3 Sept 2026

یمن: مختصر تاریخی جائزہ اور جمعیت علمائے ہند کا موقف

 یمن: مختصر تاریخی جائزہ اور جمعیت علمائے ہند کا موقف

محمد یاسین جہازی

یمن جزیرۂ عرب کے جنوب مغربی حصے میں واقع ہے۔ انیسویں صدی میں عثمانیوں نے دوبارہ یمن میں پیش قدمی کی اور 1872ء میں صنعاء پر قبضہ کرکے شمالی یمن میں اپنا اقتدار بحال کیا، تاہم زیدی اماموں اور قبائل کی مزاحمت جاری رہی۔ دوسری طرف 19 جنوری 1839ء کو برطانیہ نے عدن پر قبضہ کرلیا۔ 1869ء میں نہرِ سویز کھلنے کے بعد عدن برطانیہ کے ہندوستان اور مشرق بعید کے بحری راستے کا اہم فوجی و تجارتی مرکز بن گیا اور 1937ء میں اسے باقاعدہ برطانوی کراؤن کالونی بنا دیا گیا۔

جنگِ عظیم اول کے دوران شمالی یمن عثمانی اقتدار اور زیدی اماموں کے اثر میں، جبکہ عدن اور جنوبی علاقوں پر برطانوی اثر و تسلط تھا۔ 30 اکتوبر 1918ء کو معاہدۂ مدروس کے بعد عثمانی فوجیں یمن سے نکل گئیں اور امام یحییٰ حمید الدین نے شمالی یمن میں خود مختار حکومت قائم کی، جو متوکلی مملکتِ یمن کے نام سے معروف ہوئی۔ امام یحییٰ 1918ء تا 1948ء حکمران رہے، ان کے قتل کے بعد ان کے بیٹے امام احمد نے 1962ء تک حکومت کی۔

22 مارچ 1922ء کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے سلطنت عثمانیہ کی حدود کے متعلق اپنے موقف میں یمن کو بھی شامل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عربی زبان والے علاقوں، جن میں یمن بھی شامل تھا، کو کسی غیر مسلم حکومت کے ادنیٰ دخل و اثر کے بغیر خلیفۃ المسلمین سلطانِ ترکی کے زیر اقتدار داخلی آزادی دی جائے۔

11 تا 14 مارچ 1926ء جمعیت علمائے ہند کے ساتویں اجلاس عام میں حضرت مولانا سید سلیمان ندویؒ نے یمن کے متعلق خبردار کیا کہ اٹلی یمن پر قبضے کی کوشش کرسکتا ہے اور یمن کے اقتصادی تعلقات بڑھا رہا ہے؛ اس لیے سلطان ابن سعود اور امام یحییٰ کو یورپی طاقتوں سے معاہدات کرتے وقت پوری احتیاط برتنی چاہیے۔

1962ء سے 1970ء تک یمن میں جمہوری حکومت کے حامیوں اور سابق زیدی امامتی نظام کے حامیوں کے درمیان خانہ جنگی ہوئی۔ جمہوری دھڑے کو مصر کے صدر جمال عبدالناصر کی حمایت حاصل تھی، جبکہ شاہی دھڑے کو سعودی عرب اور بعض دوسرے عرب ممالک کی مدد حاصل تھی۔ جنگ ختم کرانے کی کوشش میں 24 اگست 1965ء کو جدہ میں شاہ فیصل اور جمال عبدالناصر کے درمیان معاہدہ ہوا، جس میں یمن میں جنگ بندی، بیرونی فوجی امداد کے خاتمے اور یمنی عوام کے ذریعے مستقبل کے نظام حکومت کا فیصلہ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اسی سلسلے میں 23 نومبر 1965ء کو حَرَض کانفرنس ہوئی، مگر فریقین کے اختلافات کے باعث یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔

جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی حضرت مولانا سید اسعد مدنیؒ نے شاہ فیصل اور جمال عبدالناصر کے درمیان مفاہمت پر دونوں کو مبارک باد دی۔ صدر جمال عبدالناصر کا جوابی تار 10 ستمبر 1965ء کو موصول ہوا، جس میں انہوں نے مولانا اسعد مدنی اور مسلمانانِ ہند کے مخلصانہ جذبات پر شکریہ ادا کیا۔

بعد کے دور میں بھی جمعیت علمائے ہند نے یمن کے حالات پر توجہ دی۔ 13 دسمبر 1982ء کو شمالی یمن کے دَمَار علاقے میں شدید زلزلہ آیا، جس میں تقریباً 2800 افراد جاں بحق، 1500 زخمی اور تقریباً سات لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔ 18 و19 دسمبر 1982ء کی مجلس عاملہ میں جمعیت نے یمنی عوام اور حکومت سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور اس سانحے میں ہندوستانی مسلمانوں کی شرکتِ غم کا اعلان کیا۔

2011ء میں عرب بہار کے دوران یمن میں صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف احتجاج شروع ہوئے۔ 23 نومبر 2011ء کو صالح نے ریاض میں اقتدار کی منتقلی کے معاہدے پر دستخط کیے، جس کے بعد 21 فروری 2012ء کو صدارتی انتخاب ہوا اور 27 فروری 2012ء کو عبدربہ منصور ہادی نے اقتدار سنبھالا۔

لیکن سیاسی بحران ختم نہ ہوا۔ حوثی تحریک نے منصور ہادی حکومت کے خلاف بغاوت کرکے ملک کے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا، جس کے نتیجے میں ہادی کو صنعاء سے نکل کر سعودی عرب پناہ لینا پڑی۔ مارچ 2015ء میں ان کی درخواست پر سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کردی، جس سے یمن کی خانہ جنگی مزید شدید ہوگئی۔ جمعیت علمائے ہند نے اس جنگ کو طاقت کے بجائے مذاکرات، جنگ بندی، انسانی حقوق کے تحفظ اور تمام طبقات کی مناسب سیاسی نمائندگی کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔

13 نومبر 2016ء کو جمعیت کے اجلاس میں مولانا محمد سلمان منصورپوریؒ نے یمن کی جنگ اور وہاں ہونے والی تباہی پر تشویش ظاہر کی، جبکہ صدر جمعیت مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوریؒ نے یمن میں مسلم ممالک کے باہم جنگ میں مصروف ہونے اور عالمی طاقتوں کے کردار پر افسوس کا اظہار کیا۔ اسی اجلاس کی تجویز میں سعودی اتحاد کی جنگ، انسانی بحران اور ایران و سعودی عرب کی علاقائی کشمکش کے پس منظر میں فوری سیاسی مذاکرات، انسانی حقوق کی پاس داری اور اقوام متحدہ کی تجاویز کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

بعد کے برسوں میں بھی جمعیت نے یمن کی صورت حال پر تشویش برقرار رکھی۔ 28 و29 مئی 2022ء کی مجلس منتظمہ اور 12 فروری 2023ء کے چونتیسویں اجلاس عام میں یمن سمیت عالم اسلام کے بحرانوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکمرانوں اور عوام سے باہمی اختلافات ترک کرکے سیاسی بصیرت اور باہمی گفت وشنید کے ذریعے مسائل حل کرنے کی اپیل کی گئی۔

اس طرح یمن کی تاریخ میں عثمانی اقتدار، برطانوی تسلط، امامتی حکومت، خانہ جنگی، عرب بہار اور موجودہ سیاسی بحران کے مختلف ادوار گزرے ہیں؛ جبکہ جمعیت علمائے ہند نے مختلف ادوار میں یمن کی خود مختاری، وہاں کے مسلمانوں کے تحفظ، جنگ کے خاتمے، سیاسی مفاہمت اور امن کے قیام کے لیے اپنے موقف اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔

2 Sept 2026

نیپال اور جمعیت علمائے ہند

 نیپال اور جمعیت علمائے ہند

محمد یاسین جہازی

یکم اپریل 1955ئ کوحکومت ہند کے وزیر داخلہ جی بی پنت نے ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا محمد حفظ الرحمانؒ کو خط لکھ کر الجمعیۃ میں 24اور 25/مارچ 1955ئ کو نیپال کے بارے میں شائع ہونے والے مضامین پر حکومت کی تشویش سے آگاہ کیا اور پڑوسی ملک ہونے کی وجہ سے الفاظ کے انتخاب میں احتیاط کی ہدایت کی۔ اصل خبر 22/مارچ 1955ئ کے اسٹیٹس مین سے لی گئی تھی۔ 7/اپریل 1955ئ کو مولانا حفظ الرحمانؒ نے جواب دیا کہ الجمعیۃ قومی نقطہ¿ نظر کی حامی ہے ، تاہم خبر دوبارہ شائع کرنا اور 25/مارچ کے مزاحیہ کالم کے تبصرے افسوس ناک تھے ؛ انھوں نے متعلقہ مدیر کو آئندہ ایسی بات نہ دہرانے کی تنبیہ کردی۔

10/اکتوبر 1971ئ کو نیپال کے ترائی علاقے ، خصوصاً راوتہٹ اور بارا اضلاع میں گائے ذبح کیے جانے کی افواہ کے بعد ہندو مسلم فرقہ وارانہ فساد ہوا۔ 51/افراد ہلاک اور تقریباً 64/لاکھ نیپالی روپے کی املاک تباہ ہوئیں۔ حکومت نے پولیس کے ذریعے حالات قابو کیے ، تحقیقاتی کمیشن قائم کیا اور مجرموں کے خلاف کارروائی کی۔ 18/اکتوبر 1971ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ نے شاہ نیپال کو برقیہ بھیج کر قتل و غارت، لوٹ مار اور مسلمانوں کے جان و مال کے نقصان پر تشویش ظاہر کی اور نقصانات کی تلافی اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

15،16/جنوری 1972ئ کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے تجویز نمبر 9 کے ذریعے شاہ نیپال کی جانب سے فساد کے بعد کیے گئے اقدامات کی تحسین کی؛ خصوصاً مجرموں کی گرفتاری، افسران کی معطلی، مسلمانوں کی دوبارہ آبادکاری و امداد اور آئندہ فرقہ وارانہ فساد روکنے کے لیے آئینی و عملی اقدامات کو قابلِ تقلید قرار دیا۔

31/جنوری 1972ئ کو شاہ مہندر کا انتقال ہوا۔ 15،16/اپریل 1972ئ کی مجلس عاملہ میں جمعیت نے ان کی وفات پر گہرے رنج کا اظہار کیا اور 1971ئ کے فساد کے بعد انصاف پسندانہ اقدامات، مجرموں کی گرفتاری، افسران کی معطلی اور متاثرہ مسلمانوں کی آبادکاری کے لیے ان کی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

26/جون 1979ئ کومولانا اسعد مدنیؒ نے کلکتہ میں خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آر ایس ایس نیپال کے سرحدی علاقوں میں تربیتی کیمپ اور سرگرمیاں چلا رہی ہے اور نیپال کے راستے اسلحہ کی ترسیل کے بارے میں تشویش ظاہر کی۔ 25،26/نومبر 1983ئ کو انھوں نے مزید الزام عائد کیا کہ نیپال میں آر ایس ایس کے لیے مالی وسائل جمع کیے گئے اور سرحدی تربیتی کیمپوں کے ذریعے غیر قانونی اسلحہ ہندستان میں پہنچایا گیا۔

19/جنوری 1996ئ کی مجلس عاملہ میں ہماچل پردیش اور نیپال وغیرہ میں قادیانیت کے پھیلا¶ سے متعلق مجلس تحفظ ختم نبوت کی رپورٹ پیش ہوئی۔ فیصلہ ہوا کہ نیپال ایک الگ ملک ہونے کی وجہ سے وہاں کے لوگوں سے معلومات حاصل کرکے اپریل، یا مئی 1996ئ میں مناسب مقام پر اجتماع کیا جائے۔ 11/جون 1996ئ کو دوبارہ اس مسئلے پر غور ہوا اور نیپال میں علما کا اجتماع، متاثرہ علاقوں کی نشاندہی، دارالعلوم دیوبند سے رابطہ، تبلیغی جماعت کو متوجہ کرنے اور ردِ قادیانیت کے لیے کارکن مقرر کرنے کی تجاویز پیش کی گئیں۔

یکم ستمبر 2004ئ کو عراق میں 12/نیپالی مزدوروں کے قتل کے ردِعمل میں کاٹھمنڈو میں ہنگامے ہوئے ، جامع مسجد کو نذرِ آتش کیا گیا اور مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ فسادات میں 7/افراد ہلاک ہوئے ، جن میں چار مسلمان ہجوم کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ 10/ستمبر 2004ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ نے جامع مسجد جلائے جانے اور مسلمانوں کے قتل پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومتِ نیپال سے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور واقعے کو فرقہ وارانہ تعصب کے بجائے انصاف کے ساتھ دیکھنے کا مطالبہ کیا۔

25/اپریل 2015ئ کو نیپال میں 7.8/شدت کا تباہ کن زلزلہ آیا، جس کے بعد 12/مئی 2015ئ کو بھی بڑا زلزلہ آیا۔ مجموعی طور پر 8,800/سے زائد افراد ہلاک، 22,000/سے زائد زخمی ہوئے ، پانچ لاکھ سے زائد مکانات مکمل اور تقریباً 2.7/لاکھ جزوی طور پر تباہ ہوئے ، جب کہ مالی نقصان تقریباً 7/ارب ڈالر تھا۔ 27/اپریل 2015ئ کو جمعیت نے متاثرین سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے فوری طور پر 5 /لاکھ روپے ریلیف کے لیے جاری کیے۔

14،15/مئی 2015ئ کو مجلس عاملہ نے نیپال کے زلزلہ زدگان کے لیے ایک کروڑ روپے کا بجٹ منظور کیا، جب کہ ہنگامی حالات میں ریلیف کے لیے بھی الگ ایک کروڑ روپے مختص کیے گئے۔

10/جون 2015ئ کو جمعیت علمائے ہند اور جمعیت علمائے نیپال نے زلزلہ متاثرہ ضلع گورکھا میں جزوی بازآبادکاری شروع کی اور متاثرہ خاندانوں میں رہائشی شیڈ تقسیم کیے۔ 19،25/جون 2015ئ کے الجمعیۃ کے مطابق گورکھا کے ڈیرہ گا¶ں میں 62/گھر، آرے سوری میں 26/گھر، اہالے میں 4/گھر اور کاٹھمنڈو و اطراف میں 74/شیڈ تقسیم کیے گئے۔ جمعیت کا وفد بھی امدادی کاموں کا جائزہ لینے نیپال گیا۔

10،11/فروری 2023ئ کو جمعیت علمائے نیپال کے صدر اور رکن پارلیمنٹ مولانا خالد قاسمی نے جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ میں خطاب کیا۔ انھوں نے جمعیت کے بقائے باہم اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے نظریے کو سراہا اور بتایا کہ 2008ئ میں مولانا محمود اسعد مدنیؒ کے نیپال دورے کے موقع پر جمعیت علمائے نیپال کا قیام عمل میں آیا۔ مولانا مدنیؒ نے نیپال کی دستور سازی کے دوران مسلمانوں کے حقوق کے لیے کوشش کرنے کی نصیحت کی، جس کے نتیجے میں ان کے مطابق نیپال کے دستور میں 20/مقامات پر مسلمانوں کا ذکر شامل ہوا۔

21،22/نومبر 2025ئ کو مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ کی حیات و خدمات پر منعقدہ دو روزہ سیمینار میں مولانا خالد قاسمی نے شرکت کی اور خطاب میں جمعیت کے اکابر کی سیاسی بصیرت، خدمتِ خلق، دینی جدوجہد اور امت کے مسائل سے درد مندانہ وابستگی کو اجاگر کیا۔ انھوں نے علما میں سیاسی شعور پیدا کرنے اور اکابر کے درد و تڑپ کو زندہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مجموعی طور پر: نیپال کے سلسلے میں جمعیت علمائے ہند کی سرگرمیوں میں پڑوسی ملک کے ساتھ ذمہ دارانہ صحافتی رویہ، فرقہ وارانہ فسادات پر مسلمانوں کے تحفظ کا مطالبہ، حکومتِ نیپال کے انصاف پسندانہ اقدامات کی تحسین، مذہبی و فکری مسائل پر توجہ، اور قدرتی آفات کے موقع پر مالی و عملی امداد نمایاں طور پر شامل رہی ہے۔