24 Jul 2026

روس سے متعلق جمعیت علمائے ہند کا تاریخی موقف

 روس سے متعلق جمعیت علمائے ہند کا تاریخی موقف 

محمد یاسین جہازی

جمعیت کی تاریخ میں روس کا سب سے پہلا تذکرہ 24 تا 26/دسمبر 1922ئ کے چوتھے اجلاس عام کے خطبہ¿ صدارت میں ملتا ہے، جہاں نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند مولانا حبیب الرحمان عثمانیؒ نے انقلابِ روس اور نو تشکیل شدہ بالشویک حکومت کی طرف سے مظلوم اقوام اور جدید ترکی کی حمایت و دوستی کو سراہا۔ تاہم، چند ہی سالوں میں اس کے مذہبی مظالم کی خبریں سامنے آئیں؛ چنانچہ 3 تا 6/مئی 1930ئ کے نویں اجلاسِ عام میں جناب ابوالنظر رضوی نے لینن حکومت کی جانب سے مساجد و خانقاہوں کی بندش اور مذہبی کتب پر پابندی کی شدید مذمت کی اور اشتراکیت کا مقابلہ کرنے کا عزم ظاہر کیا۔ بعد ازاں 9/ستمبر 1935ئ کو ناظمِ عمومی مولانا احمد سعیدؒ نے مولانا حسرت موہانیؒ کے نام ایک مکتوب میں جمعیت اور حکومت کے گٹھ جوڑ کی افواہوں کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ جمعیت کے حتمی فیصلے تک ہر ممبر اشتراکیت، یا جمہوریت کے حوالے سے ذاتی رائے میں آزاد ہے۔

دوسری جنگِ عظیم کے بعد 25/اگست 1941ئ کو برطانیہ اور روس نے مشترکہ طور پر ایران پر قبضہ کر لیا تھا، اور جنگ کے خاتمے (8/مئی 1945ئ) کے باوجود سوویت افواج کا انخلا نہ ہوا؛ بلکہ اگست 1945ئ تک ان کی تعداد دو لاکھ تک پہنچ گئی۔ نومبر 1945ئ میں ایران کے احتجاج کے باوجود سوویت سرپرستی میں 12/دسمبر 1945ئ کو ’’آذربائیجان کی خود مختار جمہوریہ‘‘ اور 15/ دسمبر 1945ئ کو ’’جمہوریہ مہاباد‘‘ کا قیام عمل میں آیا۔ اس صورتِ حال پر جمعیت کے زیرِ اہتمام 11/جون 1945ئ کو عظیم الشان جلسہ ہوا اور 22/جون 1945ئ کو ’’یومِ ممالکِ اسلامیہ‘‘ منا کر ایران پر روس اور برطانیہ کے ناجائز قبضے کی سخت مذمت کی گئی۔ بعد ازاں معاہدے کے تحت 2/مارچ 1946ئ کی تاریخ گزرنے کے بعد بین الاقوامی دبا¶ پر روس نے 24/مارچ 1946ئ کو انخلا کا اعلان کیا اور مئی 1946ئ میں مکمل انخلاپر یہ بحران ختم ہوا۔

اس کے بعد 27/مئی 1948ئ کو صدرِ جمعیت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے اپنے ایک پریس بیان میں تقسیمِ فلسطین اور اسرائیلی حکومت کو تسلیم کرنے پر روس اور امریکہ کے رویے کو شدید افسوس ناک قرار دیا۔

 9/اگست 1971ئ کو بھارت اور سوویت یونین کے درمیان 20 سالہ ’’معاہدہ¿ امن، دوستی و تعاون‘‘ پر دستخط ہوئے۔ 15/اگست 1971ئ کو ناظم عمومی مولانا اسعد مدنیؒ نے اسے 75/ کروڑ عوام کی اتحاد کی طاقت اور عالمی امن کا ستون قرار دیا، اور 18õ19/ستمبر 1971ئ کی مجلس عاملہ کی تجاویز میں اس کا پرجوش خیر مقدم کیا گیا۔

 1973ئ کی عرب اسرائیل جنگ کے تناظر میں 12/اکتوبر 1973ئ کو جامع مسجد دہلی کے احتجاجی اجلاس میں جنرل شاہ نواز نے، 24/نومبر 1973ئ کو مجلس منتظمہ نے، اور 25/ نومبر 1973ئ کے ’’عرب حمایت کنونشن‘‘ میں شیخ عبداللہ و دیگر قائدین نے عربوں کی حربی و عسکری امداد پر روس کا شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں 15õ16/مئی 1976ئ کی مجلس منتظمہ نے اقوامِ متحدہ، امریکہ اور روس سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل پر دبا¶ ڈال کر ’’جینوا کانفرنس‘‘ بلائیں۔

افغانستان میں اپریل 1978ئ کے ثور انقلاب اور ستمبر 1979ئ میں حفیظ اللہ امین کے اقتدار کے بعد 24/دسمبر 1979ئ کو سوویت فوجیں داخل ہوئیں، 27/دسمبر 1979ئ کو امین کو قتل کر کے ببرک کارمل کو صدر بنایا گیا، اور جنوری 1980ئ تک ایک لاکھ سوویت فوجی وہاں تعینات ہو گئے۔ اس پر جمعیت نے شدید ردِعمل کا اظہار کیا۔ 28õ29/جنوری 1980ئ کی مجلس عاملہ، 28õ29/اپریل 1980ئ کی مجلس منتظمہ، 14 تا 16/جنوری 1983ئ کے 24/ ویں اجلاسِ عام، اور 6 تا 8/اپریل 1984ئ کی ’’تعلیمی و ملی کانفرنس‘‘ میں روس کی فوجی مداخلت کی سخت مذمت کی گئی اور فوری انخلا کا مطالبہ کیا گیا۔ بالآخر 15/فروری 1989ئ کو روسی فوج کے مکمل انخلا سے قبل ہی 13õ14/جون 1988ئ کو مجلس عاملہ نے افغان مجاہدین کو روس کے خلاف عظیم کامیابی پر مبارک باد پیش کی۔

سوویت یونین کے بکھرا¶ کے بعد 1õ2/اگست 1992ئ کی مجلس عاملہ میں صدرِ جمعیت مولانا اسعد مدنیؒ نے آزاد شدہ مسلم ریاستوں میں قادیانیوں کی سرگرمیوں کا نوٹس لیتے ہوئے وہاں دینی تعلیمی و تبلیغی وفد بھیجنے پر غور کیا۔ تاہم، 29/اکتوبر 1995ئ کے 25/ویں اجلاسِ عام میں مولانا اسعد مدنیؒ نے بوسنیا پر سربیائی مظالم میں روس کے متعصبانہ کردار اور چیچنیا میں عسکری طاقت کے استعمال پر روس کو ’’اسلام و انسانیت دشمن‘‘ قرار دیا۔ اس کے بعد چیچنیا پر اگست 1999ئ کی کارروائیوں، 26/ستمبر 1999ئ کی بم باری، یکم اکتوبر 1999ئ کے زمینی داخلے، 29/اکتوبر و 3/دسمبر 1999ئ کے پناہ گزینوں پر حملوں، اور دسمبر 1999ئ کے اواخر میں آرکین یورت کے قتلِ عام کے تناظر میں یکم دسمبر 1999ئ کی مجلس عاملہ نے روس کو ظالم و جارح قرار دیا۔ جمعیت کی اپیل پر 17/دسمبر 1999ئ کوروس کے خلاف ملک گیر ’’یومِ بددعا‘‘ منایا گیا۔ اور 13/مئی 2000ئ کے 26/ویں اجلاسِ عام میں روس وغیرہ سے مطالبہ کیا گیاکہ وہ  چیچنیا اور عراق سے پابندیاں ہٹائیں۔

بعد کے سالوں میں، 29/مئی 2005ئ کے 28/ویں اجلاسِ عام، 19/مئی 2012ئ کے 31/ویں اجلاسِ عام، اور 13/نومبر 2016ئ کے 33/ویں اجلاسِ عام میں امریکہ اور عالمی برادری کے ساتھ ساتھ روس سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ آزاد فلسطینی ریاست کے قیام اور شام (حلب) میں مظالم کو رکوانے میں تعاون کرے۔ 

17/ستمبر 2025ئ کو صدرِ جمعیت مولانا محمود مدنی نے ایک انٹرویو میں بھارت کی قومی خودمختاری کا دفاع کرتے ہوئے امریکی ٹیرف کے خلاف ہندõروس تیل تجارت اور آزادانہ تعلقات کی مکمل حمایت کی۔

موجودہ ہندستان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

 

موجودہ ہندستان کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

مکرمی محترم مفتی صاحب !               السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ

مسئلۂ ذیل کے بارے میں شرعی رہ نمائی درکار ہے:

ہردورکےعلمائے کرام نے ہندستان کی شرعی حیثیت متعین کرکے اسی کےمطابق ملت اسلامیہ کی رہنمائی کی ہے،جیسے کہ انگریزوں کے مکمل قبضہ کے بعد بہادر شاہ ظفر مسلمان بادشاہ ہونے کےباوجود 1809ء میں حضرت شاہ عبد العزیز نور اللہ مرقدہ نے ہندستان کے دارالکفر ہونے کا فتوی دیا۔ پھر 14 ؍ستمبر 1857ءکی جنگ شاملی و تھانہ بھون کے لیے جہاد آزادی کا فتوی دیا گیا۔

بعد ازاں جب28؍ دسمبر 1885ء میں آل انڈیا کانگریس بنی، جس نے حکومت کی پالیسیوں پر کڑی تنقید کرتے ہوئے سوراج اور حقوق کا مطالبہ کرنا شروع کیا، تو جناب سرسید احمد خان صاحب نے انجمن محبان وطن بناکر مسلمانوں کو انگریزوں کی وفاداری کی تلقین کرنی شروع کردی اور کانگریس میں شرکت سے مسلمانوں کو ورغلاتے رہے، جس کے خلاف حضرات علمائے لدھیانہ، بعد ازاں  حضرت مولانا رشید احمد گنگوہی رحمۃ اللہ علیہ  اور شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی ؒنے کانگریس میں شرکت اور سرسید کی مخالفت کا فتوی دیا۔

پھر جب انگریزوں کی خطرناک خفیہ سازش کے تحت مسلمانوں میں30؍دسمبر 1906ء کو  مسلم لیگ اور ہندوؤں میں ہندو مہاسبھا کی تشکیل عمل میں آئی اور فرقہ وارانہ خطوط پر فیصلہ ہونے لگے، جس میں سب سے خطرناک فیصلہ26 تا 29؍ دسمبر 1916ء کو منعقد ہونے والے انڈین نیشنل کانگریس کے اجلاس، اور 31 ؍دسمبر1916 کو آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاسوں میں  ہونے والا’’ میثاق لکھنو‘‘ کا فیصلہ  تھا، تو علما نے گوشہ نشینی کوچھوڑ کر میدان سیاست میں آنا ضروری سمجھا۔ چنانچہ آل انڈیا خلافت کانفرنس کے موقع پر 23 ؍نومبر 1919ء کو جمعیت علمائے ہند کی تشکیل عمل میں آئی۔

جمعیت علمائے ہند کے قیام کے بعد 1920ء میں امام الہند اور تحریک ہجرت کا آغاز ہوا۔ چنانچہ ہندستان کی شرعی حیثیت کے تناظر میں مولانا عبدالباری فرنگی محلی ، امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد اور خود شیخ الہند نے ہجرت کے حق میں فتویٰ دیا؛ لیکن تحریک خلافت نے تحریک امام الہند کا خاتمہ کردیا، جب کہ جمعیت علمائے ہند نے یہ دیکھتے ہوئے کہ اتنی بڑی آبادی کی ہجرت ناممکن ہے، تحریک خلافت کی تقویت و تائید کے لیے ترک موالات کا فتویٰ دے کر تحریک ہجرت کا خاتمہ کردیا۔ 

پھر جب جمعیت علمائے ہند نے ہندستان کی آزادی کو وطنی فریضہ کے ساتھ ساتھ مذہبی فرض بھی قرار دیا، تو یہ سوال ابھر کر سامنے آیا کہ تنہامسلمان اپنے مذہبی فرض کی ادائیگی کرکے ہندستان کو انگریزوں سے آزاد نہیں کراسکتے، اس کے لیے غیر مسلم برادران وطن سے تعاون لینا، یا ان کا ساتھ دینا ضروری ہے،تو پھر یہ سوال ایک چیلنج بن کر سامنے آیا کہ کیا  جہاد آزادی جیسے مذہبی فرض کو ادا کرنے کے لیے غیرمسلم کی امداد، یا استمداد جائز ہے؟ اور ایسی صورت میں ہندستان کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟ دارالاسلام کی؟ دارالحرب کی؟ یا پھر کچھ اور؟؟....

 جمعیت علمائے ہند کے رہ نماؤں نے غور کیا کہ ہندستان دارالحرب نہیں ہوسکتا؛ کیوں کہ یہاں پر مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل ہے۔ اگر دارالحرب مان بھی لیتے ہیں، تو پھر مسلمانوں کی کیا حیثیت ہوگی؟ کیا وہ مستامن ہوں گے، لیکن اس کے لیے باہر کا ہونا ضروری ہے، جب کہ مسلمان یہیں کے باشندے ہیں۔

اور دارالاسلام بھی نہیں کہہ سکتے، کیوں کہ یہاں مسلمانوں کو قوت حاکمہ حاصل نہیں ہے، اس لیے جمعیت علما نے اسے دارالامان قرار دیتے ہوئے آزادی مذہب اور جملہ حقوق کے تحفظ کی ضمانت کے ساتھ جمہوری حکومت کی تشکیل کے لیے آزادی ہند کی لڑائی میں برادران وطن کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔

اسی بیچ میں کچھ علمائے کرام کی رائے یہ تھی کہ مسلمان ایک مستقل قوم کی حیثیت رکھتے ہیں، جس میں کافروں کے ساتھ موالات کی بالکل گنجائش نہیں ہے، اسی نظریے کی بنیاد پر انھوں نے اسلام کے نام پر اسلامی ریاست کا نظریہ پیش کرتے ہوئے دوقومی نظریہ کے تحت پاکستان کا مطالبہ پیش کیا، جب کہ جمعیت علمائے ہند نے ہندستان کی شرعی حیثیت کے پیش نظر متحدہ قومیت کا نظریہ پیش کرکے جمہوریت کی تائید و حمایت کی۔

پھر 1947کو ہندستان آزاد ہوگیا، تو انگریزی دور عبودیت میں جب ہندستان دارالامان تھا، تو جمہوری دور حکومت میں تو بدرجہ اولیٰ اس کی حیثیت دارالامان  کی رہی ۔ اور مسلمانوں پر دارالامان کے فرائض واجب الذمہ رہے، جس میں سب سے  بڑا فرض جہاد اکبر تھا، جہاد اصغر نہیں تھا۔ اورجب تک ہندستان میں اصلی اورحقیقی جمہوریت باقی ہے، تب تک ہندستان میں مسلمانوں پر دارالامان کے فرائض واجب الذمہ رہیں گے۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا ہندستان میں اب جمہوریت باقی ہے؟

قوموں اور ملکوں کے عروج و زوال کا تجزیہ کرنے والے ماہرین کے مطابق  دس پوائنٹس ایسے ہیں، جن کو معیار بناکر حالات کا تجزیہ کرنے سے کسی قوم کے عروج وزوال کا نتیجہ مرتب کرسکتے ہیں۔ وہ 10 پوائنٹس درج ذیل ہیں :

1۔ روٹی کا مسئلہ

2۔حفاظت جان و مال

3۔عدل و انصاف

4۔ مذہبی حقوق کی حفاظت

5۔ تہذیب و زبان کی حفاظت

6۔تعلیم

7۔حقوق ملازمت

8۔یکساں شہری حقوق اور مساوات

9۔حقوق ملکیت میں آزادی

10۔سیاسیات

ان دس پوائنٹس کے تناظر میں ٹو دہ پوائنٹ بات کی جائے، تو مختصر لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ:

1۔ٹھیلہ وغیرہ پر نام لکھوانے کی تحریک چلاکر، یا صرف اپنے ہم مذہب سے خریداری کی اپیل کرنے جیسے معاملات سے سمجھا جاسکتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے روزی روٹی کا مسئلہ پیدا کرنے کی منظم کوشش کی جارہی ہے۔

2۔ ملک میں بڑھتے ہیٹ ریٹ، سفر وغیرہ میں مسلم شناخت والوں کے ساتھ تشدد، بعض بعض جگہوں پر مسلمانوں کے داخلے کی پابندی، خود ہی فرقہ وارانہ فسادات کر اکے ان کا الزام مسلمانوں پر ڈال کر بے قصور نوجوانوں کی اندھا دھند گرفتاری اور رہائی کے لیے وصولی کرنا، یا طول طویل عدالتی کارروائیاں اور بعد ازاں حکومت کا جبری بلڈوزر جیسی دہشت گردانہ حرکتیں اور مآب لنچنگ کے واقعات شاہد ہیں کہ مسلمانوں کے سامنے جان و مال کے تحفظ کا معاملہ سنگین ہوتا جارہا ہے۔

3۔ بابری مسجد پر سپریم کورٹ کا فیصلہ، دہلی اور پورے ملک میں آثار قدیمہ کے نام پر بند پڑی مساجد، گیان واپی مسجد،عیدگاہ متھرا اور تقریباً تین ہزار مساجد پر قانونی شکنجہ کسنے کے بعد عدالتوں کے فیصلے، اسی طرح تین طلاق اور شرعی محکمہ قضا کے فیصلوں کے متعلق حالیہ دنوں کے ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ کے فیصلوں، نیز جدید وقف ایکٹ میں ظالمانہ ترمیمات پر اصرار سے اندازہ لگاسکتے ہیں کہ مسلمانوں کے لیے ملک میں کتنا عدل و انصاف بچا ہوا ہے۔

4۔وقف ایکٹ ،فتوی پر پابندی (ہماچل پردیش میں) مدارس اسلامیہ کو نوٹس، قربانی اور غیر قربانی کے مواقع پر گائے کے ذبح پر پابندی،یا ہنگامہ اور کسی بھی مسجد کو غیر قانونی تعمیرات کے بہانے شہید کردینے کے متواتر واقعات سے مسلمانوں کے مذہبی حقوق کس درجہ محفوظ ہیں، دانش ور خود اندازہ لگا سکتے ہیں۔

5۔ داڑھیوں کے خلاف مقدمے، تعلیم گاہوں میں برقعہ پوش خواتین کے ساتھ مسائل پیدا کرنا اور اردو زبان کے ساتھ تعصب انگیز رویہ سے پتہ چلتا ہے کہ مسلمانوں کی تہذیب اور زبان کو مٹانے میں وہ کس حد تک کامیاب ہوچکے ہیں۔

6۔ تعلیم کی بات کریں ،تو مسلمان کے اندر 42 فی صد جہالت ہے۔ آزاد مدارس کے سامنے تو مسائل پیدا کیے ہی جارہے ہیں ؛لیکن سرکاری تعلیمی اداروں سے وابستگی سے بھی ان کو چڑھ ہے، جیسا کہ کچھ دن پہلے جمعیت اسٹڈی سینٹر کے تحت نوائس سے امتحان دینے والے طلبہ و طالبات کی بڑھتی کامیابی کو دیکھتے ہوئے این سی پی سی آر کے چئیرمین نے زہر اگلتے ہوئے اسے ٹرر فنڈنگ کہا تھا۔ اس طرح کے اور بھی معاملات ہیں، جہاں مسلمانوں کو تعلیم سے محروم رکھنے کی مکمل سازش کی جارہی ہے۔

7۔حقوق ملازمت کی بات کریں، تو سیکڑوں ایسے واقعات سامنے آچکے ہیں، جہاں مسلمانوں کے ساتھ ڈس کرمنیشن یعنی امتیازات سے کام لیا جارہا ہے۔

8۔ یکساں شہری حقوق اور مساوات سے مراد حکومت کے جملہ وسائل میں بلا امتیاز مذہب وغیرہ یکساں شرکت ہے۔ سی اے بی، گجرات میں ڈسٹربڈ ایریا کا قانون اور نچلی ذاتوں اور مسلمان سمجھ کر بعض محکمہ جیسے ڈفنس میں مسلمانوں کو ملازمت، یا اعلی ملازمت نہیں دی جاتی۔گویا یکساں شہری حقوق اور مساوات پر بھی ڈاکہ ڈالا جارہا ہے۔

9۔ حقوق ملکیت میں تو اب تک آزادی ہے، لیکن بعض مخدوش علاقوں میں محض مسلمان کا گھر ہونے کی وجہ سے جس طرح بغیر عدالتی کارروائی کے بلڈوزر چلادیا جاتا ہے، یہ بھی اس سے کم ظلم نہیں ہے کہ مسلمانوں کو ان کی ملکیت سے محروم کردیا جائے۔ اس سے واضح معاملہ یہ ہے کہ ایک خاص سازش کے تحت مسلمانوں کو ووٹ دینے کے حق سے محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے اور اس سے محرومی تقریباً تمام حقوق سے محرومی کا باعث بن جائے گی۔

10۔البتہ سیاست میں مسلمان اب تک آزاد ہیں ،لیکن مسلم آبادی کے اثرات کو کم کرنے کے لیے حلقہ ہائے انتخاب کی جس طرح حدبندی کی جاتی ہے، اس سے اس سازش کا اندازہ لگانا کوئی خاص مشکل نہیں ہے کہ مسلمانوں کی سیاسی طاقت کو بے وزن کرنے کی لگاتار کوشش کی جارہی ہے۔

علاوہ ازیں  راہل گاندھی، پرینکا گاندھی  کے علاوہ بھی کئی پارلیمنٹ کے بڑے لیڈربیان دے چکے ہیں کہ ہندستان میں جمہوریت بچی نہیں ہے۔

ان نتائج کو دیکھتے ہوئے یہ کہنا شاید خلاف واقعہ نہیں ہوگا کہ بھارت ہندو راشٹر بن چکا اور جمہوریت اور دستور ایک قصہ پارینہ بن چکا ہے۔

ایسی صورت میں اہل فتاویٰ اور ماہرین شریعت سے گذارش ہے کہ ہندستان کی شرعی حیثیت، مسلمانوں کی شرعی حیثیت اور ان دونوں کی حیثیت کے تعین کے بعد مسلمانوں کے ذمہ واجب فرائض پر مکمل شرعی رہ نمائیں فرمائیں۔

محمد یاسین جہازی

6؍جنوری 2025

20 Jul 2026

ترکی اور جمعیت علمائے ہند: تاریخی، سیاسی اور امدادی روابط

 خلاصہ

ترکی اور جمعیت علمائے ہند: تاریخی، سیاسی اور امدادی روابط

محمد یاسین جہازی

سلطنتِ عثمانیہ (ترکی) کئی صدیوں تک عالمِ اسلام کی سیاسی و دینی وحدت کی علامت اور مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور بیت المقدس جیسے مقدس مقامات کی پاسبان رہی۔ یہی وجہ تھی کہ برصغیر کے مسلمان، برطانوی اقتدار کے ماتحت ہونے کے باوجود، عثمانی خلیفہ سے گہری قلبی اور دینی وابستگی رکھتے تھے اور خلافت کے تحفظ کو پوری امتِ مسلمہ کی عزت اور آزادی کا ضامن سمجھتے تھے۔ 28/جولائی 1914ئ کو جب پہلی جنگِ عظیم شروع ہوئی اور ترکی نے برطانیہ کے خلاف حصہ لیا، تو ہندستانی مسلمانوں میں شدید اضطراب پیدا ہوا۔ مسلمانوں کو اطمینان دلانے کے لیے برطانوی حکومت اور اس کے مدبرین نے 2/نومبر 1914ئ، 20/اپریل 1915ئ اور 5/جنوری 1916ئ کو باضابطہ اعلانات کے ذریعے یہ یقین دہانیاں کروائیں کہ مقدساتِ اسلام اور خلافت عثمانیہ کو کوئی نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔ ان وعدوں پر اعتماد کرتے ہوئے تقریباً 11/لاکھ ہندستانی فوجیوں (جن میں مسلمانوں کی بڑی تعداد شامل تھی) نے برطانوی فوج میں شمولیت اختیار کی، جن میں 1916–1917ئ کے دوران ایک لاکھ تیرہ ہزار، 1917ئ میں دو لاکھ چوہتر ہزار اور 1918ئ میں تقریباً پانچ لاکھ مسلمان شامل تھے۔

تاہم، جنگ میں فتح کے بعد برطانیہ اپنے تمام وعدوں سے منحرف ہو گیا۔ 30/اکتوبر 1918ئ کو معاہدہ مدروس(Armistice of Mudros) اور بالخصوص 10/اگست 1920ئ کو معاہدہ¿ سیورے (Treaty of Sèvres) کے ذریعے سلطنت عثمانیہ کے ٹکڑے کر دیے گئے؛ عراق اور فلسطین برطانیہ کے اور شام و لبنان فرانس کے تحت چلے گئے، جب کہ استنبول (قسطنطنیہ) پر اتحادی افواج نے قبضہ کر لیا۔ اس عظیم وعدہ خلافی کے خلاف ہندستان میں ایک تاریخی بیداری پیدا ہوئی۔ 18/ستمبر 1919ئ کو آل انڈیا مسلم کانفرنس کے فیصلے کے تحت 17/اکتوبر 1919ئ کو ملک گیر ’’یومِ خلافت‘‘ منایا گیا۔ور 13/دسمبر 1919ئ کے سرکاری جشنِ فتح کے بائیکاٹ کا اعلان کیا گیا۔ اس کے بعد 3/نومبر 1919ئ کے دہلی اجلاس میں مولانا حسرت موہانی، مہاتما گاندھی اور مولانا عبدالباری فرنگی محلیؒ جیسے قائدین نے برطانوی جشنِ فتح کا بائیکاٹ کرنے اور فتویٰ جاری کرنے کا اعلان کیا۔

اسی تاریخی تناظر اور خلافتی تحریک کے ماحول میں جمعیت علمائے ہند کا قیام عمل میں آیا۔ 23 اور 24/نومبر 1919ئ کو دہلی میں منعقدہ ’’آل انڈیا خلافت کانفرنس‘‘ کے موقع پر تمام مکاتبِ فکر کے اکابر علما ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوئے اور یہی اجتماع جمعیت علمائے ہند کی تنظیمی شکل اختیار کر گیا۔ 23/نومبر کو مفتی اعظم ہند مولانا مفتی محمد کفایت اللہ دہلویؒ کی پیش کردہ بائیکاٹ کی قرارداد متفقہ طور پر منظور ہوئی اور اجتماعی فتویٰ شائع کیا گیا۔

سفارتی سطح پر یکم فروری 1920ئ کو مولانا محمد علی جوہر کی سربراہی میں ایک وفد انگلستان روانہ ہوا، جو 22/فروری کو وینس پہنچا اور 17/مارچ 1920ئ کو برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ لائیڈ جارج سے ملا، لیکن تمام مطالبات مسترد کر دیے گئے اور وفد اکتوبر 1920ئ میں ناکام لوٹا۔ 12/ فروری تا 10/اپریل 1920ئ لندن صلح کانفرنس اور معاہدہ¿ سیورے کی ظالمانہ شقوں کے پیش نظر جمعیت علمائے ہند نے 6/ستمبر 1920ئ کو باقاعدہ ’’ترکِ موالات‘‘ (عدم تعاون) کی تاریخی تجویز منظور کی، جس میں برطانوی حکومت کو مالی، یا عسکری امداد دینا حرام قرار دیا گیا۔

19تا 21/ نومبر1920ئ کو دوسرے اجلاس عام کے خطبہ¿ صدارت میں ترکی کے متعلق برطانوی طرز عمل پر روشنی ڈالتے ہوئے، برطانوی مظالم اور قسطنطنیہ پر غاصبانہ قبضے کا پردہ چاک کیا گیا۔ اور مسلمانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ برطانیہ کا بائیکاٹ جاری رکھیں۔

23/اگست 1921ئ کو جمعیت علمائے دہلی کے ایک اجلاس میں مولانا حسین احمد مدنی صاحب نے خلافت اسلامیہ ترکیہ کے خلاف برطانیہ کی ریشہ دوانیوں کی تفصیلات بیان کیں۔

دوسری طرف ترکی کے اندر غازی مصطفی کمال پاشا نے آزادی کی جنگ کا آغاز کیا۔ 6–10/جنوری 1921ئ کو پہلی اور 23/مارچ تا یکم اپریل 1921ئ کو دوسری اینونو کی جنگ میں کامیابی ملی۔ 7–8/اپریل 1921ئ کو افیون قرہ حصار پر عارضی قبضہ اور 28/جون 1921ئ کو ازمیر دوبارہ ترکوں کے پاس آیا۔ پھر 23/اگست تا 13/ستمبر 1921ئ کے درمیان 21 روزہ تاریخی ’’جنگِ سقاریہ‘‘ میں یونانی فوج کو عبرت ناک شکست دی گئی۔ اس فتح پر 19/ ستمبر1921ئ کو ترک مجلس کبیر (گرینڈ نیشنل اسمبلی) نے مصطفیٰ کمال کو ’’غازی‘‘ اور ’’ماریشال‘‘ کا خطاب دیا۔ ادھر ہندستان میں 8–9/جولائی 1921ئ کے کراچی اجلاس میں مولانا محمد علی جوہر کی صدارت میں اور 21/ستمبر 1921ئ کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ نے کمال پاشا کو مبارک باد دی اور ترکوں کی حمایت میں گرفتار ہونے والے رہنماؤں (مولانا شوکت علی، مولانا محمد علی، مولانا حسین احمد مدنی، پیر غلام مجدد، ڈاکٹر کچلو، مولانا نثار احمد کے اقدام کو شریعت کا قطعی حکم قرار دیا۔

18 تا 20/اکتوبر 1922ئ کو مجلس منتظمہ نے برطانیہ کے ساتھ ہر قسم کا تعاون اور فوجی امداد حرام قرار دی اور ’’جیش انگورہ‘‘ (ترک فوج) کی حمایت کی۔

24تا 26/دسمبر 1922ئ میں جمعیت علمائے ہند کے چوتھے اجلاسِ عام (گیا، بہار) میں صدرِ اجلاس مولانا حبیب الرحمان عثمانیؒ نے ترکوں کی 642/سالہ تاریخ اور خدماتِ اسلام کا مفصل احاطہ کرتے ہوئے مصطفی کمال کی فتوحات کو ’’اسلام کا معجزہ‘‘ قرار دیا، اور جمعیت نے انھی خدمات کے اعتراف میں غازی مصطفی کمال کو ’’مجددِ خلافت‘‘ کا خطاب دیا۔

یکم نومبر 1922ئ کو مصطفی کمال نے سلطان وحید الدین کو معزول کر کے سلطان عبدالمجید خاں کو محض مذہبی خلیفہ مقرر کیا اور سیاست و مذہب کو الگ کر دیا۔ جمعیت علما نے اپنے 24تا 26/ دسمبر 1922ئ کے چوتھے اجلاس عام میں خاندانِ عثمانی کی خدمات کے پیشِ نظر سلطان عبدالمجید کو خلیفہ تسلیم کیا۔

 30 اکتوبر 1923ئ کو غازی مصطفیٰ کمال پاشا نے صدر جمعیت مفتی محمد کفایت اللہؒ کے نام مکتوب بھیج کرجمعیت علما کی جانب سے بھیجے گئے تہنیتی تار کا شکریہ ادا کیا۔

 29/دسمبر 1923ئ تا یکم جنوری 1924ئ کے پانچویں اجلاسِ عام میں مولانا حسین احمد مدنیؒ نے اپنے خطبے میں واضح کیا کہ ترکی کا تحفظ ہندستان کی آزادی پر موقوف ہے اور جمعیت علما نے حکومت انگورہ پر کامل اعتماد کا اظہار کیا۔

 لیکن 3/ مارچ 1924ئ کو جب مصطفی کمال نے باضابطہ طور پر خلافت کا خاتمہ کر کے جدید جمہوریہ کا اعلان کیا، تو برصغیر میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ 9/مارچ 1924ئ کوجمعیت علمائے ہند اور خلافت کمیٹی نے مشترکہ طور پر، بعد ازاں 23تا 25/ جون 1924ئ کو جمعیت علمائے ہند نے  انقرہ وفد بھیجنے کی تجویز پاس کی اور مولانا ابوالکلام آزاد کو قائد چنا گیا، مگر برطانوی حکومت نے پاسپورٹ جاری نہیں کیا۔ مولانا محمد علی جوہر کی طرف سے بھیجی گئی چندے کی رقم سے ترکی کا سب سے بڑا تجارتی بنک ’’اش بنکاسی‘‘ Is Bankasi قائم ہوا۔ لیکن مصطفی کمال نے اس نظریے کو ایک غیر عملی تصور قرار دے کر مسترد کر دیا۔ 

اس کے باوجود جمعیت علمائے ہند نے اپنے11تا 16/ جنوری  1925ئ کو منعقد اپنے چھٹے اجلاس عام میں حکومت ترکیہ سے منصب خلافت قائم رکھنے کی اپیل کی۔

بعد ازاں 11تا 14/ مارچ 1926ئ کے ساتویں اجلاس عام میں مسئلہ¿ خلافت کی شرعی اہمیت اور عالم اسلام کی تنظیم کے حوالے سے روشنی ڈالتے ہوئے حضرت العلامہ سید سلیمان ندوی ؒ نے فرمایا کہ : ترکی کی جس خلافت اسلامیہ کے تحفظ کے لیے دنیا لڑ رہی تھی، اہل ترک نے خود اپنے ہی ہاتھوں اس کو دفن کرکے یورپین کی مدتوں کی سازش کو دفعۃ کامیاب کردیا، جس کی وجہ سے ہندستان میں بھی ہمیشہ کے لیے اس مسئلہ کا خاتمہ ہوگیا۔

بعد ازاں 10/نومبر 1938ئ میں مصطفیٰ کمال پاشا کی وفات ہوئی، تو جمعیت علمائے ہند نے اپنے بارھویں اجلاس عام منعقدہ 3تا 6/ مارچ 1939ئ میں تعزیتی قرارداد کے ذریعے انھیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

تحریکِ خلافت کے بعد کے ادوار میں بھی جمعیت علمائے ہند اور ترکی کے درمیان دینی، سیاسی اور انسانی یک جہتی کا سلسلہ قائم رہا۔

27–29/اپریل 1951ئ کو حیدرآباد میں منعقدہ جمعیت علمائے ہند کے سترھویں اجلاس عام میں ترکی سفارت خانے کے کمرشل ایلچی نے دعوت نامے کے جواب میں باضابطہ پیغام بھیج کر جمعیت کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔

6/ستمبر 1962ئ کو مشرقی ترکی کے علاقے اغدیر میں زلزلہ آیا، جس پر 7/ستمبر1962ئ  کو جمعیت علمائے ہند کے اکابر (مفتی عتیق الرحمان عثمانیؒ، مولانا سید محمد میاںؒ وغیرہ) نے ایرانی سفیر سے ملاقات کر کے تعزیت پیش کی۔

 اس کے بعد 19/اگست 1966ئ کو صوبہ موش کے ضلع وارتو میں 6.8 تا 7.0 شدت کا ہلاکت خیز زلزلہ آیا، جس میں 2,500 افراد جاں بحق اور 1,500 زخمی ہوئے (جب کہ اس سے قبل 7/مارچ 1966ئ کو بھی 5.6 شدت کے زلزلے میں 14/افراد ہلاک ہوئے تھے۔) اس سانحے پر 27–28/اگست 1966ئ کو مجلس عاملہ نے باضابطہ ہمدردی اور دعائے مغفرت کی تجویز منظور کی۔

 2/اپریل 1970ئ کو ترکی میں آنے والے زلزلے پر جمعیت علما نے ہمدردی کا پیغام بھیجا، جس پر 4/اپریل1970ئ کو ترکی کے سفیر نے شکریہ کا پیغام روانہ کیا اور 18–19/اپریل 1970ئ کو مجلس منتظمہ نے باقاعدہ ہمدردی کی تجویز پاس کی۔

بعد ازاں 13/مارچ 1992ئ کو ارزنجان میں 6.8 شدت کا زلزلہ آیا، جس میں 500 سے 650 /افراد جاں بحق ہوئے۔ 25/مارچ 1992ئ کو صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی نے ترک ہائی کمشنر کو 50,000/روپے کا اعانتی چیک پیش کیا، جس کے جواب میں 10/اپریل 1992ئ کو ترکی کے سفیر مراد سنگر نے رسمی شکریہ کا خط تحریر کیا۔

 24–25/اپریل 1998ئ کے اجلاس منتظمہ میں مولانا اسعد مدنی نے ترکی میں نجم الدین اربکان کے دورِ حکومت کے قائم کردہ مدارس پر فوجی پابندیوں اور دینی طبقے پر سختیوں پر شدید تشویش ظاہر کی، اور جمعیت علما نے جمہوریت کی بحالی کا مطالبہ کیا۔

یکم جولائی 2006ئ کو جمعیت علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے استنبول میں منعقدہ ’’مسلم یورپ کانفرنس‘‘ میں شرکت کی اور عالمی سطح پر اسلام فوبیا کے خلاف آواز بلند کی۔

 23/اکتوبر 2011ئ کو صوبہ وان اور ارچش میں 7.1 تا 7.2 شدت کا تباہ کن زلزلہ آیا، جس کے بعد 9/نومبر2011ئ کو 5.6 شدت کا ایک اور زلزلہ آیا اور مجموعی طور پر 644/افراد جاں بحق ہوئے۔ 25/اکتوبر 2011ئ کو جمعیت علمانے گہرے رنج کا اظہار کیا اور اسرائیل کی طرف سے پیش کی جانے والی امداد کو مسترد کرنے پر ترکی حکومت کے خوددارانہ موقف کو سراہا۔

 10/اکتوبر 2015ئ کو انقرہ ریلوے اسٹیشن کے باہر داعش کے خودکش دھماکوں (109/ اموات، 500/ زخمی) کے خلاف 17/نومبر 2015ئ کو مولانا محمود مدنی نے نئی دہلی میں پریس کانفرنس کی اور 18/نومبر کو جنتر منتر سمیت ملک کے 75 سے زائد شہروں میں مظاہرے کر کے صدرِ ہند، سفیرِ ترکی اور اقوامِ متحدہ کو میمورنڈم پیش کیا۔

 25/جولائی 2016ئ کو مولانا محمود مدنی کی قیادت میں ایک وفد نے ترکی کے سفیر بوراک اکبر سے ملاقات کر کے صدر رجب طیب اردوان اور ترک عوام کے نام فوجی بغاوت کو ناکام بنانے پر سپاس نامہ اور مبارک باد پیش کی۔

 23/جون 2022ئ کو ترکی کے عظیم مصلح و مفسر شیخ محمود آفندیؒ کے 93/سال کی عمر میں انتقال پر مولانا محمود مدنی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے ان کی علمی و تجدیدی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

6/فروری 2023ئ کو جنوب مشرقی ترکی (قہرمان مرعش و غازی عینتاب) میں 7.8 اور 7.5 شدت کا جدید تاریخ کا بدترین زلزلہ آیا، جس میں 53,000 سے زائد ترک شہری جاں بحق اور 1,60,000 عمارتیں تباہ ہوئیں۔ 12/فروری 2023ئ کو جمعیت علمائے ہند نے ایک کروڑ روپے کی امداد کا اعلان کیا۔ 27/فروری 2023ئ کو ناظم عمومی مولانا حکیم الدین قاسمی ترکی پہنچے، یکم مارچ2023ئ کو انطاکیہ میں 1,000 سلیپ ویل گدے تقسیم کیے اور ترکی کے وزیرِ انصاف بیکیر بوزداگ سے ملاقات کی۔ 3/مارچ 2023ئ کو الخیر فاؤنڈیشن کے ساتھ راشن کٹس تقسیم کی گئیں۔ 7/مارچ 2023ئ کو صدر جمعیت مولانا محمود اسعد مدنی خود زلزلہ زدہ علاقوں (انطاکیہ، قہرمان مرعش) پہنچے، متأثرین کی دل جوئی کی اور راشن تقسیم کیا، جب کہ 6/اپریل 2023ئ کو 1,000/متأثرہ خاندانوں میں رمضان راشن کٹس اور افطار کا انتظام کیا گیا۔

خلاصہ یہ کہ خلافتِ عثمانیہ کے تحفظ سے لے کرجدید دور کے زلزلوں، سیاسی بحرانوں اور رفاہی کاموں تک، جمعیت علمائے ہند نے ترکی کے عوام اور حکومت کے ساتھ ہر دور میں دینی، اخلاقی اور انسانی بنیادوں پر کامل یک جہتی کا تسلسل برقرار رکھا۔