16 Feb 2026

کشمیر اور جمعیت علمائے ہند

 محمد یاسین جہازی 

(از 1919 تا 1950



کشمیر کی فروخت

پنجاب میں جتنا عرصہ سکھوں کو اقتدار حاصل رہا، ان کی خانہ جنگی نے پانچ دریاؤں کی سرزمین کو چین نہیں لینے دیا؛خصوصاً مہا راجہ رنجیت سنگھ کی موت کے بعد تو واقعات میں اس تیزی سے ردو بدل ہوا کہ وارثان رنجیت سنگھ نے بدیش سے آئے ہوئے حکمرانوں کو پنجاب حوالے کرنے میں دیر نہیں کی۔ ان دنوں سکھ افواج میں دیگر افسروں کے علاوہ گلاب سنگھ نامی جرنیل نے ایسا مرکزی کردار ادا کیا کہ انگریزوں کو پنجاب سنبھالنے میں دقت نہیں ہوئی۔ گلاب سنگھ نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور اقتدار میں اپنا کام شروع کر دیا تھا۔ انھیں حرکات کے باعث وہ پنجاب میں سکھ دربار کا وزیر اعظم مقرر ہونے میں بھی کامیاب ہو چکا تھا۔ اور اس طرح سے اس نے سکھوں کے شاہی خاندان میں افتراق پیدا کرنے میں بھی کامیابی حاصل کی۔ اس دوران وہ فرنگی حکمرانوں سے سازش کرتا رہا، تا آںکہ ایک دن ایسا آیا کہ گلاب سنگھ نے سکھ افواج کو قریب میں رکھ کر انگریزوں سے کشمیر کا سودا چکا لیا۔ یہ نومبر1845ء کا واقعہ ہے۔

جس تیزی اورفریب سے جنرل گلاب سنگھ نے سکھوں کو شکست دلا کرپنجاب انگریزوں کی سپرد داری میں دیا، انگریزوں نے اسی تیزی کے ساتھ جنرل گلاب سنگھ کو اس کی اپنی قوم سے غداری کے صلہ میں منھ مانگا انعام دیا۔

چنانچہ 9؍مارچ1846ء کو سکھوں کے ساتھ انگریزوں کا معاہدہ ہوا۔ اور15؍ مارچ 1846ء کو گلاب سنگھ نے انگریزوں سے کشمیر سے متعلق ایک الگ معاہدہ کر لیا۔ اور یہی وہ معاہدہ ہے، جو آئندہ ’’بیع نامہ امر تسر‘‘ کے نام سے مشہور ہوا۔

یہ معاہدہ ایک طرف حکومت برطانیہ اور دوسری طرف مہا راجہ گلاب سنگھ آف جموں کے مابین برطانوی حکومت کی جانب سے فریڈرک کیوری اور برینٹ ہنری مٹنگری لارنس کے ذریعے رائٹ آنریل سرہنری ہارڈنگس جی سی بی برطانوی ممبر عظمیٰ، آنریبل پریوی کونسل گورنر جنرل مقرر شدہ آنریبل کمپنی برائے ایسٹ انڈیز کے تمام معاملات کی رہنمائی کرنے اور کنٹرول کرنے کے حکم پر مہاراجہ گلاب سنگھ کی بہ نفس نفیس موجودگی میں طے پایا۔

بیع نامہ امرتسر کی دفعات

۱۔ برطانوی حکومت تمام پہاڑی علاقہ بمعہ تمام آزادی کے دریائے سندھ کے مشرق، راوی کے مغرب بمعہ چنبہ اور بغیر لاہور( جو کہ9 ؍مارچ 1846 ء کے لاہور کے صلح نامہ کی دفعہ چار کی رو سے ریاست لاہور کو دے دیا گیا ہے) مہاراجہ گلاب سنگھ اور ان کی اولاد نرینہ کے قبضہ میں تبدیل کرتی ہے۔

۲۔ خطۂ زمین کی مشرقی سرحد کو جو درج بالادفعہ کے تحت مہاراجہ گلاب سنگھ کے نام منتقل کیا گیا ہے، برطانوی حکومت اور مہا راجہ گلاب سنگھ کے اس مقصد کے لیے مقرر کیے ہوئے علی الترتیب کمشنران سروے کرنے کے بعد ایک علاحدہ ملاقات میں بنائیں گے۔

۳۔ مہاراجہ گلاب سنگھ اور ان کے وارث کے نام مندرجہ بالا دفعات کی رو سے انتقال ریاست کے عوض مہا راجہ گلاب سنگھ برطانیہ کو پچھتر لاکھ رو پے نانک شاہی، پچاس لاکھ اس صلح نامہ کے شروع ہوتے وقت اور پچیس لاکھ یکم اکتوبر1868ء کو،یا اس سے پہلے دے دیں۔

۴۔ ان علاقوں کی سرحدیں مہا راجہ گلاب سنگھ کبھی کسی وقت بھی برطانوی حکومت کی مرضی کے بغیر تبدیل نہیں کر سکیں گے۔

۵۔ کوئی مسئلہ متنازعہ -جو مہا راجہ گلاب سنگھ اور حکومت لاہور، یا کسی اور پڑوسی ریاست کے درمیان اٹھ کھڑا ہو- اسے طے کرنے کے لیے انھیں برطانیہ کو ثالث مقرر کرنا ہوگا۔اور وہ برطانوی حکومت کے فیصلے کو تسلیم کریں گے۔

۶۔ مہا را جہ گلاب سنگھ اوران کے بعد ورثا اپنی تمام تر قوت کے ساتھ برطانوی سپاہیوں کومل جائیں گے، جب کہ وہ پہاڑوں پر، یا ان کے مقبوضہ علاقوں کے پڑوس میں ہوں گے۔

۷۔ مہا راجہ گلاب سنگھ کسی برطانوی باشندے، یا یورپین باشندے، امریکہ کی ریاست کے باشندے کو اپنے یہاں ملازمت کرنے، یا خدمت لینے کی غرض سے بغیر برطانوی حکومت کی اجازت سے نہیں رکھیں گے۔

۸۔ مہاراجہ گلاب سنگھ خطۂ زمین کے انتقال کے عوض- جو کہ انھیں ملی ہے- برطانوی حکومت اور لاہور دربار کے درمیان علاحدہ صلح نامہ -جو بتاریخ11؍مارچ 1846ء کو ہوا- اس کی دفعہ ۵ - ۶ اور۷ کی عزت کریں گے۔

۹۔ برطانوی حکومت مہاراجہ گلاب سنگھ کو بیرونی دشمن حملہ آور سے بچانے میں ان کی مدد کرے گی۔

۱۰۔ مہاراجہ گلاب سنگھ برطانوی حکومت کی اطاعت قبول کرتے ہیں۔ اور اس اطاعت کے صلہ میں برطانوی حکومت کو ہر سال ایک گھوڑا، بارہ بکریاں، چھ بکرے اور تین جوڑے کشمیری شال کے پیش کریں گے۔

یہ صلح نامہ جس میں مندرجہ بالادفعات شامل ہیں، آج کے روز فریڈرک کیوری اور برنیٹ میجر منٹگری لارنس کے ذریعے سرہنری ہارڈنگس جی سی بی گورنرکے حکم سے برطانوی حکومت اور بہ نفس نفیس مہاراجہ گلاب سنگھ کے درمیان طے ہوا۔ اور آج کے روز رائیٹ آنریبل سرہنری ہارڈنگس جی سی بی گورنر جنرل کی مہر ثبت ہو کر منظور ہوا۔

امرتسر میں ماہ مارچ سولھویں دن1846ء، یعنی ربیع الاول کے سترھویں دن 1262ھ کولکھا گیا۔ انگریز اور گلاب سنگھ کے درمیان مندرجہ بالا تحریر پچھتر لاکھ سکہ رائج الوقت کے عوض وجود میں آئی۔

اور اس طرح گلاب سنگھ کو راجہ گلاب سنگھ بنا دیا گیا۔

کشمیر کے نئے وارثوں سے پیشتر یہاں کا حاکم اعلیٰ امام دین تھا۔ ڈوگرہ فوج جب کشمیر میں قبضہ کے لیے داخل ہوئی، تو گور نر امام دین کی فوج سے ان کی مڈ بھیڑ ہوئی۔ ڈوگرہ فوج شکست کھا کر لا ہور پہنچی۔ نئے معاہدے کے تحت انگریزوں نے امام دین کے مقابلے کے لیے گلاب سنگھ کو فوجی امداد دی؛ لیکن گورنر امام دین کو نئے معاہدے کی اطلاع مل چکی تھی،اور اس نے لڑائی کو مفید نہ سمجھ کر کشمیر گلاب سنگھ کے حوالے کر دیا۔

راجہ گلاب سنگھ نے کشمیر کے ارد گرد چھوٹی چھوٹی مسلم ریاستوں کو کشمیر میں ضم کرلیا۔ اور اب وہ راجہ سے مہاراجہ بن گیا۔ پھر کیا ہوا؟ یہ سوال تاریخ کے جواب دینے کا ہے کہ 1846ء کے بعد کشمیر جنت نظیر وہاں کی انسانی آبادی کے لیے جہنم کی آگ کیوں اٹھنے لگی، پھر جب مہاراجہ گلاب سنگھ نے استحکام راج کے لیے کشمیر میں مندرجہ ذیل آئین مسلط کیے، تو انسانوں پر کیا گذری؟

آئین کشمیر

۱۔ اگرکوئی غیر مسلم اپنا ایک مذہب تبدیل کرکے(یعنی مسلمان ہو جائے)، تو اس کی تمام جائداد بحق مہاراجہ ضبط کرلی جائے گی۔ اور وہ اپنے خاندانی حقوق سے محروم سمجھا جائے گا۔ اس ضمن میں وہ شخص بھی سزاوار ہوگا ،جو کسی غیرمسلم کواسلام کی تبلیغ کرے، یا مسلمان ہونے کی ترغیب دے۔

۲۔ مسلمان نہ تو قلم کے ذریعے اپنا موقف بیان کر سکتے ہیںاور نہ ہی انھیں زبان کی آزادی حاصل ہوگی۔

۳۔ فوج اور دوسرے سرکاری محکموں میں بھی مسلمانوں کو ان کی تعداد کے باوجود کم عمل دخل ہوگا۔

۴۔ زمینوں کی مالیت کے حقوق کی وارث ریاست ہوگی۔ زمین دار اپنی اراضی کے تمام حقوق سے محروم ہوںگے۔ یہاں تک کہ زمینوں میں قدرتی اگے ہوئے درخت بھی سرکاری سمجھیں جائیں گے۔ اور نہ ہی کوئی اس زمین پر اپنا رہائشی مکان تعمیر کر سکتا ہے بغیر ریاست کی اجازت کے۔

 ۵۔ ٹیکس بحیثیت حکومت الگ ہوں گے اور زمین دار سے اس کی پیداوار کا معقول حصہ بطور لگان کے بھی سرکار وصول کرے گی۔ نیز زمین دار کی بقایا پیداوار بھی ریاست خود اپنے مقرر کردہ بھاؤ پر خریدے گی اور پھر ریاست ہی اس جنس کو اپنے بھاؤ پر فروخت کرے گی۔

۶۔ بھیڑ، بڑی ہو یا بچہ، بکری بڑی ہو یا بچہ؛ دو روپے سات آنے فی جانور وصول کیا جائے گا، جب کہ غیرمسلم وہی پرانا ٹیکس ادا کریں، یعنی تین آنے فی جانور۔(مگر چوںکہ یہ دھندہ زیادہ تر مسلمان ہی کرتے ہیں، اس لیے ٹیکس کا بوجھ ان پر ہے)

۷۔ تعلیمی امور، شہروں میں اسکول اور مدارس کا انتظام بھی معقول نہیں؛تا ہم جو ہے، اس کا فائدہ بھی صرف غیر مسلم شہری آبادی کو پہنچتا ہے؛ لیکن غریب رعا یا -جو دیہات میں آباد ہے- ان کے لیے تعلیم کا کوئی انتظام نہیں، حالاںکہ ٹیکس کا بوجھ زیادہ ان پر ہے)۔

۸۔ ریاست کی حدود میں گاؤکشی جرم ہے۔ جو کوئی ایسا کرے گا،وہ سات سال قید اور جرمانہ کی سزا کا مستحق ہوگا۔ اس طرح کا وصول کردہ جرمانہ سرکاری خزانے میں نہیں؛ بلکہ گئو شالہ میں دیا جاتا ہے۔

۹۔ ریاست میں اگر کسی غیر مسلم کے ہاں لڑکی پیدا ہو، تو اسے انعام دیا جاتا ہے اور کچھ اراضی بھی ریاست کی طرف سے لڑکی کے والدین کو بطور انعام دی جاتی ہے۔

۱۰۔ کشمیری فوج کے اندر ریاست کی اکثریت کی آبادی کو اس انداز سے محروم کیا گیا کہ اس کے تمام تر فوائد غیر مسلم آبادی کو حاصل رہیں۔ ریاستی قانون کے موجب مسلمان فوج میں بھرتی نہیں ہو سکتا۔ جموں میں صرف ایک فوجی ٹریننگ کالج ہے۔ اس میں بھی اسی قانون کے تحت مسلمانوں پر پابندی ہے۔

۱۱۔ کشمیر میں قانون اسلحہ کے سلسلہ میں مسلمان بہت کم فائدہ اٹھا سکتے ہیں؛ یہاں تک کہ جنگلات میں وحشی درندوں سے خود حفاظتی کے طور پر بھی وہ اسلحہ سے محروم ہیں۔

۱۲۔ جنگلات کا قانون بھی مسلمانوں کے لیے مصیبت کا باعث بنا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ ریاست کا اکثر حصہ جنگلات پرمشتمل ہے۔ جنگلات سے کسی قسم کی لکڑی کاٹ کر، یا گری ہوئی اٹھانا جرم ہے۔(اس جرم میں روزانہ غریب دیہاتی مسلمانوں کو سزائیں ملتی ہیں؛ لیکن جنگلات میں اگر اتفاقا آگ لگ جائے، تو اس کو بجھانے کی ذمہ داری علاقہ کے غریب مسلمانوں پرعائد ہوتی ہے۔ اگر انکار کرے، تو اس پر مقدمہ دائر کر دیا جاتا ہے)۔

۱۳۔ اس طرح ریاست میں بیگار عام لی جاتی ہے۔ ریاست کا ہر زمین دار سرکاری اہل کاروں کے رحم و کرم پر ہے۔ (اس پر نہ کوئی فریا د سنی جاتی ہے اور نہ ہی قانون غریب مسلمان کی حمایت کرتا ہے۔)

۱۴۔ ریاست میں رشوت کا بازار اس قدر تیز ہے کہ اس سے بھی غریب مسلمان کا خون چوسنے میں ریاستی حکام کو مزا آتا ہے۔ 

یہ ہیں وہ ظالمانہ قوانین،جس کے بوجھ تلے کشمیر کے بیس لاکھ مظلوم تقریباً ایک صدی سے دبے ہوئے ہیں۔

ڈوگرہ شاہی کے خود ساختہ آئین نے کشمیر کی غلام رعایا کو ایک سو سال تک جس حال میں جکڑے رکھا، آخر وقت آیا کہ غلام نے انگڑائی لی اور اس جال کا ایک ایک دھاگہ تار عنکبوت کی طرح ٹوٹنے لگا۔

13؍جولائی1931ء کا دن تاریخ آزادی کشمیر کا سنگ میل قرار دیا جا سکتا ہے، جب 1846ء کاخریدا ہوا غلام اپنی زنجیریں توڑ کر بندوقوں اور سنگینوں کے سامنے آکھڑا ہوا۔ اور اس نے انقلاب زندہ باد کے نعروں سے قصر شاہی کو متزلزل کر دیا۔

 اس بغاوت کے محرکات بظاہر حسب ذیل واقعات ہیں:

ا۔ جموں میں 6؍ جون1931ء کو قرآن کریم کی تو ہین اور خطبۂ عید پر پابندی۔

 ۲۔سری نگر میں26 ؍ جون1931ء کو عبد القدیر کی گرفتاری۔(یہ ایک انگریز آفیسر کا خانساماں تھا، جو سیر و تفریح کے لیے کشمیر آیا ہوا تھا۔)

۳۔13؍ جولائی 1931ء کو گولی چلنے کے واقعات اور مسلمانوں کی شہادت۔ 

(کاروان احرار، جلد اول، ص؍170-175)

لڑائی کا آغاز

30؍اکتوبر1931ء تاریخ کشمیر کا ایسا دن ہے، جب پنجاب کے مسلمانوں نے کشمیر کے غلام مسلمانوں کو ڈوگرہ شاہی سے نجات کے لیے غیر آئینی تحریکات کا سیالکوٹ سے آغاز کیا ۔ مولانا مہر علی اظہر ایک سو رضا کار لے کر کشمیر کی حدود میں داخل ہونے کے لیے سچیت گڑھ روانہ ہوئے۔ اس طرح 30؍اکتوبر 1931 ء کو صوفی عنایت محمد پسروری نے ایک سو رضا کاروں کا قافلہ لے کرکو ہالہ کی طرف مارچ کیا۔ جہلم سے امرتسر اور جہلم کے مشترک نوجوانوں پر مشتمل ایک قافلہ میر پور روانہ ہوا۔

مولانا مظہر علی اظہر اور ان کے تمام ساتھی سچیت گڑھ سے ایک میل دور گرفتار کر لیے گئے۔ اس طرح عام محاذوںپر گرفتاریاں شروع ہو گئیں۔ متعینہ تعداد کے علاوہ سینکڑوں دوسرے لوگ بھی اپنے طور پر گرفتار ہونا شروع ہو گئے۔ (کاروان احرار، جلد اول، ص؍209)

’’2؍اکتوبر 1931ء ، تا 9؍جنوری 1932ء مجلس احرار کی تحریک میں احرار دفاتر کی رپورٹ کے مطابق چونتیس ہزار مسلمان قید ہوئے اور بائیس نوجوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ 

روزنامہ ’’اسٹیٹ مین‘‘ شملہ کی رپورٹ کے مطابق -جسے اس نے اپنی 4؍مئی 1932ء کی اشاعت میں شائع کیا- احرار سول نافرمانی کرنے والوں کی تعداد پینتالیس ہزار پانچ سو چھیاسی ہے۔ ‘‘ (شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری جلد دوم، ص؍572)

گلینسی کمیشن کا تقرر

تحریک پر برطانوی قبضہ اور احرار رہنماؤں کی گرفتاریوں کے بعد مہاراجہ نے انگریز کی سازش سے ایک اور اعلان کیا۔ اور تحریک کو سرد کرنے کے لیے گلینسی کمیشن کا اعلان کیا۔ 

13؍ نومبر1931ء کو گلینسی کمیشن کا اعلان کرتے ہوئے مہاراجہ کشمیر نے کہاکہ کمیشن میں اہل کشمیر کے منتخب نمائندے شامل کیے جائیں گے۔ کشمیریوں کو ان کے ابتدائی حقوق کے لیے بحث کا فوراً آغاز ہوگا۔ مذہبی شکایات کا تدارک کیا جائے گا۔ تعلیم کے متعلق مالی امداد دی جائے گی؛ لیکن آئینی حقوق کا فیصلہ ایک کا نفرنس کرے گی۔ (کاروان احرار، جلد اول، ص؍220)

گلینیسی کمیشن کے نقائص

11؍اکتوبر1932ء کو مولانا داؤد غزنوی اپنی میعاد اسیری گذار کر ملتان جیل سے رہا ہوئے، تو انھوں نے 16؍اکتوبر1932ء کو زعمائے کشمیر کے نام ایک طویل مکتوب لکھا۔ اس میں انھوں نے گلینسی کمیشن کے نقائص کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا کہ

امید ہے کہ آپ کانفرنس میں گلینسی کمیشن کی سفارشات غوروفکر اور استصواب رائے کے لیے نمائندگان کے سامنے پیش ہوگی۔ مجھے اجازت دیجیے کہ اس کے متعلق چند ضروری گزارشات پیش کروں۔

 جب مجلس احرار سے صلح کا سلسلہ شروع ہوا، تو گلینسی کی تجویز ہمارے سامنے پیش کی گئی تھی؛ لیکن ہم نے ان تجاویز کو آپ کے سامنے رکھنا بھی باعث تو ہین سمجھا۔ اتنی بے نظیر قربانیوں کے بعد ایسی کمزور شرائط کے ساتھ صلح کرنا شہدا کے خون کی ارزاں فروشی سمجھ کر ہم صلح پر آمادہ نہ ہوئے۔ اب کا نفرنس کے موقعہ پر ریاست کے تمام رہنما اور مقتدر نمائندے تشریف لائے ہوئے ہوں گے۔ اگر اس کا نفرنس میں کوئی خود دارا نہ قدم نہ اٹھایا گیا، تو اس سے بڑھ کر مسلمانان کشمیر کی اور کوئی بد قسمتی نہ ہوگی۔ گلینسی کمیشن کی سفارشات پر سرسری نظر ڈالنے سے بھی ہر شخص یہ سمجھ سکتا ہے کہ:

الف) مجوزہ اسمبلی کی ساٹھ نشستوں میں سے ستائیس نام زد ممبروں کے لیے اور تینتیس منتخب ممبروں کے لیے ہیں۔ ان میں صرف بیس نشستیں مسلمانوں کے لیے تجویز کی گئی ہیں، جس میں نصف کے قریب نام زد ممبروں کی بھرتی کرکے اسمبلی کو ایک کھلونا بنا دیا گیا ہے۔ اور دوسری طرف انتخابی نشستوں میںمسلمانوں کی زیادتی کا تناسب قطعاً نظر انداز کر دیا گیا ہے۔

 ب) اسمبلی کا صدر سرکاری عہدے دار تجویز کر کے اسمبلی کی آواز پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔

 ج) مجوزہ اسمبلی کی اکثریت کو یہ اختیار نہیں دیا گیا کہ محکمہ جات کے بجٹ کو منظور، یا نا منظور کرسکے؛ بلکہ ممبروں کو صرف مشورہ دینے کی اجازت دی گئی ہے، جس سے صریح طور پر اسمبلی کو پورا اقتدار حاصل نہیں ہو گا۔

 د) محکمہ جات متعلقہ کے وزیر کو ذمہ داری دینے کے متعلق گلینسی رپورٹ بالکل خاموش ہے۔

ہ) حق رائے دہی کے متعلق جو شرط تجویز کی گئی، مثلاً بیس روپے سالانہ مالیہ ادا کرنے والا، ایک ہزار قیمت کی غیر منقولہ جائدا د رکھنے والا؛ دونوں موجودہ حالات کے لحاظ سے بہت بلند ہیںاور ان شرائط کی موجودگی میں ملک کی آبادی کا وہ حصہ -جو ہمیشہ قربانی کرتا ہے- ملک کی مجلس آئین ساز کے نمائندوں کے انتخاب میں اپنی کوئی آواز نہیں رکھ سکے گا۔ (کاروان احرار، جلد اول، ص؍314)

کشمیر اور جمعیت علمائے ہند

جمعیت علمائے ہند کی تاریخ میں پہلی مرتبہ کشمیر کا تذکرہ مجلس منتظمہ منعقدہ:27؍تا 29؍ اگست 1924ء میں ملتا ہے، جس میں تجویزنمبر-9 میں کشمیر کے ریشم کے کارخانہ کے واقعہ پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی:

’’جمعیت منتظمہ کایہ جلسہ کشمیر کے کارخانہ ریشم کے واقعہ پر سخت اظہار افسوس کرتا ہے کہ مزدوروں کے پرامن جائز مطالبہ کو نہ سننا اور ان کے خلاف تشدد اور طاقت کا نہایت بے رحمانہ استعمال کرنا ؛ہر منصف مزاج کے لیے قابل نفرت وموجب غیظ و غضب ہے۔

حکام کشمیر کی اس کارروائی کے خلاف- جس کا مبنیٰ محض نخوت و رعونت و تعصب ہے - یہ جلسہ سخت نفرت کا اظہار کرتا ہے اور مظلوم مزدوروں کے ساتھ پوری ہمدردی رکھتا ہے اور ضروری سمجھتا ہے کہ مہاراجہ کشمیر ایک آزاد کمیٹی قائم کریں، جو پوری تحقیقات کر کے مفصل رپورٹ شائع کرے اور مہاراجہ اس ظلم و جبر کے ذمہ داروں کا پورا تدارک اور غریب مزدوروں کی شکایت کا ازالہ اور ان کی تکالیف کی تلافی فرمائیں۔‘‘ (جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، تجاویز اور فیصلوں کی روشنی میں، جلد اول، ص؍166)

 مہاراجہ کشمیر کوناظم عمومی حضرت سحبان الہند کی مبارک بادی

اس کے بعد پرتاپ سنگھ مہاراجہ جموں و کشمیر کی وفات کے بعد مہاراجہ ہری سنگھ23؍ستمبر1925ء کو وہاں کے تخت نشیں ہوئے اور باقاعدہ تاج پوشی فروری 1926ء میںہوئی۔ اس تقریب میں سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہندکو مدعو کیا گیا۔ آپ نے 22؍اکتوبر1925ء کو درج ذیل تار بھیج کر مبارک بادی پیش کی۔

’’تاج پوشی کی تقریب پر ہدیۂ تہنیت پیش کرتا ہوں۔ خدا کرے آپ کی حکومت مسلمان رعایا کے حق میں نیک فال ثابت ہو۔ آپ کی ریاست میں مسلمانوں کی تعدادننانوے فی صدی ہے؛ لیکن مجھے افسوس ہے کہ سرکار کی یہ وفادار رعایا سخت مصیبت کی حالت میں ہے۔ مجھے آپ کی رعایا پروری سے امید ہے کہ آپ بہت جلد مسلمانان کشمیر کی اصلاح پر اپنی توجہ مبذول فرمائیںگے۔میں مکرر جناب کی خدمت میں ہدیۂ تہنیت پیش کرتا ہوں۔

 احمد سعید ناظم جمعیت علمائے ہند، دہلی۔‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ،22؍اکتوبر1925ء)

احرار ی قیدیوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک پر پریس بیان

جناب جاں باز مرزا صاحب لکھتے ہیںکہ:

اس وقت تک چودھری افضل حق کے علاوہ احرار ورکنگ کمیٹی کے تمام ارکان (کشمیر تحریک کے سلسلے میں) گرفتار ہوچکے تھے۔ برطانوی پالیسی ریاست کشمیر کا احاطہ کر چکی تھی۔ جیسے ہی احرار نے گلینسی کمیشن کے مقاطع کا اعلان کیا، اندرون کشمیرایک نیا جذبہ پیدا ہوا۔ حکومت نے ہر آزاد خیال کشمیری کو احرار کا ممبر ہونے کا الزام دے کر گلینسی کمیشن کے سامنے برائے شہادت پیش ہونے سے روک دیا۔ شیخ عبداللہ 21 ؍ستمبر (1931ء) کوگرفتارکر لیے گئے تھے اور ریاست کے اندر عام بغاوت پھیل چکی تھی۔ اور ساتھ ہی پنجاب کے جیل خانوں میں احرار قیدیوں پر تشدد کا نیا دور شروع ہوا۔ خوراک میں کئی کئی سالوں کی بوسیدہ سبزیوں کے ساتھ کولہو،خراس چکی پیسنے کی مشقت عام لی جاتی۔ کاغذ کی جگائی( کاغذ کا ملیدہ) اٹھارہ سیر گندم پیسنا، مونجھ کوٹنا، بان بانٹنا؛ اس قسم کی ظالمانہ مشقتیں -جو پیشتر ازیں کا نگریس تحریک کے دنوں میں بھی جیلوں میں قیدیوں سے نامناسب سمجھی جاتی رہیں- احرار قیدیوں سے ان کا حصول جائز قرار دیا گیا۔ کسی قیدی کے ہلکے سے سوال پر اس قدر پیٹا جا تا کہ وہ بے ہوش ہو جاتا۔ کولہو اور کنوئیں کے آگے بیلوں کی جگہ احرار قیدیوں کو جوتا جارہا تھا۔ کھڑی ہتھکڑی، بیڑی، ڈنڈ بیڑی، ٹاٹ دری اور سرمائی موسم میں رات کے باسی پانی میں کاغذ کا میدہ کرنا جیسی بے رحمانہ مشقتیں لے کر ہندو اور انگریز افسروں نے احرار قیدیوں سے اپنا مذہبی اور سیاسی انتقام لیا۔

 برطانوی جیل خانوں کے علاوہ ریاست کی استواری جموں جھیل کے سپرنٹنڈنٹ سید حبیب اللہ شاہ (مرزا بشیر الدین محمود کے قریب ترین عزیز) نے سول نافرمانی کے قیدیوں پر اس قدر تشدد کیا کہ وہ بھوک ہڑتال پر مجبور ہو گئے۔ اور اس حالت میں ان پر ڈوگرہ فوج نے حملہ کر دیا، جس سے سینکڑوں قیدی زخمی ہوئے۔ اور ان میں بعض تو اس تشدد کے باعث زخموں کی تاب نہ لا کر شہید ہو گئے۔ 

اس ظلم و جور کی صدائے بازگشت جب جیل خانوں کی اونچی دیواروں سے گزر کر عام فضاؤں میں تحلیل ہوئی، تو انسانیت سر پیٹ کر رہ گئی۔ تیس لاکھ کشمیریوں کی آزادی کے لیے قربان ہونے والے جاںنثاروں کو جب چور، ڈاکو اور قاتلوں کی زنجیروں سے باندھا گیا، تو کانگریس نیتاؤں کی زبانیں گنگ ہوکر رہ گئیں، جو کانگریسی قیدی کی ذراسی تکلیف پر آسمان سر پر اٹھالیتے تھے، انھوںنے احرار قیدیوں کے تشدد پر ایسی خاموشی اختیار کی، جیسے ان زبانوں پر سانپ بیٹھ گئے ہوں۔ جیل مینول (Jail Manual)جسے خود برطانوی دانش وروں نے مرتب کیا تھا، اس کے پرزے اڑتے دیکھ کر ان پیشانیوں پر کوئی شکن نہیں پڑی۔ ہاں البتہ ہندستان کی پنتیس کروڑ کی آبادی میں سے صرف جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا مفتی کفایت اللہ نے 19؍ نومبر1931ء کو اپنے ایک پریس بیان میں کہا:

’’مجھے معلوم کر کے بڑا دکھ ہوا کہ پنجاب کی مختلف جیلوں میں احرار رضا کاروں کے ساتھ نہایت بے رحمانہ سلوک کیا جارہا ہے۔ سردی کے موسم میں ان کے لیے نہ تو بستروں کا انتظام ہے اور نہ ہی انھیں خوراک بہتر دی جاتی ہے؛بلکہ جو کھانا ان قیدیوں کو دیا جا رہا ہے، اسے کسی صورت بھی انسانی خوراک نہیں کہا جاسکتا۔ تیرہ تیرہ ،چودہ سور و پے انکم ٹیکس دینے والوں کو بھی سی کلاس میں رکھا گیا ہے۔

ایسے میں کونسل اسمبلی کے مسلم ارکان کا فرض ہے کہ وہ خود پنجاب کی جیلوں میں جا کر رضا کاروں کی حالت کا بچشم خود معائنہ کریں اور حکومت سے پوچھیں کہ وہ احراررضا کاروں سے اس قدر بے رحمانہ سلوک کیوں کر رہی ہے؟

مجھے یقین ہے کہ سرفروش مسلمان ان سختیوں سے دل برداشتہ نہیں ہوں گے اور جس بلند مقاصد کو لے کر وہ گھر سے نکلے ہیں، اس کے لیے ان تمام مشکلات کو برداشت کریںگے ۔ (کاروان احرار، جلد اول، ص؍222-223)

نواب سکندر حیات اور احراری لیڈروں سے ملاقات

5؍جنوری1932ء کی شام کو حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند اور مولانا حافظ احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند نے نواب سکندر حیات خاں صاحب سے ان کی کوٹھی پرملاقات کی ۔معلوم ہوا ہے کہ یہ ملاقات کشمیر کے سلسلے میں ہوئی تھی ، ملاقات دو گھنٹے تک جاری رہی ۔6؍جنوری کو ان دونوں محترم رہنماؤں نے چودھری فضل حق صاحب کے ہمراہ بورسٹل جیل لاہور میں مجلس احرار کے لیڈروں سے ملاقات کی ، جو شام کے چھ بجے تک جاری رہی۔ معلوم ہوا ہے کہ مفتی صاحب نے دربار کشمیر کو ایک مراسلہ تحریر کیا تھا، جس کے جواب آنے پر تمام گفتگو کا انحصار ہے۔ (سہ روزہ الجمعیۃ،13؍ جنوری 1932ء)

میرپور کشمیر کے مظالم پر احتجاج

23؍جنوری 1932ء کو بعد نماز جمعہ جامع مسجد دہلی میںمجلس احرار اسلام کے زیر اہتمام مسلمان دہلی کا ایک عظیم الشان جلسہ زیر صدارت حضرت علامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند منعقد ہوا۔ حضرت علامہ نے جلسہ کا افتتاح کرتے ہوئے ایک مبسوط تقریر فرمائی، جس میں آپ نے ڈوگرہ فوج کے مظالم ریاست کشمیر کے غرورو تکبر اورمسلمانوں کے مطالبات سے بے پروائی وغیرہ امور پر نہایت عبرت انگیز تقریر کی اور مسلمانوں کو احکام شرعیہ کی پابندی کی تلقین فرمائی۔ آپ نے فرمایاکہ مسلمانوں کاتمام دنیا میں ایک امتیازی شان ہے کہ وہ ایک خدا کے سوا کسی کے سامنے  نہیں جھکتا اور نہ اللہ کے سوا اس کو کسی کا خوف ہوسکتا ہے۔ یہی ایک چیز تھی، جس نے صحابۂ کرام کی جماعت کو آسمان شہرت پر آفتاب بناکر چمکا دیا۔

 آپ کی تقریر کے بعدمولانا عبدالماجد صاحب دہلوی نے میرپور ریاست کشمیر کے تازہ مظالم پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ باوجود احرار کی عدیم النظیر قربانیوں کے ریاست کشمیر اب تک مسلم مطالبات کو تسلیم کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوئی۔

 آپ نے ذیل کی قرار داد پیش فرمائی، جو بالاتفاق منظور کی گئی:

’’مسلمانان دہلی کا یہ عظیم الشان جلسہ حکومت کشمیر اور ڈوگرہ فوج کے وحشیانہ مظالم پر -جو ایک عرصہ سے مسلمانان کشمیر پر توڑے جا رہے ہیں اور جن کا ایک جاں گداز منظر ابھی حال میں مسلمانان میر پور کے نہتے مجمع پر آتش باری کی صورت میں ظاہر ہوا ہے- سخت نفرت اور غصہ کا اظہار کرتا ہے اور مسلمانان ہندستان سے پر زو راپیل کرتا ہے کہ وہ جہاد کشمیرکی تحریک کو پوری قوت اور صبر و استقلال کے ساتھ جاری رکھیں۔‘‘

اس تجویز کی تائید مولانا مولوی عبد الوحید صاحب مہتمم اخبار الجمعیۃ نے فرمائی اور کہا کہ جب تک مسلمانان کشمیر اپنے قدموں پر آپ کھڑے نہ ہوجائیںگے اور حکومت کشمیرسے اپنے مطالبات تسلیم کرانے کی قوت نہ پیدا کریںگے، اس وقت تک مجلس احرار اپنی مجاہدانہ سرگرمیوں کو برا بر جاری رکھے گی۔

 جلسہ میں حاضرین کی تعداد دس ہزار سے زائد تھی۔ اس کے بعد انجمن شبان المسلمین دہلی کے زیر اہتمام جلسہ شروع ہوا،جس میں متعدد قراردادیں منظور کی گئیں۔(سہ روزہ الجمعیۃ،24؍جنوری 1932ء)

مظالم کشمیر پر احتجاج

24؍جنوری 1932ء کو لکھنومیں، دوپہر کو بارہ بجے راجہ سلیم پور کی کوٹھی واقع قیصر باغ میں حضرت مولانا حسرت موہانی کی صدارت میں مختلف الخیال مسلمانوں کا ایک عظیم الشان اجلاس ہوا، جس میں کئی اہم فیصلے کے علاوہ مظالم کشمیر پر صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے مولاناعبد الحامد صاحب کی تحریک سے بالاتفاق درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’یہ جلسہ کشمیرمیں ریاست کی طرف سے جس قدر مظالم ہوئے، ان کے متعلق اظہار ملامت کرتا ہے اور اعلان کرتاہے کہ ان کی ذمہ داری حکومت کشمیر کے علاوہ حکومت ہند پر بھی عائد ہوتی ہے۔ یہ جلسہ احرار کی مساعی پر دلی مبارک باد اور ہمدردی پیش کرتا ہے۔‘‘(سہ روزہ الجمعیۃ،28؍جنوری 1932ء) 

بعد ازاں29؍فروری تا2؍مارچ 1932ء کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس حکومت کشمیر کے زہرہ گداز مظالم پر غم و غصہ کا اظہار کیا گیا ہے اور اس سلسلہ میں مجلس احرار کی خدمات کا اعتراف بھی کیا گیا ۔ 

علاوہ ازیں مجلس عاملہ نے اس امر کو تکلیف کے ساتھ محسوس کیاکہ انگریزی حکومت نے تحریک کشمیر کو اپنی کاربراری کا ذریعہ بنایا ہے اور ریاست پر اپنا اقتدار قائم کرنا شروع کردیا ہے۔ اور اس کی ذمہ داری مہاراجہ کشمیرپر بھی عائد کی ہے ۔(سہ روزہ الجمعیۃ 5؍مارچ 1932ء) 

قادیانیوںکی نئی شرارت

تحریک احرار اس موڑ پر تھی کہ کشمیر کے قادیانیوں کو نئی شرارت سوجھی 30؍نومبر 1931ء کو بغیر کسی اطلاع کے مظفر آباد کے ایک قادیانی احمد یار نامی نے اعلان کیا:

ہماری تحریک سبز پوشوں کا کسی بیرونی تحریک سے کوئی تعلق نہیں اور نہ ہی ہم ریاست سے باہر کی کسی تحریک کو ریاستی معاملات میں پسند کرتے ہیں۔ ویسے ہم کشمیر سے باہر کی انجمنوں کی قربانیوں کی قدر کرتے ہیں؛ لیکن ان کے پروگرام سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔

 گو مندرجہ بالا تحریک احرار سول نافرمانی کے سامنے پرکاہ کی طرح اڑ گئی؛ لیکن مہاراجہ کشمیر اور انگریزوں کے ایجنٹوں نے یہ شرارت ایسے وقت میں کی، جب کہ برطانوی نظام حکومت اور مہاراجہ کشمیر احرار کے سامنے سپر انداز ہو ر ہے تھے۔

احرار اور حکومت کشمیر کے درمیان جمعیت علما کی مصالحت کی کوشش

دوسری گول میز کانفرنس کی ناکامی پر برطانوی حکومت کو شبہ ہونے لگا کہ لندن سے واپسی پر کانگریس اور حکومت ہند کے مابین سول نافرمانی کی لڑائی ناگزیر ہے، لہذا دوسرے اہم انتظام کے ساتھ جیل خانوں کا فارغ ہونا بھی ضروری تھا۔ پنجاب کے تمام جیل خانے ان دنوں احرار قیدیوں سے بھرے پڑے تھے، جس کے باعث خوراک اور دوسرے موسمی انتظامات کے ناقص ہونے کی شکایت عام ہورہی تھی ۔چنانچہ حکومت ہند نے آنے والے خطرے کے پیش نظر راجہ پر زور دیاکہ وہ احرار سے بہرطور مصالحت کرے۔

حالات کے اس پس منظر میں کسی تحریک کے چند غیر معروف لوگوں کے توسط سے سے مہاراجہ کشمیرکی جانب سے2؍ دسمبر 1931ء کو حسب ذیل دعوت نامہ مولانامفتی کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند اور مولانا احمد سعید کے نام آیا۔(کاروان احرار، جلد اول، ص؍228)

نومبر1931ء کی آخری تاریخوں میں شیخ محمد صادق صاحب کی سعی مفاہمت کی ناکامی اور مولوی انیس احمد اور نواب بھیا فرید الدین کی اپنے اس خیال میں مایوسی کے بعد کہ وہ حکومت ہند کے کسی ذمہ دار افسر سے کوئی دعوتی خط لا سکیں گے، مولوی انیس احمد اور نواب بھیا فرید الدین نے حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب اور مولانا احمد سعید صاحب سے دریافت کیا کہ اگر ہزہائی نس مہاراجہ کشمیر آپ کو گفتگوئے مصالحت کے لیے دعوت دیں، تو آپ احرار اور حکومت کشمیر کے درمیان مفاہمت کرانے پر آمادہ ہوںگے، یا نہیں؟

حضرت مفتی صاحب نے فرمایا کہ باعزت مفاہمت کے لیے ہر دانش مند اور خود دار شخص تیار ہوتا ہے اور مجلس احرار بھی تیار ہو گی اور اس سلسلے میں اگر ہم کوئی خدمت کر سکتے ہیں، تو ہمیں عذر نہیں ہے۔ دوسری ملاقات میں وہ آ کر یہ کہہ گئے کہ ہزہائی نس کی طرف سے آپ کے اور مولانا احمد سعید صاحب کے نام دعوت نامہ آئے گا اور پھر تیسری ملاقات میں انھوں نے یہ کہا کہ وزیر اعظم یہ چاہتے ہیں کہ دعوت نامہ کی اشاعت نہ کی جائے۔ مفتی صاحب نے کہا کہ ہم دورانِ گفتگوئے مصالحت اسے شائع نہ کرنے کا وعدہ کر سکتے ہیں، لیکن جب گفتگو کا سلسلہ کامیابی، یا ناکامی پر ختم ہو جائے، تو پھر تمام خط و کتابت ضرور شائع کی جائے گی، اس کو وزیر اعظم نے منظور کر لیا۔ چنانچہ یکم دسمبر کو مولوی انیس احمد اور نواب فرید الدین صاحبان نے ہزہائی نس مہاراجہ کشمیر کا یہ دعوت نامہ -جو نمبر ایک پر درج ہے- لا کر دیا۔

یہاں پر یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ مولوی انیس احمد اور نواب فرید الدین صاحبان کا اس معاملہ سے بس اس قدر تعلق ہے، چنانچہ وزیر اعظم کا تار جب مفتی صاحب کو ملا جو نمبر13 پر درج ہے اور جس میں لاہور کے بورسٹل جیل میں احرار لیڈرز سے ملاقات اور گفتگو کرنے کے لیے مفتی صاحب اور مولانا احمد سعید صاحب کو دعوت دی گئی تھی، تو لاہور جانے سے قبل دہلی میں ہی حضرت مفتی صاحب نے ان دونوں صاحبوں سے صاف صاف کہہ دیا تھا کہ احرار لیڈرز کے ساتھ ملاقات اور گفتگو میں آپ کو شریک نہیں کیا جائے اور نہ کوئی سرکاری آدمی، یا جیل آفیسر شریک ہوسکے گا۔

اب چوںکہ بظاہر گفتگوئے مفاہمت کا یہ سلسلہ ختم ہو گیا ہے، اس لیے حضرت مفتی صاحب کی اجازت سے میں تمام خط کتابت شائع کر رہا ہوں، تمام مراسلات کی اصلیں محفوظ ہیں اور اس اشاعت میں کسی قسم کی رائے کے اظہار سے احتراز کیا گیاہے۔ صرف تمام دستاویزات کو پبلک کے سامنے پیش کر دینا مقصود ہے ،تاکہ لوگوں کو دیکھنے اور رائے قائم کرنے میں آزادی رہے۔ (سید محمد شفیع سر، دفتر جمعیت علمائے ہند، دہلی)

(۱)ہزہائی نس مہاراجہ کشمیر کی طرف سے دعوتی خط

مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کے نام

کشمیر ہاؤس (دہلی)۔2؍ دسمبر1931ء

جناب محترم! میں نہایت خوشی کے ساتھ یہ بات جناب کے علم میں لاتا ہوں کہ آج سہ پہر کے وقت ۵ اور ۶ بجے کے درمیان ہزہائی نس مہاراجہ بہادر آف کشمیر آپ سے اور مولانا احمد سعید صاحب سے ملاقات کی مسرت حاصل کرنا چاہتے ہیں، بالکل صحیح ٹائم بعد میں ٹیلی فون پر عرض کر دیا جائے گا۔

آپ کا نیاز مند:ہری کشن کول وزیر اعظم جموں و کشمیر

بخدمت مفتی کفایت اللہ صاحب (پریذیڈنٹ جمعیت علمائے ہند، دہلی)

مفتی اعظم اور سحبان الہند کی ہزہائی نس مہاراجہ کشمیر سے ملاقات

ہزہائی نس کے مکتوب (۱) کی بناپر2؍ دسمبر 1931ء کو حضرت مفتی صاحب اور مولانا احمد سعید صاحب نے کشمیر ہاؤس دہلی میں ہزہائی نس سے ملاقات کی۔

ہزہائی نس اخلاق و احترام سے پیش آئے اور فرمایا کہ ’’میں آپ کی تکلیف فرمائی کا ممنون ہوں اور امید رکھتا ہوں کہ آپ کی بزرگانہ کوششیں اس تلخی کو -جو کشمیر اور احرار میں پیدا ہو کر دونوں کے لیے پریشانی اور تکالیف کا سبب بن رہی ہے- دور کرنے میں کامیاب ہوں گی۔

مفتی صاحب نے فرمایا کہ ’’میں آپ کی اس مہربانی کا کہ آپ نے ہمیں یاد فرمایا، ممنون ہوں اور جس امر کا آپ نے ذکر فرمایا، میں اس کو انسانی خدمت کے لحاظ سے ادا کرنے کے لیے تیار ہوں، لیکن ہزہائی نس کو معلوم ہے کہ معاملہ کی باگ ڈور مجلس احرار کے ہاتھ میں ہے۔ مجلس احرار کے کئی رہنما قید ہو چکے ہیں، اگر ہزہائی نس احرار لیڈروں کو- جو مختلف جیلوں میں قید ہیں- ایک جیل میں جمع کرادینے کا انتظام کرا دیں اور ہم دونوں کو اس کا موقع دیں کہ ہم ان احرار رہنماؤں کو ساتھ لے کر -جو ابھی قید نہیں ہوئے ہیں-اسیر رہنماؤں سے ملاقات اور گفتگو کریں، اگر ایسا موقع بہم پہنچایا گیا، تو ہمیں امید ہے کہ ایک باعزت مفاہمت کر ا دینے میں ہم کامیاب ہوجائیںگے۔

وزیر اعظم نے مہاراجہ کشمیر کے کے مواجہہ میں دریافت کیا کہ باہر سے کن اصحاب کو اندر لے جانا آپ مناسب سمجھتے ہیں؟ مفتی صاحب نے چودھری افضل حق، خواجہ عبدالرحمان غازی، مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری(یہ اس وقت تک گرفتار نہ ہوئے تھے) کے اسمائے گرامی بتائے اور ساتھ ہی یہ تصریح بھی کر دی کہ یہ حضرات اگر کسی اور شخص کو بھی اندر لے جانا ضروری سمجھیں، تو اس کو لے جانے کی اجازت ہونی چاہیے۔ پھر وزیر اعظم نے دریافت کیا کہ اُن اسیر رہنماؤں کے نام کیا ہیں، جن کو آپ ایک جیل میں جمع کرانا چاہتے ہیں؟ مفتی صاحب نے مولانا مظہر علی اظہر، مولانا احمد علی صاحب، مولانا محمد چراغ، مولانا محمد داؤد غزنوی، شیخ حسام الدین، خواجہ غلام محمد، ماسٹر محمد شفیع کے نام لکھوا دیے۔ مفتی صاحب کی اس تجویز کو ہزہائی نس مہاراجہ صاحب نے منظور کر لیا۔

راجہ ہری کشن کول وزیر اعظم نے فرمایا کہ مولوی مظہر علی صاحب تو ہمارے جموں جیل میں ہیں، انھیں تو ہم بلا توقف جہاں چاہیں منتقل کر سکتے ہیں، البتہ احرار لیڈرز -جو انگریزی حکومت کے قیدی اور پنجاب کے مختلف جیلوں میں ہیں- ان کو ایک جیل میں جمع کرنے کے لیے حکومت پنجاب سے کہنا ہو گا، مگر یہ کوئی دقت طلب بات نہیں ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا انتظام آسانی سے اور جلد ہو جائے گا۔ میں آج، یا کل یہاں سے لاہور جاؤں گا اور حکومت پنجاب کے ذمہ دار افسروں سے گفتگو کروں گا۔ ۴ یا ۵؍ دسمبر تک آپ کو اطلاع دوں گا۔ آپ کے خیال میں کس جگہ اجتماع مناسب ہو گا؟

مفتی صاحب نے کہا کہ اجتماع لاہور میں ہو تو بہتر ہو گا، مگر ہمیں اس پر کوئی اصرار نہیں ہے کہ لاہور ہی ہو، جہاں بھی ہو ہم وہیں جا سکتے ہیں۔ وزیر اعظم نے کہا کہ ہاں میرے خیال میں بھی لاہور میں جمع کرنا اچھا ہے۔ پنجاب گورنمنٹ کو بھی اس پر کوئی اعتراض نہ ہوگا۔ بہرحال اگر اجتماع لاہور میں ہو، تو جس وقت آپ لاہور پہنچیں، مجھے اطلاع کر دیں، تاکہ (اگر میں خود لاہور میں موجود نہ ہو تو) کوئی ذمہ دار شخص معاملات پر گفتگو کرنے کے لیے لاہورمیں ہی موجود رہے۔

اس گفتگو اور قرار داد کے بعد مفتی صاحب اور مولانا احمد سعید صاحب ہزہائی نس سے رخصت ہو کر چلے آئے اور اس امر کے منتظر رہے کہ وزیر اعظم ہمیں اطلاع دیں ،تو ہم لاہور جائیں۔ کئی روز کے انتظار کے بعد ۶؍ دسمبر کو وزیر اعظم کا جموں سے یہ تار آیا۔

(۲)تار منجانب وزیر اعظم بنام مفتی صاحب 

جمّوں۔6؍ دسمبر1931ء

مفتی کفایت اللہ، پریذیڈنٹ جمعیت علمائے ہند، دہلی

حکومت پنجاب سے ملاقات ہو گئی۔ اراکین کو ایک جگہ مجتمع کرنے میں چند یوم کا عرصہ لگے گا۔ اس مدت میں آپ براہِ کرم حضرات لاہور کو اپنی رائے سے مطلع کر دیجیے اور اس کی ایک کاپی میرے پاس بھی بھیج دیجیے، میں آپ کو خط بھیج رہا ہوں۔ وزیر اعظم

(۳)اس تار کے جواب میں مفتی صاحب نے وزیر اعظم کو حسب ذیل خط بھیجا:

مراسلہ مفتی صاحب بنام وزیر اعظم

دہلی۔ 7؍دسمبر 1931ء

جناب مکرم وزیر اعظم ریاست جموں و کشمیر

تسلیم! جناب کا تار موصول ہوا۔ شکریہ۔ میرے خیال میں ممبران ورکنگ کمیٹی احرار کے اجتماع میں کوئی دقت نہیں ہے، ان کے اجتماع اور میرے ان سے ملنے اور مشورہ کرنے سے پہلے نہ میں کوئی تجویز مرتب کر سکتا ہوں اور نہ کوئی ایسی تجویز مفید ہو گی، براہِ کرم ان کے اجتماع کا انتظام جلد کر دیجیے۔ 

محمد کفایت اللہ، دہلی

(۴)تار منجانب مفتی صاحب بنام وزیر اعظم 

دہلی۔ 8؍دسمبر1931ء ۔ وزیر اعظم ریاست جموں و کشمیر

آپ کا تار پہنچا۔ جواب چٹھی کے ذریعہ بھیج رہا ہوں۔

 محمد کفایت اللہ

(۵)مراسلہ وزیر اعظم بنام مفتی صاحب

ہزہائی نس گورنمنٹ جموں و کشمیر وزیر اعظم آفس از سری نگر کشمیر

11؍ دسمبر1931ء

کرم فرمائے من مفتی کفایت اللہ صاحب! تسلیم! لاہور میں تذکرہ کے بعد پایا گیا کہ قیدیانِ احرار کو یک جا کرنے میں کسی قدر توقف ہے۔ اس لیے میں نے بذریعۂ تار آپ کی خدمت میں التماس کی ہے کہ بالفعل برائے مہربانی بذریعۂ خط لیڈران احرار موجودہ لاہور کو تحریک فرما دیں کہ شورش کو جاری رکھنا بلا ضرورت اور غیر مفید ہے، امید ہے کہ آپ نے برائے مہربانی خط تحریر فرما دیا ہو گا۔ اُمید ہے کہ آپ کی توجہ اس کارِ خیر کی طرف مبذول رہے گی۔

آپ کا خیر اندیش: ہری کشن کول۔

(۶)تار وزیر اعظم بنا م مفتی صاحب

سری نگر کشمیر ۔13؍ دسمبر1931ء

مفتی کفایت اللہ، صدر جمعیت علمائے ہند، دہلی

آپ کا تار ملا۔ خط ابھی تک موصول نہیں ہوا۔ انتظار کر رہا ہوں۔

(وزیر اعظم)

اس تار کا جواب فوراً بذریعہ تار دیا گیا جو حسب ذیل تھا:

(۷)تار مفتی صاحب بنام وزیر اعظم

دہلی۔ 14؍ دسمبر1931ء

وزیر اعظم ریاست جموں و کشمیر

7؍ دسمبر1931ء کو رجسٹرڈ خط بھیجا گیا ہے۔ اس کا خلاصہ یہ تھا کہ ورکنگ کمیٹی احرار کے اجتماع میں کوئی دشواری نہیں ہے، براہِ کرم ان کے اجتماع کی جلد صورت کیجیے، کیوں کہ جو تجویز ان کے مشورہ سے مرتب کی جائے گی، اس کے نتیجہ خیز ہونے کی زیادہ توقع ہے۔

محمد کفایت اللہ

14؍ دسمبر تک جب یہ تار (۷) دیا گیا تھا، وزیر اعظم کا خط نمبر( ۵) مفتی صاحب کو نہیں ملا تھا، وہ 16؍ دسمبر کو موصول ہوا، تو پھر ایک تار وزیر اعظم کو حسب ذیل مضمون کا دے دیا گیا:

(۸)تار مفتی صاحب بنا م وزیر اعظم

دہلی۔ 16؍ دسمبر1931ء

وزیر اعظم ریاست جموں و کشمیر

آپ کی چٹھی مؤرخہ11، آج 16؍کو ملی، میں اپنی چٹھی اور ٹیلی گرام کے ذریعہ آپ کو اطلاع دے چکا ہوں کہ لیڈرانِ احرار کو ایک جگہ جمعہ کرنے اور ہم کو ان سے گفتگو کرنے کا موقع دینے سے پہلے کوئی تجویز مفید نہیں ہوسکتی، میں محسوس کر رہا ہوں کہ جس قدر تاخیر ہو رہی ہے، مصالحت کی راہ میں مشکلات بڑھ رہی ہیں، میں آپ کے جواب کا انتظار کر رہا ہوں۔

محمد کفایت اللہ

آنریبل میاں سر فضل حسین کی ملاقات

غالباً 10د؍سمبر کو خواجہ حسن نظامی نے مولانا احمد سعید صاحب کو اطلاع دی کہ میاں سر فضل حسین صاحب مفتی صاحب اور آپ سے ملاقات کے متمنی ہیں، فرماتے ہیں اگر آپ آج چار بجے دونوں حضرات میاں صاحب سے ان کی کوٹھی پر تشریف آوری کی تکلیف گوارا فرمائیں،تو بڑی عنایت ہوگی۔مولانا احمدسعید صاحب نے مفتی صاحب سے استصواب کرکے خواجہ صاحب سے کہہ دیا کہ اچھا ہم دونوںمیاںصاحب سے ملاقات کے لیے چار بجے ان کی کوٹھی پرپہنچ جائیں گے۔ چنانچہ چار بجے دونوں حضرات نے یہاں ان کی کوٹھی پر ملاقات کی۔ ملاقات کے وقت خواجہ حسن نظامی اور سیٹھ حاجی عبداللہ ہارون بھی موجود تھے۔ دیگر معاملات پر گفتگو کرنے کے بعد میاں صاحب نے مجلس احرار کے اقدام کا بھی تذکرہ کیا۔ تقریباً ایک گھنٹہ تک گفتگو جاری رہی۔ دونوں حضرات نے میاں صاحب سے یہی کہا: مجلس احرار باعزت مفاہمت سے پہلو تہی نہ کرے گی اور ایک باوقار اور باعزت مفاہمت کرانے کے لیے ہم بھی اپنی خدمات پیش کرنے میں تأمّل نہیں کریں گے۔ لیکن چوںکہ یہ اقدام مجلس احرار کی طرف سے ہوا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ ان کے رہنماؤں سے گفتگو اور مشورہ کے بعد ان کی شرائط مرتب کی جائیں، اس لیے ضروری ہے کہ مجلس احرار کے اسیر رہنماؤں کو ایک جیل میں جمع کیا جائے اور ہمیں اور احرار کے آزاد رہنماؤں کو ان سے ملاقات اور مشورہ کا موقع دیا جائے۔

میاں صاحب نے اسیر رہنماؤں کے نام دریافت کیے اور باہر سے جیل میں جانے والوں کے نام پوچھے، ہم نے اسیروں اور باہر سے جانے والوں کی وہی فہرست لکھوا دی، جو راجہ ہری کشن کول وزیر اعظم کو لکھوائی تھی اور وہی شرط کر لی کہ دی ہوئی فہرست کے علاوہ بھی کسی اور شخص کو لے جانے، یا اور کسی اسیر کو یک جا کرنے کی ضرورت ہوئی، تو اس کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔ میاں صاحب نے اسے منظور فرما لیا اور فرمایا کہ اچھا میں کل، یاپرسوں لاہور جاؤں گا اور چودھری افضل حق وغیرہ سے بات کروں گا، اگر انھوں نے بھی پسند کیا، تو میں اس کا انتظام کر کے افریقہ جاؤں گا۔ چنانچہ 12؍ دسمبر کو میاں صاحب دہلی سے لاہور گئے۔ مفتی صاحب کو لاہور کے پتہ سے بغرض یاد دہانی حسب ذیل تار دیا:

(۹)تار مفتی صاحب بنام میاں سر فضل حسین

دہلی۔ 14؍دسمبر1931ء

آنریبل میاں سر فضل حسین صاحب! جناب نے متعلقہ اشخاص سے گفتگو کے بعد اجتماع کا انتظام کر دیا ہو گا، مہربانی فرما کر بذریعۂ تار مطلع فرمائیں۔

محمد کفایت اللہ

اس تار کا جواب میاں صاحب نے خط کے ذریعہ دیا۔ جس کی نقل حسب ذیل ہے:

(۱۰)مکتوب میاں سر فضل حسین بنام مفتی صاحب

نمبر۶ کنگ ایڈورڈ روڈ نیو دہلی (بمبئی کو جاتے ہوئے راستہ میں)

14؍ دسمبر1931ء

محترم مولوی صاحب! آپ کا تار مؤرخہ14؍ دسمبر1931ء کو موصول ہوا، میں چودھری افضل حق اور دیگر اشخاص سے گفتگو کر چکا ہوں، میرا خیال ہے کہ آپ کی تجویز کو عملی جامہ پہنانے میں کوئی دشواری نہیں ہوگی۔ سلام نیاز۔

میں ہوں آپ کا مخلص فضل حسین

یہ خط بھیج کر میاں صاحب تو لندن روانہ ہوئے، یہ کچھ نہیں بتایا کہ انھوںنے گفتگو کا انتظام کس طرح کیا اور کس کو معین کیا؟

مفتی صاحب نے میاں صاحب کو یہ بھی بتا دیا تھا کہ راجہ ہری کشن کول سے یہ بات طے ہوئی ہے اور ساری گفتگو -جو پہلے درج ہو چکی ہے- ان سے ذکر کر دیا تھا۔ میاں صاحب نے فرمایا تھا کہ کچھ مضائقہ نہیں، مقصد ایک ہی ہے کہ منصفانہ اور معقول طریقہ پر یہ کشمکش ختم ہو۔اس کے بعد راجہ ہری کشن کول کا یہ تار موصول ہوا:

(۱۱) تار وزیر اعظم بنام مفتی صاحب

سری نگر۔ 17؍دسمبر1931ء 

مفتی کفایت اللہ صاحب پریسڈنٹ جمعیت علمائے ہند! آپ کا تار ملا۔ انتظامات ہورہے ہیں ۔ آپ بذریعۂ تار مطلع فرمائیے کہ لاہور میں کس تاریخ کو پہنچ سکتے ہیں۔ 

وزیر اعظم 

(۱۲) تار مفتی صاحب بنام وزیر اعظم 

17؍دسمبر1931ء۔ دہلی۔ وزیر اعظم ریاست جموںوکشمیر!

جو تاریخ آپ معین کریں،اس پر میں لاہور پہنچ سکتا ہوں۔ 

محمد کفایت اللہ 

اس کے بعد وزیرا عظم کا حسب ذیل تار موصول ہوا:

  (۱۳) تا ر وزیر اعظم بنام مفتی صاحب

سری نگر کشمیر۔ 18؍ دسمبر 1931ء 

مفتی کفایت اللہ صاب پریسڈنٹ جمعیت علمائے ہند۔

آپ اتوار کو احرارا سیر لیڈروں سے بورسٹل جیل لاہور میں ملاقات کر سکتے ہیں، چیف سکریٹری کو اطلاع دے دی گئی ہے۔

 وزیر اعظم

اس تار کے موصول ہونے پر مفتی صاحب نے حسب ذیل تار روانہ کیا:

(۱۴) تار مفتی صاحب بنام وزیر اعظم

دہلی۔ 19؍ دسمبر 1931ء

آپ کا تار پہنچا۔ میں اور مولانا احمد سعید صاحب آج لاہور روانہ ہورہے ہیں۔

محمد کفایت اللہ

(۱۵) تار مفتی صاحب، بنام چیف سکریٹری حکومت پنجاب

دہلی۔19؍ د سمبر1931ء۔چیف سکر یٹری حکومت پنجاب۔

وزیر اعظم کشمیر کے ٹیلیگرام کے موافق میں اور مولانا احمد سعید صاحب احرار اسیر لیڈروں سے بورسٹل جیل میں ملنے کے لیے آج روانہ ہو رہے ہیں۔

 محمد کفایت اللہ

(۱۶) تا رمفتی صاحب بنام چودھری افضل حق صاحب

دہلی۔ 19؍سمبر1931ء 

چودھری افضل حق صاحب مجلس احرار اسلام پنجاب لاہور۔

ہم دونوں  آج شام کو لاہور روانہ ہو رہے ہیں۔اکرام الحق (ملازم جمعیت ) کووہیں روک لیجیے۔ 

محمد کفایت اللہ

20؍دسمبر کو حضرت مفتی صاحب اور مولانا احمد سعید صاحب لاہور پہنچ گئے۔ وہاں جا کر معلوم ہوا کہ پنجاب گورنمنٹ نے چودھری افضل حق صاحب کو اطلاع دی تھی کہ احرار اسیروں کو بورسٹل جیل میں جمع کر دیا گیا ہے۔ آپ ان سے کس روز ملاقات کریںگے۔ چودھری صاحب نے اتوار20؍ دسمبر کی جگہ منگل 22؍دسمبر کو ملاقات مقرر کرلی تھی۔ نیز پنجاب گورنمنٹ نے اپنی چٹھی میں چودھری صاحب کو یہ بھی لکھا تھا کہ آپ مفتی صاحب اور مولانا احمدسعید صاحب کو بھی اطلاع کر دیں۔ چودھری صاحب نے ان کو جواب میں لکھا کہ ان دونوں حضرات کو آپ خود براہ راست اطلاع کریں۔ تو پھر پنجاب گورنمنٹ نے چودھری صاحب کوتحریر کیا کہ ہم نے چیف کمشنر دہلی کولکھ دیا ہے کہ وہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب اور مولانا احمد سعید صاحب کو اطلاع کر دیں۔

 بہرحال مفتی صاحب نے لاہور سے 21؍دسمبر کو وزیر اعظم کشمیر کو یہ تار دیا:

 (۱۷) تار مفتی صاحب بنام وزیر اعظم

 لاہور۔ 21؍دسمبر1931ء وزیر اعظم ریاست جموں و کشمیر!

میں اور مولانا احمد سعید صاحب لاہور پہنچ گئے۔ بورسٹل جیل میں احرار لیڈروں سے احرار کمیٹی کے چند ممبروں کے ساتھ کل 22(دسمبر) کو ملاقات کر رہا ہوں۔

 محمد کفایت اللہ

 جیل میں احرار رہنماؤں سے ملاقات

22 ؍دسمبر1931ء کو ایک بجے دن کو بورسٹل جیل میں احرار لیڈروں سے ملاقات ہوئی۔ باہر سے ہم دونوں اور چودھری افضل حق صاحب اور خواجہ عبدالرحمان غازی گئے تھے اور اندر مولوی مظہر علی اظہر، مولانا سید عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا احمد علی، مولانا حبیب الرحمان، مولانا سید محمد داؤد غزنوی، مولانا محمد چراغ، خواجہ غلام محمد اور شیخ حسام الدین موجود تھے، ماسٹر محمد شفیع بیمار تھے، اس لیے وہ گفتگو میں شریک نہ ہوئے، کوئی اور شخص ملاقات اور گفتگو میں شریک نہ تھا۔۶ بجے شام تک گفتگو ہوئی، اس کے بعد سب واپس چلے آئے اور نتیجہ گفتگو و ملاقات کے طور پر حضرت مفتی صاحب نے راجہ ہری کشن کول وزیر اعظم کے نام خط لکھ کر ان کے پرسنل اسسٹنٹ پنڈت جیون لال کو باخذ رسید حوالہ کر دیا، خط یہ تھا:

(۱۸)مراسلہ مفتی صاحب بنام وزیر اعظم

لاہور۔ 23 ؍دسمبر1931ء

بخدمت جناب پرائم منسٹر صاحب، ریاست جموں و کشمیر

تسلیم!کل22(1931ء)کو میں اور مولانا احمد سعید صاحب اور چودھری افضل حق صاحب اور غازی عبدالرحمان صاحب بورسٹل جیل میں احرار لیڈرز سے ملے۔ احرار لیڈرز میں مولانا حبیب الرحمان، مولانا مظہر علی اظہر، شیخ حسام الدین، مولانا احمد علی، مولانا سید محمد داؤد صاحب، مولانا عطاء اللہ شاہ صاحب، خواجہ غلام محمد اور مولانا محمد چراغ موجود تھے۔ سب سے پہلے ہمیں اس ناگوار حقیقت کا علم ہوا کہ احرار لیڈرز کو باوجود اس کے کہ باہم مل کر گفتگو اور تبادلۂ خیالات کرنے کے لیے ہی جمع کیا گیا تھا، بورسٹل جیل میں ان کو باہم ملنے اور مشورہ کرنے کا موقع نہیں دیا گیا، سب کو علاحدہ علاحدہ رکھا گیا ہے۔ اور ہمارے ساتھ ملنے سے پہلے ان کو آپس میں ملنے اور مشورہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی، یہ طرز عمل ایسا تھا کہ احرار لیڈرز کوئی گفتگو نہ کرتے، تو حق بجانب ہوتے، لیکن انھوں نے خالی الذہن ہونے کے باوجود باعزت صلح سے اعراض کرنے سے احتراز کیا اور ابتدائی مراحل پر تبادلۂ خیالات کرتے رہے۔

ان کی گفتگو کا خلاصہ یہ ہے کہ ان کا مقصد مسلمانانِ کشمیر کے لیے انصاف حاصل کرنے میں مدد دینا اور آئندہ ان کے لیے امن و ترقی کی راہ نکالنا ہے اور اس کے لیے وہ ذمہ دار حکومت کے قیام کو ضروری سمجھتے ہیں اور اسی بنیاد پر صلح کی گفتگو کرنے کو تیار ہیں۔ دوسرے یہ کہ گفتگوئے صلح ذمہ دارانہ طریقہ پر یعنی کوئی نمائندہ دربار کی طرف سے ذمہ داری کے ساتھ گفتگو کرے، اس لیے میں آپ سے عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ان دونوں باتوں کے متعلق مناسب صورت نکالیں اور مجھے مطلع فرمائیں۔

محمد کفایت اللہ

اس خط کا جواب 26؍دسمبر تک موصول نہیں ہوا، تو مفتی صاحب نے وزیر اعظم کویہ تار دیا:

(۱۹) تار مفتی صاحب بنام وزیر اعظم 

لاہور۔ 26؍دسمبر1931ء

وزیر اعظم جموںو کشمیر!

میری چٹھی جناب کومل گئی ہوگی، جواب کا منتظر ہوں۔ 

محمد کفایت اللہ

(۲۰) تاروزیر اعظم بنام مفتی صاحب

جموں ۔26؍دسمبر1931ء 

مفتی کفایت اللہ احرار آفس لاہور!

آپ کا تار پہنچا، جواب ارسال کیا جاچکا ہے۔ امید ہے کہ آپ کو مل گیا ہوگا۔

 پرائم منسٹر

(۲۱)مکتوب وزیر اعظم بنام مفتی صاحب

وزیر اعظم آفس، جموں ۔25؍ دسمبر1931ء

محترمی جناب مفتی صاحب!آپ کے مکتوب مؤرخہ23؍ دسبر1931ء کا شکریہ ادا کرتا ہوں، احرار لیڈرز سے جو ملاقات ہو رہی ہے، وہ پنجاب گورنمنٹ کے زیر نگرانی ہے۔ اس لیے آپ کو چاہیے کہ پنجاب گورنمنٹ کے ذمہ دار افسروں سے گفت و شنید کریں، اگر ضروری سمجھا گیا، تو یہی افسر ہم سے خط و کتابت کر سکتے ہیں۔

اگر یہ اجتماع یہاں ہوتا، تو کشمیر گورنمنٹ کے کسی ذمہ دار افسر کے لیے یہ امر درست ہوسکتا تھا کہ وہ احرار لیڈرز کے ساتھ گفت و شنید میں اس غرض سے حصہ لیتا کہ ایسے ذرائع تلاش کیے جائیں، جو احرار لیڈرز کو اس تحریک کے روک دینے پر آمادہ کریں، جسے ہم قطعاً نادرست خیال کرتے ہیں۔

واقعہ یہ ہے کہ یہ مسئلہ پنجاب گورنمنٹ کے ہاتھ میں ہے اور میں آپ کو مشورہ دیتا ہوں کہ آپ نواب سکندر حیات خاں اور سر ہنری کریک سے تعلق پیدا کریں۔ مجھے یہ عرض کرنے کی ضرورت نہیں ہے کہ میں آپ کی اس تکلیف فرمائی کا بہت زیادہ شکر گزار ہوں کہ آپ نے لاہور کا سفر اختیار کیا اور امید کرتا ہوں کہ آپ اس تحریک کو -جس سے متعدد فریق مشکلات میں مبتلا ہیں- ختم کرانے کی سعی میں کامیاب ہوں گے۔

آپ کا مخلص ہری کشن کول

(یہ اصل خط انگریزی میں ہے)۔ یہ خط27؍ یا28؍دسمبر کو موصول ہوا تھا۔

(۲۲)مراسلہ مفتی صاحب بنام وزیر اعظم

لاہور۔ 29؍دسمبر1931ء

جناب محترم پرائم منسٹر صاحب ریاست جموں و کشمیر!

جناب کے مراسلہ مؤرخہ25؍ دسمبر1931ء کے لیے دلی شکریہ قبول فرمائیے، جیسا کہ جناب پر روشن ہے کہ احرار لیڈرز کو ایک جیل میں جمع کرنے اور ہمارے لیے ان کے ساتھ گفتگو کا موقع بہم پہنچانے کی قرار داد ہزہائی نس مہاراجہ جموں و کشمیر اور آپ کے ساتھ 2؍ دسمبر کو دہلی میں طے ہوئی تھی اور آپ نے فرمایا تھا کہ دورانِ گفتگو میں ریاست کا کوئی معتمد لاہور میں رہے گا، یا مراسلت کا کافی انتظام کر دیا جائے گا۔

جناب کا تار موصول ہونے پر میں اسی قرار داد کے بموجب لاہور آیا اور22؍ دسمبر کو بورسٹل جیل میں احرار لیڈرز سے ملاقات کی، میں نے قاعدہ کے موافق ابتدائی مراحل طے کرنے کے لیے 23؍دسمبر کو جناب کو وہ مراسلہ لکھا، جس کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا ہے کہ یہ معاملہ اب گورنمنٹ کے ہاتھ میں ہے اور مجھے مشورہ دیا ہے کہ میں نواب سکندر حیات خاں اور سر ہنری کریک سے ملوں۔ چوںکہ اس وقت تک اس معاملے میں پنجاب گورنمنٹ سے میری کوئی خط و کتابت نہیں ہوئی اور باوجود یکہ جیل کی ملاقات کو سات دن ہو گئے، مجھے گورنمنٹ کی طرف سے کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی کہ مجھے کس افسر سے کب گفتگو کرنی چاہیے، اس لیے براہِ کرم مجھے بواپسی مطلع فرمائیں کہ کیا آپ نے نواب سکندر حیات خاں اور سر ہنری کریک کو بھی اپنے مراسلے کی نقل بھیج دی ہے، تاکہ میں ان کی طرف سے ملاقات کی تاریخ اور وقت کی اطلاع کا انتظار کروں۔

اخیر میں مکرر آپ کے عنایت نامے کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

آپ کا مخلص : محمد کفایت اللہ

(۲۳)مکتوب وزیر اعظم بنام مفتی صاحب

ہزہائی نس گورنمنٹ جموں و کشمیر ۔پرائم منسٹر آفس

31 ؍دسمبر1931ء

مکرمی مفتی صاحب!

آپ کا مراسلہ مؤرخہ29؍دسمبر1931ء کو ملا، مشکور ہوں۔ میں آپ کے مراسلہ اور اس جواب کی -جو میں نے 25؍ دسمبر کو آپ کی خدمت میں بھیجا تھا- نقلیں آنریبل سر ہنری کریک اور آنریبل نواب سکندر حیات خاں صاحب کی خدمت میں بھیج چکا ہوں۔ آپ براہِ راست نواب سکندر حیات خاں صاحب سے ملاقات فرما سکتے ہیں۔ میرے ایما سے آپ کے دہلی سے یہاں تشریف لانے کے لیے میں ممنون ہوں۔ اگر بفضلہ کوئی نتیجہ نیک پیدا ہوا، تو گورنمنٹ ہم لوگوں کو باقاعدہ طور سے اطلاع دے گی۔

آپ کا صادق: ہری کشن کول

(۲۴)مکتوب مفتی صاحب بنام آنریبل نواب سکندر حیات خاں 

لاہور۔ دفتر مجلس خدام الدین

31؍ دسمبر1931ء

بخدمت جناب آنریبل نواب سکندر حیات خیاں صاحب!

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ وزیر اعظم ریاست جموں و کشمیر کی اس اطلاع پر کہ قرار داد کے موافق احرار لیڈرز کو بورسٹل جیل لاہور میں جمع کر دیا گیا، آپ ان سے ملاقات کریں۔ میں اور مولانا احمد سعید صاحب دہلی سے لاہور آئے اور22؍ دسمبر کو احرار ورکنگ کمیٹی کی معیت میں احرار لیڈرز سے جیل میں ملاقات کی اور بعض مبادیات کے تصفیہ کے لیے ہم نے وزیر اعظم کو مراسلہ لکھا۔ اس کے جواب میں وزیر اعظم نے ہمیں اطلاع دی ہے کہ معاملہ پنجاب گورنمنٹ کے ہاتھ میں ہے اور یہ کہ انھوں نے آپ کو میری اور اپنی خط و کتابت کی اطلاع کر دی ہے اور آئندہ گفتگو کا سلسلہ جناب سے متعلق رہے گا، اس لیے براہِ کرم گفتگو کے وقت اور مقام سے مطلع فرما کر منت پذیری کا موقع عنایت فرمائیں۔ میرے ساتھ مولانا احمد سعید صاحب ہوں گے۔اگر کل یکم جنوری تجویز فرمائیں ،تو ایک بجے سے قبل، یا چار بجے کے بعد کا وقت مقرر فرمائیں۔

محمد کفایت اللہ پریذیڈنٹ جمعیت علمائے ہند

(۲۵)مکتوب نواب سکندر حیات خاں بنام مفتی صاحب

سلام مسنون، نیاز! آپ کا عنایت نامہ محررہ31؍دسمبر1931ء مجھے 2؍ جنوری 1932ء کی شام کو ملا۔ آپ نے ملاقات کے متعلق دریافت فرمایا ہے ،جواباً عرض ہے کہ مجھے مسرت ہو گی اگر آپ اور مولانا احمد سعید صاحب کل بروز منگل مؤرخہ 5 ؍جنوری 1932ء، چاربجے شام بندہ کے مکان (21 لوئر مال) پر تشریف لے آئیں۔

خاکسار خلائق: سکندر حیات عفی عنہ

۵ ؍جنوری کو مفتی صاحب اور مولانا احمد سعید صاحب نے آنریبل نواب سکندر حیات خاں صاحب سے ملاقات کی، بعض معاملہ پر باقاعدہ گفتگو اس لیے نہ ہو سکی کہ نواب صاحب نے سرکاری حیثیت سے گفتگو کرنے سے احتراز کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ معاملہ حکومت کشمیر کا ہے، ان کا کوئی نمائندہ یہاں موجود ہونا چاہیے۔ میں ذاتی حیثیت سے گفتگو کر سکتا ہوں، سرکاری حیثیت سے نہیں کر سکتا۔

اسیرانِ احرار سے بورسٹل جیل میں دوسری ملاقات

نواب سر سکندر حیات خاں کی اختیار کی ہوئی پوزیشن کی بنا پر کوئی باقاعدہ اور تصفیہ کن گفتگو نہیں ہو سکی۔ مفتی صاحب نے مناسب سمجھا کہ تمام حالات اسیرانِ احرار کو بتا دیے جائیں، اس لیے چودھری افضل حق صاحب نے آنریبل نواب صاحب سے 6؍ جنوری کو اسیروں سے ملاقات کرنے کی استدعا کی۔ نواب صاحب ممدوح نے انتظام کر دیا اور6؍ جنوری کو حضرت مفتی صاحب و مولانا احمد سعید صاحب اور چودھری افضل حق صاحب نے اسیر رہنماؤں سے دوسری ملاقات کی۔

اسیر رہنماؤں کو جب یہ حالات معلوم ہوئے، تو انھوں نے متفق اللفظ ہو کر کہا کہ جب تک بنیادی امور کی تکمیل نہ ہو جائے ،اس وقت تک یہ سلسلہ نہیں بڑھایا جا سکتا۔ چنانچہ مفتی صاحب نے یہ تمام کیفیت پرائم منسٹر کو حسب ذیل مراسلہ میں لکھ کر بھیج دی:

(۲۶)مراسلہ مفتی صاحب بنام وزیر اعظم

لاہور۔ 6؍جنوری1932ء

مکرمی جناب راجہ ہری کشن کول صاحب، پرائم منسٹر ریاست جموں و کشمیر!

تسلیم! جناب کی اس اطلاع پر -کہ معاملہ اب پنجاب گورنمنٹ کے ہاتھ میں ہے اور آپ نے میری اپنی مراسلت کی نقلیں آنریبل نواب سکندر حیات خاں صاحب ریونیو ممبر پنجاب گورنمنٹ کو بھیج دی ہیں اور مجھے ان سے گفتگو کرنی چاہیے- کل میں نے بمعیت مولانا احمد سعید صاحب آنریبل نواب سکندر حیات خاں صاحب سے ملاقات کی۔ نواب صاحب ممدوح یوں تو مکارم اخلاق سے پیش آئے؛ لیکن میرے تعجب کی کوئی انتہا نہ رہی جب انھوں نے یہ فرمایا کہ میں نے ذاتی حیثیت سے آپ کی ملاقات کی مسرت حاصل کی ہے۔ سرکاری حیثیت سے میں اس معاملہ پر گفتگو نہیں کر سکتا۔

جب میں نے ان سے یہ کہا کہ پرائم منسٹر صاحب نے مجھے اطلاع دی ہے کہ اب معاملہ پنجاب گورنمنٹ کے ہاتھ میں ہے اور اس معاملہ میں آپ، یا سر ہنری کریک گفتگو کریں ،تو انھوں نے فرمایا کہ پنجاب گورنمنٹ کا اس گفتگو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پنجاب گورنمنٹ کا کام صرف اس قدر تھا کہ اس نے احرار ورکنگ کمیٹی کے ممبروں کو ایک جیل میں جمع کر دیا اور آپ کے لیے ان سے ملنے اور گفتگو کرنے کی سہولت بہم پہنچا دی۔ میں جس طرح اس امر کا یقین کرنے سے قاصر ہوں کہ آپ نے پنجاب گورنمنٹ سے یہ طے کیے بغیر کہ وہ معاملہ کو اپنے ہاتھ میں لے کر تصفیہ کرا دے، یہ فقرہ (اب معاملہ پنجاب گورنمنٹ کے ہاتھ میں ہے) مجھے لکھ کر سر ہنری کریک، یا نواب سکندر حیات سے ملنے کے لیے تحریر فرما دیا ہو گا۔

اسی طرح میں اس بات کا یقین کرنے کی بھی وجہ نہیں پاتا کہ پنجاب گورنمنٹ کا ایک ذمہ دار افسر اس کے بعد -کہ معاملہ پنجاب گورنمنٹ کے ہاتھ میں ہو- اس طرح صاف انکار کر دے۔

جناب کو معلوم ہے کہ میں نے ہزہائی نس مہاراجہ بہادر کی دعوت پر2؍ دسمبر کو دہلی میں ہزہائی نس سے ملاقات کی تھی۔ ہزہائی نس کی گفتگو اور اس خط و کتابت کی بنا پر -جو میرے اور دربار کشمیر کے درمیان ہوتی رہی ہے- میرا خیال تھا کہ ہزہائی نس اس کشمکش کو انصاف اور رعیت پروری و الطاف شاہانہ کی بنا پر ختم کرنے کا تہیہ فرما چکے ہیں۔ اور اسی خیال پر اس گتھی کو سلجھانے کے لیے میں نے ہز ہائی نس کے ارشاد پر اپنی خدمات پیش کرنے سے عذر نہیں کیا اور20 ؍دسمبر کو دربار کے تار پر لاہور آیا اور5؍ جنوری تک اسی خیال و یقین کی بنا پر مقیم رہا کہ دربار کشمیر نے گفتگوئے مفاہمت کے لیے کافی انتظام کر دیا ہو گا اور مفاہمت کو کامیاب کرنے کے لیے ہر قسم کی سہولت بہم پہنچائی جائے گی۔ لیکن مجھے افسوس ہے کہ آنریبل نواب سکندر حیات خاں صاحب سے ملاقات کرنے کے بعد مجھے یہ محسوس ہو رہا ہے کہ 2؍ دسمبر سے5؍ جنوری تک کا طویل زمانہ گزارنے اور 22؍دسمبر سے 5؍ جنوری تک لاہور میں قیام کرنے کے باوجود مفاہمت کے لیے کوئی صحیح اور مفید طریقہ بہم نہیں پہنچایاگیا۔ چوںکہ لاہور میں طویل قیام کے باعث میرے دوسرے ضروری مشاغل کا بہت حرج ہوا ہے، اس لیے میں اب دہلی جا رہا ہوں اور ہز ہائی نس کی خدمت میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ راعی کا رعایا کے ساتھ ایسا تعلق ہے اور ہونا چاہیے جیساکہ باپ کا اولاد سے ہوتا ہے۔ ہز ہائی نس اگر تھوڑی سی توجہ سے کام لیں، تو یہ گتھی -جو امتداد مدت کی وجہ سے زیادہ الجھتی جا رہی ہے- آسانی سے سلجھ سکتی ہے۔ اخیر میں یہ عرض کر دینا بھی ضروری ہے کہ مجلس احرار اور اس کے ذمہ دار کارکن اس تحریک کے اصلی چلانے والے ہیں۔ اس لیے آئندہ سلسلۂ گفتگو براہِ راست ان کے ساتھ ہی قائم کیا جائے اور جس قدر جلد ممکن ہو، کوئی ذمہ دار آفیسر گفتگوئے مفاہمت کے لیے مقرر کر کے مطلع فرمایا جائے۔ میں ممنون ہوں گا اگر جناب والا دہلی کے پتہ سے جواب عنایت فرمائیں گے۔میں خط و کتابت کی اشاعت سے پہلے جناب کے جواب کا انتظار کروں گا۔

آپ کا مخلص: محمد کفایت اللہ

(۲۷)خط وزیر اعظم بنا م مفتی صاحب

ہزہائی نس گورنمنٹ جموں و کشمیر پرائم منسٹر آفس، جموں

9؍جنوری1932ء

کرم فرمائے من مفتی صاحب! تسلیم! آپ کا عنایت نامہ مؤرخہ6؍جنوری کو پہنچا، مشکور کیا۔ اثنائے گفتگو دہلی میں آپ کے یہ امید دلانے پر کہ اگر احرار لیڈران مقید جیل کو ایک جگہ پر اکٹھا کیا جائے، جن سے آپ کو اور آزاد لیڈرانِ احرار کو تبادلۂ خیال کرنے کا موقع دیا جا سکے، تو کوئی ایسی صورت نکل سکتی ہے کہ جس سے تحریک احرار ختم ہو جائے (مفتی صاحب کے الفاظ یہ تھے: ’’تو ہمیں امید ہے کہ ایک باعزت مفاہمت کرا دینے میں ہم کامیاب ہو جائیں گے۔ دیکھو 2؍ دسمبر کی ملاقات کی روداد اور مفتی صاحب کا مراسلہ نمبر 18، بنام وزیر اعظم)۔ میں نے افسران پنجاب گورنمنٹ سے تذکرہ کیا۔ چنانچہ میرے ایما سے پنجاب گورنمنٹ نے لیڈران مذکور کو بورسٹل جیل میں یک جا کرنے کا انتظام کر دیا اور یہاں سے مولانا مظہر علی اظہر کو بھی لاہور بھیجوا دیا گیا اور اطلاع آپ صاحب کو دی گئی۔ لیکن چوںکہ گفت و شنید پنجاب کے ایک جیل میں ہوئی تھی اور قیدیانِ مذکور بھی زیر اہتمام پنجاب گورنمنٹ تھے، اس لیے گورنمنٹ کشمیر کا کوئی دخل گفت و شنید میں نہیں ہو سکتا تھا۔ چنانچہ میں نے اپنے سابقہ خط میں آپ کو یہ تحریر کیا کہ آپ نتیجہ تبادلۂ خیالات کے متعلق گفت و شنید افسران ذمہ دار پنجاب گورنمنٹ کے ساتھ کریں۔ اور آنریبل سر ہنری کریک اور آنریبل نواب سکندر حیات خاں صاحب کی خدمت میں بھی ایسا ہی تحریر کیا۔ خیال یہ تھا کہ اگر کوئی نتیجہ ایسا برآمد ہو سکے گا، جس پر گورنمنٹ کشمیر کے لیے عمل کرنا ناممکن نہیں اور تحریک بند ہو جائے، تو پنجاب گورنمنٹ اس نتیجہ کی اطلاع گورنمنٹ کشمیر کو دینے میں سہولت پیدا کرے۔ ممکن ہے کہ آنریبل نواب سکندر حیات خاں صاحب کو کوئی ایسی صورت نظر نہ آئی ہو، اس وجہ سے انھوں نے سرکاری طور پر گفتگو کرنا مناسب نہ سمجھا ہو۔

گو صاحب موصوف کی جانب سے کوئی اطلاع اب تک مجھے آپ کی اور ان کی 4؍ جنوری کی گفتگو کے متعلق موصول نہیں ہوئی۔(وزیر اعظم نے سہواً 4؍ جنوری لکھ دی ہے، ورنہ ملاقات اور گفتگو کی تاریخ 5 ؍جنوری ہے۔ دیکھو مراسلہ مفتی صاحب، نمبر26، بنا م وزیر اعظم)

بہرحال میں آپ کا اور مولانا احمد سعید صاحب کا لاہور تشریف لانے اور قیام رکھنے و نیز لیڈرانِ احرار کے ساتھ گفتگو کر کے معاملات سلجھانے کی کوشش کرنے کے لیے نہایت مشکور ہوں اور توقع کرتا ہوں کہ جو دل چسپی آپ نے اس معاملہ میں لی ہے، اس کو آپ بغرض حصول نتیجہ نیک جاری رکھیں گے۔

آپ نواب سکندر حیات خاں صاحب سے ملاقات کرنے کے بعد اگر مجھے اطلاع دیتے کہ آپ کا ارادہ گفتگو بند کر کے دہلی جانے کا ہے، تو میں فوراً آپ کو صلاح دیتا کہ آپ مجھ سے آ کر مل جائیے۔

کل ہی ایک دو صاحب نے ایک ذریعہ سے متعلقِ احرار مجھ سے گفتگو کی ہے، اگر اس میں کوئی صورت سہولت پیدا ہونے کی نظر آئی، تو بشرطِ ضرورت آپ صاحبان کو پھر تکلیف دوں گا۔

آپ کا صادق: ہری کشن کول

(۲۸)مکتوب مفتی صاحب بنام وزیر اعظم

دہلی۔ 20؍ جنوری1932ء

جناب مکرم! راجہ ہری کشن کول صاحب وزیر اعظم ریاست جموں و کشمیر!

9؍ جنوری اور14؍ جنوری 1932ء کے عنایت ناموں کا شکریہ قبول فرمائیے۔ جواب کی تاخیر معاف فرمائیں۔ 5؍ جنوری کو آنریبل نواب سکندر حیات خاں صاحب سے ملاقات کرنے کے بعد 6؍ جنوری کو اسیرانِ احرار سے ملاقات اس غرض سے کی گئی تھی کہ ان کو اس کارروائی کی اطلاع دے دی جائے، جو 22؍دسمبر1931ء (جب کہ پہلی ملاقات ہو ئی تھی) اور5؍ جنوری 1932ء کے درمیان حکومت کشمیر اور حکومت پنجاب کی طرف سے ہوئی۔22؍ دسمبر1931ء کی ملاقات کے بعد میں نے اپنے مراسلہ مؤرخہ 23؍ دسمبر میں احرارلیڈرز کی طرف سے باعزت مفاہمت کے لیے آمادگی کا اظہار کرتے ہوئے گفتگو کی ابتدا کرنے کے لیے تین باتیں تحریر کیں تھیں۔ پہلی بات یہ تھی کہ اسیر رہنماؤں کو جیل میں باہم لنے اور تبادلۂ خیالات کرنے کا موقع نہیں دیا گیا۔ یہ شکایت 5؍ جنوری تک بحالہ قائم تھی۔

دوسری بات یہ تھی کہ مصالحت کی بنیاد اس امر پر ہو گی کہ کشمیر میں ذمہ دار حکومت کے قیام پر غور کیا جائے، اس کے متعلق حکومت کشمیر نے کوئی تصریح نہیں کی؛ بلکہ معاملہ کو پنجاب گورنمنٹ کی طرف محول کر دیا۔ حالاںکہ یہ امر ظاہر ہے کہ یہ معاملہ ہز ہائی نس مہاراجہ کشمیر کے طے کرنے کا ہے، نہ کہ حکومتِ پنجاب کا۔

تیسری بات یہ تھی کہ مفاہمت کی گفتگو کے لیے کوئی ذمہ دار آفیسر کشمیر گورنمنٹ کی طرف سے مقرر کیا جائے، اس کا نتیجہ اس وقت تک یہی تھا کہ کشمیر گورنمنٹ نے کوئی ذمہ دار آفیسر مقرر نہیں کیا؛ بلکہ پنجاب گورنمنٹ پرمحول کیا تھا اور پنجاب گورنمنٹ کے ریونیو ممبر نے- جن سے ملاقات کرنے کی آپ نے اپنے مکتوب مؤرخہ31؍ دسمبرمیں ہدایت کی تھی- سرکاری حیثیت سے گفتگو کرنے پر آمادگی ظاہر نہیں فرمائی تھی۔

میں نے 6؍جنوری کو احرار لیڈرز سے ملاقات کر کے یہ تمام پوزیشن اُن پر واضح کر دی اور میں سمجھتا ہوں کہ وہ گفتگوئے مفاہمت کو آگے بڑھانے سے پہلے مذکورہ بالا بنیادی امور کی تکمیل کا انتظار کرنے میں حق بجانب ہیں۔

چوںکہ9؍ جنوری کے خط میں جناب نے تحریر فرمایا تھا کہ دو شخصوں نے احرار کے متعلق آپ سے گفتگو شروع کی ہے، اس لیے میں بھی دعا کر رہا ہوں کہ حق تعالیٰ، اس کی نیک نتیجہ پر منتج فرمائے اور جلد از جلد باعزت سمجھوتہ ہو جائے۔

ایک مرتبہ پھر ہز ہائی نس کو پرزور توجہ دلاتا ہوں کہ وہ مفاہمت میں تاخیر ہونے کے باعث پیش آنے والی پیچیدگیوں اور مشکلات کو نظر انداز نہ فرمائیں اور جس قدر جلد اپنی رعایا کو مطمئن فرما دیں گے، اس قدر راعی اور رعایا اور ملک کے لیے بہتر ہو گا۔

آپ کا مخلص:محمد کفایت اللہ۔ (سہ روزہ الجمعیۃ 5؍مارچ 1932ء)

اس سلسلے میں مجلس احرار کی کوششوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ: 

۱۔ وہ کشمیری کاشت کار جس کے پاس زمین تھی، لیکن وہ اس کا مالک نہیں تھا۔ (کیوں کہ ریاست کی تمام اراضی مہاراجہ کی ملکیت تھی) تحریک احرار کے بعد کسان اس کا مالک بن گیا۔ اور ریاست میں مالکانہ حقوق ختم ہوگئے۔ اب ذمہ دار صرف مالیہ ادا کرتا ہے۔ 

۲۔ پچاس فی صد لگان تحریک کے بعد صرف پانچ فی صد رہ گیا۔ 

۳۔ تقریر وتحریر اور جماعت بنانے کی اجازت مل گئی ۔ 

۴۔ اخبار نکالنے اور آزادی رائے پر کوئی پابندی نہیں رہی۔ 

۵۔ آزاد اسمبلی کا وجود تسلیم کیا گیا۔ (مگر یہ اسمبلی برائے نام تھی)

ننانوے سال کے لیے برطانیہ اور مہاراجہ کے مابین ایک معاہدہ طے پایا ، جس کی رو سے انگریز کو بطور پولیٹکل ایجنٹ کے عارضی طور پر کشمیر میں رہنے کی اجازت دے دی گئی۔  (کاروان احرار، جلد اول، ص؍277)

مڈلٹن رپورٹ غیر منصفانہ

ستمبر 1931ء میں کشمیر کے حالات کی تحقیق کے لیے مڈلٹن کمیشن (Middleton) بنائی گئی ۔ اس رپورٹ میں مسلمانوں پر ہوئے مظالم کو افواہ قرار دیتے ہوئے مکمل طور پر حکومت کی تائید کی تھی۔چنانچہ اس رپورٹ میں ایک جگہ لکھا ہے کہ: 

بے بنیاد افواہوں کی روک تھام اور اشتعال انگیز نعروں کا سد باب کرنے کے لیے نہایت ضروری تھا کہ سزائے تازیانہ دی جاتی ، ورنہ یہ نعرے اور اشتعال انگیز آواز فساد اور نقض امن کا موجب بن جاتے ۔ ‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ، 24؍ فروری 1932ء)

چنانچہ جمعیت علمائے ہند نے مجلس عاملہ منعقدہ :29؍فروری تا2؍مارچ 1932ء میں اس رپورٹ کو کشمیریوں کے حق میں ظالمانہ اور غیر منصفانہ قرار دیا۔ (جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، تجاویز اور فیصلوں کی روشنی میں، جلد اول، ص؍314) 

میر پور کشمیر سے مسلمانوں کی ہجرت 

کشمیر میں ظلم و ستم کے باعث میرپور کے مسلمانوں نے بڑی تعداد میں ہجرت کی اور وہ پنجاب کے علاقوں میں چلے گئے۔جناب جاں باز مرزا صاحب ’’میر پورسے مسلمانوں کی ہجرت‘‘ کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں کہ: 

حکومت کشمیر کے ہزار دلاسوں اور بہانوں کے باوجود کشمیریوں کی مشکلات کے دن بڑھتے ہی گئے۔ ہر صبح نئی مصیبت جنم لیتی۔ ہر شام غروب ہونے والا آفتاب اپنے پیچھے ان گنت مصائب چھوڑ جاتا۔ ڈوگرہ شاہی کی سنگینیں اور گورہ فوج کی گولیاں مظلوموں کی حیات مستعار سے موت کی جھولیاں بھر رہی تھیں۔ گاؤں ویران ،گھر قبرستان بن چکے تھے۔ کھیتوں میں خاک اڑ رہی تھی۔ پانی میں انسان کالہو ملوث ہو کر زہر بن گیا تھا۔ ان حالات سے تنگ آیا ہوا کشمیری اپنی رہی سی پونجی چھوڑ کر جان ناتواں لے کر اپنے ملک سے ہجرت پر مجبور ہوا، تاکہ ظالم کے خون سے زندگی بچا سکے۔ گھر سے بے گھر ہوکر یہ قافلہ پہلے تو جہلم اترا۔ شہر کے عوام نے بھائی چارے کی رسم نبھائی اور خوب نبھائی۔ دریا کے کنارے جہلم کی آبادی کو ہر سال دریا کی طوفانی موجیں آپے سے باہر ہو کرمہاجر بنا دیتی تھیں؛ لیکن کشمیر کے بے گھر مسلمان بھائیوں کی اعانت میں جہلم کے عوام نے اپنی بساط سے کہیں زیادہ امداد کی۔مہاجروں کا دوسرا قافلہ- جوکئی ہزار پرمشتمل تھا- سیالکوٹ پہنچا۔ سیالکوٹ دستی صنعت کاروں کا شہر ہے۔ تحریک کشمیر کے باعث تمام کارخانے مقفل تھے۔ شہر کے ہزاروں پیر و جوان اور بچے جیل خانوں میں تھے؛ تاہم سیالکوٹ نے اپنی مہمان نوازی میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ گھروں سے رہا سہا اثاثہ بھی اپنے بے وطن بھائیوں کی نذر کر دیا۔

ہجرت کی اس تحریک نے حکومت ہند اور دربار کشمیر کو پریشان کر دیا۔ وہ رسوائی کے ڈر سے مہاجروں کو واپس وطن لے جانے کی کوشش کرنے لگیں اور انھوں نے ہجرت کی تمام ذمہ داری مجلس احرار پر ڈال دی،حالاںکہ احرار کا منشا ہرگز نہیں تھا کہ گھروں سے بے گھر ہو کر لوگ دوسروں کے دست نگر بنیں؛ لیکن ریاست کے جبرو تشدد سے مجبور ہو کر انھیں ایسا کرنا پڑا؛ مگر حکومتوں کے اشارے پر ہند و پریس اور انگریزی اخبارات نے اپنے جرم کا اقرار کرنے کی بجائے یہ الزام بھی مجلس احرار کے سر تھوپ دیا۔(کاروان احرار، جلد اول، ص؍270)

 مولانا حفظ الرحمان صاحب سیوہارویؒ کی قیادت میں تحقیق حالات کے لیے 6؍اپریل 1932ء کوایک وفد کشمیر پہنچا اور یہ پایا کہ پچاس سے زائد گاؤں سے تین ہزار چھ سو سترہ افراد وہاں سے ہجرت کرچکے ہیں۔ قائد وفد جمعیت نے وہاں ایک مقامی کمیٹی بنادی، جو مسلسل ان کے لیے تعاون اور ان کی خدمات کے لیے سرگرم عمل رہی۔ حضرت مولانا نے جو رپورٹ پیش کی، وہ درج ذیل ہے: 

مہاجرین میر پور کے متعلق جمعیت علمائے ہند کی رپورٹ

مہاجرین میر پور( ریاست کشمیر) کی تحقیق حالات اور طریق امداد معلوم کرنے کی غرض سے 28؍ذی قعدہ1350ھ (6؍اپریل 1932ء)کو بحیثیت نمائندہ جمعیت علمائے ہند میری(مولانا حفظ الرحمان صاحب ) روانگی دہلی سے ہوئی۔ میرے ہمراہ مولوی محمدیوسف صاحب بہاری بھی تھے۔ ہم فرنٹیر میل سے 29؍ذی قعدہ کو بارہ بجے دوپہر کو جہلم پہنچے۔ اسٹیشن سے اُترتے ہی پولیس والوں نے ہم کو مختلف سوالات کر کے پریشان کر دیا۔ دہلی سے براہ راست یہاں کیوں آئے؟ آپ کا کیا مقصد ہے؟یہاں کیا کام کریںگے؟ کب تک رہیںگے؟ہم نے تمام سوالوں کا اطمینان بخش جواب دیا۔ اور صاف صاف بتا دیا کہ اس وقت یہاں آنے کا مقصد کسی سیاسی پروگرام کی قبیل سے نہیں ہے۔ بعض اسلامی اور انسانی ہمدردی کی بنا پر مہاجرین میر پور کے حالات کا معائنہ اور ان کے ساتھ غم گساری مقصود ہے۔

معائنہ اور ملاقات ومشورہ

پولیس والوں سے نجات حاصل کرنے کے بعد ہم نے سرکردہ مہاجرین اور دیگر ذمہ دار مسلمانوں سے ملاقات کر کے معلومات فراہم کیں اور کاموں کے متعلق ان سے تبادلۂ خیالات کیا۔ہم نے راجہ محمد اکبرخاں صاحب سے بھی ملاقات کی، جو حسن اتفاق سے اسی روز جیل سے ضمانت پر رہا ہو کر آئے تھے۔ ان پر پولیس نے دفعہ109 کے ماتحت مقدمہ چلا دیا ہے، حالاںکہ آپ علاقہ میر پور کے ایک معزز شخص ہیں۔ نہایت مخلص اور دیانت دار کا رکن ہیں۔ مہاجرین کی امداد میں سر بکف کام کر رہے ہیں۔ دیگر حضرات کے علاوہ راجہ صاحب سے ہم کوخصوصیت کے ساتھ مفصل حالات معلوم ہوئے۔ اُنھوں نے ہم کو شہر کے وہ مقامات بھی دکھائے، جہاں جہاں مہاجرین اقامت گزیں ہیں۔ اس طرح پر ہمیں مہاجرین سے ملنے اور ان کے احوال و خواہشات کے معلوم کرنے کا بہترین موقعہ میسر ہوا۔ 

مہا جرین کی تعداد

ان مظلوم مہاجرین کی صحیح تعداد بتانا بہت مشکل ہے ؛لیکن ہم نے جو چند مقامات پر ان کے قافلے دیکھے اور جتنی تعداد میں وہ نظر آئے، بلاشبہ کہا جا سکتا ہے کہ مجموعی تعداد کئی ہزار تک ہوگی؛ لیکن مقامی حضرات نے جو شمار کر کے اعداد فراہم کیے ہیں اور انھوں نے اپنے بیان میں درج کیا ہے، اس کی مجموعی تعداد تین ہزار چھ سو سترہ ہے، جس کی تفصیل حسب ذیل ہے:

مرد:1157۔ عورتیں:1661۔اس کے علاوہ بچے ہیں۔ ہم سے یہ بھی کہا گیا کہ مہاجرین کی کچھ تعداد ایسی ہے،جویہاں آتے ہیں اور پھر وہ اپنے گاؤں کے قریب ہونے کی وجہ سے اپنی فصلوں کو دیکھنے بھالنے کے لیے چلے جاتے ہیں۔ گویا وہ آتے جاتے رہتے ہیں۔

شکایات مہاجرین

تحصیل میر پور کے تقریبا پچاس گاؤں کے نام ہم کو معلوم ہے، جہاں سے ہجرت کر کے مظلومین پنجاب کے حدود میں داخل ہو گئے ہیں۔ حکومت کشمیر کے حکام نے اپنے لوگوں پر مالیہ وصول کرنے میں نہایت تشددو سختی سے کام لیا اور نا گفتہ بہ وپیہم اس قدر مظالم کیے کہ وہ لوگ مجبور ہوکرترک وطن پر مجبورہوئے۔ اور بے پناہ مظالم کے ساتھ ان لوگوں پر مقدمات بھی قائم کیے گئے ہیں، جن کی وجہ سے ان کی جان و مال، عزت و آبروسخت خطرہ میں ہے۔

مہا جرین کی خواہشات

مہاجرین کے سمجھ دار اور ذمہ دار حضرات سے تبادلۂ خیالات کرنے پر یہ بات ظاہر ہوئی کہ وہ حدود پنجاب، یا اور کسی جگہ اقامت کا ارادہ نہیں رکھتے؛ بلکہ ان کی دلی خواہش یہ ہے کہ ہم اپنے وطن مالوف میں عزت کے ساتھ واپس جائیں اور ہم کو اطمینان دلایا جائے کہ ہم پر مظالم نہیں کیے جائیں گے۔ اور جن بے گناہوں پر مقدمات چلا کر جیل خانے میں ٹھونسا جارہا ہے، ان سے مقدمات اٹھائے جائیں۔ اور کم از کم ریاست سے باہر کے وکلا وہاں پہنچ کر ہمارے مقدمات کی جائز و قانونی پیروی کر کے ہم کو مصیبت سے نجات دلائیں اور انھیں پیروی مقدمات میں ہرقسم کی سہولت بہم پہنچائی جائے۔ 

مالی امداد کے سلسلہ میں جب کہ میں نے ان سے کہا کہ ایک حقیر رقم جمعیت علمائے ہند کی طرف سے میں لایا ہوں، جس طرح چاہیں آپ صرف کر دیں، تو ان لوگوں نے فرمایا کہ بحمدللہ ہم میں سے اکثر مہا جرین ایسے معذور نہیں ہیں۔ روٹی کپڑے کا سامان اللہ تعالیٰ نے ہمیں بہت کچھ دے رکھا ہے۔ ہاں چند سو آدمی فساد زدہ رقبہ میں بے شک اندرون حدود ریاست اس قسم کی امداد کے بھی محتاج ہیں اور وہاں ان کو مدد پہنچانے کی سبیل کرنی چاہیے؛ لیکن اصلی و حقیقی امداد ہماری یہ ہے کہ ہندستان کے مسلمان ہماری باعزت واپسی کی فکر کریں اور ہمارے مقدمات کی پیروی کے لیے قانونی امداد بہم پہنچائیں ۔ہماری فصلیں بالکل تیار ہیں، اگرہم کچھ دنوں با ہر رہے، تو ہماری تمام فصلیں بر باد و ضائع ہو جائیں گی۔

ان لوگوں کولالہ دیوان چند تحصیل دار اور ٹھا کر رتن سنگھ اور ایک سب انسپکٹر پولیس اور رام چندر ڈی آئی جی سے سخت شکایات ہیں۔ جب تک اُن کی علاحدگی، یا تبدیلی عمل میں نہیں آئے، ان کو اطمینان نہیں ہو سکتا۔ ان لوگوں کو سب سے زیادہ پریشانی یہ ہے کہ تقریبا پانچ سواشخاص پر مقدمات چلائے گئے ہیں، جن کی پیروی کا کوئی سامان نہیں ہے۔

 حکومت کا رویہ

ہم نے اپنی موجودگی میںیہ بھی محسوس کیا کہ حکومت کشمیر اور حکومت پنجاب بھی ان مہاجرین کے جذبۂ ایثار و قربانی سے متأثر ہیں اور وہ بھی جانتے ہیں کہ یہ مہاجرین کی صورت سے جلد از جلد اپنے وطن کو واپس جائیں؛ لیکن یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ وہ ان مظلومین کے ساتھ انصاف اور ہمدردی کروانے کو بھی تیار ہیں یا نہیں؛ کیوںکہ ابھی تک حکومت کی طرف سے کوئی اطمینان بخش کار روائی نہیں ہوئی ہے، جس سے اس کا صحیح اندازہ ہو سکے۔

مسٹر سالسبری ڈی سی بی کا اعلان

صرف ہماری موجودگی میں بوقت شب مہاجرین کے روبرو مسٹر سالسبری ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کا ٹائپ شدہ اعلان مسٹر ملک سلیمان سٹی مجسٹریٹ جہلم نے پڑھ کر بنایا جس کا حاصل یہ تھا کہ:

۱۔ تم سب لوگ اپنے اپنے وطن کو واپس ہوجاؤ۔جب تک تم واپس نہ آؤ گے، ہم کوصحیح حالات کا علم کس طرح ہو گا۔

۲۔ اگر تم اپنی شکایات کا ثبوت صحیح طور پر بہم پہنچاؤ گے اور وہ ثبوت قانونی حیثیت سے درست ہو گا، تو ہم ان پولیس افسروں کوسزا دیں گے، جنھوں نے تم پر ظلم کیا ہے، یا اور کسی بد عنوانی سے پیش آئے ہیں۔۔ 

۳۔ تمھاری جماعت کے یہاں 157 ایسے اشخاص موجود ہیں، جوملزم ہیں اور ان کے خلاف مقدمات قائم ہیں، جن کے ناموں کی یہ فہرست ہے۔ تم ان سب لوگوں کو از خود ہمارے حوالہ کردو۔

۴۔ اگر تم لوگ ان سب کو ہمارے حوالہ کرو گے، تو ہم ان سب کا اوران کے علاوہ دیگر تمام ملزمین کا -جن کی تعداد357 ہے -ضمانت پر رہا کر کے ڈیفنس کا موقع دیںگے۔

 اعلان کا اثر

اس اعلان سے مہاجرین چنداں متأثر نہیں ہوئے۔ وہ اس اعلان کو اپنے اطمینان کے لیے ناکافی سمجھتے ہیں اور مزید اطمینان بخش کار روائی کے خواہش مندہیں۔ اور جو کم از کم یہ ہے کہ جو افسران مظالم کے ذمہ دار ہیں، ان کے ہاتھ میں مقدمات کی تحقیقات نہ ہو۔ اور وہ جلد از جلد اس حلقہ سے کسی دوسرے حلقہ میں منتقل کر دیے جائیں۔ اور یہ اطمینان دلا دیا جائے کہ پیروی مقدمات میں پوری آزادی ہوگی۔ اور ہندستان کے قانون پیشہ حضرات وہاں پہنچ کر آزادی کے ساتھ ہمارے مقدمات کی پیروی کر سکتے ہیں۔ اس میں کسی قسم کی رکاوٹ نہ پیدا کی جائے اوریہ کہ ہم کو آئندہ مصائب ومظالم میں مبتلا نہیں کیا جائے گا۔ جن افسروں نے ہم پر مظالم کیے ہیں اورجنھوںنے ہماری بے آبروئی کی ہے، ان کے خلاف ہماری شہادتوں کو قابل وثوق سمجھا جائے؛ کیوںکہ ہمیں اندیشہ ہے کہ افسروں کی رعایت کر کے یہ کہہ دیا جا سکتا ہے کہ ہما رے نزدیک یہ شہادت قابل وثوق نہیں ہے۔ یا یہ کیا جائے کہ ایک غیر جانب دار کمیشن مقرر کی جائے کہ کن کن افسروں نے کس کس قسم کے مظالم کیے ہیں اور اس کمیشن کے بیانات اور سفارشات پر عمل کرنے کا ہمیں یقین دلایا جائے۔ الغرض اس قسم کی متعدد امور کا اعلان مہاجرین کے نقطۂ نظر سے واپسی سے پہلے ہوجانا لازمی ہے۔ لیکن بعض مقامی کارکن اور خصوصیت کے ساتھ قادیانی حضرات مسٹر سالسبری کے اعلان کو بالکل کافی سمجھتے ہیں اور وہ کوشش کر رہے ہیں کہ مہاجرین جلد واپس ہوجائیں۔

ہم کو یہ بھی معلوم ہواکہ واپسی کے سلسلہ میں بعض حضرات ان کی واپسی کی قیمت بھی دینے کے لیے کچھ طے کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ایسے لوگوں کے فتنہ سے بچائے۔

 ریلیف کمیٹی

جہلم میں مہاجرین کی امداد کے لیے ایک ریلیف کمیٹی نو اشخاص کی بن گئی ہے، جس کے صدر حافظ نور محمد صاحب میونسپل کمشنر جہلم ہیں۔ اور یہ ایک اچھے محنتی کارکن ہیں۔ اس کمیٹی نے بروقت مہاجرین کی خدمت بھی کی ہے؛ لیکن مصیبت یہ ہو گئی ہے کہ اس کمیٹی میں دو قادیانی حضرات بھی شامل ہیں اور یہ حضرات اپنی چالاکی و ہوشیاری سے سب پر چھائے ہوئے ہیں اوروہ اپنی خالص قادیانی مشن کے مخصوص اغراض کے ماتحت کام کر رہے ہیں۔ اس لیے اس کمیشن پر قدر تاً عام مسلمانوں کو کوئی اعتماد نہیں ہو سکتا ہے اور نہ ہونا چاہیے۔

مجلس احرار کے کارکن

جہلم میں مجلس احرار کے کا رکن بھی موجود ہیں؛ لیکن ان حضرات کو ابھی تک کام کا کوئی خاص اسلوب معلوم نہ ہو سکا اور اس لیے عملاً کوئی نظام کار اب تک شروع نہ کرسکے تھے ۔

خدام خلق کا قیام

ان حضرات سے بھی خصوصیت سے تبادلۂ خیالات ہوا اور تمام حالات پر غور کرکے ہم نے مشورہ دیا کہ مہاجرین کی اصلی خدمت یہ ہے کہ خوش اسلوبی کے ساتھ با عزت طریقہ پر ان کو اپنے وطن واپس کیا جائے۔ اگر چہ ان مہاجرین کی نمائش اور ان کی درد انگیز داستانین بیان کر کے ہندستانی مسلمانوں میں ہیجان پیداکر کے سیاسی تحریک کو قوت دی جا سکتی ہے؛ لیکن اس سے تارکان وطن کو کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا؛ بلکہ بہت ممکن ہے کہ اس سے ان کو مزید نقصان پہنچے اور کم از کم جتنے دنوںوہ باہر رہیں گے، ان کی تمام جائدادیں اور فصلیں تباہ ہوجائیں گی، اس لیے ان کی حقیقی خدمت یہ ہے کہ ان کو باعزت طریقہ پر واپس کرانے کی تدبیر کی جائے۔ اور اندرون ریاست پہنچ کر ان لوگوں کی قانونی مشیروں کی مدد پہنچائی جائے۔ اس کے علاوہ حدود ریاست میں جو لوگ پریشان حال اور نان جویں کے محتاج ہیں، ان کو مالی مدد بھی دی جائے۔ لیکن ان کاموں کے لیے جہلم کی ریلیف کمیٹی قادیانیوں کی شمولیت اور ان کے مقاصدمشئومہ کی وجہ سے ناقابل اعتبار ہے، اگر چہ اس کمیٹی میں ہمارے غیر قا دیانی مخلص حضرات شریک ہیں؛ مگر قادیانی اپنی چالاکی سے جو چاہتے ہیں کرتے ہیں اور ان کی شرکت سے ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں۔ اس کے علاوہ کل پرسوں تک ممکن ہے کہ مہاجرین کی واپسی کی صورت پیدا ہو جائے گی، اس لیے ریلیف کمیٹی کاکام بھی عملا ختم ہو جائے گا اور اس کے بعد جو اصلی کام ہے، وہ باقی رہے گا۔ اور بحالت موجودہ جمعیت علمااور مجلس احرار کوحدودکشمیر میں جاکر ،یا جہلم میں رہ کرکام کا موقع نہیں دیا جا سکتا ہے؛ کیوںکہ ان جماعتوں کا موجودہ پروگرام کیا ہے کہ برٹش حکومت قطعا ان کو اطمینان سے کام کرنے کا موقعہ نہیں دے گی، اس لیے بہتر ہے کہ ایک نئی جماعت خدام خلق کی بنائی جائے، جس میں قابل وثوق ولائق کا رکن شامل ہوں اور ان لوگوں کاسیاسی تحریکات سے عملاً کوئی تعلق نہ ہو۔ چنانچہ ہماری اس تجویز کو احراری کارکن اور دیگر حضرات نے بھی پسند کیا۔ اور ایک کمیٹی خدام خلق کی جہلم میں بن گئی ،جس کے عہدہ دار حسب ذیل حضرات ہیں: صدر جناب شیخ عبد الحمید صاحب لاہور، نائب صدر سائر علم الدین صاحب جہلم، سکریٹری حسین محمد صاحب میونسپل کمشنر سیالکوٹ،نائب سکریٹری افضل کریم صاحب جہلم۔ ارکان میں راجہ محمداکبر خان۔ ڈاکٹر امام الدین۔ حاجی وہاب الدین چونسری۔مولا بخش صاحب وغیرہ شامل ہیں ۔ہم کو امید ہے کہ یہ کمیٹی مظلومین میر پور کو جلد از جلد باعزت طریقہ پر واپس کر کے اصلی حقیقی خدمت انجام دے گی۔

بیرونی امداد

مظلومین ومہاجرین کو جس قسم کی امداد کی ضرورت ہے، وہ ہم اوپرلکھ چکے ہیں۔ اور اس میں شک نہیں کہ چند سومظلومین کی مالی امداد کی بھی سخت ضرورت ہے اورسب سے زیادہ مقدمات میںامدادپہنچانے کی حاجت ہے۔ اور انجمن خدام خلق سے امید ہے کہ وہ اس خدمت کو بحسن و خوبی انجام دے گی۔ بیرونی حضرات کو خواہ مخواہ قبل از وقت یہ نہیں کہہ سکتے کہ اس کو بند کرکے کسی شخص کے پاس روپیہ بھیج دیجیے؛ بلکہ ہم یہ عرض کرتے ہیں کہ روپیہ جمع کرکے اپنے شہر کے کسی معتمد آدمی کی معرفت جہلم بھیجیے۔وہ وہاں جاکر خدام خلق کے کاموں کے دیکھے۔ اور جب اطمینان بخش ہوں، تو روپیہ ان کے حوالے کردے۔ (ابوالقاسم محمد حفظ الرحمان)۔ 

(سہ روزہ الجمعیۃ،13؍اپریل1932ء)

احرارو حکومت کشمیر میں مصالحت نہ ہونے کی وجہ سے حکومت پنجاب ہے

 11؍مارچ1932ء کو بعد نماز جمعہ جامع مسجد دہلی میں مسلمانان دہلی کا ایک عام جلسہ منعقد ہوا، جس میں پندرہ ہزار مسلمانوں نے شرکت کی۔ حافظ عبدالغفار صاحب نے قرآن عزیز کی تلاوت کی ۔ مولانا مولوی الحاج عبد الحلیم صاحب صدیقی نے بعض آیات پاک کی تلاوت فرماکر ان کے مطالب کی تشریح کی اور اس کے بعد صدارت کے لیے حضرت علامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کا نام نامی پیش فرمایا۔

 حضرت العلامہ نے نہایت رقت آمیز اور درد انگیز لہجہ میں تقریبا پونے دو گھنٹے تک تقریر کی ، جس میں خاص طور پر صوبہ سرحد کے مظالم کا تذکرہ کیا اور کشمیر کے سلسلہ میں فرمایا کہ مصالحت نہ ہونے کی تمام تر ذمہ داری حکومت پنجاب کے ارباب حل و عقد پر عائد ہوتی ہے ۔ اور گول میز کانفرنس کی ناکامی اور مسلم مندوبین کی مایوسی کا مفصل ذکر فرمایا اور مسلمانوں سے دریافت کیا کہ جب حالات اس قسم کے ہوں، تو آپ ہی بتائیں کہ اب ہم کو کیا کرنا چاہیے۔ 

حضرت علامہ کی تقریر اس قدر پر تاثیر اور حقائق سے مملو تھی کہ تمام حاضرین اشک بار تھے اور زارو قطار رو رہے تھے ۔

جمعیت علمائے ہند کی طر ف سے حکومت کشمیر کے مظالم کی مذمت

جیسا کہ عرض کیا گیا کہ معاہدۂ امرتسر کے تحت 16؍مارچ 1846ء میں انگریزوں نے 75لاکھ روپے نانک شاہی کے عوض کشمیر کو گلاب سنگھ کو بیچ دیا ۔گلاب سنگھ اور اس کے جانشینوں نے انگریزوں کے ساتھ ساز باز کرکے کشمیر پر اپنا قبضہ برقرار رکھنے کے لیے کشمیری عوام پر بہت ظلم کیا، جس کے خلاف کشمیری عوام نے کشمیر کو آزاد کرانے کے لیے مسلسل تحریک جاری رکھی، اس تحریک کو کچلنے کے لیے کشمیریوں پرظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے، جس کی جمعیت علمائے ہند نے اپنی مجلس عاملہ منعقدہ: 14؍15؍16 ؍مارچ1934ء میں اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی:

’’ جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس حکومت کشمیر کے ان مظالم اور وحشیانہ جبر و تشدد کو -جو اپنی رعایا کے جا ئز مطالبات کو کچلنے کے لیے اختیار کیے گئے ہیں- انتہائی نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے اور حکومت کشمیر پر اس امر کو واضح کر دینا چاہتا ہے کہ اس کی انصاف کش پالیسی اور وحشیانہ مظالم کے خطرناک نتائج کشمیر کے امن و اطمینان کو بر باد کردینے کا باعث ہوں گے۔‘‘ (جمعیت علمائے ہند کی تاریخ،تجاویز اور فیصلوں کی روشنی میں، جلد اول، ص؍334)

مہاراجہ کشمیر کے نام صدر جمعیت کا تار

کشمیر سری نگر میں واقع خپلو سے شیعوں کی طرف سے صحابۂ کرام، ازواج مطہرات کی شان میں گستاخیوں اور اکثریت میں ہونے کی وجہ سے اقلیت میں پائے جانے والے سنی مسلمانوں پر حملے کے تسلسل کی خبر آنے پر جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا حسین احمد مدنی صاحبؒ نے 4؍نومبر1941ء کو  مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ کو  درج ذیل تار  روانہ کیا:

’’ خپلو میں شیعوں نے وہاں کے شیعی جاگیردار کی حوصلہ افزائی پر ایک نہایت کو مشتعل کن نئی چیز ایجاد کی ہے اور غریب سنیوں پر عرصۂ زندگی تنگ کر دیا ہے۔ براہ رعیت پروری سنیوں کو شیعوں کے مظالم سے نجات دلائیے اور ان کی اشتعال انگیزی کا انسداد فرما کر غریب سنیوں کی دادرسی کیجیے۔ تمام ہندستان کے سنی آپ کے فیصلے کے بے چینی سے منتظر ہیں۔

حسین احمد صدر جمعیت علمائے ہند۔

اسی طرح ناظم جمعیت علمائے ہند مولانا عبدالحلیم صدیقی صاحب نے بھی مہاراجہ کے نام درج ذیل تار بھیجا:

’’ہز ہائی نس مہاراجہ کشمیر!وسط نومبر میں، میں نے جو تار خپلو میں سنیوں پر شیعہ مظالم کے متعلق جناب کی خدمت میں بھیجا تھا، اس کا جواب اب تک نہیں ملا۔ وہاں کے جاگیردار کی طرف سے سنیوں پر بے پناہ مظالم کی رپورٹ اب تک ا ٓرہی ہیں۔ مجھے آپ سے انصاف اور دادرسی کی توقع ہے اور امید ہے کہ ٓاپ یا تو ریاست کی طرف سے ایک ایسی تحقیقات کرائیںگے، جس پر کسی کا اثر نہ ہو، یا پھر ایک آزاد تحقیقات کی ہمیں اجازت دے کر اپنی مذہبی رواداری کا ثبوت دیںگے۔ برطانوی ہند کے سنی مسلمانوں کو امید ہے کہ آپ اس کی طرف ضرور توجہ کریںگے۔ برطانوی ہند کی دیگر اسلامی انجمنوں نے بھی آپ کی خدمت میں اسی قسم کے تار دیے ہیں؛ مگر ان کا بھی اب تک کوئی اثر نہیں ظاہر ہوا ہے۔ برائے کرم آپ جو فوری کاروائی اختیار کریں، اس سے مطلع فرمائیں اور جواب دے کر مسلمانوں کے بڑھتے اضطراب کوروکیں۔ 

عبدالحلیم صدیقی ناظم جمعیت علمائے ہند دہلی۔

جمعیت علمائے ہند کے اجلاس میں کشمیریوں کی نمائندگی کا معاملہ

تیرھویں اجلاس عام کے موقع پر مجلس عاملہ منعقدہ: 18-19-20؍ مارچ 1942ء میں مسلمانانِ کشمیر کی نمائندگی کا مسئلہ پیش ہوا۔ جس میں یہ طے کیا گیا کہ جو حضرات بغرضِ شرکت اجلاس تشریف لائے ہوئے ہیں، ان کو پہلے جمعیت علما کا عام ممبر بنا کر خصوصی طور پر مسلمانانِ کشمیر کی جانب سے بطور نمائندہ شرکتِ اجلاس لاہور کا حق دیا جائے۔

 کشمیری عوام کے مذہبی و ثقافتی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ

اس کے بعد جب 20-21-22؍ مارچ 1942ء کو تیرھواں اجلاس عام ہوا، تو اس میں کشمیری عوام کے مذہبی و ثقافتی حقوق کی پامالی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا اور درج ذیل تجویز نمبر(۱۵) منظور کی :

’’جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس ریاست کشمیر کے فرماںروا مہاراجہ بہادر کی توجہ ان اُمور کی طرف منعطف کراتا ہے، جس سے ریاست کی81 ؍فی صدی مسلم آبادی کے مذہبی و ثقافتی حقوق پامال ہورہے ہیں، مثلاً:

۱۔ اگر کوئی غیر مسلم تحقیق حق کے بعد مذہب اسلام قبول کرلے، تو اس کی سابقہ جائداد ضبط کرلی جاتی ہے۔

۲۔ اگر کوئی مسلمان -خواہ کتنے ہی اخفا کے ساتھ مذہبی قربانی، یا تحصیلِ غذا کی غرض سے گائے ذبح کرلے- تو اس کو سخت سزا دی جاتی ہے۔

۳۔ ریاست میں سرکاری اور دفتری کاغذات و تحریرات اُردو رسم الخط میں لکھے جاتے تھے، مگر اب آہستہ آہستہ دیوناگری رسم الخط کی ترویج کی کوشش شروع کردی گئی ہے۔

۴۔ ریاست میں پچھلے سال سے قانون اسلحہ نافذ کیا گیا ہے، جس میں راجپوت بندوق وغیرہ آتشی اسلحہ کے لائسنس سے مستثنیٰ رکھے گئے ہیں۔ ہندو اور باقی تمام لوگوں پر ہتھیار رکھنے کے بارے میں سخت پابندی عائد کردی گئی ہے۔

اِن اُمور سے کشمیر کی مسلم آبادی سخت تشویش و پریشانی میں مبتلا ہے اورنمبر ایک سے تو ضمیر کی آزادی کی بنیادہی متزلزل ہوگئی ہے۔ جمعیت علمائے ہند فرماںروائے کشمیر سے توقع رکھتی ہے کہ نمبر۱، ۲،۴ کو منسوخ فرماکر اور نمبر ۳کے متعلق صاف و صریح اعلان جاری فرماکر- کہ ریاست کا سرکاری و دفتری رسم الخط مثل سابق اُردو ہی رہے گا- اپنی وفادار مسلم رعایا کو مطمئن اور ان کے جذبۂ وفاداری کو استحکام بخشیں گے۔

محرک: مولانا محمد میاں صاحب مرادآبادؒ۔ مؤید: مولانا محمد اسماعیل صاحبؒ پنجاب۔‘‘ (جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، تجاویز اور فیصلوں کی روشنی میں، جلد اول، ص؍471)

مہاراجہ جموں و کشمیر اسٹیٹ کو جمعیت علمائے ہند کا مکتوب

تیرھویں اجلاس عام میں جو تجویزیں کشمیر سے متعلق تھیں، 23 ؍اپریل1942ء کو وہ تجویزیں مہاراجہ کشمیر کے نام بھیج کر کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

’’حضور عالی کی توجہ ان قراردادوں کی طرف مبذول کرائی جاتی ہے، جو حضور کی ریاست میں رہنے والے 81؍ فی صد مسلمان رعایا کے مذہبی اور سیاسی حقوق سے متعلق ہیں، اور مؤدبانہ گزارش ہے کہ ان کے حقوق کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات فرمائے جائیں۔

ان قراردادوں کا متن حضور عالی کی خدمت میں ملاحظے اور مہربانانہ غور و خوض کے لیے منسلک ہے۔

فرماںبردار:جنرل سکریٹری۔ (ریکارڈ روم)

مہاجرین قازاغستان کے سلسلے میں حکومت کشمیر کی بے وفائی

مشرقی ترکستان میں واقع قازاغستان میں ظلم و ستم سے تنگ آکر وہاں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے، حکومت کشمیر نے انسانیت کے ناطے انھیں حدود کشمیر میںکچھ شرائط کے ساتھ داخلہ کی اجازت تو دی، تاکہ بین الاقوامی پلیٹ فارم پر اس کی بدنامی نہ ہو، لیکن ان مہاجرین کے ساتھ کیے گئے وعدوں کو وفا نہیں کیا، جن سے مزید حالات کے شکار ہوگئے، ان دردناک حالات پر جمعیت علمائے ہند نے اسی تیرھویں اجلاس عام میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی:

’’جمعیت علمائے ہند مشرقی ترکستان کے ایک حصہ قازاغستان کے قازاغ مہاجرین کے دردناک حالات معلوم کرکے سخت حزن و اندوہ کا اظہار کرتی ہے۔ یہ ہزاروں مہاجرین اپنے وطن سے خانماں برباد ہوکر ہندستان کی طرف ہجرت کے ارادے سے نکل کھڑے ہوئے۔ حکومت کشمیر نے ان کو حدودِ ہند میں داخل ہونے کی بعض شرائط کے ماتحت اجازت دے دی۔ انھوں نے تو وہ شرائط پوری کردیں؛ لیکن حکومت کشمیر نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا، بلکہ حکومتِ ہند کے ایما سے ان کو مظفر آباد کے ایک ناقابلِ قیام علاقہ میں نظر بند کردیا۔ یہ لوگ اس نظر بندی میں سخت مصائب میں مبتلا ہیں اور بے حد جانی و مالی نقصان اٹھارہے ہیں۔ جمعیت علمائے ہند حکومت سے انسانیت کے نام پر مطالبہ کرتی ہے کہ ان پر سے نظر بندی کی تمام قیود ہٹا دی جائیں اور اُن کو چلنے پھرنے اور معاش کے ذرائع اختیار کرنے کا موقع بہم پہنچایا جائے، تاکہ ناداری اور بھوک کی وجہ سے اُن کے افراد اور مویشی -جو روزانہ ہلاک ہورہے ہیں- موت کے چنگل سے نجات پائیں۔

یہ جلسہ تمام مسلمانوں اور ہمدردانِ بنی نوع انسان سے بھی دردمندانہ استدعا کرتا ہے کہ وہ ان مہاجرین کی حالتِ زار کا خیال کرتے ہوئے ان کی طرف امداد و اعانت کا ہاتھ بڑھائیں۔

محرک:جناب محمد سعید صاحب ؒمجاہد سری نگر ۔مؤید:  مولانا محمد ایوب صاحبؒ سرحد۔‘‘ (جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، تجاویز اور فیصلوں کی روشنی میں، جلد اول، ص؍474)

مہاراجہ کشمیر کے نام جمعیت علمائے ہند نے کابرقیہ

سکریٹری ریلیف کمیٹی مظفرآباد سے اطلاع ملی کہ قازاق مہاجرین پر جو مصائب پے در پے پڑ رہے تھے، وہ اگرچہ خود کافی تباہ کن تھے، لیکن ابھی ایک نئی مصیبت یہ آن پڑی کہ برٹش گورنمنٹ نے معمولی مالی امداد کا جو سلسلہ قائم کیا ہے، وہ ریاست کشمیر کے ایسے حکام کے ہاتھ سے تقسیم کی جاتی ہے کہ غریب، فاقہ مست جماعت کو اس سے استفادہ کا بہت ہی کم موقع ملتا ہے اور وہ بے چارے روزمرہ کی خوراک میں بھی مصیبت زدہ ہی رہ جاتے ہیں۔

جمعیت علمائے ہند قزاق مہاجرین کی اس مصیبت کے متعلق حکومت ہند کو بھی توجہ دلا رہی ہے کہ وہ اس مالی اعانت کی تقسیم کے معاملے پر اپنا صحیح کنٹرول قائم کرے، تاکہ مستحقین اس سے پوری طرح فائدہ اٹھا سکیں۔ اور حکومت کشمیر کو بھی متوجہ کر رہی ہے کہ وہ جلد از جلد اپنے حکام کے اس ناروا طرزِ عمل کا انسداد کر کے مصیبت زدوں کی اخلاقی اعانت کرے۔

چنانچہ حضرت مولانا محمدحفظ الرحمان صاحب، ناظم عمومی جمعیت علمائے ہندنے، 23؍ اپریل 1942ء کو مہاراجہ کشمیر کے نام حسبِ ذیل برقی پیغام ارسال فرمایا:

’’قزاق مہاجرین کو ریلیف صحیح طریق پر نہیں پہنچتی۔ برائے کرم انسانی ہمدردی کے لحاظ سے ان کی جان بچانے کے لیے پوری رسد پہنچنے کی بڑی نگرانی فرمائی جائے۔‘‘

محمد حفظ الرحمان ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ہند۔(ریکارڈ روم)

کشمیر میں پنڈت جواہر لال نہرو کی گرفتاری پر صدائے احتجاج

جون1944ء کی کسی تاریخ میں کشمیر میں داخلہ کے موقع پر پنڈت جواہر لال نہرو کی گرفتاری کی خبرپاکر ناظم عمومی حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نور اللہ مرقدہ نے درج ذیل تار بھیج کر صدائے احتجاج بلند کیا: 

اس خبر سے -کہ پنڈت جواہر لال نہرو کشمیر کی سرحد میں جب داخل ہونے لگے، تو ریاست کشمیر کی فوجوں نے مزاحمت کرتے ہوئے پنڈت جی کو زخمی کر دیا اور بعد میں گرفتار کر لیا ہے- پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ حکومت کشمیر اگر اس ذلیل مظاہرے سے یہ چاہتی ہے کہ پنڈت جی جیسی محترم شخصیت کو مرعوب کر کے نیشنل کانفرنس کی آواز کو دبا دے، تو یہ قطعاً ناممکن اور حکومت کی حرکت ہے۔ حکومت کشمیر کو وقت کے حالات کے تقاضے کو دیکھنا اور اس پر سنجیدگی کے ساتھ غور کرنا چاہیے، اور اس قسم کے غلط اور بزدلانہ اقدام سے بعض آنا چاہیے۔(ریکارڈ روم)

کشمیری عوام پر حکومت کشمیر کے مظالم کی مذمت

کشمیر میں مہاراجہ ہری سنگھ کی حکمرانی تھی ، جس نے حکومت برطانیہ کی وفاداری میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی۔ شیخ عبد اللہ نے نیشنل کانفرنس قائم کرکے کشمیر میں ایسی ذمہ دار حکومت قائم کرنے کے لیے تحریک چلائی، جو عوامی مفاد میں ہو۔ چنانچہ کشمیر کی عوام نے اپنے لیڈر کی بات سنتے ہوئے آزاد حکومت قائم کرنے کے لیے تحریک چھیڑ دی، جس کو دبانے کے لیے مہاراجہ کے وزیر اعظم کاک نے جبرو تشدد اور فرقہ وارانہ جھگڑے کا سہارا لیا۔

’’تمام شہر میں مکمل ہڑتال ہے۔ کارخانے اور دکانیں سب بند ہیں۔ سڑکوں ، پلوں اور سڑکوں سے ملی ہوئی گلیوں اور کوچوں پر مسلح ملٹری کا پہرہ ہے۔ آمدو رفت بندہے۔ کشتیاں، لاریاں اور ٹانگے بھی نہیں چلتے۔ ہر طرف خاموشی ہی خاموشی ہے۔ صرف چاروں طرف سے لوگوں کے نعروں کی آوازیں آرہی ہیں۔ لوگ دن بھر کے واقعہ سے ہراساں ہیں۔ اور ہر شخص ملٹری کی زیادتیوں اور سختیوں کی شکایتیں کر تا ہے۔ سیاح دھڑادھڑ واپس جارہے ہیں۔ لوگ ٹولیاں بنا بناکر مجتمع ہوتے ہیں ۔ نعرے لگاتے ہیں۔ جلوس نکالنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ڈوگر فوج ان کا تعاقب کرتی ہے، مگرلوگ بھاگتے نہیں ، ملٹری ان پر گولیوں کا استعمال کرتی ہے۔‘‘ 

(قومی آواز، 15؍ جون 1946ء) 

 شیخ عبداللہ صدر جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کو گرفتار کرکے سازش کا مقدمہ چلایا گیا اور مسلم کانفرنس کے سکریٹری میر واعظ کو ان کے گھر میں نظر بند کردیا گیا۔

’’شیخ عبد اللہ پر مقدمہ۔ کل حکومت نے سیشن جج کی عدالت میں شیخ عبد اللہ غلام محمدبخشی اور نیشنل کانفرنس کے دوسرے کارکنوں کے خلاف بغاوت کا مقدمہ دائر کردیا ہے۔‘‘ 

(قومی آواز،یکم جون 1946ء) 

پنڈت جواہر لال نہرو نے شیخ عبد اللہ کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی غربت و افلاس نے تحریک کشمیر کو جنم دیا ہے۔ اور حکومت نے عوامی تحریک کو کچلنے کے لیے پولیس اور فوج کا استعمال کیا۔ (قومی آواز،14؍ جون 1946ء) 

سری نگر۔ 10؍ ستمبر انڈین پینل کوڈ کی دفعہ 124(الف) کے تحت کشمیری لیڈر شیخ محمد عبد اللہ کے خلاف بغاوت انگریز کے تین الزام عائد تھے۔ انھیں تینوں جرائم کی پاداش میں تین تین سال قید محض کی سزا کا حکم سنایا گیا ۔ تینوں سزائیں بیک وقت شروع ہوں گی۔ شیخ صاحب کو پندرہ سو روپیہ جرمانہ ادا کرنے کا حکم بھی سنایا گیا۔‘‘ (روزنامہ انقلاب لاہور، 12؍ستمبر1946ء)

 نیشنل کانفرنس کی آواز کو دبانے کی ناکام سعی

حکومت کشمیر کے بے جا تشدد،شیخ عبداللہ اور ان کے رفقا کی گرفتاری پر حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے درج ذیل بیان دیا۔ ریکارڈ روم میں موجود اس کاغذ پر کوئی تاریخ نہیں تھی، اس لیے تعیین نہیں کرسکا۔

مجھے یہ سن کر حیرت ہوئی کہ حکومتِ کشمیر نے شیخ عبداللہ صدر نیشنل کانفرنس جمّو و کشمیر کو-جب کہ پنڈت جواہر لال نہرو کی دعوت پر دہلی آرہے تھے- راستے میں گرفتار کر لیا۔ بعد میں ان کے رفقا کو بھی گرفتار کیا گیا۔

جب عوام نے جائز مظاہرے کیے، تو ان پر بہیمانہ بربریت کے ساتھ ہر قسم کا تشدد روا رکھا گیا، حتیٰ کہ جامع مسجد کی دیوار کو بھی اس لیے شہید کر ڈالا گیا کہ فوج کی آمد و رفت کے لیے راستہ صاف ہوسکے اور دہشت انگیزی کا مظاہرہ نہتی عوام پر آسانی سے کیا جا سکے۔

نیز، مساجد میں گھس کر ان مسلمانوں پر بھی تشدد کیا جا رہا ہے جو کانفرنس کے ساتھ ہمدردی رکھتے ہیں۔ یہ تمام معاملات حد درجہ افسوس ناک، لائقِ نفرت اور قابلِ حقارت ہیں۔

نیشنل کانفرنس، یا شیخ عبداللہ صدر کانفرنس کے کسی مطالبے کے متعلق اگر حکومت کشمیر کو اختلاف تھا، تو اس کے اظہار کا طریقہ یہ بہیمانہ تشدد نہیں ہو سکتا، اور اس کے جواز کے لیے کوئی دلیل پیش نہیں کی جا سکتی۔

آج برٹش انڈیا اور ریاستوں میں عوام کے جذباتِ آزادی کو کچل دینا آسان نہیں ہے؛ بلکہ جو حکومتیں یہ سمجھتی ہیں کہ وہ بآسانی ان جذبات کو کچل سکتی ہیں اور کچل دیتی ہیں، وہ دراصل اپنی ہی بربادی کا سامان مہیا کر رہی ہیں۔

کشمیر میں نیشنل کانفرنس کا جو مطالبہ ہے، بلااستثنا وہی مطالبہ آج تمام ریاستوں کی رعایا کا ہے۔ اس لیے حکومتِ کشمیر خصوصاً وزیرِاعظم مسٹر کاک کا یہ جارحانہ اور ظالمانہ طریق کار انتہائی ناقبت اندیشی پر مبنی ہے۔

میں ان نیشنلسٹ اخبارات کے رویے پر بھی اظہارِ افسوس کے بغیر نہیں رہ سکتا، جو اس مسئلے کو مسٹر کاک کی ریشہ دوانیوں کی وجہ سے ہندو مسلم سوال بنا کر حکومتِ کشمیر کے گمراہ کن طریقِ عمل کی تائید اور کانفرنس و شیخ عبداللہ کی مخالفت کر رہے ہیں۔

پنڈت جواہر لال نہرو اور نیشنل کانفرنس کے جنرل سکریٹری کے بیانات اور مفصل تشریحات کے بعد یہ کہنا کہ شیخ عبداللہ نے مہاراجہ کشمیر اور ان کے خاندان کے خلاف زہر افشانی کر کے حالات کو خود بگاڑا ؛ یہ قطعا باطل اور بے بنیادہے۔

حکومت کشمیر کے لیے اب بھی موقع ہے کہ وہ عاقبت اندیشی کے ساتھ ان معاملات کو بہتر بنائے، نیشنل کانفرنس کے تمام عہدے داروں کو رہا کرے، اور ان کے جائز مطالبات کو پورا کر کے اپنی حوصلہ مندی کا ثبوت دے۔

میں اس سلسلے میں حکومتِ کشمیر کو تار بھی دے رہا ہوں۔

محمدحفظ الرحمان جنرل سکریٹری آل انڈیا جمعیت علمائے ہند۔ (ریکارڈ روم) 

کشمیری عوام کے مطالبات

۱۔ سرکاری ملازمتوں میں مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے جگہیں دی جائیں۔ 

۲۔ اس وقت ریاست میں یہ قانون ہے کہ اگرکوئی شخص گاؤ کشی کرے ،تو اس کو دس سال کی سزا دی جائے گی۔ اس قانون میں ترمیم ہونی چاہیے۔ 

۳۔ جو ہندو اسلام قبول کرلیتے ہیں، ریاست ان کو ان کے موروثی حق سے محروم کردیتے ہیں، اس قانون کو منسوخ ہوجانا چاہیے۔ 

۴۔ ہندو راجپوتوں کو بندوقیں رکھنے کی جو خصوصی اجازت ہے، اس کو منسوخ کیا جائے۔ 

ایک قرار داد کی رو سے ایک کمیٹی بنائی گئی ہے، جس کو اس بات کا اختیار دیا گیا ہے کہ ان مقاصد کے حصول کے لیے جو راستہ مناسب سمجھے اختیار کرے۔‘‘(قرار داد اجلاس مجلس عاملہ مسلم کانفرنس ، قومی آواز 15؍ جون 1946ء) 

 حکومت کشمیر کی انھیںاستبدادی پالیسیوں کی مذمت کرتے ہوئے عوام کے جائز مطالبات کو منظور کرنے کی اپیل کرتے ہوئے، اپنی مجلس عاملہ مرکزیہ: 10،11،12؍ جون 1946ء میں درج ذیل تجویز نمبر(۳) منظور کی:

’’مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس ایسے نازک دور میں- جب کہ ہندستان کی فوری آزادی کا سوال در پیش ہے اور اس سلسلہ میں جمہوریت کی بنا پر پورے ہندستان - جس میں ریاست ہائے ہند بھی شامل ہیں -کی آئینی گتھیاں سلجھانے کے لیے کوششیں کی جارہی ہیں- حکومت کشمیر کی اس متشددانہ حکمت عملی پر- جو اس نے کشمیری عوام کے جائز مطالبات کے خلاف استعمال کی ہے- اپنے دلی تشویش و افسوس کا اظہار کرتا ہے۔ اجلاس کی رائے میں حکومت کشمیر نے حالیہ واقعات کے سلسلہ میں جس جبرو تشدد کا مظاہرہ کیا ہے، وہ انتہائی مذموم و قابل نفریں ہیں۔ اجلاس کی رائے میں اس کا واحد علاج صرف یہ ہے کہ حکومت کشمیر نیشنل کانفرنس کے تمام جائز مطالبات کو تسلیم کرکے شیخ عبد اللہ و دیگر تمام ہندو مسلمان مظلومین کی رہائی کا فوری اقدام کرے۔‘‘ (جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، تجاویز اور فیصلوں کی روشنی میں، جلد اول، ص؍ 551)

 کشمیر میں قومی حکومت قائم ہونے پر مبارک باد

بالآخر کشمیر نیشنل کانفرنس کی تحریک نے کامیابی کے قدم چومے۔ اور اس کی کوششوں سے کشمیر میںباقاعدہ عوامی حکومت کی بنیاد رکھی گئی۔ چنانچہ 5؍مارچ 1948ء کو مہاراجہ ہری سنگھ نے ایک تاریخی شاہی فرمان جاری کیا، جس نے ریاست کے انتظامی ڈھانچے کو تبدیل کر دیا۔ اس فرمان کے تحت اکتوبر 1947 ء سے قائم ’’ایمرجنسی ایڈمنسٹریشن‘‘ کا خاتمہ کر دیا گیا اور اس کی جگہ ایک باقاعدہ ’’عبوری حکومت‘‘ (Interim Government) کے قیام کا اعلان کیا گیا۔

اس نئی تشکیل شدہ حکومت کی باگ ڈور مقبول کشمیری رہنما شیخ محمد عبداللہ کے حوالے کی گئی۔ مہاراجہ کے اعلان کے مطابق انھیں ریاست کا وزیراعظم مقرر کیا گیا اور انھوں نے مہر چند مہاجن کی جگہ لی۔ شیخ عبداللہ کی سربراہی میں ایک وزرا کی کونسل تشکیل دی گئی، جس نے ریاست کے نظم و نسق کو سنبھالا۔ یوں جموں و کشمیر میں شخصی راج کے روایتی ڈھانچے کے اندر رہتے ہوئے پہلی بار ایک مقبول عام قیادت کے تحت عوامی حکومت کا باقاعدہ آغاز ہوا۔

جمعیت علمائے ہند کی کل ہند جمعیت علما کونسل کا ایک اہم اجلاس 20،21؍ مارچ 1948ء کو منعقد ہوا، جس کی تجویز نمبر(۸) میں انڈین یونین اور کشمیر کے لیڈر شیخ عبداللہ کو درج ذیل الفاظ میں مبارک بادی پیش کی:

’’جمعیت علما کی مرکزی کونسل کا یہ اجلاس کشمیر کی عوامی حکومت کے قیام پر انڈین یونین اور کشمیر کے محبوب لیڈر شیخ عبداللہ کو مبارک باد پیش کرتا ہے اور ان کو یقین دلاتا ہے کہ ہماری تمام ہمدردیاں اور ہمارا تعاون ہر وقت ان کے لیے موجود ہے۔

یہ اجلاس اسلامی رواداری کے زریں اصول کے پیش نظر یقین رکھتا ہے کہ شیخ عبداللہ کی ذمہ دار حکومت اس بات کی زبردست گارنٹی ہے کہ کشمیر میں اقلیت کو مکمل حفاظت اور مساوی شہری آزادی حاصل ہوگی۔

محرک: مولانامحمد میاں صاحب فاروقی الٰہ آبادیؒ۔

 مؤید: مولانا عبد الوحید صاحب غازی پوریؒ۔ مولانا محفوظ الرحمان صاحب نامیؒ۔‘‘ (جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، تجاویز اور فیصلوں کی روشنی میں، جلد اول، ص؍596)

انڈین یونین کے ساتھ کشمیر کے الحاق پر مبارک باد

جموںو کشمیرکا بھارت کے ساتھ الحاق 26 ؍اکتوبر 1947ء کو اس وقت ہوا، جب مہاراجہ ہری سنگھ نے ’’انسٹرومینٹ آف ایکسیشن‘‘ پر دستخط کیے، جو 27؍ اکتوبر 1947ء کو بھارت کے گورنر جنرل لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے قبول کیا۔ یہ الحاق پاکستان کی حمایت یافتہ قبائلی حملے (22؍ اکتوبر 1947ء سے شروع) کے بعد ہوا، جو مظفر آباد سے ہوتے ہوئے سری نگر کے قریب اور بارہ مولہ تک پہنچ گیاتھا۔ اس وقت مہاراجہ نے بھارت سے فوجی مدد طلب کی۔ بھارت نے مدد کی شرط پر الحاق کا مطالبہ کیا، جسے مہاراجہ نے مان لیا، اور ریاست کو دفاع، خارجہ امور اور مواصلات کے معاملے میں بھارت کے حوالے کیا گیا۔

اس الحاق پر حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے 24؍ ستمبر1949ء کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے کشمیر کانفرنس کے نام حسب ذیل بھیجا گیا: 

’’یہ احساس کہ آپ کے اس زبردست اور عظیم الشان قومی اجتماع میں میرے چند الفاظ آپ تک پہنچ رہے ہیں، میرے لیے بے حد مسرت کا موجب بنا ہوا ہے۔ 

شیر کشمیر جناب محمد عبد اللہ - جو بلند کردار اور اہم شخصیت کے مالک ہیں اور جن کی قومی خدمات کشمیر کے چپہ چپہ اور ذرہ ذرہ پر روشن ہیں-اس امر کے لیے قابل مبارک باد ہیں کہ آپ ان کی کوششوں کی بدولت اپنے عزیز وطن کشمیر کے قلب و جگر میں نیشنل کانفرنس کے اس اہم اجتماع میں کشمیر اور ہند یونین کی باہمی وابستگی کا اعلان کر رہے ہیں۔ 

ہند یونین کے ساتھ کشمیر یونین کا پیہم ناتہ ایک عظیم الشان تاریخی یادگار کی داغ بیل ڈال رہا ہے۔ دل چاہتا تھا کہ میں بھی باشندگان دادی کشمیر جنت نظیر کے اس اہم اور عظیم الشان اجتماع میں شرکت کی مسرت حاصل کرسکوں؛ لیکن افسوس ہے کہ بعض ناگزیر حالات نے حاضری سے معذور رکھا۔ مگر یقین رکھیے کہ میری اور میرے ہی جیسے ہند یونین کے کروڑوں باشندوں کی دلی دعائیں اور مبارک بادیاں آپ کے ساتھ ہیں۔ہم سب آپ کی کامیابی کے خواہش مند ہیں اور کشمیر کی عزت و سربلندی کو ہند یونین کی عزت و سربلندی تصور کرتے ہیں۔ (روزنامہ الجمعیۃ،26؍ ستمبر1949ء)