13 Feb 2026

جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

 

جناب منورزماں سر کی نصیحت آموز باتیں

محمد یاسین جہازی

9891737350

جمعیت علمائے ہند کے صدر محترم حضرت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب اور ناظم عمومی حضرت مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی  کی ہدایت پر راقم محمد یاسین جہازی کوانگلش ہاوس اکیڈمی حیدرآباد کے  یکم مئی تا 30؍ مئی 2024 ءیک ماہی تربیتی ورکشاپ حیدرآباد میں زانوے تلمذ طے کرنے کا شرف حاصل ہوا۔ اس سے پہلے ایک چالیس روزہ ٹریننگ بھی لے چکا تھا، اس پورے مہینے میں محترم زماں سر نے اپنے تجربات حیات کو نچوڑ کر جو قیمتی نصیحتیں پیش کیں، اس کا خلاصہ جہازی میڈیا کے قارئین کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔ روداد سفر پھر کبھی لکھیں گے ان شاء اللہ تعالیٰ۔

2؍مئی 2024ء سیشن کے آغاز کے دن، جو سکندرآباد میں واقع ہری ہرا کلا بھون میں منعقد ہورہا تھا اور ہال کی پندرہ سو سے زائد سیٹیں کچھا کھچ بھری ہوئی تھیں، درج ذیل سات باتوں کو زندگی میں کامیابی کی کلید بتائی:

1. پختہ ارادہ۔

2. اچھا ادارہ۔

3. صحبت.اچھے ہم نشیں۔

4. بہت محنت۔

5.صبر اور شکر گزاری۔

6. جنون، جذبہ۔

7. قربانی۔

اس کے علاوہ دوران سبق گاہے بگاہے موٹیویشنل ٹاک کے تحت پورے مہینے میں  جو باتیں بیان کیں، اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:

1. تعلیم

ایجوکیشن پیسہ کمانے کے لیے نہیں؛ بلکہ تہذیب اور زندگی میں ڈسپلن پیدا کرنے کے لیے ہے. ایسا فارمولہ صرف مذہب اسلام کے پاس ہے، اس لیے سچا پکا مسلمان بنیں.

2. جہد مسلسل

استاذ صرف 10 فی صد پڑھاتا ہے، بقیہ 90 فی صد طلبہ کو ہی محنت کرنی ہوتی ہے؛ اس لیے زندگی میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے مسلسل محنت جاری رکھیں.

3. عشق بازی اور نشہ

لڑکا اور لڑکی میں کوئی پیار ویار نہیں ہوتا. یہ صرف عزت تار تار کرنے کے خوب صورت نام کا دھوکا ہے، اس لیے عشق بازی اور نشہ سے پرہیز کریں.

4. حسن انتخاب

صاحب اخلاق لائف پارٹنر چنیں جو آپ کو خوشیاں دے سکیں. ظاہری چمک دمک اور پیسہ سے دھوکا نہ کھائیں.

5. والدین کا خیال

محبت ماں کا اور شفقت باپ کا دوسرا نام ہے، اس لیے والدین کے حقوق کا خیال رکھیں.

6. بچوں کی نگرانی

والدین اپنے بچوں کو اپنی نگرانی میں رکھیں؛ کیوں کہ آپ کے بچے تو نیک ہوسکتے ہیں؛ لیکن ماحول نیک نہیں ہے.

7. دکھاوے کا دھوکا

Show off سے بچیں اور ریل زندگی اختیار کریں 

8. علما سے ربط

کامیاب زندگی کے لیے علما رول ماڈل ہیں، اس لیے اپنی کامیابی کے لیے علما سے ضرور رابطہ رکھیں.

9. کامیاب ازدواجی زندگی کا فارمولا

بالخصوص لڑکیاں اپنی شادی شدہ زندگی کو کامیاب بنانے کے لیے تین خصوصیات ضرور پیدا کریں :صبر، قربانی اور ایجسٹ منٹ.

10. موبائل اڈیکشن

یہ اچھے بچوں کی آخری نسل ہے. اس نسل کے نوجوانوں میں موبائل نے انسان اور جانور کے درمیان فرق مٹا دیا ہے؛ کیوں کہ موبائل آنکھوں کے زنا سے حقیقی زنا تک پہنچا دیتا ہے، یہاں تک کہ بھائی بہن کے درمیان بھی فرق مٹا دیتا ہے، اس لیے موبائل اڈیکشن سے بچیں.

11. میری فیضان محبت عام ہے. میں سب بچوں سے محبت کرتا ہوں.

12. انقلاب کا وظیفہ

 زندگی میں ٹرانسفرمیشن کے لیے روانہ 100 مرتبہ درود شریف پڑھیں.

انگریز تعلیم، اسکیل ڈیولپمنٹ، پبلک اسپیکنگ، مورل ڈیولپمنٹ، ٹیچنگ میتھاڈا لوجی کے علاوہ جناب عبداللطیف خاں صاحب (میموری خاں) کی ٹریننگ میں بہت مفید رہی اور اسمارٹ لرننگ کے مفید طریقے سے واقفیت ہوئی، جس پر ان شاء اللہ موقع ملنے پر تفصیل سے لکھیں گے۔

اس سفر سے بہت سی خوب صورت یادیں وابستہ ہیں؛ معاون اساتذہ میں سے جناب آصف سر، جناب بلال سر، جناب کفیل سراور دیگر حضرات نے ٹریننگ،تعلیم اور تربیت کے لیے جس جاں فشانی اور جذبہ خود سپردگی کے عملی مظاہر پیش کیے،وہ انتہائی قابل تعریف  اور صد ہزارتبریک و تحسین کےمستحق ہیں، انگلش ہاوس اکیڈمی اور وہاں سے وابستہ جملہ حضرات کے لیے دلی دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ زمانے کے شرور وفتن سے محفوظ رکھے اور ان کا یہ قافلہ ہمیشہ رواں دواں رہے۔ 

سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا سے جہازی مکالمات

 

سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا  سے جہازی مکالمات

محمد یاسین جہازی

9891737350

27 جولائی 2024 ء ہفتہ کے روز ساون کی شبنمی قطرات میں بھیگتے بھیگتے جوں ہی آفس کے گیٹ پر پہنچا، حضرت  مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند کا حکم ہوا کہ گاڑی میں بیٹھ جاؤ۔ تعمیل حکم کے بعدمقصد سفر معلوم کیا ،تو معلوم ہوا کہ تحفظ جمہوریت کے مقصد سے جواہر بھون (منسوب بہ جواہر لال نہرو) واقع نئی دہلی میں ایک پروگرام کاانعقاد کیا جارہا ہے، جس میں جمعیت علمائے ہند کی طرف سے شرکت کی نمائندگی کرنی ہے۔چنانچہ اس موضوع کوخود سے ریلیٹ کرنے کی وجہ سے دل چسپی میں اضافہ ہوا اور ختم اجلاس تک اجلاس میں شریک رہا۔

دنیا نے تشدد کے راستے انقلاب برپا کرنے اور حکومتوں پر فتح پانے کے طریقے کو جب فرسودہ پایا، تو عدم تشدد کا فلسفہ اپنا کر اپنی شکست کو فتح میں بدلنے کا راستہ ڈھونڈھ نکالا۔ چنانچہ برصغیر بالخصوص ہندستان کی آزادی میں اس فارمولےنے بڑا کردار ادا کیا اور محض تیس سال کے اندر اس حکومت کو دیس نکالا دے دیا، جس کے متعلق یہ عقیدہ بن گیا تھا کہ اس کی حکومت کا سورج کبھی غرو ب نہیں ہوتا۔آزادی  کے بعدبھارت میں جمہوری طرزحکمرانی لاگو گئی، جس کودوسرےالفاظ میں یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ اب میدان جنگ میں دوبدو کرنے کے بجائے محض ایک انگلی کے بہتر استعمال سے  حکومت کو پلٹااور بدلا جاسکتاہے، جسے ووٹنگ سسٹم کہا جاتا ہے۔

لیکن پچھلےکچھ دنوں سے جمہوریت  کے دشمن فسطائی عناصر بھارت کی اس خوب صورتی کو ختم کرنے کے لیے اپنے مکروہ مقصد کے لیے پابہ جولاں ہیں، جس کی وجہ سےملکی سیاست کی بصیرت  رکھنے والے ماہرین اسے جمہوریت کے لیے خطرہ بتاتےہوئے، اس کے تحفظ کے لیے لائحۂ عمل پیش کرتے رہے ہیں۔ یہ پروگرام اسی نوعیت کا تھا، جس کے دوسرے سیشن میں جناب ایس وائی قریشی صاحب سابق چیف الیکشن کمیشن نے شرکت کی۔ 

جناب قریشی صاحب نے مجمع کو سلام سے اپنی بات کا آغاز کیااورکسی قسم کی تقریر سے پہلے لوگوں سے ووٹ بوتھ پر ہوئی پریشانیوں اورگڑبڑیوں کا فیڈ بیک لیا، لوگوں نے ہوئی پریشانیوں اور گڑبڑیوںکو بیان کیا،جس میں اہم باتیں یہ سامنے آئیں:

1۔ ای وی ایم مشین میں اگر وہ سیل بند ہےاور افسروں نے اس کے ساری ہدایات پر عمل کیا ہے،تو گڑبڑی ہوہی نہیں سکتی۔

2۔ ایک منٹ میں ایک ای وی ایم مشین میں صرف چھ ہی ووٹ ڈل سکتےہیں، کیوں کہ ہر ایک ووٹ کے بعد 12 سکنڈ کےلیے مشین ڈیڈ ہوجاتی ہے۔ اگر کوئی لگاتار بٹن دباتا رہے گا، تو مشین مکمل ڈیڈ ہوجائے گی۔یہ اس لیے کیاگیا ہےتاکہ کوئی بوتھ پر قبضہ کرکے ان گنت ووٹ نہ ڈال سکے۔

  ای ویم ایک منٹ میں چھ ووٹ سے زیادہ سلو (دھیمی رفتار) نہیں ہوسکتی۔ اگرکہیں پر اس کی رفتار کو سست کرتا ہے، تو اس کےلیے افسروں کی بدنیتی ذمہ دار ہے، اس کےخلاف فورا اعلیٰ افسروں کوشکایت کریں۔

4۔ ووٹر کارڈ ووٹ ڈالنے کی گارنٹی نہیں ہے،بلکہ الیکٹورل رول گارنٹی ہے، اس لیے ہر دوچار مہینے میں اپنا ،اپنی فیمیلی اور دیگرمتعلقین کا نام چیک کرتے رہنا چاہیے۔ اور نام چاہے جیسے بھی کٹا ہو، اس کا نقصان ووٹر ہی کو ہوگا ؛ کیوں کہ وہی ووٹ ڈالنے کے حق سے محروم ہوگا۔ الیکشن کمیشن اس کا ذمہ دار نہیں ہوگا۔

اس پر راقم سمیت کئی لوگوں نے پوچھا کہ آخر الیکشن کمیشن لوگوں کے ناموں کو کیوں کاٹ دیتےہیں، توقریشی صاحب نے اس کی وجوہات بتائیں کہ

۱۔ کمپیوٹر   ایرر۔

۲۔ پڑوسی یا کسی کی غلط شکایت۔

۳۔ افسران کی غلطی۔

۴۔ افسران کی بد نیتی۔

انھوں نےزور دے کر کہا کہ وجہ کوئی بھی ہو، نقصان آپ ہی کا ہے، اس لیے جس طرح آر ایس ایس والوں نے ہر ایک پنے پر جس میں تقریبا پچیس تیس نام ہوتے ہیں، ایک پنا پرمکھ بنا رکھا ہے، ایسے ہی تحفظ جمہوریت اور اپنی سیاسی سمجھ بوجھ کا حوالہ دینےکےلیے ووٹ کے تعلق سے بیدار رہنا ضروری ہے۔انھوں نے سلسلہ کلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ الیکٹورل رول کے ذریعہ الیکشن کی ہار جیت کا فیصلہ چھ مہینے، تین مہینے پہلے ہوجاتا ہے، تو جولوگ اس تعلق سے بیدار رہتے ہیں، وہ لوگ جیت جاتے ہیں، اور جولوگ ایسا نہیں کرتے، وہ لوگ ہار جاتے ہیں۔

راقم نے ایک سوال یہ کیا کہ جو لوگ کسی دوسری جگہ ملازمت کرتے ہیں، مثلا دہلی کی رپورٹ یہ ہے کہ یہاں کی مقامی آبادی کل تیس فیصد ہے ، جب کہ ستر فی صد لوگ باہر سے آکر یہاں رہ  رہے ہیں،جن میں سےبیشتر کے پاس یہاں کاالیکشن کارڈنہیں ہےاور نہ ہی یہ حضرات ملازمت کی مجبوریوں کی وجہ سے اپنے بوتھ پر جاکر ووٹ ڈال پاتے ہیں، تو اس کےلیے الیکشن کمیشن نے کیا انتظام کیا ہے؟ اس پرانھوں نے کہا کہ پوسٹل ووٹنگ کاسسٹم ہے، لیکن وہ سرکاری ملازمین کےلیے مشروط ہے، عام لوگوں کے لیے نہیں۔ ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ اس سوال پر الیکشن کمیشن کو غور کرنا چاہیے۔

دوسرا سوال یہ راقم نے یہ کہا کہ نئے ووٹر کارٹ بنانے میں اگر بی ایل او معاونت نہ کرے اور معاندت سے کام لے،تو اس کا کیا حل ہے، تو انھوں نے بتایا کہ آپ تحصیل کے ادھیکاری کے پاس جاسکتے ہیں، وہاں شنوائی نہ ہورہی ہو، تو آپ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کےپاس جاسکتے ہیں ۔

سیشن کے بالکل آخر میں راقم کا تیسرا سوال یہ تھا کہ  ایک وڈیو میں دیکھا کہ جو تین مرتبہ سے زائد ووٹ نہیں ڈالے گا، اس کا نام کاٹ دیا جائے گا اور شہریت بھی ختم کی جاسکتی ہے، اس میں کتنی سچائی ہے؟ اس کا ہاتھ ہلاکر مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ یہ بالکل افوا ہ ہے، ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔

سچائی یہی ہے کہ آج کل سیاسی سوجھ بوجھ کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہے کہ ووٹنگ سسٹم سے مکمل طور پر واقفیت ہو اور جب کبھی ووٹنگ ہو، تو اس میں سو فی صد ووٹ کاسٹنگ کا عزم کرتے ہوئے مکمل اتحاد کے ساتھ کسی ایک جمہوریت مزاج لیڈر کو جیتانا ضروری ہے؛ ورنہ اگر ہرانے کی سیاست کرتے رہے، تو شکست ہماری عقل و بصیرت پر ماتم کرے گی  اور مردہ قوم کا عنوان  چسپاں کرکے ہماری تباہی کا  تماشا دیکھے گی۔

اختیاری مطالعہ

اس جلاس کی مکمل رپورٹ درج ذیل ہے:

جمعیت علمائے ہند اور جماعت اسلامی ہند کے اشتراک سے جواہر لال نہرو بھون نئی دہلی میں 27 ؍جولائی 2024 ءکو بروز ہفتہ ووٹر بیداری کے تعلق سے ایک پروگرام منعقد کیا گیا، جس میں جمعیت علمائے ہند سے مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی جنرل سکریٹری جمعیت علمائے ہند ،مولانا غیور احمد قاسمی آرگنائزر جمعیت علمائے ہند ،مولانا ذاکر قاسمی آرگنائزر جمعیت علمائے ہند ،مولانا وحید الزماں صاحب قاسمی آرگنائزر جمعیت علمائے ہند اور راقم محمد یاسین جہازی نے شرکت کی ریاستی جمعیت علمائے ہریانہ کی طرف سے مولانا محمد یحییٰ کریمی صاحب ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ہریانہ،پنجاب ہماچل پردیش کی قیادت اور مفتی سلیم احمد ساکرس کی نگرانی میں ایک بڑی تعداد نے شرکت کی.

پروگرام کا آغاز قاری اسلم بڈیڈ صاحب کی تلاوت اور نعت النبی سے ہوا۔ بعد ازاں جناب ملک صاحب نے پروگرام کے مقاصد کو پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہریانہ میں آنے والے اسمبلی الیکشن میں ایسا فعال کردار ادا کرنا ہے جس سے فرقہ پرستانہ سوچ کی ہار ہو۔انھوں نے ایک اہم بات یہ بھی کہی کہ سیاست میں فرقہ واریت سے زیادہ سماج سے فرقہ واریت کا خاتمہ ضروری ہے اور ہمیں اسی کے لیے کام کرنا ہے۔

اس کے بعد مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی جنرل سکریٹری جمعیت علمائے ہند نے خطاب فرمایا،جس میں انھوں نے کہا کہ ہمارا ملک بہت خوب صورت ہے لیکن بیمار ہوگیا ہے۔ اس بیماری کی اصلاح ضروری ہے۔انھوں نے اس پر زور دیا کہ ہمیں زمینی سطح پر کیسے کام کرنا ہے اس کو سیکھنا چاہیے اور مکمل معلومات حاصل کرکے میدان میں اترنا چاہیے۔مولانا قاسمی نے پچھلے 2024 ءکے الیکشن میں خاموش طریقہ سے جمعیت علمائے ہند کی جدوجہد کا بھی تذکرہ کیا۔

پروفیسر عزیز جھا صاحب نے اس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے 2024 ءکے پارلیمنٹری الیکشن میں جس طرح چار سو پار کا نریٹیو سیٹ کیا تھا، ایسا لگتا تھا کہ فرقہ واریت جیت جائے گی ؛لیکن اس سے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے کام کرنے والوں نے ہمت نہیں ہاری اور فرقہ واریت کو شکست دینے کے لیے کام کرتے رہے، جس کا نتیجہ اچھا آیااور فرقہ واریت کو ہار ہوئی۔

اس کے بعد جناب ندیم صاحب اور ان کے ساتھیوں نے پی پی ٹی کے ذریعہ ہریانہ میں ماحول بنانے، ووٹ کاسٹنگ کی کمی کو دور کرنے اور ووٹ اندراج کو یقینی بنانے جیسے موضوعات پر شان دار معلومات فراہم کیں۔

اس کے بعد جناب جوگندر یادو صاحب نے اپنا خطاب شروع کیا، انھوں نے کہا کہ بی جے پی ہارنے کے بعد اگلے الیکشن جیتنے کے لیے جائز ناجائز قانونی غیر قانونی ہر حربے استعمال کرے گی۔یہ لڑائی ذہنی لڑائی ہے، اس لیے صرف الیکشن میں بی جے پی کو ہرانے سے نہیں ہم نہیں جیتیں گے؛ بلکہ اس کے لیے آر ایس ایس کی سو سالہ جدوجہد کے خاتمے کے لیے ہمیں بھی سڑک پر اترنا پڑے گا۔

انھوں نے ہریانہ الیکشن کے ڈیٹا انالائسیس کرتے ہوئے بتایا کہ بی جے پی ہندو مسلم اور جاٹ یادو کا کارڈ کھیل کر جیتتی ہے، جس کے لیے انھوں نے ابھی سے تیاری شروع کردی ہے، اس لیے ہمیں مقابلے کے لیے ابھی سے تیاری کرنی ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ مشینوں کی ہیرا پھیری کی بات کی جاتی ہے لیکن بی جے پی نے دماغوں کی ہیرا پھیری کردی ہے، جس پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔ہمیں ایسے لوگوں سے بات کرنی ہوگی جس نے پہلے بی جے پی کو ووٹ دیا ہے۔

میوات میں جو لوگ بی جے پی کے لیے ووٹ مانگنے آئے، وہاں کے لوگوں کو کہنا چاہیے کہ جو ہمارا مآب لنچنگ کرتی ہے اس کے لیے تم کیسے ووٹ مانگ سکتے ہو۔

ہریانہ میں کانگریس سے زیادہ بھرشٹا چار بی جے پی کے دور میں رہی۔نوکری، بے روزگاری اور اس جیسے ریل (حقیقی) ایشوز پر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ بی جے پی فرضی مدعے اٹھاکر ماحول کو الگ رخ پر لے جاتی ہے جس سے اصل مدعے غائب کردیتی ہے۔

آر ایس ایس پچھلے دو سال سے ہریانہ میں کام کررہی ہے۔

اس کے بعد جناب پرشانت کمار صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کمیونیکیشن، کمپیننگ اور زمینی سطح کے کام ہی اصل کام ہے۔نھوں نے مزید کہا کہ ہمیں ماضی کی تاریخ سے ہندو مسلم اتحاد کے جو عملی مظاہرے ہوئے ہیں، اس کو سامنے لاکر سدبھاؤنا قائم کریں، جیسے کہ ہریانہ میں سرچھوٹو رام نے ایک یونینسٹ پارٹی بنائی تھی جس کی ورکنگ کمیٹی میں کئی مسلمان تھے اور انھوں نے ہندو مسلم دلت اور جاٹ کو متحد کرنے پر کام کیا۔

2024 ءکے الیکشن میں انڈیا اتحاد کے اسٹار پرچارک نے کبھی بھی ہندو مسلم بیانات نہیں دیے، بلکہ الٹے ہی بی جے پی کو اپنے ٹریک پر لانے کی کوشش کی۔آزاد بھارت میں یہ سب سے زیادہ مضبوط اپوزیشن ہے۔

انھوں نے کی میسیج دیتے ہوئے کہا کہ ہریانہ میں متھرا کاشی اور رام مندر کے معاملے کا کوئی مطلب نہیں ہے، لیکن بی جے پی ہریانہ کے باہر کے مدعے لانے کی کوشش کرے گی، جس میں ہریانہ والوں کو نہیں پھنسنا ہے؛بلکہ وہاں کے جو مقامی مدعے ہیں ان کے تعلق سے بیداری پیدا کرکے ماحول بنانے کی کوشش کریں۔

پارٹیوں میں ٹکٹ کی تقسیم میں میرا آدمی تیرا آدمی کے نام سے سرپھٹول ہوگی؛ لیکن ہمیں اس سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے، اس کے بجائے ہمیں کمپیین میں سوشل میڈیا، میڈیا سماج کے اہم اہم لوگوں کی فہرست بنائیں اور اپنے پروگرام میں ان کو بلاکر مقامی مدعوں پر بلوائیں،اس میں کوئی کانگریس، بی جے پی نہیں کریں۔

بی جے پی کے اہم ووٹر مہیلا ووٹرس ہیں، ان کے مدعے کو بھی اٹھائیں۔

اسی کے ساتھ صبح کا سیکشن اختتام پذیر ہوگیا اور پروگرام نماز و ظہرانہ کے لیے دوسرے سیشن کے لیے ملتوی ہوگیا.

دوسرا سیشن جناب ایس وائی قریشی صاحب سابق چیف الیکشن کمیشن آف انڈیا کے لیے وقف تھا، جس کی تفصیلات سطور بالا میں آگئی ہیں۔

بعد ازاں جناب شیو کمار صاحب پروفیسر دہلی یونی ورسٹی نے تقریر کی۔انھوں نے  کہا کہ جس تکلیف سے سب لوگ انفرادی طور پر گزر رہے ہیں اگر سب لوگ مل کر اس کو حل کریں گے تو مسئلہ ضرور حل ہوجائے گا۔انھوں نے جاوید خان کے پرائیویٹ بل پیش کرکے دوسروں کے حقوق کے لیے لڑنے کا نمونہ پیش کیا۔1857 ء میں ملک اس لیے جیت نہیں پایا کہ سب لوگ ملک کے لیے نہیں؛ بلکہ صرف اپنی ریاست کے لیے لڑ رہے تھے اور 1947ء میں ہندستانی اس لیے جیت گئے کہ انھوں نے ہندستان کے لیے لڑائی لڑی۔ہمیں سیکولرزم کی لڑائی مل کر بڑی لڑائی لڑنی ہوگی۔

ایک دوسرے مہمان مقرر نے کہا کہ اقلیتوں کی اکثریت کو ملا کر اور سڑک پر آکر کام کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ ہم لوگ کیا کرسکتے ہیں اور بڑے پیمانے پر کام کرسکتے ہیں۔

خود اپنی کمیونٹی کے ساتھ اور دوسری کمیونٹی کے ساتھ مل کر کام کرنا نہایت ضروری ہے۔

مشترکہ لوگوں کا گروپ بناکر سب کے ساتھ کھل کر گفتگو کرنا ضروری ہےاور لوگوں کو جوڑے رکھنے کے لیے مشترک کمیونٹی کے ساتھ مختلف مسائل پر پروگرام کرتے رہنا چاہیے۔ ساتھ ہی ہر پروگرام کے بعد فیڈ بیک لینا ضروری ہے۔

جناب اشتیاق صاحب نے کہا کہ پروگرام میں سنی ہوئی باتوں کو عملی جامہ پہنانا ضروری ہے۔

مفتی سلیم احمد ساکرس نے  کہا کہ بہتر نتائج کی توقع ہم سب رکھتے ہیں؛ لیکن اس کے لیے محنت کرنی پڑتی ہے ،صرف خواب دیکھنے سے کچھ نہیں ہوتا۔ ہمیں ووٹ دیتے وقت ذاتی مفاد کے بجائے ملی مفاد کو ترجیح دینا ہے۔

مفتی ساکرس نے آخر میں یہ بھی کہا کہ علما کو قوم کا سب سے بڑا ہمدرد سمجھا جاتا ہے۔ یہ ہمدردی اسی وقت سچی سمجھی جائے گی جب ضرورت پڑنے پر قوم کے کام کے لیے علما  آگے آئیں گے اور اس کے لیے زبردست محنت کریں گے ۔

بعد ازاں جناب ندیم صاحب نے کہا کہ ہمیں کام کرکے یہ ثابت کرنا ہے کہ مودی قابل شکست ہے۔2024 ءکا الیکشن کا ریزلٹ کسی سیاسی پارٹی کی وجہ سے نہیں؛ بلکہ سیکولر عوام کی بیداری کی وجہ سے ہے۔

مفتی سلیم احمد گڑگاواں کی دعا پر جلسہ اختتام پذیر ہوا۔

 

تحریک ریشمی رومال خط نمبر تین

 ریشمی رومال تحریک کے سلسلے میں تین خطوط لکھے گئے تھے، جن میں دو سے مولانا عبید اللہ سندھی نور اللہ مرقدہ نے اور ایک مولانا محمد میاں انصاری رحمۃ اللہ علیہ نے ۔ تیسرا خط درج ذیل ہے:


تحریک ریشمی رومال خط نمبر تین
از حضرت مولانا محمد میاں منصور انصاری نور اللہ مرقدہ
برائے شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی نور اللہ مرقدہ

از کابل۸؍ رمضان المبارک۔ روز ابتدا
وسیلہ یومی و غدی حضرت مولانا صاحب مد ظلہ العالی،آداب و نیاز مسنونہ
جدہ کے بعد کا حال یہ ہے۔ بمبئی آرام و بے خطر پہنچے، بندر پر اسباب کی تلاشی میں خدام سے دانستہ اغماض برتا گیا ، فللہ الحمد ۔ مولانا مرتضیٰ کام کو ناممکن خیال کرتے ہیں ، اس لیے ان کو کام میں نہیں لیا گیا، مولوی ظہور صاحب بمبئی استقبال کو پہنچے تھے اور محمد حسین راندیر سے ، راندیر میں تحریک چندہ صرف سید صاحب کے خلاف سے ناکام رہی ، راندیر خطیب مکر جانے والے تھے نہ معلوم کیا ہوا، قاضی صاحب نے بعد ملاحظہ والا نامہ سرپرستی قبول فرمائی ، جماعت پر اعتماد بحال رکھ کر کام کرنے کی اجازت دی ، اس کام کو باضابطہ کرنے کے لیے ایک سالہ رخصت لینے کا قصد فرمارہے ہیں، جماعت کا ہر سہ ممبر سرفروشی کررہے ہیں ، مطلوب الگ ہوگیا، سید نور سست، مولانا رائے والے متفق و معاون ہیں، حکیم صاحب پچاس روپے ماہوار مکان پر جاکر خود دیتے رہتے ہیں اور درمیان میں بھی ایک دو بار جاتے رہتے ہیں اور گاہ بگاہ ڈاکٹر صاحب بھی، حنیف کو جماعت، دس روپے جیب خرچ دیتی ہے، وہ مکان پر ہی ہیں، مدرسہ نے ان سے کوئی ہمدردی نہیں کی، مالکان مدرسہ سرکار کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں ، نمائش کے دربار میں شرکت کا فخر بھی نصیب ہونے لگا۔ امیر شاہ مولانا عبدالرحیم صاحب کے دستی کام کے لیے پڑا ہے ، مولانا مدرسہ سے مرعوب ہیں، مگر خدام کی صفائی فرماتے رہتے ہیں مولوی رامپوری نے بھی تائید سے کنارہ کیا، مسعود بھی شکار ہوگیا۔
بندہ حسرت، آزاد سے ملا، دونوں پیکار ہوچکے ہیں ، کیوں کہ بندہ کا لوٹنا حضور تک ممکن نہ تھا، اس لیے آگے بڑھا، غالب نامہ احباب ہند کو دکھا کر حضرات یاغستان کے پاس لایا، حاجی بھی اب مہمند میں ہیں، مہاجرین نے مہمند، باجوڑ، صوات،بینر وغیرہ علاقوں میں آگ لگا رکھی ہے، ان علاقوں میں غالب نامہ کی اشاعت کا خاص اثر ہوا، اس لیے ضروری ہے کہ حسب وعدۂ غالب مصالحت کے وقت یاغستان کی خدمت کا خیا ل رکھا جائے۔ ضعف جماعت ہند سے مہاجرین کو کافی امداد نہیں پہنچ سکی ۔ بندہ یاغستان ایک ماہ قیام کرکے وفد مہاجرین کے ساتھ کابل پہنچا، مولانا سیف جماعت سے الگ ہوکر یہاں مقیم ہیں، ان کے لیے دولت کی طرف سے کام کی تجویز ہورہی ہے ، اعضائے وفد فضلین و عبدالعزیز ہیں۔مولانا الناظم کی توجہات و حاجی عبدالرزاق صاحب کی عنایات سے وفد کو دربار نصر اللہ میں رسائی کی ابتدائی کامیابی بھی ہوئی، بندہ ان سے الگ باریاب ہوا، حضور کے زیر اثر کام اور اس کے اصول کی تفصیل کی گئی ،خاص مقبولیت ہوئی، الحمد اللہ اور ان شا ء اللہ ۔ اس ذیل میں حاضر خدمت ہوںگا۔
یہاں کا حال یہ ہے کہ یہاں فتاویٰ و سفرائے ترک و جرمن پہنچے ، ان کا اعزاز پورا ہوا، لیکن مقصد میں ناکام رہے، وجہ یہ ہے کہ ترکی کا فرض تھا کہ ایام ناطرف داری میں ایران و افغانستان سے ان کی ضروریات معلوم کرتا، اس کے پورا کرنے کی سبیل کرتا اور حسب احوال معاہدہ دوستی کرتا، افغانستان نہ بڑی جنگ میں شرکت کا سامان رکھتا ہے اور نہ کوئی بڑی دولت اس کے نقصانات کی تلافی کا ذمہ دار ہے ، اس لیے شریک حرب نہیں ہوسکتا، اگر ضروری افسران، انجینئران، اسلحہ ، روپیہ دیا جائے اور بصورت غلبۂ کفر عصمت و اعانت کا عہد نامہ کیا جائے، تو شرکت کے لیے تیار ہیں۔ باایں ہمہ سردار نائب السلطنت ، عام سرحدی وزیر آفریدی مہمند ، باجوڑ ، صوات، بنیر، چکسر، غوربند، کرناہ، کوہستان، دیر، چترال وغیرہ میں اپنا اثر منظم کرتے اور ان سے وکلا طلب کر کے عہد شرکت بصورت جنگ لے رہے ہیں۔ یہ کام ایک حد تک ہوچکا ہے، سفرا جرمن واپس اور ترک مقیم ہیں، مگر بے کار۔ تعجب ہے کہ سفرا خالی ہاتھ آئے حتیٰ کہ کوئی کافی سند سفارت بھی نہ لائے ، ا یسی صورت میں کیا ہوسکتا ہے، مولانا الناظم باعافیت ہیں، دولت میں ایک حد تک اعتماد ہوگیا ہے، انگریز ان کو یہاں جاسوس ثابت کرنے کی سعی کرتے رہتے ہیں، جن کا کچھ نہ کچھ اثر بھی ہوتا ہے ۔ مگر الحمد للہ کہ ان کو اب تک پوری کامیابی نہیں ہوئی۔
مہاجرین طلبہ انگریزی اور بعض سکھ بھی اب یہاں حاجی عبدالرزاق صاحب کی مدد و نائب کی مہربانی سے آزاد ہیں اور مولانا الناظم کی زیر سرپرستی دیے گئے ہیں، مصارف بذمہ دولت ہیں۔ کوئی سرکاری کام ان کے ذمہ نہیں ہے۔ البتہ مولانا کے خاص کاموں میں بہ ایمائے نائب السلطنت دست و بازو ہیں، جن کی تفصیل یہ ہے
ایک جمعیۃ ہندستان آزاد کرانے والی اس کا صدر ایک ہندی راجہ مقیم کابل ہے ، جو کہ سلطان معظم اور قیصر جرمنی کے اعتماد نامہ کے ساتھ یہاں پہنچا ہے۔ ناظم صاحب و مولانا برکت اللہ اس جماعت کے وزرا ہیں ، اس جماعت نے ہندستان میں مراکز و دیگر دول سے معاہدات کرنے کے لیے حرکت کی ہے ، جس میں ابتدائی کامیابی ہوئی ہے۔اس کام میں عضو متحرک طلبہ ہی ہیں۔ ان میں بعض دربار خلافت ہوکر حاضر خدمت ہوںگے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ

دوسری جماعت الجنود الربانیہ ۔ یہ فوجی اصول پر مخصوص اسلامی جماعت ہے، جس کا مقصد اولیہ سلاطین اسلام میں اعتماد پیدا کرنا ہے ، اس کا صدر جس کا نام فوجی قاعدہ سے جنرل یا القائد ہے ، حضور کو قرار دیا گیا ہے اور مرکز اصلی مدینہ منورہ۔ اس لیے خیال ہے کہ حضور مدینہ منورہ میں رہ کر خلافت علیا سے ، افغانستان ویران کے ساتھ معاہدے کی سعی فرمائیں اور افغانستان کے متعلق ، نیز یا غستان کے متعلق تجویز کو خدام تک پہنچا دینا کافی خیال فرمائیں۔
افغانستان شرکت جنگ کے لیے امور مذکورہ بالا کا طالب ہے جسے اولیا ء دولت عثمانیہ و خلافت ثانیہ تک پہنچانے کی جلد سے جلد تدبیر کیجیے۔کیوں کہ ہندستان میں کفر پر کاری ضرب لگانے کی یہی ایک صور ت ہے ، اہل مدرسہ مولوی محسن، سید نور کے ذریعے سے حضور کو ہند میں لانے کی سعی میں ہیں، کیوں کہ اب یہ معلوم ہوا ہے کہ حجاز میں بھی کام ہوسکتاہے ، ادھر انگریزوں میں پہلی سی عزت بوجہ عدم ضرورت اب نہیں رہی۔
قاضی صاحب، حکیم صاحب، ڈاکٹر صاحب، مولانا رائے والے حضور کو مراجعت ہند کے سخت مخالف ہیں ، یہ خطرہ بوجہ قصۂ غالب کے علم ہونے کے ذریعہ مطلوب ، اب پہلے سے بہت بڑھ گیا ہے ، اس لیے ایسی کسی تحریک کو ہرگز ہر گزمنظور نہ فرمایا جائے۔
مبلغ عطاء حضور کے مکان پر اور سید نور کو ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے جماعت کے سپرد کردیا گیا ، بندہ حصول قدم بوسی کی سعی میں ہے ، اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ کامیاب ہوںگا۔ مولانا الناظم، مولانا سیف، فضلین وعبدالعزیز و جملہ مہاجرین طلبہ سلام عرض کرتے ہیں، والسلام
برادر عزیز واحد مولانا حسین ، ان کے والدصاحب وبرادران ، حرمت اللہ و احمد جان صاحبان کی خدمت میں سلام مسنون۔ مدنی خطوط ہند لہ ڈاک کے حوالہ کردیے گئے تھے۔ ڈاکٹر شاہ بخش صاحب کی خدمت میں سلام مسنون عرض ہے۔ و سید ہادی و خدا بخش و حبیب اللہ غازی کو بھی۔
(۲)
تحریر اینکہ در ریاستہا ئے یاغستان خدام والا دین اسلام اٰجزا نمودہ اند۔ نمونہ آن ازین خط و قاصد نواب صاحب دیر و صوات معلوم خواہد شد۔ نواب دیر قوت پنجاہ ہزار فوج دارد بذریعۂ ملا صاحب بابڑہ اورا برائے خلاف انگریز نوشتہ شدہ بود۔ اور زبانی وعدۂ واثق نمودہ است۔ چنانچہ عبدالمتین خان پسر عمراخان غازی مرحوم از کابل فرار شدہ آمدہ۔ نواب دیر اورا جائے دادہ باوجودسخت سعی انگریز اورا نہ بخشید۔ بر ریاست عمراخان مرحوم برادر زادہ اش قابض و سخت حامی انگریز است۔ نواب دیر بمقابلۂ وے از فوج و روپیہ امداد عبدالمتین نمودہ قریب این شدہ است کہ بر ریست جنددل عبدالمتین خان را قابض نماید۔
امید است کہ در امروز و فردا قبضہ شود، ان شاء اللہ۔
عبد المتین بخدمت جناب ملا صاحب بابڑ حاضر شدہ بود ، سخت دشمن کفار است۔ بعد قبضہ این باقی رؤسائے یاغستان کہ خان خارد خان جار۔ خان نوی کلی ہستند ان شاء اللہ از دوستی کفار نائب خواہند شد۔ چراکہ فوت دیرو قوت جندول ہر دو انیقدر قوی است کہ باقی ہمہ خوانین را تابعداری شان لازم است۔ خوانین علاقہ چارمنگ خورد وخان کوٹلی از اوّل دشمنانِ انگریز اند۔ مجموعہ قوۃ ذاتی شان قریباً یک ہزار نفری است۔ و معہ اقوام آزاد چار منگ (کہ در غزی شریک شان می باشند) تا ۳ ہزار می رسد۔ درین خوانین محمود خان قابل ترین و خادم دین است۔ ان شاء اللہ تعالیٰ از نواب دیروجندول وغیرہم عرضداشتہا ہمراہ خود خواہم آورد۔ این فقط نمونہ کار و احوال است۔ از دربار خلافت امید است کہ از حقوق این نواح غافل نخواہد بود۔ از احیاء ایشیا اوسطے کہ از قوۃ اسلامیہ پرودد زیر اثر کفار است چشم پوشی نتوان کرد۔ برائے ترقی و بقائے خلافت علیہ و حفاظت اسلام در خیال بندہ احیائے ایشیائے اوسطے علیٰ الخصوص ہندوستان از افریقہ کم نیست۔ پس لازم است کہ ماہمہ وسائل خویش را درین باب صرف نمایم فقط۔
محمد میاں عفی عنہ انصاری ابوایوبی
مقام جائے ملا صاحب بابڑہ (باجوڑ)، یاغستان
۱۵؍شوال المکرم ۱۳۳۵ھ

تحریک ریشمی رومال کا خط نمبر دو

 ریشمی رومال تحریک کے سلسلے میں تین خطوط لکھے گئے تھے، جن میں دو سے مولانا عبید اللہ سندھی نور اللہ مرقدہ نے اور ایک مولانا محمد میاں انصاری رحمۃ اللہ علیہ نے ۔ دوسرا خط درج ذیل ہے:



تحریک ریشمی رومال کا خط نمبر دو
از مولانا عبید اللہ قاسمی سندھی نور اللہ مرقدہ
برائے شیخ عبدالرحیم سندھی

سلام مسنون!آپ ضرور ،یہ امانت مدینہ طیبہ میں حضرت مولانا کی خدمت میں کسی معتمد حاجی کی معرفت پہنچا دیں، یہ ایسا کام ہے کہ اس کے کے لیے مستقل سفر کرنا نقصان نہیں ، اگر آدمی معتمد ہو تو زبانی یہ بھی کہہ دیں کہ حضرت مولانا یہاں آنے کی بالکل کوشش نہ کریں اور مولوی اگر اس حج پر نہ آسکیں تو خیال فرمالیں کہ اس کا آنا ممکن نہیں۔
آپ اس کے بعد خود میرے پاس آنے کی کوشش کریں، کیوں کہ یہاں بہت سے ضروری کام ہیں ، ضرور آئیے، اگر خدا نخواستہ آپ کو معتمد حاجی نہ مل سکے، اور آپ خود بھی نہ جاسکیں، تو مولوی حمد اللہ پانی پت والے سے اس معاملے میں مدد لیں۔ یہ ضروری ہے کہ اس حج کے موقعہ پر یہ اطلاعات حضرت مولانا کے پا س پہنچ جائیں اور وہاں سے جو اطلاع ملے، وہ براہ راست نہ ہوسکے تو مولوی احمد لاہوری کی معرفت ضرور ہی ملنی چاہیے۔عبیداللہ عفی عنہ

تحریک ریشمی رومال کا خط نمبر ایک

 تحریک ریشمی رومال کا خط نمبر ایک



ریشمی رومال تحریک کے سلسلے میں تین خطوط لکھے گئے تھے، جن میں دو سے مولانا عبید اللہ سندھی نور اللہ مرقدہ نے اور ایک مولانا محمد میاں انصاری رحمۃ اللہ علیہ نے ۔ پہلا خط درج ذیل ہے:
مولانا عبیداللہ کا خط مولانا محمود حسن کے نام
احوال انجمن دیگر (موسوم) بنام حکومت موقتہ ہند
ایک ہندستانی رئیس مہندرپرتاپ ساکن بندرابن جسے آریاوں کی جماعت سے خاص تعلق ہے اور ہندستانی راجگان سے واسطہ در واسطہ ملتا ہے ۔ گذشہ سال جرمنی پہنچا۔ قیصر سے ہندستان کے مسئلے میں ایک تصفیہ کرکے اس کا ایک خط بنام روساء ہند و امیر کابل لایا۔
حضرت خلیفۃ المسلمین نے بھی قیصر کی طرح اسے اپنا وکیل ہند بنایا اس کے ساتھ مولوی برکت اللہ بھوپالی جو جاپان و امریکہ میں رہ چکے ہیں ، برلن سے ہمراہ ہوئے۔قیصر کے قائم مقام ایک اور سلطان المعظم کے ایک افسر اس کے ساتھ کابل آئے ، یہ لوگ میرے کابل پہنچنے سے پہلے سے دس روز قبل پہنچ چکے تھے ، انھوں نے ہندووں کے فوائد کی تائید میں ہندستانی مسئلہ امیر کے سامنے پیش کیا اور کابل میں دونوں نے ایک انجمن کی بنام مذکورہ بالا بنیاد ڈالی ۔ اس کا کا م یہ ہے کہ وہ ہندستان کے معاملات پر مستقبل میں دول عظمیٰ سے معاہدات کرے۔
ایسے اسباب پید اہوگئے کہ انھوں نے مجھ سے اس انجمن میں شامل ہونے کی درخواست کی میں نے اسلامی مفادات کی حفاظت کی نظر سے قبول کیا۔
(۱) چند روز مباحثات کے بعد اس انجمن نے قبول کرلیا کہ افغانستان اگر جنگ میں شرکت کرتا ہے تو ہم اس کے شاہزدے کو ہندستان کا مستقبل بادشاہ ماننے کو تیا رہیں۔ اور اس قسم کی درخواست امیر صاحب کے یہاں پیش کردی ، لیکن چوںکہ امیر صاحب ابھی شرکت جنگ کے لیے تیار نہیں ، اس لیے معاملہ ملتوی کر رکھا ہے۔
(۲) اس حکومت کی طرف سے روس میں سفارت گئی ، جس میں ایک ہندو اورا یک مہاجر طالب علم تھا جو افغانسان کے لیے مفید اثرات لے کر واپس آئے ، اب روس کا سفیر کابل آنے والا ہے۔ روس کی انگریزوں سے برہمی میں جس کے فیصلے کے لیے کچز جاتا ہوا غرقاب ہوا، ممکن ہے کہ سفارت مذکورہ کا اثر بھی شامل ہو۔
(۳) ایک سفارت براہ ایران قسطنطنیہ اور برلن گئی ہے ، اس میں دونوں ہمارے مہاجر طالب علم ہیں ، امید ہے حضور میں حاضر ہوکر مورد عنایت ہوںگے۔
(۴) اب ایک سفارت جاپان اور چین کو جانے والی ہے۔
(۵) ہندستان میں پہلی سفارت بھیجی گئی، وہ زیادہ کامیاب نہیں ہوئی۔
(۶) اب دوسری سفارت جارہی ہے۔
(۷) تھوڑے دنوں میں ایک دوسری سفارت برلن جانے والی ہے۔
جرمن سفارت سے میرے ذاتی تعلقات بہت اعلیٰ درجے پرہیں ، جس سے اسلامی فوائد میں بہت مدد ملے گی ۔ اس حکومت موقتہ میں راجہ پرتاپ صدر ہیں ، مولوی برکت اللہ بھوپالی وزیر اعظم اور احقر وزیر ہند ۔فقط والسلام(عبیداللہ)
مولانا عبید اللہ سندھی کا خط بنام شیخ عبدالرحیم
۹؍ رمضان یوم دو شنبہ
(مطابق ۱۰؍ جولائی ۱۹۱۶ء)کابل

12 Feb 2026

تحریک ریشمی رومال کے خدو خال

 تحریک ریشمی رومال کے خدو خال 

مولانا عبدالحمید نعمانی



تحریک ریشمی رومال ، ملک کی آزادی کی جدوجہد کے تناظر میں ایک اہم عنوان کے طور پر ایک خاص اہمیت رکھتی ہے؛ لیکن اس سلسلے میں ابھی تک باقاعدہ ایسی تحریر سامنے نہیں آئی ہے، جس کی بنیاد پر تحریک آزادی کے حوالے سے ایک واضح تصور بنائی جا سکے۔ حضرت شیخ الہندمولانا محمود حسن دیوبندی اور ان کے تلامذہ و رفقا کے بیانات ، خطوط، تحریروں اور انگریزی حکومت کی خفیہ رپورٹوں کا اس قدر حصہ ہماری دسترس میں یقینا آگیا ہے، جس سے اس نتیجے تک پہنچا جاسکتا ہے کہ ریشمی رومال کی تحریک، ملک کو برٹش سامراج کے پنجۂ استبداد وغلامی سے آزادکرانے کے مقصد سے کی جانے والی کوششوں میں سے ایک اہم جدوجہد کے عنوان سے عبارت ہے۔ اس سلسلے کے دو اہم نام ہیں: شیخ الہندمولانا محمود حسن اور مولانا عبیداللہ سندھی امام انقلاب، جن کی جدوجہد آزادی کے اہم مرحلے میں تحریک ریشمی رومال کا ذکر آتا ہے۔ ملک کو آزاد کرانے کے لیے حضرت شیخ الہندؒ کی مختلف سطحوںپر جدوجہدکر رہے تھے۔ اسے عام طور سے ـ’’ تحریک شیخ الہند‘‘ کے نام سے تحریک آزادی کے سلسلے کی دستاویز میں درج کیا گیا ہے، اسی کا ایک اہم باب ریشمی رومال تحریک بھی ہے، برٹش لائبریری میں اس کے متعلق انگریزی حکومت کے خفیہ شعبے کی طرف سے تیار کردہ جو رپورٹیں ہیں، ان کا جو کچھ حصہ سامنے آگیا ہے اور مولانا محمد میاں ؒ نے اپنے تبصرے اور تشریح کے ساتھ تحریک شیخ الہندؒ  انگریزی سرکار کی زبان میں ریشمی خطوط کیس اور کون کیا تھا کے نام سے مرتب کرکے شائع کردیا ہے۔ پوری کتاب کے مطالعہ سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ حکومت کے خفیہ شعبے کے افسران کو بعض معاملات اور ناموں میں مغالطہ ہوا ہے اور خفیہ اطلاعات  کے بعض امور کے درمیان ارتباط پیدا کرنے میں ناکامی ہوئی، اس کا بھی تحریک شیخ الہند ؒ کی پوری اور صحیح تصویر سامنے نہ آنے میں دخل ہے، اس کمی کی تلافی بڑی حد تک شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ کی اسیر مالٹااور خود نوشت سونح نقش حیات سے ہوتی ہے۔ خصو صا آخر الذکر کتاب میں اس حوالے سے پہلی بار تحریک ریشمی رومال کا قدرے مفصل تعارف نظر آتا ہے، جب کہ اول الذکر کتاب اسیر مالٹا میں مخصوص حالات کے سبب تحریک ریشمی رومال کا ایسے اسلوب میں ذکر کیا گیا، جس سے واضح تصویر نہیں بن پاتی ہے۔ صرف بین السطور میں حقیقت کو پڑھا اور دیکھا جاسکتاہے ، بتایا اور لکھا نہیں جاسکتا ہے، صرف تحریک میں شامل افراد ہی سمجھ سکتے ہیںکہ اشارہ کس طرف ہے، تاہم مخالف و موافق نقاط نظر اور تحریروں کو ملا کر پڑھنے سے تحریک شیخ الہند کا ایک ایسا خاکہ تیار ہوجاتا ہے ، جو یہ بتاتا ہے کہ تحریک ریشمی رومال گرچہ بے احتیاطی اور کچھ لوگوں کی غلطیوں کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوپائی ، تاہم آزادی کی جنگ میں اس کا بنیادی رول ایک مسلمہ بات ہے، ریشمی رومال تحریک کے سلسلے میں ایک سوال یہ ہے کہ انگریزی حکمرانی سے آزادی کرانے کے منصوبوں پر مبنی تحریر وں میں کیا تھااور اس کو تحریک ریشمی رومال کا عنوان کیسے ملا، یہ عنوان دیا ہوا کس کا ہے،انگریزی افسران کا یا حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ یا مولانا عبیداللہ سندھیؒ وغیرہ مسلم مجاہدین کا ہے ؟ دستیاب ذخائر کے مطالعہ سے مترشح ہوتا ہے کہ برٹش افسران نے باہمی افہام و تفہیم کی غرض سے جاری تحریک آزادی کو یہ عنوان دیا تھا، چنانچہ حکومت برطانیہ کی سی آئی ڈی کی رپورٹ میں یہ الفاظ ملتے ہیں کہ’’ زیر نظر کیس کو اپنی آسانی کے لیے ریشمی خطوط کا کیس اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس بارے میں ہمیں گہری اور مکمل واقفیت اگست ۱۹۱۶ ء میں ریشمی کپڑے پر لکھے ہوئے تین خطوط کے پکڑے جانے سے حاصل ہوئی جو کابل میں موجود سازشیوں نے حجاز میں موجود سازشیوں کو روانہ کیے تھے۔‘‘

اس سے اور دیگر دستاویز و تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا عبیداللہ سندھی ،مولانا میاں وغیرہ نے شیخ الہندؒ وغیرہ کو جو خطوط روانہ کیے تھے، وہ چوں کہ ریشمی کپڑے پر لکھے گئے تھے، اور ان میں ملک کو آزاد کرانے اور آیندہ کی حکومت سازی اور دیگر تفصیلات تحریر تھیں ، اس کے مد نظر برٹش حکومت کے افسران نے اسے جو ریشمی خطوط کیس قرار دیا تھا، وہی ریشمی رومال تحریک کا عنوان بن گیا ، اس سلسلے کے دیگر خطوط جو تحریک شیخ الہندمیں شامل افراد نے تحریر کیے ہیں ان سے اور حکومت کے کار پردازوں کی طرف سے منصوبہ بندی کرنے والوں کے خلاف قائم مقدمہ کی تفصیلات سے بھی صورت واقعہ پر روشنی پڑتی ہے ، اس سے ان لوگوں کے خیال کی تردید ہوتی ہے ، جو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ تحریک ریشمی رومال اور آزادی کے لیے جاری تحریکات کے سلسلے میں تحریک شیخ الہند کوئی خاص ایسی چیز نہیں ہے کہ اسے مخصوص رنگ میں پیش کیا جائے۔

رولٹ کمیٹی کی رپورٹ ، نقش حیات( شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی) کی ذاتی ڈائری(از مولانا عبیداللہ سندھیؒ) اور ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہاںپوری اور ڈاکٹر ضیاء الدین لاہوری نے اس سلسلے میں جو مزید تحقیقات کی ہیں، ان سے ریشمی رومال کا رشتہ قطعی سے تحریک آزادی وطن اور اپنی حکومت بنانے کے منصوبے سے قائم ہوجاتا ہے۔ رولٹ کمیٹی کی رپورٹ سے بھی گرچہ شیخ الہندؒ کی اہمیت اور خاص کردار سامنے آتا ہے ، تاہم ا س میں معاملہ ناکافی معلومات یا غلط فہمی سے برعکس کردیا گیا ہے ، یعنی مولانا عبیداللہ سندھی ؒ اصل روح رواں اورمولانا محمود حسن ؒ کو ان سے متاثر اور تابع وق پیرو کار کے طور پر پیش کیا ہے، حالاں کہ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مولانا سندھیؒ ، مولانا دیوبندیؒ کے تلامذہ میں سے ہیں اور تحریک شیخ الہندؒ کے فرماں بردار ارکان میں سے تھے۔

دیگر تفصیلات پر ایک نظر ڈالنے سے معاملے کا یہ پہلو بھی سامنے آتاہے کہ حضرت شیخ الہندؒ نے اپنے رفقا کے تعاون سے ترکی کے غالب پاشا سے جو تحریریں حاصل کی تھیں، ان میں سے ایک قدرے تفصیلی تحریر، ہندستان کو آزاد کرانے کے منصوبوں اور فوجی کارروائیوں پر مشتمل تھی، اسے ہی غالب نامہ کے نام سے جا ناجاتا ہے اور اسے حضرت شیخ الہندؒ نے ایک زعفرانی ریشمی کپڑے پر تحریر کرکے ایک صندوق میں خاص طور سے رکھ کر ہندستان بھیجا تھا اور مولانا سندھیؒ تک افغانستان پہنچا دیا گیا تھا۔ حضرت شیخ الہندؒ کے اس ارسال کردہ مکتوب کے جواب میں مولانا عبیداللہ سندھی ؒاور مولانا محمد میاں نے تین خطوط میں دو حضرت شیخ الہندؒ اور ایک شیخ عبدالرحیم سندھی کے نام بھیجے تھے، وہ بھی ریشمی کپڑے پر ہی تحریر کیے گئے تھے، اس لحاظ سے حضرت شیخ الہندؒ اور مولانا عبیداللہ سندھیؒ وغیرہ کے خطوں کا تحریک ریشمی رومال سے رشتہ قائم ہوجاتا ہے ، تاہم حضرت شیخ الہندؒ کی طرف سے ارسال مکتوب کو اولیت اور بنیاد کی حیثیت و درجہ دینا پڑے گا۔

تصویر ذرا واضح شکل میں پیش کرنے کے لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ حوالوں میں رولیٹ کمیٹی کے نقل کردہ ضروری اقتباسات پیش کردیے جائیں۔ رولٹ کمیٹی کی رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ اگست ۱۹۱۶ء میں ریشمی خطوط کے واقعات کا انکشاف ہوا اور حکومت کو اس سازش کا پتا چلا، یہ ایک منصوبہ تھا، جو ہندستان میں اس خیال سے تجویز کیا گیا تھا کہ ایک طرف شمال مغربی سرحدوں پر گڑبڑ پیداکرے اور دوسری طرف ہندستانی مسلمانوں کی شورش سے اسے تقویت دے کر برطانوی راج ختم کردیا جائے۔

اس منصوبہ کو مضبوط کرنے اور عمل میں لانے کے لیے مولوی  عبید اللہ سندھیؒ نامی ایک شخص نے اپنے تین ساتھیوں : عبداللہ ، فتح محمد اور محمد علی کے ساتھ اگست ۱۹۱۵ء میں شمال مغربی سرحد کو پار کیا ، عبید اللہ پہلے سکھ تھا، بعد میں مسلمان ہوا اور دیوبند ضلع سہارنپور کے مذہبی مدرسہ میں تعلیم حاصل کرکے مولوی بنا، وہاں اس نے باغیانہ اور برطانیہ کے خلاف خیالات کا زہر چند مدرسین اور طلبہ میں بھی پھیلایا، جن لوگوں پر اس نے پنا اثر ڈالا تھا، ان میں سب سے بڑی شخصیت مولانا محمود حسن کی تھی، جو مدتوں تک درس گاہ دیوبند کے صدر مدرس رہے۔عبید اللہ چاہتا تھا کہ دیوبند کے مشہور و معروف فارغ التحصیل مولویوں کے ذریعہ ہندستان میں برطانیہ کے خلاف ایک عالم گیر اسلامی ( پان اسلامک) تحریک چلائے ، مگر مہتمم اور ارباب شوریٰ نے اس کو اس کے چند وابستگان کو نکال کر اس تجویز کو درمیان میں ہی ختم کردیا ، مولانا محمود حسن ہر حال میں دیوبند میں ہی رہے اور عبیداللہ سے ان کی ملاقاتیں ہوتی رہیں، مولانا کے مکان پر خفیہ مجالس قائم ہوتیں۔ اور کہاجاتا ہے کہ سرحد کے کچھ آدمی بھی ان میں شریک ہوا کرتے تھے۔۸ستمبر ۱۹۱۵ء کو مولانا محمود حسن نے میاں محمد ایک شخص اور دوسرے دوستوں کے ساتھ مولوی عبیداللہ کی پیروی کی اور ہندستان چھوڑ دیا مگر یہ لوگ شمال کا رخ کرنے کے بجائے عرب کا خطہ حجاز پہنچ گئے، روانہ ہونے سے بیشتر عبیداللہ نے دہلی میں ایک مدرسہ قائم کیا تھااور دو کتابیں شائع کی تھیں ، جن میں اس نے باغیانہ تعصب کی تبلیغ کرکے ہندستانی مسلمانوں کو فریضۂ جہاد سے متاثر کرنا چاہاتھا، اس شخص (عبیداللہ) اور اس کے دوسرے دوستوں اور مولانا (شیخ الہندؒ) کا اہم مقصد یہ تھا کہ بیک وقت ہندستان پر باہر سے حملہ کرایا جائے اور ہندستانی مسلمانوں میں بغاوت بھی پھیلائی جائے ہم اس جدوجہد کی تفصیل بتاتے ہیں ، جو اپنے مقصد کو کامیاب بنانے کے لیے عمل میں لائے۔

      عبداللہ اور اس کے دوستوں نے پہلے ہندستانی متعصب جماعت (مجاہدین) سے ملاقات کی اور بعد میں کابل پہنچے، وہاں عبیداللہ کی ملاقات ، ترکی جرمنی مشن سے ہوئی اور ان کے ساتھ اس نے بھائی چارہ قائم کیا ، کچھ عرصہ بعد اس کا دیوبندی دوست محمد میاں بھی اس سے جاملا، یہ شخص مولانا محمود حسن صاحب کے ساتھ عرب گیا تھا۔اور وہاں سے ۱۹۱۶ء میں جہاد کا ایک اعلان حاصل کرکے واپس آیا تھا، جو مولانا نے حجاز کے ترکی سپہ سالار غالب پاشا سے موصول کیا تھا، یہ دستاویز غالب نامہ کے نام ے مشہو ر ہے، محمد میاں نے اس کی کاپیاں ہندستان اور سرحد دونوں میں تقسیم کیں۔ مولانا عبیداللہ سندھی، ان کے ساتھیوںنے برطانوی حکومت کے خاتمے پر موقتہ حکومت کے لیے ایک تجویز تیار کی تھی، اس تجویز کے مطابق مہندر پرتاپ نامی ایک شخص کو صدر ہونا تھا، یہ شخص ایک معزز خاندان کا جوشیلا ہندو ہے۔ ۱۹۱۴ء کے اخیر میں اسے اٹلی ، سویزر لینڈ اور فرانس جانے کا پاسپورٹ دیاگیا، یہ سیدھا جینوا گیااور وہاں کے بدنام زمانہ ہردیال سے ملا، ہردیال نے اسے جرمن قونصل سے ملایاوہاں سے یہ برلن آیا، بظاہر اس نے وہاں جرمنوں کو اپنی اہمیت کے مبالغہ آمیز تصور سے متاثر کیااور اسے ایک خاص مشن پر کابل بھیجا گیا، خود مولانا عبید اللہ کو وزیر ہند اور مولانا برکت اللہ کو وزیر اعظم بننا تھا، مولانا برکت اللہ کرشن ورماکا دوست اور امریکن غدار پارٹی کا ممبر تھااور برلن کے راستے سے کابل پہنچا تھا، وہ ریاست بھوپال کے ایک ملازم کا لڑکا تھا، اور انگلستان، امریکا اور جاپان کی سیاحت کرچکا تھا، ٹوکیو میں وہ ہندستانی زبان کا پروفیسر مقرر ہواتھا، وہاں اس نے برطانیہ  کے خلاف سخت لب و لہجہ کا ایک اخبار جاری کیا، جس کا نام اسلامک فرنیٹر نئی ( اسلامی برادری) تھا، حکومت جاپان نے اس اخبار کو بند کرکے اسے پروفیسری سے معزول کیا کہ وہ جاپان کو چھوڑ کرامریکہ میں اپنی غدر پارٹی سے جاملا، ۱۹۱۶ء کی ابتدا میںمشن کے جرمنی ممبر اپنے مقصد میں ناکام ہوکر افغانستان سے چلے گئے، ہندستانی ممبر وہیں رہے اور حکومت موقتہ (پرویژنل گورنمنٹ) نے اسے ترکستان کے گورنر اور زاروس کو خطوط بھجے جن میں اسے برطانیہ کے ساتھ چھوڑنے اور ہندستان میں برطانوی حکومت کا خاتمہ کرنے کے لیے امداد کی دعوت دی گئی تھی، ان خطوط پر راجہ مہندر پرتاپ کے دستخط تھے اور یہ خطوط بھی برطانیہ کے ہاتھ آگئے، زار کو جو خط لکھا گیا تھا وہ سونے کی تختی پر تھااور اس کی ایک تصویر میں (رولٹ کمیٹی کے ارکان) دکھلائی گئی ہے، حکومت موقتہ کی ایک تجویز یہ تھی کہ ترکی حکومت سے روابط قائم کیے جائیں، اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مولانا عبیداللہ نے اپنے پرانے دوست مولانا محمود حسن دیوبندی کے نام ایک خط لکھا، اس خط کو ایک دوسرے خط کے ساتھ ۸؍ رمضان (۹؍جولائی ۱۹۱۶ء) کو محمد میاں  نے لکھاتھا ملا کر ایک لفافہ میں شیخ عبدالرحیم کے پاس حیدرآباد سندھ بھیجا گیا ، شیخ عبدالرحیم تب سے غائب ہے لفافہ پر ایک تحریر تھی، جس میں شیخ عبدالرحیم سے یہ درخواست کی گئی تھی کہ یہ خطوط کسی قابل  اعتماد حاجی کے ہاتھ مولانا محمود حسن کے پاس مکہ معظمہ پہنچائے جائیں اور اگر کوئی دوسرا قابل اعتماد حاجی نہ مل سکے تو شیخ صاحب خود ہی یہ خدمت سر انجام دیں، مولانا محمود حسن کے نام خطوط جو حکومت برطانیہ کے ہاتھ آئے ہیں ، ہم نے خود دیکھے ہیں یہ خطوط زرد ریشم پر صاف اور واضح لکھے گئے ہیں محمد میاں کے خط میں جرمن اور ترک مشن کی سابقہ آمد، جرمنوں کی واپسی اور ترکوں کے معطل ، قیام کے بھاگے (مہاجر) طالب علموں کے واقعات ، غالب نامہ کی اشاعت کا ذکر تھا، اور حکومت موقتہ اور ایک حزب اللہ کے قیام کی تجویز درج تھی، اس میں فوج کی بھرتی، ہندستان سے کرنی تجویز ہوئی تھی، اور اس کا کام اسلامی حکومتوں کے درمیان سلسلہ اتحاد کا قائم کرنا تھا، مولانا محمود حسن سے یہ درخواست کی تھی کہ یہ سارے واقعات سلطنت عثمانیہ تک پہنچا دیں، مولانا عبیداللہ کے خط میں حزب اللہ کا مرتب و مکمل نقشہ تھا، اس فوج کا مرکز مدینہ میں قائم تھا، خود محمود حسن کو سالار اعلیٰ بننا تھا، ثانوی مراکز مقامی سالاروں کے ماتحت قسطنطنیہ ، طہران اور کابل میں قائم ہونے تھے اور کابل کا سالار مولانا عبیداللہ کو بننا تھا، اس فہرست میں تین سرپرستوں ، بارہ جرمنوںاور کئی اور اعلی فوجی عہدوں کے نام درج ہیں ، لاہور کے طلبہ میں ایک کومیجر جنرل بننا تھا، ایک کو کرنل اور چھ کو لیفٹیننٹ کرنل، ان اعلیٰ عہدوں کے لیے جن اشخاص کو تجویز کیا تھا، ان میں سے اکثر کے ساتھ اس تقرر کے بارے میں ملاقات نہ ہوسکی تھی، مگر اس ساری اطلاع کی وجہ سے جو ریشمی خطوط میں لکھا گیا تھاچند پیش بندیا ں مناسب سمجھی گئیںا ور وہ عمل میں لائی گئیں۱۹۱۶ء میں مولانا محمود حسن اور ان کے چار ساتھی برطانوی حکومت کے قبضے میں آگئے، اور وہ اس وقت برطانوی نگرانی میں جنگی قیدی ہیں۔ غالب نامہ پر دستخط کرنے والے غالب پاشا بھی جنگی قیدی ہے، اس نے یہ اقرار کیا ہے کہ محمود حسن پارٹی نے میرے سامنے ایک خط رکھا تھا اور میں نے اس پر دستخط کیے ہیں۔ (نقش حیات صفحہ ۲۹۷ تا ۳۰۳ مطبوعہ مکتبہ دینیہ دیوبند اشاعت ۱۹۹۹ء) 

اس رپورٹ سے واقعہ کی مجموعی تصویر سامنے آجاتی ہے گرچہ رولٹ کمیٹی کے ارکان کو واقعات کا مکمل اور صحیح علم نہیں ہے تاہم ، اس رپورٹ کے مذکورہ اقتباس سے بھی چاہے مبہم طور پر ہی سہی، مولانا محمود حسن کی شخصیت ہی مرکزی کردارکے طور پر سامنے آتی ہے ، اور مولانا سندھی کے خطوط حضرت شیخ الہند کی طرف سے غالب نامہ سے معروف خط کے بھیجے جانے اور ملنے کے بعد صورت واقعہ کو مولانا سندھی نے اپنے خطوط میں تحریر کرکے ارسال کیا تھا، گزشتہ ابتدائی سطور میں یہ سوال سامنے آیا تھا کہ ریشمی خطوط کے بنیادی خط اور مولانا سندھی کی طرف سے ارسال کردہ ریشمی خطوط بنام حضرت شیخ الہندؒ و شیخ عبدالرحیم کے مضامین کیا تھے، جب تک ان کا پورا متن سامنے نہیں ہوگا ، قدرے اطمینان بخش طور پر تحریک ریشمی رومال کا کاکہ نہیں بن پائے گا۔

حضرت مدنیؒ کی نقش حیات ، مولانا عبیداللہ کی ذاتی ڈائری اور مولانا محمد میاں کی علماء ہند کا شاندار ماضی اور علماء حق کے مجاہدانہ کارنامے اور تحریک شیخ الہند اور مقام محمود وغیرہ میں ریشمی خط غالب نامہ کے حوالے سے جو بحث پائی جاتی ہے، اس سے اتنا معلوم ہوجاتا ہے کہ کس طرح برطانوی اقتدار کو ہندستان سے بے دخل کیا جاسکتا ہے ، البتہ اول الذکر دونوں تصنیف میں غالب نامہ رولٹ کمیٹی کے ذیل میں ضرورت بھر جو حصہ نقل کیا گیا ہے ، وہ اس طرح ہے

ایشا یورپ اور افریقہ کے مسلمان اپنے آپ کو ہر قسم کے ہتھیار سے مسلح کرکے خدا کے راستے میں جہاد کرنے کے لیے کود پڑے ہیں، ترکی فوج اور مجاہدین اسلام، دشمنوں پر غالب آگئے ہیں، اس لیے مسلمانو! جس عیسائی حکومت کے بند میں تم پڑے ہوئے ہو، اس پر حملہ کرو، دشمن کو مرنے پر مجبور کرنے کے پختہ عزم کے ساتھ اپنی ساری جدوجہد عمل میں لانے کی جلدی کرو، ان پر اپنی نفرت اور دشمنی کا اظہار کرو، یہ بھی تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ مولوی محمود حسن آفندی (سابق مدرسہ دیوبند ہندستان سے تعلق رکھنے والے) ہمارے پاس آئے اور ہمارا مشورہ طلب کیا، ہم نے اس بارے میں اس (ان) سے اتفاق کیا اور انھیں ضروری ہدایات دیں، اگر وہ تمھارے پاس آئے تو تمھیں اس پر اعتماد کرنا چاہیے اور آدمیوں، روپیوں اور ہر اس چیز سے ان کی امداد کی جائے ، جس کی ضرورت اسے (انھیں) پیش آسکتی ہے۔‘‘ (ذاتی ڈائری ص؍ ۶۰، نقش حیات ص؍۲۰۳ تا ۳۰۴)

یہ پورا غالب نامہ نہیں ہے، بلکہ اس کے کچھ ضروری حصے یہاں وہاں سے نقل کیے گئے ہیں مولانا محمد میاں کی کتاب تحریک شیخ الہند ریشمی خطوط کیس کے مطالعہ سے صاف ہوجاتاہے کہ ان کے سامنے غالب نامہ کا متن نہیں تھا، اس لیے وہ لکھتے ہیں کہ اصل خط کا مضمون غالبا یہ تھا( مذکورہ کتاب ص؍۷۰ ، مطبوعہ الجمعیۃ بکڈپو) ا س کے مد نظر یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پورا غالب نامہ نقل کردیا جائے تاکہ قاری کو یہ سمجھنے اور فیصلہ کرنے میں آسانی ہو کہ ریشمی خطوط کے بنیادی خط کی کیا اہمیت ہے اور برٹش سامراج نے اسے کیوں اتنی اہمیت دے کر باقاعدہ مقدمہ تیار کیا تھا، غالب نامہ کا متن یہ ہے:

قائم مقام (نمائندہ ) اعلیٰ حضرت خلیفہ رسول رب العالمین، امیر المومنین دام اقبالہ۔

یہ بات کسی پر مخفی نہیں ہے کہ جنگ ،عموماً گذشتہ ایک سال سے ترکی کی اسلامی حکومت کا رخ کیے ہوئے ہے۔ روس، فرانس اور انگریز (دشمنان اسلام) ممالک عثمانیہ پر بری و بحری حملے کر رہے ہیں ۔ اس صورت حال کے پیش نظر حضرت امیر المومنین نے محض اللہ کی نصرت اور خاتم الانبیا علیہ الصلاہ والسلام کی روحانی طاقت کے بھروسے پر جہاد مقدس کا اعلان کردیا ہے ، جس کے جواب میں ایشیا ، یورپ اور افریقہ کے مسلمانوں نے لبیک کہا ہے اور ہر قسم کے ہتھیاروں سے لیس ہوکر میدان جنگ میں کود پڑے ہیں،اللہ کا شکر ہے کہ ترکی فوج اور مجاہدین کی تعداد د شمنان اسلام کی تعداد سے بڑھ گئی ہے اور انھوں نے دشمنوں کی قوت کو مات دیاور اخلاقی طور پر کمزور کردیا ہے۔

چنانچہ روسیوں کی قوت کا ایک بڑا حصہ قفقازیہ میں تباہ کردیا گیا ہے اور ایک لاکھ برطانوی اور فرانسیسی فوج اور ان کے جہاز درۂ دانیال اوردوسرے مقاما ت پر تباہ کردیے گئے ہیں ۔ ترکوں ، جرمنوں اور آسٹریلیوں نے مشرق میں روسیوں کو اور مغرب میں فرانسیسیوں اور بلجیکیوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے ۔ ایک تھائی روسی اور فرانسیسی علاقے اور سارے بلجیم اور لاکھوں رائفلوں ، بندوقوں اور دوسرے سامان جنگ پر قبضہ کرلیا ہے اور ہزاروں فوجیوں کو قیدی بنالیا ہے۔ اب بلغاریہ بھی مرکزی قوتوں کے ساتھ شریک ہوکر جنگ میں شامل ہوگیا ہے اور اس نے سربیا کے علاقے میں اندر تک گھس کر وہاں کے لوگوں کو شکست فاش دے دی ہے ، اس لیے میرا یہ پیغام میرے سلام کے ساتھ ان مسلمانوں کو پہنچا دیا جائے جو ان حکومتوں کی غلامی میں ہیں کہ وہ اب مکمل طور پر شکست کھا چکی ہیںاور بالکل لاچار و بے یارو مددگار ہیں اور ان کے یعنی مسلمانوں کے سامنے جس قوت و طاقت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے ، وہ محض خیالی ہے۔

مسلمانو! آج تمھاری نجات کا دن ہے، اس لیے اب اپنی ذلت و خواری اور اپنی غلامی پر راضی و قانع نہ رہو، بلاشبہ آزادی، کامیابی، فتح و نصرت تمھارے ساتھ ہے۔اب خواب غفلت سے بیدار ہواور متحد ہوکر اپنے اندر تنظیم و اتحاد پیدا کرو۔ اپنی صفوں کو درست کرواور اپنے آپ کو ان چیزوں سے لیس کرو، جو تمھارے لیے ضروری اور کافی ہوںاور پھر اس ظالم و جابر عیسائی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہو، جس کی غلامی کا کمزور طوق تمھاری گردنوں میں پڑا ہوا ہے۔ اس زنجیر غلامی کو اپنے مذہب کی طاقت اوراپنے دین کی تیز دھار سے کاٹ ڈالو، اس طرح اپنے وجود اور انسانی آزادی کے حقوق کو حاصل کرلو۔ ہم ان شا ء اللہ عنقریب مکمل فتح اور کامیابی کے بعد معاہدے کریںگے توتمھارے حقوق کی پوری طرح حفاظت کریںگے۔

اس لیے اب جلدی کرواور پختہ عزم و ارادہ کے ساتھ دشمن کا گلا گھونٹ کر اسے موت کے منہ میں پہنچادو اور اس سے نفرت و دشمنی کو مظاہرہ کرو۔ ہم تمھاری طرف اعتماد اور بھروسے کی نظر سے دیکھتے ہیں ، اس لیے یہ اچھا موقع ہاتھ سے جانے نہ دو ، بد دل نہ ہو اور خداوند بزرگ و برتر سے دلی مراد پوری ہونے کی امید رکھو۔

تمھیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ مولانا محمود حسن صاحب (جو پہلے دیوبند ہندستان کے مدرسے میں تھے)ہمارے پاس آئے اور ہم سے مشورہ طلب کیا، ہم اس بارے میں ان سے متفق ہیں اور ان کو ضروری ہدایات دے دی ہیں ، ان پر اعتماد کرو۔ اگر تمھارے پاس آئیں تو روپیے ، آدمیوں سے اور جس چیز کی انھیں ضرورت ہو ، اس چیز سے ان کی مدد کرو۔

دستخط غالب (پاشا)والی حجاز

غالب نامہ کے اس اصل متن اور نقش حیات اور ذاتی ڈائری میں نقل کردہ متن میں کچھ فرق ہے ، مثلا اصل خط میں حضرت شیخ الہند کے ساتھ آفندی کا لفظ نہیں ہے، نیز اس میں ’’اس‘‘ اسے کے بجائے ان اور انھیں کے الفاظ ہیں۔

اس غالب نامہ کا متن ظاہر ہے کہ برٹش حکومت کو اکھاڑ پھینکنے اور اس کے خلاف بغاوت کی دعوت دیتا ہے ۔ یہ شیخ الہند ؒ کی ہدایت کے مطابق ، خان جہاں پور مظفر نگر کے رہنے والے مولانا ہادی حسن حجاز سے ہندستان لے کر آئے تھے، جب کہ برٹش حکومت کی سی آئی ڈی کی رپورٹ میں ’’مولوی محمد میاں‘‘ کا نام تحریر کیا ہے۔

ڈی ڈی دیان کے دستخط کے ساتھ سی آئی ڈی کی رپورٹ میں غالب نامہ کے تعلق سے یہ لکھا گیا ہے کہ : ’’محمود حسن نے حجاز کے والی غالب پاشا سے یقینا غدارانہ ساز باز کی، لیکن یہ معلوم نہیں ہوتا ہے کہ آخر الذکر نے اس مہم میں اس کی زیادہ  ہمت افزائی کی، غالب پاشا نے کہا کہ ترک دوسرے قصوں میں الجھے ہوئے ہیں، وہ نہ تو افغانستان مدد بھیج سکتے ہیں اور نہ ہندستان کو لشکر روانہ کرسکتے ہین، تاہم انھوں نے مولانا کو فرمان جہاد دے دیا، جسے مولوی محمد میاں نے ہندستان بھیج دیا، وہ اس جماعت میں شامل تھے،جو جنوری ۱۹۱۵ء میں لوٹی تھی ، کہا جاتا ہے کہ آزاد علاقہ کے کٹر متعصب قبائل کو ہمارے خلاف مقابلے میں لانے کے لیے اسے بڑے موثر طریقہ پر استعمال کیا گیا، اس کی نقلیں کرکے ہندستان میں تقسیم کرائی گئی تھیں۔

یقین کیا جاتا ہے مولوی محمود حسن اور مولوی خلیل احمد دونوں ۱۹۱۶ء میں کسی وقت حجاز میں جمال اور انور سے ملاقات کی تھی، لیکن ان ملاقاتوں کے بارے میں کسی اور تفصیل کا علم نہیں، مولوی خلیل احمد ستمبر ۱۹۱۶ء میں ہندستان واپس آگئے، جب کہ مولوی محمود حسن اور ان کی جماعت کے چند منتخب اراکین حجاز ہی میں ٹھہرے رہ گئے اور شاید اب بھی مدینہ ہی ہیں۔کسی وقت مولوی محمود حسن کو خیال ہوا تھا کہ وہ حجاز سے قسطنطنیہ جائے ، لیکن ہم نہیں سمجھتے کہ اس نے اپنا یہ ارادہ پورا کرلیا ہو ، ابھی حال تک وہ مکہ تھا۔

ڈی ڈی دیان کی اس رپورٹ میں جن مولانا خلیل احمد کا ذکر سیاسی منصونہ بندی کے ذیل میں کیا گیا ہے ، وہ تفصیلات کے جائزے کے بعد محض افواہ پر مبنی قرار پاتا ہے۔ مولانا مدنیؒ جو بذات خود معاملہ میں شامل اور حضرت شیخ الہندؒ کے ساتھ تھے نقش حیات میں اس سلسلے میں تفصیل سے لکھتے ہوئے بتایا ہے کہ مولانا خلیل احمد صاحب کایہ سفر بمعیت اہلیہ محترمہ صرف حج و زیارت کے لیے تھا، کوئی سیاسی منصوبہ ان کے سامنے نہیں تھا۔ مدینہ طیبہ میں حضرت شیخ الہندؒنے ان کو اپنا ہمنوا بنا لیا تھا، ان کے ساتھ جو دیگر حضرات تھے وہ بھی سیاست سے خالی الذہن تھے ، ان کو سیاسی پارٹی قرار دینا صحیح نہیں ہے، البتہ بعد کی تحقیقات سے جو تفصیلات سامنے آئی ہیںان سے یہ انکشاف ہوتا ہے ، سیاسی معاملات میں پختہ تربیت نہ ہونے اور سیاست سے خالی الذہن ہونے کے سبب ریشمی خط غالب نامہ کے افشا میںایسے حضرات کی بے احتیاطیوں کا دخل ہے ، کچھ ایسی تحریریں بھی سامنے آگئی ہیں، جن سے معلومات ہوتا ہے کہ جن حالات میں حضرت شیخ الہندؒ مولانا محمود حسن اور ان کے خصوصی رفقا انگریزوں کے خلاف آزادی ہند کی تحریک چلارہے تھے، ان سے اتفاق نہیں تھااور اسے پسند نہیں کرتے تھے، اس لیے غالبا ریشمی خط کے راز کو چھپائے رکھنے میں جس احتیاط اور پختہ عملی و ذہنی کوششوں کی ضرورت تھی، وہ نہیں کیں، ایسے حضرات میں مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری حضرت شیخ الہندؒ کے عزیز میاں مسعود وغیرہ کے نام بھی آتے ہیں۔اس کے باوجود اس کی صراحت نہیں ملتی ہے کہ غالب نامہ اس وقت انگریزی سی آئی ڈی کے ہاتھ لگ گیا تھا بلکہ کچھ تحریریں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ غالب نامہ یا حضرت شیخ الہندؒ کی دوسری تحریریںاس کی دسترس میں نہیں آسکی تھیں، البتہ غالب نامہ کے متعلق مولانا عبیداللہ سندھی اور ان دیگر رفقا کے خطوط سے معلوم ہوا ، یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مولانا سندھی کے زعفرانی ریشمی کپڑے پر لکھے خطوط اور تحریک سے متعلق اس سے وابستہ دیگر حضرات کے اور تحریک سے متعلق مکتوبات بھی دیے جائیں، ان سے ریشمی رومال تحریک کے افہام و تفہیم میں مدد ملے گی اور دیگر متعلقہ امور پر تنقید و تبصرے میں بصیرت و آسانی پیدا ہوگی۔

مولانا عبیداللہ کا خط مولانا محمود حسن کے نام

احوال انجمن دیگر (موسوم) بنام حکومت موقتہ ہند

ایک ہندستانی رئیس مہندرپرتاپ ساکن بندرابن جسے آریاوں کی جماعت سے خاص تعلق ہے اور ہندستانی راجگان سے واسطہ در واسطہ ملتا ہے ۔ گذشہ سال جرمنی  پہنچا۔ قیصر سے ہندستان کے مسئلے میں ایک تصفیہ کرکے اس کا ایک خط بنام روساء ہند و امیر کابل لایا۔

حضرت خلیفۃ المسلمین نے بھی قیصر کی طرح اسے اپنا وکیل ہند بنایا اس کے ساتھ مولوی برکت اللہ بھوپالی جو جاپان و امریکہ میں رہ چکے ہیں ، برلن سے ہمراہ ہوئے۔قیصر کے قائم مقام ایک اور سلطان المعظم کے ایک افسر اس کے ساتھ کابل آئے ، یہ لوگ میرے کابل  پہنچنے سے پہلے سے دس روز قبل پہنچ چکے تھے ، انھوں نے ہندووں کے فوائد کی تائید میں ہندستانی مسئلہ امیر کے سامنے پیش کیا اور کابل میں دونوں نے ایک انجمن کی بنام مذکورہ بالا بنیاد ڈالی ۔ اس کا کا م یہ ہے کہ وہ ہندستان کے معاملات پر مستقبل میں دول عظمیٰ سے معاہدات کرے۔

ایسے اسباب پید اہوگئے کہ انھوں نے مجھ سے اس انجمن میں شامل ہونے کی درخواست کی میں نے اسلامی مفادات کی حفاظت کی نظر سے قبول کیا۔

 (۱) چند روز مباحثات کے بعد اس انجمن نے قبول کرلیا کہ افغانستان اگر جنگ میں شرکت کرتا ہے تو ہم اس کے شاہزدے کو ہندستان کا مستقبل بادشاہ ماننے کو تیا رہیں۔ اور اس قسم کی درخواست امیر صاحب کے یہاں پیش کردی ، لیکن چوںکہ امیر صاحب ابھی شرکت جنگ کے لیے تیار نہیں ، اس لیے معاملہ ملتوی کر رکھا ہے۔

(۲) اس حکومت کی طرف سے روس میں سفارت گئی ، جس میں ایک ہندو اورا یک مہاجر طالب علم تھا جو افغانسان کے لیے مفید اثرات لے کر واپس آئے ، اب روس کا سفیر کابل آنے والا ہے۔ روس کی انگریزوں سے برہمی میں جس کے فیصلے کے لیے کچز جاتا ہوا غرقاب ہوا، ممکن ہے کہ سفارت مذکورہ کا اثر بھی شامل ہو۔

(۳) ایک سفارت براہ ایران قسطنطنیہ اور برلن گئی ہے ، اس میں دونوں ہمارے مہاجر طالب علم ہیں ، امید ہے حضور میں حاضر ہوکر مورد عنایت ہوںگے۔

(۴) اب ایک سفارت جاپان اور چین کو جانے والی ہے۔

(۵) ہندستان میں پہلی سفارت بھیجی گئی، وہ زیادہ کامیاب نہیں ہوئی۔

(۶) اب دوسری سفارت جارہی ہے۔

(۷) تھوڑے دنوں میں ایک دوسری سفارت برلن جانے والی ہے۔

جرمن سفارت سے میرے ذاتی تعلقات بہت اعلیٰ درجے پرہیں ، جس سے اسلامی فوائد میں بہت مدد ملے گی ۔ اس حکومت موقتہ میں راجہ پرتاپ صدر ہیں ، مولوی برکت اللہ بھوپالی وزیر اعظم اور احقر وزیر ہند ۔فقط والسلام(عبیداللہ)

مولانا عبید اللہ سندھی کا خط بنام شیخ عبدالرحیم

۹؍ رمضان یوم دو شنبہ 

(مطابق ۱۰؍ جولائی ۱۹۱۶ء)کابل

سلام مسنون!آپ ضرور ،یہ امانت مدینہ طیبہ میں حضرت مولانا کی خدمت میں کسی معتمد حاجی کی معرفت پہنچا دیں، یہ ایسا کام ہے کہ  اس کے کے لیے مستقل سفر کرنا نقصان نہیں ، اگر آدمی معتمد ہو تو زبانی یہ بھی کہہ دیں کہ حضرت مولانا یہاں آنے کی بالکل کوشش نہ کریں اور مولوی اگر اس حج پر نہ آسکیں تو خیال فرمالیں کہ اس کا آنا ممکن نہیں۔

آپ اس کے بعد خود میرے پاس آنے کی کوشش کریں، کیوں کہ یہاں بہت سے ضروری کام ہیں ، ضرور آئیے، اگر خدا نخواستہ آپ کو معتمد حاجی نہ مل سکے، اور آپ خود بھی نہ جاسکیں، تو مولوی حمد اللہ پانی پت والے سے اس معاملے میں مدد لیں۔ یہ ضروری ہے کہ اس حج کے موقعہ پر یہ اطلاعات حضرت مولانا کے پا س پہنچ جائیں اور وہاں سے جو اطلاع ملے، وہ براہ راست نہ ہوسکے تو مولوی احمد لاہوری کی معرفت ضرور ہی ملنی چاہیے۔عبیداللہ عفی عنہ

اس سلسلے میں تین خطوط کا حوالہ آتا ہے ، اس حساب سے مولانا سندھی کا ایک اور مکتوب حضرت شیخ الہند ؒ کے نام ہونا چاہیے، لیکن ریکارڈ میں ان کے حوالے سے یہ دو ہی خط ملتے ہیںجن مکتوب میں حضرت شیخ الہندؒ کے بھیجے غالب نامہ ریشمی خط کا حوالہ نہیں ملتا ہے ۔ حضرت شیخ الہند کے نام مولانا سندھی کے خط میں کوئی تاریخ مرقوم نہیں ہے لیکن شیخ عبدالرحیم سندھی کے نام مولانا عبیداللہ سندھی کے تحریر کردہ مکتوب سے ایک دن پہلے ۹؍ جولائی ۱۹۱۶ء کو مولانا محمد میاں منصور انصاری نے جو مکتوب مولانا محمود حسن کے نام تحریر کیا ہے، اس میں غالب نامہ اور اس کے متعلق دیگر امور کا حوالہ ملتا ہے۔ اور غالباً تیسرا مکتوب یہی ہے ، اس رائے کو تقویت اس بات سے ملتی ہے کہ کچھ تحریروں میں اس کا ذکر ہے کہ یہ بھی ریشمی کپڑے پر لکھا گیا تھا۔حضرت شیخ الہندؒکا ارسال خط غالب نامہ تو مولانا سندھی اور ان کے دیگر رفقا کے ساتھ اور بھی بہت سے افراد کو مل گیا تھا لیکن اس کا واضح ذکر نہیں ملتا ہے کہ مولانا سندھی کے لکھے خطوط حضرت شیخ الہندؒ کو ملے یا نہیں، اس تناظر میں مولانا محمد میاں کے مکتوب کی ایک اہمیت ہوجاتی ہے ، اس سے ریشمی رومال تحریک کے کئی گوشے سامنے آتے ہیں، خط کا مکتوب کا متن یہ ہے 

مولانا محمد میاں کا خط حضرت مولانا محمود حسن کے نام

از کابل۸؍ رمضان المبارک۔ روز ابتدا

وسیلہ یومی و غدی حضرت مولانا صاحب مد ظلہ العالی،آداب و نیاز مسنونہ

جدہ کے بعد کا حال یہ ہے۔ بمبئی آرام و بے خطر پہنچے، بندر پر اسباب کی تلاشی میں خدام سے دانستہ اغماض برتا گیا ، فللہ الحمد ۔ مولانا مرتضیٰ کام کو ناممکن خیال کرتے ہیں ، اس لیے ان کو کام میں نہیں لیا گیا، مولوی ظہور صاحب بمبئی استقبال کو پہنچے تھے اور محمد حسین راندیر سے ، راندیر میں تحریک چندہ صرف سید صاحب کے خلاف سے ناکام رہی ، راندیر خطیب مکر جانے والے تھے نہ معلوم کیا ہوا، قاضی صاحب نے بعد ملاحظہ والا نامہ سرپرستی قبول فرمائی ، جماعت پر اعتماد بحال رکھ کر کام کرنے کی اجازت دی ، اس کام کو باضابطہ کرنے کے لیے ایک سالہ رخصت لینے کا قصد فرمارہے ہیں، جماعت کا ہر سہ ممبر سرفروشی کررہے ہیں ، مطلوب الگ ہوگیا، سید نور سست، مولانا رائے والے متفق و معاون ہیں، حکیم صاحب پچاس روپے ماہوار مکان پر جاکر خود دیتے رہتے ہیں اور درمیان میں بھی ایک دو بار جاتے رہتے ہیں اور گاہ بگاہ ڈاکٹر صاحب بھی، حنیف کو جماعت، دس روپے جیب خرچ دیتی ہے، وہ مکان پر ہی ہیں، مدرسہ نے ان سے کوئی ہمدردی نہیں کی، مالکان مدرسہ سرکار کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں ، نمائش کے دربار میں شرکت کا فخر بھی نصیب ہونے لگا۔ امیر شاہ مولانا عبدالرحیم صاحب کے دستی کام کے لیے پڑا ہے ، مولانا مدرسہ سے مرعوب ہیں، مگر خدام کی صفائی فرماتے رہتے ہیں مولوی رامپوری نے بھی تائید سے کنارہ کیا، مسعود بھی شکار ہوگیا۔

بندہ حسرت، آزاد سے ملا، دونوں پیکار ہوچکے ہیں ، کیوں کہ بندہ کا لوٹنا حضور تک ممکن نہ تھا، اس لیے آگے بڑھا، غالب نامہ احباب ہند کو دکھا کر حضرات یاغستان کے پاس لایا، حاجی بھی اب مہمند میں ہیں، مہاجرین نے مہمند، باجوڑ، صوات،بینر وغیرہ علاقوں میں آگ لگا رکھی ہے، ان علاقوں میں غالب نامہ کی اشاعت کا خاص اثر ہوا، اس لیے ضروری ہے کہ حسب وعدۂ غالب مصالحت کے وقت یاغستان کی خدمت کا خیا ل رکھا جائے۔ ضعف جماعت ہند سے مہاجرین کو کافی امداد نہیں پہنچ سکی ۔ بندہ یاغستان ایک ماہ قیام کرکے وفد مہاجرین کے ساتھ کابل پہنچا، مولانا سیف جماعت سے الگ ہوکر یہاں مقیم ہیں، ان کے لیے دولت کی طرف سے کام کی تجویز ہورہی ہے ، اعضائے وفد فضلین و عبدالعزیز ہیں۔مولانا الناظم کی توجہات و حاجی عبدالرزاق صاحب کی عنایات سے وفد کو دربار نصر اللہ میں رسائی کی ابتدائی کامیابی بھی ہوئی، بندہ ان سے الگ باریاب ہوا، حضور کے زیر اثر کام اور اس کے اصول کی تفصیل کی گئی ،خاص مقبولیت ہوئی، الحمد اللہ اور ان شا ء اللہ ۔ اس ذیل میں حاضر خدمت ہوںگا۔

یہاں کا حال یہ ہے کہ یہاں فتاویٰ و سفرائے ترک و جرمن پہنچے ، ان کا اعزاز پورا ہوا، لیکن مقصد میں ناکام رہے، وجہ یہ ہے کہ ترکی کا فرض تھا کہ ایام ناطرف داری میں ایران و افغانستان سے ان کی ضروریات معلوم کرتا، اس کے پورا کرنے کی سبیل کرتا اور حسب احوال معاہدہ دوستی کرتا، افغانستان نہ بڑی جنگ میں شرکت کا سامان رکھتا ہے اور نہ کوئی بڑی دولت اس کے نقصانات کی تلافی کا ذمہ دار ہے ، اس لیے شریک حرب نہیں ہوسکتا، اگر ضروری افسران، انجینئران، اسلحہ ، روپیہ دیا جائے اور بصورت غلبۂ کفر عصمت و اعانت کا عہد نامہ کیا جائے، تو شرکت کے لیے تیار ہیں۔ باایں ہمہ سردار نائب السلطنت ، عام سرحدی وزیر آفریدی مہمند ، باجوڑ ، صوات، بنیر، چکسر، غوربند، کرناہ، کوہستان، دیر، چترال وغیرہ میں اپنا اثر منظم کرتے اور ان سے وکلا طلب کر کے عہد شرکت بصورت جنگ لے رہے ہیں۔ یہ کام ایک حد تک ہوچکا ہے، سفرا جرمن واپس اور ترک مقیم ہیں، مگر بے کار۔ تعجب ہے کہ سفرا خالی ہاتھ آئے حتیٰ کہ کوئی کافی سند سفارت بھی نہ لائے ، ا یسی صورت میں کیا ہوسکتا ہے، مولانا الناظم باعافیت ہیں، دولت میں ایک حد تک اعتماد ہوگیا ہے، انگریز ان کو یہاں جاسوس ثابت کرنے کی سعی کرتے رہتے ہیں، جن کا کچھ نہ کچھ اثر بھی ہوتا ہے ۔ مگر الحمد للہ کہ ان کو اب تک پوری کامیابی نہیں ہوئی۔

مہاجرین طلبہ انگریزی اور بعض سکھ بھی اب یہاں حاجی عبدالرزاق صاحب کی مدد و نائب کی مہربانی سے آزاد ہیں اور مولانا الناظم کی زیر سرپرستی دیے گئے ہیں، مصارف بذمہ دولت ہیں۔ کوئی سرکاری کام ان کے ذمہ نہیں ہے۔ البتہ مولانا کے خاص کاموں میں بہ ایمائے نائب السلطنت دست و بازو ہیں، جن کی تفصیل یہ ہے 

ایک جمعیۃ ہندستان آزاد کرانے والی اس کا صدر ایک ہندی راجہ مقیم کابل ہے ، جو کہ سلطان معظم اور قیصر جرمنی کے اعتماد نامہ کے ساتھ یہاں پہنچا ہے۔ ناظم صاحب و مولانا برکت اللہ اس جماعت کے وزرا ہیں ، اس جماعت نے ہندستان میں مراکز و دیگر  دول سے معاہدات کرنے کے لیے حرکت کی ہے ، جس میں ابتدائی کامیابی ہوئی ہے۔اس کام میں عضو متحرک طلبہ ہی ہیں۔ ان میں بعض دربار خلافت ہوکر حاضر خدمت ہوںگے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ 

دوسری جماعت الجنود الربانیہ ۔ یہ فوجی اصول پر مخصوص اسلامی جماعت ہے، جس کا مقصد اولیہ سلاطین  اسلام میں اعتماد پیدا کرنا ہے ، اس کا صدر جس کا نام فوجی قاعدہ سے جنرل یا القائد ہے ، حضور کو قرار دیا گیا ہے اور مرکز اصلی مدینہ منورہ۔ اس لیے خیال ہے کہ حضور مدینہ منورہ میں رہ کر خلافت علیا سے ، افغانستان  ویران کے ساتھ معاہدے کی سعی فرمائیں اور افغانستان کے متعلق ، نیز یا غستان کے متعلق تجویز کو خدام تک پہنچا دینا کافی خیال فرمائیں۔

افغانستان شرکت جنگ کے لیے امور مذکورہ بالا کا طالب ہے جسے اولیا ء دولت عثمانیہ و خلافت ثانیہ تک پہنچانے کی جلد سے جلد تدبیر کیجیے۔کیوں کہ ہندستان میں کفر پر کاری ضرب لگانے کی یہی ایک صور ت ہے ، اہل مدرسہ مولوی محسن، سید نور کے ذریعے سے حضور کو ہند میں لانے کی سعی میں ہیں، کیوں کہ اب یہ معلوم ہوا ہے کہ حجاز میں بھی کام ہوسکتاہے ، ادھر انگریزوں میں پہلی سی عزت بوجہ عدم ضرورت اب نہیں رہی۔

قاضی صاحب، حکیم صاحب، ڈاکٹر صاحب، مولانا رائے والے حضور کو مراجعت ہند کے سخت مخالف ہیں ، یہ خطرہ بوجہ قصۂ غالب کے علم ہونے کے ذریعہ مطلوب ، اب پہلے سے بہت بڑھ گیا ہے ، اس لیے ایسی کسی تحریک کو ہرگز ہر گزمنظور نہ فرمایا جائے۔

مبلغ عطاء حضور کے مکان پر اور سید نور کو ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے جماعت کے سپرد کردیا گیا ، بندہ حصول قدم بوسی کی سعی میں ہے ، اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ کامیاب ہوںگا۔ مولانا الناظم، مولانا سیف، فضلین وعبدالعزیز و جملہ مہاجرین طلبہ سلام عرض کرتے ہیں، والسلام

برادر عزیز واحد مولانا حسین ، ان کے والدصاحب وبرادران ، حرمت اللہ و احمد جان صاحبان کی خدمت میں سلام مسنون۔ مدنی خطوط ہند لہ ڈاک کے حوالہ کردیے گئے تھے۔ ڈاکٹر شاہ بخش صاحب کی خدمت میں سلام مسنون عرض ہے۔ و سید ہادی و خدا بخش و حبیب اللہ غازی کو بھی۔

(۲)

تحریر اینکہ در ریاستہا ئے یاغستان خدام والا دین اسلام اٰجزا نمودہ اند۔ نمونہ آن ازین خط و قاصد نواب صاحب دیر و صوات معلوم خواہد شد۔ نواب دیر قوت پنجاہ ہزار فوج دارد بذریعۂ ملا صاحب بابڑہ اورا برائے خلاف انگریز نوشتہ شدہ بود۔ اور زبانی وعدۂ واثق نمودہ است۔ چنانچہ عبدالمتین خان پسر عمراخان غازی مرحوم از کابل فرار شدہ آمدہ۔ نواب دیر اورا جائے دادہ باوجودسخت سعی انگریز اورا نہ بخشید۔ بر ریاست عمراخان مرحوم برادر زادہ اش قابض و سخت حامی انگریز است۔ نواب دیر بمقابلۂ وے از فوج و روپیہ امداد عبدالمتین نمودہ قریب این شدہ است کہ بر ریست جنددل عبدالمتین خان را قابض نماید۔

امید است کہ در امروز و فردا قبضہ شود، ان شاء اللہ۔

عبد المتین بخدمت جناب ملا صاحب بابڑ حاضر شدہ بود ، سخت دشمن کفار است۔ بعد قبضہ ٔ این باقی رؤسائے یاغستان کہ خان خارد خان جار۔ خان نوی کلی ہستند ان شاء اللہ از دوستی کفار نائب خواہند شد۔ چراکہ فوت دیرو قوت جندول ہر دو انیقدر قوی است کہ باقی ہمہ خوانین را تابعداری شان لازم است۔ خوانین علاقہ چارمنگ خورد وخان کوٹلی از اوّل دشمنانِ انگریز اند۔ مجموعہ قوۃ ذاتی شان قریباً یک ہزار نفری است۔ و معہ اقوام آزاد چار منگ (کہ در غزی شریک شان می باشند) تا ۳ ہزار می رسد۔ درین خوانین محمود خان قابل ترین و خادم دین است۔ ان شاء اللہ تعالیٰ از نواب دیروجندول وغیرہم عرضداشتہا ہمراہ خود خواہم آورد۔ این فقط نمونہ کار و احوال است۔ از دربار خلافت امید است کہ از حقوق این نواح غافل نخواہد بود۔ از احیاء ایشیا اوسطے کہ از قوۃ اسلامیہ پرودد زیر اثر کفار است چشم پوشی نتوان کرد۔ برائے ترقی و بقائے خلافت علیہ و حفاظت اسلام در خیال بندہ احیائے ایشیائے اوسطے علیٰ الخصوص ہندوستان از افریقہ کم نیست۔ پس لازم است کہ ماہمہ وسائل خویش را درین باب صرف نمایم فقط۔

محمد میاں عفی عنہ انصاری ابوایوبی

مقام جائے ملا صاحب بابڑہ (باجوڑ)، یاغستان

۱۵؍شوال المکرم ۱۳۳۵ھ

خط مولوی محمد میاں انصاری بنام مولانا حسین احمد مدنی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بخدمت بابرکت مخدومنا جناب مولانا الشیخ سیّد حسین احمد صاحب مدرس الحرم مع برادران عم فیوضہم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ بندہ جس وقت ہندوستان پہنچا، غوغا تھا کہ حضرت مولانا مدظلہ‘ کو مع کل جماعت کے انگریز نے عدن میں قید کردیا۔ اب یہ مشہور ہے کہ شریف مکہ نے خدانخواستہ حضرت مدظلہم کو گرفتار کرکے انگریزوں کو دے دیا۔ خداتعالیٰ سے اس کی امید نہیں۔ ایک عریضہ حضرت کی خدمت میں ارسال ہے۔ اگر حامل عریضہ کی حضرت سے ملاقات نہ ہو تو آپ صاحبوں میں سے جو بھی موجود ہوں وہ مہربانی فرماکر میرے عریضہ کا ترکی میں ترجمہ کراکر بذریعہ والی مدینہ منورہ بخدمت حضرت انورپاشا وزیر اعظم خلافت سنیہ روانہ فرمادیں ضروری ہے۔ حاملِ عریضہ کو جس قسم کی مدد کی ضرورت ہو اس سے دریغ فرمادیں۔ حضرت والد صاحب کی خدمت میں سلام مسنون اور بچوں کو دعوات پہنچے۔ والسلام مع الاکرام۔

عریضہ  محمد میاں عفی عنہ انصاری ابوایوبی

۱۵؍شوال المکرم ۱۳۳۵ھ

نوٹ: باقی احوال یہ صاحب حاملِ عریضہ زبانی بیان فرمائیں گے، ان کو بھی آپ ترجمہ زبانِ ترکی میں فرماکر بخدمت حضرت عالی انورپاشا روانہ فرمائیں۔ یہ احوال اب معلوم ہوئے ہیں۔ محمد میاں عفی عنہ انصاری

فہرست تحریرات

۱- نمونہ عرضداشت جمعیۃ حزب اللہ یاغستان بخدمت اعلیٰ حضرت سلطان المعظم خلد اللہ ملکہ۔

۲- نمونہ عرضداشت علمائے خوانین یاغستان بجواب نامہ حضرت غالب پاشا والی حجاز بخدمت اعلیٰ حضرت سلطان المعظم۔

۳- عریضۂ بندہ بخدمت حضرت مولانا مدظلہ‘ العالی

۴- فہرست مرکز سرحدیہ منظور کردۂ دولت افغانستان

۵- عریضہ مولوی فضل ربی صاحب بخدمت حضرت مولانا مدظلہ‘ العالی۔

۶- عریضہ نواب دیر بخدمت جناب مُلّا صاحب بابڑہ۔

۷- خط قاضی دیر بنام مولوی فضل ربی صاحب

ان سب کا ترجمہ ترکی میں کراکر اور ایک بڑے لفافہ میں یک جا بند کرکے اس پر حضرت عالی انورپاشا کا پتہ لکھ دیا جائے اور والیِ مدینہ منورہ کی معرفت یا جو صورت احسن آپ کو معلوم ہو اس طریقہ سے حضرت انور میں روانہ فرمائیں۔ رازداری کا نہایت لحاظ رہے اور اصل ترجمہ کی ہمراہ ہو۔ قیصر جرمن کے خطوط ریاست ہائے ہند کے نام راجہ مہندرپرتاپ نے ترکستان سے روانہ فرمائے ہیں۔ ان کے پہنچانے کا جلد انتظام کیا جائے۔ اس ڈاک کا جواب اگر حضرت عالی انورپاشا سے حامل عرائض ہٰذا کے ہاتھ روانہ فرماسکیں تو اس سے یہاں کچھ تحریک پیدا ہوسکتی ہے۔ ورنہ جس افسر ترکی کو لفافہ دیا جائے، اس سے باضابطہ رسید لے کر ضرور روانہ فرمائیں۔ اگر حضرت عالی انورپاشا سے صرف رسید ڈاک حاصل ہوسکے تو نورٌ علیٰ نور۔ یہ امر خوب ذہن نشین کرنا چاہیے کہ اگر ایرانی راہ یا بصورت صلح روس روسی ریل کے ذریعہ سے کچھ عسکر سلطانی حدود دہرات وغیرہ پہنچ جاویں تو نائب السلطنت امیر کابل سے بغاوت بھی کرکے ہند پر حملہ کرسکتا ہے۔ عسکر سلطانی کے حدود افغانستان پر پہنچنے کی صورت میں لازم ہے کہ اس کی صحیح اطلاع ہم کو یاغستان میں جس طرح ہوسکے پہنچانی چاہیے۔ ہم اس نشان پر اعتماد کریں گے جو ہم سے غالب پاشا نے مقرر فرمایا ہے۔ فقط

محمد میاں عفی عنہ انصاری

مولانا محمد میاں انصاری کے یہ مکتوبات اس حوالے سے اہم ہیں کہ وہ تحریک ریشمی رومال کے کئی پہلو اور امور پر روشنی ڈالتے ہیں، حضرت مدنیؒ کے نام اس مکتوب میں نمبروار جن باتوں کا ذکر کیا ہے، ان میں سے بیشتر چیزیں ڈاکٹر ابوسلمان شاہجہاںپوری کی محنت اور کوششوں سے مجلہ ’علم و آگہی‘ کی خصوصی اشاعت تحریکات  ملّی میں شائع ہوچکی ہیں، یہ تحریرات خطوط اور عرض داشت وغیرہ کچھ دوستوں کی عنایت سے خاکسار کو مل گئی ہیں، ان کو بھی یہ نقل کردینا مفید مطلب ہوگا، اس سلسلے کی دستیاب دو خاکے ہیں، جن میں تیار کردہ فوج، جنودِ ربانیہ کے منصوبے کا نقشہ ہے، اور دوسرے جنودِ ربانیہ (خدا ئی لشکر)کے منصب دار ان کی فہرست ہے۔ (جدول ملاحظہ کریں)

منصب داران جنودِ ربانیہ

(الف): مربی (۱) سالار المعظم خلیفۃ المسلمین (۲) سلطان احمد شاہ قاچار، ایران (۳) امیر حبیب اللہ خان، کابل

ب: مردان (۱) انورپاشا (۲) ولی عہد دولتِ عثمانیہ  (۳) وزیر اعظم دولتِ عثمانیہ (۴) عباس حلمی پاشا (۵) شریفِ مکہ معظمہ (۶) نائب السلطنت کابل سردار نصراللہ خاں (۷) معین السلطنت کابل سردار عنایت اللہ خاں (۸) نظام حیدرآباد (۹) والیِ بھوپال (۱۰) نواب رام پور (۱۱) نظام بہاول پور (۱۲) رئیس المجاہدین۔

ج: جنرل یا سالار (۱) سلطان المعظم حضرت مولانا محدث دیوبندی مدظلہ‘ العالی (۲) قائم مقام سالار کابل مولانا عبیداللہ صاحب۔

د: نائب سالار (یا لیفٹیننٹ جنرل) (۱) مولانا محی الدین خاں صاحب (۲) مولانا عبدالرحیم صاحب (۳) مولانا غلام محمد صاحب بہاول پور (۴) مولانا تاج محمود صاحب سندھی (۵) مولوی حسین احمد صاحب مدنی (۶) مولوی حمداللہ خان صاحب (۷) حاجی صاحب ترنگ زئی (۸) ڈاکٹر انصاری (۹) حکیم عبدالرزّاق صاحب (۱۰) ملا صاحب بابرا (۱۱) کوہستانی (۱۲) جان صاحب باجوڑ (۱۳) مولوی ابراہیم صاحب کالوی (۱۴) مولوی محمد میاں (۱۵) حاجی سعید احمد انبیٹھوی (۱۶) شیخ عبدالعزیز شادیش (۱۷) مولوی عبدالکریم صاحب نائب رئیس المجاہدین (۱۸) مولوی عبدالعزیز رحیم آبادی (۱۹) مولوی عبدالرحیم عظیم آبادی (۲۰) مولوی عبداللہ غازی پوری (۲۱) نواب ضمیر الدین (۲۲) مولوی عبدالباری صاحب (۲۳) ابوالکلام (۲۴) محمد علی (۲۵) شوکت علی (۲۶) ظفر علی (۲۷) حسرت موہانی (۲۸) مولوی عبدالقادر قصوری (۲۹) مولوی برکت اللہ بھوپالی (۳۰) پیر اسداللہ شاہ سندھی۔

ہ: معین سالار (میجر جنرل) مولوی سیف الرحمن صاحب، مولوی محمد حسن مرادآبادی، مولوی عبداللہ انصاری، میر سراج الدین بہاول پوری، پاچا ملا عبدالخالق، مولوی بشیر رئیس المجاہدین، شیخ ابراہیم سندھی، مولوی محمد علی قصوری، سیّد سلیمان ندوی، عمادی، غلام حسین، آزاد سبحانی، کاظم بے، خوشی محمد، مولوی ثناء اللہ، مولوی عبدالباری، مہاجر وکیل حکومت موقتہ ہند۔

و: ضابطہ: (کرنل) شیخ عبدالقادر مہاجر، شجاع اللہ مہاجر نائب وکیل دولت موقتہ ہند۔ مولوی عبدالعزیز وکیل وفد حزب اللہ یاغستان، مولوی فضل ربی، مولوی عبدالحق لاہوری، میاں فضل اللہ، صدرالدین، مولوی عبداللہ سندھی، مولوی ابومحمد احمد لاہوری، مولوی احمد علی نائب ناظم نظارۃ المعارف، شیخ عبدالرحیم سندھی، مولوی محمد صادق سندھی، مولوی ولی محمد، مولوی عزیز گل، خواجہ عبدالحئی، قاضی (محی الدین)، قاضی ضیاء الدین ایم اے، مولوی ابراہیم سیالکوٹی، عبدالرشید بی اے، مولوی ظہور محمد، مولوی محمد مبین، مولوی محمد یوسف گنگوہی، مولوی رشید احمد انصاری، مولوی سیّد عبدالسلام فاروقی، حاجی احمد جان سہارنپوری۔

ز: نائب ضابطہ: (لیفٹیننٹ کرنل) فضل محمود، محمد حسن بی اے مہاجر، شیخ عبداللہ بی اے مہاجر، اللہ نواز خاں بی اے مہاجر، رحمت علی بی اے مہاجر، عبدالحمید بی اے مہاجر، حاجی شاہ بخش سندھی، مولوی عبدالقادر دین پوری، مولوی غلام نبی، محمد علی سندھ، حبیب اللہ۔

ح: میجر: شاہ نواز، عبدالرحمن، عبدالحق۔

ط: کپتان: محمد سلیم، کریم بخش۔

ی: لیفٹیننٹ:نادرشاہ۔

(نوٹ) ایک اور فہرست میں محمد علی سندھی اور حبیب اللہ کا نام میجر کی فہرست میں درج ہے۔

نمونہ عرضداشت علماء و خوانین یاغستان

مورخہ یکم رمضان المبارک ۱۳۳۵ھ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بتوسط غازی فی سبیل اللہ، سر حلقۂ اہل اللہ، تاج الاصفیاء، سلطان العلماء حضرت مولانا محمود حسن صاحب عم فیوضہ‘

بملاحظہ عالی خدام سلطان الدین خاقان البحرین خادم حرمین الشریفین خلیفہ رسول رب العالمین سلطان ابن سلطان اعلیٰ حضرت سلطان محمد خان خامس خلداللہ ملکہ و سلطنتہ

بعد آداب و نیاز مسنونہ قابل دربار شاہانہ معروض آنکہ مامسلمانانِ یاغستان علاقۂ مہمند و باجوڑ وغیرہ تاعلاقہ آلائی حسب ہدایات خدام حضرت سلطان العلماء مولانا محمود حسن صاحب ہندی دریں جنگ حاضرہ قوت خود را بمقابلہ انگریز برحدود پشاور وغیرہ (ہند) صرف نمودہ یک قوۃ عظیمہ را از مقابلہ افواج قاہرۂ آنحضور اقدس باز داشتہ ایم و تااختتام جنگ بعونہ تعالیٰ خواہیم داشت۔ علاوہ ازیں دیگر برادرانِ مادر علاقجات تیراہ (آفریدی) و وزیرستان و مسعودہم دریں زمانہ در جہاد مصروف ہستند۔ چونکہ مایان خدام دربارِ خلافت دشمنی انگریز ظاہر نمودہ بغرض حمایت دین متین خود انگریز را بجنگ و ڈاکہ جات بسیار تکلیف دادہ ایم۔ بدیں وجہ انگریز بعد از ختم جنگ ضرور است کہ قوۃ کاملہ خود را در محو کردن ما صرف نماید۔ وماہرگز قوۃ مقابلہ باقوۃ  کا ملہ اس نداریم۔

لہٰذا بکمال ادب و امید گزارش است کہ حسب وعدۂ قائم مقام خود حضرت غالب پاشا والی و قائد صوبۂ حجاز شریف اوّل در عہد نامہ دولتی صورۃ حفاظت کل یاغستان نمودہ شود۔ و بعد ازاں ملک مادا بذریعہ خدام خویش ترقی دادہ شود۔ باقی احوال از عریضہ جناب مولانا محمد صاحب انصاری ابوایوبی منکشف خواہد شد۔ حق تعالیٰ ملک مارا زیر سایہ سریر خلافت علیہ عثمانیہ سرسبز و شاداب کند آمین ثم آمین۔ فقط والسلام مع الوفا الاکرام۔

عریضہ ادب

مہر غازی مشہور و معروف جناب ملا صاحب بابڑہ مہر صاحبزادہ فضل قادر صاحب بنوری پیرخانہ خوانین علاقہ چارمنگ و نواب دیر و صوات

مہر مولوی فضل ربی صاحب مہاجر

(مہر) محمود خاں، (مہر) مدار خاں، (مہر) زورآور خان، محمد ایوب خاں خان چار منگ خورد، خان چارمنگ خورد ، خان کوٹکی

(۱۰)

خط قاضی دیر بنام مولوی فضل ربی صاحب

فضائل پناہ فواضل دستگاہ جناب مولوی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ خیریت طرفین نیک نصیب و نعیمی جناب نواب صاحب خواہش میدارد کہ اگر یک مردم دانندۂ کہ عبارت از ہرتال و سرمہ و زر نیخ دگوگرد۔ و سرب وغیرہ نہایت مہربانی خواہد بود۔ و نیز اگر بکمال سعی و کوشش آں مہرباں توپ و می شود برائے نواب صاحب نہایت مہربانی خواہد بود و نیزیک مردم کار در سلطانی و خواہ کرام دولت بکوشش آں مہرباں وارد و این علاقجات بعید از عنایت نخواہد امید کہ از کمال سعی و کوشش آں مہرباں کارخانہ ہائے نواب صاحب از آہنگراں و ترکانان (ترکھانان) وغیرہ ماہرین فنون و قواعد سلطانی اباد شود۔ توپ مشین گنج ہرچند قسمت کہ صرف شودادا خواہدکرد۔ واین نیاز مند را از تابعدار حقیقی تصور فرمائید۔ از خدمات لائقہ یا دوشاد میفرمودہ باشد۔ و دارندۂ خط ہٰذا ملا صاحب چوکیاش ہرچہ لسانی بیاں نمود صدق دانید زیادہ خیریت فقط۔

۱۲؍شہر رمضان المبارک ۱۳۳۵ھ خادم شرع نبویؐ قاضی…… مہر

تحریک ریشمی رومال کے ایک مرحلے میں راجہ مہندر پرتاپ کا نام بھی خاصا اہم ہے، اس سلسلے کی تحریروں اور خطوط میں بار بار ان کا نام بھی آتا ہے۔ ان کے تعلق سے کچھ باتیں ملتی ہیں، ان کی خودنوشت سوانح کا ذکر ملتا ہے، مگر وہ راقم سطور کی نظر میں نہیں ہے۔ نقش حیات، تحریک شیخ الہند، مقامِ محمود وغیرہ جیسی متعدد کتابوں میں راجا صاحب کے متعلق مختلف قسم کی تفصیلات ملتی ہیں، سردست ان کی طرف سے تحریر کردہ ایک دو نوٹس ملے ہیں، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی نقل کردیے جائیں۔

مہندرپرتاپ آف مرسان (علی گڑھ) صوبہ جات متحدہ کا ایک اہم خط

۵۸۱، سی آئی ڈی شمالی مغربی سرحدی صوبہ کابل کے سراج الاخبار مورخہ ۴؍مئی ۱۹۱۶ء سے یہ اقتباس کیا گیا ہے:

ذیل میں ہم ایک خط شائع کررہے ہیں جو ہمیں سراج الاخبار افغانیہ میں شریک اشاعت کرنے کے لیے کنور صاحب مرسان یعنی راجہ صاحب ہاتھرس سے وصول ہوا ہے جو آج کل افغانستان کی مقدس بادشاہت کے مہمان ہیں۔

ایک بہت اہم مراسلہ

محل باغ بابر شاہ، کابل

مورخہ ۱۵؍اپریل ۱۹۱۶ء

دوست عزیزم، مدیر سراج الاخبار

میں تکلیف دہی کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا ہوں کہ مجھے بعض ہندوؤں میں خواہ مخواہ بدنام کیا گیا ہے۔ میں آپ کے (اخبار) کے ذریعے اس غلط بیانی کی تردید کرنی چاہتا ہوں۔

ان اخبارات نے یہ الزام لگایا ہے کہ میں نے خود کو ایک بڑا مہاراجہ ظاہر کیا اور اعلیٰ حضرت قیصر جرمنی میں شامل ہوگیا۔ میرے خلاف یہ جھوٹی الزام تراشی ہے۔ میں نے خود کو کبھی مہاراجہ بلکہ راجہ بھی نہیں کہا، نہ میں کسی کے شامل ہوا نہ میں نے کسی کی ملازمت اختیار کی۔

یہ صحیح ہے کہ جنگ چھڑنے پر میں جرمنی گیا تھا، تاکہ وہاں کی صورتِ حال کا مشاہدہ کرسکوں۔ حکومت نے مجھ پر عنایت کی اور مجھے اگلی خندقوں سے اور ہوائی جہاز سے جنگ کا مشاہدہ کرنے کا موقع دیا۔ مزیدیہ کہ معظم قیصر جرمنی نے خود مجھے باریابی کا موقع دیا۔ اس کے بعد سلطنت جرمنی سے ہندوستان اور ایشیا کا مسئلہ طے کرنے کے بعد اور ضروری تعارف حاصل کرلینے کے بعد مشرق کو واپس ہوا۔ میں نے مصر کے خدیو سے، شہزادوں سے اور وزیروں سے ملاقاتیں کیں اور مشہور آفاق انورپاشا اعلیٰ حضرت خلیفہ سلطان المعظم سے ملاقات اور گفتگو کی۔

میں نے سلطنت عثمانیہ سے مشرق کا اور ہندوستان کا مسئلہ طے کیا اور ان سے بھی ضروری تعارفی دستاویز حاصل کیں۔ جرمن اور ترک افسران مولوی برکت اللہ صاحب کو میرے ہمراہ میری مدد کے واسطے رہنے دیا۔ وہ اس وقت بھی میرے ساتھ ہیں۔

ہزاروں مصائب و مشکلات اور خطرات کا مقابلہ کرکے اور ایک خداترس انسان کی مہربانی سے ہم بغداد و اصفہان ہوتے ہوئے افغانستان پہنے۔ اعلیٰ حضرت امیر کی غیرجانبداری کے باعث ہم یہاں پڑے رہے۔ گوکہ ہم آپ کی حکومت کے مہمان ہیں اور ہمارے ساتھ بڑے احترام کا سلوک کیا جاتا ہے اور ہمیں ہر قسم کا آرام پہنچایا جاتا ہے۔

میرے دوستوں کو یہ بات معلوم ہوجانی چاہیے۔ اگر وہ شکرگزار نہیں تو بھی انھیں آئندہ یاوہ گوئینہیں کرنی چاہیے، میں کسی شخص کا یا کسی قوم کا دشمن نہیں، میں ساری دُنیا کا دوست ہوں۔

ہمارا واحد مقصد یہ ہے کہ ہر شخص اور ہر قوم آزادی کے ساتھ اور آرام کے ساتھ اپنے مکان یا اپنے ملک میں زندگی گزارے اور روئے زمین سے اس قسم کی جنگ و کشاکش کا نشان مٹ جائے۔

جو دنیا کا اور ہندوستان کا خادم اور بودھوں، عیسائیوں، ہندو اور مسلمانوں کا دوست ہے، بعض لوگ کنور صاحب مرسان اور بعض لوگ راجہ صاحب ہاتھرس کہتے ہیں۔ مزید یہ کہ میرے ذاتی نظریات اور میرے افعال کے لیے کوئی بھی شخص، میرا کوئی دوست یا میرا حقیقی بھائی… مرسان یا میرا رشتہ دار مہاراجہ صاحب جنید یا آرٹ اسکول پریم مہادوتالیہ (بندرابن) مطلق ذمہ دار نہیں۔دستخط ایم پرتاپ

مذکورہ تفصیلات سے تحریک شیخ الہند کے تناظر میں تحریک ریشمی رومال، افغانستان میں ملی جلی عبوری حکومت اور دیگر قبائلی علاقوں میں انگریزوں سے ملک کو آزاد کرانے کی جدوجہد کا قدرے واضح خاکہ سامنے آجاتا ہے، یہ اپنے مقاصد میں کس حد تک کامیاب ہوئی، اور اس کے اثرات و نتائج کیا برآمد ہوئے، اور جو ناکامی ہوئی اس کے اسباب و وجوہ کیا تھے، ان پر آج بھی غوروفکر کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، اور جہاں تک تحریک ریشمی رومال کی اہمیت کا معاملہ ہے تو اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ برٹش سامراج نے اس کی حقیقت جاننے کے لیے اپنی طاقت جھونک دی تھی، اور تحریک کے خدوخال کو اُجاگر کرتے ہوئے اس کے اور اس سے جڑے افراد کی سرگرمیوں سے متعلق ریشمی خطوط کیس کے عنوان سے ایک ہزار صفحات پر مشتمل رپورٹ تیار کرکے مقدمہ بنایا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ مندرجہ ذیل اشخاص نے یکم جنوری ۱۹۱۳ء اور یکم جنوری ۱۹۱۷ء کے درمیان برطانوی ہند کے اندر اور باہر سازش کی ہے ملک معظم شہنشاہ کی افواج کے خلاف جنگ کرنے کی، جنگ کے لیے کوشش کرنے کی اور جنگ میں مدد دینے کی کوشش کرنے کی یا اس بات کی کوشش کی ہے کہ ملک معظم شہنشاہ کو برطانوی ہند کے اقتدارِ اعلیٰ سے محروم کردیں، یہ کارروائیاں، ضابطہ فوجداری ہند کی دفعہ ۱۲۱ کے تحت مستلزم سزا ہیں، ایسے ملزم اشخاص میں حضرات مولانا محمود حسن، مولانا عبیداللہ سندھیؒ، مولانا حسین احمد مدنیؒ، مولانا محمد میاں انصاریؒ، مولانا ابوالکلام آزادؒ، مولانا محمد علی جوہر، مولانا مرتضیٰ، مولانا عزیز گل، مولانا برکت اللہ بھوپالیؒ، مولانا حسرت مولانی، کالاسنگھ، مہیندرپرتاپ، مولانا ہادی حسن، محمد مسعود، عبدالحق جیسے ۵۹ حضرات شامل ہیں۔ آخرالذکر تینوں اس معنی کر قابل توجہ ہیں کہ مولانا ہادی حجاز سے ریشمی خط غالب نامہ لے کر آئے تھے اور حضرت شیخ الہندؒ کے عزیز  مسعود حسن کا ذکر دیگر تحریروں کے علاوہ سابقہ نقل کردہ خطوط میں بھی ہے، سے ریشمی خط کا راز افشا ہوا تھا، اور سرکاری گواہ بن گئے تھے اور عبدالحق کے ذریعے مولانا سندھیؒ کی طرف سے لکھے ریشمی خطوط کا معاملہ فاش ہوگیا تھا کہ یہ خطوط انھوں نے اپنی سادہ لوحی سے اپنے قدیم مربی، انگریز نواز، خان بہادر نواز خان کو دے دیے اور خان صاحب نے اپنا اعتبار بڑھانے کے لیے یہ خطوط انگریز افسر سر مائیکل اوڈائر کو پہنچادیے تھے، ان حضرات کے علاوہ کچھ دیگر اشخاص کے بھی نام خطوط اور آزادی کی سرگرمیوں کے افشاء راز کے سلسلے میں آتے ہیں۔ مثلاً کابل کے امیر حبیب اللہ خان، جس کے سامنے سب کچھ تحریک کے مجاہدین کررہے تھے، حضرت مدنی کی ’’نقشِ حیات‘‘ اور دیگر کتابوں میں لکھا گیا ہے کہ وہ ساری سرگرمیوں کی اطلاع انگریز کو دے دیا کرتا تھا، حضرت شیخ الہند اور مولانا عبیداللہ سندھیؒ کو مطلوبہ کامیابی نہیں ملی، تاہم اسے بے اثر اور پوری طرح ناکام نہیں کہا جاسکتا ہے۔ حضرت شیخ الہندؒ کے انتقال اور ریشمی رومال تحریک کے درمیان جنگ عظیم کی وجہ سے عالمی سطح پر حالات بدل گئے تو انھوں نے مالٹا کی قید سے رہائی کے بعد طریقۂ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے ملک کی اکثریت اور اس کے نمائندوں کے ساتھ غیرمسلح جدوجہد آزادی کا آغاز کیا، اس تناظر میں گاندھی جی کا حوالہ اور نام بہت اہم ہے، آزادی کی وہی اسپرٹ بعد تک جاری رہی، جو تحریک ریشمی رومال کے دوران تھی، لیکن گاندھی عہد میں اس کے داخل ہونے سے قدرے ہیت اور طریقۂ کار میں تبدیلی آگئی، یہ وقت کا تقاضا بھی تھا، اور ضرورت بھی، عدم تشدد پر مبنی آزادیِ وطن کی جدوجہد سے ملک انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا، تاہم تحریک شیخ الہندؒ اور اس کے اہم ترین مسلح جدوجہد کا مرحلہ، ریشمی رومال تحریک کے اثرات اور آزادی کی تحریک میں اہم رول سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے، ریشمی رومال تحریک کے اثرات اور کامیابی، ناکامی کے سنجیدہ مطالعہ سے ہمیں کئی اہم سوالات کے جوابات مل سکتے ہیں، اس حوالے سے تحریک ریشمی رومال کا عطیہ اور رول، ایک مسلم بات ہے، اس پر اب حکومت ہند  نے آزادیِ وطن کی جدوجہد میں تحریک شیخ الہندؒ کے رول کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے ڈاک ٹکٹ جاری کرکے مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس کے اعتراف کا دائرہ مزید وسیع ہوگا اور برادرانِ وطن کو بھی معلوم ہوگا کہ مسلم مجاہدین تحریک کا ملک کو آزاد کرانے میں کیا کیا قربانیاں اور رول رہا ہے۔