یمن: مختصر تاریخی جائزہ اور جمعیت علمائے ہند کا موقف
محمد یاسین جہازی
یمن جزیرۂ عرب کے جنوب مغربی حصے میں واقع ہے۔ انیسویں صدی میں عثمانیوں نے دوبارہ یمن میں پیش قدمی کی اور 1872ء میں صنعاء پر قبضہ کرکے شمالی یمن میں اپنا اقتدار بحال کیا، تاہم زیدی اماموں اور قبائل کی مزاحمت جاری رہی۔ دوسری طرف 19 جنوری 1839ء کو برطانیہ نے عدن پر قبضہ کرلیا۔ 1869ء میں نہرِ سویز کھلنے کے بعد عدن برطانیہ کے ہندوستان اور مشرق بعید کے بحری راستے کا اہم فوجی و تجارتی مرکز بن گیا اور 1937ء میں اسے باقاعدہ برطانوی کراؤن کالونی بنا دیا گیا۔
جنگِ عظیم اول کے دوران شمالی یمن عثمانی اقتدار اور زیدی اماموں کے اثر میں، جبکہ عدن اور جنوبی علاقوں پر برطانوی اثر و تسلط تھا۔ 30 اکتوبر 1918ء کو معاہدۂ مدروس کے بعد عثمانی فوجیں یمن سے نکل گئیں اور امام یحییٰ حمید الدین نے شمالی یمن میں خود مختار حکومت قائم کی، جو متوکلی مملکتِ یمن کے نام سے معروف ہوئی۔ امام یحییٰ 1918ء تا 1948ء حکمران رہے، ان کے قتل کے بعد ان کے بیٹے امام احمد نے 1962ء تک حکومت کی۔
22 مارچ 1922ء کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے سلطنت عثمانیہ کی حدود کے متعلق اپنے موقف میں یمن کو بھی شامل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عربی زبان والے علاقوں، جن میں یمن بھی شامل تھا، کو کسی غیر مسلم حکومت کے ادنیٰ دخل و اثر کے بغیر خلیفۃ المسلمین سلطانِ ترکی کے زیر اقتدار داخلی آزادی دی جائے۔
11 تا 14 مارچ 1926ء جمعیت علمائے ہند کے ساتویں اجلاس عام میں حضرت مولانا سید سلیمان ندویؒ نے یمن کے متعلق خبردار کیا کہ اٹلی یمن پر قبضے کی کوشش کرسکتا ہے اور یمن کے اقتصادی تعلقات بڑھا رہا ہے؛ اس لیے سلطان ابن سعود اور امام یحییٰ کو یورپی طاقتوں سے معاہدات کرتے وقت پوری احتیاط برتنی چاہیے۔
1962ء سے 1970ء تک یمن میں جمہوری حکومت کے حامیوں اور سابق زیدی امامتی نظام کے حامیوں کے درمیان خانہ جنگی ہوئی۔ جمہوری دھڑے کو مصر کے صدر جمال عبدالناصر کی حمایت حاصل تھی، جبکہ شاہی دھڑے کو سعودی عرب اور بعض دوسرے عرب ممالک کی مدد حاصل تھی۔ جنگ ختم کرانے کی کوشش میں 24 اگست 1965ء کو جدہ میں شاہ فیصل اور جمال عبدالناصر کے درمیان معاہدہ ہوا، جس میں یمن میں جنگ بندی، بیرونی فوجی امداد کے خاتمے اور یمنی عوام کے ذریعے مستقبل کے نظام حکومت کا فیصلہ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اسی سلسلے میں 23 نومبر 1965ء کو حَرَض کانفرنس ہوئی، مگر فریقین کے اختلافات کے باعث یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔
جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی حضرت مولانا سید اسعد مدنیؒ نے شاہ فیصل اور جمال عبدالناصر کے درمیان مفاہمت پر دونوں کو مبارک باد دی۔ صدر جمال عبدالناصر کا جوابی تار 10 ستمبر 1965ء کو موصول ہوا، جس میں انہوں نے مولانا اسعد مدنی اور مسلمانانِ ہند کے مخلصانہ جذبات پر شکریہ ادا کیا۔
بعد کے دور میں بھی جمعیت علمائے ہند نے یمن کے حالات پر توجہ دی۔ 13 دسمبر 1982ء کو شمالی یمن کے دَمَار علاقے میں شدید زلزلہ آیا، جس میں تقریباً 2800 افراد جاں بحق، 1500 زخمی اور تقریباً سات لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔ 18 و19 دسمبر 1982ء کی مجلس عاملہ میں جمعیت نے یمنی عوام اور حکومت سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور اس سانحے میں ہندوستانی مسلمانوں کی شرکتِ غم کا اعلان کیا۔
2011ء میں عرب بہار کے دوران یمن میں صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف احتجاج شروع ہوئے۔ 23 نومبر 2011ء کو صالح نے ریاض میں اقتدار کی منتقلی کے معاہدے پر دستخط کیے، جس کے بعد 21 فروری 2012ء کو صدارتی انتخاب ہوا اور 27 فروری 2012ء کو عبدربہ منصور ہادی نے اقتدار سنبھالا۔
لیکن سیاسی بحران ختم نہ ہوا۔ حوثی تحریک نے منصور ہادی حکومت کے خلاف بغاوت کرکے ملک کے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا، جس کے نتیجے میں ہادی کو صنعاء سے نکل کر سعودی عرب پناہ لینا پڑی۔ مارچ 2015ء میں ان کی درخواست پر سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کردی، جس سے یمن کی خانہ جنگی مزید شدید ہوگئی۔ جمعیت علمائے ہند نے اس جنگ کو طاقت کے بجائے مذاکرات، جنگ بندی، انسانی حقوق کے تحفظ اور تمام طبقات کی مناسب سیاسی نمائندگی کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔
13 نومبر 2016ء کو جمعیت کے اجلاس میں مولانا محمد سلمان منصورپوریؒ نے یمن کی جنگ اور وہاں ہونے والی تباہی پر تشویش ظاہر کی، جبکہ صدر جمعیت مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوریؒ نے یمن میں مسلم ممالک کے باہم جنگ میں مصروف ہونے اور عالمی طاقتوں کے کردار پر افسوس کا اظہار کیا۔ اسی اجلاس کی تجویز میں سعودی اتحاد کی جنگ، انسانی بحران اور ایران و سعودی عرب کی علاقائی کشمکش کے پس منظر میں فوری سیاسی مذاکرات، انسانی حقوق کی پاس داری اور اقوام متحدہ کی تجاویز کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
بعد کے برسوں میں بھی جمعیت نے یمن کی صورت حال پر تشویش برقرار رکھی۔ 28 و29 مئی 2022ء کی مجلس منتظمہ اور 12 فروری 2023ء کے چونتیسویں اجلاس عام میں یمن سمیت عالم اسلام کے بحرانوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکمرانوں اور عوام سے باہمی اختلافات ترک کرکے سیاسی بصیرت اور باہمی گفت وشنید کے ذریعے مسائل حل کرنے کی اپیل کی گئی۔
اس طرح یمن کی تاریخ میں عثمانی اقتدار، برطانوی تسلط، امامتی حکومت، خانہ جنگی، عرب بہار اور موجودہ سیاسی بحران کے مختلف ادوار گزرے ہیں؛ جبکہ جمعیت علمائے ہند نے مختلف ادوار میں یمن کی خود مختاری، وہاں کے مسلمانوں کے تحفظ، جنگ کے خاتمے، سیاسی مفاہمت اور امن کے قیام کے لیے اپنے موقف اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔