20 Apr 2026

اسرائیل اور جمعیت علمائے ہند

(۱)اسرائیل اور جمعیت علمائے ہند

محمد یاسین جہازی



جنگ عظیم اول (28؍ جولائی 1914ء-11؍ نومبر1918ء) میں برطانیہ نے تین الگ الگ لوگوں سے تین متضاد وعدے کیے۔ یہودیوں سے ان کو قومی وطن دینے کا، عالم اسلام سے تحفظ خلافت کا اور ہندستانیوں سے سوراج کا؛ لیکن جنگ کے اختتام کے بعد، 30؍ اکتوبر 1918ء کو ترکی اور اتحادیوں کے درمیان ہوئی عارضی صلح، بعد ازاں 10؍اگست1920ء کو معاہدۂ سیورے کے ذریعہ اس کی تصدیق وتوثیق کے بعد عالم اسلام سے وعدہ خلافی کرتے ہوئے خلافت عثمانیہ اسلامیہ کی بندر بانٹ کرکے،2؍نومبر1917ء کے بالفور اعلامیہ کے مطابق،24؍جولائی 1922ء کو لیگ آف نیشنز کی کونسل نے فلسطین کا مینڈیٹ برطانیہ کو دینے کا حتمی فیصلہ کرلیا۔ اس طرح خطۂ فلسطین خلافت عثمانیہ کی عمل داری سے نکل کر برطانیہ کی غلامی میں چلا گیا۔برطانیہ نے اپنی حکمرانی کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے، فلسطین کو تقسیم کرکے وطن الیہود بنانے کی کوششیں شروع کردیں، جس کے پیچھے مشرق وسطیٰ میں مغربی کنٹرول کو برقرار رکھنے کے لیے برطانیہ کی گہری سازش کافرما تھی، تاکہ وطن الیہود ’’اسرائیل‘‘ کو ایک فوجی چھاؤنی کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔

جمعیت علمائے ہند نے برطانوی انتداب (مینڈیٹ) کے نفاذ سے پہلے ہی  اپنے تیسرے اجلاس عام: 18، 19،20؍نومبر1921 ء کے خطبۂ صدارت میں، بعد ازاں22؍ مارچ 1922ء کو مجلس عاملہ میں فلسطین کو خلافت عثمانیہ ترکیہ اسلامیہ کے زیر نگیں رکھنے کا مطالبہ کیا اور 3؍ ستمبر 1929ء کوایک زبردست احتجاجی اجلاس کے ذریعہ فلسطین کو وطن الیہود بنانے کی شدید مخالفت کی۔یہ وہ پہلی آواز تھی،جو ایشائی مسلمانوں کی طرف سے اسرائیل کے خلاف جمعیت علما نے اٹھائی۔اور پھر ہمیشہ اسرائیل کے ناجائز وجود کے خلاف مصروف عمل رہی۔

بعد ازاں 14؍مئی 1948ء کو جب اسرائیل قائم کردیا گیا، تو شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ صدر جمعیت علمائے ہند نے انیسواں اجلاس عام منعقدہ:27تا؍ 29؍اکتوبر 1956ء کے اختتامی خطاب میں اسرائیل کو نام نہاد حکومت قرار دیا۔ مولانا نے فرمایاکہ:

’’ سامراجی طاقتوں کی خود کاشتہ نام نہاد حکومت اسرائیل کی سرحدیں بیت المقدس کے شہر کے قلب تک پہنچ چکی ہیں۔‘‘

بعد ازاں حضرت ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا سید اسعد مدنی صاحب نے23؍ مئی 1967ء کو اسرائیلی عزائم اور اس کی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے ’’غاصب اسرائیل‘‘ سے تعبیر کیا۔ 

’’تاہم حالات کی سنگینی کے پیش نظر یہ ضروری اور مناسب معلوم ہوتا ہے کہ عوامی پیمانہ پر غاصب اسرائیل کے جارحانہ عزائم، امریکہ کی سازش اور اس کی سامراجی سرپرستی کی مذمت میں ملک گیر احتجاجی جلسے کر کے اقوام متحد تک ہم اپنے عوامی جذبات پہنچائیں اور اپنے عرب دوستوں کو ہندستانی عوام کی ہمدردیوں اور ہرقسم کے بھر پور تعاون کا یقین دلائیں۔‘‘

  (روزنامہ الجمعیۃ،25؍ مئی 1967ء)

اسرائیلی جارحیت کے خلاف برقیے

23؍ مئی 1967ء کو حضرت مولانا اسعد مدنی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے عرب ممالک کے خلاف اسرائیل کی نئی جارحانہ روش پر مسلمانان ہند کی طرف سے ہندستان کی وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اوتھانٹ اور عرب سربراہوں کو احتجاج کے برقیے روانہ کیے۔ وزیر اعظم مسزگاندھی اور وزیر خارجہ مسٹرچھا گلہ کے نام جو تا ر بھیجے گئے، ان میں کہا گیا کہ ہندستانی مسلمانوں اور ہندستانی عوام کی طرف سے جمعیت علمائے ہندا سرائیل کی جارحانہ روش کی- جس کی سامراجی طاقتیں حمایت کر رہی ہیں- شدید مذمت کرتی ہے۔ ہندستان کو چاہیے کہ روایتی ہند عرب دوستی اور اعلیٰ انسانی قدروں کے مطابق ایک مثبت کردار ادا کرے۔

اقوام متحدہ کے سکر یٹری جنرل کے نام تار میں کہا گیا ہے کہ ہندستانی مسلمانوں اور ہندستانی عوام کی طرف سے جمعیت علمائے ہنداسرائیل کی جارحانہ روش کی- جس کو سامراجی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے- شدید مذمت کرتی ہے۔ اقوام متحدہ عرب ریاستوں کی سلامتی کے تحفظ کے لیے فوراً قدم اٹھائے۔

شام کے صدر ڈاکٹر نورالدین اتاسی عرب جمہوریہ کے صدر جمال عبد الناصر اور عرب لیگ کے سکر یٹری عبدالخالق سوز کے نام تاروں میں کہا گیا ہے کہ ہندستانی مسلمانوں اور ہندستانی عوام کی طرف سے جمعیت علمائے ہند اسرائیل کی جارحانہ روش کی- جس کو سامراجی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے- شدید مذمت کرتی ہے۔ عرب ممالک کے اتحاد کی تعریف کرتی ہے اور ان کے ساتھ ہمد روی اور یک جہتی کا اظہار کرتی ہے۔(روزنامہ الجمعیۃ،25؍ مئی 1967ء)

عرب ممالک خلیج عقبہ کی ناکہ بند ی میں حق بجانب ہیں

25؍ مئی 1967ء کو ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی نے مسلمانان ہند سے ایک اپیل میں فرمایا کہ مادی وسائل و اسباب کے ساتھ ملت مسلمہ کا سب سے بڑا بھروسہ اور اعتماد خدائے قادر کی ذات پر ہے، فتح و نصرت اور عزت و ذلت سب کا مالک وہی معبود حقیقی ہے، لہذا تمام مسلمانان ہند کا یہ ملی اور قومی فرض ہے کہ وہ پنج وقتہ نمازوں کے علاوہ جمعہ کی نماز کے بعد بھی اجتماعی طور سے اسرائیل کی جارحیت اور مغربی استعمار پسندوں کی معاندانہ اسرائیل نوازی کے مقابلہ میں عرب ممالک کی مجاہدانہ اولو العزمی، ثبات و استقلال، اتحاد اور عرب موقف کی فتح و نصرت کے لیے خدا ئے برتر وذو الجلال سے دعا مانگیں۔ 

حضرت ناظم عمومی نے دعا کی اپیل کرتے ہوئے فرمایا کہ بین الاقوامی قانون کے اعتبار سے خلیج عقبہ چوںکہ عرب ممالک کی حدود میں واقع ہے، لہذا اسرائیل، یا مغربی استعمار پسندوں کا یہ دعویٰ بالکل غلط ہے کہ خلیج عقبہ بین الاقوامی آبی شاہ راہ ہے۔ آپ نے ہندستانی عوام کے جذبات کی نمائندگی کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم ایسے تمام دعوؤں کو مسترد کرتے ہیں، جو دوسروں کے حقوق کے استحصال پر مبنی ہوں۔

 متحدہ عرب جمہوریہ، شام اور تمام عرب ممالک خلیج عقبہ کی ناکہ بندی کرنے میں بالکل حق بجانب ہیں ۔ ہم ان کے اس اقدام کی تائید و حمایت کرتے ہیں۔

 (روزنامہ الجمعیۃ،27؍ مئی 1967ء)

اسرائیلی جارحیت پر مصری اور شامی سفیروں سے ملاقات

27؍ مئی 1967ء کو جمعیت کے ناظم عمومی حضرت مولانا اسعد مدنی صاحب نے شام کے قائم مقام سفیر مسٹر شائش ترکاوی اور متحدہ عرب جمہوریہ کے سفیر مسٹر عیسی سراج الدین سے ملاقات کرکے مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر تبادلۂ خیال کیا اور اسرائیل کی جارحیت پر تشویش اور عربوں سے ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے دونوں سفیروں کو مسلمانان ہند، عام باشندگان ملک اور خصوصاجمعیت علماکی طرف سے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔ 

(روزنامہ الجمعیۃ،29؍ مئی 1967ء)

عرب اسرائیل مسئلہ پر نمائندہ اجتماع

’’ہمارے پاس جو معلومات ہیں، ان کے مطابق اسرائیل نے یہ پروگرام بنایا تھا کہ وہ شام پر حملہ کر کے اُس کے ایک حصہ کو اسرائیل میں شامل کر لے گا۔ اور بعد میں امریکہ کی حمایت حاصل کر کے اس پر قبضہ جمائے رکھے گا؛ لیکن عرب جمہوریہ نے اسرائیل کے ان بزدلانہ مقاصد کا مقابلہ کرنے کے لیے جو موقف اختیار کیا ہے، اس کے نتیجہ میں اسرائیل کے اس پروگرام میں خلل پڑ گیا ہے۔ اسرائیل کو اس کے بزدلانہ مقاصد میں کا میاب ہونے نہیں دیا جائے گا۔‘‘

 یہ اعلان متحدہ عرب جمہوریہ کے سفیر عزت مآب عیسیٰ سراج الدین صاحب نے28؍ مئی 1967ء کوجمعیت علمائے ہند کے مرکزی دفتر واقع بہادر شاہ ظفر مارگ کے میٹنگ ہال میں منعقد ایک نمائندہ اجتماع میں کیا۔

اس موقعہ پر دہلی میں مقیم عرب لیگ کے قائم مقام نمائندہ جناب محمد عبد العزیز المحامی، شام کے ناظم الامور اور قائم مقام سفیر جناب شائشی ترکاوی نے اور سعودی عرب سفارت خانے کے نمائندے جناب شیخ حسین موجود تھے۔

 سفیر مصر کی تقریر

 محترم سفیرمصر نے اپنی تقریر میں جمعیت علمائے ہند کی طرف سے عربوں کی تائید و حمایت کے لیے اظہارتشکر کرتے ہوئے فرمایا کہ حکومت ہند اور ہندستان کے مدبروں نے سلامتی کونسل میں اور کونسل کے با ہر عرب موقف کی تائید وحمایت میں جو بیانات دیے ہیں، وہ قابل ستائش ہیں۔ ہمارے موقف کی تائید میں یہ بیانات ہمارے لیے کوئی نئی چیز نہیں ہیں۔ ہم ان سے بہت پہلے سے مانوس ہیں۔ مہاتما گاندھی،مسٹر نہرو اور مسٹر لال بہادر شاستری اور موجودہ وزیر اعظم مسز اندرا گاندھی کا ایک ہی رول رہا ہے؛ سب نے ہمارے موقف کی تائید کی ہے۔ ان بیانات سے ہندستان اور عربوں کے در میان دوستی کی پختگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے اگر ہم ہندستان کے نقطۂ نظر سے دیکھیں، تو مشرق وسطیٰ کا موجودہ بحران خود نتائج کے اعتبار سے ہندستان کے لیے بھی مضر ہے، اس لیے کہ ہندستان کی یوروپین ممالک اور امریکہ کے ساتھ تجارت اسی راستہ سے ہوتی ہے بحران کا اس پر اثر پڑسکتا ہے۔ اس کے علاوہ ہندستان اور عربوں کے تعلقات کی بنیامیں کچھ اصول بھی کارفرما ہیں، جو دونوں کے درمیان مشترک ہیں۔ نا طرف داری، امن عالم کا تحفظ اور قومی معاہدوں کی مخالفت ایسے ہی چند اصول ہیں، جنھوں نے دونوں کو ایک ہی کشتی میں سوار کردیا ہے۔

 آپ نے فرمایا کہ اس وقت مشرق وسطی میں جو بحران پایا جاتا ہے، اس کو صرف عربوں اور اسرائیل کی جنگ کہنا ہی صحیح نہیں ہے؛ بلکہ اصل بات یہ ہے کہ کچھ مغربی ممالک نے اپنے کچھ خاص مقاصد اور اغراض کو اس سلسلہ سے وابستہ کر رکھا ہے۔ چنانچہ اس وقت جو بحران پیدا ہوا ہے، اس کی ابتدا بہت ہی معمولی بات سے ہوئی ہے۔ اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ شام کے بہت سے مداخلت کار اسرائیل کے علاقے میں چھاپے مار رہے ہیں، حالاں کہ یہ دعویٰ غلط ہے ۔ اوراگر یہ درست بھی ہو، تو بھی اسرائیل کو اس کے خلاف اقوام متحدہ سے رجوع کرنا چاہیے تھا۔

1956ء میں بھی اسرائیل نے اسی طرح کے الزامات مصر پر لگائے تھے۔ سبھی جانتے ہیں کہ اس وقت بھی کچھ سامراجی طاقتوں کے مقاصد کام کر رہے تھے، جن کے نتیجے میں جنگ ہوئی۔ اس وقت اسرائیل کے وزیر اعظم در خواست کر رہے ہیں کہ اسرائیل اور عرب جمہوریہ کی فوجوں کو ایک دوسرے کے مقابل سے ہٹا دیا جائے۔ ایسی ہی درخواست جنرل ڈی گال نے 1956 ء میں کی تھی۔ اس لیے ہم سابقہ تجربہ کی بنیاد پر یقین کرتے ہیں کہ اس کے نام پر اس قسم کی اپیلیں کرنے کا مقصد عوام کو گمراہ کرنا ہے۔

 سفیر مصر نے فرمایا کہ ہم نے اب تک بہت صبر وتحمل سے کام لیا ہے کہ بسا اوقات دنیا نے اس کو ہماری کمزوری پر محمول کیا ہے۔ آخر میں آپ نے فرمایا کہ ہم اب بھی امن کے خواہاں ہیں؛ لیکن اگر ہم پر جنگ مسلط کر دی گئی، تو جیسا کہ صدر ناصر نے اعلان کیا ہے، ہم اس کا خیر مقدم کریں گے اور مقابلہ کریں گے۔

 عرب لیگ کا نمائندہ

 ایک سوال کے جواب میں عرب لیگ کے قائم مقام نمائندہ محمد عبد العزیز الرجبی نے فرمایا کہ خلیج عقبہ پر متحدہ عرب جمہوریہ اور سعودی عرب کا اقتدار اعلیٰ غیر متنا زع ہے۔ آپ نے کہا کہ1948ء اسرائیل کے قیام کے بعد سے کسی نے بھی ہمارے اس حق کو چیلنج نہیں کیا۔ اسرائیل کو کبھی اس خلیج میں جہاز رانی کا حق حاصل نہیں رہا، بلکہ حقیقت میں 1952ء میں امریکہ اور برطانیہ نے صاف طور پرخلیج عقبہ پر ہمارے اقتدار اعلیٰ کو تسلیم کر کیا تھا۔ جب 1956ء میں جنگ ہوئی، تو اس کے بعد فوجی غلبہ کے تحت اور خلیج عقبہ پر اقوام متحدہ کی فورس کی تعیناتی کے دور ان اسرائیل نے عقبہ کا استعمال شروع کیا تھا۔ اگر اس کو تسلیم کر لیا جائے، تو اس کا مطلب اس خطر ناک اصول کو تسلیم کرنا ہو گا کہ جارح کے حق کو تقسیم کر لیا جائے۔ آپ نے بتایا کہ اسرائیل مایلاٹ بندرگاہ کو ایک فوجی اڈہ میں تبدیل کر رہا تھا۔

ناظم الامورشام

 شام کے ناظم الامور نے گفتگو کے دوران اسرائیل کے الزام کو غلط بتا یا اور کہا کہ خلیج عقبہ کے سوال پر عرب جمہوریہ کو شام کی مکمل حمایت حاصل ہے۔ آپ نے شام کے خلاف اسرائیل کے دعوے کے پس منظر کی وضاحت کی۔

سعودی نمائندہ

 سعودی عرب سفارت خانہ کے جناب شیخ حسین نے نمائندہ الجمعیۃ کے دوران بتایا کہ اسرائیل کا دوست ہمارا دشمن ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ امریکہ نے اسرائیل کو جنگ میں اگر امداد دی، تو سعودی عرب امریکہ کو تیل بند کر دے گا، انھوں نے کہا کہ سعودی عرب نے ایران سے کہا ہے کہ وہ اسرائیل کو تیل سپلائی نہ کرے۔

حضرت مولانا عبد الحلیم صدیقی نے تاریخ فلسطین پر سیر حاصل بحث کی اور کہا کہ جمعیت علمائے ہند کی طرف سے فلسطین کے معاملہ میں عربوں کی حمایت کو کوئی نئی بات نہیں ہے۔

 اس سے قبل تبادلۂ خیال کے دور ان حضرت ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند کی طرف سے سفرائے عرب کو تائید اور حمایت کا یقین دلایا گیا۔

 مولوی عمیدالزماں نے عرب نمائندوں کو حاضرین سے متعارف کرایا۔

(روزنامہ الجمعیۃ،30؍ مئی 1967ء)

اسرائیلی جارحیت پر احتجاج کے لیے سرکلر

1967ء کی جنگ، جسے تاریخ میں عام طور پر’’چھ روزہ جنگ‘‘ یا ’’تیسری عرب اسرائیل جنگ‘‘ کے نام سے جانا جاتا ہے، 5سے 10؍جون 1967ء کے درمیان اسرائیل اور اس کے پڑوسی عرب ممالک :مصر، اردن اور شام کے درمیان لڑی گئی ۔

5؍جون 1967ء کو اسرائیلی فضائیہ نے آپریشن فوکس کے تحت مصر کے فضائی اڈوں پر حیران کن حملہ کیا۔ اس میں مصری فضائیہ کا تقریباً 90% طیارے زمین پر تباہ ہو گئے۔ اس کے بعد زمینی لڑائی میں اسرائیل نے مصر سے سینائی اور غزہ کی پٹی چھینی۔اردن سے مغربی کنارہ اور مشرقی یروشلم لیا۔شام سے گولان کی پہاڑیاں حاصل کرلیں۔جنگ صرف چھ دن میں ختم ہوئی اور اسرائیل نے بربریت کا کھلا مظاہرہ کیا ۔ 

انھیں حالات میں اسرائیل کی جارحیت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کے لیے جمعیت علمائے ہند نے اپنے ماتحت شاخوں کو درج ذیل سرکلر جاری کیا:

محترم المقام زیدت معالیکم السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ 

شام اور عرب ممالک کے خلاف، امریکہ کی سازش سے، اسرائیلی کی جارحانہ سرگرمیوں اور مشرق وسطیٰ کی سنگین صورت حال کے پیش نظر ضروری ہے کہ ہم قومی و ملی حیثیت سے اس سنگین صورت حال کا احساس کریں۔ اس لیے جمعیت علمائے ہند کی تمام ماتحت شاخوں، کارکنوں اور ہمدردوں سے احقر کی یہ گزارش ہے کہ اسرائیلی جارحیت، اس کی معاندانہ سرگرمیوں اور اور امریکہ کی سامراجی سازش کی مذمت میں احتجاجی جلسے کریں اور اپنی مقامی سہولت کے مطابق جس تاریخ اور جس روز سہولت ممکن ہو سکے (مگر بہت جلد) احتجاجی جلسہ کا اہتمام کریں۔ احتجاجی جلسہ کے پروگرام کے اہتمام میں اس کی کوشش ہونی چاہیے کہ یہ احتجاجی اجتماع بلا امتیاز مذہب و ملت مشترکہ ہو ؛کیوںکہ جمعیت علمائے ہند کے نقطۂ نگاہ کے مطابق یہ مسئلہ صرف مسلمانوں ہی کا نہیں ہے؛ بلکہ پوری دنیا کی انسانیت کا ہے، اور ہندستان کے عوام بھی عرب موقف کی تائید و حمایت میں ہیں۔ احتجاجی تجویز کا مضمون- جو ان احتجاجی جلسوں میں منظور کی جائے گی- یہ ہو گا: 

’’ ہم……کے عوام اسرائیلی جارحیتی عزائم و اقدام کی مذمت کرتے ہیں۔ اور عرب موقف کی تائید کر تے ہیں۔‘‘

 ٹیلی گرام ان پتوں پر دیا جائے گا:

۱۔ میرین سفارت خانہ نمبر ۱۰۔ پنج شیل مارگ چانکیہ پوری نئی دہلی ۔

۲۔ یو اے آر سفارت خانہ  نمبر ۲۶۔ جو ر باغ نئی دہلی۔

۳۔ عرب لیگ نمبر ۲۷، سردار پٹیل روڈچانکیہ پوری، نئی دہلی۔

۴۔ پرائم منسٹر انڈیا نئی دہلی ۔

۵۔ وزیر خارجہ حکومت ہند نئی دہلی۔

 نوٹ : پہلے ٹیلی گرام کا پورا محصول ہوگا اور اس کے بعد ہر کاپی کے لیے  صرف ۲۵پیسے ہوں گے۔ (روزنامہ الجمعیۃ،4؍ جون 1967ء)

اسرائیل کے جارحانہ قبضہ پر تشویش

چوں کہ اسرائیل نے بیت المقدس کے شہر پر اپنا قبضہ مکمل کرنے کے لیے اسے قانونا مقبوضہ اسرائیل میں شامل کرلیا تھا، اس لیییکم جولائی 1967ء کو ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا اسعد مدنی صاحب نے اسرائیل کے اس غاصبانہ اقدام پر تشویش کا اظہار کیا۔ اور حکومت ہند سے بیت المقدس کو آزاد کرانے میں مدد دینے کی بھی اپیل کی۔

 (روزنامہ الجمعیۃ،3؍ جولائی 1967ء)

عرب اتحاد مخالفوں کا صدر ناصر کے خلاف پروپیگنڈوں کی مذمت

چوں کہ5سے 10؍جون 1967ء کے درمیان چلنے والی’’چھ روزہ جنگ‘‘ کی قیادت میں جمال عبدالناصر نے اہم رول ادا کیا تھا، یہودو نصاریٰ کے غلام ممالک کے درباری مفتیوں نے جمال عبدالناصر کے خلاف کفروالحاد کا فتویٰ جاری کردیا۔  

انھیں حالات کے تناظر میں23؍ جولائی 1967ء کو ملک کے ممتاز رہنماؤں اور نمایاں شخصیتوں نے ایک مشترکہ اخباری بیان میں صدر ناصر اور عرب جمہوریہ کے خلاف مفاد پرست عناصر کے اس پروپیگنڈہ کی مذمت کی ہے کہ وہ اسلامی تعلیمات سے ہٹ گئے ہیں اور کمیونزم کو عقیدہ کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ اس پروپیگنڈہ کا مقصد عربوں میں پھوٹ ڈالنا اور صدر ناصر اور عرب جمہوریہ کو عام مسلمانوں میں بدنام کرنے کے سوا کچھ نہیں؛ لہذا ایسے شرانگیز پروپیگنڈہ سے ہوشیار رہنا چاہیے۔ بیان کا متن یہ ہے:

’’ہمیں یہ سن کر سخت اذیت ہوئی ہے کہ کچھ مفاد پرست عناصر یہ جھوٹی افواہ پھیلا رہے ہیں کہ عرب جمہوریہ اوردوسرے عرب ممالک تعلیمات اسلامی سے ہٹ گئے ہیں اور انھوں نے کمیو نزم کو عقیدہ کے طور پر قبول کر لیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا مذموم پروپیگنڈہ صرف ایسے  عناصر کی طرف سے ہو سکتا ہے، جو عرب اتحاد کے اور اس دلیران جنگ کے خلاف ہیں، جو عرب جمہوریہ اور دوسرے عرب ملکوں نے قومی اور انسانی حقوق کی خاطر لڑی ہے۔ عرب جمہوریہ دنیا کے بڑے نا طرف دار ملکوں میں ہے۔ صدر ناصر ذاتی طور پر گہرے مذہبی آدمی ہیں اور اسلام کے سچے خادم ہیں۔ انھوں نے صرف سیاسی مسائل پر روس کی حمایت اور تائید حاصل کی ہے اور کسی ملک کو- خواہ سرمایہ دار ملک ہو یا کمیونسٹ ملک ہو- مصری عوام کی زندگی اور مذہبی عقائد میں مداخلت کا موقع نہیں دیا ہے۔ آج جب کہ یروشلم اور دوسرے عرب علاقوں کو اسرائیل کے غاصبانہ قبضہ سے واپس لینے کا سوال درپیش ہے،عربوں میں شکوک و شبہات اور اختلافات پیدا کرنے کی ان شرم ناک کوششوں کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی جانی چاہیے۔ ‘‘

اس اعلان پر دستخط کرنے والوں کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

حضرت مولانا فخر الدین احمد صاحب صدر جمعیت علمائے ہند۔ پروفیسر ہمایوں کبیر صاحب ایم پی۔ کرنل بشیر حسین زیدی ایم پی۔ چودھری محمد شفیع صاحب سابق ایم پی۔ مولانا سید اسعد مدنی صاحب جنرل سکرٹری جمعیت علمائے ہند۔میر مشتاق احمد صاحب سابق چیف انگیز یکیٹو کو نسل۔مولانا سید محمد میاں صاحب۔ مولانا سید حمید صاحب شاہی امام جامع مسجد شاہجہانی دلی۔ مولانا مفتی عتیق الرحمان صاحب عثمانی۔ مولانا قاضی سجاد حسین صاحب صدر مدرس مدرسہ عالیہ فتحپوری۔مولانا اخلاق حسین صاحب قاسمی سابق میونسپل کونسلر۔حافظ عبدالعزیز صاحب ممبر میٹرو پولیٹن کونسل۔جناب نور الدین احمد صاحب سابق میئر دلی میونسپل کارپوریشن۔ مولانا اسحاق سنبھلی ایم پی ۔ مولانا محمد عثمان صاحب فارقلیط حیف ایڈیٹر الجمعیۃ دلی۔

 (روزنامہ الجمعیۃ،23؍ جولائی 1967ء)

ایک لاکھ ایک ہزار ایک روپیہ سفرائے عرب کو پیش

23؍ جولائی 1967ء کو جمعیت علمائے ہند کی طرف سے دلی میں مقیم عرب سفیروں کو اسرائیلی حملہ کے شکار عرب مظلومین کی امداد کے سلسلہ میں ایک لاکھ ایک ہزار ایک روپیہ نقد اور سامان کی صورت میں پیش کر دیا گیا۔ مظلومین عرب کی امداد کے سلسلہ میں جمعیت علمائے ہند کی طرف سے ریلیف کی جو مہم شروع کی گئی ہے، اس کے سلسلہ میں یہ پہلی قسط تھی۔ مرکزی وزیر صنعتی ترقیات جناب فخر الدین علی احمد صاحب نے محمد بھائی پٹیل ہاؤس کے ماؤ لنکر ہال کے ایک نمائندہ اجتماع میں یہ امدادی رقم اور سامان پیش کیا۔ اس اجتماع میں صدر جمعیت علمائے ہند شیخ الحدیث حضرت مولانا سید فخر الدین احمدصاحب، حضرت مولاناسید محمد میاں صاحب، حضرت مولا نا عبد الحلیم صاحب صدیقی، جنرل شاہ نواز خان صاحب اور ممبران ورکنگ کمیٹی جمعیت علمائے ہند کے علاوہ متعدد ممبران پارلیمنٹ ،سالیڈ ریٹی کونسل کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر گوپال سنگھ دلی کے سر کردہ عمائدین شریک تھے۔

ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا سید اسعد مدنی صاحب نے عرب سفرا کا حاضرین سے تعارف کرایا اورجناب فخر الدین علی احمد صاحب سے امدادی رقم عرب سفرا کو پیش کرنے کی درخواست کرتے ہوئے ہندستانی مسلمانوں کے عربوں کے تئیں جذبات اور جمعیت علمائے ہند کی طرف سے عرب مظلومین کے لیے ریلیف کی مہم پر روشنی ڈالی۔ آپ کی تقریر سے -جو علاحدہ شریک اشاعت کی جاری ہے- عربوں کے ساتھ ہندستانی مسلمانوں کے خلوص اور محبت کا بھر پور اظہار ہونے کے ساتھ ساتھ سامعین کے ذہن پر جمعیت علمائے ہند کی اس سلسلہ کی کاوشوں کا تاثرقائم ہوا۔ حضرت مولانا نے تفصیل سے بتایا کہ کس طرح لوگوں نے چار چار آنے آٹھ آٹھ آنے اور روپیہ روپیہ اس ریلیف کے لیے دیا اور جمعیت علمائے ہند کی اپیل پر لبیک کہتے ہوئے ہوئے اپنے عرب بھائیوں کی امداد کے لیے اس ہوش ر با گرانی کے دور میں قربانی پیش کی۔جلسہ کی کارروائی کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ قاری محمد میاں صاحب نے تلاوت کلام پاک کی۔ بعد ازاں مولانا عبد المنان صاحب نے عربی زبان میں اور علامہ انورصابری نے اردونظمیں پیش کیں۔

 حضرت مولانا سید اسعد میاں صاحب کی ولولہ انگیز اورپرجوش تقریر کے بعد آل انڈیا نیوز پیپرزایڈیٹرز کا نفرنس کے صدر جناب رنبیر ایڈیٹر ملاپ نے اجتماع سے خطاب فرمایا۔ مرکزی وزیر صنعتی ترقیات جناب فخر الدین علی احمد نے صدارتی تقریر فرمائی اور اس کے بعد شام کے سفیر ہز ایکس لینسی عمر ابوریشے نے عربی شام اور عرب عوام کی طرف سے جمعیت علمائے ہند اور ہندستانی عوام اورہندستان کے مسلمانوں کے خلوص و محبت کے لیے جذبات سے بھرپورلب ولہجہ میں اظہار تشکر کیا۔

اس اجتماع میں عرب جمہوریہ، اردن، شام، عراق، الجزائر کے سفرا،عرب لیگ کے نمائندہ مقیم دہلی اور دوسرے عرب ڈپلومیٹ شریک تھے۔ پچیس پچیس ہزار روپے کے چیک عرب جمہوریہ، شام اور اردن کے سفروں کو پیش کیے گئے اورچھبیس ہزار روپیہ کی مالیت سے زیادہ کا سامان- جس میں کمبل اور جھول داریاں شامل ہیں، اردن کے سفیر کو مزید پیش کیا گیا۔ جھول داریاں کا نپور سے جمعیت علمائے ہند کے کچھ ہمدرد آج ہی لے کر دہلی پہنچے تھے۔

اس اجتماع میں جو تقریریں ہوئیں ، وہ حسب ذیل ہیں: 

مولانا اسعد مدنی صاحب کی تقریر

آج عرب ممالک کی سر زمین اور بیت المقدس کے مقامات مقدسہ پر اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ ہے اور عربوںپر مظالم ڈھا ئے جا رہے ہیں،سارے ایشیا کے کمزور اور زیرتر قی ملکوںاور عوام پر طاقت کا سکہ بٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔یہ بتایاجا رہا ہے کہ اگر یہ قومیں طاغوتی نظام کے سامنے جھکیں گی نہیں، تو مٹی بھر لوگوں کے ذریعہ ان کو اس طرح غلام بنایا جاسکتا ہے، کچلا جا سکتا ہے، یہ دھمکی پوری انسانیت کے لیے ہے، چھوٹی اور کمزور قوموں کے لیے ہے، پوری بہیمیت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ آزاد قوم کو جھکانے اور آزادی ضمیر کو کچلنے کی کوشش کی جاری ہے۔ ایسے حالات میں ہماری تمنا تو یہ تھی کہ ہم میدان جنگ میں اپنے عرب بھائیوں کے دوش بہ دوش ہوتے اور ان کے ساتھ جام شہادت نوش کرتے، یا کامیاب ہوتے ؛لیکن افسوس ہمارے حالات ایسے نہیں ہیں،ایسے وقت میں ہندستان کے عوام؛ بالخصوص مسلمانوں سے پیسہ پیسہ ،آٹھ آٹھ آنے، روپیہ روپیہ جمع کرکے تھوڑی،اس میں یہ قلیل رقم اور سامان مظلوم عرب بھائیوں کی امداد کے لیے جمع کیا ہے۔

مسئلہ کی اہمیت اور ضرورت کے اعتبار سے یہ کوشش بہت چھوٹی ہے؛ لیکن آج کے حالات میں- جو کہ ہندستان کو در پیش ہیں- جو کچھ کیا جارہا ہے، یقین ہے کہ عرب دنیا، اس کو قدر کی نگاہ سے دیکھے گی، اور ہماری پیش کش کی کمی نگاہ میں نہیں لائے گی۔ یہ وقت سبھی انسانیت دوست اور انصاف پسند عوام کے لیے سخت آزمائش کا وقت ہے۔ جب کہ مغربی ایشیا کے اس علاقہ پر جو ایشیا اور یو رپ کو ملانے والا سب سے بڑا اور اہم راستہ ہے اور اس علاقہ کے باشند وں اور نئی آزاد قوموں پر یورپ کی قوموں اور امریکہ نے اسرائیل کے بہانہ سے سخت مظالم کیے ہیں اور تباہی مچائی ہے۔ ہم ہندستان کے لوگوں کو- جن کی آزادی کا عرصہ زیادہ طویل نہیں ہے- بہت سے مسائل کا سامنا ہے جو کہ ترقی پسندانہ پالیسیوں پر چلنے کے سلسلہ میں پیش کررہے ہیں۔ ہم دو جنگوں سے گزرے ہیں اور بھی دوسری مشکلات درپیش ہیں۔ خشک سالی کے سبب شدید قلت اور گرانی کا سخت دباؤ ہے۔ ملک کے سبھی لوگ؛ بالخصوص مسلمان اپنی اقتصادی کمزوری کے سبب اپنے ایسے حالات میں اس نمایاں مقام پر نہیں ہیں کہ وہ اپنے جذبات، خواہشات اور عزائم کو نمایاں طور پر پورا کر سکیں۔

 ہندستان کے اندر عربوں کے خلاف سامراجی پروپیگنڈہ اور فرقہ پرستوں کی سرگرمیوںکی طرف اشارہ کرتے ہوئے حضرت مولانا نے فرمایا کہ ایسی ذہنیت پیش کی جارہی ہے کہ جس سے لوگوں کے ذہن خراب ہوں ،فضا خراب  ہو، اور وہ ہمدردی اور ایثار کے لیے تیار نہ ہوں؛ لیکن ان تمام کوششوں کا مقابلہ کرتے ہوئے جمعیت علما نے مسلمانوں سے پیسہ پیسہ اکھٹا کر کے یہ رقم جمع کی ہے، جس کی پہلی قسط اس اجتماع میں عرب سفیروں کو پیش کی جارہی ہے، یہ پیش کش ان شاء اللہ اور راستہ کھولے گی،ہر ضرورت کے وقت جو ہوسکے گا، ان شاء اللہ العزیزہم ان عرب بھائیوں کا عملاً ساتھ دیں گے۔ ہندستان کے عوام  کسی حال میں پیچھے نہیں رہیں گے۔

مسٹر رنبیر کی تقریر

 حضرت مولانا سید اسعد مدنی کی تقریر کے بعد جناب رنبیرنے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں بہت سے لوگ ایسے ہیں، جو یہ نہیں سمجھتے کہ عربوں کے ساتھ جو  ہماری ہمدردی ہے، اس کی وجہ کیا ہے۔ بدقسمتی سے اس مسئلہ کو مذہبی رنگ دیا جاتا ہے۔ کچھ فرقہ پرست پارٹیاں یہ پروپیگنڈہ کر رہی ہیں۔ اگر ان فرقہ پرست پارٹیوں اور افراد کے دماغوں پر ڈالروں کے تالے نہ لگے ہوں، اور ان کے ذہنوں پر سی آئی اے کی مہریں نہ لگی ہوں، تو میں بڑے ادب کے ساتھ ان سے گذارش کروں گا کہ وہ ہندستان کی تاریخ کا مطالعہ کریں۔جس ہندو مذہب کو یہاں پر کروڑوں لوگ مانتے ہیں، اس کی ابتدا شام کے ایک عرب نے مدراس کے ساحل پر اترنے کے بعد کی تھی، اس کو ہم میں آچار کہتے ہیں۔ ہم اور عرب الگ الگ نہیں ہیں۔ ہماری زبان اور کلچر میں بہت سی باتیں مشتر کہ ہیں۔ عربوں کے ساتھ ہماری دوستی مٹ نہیں سکتی۔ جب تک یہ دنیا قائم ہے، ہمارے درمیان دوستی کے رشتے استوار رہیں گے۔ہمیں خدا نے کلچرنے اور جغرافیہ نے ایک کیا ہے۔ مغربی طاقتیں ہمارے درمیان شگاف پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ میں یقین کے ساتھ کہتا ہوں کہ ہم ان کی کوششوں کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ ہم عربوں سے اس لیے ہی محبت نہیں کرتے کہ ہمارے ان کے ساتھ تعلقات پرانے ہیں؛ بلکہ اس لیے بھی کرتے ہیں کہ آج وہ نئے قسم کے سامراجی نظام کا شکار ہیں، جو ہندستان اور ساری دنیا کے لیے خطرناک ہے۔ یہ عرب ممالک ہندستان کے دروازے ہیں، دہلیز ہیں۔ اگر یہ دہلیز گر گئی، تو مکان بھی نہ رہے گا اورہندوستان بھی پھر غلام بن جائے۔گا۔ اسرائیل کے قیام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جناب رنبیر نے کہا کہ بیس سال قبل فلسطین کو تقسیم کر کے اسرائیل قائم کیا گیا تھا اور عربوں کی پیٹھ میں خنجر گھونپ دیا گیا، اسی طرح مغربی سامراج نے عربوں پر دباؤ ڈالا کہ اگر وہ ان کی مرضی پر نہ چلے، تو یہ خنجر انھیںگھونپ دیا جائے گا۔ میں ایک رفیوجی ہوں، اس لیے ایک رفیوجی اپنے گھر بار کے لیے جس قدر بے چین ہوتا ہے، اس کا اندازہ میں ہی کر سکتا ہوں۔ آج ہزاروں عرب مظلومین اسرائیل کی سرحدوں پر پڑے ہوئے سامنے اپنے گھر بار اور اپنی زمینیں دیکھ رہے ہیں، جن پر غاصبوں کا قبضہ ہے۔جناب رنبیر نے اعلان کیا کہ میں جنگ آزادی کے ایک سیاسی اور گاندھی ونہرو کے ایک رضا کار کے طور پر یقین کے ساتھ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم ایسے امپریلزم کو برداشت نہ کریں گے۔ کوئی ہندستانی یہو دیوں کے خلاف نہیں ہے۔ یہودی تو عرب ممالک میںبھی رہتے ہیں۔ اسرائیل کا مسئلہ یہودیوں کا نہیں، وہاں صرف پانچ لاکھ یہودی آباد ہیں۔ باقی پچیس لاکھ یورپ اور امریکہ کے ایجنٹ ہیں، جو امپریلزم کے اشاروں پر ناچتے ہیں۔ میں عرب سفیروں کو یقین دلاتا ہوں کہ اس کے باوجود کہ ہندستان میں بھی امپر یلزم کے کچھ ایجنٹ موجود ہیں، ہندستان کی روح عربوں کے ساتھ ہے، ہم ہر جدوجہد میں عربوں کا ساتھ دیں گے۔

جناب فخر الدین علی احمد کی تقریر

 صنعتی ترقیات کے مرکزی وزیر جناب فخر الدین علی احمد نے اپنی تقریر میں جمعیت علمائے ہند کا اس بات کے لیے شکریہ ادا کیا کہ اس نے ریلیف کا یہ عطیہ عرب سفیروں کو پیش کرنے کے لیے انھیں عزت بخشی۔ آپ نے اپنی تقریرمیں فرمایا کہ ہمارے سامنے اس وقت یہ سوال نہیں ہے کہ چوںکہ ہندستان میں ایسے لوگ رہتے ہیں، جن کا مذہب اسلام ہے، اس لیے ہندستان کی حکومت عربوں کے ساتھ ہمدردی کرتی ہے۔ میں یہ صاف طور پر بتا دینا چاہتا ہوں کہ خودہندستان میں مختلف عقائد اور مذاہب کے ماننے والے آزادی کے ساتھ رہتے ہیں۔ یہاں کی حکومت سیکولرحکومت کی طرف سے کوئی قدم مذہب کی بنیاد پر نہیں اٹھایا جاتا۔ ہند ستان نے عربوں کے لیے ہمدردی کا قدم اس لیے اٹھایا ہے کہ ہم اپنی اس خارجہ پالیسی پر قائم ہیں، جس کی بنیاد آں جہانی پنڈت جواہر لال نہرو نے ڈالی تھی۔ یہ پالیسی انسانیت دوستی، ہمدردی اور امن کے اصولوں پر مبنی ہے۔ جب بھی کوئی مسئلہ ہمارے سامنے آیا ہے، ہم بغیر کیسی خوف و اندیشہ کے اس پالیسی پرچلے ہیں اور آئندہ بھی چلتے رہیںگے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس پالیسی پر چل کر ہم اپنے ملک کی شان کو بڑھا سکتے ہیں۔ عربوں کو کچھ برس پہلے ایک بار اور سامراجی حملہ کا شکار ہونا پڑا تھا۔ اس وقت مسٹرنہر وحیات تھے۔ کس ہمت کے ساتھ انھوں نے اس حملہ کی مذمت کی تھی۔

 میں عربوں اور ہندستان کے در میان کلچرل اور تاریخی رشتوں کی تفصیل میں نہیں جانا چاہتا، لیکن اس قدرکہوں گا کہ ہمارے سامنے پالیسی کا سوال ہے جو کہ ناطرف داری کی پالیسی ہے۔ اس پالیسی کا مطلب یہ نہیںہے کہ ہم الگ تھلگ رہیں اور جب ایسا موقع آئے، تو آواز نہ اٹھائیں، بے انصافی کی مذمت نہ کریں۔ آپ نے کہا کہ جب بھی موقع آتا ہے، ہم کھل کر بغیر کسی اندیشے کے اور نفع ونقصان کا خیال کیے بغیر اس پالیسی کے تحت قدم اٹھاتے ہیں۔ ہماری اتنی طاقت تو نہیں ہے کہ ہم کچھ اور کر سکیں؛ لیکن ہم شان کے ساتھ اپنی اس پالیسی پر کاربند رہے ہیں۔ 

یہ سوال اٹھا کہ حملہ آور کون ہے۔ ہندستان نے اقوام متحدہ میں موقف اختیار کیا کہ اسرائیل حملہ آور ہے اور حملہ آور کو حملہ کا پھل نہیںملنا چاہیے۔ پہلے فوجیں واپس ہوں اور بعد میں دوسرے امور پر بات ہو۔ پاکستان نے جب ہندستان پر حملہ کیا، تو ہم نے یہ سوال اٹھایا تھا۔ اسی طرح اب اٹھایا ہے۔ اب بہت سے لوگ ان ہی خطوط پر سوچنے لگے ہیں کہ سب سے پہلے حملہ آور کو وا پس کیا جائے۔

دوسرا سوال یہ ہوتا ہے کہ امن قائم کیاجائے۔ حملہ آور کی حوصلہ شکنی ہو۔ آخر میں آپ نے فرمایا کہ جمعیت علمائے ہند کی طرف سے جو رقم پیش کی جا رہی ہے، وہ خواہ کتنی ہی قلیل کیوں نہ ہو؛ لیکن جیسا کہ مولانا اسعد میاں صاحب نے فرمایا ہے کہ یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اس امداد کے سلسلہ میں غریب لوگوں نے کسی کھلے دل کے ساتھ عطیات دیے ہیں، اس سے یہاں کے لوگوں کی انسانیت دوستی اور عربوں کے ساتھ محبت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ آخر میں آپ نے دعا فرمائی کہ خدا عربوں کو جلد ہی آزمائش کے حالات سے کامیاب نکالے اور وہ ترقی کے میدان میں آزاد فوجوں کے دوش بہ دوش آگے بڑھیں۔ اسرائیل اور عربوں کا جھگڑا دراصل ترقی پسند طاقتوں اور سامراج کا ہے۔ جو ترقی پسند طاقتیں ہیں، ہندستان کی طرف سے اُن کی حمایت واجب ہے۔ ہم ترقی پسند طاقتوں کے ساتھ امپریلزم کی طاقت کا مقابلہ کریں۔

شام کے سفیر کی تقریر

 عرب سفیروں اور عرب عوام کی طرف سے ریلیف کے عطیات کے لیے جمعیت علمائے ہند اور ہندستان کے عوام اور مسلمانوں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے شام کے سفیر نے انگریزی میں تقریر کی، جس کا ترجمہ ڈاکٹر گوپال سنگھ نے کیا۔ سفیر شام نے فرمایا کہ میں نے یہاں جو کچھ سنا، اس سے میں انتہائی متأثر ہوا ہوں، میرے پاس الفاظ نہیں ہیں کہ میں آپ کی ہمد ردیوں اور عربوں کے ساتھ آپ کے خلوص کے لیے اظہار تشکر کر سکوں۔ میں عرب سفیروں اور عرب عوام کی طرف سے اس کے لیے شکر گزارہوں۔ جب بھی کسی نے جارحانہ کارروائی کی ہے، تو ہندستان نے ظلم کے خلاف مظلوم کی حمایت کی ہے۔ آپ امن وانصاف کے زریں اصولوں پر عمل پیرا رہے ہیں۔ 

ہم ایک طویل جنگ لڑ رہے ہیں۔ یہ جنگ عرصہ سے جاری ہے اور آئندہ بھی جاری رہے گی۔ ہمیں یقین ہے کہ اسی جنگ میں ہندستان عربوں کا ساتھ دے گا۔

 ڈاکٹر گوپال سنگھ نے شامی سفیر کی تقریر کا ترجمہ کرنے کے بعد بائبل سے ایک مقولہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جو لوگ تلوار سے دوسروں پر غلبہ حاصل کرتے ہیں، بالآخر وہ خود بھی تلوار ہی سے ختم ہوتے ہیں۔ آپ نے اعلان کیا کہ ہندستان اسرائیل کے خلاف عرب عوام کا ساتھ دے گا۔(روزنامہ الجمعیۃ،25؍ جولائی 1967ء)

اسرائیلی جارحیت اور اینگلو امریکی سازش کے خلاف مظاہرہ

28؍ جولائی 1967ء کو جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی حضرت مولا نا اسعد مدنی کی اپیل پر تیسرے پہرامریکی انفارمیشن سینٹر پرساٹھ ہزار فر زندان توحید اوردلی کے دوسرے انصاف پسند شہریوں اور ہند عرب دوستی کے حامیوں کی جانب سے زبردست مظاہرہ اور عربوں کے خلاف امریکہ و برطانیہ کی پشت پناہی سے اسرائیلی جارحیت پر احتجاج کیا گیا۔ اس مظاہر ہ کی قیادت خود حضرت مولانا سید اسعد مدنی نے فر مائی۔ یہ مظاہرہ جمعیت علمائے ہند کی اپیل پر یوم فلسطین کے سلسلہ میں کیا گیا۔ دلی کے علاوہ آج پورے ملک میں جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام ’’یوم فلسطین‘‘ منایا گیا۔ مظاہرہ کے اختتام پر حضرت مولانا اسعد مدنی کی قیادت میں ایک وفد نے امریکی انفارمیشن سینٹر کے ایک ذمہ دار افسر کو ایک یادداشت پیش کی، جس میں امریکہ سے کہا گیا ہے کہ وہ اسرائیلی کی حمایت سے باز آجائے اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ قبلۂ اول، بیت المقدس اور متحدہ عرب جمہوریہ، شام اور اردن کے وہ علاقے خالی کرائے جائیں، جن پر اسرائیل نے غاصبانہ طور سے قبضہ کر لیا ہے۔

مظاہرین کا اجلاس ٹھیک ڈھائی بجے حضرت مولانا سید اسعد مدنی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند کی قیادت میں جامع مسجد سے روانہ ہوا۔ روڈ بازار، دریا گنج، بہادر شاہ ظفر مارگ، تلک برج اور سکندرہ روڈ سے ہوتا ہوا امریکی مرکز اطلاعات پرپہنچا۔ جلوس میں آگے آگے موٹر سائیکلوں، ٹرکوں، ٹیکسیوں، اسکوٹروں اور سائیکلوں کی والینٹر تھے۔ ان کے عقب میں پیدل چلنے والوں کا ایک طویل سلسلہ تھا۔ لوگ چار چار آدمیوں کی قطاروں میں چل رہے تھے۔ بعض قطاروںمیں آدمیوںکی تعداد اس سے بھی زیادہ ہو گئی تھی۔ لوگ کپڑے کے بینر اور گتے کے موٹو اٹھائے ہوئے تھے۔ دلی جمعیت علماکے پانچوں ضلعوں کی پارٹیاں اپنے اپنے اضلاع کے بینر اور دوسرے جھنڈے اور کتبے لیے ہوئے تھے۔دلی کے قریب و جوارمیرٹھ، غازی آباد، بلند شہر، ہاپوڑ، مظفر نگروغیرہ مقامات کے علاوہ لکھنو اور بنگلور جیسے دور دراز مقامات سے بھی آئے ہوئے لوگ خاص طور سے جلوس اور مظاہرہ میں شامل ہوئے۔ جلوس ڈیڑھ دو میل لمبا تھا۔ بہادر شاہ ظفر مارگ پرخونی دروازہ پر سے دیکھنے میں جلوس کا منظر شان دار تھا۔سڑک پر تاحد نظر آدمی ہی آدمی اور بینراور جمعیت علما کے جھنڈے لہراتے دکھائی دیتے تھے۔ اللہ اکبر،ہند عرب دوستی،عرب اتحاد اور جمعیت علمازندہ باد کے نعروں سے پوری فضا گونج رہی تھی۔ جلوس کا ایک سرا تلک برج کے قریب نظر آتا تھا۔ اور دوسرا دلی گیٹ کے پیچھے دریا گنج کے تاریخی بازار میں عمارتوں کی آڑ اور بازار کے موڑمیں کہیں نظروں سے او جھل تھا۔ اندازہ ہے کہ جلوس میں اسی ہزار اشخاص شامل تھے۔ مسجد عبد النبی کے قریب سے گذرنے میں جلوس کو تقریبا ایک گھنٹہ لگا۔ جلوس کے تمام راستہ میں ٹریفک رک گیا تھا۔ سڑکوں کے کنارے پیڑوں پر ،مکانوں کی چھتوں پر، برآمدوں اور کھڑکیوں میں جلوس کو دیکھنے کے لیے مرد عورتیں اور بچے جمع تھے۔ جلوس میں غیر مسلم حضرات اور ٹرید یونین ورکر بھی بڑی تعداد میں شامل تھے اور بڑے جوش و خروش کے ساتھ اسرائیلی جارحیت اور اینگلو امریکی سا مراج کے خلاف نعرے لگا رہے تھے۔

حضرت مولانا اسعد مدنی صاحب نے وہ یاد داشت پڑھ کو مجمع کو سنائی، جو امریکی سفیر کو پیش کی جانی تھی، لیکن اس کے دل میں موجود نہ ہونے کی وجہ سے دوسرے امریکی حکام کو پیش کردی گئی۔ 

پروگرام یہ تھا کہ اس موقعہ پر حضرت مولانا مدنی شری رنبیر ایڈیٹر ملاپ، مولانا اسحاق سنبھلی ایم پی اور دوسرے لوگ مظاہرین سے خطاب کریں؛ لیکن دھوپ اور گرمی کی شدت اور مظاہرین کی عظیم تعداد اور ٹریفک میں رکاوٹ کے پیش نظر پروگرام کے اس حصہ کو مجبورا منسوخ کرنا پڑا۔ 

جب حضرت مولانا اسعد مدنی کی قیادت میں مولانا اسحاق سنبھلی، حافظ عبد العزیز صاحب میئر میٹرو پولٹین کونسل ،اخلاق حسین صاحب قاسمی، پریم ساگر گیتا سابق کونسلر، مسٹر آر سی شرما نائب صدر دلی ٹریڈ یونین کانگریس اور سید احمد ہاشمی، حکیم سید حسین صاحب، ناز انصاری صاحب اور اجمل فاروقی صاحب یاد داشت پیش کرنے کے لیے اندر گئے، تومجمع پر سکون رہا؛ لیکن امریکی سامراج مردہ باد، ہند عرب دوستی زندہ باد کے نعرے لگاتا رہا۔ امریکی افسر متعلقہ نے یاد داشت کو قبول کرتے ہوئے یقین دلایا کہ وہ اس یا د داشت سے اپنی حکومت کو باخبر کر دیں گے اس کے بعد اہل جلوس پر امن طور پر منتشر ہو گئے۔ 

احتجاجی میمورنڈم

جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی کی قیادت میں امریکی انفارمیشن سینڑپر مظاہرے کے بعد جو میمورنڈم پیش کیا گیا، اس کا متن درج ذیل ہے: 

دلی کے عوام کا یہ مظاہرہ حکومت ریاست ہائے متحدہ کی مغربی ایشیا کے متعلق اس شرانگیز سامراجی پالیسی پر- جسے برطانیہ اور مغربی جرمنی کی حکومتوں کا پورا تعاون حاصل ہے- اپنی شدید ناپسندگی، ناراضنگی اور انتہائی بیزاری کا اظہار کرتا ہے۔

عرب ممالک، متحدہ عرب جمہوریہ، شام اور مشرقی اردن کے خلاف تازہ ترین غاصبانہ جارحیت اسرائیل کے جارحانہ حملوں کے سلسلہ کی تیسری مہم ہے، جنھیں بیس سال پہلے اسرائیل نے جنم لینے کے بعد امریکہ، برطانیہ اور مغربی جرمنی کی مکمل سیاسی اورانسانیت دشمن فوجی حمایت سے کیا تھا۔ امریکہ اور دیگر مغربی سامراجی طاقتوں کی پشت پناہی اور حمایت کے بغیر اسرائیل کی یہ جرأت نہیں ہو سکتی تھی کہ وہ عرب ممالک پر حملہ کرے اور عالمی رائے عامہ کو ٹھکرادے۔ امریکی حکومت اب بھی اسرائیلی حکومت کی سابقہ اور حالیہ جارحیت کے ثمرسے بہر دور ہونے میں پوری طرح پشت پناہی کر رہی ہے۔ 

ہم امریکی حکومت کی اس پالیسی کے خلاف دلی تکلیف، رنج والم اور پوری قوت کے ساتھ احتجاج کرتے ہیں، جو ابھرتی ہوئی ان عرب اقوام کی آزادی، سلامتی اور بالادستی کے خلاف کوشاں ہے۔ اور مغربی سامراجی طاقتوں کے استحصال اور لوٹا کھسوٹ سے آزاد ہوکر اپنے ملک کے عوام کی نئی زندگی کی تعمیر کے لیے جرأت مندانہ کوششیں کر رہی ہیں۔ حکومت ہنداور ہندستان کے عوام کی یہ تاریخی روایت اور پالیسی رہی ہے کہ جو قومیں کسی قسم کی جارحیت کے خلاف اپنی آزادی کے تحفظ کے لیے جدوجہد کر رہی ہوں، ان کی حمایت کی جائے۔ اس پالیسی کی محرک یہ تمنا اور خواہش ہے کہ دنیامیں امن قائم رہے، اس لیے حکومت ہند اور ہندستان کے عوام نے اسرائیلی جارحیت کے شکار مظلوم عربوں کی پوری طرح حمایت کی ہے۔ مغربی ایشیا کے متعلق ہم حکومت ہند کی صحیح پالیسی کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ 

ہم امریکی حکومت پر پوری قوت سے یہ واضح کر دنیا چاہتے ہیں کہ وہ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لے کہ ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ کی ابھرتی ہوئی قومیں اور وہ حریت پسند عوام -جو ابھی اپنی آزادی کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں- اپنی قومی زندگی اور معاملات میں امریکی یا کسی دوسری سامراجی مداخلت کو برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ اگر امریکی حکومت ہر جگہ جارحیت کی حمایت کرنے کی لاحاصل پالیسی پر عمل کرتی رہے گی، تو ان براعظموں کے عوام اس کے خلاف لڑیں گے اور آخر دم تک لڑیں گے۔

وہ عرب ممالک جو سامراجی طاقتوں کی شہ پر جارحیت کا شکا ر ہوئے ہیں، ان کابس اتنا قصور ہے کہ وہ اپنی تیل کی دولت اپنے بحری راستوں اور آبی گزرگاہ کے مالک بننا چاہتے ہیں۔

 اگر امریکی حکومت یا کوئی اور سامراجی حکومت عربوں کی اس روش میں حائل بن کر انھیں ان کی ملکیت سے محروم کرنا چاہتی ہے، تو اس سامراجی پالیسی کی ناکامی اور رسوائی یقینی ہے۔ امریکی حکومت کو ویٹ نام اور مغربی ایشیا سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔

 ہمارا مطالبہ یہ ہے کہ امریکی حکومت جارح اسرائیلی حکومت کی حمایت سے باز آجائے اور اسرائیل نے اپنی غاصبانہ جارحیت کے ذریعہ قبلۂ اول:بیت المقدس اور متحدہ عرب جمہوریہ، شام، ار دن کے جن علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے، وہاں سے اپنی فوجیں ہٹالے اور یہ علاقے عربوں کو واپس کرے۔

ہمیں یقین ہے کہ امن دوست قوموں کی جدوجہد کا میاب ہوگی اور عرب اپنی سرزمین دوبارہ حاصل کریں گے۔ اور اسرائیلی جارحین کو ان علاقوں کو خالی کرنا پڑے گا۔

امن :زندہ باد۔ ہندستان اور عرب اقوام کی دوستی: پائندہ باد۔

 سامراج اور جارحیت :مردہ باد۔

منجانب: مظاہرین باشندگان دہلی

 اسعد مدنی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند۔ (روزنامہ الجمعیۃ، 30؍ جولائی 1967ء)

بیت المقدس پر اسرائیل کا قبضہ ناقابل برداشت

31؍ جولائی1967ء

امروہہ میں منعقد ایک جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا اسعد مدنی صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے کہا کہ بیت المقدس پر اسرائیلی قبضہ مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت ہے ، اور جب تک یہ ختم نہیں ہوتا، مسلمان ذمہ داری سے سبک دوش نہیں ہوتے۔

 (روزنامہ الجمعیۃ،یکم اگست 1967ء)

اسرائیلی جارحیت کے خلاف قومی کانفرنس 

10؍ اگست 1967ء کو عربوں کی حمایت میں سپرو ہاؤس نئی دہلی میں جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام ’’قومی کانفرنس‘‘ کا انعقاد کیا گیا، جس کی صدارت شری کے ڈی مالویہ نے کی۔ جلسہ کے آغاز میں غازہ کے ہندستانی باشندگان ستم اور جارحیت میں شہید ہو جانے والے عربوں کو کھڑے ہو کر خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ شری کے ڈی مالویہ نے اجلاس کے سامنے تجویز پڑھ کر سنائی اور پھر اس تجویز (آگے درج ہے)کی تشریح و تفصیل بیان فرمائی۔ میر مشتاق احمد صاحب کنوینر قومی کانفرنس نے اناؤ نسر کا فرض انجام دیا۔

ناظم عمومی جمعیت کا خطاب

ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا اسعد مدنی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پورے ایشیا کا مفاد اس میں ہے کہ عرب ممالک سامراجی طاقتوں کے قبضہ و اقتدار سے محفوظ رہیں۔ مغربی ایشیا میں عرب ممالک ہندستان اور ایشیا کے محافظ ہیں۔ اسرائیلی جارحیت اور اسرائیل نواز سامراجی مظالم کے متعلق یہ سمجھنا کہ یہ صرف مغربی ایشیا میں عربوں کا مسئلہ ہے، صحیح نہیں ہے، یہ حق وانصاف کا مسئلہ ہے۔ اور ایشیا کے ہر ہر فرد کا مسئلہ ہے۔ دنیا کے انصاف پسند عوام کو ہر گز اس بات کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے کہ سامراجی طاقتیں اپنے مقاصد میں کا میاب ہوںاور جارح اپنی جارحیت کا فائدہ اٹھائے۔ اس لیے کہ اگر دنیا کے انصاف پسند عوام اس جارحیت پر خاموش رہ جاتے ہیں، تو سامراجی طاقتوں کی ہمتیں بڑھیں گی اور وہ دنیا کی نو آزاد ترقی پسند قو موں کو غلام بنانے کی سازشیں کر کے ان پر اپنا سامراجی اقتدارمسلط کرتے رہیں گے۔ اگر آج گیارہ کروڑ عرب عوام کے خلاف اسرائیل کی شکل میں فوجی چھاؤنی قائم کی جاسکتی ہے، تو مزید اسے جارحیت کے لیے آگے بڑھایا جا سکتا ہے۔پھر کسی اور قوم کے لیے بھی یہی سب کچھ کہا جا سکتا ہے۔ اگر خدانخواست غیر ملکی طاقتیں ہمارے ملک کے علاقوں پر قبضہ کرنے کے جرم کا ارتکاب کرنے کی سازش کریں، تو ظا ہر ہے کہ ہم اسے برداشت نہیں کرسکتے۔ آج یہی مسئلہ عربوں کا ہے۔ فلسطین میں یورپ سے درآمد کر کے یہودیوں کو بسایا گیا، اور وہاں کے اصلی باشندوں کو دیس نکالا دیا گیا۔ ان کے گھروں کو ویران کیا گیا۔ ان کی جائدادوں کو ضبط کیا گیا۔ ان کی زمینیں چھین لی گئیں اور ان پر ہر طرح سے مظالم کر کے دس لاکھ عربوں کو بے وطن اور پناہ گزیں بنایا گیا اور اب حالیہ جارحیت کے نتیجہ میں لاکھوں کی تعداد میں ان پناہ گزینوں کی تعداد میں اضافہ ہو گیا۔

 ہندستان کی غیر جانب دار امن پسند پالیسی کا نتیجہ ہے کہ جب ہم پر وقت پڑا تھا اور پرتگال کے سامراج نے گوا پر حملہ کیا، تو مصر نے دوستی کا حق ادا کیا تھا، اور پرتگال کے حملہ کو ناکام بنا دیا تھا۔حقیقت یہ ہے کہ ہندستان کی آزادی کا تصور آدھا ہو جاتا ہے، اگرہما رے پاسبان عرب ممالک کسی خطرہ سے دوچار ہو جائیں۔ لہذا آج ہندستان کے عوام کا فرض ہے کہ وہ پوری قوت سے اسرائیل نواز سامراجی طاقتوں پر یہ واضح کر دیں کہ ہندستان کی حکومت اور ہندستان کے عوام کسی صورت میں بھی اسرائیلی جارحیت کو برداشت نہیں کریںگے۔ اور ان کی یہ جدوجہد اس وقت تک جاری رہ ہے گی، جب تک اسرائیلی جارحیت کا ہر نشان نہ مٹ جائے، مقبوضہ عرب علاقوں کی ایک ایک انچ زمین عربوں کو واپس نہ مل جائے اور اسرائیل نواز سامراجی طاقتیں اپنی جارحانہ اور ظالمانہ روش سے باز نہ آ جائیں۔

بیت المقدس تمام مذاہب ماننے والوں کے لیے محترم ہے اور جارحیت سے پہلے تمام مذاہب والوں کو وہاں ہر طرح کی سہولت و آزادی حاصل تھی ؛ لیکن آج اسرائیلی فوجی چھاؤنی نے ان تمام احترامات کو ختم دیا ہے۔ اور مقامات مقدسہ کو منہدم کرنے کا اس نے اعلان کیا ہے۔ اسرائیل کا یہ کردار دنیا کے تمام مذاہب والوں کے لیے ایک چیلنج ہے اور اس کا یہ شرم ناک اور مذہب بیزار رویہ کسی قیمت پر بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

 بچوں، عورتوں، بوڑھوں اور شہریوں پر اسرائیلی درندوں نے نیپام بم برساکرہماری موجودہ دور کی تمام درندگیوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ حد یہ ہے کہ ہسپتالوں اور ایمبولینس گاڑیوں تک پر اسرائیلی درندوں نے بم برسائے اور انسانیت کی اعلیٰ اخلاقی قدروں کی توہین کی۔

حضرت ناظم عمومی نے ان پروپیگنڈوں کی بھی مذمت فرمائی، جو مغربی سامراجی طاقتیں جماعتوں اور افراد کے ذریعہ عربوں کے خلاف کر رہی ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ ایسے تمام پروپیگنڈوں کو بند ہو جانا چاہیے۔ ناظم عمومی نے اپنی تقریر میں عربوں کی تائید میں حکومت ہند کے موقف کی تعریف وتحسین کرتے ہوئے فرمایا کہ ہمیں یہ ثابت کردینا چاہیے کہ ہندستان کا ہر ہر فرد اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور اپنے عرب بھائیوں کی تائید وحمایت میں ہے۔ آپ نے تقریر کے اختتام پر فرمایا کہ ہمیں عرب کاز کی حمایت کے لیے مستقل جدو جہد کرنی چاہیے، اس لیے ضرورت ہے کہ اس کے لیے ایک مستقل تنظیم کی جائے۔

(روزنامہ الجمعیۃ،11؍ اگست 1967ء)

 وزیر امور تعلیم مسٹر بھگوت جھا آزاد کی تقریر

 وزیر امور تعلیم مسٹر بھگوت جھا آزاد نے حکومت ہند کی طرف سے عرب ممالک کو اپنی ہر قسم کی ہمدردی و تعاون اور حمایت کا یقین دلایا اور فرمایا کہ ہم عرب عوام کے ساتھ ہیں۔  سامراجی طاقتوں نے اسرائیل کو جنم دیا اور انھیں طاقتوں نے اسرائیل کے ذریعہ عربوں کو تباہ کرنے کا نقشہ بنایا۔ آج عرب عوام میں جو جذبہ ہے اور ان کی آنکھوں میں جو چمک ہے، وہ بہت جلد اسرائیل اور اسرائیل نو از سامراجی طاقتوں کو پسپا ہونے پر مجبور کردے گی۔ ہم پوری طاقت سے یہ اعلان کرتے ہیں کہ سامراجی طاقتوں کا یہ ظلم نہیں چلے گا اور آخر کا ر اُسے ایک روز شکست ہوگی۔

 آپ نے اسرائیلی جارحیت پر تبصرہ کرتے ہوئے بہت ہی پر جوش لفظوں میں کہا کہ یہ خنجر اسرائیل نے عرب ممالک کی پیٹھ میں نہیں گھونپا ہے؛ بلکہ ہندستان کی پیٹھ میں یہ خنجر گھونپا ہے۔ سامراجی طاقتیں ہندستان کو پھر غلام بنانے کی فکر میں ہیں۔ آپ نے اقوام متحدہ کے رویہ پر بھی تنقید کی کہ وہ سامراج کی آلۂ کار ہے۔ آپ نے کہا کہ سامراجی طاقتوں نے فوجی بیسوں سے تمام آزاد ترقی پسند قوموں کو گھیر لیا ہے۔ اس لیے تمام آزاد ترقی پسند قوموں کو ان سامراجی طاقتوں کی جارحانہ کوششوں کو نا کام بنا نا ہے اور یہ ثابت کرنا ہے کہ وہ انصاف کے ساتھ ہیں۔

مسٹر وی سی شکلا کی تقریر

 ہندستان کی طرح سامراجی طاقتوں نے فلسطین کو بھی تقسیم کیا، تاکہ سامراجی مفا و محفوظ رہے اور عرب ممالک میں ان کے سامراجی استبداد کو ختم کرنے کی طاقت نہ رہے۔  ہم نے عرب ممالک کی جو حمایت کی ہے، وہ ہندستانی حکومت اور ہندستان کے عوام کے مخلصانہ جذبات کی آئینہ دار ہے۔ہما رے ملک میں بہت سی طاقتیں ہیں، جو یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ عرب ممالک کی حمایت کے بارے میں ہمارے اندر اختلاف ہے۔ ہم واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ ہندستان کے عوام عربوں کی حمایت میں متفق ہیں، اور حکومت ہند کی پالیسی مضبوط اور بہت ہی واضح ہے۔ یہ تمام مکروہ پر وپیگنڈے ہیں، جن پر کان دھرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

 شری رمیش چندر جنرل سکریڑی ورلڈ سپیس کونسل کی تقریر

 آپ نے غازہ کے ہندستانی کشتگان ستم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہندستانیوں اور عربوں کا خون مل چکا ہے، ہم اکھٹے مرے ہیں اور اکھٹے ہی جیئں گے۔ اگر ضرورت پڑی تو ہم ہندستانی عربوں کی حمایت میں جان دینے کے لیے تیار ہیں۔ ہم ہر گز یہ برداشت نہیں کر سکتے کہ ہمارے بھائیوں کی سر زمین پر اسرائیلی جارحیت باقی رہے، اور سامراجی طاقتوں کا ہمارے بھائیوں کی سرزمین پر قبضہ و اقتدار قائم رہے۔

 اسرائیلی جارحیت کی پشت پر امریکہ، برطانیہ اور مغربی جرمنی کی سامراجی طاقتوں کی قوت، ان کا اسلحہ اور ان کی منصوبہ بندی ہے۔ اقوام متحدہ میں ہماری اکثریت تھی اور تمام انصاف پرور ملکوں نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف اپنی آواز بلند کی تھی؛ لیکن محض سامراجی طاقتوں کی سازشوں سے ہمیں دو تہا ئی ووٹوں کی اکثریت نہیں حاصل ہو سکی۔ اسرائیل رہ نہیں سکتا، عرب عوام بہا در ہیں، وہ اسے کسی قیمت پر برداشت نہیں کریں گے۔اس کے ساتھ ہی دنیا کے انصاف پسند ممالک اور ان کے عوام کی طاقتیں عربوں کی حمایت پر ہیں۔ عرب تنہا نہیں ہیں۔ افریشیا کے تمام ممالک عربوں کے ساتھ ہیں۔ اس لیے ہمیں یقین ہے کہ اسرائیل کی فوجی چھاؤنی زیادہ دنوں تک اپنی جارحانہ سازشوں کے لیے باقی نہیں رہ سکتی۔ یہ عرب اور اسرائیل کا مسئلہ نہیں ہے؛ بلکہ سامراجی طاقتوں اور انصاف کا مسئلہ ہے۔ جو لوگ ہمارے ملک میں اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں، یہ وہی لوگ ہیں، جو امریکیوں کے ہمنوا اور ان کے ساتھی ہیں، جو ہمارے ملک کی پالیسی کو بدلنا چاہتے ہیں، یہ سامراج کے ساتھی ہیں۔ اب حکومت ہند کی انصاف دوست پالیسی کو کامیاب بنا نا ہما رے عوام کی ذمہ داری ہے۔ اگر چہ امریکی دباؤ بڑھ رہا ہے؛ لیکن ہمیں یقین ہے کہ ہمارے عوام اس دباؤ کو قبول نہیں کریں گے۔

 دوسرے حریت پسند ممالک کے عوام کی آزادی کی جدو جہد میں ہندستان نے ہمیشہ شرکت کی ہے۔ اس وقت عرب ممالک کی آزادی کی جدو جہد کے لیے ہم جو کچھ کر رہے ہیں، وہ اس لیے کر رہے ہیں کہ دوسرے آزاد ملکوں کے خطرے کو کم کیا جا سکے۔ اگر اسرائیل کی فوجیں مقبوضہ عرب علاقوں سے پیچھے نہ ہٹیں،تو یہ ہمارے لیے بہت ہی خطرہ کی بات ہے؛ کیوںکہ اچانک قبضہ کے بعد جو جہاں ہے اگر وہیں رہ جائے، تو یہ بہت بری مثال ہوگی۔

شریمتی ارونا آصف علی کی تقریر

 ہندستانی عوام نے جس طرح سامراجی طاقتوں سے اپنی تمام تربے سرو سامانیوں کے باوجود مقابلہ کیا اور آخر کار انھیں پسپا ہونا پڑا،اسی طرح ہمیں یقین ہے کہ بہادر عرب عوام سامراجی عزائم کو شکست دے کر رہیں گے۔ اگر شری جو اہر لال نہرو زندہ ہوتے، تو وہ عربوں کے مسئلہ کو اپنا مسئلہ سمجھتے۔ آپ نے حکومت ہند کی پالیسی کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ ہم اپنے تجربہ کی بنا پریہ کہہ سکتے ہیں کہ عرب عوام بہت جلد اسرائیلی جارحیت کو ختم کر کے رہیںگے اور ہمیں بھی اس وقت تک عربوں کا ساتھ دینا ہے، جب تک کہ سامراجی طاقتیں مقبوضہ عرب علاقوں سے واپس نہیں ہو جائیں۔

 شری پال چند را مین کی تقریر

 شری پال چند را مین نے عرب ملکوں کو یقین دلایا کہ ہندستانی عوام عربوں کی حمایت میں ہرقسم کی جدو جہد کے لیے تیار ہیں۔

سابق وزیر دفاع مسٹر کرشنا مینن کی تقریر

 کانفرنس کی آخری تقریر سابق وزیر دفاع مسٹر کرشنا مینن کی ہوئی۔ آپ نے اپنی مختصر تقریر میں کہا کہ مغربی ایشیا میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا، تا وقتیکہ اسرائیلی جارحیت اور اس کے ہر نشان کو نہ مٹا دیا جائے۔ سامراجی طاقتوں نے قبلۂ اول اور مقامات مقدسہ کو واپس کرنے کا اشارہ دیا ہے؛ لیکن صرف اس پر مصالحت نہیں ہو سکتی۔ سامراجی طاقتوں کو تمام مقبوضہ عرب علاقوں کو خالی کرنا پڑے گا۔

قومی کانفرنس کی قرارداد

اس قومی کانفرنس میں درج ذیل تجویز منظور ہوئی:

یہ قومی کانفرنس- جو اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور عرب قوموں کی آزادی کی جد و جہد کی حمایت کے لیے ہورہی ہے- عرب ملکوں کی ان ترقی پسند طاقتوں کے ساتھ گرم جوش جذبات اور نیک خواہشات کا اظہار کرتی ہے، جو آج اپنے اپنے ملکوں کی قومی آزادی اور سالمیت کے لیے بہادری سے جدو جہد کر رہی ہیں۔

 ہندستان کے لوگ ہر اس قوم کے ساتھ اپنی مکمل ہمدردی کا اعلان کرتے ہیں،جو سامراج، نو آبادی نظام اور نئے قسم کے سامراجی حملوں کے خلاف لڑتی ہے، اپنی آزادی اور سالمیت کی حفاظت کرتی ہے، تاکہ آزادی سے زندہ رہنے اور اپنے معاملات کا خود انتظام کرنے کے حق کا استعمال کر سکے۔ یہی وجہ ہے کہ ہندستان کے لوگ آج مغربی ایشیائی  ملکوں کے تمام ترقی پسند لوگوں کے ساتھ مکمل یک جہتی کا اظہار کر رہے ہیں۔ اور متحدہ عرب جمہوریہ، شام اور اردن پر وحشیانہ اسرائیلی جارحانہ حملہ کی مذمت کرتے ہیں اور پوری طرح عرب ملکوں کے ساتھ ہیں۔

یہ کانفرنس امریکہ، بر طانیہ اور مغربی جرمنی کی سرکاروں کے ان اقدام کی سخت مذمت کرتی ہے، جو انھوں نے جارح اسرائیلی حکومت کو حملہ کرنے کے لیے بڑھاوا دینے کے لیے اٹھایے ہیں۔ امریکہ اور دوسری سامراجی طاقتیں مغربی ایشیا میں بھی اپنے عالمی منصوبوں کو کا میاب بنانے اور اقوام کی آزادی کے خلاف سازشیں رچانے میں مصروف ہیں۔ سامراج نے ویٹ نام اور کوریا سے لے کر کیوبا تک جو جارحانہ حملے کیے ہیں، اسرائیلی حملہ اس ہی کا ایک حصہ ہے۔ یہ کانفرنس مطالبہ کرتی ہے کہ اسرائیلی فوجیں بلاکسی شرط اور تاخیر کے اس جگہ پر واپس چلی جائیں، جہاں وہ اپنے 5؍جون کے حملے سے پہلے تھیں۔ عرب ملکوں کے وہ تمام علاقے خالی کیے جائیں،جن پر اسرائیل نے قبضہ کیا ہوا ہے۔ دنیابھرکے لوگ اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ حملہ آور حملہ سے حاصل کیے ہوئے مقامات کو اپنے قبضہ میں رکھ کر فائدہ اٹھائے۔

عرب ایشیا میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا، جب تک اسرائیلی فوجیں ان علاقوں کوخالی نہ کر دیں، جو انھوں نے زبر دستی ہتھیائے ہیں۔ اسرائیل کے جنگ باز حکمراں انسانیت کی آواز کو ماننے اور اپنا حملہ ختم کرنے کے لیے قدم اٹھانے کے بجائے جارحانہ حرکتوں کو تیز کرتے جار ہے ہیں، خطر ناک قسم کا اشتعال انگزیاں اور فوجی حملے کرتے جا رہے ہیں، مقبوضہ علاقوں میں بسنے والی عرب آبادی کے خلاف بدترین قسم کے جرائم کر رہے ہیں۔

 دوسری جنگ عظیم میں ہٹلر نے جس قسم کے مظالم کیے تھے، آج اسرائیل کے حکمراں مقبوضہ علاقوں میں انھیں دہرا رہے ہیں ۔ نیپام بموں کا استعمال اس طرح کیا گیا ہے، جیسے امریکی کی فوجیں ویٹ نام میں کر رہی ہیں۔ ان خطرناک بموںکے استعمال سے سپاہیوں اور شہریوں، مرد، عورتوںاور بچوں کے جسم جھلس جاتے ہیں، اور وہ تڑپ تڑپ کر مر جاتے ہیں۔

 یہ کا نفر نس انسانیت کے ضمیر کو للکار کر اپیل کرتی ہے کہ وہ اسرائیلی فوج کے وحشیانہ اور انسانیت سوز جرائم کے خلاف اپنی پر زور آواز بلند کرئے۔ اسرائیل کی سرکار اس بات کو نہیں چھپاتی کہ اس کا مقصد عرب آبادی کو مقبوضہ علاقوں سے نکال باہر کرنے یا یا بالکل ختم کر دینا ہے، تا کہ ایک عظیم اسرائیل سلطنت قائم کر سکے۔ اسرائیلی سرکار نے زبر دستی بیت المقدس پر قبضہ کر لیا ہے اور اقوام متحدہ کے اس متفقہ فیصلہ کو ماننے سے انکار کر دیا ہے کہ وہ یوروشلم کے مقبوضہ علا قوںکو خالی کردے۔ اور تمام دنیا کے نام نہاد نئے اسرائیلیوں کو دعوت دے رہا ہے کہ وہ ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں مقبوضہ علاقوں میں آکر بس جائیں۔اسرائیل سرکار کے یہ اقدام جو امریکہ اور اس کے ناٹو فوجی پیکٹ کے ساتھیوں کی پوری مدد کے ساتھ اٹھائے جار ہے ہیں، ایک عالمی جنگ کا زبردست خطرہ پیدا کر رہے ہیں۔ جن اصولوں پر اقوام متحدہ کی بنیاد رکھی گئی تھی، اسرائیل حملہ آور کھلم کھلا ان کی دھجیاں اڑا رہے ہیں۔ وہ نہایت بے شرمی کے ساتھ یہ اعلان کر رہے ہیں کہ دنیا کی ساری قومیں اور حکومتیں بھی اگر یہ فیصلہ کر دیں کہ اسرا ئیلیوں کو پیچھے ہٹنا چاہیے، تب بھی وہ ان علاقوں کو نہیں چھوڑیں گے، جن پر قبضہ کر چکے ہیں۔

یہ کانفرنس دنیا کی تمام امن پسند حکومتوں، عوامی جماعتوں اور تحریکوں ،گروہ اور افراد سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اسرائیلی حملہ کے خلاف اور عرب قوموں کے ساتھ اظہار ہمدردی کرنے کے لیے اپنے قدم تیز کریں۔

 یہ کا نفرنس حکومت ہند کے اس بااصول موقف کی مکمل تائید کرتی ہے، جو اس نے عرب قوموں کی حمایت میں اختیار کیا ہے۔ حکومت ہند کا یہ رویہ نہ صرف ان اصولوں کے مطابق ہے، جن پر ہماری بیرونی پالیسی قائم ہے اور جن کو ہمارے ملک نے اپنی آزادی کی جدوجہد کے دوران میں اختیار کیا تھا، یعنی امن پسند اور سامراجی دشمن ؛ بلکہ ہمارے ملک کے بہترین مفاد میں بھی ہے۔ اگر حملہ آور کو مغربی ایشیا میں اپنی من مانی کرنے دی گئی اور عرب قوموں کی آزادی اور سالمیت پر بے باکی کے ساتھ حملہ کیا گیا، تو پھر کسی بھی قوم کی آزادی اور سالمیت محفوظ نہیں، اور دنیا کے کسی بھی حصہ میں جارحانہ حملہ سے کوئی بچاؤ نہیں۔

 ہندستان لوگ ان تمام اقدام کی مکمل تائید کرتے ہیں، جو عرب ملکوں نے مغربی ایشیا میں سامراجی حملہ کے خلا ف اور سامراجی طاقتوں کی سازشوں اور کارروائیوں کی مذمت کرنے کے سلسلہ میں اٹھائے ہیں اور خاص طور پر سامراجی طاقتوں کو تیل کی سپلائی بند کرنے کے سلسلہ میں جوقدم اٹھایا گیا ہے۔

 یہ کانفرنس اس اخلاق اورمادی مددکو نظر تحسین سے دیکھتی ہے، جو عربوں کی حمایت میں  دنیا بھر میں بہت سی حکومتوں اور قوموں نے دیا ہے۔ خاص طور پر یہ کانفرنس اس اہم مادی مدد کو نظر تحسین سے دیکھتی ہے ،جو سویت یونین کی حکومت اور عوام نے عربوں کی آزادی کی جدو جہد کے سلسلہ میں دی ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ سویت یونین ہمیشہ ان لوگوں اور قوموں کی مددکرتا ہے، جو سامراج اور اس کے حملوں کے خلاف اپنی آزادی اور سالمیت کی حفاظت کے لیے لڑتے ہیں۔

 یہ کا نفرنس خود اسرائیل کے ان بہادر عورتوں اور مردوں کو مبارک باد پیش کرتی ہے،  جنھوں نے بے باکی کے ساتھ اپنی سرکار کے حملہ کے خلاف آواز اٹھائی اور جو امن اور  عربوں کے حقوق کی حمایت میں متواتر مہم چلا رہے ہیں۔ خوداسرائیل کی پارلیمنٹ میں ان بہادر اسرائیلی شہریوں کی آواز بلند ہوئی ہے۔ اسرائیل کے اندر اس نئی طاقت کی آواز ہے جو آخر کار کامیاب ہو گی؛ کیوںکہ یہ جارحیت اور سامراج کے خلاف انصاف اور سچائی کی آواز ہے۔

 یہ کا نفرنس ان پارٹیوں اور عوامی جماعتوں سے متعلق تمام ہندستانیوں سے اپیل ہوتی ہے، جو امن اور قومی آزاد ی کے دل دادہ ہیں ،جو اسرائیلی فوجوں کی واپسی کے حق میں عربوں کی حمایت میں رائے رکھتے ہیں کہ وہ ملک بھر میں ان اصولوں کے لیے ایک زبردست مہم چلائیں۔

 یہ کانفرنس اپیل کرتی ہے کہ ہر ضلع اور صوبہ میں عربوں کی حمایت میں اور اسرائیلی حملہ کے شکارعربوں اورعرب پناہ گزینوں کی مدد کے لیے چندہ اور دوسری قسم کی چیز یں جمع کرنے کی مہم چلائی جائے۔

 دنیاکو معلوم ہونا چا ہیے کہ ہندستان اور عرب ملکوں کے ترقی پسند لوگوں کا اتحاد اٹوٹ ہے۔ دنیا بھر کے ترقی پسند لوگوں کی مدد سے اسرائیلی حملہ آور نا کام ہو کر رہیں گے۔ اور مغربی ایشیا میں قومی آزادی اور امن کا نیک مقصد فتح یاب ہوگا۔(روزنامہ الجمعیۃ،13؍ اگست 1967ء)

اسرائیلی جارحیت کینمائش کا اہتمام

قومی کا نفرنس کے سلسلہ میںجناب نازصاحب انصاری نے ایک نمائش کا بھی اہتمام کیا تھا، جو سپر و ہاؤس کے بیرونی ہال میں ترتیب دی گئی تھی۔ اس نمائش میں عرب ممالک کے مشہور مقامات اور مقامات مقدسہ کی تصویروں اور مختلف قسم کے کتا بچوں، رسائل واخبارات کے علاوہ اسرائیلی جارحیت و بربریت کے شکار ان مظلوموں کی دل دوز تصویروں کا بھی ایک البم خصو صی توجہ کا مرکز بنا ہوا تھا، جس میںنیپام بموں سے زخمی مردوں، عورتوں اور بچوں کے الم ناک مناظر دکھلائے گئے تھے۔ ان تصویروں کو جس نے بھی دیکھا ،وہ کلیجہ تھام کر ر ہ گیا۔ لوگوں پر ان تصویروں کے دیکھنے کے بعد ایک کاص تأثر تھا اور ہر ایک اسرائیلی بربریت و درندگی پر نفرت و بیزاری کا اظہار کر تا ہوا دکھلائی پڑ رہا تھا۔

کا نفرنس میں متحدہ عرب جمہوریہ، اردن، شام اور دوسرے عرب ممالک کے سفرا کے علاوہ عرب لیگ کے سکریڑی مسٹر وہبی بھی موجود تھے۔ حکومت ہند کی نمائندگی کے لیے وزیرامور تعلیم مسٹر بھگوت جھا آزاد اورمسٹر وی سی شکلا وزیر امور داخلہ بھی موجود تھے۔

 (روزنامہ الجمعیۃ، 11؍ اگست 1967ء)

مجلس منتظمہ میں اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ کا فیصلہ

جمعیت علما کی مجلس منتظمہ کا ایک اہم اجلاس23،24؍ ستمبر1967ء کو منعقد ہوا۔ جس میں ملک و ملت کے کئی اہم مسائل کے علاوہ 

امریکی و اسرائیلی مصنوعات کے بائیکاٹ پر بھی بحث و گفتگو ہوئی۔

ناظم عمومی مولانا اسعد مدنی صاحب نے عرب ممالک کے ایجنڈا پر تقریر کرتے ہوئے اسرائیلی جارحیت پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور مشرق وسطی کی سیاسی اور فوجی صورت حال سے ایوان کو آگاہ کیا۔ غازہ میں متعین ہندستانی امن دستہ کے مقتولین یہودی جارحیت پر تجویز تعزیت منظور کی گئی۔

اسی طرح یہودی پشت پناہ طاقتوں کی مصنوعات کے بائیکاٹ کی حاجی سیدارشادعلی صاحب نے تجویز ایوان کے سامنے رکھی۔ ارکان میں سے مولانا بلال اصغر، جناب ا حمد بخش سندھی ایڈوکیٹ، قاضی احمد حسین صاحب کا نپور، مطیع احمد جعفری مدھیہ پردیش اور مولانا عبدالروف صاحب ایم ایل سی نے اس تجویز کی حمایت کی؛ لیکن شوکت علی خاں صاحب اور مولاناقاری فضل الرحمان صاحب نے اس تجویز کی مخالفت کی۔ مولانا عبدالرؤف صاحب نے کہا کہ ہمیں طے کر لینا چاہیے کہ کوکا کولا نہیں پیئیں گے ۔ باٹا کمپنی کا جوتا نہیں پہنیں گے۔باٹا کمپنی نے اسرئیل کو جارحیت کے لیے مدد دی۔ مولانا فقیہ الدین صاحب دہلی نے اس تجویز کی حمایت کی اور مزید یہ اضافہ کیا کہ جو لوگ حج کو جار ہے ہیں، وہ وہاں پر سامراجی مصنوعات نہ خریدیں۔ مولانامحمد قاسم صاحب شاہ جہاں پوری نے فرمایا کہ فقہی طور پر متحارب قوموں سے بائیکاٹ اسلام کا مسئلہ ہے۔ مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی نے تجویز کی مخالفت کی۔ مولانا نوراللہ صاحب نے بائیکاٹ کی تجویز کی مخالفت کی۔ ناظم عمومی نے اس تجویز اور ان ترمیمات کا مفصل جواب دیااور بین الاقوامی صورت حال میں ہندستان اور عرب ممالک کی جو پوزیشن ہے، نیز ملک کے غذائی بحران اور دوسری دقتیں -جس کی وجہ سے بائیکاٹ کی شکل عملا ممکن نہیں ہوگی- بائیکاٹ کے عنوان پر آخر میں ووٹنگ ہوئی۔ ترمیم کے خلاف (بائیکاٹ کے خلاف) 86ووٹ اور بائیکاٹ کے حق میں صرف17، ووٹ آئے۔ مجلس منتظمہ نے ہدایت کی کہ ماتحت جمعیتوں کو مغربی مصنوعات کے بائیکاٹ کا ماحول تیار کریں۔

 ایک تجویز مولانا بلال اصغر صاحب نے پیش کی کہ جمعیت کا ایک وفد عرب ممالک کا دورہ کرے اور حالات کا مشاہدہ کرکے آئے۔ لیکن ملک سے چندہ کرکے ڈیپوٹیشن بھیجنے کی شکل پسند نہیں کی گئی۔ محرک نے تجویز واپس لے لی۔

 اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے

اسی مجلس منتظمہ( 23،24؍ ستمبر1967ء)کی تجویز نمبر (۳) میں علی الاعلان کہا کہ : اسرائیل کا وجود ایک ظلم ہے۔ تجویز کے متعلقہ حصہ میں کہا گیا کہ:

’’ جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس مشرق وسطیٰ کے سلسلہ میں جمعیت علمائے ہندکے تاریخی اجلاس کو کنا ڈا 1923ء،زیرصدارت شیخ الاسلام حضرت مولانا سیدحسین احمد صاحب مدنی نوراللہ مرقدہ کے موقف کی تائید کا اعادہ کرتے ہوئے یہ اعلان کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ اسرائیل کا جارحانہ وجود- جواستعماری طاقتوں کی فوجی چھاؤنی ہے- ایک ظلم ہے۔ عربوں کے حق میں جابرانہ مداخلت ہے اور فتنہ وفسادکی بنیا دہے۔ حق وانصاف کے احترام کو باقی رکھنے کے لیے اس کا ختم ہونا ضروری ہے۔

 چنانچہ مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس دنیا کے امن پسند عوام سے یہ اپیل کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کی فوجی چھاونی کوختم کرانے کے لیے ایک متحرک قوت بن کر سامنے آئیں اور اس وقت تک اپنی تحریک کو جاری رکھیں، تاوقتیکہ اسرائیل سے عربوں کے تمام مقبوضہ علاقے خالی نہ ہو جائیں اور اس کاجا برا نہ کرداراور وجود ختم نہ ہو جائے۔‘‘

اسرائیل کے خاتمہ کے لیے اتحاد کی اپیل

اس اجلاس میںاسرائیل کے خاتمہ کے لیے اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے تجویز نمبر(۸)  منظور کی گئی ، جو درج ذیل ہے:

’’صرف اسی وجہ سے نہیں کہ مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک سے جمعیت علمائے ہند کا ایک جذباتی اور دینی رشتہ بھی ہے؛ بلکہ اس وجہ سے بھی کہ یہ ممالک ہندستان کی آزادی اور اس کی سلامتی کے محافظ ہیں اور ہندستان اور عرب ممالک کے درمیان ہمیشہ سے ایک خاص تعلق اور رشتہ رہا ہے، جغرافیائی اعتبار سے عرب ممالک ایسے کلیدی مقامات پر واقع ہیں کہ اگر ان پر سامراجی طاقتوں کا قبضہ وتسلط باقی رہے توا فریشیائی قوموں کی آزادی ہمیشہ خطرہ میں رہے گی؛ اور افریقہ اور ایشیا کے ممالک استعماری استحصال سے کبھی محفوظ نہیں رہیںگے۔ جمعیت علمائے ہند نے مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے وجود کو ہمیشہ سامراج کی ایک فوجی چھاؤنی سمجھا ہے اور اس کے جا برا نہ ناجائز وجود کو ہندستان کی آزادی افریشیا کے تحفظ اور امن پسند دنیا کے لیے ایک بین الا قوامی خطرہ متصور کیا ہے۔ جمعیت علمائے ہند کا اب بھی یہی خیال ہے کہ مغربی طاقتوں کی سرپرستی میں اسرائیل کا وجود جب تک باقی رہے گا ؛مشرق وسطیٰ میں نہ تو امن قائم رہ سکتا ہے نہ ہندستان کی آزادی و سلامتی محفوظ رہ سکتی ہے اورنہ افریقہ ایشیا کے کمزور دونوں آزاد ممالک محفوظ رہ سکتے ہیں، بلکہ خودمغربی طاقیتں اوریورپ بھی ایک وقت میں اسرائیل کی ظالمانہ دہشت پسندی کے نقصانات اور ایذا رسانیوں سے اپنا تحفظ  نہ کرسکیں گے۔

 اس لیے جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس دنیا کی انصاف پسند قوموں کو متنبہ کرنا ضروری سمجھتا ہے کہ وہ عرب سرزمین پر اسرائیل کے شرم ناک وجود کے حقیقی خطروں سے خبردار اوراس کی ناجائز سرگرمیوں کو ختم کرنے کے لیے متحد ہو جائیں۔‘‘

اسرائیل کے ناجائز وجود پر ناظم عمومی کا چشم کشا خطاب

23،24؍ ستمبر1967ء کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں اسرائیل کے ناپاک وجود سے لے کر تاحال کے واقعات پر تاریخی تجزیہ پیش کرتے ہوئے، مولانا اسعد مدنی صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہندنے  فرمایاکہ:

 ’’فلسطین میں یہودی ریاست قائم کرنے کے تھیو ڈر ہرٹزل کے شرم ناک نظر یہ کو خلافت عثمانیہ کے سلطان عبد الحمید نے مسترد کر دیا تھا۔ یہ نظریہ مشرق وسطیٰ کے عرب ممالک کے خلاف منصوبہ بند سازشوں کا آغاز تھا۔1916ء میں برطانیہ نے فلسطین پر تسلط قائم کر لینے کے بعد جب کہ وہاں یہودی آبادی محض چالیس ہزار تھی،عربوں کی ناگواری، بیزاری اور احتجاج کے باوجود پہلی جنگ عظیم کے اختتام پر برطانیہ کے وزیر خارجہ مسٹرآرتھر جیمس بالفور نے 1917ء میں اپنے ایک انصاف دشمن غاصبانہ اعلان کے ذریعہ لیگ آف نیشنز کی سرپرستی میں مکمل کر دیا۔

 آپ نے مزید فرمایا کہ لیگ آف نیشنر کے ختم ہونے کے بعد برطانیہ نے اقوام متحدہ کو اپنا آلۂ کار بنایا اور1947ء میں اس نے عربوں کے خلاف منصوبہ بند سازشوں کو کامیاب بنانے کے لیے’’ یہودی ریاست‘‘ کے قیام کے مسئلہ کو اقوام متحدہ کے سپرد کر دیا، چنانچہ سامراجی طاقتوںکے اثر و اقتدار سے 2؍ نومبر1947ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ضابطۂ ملکیت کے تمام حقوق و انصاف کا خون کر کے ’’تقسیم فلسطین‘‘ کی تجویز منظور کرلی۔ عربوں کا وطن چھین کر نازیت اور یوروپ کے مارے ہوئے یہودیوں کو فلسطین میں بسانے کا فیصلہ ہو گیا۔ یورپ کے گناہ کا کفارہ عربوں کے سرتھوپاگیا۔ اور مغربی ایشیا کی سیہ بختی کا اعلان کر دیا گیا۔

 سلسلۂ تقریر جاری رکھتے ہوئے حضرت مولانا نے فرمایا کہ14؍ مئی 1947ء میں ڈیوڈ بن گوریان نے جو ں ہی اسرائیل کے غاصبانہ وجود کا اعلان کیا، اسرائیل کے جارحانہ عزائم کی پہلی دہشت پسندانہ عملی شکل یہ ہوئی کہ فلسطین کے لاکھوں مظلوم عربوں کو اسرائیلی جارحیت کا شکار ہو کر اپنے وطن فلسطین سے خانمابرباد اور ہجرت کرنا پڑی۔استعماری طاقتوں کے تعاون سے اسرائیل کی جارحانہ سازشیوں،ریشہ دوانیوں اورپیہم حملوں کا دہشت پسندانہ سلسلہ قائم ہو گیا،اور اس کے توسیع پسند خاصیتا مراہ اور پالیسی نے عرب ممالک کی آزادی اور سلامتی کے لیے مستقل خطرہ ہیں۔ 

مگر مارچ1960ء میں جب سابق اسرائیلی وزیر اعظم بن گوریان نے یہ اعلان کیا کہ وہ صحرائے نجف کی آب پاشی کے لیے دریائے اردن کا رخ موڑ دے گا، اور اس مجوزہ منصوبہ کے ماتحت مئی 1964ء میں بحیرۂ گلیلی کے ساتھ اس نے دریائے اردن کے رخ کو موڑنا بھی شروع کر دیا، تو یہ عرب ممالک کے لیے موت و زیست کا مسئلہ بن گیا۔ اسی طرح عربوں کی تباہی و بربادی کو مکمل کرنے کے لیے اسرائیل نے مغربی طاقتوں کے تعاون سے متبادل نہرسوئز کے اس منصوبے پر بھی عمل درآمدشروع کر دیا، جس کا مقصد یہ ہے کہ اسرائیل مشرق وسطی میں ایک ایسی جابر و قاہر سیاسی قوت بن سکے، جس کا تمام عرب ممالک پر اقتدار قائم ہو۔عرب ممالک کے تمام وسائل اسرائیل کے قبضہ میں ہوں، عرب ممالک کا سیاسی وقار ختم ہو جائے اور تمام افریشیا ئی ممالک سامراجی ایجنٹ اسرائیل کی بھر پور گرفت میں رہیں۔ 

یہ نہر مجوزہ منصوبہ کے ماتحت ایران کی بندرگاہ ’’اشدود‘‘ کی توسیع کر کے خلیج عقبہ کو ایک نہرکے ذریعہ بحرۂ متوسط سے ملا ئی جائے گی، تاکہ بحیرہ ٔروم کے راستہ سے ایشیا کو جانے والے جہازوں کے لیے بحیرۂ روم کی بحیرۂ احمر سے ملا دیا جائے۔ اس نہر کی لمبائی ڈیڑھ سو میل ہو گئی، جب کہ نہر سوئزکی لمبائی سو میل ہے۔ تجویز کے مطابق یہ منصوبہ 1981ء تک مکمل ہو سکے گا، اور نہر سوئزکے مقابلہ میں اس نہر سے گزرنے والے جہاز سے کم کرایہ وصول کیا جائے گا۔

 اس مجوزہ نہر کا منصوبہ- جس پر کام شرو ع ہو چکا ہے- عربوں کی بقا اور سلامتی کے لیے کس قدر ہلاکت خیز ہے، اس کا تصور ہی روح فرسا ہے۔ مصر پر1956ء کے سہ طاقتی حملہ کے بعد، اب امریکہ، بر طانیہ اور مغربی جرمنی کے اشتراک سے عرب ممالک پر5؍ جون 1967ء کا منصوبہ بند اسرائیلی حملہ اسرائیل کے انھیں مسلسل جارحانہ عزائم کی مربوط کڑی ہے۔

یقیناً یہ صورت حال اتنی بھیانک ہے، جو اصول و حقوق اور انصاف کی تمام بنیا دوں اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی نفی کرتی ہے۔ اسرائیل کا مشرق وسطی میں موجود دہشت پسندی کی علامت اور عر با ممالک کی آزادی کے لیے ایک مستقل خطرہ ہے، جو اس کے مسلسل ظالمانہ کردار اور اس کی 5؍جون کی انسانیت سوز جارحیت سے ظاہر ہوچکا ہے۔ اسرائیلی پارلیمنٹ میں جو کتبہ لگایا گیا ہے، اس میں دجلہ و فرات ، مکہ معظمہ، مدینہ شریف کے شہروں کو بھی اسرائیلی قبضہ وغصب کے حدود میں دکھلایا گیا، جس سے اسرائیل کی نیتوں کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔‘‘

(روزنامہ الجمعیۃ،25؍ ستمبر1967ء)

عرب تعاون کانفرنس کے ذریعہ مظلومین اسرائیل کی امداد 

24؍ ستمبر1967ء کو  درگاہ حضرت شیخ کلیم اللہ (پریڈ گراؤنڈ )میں ایک جلسۂ عام ہوا، جس میں تقریبا پندرہ ہزار آدی موجود تھے، جن میں دلی کے سر کردہ شہری، ادیب، شعرا، صحافی، ممبران پارلیمنٹ کے علاوہ متحدہ عرب جمہوریہ، شام، اردن، سوڈان اور سعودی عرب کے سفرا شامل تھے۔اسی اجلاس کے ذریعہ جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی مولانااسعد مدنی صاحب نے ہندستانی مسلمانوں کی جانب سے عرب مظلومین کے لیے ایک لاکھ چالیس ہزار روپے نقد اورپینتیس ہزار کا مختلف سامان امداد کی دوسری قسط کی صورت میںعرب سفرا کو پیش کیا۔

مولانا اسعد مدنی صاحب کی تقریر

اس موقع پرمولانا نے اجلاس سے خطاب بھی کیا ۔ انھوں نے تقریر کا آغاز عرب اسرائیل جنگ اور اس جنگ کے پس منظر اور جنگ کے بعد کے واقعات بیان کرتے ہوئے فرمایاکہ:

’’ 4؍جون کو دنیا پر یہ عظیم سانحہ گزرا ہے۔ انصاف پسند دنیا، خاص کر دنیا ئے اسلام نے انتہائی رنج و دکھ کے ساتھ سنا، ہم اسے سننے کو تیار نہ تھے کہ عرب ممالک کے خلاف عرص سے جو سازش چل رہی تھی، وہ گھڑی آگئی کہ عربوں پر مکاری سے حملہ کیا گیا اور ان کی بربادی کا سامان پیدا ہوا۔

 مولانا نے دو بڑی طاقتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اُن قوموں نے- جن پر بڑی طاقت ہونے کے ناطے بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے- عربوںکو یقین دلایا کہ وہ کشیدگی کے اس ماحول میں- جو اس وقت پیدا ہو گیا تھا- پہل نہ کریں اور اسرائیل کے خلاف جنگ نہ کریں؛ مگر اس یقین دہانی کے چند ہی گھنٹے بعد اسرائیل نے نہایت مکاری کے ساتھ عربوں پر حملہ کر کے ان کی برسہا برس کی تیاریوں کو تباہ کر دیا۔ ایک ملک جو کہتا ہے کہ ہم صرفسینتالیس لاکھ ہیں؛ لیکن جو سامراجیوں کے فراہم کردہ جنگلی سامان سے لیس اور تربیت یافتہ ہے۔

 مولانا نے اس بر بادی کے نتائج پر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اس طرح  سے اسرائیل نے چند گھنٹے ہی میں آزاد قوموں کی عزت اور وجود کو ختم کر دیا۔ آج دنیا میں کس طرح سے کسی یقین دہانی پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔ مولانا نے کہا کہ عرب ممالک دراصل دروازہ ہیں مشرق بعید کا، ہندستان، افغانستان، پاکستان، سنگا پور، ملایا، انڈونیشیا کے لیے ، وہ ہمارے اور یورپ کے درمیان ایک دیوار ہیں، اگر یہ غلام ہو جائیں، تو ہم سب کی آزادی خطرے میں پڑ جاتی ہے۔ اگر عزت اور آزادی ہے، تو ان تمام ملکوں کو اور ہم سب کو، پورے ہندستان کو اس چیلنج کو قبول کرنا ہوگا۔ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان ذمہ داریوں کو قبول کریں۔

مولانا نے ایک مومنانہ جذبے اور ایمانی تقاضوںکا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم لوگوں کافرض تو یہ تھا کہ ہم اپنے باپ بھائیوں کے دوش بہ دوش میدان جنگ میں ہوتے اور یہ دن دیکھنے کو زندہ نہ رہتے، مگر حالات نے ان سب چیزوں کو دیکھنے کے لیے زندہ رکھا۔ اور قدرت کو منظور ہوا تو ان شاء اللہ ہم وہ دن بھی دیکھیں گے، جب کہ غرور کا سر نیچا ہوگا۔ اور یہ ہاتھ شل ہوجائیں گے۔ ہم نے یہ دن دیکھ لیا، تو اس سے بڑھ کر ہماری کامیابی اور کوئی نہ ہوگی۔

مولانا نے اس موقعہ پرعرب، اسرائیل جنگ کے سلسلہ میں حکومت ہند کے موقف کو بھی سراہا اور کہا کہ ہمیں فخر ہے کہ چند زر خرید لوگوں کی ہرزہ سرائیوں کے باوجود عربوں کی تائید و حمایت کر رہی ہے۔ اور امید ہے کہ ان شاء اللہ آئندہ بھی کرتی رہے گی۔

آخر میں مولانا نے کہا کہ جو کچھ ہم اپنے عرب بھائیوں کے لیے پیش کر رہے ہیں، وہ ان کے عظیم نقصان کے مقابلے میں کچھ نہیں ۔ان کاستائیس ہزار مربع میل علاقہ ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہے۔ ایک لاکھ کے قریب لوگ شہید ہوئے اور دو ہزار ملین پونڈ کا نقصان ہوا ہے ؛لیکن بہر حال ہمارا ایک جذبہ ہے اور ہمیں امید ہے کہ یہ حضرات بھی ہمارے جذبے کی قدر فرمائیں گے اور ہماری چھوٹی سی اس امداد کو قبول فرمائیں گے۔

امدادی رقومات

اس کے بعد حضرت مولانا نے امدادی رقومات کا اعلان کیا اور باری باری عرب سفرا کو وہ رقومات پیش کیں۔ پہلے متحدہ عرب جمہوریہ کے سفیر جناب عیسیٰ جلال الدین کو ساٹھ ہزار روپے کا چیک پیش کیا۔ اس کے بعد سفیر شام جناب عمرا بو ریشہ کو پچاس ہزار روپے کا چیک پیش کیا اور گیارہ ہزار کے سامان کا اعلان کیا۔ آخر میں اردن کے سفیر الشیخ کمال محمود کو تیس  ہزار کا چیک دیا اوربتیس ہزار کے سامان کا اعلان کیا۔

جناب وہبی کی تقریر

 اس کے بعد نئی دلی میں عرب لیگ مشن کے قائم مقام سر براہ محمدوہبی نے اس امداد کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ جب بھی ہم آپ لوگوں سے ملے ہیں، ہم نے آپ کے جذبات کو محسوس کیا ہے اور ان کا پورا پورا احساس کیا ہے اور سمجھا ہے۔ وہبی صاحب نے عربوں کے مسائل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عرب بڑے مصائب اور مشکلات سے گزررہے ہیں اور وہ انتہائی مصائب اور مشکلات ہیں،ان پرقابوپانا بھی آسان نظر نہیں آرہا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل نے  سامراجیوں کی ہر طرح کی مدد سے فی الحال شکست دے دی ہے؛ مگر یہ سمجھنا غلط ہے کہ جنگ ختم ہو گئی ہے۔ عربوں کے اندر غیرت و خودداری کا جو مادہ ہے، اس کے پیش نظر یہ محسوس کیا جاتا ہے کہ عرب جلد ہی اپنے کھوئے ہوئے علاقت حاصل کرلیں گے اور اس مقصد سے ہم متحد اور تیار ہیں اور ان شاء اللہ جلد ہی وہ طاقت پیدا کر لیں گے کہ اپنے دشمن کو شکست دے سکیں گے۔

وہبی صاحب نے کہا کہ اس وقت ہمارے سامنے جو معرکہ اور مقابلہ ہے، وہ اسرائیل ہی کا نہیں ہے؛ بلکہ وہ ان تمام سامراجیوں کے مقابلے کاہے، جو اُس کی پشت پر ہیں اور ہم بھی سمجھتے ہیں کہ ہم تنہا نہیں ہیں۔ ہمارے ساتھ دنیا کی تمام حریت پسند اور انصاف پسند اور مظلوم قومیں ہیں؛ خاص طور پرہندستان کی قوم ہماری پشت پر ہے۔ اور ہمیں قوی امید ہے کہ ہمارے ساتھ آپ کی ہمدردیاں دن بہ دن بڑھیںگی۔

جناب عمر ابو ریشہ کی تقریر

اس کے بعد سفیر شام جناب عمر ابو ریشہ نے اپنی تقریر میں کہاکہ جو کچھ میں کہنا چاہتا تھا، وہ میرے دوست وہبی صاحب نے کہہ دیا ہے اور میرے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ آج صبح جب میں مطالعہ کر رہا تھا، تو ایک شاعر کا قصیدہ میری نظر سے گذرا، اس کا عنوان ہے: ابو ابن ادھم، یہ شخص ایک صحرا کار ہنے والا تھا، جب وہ مرنے کے قریب ہوا، تو ملک الموت پہنچا ،اس کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی، پوچھنے پر اس نے تبایا کہ میں ملک الموت ہوں اور تمھاری روح قبض کرنے آیا ہوں۔ اس کتاب میں ان لوگوں کے نام ہیں ، جنھیں اللہ سے محبت ہے؛ مگر افسوس ہے کہ اس میں تمھارا نام نہیں ہے۔اس شخص نے جواب دیا: چوںکہ خدا کی طرف سے میری کسی نے رہ نمائی نہیں کی، اس لیے انھیں میرا کوئی قصور نہیں ہے۔ اب تم اللہ تعالیٰ سے کہو کہ وہ کسی کو میری رہنمائی کے لیے بھیجے۔ اور تم اس وقت تک میری روح قبض نہ کرنا، جب تک میرا نام اس کتاب میں نہ لکھا جائے۔ اگلے روز فرشتے نے آکر کہا :اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرتا ہے،اور وہ ان سے محبت کرتا ہے، جو اُس کے بندوں سے محبت کرتے ہیں، اس لیے کہ تمھارا نام اس کتاب میں درج ہے۔

 جناب ابو ریشہ نے کہا کہ آپ بھی اللہ کے بندوں سے ہمد ردی اور محبت میں جمع ہوئے ہیں۔اس قوم کی محبت میں جمع ہوئے ہیں، جس پرظلم ہوا ہے۔ آپ نے اس طرح جمع ہو کر یہ ظاہر کیا ہے کہ آپ پر ظلم ہوا ہے اور آپ کو اس کا احساس ہے۔ اور آپ اس ملک کے رہنے والے ہیں، جو ہمیشہ حق و صداقت کی حمایت میں رہا ہے اور آئندہ بھی رہے گا۔ ہم آپ کی حکومت کی عربوں کی حمایت کے موقف کے شکر گزار ہیں اور آپ لوگوں کے بھی شکر گزار ہیں۔ جناب ابو ریشہ نے کہا کہ ہمیں ان مشکلات کا احساس ہے، جو آپ کے ملک کو درپیش آر ہے ہیں۔ ہم شکر گذار ہیں کہ آپ پر جو طرح طرح کے دباؤ اور زور پڑ رہے ہیں، ہندستان نے اُن کی پروا نہیں کی۔ اور نہرو نے جو راستہ اس ملک کے لیے مقرر کر دیا تھا، اس کی مٹی اور اس کا ملک اُسی راستہ پر چل رہا ہے۔ آپ نے بڑے پر جوش لہجے میں اس عزم کا اظہار کیا کہ عربوں کو ان شاء اللہ فتح ہوگی۔ آپ نے کہا کہ حق کو پامال کر دیا جاتا ہے؛ مگر اُسے موت نہیں آتی۔ اگر چہ ہمیںعارضی طور پر شکست ہوئی ہے،مگر ہم چوںکہ حق پر ہیں، اس لیے ان شا اللہ آخری فتح ہماری ہی ہوگی۔ آپ نے جس شدید محبت کا اظہار کیا ہے، ہم اس کے شکر گزارہیں۔

 جناب ابوریشہ نے کہاکہ مجھے یقین ہے کہ ہماری حکومتیں جلدہی آپ سے کہے گی کہ جو آپ کے دل میں ہے وہ بہت کافی ہے بہ نسبت اُس کے جو آپ کی جیبوں میںہے۔ جو کچھ آپ دے رہے ہیں، یہ آپ کی برادرانہ محبت اور اخوت کی نشانی ہے اور ہم اسے ایک ٹوکن سمجھ کر ہی لے رہے ہیں۔ آپ نے کلام پاک کی ایک آیت کے ساتھ تقریر ختم کی۔ حق تعالیٰ فرماتے ہیں: بعض وہ ہیں جنھوں نے اللہ تعالیٰ سے معاہدہ کیا تھا اور اُسے پورا کیا۔ بعض وہ ہیں جو اپنے قول و قرارکو پورا کریں گے۔

اس کے بعد عرب سفرا ایک سرکاری تقریب میں شرکت کے لیے تشریف لے گئے اور جلسہ جاری رہا۔ اس کے بعد حضرت مولانا شاہدفاخری صاحب نے جمعیت علما کی منظور کردہ قرار دادوںپر روشنی ڈالی۔ جلسے کا آغاز قاری فضل الرحمان کی تلاوت سے ہوا۔

 (روزنامہ الجمعیۃ، 26؍ ستمبر1967ء)

اسرائیل کے خلاف انٹرنیشنل کانفرنس کے مندوبین کے خیرمقدم کا فیصلہ

 مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس: 9،10؍ نومبر1967ء کو منعقد ہوا، جس میں ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا اسعد مدنی صاحب نے اسرائیلی جارحیت کے بعد عرب ممالک کی حالیہ صورت حال کو پیش کرتے ہوئے بتایا کہ11؍ نومبر سے14؍ نومبر1967ء تک دہلی میں ہر مکتب فکر کے لوگوں کی شرکت سے ایک انٹر نیشنل کانفرنس ہورہی ہے، جس میں تمام ممالک کے عرب دوست نمائندے آرہے ہیں۔ مجلس عاملہ نے اس کانفرنس کے انعقاد کا خیر مقدم کیا اور اپنے تعاون کی پیش کش کی ۔ اس ذیل میں یہ بھی طے کیا گیا کہ کانفرنس کے مندوبین کو استقبالیہ دیا جائے اور ایک روز انھیں کھانے پر مدعو کیا جائے ۔

بین الاقوامی کانفرنس میں ناظم عمومی کا خطاب

 11تا 14؍ نومبر1967ء چارروزہ بین الاقوامی کانفرنس ماؤلنکر ہال اور جامع مسجد کے اردو بازار پارک میں ہوئی، جس میں پچپن ملکوں کے نمائندگان نے شرکت کی۔ اسرائیل سے عرب علاقوں کو غیر مشروط طور پر خالی کرنے اور عرب مہاجرین کو ان کے وطن میں واپس جانے کی آزادی و سہولت دینے کا مطالبہ اور عربوں کے خلاف امریکی سامراجی سازشوں کی مذمت اس کانفرنس کے مقاصد تھے۔کانفرنس میں ایک مشترکہ اعلامیہ بھی جاری کیا گیا۔ اس میں حضرت مولانا اسعد مدنی صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے بھی خطاب کیا، جو درج ذیل ہے:

’’آپ نے لوگوں کا شکریہ ادا کیا کہ وہ سردی کی اس خنک رات میں اتنی دیر تک بیٹھے اور اتنی بڑی تعداد میں ان لوگوں کو دیکھنے، ملنے اور سننے آئے، جو دنیا کے گوشے گوشے سے آئے ہیں۔ آپ نے ہندستانی عوام سے کہا کہ عربوں کے خلاف جو کچھ ہوا اور سامراجی ممالک جو کچھ دوسری جگہوں پر کر رہے ہیں، اُس کے اثرات کو ختم کرنے کے لیے انصاف اور حق کی خاطر آواز اٹھانے کے لیے متحد ہوں۔ آپ نے کہا کہ ہمارا ملک شروع ہی سے عربوں کے مسئلے میں جو حق وانصاف پر مبنی ہے حمایت کرتا رہا ہے اور ساتھ دیتا رہا ہے۔ مولانا نے انتباہ کیا کہ ہمارے ملک میں بھی سامراجی طاقتیں اپنے ایجنٹوں اور مختلف ذرائع سے جس طرح کی سازشوںمیں مصروف ہیں ،ان سے خبر دار رہنا چاہیے۔ آپ نے عربوں کے سلسلہ میں خصوصیت سے ہندستانی عوام سے اپیل کی کہ وہ ان کی مدد کے لیے کمربستہ رہیں؛کیوںکہ ان کو بری طرح سے تباہ وبرباد کیا گیا ہے اور ان کے بڑے علاقے پر اسرائیل نے قبضہ کر رکھا ہے۔

(روزنامہ الجمعیۃ،14؍ نومبر1967ء)

بین الاقوامی کانفرنس کے مندوبین کو ڈنر

مجلس عاملہ منعقدہ: 9،10؍ نومبر1967ء کے فیصلے کے مطابق، 14؍نومبر1967ء کو جمعیت علمائے ہند کی طرف سے عرب انٹرنیشنل کانفرنس(بین الاقوامی کانفرنس) میں شریک مندوبین کو ڈنر پارٹی دی گئی۔ پارٹی میں ناظم عمومی مولانا اسعد مدنی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جب تک رجعت پسند اور سامراجی طاقتیں کمزور قوموں پر اپنے جابرانہ استحصال کو جاری رکھیںگی، اس وقت تک دنیا کے اندر امن و چین پیدا نہیں ہوسکتا۔ اسرائیل کی جارحیت پوری دنیا کے لیے چیلنج ہے۔ (روزنامہ الجمعیۃ،16؍ نومبر1967ء)

5؍ جون1968ء کو یوم بیت المقدس منانے کی اپیل

مجلس اقوام متحدہ کی کئی قراردادوں کے باوجود 5؍ جون 1967ء کو اسرائیل نے مکارانہ حملہ کرکے بیت المقدس اور مصرو شام کے علاقوں پر غاصبانہ قبضہ کرلیا تھا۔ اس کے پیش نظر اردن کے اسلامک سینٹر کے ڈائریکٹر جناب عبد الرحمان نے اعلان کیا تھا کہ 5؍ جون 1968ء کو عالم اسلام میں یوم بیت المقدس منایا جائے گا۔ (روزنامہ الجمعیۃ، 24؍ مئی 1968ء)

جمعیت علمائے ہند شروع ہی سے اس مسئلہ سے دل چسپی لیتی رہی ہے اور عربوں کے کاز کی حمایت کرتی رہی ہے ، اس لیے اس نے اپنی تمام شاخوں سے اپیل کی کہ وہ 5؍ جون 1968ء کو اپنے اپنے حلقوں میں ، مساجد و مدارس میں ’’یوم بیت المقدس‘‘ منائیں اور اسرائیلی جارحیت و بربریت کے خلاف آواز اٹھائیں۔ (روزنامہ الجمعیۃ،28؍ مئی 1968ء)

ناظم عمومی کی قاہرہ روانگی

27؍ ستمبر1968ء

 اسرائیل اور صہیونیت کے خلاف قاہرہ مصر میں 21؍تا 26؍اکتوبر1968ء ’’قاہرہ عرب سربراہی کانفرنس‘‘ ہوئی۔ مولانا اسعد مدنی صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہندنے ہندستانی وفد کی نمائندگی کرتے ہوئے اس میں شرکت کی ۔(روزنامہ الجمعیۃ،29؍ ستمبر1968ء)

واپسی پر آپ نے کانفرنس کے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے بتایا کہ عربوں میں اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے بے پناہ جوش و خروش ہے ۔ مجمع البحوث قاہرہ نے دنیائے اسلام کے لیے نئی راہ متعین کی ہے اور مرکز اسلام کے تحفظ کے لیے جہاد کی تلقین کی ہے۔

 (روزنامہ الجمعیۃ،22؍ اکتوبر1968ء)

 بیروت، لبنان کے انٹرنیشنل ہوائی اڈہ پر اسرائیلی بم باری کی مذمت

 29؍دسمبر1968ء کو اسرائیل نے لبنان کے انٹرنیشنل ہوائی اڈہ پر جارحانہ بم باری کی، جس کے نتیجے میںلبنان کی کمرشیل ہوائی کمپنی کے تیرہ طیارے تباہ ہوگئے۔ 

اس حملے کے بعد7،8؍ فروری1969ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، جس کے ایجنڈہ نمبر(۸) کے مطابق مجلس عاملہ نے مشرق وسطی کی صورت حال پرغور کرتے ہوئے بیروت، لبنان کے انٹرنیشنل ہوائی اڈہ پر اسرائیل کی جارحانہ بم باری کی مذمت کی اور بہ اتفاق آرا حسب ذیل تجویزنمبر(۱۵) منظور کی:

’’ جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس 29؍دسمبر(1968ء) کو بیروت، لبنان کے انٹرنیشنل ہوائی اڈہ پر جارحانہ بم باری کی شدید ترین مذمت کرتا ہے۔ عرب ممالک پرمسلسل اسرائیل کے جارحانہ حملے، اسرائیل کی دہشت انگیزیاں اس بات کی نشاندہی کر رہی ہیں کہ اسرائیل عربوں کو مشتعل کر کے مشرق وسطیٰ میں ایک اورجنگ چھیڑنا چا ہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک طرف اسرائیل نے اپنے فوجی بجٹ1969 ء میں گذشتہ بجٹ کے مقابلہ میں مزید پچاس کر وڑ مصری پونڈ کا اضافہ کیاہے اوراس وقت اسرائیل کا فوجی بجٹ دوارب مصری پونڈ سے بڑھ کر دوارب پچاس کروڑ مصری پاؤنڈ ہوگیا ہے۔ دوسری طرف وہ فرانس کی طرف سے چاربڑی طاقتوں کی مجوزہ میٹنگ کی تجویز کے مقابلہ میں امن دشمنی پر اصرار کرتے ہوئے اس بات کا کوئی ارادہ نہیں رکھتاکہ وہ جون1967ء کی سرحدوں پرواپس جائیں۔

 اس لیے جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس دنیا کی تمام انصاف پسند قوموں سے یہ اپیل کرتا ہے کہ وہ نومبر1967ء کی سلامتی کونسل کی متفقہ قرارداد کے مطابق بیت المقدس اور تمام مقبوضہ عرب علاقوں کو اسرائیل سے خالی کرانے اور اسرائیل کو5؍ جون 1967ء سے پہلے کی پوزیشن پر واپس جانے کے لیے اپنے مؤثرذرائع استعمال کریں۔ 

مجلس عاملہ کا یہ اجلاس عرب قیدیوں پر اسرائیل کے انسانیت سوز مظالم کی مذمت کرتا ہے اور اس بات پر اپنی سخت تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ اسرائیل آثار قدیمہ کی تلاش کے بہانے مقامات مقدسہ کے اردگرد کھدائی کر رہا ہے اور ان کی بے حرمتی کر رہا ہے۔

 مجلس عاملہ کا یہ اجلاس عرب موقف کی تائید کر تے ہوئے تمام عرب ممالک کی حمایت کا ایک مرتبہ پھر اعادہ کرتا ہے۔

مجلس عاملہ کا یہ اجلاس اسرائیلی جارحیت کے مقابلہ میں عرب مجاہدین کی سرفروشانہ جدوجہد کی تا ئید کرتا ہے اور انھیں اپنی ہمدردی کا یقین دلاتا ہے۔

 ایسے وقت میں، جب کہ فرانس کی تجویز کے مطابق مشرق وسطیٰ کے مسئلہ پر چار بڑوں کی میٹنگ متوقع سمجھی جارہی ہے، تو جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس اس بات کا اظہار بھی ضروری سمجھتا ہے کہ اس میٹنگ میں سلامتی کونسل کی قرارداد کے حدود کی پوری رعایت کی جائے اور جارح کو اس کی جارحیت سے فائدہ نہ اٹھانے دیا جائے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد دوم، ص؍

 قنوت نازلہ پڑھنے کی اپیل

ڈن ویڈی سے ناظم عمومی مولانا اسعد مدنی صاحب نے 22؍ مارچ 1969ء کوایک مکتوب لکھ کر دفتر کو ہدایت کی کہ

’’ مصر اور نام نہاد اسرائیل کی سرحد پر احوال گڑبڑ ہورہے ہیں، ہندستان کے مسلمانوں سے قنوت نازلہ پڑھنے کی اپیل ہونی چاہیے۔‘‘ (روزنامہ الجمعیۃ،24؍ مارچ 1969ء)

اسرائیلی مظالم کے خلاف کھلا اجلاس

1969ء میں مجموعی طور پر اسرائیل نے جنگ استنزاف(War of Attrition) چھیڑ رکھی تھی، جس کے تحت مصر کے نہر سوئیز کے محاذ پر شدید جھڑپیں ہوئیں ۔ اسی طرح اردن کے مغربی کنارے (West Bank) اور شام کی گولان پہاڑیوں (Golan Heights) پر سخت حملے کیے۔انھیں حالات کے تناظر میں6؍ جون 1969ء کو فلسطین کے مظلوم عربوں کی حمایت میں اردو بازار دہلی میں عظیم الشان اجلاس کیا گیا۔ جلسہ کی صدارت جناب میر مشتاق احمد نے کی، اور انھیں کی تلاوت سے جلسے کا آغاز ہوا۔ قاری فرید احمد صاحب نے نظمیں پڑھیں۔

 جلسے میں تقریر کرنے والوں میں سفیر اردن، جناب انور نشاشین، قاضی زین العابدین جناب مقیم الدین فاروقی، جناب میر مشتاق احمد، مولانا وحید الدین قاسمی، مولاناسید احمد ہاشمی، جناب عبد اللہ فاروقی اور مولانا فقیہ الدین صاحب شامل تھے۔ مقیم الدین صاحب نے انگریزی میں اور قاسمی صاحب نے قرار داد کا ار دو متن پیش کیا۔ اس جلسے میں ڈاکٹر خالد رشیدات کونسل ار دن جناب مصطفی عبد الحق ناظم امور مراکش ، جناب عبد الرزاق جواہر ناظم امور کویت نے بھی شرکت کی۔

قاضی زین العابدین صاحب کی تقریر

جا معہ ملیہ اسلامیہ کے شعبۂ دینیات کے صدر قاضی سید زین العابدین صاحب نے تقریر شروع کرتے ہوئے مسئلۂ فلسطین کی تاریخ بیان کی اور کہا کہ یہ مسئلہ اس وقت صرف فلسطین کا مسئلہ نہیں؛ عالم اسلام کا مسئلہ نہیں؛ بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔ آپ نے بتایا کہ کس طرح پہلی جنگ عظیم میں برطانیہ نے عربوں سے آزادی کا وعدہ کیا اور انھیں ترکی کے سلطان کے خلاف بغاوت پہ آمادہ کیا۔ آپ نے کہا: جس وقت عربوں سے یہ وعدہ کیا جا رہا تھا، ٹھیک اُسی وقت انگریزوں نے یہودیوں سے بھی خفیہ معاہدہ کیا اور پہلی جنگ عظیم کے خاتمہ کے بعد عربوں کو آزادی دینے کی بجائے عرب ملکوں پرفرانس اور برطانیہ کا انتداب قائم کر دیا گیا؛ لیکن عرب خاموش نہیں بیٹھے اور انھوں نے جدو جہد شروع کی۔ مفتی اعظم فلسطین سید امین الحسینی اس میں پیش پیش تھے۔ یہ جدوجہد تیس برس تک جاری رہی۔ اور آخر وقت آیا کہ انگریز فلسطین کو چھوڑ نے پر مجبور ہوا۔ لیکن اس کے چھوڑنے سے پہلے فلسطین کو تقسیم کر دیا گیا، پہلی نا انصافی یہ تقسیم تھی۔ دوسری نا انصال یہ ہوئی کہ بہترین علاقے یہودیوں کو دیے گئے۔ آپ نے یہودیوں کی جانب سے سرزمین فلسطین کو قومی وطن قرار دینے کی تاریخی اعتبار سے واقعات کی روشنی میں تردید کی۔ آپ نے کہا کہ اس کے باوجود اسے یہود کا ملک بنایا گیا۔ اور اس کے بعد انھوں نے وہاں وہ انسانیت سوز مظالم کیے، جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ اسی سلسلہ میں آپ نے حکومت ہند کی پالیسی کی تعریف کی کہ اس نے حق کا ساتھ دیا۔

میر مشتاق احمد صاحب کی تقریر

 قاضی صاحب کے بعد میر مشتاق احمد صاحب نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی دنیا تین حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ ایک وہ جو امریکہ کے حامی ہیں۔ دوسرے وہ جو کمیونسٹ  ہیں اور روس کے دوست ہیںجو۔ تیسرے وہ لوگ ہیں، جو ان گٹوں سے آزاد ہیں اور امن و انصاف کا ساتھ دیتے ہیں، ان ملکوں میں ہمارا ملک ہندستان بھی شامل ہے۔ آپ نے کہا کہ اس مسئلہ میں امریکہ اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا ہے۔ آپ نے کہا کہ یہ مسئلہ بہت پراناہے،اورعرصہ سے چل رہا ہے۔ آزادی سے پہلے ہندستان نے اسی مسئلہ میں عربوں کی حمایت کی۔ حضرت مفتی کفایت اللہ مرحوم نے فلسطین کا نفرنس میں شرکت کی؛ مگر افسوس کہ آزادی کے بعد اس ملک میں جن سنگھ، آر ایس ایس اور سوتنتر پارٹی جیسی پارٹیاں پیدا ہوگئیں کہ انھوں نے اس ملک میں اسرائیل کی حمایت شروع کردی اور یہ بہت شرم ناک بات ہے۔

سفیر اردن کی تقریر

جناب انور نشاشین نے تقریر شروع کرتے ہوئے شکریہ ادا کیا اور مبارک باد ی کہ آپ نے یہ جلسہ حق و انصاف کی حمایت میں کیا ہے اور اس میں ہرمذہب کے لوگ شامل ہیں۔آپ نے کہا کہ آپ لوگ جانتے ہیں کہ آج کا جلسہ اس حملہ کی دوسری سال گرہ کے موقع پر منعقد کیا جارہا ہے، جو اسرائیل نے عرب ملکوں پر کیا تھا۔ پہلا حملہ1948ء میں ہوا، جب مجلس اقوم نے تقسیم فلسطین کی قرارداد منظور کی تھی۔1948ء میں مجلس متحدہ اقوام نے تقسیم کا جو فیصلہ کیا، اسے عرب ملکوں نے تسلیم نہیں کیا تھا، اور نہ اس فیصلہ کو دنیا کے تمام ملکوں کی حمایت حاصل تھی۔ اس قرارداد کی بنا پر اسرائیل کو جو علاقہ دیا گیا وہ انتہائی غلط تھا۔ لیکن اسرائیل میں نے اس پر اکتفا نہیں کیا، اس نے عرب ملکوں پر حملہ کر کے مزید علا قے ہڑپ لیے۔

 اس کے بعد1956ء میں اسرائیل، فرانس اور برطانیہ نے متحدہ عرب جمہوریہ پر حملہ کیا، جس کی دنیا بھر میں مذمت کی گئی۔ تیسری مرتبہ اسرائیل نے 5؍جون1967ء کو تین عرب ملکوں پر حملہ کیا: اردن میں، بیت المقدس پر اور شام کی گولان کی پہاڑی پر قبضہ کر لیا۔ اس وقت یہودی صحرائے سینا ، دریائے اردن کے کنارے اور شام کی پہاڑیوں پر پوزیشن مستحکم کرنے پر لگے ہوئے ہیں، تا کہ و ہاں یہودیوں کو آباد نہ کر سکیں اور تا دیران علاقوں پر قابض رہ سکیں۔ اسرائیل نے طاقت کے ذریعہ جن علاقوں پر قبضہ کیا ہے، ان پر قبضہ بر قرار رکھنا چاہتا ہے۔ وہ ایسا کرنے میں مجلس اقوام متحدہ کی تمام قرار داد وں کو نظر انداز کر رہا ہے۔ لیکن وہ ایسا کیوں کر رہا ہے؟ اس کا جواب آسان ہے۔

اسرائیل ایک سامراجی طاقت ہے، جس کے عزائم توسیع پسندانہ ہیں اور اس کی پشت پر بھی سامراجی طاقتیں ہیں۔ اسرائیل برطانوی سامراج کی پیداوار ہے۔ جب وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو گیا، تو اسی نے توسیعی اقدامات شروع کیے۔ اس کے لیے سب سے پہلے اس نے عربوں کو ان کے گھروں سے نکالا۔ استعماری طاقتوں نے یہ اسرائیلی پودا مشرق وسطیٰ کے تیل کو ہڑپ کرنے اور نہر سوئز پر قبضہ رکھنے کے لیے لگایا تھا، وہ تین وجوہ کی بنا پر اس کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں: (۱)مشرق وسطیٰ کا علاقہ دنیا کا چوراہا ہے۔ (۲) سامراجی طاقتیں اور اسرائیل کو ان مارکیٹوں کی ضرورت ہے، جو مشرق وسطیٰ میں ہیں۔ (۳) اسرائیل ایک تو سیع پسند طاقت ہے۔

در اصل اس وقت ہماری لڑائی کا بنیادی سبب یہ ہے کہ سامراج- جو اس وقت دنیا کی سب سے بڑی برائی ہے -عرب ملکوں میں اپنے قدم جانا چاہتا ہے اور اس کا مطلب غلامی ہوگا۔ لہذا دنیا کی تمام امن پسند طاقتوں کا فرض ہے کہ وہ اس برائی کے خلاف متحد ہوجائیں۔ میں آپ کو مبارک باد دیتا ہوں کہ آپ کے اندر جو روح ہے اور آپ کا جو خمیر ہے،وہ ہمیشہ زندہ رہا ہے اور آپ نے اپنا فرض پہنچانا ہے۔ میں جمعیت علمائے ہند کے ذمہ داروں کو بھی مبارک باد دیتا ہوں، جو آج سے نہیں؛ چالیس سال سے مسئلۂ فلسطین میں عربوں کی حمایت اور اس سلسلہ میں جد و جہد کر رہے ہیں۔

 مقیم الدین فاروقی صاحب کی تقریر

دلی کمیونسٹ پارٹی کے جنرل سکریٹری جناب مقیم الدین فاروقی نے وہ قرارداد (آگے درج ہے) پیش کی، جو اس جلسہ میں منظور ہوئی۔ اس کے بعد آپ نے تقریر میں کہا کہ ہم جو1967ء کی جنگ کی دوسری سال گرہ کے موقعہ پر جمع ہوئے ہیں؛ لیکن رونے اور ماتم کرنے کے لیے نہیں؛ بلکہ عربوں سے نا انصافی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کے لیے، اور اس لیے ہے کہ یہ مسئلہ صرف عرب ممالک کا مسئلہ نہیں ہے؛ بلکہ جمہوریت اور سوشلسٹ طاقتوں اور سامراج دشمن طاقتوں کی بقا کا ہے۔ آج سامراجی طاقتیں جمہوریت پسند طاقتوں کو ختم کرنا چاہتی ہیں۔ اسرائیں خود ایک چھوٹا سا ملک ضرور ہے؛ لیکن اس کے عزائم سامراجی ہیں اور اس کی پشت پر دنیا کی بڑی بڑی سامراجی طاقتیں ہیں۔ اس کے پیچھے امریکی اور برطانوی سامراجی طاقت دنیا بھر کی صیہونی طاقتوں کی قوت ہے۔ اس لیے یہ کوئی تعجب کی بات نہیں کہ اسرائیل نے چند دن میں لڑائی کیسے جیت لی۔ اس کے پاس امریکہ، برطانیہ اور فرانس کے فراہم کردہ ہتھیار تھے۔ لیکن اگر یہ عزم کر لیا جائے کہ بہادر ویت نامیوں کی طرح کہ اپنے ملک کو آزاد کرانا ہے، تو پھر انھیںکون غلام بنا سکتا ہے۔ خوشی کی بات ہے کہ آج عربوں میں الفتح جیسی طاقت ابھر آئی ہے اور عرب لڑر ہے ہیں اور ہتھیاروں سے لڑرہے ہیں۔ لڑائی لمبی ہو سکتی ہے؛ لیکن مجھے اس میں کوئی شبہ نہیں کہ فتح عربوں کی ہوگی( تالیاں) اور آج دنیا کی رائے عامہ عربوں کے ساتھ ہے۔

(روزنامہ الجمعیۃ، 8؍ جون 1969ء)

فاروقی صاحب نے کہا کہ عربوں کے عزائم اور دنیا کی رائے عامہ کے سامنے مجبورہوکر امریکہ کو بھی عربوں کا علاقہ اسرائیل سے خالی کرنے کی قرارداد کی حمایت کرنی پڑی۔ آج اس دوسری سال گرہ پر میں عربوں سے کہنا چا ہتا ہوں کہ عرب دوستو ! تم تنہا نہیں، دنیا کی بہت بڑی آبادی تمھارے ساتھ ہے۔ آپ نے روس کی جانب سے عربوں کو سپلائی کیے جانے والے بہترین اور جدید ترین اسلحہ کی سپلائی کا ذکر کیا اور کہا کہ آج یہ ہتھیار غدار افسروں کے ہاتھے میں نہیں، نوجوان اور آزادی پسندنوجوانوںکے ہاتھ میں ہیں۔ آج ہم اس یقین کا اظہار کرنا چاہتے ہیں کہ عربوں نے جو جنگ اسرائیلی سامراج کے خلاف شروع کر رکھی ہے، اس میں انھیں کامیابی ہو گی اور ہم ہندستانی ہر وقت ان کے دوش بہ دوش ہوںگے۔

مولانا وحید الدین قاسمی کی تقریر

 مولاناقاسمی نے تجویزاردو میں پیش کرتے ہوئے یہ بتایا کہ مسلہٗ فلسطین سے جمعیت علمائے ہند کو خاص تعلق ہے اور اُس کے بنیادی مقاصد میں شامل رہا ہے۔ جب جمعیت علمائے ہند کا قیام عمل میں آیا تھا، تو اس کے لیے جد و جہد اس کے مقاصدمیں شامل کیا گیا تھا۔ چنانچہ جمعیت علما روز اول سے وقتا فوقتا جس طرح ضرورت اور مناسب ہوا، اس سلسلہ میں جدو جہد کرتی رہی ہے۔ آپ نے اس پر اظہار افسوس کیا کہ آزادی کے بعد اس ملک میں کچھ لوگ اسرائیل کی حمایت کے لیے پیدا ہو گئے ہیں۔ آپ نے ان الزامات کی تردید کی، جو عربوں کے خلاف اس ملک میں لگائے گئے ہیں۔

مولانا سید احمد ہاشمی صاحب کی تقریر

 جمعیت علمائے ہند کے قائم مقام ناظم عمومی مولانا سید احمد ہاشمی صاحب نے کہا کہ اب یہ بات کسی شک وشبہ سے بالاتر ہے کہ اسرائیل سامراج کا آلۂ کاراور ان کی فوجی چھاؤنی بنا ہوا ہے۔ آپ نے کہاکہ میں اُسے ایک حکومت نہیں کہوں گا، اس لیے کہ میں تو اسے تسلیم ہی نہیں کرتا۔ اس کی حیثیت ایک فوجی چھاؤنی سے زیادہ نہیں ہے؛ لیکن یہ فوجی امن عالم کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ ہے۔ آپ نے کہا کہ اب یہ بات بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں رہی کہ اسرائیل امن نہیں چاہتا۔ وہ اپنے علاقہ کی توسیع میں مصروف ہے۔ اسی لیے وہ 1967ء کے مقبوضہ علاقوں سے دست بردار نہیں ہونا چا ہتا۔ آپ نے مقبوضہ علاقوں؛ خصوصاً بیت المقدس کو عرب ممالک کو واپس کرنے پر زور دیا۔ آپ نے کہا کہ بیت المقدس کو بین الا قوامی شہر بنانے کی جو نا پاک کوششیں ہو رہی ہیں، اس سلسلہ میں خفیہ بات حیث چل رہی ہے، اسے کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ قائم مقام ناظم عمومی نے مجلس اقوام متحدہ پرزور د یا کہ وہ اپنا فرض پورا کرے اور نومبر1967ء میں جو ریزولیوشن اس نے پاس کیا تھا، اس پر مؤثر طریقے سے عمل ہونا چاہیے؛ بصورت دیگر امن عالم کو زبر دست خطرہ ہے۔

مولانا خورشید عالم کی تقریر

 تجویز کی تائید کرتے ہوئے جناب مولانا خورشید عالم صاحب نے کہا کہ آج جمعیت علما کے اسٹیج سے جو تجویز پیش کی گئی ہے، اس کی تائید و حمایت ہر امن پسند انسان کو کرنی چاہیے۔ اگر ہم اس کی تائید نہیں کرتے، تو اس طرح ہم اسرائیل کے ہاتھ مضبوط کریںگے اور اسرائیل کو تقویت ملے گی، اور عربوں پر اس کا ظلم بڑھ جائے گا، اس لیے اس تجویز کی حمایت کرنی ہے اور دنیا کو یہ بتانا ہے کہ ہم پوری طرح سے اس تجویز کے حق میں ہیں۔

مولانا فقہہ الدین صاحب کی تقریر

 مولانا صاحب نے تجویز کی تائید مزید کرتے ہوئے کہا کہ آج اس تجویز کی پشت پر ہم یا اہل دلی ہی نہیں؛ تمام ہندستان ہے۔ ہندستان نے ہمیشہ عربوں کا ساتھ دیا ہے۔ اگرچہ آزادی کے بعد کچھ ایسے لوگ پیدا ہو گئے ہیں، حق و انصاف کی حمایت کی بجائے ظالم اور سفاک کی حمایت کرتے ہیں؛ لیکن ایسے لوگوں کی تعداد کچھ زیادہ نہیں ہے۔ آپ نے عربوں کو مکمل حمایت کا یقین دلایا اور اسرائیل پر مقبوضہ عرب علاقے خالی کرنے پر زور دیا۔

 عبداللہ فاروقی صاحب کی تقریر

فاروقی صاحب نے بھی تجویز کی تائیدکرتے ہوئے بڑی دلولہ انگیز تقریر کی اور کہا کہ جہاں تک اس تجویز کا تعلق ہے، اس کی میں تائید کرتا ہوںمگرساتھ ہی یہ بھی کہنا چاہتا ہوں کہ اب معاملہ اتنا آگے بڑھ چکا ہے اور اسرائیل کی بربریت اور سفاکی اتنی زیادہ ہوگئی ہے کہ صرف تجویزوں سے کام نہیں چلے گا۔ اس وقت عمل کی ضرورت ہے اور اسرائیل کے خلاف اعلان جہاد کی ضرورت ہے، جس طرح الفتح کے مجاہدین نے اسرائیل کی نیند حرام کررکھی ہے، اگر اسی طرح کیا گیا اور تمام عربوں نے مرنے کا بھی عزم اور حوصلہ پیدا کر لیا، تو نصرت ان کے قدم چومے گی۔

جمعیت علمائے ہند نے 5؍ جون 1968کو یوم دعا منانے اور اجتماعی جلسے کرنے کی جو اپیل کی تھی، اس پر ہندستان بھر میں یوم دعا منایا گیا اور جلسے بھی ہوئے۔

 (روزنامہ الجمعیۃ، 9؍ جون 1969ء)

اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاجی قرارداد

اس اجلاس میں ایک احتجاجی قرارداد بھی منظور کی گئی، جس کا درج ذیل ہے:

’’جمعیت علمائے ہند کا یہ جلسہ اس بات پر انتہائی غم و غصہ کا اظہار کرتا ہے کہ اسرائیل نے جون1967ء کی جنگ میں متحدہ عرب جمہوریہ، شام اور اردن کے جن علاقوں پر غاصبانہ قبضہ کیا تھا، انھیں سلامتی کونسلی کے نومبر 1967ء کے ریزولیوشن کے باوجود آج تک نہ صرف خالی نہیں کیا؛ بلکہ ان ملکوں کے خلاف اس کی جارحانہ سرگرمیاں اوربری و فضائی حملے پوری شدت سے جاری ہیں۔ اور کوئی دن ایسا نہیں گزرتا، جب وہ عارضی جنگ بندی کی خلاف ورزیاں اور عرب علاقوں پر- جن میں شہری آبادیاں بھی شامل ہیں-حملے نہ کرتا ہو۔

یہ جلسہ مجلس متحدہ اقوام کی جانب سے اس کے اپنے ریزولیشن کے نفاذ اور عمل نہ کرانے پر بھی زبر دست تشویش کا اظہار کرتا ہے اور اس بات کے لیے انتباہ کرنا چاہتا ہے کہ عارضی جنگ بندی لائن کو مستقل سرحدوں میں تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اس لیے یہ جلسہ مجلس متحدہ اقوام خصوصاً بڑی طاقتوں سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مجلس کے نومبر 1967ء کے ریزولیشن پر مکمل طور سے عمل در آمد کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔

 یہ جلسہ اس بات پر خاص طور سے زور دینا چاہتا ہے کہ اسرائیل کی 5؍جون1967 ء کی پوزیشن پر واپسی اور تمام عرب علاقوں کے- جن میں بیت المقدس بھی شامل ہے- مکمل طور پر انخلا اور متعلقہ عرب ممالک کو ان کی واپسی کے بغیر نہ صرف اس خطہ میں پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا؛ بلکہ امن عالم کو بھی ہر وقت خطرہ رہے گا۔

یہ جلسہ مزید اوربہ اصرار اس بات پر زور دینا چاہتا ہے کہ بیت المقدس کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی کوئی سازش ہر گز ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔‘‘

 (روزنامہ الجمعیۃ،8؍ جون 1969ء)

مسجد اقصیٰ بیت المقدس کی آتش زدگی پر اضطراب 

 21؍اگست 1969 ء کو صبح تقریباً سات بجے  ایک آسٹریلوی عیسائی شخص ڈینس مائیکل روحان(Denis Michael Rohan  ) نے مسجداقصیٰ کے اندر آگ لگا دی۔اس آگ سے مسجد اقصیٰ کے جنوب مشرقی حصے کو شدید نقصان پہنچا۔ خاص طور پر تاریخی صلاح الدین ممبر- جسے سلطان صلاح الدین ایوبی نے 1187 میں فتحِ بیت المقدس کے بعد مسجد میں نصب کروایا تھا-مکمل طور پر تباہ ہوگیا۔

انھیں دنوں 22و 23؍ اگست 1969ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، جس کے دوسرے دن، یعنی 23؍اگست کی نشست میں مسجد اقصی کی آتش زدگی اورا سرائیلی جارحیت کے تسلسل پر اظہار بیزاری کرتے ہوئے حسب ذیل تجویز منظور کی اور یہ طے کیا کہ پورے ملک میں مسجد اقصیٰ کی آتش زدگی اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف آئندہ جمعہ کو احتجاجی جلسے کیے جائیں اور مطالبات کے ٹیلی گرام اقوام متحدہ، یونسکو ،وزارت خارجہ حکومت ہنداور سفرائے عرب کو بھیجے جائیں۔

’’ جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس مسجد اقصیٰ بیت المقدس کی آتش زدگی پراپنی سخت تشویش واضطراب کا اظہار کرتا ہے۔ اسرائیل نے مسلمانان عالم کے احتجاج کے باوجود بیت المقدس پرجارحانہ قبضہ کرنے کے بعد مقامات مقدسہ کے انہدام اور کھدائی کا جو سلسلہ جاری کر رکھا ہے، اس سے اس کی بد نیتی کا ثبوت ظاہر ہے۔ 

 جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس یہ احساس کرنے میں حق بجانب ہے کہ مسجد اقصیٰ کی آتش زدگی میں اسرائیل کی جارحانہ سازشوں کا ہاتھ ہے۔ اس طرح کی اشتعال انگیز شکلیں اختیار کر کے اسرائیل ایک طرف مسلمانان عالم کے دلوں کو مجروح کر نا چا ہتا ہے۔ دوسری طرف وہ مشرق وسطیٰ میں تصادم کی فضا کو قائم کرکے جنگ کے لیے بہانہ کا متلاشی ہے اور امن کے امکانات کو ختم کرنا چاہتا ہے۔ ہندستان کے مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی ایک ایسے غیر جانب دار بین الاقوامی کمیشن کے ذریعہ تحقیقات کرائی جائے، جس میں کوئی ایسا ملک نہ شامل ہو، جس کی ہمدردیاں اسرائیل کے ساتھ ہوں۔

مجلس عاملہ کا یہ اجلاس مسجد اقصیٰ کی آتش زدگی کی سازش پراظہار بیزاری کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور دنیا کی امن پسند طاقتوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ مسجداقصیٰ کے المیہ پر اسرائیل کی مذمت کر یں اور اسے مجبور کریں کہ وہ مقامات مقدسہ کی تقدیس وحرمت کو پامال کرنے، یا اس کے کسی حصہ کو نقصان پہنچانے کے عزائم سے باز آجائے۔

 مجلس عاملہ کے اس اجلاس کا مطالبہ ہے کہ مسجد اقصیٰ اور دیگر مقامات مقدسہ کی حفاظت کا مکمل اور مستحکم انتظام کیا جائے۔

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس یہ بات واضح کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہے کہ بیت المقدس کا مسئلہ صرف عربوں کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ پوری دنیا کے مسلمانوں؛ بلکہ پوری انصاف پسند دنیا کا مسئلہ ہے۔ جو طاقتیں بیت المقدس کے مسئلہ کو صرف عربوں کے ساتھ وابستہ کرکے اس سے عالم اسلام کے مسلمانوں اور انصاف پسنددنیا کو الگ رکھنا چاہتی ہیں، وہ در اصل اسرائیل کی جارحانہ توسیع پسندی کو قائم اور باقی رکھناچاہتی ہیں۔

لہذا مجلس عاملہ کا یہ اجلاس پورے عالم اسلام اور انصاف پسند دنیا سے اپیل کرتا ہے کہ وہ تمام مقبوضہ عرب علاقوں، مقامات مقدسہ اور بیت المقدس کی بازیابی کی جدوجہد کی طرف توجہ دیں اورا سرائیلی پروپیگنڈہ کے فریب میں نہ آئیں۔ بیت المقدس اور مقبوضہ عرب علاقوں پر اسرائیل کے جارحانہ قبضہ کے علاوہ اب بھی اسرائیل نے مصرو شام، اردن اور لبنان وغیرہ کے مختلف علاقوں پر پیہم حملوں کا سلسلہ جاری رکھاہے۔ ا قوام متحدہ کے فیصلہ کومسترد کر کے بیت المقدس کے سابقہ انتظام کو اسرائیل نے بدل ڈالا ہے۔مقبوضہ علاقوں سے عربوں کو نکالا جارہا ہے۔ لہذا اسرائیلی جارحیت کے بے پناہ مظالم اور مقامات مقدسہ کی اس طرح کی توہین پورے عالم اسلام اورانصاف پسند دنیا کی فوری توجہ کے طالب ہیں۔

 مجلس عاملہ کا یہ اجلاس حکومت ہند سے بھی مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مسجدا قصیٰ کی آتش زدگی اور اسرائیلی جارحیت پرمسلمانان ہند کی بیزاری کے جذبات کوا قوام متحدہ اور انصاف پسند دنیا تک پہنچائے اوراسرائیلی جارحیت کو ختم کرنے کے لیے پوری جدوجہد کرے اورحق وانصاف کی تائید میں مظلوم عربوں کی حمایت کرے۔‘‘

حجاز ریلوے میں اسرائیلی جارحانہ کارروائی کی مذمت

اسی طرح میٹنگ میں مجلس عاملہ نے حجاز ریلوے کے سلسلہ میں اسرائیلی اور سامراجی قوتوں کی جارحانہ کارروائی، دست اندازی اور مداخلت کی مذمت کرتے ہوئے حسب ذیل تجویز منظور کی:

’’ جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس حجاز ریلوے کے بارے میں یہ واضح کر دینا ضروری سمجھتا ہے کہ حجاز ریلوے وقف ہے، اس لیے وہ پورے عالم اسلام سے متعلق ہے۔ اس کے کسی حصہ پر بھی اسرائیل، یا کسی سامراجی قوت کی مداخلت نہ صرف عرب اور متعلقہ ملکوں کے لیے ناقابل برداشت ہوگی؛ بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے باعث تشویش اور ناقابل تسلیم ہوگی۔

 مسلمانان ہند کی نمائندہ جماعت جمعیت علمائے ہند کا پرزور مطالبہ ہے کہ اسرائیل اس علاقہ سے فورا قبضہ ہٹائے ،تاکہ حجاز ریلوے کی تعمیر مکمل ہوکرمسلمانان عالم کی دیرینہ تمنا پوری ہوسکے‘‘۔

یوم مسجد اقصیٰ منانے کی اپیل اور مجوزہ قرارداد

26؍ اگست 1969ء کو ایک پریس بیان جاری کرتے ہوئے، جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی حضرت مولانا اسعد مدنی نے 29؍ اگست 1969ء کو یوم مسجد اقصیٰ منانے کی اور درج ذیل مضمون پر مشتمل قرارداد پیش کرنے کی اپیل کی:

’’مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اور آتش زنی کے الم ناک سانحہ پر اپنے انتہائی غم و غصہ کا اظہار کرتا ہے کہ اسرائیل کو اس سے بری الذمہ قرار نہیں دیا جا سکتا۔ جلسہ حکومت ہند سے مطالبہ کرتا ہے کہ مسلمان ہند کے جذبات کا پاس کرتے ہوئے اس مسئلے کو مجلس متحدہ اقوام میں اٹھائے اور سلامتی کونسل کے ریزو لیوشن پر عمل درآمد کے لیے زور دے۔ یہ جلسہ مجلس متحدہ اقوام کے سکریٹری جنرل سے بھی مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اور آتش زنی کے واقعہ کی غیر جانب دارانہ اوربین الاقوامی کمیشن کے ذریعہ تحقیقات کرائے۔‘‘ (روزنامہ الجمعیۃ،28؍ اگست 1969ء)

اسرائیلی جارحیت کے خلاف عظیم الشان احتجاجی اجلاس

29؍ اگست 1969ء کو جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام اردو پارک دہلی میں ایک عظیم الشان اجلاس ہوا۔جلسہ کی کارروائی قاری عبدالرشید صاحب کی تلاوت کلام پاک سے شروع ہوئی۔ ان کے بعد قاری فرید صاحب نے تلاوت کی اور نظمیں پڑھیں۔ سلیم کھتولوی صاحب نے بھی ایک نظم پڑھی۔ عرب سفرانے عربی زبان میں تقریریں کیں، جن کا ترجمہ جناب فصیح الدین صاحب نے کیا ۔ اور اتفاق رائے سے ایک احتجاجی قرارداد بھی منظور کی گئی۔ تقاریر اور قرارداد درج ذیل ہیں: 

نمائندہ عرب لیگ جناب سیف النصر صاحب کی تقریر

 جناب سیف النصر نما ئندہ عرب لیگ نے کہا کہ ہمیں زبر دست اسرائیلی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا۔ اسرائیل نے ہماری مسجد مقدس مسجد اقصیٰ کو آگ لگاری۔ آپ لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ہم مسلمانوں کے لیے اس مسجد کی کتنی اہمیت ہے۔ مسجد اقصیٰ ہمیں اپنی جان سے زیادہ عزیز ہے۔ اسرائیل نے اس کو آگ لگانے کی جرأت کی ہے۔ اسرائیل بہت چھوٹی حکومت ہے، اس کی آبادیپچیس لاکھ ہے، یعنی دلی کی آبادی سے کم ہے؛ لیکن بڑی طاقتوں کی پشت پناہی کی بدولت اس نے یہ اقدام کیا ہے۔ اسرائیل دعویٰ کرتا ہے کہ کمزور اور چھوٹی قوت ہے؛ لیکن اس کے باوجود اس نے یہ اقدام کیا ہے۔ اقوام متحدہ نے اسرائیل کی مذمت کی پندرہ قرار دادیں منظور کی ہیں؛ لیکن اسرائیل نے ان کو رد کر دیا؛ کیوں کہ اس کو بڑی طاقتوں کی حمایت حاصل ہے، جو اس کو اسلحہ وغیرہ دے رہی ہیں۔ اسی پشت پناہی کی وجہ سے اسے مسجد اقصٰی میں آگ لگانے کی جرأت ہوئی۔ یہ صرف اسرائیل کا کام نہیں؛ بلکہ اس کی تمام پشت پناہ طاقتوں کا کام ہے۔

 بھائیو! اس وقت عرب ممالک اور دنیا بھر کے مسلمانوں نے کھل کر اعلان کر دیا ہے کہ اپنے مقدس مقامات کو واپس لینے میں ہم ایک ہیں۔ ساتھ میں حکومت ہند اور سارے ہندستانی ہمارے شریک ہیں۔ انھوںنے اس جارحیت کی اس طرح مذمت کی ہے، جس طرح ہم نے کی۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں: لوک سبھا اور راجیہ سبھا نے اس کی مذمت کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ ہم جمہوری اور انسانی مدد سے کا میاب ہوں گے اور بیت المقدس کوواپس لیں گے جیسا کہ قرآن پاک میں ہم سے وعدہ کیا گیاہے۔

سفیر اردن انور نشاشیبی کی تقریر

عزت مآب انورنشاشیبی سفیر اردن نے کہا کہ مسجد اقصیٰ میں آتش زنی اور اس کی بے حرمتی کے سلسلہ میں یہ بات اب اچھی طرح سمجھ میں آتی ہے کہ اسرائیل نے یہ کام اچانک نہیں کیا۔ آج سے پچاس سال پہلے سے اسرائیل مسلمانوں کے مقدس مقامات پر قابض ہونے کا ارادہ اور کوشش کر رہے تھے۔ پہلے تیس برس میں ہم عرب یہودیوں اور برطانیہ سے ایک ساتھ لڑے۔ بعد کے بیس برس میں ہم کو یہودیوں سے لڑنا پڑ رہا ہے۔ جس طرح ساتویں صدی میں عیسائیوں نے ہم سے صلیبی جنگ لڑی تھی، اسی طرح اب اسرائیلی لڑ رہے ہیں ۔ اس میں اسرائیل کا اور اسرائیل کی حامی بڑی طاقتوں کا مفاد ہے۔ آج سے اکیس سال قبل جب برطانیہ فلسطین سے روانہ ہوا، اور علاقہ اسرائیل کے سپرد کیا،تو انھوں نے لوگوں کو نکال دیا۔ مسجدوں، گرجا گھروں، مقدس جگہوں کی، قرآن پاک کی بے حرمتی کی، اسے روندا۔ اب یہودیوں نے مسجد اقصٰی میں آگ لگانے کا انتہائی اقدام کیا ہے۔ یہودی قوم جو تاریخ میں اپنی بربادی کے لیے مشہور ہے آسٹریلیا کے ایک عیسائی سے ساز باز کر کے اس کو اس ظلم کے قبول کرنے پر آمادہ کر لیا؛ لیکن کوئی صحیح الخیال اس کو مان نہیں سکتا۔ انھوں نے جان بوجھ کر عیسائی کو بچایا،تا کہ اس کی برائی سے خود کو بچائیں۔ انھوں نے دنیا کو دکھانے کے لیے اس پر مقدمہ چلایا اور اس کو سزا اور قید کا حکم بھی سنائیں گے؛ لیکن تھوڑے عرصہ کے بعد ہی کسی کو پتہ نہ چلے گا کہ اس کا کیا ہوا۔ ہم اس وقت کیا کریں۔ یہ کریں کہ ہوشیار رہیں اور مستقبل پر نگاہ رکھیں۔

 یہودیوں نے جس ظلم کا ارتکاب کیا، وہ صرف اسلام کے خلاف نہیں۔ جس طرح اسلام کے خلاف ہے، اسی طرح عیسائیت، ہندو ازم اور دیگر مذاہب کے خلاف ہے۔ اس بنیاد پر ہم نے دیکھا کہ ہندستان کے بہت سے لوگوں نے- جو ہمارے ہم مذہب نہیں- انھوں نے نہایت شریفانہ موقف اختیار کیا۔ میں حکومت ہند کو اس کے مسجد اقصیٰ سے متعلق موقف پر مبارک باددوں گا۔ حکومت ہند کے بہت سے ذمہ دار وںنے کہا کہ وہ پوری طرح ہمارے ساتھ ہیں۔ اسرائیل کی اس بربریت کو ختم کرنے کے لیے کچھ نہ کیا گیا، تو کیا ہوگیا۔خدا کرے کہ ایسا نہ ہو؛ لیکن اگر یہودی اسی طرح آگے بڑھتے رہے، تو ہمارے دیگر مقدس مقامات: مکہ ، مدینہ تک تک بھی پہنچ سکتے ہیں۔ لیکن خدا نہ کرے کہ ایسا ہو۔ مٹھی بھر یہودی ستر کروڑ مسلمانوں کو چیلنج دیتے ہیں۔ ہم یہ چیلنج قبول کریں۔ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہے کہ عرب ممالک نے اسلامی کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ان شاء اللہ جلد ہی چالیس اسلامی ممالک کی ایک کانفرنس ہوگی۔ وہ اسرائیل کی جارحیت کے خلاف اقدام کا فیصلہ کریں، ہم کو اس کا نفرنس سے بھلائی کی امید رکھنی چاہیے کہ دنیا کے تمام اسلامی ممالک پہلی بار ایک جگہ جمع ہوںگے۔ ایسے اہم معاملات میں صرف زبانی جمع خرچ سے کام نہیں ہوگا۔ اقوام متحدہ کا دروازہ کھٹکھٹانے سے بھی کام نہیں چلتا۔

ہم سب متحد ہوکر کھڑے ہوں۔ اسرائیلی جارحیت کو ختم کرنے کے لیے آمادہ ہوں، مسلم قوموں کو بھی ساتھ رکھنا چاہیے، جو اسرائیل کے ایسے جارحانہ اقدامات پر یقین نہیں رکھتیں۔ مسلمانوں اور دوسرے مذاہب کے لوگوں کو جو خطرہ درپیش ہے، اس کو دور کرنے کے لیے ہمیں کامیاب وسائل تلاش کرنے چاہئیں۔ یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ اسرائیل ہمارے مقدس مقامات پر پہرہ دار بن کر بیٹھا رہے۔ اس کو یہ مقدس مقامات واپس کرنے ہی ہوںگے۔ اس لیے ایسے وسائل و ذرائع تلاش کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ اسرائیل کو پسپا کرنا ضروری ہے۔ قرآن کریم میں بشارت ہے کہ اللہ کی رسی کو مضبوط پکڑو۔

سید احمد ہاشمی صاحب کی تقریر

 مولانا سید احمد ہاشمی ناظم جمعیت علمائے ہند نے مسلمانان ہند کی طرف سے قرار داد پیش کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے مسجد اقصیٰ کی جو بے حرمتی کی ہے، اس پر نہ صرف دلی؛ بلکہ ہندستان اور دنیا بھر کے مسلمان اور انصاف پسند ہندو، عیسائی اور دیگر اہل مذاہب مضطرب ہیں اور اسرائیل کی اس حرکت کی مذمت کر رہے ہیں۔ جب تاریخ ایسے موڑ پر پہنچتی ہے کہ کسی قوم کی مذمت کرے، تو اس قوم کا وقت آخر ہو جاتا ہے۔ اسرائیل کی حکومت -جو امریکہ اور برطانیہ کی سازش سے وجود میں آئی- اب دنیا اس کا انجام بددیکھے گی۔ بغدادپر تاتاریوں کے حملے مسلمانوں کی تاریخ کا ایک نازک دور تھا؛ لیکن مسلمانوں کی استقامت سے یہ تاتاری ہی اسلام کے سپاہی بن گئے۔ اسرائیل کے ظلم وجبر کا دور اور خود اسرائیل کا وجود قریب الختم ہے۔

یونیسکو کی ذمہ داری ہے کہ وہ مذہبی اور تاریخی کا آثار کا تحفظ کرے؛ لیکن اسرائیل میں  ان کا تحفظ کرنے میں ناکام ہے؛ کیوںکہ وہ اسرائیل کی لاشوں کا اکھاڑہ بنا ہوا ہے۔ اسرائیل اقوام متحدہ کی پندرہ قرار دادوں کو ٹھکرا چکا ہے۔ چار طاقتوں کی تجاویز مفاہمت کو بھی اس نے ٹھکرایا ہے۔ لیکن اسرائیل کے مظالم زیادہ دن نہ چلیں گے۔ اس کا خاتمہ قریب ہے۔

جناب میر مشتاق احمد صاحب کی تقریر

 میر مشتاق صاحب نے تجویز کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ آج دنیا دو گروپوں میں تقسیم ہوچکی ہے: ایک گروپ میں ترقی پسند اور انسانیت دوست عناصر ہیں۔ دوسرے میں وہ لوگ ہیں، جو انسانوں کے درمیان تفریق کے قائل ہیں۔

یہ مسئلہ صرف مسلمانوں کا نہیں ؛بلکہ تمام امن پسند اور انسانیت دوست لوگوں کا ہے، جو ’’جیو اور جینے دو‘‘ کے قائل ہیں۔ آپ نے خاص طور پر متوجہ کیا کہ جب پارلیمنٹ میں یہ سوال اٹھایا گیا، تو تمام پارٹیوں نے سوائے جن سنگھ کے اسرائیل کی مذمت کی۔ آپ نے کہا کہ ہمیںاحتجاج کے ساتھ اپنی کمزوریوں کو دور کرنا چاہیے اور متحد ہونا چاہیے۔ اگرعرب اور مسلمان متحداور مضبوط ہوتے، تو اسرائیل کو جرأت نہ ہوتی۔

آپ نے پارلیمنٹ اور حکومت کی طرت سے مسجد اقصی کی بے حرمتی کے سوال پر اور فلسطینی عربوں کی جدو جہد میں ان کی حمایت پر اظہار پسندیدگی کیا۔ آپ نے ہندستان میں سوشلسٹ طاقتوں کو مضبوط کرنے پر زور دیا اور کہا کہ ان طاقتوں کو کمزور بنا کر ہی ہم عربوں کی حمایت کر سکتے ہیں۔

مولانا اخلاق حسین قاسمی کی تقریر

 جلسہ مولانا اخلاق حسین قاسمی صاحب کی تقریر سے شروع ہوا۔ آپ نے مسجد اقصیٰ کی تاریخ بیان کی اور کہا کہ حکومت اسرائیل کی سازش اور ایما کے بغیرایسا نہیں ہو سکتا۔ اسرائیل خواہ کتناہی پروپیگنڈہ کرے، اس کے ناپاک عزائم نہیں چھپ سکتے۔ اسرائیل اسلام اور عیسائیت کی تاریخی اورمذہبی عبادت گاہوں کو صاف کر کے اپنی ہیکل تعمیر کرنی چاہتا ہے۔ دیوار گر یہ -جو یہودیوں کی مقدس اور تاریخی یادگار ہے- مسلمانوں نے تیرہ سو برس سے زائد حکومت میں اس کو محفوظ رکھا۔ یہودیوں کو اس دیوار کے پاس اپنے مذہبی مراسم ادا کرنے کی پوری آزادی رہی۔ فتح بیت المقدس کے موقعہ پر عیسائیوں اور یہودیوں نے حضرت عمرؓ کو دیکھ کر اپنے مذہبی آثار کی کنجیاں ان کے حوالہ کر د ی تھیں۔ مسلمانوں نے عیسائیوں اور یہودیوں کے مذہبی آثار کا پورا تحفظ کیا؛ لیکن اسرائیل نے دو سال میں ہی ایک سازش کے تحت ان کی صفائی شروع کر دی۔ عرب جوان اس صورت حال کوکبھی برداشت نہ کریں گے۔ وہ اپنے خون اور جان کی قربانی دے کر ارض مقدس کو آزاد کرائیںگے۔ اللہ تعالیٰ کی حمایت اور نصرت ان کے ساتھ ہوگی۔ ہم ان کی اس جدوجہد میں ان کے ساتھ ہیں، اور ان کی کامیابی کی دعاکرتے ہیں۔(روزنامہ الجمعیۃ،31؍ اگست 1969ء)

مولانا اسعد مدنی صاحب کی تقریر

 مسجدا قصیٰ کے مسئلہ پر آج پورے ہندستان میں ہی نہیں؛ بلکہ سارے عالم میں شدید اضطراب ہے۔ہر جگہ یوم احتجاج منایا جا رہا ہے اور لوگ غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں۔ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کے لیے تیسرے نمبر کی مقدس مسجد ہے۔ خانۂ کعبہ ،مسجد نبوی کے بعد اس کا نمبر ہے۔ اسی مسجد کی طرف انبیائے کرام نماز پڑھتے رہے ہیں۔ خود رسول اللہ  ﷺ کی زندگی میں اورہجرت کے بعد اسی کی طرف منھ کر کے نمازپڑھتے تھے۔ 

آپ نے معراج نبوی کے واقعات کا تذکرہ کیا اور اسرائیل کے قیام کی تاریخ بیان کی۔ آپ نے کہا کہ سازشوں کے نتیجے میں بیت المقدس تو یہودیوں، عیسائیوں اور مسلمانوں کے نزدیک اہم ترین شہر ہے، جس پر تقریباً چودہ  صدیوں تک مسلمانوں کا تسلط رہا، جس میں دیوار گریہ، بیت اللحم، کنیسۃ القیامہجیسے یہودیوں اور عیسائیوںکے مقدس مقامات ہیں۔ عرب مسلمانوں کے ہاتھ میں رہے، ان لوگوں نے اس کا انتظام اور حفاظت خود مسلمانوں کے سپرد کی تھی۔ مسلمانوں نے کبھی ان کے راستہ میں اور طریق عبادت میں کوئی روڑا نہیں اٹکا یا۔ عرب مسلمان بڑی اکثریت میں تھے؛ لیکن کبھی کوئی غلط بات نہیں ہوئی۔

 گذشتہ دو سال کے عرصہ میں باہر کے یہودیوں کولا کر وہاں بسایا گیا۔ برطانیہ، امریکہ اور روس نے اسرائیل کو بنا یا۔ بین الاقوامی سازشیںہوئیں اور عربوں کو تباہ کیا گیا۔ یہودی دنیا کی دولت مند ترین قوم ہے، بڑے ذرائع کھیتی ہے۔ اسرائیلیوں نے عربوں پر آگ لگانے والے بم برسائے۔ عربوں کے محلوں کو ڈائنامیٹ لگا کربرباد کیا گیا۔قدیم آثار تلاش کرنے کے بہانے خدائی کی جارہی ہے، تاکہ یہ پرانے مسلم آثار تباہ ہو جائیں۔ میں نے شام میں فلسطینی پناہ گز نیوں کے کیمپ دیکھے، ان لوگوں نے بتایا کہ اسرائیل نے ان کوبہ نوک سنگین گھرو ں سے نکالا اور برباد کردیا۔آج لاکھوں انسان اس طرح بے گھر ہوچکے ہیں، امریکہ ہر اسرائیل کو ہوائی جہاز دے کر اس چور ڈاکو کی مدد کر رہا ہے۔ امریکہ،برطانیہ جیسے سامراجی ملک اسرائیل کی مدد کر رہے ہیں۔ اسرائیل خود کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ اسرائیل نے اب مسجد اقصیٰ پر وار کیا ہے؛ لیکن ایسا دفعتا نہیں ہوا۔ مہینوں پہلے ایک امریکی یہودی نے اعلان کیا تھا کہ مسجداقصیٰ کا گنبد صخرہ جس جگہ ہے، ہیکل سلیمانی اسی جگہ تھا۔ارواح مقدسہ یہیں مدفون ہیں؛ لیکن اس کے پاس اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ۔ قبۃ الصخرہ میں تین گھنٹہ تک آگ لگتی رہی، آگ بجھانے کے لیے اسرائیل کا دستہ آتا ہے اور پانی ڈالنے کے بجائے اس نے دیواروں کوہتھوڑوں سے توڑنا شروع کر دیا۔ یہ آگ بجھاتے تھے، یا اس مقدس مسجد کو توڑنے اور زمین بوس کرنے آئے تھے۔ ہم نے ہند ستان میں دیکھا ہے کہ جب عربوں پر ظلم ہو رہا تھا، ان پرآگ لگانے والے بم گرائے جا رہے تھے، تو یہاں کے اخبار عربوں کے خلاف مضامین چھاپ رہے تھے۔ اس سے ظاہر ہے کہ پریس پر یہودیوں کا قبضہ ہے۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ مسجد صخرہ لکڑی کی ہی تھی، یہ سراسر جھوٹ ہے۔ چھ سات سال ہوئے قبۃ الصخرہ کی دوبارہ تعمیر ہو ئی تھی، جس میں ں لکڑی نہ تھی۔ پھر لوہا اور ملبہ لگا تھا۔ صرف سلطان صلاح الدین ایوبی کا ممبر لکڑی کا تھا۔ کوئی ایسی کیمکل چیز تھی جسے اسرائیل نے پتھروں کوآگ لگانے کے واسطے استعمال کیا۔ اسرائیل تحقیقات کا ڈھونگ رچاتا ہے،وہی تحقیقات کرے گا، اسی نے آگ لگائی ہے۔ یہ ایک پرانا منصوبہ ہے۔

 اسرائیل نے جب مسجد اقصیٰ کو آگ لگائی، تو اسے امید نہ ہوگی کہ ایسا طوفان اٹھ کھڑا ہوگا۔ آج ساری دنیا میں آگ لگی ہوئی ہے۔ ہندستان کا کوئی حصہ ایسا نہیں، جہاں بلااختلاف مذہب لوگوں نے یہ دن نہ منایا ہو۔ ہم نے ہڑتال کی اپیل نہ کی تھی؛ لیکن لوگوں نے ہڑتالیں کیں۔جلوس نکالے اور جلسے کیے۔ ان جلوسوں میں دس بیس نہیں، پچیس تیس اور پچاس ہزار آدمی شریک ہوئے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں میں کتنا جوش و خروش ہے۔ ساری دنیا میں یہی حال ہے۔ امریکہ جو اسرائیل کا حامی ہے عالمی رائے عامہ کی پرواہ نہ کرنے کی اسے یہ سزا ملی ہے۔ آج امریکی سفیر کلکتہ نہیں جا سکے اور ان کو پروگرام منسوخ کرنا پڑا۔ اگر امریکہ اسرائیلی درندوں کا ساتھ دیتا رہا، تو اس کے سفیروں کو جگہ جگہ اسی طرح ذلت برداشت کرنی پڑے گی۔

 امریکیوں کو اپنی پالیسی میں تبدیلی لانی چاہیے، اسے اپنے نظریے کو بدلنا چاہیے، جس نے سارے مشرق وسطیٰ میں تباہی پھیلا رکھی ہے۔ سامراجی طاقتیں اسرائیل کی پشت پ سے ہٹ جائیں، تو اسرائیل چوبیس گھنٹوں میں ختم ہو جائے۔ اگر امریکہ، برطانیہ اسی طرح اسرائیل کی حمایت کرتے رہے، تو رائے عامہ ان کو مجبور کرے گی کہ وہ فلسطین سے بھی اسی طرح ذلیل ہو کر نکلیں، جس طرح اب ویٹ نام سے نکلنا پڑ رہا ہے۔ فلسطین عربوں کا ہے اور عربوں کا ر ہے گا۔ ہم عربوں کے ساتھ ہیں اور آخری وقت تک ان کے ساتھ رہیں گے۔ دوسری جمہوری طاقتیں بھی ان کے ساتھ ہیں۔

کبھی ہمیں خیال آتا تھا کہ عرب مجاہدین نے اسرائیلیوں کی نیند حرام کر دی ہے ،جو الجزائر کے مجاہدین کی طرح جان دے رہے ہیں، ہم ان کا استقبال کریں گے ۔خوشی کی بات ہے کہ یہ مجاہدین دس بارہ دن میں ہندستان آئیں گے۔ افرایشیائی یک جہتی کونسل نے ’’الفتح‘‘ کے مجاہدین سے رابطہ قائم کیا ہے اور وہ تین نمائندوںکا ایک وفد ہندستان بھیجنے پر تیار ہوگئے ہیں ۔ہمیں ان کے ہندستان پہنچنے کی تاریخ کا انتظار ہے۔

مولانا اسحاق سنبھلی صاحب کی تقریر

 ہمارے ملک میں مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر جو رد عمل ہوا ہے، آپ اسے اچھی طرح جانتے ہیں۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مولانا مدنی نے اور میں نے تحریکیں رکھیں۔ ہم نے جو کچھ کیا، وہ ہمارا فرض تھا۔ لیکن ہمیں زیادہ خوشی اس بات کی ہوئی کہ ان تحریکوں میں مسلمانوں سے زیادہ غیر مسلموں نے دل چسپی لی، ان کے لیے ہم شکر گزار ہیں۔ ان کے علاوہ جس روز نئے صدر جمہوریہ کو حلف دیا جارہا تھا۔ اس دن ہم نے نہایت قلیل مدت میںایک سو پینتیس ممبروں کے وستخط کر کے وزیر اعظم کو ایک یادداشت- جس میں مطالبہ  تھا کہ اسرائیل کے مظالم کو اقوام متحدہ میں اٹھایا جائے- اسرائیل سے صرف علاقے خالی کروائے جائیں۔ اگر وقت ہوتا توپارلیمنٹ کے سات سو پچاس ممبران میں سیچھ سو پچاس ممبران اس پر دستخط کر دیتے۔ جب یہ یادداشت وزیر اعظم کو دی گئی، تو اس وفد میں آسام، مغربی بنگال،میسور اور یوپی کے غیر مسلم ممبران شامل تھے۔ ہم ان سب لوگوں کے شکر گزار ہیں۔ وزیر اعظم نے میمورنڈم کو بڑی توجہ سے پڑھا، اسرائیل کے مظالم کا احساس کیا اور فوراً عربوں کی حمایت کا اعلان کر دیا۔

 مسجد اقصیٰ کی آتش زنی اتفاقی واقعہ نہیں ہے، یہ ایک پرانی سازش ہے۔ کچھ عرصہ ہوا نیو یارک ٹائمزمیں ایک فوٹو شائع ہوا تھا، جس میں مسجد اقصیٰ کے سامنے امریکی لڑکیاںنیم عریاں لباس میں دکھائی گئی تھیں۔ ایک اسرائیلی گائڈ جو اس موقعہ پران کے ساتھ تھا، ان سے یہ کہتا ہوا دیکھا گیا تھا کہ یہ پہلے ہیکل سلیمانی تھی، کچھ عرصہ بعد اس جگہ پھر ہیکل سلیمانی  نظر آئے گی۔یہ مضمون بدترین درندہ صفت اخبار ٹائمز میں چھپا تھا، جو سامراجی امریکہ کا ترجمان ہے۔ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی درندہ صفت اسرائیلی حکومت کے خاتمے کا موجب بنے گی۔ ہم نے دیکھا ہے اس واقعہ پر کس طرح آگ لگی ہوئی ہے۔

آپ نے کہا کہ تین روز کی عرب اسرائیل جنگ میں جتنے عرب مارے گئے تھے، اس کے دو گئے عرب اسرائیل کے وحشیانہ مظالم کا شکار ہو کر مر چکے ہیں۔ آپ نے اسرائیلی مظالم کی تفصیل بیان کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے جلاد بچوں کی ہڈیاں، کلائیاں اور پنڈلیاں توڑ کر ان عربوں کو واپس بھیجتے ہیں، تاکہ کسی طرح عربوں کے حوصلے پست ہوجائیں؛ لیکن ان کے حوصلہ میں اور عرب علاقوں کو آزاد کرانے کے عزم میں کوئی کمی نہیں۔ ہم عربوں سے بہت ہمدردی ظاہر کرتے ہیں۔ اب مجاہدین الفتح کا وفد دلی آرہا ہے۔ یہ وفد پھول پہننے کے لیے نہیں آرہا۔ ہمیں اس کوزیا دہ سے زیادہ اخلاقی و مالی مدد کے واسطے تیاررہنا چاہیے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسرائیل پر اس کے حامی امریکہ، برطانیہ پر کراری چوٹ لگائیں۔صدر جمہوریہ مسٹر گری کی کامیابی سامراجیوں اور ان کے ساتھی سرمایہ پرستوں پر کراری جیت ہے۔ہمیں ملک کے اندر سامراج دشمن طاقتوں کو مضبوط کرنا چاہیے۔ ہمیںان طاقتوں کو مضبوط بنانا ہے، تا کہ ملک کے باہر بھی سامراجی طاقتوں کو شکست دی جاسکے، اس طرح اسرائیل کا جنازہ نکل سکتا ہے۔

مولانا زبیر قریشی صاحب کی تقریر

 مولانا زبیر قریشی نے مقامات مقدسہ کی تاریخ بیان کی اور کہا کہ اسرائیل کے مقابلہ میں عربوں کو اس لیے شکست ہوئی کہ وہ متحد نہیں تھے۔ آپ نے مسلمانوں کے اتحاد پرزور دیا اور اس یقین کا اظہار کیا کہ یروشلم اور مقام مقدسہ کی آزادی کی کوشش ضرور کامیاب ہوگی۔ 

اس کے بعد مولانا اخلاق حسین صاحب قاسمی نے دعا کرائی کہ اسرائیل کے مقابلہ میں عربوں کو کو اللہ تعالیٰ کامیاب فرمائے۔( آمین)۔

 جلسہ میں حاضری بہت زیادہ تھی ۔عوام آخر وقت تک نہایت انہماک اور توجہ کے ساتھ تقریریں سنتے رہے۔(روزنامہ الجمعیۃ،یکم ستمبر1969ء) 

قرارداد:مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر سراپا احتجاج 

اس اجلاس میں متفقہ طور پر جو قرارداد منظور ہوئی، اس کا مکمل متن درج ذیل ہے:

’’مسلمانان دہلی کا یہ احتجاجی اجلاس مسجد اقصیٰ، بیت المقدس کی آتش زدگی پر اپنی سخت تشویش و اضطراب کا اظہار کرتا ہے۔ اسرائیل نے مسلمانان عالم کے احتجاج کے باوجود بیت المقدس پر جارحانہ قبضہ کرنے کے بعد مقامات مقدسہ کے انہدام اور کھدائی کا جو سلسلہ جاری کرارکھا ہے، اس سے اس کی بدنیتی کا ثبوت ظاہر ہے۔

 مسلمانان ہند کا یہ اجلاس یہ احساس کرنے میں حق بہ جانب ہے کہ مسجد اقصیٰ کی آتش زدگی میں اسرائیل کی جارحانہ سازش کا ہاتھ ہے۔ اس طرح کی اشتعال انگیز شکلیں اختیار کر کے اسرائیل ایک طرف مسلمانان عالم کے دلوں کو مجروح کرنا چاہتا ہے، دوسری طرف وہ مشرق وسطیٰ میں تصادم کی فضا کو قائم کر کے جنگ کے لیے بہانہ کا متلاشی ہے اور اس کے امکانات کوختم کرنا چاہتا ہے۔ ہندستان کے مسلمانوں کا مطالبہ ہے کہ ایک ایسے بین الاقوامی کمیشن کے ذریعہ- جس میں کسی ایسے ملک کو نہ شامل کیا جائے، جو اسرائیل کے ہمدرد  رہے ہیں- تحقیقات کرانی چاہیے۔ اور آتش زدگی کی اسرائیلی ساز ش کو بے نقاب کیا جائے۔

مسلمانان دہلی کا یہ اجلاس مسجد اقصیٰ کی آتش زدگی کی سازش پر اظہار بیزاری کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور دنیا کی امن پسند طاقتوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کے المیہ پر اسرائیل کی مذمت کریں اور اسے مجبور کریں کہ وہ مقامات مقدسہ کی تقدیس وحرمت کو پامالی کرنے، یا اس کے کسی حصہ کو نقصان پہنچانے کے عزائم سے باز آجائے۔ مسلمانان ہند کے اس اجلاس کا مطالبہ ہے کہ مسجد اقصیٰ اور دیگر مقامات مقدسہ کی حفاظت کا مکمل اور مستحکم انتظام کیا جائے۔

 مسلمانان دہلی کا یہ اجلاس یہ بات واضح کر دینا بھی ضروری سمجھتا ہے کہ بیت المقدس کا مسئلہ صرف عربوں کا مسئلہ نہیں ہے؛ یہ پوری دنیا کے مسلمانوں؛بلکہ پوری انصاف پسند دنیا کا مسئلہ ہے۔جو طاقتیں بیت المقدس کے مسئلہ کو صرف عربوں کے ساتھ وابستہ کر کے اس سے عالم اسلام کے مسلمانوں اور انصاف پسند دنیا کو الگ رکھنا چاہتی ہیں، وہ در اصل اسرائیل کے جارحانہ توسیع پسندی کو قائم اور باقی رکھنا چاہتی ہیں۔

لہذا مسلمانان دہلی کا یہ اجلاس پورے عالم اسلام اور انصاف پسند دنیا سے اپیل کرتا ہے کہ وہ تمام مقبوضہ عرب علاقوں، مقامات مقدسہ اور بیت المقدس کی بازیابی کی جدو جہد کی طرف توجہ دیں۔ اور اسرائیلی پر وپیگنڈہ کے فریب میں نہ آئیں۔ بیت المقدس اور مقبوضہ عرب علاقوں پر اسرائیل کے جارحانہ قبضہ کے علاوہ اب بھی اسرائیل نے مصر و شام، اردن اور لبنان وغیرہ کے مختلف علاقوں پر بم حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ اقوام متحدہ کے فیصلہ مسترد کر کے بیت المقدس کے سابقہ انتظام کو اسرائیل نے بدل ڈالا ہے۔ مقبوضہ علاقوں سے عربوں کو نکالا جارہا ہے۔ لہذا اسرائیلی جارحیت کے بے پناہ مظالم اور مقامات مقدسہ کی اس طرح کی توہین پورے عالم اسلام اور انصاف پسند دنیا کی فوری توجہ کے طالب ہیں۔

 مسلمانان دہلی کا یہ اجلاس حکومت سے بھی مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کی آتش زدگی اور اسرائیلی جارحیت پر مسلمانان ہند کی بیزاری کے جذبات کو اقوام متحدہ اور انصاف پسند دنیا تک پہنچانے اور اسرائیلی جارحیت کو ختم کرنے کے لیے پوری پوری جدوجہد کرے۔ اور حق وانصاف کی تائید میں مظلوم عربوں کی حمایت کرے۔‘‘(روزنامہ الجمعیۃ،31؍ اگست 1969ء)

مسجد اقصیٰ کے جذبات پر ہندستانی مسلمانوںکا شکریہ

مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر مسلمانان ہند کے شدید جذبات کا اظہار کرتے ہوئے حضرت مولانا سید اسعد مدنی ناظم عمومی جمعیت علما ئے ہند نے شاہ فیصل والی سعودی عرب کو جو خط روانہ کیا تھا، اعلیٰ حضرت شاہ فیصل نے 26؍ ستمبر1969ء کو اس کا جوجواب دیا ،اس کا ترجمہ یہ ہے:

 محترم حضرت مولانا اسعد مدنی جنرل سکریٹری جمعیت علمائے ہند نئی دہلی

 السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!

سفارت خانہ کی معرفت آپ نے جو تارہم کو بھیجا،وہ موصول ہوا۔ آپ نے تار میں اس شدید رنج و غم کا اظہار کیا ہے جو ہندستانی مسلمانوں کو مسجداقصیٰ میں آگ لگ جانے سے پہنچا۔ یہ حادثہ اسرائیلی جارحیت کے منصوبوں کا ایک جز ہے۔ ہم ان گہرے اسلامی جذبات کی -جو ہمارے بھائی ہندستانی مسلمانوں کے دلوں میں اس حادثہ کے تئیں پائے جاتے ہیں- پوری پوری قدر کرتے یں۔ ان کے اس احساس اور جذبہ پر ہم ان کا پورے طور پر شکریہ ادا کرتے ہیں۔

ہما را نقطۂ نظر ہمیشہ یہ رہا ہے کہ مسلمان جب تک ایک دوسرے کے ہمدرد اور مدد گار رہیں گے، اور اپنے دین کی حفاظت اور مقدس مقامات کو بچانے کے لیے ان کے جذبات اور رجحانات ایک ہوں گے، وہ خیریت سے رہیں گے

خدا وند کریم کا ارشاد ہے :واعتصموا بحبل اللہ جمیعا ولا تفرقوا: اللہ کی رسی کو مل کر مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ نہ ڈالو۔ انما المؤمنون اخوۃ: مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے: المسلم اخو المسلم، لا یظلمہ ولا یسلمہ: مسلمان مسلمان کا بھائی ہے ،نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اس کو ظالم کے سپرد کرتا ہے۔ ہمیں اور آپ کو خدائے تعالی نیکی کی توفیق عطا فرمائے اور سیدھاراستہ دکھائے۔

و السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ 

فیصل۔ (روزنامہ الجمعیۃ،29؍ ستمبر1969ء)

قاہرہ کانفرنس اوراس کی قرار دادوں کی تائید

متحدہ عرب جمہوریہ کے دارالحکومت قاہرہ میں یکم مارچ تا 5؍ مارچ 1970ء، منعقد ہونے والی مجمع البحوث الاسلامیہ کی پانچویں کا نفرنس میں دنیا کے چھتیس ملکوں سے ایک سو سے زائد علمائے دین نے شرکت کی ۔ ہندستان سے شرکت کرنے والے جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی مولانا اسعد مدنی تھے۔ کانفرنس نے مشرق وسطیٰ کے بحران، اسرائیلی جارحیت اور بیت المقدس، نیز مسجد اقصیٰ میں آتش زدگی پر غور و خوض کیا، پانچ دن کے پیہم اور لگاتار اجلاسوں کے بعد شر کانے متفقہ طور پرجو فیصلے کیے، ان کے متون درج ذیل ہیں:

 قرارداد نمبر-۱-مسلمانوں پر جہاد فرض ہے

کا نفرنس اس بات پر زور دیتی ہے کہ اس وقت ہرذی استطاعت مسلمان پر مال و جان سے جہاد فرض عین ہے، جو اس کی خلاف ورزی کرے گا، دہ گویا غیر اسلامی راستہ اختیار کرے گا۔ جب کہ اسرائیل نے سامراج کی مدد سے اپنی پوری قوت اور طاقت میدان جنگ میں جھونک دی ہے، تو مسلمانوں پر فرض ہو جاتا ہے کہ وہ اپنی ذمہ داری پوری کریں اور میدان جنگ میں مجاہد بھیجیں۔ 

قرارداد نمبر-۲-مشترکہ کمانڈ قائم کرنے پر زور

کا نفرنس عرب حکومتوں پر زور دیتی ہے کہ مشرقی اور مغربی دونوں محاذوں کو مضبوط کریں اورمشترکہ کما نڈ قائم کریں۔ نیز کانفرنس تمام مسلمانوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس مشترکہ کمانڈ کی ہر طرح مدد کریں۔

قرارداد نمبر-۳-مجاہدین فلسطین کی امداد کا مطالبہ

کا نفرنس عرب ملکوں کی حکومتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ مجاہدین فلسطین کی سرگرمیوں میں ان کی مدد کریںاور ان کو ضروری سہولتیں بہم پہنچا ئیں۔

 کانفرنس اعلان کرتی ہے کہ مجاہدین فلسطین کی اسلحہ اور سرمایہ سے مدد کرنا مذہبی فرض ہے اور سرگرمی کا یہ مد ان کے شرعی مصارف میں سے ایک ہے۔

قرارداد نمبر-۴-مسجد اقصیٰ کی آتش زدگی کی مذمت

کا نفرنس فیصلہ کرتی ہے کہ اسرائیل کی طرف سے مسجد اقصیٰ میں آتش زدگی کا اقدام جرائم کی انتہائی گندہ اور مذموم ترین شکل ہے۔ دنیا کے تمام مسلمانوں کے احساسات اور جذبات کو اس سے زبر دست ٹھیس پہنچی ہے، یہ ان کی غیرت کو زبر دست چیلنج ہے۔ کا نفرنس اعلان کرتی ہے کہ اسلام کے مقامات مقدسہ کو اسرائیل کے پنجہ سے چھڑانا ہر مسلمان کا قومی فرض ہے۔

قرارداد نمبر-۵-اسرائیلی لڑائی عرب و اسلام کا معرکہ 

کانفرنس اعلان کرتی ہے کہ اس وقت جو معرکہ درپیش ہے، وہ دنیائے عرب و اسلام کا معرکہ ہے؛ کیوںکہ عربیت اسلام کا ایک ستون ہے ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر عرب ذلیل ہوں گے، تو اسلام ذلیل ہو گا۔

قرارداد نمبر-۶-باہمی اقتصادی تعاون کا فیصلہ

کا نفرنس اس پر زور دیتی ہے کہ عرب اور اسلامی حکومتوں میں مضبوط اقتصادی تعاون ہو۔ نیز کا نفرنس کی قرار دادوں کی اشاعت کے لیے ان کے درمیان سرکاری اور عوامی سطح پر وفود کا تبادلہ ہو۔(ہفت روزہ الجمعیۃ،27؍ مارچ 1970ء)

اس کانفرنس کے کچھ دنوں بعد 18،19؍ اپریل 1970ء کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں مؤتمر البحوث الاسلامیہ قاہرہ کی تمام قراردادوں کی تائید کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی:

تائید قرار داد مؤتمر البحوث الاسلامیہ قاہرہ

’’مجلس منتظمہ نے ان تجاویز پر غور کیا، جو مؤتمر البحوث الاسلامیہ نے اپنے پانچ روزہ اجلاس میں ، جو 22؍ذی الحجہ سے 26ذی الحجہ 1389ھ(مطابق یکم مارچ تا 5؍ مارچ 1970ء) تک قاہرہ میں ہوا تھا ، منظور کیں۔

 مؤتمر نے مسلمانان عالم سے جو اپیل کی اور دول اسلامیہ اورمسلمانوں کی سیاسی اور ثقافتی جماعتوں سے جن امور کی فرمائش اور سفارش کی ہے، ان پر غور کیا۔

 اس مؤتمر میں ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا اسعد مدنی صاحبؒ نے شرکت فرمائی تھی۔ آپ کے مشا ہدات اور تأثرات کو بھی مجلس نے سنا اور جملہ حالات پر غور کیا۔

اسرائیل جس طرح دنیائے اسلام؛ خصوصاً عرب ممالک کے لیے آفت عظیم بنا ہوا ہے اور جس طرح کے ہول ناک اور درد انگیز مصائب کی بارش اس علاقہ کے کمزور باشندوں پر برسا رہا ہے، جس سے اسپتالوں میں پڑے ہوئے لاچاروناچاربیمار اور اسکولوں میں پڑھنے والے معصوم بچے بھی مامون نہیں ہیں۔ بیت المقدس کے تقدس کو پامال کرنا ،مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمانی تعمیر کرنا اور عرب ممالک کو غصب کر کے اپنی مملکت کے حدود کو زیادہ سے زیادہ وسیع کرنا، اس کا منصوبہ ہے، جو طشت از بام ہوچکاہے ،جس کو امریکہ اور عالمی صہیونی طاقت کی حمایت اور سر پرستی حاصل ہے۔ مؤتمر مجمع البحوث الاسلامیہ نے ان کو پیش کرتے ہوئے دنیائے اسلام سے امدادو تعاون کی اپیل کی ہے اور واضح کیا ہے کہ ان حالات میں اپنے حالات اور اپنی طاقت و استطاعت کے بموجب جدو جہد کرنا ہر مسلمان کا مذہبی فرض ہے۔

جدید تربیت یا فتہ مجاہدین بھیج کر، یا اسلحہ فراہم کر کے، یا مالی امداد دے کر جس طرح بھی امداد کر سکتے ہوں، وہ ہر ایک مسلمان پر فرض عین کی حیثیت رکھتا ہے۔

 جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس مؤتمر کی تمام تجاویز کی تائیدکرتا ہے اور اس کی دعوت کو صحیح اور بجا دعوت قرار دیتا ہے۔ اور اس پر لبیک کہنے کو ہر ایک مسلمان؛ بلکہ ہر ایک انصاف پسند انسان کا اخلاقی فرض تصور کرتا ہے۔ اور اہل ہند اگر جدید فنی تربیت یافتہ مجاہدین، یا اسلحہ بھیج کر ان کی امداد نہیں کرسکتے، تو اجلاس کی پر زور اور دردمندانہ اپیل ہے کہ زیادہ سے زیادہ حوصلہ اور ہمت کے ساتھ مالی امداد کریں۔ یہ اجلاس اس مقصد کے لیے ایک فنڈ قائم کرتا ہے۔اور یقین رکھتا ہے کہ جملہ ہمدردان ملت اس فنڈ کو کامیاب بنانے کی پوری کوشش فرمائیں گے ۔

یہ اجلاس تجاویز مؤتمر کی تائید کے ساتھ ان تمام کوششوں کی بھی تائید کرتا ہے، جو عرب ممالک اپنی صواب دید اور استطاعت کے بموجب کر رہے ہیں۔ اور ان مجاہدوں کو مبارک باد پیش کرتا ہے، جو قربانیاں پیش کر رہے ہیں۔ اور ان سب کے لیے دعائے مغفرت کرتا ہے، جو اس راہ میں شہادت حاصل کرچکے ہیں۔‘‘

فنڈ کی فراہمی

اس قراردادکی تائید میں تقریر کرتے ہوئے مولانا اسعد مدنی صاحب ؒ نے فنڈ کی فراہمی کی اہمیت پر روشنی ڈالی ۔ جناب مولانا محمد سعید بزرگ صاحب نے اسی وقت سو روپے دیا۔ اور پھر تجویز کی تائید کی۔

21؍اگست1970ء کو یوم مسجد اقصیٰ منانے کی اپیل

11،12؍ جولائی 1970ء کو منعقد مجلس عاملہ نے ایجنڈہ نمبر(۳)پر غور کیا اور 21؍اگست 1970ء کو پورے ملک میں یوم مسجداقصیٰ منانے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلہ میں حسب ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس مغربی ایشیا میں اسرائیل کی جارحانہ قوت میں مسلسل اضافہ کو عالمی امن اور نوع انسانی کی فلاح و بہبود کے لیے خطرناک سمجھتا ہے۔ اور اس امر پر اظہار تشویش کرتا ہے کہ با وجود اقوام متحدہ کی تجویز کے، اب تک عرب علاقوں پر اسرائیل کا جارحانہ قبضہ قائم ہے اور دنیا کی وہ بڑی طاقتیں- جو تخفیف اسلحہ کے سوال پرسمجھوتہ اور ایٹمی اسلحہ کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے جینوا اور پیرس میں سرگرم مذاکرات ہیں، اسرائیل کی تباہ کن جارحانہ طاقت کو نظر انداز کر ہی ہیں۔ بلکہ یہی نہیں؛ امریکہ اسرائیل کو ہر قسم کے مہلک ہتھیار بھی مہیا کررہاہے۔ اور بڑی طاقتیں اس کی مکمل پشت پناہی کر رہی ہیں۔ اس صورت حال پر تمام امن پسندوں کو تشویش ہے۔ چنانچہ انصاف پسند دنیا کو متوجہ کرنے کے لیے اور اسلامی و مسیحی مذہبی مقامات مقدسہ کے خلاف اسرائیلی حکمرانوں کی غاصبانہ جارحیت، توسیع پسندی، عسکری عزائم اور مسجد اقصیٰ کی آتش زدگی کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے ضروری ہے کہ21؍ اگست کو پورے ملک میں مشترکہ طور پر یوم احتجاج منایا جائے اور مطالبہ کیا جائے کہ اسرائیل تمام مقبوضہ عرب علاقوں اور تمام مقامات مقدسہ کو خالی کر دے۔

21؍اگست ہی وہ دن ہے، جب صہیونی جارحیت پسندوں نے مسجد اقصیٰ کو آگ لگائی تھی۔ اور یہی وہ دن ہے، جب انھوں نے مسجداقصیٰ کی ہیکل سلیمانی تعمیر کرنے کے ارادے کا اعلان کیا ہے۔ چنانچہ جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس طے کرتا ہے کہ21؍اگست کو مشترکہ طورپر احتجاج منایا جائے۔ اور اقوام متحدہ اور یونسکوکو احتجاجی تارروانہ کیے جائیں اور اس کی نقول عرب لیگ کے دفتر، نیز وزارت خارجہ حکومت ہند اور جمعیت علمائے ہند کو روانہ کی جائیں۔

اسرائیلی توسیع پسندی اور مسجد اقصی کی آتش زدگی کے خلاف اجلاس 

جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام 21؍ اگست 1970ء کو جامع مسجد دہلی میںیوم مسجد اقصیٰ کے سلسلہ میں ایک جلسۂ عام  منعقد ہوا، جس میں عرب کاز کی حمایت میں ایک قرار داد منظور کی گئی اور مقررین نے اسرائیلی جارحیت اور مسجد اقصیٰ میں آتش زنی کی سازش اور اس کے محرکات پر روشنی ڈالی۔ جلسہ کا آغاز قاری فرید کی تلاوت کلام پاک اور نعت سے ہوا۔ اس کے بعد صدر جمعیت علمائے دہلی مولانا اخلاق حسین صاحب قاسمی کے صدارتی اور افتتاحی تقریر میں جلسہ کی غرض وغایت پر روشنی ڈالی۔ آپ نے فرمایا کہ اسرائل کی وقتی کامیابیوں سے جو لوگ یہاں پھولے نہیں سماتے ہیں، ان کو سمجھ لینا چاہیے کہ ان کی یہ خوشی چند روزہ ہے۔ اسرائیلی جارحیت نے عربوں کو بیدار کر دیا ہے۔ تیرہ سو برس کی زندگی میں اسرائیلی قبضہ کے چند برس کوئی اہمیت نہیں رکھتے۔ عرب بیدار ہو چکے ہیں اور آج جو لوگ اسرائیل کی کامیابی کی خوشی مناتے ہیں،وہی عربوں کو ان کی کامیابی پر مبارک باددیں گے۔ اسرائیل کی یہ حرکت ایک چیلنج ہے، جس کا ہمیں اور عربوںکو جواب دینا ہے۔ حالات بدل رہے ہیں۔ عرب اپنے کاز میںمتحد ہیں اور جلد ہی اپنے مقاصد میں کا میاب ہوں گے، ان شاء اللہ ۔ 

جناب سید یوسف محمد مطبقاتی کی تقریر

اس کے بعد سعودی عرب کے ناظم امور مملکت سید یوسف محمد مطبقاتی نے عربی میں تقریر کی، جس کا ترجمہ مولانا فصیح الدین صاحب دہلوی نے کیا۔

انھوں نے اپنی تقریر میں کہاکہ مسجداقصیٰ کی آتش زنی اسرائیلیوں اور صہیونیوں کے سوچے سمجھے منصوبے کا نتیجہ ہے۔ یہ الم ناک حرکت اس قابل ہے کہ ساری دنیا اس کی مذمت کرے۔ میں جمعیت علما اور اس کے سکریٹری حضرت مولانا اسعد مدنی کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے یہ احتجاجی اجتماع منعقد کر کے عربوں اور مسلمانوں کے کا زمیں آواز بلند کی۔

عرب جمہوری کے سفیر عبداللہ شفقی کی طرف سے بھی ان خیالات کی تائید کی گئی۔

 جلسہ میں سید حسین ابوغنی سکریٹری سفارت خانہ سعودی عرب بھی موجود تھے۔اس کے بعد مولانا فصیح الدین نے اعلان کیا کہ جدہ کانفرنس کے فیصلہ کے مطابق یہ احتجاج کیا گیا ہے اورامور اسلامی نے ساری دنیا میں ایسے جلسے منعقد کرنے کی اپیل کی ہے۔ لیکن اس کی اطلاع دفتر جمعیت میں وصول ہونے سے قبل ہی ہم نے اس اجتماع کا اہتمام کرلیا تھا۔  اس سلسلہ میں شیخ سرور حسان جنرل سکریٹری رابطۂ عالم اسلامی مکہ مکرمہ کا جو پیغام حضرت مولانا اسعد مدنی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند کے نام وصول ہوا، اس کا ترجمہ یہ ہے کہ :

گذشتہ سال21؍ اگست کے دن صہیونیت نے تاریخ کے انتہائی بھیانک جرم کا ارتکاب کیا اور مسجد اقصیٰ میں- جو پہلا قبلہ اور تیسراحرم ہے- آگ لگا دی۔ طاقت کے نشے میں جو اسرائیلیوں نے پورے عالم اسلام کے جذبات کوللکارا ، اور ان کے مقدس ترین مقامات میں آگ لگا دی۔ مسلمانان عالم کی مقدس سرزمین کے ایک اہم اور متبرک حصہ کو ہڑپ کر کے اپنے ناپاک عزائم پورے کر رہے ہیں۔اس نا خوش گوار اور الم ناک حادثہ کی یاد کے موقعہ پر مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اختلافات کو بھلا کر ایک ہو جائیں اور اپنی طاقت اور صفوںکو یک جا کر کے اپنی مقدس سر زمین کی بازیابی کے لیے جدوجہد شروع کردیں ۔

حضرت مولانا اسعد مدنی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے اسرائیلی جارحیت پر روشنی ڈالی اور بتایا کہ اسرائیلی جارح مغربی طاقتوں کے بل پر اچھل کود کر رہے ہیں۔ جب میں قاہرہ میں تھا اور المجمع البحوث الاسلامیہ کی کانفرنس میں شریک تھا،اس وقت اردن کے سفارتی ذرائع سے اطلاع ملی تھی کہ اسرائیل مسجد اقصیٰ کے نیچے کھدائی کر رہا ہے۔ اور اس مسجد کو شہید کر کے وہاں یہودی عبادت گاہ تعمیر کرنی چاہتا ہے۔ اسرائیل کی اسکیم یہ تھی کہ 21؍ ا گست کو یعنی آج کے دن مسجد اقصیٰ کی جگہ یہودی عبادت گاہ کا سنگ بنیاد رکھا جائے۔ لیکن عالمی رائے عامہ کے دباؤ کے باعث شاید وہ ابھی ایسا نہیں کرسکاہے۔ ہمارا فرض ہے کہ اس موقعہ پرہم اسرائیل کی مذمت میں اور مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے اور عرب کاز کی حمایت کے لیے آواز اٹھائیں۔

اس کے بعد مولانا سید احمد ہاشمی ناظم جمعیت علمائے ہند نے تجویز پر پڑھ کر سنائی اور اس کی تائید میں مختصر تقریر کی۔ جمعیت علما اور اس کے رہنما مولانا عبدالحکیم کی تائیدادی تقریر کے بعد قرار داد کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا اور عربوں کی کامیابی کی دعا کے ساتھ جلسہ بر خواست ہو گیا۔

قرارداد

قرارداد کا متن یہ ہے:

 جمعیت علما کا یہ اجلاس اسرائیل کی جارحانہ تو سیع پسندی اور اس کے جارحانہ عزائم کی مذمت کرتا ہے اور عام مقبوضہ عرب علاقوں اور تمام مقامات مقدسہ کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے۔ 21؍ ا گست کا آج کا دن اسرائیل کی دہشت پسندی کا وہ دن ہے،جس میں اس نے تمام مجرمانہ منصوبہ بندیوں کے ساتھ مسجداقصیٰ میں آتش زنی کا ارتکاب کیا اور اسے نقصان پہنچایا اور اس کی بے حرمتی کی۔

جمعیت علما کا یہ اجلاس مسجد اقصیٰ اور تمام مقامات مقدسہ کی پیہم بے حرمتی سے اپنی بیزاری کا اظہا رکرتا ہے اور دنیا کی تمام امن پسند طاقتوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ مقبوضہ عرب علاقوں اور مقامات مقدسہ کی بازیابی کی جدوجہد میں مؤثر کردار ادا کریں۔ ساتھ ہی یہ اجلاس یونسکو، اقوام متحدہ اور امن پسند طاقتوںسے یہ بھی اپیل کرتا ہے کہ مسجد اقصیٰ اور تمام مقامات مقدسہ کی حفاظت کا مکمل انتظام کیا جائے اور اسرائیل کو اس کی جارحانہ توسیع پسندی سے باز رکھا جائے۔

برقیے

 جمعیت علما کے جنرل سکر یٹری نے آج یونسکو، اقوام متحدہ، بڑی طاقتوں، عرب لیگ اور عرب ممالک کے نمائندوں کو تار دے کر وہ جذبات اور وہ مطالبات کیے ہیں، جو قرار داد مذکورہ میںبیان کیے گئے ہیں۔

جمعیت علمائے ہند کی اپیل پر ایسے ہی اجتماعات ملک کے دوسرے حصوں میں بھی ہوئے، جن میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی گئی اور عرب کاز سے مکمل ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔

 (روزنامہ الجمعیۃ،23؍ اگست 1970ء)

چھٹی مجمع البحوث الاسلامیہ قاہرہ کانفرنس کی قراردادوں کی تحسین

سال گذشتہ کی طرح 1971ء میںمجمع البحوث الاسلامیہ قاہرہ کی از27؍ مارچ، تا یکم اپریل1971ء  چھٹی کانفرنس منعقد ہوئی۔  ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانااسعد مدنی نے ہندستان کی نمائندگی کرتے ہوئے اس میں شرکت فرمائی۔

 26، 27 ؍ اپریل 1971ء کی تاریخوں میں جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، جس کے روبرو ناظم عمومی صاحب نے قاہرہ کانفرنس کی رپورٹ اور تجاویز پیش کیں۔مجلس عاملہ نے ان تمام تجاویز کا جائزہ لینے کے بعد، ان کی تائیدو تحسین کرتے ہوئے حسب ذیل تجویز منظور کی:

’’جمعیت علما ئے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس ’’المجمع البحوث الاسلامیہ قاہرہ کانفرنس‘‘ کی تمام قرار داد کی تحسین کرتا ہے ۔ کانفرنس نے اپنی تجاویز میں جن عزائم کا اظہار کیا ہے، وہ قابل مبارک باد ہیں۔ جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے پہلے بھی ’’المجمع البحوث الاسلامیہ‘‘ کے حوصلوں،ارادوں اور تجاویز کی تائید کی تھی۔ اور اب پھر مجلس عاملہ کا یہ اجلاس ’’المجمع البحوث الاسلامیہ‘‘ کے تمام فیصلوں کی تقویت و تائید کرتے ہوئے عرب موقف کو اپنی حمایت کا یقین دلاتا ہے۔‘‘

تجاویز چھٹی قاہرہ کانفرنس

۱۔ یہ کا نفرنس اسلامی ممالک اور مسلم اقوام سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ فلسطینی قوم اور دوسری تمام عرب اقوام کی عملی تائید اور ان کی جد و جہد میں مدد کریں، تاکہ وہ مقبوضہ علاقوں کو واگزار کرانے اور اسلامی مقدس مقامات کو دشمنوں کے پنجہ سے چھڑانے میں کامیاب ہوسکیں۔

نیز کا نفرنس اپنی سابقہ قرار دادوں کی توثیق کرتی ہے۔ خصوصاً ان کی، جن میں کہا گیا ہے کہ ’’جہاد بالنفس والمال‘‘ ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض عین ہے۔ کا نفرنس تمام مسلمانوں کو- وہ جہاں کہیں بھی ہوں- جہاد کی دعوت دیتی ہے۔

۲۔ مسجد اقصیٰ اور دوسرے اسلامی مقدس مقامات مسلمانوں کی ملک ہیں، کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ ان میں کوئی تصرف کرے، یا ان کی تقدیس کو کم کرے۔ اسی طرح عیسائیوں کے مقدس مقامات کی حفاظت اور نگرانی بھی مسلمانوں کا فرض ہے۔ نیز یہ بھی ضروری ہے کہ عیسائیوں کو ان کے مقدس مقامات کی زیارت کی سہولیات بہم پہنچ جائیں اور ایسا کرنا عہد نامہ عمری اور شریعت اسلامیہ کے احکامات کے عین مطابق ہو گا۔

۳۔ عرب اسرائیل جھگڑے کا ہر وہ حل، جس کی رو سے عربوں کو ان کے مقبوضہ علاقے -جن میں سب سے اہم اور مقدم بیت المقدس ہے- واپس نہ لیں،عرب کو ان علاقوں پر پوری سیادت اور اختیار حاصل نہ ہو؛ نا قابل قبول ہے۔ اسی طرح ہر وہ فارمولا، جس کی رو سے بیت المقدس کو بین الاقوامی شہر قرار دیا جائے، وہ اس درجہ میں ناقابل قبول ہے، جس درجہ میں بیت المقدس کو ایک ’’یہودی شہر‘‘ بنایا جانا۔

۴۔ دریائے اردن کے مغربی حصہ کے علما، مفتیان کرام نے جو فتویٰ 17؍ جمادی الول 1387ھ، مطابق22؍ اگست1969 ء کو جاری کیا، کانفرنس اس کی مکمل تصویب اور تائید کرتی ہے۔ فتویٰ کا خلاصہ یہ ہے : 

’’مسجد اقصٰی مبارک کا مذہبی مفہوم موجودہ معروف مسجد اقصیٰ، مسجد صخرۂ مشرفہ اور ان کے ہر چہار طرف کے احاطہ بمعہ دیوار اور دروازہ سب کو محیط ہے۔‘‘

اور اس مجموعہ کے کسی بھی حصہ پر کسی قسم کی زیادتی مسجد اقصیٰ پر زیادتی اور اس کی تقدیس کے خلاف جارحیت سمجھی جائے گی۔ نیز شہر الخلیل میں حرم ابراہیمی ایک مقدس اسلامی مسجد ہے اور اس کے کسی بھی حصہ پر زیادتی اس کی حرمت اور تقدیس کے خلاف ہوگی۔

۵۔ کانفرنس اسرائیل کے ان اقدامات کی سخت مذمت کرتی ہے جووہ شہر بیت المقدس کے تاریخی، تہذیبی اور مذہبی نشانات کو مٹانے کے لیے برابر کر رہا ہے۔ کانفرنس اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس سلسلہ کی اپنی قرار دادوں پر عمل درآمد کرے اور اسرائیل کو اس کے ان اقدامات سے بازہ رکھے۔

۶۔ کانفرنس اسرائیل کے تئیں امریکہ کے رویہ کی سخت مذمت کرتی ہے۔ امریکہ باوجود اس بات کے کہ اسرائیل ہٹ دھرمی اور ضد کی پالیسی اختیارکیے ہوئے ہے، اس کی برا بر فوجی، اقتصادی اور سیاسی مدد کر رہا ہے ۔کانفرنس امریکہ کے اس رویہ کو دنیا ئے عرب و اسلام کے خلاف صریح دشمنی پر محمول کرتی ہے۔

۷۔ اسرائیل نے عرب مقبوضہ علاقوں میں ظلم و جارحیت اور دحشت و بربریت کی جو پالیسی اپنا رکھی ہے، وہ انسانی حقوق کی پامالی ہے اور کانفرنس اس پالیسی کی سخت مذمت کرتی ہے۔ اسرائیل مقبوضہ علاقہ کے لوگوں کو مختلف وحشت ناک طریقوں سے اذیتیں پہنچا رہا ہے۔ ان کے مکانات مسمار کر رہا ہے۔ شہریوں کو ان کے گھروں سے نکال کر بے دخل کر رہا ہے، جائدادیں اور زمینیں ضبط کر رہا ہے اور یہودیوںکو بسانے کے لیے نوآبادیاں تعمیر کر رہا ہے۔ یہ تمام مظالم نسلی امتیازکی انتہائی بدترین شکل ہیں۔

۸۔ کانفرنس اس بات پر اصرار کرتی ہے کہ تمام اسلامی ممالک  اسرائیل سے اپنے سیاسی اور اقتصادی تعلقات منقطع کرلیں۔

۹۔ کانفرنس تمام امن پسند ممالک سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اسرائیل سے اپنے تعلقات توڑ لیں۔

۱۰۔ کا نفرنس تمام عرب ممالک پر زور دیتی ہے کہ وہ اپنی پوری طاقت اور قوت سے مشرقی اور مغربی محاذ کو مضبوط کریں، اور فوجی اتحاد کے منصوبہ کو عملی جامہپہنائیں۔

۱۱۔ کانفرنس اسلامی ممالک سے اپیل کرتی ہے کہ وہ رضا کارہواباز اور دوسرے ماہرین محاذ جنگ پر بھیجیں۔ نیز کا نفرنس تمام اسلامی ممالک سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ محاذ جنگ پر اپنے بھائیوں کی ہر طرح جان سے اور مال سے مدد کریں۔

۱۲۔ کانفرنس اسلامی ممالک اور دوسری اسلامی تنظیموں اور اداروں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنے ہاں ’’جہاد فنڈ‘‘قائم کریں، تاکہ یہ فنڈ جہاد اور مجاہدین کے خاندانوں کی دیکھے بھال پر خرچ کیا جا سکے۔ نیز حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بجٹ کا ایک حصہ اس فنڈ کے لیے مخصوص کر دیں اور مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ انفرادی اور قومی پیمانہ پر اس فنڈ میں حصہ لیں۔

۱۳۔ کانفرنس مجمع البحوث الاسلامیہ سے درخواست کرتی ہے کہ وہ اس فنڈ کے قیام کے سلسلہ کی کارروائیوںکو برابر جاری رکھے اور قاہرہ میں قائم ہونے والے فنڈ اور دوسرے ممالک کے اندر قائم شدہ فنڈ کے درمیان رابطہ اور تال میل پیداکرے۔

۱۴۔ کانفرنس اعلان کرتی ہے کہ فلسطینی فدائین کی تحریک مزاحمت، جہاد شرعی کی ایک شکل ہے۔ اس بنا پر کانفرنس مقبوضہ علاقوں کے پڑوسی ممالک سے سفارش کرتی ہے کہ وہ تحریک مزاحمت کو اپنی مہم کی انجام دہی میں پوری سہولت بہم پہنچائیں ،تاکہ وہ اپنے اس مقدس، پاک اور دشوار تر فرض کو پورے طریقہ پر انجام دے سکیں۔ نیز کسی کے لیے یہ جائزہ نہیں کہ وہ تحریک مزاحمت کی راہ میں رکاوٹ بنے۔

۱۵۔ کانفرنس تحریک مزاحمت اور متعلقہ حکومتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنے مابین باہمی تعلقات کے بارے میں ان معاہدوں پر عمل پیرا ہوں، جو ان کے درمیان طے پاتے ہیں، تمام کوششیں اور ہتھیار صرف دشمن کے سینہ کی طرف موڑے جائیں، اور کوشش کی جائے کہ فوج اور فدائین کی جانیں بے کار تلف نہ ہوں۔

۱۶۔ نیز کانفرنس تحریک مزاحمت سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنی صفوں کو ایک کرے اور دشمن کے خلاف مہم میں ایک ہو جائے۔

۱۷۔ کا نفرنس اپیل کرتی ہے کہ ایک ایسا اسلامی بینک قائم کیا جائے، جو شرعی خرابیوں اورمحظورات سے پاک ہو۔ کا نفرنس کو مسلمانوں اور اسلامی حکومتوں کے اس یقین پر پورا اعتماد ہے کہ وہ مسلمانوں کی اس ضرورت کو محسوس کرتے ہیں، تا کہ اقتصادیات کی ایک بنیادی ضرورت پوری ہو سکے۔

۱۸۔ کا نفرنس اپیل کرتی ہے کہ ایک اسلامی ادارۂ نشر واشاعت قائم کیا جائے، تاکہ تالیف وتر جمہ اور نشر و اشاعت کے میدان میں دنیائے اسلامی کی ضرورت پوری کی جاسکے۔

۱۹۔ چوںکہ کا نفرنس نے اردن اور پاکستان میں ہونے والی خانہ جنگی اور جھگڑے کے ہر دو فریق سے اپیل کی ہے اور تار دیے ہیں کہ وہ قتل وخوں ریزی کا سلسلہ بند کر دیں۔ اس لیے کا نفرنس فیصلہ کرتی ہے کہ ہر دوممالک میں وفود بھیجے جائیں جو فریقین سے ملیں اور ان سے اس اپیل پر عمل درآمد کی درخواست کریں۔

۲۰۔ کانفرنس نشر و اشاعت کی مشینری، اخبارات، ریڈیو، ٹیلی ویژن کے ذمہ داران سے سفارش کرتی ہے کہ وہ اسلامی آداب اور قدروں کی رعایت کریں، نیزان تمام وسائل پر نگرانی اور سنسر سخت کیا جائے، تاکہ اسلام کے بنیادی اصول، روایات اور معاشرہ کی بھلائی کا تحفظ کیا جا سکے۔

۲۱۔ کانفرنس مسلم معاشرہ سے- جس میں مرد اور عورت دونوں شامل ہیں- اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنے چال چلن، لباس اور دوسرے تمام معاملات میں اسلامی آداب اور روایات کو ملحوظ رکھیں۔

 ۲۲۔ کانفرنس تمام اسلامی ممالک کی وزارت تعلیم سے سفارش کرتی ہے کہ وہ تعلیم کے ہر مرحلہ میں اسلام کی میراث اور مذہبی تعلیم کا خاص خیال رکھیں۔

۲۳۔ کا نفرنس تمام اسلامی حکومتوں اور سوسائٹیوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اپنے اجتماعات اور تقریبات میں اسلامی آداب کو برقرار رکھیں اور حرام مشروبات کے استعمال اور ضیافت میں ان کے پیش کرنے سے باز رہیں۔

۲۴۔ کا نفرنس سفارش کرتی ہے کہ امت کی نوجوان نسل کی پر ورش میں ہر مرحلہ پر گھر میں، مدرسہ میں، معاشرہ میں، اسلامی آداب ملحوظ رکھے جائیں۔

۲۵۔ کانفرنس سفارش کرتی ہے کہ مسلم ممالک کے تمام تعلیمی اداروں میں ایک مسجد ہو، تاکہ نماز اور اسلامی شعائر ادا کیے جاسکیں۔

۲۶۔ کانفرنس محاذ جنگ پر کھڑے ہر سپاہی اور جاںباز فدائی کو سلام پیش کرتی ہے اور ان کی بہادری اور بے نفس قربانی کی انتہائی قدر کرتی ہے۔

۲۷۔ کا نفرنس ان تمام ممالک اور تنظیموں کا شکریہ ادا کرتی ہے، جنھوں نے سابقہ کا نفرنس کی قرار دادوں پر عمل درآمد کیا۔ اور اب بھی کا نفرنس یہ امید کرتی ہے کہ تمام مسلم حکومتیں اورتنظمیں کانفرنس کی قرار دادوں پر عمل درآمد کریں گی۔

۲۸۔ کانفرنس متحدہ عرب جمہوریہ کے عوام، حکومت اور جامعہ ازہر کا شکریہ ادا کرتی ہے کہ اس نے یہ موقع فراہم کیا اور کانفرنس کو پوری سہولتیں بہم پہنچائیں۔ 

یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِن تَنصُرُوا اللَّہَ یَنصُرْکُمْ وَیُثَبِّتْ أَقْدَامَکُمْ (محمد:7) 

قاہرہ میں ایک نئی تنظیم قائم کی جارہی ہے، جس کا نام ہوگا: ’’مسلم نوجوانوں کی عالمی یونین‘‘۔ اس میں دنیا بھر کی مختلف مسلم انجمنیں اور اسلامی ادارے شامل ہوں گے۔ اس کا مقصد مسلمانوں کی مختلف کوششوں کو یک جا کرنا ہو گا۔ ابتدائی طور پر اس یونین کے پیش نظر دو اہم منصوبے ہیں:

(۱) دار الفکر الاسلامی،ایک ادارۂ تالیف نشر و اشاعت و ترجمہ، جس کا مقصد وعلمی، فکری میدانوں میں مسلم نوجوانوں کی صحیح رہنمائی اور ان مختلف جملوں کے اثرات سے ان کو محفوظ رکھنا جو وقتاً فوقتاً اسلام اور مسلمانوں کے خلاف دشمنوں کی جانب سے ہوتے رہتے ہیں۔ 

(۲) دوسرے ایک ’’اسلامی بینک کا قیام‘‘ تاکہ مسلمانوں کو اقتصادی میدان میں سود کی لعنت سے بچایا جا سکے۔ یو نین کے ممبراہم اور نمایاں شخصیات بھی ہو سکتے ہیں۔ یونین کے دوسرے مقاصد میں مختلف اوقات میں کانفرنسیں، سمپوزیم اور سمینار اور مجالس مذاکرہ کا انعقاد بھی شامل ہے۔ اسکالرشپ، انعامات، اور امدادی کام۔ یونین سیاسی امور میں بحث و مباحثہ اور نظریاتی اختلاف سے دور رہے گی۔(ہفت روزہ الجمعیۃ،14؍ مئی 1971ء)

سعودی عرب کے سفیر کی اجلاس منتظمہ میںجمعیت کی خدمات کا اعتراف

5؍ مئی 1972ء کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں سعودی عرب کے سفیر شیخ انس یوسف یاسین نے اپنے خطاب میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز اٹھانے میں جمعیت کی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے مسرت کا اظہار کیا۔ انھوں نے سب سے پہلے اپنی اور سفیر اردن جناب طوقان کی جانب سے شکریہ ادا کیا کہ انھیں جمعیت علمائے ہند کے اس اجتماع میں شرکت کا موقعہ دیا۔ انھوں نے ان قرار دادوں پر اظہار مسرت کیا، جو جمعیت علمائے ہند نے ہندستانی مسلمانوںکے اتحاد، فلاح اور بہبودی کے لیے پاس کی ہیں۔ آپ نے اس بات کے لیے بھی شکریہ ادا کیا ،جو رویہ ہندستانی قوم نے عربوں کی مصیبت کے وقت اختیار کیا اور ان کی جس طرح سے حمایت کی۔ آپ نے کہا کہ اس کے لیے عرب ہمیشہ شکر گزار رہیںگے۔ عربوں اورہندستانی قوم کے درمیان گہرے اور دیرینہ روابط ہیں اور دوستی کی ایک تاریخ ہے،اور ہم اُس کو اور زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے کی کوشش کریں گے۔ ہم اس بات کو نہیں بھول سکتے کہ اسرائیل نے ہماری سرزمین پر حملہ کیا اوربیت المقدس اور جو قبلۂ اول اور تیسرا حرم شریف ہے، قبضہ کیا، تو آپ نے اور ہندستانی قوم نے اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ آج سے ٹھیک ایک ماہ بعد اس منحوس واقعہ کو پورے پانچ برس ہو جائیںگے،جب اسرائیل نے عرب علاقوں پر قبضہ کیا تھا، لیکن دوستو یہ ایک آزمائش اور امتحان تھا اور ہمیں اللہ تبارک تعالیٰ سے یہ امید ہے کہ ہم اس امتحان میں کا میاب ہوں گے اور جلدہی عرب علاقوں کو آزاد کرا سکیں گے۔ آخیر میں آپ نے دعا کی کہ اللہ ہمیں اور آپ کو توفیق عطا کرے کہ ہم اور آپ اپنی قوم کی بہبود و فلاح کے لیے زیادہ سے زیادہ کام کریں۔ آپ نے ایک بار پھر اپنی اور سفیر اردن کی جانب سے شکریہ ادا کیا کہ انھیں اس اجلاس میں شرکت کا موقعہ دیا گیا۔ 

تئیسویں اجلاس عام میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف صدائے احتجاج

5،6،7؍مئی 1972ء کو جمعیت علمائے ہند کا تئیسواں اجلاس عام ہوا۔ جس میں مولانا اسحاق سنبھلی ایم پی نے اسرائیلی مظالم سے متعلق قرار داد پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ہندستان کی حکومت اور ہندستان کے ترقی پسند اور منصف مزاج عوام نے عربوں کی مکمل حمایت کی ہے۔ مسجد اقصیٰ میں اسرائیل کی آتش زنی کی ہند ستانی پارلیمنٹ نے بھی مذمت کی تھی۔

(روزنامہ الجمعیۃ، 11؍ مئی 1972ء)

قرارداد کا متن درج ذیل ہے:

’’عربوں پر اسرائیلی سامراج کے مظالم سفاکی اور قابلِ نفرت بربریت نے ساری دنیا کے امن پسندوں کو بے چین کررکھا ہے۔ اسرائیل نے امریکہ اور دوسرے سامراجیوں کی مدد سے لاکھوں عربوں کو ان کے گھروں سے بے وطن کیا ہے۔ ہزارہا ہزار مردوں، عورتوں اور بچوں کو نہایت ہی سنگ دلانہ طور پر شہید کرکے سفاکی کی انسانیت سوز مثال قائم کی ہے، عالم اسلام کے قبلۂ اوّل مسجد اقصیٰ میں نہایت مذموم طور پر آگ لگادی، جس کے باعث دنیا کی ہر مہذب اور امن پسند قوم نے اسرائیل کی سخت مذمت کی ؛مگر اسرائیل کو نہ ظلم اور بربریت کا کوئی احساس ہے، نہ دنیا کے امن پسندوں کی آواز اور رائے عامہ کا کوئی لحاظ ہے۔ نہ آسمانی مذہبوں کا کوئی احترام ہے، ایسی حالت میں جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس عام تمام دنیا کے امن پسندوں، ظلم سے نفرت کرنے والوں اور آزادی سے محبت کرنے والوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ بلاتاخیر عرب مظلوموں کی ہمہ گیر اور ہر ممکن حمایت پر کمربستہ ہوجائیں اور اسرائیلی سامراج کے نام و نشان کو مٹانے اور تمام عرب علاقے واپس لینے میں عربوں کا ساتھ دیں۔ یہ اجلاس ان تمام قوموں اور افراد، ملکوں اور حکومتوں خاص طور پروزیر اعظم حکومت ہند مسز اندراگاندھی اور حکومت ہند کا شکریہ ادا کرتا ہے اور ان کی اس ہمدردی کا اعتراف کرتا ہے، جو انھوں نے مظلوم عربوں کی حمایت کرکے اپنا ایک عظیم اور مقدس فریضہ ادا کیا ہے۔

جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس عام عربوں کو اپنی پُرخلوص اور دلی حمایت کا یقین دلاتا ہے اور یہ کہنا حقیقت پر مبنی سمجھتا ہے کہ عربوں کی تکلیف اور عربوں پر ظلم کو ہم اپنے لیے تکلیف اور ظلم سمجھتے ہیں۔ اور خداوند عالم سے دست بہ دُعاہیں کہ وہ عربوں میں اتحاد اور وہ قوت عطا فرمائے ،جس سے وہ امریکی سامراج کے پروردہ اسرائیلی سامراج کو ختم کرکے دنیا کے سامراج کو دفن کرسکیں۔‘‘

الفتح کے شہید لیڈروں کے دعائے مغفرت کی اپیل

اسرائیلی کمانڈوزنے- جن میں خصوصی دستہ Sayeret Matkal بھی شامل تھا-  10؍ اپریل 1973ء کی رات (10 اور 11 اپریل کی درمیانی شب)میںOperation Spring of Youth کے تحت خفیہ طور پر لبنان کے دارالحکومت بیروتمیں داخل ہوکر فلسطینی تنظیم الفتحکے رہنماؤں کے گھروں کو نشانہ بنایا۔ اور  الفتح کے لیڈروں: کمال ناصر، کمال عدوان اور یوسف نجار کو شہید کردیا۔ یہ فتح کے چوٹی کے لیڈر تھے اور تنظیم آزادی فلسطین کی مرکزی کمیٹی کے رکن تھے۔

جمعیت علمائے ہند کی اپیل پر12؍ اپریل1973ء کو بعد نماز جمعہ ہر مسجد میں الفتح کے تین شہیدلیڈروں: کمال ناصر، کمال عدوان اور یوسف نجار کے لیے دعائے مغفرت کی گئی ۔

دوسری طرف جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی مولانا اسعد مدنی نے ایک برقیہ میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت کو روکنے کے لیے مؤثر قدم اٹھائیں۔ (روزنامہ الجمعیۃ،14؍ اپریل1973ء)

مصرو لیبیا کا انضمام اسرائیلی سازش ناکام بنانے میں مفید ہونے کا امکان

30؍ اگست 1973ء کو ریڈیو قاہرہ نے اعلان کیا کہ لیبیا اور مصر کی ایک نئی پولیٹیکل یونین بنانے اور دونوں ملکوں کے انضمام کے بارے میں فیصلہ ہوچکا ہے۔ یہ نئی ریاست -جس کا ابھی نام نہیں رکھا گیا ہے-1952 ء کے مصری انقلاب اور 1969 ء کے لیبیائی انقلاب کے اصولوں کی بنیاد پر قائم کی جارہی ہے۔ مصر کے صدر مسٹر انور سادات اور لیبیا کے صدر کرنل قذافی کی سربراہی میں دونوں ملکوں کی متحدہ پولیٹیکل کمان کی تشکیل عمل میں آگئی ہے۔

 (روزنامہ الجمعیۃ، 31؍ اگست 1973ء )

اسی خبر کے تناظر میں جمعیت علما کی مجلس عاملہ کی ایک میٹنگ29،30 اگست 1973ء کو منعقد ہوئی، جس میں ایک تجویز منظور کرتے ہوئے جہاں مصرو لیبیا کے اس انضمام کا خیر مقدم کیا گیا، وہیں دوسری طرف اسے اسرائیلی سازش کے ناکام بنانے کے لیے مفید ہونے کا بھی امکان ظاہر کیا گیا۔ تجویز میں کہا گیاکہ:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس مصر ولیبیا کے انضمام کا خیر مقدم کرتا ہے۔ یہ دوملک -جو نسلی،لسانی اور مذہبی رشتوں میں پہلے ہی منسلک تھے- ملکی ،سیاسی مسائل میں ان کا ارتباط یقینا دونوں ملکوں کے لیے خوش حالی اور ترقی اور تحفظ کی ضمانت ہوسکتا ہے۔

 اسرائیل نے امریکہ کی پشت پناہی سے عرب ملکوں پر ناجائز تغلب اور ان کے علاقوں پر دست برد کا جوسلسلہ جاری کر رکھا ہے اورجس کو تمام حق پسند اور آزادی خواہ ممالک و اقوام -جن میں ہندستان شامل ہے- نفرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ امید ہے کہ یہ انضمام اس سازش کی کڑیاں توڑنے میں مفید ثابت ہوگا۔ 

جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس اس انضمام والحاق پر دونوں ملکوں کے سربراہوں کو خراج تحسین اداکرتا ہے اور خداوند تعالیٰ سے دعا کرتا ہے کہ اس انضمام سے جو بہترین قومی وملکی توقعات وابستہ کی گئی ہیں، وہ پوری ہوں اور دوسرے عرب ملکوں کے اتحاد کے لیے بھی یہ انظمام بہترین نمونہ ثابت ہو۔‘‘

مصر اور شام پر اسرائیلی حملہ کی مذمت

چوں کہ5تا10؍جون 1967 کی ’’چھ روزہ جنگ‘‘ میں اسرائیل نے، مصر، اردن اور شام کو شکست دیتے ہوئے مغربی کنارہ (West Bank)، مشرقی یروشلم (East Jerusalem)، غزہ کی پٹی (Gaza Strip)، جزیرہ نما سینا (Sinai Peninsula) اور گولان کی پہاڑیاں (Golan Heights) پر قبضہ کرلیا تھا، اس لیے عرب ممالک نے انھیں دوبارہ حاصل کرنے کے لیے 6؍ اکتوبر 1973 ء کو ’’یوم کپور کی جنگ‘‘ یا ’’رمضان کی جنگ‘‘ شروع کی، تاکہ اسرائیل کے ناجائز توسیع پسندانہ عمل کو روکا جاسکے۔ 

لیکن اسرائیل نے مصر، شام اوراردن کے محاذوں پرشدید حملے کیے، جن کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں جنگ کا دائرہ وسیع ہوگیا۔ اسی درمیان عراق اور کویت بھی جنگ میں کود پڑا، ان حالات کے پیش ناظر مولانا سید احمد ہاشمی صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے7؍ اکتوبر1973ء کو مصر اور شام پر اسرائیلی حملہ کی مذمت کی اور عربوں کی کامیابی کے لیے جمعہ کو یوم دعا منانے کی اپیل کی۔

 (روزنامہ الجمعیۃ، 9؍ اکتوبر1973ء)

عربوں کی امداد کے لیے رضاکار بھیجنے کا فیصلہ

جمعیت علمائے ہند نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف حق وانصاف کی جنگ میں عربوں کی امداد کے لیے ہندستان سے رضاکار بھیجے جائیں، اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ناظم عمومی مولانا سید احمد ہاشمی صاحب نے 10؍ اکتوبر1973ء کو عوام سے پرزوراپیل کہ وہ اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔ (روزنامہ الجمعیۃ،12؍ اکتوبر1973ء)

اسرائیلی جارحیت کے خلاف عظیم الشان احتجاجی اجلاس

رمضان جنگ-جو 6؍اکتوبر1973ء کو شروع ہوئی تھی اور تقریبا 24؍اکتوبر1973ء تک جاری رہی-جاری تھی کہ اسی درمیان12؍ اکتوبر1973ء کو بعد نماز جمعہ جامع مسجد کے ایک عظیم الشان جلسہ ہوا، جس میں مغربی ایشیا میں اسرائیل کی جارحیت کی پر زور مذمت کی گئی اور عربوں کو اس بات کے لیے مبارک باد دی گئی کہ وہ نہایت جرأت و بہادری کے ساتھ اس کا مقابلہ کرر ہے ہیں۔ یہ جلسہ جمعیت علمائے ہندکے زیر اہتمام منعقد ہوا۔ ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا سید احمد ہاشمی صاحبؒ نے ایک قرار داد پیش کی، جس میں ہندستانی عوام اور خاص طور سے مسلمانان ہند کی طرف سے عربوں کو مکمل حمایت کا یقین دلایا گیا۔ قرار داد- جو اتفاق رائے سے منظور کی گئی- اس کی تائید کرنے والے اصحاب میں مرکزی وزیر مملکت جنرل شاہ نواز، نائب وزیر داخلہ مسٹر ایف ایچ محسن اور مولانا اسحاق صاحب سنبھلی ممبر پارلیمنٹ شامل تھے۔ ان سب نے پر زور الفاظ میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی اور یقین ظاہر کیا کہ عرب اس لڑائی میں- جو حق اور انصاف کی لڑائی ہے- ضرور کامیاب ہوں گے۔ 

جنرل شاہ نواز اور مولانا اسحاق سنبھلی دونوں نے اعلان کیا کہ ہم سب سے پہلے شخص ہوںگے، جو محاذ پر جانے کے لیے تیار ہوںگے۔ جلسہ اللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں کے درمیاں دعا پر ختم ہوا۔ تمام حاضرین نے جن میں خواتین بھی شامل تھیں، نہایت خلوص دل سے اپنے مولیٰ کے حضور میں دعا کی کہ اللہ تعالیٰ عربوں کو- جو ایک ظالم و سفاک دشمن سے برسر پیکار ہیں- کامیاب و کامران کرے۔یہ دعا صدر جلسہ حضرت مولانا اخلاق حسین صاحب قاسمی ناظم جمعیت علمائے ہند نے کرائی۔ 

جلسہ میں عرب ممالک کے جو ڈپلومیٹ شامل تھے، ان کی طرف سے سفیر عراق، ڈاکٹر عبد اللہ علوم سامر انی نے اعلان کیا کہ اگر دمشق، قاہرہ، یابغداد پر بھی اسرائیلیوں کا قبضہ ہوجائے، تو ہم ہتھیار نہیں ڈالیںگے۔ ہم پوری سرزمین عرب سے لڑیںگے اور امریکی مفادات کو ختم کر کے رہیں گے۔ جلسہ کا آغاز قاری فرید احمد صاحب کی تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا سید احمد ہاشمی نے مشرق وسطیٰ کے پس منظر پر مختصر روشنی ڈالتے ہوئے قرار داد پیش کی(جو آگے درج ہے)جس کی تائید میں دیگر اصحاب نے تقریریں کیں۔ ان کے اقتباسات درج ذیل ہیں۔ 

جنرل شاہ نواز خاں صاحب کی تقریر

 مشرق وسطیٰ میں اس وقت جو جنگ چھڑ گئی ہے، وہ نہ صرت مسلمانان ہند؛ بلکہ دنیا کے مسلمانوں میں ایک جذبہ امڈ پڑا ہے۔ ہندستان کا مسلمان ان مقامات مقدسہ کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔ میںعرب سفرا اور عرب ڈپلومیٹوں کو یقین دلاتا ہوں کہ جب ضرورت پڑے گی، تو لاکھوں لوگ اپنے عرب بھائیوں کے شانہ بہ شانہ مرنے اور جام شہادت نوش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ میں اپنی خوش قسمتی سمجھوں گا کہ اگر میں محاذ جنگ پر اپنے بھائیوں کے لیے کام آجاؤں (اللہ اکبر کے نعرے)۔

 جنرل شاہ نواز نے روس کی اس بات کے لیے تعریف کی کہ وہ عرب ممالک کی امداد کر رہا ہے۔ ہندستان کے موقف کے بارے میں بھی بتایا کہ وہ عربوں کی حمایت کر تا ہے؛ کیوںکہ وہ حق پر ہیں۔ یہ بھی کہا کہ ہم اس بات کے منتظر ہیں کہ کیا اردن اور سعودی عرب وغیرہ ممالک بھی باقاعدہ جنگ میں شریک ہیں۔

 مولانا اسحاق سنبھلی صاحب ؒکی تقریر

 صرف مسلمان ہی نہیں؛ بلکہ غیر مسلم بھی عربوں کے ساتھ ہیں۔ امریکہ آٹھ سال میں اپنے ڈھائی لاکھ آدمیوں کو کٹوا کر مشرق وسطیٰ میں پہنچا ہے۔ یہ اس کی شکست کا سال ہے۔ مشرق وسطیٰ میں بھی اسے شکست ہوگی۔ میں صدر کا نگریس ڈاکٹر شنکر دیال شرما، مسٹرسی راجیشور راؤ کمیونسٹ لیڈر اور دوسرے ہندستانی لیڈروں کو مبارک باد دوں گا ؛کیوںکہ انھوں نے عربوں کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ میں جمعیت علمائے ہند کو بھی مبارک باد دیتا ہوں کہ اس نے عرب بھائیوں کی امداد کے لیے رضار کا بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ میں اپنے آپ کو رضا کارانہ خدمات کے لیے پیش کرتا ہوں کہ حق و صداقت کا مسئلہ ہے۔ عرب اپنی جدو جہدمیں کامیاب ہوں گے۔

 مسٹر محسن نائب وزیر داخلہ صاحب کی تقریر

 مجھ سے پہلے میرے محترم ساتھی اور دوست جنرل شاہ نواز خان اور مولانا اسحاق سنبھلی نے نہ صرف ہندستان؛ بلکہ تمام دنیا کے عوام کے جذبات کی ترجمانی کی ہے ۔یہ مسلمان اور یہودی کا سوال نہیںہے؛ بلکہ انصاف اور نا انصافی کا معاملہ ہے۔ آج عرب پہلے سے زیادہ متحد ہیں۔ 1967 ء میں ایسا نہ تھا۔ اس وقت تو ایک سازش تھی، جس کے تحت قبل از جنگ عربوں کی طاقت ختم ہو گئی۔ اس وقت عرب جو جنگ لڑ رہے ہیں، ہم ان کے ساتھ ہیں۔ روس، چین، افریقہ اور یورپ کے ممالک بھی ان کے حامی ہیں۔ یہ افسوس کی بات ہے کہ امریکہ اسرائیل سے مقبوضہ علاقوں کو خالی کرانے کے بجائے اس کی مدد کر رہا ہے۔ اس طرح مشرق وسطیٰ کی جنگ میں اسرائیل اکیلا نہیں؛ بلکہ امریکہ بھی اس کے ساتھ ہے۔ اگر اسرائیل اکیلا ہوتا، تو جنگ کبھی کی ختم ہو چکی ہوتی اور عرب اپنے علاقوں کو واپس لے چکے ہوتے۔ 

سفیر عراق ڈاکٹر عبداللہ سلوم کی تقریر

 میں عرب مجاہدین اور ڈپلومیٹوں کی طرف سے اس بات کے لیے شکر گزار ہوں کہ عربوںکی تائید و حمایت میں جلسہ کیا گیا۔ اس وقت عرب قوم تاریخ کے انتہائی نازک دور سے گذر رہی ہے اور اسے ایک امتحان درپیش ہے۔ اس وقت اگر میںکچھ کہنا چا ہوں، تو کہوں گا کہ یہودی توریت، قرآن اور انجیل کے منکر ہیں۔ ان کے آباو اجداد نے حضرت موسیٰ کو جھٹلایا تھا اور توریت کو آگ لگائی تھی۔ وہ ہمیشہ مکاری اور فریب کاری سے کام لیتے رہے ہیں۔ آج بھی وہ اپنے آبا واجداد کے طریقے پر چل رہے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ وہ شام میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ ہمارے پاس جو اطلاعات آرہی ہیں، ان سے ان کے دعویٰ کی تردید ہوتی ہے۔ دراصل وہ نفسیاتی جنگ کا حربہ چل رہے ہیں۔

آج جنگ کو سات دن ہوئے ہیں، اس عرصہ میں اسرائیل کے سینکڑوں جہاز تباہ کردیے ہیں۔ ہم پختہ ارادے کے ساتھ لڑرہے ہیں۔ اگر امریکہ اور دوسرے در میان میں آئے اور انھوں نے نقشہ بدلنے کی کوشش کی، تو خواہ دمشق اور قاہرہ یا بغداد بھی ہاتھ سے نکل جائیں، تو بھی ہم پرواہ نہیں کریںگے۔ پوری عرب سرزمین ہماری دار الحکومت ہے۔ ہم دوسری جگہ ہیڈ کوارٹربناکر لڑیں گے۔حبشہ میں بیٹھ کر لڑیں گے،بصرہ میں بیٹھ کر لڑیںگے، مکہ اور مدینہ سے لڑیں گے؛ لیکن امریکہ جیسے ملکوں کے مفادات کو ختم کر کے رہیں گے۔ ہم نے عہد کر رکھا ہے کہ ہم کسی طرح سانس نہیں لیں گے، (اللہ اکبر، اللہ اکبر کے فلک شگاف نعرے) ہم اُمت محمدیہ سے تعلق رکھتے ہیں، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیرو کار ہیں، اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ جہاد ہم پر فرض ہے، ہم نے حق کی خاطر سینکڑوں خون بہائے ہیں اور آج بھی خون بہا رہے ہیں۔

یہودیوں کا خطرہ صرف عربوں کو نہیں؛ بلکہ وہ پوری مسلمان قوم کے در پے  ہیں۔ آج ہم ایسے دوراہے پر کھڑے ہیں کہ ہمیں اپنی پالیسی متعین کرنی ہے، جو اسرائیل کا ساتھ دے گا، ہم اس سے نہیں ملیں گے۔

آپ حضرات نے عربوں کی تائید و حمایت کاجو مظاہرہ کیا ہے، اس کے لیے میں آپ کا اور جمعیت علمائے ہند کا اپنی طرف سے اور اپنے ساتھیوں کی طرف سے شکر گزار ہوں۔ حکومت ہند نے عربوں کی حمایت کا جو موقف اختیار کیا ہے،اس کے لیے میں شکر گزار ہوں۔ ہندستان نے ہمیشہ حق و انصاف کی حمایت کی ہے اور امید ہے کہ وہ برابر حق و انصاف کی حمایت کرتا رہے گا۔

آج جامع مسجد میں غیر معمولی اجتماع تھا۔ رمضان شریف کی وجہ سے بھی ،اور اس وجہ سے بھی کہ آج کے دُعائیہ جلسہ کا اعلان اخبار اور پوسٹروں کے ذریعہ کر دیا گیا تھا۔ نمازیوں کی صفیں حوض سے آگے تک نکلی ہوئی تھیں اور پیچھے دالانوں میں خواتین کی بڑی تعداد موجود تھی۔ جلسہ میں وقتا فوقتا اللہ اکبر کے فلک شگاف نعرے بلند ہوتے رہے اور دعا کے بعد اللہ اکبر کے نعرے کے درمیان ہی جلسہ برخواست ہوا۔(روزنامہ الجمعیۃ،14؍ اکتوبر 1973ء)

اس جلسے میں منظور ہونے والی قرارداد درج ذیل ہے:

جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام مسلمانان دہلی کا یہ اجلاس مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کی پیہم جارحیت اور اس کے تازہ ترین شرم ناک حملے کی پر زور مذمت کرتا ہے۔ اور عرب اقوام کو نظم و اتحاد اور بہادری کے ساتھ اسرائیل کا مقابلہ کرنے کے لیے مبارک باد پیش کرتا ہے اور یقین دلاتا ہے کہ حق وانصاف کے لیے اس کی جدوجہد میں ہندستانی عوام اور مسلمانان ہند پوری طرح ان کے ساتھ ہیں۔ 

یہ اجلاس امریکی سامراج کی ان تمام سازشوں کی مذمت کرتا ہے، جس کے پر دے میں اس نے اسرائیل کو سامراجی چھاؤنی بنانے کے لیے اسلحہ جات فراہم کیے ہیں۔ اور آج بھی کھلم کھلا اور در پردہ صہیونی درندوںکو مسلح کرنے کی کو شش کر رہا ہے۔

 یہ اجلاس انجمن اقوام متحدہ اور اقوام عالم سے اپیل کرتا ہے کہ وہ حق وباطل کے اس معر کہ میں عربوں کی پوری طرح حمایت کریں اور اس بات کو مد نظر رکھتے ہو ئے کہ اسرائیل نے ہر بین الاقوامی فیصلے کو پیروں تلے روندا ہے، اسرائیلی توسیعی پسندی کی تمام سازشوں کو پارہ پارہ کر دیں، اور اسے تمام مقبوضہ علاقوں کو خالی کرنے اور فلسطین کے باشندوں کو ان کی زمین واپس دینے پر مجبور کر دیں۔

 یہ اجلاس دمشق وغیرہ کے شہری علاقوں پر اسرائیل کی شرم ناک اور سفا کانہ بم باری کی پر زور مذمت کرتا ہے۔ اسرائیلی طیاروں نے جان بوجھ کر دمشق میں روسی اور ہندستانی سفارت خانوں پر بم گرائے، جس کی وجہ سے بے گناہ شہری- جن میں ہندستانی عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں- ہلاک اور مجروح ہوئے۔ یہ اجلاس ان کے تمام پس ماندگان کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے پیغام تعزیت پیش کرتا ہے۔(روزنامہ الجمعیۃ،14؍ اکتوبر 1973ء)

اسرائیل سے متعلق امریکی پالیسی کے خلاف مظاہرہ اور میمورنڈم

19؍ اکتوبر1973ء کو جمعیت علمائے ہند کی طرف سے کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی کی حمایت کے ساتھ امریکی مرکز اطلاعات کے سربراہ کو ایک میمورنڈم پیش کیا گیا، جس میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ امریکہ فوراً اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی بند کر دے۔ اس سے قبل امریکی مرکز اطلاعات کے دفتر کے سامنے عظیم الشان مظاہرہ کیا گیا، جس میںنہ صرف دلی ؛بلکہ میرٹھ، مراد آباد، سہارنپور، بلند شہر، ہاپوڑاور دیگر مقامات کے جمعیت کے کارکنان بھاری تعداد میں شریک تھے۔ کانگریس اور کمیونسٹ پارٹی کے کار کنان بھی مظاہرہ اور جلوس میں شریک رہے۔ جو اصحاب میمورنڈم پیش کرنے کے لیے امریکی دفتر اطلاعات میں گئے، ان میں مولانا سید احمد ہاشمی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند، مولانا اسحاق سنبھلی، قاضی زین العابدین،مسزسبھدرا جوشی، مسز سرلا شر ما،مفتی عبدالخالق صاحب (میرٹھ)، مولانا منظور حسین (مراد آباد)، مولانا اخلاق حسین قاسمی اور مسٹر پریم ساگرگپتا شامل تھے۔ وفد کے ممبروں نے مرکز اطلاعات کے سربراہ کو میمورنڈم پیش کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان کے عوام عربوں کے ساتھ ہیں۔ آپ اس میمورنڈم کو صدر نکسن کو پہنچا دیں۔ معلوم ہوا ہے کہ امریکی سر براہ ممبران کو اپنے دفتر میں اندر لے جانا چاہتے تھے؛ لیکن انھوں نے انکار کر دیا اور میمورنڈم دے کر واپس چلے آئے۔ مظاہرہ میں -جو ایک گھنٹہ سے زائد دیر تک جاری رہا- امریکی سامراج اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف فلک شگاف نعرے لگائے جا رہے تھے۔ اس موقع پر مولاناسید احمد ہاشمی، مسز سبھدرا جوشی، مسز سرلا،مولانا اخلاق حسین قاسمی، مسٹر پیریم ساگر گپتا نے تقریریں کیں۔ 

مولانا سید احمد ہاشمی نے اسرائیلی جارحیت اور امریکہ کی طرف سے اسرائیل کو اسلحہ کی سپلائی کو جاری رکھنے کی پالیسی کی سخت مذمت کر تے ہوئے امید ظاہر کی کہ امریکی سازش ناکام ہو گا۔ اس کے ہتھیار اسرائیل کے کچھ کام نہ آسکیں گے اور عرب کا میاب ہوں گے۔ مولانا موصوف نے شہر یوں پر اسرائیل کی بم باری کی بھی مذمت کی۔

مسز سبھدرا جوشی نے مقبوضہ علاقوں کے خالی کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے گاندھی جی کا تذکرہ کیا اور کہا کہ انھوں نے یہودیوں سے کہا تھا کہ اگر وہ فلسطین کو اپنا وطن بنانا چاہتے ہیں، تو عربوں کے ساتھ دوستی سے ایساکر سکتے ہیں، زبر دستی اور لڑ کر نہیں۔

مسز سرلا گپتا نے کہا کہ عوام اس بات کی اجازت نہیں دیں گے کہ اسرائیل عرب علاقوں پر زبردستی قبضہ ر کھے۔ویتنام میں ہار کر اب امریکہ مشرق وسطیٰ کوجنگ کا اکھاڑہ بنانا چا ہتا ہے؛ کیوںکہ جب تک کہیں نہ کہیں جنگ نہ ہوگی، اس کے ہتھیا ر سپلائی نہ ہو سکیںگے۔ آپ نے اعلان کیا کہ عورتیں بھی امریکی سامراج کے خلاف شانہ بہ شانہ ساتھ دیں گی۔ 

 مولانا اخلاق حسین قاسمی نے کہا کہ بھوک پیاس اور مقدس عبادت کے ساتھ لوگ یہاں جمع ہیں۔ انصاف اورجمہوریت کا یہ اجتماع اس بات کا اعلان کر رہا ہے کہ عرب اخلاقی جنگ جیت چکے ہیں ۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ دنیا کی رائے عامہ عربوں کے حق میں ہے۔ اور نکسن اور اس کا امریکہ الگ ہوکر رہ گئے ہیں۔

 مولانا اسحاق سنبھلی صاحب نے کہا کہ اسرائیل شہریوں پر بم باری کر رہا ہے ،یہ اس کا مذموم فعل ہے، اس لیے اس مظاہرہ میں ہندو، مسلمان، سکھ اور سب لوگ شریک ہیں۔ اسرائیل -جو ایک جارح ملک ہے- اس کی حمایت کر نے کے لیے آپ نے امریکہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔

مسٹرپریم ساگر گپتا نے کہا کہ یہ ہندو، مسلمانوں، یا عیسائیوں کی لڑائی نہیں؛ بلکہ یہ امریکی سامراج اور دنیا کے عوام کی لڑائی ہے، جس میں عوام کی جیت ہوگی۔

 مظاہرین اس سے پہلے بعد نمازجمعہ مسجد کے سامنے جمع ہوئے، اور وہاں سے پھول منڈی ہاؤس  تک گئے۔ وہ اپنے ہاتھوں میں جمعیت علمائے ہند،کانگریس اور کمیونسٹ پارٹیوں کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور بہت سے موٹو ا پنے ہاتھ میں لیے ہوئے تھے، جن پر مختلف قسم کے نعرے لکھے  ہوئے تھے۔(روزنامہ الجمعیۃ،21؍ اکتوبر 1973ء)

اسرائیلی جارحیت کے خلاف میمورنڈم

امریکی مرکز اطلاعات کو جو میمورنڈم پیش کیا گیا، اس کا متن درج ذیل ہے: 

جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام اور کانگریس وکمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی حمایت و اشتراک سے دلی کے شہریوں کا یہ مظاہرہ عربوں کے خلاف امریکہ کی شہ پر اسرائیلی حملہ کے خلاف اپنی صدائے احتجاج بلند کرتا ہے اور حکومت متحدہ امریکہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ عرب ملکوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت کو تقویت دینے کے لیے اسلحہ کی جو امداد دے رہے ہیں، اسے فورا بند کرے۔

ہم پھر ہندستانی عوام کی یک جہتی وحمایت کا عربوں کی جدو جہد کے سلسلہ میں پرزور اعلان کرتے ہیں جو وہ اپنی خود مختاری اور1967ء سے اسرائیل کے ناجائز قبضہ میں گئی اپنی زمینوں کی واپسی کے لیے کر رہے ہیں۔ ہم عرب عوام اور ان کی حکومتوں کو اس بات پر مبارک باد پیش کرتے ہیں کہ انھوں نے حالیہ اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنے اور اپنی آزادی کے بچاؤ کے لیے ایک وسیع اتحاد اور جرأت کا مظاہرہ کیا ہے۔ مجلس تحفظ نے 1967ء میں جو قرار داد پاس کی، اس وقت سے اقوام متحدہ اور اس کے ممبر ملکوں کی ایک بڑی تعدا د نے بار بار اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ عربوں کے ان علاقوں اور حدود کو- جسے اس نے ناجائز طریقہ پر اپنے قبضہ میں کر لیا ہے- خالی کرے؛ کیوںکہ صرف اسی بنیاد پر مشرق وسطیٰ میں دیرپا اور منصفانہ قیام امن ہوسکتا ہے؛ لیکن حکومت متحدہ امریکہ اسرائیل کو مسلسل فوجی اوردیگر اقسام کی امداد دے رہا ہے۔ 

ہندستانی عوام اور حکومت نے ناطرف دارملکوں کے ساتھ بار بار اس بات کا مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل اپنی اس جارحیت سے باز آئے۔ نا طرف دار ملکوں کی حالیہ کانفرنس نے بھی اس مطالبہ کو پھر دوہرا یا ہے۔ اب جب کہ اسرائیل نے یہ دیکھا کہ وہ دنیا میں تنہا رہ گیا ہے، تو اس نے تمام ضابطوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے عرب ملکوں پر اس بڑے پیمانے سے حملہ کر دیا۔ اس سے قبل بھی وہ شام کے خلاف بارہا جارحا نہ اقدامات کر چکا ہے۔ اور اس کی سرحدوں پر اپنی فوجوں کو بھیج چکا ہے۔

 حکومت متحدہ کا اعلان کہ وہ اسرائیل کو جدید ترین ساز و سامان، فیٹم چیف اور ٹینک دیتا رہے گا؛ عالمی آرا کی دیدہ دلیرا نہ صریح مخالفت ہے۔ہندستانی عوام امریکی سامراج کو متنبہ کرتے ہیں کہ فوج اور طاقت سے دنیا کے تسلیم کردہ عربوں اور ان کی حکومت کے جائز مطالبات کو دبایا نہیں جا سکتا۔

 عرب عوام اپنی اس جدو جہد میں تنہا نہیں ہیں۔ عربوں کی حصول آزادی و امن کے لیے اس جائز و منصفانہ جنگ ہندستان، و دیگر آزادی پسند ملکوں کے ساتھ ان کے ساتھ ہے۔ روس اور دنیا کی تمام ترقی پسند طاقتیں عربوں کے جائز کاز کی حمایت کے لیے متحد ہیں۔ حکومت متحدہ امریکہ کو چاہیے کہ وہ جنگ ختم کرائے اور اسرائیل کو مجبور کرے کہ وہ عربوں کے مقبوضہ علاقوں اور بیت المقدس کو خالی کرے۔ اور فلسطینی عوام کے قومی حقوق کو بحال کرے۔

(روزنامہ الجمعیۃ،22؍ اکتوبر 1973ء)

عید سعید کے موقع پر اپنے عرب مجاہدین کو یاد رکھیں

24؍ اکتوبر 1973ء کو ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا سید احمد ہاشمی نے ہندستان کے تمام مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ عید سعید کے مبارک موقع پر اپنے بھائی زخمی عرب مجاہدین کو یاد رکھیں۔ عید سعید کی تقریب سادگی اور کفایت سے منا کر جو روپیہ بچائیں ،اپنے عرب مجاہدین کی طبی امداد کے لیے زر نقد، یا دواؤں کی شکل میں عرب لیگ مشن ۶۲گولف لنکس نئی دلی، یا جمعیت علمائے ہند کے دفتر واقع ۱۔ بہادر شاہ ظفر مارگ نئی دہلی کو ارسال فرمائیں۔

(روزنامہ الجمعیۃ، 26؍ اکتوبر1973ء)

تیل سپلائی کی بندش سے ہندستان کو مستثنیٰ رکھنے پر سعودی کا شکریہ 

یوم کپور جنگ (جنگ رمضان6-24؍اکتوبر1973ء) شروع ہوئی، تو امریکہ نے اسرائیل کی مدد کے لیے بڑی مقدار میں ہتھیار اور فوجی امداد بھیجی۔ امریکی صدر رچرڈ نکسن کی جانب سے اسرائیل کے لیے 2.2 بلین ڈالر کی ایمرجنسی امداد کی منظوری نے عرب ممالک کو شدید ناراض کر دیا۔اس امداد کے جواب میں Organisation of Arab Petroleum Exporting Countries (OAPEC) نے 17؍اکتوبر 1973ء کو تیل کی پیداوار میں ماہانہ 5؍فی صد کمی کا اعلان کیا۔ صرف دو دن بعد، 19؍اور 20؍ اکتوبر 1973ء کو عرب ممالک نے امریکہ سمیت اسرائیل کے حامی ممالک پر مکمل تیل کا ایمبارگو نافذ کر دیا۔ نومبر 1973ء میں اس پابندی کو مزید سخت کر دیا گیا اور کئی دوسرے ممالک کو بھی اس کی فہرست میں شامل کر لیا گیا۔

اس ایمبارگو کا سب سے بڑا نشانہ امریکہ تھا۔ اس کے علاوہ نیدرلینڈز، پرتگال، جنوبی افریقہ اور روڈیشیا (جو اب زمبابوے کہلاتا ہے) پر بھی مکمل پابندی لگا دی گئی۔ ابتدائی طور پر کینیڈا، جاپان اور برطانیہ کو بھی تیل کی پیداوار میں کمی، یا جزوی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ایران نے اس وقت اس ایمبارگو میں حصہ نہیں لیا، کیوںکہ وہ امریکہ کا قریبی اتحادی تھا۔

اس اقدام کے نتیجے میں عالمی تیل کی قیمتیں تقریباً چار گنا بڑھ گئیں۔ تیل کی قیمت 3 ؍ڈالر فی بیرل سے بڑھ کر 12؍ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔ امریکہ اور یورپ میں شدید توانائی کا بحران پیدا ہو گیا۔ پیٹرول سٹیشنوں پر لمبی قطاریں لگ گئیں، تیل کی راشننگ کی گئی اور معاشی سرگرمیاں سست پڑ گئیں۔ ایمبارگو مارچ 1974ء تک جاری رہا۔

چوں کہ سعودی عرب نے تیل سپلائی کی اس پابندی سے ہندستان کو مستثنیٰ رکھا، اس لیے  9؍ نومبر1973ء کو صدر جمعیت علما ئے ہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی ایم پی نے جلالۃ الملک شاہ فیصل کے نام اپنے ایک برقیہ میں جلالۃ الملک کا شکریہ ادا کیا ہے اور اس فیصلہ کی وضاحت پر مبارک باد دی ہے کہ جلالۃ الملک نے ہندستان کو تیل کی سپلائی برقرار رکھی ہے اورہند کو ان عرب دوست ممالک کی فہرست میں شامل رکھا ہے، جن کی تیل کی سپلائی میں کوئی کمی نہیں کی گئی ہے۔  اس طرح اب ان تمام تر شبہات کا از الہ ہو گیا ہے، جو پرو اسرائیلی امریکن ذرائع کی طرف سے ہند اور عرب ممالک کی دوستی کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلانے کی کوششیں کی جارہی تھیں۔ 

واضح رہے کہ صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی نے پچھلے دنوں 3؍ نومبر کو پھیلائی ہوئی خبروں کے پس منظر میں جلالۃ الملک شاہ فیصل کے نام اپنے ایک برقیہ میں اپیل کی تھی کہ ہندستان کو ان عرب دوست ممالک کی فہرست میں شامل کیا جائے، جن کے تیل کی سپلائی میں کمی نہیں کی گئی ہے۔ 

اس کے علاوہ صدر محترم نے سعودی عرب کے ناظم الامور مسٹرسلیمان الناصر سے بھی جمعیت علمائے ہند کے ایک نمائندہ وفد کے ساتھ ملاقات کی تھی اور اس سلسلہ میں ہندستانی مسلمانوں اور جمعیت علمائے ہند کی طرف سے ایک میمورنڈم سعودی حکومت کو پیش کیا تھا، جس میں مذکورہ اپیل کا اعادہ کیا گیا تھا۔ ان کوششوں کے ساتھ ہی صدر جمعیت علمائے ہند نے عرب لیگ اور دوسرے ہندستان دوست عرب ممالک سے بھی اپیل کی تھی کہ پرو اسرائیلی امریکن ذرائع کی طرف سے ہند اور عرب دوستی کے بارے میں جو غلط فہمیاں پھیلانے کی کوششیں کی جارہی ہیں، اسے دور کرنے میں وہ تعاون کریں۔چنانچہ صدر محترم نے جلالۃ الملک کے علاوہ سعودی ناظم الامور مسٹر سلیمان الناصر، عرب لیگ اور تمام ہندستان دوست عرب ممالک کا بھی شکریہ ادا کیا ہے کہ انھوں نے پرواسر ائیلی امریکن لابی کی سازشوں کی قلعی کھول دی اور غلط فہمی کو دور کرنے میں پورا تعاون دیا۔(روزنامہ الجمعیۃ،11؍ نومبر1973ء)

اجلاس مجلس منتظمہ میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت

بعد ازاں24 ؍نومبر 1973ء کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا اجلاس ہوا، تو اس میں بھی اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’ جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس اسرائیل کی اس شرم ناک جارحیت کی پرزور الفاظ میں مذمت کرتا ہے، جس کا مظاہرہ اس نے اکتوبر1973ء میں عربوں کو ایک نئی اور خوف ناک جنگ میں مبتلا کر کے کیا ہے اور اقوام متحدہ میں جنگ بندی کی تجویز کو منظور کرنے کے بعد اپنی سابقہ روایات کے مطابق ایک بار پھر ہٹ دھرمی کا مظاہر ہ کر رہا ہے، اور قدم قدم پر اور بار بارمستقل امن کی راہ میں رکا وٹیں پیدا کر رہا ہے۔ 1967ء کی لائن پر واپس جانے کے اقدامات کرنا تو الگ رہا، وہ اس لائن پر بھی واپس نہیں گیا، جس سے 22؍ اکتوبرکو جنگ بندی قبول کرنے کے بعد مکاری اور ایک نئی جارحیت کے ذریعہ سے آگے بڑھ گیا تھا۔اس امرکے پیش نظر یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ کسی بھی وقت پھر جنگ چھڑ سکتی ہے، جس سے نہ صرف اس خطے کا امن؛ بلکہ پوری دنیا کا امن خطرہ میں پڑ جائے گا۔ وہ جنگ خوف ناک ،تباہ کن اور عالمی جنگ کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس امن چاہنے والی تمام طاقتوں پر اپنے اس یقین کا اظہار ضروری سمجھتا ہے کہ مغربی ایشیا میں منصفانہ اور دائمی امن دو باتوں پر منحصر ہے:

 ا۔ اسرائیل 1967ء کے تمام مقبوضہ عرب علاقے خالی کرے۔

۲۔ فلسطینی عرب باشندوں کو ان کے جائز حقوق عطا کیے جائیں، جن کو حاصل کرنے کے لیے وہ گذشتہ پچیس برس سے اسرائیل کی سامراجی صہیونی اور نسلی بنیادوں پر قائم حکومت کے خلاف سردھڑ کی بازی لگائے ہوئے ہیں۔

 یہ اجلاس حکومت ہند کی مغربی ایشیا سے متعلق حق و انصاف اور انسانیت کے اعلیٰ اصولوں پر قائم پالیسی کو بہ نظر استحسان دیکھتا ہے اوراسے مبارک باد دیتا ہے کہ اس کے اعلیٰ ذمہ داروںنے اندرون ملک اور بین الاقوامی پلیٹ فارموں پر بڑی جرأت کے ساتھ مسلسل اور نہایت پامردی اور مضبوطی سے عربوں کے کاز کی حمایت کی ہے۔ مجلس منتظمہ کو اس بات کا پورا پورا یقین ہے کہ وہ اپنی اس پالیسی پر گامزن رہتے ہوئے مذکورہ بالا دونوں باتیں حاصل کرنے میں، نہ صرف خود عربوں کی تائید و حمایت جاری رکھے گی؛ بلکہ تمام دوست ملکوں؛ خصو صا ناوابستہ ملکوں کو بھی اس کے لیے آمادہ وہ سرگرم رکھے گی۔ 

 جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ ایک بار پھر مقبوضہ عرب علاقوں کی بازیابی کی جدوجہد میں مکمل تائید و حمایت کا اعلان کرتی ہے۔ 

جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ اس ضرورت کا اظہار کرتی ہے کہ عرب کاز کی تائید و حمایت و استحکام کے لیے ایک مستقل تنظیم ہندستان میں قائم کرنی چاہیے اور اس سلسلہ میں مجلس منتظمہ صدر محترم کو اختیار دیتی ہے کہ اس تنظیم کے قیام کے لیے مناسب کارروائی کریں۔ 

مجلس منتظمہ یہ ضروری سمجھتی ہے کہ عرب مظلومین کی امداد و اعانت اور عرب کاز کی حمایت و تائید کے لیے ایک ’’عرب امدادی فنڈ‘‘ قائم کیا جائے ۔ اور اس سلسلہ میں ملک کے تمام عرب دوستوں سے عموما اور مسلمانان ہند سے خصوصا یہ اپیل کی جائے کہ وہ اس ’’عرب امدادی فنڈ‘‘ میں فراخ دلانہ حصہ لیں اور اپنی امدادی رقومات ناظم عمومی جمعیت علمائے ہندا، بہادر شاہ ظفر مارگ نئی دہلی کے پتہ پرارسال فرمائیں۔

 مجلس منتظمہ اس توقع کا اظہار کرتی ہے کہ مذکورہ عرب امدادی فنڈ کے ذریعہ عرب مظلومین کی ریلیف وطبی امداد اور ہندستان میں عرب کا زکوآگے بڑھانے اور اسے ہمہ گیرطورپر مستحکم کرنے میں مدد ملے گی۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، تجاویز اور فیصلوں کی روشنی میں، جلد دوم، ص؍)

تیل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر عرب سربراہوں کو مبارک باد

اسی طرح اسی اجلاس منتظمہ(24 ؍نومبر 1973ء ) نے عرب ممالک کے سربراہوں کو تیل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے پر مبارک بادی بھی پیش کی۔ چنانچہ تجویز میں کہا گیا کہ:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس تیل پیدا کرنے والے عرب ممالک کے سربراہوں کو ان کی اس تیل پالیسی کے لیے مبارک باد دیتا ہے، جو انھوں نے اسرائیل کی حربی، اقتصادی، سیاسی اور اخلاقی مدد کرنے والوں کو تیل کی سپلائی منقطع کرنے کے سلسلے میں اختیار کی ہے اوریہ امید رکھتا ہے کہ اس بارے میں ان کے اندر اس وقت فکر و عمل کا جو اتحاد پایا جاتا ہے، وہ صرف تیل سے متعلق پالیسی میں؛ بلکہ دوسرے اقدامات کے سلسلے میںبھی برقرار رہے گا۔ انھیں تیل کواس وقت تک بطور ہتھیار استعمال کرتے رہنا چاہیے، جب تک مقبوضہ عرب علاقے خالی نہ ہو جائیں اور فلسطینی عربوں کو ان کے جائز حقوق نہ مل جائیں۔

 جمعیت علمائے ہندکی مجلس منتظمہ حکومت سعودی عرب اورجلالۃ الملک شاہ فیصل کا بھی شکریہ ادا کرتی ہے، جنھوں نے سعودی عرب اور ہندستان کے تعلقات میں غلط فہمی پیدا کرنے والی ان خبروں کی غیرمبہم الفاظ میں تر دید کی، جو سعودی عرب سے ہندستان کو تیل کی سپلائی میں تخفیف کر نے کے بارے میں پھیلائی گئی تھیں اور یہ واضح اعلان کیا کہ ہندستان عربوں کا دوست ملک ہے، اس لیے اس کو تیل کی سپلائی میں کوئی تخفیف نہیں کی جائے گی۔‘‘

اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنے والے سبھی ممالک کو خراج تحسین

علاوہ ازیں اس منتظمہ(24 ؍نومبر 1973ء ) نے عرب ممالک کے علاوہ اسرائیلی جارحیت کے مقابلہ کرنے والے سبھی افراد اور دیگر ممالک کے کردار کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔ چنانچہ تجویز نمبر(۵) میں کہا گیا کہ:

’’ جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس ان عرب قائدین، فوجی کمانڈروں اور سرفروش مجاہدین کو داد شجاعت دیتا ہے، جنھوں نے اکتوبر1973ء کی جنگ میں اسرائیل کے ناقابل تسخیر ہونے کے زعم کو ختم کردیا اور صحرائے سینا اور گولان کی پہاڑیوں میں عصر جدید کی سب سے خوف ناک جنگیں لڑکر اپنے جرأت آموز دانش مندانہ اقدامات اور فوجی حکمت عملی سے یہ ثابت کر دیا کہ عرب مجاہدین نہ صرف اسرائیلی جارحیت کے مقابلہ میں اپنا دفاع کرنے کی طاقت اور قوت رکھتے ہیں؛ بلکہ وہ اپنے کھوئے ہوئے علاقوں کو اپنے دست و بازو سے دوبارہ حاصل کرنے کی طاقت وصلاحیت اور اہلیت بھی رکھتے ہیں۔

 مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس تمام عرب ممالک کے سربراہوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہے اور یہ امید رکھتا ہے کہ جس طرح انھوں نے زمانۂ جنگ میں جرأت اور دانش مندی کا ثبوت دیا ہے، وہ اب مقبوضہ عرب علاقوں کی بازیابی اور فلسطینیوں کے حق و انصاف پر مبنی حقوق کی بحالی کے لیے مسلسل سعی کرتے رہیں گے اور اپنی معاشی و اقتصادی طاقت کو سامراجی طاقتوں سے آزاد کرالیںگے۔ 

یہ اجلاس ان تمام جاںبازوں کوپرزور الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتا ہے اوران کے لیے دعائے مغفرت کرتا ہے، جنھوں نے اپنے غصب شدہ علاقوں اور مقامات مقدسہ کی باز یابی اور فلسطینیوں کو اپنے حقوق دلانے کے لیے جام شہادت نوش کیا ہے۔

مجلس منتظمہ کایہ اجلاس سویت روس اور ان تمام ممالک کو خراج تحسین پیش کرتا ہے اور ان کاشکر یہ اداکرتا ہے، جنھوں نے مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف عربوں کی حق وانصاف کی جنگ میں جس طرح سے تائید کی اور عربوں کو ہر طرح سے حربی و عسکری امداددی۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد دوم، ص؍

اسرائیلی قونصل خانہ بند کیا جائے

چوں کہ ہندستان نے ہمیشہ عرب فلسطینیوں کی حمایت اور غاصب و جابر اسرائیلیوں کی مذمت کی تھی، اور یہ اس کے خارجہ پالیسی کا حصہ تھا، اس لیے اس منتظمہ(24 ؍نومبر 1973ء ) نے ہندستانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بمبئی میں قائم اسرائیلی قونصل خانہ کو فورا بند کردے۔ چنانچہ تجویز میں کہا گیا کہ:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس بمبئی کے اسرائیلی قونصل خانہ کی سیاسی سرگرمیاں اور ہمارے دوست ممالک کے خلاف نامناسب اور غلط پروپیگنڈہ جاری رکھنے پر اپنی تشویش اور بے چینی کا اظہار کرتا ہے، اور حکومت ہند سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ان ناپسندیدہ سرگرمیوں کے انسداد اور مغربی ایشیامیں ہندستانی مفادات کے تحفظ کی خاطر، نیز الجزائر کی ناوابستہ ملکوں کی مغربی ایشیا سے متعلق قرارداد کی روشنی میں اسرائیل کے خلاف نہ صرف اقتصادی، ثقافتی اور تجارتی پا بندیاں عائد کرے؛ بلکہ اس کے ساتھ ہی ممبئی میں اسرائیلی قونصل خانہ کو بھی فورا بند کردے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد دوم، ص؍)

اسرائیلی جارحیت کے خلاف عرب حمایت کنونشن

اگرچہ رمضان جنگ 24؍اکتوبر1973ء کو ختم ہوچکی تھی، لیکن اس کے باوجود اسرائیل کی جارحیت و بربریت کا سلسلہ جاری تھا، جس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کے لیے جمعیت علمائے ہند نے 25؍ نومبر1973ء کو ’’عرب حمایت کنونشن‘‘ کا انعقاد کیا، جس میں ملک کے بڑے بڑے دانش وروں نے اپنے احتجاج درج کرائے۔ کنونشن کی ضروری کارروائی درج ذیل ہے:

وزیر خارجہ سردار سورن سنگھ کی تقریر

 میں آپ کے اس آج والے جلسے میں شمولیت کرکے اس بات کو دہرانا چاہتا ہوں کہ عرب ملک اور اسرائیل کے درمیان جو یہ موجودہ جنگ ہے، یا اس سے پہلے جو جارحانہ حملے اسرائیلی کی طرف سے عرب ملکوں پر کیے گئے ہیں،ان کے بارے میں ہمارے ملک ہندستان کی ٹھیک جانچ کر اور سمجھ کر ایک پختہ رائے ہے کہ اس معاملہ میں زیادتی اسرائیل کی طرف سے ہے۔ یہ بنیادی بات ہے جس کو ہمیں ٹھیک انداز سے سمجھنا چاہیے۔ اسی کے مطابق اپنے رویہ کو ڈھالنا چاہیے۔ یہ سوال فرقہ وارانہ نوعیت کا نہیں، خواہ اسرائیل کے دل میں ایسی کوئی بات ہو۔ بنیادی بات یہ ہے کہ اسرائیل کی طرف سے عرب ملکوں کے کافی لمبے چوڑے علاقے ہتھیائے ہوئے ہیں۔ اور جب تک عربوں کے وہ علاقے اسرائیل کے جارحانہ قبضہ سے نکلتے نہیں، تب تک نہ امن ہو سکتا ہے اور نہ دنیا میں کوئی چین ہو سکتا ہے۔ اس معاملہ میں عرب ممالک کے کاز کی حمایت اور ان کو جو تکلیف ہے، اس میں ہم ان کی امداد اس لیے کرتے ہیں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ انصاف ان کی طرف ہے، ہندستان کے نیتا، رہنما اور لیڈرہندستان کی آزادی سے قبل بھی ایسا ہی کرتے رہے ہیں۔ جب بھی دنیا کے کسی حصہ میں کوئی ظلم ہوا، کسی پر حملہ ہوا، کسی ملک کو ہتھیا یا گیا، تو آزادی سے قبل بھی ہمارے  رہنما پنڈت جوا ہرلال نہرو،مہاتماگاندھی، مولانا ابو الکلام آزادؒ اور ہمارے جتنے بھی رہنما تھے، ہمیشہ ان کی آواز مضبوطی سے ظلم کے خلاف، حملہ آور کے خلاف، جارحیت کے خلاف اٹھتی تھی، تو یہ قدرتی بات ہے کہ آج ہم آزادہیں اور آزادی ہمیں ایسی قربانی کے صلہ میں ملی ہے ۔وہ آزادی ملنے کے بعد یہ ہمارا فرض ہے کہ دنیا کے کسی حصہ میں حملہ کر کے اگر کوئی ملک کسی کا علاقہ ہتھیا لے اور زبردستی فوجی طاقت کے ذریعہ کوئی ملک کسی کو مرعوب کرنا چاہے، تو ہندستان کی اپنی روایات اس بات کا تقاضا کرتی ہیں کہ ہندستان کی آواز مضبوطی سے اس ظلم کے خلاف اٹھے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل کی طرف سے مصرپراس وقت حملہ کیا گیا، جب ناصر نے سویز کو نیشنلائز کیا تھا اور اس حملہ میں اور بھی سامراجی ملک شامل تھے۔ تو پنڈت جواہر لال نہرو نے نہایت دلیری سے اپنی آواز اٹھائی تھی اور اس وقت کچھ لوگ یہ سمجھتے تھے کہ انھوں نے چنددن میں مصر کی فوجی طاقت کو درہم برہم کر دیا ہے؛ لیکن پنڈت جی نے بیڑی طاقت سے آواز اٹھائی، جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ امریکہ، روس اور بڑے بڑے ملک حملہ آوروں کے خلاف ہوئے اوران کو اپنی جارحیت سے دست بر دار ہونا پڑا۔ مصر کا دوبارہ اپنے علاقوں پر قبضہ ہوا۔ اور اس وقت اسرائیل کہ بظا ہر جوفو جی کا میابی ہوئی تھی، وہ ساری کی ساری الٹی ہوگئی۔ اور مصر کے سارے علاقے واپس ہوئے۔ کچھ بد قسمتی ایسی ہے کہ جارحانہ طبیعت رکھنے والے ملک کبھی تاریخ سے سبق نہیں سیکھا کرتے اور تقریباً گیارہ سال کے بعد1967ء میں پھر دوبارہ اسرائیل کی طرف سے عرب ملکوں پر حملہ ہوا۔ اس وقت بھی ہندستان نے پوری طرح عربوں کا ساتھ دیا۔ اور جو رویہ پر وہ پہلے سے قائم تھا، اس میں کوئی فرق نہیں آنے دیا۔ اور ہم اس بات پر ڈٹے رہے کہ سچائی اور انصاف عربوں کے ساتھ ہے۔ اس لیے ہم مضبوطی سے عربوں کی امداد کریں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سیکورٹی کونسل میں ایک متفقہ ریزولیوشن پاس ہوا۔ اور جب بھی عرب اسرائیل جھگڑے کی بات چلتی ہے، تو ریز ولیو شن نمبر242 کا حوالہ دیا جاتا ہے۔ یہ ایک عام بات ہے، اس پر عمل ہونا چاہیے۔ اب حیرانی کی بات یہ ہے کہ متفقہ طور پر سیکورٹی کونسل کا ریزولیوشن پاس ہوا۔ اس میں کہا گیا کہ اسرائیل نے عرب ملکوں کے جن علاقوں پر قبضہ کر رکھا ہے، ان کو خالی کر دے۔ وہ سیریا کا علاقہ ہے،جارڈن کا علاقہ ہے اور مصر کا علاقہ ہے۔ آپ اندازہ لگائیں کہ اس بات کو چھ سال گذر چکے ہیں، اس چھ سال کے عرصے میں اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل کے متفقہ ریزولیشن کے باوجود ان علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ رہا۔ اب بتائیے دنیا کی سب سے بڑی تنظیم اقوام متحدہ کی سیکورٹی کونسل، جہاں بہت سے اسرائیل کے حمایتی ملک بھی بیٹھے ہیں اور بڑی بڑی امپریلسٹ طاقتیں ہیں، اس کے متفقہ ریزولیوشن کے باوجود اسرائیل علاقے خالی نہ کرے، تو اس سے ہم کیا اندازہ لگائیں۔ ہمیں تو یہی اندازہ کرنا پڑے گا کہ اس میں صرف اسرائیل والے ہی نہیں اڑے ہوتے ہیں، جب کہ ان کے کچھ مددگاربھی، جو بظاہر ریزولیوشن کی درخواست کرتے ہیں اور اندر ہی اندر اسرائیل کو اکساتے ہیں؛ور نہ اسرائیل کی کیا مجال ہے کہ نہ وہ ان علاقوں کو خالی نہ کرے۔ اس کا نتیجہ کیا ہوا۔ اسرائیل کا یہ خیال تھا کہ امن بھی رہ سکتا ہے اور وہ علاقوں پر قبضہ بھی رکھ سکتا ہے۔ یہی اس کے دماغ میں ایک چکر تھا۔ ان لیے اس نے ایک مہمل سا بیان دے کر ریزولیوشن کو ٹالا بھی نہیں اور اس پر عمل بھی نہیں کیا۔ہم نے دنیا میں ایسے بہت سے لوگ اور ملک دیکھے ہیں، جو زبانی مانتے ہیں اور دل میں کچھ اور ہوتا ہے۔ یہی حالت اسرائیل کی تھی؛ لیکن یہ پاکھنڈ زیادہ دیر چل نہیں سکتا تھا اور نہیں چلا۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس چکر کو توڑنے کے لیے ہمارے عرب بھائیوں کو کافی تکلیف کا سامنا کر نا پڑا۔ انھیں چھ سال کے اندر اندر دوبارہ جنگ دیکھنی پڑی۔ جنگ کہہ دیناآسان ہے۔ شاعر لوگ بڑے بڑے انداز سے اس کے متعلق، شہیدوں کے متعلق لکھ کر اور کہہ کر ان کی شہرت بڑھا سکتے ہیں؛ لیکن جن کے سر پر پڑتی ہے اور جن کو لڑائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، وہی جانتے ہیں کہ لڑائی کا کیا مطلب ہے۔ اس لڑائی میں -جو اس سال ہوئی- اس کابار مصر اور سیریا اور کچھ حد تک جارڈن،مگر زیادہ بوجھ مصر اور سیریا پر پڑا، تو میں سمجھتا ہوں کہ ان ملکوں کے پاس کوئی چارہ نہیں رہ گیا تھا۔

 عربوں کی بہادری، ان کی شجاعت اور دلیری نے اس تصورکو توڑ دیا کہ اس ایک کی فوجی طاقت اتنی ہے کہ اس کو کبھی ہرایا نہیں جا سکتا ہے۔ یہ محض ان کے دماغ کا فتور تھا۔ اس فتور کو ان کے دماغ سے نکالنے کے لیے ہمارے عرب بھائیوں کو بہت قربانی دینی پڑی۔ ہمارا فرض ہے کہ ان شہیدوں کو جنھوں نے اپنے خون سے، اپنی جان دے کر اس اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کیا، اور دنیا کے سامنے اس بات کو ظاہر کیا کہ عرب نا انصافی کے سامنے ہمیشہ کے لیے نہیں جھک سکتے، وقتی طور پر ان کا قدم پیچھے ہٹ سکتا ہے ، لیکن قدم سنبھال کے پھر آگے بڑھیں گے، مقابلہ کریں گے ۔اور جن شہیدوں نے اپنی جانیں قربان کیں، ان کے سامنے ہمارا سرعقیدت سے خم ہوتا ہے، اور جتنی بھی ہم ان کی تعریف کریں ،کم ہے۔ اس وقت ہمارے عرب بھائیوں کو کچھ تکلیف پہنچی، اس میں ہماری ہمدردی ان کے ساتھ ہے۔ جب بڑے معاملات ہوں، تو اس کے لیے قربانی دینی ہی پڑتی ہے اور عرب بھائیوں کے ساتھ ہو۔ ویسے بھی اگر کسی بھائی کو تکلیف ہو، تو بھائی کا فرض ہوتا ہے کہ وہ اس کے ساتھ اظہار ہمدردی کرے؛ لیکن اگر بھائی چارہ کے ساتھ ساتھ یہ بھی ہو کہ بھائی کو تکلیف اس لیے ہورہی ہے کہ اس نے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی ہے، بھائی کو تکلیف اس لیے ہو رہی ہے کہ اس نے اپنی زبان سے پوری قوت کے ساتھ کہاہے کہ میں ظلم کے آگے نہیں جھکوں گا، تو ہمارا اور بھی زیادہ فرض ہو جاتا ہے کہ ہم ملکی طور پر اور سرکاری طور پر عربوں کی پوری امداد کریں۔ ہم نے اگر عربوں کی مدد کی ہے، تو کسی پراحسان نہیں کر رہے، کیوںکہ یہ ہمارا فرض ہے کہ دنیا میں جہاں کہیں ظلم ہے، تو ہم ظلم کے خلاف اور سماجی کے حق میں اپنی آواز اٹھائیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ اس میں عربوں نے زیادتی کی ہے۔اس سلسلہ میں مجھے گرو گوبند سنگھ کا کلام یادآتا ہے ۔ ؎

چوکار از ہمہ حیلتے درگذشت 

حلال است بردن بہ شمشیر دست

 تو اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ جب عربوں کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا۔ چھ سال انتظار کرتے کرتے کہ اب بھی ہما رے یہ علاقے واپس ہوں گے، اور وہ نہیں ہوئے،تو اس کے سو ا کوئی چارہ نہیں تھا کہ عرب نہ صرف اس حالت کے خلاف آواز اٹھاتے؛ بلکہ شمشیر اٹھاتے؛ کیو ںکہ پانی سر سے اوپر گزر گیا تھا۔ اس میںتکلیف ہوئی، لیکن بنیادی طور پر سچائی ان کے ساتھ تھی، اس لیے یہ بالکل مناسب اور قدرتی بات ہے اور انصاف کا تقاضاہے کہ ہم مضبوطی سے اپنی آوازان بھائیوں کے حق میں اٹھائیں۔ہمیں یہ چیز صفائی سے کہنی چاہیے کہ یہ کوئی سودے بازی کی بات نہیں ہے کہ انھوں نے ہماری مدد کی، ہم ان کی مدد کریں؛ لیکن اس معاملہ میں ہمیں کچھ اصولوں پر مضبوطی سے کاربند رہناہے،پابند رہنا ہے۔ جو ملک، جو قوم، جو سوسائٹی اصولوں کو ترک کرتی ہے،ممکن ہے وقتی طور پر اس کو کچھ فائدہ ہو؛ لیکن ٹھوس اور بنیادی فائدہ اور مفاد اصولوںکو چھوڑ کر کوئی ملک ،کوئی قوم، کوئی سوسائٹی حاصل نہیں کر سکتی۔ اس لیے اس مسئلہ میں ہمارا جو رویہ اور موقف تھا، وہ اصولوں کا پابند تھا۔ اصولوں کی یہ بات ہے،اور ہم کہتے کیا ہیں، ہم یہ کہتے ہیں کہ اس بات کو ہم بالکل نہیں مانتے کہ کسی ملک کو یہ حق ہے کہ وہ جبراً دوسروں کے علاقوں پر قبضہ کرے۔ اور ان پر قابض رہے۔ اس لیے وہ علاقے اس اصول کے مطابق عرب ملکوں کو واپس ملنے چاہئیں۔ اور جارحیت ختم ہونی چاہیے۔

 دوسری چیز ہم یہ کہتے ہیں کہ لاکھوں کی تعداد میں ہمارے فلسطینی بھائی، جن کو ان کے گھروں سے نکال بے گھر کیا گیا ہے، ان کے جو حقوق ہیں، قانون اور اصول کے مطابق جو جائز حقوق ہیں، وہ ان کو دوبارہ واپس ملیں۔ دیکھیے اس میں ہم کسی پر کیا احسان کرتے ہیں۔ یہ اتنے صاف اور واضح اصول ہیں کہ ان پر عمل ہونا بالکل معقول بات ہے۔ اور پھر ان کے متعلق دنیا کی سب سے بڑی تنظیم اقوام متحدہ کا ریز ولیوشن بھی ہے۔ اس معاملہ میں مجھے یہ جان کر خوشی ہوئی ہے کہ ہمارے ملک کے تمام لوگ بلا لحاظ مذہب و ملت عربوں کے ساتھ ہیں؛ کیوںکہ انصاف ان کے ساتھ ہے۔ ہم سرکاری طور پر یو نائیٹڈ نیشنز میں غیر جانب دار کا نفرنس میں اور جہاں بھی کہیں ہم جاتے ہیں، وہاں مشترک بیانات میں اس چیز کا ذکر کرتے رہے ہیں، نیز سرکاری طور پر پارلیمنٹ میں کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ آج عوامی سطح پر جو یہ کنونشن ہو رہا ہے، اس سے مجھے بہت خوشی ہوئی۔ اور آج اپنے اس کنونشن سے، آپ ہندستان کے کروڑوں لوگوں کی ترجمانی کر رہے ہیں۔ ہم اپنی یہ جدوجہدسرکاری اور نیز سرکاری طریقہ پر اس وقت تک جاری رکھیں گے، جب تک کہ عربوں کو ان کا ایک ایک انچ کا علاقہ واپس نہیں مل جاتا۔

(روزنامہ الجمعیۃ،4؍ دسمبر1973ء)

 مسٹرکے ڈی مالو یہ صدر کنونشن کی تقریر 

 مسٹر کے ڈی مالویہ نے مسٹر سورن سنگھ کی تقریر کا عرب ڈپلومیٹوں کے لیے انگریزی میں اختصار سنایا اور خود اپنی صدارتی تقریر فرمائی۔ انھوںنے کہا کہ :

میں اس کنونشن کی طرف سے اپنی حکومت کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہماری حکوت کی پالیسی اس مسئلہ پر بالکل واضح ہے، ہماری پوری کوشش یہ ہے کہ انصاف حاصل ہو۔ بے انصافی کے خلاف ہماری یہ جنگ بہت آگے بڑھ چکی ہے اور یہ مذہب اور قومیت کی تمام دیواروں کو توڑ چکی ہے۔ دنیا کے تمام تکلیف زدہ اور مظلوم انسانی، جن کے پاس عقل ہے، وہ سب ایک طرف اکٹھے ہو گئے ہیں اور مقابلہ کرر ہے ہیں، ان تمام طاقتوں کا جو بے ایمانی سے، لالچ سے اور اپنی تھوڑی تعداد کے فائدے کی غرض سے دنیا کی بڑی اکثریت سے بے انصافی اور بے ایمانی کرنے پر تلی ہوئی ہیں کہ وہ سامرا جی طاقتیں ہیں۔ میں اس تفصیل میں جانا نہیں چاہتا، آج تو مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ایشیا میں، مغرب کی سمت جو عرب دیش ہیں، جن کے پاس اتنی دولت ہے کہ دنیا میں کسی ایک ملک کے پاس اتنی دولت ہو نہیں سکتی۔ یہ قدرتی دولت ہے ،اس سے فائدہ اٹھا کر دوسرے ملکوںنے اپنا فائدہ کیا، لیکن جن ملکوں کی یہ دولت تھی، وہاں کے لوگوں کو دبائے رکھا اور اپنا محتاج بنایا۔ آج یہ عرب ملک اب اس بات کو برداشت نہیں کر سکتے اور ہندستان کی چھپن کروڑ جنتا اس لیے ان کے ساتھ ہے  ہمیں ہمیشہ یہ سبق سکھا یا گیا کہ جب اپنے اور یا اپنے پڑوسیوں پر ظلم ہو، تو اپنی آواز ظالم اور نا انصافی کے خلاف اٹھانی چاہیے، اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ انجام کا ر ہمارا فائدہ ہوگا۔ اور جن ملکوں پر ظلم ہو رہا ہے، وہ ختم ہو گا، اس لیے ہندستان عرب ملکوں کے ساتھ ہے اور رہے گا،  تاوقتیکہ ان کے ساتھ جونا انصافی ہوئی ہے، اور اسرائیل نے مغربی طاقتوں کی مدد سے جو قبضہ کر رکھا ہے، جب تک وہ نہیں ہٹتا، جب تک کہ پہلے انصافی کا خاتمہ نہیں ہوتا اور جب تک عرب دیشوں کے عوام کو اپنی مرضی کے مطابق اپنا فیصلہ کرنے کا اختیار نہیںملتا، جب تک ان کی اپنی دولت پر پورا اختیار حاصل نہیں ہوتا، اس وقت تک ہندستان کی جنتابرابر اپنی آواز عربوں کے حق میں بلند کرتی رہے گی۔ ہماری یہ دوستی حقیر خود غرضانہ مقاصد پر مبنی نہیں ہے؛ بلکہ ہم کو یہ سبق دیا گیا ہے کہ آئندہ زمانہ میں اگر اس روئے زمین پر انسان کو زندہ رہنا ہے، تو تمام لڑائیوں سے گریز کرنا ہوگا، وہ لڑائیاں جو بے انصافی کی وجہ سے برپا کی جاتی ہیں، خواہ وہ ویتنام میں ہوں، یا عرب میں ہوں، یا کوریا میں ہوں، ایسی بے انصافی اوربے ایمانی کی لڑائیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جنوبی امریکہ کے تمام انسان، عرب کے تمام انسان، ایشیا اور افریقہ کے تمام انسان اپنے تمام اختلافات کو بھلا کر تیار ہو گئے ہیں اور آج جو نیا دور شروع ہوا ہے، اس سے معلوم ہوا ہے کہ سامراجی ملکوں کو بھی یہ سمجھ آرہی ہے کہ دنیا اس طرح نہیں چلے گی، اس لیے اسرائیل پر مختلف طرح سے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔میں نہیں جانتا کہ اس کے پیچھے کس حد تک تک نیت صاف ہے، میں تو صاف کہنا چاہتا ہوں کہ مجھے معلوم نہیں کہ یہ دور کتنا آگے جائے گا۔ اور کب اسے دبا دیا جائے گا، اس وقت انصاف اور بے انصافی کی لڑائی دنیا میں پورے زور سے چل رہی ہے اور وہ اس لیے چل رہی ہے کہ دنیا کا مظلوم انسان متحد ہو گیا ہے، اورجب تک وہ متحدرہے گا، ہماری طاقت بنی رہے گی۔ اور جہاں ہم میں آپس میں اختلاف ہوا ،یا کرایا گیا اور بکھر گئے، تو پھر ظلم کرنے والی طاقتیں ابھر جائیں گی، اس لیے ہندستان عرب ملکوں کے ساتھ ہے اور اس وقت تک ساتھ رہے گا، جب تک ان کے ساتھ بے انصافی ختم نہیں ہو جاتی۔ اس کے بعد ایک نیا دور ہو گا، وہ دور رک نہیں سکتا، جب غریبوں کا راج ہوگا اور جب ہندستان اور عرب کے عوام بھائی بھائی کی طرح مل کر نا انصافی کے خلاف لڑنے کے لیے تیار ہو جائیں گے، تو دنیا بھر میں امن ہو جائے گا ۔اس لیے ہمیں بڑی خوشی ہے کہ ہماری سر کار بالکل صحیح راستے پر چل رہی ہے۔ ہماری بین الاقوامی پالیسی امن کے قیام میں پورا پورا حصہ ادا کر رہی ہے۔ ہمارے ملک میں خواہ مہنگائی ہو، غربت ہو؛ لیکن جو بنیادی اصول ہیں، ان کو ہمارے ملک نے نہیں چھوڑا ہے، اس لیے ہم اس کنونشن کی طرف سے گورنمنٹ آف انڈیا کی اور اس کی پالیسی کی حمایت کرتے ہیں اور عرب ملکوں کے جو نمائندے یہاں موجود ہیں اور جو ہمارے مہمان ہیں، ان کو ہم اپنی عوامی تنظیموں کی طرف سے یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ جب تک یہ نا انصافی قائم رہے گی، ہم ان کے ساتھ رہیں گے اور جب تک ان کے علاقے واپس نہیں ملتے، ہم ان کی حمایت کرتے رہیں گے۔(روزنامہ الجمعیۃ،4؍دسمبر1973ء)

مسٹر فخرالدین علی احمد صاحب وزیر خوراک کی تقریر

میں اس بات کو اپنے لیے قابل فخر سمجھتا ہوں کہ آج مجھے یہاں آنے کا موقع ملا اور آپ کے ساتھ ان باتوں کے متعلق خیالات کے اظہار کا موقع ملا، جن کی بابت گورنمنٹ اور پارلیمینٹ کی طرف سے بہت کچھ کہا گیا ہے؛ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ آج یہ پہلا موقع ہے کہ اس کا نفرنس کے ذریعہ گورنمنٹ کے لوگوں کو اور عام لوگوں کو ملنے کا اتفاق ہوا ہے، اور اپنے خیالات کا اظہار کر نے کا ان کو موقع ملا ہے۔ آج یہاں جو کنونشن ہو رہا ہے، اس کے ذریعہ سے ہم اعلانیہ طور پر یہ دکھانا چاہتے ہیں کہ گورنمنٹ اور ہمارے لوگوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ اور گورنمنٹ اپنی طرف سے ہم دنیا سے یہ کہنا چاہتے ہیں کہ آج عربوں کے ساتھ جو ظلم و ستم کیا جا رہا ہے،ہندستان، اس کی گورنمنٹ اور عایا اس کے خلاف ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ آج کا نفرنس کے ذریعہ سے کافی اچھی طرح اس بات کا اظہا ر ہو گیا کہ ہم کس مضبوطی کے ساتھ اس ظلم وستم کے خلاف ہیں، خواہ ہم یونائیٹڈ نیشنز میں ہوں، یا کہیں بھی ہوں، عربوں کا ساتھ دے رہے ہیں۔ آج عربوں کے ساتھ جو ظلم ہو رہا ہے وہ ایک یا دو دن کی بات نہیں، ایک یا دو برس کی بات نہیں، ذرا آپ ان چیزوں کے متعلق سوچنے اور سمجھنے کی کو شش کریں۔ ہم کو وہ واقعات یاد آتے ہیں، جو 1942ء میں امریکہ میں ہوئے۔ مجھے یاد ہے کہ آج سے تقریباًاسی(82) سال پہلے صہیونی کا نفرنس ہوئی۔ اور اس میں اعلان کیا گیا کہ فلسطین میں یہودیوں کا ایک قومی وطن بنایا جائے۔ اور دنیا بھر کے یہودی وہاں جا کر آباد ہوں اور اس اسٹیٹ کو بڑھا سکیں۔1948 ء میں اس اسٹیٹ کی بنیا دپڑی۔ اور آپ نے دیکھا کر کہ اس کا نتیجہ کیا ہوا۔ عربوں کے ساتھ ظلم ہوا ہی، لیکن اس کے ساتھ ساتھ ہمارے ملک میں بھی- جہاں ہم ترقی کے بہت سے کام انجام دینا چاہتے ہیں- اس میں بھی رکا وٹیں پڑیں۔ آج یہ امن کے لیے بہت خطرہ ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد اس علاقہ میں چار لڑائیاں ہوئیں۔ سب سے پہلے 1948ء میں ہوئی۔اس کے بعد معاملہ اقوام متحدہ میں گیا۔ اور اس وقت امریکہ و برطانیہ کی تجویز یہ تھی کہ فلسطین کے دو ٹکڑے کردیے جائیں اور بیت المقدس کو بین الا قوامی شہر بنایا جائے۔ لیکن یہ سب تجویزیںو ہیں کی وہیں رہی۔ لڑائی ہوئی، اور اسرائیل نے طاقت کے ذریعہ بہت بڑے علاقے پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد دوبارہ 1956ء میں لڑائی ہوئی۔ اس وقت بھی ہم نے عرب ممالک کا ساتھ دیا، اور ہمارے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے پوری طرح آواز اٹھائی۔ نتیجہ کے طور پر اسرائیل کوعرب علاقہ واپسی کرنا پڑا؛لیکن پھر بھی بہت سے معاملات باقی رہ گئے۔ پھر1967ء میں لڑائی ہوئی اور مصر، شام اور اردن کے بہت بڑے علاقے پر اسرائیل نے قبضہ کر لیا۔1967ء سے 1973ء تک برابر یہ کو شش ہوتی رہی کہ اسرائیل عرب علاقوں کو واپس کردے۔ اقوام متحدہ میں بھی پوری طرح یہ معاملہ چلتارہا۔ عربوں نے بھی پورے صبر اور تحمل سے یہ جدو جہد جاری رکھی کہ کسی طرح بغیر لڑائی کے یہ علاقے واپس ہو جائیں۔ آخر کار صبر کی ایک حد ہوتی ہے۔ اسرائیل یہ کہتا رہا کہ وہ دوسروں کی مدد اور طاقت کے سہارے ان علاقوں پر قابض رہے گا۔ اور اس کو وہاں سے نہیں ہٹایا جاسکے گا۔ 

میں آپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ بڑی خوشی کی بات ہے کہ عرب ملک قابل مبارک باد ہیں کہ اس چھ سال کے عرصے میں علاوہ صبر کے انھوں نے اپنی کوشش جاری رکھی۔ وہ آپس میں متحد ہوئے، ان میں ایک اتحاد پیدا ہوا۔ اور اس کا نتیجہ انھوں نے دیکھا کہ اس اتحاد کے سہارے انھوں نے ایک بڑی طاقت کا مقابلہ کیا اور کامیابی حاصل کی۔ اس کے لیے ہم ان کو مبارک باد دیتے ہیں؛ لیکن اس کے ساتھ سا تھ میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ابھی جو کچھ ہوا ،وہ کافی نہیں؛ بلکہ ابھی ان کا بڑا علاقہ اسرائیل کے قبضہ میں ہے۔ میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ وزیر خارجہ نے آپ کے سامنے گورنمنٹ کی پالیسی واضح طور پر رکھی اور دنیا کے سامنے اس بات کا اظہار کیا کہ ہم عرب ممالک کے ساتھ ہیں، اس لیے ان کے ساتھ ہیں کہ ان کے اوپر ظلم ہوا ہے۔ ان کے علاقہ پر دوسروں کا قبضہ ہے۔ اور ہم اس وقت تک ان کا ساتھ دیتے رہیں گے، جب تک کہ اسرائیل عربوں کے علاقے سے واپس نہ ہو۔ اور وہاں امن و امان قائم نہ ہو۔ اسی طرح وزیر خارجہ نے آپ کے سامنے ایک اور بات کا اظہار کیا، وہ یہ کہ آج ہم کو اتنا ہی باتوں کے متعلق نہیں سوچنا ہے؛ بلکہ فلسطین کے لوگوں کے متعلق بھی سوچنا ہے۔ ہم یہ چاہتے ہیں کہ فلسطین کے جن لوگوں کو ان کے گھروں سے نکالا گیا ہے، وہ اپنے گھروں کو واپس جائیں اور ان کے حقوق ان کو دیے جائیں۔ جب تک یہ نہیں ہوگا، ہم لوگ اپنی جدو جہد کو جاری رکھیں گے اور عربوں کا ساتھ دیتے رہیںگے۔

 میں آپ سے کہنا چاہتا ہوں کہ آج ہم عربوں کی حمایت اس لیے نہیں کرتے کہ میں مسلمان ہوں، یا ہم میں سے بہت سے لوگ مسلمان ہیں۔ کنونشن کے ذریعہ اس بات کا ثبوت دیا گیا ہے کہ یہ سوال ہند و مسلمان یا عیسائی کا نہیں۔ یہاں ہر طرح کے اور ہر مذہب کے لوگ موجود ہیں۔ اورہم اس کنونشن کے ذریعہ یہ دکھانا چاہتے ہیں اور اس کا صاف صاف اظہار کرنا چا ہتے ہیں کہ جہاںتک ہمارا تعلق ہے، ہم بحیثیت ایک ہندستانی کے ہر قسم کے ظلم کے خلاف ہیں، خواہ وہ عرب میں ہو، یا کہیں اور؛ہم اس کے خلاف پوری طرح آواز اٹھائیں گے اور اپنی پور ی امکانی کوشش کریں گے کہ ظلم دورہو۔ ہم یہ بتانا چا ہتے ہیں کہ ہماری ہمدردی انسانیت کے ساتھ ہے اور انسانیت کے اوپر ظلم کے خلاف ہم اپنی آواز اٹھانے میں ہر گزدریغ نہیں کریںگے۔

( روزنامہ الجمعیۃ،4؍ دسمبر1973ء)

ڈاکٹر شنکر دیال شرما صدر کانگریس کی تقریر

کانگریس اورپورا ہندستان عربوں کا حامی ہے۔ جدید اسلحہ اور ہندستان کا دفاع کانگریس اور پورا ہند ستان کا حامی ہے۔ یہ حمایت نئی چیز نہیں ہے۔ہماری جماعت 1937ء نے اپنے کلکتہ سیشن میں ان مظالم کے خلاف صاف الفاظ میں آواز اٹھائی تھی، جو انگریز اس وقت عربوں پر کر رہے تھے۔ اس کے بعد بھی ہم نے برابر صاف طور پر کہا تھا کہ عربوں کو ان کے حق واضح چاہیں۔

ہم نے کہا تھا کہ اگر چہ ہماری ہمدردیاں نازی جرمنی کے مظلوم میں یہودیوں کے ساتھ ہیں؛ لیکن اس کا طریقہ یہ نہیں ہے کہ وہ دوسروں پرظلم کرنے کی کوشش کریں۔ جو مقدمہ ہے، وہ صاف بات چیت سے طے ہو۔ ہمارا دل و دماغ اس بارے میں صاف رہا ہے، جب اپنی آزادی کے لیے لڑرہے تھے، تب سے ہی جانتے ہیں کہ ظلم و جبر سے کسی علاقہ قبضہ کرنے والوں کو اسے واپس کرنا  ہوگا، تب ہی دنیا میں امن ہوگا، اور اسی لیے چاہے، دوسرے لوگ کچھ بھی سوچتے رہیں ،ہم نے برابر عربوں کی حمایت کی۔ میں آپ کو صاف کہہ دوں، عربوں کی حمایت نہیں؛ انسانیت کی حمایت ہے۔ ہم عربوں کی حمایت کر کے ان پر کوئی احسان نہیں کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ کیا ضرورت ہے ہندستان کو بار بار عربوں کی حمایت کر نے کی، اس سے امریکی ناراض ہو جاتے ہیں اور اس وجہ سے جو مدد ہم کو دوسری جگہ سے ملتی ہے، اس میں دقت پڑتی ہے۔ میں صاف کہنا چاہتا ہوںکہ ہندستان کی طرف سے اور خاص طور پر اپنی پارٹی کی طرف سے ہندستان کووہ امداد نہیں چاہیے، جس کی قیمت پر عربوں، عربوں کی سر زمین پر دو سروں پرقبضہ بالکل سیدھی  سی بات ہے۔ ہم جن اصولوں کے لیے کھڑے ہیں، ان پر کھڑے رہیں گے۔یہ بات ہم نے 1967 ء میں صاف صاف کہی،اور اب 1973 ء میں بھی برابرکہتے رہیںگے۔ 1967 ء کے بعد ہمارے جو ریزولیوشن منظور ہوئے، ان میں ہم نے  صاف کہا ہے کہ اسرائیل کو لوگوں کو اس زمین سے، جس پر انھوں نے قبضہ کیا ہے، فورا واپس جانا چاہیے۔ کہا جاتا ہے کہ عربوں کو لڑنا نہیں آتا اور اسرا ئیلی بڑے طاقت ور ہیں، اب تو ان کے معلوم ہو گیا ہو گا کہ جب  طے کر لیا جاتا ہے، تو کس طرح لڑا جاتا ہے۔جنگ میں دھوکے سے بھی کسی کو گرایا جا سکتا ہے۔ پہلے انھوں نے دھوکہ سے حملہ کر کے کافی نقصان پہنچایا تھا؛لیکن انھوںنے موقع آنے پر دیکھ لیا ہوگا کہ ان کے دل دو ماغ بھی صاف ہو گئے ہوں گے۔ ان کو معلوم ہو گیا ہو گا اکیلے ہتھیاروںسے کام نہیں چلتا۔ جب جذبہ کے ساتھ لوگ اکٹھے ہوں، تو بڑا کام ہو سکتا ہے۔

دوسری بات جو میں مانتا ہوں، وہ ہے عربوں کا آپس کا اتحاد۔ مغربی طاقتوں کا ہمیشہ اصول یہ رہا ہے کہ آپس میں بانٹو، جہاں بھی ہو سکے بانٹو، علاحدہ کرو، پھوٹ ڈالو۔ ہم کو غلام رکھنے کے لیے بانٹا۔ اس طرح وہ عربوں میں پھوٹ ڈالنے کی چال چلتے ہیں۔ وہ چال نا کام ہو گئی، جب عرب اکٹھاہوگئے اور اپنی طاقت کو پہچان لیا۔ اور ہم نے یہ بھی دیکھ لیا کہ ان کی طاقت متحد ہو کر کتنی بڑی ہے۔ جب یہ لوگ ہوئے تھے، تو لوگ ان کو مشورہ دیتے تھے کہ بھائی یہ تیل کا ہتھیار استعمال کرنے سے تمھارا کام نہیں بنے گا۔ الٹا تمھارا نقصان ہو جائے گا، تمھارا تیل کم ہو گا، تو تمھاری آمدنی بھی کم ہو جائے گی؛ لیکن ہم نے دیکھا کہ جب انھوں نے فیصلہ کیا، تو جاپان کو کتنی جلد اپنی رائے بدلناپڑی۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ جاپانی کوئی معمولی ملک نہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ ہمارے یہاں جو دوسری پارٹیاں ہیں، وہ ان چیزوں کو گہرائی سے دیکھتی ہیں یا نہیں۔ تین دن پہلے جاپان کہ کہنا پڑا کہ اسرائیل کو عربوں سے تمام علاقے خالی کرنے چاہئیں اور تمام باتیں ماننی چاہئیں۔ امریکہ بہت ناراض ہے کہ جاپان نے کیوں اپنی رائے بدل دی، سمجھ میں نہیں آتا، ناراضگی کی کیا بات ہے۔ سیکیورٹی کونسل کا ریزولیوشن موجود ہے۔ اگر جاپان نے بھی وہی بات کہہ دی، تو کیا برائی ہے۔ یہ بات دوسری ہے کہ آپ کہیں اور کچھ اور کریں کچھ اور۔ یہ بات بھی صحیح ہے کہ اس بار پھر ان لوگوں پر بھروسہ کر کے تھوڑا دھوکا کھایا ہے۔

آپ نے یہ کنونشن بلایا، میں آپ کو مبارک دیتا ہوں۔ ہم سب اپنی آواز اٹھائیںگے۔ اس کے نتیجہ میں دنیا پر اثر  پڑے گا،اس میں کوئی شک نہیں؛ لیکن ہو سکتا ہے۔ اب بھی اسرائیل والے نہ ما نے؛کیوں کہ وہ اس طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔ ہو سکتا ہے کہ ملی بھگتا ہو اور کہا جائے کہ ہم نے تو زور ڈالا؛ لیکن انھوں نے نہیں مانا۔ اور اصل بات تو یہ ہے اور یہی صحیح طریقہ ہے کہ تم اس کو ہتھیار بند کرد و۔ پھر دیکھیں ،کیسے نہیں مانتا۔ اگر وہ نہیں مانتا، تو ہو سکتا ہے کہ ایک بار پھر عربوں کو اپنے جائق حق لینے کے لیے جدوجہد کرنی پڑے، تب ہماری جوحمایت ہے، وہ صرف کا نفرنس تک نہ رہے؛بلکہ آگے بڑھے۔ ہم نہیں چاہتے کہ لڑائی ہو۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ اسرائیلی مان جائیں اورعربوں کی زمین کو خالی کردیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آسانی کے ساتھ فلسطینیوں کو ان کے حقوق ملیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ یہ سب امن سے ہو جائے،شانتی سے ہو جائے، لڑائی نہ ہو۔ 

(روزنامہ الجمعیۃ،29؍ نومبر1973ء)

لیکن اگر ایسا ہو اور ترقی دوبارہ ہو جائے، تو ہماری تیاری ایسی رہنی چاہیے کہ ہم ان کی مدد کرسکیں۔ اس کے لیے ہم ابھی سے تیاری رکھیں۔ ایسے موقعوں پر سوال آتا ہے ریڈ کر اس کی مدد کی ضرورت پڑتی ہے ،خون دینے کی۔ میں تو کہتا ہوں کہ ہم لوگ ابھی سے لکھوائیں کہ اگر وقت پڑے گا، تو ہم سب خون دینے کے لیے تیار ہوں گے۔ اس میں دو باتیں ہوںگی: ایک تو یہ کہ اس سے لوگوں کو معلوم ہو جائے گا کہ ہماری جو ہمدردی ہے، وہ صرف زبانی نہیں۔ میں بار بار یہ ہی کہتا ہوں کہ ضرورت نہ پڑے لڑائی ہو؛سب معاملہ آسانی سے طے ہو جائے؛ لیکن اگر ایسا ہو، تو ہم کو تیا رہنا چا ہیے۔ میں تو کہتا ہوں کہ وقت پڑنے پر لوگوں کو تیار ہونا چاہیے کہ ہم اپنی جان بھی دیں۔ اگر اصولی چیز ہے ،تو پھر کیا وجہ ہے، اور میں تو اسی بنا پر بنگلہ دیش کو مبارک دینا چاہتا ہوں کہ اس نے فوراً اعلان کیا کہ ہم اپنے یہاں سے ٹکڑاں بھیجیں گے، جو جا کر عربوں کے لیے لڑیں گی۔ اور میں بنگلہ دیش کا ذکرخاص طور پر اس لیے کررہا ہوں کہ اکثر ہمارے ہاں یہ کہا گیا کہ یہ ہندستانی عربوں کے ساتھ کھڑے رہے۔ ہم کو بہت سننا پڑا ہے ہندستانی عربوں کے ساتھ بہت رہتے ہیں؛ لیکن عربوںنے بنگلہ دیش کو مانا تک نہیں؛ لیکن ہمارا جواب یہ تھا کہ ہم عربوں کے کاز کے ساتھ ہیں، تو اصولوں کے ساتھ ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں اس کے معاوضہ میں عربوں سے قیمت لیں، یہ سودا بازی ہوتی ہے۔ جہاں اصول آتے ہیں، وہاں سودا نہیں کیا جاتا۔ اور ہماری بات کا ثبوت ہم نے تو دیا۔ بنگلہ دیش نے بھی دیا ،مجھے اس پر فخر ہے۔ انھوں نے ایک منٹ کے لیے نہیں سوچا کہ عربوں نے دیر لگائی تھی۔ فوراً شیخ مجیب اور ان کی پارٹی سے لوگوں نے کہا کہ جس طرح اب اپنے ملک کی آزادی کے لیے لڑے تھے، اسی طرح عربوں کے لیے جان دینے کو تیار ہیں۔ ہم کم از کم اتنا تو کر لیں کہ ایک فارم بنا لیں۔ اور جہاں جہاں سے ڈیلی گیٹ آتے ہیں، ان سے دستخط کرالیں کہ اگر ضرورت پڑے گی، تو ہم اپنا خون دیںگے۔ ایک بار کے خون نکلنے میں کچھ نہیں جاتا۔ اوربھی چیزیں ہم کر سکتے ہیں، اور یہ بھی ضروری ہے کہ ہم پورے ملک میں ایک فضا بنائیں، تاکہ آئندہ ایسا نہ ہو، کیوںکہ اس بار جب لڑائی ہوئی، تو کتنی پارٹیاں کچھ نہیں بول سکیں۔ تعجب کی چیز ہے، بہت سی پارٹیاں اور بہت سے اخبارات لکھ رہے تھے کہ ہندستان کیا حماقت کی بات کہہ رہا ہے۔ کچھ کہتے تھے کہ جب ایسے میں ضرور چاہتا ہوں کہ ہمارے اس کنونشن کا فائدہ یہ ہے کہ ہم اس بات کو لوگوں تک گہرائی سے پہنچا ئیں۔ ہمیں اپنی بات ختم کرنے سے پہلے عربوں کو ایک اور بات کے لیے بھی  مبارک باد دیناچاہتا ہوں۔ آپ نے غور فرمایا انھوں نے ایک نئی چیز کی ہے،بہت شان دار بات ہے، جس وقت وہ بڑھ رہتے تھے، تو مصر کے وزیر خارجہ نے کہا کہ تیل کا جو ہتھیار ہے، اس کو استعمال کیا جانا چاہیے۔ افریقیوں کی آزادی کے لیے یہ آپ کو ایک معمولی بات معلوم ہوئی؛ لیکن میں سمجھتا ہوں بڑی بھاری چیز انھوں نے کی ہے۔ جس دن دنیا کے دبے ہوئے لوگ اکٹھا ہوجائیں گے،دبانے والے دباتے نہیں رہ سکتے۔عربوں نے یہ بہت شان دار کام کیا ہے۔ افریقیوں نے بھی ساتھ دیا اور انھوں نے اسرائیل سے اپنے سفیروں کو واپس بلا لیا۔ عربوں کا لڑائی کے وقت اس طرح سوچنا یہ بتاتا ہے کہ وہ اصولوں پر کھڑے ہیں۔ اصولوں کے لیے لڑرہے ہیں۔ تو میں امیدکرتا ہوں کہ وہ آپس میں اکٹھا اور متحد رہیں گے۔ وقتی طور پر کچھ لوگوں کو غصہ آجاتا ہے ۔آج بھی ایسی باتیں سننے میں آرہی ہیں؛ لیکن عربوں اور اسرائیل کی جو لڑائی ہے، وہ اصولوں کی لڑائی ہے۔ اس لڑائی میں عربوں کو کامیاب ہونا چاہیے۔ میں کہتا ہوں کہ ہم لوگ دعا بھی کریں، اس کا بھی اثر ہوگا۔ پھر اس کے ساتھ ساتھ کچھ قدم بھی اٹھائیں۔ اور یہاں جو سفیر آئے ہیں، ہم ان سے مشورہ کریں اور پوچھیں کہ ہم اور کس طرح ان کی مدد کر سکتے ہیں۔ یہ خون دینے کی بات تو میرے دماغ میں آئی۔ دوائیں وغیرہ سرکار تو بھیجتی ہے؛ لیکن ہم جو کریں گے، اس کی بات اور ہوگی۔ میں تو چاہتا ہوں کہ فضا ایسی بنے کہ ہمارے ہاں کا غریب سے غریب بھی اس میں حصہ دار ہو جائے۔

 مجھے امید ہے کہ ہماری جو آوازاٹھے گی، اس کا اثر ہوگا، عربوں کو ان کا حق ملے گا۔ اور یہی نہیں؛ اس کے بعد ایسا امن قائم ہوگا، جس میں عرب لوگ اپنی غربت کو مٹا سکیں۔ 

(روزنامہ الجمعیۃ، یکم دسمبر1973ء)

 مسٹر دیوکانت بروا کی تقریر

عربوں اور ہندستان کے درمیان جودوستی ہے،وہ تو قدرتی دوستی ہے۔ اس کے بارے میں کہنے کی ضرورت نہیں۔ اسی طرح جس طرح یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ سورج پورب سے نکلتا ہے۔ اورعرب اسرائیل کے بیچ میں جو جھگڑا ہے، اس کے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے کی ضرورت نہیں ہے؛ کیوںکہ اس کا فیصلہ مہاتما گاندھی نے کر دیا ہے۔ 1917ء میں جب انگریز نے عربوں سے دھوکا کیا تھا اور ان کے اس وقت کے وزیر اعظم لارڈ بالفور نے یہ اعلان کیا تھا کہ فلسطین میں یہودیوں کا ایک ’’نیشنل ہوم‘‘ بنایا جائے گا، تو مہا تھا گاندھی نے اس کی مخالفت کی تھی۔ مہاتما گاندھی نے کہا تھا کہ فلسطین میں یہودیوں کا آنا غلط ہے؛ کیوںکہ ان کے نیشنل ہوم بنانے کا جذبہ ایک مذہبی جذبہ ہے، سیاسی نہیں۔ اور اس لیے بھی کہ یہ لوگ فلسطین میں انگریز کی سنگین کے زیر سایہ آرہے ہیں۔ ان کو اگر فلسطین میں رہنا ہے، تو عربوں کے ساتھ دوستی کے ساتھ رہنا ہوگا۔ ان کے تعاون سے رہنا ہوگا، تو یہ فیصلہ تو ہو چکا کہ یہودی جس طرح فلسطین میں آئے، وہ غلط ہے۔ وہ جس طرح وہاں آباد ہوئے، وہ غلط ہے اور جس طرح انھوں نے وہاں کے عربوں کو ان کے گھروں سے نکال باہر کیا، وہ غلط ہے۔ پہلے وہ سامراج کے سہارے فلسطین میں آئے تھے۔ اور اب پھر اس بارانھوں نے نئے سامراج کے سہا رے صرف فلسطین نہیں؛ بلکہ مصر، شام اور اردن کے علاقے لیے ہیں؛ یہ بھی غلط ہے۔ اس بات کا فیصلہ اس ملک میں 1917ء میں ہو گیا تھا۔ ہم جو عربوں کا ساتھ دیتے ہیں اور ان کے ساتھ جس ایکتا کا اظہار کرتے ہیں ،یہ نئی چیز نہیں۔ ہماری آزادی کی لڑائی بھی عربوں سے وابستہ ہے۔ مہاتما گاندھی نے 1921 ء میں آزادی کی تحریک شروع کی تھی، اس سے چار سال پہلے انھوں نے عربوں کی حمایت کی تھی۔ ہندستان آزاد ہو گیا؛ لیکن عربوں کابہت سا علاقہ اب بھی اسرائیل کے ہاتھ میں ہے۔ اس علاقہ کو آزاد ہونا چاہیے اور فلسطین کے جن لوگوں کو ان کے گھر سے نکال د یا گیا، ان کے گھر اور زمین ان کو واپس ملنی چاہیے، یہ بالکل انصاف کی بات ہے، جب تک انصاف نہیں ہوگا، امن کا امکان نہیں۔

پنڈت نہرو نے کئی بار کا نگر یس کے اجلا س میں کہا کہ فلسطین کا معاملہ سامراجیت کا معاملہ ہے اور ہم سا مراجیت کی حمایت نہیں کر سکتے۔ انگریز نے یہودیوں کو وہاں بسایا اور آج نیا سامراج، اور میں تو صاف کہتا ہوں کہ امریکن سامراج ان کی مدد اور حمایت کر رہا ہے، اس لیے نہیں کہ وہ یہودیوں کو زیادہ پسند کرتے ہیں؛ بلکہ اس لیے اس علاقہ میں؛ بلکہ صرف مشرق وسطیٰ میں نہیں؛ بلکہ پورے ایشیا میں، جنوبی ایشیا اورہندستان میں وہ اپنا تسلط اور غلبہ چاہتے ہیں۔

ہم یہ نہیں ہونے دیں گے۔ یہ لڑائی عرب اسرائیل کی ہے، یہ مسلمان اوریہودیوں کی نہیں۔ ہندستان کے کچھ لوگ اس لڑائی کو مذہبی رنگ دینا چاہتے ہیں۔ اس میں مذہب کی کوئی بات نہیں؛ کیوںکہ مسلمان حضرت موسیٰ کو مانتے ہیں، ان کی عزت کرتے ہیں، (تالیاں)۔ عرب اسرائیلیوں سے اس لیے لڑ رہے ہیں کہ وہ دوسرے مذہب کے لوگ ہیں؛ بلکہ عربوں کی فوج میں مسلمان، عیسائی اور یہودی سب شامل ہیں۔ وہاں عربوں کو ساتھ کر د بھی لڑ رہے ہیں۔اسرائیل سامراج کا ایک نیا روپ ہے، اس لیے لڑائی ہو رہی ہے۔ عرب جو لڑائی میں شہید ہوئے ہیں، وہ صرف عرب قوم کے لیے شہید نہیں ہوئے، وہ سارے ایشیا کے لیے شہید ہو رہے ہیںاورر خاص طور پر ہندستان کے لیے شہید ہورہے ہیں۔ ہم ان کو خاص عربوں کے لیے شہید نہیںمانتے؛بلکہ ہندستان کے لیے بھی شہید مانتے ہیں؛ کیوںکہ جب ہم سب لوگ ہندستان کی آزادی کے لیے لڑ رہے تھے، تو اس وقت بھی ہم نے سامراج اور نا انصافی کے خلاف، چاہے- وہ کہیں بھی ہو- آواز اٹھائی، اور جب مصر میں انگریزوں کے خلاف، زغلول پاشا لڑ رہے تھے، تو ہم نے ان کی مدد کی تھی۔کانگریس شیشن میں وہاں سے ڈیلی گیشن آئے تھے، ہم ان کی حمایت کرتے تھے۔ اسی طرح جب مراکش میں امیر عبدالکریم نے فرانسیسیوں اور اسپینیوں کے خلاف بغاوت کی تھی، تو ہم نے ان کی بھی حمایت کی تھی۔ قاضی نذر السلام نے ان لوگوں کی حمایت میں نظمیں لکھی ہیں۔ الجیریا کی جنگ آزادی میں بھی ہم نے ان کی مدد کی اور یہاں ان کی تحریک آزادی کا دفتر کھولا گیا۔ ایسا کوئی ملک نہیں، جس کی آزادی کی لڑائی میں ہم نے ان کی مدد نہیں کی۔

یہ لڑائی صرف عرب اور اسرائیل کی نہیں؛ بلکہ جاگتے ہوئے ایشیا سے نئے سامراج کی لڑائی ہے۔ اس میں عربوںکی پوری مدداورحمایت کرنی چاہیے۔ زبانی ہمدردی تو ہم کر رہے میں۔ جنتا کی حمایت تو ہے اور ہماری وزیر اعظم کہہ چکی ہیں کہ ہماری پوری حمایت اور ہمدردی عربوں کے ساتھ ہیں۔ اس میں یہ ہمارا فیصلہ ہے، اور ہونا چاہیے کہ عرب اور اسرائیل کی لڑائی، اصولوں کی لڑائی ہے۔ یہ انصاف کی لڑائی ہے۔ اسرائیل جوعربوں کے ساتھ ضد کر رہا ہے، وہ اس لیے کہ بڑے ملک اس کے ساتھ ہیں۔ اور یہ ملک ایسے ہیں کہ اپنا کاروبار اور اقتصادیات کو چلانے کے لیے تیل تو لیتے ہیںعرب ملکوں سے؛ لیکن مدد کرتے ہیں اور ساتھ دیتے ہیں اسرائیل کا۔ اس بارے میں انھیں ٹھیک طرح سوچنا چاہیے کہ ہم کو عربوں کے ساتھ رہنا چاہیے اور پوری طرح رہنا چاہیے؛ کیوںکہ وہ جو لڑائی  لڑ رہے ہیں، ہماری لڑائی لڑر ہے ہیں۔ عرب میں جو لوگ شہید ہو رہے ہیں، وہ ہمارے لیے شہید ہو رہے ہیں۔ اس نظر سے ہم دیکھیں، تو ہندستان کے عوام پوری طرح اس کی حمایت کریں گے اور کر رہے ہیں۔ پہلے 1967ء میں دھو کہ سے اسرائیلیوں نے عرب علاقوں  پر قبضہ کر لیا تھا۔ اس مرتبہ پتہ چل گیا کہ عرب لڑ بھی سکتے ہیں، مر بھی سکتے ہیں اورمار بھی سکتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ لڑائی ہو۔ ہم تو چاہتے ہیں کہ امن ہو جائے؛ لیکن اگر آئندہ لڑائی ہوئی اور اسرائیل اس طرح بے انصافی کے راستہ میں چلتا رہا، تو اس کا نام ونشان بھی نہیں رہے گا۔ اس لیے ہم چاہتے ہیں کہ انصاف ہونا چاہیے۔ عربوں کی زمین ان کو واپس ہونی چاہیے۔ اور فلسطینی پناہ گزین -جو آج کتنے عرصہ سے بے گھر ہیں -ان کا انتظام ہونا چاہیے،تب اس علاقہ میں امن ہوگا، اور تب ہی اسرائیل میں سا مراج کا تعمیر ہونے والا نیا قلعہ ختم ہو گا۔

(روزنامہ الجمعیۃ،3؍ دسمبر1973ء)

ڈاکٹر مقیم الدین فاروقی صاحب کی تقریر

میں کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے کنونشن کو مبارک بادیتا ہوں۔جہاںتک عربوں کی آزادی کا تعلق ہے،تو ہندستان کی سب سے بڑی پارٹی کانگریس کے نیتا یہاں بول چکے ہیں۔ ہماری وزیر اعظم بار بار اپنی حکومت کی طرف سے اور ہندستان کی طرف سے عربوں کی حمایت کرتی رہی ہیں اور وزیر خارجہ بھی بول چکے ہیں۔ ہمارے ملک کی سیاسی پارٹیوں اور عوام کی اکثریت عربوں کے ساتھ ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہمارے ملک کے اندر کچھ سرپھرے بھی ہیں،جو عربوں کے مخالف ہیں اور ہمارے ملک میں بڑے بڑے سرمایہ داروں کے اخبار بھی ہیں، جن کو پڑھ کرمعلوم ہوتا ہے کہ وہ ہندستان کی آواز ہیں؛ لیکن یہ چند سر پھرے، جن کو ہم اسرائیل کی لابی کہہ سکتے ہیں، یا وہ اخبار جو سرمایہ داروں کے ہیں ، وہ ہندستان کے عوام کی ترجمانی نہیں کرتے۔ ہندستان کی رائے عامہ کی ترجمان اس بارے میں کانگریس، کمیونسٹ پارٹی اور دوسری ترقی پسند طاقتیں کرتی ہیں۔ میں اس موقع پر اس بات کو پھر دہرانا چاہتا ہوں، جس کو دیو کانت جی بروانے کہا ہے کہ یہ سوال مذہبی نہیں ہے، اس پر زور دینا اور اس کو بتانا ضروری ہے، کیوںکہ بعض اخبارات اس کو اس طرح کا رنگ دیتے ہیں۔ اس لیے کہ عرب ممالک، ان کے سربراہ اور عوام نے کبھی کسی جگہ یہ نہیں کہا کہ یہ مذہبی لڑائی ہے۔ یہ لڑائی آزادی پسند لوگوں کی ہے۔ سامراج کے خلاف، اور ہندستان ہمیشہ جب وہ اپنی آزادی کی لڑائی لڑرہا تھا، اور آج جب ہم ایک نیا سماج بنانے کی جدو جہد کر رہے ہیں، تو اس میں ہندستان کی آواز ہمیشہ ان لوگوں کے ساتھ رہی ہے، جو اپنی آزادی کے لیے لڑتے ہیں، خواہ وہ کسی بھی جگہ اور کسی بھی ملک میں ہوں۔ ہم نے ویتنام کی حمایت کی، ہم نے لاؤس کی حمایت ،کی ہم نے چین کی حمایت کی، ہم نے جنوبی افریقہ اور ایشیا کے نسلی امتیاز کے خلاف اپنی آواز اٹھائی۔عرب اسرائیل جنگ کو اگرمذہبی سوال بنایا جائے، تو آج عربوں کے ساتھ عالمی پیمانے پر جو ہمدردی ہو رہی ہے، وہ محدود ہو جائے گی اور یہ حقیقت ہے بھی نہیں۔ اور کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ دنیا میں کچھ اسلامی ممالک ایسے بھی ہیں، جو عربوں کی حمایت نہیں کر رہے ہیں۔ عربوں نے اس ترقی کے زمانے میں صحیح فیصلہ کیا کہ وہ امریکی سامراج کے خلاف تیل کے ہتھیار کو استعمال کریں۔ اور یہ ہتھیاربہت مؤثر ثابت ہوا؛ لیکن کیا یہ ایک حقیقت نہیں ہے کہ اس اسلامی ملک ایران، اس نے اپنے تیل پر کوئی پابندی نہیں لگائی ؟۔کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ … کے اڈے لڑائی کے زمانہ میں اسرائیل کو ہتھیار پہنچانے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔اسی طرح بھٹو صاحب بھی زبانی ہمدردی کرتے رہے اور لڑائی کے دوران وہ ملنے گئے، تو کس سے؟ ایران کے شہنشاہ اور ترکی کے صدر سے۔ وہ مصر کے صدر سادات یا حافظ اسد سے ملنے نہیں گئے۔

تو یہ لڑائی اصل میں سامراج کے خلاف ہے۔ اس لیے آج اس پلیٹ فارم پر سب لوگ جمع ہیں؛ کیوںکہ عربوں کی یہ لڑائی سامراج کے خلاف ہے۔ میں ان الفاظ کو استعمال نہیں کرنا چاہتا کہ عرب مظلوم ہیں،ان پر ظلم ہو رہا ہے؛ کیوںکہ یہ الفاظ بہت کمزوری کا اظہار کرتے ہیں۔ عرب مظلوم نہیں ،وہمجاہد ہیں( تالیاں) وہ جہاد کر رہے ہیں، اپنی آزادی کے لیے ۔اور جب آپ عربوںکا لفظ استعمال کرتے ہیں، تو اس میں مسلمان ہی نہیں؛ عیسائی بھی ہیں اور عرب اور مسلمان اور عیسائی شانہ بشانہ ہیں،جس طرح ہندستان میں ہندو مسلمان دونوں نے مل کر انگریزوں کے خلاف جدو جہد کی، آج بھی ہندومسلم  اتحاد ہمارا بنیادی مقصد ہے، اسی طرح عرب آزادی کی جدوجہد میں ایک ہیں، اور اس لیے یہ جہاد مذہبی نہیں ؛سیاسی ہے۔ اور جب وہ یہ لفظ استعمال کرتے ہیں، تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے۔

 آج 1967ء نہیں،1973ء ہے اور اس عرصہ میں بہت بڑی انقلابی تبدیلی آ چکی ہے۔ ساری دنیا کی سیاست میں طاقت کا توازن بنیادی طور پر بدل چکا ہے اور آج عربوں کو دنیا کے تمام غیر جانب دار اور اشتراکی ممالک کی ہر طرح کی ہمدردی اور مدد حاصل ہے، تاکہ وہ سامراج کو زبر دست چوٹے دے سکیں۔(روزنامہ الجمعیۃ،3؍ دسمبر1973ء)

 ممبر پارلیمنٹ بی کے ڈی مسٹر شیام لال یا دوبی کے ڈی کی تقریر

 اس میں کوئی شک نہیں کہ مڈل ایسٹ میں سامراجی طاقتوں نے شروع سے جس قسم کا رویہ اختیا کیا۔ اس سے ہی جنگ کی یہ حالت پیدا ہوئی اور ایک نئی بات انھوں نے یہ کیا کہ یہودی لوگوں کو عرب کی سر زمین پر لاکربسا نے کی کوشش کی، جو وہاں پر نہیں تھے۔ فلسطین کے لوگوں کو وہاں سے دھیرے دھیرے ہٹایا اوراس طرح ’’اسرائیل‘‘ نام کا ملک قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔ اور کوشش کی گئی طاقت اور تلوار کے بل پر۔لہذادنیا کے تمام انصاف پسند لوگ اس کی مخالفت کر تے ہیں اور کرتے رہیں گے، اور یہ لڑائی- جو ابھی حال میں ہوئی- کوئی نئی نہ تھی؛ بلکہ یہ معاملہ کئی برسوں سے چل رہا تھا۔ اسرائیل کو جو طاقتیں مدد دیتی رہیں، وہ بڑی طاقتیں ہیں، جنھوں نے اس بات کا اجارہ لے رکھا ہے کہ دنیا میں امن ہو ،تو ان کی مرضی سے اور دنیا میں کوئی ملک کسی مناسب بات کے لیے قدم اٹھانا چاہیے، تو ان کی مرضی سے۔ اور اس طرح سے بڑی طاقتوں نے -خواہ مغربی ہوں، یا مشرقی- اپنے جنگی ہتھیاروں کے ذریعہ سے فیصلہ کر رکھا ہے کہ وہ دنیا میں چاہیں، تو امن قائم کرائیں، اور چاہیں نہ کرائیں۔ ہمارے عوام اور ہمارا ملک کسی بھی ایسے طاقت ور ملک کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے۔ اور کوئی بھی ملک کسی دوسرے ملک کو ستانا اور اس کی زمین پر قبضہ کرنا چاہتا ہے، ہمارے عوام اس کی مخالفت کرتے رہیں گے۔

 مسٹر آر کے گرگ ایڈوکیٹ سپریم کورٹ

 نے پہلا ریزولیوشن پیش کیااور اس کی وضاحت میں مندرجہ ذیل الفاظ کہے:

 دوستو!ہمارا ریزولوشن صاف ہے، سب باتیں آپ کے سامنے آچکی ہیں۔ میں  ریزولوشن کی وضاحت کرنا نہیں چاہتا؛ لیکن بروا صاحب کا شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں کہ انھوں نے اس تحریک کو ایک صحیح پس منظر میں پیش کر کے ایک جاگتے ہوئے ایشیا کی اس تحریک کا وہ نقشہ دیا کہ جس سے ہم دیکھیں گے کہ اس تحریک کی کامیابی کے ساتھ سامراجی نظام ہمیشہ کے لیے سرنگوں ہوگا اور صفحۂ ہستی سے مٹ جائے گا (تالیاں)۔ویتنام کے بہادر سپاہیوں کا ذکر ہم نے بارہا سنا ہے، یہ فخر اپنے عرب مجاہدین کو حاصل ہے۔ عرب کی ایکتا کے ساتھ ساتھ ہم نہ صرف یہ دیکھ رہے ہیں کہ اسرائیل کو یہ احساس ہوا ہے کہ عربوں کی جرأت اور عربوں کی حصول انصاف کے لیے لڑنے کی ہمت کتنی زیادہ ہے؛ بلکہ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ اس طاقت کے سامنے یورپ سر نگوں ہے، (تالیاں)۔ ہم نے یہ بھی دیکھا ہے کہ آج جاپان کی طاقت اس کے سامنے سرنگوں ہے۔ ہم نے اس میں اتحاد دیکھا ہے۔ ماسکو سے مصر تک کا، دلی سے مصر تک کا اور مصر میں تمام عرب ممالک کا۔ یہ کوئی آسان بات نہیں ہے۔ اس تحریک کا دور دنیا کی تاریخ کا وہ دور ہے، جب کہ چلی میں ظالم فاسسٹ اس لیے قائم کرتا ہے کہ وہاں کے لوگ آزادی سے جینے کا حق مانگتے ہیں۔ اس تحریک کے رشتے اس تحریک سے جڑ جاتے ہیں، جو کہ ساؤتھ افریقہ اور روڈیشو میں آزادی کی تحریک ہے، جہاں کہ لوگ اپنی آزادی کا حق مانگ رہے ہیں، اور آج ڈاکٹر شنکر دیال شرما نے ہما را سر فخر سے اونچا کردیا ہے، جب انھوں نے کہا کہ مصر کا یہ فیصلہ کہ تیل کا ہتھیار عرب کی آزادی کے لیے ہی نہیں؛ بلکہ تمام دنیا کے آزادی کے لیے استعمال ہوگا۔ مجھے فراق کا شعر یاد آتا ہے: ؎

کیوں اپنا آشنا دل ناداں نہیں ہوتا 

کہ ہر روز یہ رنگ گردش دوراں نہیں ہوتا

 آج عربوں نے اس مشکل وقت میں اپنی مظلومیت کے احساس کو زندہ کیا اور اس طاقت کا احساس میں نے یورپ میں دیکھا ،جس وقت نکسن صاحب کہتے تھے کہ ہم نیو کلیر بم گرا کر عرب ممالک کو برباد کردیں گے اور انھوں نے دعوت نامہ بھیجا تمام نیٹوں کے اتحادیوں کو؛ لیکن یورپ باغی ہو گیا،اس لیے کہ یورپ سردی سے ٹھٹھر کر مر جائے گا اگر عرب کا تیل یورپ کو نہیں پہنچے گا۔ آج جاپان- جو کل تک امریکہ سے زیادہ طاقت ور بننے کا دعویٰ کرتا تھا- اس نتیجہ پر پہنچا ہے کہ عرب ممالک تیل کی طنابیں کھینچ لیں گے، توان کی ترقی کے تمام دعوے سرنگوں ہوںگے، اس لیے دوستو! ہم اپنے کو مظلوم نہیں سمجھتے۔ ہمارے رشتے ،جو انصاف کی بنیاد پرہیں،جو محض دو اصولوں پر نہیں کہ ہر ملک کو آزادی کا حق ہے، ہر قوم کو اپنی دولت پر قبضہ رکھنے کا حق ہے، اور اس کے استعمال کا حق ہے، یہ رشتے کسی کو مظلوم  نہیں رہنے دیں گے۔ یہ ظلم کو مٹا کر دم لیں گے (تالیاں)۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ ہندستان کی حکومت ہندستان اپنی روایات کی شان کے مطابق اور ان پیمانوں کے مطابق، جو یہاں لکھے ہوئے ہیں، اندرا گاندھی کے، ہمارے سر کو فخر سے اور بلند کردیںگے، اسرائیل سے اپنے رشتہ کو توڑ کر اور قونسل کو اپنی سرزمین سے نکال کر۔ (روزنامہ الجمعیۃ،5؍ دسمبر1973ء)

 دوسری قرارداد کو مسٹر ڈی آرگویل (ایڈیٹر سیکولرڈیموکریسی) نے پیش کی۔ انھوں نے قرارداد کی وضاحت کرتے ہوئے ان فرقہ پرستوں کی سخت الفاظ میں مذمت کی، جو مشرق وسطیٰ کے معاملہ کو ایک غلط رنگ میں پیش کرتے ہیں اور کہا کہ یہ ایک سیاسی معاملہ ہے۔

صدر جمعیت علمائے ہندمولانا اسعد مدنی صاحبؒ کی تقریر

دنیا کی بڑی طاقتوں نے اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لیے سینکڑوں، برسوںسے طرح طرح کی سازشوں کا جال بچھایا۔ خاص طور سے مشرق وسطیٰ میں، دینی، فکری، تہذیبی، اقتصادی، سیاسی ؛غرض زندگی کے کسی رخ کو بھی ایسا نہیں چھوڑا، جسے نشانہ نہ بنایا گیا۔ کروڑوں اربوں روپیہ کی دولت اپنی سازشوں کی تکمیل کے لیے خرچ کرتی رہیں اور عربوں کو ہر طرح نشانہ بنایا گیا۔ انھیںختم کرنے کی پوری جدو جہد کی گئی، اس کی بڑی منزل اسرائیل کا قیام تھا، جیساکہ مولانا عبد الرؤف صاحب نے فرمایا کہ پہلی جنگ عظیم سے ہی یہ سازش چل رہی تھی کہ صیہون پہاڑمیں اسرائیلی حکومت قائم کی جائے گی۔ اس زمانہ کے عالمی سربراہوں نے ساتھ دینے سے انکار کر دیا، اس وقت برطانیہ نے وعدہ کیا کہ اگر صیہونی برطانیہ کی مدد کریں، تو اتحادی اس کے لیے اسٹیٹ قائم کر دیں گے۔ چنانچہ اعلان بالفور سامنے آیا۔ ساری دنیا نے اس کے خلاف احتجاج کیا۔ فلسطینی عیسائی عربوں کو وہاں رہنے کا حق ہے؛ لیکن دنیا کے یہودیوں کی اقلیت کا اسے ملک تسلیم نہیں کیا جا سکتا ،جب کہ فلسطینی عرب اپنے علاقوں سے محروم کیے جائیں ، انھیں ان کے گھروں سے نکالا جائے؛ یہ بڑی ناانصافی ہوگی؛ لیکن سازشیوں نے فلسطین کے پورے علاقے میں عربوں کے اجاڑنے کاسلسلہ جاری کر دیا۔ برطانیہ، اپنی طاقت کے ذریعہ عربوںکو لوٹ رہا تھا۔ قتل وغارت گری کایہ سلسلہ برطانیہ کی منحوس حکومت کے سایہ میںجاری رہا۔ تحقیقاتی کاروائیاں ہوئیں، لیکن کچھ نہ ہوا۔ عربوں کی بربادی کا سلسلہ جاری رہا۔ اس کے باوجود عربوں کی اقلیت اور صہونیوںکی اکثریت نہ ہو سکی۔ بہر حال یہ سلسلہ جاری رہا اور اقوام متحدہ کو بھی اسرائیل کو تسلیم کرنا پڑا اور برطانی اقتدار ختم ہوا؛ کیوںکہ ایک چال یہ چلی گئی کہ اتنے بڑے علاقہ اور آبادی کو ایک ملک کی حیثیت سے تسلیم کیا جاسکتا ہے۔ اقوام متحدہ کے بھانوتی کے نیارے سے بھی اسرائیل کی نمود ہوئی۔ اسرائیلی اقلیت کو اکثریت میں تبدیل کرنے کے لیے عربوں کی املاکی غصب کر کے انھیں بے وطن کر دیا گیا اور دنیا کے یہودی اسرائیل پہنچنے لگے، انھیں جائدادیں دی گئیں۔ تہذیب کے علم بردار امریکیوں اور برطانیوں نے خوںخوار درندوں کی طرح عربوں کو بے خانماں کیا، جن کی آبادی تیس لاکھ ہے، جب کہ اسرائیل کی پوری آبادی بیس لاکھ ہے۔

اسرائیل کی پارلمنٹ کے دروازہ پر لکھا ہے: خیبر لینا ہے، مکہ لینا ہے، مدینہ لینا ہے، فرات اور دجلہ لینا ہے، غیرہ وغیرہ۔ کوئی ان سے پوچھے کہ تم کہاں سے آئے اور کیوں طالب ہو رہے ہیں؛ لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ بہرحال عرب آج متحد ہو کر اٹھ گئے ہیں اور وہ اپنا حق لے کر رہیں گے۔ وہ میدان جنگ میں کو دپڑے ہیں، انھیں کسی چیز کی پروا نہیں۔ ظلم وجبر، مکاری سے غصب کردہ اپنی زمین کو واپس لینے کے لیے اٹھ کھرے ہوئے ہیں،  جب کہ ساری دنیا کے فیصلے اور عدالتیں ناکام ہو چکی ہیں۔ کیا دنیا کا کوئی ملک اس بات کی اجازت دے گا کہ کوئی باہر کا ملک ان کے اندرون ملک میں اپنی حکومت قائم کرے۔ کیا برطانیہ اور امریکہ اور جاپان اجازت دیں گے؟۔کیا عرب انسان نہیں، ان کے حقوق سلب ہوچکے ہیں، وہ عزت نہیں رکھتے۔ لیکن یہ کہا جاتا ہے کہ کیا اسرائلیوںکو سمندر میں ڈبو دیا جائے۔ نہیں، انھیں  وائٹ ہاؤس میں لے جاؤ اور کہیں آباد کرو۔ ا نھیں فلسطین میں کیوں آباد کیا جائے۔ کیا اس لیے کہ عربوں کوبے حس سمجھا گیا ہے، نہیں ایسانہیں ہے، ہم ان کے ساتھ ہیں، ان کی عزت ہماری عزت، ان کی ذلت ہماری ذلت ہے۔ بحمد للہ آج عرب فاٹھ بن کر ابھرے ہیں۔ اسرائیل کو شکست ہو چکی۔ اس کے خلاف پروپیگنڈہ ناکام ہوگئے۔ قاہرہ میں لڑائی کا اعلان کرنے والے پست ہوئے ۔ اسرائیل کی ہوائی طاقت برباد ہوئی ، ایسی ہی جیسے کہ کوے چیل مار کر گرائے جاتے ہوں۔ اسرائیلی ہوا باز میدان جنگ میں جانے سے انکار کرتے تھے۔ اگر جاتے تو میدان جنگ پہنچنے سے پہلے ہی چھڑیوں کی مدد سے کود جاتے۔ اس کے بعد ا نھیں کرسیوں میں باندھ کر بھیجا جانے لگا۔ پروپیگنڈہ کام نہ کر سکا۔ دنیا نے دیکھ لیا کہ اسرائیل کے گھر گھر میں ما تم تھا۔ عور تیں بال نوچ رہی تھیں۔ اگر امریکہ کے فوجی اورراکٹ نہ پہنچتے، تو اسرائیل کو ہتھیار ڈالنے پڑتے۔ امریکہ نے انتہائی خوفناک اسلحہ دیے؛ لیکن 1967ء کی جنگ کی طرح عربوں کو نہ دیا۔ پاس کے گولان کی پہاڑی پر آج کچھ ڈٹے ہوئے ہیں، موشے دایان سر پیٹ رہا ہے کہ ڈھائی لاکھ سیناان پر قابض ہو گئے۔ کیا اس کے بعد بھی کہا جائے گا کہ عرب ہار گئے۔ یہ تو پریس ہے، جو اس قسم کی جھوٹی باتیں کرتا ہے، کیوں کہ وہ اسرائیل کا نمک خوار ہے ۔اس ملک کے اخبارات کے علاوہ باقی درپردہ اسرائیل اور امریکہ کے زیر اثر ہیں۔ بہر حال آج خود اپنے عربوں کو زندہ کر دیا ہے، آج عرب اپنے آخری قطرہ خون تک لڑنے کے لیے  تیار ہیں۔ ساری دنیا عربوں کے ساتھ ہے۔ فرانس جیسا ملک ساتھ ہے ،جس کا صدر …  یہودی ہے۔ جاپان کو جھکنا پڑا۔ اگر کچھ سر پھرے اس ملک میں اس کے مخالف ہیں، تو اس سے کچھ نہیں ہوتا۔عرب اپنے مقاصد میں کامیاب ہوںگے۔

 (روزنامہ الجمعیۃ، 27؍ نومبر1973ء)

انھوں نے اس قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وقت کا تقاضا یہ ہے کہ ہم عربوں کی امداد کے سلسلہ میں عملی قدم اٹھائیں اور ایک عملی قدم یہ ہے کہ عرب موقف کی حمایت میں تندہی کے ساتھ کام کرنے کے لیے ایک مستقل تنظیم قائم کی جائے۔ حضرت مولانا نے بتایا کہ ایک ’’عرب فنڈ‘‘قائم ہو چکا ہے، ضرورت ہے کہ ہم زیادہ سے زیادہ مالی امد ادمہیا کریں۔ آپ نے کہا کہ ہمیں صرف اس خیال سے غفلت میں نہیں پڑا رہنا چاہیے کہ جنگ بند ہو گئی ہے۔ قرار داد تالیوں کی گونج میں اتفاق رائے سے منظورکر لی گئی۔(روزنامہ الجمعیۃ، 27؍ نومبر1973ء)

شیر کشمیر شیخ عبد اللہ کی تقریر

 یہ کنونشن مسلمانوں کی حمایت کے اعلان کے لیے نہیں بلایا گیا۔ ہر کلمہ گو مسلمانوں کی ہمدردی عربوں کے ساتھ ہے۔ یہ بات تو کھلی ہے۔ ہم نے یہ کنونشن عربوں کے حق کی حمایت کے لیے جو حق و انصاف کی حمایت کے لیے بلایا ہے۔

 شیخ صاحب نے اسرائیل کی حکومت کے قیام اور اقوام متحدہ کی حمایت کو چیلنج کرتے ہوئے سوال کیا کہ یہ کونساانصاف تھا، جس نے عربوں کی سرزمین پر اسرائیل کی حکومت قائم کی۔ جن ممالک نے ان کا ساتھ دیا اور فلسطینیوں کو بے خانماں کیا، کیوں کیا، یہ کونسا انصاف تھا۔ عیسائیوں نے یہودیوں پر مظالم کیے اور خمیازہ مسلمانوں کو بھگتنا پڑا۔ انھوں نے کمزور اورمظلوم قوم پر ہاتھ ڈال کر اسرائیلیوں کووہاں بسایا۔ یہ عرصۂ دراز کی بات ہے۔ آج ہی ہندستان حمایت نہیں کر رہا ہے، کوئی ووٹ لینے کے لیے مسلم کو خوش نہیں کیا جا رہا ہے۔ 

جب اسرائیل کا وجود عمل میں آیا تھا، اس وقت گاندھی جی نے اور مسٹر نہرو نے اس کی مخالفت کی تھی اور بے انصافی کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔ یہ بات تو الگ ہے۔ ہندستان کی بقا اور قوت کے لیے مغربی ایشیا کے ملکوں سے گہرے تعلقات مفید ہیں۔ تجارتی اور سیاسی حیثیت سے فائدہ ہے ۔ابھی آپ نے سنا کہ ہندستان کی تیل سے متعلق مشکل کو جب ایک عرب نے سنا تو اس کی مدد کو سامنے آیا۔ 

شیخ صاحب اشیا کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی نشر کرد کرتے ہوئے کہا کہ اس حکومت کو غریبوںکا احساس نہیں ہے، وہ شیشے کے گھر وں میںرہتے ہیں، انھیں احساس نہیں ہے کہ قیمتیںبڑھ رہی ہیں، تو بڑھتی ہی جارہی ہیں۔ آپ نے یہ کنونشن بلایا ہے ،تو آپ کو یہ فضا بنانی چاہیے کہ یہ مسلمانوں کو خوش کرنے کے لیے نہیں ہے؛ بلکہ انصاف کی خاطر بلایا گیا ہے۔ مغربی ایشیا سے علاحدگی ہندستان کے لیے نقصان دہ نہیں۔ ہندستانی مسلمانوں کو بھی سبق دیا جانا چاہیے کہ وہ ہندستان میں اس مسئلہ کو اس کی روشنی میں پیش کریں۔

شیخ عبد اللہ نے عربوں کی حالیہ جنگ کے مسئلہ میں خود اعتمادی اور خدا اعتمادی کا تذکرہ کرتے ہوتے ہوئے جنگ جنین کے واقعہ کو بیان کیا۔ موصوف نے کہا کہ عربوں کو اپنی تعداد پر فخر نہ ہونا چاہیے، خدا پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ کردار ضروری ہے شیخ صاحب نے کہا کہ ع

نگاہ مرد مومن سے بدل جاتی ہیں تقریریں

 ہمیں اپنا کر دار بنانا چاہیے۔ عربوں کا ایک اسلامیہ کردار ہے کہ کوئی انھیں غلام نہیں بنا سکتا۔ اتحاد و اشتراک عمل کا ایسا احساس انھیںپیدا ہو گیا۔ ہماری دعاہے کہ وہ اس پر قائم رہیں۔ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیا ہوا سبق ہے، جب تک عرب متحد ہیں، انھیں کوئی زیر نہیں کر سکتا۔

عراق کے سفیر صاحب نے بتایا کہ ہمیں کیا کرنا ہے۔ ہمیں اس میں دخل نہیں دینا چاہیے۔ لیکن ایک بات میں ضرور عرض کروں گا کہ وہ جو قدم اٹھائیں، اس کے ہر پہلو پر غور کریں۔ تیل ہی سے کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی، اس کے کمزور پہلو بھی ہیں۔ ہمیں ان پر ابھی غور کرنا چاہیے۔ آج کے تکنیکی دور میں بہت سی خرابیاں اور پیدا کی جا سکتی ہیں۔ ان کا مقابلہ چال باز سے ہے۔ بہر حال اس بات کوہر مسلمان سمجھتا ہے کہ سر جوڑ کر بیٹھنے میں کیا فائدہ ہے۔ ہمیں حقائق پر نگاہ ڈالنی چاہیے۔ اسرائیل ایک سلطنت ہے، اس سے بات کرنی ہوگی، یا اسے لڑ کر نیست ونابود کیا جائے؛ لیکن یہ آسان نہیں ہے۔ دوسرے بھی لڑائی پر اس کے ساتھ آمادہ ہوں گے۔

غنیمت بات یہ ہے کہ اسرائیل کی بنیا د ڈالنے والے آج عربوں کے حانی ہیں؛ لیکن اسرائیل کے وجود کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ یہ بات تو میں اور امریکہ دونوں کہتے ہیں۔ اس میں ہم کیا کہہ سکتے ہیں۔ اب تو خلاف ورزی کی شکل میں عالمی جنگ ہوگی، جو خطرناک ہوگی۔ بر حال یہ مسئلہ آپ کا ہے، اس لیے فیصلہ آپ کو کرنا ہے۔ آج دوست دوشمن کی تمیز مشکل ہے

شیخ صاحب نے پھر مسلمانوں کی تعمیری رہ نمائی کا تذکرہ کرتے ہوئے سرسید کو خراج عقیدت پیش کیا۔ مسلمانوں کی قربانیوں کو تذکرہ کرتے ہوئے شیخ صاحب نے کہا کہ سب  جذباتی ہیں۔ ہجرت کا تذکرہ کیا ، جس میں لوگ گھر بار چھوڑ کر پاکستان جانے لگے؛ لیکن کتنے وہاں جائیںگے اوربسیںگے۔1947 ء سے پہلے کا انداز تکلم چھوڑنا ہو گا۔ آپ کا براہ راست تعلق آپ کے اس بھائی سے ہے، جن کے ہاتھ میں طاقت ہے۔ آپ کے رہ نما آج بھی 1947ء سے پہلے کی تقریریں کر رہے ہیں، جن کا تعلق حقائق سے نہیں ہیں۔ زمانہ بدل گیا۔ ہمیں حالات کے اعتبار سے بدلنا چاہیے۔ لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہے کہ ہم اپنے حقوق کو چھوڑ دیں۔ ہمیں مایوسی سے کام نہ لینا چاہیے۔ نہ حکومت کا منھ دیکھنا چاہیے۔ ہمیں اجتماعی لیڈرشب کی طرف نگاہ ڈالنی چاہیے اور اپنے مسائل حل کرنے چاہئیں۔ آپ کی انتہائی غربت کے باوجود آپ کے پاس تعلیم یافتہ اور صنعت کار ہیں۔ ایسے مسلمان ہیں، جن کی انگلیوں سے سونا گر تا ہے،لیکن انھیں اپنی محنت کا پھل نہیں ملتا۔

 ہمار ے رہ نما الیکشن کے وقت بولتے ہیں؛ لیکن بعد میں ٹھنڈے پڑجاتے ہیں۔ ہمیں تعلیم اور تجارت کے میدان میں قوم کو لے جانا چاہیے۔ اس کے لیے اجتماعی لیڈر شپ کی ضرورت ہے۔ آپ آٹھ کروڑ ہیں، کم نہیں ہیں۔ ہم عربوں کو کیا کہیں، اپنی حالت کو دیکھیں۔ ہم کتنے اختلافات سے دو چار ہیں۔ اس طرح ہم اس ملک کے لیے بھی بوجھ ہیں اور اپنے لیے بھی بوجھ بنیںگے۔ اس وقت مشترک غور و فکر کی ضرورت ہے۔ کوئی فرد ایسا نہیں ہے، جو قوم کی کشتی کو اس طرف سے اس پارلے جائے۔ تقسیم ہند کے پیدا کر دہ مسائل کو حل کرنے والی کوئی شخصیت نہیں، اس لیے کرداردعمل کی ضرورت ہے۔ اور قوم کو صحیح راہ پر لگائے گی۔میں مایوس نہیں ہوں۔ میں سمجھتا ہوں کہ قوم مرے گی نہیں؛ لیکن اس وقت تک آپ کی آواز میں اثر نہ ہوگا، جب تک اس میں قوت نہ ہوگی۔

کنونشن کا تذکرہ کرتے ہوئے موصوف نے کہا کہ ملک میں کچھ لوگ فرقہ واریت کے روگ میں مبتلا ہیں، انھیں سمجھانا چاہیے کہ کنونشن کی روح کیا ہے۔ انھیں یہ بتانا چاہیے کہ یہودی اپنی دولت سے کیا کر سکتے ہیں۔ امریکہ کا سارا سرمایہ ان کے ہاتھ میں ہے۔ پریس ان کے ہاتھ میں ہے، یہی وجہ ہے کہ امریکی حکومت مجبور ہوتی ہے۔ نکسن کے بجائے اور کوئی بھی ہو، وہ بھی ایسا ہی کرے گا۔ 

بہر حال دنیا میں امریکہ ہی نہیں ہے، روس بھی ہے۔ وہ اس وقت علی الاعلان  عربوں کی حمایت کرتا ہے۔ مسلمانوں کو روس کا اس سلسلہ میں شکر گزار ہونا چاہیے اور خود بھی انصاف کا ساتھ دینا چاہیے۔ اور اس مسئلہ کو اپنا مسئلہ سمجھنا چاہیے۔ہتھیار نہ ہونے کی وجہ سے ڈرنا نہیں چاہیے۔ ہمیں کردار سے کام لینا چاہیے، جس سے قرن اولیٰ کا مسلمان دنیا پر چھا گیا۔ شیخ صاحب نے عربوں کی نصرت کی دعا پر اپنی تقریر ختم کی۔(روزنامہ الجمعیۃ، 27؍ نومبر1973ء)

مولانا سید احمد ہاشمی صاحب 

 شیخ صاحب کی تقریر کے بعدمولانا سید احمد ہاشمی صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے ان لوگوں کے نام پڑھ کر سنائے، جنھوںنے عربوں کے کاز کے لیے اس موقعہ پر چندے دیے تھے؛ خاص طور سے آپ نے بتایا کہ پلکھوہ ضلع میرٹھ کے باشندے پہلے ہی عربوں کی امداد کے سلسلے میں 15,700 روپیہ کی امداد پیش کرچکے ہیں۔ 

کنونشن جو ساڑھے نو بجے قریب شروع ہوا تھا، تالیوں کی گونج میںڈھائی بجے کے قریب اختتام پذیر ہو۔(روزنامہ الجمعیۃ،27؍ نومبر1973ء)

مولانا اخلاق حسین صاحب قاسمی ناظم جمعیت علمائے ہند کی تقریر

یہ جلسۂ عام جمعیت علمائے ہند کی طرف سے منعقد ہو رہا ہے۔ گذشتہ تین دن سے جمعیت علمائے ہندکا اجلاس چل رہا تھا۔ آج عرب حمایت کنونشن ہوا، جو تاریخی اہمیت کا حامل تھا۔ ہماری خواہش تھی کہ دلی کے عوام بھی اس میں شریک سے ہوں؛ لیکن جگہ کی قلت کے سبب ہم انھیں بلا نہ سکے۔ ہم نے یہ کھلا اجلاس اس کی تلافی کے لیے کیا ہے۔

مولانا عبدالرؤف صاحب کی تقریر

عرب حمایت کنو نشن-جس میں ملک کے ممتاز رہنما شریک ہو ئے- وقت کی اہم ضرورت ہے، اس کا سہر ا جمعیت علمائے ہندکے سر ہے۔ اس کا تعلق عرب اسرائیل جنگ سے ہے۔ اسرائیل-جو بہت چھوٹا سا ملک ہے- سامراجیوں کی مدد سے عربوں کی سرزمین پر ناجائز قبضہ کر بیٹھا۔ اب یہ عربوں کے جسم پر خنجر کی حیثیت رکھتا ہے۔ سامراجیوں کی چال آپ کے سامنے اس وقت آئے گی، جب سلطان ٹرکی خادم حرمین شریفین کو معزول کیا اور صہیونیوں نے سر زمین عرب پر ان کی مدد کر کے اپنے لیے جگہ حاصل کرلی۔ برطانوی چال کا میاب ہوئی۔ ابھی امریکہ برطانیہ، فرانس نے اس کی پشت پناہی کی۔1967ء میں ماسکو، اور امریکہ کی یقین دہانی کے بعد بھی عربوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ لیکن عرب شکست خوردگی نہیں چاہتے ہیں۔ بہرحال ان کی پھوٹ سے بین الا قوامی حالات ان کے خلاف ہوتے رہے۔ اسرائیل اپنے آپ کو نا قابل تسخیر کہتے تھے، لیکن عربوں کے اتحاد اور ان کی جرأت نے انھیں پسپاہو نے اورشکست تسلیم کرنے پر مجبور کر دیا۔ ان کا غرور چکنا چور ہوا۔ دنیا کے انصاف پسندممالک عرب کی پشت پناہی پر آگئے۔ تیل کا مذاق اڑا یاگیا کہ اسے بند کر کے کیا عرب اسے پیئیں گے؛ لیکن عربوں نے ثابت کر دیا کہ یہ ہتھیار کتنا کارگر ہے۔ دنیا نے عربوں کی جنگ کو مذہبی رنگ کا درجہ دیا؛لیکن یہ چھاپ نہ پڑی۔ یہ جنگ اصول کی جنگ تھی۔ مصریوں کی، شام کی فلسطینیوں کی ہڑپی کی ہوئی سر زمین کو واپس لینے کے لیے یہ جنگ لڑکی گئی۔ ہندستان نے اصولی حیثیت سے عربوں کی حمایت کی، تو اس کی مخالفت کی گئی۔ مخالفت کرنے والوں کو یہ نہیں معلوم کہ گوا کی آزادی کے موقع پر صدر ناصر نے کس طرح ناکہ بندی کی تھی اور گوا میں کسی غیر ملکی طاقت کو اس کی امداد کو نہ پہنچنے دیا۔ عرب ممالک ہندستان کے دوست ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیل کے بالمقابل ہندستان کی تجارت کا عربی ملکوں سے بیلنس کہیں زیادہ ہے۔ بہر حال یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم مظلوم کی حمایت کریں۔ اس کے لیے دنیا کی رائے کو مرتب کرنے کے لیے آواز اٹھائیں۔ کنونشن میں ہم نے اسی کاز کو پیش کیا اور اسی کی حکومت ہند کے ذمہ داران اور دوسرے لیڈروں نے حمایت کی۔

 سفیر عراق ڈاکٹر عبد اللہ سلیم سامرائی کی تقریر

 رمضان المبارک میں جامع مسجدمیں، میں نے کچھ کہا تھا، آج ہم اسی مسئلہ کو حل کرنے کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ یہود نے سرکاری مدینہ ﷺ سے ہجرت کے بعد معاہدے  کیے،لیکن انھوں نے خلاف ورزی کی، چنانچہ آپ ﷺنے فیصلہ کیا کہ یہ قوم قابل اعتبار نہیں ہے۔ یہودیوں کا یہی سلوک اپنے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے خاتمہ پر بھی رہا ہے۔ قرآن کریم میں بھی اس کا تذکرہ ہے ، یہود نا قابل قوم ہے۔ قرآن گواہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عراق نے ان کی جنگ بندی کے فیصلہ کو قبول نہ کیا۔ اور دنیا دیکھ رہی ہے کہ اسرائیلی لیڈر اعلان کر رہے ہیں کہ وہ مختلف مقامات کو نہ چھوڑیں گے۔ الجزائر میں عرب سر برا ہوں کی ’’چوٹی کانفرنس‘‘ ہو رہی ہے، وہ آئندہ کے لیے فیصلہ کریں گی۔ ہماری آرزو ہے کہ وہ کسی ایسے فیصلہ پر پہنچیں، جو ہمارے لیے بہتر ہوا ہے۔ صورت حال یہ ہے کہ اسرائیل امریکی مفادات کی مشرق وسطیٰ میں حفاظت سے دست بردارہوتا ہے یا نہیں۔ اگر دست بردارہو گا، تو وہ عرب علاقوں کو خالی کرے گا؛ لیکن ابھی وہ اس کے لیے تیار نہیں اور نہ ہی امریکہ اسے ماننے کے لیے تیار ہے۔ الجزائر کا نفرنس اگر فیصلہ کرے کہ امریکی تیل بند رہے گا اور اپنے خرچے اپنی رقوم غیرملکیوں سے نکال لیں گے، تو ضرور امریکہ یہ سوچنے پر مجبور ہوگا کہ امریکہ اس (اسرائیل) سے مشرق وسطیٰ میں دست بردارہو جائے گا، جب ہی اسرائیل بھی عربوںکے غصب کردہ علاقہ کو چھوڑ دے گا۔ دوران جنگ کے امریکہ دعویٰ کر رہا تھا کہ تیل بند ہو جانے کا اس پر کوئی اثر نہ ہو گا؛ لیکن دو مہینہ کے اندر اندر وہ دعوے ختم ہوئے۔ آج اہم اعلان کرنے والے ہیں کہ تیل مؤثر ہتھیار ثابت ہو ا ہے۔ہم امید کرتے ہیں کہ عرب سر براہ بھی امریکی تیل بندی کے فیصلہ پر قائم رہیں گے، تاکہ امریکہ کو معلوم ہو کہ وہ کتنے پانی میں ہے۔ ہم نے دشمن ملک کی کا تیل بند کیا ہے۔ ہندستان دوست ملکوں میں ہے۔ عراق کو جب معلوم ہوا کہ کمپنی نے ہند کا تیل کم کیا، توعراق نے ایک بڑی مقدار تیل کی سپلائی کرنے کا اعلان کیا۔

آج عرب کنونشن ہوا۔ سردار سورن سنگھ، فخر الدین علی احمد صاحب، مسٹر بروا، صدر کانگریس شنکر دیال اور دیگر حضرات نے اسے خطاب کیا۔ سب نے عربوں کی حمایت کی اور اعلان کیا کہ حق و انصاف عربوں کے ساتھ ہے، اس کی سب نے تائید کی اور اسرائیل کی  سب نے مذمت کی۔ شیخ عبد اللہ نے بھی یہی کہا کہ حق عربوں کے ساتھ ہے، اسرائیل عرب علاقے خالی کرے۔ ہمارے ہندستان کے مفادات وابستہ ہے۔ دونوں سامراج کا تجربہ کر چکے ہیں۔ ہم شکر گزارہیں کہ ہمیں آپ کا تعاون حاصل ہے۔

اس کنونشن میں ایک خطبۂ استقبالیہ بھی پیش کیا گیا،جس کا مکمل متن درج ذیل ہے:

خطبۂ استقبالیہ

از: جناب ایم آر شیروانی صاحب ۔

 عام طور پر ہم لوگ ہندستان میں اسرائیل کا معاملہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔ اسرائیل کی بنیاد انھیں اصولوں پر ڈالی گئی، جس پر کہ پاکستان کی بنیاد ڈال گئی تھی۔ 1947ء میں عربوں کے ملک کے ایک حصے کو جس میں یہودیوں کی آبادی محض ۳۳ فی صد تھی ،کاٹ کر اسرائیل قائم کردیا گیا۔ اس وقت اس کا رقبہ 5500 مربع میل تھا۔ ملک بنتے ہی عرب اکثریت پر مظالم شروع ہو گئے ہیں اور لاکھوں کی تعداد میں گھر والے بے گھرہو گئے۔ صرف یہی نہیں؛ بلکہ یہودیوں نے فوراً آس آس پاس کی عرب زمین پر چڑھائی کی اور قائم ہونے کے چودہ مہینے کے اندر اندر اپنے ملک کا رقبہ آٹھ ہزار مربع میل کر لیا۔ 

اسی پر اکتفا نہیں ہوئی؛ بلکہ1955ء میں سنائی پر حملہ کر کے مصر کے فوجی اڈے بم باری سے تباہ کیے۔1956ء میں جب انگریزوں اور فرانسیسیوں نے مصر پر حملہ کیا تو، اسرائیل بھی اس میں کود پڑا۔1967ء میں پھر اسرائیل نے جارحانہ حملہ کیا اور اپنے ملک کے رقبہ سے پانچ چھ گنا زیادہ مصر، جارڈن اور شام کے علاقوں پر قبضہ کر لیا۔ ہندستان ہمیشہ اس بات کا مخالف رہا ہے اور برابر کہتا رہا کہ کوئی ملک کسی دوسرے ملک کی سر زمین پر لڑائی کر کے قبضہ نہیں کرے گا۔ ہندستان کے پانچ ہزار مربع میل پاکستانی علاقہ- جو اس نے 1971ء کی لڑائی میں جیت لیا تھا- واپس کر کے ایک شان دار مثال قائم کر دی۔ پھر یہ کس طرح ممکن ہے کہ ہندستان اپنے اصول اور نہتوں کے خلاف ایک ایسے ملک کا ساتھ دے، یا اس سے دوستی کرے، جو ہندستان کے تمام اصولوں کی منافی رہا ہے اور جس کی بنیاد ہی مذہبی منافرت پر قائم کی گئی ہے اور جو 1947 سے اب تک چار پانچ بارجارحانہ حملے اپنے پڑوسیوں پر کر چکا ہے۔

 اس وقت تو صرف ہندوستان ہی نہیں؛بلکہ ساری دنیا اسرائیل کے خلاف ہے۔ اور جیسا کہ اپنے دیکھا ہوگا بین الا قوامی مجلس کے سوائے امریکہ کے کسی دوسرے ملک نے اسرائیل کا ساتھ نہیں دیا۔ امریکہ کا ساتھ دینا بھی کوئی زیادہ تعجب خیز بات نہیں ہے؛ کیوںکہ امریکہ نے ہمیشہ جابروں کا ساتھ دیا ہے۔ ابھی حال میں بنگلہ پیش میں جو ظلم وستم ہوئے، اس کے خلاف انگلی بھی نہیں اٹھائی ؛بلکہ ہندستان کو مرعوب کرنے کے لیے اپنا ز بردست ساتویں بحری بیڑا خلیج بنگال میں بھیج دیا۔

 ہم نے یہ بھی دیکھ لیا کہ مذہب کا ساتھ کتنا کمز ور ثابت ہوا، مسلم ترکی نے امریکی ہوائی جہازوں کو- جو فوجی سامان لے جا رہے تھے- اپنے ہوائی اڈے پر اترنے اور تیل بھرنے کی اجازت دی۔ یہ کام تو یورپ کے عیسائی ملکوں نے بھی نہیں کیا۔ اس کے علاوہ ایران جو مسلم ملک ہے، اس نے آج تک امریکہ کے لیے تیل کی فروخت میں ذرا بھی کمی نہیں کی۔ اس لیے یہ کہنا کہ مسلمان عربوں کے ساتھ صرف اس وجہ سے ہے کہ وہ مسلمان ہے؛ بے انتہا کم عقلی کا ثبوت ہے ۔ہم عربوں کے ساتھ ہیں اور ان سے ہمیں پوری ہمدردی ہے اور ہر ہندستانی کو ہونا چاہیے؛ کیوںکہ وہ مظلوم ہیں، ان کی حق تلفی ہو رہی ہے، ان پر جبر ہو رہا ہے اور ہندستان کی یہ روایات ہیں کہ اس نے ہمیشہ ظلم وجبرکے خلاف آواز اٹھائی ہے اور مظلوموں کی حتی الامکان مددکرنے کی کوشش کی ہے اور کرتے رہیں گے۔

 ہندستان کے اورعربوں کے مفاد ہمیشہ سے ایک رہے۔ یہودیوں کی پالیسی پاکستانی دو قومی نظریہ کے مطابق ’’فلسطین کا بٹوارہ‘‘ اسی اصول پر ہوا اور اسرائیل وجود میں آیا۔ سامراجی طاقتوں نے جیسے پاکستان کو اپنا آلۂ کار جنوبی ایشیا میں بنایا، اسی طرح اسرائیل کو وسط ایشیا میں بنایا ہے۔ ہمیں اس بات کی خوشی ہے کہ باوجود ہر طرح کے پروپیگنڈہ کے- جو اسلام کے نام پر ہندستان کے خلاف کیاگیا - عربوں نے کبھی ہندستان پر کوئی تہمت نہیں لگائی اور نہ بے جا الزام رکھے۔ ہندستان کی عرب دوست پالیسی یہاں کے مسلم عوام کو خوش کرنے کے لیے ہرگز نہیں ہے، جیسا کہ ہندستان کے آر ایس ایس اور جن سنگھ ذہنیت کے لوگ سمجھتے ہیں۔ہندستان نے عربوں کا ساتھ اس لیے دیا کہ وہ مظلوم ہیں، ان کے اور ہمارے بہت سے مسائل ایک سے ہیں۔ دور اندیشی اور ملک کا مقام اس بات کا تقاضہ کرتا ہے کہ ہم سب عرب مسلم ممالک کے ہی نہیں؛ بلکہ عرب مسلم ممالک سے بھی دوستی رکھیں اور آپس کے تعلقات اور بڑھائیں، ایک دوسرے کی مدد کریں، بنیادی اصول یعنی، ملکی مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے، نہ کہ جذباتی ،یا ذاتی پسند و ناپسندی کی بنا پر۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وسطی ایشیاکی صورت حال ابھی بہت دنوں تک غیر یقینی رہے گی۔ چوںکہ یہ علاقہ ہمارے بہت قریب ہے، اس لیے وہاں جو کچھ بھی ہوگا، اس کا بہت اہم اثر ہمارے تحفظ اور مفاد پر پڑے گا۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم ایک صحیح اور اصولی اسٹینڈ لیں،(موقف) وہ ہی ہے جو ہم نے اب تک لیا ہے اور وہی ان شاء اللہ لیتے رہیں گے۔

(روزنامہ الجمعیۃ،27؍ نومبر1973ء)

کنونشن میں منظور کردہ تجاویز درج ذیل ہیں: 

 تجویز نمبر-۱- مغربی ایشیا کی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار

 ۱۔ عرب کاز کی حمایت میں یہ ہندستانی کنونشن مغربی ایشیا کی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ صیہونی اسرائیل آج بھی اپنی ضد پر قائم ہے اور اس خطے میں امن خطرہ سے باہر نہیں۔

۲۔ اس صورت حال کو پیدا کرنے کی تمام تر ذمہ داری صیہونی ذمہ داروں پر ہے، جنھوں نے مغربی سامراج واد کی مدد سے اول فلسطین کے باشندوں کو ملک بدر کیا اور اب اس خطے کے عرب ممالک کے امن اور دفاع کے لیے خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ مغربی ایشیا میں آج جو صورت حال ہے، وہ صہیونی جارحیت کا نتیجہ ہے، جو کہ اب بھی جاری ہے، حالاں کہ سیکوریٹی کونسل بار بار ریزولیشن پاس کر چکی ہے کہ اسرائیل عرب علاقوں کو خالی کر دے۔ دنیا بھر کے حریت پسند عوام نے مناسب طور پراسرائیل کے اس رویے کو فسطائی رویہ قرار دیا ہے اور اس کی مذمت کی ہے۔

۳۔ حکومت ہند نے عرب کی حمایت کی جو پالیسی اختیار کی ہے، یہ کنونشن اس کی پرزور حمایت کرتا ہے اور امید کرتا ہے کہ ہند عرب تعاون مزید بڑھے گا اور گہرا ہوگا۔

۴۔ سوویت روس اور دیگر سوشلسٹ ممالک نے عربوں کی جو ٹھوس امداد اور حمایت کی ہے، اس کی بھی یہ کنونشن تعریف کرتا ہے۔ اس امداد اور عرب یک جہتی کا ہی نتیجہ ہے کہ یورپ کے بہت سے ممالک کو بھی عرب کاز کی حقیقت سمجھ میں آئی ہے۔ ایشیا اور افریقہ کے بھی بہت سے ممالک عربوں کی حمایت پر کمر بستہ ہو گئے ہیں۔ اس طرح اسرائیلی اور ان کے پشت پناہ امریکی سامراجی دنیا میں سب سے الگ تھلگ ہوگئے ہیں۔

۵۔ یہ کا نفرنس ساری دنیا کے آزادی پسندعوام اور بالخصوص ہندستانی عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ صیہونی فسطائیت اور امر یکی سامراج کو شکست دینے کے لیے اپنی جدو جہد تیز تر کردیں۔ساری دنیا کی رائے عامہ، اپنا پورا زوراس کے لیے صرف کر ے کہ نہ صرف اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ ہی ہو؛ بلکہ فلسطینی عربوں کے ساتھ انصاف ہو، صرف یہی شکل ہے ،جس کے ذریعے مغربی ایشیا میں امن قائم ہو سکتا ہے۔

۶۔ یہ کنونشن حکومت ہند سے یہ پر زور مطالبہ کرتی ہے کہ’’ تنظیم برائے آزادیِ فلسطین‘‘ کو عوام کا جائزہ نمائندہ تسلیم کرے اور اس کے ساتھ ساتھ ہندستان میں اسرائیلی قونصل خانہ کو بند کیا جائے۔

 تجویز نمبر-۲-اسرائیلی مسئلہ کو مذہبی رنگ دینے پر تشویش

۱۔ عرب موقف کی حمایت میں ہندستانی عوام کی یہ کانفرنس ملک کے بعض فرقہ پرست عناصر کی ان کوششوں پر اظہار تشویش کرتی ہے، جو اسرائیلی مسئلہ کو مذہبی رنگ دینے کے لیے کی جارہی ہیں۔

۲۔ عرب اسرائیلی تنازعہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے اور یہ ایشیا ئی عوام کی یک جہتی کو کمزور کرنے کے لیے سامراجی سازش کا نتیجہ ہے۔موجودہ دور میں -جب کہ بر اعظم ایشیا میں آزادی اور جمہوریت کا شعور بیدار ہو رہا ہے- اس وقت وہ اپنا قدم جمانے کے لیے یہ سازشیں کر رہے ہیں۔ 

۳۔ جو لوگ فرقہ وارانہ رنگ دے کر اس تنازعہ کی نوعیت کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلا رہے ہیں، وہ دانستہ یا نادانستہ طور پر سامراج کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہیں۔

۴۔ یہ کانفرنس ایسے عناصر سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس شرپسندی سے باز رہیں۔ ساتھ ہی ہندستان کے عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس پروپیگنڈہ سے گمراہ نہ ہوں اور عرب موقف کو- جو آزادی، جمہوریت اور امن موقف ہے-، یعنی جن آدرشوں کو ہم عزیز رکھتے ہیں، ان کی حمایت اور تائید جاری رکھیں۔

۵۔ یہ کانفرنس عرب اسرائیل تنازع کی صحیح صورت حال بتلانے اور عرب موقف کی حمایت میں تندہی کے ساتھ رائے عامہ تیار کرنے کے لیے ایک مستقل تنظیم قائم کرنے کا فیصلہ کرتی ہے اور صدر محترم اور تیاری کمیٹی کو اس تنظیم کی تشکیل کا اختیار دیتی ہے۔

 (روزنامہ الجمعیۃ 27؍ نومبر1973ء)۔

عرب امدادی فنڈ کا قیام

جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ(24 ؍نومبر 1973ء) نے اپنے اجلاس میں مغربی ایشیا سے متعلق قرارداد میں عرب مظلومین کی امدادو اعانت کے لیے ’’عرب امدادی فنڈ‘‘ قائم کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اسی تجویز کو عملی جامہ پہناتے ہوئے جمعیت علمائے ہند کے صدر مولاناسید اسعد مدنی صاحب نے 4؍ دسمبر1973ء کوتمام عرب دوستوں اور خصوصا مسلمانان ہند سے اپیل کی کہ وہ عربوں کے امدادی فنڈ میں فراخ دلانہ حصہ لیں، تاکہ عرب مظلومین کی امداد اور عرب کاز کی حمایت کے کام کو آگے بڑھایا جاسکے۔ (روزنامہ الجمعیۃ،6؍ دسمبر1973ء)

آل انڈیا عرب حمایت کونسل کا قیام

 دوماہ قبل 25؍نومبر1973ء کودلی میں منعقد ’’عرب حمایت کنونشن‘‘ کی ایک تجویز میں یہ بات طے کی گئی تھی کہ عرب کازکی حمایت اور عوام کے سامنے عرب اسرائیل مسئلہ کے صحیح حقائق پیش کرنے کے لیے ایک مستقل تنظیم قائم کی جائے۔ اور تجویز کے ماتحت کنونشن کے کنوینر مسز سبھد راجوشی، مولانا سید اسعد مدنی ایم پی و صدر جمعیت علمائے ہند، مسٹر پریم ساگر گپتا، سکریٹری کمیونسٹ پارٹی اور مسٹر مصطفے رشید شیروانی کو مستقل تنظیم کے لیے ارکان کے انتخاب کا اختیار دیا گیا تھا۔

 چنانچہ اس تجویز کو عملی شکل دینے کے لیے، 19؍ جنوری 1974ء کو پنڈت آنند نرائن ملا کی صدارت میں آل انڈیا عرب حمایت کونسل کا ایک اجلاس ایوان غالب نئی دلی میں ہوا۔ 

اس اجلاس میں اس تنظیم کا نام ’’آل انڈیا عرب حمایت کو نسل‘‘ تجویز کیا گیا اور اس تنظیم کے عہدے داروں کاحسب ذیل انتخاب عمل میں آیا:

 صدر: پنڈت آنند نرائن ملا ایم پی۔

نائبین صدر: ا۔ مسٹر ڈی آر گوئل ایڈیٹر سیکولر ڈیموکریسی۔

۲۔ مولانا اخلاق حسین قاسمی۔

جنرل سکریٹری: مولانا سید احمد ہاشمی صاحب۔

سکر یٹری : مسٹرناز انصاری صاحب۔ 

خازن: مسٹر مصطفے رشید شیروانی صاحب۔

 عہدے داران کے مذکورہ انتخاب کے علاوہ طے کیا گیا کہ عہدے دار سمیت مجموعی طور سے کو نسل کی ورکنگ کمیٹی کے اکیس ارکان فی الحال ہوں گے۔ اگر ا ضافہ کی ضرورت محسوس ہوئی، تو مزید ممبران کو کو آپٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس اجلاس میں عہدے داروں کے علاوہ ور کنگ کمیٹی کے لیے مندرجہ ذیل پانچ حضرات کا انتخاب بھی کیا گیا:

۱۔ مسز سبھدرا جوشی صاحبہ ایم پی ۔ ۲۔مولانا اسعد مدنی صاحب ایم پی۔

۳۔ مسٹر پریم ساگر گپتا صاحب۔ ۴۔ ضیاء الحسن فاروقی صاحب۔

۵۔مسٹر ششی بھوشن ایم پی۔

 ان حضرات کے علاوہ بقیہ ارکان کے لیے مسٹر ڈی آر گوئل نائب صدر، اور جنرل سکریٹری مولانا سید احمدہاشمی صاحب کو اختیار دیا گیا ہے کہ وہ صاحب صدر سے مشورہ کر کے ارکان کو منتخب کریں۔(روزنامہ الجمعیۃ،21؍ جنوری 1974ء)

اسرائیلی ہٹ دھرمی سے مغربی ایشیا کے امن کو خطرہ

20،21؍ اپریل 1974ء کو منعقد مجلس عاملہ نے مغربی ایشیا میں اسرائیلیوں کے جارحانہ طرز عمل پر بحث و گفتگو کی اور درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ منعقدہ نومبر1973ء نے مغربی ایشیا کی صورت حال پر اپنی قرار داد میں اسرائیل کی جن روایتی مکاری اور ہٹ دھرمی کی طرف اشارہ کیا تھا، اور جن اندیشوں کا اظہار کیا تھا، وہ اب حقیقت بن چکے ہیں۔ اور مغربی ایشیا ایک بار پھر ہول ناک جنگ کے دھانے پہنچ گیا ہے۔ اسرائیل گذشتہ چالیس روز سے لگاتار شامی علاقے گولان کی پہاڑوں پر حملے کر رہا ہے، جو اب ایک ایسی جنگ کی صورت اختیار کرچکا ہے کہ کسی بھی وقت دوسرے ممالک اس میں شریک ہونے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔ 

ان حالات میں مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس مجلس اقوام متحدہ اور ان میں دو بڑی طاقتوں پر- جن کی کوششوں سے گذشتہ اکتوبر میں جنگ بندی ہوئی تھی- زور دیتا ہے کہ وہ مغربی ایشیا میں قیام امن کے لیے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں، جس کے لیے یہ ضروری ہے کہ 

۱۔ 1967ء کی جنگ کے مقبوضہ تمام عرب علاقوں بشمول بیت المقدس کی عربوں کو واپسی ہو۔ اور 

۲۔ فلسطینی عربوں کے مسئلہ کا ایسا منصفانہ اور اطمینان بخش حل نکالا جائے، جو ان کی پسند اور مرضی کے مطابق ہو۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد دوم، ص؍ 

رباط کانفرنس کے فیصلے پراظہار مسرت اور اسرائیلی وزیر اعظم کے جنگ جویانہ بیانات کی مذمت

 مراکش کے دارالحکومت رباط میں عرب لیگ کی ساتویں سربراہی کانفرنس (Seventh Arab League Summit) منعقد ہوئی۔ یہ کانفرنس 26 سے 29؍اکتوبر 1974ء تک جاری رہی (بعض ذرائع کے مطابق 25 سے 28؍اکتوبر تک بھی بتایا جاتا ہے)۔

اس کانفرنس میں20؍عرب ممالک کے رہنما شریک ہوئے۔ سب سے اہم فیصلہ 28؍ اکتوبر 1974 کو کیا گیا، جس میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کو فلسطینی عوام کا واحد اور قانونی نمائندہ (sole legitimate representative of the Palestinian people) تسلیم کر لیا گیا۔ کانفرنس نے فلسطینی عوام کے حق خودارادیت اور واپسی کے حقوق کی بھی تصدیق کی۔اس فیصلہ نے یاسر عرفات کی قیادت میں PLO کی بین الاقوامی حیثیت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔

اس کانفرنس کے بعد 9،10؍ نومبر1974ء کو مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس کی تجویز نمبر(۲) میں جہاں ایک طرف ’’رباط کانفرنس‘‘ کے اس فیصلے پر مسرت کا اظہار کیا، تو وہیں دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم کے جنگ جویانہ بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ چنانچہ تجویز میں کہا گیاکہ:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس مجلس اقوام متحدہ اور عرب سربراہوں کی ’’رباط کانفرنس‘‘ کے اس فیصلے پر اظہار مسرت و اطمینان کرتا ہے، جس کی رو سے’’ تنظیم آزادی ِفلسطین‘‘( پی ایل او) کو فلسطینیوں کا واحد نمائندہ تسلیم کیا گیا ہے۔ مجلس عاملہ عرب سربراہوں کو خصوصیت سے مبارک باددیتی ہے کہ انھوں نے رباط میں عرب اتحاد کا مظاہرہ کیا اور تمام معاملات کا اتحاد رائے سے فیصلہ کیا۔ مجلس عاملہ کو یہ امید ہے کہ ان کا یہ اتحاد (ان شاء اللہ) عرب علاقوں، بشمول بیت المقدس کی جلد بازیابی اور فلسطینیوں کے حقوق کی بحالی اور ایک آزاد مملکت فلسطین کے قیام میں معاون و مددگار ثابت ہوگا۔

 مجلس عاملہ اسرائیل کے وزیراعظم کے ضدی رویہ، ہٹ دھرمی اوران جنگ جویانہ بیانات کی مذمت کرتی ہے ،جن میں فلسطینیوں سے بات چیت سے انکار کر کے مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے زبردست خطرہ پیدا کر دیا ہے۔ اس لیے مجلس عاملہ مجلس اقوام متحدہ اور ان دو بڑی طاقتوں سے اپیل کرتی ہے، جنھوں نے جنگ اکتوبرمیں بیچ بچاؤ اور جنگ بندی کرائی تھی، کہ وہ مشرق وسطیٰ کے مسئلہ کا سلامتی کونسل کے1967ء کی قرارداد242 کے مطابق جلد از جلد تصفیہ کرانے کی سعی کریں؛ ورنہ مو جو دہ دھماکہ خیز صورت حال نہ صرف مشرق وسطیٰ؛ بلکہ عالمی امن کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔

 مجلس عاملہ کا یہ اجلاس اسرائیل کی خطرناک حد تک مسلح ہونے کی کوششوں کو امن کے منافی اور تشویش ناک محسوس کرتا ہے۔ اور ان طاقتوں کی سخت مذمت کرتا ہے، جو اسرائیل کو انتہائی مہلک اور خطرناک ہتھیاروں سے لیس کر کے مشرق وسطیٰ کے امن وامان کو خطرہ میں ڈال رہی ہیں۔

 مجلس عاملہ تمام دنیا کے انسانیت اور انصاف پسند انسانوں سے درمندانہ اپیل کرتی ہے کہ وہ اسرائیل کومسلح کرنے والی طاقتوں پر زور ڈالیں، تاکہ مشرق وسطیٰ کا مسئلہ جنگ سے حل نہ ہو کرانجمن متحدہ اقوام کی تجویزاور انسانی جذبات اور حریت پسندی کے اصول کے مطابق طے ہو۔‘‘

 تنظیم آزادی فلسطین کو تسلیم کرنے پر حکومت ہند کا شکریہ

ہندستان نے رباط کانفرنس کے فوراً بعد 1974 میں ہی PLO کو فلسطینی عوام کا واحد اور قانونی نمائندہ تسلیم کر لیا۔ اس طرح ہندستان پہلا غیر عرب ملک بنا جس نے PLO کی اس حیثیت کو تسلیم کیا۔ اس تسلیم کے نتیجے میں 1975 میں نئی دہلی میں PLO کا ایک معلوماتی دفتر قائم کیا گیا۔ بعد میں مارچ 1980 میں PLO کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم ہوئے۔

مجلس عاملہ منعقدہ: 9،10؍ نومبر1974ء نے حکومت ہند کے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے شکریہ پر مبنی درج ذیل تجویز منظور کی:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس حکومت ہند کے اس فیصلہ کا خیر مقدم اور اس بات پرمسرت اور اطمینان کا اظہار کرتا ہے کہ اس نے’’ تنظیم آزادیِ فلسطین‘‘ (پی ایل او) کوفلسطین کا واحد نمائندہ تسلیم کرتے ہوئے ہندستان میں اس کے دفتر کھولنے کی اجازت دی۔مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کاتأثر یہ ہے کہ حکومت ہند کایہ مستحسن اقدام ملک کی ان روایات کے عین مطابق ہے کہ ہندستان نے ہمیشہ حریت پسند اقوام کی حمایت اور تائید کی ہے اوران کے مسائل سے دل چسپی لی ہے۔

مجلس عاملہ اس موقعہ پر حکومت ہند سے یہ بھی درخواست کرتی ہے کہ وہ ممبئی میں اسرائیلی قونصل خانہ کو بند کر دے، تاکہ ہندستان اور عرب ممالک کے درمیان اتحاد و دوستی کے خلاف ریشہ دوانیوں کا دروازہ بند ہو سکے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد دوم، ص؍

مسجد ابراہیم کی تقسیم پر احتجاجی برقیے

1967ء کی جنگ کے بعدفلسطین کے مقبوضہ علاقے :مغربی کنارے کے شہر الخلیل-جس کا موجودہ نام ہیبرون ہے- میں واقع مسجد ابراہیم- جو یہودیوں کے لیےCave of the Patriarchs (مکفیلہ کی غار) کے نام سے جانا جاتا ہے اور جس میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور دیگر انبیا کی قبریں ہیں-پر اسرائیل نے قبضہ کر لیا تھا۔1967ء سے پہلے یہ مسجد اردن کے زیر انتظام تھی۔ اگست 1975ء میں اسرائیلی آباد کاری اور فوجی اقدامات کی وجہ سے مسجد میں نماز اور رسائی پر تنازع بڑھ گیا۔اسرائیلی فوج نے شہر کو فوجی کیمپ میں تبدیل کر دیا اور احتجاج روکنے کے لیے سخت اقدامات کیے؛ حتیٰ کہ اسرائیلی وزیر دفاع نے مسجد کے علاقے کو  مسلمانوں اور یہودیوں میںتقسیم کرنے کی بات کہی، جس کے خلاف اردن نے7؍اگست 1975ء کو اقوام متحدہ میں شکایت کی۔اور اسے مسلمانوں کے مقدس مقام پر قبضے اور تبدیلی کا اقدام قرار دیا۔

11؍ اگست 1975ء کو جمعیت علمائے ہند کے صدر اور ناظم عمومی کی طرف سے تاروں کے ذریعہ اسرائیل کے اس ناپاک منصوبہ کے خلاف ہندستانی مسلمانوں کی طرف سے احتجاج کیا گیا۔ (روزنامہ الجمعیۃ،13؍ اگست 1975ء)

بعد ازاں 29؍ اگست 1975ء کو بعد نماز جمعہ اس تقسیم کے خلاف ملک گیر سطح پر احتجاج کرنے اور جمعہ میں دعا کی اپیل کی گئی۔ (روزنامہ الجمعیۃ،22؍ اگست 1975ء)

اسرائیل کو ہتھیار سپلائی کرنے کی مذمت

یکم ستمبر 1975ء کو امریکہ اور اسرائیل کے درمیان ایک اہم معاہدہ ہوا،جسے ’’سینائی عبوری معاہدہ‘‘(Sinai Interim Agreement) یا Sinai II Agreement کہا جاتا ہے۔اس کے تحت امریکہ نے اسرائیل کو جدید ہتھیاروں کی مسلسل فراہمی کی ضمانت دی۔اسرائیل کو فوجی اور اقتصادی امداد بڑھانے کا وعدہ کیا گیا۔ اورامریکہ نے اسرائیل کی سلامتی کو یقینی بنانے کا عہد کیا۔

5،6؍ نومبر1975ء کومنعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں اس معاہدہ پر بحث و گفتگو ہوئی اور درج ذیل تجویز نمبر(۷) منظور کی گئی:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس جارحیت کے بدترین تاریخ رکھنے والی حکومت اسرائیل کو تاریخ کا سب سے بڑا ہتھیار سپلائی کرنے کے امریکی معاہدہ پرسخت تشویش کا اظہا ر کر تا ہے۔ امریکی سامراج نے ہتھیاروں کی سپلائی کا یہ شرم ناک پلان ایسے موقع پر بنایا ہے، جب کہ شاید وسط مشرق میں امن کے کچھ امکانات ہو سکتے تھے۔ مگر معلوم ہو تا ہے کہ جنوب مشرقی ایشیا میں ہزیمت شدہ سامراجی امریکہ وسط مشرق کو خون آشام جنگ میں مبتلا دیکھنا چاہتا ہے۔

 جمعیت علمائے ہند حکومت ہندا ور دنیا کے امن پسندعرب حامی ملکوں کو مسلسل عربوں کی منصفانہ حمایت کے لیے مبارک باد دیتے ہوئے اپیل کرتی ہے کہ وہ اور دنیا کے امن پسند عوام امریکی اسلحہ کی سپلائی کے معاہدے کی سخت سے سخت الفاظ میں مذمت کرنے اور عرب مجاہدوں کی تباہی و بربادی کا سامان لانے والے ہتھیاروں کی سپلائی کو روکنے کے لیے اپنے وسائل کام میں لائیں۔ 

جمعیت علمائے ہند اپنے مظلوم اور بہادر آزادی پسند عربوں کوپھریقین دلاتی ہے کہ ہندستان کے تمام مسلمان اور کروڑوں انصاف پسند عوام ان کے ساتھ ہیں۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد دوم، ص؍

مغربی ایشیا کے مسائل حل کرنے میں اسرائیل کی رکاوٹ

مجلس منتظمہ کے اجلاس منعقدہ: 15،16؍ مئی 1976ء میں مغربی ایشیا کے مسائل کے حل پر بحث و گفتگو ہوئی۔ بعد ازاں درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’ مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس اس بات پر اپنی زبر دست تشویش کا اظہار کرتا ہے کہ1973ء کی جنگ بندی کو تین برس گزر چکے ہیں؛ مگر اسرائیل سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر242 کے مطابق مغربی ایشیا کا مسئلہ حل کرنے اور وہاں پائیدار امن کے قیام کی راہ میں رکاوٹ بنا ہو اہے۔ اور افسوس کی بات یہ ہے کہ وہ دو بڑی طاقتیں -جنھوں نے بیچ بچاؤکر کے جنگ بندی کرائی تھی- اب مسئلہ کامستقل حل تلاش کرنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کر رہی ہیں۔

 مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس مجلس اقوام متحدہ اور روس وامریکہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ مسئلہ کے مستقل حل کرنے کے لیے اسرائیل پر دباؤ ڈال کرجلدازجلد ’’جینوا کانفرنس‘‘ بلائیں اور اس میں فلسطینیوں کی نمائندہ تنظیم ’’پی ایل او‘‘کوایک مستقل آزاد اور برا بر کے شریک کی حیثیت سے شریک کیا جائے اورفلسطین کو سیکولر جمہوری اسٹیٹ کے قیام کے لیے اقدامات کیے جائیں، جس میں مسلمان اور عیسائی اور یہودی؛ تینوں قومیں مساوی حقوق کے ساتھ بیرونی مداخلتوں سے آزاد ہو کر ایک دوسرے کے جذبات ومعتقدات کا خیال رکھتے ہوئے ایک آزاد اور متحد قوم کی حیثیت میں زندہ رہ سکیں۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍

 جینوا کانفرنس منعقد کرنے کی اپیل 

5،6؍ فروری 1977ء کو مجلس عاملہ کا دو روزہ اجلاس ہوا، جس میں اسرائیل سے فلسطین کے مقبوضہ علاقے کو واپس کرنے اور فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے جینوا کانفرنس منعقد کرنے کی اپیل کی گئی۔ چنانچہ تجویز (۱) کے متعلقہ حصے میں کہا گیاکہ:

’’مجلس عاملہ کو اس بات پر بے حد تشویش ہے کہ اسرائیل کی ہٹ دھرمی کی بدولت نہ تو اب تک مقبوضہ عرب علاقے خالی ہوسکے ہیں، نہ اپنے حقوق سے محروم اور بے گھر لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے جائز حقوق مل سکے ہیں۔ 

مجلس عاملہ مسلمانان ہند کی طرف سے زبردست تشویش اور غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ کے نئے صدر جمی کارٹر پر اس بات کے لیے زور دیتی ہے کہ وہ اپنے اثر و رسوخ سے کام لے کر اسرائیل کو مجبور کریں کہ وہ مقبوضہ عرب علاقہ خالی کردے اور فلسطینیوں کی ایک آزاد مملکت:’’ فلسطین‘‘ کے قیام کا حق تسلیم کرے اور اس خطہ میں پائیدار امن اور جملہ مسائل کے تصفیہ کے لیے ’’جینوا کانفرنس‘‘ کے انعقاد پر تیار ہوجائے، جس میں ’’پی ایل او‘‘ ایک خود مختار رکن کی حیثیت میں شامل ہو۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍

آثار قدیمہ کی کھدائی کو مسجد اقصیٰ تک بڑھانے پر تشویش

رابطۂ عالم اسلامی کے سکریٹری جنرل نے ایک برقیہ میں آثار قدیمہ کی کھدائی کو مسجد اقصیٰ کی بنیادوں تک بڑھانے کی اسرائیلی سازش سے باخبر کرتے ہوئے اس سازش کو ناکام بنانے کی اپیل کی۔

 چنانچہ مولانا اسعد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے11؍ جولائی 1977ء کو  وزیر اعظم ہند مسٹر مرارجی ڈیسائی اور وزیر خارجہ اٹل بہاری واجپئی کو برقیہ بھیج کر یہ درخواست کی کہ مسلمانان ہند کے جذبات سے عالمی برادری کو باخبر کردیا جائے۔

 (روزنامہ الجمعیۃ،12؍ جولائی 1977ء)

اسرائیل کی کارروائی غیر منصفانہ 

28؍ اگست 1977ء کو صدر اور ناظم عمومی جمعیت علمائے ہندنے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو برقیہ بھیج کر دریائے اردن کے مغربی کنارے پر نئی اسرائیلی بستی بسانے کی مذمت کرتے ہوئے سلامتی کونسل کا اجلاس بلاکر اسرائیل کے خلاف مناسب کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔

 (روزنامہ الجمعیۃ،29؍ اگست 1977ء)

اسرائیلی ریاست کی تشکیل ایک بین الاقوامی سازش

جمعیت علماکے زیر اہتمام3،4؍ اکتوبر1977ء کو آل انڈیاملی کنونشن کا انعقاد عمل میں آیا۔ اس کنونشن کی طویل تجویز نمبر(۱۲) میں مظلومی فلسطینیوں کی حمایت کرتے ہوئے اسرائیل کے قیام کو ایک بین الاقوامی سازش قرار دیا۔ چنانچہ تجویز کا متعلقہ پیراگراف میں کہاگیا کہ:

’’ہندستانی عوام اور ہندستانی مسلمان شروع ہی سے مظلوم فلسطینی عوام کے کاز کے حامی رہے ہیں۔ فلسطین سے ان کی بے دخلی جہاں اس صدی کا سب سے بڑا المیہ ہے، وہیں اسرائیلی ریاست کی تشکیل اس صدی میں ہونے والی چند بین الاقوامی سازشوںمیں سے ایک ساز ش ہے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍

مصراور اسرائیل کے درمیان معاہدہ کی مخالفت

26؍مارچ 1979ء کو امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے مقام پر  مصر اور اسرائیل کے درمیان طے پانے والے تاریخی معاہدے کو ’’مصر-اسرائیل امن معاہدہ‘‘ (Egypt-Israel Peace Treaty) کہا جاتا ہے۔

اس معاہدے پر مصر کے صدر انور سادات اور اسرائیل کے وزیر اعظم میناچم بیگن نے دستخط کیے، جب کہ اس وقت کے امریکی صدر جمی کارٹر نے بطور ثالث اس پر دستخط کیے۔ یہ معاہدہ دراصل ستمبر 1978ء میں ہونے والے مشہور’’کیمپ ڈیوڈ معاہدے‘‘ (Camp David Accords) کا ہی حتمی اور باقاعدہ قانونی نتیجہ تھا۔اس معاہدہ کے تحت مصر نے اسرائیل کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا۔اسرائیل نے جزیرہ نما سینائی مصر کو واپس کرنے پر اتفاق کیا۔دونوں ممالک کے درمیان جنگ کا خاتمہ اور سفارتی تعلقات قائم ہوئے اور امریکہ نے دونوں ممالک کو فوجی اور اقتصادی امداد دینے کا وعدہ کیا۔

26؍ مارچ 1979ء کو ہی جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی مولاناسید احمد ہاشمی صاحب نے اس پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ کوئی ایسا معاہدہ -جس میں فلسطینیوں کے حقوق کو نظر انداز کردیا جائے اور انھیں ایک آزاد مملکت بنانے کا حق نہ ملے، اور سرزمین قدس مسلمانوں کو واپس نہ ہو- ہرگز ہرگز قابل قبول نہیں ہوسکتا۔ اس سے نہ صرف مغربی ایشیا میں قیام امن ممکن نہ ہوگا؛ بلکہ صورت حال اور دھماکہ خیز ہوجائے گی۔ اگر یہ معاہدہ ایسا ہی ہے، تو ہندستانی مسلمانوں ہی کو نہیں؛ دنیا کے مسلمانوں؛ بلکہ تمام جمہوریت اور انصاف پسندوں کو قبول نہ ہوگا۔

 (روزنامہ الجمعیۃ، 27 ؍ مارچ 1979ء)

اسرائیلی وزیر اعظم بیگن کااعلان اقوام متحدہ کی توہین ہے

اسرائیلی وزیر اعظم مناخم بیگن(Menachem Begin )نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دینے کا موقف پیش کیا۔بعد ازاں اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) نے 30؍ جولائی 1980ء کو ایک قانون منظور کیا، جسے (Jerusalem Law )کہا جاتا ہے۔اس قانون میں یروشلم کو اسرائیل کا’’مکمل اور متحد دارالحکومت‘‘قرار دیا گیا۔

اس قانون کے پاس ہونے سے پہلے ہی،27؍ جولائی 1980ء کو صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے اسرائیل کے وزیر اعظم مسٹر بیگن کے اس اعلان کی پرزور مذمت کی کہ متحدہ یروشلم (بیت المقدس) اسرائیلی اور یہودی قوم کا آنے والے نسلوں تک کے لیے ابدی اور ناقابل تقسیم دارالحکومت ہے۔ ایسے وقت میں جب کہ مجلس اقوام متحدہ کے ایک خصوصی اجلاس میں مسئلۂ فلسطین پر بحث ہورہی ہے، اسرائیلی وزیر اعظم کا یہ شرم ناک اعلان ان کی ہٹ دھرمی اور ڈھٹائی کو ظاہر کرتا ہے ۔ اور اس مذموم اعلان سے نہ صرف مجلس متحدہ اقوام کے معزز نمائندوں کی توہین ہوئی ہے؛ بلکہ ان تمام انسانوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں، جو لوگ حق و انصاف کی حمایت اپنا فریضہ سمجھتے ہیں اور اسرائیل کے غاصبانہ قبضے اور جارحانہ اقدامات کو برابر تشویش کی نظر سے دیکھتے ہیں۔

ساتھ ہی مولانا نے 8؍ اگست 1980ء کو ’’یوم بیت المقدس‘‘ منانے کا بھی اعلان کیا۔

 (روزنامہ الجمعیۃ،28؍ جولائی 1980ء)

4؍ اگست 1980ء کو رابطۂ عالم اسلامی کے سکریٹری جنرل مسٹر محمد علی الحرکان نے صدر جمعیت علمائے ہند کے نام ایک مکتوب لکھ کر یہ اپیل کی کہ پورا عالم اسلام بیت المقدس کو اسرائیلی راجدھانی بنانے کے خلاف احتجاج کرے۔ (روزنامہ الجمعیۃ،5؍ اگست 1980ء)

مسجد ابراہیمی کو اسرائیل سے واگزار کرنے کا مطالبہ

جیسا کہ عرض کیا گیا کہ اردن کے زیر انتظام واقع مسجد ابراہیمی پر اسرائیلی قبضے کی بنیاد پر ، پیدا شدہ تنازع کے تناظر میں اسرائیلی وزیر دفاع نے مسجد کے علاقے کو مسلمانوں اور یہودیوں میںتقسیم کرنے کی وکالت کی تھی ۔

22؍ مئی 1981ء کو جمعیت علمائے ہند نے صدر مولانا اسعد مدنی صاحب نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو تار بھیج کر آٹھ کروڑ مسلمانان ہند اور کروڑوں غیر مسلموں کی طرف سے ترجمانی کرتے ہوئے مسجد ابراہیمی کو اسرائیل کے غاصبانہ قبضہ سے واگزار کرنے کا مطالبہ کیا۔

 (روزنامہ الجمعیۃ،23؍ مئی 1981ء)

اس کے بعد 15،16؍ جون1981ء کو ہنگامی مجلس عاملہ کی میٹنگ طلب کی گئی، جس کی تجویز نمبر-۱-میں مسجد ابراہیمی کی واگزاری کے لیے احتجاج کررہے مسلمانوں کے احتجاج کا آڑ لے کر عراق کے ایٹمی تنصیبات پرپر اسرائیل کے جابرانہ حملے کو بدترین جارحیت قرار دیا۔ چنانچہ تجویز میں کہا گیاکہ: 

’’مسجد ابراہیمی فلسطین پر فلسطینی یہودیوں کے جابرانہ قبضے اور اس میںمسلمانوں کا داخلہ بند کردیے جانے کے جابرانہ اور نہایت ہی غیر منصفانہ فعل پر عالم اسلام کے مسلمان احتجاج کر رہے تھے کہ اسرائیلی سامراج کے اپنے امریکی آقاؤں کی مدد سے عراق کی ایٹمی تنصیبات پر حملہ کرکے بدترین جارحیت اور سفاکی کا ثبوت دیا ہے۔ ایام امن میں کسی ملک پر حملہ بین الاقوامی قوانین اور انصاف و اخلاق کے مطابق سخت جرم ہے، جس کی سزا اس کا سیاسی و معاشی بائیکاٹ ہوسکتی ہے، اور اس کو ہر طرح کے حملہ کا نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ 

اس جارحانہ حملہ نے تمام دنیا کے انسانوں اور انصاف پسند حکومتوں کو بے چین کردیا ہے۔ اور دنیا کا تقریبا ہر ملک اس کی مذمت کر رہا ہے۔ اور اسرائیل کو سزا دینے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ افسوس کہ سامراجی امریکن صدر ریگن نے اس وقت بھی اسرائیل کے حملہ آوروں کے ساتھ ہمدردی ظاہر کی ہے۔ 

جمعیت علمائے ہندکی مجلس عاملہ کا یہ جلسہ ظالم اسرائیل حکومت کی سخت مذمت کرتا ہے اور عراق کی تنصیبات نو کے لیے مدد کا اعلان کرنے والوں، خاص کر سعودی عرب کا شکریہ ادا کرتا ہے اور حکومت ہند کی اس بارے میں تعریف کرتے ہوئے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اسرائیل سے اپنے تمام تجارتی تعلقات ختم کردے اور بمبئی کے اسرائیلی ٹریڈ کمشنر آفس کو بلاتاخیر بند کردے۔ 

مجلس عاملہ صدر محترم کے اس اقدام کی تائید کرتی ہے ، جو انھوں نے اسرائیلی حملہ کے فورا بعد سکریٹری جنرل یونائٹیڈ نیشن کو احتجاج روانہ کیا۔ اس طرح انھوں نے ملک کے تمام مسلمانوں اور انصاف پسند عوام کی ترجمانی فرمائی۔ مجلس عاملہ ان کے اس اقدام کی پرزور تائید کرتی ہے۔ ‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍

31؍جولائی1981ء کو ملک گیر یوم فلسطین منانے کا اعلان

24؍ جولائی 1981ء کو جمعیت علمائے ہند نے تمام ماتحت یونٹوں کو ایک سرکلر بھیج کر یہ اپیل کی کہ اسرائیلیوں کے ذریعہ فلسطینی آبادیوں کو منصوبہ بند طریقے پر تباہ و برباد کرنے کے خلاف،31؍ جولائی کوملک گیر سطح پر ’’یوم فلسطین‘‘ مناتے ہوئے،بعد نماز جمعہ ہندستان کے ہر ہر شہراور گاؤں میں جلسے کرکے احتجاجی قرارداد منظور کرکے وزیر اعظم ، وزیر داخلہ اور سفارت خانہ پی ایل او کو بھیجیں۔ صدر محترم نے ایک خط کے ذریعہ وزیر اعظم ہند کو بھی توجہ دلائی۔

قرارداد کا مضمون درج ذیل ہے: 

… کا یہ جلسۂ عام لبنانی عوام اور فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتا ہے اور حکومت ہند سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے اثرات کو کام میں لاکر کمزور اور مظلوم عرب عوام کو بچائے اور بمبئی میں اسرائیلی قونصل خانے کو بند کرے۔ نیز اقوام متحدہ میں اسرائیل پر پابندیاں عائد کرانے کے لیے عربوں سے تعاون کرے۔ (روزنامہ الجمعیۃ،25؍ جولائی 1981ء)

چنانچہ مقررہ تاریخ پر پورے ملک میں احتجاجی جلسے منعقد کیے گئے۔ 

لبنان پراسرائیلی حملہ کی مذمت 

 اسرائیل نے لبنان کے بیروت میں واقع پی ایل او (فلسطین لبریشن آرگنائزیشن) کے  دفاتراور آس پاس کے علاقوں پر17؍جولائی 1981ء  کو شدید فضائی بم باری کی۔ اس میں سینکڑوں افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔

9،10؍ اگست 1981ء کو مجلس عاملہ کا دو روزہ اجلاس ہوا، جس میں اس اسرائیلی حملے کی مذمت کی گئی۔ تجویز میں کہا گیا کہ:

’’اسرائیل نے امریکی سامراج کی مددسے بغیرکسی اعلان جنگ کے لبنان پر حملہ کیا ہے، جو ننگی جارحیت اور حد درجہ قابل ملامت ہے۔ لبنان پر بار باربم باری کر کے وہاں کے بے قصوراور حملہ سے لاعلم مردوں، عورتوں اور بچوں پر حملہ اور فلسطینی عربوں کے ٹھکانوں پر بم باری بد ترین جارحیت اور بین الاقوامی جرم کیا ہے۔

 اسرائیل کو اس جارحیت اور سفا کانہ قتل عام میں سامراجی امریکہ اور صدر ریگن کی حمایت حاصل رہی ہے، جنھوں نے واضح ظلم مان لینے پربھی اسرائیل کی شرم ناک حمایت جاری رکھی ہے۔

 جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ سامراجی اسرائیل کی جارحیت پر شدید غم وغصہ کا اظہار کرتی ہے۔ عراق کی تنصیبات پراسرائیلی حملہ بہت بڑا بین الاقوامی جرم اور انجمن متحدہ اقوام کے چارٹر کی پامالی ہے، جس میںہر آزادملک کی سرحدوںکی پابندی کی ذمہ داری دی گئی ہے۔

 جمعیت علمائے ہند حکومت ہند، خاص کر مسز اندراگاندھی کی شکرگزار ہے، جنھوں نے اسرائیل کی ہر جارحیت کی کھل کر مذمت کی اور صدر محترم جمعیت علمائے ہند اور عرب کے قائد جناب یاسر عرفات کو خطوط لکھ کرعربوں کی پرزور حمایت کی۔

 مجلس عاملہ مسلم عوام کا بھی شکریہ ادا کرتی ہے، جنھوں نے جمعیت علمائے ہند کی آواز پر31؍ جولائی کو’’ یوم فلسطین‘‘ مناکر عظیم عرب قوم کے ساتھ یک جہتی اور حمایت کا اظہار کیا۔

مجلس عاملہ انجمن متحدہ اقوام سے مطالبہ کرتی ہے کہ ظالم اسرائیل پر جارحیت کے لیے ایکشن لیا جائے اور اس کو انجمن متحدہ اقوام کا مجرم قرار دے کر یواین او سے خارج کیا جائے اور عراق ولبنان کو تاوان ادا کرایا جائے۔ مجلس عاملہ حکومت ہند سے بھی درخواست کرتی ہے کہ اسرائیل سے تجارتی و ثقافتی تعلقات ختم کیے جائیں اوربمبئی کے تجارتی قونصل خانہ بند کیاجائے۔ 

مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہندملک کے مسلمانوں اور تمام انسان و آزادی پسند عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ عربوں کی ہرممکن حمایت جاری رکھیں اور ہندستانی قوم کی عظیم روایات کے مطابق مجاہدین آزادی کی تائید کریں۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍

 اسرائیل کے توسیع پسندانہ عزائم کی مذمت اور احتجاج کا اعلان

مجلس عاملہ کا ایک دو روزہ اجلاس : 26،27؍ دسمبر1981ء کو منعقد ہوا، جس میں اسرائیل کے سامراجی اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس گولان کے علاقہ کو اسرائیلی مملکت میں شامل کرنے کے اقدام کو نہایت شرم ناک، جارحیت اور عربوں کی مقدس سرزمین پر افسوس ناک حملہ اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔ سامراجی اسرائیل نے یہ اقدام کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ انجمن متحدہ اقوام کے فیصلوں کی پابندی کرتا ہے، نہ وہ بین الاقوامی قانون کا احترام کرتا ہے، نہ کسی ضا بطہ اور قانون کا پابند ہے۔

اسرائیل اپنے وجود سے ہی سرزمین فلسطین پر غاصبانہ طور پر قابض ہے اور وہ مسلسل عرب علاقوں کو جارحانہ طور پر اسرائیل میں شامل کر رہا ہے۔ پچھلے عرصہ اس نے القدس (بیت المقدس) کو اسرائیل میں شامل کر کے ساری دنیا کے مسلمانوں کو شدید صدمہ پہنچا یا ہے اور اب گولان کی پہاڑیوں پر امریکی سامراجی کی سازش سے قبضہ کر کے شام کے لیے سخت خطرہ بن گیا ہے۔

مجلس عاملہ اسرائیل کے اس اقدام کی سخت مذمت کرتی ہے اور تمام دنیاکے انصاف و آزادی پسند عوام اور انجمن متحدہ اقوام سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اسرائیل کو اس اقدام سے باز رکھیں اور شام کی آزادی اور سالمیت کو خطرہ میں نہ پڑنے دیں۔

 مجلس عاملہ ہندستان کے مسلمانوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ جمعیت علمائے ہند کی اپیل کے مطابق یکم جنوری 1982 ء کو یوم احتجاج منا کر گولان کی پہاڑیوں کی آزادی کا پرزورمطالبہ کریں۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍

اسی طرح یکم و2؍ مئی 1982ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں بھی اسرائیل کے جارحانہ توسیع پسندانہ عزائم کی مذمت کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’امریکی سامراج کی مدد سے اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحانہ سرگرمیوں، گولان کی پہاڑیوں کے اسرائیل سے الحاق، لبنان پر اس کی ددست درازیوں، اردن کے مغربی کنارے اور غزہ پٹی میں فلسطینیوں پر وحشیانہ مظالم اور مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی سے مغربی ایشیا میں صورت حال انتہائی دھماکہ خیز بن گئی ہے۔ مجلس عاملہ کا یہ اجلاس اس پر گہری تشویش اور سخت غم وغصہ ظاہر کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ میں معصوم نمازیوں پر یہودی فوج کی طرف سے گولی چلائے جانے کی شرم ناک واقعہ کی مذمت کرتا ہے۔

 گزشتہ مہینوں سے اسرائیل بڑی بے باکی کے ساتھ اردن کے مقبوضہ علاقہ سے ملی ہوئی اراضی کو ہڑپنے کی مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ اس نے جولائی 1981ء کی 7 اور9 تاریخوں کے درمیان بیت المقدس شہر کے قرب وجوار میں رسد کامل اور ایوغوش مواضعات میں زبردستی یہودی بستیاں بسادی ہیں۔ 16؍ جولائی 1981ء کو ایک سرکاری فرمان کے ذریعہ شہر نابلس کے قریب طوماس اور طمون نامی قصبات کی دوسو پچاس ایکڑ اور اریحانامی گاؤں کی ساٹھ ایکڑ زمین پر قبضہ جمالیا ہے۔ طول کرم شاہرہ کے قریب یہودی بستیاں بسانے کا کام شروع ہوگیا ہے۔ٹیکنیکل عملہ یہودی نوآبادیوں میں بڑی تیزی کے ساتھ پائپ لائن بچھانے میں مصروف ہے۔

ان عملی اقدامات کے علاوہ اسرائیلی کابینہ مزید دونئی یہودی بستیاں تعمیر کرنے کا منصوبہ بنارہی ہے۔ ایک صالح قضا علاقہ میں، دوسری بتیر گاؤں میں-جو یروشلم کے مواضعات میں شمار ہوتا ہے- ان نئی بستیوں میں بیجان کے علاقہ سے چھ سو یہودی خاندانوں کو لاکر آباد کرنے کا پروگرام ہے۔خاں احمر اور ابوریس نامی مواضعات میں بھی فوجی مرکز قائم کرنے کا منصوبہ تیار ہورہا ہے۔ گذشتہ دنوں اسرائیلی وزارت داخلہ نے نئی یہودی آبادیوں میں پولیس کے بڑے مراکز قائم کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے، جب کہ وزارت دفاع نے جبل طویل کے قریب مغربی کنارے کے وسط میں اپنا فوجی دفتر منتقل کرنے کا پروگرام بنایا ہے۔

 صہیونیوں کی ان مسلسل خلاف ورزیوں اور زمینوں کو ہڑپنے کی ناپاک کوششوں کو مجلس عاملہ تشویش کی نگاہ سے دیکھتی ہے کہ یہ حرکتیں 1949ء چوتھے جنیوا معاہدے اور عالمی قوانین، امن وسلامتی کی صریح خلاف ورزی ہے اور مشرق وسطیٰ میں امن وسلامتی کے لیے جو کوششیں ہورہی ہیں، وہ تمام کی تمام اسرائیل کی ان حرکتوں سے خاک میں مل جائیںگی۔ اقوام متحدہ کو چاہیے کہ وہ اسرائیل کی ممبرشپ کوختم کرنے کا جرأت مندانہ اور منصفانہ فیصلہ کر دے۔ مجلس عاملہ امریکی حکومت کے اس رویے کی بھی مذمت کرتی ہے کہ وہ عربوں کی دشمنی میں انجمن متحدہ اقوام کی حفاظتی کونسل کی تجویزوں کو ظالم اسرائیل کی حمایت میں (ویٹو) ردکرتارہتا ہے۔

مجلس عاملہ کی رائے میں اسرائیلی جارحیت کامقابلہ کرنے اور اس کی توسیع پسندی کو ناکام بنانے کے لیے عرب ملکوں کو پوری قوت کے ساتھ متحد ہو جانا چاہیے۔ اس وقت عربوں کی تعداد بارہ کروڑ سے اوپر ہے۔ ان کا ملک تیل کی دولت سے مالا مال ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے بھی ان کا علاقہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ دنیا کے امن پسند،انصاف پسند اور عرب دوست عوام اور حکومتوں کی حمایت بھی انھیں حاصل ہے۔ ایسی صورت میں وہ عرب مقبوضہ علاقوں سے اسرائیل کے مکمل انخلا کی اپنی کوششوں میں کامیابی حاصل کر سکتے ہیں۔ مقبوضہ عرب علاقوں سے جب تک اسرائیل کا انخلا نہیں ہو گا، مغربی ایشیا کے مسائل کا حل ممکن نہیں ہے۔

 مجلس عاملہ اپنے عرب بھائیوں کو یقین دلاتی ہے کہ جمعیت علمائے ہند، ملت اسلامیان ہنداور یہاں کے عرب دوست عوام کی پرجوش حمایت ان کے ساتھ ہے۔

 مجلس عاملہ کا یہ اجلاس حکومت ہند سے بھی مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کی جارحانہ پالیسیوں کی وجہ سے اس سے اپنے تمام اقتصادی اور ثقافتی تعلقات کو توڑنے کا اعلان کردے۔ بمبئی کے اسرائیلی قونصل خانہ کوفورا بند کر دے۔ ماہ نومبر1982 ء کو دلی میں منعقد ہونے والے ایشیائی کھیلوں میں اسرائیل کو شرکت کی ہرگز اجازت نہ دے۔ ہماری حکومت کا عربوں کے کاز کے ساتھ پرجوش حمایت کا جوتعلق ہے، اس کا تقاضہ یہی ہے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍

تنظیم آزادی فلسطین کے ناظم الامور کو برقیہ

3؍جون 1982ء کو لندن میں اسرائیلی سفیر شلومو ارگوف پر ابو ندال گروپ نے قاتلانہ حملہ کیا، جو PLO کا مخالف تھا۔اسرائیل نے اسے PLO پر الزام لگا کر 6؍جون 1982ء کو لبنان پر مکمل فوجی حملہ شروع کیا، جسے ’’آپریشن پیس فار گیلیلی‘‘ (Operation Peace for Galilee) کہا جاتا ہے۔

جمعیت علمائے ہند نے 11؍ جون1982ء کو لبنان پر اس اسرائیلی جارحانہ حملوں کی پرزور مذمت پر مشتمل تنظیم آزادی فلسطین کے ناظم الامور کو ایک برقیہ بھیج کر مسلمانان ہند کی طرف سے اسرائیل کے خلاف مکمل تعاون کا یقین دلایا۔

 اسی طرح اس کے لیے 18؍جون 1982ء کو ’’یوم دعا‘‘ منانے کی بھی اپیل بھی کی گئی۔

 (روزنامہ الجمعیۃ،12؍ جون1982ء)

اسی طرح مجلس عاملہ منعقدہ: 7،8؍ اگست 1982ء میں اسرائیل کی غیر انسانی حملوں کی مذمت کی گئی، جس کی تفصیل ان شاء اللہ ’’فلسطین‘‘ کے تذکرے میں آئے گا۔  

ایک دن کی آمدنی فلسطینی مجاہدین کو دینے کی اپیل

18؍ جولائی 1982ء کو صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے عیدکے موقع پر مسلمانوں سے اپیل کی کہ اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنے والے فلسطینی مجاہدین کی کامیابی کے لیے عید کے دن دعا کا اہتمام کریں اور ایک دن کی آمدنی ان کے لیے پیش کریں۔

 (روزنامہ الجمعیۃ،19؍ جولائی 1982ء)

بیروت قتل عام کی مذمت 

 6؍جون 1982ء کو لبنان پر’’آپریشن پیس فار گیلیلی‘‘سے اسرائیل کی جس جارحیت کا آغاز ہوا تھا، وہ 29؍ستمبر1982ء کو اختتام پر پہنچ گیا تھا۔ لیکن اس کے باجود اسرائیلی فوجوں نے دوبارہ بیروت پرجنگ چھیڑ دی۔ اس پر مجلس عاملہ منعقدہ: 30،31؍ اکتوبر1982ء میں بحث و گفتگو ہوئی اور درج ذیل تجویز منظور کی گئی: 

’’بیروت میں جنگ بندی اور پی ایل او کے مجاہدین کے چلے جانے کے بعد اسرائیلی فوجوں اور لبنانی دہشت پسند عیسائی تنظیم فلائجسٹ پارٹی اور لبنانی فوج کے عیسائیوں نے پرامن مظلوم اور بے قصور فلسطینیوں اور لبنانی مسلمانوں پر جو مظالم کیے ہیں اور جس طرح نوجوانوں، بوڑھوں اور عورتوں اور بچوں کا قتل عام کیا گیا ہے، وہ نہایت ہی انسانیت سوز، سفاکانہ اور بلا اعلان جنگ ہے، جس میں تقربیا اٹھارہ ہزار مظلوموں کو شہید کیا گیا ہے۔ اس ظلم پر تمام دنیا تھرا اٹھی ہے اور ہر انصاف پسند نے اس کی مذمت کی ہے۔

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ اس قتل عام پرسخت غصہ اور برہمی کا اظہار کرتی ہے اور تمام دنیا کے امن پسندوں سے درخواست کرتی ہے کہ وہ اسرائیلی حکومت سے تمام تعلقات توڑیںاور اس طرح مظلوموں سے ہمدردی اوریک جہتی کاثبوت دیں۔‘‘

اسرائیل: عربوں کی کمر میں پیوست خنجر

مجلس منتظمہ کا ایک اہم اجلاس: 14،15؍ جنوری 1983ء کو منعقد ہوا، جس کا خطبۂ صدارت پیش کرتے ہوئے جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا اسعد مدنی صاحب نے صدارتی خطاب میں کہا کہ:

’’اسرائیل-جو امریکہ، برطانیہ، روس اور دیگر اسلام دشمن طاقتوں کی سازش کے نتیجہ میں وجود میں آیا اور دن بدن طاقتور ہوتا جارہا ہے- عربوں کی کمر میں پیوست خنجر کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کی ہر چیرہ دستی اور مذموم حرکتیں امن پسند اور انصاف پسند دنیا کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتی ہیں۔‘‘

اسی طرح اس اجلاس کی تجویز نمبر(۱۳) میں اسرائیل کے وجودہی کو ظلم اور سازش قرار دیا گیا۔ چنانچہ تجویز کے متعلقہ پیراگراف میں کہا گیاکہ:

’’اسرائیل نے جس کا وجود ہی سازشوں اور ظلم کے ذریعے ہوا ہے، فلسطینیوں کے علاوہ بے قصور لبنانیوں کا خون بہایا اور ان کے خوب صورت ملک کو تباہ و برباد کیا، جس کے لیے دُنیا کا سب سے بڑا سامراج امریکہ کی اس کو ہر طرح کا اسلحہ اور فوجی امداد حاصل رہی ہے۔

ایک اندازہ کے مطابق حالیہ جنگ میں صرف لبنان میں فلسطینیوں اور عربوں کے تقریباً 48؍ہزار افراد کو شہید کیا گیا۔ مظلوم آزادی کے عرب پروانوں اور پُرامن و بے قصور شہریوں پر نیپام بم اور زہریلی گیس پھیلانے والے بم برسائے گئے۔ ان کا بجلی اور پانی بند کردیا گیا۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍

13؍ اپریل1984ء کو یوم احتجاج منانے کی اپیل

1984ء کی مختلف الگ الگ تاریخوں میں مسجد اقصیٰ کو بم سے اڑانے کی دھمکی اور اس کی بے حرمتی کے چھوٹے موٹے واقعات پیش آتے رہے۔ اسی تناظر میں26؍ مارچ 1984ء کو جمعیت کے صدر محترم مولانا اسعد مدنی صاحب نے،ایک اپیل جاری کرتے ہوئے، اسرائیلیوں کے ہاتھوں مسجد اقصیٰ اور دیگر مساجد کی بے حرمتی کے خلاف 13؍ اپریل 1984ء کو تمام ہندستانیوں سے یوم احتجاج کے طور پر منانے کا اعلان کیا۔ مولانا نے سکریٹری جنرل اقوام متحدہ کو ایک برقیہ بھیج کر اس بے حرمتی کو روکنے کا مطالبہ کیا۔(روزنامہ الجمعیۃ،27؍ مارچ 1984ء)

18؍ مئی 1984ء کو یوم بیت المقدس منانے کا اعلان

بیت المقدس میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاج کرنے کے لیے جمعیت علمائے ہند نے 12؍ مئی 1984ء کو تمام مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ آنے والے جمعہ کے دن 18؍ مئی 1984ء کو ’’ یوم بیت المقدس‘‘ منائیں۔ اور ایک احتجاجی تار بھی بھیجیں۔ تار کا مضمون درج ذیل ہے:…شہر؍قصبہ کا یہ جلسہ شہربیت المقدس میں اسرائیلی دہشت پسندوں کی جارحیت اور ان کی ناپاک سازشوں کی سخت مذمت کرتا ہے اور متحدہ اقوام سے مطالبہ کرتاہے کہ وہ بیت المقدس کو اسرائیلیوں کے غاصبانہ قبضہ اور ان کے ناپاک عزائم سے نجات دلائے۔ نیز اسلامی مقامات مقدسہ کی حفاظت کا فوراً بندوبست کیا جائے۔(روزنامہ الجمعیۃ،13؍ مئی 1984ء)

 پی ایل او کے ہیڈ کوارٹر پر اسرائیلی بم باری کی مذمت

یکماکتوبر 1985ء کو صبح تقریباًدس بجے اسرائیلی فضائیہ نے تیونس میں واقع PLO (فلسطین لبریشن آرگنائزیشن) کے ہیڈ کوارٹرز پر حملہ کیا۔جس میں تقریباًساٹھ سے زائد افراد شہید ہوئے (جن میں فلسطینی اور تیونسی شہری شامل تھے)۔

 10؍ اکتوبر 1985ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں تیونشیا میں پی ایل او کے ہیڈ کوارٹر پر اسرائیلی بم باری کو ظالمانہ اور وحشیانہ حملہ قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی گئی اور ایک قرارداد منظور کی گئی، جو درج ذیل ہے:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ جلسہ خود مختار اور آزاد ملک ٹیونیشیا پر اسرائیلی بم باری کی سخت مذمت کرتا ہے اور اپنے غم وغصہ کا اظہار کرتا ہے۔

 اس وحشیانہ بم باری سے متعددافرادشہید ہوئے اور سینکڑوں زخمی ہو گئے۔ اور بڑے پیمانے پر مالی تباہی اور بربادی ہوئی ہے۔ یہ ظالمانہ بم باری ایک آزاد اور خود مختار ملک پر حملہ اور بغیر اعلان جنگ کے ہے، جو تمام بین الاقوامی قوانین اور انجمن متحدہ اقوام کے چارٹر کے خلاف ہے۔

 مجلس عاملہ صدرا مریکہ مسٹر رونالڈ ریگن کے اس بیان کی بھی سخت  مذمت کرتی ہے، جس میں انھوں نے اس بم باری کو جائز قرار دیتے ہوئے اس کی حمایت کی ہے۔

 مجلس عاملہ اپنے فلسطینی بھائیوںسے اور ٹیونیشیا کی حکومت اور عوام کو یقین دلاتی ہے کہ جمعیت علمائے ہند کی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔ ملک کے کروڑوں مسلمان اور کروڑوں انصاف پسند غیرمسلم ہندستانی ان کے حامی اور ہمدردہیں۔

 مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند دنیا کے عوام اور ان حکومتوں کا شکریہ ادا کرتی ہے، جنھوں نے اس ظلم وشقاوت کی مذمت کی ہے۔

 مجلس عاملہ انجمن متحدہ اقوام سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ وہ حملہ آور اسرائیل کی صرف زبانی مذمت کی تجویز پر ہی اکتفا نہ کرے؛ بلکہ اسرائیل کے خلاف اقتصادی ناکہ بندی جیسے مؤثر اقدامات کرے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍

اس کے بعد جب یکم نومبر1986ء کو مجلس منتظمہ کا اجلاس ہوا، تو اس میں بھی تجویز نمبر(۱۰) منظور کرتے ہوئے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی گئی ۔ مکمل تجویز درج ذیل ہے:

’’ فلسطین میں اسرائیلی حکومت کے قیام کے وقت سے ہی جمعیت علمائے ہند نے اس کی شدید مخالفت کی ہے۔ فلسطین عربوں کی تباہی و بربادی-جو اسرائیلی سامراج اور اس کے آقاؤں کی مدد سے کی گئی ہے- وہ دنیا میں ظلم و سفاکی کی بدترین مثال ہے۔ جمعیت علمائے ہندنے مسلسل عربوں کی حمایت اور فلسطین کی آزادی کے لیے پر زور جد وجہد کی ہے۔ اس کے اکابر ملک اور بیرون ملک مظلوم فلسطینی عربوں کی پر زور حمایت کرتے رہے ہیں۔ 

اب تو اسرائیلی سامراج اپنے سامراجی آقاؤں کی مدد سے اس قدر آگے بڑھ گیا ہے کہ اس نے لبنان و بیروت کو تباہ و برباد کر ڈالا ہے۔ اور آزاد و خود مختار ملک تیونیشیا پر بم باری کر کے بد ترین بین الاقوامی مجرم ثابت ہوا ہے۔ یہ جلسہ امریکی صدر رونالڈریگن کی سخت مذمت کرتا ہے، جنھوں نے اس وحشیانہ بم باری کو جائز وصحیح قرار دیا ہے۔

 یہ وہی رونالڈریگن ہیں، جنھوں نے دنیاکے ایک آزاد و خود مختارمسلم ملک لیبیا پر وحشیانہ بم باری کرکے ان کو بد ترین مجرم ثابت کر دیا ہے اور یہ بھی ثابت کیا ہے کہ ان کو نہ انسانیت کا پاس ہے، نہ بین الاقوامی سرحدوں اور فیصلوں کا لحاظ ہے، نہ دنیا کی رائے عامہ کا احترام ہے۔

مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند ایک بار پھر واضح اعلان کرتی ہے کہ وہ ان واقعات پر سخت غم وغصہ کا اظہار کرتی ہے اور فیصلہ کرتی ہے کہ فلسطینی عربوں کی حمایت مسلسل کرتی رہے گی اورفلسطین کی آزادی تک اس کی جدوجہد جاری رہے گی۔‘‘

(تجاویز اور فیصلے اجلاس مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند، یکم نومبر1986ء بروز ہفتہ۔ ترتیبؒ مولانا محمد اسرارالحق قاسمی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند،ص؍4-25)

اسرائیلی محاصرے انسانیت کے خلاف

1982ء میں اسرائیل کے لبنان پر حملے کے بعد PLO کی قیادت کو تیونس منتقل ہونا پڑا، لیکن چند برسوں میں فلسطینی جنگ جو دوبارہ بیروت اور جنوبی لبنان کے کیمپوں میں منظم ہونے لگے۔ شام اور امل موومنٹ کو خدشہ تھا کہ یاسر عرفات کی قیادت میں فلسطینی دوبارہ طاقت حاصل کر کے لبنان میں’’ریاست کے اندر ریاست‘‘قائم کر لیںگے، اسی لیے اس ابھار کو روکنے کا فیصلہ کیا گیا۔

چنانچہ 19؍مئی 1985ء کو امل ملیشیا نے بیروت کے بڑے فلسطینی کیمپوں:صبرا، شتیلا اور برج البراجنہ کا سخت محاصرہ کر لیا۔ ان کیمپوں پر شدید گولہ باری کی گئی اور خوراک، پانی اور ادویات کی فراہمی منقطع ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں ایک شدید انسانی بحران پیدا ہوا، جہاں بھوک، بیماری اور محرومی نے ہزاروں افراد کو متأثر کیا۔ بعد میں یہ لڑائی جنوبی لبنان تک بھی پھیل گئی۔

بالآخر یہ جنگ جولائی 1988ء میں شامی مداخلت کے بعد ختم ہوئی۔ ایک معاہدے کے تحت یاسر عرفات کے حامی جنگج جؤں کو بیروت سے نکال کر جنوبی لبنان منتقل کیا گیا۔ اس طویل اور خوںریز تنازعے میں تقریباً 3,000 سے زائد افراد ہلاک ہوئے اور مہاجر کیمپوں کا بڑا حصہ تباہ ہو گیا۔

13؍ فروری 1987ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ میں ان صورت حالات کا گہرائی سے جائزہ لیا گیا اور درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’جنوبی لبنان کے فلسطینیوں کے کیمپوں پر کئی ماہ سے شدید قتل و غارت گری جاری ہے اور اسرائیل کی مدد سے یہ سفاکانہ حملے ، قتل عام شیعہ تنظیم ’’امل‘‘ کے کیمپوں پر ہورہا ہے، جس کو اسرائیل اور شام کی حمایت حاصل ہے۔ اسرائیل ان کیمپوں پر مسلسل بم باری کر رہا ہے اوراب تک’’ امل‘‘ نے کیمپوں کا محاصرہ کر رکھا ہے، جہاں کھانا، دوائیاں اور پانی تک جانے نہیں دیا جارہا ہے، جس کے نتیجے میں بچے بھوک، پیاس اور بیماریوں میں تڑپ تڑپ کر مر رہے ہیں ۔ بوڑھے اور جوان مردہ جانوروں اور مردہ انسانوں کا گوشت کھارہے ہیں۔ اور یہ سب کچھ صرف اس محاصرہ کے نتیجہ میں ہورہا ہے۔ 

انسانیت کو تڑپا دینے والے ان واقعات نے ساری دنیا کو ہلادیا ہے۔ دنیا کی تاریخ میں شدید ترین سفاکی اور شقاوت ہے، جو شاید ہی کسی سوسائٹی میں مل سکے۔ 

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس ان واقعات پر انتہائی رنج و غم اور غصہ کا اظہار کرتا ہے اور انجمن متحدہ اقوام سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنے اثرات کو کام میں لاکر فلسطینی نسل کشی کو بند کرانے کے لیے محاصرہ اٹھائیں۔ ورنہ چنددن میں پورا کیمپ پیاس سے تڑپ تڑپ کر ختم ہوجائے گا۔ 

مجلس عاملہ ناوابستہ تحریک کے چیرمین ڈاکٹر وابرٹ موگابے سے بھی درخواست کرتا ہے کہ وہ خود لبنان جائیں اور امل حامیوں کو مجبور کریں کہ وہ یہ مظالم بند کریں۔ 

مجلس عاملہ انجمن تحفظ انسانیت اور انسداد مظالم کی بین الاقوامی کمیٹی کو توجہ دلاتا ہے کہ وہ بلاتاخیر اس ظلم کو روکنے کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔ 

مجلس عاملہ مظلوموں کو یقین دلاتی ہے کہ اس کی ہمدردیاں ان کے ساتھ ہیں۔ 

غازہ پٹی میں میں اسرائیلی خون خرابہ روکنے کی اپیل

 اسرائیلی فوج نے اپنے حقوق کے لیے مظاہرہ کرنے فلسطینیوں پر گولیاں چلائیں، جس سے دسمبر1987ء کے آخر تک اور جنوری کے ابتدائی ہفتوں میں کئی فلسطینی شہید ہوئے۔

 مجلس عاملہ منعقدہ: 9،10؍ جنوری 1988ء میں اسرائیل کی انھیں مظالم کی مذمت میں درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’اردن کے مغربی کنارے اور غازہ پٹی میں فلسطینی عربوں پر اسرائیل کے حالیہ مظالم نہایت ہی رونگٹھے کھڑے کردینے والے ہیں ۔ یوں تو عربوں پر اسرائیلی سامراج اپنے سامراجی آقاؤں کی مدد سے نہایت سفاکانہ مظالم کر رہا ہے۔ اسرائیل کے مظالم اور بربریت کی مثال ملنی مشکل ہے۔ اسرائیل عرب بستیوں کو اجاڑ کر منصوبہ بند طور پر یہودی آبادیوں میں تبدیل کر رہا ہے اور عرب شہریوں کو اپنے وطن میں ہی بے وطن کرکے در بدر پھرنے پر مجبور کردیا ہے۔ 

حال ہی میں پر امن عرب مظاہرین پر جس طرح مظالم کیے گئے ہیں، ان سے ساری دنیا چلا اٹھی ہے اور ہر طرف سے مذمت ہورہی ہے۔ یہاں تک کہ اسرائیل کی سب سے بڑی پشت پناہ امریکی حکومت کو بھی اسرائیلی مظالم پر مذمت کی تجویز کی تائید کرنی پڑی ہے؛مگر اسرائیل کے مظالم بدستور ہیں، نہ اس کو اپنے مظالم پر ندامت ہے اور نہ ظلم و بربریت پر افسوس ہے، نہ بین الاقوامی قوانین کا پاس ہے، نہ دنیا کی رائے عامہ کا احترام ہے۔ 

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ اسرائیلی مظالم کو ساری دنیا کے لیے ایک چیلنج محسوس کرتی ہے اور اس پر سخت غم و غصہ کا اظہار کرتی ہے ۔ 

پچھلے ماہ جمعیت علمائے ہند نے سارے ملک میں ’’یوم فلسطین‘‘ مناکر اسرائیلی مظالم پر سخت احتجاج کیا۔ یہ احتجاج ملک کے کونے کونے میں کیا گیا۔ 

مجلس عاملہ انجمن اقوام متحدہ سے اپیل کرتی ہے کہ وہ مغربی کنارے اور غازہ پٹی میں بلاتاخیر امن فوج تعیینات کرکے وہاں خوں ریزی کو روکے اور انجمن متحدہ اقوام کے فیصلوں سے مسلسل بغاوت کرنے والے اسرائیل کو مظالم روکنے کے لیے مجبور کرے ۔ اور اس کے لیے ضروری ہے کہ اسرائیل کی ناکہ بندی کرکے اس کو اسلحہ و دیگر سامان نہ پہنچنے دیا جائے ، تاکہ عربوں کی نسل کشی اور مظالم سے اس کو باز رکھا جاسکے۔ 

مجلس عاملہ ساری دنیا کے مسلمانوں، جمہوریت و انصاف پسند عوام سے دردمندانہ اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنے اثرات و وسائل کو کام میں لاکر اسرائیل کی ناکہ بندی کرائیں اور اس کو مظالم بند کرنے پر مجبور کریں۔ 

مجلس عاملہ طے کرتی ہے کہ عربوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف 5؍فروری 1988ء کو ’’یوم احتجاج‘‘ منایا جائے ۔

مجلس عاملہ تمام یونٹوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ بعد نماز جمعہ فلسطینیوں کے لیے دعا کریں اور جلسہ کرکے اسرائلی مظالم پر احتجاج کریں۔ احتجاجی جلسوں میں فلسطین و عربوں کے ایسے ہمدرد حضرات کو مدعو کیا جاسکتا ہے، جو جمعیتی نہ ہوں؛ مگر فلسطینی عربوں سے ہمدردی رکھتے ہوں۔ ‘‘

اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاج اور فلسطنیوں کی امداد

جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی مولانا محمد اسرارالحق قاسمی ؒ لکھتے ہیں کہ:

’’9،10؍ جنوری 1988ء کو نئی دہلی میں مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند نے اسرائیلی مظالم پر سخت غم وغصہ کا اظہار کیا۔ اور ان مظالم کو ساری دنیا کے لیے ایک چیلنج بتاتے ہوئے تمام ہندستانی مسلمانوں اور عرب دوست انسانوں سے اپیل کی کہ عربوںپر اسرائیلی مظالم کے خلاف 5؍ فروری 1988ء کو ’’یوم احتجاج‘‘ کے طور پر منائیں۔ خدا کا شکر ہے کہ مجلس عاملہ کی اپیل پر پورے ملک میں گاؤں گاؤں قصبہ قصبہ اور شہر شہر یوم احتجاج منایا گیا۔

جمعیت علمائے ہند اور ہندستانی مسلمان فلسطینی عربوں کے موقف کی حمایت میں پیش پیش رہے ہیں۔ اس تاریخی رشتہ کا تقاضا یہ ہے کہ ان کی جدو جہد کی اس نازک گھڑی میں -جب کہ وہ اپنی آزادی کے لیے فیصلہ کن جہاد میں مصروف ہیں- ان کی ہر ممکن مدد کی جائے۔ اس احساس کے تحت جمعیت علمائے ہند نے فلسطین کی مدد کے لیے پچاس ہزار روپے کی پہلی قسط پیش کی ہے۔ امداد کا یہ سلسلہ جاری رہے گا، ان شاء اللہ۔‘‘ (ملی کردار، ص؍34)

صندوق جہاد فلسطین کی تشکیل

چنانچہ اس کے بعد جب 9،10؍ اپریل 1988ء کو مجلس منتظمہ کا اجلاس ہوا، تو اس میں فلسطین کے تعاون کے لیے ’’صندوق جہاد فلسطین‘‘ تشکیل دیا گیا۔ مجلس منتظمہ نے اپنی تجویز نمبر(۹) میں کہا گیاکہ: 

’’مقدس ارض فلسطین میں عربوں کی تباہی و بربادی-جواسرئیل سامراج اوراس کے سامراجی آقاؤں کی مدد سے کی گئی ہے- وہ دنیا میں ظلم وسفاکی کی بدترین مثال ہے۔

 اب تواسرائیل کی دریدہ دہنی، یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ مظلوم عربوں کے کیمپوں پر بم باری کرکے پرامن پناہ گزیں مردوں، عورتوں اور بچوں تک کو شہید کیا جارہا ہے۔غازہ پٹی اور دریائے اردن کے مغربی کنارہ پر بسے ہوئے فلسطینی عربوں پر جو ظلم وستم کیے جارہے ہیں، انھوں نے ساری دنیاکولرزہ براندام کر دیا ہے۔ نوجوانوں کو گرفتا رکرکے گولی مارنا، ہاتھ پاؤں کو توڑ کر بیابان جنگلوں میں چھوڑ دینا، بے قصور عورتوںتک کو گرفتار کرکے ان کو اذیت پہنچانا، زہریلی گیس چھوڑ کر ہزاروں لوگوں کو مہلک بیماریوں میں مبتلا کر دینا،ر وزمرہ کا معمول ہوگیا ہے۔ زہریلی گیس اس قدر خطرناک ہے کہ سینکڑوں عرب خو اتین کے حمل ساقط ہوگئے ہیں اور اس طرح ظالم اسرائیلی حکومت عربوں کی نسل کشی اور بچوں کے پیدا ہونے سے قبل ہی ان کا قتل عام کر رہی ہے۔ اس وقت مقبوضہ فلسطینی عرب بے مثال مجاہدانہ جنگ لڑ رہی ہے، جس کے لیے وہ ہر طرح کی حمایت و ہمدردی کے مستحق ہیں۔ مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند’’صندوق جہاد فلسطین‘‘ قائم کرنے کا اعلان کرتی ہے اور ہندستان کے مسلمانوں اور عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ مجاہدین فلسطین کی ہرطرح مالی اور اخلاقی امداد کریں۔ سر دست مرکزی جمعیت علمائے ہند نے مجاہدوں کی امداد کے لیے تحریک آزادی فلسطین کی تنظیم کے سفیر ڈاکٹر خالد الشیخؒ کوپچاس ہزار روپیہ پیش کیا ہے۔

 مجلس منتظمہ مسلمانوں؛ خاص کرجمعیت کی اکائیوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ مجاہدین فلسطین کی امداد کے لیے پرجوش مہم چلائیں اور مدد کے لیے وصول شدہ رقم کو جمعیت علمائے ہند کے قائم کیے ہوئے صندوق جہاد واقع جمعیت علمائے ہند کے مرکزی دفتر۱۔ بہادرشاہ ظفر مارگ نئی د ہلی کو روانہ کریں۔ اگر کوئی صاحب براہ راست سفیر محترم کو رقم بھیجنا چاہیں، توڈا کٹر خالد الشیخؒ سفیر پی ایل او،وسنت وہار نئی دہلی کو روانہ فرما دیں اوراس کی اطلاع جمعیت دفتر کو بھی کر دیں۔

 اسرائیل نے فلسطینی عربوں کو دبانے کے بہانے سے بیروت ولبنان کو تباہ کرڈالا ہے اورتیونیشیا جیسے آزاد و خود مختارملک پر بم باری کی ہے۔ بدقسمتی سے امریکی سامراجی حکومت کے صدر رونالڈ ریگن وہ تنہا سامراجی حکمراں ہے، جس نے اس وحشیانہ بم باری کو جائز کہا۔جمعیت علمائے ہند نے فلسطین میں اسرائیلی مملکت کے قیام کے وقت سے ہی مخالفت کی تھی اور اس کو عربوں کو زیر کرنے اور فلسطینیوں کو تباہ کرنے والا اقدام قرار دیا تھا۔

 جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ اسرائیل مظالم کی سخت مذمت کرتے ہوئے دنیا کے تمام امن وانسانیت دوست ملکوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اسرائیلی سامراج سے ناطہ توڑ لیں اور اس کا بائیکاٹ کرکے مجبور کریں کہ وہ مظلوم عربوں کی مقدس سرز مین کو آزاد کریں، تاکہ آزاد عرب فلسطینی حکومت وہاں قائم ہوسکے۔

جمعیت علمائے ہند عربوں کو یقین دلاتی ہے کہ اس جنگ میں ہندستانی مسلمان اور انصاف پسند عوام عرب مظلوموں کے ساتھ ہیں اوران کی پر زور حمایت کرتے ہیں۔

 محرک: مولانا سید اسعد مدنی صاحب ؒ۔

تائیدات: مولا نا عبدالرحمانؒ پالن پوری ۔سابق وزیراتر پردیش مسٹر عبدالرحمان خاں نشتر صاحب ؒ۔

 حضرت صدرمحترم، مولا نا پالن پوری اورنشتر صاحب نے ایک ایک سور و پیہ ماہانہ اس فنڈ میں دینے کا اعلان کیا۔ مجمع نے اسی وقت پانچ ہزار روپے نقد دیے اور متعد د حضرات نے ماہانہ و یک مشت دینے کے وعدے کیے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍

اسرائلی مظالم کے خلاف احتجاج کا سرکلر

10؍اگست 1988ء کو جمعیت علمائے ہند کے صدر محترم نے اسرائیلی مظالم کے خلاف احتجاجی مظاہرے کے لیے ماتحت شاخوں کے نام درج ذیل سرکلر جاری کیا گیا:

محترم المقام - - زید مجد کم! السلام علیکم!

1948ء سے عالم اسلام کے مسائل میں سب سے زیادہ تکلیف دہ مسئلہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے عرب علاقوں پر اسرائیل کا غاصبانہ قبضہ ہے۔ عربوں پر اسرائیلی مظالم، سفاکی اور قابل نفرت بر بریت نے ساری دنیا کے امن پسندوں کو بے چین کر رکھا ہے۔ اسرائیل نے امریکہ اور دیگر سامراجیوں کی مدد سے لاکھوں عربوں کو ان کے گھروں سے بے گھر کر دیا ہے۔ ہزاروں مردوں، عورتوںاور بچوں کو نہایت ہی سنگ دلانہ طور پر شہید کر کے سفاکی کی انسانیت سوز مثال قائم کی ہے۔

1967ء کے حملہ میں اسرائیل نے سرزمین قدس پر غاصبانہ قبضہ کیا اور21؍ اگست 1969 ء میں مسلمانوں کا قبلۂ اول مسجد اقصیٰ میں نہایت مذموم طور پر آگ لگائی گئی، جس کے باعث دنیا کے ہر مذہب اور امن پسند قوم نے اسرائیل کی سخت مذمت کی؛ مگر اسرائیل کو نہ ظلم و بربریت میں کوئی شرم ہے اور نہ دنیا کے امن پسندوں کی آواز اور رائے عامہ کا کوئی لحاظ ہے۔

 گذشتہ تین برسوں سے اسرائیل کی دریدہ دہنی یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ مظلوم پناہ گزیں عربوں کے کیمپوں پرمسلسل بم باری کر کے پر امن پناہ گزیں مردوں، عورتوں، بچوں تک کو شہید کیا جارہا ہے۔ غازہ پٹی اور دریائے اردن کے مغربی بنارہ پر بسے ہوئے نیک طینت عربوں پر جو ظلم وستم کیے جا رہے ہیں، انھوں نے ساری دنیا کو لرزہ براندام کر دیا ہے۔ نوجوانوں کو گرفتا رکر کے گولی مار نا، ہاتھ پاؤں توڑ کر بیابان جنگلوں میں چھوڑ دینا، بے قصور عور توں تک کو گرفتار کر کے ان کو اذیت پہنچانا، زہریلی گیس چھوڑ کر ہزاروں لوگوں کو مہلک بیماریوں میں مبتلا کر دینا رو زمرہ کا معمول بن گیا ہے۔

اسرائیل کے مسلسل جبر وستم کے بھیانک چالیس سالہ تاریخ میں گذشتہ ایک سال سے یہ نہایت شرم ناک صورت حال سامنے آئی ہے کہ معصوبہ اسرائیل کے علاقوں میں آباد فلسطینی عربوں کی آبادیوں کو نہایت بے رحمی کے ساتھ بلڈوزروں سے اجاڑا جا رہا ہے اور ان کی جگہ یہودی بستیاں بسائی جا رہی ہیں۔ نہتے فلسطینی عرب نوجوان لڑکے، لڑکیاں، بوڑھے اور بچے نہایت پامردی سے اس صورت حال کے خلاف بے مثال مجاہدانہ جنگ لڑرہے ہیں اور موت وحیات کی اس لڑائی میں یہ نہتے مظلوم عرب اسرائیلی گولہ بارود کا پتھر سے مقابلہ کررہے ہیں، یقینا ایسی صورت حال میں وہ ہر طرح کی حمایت اور ہمدردی کے مستحق ہیں۔

اس وقت اگر ہم ان کی کوئی اور مدد نہیں کر سکتے ہیں، توکم از کم مالی مدد ضرور کی جاسکتی ہے۔ جمعیت علمائے ہند نے ان عرب مظلوموں کی امداد کے لیے پی ایل او کو پچاس ہزار روپیہ کی مالی امداد کی پہلی قسط پیش کی اور ان کی مستقل امداد کے لیے صندوق جہا د فلسطین مقرر کر دیا گیا ہے۔

برائے کرم آپ اپنے علاقہ اور شہر کی مساجد میں 19؍ اگست 1988ء کو بعد نماز جمعہ میٹنگ کا اہتمام کریں، جس میں اسرائیلی مظالم اور مسجد اقصیٰ پر غاصبانہ قبضہ کی مذمت کے ساتھ فلسطینی مجاہدین کی مالی امداد کے لیے مسلمانوں اور عرب دوست عوام کو توجہ دلائیں اور اس بات کی سعی کریں کہ مہم کے طور پر امدادی فنڈ کی فراہمی کا ماحول تیار ہو سکے۔ نیز ایک تجویز منظور کر کے ان پتوں پر بذریعہ ڈاک ارسال فرمائیں: …۔

 تجویز کے لیے اس طرح کی عبارت مناسب ہے:

مسلمانان …کا یہ احتجاجی جلسہ -جو جمعیت علمائے ہند کے اعلان پر منعقد ہوا ہے- فلسطینی عربوں پر اسرائیل کے بدترین مظالم پر سخت احتجاج کرتا ہے اور مسلمانوں کے قبلۂ اول: مسجد اقصیٰ پر مسلسل غاصبانہ قبضہ کی سخت مذمت کرتا ہے اور انجمن متحدہ اقوام سے مطالبہ کرتا ہے کہ عربوں پر مسلسل ظلم وستم ڈھانے والے اور انجمن متحدہ اقوام کے فیصلوں سے برابر بغاوت کرنے والے اسرائیل کی اقتصادی ناکہ بندی کرکے اس کو اسلحہ اور دیگر سامان نہ پہنچنے دیا جائے، تاکہ عربوں کی نسل کشی اور مظالم سے اس کو باز رکھا جاسکے۔ 

 دعوات صالحہ میں فراموش نہ فرمائیں

والسلام اسعد مدنی صدر جمعیت علمائے ہند 

(ہفت روزہ الجمعیۃ،19-25؍ اگست1988ء، ص؍11)

فلسطینیوں کی نسل کشی پر پرزور احتجاج

اسرائیل کی طرف سے فلسطین پر تسلسل کے ساتھ وحشیانہ بم باری جاری تھی، جس کے تناظر میں مجلس منتظمہ منعقدہ: 3؍ جون1990ء میں درج ذیل تجویز نمبر-۱۸- منظور کی گئی:

’’فلسطینی مقبوضہ علاقوں میں اسرائیل کی حالیہ دہشت گردی اور نہتے فلسطینیوں کے قتل عام اور ان کی نسل کشی پر -جس کا سلسلہ اعلان ’’بالفور‘‘ کے بعد سے ہی چل رہا ہے- جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس پر زور احتجاج کرتا ہے۔ مجلس منتظمہ کوسخت تشویش ہے کہ اس وقت اسرائیل نے فلسطینیوں پر مظالم، ان کی نسل کشی اور انھیں اجاڑنے کی کارروائی کو تیز کر دیا ہے، جس کی وجہ سے پوری عرب دنیا میں سخت بے چینی پھیل گئی ہے۔ مجلس منتظمہ حکومت ہند اور ہندستانی فلسطین دوست عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اسرائیل کی اس جارحانہ کارروائی کی پر زور مذمت کریں اور اقوام متحدہ کے فیصلوں پر عمل کرنے کے لیے اسے مجبور کرے۔

 مجلس منتظمہ کو اس امر پر بھی نہایت تشویش ہے کہ عرب مقبوضہ علاقوں میں روس اور مشرقی یورپ کے ملکوں سے یہودیوں کے بڑی تعداد میں آنے سے ایک سنگین صورت پیدا ہو گئی ہے۔ اسرائیلی حکام بر سر عام یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی عظیم اسرائیلی ریاست ہے، جس میں وہ اردن، شام اور سعودی عرب کے حصوں کو شامل کرتے ہیں۔

 مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس سوال کا نہایت سنجیدگی کے ساتھ نوٹس لے۔ مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس فلسطینیوں کے بے رحمانہ قتل اور اسرائیل کی دہشت گردی، نیز امریکہ کی پشت پناہی کی پرزور مذمت کرتا ہے اور فلسطینی عوام کو ہمیشہ کی طرح اس موقع پر بھی اپنی پوری حمایت کا یقین دلاتا ہے۔

(تجاویز اور فیصلے مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند، 3؍ جون 1990ء)

اس کے بعد مجلس عاملہ منعقدہ: 9؍ جون 1991ء کی تجویز نمبر (۴) میں بھی اس کی مذمت کی گئی:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس جنوبی لبنان میں ، فلسطینی آبادیوں پر اسرائیل کی وحشیانہ بم باری اور درندگی پر سخت نفرت اور غم و غصہ کا اظہار کرتا ہے اور اس کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ 1982ء کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب اسرائیل نے فلسطینی بستیوں پر اتنی زبردست بم باری کی ہے، جس میں دو درجن کے قریب معصوم فلسطینی ہلاک اور ستر کے قریب زخمی ہوگئے ہیں۔ زخمیوں میں اسکولی بچے بھی شامل ہیں۔ 

مجلس عاملہ کا یہ اجلاس اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ پہلی فرصت میں سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرکے اس صورت حال پر غور کرے اور اسرائیل کی ان وحشیانہ کارروائیوں کے خلاف سخت مذمتی قرارداد منظور کرے ۔ امریکہ کو بھی مجبور کیا جائے کہ وہ اسرائیل کو ہتھیار کی سپلائی بند کرے؛کیوں کہ امریکہ جیسی سامراجی ملک کی پشت پناہی سے اسرائیل عالمی غنڈہ گردی کی طرف برابر اپنا قدم بڑھا رہی ہے۔ 

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس دنیا کے تمام امن پسند اور انسان دوست ملکوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس بربریت اور عالمی دہشت گردی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کریں۔ 

مجلس عاملہ حکومت ہند سے بھی مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اقوام متحدہ سے اس صورت حال پر غور کرنے کے لیے سلامتی کونسل کا اجلاس بلانے پر زور دے کر مظلوم فلسطینی عوام سے اپنی دیرینہ ہمدردی کا ثبوت پیش کرے۔ ‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد چہارم، ص؍

اسرائیل کا ایٹمی طاقت بننا باعث تشویش

اسرائیل 1966-67میں ہی ایٹمی طاقت والا ملک بن گیا تھا۔خلیج جنگ کے موقع پر یہ عالمی سطح پر یہ تشویش ظاہر کی گئی کہ کہیں اسرائیل جوہری و ایٹمی ہتھیار کا استعمال نہ کرلے۔ اسی وجہ سے مجلس منتظمہ منعقدہ: یکم و 2؍ دسمبر1991ء میں اسرائیل کے ایٹمی طاقت کو تشویش ناک قرار دیا گیا۔ تجویز کے متعلقہ حصہ میں کہا گیاکہ:

’’ مجلس منتظمہ اس پر شدید تشویش کا اظہار کرتی ہے کہ اسرائیل امریکی، برطانوی مدد سے ایٹمی طاقت بن چکا ہے، جس سے پورے مشرق وسطیٰ کا امن خطرہ میں نظر آتا ہے۔ مجلس منتظمہ یہ بھی مطالبہ کرتی ہے کہ پی ایل او کو قیام امن کی گفتگو میں شریک کیا جائے۔ پی ایل او کے بغیرفلسطینی نمائندگی ممکن نہیں ہے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد چہارم،ص؍

اسرائیلی حکومت کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے پر استعجاب کا اظہار

حکومت ہند نے اسرائیل کوایک خود مختار ملک کے طور پر17؍ستمبر 1950ء کو تسلیم کیا۔ اس کے بعد29؍جنوری 1992ء کو بھارتی وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ کی حکومت نے اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم کیے۔

مجلس عاملہ کا ایک اجلاس 22،23؍ فروری 1992ء کو منعقد ہوا، جس میں بسلسلۂ دیگر امور فلسطین کا مسئلہ زیر بحث آیا۔ حکومت ہند کے اسرائیلی حکومت کو تسلیم کرلینے پر مجلس عاملہ نے سخت حیرت و استعجاب کا اظہار کیا۔ عاملہ کایہ قطعی خیال ہے کہ حکومت ہند نے یہ رویہ امریکہ نوازی اور اسے خوش کرنے کے لیے اختیار کیا ہے۔ گاندھی جی اور جواہر لال نہرو کی طے کردہ پالیسی کے خلاف حکومت ہند کا یہ اقدام نہ صرف تعجب خیز ہے؛ بلکہ تکلیف دہ بھی ہے۔ مجلس نے اس سلسلے میں ایک تجویز منظور کی اور طے کیا گیا کہ اس کی نقل حکومت کے علاوہ مجلس اقوام متحدہ کو بھی بھیجی جائے۔

تجویز کا متن درج ذیل ہے: 

’’یہ امر واضح اور ناقابل تردید ہے کہ اسرائیلی حکومت بدترین نسل پرست، ظالم، سفاک اور بد اخلاق دہشت گردوں پر مشتمل ہے۔ 

فلسطین کے مظلوم عرب ان کے ہاتھوں گھروں سے بے گھر ہوئے اور لاکھوں کی تعداد میں شہید ہوئے ہیں اور سفاکی اور قتل عام کا یہ سلسلہ جاری ہے۔ سرزمین فلسطین - جس میں نوے فی صد ی مسلم عرب آبادی تھی- مگر اسرائیل وہاں کی مسلم اور مقامی آبادی کو اجاڑ کر غیر ملکی یہودیوں کو لانے اور یہودی بستیاں بساکر اپنی اکثریت بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ 

حیرت ہے کہ امریکی اثرات سے انجمن اقوام متحدہ نے اس کی نسل پرستی اور دہشت گردی کی پاس شدہ تجویز واپس لے لی ہے اور ہندستان جیسے عرب دوست ملک کی حکومت نے اس تجویز کی واپسی کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ اور یہ مزید افسوس کی بات ہے کہ جس اسرائیل سے پنڈت جواہر لال نہرو نے تعلقات منقطع کرکے ساری دنیا کے مظلوم، آزادی و انصاف پسند عوام سے خراج تحسین حاصل کیا تھا اور ملک کے رہ نما مہاتما گاندھی نے عربوں کی آزادی کی حمایت کی تھی ، مگر افسوس ہے کہ گاندھی جی اور پنڈت جواہر لال نہرو کی پالیسی سے انحراف کیا جارہا ہے۔ آں جہانی وزیر اعظم کے اس فیصلے کو رد کرتے ہوئے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کرلیے گئے۔ 

جمعیت علمائے ہند شروع ہی سے، یعنی اعلان بالفور کے بعد اسرائیل کے قیام اور عرب سرزمین میں غاصبانہ قبضہ کی مخالف رہی ہے اور عربوں کی آزادی کی حمایت کرتی رہی ہے۔ جمعیت کے رہ نماؤں نے بین الاقوامی کانفرنسوں میں شرکت کی ہے۔ ملک میں متعدد مرتبہ دن مناکر اور مظاہرہ کرکے عربوں کی پرزور حمایت کی ہے اور دامے، درمے، سخنے عربوں کی جدوجہد میں تائید کی ہے۔ 

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ حکومت ہند سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے فیصلے کو منسوخ کرکے ملک کوبدنامی سے بچائے اور پہلے کی طرح دنیا کی آزادی کی جدوجہد کرنے والی طاقتوں کی سرگرم حمایت کرے۔ 

مجلس عاملہ انجمن اقوام متحدہ کے اراکین سے پرزور اپیل کرتی ہے کہ وہ انجمن کے دامن کو داغ دار نہ ہونے دیں اور اسرائیل کی حمایت کے فیصلے کو رد کردیں۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد چہارم، ص؍

ہند اسرائیل سفارتی تعلقات منقطع کرنے کا مطالبہ

اس کے بعد 8؍ مئی 1992ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں بھی اس موقف کا اعادہ کیا گیا اور سفارتی تعلقات کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے درج ذیل تجویز نمبر(۸) منظور کی گئی:

’’ جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کایہ اجلاس اس  بات پراز حد تشویش کاا ظہار کرتا ہے کہ مسئلۂ فلسطین اب تک لاینحل بنا ہوا ہے اور اس مسئلہ کے مذاکرات اب تک بے سود ثابت ہوئے ہیں۔ اسی دوران ہماری حکومت نے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کر کے مہاتما گاندھی اور پنڈت نہرو کی پالیسی، نیز جمہوریت اور غیر جانب دار تحریک کی خلاف ورزی کی ہے، جب کہ 1986ء میں سری لنکا کی حکومت نے اسرائیل کی خفیہ ایجنسی موساد سے رابطہ قائم کیا تھا، تو اس وقت ہماری حکومت نے اس پر سخت اعتراض کیا تھا۔

 مجلس عاملہ کو احساس ہے کہ اسرائیلی ایجنسیاں ہمارے ملک میں ہند ومسلم تعلقات کو خراب کرنے کے لیے نت نئی سازشیں کر یں گی۔ اسرائیل ایک بین الاقوامی سازش کے تحت 1948ء  میں قائم کیا گیا اور اپنے قیام کے روز اول سے ہی وہ امن عالم کا دشمن بنا ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں متعدد جنگیں ہوچکی ہیں اور اس نے لاکھوں عربوں کو مارکرا و را نھیں برباد کر کے پناہ گزیں بنادیا ہے۔ اسرائیل اقوام متحدہ کی قرار دادیں تسلیم کر نے کے لیے تیار نہیں ہے اور وہ ایک عالمی مجرم ہے۔ ہماری حکومت کو بائیس عرب ملکوں اور باون مسلم ملکوں کے احساسات و جذبات کا احترام کرنا چاہیے اور اس بات کو بھی پیش نظر رکھنا چا ہیے کہ ان ملکوں میں دس لاکھ ہندستانی کام کر رہے ہیں اور عرب ملکوں سے ہمارا اربوں روپیہ کا تجارتی لین دین ہے۔ ان حالات میں حکومت ہند کا اسرائیل کو تسلیم کر کے اس سے مکمل سفارتی تعلقات قائم کرناہرگز مناسب نہیں ہے، اس لیے حکومت ہند اسرائیل سے سفارتی تعلقات منقطع کرلے۔

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس دنیا کے تمام ملکوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کو فلسطینیوں کے حقوق تسلیم کر نے پر مجبور کریں اور آزادخود مختار فلسطینی ریاست کا قیام یقینی بنائیں اور قبلۂ اول کو اسرائیل کے قبضے سے آزاد کرائیں۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد چہارم، ص؍

فلسطین اسرائیل معاہدہ کا خیر مقدم

13؍ستمبر 1993ء کو واشنگٹن ڈی سی (امریکہ) کے وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم یتزحاک رابن اور PLO کے چیئرمین یاسر عرفات کے درمیان امریکی صدر بل کلنٹن کی موجودگی میں فلسطین اور اسرائیل کے درمیان اہم معاہدہ:’’اوسلو معاہدہ‘‘ ہوا، جسے (Oslo Accord)بھی کہا جاتا ہے۔

اس معاہدے کے تحت PLO نے اسرائیل کے وجود کے حق کو تسلیم کیا۔اسرائیل نے PLO کو فلسطینی عوام کا واحد نمائندہ تسلیم کیا۔ ایک پانچ سالہ عبوری دور (interim period) طے کیا گیا، جس میں فلسطینی علاقوں (غازہ اور مغربی کنارے) میں محدود خودمختاری دی گئی۔ فلسطینی اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اسی طرح اسرائیل نے غازہ اور جریکو سے فوجی انخلا کرنے کا وعدہ کیا۔

اس کے کچھ دنوں بعد 3،4؍ اکتوبر 1993ء کو جمعیت علمائے ہند نے ’’تحفظ شریعت کانفرنس‘‘ منعقد کی، جس میں تجویز نمبر-۸-کو منظوری دیتے ہوئے اس معاہدہ کا خیرمقدم کیا گیا:

’’مسلمانوں کی یہ نمائندہ کانفرنس فلسطین و اسرائیل کے مابین امن معاہدہ کا خیر مقدم کرتی ہے اور دعا کرتی ہے کہ معاہدہ فلسطینیوں کی آزاد اور خود مختار ریاست کے قیام کے لیے پیش خیمہ ثابت ہو۔ اسرائیل نے سلامتی کونسل کی قرار داد 242اور 338کا احترام و نفاذ قبول کرلیا ہے، جن کی رو سے اسرائیل ان تمام علاقوں کو خالی کردے گا، جن پر اس نے 1967ء میں قبضہ کیا تھا، تو اس پر ایمان داری کے ساتھ عمل ہونا چاہیے۔ یاسر عرفات نے اسرائیل سے امن معاہدہ کرکے اپنے لیے شدید امتحان مول لیا ہے۔ آزادی کے لیے فلسطینی عوام کا پیمانۂ صبر لبریز ہوچکا تھا اور اب ان کے جذبۂ حریت کو کچلنا اسرائیل اور امریکہ کے لیے ممکن نہیں تھا، اس لیے وہ اسرائیل -جو نئے ورلڈ آرڈر کے علم بردار امریکہ کی سرپرستی میں فلسطینیوں کو منھ لگانا پسند نہیں کرتا تھا- ان سے ایک امن معاہدہ کرنے پر مجبور ہوگیا ہے۔ ‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد چہارم، ص؍

فلسطینیوں کا اجتماعی قتل امریکہ اور اسرائیل دونوں ذمہ دار

25؍فروری 1994ء کو جمعہ کے دن، رمضان المبارک کے دوران اور یہودی تہوار پوریم کے موقع پر،شہر الخلیل میں واقع ابراہیمی مسجد میں،ایک یہودی انتہا پسندباروخ گولڈسٹین (Baruch Goldstein)نے فجر کی نماز کے وقت مسجد میں داخل ہوکر نمازیوں پر اندھا دھند فائرنگ کی۔جس کے نتیجے میں بڑی تعداد میں شہادت اور لوگ زخمی ہوئے۔ 

28؍ فروری1994ء کو جمعیت علمائے ہند کے صدر امیرالہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی  صاحب نے ایک پریس بیان جاری کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔ بیان درج ذیل ہے:

’’ صدر جمعیت علمائے ہند مولانا اسعد مدنی صاحب نے اسرائیلی مقبوضہ علاقوں میں ہیبرون کی ابراہیمی مسجد میںچون مسلمانوں کے قتل عام کے لیے اسرائیل کے علاوہ امریکہ کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اسرائیلی فوج نے بھی امریکہ سے آئے قاتل یہودی کے خلاف کوئی تادیبی کارروائی کرنے کے بجائے فلسطینیوں کو ہی اپنی گولیوں کا نشانہ بنایا۔ ایک طرف امریکہ انسانی حقوق کے تحفظ اور ان کی علم برداری کا مدعی ہے۔ دوسری طرف اس نے اسرائیل کو فلسطینیوں کے قتل عام کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ سلامتی کونسل میں جس طرح امریکہ نے اسلامی ملکوں کی فلسطینیوں کے تحفظ کے لیے متحدہ اقوام کی فورس تعینات کرنے کی تجویز کی مخالفت کی ہے، اس سے امریکہ کے مسلم دشمن رویہ کی توثیق ہو جاتی ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کہیں مسلمانوں کے قتل عام کا جو کھیل بوسنیا میں امریکہ اور روس کی شہ اور سرپرستی میں کھیلا جا رہا ہے، وہ فلسطین میں بھی دوہرایا جائے گا۔

 امیر الہند نے کہا کہ13؍ ستمبر(1992ء) کو پی ایل او اور اسرائیل کے درمیان ہونے والے معاہدے کے تحت اسرائیل سے جن علاقوں کو آزادی ملنے والی ہے، اگر وہاں سے نئی بستیوں میں بسائے گئے یہودیوں کو نہیں ہٹایا گیا، تو فلسطینوں کو بھی بوسنیا جیسے حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ (ہفت روزہ الجمعیۃ،11-17؍مارچ1994ء)

اس کے بعد جب 18؍ مارچ 1994ء کو مجلس عاملہ منعقد ہوئی، اس میں بھی اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

 ’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس فلسطین کے مقبوضہ شہر’’ الخلیل‘‘ کی ’’مسجد ابراہیم‘‘ میں فلسطینی نمازیوں کے قتل عام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اس درندگی اور بہیمیت کا ذمہ دار اسرائیل کے ساتھ امریکہ کو ٹھہراتا ہے۔ مسجد ابراہیم میں نماز فجر کے درمیان غازیوں پر اس وقت فائرنگ کی گئی ، جب وہ اللہ تعالیٰ کے حضور سربہ سجود تھے۔ اتنی بڑی تعداد میں نمازیوں کی شہادت اسرائیل کی مذہبی منافرت کی بدترین علامت ہے۔ فائرنگ کرنے والا انتہا پسند یہودی اسرائیل کی فوجی وردی میں تھا اور وہ امریکہ سے آکر وہاں گیا تھا۔ مشرق وسطیٰ میں امن مذاکرات کے آغاز کے بعد ہی فلسطینیوں کی داخلی خود مختاری کے مسئلہ پر پیش رفت کو روکنے کے لیے انتہا پسندیہودی گروہوں کی فلسطین مخالف سرگرمیاں ہیں۔ اور مقبوضہ عرب علاقوں میں صہیونی آباد کاروں اور فلسطینیوں کے مابین پرتشدد جھڑپیں روزانہ کا معمول بن گئی ہیں۔ مسجد ابراہیم میں نمازیوں کا قتل عام ایک جنونی یہودی آباد کار کی کارستانی نہیں ہے؛ بلکہ ایک منصوبہ بند سازش ہے۔ فائرنگ کرنے والا تنہا نہیں تھا ؛ بلکہ وہ گولیوں کی بوچھار کرتا آیا ، تو دیگر اسرائیلی فوجی اس کی مدد کرتے رہے۔ 

اسرائیلی حکومت فلسطینیوں کے جان و مال کا تحفظ کرنے میں بری طرح ناکام رہی ہے اور اس پر بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے فلسطینی رہ نمایاسر عرفات کا یہ مطالبہ بالکل درست ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں اقوام متحدہ کی فوج تعیینات کی جائے۔ اس سلسلے میں حقوق انسانی کے علم بردار امریکہ کا رویہ بے حد افسوس ناک ہے ، جو سلامتی کونسل میں اقوام متحدہ کی فوج تعیینات کرنے کی قرارداد کی مخالفت کرتے رہے۔ یہاں تک کہ مسلم ملکوں نے اس قتل عام کی مذمت کی قرارداد پیش کرنی چاہی، تو امریکہ کو یہ بھی گوارا نہیں ہوا اور اس نے تجویز کو رکوادیا۔ 

حکومت اسرائیل نے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے یہودیوں کے دو گروپوں (انتہا پسندوں) پر بظاہر پابندی عائد کردی ہے؛ لیکن یہ سراسر دھوکہ ہے ، کیوں کہ مقبوضہ علاقوں میں آباد یہودیوں کو تو مسلح رہنے کی اجازت ہے؛ لیکن فلسطینیوں کو مسلح رہنے اور اپنا دفاع کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ نو سو فلسطینیوں کا جیل سے رہا کرنا بھی فریب اور مکاری ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ بوسنیا میں مسلمانوں کے قتل عام کا جو کھیل کھیلا جارہا ہے، وہی کھیل فلسطین میں بھی کھیلا جارہا ہے؛ تاکہ فلسطینی داخلی خود مختاری کی بات بھول جائیں۔ اسرائیل کی بدنیتی اس سے بھی ظاہر ہوتی ہے کہ حکومت نے مسجد ابراہیم میں فلسطینیوں کو نماز عید الفطر ادا کرنے کی اجازت نہیں دی۔

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس دنیا کی تمام انصاف پسند قوموں سے اپیل کرتا ہے کہ پی ایل او اور اسرائیل کے مابین ہونے والا معاہدہ کے تحت جن علاقوں کو داخلی خود مختاری ملنے والی ہے، وہاں یہودیوں کی نئی بستیوں کو ہٹانے کا فوراً انتظام کیا جائے اور وہاں اقوام متحدہ کی فوج تعینات کی جائے ؛ ورنہ فلسطینیوں کو بھی بوسنیا جیسے حالات سے دوچار ہونے کا خطرہ ہے۔ 

مسلم ملکوں کا فرض ہے کہ وہ سفارتی اور سیاسی سطح پر فلسطینیوں کی سلامتی کے لیے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کریں اور اپنی تمام تر مصلحتوں سے بالاتر ہوکر انصاف اور انسانیت کے ناطہ آواز بلند کریں۔ ‘‘ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد چہارم، ص؍

مدارس کے تعلق سے اسرائیل کی خفیہ سازش کا انکشاف

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اجلاس: 4،5؍ اکتوبر1997ء کو ہوا۔ جس میں سابقہ کارروائی کی خواندگی کے دوران صدرجمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے لندن میں پروفیسر خلیق احمد نظامی سے اپنی ملاقات کا ذکر کیا اور اسرائیل کی ایک اہم سازش پر روشنی ڈالی، جس کے ذریعہ وہ اماموں اور دینی مدارس کو ہدف بنارہا ہے ۔ اسی منصوبہ کے تحت پاکستان میں سرکاری طور پر زکاۃ فنڈ قائم کیا گیا ہے، تاکہ وہاں کے دینی مدارس حکومت کے کنڑول میں رہیں اور اس کی پالیسی پر عمل کریں۔ اسی طرح اب ہندستان میں بھی دینی مدارس کو آلۂ کار بنانے کی کوشش ہورہی ہے۔ (کارروائی رجسٹر مجلس عاملہ)

با جپئی حکومت کی اسرائیل نواز پالیسی پر تشویش

 1998ء سے 2004 تک بھارت میں بی جے پی (Bharatiya Janata Party) کی قیادت میں NDA (National Democratic Alliance) کی حکومت تھی۔ اٹل بہاری واجپائی اس وقت کے وزیراعظم تھے۔ اورایل کے ایڈوانی (L.K. Advani) وزیر داخلہ۔ وزیر داخلہ لال کرشن ایڈوانی نے 13؍جون سے 16؍جون 2000ء کے درمیان اسرائیل کا دورہ کیا۔ وہ پہلے بھارتی وزیر داخلہ تھے، جنھوں نے اسرائیل کا سرکاری دورہ کیا۔

اسی دورے کے تناظر میں23؍جولائی 2000ء کو جمعیت علمائے ہند نے ایک پریس بیان جاری کرکے واجپائی حکومت کی اسرائیل نواز پالیسی کی مذمت کی۔ چنانچہ بیان میں کہا گیاکہ:

’’وزیر داخلہ ایل کے ایڈوانی کے دورۂ اسرائیل اور وہاں دیے گئے غیر ذمہ دارانہ بیان نے نہ صرف عرب دنیا کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے؛ بلکہ ہندستان کی خارجہ پالیسی کو ایک خطر ناک موڑ دے دیا ہے۔ لاہو ربس یاتراسے جو نیک نامی کمائی تھی، تیل ابیب یاترا نے ایک دم غارت کردی۔

 خارجہ پالیسی کی تشکیل جن عناصر سے ہوتی ہے، ان میں سب سے اہم عنصر دو ہوتے ہیں:

 (ا) عالمی امن اورانصاف کا تقاضہ، یعنی اصولی بنیاد۔ (۲) ذاتی مفاد یعنی عملی افادیت۔

 اسرائیل کے ساتھ ایٹی تعاون اور دہشت گردی گٹھ بندھن ایک طرف ہندستان کی دیرینہ روایتی اصول پسندی کے بالکل منافی ہے اور دوسری طرف عملی افادیت کے پہلو کے اعتبار سے اس کا نتیجہ یہ بر آمد ہوا ہے کہ ایک ملک جو کل تک اپنی جارحانہ پالیسی میں اور دہشت گردی کے باعث بین الا قوامی برا دری میں اچھوت بنا ہوا تھا اور ہم خود اس سے ہاتھ ملانے سے کتراتے تھے، اس سے ہاتھ ملاکر پچاس سالہ آزمودہ دوست ممالک کے بڑے کنبے سے بے اعتنائی کا خطرہ مول لے رہے ہیں۔ایسے میں عرب سفراکا متفقہ احتجاج اور شکوۂ بے وفائی یقینا بجا ہے۔

جمعیت علمائے ہند موجودہ حکومت کے رویہ اور پالیسی کو ملک و وطن کے مفاد کے خلاف سمجھتی ہے۔ سنگھ پریوار کے نظریات اور نسلی برتری کے تصورات سے بے شک صہیونیت کا فکر و فلسفہ سے میل کھاتا ہے، لیکن یہ انتہائی غیر دانش مندی کی بات ہے کہ ہندستان جیسا عظیم ملک- جس کی آبادی سو کروڑ سے تجاوز ہے- وہ اسرائیل کی تیس پینتیس لاکھ کی آبادی والی ایک چھوٹی سی ریاست سے یہ درخواست کرے کہ وہ تشدد اور دہشت گردی پر قابو پانے میں ہماری مدد کرے۔ یہ ایسی ہی شرم ناک بات ہے کہ ایک شیر سانپ سے مدد طلب کرے۔

ہم وزیر خارجہ جسونت سنگھ کے اس مبینہ بیان پر سخت احتجاج کرتے ہیں، جس میں انھوں نے یہ کہا ہے کہ اب تک اسرائیل سے تعلقات مضبوط نہ ہونے کا سبب، ہندستانی مسلمان کا ووٹ بینک تھا۔ یہ بیان ملک وقوم کے مفاد کے خلاف اور رائے عامہ کی تو ہین ہے۔ جمعیت علمائے ہند تمام محب وطن عناصر، سیاسی وغیر سیاسی تنظیموں اور جماعتوں سے اپیل کرتی ہے، نیز حکومت میں شریک تمام علاقائی پارٹیوں سے یہ مطالبہ کرتی ہے کہ وہ حکومت کی ان تمام پالیسیوں کی ڈٹ کر مخالفت کریں، جو ملک کے مستقبل کے لیے اور اس کے سیاسی، اقتصادی معاشرتی اور تہذیبی مفادات کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔ (ہفت روزہ الجمعیۃ،4-10؍اگست 2000ء)

اسرائیلی جارحیت کے خلاف متحدہ مضبوط موقف اختیار کریں

ایریل شیرون کے مسجد اقصیٰ کے دورہ کرنے کے بعد28؍ستمبر2000ء سے دوسری تحریک انتفاضہ شروع ہوئی، جس کے تحت اسرائیلی فوج نے نہتے فلسطینیوں پر بربریت کا شدید مظاہرہ کیا۔حتیٰ کہ 30؍ستمبر2000ء کو ایک ننہا فلسطینی محمد الدرہ بربر اسرائیلی فوج کی گولیوں سے شہید ہوگیا۔ 

16؍اکتوبر2000ء کو جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا اسعد مدنی صاحب نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی ننگی جارحیت کی سخت مذمت کرت ہوئے کہا کہ اسرائیل یہ سب کچھ امریکہ و برطانیہ کی اندرون خانہ ساتھ گانٹھ سے کر رہا ہے۔ یہ صرف زبانی بیان دے کر عرب ممالک اور تیسری دنیا کو حسن فریب میں مبتلا رکھے ہوئے ہیں اور افسوس ہے کہ عرب، اسرائیل کی ننگی جارحیت، مکاری، غداری، عیاری اور غاصبانہ ذہنیت و اقدام کے خلاف کوئی مضبوط متحدہ محاذ، اب تک نہیں بنا سکے ہیں۔

انھوں نے عالم اسلام کو مشورہ دیا کہ وہ قیام امن تک اسرائیل سے ہر طرح کے سفارتی و اقتصادی تعلقات منقطع کرلیں ۔ (ہفت روزہ الجمعیۃ،27؍اکتوبر تا2؍نومبر 2000ء)

اسرائیل کے خلاف عظیم الشان احتجاجی مظاہرہ

23؍اکتوبر2000ء کوخدام جمعیت علمائے ہند نے  اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر واقع لودھی اسٹیٹ نئی دہلی پرعظیم الشان پُرامن احتجاج کیا۔ جس کی مکمل کارروائی درج ذیل ہے:

گذشتہ پچاس برسوں کے دوران فلسطینی مسلمانوں پر اقوام متحدہ اور امریکہ کی سرپرستی میں ہونے والے اسرائیلی مظالم کی داستاں بہت طویل ہے۔ اسرائیلی کے ناجائز قیام 1948ء سے لے کر آج تک نہ جانے کتنے نوجوان بوڑھے بچے اور عورتیں اسرائیلی درندوں کے ظلم و ستم کا شکار ہوکر آزاد فلسطین کی آرزو لے کر اپنے مالک حقیقی سے جاملے ہیں۔ جمعیت علمائے ہند اور اس کے توسط سے ہندستانی مسلمانوں نے ہمیشہ ہی اس ناجائز تسلط اور غاصیانہ قبضہ کی پُرزور مذمت کی ہے۔ بارہا اس سلسلہ میں اقوام متحدہ کے دفتر واقع دہلی پر احتجاجی مظاہرے کیے اور اسرائیل کے پنجۂ استبداد سے نجات دلانے کے لیے فلسطینی مظلومین کے حق میں اسے میمورنڈم پیش کیے۔ اس کے ساتھ ہی فلسطینیوں کی حسب موقع مالی امداد بھی کی۔ دنیا بھر کے انصاف پسند لوگوں کے دباؤ اور اصرار کے بعد گذشتہ سات سال پہلے امریکہ کے توسط سے اسرائیل و فلسطین کے لیڈروں میں ایک معاہدہ عمل میں آیا تھا، جس کی روسے غازہ پٹی اور کچھ دوسرے فلسطینی علاقوں پر فلسطین کا حق تسلیم کرتے ہوئے ایک نیم آزاد ریاست کی اجازت دے دی گئی تھی۔ اس معاہدہ میں کہا گیا تھا کہ آہستہ آہستہ پانچ سال کے اندر اندر فلسطینیوں کی ایک مکمل ریاست وجود میں آجائے گی؛ لیکن جب جب فلسطینی رہنماؤں نے اسرائیل و امریکہ کو ان کی یقین دہانیوں کی یاد دلائی، ان پر جبرو تشدد کا بازار گرم کرکے انھیں دبا دیا گیا۔ اس کے بعد اسی سال کے وسط میں کیمپ ڈیوڈ میں امریکی صدر بل کلنٹن نے ایک بار پھر گفتگو کا ڈرامہ اسٹیج کیا، جس میں گھوم پھر کر بات چیت یروشلم کی ملکیت پر آکر ختم ہوگئی۔ اس تعطل کے بعد اسرائیل ایک بار پھر ظلم و تشدد پر اتر آیا اور گذشتہ ایک ماہ کے دوران بے قصور و نہتے ہزاروں فلسطینی اس کی بربریت کا شکار ہوچکے ہیں۔ حالاںکہ گذشتہ ہفتہ شرم الشیخ میں بل کلنٹن اور حسنی مبارک کی موجودگی میں تشدد ختم کردینے کا اسرائیل و فلسطین کے درمیان ایک معاہدہ ہوچکا تھا، جس کے نتیجہ میں فلسطینی تشدد ختم کردینے پر آمادہ ہوگئے تھے؛ مگر اسرائیل نے معاہدہ کے باوجود یہ سلسلہ نہ صرف یہ کہ جاری رکھا ہے؛ بلکہ اس میں مزید شدت پیدا کردی ہے۔

جمعیت علمائے ہند- جس نے ہر نازک موقع پر بے قصور و نہتے فلسطینیوں کے کاز کی بھرپور حمایت کی ہے- ظلم و جبر کے اس نازک موقع پر وہ کیسے خاموش تماشائی رہ سکتی تھی، چنانچہ اس نے فوراً ایک پُر امن احتجاجی مظاہرہ کا اعلان کردیا؛ لیکن یہ بات انتہائی افسوس کے ساتھ نوٹ کی جائے گی کہ ہندستان کی امریکہ پرست باجپئی حکومت نے نہ صرف یہ کہ اس کی اجازت نہیں دی؛ بلکہ 23؍ اکتوبر، یعنی مظاہرہ کے دن جب کہ جمعیت علمائے ہند کے ہزاروں ورکر اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر واقع لودھی اسٹیٹ نئی دہلی پر پُرامن احتجاج کے لیے جمعیت علمائے ہند کے مرکزی دفتر بہادر شاہ ظفر مارگ پر جمع تھے اور احتجاجی مظاہرے کے لیے تیار تھے کہ اچانک پولیس فورس نے دفتر کے صدر دروازے کو گھیر لیا۔

حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے مظاہرہ کی منتظمین اور اکابر جمعیت علمائے ہند نے فیصلہ کیاکہ چوںکہ باہر نکلنے کا مطلب پولیس سے ٹکراؤ ہوگا، جس کے نتائج ناخوشگوار بھی ہوسکتے ہیں، جو پولیس اور بی جے پی حکومت کے منشا کے عین مطابق ہیں، اس لیے احتجاجی مظاہرہ کو حدود دفتر تک محدود رکھ کر ایک مؤقر وفد لودھی اسٹیٹ جاکر اقوام متحدہ کے افسران کو اس سلسلہ میں منظور شدہ میمورنڈم پیش کردے۔ چنانچہ اس احتجاجی مظاہرہ کو احتجاجی جلسہ میں منعقد کردیا گیا، جس کو جمعیت علمائے ہند کے محترم صدر امیرالہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی دامت برکا تہم نے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی کی موجودہ امریکہ نواز حکومت کی اس بات کے لیے پُرزور مذمت کی کہ اس نے اس احتجاجی پُرامن مظاہرہ کی اجازت نہ دے کر انصاف کی آواز دبانے کی کوشش کی ہے۔ مولانا مدنی مدظلہ‘ نے اسرائیل کے ناجائزقیام اور اس میں اقوام متحدہ کے رول کی تفصیل بتاتے ہوئے فرمایا کہ1948ء میں جب امریکہ و برطانیہ نے سازش کرکے قلب عرب میں اسرائیلی خنجر گھونپا تھا، تو اس وقت ہندستان اور دنیا کے دوسرے انصاف پسند ممالک نے اس کی زبردست مخالفت کی تھی؛ لیکن امریکہ و برطانیہ نے اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے اور اپنی پوری طاقت لگاکر دنیا کے بیشتر ممالک سے اس کے ناجائز وجود کو تسلیم کرالیا، جو آج تک پوری انصاف پسند دنیا کے لیے سوہانِ روح بنا ہوا ہے۔

مولانا مدنی نے فرمایا کہ اسرائیل نے اپنے ناجائز قیام کے روزِ اوّل سے ہی نہتے اور بے قصور فلسطینیوں پر ظلم و ستم ڈھاکر انھیں ہر ہراساں کرنا شروع کردیا تھا اور وہ دن ہے اور آج کا دن اسرائیل کا یہ ظلم و جبر فلسطینیوں پر جاری ہے۔ اور اسرائیل کے ان کے جائز حقوق تک تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔

مولانا مدنی نے ہندستان کی موجودہ حکومت کی اس بات کے لیے نکتہ چینی فرمائی کہ اس نے امریکی مفادات کے پیش نظر اس پُرامن احتجاجی مظاہرے کی اجازت نہیں دی۔ آپ نے مظاہرین کو تلقین فرمائی کہ وہ مشتعل نہ ہوں، نظم و ضبط برقرار رکھیں اور جس طرح میمورنڈم دینے کا فیصلہ کیا گیا ہے، اس کا انتظار فرمائیں۔ 

جلسہ کا آغاز قاری محمد اسحاق حافظؔ سہارنپوری کی معرکۃ الاراء اور پُرجوش نظم سے ہوا۔ اس کے بعد حکومت کی طرف سے اس پُرامن احتجاجی مظاہرے کی اجازت نہ دیے جانے کے خلاف ایک مذمتی تجویز پیش کی گئی، جسے نعرہائے تکبیر کے دوران مظاہرین نے منظوری دی۔

جلسہ کے بعد جمعیت علمائے ہند کا ایک مؤقر وفد امیرالہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی مدظلہ‘ کی قیادت میں اقوام متحدہ کے دفتر واقع لودھی اسٹیٹ نئی دہلی پہنچا اور وہاں اقوام متحدہ کے اعلیٰ افسران کو ایک میمورنڈم پیش کیا، جس میں بیت القدس کی بازیابی اور فلسطینیوں کو ان کے حقوق لوٹانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ 

میمورنڈم دے کر واپسی پر جمعیت علمائے ہند کے ناظم تنظیم مولانا محمود مدنی نے دہلی کے گوشہ گوشہ سے آنے والے ہزاروں مظاہرین کا پُرخلوص شکریہ ادا کیا۔ تجویز اور ممورنڈم کا مکمل متن درج ذیل ہے:

اسرائیل کے مظالم کے خلاف اقوام متحدہ کو میمورنڈم

مسئلۂ فلسطین عالمی سیاسی منظرنامہ پر گذشتہ نصف صدی سے ایک اہم اور بنیادی مسئلہ کی حیثیت سے برقرار ہے۔ برطانیہ نے اپنے عہد اقتدار میں یہودی سرمایہ داروں کے دباؤ میں ان سے فلسطین میں اسرائیل نام کی آزاد ریاست کے قیام کا وعدہ کیا تھا اور پھر یہ ریاست مئی 1948ء میں عالم وجود میں آگئی، فلسطین کو تقسیم کردیا گیا اور ملک کے اصل باشندوں کو نکال باہر پھینک دیا گیا، جو دنیا کے مختلف ملکوں میں تتر بتر ہوکر خانما بربادی اور جلاوطنی کی زندگی گذار رہے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ظلم و تشدد کے جس پودے کو سرزمین فلسطین میں لگایا گیا تھا، وہ پودا آج اسرائیل کی ظالم ، دہشت گرد، متشدد اور غاصب حکومت کی شکل میں ایک تناور درخت بناکھڑا ہے۔ اسرائیل کے پاس ایٹمی ہتھیاروں کا بہت بڑا ذخیرہ ہے۔ گذشتہ نصف صدی کی تاریخ ظلم و ستم، قتل و غارت گری، خوںریزی، جان و مال اور عزت و آبرو کی بربادی کی تاریخ ہے۔1948ء- 1956ء- 1967ء- 1973ء میں بڑی جنگیں اور لڑائیاں ہوچکی ہیں۔ اسرائیل کے قیام سے نہ صرف سرزمین فلسطین؛ بلکہ پوری عرب دنیا، مراکش سے لے کر جزیرۃ العرب تک اور پورا عالم اسلام سیاسی، اقتصادی، تہذیبی اور معاشرتی اعتبار سے متأثر ہوا ہے۔ عرب ممالک کی تیل کی دولت اور ان کے تمام وسائل تعمیر و ترقی اور فلاح و بہبود کے پروگراموں کے بجائے، اسرائیلی سرطان کے تدارک میں بربادی کی نذر ہورہے ہیں۔

اس کشمکش کا سب سے زیادہ افسوس ناک، تکلیف دہ اور قابل مذمت پہلو یہ ہے کہ امریکہ، یورپ اور دوسرے ملک اسرائیل کے حامی اور پشت پناہ ہیں۔ امریکہ خصوصیت کے ساتھ عالمی صہیونیت کے پنجۂ گرفت میں ہے۔ گذشتہ پچاس سال میں ہر امریکی صدر نے اسرائیل کی ہمدردی، حمایت، پشت پناہی اور امدد و اعانت کے سلسلہ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کی ہے۔ سب سے زیادہ اسرائیلی نوازی کا ثبوت موجودہ صدر بل کلنٹن کے عہد اقتدار میں ملتا ہے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ نے اس مسئلہ کے تعلق سے جو کردار ادا کیا ہے، وہ نہایت ہی افسوس ناک ہے۔ یہ عالمی تنظیم -جس کا مقصد ِ قیام، دنیا میں امن و سلامتی اور صلح و آشتی کے لیے کوشش کرنا تھا- اس تنظیم کے غیر منصفانہ اقدام کے نتیجہ میں فلسطین کو تقسیم کیا گیا اور پھر جب جب دنیا کے انصاف پسند ممالک نے اقوام متحدہ سے اسرائیل کے ظلم و ستم کی شکایت کی، تو اس کی کوئی شنوائی نہیں ہوئی اور جب کبھی بھی اسرائیل کے خلاف کوئی قرار داد منظور ہو بھی گئی، تو امریکہ نے اس کو کالعدم قرار دے دیا۔

یہ صرف افسوس؛ بلکہ سخت ترین مذمت کا مقام ہے کہ وہی اقوام متحدہ، جو دوسرے ملکوں کے خلاف پابندیاں عائد کرتا ہے، ان کا بائیکاٹ کرتا ہے، ان کو قانون کا مخالف، شریر اور Rogue اسٹیٹ قرار دیتا ہے، اسرائیل کے خلاف آج تک اس نے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا۔1991ء کی خلیجی جنگ کے بعد تبدیل شدہ صورت حال میں امریکہ نے دباؤ ڈال کر تنظیم آزادی فلسطین کو جدوجہد کے راستہ سے ہٹاکر جھوٹے وعدوں کے سہارے اسرائیل سے امن کی بات چیت پر آمادہ کرلیا۔1993ء میں وہائٹ ہاؤس میں دنیا کے دوسرے لیڈروں کی موجودگی میں اور ان کو گواہ بناکر یہ معاہدہ کرایا گیا اور یہ وعدہ کیا گیا کہ پانچ سال کی عبوری مدت کے بعد فلسطین کی آزاد ریاست کا قیام عمل میں آجائے گا؛ لیکن آج سات سال گذر جانے کے بعد بھی صورت حال نہ صرف اسی طرح برقرار ہے؛ بلکہ ظلم و ستم کا ایک نیا اور بھیانک سلسلہ شروع ہوگیا ہے۔

اب وقت آگیا ہے کہ کوئی فیصلہ کن اقدام کیا جائے، پچاس سال کی تاریخ اعتماد شکنی، بدعہدی، فریب و دھوکہ دہی اور دغا بازی کی تاریخ ہے۔ اس تجربہ کے بعد اسرائیل، یا امریکہ پر اس سلسلہ میں بھروسہ کرنا خود فریبی اور ناعاقبت اندیشی کے سوا کچھ نہیں۔

عرب ممالک اپنی مجوزہ سربراہ کانفرنس میں اس سلسلہ میں انتہائی سنجیدگی اور حکمت و تدبر سے ایسا فیصلہ کریں ،جس کے ذریعہ مسئلۂ فلسطین کا پرامن، منصفانہ اور مستقل حل سامنے آئے اور اسی فیصلہ اور تجویز پر عمل در آمد ہو۔ اس کے لیے دنیائے عرب کو اپنے باہمی اختلافات ختم کرکے متحد ہونے اور پورے عالم اسلام کی طاقت کو اپنے ساتھ لے کر دنیا کے سامنے ایک مضبوط و متحد محاذ کی شکل میں آگے آنا چاہیے۔ حالات کا رُخ اس طرح ہے کہ اسرائیل اپنی شرانگیزی اور ہنگامہ آرائی کی آڑ میں یہ کوشش کررہا ہے کہ موجودہ صورت حال Status Quo میں کوئی بڑی تبدیل رونمانہ ہوجائے اور مسئلہ ایک بار پھر سرد خانہ میں پڑجائے، جیسا کہ ماضی میں ہر جنگ اور فوجی ٹکراؤ کے نتیجہ میں ہوتا رہا ہے۔

جمعیت علمائے ہند، اقوام متحدہ امریکہ، روس، یورپ اور دنیا کی تمام انصاف پسند طاقتوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ امن عالم کے تحفظ کی خاطر، اسرائیل کی نہ صرف یہ کہ زبانی مذمت کریں؛ بلکہ اس پر سخت ترین سیاسی اور اقتصادی دباؤ ڈالیں کہ وہ اپنی روش سے باز آئے اور جو معاہدہ اس نے ان ملکوں کو گواہ بناکر کیا تھا، اس پرپوری طرح عمل کرے۔اگر اسرائیل باز نہ آیا، تو اس بات کا مکمل امکان ہے کہ اس بار مشرق وسطی میں کوئی بھی فوجی کارروائی، یا بڑی جنگ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے۔

ہم حکومت ہند سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ملک کی روایتی خارجہ پالیسی اور امن و انصاف کی حمایت کو دو بارہ زندہ کرکے اسرائیل کی نہ صرف مذمت کرے؛ بلکہ اس سے تعلقات کو منقطع کردے۔ ہماری حکومت کی موجودہ پالیسی ہندستان کی امن دوستی کی روایات کے منافی ہے۔ اسی طرح ہم ملک کی تمام سیاسی پارٹیوں، عوامی تنظیموں اور محب انسانیت اور امن پسند عناصر سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ مظلوم فلسطینی عوام کے حق میں آواز بلند کریں اور دنیا کے ہر ملک پر یہ واضح کردیں کہ ہندستان، اس کے عوام، انسانیت، امن اور انصاف کے علم بردار ہیں۔

 (مولانا) اسعد مدنی صدر جمعیت علمائے ہند۔ 

 تجویز نمبر-اسرائیل کے مظالم کی مذمت

جمعیت علمائے ہند کا یہ اجتماع مظلوم فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کی کھلی جارحیت، مسجد اقصیٰ کی حرمت کی پامالی اور اقوام متحدہ کے بے نتیجہ مذمتی زبانی بیانات کی سخت مذمت کرتا ہے۔ نیز امریکہ اور اس کے حلیف ممالک-جو اسرائیل کی ہمیشہ پشت پناہی، حمایت اور فلسطینیوں کے خلاف کام کرتے رہے ہیں- ان کی بھی سخت مذمت کرتا ہے۔ یہ بہت ہی تشویش ناک اور انسانیت کے لیے باعث ننگ و عار ہے۔ حقوق انسانی کے تحفّظ کی بات کرنے والے یورپی مغربی ممالک ؛خصوصاً امریکہ اور اقوام متحدہ کی حمایت اور کمزور، بے جان باتوں سے شہ پاکر اسرائیل کھلے عام فلسطینیوں کا قتل عام کررہا ہے۔ گولیوں کا نشانہ بنا رہا ہے۔ حالیہ جاری جارحیت میںایک سو چوبیس سے زائد افراد ہلاک اور ساڑھے تین ہزار (3500) زخمی ہوچکے ہیں۔ یہ سلسلہ تاہنوز جاری ہے۔ اسرائیل کے اس اعلان سے اس کی دیدہ دلیری، ہٹ دھرمی اور غاصبانہ ذہنیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ مصر میں عرب سربراہ چوٹی کانفرنس کی صرف مذمتی قرار داد کی بنا پر امن کے عمل سے الگ ہوجائے گا۔

 یہ اجلاس عرب سربراہ کانفرنس میں اسرائیل کی مذمت، فلسطینیوں کے ساتھ اظہار یک جہتی؛ خاص طور سے سعودی عرب کے اسرائیل کے خلاف اختیار کردہ موقف کو اُمید افزا قرار دیتے ہوئے تمام عرب ممالک سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کے خلاف متحدہ مضبوط موقف اپنائیں اور اس سے ہر طرح کے اقتصادی، سفارتی تعلقات منقطع کرلیں۔

یہ اجتماع فلسطینیوں کے ساتھ مکمل اظہاریک جہتی کرتے ہوئے تمام انصاف پسند انسانیت نواز ممالک ؛خصوصاً ہندستان کی سیاسی جماعتوں اور فلاحی اداروں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی ہر ممکن مدد اور اسرائیل کی مذمت کریں۔

 یہ اجتماع یہ بھی مطالبہ کرتا ہے کہ امریکہ نے 1993ء میں وہائٹ ہاؤس میں مختلف ممالک کے سربراہوں کو گواہ بناتے ہوئے پانچ سال کی عبوری مدت کے بعد آزاد فلسطینی ریاست کے قیام سے متعلق جو معاہدہ کردیا تھا، اس پر عمل آوری کے لیے اسرائیل کو فوری تیار کرے۔ 

(ہفت روزہ الجمعیۃ،3-9؍نومبر2000ء)

اسرائیل کے خلاف عرب ممالک سے فیصلہ کن اقدام کی اپیل

12؍نومبر سے 14؍نومبر 2000ء کے درمیان،قطر کے دارالحکومت دوحہ میں آرگنائزیشن آف اسلامک کوآپریشن (OIC) کی نویں اسلامی چوٹی کانفرنس (Islamic Summit Conference) منعقد ہوئی تھی۔

اس سربراہی اجلاس کا باقاعدہ عنوان ’’سیشن آف پیس اینڈ ڈیولپمنٹ — الاقصیٰ انتفاضہ‘‘ (Session of Peace and Development ''Al-Aqsa Intifada'') رکھا گیا تھا۔ یہ نام اسے خصوصی طور پر اس لیے دیا گیا، کیوںکہ یہ کانفرنس ستمبر 2000 ء میں شروع ہونے والے دوسرے فلسطینی انتفاضہ اور ان پر ہونے والے اسرائیلی حملوں کے فوراً بعد اور اسی تناظر میں بلائی گئی تھی۔

12؍نومبر2000ء کو جمعیت علمائے ہند کے محترم صدر امیر الہند حضرت مولانا اسعد مدنی صاحب نے اس کانفرنس کے صدر امیر قطر شیخ حمد بن خلیفہ آل ثانی کے نام ایک پیغام میں یہ اپیل کی کہ عالم اسلام کے تمام رہنما متحد ہوکر اسرائیل کی بربریت اور ظلم وتشدد کے خلاف فیصلہ کن اقدام کی راہ نکالیں۔ مولانا مدنی نے اجتماع میں شرکت کرنے والے تمام رہنماؤں سے سوال کیا ہے کہ بیت المقدس ، مسجد ِ اقصیٰ اور سرزمین فلسطین میں مقاماتِ مقدسہ کی جس طرح بے حرمتی کی جارہی ہے اور فلسطین کے نہتیّ نوجوانوں، بوڑھوں، عورتوں اور بچوں کو اسرائیل جس وحشیانہ انداز سے ہیلی کاپٹروں سے راکٹ اور گولیاں برسا کر تباہ اور برباد کررہا ہے، کیا اس سے بھی زیادہ کسی اور ظلم و ستم کا انتظار ہے۔

 اب وقت آگیا ہے کہ مسلم رہنما ایک پلیٹ فارم پر جمع ہوں اور ہر قسم کے اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر کوئی فیصلہ کن اقدام کریں۔ انھوں نے امید ظاہر کی کہ جس اعلیٰ ترین سطح پر عالم اسلام کے لیڈر جمع ہورہے ہیں ،ان شاء اللہ اسی درجہ کے احساسِ ذمہ داری کے ساتھ کانفرنس میں فیصلے کیے جائیں گے۔ مولانا مدنی نے کہا ہے کہ عرب عوام نے ایک بار پھر اس بات کا ثبوت دیا ہے کہ وہ فلسطین اور بیت المقدس کی حرمت اور تقدس و عظمت کا کسی بھی قیمت پر سودا کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ دنیائے اسلام کا ہر ہر فرد اپنے مقاماتِ مقدسہ، قبلۂ اوّل اور تیسرے حرم شریف کو یہودی قبضہ اور تسلط سے نجات دلانے کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔ اسرائیل نے دنیا کی آنکھوں میں دُھول جھونکنے کے لیے اوسلو، میڈریڈ اور امریکہ کی سرپرستی اور روس کی نگرانی میں جو معاہدے کیے تھے، وہ سب دھوکہ، فریب،سازش اور محض ایک بہانہ تھے۔ لہٰذا دنیائے عرب اور عالم اسلام کو اپنی حکمت ِ عملی پر نظرثانی کرنی چاہیے۔ بے شک مسلمان امن پسند ہیں، ہمیشہ سے ہیں اور رہیں گے، لیکن باعزت امن، مسئلہ کا ایسا حل جو عدل و انصاف کے تقاضوں پر مبنی ہو اور یہ بیت المقدس کی واپسی اور فلسطینی قوم کے جائز حقوق کی بحالی کے بغیر ناممکن ہے۔ 

صدر جمعیت نے ایک میمورنڈم -جو صدر کانفرنس کے نام ارسال کیا ہے- اس میں مندرجہ ذیل تجاویز پیش کی ہیں:

۱۔ اسرائیل کو تسلیم کرنے اور اس سے تعلقات قائم کرنے کے بارے میں متحدہ اور فیصلہ کن اقدام کیا جائے۔

۲۔ اسرائیل سے ہر طرح کا تعلق اور لین دین منقطع کیا جائے اور اس کے اقتصادی و سیاسی بائیکاٹ کو از سر نو بحال کیا جائے۔

۳۔ فلسطین کی عوامی تحریک کی ہر سطح پر اور ہر نوعیت کی مدد کی جائے۔ سیاسی، مالی اور معاشرتی اعتبار سے تحریک مزاحمت کو طاقت بہم پہنچائی جائے۔

۴۔ جو ملک اسرائیل کی مدد کررہے ہیں، ان سے تعلقات کے بارے میں پورے عالم اسلام کا موقف ایک ہونا چاہیے۔

۵۔ بنیادی طور سے یہ بات ملحوظ رکھی جائے کہ مسئلۂ فلسطین اور بیت المقدس پورے عالم اسلام کا مسئلہ ہے۔ یہ کسی ایک ملک ،یا کسی مخصوص طبقہ کا انفرادی اور داخلی مسئلہ نہیں ہے۔

۶۔ باہمی اختلافات کو ختم کرکے آپس میں اتفاق و اتحاد قائم کیا جائے اور اس سلسلہ میں جو رُکاوٹیں ہیں، ان کو جلد از جلد دُور کیا جائے۔

میمورنڈم میں کہا گیا ہے کہ دس سال قبل خلیجی جنگ کے نتیجہ میں جو صورتِ حال پیدا ہوگئی ہے، اس کو دُور کرنے کی شدید ضرورت ہے۔ خلیجی ریاستوں اور عراق کے مابین اختلافات ختم کرکے صورت حال کو درست کیا جائے۔ اس سلسلے میں جو بھی رُکاوٹیں ہیں، ان کو دُور کیا جائے۔ عراق کو چاہیے کہ وہ کویت کے قیدیوں کو -جو اس کی جیلوں میں ہیں- رہا کرے۔ اور اسی طرح عراقی عوام جن مصائب اور پریشانیوں کا شکار ہیں، ان کو ختم کرنے کے لیے عراق پر عائد ناجائز پابندیاں فوراً ہٹانے کا مطالبہ کیا جائے۔

 آخر میں کہا گیا ہے کہ صورت حال کی نزاکت اور اہمیت کا تقاضا ، مضبوط اتحاد اوریک جہتی ہے، اس کے بغیر دشمن کا مقابلہ ممکن نہیں ہے۔(ہفت روزہ الجمعیۃ، 24-30؍ نومبر 2000ء)

 عرب ممالک سے امریکہ کے خلاف اصولی موقف اختیار کرنے کی اپیل 

23؍مئی 2001ء کو صدر جمعیت علمائے ہند نے اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ مقبوضہ فلسطین کے علاقوں میں حالات بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں۔ اسرائیل ایف -16 ہوائی جہازوں سے آبادیوں پر بلا کسی روک ٹوک کے بم باری کر رہا ہے۔اریل شیرون جب سے برسر اقتدار آیا ہے، حالات خطر ناک رخ اختیار کرتے جارہے ہیں، وہ مسلسل مزید طاقت کے غلط استعمال کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ انھوںنے عرب لیگ کے اس فیصلہ کی تحسین کی ہے، جس میں عرب ملکوں سے اسرائیل سے تعلقات منقطع کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔ مولانانے اپنے بیان میں تمام عرب سر براہان حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیل کے اصل پشت پناہ امریکہ کے بارے میں اصولی موقف اختیار کریں۔ گذشتہ پچاس سال کی طویل تاریخ میں مسئلۂ فلسطین اور پورا عالم عرب جن مراحل سے گذر رہا ہے، اس کی روشنی میں اب یہ حقیقت بالکل واضح ہو کر سامنے آگئی ہے کہ اصل حریف امریکہ ہے ،جو عالمی یہودیت اور صیہونیت کے مالی دباؤ اور مفادات کے زیر اثر پورے عالم عرب کو تباہ و برباد کرنے پر تلا ہوا ہے۔

(ہفت روزہ الجمعیۃ،8-14؍جون 2001ء)

مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی مذمت

29؍جولائی2001ء کو اسرائیلی پولیس اور فورسز نے مسجد اقصیٰ کے احاطے (حرم الشریف) پر دھاوا بول کر اس کی شدید بے حرمتی کی۔ اس دن یہودیوں کا ایک انتہا پسند گروپ جسے ’’ٹیمپل ماؤنٹ فیتھ فل'' (Temple Mount Faithful) کہا جاتا ہے، مسجد اقصیٰ کے قریب ایک نام نہاد ’’تیسرے ہیکل‘‘ (Third Jewish Temple) کی تعمیر کے لیے علامتی طور پر بنیاد کا پتھر رکھنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ دن یہودیوں کے تہوار ’’تیشا بآو‘‘ (Tisha B'Av) کا دن تھا، جب وہ اپنے قدیم معبد کی تباہی کا سوگ مناتے ہیں۔

جب اس اشتعال انگیز اور توہین آمیز اقدام کے خلاف فلسطینی مسلمانوں نے مسجد اقصیٰ کے اندر احتجاج کیا اور وہاں سے پتھراؤ شروع ہوا، تو سینکڑوں کی تعداد میں اسرائیلی پولیس اہل کاروں نے مسجد اقصیٰ کے صحن پر باقاعدہ دھاوا بول دیا۔

2؍اگست2001ء کو صدر محترم جمعیت علمائے ہندنے اسرائیلی فوج اور پولیس کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی سخت مذمت کی۔ انھوں نے اپنے پریس بیان میں کہا کہ سینکڑوں کی تعداد میں اسرائیلی فوجی اور پولیس والے ہتھیاروں سے مسلح مسجد اقصیٰ کے صحن میں داخل ہو گئے اور وہاں موجود سینکڑوں نمازیوں اور فلسطینی باشندوں پرظلم و تشد ڈھانے میں منہمک ہو گئے۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا، کے جب کہ اسرائیلی انتہا پسندوں کی ایک تنظیم کے کچھ افراد حرم شریف کے قریب ایک مقام پر ’’ہیکل سلیمانی کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب انجام دے رہے تھے۔

 (ہفت روزہ الجمعیۃ،10-16؍اگست 2001ء)

اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں پر روک لگانے کا مطالبہ

 7؍ مارچ 2002ء کو منعقد مجلس عاملہ کی میٹنگ میں امریکہ اور اسرائیل کی ریشہ دوانیوں پر اظہار تشویش کرتے ہوئے، اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں پر روک لگانے کا مطالبہ کیا گیا۔ چنانچہ متعلقہ تجویز نمبر(۳) میں کہا گیاکہ:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس فلسطین میں اسرائیل کی طرف سے جاری وحشیانہ اور انسانیت سوز جارحانہ کارروائیوں اور ان کی امریکہ کی طرف سے مسلسل حمایت کی سخت مذمت کرتا ہے۔ 

اسرائیل مسلسل فلسطینی عوام کے کیمپوں اور انتظامیہ کو اپنی بم باری اور ٹینکوں کا بے دریغ نشانہ بنارہا ہے۔ عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور بے قصور افرادکو قتل عام کر رہا ہے، حتیٰ کہ فلسطینی انتظامیہ کے اقتدار اعلیٰ کے دفاتر کو پوری طرح برباد کردیا گیا ہے۔ یاسر عرفات کو ان کے دفتر میں محصور کردیا گیا ہے۔ اسرائیل مختلف ممالک اور تنظیموں کی طرف سے قیام امن کی تمام تر اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ کے مہیا کردہ بم بار طیاروں سے فلسطینی آبادیوں پر مسلسل حملے کر رہا ہے۔ نتیجہ میں امن کا عمل پوری طرح تعطل کا شکار ہے، اس کے پیش نظر مجلس عاملہ کا یہ اجلاس اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ آزاد خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے فوری راہ ہموار کرے۔ اسرائیل کی وحشیانہ کارروائیوں پر روک لگائے۔ اجڑے بے گھر فلسطینیوں کی باز آباد کاری کا انتظام کیا جائے اور اسرائیل کو اس کے لیے مجبور کرے کہ وہ تمام مقبوضہ علاقوں کو خالی کردے۔ 

 (کارروائی رجسٹر)

فرقہ وارانہ ہم آہنگی کنونشن میں  اسرائیلی مظالم پرمذمتی قرار داد 

حیدرآباد میں 14؍اپریل2002ء کو منعقد فرقہ وارانہ ہم آہنگی کنونشن میں بھی مولانا برکت اللہ نے فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی مذمتی قرار داد پیش کی۔

 (ہفت روزہ الجمعیۃ،26؍اپریل تا 2؍مئی 2002ء)

امریکہ کی طرف سے اسرائیل کی مسلسل حمایت کی سخت مذمت

 یکم مئی 2002ء کوجمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس کی تجویز نمبر(۱۰) میں امریکہ کی طرف سے اسرائیل کی مسلسل حمایت کی سخت مذمت کی۔ مکمل تجویز درج ذیل ہے:

’’ جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس فلسطین میں اسرائیل کی طرف سے جاری وحشیانہ اور انسانیت سوز جارحانہ کارروائیوں اور ان کی امریکہ کی طرف سے مسلسل حمایت کی سخت مذمت کرتا ہے۔ 

اسرائیل مسلسل فلسطینی عوام، کیمپوں، آبادیوں اور انتظامیہ کے دفاتر کو اپنی بم باری اور ٹینکوں کا بے دریغ نشانہ بنا رہا ہے۔ عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور بے قصور افراد کا قتل عام کر رہا ہے، حتی کہ فلسطینی انتظامیہ کے اقتدار اعلیٰ کے دفاتر کو پوری طرح تباہ و برباد کر دیا گیا ہے، یا سر عرفات کو ان کے دفتر کے دو معمولی کمروں میں محصور کر دیا گیا ہے۔ ان کا ٹیلی فون اور بجلی کا کنکشن بھی کاٹ دیا گیا ہے۔ حد تو یہ ہے کہ ان کے سیل فون کے لیے بیٹری تک مہیا کر نے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے، جس کی وجہ سے پوری دنیا سے ان کا رابطہ منقطع ہوگیا ہے۔

 ذرائع ابلاغ کی اطلاع کے مطابق اسرائیل کی پوری کوشش ہے کہ یا تو یاسر عرفات اپنے آپ کو رضا کارانہ طور پر اسرائیلی فوج کے حوالہ کر دیں،یا پھر خود اختیار کردہ جلاوطنی پر راضی ہو جائیں، تا کہ ایسی قیادت فلسطینی عوام پر تھوپی جاسکے، جو اسرائیل کی پسند کے مطابق اس کے سامنے جھکنے پر تیار ہو جائے۔

 اس قضیہ کا افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اسرائیل مختلف ممالک اور اداروں و تنظیموں، یہاں تک کہ اقوام متحدہ کی طرف سے قیام امن کی تمام اپیلوں کو مسترد کرتے ہوئے خود امریکہ کے مہیا کردہ بم بار طیاروں اور ٹینکوں سے فلسطینی آبادیوں پر مسلسل حملے کر کے انھیں تاخت و تاراج کر رہا ہے، جس کے نتیجہ میں امن کاعمل پوری طرح تعطل کا شکار ہے۔ 

 ان تمام امور کے پیش نظر مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ آزاد اور خود مختا رفلسطینی ریاست کے قیام کے لیے فوری راہ ہموار کرے۔ اسرائیل کی وحشیانہ اور جارحانہ کارروائیوں پر روک لگائے۔ اجڑے ہوئے اور بے گھر فلسطینی عوام کی باز آباد کاری کا انتظام کیا جائے اور اسرائیل کو اس کے لیے مجبور کیا جائے کہ وہ مقبوضہ علاقوں کو فورا خالی کر دے۔

مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس اسرائیل کے سر پرست امریکہ، پوری دنیا کے انصاف پسند ممالک اور حقوق انسانی کے اداروں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کر کے فلسطینی انتظامیہ کے چیئرمین جناب یاسر عرفات کے محاصرہ کوختم کرائیں اور ان کے تحفظ کویقینی بنائیں۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد چہارم، ص؍

19؍جولائی 2002ء کو یوم فلسطین منایا گیا

یہودیوں کی جارحیت کے خلاف 19؍جولائی2002ء کو جمعیت علمائے ہند کی اپیل پر پورے ملک میں جمعہ کو یوم فلسطین منایا گیا اور اپنے احتجاجی جلسے میں درج ذیل تجویز منظور کرکے اقوام متحدہ،امریکی سفارت خانہ اور جمعیت علمائے ہند کو بھیجا گیا۔ تجویز کا متن درج ذیل ہے:

…کے باشندوں کا یہ اجتماع اسرائیلی جارحیت اور غاصبانہ و قاتلانہ اقدامات اور امریکہ کی ناجائز اور غیر منصفانہ پالیسی کی سخت مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ اسرائیل اپنی غاصبانہ توسیع پسندانہ مہم سے باز آئے اور مقبوضہ علاقوں کو فوراً خالی کرے۔ امریکہ اسرائیل فلسطین معاملے میںمنصفانہ پالیسی اپنائے۔ یہ اجتماع اقوام متحدہ اور اس کے توسط سے عالمی برادری سے بھی اپیل کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کو مقبوضہ علاقوں کو فوری خالی کرنے اور ظلم و جبر سے روکنے کے لیے ہر ممکن طریقہ اپنائے۔ فلسطین کے مظلوم، اجڑے اوربے گھر عوام کی بازآبادکاری کا معقول بندو بست کرے۔ اور ایک خود مختار آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے راہ ہموار کرے۔

(ہفت روزہ الجمعیۃ،19-25؍ جولائی 2022ء)

ستائیسواں اجلاس عام میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف صدائے احتجاج

 9؍ مارچ 2003ء کو جمعیت علمائے ہند کے ستائیسویں اجلاس عام کے خطبۂ صدارت میںحضرت مولانا اسعد مدنی صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہندنے فلسطین کے خلاف اسرائیلی جارحیت وبربریت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ:

’’دانش وران ملک وقوم!فلسطین اور اس کے باشندوں کے خلاف اسرائیل کی ننگی جارحیت، بھیانک مظالم اور بے روک ٹوک قتل وغارت گری جاری ہے۔ ایسا لگتاہے کہ اسرائیل کے خلاف عالمی طاقتیں بالکل کچھ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔ جمعیت علمائے ہند نے اسرائیل کی مخالفت اور فلسطینیوں کے جائز حق کی حمایت میں ہمیشہ جدوجہد کی ہے۔ اس نے مجلس تحفظ فلسطین بھی قائم کی تھی۔2؍اگست 1938ء میں اس تنظیم کا اجلاس بلاکر اس میں یہ طے کیا تھا کہ پورے ہندستان میں فلسطین عربوں کی حمایت میں جلسے کیے جائیں اور ہرممکن مدد کی جائے، یہ سلسلہ جاری رہا۔ آج جب کہ فلسطینیوں کی مظلومیت اپنی انتہا کو پہنچ گئی ہے، ان کے حق میں آوازبلند کرنا ایک انسانی فریضہ تصور کیاجانا چاہیے۔ ابھی قریب میں 19؍جولائی 2002ء کو بھی جمعیت علمائے ہند نے اسرائیلی جارحیت کے خلاف اور فلسطینیوں کی حمایت میں پورے ملک میں یوم فلسطین منایاتھا اور تجویز منظور کرکے دہلی میں واقع دفتر اقوام متحدہ اور امریکی سفارت خانہ کو بھیجی تھی۔ 

یہ حقیقت بالکل عیاں ہے کہ اسّی (80)سال سے فلسطین کا مسئلہ عالم انسانیت؛ خصوصاً عالم اسلام کے لیے سوہان روح بناہواہے۔ امریکہ کی فلسطینیوں سے بے وفائی، غلط پالیسی اور اسرائیل کی بے جا حمایت اور عالمی برادری کے غیر مؤثر رول نے فلسطین اور اس کے جائز باشندوں کے لیے جو سنگین صورت حال پیداکردی ہے، اس نے انصاف اور انسانیت پر یقین رکھنے والے افراد اور تنظیموں کے لیے اسرائیلی جارحیت وبربریت کی مخالفت اور فلسطینی عوام کی حمایت کرنا ضروری بنادیا ہے۔ ہم اس عظیم الشان اجلاس عام کے اسٹیج سے اسرائیل کی جارحیت اور غاصبانہ اقدام اور امریکہ کی ناجائز اور غیر منصفانہ پالیسی کی سخت مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں:

۱۔ عراق کی طرح اسرائیل کو غیر مسلح کیا جائے۔

۲۔ خود مختار آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرے اور اسرائیل کو ظلم وجبر سے روکے۔

۳۔ فلسطین کے مظلوم، اجڑے اور بے گھر عوام کی بازآبادکاری اور گھر واپسی کا معقول بندوبست کرے۔

۴۔ فلسطینی پناہ گزینوں کے تحفظ کو یقینی بنایاجائے۔

۵۔ عرب مقبوضہ علاقوں میں بسائی ـگئی تمام یہودی آبادیوں کو ختم کرنا امن معاہدے کے لیے ضروری ہے۔

۶۔ اس کا بھی مؤثر انتظام ہونا چاہیے کہ جنگ کی حالت ختم ہو، خودمختار ریاست کی زمینی حدود، خودمختاری، تسلیم شدہ محفوظ سرحدوں کا پاس ولحاظ کیا جائے۔

پھر اسی اجلاس عام نے  اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے درج ذیل منظور کی:

’’جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس عام فلسطین کے عوام اور اس کی انتظامیہ کے خلاف اسرائیل کی مسلسل وحشیانہ جارحیت اور اس کی امریکہ کی طرف سے خود حفاظتی کے نام پر مسلسل حمایت کی سخت مذمت کرتا ہے۔ اسرائیل فلسطینی عوام کے خلاف وحشیانہ اقدامات کررہا ہے۔ دکانوں، مکانوں کو تباہ و برباد کرکے ان کی معیشت وروزگار کو تباہ کردیا گیا ہے۔ تعلیمی اداروں، فیکٹریوں کو اسلحہ بنانے کے کارخانے بتاکر کھنڈر میں تبدیل کردیا گیا ہے، حتی کہ فلسطینی صدریا سرعرفات کے دفاتر کے بیشتر حصّہ کو منہدم کردیا گیا ہے۔ فلسطینی حریت پسندوں کے خلاف کارروائی کے نام پر بے قصور عورتوں، بچوں، بوڑھوں اور مردوں کا قتل عام کیا جارہا ہے۔ یاسر عرفات کو بھی دہشت گردوں کا حامی بتاکر قیادت کی تبدیلی کی بات امریکہ، اسرائیل دونوں کررہے ہیں۔ خود مختار آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی یقین دہانی کو -جو وہائٹ ہاؤس میں روس کی موجودگی میں کرائی گئی تھی- اسے سردخانہ میں ڈال دیا گیا ہے۔ دوسری طرف عرب کے مقبوضہ علاقوں پر دنیا میں پھیلے ہوئے منتشر یہودیوں کی بستیاں مسلسل بسائی جارہی ہیں۔پناہ گزیں کیمپوں میں فلسطینی عوام کی حالت انتہائی ناگفتہ بہ ہے۔ مظلوم فلسطینیوں کو اسرائیل کی جارحیت سے محفوظ رکھنے اور حق و انصاف دلانے کے لیے جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس عام مطالبہ کرتا ہے:

۱۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری اسرائیل سے عرب مقبوضہ علاقوں کو فوراً خالی کرائے۔

۲۔ خود مختار آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے راہ ہموار کرے۔

۳۔ فلسطین کے اُجڑے، بے گھر عوام کی بازآبادکاری کا معقول بندوبست کیا جائے۔

۴۔ اسرائیل کو فلسطینیوں کے خلاف ہر قسم کی جارحانہ کارروائی سے روکے اور پناہ گزیں کیمپوں میں رہنے والے افراد کے تحفظ کو یقینی بنائے۔‘‘

 شام میں پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی حملہ انتہائی اشتعال انگیز 

شام کے دارالحکومت دمشق سے تقریباً 22؍کلومیٹر دور شمال مغرب میں واقع علاقے ’’عین الصاحب‘‘کے پناہ گزینوں؍کیمپ پر اسرائیل نے 5؍اکتوبر 2003 کو شدید فضائی بم باری کی۔ 1973 کی یوم کپور جنگ کے بعد شام کی سرزمین پر یہ پہلا بڑا فضائی حملہ تھا۔

6؍اکتوبر2003ء کو ایک پریس بیان جاری کرکے جمعیت علمائے ہندنے شام میں پناہ گزیں کیمپ پر اسرائیل کے ہوائی حملے کو اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے اسے مشرق وسطیٰ میں امن کو تباہ کرنے والا بتایا۔ اسی طرح عرب ممالک کے باہمی اختلافات اور غیر مؤثر کردار پر اظہار افسوس کیا۔ اگر عرب ممالک اجتماعی مفادات کو سامنے رکھتے ہوئے متفقہ پالیسی اپناتے، تو یہ صورت حال پیدا نہ ہوتی۔ اسی انتشار اور کمزوری کا فائدہ اٹھا کر اسرائیل من مانی کارروائی اور اقدام کر کے عربوں کو ذلیل و خوار کرنے کی راہ پرعمل پیرا ہے۔

(ہفت روزہ الجمعیۃ،17-23؍اکتوبر2003ء)

حماس رہنما کی شہادت اسرائیل کا بزدلانہ عمل

 حماس کے بانی اور روحانی رہنما شیخ یاسین -جواس وقت 67؍سال کے تھے اور مدتوں سے معذور وہیل چیئر پر تھے - کو اسرائیل نے 22؍مارچ 2004 کی صبح اس وقت نشانہ بناکر شہید کردیا، جب وہ فجر کی نماز کے بعد مسجد سے نکل رہے تھے۔اس حملے میں ان کے ساتھ کئی دیگر افراد بھی شہید ہوئے۔

24؍مارچ 2004ء کو جمعیت علمائے ہند نے ایک پریس بیان میں اسرائیل کی طرف سے شیخ احمد یاسین کو شہید کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے ایک بزدلانہ، مجرمانہ اور امن کے عمل کو تباہ کرنے والا بتایا۔ تنظیم کے صدر امیرالہند حضرت مولانا سیّد اسعد مدنی  صاحب نے کہا کہ اسرائیل جس وحشیانہ طریقے پر سفاکانہ قتل و غارت گری اور انہدام کی جن مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہے، ان سے امن، انصاف اور انسانی حقوق کی زبردست پامالی ہو رہی ہے۔ انھوں نے شیخ احمد یاسین کی شہادت کو بہت ہی حساس معاملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پورے خطے میں تشدد کا ایک نیا سلسلہ شروع ہونے کا خطرہ پیدا ہوگیا ہے۔ اسرائیل جس طرح فلسطینیوں، عربوں کی مسلسل تذلیل و تحقیر کررہا ہے، اس کے پیش نظر تمام عرب ملکوں کو امن پسند ملکوں کے تعاون سے متحدہ طور پر اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ جب تک اسرائیل کے خلاف مؤثر عملی اقدامات نہیں کیے جاتے، محض زبانی مذمتوں سے صیہونی جارحیت میں کسی تبدیلی کی توقع نہیں کی جاسکتی ہے۔ جب تک اسٹیٹ دہشت گردی کا انسداد نہیں کیا جاتا اس وقت تک دیگر قسم کی دہشت گردیوں کا خاتمہ نہیں ہوسکتا ہے۔ انھوں نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اسرائیل سے تعلقات پر نظرثانی کرے۔ اس سے اسٹرٹیجک تعلقات بھی قائم نہ کرے۔ ایسا کرنا ملک کی خارجہ پالیسی کے لیے خطرناک ہوگا۔(ہفت روزہ الجمعیۃ،2-8؍اپریل2004ء)

امریکہ و اسرائیل مشرق وسطیٰ میں موجودہ بدامنی کے ذمہ دار ہیں

6؍دسمبر2004ء کو ایک پریس بیان میں، صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے ایشیائی ممالک، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کے سلسلے میں امریکہ، یورپی ممالک اور اسرائیل کی اختیار کردہ پالیسی کی سخت مذمت کرتے ہوئے، موجودہ بدامنی کے لیے انھیں ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ امریکہ تمام تر شرپرستوں کی سرپرستی کر رہا ہے۔ ایران کی ایٹمی صلاحیت کی میڈیا میں حد سے زیادہ تشہیر اور اسرائیل کی جوہری صلاحیتوں اور امریکہ- جو خود سب سے بڑا جوہری ہتھیاروں کا بھنڈار اور ایٹمی توانائی کا مرکز ہے- کو نظرانداز کردینا عالمی نظام کے توازن کو بگاڑنے اور دوسروں کو دبانے کی کوشش سراسر زیادتی اور ناجائر قدم ہے۔ مولانا مدنی نے ایران کی اس بات کے لیے تحسین کی ہے کہ اس نے دنیا کے سامنے معاملے کے اس پہلو کو بھی رکھا کہ اسرائیل جوہری طاقت حاصل کرچکا ہے۔ بھاری تعداد میں اس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں اور مزید حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آخر اس کی طرف عالمی برادری کی توجہ کیوں نہیں ہے۔

 (ہفت روزہ الجمعیۃ،17-23؍ دسمبر2004ء)

عالم اسلام کے خلاف صہیونی مہم اور سازش کا انکشاف

 29؍ مئی 2005ء کو جمعیت علمائے ہند کااٹھائیسواں اجلاس عام ہوا، جس کے خطبۂ صدارت میں حضرت مولانا اسعد مدنی صاحبؒ نے نقلی قرآن اور خواتین کی امامت کے فتنے کے پیچھے اسرائیلی و صہیونی سازش کا انکشاف کرتے ہوئے عالم اسلام کو اس سے متنبہ ہونے کی اپیل کی۔ چنانچہ مولانا نے اپنے خطبہ میں فرمایا کہ: 

’’مؤقر دانش وران قوم وملت! آپ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف، بین الاقوامی سطح پر جاری صہیونی مہم اور سازشوں سے یقینا باخبر ہوںگے۔ فرقہ پرست، مسلم مخالف عناصراور اسلام کے خلاف ملی شیرازے کو بکھیر دینے والی ناپاک طاقتوں، قادیانیت، بہائیت، انکار حدیث اور باطنیت کی صہیونیت پوری سرپرستی واعانت کر رہی ہے۔ حقوق کے نام پرمسلم خواتین کو بے پردہ کرکے مارکیٹ کی شئی بنانے کی پوری سعی کی جارہی ہے۔ابھی حال ہی میں قرآن کریم کے نام پر ’’الفرقان الحق‘‘ نقلی قرآن بڑے پیمانے پر تقسیم کیا جا رہا ہے۔اس ناپاک مہم میں امریکہ، اسرائیل مشترکہ طور پر شریک ہیں۔ دو امریکی اشاعتی ادارہ اولیگا اور وائن پریس نے اسے شائع کیا ہے، جس میں ستتر سورتیں شامل ہیں۔بسم اللہ کے بجائے عیسائی عقیدۂ تثلیث پر مبنی کلمہ سے کتاب کا آغاز کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی اسلامی عقائد پر ’’الفرقان الحق‘‘ میں زبردست تنقید کی گئی ہے۔

ایک فتنہ خواتین کی امامت پر کھڑا کیا گیا ہے۔خواتین ،خواتین کی امامت کریں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس میں بحث کی گنجائش ہے؛ لیکن خواتین کی مطلقاً امامت -جس میں مرد بھی مقتدی ہوں- بلاشبہ مغربی وصہیونی مہم کا حصہ ہے۔ اس قسم کے فتنے پیداکرنے کا مقصد علما وصلحائے امت کی حیثیت کو داغ دار کرکے ان کو سماج میں بے فیض ثابت کرنا اور میڈیا کے ذریعہ یہ باور کرانا ہے کہ وہ ترقی کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ اس کے پیش نظر مسلم سماج کے ایسے افراد کو آگے بڑھانا ہے، جو ترقی پسندی، جدیدیت اور روشن خیالی کے نام سے صہیونی تحریک کا آسانی سے آلۂ کار بن جائیں۔ اس راہ سے صہیونیت کو بڑی کامیابی ملی اور مل رہی ہے۔ مشرقی ممالک؛ خصوصاً مسلمانوں پر توجہ خاص طور سے مرکوز کی گئی ہے، اخلاق واقدار کو تباہ کیاجارہا ہے، عریانیت وبے حیائی کے زہرآلود ہتھیاروں سے انسانی اور حیاداری، شرافت اور لحاظ داری کو پوری طرح ختم کردینے کے لیے مختلف قسم کے طاقت ور ذرائع ابلاغ کا بے تحاشہ استعمال کیا جارہا ہے۔ مدرسوں، مسجدوں اور اسلام کے کردار کو دہشت گردی سے جوڑ کر داغ دار اور بدنام کرنا بھی صہیونی تحریک کا حصہ ہے۔ یہ اس قدر واضح ہے کہ اسے اپنے ،بے گانے سب جانتے ہیں۔ امریکہ اور صہیونی اسرائیل کی یہ مہم اس قدر بے نقاب ہوگئی ہے کہ اقوام متحدہ تک کو نوٹس لینا پڑرہا ہے کہ اسلام کو بدنام کرنے والی مہم پر روک لگنا چاہیے۔ ابھی حال ہی میں اقوام متحدہ کے کمیشن برائے حقوق انسانی نے امریکہ اور مغربی ممالک کی سرکردگی میں دہشت گردی کے خاتمہ کے نام پر جاری عالم گیر مہم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ اس کا نوٹس لے اور مذموم کوشش کو بندکرانے کے لیے مؤثر قدم اٹھائے۔ یہ بہت ہی حیرت ناک بات ہے کہ یہود اپنے اوپر جرمن میں گزرے ہوئے ایام کو بھول گئے ہیں۔ہٹلر کی سرپرستی میں یہودیوں کا دہشت گردی، مخبری اور ففتھ کالم ہونے کے عنوان سے بدنام کرکے قتل عام کیا گیا تھا، تاکہ ان کے ساتھ انسانی ہمدردی نہ ہو، اسی طرح یہود اور امریکہ نے پورے عالم میں مسلمانوں کو دہشت گرد کہہ کر بدنام کررکھا ہے، تاکہ ان پر حملہ اور ظلم کیا جاسکے۔ مسلمانان عالم کا فرض ہے کہ وہ مذموم صہیونی مہم کا توڑ کریں۔ مسلم ممالک اپنے اقتدار اعلیٰ کا تحفظ کرتے ہوئے میڈیا اور سیاسی، سماجی سطح پر امریکہ اور اسرائیل کے غلط پروپیگنڈہ کا مقابلہ کریں اور ان کے سامنے ہتھیار نہ ڈالیں۔ ہماری اس اسٹیج سے ارباب مدارس اور مذہبی تہذیبی، ثقافتی اداروں کے ذمہ داروں سے اپیل ہے کہ وہ صہیونی مہم کے توڑ کے لیے مؤثر اقدامات کریں اور اس کی سرگرمیوں سے آگاہی کے لیے معقول انتظام کریں۔ ایسے فضلا تیار کیے جائیں، جو اس کی سرگرمیوں اور زہرناکیوں کے سلسلے میں مستند معلومات حاصل کرکے سماج کو ان سے آگاہ کریں اور اسلام کی تعلیمات کو لوگوں کے سامنے رکھ سکیں۔‘‘

فلسطین میں قیام امن اور اسرائیل کی جارحیت وبربریت

اسی خطبۂ صدارت میں مولانا موصوف نے آگے تحریر فرمایا کہ:

’’فلسطین ،عرب فلسطینیوں کی مظلومی ومقہوریت اور امریکی، برطانوی سازش اور اسرائیل کے ظلم ووحشت، جارحیت اور عربوں کی زمین پر قبضہ کرنے کی ناپاک خواہشات کی علامت بن چکا ہے۔ جمعیت علمائے ہند ہمیشہ اسرائیل کے عزائم واقدامات کی مذمت ومخالفت اور فلسطینیوں کے حق ومطالبے کی حمایت کی ہے۔ امریکہ کی فلسطینیوں سے دشمنی، غلط پالیسی، مخالفت اور اسرائیل کی ناجائز حمایت، بے جاسرپرستی وشرپرستی، دہشت گردی، مسلح اڈہ کے قیام اور عالمی برادری کے غیر مؤثر رول نے فلسطین اور اس کے مظلوم باشندوں کو سراپا محروم ومظلوم بنادیا ہے۔ امریکہ، اسرائیل کی طرف سے وسیع پیمانے پر تشہیری مہم چلائی گئی کہ یاسرعرفات قیام امن کی راہ میں رکاوٹ اور دہشت گردی کے حامی ہیں۔ان کے انتقال کے بعد، دونوں طاقتوں نے محمود عباس کے نئے صدر بننے کو ایک انقلاب قرار دیا۔ یہ تأثر دینے کی کوشش کی گئی کہ مسئلۂ فلسطین کے حل کے لیے نئی پہل کا آغاز ہورہا ہے۔ امریکی انتظامیہ، اسرائیل کو قیام امن کے عمل میں سنجیدہ حصہ لینے کے لیے آمادہ کررہا ہے اور فلسطینیوں کی خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام اور یہودی بستیوں کی تعمیر سے روک رہا ہے؛ لیکن حقیقت میں حالات کسی اور طرف اشارہ کررہے ہیں۔ 8؍فروری 2004ء کو مصر کے ساحلی مقام شرم الشیخ سے جاری سرکاری بیانات میں کہا گیاتھا کہ فلسطین اور اسرائیل دونوں جانب سے ایک دوسرے پر حملے نہیں ہوںگے؛ لیکن یہ سلسلہ جاری ہے۔ فلسطینیوں نے عالمی رائے عامہ کا احترام کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے سیزفائر کیا ہے۔ یہ مزید خوش آئند بات ہے کہ آنے والے قومی کونسل کے الیکشن میں حماس نے بھی حصہ لینے کا اعلان کیا ہے اور اس کی طرف سے انتخابی مہم شروع ہوچکی ہے۔ اسرائیل روڈ میپ اور معاہدۂ امن کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ اس نے فلسطینیوں کو مشتعل کرنے اور تشدد پر اکسانے کے لیے مقبوضہ مغربی کنارے کے جنوبی علاقوں میں دو نئی یہودی بستیوں کے قیام اور وہاں 35000نئے مکانات کی تعمیر کی منظوری دے دی ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ امن کے عمل کے منافی مذموم قدم ہے۔یہ امریکی روڈمیپ (نقش راہ) کی بھی صریح خلاف ورزی ہے۔ اگر اسرائیل اپنے عزائم میں ،کھلی دھاندلی کرکے کامیابی حاصل کرتا ہے، تو امریکہ کی طرف سے پیش کردہ روڈمیپ اور قیام امن میں تعاون دینے کا اس کا دعوی کھوکھلا ثابت ہوجائے گا۔ غالباً اسی لیے بش انتظامیہ نے مغربی کنارے پر نئے مکانات کی تعمیر کے اسرائیل منصوبے کے بارے میں اسرائیل سے وضاحت طلب کی ہے۔ بش نے اسرائیلی وزیراعظم ایریل شیرون کو متنبہ کیا تھا کہ وہ اس طرح کے تعمیراتی کام روک دیں۔ وعدہ کے مطابق آٹھ ہزاراسرائیلی آبادکاروں کا انخلا 20؍جولائی 2005ء تک ہوجانا چاہیے، لیکن شیرون اپنی حکمت عملی کے تحت 16؍اگست تک انخلا کو ملتوی کرنا چاہتا ہے۔ غالباً وہ مذاکرے اور امن کے عمل کو سبوتاژ کرکے اسرائیل کی توسیع پسندی کی تکمیل چاہتا ہے۔

مذکورہ حالات کے مدنظر ہماری اس اہم اسٹیج سے فلسطینیوں سے اپیل ہے کہ

۱۔ صبروتحمل اور محتاط رہ کر اسرائیلی عزائم کو ناکام بنادیں۔

۲۔ ہم اسرائیلی عزائم اور غاصبانہ قدم کی سخت مذمت کرتے ہیں۔

۳۔ خود مختار آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں اپنے وعدہ کے مطابق امریکہ، روس اور عالمی برادری تعاون کرے۔

۴۔ بے گھر، اجڑے فلسطینی عوام کی بازآبادکاری اور گھرواپسی فوری ہو۔

۵۔ عرب مقبوضہ علاقوں سے تمام یہودی بستیوں کو ہٹایاجائے۔

۶۔ امریکہ ،اسرائیل کو مسلح کرنے سے باز آئے۔ مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے اسرائیل کو بھی بھاری تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے غیرمسلح کیا جائے۔

تجویز نمبر- ۱۰-فلسطین کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت 

اس اجلاس عام نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس عام فلسطین میں قیام امن کے لیے جاری کوششوں کو غنیمت خیال کرتے ہوئے متعلقہ فریقوں سے صبروضبط اور تحمل اپنانے کی اپیل کرتا ہے۔ جناب یاسرعرفات کے انتقال کے بعد ان کے جانشین جناب محمود عباس کی صدارت کو اگرچہ امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے فلسطین میں ایک خوش آئند تبدیلی قرار دیا گیا تھا، لیکن افسوس ہے کہ مقرر کردہ ’’نقشۂ راہ‘‘ پر عمل کرنے میں اسرائیل کی طرف سے جس سست روی کا مظاہرہ کیا جارہا ہے اور مقررہ یہودی بستیوں کے انخلاکے عمل کو معرض التوا میں ڈالنے اور مغربی کنارے کے مقبوضہ علاقے میں نئے مکانات کی تعمیر کے منصوبہ کے ساتھ فلسطینی تحریک مزاحمت (حماس) کے کارکنوں پر جبروتشدد کا جو سلسلہ جاری ہے، اس سے آگے چل کر امن کے عمل کے سبوتاژ ہونے کا اندیشہ ہے۔ اس لیے جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس عام مطالبہ کرتا ہے کہ:

(۱) جلد از جلد بااختیار فلسطینی حکومت کے قیام کی راہ ہموار کی جائے۔

(۲) بیت المقدس سے اسرائیل اپنا غاصبانہ قبضہ فوراً ہٹائے اور’’ اوسلو معاہدہ‘‘ کے مطابق القدس شہر کا کنٹرول فلسطینیوں کے حوالے کیا جائے۔

(۳) اسرائیل اپنے توسیع پسندانہ عزائم سے بازآئے اور فلسطینی علاقوں میں نئی یہودی بستیاں بسانے کا کام فوراً روک دے۔

(۴) مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے لازم ہے کہ امریکہ اور عالمی طاقتیں اسرائیل کو بھاری تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے غیر مسلح کریں۔

(۵) فلسطینی اور اسرائیلی علاقوں کو الگ الگ کرنے والی غیر منصفانہ تعمیر کردہ دیوار فوری طور پر منہدم کی جائے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد چہارم، ص؍

اسرائیلی کارروائی سراسر دہشت گردی اور سفاکیت 

25؍جون 2006ء کو فلسطینی عسکریت پسندوں کی جانب سے ایک اسرائیلی فوجی (گیلاد شالیت) کو قیدی بنائے جانے کے بعد،  اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی اور مغربی کنارے میں ایک وسیع اور انتہائی تباہ کن فوجی آپریشن جاری کیا، جسے اسرائیل نے ’’آپریشن سمر رینز‘‘ (Operation Summer Rains) کا نام دیا۔

 اسرائیلی فوج کی جانب سے کی جانے والی ظالمانہ کارروائیاں اس قدر شدید تھیں کہ اقوام متحدہ (UN) اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں نے صریحاً ’’اجتماعی سزا‘‘  (Collective Punishment) اور جنگی جرائم کے مترادف قرار دیا۔

29؍اور 30؍جون کو، اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے (رام اللہ، نابلس، جنین اور یروشلم) میں بڑے پیمانے پر چھاپے مارے۔ ان چھاپوں میں فلسطینی حکومت کو گرانے کی کوشش کے تحت حماس کے 60؍سے زائد اعلیٰ عہدیداروں کو گرفتار کر لیا گیا۔ ان میں فلسطینی اتھارٹی کے 8؍وزراء (بشمول نائب وزیر اعظم ناصر الدین الشاعر) اور تقریباً 20؍اراکین پارلیمنٹ شامل تھے۔

انھیں حالات کے تناظر میں30؍جون2006ء کو جمعیت علمائے ہند نے فلسطین میں اسرائیل کی وحشیانہ و سفاکانہ کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے امن کے عمل کو تباہ کرنے والی بتایا ہے۔ غیرملکی دورہ پر گئے جمعیت علمائے ہند کے جنرل سکریٹری و راجیہ سبھا ممبر مولانا محمود مدنی نے فون پر صورت حال کو انتہائی تشویش ناک قرار دیتے ہوئے اس خدشہ کا اظہار کیا کہ اسرائیل کی دہشت گردی اور سفاکانہ جارحیت سے پورا خطہ جنگ کی لپیٹ میں آسکتا ہے۔ اپنے ایک فوجی کی رہائی کے لیے اس طرح کی کارروائی جس سے بے قصور افراد زد میں آجائیں، بجلی کا نظام اور پینے کا پانی روک دیا جائے، وزرااور ارکان اسمبلی کی گرفتاری کا کوئی جواز نہیں ہے۔ شام کی فضائی حدود کی خلاف ورزی بھی ایک خطرناک معاملہ ہے۔ اس سلسلہ میں اختیار کی جانے والی امریکی پالیسی سے حالات مزیدسنگین اور تباہ کن ہوسکتے ہیں۔ 

انھوں نے تمام ائمۂ مساجد، امن پسند تنظیموں اور اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ اسرائیلی جارحیت و دہشت گردی کو اجاگر کرتے ہوئے اس کی مذمت میں تجویز منظور کر کے اقوامِ متحدہ، امریکی سفارت خانہ اور ملک میں قائم امن پسند ممالک کے دفاتر کو بھیجیں۔

دریں اثنا آج یہاں جمعیت علمائے ہند کے مرکزی دفتر مسجد عبدالنبی میں نماز جمعہ سے قبل فلسطین میں گھس کر فلسطینی اتھارٹی کے وزرا اور افسران پر اسرائیلی حملے اور ان کی گرفتاری پر شدید غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف ایک مذمتی قرارداد منظور کی گئی، جس کا مکمل متن حسب ذیل ہے:

’’مسجد عبدالنبی کے مصلیان، فلسطین میں اسرائیل کی سفاکانہ و ظالمانہ فوجی کارروائی کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے امن کے عمل اور پرامن مذاکرات کے لیے تباہ کن تصور کرتے ہیں۔ یہ اجتماع امریکہ کی اسرائیل حامی پالیسی اور اس کی جارحیت و فوجی کارروائی کی حق دفاع کے نام پر حمایت کو انتہائی نفرت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ امریکہ اسرائیل سے متعلق اپنی پالیسی پر فوراً نظر ثانی کرے؛ورنہ خدشہ ہے کہ اس کے خلاف نفرت اور تشدد میں مزید اضافہ نہ ہوجائے۔ اپنے ایک فوجی کی رہائی کے لیے بے قصوروں کو نشانہ بنانے، پانی بند کرنے، پلوں، پلانٹوں اور بجلی کے نظام کو تباہ کرنے اور وزرا و ارکان پارلیمنٹ، وکلا، دانش وروں کی گرفتاری کا کوئی جواز نہیں ہے،اس سے پورا خطہ لپیٹ میں آجائے گا۔ یہ اجتماع شام کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور بیت المقدس کے اطراف سے چالیس ہزار عربوں کو ہٹانے کی اسرائیلی اسکیم کو خطرناک تصور کرتے ہوئے اس کی سخت مذمت کرتا ہے۔ یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ اقوامِ متحدہ مؤثر مداخلت کرتے ہوئے حالات کو کنٹرول کرے۔ امن کے قیام میں مدد کرے۔ امریکہ اسرائیل کی غلط حمایت کی پالیسی میں تبدیلی کرے اور اسرائیل کو جارحیت سے روکے۔ دیگر یورپی و مغربی ممالک اور تیسری دنیا کے ممالک بھی قیامِ امن میں اپنے حصے کا کردار ادا کریں۔ وزرا و ارکانِ اسمبلی کو فوراً رہا کیا جائے اور بجلی، پانی جیسی ضروری چیزوں سے بے قصور فلسطینی عوام کو محروم نہ رکھا جائے۔‘‘

 (ہفت روزہ الجمعیۃ،7-13؍جولائی 2006ء)

بعد ازاں 30؍ جولائی2006ء کو منعقد مجلس عاملہ کی میٹنگ میں فلسطین و لبنان پر اسرائیلی وحشیانہ بم باری کی مذمت کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس اسرائیل کی طرف سے فلسطین اور لبنان پر وحشیانہ بم باری کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے انسانیت اور بین الاقوامی قوانین کی سخت خلاف ورزی تصور کرتا ہے۔ اسرائیلی قید خانوں میں بند ہزاروں فلسطینی اور لبنانی بے قصور شہریوں کی رہائی کی غرض سے بعض اسرائیلی فوجیوں کے اغوا کے عمل کی اگرچہ تائید نہیں کی جاسکتی، لیکن اس کو بہانہ بناکر اسرائیل نے جس طرح کی انسانیت سوز جارحیت کا مظاہرہ کیا ہے ، وہ حد درجہ قابل مذمت ہے۔ اسرائیل کی تباہ کن بم باری سے سیکڑوں بے قصور شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔ سرکاری عمارتیں ، بجلی اور مواصلات کی تنصیبات ، سڑکوں، پلوں اور ہوائی اڈوں اور تیل کے ذخائر کو نشانہ بناکر اسرائیل کی بم باری نے تمام انسانی اور اخلاقی حدود کو پامال کردیا ہے۔ یہ امر انتہائی افسوس ناک ہے کہ اقوام متحدہ کا رول طاقت ور ممالک کے سامنے بالکل بے اثر ہوکر رہ گیا ہے۔ بالخصوص امریکہ اور اس کے حلیفوں کے ذریعہ اپنے دفاع کے نام پر اسرائیل کی حمایت سراسر مجرمانہ اور بے جا جانب داری کا بدترین نمونہ ہے۔ حال ہی میں امریکی خارجہ سکریٹری کو کنڈو لیزارائس کا یہ بیان کہ ’’ اب نئے مغربی ایشیا کے قیام کا وقت آگیا ہے‘‘ یہ ظاہر کرتا ہے کہ صہیونی طاقتیں عظیم اسرائیل کے دیرینہ منصوبہ کو بروئے کار لانے کے لیے اقدامات کر رہی تھیں اور بزور طاقت اپنے ناموزوں اور مکروہ مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ 

جمعیت علمائے ہند اس صورت حال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے تمام دنیا کے امن پسند حکومتوں ؛ بالخصوص مسلم ممالک اور اقوام متحدہ سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اسرائیل کے ذریعہ جاری خوں ریزی اور املاک کی تباہی روکنے کے لیے متفقہ طور پر فوری جدوجہد کریں اور بلاتاخیر جنگ بندی کرکے مسئلہ کا حل باہمی مذاکرات سے نکالنے پر آمادہ کریں۔ 

جمعیت علمائے ہندکا یہ اجلاس ہندستانی حکومت کو بھی توجہ دلاتا ہے کہ وہ ناوابستہ ممالک کا مؤثر رکن ہونے کی حیثیت سے حسب سابق فلسطینی کاز کی حمایت کرے اور فلسطین اور لبنان میں امن کے قیام کے سلسلہ میں اپنا رول مؤثر انداز میں ادا کرے۔ 

جمعیت علمائے ہند تمام ہندستانی مسلمانوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ آئندہ جمعہ بتاریخ 4؍ اگست 2006ء کو نماز جمعہ کے بعد اسرائیلی بربریت پر احتجاج اور فلسطینی و لبنانی مظلوموں سے اظہار یک جہتی کے لیے یوم دعا منائیں اور احتجاجی تجاویز منظور کرکے اقوام متحدہ اور امریکی سفارت خانے کو بھیجیں۔ ‘‘ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

مسجد اقصی کے گرد اسرائیلی کھدائی کی مذمت

اسرائیل نے 6؍فروری 2007ء کو مسجد اقصیٰ کے مغربی حصے مغربی دیوار (ویسٹرن وال) کے قریبکھدائی کا کام شروع کیا، جسے اسرائیل نے ایک ’’تعمیراتی منصوبہ‘‘ قرار دیا، لیکن درحقیقت یہ مسجد اقصیٰ کی بنیادوں کے لیے خطرہ تھا۔سمجھا۔

8؍فروری 2007ء کو  جمعیت علمائے ہند نے اسکھدائی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے اشتعال انگیز کارروائی بتایا۔ جمعیت کے صدر مولانا سیّد ارشد مدنی اور جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ حالیہ کارروائی صیہونی تحریک کے تحت عالمی طور پر ملت اسلامیہ کو ہمیشہ مضطرب و منتشر رکھنے کی مذموم کوششوں کا حصہ ہے۔ مسجد اقصیٰ کا معاملہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے بلاامتیاز مسلک و مشرب انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر اسرائیل مسجد اقصیٰ کے انہدام کے اپنے ناپاک منصوبے کو عملی جامہ پہنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے، تو اس کا عالمی سطح پر سخت ردّعمل ہوگا اور امن کا عمل ختم ہوجائے گا۔ مولانا مدنی نے عالمی برادری، خصوصاً عرب ملکوں کو متوجہ کیا ہے کہ وہ صورت حال کو ٹھیک کرنے اور اسرائیل کے جارحانہ عزائم کو ناکام بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ انھوں نے مکہ مکرمہ میں فلسطینی رہنماؤں کے مذاکرات کو اچھی کوشش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ باہمی بات چیت کے اچھے نتائج برآمد ہونے کی امید ہے۔ ضرورت ہے کہ اسرائیل کی پیداکردہ دھماکہ خیز صورت حال سے نپٹنے کے لیے متحدہ جدوجہد کی جائے اور مغربی یورپی ملکوں پر زیادہ بھروسہ کے بجائے خود ہی مؤثر حکمت عملی بنائے جائے۔

 (ہفت روزہ الجمعیۃ،23؍فروری تا یکم مارچ2007ء)

قبلۂ اول کے تحفظ کے لیے عرب ممالک کو اتحاد کی دعوت

مجلس عاملہ منعقدہ: 14؍ فروری 2007ء میں جمعیت علمائے ہند نے مشرق وسطی کی صورت حال پر ایک تجویز منظور کرتے ہوئے، مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے عرب ممالک سے اتحاد کی اپیل کی۔ چنانچہ تجویز کے متعلقہ متن میں کہا گیا کہ:

’’۳۔ عرب ممالک متحد ہوکر اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کریں اور قبلۂ اول مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدام کریں اور مسئلۂ فلسطین کے حل کے لیے متحدہ جدوجہد کی جائے۔ 

یہ اجلاس سعودی سربراہ ملک عبداللہ کی طرف سے مختلف فلسطین گروپوں میں اتحاد کرانے کی کوششوں کو تحسین کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اور امید کرتا ہے کہ قضیۂ فلسطین کے حل اور مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے ایمان دارانہ اقدامات کیے جائیں گے۔ ‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی کی مذمت

مجلس منتظمہ منعقدہ: 5؍ اپریل2008ء میں فلسطینی کاز کی حمایت کرتے ہوئے، جمعیت علمائے ہند نے اسرائیل کے ہاتھوں فلسطینیوں کی نسل کشی کی مذمت کرتے ہوئے درج ذیل تجویز نمبر(۱۱) منظور کی گئی:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس فلسطین میں قیامِ امن کے لیے جاری کوششوں کو غنیمت خیال کرتے ہوئے فلسطینیوں کے کاز کی حمایت کرتے ہوئے وہاں اسرائیل کی طرف سے جاری قتل و غارت گری، ہوائی حملے اور فلسطینیوں کے خون ناحق کی سخت مذمت کرتا ہے۔ وہاں آئے دن کے اسرائیلی محاصرہ، فلسطینیوں کی ناکہ بندی، اقتصادی وسائل کی تباہی اور زندگی کی بنیادی ضرورتوں سے محروم کرنے کی اسرائیلی کارروائیوں کو گہری تشویش کی نظر سے دیکھتا ہے۔ فلسطین میں فلسطینیوں کی حکومت کے قیام و استحکام میں اسرائیل کی طرف سے مسلسل ناجائز رکاوٹوں اور امریکہ کی طرف سے نقشۂ راہ پر عمل کرنے سے گریز کی صورت حال کو خرابی کے لیے اصل سبب سمجھتا ہے۔ اسرائیل جس طرح فلسطینیوں کی نسل کشی کر رہا ہے، وہ اس کے توسیع پسندانہ عزائم کا عکاس ہے۔ یہ اجلاس اسرائیل کی طرف سے امن کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی عمداً و ارادتاً کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ عالمی برادری، خصوصاً پوری مغربی حکومتیں، ادارے ؛خصوصاً امریکہ، برطانیہ، چین، فرانس اور اقوامِ متحدہ، فلسطین میں قیام امن کے لیے ایمان دارانہ کوشش کریں۔ اسرائیل کو جارحیت اور قتل و غارت گری، ہوائی حملے سے روکیں۔ نیز یہ اجلاس اسرائیل کی طرف سے غیر انسانی اور وحشیانہ تباہ کن کارروائیوں پر ہندستان سمیت تمام ممالک کی خاموشی کو مجرمانہ عمل تصور کرتا ہے۔ ہندستان کے اسرائیل سے بڑھتے تعلقات اور فوجی تعاون و اشتراک کو انتہائی ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتے ہوئے نہروگاندھی کے اصولوں کے منافی اور ہندستان کی سابقہ خارجہ پالیسی اور ماضی سے جاری قدیم روایت سے انحراف تصور کرتا ہے۔ اس کے پیش نظر یہ اجلاس حکومت ہند سے مطالبہ کرتا ہے کہ :

(۱) وہ فلسطینیوں کے تئیں سابقہ پالیسی پر کاربند رہے اور ان کی نسل کشی کو روکے اور مسئلۂ فلسطین کے حل کے لیے کلیدی رول ادا کرے۔

(۲) جلد از جلد بااختیار مستحکم فلسطینی حکومت کے قیام کی راہ ہموار کی جائے۔

(۳) بیت المقدس سے اسرائیل اپنا غاصبانہ قبضہ فوراً ہٹائے اور اوسلو معاہدہ کے مطابق القدس شہر کا کنٹرول فلسطینیوں کے حوالے کیا جائے۔

(۴) اسرائیل اپنے توسیع پسندانہ عزائم سے باز آئے اور فلسطینی علاقوں میں نئی یہودی بستیاں بسانے کا کام فوراً روک دے۔

(۵) مشرقِ وسطیٰ میں قیامِ امن کے لیے لازم ہے کہ امریکہ اور عالمی طاقتیں اسرائیل کو بھاری تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے غیر مستحکم کریں۔

(۶) فلسطینی اور اسرائیلی علاقوں کو الگ الگ کرنے والی غیرمنصفانہ تعمیر کردہ دیوار فوری طور پر منہدم کی جائے۔

(۷) فلسطینی عوام کے لیے زندگی کی بنیادی ضرورتوں کی تکمیل کی راہ ہموار کی جائے۔‘‘ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

 اسرائیل مشرق وسطیٰ کے لیے ناسور

حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحبؒ منصور پوری صدر جمعیت علمائے ہندکی صدارت میں31؍ مئی 2008ء کو ’’دہشت گردی مخالف امن عالم کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی، جس کے صدارتی خطاب میں صدر اجلاس نے اسرائیل کو مشرق وسطیٰ کے لیے ناسور قرار دیا۔ خطبہ میں کہا گیاکہ:

’’آج مسلسل ساٹھ سال سے یہی امریکہ اپنی نا جائز اولاد ’’اسرائیل‘‘کی ہر قسم کی مدد اور پشت پناہی کر کے فلسطینیوں کا خون پانی کی طرح بہارہا ہے۔ امن مذاکرات کے جھوٹے بہانے بنا کر وہ فلسطینیوں کو تسلی دیتا رہا اور اسرائیل کی برابر پیٹھ تھپ تھپا کر اسے مظالم پر شہ دیتا رہا ہے، اور اس نے مروت وانسانیت کی ساری حدیں عبور کر کے اسرائیل کو ہر ممکن تحفظ دینے میں کبھی کوئی دریغ نہیں کیا۔ اسرائیل مشرق وسطیٰ کا وہ ناسور ہے، جوساٹھ سال سے محض اسرائیل اور اس کے پشت پناہ امریکہ کی ہٹ دھرمی، غداری، ظلم و جبر کی بنا پر برابر رس رہا ہے۔ اور عربوں؛ بلکہ پوری ملت اسلامیہ کے لیے چیلنج بنا ہوا ہے۔‘‘

اسرائیل کے ناپاک مقاصد کا انکشاف

جمعیت علمائے ہند کا انتیسواں اجلاس عام:9؍ نومبر2008ء کو منعقد ہوا، جس کے خطبۂ صدارت میں صدر اجلاس حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری صدر جمعیت علمائے ہند نے فلسطین میں اسرائیل کی جاری جارحیت پر سیر حاصل تبصرہ کرتے ہوئے اسرائیل کے ناپاک مقاصد کا انکشاف کیا۔ 

’’عرب فلسطینیوں کی مظلومی ومقہوریت امریکی وبرطانوی سازش اور اسرائیل کے ظلم وجارحیت اور عربوں کی زمین پر قبضہ کرنے کے ناپاک خواہشات کی علامت بن چکی ہے۔ جمعیت علمائے ہند نے ہمیشہ اسرائیل کے عزائم واقدامات کی مذمت ومخالفت اور فلسطینیوں کے حق ومطالبہ کی حمایت کی ہے۔ امریکہ کی طرف سے اسرائیل کی ناجائز حمایت اور عالمی برادری کے غیر مؤثر رول نے فلسطین کے مظلوم باشندوں کے حقوق کی پامالی میں اہم رول اداکیا ہے۔ اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے وسیع پیمانے پر یہ تشہیری مہم چلائی گئی کہ یاسر عرفات قیام امن کی راہ میں رکاوٹ اور دہشت گردی کے حامی ہیں، ان کے انتقال کے بعد محمود عباس اور بعد میں حماس کے جمہوری طریقے پر منتخب ہوکر اقتدار میں آنے کے بعد بھی مسئلۂ فلسطین کے حل کے لیے وہ اقدامات نہیں کیے گئے، جو ہونے چاہیے۔ فلسطینیوں نے عالمی رائے عامہ کا احترام کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ امن مذاکرات کو آگے بڑھانے کے لیے سیز فائر کیا ہے۔ فی الحال جنگ بندی کے اعلان کے باوجود جھڑپیں اور مزاحمت کے واقعات ہوتے رہتے ہیں۔ اسرائیل روڈمیپ اور معاہدۂ امن کی خلاف ورزی مسلسل کرتا آرہاہے۔اقتصادی ناکہ بندی اور مختلف پابندیوں سے فلسطینیوں کے اذیتوں میں اضافہ ہوتارہتا ہے۔ آج بھی فلسطین کی صورت حال تشویش ناک ہے۔ غزہ پٹی کی جس طرح اقتصادی ناکہ بندی کرکے فلسطینیوں کو بے پناہ تکلیفوں سے گزارنے کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے، اس سے اسرائیل کے ناپاک مقصد کا اظہار ہوتا ہے۔ یہ بات افسوس ناک ہے کہ عالم اسلام اور عرب ممالک اسرائیل کو جارحیت سے روکنے کے لیے کوئی دباؤ نہیں ڈال پارہے ہیں۔ یہ بات عالم اسلام کے لیے شرم ناک اور انسانی لحاظ سے خوش آئند ہے کہ فلسطینیوں کی بے کسی کا احساس ان لوگوں نے کیا ،جن کی غالب اکثریت غیر مسلم ہے، امریکہ اور دوسرے مغربی ممالک سے تعلق رکھتی ہے، انھیں کے کوششوں سے فری غزہ مومنٹ کا قیام عمل میں آیا۔اس تحریک نے اس راہ میں حائل غیر معمولی خطرات اور عالمی صیہونی دباؤ کے باوجود اقتصادی محاصرہ کو توڑنے کے مقصد سے چالیس رضاکاروں پر مشتمل ایک گروپ سمندر کے راستے غزہ کے لیے روانہ کیا۔ یہ رضاکار مختلف قومیتوں اور ممالک سے تعلق رکھتے ہیں، ان میں ٹونی بلیئر کی اسی سالہ بہن بھی شامل ہیں۔ اسرائیل نے اس گروپ کو ڈرانے، دھمکانے اور ان کا راستہ روکنے کی ہرممکن کوشش کی ؛لیکن ان کے ناقابل شکست عزائم کے سامنے منھ کی کھائی۔ یہ گروپ سائپرس سے دوکشتیوں میں اس آبی گذرگاہ سے عازم سفر ہوئے، جن پر مدت سے کوئی کشتی نہیں گزری تھی۔ نہتے لیکن انسانی ہمدردی اور امن وآزادی کے جذبہ سے معمور یہ گروپ وہ کارنامہ انجام دینے میں کامیاب ہوا، جس کا مظاہرہ وسائل سے مالا مال عرب حکومتیں نہ کرسکیں۔ انھوں نے 23؍اگست کو اسرائیل کے اس جابرانہ محاصرہ کو توڑ دیا۔ اس واقعہ سے نئی امید پیدا ہوئی ہے اور نئے امکانات روشن ہوئے ہیں۔اسرائیل کی وزارت خارجہ نے محاصرہ کے سلسلے میں اپنے سخت گیر موقف میں تبدیلی کا اعلان کرتے ہوئے ایک اعلامیہ میں کہا ہے کہ آئندہ انسانی حقوق اور انسانی امداد سے تعلق رکھنے والے کسی مشن کو روکنے اور ڈرانے دھمکانے کی کوشش نہیں کی جائے گی۔ اب اسرائیلی حکومت کے ذمہ دار، کارگزار وزیراعظم یہود المورٹ تک کہہ رہے ہیں کہ پائدار قیام امن کے لیے کچھ مقبوضہ علاقوں کا انخلا اور فلسطینیوں کے مطالبات وجذبات کا لحاظ کرنا ہوگا۔ دوسری جانب مصری حکام نے رفح چوکی سے کچھ مریضوں کو مصر میں داخل ہونے کی اجازت دے دی ہے۔ انسانیت اور قیام امن کے لیے ایسی کوشش کرنے والوں کی ہم تحسین کرتے ہیں۔ ہمیں امید ہے کہ حالات میں دیر سویر خوشگوار تبدیل ہوگی، عالمی سطح پر قیام امن میں فلسطین کا مسئلہ اہم رول اداکرے گا۔ فلسطینیوں کی آزادی اور باعزت زندگی اور خودمختار ریاست کے قیام سے عالمی سطح پر حالات میں تبدیل کے قوی امکانات ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ امریکہ، روس اور عالمی برادری ایک خودمختار آزاد فلسطینی ریاست کے قیام میں اپنے وعدے کے مطابق تعاون کریں۔ بے گھر اجڑے فلسطین عوام کی بازآبادکاری اور گھر واپسی کے راہ ہموار کی جائے۔ عرب مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل خالی کردے۔ اس سلسلے میں ہندستانی حکومت کو بھی اپنا کردار اداکرنا چاہیے۔ یہ افسوس ناک بات ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے سلسلے میں ہندستان کی پالیسی میں امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ سے تبدیلی اور انحراف پیداہوگیا ہے۔ گاندھی، نہرو اور ملک کی سابقہ روایت وپالیسی کو نظرانداز کرکے اسرائیل سے حد سے زیادہ قربت وموافقت کی راہ پر حکومت گامزن ہے، اس کے مدنظر ہمارا مطالبہ ہے کہ ہندستان، مظلوموں، کمزوروں کی اعانت وحمایت کی سابقہ پالیسی پر چلے۔‘‘

پھر اجلاس کی تجویز نمبر(۸) میں آٹھواں مطالبہ یہ کیا کہ :

’’(۸)اور جتنی جلد ہوسکے، اسرائیل عرب مبقوضہ علاقوں کو خالی کردے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

یوم فلسطین و دعا منانے کا اعلان

جون 2008 میں مصر کی ثالثی سے چھ ماہ کی عارضی جنگ بندی (ceasefire) ہوئی تھی، جس کے تحت حماس نے راکٹ حملے روک دیے تھے اور اسرائیل نے غزہ کا محاصرہ جزوی طور پر ہٹایا تھا۔ نومبر2008 میں اسرائیلی چھاپے میں حماس کے چھ ارکان ہلاک ہوئے، جس کے بعد حماس نے راکٹ حملے دوبارہ شروع کر دیے۔ اسرائیل نے 27؍دسمبر 2008 سے 3؍ جنوری 2009تک شدید بم باری کی، جس کے نتیجے میںپہلے دن ہی 200-230 فلسطینی شہید ہوگئے۔یہ جنگ 18؍جنوری 2009ء تک جاری رہی۔عربوں نے اس جنگ کو غزہ قتل عام کا نام دیا، جب کہ اسرائیلی اسے ’’آپریشن کاسٹ لیڈ‘‘ کہتے ہیں۔

اسی تناظر میں مجلس عاملہ منعقدہ: 30؍ دسمبر2008ء میں اسرائیل فلسطین قضیہ کے سلسلے میں اسرائیلی حملے کی مذمت کرکے ایک تجویز منظور ہوئی ۔ یوم دعا و مذمت بروز جمعہ منانے اور ایک وفد مختلف ذمہ داروں سے ملاقات کرنا طے کیا گیا۔ یوم دعا و احتجاج 2؍ جنوری 2009ء کو منانے کا فیصلہ کیا گیا۔

منظور شدہ تجویز کا متن درج ذیل ہے:

’’مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس اسرائیل کی طرف سے بے قصور فلسطینی شہریوں کے مسلسل قتل عام کی پرزور مذمت کرتا ہے۔ کئی دنوں کی لگاتار وحشیانہ بم باری سے ابھی تک سیکڑوں نہتے مرد و عورت اور بچے شہید کیے جاچکے ہیں۔ اور افسوس ناک بات یہ ہے کہ دنیا میں نام نہاد امن کی علم بردار طاقتیں اس کھلی ہوئی بربریت اور جارحیت پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہیں اور اسرائیل کی طرف سے سرکاری دہشت گردی کو روکنے کے لیے کوئی مؤثر کارروائی نہیں کی جارہی ہے۔ اس صورت حال پر مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند تشویش ظاہر کرتے ہوئے شہدا کے لواحقین سے اظہار ہمدردی کرتی ہے اور دنیا کی امن پسند طاقتیں؛ بالخصوص عرب ممالک اور اقوام متحدہ سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اسرائیل کی جارحیت کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ نیز یہ اجلاس حکومت ہند سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنی سابقہ غیر جانب دارانہ پالیسی پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اسرائیل کی دہشت گردی کو روکنے لیے اپنے اثرورسوخ کا استعمال کرے۔ 

مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند ، جمعیت کی سبھی ضلعی و مقامی اکائیوں اور ائمۂ مساجد کو ہدایت کرتی ہے کہ وہ2؍ جنوری 2009ء، جمعہ کے دن اسرائیلی جارحیت پر یوم مذمت و دعا منائیں۔ 

پھر مجلس عاملہ منعقدہ: 13،14؍ فروری 2009ء کے ایجنڈا نمبر(4) کے تحت فلسطین پر تجویز مولا نا محمود اسعد مدنی صاحب نے پیش فرمائی، مجلس عاملہ نے اسے منظور ی دی، جس میں اسرائیلی رویہ کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے تئیں سابقہ پالیسی پر کار بندر ہے، ان کی نسل کشی رو کے اور حل کے لیے کلیدی رول ادا کرے۔ اس ذیل میں مولانا محمود اسعد مدنی صاحب نے کہا کہ ہندستان کے تعلقات اسرائیل سے بڑھتے جارہے ہیں اور ہندستان نہرو کی خارجہ پالیسی سے منحرف ہو گیا ہے۔

اسرائیل کی عالمی دہشت گردی ایک انسانی المیہ 

آپریشن کاسٹ لیڈ (27؍دسمبر2008-18؍جنوری 2009ء) کی تباہی وبربریت سے فلسطین زخمی زخمی تھا کہ اس کے کچھ دنوں بعد 14 فروری2009ء کو جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام ’’دہشت گردی مخالف، امن عالم کا نفرنس‘‘ منعقد ہوئی، جس میں اسرائیلیوں کی دہشت گردی کو عالمی انسانی المیہ قرار دیا۔ چنانچہ اس کے صدارتی خطاب میں کہا گیاکہ: 

’’حضرات گرامی قدر !ہم دہشت گرامی کے ضمن میں ایک ایسے سنگین مسئلے کی طرف توجہ دلانے چاہتے ہیں، جو سامراجی طاقتوں کی مدد سے صیہونیت اور اسرائیل کی عالمی دہشت گردی اور انسانی المیہ کی عالمی علامت بن گیا ہے، وہ مسئلہ ہے: عرب فلسطینیوں پر ظلم و بر بریت کا غاصبانہ قبضے کا سلسلہ۔ فلسطین کا مسئلہ گذشتہ سالوں سے پوری دنیا کے امن کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔ فلسطین کے مظلوم و مقہور بے کس اور نہتے مسلمانوں کے تئیں بڑی عالمی طاقتوں کا امتیازی رویہ دور حاضر کا بڑا المیہ ہے۔ آئے دن صیہونی غاصب اسرائیلی افواج نہتے فلسطینیوں کا بے دریغ قتل عام کرتی رہتی ہیں؛ لیکن ساری دنیا کی نام نہاد امن کی ٹھکے دارطاقتیں نہ صرف خاموش تماشائی بنی رہتی ہیں؛ بلکہ درپردہ اورا علانیہ ظالموں کا ساتھ دیتی ہیں۔ اور عرب ممالک بھی اپنی عسکری کمزوری کی بنا پر بے بسی کے ساتھ اپنے بھائیوں کی خوںریزی کا منظر دیکھتے رہتے ہیں اور کسی عملی کار روائی کی ہمت نہیں کر پاتے۔

  گذشتہ 27؍ دسمبر2008 ء سے18؍ جنوری 2009ء کے درمیانی عرصہ میں اسرائیل حماس کے زیر کنٹرول فلسطینی علاقہ: غزہ کی پٹی پربم برساتا ہے، آبادیوں کو ویران، سرکاری و رہائشی عمارتوں؛ حتی کہ مسجدوں کو مسمار کرتا رہا، حد یہ ہے کہ قبرستانوں تک کوتہس نہس کرتا رہا، بچوں اور عورتوں کے خون کی ہولی کھیلتا رہا؛ لیکن پانچ ارب آبادی والی اس وسیع دنیا میں کوئی ایسا نہ تھا، جو اس ظالم اور غاصب غیر قانونی ملک کے ہاتھ کو پکڑ پاتا، اس کے خلاف کوئی کارروائی کرتا۔اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی تجویز اس ظالم نے پوری ڈھٹائی کے ساتھ پائے حقارت سے روند دی؛ مگر وہ اقوام متحدہ- جو اپنی معمولی خلاف ورزی پر ملکوں کو اقتصادی بندشوں میں جکڑ کر کنگال بنا دیتی ہے- وہ اسرائیل کے خلاف محض بے جان مایوس آمیز بیان دینے پر اکتفا کرتی رہی۔ دنیا کے کسی خطہ میں اگر کسی عیسائی، یا یہودی کی نکسیر پھوٹ جائے، تو ان طاقتوں کو جلال آجاتا ہے؛ لیکن فلسطین میںہزاروں مرد، بچے، عورتیں بے دردی سے قتل ہو گئے؛ مگر سلامتی کونسل کے ٹھیکے داروں کے کانوں پر جوں نہیں رینگی، اس صورت حال پر جس قدر بھی افسوس کیا جائے ؛کم ہے۔ اسرائیل نے حملہ اس وقت بند کیا، جب کہ غزہ پٹی کا سب کچھ ختم ہو گیا ہے، بلکہ پوری طرح اب بھی حملہ بند نہیں ہوا ہے، اب نئی تعمیر اور باز آباد کاری کا اہم ترین مسئلہ ہے، پورا نظام اور ڈھانچہ تباہ ہو گیا ہے۔ ہماری تجویز یہ ہے کہ اسرائیل کو جنگی مجرم قرار دے کر باز آباد کاری کا خرچ اسرائیل سے وصول کیا جائے؛ ورنہ آئندہ بھی اسرائیل از سر نو تیار ڈھانچے کو تباہ کر دے گا، اس سے روکنے کے لیے اسرائیل پر مالیاتی جرمانہ عائد کرنا ضروری ہے۔

حضرات گرامی جمعیت علمائے ہند ہمیشہ سے قضیۂ فلسطین کو نہ صرف مشرق وسطیٰ ؛بلکہ پوری دنیا کا ایک اہم مسئلہ مانتی رہی ہے، جس کی شہادت وہ تجاویز ہیں، جو جمعیت کے اجلاسوں میں اس بارے میں منظور کی گئیں۔ اس مرتبہ بھی جب یہ ظالمانہ کارروائی شروع ہوئی، تو جمعیت کی طرف سے پورے ملک میں ۲؍جنوری کو ’’یوم دعا ومذمت ‘‘منانے کی اپیل کی گئی۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ فلسطینیوں کو ان کے حقوق اور مکمل آزادی ملنی چاہیے اور خود فلسطینی بھائیوں کو چاہیے کہ وہ اپنے اختلافات بھلا کر متحدہ کاز کے لیے اجتماعی جدوجہد کریں۔ حماس اور الفتح کے اختلاف کا سیدھا فائدہ اسرائیل اور اس کے آقاؤں کو ہو رہا ہے۔ اسرائیل کی طرف سے مسلسل ظلم اور قتل و تباہی نے دہشت گردی کے لیے عالمی سطح پر راہ ہموار کی ہے۔ پائیدار اور دیر پا امن کے لیے مسئلۂ فلسطین کا حل ضروری ہے۔‘‘

اس کانفرنس میں تجویز نمبر-۱۲- کو منظوری دیتے ہوئے ، جمعیت علما نے مطالبہ کیا کہ:

’’ (۸)   اور جتنی جلد ہوسکے اسرائیل عرب مقبوضہ علاقوں کو خالی کردے۔

 (۹) یہ کانفرنس اپیل کرتی ہے کہ حماس، الفتح اور دیگر فلسطینی باہمی اختلافات کو نظر انداز کرکے بااختیار فلسطینی ریاست کے قیام اور فلسطینی کاز کے لیے کام کریں۔‘‘ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

اسرائیلی جارحیت پر عالمی طاقتوں کو توجہ دہانی

18؍جون2009ء کو جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصورپوری نے ایک پریس بیان کے ذریعہ امریکہ سمیت بڑی طاقتوں سے اپیل کی کہ وہ اسرائیل کو قیام امن کے عمل کو سبوتاژ کرنے سے روکنے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

 (ہفت روزہ الجمعیۃ،26؍جون تا 2؍جولائی 2009ء)


حکومت ہند سے فلسطینیوں کی حمایت کی اپیل

3؍ نومبر2009ء کوجمعیت علما کے تیسویں اجلاس عام کے صدارتی خطاب میں مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری نے قضیۂ فلسطین اور اسرائیل کی جارحیت کا تجزیہ کرتے ہوئے حکومت ہند سے اپیل کی کہ وہ سابقہ پالیسی کے مطابق مظلوم فلسطینیوں کی حمایت کرے۔

’’یہ افسوس ناک بات ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے سلسلے میں ہندستان کی پالیسی میں امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ سے تبدیلی اور انحراف پیداہوگیا ہے۔گاندھی، نہرو اور ملک کی سابقہ روایت وپالیسی کو نظرانداز کرکے اسرائیل سے حد سے زیادہ قربت وموافقت کی راہ پر حکومت گامزن ہے۔ اس کے پیش نظر ہمارا مطالبہ ہے کہ ہندستان، مظلوموں، کمزوروں کی اعانت وحمایت کی سابقہ پالیسی پر چلے۔‘‘

بعد ازاں تجویز نمبر- ۱۴- میں جمعیت علمائے ہند نے بھی دنیا کے سامنے یہی موقف پیش کیا۔ علاوہ ازیں تجویز نمبر- ۲۴- میں اسرائیل سے تعلق کی خارجہ پالیسی پر تشویش بھی تشویش کا اظہار کیا۔ تجویز نمبر(۲۴) کا متن درج ذیل ہے:

’’جمعیت علمائے ہند کا اجلاس عام اسرائیل سے تعلق کے تناظر میں ملک کی موجودہ خارجہ پالیسی پر تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک ہونے کی حیثیت سے ملک کے معماروں، بالحصوص پنڈت نہرو نے جو ناوابستہ خارجی پالیسی اپنائی تھی، وہ ملک کی سلامتی و ترقی اور حق و انصاف کی سربلندی کے لیے نہایت ضروری تھی، لیکن افسوس ہے کہ نئے عالمی نظام سے متأثر ہوکر ملک کی سابقہ پالیسی سے انحراف ہورہا ہے، یہ پالیسی ملک کو غلامی کی طرف لے جارہی ہے، بالخصوص اسرائیل جیسے مسلمہ دہشت گرد ملک کے ساتھ ہندستان کے اسٹریٹجی والے تعلقات ملک کے مستقبل کے لیے نہایت خطرناک ہیں۔ ہندستانی حکومت کو صیہونی ریاست اسرائیل سے اپنے بڑھتے ہوئے تعلقات پر نظر ثانی کرنا چاہیے۔ ہندستان کو فلسطین کے معاملہ میں حق و انصاف کا دامن ہرگز نہیں چھوڑنا چاہیے، بلکہ ظالم اسرائیل کا ساتھ دینے کے بجائے مظلوم اور خانما برباد فلسطینیوں کو ان کا حق دلانے میں جدوجہد ضرور کرنی چاہیے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

اسرائیلی جارحیت کے خلاف عالمی برادری سے اقدامات کا مطالبہ

2006ء میں الیکشن میں حماس کی جیت کے بعدغزہ پر مکمل کنٹرول حماس کا ہوگیا تھا، جس کے پیش نظر اسرائیل نے غزہ کی ناکہ بندی کردی۔ محصورین غزہ کے لیے قبرص سے کی طرف سے  جانے والے امدادی بیڑے (فریڈم فلوٹیلا) پر اسرائیل نے 31؍ مئی 2010 ء کو حملہ کردیا۔یہ بیڑا 6 ؍امدادی جہازوں پر مشتمل تھا، جو انسانی امداد لے کر غزہ جا رہا تھا۔اس حملے میںدس ترک شہری ہلاک اور کئی زخمی ہوئے۔

یکم جون2010ء کو جمعیت علمائے ہندنے اپنے ایک پریس بیان میں غزہ پٹی کے محصور فلسطینیوں کے لیے امدادی ساز و سامان لے جانے والے چھ جہازوں پر مشتمل سات سو نہتے رضا کاروں پر اسرائیل کے وحشیانہ حملہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ یہ قافلہ قبرص سے اتوار کو روانہ ہوا تھا۔اس طرح کا حملہ انسانیت کے بنیادی اصولوں اور عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کے مترادف ہے، جس سے نہ صرف مشرق وسطیٰ؛ بلکہ اس سے پورا عالم متأثر ہوگا۔

 (ہفت روزہ الجمعیۃ،11-17 ؍ جون 2010ء)

غزہ محصورین کے لیے عملی اقدامات پر غور

22؍جون2010ء کو ملی جماعتوں کی ایک نشست بمقام دفتر جماعت اسلامی ہند منعقد ہوئی، اس نشست میں جناب نیاز احمد فاروقی صاحب اور مولانا عبد الحمید نعمانی صاحب شریک ہوئے،جس میں غزہ کی موجودہ کی صورت حال کا جائزہ، ان کے مسائل کے حل کے لیے ہماری حکمت عملی، انٹر نیشنل کا نفرنس، امداد کی شکل، فنڈ جیسے مسائل زیر غور آئے اور تفصیلی اظہار خیال کے بعد جن باتوں پر بھی کا اتفاق ہوا، اور جو فیصلے ہوئے، وہ درج ذیل ہے:

 (۱) فلسطین، خصوصا غزہ کی صورت حال اور اسرائیلی جارحیت کو اجاگر کرنے، اہل ملک اور بیرون ملک مسلمانان ہند کا نفس مسئلہ پر اپنی رائے اور احساس کو درج کرانے کے لیے ایک بین الاقوامی کا نفرنس دہلی میں کرنا طے پایا۔ اس میں فلسطین اور ملکی دانش وران سے استفادہ کیا جائے گا۔ اس سے ہمارا رابطہ بھی فلسطینی ذمے داران سے ہوگا، جس کی وجہ سے راست تعلق اور واقفیت کا تبادلہ ہوگا۔ اس دوروزہ کا نفرنس کا تخمینہ سات آٹھ لاکھ روپیہ ہوگا، جو باہم تقسیم کیا جائے گا۔

 (۲) طے پایا کہ مسئلۂ فلسطین کے عنوان سے ایک کل ہند مہم منائی جائے، جس کا مقصد رائے عامہ کی ہمواری اور مسلمان نوجوان نسل، جو نفس مسئلہ سے واقف نہیں ہیں، انھیں روشناس کرانا ہوگا، اس کے لیے ریاستی راجدھانیوں میں پروگرام، لیٹریچر کی تیاری وغیرہ کی جائے گی۔

 (۳) طے پایا کہ ایک مؤقر وفد اسرائیلی جارحیت کی مذمت اور محروم و مظلوم فلسطینیوں سے ہمدردی کے لیے غزہ جائے۔ بحری سفر مشکل ہوگا، اس لیے بہتر ہو گا کہ مصر کے راستہ غزہ جائے اور موقع ملے، تو بیت المقدس بھی جائے۔ اس وفد میں ملی تنظیموں کے نمائندے، مسلم و غیر مسلم MP's ،صحافی اور Activist حضرات بیس سے پچیس افراد کا وفد اچھی نمائندگی کر سکتا ہے۔ کوشش ہوگی کہ جلد از جلد یہ دورہ ہو، ہر فرد اپنا خرچ خود اٹھائے گا۔ 

(۴) غزہ کے حصار کو توڑنے، عالمی رائے عامہ کو بنانے اور اسرائیل پر دباؤ کو مسلسل رکھنے کے لیے بہتر ہوگا کہ جو بحری کا رواں جاتے ہیں، بطور aid اور علامت کی ایک ship ہندستانی مسلمانوں اور انسانیت دوست غیر مسلمین کی جانب سے روانہ کی جائے، اس کی بھی کوشش کی جائے گی۔

 تنظیمیں غور کریں اور بتائیں کہ اس کے کیا امکانات ہیں اور کتنا share کیا جاسکتا ہے۔ نمائندوں نے طے کیا کہ تنظیموں کے ذمے داران سے رہ نمائی حاصل کرنے کے بعد تفصیلات طے کی جائیں گی۔ اس shipمیں امدادی سامان بھی بھجوایا جا سکے گا۔ shipکی قیمت تقریبا ایک کروڑ روپیہ ہوگی۔ 

ان چاروں امور کی تفصیلی منصوبہ بندی کے لیے 2؍جولائی 2010ء ایک مشترکہ نشست ہوئی، جس میں مولانا حکیم الدین قاسمی نے شرکت کی اور اس نشست میں ایک کمیٹی کمیٹی عوامی بیداری مہم بنائی گئی۔ اس کمیٹی میں مولانا نیاز احمد فاروقی صاحب کا نام درج کرایا گیا۔

(سرگزشت، ص؍66)

شیخ حامد بیتاوی کی گرفتاری دہشت گردانہ عمل

شیخ حامد بیتاوی 27؍اگست 2010ء کو جمعہ کی نماز پڑھانے کے لیے مسجد اقصیٰ تشریف لے جارہے تھے کہ اسرائیلی فوج نے انھیں گرفتار کرلیا۔ 

28؍ا گست 2010ء کو صدر جمعیت علمائے ہند مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری نے مسجد اقصیٰ کے خطیب شیخ حامد بیتاوی کی گرفتاری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے اسرائیلی دہشت گردی قرار دیا۔ صیہونی طاقتوں کی مسلسل ظلم و ایذا رسانی اور یہاں تک کہ خانۂ خدا سے اس کے بندوں کو دور رکھنے کے بدبختانہ فیصلہ کے خلاف سخت اقدام کی ضرورت ہے۔

(ہفت روزہ الجمعیۃ،10-16؍ستمبر2010ء)

 قرآن پاک کو نذرِ آتش کیا جانا ایک ناقابلِ معافی جرم

6؍اکتوبر 2010ء کو جمعیت علمائے ہند نے غاصب یہودیوں کے ہاتھوں تاریخی مسجد انبیا اور قرآن مجید نذرِ آتش کیے جانے کو افسوس ناک اور تکلیف دہ قرار دیا ہے۔ یہ ایک ناقابل معافی جرم ہے، کسی بھی مقدس مقامات کی دانستہ بے حرمتی بین الاقوامی قوانین اور جنیوا معاہدے کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ صدر جمعیت نے اسرائیل کے ذریعہ غزہ کے عوام کی مسلسل ناکہ بندی اور اس کے باعث پیداشدہ انسانی بحران کو بدترین ظلم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے حقوقِ انسانی کے ماہرین نے اسرائیل کے جرائم پر اپنی تفصیلی رپورٹ میں چوتھے جنیوا کنونشن کی دفعہ 147 کی روشنی میں اسرائیل کے خلاف مقدمہ چلانے کا مطالبہ کیا ہے، جو بالکل بجا اور درست ہے۔ انھوں نے اقوامِ متحدہ سے اپیل کی کہ وہ اس رپورٹ کے مطابق اسرائیل کے خلاف سخت کارروائی کے لیے لائحۂ عمل مرتب کرے۔

 (ہفت روزہ الجمعیۃ،15-21؍اکتوبر2010ء)

اسرائیلی جارحیت کے خلاف عالمی برادری کو دعوت اتحاد

26؍اکتوبر2010ء کو جمعیت علمائے ہند نے عیسائیوں کے سب سے بڑے روحانی پیشوا پوپ بینڈکٹ کی دعوت پر مشرقِ وسطیٰ کے بشپس کے اجلاس میں اسرائیلی جارحیت کی مذمتی قرار داد کی ستائش کی ہے، جس میں عیسائی رہنماؤں نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ اسرائیل کو ان عرب علاقوں سے انخلا پر مجبور کرے، جس پر اس نے 1967ء میں چھ روز جنگ کے دوران قبضہ کرلیا تھا۔ اس قرار داد میں اسرائیل سے کہا گیا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف ناانصافی اور ظلم کو درست ٹھہرانے کے لیے بائبل کا استعمال نہ کرے۔

(ہفت روزہ الجمعیۃ،5-11؍ نومبر2010ء)

بیت المقدس پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت

مجلس عاملہ منعقدہ: 27؍ فروری 2012ء میں بیت المقدس پر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے درج ذیل تجویزنمبر-۲- منظور کی:

’’مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس حالیہ دنوں میں اسرائیل کی طرف سے بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی اور مقامی فلسطینی آبادی پر ظلم و تشدد کی کارروائی کی سخت مذمت کرتا ہے۔ ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق گذشتہ کئی مہینوں سے مسجد اقصیٰ کے ارد گرد اسرائیلی افواج نے حفاظتی گھیرا سخت کر رکھا ہے اور مسجد اقصیٰ میں نماز کے لیے آنے والے فلسطینیوں کو سخت نگرانی سے گذرنا پڑتا ہے اور اس پر احتجاج کرنے والوں پر جبرو تشدد کیا جاتا ہے اور اسرائیلی افواج مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کرنے سے بھی باز نہیں آتی ہے۔ اسرائیلی افواج کا یہ عمل پوری ملت اسلامیہ کے لیے سخت اذیت کا باعث ہے۔ جمعیت علمائے ہند اس جارحیت کی سخت مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اسرائیل کی اشتعال انگیز کارروائیوں پر بند لگانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ ‘‘

مسجد ابراہیمی پر اسرائیلی پرچم کشائی کی مذمت

29؍ اپریل2012ء کو جمعیت علمائے ہند نے درج ذیل پریس بیان جاری کیا:

’’ اس وقت مشرق وسطیٰ کی صورت حال دھماکہ خیز بنی ہوئی ہے۔ یہودیوں کی غاصبانہ اور ناجائز مملکت اسرائیل کی بربریت نے فلسطینی مسلمانوں کی زندگی اجیرن کردی ہے، کبھی غزہ کی ناکہ بندی کردی جاتی ہے، تو کبھی نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی ٹینک کی بے دریغ گولہ باری سے درجنوں معصوم بچے اور خواتین شہید ہوجاتے ہیں، کبھی یہودی لابیاں مسجد اقصیٰ کی شہادت کے لیے سرنگ کھودنے کی ناجائز کوشش کرتی ہیں،تو کبھی اسرائیلی افواج مسجد میں گھس کر اس کے احترام کو پامال کر نے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی ہیں، اب مسجد ابراہیمی پر اسرائیلی پرچم لہرا کر ایسی مجرمانہ حرکت کی ہے، جو دنیا کی نگاہ میں سنگین جرم اور مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت ہے۔ ان حالات کے تناظر میں جہاں صہیونی طاقتوں کے توسیع پسندانہ عزائم پر نکیل کسنا ضروری ہے، وہیں اسرائیل کی مجرمانہ حرکتوں پر کنٹرول کرنے کے لیے عالم اسلام کو سنجیدہ ہونا ہوگا۔

(ہفت روزہ الجمعیۃ،یکم تا 7؍جون 2012ء)

اکتیسویں اجلاس عام میں اسرائیل جارحیت کی مذمت

 19؍ مئی 2012ء کو منعقد اکتیسویں اجلاس عام کے خطبۂ صدارت میں مسئلۂ فلسطین اور القدس کی صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا گیا کہ:

’’عرب فلسطینیوں کی مظلومی ومقہوریت، امریکی وبرطانوی سازش اور اسرائیل کے ظلم وجارحیت اور عربوں کی زمین پر قبضہ کرنے کی ناپاک خواہشات کی علامت بن چکی ہے، جمعیت علمائے ہند نے ہمیشہ اسرائیل کے عزائم واقدامات کی مذمت ومخالفت اور فلسطینیوں کے حق ومطالبہ کی حمایت کی ہے۔ اس وقت خطے میں حالات بہت دھماکہ خیز ہیں۔ مسجد اقصی کا وجود معرض خطر میں ہے۔ اسرائیل اپنے ناپاک مقصد کے تحت اس کو ختم کردینے کے درپے ہے۔آئے دن ایسے اقدامات کرتا رہتا ہے ، جن سے مسجد اقصیٰ کے وجود کو لاحق خطرات میں اضافہ ہورہاہے۔‘‘

اسی خطبہ میں آگے کہا گیا کہ:

’’ یہ شرم ناک بات ہے کہ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں اور افراد کے قافلے کو بھی اسرائیل اپنی بربریت و زیادتیوں کا نشانہ بنانے سے باز نہیں آتاہے اور انسانی ضروریات ؛ حتیٰ کہ ادویہ کی فراہمی سے بھی روک دیتا ہے ۔ مختلف عالمی اداروں ؛ حتیٰ کہ امریکی وزیر خارجہ کے کہنے کے باوجود اسرائیل نہ تو فلسطینی علاقوں سے یہودی بستیاں ہٹانے کے لیے تیار ہے، نہ نئی بستیاں بسانے پر روک لگارہا ہے۔

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی اس تنقید کے باوجود کہ مغربی کنارہ پر اسرائیل کی طرف سے کوئی بھی بستی غیر قانونی ہے ، نئی بستیوں کی تعمیر جاری رکھے ہوئے ہیں ۔ ابھی حال ہی میں اسرائیل نے نئی یہودی آبادیوں کی تعمیر کی ہے ، ایسا اس کے باوجود ہورہاہے کہ ماہ اپریل کے اوائل میں امریکہ سمیت یورپی یونین، روس اور اقوام متحدہ نے مذمت کی تھی۔‘‘

آگے مزید کہا گیا کہ:

’’یہ افسوس ناک بات ہے کہ اسرائیل اور فلسطین کے سلسلے میں ہندستان کی پالیسی میں امریکہ اور اسرائیل کے دباؤ سے تبدیلی اور انحراف پیداہوگیا ہے۔ گاندھی، نہرو اور ملک کی سابقہ روایت وپالیسی کو نظرانداز کرکے اسرائیل سے حد سے زیادہ قربت وموافقت کی راہ پر حکومت گامزن ہے۔ اس کے پیش نظر ہمارا مطالبہ ہے کہ ہندستان، مظلوموں، کمزوروں کی اعانت وحمایت کی سابقہ پالیسی پر چلے۔‘‘

پھر تجویز نمبر- ۱۱- منظور کرتے ہوئے ، پوائنٹ نمبر (۶) میں مطالبہ کیا کہ:

’’۶ ۔ یہ اجلاس مرکز کی یوپی اے حکومت سے مطالبہ کرتاہے کہ وہ کروڑوں انصاف پسند انسانوں کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور دوستی کی پالیسی پر فورا نظر ثانی کرے ، ساتھ ہی یہ اجلاس مرکزی حکومت کو متنبہ کرتاہے کہ اگر اس نے عوام کے جذبات کی پروا نہ کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں یہی روش جاری رکھی، تو اسے ہندستان میںسیاسی اور انتخابی نقصانات کا ہر حال میں سامنا کرنے پڑے گا ۔‘‘

اسرائیلی جارحیت کے خلاف عالمی برادری سے اپیل

مجلس عاملہ منعقدہ: 28؍ اگست 2012ء کی تجویز نمبر- ۳- کے ذریعہ اسرائیلی جارحیت و بربریت کو روکنے لیے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مؤثر اقدام کی اپیل کی گئی۔

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس اسرائیلی جارحیت اور روز بروز اشتعال انگیزی کی سخت مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مؤثر اقدام کی اپیل کرتا ہے۔ مسجد اقصیٰ اور دیگر مقدس مساجد کی بے حرمتی، ان کے جوار میں رقص و سرور، شراب نوشی اور میلے وغیرہ کا انعقاد کرکے مسلم امور میں اضطراب و اشتعال پیدا کرکے فلسطین سے متعلق بات چیت کے عمل کو معطل کردینا چاہتا ہے۔ اسرائیل جس طرح فلسطینیوں کو نشانہ بنارہا ہے اور مقدس عبادت گاہوں کی بے حرمتی کر رہا ہے، اس سے حالات انتہائی دھماکہ خیز ہوگئے ہیں اور قیام امن کی امید کم سے کم؛ بلکہ موہوم ہوگئی ہے۔ اس کی طرف سے پوری کوشش کی جارہی ہے کہ خود مختار فلسطینی ریاست کی راہ مسدود ہوجائے۔ اور یہ انتہائی تشویش کی بات ہے کہ عالمی برادری اور ادارے اسرائیل کی سرکشی پر روک لگاکر امن کی راہ پر لانے میں اب تک ناکام رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ہندستان بھی اپنا رول تقریبا ختم کرچکا ہے۔ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ موجودہ حکومت فلسطین کے معاملہ میں گاندھی، نہرو کی پالیسی سے منحرف ہوکر پوری طرح اسرائیل کے زیر اثر آگئی ہے۔ عرب ممالک بھی باہمی اختلافات کے سبب اپنا وزن ختم کرچکے ہیں ۔ مذکورہ باتوں کے مدنظر مجلس عاملہ کا یہ اجلاس عالمی برادری سے اپیل کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کو مسلسل جارحیت اور اشتعال انگیزی سے روکے اور امن کا عمل جاری کرکے خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرے۔ نیز فلسطینی عوام کی گھر واپسی کا انتظام اور مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل سے خالی کرانے کی سمت میں بھی ضروری اقدام کیے جائیں۔ اگر اسرائیل سرکشی سے باز نہ آئے، تو اس پر اقتصادی پابندی عائد کی جائے۔ 

یہ اجلاس حکومت ہند سے بھی مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اسرائیل سے متعلق اختیار کردہ موجودہ پالیسی پر نظر ثانی کرے اور اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے اسرائیل کو منصفانہ اور امن کی راہ اپنانے پر آمادہ کرے۔‘‘ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍ 

اسرائیل کی ریشہ دوانیوں سے آگاہ رہنے کی ہدایت

 بھارت کے سولھویں لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے واضح اور قطعی اکثریت حاصل کر کے،26؍مئی 2014 کونریندر مودی کوبھارت کے وزیر اعظم کے حلف دلاکر نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (NDA) کی حکومت تشکیل کی۔

اس حکومت کی تشکیل سے دو دن قبل 24؍ مئی 2014ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، جس میں نئی این ڈے اے حکومت کو اسرائیل کی ریشہ دوانیوں سے آگاہ رہنے کی ہدایت کرتے ہوئے، ایک تجویز میں یہ مطالبہ بھی کیا کہ :

’’۶۔جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ انصاف کا ساتھ دیتے ہوئے مظلوموں کی حمایت کی اپنی دیرینہ پالیسی پر عمل کرے۔ یہ اجلاس نئی سرکار کو اس طرف متوجہ کرنا اپنا وطنی و قومی فریضہ سمجھتا ہے کہ وہ اسرائیل کی ریشہ دوانیوں سے آگاہ رہ کر ملکی امور میں مداخلت کا موقع نہ دے۔‘‘ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

 

اسرائیل پر اقتصادی پابندی لگانے کا مطالبہ 

8؍جولائی 2014 ء سے آپریشن پروٹیکٹو ایج کے نام سے جنگ شروع کی، جو  تقریباً 50 دن تک چلی،جس کے تحت اسرائیلی فوج کی طرف سے غزہ کی پٹی پر مسلسل فضائی، سمندری اور زمینی بم باری کی گئی ۔ 

14 ؍ جولائی 2014ء کو جمعیت علمائے ہند نے غزہ پٹی پر اسرائیل کی فضائی اور زمینی حملے کی سخت مذمت کر تے ہوئے اسے کھلی جارحیت اور عالمی برادری کی ناکامی قراردیا۔ اب وقت آگیاہے کہ عالمی برادری، اسرائیل کی جارحیت و بربریت کو روکنے کے لیے اس کے خلاف اقتصادی پابندی لگائی جائے۔ (سرگزشت ، ص؍222)

انسانیت بچاؤ احتجاجی تحریک

غزہ میں انسانیت سوز سفاکانہ صہیونی بربریت کے خلاف احتجاج اور ہزاروں فلسطینی شہدا اورلاکھوں زخموں سے چور خانماں برباد فلسطینی پناہ گزینوں کو انصاف دلانے کے لیے جمعیت علمائے ہند نے ملک گیر’’ انسانیت بچاؤ احتجاجی ہفتہ مہم‘‘ چلانے کا فیصلہ کیا ۔ چنانچہ پریس ریلیز کے مطابق: 

یہ مہم بتاریخ4؍اگست 2014ء بروز پیر شروع ہوگی اور بتاریخ 8؍اگست 2014ء بروز جمعہ جاری رہے گی۔ جمعہ کی نماز میں تمام ملک کی مساجد میں ائمہ حضرات مذمتی جمہوری قرارداد پیش کریںگے اور مستحکم امن کے قیام کے لیے دعاؤں کا اہتمام کریں گے۔ ان شاء اللہ!اس دوران روزانہ نماز فجر میں ائمہ حضرات قنوت نازلہ کا بھی اہتمام کریں گے۔

یہ مہم صرف مسلمانوں کی نہیں ہے؛ بلکہ یہ انسانیت بچاؤ تحریک ہے ۔ہم بلا لحاظ مذہب و ملت تمام انصاف پسند برادران وطن کو اس میں شریک کرکے انسانیت کے جذبے کو بیدار کرنا اور ظلم کے خلاف ایک ساتھ مل کر لڑناچاہتے ہیں۔ ظلم و تشدد کے خلاف پر امن جہاد اس تحریک کا عین مقصد ہے۔ تحریک کے اس عظیم اور وسیع مقصد کے پیش نظر ہمیں مساجد کے دائرے سے باہر نکل کر جمہور عوام کو بیدار کرنے کے لیے اوران کو اس عظیم تحریک میں شریک کرنے کے لیے عصر حاضر میں مروج میڈیا کا مثبت استعمال کرناہوگا، لہذا ہم نے درج ذیل طریقہ کار اپنانے کا فیصلہ کیا ہے :

(۱) مسڈ کال کے ذریعہ احتجاج۔ میڈیا اور اخبار وںمیں مشتہر مخصوص نمبر پر تحریک کے ایام کے دوران ملک کے گوشے گوشے سے لوگ مسڈ کال کریں گے ،ہر کال کرنے والے کو جوابی ایس ایم ایس ملے گا اور مقرر میڈیا ایجنسی ہر علاقے کی تمام کالوں کو حلقہ بہ حلقہ باقاعدہ ریکارڈ کرے گی۔تمام احتجاج کرنے والوں کی مصدقہ تعداد کے ریکارڈ کے ساتھ متعلقہ عالمی اداروں اور سفارت خانوں کو مذمتی قرارداد ارسال کی جائے گی۔جتنی زیادہ تعداد میں کالیں ہوں گی، تحریک اتنی ہی مؤثر سمجھی جائے گی۔

(۲) منتخب ٹی وی چینلوں پر تحریک کے ایام میں عوامی بیداری اور مسڈ کال اپیل کے لیے پٹی چلائی جائے گی۔

(۳) منتخب ریڈیو چینلوں پر آڈیو اپیل نشر کی جائے گی۔

(۴) شوشل میڈیا ،فیس بک، ٹیوٹر اور واٹس اپ کے ذریعہ ویڈیو اور آڈیو اپیل کی جائے گی۔

(۵) ملک گیر سطح پر اخبارات میں مسڈ کال کے لیے مخصوص نمبر اور اپیل شائع کی جائے گی۔

جمعیت علما کے احباب اورخصوصی معاونین سے ہم درخواست کرتے ہیں کہ ’’انسانیت بچاؤ احتجاجی تحریک‘‘ میں شرکت کے لیے پیش قدمی کریں، اس عظیم اور وسیع کام کے لیے عملی اور مالی تعاون کی ضرورت ہے۔

 چنانچہ 8؍اگست 2014ء کو جمعیت علما کی اپیل پراسرائیل کی جارحیت کے خلاف پورے ملک میں اس کے مرکزی مقامات اور مساجد میں یوم دعا و احتجاج منایا گیا۔اور چار ہی دن میں ساڑھے پانچ لاکھ مسڈکال آئے۔

ضلع مجسٹریٹ کے ذریعہ جو منظور شدہ میمورنڈم اقوام متحد ہ کے سکر یٹری جنر ل، وزارت خارجہ حکومت ہند اور اسرائیلی سفیر برائے ہندستان کو ارسال کیا گیا، اس میں ۲۰۰۰؍ معصوم فلسطینیوں کے شہید کیے جانے کے ساتھ فلسطینی آبادیوں ،پناہ گزیں کیمپوں، مساجد اور رہائشی علاقوں پر حملے کو نسل کشی قراردیاگیا ہے اور مطالبہ کیا گیاہے کہ:

٭ اسرائیلیوں کے قاتلانہ حملے کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرنے کے لیے نیز(آیندہ بھی) سفاکانہ فوجی کارروائی روکنے کے لیے اقوام متحدہ کا ایک مخصوص اجلاس طلب کیا جائے ۔  

٭ برسوں سے جاری غزہ کا محاصرہ اور ناکہ بندی کو ختم کیا جائے ۔

٭ جانی اور مالی نقصان کااندازہ لگانے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے ۔

٭ تمام جانی ومالی نقصانات کے لیے اسرائیل کو جواب دہ بنایاجائے اور اسے مجبور کیا جائے کہ جانی ومالی نقصانات کی بھرپائی کے لیے معاوضہ دے۔

٭ اس بات کو یقینی بنایاجائے کہ اسرائیل بین الاقوامی قوانین اورمعاہدے کا احترام کرے۔

٭ اقوام متحدہ ،غزہ کے متأثرہ افراد تک ریلیف پہنچائے اور ان کے لیے بازآباد کاری کا کام کرے۔

 (ہفت روزہ الجمعیۃ،15-21؍ اگست 2014ء۔ سکریٹری رپورٹ، ص؍225)

بتیسویں اجلاس عام میں اسرائیلی بربریت کا تذکرہ 

 حضرت مولانا قاری سیّد محمد عثمان صاحب منصورپوری کی صدارت میں16؍ مئی 2015ء کو جمعیت علمائے ہند کا بتیسواں اجلاسِ عام ہوا۔صدارتی خطاب میں اسرائیل کی بربریت کا تجزیہ کرتے ہوئے صدر محترم نے فرمایا کہ:

’’جس طرح یورپی ومغربی ممالک نے ایک منصوبہ بند حکمت عملی اور سازش کے تحت عرب فلسطینیوں کی زمین پر ان کو بے دخل کرکے ناجائز طریقہ پر اسرائیلی حکومت قائم کی اور یہودیوں کو بسانے کا کام کیا ،وہ سب کے سامنے ہے۔اسرائیلی حکومت نے اپنے قیام سے لے کر اب تک جو ظلم و بربریت او رغاصبانہ اقدام کی مجرمانہ تاریخ رقم کی ہے ، اس نے عالمی برادری اور امن پسند ممالک کے سامنے اہم سوال کھڑا کردیا ہے کہ وہ مظلوموں کے ساتھ ہیں،یا ظالموں اور غاصبوں کے؟ہندستان کے تعلق سے یقینا یہ بات قابل تعریف ہے کہ اس نے ہمیشہ مظلوموں اور کمزوروں کا ساتھ دیاہے ، اورکچھ دنوں پہلے تک گاندھی ،نہرو کی پالیسی پرچلتے ہوئے ہندستان نے مظلوم فلسطینیوں کے کاز کی حمایت کی ہے ، لیکن افسو س کی بات ہے کہ اب کچھ اسرائیل نواز عناصر کے دباؤ میں ہندستان کا جھکاؤ اسرائیل کی طرف بہت زیادہ ہوگیا ہے اور وہ ہندستان کے بہت سارے اندرونی معاملات میں دخیل ہوگیا ہے ۔زبانی طور پر اب بھی یہی کہا جارہاہے کہ ہندستان کی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے؛ لیکن عملا بنیادی موقف میں بہت کچھ تبدیلی آچکی ہے۔گزشتہ دنوں اسرائیل نے غزہ پر جس طرح حملہ کرکے ۲۲۰۰؍ سے زائدافراد-جن میں زیادہ تر عورتیں اور بچے تھے- کو ہلاک اور بنیادی ڈھانچے کو ختم کردیا ہے، اس موقع پر ہندستان کو اور عالمی برادری کو جو رول اداکرنا چاہیے، وہ نہیں کیا؛ بلکہ دفاع کے نام پر اسرائیل کے جارحانہ اور وحشیانہ اقدام کی امریکا، برطانیہ نے حمایت کی اور اب بھی کسی نہ کسی طور سے حمایت کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیل کی سرکشی اور بربریت کا بھیانک نمونہ یہ بھی ہے کہ اس نے اقوام متحدہ کی عمارتوں کو بھی حملہ کا نشانہ بنایا، جن میں بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے۔ اب وقت آگیا ہے کہ اسرائیل کی سرکشی اور جارحیت پرپوری طرح روک لگائی جائے۔‘‘

اسرائیلی وزیر اعظم کی متوقع ہندستان آمدپر احتجاج کی دھمکی 

12؍نومبر 2015ء کو  جمعیت علمائے ہند نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی متوقع ہندستان آمداور استقبال کی اطلاع پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل سے متعلق مرکزی سرکار کی تیزی سے بدلتی ہوئی خارجہ پالیسی کی مذمت کی۔ناظم عمومی مولانا محمود اسعد مدنی صاحب نے کہاکہ اگر اسرائیلی حکومت کے سربراہ کا ہندستان میں آمد اور استقبال ہوگا،تو جمعیت علمائے ہند اس کے خلاف سخت احتجاج کرے گی۔غاصب و جارح ظالم اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کی ہندستان آمد اور استقبال کی تیاریوں کی اطلا ع سے مہذب دنیا میں ہندستان کی شبیہ خرا ب ہورہی ہے ۔ (ہفت روزہ الجمعیۃ،20-26؍نومبر2015ء)

اسی طرح مجلس عاملہ منعقدہ:12؍ نومبر2015ء کی میٹنگ میں بھی اسرائیلی وزیر اعظم کی بھارت آمد کی مخالفت کرتے ہوئے احتجاج کا فیصلہ کیا گیا۔

بیت المقدس سے اسرائیلی غاصبانہ قبضہ ہٹانے کا مطالبہ

13؍ نومبر2016ء کو منعقد  تینتیسویں اجلاس عام کی ایک تجویز میں فیصلہ کیا گیاکہ:

’’(۳)اب جب کہ مسجد اقصیٰ پر مسلمانوں کی تولیت کا فیصلہ ہو گیا ہے ، تو بلاتاخیر بیت المقدس سے اسرائیل اپنا غاصبانہ قبضہ ہٹائے اور اوسلو معاہدہ کے مطابق القدس شہر کا کنٹرول فلسطینیوں کے حوالے کیا جائے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

اسرائیلی صدر کی آمد پر جشن منانے پر تنقید

از:14، تا21؍نومبر2016ء اسرائیل کے صدر  ووین ریولن ہندستان کے دورے پر آئے۔ جس پر جمعیت علمائے ہند نے 15؍نومبر2016ء کو ایک پریس بیان جاری کرکے اس کی شدید مذمت کی ۔ چنانچہ تجویز میں کہا گیاکہ:

’’اسرائیلی صدر ووین ریولن کی ہندستان آمد پر پچیس سالہ سفارتی تعلقات کا جشن منانے پر تنقید کرتے ہوئے جمعیت علمائے ہند نے اسے صدیوں کی تہذیب و روایت پر حملہ قرار دیا ہے۔ہندستان نو آباد استعماری طاقتوں کے مظالم کا دکھ اور درد جھیل چکا ہے، یہی وجہ ہے کہ ملک کے معماروں نے آزادی وطن کے بعد استعماریت اور نسل پرست طاقتوں کے مقابلے ہمیشہ مظلوموں کا ساتھ دیا؛ لیکن موجودہ سرکار ان تمام پالیسیوں کو بدل کر ملک کی انسانیت دوست شبیہ کو داغ دار کرنے پر تلی ہوئی ہے۔آج سے پچیس سال قبل 1992ء میں ہندستان نے قیام امن کی کوشش کے مقصد سے اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم کیے تھے ؛لیکن اب وہ غاصب اور نسل پرست حکومت کی حمایت میں تبدیل ہوتے جارہے ہیں۔ اسرائیل کے ساتھ جشن میں شریک ہونا، یا اقتصادی و معاشی تعلق قائم کرنا اس کے جنگی جنون نسل پرست سوچ اور نسل کشی میں مالی و اخلاقی مدد کرنے کے مرادف ہے۔ (ہفت روزہ الجمعیۃ،25؍نومبرتایکم دسمبر2016ء)

 اسرائیلی صدر کی آمد کے خلاف احتجاجی اجلاس

بعد ازاں 18؍ نومبر2016ء کو جنتر منتر نئی دہلی پر امیر الہند مولانا قاری محمد عثمان صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہند کی صدارت میں اسرائیلی صدر کی ہندستان میں موجودگی کے خلاف زبردست احتجاجی اجلاس کیا گیا۔ چنانچہ جمعیت علمائے ہند کی طرف سے جاری پریس رپورٹ میں پوری منظر کشی گئی، جو درج ذیل ہے:

’’دہلی کے جنتر منتر پرہندستان کی اہم ملی و سماجی جماعتوں نے متفقہ طور سے اسرائیل کو دہشت گرد ملک بتاتے ہوئے اس کے صدر ریولن کی ہندستان آمد کی سخت مذمت کی اور حکومت ہند کو متنبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کے سلسلے میں دوہرے معیار سے باز آئے۔ اس موقع پر صدر جمہوریۂ ہند کے نام ایک میمورنڈم راشٹرپتی بھون جا کر دیا گیا، جس پر جمعیت علمائے ہند، جماعت اسلامی ہند، آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت، انہد، اے آئی یو ڈی ایف، جامعہ کلیکٹیو، آل انڈیا تنظیم انصاف، دہلی میوات وکاس سبھا، شولڈر ٹو شولڈر، فلسطین سولیڈرٹی کمپین لندن وغیرہ کے دستخط تھے، اس میں بھی اسرائیل کو دہشت گرد ملک کہا گیا اور ہندستان سے اپنے تعلقات پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا گیا۔ جنتر منتر پر دہلی، مغربی یوپی اور میوات، بنگال اور اوڈیشہ سے آئے دو ہزار افراد مختلف قسم کے پلے کارڈ کے ساتھ ریولن واپس جاؤ، ظالم سے گریاری ہے ،دیش سے غداری ہے، ریون بد آمدید، دہشت گرد کے ساتھ بھارت کی دوستی منظور نہیں جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ اس موقع پر مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری صدر جمعیت علمائے ہند، محمد سلیم انجینئر سکریٹری جنرل جماعت اسلامی ہند، نوید حامد صدر آل مسلم مجلس مشاورت، شبنم ہاشمی انہد، ڈاکٹر ظفر الاسلام خان، مولانا جلال حیدر نقوی جوائنٹ سکریٹری مجلس علمائے ہند، مفتی عفان منصور پوری امرو ہہ، مولانا نیاز احمد فاروقی رکن مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند، مولانا حکیم الدین قاسمی سکریٹری جمعیت علمائے ہند، مولانا قاری شوکت علی صاحب مہتمم مدرسہ اعزاز العلوم ویٹ ورکن مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند وغیرہ نے خطاب کیا۔ اسی طرح کا مظاہرہ ملک کے دوسرے حصے میں بھی منعقد ہوئے۔ بہرائچ میں مولانا حیات اللہ قاسمی رکن مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کی قیادت میں ہزاروں لوگوں نے احتجاج کیا اور وہاں کے کلکٹر کے ذریعہ صدر جمہوریۂ ہند کواپنا میمورنڈم پیش کیا۔ جنتر منتر پرلوگوں نے انہد کے ذریعہ پیش کردہ ایک بورڈ پر بھی دستخط کیا، جو فلسطین کی حمایت میں اس کے دہلی سفارت خانہ کو ارسال کیا گیا۔

جنتر منتر پر صدر جمعیت علمائے ہند مولانا قاری سید محمد عمان منصور پوری صاحب نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ اسرائیل دنیا میں دہشت گردی کا سر پرست ہے، اپنے قیام سے لے کر آج تک کوئی دن ایسا نہیں گزرا، جب اس نے فلسطینیوں پر ظلم وستم نہ کیا ہو، ایسے ملک سے سفارتی تعلق کا دائرہ بڑھانا بہت ہی افسوس کی بات ہے۔اسرائیل کا معاملہ دنیا کے دیگر مسائل سے بالکل الگ ہے، اس نے کچھ طاقتوں کی مدد سے فلسطین کی سرزمین پر قبضہ کیا ہے اور اس میں ظالمانہ طور سے توسیع کرتا جا رہا ہے، وہاں کے شہریوں کو اپنے خونی پنجۂ استبداد سے بے بس کر رہا ہے، ان کو قتل کرتا ہے اور ان کی بستیوں پر قبضہ کر کے دنیا بھر سے یہودیوں کو بلا کر بساتا ہے، ایسے ملک کے صدر کا ہندستان میں استقبال نہیں کیا جاسکتا۔ جمعیت علمائے ہند دہشت گردی کے خلاف طویل جد و جہد کر رہی ہے، اس نے ایک سال قبل 18 نومبر کو آج کے ہی دن اسی جگہ داعش کے خلاف احتجاج کیا تھا، آج بالکل اسی طرح اسرائیل کے خلاف احتجاج کر رہی ہے، جو ظاہر کرتا ہے کہ جمعیت علمائے ہند دہشت گردی کے سلسلے میں کوئی تفریق نہیں کرتی ہے اور نہ کسی کو کرنے دے گی۔

جماعت اسلامی ہند کے ڈاکٹر سلیم انجینئر نے کہا کہ جب سے اسرائیل سے سفارتی تعلق قائم ہوا ہے، ہمارے ملک میں بدامنی اور انار کی بڑھی ہے، جس سال 1992ء میں تعلق قائم ہوا، اسی دن بابری مسجد کا سانحہ ہوا، پھر گجرات فسادات ہوئے۔

 ڈاکٹر ظفر الاسلام خاں نے کہا کہ ایک دہشت گرد ملک کو آج رول ماڈل کہا جا رہا ہے، اسرائیل وہ ملک ہے جس کی بنیاد ہی ظلم اور غصب پر رکھی گئی اور ہندستان کے معماروں نے قیام اسرائیل کے وقت اس کا وجود ماننے سے انکار کر دیا تھا، مگر آج اسی ملک سے ہتھیار خریدا جا رہا ہے۔ تعلیمی، اقتصادی اور زراعت میں اشتراک کیا جا رہا ہے، جس کا ہمیں بہت ہی افسوس ہے۔ ہمیں خوشی ہے کہ جمعیت علمائے ہند نے آج یہاں احتجاج کر کے فرض کفایہ ادا کیا ہے۔ہم اسرائیل کے صدر کوفوری طور سے ملک سے جانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔

نوید حامد صدر آل انڈیا مجلس مشاورت نے بھی میمورنڈم کی تائید کرتے ہوئے سرکار سے کہا کہ وہ اسرائیل سے اپنے تعلقات سے پہلے کم از کم یہ تو سوچ لے کہ ہمارا ملک بھی دوسروں کے قبضے میں تھا اور ہم بھی آزاد ہوئے، انھوں نے جمعیت علمائے ہند کی کوششوں کی بھر پور تائید کی۔ 

مولانا جلال حیدر نقوی نے اپنی طرف سے بھر پور تعاون کی یقینی دہانی کرائی اور کہا کہ اسرائیل کی دہشت گردی پوری دنیا پر عیاں ہے۔

 مفتی عفان منصور پوری نے اسرائیل سے دوستی کو ملک سے دشمنی قرار دیا۔

 پروگرام کے بعد مولاناحکیم الدین قاسمی، مولانا نیاز احمد فاروقی، مولانا یحیٰ کریمی، مولانا ظہور احمد سہارن پورپر مشتمل ایک وفد نے راشٹرپتی بھون جا کر صدر جمہوریۂ ہند کے نام ایک میمورنڈم بھی پیش کیا۔میمورنڈم کا متن درج ذیل ہے:

ہم دہشت گرد ملک اسرائیل کے صدر ریولن کی ہندستان آمد اور ان کے استقبال کی مذمت کرتے ہیں۔ ہندستان کے عوام نے ہمیشہ فلسطینی کاز کی حمایت کی ہے، نیز اسرائیلی جارحیت و دہشت گردی کے متأثرین تباہ حال فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔ دہائیوں سے ہمارے ملک کی خارجہ پالیسی انسانی حقوق کے تحفظ اور عالمی امن کی حمایت میں رہی ہے۔ مگر ان دنوں اس سے انحراف کی راہ اختیار کی جارہی ہے۔ ہم ہندستان کے عوام، سرکار کے اس رویے کو بالکلیہ طور سے غلط اور ملک کی قدیم تہذیب و روایت کے منافی تصور کرتے ہوئے مسترد کرتے ہیں۔

اسرائیل سے ہندستان کا سفارتی تعلق آج سے پچیس سال قبل قیام امن کی سعی کے طور پر قائم ہوا تھا، جس کا مقصد فلسطین کے عوام کو انصاف دلانے کا ایک پلیٹ فارم مہیا کرنا تھا، لیکن اس سے فلسطینی عوام کو فائدہ نہیں پہنچا ،تاہم اسرائیل ایسے اقدام سے حوصلہ پاکر عالمی طاقتوں سے رشتہ قائم کرنے میں کامیاب ہو گیا، یہ طاقتیں بھی فلسطین میں جاری انسانیت کش مظالم میں ملوث ہیں۔1992ء سے ہندستان اور اسرائیل کے مابین تجارت، معیشت، ٹیکنالوجی، فوج، تعلیم و ثقافت سمیت تمام محاذوں پر تعلقات میں اضافہ ہوا ہے؛ لیکن فلسطین کے عوام امن و انصاف کے قیام سے اب تک کوسوں دور ہیں۔

ہمارا یہ ماننا ہے کہ اسرائیل اور ہند کے مابین تعلقات میں کوئی بھی چیز خوش ہونے اور جشن منانے کی نہیں ہے، نہ تو فلسطینی عوام کے لیے اور نہ ہی ان ہندستانی شہریوں کے لیے جو جمہوریت، امن اور حقوق انسانی کے حامی ہیں۔ حکومت ہند یہاں کے عوام کی اکثریت کے رائے وسوچ کے خلاف اسرائیل کی غیر جمہوری اور مکمل طور سے نسل پرست حکومت کے ہاتھ میں ہاتھ ڈال کر چلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہم اسرائیل کے صدر ریولن کی ہندستان آمد- جس کا مقصد ہند اسرائیل کے مابین تعلقات کو مستحکم کرنا ہے- اس لیے بھی مسترد کرتے ہیں ؛کیوں کہ یہ اسرائیل کے ذریعے مسلسل بین الاقوامی قوانین کی مخالفت اور حقوق انسانی کی پامالی کی پشت پناہی کے مترادف ہے۔ اسرائیل نے اپنے مکر وہ کردار و عمل سے خطۂ عرب کو بدامنی کا گہوارہ بنا دیا ہے اور فلسطینی شہریوں کی اکثریت کو ان کے گھروں سے نکال کر اور ان کی بستیوں کو تباہ کر کے پناہ گزیں زندگی گزارنے پر مجبور کر رکھا ہے۔ اس کے علاوہ 1967ء سے ناجائز طور پر تسلط حاصل کر کے غزہ اور مغربی کنارے کے عوام پر ہر طرح کے مظالم کو روا کر رکھا ہے۔

 ہم اقوام متحدہ کے ادارے یونیسکو کے ذریعے مسجد اقصیٰ اور دیوار براق پر مسلمانوں کے اولین حق کے فیصلے کی پرزور حمایت کرتے ہیں۔ مسجد اقصیٰ مسلمانوں کا قبلۂ اول اور نہایت ہی قابل احترام مسجد ہے، اس لیے اس کا تعلق صرف فلسطین سے نہیں؛ بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں سے ہے۔ گزشتہ چند برسوں میں اقوام متحدہ نے مظلوم فلسطینیوں کے حق میں کئی تجاویز منظور کی ہیں؛ لیکن یہ انتہائی قابل مذمت ہے کہ اسرائیل عالمی برادری اور اقوام متحدہ کے فیصلوں کی مسلسل تو ہین اور خلاف ورزی کرتا رہا ہے اور مختلفطریقوں سے فلسطینی بچوں، عورتوں اور کمزوروں کو قتل کرتا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اسرائیل کو بین الاقوامی حقوق انسانی چارٹرس کی کوئی پروا نہیں ہے۔

 اس لیے ہم عالمی برادری، عالم اسلام اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ:

۱۔ وہ ایک خود مختار آزا دفلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مداخلت کریں، تا کہ پناہ گزیں فلسطینی عوام کی بازآبادکاری اور وطن واپسی کی راہ ہموار کی جائے، نیز اسرائیل کو مجبور کیا جائے کہ وہ عرب مقبوضہ علاقوں کو خالی کر دے اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم سے باز آئے۔

۲۔ غازہ کی ناکہ بندی فوری طور سے ختم کرائی جائے۔ اگر عالمی برادری اور اقوام متحدہ کی قرار دادوں کی اسرائیل پروا نہیں کرتا اور تمام تر مطالبات کے باوجود ناکہ بندی کر کے لاکھوں انسانوں کو قید کی زندگی گزارنے پر مجبور کر رہا ہے، تو اس میں کیا تا خیر ہے کہ اسرائیل کو ایک دہشت گرد ملک قرار دینے کی تجویز لائی جائے اور اس پر معاشی پابندیاں نافذ کی جائیں۔

۳۔ اب جب کہ مسجد اقصیٰ پر مسلمانوں کی تولیت کا فیصلہ ہو گیا ہے، تو بلاتاخیر بیت المقدس سے اسرائیل اپنا غاصبانہ قبضہ ہٹائے اور اوسلو معاہدہ کے مطابق القدس شہر کا کنٹرول فلسطینیوں کے حوالے کرے۔

۴۔ ہم فلسطین کے تعلق سے موجودہ مرکزی حکومت کے انحراف کو ہندستان کی دیرینہ پالیسی سے انحراف کے طور پر دیکھتے ہیں۔ ہندستان نے ہمیشہ فلسطینیوں کی جد و جہد اور آزادفلسطینی ریاست کے قیام کی ہر فورم پر کھل کر حمایت کی ہے۔ تاہم حال میں یونیسکو میں قبلۂ اول کے سلسلے میں ہوئی ووٹنگ سے ہندستان کی دانستہ غیر حاضری، نیز سرجیکل اسٹرائیک کو اسرائیلی اسٹرائیک سے مماثلت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ سرکار سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ مہاتما گاندھی، جواہر لال نہرو اور اٹل بہاری واجپئی کی راہ پر چلتے ہوئے ظالم اور توسیع پسند اسرائیل سے اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرے اور دنیا بھر میں مظلوموں اور کمزوروں کا دوست ہونے کی ہندستان کی روایت کی پامالی نہ کرے۔

 (سکریٹری رپورٹ، بموقع مجلس منتظمہ، 28؍ اکتوبر2017ء، ص؍74)

مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی فوج کا تشدد

14؍جولائی سے 27؍جولائی 2017ء تک اسرائیلی فورسیز نے مسجد اقصیٰ کو مسلمانوں کے لیے بند کردیا، جس کے خلاف احتجاج میں کئی فلسطینی شہید اور کئی اسرائیلی جہنم رسید ہوئے۔ اسی تناظر میں مجلس عاملہ منعقدہ: 24؍ جولائی 2017ء میں اسرائیلی فوجی تشدد کی مذمت کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس گذشتہ کئی ہفتوں سے قبلۂ اول مسجد اقصیٰ اور اس کے اطراف میں جاری تشدد اور بدامنی کی سخت مذمت کرتا ہے۔ واضح ہو کہ بیت المقدس میں اسرائیلی فوج اور فلسطینیوں میں کشیدگی کے بعد کئی روز تک حکومت نے مسجد اقصیٰ کو بند کرکے چپہ چپہ کی تلاشی لی اور جابجا رکاوٹیں کھڑی کردیں اور 21؍ جولائی 2017ء کو جمعہ کے دن جب مسجد کھولی گئی ، تو پچاس سال سے کم عمر کے فلسطینی مسلمانوں کو مسجد میں داخل ہونے پر پابندی لگادی گئی، جس کی وجہ سے جمعہ کی نماز مسجد اقصیٰ کی طرف جانے والی شاہراہ پر ادا کی گئی ۔ بعد میں نمازیوں کو منتشر کرنے کے لیے اسرائیلی فوج نے بے تحاشا تشدد کیا، جس کی وجہ سے کئی فلسطینی جاں بحق ہوگئے۔ 

افسوس ہے کہ اس طرح کے واقعات آئے دن بیت المقدس کا معمول بن چکے ہیں اور اسرائیلی فوج کی طرف سے جبرو تشدد حد سے تجاوز کرچکا ہے؛ لیکن دنیا میں امن کی ذمہ دار طاقتیں اپنے سیاسی مفادات کی وجہ سے اس ظلم کو روکنے کے لیے عدل و انصاف پر مبنی ٹھوس تدبیریں اپنانے سے گریز کر رہی ہیں، جس سے اسرائیل کو حوصلہ ملتا ہے۔ 

بریں بنا جمعیت علمائے ہند عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے اسرائیل کو جبروتشدد سے روکیں اور مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر لگائی گئی بے جا پابندیاں ہٹوائیں، تاکہ زائرین بلا روک ٹوک مسجد اقصیٰ میں عبادت انجام دے سکیں۔‘‘ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

 بھارتی سرکار سے اسرائیل سے تعلقات پر نظر ثانی کا مطالبہ

27؍ اکتوبر2017ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں ، بھارتی سرکار سے اسرائیل سے تعلقات کے حوالے سے نظر ثانی کا مطالبہ کیا گیا۔ چنانچہ تجویز میں کہا گیاکہ:

’’۱۔ وہ ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مداخلت کریں اور اسرائیل کو مجبور کریں کہ وہ اقوام متحدہ کی قرادادوں پر عمل کرتے ہوئے مقبوضہ عرب علاقوں کو خالی کرے۔

۲۔ہندستان نے ہمیشہ اور ہر فورم پر فلسطینیوں کی جدوجہد اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے؛ لیکن موجودہ حکومت اس سے انحراف کر رہی ہے۔ جمعیت علمائے ہند تشویش کا اظہار کرتے ہوئے موجودہ سرکار سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ مظالم اور توسیع پسند اسرائیل سے اپنے تعلقات پر نظر ثانی کرے اور دنیا بھر میں مظلوموں اور کمزوروں کے دوست ہونے کی ہندستان کی شان دار رویات کو بحال کرے ۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

بیت المقدس کا اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے پر احتجاج

6؍دسمبر2017ء کو واہائٹ ہاوس میں ایک تقریر کے درمیان، بیت المقدس یعنی یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ 

7؍دسمبر2017ء کو جمعیت علمائے ہند نے اس پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئیسخت احتجاج کیا۔ اس سلسلے میں مولانا محمود مدنی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ یہ اشتعال انگیز فیصلہ ہے، جس سے نہ صرف خطے میں؛ بلکہ پوری دنیا کے مسلمانوں میں بے چینی پیدا ہو ئی ہے۔ امریکہ عالمی قوانین اوربین الاقوامی خدشات کو نظر اندازکررہا ہے جس سے امن کے کوشاں ادارے مایوس ہوئے ہیں ۔ مولانا مدنی نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اس موضوع پر ہنگامی اجلاس طلب کرے اور خود کی متعدد منظور شدہ قرار داد کی روشنی میں القدس کی حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری قدم اٹھائے ۔انھوں نے اس سلسلے میں مشرق وسطیٰ کے حکمرانوں کو بھی متوجہ کیا کہ وہ امریکہ سے اپنے تعلقات پر نظر ثانی کریں ۔(پریس بیان)

مشاورتی میٹنگ کا فیصلہ اسرائیلی دارالحکومت ناقابل قبول

20؍ دسمبر2017ء کو بمقام: پانچ ستارہ ہوٹل نئی دہلی، زیر صدارت:امیر الہند مولانا قاری محمد عثمان صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہند، جمعیت علمائے ہند کے زیرا ہتمام منعقد ایک مشاورتی اجلاس میں، متعدد ممبران پارلیمنٹ،ملی تنظیموں کے سربراہان، عرب ممالک کے سفارت کار اور سیاسی، سماجی اور علمی شخصیات نے فلسطین کے ساتھ اظہار یک جہتی اور غاصب اسرائیل کے خلاف زور دار آواز اٹھانے کا متفقہ عہد کیا اور ٹرمپ کے قدم کو عالم اسلام سمیت پوری دنیا کے لیے تباہ کن بتایا۔ اس پر وقار تقریب میں فلسطین سمیت عرب ممالک کے سفیروں نے شرکت کی اور امریکہ کے ذریعہ یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیے جانے کے فیصلے کی پر زور مذمت کی اور حکومت ہند اور ہندستانی عوام سمیت عالمی برادری سے فلسطین کی حمایت کی اپیل کی۔ اس موقع پر امریکی فیصلہ کے خلاف اور فلسطین کی حمایت کو لے کر دو گھنٹہ غور وفکر کے بعد متفقہ طور سے ایک قرارداد بھی منظور کی گئی۔ یہ طے ہوا کہ قراداد کو اقوام متحدہ ارسال کیا جائے گا اور حکومت ہند کو بھی واقف کرایا جائے گا۔ اس موقع پر تمام لوگوں کے اتفاق سے ایک کمیٹی بھی تشکیل دی گئی، جو فلسطین عوام کو انصاف دلانے کے لیے ہرممکن کوشش کرے گی۔ اس اہم مشاورتی اجتماع کی صدارت جمعیت علمائے ہند کے صدر قاری عثمان صاحب منصور پوری نے فرمائی۔

مولانا محمود اسعد مدنی صاحب ناظم عمومی نے اس موقع پر کہا کہ فلسطین کا ایشو مسلمانوں اور اسلام کا ہے، جہاں تک بھارت کا مسئلہ ہے، تو وہ عہد قدیم سے اس مسئلہ سے وابستہ ہے۔ اس لیے بھارت کو اپنی قدیم پالیسی کو فلسطین کے لیے جاری رکھنا چاہیے۔

 اس موقع پر متعدد سیاسی و سماجی رہ نماؤں نے اپنے خیالات کا اظہار کیا، جس کی روشنی میں ایک تجویز تیار کی گئی۔ مسودۂ تجویز ممبر پارلیمنٹ محمد سلیم صاحب نے پڑھ کر سنایا۔ اس کے بعد صدر جمعیت علمائے ہند کا خاص خطاب ہوا اور ان کی دعا پر مجلس اختتام پذیر ہوئی۔

اس پروگرام میں مختلف ممالک کے درج ذیل سفارت کارشریک ہوئے:

(۱) عدنان ایم اے الا حویجہ سفیر فلسطین۔ (۲) غلام رضا انصاری سفیر ایران۔ (۳) حمزہ یحیٰ شریف سفیر الجزائر۔ (۴) ساکر از کان ٹورنلر سفیر ترکی۔ (۵) نجم الدین لکھال سفیر تونس۔ (۶) دیان اسماعیل ریاض ذ کی نائب صدر لیگ آف عرب اسٹیٹ مشن۔ (۷) طارق کریم کو نسلر پاکستان ہائی کمیشن۔ (۸) ڈاکٹر وائل اے اے بتر یکھی ڈی سی ایم سفارت خانہ فلسطین۔ (۹) امت الپسلان کلک ڈی سی ایم تر کی سفارت خانہ۔ (۱۰) حسان موستافی ڈی سی ایم سفارت خانہ مورکو۔ (۱۱) یا سر دہلان سفارت خانہ فلسطین۔ (۱۲) عبد الرازق ابو ظفر سفارت خانہ فلسطین۔ (۱۳) حمزہ فائق سفارت خانہ فلسطین۔ (۱۴) رحیم بشارت سفارت خانہ فلسطین۔ (۱۵) مروان مانسی سفارت خانہ فلسطین۔

جن ملی تنظیموں کے رہنما و دانش وران و دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی ، ان کے نام درج ذیل ہیں:(۱) مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوری صاحب صدر جمعیت علمائے ہند۔ (۲)مولانامحمود مدنی جنرل سکریٹری جمعیت علمائے ہند۔ (۳) مولانا ارشد مدنی صاحب۔ (۴) جناب نصرت علی صاحب نائب امیر جماعت اسلامی ہند۔ (۵) جناب سلیم انجینئر صاحب قیم جماعت اسلامی ہند۔ (۶) جناب محمد احمد صاحب سکریٹری جماعت اسلامی ہند۔ (۷) جناب نوید حامد صاحب صدر آل انڈیا مجلس مشاورت۔ (۸) جناب پروفیسر اختر الواسع صاحب۔ (۹) جناب قاسم رسول الیاس صاحب صدر ویلفیئر پارٹی آف انڈیا۔ (۱۰) جناب اویس سلطان خان صاحب انہد۔ (۱۱) جناب ایم جے خاں صاحب چیئر مین انڈین کاؤنسل آف فوڈ اینڈ ایگریکلچر۔ (۱۲) مولانا قاری شوکت علی صاحب جمعیت علمائے ہند۔ (۱۳) مولانا مفتی سید محمد عفان منصور پوری صاحب جمعیت علمائے ہند ۔(۱۴) مولانا نیا زاحمد فاروقی صاحب سکریٹری جمعیت علمائے ہند۔ (۱۵) جناب محسن بھٹ صاحب ماہر تعلیم۔ (۱۶) جناب مولانا محب اللہ ندوی صاحب اسلامک اسکالر۔ (۱۷) جناب ذکر الرحمان صاحب جامعہ ملیہ اسلامیہ یونی ورسٹی۔ (۱۸) سراج الدین قریشی صاحب۔ (۱۹) پروفیسر حبیب اللہ خاں صاحب صدر شعبہ عربی جامعہ ملیہ اسلامیہ۔ (۲۰) جناب ڈاکٹر اشوک بھارتی صاحب چیئر مین ناکڈور۔ (۲۱) جناب جان ریال صاحب سکریٹری جنرل آل انڈیا کرسچن کا ونسل۔ (۲۲) جناب ایس وائی قریشی صاحب سابق الیکشن کمشنر آف انڈیا۔ (۲۳) جناب میم افضل صاحب سابق سفیر و تر جمان انڈین نیشنل کانگریس پارٹی۔ (۲۴) ڈاکٹر ناظرہ محمود مینیجر جی جی جی ای این۔ (۲۵) پروفیسر بی ایل مونگیکر صاحب۔ (۲۶) جناب ہر چرن سنگھ جوش صاحب۔

شرکنندگان جر نسلٹ کے نام درج ذیل ہیں:

(۱) جناب سید فیصل علی صاحب ایڈیٹر راشٹریہ سہارا۔ (۲) جناب شکیل حسن شمسی صاحب ایڈیٹر انقلاب اردو۔ (۳) جناب خالد انور صاحب ایڈیٹر ہمارا سماج۔ (۴) جناب سنتوش بھارتی صاحب ایڈیٹرچوتھی دنیا۔

قراردادنمبر

اجلاس نے ایک قرارداد بھی منظور کی، جس کا متن درج ذیل ہے:

’’جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام فلسطین سے متعلق ممبران پارلیمنٹ، مسلم تنظیموں کے ذمہ داران،سیاسی و سماجی رہ نماؤں اور مختلف ممالک کے سفارت کاروں کا یہ مشاورتی اجتماع، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ القدس کو اسرائیلی دارالحکومت قرار دینے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس کی سخت مذمت کرتا ہے۔ امریکی صدر کا یہ اقدام، بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کے ان فیصلوں کے منافی ہے، جن کے تحت یہ طے پاچکا ہے کہ1967ء کی جنگ کے دوران اسرائیل نے القدس پر زبردستی قبضہ کیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد القدس پر اسرائیل کے ناجائز قبضے کو جائز ٹھہرانا ہے اور یہ یقینا فلسطین کے پر امن حل کے لیے ہرگز معاون نہیں ہے۔

آج کے اس اہم اجتماع میں ہم اپنے اس مضبوط موقف کا اعادہ کرتے ہیں کہ ایسی آزاد فلسطین مملکت بنے، جس کی راجدھانی مشرقی یروشلم ہو۔ ہم حکومت ہند سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ملک کی دیرینہ پالیسی کے مطابق امریکی فیصلے کی واضح الفاظ میں مذمت کرے۔ ہندستان کی ہمیشہ یہ پالیسی رہی ہے کہ اس نے ایک ایسے آزاد فلسطین کی وکالت کی ہے، جس کی راجدھانی مشرقی یروشلم ہو۔

(سکریٹری رپورٹ، بموقع مرکزی مجلس منتظمہ 12؍ ستمبر2019ء، ص؍71)

 یروشلم سے متعلق امریکی صدر کے فیصلے کی مذمت کا مطالبہ 

21؍دسمبر2017ء کو امریکی صدر کے ذریعہ القدس کو اسرائیلی راجدھانی قراردینے کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے ہوئے جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا قاری محمد عثمان منصور پوری نے اس فیصلہ کو شر انگیز اور عدل و انصاف کے منافی قرار دیا ہے ۔ صدر جمعیت نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ مبہم طور پر نہیں؛بلکہ واضح الفاظ میں امریکی صدر کے اس قدم کی مذمت کرے ۔ مولانا منصورپوری، کلکتہ کے تاریخی د ھرم تلہ میدان میں امریکی فیصلہ کے خلاف منعقد جمعیت علمائے مغربی بنگال کے عظیم الشان احتجاجی اجلاس سے خطاب کررہے تھے ۔

 ملک میں ایک ہزار سے زائد مقامات پر زبردست مظاہرہ

 امریکی صدر کے ذریعہ القدس کو اسرائیل کی راجدھانی قرار دیے جانے کے خلاف، 22؍ دسمبر2017ء کو  جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام پورے ملک میں تقریبا ایک ہزار پندرہ شہروں و قصبات میں ایک ساتھ زبردست احتجاجی مظاہرہ منعقد ہوا، جس میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت کا اندازہ ہے۔ بھارت میں منعقد یہ احتجاج امریکہ کے فیصلے کے خلاف اب تک کا سب سے بڑا احتجاج ہے۔ جمعیت علمائے ہند کی آواز پر دہلی ممبئی، پونے، کلکتہ، گو ہاٹی، اگرتلہ، پٹنہ، رانچی، بنارس، کانپور، مظفر نگر، دہرادون، گیا، حیدر آباد، احمد آباد، پٹن، سورت، بنگلور، چنئی سمیت مختلف مقامات پر لاکھوں مظاہرین الگ الگ قسم کے نعروں پر مشتمل پلے کارڈ اٹھائے ہوئے سڑک پر نکل پڑے اور پر امن طریقے سے اس فیصلے کے خلاف مظاہرہ منعقد کیا۔ اس احتجاج سے قبل آج مساجد میں بھی خصوصی دعا کا اہتمام کیا گیا۔ ہر طرف خاص طور سے یہ نعرہ لگایا گیا کہ یروشلم پر قبضہ ختم کر و، معصوموں کا قتل بند کرو۔

 اس موقع پر بنارس میں احتجاجی جلوس کی قیادت کرتے ہوئے جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا قاری محمد عثمان منصور پوری نے 20؍ دسمبر کی شام جمعیت کے زیر اہتمام دہلی میں منعقد اہم مشاورتی اجتماع میں منظور شدہ قرار داد بھی پڑھ کر سنایا، جس میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ذریعہ القدس کو اسرائیلی دار الحکومت قرار دینے پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی گئی۔ 

اس قرار داد کو مظاہرے کے بعد ملک بھر میں متعلقہ ضلع مجسٹریٹ اور ضلع کمشنر کے ذریعہ سکریٹری جنرل، اقوام متحدہ نیو یارک، امریکہ، وزیر خارجہ، حکومت ہند نئی دہلی اور سفیر امریکی ایمبیسی نئی دہلی کو بھی ارسال کیا گیا۔ جمعیت علمائے ہند کی طرف سے جن مقامات پر احتجاج کیا گیا، اس میں آندھرا پردیش میں 433، مہاراشٹرا میں 265، مغربی بنگال میں 145، یوپی میں 47، آسام میں 35 تری پورہ میں 3، مدھیہ پردیش میں 5، کرناٹک میں 10، تامل ناڈو میں 2، اڈیشہ میں 5 دہلی میں 14، اتراکھنڈ میں 4، میوات و ہریانہ و پنجاب 16، راجستھان، 15، بہار 10، گجرات 04 منی پور میں 01، جھارکھنڈ میں 05 مقامات پر احتجاج منعقد ہوا۔ مہاراشٹرا کے سرور دھن رتنا گیری میں جمعیت علمائے ہند کے نائب صدر مولانا امان اللہ قاسمی کی قیادت میں زبردست احتجاج منعقد ہوا۔

(سکریٹری رپورٹ، بموقع: مجلس منتظمہ:12؍ستمبر2019ء،ص؍73)

 اسرائیلی وزیر اعظم کے گجرات پہنچنے پر جمعیت علما کا احتجاج

14تا 19؍جنوری 2018ء اسرائیلی وزیر اعظم بن یامین نتن یاہو نے ہندستان کا دورہ کیا۔

اسرائیلی وزیر اعظم کے احمد آباد پہنچنے پر جمعیت علمائے ہند نے17؍جنوری2018ء کو  سابرمتی آشرم اور یہودی معبد خانہ کے پاس احتجاج کرنے کی تیاری کررکھی تھی ، لیکن عین وقت پر احمد آباد پولیس انتظامیہ نے اس کی اجازت نہیں دی ۔ اس کے بعد خان پور میں واقع جمعیت دفتر میں منعقد ہونے والی پریس کانفرنس کو طاقت کے بل پر روکنے کی کوشش کی، نہ صرف ریاستی جمعیت دفتر کے باہر پولیس کا پہرہ بیٹھایا دیا گیا؛ بلکہ پریس کانفرنس کو ناکام بنانے کے لیے میڈیا کو پولیس کی جانب سے گمراہ کیا گیا اور ضلع جمعیت جنرل سکریٹری مفتی ارشد کو صبح سے گائیکواڈ حویلی پولیس اسٹیشن میں بندی بنا کر رکھا گیا ۔

ان تمام دبائو کے باوجود جمعیت علمائے گجرات کے دفتر میں تنظیم کارکنان احتجاجی بینر اور پلے کارڈ اٹھائے جمع ہوئے اور دوپہربارہ بجے پریس کانفرنس شروع ہوئی۔ پریس کانفرنس میں جمعیت علمائے ہند کے ناظم مولانا حکیم الدین قاسمی ، پروفیسر نثار احمد انصاری ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے گجرات،مفتی محمد اسجد قاسمی نائب صدر جمعیت علمائے گجرات، انل بھائی مہیریا بامسیف راشٹریہ آل ماناریٹی مورچہ ، جیتندر بالاویا اورمختلف علاقوں سے آئے جمعیت علمائے ہند کے ذمہ داران شریک تھے۔ پریس کانفرنس میں احمد آباد پولیس انتظامیہ کے رویے پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے ایمرجنسی جیسے حالات سے تعبیر کیا گیا ۔ شرکانے پریس کانفرنس میں کہا کہ جمعیت علمائے ہند کی جیسی امن پسند تنظیم کو آج سرکاری انتظامیہ نے احتجاج کی اجازت نہیں دی ، اس لیے اس پریس کانفرنس کے ذریعہ ہم اپنا احتجاج درج کرنے پر مجبور ہوئے ہیں ۔

ہماری تاریخ گواہ ہے کہ ہم نے برطانیہ کے حکمرانوں کا کبھی استقبال نہیں کیا جب کہ وہ یہاں کے خود ساختہ ان داتا بنے ہوئے تھے ، آج اسرائیل اسی قدیم برطانوی استعماری سوچ کا علم بردار ہے ، اس لیے اس کے استقبال کا کوئی سوال قائم نہیں ہوتا ۔ بھلا ہم گاندھی کی دھرتی اور ان کے آشرم میں ایک ایسے شخص کا کیسے استقبال کرسکتے ہیں، جس کے ملک کے قیام او راس کی پالیسی کی گاندھی جی نے ز ندگی بھر مخالفت کی ۔ہم ظالم و جابر ملک اسرائیل کے وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہوکی ہندستان آمد او راس سے مختلف میدانوںمیں تعلقات وسیع کرنے کی سخت مذمت کرتے ہیں ۔ہندستان کے عوام نے ہمیشہ فلسطینی کاز کی حمایت کی ہے ، نیز اسرائیلی جارحیت و دہشت گردی کے متأثرین تباہ حال فلسطینیوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔

صدی ڈیل کی مخالفت

 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے28؍جنوری 2020ء کو  وائٹ ہاؤس میں اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے ساتھ مل کر ایک اعلان کیا، جسے ’’صدی کی ڈیل‘‘ کا نام دیا گیا۔

اس میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا گیا۔

فلسطینیوں کے لیے ایک محدود خودمختار ریاست کی تجویز دی گئی۔

مغربی کنارے (West Bank) کے کئی حصے اسرائیل کے پاس رکھنے کی اجازت دی گئی۔اورفلسطینیوں کو کچھ معاشی سہولیات اور ترقیاتی پیکج دینے کا وعدہ کیا گیا۔

جمعیت علمائے ہند اس سے تقریبا دو سال پہلے ، اپنی مجلس عاملہ منعقدہ: 30؍ جون2018ء میں، جہاں اسرائیل کے نئے دارالحکومت کی مخالفت کی، وہیں اس متوقع صدی ڈیل کو بھی مسترد کردیا۔ چنانچہ تجویز میں کہا گیاکہ:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس یروشلم میں باضابطہ امریکی سفارت خانہ کے قیام کو عالمی رائے عامہ، اقوام متحدہ ، بین الاقوامی قوانین و معاہدوں کی توہین قرار دیتا ہے۔ یہ ایک مسلمہ تاریخی حقیقت ہے کہ 1967ء میں اسرائیل نے ناجائز طور سے یروشلم اور مسجد اقصیٰ پر قبضہ کیا تھا۔ اب امریکہ نہ صرف اپنے اقدام سے اسے جائز ٹھہرانے کی کوشش کر رہا ہے؛ بلکہ موجودہ وقت میں فلسطین میں بڑھتی بے چینی اور اضطراب کا بھی ذمہ دار ہے۔ 

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس امریکی اقدام کے بعد فلسطین میں عام شہریوں پر بڑھتی اسرائیلی سفاکیت اور مسلسل خون خرابہ و قتل عام پر سخت قلق و اضطراب کا اظہار کرتا ہے۔ اپنے انسانی، بنیادی اور مذہبی حقوق کی بازیابی کے لیے انتہائی مظلوم و مقہور فلسطینیوں کا قتل سنگین جنگی جرائم کے زمرہ میں آتا ہے۔ اسی طرح مسجد اقصیٰ میں نمازیوں پر فوجی حملہ اور عبادت سے روکنا بھی انتہائی تشویش ناک عمل ہے۔ 

اس لیے جمعیت علمائے ہند مطالبہ کرتی ہے کہ: 

۱۔ امریکی حکومت اپنے امریکی عوام سمیت دنیا بھر میں پیدا شدہ ناراضی اور احتجاج کو مد نظر رکھتے ہوئے اپنا سفارت خانہ بند کرے۔ اس سلسلہ میں حکومت ہند کے موقف پر اطمینان ظاہر کرتے ہوئے مرکزی سرکار سے مطالبہ ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی ہر محاذ پر اعلانیہ حمایت کرے اور اس سے متعلق امریکی رویہ سے بیزاری کا اظہار کرے۔ 

۲۔ فلسطین اتھارٹی، عالم عرب اور بااثر بین الاقوامی طاقتیں مشترکہ طور سے اسرائیلی جارحیت ، ناکہ بندی ، جنگی جرائم اور بنیادی وسائل پر ناجائز قبضے کے خلاف بین الاقوامی کریمنل عدالت میں اپیل دائر کریں۔

۳۔ مسجد اقصیٰ کا تعلق محض فلسطین سے نہیں ہے؛ بلکہ پورے عالم اسلام کا مسئلہ ہے، اس لیے ہم بھارت کے مسلمانوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اپنے اسفار میں مسجد اقصیٰ کے سفر کو ضرور شامل کریں، تاکہ مسجد اقصیٰ سے ہمارے روحانی اور دینی رشتے کا اظہار ہو اور یہ کہ مسلمان دنیا میں کہیں بھی ہوں ،مسجد اقصیٰ سے ہرگز دست بردار نہیں ہوں گے۔ 

۴۔ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس فلسطین کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کے مزعومہ فارمولہ ’’ صدی کی ڈیل‘‘ کو مسترد کرتے ہوئے مطالبہ کرتا ہے کہ جلد از جلد فلسطینیوں کے لیے ان کے علاقہ میں خود مختار ریاست قائم کی جائے۔ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

مسجد اقصی میں نمازیو ں پر حملہ ،صیہونی دہشت گردی

7؍مئی 2021ء کو رمضان کے آخری جمعہ کے دن اسرائیلی پولیس نے مسجد اقصیٰ کے صحن میں داخل ہوکرنمازیوں پر ربڑ کی گولیاں، آنسو گیس اور سٹن گرینیڈ کا استعمال کیا، جس کے نتیجے میں سیکڑوں فلسطینی مسلمان زخمی ہوگئے۔ 

8؍مئی2021ء کو ایک پریس بیان جاری کرکے، جمعیت علمائے ہند نے اسرائیلی مظالم اور دہشت گرد فوج کے ذریعہ مسجد اقصیٰ کے صحن میں نمازیوںپر اندھا دھند گرینیڈ حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔اس حملے میں دو سو سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں، جن میں اکثر کی آنکھوں، چہروںاور سر وں کو نشانہ بنایا گیاہے۔مولانا محمود مدنی نے رمضان المبارک کی مقدس شب میں عبادت گزاروں پر حملے کود ہشت گردی کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔ مسجد اقصی میں جو کچھ ہورہا ہے، وہ بین الاقوامی معاہدے اور مسلمانوں کے جذبات کی تذلیل ہے ، اس پر بین الاقوامی برادری کی خاموشی شرم ناک ہے۔اس کے علاوہ مقبوضہ مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں سے ان کے مکانات خالی کروا کر وہاں اسرائیلی سیادت قائم کرنے کے اقدامات کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔(پریس بیان)

پھر جب 27مئی 2021ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، تو اس میں بھی اسرائیلی بربریت کی مذمت کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’جمعیت علمائے ہندکی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس ظالم اور دہشت گرد اسرائیلی فوج کے ذریعہ مسجد اقصیٰ کے صحن میں نمازیوںپر حملہ اور اس کی حرمت کی پامالی کی شدید الفاظ میں مذمت کرتا ہے۔حال میں اسرائیل نے جس طرح مسجد اقصیٰ کی توہین کی ہے اور اس کے بعد غزہ میں فضائی حملہ کرکے دو سوسے زائد لوگوں کا قتل کیا ہے، جن میں ستربچے اور خواتین شامل ہیں، اس سے پوری دنیا کے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ کسی نہ کسی بہانے فلسطین کے نہتے عوام پر بم برسانا اور اپنے توسیع پسندانہ عزائم کے ذریعہ فلسطینیوں کو بے گھر کرنااسرائیل کا محبوب مشغلہ بن چکا ہے ۔ سب سے شرم ناک بات یہ ہے کہ عالمی طاقتیں ہمیشہ چشم پوشی سے کام لیتی ہیں۔تاہم اس سلسلے میں اقوام متحدہ میں حکومت ہند نے جو موقف اختیار کیا ہے، وہ قابل اطمینان ہے ۔ یہ ہمارے ملک کی قدیم روایت اور ہماری تہذیب کا حصہ رہا ہے کہ ظالم و جابر کے مقابلے مظلوم اور مقہور اقوام کی حمایت کی جائے۔

نیز جمعیت علما ئے ہند یہ مطالبہ کرتی ہے کہ: 

۱۔ غزہ میں بھیانک جنگی جرائم کے ارتکاب پر اسرائیل پر بین الاقوامی جنگی عدالت میں مقدمہ چلایاجائے۔ مسجد اقصیٰ کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ بیت المقدس سے اسرائیل اپنا غاصبانہ قبضہ فوراً ہٹائے اور اوسلو معاہدہ کے مطابق القدس شہر کا کنٹرول فلسطینیوں کے حوالے کیا جائے۔

۲۔ عالمی برادری ایک خودمختار آزاد فلسطینی ریاست کو فوری طور پر قائم کرنے میں تعاون کریں۔ پناہ گزیں فلسطینی عوام کی بازآبادکاری اور وطن واپسی کے لیے راہ ہموار کی جائے۔ عرب مقبوضہ علاقوں کو اسرائیل خالی کردے۔

۳۔ اسرائیل کو مشرقی یروشلم میں کسی طرح کی تعمیر نو سے باز رکھا جائے ،یہ قدم بین الاقوامی معاہدوں کی شدید خلاف ورزی ہے ۔

۴۔ غزہ میں جس وسیع پیمانے پر رہائشی مکانات کو مسمار کیا ہے، ان کی تعمیر و بازآبادکاری کے لیے اسرائیل سے مطالبہ اولین ضرورت اور انصاف کا تقا ضہ ہے ۔

۵۔ جنگ بندی کے اعلان کے برخلاف اسرائیل مستقل مسجد اقصیٰ اور متصل علاقوں میں بے قصور فلسطینی شہریوںپر ظلم و تشدد کی کارروائی کررہا ہے ، اسے اس ظالمانہ عمل سے باز رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

مسجد اقصی پر صرف مسلمانوں کا حق ہے 

6؍اکتوبر 2021ء کو یروشلم کی ایک مجسٹریٹ عدالت کی جج (بلہایاہلوم) نے ایک غیر معمولی اور متنازع فیصلے میں یہودیوں کو مسجد اقصیٰ کے احاطے میں ’’خاموش عبادت‘‘ (Silent Prayer) کرنے کی مشروط اجازت دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگر کوئی یہودی احاطے میں کھڑے ہو کر خاموشی سے عبادت کرتا ہے، تو اسے ’’مجرمانہ فعل‘‘  قرار نہیں دیا جا سکتا اور پولیس کو انھیں روکنے کا حق نہیں ہے۔ لیکن بعد میں ایک ضلعی اسرائیلی عدالت نے اس فیصلے کو مسترد کردیا۔

 9؍اکتوبر2021ء کو ایک پریس بیان میں، جمعیت علمائے ہندنے اسرائیل کی مجسٹریٹ عدالت کے ذریعہ مسجد اقصیٰ میں یہودیوں کی عبادت کی اجازت کو بین الاقوامی معاہدوں اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کی خلاف ورزی بتایا ہے اور اس بات پر اطمینان ظاہر کیا ہے کہ وہاں کی اعلی عدالت نے فوری طور سے اس فیصلے کو کالعدم قرار دے کر بہتر کام کیاہے ۔ مولانا مدنی نے کہاکہ یہ فیصلہ انتہائی خطرناک نتائج کا حامل ہو سکتا تھا اور اس سے مسجد اقصی کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہوجاتا ۔

غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے اوریہودی آبادکاری روکنے کا مطالبہ 

جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا ایک اجلاس  28،29؍ مئی 2022ء کو منعقد ہوا، جس کی تجویز نمبر-۹ میں فلسطین اور عالم اسلام کے مسائل کو اٹھاتے ہوئے ، بالخصوص ظالم اسرائیل کی طرف سے غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے اور مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری روکنے کا مطالبہ کیا گیا۔ چنانچہ تجویز میں کہا گیاکہ:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس فلسطین میں اسرائیلی تشدد اور مسجد اقصی میں نمازیوں کے ساتھ مارپیٹ پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ تشدد اور بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں اسرائیل کی ایک شناخت بن گئی ہیں ۔ نہتے اور کمزور فلسطینیوں اور ان کے بچوں کو قتل کرنا اس دہشت گرد اور شیطانی حکومت کی صفت خاصہ ہے۔ یہ اس کی توسیع پسندانہ سوچ کا مظہر ہے کہ پچاس لاکھ سے زائد فلسطینی بے گھر ہیں اور وہ لگاتار اس سلسلۂ ستم کو جاری رکھا ہواہے۔

جمعیت علمائے ہند اِس سلسلے میں بین الاقوامی برادری سے پرزور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ اس ظلم و ستم کے طویل عہد کے خاتمے کے لیے درج ذیل فوری اِقدامات کو بروے کار لائے :

(۱) اَقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1860 (2009ء) کے مطابق اسرائیل کو غزہ کی 15 سالہ پرانی ناکہ بندی ختم کرنے اور کراسنگ پوائنٹس کھولنے پر مجبور کیا جائے ۔

(۲)  اَقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2334 (2016ء) کے مطابق اسرائیل کو مشرقی یروشلم سمیت مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری کی تمام سرگرمیاں بند کرنے کی ہدایت دی جائے ۔

(۳)  اِسرائیل مقبوضہ فلسطینی سرزمین میں انسانی حقوق کی تمام خلاف ورزیوں اور زیادتیوں سے فوری طور سے بازآئے ، جس میں طاقت کا ناجائز استعمال، مکانات کی مسماری، جبریہ بے دخلی اور بین الاقوامی اصولوں کی فوجی خلاف ورزیوں کے لیے جواب دہی کو یقینی بنایا جائے۔

(۴)  مسجد اقصیٰ میں نمازیوں کے آزادانہ داخلے کو یقینی بنایا جائے اور اس پر اسرائیلی تسلط کا جلد خاتمہ کیا جائے۔ 

(۵)   ایک آزاد خو د مختار فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنایا جائے اور اسرائیل کو مجبورکیا جائے کہ وہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرے اور مقبوضہ عرب علاقوں کو خالی کرے۔

(۶)  ہندستان نے ہمیشہ اور ہر فورم پر فلسطینیوں کی جد وجہد اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے، یہ ملک کی شان دار روایت رہی ہے کہ اس نے استعماری اور قابض طاقتوں کی مخالفت کی ہے ۔موجودہ وقت میں ہماری حکومت سے امید ہے کہ وہ اس روایت کو باقی رکھے گی۔‘‘ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

بعد ازاں جب 12؍ فروری2023ء کو جب جمعیت علمائے ہند کا چونتیسواں اجلاس عام ہوا، تو اس کی  تجویز نمبر۱۱ میں انھیں مطالبوں کو دہرایا، جو اس سے پہلے کی میٹنگ میں جمعیت علما پیش کرچکی تھی۔تجویز کا متعلقہ ملاحظہ فرمائیں: 

 ’’جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس عام مسجد اقصیٰ اور یروشلم پر اپنے حتمی تسلط کے مقصد سے اسرائیلی حکومت کی جابرانہ کارروائیوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔ اس سلسلے میں اقوام متحدہ کی حالیہ قرار داد کو امید کی نگاہ سے دیکھتا ہے ، جس میں فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کے غیر قانونی ’طویل قبضے‘ اور فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی خلاف ورزی کے قانونی نتائج پر عالمی عدالت انصاف سے رائے مانگی گئی ہے۔اس قرارداد میں اسرائیل کے یروشلم کے آبادیاتی ڈھانچے، کرداراورحیثیت کو تبدیل کرنے کی کوشش کرنے اور امتیازی قوانین اپنانے کی بات بھی کی گئی ہے۔

جمعیت علما ئے ہند کا یہ اجلاس بین الاقوامی برادریوں کے ان مثبت اقدامات کے مدنظر یہ مطالبہ کرتا ہے کہ :

(۱)  اَقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادکے مطابق اسرائیل کو غزہ کی 15 سالہ پرانی ناکہ بندی ختم کرنے اور کراسنگ پوائنٹس کھولنے پر مجبور کیا جائے ۔

(۲) مسجد اقصیٰ پر صرف مسلمانوں کا حق ہے ، اس لیے اس کو یہودی تسلط اور قبضے سے آزاد کیا جائے ۔

(۳)  ایک آزاد خو د مختار فلسطینی ریاست کے قیام کو یقینی بنایا جائے۔

(۴) ہندستان نے ہمیشہ اور ہر فورم پر فلسطینیوں کی جد وجہد اور آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کی ہے۔موجودہ حکومت نے بھی اس کو باقی رکھنے کی کوشش کی ہے ، جو قابل ستائش ہے ، لیکن اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات ملک کی عدم تشدد کی عظیم روایات کے منافی ہیں، اس لیے اسے ختم کرنا ہی بہتر ہوگا ۔‘‘ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

فلسطین میں جاری خوںریز حملوں کو فوراً روکا جائے 

حماس نے7؍اکتوبر 2023ء کو(Operation Al Aqsa Flood)کے تحت  اسرائیل پر بڑا حملہ کیا، جس کے جواب میں اسرائیل نے (Operation Iron Swords)  کے نام سے فوجی مہم آغاز کرتے ہوئے غزہ پر شدید بم باری شروع کردی ۔ اس جنگ میں بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیاں دیکھنے میں آئیں۔ اس جنگ میں 2025 تک تقریبا فلسطینی شہداء: 45,000 سے 75,000+ (اندازوں کے مطابق)، اسرائیلی ہلاکتیں: 1,200–1,700+، زخمی: 100,000+ فلسطینی، خواتین و بچے: اکثریت (60–70%)، اور تقریباً پوری غزہ آبادی بے گھر ہوگئی۔ 

9؍اکتوبر2023 ء کو  جمعیت علمائے ہندنے فلسطین میں جاری خوںریز جنگ اور رہائشی علاقوں پرزبردست بم باری کی مذمت کرتے ہوئے اس پر فوری رو ک لگانے کی اپیل کی۔ مولانامحمود مدنی نے عالمی طاقتوں ، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور ورلڈ مسلم لیگ وغیرہ سے بلاتاخیر مداخلت اور عملی اقدام کا مطالبہ کیا ہے ۔ ہندستان کے عوام فلسطینیوں کے ساتھ ہیں، جو گزشتہ۷۵؍سالوں سے اسرائیلی جابرانہ تسلط و تشدد کے شکار ہیں، جس کی وجہ سے وہ آج اپنے ہی وطن میں قیدیوں کی طرح رہ رہے ہیں ۔ بلاشبہ فلسطین کے عوام کی جد وجہد اپنے وطن کی آزادی او ر قبلۂ اول کی بازیابی کے لیے ہے۔

 اس تنازع کی اصل بنیاد اسرائیل کے ذریعہ خطۂ فلسطین پر ناجائز قبضہ اور توسیع پسندانہ سوچ ہے ، اس جنگ کے نتیجے کو دیکھتے ہوئے اس بات کی سخت ضرورت محسوس ہوتی ہے کہ یو این کے مقرر کردہ اصول کے مطابق اسے جلد ازجلد حل کیا جائے اور اسرائیلی تسلط و جبر سے آزاد ایک خود مختار فلسطین ریاست کا قیام عمل میں آئے ۔

مولانا مدنی نے بھارت میں میڈیا کے ذریعہ موجودہ جنگ کی شرم ناک رپورٹنگ اور اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے لڑنے والی قوم کو’ دہشت گرد‘ بتانے پر تشویش اور ناراضی کا اظہار کیاہے او رکہا ہے کہ ملک کے معمار بالخصوص مہاتما گاندھی، پنڈت نہرو ا ور سابق وزیر اعظم اٹل بہاری واجپائی وغیرہم نے ہمیشہ فلسطینی کاز کی حمایت کی ہے ۔ اس موقع پر ہم ملک کے وزیر اعظم کو متوجہ کرنا چاہیں گے کہ اسرائیل فلسطین تنازع کے حل میں بااثر کردار ادا کریں اور اسرائیل کی حمایت کے بجائے انصاف کے تقاضوں کے مطابق پائیدار امن کے قیام اور بے قصور شہریوں کی جان بچانے کے لیے اپنے اثر و رسوخ کا صحیح استعمال کریں ۔ اسی میں ہمارے ملک کا مفاد ہے اور انسانیت کے تئیں یہی ہمارا فرض ہے ۔

شہدائے فلسطین کے ساتھ یک جہتی کا اظہار

فلسطینی عوامی پر اسرائیل کی وحشیانہ بم باری کے خلاف اور مظلوم عوام کے ساتھ یک جہتی کے اظہار کے مقصد سے، 19؍اکتوبر2023ء کو  مختلف ملی جماعتوں کی طرف سے کانسٹی ٹیوشن کلب نئی دہلی میں ایک میٹنگ منعقد کی گئی ، جس میں مولانا محمود مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند،مولانا حکیم الدین قاسمی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند، مولانا نیاز احمد فاروقی سکریٹری جمعیت علمائے ہند، مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی، ایم کنور علی دانش، سلیم انجنیر،ڈاکٹر جان دیال ، ششی شیکھر،جناب سعاد ت اللہ حسینی امیر جماعت اسلامی ہند اور دیگر حضرات نے شرکت و خطاب کیا۔ آخر میں مولانا نیاز احمد فاروقی صاحب نے منظور کردہ قرارداد پڑھ کا سنایا، جس کا متن درج ذیل ہے:

من جانب انڈین فرینڈس آف فلسطین

بموقع فلسطین کانفرنس بمقام ڈی وائی اسپیکر ہال، کانسٹی ٹیوشن کلب نئی دہلی۔ 

 ہم انڈین فرینڈس آف فلسطین فلسطینی غزہ کی صورت حال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہیں۔ معصوم انسانی جانوں؛ حتی کہ بچوں اور خواتین کی مسلسل ہلاکت، غذا، پانی، ادویات اور بجلی کی سپلائی کا انقطاع اور شہری علاقوں پر مسلسل بم باری اور غزہ کے انخلا کی کوششوں کی ہم پر زور مذمت کرتے ہیں۔ ہم یہ یاد دلانا چاہتے ہیں کہ صہیونی حکومت گذشتہ ستر برسوں سے مسلسل فلسطینیوں کو ان کے گھروں اور زمینوں سے بے دخل کر رہی ہے اور اس سرزمین کے اصل باشندوں یعنی فلسطینیوں پر مسلسل وحشیانہ مظالم ڈھارہی ہے۔ تمام عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے فلسطینی علاقوں میں نئی بستیوں کی مسلسل آبادکاری اور مسجد اقصی کی مسلسل بے حرمتی اور اس طرح کی دیگر جارحانہ پالیسیاں علاقے میں امن و امان کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ اس بات کی ضرورت ہے کہ عالمی برادری فوری حرکت میں آئے اور خوں ریزی کے سلسلے کو روکے، اس علاقے میں پائیدار امن کے لیے ناگزیر ہے کہ فلسطینی عوام کے حقوق کی بازیابی اور اس سلسلے میں عالمی قوانین کے نفاذ کو یقینی بنایا جائے۔

ہم ارباب اقتدار سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ ہندستان کی دیرینہ استعمار مخالف اور فلسطین دوست خارجہ پالیسی، جس کی گاندھی جی سے لے کر واجپئی جی تک نے بھی وکالت کی ہے، اس کو جاری رکھتے ہوئے وہ فلسطینی عوام کو ان کے جائز حقوق دلانے کے لیے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرے۔

منجا نب :کے سی تیاگی سابق ممبر پارلیمنٹ۔ کنور دانش علی ایم پی۔پروفیسر بیتھل جنرل سکریٹری آریہ سماج۔پروفیسر آدیتہ نگم۔پروفیسر ششی شیکھر ۔جون دیال۔ مولانا محمود مدنی ۔ سید سعادت اللہ حسینی۔مولانا اصغر علی امام مہدی۔ مولانا حکیم الدین قاسمی۔جناب سلیم انجینئر۔ 

اسرائیلی دہشت گردی کی شدید مذمت

5؍جنوری 2024ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ میں فلسطین پر اسرائیلی وحشت وبربریت کے تناظر میں درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’گذشتہ17؍ اکتوبر2023ء کو مسلسل محاصرہ سے تنگ اگر فلسطینی مزاحمتی تحریک ’’حماس‘‘ کے اقدام کے بعد غزہ (فلسطین) پر اسرائیل کی لگاتار وحشیانہ بم باری کی جمعیت علمائے ہند شدید مذمت کرتی ہے۔ اب تک اس جنگ میں تقریباً تئیس ہزار افراد جاں بحق ہوچکے ہیں، جن میں اکثریت معصوم بچوں اور خواتین کی ہے۔ اس کے علاوہ جو افراد کار پیٹ بم باری کی وجہ سے عمارتوں کے نیچے زندہ دفن ہوگئے ہیں، ان کی تعداد کا تواند ازہ ہی نہیں لگا یا جا سکتا۔ علاوہ ازیںاسرائیل کی مسلسل بم باری کی وجہ سے غزہ کی اکثر عمار تیں اور آبادیاں ملبہ کا ڈھیربن چکی ہیں اور لاکھوں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں۔

مبصرین کا خیال ہے کہ قریبی زمانہ میں روئے زمین پر انسانوں کی اتنی بڑی اور بھیانک تباہی نہیں دیکھی گئی، لیکن شرم ناک بات یہ ہے کہ اس صریح ظلم و بربریت کو روکنے میں اقوام متحدہ بھی نا کام ہے اور امریکہ اور اس کے حلیف اسرائیل کی پشت پناہی اور تعاون کر رہے ہیں۔‘‘ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

فلسطینیوں کے ساتھ بد ترین غداری 

7؍اکتوبر 2023ء کو آپریشن القدس فلڈسے شروع ہونے والی جنگ کے بعد اسرائیل نے ہتھیاروں کی عالمی سطح پر خریداری تیز کر دی۔ جن میں انڈیا سے بھی یکم جنوری 2024ء کو  ڈائریکٹوریٹ جنرل آف فارن ٹریڈ (DGFT) نے میونیشنز انڈیا لمیٹڈ (MIL) اور پریمیئر ایکسپلوسوز لمیٹڈ (PEL) کو اسرائیل کے لیے گولہ بارود اور دوہرے استعمال کے سامان کے برآمدی لائسنس جاری کیے۔بعد ازاں فروری 2024ء کو حیدرآباد میں تیار کردہ تقریباً 20؍جدید ہرمیس 900 (Hermes 900) ڈرونز اسرائیل کے حوالے کیے ۔2؍اپریل 2024ء کو  بورکم (Borkum) اور ماریان ڈینیکا (Marianne Danica) نامی بحری جہاز اسلحہ اور بارود لے کر چنئی سے حیفہ بندرگاہ (اسرائیل) روانہ ہوئے۔18؍اپریل 2024ء کو  میونیشنز انڈیا لمیٹڈنے ایک اور اسرائیلی آرڈر پورا کرنے کے لیے نئی برآمدی درخواست جمع کرائی۔ اقوام متحدہ کے کام ٹریڈ (COMTRADE) ڈیٹا بیس کے مطابق، سال 2024ء میں ہندستان نے اسرائیل کو کل 56.54 ملین ڈالر مالیت کا اسلحہ اور پرزہ جات برآمد کیے۔

 4-5؍جولائی2024ء کو مجلس منتظمہ کا اجلاس ہوا، جس میں جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محموداسعد مدنی صاحب نے اسرائیل کو اسلحہ فراہم کرنے کے اس عمل کو ہندستان کے ساتھ بدترین غداری قرار دیا۔ چنانچہ مولانا نے خطاب میں کہا کہ:

’’اس ملک نے ہمیشہ مظلوموں کا ساتھ دیا۔ گاندھی جی نے فلسطینیوں کے عوامی تحریک چلانے کا فیصلہ کیا۔ آج ہمارا ملک دعویٰ تو کر رہا ہے کہ ہم فلسطینیوں کے ساتھ ہے، لیکن اسرائیلیوں کو اسلحہ فراہم کر رہا ہے۔ یہ ملک اور اس کی سنہری تاریخ کے ساتھ بدترین غداری ہے اور یہ کسی صورت میں برداشت نہیں کیا جاسکتا، کیوں کہ وہاں بچے اور عام شہری مارے جارہے ہیں۔‘‘

 پھر اجلاس نے ایک تجویز منظور کرتے ہوئے، تمام ممالک سے یہ مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو اسلحہ نہ فراہم کیے جائیں۔ تجویز کا مکمل متن درج ذیل ہے:

’’جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس مجلس منتظمہ فلسطین؛ بالخصوص غزہ اور مشرقی یروشلم سمیت مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی جارحیت، جنگی جرائم اور وحشیانہ قتل عام کی سخت مذمت کرتا ہے۔ اسرائیل غزہ پر حالیہ فوجی مہم کے آغاز کے بعد سے بڑے پیمانے پر اور اندھا دھند شہریوں اور آبادیوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ غزہ میں 60 فی صد سے زیادہ گھر تباہ و برباد ہو گئے۔ سیکڑوں خاندان صفحۂ ہستی سے مٹ گئے۔ غزہ میں سترہ لاکھ سے زیادہ فلسطینیوں کو بے گھر کر دیا گیا، جب کہ ان میں سے اکثریت پہلے ہی پناہ گزیں ہے، یا 1948 کے پناہ گزینوں کی اولاد ہیں۔ دوسری طرف صحافیوں، طبی عملے، ایمبولینسوں، اسکولوں، عبادت گاہوں، یونی ورسٹیوں، پناہ گاہوں اور اسپتالوں کے ساتھ ساتھ پانی، بجلی،ٹیلی کمیونیکیشن اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنارہا ہے۔

۱۔ یہ اجلاس تمام ممالک؛ بالخصوص امریکہ، برطانیہ اور ہندستان سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ قابض حکام کو اسلحہ اور گولہ بارود کی برآمدات بند کریں، جو ان کی فوج اور دہشت گرد اسرائیلی آباد کار فلسطینیوں کو قتل کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ جو ریاستیں اسرائیل کو اسلحہ اور سیاسی مدد فراہم کرتی ہیں، وہ اس نسل کشی میں برابر کی شریک ہیں۔ 

۲۔ بین الاقوامی فوج داری عدالت اور دفتر استغاثہ فوری طور پر فلسطینیوں کے خلاف بین الاقوامی جرائم کے ذمہ دار اسرائیلی اہل کاروں کی گرفتاری کے وارنٹ جاری کرے، اور تحقیقات کا دائرہ وسیع کرے اور فلسطین میں خون خرابہ اور قتل عام کے لیے اسرائیل پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے اور نقصانات کا ہرجانہ وصول کیا جائے۔ 

۳۔ یہ اجلاس حکومت ہند، عرب لیگ اور ممالک اسلامیہ کو متوجہ کرتا ہے کہ وہ سفارتی، سیاسی اور قانونی دباؤ ڈالیں اور انسانیت کے خلاف استعماری قابض حکام کے جرائم کو روکنے کے لیے دو ٹوک اقدامات کریں اور ساؤتھ افریقہ کی معاونت کرتے ہوئے اسرائیل کو بین الاقوامی عدالت اور سلامتی کونسل میں سزا دلائیں۔ 

۴۔ یہ اجلاس بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ وہ فلسطینیوں کی خود مختار ریاست کے قیام کے لیے ایک سنجیدہ اور حقیقی کوشش شروع کرے، مگر یہ خیال رہے کہ مسجد اقصیٰ پر تسلط کی کوئی بھی اسرائیلی کوشش ہرگز قابل قبول نہیں ہے۔ ‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

لبنان پر اسرائیلی حملوں میں توسیع کی شدید مذمت

30؍ستمبر2024ء کو جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی صاحب نے ایک پریس بیان جاری کیا، جس میں لبنان اور غزہ دونوں پر اسرائیل کی مسلسل بم باری کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے ان کارروائیوں کو بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔  ان جارحانہ حملوں کے تباہ کن اثرات پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی کارروائیاں پہلے ہی غیر مستحکم خطے کو مزید عدم استحکام سے دوچار کر رہی ہیں۔

غزہ میں ہزاروں معصوم بچوں اور شہریوں کو بے رحمی سے قتل کرنے کے بعد اب اسرائیل لبنان کو نشانہ بنا رہا ہے، جہاں بے شمار بے گناہوں کا خون بہایا جا رہا ہے۔ یہ بلا اشتعال حملے عالمی اقدار اور قوانین کے لیے اسرائیل کی کھلی بے اعتنائی کو ظاہر کرتے ہیں، جب کہ بین الاقوامی برادری کی جانب سے کسی مؤثر روک تھام کا فقدان نمایاں ہے۔

مولانا مدنی نے حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ اور دیگر اہم شخصیات کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے اسے بزدلانہ اور ظالمانہ حملہ قرار دیا۔ اور کہا کہ اسرائیل کی بے لگام جارحیت دراصل بین الاقوامی برادری کی ناکامی کا نتیجہ ہے، جو ایسے دہشت گردانہ اور وحشیانہ اقدامات کے خلاف بروقت اور فیصلہ کن کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے، جس کے باعث یہ مظالم بلا روک ٹوک جاری ہیں۔

مولانا مدنی نے عالمی برادری سے فوری اپیل کی کہ اتحادِ انسانیت (Alliance of Humanity) قائم کیا جائے،جو امن کے قیام، انسانی حقوق کے تحفظ اور مشرقِ وسطیٰ میں فوری جنگ بندی کے لیے ایک مشترکہ عالمی کوشش ہو۔ انھوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری اور فیصلہ کن اقدامات نہ کیے گئے، تو پورا خطہ ایک وسیع تباہی کی طرف جا سکتا ہے، جس کے اثرات خطے سے باہر تک محسوس کیے جائیں گے۔

حکومت ہند سے اسرائیلی مظالم اور غزہ جنگ بند کرانے کا مطالبہ

 مجلس عاملہ کی ایک میٹنگ13؍اپریل 2025ء کو منعقد ہوئی، جس میں7؍اکتوبر 2023ء سے اسرائیل کی طرف سے جاری کی جانے والی (Operation Iron Swords) فوجی مہم کے تحت ہزاروں فلسطینی دردناک طریقے پرکی گئی شہادت کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے، حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ جنگ بند کرانے میں اپنا فعال کردار ادا کریں۔ تجویز کا متن درج ذیل ہے: 

’’جمعیت علمائے ہند کا اجلاس غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت، جنگی جرائم اور معصوم فلسطینی عوام کے قتل عام کو انسانیت کے خلاف ایک سنگین جرم قرار دیتا ہے۔ ہزاروں بچوں، خواتین اور عام شہریوں کا بے دریغ قتل عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی اداروں کے لیے ایک لمحۂ فکریہ اور شرم ناک بے حسی کی علامت ہے۔

اس اجلاس کو اس امر پر شدید تشویش ہے کہ اسرائیل عالمی قوانین اور بنیادی انسانی اصولوں کو پامال کرتے ہوئے نہ صرف فلسطینی علاقوں کی مکمل ناکہ بندی کیے ہوئے ہے؛ بلکہ جنگ زدہ علاقوں میں خوراک، ادویات اور بنیادی ضروریاتِ زندگی کی فراہمی پر بھی مکمل پابندی عائد کر رکھی ہے، جو کہ جرم پر جرم کے مترادف ہے۔ اسرائیلی جارحیت صرف شہریوں تک محدود نہیں؛بلکہ صحافیوں، طبی عملے، ایمبولینسوں، اسکولوں، مساجد، عبادت  گاہوں، ہسپتالوں اور بنیادی ڈھانچے جیسے پانی، بجلی، ٹیلی کمیونیکیشن اور توانائی کے نظام کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

یہ اجلاس سمجھتا ہے کہ ان مظالم میں امریکہ بھی اسرائیل کا شریکِ جرم ہے، جو مسلسل جارح اسرائیلی حکومت کو ہر سطح پر حمایت فراہم کر رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ متعدد اسلامی ممالک کی سرد مہری، بے عملی اور غیر مؤثر رویہ بھی افسوس ناک اور قابلِ مذمت ہے۔ اس صورت حال میں جمعیت علمائے ہند درج ذیل مطالبات کرتی ہے:

۱۔ جمعیت علمائے ہند حکومتِ ہند سے پُرزور مطالبہ کرتی ہے کہ وہ انسانی بنیادوں پر فوری مداخلت کرتے ہوئے جنگ بندی کو یقینی بنانے میں فعال کردار ادا کرے، بالخصوص زخمی فلسطینیوں کے علاج و معالجہ کے ٹھوس اور مؤثر اقدامات کرے اور غزہ میں محصور فلسطینی عوام تک بنیادی انسانی ضروریات پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔

۲۔ اس اجلاس کا مطالبہ ہے کہ اسرائیل پر جنگی جرائم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانہ عائد کیا جائے اور متأثرہ فلسطینی عوام کو مکمل مالی معاوضہ دیا جائے۔

۳۔ یہ اجلاس حکومتِ ہند، عرب لیگ اور تمام اسلامی ممالک سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اسرائیلی مظالم کو روکنے کے لیے واضح، متحد اور مؤثر سفارتی، سیاسی اور قانونی دباؤ ڈالیں، تاکہ ظلم و استحصال کرنے والی قابض حکومت کو اس کے جرائم کی سزا دی جا سکے۔

۴۔ یہ اجلاس بین الاقوامی برادری سے اپیل کرتا ہے کہ وہ فلسطینیوں کے لیے ایک آزاد، خود مختار ریاست کے قیام کے لیے سنجیدہ، مؤثر اور نتیجہ خیز کوششوں کا آغاز کریں۔ اور ساتھ ہی یہ واضح کر دینا ضروری ہے کہ مسجدِ اقصیٰ پر اسرائیلی تسلط کی کسی بھی کوشش کو ہرگز قبول نہیں کیا جا سکتا۔

۵۔ جمعیت علمائے ہند فلسطینی عوام کی جدوجہدِ آزادی، ان کے حقِ خود ارادیت اور ان کے مذہبی و انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ہمیشہ آواز بلند کرتی رہی ہے اور ان شاء اللہ کرتی رہے گی۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍

ایران پر امریکی بم باری کھلی جارحیت

امریکہ نے 22؍جون 2025ء کو ’’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘‘ کے تحت ایران کی ایٹمی تنصیبات پر براہ راست حملہ کیا، جو 12؍روزہ جنگ کا ایک حصہ تھا۔ اس حملے کا بنیادی مقصد ایران کے تیزی سے بڑھتے ہوئے جوہری پروگرام کو تباہ کر کے اسے ایٹمی ہتھیاروں کے حصول سے روکنا تھا۔ اس فوجی کارروائی میں جدید امریکی بی-2 (B-2) بم بار طیاروں اور آب دوزوں نے بھاری بنکر بسٹر بموں کا استعمال کرتے ہوئے فردو، نتنز اور اصفہان میں موجود ایرانی زیرِ زمین ایٹمی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ بالآخر 24؍جون 2025ء کو ایک باضابطہ جنگ بندی کے معاہدے کے ساتھ اس تباہ کن تنازعے کا اختتام ہو گیا۔

اس حملے کے آغاز کے اگلے دن،23؍جون2025ء کو مولانا محمود اسعد مدنی صاحب صدرجمعیت علمائے ہندنے ایران پر اس امریکی بم باری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی معاہدوں اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی قرار دیا۔ اسرائیل اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں قتل و غارت گری اور دہشت گردی کا محور بن چکا ہے، جسے امریکہ کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ امریکہ نے ہمیشہ اپنی جارحانہ پالیسیوں کے ذریعے دنیا کو نقصان پہنچایا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کا وجود تریاق کے بجائے زہر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ جب تک مشرقِ وسطیٰ کے ممالک باہم متحد ہو کر اپنی سرزمین سے امریکی اڈوں کا خاتمہ نہیں کرتے، اس خطے میں دیرپا امن قائم نہیں ہو سکتا۔ بصورتِ دیگر پورا مشرقِ وسطیٰ یکے بعد دیگرے ان شیطانی سازشوں کا شکار ہوتا رہے گا، جیسا کہ ماضی میں عراق، افغانستان اور لیبیا کے ساتھ ہوچکا ہے اور اب وہی مکروہ کھیل ایران کے خلاف دہرایا جا رہا ہے۔

 کسی بھی طاقت ور ملک کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اپنی فوجی برتری کی بنیاد پر دنیا کے کسی بھی خطے میں جارحیت کا استعمال کرے۔ اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں؛ بلکہ یہ دنیا بھر میں بداعتمادی، نفرت اور عدم استحکام کو بڑھاوا دیتی ہیں۔سب کو انسانیت کے طے شدہ اصولوں کا پابند ہونا چاہیے اور ہر وہ اقدام -جو معصوم جانوں کو نشانہ بنائے،انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائیاور عالمی امن کو خطرے میں ڈالے- ناقابل قبول ہواور اس کے خلاف کاغذی کارروائی کے بجائے سخت قدم اٹھایا جانا چاہیے۔

مولانا مدنی نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، انصاف پسند اقوام اور امن دوست طبقات سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیں، جنگ بندی کی کوششوں کو ترجیح دیں اور ایسے طاقت ور عناصر کو قانون کے دائرے میں لانے کے لیے اجتماعی اقدام کریں،جو انسانیت کے خلاف مسلسل جرم کر رہے ہیں، جن میں اسرائیل سرفہرست ہے ۔

خلاصہ

پہلی جنگ عظیم (28؍جولائی 1914-11؍نومبر1918ء) میں برطانیہ کے یہودیوں سے کیے گئے وعدے کے مطابق، 2؍نومبر 1917ء کو بالفور اعلامیہ ، اور 24؍ جولائی 1922ء کے لیگ آف نیشنز کے فیصلے کے تحت فلسطین خلافت عثمانیہ کی عمل داری سے نکل کربرطانیہ کے قبضے میں چلا گیا، جس نے یہودی ریاست قائم کرنے کے لیے راستہ ہموار کیا۔

جمعیت علمائے ہند نے برطانوی انتداب کے نفاذ سے پہلے ہی اپنے تیسرے اجلاس عام منعقدہ : 18-19-20؍ نومبر 1921ء کے خطبۂ صدارت میں، بعد ازاں 22؍مارچ 1922ء کو مجلس عاملہ میں، فلسطین کو خلافت عثمانیہ کے زیر نگیں رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے، 3؍ ستمبر1929ء کو ایک زبردست احتجاجی اجلاس کے ذریعہ فلسطین کو وطن الیہود بنانے کی شدید مخالفت کی۔ اور یہ تاریخ کی پہلی آواز تھی، جو ایشائی مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے جمعیت علمائے ہند نے اسرائیل کے خلاف اٹھائی۔

پھر جب 14؍مئی 1948ء کو اسرائیل کا قیام عمل میں آگیا، تو 27-28-29؍ اکتوبر 1956ء کو منعقد انیسویں اجلاس عام کے خطبۂ صدارت میں اسرائیل کو ’’نام نہاد حکومت‘‘ قرار دیا گیا۔

5-10؍جون 1967ء کی ’’چھ روزہ جنگ‘‘ میں اسرائیل نے مصر، اردن اور شام کے علاقوں پر قبضہ کرلیا۔اس جنگ کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے23؍مئی 1967ء کو جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی مولانا اسعد مدنی صاحب نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے، وزیر اعظم ہند پنڈت جواہر لال نہرو، اقوام متحدہ اور عرب رہنماؤں کو احتجاجی برقیے بھیجے۔بعد ازاں 25؍مئی 1967ء کو مسلمانوں کو عربوں کی حمایت میں دعا اور اتحاد کی اپیل اور خلیج عقبہ کی ناکہ بندی کو جائز قرار دیا۔

27-28 مئی 1967ء کو  دہلی میں نمائندہ اجتماع منعقد کرکے جمعیت علمائے ہند نے عرب موقف کی کھل کر حمایت کی۔ 

’’چھ روزہ جنگ‘‘ کے تناظر میں4؍جون1967ء کو ملک گیر احتجاج کے لیے ماتحت جمعیتوں کے نام ایک اہم  سرکلر جاری کیا گیا۔

چھ روزہ جنگ میں اہم رول ادا کرنے والے جمال عبدالناصر کے خلاف 23؍ جولائی 1967ء کو پروپیگنڈہ کی مذمت کی گئی۔ اوراسی تاریخ (23؍جولائی 1967ء)کو منعقد ایک پروگرام کے ذریعہ عرب متأثرین کے لیے 1,01,001 روپے کی امداد پیش کی۔

28 جولائی 1967ء کو دہلی میںایک عظیم الشان اجلاس میں امریکہ اور برطانیہ کی اسرائیل نوازی کے خلاف احتجاج کیا گیا اور امریکی حکام کو میمورنڈم بھی پیش کیا گیا۔

31؍جولائی 1967ء کو بیت المقدس پر قبضہ کو ناقابل برداشت قرار دیا گیا۔

10؍اگست 1967ء کو دہلی میں منعقد’’قومی کانفرنس‘‘ میں اسرائیلی جارحیت کو عالمی انصاف اور انسانیت کا مسئلہ قرار دیا گیا۔

23-24؍ستمبر 1967ء کو مجلس منتظمہ نے واضح اعلان کیا کہ: ’’اسرائیل کا وجود ایک ظلم اور سامراجی طاقتوں کی فوجی چھاؤنی ہے۔‘‘اسے عربوں کے خلاف جابرانہ مداخلت اور عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔ اوردنیا کی انصاف پسند قوموں سے اسرائیل کے خاتمہ کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی گئی۔

24؍ستمبر 1967ء کو منعقد ’’عرب تعاون کانفرنس‘‘ میں تقریباً 15,000؍افراد کی شرکت و تعاون سے عرب ممالک کو1,40,000 ؍روپے نقد اور35,000 روپے کا سامان پیش کیا گیا۔

9-10؍نومبر1967ء کو منعقد ہونے والی مجلس عاملہ نے دہلی میں ہونے والی انٹرنیشنل کانفرنس کی حمایت کرتے ہوئے 11-14؍نومبر1967ء کو منعقد(55؍ممالک کی شرکت پر مشتمل)  عالمی کانفرنس میں اسرائیل کا عرب علاقوں سے غیر مشروط انخلا، اورعرب مہاجرین کو واپس بسانے کا مطالبہ کیا۔

14؍نومبر1967ء کو جمعیت علما نے عالمی کانفرنس کے مندوبین کے اعزاز میں ڈنر پیش کیا اور اسرائیلی جارحیت کو عالمی خطرہ قرار دیا۔

اسرائیل کے جارحانہ تسلسل کے نتیجے میں5؍جون 1968ء کو ’’یوم بیت المقدس‘‘ منانے کی اپیل گئی۔

قاہرہ میں 21تا 26؍ اکتوبر1968ء کو منعقد قاہرہ عرب سربراہی کانفرنس میں ہندستان کی نمائندگی کرتے ہوئے ، اس کے تمام فیصلوں کی تائید کی گئی۔

29؍دسمبر 1968ء کو بیروت ایئرپورٹ پر اسرائیلی حملہ ہوا،7-8؍ فروری 1969ء کو منعقد مجلس عاملہ نے اس کی سخت مذمت کی۔ اور مطالبہ کیا کہ اسرائیل 5؍جون 1967ء سے پہلے کی پوزیشن پر واپس جائے۔

22؍مارچ 1969ء کی ایک اپیل میں اسرائیلی مظالم کے خلاف قنوت نازلہ پڑھنے کی اپیل کی گئی۔

1969ء میں اسرائیل نے جنگِ استنزاف (War of Attrition) کے تحت:  مصر (نہر سوئیز)، اردن (مغربی کنارہ) اور شام (گولان پہاڑیاں) پر مسلسل حملے کیے، جس کے خلاف 6؍جون 1969ء کو ایک عظیم الشان احتجاجی اجلاس کیا گیا، جس میں  فلسطین کا مسئلہ عالمی اور انسانی مسئلہ قرار دیا گیا، اسرائیل کو سامراجی اور توسیع پسند طاقت کہا گیا اور امریکہ و برطانیہ کی پشت پناہی پر تنقید کی گئی۔

 21؍اگست 1969ء کو  ایک آسٹریلوی شخص (ڈینس مائیکل روحان) نے آگ لگادی، جس سے تاریخی منبر صلاح الدین ایوبی کو سخت نقصان پہنچا۔انھی دنوں 23؍ اگست 1969ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس نے اس کے خلاف سخت مذمتی قرارداد منظور کی، اسرائیل کو اس سازش کا ذمہ دار قرار دیا اور بین الاقوامی تحقیقاتی کمیشن کا مطالبہ کیا۔اسی طرح اسی اجلاس میں حجاز ریلوے کو عالم اسلام کی مشترکہ امانت قرار دیتے ہوئے اسرائیلی مداخلت کی مذمت کی گئی۔

بعد ازاں 26؍اگست 1969ء کو بے حرمتی اور آتش زنی کے خلاف غم و غصے کے اظہار کے لیے اعلان کیا گیا کہ  29؍اگست 1969ء کو ’’یوم مسجد اقصیٰ‘‘ منایا جائے گا۔ علاوہ ازیں 29؍ اگست 1969ء کو دہلی میں عظیم احتجاجی اجلاس بھی کیا گیا۔جس میں بطور خاص مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر عالمی غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے، مقدس مقامات کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا۔

مسجد اقصیٰ کے تئیں ہندستانی مسلمانوں کے ایمانی جذبے کے دیکھتے ہوئے والی سعودی عرب شاہ فیصل نے 26؍ستمبر 1969ء جمعیت اور ہندستانی مسلمانوں کے جذبات پر شکریہ ادا کیا۔

یکم تا 5؍مارچ 1970ء کی قاہرہ کانفرنس میں 36؍ممالک کے علما نے شرکت کی۔ ہندستان سے مولانا اسعد مدنی صاحب نے نمائندگی کی۔ بعدازاں 18-19؍اپریل 1970ء کو منعقد مجلس منتظمہ نے،کانفرنس کے: اسرائیل کے خلاف جہاد پر زور، مشترکہ دفاعی حکمت عملی، اور فلسطینی مجاہدین کی مدد کی اپیل جیسے اہم فیصلوں کی تائید کی اور فنڈ کی فراہمی کا بھی اعلان کیا۔

اسرائیلی جارحیت کا ایک دردناک پہلو 21 ؍اگست 1969ء کو مسجد اقصیٰ میں آتش زدگی کا واقعہ تھا، جسنے عالمِ اسلام کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا۔ اسی پس منظر میں جمعیت علمائے ہند نے اس مسئلے کو زندہ رکھنے اور امتِ مسلمہ کو بیدار کرنے کے لیے مسلسل اور منظم جدوجہد جاری رکھا اور 11-12؍جولائی 1970ء کو منعقد مجلس عاملہ میں فیصلہ کیا گیا کہ 21؍اگست 1970ء کو ملک گیر سطح پر‘‘یومِ مسجد اقصیٰ’’منایا جائے گا۔ اس فیصلے کا مقصد نہ صرف مسجد اقصیٰ کے سانحہ کی یاد تازہ کرنا تھا؛ بلکہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنا بھی تھا۔ اس موقع پر جمعیت نے اقوام متحدہ، یونیسکو اور دیگر عالمی اداروں کو احتجاجی پیغامات بھیجنے کا بھی فیصلہ کیا۔ چنانچہ 21؍ اگست 1970ء کو دہلی کی جامع مسجد میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد کیا، جس میں اسرائیل کی شدید مذمت اور عرب ممالک کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا۔

 مسئلۂ فلسطین کے حل کے لیے عالمی سطح پر ہونے والی کوششوں میں بھی جمعیت علمائے ہند نے بھرپور دل چسپی لی۔ 27؍مارچ تایکم اپریل 1971ء کو قاہرہ میں ایک اہم بین الاقوامی کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں فلسطین اور مقدسات کے تحفظ پر غور کیا گیا۔ اس کانفرنس کے بعد 26-27 ؍اپریل 1971ء کو جمعیت کی مجلس عاملہ کے اجلاس میں اس کی قراردادوں کی مکمل تائید کی گئی اور فلسطینیوں کی عملی مدد اور اسرائیل سے تعلقات منقطع کرنے پر زور دیا گیا۔

اسی تسلسل میں 5؍مئی 1972ء کو مجلس منتظمہ کے اجلاس میں سعودی عرب کے سفیر نے جمعیت علمائے ہند کی خدمات کو سراہا اور 1967ء کی جنگ کے بعد عربوں کے ساتھ ہندستانی مسلمانوں کی ہمدردی کو قابلِ قدر قرار دیا۔ بعد ازاں 5 تا 7؍مئی 1972ء کے تئیسویں اجلاس عام میں ایک قرارداد منظور کی گئی، جس میں اسرائیلی مظالم کی مذمت، عرب ممالک کی مکمل حمایت اور حکومتِ ہند کی پالیسی کی تائید کی گئی۔

1973ء میں پیش آنے والے واقعات نے اس مسئلے کو مزید شدت دے دی۔ 10-11؍ اپریل 1973ء کو اسرائیل نے بیروت میں حملہ کر کے فلسطینی رہنماؤں کو شہید کردیا، جس پر جمعیت نے 12؍اپریل 1973ء کو ملک بھر میں دعائے مغفرت کی اپیل کی اور اقوام متحدہ کو احتجاجی پیغام بھیجا۔ اس کے بعد 29-30؍اگست 1973ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں مصر اور لیبیا کے اتحاد کا خیر مقدم کیا گیا اور اسے اسرائیل کے خلاف ایک مؤثر قدم قرار دیا گیا۔

جب 6؍اکتوبر 1973ء کو عرب-اسرائیل جنگ (رمضان جنگ) شروع ہوئی، تو جمعیت نے فوری ردعمل ظاہر کیا۔ 7؍اکتوبر 1973ء کو اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے‘‘یومِ دعا’’منانے کی اپیل کی گئی، جب کہ 10؍اکتوبر 1973ء کو عربوں کی مدد کے لیے رضاکار بھیجنے کی بات کی گئی۔ اسی سلسلے میں 12؍اکتوبر 1973ء کو دہلی کی جامع مسجد میں ایک بڑا جلسہ منعقد ہوا، جس میں اسرائیل اور اس کے حامیوں؛ خصوصاً امریکہ کی مذمت کی گئی اور عرب ممالک کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا۔

امریکہ کی جانب سے اسرائیل کو دی جانے والی حمایت کے خلاف بھی جمعیت نے واضح موقف اختیار کیا۔ چنانچہ 19؍اکتوبر 1973ء کو ایک احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور امریکی سفارت خانے کو میمورنڈم پیش کیا گیا، جس میں مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی بند کی جائے۔ مزید برآں 24؍اکتوبر 1973ء کو جمعیت نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ عید سادگی سے منائیں اور اپنی مالی استطاعت کے مطابق عرب مجاہدین کی مدد کریں۔

6تا 24؍اکتوبر 1973ء کی جنگِ رمضان کے دوران امریکہ کی اسرائیل کو امداد (2.2 بلین ڈالر) کے ردعمل میں 17؍اکتوبر 1973ء کو OAPEC نے تیل کی پیداوار کم کی اور 19-20 ؍اکتوبر 1973ء کو امریکہ و حامی ممالک پر تیل ایمبارگو نافذ کیا، جو مارچ 1974ء تک جاری رہا، جس سے عالمی تیل بحران پیدا ہوا۔

اس پس منظر میں سعودی عرب نے ہندستان کو اس پابندی سے مستثنیٰ رکھا، جس پر 9؍نومبر 1973ء کو صدر جمعیت مولانا سید اسعد مدنی نے شاہ فیصل کو شکریہ کا برقیہ بھیجا۔ اس سے قبل 3؍ نومبر 1973ء کو انھوں نے اسی سلسلے میں اپیل کی تھی اور سعودی حکام و عرب لیگ سے بھی رابطے کیے گئے۔

بعد ازاں 24؍نومبر 1973ء کو مجلس منتظمہ کے اجلاس میں، اسرائیلی جارحیت (خصوصاً اکتوبر 1973ء اور جنگ بندی 22؍اکتوبر 1973ء کے بعد کی پیش قدمی) کی مذمت کی گئی اورمطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل 1967ء کی سرحدوں پر واپس جائے۔عرب امدادی فنڈاور مستقل تنظیم کے قیام کا فیصلہ ہوا۔عرب ممالک کی تیل پالیسی کی حمایت اور سعودی عرب کا شکریہ ادا کیا گیا۔ عرب افواج، مجاہدین اور حامی ممالک کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔حکومت ہند سے اسرائیلی قونصل خانہ بند کرنے اور پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

24؍اکتوبر 1973ء کو جنگِ رمضان کے خاتمہ کے باوجود اسرائیلی جارحیت جاری رہی، جس کے پس منظر میں جمعیت علمائے ہند نے 25؍نومبر 1973ء کو’’عرب حمایت کنونشن‘‘ منعقد کی، تاکہ عالمی سطح پر احتجاج درج کیا جا سکے۔کنونشن میں وزیر خارجہ سردار سورن سنگھ نے واضح کیا کہ اسرائیل کی طرف سے عرب علاقوں پر قبضہ (خصوصاً 1967ء کے بعد) بنیادی مسئلہ ہے، اور اقوام متحدہ کی قرارداد 242 کے باوجود انخلا نہ ہونا ناانصافی کی دلیل ہے۔ انھوں نے ہندستان کی مستقل پالیسی (1948ء، 1956ء، 1967ء اور 1973ء کی جنگوں کے تناظر میں) عربوں کی حمایت کو اصولی موقف قرار دیا۔

دیگر مقررین (کے ڈی مالویہ، فخرالدین علی احمد، شنکر دیال شرما، دیوکانت بروا وغیرہ) نے تاریخی پس منظر (1917ء اعلان بالفور، 1948ء قیامِ اسرائیل، 1956ء، 1967ء، 1973ء جنگیں) بیان کرتے ہوئے اس جدوجہد کو سامراج کے خلاف اور انصاف کی لڑائی قرار دیا، نیز فلسطینیوں کے حقوق کی بحالی اور مقبوضہ علاقوں کی واپسی پر زور دیا۔

کنونشن میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ:یہ مسئلہ مذہبی نہیں؛ بلکہ سیاسی و انسانی انصاف کا ہے۔آخر میں صدر جمعیت مولانا اسعد مدنیؒ نے پہلی جنگ عظیم (1917ء) سے شروع ہونے والی صہیونی سازشوں اور فلسطینیوں کی بے دخلی کا تاریخی پس منظر بیان کرتے ہوئے عربوں کی مکمل حمایت کا اعادہ کیا۔اسی کنونشن کے ایک فیصلے کے مطابق19؍جنوری 1974ء کو آل انڈیا عرب حمایت کونسل کا قیام بھی عمل میں آیا۔ 

اکتوبر 1973ء کی جنگ کے بعد بھی مغربی ایشیا میں کشیدگی برقرار رہی۔ اسی پس منظر میں 20-21؍اپریل 1974ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں اسرائیل کی مسلسل جارحیت (خصوصاً گولان کی پہاڑیوں پر حملے) پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا گیا کہ 1967ء کے مقبوضہ علاقوں (بشمول بیت المقدس) کی واپسی اور فلسطینیوں کے منصفانہ حل کو یقینی بنایا جائے۔

اسی تسلسل میں مراکش کے شہر رباط میں 26 تا 29؍اکتوبر 1974ء (بعض کے نزدیک 25 تا 28؍اکتوبر) عرب لیگ کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں 28؍اکتوبر 1974ء کو PLO کو فلسطینیوں کا واحد نمائندہ تسلیم کیا گیا۔ اس کے بعد جمعیت نے 9-10؍نومبر 1974ء کے اجلاس میں اس فیصلے کا خیرمقدم کیا، اسرائیلی وزیر اعظم کے جنگ جویانہ بیانات کی مذمت کی اور اقوام متحدہ سے قرارداد 242 (1967ء) کے مطابق مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ اسی پس منظر میں ہندستان کے 1974ء میں PLO کو تسلیم کرنے کے فیصلے پر بھی شکریہ ادا کیا گیا۔

بعد ازاں مسجد ابراہیمی (الخلیل؍ہیبرون) کے تنازع (پس منظر: 1967ء قبضہ) کے تحت 7؍اگست 1975ء کو اردن کی شکایت کے بعد جمعیت نے 11؍اگست 1975ء کو احتجاجی تار بھیجا اور 29؍اگست 1975ء کو ملک گیر احتجاج کی اپیل کی۔ اسی دوران یکم ستمبر 1975ء کو  امریکہ-اسرائیل کے درمیان ہتھیار سپلائی معاہدہ پر 5-6؍نومبر 1975ء کے اجلاس میں سخت مذمت کی گئی۔

مزید برآں 15-16؍مئی 1976ء کے اجلاس میں اسرائیل کو امن میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے جنیوا کانفرنس بلانے اور PLO کی شمولیت کا مطالبہ کیا گیا، جسے 5-6؍فروری 1977ء کے اجلاس میں مزید زور دے کر دہرایا گیا اور امریکہ کے صدر جمی کارٹر پر دباؤ ڈالنے کی اپیل کی گئی۔

اسی تسلسل میں 11؍جولائی 1977ء کو مسجد اقصیٰ کے قریب کھدائی کے خلاف وزیر اعظم ہند کو برقیہ بھیجا گیا، جب کہ 28؍اگست 1977ء کو اقوام متحدہ کو اسرائیلی بستیوں کے خلاف شکایت کی گئی۔ پھر 3-4؍اکتوبر 1977ء کے آل انڈیا ملی کنونشن میں اسرائیل کے قیام کو بین الاقوامی سازش قرار دیا گیا۔

بعد ازاں مصر کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرلینے کے فیصلے پر مبنی مصر-اسرائیل معاہدہ (26؍مارچ 1979ء) کو جمعیت نے اسی دن مسترد کرتے ہوئے فلسطینی حقوق کے بغیر کسی امن کو ناقابل قبول قرار دیا۔ پھریروشلم کو اسرائیل کے دارالحکومت بنانے کے اعلان پر 27؍جولائی 1980ء کو مذمت کرتے ہوئے، 8؍اگست 1980ء کو’’یوم بیت المقدس‘‘منانے کا اعلان کیا گیا۔

22؍مئی 1981ء کو مسجد ابراہیمی کی واگزاری کے لیے اقوام متحدہ کو تار بھیجا گیا، اور 15-16؍جون 1981ء کے اجلاس میں عراق پر اسرائیلی حملہ کی مذمت کی گئی اور بائیکاٹ کا مطالبہ ہوا۔ پھر 24؍جولائی 1981ء کو سرکلر جاری کر کے 31؍جولائی 1981ء کو ملک گیر’’یوم فلسطین‘‘ منانے اور احتجاجی قراردادیں منظور کرنے کی اپیل کی گئی، جس پر ملک بھر میں عمل کیا گیا۔

مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ خاص طور پر 17؍جولائی 1981ء کو اس وقت نمایاں ہوا، جب اسرائیل نے بیروت میں پی ایل او کے دفاتر پر شدید بم باری کی۔ اس کے ردِعمل میں جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے 9-10؍اگست 1981ء کے اجلاس میں اس حملے کو کھلی جارحیت قرار دیتے ہوئے مذمت کی، اقوام متحدہ سے کارروائی کا مطالبہ کیا اور حکومت ہند سے اسرائیل کے ساتھ تعلقات ختم کرنے کی اپیل کی، نیز 31؍جولائی 1981ء کو منائے گئے ’’یومِ فلسطین‘‘کی تائید کی۔

بعد ازاں اسرائیل کے توسیع پسندانہ اقدامات، خصوصاً گولان کی پہاڑیوں کے الحاق کے خلاف 26-27؍دسمبر 1981ء کے اجلاس میں مذمت کی گئی اور یکم جنوری 1982ء کو’’یومِ احتجاج‘‘ منانے کا اعلان ہوا۔ اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے یکم و 2؍مئی 1982ء کے اجلاس میں اسرائیلی مظالم، نئی یہودی بستیوں کے قیام اور مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر شدید تشویش ظاہر کی گئی۔

3؍جون 1982ء کو لندن میں اسرائیلی سفیر پر حملے کے بعد اسرائیل نے 6؍جون 1982ء کو لبنان پر حملہ (آپریشن پیس فار گیلیلی) شروع کیا۔ اس پر جمعیت نے 11؍جون 1982ء کو مذمتی برقیہ بھیجا اور 18؍جون 1982ء کو’’یومِ دعا‘‘منانے کی اپیل کی۔ مزید برآں 18؍جولائی 1982ء کو فلسطینی مجاہدین کے لیے ایک دن کی آمدنی دینے کی اپیل کی گئی۔ بعد میں بیروت قتلِ عام کے خلاف 30-31؍اکتوبر 1982ء کے اجلاس میں سخت مذمت کی گئی۔

جمعیت کے صدر مولانا اسعد مدنی نے 14-15؍جنوری 1983ء کے اجلاس منتظمہ  میںاسرائیل کو عالمی سازش اور عرب دنیا کے لیے خطرہ قرار دیا۔ مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کے واقعات کے تناظر میں 26؍مارچ 1984ء کو اپیل جاری کر کے 13؍اپریل 1984ء کو’’یومِ احتجاج‘‘اور 18؍مئی 1984ء کو’’یومِ بیت المقدس‘‘منانے کا اعلان کیا گیا۔

اسرائیل کی جانب سے یکم اکتوبر 1985ء کو تیونس میں پی ایل او ہیڈکوارٹر پر حملے کے بعد 10؍اکتوبر 1985ء کے اجلاس میں اس کی شدید مذمت کی گئی۔ بعد ازاں یکم نومبر 1986ء کے اجلاس میں بھی اسرائیلی مظالم کے خلاف مسلسل جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔

لبنان میں فلسطینی کیمپوں کے محاصرے (پس منظر: 19؍مئی 1985ء سے جاری بحران، اختتام جولائی 1988ء) کے تناظر میں 13؍فروری 1987ء کے اجلاس میں انسانی المیے پر شدید ردعمل ظاہر کیا گیا اور عالمی مداخلت کا مطالبہ کیا گیا۔

اسی طرح غزہ اور مغربی کنارے میں مظالم (اواخر 1987ء تا اوائل 1988ء) پر 9-10؍جنوری 1988ء کے اجلاس میں مذمت کرتے ہوئے 5؍فروری 1988ء کو’’یومِ احتجاج‘‘ منانے کا اعلان کیا گیا، جس پر ملک گیر عمل ہوا اور فلسطینیوں کی مالی امداد (ابتدائی طور پر 50؍ہزار روپے) بھی دی گئی۔

مزید برآں 9-10؍اپریل 1988ء کے اجلاس میں’’صندوق جہادِ فلسطین‘‘قائم کیا گیا، جب کہ 10؍اگست 1988ء کو سرکلر جاری کر کے 19؍اگست 1988ء کو ملک گیر احتجاجی اجتماعات اور مالی امداد کی مہم چلانے کی اپیل کی گئی۔

فلسطین میں اسرائیلی مظالم کا سلسلہ اعلانِ بالفور (1917ء) سے جاری ہے، جس نے 1948ء میں قیامِ اسرائیل کے بعد شدت اختیار کی۔ اسی تسلسل میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف جمعیت علمائے ہند نے مختلف ادوار میں مسلسل اور منظم ردعمل ظاہر کیا۔

 3؍جون 1990ء کو مجلس منتظمہ کے اجلاس میں فلسطینیوں کی نسل کشی اور اسرائیلی دہشت گردی پر شدید احتجاج کیا گیا، جب کہ 9؍جون 1991ء کے اجلاس میں جنوبی لبنان اور فلسطینی بستیوں پر بم باری (پس منظر: 1982ء کے بعد شدید حملے) کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں سے مداخلت کا مطالبہ کیا گیا۔

اسرائیل کے ایٹمی طاقت بننے (پس منظر: 1966-67ء) کو بھی جمعیت نے یکم و 2؍ دسمبر 1991ء کے اجلاس میں مشرقِ وسطیٰ کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا اور PLO کو مذاکرات میں شامل کرنے پر زور دیا۔

حکومت ہند کی جانب سے اسرائیل کو پہلے 17؍ستمبر 1950ء کو تسلیم کرنے اور پھر 29؍ جنوری 1992ء کو مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے کے فیصلے پر جمعیت نے 22-23؍فروری 1992ء اور 8؍مئی 1992ء کے اجلاسوں میں سخت ردعمل ظاہر کیا اور ان تعلقات کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا۔

بعد ازاں 13؍ستمبر 1993ء کو ہونے والے اوسلو معاہدہ (پس منظر: 1967ء کے مقبوضہ علاقے اور اقوام متحدہ کی قراردادوں 242 و 338 کے تناظر میں فلسطین کی ریاست کو تسلیم کرلینے) کا جمعیت نے 3-4؍اکتوبر 1993ء کی ’’تحفظ شریعت کانفرنس‘‘ میں خیرمقدم کیا، اوراسے فلسطینی ریاست کے قیام کی امید قرار دیا۔تاہم 25؍فروری 1994ء کو مسجد ابراہیمی (الخلیل) میں قتل عام کے بعد 28؍فروری 1994ء کو ایک بیان جاری کرکے اور 18؍مارچ 1994ء کے اجلاس میں اسرائیل اور امریکہ دونوں کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے شدید مذمت کی گئی اور اقوام متحدہ کی مداخلت کا مطالبہ کیا گیا۔

مزید برآں 4-5؍اکتوبر 1997ء کے اجلاس میںمدارس کے خلاف اسرائیل کی خفیہ سازشوں پر تشویش ظاہر کی گئی۔

بھارت میں بی جے پی حکومت (1998ء تا 2004ء) کے دور میں اسرائیل نواز پالیسیوں کے پس منظر میں، 23؍جولائی 2000ء کو جمعیت نے پریس بیان جاری کرکے اس پالیسی کی مخالفت کی۔ اسی دوران 28؍ستمبر 2000ء سے شروع ہونے والی دوسری انتفاضہ اور 30؍ستمبر 2000ء کے واقعہ (محمد الدرہ کی شہادت) کے بعد 16؍اکتوبر 2000ء کو اسرائیلی جارحیت کی مذمت کی گئی۔

اس سلسلے میں 23؍اکتوبر 2000ء کو نئی دہلی میں احتجاجی مظاہرہ کیا گیا (پس منظر: 1948ء، 1956ء، 1967ء، 1973ء کی جنگیں اور طویل تنازع)، جس میں اقوام متحدہ کو میمورنڈم پیش کر کے فلسطینی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔

اسی تناظر میں 12-14؍نومبر 2000ء کو او آئی سی کانفرنس (دوحہ) کے موقع پر جمعیت نے عالم اسلام سے متحدہ اقدام اور اسرائیل کے بائیکاٹ کی اپیل کی، جب کہ 23؍مئی 2001ء کو اسرائیلی بم باری (ایف-16 طیاروں کے استعمال) پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکہ کو اصل پشت پناہ قرار دیا اور عرب ممالک سے اصولی موقف اپنانے کی اپیل کی۔

مسجد اقصیٰ اور فلسطین کی صورتِ حال کے تناظر میں 29؍جولائی2001ء کو اسرائیلی پولیس اور فورسز نے حرمِ شریف میں داخل ہو کر بے حرمتی کی، جب یہودی انتہا پسند تنظیم ’’Temple Mount Faithful تیشا بآو کے موقع پر تیسرے ہیکل کی علامتی بنیاد رکھنے کی کوشش کر رہی تھی۔ اس کے ردعمل میں فلسطینیوں کے احتجاج پر اسرائیلی فورسز نے حملہ کیا۔ اس واقعہ پر 2 ؍اگست 2001ء کو جمعیت علمائے ہند نے سخت مذمت کرتے ہوئے اسے سنگین جارحیت قرار دیا۔اس کے بعد بڑھتی ہوئی اسرائیلی کارروائیوں کے پس منظر میں 7؍مارچ 2002ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں فلسطین پر اسرائیلی حملوں اور امریکہ کی حمایت کی مذمت کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا مطالبہ کیا گیا، جب کہ 14؍اپریل 2002ء کو حیدرآباد کے کنونشن میں بھی مذمتی قرارداد پیش کی گئی۔ پھر یکم مئی 2002ء کے اجلاس میں انھی مظالم اور یاسر عرفات کے محاصرہ پر شدید احتجاج کیا گیا۔

اسی تسلسل میں 19؍جولائی 2002ء کو پورے ملک میں’’یومِ فلسطین‘‘منایا گیا اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف قراردادیں منظور کر کے اقوام متحدہ و دیگر اداروں کو بھیجی گئیں۔ بعد ازاں 9؍مارچ 2003ء کو جمعیت کے ستائیسویں اجلاس عام میں اسرائیلی مظالم (پس منظر: 1948ء سے جاری تنازع) پر تفصیلی خطاب اور قرارداد کے ذریعے فلسطینی ریاست، مہاجرین کی واپسی اور اسرائیلی قبضہ کے خاتمہ کا مطالبہ کیا گیا۔

اسی دوران 5؍اکتوبر 2003ء کو شام کے قریب پناہ گزین کیمپ پر اسرائیلی حملہ (1973ء کے بعد پہلا بڑا حملہ) ہوا، جس پر 6؍اکتوبر 2003ء کو جمعیت نے اسے اشتعال انگیز قرار دے کر مذمت کی۔ پھر 22؍مارچ 2004ء کو حماس رہنما شیخ احمد یاسین کی شہادت کے بعد 24؍مارچ 2004ء کو جمعیت نے اسے بزدلانہ کارروائی قرار دیا اور حکومت ہند سے اسرائیل سے تعلقات پر نظرثانی کا مطالبہ کیا۔

مزید برآں 6؍دسمبر 2004ء کو امریکہ و اسرائیل کی پالیسیوں کو مشرقِ وسطیٰ کی بدامنی کا سبب قرار دیا گیا،جب کہ 29؍مئی 2005ء کے اٹھائیسویں اجلاس عام میں صہیونی سازشوں اور فلسطین کی صورت حال پر تفصیلی اظہارِ خیال کیا گیا اور اسرائیلی توسیع پسندی کی مذمت کی گئی۔

بعد ازاں 25؍جون 2006ء کے واقعہ (اسرائیلی فوجی کی گرفتاری) کے بعد اسرائیل نے ’’آپریشن سمر رینز‘‘ شروع کیا، جس کے نتیجہ میں 29-30؍جون 2006ء کو بڑے پیمانے پر حملے اور گرفتاریاں ہوئیں۔ اس پر 30؍جون 2006ء کو جمعیت نے سخت مذمت کی، اور پھر 30؍ جولائی 2006ء کے اجلاس میں فلسطین و لبنان پر بم باری کے خلاف قرارداد منظور کر کے 4؍ اگست 2006ء کو’’یومِ دعا‘‘منانے کی اپیل کی گئی۔

اسی طرح مسجد اقصیٰ کے گرد کھدائی کے پس منظر میں 6؍فروری 2007ء کو اسرائیلی اقدام کے خلاف 8؍فروری 2007ء کو جمعیت نے اسے خطرناک سازش قرار دیا، اور 14؍فروری 2007ء کے اجلاس میں عرب ممالک سے اتحاد کی اپیل کی گئی۔

آخرکار فلسطینیوں کے خلاف مسلسل مظالم کے تناظر میں 5؍اپریل 2008ء کے اجلاس  منتظمہ میں اسرائیل کی نسل کشی، ناکہ بندی اور تباہی کی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست، بیت المقدس کی واگزاری، یہودی بستیوں کے خاتمہ اور عالمی مداخلت کا مطالبہ کیا گیا۔

اسرائیل کی بربریت کے تسلسل میں 31؍مئی 2008ء کو منعقدہ ’’دہشت گردی مخالف امن عالم کانفرنس‘‘ میں صدر جمعیت مولانا قاری سید محمد عثمان منصور پوریؒ نے اسرائیل کو مشرقِ وسطیٰ کے لیے ’’ناسور‘‘قرار دیتے ہوئے امریکہ کی مسلسل پشت پناہی کو فلسطینی مظالم کی بنیادی وجہ بتایا۔

اس کے بعد9؍ نومبر2008ء کے انتیسویںاجلاس عام میں اسرائیلی جارحیت (پس منظر: 1948ء سے جاری تنازع اور غزہ ناکہ بندی) پر تفصیلی خطاب کرتے ہوئے آزاد فلسطینی ریاست، مقبوضہ علاقوں سے انخلا اور عالمی برادری کے کردار پر زور دیا گیا، نیز تجویز نمبر (8) میں اسرائیل سے مقبوضہ عرب علاقوں کو خالی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

27؍دسمبر 2008ء تا 18؍جنوری 2009ء (آپریشن کاسٹ لیڈ) کے دوران غزہ پر شدید حملوں کے بعد، 30؍دسمبر 2008ء کے اجلاس میں مذمتی قرارداد منظور ہوئی اور 2؍ جنوری 2009ء کو’’یوم دعا و مذمت‘‘منانے کا فیصلہ کیا گیا۔ پھر 13-14؍فروری 2009ء کے اجلاس میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت اور حکومت ہند سے سابقہ پالیسی اپنانے کا مطالبہ کیا گیا، جب کہ 14؍فروری 2009ء کو منعقد ’’دہشت گردی مخالف امن عالم کانفرنس‘‘ میں اسرائیل کی کارروائیوں کو عالمی انسانی المیہ قرار دیا گیا۔

مزید برآں 18؍جون 2009ء کو پریس بیان کے ذریعہ عالمی طاقتوں سے اسرائیل کو روکنے کی اپیل کی گئی، اور 3 ؍نومبر 2009ء کو منعقد تیسویں اجلاس عام میں (تجاویز 14 و 24) بھارت کی اسرائیل نواز پالیسی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے فلسطین کی حمایت کا مطالبہ کیا گیا۔

31؍مئی 2010ء کو غزہ امدادی بیڑے پر اسرائیلی حملہ کے پس منظر میں یکم جون 2010ء کو سخت مذمت کی گئی، جب کہ 22؍جون 2010ء اور 2؍جولائی 2010ء کی ایک میٹنگ میں فلسطین کے لیے مہم، وفد اور امدادی منصوبوں پر غور کیا گیا۔

اسی طرح 27؍اگست 2010ء کو شیخ حامد بیتاوی کی گرفتاری پر 28؍اگست 2010ء کو مذمت، اور 6؍ اکتوبر 2010ء کو قرآن نذر آتش کیے جانے پر سخت ردعمل ظاہر کیا گیا، نیز 26؍ اکتوبر 2010ء کو عالمی عیسائی رہنماؤں کی مذمتی قرارداد کی تائید کی گئی۔

بعد ازاں 27؍فروری 2012ء کے اجلاس میں بیت المقدس میں اسرائیلی جارحیت کی مذمت، 29؍اپریل 2012ء کو مسجد ابراہیمی پر پرچم کشائی کے خلاف بیان، اور 19؍مئی 2012ء کو منعقد اکتیسویں اجلاس عام (تجویز 11) میں اسرائیل سے تعلقات پر نظرثانی کا مطالبہ کیا گیا۔ پھر 28؍اگست 2012ء کو عالمی برادری سے اسرائیلی جارحیت روکنے کی اپیل کی گئی۔

آخرکار نئی سیاسی صورت حال (پس منظر:26؍ مئی 2014ء کو این ڈی اے حکومت کا قیام) سے قبل 24؍مئی 2014ء کے اجلاس میں حکومت ہند کو اسرائیل کی ریشہ دوانیوں سے محتاط رہنے اور مظلوموں کی حمایت کی پالیسی برقرار رکھنے کی ہدایت دی گئی۔

فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کے تسلسل میں 8؍جولائی 2014ء کو’’آپریشن پروٹیکٹو ایج‘‘ شروع ہوا، جو تقریباً پچاس دن جاری رہا اور اس دوران غزہ پر شدید فضائی، بحری اور زمینی حملے کیے گئے۔ اس کے ردعمل میں 14؍جولائی 2014ء کو جمعیت علمائے ہند نے اسرائیلی حملوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے اسے کھلی جارحیت قرار دیا اور عالمی برادری سے اسرائیل پر اقتصادی پابندیاں عائد کرنے کا مطالبہ کیا۔

اسی پس منظر میں غزہ کے انسانی بحران کے خلاف جمعیت نے 4تا8؍اگست 2014ء ’’انسانیت بچاؤ احتجاجی ہفتہ‘‘ منایا، جس میں مساجد میں قراردادیں، دعائیں اور عوامی بیداری مہم چلائی گئی، جب کہ 8؍اگست 2014ء کو ملک گیر’’یومِ دعا و احتجاج‘‘منایا گیا۔ اس دوران ساڑھے پانچ لاکھ مسڈ کالز کے ذریعے احتجاج ریکارڈ کیا گیا اور اقوام متحدہ و دیگر اداروں کو میمورنڈم بھیجا گیا، جس میں اسرائیلی حملوں کو نسل کشی قرار دے کر ناکہ بندی کے خاتمہ، تحقیقات اور معاوضہ کی ادائیگی کا مطالبہ کیا گیا۔

بعد ازاں 16؍مئی 2015ء کو جمعیت کے بتیسویں اجلاس عام میں اسرائیل کے قیام (پس منظر: فلسطینیوں کی بے دخلی) اور اس کی مسلسل بربریت کا تجزیہ کرتے ہوئے عالمی برادری اور حکومت ہند کے کردار پر تنقید کی گئی اور اسرائیلی جارحیت روکنے پر زور دیا گیا۔

اسی تسلسل میں 12؍نومبر 2015ء کو اسرائیلی وزیر اعظم کی متوقع ہندستان آمد پر جمعیت نے شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے احتجاج کی دھمکی دی، اور اسی تاریخ کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں بھی اس کی مخالفت کا فیصلہ کیا گیا۔

مزید برآں 13؍نومبر 2016ء کے اجلاس عام میں (پس منظر: اوسلو معاہدہ) یہ مطالبہ کیا گیا کہ بیت المقدس سے اسرائیل اپنا قبضہ ختم کرے اور القدس کا کنٹرول فلسطینیوں کے حوالے کرے۔ پھر 14 تا 21؍نومبر 2016ء اسرائیلی صدر کے دورۂ ہند پر 15؍نومبر 2016ء کو جمعیت نے اس پر سخت تنقید کی اور اسے اسرائیل کی حمایت قرار دیا۔اس کے بعد 18؍نومبر 2016ء کو نئی دہلی کے جنتر منتر پر بڑے پیمانے پر احتجاجی اجلاس منعقد ہوا، جس میں مختلف تنظیموں کے ساتھ مل کر اسرائیل کے خلاف مظاہرہ کیا گیا اور صدرِ جمہوریہ ہند کے نام میمورنڈم پیش کیا گیا، جس میں فلسطینی ریاست کے قیام، غزہ کی ناکہ بندی کے خاتمہ اور اسرائیل پر پابندیوں کا مطالبہ کیا گیا۔

بعد ازاں مسجد اقصیٰ میں کشیدگی کے پس منظر میں 14 تا 27؍جولائی 2017ء اسرائیلی پابندیوں اور تشدد کے خلاف، 24؍جولائی 2017ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں سخت مذمت کرتے ہوئے عالمی طاقتوں سے مداخلت کی اپیل کی گئی۔

27؍اکتوبر 2017ء کے اجلاس میں جمعیت نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے اور فلسطینیوں کی حمایت کی سابقہ روایت کو بحال رکھتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ تعلقات پر دوبارہ غور کرے۔

6؍دسمبر 2017ء کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم (بیت المقدس) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے کا اعلان کیا، جو بین الاقوامی قراردادوں (خصوصاً 1967ء کے بعد کی صورت حال) کے خلاف تھا۔ اس کے فوراً بعد 7؍دسمبر 2017ء کو جمعیت علمائے ہند نے سخت احتجاج کرتے ہوئے اسے اشتعال انگیز فیصلہ قرار دیا اور اقوام متحدہ سے ہنگامی اقدام کا مطالبہ کیا۔

اسی سلسلے میں 20؍دسمبر2017ء کو نئی دہلی میں ایک اہم مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس میں سیاسی، ملی اور بین الاقوامی شخصیات نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں ایک متفقہ قرارداد منظور کی گئی، جس میں امریکی فیصلے کی مذمت، آزاد فلسطینی ریاست (دارالحکومت: مشرقی یروشلم) کے قیام اور حکومت ہند سے واضح مؤقف اپنانے کا مطالبہ کیا گیا، نیز ایک کمیٹی تشکیل دی گئی اور قرارداد اقوام متحدہ کو بھیجنے کا فیصلہ ہوا۔اس کے بعد 21؍دسمبر 2017ء کو کلکتہ میں احتجاجی جلسہ میں اس فیصلے کو انصاف کے خلاف قرار دیا گیا، جب کہ 22؍دسمبر 2017ء کو پورے بھارت میں تقریباً 1000 سے زائد مقامات پر زبردست احتجاجی مظاہرے کیے گئے، جن میں ایک کروڑ سے زائد افراد شریک ہوئے اور قراردادیں عالمی اداروں تک پہنچائی گئیں۔

بعد ازاں 14 تا 19؍جنوری 2018ء اسرائیلی وزیر اعظم کے دورۂ ہند کے موقع پر، 17؍ جنوری 2018ء کو جمعیت علمائے ہند نے احمد آباد میں احتجاج کی کوشش کی، مگر انتظامیہ کی رکاوٹوں کے باوجود پریس کانفرنس کے ذریعے سخت مذمت درج کرائی اور اسرائیل کو استعماری ذہنیت کا حامل قرار دیا۔

اسی تسلسل میں جمعیت نے قبل از وقت بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے 30؍جون 2018ء کے مجلس عاملہ کے اجلاس میں امریکی سفارت خانہ یروشلم منتقلی اور متوقع’’صدی کی ڈیل‘‘کو مسترد کیا، اور مطالبہ کیا کہ اسرائیل کے خلاف عالمی سطح پر قانونی کارروائی ہو اور فلسطینی ریاست قائم کی جائے۔ بعد میں 28؍جنوری 2020ء کو اسی نوعیت کی ڈیل کا باضابطہ اعلان ہوا، جس میں یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کیا گیا۔

مزید برآں 7؍مئی 2021ء کو رمضان کے آخری جمعہ کے دن مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی حملے (پس منظر: یروشلم میں کشیدگی) کے بعد 8؍مئی 2021ء کو جمعیت نے سخت مذمت کی اور اسے دہشت گردی قرار دیا۔ پھر 27؍مئی 2021ء کے مجلس عاملہ میں قرارداد منظور کرکے اسرائیلی جارحیت، غزہ حملوں اور مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کی مذمت کی گئی اور عالمی مداخلت کا مطالبہ کیا گیا۔

اسی طرح 6؍ اکتوبر 2021ء کو اسرائیلی عدالت کے متنازع فیصلے (مسجد اقصیٰ میں یہودی عبادت کی اجازت) کے بعد 9؍ اکتوبر 2021ء کو جمعیت نے اسے خطرناک قرار دیا۔ چنانچہ بعد میں اس فیصلے کو کالعدم کر دیا گیا۔

28-29؍مئی 2022ء کے مجلس منتظمہ میں غزہ کی ناکہ بندی (پس منظر: سلامتی کونسل قرارداد 1860-2009ء) ختم کرنے اور مغربی کنارے میں یہودی آبادکاری (قرارداد 2334-2016ء) روکنے کا مطالبہ کیا گیا، نیز آزاد فلسطینی ریاست کے قیام پر زور دیا گیا۔

12؍فروری 2023ء کے چونتیسویں اجلاس عام میں انھی مطالبات کو دہرایا گیا اور اسرائیلی اقدامات (یروشلم کی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش) پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کو صرف مسلمانوں کا حق قرار دیا گیا اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کی اپیل کی گئی۔

7؍اکتوبر 2023ء کو حماس نے آپریشن الاقصیٰ فلڈ کے تحت اسرائیل پر حملہ کیا، جس کے جواب میں اسرائیل نے آپریشن آئرن سورڈز شروع کرتے ہوئے غزہ پر شدید بم باری کی۔ اس جنگ میں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہوئیں اور 2025ء تک ہزاروں فلسطینی شہید اور لاکھوں زخمی و بے گھر ہوئے۔ اس تنازع کا بنیادی پس منظر فلسطینی علاقوں پر اسرائیل کا قبضہ اور طویل المدتی جبر ہے۔

اسی تناظر میں 9؍اکتوبر 2023ء کو جمعیت علمائے ہند نے اسرائیلی بم باری کی سخت مذمت کرتے ہوئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔ مولانا محمود اسعد مدنی نے اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں سے فوری مداخلت کی اپیل کی اور فلسطینیوں کی جدوجہد کو جائز قرار دیا۔

بعد ازاں 19؍اکتوبر 2023ء کو نئی دہلی کے کانسٹی ٹیوشن کلب میں مختلف ملی و سماجی تنظیموں کے اشتراک سے ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں فلسطینی عوام کے ساتھ یک جہتی کا اظہار کیا گیا اور اسرائیلی مظالم کے خلاف قرارداد منظور کی گئی۔

مزید برآں 5؍جنوری 2024ء کو جمعیت کی مجلس عاملہ نے ایک قرارداد کے ذریعے غزہ میں جاری تباہی اور ہزاروں شہریوں کی ہلاکت پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے اسرائیلی کارروائیوں کو بدترین بربریت قرار دیا۔

اس کے ساتھ یکم جنوری 2024ء، فروری 2024ء، 2؍اپریل 2024ء اور 18؍اپریل 2024ء کے دوران ہندستان کی جانب سے اسرائیل کو اسلحہ فراہمی کے اقدامات سامنے آئے، جس پر 4-5؍جولائی 2024ء کو مجلس منتظمہ کے اجلاس نے اسے ملک کی تاریخ اور اصولی پالیسی کے خلاف ’’بدترین غداری‘‘قرار دیا اور اسرائیل کو اسلحہ کی فراہمی روکنے کا مطالبہ کیا۔

بعد ازاں 30؍ستمبر 2024ء کو جمعیت نے لبنان اور غزہ پر اسرائیلی حملوں کی توسیع کی سخت مذمت کی اور عالمی برادری سے فوری جنگ بندی اور امن کے قیام کی اپیل کی۔

پھر 13؍اپریل 2025ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں ایک بار پھر اسرائیلی جارحیت، ناکہ بندی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف قرارداد منظور کی گئی، جس میں حکومت ہند سے فعال کردار ادا کرنے، جنگ بندی کرانے اور فلسطینیوں کی مدد کا مطالبہ کیا گیا۔

اسی سلسلے میں 22؍جون 2025ء کو امریکہ نے ایران پر’’آپریشن مڈنائٹ ہیمر‘‘کے تحت حملہ کیا، جس کے بعد 23؍جون 2025ء کو جمعیت علمائے ہند نے اس کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مذمت کی، جب کہ 24؍جون 2025ء کو جنگ بندی عمل میں آئی۔

قصۂ مختصر یہ کہ اسرائیل کے خلاف سب سے پہلے جمعیت علمائے ہند نے آواز اٹھائی اور اس کے وجود کو کبھی بھی تسلیم نہیںکیا۔ چوں کہ اسرائیل کا معاملہ قضیۂ فلسطین سے جڑا ہوا ہے، اس لیے اس کی بقیہ تفصیلات ’’قضیۂ فلسطین ‘‘ کے عنوان میں درج ہوںگی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔