہے۔ وہ مظالم جو انگلستان میں نہیں کر سکتا، یہاں روا رکھتا ہے۔لارڈ میکالے، وارن ہیسٹنگز، سر جان شور وغیرہ کے اقوال سے ثابت کیا کہ انگریزوں نے ذاتیں ذلیل کیں، قوانین وراثت منسوخ کیے، عبادت گاہیں ضبط کیں، تجارت لوٹ لی اور ہندستانیوں کو ادنیٰ قوم سمجھا۔

2۔  لوٹ کھسوٹ کے تین ادوار: انگریزوں نے ہندستان کو بری طرح لوٹا۔

·       1700-1757: تسلط بذریعہ تجارت: ننگی لوٹ، کمپنی ملازمین نے چوتھائی قیمت پر مال خریدا۔

·       1758-1832: تسلط بذریعہ اطاعت بالجبر: پلاسی 1757ء کے بعد ملک گیری، خزانے لندن منتقل۔

·       1833-1940: تسلط بذریعہ پوست / دکھاوا: خوش معاملگی کا نعرہ مگر حقیقت میں مزید استحصال۔

·       شاہی اعلانات اور بدعہدیوں کی تاریخ – آزادی دینے کی بات کہی، لیکن ہمیشہ وعدہ خلافی کی۔

3۔ 1833ء کا چارٹر ایکٹ: کہا گیا مذہب، رنگ، نسل کی بنیاد پر کوئی عہدہ ممنوع نہیں ہوگا۔ لارڈ لٹن نے خود اعتراف کیا کہ یہ محض "فریب دینا” تھا، مقابلے کے امتحان میں عمر کی قید جیسے حیلے بنا کر ہندستانیوں کو روکا گیا۔

4۔ 1858ء کا ملکہ وکٹوریہ کا اعلان: کہا گیا ہماری رعایا کو بلا امتیاز عہدے دیے جائیں گے۔ عملاً 1000 روپے سے اوپر کے 96% عہدوں پر انگریز، ہندستانی 4%۔ فوجی کالج میں ہندستانیوں کا  داخلہ تک بند۔تعلیم کی شرط محض دھوکہ ہے – انگریزوں سے پہلے ہر گاؤں میں مدرسہ تھا، انگریز نے تباہ کیا۔ 1871ء سے 1931ء تک شرح خواندگی 2.3% سے 8% ہوئی، اس رفتار سے آزادی میں 1000 سال لگیں گے۔

5۔ زمینوں کا دوامی بندوبست: لارڈ کارنوالس نے دوامی بندوبست کا وعدہ کیا، 1862ء میں منظوری ہوئی، پھر 1883ء میں زر پرستی کی وجہ سے منسوخ کر دیا گیا۔ نتیجہ: میعادی بندوبست میں 55% زمین سے 84% لگان وصولی، کسان تباہ۔

6۔مال گزاری: پہلے پیداوار کا 25% تھی، انگریزوں نے 80-90% تک کر دی، نقد وصولی لازمی، نہ ادا کرنے پر جائیداد نیلام، قید۔

7۔فارورڈ پالیسی: ملکہ کے اعلان میں کہا "ہم توسیع نہیں چاہتے” مگر افغانستان، سوات، چترال، وزیرستان پر 30-35 جنگیں، 7 ارب روپے سے زیادہ خرچ ہندستان پر ڈالا گیا۔

8۔ مقدس مقامات سے متعلق اعلان 1914ء: کہا عرب کے مقدس مقامات محفوظ رہیں گے، پھر جدہ پر بمباری، طائف کا محاصرہ، ترک قیدیوں کو قید۔

9۔ آزادی کے جھوٹے وعدے 1833ء سے 1929ء تک: میکالے، ایڈورڈ ہفتم، گلیڈسٹون، 1917ء کا اعلان، 1919ء کا ایکٹ، 1921ء میں ڈیوک آف کناٹ کا سوراج کا وعدہ، لارڈ ارون کا ڈومین اسٹیٹس کا مبہم اعلان۔ سب کے جواب میں لائیڈ جارج کا بیان: "1200 انگریز فولادی قالب ہیں، ان کے بغیر عمارت گر جائے گی”۔

درج بالا نو وجوہات کے علاوہ حضرت شیخ الاسلام نے مسلمانوں ے لیے آزادی ہند کو درج ذیل سات وجوہات کی جہ سےفرض اور ضروری قرار دیا:

1.    ہندستان حضرت آدمؑ سے مسلمانوں کا وطن آبائی ہے۔

2.    ہم اسی کی مٹی میں دفن ہوکر اس کی مٹی کا جز بن جاتے ہیں۔

3.    ملک مسلمانوں سے ہی چھینا گیا تھا۔

4.    ہندستان کی آزادی سے افغانستان، ایران، حجاز، فلسطین، مصر وغیرہ بھی آزاد ہوں گے۔

5.    انگریز نے مسلمانوں کو سب سے زیادہ برباد کیا۔

6.    خواہ اسلامی راج ہو یا مشترک راج، غلامی سے نکلنا شرعی فریضہ ہے۔

7.    شدید فقر و افلاس سے "کاد الفقر ان یکون کفرا” – لوگ مرتد ہو رہے ہیں، اور بے روزگاری کا خاتمہ آزادی کے بغیر ممکن نہیں۔

انھی وجوہات کی وجہ سے  جمعیت علمائے ہند اور عام مسلمانوں نے سر سید مرحوم کے نظریہ غلامی کو قابل عمل نہیں سمجھا اور آزادی ہند کے لیے کوشاں رہے۔

(2)مسلم لیگ کے مسٹر جناح کا نظریہ: قیام پاکستان کی مخالفت کیو ں کی گئی؟
جہاں تک مسٹر جناح کے اس نظریے کا تعلق ہے کہ ہندو اکثریت کے غلبے کے خوف سے مسلم اقلیت کے سیاسی تحفظ کا واحد حل ایک علاحدہ اسلامی مملکت کا قیام ہے اور پاکستان بننے کے بعد تمام مسلمانوں کو وہاں ہجرت کر جانی چاہیے، تو اس کے جواب میں چند بنیادی سوالات سامنے آتے ہیں:
(1)
کیا تقسیم ہند کے ذریعے اقلیت کا مسئلہ واقعی حل ہوگیا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ مسئلہ ختم ہونے کے بجائے دو طرفہ صورت اختیار کرگیا: پاکستان میں ہندو اقلیت اور ہندستان میں مسلم اقلیت کے لیے نئے مسائل پیدا ہوئے۔
مجاہد ملت حضرت مولانا محمد حفظ الرحمن سیوہاروی رح نے ایک بیان میں فرمایا کہ:
تقسیم ہند کی عملی شکل نے پانچ کروڑ مسلمانوں، یعنی نصف مسلم آبادی کو جس طرح ہندوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے، اس سے مسلم اقلیت کے صوبوں کے مسلمان بے حد مضطرب اور پریشان ہیں۔ اور مسلمانان ہند کی وحدت کو پارہ پارہ کرکے جس طرح تین تیرہ بنادیا ہے، اس کے تاریک مستقبل سے بچنے کی تدابیر کا ہر درد مند قلب خواہش مند نظر آتا ہے۔(روزنامہ انقلاب، لاہور، 28/ جولائی 1947ء)
(2)
کیا تبادلۂ آبادی اس مسئلے کا عملی حل ہوسکتا ہے؟ ہندستان اور پاکستان میں اقلیتیں صدیوں سے اپنے اپنے معاشروں کا مشترک حصہ بن چکی تھیں؛ کروڑوں لوگوں کو ان کے گھروں، زمینوں،مذہبی مقامات، مساجد، مدارس، خانقاہیں، مزارات وغیرہ،  رشتوں اور سماجی جڑوں سے اکھاڑ کر ایک دوسرے کے ملکوں میں منتقل کرنا عملاً ممکن نہیں تھا۔ تقسیم کے زمانے میں جب بڑے پیمانے پر آبادی کی منتقلی ہوئی تو اس کے نتیجے میں ہونے والے فسادات، قتل و غارت اور انسانی المیے نے اس تجربے کی سنگینی واضح کردی۔ اسی لیے جمعیت علمائے ہند کے اکابر نے تبادلۂ آبادی کی مخالفت کی اور ان لوگوں کے مطالبے کی بھی تردید کی جو مسلمانوں کو ہندستان سے پاکستان منتقل ہونے کا مشورہ دیتے رہے۔
چند حوالے درج ذیل ہیں:

تبادلہ آبادی
تبادلۂ آبادی کے خلاف جمعیت علمائے ہند کا موقف محض وقتی ردِعمل نہیں بلکہ ابتدا ہی سے واضح تھا۔
1۔        12 مارچ 1950ء کو جمعیت علمائے ہند کے ناظمِ عمومی مولانا محمد حفظ الرحمن سیوہاروی نے مشرقی و مغربی بنگال کے فسادات کے پس منظر میں تبادلۂ آبادی کو مسئلے کا حل تسلیم کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ ہندستانی مسلمان اس ملک کے باشندے اور یہی ان کا وطن ہے۔ (روزنامہ الجمعیۃ، 16 مارچ 1950ء)
2۔        اس کے تقریباً چودہ سال بعد، 7-8 مارچ 1964ء کو مجلسِ عاملہ جمعیت علمائے ہند نے اسی موقف کو مزید دوٹوک انداز میں دہراتے ہوئے اعلان کیا کہ "تبادلۂ آبادی کی آواز سراسر غلط ہے”؛ یہ مسئلے کا حل نہیں بلکہ مزید نازک اور خطرناک پیچیدگیوں کا سبب بنے گا، اس لیے اس کی مخالفت اور مذمت جمعیت علمائے ہند کا قومی فرض ہے۔
3۔       پھر اسی سال 9 ستمبر 1964ء کو جمعیت علمائے ہند کے ناظمِ عمومی مولانا اسعد مدنیؒ نے مجلسِ منتظمہ ضلع دینی تعلیمی بورڈ سہارن پور سے خطاب کرتے ہوئے ہندو مہاسبھا کے تبادلۂ آبادی کے مطالبے کو "لغو” قرار دیا اور واضح کیا کہ مسلمان دستوری، اخلاقی اور قانونی حیثیت سے ہندستان کے شہری ہیں۔ (روزنامہ الجمعیۃ، 10 ستمبر 1964ء)

3۔       29نومبر 2025 کو بھوپال میں منعقد مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند کے سوال جواب سیشن میں مولانا امین الحق عبداللہ اسامہ صاحب نے سوال کیا کہ جمعیت علمائے ہند نے تقسیم ہند کی مخالفت کیوں کی؟
مولانا محمد سلمان بجنوری صاحب نائب صدر جمعیت علمائے ہند نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی تقسیم نہیں تھی؛ بلکہ مسلمانوں کی تقسیم تھی، اس لیے جمعیت علمائے ہند نے اس کی مخالفت کی۔ دراصل ہمارے اکابر یہ چاہتے تھے کہ ہم صرف ایک مخصوص حصے پر نہیں؛ بلکہ پورے ملک ہندستان میں رہیں۔ اس لیے جمعیت علما اور مسلمانوں نے تقسیم کرنے والے لیڈروں کی مخالفت کی۔
مولانا محمود اسعد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے کہا کہ مسلم لیگ یہ فیصلہ کرکے ہندستان سے گئی تھی کہ یاتو ہندستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کو مرتد بنالیا جائے گا، یا پھر قتل کردیے جائیں گے۔ اور چوں کہ اتنی بڑی آبادی کا تبادلہ ممکن نہیں تھا کہ سب لوگ پاکستان چلے جائیں، اس لیے یہیں رہنے کا فیصلہ کرتے ہوئے جمعیت علمائے ہند نے ایسے ہوش ربا حالات میں میدان عمل میں آکر مسلمانوں کو قتل سے بھی بچایا اور ارتداد سے تحفظ کے لیے بھی مسلسل کوشاں ہے۔

ابوالمحاسن حضرت مولانا محمد سجاد ؒ کا جواب :ہندو انڈیا اور مسلم انڈیا

یہی وجہ رہی کہ جب 23؍مارچ 1940 کو مسلم لیگ نے قرار داد لاہور بعنوان قرار داد پاکستان منظور کی، تو اس کے فورا بعد  14 اپریل 1940  کو  ابوالمحاسن  حضرت مولانا محمد سجاد بہاری رحمۃ اللہ علیہ نے ہندو انڈیا اور مسلم انڈیا کے عنوان سے ایک جامع مقالہ لکھ کر پاکستان کا سیاسی، اقتصادی اور مذہبی ہر اعتبار سے جائزہ لے کر اس کے مسلمانوں کے حق میں شدید نقصان دہ ہونے کو اجاگر کردیا۔ مولانا کے مقالہ  کا خلاصہ درج ذیل ہے:

 آبادی کے حوالے سے مرکزی نکتہ – جسے مولانا نے نمایاں کیا کہ جناح صاحب اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کو 2 کروڑ بتاتے ہیں، حالاں کہ وہ تقریباً 3 کروڑ ہیں۔اکثریتی صوبوں کے مسلمان 6 کروڑہیں۔ تو  لیگ کی اسکیم کا مطلب ہے کہ 3 کروڑ اقلیتی مسلمانوں کو ہندو اکثریت کی غلامی پر راضی رہنے اور قربان ہونےکو کہا جا رہا ہے تاکہ 6 کروڑ کے لیے الگ فیڈریشن بن سکے۔ان 3 کروڑ کے حقوق کی ضمانت صرف دو خیالی نظریوں پر ہے:

 (1) اکثریتی صوبوں میں ہندوؤں سے بدلہ لیا جائے گا۔

( 2) مسلم فیڈریشن ہندو انڈیا پر حملہ کر دے گی۔ مولانا کہتے ہیں یہ دونوں نظریے شرعاً ناجائز اور عقلاً ناممکن ہیں۔

مولانا کا دوسرا بڑا سوال: اگر 6 کروڑ کی آزادی کے لیے 2 کروڑ کی قربانی جائز ہے، تو 20-25 کروڑ عالم اسلام کی آزادی کے لیے پورے8 کروڑ ہندستانی مسلمانوںکی قربانی کیوں جائز نہیں؟ پھر تو مکمل آزادی کی تحریک میں شامل ہونا چاہیے۔

مسلم اسٹیٹ کی حقیقت: جناح کی مسلم ریاست میں بھی غیر مسلم رہیں گے اور حکومت میں شریک ہوں گے، تو وہ خالص اسلامی ریاست کیسے ہوئی؟ آج بھی پنجاب، بنگال، سندھ مسلم اکثریتی صوبے ہیں۔

الگ فیڈریشنوں کے بعد بھی دفاع، خارجہ اور کسٹم کے لیے ایک مرکزی فیڈریشن یا پھر برطانیہ کی بالادستی لازمی ہوگی، جس میں پھر ہندو اکثریت ہی ہوگی۔ اس لیے یہ حل مسلمانوں کو معاشی طور پر تباہ اور پھر بھی ہندو اکثریت کے خوف میں رکھے گا۔

مجاہد ملت حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان ؒ کا جواب: اعداد وشمار کیا حقیقت بیان کرتے ہیں

اسی طرح دسمبر 1945  میں مولانا محمد حفظ الرحمن صاحب سیوہاروی نور اللہ مرقدہ ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے تحریک پاکستان پر ایک نظرکے عنوان سے اپنے مقالے میں جامع تجزیہ پیش کیا، جس کے سیاسی تجزیہ والے حصہ کا خلاصہ یہاں پیش کیا جارہا ہے۔

1۔       لیگ کا دعویٰ: مسلمان ہندستان میں اقلیت نہیں؛ بلکہ ایک قوم ہیں، اس لیے جہاں وہ اکثریت میں ہیں وہ حصے الگ کر کے پاکستان بنایا جائے، تاکہ وہ ہندو اکثریت کے ماتحت نہ رہیں۔

2۔       آبادی کا اصل حساب – مولانا کا مرکزی نکتہ:روزنامہ منشور 27 اکتوبر 1945 اور 1941 مردم شماری کی روشنی میں: پاکستانی صوبے: کل آبادی: 10 کروڑ 70 لاکھ۔ مسلمان: 5 کروڑ 90 لاکھ۔ غیر مسلم: 4 کروڑ 79 لاکھ۔

فرق صرف: 1 کروڑ 11 لاکھ یعنی 10%، یعنی مسلمان 60% ، اورغیر مسلم 40%۔

ہندو ہندستان: کل آبادی تقریباً 30 کروڑ۔مسلمان: پونے 3 کروڑ یعنی 10% سے بھی کم۔تو کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ   پاکستان کا مطلب ہے10 کروڑ مسلمانوں کو دو ٹکڑوں میں بانٹنا۔ اور ایک تہائی [پونے 3 کروڑ] کو ہندو ہندستان میں غیر مؤثر اقلیت بنا کر ہندوؤں کے رحم و کرم پر چھوڑ دینا۔

اسی طرح پاکستان کی بات کریں ، تو دو تہائی کے لیے بھی ایسی حکومت بنے گی، جس میں 38-40% غیر مسلم انتہائی مؤثر اور سیاسی و معاشی طور پر طاقتور اقلیت ہوگی، جس کو راضی کیے بغیر یورپی جمہوری نظام میں حکومت چل ہی نہیں سکتی۔اس کے برعکس ہندوؤں کو 30 کروڑ کا مضبوط ہندستان مل جائے گا، جہاں مسلمان بالکل غیر مؤثر ہوں گے۔

بدلہ والا منطق باطل ہے: یہ کہنا کہ یو پی بہار کے مسلمانوں پر ظلم کا بدلہ پنجاب بنگال کے ہندوؤں سے لیا جائے گا، مذہباً، اخلاقاً اور قانوناً غلط اور ناقابل عمل ہے۔

بہ الفاظ مختصر یہ کہا جاسکتا ہے کہ متحدہ ہندستان کی ہندو مسلم کی کل آبادی 40 کروڑ 70 لاکھ میں سے مسلم کی کل آبادی 10 کروڑ 70 لاکھ 4 ہزار 783، اور ہندوں کی کل آبادی تقریباً 30 کروڑ کو دو حصوں میں بانٹا جائے گا، تو پاکستان میں مسلمانوں کی کل تعداد 5 کروڑ 90 لاکھ ہوگی، جب کہ ہندوں کی کل تعداد 4 کروڑ 79 لاکھ ہوگی۔ جس کا مطلب یہ ہوگا مسلمان 60% ، اورغیر مسلم 40% ہوں گے، یعنی صرف20 فی صد کا فرق ہوگا۔

اس کے بالمقابل ہندستان میں ہندووں کی کل آبادی 27 کروڑ 25 لاکھ ہوگی اور مسلمانوں کی کل تعداد 2 کروڑ 75 لاکھ  یعنی تقریباً 9% سے بھی کم رہ جائے گی، جو ہمیشہ ہندووں کے رحم و کرم پر زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے۔

اس کے علاوہ  پاکستان کی اسکیم دراصل انگریزوں کی تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کی سازش کا حصہ تھی، جس کا تذکرہ سابقہ قسط میں آچکا ہے۔

یہی سب وہ حقائق ہیں، جن کی بنیاد پر جمعیت علمائے ہند نے شدت کے ساتھ اسلامی مملکت کے نام پر بنائے جانے والے  ملک کی مخالفت کی۔اور جناح کے نظریے کو مسترد کردیا۔

آخری اور فیصلہ کن بات!
ذرا تاریخ کا پہیہ ایک لمحے کے لیے الٹا گھما کر دیکھیے!

اگر جمعیت علمائے ہند متحدہ قومیت کا نظریہ اختیار نہ کرتی، اور سر سید مرحوم کے تصور کے مطابق مسلمان انگریزوں کے وفادار بن کر جنگِ آزادی سے الگ رہتے، یا مسلم لیگ کے دو قومی نظریے کو مکمل طور پر قبول کرکے تقسیمِ ہند اور پاکستان کے مطالبے کے ساتھ کھڑے ہو جاتے، تو آج ہندستان میں مسلمانوں کے پاس اپنے حقِ وطنیت کا کون سا تاریخی جواز باقی رہتا؟

آج جب جنگِ آزادی میں مسلمانوں کی برابر کی شرکت اور قربانیوں کے باوجود فرقہ پرست عناصر مسلمانوں کی حب الوطنی پر سوال اٹھاتے ہیں، تو ذرا تصور کیجیے کہ اگر مسلمان آزادی کی جنگ سے الگ رہتے اور ہندستان کی تقسیم کے علم بردار بن جاتے، تو آج مسلمان کس منھ سے کہتے کہ ’’ہم اس ملک کے حقدار بھی ہیں اور وفادار بھی‘‘؟
فافہم و تدبر۔

ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا ہے؟

جیسا کہ عرض کیا گیا ہے کہ ہمارے اکابر نے ہندستان کی تعمیر و ترقی کے لیے جمہوریت کی راہ اختیار کی تھی تاکہ ہرکس و ناکس برابری اور مساوات کے حقوق کے ساتھ زندگی گزار سکیں لیکن 2014کے بعد سے جب سے بی جے پی کی حکومت بنی ہے، اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو جس طرح سیاسی،اقتصادی،عدل و مساوات اور انسانی حقوق سے محروم رکھنے کی منصوبہ بند سازش کی گئی ہے اور ایسے حالات پیدا کردیے گئے ہیں کہ مساجد و مدارس اور مزارات وغیرہ جیسے مقدس شعائر کے تحفظ کے لیے بھی محض آواز اُٹھانا بھی فرقہ پرستوں کے لیے انتقامی کارروائی کا بہانہ بن جارہا ہے اور ایسے حالات پیدا کردیے گئے ہیں کہ مسلم قیادتیں ہر محاذ پر بالکل بے بس نظر آتی ہیں۔
ایسی صورت حال میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے انھیں کونسا طریقہ اختیار کرنا پڑے گا؟

تو اس حوالے سے پہلی بات یہ ہے کہ ہمارے اکابر نے ہندستان کی غلامانہ حیثیت بدل کر جمہوریت لانے کے لیے جو جدوجہد کی تھی، ازادی کے بعد ہندستان کی جمہوریت برقرار رکھنے کے لیے مسلمانوں نے بحیثیت قوم ایسی ذمہ داری نہیں نبھائی اور جمہوریت کی پر سکون آغوش میں گہری نیند سوگئے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ قانون قدرت ہے کہ کوئی بھی سیاسی حالت ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ خود ہندستان کی ہی بات کریں تو موریہ کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا،مغلیہ سلطنت بھی قصہ پارینہ بن گئی، ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی اقتدار کا سورج بھی غروب ہوگیا، اب یہ جمہوریت بھی بوڑھی ہوکر ہندو راشٹر کے لیے راہ ہموار کررہی ہے ۔ ایسے حالات میں اگر مسلمان تحفظ وطن کے لیے ضرور شعور پیدا نہیں کریں گے اور اپنا فریضہ ادا نہیں کریں گے، تو انقلاب سے مسلمانوں کو کوئی نہیں بچا سکتا۔

جمعیت علمائے ہند کی ایک مشترکہ کوشش

ملک میں دلتوں، آدی واسیوں، پسماندہ طبقات اور مسلم اقلیت کے خلاف بڑھتی ہوئی ناانصافیوں اور دستور کو درپیش خطرات کے پس منظر میں جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام مدنی ہال، نئی دہلی میں ’’ملک دوراہے پر اور آگے کا راستہ‘‘ کے عنوان سے 20 فروری 2018ء کو اجتماع منعقد ہوا۔ مقررین نے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دستور کے تحفظ، نفرت کے مقابلے، سماجی ہم آہنگی اور مختلف مظلوم و پسماندہ طبقات کے مشترکہ محاذ پر زور دیا۔

1.    مولانا محمود مدنی، جنرل سکریٹری جمعیت علمائے ہند: ملک کے حالات انتہائی تشویش ناک ہیں؛ مذہب و ذات کی بنیاد پر حملوں کے ساتھ معاشی بحران، کسانوں کی خودکشی اور نوجوانوں کی بے روزگاری نے مسائل کو مزید سنگین کردیا ہے، اس لیے مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ کام کرنا ضروری ہے۔

2.    مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری، صدر جمعیت علمائے ہند: حکومت دستور کی پابند ہے؛ محض حکومت سے بے تعلقی یا مذمت کافی نہیں، بلکہ اس کے رویے کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ضرورت کے وقت اس سے بات چیت بھی ہونی چاہیے۔

3.    پرکاش امبیڈکر، دلت رہنما: ملک میں دستور اور شخصی آزادی کے تحفظ کی لڑائی جاری ہے؛ مختلف محروم طبقات کو متحد کرکے ان کی اجتماعی طاقت بنانا ضروری ہے۔

4.    پروفیسر رام پنیانی: آر ایس ایس اور منو وادی سوچ پر مبنی ہندو راشٹر کا تصور سماج کے لیے خطرہ ہے؛ نفرت ایک منظم عمل کے ذریعے پھیلائی گئی ہے، اس لیے کیڈر سازی اور اقلیت و اکثریت کی مشترکہ جدوجہد ضروری ہے۔

5.    مولانا سید ارشد مدنی: نفرت کو نفرت سے نہیں بلکہ محبت سے ختم کیا جاسکتا ہے؛ دلتوں اور مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اجتماعی فیصلوں کو عملی جامہ پہنانا ہوگا۔

6.    شری شیورودر النگایت، لنگایت مذہبی رہنما: دلوں کو جوڑنے کی ضرورت ہے؛ صلح حدیبیہ اس بات کی مثال ہے کہ مشکل اور کشیدہ حالات میں بھی صلح و مفاہمت کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔

7.    ہرش مندر، سابق نوکر شاہ: آنے والی نسلیں ہم سے پوچھیں گی کہ ہم نے موجودہ حالات میں کیا کردار ادا کیا؛ خوف و نفرت کے ماحول کے خلاف مضبوط منصوبہ بندی کے ساتھ جدوجہد ضروری ہے۔

8.    پروفیسر کنچا الیا: محض سیاسی تحریک کے بجائے سول تحریک کی ضرورت ہے؛ موجودہ فاشزم اور اس کے ایجنڈے کو سمجھ کر عملی لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔

9.    ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں، چیئرمین دہلی اقلیتی کمیشن: نفرت کے خلاف آواز بلند کرنے اور فرقہ وارانہ فسادات کی روک تھام کے لیے مؤثر قانونی اقدامات کا مطالبہ مضبوطی سے اٹھانا چاہیے۔

10.                       نوید حامد، صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت: ملک کی یک جہتی کی جدوجہد صرف مسلمانوں کی ذمہ داری نہیں؛ اکثریتی طبقے کو بھی آگے آکر اس میں مؤثر کردار ادا کرنا ہوگا۔

11.                      اشوک بھارتی، دلت رہنما و چیئرمین ناکڈور: منو وادی سوچ کے مقابلے کے لیے ادارہ جاتی نظام، معیشت میں مظلوم طبقات کی یقینی حصہ داری اور حقوق کے تحفظ کرنے والے اداروں کی نگرانی ضروری ہے۔

12.                       سوامی اگنی ویش، آریہ سماجی رہنما: موجودہ نظام میں جمہوریت و سوشلزم کمزور اور سرمایہ دارانہ غلبہ نمایاں ہے؛ بینکوں کی لوٹ مار، کسانوں کی خودکشیاں اور معاشی مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔

13.                       مولانا اصغر علی امام مہدی، امیر جمعیت اہل حدیث ہند: امید ہے کہ یہ اجتماع ملک کا رخ بدلنے اور موجودہ حالات کے حل کی طرف مؤثر پیش رفت کا ذریعہ بنے گا۔

14.                       قاسم رسول الیاس: حکومت اپنے وعدوں میں ناکام ہورہی ہے اور ان ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے میڈیا کے ذریعے غیر اہم اور متنازع موضوعات کو نمایاں کیا جارہا ہے۔

15.                       سریش کھیر نار: پسماندہ اور محروم طبقات کے مسائل کے حل کے لیے اجتماعی جدوجہد اور مشترکہ پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔

16.                       ڈاکٹر ظفر محمود، صدر زکوٰۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا: سماجی محرومی اور اقلیتوں کے مسائل کے حل کے لیے حقوق، مساوات اور عملی سماجی اقدامات کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔

17.                       محترمہ ریشما جی: موجودہ حالات میں محروم طبقات کی آواز کو منظم کرکے ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد ضروری ہے۔

18.                       پروفیسر شرف الدین: سماجی انصاف اور تمام طبقات کے مساوی حقوق کے لیے اجتماعی کوششوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔

19.                       ایم ایم انصاری: ملک کے موجودہ حالات کا مقابلہ دستور اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔

20.                       سی ایل یادگیری: پسماندہ طبقات کی شرکت اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی جدوجہد ضروری ہے۔

21.                       بیلا این تیجاوت: محروم اور کمزور طبقات کو اپنے حقوق کے لیے متحد اور منظم ہونا چاہیے۔

22.                       کے کے کھیریا: دستور اور سماجی انصاف کے تحفظ کے لیے مختلف طبقات کو مشترکہ جدوجہد میں شریک ہونا چاہیے۔

23.                       جان چھٹناٹ: سماجی ہم آہنگی اور محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ کوشش ضروری ہے۔

24.                       اشوک اروڑا: موجودہ حالات میں جمہوری اور آئینی اقدار کے تحفظ کے لیے اجتماعی آواز کو مضبوط کرنا چاہیے۔

25.                       مولانا محمد احمد، سکریٹری جماعت اسلامی ہند: ملک کے حالات میں اصلاح اور اجتماعی جدوجہد کے لیے مختلف طبقات کے درمیان تعاون ضروری ہے۔

26.                       ڈاکٹر عرشی خان: اقلیتوں اور دیگر محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے منظم جدوجہد کی ضرورت ہے۔

27.                       مولانا ندیم صدیقی، صدر جمعیت علمائے مہاراشٹرا: موجودہ حالات میں مسلمانوں اور دیگر مظلوم طبقات کے مسائل کو اجتماعی طور پر اٹھانا ضروری ہے۔

28.                       مولانا اسامہ کانپوری، صدر جمعیت علمائے یوپی: دستور اور اقلیتوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوششوں کو مضبوط کیا جانا چاہیے۔

29.                       حافظ پیر شبیر احمد، صدر جمعیت علمائے تلنگانہ و آندھرا پردیش: موجودہ حالات میں اتحاد، باہمی تعاون اور حقوق کے تحفظ کی جدوجہد ضروری ہے۔

30.                       صلاح الدین احمد: سماجی انصاف اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔

31.                       ٹی آر کھنٹے: محروم طبقات کی آواز کو مضبوط کرنے اور ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوشش ضروری ہے۔

32.                       اے سی مائیکل: دستور اور سماجی مساوات کے تحفظ کے لیے تمام طبقات کو متحد ہوکر کام کرنا چاہیے۔

33.                       ڈاکٹر چندرپال: دلتوں، پسماندہ طبقات اور دیگر محروم گروہوں کے حقوق کے لیے مشترکہ جدوجہد ضروری ہے۔

اجتماع کے اختتام پر آگے کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے سوامی اگنی ویش، پرکاش امبیڈکر، سریش کھیر نار، پروفیسر کنچا الیا، نتن چودھری، راکیش بہادر، ہرش مندر اور قربان علی پر مشتمل کور کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی نے بعد کی میٹنگ میں ایک ڈرافٹ پیش کیا، جس میں دستور کے تحفظ کے لیے ’’دستور بچاؤ تحریک‘‘ شروع کرنے اور ایس سی، ایس ٹی، او بی سی، آدی واسی اور اقلیتوں سمیت تمام پسماندہ طبقات کی شرکت پر زور دیا گیا۔ اس تحریک کا نعرہ تجویز کیا گیا: ’’بھارت دیش، سب کا دیش‘‘۔

لیکن اس کمیٹی نےکیا علمی کارروائیاں کیں، راقم کو معلوم نہیں ہوسکا۔

جہازی فارمولے

راقم محمد یاسین جہازی کا عندیہ ہے کہ ہندستان کے موجودہ حالات کوئی ایسے حالات نہیں ہیں، جو تاریخ میں پہلی مرتبہ پیش آیا ہو، بلکہ یہ ایام اللہ ہیں جو رنگ بدل بدل کر آتے رہتے ہیں ۔ ایسے ہی حالات جب اکابر کے سامنے آئے تھے، تو انھوں نے بھی اپنے تجربے اور تدبر سے حالات کا مقابلہ کیا، جو ہمارے لیے روشنی اور رہنمائی کے سامان بہم پہنچاتے ہیں ۔ بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس کا مطالعہ کریں اور اس سے روشنی حاصل کرتے ہوئے اپنے مستقبل کے تحفظ کا سامان فراہم کریں،لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم اکابر کو پڑھنے کے بجائے، خود سے شروعات کرتے ہیں اور نئے تجربوں میں طویل وقت اور کثیر سرمایہ خرچ کرکے بالاخر اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں، جہاں ہمارے اکابر بہت پہلے پہنچ چکے تھے اور ہماری کوششوں کا اس کے علاوہ کوئی نتیجہ نہیں نکلتا کہ
چل چل کے پھٹ چکے ہیں قدم اس کے باوجود

اب تک وہیں کھڑے ہیں جہاں سے چلے تھے ہم

اس لیے آئیے ذیل میں پہلے ہم اپنے اکابر کے طریقے کو ہی پیش کرتے ہیں ۔

ابو المحاسن حضرت مولانا محمد سجاد بہاری علیہ الرحمہ کا فارمولا
انھوں نے ایک موقع پر فرمایاکہ:
چھوٹی چھوٹی مسلم آبادیاں ایک جگہ آبادہوجائیں
(۳)یہی وجہ ہے کہ میں مسلمان زمین داروں سے کہتا ہوں کہ تم بکھرے ہو ئے مسلمانوں کو یک جا کر لو اور چھوٹی چھوٹی مسلم آبادی کو اپنے یہاں بلالو، اس طرح تمھاری بھی حفاظت ہو جائے گی اور ان غریب مسلمانوں کی بھی ، مگر میری یہ باتیں کسی کی سمجھ میں ابھی نہیں آرہی ہیں ، مگر وقت آنے پر دیکھو گے کہ یہ پچھتائیں گے اور ان کا بہت بڑا جانی و مالی نقصان ہو گا۔
(محاسن التذکرہ، ص؍980۔ مرکزی عنوان:مولاناسجادؒکی بعض سیاسی پیش گوئیاں–اورزندۂ جاویدنظریات۔ تصنیف: مولانا اخترامام عادل قاسمی، مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف)

اس سے اکثریت کے درمیان رہنے والے مسلم اقلیت جہاں اپنے مذہبی فرائض کو بہتر طور پر انجام دے سکیں گے، وہیں اکثریت کے ظلم و زیادتی کے خوف سے بھی آزاد رہ سکیں گے۔

لیکن ہندستان میں مسلمانوں کے جینوسائڈ کا جو طرزِ عمل اختیار کیا جارہا ہے، اس کے پیش نظر یہ فارمولا نقصان دہ بھی ہوسکتا ہے، غزہ کی آبادی کو وسائل حیات پر بندش لگا کر اور انھیں گھیر کر فنا کرنے کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ یہی عمل ہندستان میں بھی دوہرانے کے سلسلہ کا آغاز ہوچکا ہے، جس کی تازہ نظیر آسام کے پانچ ہزار مسلمانوں کے کھانا پانی بند کرنے کی آرہی مسلسل خبریں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ رحم و کرم فرمائیں ۔

جہازی فارمولے

یہ ظاہر سی بات ہے کہ موجودہ جمہور طرز فکر میں انقلاب ووٹ کے ذریعے ہی لایا جاسکتا ہے ۔ مسلم لیگ نے پاکستان ووٹ کے ذریعے ہی حاصل کیا تھا۔ موجودہ ہندستان دھیرے دھیرے ہندو راشٹر کی طرف ووٹ چوری ہی سے بڑھ رہا ہے، اس لیے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی عظمت رفتہ کو حاصل کرنے کے لیے ووٹنگ طاقت کو مضبوط کرنا ہوگا۔ لیکن محض سیاسی قوت کی وجہ سے مسلمانوں کو تحفظ حاصل ہو جائے گا، ایسا ممکن نہیں ہے۔ راقم کے عندیے میں مسلمانوں کو سردست درج ذیل طریقوں پر عمل کرنا ہوگا:

1.    مسلمانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نصرت و فتح ایمان کے ساتھ مشروط ہے، اس لیے سب سے پہلے مسلمانوں کو اپنے ایمان و عقائد کے تحفظ پر کام کرنا ہوگا۔

2.    تعلیم ہی تمام پس ماندگی کی بنیادی وجہ ہے، اس لیے تعلیم کی طرف مسلمانوں کو انقلابی قدم بڑھانا ہوگا۔ ہمارے نزدیک تعلیم میں کوئی تفریق نہیں ہے ۔ عصری اور دینی دونوں تعلیمات ضروری ہیں ۔

3.    مشترک سماج میں بہتر اسلامی اخلاق کا مظاہرہ کرنا تحفظ کے نقطہ نظر سے بھی ضروری ہے ۔ اور اسلام کے تبلیغی مزاج کے لیے بھی معاون ہے، اس لیے ہر ایک مسلمان کو اخلاق حسنہ کا مکمل نمونہ بن جانا چاہیے ۔

4.    ہندستان کے مشترک سماج میں کچھ عناصر ایسے بھی ہیں،جو صرف غنڈئی اور لمپٹی زبان ہی سمجھتے ہیں، ان سے گاؤں سماج، قوم اور شعائر کے تحفظ کے لیے کسی کل ہند سطح پر اجتماعی نظام بننے کے انتظار کے بغیر محلہ وار ہندو مسلم سبھی افراد پر مشتمل امن کمیٹی بنائیں، تاکہ مقامی ہندو مسلم افراد ایک دوسرے کے تعاون سے باہری فسطائی عناصر کی تخریب کاری سے محفوظ رہیں ۔
یہ موجودہ حالات میں تحفظ کے لیے بنیادی اصول ہے۔ امت مسلمہ جب یہاں تک پہنچ جائے گی، تو اس کے بعد دوسرا مرحلہ پیش کیا جائے گا ان شاءاللہ تعالیٰ ۔

آپ سے ایک گزارش

مجھے یقین ہے کہ ہندستانی مسلمانوں کے موجودہ نازک اور پُردرد حالات نے آپ کو ان قسطوں کے مطالعے کے ساتھ ساتھ سنجیدگی سے غور کرنے پر بھی مجبور کیا ہوگا۔ اب سوال صرف یہ نہیں کہ حالات کیسے ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں؟
آپ سے مخلصانہ گزارش ہے کہ آپ بھی اپنا کردار ادا کرتے ہوئے بتائیں کہ ملت اسلامیہ ہندیہ کو زوال سے عروج کی طرف لے جانے کے لیے ہمیں کن عملی فارمولوں کو اختیار کرنا چاہیے؟
کیو ں کہ تاریخ کے فیصلے صرف بڑے قائدین نہیں کرتے؛ بیدار قومیں اپنے اجتماعی شعور، مسلسل جدوجہد اور درست فیصلوں سے اپنا مستقبل خود تعمیر کرتی ہیں۔
واللہ اعلم بالصواب

تمت بعون اللہ تعالیٰ
محمد یاسین جہازی
2
؍اکتوبر 2026