27 Jul 2026

علامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ اور جمعیت علمائے ہند

 علامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ اور جمعیت علمائے ہند

محمد یاسین جہازی

23/نومبر1919ئ ،مطابق یکم ربیع الاول 1338ھ، بروز اتوار عشا کی نماز کے بعد ، کرشنا تھیٹر ہال پتھر والا کنواں دہلی میںجمعیت علمائے ہند کی تاسیس کے بعد،28، 31/دسمبر1919ئ و یکم جنوری 1920ئ کی الگ الگ تاریخوں میں تین نشستوں پر مشتمل اسلامیہ مسلم ہائی اسکول امرتسر میںاس کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ اس کی پہلی نشست: 28/ دسمبر 1919ئ،بعد ازاں31/دسمبر1919ئ کو منعقددوسری نشست، اور یکم جنوری1920ئ کو منعقد تیسری نشست میں ، یعنی پہلے اجلاس عام کی ہر نشست میں حضرت العلامہ مولانا محمد معین الدین صاحب اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے شرکت فرمائی۔  

اس تاریخی شہادت کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ حضرت العلامہ اجمیریؒ کا جمعیت علمائے ہند کا تعلق اتنا ہی قدیم ہے، جتنا کہ خود جمعیت کا وجود ہے۔ 

متفقہ فتویٰ علمائے ہند پر حضرت العلامہ کا دستخط

جنگ عظیم اول (28/جولائی 1914ئ تا 11/نومبر 1918ئ )کے موقع پر برطانیہ کی طرف سے مسلمانوں سے خلافت اسلامیہ عثمانیہ کے تحفظ کے وعدوںکے برعکس عارضی صلح (30 / اکتوبر 1918ئ) کی روسے خلافت کے ٹکڑے ٹکڑے کردینے، اور ہندستانیوں کو سوراج دینے کے بجائے رولٹ ایکٹ کے نفاذ(21/مارچ 1919ئ)کے خلاف رد عمل کے طور پر ہندستان میں تحریک ترک موالات اور تحریک خلافت نے جنم لیا۔ اور ان دونوں تحریکوں کی بنیاد عدم تعاون پر رکھا گیا۔ اسی تناظر میں مختلف علمائے کرام کی طرف سے برطانیہ سے ’’ترک موالات‘‘ کے فتوے جاری کیے گئے۔ انھیں فتووں میں ایک فتویٰ ’’متفقہ فتویٰ علمائے ہند‘‘ ہے، جسے 8/ ستمبر1920ئ کوابوالمحاسن حضرت مولانامحمد سجاد صاحب بہاری نائب امیر شریعت بہار نے تحریر فرمایا تھا۔ اور جس پر چار سو سے زائد علمائے کرام نے تائیدی دستخط کیے تھے۔ جن میں ایک شخصیت حضرت العلامہ مولانا محمد معین الدین اجمیری ؒ بھی تھے۔ چنانچہ انھوں اس فتویٰ پر اپنا تائیدی دستخط کرتے ہوئے تحریر فرمایا کہ: 

’’ہذاھوالحق: فقیر معین الدین اجمیری کان اللہ لہ۔‘‘ 

اس زمانے میں حکومت کے خلاف جاری تحریک کی کسی تحریر پر دستخط کرنا ، خود کو موت کے منھ میں دھکیلنا تھا، لیکن حضرت العلامہ نے ظالم وجابر حکومت کے ظلم وتشدد کی پرواہ کیے بغیر اس پر دستخط کرکے، جہاد آزادی ہند میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ 

بشرط سرپرستی حضرت اجمیری شعبہ¿ تبلیغ کے قیام کی اجازت

24/فروری1923ئ کو حضرت العلامہ مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب ؒ صدر جمعیت علمائے ہند کو پہلا صدر منتخب کرتے ہوئے، جمعیت علمائے ہند نے ’’شعبہ¿ تبلیغ و حفاظت اسلام‘‘ قائم کیا گیا۔ اور پورے ملک میں جگہ جگہ اس کی شاخیں قائم کی گئیں۔ انھی شاخوں میں سے ایک شاخ راجپوتانہ اجمیر میںقائم کرنے کی منظوری دی گئی؛ لیکن شرط یہ رکھی گئی کہ اس کی سرپرستی حضرت العلامہ اجمیریؒ فرمائیں۔ چنانچہ جمعیت علما کی جمعیت تبلیغیہ کا ایک دو روزہ اجلاس 26، 27/ اگست1924ئ کو منعقدہ ہوا، جس کی تجویز نمبر(۵) میں کہا گیا کہ: 

’’ مولوی محی الدین صاحب اجمیری کا خط پیش ہوا، جس میں اجمیر کے کارکنان خلافت کے تبلیغی مقاصد میں سرگرمی سے کام کرنے کا قصد اور چھ ماہ کے واسطے تین سو روپیہ ماہوار کی امداد کی استدعا کی تھی۔بحث و غور کے بعد قرار پایا کہ: 

اگر صوبہ راجپوتانہ اجمیر میں شعبہ¿ تبلیغ و حفاظت اسلام مولانا معین الدین صاحبؒ کی سرپرستی اور ان کے رفقائے کار کی دل چسپی اور مستعدی کے ساتھ جاری ہوجائے اور بغیر کسی دوسری جماعت کے ساتھ مزاحمت کے وہ شعبہ کا کام چلانے پر اطمینان رکھتے ہوں ، تو وہاں شعبہ¿ تبلیغ کا قیام بہ نگرانی شعبہ¿ تبلیغ و حفاظت اسلام جمعیت علمائے ہند منظور کرلیا جائے اور ان کی اسکیم معلوم کرنے کے بعد مناسب امداد دی جائے۔ 

حضرت اجمیری کی صدارت میں شعبہ¿ تبلیغ کے عام اجلاس کرنے کا فیصلہ

پھر اسی اجلاس  جمعیت تبلیغیہ(26، 27/ اگست1924ئ ) کی قرارداد نمبر(۱۱) میں ایک فیصلہ یہ بھی کیا گیا کہ جب جمعیت علمائے ہند کا اسپیشل اجلاس ہو، تو اسی موقع پر شعبہ¿ تبلیغ کا بھی اجلاس کرلیا جائے، جس کی صدارت حضرت العلامہ مولانا محمد معین الدین اجمیری فرمائیں گے۔ چنانچہ تجویز میں کہا گیا کہ: 

’’ جمعیت تبلیغیہ کا یہ جلسہ طے کرتا ہے کہ اسپیشل اجلاس جمعیت علمائے ہند کے موقع پر ایک شعبہ¿ تبلیغ کا بھی عام جلسہ کیا جائے اور جناب مولانا معین الدین اجمیر صاحبؒ کا نام اس اجلاس کی صدارت کے لیے تجویز کرتا ہے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، تجاویز اور فیصلوں کی روشنی میں، جلد اول، ص/

تبلیغ کانفرنس کی صدارت

چنانچہ اس کے بعد 14/ جنوری 1925ئ کو جمعیت علمائے ہند کی جمعیت مرکزیہ کا اجلاس ہوا، جس میں حضرت العلامہ نے شرکت فرمائی۔ پھر اس کے اگلے دن 15/جنوری 1925ئ کو تبلیغ کانفرنس منعقد کی گئی، جس کی صدارت حضرت العلامہ موصوف نے فرمائی۔ 

’’سب سے پہلے قرآن شریف کی تلاوت کی گئی۔ اس کے بعد جناب مولانامعین الدین صاحب اجمیریؒ نے ایک فاضلانہ خطبہ¿ صدارت پڑھا۔ خطبہ کا بقیہ حصہ مولوی معظم علی صاحب نے پورا کیا۔‘‘

صدر اجلاس کے لیے تجویز شکریہ کی منظوری

بسیار تلاش کے باوجود ناچیز کو یہ خطبہ¿ صدارت نہیں مل سکا، تاہم اسی اجلاس ( 15/جنوری 1925ئ )کی تجویز نمبر(۵) میں آپ کے لیے شکریہ کی تجویز کی منظور کی گئی۔

 ’’شعبہ¿ تبلیغ کا یہ جلسہ حضرت فاضل علامہ مولانا معین الدین اجمیری صدر اجلاس کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے کہ مولانا نے باوجود عوائق شدید کے زحمت سفر گوارا فرماکر اجلاس کو قدومی میمنت لزوم سے عزت بخشی اور ارکان شعبہ¿ تبلیغ کی رہنمائی فرمائی۔ حق تعالیٰ حضرت موصوف کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ اور مسلمانوں کو آپ کی انفاس طیبہ سے تادیر مستفید رکھے۔‘‘

 (کارروائی رجسٹر)

رکن جمعیت مرکزیہ

14/ جنوری 1925ئ کو پہلی مرتبہ جمعیت مرکزیہ کے اراکین میں آپ کا اسم گرامی کا تذکرہ ملتا ہے۔یہ شہادت ہے کہ آپ اسی تاریخ سے جمعیت مرکزیہ کے رکن بنائے گئے۔ 

تبلیغ الاسلام انبالہ کے لیے حضرت العلامہ کی جدوجہد

حضرت العلامہ کو تبلیغی کاموں سے خاص شغف تھا۔ چنانچہ ایک معاملہ کے متعلق حضرت مفتی اعظم ہند مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے ایک تار میں آپ کا ذکر اس طرح کیا: 

’’ اس وقت جمعیت علمانے کوئی وفدرنگون نہیں بھیجا۔ مولانا معین الدین صاحب معہ رفقا تبلیغ الا سلام انبالہ کی طرف سے گئے ہیں اور اسی کی شارخ نگون میں کھولنا چاہتے ہوںگے۔ تبلیغ الاسلام کا دفترانبالہ میں ہے۔ وہ شعبہ¿ تبلیغ جمعیت علمائے ہند سے جداگانہ انجمن ہے۔‘‘

 (سہ روزہ الجمعیۃ،2/ستمبر1925ئ)

انسداد توہین رسالت کے مشاورتی اجلاس میں نمائندگی

18/اگست 1927ئ کو نئی دہلی میں توہینِ انبیا، بزرگانِ دین اور پیشوایانِ مذاہب کے انسداد کے لیے تعزیراتِ ہند میں ایک واضح دفعہ شامل کرانے کے مسئلے پر غور کرنے کے لیے مقامی مسلم رہنما¶ں اور جمعیت مقننہ کے بعض ارکان کا ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت نواب سر ذو الفقار علی خاں نے کی۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اس قانون کے مسودے کو کسی غیر سرکاری رکن کے بجائے حکومت کی طرف سے پیش کروانے کی کوشش کی جائے، تاکہ یہ بغیر کسی رکاوٹ کے منظور ہو سکے۔

اس موقع پر مولانا محمد علی نے اپنا تیار کردہ مسودہ¿ قانون غور و خوض کے لیے پیش کیا اور اس کی تفصیلات واضح کرتے ہوئے بتایا کہ یہ قانون جہاں ایک طرف دل آزار اور گستاخانہ تحریروں کا انسداد کرے گا، وہیں دوسری طرف نیک نیتی پر مبنی تاریخی و علمی تنقید کے دروازے بھی کھلے رکھے گا۔

اس مسودے پر ملک بھر کے نام ور علما اور قانون دانوں سے مزید مشاورت کے لیے صدرِ مجلس کی تجویز پر ایک زبردست وفد تشکیل دیا گیا، جسے 28/اگست 1927ئ کو شملہ پہنچ کر جمعیت مقننہ کے اراکین اور حکومت سے رابطہ کرنا تھا۔ اس آل انڈیا وفد میں مختلف صوبوں اور مکاتبِ فکر کے سرکردہ رہنما¶ں کو شامل کیا گیا، جن میں اجمیر سے ممتاز عالمِ دین مولانا معین الدین صاحب اجمیریؒ بھی بطور خاص نام زد کیے گئے۔ (سہ روزہ الجمعیۃ، 22/اگست 1927ئ)

پنجاب میں امارت شرعیہ کے قیام میں علامہ اجمیری کا اہم کردار

2/ستمبر 1927ئ کو دربار سیال شریف (پنجاب) میں عرس کے موقع پر جمع ہونے والے علما، مشائخ اور مسلم اکابرین نے امت مسلمہ کے انتشار، زوال اور گستاخانہ لٹریچر کی اشاعت جیسے حوادث پر گہرے غور و فکر کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ان تمام مسائل کا واحد حل اسلامی مرکزیت اور شرعی نظام کا قیام ہے۔

چنانچہ اس مقصد کے لیے حاضرین نے بالاتفاق دربار سیال شریف کے سجادہ نشین حضرت مولانا ضیائ الدین صاحب کو ’’امیرِ شریعت‘‘ منتخب کر کے ان کے ہاتھ پر بیعتِ امارت کر لی۔ امیرِ شریعت کے فرائض میں احکامِ شرعیہ کا احیا، باہمی تنازعات کا تصفیہ اور بیت المال کا قیام (زکوٰۃ، صدقات و عشر کی وصولی اور شرعی مصارف کے لیے) شامل طے پایا۔ اس موقع پر جناب فضل شاہ صاحب سجادہ نشین جلال پور نے مرکزیت اور بیت المال کی اہمیت پر جامع تقریر کی۔

امورِ مہمہ میں امیرِ شریعت کو مشورہ دینے کے لیے بارہ ارکان پر مشتمل ایک مجلس شوریٰ منتخب کی گئی، جس میں حضرت علامہ معین الدین اجمیریؒ بھی شامل تھے۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ فی الحال اسی نظام کو مضبوط کیا جائے اور بعد میں پنجاب کے تمام مشائخ و علما کو دعوت دے کر پورے صوبے کے لیے امارتِ شرعیہ کا مسئلہ طے کیا جائے۔

 آخر میں حاضرینِ مجلس نے اس اہم شرعی نظام کے قیام کے سلسلے میں علامہ معین الدین اجمیری کی گراں قدر مساعی کا شکریہ کے ساتھ اعتراف کیا۔(سہ روزہ الجمعیۃ، 2/ستمبر1927ئ)

 جدید مسائل کی تنقیح و تحقیق کے لیے شرعی کمیٹی کی رکنیت 

2 تا 5/دسمبر 1927ئ کو منعقدہ جمعیت علمائے ہند کے آٹھویں اجلاسِ عام میں مغربی تہذیب، دہریت اور الحاد کے بڑھتے ہوئے اثرات، انگریزی خواں طبقے اور عورتوں میں بڑھتی ہوئی بے پردگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور علمائے کرام سے پوری طاقت کے ساتھ ان خطرات کا مقابلہ کرنے کی استدعا کی گئی۔

اسی طرح اجلاس میں واضح کیا گیا کہ سود کی حرمت قرآن پاک کی نصِ قطعی سے ثابت ہے اور کوئی حرام کو حلال نہیں کر سکتا۔ تاہم، یورپین تجارتی تعلقات کے باعث پیدا ہونے والے جدید پیچیدہ مسائل (جیسے سود، انشورنس وغیرہ) کی شرعی تحقیق کے لیے علما اور تجارتی معاملات کے ماہرین پر مشتمل ایک خاص کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی کا مقصد حالاتِ حاضرہ کی تنقیح و تحقیق کرنا اور شرعی آسانی (تیسیر) کا لحاظ رکھتے ہوئے کتاب و سنت کی روشنی میں مسلمانوں کی رہنمائی کرنا تھا، تاکہ واضح ہوسکے کہ جدید حوادث و معاملات میں سے کون سے امور شرعاً جائز ہیں اور کون سے ناجائز۔

حالاتِ حاضرہ کی تنقیح کے لیے قائم اس اہم کمیٹی میں ملک بھر کے جید علما کے ساتھ مولانا معین صاحب اجمیریؒ کو بھی بطور رکن نام زد کیا گیا۔

چنانچہ اجلاس کی تجویز (۲۲) میں کہا گیا کہ: 

’’چوںکہ مغربی تہذیب اور تمدن کا سیلاب روزانہ تیزی سے بڑھتا Èرہا ہے اور ایشیائی قومیں اپنی شان دار روایات اور مذہبی احکام سے بے گانہ ہوتی جارہی ہیں۔ مسلمان بھی اسلامی تہذیب اور قومی وضع چھوڑ کر یورپین تہذیب اور وضع اختیار کررہے ہیں۔

عورتوں کی بے پردگی بے حیائی کے درجہ تک پہنچ رہی ہے۔ ایک طرف انگریزی خواں طبقہ میں یہ باتیں نہایت سُرعت کے ساتھ سرایت کررہی ہیں۔ دوسری طرف یورپین تجارتی تعلقات نے تجارتی معاملات میں طرح طرح کی اُلجھنیں پید اکردی ہیں، جن سے سود اور انشورنس اور اسی قسم کے بہت سے مسائل پیدا ہوگئے ہیں، اس لیے جمعیت علمائے ہند کا یہ جلسہ علمائے کرام سے پُرزور استدعا کرتا ہے کہ اس Èنے والے خطرہ کا پورا احساس کریں اور اپنی منتشر قوت کو جمعیت علماکے مرکزی دائرہ میں جمع کرکے پوری طاقت کے ساتھ دہریت و الحاد کا مقابلہ کریں۔

جمعیت علمائے ہند کا یہ جلسہ اس اعلان کے ساتھ õکہ سود کی حرمت قرÈن پاک کی نص قطعی سے ثابت ہے اور کوئی شخص کسی حرام کو حلال نہیں کرسکتاõعلما و واقفین معاملاتِ تجارت کی حسب ذیل کمیٹی منتخب کرتا ہے، جو حالاتِ حاضرہ کی تنقیح و تحقیق کرے اور شرعی تیسیر کا لحاظ رکھتے ہوئے، کتاب و سنت کی روشنی میں جمہور مسلمین کی رہ نمائی کرے اور ظاہر کردے کہ حوادثِ جدیدہ میں کتنے امور جائز اور حلال ہیں اور کتنے ناجائز اور حرام۔

کمیٹی کے ارکان یہ ہوں گے:

۱۔حضرت مولانا سیّد محمد انور شاہ صاحبؒ۔ ۲۔ مولانا سیّد حسین احمد صاحبؒ۔

۳۔ مولانا شبیر احمد صاحب عثمانیؒ۔ ۴۔ مولانا سیّد سلیمان صاحب ندویؒ۔

 ۵۔مولانا عبدالقہار صاحبؒ (مروت ملا)۔۶۔ مولانا عبدالحکیم پشاوریؒ۔

۷۔ مولانا نعیم الدین صاحب مراد Èبادیؒ۔۸۔ مولانا عبدالماجد صاحب بدایونیؒ۔

۹۔ مولانا عبدالماجد صاحب دریا Èبادیؒ۔ ۰۱۔ مولانا قطب الدین صاحب فرنگی محلیؒ۔

۱۱۔ مولانا نثار احمد صاحب کانپوریؒ۔ ۲۱۔ مولانا معین صاحب اجمیریؒ۔

۳۱۔ مولانا محمد علی صاحبؒ۔ ۴۱۔ سیٹھ عبداللہ ہارون صاحبؒ۔

۵۱۔ میاں ہاشم غلام علی مصطفی صاحبؒ۔

جمعیت علمائے ہند کے صدر اور سکریٹری اس کمیٹی کے صدر اور سکریٹری ہوں گے اور کمیٹی کو اضافہ¿ ممبران کا اختیار ہوگا۔

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، تجاویز اور فیصلوں کی روشنی میں، جلد اول، ص/

نویں اجلاس عام کی صدارت کے لیے انتخاب

جمعیت علمائے ہند کی مجلس مرکزیہ منعقدہ:11و 12/اگست1929ئ کی میٹنگ میں 3تا 6/مئی 1930ئ کو منعقد ہونے والے نویں اجلاس عام کے انعقاد کے لیے کانپور کی طرف سے موصول دعوت پر غوروخوض کرتے ہوئے اسے منظوری دی گئی اور کثرت رائے سے حضرت العلامہ مولانا محمد معین الدین صاحب اجمیری ؒکو اجلاس کانپور کی صدارت کے لیے منتخب کیا گیا۔ 

نویں اجلاس عام کی صدارت کا تنازع اور اساسی قانون کا مسئلہ

جیسا کہ عرض کیا گیا کہ مجلس مرکزیہ منعقدہ:11و 12/اگست1929ئ کی میٹنگ میں  نویںاجلاس عام کی صدارت کے لیے کثرتِ رائے سے حضرت العلامہ مولانا محمد معین الدین صاحب اجمیریؒ کو صدر منتخب کیا گیا تھا۔ تاہم، کانپور کی مقامی مجلس استقبالیہ کے عہدے داران (مولانا حسرت موہانی، مولانا عبد الکافی اور سید ذاکر علی) چاہتے تھے کہ صدارت مولانا محمد علی جوہر کو دی جائے، کیوںکہ ان کے نزدیک موجودہ سرد مہری کے ماحول میں کانپور کی عوام کو متحرک کرنے کے لیے مولانا محمد علی جوہر کے نام کی کشش ضروری تھی۔

جمعیت علما کا مؤقف یہ تھا کہ ان کے دستورِ اساسی کی دفعہ( 43) کے تحت جمعیت کے سالانہ اجلاس کا صدر صرف ایک ’’عالم‘‘ ہی منتخب ہوسکتا ہے، اور قوانین کی پابندی ہر حال میں لازم ہے۔

کانپور کی مقامی مجلس استقبالیہ نے حضرت اجمیری کو صدارت سے روکنے اور مولانا محمد علی جوہر کی صدارت پر اصرار کرنے کے لیے ، حضرت اجمیری اور مجلس استقبالیہ کے درمیان جو خط و کتابت ہوئی، وہ تمام خطوط مجلس مرکزیہ منعقدہ :26، و 28/ اکتوبر 1929ئ میں پیش کیے گئے۔ 

اجلاس میں پیش کردہ اہم خط و کتابت

اس مجلس مرکزیہ کی کارروائی میں درج ہے کہ: 

مجلس استقبالیہ کانپور کا معاملہ پیش ہوا۔ جناب صدر (حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند)نے شروع سے لے کر اب تک تمام واقعات پر روشنی ڈالی اور مجلس استقبالیہ کی خط وکتابت کا خلاصہ بیان کیا ۔نیز وہ پمفلٹ õجس پر 23/اکتوبر 1929ئ کی تاریخ ثبت ہے ، اور جو مولانا عبدالکافی ، سیدذاکر حسین اور مولانا حسرت موہانی عہدے داران مجلس استقبالیہ کانپور کی جانب سے شائع کیا گیا ہے اور جس میں جمعیت علمائے ہند اور عہدے داران جمعیت پر افسوس ناک اتہامات لگائے گئے ہیںõ تمام و کمال پڑھ کر سنایا۔ اس کے بعد اجلاس کانپور کے صدر منتخب حضرت مولانا معین الدین صاحب اجمیری کی دفتر جمعیت سے مندرجہ ذیل خط و کتابت جلسہ کے سامنے پیش کی گئی:

از اجمیر شریف، 3/ستمبر 1929ئ 

مولانا المکرم دام مجدکم السامی السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ مزاج اقدس!

 مرکزیہ کے مراسلہ مؤرخہ 15/اگست 1929ئ سے معلوم ہوا کہ اجلاس کانپور کے لیے فقیر کو غلبہ¿ آرا سے صدر منتخب کرلیا گیا ہے ، لیکن افسوس ہے کہ فقیر ایسے اجلاس کی قبول صدارت سے قطعا معذور ہے، جس کے ناظمین اور مہتممین تک صدارت کے خلاف مشورہ دے رہے ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ مقامی دشواریاں بھی ایک حد تک قبول صدارت کے لیے مزاحم ہور ہی ہیں اور اسی وجہ سے جواب مراسلہ میں اس قدر غیر معمولی تعویق ہوئی ۔ لیکن وہ بمقابلہ¿ عام قومی و ملی مفاد کے نظر انداز کی جاسکتی تھی۔ اسی وجہ سے میعاد تردد میں اضافہ ہوگیا۔ اس اثنا میں متعدد تحریرات ان حضرات کی جانب سے موصول ہوئیں، جو صدارت فقیر سے اختلاف رکھتے تھے ، ان میں وہ حضرات بھی شامل ہیں، جن کے ہاتھ میں اجلاس کا نظم و نسق ہے ۔ یہ حضرات نہ صرف صدارت فقیر سے اختلاف رکھتے ہیں ؛ بلکہ براہ خیر خواہی و ہمدردی یہ مشورہ دیتے ہیں اور ہدایت کرتے ہیں کہ :

’’ آپ اس نازک موقع پر ایثار سے کام لے کر اپنا نام واپس لے لیں‘‘۔ 

(نامہ مشترک حضرت مولانا حسرت موہانی صدر مجلس استقبالیہ و مولانا عبد الکافی سکریٹری مجلس استقبالیہ) 

اسی نامہ مشترک میں یہ تحریر ہے: 

’’کانپور میں جمعیت العلما کے اجلاس کی تیاری موجود ہ سرد مہری کی فضا میں مولانا محمد علی صاحب کے نام کے ساتھ مشروط تھی اور اسی نام کی کشش سے کانپور کی پبلک اتنے اہم اور دشوار گذار ذمہ داری کے لیے بمشکل تیار کی جاسکی تھی۔ لیکن اس فیصلہ کے بعد جو حال میں 11/اگست 1929ئ کو مرادآباد میں مرکزی کے جلسہ میں مسئلہ¿ صدارت کے متعلق ہوا، جس میں آں جناب (فقیر حقیر) کو آٹھ رائے کے غلبہ سے صدر اجلاس کانپور کے لیے منتخب کیا ہے، کانپور کی پبلک میں کامل بد دلی پیدا ہوگئی ہے ۔ اس لیے کانپور میں جمعیت کے اجلاس کی کامیابی کی کوئی توقع اب باقی نہیں رہی‘‘۔ 

دوسرے خط میں (جو بنام عزیز مولوی محمد نور الدین صاحب ہے) یہ تحریر ہے:

’’میرے خیال میں اہل کانپور کی خواہشات کے خلاف ہوا۔ مولانا معین الدین صاحب فقیر حقیر ہرگز کانپور میں صدارت کبھی کسی طرح گوارہ نہ فرمائیںگے اور اس طرح اپنے اعزاز و وقار کو نہ گرائیں گے۔ (نامہ مولانا عبد الکافی صاحب مؤرخہ 14/ اگست1929ئ)‘‘ 

اسی خط میں ہے کہ :

’’ہم ابھی بہت سے پہلو اور قواعد کے تحت جنگ کریں گے اور کسی طرح محمد علی صاحب کے نام سے دست بردار نہیں ہوں گے۔‘‘

جناب سید ذاکر علی صاحب سکریٹری مجلس استقبالیہ اپنے ولا نامہ مؤرخہ 15/اگست 1929ئ میں یہ اظہار حقیقت کرتے ہیں :

’’ یہ امر یقینی ہے کہ سالانہ اجلاس کے موقع پر مسئلہ¿ انتخاب صدار ت پر ایک سخت جنگ ہوگی۔اب جلسوں میں نہ صرف سخت کلامی؛ بلکہ غیر مہذب کلمات کا استعمال ،طعنہ و تشنیع، غل و شور، گالی گلوچ؛انتہا یہ کہ ہاتھا پائی کی نوبتیں آنی شروع ہوگئی ہیں،جن کو کوئی شریف انسان گوارا نہیں کرسکتا۔ چوں کہ مجھ کو ایک عرصے سے جناب نیاز مندی کا تعلق ہے، اگر اس قسم کے غیر مہذب واقعات کم سے کم درجہ میں بھی پیش آئے، تو میرے لیے ایک مصیبت کا سامنا ہوگا، میں اس خیال سے لرزہ براندام ہوں۔ ان پیچیدگیوں میں انتہائی غور کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوںکہ میں بحیثیت ایک قدیم نیاز مند کے ان تمام واقعات سے مطلع کروں اور یہ بھی عرض کردوں کہ میری رائے میں آپ اس موقع سے گریز کریں اور صدارت قبول نہ فرمائیں۔‘‘

فرمائیے ، جب ذمہ داران اجلاس کے مشوروں کا یہ رنگ و طور ہو، تو ایسی صورت میں à (اسکین صاف نہ ہونے کی وجہ سے دو تین جملے پڑھے نہیں جاسکے) خواہ مخواہ قبول صدارت و ذلیل بنانے پر کوئی خوبی نہیں ہے۔ فقیر کو اصولاً آپ اور آپ کے ہم خیال حضرات کے ساتھ کامل اتفاق ہے کہ جمعیت علما کے اصول اساسی کے ماتحت صدارت اجلاس کے لیے صرف عالم منتخب ہوسکتا ہے۔ یہ ایک دلیل اس قدر مضبوط اور مستحکم ہے کہ اس کے مقابلہ میں دوسرے حضرات کے جملہ دلائل اور براہین ایک خواب پریشان سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے ۔ یہ صحیح ہے کہ جناب محمد علی صاحب کی شخصیت نہایت ارفع و اعلیٰ ہے۔ اُن کی صدارت خود اجلاس کے لیے موجب اعزاز ہے۔ ماہرسیاسیات ہونے کے علاوہ اُن کی ذکاوت و طباعی مشہور اور ضرب المثل ہے؛ لیکن اس کا کیا چارہ¿ کا رکہ جمعیت علما کے منظور شدہ اساسی دفعات ان کی صدارت کی تائید میں نہیں ہیں۔ اگر قوانین اس لیے وضع کیے جاتے ہیں کہ ان کی پا بندی کی جائے گی، تو پھر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وہی جماعت حق پر ہے، جو دفعات ا ساسیہ کی سختی کے ساتھ پابندی کر رہی ہے۔ اور اس پابندی کے جرم میں مطعون خلائق ہورہی ہے۔ مجھے امید ہے کہ میری معذرت کو قبول فرما کر مجھ کو ممنون بنایا جائے گا۔ اورمجھ سے بدرجہا بہتر کوئی دوسرا صدر منتخب کر لیا جائے گا۔

و السلام فقط۔ فقیر معین الدین کان اللہ لہ ‘‘

جناب صدر کی جانب سے اس خط کا مندرجہ ذیل جواب دیا گیا :

’’محترم حضرت مولانا محمد معین الدین صاحب دام فیوضہم ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ جناب کا ولانامہ دربارہ¿ صدارت اجلاس کانپور موصول ہوا تھا ، بعض مشاغل ضروریہ کی وجہ سے خدمت اقدس میں عرض حال نہ کرسکا۔ اب گزارش یہ ہے کہ کانپور کے اجلاس کی کامیابی ان وجوہ کی بنا پر õجو مجلس استقبالیہ کے ذمہ دار حضرات کی تحریرات سے ظاہر ہیںõبظاہر مشکل میں ہے اور اسی وجہ سے آں مکرم نے قبول صدارت سے معذوری کا اظہار فرمایا ہے؛ مگر میری گذارش یہ ہے کہ اگر کانپور کے اجلاس کی مشکلات کا کوئی مناسب حل نکل آیا، تو پھر جناب کو صدارت فرمانے میں کوئی تأمل نہ ہوگا۔ مجھے حق تعالیٰ کے فضل و کرم سے امید ہے کہ مجلس مرکزیہ کے سامنے جب معاملہ جائے گا، تو کوئی نہ کوئی مناسب حل نکل آئے گا۔ امید کہ جناب والا قبول صدارت کے فیصلے سے مطلع فرماکر ممنون فرمائیں گے ۔ امید کہ مزاج اقدس بخیر ہوگا۔ حضرت دیوان صاحب مدظلہ کی خدمت میں سلام مخلصانہ عرض ہے۔

 محمد کفایت اللہ غفرلہ۔ 18/ستمبر 1929ئ۔‘‘

پھر حضرت مولانا معین الدین صاحب کانپور کا مندرجہ ذیل خط موصول ہوا : 

’’از: اجمیر شریف ۔19/ستمبر1929ئ

مخدوم و محترم حضرت مفتی صاحب زید عنایتہ

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ ولانامہ نے ممتاز فرمایا۔ قبول صدارت سے جن مشکلات کی بنا پر فقیر نے معذوری ظاہر کی تھی، اگر حسب ارشاد آں جناب ان مشکلات کا کوئی مناسب حل نکل آیا، جس کی توقع بھی آں جناب نے ظاہر فرمائی ہے ، تو پھر قبول صدارت میں فقیر کو کوئی تأمل نہ ہوگا۔ اطمینان فرمائیں ، قبول صدارت کے متعلق جو موانع تھے، جب وہی زائل کردیے گئے ، تو خواہ مخواہ انکار صدارت پر مجھ کو اصرار کیوں کر ہوسکتا ہے۔ بہرحال ازالہ¿ موانع اور مشکلات کے بعد فقیر فرائض صدارت انجام دینے کے لیے حاضر ہے۔

 فقط والسلام۔ فقیر معین الدین کان اللہ لہ۔‘‘

ان تینوں خطوط کو تمام ارکان نے شروع سے آخر تک سنا اور بعض نے خود بھی دیکھا۔ 

اس کے بعد جناب ناظم صاحب نے فرمایا کہ میں نے مجلس استقبالیہ کے عہدے داران کو ایک خط کے ذریعہ مطلع کیا تھا کہ ان کا معاملہ اس وقت کے جلسہ میں پیش ہونے والا ہے ، اس لیے اگر وہ کچھ فرمانا چاہیں، تو تشریف لاسکتے ہیں۔ چنانچہ میرے خط کے جواب میں انھوں نے جو کچھ لکھا ہے ، وہ جلسہ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ۔ مندرجہ ذیل خط پڑھ کر سنایا گیا:

’’ 18/اکتوبر 1929ئ

بخدمت گرامی جناب صدر جمعیت علمائے ہند ، السلام علیکم! 

کانپور کی مجلس استقبالیہ کے ان تمام عہدے داروں کی جانب سے õجو جناب ناظم صاحب جمعیت مرکزیہ کی تحریر کے بموجب دہلی آئے تھےõ میں یہ تحریر جناب والا کی خدمت میں بھیجتا ہوں: 

باوجود ان تمام واقعات کے õجو گذشتہ فروری سے اب تک پیش آئےõ ہم اس توقع کو لے کر دہلی آئے تھے کہ پورے واقعات کو معلوم ہونے پر ارکان جمعیت و عہدے داران جمعیت کے بے جا طرز عمل کو منصفانہ اصلاح کریں گے، چنانچہ دہلی پہنچ کر شرکت اجلاس کی اجازت حاصل کی گئی جو بمشکل ملی اور پھر بھی ہمارے ساتھ ناگواربرتاؤ کیا گیا اور اجلاس شروع ہونے پر کانپور کے اجلاس کا معاملہ شروع کرنے کی باصرار اجازت چاہی؛ مگر آپ نے اجازت نہیں دی، حالاں کہ یہ محض صدر کے اختیار کی بات تھی اور ہم صبر سے انتظار کرتے رہے۔ دوسرے دن ہم نے اخبار الجمعیۃ میں ’’افسوس ناک تلبیس‘‘ کے عنوان سے ناظم صاحب کا ایک نوٹ پڑھا، جو کذب اور غلط بیانی سے پر تھا، چنانچہ اس کا جواب اخبار ہی کے ذریعہ تحریر کردیا گیا اور گو آثار خلاف تھے، مگر پھر بھی یہ توقع قائم رکھی کہ واقعات کے معلوم ہونے پر ارکان جمعیت ایسا فیصلہ کریں گے ، جو ان کو کرنا چاہیے۔ اسی دوران میں 26/تاریخ کی شب میں جناب حکیم محمد جمیل خاں صاحب کے دولت کدہ پر ساردا بل کی مخالفت میں داعیان مجلس شوریٰ ، معززین شہر و دیگر زعمائے ملت کے ساتھ ہم کو بھی مشورہ اور شرکت کا موقع ملا اور صدارت کی قرار داد کی منظوری ہمارے مواجہ میں ہوئی ۔ 

27/ کو جب جلسہ شوریٰ ہوا، تو ہم نے دیکھا کہ تمام طے شدہ قرار دیں فراموش کردی گئیں۔ آں جناب و ناظم صاحب جمعیت جو طے کرگئے تھے ، اس کے بالکل خلاف عمل میں آیا اور جو صورت حال پیش آئی، وہ آپ کی انتہائی خود غرضی و غلط بیانی و کتمان حق کا بد ترین نمونہ تھی اور اس کے ساتھ بعض ارکان جمعیت کی شورش پسندی اور فساد انگیزی اورآپ کی طرف سے ان کے اس طرز عمل کی اپنی خامشی سے ہمت افزائی غایت قابل تأسف تھی اور اس جلسہ کی صدارت پر جس کے آپ خود داعی تھے، آپ نے انتہائی افسوس ناک طرز عمل سے بلا حصول آرا قبضہ کرکے خود یہ دیکھ لیا کہ نہ صرف وہ تمام حضرات جو اس شوریٰ کے جلسہ میں شرکت کی غرض سے آئے تھے؛ بلکہ انصاف پسند ارکان جمعیت و دیگر زعما بھی متنفر اور بیزار ہوگئے اور آئندہ شرکت نہ کرنے کا انھوں نے فیصلہ کرلیا۔ ‘‘

ہم نے اس امرکو خوب اچھی طرح دیکھ لیا کہ آپ اور آپ کے ہم نوا ایک خاص سیاسی غرض اور ایک خاص مسلک ہی رکھتے اور جمعیت علما کو اپنا آلہ¿ کار بنانا چاہتے ہیں اور ہم کو قطعا مایوسی ہوگئی کہ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کی غرض سے جمعیت کے سالانہ اجلاس کی سعی بیکار ہے ، لہذا ہم نے اب آپ کی اور آپ کے ہمنوا کی ذہنیت اور طرزعمل سے ذاتی واقفیت حاصل کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنا مزید وقت ضائع نہ کریں ۔ اب مسلمانان ہند اس کا فیصلہ کریںگے۔

 والسلام۔سید ذاکر علی ، سکریٹری مجلس استقبالیہ کانپور۔‘‘

ان تمام واقعات اور خطوط پر غوروخوض کرنے کے بعد درج تجویز نمبر(۴) بالاتفاق منظور کی گئی:

مجلس استقبالیہ کانپور کی دعوت کا استرداد

جمعیت علمائے ہند کے اس اجلاس کی رائے میں جمعیت کے مجوزہ اجلاس کانپور کی صدارت کے مسئلہ کے سلسلہ میں مجلس استقبالیہ کے عہدے داران: مولانا حسرت موہانیؒ، مولانا عبد الکافیؒ اور سید ذاکر علیؒ نے جو روش اختیار کی ہے، وہ بے حد قابل افسوس ہے ۔ ان حضرات نے جمعیت کے اجلاس کانپور کی کامیابی کو مولانا محمد علیؒ کی صدارت کے ساتھ وابستہ قرار دے کرõ جنھیں وہ اس منصب کے لیے خود ہی انتخاب فرماچکے ہیں اور مولانا معین الدین صاحبؒ منتخب شدہ صدر کو اجلاس کانپور کی صدارت سے دست بردار ہونے پر، جن تخویف و تہدید آمیز طریقوں سے کام لیا ہےõ وہ مسلمانان کانپور کے مسلمہ اخلاقی شہرت کی کھلی ہوئی توہین ہے اور یہ ظاہر کرکےõ کہ اگر مولانا معین الدینؒ نے صدارت قبول کرلی، تو سب و شتم؛ بلکہ ہاتھا پائی تک کی نوبت پہنچ جائے گیõ گویا یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ مسلمانان کانپور اس قسم کی بازاری حرکات کے عادی ہیں۔ اس جلسہ کی رائے میں مسلمانان کانپور اور مجلس استقبالیہ کانپور کے عہدے داران کا یہ الزام بالکل بے بنیاد اور ان کی کھلی ہوئی توہین ہے۔ نیز عہدے داران مجلس استقبالیہ کے 22/اکتوبر کے پمفلٹ اور 28/ اکتوبر کے خط کو پیش نظر رکھتے ہوئےõ جن میں جمعیت علمائے ہند اور اس کے عہدے داران پر نہایت بے بنیاد اتہامات درج ہیں õ یہ جلسہ موجود ہ مجلس استقبالیہ کی دعوت کو مسترد کرنے پر مجبور ہے اور مسترد کرتا ہے۔ 

محرک: مولانا حفظ الرحمان صاحبؒ۔ مؤید: مولانا محمد نعیم صاحبؒ۔ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، تجاویز اور فیصلوں کی روشنی میں، جلد اول، ص/278)

فتنہ کا خاتمہ

اس صدارتی تنازع پر کافی عرصے تک اخبارات (جیسے ’’الجمعیۃ‘‘اور ’’زمین دار‘‘) میں بحث چلتی رہی، حتیٰ کہ جمعیت علمائے صوبہ بمبئی کی جانب سے بھی ایک غیر عالم (مولانا شفیع دا¶دی) کو صدر بنانے پر تنقید کی گئی۔ آخر کار مولانا عبد الماجد دریاآبادیؒ نے صدر و ناظمِ جمعیت کو مکتوب لکھ کر برائے خدا اس بحث کو ختم کرنے کی اپیل کی، تاکہ انگریزی اخبارات کو مسلمانوں کا مضحکہ اڑانے کا موقع نہ ملے، جس کے بعد اختلافی مضامین کا یہ سلسلہ بند ہو گیا۔

’’جمعیت العلما کے گذشتہ اجلاس منعقدہ مرادآباد میں مولانا محمد علی جمعیت کے اجلاس کے صدر اس لیے منتخب نہ ہوسکے کہ جمعیت کے دستور اساسی کی دفعہ (43) ان کے انتخاب میں مانع تھی، ہم نے نہایت تفصیل کے ساتھ ’’زمین دار‘‘ کے ایک افتتاحیہ میں اس موضوع پر بحث کی تھی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اس کے بعد یہ فتنہ دب جاتا؛ لیکن باوجود اس کے بعض افتراق پسند لوگ اس مسئلہ کے متعلق غلط فہمیاں پھیلانے اور عامۃ المسلمین کو جمعیت کے خلاف ابھارنے میں مصروف رہے۔‘‘(سہ روزہ الجمعیۃ، 13/ ستمبر1929ئ) 

اس سے پہلے جمعیت علمائے صوبہ ممبئی نے بھی اسی قسم کی ایک غلطی کی تھی، جس پر کافی دنوں تک اختلافی مباحثے ہوتے رہے۔ 

’’ہمیں یہ دیکھ کر سخت افسوس ہوا کہ جمعیت علمائے صوبہ بمبئی کا جو سالانہ اجلاس ابھی حال میں بمقام بمبئی منعقد ہوا تھا، اس کی صدارت کے لیے ایک غیر عالم کو منتخب کیا گیا تھا۔ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مولانا شفیع داودی صاحب کی قومی و ملکی خدمات بے شمار ہیں اور ان کی رہنمائی کی مسلمانوں کو سخت ضرورت ہے؛ مگر اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ انھیں جمعیت علما کے سالانہ اجلاس کا صدر بنادیا جائے، جو ان کے حلقہ عمل سے بالکل باہر ہے۔ ‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ، یکم جولائی 1929ئ) 

 ان حالات کو دیکھتے ہوئے مولانا عبد الماجد صاحب دریابادی ؒ نے صدر و ناظم جمعیت کو درج ذیل مکتوب لکھا: 

’’صدارت جمعیت العلما کی بحث خواہ اصولا کتنی ہی ضروری ہو، برائے خدا اب ختم کرائیے، ورنہ خواہ مخواہ ایک مزید فتنہ کا دروازہ کھل رہا ہے ۔ چنانچہ آج کے انگریزی اخبارات میں بڑے مزے لے لے کر کافی رنگ آمیزیوں کے ساتھ خلافت و الجمعیۃ کے مضامین کا خلاصی ایسوسی ایٹڈپریس کی زبان سے درج ہے اور دونوں فریق کے ساتھ اچھا خاصہ مضحکہ ہے۔ ‘‘ 

(سہ روزہ الجمعیۃ، 24/ جولائی1929ئ) 

چنانچہ اس کے بعد اختلافی مضامین کا یہ سلسلہ بند ہوگیا۔

نویں اجلاس عام کی صدارت

جمعیت علمائے ہند کا نواں اجلاس عام ،کانپور کے بجائے،3/تا/6 مئی/1930ئ امروہہ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت مجلس مرکزیہ کے فیصلے کے مطابق حضرت مولانا شاہ معین الدین صاحب اجمیری نور اللہ مرقدہ نے فرمائی۔ 

خطبہ صدارت کا خلاصہ

حضرت علامہ شاہ معین الدین احمد اجمیریؒ کا یہ تاریخی خطبہ¿ صدارت مسلمانوں کی مذہبی، سیاسی اور معاشی صورتِ حال پر ایک جامع لائحہ¿ عمل پیش کرتا ہے۔ اس طویل خطبے کا انتہائی جامع اور مختصر خلاصہ درج ذیل ہے: 

1۔ مسلمانوں کی زبوں حالی اور اسبابِ زوال

پیشین گوئی کی سچائی: علامہ اجمیری نے حدیثِ نبویؐ کی روشنی میں واضح کیا کہ مسلمان تعداد میں کثیر ہونے کے باوجود سیلاب کے کوڑے کرکٹ کی طرح بے وزن ہو چکے ہیں۔ اس کا سبب ’’وہن‘‘(دنیا کی محبت اور موت کا خوف) ہے۔

مردہ قوم اور شکایات کی فضول گوئی: انھوں نے کہا کہ حکومت یا ہندوؤں سے حقوق پامال کرنے کا شکوہ فضول ہے، کیوںکہ انھوں نے مسلمانوں کو مردہ سمجھ لیا ہے۔ مسلمانوں کو شکایت کرنے کے بجائے اپنی مجاہدانہ زندگی کا ثبوت دینا چاہیے۔

ہلاکت کی قرآنی تفسیر: حضرت ابوایوب انصاریؓ کی روایت سے ثابت کیا کہ مال و جائداد کی اصلاح میں منہمک ہو کر جدوجہد (جہاد) کو ترک کر دینا ہی اصل ’’ہلاکت‘‘ ہے۔

2۔ برطانوی ہند میں اسلامی قوانین کی بتدریج تنسیخ

خطبے میں انگریزی حکومت کی جانب سے شرعِ محمدی میں کی جانے والی پانچ بڑی تبدیلیاں تاریخی ترتیب سے بیان کی گئیں:

1765ئ: شاہ عالم کے فرمان سے کمپنی کو صرف دیوانی اختیارات ملے، مگر بعد میں شریعت کی قید ہٹائی گئی۔

1772ئ: وارن ہیسٹنگز نے دیوانی مقدمات کو شرع سے آزاد کیا، صرف مذہبی رسوم، نکاح اور وراثت تک محدود رکھا۔

1779ئ:نواب ناظم سے فوج داری اختیارات لے کر اسلامی قانونِ تعزیرات میں مداخلت شروع کی گئی۔

1862ئ اور 1872ئ: قانونِ تعزیراتِ ہند (IPC) اور قانونِ شہادت نافذ کر کے اسلامی قوانین کو منسوخ کیا گیا، اور مرتد کو وراثت کا حق دیا گیا۔

منصبِ افتا پر آخری ضرب: مفتیوں اور پنڈتوں کی جگہ انگریز جج آ گئے اور وراثت کو شریعت کے بجائے رسم و رواج کے تابع کر دیا گیا۔

3۔ ساردا ایکٹ کی اصولی و فروعی خرابیاں

علامہ نے ساردا ایکٹ (سنِ نکاح کی حد بندی) کو مسلمانوں کے لیے ایک بڑی مصیبت قرار دیتے ہوئے اس کی درج ذیل خرابیاں گنوائیں:

دینی اکملیت اور منصبِ افتا پر حملہ: یہ ایکٹ مسلمانوں سے بچا کچا ’’منصبِ افتا‘‘ چھین کر اسمبلی کے سپرد کرتا ہے۔ اسلام ایک مکمل نظام ہے، اسے کسی غیر مسلم اسمبلی کی ترمیم کی ضرورت نہیں۔

فطرت سے جنگ اور زنا کا فروغ( سنِ نکاح )لڑکی 14/سال، لڑکا 18/سال مقرر کرنے سے جو بچے پہلے بالغ ہو جائیںگے، وہ چند سال تک تجرد کی زندگی میں گناہ، یا امراض کا شکار ہوںگے۔ ایکٹ نکاح پر پابندی لگاتا ہے، مگر زنا بالرضا کا سدِ باب نہیں کرتا۔

ہندوؤں کے لیے مفید، مسلمانوں کے لیے مضر: یہ قانون مسٹر ہربلاس ساردا نے آریہ سماجی اصولوں کے تحت بنایا تھا۔ ہندوؤں میں رواجِ مجامعت اور نکاحِ ثانی کی ممانعت کے باعث یہ ان کے لیے عذاب تھا، جب کہ اسلام ان خرابیوں سے پہلے ہی پاک ہے۔

مقدس ہستیوں کی توہین: یہ قانون (معاذ اللہ) حضورﷺ اور حضرت عائشہؓ کے نکاح کو بھی مجرمانہ اقدام قرار دیتا ہے۔

آئینی طور پر کالعدم: برطانوی پارلیمنٹ کے اپنے ایسٹ انڈیا ایکٹس 1780ئ اور 1797ئ کے تحت ہندستانیوں کے خاندانی و مذہبی قوانین محفوظ ہیں۔ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کی دفعہ (84) کے تحت اسمبلی کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکتی، جو پارلیمنٹ کے ایکٹ کے خلاف ہو، لہٰذا ساردا ایکٹ قانونی طور پر بھی ایک مردہ نعش اور کالعدم ہے۔

4۔ سیاسی حالات اور تحریکِ آزادی کا لائحہ¿ عمل

نہرو رپورٹ کی مخالفت: 1923ئ کے بعد ملک میں ہندو مہاسبھائی ذہنیت غالب آئی۔ نہرو رپورٹ (1928ئ) میں مسلمانوں کو بحیثیت قوم نکال باہر کرنے کی کوشش کی گئی، جس پر جمعیت نے بھرپور تنقیدی رپورٹ شائع کی۔ بعد میں کانگریس نے اسے راوی میں غرق کر کے ’’مکمل آزادی‘‘ کا اصول اپنایا۔

برطانیہ اصل دشمن: مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن برطانوی اقتدار ہے، جو دنیا بھر میں اسلامی ممالک کی تباہی کا سبب ہے۔ مسلمانوں کو وفاداری کے صلے میں مراعات کی امید رکھنے کی بجائے، برطانوی اقتدار پر ضرب لگانے کے لیے میدان میں اترنا چاہیے، کیوںکہ انگریز اسی کے آگے جھکتا ہے جو لڑتا ہے۔

5۔ جدید معاشی پروگرام (انقلابی تجاویز)

ملک کے 80 /فی صد غریب کسانوں اور مزدوروں کے افلاس کا اصل سبب مانچسٹر کا کپڑا نہیں؛ بلکہ سرمایہ داری اور سود ہے۔ علامہ نے تجویز پیش کی:عدالتوں کے ذریعے سود کی ڈگریاں دینے اور غریبوں کی جائدادیں نیلام کرنے والے قوانین کا استیصال کیا جائے۔سودی کوآپریٹو سوسائٹیوں کا خاتمہ کیا جائے۔امیروں پر سالانہ ٹیکس عائد کر کے ایک فنڈ بنایا جائے، جس سے غریبوں کو قرضِ حسنہ دیا جائے اور محتاجوں، یتیموں اور بیواؤں کی سرپرستی کر کے گداگری کا انسداد کیا جائے۔

6۔ مذہب و سیاست کا تلازمہ اور جمعیت علما کی قیادت

مذہب اور سیاست میں جدائی کا حیلہ: انھوں نے ’’ہمدم‘‘ اخبار اور روشن خیال طبقے کے اس پروپیگنڈے کو مسترد کیا کہ علما سیاست نہیں جانتے۔ اسلام ایک مکمل تمدن ہے، جس میں عبادات کے ساتھ کتاب البیع، جہاد اور امارت سب شامل ہیں۔

اکابرِ ملت کا اسوہ: صوفیائے کرام کا یہ کہہ کر بیٹھ جانا کہ سیاست دین سے الگ ہے، سراسر غلط ہے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اور خواجہ معین الدین چشتیؒ نے ہمیشہ جہاد اور حق کا نمونہ پیش کیا۔

دستورِ اساسی میں غیر علما کی شمولیت (توسیع) کا رد: انھوں نے جمعیت علما کے دستور میں غیر علما کو شامل کرنے کی مخالفت کی، کیوںکہ اس سے مجلس کی مذہبی روح فنا ہو جائے گی(جیسے علی گڑھ نے اپنی روح بچانے کے لیے کسی عالم کو ٹرسٹی نہیں بنایا۔)

حاصلِ کلام: علما کو تمام تر طعن و ملامت کی پروا کیے بغیر اپنے دستورِ اساسی پر قائم رہنا چاہیے اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے اس جہادِ آزادی میں علم بردار بننا چاہیے، کیوںکہ احادیث کے مطابق اہلِ حق کا یہ گروہ قیامت تک غالب رہے گا۔

مسلم جمعیتوں کے مشاورتی اجلاس میں شرکت کے لیے انتخاب

برطانیہ کی طرف سے ہندستانیوں کو آزادی نہ دینے کے لیے ایک عذر لنگ یہ بھی پیش کیا تھا کہ ہندستانی خود متحد نہیں ہیں۔ وہ مذہبوں اور فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ اگر ہندستان کی حکومت منتقل بھی کی جائے، تو کس فرقے اور مذہب کو منتقل کی جائے۔ اس کے لیے مختلف فرقوں پر مشتمل مختلف اتحاد کانفرنسیں ہوئیں ۔ اسی طرح خود مسلمانوں کی طرف سے متفقہ مطالبات تیار کرنے کے لیے مسلم تنظیموں کے متعدد اجلاس ہوئے۔ 

مجلس عاملہ منعقدہ :19/مارچ 1931ئ کی تجویز نمبر(۶) میں ایسے ہی ایک مشاورتی جلسے میں شرکت کے لیے حضرت العلامہ معین الدین اجمیریؒ منتخب کیے گئے۔ 

’’جمعیت عاملہ کا یہ جلسہ اس تجویز کو نہایت ضروری اور مناسب خیال کرکے حسب ذیل اصحاب کو اس مشاورتی جلسہ میں شرکت کے لیے منتخب کرتا ہے ۔ ان حضرات کی انتہائی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ مسلم حقوق کی حفاظت کے لیے جو مسودہ بنایا جائے ، وہ متفقہ ہو، تمام جمعیتوں کے مطالبات کے مسودے سامنے رکھ کر اس امر میں کوئی دقیقہ باقی نہ رکھا جائے کہ سب مسلمان ایک متفقہ مطالبہ مرتب کرلیں۔ 

یہ جلسہ اس امر کی تصریح کرتا ہے کہ اس مشاورتی جلسہ کے کسی فیصلہ کی جمعیت علمائے ہند اس وقت تک پابند نہ ہوگی، جب تک جمعیت عاملہ، یا مرکزیہ اس کی تصدیق نہ کردے۔ مشاورتی جلسہ میں شرکت کے لیے مندرجہ ذیل حضرات کا انتخاب کیا گیا:

(1) حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒ۔

 (2) حضرت مولانا معین الدین صاحب اجمیریؒ۔

(جمعیت علمائے ہند کی تجاویز، جلد اول، ص/

جمعیت علمائے ہند کی صدارت کی نیابت 

جمعیت علمائے ہند کے دستیاب ریکارڈ میںصدارت کی نیابت کے طور پر کس تاریخ کو آپ کا انتخاب ہوا، اس کا تذکرہ بسیار تلاش کے باوجود نہیں ملا۔ البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ مجلس عاملہ منعقدہ:29/فروری تا2/مارچ 1932ئ کے اجلاس میں نائب صدر مولانا نثار احمد کانپوری کے انتقال پر تعزیتی تجویز منظور کی گئی ۔ اور اس کے بعد 5/اپریل1932ئ کو منعقدجامع مسجد دہلی کے ایک جلسہ¿ عام کی کارروائی میں آپ کے نام کے ساتھ ’’نائب صدر جمعیت علمائے ہند‘‘لکھا ہوا ملتا ہے۔ اس سے یہ اندازہ لگانا شاید خلاف واقعہ نہیں ہوگا کہ مجلس عاملہ منعقدہ:29/فروری تا2/مارچ 1932ئ کے اجلاس ہی میں مولانا کانپوری کی جگہ آپ کو نائب صدر منتخب کیا گیا ہوگا، جس پر آپ تا دم واپسیں فائز رہے۔ 

حضرت العلامہ کی صدارت میں احتجاجی اجلاس

5/اپریل 1932ئ کو دہلی کی تاریخی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کے بعد مسلمانانِ دہلی کا ایک عظیم الشان جلسہ¿ عام منعقد ہوا، جس کی صدارت حضرت علامہ معین الدین صاحب اجمیری (نائب صدر جمعیت علمائے ہند) نے فرمائی۔

اجلاس میں علامہ معین الدین اجمیری کی مختصر مگر پُراثر صدارتی تقریر کے بعد مولانا ابو القاسم محمد حفظ الرحمان صاحب سیو ہاروی رکن جمعیت علمائے ہند نے مہاجرین میر پور کے چشم دید حالات بیان فرمائے۔ بعدہ جناب صدر کی طرف سے ایک تجویز منظور ہوئی، جس میں مولانا عبدالماجد صاحب ناظم جمعیت علمائے صوبہ دہلی، حافظ صادر علی صاحب سکریٹری مجلس احرار اسلام دہلی کی سزایابی پران کی خدمت میں مبارک باد پیش کی گئی اور حافظ صادر علی صاحب کو سی کلاس دینے پر حکومت کے رویہ پر احتجاج کیا گیا۔

جلسہ کے بعد جامع مسجد سے مسلمانوں کا ایک جلوس آرڈنینس ڈے منانے کے لیے نکلا۔ خیال یہ تھا کہ حسب دستور جلوس چاؤڑی با زارسے گزرکر نئی سڑک سے گھنٹہ گھر جائے گا ،اس لیے پولیس کی جمعیت بڑشاہدلا پر موجو د تھی؛ لیکن جلوس نے ن راستوں کے بجائے دریبہ کلاں کا راستہ اختیار کیا۔ پولیس کو جس وقت اس کی خبر ہوئی، تو وہ دوڑ کر آئی اور جو لوگ جلوس کے آگے تھے، ان کو گرفتار کر لیا۔ مجمع وہاں سے منتشر ہو گیا۔ اس کے بعد ایک دوسرا جلوس نئی ٹرک سے ہو کر گزرا اور گھنٹہ گھر آیا۔ گھنٹہ گھر سے جب یہ فوارہ کی طرف جاتے ہوئے کوتوال کے سامنے سے گزرا، تو پولیس نے شیخ عبد الواحد کی سرکردگی میں آکر اسے لاٹھیوں سے منتشر کر دیا۔ پہلے جلوس میں بغیر لاٹھی چلائے ہوئے چار آدمی گرفتار کر لیے گئے۔ (سہ روزہ الجمعیۃ،13/اپریل 1932ئ)

الور میں مظالم و ہجرت کا پس منظراور مولانا معین الدین اجمیری کا کردار

ریاست الور میں مسلمانوں پر شدید مذہبی اور سیاسی پابندیاں عائد تھیں، جن کے تحت مذہبی جماعتوں کی جبری رجسٹریشن، چندے کے معائنے، اور بیرونی مبلغین پر پابندی جیسے سخت قوانین نافذ کیے گئے۔ 29/مئی 1932ئ کو حضرت سید مبارکؒ کے عرس کے موقع پر نکلنے والے چادر کے جلوس پر ہندو¶ں اور ریاستی فوج نے حملہ کر دیا، جس میں چار مسلمان شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ ان مظالم کے خلاف مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد نے مہاراجہ الور کو احتجاجی تار بھیجا۔ تشدد کی لہر بڑھنے پر، 24/جولائی 1932ئ کو چودھری یاسین خان کی سرکردگی میں ہزاروں مسلمانوں نے ریاست سے ہجرت کی اور دہلی کی شاہجہانی جامع مسجد کے گرد خیمہ زن ہو گئے۔

الور کے مظلوم مسلمانوں کو جب اپنی دکھی حالت پر دیگر حلقوں سے مایوسی ہوئی، تو انھوں نے لاہور پہنچ کر مجلسِ احرار کے ڈکٹیٹر مولانا معین الدین اجمیری سے ملاقات کی اور اپنی بے بسی کا رونا رویا۔

مولانا معین الدین اجمیری نے فوراً مہاجرین کی امداد کا حکم دیا اور آپ کے حکم پر 29/ جولائی 1932ئ کو مجلس احرار کا ایک اعلیٰ وفد (بشمول مولانا عبدالغفار غزنوی، محمد اشرف اور جاں باز مرزا) دہلی پہنچا۔

 دہلی کی جامع مسجد میں احرار کے کارکنوں نے مہاجرین کے لیے دن رات دوڑ دھوپ کی۔ اسی دوران مسجد کے مکبر پر مجلس احرار کا سرخ پرچم لہرانے لگا، جس سے احرار اور جمعیت علمائے ہند کے درمیان ایک عارضی سیاسی کشمکش اور مسابقت نے جنم لیا۔ بعد ازاں احرار کی مخلصانہ محنت دیکھ کر جمعیت کے اکابرین (مفتی کفایت اللہ، مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا احمد سعید) بھی احرار کے اجتماعات میں شامل ہو گئے۔

جناب جاں باز مرزا صاحب تفصیلات کے بعد آخر میں لکھتے ہیں کہ: 

’’آخر دہلی میں احرار کارکنوں نے مہاجرین الور کے لیے اس قدر محنت اور دھوڑ دھوپ کی کہ جمعیت علمائے ہند بھی احرار کی ہمنوا ہو کر ان کے اجتماعات میں شامل ہونے لگی۔ اس سے تحریک الور میں قدرے نئی روح پیدا ہوگئی۔ (کاروان احرار، جلد اول، ص/284)

مسوداتِ حج کے خلاف قرارداد اور علامہ اجمیری کا خطاب

10/جون 1932ئ کو جمعیت علمائے ہند کے اعلان پر جامع مسجد دہلی میں بعد نمازِ جمعہ مسلمانانِ دہلی کا ایک عظیم الشان جلسہ¿ عام منعقد ہوا، جس کی صدارت جمعیت کے پانچویں ڈکٹیٹر حضرت علامہ مولانا محمد عبدالحلیم الصدیقی نے فرمائی۔

تلاوتِ قرآن مجید اور صدرِ جلسہ کی افتتاحی گفتگو کے بعد، حضرت مولانا معین الدین احمد صاحب اجمیریؒ نے حج سے متعلقہ تینوں حکومتی مسوداتِ قانون (Bills) کے مختلف پہلو¶ں پر تفصیلی و پُرمغز تقریر فرمائی۔ علامہ اجمیری نے ان مسودات کے خلاف درج ذیل اہم تجویز تحریک کی،جس کی تائید مولانا محمد سمیع اللہ اور مولانا احمد حسین نے کی اور وہ بالاتفاق منظور ہوئی:

’’مسلمانان دہلی کا یہ عام جلسہ ہر سہ مسودات قانون متعلق حج کو نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھتے ہوئے جمعیت علمائے ہند کی مجلس مشاورت منعقدہ مراد آباد کی قرارداد کی تائید و توثیق کرتا ہے اور اس حقیقت کا اعلان کرتا ہے کہ جب تک مسلمان اپنی سرفروشانہ پر امن جد و جہد سے ہندستان کو کامل طور پر آزاد نہ کرائیں گے، اس قسم کے مفاسد کا سد باب نہ ہوگا۔ نیز یہ جلسہ مسلمانوں سے اپیل کرتا ہے کہ موجودہ وقت اور فضا کو غنیمت سمجھ کر اس راہ میں عملی قدم بڑھائیں۔‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ،13/جون1932ئ)

آزادی مخالف برطانوی راج کے حامی مسلم زعما کے خلاف اعلان پر  علامہ معین الدین اجمیریؒ کے دستخط کی اہمیت

ہندستان کی جدوجہدِ آزادی کے نازک ترین دور میں ،جہاں ملک کے لاکھوں فرزند، علما اور عوام برطانوی استعمار کے خلاف قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے تھے، وہیں مسلمانوں کا ایک ایسا طبقہ بھی موجود تھا، جو اپنے نفس اور قومی طاقت پر بھروسہ نہیں رکھتا تھا۔ مسلم کانفرنس کے بعض اراکین اور سر آغا خان جیسے انگریز پسند رہنما¶ں کا شملہ اور لندن سے جاری کردہ بیان اسی غلامانہ اور معذرت خواہانہ ذہنیت کا عکاس تھا، جس میں انگریز کی دوامی غلامی پر رضا مندی ظاہر کرتے ہوئے یہ تأثر دیا گیا کہ گویا ہندستان کے تمام مسلمان آزادی کے خلاف اور برطانوی راج کے وفادار ہیں۔

اس گمراہ کن اور ذلت آمیز پروپیگنڈے کا پردہ چاک کرنے کے لیے یکم جولائی 1932ئ کو جمعیت علمائے ہند اور دیگر جلیل القدر مسلم اکابرین نے ایک تاریخی اور انقلابی مشترکہ اعلان جاری کیا۔ برطانوی حکومت کے شدید جبر، آرڈیننس راج اورسیاسی قیدوبند کے اس انتہائی ہول ناک اور پرخطر دور میں ایسا دوٹوک برطانوی مخالف اعلان جاری کرنا گویا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ برطانوی حکومت کی جانب سے فوری گرفتاری، جائدادوں کی ضبطی اور سخت ترین سزا¶ں کا واضح خطرہ موجود تھا۔

ان شدید ترین خطرات کے باوجود، اس پرخطر اور جرأت مندانہ اعلان پر دیوبند، ڈابھیل اور فرنگی محل کے جید ترین علما کے ساتھ حضرت علامہ معین الدین احمد اجمیریؒ نے بھی دستخط کیا۔ علامہ اجمیریؒ نے اپنی ذاتی حفاظت اور سیاسی عواقب کی پروا نہ کرتے ہوئے اس پرخطر دستاویز پر دستخط کر کے دنیا پر یہ واضح کر دیا کہ ہندستان کا حقیقی اور غیرت مند مسلمان آزادی کی محبت میں کسی سے پیچھے نہیں ہے، اور وہ انگریز کے خود ساختہ نمائندوں کے غلامانہ نظریات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے برادرانِ وطن کے دوش بدوش مکمل آزادی کے لیے جان کی بازی لگانے کو تیار ہے۔

تاریخی ریکارڈ کے لیے اعلان کا مکمل متن درج ذیل ہے: 

ہندستان کی آزادی کے متعلق مسلمانان ہند کا اصل موقف

اراکین جمعیت علمائے ہند اور ہندستان کے دیگر سر بر آوردہ مسلم زعماکی جانب سے حسب ذیل اعلان اس بیان کے جواب میں شائع کیا گیا ہے، جو شملہ اور لندن میں ساتھ ساتھ بعض اراکین مسلم کانفرنس کے دستخطوں سے جاری ہوا ہے:

ابھی حال میں ایک طویل بیان شملہ سے بعض اراکین مسلم کا نفرنس نے شائع کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسی بیان کو انگلستان میں بھی سر آغا خاں نے بعض ترمیمات کے بعد شائع کرایا ہے۔ اس وقت ہمارے سامنے اول الذکر بیان موجود ہے، اس بیان پر دستخط کرنے والوں نے اپنے مخصوص خیالات و آراکا ایسے پیرا یہ میں اظہار کیا ہے کہ ہندستان میں اور ہندستان کے باہر جو لوگ یہاں کے صحیح حالات و واقعات سے نا واقف ہیں، اس کے لیے اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجانے کا قوی امکان پیدا ہو جاتا ہے کہ ہندستان کے تمام مسلمانوں کی وہی رائے ہے، جو ان لوگوں نے اپنے بیان میں ظاہر کی ہے۔ اگر یہ حضرات اپنے بیان میں اس امر کی صراحت کر دیتے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں، وہ ہماری ذاتی رائے ہے اور مسلمانان ہند کی اکثریت کے لیے انتہائی تذلیل و توہین کا سامان مہیا نہ کرتے، تو ہمیں اس کی ہرگز ضرورت پیش نہ آتی کہ ہم ایسے وقت میں ان لوگوں کے بیان پر توجہ کریں، جب کہ ملک ایک نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے اور موجودہ حالات کے باعث عوام الناس سخت ہیجان و اضطراب میں مبتلا ہیں۔ ملک کے ہزاروں فرزند مصائب برداشت کر رہے ہیں۔ تقریباً پچاسی ہزار مرد اور عورتیں، نوجوان اور بوڑھے، جاہل اور عالم جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں پڑے سورہے ہیں، ہم ان حیرت انگیز دعاوی کو پڑھ کر õجو ان لوگوں نے اپنے بیان میں شائع کیے ہیںõ اس پر مجبور ہو گئے ہیں کہ اپنا ایک بیان شائع کریں، تاکہ صحیح صورت حال روشنی میں آجائے اور ہندستان کے مسلمان بیرون ہند؛ خصوصاً مسلمانان عالم کی نگاہوں میں ذلیل ہونے سے محفوظ رہیں۔

ایک ایسے وقت میں ،جب کہ ہندستان انقلابی دور سے گزر رہا ہے، دوسرے ممالک کی طرح یہاں بھی قدرتی طور پر متعدد سیاسی گروہ اور جماعتیں پیدا ہوگئی ہیں ؛بالخصوص ایسی حالت میں کہ ہندستان مختلف ملتوں کا گہوارہ ہے اور یہاں مذہبی اعتقادات کی بنا پر قوموں کی تقسیم ہے، ان گروہوں اور جماعتوں کا پیدا ہونا اور بھی زیادہ یقینی تھا؛ لیکن ان مختلف الخیال طبقات کو õجو اس وقت ہندستان میں موجود ہیںõ سیاسی اور فرقہ وارانہ حیثیتوں سے حسب ذیل طریقہ پر بآسانی تقسیم کیا جا سکتا ہے:

(۱) ہند¶ں، سکھوں اور مسلمانوں میں، ایسے گروہ موجود ہیں، جو اپنے نفس اور قدرتی اجتماعی قوت پر اعتماد نہیں رکھتے۔ اور نہ انھیں دوسری قوموں سے انصاف و راداری کی کوئی توقع ہے۔ اس گروہ کے افراد انفراد اً واجتماعاً برابر اپنے عجیب و غریب دعاوی پیش کرتے رہتے ہیں اور ان دعاوی کے اظہار میں ذلت آمیز طریقے اختیار کرنے سے کبھی نہیں چوکتے۔ وہ برطانیہ کے ساتھ اپنی انتہا سے زیادہ وفا داری کو اپنے لیے باعث فخر و مباہات سمجھتے ہیں اور بغیر شرم و ندامت محسوس کیے ہوئے برطانیہ کی دوامی غلامی پر اپنی رضا مندی کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ صرف قلم اور زبان کے مالک ہیں اور محض نوک زبان و قلم سے اپنے مقاصد پورے کرنا چاہتے ہیں۔

۲۔ دوسرے گروہ کا مقصد ، جس میں ہر بات کے افراد شامل ہیں، یہ ہے کہ موجودہ طرز حکومت کو دلائل، ترغیب اور گفت وشنید سے بدلا جائے۔ اس گروہ کی سطح یقینا پہلے گروہ سے نسبتابلند ہے۔ وہ ایک ایسا دستور چاہتا ہے، جو تمام ملتوں کے لیے قابل قبول ہو اور جس سے ہندستانی اپنے گھر کے مالک بن سکیں۔ اگر چہ اس گروہ کا عملی میدان بہت زیادہ محدودہے، اور وہ حصول آزادی کے لیے کوئی جدوجہد نہیں کرتا؛ مگر اسے ان تمام تحریکات سے ہمدردی ہوتی ہے، جو ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے ان لوگوں کی طرف سے جاری کی جائیں، جن سے حصول مقصد کے بعض طریقوں میں اسے اختلاف بھی ہے۔ اس گروہ میں مسلمانوں کی تعداد کسی دوسری ملت کے افراد سے کسی طرح کم نہیں ہے؛ مگر ان دونوں گروہوں کی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں سے کسی گروہ کو عوام الناس میں کوئی رسوخ حاصل نہیں ہے۔

۳۔ ہر ملت کا تیسرا گروہ قوم کی حقیقی اور قدرتی طاقتوں پر کامل اقتدار رکھتا ہے اور ملک کی زبردست اکثریت اس گروہ کو اپنا قائدورہنما تسلیم کرتی ہے۔ اس گروہ کا مقصد یہ ہے کہ ہندستان کو مندرجہ ذیل اصولوں کے ماتحت برطانوی تسلط سے جلد از جلد نجات دلائی جائے:

(الف)کسی حکمت، یا کسی طبقہ کا مفاد کسی دوسری ملت، یا طبقہ کے مفاد کے ماتحت نہ ہونا چاہیے۔ اور تمام ملتوں کو یہ اطمینان حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنے ملک پر خود حکومت کرتی ہیں۔

(ب) ہر بات کو دوسری ملت کے مقابلہ میں اپنے سیاسی، مذہبی، اقتصادی اور تمدنی حقوق کی حفاظت کے لیے ضمانتیں حاصل ہونی چاہئیں اور اس کا اطمینان ہونا چاہیے کہ کسی ملت، یا کسی ملک کا(بشمول برطانیہ) تسلط قائم نہیں رہے گا اور کوئی ملت اپنے تحفظ و بقا کے لیے کسی دوسری ملت، یا ملک کی دست نگرنہ رہے گی۔

(ج) وفاقی حکومت کو مکمل ذمہ داری حاصل ہونی چاہیے، جس میں دوسرے ملک کے ساتھ تعلقات خارجہ کی تعیین، تشخیص بھی شامل ہو،اوروفاقی صوبے کاملاً خود مختار ہونے چاہئیں۔ اور صوبہ سرحد ہر حیثیت سے دوسرے صوبوں کے مساوی ہونا چاہیے۔

(د) صوبوں کی از سر نوتقسیم اس اصول پر ہونی چاہیے کہ جن لوگوں کی زبان مشترک ہو اور جو یکساں تمدنی و اقتصادی مفادر کھتے ہوں، ان کو اپنے متعلق فیصلہ کرنے کا خود حق دیا جائے، مثلاً سندھ، اڑیسہ، اور دوسرے علاقے، جن کے باشندے مندرجہ بالا اصول کے مطابق علاحدگی کا مطالبہ کریں۔

(ھ) نظام حکومت کے مصارف ملک کی اقتصادی حالت کے ساتھ مطابقت کرنے کے لیے کم سے کم کر دیے جائیں۔

(و) کسانوں اور مزدوروں کے ایک کی حکومت میں مناسب حصہ ملنا چاہیے۔

انڈین نیشنل کانگریس بھیõ جو ہر ملت کے اس تیسرے گروہ کی نمائندہ انجمن ہےõ ان ہی اصولوں کی پابند ہے۔ جو لوگ عدم تشدد کے ساتھ تحر یک عصبیان دلی پر عقیدہ رکھتے ہیں، ان میں سے ہزاروں جیلوں میں جا چکے ہیں اور ان میں مسلمانوں کی تعدا د اپنی آبادی کے تناسب سے کچھ زیادہ کم نہیں ہے۔

تیسرے گروہ کے مسلمانوں کو دوسری ملتوں کے ان افراد پرõ جو اس گروہ میں شامل ہیںõ ایک خاص امتیاز و تفوق حاصل ہے، اگر چہ مسلمانوں کی ایک کافی تعداد براہ راست بھی کانگریس میں شامل ہے؛ مگران کا ایک زبر دست طبقہ ایسا بھی موجود ہے، جو کانگریس کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی امتیازی انفرادیت کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ جمعیت علمائے ہند اس طبقہ کی نمائندہ جماعت ہے اور چوںکہ اس میں علمائے اسلام کی غالب اکثریت ہے، اس لیے ہند ستان کی مسلم آبادی کا بہت بڑا حصہ اس کی تقلید و پیروی کرتا ہے، جیسا کہ ان مظاہروں سے وقتاً فوقتاً ثابت ہوتا رہتا ہے، جو جمعیت کی آواز پر ملک کے طول  و عرض میں کیے جاتے ہیں۔ اور جس کی ایک تازہ مثال،10/جون کے عام جلسوں کی صورت میں پیش کی جاچکی ہے۔ نیشنلسٹ مسلم پارٹی õجس کی اکثریت کانگریس میں شریک رہےõ ملک کے با اثر اور انگریز اور انگریزی پسند مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ جمعیت علمائے ہند اگرچہ ایک مستقل اور ممتاز انجمن ہے؛ مگر اس کا نصب العین مکمل آزادی ہے، جس پر وہ آج تک برابرعمل پیرا رہی ہے۔ دوسری ملتوں میں سے کسی ملت کی فرقہ وارانہ انجمنوں کا یہ نصب العین نہیں ہے اور نہ اس مقصد کے پیش نظر ان میں سے کسی انجمن نے آج تک کوئی کام کیا ہے۔1930ئ کی تحریک میں جمعیت علمائے ہند اور نیشنلسٹ مسلم پارٹی کے عہدہ داروں اور اراکین نے قید و بند کے مصائب برداشت کیے تھے اور کم سے کم چودہ ہزار مسلمان جیل گئے تھے اور کئی سو مسلمانوں نے اپنی جانیں قربان کی تھیں۔ موجودہ تحریک میںبھی ہزاروں مسلمان جیلوں میں گئے ہیں، جن میں تقریباً چار سو علما شامل ہیں اور صوبہ سرحد کے مسلمانوں کی ایک زبردست تعداد نے جانیں بھی دی ہیں، ان مسلمانوں کی غالب اکثریت جمعیت علمائے ہند کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے تحریک میں شریک ہوئی۔

مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں صحیح صورت حال واضح ہو جاتی ہے اور امید کی جاتی ہے کہ ان سطور کو پڑھ کر ہندستان میں اور ہندستان کے باہر مسلمانان ہند کے مطمح نظر کاصحیح انداز لگایا جاسکے گا۔ ہم نے جس دستور اساسی کا خاکہ اوپر پیش کیا ہے، اس کے ماتحت ہمیں آئندہ کسی ملت کی طرف سے معاندانہ روش کا اندیشہ نہیں ہے۔ حقیقتاً ہمیں اس کا پورا یقین ہے کہ جو نظام حکومت مندرجہ بالا اصولوں پر مبنی ہوگا، اس میں انصاف حاصل کر نا زیادہ آسان ہوگا اور کسی بے انصافی، یا ظلم وتعدی کے خلاف کا میابی کے ساتھ جنگ کی جا سکے گی۔ اب صرف ان لوگوں کا ذکر باقی رہ جاتا ہے، جنھوںنے اپنے حد سے بڑھے ہوئے ادھادھند جوش و خروش سے متأثر ہو کر مغرب کے انقلابی طریقوں کو اختیار کیا ہے اور تشدد کی حر کات پر اترآئے ہیں، ان لوگوں کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے برابر تحریر و تقریر کے ذریعہ کوششیں کی جاتی رہی ہیں، اور ان حالات میں کانگریس پر یہ اتہام لگانا انتہائی دروغ گوئی ہوگی کہ اس نے تشدد کے جرائم سرحد کے مسلمانوں سے کسی قسم کی اقل قلیل ہمدردی بھی ظاہر کی ہے، یا اسے کسی صورت میں برداشت کیا ہے۔ اس بیان کو ختم کرنے سے قبل ہم یہ  واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ صوبہ سرحد کے مسلمانوں کے متعلق یہ کہنا کہ انھوں نے تحریک آزادی میں جو حصہ لیاہے، وہ کسی خارجی اثر کا نتیجہ ہے اور اس کا انحصار خود ان کی قوت فیصلہ پر نہیںہے، ان کی انتہائی توہین و تذلیل ہے۔

اس میں شک نہیں کہ فرقہ وارانہ مسئلہ کا کوئی اطمینان بخش حل ابھی تک نہیں ہو سکا ہے؛ مگر اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ اس کے متعلق ہم اس موقع پر ان لوگوں کی واقفیت کے لیے õجو واقعات سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیںõیہ بتادینا چاہتے ہیں کہ جمعیت علمائے ہند، نیشنلسٹ مسلم پارٹی اور کانگریس نے اپنے اپنے فارمولے تیار کیے تھے اور اگر ان سب کو ملاکر ان پر غور کیا جاتا، تو ضرور کوئی ایسا تصفیہ ہو جاتا، جس پر تمام ملتوں کی طرف سے پیش از پیش اتفاق ممکن ہوتا؛ مگر قبل اس کے کہ یہ مقصد حاصل ہو، گاندھی جی کو دفعۃً گول میز کانفرنس میں شرکت کی غرض سے سے لندن جانا پڑا اور جیسے ہی وہ لندن سے واپس آئے، فوراً حکومت نے کانگریس کے خلاف جنگ جاری کردی اور گاندھی جی اور دوسرے لیڈر جیلوں کی چہاردیواروں میں محبوس ہو گئے۔ چنانچہ یہ جنگ ابھی تک جاری ہے۔ برطانوی حکومت نے جو فرقہ وارانہ تصفیہ کا اعلان کیا تھا، اس پر ابھی تک کچھ لوگوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں، پرہمیں دیکھنا ہے کہ وہ تصفیہ کسی ایک ملت کے لیے بھی کسی حد تک قابل قبول ہوتا ہے۔

سب سے آخر میں ہم ہندستان کی تمام ملتوں اور بیرون ہند کے باشندوں کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہندستان کے مسلمان آزادی کی محبت میں کسی دوسری ملت سے پیچھے نہیں ہیں۔ اور ان کی یہ خواہش ہے کہ وہ امن و اتحاد کے ساتھ زندگی بسر کریں اور اپنے ملک کو انتہائی عروج تک پہنچانے کے لیے برادران وطن کے دوش بدوش جد وجہد میں مصروف رہیں۔ خودداری، خود اعتمادی اور بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود مسلمانوں کے مذہبی عقائد میں داخل ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ان اصولوں کے پابند رہ کر اسلام کی زیادہ خدمت انجام دے سکتے ہیں۔

اسمائے گرامی دستخط کنندگان

(طوالت کی وجہ سے دستخط کو درج نہیں کیا جارہا ہے۔)

ہندو مسلم مفاہمت اجتماع میں علامہ اجمیری کو شرکت کی دعوت

لکھنو کے سلیم پور ہا¶س میں 15 اور 16 اکتوبر1932ئ کو ہندو مسلم مفاہمت کے لیے مسلم رہنما¶ں کا ایک اہم اجتماع طلب کیا گیا تھا۔ وقت کی نزاکت کے پیش نظر، جمعیت علمائے ہند کے چھٹے ڈکٹیٹر حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نے 13/اکتوبر 1932ئ کو  جمعیت کے علما کا علاحدہ اجلاس بلانے اوراس نازک مشاورتی اجتماع میں شرکت کے لیے ملک بھر کے چوٹی کے مسلم اکابرین اور علمائے کرام کومدعو کیا۔ مدعو کیے گئے سرکردہ ارکان میں حضرت علامہ معین الدین احمد صاحب اجمیریؒ کو بھی نام زد کیا گیا، تاکہ وہ اس قومی و ملی فیصلے میں اپنا کلیدی مشورہ پیش کرسکیں۔

علامہ اجمیری کے علاوہ اس فہرست میں مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا ظفر علی خان، مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد، مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی اور مولانا قطب الدین عبدالوالی فرنگی محلی سمیت 24/مقتدر علما شامل تھے۔

(سہ روزہ الجمعیۃ،13/اکتوبر1932ئ)

ہندو مسلم مفاہمت کانفرنس میں حضرت علامہ کو شرکت کی دعوت

ہندو مسلم مصالحت اور باہمی اتحاد کی کوششوں کے سلسلے میں مولانا شوکت علی نے 31/ اکتوبر 1932ئ کو بمبئی سے بذریعہ تارمولانا سید حسین احمد مدنی صاحب سے رابطہ کرکے درخواست کی کہ الٰہ آباد میں 2/نومبر 1932ئ کو ہونے والی اہم کانفرنس کے لیے جمعیت کے رہنما¶ں کو دعوت دی جائے۔

چنانچہ مولانا مدنی نے باہمی مصالحت کے عمل میں مفید شرعی و سیاسی مشوروں کے لیے جمعیت کے مخصوص اکابرین کو الٰہ آباد پہنچنے کی ہنگامی دعوت دی۔ اس اہم کانفرنس کے لیے مدعو کیے گئے مقتدر علما میں اجمیر سے حضرت علامہ معین الدین احمد صاحب اجمیریبھی شامل تھے۔

( سہ روزہ الجمعیۃ، یکم نومبر1932ئ)

علامہ اجمیری کی رکن عاملہ نام زدگی 

برطانوی حکومت کے شدید جبر اور آرڈیننس راج کے باعث، 29/فروری تا 2/مارچ 1932ئ کو منعقد مجلس عاملہ نے مجلس عاملہ کو توڑ کر کل اختیارات حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کے حوالے کردیے گئے تھے۔ اور پھر’’ڈکٹیٹرشپ‘‘ کا سلسلہ قائم کیا گیاتھا۔ دسویں ڈکٹیٹر حضرت مولانامحمد عبداللہ صاحبؒ نے 5/دسمبر1932ئ کو اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اس سلسلے کو ختم کردیا اور مجلس عاملہ کے لیے عارضی طور پر اٹھارہ شخصیات کو اراکین نام زد کیے۔جن میں ایک نام حضرت العلامہ شاہ معین الدین اجمیریؒ کا بھی تھا۔

 (سہ الجمعیۃ9/دسمبر1932ئ )

فلسطین وفدکے لیے منعقد تقریب استقبالیہ کی صدارت

22/جون 1933ئ کو دہلی کی تاریخی جامع مسجد میں نمازِ مغرب کے بعد فلسطین سے آئے ہوئے معزز وفد (وفدِ فلسطین) کے اعزاز میں مسلمانانِ دہلی کا ایک عظیم الشان استقبالیہ جلسہ¿ عام منعقد ہوا۔جلسے کی صدارت کے لیے جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی حضرت مولانا احمد سعید صاحبؒ نے ان دنوں دہلی تشریف لائے ہوئے حضرت علامہ معین الدین صاحب اجمیریؒ کا اسمِ گرامی پیش کیا، جس کی تائید خواجہ حسن نظامی نے کی اور حاضرین نے باتفاقِ رائے علامہ اجمیری کو جلسے کا صدر منتخب کیا۔

صدرِ محترم (علامہ اجمیری) کی سرپرستی میں کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے مولانا احمد سعید نے معزز مہمانوں کا تعارف کرایا، جن میں فلسطین کے مفتی اعظم حضرت سید امین الحسینی اور مصر کے سابق وزیرِ مالیات محمد علی پاشا شامل تھے۔

معزز مہمانوں اور حضرت مولانا احمد سعید صاحبؒ کے خطابات کے بعد، جلسہ اپنے آخری مرحلے میں پہنچا۔ آخر میں جنابِ صدرحضرت علامہ معین الدین صاحب اجمیریؒ نے بارگاہِ الٰہی میں انتہائی رقت آمیز دعا فرمائی، جس کے بعد یہ تاریخی جلسہ برخاست ہوا۔

( سہ روزہ الجمعیۃ،24/جون 1933ئ)

مجلس مشاورت کی میٹنگ میں شرکت

یکم تا 3/فروری 1936ئ کو مراد آباد میں جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ اور ایک غیر معمولی مجلس مشاورت کے اہم ترین اجلاس منعقد ہوئے۔

اجلاس کی غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر جمعیت علمائے ہند نے سہارنپور، تھانہ بھون اور پنجاب کے جید علمائے کرام کو بھی مدعو کیا تھا۔ اس دو روزہ مشترکہ مجلس مشاورت میں بعض اہم ترین مسائل اور خاص طور پر ’’مسودہ¿ فسخِ نکاح‘‘ کے حساس معاملے پر رات کے بارہ بجے تک تفصیلی بحث و تمحیص ہوتی رہی۔ اس مشاورتی عمل میں مقتدر اکابرین کے ساتھ حضرت مولانا معین الدین صاحب اجمیریؒ نے بھی بطورِ خاص شرکت فرمائی۔

 درگاہ بل پر سب کمیٹی کی تشکیل

 مجلس مشاورت کے بعد، 3/فروری1936ئ کی صبح صدرِ جمعیت علمائے ہند حضرت  ملوانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کی صدارت میں مجلس عاملہ کا باقاعدہ اجلاس شروع ہوا۔ اجلاس کے دوران حضرت مولانا معین الدین صاحب اجمیریؒ نے صدرِ مجلس کی اجازت سے ایک اہم ترین تحریک پیش کی، جس کا مقصد راجہ غضنفر علی خان کے پیش کردہ ’’درگاہ بل‘‘ پر تفصیلی غور و خوض کرنا تھا۔

چوںکہ ارکانِ مجلس نے اس بل کے تمام پہلو¶ں (مالہ و ماعلیہ) کا پہلے سے گہرا مطالعہ نہیں کیا تھا، لہٰذا علامہ اجمیریؒ کی تحریک پر مجلس عاملہ نے ایک خصوصی ’’سب کمیٹی‘‘ تشکیل دی۔ اس کمیٹی کے ذمہ یہ کام لگایا گیا کہ وہ درگاہ بل پر تنقیدی نظر ڈال کر شریعت مطہرہ کی روشنی میں حتمی رائے قائم کرے اور اسے پبلک کے لیے شائع کرے۔چنانچہ تجویز کا متن درج ذیل ہے: 

’’بہ اجازت صدر حضرت مولانا معین الدین صاحبؒ نے راجہ غضنفر علی خا ں صاحبؒ کے درگاہ بل پر غور کرنے کی مجلس عاملہ میں تحریک پیش کی ؛ مگر چوں کہ بل اور اس کے مالہ وماعلیہ پر ارکان مجلس نے غور نہیں کیا تھا، اس لیے اس کے متعلق ایک سب کمیٹی حسب ذیل ارکان کی منظور کی گئی، جو بل پر تنقیدی نظر ڈال کر شرعی طریقہ پر رائے قائم کرے اور اسے شائع کردے۔ سب کمیٹی کے ارکان حسب ذیل ہوں گے:

۱۔ مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ۔ ۲۔ مولانا احمد سعید صاحبؒ۔ (داعی)

۳۔ مولانا نور الدین صاحب بہاریؒ۔ ۴۔ مولانا محمد سجاد صاحب بہاریؒ۔

۵۔ مولانا بشیر احمد صاحب کٹھوریؒ۔ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص/

حضرت العلامہ اجمیری کا انتقال اور جمعیت علماکا اظہار تعزیت

17/ جنوری 1882ئ کو پیدا ہونے والی یہ عظیم شخصیت 19/ فروری 1940ئ کو اس دار فانی سے رحلت کرگئے۔حضرت العلامہ کی وفات کے بعد، 3، 4/مارچ 1940ئ کومجلس عاملہ کا اجلاس منعقد ہوا۔ گذشتہ کارروائی کی توثیق کے بعد، صدارت کی جانب سے جلیل القدر مقتدر عالمِ دین اور جمعیت کے سابق نائب صدر حضرت مولانا معین الدین صاحب اجمیریؒ کی وفاتِ حسرت آیات پر گہرے رنج و ملال کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت کی قرار داد پیش کی گئی ، جسےبالاتفاق منظور کیا گیا۔

اس کے بعد7، 8، 9 /جون 1940ئ کومنعقد جمعیت علمائے ہند کے بارھواں اجلاسِ عام میں تجویز نمبر(1) کے تحت ملک بھر سے آئے ہوئے ارکان و مندوبین نے کثرتِ رائے سے حضرت مولانا معین الدین صاحب اجمیریؒ کی ملّی، تعلیمی اور سیاسی مساعی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اسی تعزیتی قرارداد کی باقاعدہ توثیق و منظوری دی۔تجویز کا متن درج ذیل ہے: 

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس حضرت علامہ مولانا معین الدین صاحب اجمیریؒ کی وفات حسرت آیات پر اپنے دلی رنج و غم کا اظہار کرتا ہے۔ حضرت مولانا ایک متبحر عالم اور سرگرم مجاہد تھے۔ ان کی وفات سے مسلمانان ہند ستان کو نقصان عظیم پہنچا ہے۔ یہ جلسہ دعا کرتا ہے کہ حق تعالیٰ مولانا مرحوم کو فردوس بریں میں جگہ دے اور ان کے فیوض کو تاقیامت جاری رکھے اور مسلمانوں کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ 

یہ جلسہ مولانا مرحوم کے صاحب زادے مولوی عبدالباقی صاحبؒ اور دوسرے اقارب کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہے اور ان کو یقین دلاتا ہے کہ مولانا مرحوم کی وفات کے صدمہ¿ عظیمہ میں مجلس بھی ان کی شریک ہے۔‘‘ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص/

حضرت العلامہ کا مختصر سوانحی خاکہ

مولانا محمد معین الدین اجمیریؒ راجپوتانہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد مولانا عبد الرحمان لبیا کے رہنے والے نو مسلم راجپوت تھے۔ اور والدہ بھی داخل اسلام ہوئی تھیں۔ داتا پور (بہار) ان کا گھر تھا۔ مولانا معین الدین اجمیری نے جملہ معقول و منقول کی تعلیم مولانا برکات احمد سے مکمل کی۔ علم ریاضی مولانا لطیف اللہ سے حاصل کیا ۔ ہندستان اور ہندستان سے باہر درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ آپ ڈھائی سال تک مدرسہ نعمانیہ لاہور میں صدر مدرس رہنے کے بعد 1908ئ میں اجمیر تشریف لے گئے۔ 

1909ئ میں مدرسہ معین الحق قائم کیا۔ مولانا انوار اللہ کی تحریک پر مدرسہ معین الحق کو معینیہ عثمانیہ قرار دے کر اس کے لیے ساڑھے بارہ سو روپے ماہانہ جاری کیا۔ مولانا اس مدرسہ کے صدر ہوئے اور پندرہ سال تک یہاں درس دیا۔ سرکار نظام اجمیر نے آپ کے درس سے متأثر ہوکر خلعت شاہانہ عطا کیا۔ 1337ھ (1918ئ)میں کارپردازان مدرسہ اور مولانا میں اختلاف ہوگیا۔ چنانچہ آپ نے استعفیٰ دے دیا۔ 1338ھ (1919ئ) میں دارالعلوم حنفیہ صوفیہ کے نام سے ایک دوسرا مدرسہ قائم کیا۔ وہاں بارہ سال تک درس دیتے رہے۔ 1351ھ (1932ئ) میں مدرسہ کے اراکین آپ کو پھر اپنے یہاں واپس لے آئے۔ لیکن سیاسی اختلاف کے نتیجہ کے طور پر 12/ مارچ 1938ئ کو بحکم سرکار نظام دارالعلوم معینیہ عثمانیہ سے الگ ہوگئے ؛ لیکن اس علاحدگی کے بعد حلقہ¿ درس پوری آب و تاب کے ساتھ قائم رہا۔ 

تحرک خلافت میں مذہبی فتویٰ کے جرم میں دو سال قید رہے۔ جس زمانہ میں مولانا کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید صدر و ناظم جمعیت علمائے ہند نظر بند تھے، اس وقت تحریک کی رہ نمائی کے لیے آپ ہر ہفتہ دہلی تشریف لے جاتے تھے۔ آپ نے جمعیت علمائے ہند کے نویں اجلاس عام منعقدہ 3/ تا6/ مئی 1930ئ بمقام امروہہ کی صدارت کی۔ آپ جمعیت علمائے ہند کے مستقل نائب صدر رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صوبہ راجپوتانہ کی مجلس خلافت کے صدر بھی تھے۔ تحریک کشمیر کے زمانے میں مجلس احرار اسلام کے ڈکٹیٹر رہے۔ ہر سال موسم بہار میں طلبا کا ایک تفریحی جلسہõ جس کو اجمیر کے اصطلاح میں ’’گوٹ‘‘ کہتے ہیںõ منعقد ہوتا۔ آپ طلبا کی خاطر اس میں بھی شریک ہوتے تھے۔ سخت بیماری کے بعد وفات پائی اور خواجہ اجمیری کی درگاہ میں مسجد شاہجہانی کے زیر سایہ دفن ہوئے۔

(جمعیت علمائے ہند، دستاویزات مرکزی اجلاس ہائے عام،جلد دوم، ص/859-60۔ مرتبہ:پروین روزینہ) 

خلاصہ

 جمعیت علمائے ہند کی تاسیس اور ابتدائی وابستگی (1919ئõ1920ئ)

 23/نومبر 1919ئ کو دہلی میں جمعیت علمائے ہند کی تاسیس عمل میں آئی۔ اس کے فوراً بعد 28، 31 دسمبر 1919ئ اوریکم جنوری 1920ئ کو اسلامیہ مسلم ہائی اسکول، امرتسر میں جمعیت کا پہلا اجلاسِ عام تین نشستوں میں منعقد ہوا، اور حضرت علامہ معین الدین اجمیریؒ نے ان تمام نشستوں میں شرکت فرمائی، جو ان کے قدیم ترین تعلق کا ثبوت ہے۔

متفقہ فتویٰ پر دستخط (1920ئ): جنگِ عظیم اول کے بعد برطانوی حکومت کی جانب سے خلافتِ عثمانیہ کے ٹکڑے کرنے اور رولٹ ایکٹ نافذ کرنے (21/مارچ 1919ئ) کے خلاف تحریک ترکِ موالات شروع ہوئی۔ اس سلسلے میں 8/ستمبر 1920ئ کو مولانا محمد سجاد بہاری کا تحریر کردہ ’’متفقہ فتویٰ علمائے ہند‘‘ جاری ہوا، جس پر علامہ اجمیریؒ نے جابر حکومت کے خوف کے بغیر اپنے دستخط ثبت کیے۔

2۔ شعبہ¿ تبلیغ و حفاظتِ اسلام اور کانفرنسیں (1923ئõ1925ئ)

راجپوتانہ میں شعبے کا قیام (1923ئõ1924ئ): 24/فروری 1923ئ کو مفتی کفایت اللہ صاحب کی صدارت میں جمعیت نے ’’شعبہ¿ تبلیغ و حفاظتِ اسلام‘‘ قائم کیا۔ 26 اور 27/ اگست 1924ئ کے اجلاس میں اجمیر (راجپوتانہ) میں اس شعبے کی شاخ قائم کرنے کی منظوری اس شرط پر دی گئی کہ اس کی سرپرستی علامہ اجمیریؒ فرمائیں گے۔

تبلیغ کانفرنس کی صدارت (1925ئ): 14/جنوری 1925ئ کو علامہ اجمیریؒ جمعیت کی مرکزیہ کے رکن بنے اور اگلے ہی دن 15/جنوری 1925ئ کو ہونے والی ’’تبلیغ کانفرنس‘‘ کی صدارت کی اور فاضلانہ خطبہ پڑھا۔ بعد میں وہ ’’تبلیغ الاسلام انبالہ‘‘ کی طرف سے رنگون بھی گئے۔

3۔ قومی و شرعی کمیٹیوں میں کلیدی کردار (1927ئ)

انسدادِ توہینِ رسالت وفد: 18/اگست 1927ئ کو نئی دہلی میں توہینِ انبیا کے انسداد کے لیے قانون سازی پر مشاورتی اجلاس ہوا۔ 28/اگست 1927ئ کو شملہ جانے والے آل انڈیا مشاورتی وفد میں اجمیر سے علامہ اجمیریؒ کو نام زد کیا گیا۔

امارتِ شرعیہ پنجاب کا قیام: 2/ستمبر 1927ئ کو دربار سیال شریف میں امارتِ شرعیہ پنجاب کا قیام عمل میں آیا۔ علامہ اجمیریؒ کو 12/رکنی مجلس شوریٰ کا رکن بنایا گیا اور ان کی مساعی کا شکریہ ادا کیا گیا۔

جدید مسائل کے لیے شرعی کمیٹی: 2 تا 5/دسمبر 1927ئ کو جمعیت کے آٹھویں اجلاس میں سود، انشورنس اور جدید تجارتی معاملات کی شرعی تحقیق کے لیے جید علما (بشمول علامہ اجمیریؒ) پر مشتمل ایک خاص کمیٹی تشکیل دی گئی۔

4۔ صدارتی تنازع اور امروہہ کا تاریخی اجلاس (1929ئõ1930ئ)

صدارت کا مسئلہ (1929ئ): 11 و 12/اگست 1929ئ کو مجلس مرکزیہ نے کثرتِ رائے سے علامہ اجمیریؒ کو نویں اجلاسِ عام کا صدر منتخب کیا۔ تاہم، کانپور کی مقامی استقبالیہ کمیٹی دستورِ اساسی کی دفعہ (43) کے برعکس ایک غیر عالم (مولانا محمد علی جوہر) کو صدر بنانا چاہتی تھی۔ علامہ اجمیریؒ نے اجمیر سے 3/ستمبر 1929ئ کو خط لکھ کر معذرت کی، مگر مفتی کفایت اللہ صاحب کے اصرار پر 19/ستمبر 1929ئ کو دوبارہ رضامندی ظاہر کی۔ کانپور کمیٹی کے نازیبا رویے کی وجہ سے 26 تا 28 /اکتوبر 1929ئ کے اجلاس میں کانپور کی دعوت مسترد کر دی گئی۔

نواں اجلاسِ عام (1930ئ): یہ اجلاس کانپور کے بجائے 3 تا 6 /مئی 1930ئ کو امروہہ میں علامہ اجمیریؒ کی صدارت میں منعقد ہوا۔

خطبہ¿ صدارت کا خلاصہ: اپنے خطبے میں انھوں نے مسلمانوں کے زوال کے اسباب، برطانوی دور میں اسلامی قوانین کی بتدریج تنسیخ (1765ئ تا 1872ئ) کا تاریخی خاکہ پیش کیا۔ انھوں نے سنِ نکاح کی حد بندی کے ساردا ایکٹ کو شرعی اور آئینی طور پر کالعدم قرار دیا، نہرو رپورٹ (1928ئ) کی مخالفت کی، برطانیہ کو اصل دشمن قرار دیا، اور کسانوں و غریبوں کے لیے سود سے پاک انقلابی معاشی پروگرام تجویز کیا۔

5۔ تحریکِ آزادی اور ہجرتِ الور (1931ئõ1933ئ)

مشاورتی جلسہ (1931ئ): 19/مارچ 1931ئ کو مسلم مطالبات کی تیاری کے لیے مشاورتی جلسے میں شرکت کے لیے علامہ اجمیریؒ کو بھی منتخب کیا گیا۔

نائب صدر جمعیت اور احتجاج (1932ئ):29/ فروری تا2/مارچ 1932ئ منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں علامہ اجمیریؒ جمعیت علمائے ہند کے نائب صدر منتخب ہوئے۔ 5/اپریل 1932ئ کو جامع مسجد دہلی میں ان کی صدارت میں آرڈنینس ڈے کے موقع پر عظیم الشان احتجاجی جلسہ ہوا۔

ریاست الور کے مہاجرین کی امداد: مئی 1932ئ میں الور کے مسلمانوں پر مظالم کے بعد جولائی 1932ئ میں ہزاروں مسلمانوں نے دہلی ہجرت کی۔ علامہ اجمیریؒ نے بحیثیت ڈکٹیٹر مجلسِ احرار، 29/جولائی 1932ئ کو احرار کا وفد مہاجرین کی امداد کے لیے دہلی بھیجا، جس میں بعد میں جمعیت کے اکابرین بھی شامل ہو گئے۔

حج مسودات کی مخالفت: 10/جون 1932ئ کو جامع مسجد دہلی میں حج سے متعلق حکومتی بلوں کے خلاف علامہ اجمیریؒ نے مفصل تقریر کی اور قرارداد پیش کی۔

ہندو مسلم مفاہمت کانفرنسیں: اکتوبر اور نومبر 1932ئ میں لکھنو اور الٰہ آباد میں ہونے والی ہندو مسلم مصالحت کی اہم کانفرنسوں میں علامہ اجمیریؒ کو شرکت کی خصوصی دعوتیں دی گئیں۔

وفدِ فلسطین کا استقبال (1933ئ): 22/جون 1933ئ کو جامع مسجد دہلی میں فلسطین کے مفتی اعظم سید امین الحسینی کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ جلسے کی صدارت علامہ اجمیریؒ نے فرمائی۔

6۔ درگاہ بل سب کمیٹی اور آخری ایام (1936ئõ1940ئ)

درگاہ بل سب کمیٹی (1936ئ): یکم تا 3/فروری 1936ئ کو مراد آباد کے اجلاس میں علامہ اجمیریؒ کی تحریک پر راجہ غضنفر علی خان کے ’’درگاہ بل‘‘ کی شرعی تنقیح کے لیے ایک سب کمیٹی بنائی گئی۔

وفات اور تعزیت (1940ئ): 17/جنوری 1882ئ کو پیدا ہونے والے علامہ معین الدین اجمیریؒ 19/فروری 1940ئ کو وفات پا گئے۔ 3، 4/مارچ 1940ئ کو مجلس عاملہ اور پھر 7 تا 9/جون 1940ئ کو جمعیت کے بارھویں اجلاسِ عام میں ان کی تعزیت کی باقاعدہ قرارداد منظور کر کے ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

7۔ مختصر سوانحی خاکہ

وہ جملہ علوم و فنون اور ریاضی کے متبحر عالم تھے۔ مدرسہ نعمانیہ لاہور میں صدر مدرس رہنے کے بعد 1908ئ میں اجمیر آئے۔ وہاں مدرسہ معین الحق (بعد میں معینیہ عثمانیہ) اور دارالعلوم حنفیہ صوفیہ میں طویل عرصے تک درس و تدریس کے فرائض انجام دیے۔ تحریکِ خلافت میں دو سال قید کاٹی۔ وہ جمعیت کے نائب صدر، راجپوتانہ خلافت کمیٹی کے صدر اور تحریکِ کشمیر کے دوران مجلسِ احرارِ اسلام کے ڈکٹیٹر رہے۔ وفات کے بعد خواجہ غریب نوازؒ کی درگاہ میں مسجد شاہجہانی کے زیرِ سایہ دفن ہوئے۔

محمد یاسین جہازی

24 Jul 2026

روس سے متعلق جمعیت علمائے ہند کا تاریخی موقف

 روس سے متعلق جمعیت علمائے ہند کا تاریخی موقف 

محمد یاسین جہازی

جمعیت کی تاریخ میں روس کا سب سے پہلا تذکرہ 24 تا 26/دسمبر 1922ئ کے چوتھے اجلاس عام کے خطبہ¿ صدارت میں ملتا ہے، جہاں نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند مولانا حبیب الرحمان عثمانیؒ نے انقلابِ روس اور نو تشکیل شدہ بالشویک حکومت کی طرف سے مظلوم اقوام اور جدید ترکی کی حمایت و دوستی کو سراہا۔ تاہم، چند ہی سالوں میں اس کے مذہبی مظالم کی خبریں سامنے آئیں؛ چنانچہ 3 تا 6/مئی 1930ئ کے نویں اجلاسِ عام میں جناب ابوالنظر رضوی نے لینن حکومت کی جانب سے مساجد و خانقاہوں کی بندش اور مذہبی کتب پر پابندی کی شدید مذمت کی اور اشتراکیت کا مقابلہ کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ بعد ازاں 9/ستمبر 1935ئ کو ناظمِ عمومی مولانا احمد سعیدؒ نے مولانا حسرت موہانیؒ کے نام ایک مکتوب میں جمعیت اور حکومت کے گٹھ جوڑ کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ جمعیت کے حتمی فیصلے تک ہر ممبر اشتراکیت، یا جمہوریت کے حوالے سے ذاتی رائے میں آزاد ہے۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد 25/اگست 1941ئ کو برطانیہ اور روس نے مشترکہ طور پر ایران پر قبضہ کر لیا تھا، اور جنگ کے خاتمے (8/مئی 1945ئ) کے باوجود سوویت افواج کا انخلا نہ ہوا؛ بلکہ اگست 1945ئ تک ان کی تعداد دو لاکھ تک پہنچ گئی۔ نومبر 1945ئ میں ایران کے احتجاج کے باوجود سوویت سرپرستی میں 12/دسمبر 1945ئ کو ’’آذربائیجان کی خود مختار جمہوریہ‘‘ اور 15/ دسمبر 1945ئ کو ’’جمہوریہ مہاباد‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔ اس صورتِ حال پر جمعیت کے زیرِ اہتمام 11/جون 1945ئ کو عظیم الشان جلسہ ہوا اور 22/جون 1945ئ کو ’’یومِ ممالکِ اسلامیہ‘‘ منا کر ایران پر روس اور برطانیہ کے ناجائز قبضے کی سخت مذمت کی گئی۔ بعد ازاں معاہدے کے تحت 2/مارچ 1946ئ کی تاریخ گزرنے کے بعد بین الاقوامی دبا¶ پر روس نے 24/مارچ 1946ئ کو انخلا کا اعلان کیا اور مئی 1946ئ میں مکمل انخلاپر یہ بحران ختم ہوا۔

اس کے بعد 27/مئی 1948ئ کو صدرِ جمعیت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے اپنے ایک پریس بیان میں تقسیمِ فلسطین اور اسرائیلی حکومت کو تسلیم کرنے پر روس اور امریکہ کے رویے کو شدید افسوس ناک قرار دیا۔

 9/اگست 1971ئ کو بھارت اور سوویت یونین کے درمیان 20 سالہ ’’معاہدہ¿ امن، دوستی و تعاون‘‘ پر دستخط ہوئے۔ 15/اگست 1971ئ کو ناظم عمومی مولانا اسعد مدنیؒ نے اسے 75/ کروڑ عوام کی اتحاد کی طاقت اور عالمی امن کا ستون قرار دیا، اور 18õ19/ستمبر 1971ئ کی مجلس عاملہ کی تجاویز میں اس کا پرجوش خیر مقدم کیا گیا۔

 1973ئ کی عرب اسرائیل جنگ کے تناظر میں 12/اکتوبر 1973ئ کو جامع مسجد دہلی کے احتجاجی اجلاس میں جنرل شاہ نواز نے، 24/نومبر 1973ئ کو مجلس منتظمہ نے، اور 25/ نومبر 1973ئ کے ’’عرب حمایت کنونشن‘‘ میں شیخ عبداللہ و دیگر قائدین نے عربوں کی حربی و عسکری امداد پر روس کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں 15õ16/مئی 1976ئ کی مجلس منتظمہ نے اقوامِ متحدہ، امریکہ اور روس سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل پر دبا¶ ڈال کر ’’جینوا کانفرنس‘‘ بلائیں۔

افغانستان میں اپریل 1978ئ کے ثور انقلاب اور ستمبر 1979ئ میں حفیظ اللہ امین کے اقتدار کے بعد 24/دسمبر 1979ئ کو سوویت فوجیں داخل ہوئیں، 27/دسمبر 1979ئ کو امین کو قتل کر کے ببرک کارمل کو صدر بنایا گیا، اور جنوری 1980ئ تک ایک لاکھ سوویت فوجی وہاں تعینات ہو گئے۔ اس پر جمعیت نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا۔ 28õ29/جنوری 1980ئ کی مجلس عاملہ، 28õ29/اپریل 1980ئ کی مجلس منتظمہ، 14 تا 16/جنوری 1983ئ کے 24/ ویں اجلاسِ عام، اور 6 تا 8/اپریل 1984ئ کی ’’تعلیمی و ملی کانفرنس‘‘ میں روس کی فوجی مداخلت کی سخت مذمت کی گئی اور فوری انخلا کا مطالبہ کیا گیا۔ بالآخر 15/فروری 1989ئ کو روسی فوج کے مکمل انخلا سے قبل ہی 13õ14/جون 1988ئ کو مجلس عاملہ نے افغان مجاہدین کو روس کے خلاف عظیم کامیابی پر مبارک باد پیش کی۔

سوویت یونین کے بکھرا¶ کے بعد 1õ2/اگست 1992ئ کی مجلس عاملہ میں صدرِ جمعیت مولانا اسعد مدنیؒ نے آزاد شدہ مسلم ریاستوں میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کا نوٹس لیتے ہوئے وہاں دینی تعلیمی و تبلیغی وفد بھیجنے پر غور کیا۔ تاہم، 29/اکتوبر 1995ئ کے 25/ویں اجلاسِ عام میں مولانا اسعد مدنیؒ نے بوسنیا پر سربیائی مظالم میں روس کے متعصبانہ کردار اور چیچنیا میں عسکری طاقت کے استعمال پر روس کو ’’اسلام و انسانیت دشمن‘‘ قرار دیا۔ اس کے بعد چیچنیا پر اگست 1999ئ کی کارروائیوں، 26/ستمبر 1999ئ کی بم باری، یکم اکتوبر 1999ئ کے زمینی داخلے، 29/اکتوبر و 3/دسمبر 1999ئ کے پناہ گزینوں پر حملوں، اور دسمبر 1999ئ کے اواخر میں آرکین یورت کے قتلِ عام کے تناظر میں یکم دسمبر 1999ئ کی مجلس عاملہ نے روس کو ظالم و جارح قرار دیا۔ جمعیت کی اپیل پر 17/دسمبر 1999ئ کوروس کے خلاف ملک گیر ’’یومِ بددعا‘‘ منایا گیا۔ اور 13/مئی 2000ئ کے 26/ویں اجلاسِ عام میں روس وغیرہ سے مطالبہ کیا گیاکہ وہ  چیچنیا اور عراق سے پابندیاں ہٹائیں۔

بعد کے سالوں میں، 29/مئی 2005ئ کے 28/ویں اجلاسِ عام، 19/مئی 2012ئ کے 31/ویں اجلاسِ عام، اور 13/نومبر 2016ئ کے 33/ویں اجلاسِ عام میں امریکہ اور عالمی برادری کے ساتھ ساتھ روس سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور شام (حلب) میں مظالم کو رکوانے میں تعاون کرے۔ 

17/ستمبر 2025ئ کو صدرِ جمعیت مولانا محمود مدنی نے ایک انٹرویو میں بھارت کی قومی خودمختاری کا دفاع کرتے ہوئے امریکی ٹیرف کے خلاف ہندõروس تیل تجارت اور آزادانہ تعلقات کی مکمل حمایت کی۔

موجودہ ہندستان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

 

موجودہ ہندستان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

مکرمی محترم مفتی صاحب !               السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

مسئلۂ ذیل کے بارے میں شرعی رہ نمائی درکار ہے:

ہردورکےعلمائے کرام نے ہندستان کی شرعی حیثیت متعین کرکے اسی کےمطابق ملت اسلامیہ کی رہنمائی کی ہے،جیسے کہ انگریزوں کے مکمل قبضہ کے بعد بہادر شاہ ظفر مسلمان بادشاہ ہونے کےباوجود 1809ء میں حضرت شاہ عبد العزیز نور اللہ مرقدہ نے ہندستان کے دارالکفر ہونے کا فتوی دیا۔ پھر 14 ؍ستمبر 1857ءکی جنگ شاملی و تھانہ بھون کے لیے جہاد آزادی کا فتوی دیا گیا۔

بعد ازاں جب28؍ دسمبر 1885ء میں آل انڈیا کانگریس بنی، جس نے حکومت کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سوراج اور حقوق کا مطالبہ کرنا شروع کیا، تو جناب سرسید احمد خان صاحب نے انجمن محبان وطن بناکر مسلمانوں کو انگریزوں کی وفاداری کی تلقین کرنی شروع کردی اور کانگریس میں شرکت سے مسلمانوں کو ورغلاتے رہے، جس کے خلاف حضرات علمائے لدھیانہ، بعد ازاں  حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ  اور شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی ؒنے کانگریس میں شرکت اور سرسید کی مخالفت کا فتوی دیا۔

پھر جب انگریزوں کی خطرناک خفیہ سازش کے تحت مسلمانوں میں30؍دسمبر 1906ء کو  مسلم لیگ اور ہندوؤں میں ہندو مہاسبھا کی تشکیل عمل میں آئی اور فرقہ وارانہ خطوط پر فیصلہ ہونے لگے، جس میں سب سے خطرناک فیصلہ26 تا 29؍ دسمبر 1916ء کو منعقد ہونے والے انڈین نیشنل کانگریس کے اجلاس، اور 31 ؍دسمبر1916 کو آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاسوں میں  ہونے والا’’ میثاق لکھنو‘‘ کا فیصلہ  تھا، تو علما نے گوشہ نشینی کوچھوڑ کر میدان سیاست میں آنا ضروری سمجھا۔ چنانچہ آل انڈیا خلافت کانفرنس کے موقع پر 23 ؍نومبر 1919ء کو جمعیت علمائے ہند کی تشکیل عمل میں آئی۔

جمعیت علمائے ہند کے قیام کے بعد 1920ء میں امام الہند اور تحریک ہجرت کا آغاز ہوا۔ چنانچہ ہندستان کی شرعی حیثیت کے تناظر میں مولانا عبدالباری فرنگی محلی ، امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد اور خود شیخ الہند نے ہجرت کے حق میں فتویٰ دیا؛ لیکن تحریک خلافت نے تحریک امام الہند کا خاتمہ کردیا، جب کہ جمعیت علمائے ہند نے یہ دیکھتے ہوئے کہ اتنی بڑی آبادی کی ہجرت ناممکن ہے، تحریک خلافت کی تقویت و تائید کے لیے ترک موالات کا فتویٰ دے کر تحریک ہجرت کا خاتمہ کردیا۔ 

پھر جب جمعیت علمائے ہند نے ہندستان کی آزادی کو وطنی فریضہ کے ساتھ ساتھ مذہبی فرض بھی قرار دیا، تو یہ سوال ابھر کر سامنے آیا کہ تنہامسلمان اپنے مذہبی فرض کی ادائیگی کرکے ہندستان کو انگریزوں سے آزاد نہیں کراسکتے، اس کے لیے غیر مسلم برادران وطن سے تعاون لینا، یا ان کا ساتھ دینا ضروری ہے،تو پھر یہ سوال ایک چیلنج بن کر سامنے آیا کہ کیا  جہاد آزادی جیسے مذہبی فرض کو ادا کرنے کے لیے غیرمسلم کی امداد، یا استمداد جائز ہے؟ اور ایسی صورت میں ہندستان کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ دارالاسلام کی؟ دارالحرب کی؟ یا پھر کچھ اور؟؟....

 جمعیت علمائے ہند کے رہ نماؤں نے غور کیا کہ ہندستان دارالحرب نہیں ہوسکتا؛ کیوں کہ یہاں پر مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ اگر دارالحرب مان بھی لیتے ہیں، تو پھر مسلمانوں کی کیا حیثیت ہوگی؟ کیا وہ مستامن ہوں گے، لیکن اس کے لیے باہر کا ہونا ضروری ہے، جب کہ مسلمان یہیں کے باشندے ہیں۔

اور دارالاسلام بھی نہیں کہہ سکتے، کیوں کہ یہاں مسلمانوں کو قوت حاکمہ حاصل نہیں ہے، اس لیے جمعیت علما نے اسے دارالامان قرار دیتے ہوئے آزادی مذہب اور جملہ حقوق کے تحفظ کی ضمانت کے ساتھ جمہوری حکومت کی تشکیل کے لیے آزادی ہند کی لڑائی میں برادران وطن کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔

اسی بیچ میں کچھ علمائے کرام کی رائے یہ تھی کہ مسلمان ایک مستقل قوم کی حیثیت رکھتے ہیں، جس میں کافروں کے ساتھ موالات کی بالکل گنجائش نہیں ہے، اسی نظریے کی بنیاد پر انھوں نے اسلام کے نام پر اسلامی ریاست کا نظریہ پیش کرتے ہوئے دوقومی نظریہ کے تحت پاکستان کا مطالبہ پیش کیا، جب کہ جمعیت علمائے ہند نے ہندستان کی شرعی حیثیت کے پیش نظر متحدہ قومیت کا نظریہ پیش کرکے جمہوریت کی تائید و حمایت کی۔

پھر 1947کو ہندستان آزاد ہوگیا، تو انگریزی دور عبودیت میں جب ہندستان دارالامان تھا، تو جمہوری دور حکومت میں تو بدرجہ اولیٰ اس کی حیثیت دارالامان  کی رہی ۔ اور مسلمانوں پر دارالامان کے فرائض واجب الذمہ رہے، جس میں سب سے  بڑا فرض جہاد اکبر تھا، جہاد اصغر نہیں تھا۔ اورجب تک ہندستان میں اصلی اورحقیقی جمہوریت باقی ہے، تب تک ہندستان میں مسلمانوں پر دارالامان کے فرائض واجب الذمہ رہیں گے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ہندستان میں اب جمہوریت باقی ہے؟

قوموں اور ملکوں کے عروج و زوال کا تجزیہ کرنے والے ماہرین کے مطابق  دس پوائنٹس ایسے ہیں، جن کو معیار بناکر حالات کا تجزیہ کرنے سے کسی قوم کے عروج وزوال کا نتیجہ مرتب کرسکتے ہیں۔ وہ 10 پوائنٹس درج ذیل ہیں :

1۔ روٹی کا مسئلہ

2۔حفاظت جان و مال

3۔عدل و انصاف

4۔ مذہبی حقوق کی حفاظت

5۔ تہذیب و زبان کی حفاظت

6۔تعلیم

7۔حقوق ملازمت

8۔یکساں شہری حقوق اور مساوات

9۔حقوق ملکیت میں آزادی

10۔سیاسیات

ان دس پوائنٹس کے تناظر میں ٹو دہ پوائنٹ بات کی جائے، تو مختصر لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ:

1۔ٹھیلہ وغیرہ پر نام لکھوانے کی تحریک چلاکر، یا صرف اپنے ہم مذہب سے خریداری کی اپیل کرنے جیسے معاملات سے سمجھا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے روزی روٹی کا مسئلہ پیدا کرنے کی منظم کوشش کی جارہی ہے۔

2۔ ملک میں بڑھتے ہیٹ ریٹ، سفر وغیرہ میں مسلم شناخت والوں کے ساتھ تشدد، بعض بعض جگہوں پر مسلمانوں کے داخلے کی پابندی، خود ہی فرقہ وارانہ فسادات کر اکے ان کا الزام مسلمانوں پر ڈال کر بے قصور نوجوانوں کی اندھا دھند گرفتاری اور رہائی کے لیے وصولی کرنا، یا طول طویل عدالتی کارروائیاں اور بعد ازاں حکومت کا جبری بلڈوزر جیسی دہشت گردانہ حرکتیں اور مآب لنچنگ کے واقعات شاہد ہیں کہ مسلمانوں کے سامنے جان و مال کے تحفظ کا معاملہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔

3۔ بابری مسجد پر سپریم کورٹ کا فیصلہ، دہلی اور پورے ملک میں آثار قدیمہ کے نام پر بند پڑی مساجد، گیان واپی مسجد،عیدگاہ متھرا اور تقریباً تین ہزار مساجد پر قانونی شکنجہ کسنے کے بعد عدالتوں کے فیصلے، اسی طرح تین طلاق اور شرعی محکمہ قضا کے فیصلوں کے متعلق حالیہ دنوں کے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں، نیز جدید وقف ایکٹ میں ظالمانہ ترمیمات پر اصرار سے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ مسلمانوں کے لیے ملک میں کتنا عدل و انصاف بچا ہوا ہے۔

4۔وقف ایکٹ ،فتوی پر پابندی (ہماچل پردیش میں) مدارس اسلامیہ کو نوٹس، قربانی اور غیر قربانی کے مواقع پر گائے کے ذبح پر پابندی،یا ہنگامہ اور کسی بھی مسجد کو غیر قانونی تعمیرات کے بہانے شہید کردینے کے متواتر واقعات سے مسلمانوں کے مذہبی حقوق کس درجہ محفوظ ہیں، دانش ور خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔

5۔ داڑھیوں کے خلاف مقدمے، تعلیم گاہوں میں برقعہ پوش خواتین کے ساتھ مسائل پیدا کرنا اور اردو زبان کے ساتھ تعصب انگیز رویہ سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کی تہذیب اور زبان کو مٹانے میں وہ کس حد تک کامیاب ہوچکے ہیں۔

6۔ تعلیم کی بات کریں ،تو مسلمان کے اندر 42 فی صد جہالت ہے۔ آزاد مدارس کے سامنے تو مسائل پیدا کیے ہی جارہے ہیں ؛لیکن سرکاری تعلیمی اداروں سے وابستگی سے بھی ان کو چڑھ ہے، جیسا کہ کچھ دن پہلے جمعیت اسٹڈی سینٹر کے تحت نوائس سے امتحان دینے والے طلبہ و طالبات کی بڑھتی کامیابی کو دیکھتے ہوئے این سی پی سی آر کے چئیرمین نے زہر اگلتے ہوئے اسے ٹرر فنڈنگ کہا تھا۔ اس طرح کے اور بھی معاملات ہیں، جہاں مسلمانوں کو تعلیم سے محروم رکھنے کی مکمل سازش کی جارہی ہے۔

7۔حقوق ملازمت کی بات کریں، تو سیکڑوں ایسے واقعات سامنے آچکے ہیں، جہاں مسلمانوں کے ساتھ ڈس کرمنیشن یعنی امتیازات سے کام لیا جارہا ہے۔

8۔ یکساں شہری حقوق اور مساوات سے مراد حکومت کے جملہ وسائل میں بلا امتیاز مذہب وغیرہ یکساں شرکت ہے۔ سی اے بی، گجرات میں ڈسٹربڈ ایریا کا قانون اور نچلی ذاتوں اور مسلمان سمجھ کر بعض محکمہ جیسے ڈفنس میں مسلمانوں کو ملازمت، یا اعلی ملازمت نہیں دی جاتی۔گویا یکساں شہری حقوق اور مساوات پر بھی ڈاکہ ڈالا جارہا ہے۔

9۔ حقوق ملکیت میں تو اب تک آزادی ہے، لیکن بعض مخدوش علاقوں میں محض مسلمان کا گھر ہونے کی وجہ سے جس طرح بغیر عدالتی کارروائی کے بلڈوزر چلادیا جاتا ہے، یہ بھی اس سے کم ظلم نہیں ہے کہ مسلمانوں کو ان کی ملکیت سے محروم کردیا جائے۔ اس سے واضح معاملہ یہ ہے کہ ایک خاص سازش کے تحت مسلمانوں کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس سے محرومی تقریباً تمام حقوق سے محرومی کا باعث بن جائے گی۔

10۔البتہ سیاست میں مسلمان اب تک آزاد ہیں ،لیکن مسلم آبادی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے حلقہ ہائے انتخاب کی جس طرح حدبندی کی جاتی ہے، اس سے اس سازش کا اندازہ لگانا کوئی خاص مشکل نہیں ہے کہ مسلمانوں کی سیاسی طاقت کو بے وزن کرنے کی لگاتار کوشش کی جارہی ہے۔

علاوہ ازیں  راہل گاندھی، پرینکا گاندھی  کے علاوہ بھی کئی پارلیمنٹ کے بڑے لیڈربیان دے چکے ہیں کہ ہندستان میں جمہوریت بچی نہیں ہے۔

ان نتائج کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا شاید خلاف واقعہ نہیں ہوگا کہ بھارت ہندو راشٹر بن چکا اور جمہوریت اور دستور ایک قصہ پارینہ بن چکا ہے۔

ایسی صورت میں اہل فتاویٰ اور ماہرین شریعت سے گذارش ہے کہ ہندستان کی شرعی حیثیت، مسلمانوں کی شرعی حیثیت اور ان دونوں کی حیثیت کے تعین کے بعد مسلمانوں کے ذمہ واجب فرائض پر مکمل شرعی رہ نمائیں فرمائیں۔

محمد یاسین جہازی

6؍جنوری 2025