13 Aug 2026

عراق اور جمعیت علمائے ہند: ایک تاریخی جائزہ

عراق اور جمعیت علمائے ہند 

(خلاصہ)

محمد یاسین جہازی

عراق اور جمعیت علمائے ہند: ایک تاریخی جائزہ

پہلی جنگ عظیم(1914ئتا1918ئ) کے دوران جب ترکی نے جرمنی کا ساتھ دیا، تو بھارتی مسلمانوں کو یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ برطانیہ فتح کے بعد سلطنتِ عثمانیہ، خلافت اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کو نقصان پہنچائے گا۔ اسی خدشے کے پیش نظر برطانیہ سے وعدے لیے گئے کہ مسلمانوں کے مقاماتِ مقدسہ محفوظ رہیں گے اور خلافت کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، اور برطانیہ نے 2/نومبر، 20/اپریل1915ئ اور5/جنوری1916ئ کو مختلف اعلانات کے ذریعے یقین دہانی بھی کرائی؛ لیکن جنگ کے بعد ان وعدوں کی خلاف ورزی کی گئی۔ 30/اکتوبر1918ئ کو مدروس کی عارضی صلح کے بعد عراق سمیت عثمانی علاقوں پر اتحادی طاقتوں کا قبضہ مضبوط ہوگیا، اور10/اگست1920ئ کے معاہدہ¿ سیورے کے تحت عراق کو باقاعدہ برطانیہ کے زیرِ اقتدار دے دیا گیا۔ جمعیت علمائے ہند کے نزدیک یہ مسئلہ محض سیاسی نہیں؛ بلکہ تحفظِ خلافت کا بنیادی حصہ تھا، چنانچہ جب لندن کی صلح کانفرنس(12/فروری تا10/اپریل1920ئ) میں بھی خلافت کے مطالبات تسلیم نہ ہوئے، تو 6/ستمبر1920ئ کو جمعیت نے کلکتہ کے خصوصی اجلاس میں برطانیہ سے ترکِ موالات کی تجویز منظور کی۔ اسی سلسلے میں19،20،21/نومبر1920ئ کے دوسرے اجلاسِ عام میں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے اپنے خطبہ¿ صدارت میں عراق کو خلافت اور اسلامی مقدسات کا مسئلہ قرار دیا اور مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے عراق، شام، فلسطین اور قسطنطنیہ کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا ذکر کیا۔ پھر18،19،20/نومبر1921ئ کے تیسرے اجلاسِ عام میں مولانا ابوالکلام آزادؒ نے واضح کیا کہ عراق کا دو تہائی حصہ، خصوصاً بصرہ اور بغداد، جغرافیائی اعتبار سے جزیرۃ العرب میں شامل ہے، اس لیے جب تک وہاں برطانوی اقتدار باقی رہے گا، مسلمانوں کے لیے برطانیہ سے صلح ناقابلِ قبول ہوگی۔ اسی موقف کو22/مارچ1922ئ کی مجلس عاملہ نے باقاعدہ مطالبے کی صورت دی کہ فلسطین، شام، عراق، عرب، حجاز، نجد اور یمن کو خلیفۃ المسلمین کے زیرِ اقتدار اندرونی آزادی دی جائے، اور18،19،20/اکتوبر1922ئ کی مجلس منتظمہ نے اعلان کیا کہ مطالبہ¿ خلافت خالص مذہبی مطالبہ ہے، جس میں کمی کی گنجائش نہیں۔ 24تا26/دسمبر1922ئ کے چوتھے اجلاس میں مولانا حبیب الرحمان عثمانیؒ نے عراق، شام اور فلسطین کے دفاع کو مسلمانانِ ہند پر فرض قرار دیا۔ 7/نومبر1923ئ کو جمعیت تبلیغیہ نے یہ فیصلہ کیا کہ چوں کہ بغداد میں عیسائی، آریہ اور مرزائی جماعتیں عربی ٹریکٹ شائع کررہی ہیں، اس لیے جواباً عربی ٹریکٹ تیار کرکے عراق بھیجے جائیں، جس کے لیے مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے وعدہ فرمایا۔ اس کے بعد29/دسمبر1923ئ تا یکم جنوری1924ئ کے پانچویں اجلاس عام میں مولانا حسین احمد مدنیؒ نے فرمایا کہ حجاز، یمن، عراق، شام اور فلسطین سب جزیرۃ العرب میں داخل ہیں، اس لیے ان تمام مقامات کو غیر مسلم اقتدار سے پاک رکھنا مسلمانوں کا فریضہ ہے۔ 6/اکتوبر1925ئ کو جمعیت کے صدر مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ نے برطانوی کمیشن کی طرف سے عراق کی حدود کی تعیین کی مخالفت کی، اور16/دسمبر1925ئ کو جب لیگ آف نیشنز نے موصل کو عراق کا حصہ قرار دیتے ہوئے برطانوی مینڈیٹ مزید25/سال بڑھادیا، تو مولانا احمد سعید صاحبؒ نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ 18تا21/جنوری1926ئ کی مجلس عاملہ نے اس فیصلے کو ترکوں کے حق پر ڈاکہ قرار دیا، اور11تا14/مارچ1926ئ کے ساتویں اجلاس عام میں مولانا سید سلیمان ندویؒ نے عراق و شام کو جزیرۃ العرب کا تکمیلی حصہ قرار دیتے ہوئے برطانیہ کے سازشی معاہدوں پر شدید تنقید کی۔

اس کے بعد3،4،5،6/مارچ1939ئ کے گیارھویں اجلاس عام میں ڈاکٹر شوکت اللہ شاہ انصاری اور مولانا سید عبدالحق مدنیؒ نے عراق، یمن، شام اور فلسطین کی استعمار سے آزادی کی کوششوں کا ذکر کیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران25/جون1941ئ کو مجلس عاملہ نے ایک بیان جاری کیا، جس میں عراق سمیت اسلامی ممالک کی مکمل آزادی کا مطالبہ کرتے ہوئے کسی بھی اجنبی طاقت کے اقتدار کو ناقابلِ برداشت قرار دیا۔ 20،21،22/مارچ1942ئ کے تیرھویں اجلاس عام میں مولانا حسین احمد مدنیؒ نے عراق اور ایران پر برطانوی قبضے کا ذکر کیا اور بتایا کہ کیسے راشد علی جیلانی کے معاہدے کی پابندی کے مطالبے پر برطانیہ نے عراق پر ہی قبضہ کرلیا۔ 11/جون1945ئ کو دہلی کی جامع مسجد میں منعقدہ زبردست احتجاجی اجلاس میں مولانا محمد حفظ الرحمان نے شام، لبنان، الجزائر، مراکش، فلسطین اور عراق پر یورپی حکومتوں کے انتداب کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے فوری آزادیِ کامل کا مطالبہ کیا۔ 27تا29/اپریل1951ئ کے سترھویں اجلاس عام کے موقع پر شاہی عراقی سفارت خانے سے پیغام موصول ہوا، اور27تا29/اکتوبر1956ئ کے انیسویں اجلاس عام کے لیے بغداد کے م¶تمر اسلامی کے نائب صدر شیخ محمد محمود صواف کا تہنیتی پیغام آیا۔ 15تا17/اپریل1966ئ کے بائیسویں اجلاس عام میں عراقی صدر فیلڈ مارشل عبدالسلام محمد عارفؒ کی وفات پر رنج و الم کا اظہار کیا گیا۔

1973ئ میں عرب-اسرائیل جنگ(یومِ کپور جنگ) میں عراق و کویت کے اسرائیل کے خلاف شامل ہونے پر7/اکتوبر1973ئ کو جمعیت نے مصر اور شام پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی، اور12/اکتوبر1973ئ کو جامع مسجد دہلی میں عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا، جس میں عراقی سفیر ڈاکٹر عبداللہ سلوم نے تفصیلی خطاب کیا۔ 25/نومبر1973ئ کے عرب حمایت کنونشن میں سفیر عراق ڈاکٹر عبداللہ سلیم سامرائی نے تیل کو مؤثر ہتھیار قرار دیا اور ہندستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ 16،17،18/فروری1979ئ کی کل ہند اوقاف کانفرنس نے عراق کے مقدس شہروں میں ہندستانی مسافرخانوں میں زائرین کو سہولت نہ ملنے کا مسئلہ اٹھایا۔

22/ستمبر1980ئ کو شط العرب کے سرحدی تنازع، 1975ئ کے الجزائر معاہدے کی منسوخی، ایرانی اسلامی انقلاب کے پھیلا¶ کے خدشے اور علاقائی بالادستی کی خواہش کے پیشِ نظر عراق نے ایران پر حملہ کرکے آٹھ سالہ ایران-عراق جنگ کا آغاز کیا۔ یکم اکتوبر1980ئ کو مجلس عاملہ نے دونوں ممالک سے جنگ بندی کی اپیل کی۔ 7/جون1981ئ کو اسرائیل نے عراق کی اوسیرک ایٹمی تنصیب پر حملہ کیا، جس کی15،16/جون1981ئ کی ہنگامی مجلس عاملہ نے سخت مذمت کی، اور9،10/اگست1981ئ کی تجویز میں اسے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پامالی قرار دیا۔ 26،27/دسمبر1981ئ کی مجلس عاملہ نے ایران کی طرف سے پندرہ سو عراقی جنگی قیدیوں کے قتل(خفاجیہ واقعہ) کی مذمت کی۔ 14تا17/اپریل1983ئ کو بغداد میں پہلا عالمی موتمر منعقد ہوا، جس میں مولانا اسعد مدنی صاحبؒ نے ہندستانی وفد کی قیادت کی؛ اسی دوران23/اپریل1983ئ کو روزنامہ الجمعیۃ میں یو این آئی کے حوالے سے ایک غلط خبر شائع ہوئی کہ مولانا اسعد مدنیؒ نے آسام فسادات کے حوالے سے حکومت ہند کو بری الذمہ قرار دیا، جس پر8،9/مئی1983ئ کی مجلس عاملہ نے ایڈیٹر ناز انصاری کو معطل کیا، جو بعد میں11/جون1984ئ کو دوبارہ بحال کیے گئے۔ 25،26/نومبر1983ئ کی مجلس منتظمہ اور6،7،8/اپریل1984ئ کی تعلیمی و ملی کانفرنس نے ایران کی ہٹ دھرمی پر افسوس کرتے ہوئے جنگ بندی کی اپیل دہرائی۔ 22تا25/اپریل1985ئ کو بغداد میں دوسری عوامی اسلامی کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی6،7/مئی1985ئ کی مجلس عاملہ نے تائید کی اور24/مئی1985ئ کو یوم دعا منانے کا فیصلہ کیا۔ 11/مارچ1986ئ کو عراقی علما کے وفد کو عصرانہ دیا گیا۔ یکم نومبر1986ئ اور7/نومبر1987ئ کی مجالسِ منتظمہ نے حکومتِ ایران سے جنگ بند کرنے کی اپیل دہرائی، اور8/نومبر1987ئ کو تحفظ حرم کانفرنس میں مولانا اسعد مدنیؒ اور عراقی سفیر عبدالودود شیخ علی نے خمینی ازم کی شدید مذمت کی۔ 9،10/اپریل1988ئ کی مجلس منتظمہ نے صدام حسین کی جنگ بندی کی کوششوں کو سراہا، اور بالآخر20/اگست1988ئ کو قراردادِ598 کے تحت جنگ بندی نافذ ہوئی، جس پر جمعیت نے اظہارِ مسرت کی ایک تقریب منعقد کی، جس میں عراقی سفیر عبدالودود عبدالکریم نے شرکت کی۔

عراق پر بھاری قرضوں کے بوجھ، تیل کی پیداوار کے تنازع اور سرحدی اختلافات کے باعث2/اگست1990ئ کو عراق نے کویت پر حملہ کرکے اسے اپنا19واں صوبہ قرار دیا۔ 3/ستمبر1990ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ نے اس پر گہری تشویش ظاہر کی اور13،14/اکتوبر1990ئ کی مجلس عاملہ نے عراقی فوج کے کویت سے انخلا کا مطالبہ کرتے ہوئے سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجوں کی موجودگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ 17/جنوری1991ئ کو امریکہ کی قیادت میں آپریشن ڈیزرٹ سٹارم شروع ہوا اور28/فروری1991ئ کو جنگ بندی ہوگئی۔ 22/مارچ1991ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ نے اپنی طرف منسوب صدام حسین کی تکفیر کی غلط خبر کی تردید کی، اور یکم و2/دسمبر1991ئ کی مجلس منتظمہ نے عراق پر عائد ناکہ بندی کی سخت مذمت کی، جو بعد میں1991ئ کی قرارداد687 کے تحت مزید سخت کردی گئی تھی۔ 13سے22/جنوری1993ئ اور26،27/جون1993ئ کو امریکہ نے عراق پر فضائی حملے کیے، جن کی17/جنوری1993ئ کی مجلس عاملہ اور16/جولائی1993ئ کے بیان میں پرزور مذمت کی گئی۔ 5تا13/ستمبر1994ئ کو قاہرہ میں آبادی و ترقی کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی23/اکتوبر1994ئ کی مجلس عاملہ نے مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب، عراق، سوڈان اور لبنان کے بائیکاٹ کو سراہا۔ 29/اکتوبر1995ئ کے پچیسویں اجلاس عام میں مولانا اسعد مدنیؒ نے عراق اور لیبیا کی ناکہ بندی پر گہری تشویش ظاہر کی۔ 3،4/ستمبر1996ئ کو امریکہ نے آپریشن ڈیزرٹ اسٹرائیک کے تحت عراق پر میزائل داغے، جس کی5/ستمبر1996ئ کو مولانا مدنیؒ نے سخت مذمت کی۔ 24،25/اپریل1998ئ کی مجلس منتظمہ نے عراق پر پابندیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا، اور26/مئی1998ئ کو عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر سعدوون حمادی کو جمعیت کے دفتر میں ظہرانہ دیا گیا، جہاں انھوں نے پابندیوں کے المناک اثرات بیان کیے۔ 16تا19/دسمبر1998ئ کو آپریشن ڈیزرٹ فاکس کے تحت امریکہ و برطانیہ نے عراق پر حملہ کیا، جسے مولانا مدنیؒ نے17/دسمبر1998ئ کو کھلی جارحیت اور دہشت گردی قرار دیا۔ 13/مئی2000ئ کے چھبیسویں اجلاس عام میں مولانا مدنیؒ نے عراق پر عائد پابندیوں کے ہٹائے جانے کا مطالبہ دہرایا۔

بالآخر20/مارچ2003ئ کو امریکہ اور برطانیہ نے "آپریشن عراقی فریڈم" کے تحت یہ جھوٹا الزام لگاکر کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں، عراق پر ہمہ گیر حملہ کیا۔ 7،8/مارچ2003ئ کی مجلس منتظمہ اور9/مارچ2003ئ کے ستائیسویں اجلاس عام میں مولانا اسعد مدنیؒ نے اس جارحیت کی سخت مذمت کی، اور20/مارچ2003ئ کو ایک بیان میں عالمی برادری سے جنگ رکوانے کی اپیل کی۔ 2/اپریل2003ئ کو جمعیت کے زیر اہتمام دہلی میں ہزاروں افراد کا احتجاجی مظاہرہ ہوا، جس میں جنرل سکریٹری مولانا سید محمود مدنیؒ نے خطاب کیا اور امدادی قافلہ بھیجنے کا اعلان کیا۔ 15/جولائی2003ئ کو ہندستان کے دورے پر آئے پاکستانی رہنما مولانا فضل الرحمان نے یہ موقف پیش کیا کہ بزور طاقت امن قائم نہیں کیا جاسکتا۔ 29/مئی2005ئ کے اٹھائیسویں اجلاس عام میں مولانا اسعد مدنیؒ نے واضح کیا کہ عراق میں تباہ کن ہتھیار موجود ہونے کا امریکی دعویٰ جھوٹا ثابت ہوچکا ہے اور امریکی فوجی قبضے کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔ یکم مارچ2006ئ کو صدر بش کے دورہ¿ ہند کے خلاف احتجاجی اجلاس میں میدھا پاٹیکر نے کہا کہ بش تیل پر قبضے کے لیے عراق کو برباد کرچکے ہیں۔ 23/مئی2006ئ کے پریس بیان میں امریکی مداخلت کو آزاد ممالک کی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔ صدام حسین کو13/دسمبر2003ئ کو گرفتار کیا گیا تھا اور دجیل قتل عام کے مقدمے میں5/نومبر2006ئ کو سزائے موت سنائی گئی، جو30/دسمبر2006ئ کو نافذ کی گئی؛ اس پر22/نومبر2006ئ کی مجلس عاملہ اور30/دسمبر2006ئ کے پریس بیان میں سخت افسوس کا اظہار کیا گیا کہ یہ عالمی امن کے ساتھ ظلم اور ناانصافی کی بدترین مثال ہے، اور14/فروری2007ئ کی مجلس عاملہ نے بھی اسی موقف کا اعادہ کیا۔ 31/مئی2008ئ کی دہشت گردی مخالف کانفرنس میں امریکہ کو نمبر ون دہشت گرد ملک قرار دیا گیا۔ 9/نومبر2008ئ کے انتیسویں اجلاس عام اور3/نومبر2009ئ کے تیسویں اجلاس عام میں مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوریؒ نے عراق میں جاری انارکی، امریکی جھوٹ کے بے نقاب ہونے اور عراقی عوام کی مشکلات پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور عراق کو غاصب افواج سے خالی کرانے کا مطالبہ دہرایا۔ 18/دسمبر2011ئ کو بالآخر امریکی فوج کا عراق سے انخلا مکمل ہوا، تاہم19/مئی2012ئ کے اکتیسویں اجلاس عام میں مولانا منصورپوریؒ نے بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے جاری رہنے پر تشویش ظاہر کی۔ امریکی انخلا کے بعد شیعہ سنی فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے کا فائدہ اٹھاکر2014ئ میں داعش نے موصل سمیت عراق کے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا، جس پر24/مئی2014ئ کی مجلس عاملہ اور20/جون2014ئ کے پریس بیان میں مولانا محمود اسعد مدنی صاحبؒ نے فرقہ وارانہ نہج پر چلنے والوں کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے امن و قانون کی بحالی کی اپیل کی۔ اکتوبر2016ئ میں عراقی افواج نے موصل کی جنگ شروع کی، اور بالآخر13/نومبر2016ئ کے تینتیسویں اجلاس عام میں جمعیت نے داعش کے دہشت پسندانہ عزائم و نظریات سے مکمل بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے عراقی حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلے کو شیعہ سنی تناظر میں نہ دیکھے؛ بلکہ تمام طبقات کی شمولیت یقینی بناتے ہوئے بے گھر افراد کی بازآبادکاری کے لیے عالمی تعاون سے کام لے۔

6 Aug 2026

جمعیت علمائے ہند اور شام: ایک صدی کی ہمدردی و جدوجہد

جمعیت علمائے ہند اور شام: ایک صدی کی ہمدردی و جدوجہد 

محمد یاسین جہازی 

(خلاصہ)

جمعیت علمائے ہند اور شام کا تعلق محض ایک سیاسی یا جغرافیائی ہم آہنگی نہیں ، بلکہ ایک گہرا مذہبی، اخلاقی اور تاریخی رشتہ ہے ، جس کی بنیاد اسلامی اخوت اور مظلومین کی حمایت کے شرعی اصول پر ہے۔ یہ تعلق تقریباً ایک صدی پر محیط ہے ، اور اس کا آغاز پہلی جنگ عظیم کے بعد سلطنت عثمانیہ کی تقسیم اور شام کے فرانسیسی قبضے سے ہوتا ہے۔

جب پہلی جنگ عظیم11/نومبر1918ء کو ختم ہوئی، تو برطانیہ نے جنگ کے دوران ہندستانی مسلمانوں سے خلافت عثمانیہ کے تحفظ اور ہندستان کو سوراج دینے کے وعدے کیے تھے ، لیکن جنگ کے بعد برطانیہ نے اپنے وعدوں سے منھ موڑ لیا۔30/اکتوبر1918ء کو عارضی صلح کے بعد10/اگست1920ء کو معاہدہ سیورے کے ذریعے شام کو فرانس کے قبضے میں دے دیا گیا۔ چوں کہ شام خلافت عثمانیہ کا حصہ تھا، اس لیے اس تقسیم نے ہندستانی مسلمانوں میں شدید اضطراب پیدا کیا، جس کے نتیجے میں تحریک خلافت کا آغاز ہوا۔23/نومبر1919ء کو تحریک خلافت کا پہلا آل انڈیا اجلاس منعقد ہوا، اور اسی موقع پر علمائے کرام نے مسلمانوں کے لیے ایک متحد پلیٹ فارم کی ضرورت محسوس کی، جس کے نتیجے میں جمعیت علمائے ہند وجود میں آئی۔

ابتدائی دنوں میں ہی جمعیت علمائے ہند نے شام کے مسئلے کو اپنی ترجیحات میں شامل کر لیا۔ 19 سے21/نومبر1920ء کو شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کی صدارت میں دوسرے اجلاس عام میں اس شبہے کا قلع قمع کیا گیا کہ ہندستانی مسلمانوں کو شام کے مسلمانوں سے کیا واسطہ؟ مولانا محمود حسن نے واضح کیا کہ مسلمانوں میں باہمی نصرت و معاونت کوئی انسانی معاہدہ نہیں ؛ بلکہ خدائے قدوس کا قائم کردہ اور مذہبی احکام کا حصہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح امریکہ والے یورپ میں اپنے معاہدوں کے تحت مدد کرتے ہیں ، اسی طرح مسلمانوں کو ان کا خدا اور رسول حکم دیتے ہیں کہ وہ اپنے دینی بھائیوں کی مدد کریں ، خواہ وہ کہیں کے رہنے والے ہوں ۔ اسی اجلاس میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے فرمایا کہ عراق، شام، فلسطین اور تھریس کے کلمہ پڑھنے والے مسلمان ہماری جان و مال اور عزت و آبرو ہیں ، اور ان کی حمایت مذہبی فرض ہے۔ اس طرح جمعیت نے شام کے ساتھ یک جہتی کو مذہبی فریضہ قرار دیا۔

18سے20/نومبر1921ء کو تیسرے اجلاس عام میں امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد نے صدارتی خطاب میں کہا کہ ہمارا مطالبہ جزیرۃ العرب، فلسطین اور شام کے لیے ہے ، اور ان پر غیر مسلم اقتدار قبول نہیں ۔

24 سے26/دسمبر1922ء کے چوتھے اجلاس میں مولانا حبیب الرحمان عثمانی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند نے خلافت و سلطنت اسلامی کے برباد ہونے کے بعد شام سمیت عراق و فلسطین پر غیر مسلم تسلط کے خلاف دفاع کو مسلمانوں پر عائد ہونے والا فرض قرار دیا۔

29 دسمبر1923تا یکم جنوری1924ء کے پانچویں اجلاس میں مولانا حسین احمد مدنی نے شام کو جزیرۃ العرب کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیر مسلم اقتدار کو وہاں سے مکمل ختم ہونا چاہیے۔

جب1925ء میں فرانس نے شام پر اپنے مینڈیٹ کے تحت انتہائی جابرانہ پالیسیاں اپنائیں اور جبل الدروز میں مداخلت، جبری مشقت اور رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف شام کی عظیم بغاوت شروع ہوئی، تو فرانسیسی فوج نے18سے21/اکتوبر1925ء کے درمیان دمشق پر فضائی اور توپ خانے سے بم باری کی، جس میں تاریخی بازار اور رہائشی علاقے تباہ ہو گئے اور تقریباً1000سے1500شہری جاں بحق ہوئے۔ اسی طرح حماۃ پر بم باری اور السویداء پر حملے کیے گئے۔ ان مظالم پر جمعیت علمائے ہند نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔29/نومبر1925کو مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ-جو اس وقت جمعیت کے صدر تھے - نے وائسرائے ہندلارڈ ریڈنگ کو ایک تار بھیجا، جس میں انھوں نے برطانوی وزیراعظم کی اس تقریر پر شدید تعجب کا اظہار کیا ،جس میں کہا گیا تھا کہ فرانس کے مظالم پر اس لیے کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی، کیوں کہ برطانیہ کو بھی اپنی نوآبادیوں میں اسی قسم کی مشکلات کا سامنا ہے۔ مولانا کفایت اللہ صاحب نے وائسرائے کو متنبہ کیا کہ اگر برطانیہ فرانس کے ساتھ شامیوں کے خلاف اشتراک عمل کرے گا، تو ہندستان کے مسلمانوں میں عام بے چینی پیدا ہو جائے گی۔18سے21/جنوری1926میں مجلس عاملہ کی میٹنگ نے فرانس کے وحشیانہ مظالم پر دلی رنج و الم کا اظہار کیا اور شامی بھائیوں کو اپنی ہمدردی کا یقین دلایا۔

11 سے14/مارچ1926میں ساتویں اجلاس عام میں مولانا سید سلیمان ندوی صاحب ؒنے صدارت کرتے ہوئے شام اور دیگر عرب ممالک کے نوجوانوں پر یورپی تہذیب کے اثرات پر تنقید کی اور فرمایا کہ عراق و شام جزیرۃ العرب کے تکمیلی حصے ہیں ، اور برطانیہ و فرانس کو اپنے وعدوں کے مطابق ان سے نکل جانا چاہیے۔ انھوں نے شام کی موجودہ حالت کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ شامی احرار کا قتل عام ارمنوں کے قتل عام سے زیادہ روشن دنوں میں انجام دیا گیا ہے ، اور یورپ کو اپنی اس بربریت پر شرمانا چاہیے۔

3 /ستمبر1929ء کو فلسطین کی حمایت میں دہلی میں منعقدہ ایک عظیم جلسے میں مولانا ابوالکلام آزادؒ نے کہا کہ یورپی طاقتوں نے شام اور فلسطین کو اپنی قوت کے استحکام کے لیے چنا ہے ، اور یہودیوں کی حکومت قائم کرنے میں یہی راز مضمر ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران جمعیت علمائے ہند کا موقف مزید واضح ہوا۔7سے9/جون 1940 کے بارھویں اجلاس میں مولانا حسین احمد مدنی صاحبؒ نے فرمایا کہ ہندستان کی غلامی کی وجہ سے شام، مصر، فلسطین سب غلام ہیں ، اور ان کی آزادی ہندستان کی آزادی سے مشروط ہے۔25/جون1941کو مجلس عاملہ نے اعلان کیا کہ شام سمیت تمام اسلامی ممالک پر کسی اجنبی طاقت کا تسلط ناقابلِ قبول ہے ، اور مکمل آزادی کا مطالبہ کیا۔

20 سے22/مارچ1942کے تیرھویں اجلاس میں شام، عراق، ایران اور فلسطین کے نازک حالات پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ جب تک استعمار پسند طاقتیں اپنا تسلط نہیں اٹھائیں گی، مسلمان مطمئن نہیں ہوں گے۔

1945 میں جب فرانس نے شام اور لبنان میں اپنی نوآبادیاتی گرفت برقرار رکھنے کے لیے سخت فوجی کارروائی کی، جسے لیونٹ بحران کہا جاتا ہے ، اور29سے31/مئی1945کو دمشق پر توپ خانے اور فضائی حملے کیے ، جس میں تقریباً1000/افراد ہلاک ہوئے ، تو جمعیت علمائے ہند نے فوری ردعمل دیا۔2/جون1945ء کو مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے ایک پریس بیان میں فرانس اور برطانیہ کی مسلم کش پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شام، لبنان اور فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے ، وہ ہندستان کی غلامی کا نتیجہ ہے۔ انھوں نے تمام اسلامی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ فوری احتجاجی جلسے کریں اور شام و لبنان کی مکمل آزادی، فلسطین کو یہودیوں کا وطن نہ بنانے اور مفتی اعظم فلسطین کی رہائی کا مطالبہ کریں ۔ 11/جون1945ء کو دہلی میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا، جس میں فرانسیسی مظالم کی مذمت کی گئی اور شام و لبنان کی فوری آزادی کا مطالبہ کیا گیا، اور یہ واضح کیا گیا کہ عربی ممالک کے کسی حصے پر کسی بھی اتحادی طاقت کا انتداب عالم اسلام کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگا۔

1967 ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران جمعیت علمائے ہند کی سرگرمیاں انتہائی نمایاں رہیں ۔ جب اسرائیل نے شام کو فوجی دھمکیاں دیں اور خلیج عقبہ کی ناکہ بندی پر کشیدگی بڑھی، تو23/مئی1967ء کو مولانا اسعد مدنی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے ایک بیان جاری کیا، جس میں عربوں کی حمایت کا اعلان کیا اور ملک گیر یوم احتجاج منانے کی اپیل کی۔ انھوں نے وزیراعظم اندرا گاندھی اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو برقیے بھیجے اور شام کے سفیر سے ملاقات کر کے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔23/جولائی1967کو جمعیت نے عرب مظلومین کی امداد کے لیے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں شام کے سفیر کو25,000/روپے کا چیک پیش کیا گیا۔ اس موقع پر شام کے سفیر عمر ابو ریشہ نے ہندستانی عوام کے خلوص کو سراہا اور کہا کہ عربوں کو اگرچہ عارضی شکست ہوئی ہے ، لیکن حق ان کے ساتھ ہے اور آخری فتح انھی کی ہوگی۔ 24 /ستمبر1967کو امداد کی دوسری قسط کے طور پر شام کو مزید50,000/روپے دیے گئے۔

6 /جون1969ء کو جمعیت نے منعقدہ ایک اجلاس میں اسرائیل کے قبضے اور جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے باوجود اسرائیل نے شام، اردن اور متحدہ عرب جمہوریہ کے علاقوں سے قبضہ نہیں ہٹایا اور اس کی جارحانہ سرگرمیاں جاری ہیں ۔ 23/نومبر1969ء کو جمعیت نے سفرائے عرب کو دعوت افطار دی، جس میں شام کے سفیر بھی شریک ہوئے۔

7/اکتوبر1973ء کو جب مصر اور شام پر اسرائیلی حملہ ہوا، تو مولانا سید احمد ہاشمی نے اس کی مذمت کی اور عربوں کی کامیابی کے لیے یوم دعا منانے کی اپیل کی۔1976میں جب شام نے لبنان کی خانہ جنگی میں فلسطینی گروہوں (پی ایل او) کے خلاف فوجی مداخلت کی اور13/اگست 1976کو تل زعتر کا قتل عام ہوا، تو جمعیت علمائے ہند نے20سے21/اگست1976میں مجلس عاملہ کی میٹنگ میں شام کی اس کارروائی کو سامراجی سازش کا حصہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور عرب اتحاد پر زور دیا۔ اور کہا گیا کہ ہزاروں فلسطینیوں ، بچوں اور عورتوں کو بے رحمی سے قتل کرنا فلسطینیوں کی خدمت نہیں ؛ بلکہ ان کے کاز کو نقصان پہنچانا ہے۔

26 سے27/دسمبر1981کو مجلس عاملہ نے اسرائیل کی توسیع پسندانہ عزائم کی مذمت کرتے ہوئے شام کی آزادی اور سالمیت کو خطرے میں نہ پڑنے دینے کا مطالبہ کیا۔

1982 میں شام کے شہر حماہ میں حافظ الاسد کی حکومت نے اخوان المسلمون کی پیش قدمی کو کچلنے کے لیے2/فروری سے28/فروری1982تک ایک سفاکانہ قتل عام کیا، جس میں  40,000 سے45,000/شہری ہلاک ہوئے اور88/مساجد تباہ ہوئیں ۔ یکم اور2/مئی 1982 اور پھر25سے26/نومبر1983کی مجلس عاملہ نے اس نسل کشی کو تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی اور شامی حکومت کی مسلم دشمن کارروائیوں کی مذمت کرتے کہاکہ شامی حکومت اپنے ہی شہریوں پر جو مظالم ڈھارہی ہے ، ان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

5/اکتوبر2003کو جب اسرائیل نے شام کے عین الصاحب کیمپ پر فضائی حملہ کیا، تو 6/اکتوبر2003کو جمعیت علمائے ہند نے اسے اشتعال انگیز اور مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے تباہ کن قرار دیا۔

2011 میں 15/مارچ کو شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد جمعیت علمائے ہند نے ہر سال اپنے اجلاسوں میں شام کی الم ناک صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔19/مئی 2012 کے اجلاس میں حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب منصورپوری صدر جمعیت علمائے ہند نے شام کی حالت کو ناگفتہ بہ قرار دیا اور بتایا کہ قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری ہے۔12 / دسمبر2012اور29/اگست2013کی مجلس عاملہ نے شیعہ سنی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شامی حکومت سے مذاکرات اور تشدد بند کرنے کا مطالبہ کیا، اور غیر ملکی مداخلت کو مسئلہ کا حل نہیں قرار دیا۔24/مئی2014کے اجلاس عام میں بھی عالم اسلام ؛خاص طور پر شام کی صورت حال پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔16/مئی2015کے اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت تک 300,000 /افراد ہلاک اور19,000,000بے گھر ہوچکے ہیں ، اور شہریوں کو خوراک، ادویات اور رہائش کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

2016 کے دوران شام کے حالات مزید ابتر ہوتے گئے۔27/فروری2016کو امریکہ اور روس کی سرپرستی میں جزوی جنگ بندی ہوئی؛ مگر زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔16/جولائی 2016کو شامی حکومت اور روسی افواج نے مشرقی حلب کا مکمل محاصرہ کر لیا اور22/ستمبر 2016سے مشرقی حلب پر شدید فضائی بم باری شروع ہوئی۔13/نومبر2016کے اجلاس عام میں حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب منصورپوری نے کہا کہ شام مظلوم مسلمانوں کی قربان گاہ بنا ہوا ہے اور عالمی طاقتوں کی مداخلت سے مسئلہ مزید الجھتا جا رہا ہے۔ یکم دسمبر2016 کو مولانا محمود اسعد مدنی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرش کو خط لکھ کر حلب کے انسانی بحران پر فوری عملی اقدام کا مطالبہ کیا۔ 

22/دسمبر2016ء کو مشرقی حلب مکمل طور پر شامی حکومت کے قبضے میں آ گیا۔ بعد ازاں  2018میں جب شامی اور روسی افواج نے18/فروری2018کو مشرقی غوطہ پر وحشیانہ حملہ کیا اور18سے28/فروری2018کے دوران580/سے زائد شہری ہلاک ہوئے اور 400,000 افراد محاصرے میں پھنس گئے ، تو جمعیت علمائے ہند نے27/فروری2018 کو ایک پریس بیان میں اس حملے کی مذمت کی اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ محض مذمتی قراردادوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے اور طبی و غذائی امداد کی راہ کھولے۔14/اپریل 2018کو مشرقی غوطہ بھی مکمل طور پر شامی حکومت کے قبضے میں آ گیا۔

28 سے29/مئی2022کو مجلس منتظمہ کے اجلاس میں ایک بار پھر شام اور یمن کی صورت حال پر دکھ اور قلق کا اظہار کیا گیا اور مسلم حکمرانوں سے بیدار مغزی اور دردمندی کے ساتھ حالات کے تقاضے پورے کرنے کی اپیل کی گئی۔

2023 میں جب6/فروری کو ترکیہ اور شام کے سرحدی علاقے میں 7.8شدت کا تباہ کن زلزلہ آیا، جس میں شام میں تقریباً6000/افراد ہلاک اور10,000/زخمی ہوئے اور لاکھوں بے گھر ہوئے، تو جمعیت علمائے ہند نے12/فروری2023کو اپنے چونتیسویں اجلاس عام میں متأثرین کے لیے گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا اور10,000,000/روپے کی امداد کا اعلان کیا۔اور زلزلہ متاثرین کے لیے دعا اور تعمیر نو کی اپیل بھی کی۔

یوں جمعیت علمائے ہند کی تاریخ شام کے ساتھ ایک مسلسل رشتے کی عکاس ہے ، جس میں جمعیت نے قیام سے لے کر آج تک شام کے عوام کی ہر مشکل میں ان کے ساتھ مذہبی، اخلاقی اور سیاسی ہمدردی کا اظہار کیا ہے ، خواہ وہ فرانسیسی استعمار کے خلاف جدوجہد ہو، عرب اسرائیل جنگیں ہوں ، حافظ الاسد کے مظالم ہوں ،2011کی خانہ جنگی ہو، یا2023کا زلزلہ۔ جمعیت کا موقف ہمیشہ یہ رہا ہے کہ شام کے مسلمان ہمارے دینی بھائی ہیں ، اور ان کی حمایت و نصرت مذہبی فرض ہے ، اور وہ عالمی برادری سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ شام کے مظلوموں کی آواز کو سنا جائے اور ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔