6 Aug 2026

جمعیت علمائے ہند اور شام: ایک صدی کی ہمدردی و جدوجہد

جمعیت علمائے ہند اور شام: ایک صدی کی ہمدردی و جدوجہد 

محمد یاسین جہازی 

(خلاصہ)

جمعیت علمائے ہند اور شام کا تعلق محض ایک سیاسی یا جغرافیائی ہم آہنگی نہیں ، بلکہ ایک گہرا مذہبی، اخلاقی اور تاریخی رشتہ ہے ، جس کی بنیاد اسلامی اخوت اور مظلومین کی حمایت کے شرعی اصول پر ہے۔ یہ تعلق تقریباً ایک صدی پر محیط ہے ، اور اس کا آغاز پہلی جنگ عظیم کے بعد سلطنت عثمانیہ کی تقسیم اور شام کے فرانسیسی قبضے سے ہوتا ہے۔

جب پہلی جنگ عظیم11/نومبر1918ء کو ختم ہوئی، تو برطانیہ نے جنگ کے دوران ہندستانی مسلمانوں سے خلافت عثمانیہ کے تحفظ اور ہندستان کو سوراج دینے کے وعدے کیے تھے ، لیکن جنگ کے بعد برطانیہ نے اپنے وعدوں سے منھ موڑ لیا۔30/اکتوبر1918ء کو عارضی صلح کے بعد10/اگست1920ء کو معاہدہ سیورے کے ذریعے شام کو فرانس کے قبضے میں دے دیا گیا۔ چوں کہ شام خلافت عثمانیہ کا حصہ تھا، اس لیے اس تقسیم نے ہندستانی مسلمانوں میں شدید اضطراب پیدا کیا، جس کے نتیجے میں تحریک خلافت کا آغاز ہوا۔23/نومبر1919ء کو تحریک خلافت کا پہلا آل انڈیا اجلاس منعقد ہوا، اور اسی موقع پر علمائے کرام نے مسلمانوں کے لیے ایک متحد پلیٹ فارم کی ضرورت محسوس کی، جس کے نتیجے میں جمعیت علمائے ہند وجود میں آئی۔

ابتدائی دنوں میں ہی جمعیت علمائے ہند نے شام کے مسئلے کو اپنی ترجیحات میں شامل کر لیا۔ 19 سے21/نومبر1920ء کو شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کی صدارت میں دوسرے اجلاس عام میں اس شبہے کا قلع قمع کیا گیا کہ ہندستانی مسلمانوں کو شام کے مسلمانوں سے کیا واسطہ؟ مولانا محمود حسن نے واضح کیا کہ مسلمانوں میں باہمی نصرت و معاونت کوئی انسانی معاہدہ نہیں ؛ بلکہ خدائے قدوس کا قائم کردہ اور مذہبی احکام کا حصہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح امریکہ والے یورپ میں اپنے معاہدوں کے تحت مدد کرتے ہیں ، اسی طرح مسلمانوں کو ان کا خدا اور رسول حکم دیتے ہیں کہ وہ اپنے دینی بھائیوں کی مدد کریں ، خواہ وہ کہیں کے رہنے والے ہوں ۔ اسی اجلاس میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے فرمایا کہ عراق، شام، فلسطین اور تھریس کے کلمہ پڑھنے والے مسلمان ہماری جان و مال اور عزت و آبرو ہیں ، اور ان کی حمایت مذہبی فرض ہے۔ اس طرح جمعیت نے شام کے ساتھ یک جہتی کو مذہبی فریضہ قرار دیا۔

18سے20/نومبر1921ء کو تیسرے اجلاس عام میں امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد نے صدارتی خطاب میں کہا کہ ہمارا مطالبہ جزیرۃ العرب، فلسطین اور شام کے لیے ہے ، اور ان پر غیر مسلم اقتدار قبول نہیں ۔

24 سے26/دسمبر1922ء کے چوتھے اجلاس میں مولانا حبیب الرحمان عثمانی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند نے خلافت و سلطنت اسلامی کے برباد ہونے کے بعد شام سمیت عراق و فلسطین پر غیر مسلم تسلط کے خلاف دفاع کو مسلمانوں پر عائد ہونے والا فرض قرار دیا۔

29 دسمبر1923تا یکم جنوری1924ء کے پانچویں اجلاس میں مولانا حسین احمد مدنی نے شام کو جزیرۃ العرب کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیر مسلم اقتدار کو وہاں سے مکمل ختم ہونا چاہیے۔

جب1925ء میں فرانس نے شام پر اپنے مینڈیٹ کے تحت انتہائی جابرانہ پالیسیاں اپنائیں اور جبل الدروز میں مداخلت، جبری مشقت اور رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف شام کی عظیم بغاوت شروع ہوئی، تو فرانسیسی فوج نے18سے21/اکتوبر1925ء کے درمیان دمشق پر فضائی اور توپ خانے سے بم باری کی، جس میں تاریخی بازار اور رہائشی علاقے تباہ ہو گئے اور تقریباً1000سے1500شہری جاں بحق ہوئے۔ اسی طرح حماۃ پر بم باری اور السویداء پر حملے کیے گئے۔ ان مظالم پر جمعیت علمائے ہند نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔29/نومبر1925کو مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ-جو اس وقت جمعیت کے صدر تھے - نے وائسرائے ہندلارڈ ریڈنگ کو ایک تار بھیجا، جس میں انھوں نے برطانوی وزیراعظم کی اس تقریر پر شدید تعجب کا اظہار کیا ،جس میں کہا گیا تھا کہ فرانس کے مظالم پر اس لیے کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی، کیوں کہ برطانیہ کو بھی اپنی نوآبادیوں میں اسی قسم کی مشکلات کا سامنا ہے۔ مولانا کفایت اللہ صاحب نے وائسرائے کو متنبہ کیا کہ اگر برطانیہ فرانس کے ساتھ شامیوں کے خلاف اشتراک عمل کرے گا، تو ہندستان کے مسلمانوں میں عام بے چینی پیدا ہو جائے گی۔18سے21/جنوری1926میں مجلس عاملہ کی میٹنگ نے فرانس کے وحشیانہ مظالم پر دلی رنج و الم کا اظہار کیا اور شامی بھائیوں کو اپنی ہمدردی کا یقین دلایا۔

11 سے14/مارچ1926میں ساتویں اجلاس عام میں مولانا سید سلیمان ندوی صاحب ؒنے صدارت کرتے ہوئے شام اور دیگر عرب ممالک کے نوجوانوں پر یورپی تہذیب کے اثرات پر تنقید کی اور فرمایا کہ عراق و شام جزیرۃ العرب کے تکمیلی حصے ہیں ، اور برطانیہ و فرانس کو اپنے وعدوں کے مطابق ان سے نکل جانا چاہیے۔ انھوں نے شام کی موجودہ حالت کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ شامی احرار کا قتل عام ارمنوں کے قتل عام سے زیادہ روشن دنوں میں انجام دیا گیا ہے ، اور یورپ کو اپنی اس بربریت پر شرمانا چاہیے۔

3 /ستمبر1929ء کو فلسطین کی حمایت میں دہلی میں منعقدہ ایک عظیم جلسے میں مولانا ابوالکلام آزادؒ نے کہا کہ یورپی طاقتوں نے شام اور فلسطین کو اپنی قوت کے استحکام کے لیے چنا ہے ، اور یہودیوں کی حکومت قائم کرنے میں یہی راز مضمر ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران جمعیت علمائے ہند کا موقف مزید واضح ہوا۔7سے9/جون 1940 کے بارھویں اجلاس میں مولانا حسین احمد مدنی صاحبؒ نے فرمایا کہ ہندستان کی غلامی کی وجہ سے شام، مصر، فلسطین سب غلام ہیں ، اور ان کی آزادی ہندستان کی آزادی سے مشروط ہے۔25/جون1941کو مجلس عاملہ نے اعلان کیا کہ شام سمیت تمام اسلامی ممالک پر کسی اجنبی طاقت کا تسلط ناقابلِ قبول ہے ، اور مکمل آزادی کا مطالبہ کیا۔

20 سے22/مارچ1942کے تیرھویں اجلاس میں شام، عراق، ایران اور فلسطین کے نازک حالات پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ جب تک استعمار پسند طاقتیں اپنا تسلط نہیں اٹھائیں گی، مسلمان مطمئن نہیں ہوں گے۔

1945 میں جب فرانس نے شام اور لبنان میں اپنی نوآبادیاتی گرفت برقرار رکھنے کے لیے سخت فوجی کارروائی کی، جسے لیونٹ بحران کہا جاتا ہے ، اور29سے31/مئی1945کو دمشق پر توپ خانے اور فضائی حملے کیے ، جس میں تقریباً1000/افراد ہلاک ہوئے ، تو جمعیت علمائے ہند نے فوری ردعمل دیا۔2/جون1945ء کو مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے ایک پریس بیان میں فرانس اور برطانیہ کی مسلم کش پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شام، لبنان اور فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے ، وہ ہندستان کی غلامی کا نتیجہ ہے۔ انھوں نے تمام اسلامی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ فوری احتجاجی جلسے کریں اور شام و لبنان کی مکمل آزادی، فلسطین کو یہودیوں کا وطن نہ بنانے اور مفتی اعظم فلسطین کی رہائی کا مطالبہ کریں ۔ 11/جون1945ء کو دہلی میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا، جس میں فرانسیسی مظالم کی مذمت کی گئی اور شام و لبنان کی فوری آزادی کا مطالبہ کیا گیا، اور یہ واضح کیا گیا کہ عربی ممالک کے کسی حصے پر کسی بھی اتحادی طاقت کا انتداب عالم اسلام کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگا۔

1967 ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران جمعیت علمائے ہند کی سرگرمیاں انتہائی نمایاں رہیں ۔ جب اسرائیل نے شام کو فوجی دھمکیاں دیں اور خلیج عقبہ کی ناکہ بندی پر کشیدگی بڑھی، تو23/مئی1967ء کو مولانا اسعد مدنی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے ایک بیان جاری کیا، جس میں عربوں کی حمایت کا اعلان کیا اور ملک گیر یوم احتجاج منانے کی اپیل کی۔ انھوں نے وزیراعظم اندرا گاندھی اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو برقیے بھیجے اور شام کے سفیر سے ملاقات کر کے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔23/جولائی1967کو جمعیت نے عرب مظلومین کی امداد کے لیے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں شام کے سفیر کو25,000/روپے کا چیک پیش کیا گیا۔ اس موقع پر شام کے سفیر عمر ابو ریشہ نے ہندستانی عوام کے خلوص کو سراہا اور کہا کہ عربوں کو اگرچہ عارضی شکست ہوئی ہے ، لیکن حق ان کے ساتھ ہے اور آخری فتح انھی کی ہوگی۔ 24 /ستمبر1967کو امداد کی دوسری قسط کے طور پر شام کو مزید50,000/روپے دیے گئے۔

6 /جون1969ء کو جمعیت نے منعقدہ ایک اجلاس میں اسرائیل کے قبضے اور جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے باوجود اسرائیل نے شام، اردن اور متحدہ عرب جمہوریہ کے علاقوں سے قبضہ نہیں ہٹایا اور اس کی جارحانہ سرگرمیاں جاری ہیں ۔ 23/نومبر1969ء کو جمعیت نے سفرائے عرب کو دعوت افطار دی، جس میں شام کے سفیر بھی شریک ہوئے۔

7/اکتوبر1973ء کو جب مصر اور شام پر اسرائیلی حملہ ہوا، تو مولانا سید احمد ہاشمی نے اس کی مذمت کی اور عربوں کی کامیابی کے لیے یوم دعا منانے کی اپیل کی۔1976میں جب شام نے لبنان کی خانہ جنگی میں فلسطینی گروہوں (پی ایل او) کے خلاف فوجی مداخلت کی اور13/اگست 1976کو تل زعتر کا قتل عام ہوا، تو جمعیت علمائے ہند نے20سے21/اگست1976میں مجلس عاملہ کی میٹنگ میں شام کی اس کارروائی کو سامراجی سازش کا حصہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور عرب اتحاد پر زور دیا۔ اور کہا گیا کہ ہزاروں فلسطینیوں ، بچوں اور عورتوں کو بے رحمی سے قتل کرنا فلسطینیوں کی خدمت نہیں ؛ بلکہ ان کے کاز کو نقصان پہنچانا ہے۔

26 سے27/دسمبر1981کو مجلس عاملہ نے اسرائیل کی توسیع پسندانہ عزائم کی مذمت کرتے ہوئے شام کی آزادی اور سالمیت کو خطرے میں نہ پڑنے دینے کا مطالبہ کیا۔

1982 میں شام کے شہر حماہ میں حافظ الاسد کی حکومت نے اخوان المسلمون کی پیش قدمی کو کچلنے کے لیے2/فروری سے28/فروری1982تک ایک سفاکانہ قتل عام کیا، جس میں  40,000 سے45,000/شہری ہلاک ہوئے اور88/مساجد تباہ ہوئیں ۔ یکم اور2/مئی 1982 اور پھر25سے26/نومبر1983کی مجلس عاملہ نے اس نسل کشی کو تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی اور شامی حکومت کی مسلم دشمن کارروائیوں کی مذمت کرتے کہاکہ شامی حکومت اپنے ہی شہریوں پر جو مظالم ڈھارہی ہے ، ان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

5/اکتوبر2003کو جب اسرائیل نے شام کے عین الصاحب کیمپ پر فضائی حملہ کیا، تو 6/اکتوبر2003کو جمعیت علمائے ہند نے اسے اشتعال انگیز اور مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے تباہ کن قرار دیا۔

2011 میں 15/مارچ کو شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد جمعیت علمائے ہند نے ہر سال اپنے اجلاسوں میں شام کی الم ناک صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔19/مئی 2012 کے اجلاس میں حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب منصورپوری صدر جمعیت علمائے ہند نے شام کی حالت کو ناگفتہ بہ قرار دیا اور بتایا کہ قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری ہے۔12 / دسمبر2012اور29/اگست2013کی مجلس عاملہ نے شیعہ سنی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شامی حکومت سے مذاکرات اور تشدد بند کرنے کا مطالبہ کیا، اور غیر ملکی مداخلت کو مسئلہ کا حل نہیں قرار دیا۔24/مئی2014کے اجلاس عام میں بھی عالم اسلام ؛خاص طور پر شام کی صورت حال پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔16/مئی2015کے اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت تک 300,000 /افراد ہلاک اور19,000,000بے گھر ہوچکے ہیں ، اور شہریوں کو خوراک، ادویات اور رہائش کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

2016 کے دوران شام کے حالات مزید ابتر ہوتے گئے۔27/فروری2016کو امریکہ اور روس کی سرپرستی میں جزوی جنگ بندی ہوئی؛ مگر زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔16/جولائی 2016کو شامی حکومت اور روسی افواج نے مشرقی حلب کا مکمل محاصرہ کر لیا اور22/ستمبر 2016سے مشرقی حلب پر شدید فضائی بم باری شروع ہوئی۔13/نومبر2016کے اجلاس عام میں حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب منصورپوری نے کہا کہ شام مظلوم مسلمانوں کی قربان گاہ بنا ہوا ہے اور عالمی طاقتوں کی مداخلت سے مسئلہ مزید الجھتا جا رہا ہے۔ یکم دسمبر2016 کو مولانا محمود اسعد مدنی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرش کو خط لکھ کر حلب کے انسانی بحران پر فوری عملی اقدام کا مطالبہ کیا۔ 

22/دسمبر2016ء کو مشرقی حلب مکمل طور پر شامی حکومت کے قبضے میں آ گیا۔ بعد ازاں  2018میں جب شامی اور روسی افواج نے18/فروری2018کو مشرقی غوطہ پر وحشیانہ حملہ کیا اور18سے28/فروری2018کے دوران580/سے زائد شہری ہلاک ہوئے اور 400,000 افراد محاصرے میں پھنس گئے ، تو جمعیت علمائے ہند نے27/فروری2018 کو ایک پریس بیان میں اس حملے کی مذمت کی اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ محض مذمتی قراردادوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے اور طبی و غذائی امداد کی راہ کھولے۔14/اپریل 2018کو مشرقی غوطہ بھی مکمل طور پر شامی حکومت کے قبضے میں آ گیا۔

28 سے29/مئی2022کو مجلس منتظمہ کے اجلاس میں ایک بار پھر شام اور یمن کی صورت حال پر دکھ اور قلق کا اظہار کیا گیا اور مسلم حکمرانوں سے بیدار مغزی اور دردمندی کے ساتھ حالات کے تقاضے پورے کرنے کی اپیل کی گئی۔

2023 میں جب6/فروری کو ترکیہ اور شام کے سرحدی علاقے میں 7.8شدت کا تباہ کن زلزلہ آیا، جس میں شام میں تقریباً6000/افراد ہلاک اور10,000/زخمی ہوئے اور لاکھوں بے گھر ہوئے، تو جمعیت علمائے ہند نے12/فروری2023کو اپنے چونتیسویں اجلاس عام میں متأثرین کے لیے گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا اور10,000,000/روپے کی امداد کا اعلان کیا۔اور زلزلہ متاثرین کے لیے دعا اور تعمیر نو کی اپیل بھی کی۔

یوں جمعیت علمائے ہند کی تاریخ شام کے ساتھ ایک مسلسل رشتے کی عکاس ہے ، جس میں جمعیت نے قیام سے لے کر آج تک شام کے عوام کی ہر مشکل میں ان کے ساتھ مذہبی، اخلاقی اور سیاسی ہمدردی کا اظہار کیا ہے ، خواہ وہ فرانسیسی استعمار کے خلاف جدوجہد ہو، عرب اسرائیل جنگیں ہوں ، حافظ الاسد کے مظالم ہوں ،2011کی خانہ جنگی ہو، یا2023کا زلزلہ۔ جمعیت کا موقف ہمیشہ یہ رہا ہے کہ شام کے مسلمان ہمارے دینی بھائی ہیں ، اور ان کی حمایت و نصرت مذہبی فرض ہے ، اور وہ عالمی برادری سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ شام کے مظلوموں کی آواز کو سنا جائے اور ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔

3 Aug 2026

سوڈان کے بارے میں جمعیت علمائے ہند کا موقف: جامع خلاصہ

 


سوڈان کے بارے میں جمعیت علمائے ہند کا موقف: جامع خلاصہ

محمد یاسین جہازی

جمعیت علمائے ہند کی تاریخ میں سوڈان کا پہلا ذکر7تا9/جون1940ئ کے بارھویں اجلاسِ عام کے صدارتی خطبے میں ملتا ہے، جہاں حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے سوڈان سمیت عرب و اسلامی ممالک کی غلامی کو ہندستان کی غلامی سے جوڑا۔ بعد ازاں4تا7/مئی1945ئ کے چودھویں اجلاسِ عام میں بھی انھوں نے مصر، سوڈان، الجزائر، تیونس اور لیبیا کے مسلمانوں کی حالتِ زار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان کی غلامی سے انگریز ان ممالک کو دبانے کے لیے فوج اور وسائل استعمال کرتے ہیں۔ پھر27تا29/اکتوبر1956ئ کے انیسویں اجلاسِ عام میں شیخ الاسلام نے کہا کہ برطانیہ کی عالمی طاقت کا بڑا سبب ہندستان کی غلامی تھی، جس کے ذریعے مصر، سوڈان اور افریقہ کے دیگر علاقوں پر غلبہ قائم رکھا گیا۔

آزادی کے بعد جمعیت نے سوڈان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو بھی اہمیت دی۔22/مئی 1964ئ کو جمعیت علمائے ہند نے نئی دہلی میں جمہوریہ سوڈان کے صدر الفریق سید ابراہیم عبود کا شان دار استقبال کیا اور سپاس نامہ پیش کیا، جس میں ہندستان و سوڈان کی دوستی، نوآبادیاتی جدوجہد اور باہمی تعاون کو سراہا گیا۔

عربõاسرائیل تنازع کے سلسلے میں29/اگست تا یکم ستمبر1967ئ خرطوم (سوڈان) میں عرب لیگ کا چوتھا سربراہ اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اجلاس5تا10/جون1967ئ کی چھ روزہ جنگ میں عرب ممالک کی شکست کے بعد بلایا گیا تھا۔ اس میں عرب اتحاد، مقبوضہ عرب علاقوں کی واپسی اور اسرائیل کے بارے میں مشہور ’’تین نفیاں‘‘ (نہ صلح، نہ تسلیم، نہ مذاکرات) منظور کی گئیں، جب کہ مصر اور اردن کی مالی امداد کا بھی فیصلہ ہوا۔ اس کے بعد23õ24/ستمبر 1967ئ کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ نے ایک قرارداد کے ذریعے عرب ممالک سے مکمل اتحاد کی اپیل کی، تاکہ اسرائیل کے ناجائز قبضے کا مقابلہ کیا جا سکے۔

بعد کے برسوں میں بھی سوڈان جمعیت کی سرگرمیوں میں شامل رہا۔23/نومبر1969ئ کو دفتر جمعیت، نئی دہلی میں سفرائے عرب کے اعزاز میں افطار دی گئی، جس میں سوڈان کے سفیر بھی شریک ہوئے۔

اقوام متحدہ کی بین الاقوامی آبادی و ترقی کانفرنس5 تا13/ستمبر1994ئ قاہرہ (مصر) میں منعقد ہوئی، جس میں179/ممالک شریک ہوئے۔ کانفرنس میں تولیدی صحت، خواتین کے حقوق، صنفی مساوات اور پائیدار ترقی پر زور دیا گیا۔ جمعیت علمائے ہند نے23/اکتوبر 1994ئ کی مجلس عاملہ میں اس کانفرنس کی بعض قراردادوں کو اسلامی معاشرت کے خلاف قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور سعودی عرب، عراق، سوڈان اور لبنان کی طرف سے اس کانفرنس کے بائیکاٹ کی تائید کی۔

امریکہ کی سوڈان پالیسی کے خلاف بھی جمعیت نے واضح موقف اختیار کیا۔26/مئی 1998ئ کو عراقی رہنما سعدون حمادی نے جمعیت کے صدر دفتر میں خطاب کرتے ہوئے عراق، لیبیا اور سوڈان پر امریکی پابندیوں کو مسلم ممالک کے خلاف پالیسی قرار دیا۔ پھر20/اگست 1998ئ کو امریکہ نے خرطوم کے قریب ’’الشفائ‘‘ دوا ساز فیکٹری پر بم باری کی۔ اس کے جواب میں جمعیت نے4/ستمبر1998ئ کے پریس بیان میں اس حملے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور کھلی جارحیت قرار دیا، اور مولانا اسعد مدنیؒ نے اسے طاقت کے ناجائز استعمال کی مثال کہا۔

28/مارچ2001ئ کو اسلامی سالِ ہجری کے آغاز کی تقریب میں سوڈان سمیت کئی مسلم ممالک کے سفرا شریک ہوئے، جب کہ27õ28/ستمبر2001ئ کی مجلس عاملہ نے دہشت گردی کی مذمت کے ساتھ امریکہ سے مطالبہ کیا کہ سوڈان، فلسطین، عراق اور دیگر مظلوم ممالک کے بارے میں انصاف پر مبنی رویہ اختیار کیا جائے۔29/نومبر2003ئ کی عید ملن تقریب میں بھی سوڈان کے سفیر شریک ہوئے۔

دارفور کے بحران کے پس منظر میں14/جولائی2008ئ کو آئی سی سی پراسیکیوٹر نے صدر عمر البشیرکے خلاف درخواست دائر کی،4/مارچ2009ئ کو پہلا اور12/جولائی2010ئ کو دوسرا وارنٹ جاری ہوا۔ اس سے قبل9نومبر/ 2008ئ کے انتیسویں اجلاسِ عام میں مولانا قاری محمد عثمان منصورپوری نے کہا کہ سوڈان کے خلاف عالمی کارروائیاں دراصل مسلم اور ترقی پذیر ممالک کو کمزور رکھنے کی کوشش ہیں۔

آخر میں16/مئی2015ئ کے بتیسویں اجلاسِ عام اور اس کی قرارداد نمبر(۵۱)میں جمعیت نے کہا کہ اگرچہ سوڈان میں پہلے جیسی شدید بحرانی کیفیت نہیں رہی، لیکن بین الاقوامی پابندیوں، سیاسی کشمکش اور مسلح تنازعات کے باعث اس کی معاشی حالت اب بھی خراب ہے، اور عالم اسلام کے مسائل کے ضمن میں سوڈان کے استحکام کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

خلاصہ¿ کلام یہ ہے کہ جمعیت علمائے ہند نے1940 سے2015ئ تک مختلف مواقع پر سوڈان کے مسئلے کو عالمِ اسلام، استعمار مخالف جدوجہد، عرب اتحاد، فلسطین کے دفاع، مغربی دبا¶ کے خلاف مزاحمت اور مسلم ممالک کے حقوق کے تناظر میں دیکھا۔ جمعیت نے ایک طرف سوڈان کی آزادی، خودمختاری اور معاشی استحکام کی حمایت کی، اور دوسری طرف خرطوم کانفرنس، امریکی پابندیوں، آبادی و ترقی کانفرنس، دارفور بحران اور عالمی سیاسی دبا¶ جیسے اہم مواقع پر اپنا واضح موقف بھی پیش کیا۔

سوڈان اور جمعیت علمائے ہند

 سوڈان

محمد یاسین جہازی

ہندستان کے غلام کی وجہ سے سوڈان بھی غلام ہے

ملک سوڈان کا پہلا تذکرہ جمعیت علمائے ہند کی تاریخ میں ، 7،8،9/ جون1940ئ کو منعقد بارھویں اجلاس عام کے خطبہ¿ صدارت میں ملتا ہے۔ صدر اجلاس حضرت مولانا حسین احمد مدنی صدر جمعیت علمائے ہند تحریر فرماتے ہیں کہ:

(و) مقاماتِ مقدسہ اور دیار عرب، مصر، شام، فلسطین، سوڈان، شمالی لینڈ وغیرہ، جن میں اسلامی Èبادی ہے اور ہندستان کی غلامی کی وجہ سے یہ سب غلامی کی بیڑیوں میں جکڑے گئے ہیں، Èزاد ہوسکیں گے۔

اس کے بعد 4تا7/ مئی 1945ئ کو منعقد ہونے والے چودھویں اجلاس عام کے خطبہ¿ صدارت حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہندلکھتے ہیں کہ: 

(ط) ممالک ترکیہ، مصر، سوڈان، الجیریا، تیونس، لیبیا وغیرہ کے مسلمان تمھاری غلامی کی وجہ سے ہر وقت خطرے میں ہیں ۔جب بھی کوئی موقع ہوتا ہے، ہندستان سے بے شمار فوج، بے شمار رسد، بے شمار ہتھیار لے جاکر کچل دیا جاتا ہے۔

بعد ازاں انیسویں اجلاس عام منعقدہ :27تا/ 29/اکتوبر 1956ئ میں صدر اجلاس حضرت شیخ الاسلام اختتامی خطاب میں فرماتے ہیں کہ:

 یہ ہندستان ہی تھا، جس کی غلامی کی بدولت انگریز بر ما، چین، ملایا، جاوا، سماترا، نیپال، افغانستان، ایران،مصر، افریقہ، عدن ،سوڈان،بحر ابیض کے کناروں پر واقع تمام ممالک پر چھایا ہوا تھا۔

تقریب استقبالیہ عالی القدر الفریق سید ابراہیم عبودصدر جمہوریہ سوڈان 

22/مئی 1964ئ کو جمعیت علمائے ہند کی طرف سے جمہوریہ سوڈان کے صدر جناب سید ابراہیم عبود کا استقبال کیا گیا اور انھیں سپاس نامہ بھی پیش کیا گیا۔ سپاس نامہ میں کہا گیا کہ:

محترم جناب! نہایت مسرت اور خوشی کے جذبات کے ساتھ جمعیت علمائے ہند کا یہ وفد آپ کو آج جمہوریہ ہند کے دارالحکومت میں خوش آمدید کہتا ہے، بطور ایک عظیم رہنما اور جمہوریہ سوڈان کے معزز سربراہ یہ وفد آپ کا خیرمقدم کرتا ہے، کیوںکہ آپ کی ہمارے ملک میں آمد ایک سچے دوست کی آمد ہے، جو ہمارے دونوں عظیم ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات کو فروغ دے گی اور انھیں مزید مضبوط بنائے گی۔

محترم جناب! جیسا کہ آپ بخوبی واقف ہیں، ہماری اس سرزمین پر آج 46/کروڑ انسان آباد ہیں۔ یہ لوگ، جو مختلف مذاہب کے ماننے والے ہیں، چند سال پہلے تک غیر ملکی حکمرانی کے خلاف آزادی کی جدوجہد میں شانہ بشانہ شریک رہے، اور آج اپنی مادرِ وطن کی تعمیر نو، بہتری اور وقار کے لیے مل کر کوشاں ہیں۔ خوش قسمتی سے ان کی قیادت ان کے محبوب، روشن خیال اور انسان دوست رہنما پنڈت جواہر لال نہرو کے ہاتھوں میں ہے، جنھوں نے دنیا کے چاروں کونوں سے ستائش حاصل کی ہے۔

محترم جناب! جمعیت علمائے ہندõ جو اس وقت آپ کا استقبال کرنے کی اپنی سب سے اہم ذمہ داری انجام دے رہی ہےõ ایک تاریخی اہمیت کی حامل تنظیم ہے، جو ہندستان کے پچاس ملین مسلمانوں کی نمائندگی کرتی ہے، اور اسلام کی تعلیمات کو اپنا رہنما بنا کر اسلام اور وطنِ عزیز کی خدمت میں مصروف ہے۔ شاہ ولی اللہ کے زمانے سے دہلی کے محدثین کے دور سے لے کر آج تک، جمعیت کی قیادت ہمیشہ غیر متزلزل ایمان اور گہرے قومی جذبات سے مضبوط رہی ہے۔ گزشتہ نصف صدی کے دوران اس کی قیادت ایسی عظیم اور باوقار شخصیات کے ہاتھوں میں رہی جیسے شیخ الہند مولانا محمودحسن، (مالٹا کے اسیر)، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، (مالٹا کے اسیر)، مفتی اعظم مولانا کفایت اللہ، امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد،سحبان الہندمولانا احمد سعیداور مجاہدِ ملت مولانا حفظ الرحمان،جن کی قیادت میں جمعیت علمائے ہند نے تحریکِ آزادی میں عظیم قربانیاں پیش کیں۔

جمعیت علمائے ہند کے ہزاروں ارکان نے سامراجی ظلم و ستم کے ہاتھوں شہادت کا تاج پہنا، جلاوطن کیے گئے، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور اپنی جائیدادوں سے محروم ہوئے؛ لیکن وہ ان کٹھن حالات میں بھی اپنے عزم پر ثابت قدم رہے اور اپنے آپ کو اس نبوی ارشاد کا عملی نمونہ ثابت کیا کہ ’’سب سے افضل جہاد ظالم حکمراں کے سامنے کلمہ¿ حق کہنا ہے۔‘‘

اسی جرأت اور حوصلے کے ساتھ جس کے تحت جمعیت نے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا، آج بھی یہ تنظیم ملک کی تعمیر نو میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے اور ہندستان کے جمہوری و سیکولر آئین کے تحت گزشتہ ہزار سالہ اسلامی ورثے کے تحفظ کی ذمہ داری نبھا رہی ہے۔

محترم جناب! اگرچہ تقسیم ہند کے بعد اس تنظیم کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اللہ پر ایمان کے ساتھ یہ ہر مشکل کا بہادری سے مقابلہ کر رہی ہے اور اپنے مخصوص اعتماد کے ساتھ ہندستانی مسلمانوں کے روشن مستقبل کے لیے اپنی محبوب مادرِ وطن میں کوشاں ہے۔

محترم جناب! اختتام پر ہم اپنی جانب سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور آپ کے توسط سے جمہوریہ سوڈان کے عوام کے لیے اپنی مخلصانہ اور پرخلوص نیک تمنا¶ں کا اظہار کرتے ہیں۔ ہمیں یہ اعزاز حاصل ہوا اور بے حد خوشی ہوئی کہ ہمیں سوڈان کے ممتاز ترین رہنما سے ملاقات کا موقع ملا۔

ہمیں اس بات پر بھی خوشی ہے کہ تحریک آزادی کے عظیم رہنما ڈاکٹر شوکت اللہ انصاریõ جو ہماری جماعت سے وابستہ رہے ہیںõ اس وقت جمہوریہ ہند کے سفیر کی حیثیت سے سوڈان میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی گہری سیاسی بصیرت اور فہم و فراست ہی کا نتیجہ ہے کہ آج ہندستان اور سوڈان کے درمیان گہری دوستی قائم ہے اور باہمی خوشگوار تعلقات مزید فروغ پا رہے ہیں۔

جمہوریہ ہند اور جمہوریہ سوڈان کے درمیان خوشگوار تعلقات ہمیشہ قائم رہیں۔

ہم جمعیت علمائے ہند کے وفد کے ارکان کی حیثیت سے آپ کے مخلص خیر خواہ ہیں۔

(ریکارڈروم)

خرطوم عرب سربراہ کانفرنس سے جمعیت علمائے ہند کی اپیل

29 /اگست سے یکم ستمبر1967ئ تک سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں عرب لیگ کا چوتھا سربراہ اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اجلاس5تا10/جون 1967ئ کی عربõاسرائیل جنگ (چھ روزہ جنگ) میں عرب ممالک کی شکست کے بعد بلایا گیا، تاکہ آئندہ مشترکہ حکمتِ عملی طے کی جا سکے۔

اس اجلاس میں عرب ممالک نے باہمی اتحاد اور مشترکہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا عزم کیا۔اسرائیل کے قبضے میں جانے والے عرب علاقوں کی واپسی کے لیے مشترکہ سیاسی اور سفارتی کوششوں پر اتفاق کیا گیا۔اسرائیل کے بارے میں مشہور ’’خرطوم کی تین نفیاں (Three No's ) منظور کی گئیں:اسرائیل کے ساتھ صلح نہیں۔اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔اسرائیل کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

مصر اور اردن جیسے جنگ سے متأثرہ عرب ممالک کی مالی و اقتصادی امداد کا فیصلہ کیا گیا، جس کے لیے بالخصوص سعودی عرب، کویت اور لیبیا نے مالی تعاون کی ذمہ داری قبول کی۔

یہ اجلاس عربõاسرائیل تنازع کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا، اور اس کے فیصلوں نے کئی برس تک عرب ممالک کی مشترکہ پالیسی کی بنیاد فراہم کی۔

23،24/ ستمبر1967ئ کو مجلس منتظمہ کے اجلاس کی تجویز نمبر(۹) میں اس اجلاس سے اپیل کی گئی کہ: 

جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس خرطوم (سوڈان )میں عرب سربراہوں کی حالیہ کا نفرنس کو عرب اتحاد کے لیے خوش آئند تصور کرتا ہے اور عرب ملکوں سے پر زور اپیل کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کے ناجائز وجود کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے واسطے پورے طور پر متحد ہوجائیں اور خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے وسائل اور اپنی توانائیوں کو جارحیت کے تمام نقوش ختم کرنے میں لگا دیں۔

سفرائے عرب کو دعوت افطار

23/ نومبر1969ئ کو جمعیت علمائے ہندنے دفتر جمعیت نئی دہلی میں سفرائے عرب کو افطار پر مدعو کیا۔ اس میں سفیرمتحدہ عرب جمہوریہ عزت مآب جناب امین حلمی، سفیر شام عمر ابو ریشہ، سفیر سعودی عرب شیخ انس یوسف یاسین، سفیر مراکش عبد اللہ عمران، سبراہ عرب لیگ نزار القاضی، اردن کے ناظم امور ڈاکٹر خالد رشیدات، سفیر سوڈان امین مجذوب عبدون کے علاوہ حکومت ہند کے وزیر صنعتی ترقیات جناب فخر الدین علی احمد اور کئی مسلم ممبران پارلیمنٹ شریک ہوئے۔

 (روزنامہ الجمعیۃ،25/ نومبر1969ئ)

آبادی و ترقی کانفرنس کی ملامت اور سوڈان کے موقف کی تائید

اقوام متحدہ کے زیر اہتمام آبادی و ترقی کی بین الاقوامی کانفرنس از5تا 13/ستمبر1994ئ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہوئی، جس میں179/ممالک نے شرکت کی۔ اس کانفرنس نے آبادی کے مسئلے کو انفرادی ضروریات اور انسانی حقوق کے تناظر میں دیکھا۔ خواتین کو بااختیار بنانے اور صنفی مساوات کو ترقی کی کلید قرار دیا۔ تولیدی صحت اور حقوق کو عالمی طور پر تسلیم کیا۔ پائیدار ترقی پر زور دیا، خاندان کو معاشرے کا بنیادی ستون کہا اور ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی امداد بڑھانے کا مطالبہ کیا۔

اس کانفرنس نے آبادی اور ترقی کے حوالے سے عالمی سوچ کو انسانی حقوق اور پائیداری کی طرف موڑ دیا۔

اس کے بعد 23/ اکتوبر1994ئ کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، جس کی تجویز نمبر(۲) میں اس کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیاکہ

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس محسوس کرتا ہے کہ اقوام متحدہ õجو ایک بین الاقوامی ادارہ ہےõ مغرب کا خالص نمائندہ بن کر رہ گیا ہے۔ بوسنیا کے مظلوم اور بے سہارا لاکھوں مسلمانوں کی تباہی و بربادی کے باوجود اقوام متحدہ صرف طفلی تسلیاں دیتی رہی، جس سے اس کی غیر جانب داری کی مبینہ پالیسی کی حقیقت پہلے ہی بے نقاب ہوگئی تھی۔ ادھر گزشتہ 5سے 13/ ستمبر(1994ئ) تک اس کی زیر نگرانی مصر میں منعقد ’’بین الاقوامی آبادی و ترقی کانفرنس‘‘ نے تو اس کی مغرب نوازی اور اسلام دشمنی کو بالکل ہی عالم آشکارا کردیا۔’’ جنسی و تناسلی صحت‘‘ کے مبہم الفاظ کے پردہ میں مشرقی تہذیب و اسلامی معاشرت پر براہ راست حملہ صاف بتارہا ہے کہ یہ نام نہاد بین الاقوامی ادارہ یوروپ کے اشارے پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کیا کچھ نہیں کرسکتا۔ اس کانفرنس کی بیشتر قراردادیں مظہر ہیں کہ مغرب کی انسانیت کش وحشیانہ تہذیب کو مشرق پر لادنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ 

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس اقوام متحدہ کی اس اسلام دشمن پالیسی کی پرزور مذمت اور اس کے اس مجرمانہ رویہ پر سخت نفرت کا اظہار کرتا ہے۔

مصر جو ایک طویل عرصہ تک عالم اسلام کی ذہنی و فکری بالیدگی میں اہم کردار ادا کرچکا ہے، اسلامی علوم و فنون کی نشرو اشاعت میں جس کے علما کا ایک نمایاں مقام رہا ہے، افسوس صد افسوس کہ وہی مصر آج اسلام کی بنیادوں کو متزلزل کرنے کے لیے مغربی طاقتوں کا آلہ¿ کار بنا ہوا ہے۔ حکومت مصر کی یہ ناعاقبت اندیشی باعث تشویش اور قابل مذمت ہے۔ 

مجلس عاملہ کا یہ اجلاس رابطہ¿ عالم اسلامی ، جامعہ ازہر اور مجمع الفقہ الاسلامی کے اس اقدام کو بہ نظر استحسان دیکھتا ہے کہ انھوں نے اقوام متحدہ کے بچھائے ہوئے اس دام صد رنگ سے بر وقت عالم اسلام کو متنبہ کرکے اسلام کی عظیم تر خدمت انجام دی ہے۔ جمعیت علمائے ہند ان اداروں کو اپنا ہر طرح کا تعاون پیش کرتی ہے  اور اس مسئلہ میں ان کے فیصلہ کی مکمل تائید کرتی ہے، نیز مملکت سعودیہ عربیہ ، جمہوریہ¿ عراق، سوڈان اور لبنان نے اسلام مخالف اس کانفرنس کا مقاطعہ کرکے جس اولو العزمی اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ لائق صد مبارک باد اور قابل تقلید ہے۔ آئندہ اس قسم کے مواقع پر دیگر مسلم ملکوں کو بھی اسی عزیمت پسند حکمت عملی کو اختیار کرکے اپنی اسلامی حمیت کا ثبوت دینا چاہیے۔

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد چہارم، ص/

سوڈان پر امریکی پابندی 

عراقی صدر صدام حسین کے خصوصی ایلچی اور عراقی قومی کونسل کے چیرمین ڈاکٹر سعدوون حمادی نے26/مئی 1998ئ کو جمعیت علمائے ہند کے صدر دفتر میںانھی کے لیے منعقد تقریب استقبالیہ میں خطاب کرتے ہوئے امریکی مظالم پر شدید نکتہ چینی کی اور کہا کہ عراق، لیبیا اور سوڈان پر پابندیاں عائد کر کے اس نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی مسلم ملک کو ابھرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔(ہفت روزہ الجمعیۃ،12-18 / جون 1998ئ

سوڈان پر امریکی بم باری بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی 

20/اگست1998ئ کو امریکہ نے سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کے قریب واقع ’’الشفائ‘‘ دواسازی کی فیکٹری پر بم باری کی۔ یہ حملہ ’’آپریشن انفینیٹ ریچ‘‘ کے تحت کیا گیا، جس کا مقصد7/اگست1998ئ کو کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر ہونے والے بم دھماکوں کا جواب دینا تھا، جن کا الزام امریکہ نے اسامہ بن لادن پر لگایا۔ امریکہ کا موقف تھا کہ یہ فیکٹری بن لادن کے نیٹ ورک کو کیمیائی ہتھیار فراہم کر رہی تھی، تاہم بعد میں شدید تنقید ہوئی اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ فیکٹری محض ادویات تیار کرتی تھی اور حملے کی معلومات مبینہ طور پر غلط تھیں، جس نے اس اقدام کو بین الاقوامی سطح پر متنازع بنا دیا۔

4/ستمبر1998ئ کوجاری ایک پریس بیان میںجمعیت علمائے ہند سوڈان پر ہوئے ان  امریکی حملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقومی قانون کی خلاف ورزی اور کھلی جارحیت قرار دیا۔ جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا اسعد مدنی نےõ جو اس وقت افریقی و مغربی ممالک کے دعوتی و تبلیغی دورے پر ہیںõنے کہا کہ کسی بھی آزاد اور خود مختار ملک پر حملہ، اس کے اقتدار اعلیٰ اور خود مختاری کی توہین اور قانون و آئیمن کے بجائے اپنی طاقت کا ناجائز استعمال ہے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ جمہوری دور میں امریکی اقدام ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کی شرم ناک مثال ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ مغربی ممالک کے عوام کا عمومی تأثر ہے کہ ایسے وقت میں افغانستان اور سوڈان پر بم باری کرنا، جب کہ امریکی صدر مختلف طرح کے جنسی معاملے میں پھنسے ہوئے ہیں اور مقبولیت میں تیزی سے کمی آر ہی ہے ،سے توجہ ہٹانے کی مذموم کوشش ہے۔ 

مولانا مدنی نے کہا کہ امریکہ پولیس مین کا رول ادا کر رہا ہے، اور ہر ملک میں اپنی پسند کا اور مفاد کے مطابق نظام حکومت رائج کرنا چاہتا ہے۔ اس نے عمدا سرب ظالموں کے ہاتھوں بوسنیائی عوام کا قتل عام کرایا۔ ترکی اور الجزائر میں جمہوریت کشی اور اسرائیل کے جابرانہ عمل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ صدر جمعیت نے زور دے کر کہا کہ سوڈان اور افغانستان میں امریکہ نے جو مذموم بم باری کی ہے، وہ دہشت گردی کے نام پر مختلف ممالک میں جاری تحریک حریت اور مجاہدین کو دبانے کی منصوبہ بند کوششوں کا ایک حصہ ہے۔ مولانا مدنی نے مزید کہا کہ دہشت گردی بہرحال غلط اور قابل نفرت و مذمت ہے، چاہے عوامی سطح پر ہو، یا حکومتی سطح پر اور امریکہ نے جوکچھ لیبیا،سوڈان اور افغانستان میں کیا ہے، وہ بھی دہشت گردی ہے۔ اگر افغانستان سوڈان میں دہشت گرد ہیں، تو اس سلسلے میں وہاں کی حکومت اور بر سراقتدار گروپ سے بات چیت کرنی چاہیے۔ اس طرح کے معاملات سے نمٹنے کے لیے بین الا قوامی قانون موجود ہے۔ مولانا مدنی نے متنبہ کیا کہ اگر دنیا کے خود مختار ممالک نے امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کے غلط اقدامات کا متحدہو کر مقابلہ نہیں کیا، تو دیگر ممالک کے اقتدار اعلیٰ اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے سنگین مسائل پیدا ہو جائیں گے۔

 مولانا مدنی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نماز میں قنوت نازلہ کا اہتمام کریں۔

 (ہفت روزہ الجمعیۃ،4-10/ستمبر1998ئ)

سال و ہجری آغاز تقریب کا انعقاد

جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام میرڈین ہوٹل میں اسلامی سال کے Èغاز اور سنہ ہجری کے تعلق سے 28/مارچ 2001ئ کو ایک پرقار تقریب منعقد ہوئی۔

 اس تقریب میں سعودی عرب، مصر، ایران، عراق، سوڈان، لبیا، ملیشیا وغیرہ بیرون ممالک کے سفیروں، کونسلروں اور نمائندوں کے علاوہ ملک کی دیگر بہت سی دینی اور سیاسی مؤقر و مقتدر شخصیات شریک ہوئیں۔ شرکا میں سے منموہن سنگھ، غلام نبی Èزاد، م افضل، جسٹس قریشی، عزیز برنی، ڈی Èر گوئل، ڈاکٹر سیّد فاروق احمدکے اسما خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔

 مصر اور سوڈان کے سفیر نے اپنے ملک اور اپنی طرف سے جمعیت علمائے ہند کو اس کے لیے مبارک باد دی کہ اس نے اس مبارک تقریب کا انعقاد کیا۔

(ہفت روزہ الجمعیۃ،6-12/ اپریل2001ئ)

امریکہ سوڈان وغیرہ ممالک میں انصاف کا تقاضا پورا کرے

مجلس عاملہ منعقدہ: 27،28/ ستمبر2001ئ کی ایک طویل تجویز نمبر(۱) میں دہشت گردی کی سخت مذمت کی گئی ۔ اسی تجویز کے ایک پیراگراف میں کہا گیا کہ:

مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس امریکہ سمیت عالمی برادری سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اسرائیل ، فلسطین، چیچنیا، سوڈان، عراق اور دیگر مقہور ممالک کے سلسلے میں انسانیت و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے اور فرقے ، مذہب کی بنیاد پر دہشت گردی کی الگ الگ تعریف نہ کرے۔ دہشت گردی، دہشت گردی ہے ، چاہے وہ کوئی فرد کرے یا تنظیم یا سرکار کرے۔

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد چہارم، ص/

عید ملن تقریب سفیر سوڈان کی شرکت

 لی میریڈین ہوٹل میں 29/نومبر2003ئ کو عید ملن کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں سیاسی، سماجی شخصیتوں اور مختلف ممالک کے سفرا اور قونصلروں نے شرکت کی۔ تقریب کا افتتاح کرتے ہوئے جمعیت علمائے ہند کے صدر محترم امیر الہند حضرت مولانا سیّد اسعد مدنی دامت برکاتہم نے عید کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے انسانی مساوات اور باہمی محبت و رواداری کی سماجی اہمیت کو اجاگر کیا۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جناب احمدی، مذاکرات کار جرمنی برائے عالم اسلام ڈاکٹر سوگر ملک، سفیر سوڈان اور دیگر حضرات نے بھی عید مبارک کے تعلق سے انسانی رشتوں پر اظہارِ خیال کیا۔ (ہفت روزہ الجمعیۃ،12-18/ دسمبر2003ئ)

سوڈانی صدر کو عالمی عدالت میں مجرم بنانے کی کوشش

14/جولائی2008ئ کو ICC پراسیکیوٹر نے دارفور کے جرائم پر عمر البشیر کی گرفتاری کی درخواست دائر کی۔4/مارچ2009ئ کو پہلا وارنٹ اور12/جولائی2010ئ کو دوسرا وارنٹ (نسل کشی سمیت) جاری ہوا۔ بعد ازاں 14/دسمبر2019ئ کو سوڈان کی عدالت نے کرپشن میں دو سال بحالی مرکز کی سزا سنائی۔

9/ نومبر2008ئ کو منعقد انتیسویں اجلاس عام کے خطبہ¿ صدارت میں حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری صدر جمعیت علمائے ہندنے سوڈان کے ان حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایاکہ:  

 سوڈانی صدر کو عالمی عدالت سے مجرم قرار دلانے کے علاوہ وہاں صیہونی طاقتوں کے توسط سے باغیوں کو مسلح کرکے ملک میں انتشار اور بدامنی پھیلانے کی کوششوں سے امریکہ اور اس کے حلیفوں کا مقصد بالکل واضح ہوگیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک؛ خصوصاً مسلم ممالک کو اُبھرنے کا موقع کسی قیمت پر نہ دیاجائے اور ان کے معدنیاتی ذخائر اور قدرتی وسائل کا استعمال اپنے لیے کرنے کا ہر وہ طریقہ اپنایا جارہا ہے، جس کی آج کی جمہوری اور مہذب دور میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ترقی پذیر ممالک اور جو ناوابستہ تحریک سے جڑے ہوئے ہیں اور وہ تمام امن پسند ممالکõجو امن وترقی کے خواہاں ہیںõ امریکہ اور اس کے حلیفوں کی جارحیت کا مقابلہ متحدہ طور پر کرنے کے لیے آگے آئیں۔

سوڈان پر عائد پابندیوں سے معاشی حالت خراب ہے

بعد ازاں 16/ مئی 2015ئ کو بتیسواں اجلاسِ عام ہوا۔ اس کے صدارتی خطاب میں  حضرت مولانا قاری سیّد محمد عثمان صاحب منصورپوری صدر جمعیت علمائے ہند نے فرمایاکہ: 

 گرچہ سوڈان میں بظاہر پہلے کی سی بحرانی کیفیت نظر نہیں آرہی ہے، وہاں کے حالیہ انتخابات میں عمر البشیر پھر اقتدا رمیں آگئے ہیں،لیکن داخلی و خارجی کشمکش جاری ہے ۔ چوں کہ انتخاب میں کوئی مضبوط اپوزیشن پارٹی تھی اور نہ کوئی لیڈر،اس کے باوجود کہ عمر البشیر نے یورپی یونین اور مغربی ممالک کوکسی حد تک مطمئن کردیا ہے اور عرب ممالک خصوصا سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔تاہم سوڈان پر عائد پابندیوں کے سبب ملک کی اقتصادی حالت اب بھی خراب ہے،دوسری طرف سیاسی محاذ اورمسلح جدوجہد کا محاذابھی بھی قائم ہے ۔ جنوبی کردفان میں انتخابات نہیں ہوئے ہیں اور وہاں سوڈان پیپلز لیبریشن آرمی نارتھ کا قبضہ ہے،ایسی صورت حال میں کشمکش کے حالات بنے ہوئے ہیں۔

بعد ازاں اس اجلاس کی تجویز نمبر(۵۱) عالم اسلام کے مسائل پر اپنے موقف کو اظہار کرتے ہوئے سوڈان کے متعلق کہا گیا کہ:

سوڈان میں بظاہر پہلے جیسی بحرانی کیفیت نظر نہیں آرہی ہے ،لیکن سوڈان پرعائد پابندیوں کے سبب ملک کی اقتصادی حالت بہت خراب ہے۔

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص/

خلاصہ

سوڈان کے بارے میں جمعیت علمائے ہند کا موقف: جامع خلاصہ

جمعیت علمائے ہند کی تاریخ میں سوڈان کا پہلا ذکر7تا9/جون1940ئ کے بارھویں اجلاسِ عام کے صدارتی خطبے میں ملتا ہے، جہاں حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے سوڈان سمیت عرب و اسلامی ممالک کی غلامی کو ہندستان کی غلامی سے جوڑا۔ بعد ازاں4تا7/مئی1945ئ کے چودھویں اجلاسِ عام میں بھی انھوں نے مصر، سوڈان، الجزائر، تیونس اور لیبیا کے مسلمانوں کی حالتِ زار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان کی غلامی سے انگریز ان ممالک کو دبانے کے لیے فوج اور وسائل استعمال کرتے ہیں۔ پھر27تا29/اکتوبر1956ئ کے انیسویں اجلاسِ عام میں شیخ الاسلام نے کہا کہ برطانیہ کی عالمی طاقت کا بڑا سبب ہندستان کی غلامی تھی، جس کے ذریعے مصر، سوڈان اور افریقہ کے دیگر علاقوں پر غلبہ قائم رکھا گیا۔

آزادی کے بعد جمعیت نے سوڈان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو بھی اہمیت دی۔22/مئی 1964ئ کو جمعیت علمائے ہند نے نئی دہلی میں جمہوریہ سوڈان کے صدر الفریق سید ابراہیم عبود کا شان دار استقبال کیا اور سپاس نامہ پیش کیا، جس میں ہندستان و سوڈان کی دوستی، نوآبادیاتی جدوجہد اور باہمی تعاون کو سراہا گیا۔

عربõاسرائیل تنازع کے سلسلے میں29/اگست تا یکم ستمبر1967ئ خرطوم (سوڈان) میں عرب لیگ کا چوتھا سربراہ اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اجلاس5تا10/جون1967ئ کی چھ روزہ جنگ میں عرب ممالک کی شکست کے بعد بلایا گیا تھا۔ اس میں عرب اتحاد، مقبوضہ عرب علاقوں کی واپسی اور اسرائیل کے بارے میں مشہور ’’تین نفیاں‘‘ (نہ صلح، نہ تسلیم، نہ مذاکرات) منظور کی گئیں، جب کہ مصر اور اردن کی مالی امداد کا بھی فیصلہ ہوا۔ اس کے بعد23õ24/ستمبر 1967ئ کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ نے ایک قرارداد کے ذریعے عرب ممالک سے مکمل اتحاد کی اپیل کی، تاکہ اسرائیل کے ناجائز قبضے کا مقابلہ کیا جا سکے۔

بعد کے برسوں میں بھی سوڈان جمعیت کی سرگرمیوں میں شامل رہا۔23/نومبر1969ئ کو دفتر جمعیت، نئی دہلی میں سفرائے عرب کے اعزاز میں افطار دی گئی، جس میں سوڈان کے سفیر بھی شریک ہوئے۔

اقوام متحدہ کی بین الاقوامی آبادی و ترقی کانفرنس5 تا13/ستمبر1994ئ قاہرہ (مصر) میں منعقد ہوئی، جس میں179/ممالک شریک ہوئے۔ کانفرنس میں تولیدی صحت، خواتین کے حقوق، صنفی مساوات اور پائیدار ترقی پر زور دیا گیا۔ جمعیت علمائے ہند نے23/اکتوبر 1994ئ کی مجلس عاملہ میں اس کانفرنس کی بعض قراردادوں کو اسلامی معاشرت کے خلاف قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور سعودی عرب، عراق، سوڈان اور لبنان کی طرف سے اس کانفرنس کے بائیکاٹ کی تائید کی۔

امریکہ کی سوڈان پالیسی کے خلاف بھی جمعیت نے واضح موقف اختیار کیا۔26/مئی 1998ئ کو عراقی رہنما سعدون حمادی نے جمعیت کے صدر دفتر میں خطاب کرتے ہوئے عراق، لیبیا اور سوڈان پر امریکی پابندیوں کو مسلم ممالک کے خلاف پالیسی قرار دیا۔ پھر20/اگست 1998ئ کو امریکہ نے خرطوم کے قریب ’’الشفائ‘‘ دوا ساز فیکٹری پر بم باری کی۔ اس کے جواب میں جمعیت نے4/ستمبر1998ئ کے پریس بیان میں اس حملے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور کھلی جارحیت قرار دیا، اور مولانا اسعد مدنیؒ نے اسے طاقت کے ناجائز استعمال کی مثال کہا۔

28/مارچ2001ئ کو اسلامی سالِ ہجری کے آغاز کی تقریب میں سوڈان سمیت کئی مسلم ممالک کے سفرا شریک ہوئے، جب کہ27õ28/ستمبر2001ئ کی مجلس عاملہ نے دہشت گردی کی مذمت کے ساتھ امریکہ سے مطالبہ کیا کہ سوڈان، فلسطین، عراق اور دیگر مظلوم ممالک کے بارے میں انصاف پر مبنی رویہ اختیار کیا جائے۔29/نومبر2003ئ کی عید ملن تقریب میں بھی سوڈان کے سفیر شریک ہوئے۔

دارفور کے بحران کے پس منظر میں14/جولائی2008ئ کو آئی سی سی پراسیکیوٹر نے صدر عمر البشیرکے خلاف درخواست دائر کی،4/مارچ2009ئ کو پہلا اور12/جولائی2010ئ کو دوسرا وارنٹ جاری ہوا۔ اس سے قبل9نومبر/ 2008ئ کے انتیسویں اجلاسِ عام میں مولانا قاری محمد عثمان منصورپوری نے کہا کہ سوڈان کے خلاف عالمی کارروائیاں دراصل مسلم اور ترقی پذیر ممالک کو کمزور رکھنے کی کوشش ہیں۔

آخر میں16/مئی2015ئ کے بتیسویں اجلاسِ عام اور اس کی قرارداد نمبر(۵۱)میں جمعیت نے کہا کہ اگرچہ سوڈان میں پہلے جیسی شدید بحرانی کیفیت نہیں رہی، لیکن بین الاقوامی پابندیوں، سیاسی کشمکش اور مسلح تنازعات کے باعث اس کی معاشی حالت اب بھی خراب ہے، اور عالم اسلام کے مسائل کے ضمن میں سوڈان کے استحکام کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

خلاصہ¿ کلام یہ ہے کہ جمعیت علمائے ہند نے1940 سے2015ئ تک مختلف مواقع پر سوڈان کے مسئلے کو عالمِ اسلام، استعمار مخالف جدوجہد، عرب اتحاد، فلسطین کے دفاع، مغربی دبا¶ کے خلاف مزاحمت اور مسلم ممالک کے حقوق کے تناظر میں دیکھا۔ جمعیت نے ایک طرف سوڈان کی آزادی، خودمختاری اور معاشی استحکام کی حمایت کی، اور دوسری طرف خرطوم کانفرنس، امریکی پابندیوں، آبادی و ترقی کانفرنس، دارفور بحران اور عالمی سیاسی دبا¶ جیسے اہم مواقع پر اپنا واضح موقف بھی پیش کیا۔