28 Aug 2026

متحدہ عرب اور جمعیت علمائے ہند: پس منظر، فیصلے اور خدمات


متحدہ عرب اور جمعیت علمائے ہند: پس منظر، فیصلے اور خدمات 

محمد یاسین جہازی

عرب اتحاد کی کوششوں میں چار اہم تجربے سامنے آئے:

 (۱)عرب لیگ، جو22/مارچ 1945ئ کو قائم ہوئی۔

 (۲) متحدہ عرب جمہوریہ: جو 22/فروری 1958ئ کو مصر و شام کے اتحاد سے وجود میں آئی اور 28/ستمبر 1961ئ کو شام کی علاحدگی سے ختم ہوگئی۔

(۳) متحدہ عرب ریاستیں:جو مصر، شام اور شمالی یمن کا کنفیڈریشن تھا، جو شام کی علاحدگی کے بعد دسمبر 1961ئ میں ختم ہوگیا۔

(۴)متحدہ عرب امارات: جو 2/دسمبر 1971ئ کو چھ امارات کے اتحاد سے قائم ہوا اور فروری 1972ئ میں راس الخیمہ کی شمولیت سے سات امارات مکمل ہوئے۔

عرب لیگ کے ساتھ جمعیت علمائے ہند کے تعلقات

جمعیت علمائے ہند نے عرب دنیا کے مسائل؛ خصوصاً فلسطین، مراکش، تیونس، مصر اور الجزائر کے معاملات میں مسلسل حمایت کا موقف اختیار کیا۔ فلسطین کی بگڑتی صورت حال پر 2/نومبر 1945ئ کو مولانا محمد حفظ الرحمانؒ صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے پورے ہندستان میں ’’یوم فلسطین‘‘ منانے کی اپیل کی اور عرب لیگ کے اعلان کی تائید کی۔

21/جون 1946ئ کو عرب لیگ کے سکریٹری عبد الرحمان اعظم نے جمعیت کے فلسطین سے متعلق پیغام کے جواب میں ہندستانی مسلمانوں کی ہمدردی کو عربوں کے لیے بڑی قوت قرار دیا۔ 9/جون 1948ئ کو عزام پاشا نے مولانا حسین احمد مدنیؒ کے نام تار بھیجا اور ہندستانی مسلمانوں کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

18/مارچ 1951ئ کو جمعیت نے مراکش میں فرانسیسی مظالم کے خلاف عرب لیگ کے جنرل سکریٹری عزام پاشا کو احتجاجی تار بھیجا۔ 16/نومبر 1951ئ کو مصر و ایران کے حق میں دعا¶ں کی اپیل کی گئی، جس پر 5 /دسمبر 1951ئ کو عرب لیگ کی طرف سے شکریہ کا جواب موصول ہوا۔ 22/اگست 1963ئ کو مراکش اور تیونس میں فرانسیسی جبر کے خلاف عرب لیگ کو پھر احتجاجی مکتوب بھیجا گیا۔

26/فروری 1965ئ کو جمعیت نے عرب لیگ کے سکریٹری جنرل عبد الخالق حسونہ کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔ اس موقع پر جمعیت نے فلسطین اور الجزائر کی حمایت، مصر پر استعماری حملے کی مخالفت اور عرب اتحاد کے لیے اپنی وابستگی کا اظہار کیا؛ حسونہ نے بھی فلسطین کی آزادی اور عرب حقوق کی بحالی کے لیے جمعیت کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔

متحدہ عرب جمہوریہ اور جمال عبد الناصر سے تعلق

جمعیت نے 23/فروری 1960ئ کو جمال عبد الناصر کے ہندستانی دورے کے موقع پر ان کے اعزاز میں استقبالیہ کی درخواست کی، جسے حکومت ہند نے 5/مارچ 1960ئ کو منظور کیا؛ چنانچہ 30/مارچ 1960ئ کو جمعیت نے صدر ناصر کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔ خطاب میں ان کی استعمار مخالف جدوجہد، نہر سویز، بانڈونگ کانفرنس، امن پسندی اور ہندõعرب تعلقات کو سراہا گیا۔

3/جون 1965ئ کو متحدہ عرب جمہوریہ کے فوجی اتاشی کرنل عبد الستار کے اعزاز میں الوداعی تقریب ہوئی، جب کہ 23/جولائی 1965ئ کو یوم آزادی کے موقع پر مولانا اسعد مدنیؒ نے صدر ناصر کو مبارک باد کا پیغام بھیجا۔

15 تا 17/اپریل 1966ئ کے جمعیت کے بائیسویں اجلاس میں عرب لیگ کے سکریٹری جنرل عبد الخالق حسونہ اور عرب لیگ کے نمائندے نے جمعیت کی فلسطین، عرب حقوق، ناوابستگی اور سامراج دشمنی کے موقف کو سراہا۔

1967ئ کی عرب اسرائیل جنگ اور جمعیت کا ردعمل

1967ئ کے بحران میں جمعیت نے عرب ممالک کی بھرپور حمایت کی۔ 23/مئی 1967ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ نے ہندستانی وزیر اعظم، وزیر خارجہ، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور عرب سربراہوں کو اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاجی تار بھیجے۔ 27/مئی 1967ئ کو شام اور متحدہ عرب جمہوریہ کے سفیروں سے ملاقات کی گئی، جب کہ 28/مئی 1967ئ کو دہلی میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف بڑا احتجاجی اجلاس منعقد ہوا۔جس میں ساٹھ ہزار سے زائد افرادنے شرکت کی اورامریکی انفارمیشن سینٹر کو ایک یادداشت دی گئی، جس میں اسرائیل سے بیت المقدس، متحدہ عرب جمہوریہ، شام اور اردن کے مقبوضہ علاقوں سے انخلا کا مطالبہ کیا گیا۔

 10/اگست 1967ئ کی قومی کانفرنس نے بھی متحدہ عرب جمہوریہ، شام اور اردن پر اسرائیلی حملے کی مذمت اور عرب آزادی کی جدوجہد کی حمایت کی۔ 23–24/ستمبر 1967ئ کی مجلس منتظمہ نے اسرائیلی مظالم کی مذمت کی، جب کہ 24/ستمبر 1967ئ کی عرب تعاون کانفرنس میں ہندستانی مسلمانوں کی طرف سے عرب سفرا کو ایک لاکھ چالیس ہزار روپے نقد اور پینتیس ہزار روپے کا سامان امداد پیش کیا گیا۔

مسلسل سفارتی و عملی تعاون

23/جنوری 1968ئ کو متحدہ عرب جمہوریہ کی مجلس اعلیٰ برائے امور اسلامیہ کے وفد کا جمعیت کے دفتر میں استقبال کیا گیا۔ جمعیت نے فلسطین کے مسئلے پر اپنی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا اور وفد نے قرآن کریم کے ریکارڈ، نماز وغیرہ کے ریکارڈ اور جمعیت کی لائبریری کے لیے 500 کتابیں دینے کا اعلان کیا۔

12/مارچ 1969ئ کو متحدہ عرب جمہوریہ کے سفیر نے عرب بحران کے وقت جمعیت کی بھرپور حمایت اور ہمدردی کا شکریہ ادا کیا۔ 13/مارچ 1969ئ کو جنرل ریاض کی وفات پر جمعیت کی تعزیت کا جواب بھی موصول ہوا۔

6/جون 1969ئ کو دہلی میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف جلسہ ہوا اور مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل 1967ئ میں قبضہ کیے گئے عرب علاقوں سے نکلے اور اقوام متحدہ کی نومبر1967ئ کی قرارداد پر عمل کرایا جائے۔

29/اگست 1969ئ کو مسجد اقصیٰ کو آگ لگائے جانے کے خلاف جمعیت نے بڑا احتجاجی اجلاس کیا۔ اسی سال 16/ستمبر 1969ئ کو رباط کی اسلامی کانفرنس میں ہندستان کو دعوت نہ دیے جانے پر جمعیت نے احتجاج کیا، کیوںکہ اس کے نزدیک ہندستانی مسلمانوں کو عالم اسلام سے الگ کرنا ناانصافی پر مبنی تھا۔ 23/نومبر 1969ئ کو عرب سفرا کے لیے افطار کا اہتمام کیا گیا۔

23/جولائی 1970ئ کو صدر ناصر کو یوم انقلاب کی مبارک باد دی گئی۔ 29/ستمبر 1970ئ کو جمال عبد الناصر کی وفات پر جمعیت نے فوری تعزیت کی اور 25–26/اکتوبر 1970ئ کی مجلس عاملہ نے ان کی خدمات، فلسطین اور عرب آزادی کے لیے جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کیا۔

متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلق

متحدہ عرب امارات کے قیام کے بعد جمعیت کے روابط بھی سامنے آئے۔ 9–10/اپریل 1975ئ کی مجلس عاملہ نے شیخ زاید بن سلطان آل نہیان کی طرف سے جمعیت کو دی گئی تین لاکھ روپے کی خطیر مالی امداد پر شکریہ کی قرارداد منظور کی اور ان کی دینی و تعلیمی اداروں کی سرپرستی کو سراہا۔

24/نومبر 1975ئ کو متحدہ عرب امارات کے ثقافتی مشیر شیخ عز الدین ابراہیم کے اعزاز میں استقبالیہ دیا گیا۔ انھوں نے ہندستانی مسلمانوں کے ساتھ مذہبی اور دوستانہ دونوں رشتوں کو اہم قرار دیا اور دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ جمعیت نے بھی عرب مسائل، فلسطین اور عرب عوام کی حمایت کو اپنا قدیم اور مستقل موقف قرار دیا۔

خلاصہ¿ مجموعی موقف

جمعیت علمائے ہند کے عرب دنیا سے تعلقات کی بنیادی وجہ اسلامی اخوت، استعمار مخالف جدوجہد، فلسطین کی آزادی، عرب ممالک کی خودمختاری اور مظلوم اقوام کی حمایت تھی۔ اس مقصد کے لیے جمعیت نے محض بیانات تک خود کو محدود نہیں رکھا؛ بلکہ 1945ئ سے 1975ئ تک یوم فلسطین منانے ، عرب لیگ سے خط و کتابت، احتجاجی تار بھیجنے ، عرب سفرا و وفود کے استقبال، احتجاجی جلسوں، قومی کانفرنسوں، قراردادوں، مظاہروں، مالی و مادی امداد اور عرب رہنما¶ں سے مسلسل رابطے کے ذریعے عملی کردار ادا کیا۔ فلسطین اور عرب علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خلاف اس کا بنیادی مطالبہ یہ رہا کہ مقبوضہ عرب علاقوں سے اسرائیلی انخلا، فلسطینی حقوق کی بحالی اور بیت المقدس کی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔

یوں جمعیت کی پالیسی میں عرب لیگ، متحدہ عرب جمہوریہ، بعد ازاں متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ تعلقات محض سفارتی روابط نہیں تھے ؛ بلکہ انھیں فلسطین، عرب آزادی، اسلامی اخوت اور استعمار مخالف جدوجہد کی حمایت کا ذریعہ سمجھا گیا۔

18 Aug 2026

نبی اکرم ﷺ کی تاریخ ولادت اور تاریخ وفات کیا ہے؟

 نبی اکرم ﷺ کی تاریخ ولادت اور تاریخ وفات کیا ہے؟

محمد یاسین جہازی

تاریخ ولادت: 12/ربیع الاول: اعلی حضرت مولانا احمد رضا صاحب۔

تاریخ ولادت:9/ربیع الاول : محمود پاشا فلکی مشہور مصری ہیئت داں ۔

تاریخ ولادت:9/ربیع الاول، مطابق20/اپریل 571ء بروز پیر:ماہر فلکیات مولانا ثمیر الدین قاسمی چیئرمین ہلال کمیٹی لندن۔ 

اقرب الی الصواب: ناسا کے کلینڈر کے حساب سے 12/ربیع الاول23؍اپریل 571 کو جمعرات کا دن پڑتا ہے، جب کہ  یوم پیدائش پیر کے روز ہے۔ اس لیے اقرب الی الصواب 9/ربیع الاول، مطابق20/اپریل 571ء بروز پیر ہے، جیسا کہ دونوں ماہرین فلکیات متفق ہیں۔

تاریخ وفات: 12/ربیع الاول11ھ: اعلی حضرت مولانا احمد رضا صاحب۔

تاریخ وفات: یکم ربیع الاول 11ھ، مطابق27/مئی632:محمود پاشا فلکی ۔

تاریخ وفات: 13/ربیع الاول11ھ، مطابق8/جون632:مولانا ثمیر الدین قاسمی۔

اقرب الی الصواب:12/ربیع الاول11ھ ، مطابق 7؍جون 632 کو اتوار کا دن ہوتا ہے، جب کہ پیر کا دن ہونا ضروری ہے۔لہذا اعلیٰ حضرت کا قول درست معلوم نہیں ہوتا۔

  اسی طرح یکم  ربیع الاول 11ھ، مطابق27/مئی632 کوبدھ کا روز پڑتا ہے، جب کہ پیر کا دن ہونا ضروری ہے۔ لہذا محمود پاشا فلکی  کا قول بھی درست معلوم نہیں ہوتا۔

البتہ 13/ربیع الاول11ھ، مطابق8/جون632 کو پیر کا دن پڑتا ہے، اس لیے مولانا ثمیر الدین قاسمی صاحب کا قول ہی اقرب الیٰ الصواب معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

سرور کائنات ﷺ کی تاریخ ولادت کے حوالے سے حضرت فاضل بریلوی نور اللہ مرقدہ نے دو الگ الگ سوالوں کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ بالاتفاق دو شنبہ اور صحیح و مشہور قول جمہور ماہ ربیع الاول ہے۔ اس کے بعد کئی صفحات تک علما کے اقوال و تحقیق پیش کی ہے۔ پھر آگے لکھا ہے کہ سائل نے تاریخ کے بارے میں سوال نہیں کیا ہے، تاہم حضرت ؒ نے تاریخ بتاتے ہوئے 12/ کو درست قرار دیا ہے۔ اور پھر مختلف اقوال پیش کیے ہیں ۔ تفصیلات کے لیے دیکھیں : نطق الہلال بارخ ولادۃ الحبیب والوصال، ص/4)

تاریخ ولادت کے حوالے سے علامہ شبلی نعمانی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں کہ

”تاریخ ولادت کے متعلق مصر کے مشہور ہیئت دان عالم محمود پاشا فلکی نے ایک رسالہ لکھا ہے، جس میں انھوں نے دلائل ریاضی سے ثابت کیا ہے کہ آپ کی ولادت 9/ ربیع الاول روز دوشنبہ، مطابق 20/ اپریل 571میں ہوئی تھی“۔ (سیرۃ النبی،ج/1، ص/ 136)

اس مقام پر محشی رقم طراز ہیں کہ

”محمود فلکی نے جو استدلال کیا ہے، وہ کئی صفحوں میں آیا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے۔ (۱) صحیح بخاری میں ہے کہ ابراہیم رضی اللہ عنہ (آں حضرت ﷺ کے صغیر السن صاحب زادے) کے انتقال کے وقت آفتاب میں گہن لگا تھا (ابواب الکسوف، باب الصلاۃ فی کسوف الشمس، 1043) اور 10ھ تھا۔ (اور اس وقت آپ کی عمر کا تریسٹھواں سال تھا۔ (۲) ریاضی قاعدے کے حساب لگانے سے معلوم ہوتا ہے کہ 10ھ کا) گرہن 7/ جنوری 632، 8/ بج کر 30منٹ پر لگا تھا۔ (۳) اس حساب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر قمری 63برس پیچھے ہٹیں تو آ پ کی پیدائش کا سال 571 جس میں از روئے قواعد ہیئت ربیع الاول کی پہلی تاریخ 12/ اپریل 571کے مطابق تھی۔ (۴) تاریخ ولادت میں اختلاف ہے؛ لیکن اس قدر متفق علیہ ہے کہ وہ ربیع الاول کا مہینہ اور دو شنبہ کا دن تھا اور تاریخ 8سے لے کر 12/ تک میں منحصر ہے۔ (۵) ربیع الاول مذکور کی ان تاریخوں میں دو شنبہ کا دن نویں تاریخ کو پڑتا ہے، ان وجود کی بنا پر تاریخ ولادت قطعا 20/ اپریل 571تھی۔“ (حاشیہ سیرۃ النبی، جلد اول، ص/137)

تاریخ وفات

حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے رسالہ نطق الہلال بارخ ولادۃ الحبیب والوصال کے فصل دوم میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ”قول و مشہور و معتمد جمہور دوازدہم ربیع الاول شریف ہے۔“ (سلسلہ رسائل فتاویٰ رضویہ، جلد چھبیسویں ، رسالہ نمبر4، ص/ 11)۔ پھر کے اس کے بعد متعدد روایتوں کا تذکرہ کرنے کے بعد قول جمہور کو ہی اقرب الیٰ الصواب بتایا ہے۔

صاحب سیرت النبی ﷺ نے قمری مہینوں کا حساب لگاکر ثابت کیا ہے کہ چوں کہ سوموار کا دن ہونا قطعی الثبوت ہے اور 12ربیع الاول کو سوموار ہوتا ہی نہیں ہے، لہذا یہ تاریخ ہوہی نہیں سکتی؛ البتہ صحیح امکانی صورت یکم ربیع الاول ہے، اس لیے تاریخ وفات نبوی ﷺ یکم ربیع الاول ہے۔ تفصیلات کے لیے سیرت النبی کی مکمل عبارت پیش خدمت ہے۔

”تاریخ وفات کی تعیین میں راویوں کا اختلاف ہے۔ کتب حدیث کا تمام تر دفتر چھان ڈالنے کے بعد بھی تاریخ وفات کی مجھ کو کوئی روایت احادیث میں نہیں مل سکی۔ ارباب سیر کے ہاں تین روایتیں ہیں : یکم ربیع الاول۔ دوم ربیع الاول اور 12/ ربیع الاول۔ ان تینوں روایتوں میں باہم ترجیح دینے کے لیے اصول روایت و درایت دونوں سے کام لینا ہے۔ اور روایت دوم ربیع الاول کی روایت،ہشام بن محمد بن سائب کلبی اور ابو مخنف کے واسطہ سے مروی ہے۔ (طبری، ج/4، ص/ 1815)۔ اس روایت کو گو اکثر قدیم مورخوں (مثلا یعقوبی و مسعود وغیرہ) نے قبول کیا ہے؛ لیکن محدثین کے نزدیک یہ دونوں مشہور دروغ گو اور غیر معتبر ہیں ۔ یہ روایت واقدی سے بھی ابن سعد و طبری نے نقل کی ہے۔ (طبقات ابن سعد، جز 2، ص/ 57، جز وفات)۔ لیکن واقدی کی مشہور ترین روایت جس کو اس نے متعدد اشخاص سے نقل کیا ہے، وہ 12/ ربیع الاول کی ہے۔ (ایضا، ص/ 58) البتہ بیہقی نے دلائل میں بسند صحیح سلیمان التیمی سے دوم ربیع الاول کی روایت نقل کی ہے۔ (نور النبراس ابن سید الناس ذکر وفات)۔ لیکن یکم ربیع الاول کی روایت ثقہ ترین ارباب سیر موسیٰ بن عقبہ سے اور مشہور محدث امام لیث مصری سے مروی ہے۔ (فتح الباری، ج/8، ص/ 98)۔ امام سہیلی نے روض الانف میں اسی روایت کو اقرب الیٰ الحق لکھا ہے۔ (ج/2، ص/372 ذکر وفات مطبع جمالیہ مصر: 1332ھ/ 1914)۔ اور سب سے پہلے امام مذکور ہی نے درایۃ اس نکتہ کو دریافت کیا کہ 12/ ربیع الاول کی روایت قطعا ناقابل تسلیم ہے، کیوں کہ دو باتیں یقینی طور پر ثابت ہیں : روز وفات دو شنبہ کا دن تھا(صحیح البخاری1387، و صحیح مسلم60945) اس سے تقریبا تین مہینے پہلے ذی الحجہ 10ھ کی نویں تاریخ کو جمعہ کا دن تھا۔ (صحیح بخاری، تفسیر الیوم اکملت لکم دینکم: 6:460)۔ 9/ ذی الحجہ 10ھ بروز جمعہ سے 12ربیع الاول ذی الحجہ تک حساب لگاؤ۔ ذی الحجہ، محرم، صفر، ان تینوں مہینوں کو خواہ 29-29، خواہ 30-30۔ بعض 30؛ کسی حالت اور کسی شکل سے 12ربیع الاول کو دو شنبہ کا دن نہیں پڑسکتا۔ اس لیے درایۃ بھی یہ تاریخ قطعا غلط ہے۔ دوم ربیع الاول کے حساب سے اس وقت دو شنبہ پڑسکتا ہے، جب تینوں مہینے 29کے ہوں ۔ جب دو پہلی صورتیں صحیح نہیں ہیں ، تو اب صرف تیسری صورت رہ گئی ہے، جو کثیر الوقوع ہے، یعنی یہ کہ دو مہینے 29کے اور ایک مہینہ 30کا لیا جائے، اس حالت میں یکم ربیع الاول کو دو شنبہ کا روز واقع ہوگا اور یہ ثقہ اشخاص کی روایت ہے۔ ذیل کے نقشہ سے معلوم ہوگا کہ اگر 9/ ذی الحجہ کو جمعہ ہو تو اوائل ربیع الاول میں اس حساب سے دو شنبہ کس کس دن واقع ہوسکتا ہے:

مفروضہ صورت1: ذی الحجہ، محرم اور صفر سب 30دن کے ہوں ،6،13۔

 مفروضہ صورت 2: ذی الحجہ،محرم اور صفر سب29 دن کے ہوں ۔2، 9، 16۔

 مفروضہ صورت 3۔ذی الحجہ29، محرم29اور صفر 30کا ہو۔1،8،15۔

 مفروضہ صورت4: ذی الحجہ 30/ محرم29اور صفر29کا ہو۔1،8، 15۔

 مفروضہ صورت 5: ذی الحجہ29، محرم30اور صفر29کا ہو: 1،8،5۔

مفروضہ صورت6: ذی الحجہ 30، محرم29اور صفر30کا ہو: 7، 14۔

مفروضہ صورت7:ذی الحجہ 30، محرم30اور صفر29کا ہو۔7،14۔

مفروضہ صورت8 : ذی الحجہ 29اور محرم30اور صفر30کا ہو: 7،14۔

ان مفروضہ تاریخوں میں میں سے 6-7-8-9-13-14-15خارج از بحث ہیں کہ علاوہ اور وجوہ کے ان کی تائید میں کوئی روایت نہیں ۔ رہ گئیں یکم اور دوم تاریخیں ۔ دوم تاریخ صرف ایک صورت میں پڑ سکتی ہے، جو خلاف اصول ہے۔ یکم تاریخ تین صورتوں میں واقع ہوسکتی ہے اور تینوں کثیر الوقوع ہیں اور روایت ثقات ان کی تائید میں ہیں ، اس لیے وفات نبوی کی صحیح تاریخ ہمارے نزدیک یکم ربیع الاول 11ھ ہے۔ اس حساب میں فقط رویت ہلال کا اعتبار کیا گیا ہے، جس پر اسلامی قمری مہینوں کی بنیاد ہے، اصول فلکی سے ممکن ہے کہ اس پر خدشات وارد ہوسکتے ہیں ۔ کتب تفسیر میں آیت: الیوم اکملت لکم دینکم، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اس آیت کے یوم نزول (9/ ذی الحجہ10ہجری) سے روز وفات تک کے 81دن ہیں ۔ دیکھو ابن جریر، ج/6ص/44و ابن کثیر، ج/2، ص/ 13و بغوی وغیرہ)۔ ہمارے حساب سے9/ ذی الحجہ10ھ سے لے کریکم ربیع الاول تک دو 29اور ایک مہینہ 30لے کر جو ہماری مفروضہ صورت ہے، پورے 81/ دن ہوتے ہیں ۔ ابو نعیم نے بھی دلائل میں بسند یکم ربیع الاول تک تاریخ وفات نقل کی ہے۔ (ص/146)۔“ (حاشیہ سیر ت النبی، جلد دوم، ص/ 530-31)

جدید تحقیقات

جدید فلکیات کے ماہر حضرت مولانا ثمیر الدین صاحب قاسمی چیئرمین ہلال کمیٹی لندن کی تحقیق یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی تاریخ پیدائش9/ربیع الاول، مطابق20/اپریل 571ء (ثمیری کلینڈر ، ص؍29)اور تاریخ وصال13/ربیع الاول11ھ، مطابق8/جون 632ء بروز پیر ہے۔ (ثمیری کلینڈر، ص/341)

ماہر فلکیات مولانا ثمیر الدین قاسمی چیئرمین ہلال کمیٹی لندن لکھتے ہیں کہ:

26؍ جنوری 632ءکی شام کو مکہ مکرمہ کے افق پر پونے سات ڈگری (6:44) ڈگری چاند اونچا تھا ، عام حالات میں ؍9 ڈگری پر چاند نظر آتا ہے ،لیکن پونے سات ڈگری پر دور بین سے نظر آنا ممکن ہے اہل فلکیات ایسا کہتے ہیں ، اس لیے جب9؍ذی الحجہ10ھ  کو جمعہ کا دن مانیں، تو یہ کہنا پڑے گا کہ26؍ جنوری632ء  کی شام کو حضوراکرم ﷺ نے چاند دیکھا اور 27؍ جنوری 632ء کو ذی الحجہ10 ھ کی پہلی تاریخ ہوئی ۔ اور جمعہ کے دن 9؍ ذی الحجہ 10ھ ہوئی ۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ (ثمیری کلینڈر، ص؍337)

حضرت ماہر فلکیات اسی کلینڈر میں آگے تحریر فرماتے ہیں کہ:

حضور ﷺ کے وصال کی تاریخ:
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ...... وَقَالَ لَهَا فِي أَيِّ يَوْمٍ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ : يَوْمَ الاثنين ( بخاری شریف ، باب موت یوم الاثنین ، نمبر 1387)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کی وفات پیر کے دن ہوئی ہے۔
سیرت ابن اسحاق ، یا سیرہ ابن ہشام میں 12؍ربیع الاول کا تعین نہیں ہے، البتہ دلائل النبوہ ،بیہقی وغیرہ میں ہے۔
 
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عليه وَسَلَّم لاثْنَتَى عَشْرَةَ لَيْلَةً مَضَتْ مِنْ شَهْرٍ ربيع الأول (دلائل النبوة للبیہقی ، باب ماجاء فی الوقت واليوم والشهر ، جلد7ص؍235)
لاثْنَتَى عَشْرَةَ لَيْلَةً مَضَت ، کا ترجمہ 12؍  رات اور 12؍دن دونوں گزر گئے، تو13؍ ربیع الاول کو وفات ہوئی ہے، اور اس دن پیر کا دن ہے، کیوں کہ 12؍ربیع الاول کو ہر حال میں اتوار کا دن ہے، جو حدیث کے خلاف ہوگا۔
حضور ﷺکا وصال 13؍ ربیع الاول 11ھ، مطابق8؍ جون 632ء بروز پیر کو ہونی چاہیے۔ (341)

اور یہ شکل نمبر (1) پر منطبق ہوتا ہے، جس میں ذی الحجہ ، محرم اور صفر تینوں مہینے 30 کے  فرض کیا گیا ہے۔ ماہر فلکیات نے چاند کی ڈگریوں کے حوالے سے ، اسی شکل کی رویت کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ دیکھیے: ثمیری کلینڈرازصفحات 337تا 341 )