راشٹرواد
محمد
یاسین جہازی
ہندو
راشٹر کے حامیوں نے راشٹر کا ایک ایسا نظریہ پیش کیا ہے جس میں ہندو مذہب کے علاوہ
مسلمانوں، عیسائیوں اور دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے لیے قومیت اور وطنیت کے
اعتبار سے مساوی گنجائش نظر نہیں آتی۔ بلکہ اس راشٹرواد کے حامی اپنے علاوہ باقی
سبھی بالخصوص مسلمانوں کو غدار اور دیش دروہی کہنے سے، بلکہ ان کی ماب لنچنگ کرنے
تک سے نہیں چونکتے ۔
ایسی صورتِ حال میں مسلمانوں سمیت تمام غیر
ہندو شہریوں کے لیے یہ ضروری ہوجاتا ہے کہ قومیت، وطنیت اور راشٹر کے بارے میں ان
کے حقیقی اور مستند نظریات کو علمی بنیادوں پر عام کیا جائے، تاکہ غلط فہمیوں کا
ازالہ ہو اور مستقبل میں ان کے حقوق، تشخص اور تحفظ سے متعلق بحث کو درست فکری
بنیاد فراہم کی جاسکے۔
آئیے!
اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے وطنیت، قومیت اور راشٹر کے حوالے سے پائے جانے والے
مختلف نظریات کا مختصر مگر جامع جائزہ لیتے ہیں۔
ہندستانی مسلمانوں کا راشٹرواد
ہندستانی
مسلمان ہندستان کے مول نواسی ہیں کہ نہیں، یہ سوال اپنی بنیاد میں ایک تاریخی سوال
نہیں بلکہ ایک سیاسی فتنہ ہے۔ آزادی کے بعد فرقہ پرست عناصر نے اس سوال کو اس لیے
زندہ کیا تاکہ اپنی ماضی کی غلطیوں پر پردہ ڈال سکے اور ہندستانی جمہوریت کی بنیاد
کو کمزور کرکے ہندو راشٹر کے تصور کو فروغ دے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے ماننے والوں کے لیے یہ سرزمین اتنی ہی
قدیم ہے جتنی خود انسان کی تاریخ۔ مورخ ملت حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب
دیوبندی نے اپنے رسالے "ہمارا وطن اور اس کی فضیلت” میں اور شیخ الاسلام حضرت
مولانا حسین احمد مدنی نے اپنے رسالے "ہمارا ہندستان اور اس کے فضائل” میں
تاریخی حوالوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ دنیا کے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کا
ورود اسی سرزمین پر ہوا۔ اس لیے اس بحث کو ان دونوں کتابوں کے حوالے کرکے ہم اصل
موضوع پر آگے بڑھتے ہیں ۔
دیگر مذاہب کے برعکس اسلام میں راشٹرواد کے متعلق واضح حکم موجود
ہے ۔ وطن سے محبت اور اس کا تحفظ دونوں ہی شرعی حکم ہیں ۔ ایک مسلمان اس کے خلاف
جاہی نہیں سکتا۔
(1 )ہندستان کا دارالاسلام سے داراالحرب بن جانا
یہی
وجہ ہے کہ سن 1806 میں دہلی پر قبضے کے بعد انگریزوں نے شاہ عالم کو برائے نام تخت
پر بٹھا کر یہ اعلان کیا کہ ملک بادشاہ کا اور حکم انگریز بہادر کا،تو اس ظاہری
تقسیم کی وجہ سے اگرچہ بعض علما کو یہ گمان ہوا کہ ہندستان اب بھی دارالاسلام ہے۔
لیکن شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے ہجرت اور ترک وطن کا مشورہ دینے کے بجائے
انیسویں صدی کی پہلی دہائی میں، جب کہ تخت پر شاہ عالم ثانی متمکن تھے، 1808 یا
1809ء میں ہندستان کو دارالحرب قرار دیتے ہوئے انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ
دیا۔ اس فتویٰ کا متن ’’فتاویٰ عزیزی‘‘ جلد اول، صفحات 16-17 میں موجود ہے۔
(2)جہادی آزادی ہند کا دوسرا فتویٰ
اسی طرح دوسرا فتویٰ جہاد شاملی کے عنوان سے مشہور ہے، جو اسی تحفظ
وطن اور دفاع وطن کا تسلسل ہے ۔اس استفتا میں کہا گیا کہ جب انگریز دلی پر چڑھ آئے
اور اہل اسلام کی جان و مال کا ارادہ رکھتے ہوں تو جہاد فرض ہے یا نہیں۔ اس کے
جواب میں مفتی صدر الدین، مولانا نذیر حسین اور دیگر سمیت پینتیس علما نے دستخط
کرکے فتویٰ دیا کہ اس شہر والوں پر جہاد فرض عین ہے اور اطراف والوں پر فرض کفایہ۔
یہ فتویٰ پہلے اخبار الظفر دہلی میں شائع ہوا اور پھر 26 جولائی 1857 کی اشاعت میں
صادق الاخبار نے اسے نقل کیا۔
اسی فتوے کی بنیاد پر 14 ستمبر 1857 کو شاملی اور تھانہ بھون کی
لڑائی لڑی گئی۔ اس جنگ کی ناکامی کے بعد علما پر بے پناہ مظالم ہوئے اور انھیں
مجبوراً گوشہ نشینی اختیار کرنی پڑی۔
قصہ مختصر یہ کہ ان دونوں فتاوے کے تناظر میں اسلام کے راشٹرواد کے
نظریہ کو سمجھا جاسکتا ہے کہ ترک وطن اور غلامی پر قناعت کے بجائے وطن کی حفاظت
مسلمانوں کا مذہبی و شرعی فریضہ ہے۔
(3) ہندستان
کو آزاد کرانے کے لیے متحدہ قومیت کی راہ اختیار کرنا
1857ء کی جنگِ آزادی کی شکست سے اکابر دیوبند
نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ:
(1) تربیت یافتہ فوج، (2)جدید ہتھیاروں سے لیس، اور
(3) ہندستان سے انگلستان تک منظم حکومت کا
(1)غیر تربیت یافتہ عام ہندستانی عوام،
(2) گھریلو ہتھیاروں اور (3)منتشر قیادت کے ذریعے مقابلہ نہیں کیا
جاسکتا، اس لیےاکابر دیوبند نے میدانِ رزم کے بجائے میدانِ بزم برپا کرنے کے مقصد
سے 30/ مئی 1866ء کو دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی۔ جس کے سرخیل حجۃ الاسلام
حضرت مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ تھے۔
اس
کے بالمقابل سر سید احمد خان نے مسلمانوں کی نجات کا راستہ جدید تعلیم اور انگریزی
حکومت سے مفاہمت میں تلاش کیا۔ یکم نومبر 1858ء کے ملکہ وکٹوریہ کے اعلانِ عام
معافی کے بعد وہ مسلمانوں کے تعلیمی رہنما بن کر ابھرے، جس کے لیے 24/ مئی 1875ءکو
علی گڑھ میں مدرسۃ العلوم قائم کیا۔ جو بعد میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی بنی۔ ان
کا خیال تھا کہ موجودہ حالات میں انگریزوں سے تصادم مسلمانوں کے مفاد میں نہیں۔
بعد میں جب 28/ دسمبر 1885ء کو بمبئی میں اے او ہیوم کی کوششوں سے انڈین نیشنل
کانگریس قائم ہوئی اور ہندو مسلم سب کے لیے مشترکہ سیاسی پلیٹ فارم سامنے آیا، تو
سر سید نے اس کی مخالفت شروع کردی۔
18 ؍دسمبر 1887ء کو لکھنؤ میں سر سید نے ایک تقریر
میں کہا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں، اگر انگریز چلے گئے تو تخت پر دونوں
نہیں بیٹھ سکتے۔ انتخابی حکومت میں ہندو ہندو کو اور مسلمان مسلمان کو ووٹ دیں گے
تو تین چوتھائی اکثریت ہندوؤں کی ہوگی اور مسلمان دائمی غلام بن جائیں گے۔ اس لیے
مسلمانوں کو کانگریس میں شریک نہیں ہونا چاہیے اور انگریزی حکومت پر بھروسہ کرنا
چاہیے۔
1888ء میں پرنسپل بیک اور دوسرے انگریز رفقا
کے تعاون سے کانگریس کی مخالفت میں انڈین پیٹریاٹک ایسوسی ایشن قائم ہوئی، اور سر
سید اس کے نمایاں حامی بنے۔
اس سیاسی موقف کے جواب میں علمائے حق نے کانگریس کے ساتھ تعاون کا
راستہ اختیار کیا۔ حضرات علمائے لدھیانہ اور مولانا رشید احمد گنگوہی نے واضح کیا
کہ ہندوؤں کے ساتھ دینی نہیں بلکہ مشترک دنیاوی اور ملکی مفاد کے لیے بلا ضرر
تعاون جائز ہے۔ رسالہ ’’نصرۃ الابرار‘‘ میں یہ سب فتاویٰ موجود ہیں، جن میں کانگریس
کے ایسے مقاصد، جو ہندو مسلم سب کے دنیاوی مفاد سے متعلق ہوں، میں شرکت کی گنجائش
بیان کی گئی ہے۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن نے بھی 11 دسمبر 1888ء کو اس کی تائید
کی۔
علمائے
دیوبند کے اس موقف کی بنیاد یہ تھی کہ 1857ء کے بعد مسلمانوں کی فوجی اور سیاسی قوت
باقی نہیں رہی تھی؛ اس لیے الگ اقتدار، یا دارالاسلام کے قیام کی کوشش کے بجائے
ہندستان کے تمام باشندوں کو متحد کرکے انگریزی اقتدار کے خلاف مشترکہ جدوجہد ہی
آزادی حاصل کرنے کا قابلِ عمل راستہ تھا۔ اسی فکر نے آگے چل کر متحدہ قومیت اور
مشترکہ آزادی کی تحریک کی راہ ہموار کی ۔
متحدہ قومیت کے خلاف فرقہ پرستانہ ذہنیت کے فروغ کے لیے برطانوی
حکومت ہند کی سازشیں
تقسیم کرو اور حکومت کرو: مسلم
لیگ اور ہندو مہاسبھا ا قیام
جیسا
کہ عرض کیا گیا کہ علمائے دیوبند نے سرسید احمد خان کی اس سیاسی فکر کی مخالفت کی
جس کے تحت مسلمانوں کو کانگریس سے الگ رہنے کی تلقین کی جا رہی تھی، اور اس کے
برعکس متحدہ قومیت کی بنیاد پر ہندو مسلم اتحاد اور کانگریس کے ساتھ مشترکہ جدوجہد
کی حمایت کی۔ جب ہندستانی عوام متحد ہوکر انگریزی اقتدار کے مقابل آنے لگے تو
برطانوی حکومت کو یہ اندیشہ پیدا ہوا کہ اگر یہ اتحاد مضبوط ہوگیا تو ہندوستان پر
اس کی حکومت باقی نہیں رہے گی۔ چنانچہ ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کے
تحت مذہبی بنیادوں پر سیاسی اختلافات کو ہوا دینے کا سلسلہ شروع کیا۔
اسی سیاسی پس منظر میں 1906 میں آل انڈیا مسلم لیگ کا قیام عمل میں
آیا۔ سید طفیل احمد منگلوری اپنی کتاب ’’روشن مستقبل‘‘ میں لکھتے ہیں کہ تقسیمِ
بنگال کی تیاریوں کے ساتھ ہی کونسلوں میں حقوق دینے کا ڈھونگ رچایا جا رہا تھا۔
وائسرائے کے پرائیویٹ سکریٹری کرنل ڈنلپ اسمتھ نے ایک مضمون تیار کرکے پرنسپل آرچ
بولڈ کو دیا، جسے آرچ بولڈ نے 6 جولائی 1906 کو نواب محسن الملک کے پاس بھیجا۔ اس
کے بعد نواب محسن الملک نے وائسرائے سے ملاقات کے لیے وفد مرتب کیا۔ یکم اکتوبر
1906 کو آغا خان کی قیادت میں یہ وفد شملہ میں وائسرائے منٹو سے ملا اور مسلمانوں
کے لیے جداگانہ سیاسی نمائندگی کا مطالبہ پیش کیا۔
بالآخر 30 دسمبر 1906 کو ڈھاکہ میں نواب وقار الملک کی صدارت میں
آل انڈیا مسلم لیگ قائم ہوئی۔ اس کے ابتدائی مقاصد میں مسلمانوں کے سیاسی حقوق و
مفادات کا تحفظ اور فروغ، حکومت کے ساتھ وفاداری پیدا کرنا اور مسلمانوں کے درمیان
حکومت کے متعلق پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کو دور کرنا شامل تھا۔
جب مسلم لیگ کے قیام کی خبر انگلستان پہنچی تو وہاں خوشی منائی گئی
کہ اب ہندستان میں صلح نہ رہے گی۔
بالکل اسی طرز پر اور اسی مقصد کے تحت ہندوؤں میں بھی 1900ء میں
مہاراجہ دربھنگہ رامیشور سنگھ کی قیادت میں بھارت دھرم مہامَنڈل قائم ہوا، جو بعد
میں ہندو مہاسبھا میں تبدیل ہوگیا۔
اسی تسلسل میں وینایک دامودر ساورکر نے 1923ء میں اپنی کتاب Essentials of Hindutva، جسے Hindutva: Who Is a Hindu? کے
نام سے بھی شائع کیا گیا، میں ’’ہندو راشٹر‘‘ کاتصور پیش کیا۔ بعد ازاں ایم۔ ایس۔
گولوالکر نے 1939ء میں اپنی کتاب We, or Our Nationhood
Defined میں ہندو قومیت کے اس تصور کو مزید منظم اور تفصیلی شکل دی، جسے آر
ایس ایس والے ہندو راشٹر کا نعرہ دے کر آگے بڑھا رہے ہیں۔
مسلم لیگ کے قیام کے بعد جداگانہ نمائندگی کا مطالبہ ہندستانی
سیاست کا مستقل مسئلہ بن گیا اور 1909 کی منٹو مارلے اصلاحات میں مسلمانوں کے لیے
جداگانہ انتخاب تسلیم کرلیا گیا۔
مسلم لیگ کا پہلا مسلم مخالف کارنامہ 1916 میں سامنے آیا جب
کانگریس اور مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس لکھنؤ میں ہوئے۔ 29 دسمبر کو کانگریس نے اور
31 دسمبر کو جناح کی صدارت میں مسلم لیگ نے میثاق لکھنؤ منظور کیا جس میں پہلی بار
فرقہ وارانہ بنیاد پر جداگانہ انتخاب اور مخصوص نمائندگی تسلیم کی گئی، پنجاب میں
پچاس فیصد اور بنگال میں چالیس فیصد حالانکہ وہاں مسلمان اکثریت میں تھے۔ سید طفیل
احمد لکھتے ہیں کہ یہ آئین امن عامہ کے لیے مہلک ثابت ہوا۔ اسی تسلسل میں 1930 میں
ڈسٹرکٹ جج میرٹھ مسٹر پوڈن کا یہ خفیہ خط منظر عام پر ایا جس میں انگریزوں کو
زیادہ دنوں تک بھارت میں ٹکے رہنے کے لیے تقسیم ہند کا نظریہ پیش کیا گیا تھا۔بعد
ازاں چودھری رحمت علی نے 28 جنوری 1933 کو برطانیہ کے شہر کیمبرج سے اپنا مشہور
پمفلٹ “Now or Never; Are We to Live or Perish
Forever?” شائع کیا، جس میں پہلی مرتبہ ’’پاکستان‘‘ کے نام سے الگ مسلم ریاست
کا مطالبہ پیش کیا گیا، بالآخر 22 اور 23 مارچ 1940 کو قرارداد لاہور منظور ہوئی۔
جو بعد میں تشکیل پاکستان کا سبب بنا۔
اس طرح انگریز اپنے مقصد میں کامیاب ہو گیا لیکن انھی ادوار میں
مسلمانوں کی ایک بڑی تنظیم وجود میں آئی، جس نے قومی زندگی کی ہر شاہراہ پر قومیت
متحدہ، راشٹرواد اور ہندستان کو متحد رکھنے کی آخری دم تک کوشش کرتی رہی۔ اور
اسلامی مملکت اور ہندو راشٹر دونوں کی مخالفت کرتی رہی۔وہ کوششیں کیا ہیں ائیے
سطور ذیل میں ملاحظہ کرتے ہیں۔
جمعیت علمائے ہند کے قیام کا پس
منظر اور ایک راشٹرواد کا نظریہ
28 جولائی 1914ء تا 11 نومبر 1918ء ہونے
والی پہلی جنگِ عظیم کے دوران فوجی اور مالی تعاون کے بدلے برطانیہ نے ہندستانیوں
سے سوراج اور خود اختیاری کا وعدہ کیا، عالمِ اسلام کے مسلمانوں کو خلافتِ عثمانیہ
کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی اور یہودیوں سے فلسطین میں قومی وطن کے قیام کا وعدہ
کیا۔
مسلمانوں نے مقامات مقدسہ اور خلافت اسلامیہ کے تحفظ کی امید میں
پونے نو لاکھ یا گیارہ لاکھ افراد سے مدد کی۔
لیکن جنگ کے بعد ان وعدوں کے برخلاف 30 اکتوبر 1918ء کی عارضی صلح
اور 10 اگست 1920ء کے معاہدۂ سیورے نے خلافتِ عثمانیہ کو عملاً ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔
اسی
طرح ادھر ہندستانی سوراج اور خود اختیاری کی امیدیں لگائے بیٹھے تھے، لیکن اس کے
بجائے برطانوی حکومت ہند نے 19 مارچ 1919ء کو رولٹ ایکٹ نافذ کر کے ہندستانیوں کی
غلامی کی زنجیروں کو مزید جکڑ دیا۔ جب اس کی مخالفت میں گاندھی جی کی قیادت میں 30
مارچ 1919 سے نان کوآپریشن یعنی تحریک عدم تعاون کو عملی شکل دیتے ہوئے پرامن
احتجاج کیا گیا توجلیانوالہ باغ کا قتلِ عام (13 اپریل 1919ء) کا خونی سانحہ سامنے
آیا۔
ادھر جب ہندستانی مسلمانوں کو خلافت عثمانیہ کی پامالی کی خبر ملی
تو مسلمانوں نے آل انڈیا مسلم کانفرنس کے نام سے 18/ ستمبر 1919ء کو منعقد کانفرنس
میں کی چھٹی تجویز میں 17/اکتوبر1919ء ملک گیر سطح پر یوم خلافت منانے کا فیصلہ
کرتے ہوئے، یوم خلافت منایا۔
عارضی صلح کی خوشی میں برطانوی حکومت ہند نے 16 دسمبر 1919 کو جگہ
جگہ جشن فتح منانے کا اعلان کیا تھا، اس لیے
3 نومبر 1919ء کو دہلی میں مولانا حسرت موہانی کی صدارت میں منعقدہ
جلسے میں مہاتما گاندھی نے خلافت کے منصفانہ فیصلے تک صلح کا جشن نہ منانے اور
ہندو مسلم اتحاد کے ذریعے مسلمانوں کے غم میں شریک ہونے کا اعلان کیا۔ ان کے اس
پیغام نے پورے ہندستان میں خلافت کے حق میں ہندو مسلم یک جہتی کی فضا پیدا کر دی۔
اسی اجلاس کے موقع پر حضرت مولانا عبدالباری فرنگی محلی رحمۃ اللہ
علیہ نے ہندستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ برطانوی حکومت ہند کے خلاف ترک موالات کا
فتوی دیا
تحفظ خلافت کے اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے 23 نومبر 1919ء کو
دہلی دہلی میں آل انڈیا خلافت کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں ترک موالات کی تجویز اور
ترک موالات کے فتوے کا اعادہ کیا گیا البتہ اس مرتبہ ترک موالات کا فتوی مفتی اعظم
ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ نے دیا ۔
اسی کانفرنس میں یہ بات آئی کہ سیاست میں مذہبی رہنمائی کے لیے
علما کی کوئی جماعت ہونی چاہیے چنانچہ 23 نمبر 1919 کو عشا کی نماز کے بعد جمیعت
علمائے ہند کا قیام عمل میں آیا ۔
یہ ہندستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا تھا کہ کل ہند سطح پر
مسلمانوں کی ایک تنظیم وجود میں آئی تھی۔
سوراج
اور تحفظ خلافت کے وعدوں کی پامالی نے ہندستانی مسلمانوں کو بہت زیادہ برگشتہ
کردیا، جس نے ہجرت کی تحریک کو ابھارا، لیکن جمعیت نے ہندستان چھوڑ کر افغانستان
ہجرت کرنے کے بجائے ہندستان ہی میں رہ کر آزادی کی جدوجہد کا راستہ اختیار کیا۔
چنانچہ 6 ستمبر 1920ء کو کلکتہ کے خصوصی اجلاس میں ترکِ موالات کی تجویز منظور کی
اور 8 ستمبر 1920ء کو اس کی تائید میں سینکڑوں علما کے دستخطوں پر مشتمل فتویٰ
جاری کیا ۔
اس کے بعد 18-19-20/نومبر1921 کو منعقد تیسرے اجلاس عام میں
ہندستان کو آزاد کرانا مسلمانوں کا مذہبی فرض قرار دیتے ہوئے مکمل آزادی کا مطالبہ
کیا۔
اس پورے پس منظر کو سامنے رکھتے ہوئے یہی حقیقت سامنے آتی ہے کہ
جمعیت نے ہندو مسلم اتحاد کے ساتھ برطانوی اقتدار سے عدمِ تعاون کو عملی تحریک
بنایا۔ اور جب اسی زمانے میں بعض حلقوں کی جانب سے ہندستان سے افغانستان ہجرت کی
تحریک سامنے آ رہی تھی، تو جمعیت علمائے ہند نے اس کے برعکس ہندستان میں قیام،
ہندو مسلم اتحاد، ترکِ موالات اور مشترکہ قومی جدوجہد کا راستہ اختیار کرتے ہوئے۔
ڈومینین اسٹیٹس یا محدود خود اختیاری کے بجائے مکمل آزادی کو اپنا نصب العین بنایا
اور متحدہ قومیت کی بنیاد پر ہندستانی مسلمانوں کے ایک ایسے راشٹرواد کو عملی صورت
دی جس میں وطن کی آزادی کے لیے مختلف مذہبی و قومی طبقات کا باہمی اتحاد بنیادی
حیثیت رکھتا تھا۔
ہندستانیوں کی قومیت کی مختلف تشریحات
ہندستان
میں بسنے والے لوگوں کی قومیت کے بارے میں مختلف شخصیات نے مختلف تشریحات پیش کی
ہیں،جس سے اس کے حب الوطنی کا معیار طے کیا جاتا ہے۔ اس تحریر میں ان سب کا احاطہ
مقصود نہیں، البتہ صرف انھی شخصیات کے نظریات کا اختصار پیش کیا جا رہا ہے، جن کے
نظریات نے ہندستانی سیاست میں انقلابی تبدیلی پیدا کی ہے۔ چوں کہ جمعیت علمائے ہند
ایک ملک گیر تنظیم ہے اور اس کے نظریات کو عالمی سطح پر ہندستانی مسلمانوں کے
نظریات کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، اس لیے جمعیت علمائے ہند کے پلیٹ فارم سے پیش
کیے گئے اہم نظریات کو یہاں اختصار کے ساتھ پیش کیا جا رہا ہے۔
(1)سرسید
احمد خان — جداگانہ قومیت
سرسید
احمد خان نے 1867 کے اردو-ہندی تنازع کے پس منظر میں کہا تھا کہ ہندو اور مسلمان
ایک قوم نہیں بن سکتے۔
(2)مولانا
شبیر احمد عثمانی — وطن کا تحفظ
مولانا
شبیر احمد عثمانی نے 19 تا 21 نومبر 1920 کے جمعیت علمائے ہند کے دوسرے سالانہ
اجلاس میں فرمایا کہ وطن پرستی اور قوم پرستی اسلامی اصطلاح نہیں، شاید یورپ سے لی
گئی ہیں؛ لیکن اپنی قوم اور وطن کا تحفظ ہمارے فرائض سے خارج نہیں۔ جو ملک
مسلمانوں کے زیرِ اقتدار آ چکا ہو، اس کے ایک چپے کے دفاع کے لیے تمام اہلِ اسلام
پر دفاع فرض ہو جاتا ہے۔
(3)جمعیت
علمائے ہند — متحدہ قومیت
جمعیت
علمائے ہند نے 29 دسمبر 1923 کو منعقد پانچویں اجلاس عام کی تجویز نمبر 5 میں کہا
کہ
جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس ہر ایسی کارروائی کو جو ملکی اتفاق و
اتحاد کی بنیادیں کمزور کرے نفرت کی نظر سے دیکھتا ہے اور ایسے لوگوں کو جو متحدہ
قومیت ہند کو نقصان پہنچائیں اور متزلزل کریں نہ صرف وطن بلکہ قوم و ملت کا دشمن
سمجھتا ہے ۔
اسی طرح 23 مارچ 1940 کو مسلم لیگ نے قرارداد لاہور منظور کی، جو
قرارداد پاکستان سے مشہور ہوئی،تو اس کے جواب میں جمعیت اور دیگر قوم پرور جماعتوں
نے 27 تا 30 اپریل 1940 کو منعقد کانفرنس میں اعلان کیا کہ ہندستان اپنی جغرافیائی
حدود کے ساتھ ایک متحدہ ملک ہے جو تمام باشندوں کی مشترکہ ملکیت ہے اور اس کے چپے
چپے میں مسلمانوں کی ملکیت اور شعائر موجود ہیں۔ اس کی تجویز نمبر چھ میں کہا گیا
کہ ہندستان کو ہندو ہندستان اور مسلم ہندستان میں تقسیم کرنا ناقابل عمل اور
مسلمانوں کے لیے مضر ہے اور اس سے برطانوی سامراج کو فائدہ پہنچے گا۔
(4)مولانا
محمد سجاد — اسلامی قومیت
ابو
المحاسن مولانا محمد سجاد: نے 11 تا 16 جنوری 1925 کے چھٹے اجلاس میں وطنی فدویت
کو مہلک مرض قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ اسلامی قومیت کی بنیاد کلمہ لا الٰہ الا
اللہ پر ہے، جغرافیہ پر نہیں۔
(5)مولانا
سید سلیمان ندوی — وطن سے محبت اور قومیت
حضرت
مولانا سید سلیمان ندوی نے 11 تا 14 مارچ 1926 کے ساتویں اجلاس میں فرمایا کہ نسل،
وطن اور زبان کی بنیاد پر یورپی طرز کی قوم پرستی جاہلیت کی عصبیت ہے، لیکن وطن سے
محبت اور اس کی آزادی کے لیے جدوجہد ہر مسلمان کا فرض ہے۔ نیز پین اسلامزم اور
نیشنلزم ایک ساتھ ممکن ہیں۔
(6)مولانا
احمد سعید — وطن میں اشتراک
سبحان
الہند حضرت مولانا احمد سعید ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے اپریل 1930 میں میرٹھ
کے بیس ہزار کے اجتماع میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’تمہارا مذہب انگریز اور ہندو
دونوں سے الگ ہے، لیکن قومیت اور وطن میں تم ہندو کے شریک ہو، انگریز تمہارا ہم
وطن نہیں۔‘‘
(7)علامہ محمد اقبال — مسلم خود مختاری
علامہ
محمد اقبال نے 29 دسمبر 1930 کے خطبۂ الٰہ آباد میں پنجاب، سرحد، سندھ اور
بلوچستان پر مشتمل خود مختار ریاست کی تجویز پیش کی۔ کیوں کہ وہ خالص مذہبی بنیاد
پر قومیت کی تعمیر کا نظریہ رکھتے تھے۔
(8)مولانا
حسین احمد مدنی — متحدہ وطنی قومیت
حضرت مولانا حسین احمد مدنی نے 7 جنوری 1938 کو باڑہ ہندو راؤ،
دہلی میں فرمایا کہ موجودہ زمانے میں قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔ بعد میں متحدہ
قومیت اور اسلام میں میثاقِ مدینہ کی مثال دیتے ہوئے واضح کیا کہ ہندستان کے تمام
باشندے بحیثیتِ وطن ایک قوم بن کر بیرونی اقتدار کے خلاف متحد رہیں، جب کہ ہر مذہب
اپنے عقائد میں آزاد رہے۔ اگست 1938 کی جون پور کانفرنس میں بھی اسی متحدہ قومیت
کی وضاحت کی کہ باشندگانِ ہند مذہبی اختلاف کے باوجود بحیثیتِ ہندستانی مشترک
قومیت رکھتے ہیں۔ 7 تا 9 جون 1940 کے بارہویں اجلاس میں فرمایا کہ باشندگانِ ہند
بحیثیتِ ہندستانی ایک اشتراک رکھتے ہیں جو مذہبی اختلاف کے باوجود باقی رہتا ہے،
جیسے آگ لگنے پر پورے گاؤں والے مل کر اسے بجھاتے ہیں۔
(9)مولانا
سید عبدالحق مدنی — متحدہ قومیت کی وضاحت
مولانا
سید عبدالحق مدنی نے 3 تا 6 مارچ 1939 کے گیارہویں اجلاس میں فرمایا: ’’ہم اس کے
حامی ہیں کہ ہندستان کے تمام باشندے بیرونی اقوام کے مقابلے میں ہندستانی کہلائیں
اور یہی متحدہ قومیت ہے، لیکن ہم برداشت نہیں کر سکتے کہ یہ ہمارے مذہبی عقائد پر
اثر ڈالے۔‘‘
راشٹر کی غلامانہ حیثیت بدلنے کے لیے ہندستان
کی شرعی حیثیت کا معاملہ
راشٹرواد
کی اسی بحث کے دوران ہندستان کی تاریخ میں دوسری بار ایسا ہوا کہ اہل علم و فقہ کے
درمیان اس کی شرعی حیثیت موضوع بحث بنی۔
صورت
واقعہ یہ ہوئی کہ جمعیت کا دوسرا سالانہ اجلاس 19، 20، 21 نومبر 1920 کو ہوا۔ اس کی
دو سالہ روداد میں اولین ناظم مولانا عبدالحلیم صدیقی صاحب نے لکھا کہ علما کا فرض
صرف فقہی حکم بیان کرنا نہیں بلکہ اس کو نافذ کرنے والی طاقت پیدا کرنا بھی ہے اور
اس کے لیے کامل آزادی شرط ہے۔
اسی اجلاس میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ
وطن پرستی اور قوم پرستی بے شک اسلامی اصطلاح نہیں اور شاید یورپ سے لی گئی ہیں
لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ اپنی قوم اور وطن کا تحفظ ہمارے فرائض سے خارج ہے۔ جو
ملک ایک بار مسلمانوں کے جھنڈے تلے آ جائے اس کا ایک چپہ بھی کفار لینا چاہیں تو
شرق سے غرب تک کل اہل اسلام پر دفاع فرض ہو جاتا ہے۔
اس
کے بعد تیسرے اجلاس 18، 19، 20 نومبر 1921 میں اعلان کیا گیا کہ ہندستان کو غلامی
سے آزاد کرانا مسلمانوں کے مذہبی فرائض میں داخل ہے۔ چوتھے اجلاس 24 تا 26 دسمبر
1922 میں مولانا حبیب الرحمان عثمانی نے فرمایا کہ جمعیت کا نصب العین دو حصوں میں
ہے، اندرون ملک مذہبی رہنمائی اور بیرون ملک مذہبی تعلقات کا تحفظ، اور دونوں
آزادی کے بغیر ممکن نہیں۔ پانچویں اجلاس 29 دسمبر 1923 تا یکم جنوری 1924 میں حضرت
مولانا سید حسین احمد مدنی نے مسلمانوں کے کئی فرائض گنوائے جن میں سے تیسرا فرض
ہندستان کو آزاد کرانا تھا۔ انھوں نے قرآن کی آیات وقاتلوا فی سبیل اللہ اور
واعدوا لہم ما استطعتم من قوۃ سے استدلال کیا کہ اس حکومت سے مقابلہ فرض ہے اور
ہندستان کی آزادی انگلستان کی موت کے مترادف ہے۔
قصہ مختصر یہ کہ جب بھارت کو آزاد کرانا مسلمانوں کے لیے مذہبی فرض ہے، اور چو ں کہ
بھارت کے سیاسی حالات کے تناظر میں یہ فرض غیر مسلموں کو ساتھ لیے بغیر ممکن نہیں،
تو اس مذہبی فرض کی ادائیگی میں غیر مسلموں کا تعاون لینے، یا ان کا تعاون کرنے کا
معاملہ فقہی تشریح کا محتاج ہے۔ فخر المحدثین حضرت مولانا انور شاہ کشمیری نے اس
کا حل یہ پیش کیا کہ ہندستان نہ تو دارالاسلام ہے کہ غیر مسلموں سے تعاون لینا
ناجائز ہو اور نہ ہی دارالکفر ہے کہ مسلمانوں کا تعاون دینا ناجائز ہو، بلکہ یہ
دارالامان ہے۔ چنانچہ انھوں نے 2 تا 5 دسمبر 1927 کو منعقد آٹھویں اجلاس عام کے
صدارتی خطاب میں فرمایا کہ شاہ عبدالعزیز نے جب کہ اسلامیت کا رنگ گہرا تھا تب اسے
دارالاسلام نہیں کہا تو آج بدرجہ اولیٰ نہیں ہے، اس لیے دارالامان کے احکام تلاش
کرکے رہنمائی کرنی چاہیے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے میثاق مدینہ کی طرف توجہ
دلائی۔ اسی نظریے کی بنیاد پر 4، 5، 6 مئی 1930 کو جمعیت علمائے ہند نے جہادی
آزادی میں کانگریس کے ساتھ اشتراک عمل کیا۔ اور اس طرح مشترکہ کوشش سے بالآخر
15/اگست 1947 کو ہندستان کو آزاد کرا لیا گیا۔
راشٹرواد کا ہندو ورژن
اسلام
کے بالمقابل ہندو دھرم میں قومیت کا کوئی مذہبی تصور نہیں ملتا۔ اس حوالے سے
ہندوتو کے ماہر حضرت مولانا عبدالحمید نعمانی صاحب سے بھی استفسار کیا تو انھوں نے
بھی اسی بات کی تصدیق کی۔
دراصل ہندوؤں کے یہاں اسلامی فقہ کے طرز پر کوئی فقہ نہیں ہے۔ پہلے
کی سماجی رسمیں بعد کے لوگوں کے لیے دھرمک حیثیت اختیار کرلیتی ہیں۔ایسی ہی رسوم
میں رمائن میں راج دھرم نبھانے کا نظریہ پایا جاتا ہے۔
البتہ ساور کر کے یہاں ہندو قومیت کا تذکرہ ملتا ہے۔
ساورکر کے نزدیک ’’ہندو راشٹر‘‘ محض جغرافیائی وطن کا نام نہیں،
بلکہ ایک مخصوص تاریخی، تہذیبی اور قومی شناخت کا تصور ہے۔ 1923 میں اشاعت پذیر ان
کی کتاب Essentials of
Hindutva میں ’’ہندو‘‘ کی بنیادی تعریف یہ کی گئی ہے کہ ہے کہ ہندستان اس کے
لیے صرف پِتر بھومی (آبائی وطن) ہی نہیں بلکہ پُنیہ بھومی (مقدس سرزمین) بھی ہو۔
اسی بنیاد پر ساورکر ہندستانی مسلمانوں اور عیسائیوں کو اپنے متعین کردہ ’’ہندو‘‘
کے دائرے سے باہر رکھتے ہیں، کیوں کہ ان کے نزدیک ہندستان ان کا وطن تو ہے، لیکن
ان کی مذہبی مقدس سرزمین نہیں۔کیو ں کہ مسلمانوں کی مذہبی سرزمین مکہ و مدینہ اور
عیسائیوں کی یروشلم ہے۔
ساورکر لکھتے ہیں: “For though
Hindusthan to them is Fatherland as to any other Hindu yet it is not to them a
Holyland too.” یعنی ہندستان مسلمانوں اور عیسائیوں کے
لیے وطن تو ہے، لیکن مقدس سرزمین نہیں۔ تاہم ساورکر کے ابتدائی تصور میں ان کے لیے
یہ گنجائش موجود تھی کہ اگر وہ ہندستان کو پِتر بھومی کے ساتھ پُنیہ بھومی بھی
تسلیم کریں تو ہندو قومی وحدت میں شامل ہو سکتے ہیں۔
بعد کے سیاسی دور میں ساورکر کا موقف مزید واضح ہوا۔ 1937ء کے احمد
آباد میں منعقد ہندو مہاسبھا کے اجلاس میں انھوں نے کہاکہ:
“there are two nations in the main; the Hindus and the Moslems” یعنی ہندستان میں بنیادی طور پر دو قومیں، ہندو اور مسلمان، موجود
ہیں۔ تاہم ساورکر اس بنیاد پر ہندستان کی تقسیم کے حامی نہیں تھے؛ ان کا تصور یہ
تھا کہ دونوں ایک ہی ریاست میں رہ سکتے ہیں، لیکن ہندو قوم کو ہندستان کی بنیادی
قومی حیثیت حاصل ہو۔
یعنی ساورکر کے ’’ہندو راشٹر‘‘ اور ’’نیشنلزم کی دوسری تشریحات میں
فرق یہ ہے کہ عمومی قومیت میں ہندستان میں رہنے والا ہر شخص محض مشترک وطن کی
بنیاد پر ایک قوم کا حصہ ہے، جب کہ ساورکر کے نزدیک قومی شناخت کے لیے مشترک آبائی
وطن کے ساتھ مشترک تاریخ، تہذیب اور ہندستان کو پُنیہ بھومی سمجھنے کا عنصر بھی
اہم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان کے نظریے میں مسلمان ہندستان کے شہری تو ہو سکتے ہیں،
مگر ان کی ’’ہندو راشٹر‘‘ کی تعریف میں ان کی حیثیت ہندوؤں کے برابر نہیں بنتی۔
اس
کے بعد ہندووں کے دوسرے بڑے مفکر گولوالکر کے یہاں رشٹرواد پر بحث کی گئی ہے۔ گولوالکر نے اپنی کتاب We or Our Nationhood Defined 1939 میں
قوم کے لیے پانچ وحدتیں بیان کیں:ملک، نسل، مذہب، ثقافت اور زبان۔ ان کے نزدیک جو
ان پانچ ہندو عناصر سے باہر ہیں وہ اپنی جدا شناخت چھوڑ کر ہی قومی زندگی کا حصہ
بن سکتے ہیں۔
1965 میں شائع ان کی اسی کتاب کے صفحہ 18، 40 سے 46 اور 130 پر انھوں نے
لکھا کہ پاکستان بن جانے کے بعد مسلمان راتوں رات دیش بھکت نہیں بن گئے، بلکہ خطرہ
سو گنا بڑھ گیا ہے۔
راشٹر کے متعلق گول والکر کے اسی نظریے کو واٹس ایپ گیان کے ذریعے،
ہندو راشٹر کے حامی و کوشاں آر ایس ایس کے کیڈر کے ذہنوں میں یہ بٹھا دیا گیا ہے
کہ جو بھی مسلمان ہوگا وہ کبھی بھارت راشٹر کا وفادار ہو ہی نہیں سکتا وہ دیش دروہ
اور غدار ہی ہوگا۔ اور ہندستانی مسلمانوں کو اپنے مستقبل کے تحفظ کے لیے اسی نظریے
کا علمی و سیاسی تعاقب کرنا ضروری ہے، ورنہ انھیں اسپین جیسے اپنے انجام بد دیکھنے
کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
کیا پاکستان ہندستانی مسلمانوں
کے راشٹرواد پر سوالیہ نشان ہے؟
تقسیم
ہند کے بعد 14 اگست 1947ء کو پاکستان کے قیام کے ساتھ مسلم لیگی نظریات کے حامی
بعض علما نے ہندستان سے پاکستان کی طرف ہجرت کو فرض قرار دیا، جس کے نتیجے میں بڑے
پیمانے پر انسانی نقل مکانی ہوئی۔ اور تباہی کے شکار ہوئے۔ لیکن جمعیت علمائے ہند
کا موقف اس سے بالکل مختلف تھا۔ فخر المحدثین حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیری
رحمۃ اللہ علیہ نے جمعیت علمائے ہند کے آٹھویں اجلاس عام 2 تا 5 دسمبر 1927ء میں
انگریزی دور ہی میں ہندستان کو دارالامان قرار دے دیا تھا، اس لیے آزادی کے بعد تو
بدرجۂ اولیٰ ہندستان دارالامان تھا، اس لیے جمعیت علمائے ہند کے نزدیک ہجرت کا
شرعی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔ علاوہ ازیں سید الملت حضرت مولانا محمد میاں
دیوبندیؒ کے مطابق جن لوگوں کے سامنے نہ جان کا حقیقی خطرہ تھا اور نہ ارتداد کا،
بلکہ روزگار، عزت، بچوں کے مستقبل یا خوف کی وجہ سے انھوں نے وطن چھوڑا، ان کا یہ
ترکِ وطن شرعی ہجرت نہیں بلکہ صرف طلبِ دنیا تھا۔ اسی طرح امام الہند مولانا
ابوالکلام آزادؒ نے 24 اکتوبر 1947ء کو جامع مسجد دہلی سے خطاب کرتے ہوئے ہجرت
کرنے والوں سے کہا کہ جس فرار کو تم نے ہجرت کا مقدس نام دیا ہے، اس پر غور کرو؛
دہلی کی تاریخ اور اس کی سرزمین تم سے سوال کر رہی ہے کہ تم نے اپنی تاریخ کہاں گم
کردی۔
تقسیم
کے بعد فرقہ پرست عناصر ہندستانی مسلمانوں کے شہری حقوق کے خلاف یہ دلیل پیش کرتے
ہیں کہ 1945-46ء کے انتخابات میں مسلمانوں نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا۔
دسمبر 1945ء کے مرکزی انتخابات میں 102 نشستوں میں 30 مسلم نشستیں مخصوص تھیں اور
مسلم لیگ نے تمام 30 جیتیں؛ جب کہ 1946ء کے صوبائی انتخابات میں 1585 نشستوں میں
492 مسلم نشستیں تھیں، جن میں مسلم لیگ نے 425 نشستیں حاصل کر لیں۔ اسی طرح جولائی
1946ء کی آئین ساز اسمبلی میں 73 نشستیں حاصل کرلیں ، اور یوں تقسیم ہند کے ذریعے
مسلمانوں نے اپنا حصہ (پاکستان) حاصل کر لیا تھا؛ لہٰذا اب ہندستان میں مسلمانوں
کا کوئی قانونی، یا اخلاقی حق اور حصہ باقی نہیں رہا۔
فرقہ
پرستوں کایہ اعتراض تاریخی و ریاضیاتی حقائق کے رو سے مندرجہ ذیل وجوہات کی بنیاد
پر درست نہیں ہے:
1۔ یہ انتخابات گورنمنٹ
آف انڈیا ایکٹ 1935ء کے تحت سخت شرائط (جائیداد کی ملکیت، ٹیکس اور تعلیمی معیار)
پر منعقد ہوئے تھے ، نہ کہ بالغ رائے دہی پر۔
2۔ برصغیر کے تقریباً
9/کروڑ مسلمانوں میں سے صرف 10/فی صد( 90 /لاکھ) کو ووٹ کا حق حاصل تھا، اور عملاً
صرف 60 /لاکھ( 6 سے 7/فی صد) نے ووٹ ڈالا۔ تقریباً 93 سے 94 /فی صد عام مسلمان،
کسان اور مزدور رائے شماری سے محروم رہے۔ چند فی صد مراعات یافتہ طبقے کی رائے کو
پوری مسلم قوم کا حتمی فیصلہ قرار دینا صریح بددیانتی ہے۔
اس کا ایک جواب تو یہ تھا اور دوسرا جواب یہ ہے کہ جمعیت علمائے
ہند کا تاریخی موقف ابتدا ہی سے واضح تھا ۔ جمعیت نے 30 مارچ 1919 سے شروع ہونے
والی عدم تعاون تحریک سے لے کر 3 نومبر 1919 کو مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے
ترک موالات کے فتوے تک، جس میں غیر مسلموں سے نہیں بلکہ انگریز حکومت سے بائیکاٹ
کا کہا گیا تھا، ہمیشہ متحدہ قومیت کو بنیاد بنایا۔ 23 نومبر 1919 کو قیام سے لے
کر آج تک وہ اسی پر قائم ہے جب کہ ٹو نیشن تھیوری کی اس نے کبھی تائید نہیں کی، اس
نظریے پر مبنی تشکیل پاکستان اور اس کے نتیجے میں ہونے والی تقسیم ہند کی شدت کے ساتھ
مخالفت کی ۔
اس لیے 1945-46ء کے انتخابی نتائج کو ہندستانی مسلمانوں کی ابدی
سیاسی شناخت قرار دینا، یا پاکستان کے قیام کو ہندستان میں رہ جانے والے مسلمانوں
کے شہری حقوق سے محرومی کی دلیل بنانا، جمعیت کے تاریخی موقف سے مطابقت نہیں
رکھتا۔ جمعیت کے نزدیک ہندستانی مسلمان اس ملک کے برابر کے شہری تھے، ہیں اور اپنے
شہری حقوق کے اسی اصول کے تحت مطالبہ کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔
الزام
غداری اور وفاداری کا مطالبہ
جیسا کہ "راشٹرواد
کا ہندو ورژن” میں آپ نے مطالعہ کرلیا کہ ساورکر اور گولوالکر کی ہندو راشٹر کی
تعریف اور اس کے قیام کی کوششوں نے مسلمانوں کو ہندو قومی شناخت سے باہر قرار دے
کر ان کی حب الوطنی کو مشکوک بنانے کی فکری بنیاد فراہم کی، جس کے نتیجے میں
پاکستان بننے کے بعد ہندستانی مسلمانوں کی وفاداری پر سوال اٹھائے جانے لگے، ان سے
حب الوطنی کے ثبوت اور وفاداری کا مطالبہ کیا جانے لگا اور انھیں مسلسل شک کی نگاہ
سے دیکھا جانے لگا، جس کا سلسلہ تاہنوز جاری ہے۔
اس حوالے سے سب سے پہلا
سوال یہی ہوتا ہے کہ وفاداری کا سوال کس سے ہے؟ ملک اور دستور سے، یا حکومت اور
حکمرانوں سے؟ جمعیت علمائے ہند کی تاریخ میں اس سوال کا جواب ابتدا ہی سے دوٹوک
انداز میں دیا گیا ہے کہ وفاداری ملک اور دستور سے ہوتی ہے، کسی فرد، جماعت یا
وقتی حکومت سے نہیں۔ اس موقف کی تاریخی تسلسل درج ذیل ہے:
1.
مولانا سید انور شاہ کشمیری — صدرِ اجلاس — 2 تا 5 دسمبر 1927، صدارتی خطبہ:
مولانا انور شاہ کشمیری نے قرآن کریم کی آیات ’’إِلَّا الَّذِينَ عَاهَدْتُمْ مِنَ
الْمُشْرِكِينَ‘‘ اور ’’فَمَا اسْتَقَامُوا لَكُمْ فَاسْتَقِيمُوا لَهُمْ‘‘ سے
استدلال کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر برادرانِ وطن مسلمانوں سے منصفانہ معاہدہ کرلیں،
تو مسلمان انھیں پورے وفادار ملیں گے۔
2.
حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان — جمعیت علمائے ہند کے
ناظمِ عمومی — 27، 28 دسمبر 1947، آزاد کانفرنس: فرمایا کہ ہم اس ملک کے باشندے
اور وفادار ہیں، اگر پاکستان بھی حملہ کرے گا تو مسلمان سب سے پہلے اس ملک کا دفاع
کریں گے۔ بعض حکام مسلمانوں کو ’’پانچواں کالم‘‘ کہتے ہیں، یہ غلط ہے؛ ہم اس ملک
کو اسی طرح اپنا وطن سمجھتے ہیں، جس طرح ہندو۔ وفاداری کا مطالبہ تو غیر ملکی سے
کیا جاتا ہے۔
3.
شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی — صدر جمعیت علمائے
ہند — تقسیم کے بعد، دیوبند کی جامع مسجد: فرمایا کہ اس ملک کو تم نے اپنے خون سے
سینچا ہے، آئندہ بھی سینچنے کا عزم رکھو، یہی حقیقی وفاداری ہے۔ وزراء کو یہ ثابت
کرنا چاہیے کہ وہ عوام کے وفادار ہیں، عوام کو ان سے بازپرس کا حق ہے؛ پھر
مسلمانوں سے اس غلامانہ انداز میں وفاداری کا اظہار کیوں کرایا جائے؟ انھوں نے
بہار، گڑھ مکتسر، یوپی، دہلی، مشرقی پنجاب، کلکتہ، نواکھالی اور مغربی پنجاب کے
واقعات کا حوالہ دے کر سوال کیا کہ ان مصائب کو کس غداری یا بے وفائی کا نتیجہ
قرار دیا جا سکتا ہے؟
4.
مولانا احمد سعید — صدر جمعیت علمائے ہند — 26، 27، 28 اپریل
1948، پندرھواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ جو لوگ اس ملک کو اپنا ملک نہیں سمجھتے وہ
چلے جائیں، بحری، بری اور ہوائی راستے کھلے ہیں۔ میں جان بوجھ کر ’’وفاداری‘‘ کا
لفظ استعمال نہیں کر رہا، کیوں کہ جب یہ اپنا ملک ہے تو ثبوت کس کے سامنے پیش کیا
جائے؟
5.
مولانا محمد حفظ الرحمان — ناظمِ عمومی جمعیت
علمائے ہند — 26، 27، 28 اپریل 1948، پندرھواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ بلا شبہ جو
لوگ پاکستان کی طرف تکتے ہیں وہ چلے جائیں، لیکن چار کروڑ مسلمان غدار نہیں۔ لیگ
کے حامی عوام کو معاف کیا جا سکتا ہے، جیسے جرمن عوام کو ہٹلر ازم کی قیادت کی خطا
کی بنیاد پر مٹا نہیں دیا گیا۔ وفاداری ڈرانے سے نہیں بلکہ پریم اور محبت سے پیدا
ہوتی ہے۔
6.
جناب مقصود بن منصور مرادآبادی — صدرِ استقبالیہ — 27
تا 29 اپریل 1951، سترھواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ وفاداری کا سوال ملک اور دستور
سے ہوتا ہے۔ میں اعلان کرتا ہوں کہ ہم اپنے ملک اور دستور کے وفادار ہیں اور ہر اس
حکومت کے وفادار رہیں گے جو دستور پر پورا عمل کرے۔ مسلمانوں کو حجاز، ایران اور
شام سے ہمدردی ہے تو کیا اس کا مطلب غداری ہے؟ خود حکومتِ ہند کو پاکستان سے
ہمدردی ہے اور وفود بھی جاتے ہیں، تو کیا وہ غدار ہے؟
7.
مولانا محمد حفظ الرحمان — ناظمِ عمومی جمعیت
علمائے ہند — 27 تا 29 اپریل 1951، سترھواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ غداری افراد میں
ہو سکتی ہے، جماعت غدار نہیں ہو سکتی۔ پاکستان کی طرف نظر اٹھانا اگر غداری ہے تو
مہاتما گاندھی کے سینے میں گولی مارنا بھی کیا غداری نہیں ہے؟
8.
مولانا محمد حفظ الرحمان — ناظمِ عمومی جمعیت
علمائے ہند — 9، 10، 11 دسمبر 1960، بیسواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ اگر کسی کو پنڈت
نہرو سے وفاداری کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں تو حفظ الرحمان سے بھی نہیں ہے۔ ہندو،
مسلم، سکھ سب ہندستان کے جسم کے ٹکڑے ہیں؛ ناخن میں تکلیف ہو تو پورے جسم کو تکلیف
ہوتی ہے۔
9.
مولانا سید فخرالدین احمد — صدر جمعیت علمائے
ہند — 15 تا 17 اپریل 1966، بائیسواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ حفاظتِ وطن کے دعوے
دار پریشان تھے کہ چھ کروڑ مسلمانوں کا کردار کیا ہوگا، لیکن بریگیڈیئر عبدالحمید
اور ان کے ساتھیوں نے اپنے عمل سے جواب دے دیا۔ اب بھی مسلمانوں سے وفاداری کا
مطالبہ دستور کے احترام کو پامال کرنا ہے۔
10.
مولانا شاہد فاخری — رکنِ جمعیت علمائے ہند — 15 تا 17 اپریل
1966، بائیسواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ ہماری وفاداری زمین اور ملک سے ہے، پارٹی سے
نہیں؛ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں۔
11.
جناب محمد امین انصاری — وزیر اوقاف،
اترپردیش — 14، 15 جنوری 1983، مجلسِ منتظمہ: فرمایا کہ حب الوطنی ہمارا ایمان ہے۔
12.
جناب عبدالرحمان انتولے — سابق وزیر اعلیٰ
مہاراشٹر — 14، 15 جنوری 1983، مجلسِ منتظمہ: فرمایا کہ مسلمانوں کی وفاداری پر
شیطان بھی شک نہیں کر سکتا۔
13.
جناب فاروق عبداللہ — سابق وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر — 25، 26 جنوری
1991، کل ہند اجتماع: فرمایا کہ مسلمان کسی سے وفاداری کا سرٹیفکیٹ نہ لیں۔
14.
جسٹس سردار علی خان — 29 اکتوبر 1995، پچیسواں اجلاس: فرمایا کہ اس
ہندستان پر مسلمانوں کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کسی اور کا۔
15.
سیتا رام کیسری — مرکزی وزیر فلاح و بہبود — 29 اکتوبر 1995،
پچیسواں اجلاس: فرمایا کہ کروڑوں مسلمانوں نے موت کے سائے میں ہندستان میں رہنا
پسند کیا؛ اگر ان کی وفاداری پر شک ہے تو شک کرنے والوں کی وفاداری پر مجھے شک ہے۔
16.
مولانا ارشد مدنی — رکن عاملہ جمعیت علمائے ہند — 6 جون 1999،
اقلیتی کنونشن: فرمایا کہ مسلمان ایک ہزار سال سے یہاں رہ رہے ہیں، حاکم بھی رہے
اور محکوم بھی، لیکن ہمیشہ مکمل وفاداری کا ثبوت دیا۔
17.
مولانا اسعد مدنی — صدر جمعیت علمائے ہند — 25 مارچ 2000، بیان:
آر ایس ایس سربراہ کے ایس سدرشن کے اس بیان پر کہ مسلمان ہندستان کو اپنا ملک
سمجھیں، فرمایا کہ یہ کھلی شرارت ہے۔
18.
مولانا اسعد مدنی — صدر جمعیت علمائے ہند — 17 اکتوبر 2000، آر
ایس ایس کی راشٹریہ سرکشا مہاشور کے بعد بیان: فرمایا کہ آر ایس ایس کو اقلیتوں سے
وفاداری کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں؛ اسے بتایا جائے کہ وہ خود جس ’’قومی
دھارے‘‘ کی بات کرتی ہے، وہ کہاں بہہ رہا ہے۔
19.
مولانا اسعد مدنی — صدر جمعیت علمائے ہند — 21 جون 2002، مشاورتی
میٹنگ کا میمورنڈم: کہا گیا کہ مذہب کی بنیاد پر وفاداری پر انگلی اٹھانا قومی
عداوت کے مترادف ہے۔
20.
مولانا اسعد مدنی — صدر جمعیت علمائے ہند — 9 مارچ 2003،
ستائیسواں اجلاس، صدارتی خطبہ: گولوالکر کے اس الزام کا جواب دیتے ہوئے کہ
مسلمانوں کی وفاداریاں باہر ہیں اور ان کی آبادی 11 سے 22 فی صد ہوگئی ہے، فرمایا
کہ سرکاری رپورٹ میں آج بھی مسلمانوں کی آبادی تقریباً 12 فی صد ہے؛ یہ دعویٰ
اقلیتوں کے خلاف ماحول بنانے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
21.
کے رحمان — ڈپٹی چیئرمین راجیہ سبھا — 20، 21 اگست 2006،
علماء کانفرنس: فرمایا کہ وطن سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔
22.
مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 15 ستمبر
2006، پریس کانفرنس: فرمایا کہ وندے ماترم کو وفاداری سے جوڑنا ملک کو برباد کرنے
کی سازش ہے۔ ملک ہمارے لیے پیارا ہے، قابلِ عبادت نہیں؛ جس چیز کی دستوری حیثیت
نہیں، اسے وفاداری کا ثبوت نہیں بنایا جا سکتا۔
23.
مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 10 ستمبر
2007، بیان: فرمایا کہ دہشت گردی کے کسی واقعے کے بعد بلا تحقیق مسلمانوں پر انگلی
اٹھانا بند ہونا چاہیے۔
24.
پرم جیت سنگھ سرنا — صدر دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی — 31 مئی
2008، دہشت گردی مخالف امن کانفرنس: فرمایا کہ ہم خود 1984 کے دور سے گزر چکے ہیں؛
ہمیں یہ صفائی دینے کی ضرورت نہیں کہ ہم وفادار ہیں۔ بدعنوانی دوسرے کریں اور
صفائی ہم دیں، یہ درست نہیں۔
25.
مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 9 نومبر
2008، انتیسواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ ہم اس ملک میں کرایہ دار نہیں ہیں؛ ہمیں کسی
کا احسان نہیں چاہیے بلکہ وسائل میں ہمارا حق دیا جائے۔
26.
مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 14 فروری
2009، امن کانفرنس: فرمایا کہ مسلمان اس ملک کے معمار ہیں، اس ملک کے مالک ہیں،
کرایہ دار نہیں۔
27.
مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 3 نومبر
2009، تیسواں اجلاسِ عام: فرمایا کہ یاد رکھو، تم اس ملک کے حصہ دار ہو، کرایہ دار
نہیں۔ جب میں دنیا کے کسی حصے سے ہندستان کی سرزمین پر قدم رکھتا ہوں تو لمبی سانس
لیتا ہوں؛ جو خوشبو یہاں ملتی ہے وہ کہیں نہیں ملتی۔
28.
سوامی اگنی ویش — سماجی و مذہبی رہنما — 3 نومبر 2009، تیسواں
اجلاسِ عام: فرمایا کہ مسلمانوں کو کسی وفاداری کے سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں؛ جمعیت
کی قربانی خود ایک سرٹیفکیٹ ہے۔
29.
مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 27 نومبر
2015، ریڈف انٹرویو: فرمایا کہ ’’ہم بائی چانس انڈین نہیں، بائی چوائس انڈین
ہیں۔‘‘ انھوں نے وضاحت کی کہ ہمارے آباؤ اجداد کے پاس ایک ایسی ریاست میں جانے کا
موقع تھا جو اسلامی تھی، لیکن انھوں نے اس ریاست میں رہنے کا انتخاب کیا جو اسلامی
نہیں تھی؛ اس لیے ہندستان ہمارا ملک ہے اور ہم اس کے حصہ دار ہیں۔
30.
مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 14 فروری
2016، میرٹھ، حصولِ انصاف کانفرنس: فرمایا کہ ’’مسلمان بائی چانس انڈین نہیں بلکہ
بائی چوائس انڈین ہیں‘‘؛ وطن سے محبت ہی کی وجہ سے وہ تقسیم کے بعد بھی ہندستان
میں رکے۔
31.
مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 16 اپریل
2017، احمد آباد، جمعیت علمائے ہند کا کنونشن: فرمایا کہ ’’ہم بائی چوائس انڈین
ہیں، بائی چانس نہیں‘‘؛ مسلمانوں نے ایک اسلامی ریاست کے بجائے ہندستان کو ترجیح
دی اور انھیں اپنے اس انتخاب پر کوئی افسوس نہیں۔
32.
مولانا محمود مدنی — ناظمِ عمومی جمعیت علمائے ہند — 15 فروری
2019، بنارس، مولانا حبیب الرحمان اعظمی کی خدمات پر سیمینار: فرمایا کہ ہم ان
لوگوں کے نام لیوا ہیں جنھوں نے مذہب کے نام پر تقسیم کی مخالفت کی اور اپنی مرضی
سے اس ملک میں رہنا پسند کیا۔ ہمیں کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں، مگر
بدقسمتی سے ہماری قوم ستر سال سے صفائی دیتی آ رہی ہے۔
33.
پروفیسر اخترالواسع — معروف مسلم دانش ور و ماہرِ تعلیم — 25 ستمبر
2022، دھرم سنسد: فرمایا کہ مجھے فخر ہے کہ ہندستان میری ماتر بھومی بھی ہے اور
پتر بھومی بھی، کیوں کہ ابوالبشر آدمؑ پر پیغامِ حق سب سے پہلے اسی سرزمین پر نازل
ہوا۔
34.
مولانا محمود مدنی — صدر جمعیت علمائے ہند — 12 فروری 2023،
چونتیسواں اجلاسِ عام، صدارتی خطبہ ’’بھارت ہمارا وطن‘‘: فرمایا کہ بھارت ہمارا
وطن ہے، جتنا مودی اور بھاگوت کا ہے اتنا ہی محمود کا ہے؛ نہ محمود ایک انچ آگے ہے
نہ وہ ایک انچ پیچھے۔ یہ دھرتی اسلام کی جائے پیدائش اور مسلمانوں کا پہلا وطن ہے،
اس لیے اسلام کو باہر سے آیا ہوا کہنا تاریخی طور پر بے بنیاد ہے۔ انھوں نے کہا کہ
بھارت ہندی مسلمانوں کے لیے وطنی اور دینی دونوں حیثیتوں سے اہم ہے، تاہم اس کے
لیے آئین، جمہوریت، انسانی حقوق اور مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور میڈیا کا درست طور
پر کام کرنا ضروری ہے۔
35.
مولانا محمد سلمان بجنوری — نائب صدر جمعیت
علمائے ہند — 29 نومبر 2025، بھوپال، مجلسِ منتظمہ: فرمایا کہ ہم مدارس اور تمام
مسلمانوں کی طرف سے واضح طور پر کہتے ہیں کہ ملک سے غداری کرنے والوں کے ساتھ کبھی
نہیں ہوں گے۔ ملک سے وفاداری اور معاہدوں کی پابندی ہمارے مذہب کا حکم ہے۔ تاہم
حکومت سے مطالبہ ہے کہ جس طرح ایک مسلمان کے مشتبہ ہونے پر کارروائی کی جاتی ہے،
اسی طرح اپنے ہم مذہب بھائی کے معاملے میں بھی تحقیق کی جائے اور مجرم کو قرار
واقعی سزا دی جائے۔
لمحوں کی خطا کیا تھی؟ صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟
لمحوں
کی خطا کیا تھی؟—صدیوں کی سزا کیا ہوگی؟
جیسا کہ عرض کیا گیا ہے
کہ ہمارے اکابر نے مذہبی آزادی اور تمام حقوق میں مکمل مساوات کی شرائط کے ساتھ
جمہوری حکومت کی حمایت کی تھی،اور اسی متحدہ قومیت نظریے کی بنیاد پر نظریہ
پاکستان کی مخالفت کی تھی ۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا
اس وقت ہندستان میں جمہوریت اپنی حقیقی روح کے ساتھ باقی ہے؟
قوموں اور ملکوں کے
عروج و زوال کا تجزیہ کرنے والے ماہرین کے مطابق دس پوائنٹس ایسے ہیں، جن کو معیار
بناکر حالات کا تجزیہ کرنے سے کسی قوم کے عروج وزوال کا نتیجہ مرتب کرسکتے ہیں۔ وہ
10 پوائنٹس درج ذیل ہیں :
1۔
روٹی کا مسئلہ
2۔حفاظت
جان و مال
3۔عدل
و انصاف
4۔
مذہبی حقوق کی حفاظت
5۔
تہذیب و زبان کی حفاظت
6۔تعلیم
7۔حقوق
ملازمت
8۔یکساں
شہری حقوق اور مساوات
9۔حقوق
ملکیت میں آزادی
10۔سیاسیات
ان دس پوائنٹس کے تناظر
میں ٹو دہ پوائنٹ بات کی جائے، تو مختصر لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ:
1۔ٹھیلہ
وغیرہ پر نام لکھوانے کی تحریک چلاکر، یا صرف اپنے ہم مذہب سے خریداری کی اپیل
کرنے جیسے معاملات سے سمجھا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے روزی روٹی کا مسئلہ پیدا
کرنے کی منظم کوشش کی جارہی ہے۔
2۔
ملک میں بڑھتے ہیٹ ریٹ، سفر وغیرہ میں مسلم شناخت والوں کے ساتھ تشدد، بعض بعض
جگہوں پر مسلمانوں کے داخلے کی پابندی، خود ہی فرقہ وارانہ فسادات کر اکے ان کا
الزام مسلمانوں پر ڈال کر بے قصور نوجوانوں کی اندھا دھند گرفتاری اور رہائی کے
لیے وصولی کرنا، یا طول طویل عدالتی کارروائیاں اور بعد ازاں حکومت کا جبری بلڈوزر
جیسی دہشت گردانہ حرکتیں اور مآب لنچنگ کے واقعات شاہد ہیں کہ مسلمانوں کے سامنے
جان و مال کے تحفظ کا معاملہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔
3۔
بابری مسجد پر سپریم کورٹ کا فیصلہ، دہلی اور پورے ملک میں آثار قدیمہ کے نام پر
بند پڑی مساجد، گیان واپی مسجد،عیدگاہ متھرا اور تقریباً تین ہزار مساجد پر قانونی
شکنجہ کسنے کے بعد عدالتوں کے فیصلے، اسی طرح تین طلاق اور شرعی محکمہ قضا کے
فیصلوں کے متعلق حالیہ دنوں کے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں، نیز جدید وقف
ایکٹ میں ظالمانہ ترمیمات پر اصرار سے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ مسلمانوں کے لیے ملک
میں کتنا عدل و انصاف بچا ہوا ہے۔
4۔وقف
ایکٹ ،فتوی پر پابندی (ہماچل پردیش میں) مدارس اسلامیہ کو نوٹس، قربانی اور غیر
قربانی کے مواقع پر گائے کے ذبح پر پابندی،یا ہنگامہ اور کسی بھی مسجد کو غیر
قانونی تعمیرات کے بہانے شہید کردینے کے متواتر واقعات سے مسلمانوں کے مذہبی حقوق
کس درجہ محفوظ ہیں، دانش ور خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔
5۔
داڑھیوں کے خلاف مقدمے، تعلیم گاہوں میں برقعہ پوش خواتین کے ساتھ مسائل پیدا کرنا
اور اردو زبان کے ساتھ تعصب انگیز رویہ سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کی تہذیب اور
زبان کو مٹانے میں وہ کس حد تک کامیاب ہوچکے ہیں۔
6۔
تعلیم کی بات کریں ،تو مسلمان کے اندر 42 فی صد جہالت ہے۔ آزاد مدارس کے سامنے تو
مسائل پیدا کیے ہی جارہے ہیں ؛لیکن سرکاری تعلیمی اداروں سے وابستگی سے بھی ان کو
چڑھ ہے، جیسا کہ کچھ دن پہلے جمعیت اسٹڈی سینٹر کے تحت نوائس سے امتحان دینے والے
طلبہ و طالبات کی بڑھتی کامیابی کو دیکھتے ہوئے این سی پی سی آر کے چئیرمین نے زہر
اگلتے ہوئے اسے ٹرر فنڈنگ کہا تھا۔ اس طرح کے اور بھی معاملات ہیں، جہاں مسلمانوں
کو تعلیم سے محروم رکھنے کی مکمل سازش کی جارہی ہے۔
7۔حقوق
ملازمت کی بات کریں، تو سیکڑوں ایسے واقعات سامنے آچکے ہیں، جہاں مسلمانوں کے ساتھ
ڈس کرمنیشن یعنی امتیازات سے کام لیا جارہا ہے۔
8۔
یکساں شہری حقوق اور مساوات سے مراد حکومت کے جملہ وسائل میں بلا امتیاز مذہب
وغیرہ یکساں شرکت ہے۔ سی اے بی، گجرات میں ڈسٹربڈ ایریا کا قانون اور نچلی ذاتوں
اور مسلمان سمجھ کر بعض محکمہ جیسے ڈفنس میں مسلمانوں کو ملازمت، یا اعلی ملازمت
نہیں دی جاتی۔گویا یکساں شہری حقوق اور مساوات پر بھی ڈاکہ ڈالا جارہا ہے۔
9۔
حقوق ملکیت میں تو اب تک آزادی ہے، لیکن بعض مخدوش علاقوں میں محض مسلمان کا گھر
ہونے کی وجہ سے جس طرح بغیر عدالتی کارروائی کے بلڈوزر چلادیا جاتا ہے، یہ بھی اس
سے کم ظلم نہیں ہے کہ مسلمانوں کو ان کی ملکیت سے محروم کردیا جائے۔ اس سے واضح
معاملہ یہ ہے کہ ایک خاص سازش کے تحت مسلمانوں کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کرنے کی
کوشش کی جارہی ہے اور اس سے محرومی تقریباً تمام حقوق سے محرومی کا باعث بن جائے
گی۔
10۔البتہ
سیاست میں مسلمان اب تک آزاد ہیں ،لیکن مسلم آبادی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے
حلقہ ہائے انتخاب کی جس طرح حدبندی کی جاتی ہے، اس سے اس سازش کا اندازہ لگانا
کوئی خاص مشکل نہیں ہے کہ مسلمانوں کی سیاسی طاقت کو بے وزن کرنے کی لگاتار کوشش
کی جارہی ہے۔
علاوہ ازیں راہل
گاندھی، پرینکا گاندھی کے علاوہ بھی کئی پارلیمنٹ کے بڑے لیڈربیان دے چکے ہیں کہ
ہندستان میں جمہوریت بچی نہیں ہے۔
ان نتائج کو دیکھتے
ہوئے یہ کہنا شاید خلاف واقعہ نہیں ہوگا کہ بھارت ہندو راشٹر بن چکا اور جمہوریت
اور دستور ایک قصہ پارینہ بن چکا ہے۔
انھیں حقائق کو دیکھتے
ہوئے کچھ حضرات یہ دلیل دیتے ہیں کہ اکابر جمعیت کے نظریات کو موجودہ حالات نے غلط
ثابت کر دیے ہیں اور سر سید اور مسٹر جناح کی پیش قیاسیاں حرف بہ حرف پوری ہو رہی
ہیں ۔
سرسید مرحوم کی پیش قیاسی
جیسا کہ عرض کیا
جاچکاہے کہ 18 ؍دسمبر 1887ء کو لکھنؤ میں سر سید نے ایک تقریر میں کہا کہ ہندو اور
مسلمان دو الگ قومیں ہیں، اگر انگریز چلے گئے تو تخت پر دونوں نہیں بیٹھ سکتے۔
انتخابی حکومت میں ہندو ہندو کو اور مسلمان مسلمان کو ووٹ دیں گے تو تین چوتھائی اکثریت
ہندوؤں کی ہوگی اور مسلمان دائمی غلام بن جائیں گے۔ اس لیے مسلمانوں کو کانگریس
میں شریک نہیں ہونا چاہیے اور انگریزی حکومت پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
مسٹر جناح کی پیشین گوئی
23 ؍مارچ 1940ء کے لاہور اجلاس میں محمد علی جناح نے پاکستان کے مطالبے
کی ایک بنیادی دلیل یہ پیش کی کہ متحدہ ہندستان میں عددی ہندو اکثریت کے تحت
مسلمان مستقل سیاسی اقلیت بن کر رہیں گے اور ان کے حقوق و مفادات اکثریتی غلبے سے
محفوظ نہیں رہ سکیں گے؛ اسی لیے انھوں نے کہاکہ : “Muslim India cannot accept any
constitution which must necessarily result in a Hindu majority government.” ان کے نزدیک پاکستان کا
مقصد مسلمانوں کو اپنی سیاسی، معاشی، تہذیبی اور مذہبی زندگی اپنے اصولوں کے مطابق
محفوظ رکھنے کا موقع فراہم کرنا تھا۔
اسی طرح 6 /دسمبر 1945ء
کے خطاب میں مسٹر جناح نے متحدہ ہندستان میں مسلمانوں کو “at the mercy of the perennial Hindu majority
domination” قرار دیتے ہوئے پاکستان
کو اس صورتِ حال سے نجات کا راستہ بتایا۔
اس کے علاوہ ہندستان کے
آزاد ہونے کے بعد 25 اکتوبر
1947ء کو محمد علی جناح نے رائٹرز کے نمائندے ڈنکن ہوپر سے کہا کہ ہندستانی
مسلمانوں سے “certain tests and standards of loyalty” یعنی ’’وفاداری کے
مخصوص امتحانات اور معیار‘‘ طلب کیے جا رہے ہیں؛ یعنی تقسیم کے بعد بھی انھیں اپنی
وفاداری ثابت کرنی پڑ رہی ہے۔
ان تمام تاریخی حالات،
دلائل اور پیش قیاسیوں کے تناظر میں آج کا نوجوان یہ سوال اٹھاتا ہے کہ:
1.
کیا جمعیت علمائے ہند کا ’’متحدہ قومیت‘‘ کا
نظریہ غلط ثابت ہوا؟
2.
کیا اس کے بالمقابل سر سید احمد خان کا موقف
زیادہ درست تھا کہ مسلمانوں کو انگریزوں کا وفادار رہنا چاہیے
3.
یا مسٹر جناح کے دو قومی نظریہ پر عمل کرتے
ہوئے، تقسیم کے وقت ہندستان چھوڑ کر ہمارے آباؤ اجداد کو پاکستان چلے جانا چاہیے
تھا؟
بہ الفاظ مختصر یہ کہہ
سکتے ہیں کہ آج جب ہندستان میں بعض مقامات پر فرقہ وارانہ کشیدگی، مسلمانوں کے
خلاف نفرت انگیز بیانات اور امتیازی رویوں کے واقعات سامنے آتے ہیں تو مسلم نوجوان
یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا سرسید احمد خان اور محمد علی جناح کا یہ موقف درست تھا
کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں اور مسلمانوں کا سیاسی تحفظ ایک الگ مملکت
میں ہے؟ اور کیا جمعیت علمائے ہند کا متحدہ قومیت کا نظریہ تاریخی طور پر غلط ثابت
ہوگیا؟
تو جوابات یہ ہیں ----
ان سوالات کے جوابات جذبات سے نہیں بلکہ تاریخ کے پورے پس منظر کو
سامنے رکھ کر تلاش کرنا چاہیے۔
(۱) سرسید مرحوم کا نظریہ یوں قابل عمل نہیں تھا؟ یعنی انگریزوں کی وفاداری کے بجائے آزادی کی
راہ کیوں اختیار کی گئی؟
جہاں تک سر سید کے اس
نظریے کا تعلق ہے کہ مسلمانوں کو برطانوی حکومت کے ساتھ وفاداری اختیار کرنی
چاہیے، تو اس کا جواب یہ ہے کہ ہندو مہاسبھا اور آر ایس ایس نے اسی نظریے پر عمل
کرتے ہوئے جہاد ازادی ہند میں انگریزوں کی چاپلوسی کرتے رہے اور ہندستان کی غلامی
کی عمر کو طویل کرتے رہے۔انگریز ہندستان کو لوٹتا رہا اور اس نظریے کے حامل افراد
اور تنظیموں نے وطن سے غداری کرتے ہوئے ان لٹیروں کا ساتھ دیتے رہے۔
ظاہر سی بات ہے کہ یہ
بات جہاں محبان وطن کی فطرت کے خلاف ہے وہی مسلمانوں کا مذہب بھی اس کی اجازت نہیں
دیتا کیوں کہ مسلمانوں کے لیے اپنے وطن کی آزادی اور غیر ملکی اقتدار سے نجات محض
سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ دینی و اخلاقی ذمہ داری بھی تھی؛ اسی لیے سوادِ اعظمِ
مسلمین کے ایک بڑے حصے اور جمعیت علمائے ہند نے انگریزوں کا ساتھ دینے کے بجائے
آزادی کی جدوجہد کو اختیار کیا۔
ہندستان کی آزادی کے لیے چند ضروری وجوہات
جمعیت علمائے ہند کے
پانچویں اجلاس عام منعقدہ:29 ؍دسمبر 1923تا یکم جنوری 1924 کے خطبہ صدارت میں
انگریزیوں کی غلامی کے بجائے ہندستان کو آزادی کیوں حاصل کرنا
چاہیے،صدر اجلاس حضرت مولانا حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ نے اس کی درج ذیل
وجوہات بیان فرمائیں:
1.
خلافت و اسلامی ممالک کا تحفظ: ہندستان آزاد ہوتا تو اس کی فوج اور مالی وسائل
مسلمانوں کے خلاف بیرونی جنگوں میں استعمال نہ کیے جاسکتے۔ اس لیے آزادی حاصل کرنا
ضروری ہے۔
2.
مقدس مقامات کا تحفظ: برطانوی پالیسی کے خاتمے سے جزیرۃ العرب اور مقدس مقامات کو بیرونی
سیاسی مفادات سے محفوظ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے، اس لیے آزادی حاصل کرنا ضروری
ہے۔
3.
مسلمانوں کی جان و مال کا تحفظ: ہندستان کی فوج کو بیرونِ ملک مسلم قوموں کے
خلاف استعمال ہونے سے روکنا ضروری ہے، اس لیے آزادی حاصل کرنا ضروری ہے۔
4.
مؤثر سیاسی آواز: آزاد ہندستان ہی بیرونِ ملک مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف
مؤثر احتجاج آزاد ملک ہی کرسکتا ہے، اس لیے آزادی حاصل کرنا ضروری ہے۔
5.
مالی و فوجی مدد کی آزادی: غلامی کی حالت میں ہندستانی مسلمان بیرونی
مسلمانوں کی آزادانہ مالی یا دیگر امداد نہیں کرسکتے، اس لیے آزادی حاصل کرنا
ضروری ہے۔
6.
برطانوی فوجی پالیسی سے نجات: ہندستانی فوج کے ذریعے دوسری مسلم قوموں کے خلاف
کارروائیوں کواسی وقت روکا جاسکتا ہے، جب کہ ہندستان آزاد ہو، اس لیے آزادی حاصل
کرنا ضروری ہے۔
7.
مذہبی آزادی: مصنف کے مطابق موجودہ حکومت کی پالیسی سے اسلامی احکام و شعائر
متاثر ہورہے تھے، اس لیے آزادی حاصل کرنا ضروری ہے۔
8.
حقوقِ انسانی و شہری آزادی: مذہبی، معاشرتی، تمدنی اور انسانی حقوق کا
تحفظ اسی وقت ہوسکتا ہے ، جب کہ ہندستان آزاد ہو، اس لیے آزادی حاصل کرنا
ضروری ہے۔
9.
معاشی خوش حالی: بھاری ٹیکس اور معاشی استحصال سے پیدا ہونے والی غربت کے خاتمے اور
عوام کی خوش حالی کے لیے آزادی ضروری ہے اس لیے آزادی حاصل کرنا ضروری ہے۔
10.
سیاسی خود اختیاری: چوں کہ ہندستان مسلمانوں کا بھی وطن تھا، اس لیے غلامی کے سیاسی،
معاشی، تعلیمی اور معاشرتی نقصانات سب سے زیادہ مسلمانوں کا ہورہا تھا، اس لیے
آزادی حاصل کرنا ضروری ہے۔
مزید
یگر ضروری وجوہات
اسی طرح شیخ الاسلام
حضرت حسین احمد مدنی صدر جمعیت علمائے ہند نے 7تا 9؍ جون 1940 کو منعقد بارھویں
اجلاس عام کے صدارتی خطبے میں آزادی حاصل کرنے کی درج ذیل وجوہات بیان فرمائیں:
1۔ برطانوی
قوم کا کردار:انگریز ہندستان میں آکر بالکل نیا انسان بن جاتا ہے۔ وہ مظالم جو
انگلستان میں نہیں کر سکتا، یہاں روا رکھتا ہے۔لارڈ میکالے، وارن ہیسٹنگز، سر جان
شور وغیرہ کے اقوال سے ثابت کیا کہ انگریزوں نے ذاتیں ذلیل کیں، قوانین وراثت
منسوخ کیے، عبادت گاہیں ضبط کیں، تجارت لوٹ لی اور ہندستانیوں کو ادنیٰ قوم سمجھا۔
2۔ لوٹ کھسوٹ کے تین ادوار: انگریزوں نے ہندستان کو بری طرح لوٹا۔
·
1700-1757: تسلط بذریعہ تجارت: ننگی لوٹ، کمپنی ملازمین نے
چوتھائی قیمت پر مال خریدا۔
·
1758-1832: تسلط بذریعہ اطاعت بالجبر: پلاسی 1757ء کے بعد
ملک گیری، خزانے لندن منتقل۔
·
1833-1940: تسلط بذریعہ پوست / دکھاوا: خوش معاملگی کا نعرہ
مگر حقیقت میں مزید استحصال۔
· شاہی اعلانات اور
بدعہدیوں کی تاریخ – آزادی دینے کی بات کہی، لیکن ہمیشہ وعدہ خلافی کی۔
3۔ 1833ء کا چارٹر ایکٹ: کہا گیا مذہب، رنگ، نسل
کی بنیاد پر کوئی عہدہ ممنوع نہیں ہوگا۔ لارڈ لٹن نے خود اعتراف کیا کہ یہ محض
"فریب دینا” تھا، مقابلے کے امتحان میں عمر کی قید جیسے حیلے بنا کر ہندستانیوں
کو روکا گیا۔
4۔ 1858ء کا ملکہ وکٹوریہ کا
اعلان: کہا گیا ہماری رعایا کو
بلا امتیاز عہدے دیے جائیں گے۔ عملاً 1000 روپے سے اوپر کے 96% عہدوں پر انگریز،
ہندستانی 4%۔ فوجی کالج میں ہندستانیوں کا داخلہ تک بند۔تعلیم کی شرط محض دھوکہ ہے –
انگریزوں سے پہلے ہر گاؤں میں مدرسہ تھا، انگریز نے تباہ کیا۔ 1871ء سے 1931ء تک
شرح خواندگی 2.3% سے 8% ہوئی، اس رفتار سے آزادی میں 1000 سال لگیں گے۔
5۔ زمینوں کا دوامی بندوبست: لارڈ کارنوالس نے
دوامی بندوبست کا وعدہ کیا، 1862ء میں منظوری ہوئی، پھر 1883ء میں زر پرستی کی وجہ
سے منسوخ کر دیا گیا۔ نتیجہ: میعادی بندوبست میں 55% زمین سے 84% لگان وصولی، کسان
تباہ۔
6۔مال گزاری: پہلے پیداوار کا 25%
تھی، انگریزوں نے 80-90% تک کر دی، نقد وصولی لازمی، نہ ادا کرنے پر جائیداد
نیلام، قید۔
7۔فارورڈ
پالیسی: ملکہ کے اعلان میں کہا
"ہم توسیع نہیں چاہتے” مگر افغانستان، سوات، چترال، وزیرستان پر 30-35 جنگیں،
7 ارب روپے سے زیادہ خرچ ہندستان پر ڈالا گیا۔
8۔ مقدس مقامات سے متعلق اعلان
1914ء: کہا عرب کے مقدس
مقامات محفوظ رہیں گے، پھر جدہ پر بمباری، طائف کا محاصرہ، ترک قیدیوں کو قید۔
9۔ آزادی کے جھوٹے وعدے 1833ء
سے 1929ء تک: میکالے، ایڈورڈ ہفتم،
گلیڈسٹون، 1917ء کا اعلان، 1919ء کا ایکٹ، 1921ء میں ڈیوک آف کناٹ کا سوراج کا
وعدہ، لارڈ ارون کا ڈومین اسٹیٹس کا مبہم اعلان۔ سب کے جواب میں لائیڈ جارج کا
بیان: "1200 انگریز فولادی قالب ہیں، ان کے بغیر عمارت گر جائے گی”۔
درج بالا نو وجوہات کے
علاوہ حضرت شیخ الاسلام نے مسلمانوں ے لیے آزادی ہند کو درج ذیل سات وجوہات کی جہ
سےفرض اور ضروری قرار دیا:
1.
ہندستان حضرت آدمؑ سے مسلمانوں کا وطن آبائی ہے۔
2.
ہم اسی کی مٹی میں دفن ہوکر اس کی مٹی کا جز بن
جاتے ہیں۔
3.
ملک مسلمانوں سے ہی چھینا گیا تھا۔
4.
ہندستان کی آزادی سے افغانستان، ایران، حجاز،
فلسطین، مصر وغیرہ بھی آزاد ہوں گے۔
5.
انگریز نے مسلمانوں کو سب سے زیادہ برباد کیا۔
6.
خواہ اسلامی راج ہو یا مشترک راج، غلامی سے
نکلنا شرعی فریضہ ہے۔
7.
شدید فقر و افلاس سے "کاد الفقر ان یکون
کفرا” – لوگ مرتد ہو رہے ہیں، اور بے روزگاری کا خاتمہ آزادی کے بغیر ممکن نہیں۔
انھی وجوہات کی وجہ سے
جمعیت علمائے ہند اور عام مسلمانوں نے سر سید مرحوم کے نظریہ غلامی کو قابل
عمل نہیں سمجھا اور آزادی ہند کے لیے کوشاں رہے۔
(2)مسلم لیگ کے مسٹر جناح کا نظریہ: قیام پاکستان کی مخالفت کیو
ں کی گئی؟
جہاں تک مسٹر جناح کے
اس نظریے کا تعلق ہے کہ ہندو اکثریت کے غلبے کے خوف سے مسلم اقلیت کے سیاسی تحفظ
کا واحد حل ایک علاحدہ اسلامی مملکت کا قیام ہے اور پاکستان بننے کے بعد تمام
مسلمانوں کو وہاں ہجرت کر جانی چاہیے، تو اس کے جواب میں چند بنیادی سوالات سامنے
آتے ہیں:
(1) کیا تقسیم ہند کے ذریعے
اقلیت کا مسئلہ واقعی حل
ہوگیا؟ تاریخ بتاتی ہے کہ
مسئلہ ختم ہونے کے بجائے دو طرفہ صورت اختیار کرگیا: پاکستان میں ہندو اقلیت اور
ہندستان میں مسلم اقلیت کے لیے نئے مسائل پیدا ہوئے۔
مجاہد ملت حضرت مولانا
محمد حفظ الرحمن سیوہاروی رح نے ایک بیان میں فرمایا کہ:
تقسیم ہند کی عملی شکل
نے پانچ کروڑ مسلمانوں، یعنی نصف مسلم آبادی کو جس طرح ہندوؤں کے رحم و کرم پر
چھوڑ دیا ہے، اس سے مسلم اقلیت کے صوبوں کے مسلمان بے حد مضطرب اور پریشان ہیں۔
اور مسلمانان ہند کی وحدت کو پارہ پارہ کرکے جس طرح تین تیرہ بنادیا ہے، اس کے
تاریک مستقبل سے بچنے کی تدابیر کا ہر درد مند قلب خواہش مند نظر آتا ہے۔(روزنامہ
انقلاب، لاہور، 28/ جولائی 1947ء)
(2) کیا تبادلۂ آبادی اس مسئلے کا عملی حل
ہوسکتا ہے؟ ہندستان اور پاکستان میں اقلیتیں صدیوں سے اپنے اپنے معاشروں کا مشترک
حصہ بن چکی تھیں؛ کروڑوں لوگوں کو ان کے گھروں، زمینوں،مذہبی مقامات، مساجد،
مدارس، خانقاہیں، مزارات وغیرہ، رشتوں اور سماجی جڑوں سے اکھاڑ کر ایک دوسرے
کے ملکوں میں منتقل کرنا عملاً ممکن نہیں تھا۔ تقسیم کے زمانے میں جب بڑے پیمانے
پر آبادی کی منتقلی ہوئی تو اس کے نتیجے میں ہونے والے فسادات، قتل و غارت اور
انسانی المیے نے اس تجربے کی سنگینی واضح کردی۔ اسی لیے جمعیت علمائے ہند کے اکابر
نے تبادلۂ آبادی کی مخالفت کی اور ان لوگوں کے مطالبے کی بھی تردید کی جو مسلمانوں
کو ہندستان سے پاکستان منتقل ہونے کا مشورہ دیتے رہے۔
چند حوالے درج ذیل ہیں:
تبادلہ
آبادی
تبادلۂ آبادی کے خلاف
جمعیت علمائے ہند کا موقف محض وقتی ردِعمل نہیں بلکہ ابتدا ہی سے واضح تھا۔
1۔ 12 مارچ 1950ء کو جمعیت علمائے ہند کے ناظمِ عمومی
مولانا محمد حفظ الرحمن سیوہاروی نے مشرقی و مغربی بنگال کے فسادات کے پس منظر میں
تبادلۂ آبادی کو مسئلے کا حل تسلیم کرنے سے انکار کیا اور کہا کہ ہندستانی مسلمان
اس ملک کے باشندے اور یہی ان کا وطن ہے۔ (روزنامہ الجمعیۃ، 16 مارچ 1950ء)
2۔ اس کے تقریباً چودہ سال بعد، 7-8 مارچ
1964ء کو مجلسِ عاملہ جمعیت علمائے ہند نے اسی موقف کو مزید دوٹوک انداز میں
دہراتے ہوئے اعلان کیا کہ "تبادلۂ آبادی کی آواز سراسر غلط ہے”؛ یہ مسئلے کا
حل نہیں بلکہ مزید نازک اور خطرناک پیچیدگیوں کا سبب بنے گا، اس لیے اس کی مخالفت
اور مذمت جمعیت علمائے ہند کا قومی فرض ہے۔
3۔ پھر اسی سال 9 ستمبر 1964ء کو جمعیت علمائے
ہند کے ناظمِ عمومی مولانا اسعد مدنیؒ نے مجلسِ منتظمہ ضلع دینی تعلیمی بورڈ سہارن
پور سے خطاب کرتے ہوئے ہندو مہاسبھا کے تبادلۂ آبادی کے مطالبے کو "لغو” قرار
دیا اور واضح کیا کہ مسلمان دستوری، اخلاقی اور قانونی حیثیت سے ہندستان کے شہری
ہیں۔ (روزنامہ الجمعیۃ، 10 ستمبر 1964ء)
3۔ 29نومبر 2025 کو بھوپال میں منعقد مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند کے
سوال جواب سیشن میں مولانا امین الحق عبداللہ اسامہ صاحب نے سوال کیا کہ جمعیت
علمائے ہند نے تقسیم ہند کی مخالفت کیوں کی؟
مولانا محمد سلمان
بجنوری صاحب نائب صدر جمعیت علمائے ہند نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی تقسیم
نہیں تھی؛ بلکہ مسلمانوں کی تقسیم تھی، اس لیے جمعیت علمائے ہند نے اس کی مخالفت
کی۔ دراصل ہمارے اکابر یہ چاہتے تھے کہ ہم صرف ایک مخصوص حصے پر نہیں؛ بلکہ پورے
ملک ہندستان میں رہیں۔ اس لیے جمعیت علما اور مسلمانوں نے تقسیم کرنے والے لیڈروں
کی مخالفت کی۔
مولانا محمود اسعد مدنی
صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے کہا کہ مسلم لیگ یہ فیصلہ کرکے ہندستان سے گئی تھی
کہ یاتو ہندستان میں رہ جانے والے مسلمانوں کو مرتد بنالیا جائے گا، یا پھر قتل
کردیے جائیں گے۔ اور چوں کہ اتنی بڑی آبادی کا تبادلہ ممکن نہیں تھا کہ سب لوگ پاکستان
چلے جائیں، اس لیے یہیں رہنے کا فیصلہ کرتے ہوئے جمعیت علمائے ہند نے ایسے ہوش ربا
حالات میں میدان عمل میں آکر مسلمانوں کو قتل سے بھی بچایا اور ارتداد سے تحفظ کے
لیے بھی مسلسل کوشاں ہے۔
ابوالمحاسن
حضرت مولانا محمد سجاد ؒ کا جواب :ہندو انڈیا اور مسلم انڈیا
یہی وجہ رہی کہ جب
23؍مارچ 1940 کو مسلم لیگ نے قرار داد لاہور بعنوان قرار داد پاکستان منظور کی، تو
اس کے فورا بعد 14 اپریل 1940 کو ابوالمحاسن حضرت مولانا
محمد سجاد بہاری رحمۃ اللہ علیہ نے ہندو انڈیا اور مسلم انڈیا کے عنوان سے ایک جامع
مقالہ لکھ کر پاکستان کا سیاسی، اقتصادی اور مذہبی ہر اعتبار سے جائزہ لے کر اس کے
مسلمانوں کے حق میں شدید نقصان دہ ہونے کو اجاگر کردیا۔ مولانا کے مقالہ کا
خلاصہ درج ذیل ہے:
آبادی کے حوالے سے مرکزی نکتہ – جسے مولانا نے نمایاں کیا کہ جناح
صاحب اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کو 2 کروڑ بتاتے ہیں، حالاں کہ وہ تقریباً 3 کروڑ
ہیں۔اکثریتی صوبوں کے مسلمان 6 کروڑہیں۔ تو لیگ کی اسکیم کا مطلب ہے کہ 3
کروڑ اقلیتی مسلمانوں کو ہندو اکثریت کی غلامی پر راضی رہنے اور قربان ہونےکو کہا
جا رہا ہے تاکہ 6 کروڑ کے لیے الگ فیڈریشن بن سکے۔ان 3 کروڑ کے حقوق کی ضمانت صرف
دو خیالی نظریوں پر ہے:
(1) اکثریتی صوبوں میں ہندوؤں سے بدلہ لیا جائے گا۔
( 2) مسلم
فیڈریشن ہندو انڈیا پر حملہ کر دے گی۔ مولانا کہتے ہیں یہ دونوں نظریے شرعاً
ناجائز اور عقلاً ناممکن ہیں۔
مولانا کا دوسرا بڑا
سوال: اگر 6 کروڑ کی آزادی کے لیے 2 کروڑ کی قربانی جائز ہے، تو 20-25 کروڑ عالم
اسلام کی آزادی کے لیے پورے8 کروڑ ہندستانی مسلمانوںکی قربانی کیوں جائز نہیں؟ پھر
تو مکمل آزادی کی تحریک میں شامل ہونا چاہیے۔
مسلم اسٹیٹ کی حقیقت:
جناح کی مسلم ریاست میں بھی غیر مسلم رہیں گے اور حکومت میں شریک ہوں گے، تو وہ
خالص اسلامی ریاست کیسے ہوئی؟ آج بھی پنجاب، بنگال، سندھ مسلم اکثریتی صوبے ہیں۔
الگ فیڈریشنوں کے بعد
بھی دفاع، خارجہ اور کسٹم کے لیے ایک مرکزی فیڈریشن یا پھر برطانیہ کی بالادستی
لازمی ہوگی، جس میں پھر ہندو اکثریت ہی ہوگی۔ اس لیے یہ حل مسلمانوں کو معاشی طور
پر تباہ اور پھر بھی ہندو اکثریت کے خوف میں رکھے گا۔
مجاہد
ملت حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان ؒ کا جواب: اعداد وشمار کیا حقیقت بیان کرتے ہیں
اسی طرح دسمبر 1945
میں مولانا محمد حفظ الرحمن صاحب سیوہاروی نور اللہ مرقدہ ناظم عمومی جمعیت
علمائے ہند نے تحریک پاکستان پر ایک نظرکے عنوان سے اپنے مقالے میں جامع تجزیہ پیش
کیا، جس کے سیاسی تجزیہ والے حصہ کا خلاصہ یہاں پیش کیا جارہا ہے۔
1۔ لیگ کا دعویٰ: مسلمان ہندستان میں اقلیت نہیں؛ بلکہ ایک قوم ہیں،
اس لیے جہاں وہ اکثریت میں ہیں وہ حصے الگ کر کے پاکستان بنایا جائے، تاکہ وہ ہندو
اکثریت کے ماتحت نہ رہیں۔
2۔ آبادی کا اصل حساب – مولانا کا مرکزی
نکتہ:روزنامہ منشور 27 اکتوبر 1945 اور 1941 مردم شماری کی روشنی میں: پاکستانی
صوبے: کل آبادی: 10 کروڑ 70 لاکھ۔ مسلمان: 5 کروڑ 90 لاکھ۔ غیر مسلم: 4 کروڑ 79
لاکھ۔
فرق صرف: 1 کروڑ 11
لاکھ یعنی 10%، یعنی مسلمان 60% ، اورغیر مسلم 40%۔
ہندو ہندستان: کل آبادی
تقریباً 30 کروڑ۔مسلمان: پونے 3 کروڑ یعنی 10% سے بھی کم۔تو کا نتیجہ یہ نکلے گا
کہ پاکستان کا مطلب ہے10 کروڑ مسلمانوں کو دو ٹکڑوں میں بانٹنا۔ اور ایک
تہائی [پونے 3 کروڑ] کو ہندو ہندستان میں غیر مؤثر اقلیت بنا کر ہندوؤں کے رحم و
کرم پر چھوڑ دینا۔
اسی طرح پاکستان کی بات
کریں ، تو دو تہائی کے لیے بھی ایسی حکومت بنے گی، جس میں 38-40% غیر مسلم انتہائی
مؤثر اور سیاسی و معاشی طور پر طاقتور اقلیت ہوگی، جس کو راضی کیے بغیر یورپی
جمہوری نظام میں حکومت چل ہی نہیں سکتی۔اس کے برعکس ہندوؤں کو 30 کروڑ کا مضبوط
ہندستان مل جائے گا، جہاں مسلمان بالکل غیر مؤثر ہوں گے۔
بدلہ والا منطق باطل
ہے: یہ کہنا کہ یو پی بہار کے مسلمانوں پر ظلم کا بدلہ پنجاب بنگال کے ہندوؤں سے
لیا جائے گا، مذہباً، اخلاقاً اور قانوناً غلط اور ناقابل عمل ہے۔
بہ الفاظ مختصر یہ کہا
جاسکتا ہے کہ متحدہ ہندستان کی ہندو مسلم کی کل آبادی 40 کروڑ 70 لاکھ میں سے مسلم
کی کل آبادی 10 کروڑ 70 لاکھ 4 ہزار 783، اور ہندوں کی کل آبادی تقریباً 30
کروڑ کو دو حصوں میں بانٹا جائے گا، تو پاکستان میں مسلمانوں کی کل تعداد 5 کروڑ
90 لاکھ ہوگی، جب کہ ہندوں کی کل تعداد 4 کروڑ 79 لاکھ ہوگی۔ جس کا مطلب یہ ہوگا
مسلمان 60% ، اورغیر مسلم 40% ہوں گے، یعنی صرف20 فی صد کا فرق ہوگا۔
اس کے بالمقابل ہندستان
میں ہندووں کی کل آبادی 27 کروڑ 25 لاکھ ہوگی اور مسلمانوں کی کل تعداد 2 کروڑ 75
لاکھ یعنی تقریباً 9% سے بھی کم رہ جائے گی، جو ہمیشہ ہندووں کے رحم و کرم
پر زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گے۔
اس کے علاوہ
پاکستان کی اسکیم دراصل انگریزوں کی تقسیم کرو اور حکومت کرو کی پالیسی کی سازش کا
حصہ تھی، جس کا تذکرہ سابقہ قسط میں آچکا ہے۔
یہی سب وہ حقائق ہیں،
جن کی بنیاد پر جمعیت علمائے ہند نے شدت کے ساتھ اسلامی مملکت کے نام پر بنائے
جانے والے ملک کی مخالفت کی۔اور جناح کے نظریے کو مسترد کردیا۔
آخری
اور فیصلہ کن بات!
ذرا تاریخ کا پہیہ ایک
لمحے کے لیے الٹا گھما کر دیکھیے!
اگر جمعیت علمائے ہند
متحدہ قومیت کا نظریہ اختیار نہ کرتی، اور سر سید مرحوم کے تصور کے مطابق مسلمان
انگریزوں کے وفادار بن کر جنگِ آزادی سے الگ رہتے، یا مسلم لیگ کے دو قومی نظریے
کو مکمل طور پر قبول کرکے تقسیمِ ہند اور پاکستان کے مطالبے کے ساتھ کھڑے ہو جاتے،
تو آج ہندستان میں مسلمانوں کے پاس اپنے حقِ وطنیت کا کون سا تاریخی جواز باقی
رہتا؟
آج جب جنگِ آزادی میں
مسلمانوں کی برابر کی شرکت اور قربانیوں کے باوجود فرقہ پرست عناصر مسلمانوں کی حب
الوطنی پر سوال اٹھاتے ہیں، تو ذرا تصور کیجیے کہ اگر مسلمان آزادی کی جنگ سے الگ
رہتے اور ہندستان کی تقسیم کے علم بردار بن جاتے، تو آج مسلمان کس منھ سے کہتے کہ
’’ہم اس ملک کے حقدار بھی ہیں اور وفادار بھی‘‘؟
فافہم و تدبر۔
ملک دو راہے پر آگے کا راستہ کیا ہے؟
جیسا کہ عرض کیا گیا ہے
کہ ہمارے اکابر نے ہندستان کی تعمیر و ترقی کے لیے جمہوریت کی راہ اختیار کی تھی
تاکہ ہرکس و ناکس برابری اور مساوات کے حقوق کے ساتھ زندگی گزار سکیں لیکن 2014کے
بعد سے جب سے بی جے پی کی حکومت بنی ہے، اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کو جس طرح
سیاسی،اقتصادی،عدل و مساوات اور انسانی حقوق سے محروم رکھنے کی منصوبہ بند سازش کی
گئی ہے اور ایسے حالات پیدا کردیے گئے ہیں کہ مساجد و مدارس اور مزارات وغیرہ جیسے
مقدس شعائر کے تحفظ کے لیے بھی محض آواز اُٹھانا بھی فرقہ پرستوں کے لیے انتقامی
کارروائی کا بہانہ بن جارہا ہے اور ایسے حالات پیدا کردیے گئے ہیں کہ مسلم قیادتیں
ہر محاذ پر بالکل بے بس نظر آتی ہیں۔
ایسی صورت حال میں سوال
یہ پیدا ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے مستقبل کے تحفظ کے لیے انھیں کونسا طریقہ اختیار
کرنا پڑے گا؟
تو اس حوالے سے پہلی بات یہ ہے کہ ہمارے اکابر نے ہندستان کی
غلامانہ حیثیت بدل کر جمہوریت لانے کے لیے جو جدوجہد کی تھی، ازادی کے بعد ہندستان
کی جمہوریت برقرار رکھنے کے لیے مسلمانوں نے بحیثیت قوم ایسی ذمہ داری نہیں نبھائی
اور جمہوریت کی پر سکون آغوش میں گہری نیند سوگئے ۔
دوسری بات یہ ہے کہ
قانون قدرت ہے کہ کوئی بھی سیاسی حالت ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔ خود ہندستان کی
ہی بات کریں تو موریہ کی حکومت کا خاتمہ ہوگیا،مغلیہ سلطنت بھی قصہ پارینہ بن گئی،
ایسٹ انڈیا کمپنی اور برطانوی اقتدار کا سورج بھی غروب ہوگیا، اب یہ جمہوریت بھی
بوڑھی ہوکر ہندو راشٹر کے لیے راہ ہموار کررہی ہے ۔ ایسے حالات میں اگر مسلمان
تحفظ وطن کے لیے ضرور شعور پیدا نہیں کریں گے اور اپنا فریضہ ادا نہیں کریں گے، تو
انقلاب سے مسلمانوں کو کوئی نہیں بچا سکتا۔
جمعیت علمائے ہند کی ایک مشترکہ کوشش
ملک میں دلتوں، آدی
واسیوں، پسماندہ طبقات اور مسلم اقلیت کے خلاف بڑھتی ہوئی ناانصافیوں اور دستور کو
درپیش خطرات کے پس منظر میں جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام مدنی ہال، نئی دہلی
میں ’’ملک دوراہے پر اور آگے کا راستہ‘‘ کے عنوان سے 20 فروری 2018ء کو اجتماع
منعقد ہوا۔ مقررین نے موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دستور کے تحفظ،
نفرت کے مقابلے، سماجی ہم آہنگی اور مختلف مظلوم و پسماندہ طبقات کے مشترکہ محاذ
پر زور دیا۔
1.
مولانا محمود مدنی، جنرل سکریٹری جمعیت علمائے ہند: ملک کے حالات
انتہائی تشویش ناک ہیں؛ مذہب و ذات کی بنیاد پر حملوں کے ساتھ معاشی بحران، کسانوں
کی خودکشی اور نوجوانوں کی بے روزگاری نے مسائل کو مزید سنگین کردیا ہے، اس لیے
مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ کام کرنا ضروری ہے۔
2.
مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری، صدر جمعیت علمائے
ہند: حکومت دستور کی پابند ہے؛ محض حکومت سے بے تعلقی یا مذمت کافی نہیں، بلکہ اس
کے رویے کو بے نقاب کرنے کے ساتھ ضرورت کے وقت اس سے بات چیت بھی ہونی چاہیے۔
3.
پرکاش امبیڈکر، دلت رہنما: ملک میں دستور اور شخصی آزادی کے
تحفظ کی لڑائی جاری ہے؛ مختلف محروم طبقات کو متحد کرکے ان کی اجتماعی طاقت بنانا
ضروری ہے۔
4.
پروفیسر رام پنیانی: آر ایس ایس اور منو وادی سوچ پر مبنی ہندو
راشٹر کا تصور سماج کے لیے خطرہ ہے؛ نفرت ایک منظم عمل کے ذریعے پھیلائی گئی ہے،
اس لیے کیڈر سازی اور اقلیت و اکثریت کی مشترکہ جدوجہد ضروری ہے۔
5.
مولانا سید ارشد مدنی: نفرت کو نفرت سے نہیں بلکہ محبت سے ختم کیا
جاسکتا ہے؛ دلتوں اور مسلمانوں کو درپیش مسائل کے حل کے لیے اجتماعی فیصلوں کو
عملی جامہ پہنانا ہوگا۔
6.
شری شیورودر النگایت، لنگایت مذہبی رہنما: دلوں کو جوڑنے کی ضرورت
ہے؛ صلح حدیبیہ اس بات کی مثال ہے کہ مشکل اور کشیدہ حالات میں بھی صلح و مفاہمت
کی اہمیت برقرار رہتی ہے۔
7.
ہرش مندر، سابق نوکر شاہ: آنے والی نسلیں ہم سے پوچھیں گی کہ ہم نے موجودہ
حالات میں کیا کردار ادا کیا؛ خوف و نفرت کے ماحول کے خلاف مضبوط منصوبہ بندی کے
ساتھ جدوجہد ضروری ہے۔
8.
پروفیسر کنچا الیا: محض سیاسی تحریک کے بجائے سول تحریک کی ضرورت
ہے؛ موجودہ فاشزم اور اس کے ایجنڈے کو سمجھ کر عملی لائحہ عمل طے کرنا ہوگا۔
9.
ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں، چیئرمین دہلی اقلیتی کمیشن: نفرت کے خلاف آواز
بلند کرنے اور فرقہ وارانہ فسادات کی روک تھام کے لیے مؤثر قانونی اقدامات کا
مطالبہ مضبوطی سے اٹھانا چاہیے۔
10.
نوید حامد، صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت: ملک کی یک جہتی کی جدوجہد صرف
مسلمانوں کی ذمہ داری نہیں؛ اکثریتی طبقے کو بھی آگے آکر اس میں مؤثر کردار ادا
کرنا ہوگا۔
11.
اشوک بھارتی، دلت رہنما و چیئرمین ناکڈور: منو وادی سوچ کے
مقابلے کے لیے ادارہ جاتی نظام، معیشت میں مظلوم طبقات کی یقینی حصہ داری اور حقوق
کے تحفظ کرنے والے اداروں کی نگرانی ضروری ہے۔
12.
سوامی اگنی ویش، آریہ سماجی رہنما: موجودہ نظام میں جمہوریت و
سوشلزم کمزور اور سرمایہ دارانہ غلبہ نمایاں ہے؛ بینکوں کی لوٹ مار، کسانوں کی
خودکشیاں اور معاشی مسائل کے حل کے لیے مؤثر اقدامات ضروری ہیں۔
13.
مولانا اصغر علی امام مہدی، امیر جمعیت اہل حدیث ہند: امید ہے کہ یہ
اجتماع ملک کا رخ بدلنے اور موجودہ حالات کے حل کی طرف مؤثر پیش رفت کا ذریعہ بنے
گا۔
14.
قاسم رسول الیاس: حکومت اپنے وعدوں میں ناکام ہورہی ہے اور ان
ناکامیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے میڈیا کے ذریعے غیر اہم اور متنازع موضوعات کو
نمایاں کیا جارہا ہے۔
15.
سریش کھیر نار: پسماندہ اور محروم طبقات کے مسائل کے حل کے
لیے اجتماعی جدوجہد اور مشترکہ پلیٹ فارم کی ضرورت ہے۔
16.
ڈاکٹر ظفر محمود، صدر زکوٰۃ فاؤنڈیشن آف انڈیا: سماجی محرومی
اور اقلیتوں کے مسائل کے حل کے لیے حقوق، مساوات اور عملی سماجی اقدامات کو مضبوط
کرنا ضروری ہے۔
17.
محترمہ ریشما جی: موجودہ حالات میں محروم طبقات کی آواز کو منظم
کرکے ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے مشترکہ جدوجہد ضروری ہے۔
18.
پروفیسر شرف الدین: سماجی انصاف اور تمام طبقات کے مساوی حقوق کے
لیے اجتماعی کوششوں کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے۔
19.
ایم ایم انصاری: ملک کے موجودہ حالات کا مقابلہ دستور اور
جمہوری اقدار کے تحفظ کے ذریعے کیا جانا چاہیے۔
20.
سی ایل یادگیری: پسماندہ طبقات کی شرکت اور ان
کے حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی جدوجہد ضروری ہے۔
21.
بیلا این تیجاوت: محروم اور کمزور طبقات کو اپنے حقوق کے لیے
متحد اور منظم ہونا چاہیے۔
22.
کے کے کھیریا: دستور اور سماجی انصاف کے تحفظ کے لیے مختلف
طبقات کو مشترکہ جدوجہد میں شریک ہونا چاہیے۔
23.
جان چھٹناٹ: سماجی ہم آہنگی اور محروم طبقات کے حقوق کے
تحفظ کے لیے مشترکہ کوشش ضروری ہے۔
24.
اشوک اروڑا: موجودہ حالات میں جمہوری اور آئینی اقدار کے
تحفظ کے لیے اجتماعی آواز کو مضبوط کرنا چاہیے۔
25.
مولانا محمد احمد، سکریٹری جماعت اسلامی ہند: ملک کے حالات میں
اصلاح اور اجتماعی جدوجہد کے لیے مختلف طبقات کے درمیان تعاون ضروری ہے۔
26.
ڈاکٹر عرشی خان: اقلیتوں اور دیگر محروم طبقات کے حقوق کے تحفظ
کے لیے منظم جدوجہد کی ضرورت ہے۔
27.
مولانا ندیم صدیقی، صدر جمعیت علمائے مہاراشٹرا: موجودہ حالات میں
مسلمانوں اور دیگر مظلوم طبقات کے مسائل کو اجتماعی طور پر اٹھانا ضروری ہے۔
28.
مولانا اسامہ کانپوری، صدر جمعیت علمائے یوپی: دستور اور اقلیتوں کے
حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوششوں کو مضبوط کیا جانا چاہیے۔
29.
حافظ پیر شبیر احمد، صدر جمعیت علمائے تلنگانہ و آندھرا پردیش:
موجودہ حالات میں اتحاد، باہمی تعاون اور حقوق کے تحفظ کی جدوجہد ضروری ہے۔
30.
صلاح الدین احمد: سماجی انصاف اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لیے
مشترکہ جدوجہد کی ضرورت ہے۔
31.
ٹی آر کھنٹے: محروم طبقات کی آواز کو مضبوط کرنے اور ان کے
حقوق کے تحفظ کے لیے اجتماعی کوشش ضروری ہے۔
32.
اے سی مائیکل: دستور اور سماجی مساوات کے تحفظ کے لیے تمام
طبقات کو متحد ہوکر کام کرنا چاہیے۔
33.
ڈاکٹر چندرپال: دلتوں، پسماندہ طبقات اور دیگر
محروم گروہوں کے حقوق کے لیے مشترکہ جدوجہد ضروری ہے۔
اجتماع کے اختتام پر
آگے کا لائحہ عمل طے کرنے کے لیے سوامی اگنی ویش، پرکاش امبیڈکر، سریش کھیر نار،
پروفیسر کنچا الیا، نتن چودھری، راکیش بہادر، ہرش مندر اور قربان علی پر مشتمل کور
کمیٹی تشکیل دی گئی۔ کمیٹی نے بعد کی میٹنگ میں ایک ڈرافٹ پیش کیا، جس میں دستور
کے تحفظ کے لیے ’’دستور بچاؤ تحریک‘‘ شروع کرنے اور ایس سی، ایس ٹی، او بی سی، آدی
واسی اور اقلیتوں سمیت تمام پسماندہ طبقات کی شرکت پر زور دیا گیا۔ اس تحریک کا
نعرہ تجویز کیا گیا: ’’بھارت دیش، سب کا دیش‘‘۔
لیکن اس کمیٹی نےکیا
علمی کارروائیاں کیں، راقم کو معلوم نہیں ہوسکا۔
جہازی فارمولے
راقم محمد یاسین جہازی
کا عندیہ ہے کہ ہندستان کے موجودہ حالات کوئی ایسے حالات نہیں ہیں، جو تاریخ میں
پہلی مرتبہ پیش آیا ہو، بلکہ یہ ایام اللہ ہیں جو رنگ بدل بدل کر آتے رہتے ہیں ۔
ایسے ہی حالات جب اکابر کے سامنے آئے تھے، تو انھوں نے بھی اپنے تجربے اور تدبر سے
حالات کا مقابلہ کیا، جو ہمارے لیے روشنی اور رہنمائی کے سامان بہم پہنچاتے ہیں ۔
بس ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس کا مطالعہ کریں اور اس سے روشنی حاصل کرتے ہوئے
اپنے مستقبل کے تحفظ کا سامان فراہم کریں،لیکن المیہ یہ ہے کہ ہم اکابر کو پڑھنے
کے بجائے، خود سے شروعات کرتے ہیں اور نئے تجربوں میں طویل وقت اور کثیر سرمایہ
خرچ کرکے بالاخر اسی نتیجے پر پہنچتے ہیں، جہاں ہمارے اکابر بہت پہلے پہنچ چکے تھے
اور ہماری کوششوں کا اس کے علاوہ کوئی نتیجہ نہیں نکلتا کہ
چل چل کے پھٹ چکے ہیں
قدم اس کے باوجود
اب تک وہیں کھڑے ہیں
جہاں سے چلے تھے ہم
اس لیے آئیے ذیل میں
پہلے ہم اپنے اکابر کے طریقے کو ہی پیش کرتے ہیں ۔
ابو المحاسن حضرت مولانا محمد سجاد بہاری علیہ الرحمہ کا فارمولا
انھوں نے ایک موقع پر
فرمایاکہ:
چھوٹی چھوٹی مسلم
آبادیاں ایک جگہ آبادہوجائیں
(۳)یہی
وجہ ہے کہ میں مسلمان زمین داروں سے کہتا ہوں کہ تم بکھرے ہو ئے مسلمانوں کو یک جا
کر لو اور چھوٹی چھوٹی مسلم آبادی کو اپنے یہاں بلالو، اس طرح تمھاری بھی حفاظت ہو
جائے گی اور ان غریب مسلمانوں کی بھی ، مگر میری یہ باتیں کسی کی سمجھ میں ابھی
نہیں آرہی ہیں ، مگر وقت آنے پر دیکھو گے کہ یہ پچھتائیں گے اور ان کا بہت بڑا
جانی و مالی نقصان ہو گا۔
(محاسن
التذکرہ، ص؍980۔ مرکزی عنوان:مولاناسجادؒکی بعض سیاسی پیش گوئیاں–اورزندۂ جاویدنظریات۔
تصنیف: مولانا اخترامام عادل قاسمی، مہتمم جامعہ ربانی منورواشریف)
اس سے اکثریت کے درمیان
رہنے والے مسلم اقلیت جہاں اپنے مذہبی فرائض کو بہتر طور پر انجام دے سکیں گے،
وہیں اکثریت کے ظلم و زیادتی کے خوف سے بھی آزاد رہ سکیں گے۔
لیکن ہندستان میں مسلمانوں
کے جینوسائڈ کا جو طرزِ عمل اختیار کیا جارہا ہے، اس کے پیش نظر یہ فارمولا نقصان
دہ بھی ہوسکتا ہے، غزہ کی آبادی کو وسائل حیات پر بندش لگا کر اور انھیں گھیر کر
فنا کرنے کی مثال ہمارے سامنے ہے ۔ یہی عمل ہندستان میں بھی دوہرانے کے سلسلہ کا
آغاز ہوچکا ہے، جس کی تازہ نظیر آسام کے پانچ ہزار مسلمانوں کے کھانا پانی بند
کرنے کی آرہی مسلسل خبریں ہیں ۔ اللہ تعالیٰ رحم و کرم فرمائیں ۔
جہازی فارمولے
یہ ظاہر سی بات ہے کہ
موجودہ جمہور طرز فکر میں انقلاب ووٹ کے ذریعے ہی لایا جاسکتا ہے ۔ مسلم لیگ نے
پاکستان ووٹ کے ذریعے ہی حاصل کیا تھا۔ موجودہ ہندستان دھیرے دھیرے ہندو راشٹر کی
طرف ووٹ چوری ہی سے بڑھ رہا ہے، اس لیے بظاہر ایسا لگتا ہے کہ مسلمانوں کو اپنی
عظمت رفتہ کو حاصل کرنے کے لیے ووٹنگ طاقت کو مضبوط کرنا ہوگا۔ لیکن محض سیاسی قوت
کی وجہ سے مسلمانوں کو تحفظ حاصل ہو جائے گا، ایسا ممکن نہیں ہے۔ راقم کے عندیے
میں مسلمانوں کو سردست درج ذیل طریقوں پر عمل کرنا ہوگا:
1.
مسلمانوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی نصرت و فتح
ایمان کے ساتھ مشروط ہے، اس لیے سب سے پہلے مسلمانوں کو اپنے ایمان و عقائد کے تحفظ پر کام کرنا ہوگا۔
2.
تعلیم ہی تمام پس ماندگی کی بنیادی وجہ ہے، اس لیے تعلیم کی طرف مسلمانوں
کو انقلابی قدم بڑھانا ہوگا۔ ہمارے نزدیک تعلیم میں کوئی تفریق نہیں ہے ۔ عصری اور
دینی دونوں تعلیمات ضروری ہیں ۔
3.
مشترک سماج میں بہتر اسلامی اخلاق کا مظاہرہ کرنا تحفظ کے نقطہ نظر سے بھی ضروری
ہے ۔ اور اسلام کے تبلیغی مزاج کے لیے بھی معاون ہے، اس لیے ہر ایک مسلمان کو
اخلاق حسنہ کا مکمل نمونہ بن جانا چاہیے ۔
4.
ہندستان کے مشترک سماج میں کچھ عناصر ایسے بھی
ہیں،جو صرف غنڈئی اور لمپٹی زبان ہی سمجھتے ہیں، ان سے گاؤں سماج، قوم اور شعائر
کے تحفظ کے لیے کسی کل ہند سطح پر اجتماعی نظام بننے کے انتظار کے بغیر محلہ وار
ہندو مسلم سبھی افراد پر مشتمل امن کمیٹی بنائیں، تاکہ مقامی ہندو مسلم افراد ایک دوسرے کے تعاون سے باہری
فسطائی عناصر کی تخریب کاری سے محفوظ رہیں ۔
یہ موجودہ حالات میں
تحفظ کے لیے بنیادی اصول ہے۔ امت مسلمہ جب یہاں تک پہنچ جائے گی، تو اس کے بعد
دوسرا مرحلہ پیش کیا جائے گا ان شاءاللہ تعالیٰ ۔
آپ سے ایک گزارش
مجھے یقین ہے کہ
ہندستانی مسلمانوں کے موجودہ نازک اور پُردرد حالات نے آپ کو ان قسطوں کے مطالعے
کے ساتھ ساتھ سنجیدگی سے غور کرنے پر بھی مجبور کیا ہوگا۔ اب سوال صرف یہ نہیں کہ
حالات کیسے ہیں؛ اصل سوال یہ ہے کہ ہم کیا کریں؟
آپ سے مخلصانہ گزارش ہے
کہ آپ بھی اپنا کردار ادا کرتے ہوئے بتائیں کہ ملت اسلامیہ ہندیہ کو زوال سے عروج
کی طرف لے جانے کے لیے ہمیں کن عملی فارمولوں کو اختیار کرنا چاہیے؟
کیو ں کہ تاریخ کے
فیصلے صرف بڑے قائدین نہیں کرتے؛ بیدار قومیں اپنے اجتماعی شعور، مسلسل جدوجہد اور
درست فیصلوں سے اپنا مستقبل خود تعمیر کرتی ہیں۔
واللہ اعلم بالصواب
تمت بعون اللہ تعالیٰ
محمد یاسین جہازی
2 ؍اکتوبر
2026