7 Mar 2026

قضیۂ فلسطین اور جمعیت علمائے ہند



قضیۂ فلسطین اور جمعیت علمائے ہند

محمد یاسین جہازی 

جنگ عظیم اول (28؍ جولائی 1914ء- 11؍ نومبر1918ء) میں برطانیہ نے تین الگ الگ لوگوں سے تین الگ الگ وعدے کیے:

۱۔ مسلمانان عالم سے تعاون و حمایت حاصل کرنے کے لیے خلافت عثمانیہ اسلامیہ کے تحفظ کا وعدہ کیا۔

۲۔ یہودیوں سے وعدہ کیا کہ انھیں فلسطین میں اسرائیل کے نام سے ایک مستقل وطن دے دیںگے۔ 

۳۔ اور ہندستانیوں سے وعدہ کیا کہ انھیں سوراج ، یعنی غلامی سے آزاد کردیںگے۔  

قاضی عدیل عباسی صاحب لکھتے ہیں کہ:

’’ایک طرف حکومت برطانیہ کے ذمہ داروں نے مسلمانان عالم سے خلافت مرکزی اسلامیہ اور اماکن مقدسہ کے قیام کا وعدہ کر رکھا تھا۔ دوسری جانب صہیونی جماعت سے ان کو فلسطین میں وطن دینے کا وعدہ کیا تھا۔ ان دو متضاد و عدوں کا نبھانا آسان نہ تھا، اس لیے ایک رائل کمیشن مقرر کیا گیا۔ رائل کمیشن نے اپنی رپورٹ میں ان دونوں کا تذکرہ کر کے لکھا کہ ہم نے دو متضاد وعدے کیے اور ہم کو ایک وعدے سے منحرف ہونے اور وعدہ خلافی کے مجرم بننے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں۔ دوسری طرف اس نے لڑائی میں شرکت کے بدلے کانگریس سے ہندستان کو اصلاحات دینے کا وعدہ کر لیا تھا، جس کی ایک اعلیٰ طاقتی کمیٹی لندن میں جانچ کر رہی تھی۔ ہندستان کو ذمہ دار حکومت دینے کا وعدہ مسٹر مانٹیگو نے بذریعہ اعلان شاہی مؤرخہ 18؍ اگست 1917ء کو کیا تھا اور چند ماہ بعد خود ہندستان آکر وائسرائے کے ساتھ تمام ہندستان کا دورہ کیا تھا، تاکہ پبلک کے خیالات معلوم ہوں۔ معتدلین انگلستان و فد لے کر گئے اور اپنے نقطۂ نگاہ کو پیش کر رہے تھے۔‘‘

 (تحریک خلافت، قاضی محمد عدیل عباسی، ص؍74-77)

پھر واقعہ یہ ہوا کہ برطانیہ نے یہودیوں کے ساتھ وعدہ وفا کرتے ہوئے وطن الیہود کے تصور کو آگے بڑھایا اور عالم اسلام کو دھوکا دیتے ہوئے خلافت اسلامیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے مل بانٹ لیا۔ چنانچہ 30؍ اکتوبر 1918ء کو رؤف بے وزیر بحریہ اور برطانوی امیر البحر کالتھراپ کے دستخطوں سے ہوئی عارضی صلح کے بعد،اس فیصلے کی تصدیق و تائید کے لیے 10؍ اگست 1920ء کو ترکی اور دول متحدہ کے درمیان ’’معاہدۂ سیورے‘‘ ہوا،جس کی رو سے:

’’ ترکی کے علاقوں پر اس طرح قبضہ طے کیا گیا کہ عراق، فلسطین اور شرق اردن برطانیہ کی عمل داری میں چلے گئے۔‘‘ (تاریخ اقوام عالم: مرتضی احمد خان لاہور، 1963ء۔ بحوالہ شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد دوم، ص؍78)

 اور ادھر ہندستانیوں کے ساتھ بھی غداری کرتے ہوئے سوراج دینے کے بجائے 18؍ جنوری1919ء کو ر رولٹ ایکٹ شائع کرکے ان کی غلامی کی زنجیروں کو مزید جکڑ دیا۔

قاضی صاحب لکھتے ہیں کہ:

’’عارضی صلح کی شرائط سے ہندستان کے مسلمانوں کو بڑی مایوسی ہوئی۔ اب ان کو اندازہ ہوا کہ مستقل صلح جب ہوگی،تو نہ ترکی باقی رہے گا نہ خلیفۃ المسلمین، نہ اماکن مقدسہ نہ فلسطین، نہ بیت المقدس ؛بدحواسی اور بے چارگی میں مسلمانوں نے جلسے اور تجاویز کا انبار لگا دیا۔‘‘

 (تحریک خلافت، قاضی محمد عدیل عباسی، ص؍77)

چنانچہ اس بے چینی نے تحریک خلافت کو جنم دیا، جو بعد میں آزادی کی تحریک میں معاون بن گئی۔

مشرق وسطیٰ میں مغربی مفادات کے تحفظ کی گہری سازش

مولانا انیس الحسن صاحب بی اے نے متحدہ عرب جمہوریہ کے سفر سے واپسی پر’’عرب قومیت‘‘ کے عنوان سے بائیس قسطوں میں اپنے مشاہدات و تأثرات الجمعیۃ میں پیش کیے۔ اسی  تناظر میں’’سرزمین ظلم و جفا: ’’اسرائیل‘‘ کے عنوان کے تحت ایک مضمون میں لکھتے ہیں کہ: 

’’ٹھیک اسی نوعیت کی ایک سیاسی تدبیر ہے، جو مشرق وسطی میں مغربی مفادات کو تادیر محفوظ رکھنے کے لیے بہت سوچ سمجھ کر آہستہ آہستہ بروئے کارلائی گئی ہے اور جسے ’’اسرائیل‘‘ کا نام دیا گیا ہے ۔

اس سازش کا ظاہری اور نمائشی پہلو تو یہ ہے کہ یہو دی دنیا کی ایک مستقل قوم ہیں۔ پانچ چھے لاکھ کی تعداد رکھتے ہیں۔ صدیوں سے ان کا کوئی ہوم لینڈ، یا ٹھکانہ نہیں۔ بچارے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ پھر ہٹلر نے تو ان پر مظالم کی حد ہی کردی۔ یہ غریب بھی انسان ہیں، ان کا وطن فلسطین ہے۔ ان کو فلسطین کی کچھ زمین ملنی چاہیے کہ اپنا گھر بسا کر رہ سکیں۔ سارے جہاں کا درد برطانیہ ہی کو ہے اور یہودیوں پر بھی آخر کار برطانیہ ہی کو رحم آیا اور اس کی کوششوںسے یہودیوں کو سرزمین فلسطین پر اپنا گھر بنانے کا موقع ملااور اسرائیل کی نام نہاد حکومت بن سکی۔

لیکن اس نمائش اورفریب واشتہار سے الگ جب آپ حقیقت پر نظر ڈالیںگے، تو وہ بہت بھیانک اور خود غرضی کی ایک ننگی تصویر ہے۔ یورپ سے آپ مشرق کی طرف چلیں، تو سب سے پہلے ان عرب ممالک سے آپ کو گزرنا ہوگا، جو مشرق وسطی کہلاتے ہیں۔ گویا یہ مشرق کا دروازہ ہے اور مشرق کے بعید ترین گوشوں تک اپنا سیاسی اقتدار اور سلسلۂ نفع اندوزی قائم رکھنے کے لیے یورپ کی سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ عرب ممالک پر پنجہ جما رہے۔

اس مصلحت سے یورپ کی حکومتوں نے اپنے دور تسلط میں عرب ملکوں کے زیادہ سے زیادہ ٹکڑے کیے۔ ان کی طاقت کو منتشر کیا۔ ان میں باہم کشمکش اور اختلاف کے مسلسل انجکشن لگائے۔ پھر جب زمانہ کے حالات قابو سے باہر نظر آنے لگے اور یہ امید ٹوٹ گئی کہ یہ تمام ممالک اپنے پنجۂ غلامی میں رہ سکیںگے، تو فکر ہوئی کہ کسی نہ کی شکل میں یہاں اپنا ایک مرکز تو قائم ہی کر دیا جائے، اس لیے کہ اگر مشرق وسطیٰ کے علاقہ سے ایک بار یورپ کی طاقتیں بالکل واپس ہوگئیں، تو پھر کبھی انھیں مشرق کی طرف واپس ہونے کا موقع نہ ملے گا۔

چنانچہ اس منصوبہ کو بروئے کار لانے کے لیے یہودیوں کو اکسایا گیا اور دنیا میں شور مچا کر ان کے مسئلہ کو ابھارا گیا۔ کم و بیش ایک چوتھائی صدی میں یہ منصوبہ مختلف مرحلوں سے گذر کر آخر اپنی منزل تک پہنچ گیا۔ اور بقول کرنل عبدالحمید سراج عربوں کے سینہ میں مغربی مفادات و تحفظات کا یہ خنجر بھونک دیا گیا، جس کا نمائشی نام ’’اسرائیل‘‘ ہے۔ 

(روزنامہ الجمعیۃ،16؍مئی 1958ء، ص؍2)

قضیۂ فلسطین کا آغاز: اعلان بالفور

چنانچہ اس کا آغاز پہلی عالمی جنگ کے دوران اس خط سے ہوا، جسے برطانوی خارجہ سکریٹری آرتھر جیمز بالفور نے 2 ؍نومبر 1917ء کو برطانوی یہودی رہنما لارڈ والٹر روتھس چائلڈ کو لکھا تھا۔ یہ خط بالفور ڈیکلریشن (Balfour Declaration) کے نام سے مشہور ہوا۔ اس میں برطانوی حکومت نے فلسطین میں یہودیوں کے لیے ایک ’’قومی گھر‘‘ (national home) قائم کرنے کی حمایت کا اعلان کیا۔

یہ اعلان 31؍ اکتوبر 1917ء کو برطانوی وار کیبنٹ نے منظور کیا تھا اور 2؍ نومبر 1917ء کو خط کی شکل میں جاری ہوا، جو 9؍ نومبر 1917 ء کو اخبارات میں شائع ہوا۔

خط کا اصل متن درج ذیل ہے:

Foreign Office

November 2nd, 1917

Dear Lord Rothschild,

I have much pleasure in conveying to you, on behalf of His Majesty's Government, the following declaration of sympathy with Jewish Zionist aspirations which has been submitted to, and approved by, the Cabinet.

''His Majesty's Government view with favour the establishment in Palestine of a national home for the Jewish people, and will use their best endeavours to facilitate the achievement of this object, it being clearly understood that nothing shall be done which may prejudice the civil and religious rights of existing non-Jewish communities in Palestine, or the rights and political status enjoyed by Jews in any other country.''

I should be grateful if you would bring this declaration to the knowledge of the Zionist Federation.

Yours sincerely,

Arthur James Balfour

 ترجمہ

فارن آفس۔ 2 ؍نومبر 1917ء۔

پیارے لارڈ روتھسچائلڈ!

میں آپ کو تاج دار برطانیہ کی حکومت کی طرف سے یہودی زنونسٹ امنگوں کے ساتھ ہمدردی کے اس اعلان کی اطلاع دیتے ہوئے بڑی خوشی محسوس کر رہا ہوں، جو کیبنٹ کے سامنے پیش کیا جا چکا ہے اور اس کی منظوری حاصل ہو چکی ہے۔

تاج دار برطانیہ کی حکومت فلسطین میں یہودی قوم کے لیے ایک قومی گھر کے قیام کو پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور اس مقصد کے حصول میں اپنی بہترین کوششیں کرے گی، اس بات کو واضح طور پر سمجھ لیا جائے کہ ایسا کچھ نہیں کیا جائے گا، جس سے فلسطین میں موجود غیر یہودی برادریوں کے شہری اور مذہبی حقوق پر کوئی اثر پڑے، یا کسی دوسرے ملک میں یہودیوں کے جو حقوق اور سیاسی حیثیت ہیں ان پر کوئی اثر نہ پڑے۔

اگر آپ اس اعلان کو زنونسٹ فیڈریشن کے علم میں لا دیں، تو میں آپ کا شکرگزار ہوں گا۔

آپ کا مخلص:آرتھر جیمز بالفور۔ 

(https://www.un.org/unispal/document/auto-insert-193242/)

10؍ اگست1920 ء کو ہونے والے معاہدۂ سیورے (Treaty of Sevray) کی دفعات کا تذکرہ کرتے ہوئے دفعہ نمبر(۹) میںقاضی عدیل صاحب لکھتے ہیں کہ: 

’’2؍ نومبر1917ء کو یہودیوں کی انجمن سے فلسطین میں وطن دینے کا جو وعدہ انگریزوں نے کیا تھا، اس کے مطابق طے ہوا کہ یہودیوں کو فلسطین میں وطن دیا جائے۔ (مسلمانوں سے جو وعدہ کیا گیا تھا، اسے قطعی فراموش کر دیا گیا۔)‘‘ (تحریک خلافت، ص؍152)

اور اس طرح تاریخ میں قضیۂ فلسطین کا آغاز ہوا۔

فلسطین کے متعلق امام الہند کی رائے عالی

 امام الہندحضرت مولانا ابوالکلام آزاد رحمۃ اللہ علیہ جمعیت علمائے ہند کے تیسرے اجلاس عام منعقدہ : 18،19،20؍نومبر1921 ء کے تقریری خطبۂ صدارت میں فلسطین کے متعلق ارشاد فرماتے ہیں کہ:

’’دوسری اہم چیز ہمارے سامنے فلسطین کی وہ سرزمین ہے، جس کی تحریم ہمارے لیے ویسی ہی ضروری ہے، جب تک کہ اس کا ایک چپہ بھی غیر مسلم اثر میں باقی ہے، اس وقت تک محال ہے کہ ہمارے واسطے کسی صلح، یا مفاہمت کا دروازہ کھل سکے۔ میں اس وقت اُن دفعات کی تشریح نہ کروںگا، جو خلیفۃ المسلمین پر بصورت شرائط عائد کیے گئے، یا خلافت کے اُن حقوق پر، جس وقت تک ان شرائط میں سے کوئی ایک شرط بھی باقی ہے، اس وقت تک مسلمانان ہند کے لیے محال قطعی ہے کہ وہ صلح کا، اتفاق کا کوئی ہاتھ بھی اس گورنمنٹ کی طرف بڑھا سکیں۔ میں یہ بھی کہے دیتا ہوں کہ اب جب کہ حالات نے پلٹا کھایا، واقعات نے اپنا ورق اُلٹا اور حضرت غازی مصطفی کمال پاشا کی فوجوں نے یقینا موجودہ جنگ کے میدان ہی کو نہیں؛ بلکہ وسط ایشیا کے میدان کو ہمیشہ کے لیے فتح کرلیا، تو اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہمارے سامنے بار بار اس طرح کی چیزیں لائی جاتی ہیں اور ظاہرکیا جاتا ہے کہ آج مسلمانوں کے مطالبات خلافت کے لیے سب سے زیادہ اہم چیز تھریس اور سمرنا ہے۔

لیکن میں اس وقت اس امر کا اعلان کردینا چاہتا ہوں کہ سمرنا اور تھریس کا میدان فی الحقیقت وہ دونوں ایسے میدان تھے کہ اس کا فیصلہ ہوسکتا تھا۔ اس کی بنیاد یہ تھی کہ فی الحقیقت تمام مسئلۂ خلافت میں یہ ظلم اتنا نمایاں اور اُبھرا ہوا تھا کہ بار بار مقررین خلافت اپنی تقریروں میں ذکر کیا کرتے تھے۔ یہ دونوں علاقے یونان کو دلائے گئے۔ یونان فریق جنگ نہ تھا۔ جنگ سے اس کا تعلق نہ تھا، اس کو بار بار نمایاں کرکے پیش کیا جاتا تھا ؛لیکن اس سے یہ مقصد نہ تھا کہ مطالبات خلافت میں اس کی اہمیت بمقابلہ دیگر معاملات کے ہے۔ میں اس امر کا اعلان کردینے کے لیے تیار ہوں کہ سمرنا اور تھریس کو غازی مصطفی کمال پاشا کی تلوار کی نوک کی قسمت پر چھوڑ دیجیے۔ ہمارا مطالبہ جزیرۃ العرب، فلسطین اور شام کے لیے ہے۔ بیت المقدس کے لیے ہے اور ان شرائط کے لیے ہے، جو پائے گاہ خلافت کے لیے عائد کی گئیں۔

فلسطین کو خلافت عثمانیہ کے زیر نگیں رکھنے کا مطالبہ

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کی ایک اہم میٹنگ 22؍ مارچ1922ء کو حضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کی زیر صدارت منعقد ہوئی، جس میں تحفظ خلافت کے پیش نظر مطالبات پیش کرتے ہوئے فلسطین کو بھی خلافت عثمانیہ کے زیر نگیں رکھنے کا مطالبہ کیا گیا۔ چنانچہ تجویز کے متعلقہ حصے میں کہا گیا کہ:

’’(ب)سلطنت عثمانیہ کے ان حصوں کو -جہاں عربی زبان بولی جاتی ہے، مثلاً فلسطین، شام، عراق، عرب، حجاز، نجد، یمن وغیرہ کو- بغیر کسی غیر مسلم حکومت کے ادنیٰ دخل و اثر کے خلیفۃ المسلمین سلطان ٹرکی کے زیر اقتدار اندرونی آزادی دے دی جائے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، تجاویز ارو فیصلوں کی روشنی میں، جلد اول، ص؍111)

مجوزہ مطالبۂ خلافت میں فلسطین کی شمولیت

مجلس منتظمہ کا ایک اہم اجلاس18،19، 20؍ اکتوبر1922ء کو منعقد ہوا، جس میں جمعیت علمائے ہند نے اپنے مجوزۂ مطالبات خلافت میں کمی کی عدم گنجائش کا اعلان کرتے ہوئے فلسطین سے تعرض نہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ چنانچہ تجویز میں کہا گیاکہ:

’’جمعیت منتظمہ کا یہ اجلاس اعلان کرتا ہے کہ مسلمانانِ ہند کا مطالبۂ خلافت- جو جمعیت علما کے مجوزہ نقشہ پر مبنی ہے- خالص مذہبی مطالبہ ہے، اس میں کسی کمی کی گنجائش نہیں۔ موجودہ صلح ترکی میں اگر ترکان احرار کی طرف سے کسی وجہ سے اس مطالبہ میں کوئی کمی کی گئی، مثلاً جزیرۃ العرب، مقامات مقدسہ، فلسطین اور عراق عرب سے تعرض نہ کیا گیا، تو وہ مذہبی حیثیت سے ناکافی صلح ہوگی اور مسلمانان ہند؛ بلکہ تمام مسلمانانِ عالم اس کو ناکافی قرار دے کر باقی حصہ(کے) مطالبہ کے لیے اپنی جدوجہد بدستور جاری رکھیں گے۔‘‘ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص؍115)

مینڈیٹ برائے فلسطین(Mandate for Palestine)

پہلی جنگ عظیم کے بعد سلطنت عثمانیہ کے زوال نے مشرق وسطیٰ کے سیاسی نقشے کو مکمل طور پر تبدیل کر دیا۔ اس خطے کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کے لیے لیگ آف نیشنز (League of Nations) نے ’’مینڈیٹ‘‘ (Mandate) کا نظام متعارف کرایا، جس کے تحت فلسطین کا انتظامی کنٹرول باقاعدہ طور پر برطانیہ کے حوالے کیا گیا۔ اس بین الاقوامی دستاویز کو تاریخی طور پر ’’مینڈیٹ برائے فلسطین‘‘ کہا جاتا ہے۔

 سان ریمو کانفرنس کی 23-24؍اپریل 1920ء کی نشستوں میں اتحادی ممالک نے 2؍ نومبر1917ء کے بالفور اعلامیہ(Balfour Declaration) کو باقاعدہ طور پر منظوری دیتے ہوئے فلسطین کا مینڈیٹ برطانیہ کو سونپنے کا فیصلہ کیا۔

بعد ازاں 24؍جولائی 1922ء کو لیگ آف نیشنز کی کونسل نے مینڈیٹ برائے فلسطین کے مسودے کو باقاعدہ طور پر منظور کر لیا۔ اس طرح برطانوی قبضے اور بالفور اعلامیہ کو ایک بین الاقوامی قانونی حیثیت حاصل ہو گئی۔بعد ازاں 29؍ستمبر 1923ء کویہ مینڈیٹ اور اس کی تمام قانونی و انتظامی شرائط باقاعدہ طور پر نافذ العمل کردی گئیں۔

اس مینڈیٹ میںیہودیوں کو فلسطین میں آباد کرنے، فلسطین میں موجود غیر یہودی کمیونٹیزکیحقوق کا تحفظ اورمقدس مقامات کی حفاظت کی بات کہی گئی تھی۔

اس مینڈیٹ نے خطے کی آبادیاتی (Demographic) ساخت کو تیزی سے تبدیل کیا۔ یہودیوں کی سرپرستی اور بڑے پیمانے پر ہجرت نے مقامی عرب آبادی میں شدید احساسِ محرومی اور بے چینی پیدا کی، جس کے نتیجے میں متعدد عرب جنگیں(جیسے 1936 کی جنگ) اور پرتشدد تصادم ہوئے۔ بالآخر، یہی برطانوی مینڈیٹ مشرق وسطیٰ کے سب سے طویل اور پیچیدہ تنازعے کی بنیاد بنا، جو آج تک جاری ہے۔

 جمعیت علما سے مجلس عالیہ اسلامیہ فلسطین کی طرف سے تعاون کی اپیل

2؍نومبر1925ء کو شائع ایک خبر کے مطابق، صدر مجلس عالیہ اسلامیہ فلسطین نے سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند کے نام ایک تار بھیج کر تعاون کی اپیل کی۔ وجوہات خود تار میں موجود ہے۔ اس کا متن درج ذیل ہے:

’’فرانسیسی افواج نے ستاون گھنٹے دمشق پر گولہ باری کی۔ شہر کا بہت بڑا حصہ تباہ ہوگیا۔ پناہ گزینوں کا بیان ہے کہ پچیس ہزار متنفس تباہ شدہ عمارتوں کے نیچے دفن ہیں۔ ہزارہا بے گناہ بے خانماں ہوگئے ہیں۔ نقصانات نہایت زبردست اور بے شمار ہیں۔ مالی امداد کی فوری اور ناگزیر ضرورت ہے۔ فلسطین اپنی بساط کے مطابق پوری کوشش کررہا ہے۔ آپ بھی اس مقدس شہر کی صدائے استمداد پر لبیک کہیے۔‘‘ 

صدر مجلس عالیہ اسلامیہ فلسطین۔ (سہ روزہ الجمعیۃ،2؍نومبر1925ء)

یہودیوں کے مظالم اور برطانیہ کی حمایت کی مخالفت

1920ء کی دہائی میں فلسطین برطانوی مینڈیٹ کے تحت تھا، جہاں بالفور اعلان (1917)  کے تحت یہودیوں کو ’’نیشنل ہوم‘‘ قائم کرنے کی اجازت دی گئی تھی، اس لیے یہ پالیسی عرب آبادی کی ناراضگی کا باعث بنی، کیوںکہ یہودی امیگریشن میں اضافہ ہو رہا تھا، جو عربوں کی معاشی اور سیاسی حقوق پر چوٹ پہنچا رہا تھا، جس کی وجہ سے دونوں گروہوں میں تشدد کے متعدد واقعات پیش آئے۔علاوہ ازیں1929ء میں یروشلم کی مغربی دیوار –جو یہودیوں کے لیے مقدس مقام اور عربوں کے لیے مسجدِ اقصیٰ کے حصہ – پر تنازع نے فسادات کو ہوا دی۔ یہودیوں نے دیوار پر عبادت گاہیں بنانے کی کوشش کی، جسے عربوں نے اپنے مقدس مقام کی خلاف ورزی سمجھا۔ نتیجتاً، 23-24؍ اگست 1929ء کو یروشلم میں جھڑپیں شروع ہوئیں، جو حبرون، صفد اور دیگر شہروں تک پھیل گئیں۔ ان فسادات میں 133؍ یہودی ہلاک اور 116؍عرب شہید ہوئے،جب کہ ہزاروں زخمی اور بے گھر ہوئے۔ 

برطانوی حکومت نے فسادات کے فوری بعد، ستمبر 1929 میں شا کمیشن کا اعلان کیا۔ اس کی سربراہی اعلیٰ عدالت کے جج سر والٹر شا نے کی، جب کہ اراکین میں برطانوی سرکاری افسران اور ماہرین شامل تھے۔ کمیشن کا بنیادی مقصد فسادات کی فوری وجوہات کی نشاندہی کرنا، ذمہ داروں کی نشاندہی اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کی سفارش کرنا تھا۔ یہ ٹیم فلسطین پہنچ کر گواہوں، عرب اور یہودی رہنماؤں، مذہبی علما اور مقامی افسران سے ملاقاتیں کیں۔ انھوں نے یروشلم، حبرون اور جفا جیسے متأثرہ علاقوں کا دورہ کیا اور دستاویزات کی جانچ پڑتال کی۔ کمیشن کی رپورٹ مارچ 1930 میں شائع ہوئی، جو 150؍سے زائد صفحات پر مشتمل تھی۔

 مسلمانان فلسطین کی انھی ہول ناک مصیبتوں پر بھارت کے مسلمانوں نے صدائے احتجاج بلند کرنے کے لیے 3؍ستمبر 1929ء کو دہلی کے کمپنی باغ میں عظیم الشان جلسہ کیا ، جس کی مکمل کارروائی درج ذیل ہے:

مسلمانان فلسطین کی حمایت میں عظیم الشان اجلاس

3؍ستمبر1929ء کی شب ساڑھے سات بجے مسلمانان دہلی کا ایک جلسہ کمپنی باغ میں ٹاؤن ہال کے پیچھے منعقد ہوا۔ شرکائے جلسہ کی تعداد نہایت غیرمعمولی تھی اور مسلمانوں کے علاوہ ہندو بھی شریک تھے۔ حاضرین میں حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند، حضرت مولانا ابوالکلام صاحب آزاد، مولانا عبد الماجد صاحب، مولانا عبد المجید صاحب، شیخ نجم العارفین صاحب، ہلال احمد صاحب زبیری اڈیٹر الجمعیۃ، محمد جعفری صاحب اڈیٹر ’’ملت‘‘ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔ قرآن کریم کی قرآت کے بعد حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدرجلسہ منتخب کیے گئے۔

 حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ کا خطاب

حضرت مولانا نے اپنی ابتدائی تقریر میں -جو تقریبا نصف گھنٹے تک جاری رہی-جلسہ کی غرض و غایت کو نہایت تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا۔ فلسطین کے مسلمانوں پر یہودیوں نے جو مظالم ڈھائے ہیں، ان کا ذکر کرنے کے بعد حضرت مولانا نے دیوار گریہ کی تاریخ نہایت وضاحت کے ساتھ بیان کیا اور یہ بتایا کہ یہو دیوں کو اس دیوار پر، یا اس کے سامنے کی زمین پر کوئی حق حاصل نہیں ہے۔ محض مسلمانوں کی رواداری تھی کہ وہ انھیں مخصوص تاریخوں پر اس دیوار کے سامنے کھڑے ہو کر گریہ و بکا کرنے کی اجازت دے دیتے تھے۔ اور یہودی اس زمین کو -جو مستند قانونی دستاویزات کے مطابق مسلمانوں کی ایک موقوفہ زمین ہے -صرف مقررہ مدت کے لیے استعمال کرسکتے تھے۔ جناب صدر نے صلیبی جنگوں کے بعد سے ترکان آل عثمان کی حکومت تک کے واقعات سے یہ ثابت کیا کہ یہودیوں کا عمل کبھی اس کے خلاف نہیں ہوا اور انھوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ انھیں اس دیوار پر ، یا اس کی ملحقہ زمین پر کسی قسم کا تملک حاصل ہے۔ یہ سوال ابھی حال ہی میں پیدا کیا گیا ہے اور براہ راست اس تحریک کا نتیجہ ہے، جو تحریک صہیونیت کے نام سے مشہور ہے اور جسے لارڈ بالفور کے اس اعلان نے تقویت پہنچادی ہے، جس میں یہ اطمینان دلایا گیا ہے کہ فلسطین کو وطن الیہود بنانے کے لیے برطانیہ یہودیوں کی امداد کرے گی۔ برطانیہ کی یہی وہ پالیسی ہے، جس نے چند سال کے اندر فلسطین میں چھ ہزار یہودیوں کے بجائے ایک لاکھ ستر ہزار یہودی دنیا بھرسے لاکر آباد کردیے ہیں اور جو فلسطین کے عربوں کا حق وطنیت سلب کر کے یہودیوں کو فلسطین کا مالک بنانا چاہتی ہے۔

حضرت مولانا ابو الکلام آزادصاحب کا خطاب

جناب صدر کی تقریر کے بعد حضرت مولانا ابو الکلام آزاد صاحب نے ایک مؤثر تقریر ارشاد فرمائی۔ آپ نے فرمایا کہ مشرق کے تمام ممالک کی بیماری ایک ہی ہے اور ان کا علاج بھی ایک ہی ہے۔ حقیقتا اس وقت دنیا برطانوی شہنشاہیت کی حرص کا شکار ہورہی ہے۔ اور جب تک اس شہنشاہیت کا جذبہ فنا نہیںہوتا، اس قسم کے مصائب میں مختلف ممالک برابر مبتلا رہیںگے۔ دیوار گر یہ تو حقیقت میں ایک بہانہ ہے، یورپین قوتوں نے جزیرۃ العرب میں شام اور فلسطین کو اپنی قوت کے استحکام کی خاطر منتخب کر لیا ہے۔ برطانیہ اس قسم کی تدابیر اختیار کر رہا ہے کہ اگر کسی وقت مصر ہاتھ سے جاتا رہے، تو نہر سوئز کے کنارے پر ایک دوسرا ساحل برطانوی افواج کے قبضہ میں رہے۔ یہودیوں کی حکومت قائم کرنے میں یہی راز مضمر ہے۔ مولانا کی تقریر کافی طویل تھی اور دیر تک جاری رہی۔

اس کے بعد مندرجہ ذیل تجویز مولوی عبد المجید صاحب نے پیش کی، جو مولانا عبد الماجد صاحب کی تائید کے بعد بالاتفاق منظور ہو گئی:

دیوار گریہ پر یہودیوں کو کوئی حق تملک حاصل نہیں 

(الف)مسلمانان دہلی کا یہ جلسہ اپنے اس علم و یقین کی بنا پر کہ براق شریف کی دیوار گریہ پریہودیوں کو کسی قسم کا حق تملک حاصل نہیں ہے اور یہ کہ وہ دیوار قرنہا قرن سے مسلمانوں کے قبضے میں ہے اور صدیوں سے حکومتوں کا دستور بھی یہی چلا آتا ہے کہ یہودیوں کو سوائے اس کے کہ وہ دیوار کے نیچے کھڑے ہو کر دعاپڑھے لیںاور گریہ کرلیںاور کسی قسم کے تصرف کا موقع نہیں دیا جا تا تھا۔ یہودیوں کی موجودہ تعدی کو نہایت نفرت کی نظر سے دیکھتا ہے اور یہودیوں کی اُن تمام کارروائیوں کو- جو وہ نا حق دیوار پر قبضہ جمانے اور اپنی ملکیت قرار دینے کے لیے کر رہے ہیں- موجودہ فساد و خوںریزی کا اصل باعث سمجھتا ہے۔

(ب) جلسہ کو یقین ہے کہ اگر حکومت انتداب اس فتنہ کی روک تھام پہلے سے کرنا چاہتی توکر سکتی تھی؛ مگر اس کی غفلت ،یا سہل انگاری نے یہودیوںکو جرأت دلائی کہ وہ مسلمانوں کا ناحق خون بہائیں۔ یہ جلسہ پوری قوت کے ساتھ فلسطین میں برطانیہ کی یہودنوازحکمت عملی کے خلاف احتجاج کرتا ہے اور برطانیہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ جلد از جلد فلسطین کے باشندوں کی آزاد حکومت کے قیام کی کارروائی شروع کرے،تا کہ وہاں حقیقی طور پر امن و امان قائم ہوسکے۔

(ج) یہ جلسہ برطانیہ کی اس جنگی مہم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتا ہے، جو اس نے فلسطین میں بحری اور ہوائی جنگی جہازوں کو وہاں کے عرب باشندوں کودبانے کے لیے بھیج کر ظاہر کی ہے، اور برطانیہ کو بتادینا چاہتا ہے کہ فلسطین کی بے چینی کا علاج جنگی کارروائیوں اور آلات حرب کے مظاہرے سے نہ ہو گا؛ بلکہ اس کا حقیقی علاج صہیونی غیر منصفانہ پالیسی کو ختم کر دیناہے۔ اور یہ کہ ہندستان کے تمام باشندوں کی دلی ہمدردی مظلوم مسلمانان فلسطین کے ساتھ ہے۔

 آخر میں جناب صدر نے تمام ہندستان کے مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ یہودیوں کے ان مظالم اور برطانیہ کی حمایت کے خلاف پر زور احتجاج کریں، جس کے بعد جلسہ ساڑھے نو بجے شب کو ختم ہوا۔(سہ روزہ الجمعیۃ،5؍ستمبر1929ء)

اہلفلسطین کی طرف سے امدادکی اپیل 

20؍اکتوبر1929ء کو ’’جماعت مرکزیہ فلسطین کی جانب سے حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کے نام مندرجہ ذیل اعلان تازہ ولایتی ڈاک سے موصول ہوا ہے: 

’’فلسطین -جو کہ قدیم الایام سے منبع الادیان و مہبط انبیا ہونے کا شرف حاصل ہے - آج وہ یہودیوں کی سرکشی اور بے اعتدالیوں کے باعث معرض جنگ و جدل و مقام خوف و ہراس بنا ہوا ہے ۔ اس کی وجہ محض یہ ہے کہ یہودیوں کو یہ طمع دامن گیر ہوگئی ہے کہ جس طرح ممکن ہو، اس مبارک زمین پر قبضہ کرلیں ، جس کے ایک ایک ذرے میں عربی قوم کا خون مخلوط ہے۔ چنانچہ اب یہاں کے عربوں کی حالت بڑی قابل رحم ہے ۔ پے درپے مصائب و آلام کا سامنا ہے ، یہاں کی امن و آسائش خوف و ہراس سے مبدل ہے ۔ ہر چھوٹا بڑا عورت مرد پریشان حال ہے۔ بے یارومددگار، بے کس و لاچار؛ غرض عجیب مصیبت میں گرفتار ہے۔

ان غم زدوں کی ایسی حالت زار دیکھ کر چند عمائدین نے ایک جماعت مرکزیہ لجنہ مرکزیہ عربیہ کے نام سے قائم کی ہے، جس کے سر پرست و نمائندہ سید محمد ابن حسینی رئیس، اور یعقوب آفندی اور احمد علمی پاشا نائب قرار پائے ہیں اور عونی بک عبد الہادی دھنا آفندی خیلادۃ و فخری بک انشا شیبی، شیخ محمود آفندی دجانی، و عبدالقادر آفندی العفیفی وزکی آفندی  نسیبہ، ڈاکٹر رفوتی فریج، و احمد نمر آفندی الشہابی اس کمیٹی کے اراکین یا ممبر ہیں و عبد الحمید آفندی شومان خزانچی و فیاض آفندی حضرا محاسب اور سید رام الخالدی سکریٹری ہیں۔ 

یہ کمیٹی تمام دنیا کے مسلمانوں اور تمام دنیا کی عرب قوم کو خدا واسطہ اور خدا کی قسم دے کر اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنی اعانت و امداد اور کرم و احسان کے لیے ہاتھ بڑھائیں ۔ انتہائی صمیم قلب و عظم راسخ کے ساتھ اس انجمن کی اعانت کرنے پر دریغ نہ کریں۔ ‘‘

(سہ روزہ الجمعیۃ، 20؍اکتوبر1929ء) 

فلسطین کو وطن الیہود بنانے کی مخالفت

برطانیہ نے فلسطین کو اپنی عمل داری میں لینے کے بعد، نہ صرف یہودیوں کو ایک مستقل وطن دینے کی کوشش کی؛ بلکہ فلسطین میں مسلمانوں کو جبرا یہودیوں کا غلام بنائے جانے کا کھیل شروع کردیا۔ چنانچہ  بیت المقد س کے صیہونی کھیل کے صدر ڈاکٹر ریڈر نے علی الاعلان کہاکہ :

’’فلسطین میں صرف ایک قومی وطن ہوسکتا ہے اور وہ یہودیوں کا ہوگا، جس میں عربوں کو برابر کا شریک نہیں کیا جائے گا؛ بلکہ وہ یہودیوں سے مغلوب ہوکر ان کے ماتحت رہیں گے۔ ‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ، 20؍ستمبر1929ء) 

فلسطینیوں پر جاری یہودیوں کے ظلم و تشدد کے تحقیقات کے لیے ایک’’شا کمیشن‘‘بنائی گئی، اس  برطانوی کمیشن نے یہودیوں کی بربریت کے بجائے مظلوم مسلمانوں پر ہی الزامات عائد کردیے۔ سہ روزہ الجمعیۃ کمیشن کے متعلق ایک خبر میں لکھتا ہے کہ:

’’بیت المقدس۔2؍ستمبر۔سرجان چانسلر برطانوی مندوب حامی ایک اعلان میں کہتا ہے: ’’میں ولایت سے واپس آگیا ہوں ۔ میں نے از حد خوف و ہراس کے ساتھ ظالمانہ حرکتوں کی داستان جو بے رحم خوں خوار بد کرداروں نے کی ہیں اور یہودی آبادی کے پناہ گزیں اراکین کو جن کوبے رحمانہ طریقے سے قتل کیا ہے اور ہبرون کے مقام پر جو ناقابل بیان وحشت و بربریت ظاہر کی ہے، ان جرائم کے عاملوں کو دنیابھر کے مہذب قوموں نے لعنت ملامت کی ہے ۔ ‘‘ 

(سہ روزہ الجمعیۃ، 9؍ستمبر1929ء) 

انھیں دنوں جمعیت علمائے ہند کی مجلس مرکزیہ کا ایک دو روزہ اجلاس 26، و 28؍ اکتوبر 1929ء کوحضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہند کی صدارت میں ہوا، جس کی ایک تجویز میں انتداب فلسطین اوراعلان بالفور کی تنسیخ کا مطالبہ کرتے ہوئے برطانوی کمیشن پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا۔ تجویز میں کہا گیا کہ:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس مرکزیہ کا یہ اجلاس فلسطین پر برطانیہ کے انتداب کو احکام اسلام اور حرم محترم کے تقدس اور اہل فلسطین کی فطری آزادی کے منافی سمجھتا ہے اور جمعیت الامم (لیگ آف نیشنز) اور برطانیہ سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ فورا اعلان بالفور کی منسوخی اور انتداب ہٹالینے کا صاف اور غیر مشتبہ الفاظ میں اعلان کردے ۔ جلسہ کو یقین ہے کہ فلسطین کے گذشتہ خونی واقعات صہیونی تحریک اور اعلان بالفور اور قوت انتداب کی یہود نواز پالیسی کے اندوہ ناک نتائج ہیں ۔ اور ان کا واحد سبب یہودیوں کا وہ غاصبانہ و ظالمانہ رویہ ہی ہے ، جو انھوں نے قدیم الایام کے دستور کے خلاف اختیار کیا ہے اور برطانیہ کے افسروں نے ان کے جو رو اعتدا کی عملی ہمت افزائی کی ہے ۔ 

یہ جلسہ اس کمیشن کو ہرگز قابل اعتماد نہیں سمجھتا ، جو برطانیہ نے مقرر کیا ہے۔ قابل اعتماد وہی کمیشن ہوسکتا ہے، جس کو خود اہل فلسطین قابل اعتماد سمجھیں اور اس کی تحقیقات پر مطمئن ہوں۔ ہندستان کے تمام مسلمان اس وقت تک مطمئن نہیں ہوں گے، جب تک فلسطین کی آبادی اپنی مرضی کے موافق قائم نہ ہوجائے گی اور وہ پورے طور پر آزاد نہ ہوجائیں گے۔ 

محرک : یہ تجویز مولانا عبد الحلیم صدیقیؒ صاحب نے پیش کی، جس پر مولانا محمدنعیم صاحب، مولانا محمد علی صاحبؒ، مولانا محمد ابراہیم صاحبؒنے موافق و مخالف تقریریں کیں۔ پھر باتفاق رائے منظور کی گئی۔‘‘

 (جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، تجاویز اور فیصلوں کی روشنی میں، جلد اول، ص؍ 275)

 فلسطین میں برطانیہ کی یہودنواز پالیسی کی پرزورمذمت

برطانیہ کا وزیر اعظم مسٹر ریمزے میکڈانلڈ انتداب فلسطین کی دفعات کو عملی جامہ پہناتے ہوئے فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنانے کی کوششوں میں لگا رہا۔مسٹر ریمزے نے وکالۃ الیہود کے صدر ڈاکٹر ویزمین کو ایک خط میںصاف لکھا تھا کہ: 

’’انتداب صرف فلسطین کی یہودی آبادی کا ہی خیال نہیں رکھے گا؛ بلکہ وہ تمام یہود قوم کے معقول مفادات کو پیش نظر رکھے گا۔‘‘ 

(سہ روزہ الجمعیۃ، 20؍فروری 1931) 

برطانیہ کی اس یہود نواز پالیسی کے خلاف جمعیت علمائے ہند نے آواز اٹھاتے ہوئے اس کی سخت مذمت کی اور فلسطین کو مسلمان فلسطینی کے لیے بلا شرکت غیرے اپنا وطن برقرار رکھنے کے لیے مسلسل آواز بلند کرتی رہی۔ اسی ضمن میں جب 31؍مارچ و یکم اپریل1931ء کو دسواں اجلاس عام ہوا، تو اس میں تجویز نمبر- 17 میںبرطانیہ کی اس پالیسی کی شدید مذمت کی۔ تجویز کا متن درج ذیل ہے: 

’’جمعیت علمائے ہند کا یہ جلسہ فلسطین میں برطانیہ کی یہودنواز پالیسی کی پرزورمذمت کرتا ہے۔ فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنانا اور عربوں کے حقوق و جاگیرات پر قبضہ دلانا؛ فلسطین کے امن کو تباہ کرتا ہے۔ فلسطین کی حکومت کا نظام فلسطین کے باشندوں کی مرضی کے مطابق کرنا، قیامِ امن کے لیے ضروری ہے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، تجاویز اور فیصلوں کی روشنی میں، جلد اول، ص؍307)

 فلسطین کے وفدکا پرجوش استقبال

ہندستانی مسلمان فلسطین اور فلسطینیوں سے محبت بھی رکھتے ہیں اور عقیدت بھی۔رشتۂ انسانیت اور کلمہ کی وحدت؛ محبت کی بنیادی وجوہات ہیں۔ اور عقیدت اس لیے رکھتے ہیں کہ وہ جہاں سرزمین انبیاء ہونے کا شرف رکھتا ہے، وہیںقبلۂ اول کا امتیاز بھی اسے ہی حاصل ہے۔ اور یہ سب چیزیں فلسطین اور فلسطینیوں سے تعلق رکھنے میں فخر محسوس کراتی ہیں۔ اس کا ایک منظر سرزمین ہندستان نے اس وقت دیکھا، جب اس کے ایک وفد کا ہندستانیوں نے پرجوش استقبال کیا ، جس کی تفصیلات درج ذیل ہیں: 

’’وفد فلسطین - جس کی آمد آمد کادہلی والوں کو انتظار تھا-20؍ جون1933ء کی صبح کوساڑھے سات بجے دہلی پہنچ گیا ۔بروقت اطلاع نہ ہونے کے باعث اسٹیشن پر اجماع نہ ہوسکا۔ حضرت سیدامین الحسینی مفتی اکبر اور صاحب المعالی محمد علی پاشا سابق وزیر مالیات مصر اور آپ کے رفقا نے میڈنس ہوٹل میں بطور معزز مہمانوں کے قیام فرمایا۔ شام کو حضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند، حضرت مولانا حافظ احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند اور مسٹر آصف علی بیرسٹر نے وفد مذکور سے ملاقات کی اور تقریبا رات کے دس بجے تک فلسطین کے حالات اور دیگر معاملات پر تبادلۂ خیالات ہوا۔ کل صبح کو معززین شہر کے دستخطوں سے ایک پوسٹر شائع کیا گیا، جس میں مذکور تھا کہ  فلسطین کے معزز ارکان شام کو بعد نماز مغرب جامع مسجد دہلی میں تشریف لا کر اپنے خیالات سے مسلمانان دہلی کو آگاہ کریں گے، نیز ان محترم مہمانوں کا حاضرین سے تعارف کرایا جائے گا۔ پوسٹر پر چھبیس معززین کے دستخط ثبت تھے ،جن میں سے چند حضرات کے اسمائے گرامی یہ ہیں: حضرت علامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب، حضرت مولانا احمد سعید صاحب، ڈاکٹر مختار احمد انصاری صاحب، مسٹر آصف علی بیرسٹر، جناب ہلال احمد زبیری ایڈیٹر الجمعیۃ، سید محمد جعفری ایڈ یٹر ملت، مولانا عبد الماجد صاحب دہلوی ،حاجی عبد الغفار صاحب (حاجی علی جان)۔عزیزحسن صاحب بقائی، حاجی عبدالغنی صاحب، ایس ایم عبداللہ صاحب، حاجی شرف الدین صاحب، محمد عثمان صاحب آزاد، محمد خلیل سوت والے، محمد یوسف خلف شاہ والے، حاجی محمد یحیٰ سوت والے،عبد العزیز ٹھیکیدار، ملا واحدی ۔

جامع مسجد میں جلسہ

چنانچہ ٹھیک مغرب کی اذان کے وقت وفد کے محترم ارکان جامع مسجد میں تشریف لائے، جن کا نہایت پر جوش استقبال کیا گیا۔ مغرب کی نماز کے بعد جلسہ کا آغاز ہوا۔ اس سے پہلے حافظ محمد یوسف صاحب نے قرآن عزیز کی تلاوت فرمائی، بعد ازاں جلسہ کی صدارت کے لیے حضرت مولانا احمد سعید صاحب نے مولانا معین الدین صاحب اجمیری نائب صدر جمعیت علمائے ہند- جو آج کل دہلی تشریف لائے ہوئے ہیں- کا اسم گرامی پیش کیا، جس کی تائید خواجہ حسن نظامی صاحب نے کی اور مولانا باتفاق رائے صدر منتخب کیے گئے۔ اس ابتدائی کارروائی کے بعد حضرت مولانا احمد سعید صاحب نے معززوفد کے اراکین کا فرداً فرداً حاضرین سے تعارف کرایا اور خصوصیت کے ساتھ سید امین الحسینی مفتی اکبراور محمد علی پاشا سابق وزیر مالیات مصر کی وطنی اور مذہبی خدمات سے لوگوں کو آگاہ کیا اور وفد نے اس گرمی کے زمانہ میں جو اتنا طول طویل سفر اختیار کیا ہے، اس کی غرض وغایت بتلائی۔

مفتی اکبر کی تقریر

آپ کے بعد سید امین الحسینی مفتی اعظم فلسطین تقریر کے لیے کھڑے ہوئے اور فصیح و بلیغ عربی میں ایک فاضلانہ اور حقیقت افروز تقریر فرمائی۔ ابتدا میں حضرت علامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب ساتھ ہی ساتھ اس کا اردو ترجمہ بھی فرماتے رہے؛ لیکن چوںکہ گرمی اور اژدحام کے باعث حضرت موصوف کو اختلاج قلب کا دورہ شروع ہو گیا، اس لیے بقیہ تقریر کا ترجمہ تقریر کے ساتھ ساتھ مولانا احمد سعید صاحب نے دہلی کی نہایت فصیح اور شستہ اردو میں کیا، جس کو سن کر حاضرین کی طرف سے نعرہ ہائے تحسین و آفرین بلند ہوتے رہے۔ 

مفتی اکبر نے فرمایا:

برادران اسلام! اسلامی اخوت کے حقیقی جذبہ سے آپ خوب واقف ہیں۔ میں نے آپ کو اپنا بھائی کہہ کر خطاب کیاہے ،یہ اس لیے کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور یہ وہی رشتہ ہے، جو تمام اسلامی اقوم اور ممالک کو متحد کرتا ہے۔میں اپنے سے بڑے مسلمان کو اپنا باپ سمجھتا ہوں ،چھوٹے کو اولاد اور برابر کے مسلمان کو بھائی؛ کیوںکہ اسلام نے ہم کویہی تعلیم دی ہے۔ میں نے ابھی دیکھا کہ آپ نے اپنے جلسہ کی ابتدا قرآن پاک کی تلاوت سے کی۔ یہی قرآن ہے، جس سے ہم تمام مصائب سے نجات پا سکتے ہیں۔ قرآن حکیم سے میرا مطلب صرف قرآن کے الفاظ نہیں ؛بلکہ اس پر عمل اور اس کے احکام کی تعمیل ہے۔ یہی وہ نسخہ ہے، جس کا استعمال کرتے ہی ہم تمام امراض سے شفا حاصل کر سکتے ہیں ۔ خالی قرآن حکیم کی تلاوت ہمارے کسی مرض کی دوا نہیں ہے۔جب تک کہ اس پر عمل نہ کیا جائے،ہمارے مصائب دور نہیں ہو سکتے۔ اگر کوئی مریض دوا کو اٹھا کر طاق میں رکھ دے اور علاج علاج پکارتا رہے، تو اس کو کبھی شفا حاصل نہ ہوگی۔ اس کا علاج یہی ہے کہ وہ مجوزہ نسخہ کو طاق میں رکھنے کے بجائے اس کو استعمال کرے ۔اگر وہ ایسا کرے گا، تو اس کو شفا حاصل ہو جائے گی؛ ورنہ علاج علاج کہنے سے وہ افاقہ نہیں پاسکتا۔ یہی حال قرآن کریم کا ہے کہ اس کو استعال کر کے ہم تمام امراض سے شفا حاصل کر سکتے ہیں۔ قرآن حکیم کی ایک آیت ابھی قاری صاحب نے آپ کے سامنے تلاوت فرمائی ہے:

لَوْ أَنزَلْنَا ہَٰذَا الْقُرْآنَ عَلَیٰ جَبَلٍ لَّرَأَیْتَہُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللَّہِ (الحشر:21)

 اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے، توہ بھی اللہ کی خشیت سے ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتا۔ کیا ہمارے دل،پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہو گئے ہیں؟ پہاڑتو قرآن عظیم کی تاثیر سے پگھل جائیں؛ مگر ہم اثرپذیرنہ ہوں۔ مصر کا ایک شاعر اللہ تعالیٰ کو مخاطب کرتا ہوا کہتا ہے کہ اے اللہ! مسلمان کس طرح برباد ہو سکتے ہیں، حالاںکہ ان میں تیری کتاب موجود ہے؟ اسلام کے مقاصد میں سے ایک مقصد یہ بھی ہے کہ مسلما ن منظم ہوکر رہیں اوران کا ہر عمل نظم اور ضابطہ کے ماتحت ہو۔

اسلام اور روح تنظیم

 مغرب کی نمازمیں ابھی آپ نے کیا دیکھا؟ آپ نے اپنا ایک امام مقر ر کیا، جب وہ کھڑا ہوا، تو آپ بھی کھڑے ہو گئے۔ جب اس نے رکوع کیا ،تو آپ نے بھی رکوع کیا اور اس نے سجدہ کیا، تو آپ نے بھی سجدہ کیا۔ غرض آپ نے نماز کے اندر امام کی پیروی کر کے اپنے پورے نظم و ارتباط کا ثبوت دیا۔ لیکن یہی وہ نظم ہے، جس کی تعلیم دینے کے لیے اسلام آیا ہے۔ یہ نظم صرف نماز کے لیے ہی مخصوص نہیں ہے؛ بلکہ خارج میںبھی تمام امور میں اسلام نے اسی نظم کی تعلیم دی ہے۔

ہم جس وقت فلسطین سے چلے، تو ہم بہت خوش تھے کہ ہم تھوڑے مسلمانوں کو چھوڑ کر ہندستان کے کثیر مسلمانوں سے ملاقات کرنے کے لیے جارہے ہیں اورلاریب ہم یہاں آکر بہت خوش ہوئے ؛کیوںکہ ہم نے آپ کو اور آپ کی اخوت کو دیکھا۔ یہی اخوت ہم کو یہاں کھینچ کر لائی ہے۔

گرمی کے موسم میں سفر

ہم سے کہا گیا کہ گرمی کے موسم میں تم ہندستان کیوں جاتے ہو۔یہ بعینہ وہ بات ہے، جو آںحضرت ﷺکے زمانہ میں بعض منافقین نے مسلمانوں کے جنگ میں جانے سے یہ کہہ کر روکا تھا کہ آج کل گرمی بہت سخت ہے، تم میدان جہاد میں نہ جاؤ، جس کا جواب باری تعالیٰ کی طرف سے یہ دیا گیا: قل نار جہنم اشد حراً۔ ائے نبی! کہہ دو: جہنم کی آگ تو اس سے بھی زیادہ سخت اور الم انگیر ہے۔ گو فلسطین کا موسم معتدل ہے اور ہندستان کا سخت گرم؛ مگر بعض دفعہ ہمارے ملک کے داخلی امور موسم کی سختی سے بھی زیادہ ناگوار ہو جاتے ہیں۔ فلسطین کے حالات اتنے سخت ہیں کہ وہ ہندستان کی گرمی پر غالب آگئے ہیں اور اسی لیے ہم یہاں آنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

دو مقاصد

فلسطین سے چل کر ہندستان میں آنے کے ہمارے دو مقصدہیں: پہلا مقصد تو یہ ہے کہ ان ہردو ممالک میں اسلامی رابطہ کو مستحکم اور ا خوت کی روایت کو تازہ کیا جائے ۔دوسرا مقصد یہ ہے کہ فلسطین میں جو جامعہ اسلامیہ و اسلامی یونی ورسٹی قائم کرنے کی تجویز ہے، اس میں آپ کی معاونت حاصل کی جائے؛ کیوںکہ باری تعالیٰ کا فرمان ہے: تعاونوا علی البر والتقویٰ۔ مسلمانو!نیکی اوربھلائی کی باتوں میں تم ایک دوسرے کی مدد کیا کرو۔( دوران تقریر میں نعرہ ہائے اللہ اکبر سے فضائے بسیط گونج رہی تھی)

تقریر کے بعد مفتی اکبر نے حاضرین کا شکریہ ادا کیا اور بیٹھ گئے۔

محمد علی پاشا کی تقریر

آپ کے بعد محمد علی پاشا سابق وزیر مالیات مصر اللہ اکبر کے نعروں میں کھڑے ہوئے اور ایک مختصر؛ مگر جامع تقریر کی۔ آپ کی تقریر کا ترجمہ بھی ساتھ ہی ساتھ مولانا احمد سعید صاحب نے دہلی کی شستہ اردو میں کیا۔ پاشا موصوف نے فرمایا:

ہندستان کے مسلمان ہمارے بڑے بھائی ہیں؛ کیوںکہ وہ تعداد میں ہم سے بہت زیادہ ہیں اور اس نسبت سے ہندستانی مسلمان دیگر ممالک کے مسلمانوں کے بڑے بھائی ہیں۔ جب کبھی چھوٹے بھائی پر کوئی مصیبت گرپڑتی ہے، تو وہ بڑے بھائی کے سامنے اس کا اظہار کرتا اور امداد چاہتا ہے۔ ہمارے آنے کا مقصد یہی ہے کہ ہم اپنی مصیبتوں کو اپنے بڑے بھائی کے سامنے بیان کریں اور ان سے امداد کے طالب ہوں۔

 میں مصر کا ایک باشندہ ہوں؛ مگر فلسطین کے مسلمانوں کے مصائب سے متأثر ہوکر اور اپنا گھر بار چھوڑ کر یہاں آیا ہوں۔ آخر میں آپ نے فرمایا کہ میں عرب اور فلسطین کے مسلمانوں کی طرف سے آپ کو سلام پہنچاتا ہوں اور آپ کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔

پاشا موصوف کے بعد حضرت مولانا حافظ احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند نے ایک مختصر تقریر کی اوروفد مذکورکے آنے کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے ان واقعات کی طرف اشارہ کیا، جو آج کل مسلمانان فلسطین کو پیش آرہے ہیں۔

 اس کے بعد جناب صدر نے دعا فرمائی اور جلسہ برخاست ہوا۔

چوںکہ ڈاکٹر انصاری صاحب نے وفد مذ کور کی اپنے دولت کدہ پر ضیافت کی تھی، اس لیے نماز عشاکے بعد وفد کے ارکان ڈاکٹر صاحب کے مکان پر تشریف لے گئے ،جہاں پر پرتکلف ضیافت میں ارکان وفد کے علاوہ معززین شہر نے بھی شرکت فرمائی۔

( سہ روزہ الجمعیۃ،24؍جون 1933ء)

 فلسطین کے وفد سے اکابرین جمعیت کی ملاقات

وفد فلسطین کے محترم ارکان نے قیام دہلی کے دوران میں متعددبار حضرت مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہندا ور مولانا حافظ احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند سے ملاقات فرمائی اور مسجد اقصیٰ کی اسلامی یونی ورسٹی اور یہودیوں کے جارحانہ اقدام پر تبادلۂ خیال کیا۔ 25؍جون1933ء کو  جمعرات کی صبح دس بجے سیدامین الحسینی مفتی اکبر، محمدعلی پاشا سابق وزیر مالیات مصر اور جناب انصاری صاحب حضرت صدر محترم کی بازدید کے لیے تشریف لائے اور فلسطین کے معاملات پر دیر تک گفتگو کی۔ پرسوں جمعہ کو صبح دس بجے وفد فلسطین کے جملہ ارکان حضرت مولا نا احمد سعید صاحب کی باز دید کے لیے دفتر جمعیت علمائے ہند میں تشریف لائے اور تقریبا ایک گھنٹہ تک پر لطف اور علمی گفتگو ہوتی رہی۔ اس موقعہ پر حضرت صدر جمعیت علمائے ہند، ہلال احمد صاحب زبیری ایڈیٹر الجمعیۃ اور مولانا عبد الماجد صاحب دہلوی بھی موجود تھے۔ جملہ حضرات نے محترم ارکان سے فلسطین کے مختارات مسائل پر گفتگو کی اور ارکان و فد کی چائے اور شیرینی سے تواضع کی گئی۔ مفتی اکبر سیدامین الحسینی نے حضرت مولانا احمد سعید صاحب کا اس فصیح و بلیغ ترجمہ کے لیے بار بار شکریہ ادا کیا ،جو موصوف نے جامع مسجد میں مفتی اکبر اور محمد علی پاشا کی عربی تقریروں کا شستہ اردو زبان میں کیا تھا،اور جس پر ہر طرف سے نعرہ ہائے تحسین و آفرین بلند ہورہے تھے۔

 جمعہ کی شام کو ارکان وفد حیدر آباد تشریف لے گئے۔ اسٹیشن پر حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب، مولانا احمد سعید صاحب، مسٹرآصف علی، خواجہ حسن نظامی اور دیگر حضرات نے اپنے معززو محترم مہمانوں کو رخصت کیا۔ (سہ روزہ الجمعیۃ،28؍ جون 1933ء)

فلسطین کے متعلق برطانیہ کے جابرانہ عمل کی مذمت

جمعیت علمائے صوبہ دہلی کا ایک سالانہ اجلاس27,28,29؍مارچ 1936ء کو دہلی میں ہوا، تو صوبائی جمعیت علمانے بھی مرکز کی تائید کرتے ہوئے اپنے اجلاس میں فلسطین کے متعلق برطانیہ کے جابرانہ و جارحانہ عمل کی شدید مذمت کرتے ہوئے تجویز نمبر(۱۰) میں کہا کہ:

’’جمعیت علمائے صوبہ دہلی کا یہ اجلاس حکومت برطانیہ کے اس جابرانہ طرز عمل کو- جو اس نے فلسطین میں ایک انتدابی حکومت کی حیثیت سے جاری کر رکھا ہے- انتہائی تشویش و اضطراب کی نظر سے دیکھتا ہے اور ان مطالبات کی پرزور تائید کرتا ہے، جو مظلوم باشندگان فلسطین کی جانب سے طلب آزادی اور انسداد تحریک صیہونیت و استرداد اعلان بالفور کے متعلق پیش کیے گئے ہیں اور جنھیں برطانوی وزیر نوآبادیات نے بغیر کسی معقول دلیل کے مسترد کردیا ہے۔ اجلاس کی رائے میں حکومت برطانیہ کا یہ فعل- کہ وہ فلسطین میں دنیا بھر کے یہودیوں کو لاکر بسا رہے ہیںاور ان کی تعداد کو نہایت خطرناک حد تک پہنچا چکی ہے، اور باوجود مسلسل احتجاج کے اپنی اس پالیسی پر قائم ہے- نہ صرف فلسطین اور جزیرۃ العرب کے امن و امان کو تباہ و برباد کرنے والا ہے؛ بلکہ تمام دنیائے اسلام میں اس طرز عمل سے برطانیہ کے خلاف سخت جذبات غلیظ وغضب پیدا ہورہے ہیں اور اگر یہ حکمت عملی جلد تبدیل نہ کی گئی ، تو اس کے نتائج سخت مہلک ثابت ہوں گے۔ 

محرک: مولانا مفتی محمد نعیم صاحب۔مؤید: مولانا مبارک حسین صاحب۔

 (سہ روزہ الجمعیۃ، یکم اپریل، 1936ء) 

فلسطین میں برطانیہ کیا کر رہا ہے؟

فلسطین کے حالات اور اس کے ساتھ برطانیہ کے ظالمانہ رویہ پر حضرت العلامہ مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ صدر جمعیت علمائے ہندنے  یکم جون 1936ء کواپنا بیان جاری کرتے ہوئے برطانیہ سے سوال کیا کہ وہ فلسطین میں کیا کر رہا ہے؟

مکمل بیان درج ذیل ہے:  

’’فلسطین میں زیادہ تر آبادی عربوں کی ہے۔ تمدن، کلچر، زبان سب عربی ہے۔ عیسائی بھی عربی تہذیب اور عربی زبان کے دل دادہ اور عربی کے بڑے بڑے فاضل اور ادیب ہیں۔

جنگ عظیم کے بعد یورپین طاقتوں نے ممالک اسلامی کا آپس میں بٹوارہ کرلیا۔ فلسطین پر برطانوی انتداب اپنی قہرمانی طاقتوں کے ساتھ مسلط کیا گیا۔ اور برطانیہ نے اپنی جبروتی شان کے ساتھ جلوہ آرا ہوکر پہلا کام یہ کیا کہ فلسطین کو یہودیوں کا قومی گہوارہ اور تحریک صہیونیت کا مرکز قرار دے دیا۔ عرب نے اس کے خلاف انتہائی ناراضگی ظاہر کی اور آئینی جدوجہد کے تمام ذرائع ختم کرڈالے۔ دوسری طرف برطانیہ کے جبری انتداب کے خلاف آزادی کی مہم شروع کی اور برطانیہ سے آئینی طور پر پرزور مطالبات کیے اور جب کہ برطانیہ نے ان کے مطالبات کے ساتھ سرد مہری کا برتاؤ کیا اور ان کی فریاد کی کچھ شنوائی نہیں ہوئی، تو انھوں نے غیر متشددانہ سول نافرمانی کا راستہ اختیار کیا۔ 

حکومت برطانیہ کی جانب سے ان کی تحریک آزادی کو دبانے کے لیے جو تشدد اور سختی کام میں لائی جارہی ہے اس کے نتائج 28؍مئی کے تار میں یہ بتائے گئے ہیں کہ حریت پسند عربوں پر گرفتاریاں اور دوسری قسم کے تشدد کیے جارہے ہیں ۔ ڈیڑھ ہزار سے زیادہ گرفتاریاں ہوچکی ہیں اور سینکڑوں عرب شہید اور سینکڑوں زخمی ہوچکے ہیں۔ مسلمانان عالم برطانیہ کی اس بہیمت اور جبروتی حاکمیت کو غم و غصہ کی نظر سے دیکھ رہے ہیں اور ان کے دل فرط غم و رنج سے خون ہورہے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ برطانیہ کی یہ تمام سخت گیر پالیسی -جو فلسطین میں ظاہر ہورہی ہے- بالکل غیر منصفانہ اور عربوں کے ساتھ صریح ناانصافی ہے اور تمام عالم اسلامی اور انصاف پسند انسانوں کی نظر میں قابل نفرت و ملامت ہے۔

 محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ دہلی۔‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ، یکم جون 1936ء)

یوم فلسطین سے شملہ وفد تک

یہودی نیشنل ہوم کی پالیسی نے عرب آبادی میں بے چینی پیدا کر دی تھی۔ یہودی امیگریشن میں تیزی سے اضافہ – خاص طور پر نازی جرمنی سے بھاگنے والے یہودیوں کی وجہ سے – نے عربوں میں خوف پیدا کر دیا کہ ان کی زمینیں اور سیاسی حقوق چھن جائیںگے، جس کے پیش نظر1936ء میں، عرب قومیت پرست رہنماؤں نے برطانوی حکومت کے خلاف احتجاج شروع کیا، جو جلد ہی مسلح بغاوت میں تبدیل ہو گیا۔ یہ بغاوت تین مراحل میں چلی: ابتدائی ہڑتال (اپریل 1936)، مسلح مزاحمت (1937-38) اور شدید جھڑپیں (1939 تک)۔ ہزاروں عرب اور یہودی ہلاک ہوئے، برطانوی فوج کو کریک ڈاؤن کرنا پڑا، اور معیشت تباہ ہوئی۔ 

ادھر ہندستان میں برطانیہ کی نوآبادیاتی پالیسیوں اور فلسطین میں یہودی امیگریشن کے خلاف ہندستان کے مسلمانوں نے منظم انداز میں آواز اٹھانا شروع کی۔آل انڈیا مسلم لیگ نے اس کے خلاف احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس سلسلے میں مسلم لیگ کی کونسل کی جانب سے ایک اپیل جاری کی گئی، جس کے نتیجے میں 19؍جون 1936ء کو ہندستان کے طول و عرض میں ’’یوم فلسطین‘‘ منایا گیا۔ اس موقع پر متعدد بڑے شہروں میں عظیم الشان جلسے منعقد ہوئے اور مسلمانوں نے فلسطین کے عربوں سے یک جہتی کا اظہار کیا۔

یوم فلسطین کی کامیابی کے تین ماہ بعد، مسلم رہنماؤں نے اپنی کوششوں کو مزید منظم اور مؤثر بنانے کے لیے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس بلایا۔ یہ اجلاس 26؍ستمبر 1936ء کو شملہ میں منعقد ہوا، جس میں ملک بھر سے نام ور مسلم رہنماؤں نے شرکت کی۔

اس اجلاس میں فلسطین کی ابتر صورت حال پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا اور برطانوی حکومت کے اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔ اجلاس کے اختتام پر ایک جامع قرارداد منظور کی گئی، جس میں فلسطین میں برطانوی پالیسیوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور مطالبہ کیا گیا کہ فلسطین میں عربوں کے جائز حقوق کا تحفظ کیا جائے۔ اس قرارداد نے مسلمانوں کے موقف کو ایک دستاویزی شکل دے دی۔

اجلاس کے بعد 28؍ستمبر 1936ء کو اجلاس کے شرکا پر مشتمل ایک وفد نے مولوی سر محمد یعقوب ممبر اسمبلی کی قیادت میںلن لتھ گو وائسرائے ہند سے ملاقات کی۔ اس وفد نے وائسرائے کے سامنے فلسطین کی صورت حال پر اپنے شدید تحفظات رکھے اور برطانوی حکومت پر زور دیا کہ وہ فلسطین میں اپنی پالیسی پر نظرثانی کرے۔یہ کوششیں برطانوی حکومت کے لیے ایک واضح پیغام تھیں کہ ہندستان کے مسلمان فلسطین میں ہونے والے واقعات سے قطعاً بے خبر نہیں ہیں اور وہ اپنے مذہبی بھائیوں کے حق میں ہر ممکن آواز بلند کریںگے۔

فلسطین کانفرنس میں شرکت کے تعلق سے جواہر لعل نہروکا مکتوب

جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام ماہ نومبر1936ء کے پہلے عشرے کی کسی تاریخ میں دہلی میں عظیم الشان آل انڈیا فلسطین کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں شرکت کے لیے مسٹر جواہر لعل نہرو کو دعوت دی گئی۔ مسٹر نہرو نے جو جواب دیا، اس سے فلسطین کے حوالے سے آل انڈیا کانگریس اور ہندستان کا موقف سامنے آتا ہے۔ تاریخی ریکارڈ کے لیے خط کا متن اور اس کا ترجمہ درج کیا جارہا ہے: 

31؍اکتوبر1936ء

October 31, 1936

Maulana Ahmad Said Sahab, Jamiatul Ulema, Delhi.

Dear Maulana Sahab,

I thank you for your invitation to the All India Palestine Conference to be held in Delhi. I would have liked to be present but unfortunately I must be in Calcutta on those very days. So you must excuse me.

You know that the National Congress has expressed itself many times on the Palestine issue. We have laid stress on the fact that this struggle is essentially a national struggle of the Arabs for freedom from the domination of British imperialism. The British Government in Palestine, as in India, has sought to introduce communal issues and to make it appear that it is an onlooker or an impartial judge of the conflicts of the Arabs and the Jews. In reality the conflict is between Arab nationalism and British imperialism. And all of us who value freedom in our own country and struggle for it must wiam well to the Arabs who are in a like plight to ours. I believe that the solution of the Palestine problem will come when the Arabs and the Jews cooperate together to free Palestine from imperialism and foreign control. I am glad to find that there is some evidence of this desire for cooperation. So long as the Jews side with British imperialism they will inevitably be suspects in the eyes of the Arabs. In the past for hundreds of years Arabs and Jews have lived peacefully together in Palestine. To-day, owing to British policy, conflicts have arisen, and the Arabs have begun to fear, not. without reason, that they will occupy a subordinate place in their own country. That is a legitimate fear.

Palestine cannot cease to be Arab and, therefore, it is right that the Arabs should lay stress on this.

I trust your Conference will appeal to the Arabs and Jews to cooperate together on this basis and free the country.

With all good wishes to your Conference,

I  am yours sincerely,

Jawaharlal Nehran

آل انڈیا کانگریس کمیٹی، سوراج بھون، الٰہ آباد

31 ؍اکتوبر 1936ء

برادرِ محترم مولانا احمد سعید صاحب،جمعیۃ العلماء، دہلی،

میں آپ کا شکر گزار ہوں کہ آپ نے دہلی میں منعقد ہونے والی آل انڈیا فلسطین کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی۔ میں چاہتا تھا کہ حاضر رہوں، لیکن بدقسمتی سے انھی دنوں مجھے کلکتہ میں رہنا ضروری ہے، اس لیے آپ میری معذرت قبول فرمائیں۔

آپ جانتے ہیں کہ نیشنل کانگریس فلسطین کے مسئلے پر کئی مرتبہ اپنی رائے ظاہر کر چکی ہے۔ ہم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ جدوجہد دراصل عربوں کی قومی جدوجہد ہے، جو برطانوی سامراج کی بالادستی سے آزادی کے لیے کی جا رہی ہے۔ فلسطین میں برطانوی حکومت نے، بالکل اسی طرح جیسے ہندستان میں، فرقہ وارانہ مسائل کو ہوا دی ہے اور یہ تأثر پیدا کرنے کی کوشش کی ہے کہ گویا وہ ایک تماشائی، یا عرب و یہودی جھگڑوں میں غیر جانب دار منصف ہے۔ حقیقت میں یہ تنازعہ عرب قومیت اور برطانوی سامراج کے درمیان ہے۔

ہم سب -جو اپنے ملک کی آزادی کو قیمتی سمجھتے ہیں اور اس کے لیے جدوجہد کرتے ہیں- لازمی طور پر ان عرب بھائیوں کے خیر خواہ ہیں، جو ہماری ہی طرح کی حالت میں مبتلا ہیں۔ میرا یقین ہے کہ فلسطین کا مسئلہ اس وقت حل ہوگا، جب عرب اور یہودی مل کر فلسطین کو سامراج اور غیر ملکی قبضے سے آزاد کرنے کی جدوجہد کریںگے۔ مجھے خوشی ہے کہ اس باہمی تعاون کی خواہش کے کچھ آثار نظر آ رہے ہیں۔ جب تک یہودی برطانوی سامراج کا ساتھ دیتے رہیںگے، عربوں کی نظر میں وہ لازماً مشکوک سمجھے جائیں گے۔

ماضی میں صدیوں تک عرب اور یہودی فلسطین میں امن و سکون کے ساتھ رہتے آئے ہیں، لیکن آج، برطانوی پالیسی کے سبب، اختلافات نے جنم لیا ہے اور عربوں نے، بجا طور پر، یہ خوف محسوس کرنا شروع کر دیا ہے کہ وہ اپنے ہی وطن میں ماتحت حیثیت اختیار کرنے پر مجبور کر دیے جائیں گے۔ یہ خوف بالکل جائز ہے۔

فلسطین ہمیشہ عرب رہے گا، اس لیے یہ بالکل بجا ہے کہ عرب اس حقیقت پر زور دیں۔مجھے امید ہے کہ آپ کی کانفرنس عربوں اور یہودیوں دونوں سے اس بنیاد پر باہمی تعاون کی اپیل کرے گی، تاکہ ملک کو آزاد کرایا جاسکے۔

آپ کی کانفرنس کے لیے نیک خواہشات کے ساتھ!

آپ کا مخلص:جواہر لعل نہرو۔ (ریکارڈ روم)

افسوس کہ اس کانفرنس کی تفصیلات نہیں مل سکیں۔ 

تحفظ فلسطین کے تعلق سیصدر محکمۂ شرعیہ استانبول کا مکتوب گرامی

برطانیہ کے ظالمانہ رویوں کے خلاف جمعیت مسلسل آواز اٹھاتی رہی اور ہندستان میں جگہ جگہ جلسے اور مظاہرے کرتی رہی، انھیں کوششوں کی کامیابی پرسابق صدر محکمۂ شرعیہ استانبول اسعد شقیری نے 5؍جنوری1937ء کو ایک خط لکھ کر جمعیت کی مساعی پر تشکر کا اظہار کیا۔

’’حضرت مفتی ہند علامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدرجمعیت علمائے ہند کی خدمت میںعکا(فلسطین) سے ایک عربی مکتوب موصول ہوا ہے، جس کا اردو ترجمہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ یہ مکتوب جن بزرگ کی طرف سے موصول ہوا ہے، ان کا اسم گرامی اسعد شقیری سابق صدر محکمۂ شرعیہ استانبول ہے اور اس وقت عکا میں تشریف فرما ہیں۔ مکتوب کے ساتھ موصوف نے ایک مطبوعہ رسالہ بھی ارسال فرمایا ہے، جس کا موضوع خط کے مضمون سے معلوم ہوگا۔ اس عربی مکتوب کا ترجمہ ذیل میں ہے: 

بسم اللہ الرحمان الرحیم

لحضرۃ مولانا لشمس العلما ء الاستاذ الکبیر صاحب الفضل والفضیلۃ محمد کفایت اللہ المفتی و رئیس العلماء دھلی مداللہ فی حیاتہ و نفع بعلومہ المسلمین۔ 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ میں اپنے اس خط کے ساتھ ایک رسالہ خدمت عالی میں ارسال کر رہا ہوں ، جو فلسطین کے باب میں مسلمانوں اور یہودیوں کے متعلق آیات قرآنیہ، احادیث نبویہ اور اقوال فقہا پر مشتمل ہے ۔ امید ہے کہ ملاحظہ کے بعد یہ رسالہ جناب کی نظر میں شرف قبولیت حاصل کرے گا۔ مہربانی فرماکر رسالہ کے مضمون اور اس کی تفصیلات سے آپ جلالۃ الملک شاہ افغانستان اور جلالۃ الملک شاہ ایران کو مطلع فرمائیے، تاکہ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کو ابتلا و مصائب سے نجات دلانے کا جو فرض ان پر عائد ہوتا ہے، وہ اس سے سبکدوش ہوں۔ اگر جمعیت علمائے ہند کی طرف سے رسالہ کی اشاعت کا انتظام ہوسکے اور آپ وزرا، ارباب حکومت اورمسلمانوں کے اہل حل و عقد کے پاس اس کو پہنچا سکیں، تو بہت ہی مناسب ہے۔

آپ کے اہتمام میں دہلی کے اندر جو فلسطین کانفرنس منعقد ہوئی، اس میں آپ کی مساعی قابل تحسین ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے اور عمر دراز کرکے ہمیشہ آپ کو عافیت میں رکھے۔ واسبغ علیکم نعمہ ظاہرۃ و باطنۃ۔ والسلام علیکم ۔

شہر عکاصع فلسطین، مؤرخہ 20؍رمضان المبارک 1355ھ۔ رئیس التدقیقات الشرعیہ السابق فی الآستانہ اسعد الشقیری۔‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ 9؍ جنوری 1937ء) 

تقسیم فلسطین کے خلاف عظیم الشان احتجاجی اجلاس

برطانوی حکومت نے بغاوت کے بعد، نومبر 1936ء میں پیل کمیشن کا اعلان کیا۔ اس میں چھ برطانوی اراکین شامل تھے، جن میں اعلیٰ افسران، جج اور ماہرین تھے۔ کمیشن کا بنیادی مقصد بغاوت کی وجوہات کی نشاندہی، عرب اور یہودی دونوں کی شکایات کی سماعت اور مینڈیٹ کی عمل داری کو بہتر بنانے کی سفارشات کرنا تھا۔ یہ ٹیم فلسطین پہنچ کر 88؍ دنوں تک کام کرتی رہی، جس میں یروشلم، حیفہ اور غزہ جیسے علاقوں کا دورہ، گواہوں کی سماعت (عرب، یہودی اور برطانوی افسران سے) اور دستاویزات کی جانچ شامل تھی۔ کمیشن نے 1,000 سے زائد صفحات کی رپورٹ تیار کی۔اور7؍جولائی 1937ء کو بیک وقت ہندستان اور برطانیہ میں اس کو شائع کیا گیا۔ اس کی رو سے فلسطین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

’’ ایک حصے کو وطن یہود قرار دیا گیا ہے۔ وہاں یہودی حکومت قائم کی جائے گی۔ دوسرا حصہ عربوں کے پاس رہے گا، وہاں یہ آزاد ہوں گے۔ تیسرا علاقہ برطانیہ کی نگرانی میں رہے گا۔

عربی اور یہودی حصوں کی آبادیوں اور اراضی کے تبادلے کا انتظام کیا جائے گا۔ یعنی اگر یہودی چا ہیں، تو اپنی ملکیتیں عربی حصے میں چھوڑ دیں اور وہ یہودی علاقے میں چلے جائیں۔ ایک حصہ زمین- جو عربوں کے ہاتھ سے نکل جائے گا- اس کے عوض عربوں کو یہودی ریاست سے خراج ملے گا۔ اور برطانوی رعایت سے عرب ملکوں کو آب پاشی اور ترقی کی اسکیموں کے لیے بیس لاکھ پونڈ کی رقم سے گی۔‘‘

تقسیم فلسطین پر شاہی کمیشن کی رپورٹ میں مندرج تمام تجاویز کے بارے میں حکومت برطانیہ نے اپنی پالیسی کی وضاحت میں ایک بیان شائع کیا، جس میں رپورٹ کی تمام سفارشات کو من و عن قبول کر لیا گیا۔

برطانوی تجاویز کے شائع ہوتے ہی عرب ممالک میں ایک ہیجان برپا ہو گیا۔(روز نامہ انقلاب لاہور۔ 9؍ جولائی1937ء۔ بحوالہ کاروان احرار، جلد سوم،ص؍106)

30؍جولائی 1937ء کو بعد نماز عشا جامع مسجد دہلی میں حضرت علامہ مفتی اعظم مولانا کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کی صدارت میں ایک عظیم الشان جلسہ ہوا۔ مسلمان ہزاروں کی تعداد میں نہایت گرم جوشی کے ساتھ شریک ہوئے۔ جامع مسجد کے صحن میں ہر طرف انسانی سروں کا بے پناہ ہجوم نظر آرہا تھا۔ ہر طبقہ و خیال کے مسلمان مضطرب قلوب کے ساتھ تقریریں سن رہے تھے۔ ان کی اٹھی ہوئی گردنیں، گرم نگاہیں، فلک شگاف اور اثر آفریں نعرے یہ ظاہر کر رہے تھے کہ وہ قبلۂ اول قدس کے تحفظ اور آزادی فلسطین کے سلسلہ میں امکانی جد و جہد کے لیے تیار ہیں

جلسہ کا آغازتلاوت قرآن سے ہوا۔ اس کے بعد حضرت مفتی صاحب نے اپنے صدارتی خطاب میں نہایت ہی جامعیت اور تفصیل کے ساتھ قدس کی مذہبی اہمیت، فلسطین کی سیاسی تاریخ، ترکوں اور عربوں کا اختلافی دور،برطانیہ کی وعدہ خلافیوںاور موجودہ الم ناک حکمت عملی پر روشنی ڈالی اور آخرمیں فرمایا کہ عرب کو تقسیم کرنے کے بعد فلسطین کی تقسیم نتائج کے اعتبار سے ناقابل برداشت ہے۔

 محی الدین صاحب قائد بی اے مدیر الجمعیۃ نے تجویز احتجاج پیش کرتے ہوئے اپنی مسلسل تقریر میں دل نشیں عنوان سے تقسیم فلسطین کے تمام پہلوؤں کو واضح کیا۔ آپ نے فرمایا کہ فلسطین کا مسئلہ ایک خالص اسلامی مسئلہ ہے۔ قدس ظہور اسلام سے قبل اسرائیلی آثار سے محروم ہو چکا تھا۔ جب حضرت فاروق اعظم فاتحانہ حیثیت سے قدس میں داخل ہوئے، اس وقت یہودی اقتدار کا نام ونشان بھی نہ تھا۔ یورپ سالہا سال تک صلیبی جنگیں لڑچکا ہے اور آج بھی ایک دوسرے عنوان سے فلسطین کی مقدس سرزمین پر قبضہ رکھنے کے لیے کوششیں جاری ہیں۔

 حامد الانصاری غازیؔ نے تجویز کی تائید کرتے ہوئے انتدابی حکمت عملی کے ناروا اثرات اور تقسیم کے نتائج پر اظہار رائے کرتے ہوئے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ عربوں کا قومی مسئلہ نہیں؛ بلکہ بین الاقوامی مسئلہ ہے۔ اس کا اثر مشرق و مغرب کی سیاست پر یکساں پڑتا ہے۔ برطانیہ اپنی حکمت عملی کے استحکام کے لیے ہندستان پر قبضہ رکھنے پر مصر ہے اور اس لیے ایک طرف عقبہ اور فلسطین کو اپنی گرفت میں رکھنا چاہتا ہے اور دوسری طرف نہر سویز اور اس کے ساحلی ماحول سے علاحدہ ہونے کے لیے تیار نہیں۔ اس باب میں ہماری ذمہ داریاں اہم ہیں اور ہمیں حضرت مفتی صاحب کی مدبرانہ رہنمائی میں وقت کی ذمہ داریوں کی تکمیل کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

 جناب ہلال احمد صاحب زبیری نے اپنی شائشتہ تقریر میں شاہی کمیشن کی رپورٹ کاکامیاب تجزیہ کیا اور فرمایا کہ کمیشن کی سفارشات بالکل واضح ہیں۔ ان کے مفہوم میں کوئی پیچیدگی نہیں۔ اگران کو طبع کر کے مسلمانوں میں تقسیم کر دیا جائے، تو یہی بات حقائق کے چہرے سے نقاب الٹ دے گی۔ آپ نے نہایت گرم جوشی کے ساتھ احتجاج کی عملی نوعیت پر زور دیا اور فرمایا کہ برطانیہ کی قوت فیصلہ دنیا ئے اسلام کی رائے عامہ کی منتظر ہے۔ تقسیم فلسطین کے مسئلہ کو صرف اس لیے جمعیت اقوام کے سامنے پیش کیا گیا ہے، تا کہ اس عرصہ میں مسلمانوں کی رائے کا علم ہو سکے اور اگر شاید نتائج رو نما ہونے کا امکان ہو، تو نو عیت فیصلہ کو بدل دیا جائے۔

سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب نے نہایت ہی پرجوش اور اثر انگیز تقریر فرمائی۔ آپ نے کلام مجید کی بر محل آیات پیش کرتے ہوئے برطانوی تدبرکی دردناک روایات اور مسلمانوں کے تأثرات پر ہمہ گیر تبصرہ فرمایا اور کہا کہ ایک طرف عربوں سے آزادی کا وعدہ کرنا اور دوسری طرف وطن یہود کے قیام کی اسکیم کو تیار کرنا قطعا د و متضاد امور تھے؛ لیکن برطانیہ نے اپنے مخصوص مفاد کی وجہ سے عملی سیاست کی روشنی سے ان پرغور نہیں کیا۔ آپ نے فرمایا کہ مسلمان برطانیہ کے طرز عمل سے شدید طور پر متأثر ہیں اور وہ چند لاکھ پونڈ کے عوض فلسطین کے بہترین حصہ کو برطانیہ اوریہود کے حوالے نہیں کر سکتے۔ اگر برطانیہ فلسطین کی بندرگاہوں کو چند لاکھ پونڈ میں خریدنا چاہتا ہے، تو کیا وہ افغانستان کے ہاتھوں کراچی کی بندرگاہ فروخت کرنے کے لیے تیار ہے۔ اگر وہ دوسروں کی اشیا اس طرح خریدنے کی جرأت رکھتا ہے، تو اسے اپنا مال بھی فروخت کرنا چاہیے۔

آخر میں حضرت صدر جلسہ نے رائے عامہ سے خطاب کیا اور جملہ حاضرین نے باتفاق آراتجویز کو منظور کیا۔تجویز حسب ذیل ہے:

فلسطین کی تقسیم ناقابل قبول

مسلمانان دہلی کا یہ عظیم الشان جلسہ جزیرۃ العرب کی ایک مقدس سرزمین فلسطین کی اس مجوزہ تقسیم کو -جس کی رو سے وہاں کے عرب باشندے زرخیز اور بہترین حصے سے محروم ہو کر غیر آباد،بنجر اور ریگستانی علاقے میں دھکیلے جارہے ہیں اور مقامات مقدسہ کی حفاظت اور نگرانی کی مقدس امانت ان کے ہاتھوں سے چھینی جا رہی ہے اور بہترین و زرخیز علاقہ پر مبغوض و مغضوب علیہ قوم یہود مسلط کی جارہی ہے اور مقامات مقدمہ پر برطانیہ بغیر کسی جائز قانونی استحقاق کے اپنا پنجۂ جمارہی ہے-سخت نفرت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ یہ مجوزہ تقسیم برطانی شہنشاہیت کی استعمار پسندی، یہود نوازی اور ہندستان پر انگلستان کی حکومت کے استحکام کے منصوبوں کی تکمیل کا آئینہ ہے۔ اور فلسطین کے عرب باشندوں کو سیاسی، اقتصادی، قومی، وطنی حیثیت سے اور مسلمانان عالم کو دینی اور مذہبی حیثیت سے ایک چیلنج ہے، جس سے برطانیہ کے غرور و تکبر اور امن عالم کی طرف سے کورا نہ بے پر وائی کا رازفاش ہو گیا ہے۔

باشندگان فلسطین کے لیے یہ تجویز کسی طرح بھی قابل قبول نہیں اور نہ مسلمانان عالم اس کو جزیرۃ العرب میں دینی حیثیت سے منظور کر سکتے ہیں۔

یہ جلسہ فلسطین کے عرب باشندوں کی اس تقسیم کے خلاف سرفروشانہ جد و جہد کو تحسین و تبریک کی نظر سے دیکھتا ہے اور اپنی تمام ہمدردیوں اور امکانی اعانتوں کا ان کو یقین دلاتا ہے۔ اور برطانیہ کو بتا دینا چاہتا ہے کہ اگر یہ تجویز جلد سے جلد منسوخ کرکے فلسطین کے باشندوں کی آزادی اور خود مختاری تسلیم نہ کی گئی، تو عالم کا امن درہم برہم ہو جائے گا۔ اور اس کی ذمہ داری برطانیہ کی یہود نوازی اور استعماری حرص پر ہوگی۔

حضرت مفتی صاحب کا بیان

فلسطین آج اسلامی سیاست کا ایک اہم مسئلہ بنا ہوا ہے۔ اعراب فلسطین اپنی جگہ پر اس مسئلہ کی پیچیدگیوں کا احساس کر رہے ہیں۔ بلاد اسلامیہ اپنے مقام پر مضطرب ہیں اور اسلامیان ہند اپنے موقف پر صورت حال کو دیکھ دیکھ کر پریشان و سراسیمہ ہیں، ا سلامیان عالم اپنے اپنے نقطۂ نظرسے اس مسئلہ کو دیکھ رہے ہیں؛ لیکن حضرت مفتی محمدکفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہندکے حالیہ ار شاد کے مطابق’’ تقسیم فلسطین اعراب فلسطین ہی کے لیے نہیں؛ بلکہ مسلمانان روئے زمین کی مذہبی غیرت اور انسانی شرافت وحمیت کے لیے ایک کھلا ہواچیلنج ہے، اور اس چیلنج کی گہرائیوں میں برطانیہ کی استعمار پسند یہود نوازی اور وعدہ شکنی کے خفیہ منصو بے پنہاں ہیں اور وہ براہ راست مسلمانوں کے مذہبی و ملی اور اقتصادی وسیاسی اقتدار کو پامال کر رہے ہیں۔

 حضرت مفتی صاحب نے اپنے بیان میں دو اہم امور کی جانب اشارہ فرمایا ہے۔ اول حکومت برطانیہ کا اخلاقی تسفل اور دوسرا اسلامیان عالم پر تقسیم فلسطین کے اثرات۔ اخلاقی تسفل کا نتیجہ ہے کہ فسوں کاران برطانیہ نے آزاد عرب حکومت کے قیام کے متعلق اپنے صریح مواعید کو فراموش کر کے فلسطین کے حصے بخرے کر دیے ہیں اور مشرق قریب پر برطانی استعمار کی بقا کے لیے قدس اور دیگر اماکن مقدسہ پر اپنا انتداب اور فلسطین کے زرخیز سواحلی علاقہ پر یہودیوں کا اقتدار قائم کر دیا ہے۔ یہودنوازی اور وعدہ شکنی کا اس سے بہتر نمونہ اور کیا ہو سکتا ہے۔ رائل کمیشن کا خیال ہے کہ ارض مقدس پر برطانیہ کا عمل جراحی کامیاب ہو جائے گا اور اس اسکیم کے ذریعہ وحدت عرب کا تصور کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکے گا؛ لیکن یہ خیال خوش آئند ہونے سے زیادہ ابلہ فریب ہے۔ آج دنیا کا نقشہ بدل چکا ہے، اب کسی صورت سے ممکن نہیں کہ برطانیہ فلسطین کو پارہ پارہ کر کے اپنی استعماری اغراض کو تقویت پہنچا ئے اور نہ صرف فلسطینی عربوں کی مذہبی و سیاسی حیثیت ہی کو ختم کردے؛ بلکہ اسلامیان عالم کے قبلۂ اول کی مرکزی حیثیت کو بھی کمزور بنادے۔ اگر بر طانیہ کا یہ خیال ہے، تو وہ سرا سر غلط، نفس فریب اور غیر مدبرانہ ہے اور ہمیں یقین ہے کہ اگر استعمار پرستان مغرب نے اس خیال کو عملی جامہ پہنانے کی سعی کی، تو وہ ایک خوف ناک غلطی کا ارتکاب کریں گے اور ان کو نہ صرف فلسطین ہی میں مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا؛بلکہ تمام مشرق قریب اور مشرق وسطیٰ میں ان کے لیے جرأت آزما مواقع پیدا ہوجائیں گے اور بالخصوص ہندستان میں ایک ایسی صورت حال پیدا ہوجائے گی، جو تقسیم فلسطین کی نہایت گراں قیمت ہوگی۔ (سہ روزہ الجمعیۃ،5؍اگست1937ء)

تقسیم فلسطین کے متعلق مفتی اعظم ہندکا بیان

 رائل کمیشن (شاہی کمیشن) کی اشاعت پر صدر جمعیت علمائے ہند حضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ نے یکم اگست 1937ء کو درج ذیل بیان دیا:

’’فلسطین کمیشن کی سفارشات اہل فلسطین کے نزدیک ہی ناقابل قبول نہیں؛ بلکہ ہر مہذب اور منصف انسان کا ضمیر ان کو ملامت کرتا اور مذموم سمجھتا ہے ۔ برطانیہ کی طرف سے تقسیم فلسطین کی ظالمانہ اسکیم کی منظوری نے برطانیہ کی استعمار پسند یہود نوازی اور وعدہ شکنی کے خفیہ منصوبوں کو طشت ازبام کردیا ہے۔ یہ تقسیم سیاسی اور اقتصادی جہت سے تمام باشندگان فلسطین کے لیے عموما اور مذہبی حیثیت سے مسلمانوں کے لیے نا قابل تسلیم ہے۔

مسلمانان فلسطین اپنے خون کا آخری قطرہ بہادیں گے، مگر اس تقسیم کو قبول نہ کریںگے۔ اور مسلمانان عالم کی تمام ہمدردیاں ان کے ساتھ ہوں گی۔ یہ تقسیم صرف اعراب فلسطین کے لیے نہیں؛ بلکہ مسلمانان روئے زمین کی مذہبی غیرت اور انسانی شرافت و حمیت کے لیے کھلا چیلنج ہے اور اگر اس اسکیم کی تنفیذ پر اصرار کیا گیا، تو امن عالم کی تباہی اور بربادی کا عالم سوز منظر دنیا کے سامنے آجائے گا اور اس کی تمام تر ذمہ داری برطانیہ پر عائد ہوگی۔

محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ دہلی۔‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ، یکم اگست 1937ء)

مجلس عمل فلسطین کی تجاویز 

بعد ازاں8؍ اگست1937ء کو مجلس عمل آل انڈیا فلسطین کانفرنس کا ایک اہم اجلاس زیر صدارت حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند، دائرہ شاہ حجۃ اللہ میں منعقد ہوا، جس میں مندرجہ ذیل قرار دادیں منظور ہوئیں:

تجویز نمبر (۱)رائل کمیشن کی مخالفت

 مجلس عمل جمعیت فلسطین کا یہ اجلاس جزیرۃ العرب کی ایک مقدس سرزمین فلسطین کی اس مجوزہ تقسیم کو- جس کی رو سے اعراب فلسطین سیاسی اقتدار اور اقتصادی ترقی سے ہمیشہ کے لیے محروم کر دیے گئے ہیں اور بحالت موجودہ وہاں کے زر خیر اور بہترین حصہ و نیز بندرگاہوںسے محروم ہو کرغیر آباد، بنجر اور ریگستانی علاقہ میں ڈھکیلے جا رہے ہیں اور مقامات مقدسہ کی حفاظت اور نگرانی کی مقدس امانت ان کے ہاتھوں سے چھینی جا رہی ہے اور بہترین اورزر خیز علاقوں پر یہودی قوم مسلط کی جا رہی ہے، اور شاہی اعلان 2؍ نومبر 1914ء کے صریحا خلاف ہے، مقامات مقدسہ پر برطانیہ بغیر کسی جائز قانون کے اپنا پنجہ جمار ہی ہے- سخت نفرت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ رائل کمیشن کی یہ مجوزہ تقسیم برطانوی شہنشاہیت کی استعمار پسندی، یہود نوازی اور ہندوستان پرانگلستان کی حکومت کے استحکام کے منصوبوں کی تکمیل کا آئینہ ہے اور فلسطین کے عرب باشندوں کو سیاسی، مذہبی،اقتصادی، قومی اور وطنی حیثیت سے ایک چیلنج ہے، جس سے برطانیہ کے غرور و تکبر اور امن عالم کی طرف سے کورا نہ بے پروائی کار از فاش ہو گیا۔ باشندگان فلسطین کے لیے یہ تجویز کسی طرح قابل قبول نہیں۔ اور نہ مسلمانان عالم اس جزیرۃ العرب میں اپنی حیثیت سے منظور کر سکتے ہیں۔

 یہ جلسہ فلسطین کے عرب باشندوں کی اس تقسیم کے خلاف سرفروشانہ جد و جہد کو تحسین و تبریک کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اور اپنی تمام ہمدردیوں اور امکانی اعانتوں کا ان کو یقین دلاتا ہے۔ اور برطانیہ کو بتا دینا چاہتا ہے کہ اگر یہ تجویز جلد سے جلد منسوخ کر کے فلسطین کے باشندوں کی آزادی اور خود مختاری تسلیم نہ کی گئی، تو تمام عالم کا امن درہم برہم ہو جائے گا۔ اور اس کی ذمہ داری برطانیہ کی یہود نوازی اور استعماری حرص پر ہوگی۔

تجویز نمبر(۲):3؍ستمبر1937ء کو فلسطین ڈے منانے کا اعلان

 مجلس عمل جمعیت فلسطین کا یہ جلسہ طے کرتا ہے کہ کہ جمعہ 3؍ستمبر1937ء کو تمام ہندستان میں فلسطین ڈے منایا جائے اور مسلمانان ہند سے اپیل کرتا ہے کہ اس دن کو کامیاب بنانے میں پوری جدو جہد سے کام لیں۔ مسجدوں میں بعد نمازجمعہ دعائیں کی جائیں۔ شام کو تمام مقامات پر بڑے بڑے جلسے منعقد ہوں۔ اور جن مقامات پر جلوس کا انتظام ہو سکے، وہاں جلوس نکالے جائیں۔ جلسوں میں رائل کمیشن کی رپورٹ اور برطانوی حکومت کی یہود نواز استعماری پالیسی اور فلسطین کے مقدس مقامات پر جابرانہ قبضہ کے خلاف تجاویز پاس کی جائیں۔ اور نفرت و پنداری کا اعلان کیا جاوے۔

تجویز نمبر(۳):ایک مشترک اجلاس کا فیصلہ

 مجلس عمل کا یہ اجلاس یہ محسوس کرتے ہوئے -کہ فلسطین کا مسئلہ انتہائی نازک اور فیصلہ کن مدارج سے گزر رہا ہے- تجویز کرتا ہے کہ آئندہ ماہ میں دہلی، یا کسی دوسرے مناسب مقام پر مجلس عمل کا جلسہ منعقد کیا جاوے، جس میں دیگر اسلامی اداروںکو بھی مدعو کیا جائے، تاکہ مقاطعۂ ثلاثہ اور دیگر تجاویز کے متعلق با ہمی غور و فکر اور پوری بصیرت کے کوئی مؤثر عمل کیا جاسکے۔ 

 (سہ روزہ الجمعیۃ،24؍ اگست 1937ء)

جمعیت علمائے سندھ کا تقسیم فلسطین کی تجویز پر احتجاج

17؍اگست 1937ء کو سندھ میں جمعیت علمائے سندھ کا عظیم الشان اجلاس عام ہوا، جس میں کانگریس میں شرکت کا اعلان کیا گیا، تقسیم فلسطین پر احتجاج، انڈیمان کے اسیران سیاسی کی رہائی کا مطالبہ اور کئی دیگر اہم تجاویز منظور کی گئیں۔ 

(سہ روزہ الجمعیۃ، 20؍اگست 1937ء)

زعماو علمائے ہند کا یوم فلسطین منانے کا ایک مشترکہ اعلان

24؍اگست 1937ء کو ہندستان کے علمااور سیاسی لیڈران نے  3؍ستمبر جمعہ کویوم فلسطین منانے کی اپیل کی جاری کی۔ اپیل میں کہا گیاکہ:

’’رائل کمیشن کی رپورٹ نے عربوں کے وطن کو ان سے چھین لیا، ان کا مقدس مقام -جو انھیں کا نہیں؛ بلکہ تمام دنیائے اسلام کا قبلۂ اولیٰ ہے- اسلامی سیادت سے نکال کر حکومت برطانیہ کے زیرانتداب کردیاگیا۔ یہ رپورٹ ایک کھلا ہوا چیلنج ہے، جسے دنیائے اسلام کوقبول نہیں کرنا چاہیے۔ چنانچہ خداکا شکر ہے کہ تمام ممالک اسلامیہ نے اس کے خلاف اعلانات کیے اور بتا دیا کہ وہ اس کا ہر طرح کا مقابلہ کرنے کو تیارہیں ۔اب مسلمانان ہندکا  یہ فرض ہے کہ وہ ایک آواز ہو کر 3؍ستمبر سے اپنی عملی جد و جہد شروع کر دیں۔ مجلس عمل آل انڈیا فلسطین کانفرنس کے جلسہ منعقدہ 8؍اگست نے 3؍ستمبر بروز جمعہ آل انڈیا یوم فلسطین قرار دیا ہے ،اس دن ملک کے ہرہرگوشہ میں شان دار مظاہرے کیے جائیں اور جلسہ کر کے اس رپورٹ پر اظہار نفرت اور ناراضگی کیا جائے۔

 نیز ہماری استدعاہے کہ اس آواز پر ہندستان کے تمام مقتدرا شخاص اور کل اسلامی جماعتیں لبیک کہیں اوراپنی اور اسلامی زندگی کا ثبوت دیں۔

۱۔ حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی جانشین شیخ الہند۔۲۔ حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند۔ (۳) حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند۔ (۴) حضرت مولانا محمدقطب الدین عبدالوالی صاحب فرنگی محل۔ (۵)حضرت مولانا مفتی عنایت اللہ صاحب فرنگی محلی۔(۶) حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نائب امیر شریعت بہار۔ (۷) حضرت مولانا ابوالقاسم محمد حفظ الرحمان صاحب۔ (۸) جناب ڈاکٹر سید محمود صاحب (وزیر تعلیمات بہار)۔(۹) جناب چودھری خلیق الزماں صاحب لیڈر مسلم لیگ پارٹی۔ (۱۰) حضرت مولانا محمد میاں صاحب مرادآبادی۔(۱۱) حضرت مولاناحافظ محمدا براہیم صاحب وزیر مفادعامہ۔ (۱۲) حضرت مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی۔ (۱۳) حضرت مولانا بشیر احد صاحب سیوہار وی۔ (۱۴) حضرت مولانا ابو الوفا صاحب۔(۱۵)محمد الفار و قی سکریٹری مجلس عمل آل انڈیا فلسطین کانفرنس (۱۶) حضرت مولانا محمد شاہد صاحب۔

 (سہ روزہ الجمعیۃ،24؍اگست 1937ء)

تقسیم فلسطین کے خلاف عظیم الشان احتجاجی اجلاس

چنانچہ 3؍ستمبر1937ء کو مجلس عمل آل انڈیا فلسطین کانفرنس کے فیصلے کے مطابق ملک گیر سطح پر یوم فلسطین منایا گیا اور دہلی میں توتاریخی ہڑتال کی گئی، جس کی رپورٹ درج ذیل ہے:

تاریخی ہڑتال

مسلمانان دہلی بزرگان جمعیت علمائے ہند کی مسلسل تقاریر اور مواعظ سے یہ واضح طور پر سمجھ چکے تھے کہ مسئلۂ فلسطین مسئلۂ خلافت سے زیادہ اہم اور دور رس ہے اور ارض مقدس کی حفاظت و تقدیس کے لیے اسلامیان ہند کو اس سے زیادہ ایثار و قربانی کرنی چاہیے، جو تحریک خلافت کے دور میں کی گئی تھی۔ خدا کا شکر ہے کہ مسلمانان دہلی نے اس حقیقت کو گوش ہوش سے سنا، قلب کی گہرائی میں جگہ دی اور۳؍ ستمبر کو اپنی اسلامی اخوت، جوش عمل اور گرمی حیات کا وہ دور آفریں مظاہرہ کیا، جو شاید ہی کسی دوسرے مقام پر نظر آیا ہو۔ صبح ہی سے شہر کے تمام بازار اور گلی کوچوں کی دکانیں بند تھیں اور تمام شہر سنسان نظر آرہا تھا۔ ہڑتال کا منظر اور مسلمانوں کا جوش و خروش بتار ہا تھا کہ تحریک خلافت کے بعد سے آج تک دہلی میں اس قدر مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال نہیں ہوئی۔

پرشکوہ جلوس 

نماز جمعہ کے بعد جامع مسجد شاہ جہانی سے مسلمانان دہلی کا ایک عظیم الشان جلوس نکلا، جو ’’فلسطین زندہ باد، برطانیہ مردہ باد اورتقسیم فلسطین منسوخ کرو‘‘ کے فلک شگاف نعرے لگاتا ہوا شہر کے بڑے بڑے بازاروں میں سے گذرا، جلوسیوں کی تعداد ہزارں ہزارتھی۔رضا کار گوشہ گوشتہ پر نظر آر ہے تھے۔ ورکروں کے ہاتھوں میں جھنڈیاںاور نشانات تھے اور جیش رضا کاران کے سیاہ پوش سپہ سالار گھوڑوں پر سوار جلوسیوں کی رہنمائی اور ترتیب و تنظیم میں مصروف تھے۔

جوشیلے انسانوں کا یہ ٹھا ٹھیں مارتا ہواسمندر جس طرف بھی نکلا،اسی طرف مسلمانوں کے جوش و خلوص کا ایک نقش قائم ہو گیا اور دنیا پر یہ حقیقت واضح ہو گئی کہ مسلمانان ہند آج بھی اپنے اقتدار رفتہ کی بازیابی، اپنے مذہب کی تقدیس اور اپنے مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لیے تمام اختلافات کو مٹاکر ایک رشتۂ اتحاد میں منسلک ہونے کے لیے تیار ہیں؛ مگر وہ صرف ایک بے لوث، عمل پرست اور صائب الرائے رہنما چاہتے ہیں۔

جلسہ کی کارروائی

نماز جمعہ کے بعد سے پانچ بجے تک جلوس نے تمام بڑے بڑے بازاروں میں گشت لگایا اور ٹھیک پانچ بجے گاندھی گر اؤ نڈ میں پہنچ گیا۔

مسلمان جوق درجوق جمع ہونے شروع ہو گئے اور تھوڑی سی دیر میں حد نظر تک پرجوش انسانوں کا ایک بے پناہ سمندر نظر آنے لگا۔ مبصرین کا اندازہ ہے کہ تقریبا اسی ہزار مسلمانوں نے جلسہ میں شرکت کی۔ اسٹیج پر جو حضرات تشریف فرما تھے، ان میں سے خاص طور پر قابل ذکر حضرت علامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند، مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند، مولانا حبیب الرحمان صاحب صدر مجلس احرار، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری، مولانا عبد الماجد صاحب ناظم جمعیت علمائے صوبہ دہلی،مولانا حامد الانصاری غازمی ایڈیٹر الجمعیۃ، کامریڈ احمد دین، سید حبیب ایڈیٹر سیاست اور مسٹرہلال احمد زبیری ایڈیٹرانصاری ہیں۔

حضرت مولانا احمد سعید صاحب کی تقریر

ساڑھے پانچ بجے تلاوت قرآن مجید اور قومی ترانوں کے بعد جلسہ کی با ضابطہ کارروائی شروع ہوئی۔ مولانا احمد سعید صاحب نے حضرت علامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کا اسم گرامی صدارت جلسہ کے لیے پیش کرتے ہوئے ایک مختصر سی افتتاحی تقریر کی، جس میں یہ فرمایا کہ فلسطین سے مسلمانان ہند کادو گو نہ تعلق ہے: ایک مذہبی؛ کیوںکہ بیت المقدس مسلمانوں کا قبلۂ اول اور ارض مقدس انبیا علیہم السلام کا مسکن و مدفن ہے۔ دویم سیاسی؛ کیوںکہ تقسیم فلسطین کے پردہ میں برطانیہ کا مقصد یہود نوازی، یا اپنے اخلاقی وعدوں کا ایفا نہیںہے؛ بلکہ اپنی شہنشاہی اغراض کی تکمیل، وحدت عرب کی تباہی،بحر روم پر تسلط اور ہندستان کی غلامی کا استحکام مقصود ہے۔ 

مولانا کی تحریک پر مسٹرعطاء الرحمان وکیل نے مفتی صاحب کی صدارت کی تائید کی۔

حضرت مفتی صاحب کی حقائق افروز تقریر

حضرت علامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے فلسطین کی مذہبی حیثیت پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ فلسطین ہی میں وہ مقدس مسجد اقصیٰ ہے، جہاں سرکار دو عالمﷺ کی معراج کی پہلی منزل ختم ہوئی۔ یہی وہ پاکیزہ مقام ہے۔ جس کے گردوپیش میں بار کنا حولہ کہہ کو برکتیں نازل کیں۔ اور یہی وہ برگزیدہ جگہ ہے، جس کے متعلق آقاکریم نے فرمایا: لا تشد الرحال الاالی ثلاثۃ مساجد: تین مساجد میں عزم کے ساتھ سفر کر کے جانا چاہیے: مسجد حرام، مسجد اقصیٰ،مسجد نبوی۔مسجد اقصیٰ میں ایک نماز کا ثواب پچیس ہزار گو نہ ملتا ہے۔

حضرت مفتی صاحب نے مسئلۂ فلسطین کی سیاسی اہمیت کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلمانوں نے تیرہ سو برس تک فلسطین کی تقدیس کی حفاظت کی اور ہزار ہا مسلمانوں نے اپنے سرخ و گرم خون کے قیمتی قطرے بہا بہا کر ارض مقدس کو مشرکین کی تباہ کاریوں سے محفوظ رکھا۔ سلطان صلاح الدین ایوبی کا جہاد اسی سلسلہ کی ایک کڑی ہے؛ لیکن مسلمانوں نے رواداری کے ساتھ ارض قدس کے دروازوںکو یہود و نصاری پر ہمیشہ کھلا رکھا اور کبھی ان کے مذہبی شعائر میں مداخلت نہیں کی؛ مگر اس کے باوجود انگریزوں نے فلسطین پر ہمیشہ نظر رکھی اور بالآ خر جنگ عظیم میںشریف مکہ کو اپنی فریب کاریوںکا شکار بنا کر اور یہ وعدہ کر کے کہ اگر اتحادی کامیاب ہو گئے، توجزیرۃالعرب میں ایک آزاد عرب حکومت قائم کردی جائے گی۔ خلیفہ المسلمین سلطان ترکی کے خلاف بغاوت پر آمادہ کر دیا اور ترکوں کو عرب سے نکال کر آزاد عرب حکومت قائم کرنے کے بجائے فلسطین،شرق اردن اور عراق پر اپنا تسلط قائم کر لیا اور شام فرانس کے حوالہ کر دیا۔

 مفتی صاحب نے کرنل لارنس کی ریشہ دوانیوں، سر ہیئری میکموہن کے جھوٹے وعدوں اور اعلان بالفور کی فریب کاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ ایک فریب تھا۔ اعلان بالفور کھلے متضاد وعدوں پر مشتمل ہے اور دیدہ و دانستہ یہ دجل کیا گیا ہے۔

جنرل البنی فاتح بیت المقدس نے فتح قدس کے بعد کہا تھا کہ آج آخری صلیبی جنگ ختم ہوگئی۔ آپ نے فرمایا کہ اس سے برطانیہ کی نیت کا اندازہ ہوتا ہے اور یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ صلیبی جنگوں کا انتقام لے رہا ہے۔ آپ نے تقسیم فلسطین کی نوعیت پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ عربوں کو بنجرو کوہستانی علاقہ دے کرہمیشہ کے لیے ختم کر دیا ہے اور بیت المقدس اور بیت اللحم پر برطانی انتداب قائم کر کے صلیبی تمناؤں کو پورا کیا ہے اور زرخیز و ساحلی علاقہ اور بندرگا ہیں یہودیوں کو دے کر بحر روم میں اپنی شہنشاہیت کو مضبوط، اسلامی مرکزیت کو تباہ اور ہندستان کی غلامی کو پائدار بنایا ہے۔ شاطران برطانیہ کی یہ اسکیم یہود نوازی و استعمار پرستی ہی کے مرادف نہیں ہے؛ بلکہ تمام عالم اسلام کے لیے ایک کھلا چیلنج ہے اورہندستان کی زنجیر غلامی کا از سر نو استحکام ہے۔

قرارداد

 مفتی صاحب کی تقریر کے بعد مولانا احمد سعید صاحب نے حسب ذیل قرار داد پیش کی:

 اہالیان دہلی کا یہ جلسہ انتہائی صدمہ کے ساتھ ان حقائق کا اظہار کرتا ہے:

الف رائل کمیشن نے فلسطین کی مقدس سرزمین کو تین حصوں میں تقسیم کر کے مسلمانان عالم کی مذہبی غیرت اور قومی حمیت کو نہایت خطر ناک چیلنج کیا۔

ب تقسیم کی تجویز مشرق اور خصوصا ہندستان کی آزادی کے خلاف کھلا ہوا چیلنج ہے۔ یہ تقسیم کی تجویزتمام عرب کے لیے دائمی غلامی کا پیش خیمہ ہے۔ یہ تقسیم مقامات مقدسہ اسلامیہ کے قلب پر عمل جراحی ہے۔یہ تقسیم برطانوی استعماریت کی حرص وہوس کا روشن آئینہ ہے۔

ج یہ تجویز برطانی وعدہ خلافی کا زیادہ سے زیادہ روشن ثبوت ہے۔

د یہ تقسیم قیام امن کے بہانہ سے امن عالم کو تباہ و برباد کرنے کے مترادف ہے۔

ھ یہ تجویز عربوں اور یہودیوں کی آزاد حکومت قائم کرنے کے پردے میں مسلمانوں سے سلطان صلاح الدین کی فتوحات کا کھلا ہوا انتقام ہے، ان وجوہات سے عرب اور فلسطین اور مسلمانان عالم اور تمام آزادی پسند منصف مزاج انسان ایک لمحہ کے لیے بھی اسے قبول نہیں کرسکتے ۔

اعراب فلسطین اس مقدس سرزمین کے استقلال وآزادی کو قائم رکھنے کے لیے اپنے خون کا آخری قطرہ بہاد دیں گے اور یہودی سلطنت اور برطانوی تسلط کو اس سر زمین کی ایک انچ زمین پرقائم نہ ہونے دیںگے اورتمام عالم اسلامی واہل مشرق کے ہمدردان ان کے ساتھ ہوں گے اور اس تجویز پر اصرار کرنے کی صورت میں امن عالم کی تباہی و بربادی کی تمام تر ذمہ داری برطانیہ اور جمعیت اقوام پر عائد ہوگی۔

شیخ حسام الدین کی ولولہ انگیز تائید

شیخ صاحب موصوف نے تجویز کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ تقسیم فلسطین یورپ کی ایک منظم سازش کا نتیجہ ہے ،جو جنگ عظیم کے دوران میں مسٹر گلیڈ سکون وزیر اعظم برطانیہ کی تحریک پر برطانیہ، فرانس، اٹلی اورروس کے مابین ایک خفیہ معاہدہ کی صورت میں نمودار ہوئی تھی اور جس کا منشایہ تھا کہ اسلامی ممالک میںتبلیغی مشن، مدارس، شفا خانے اور مغربی خواتین کے ذریعہ عریانیت کی تحریک پیدا کر کے اسلامی اخوت و وحدت اور جذبۂ جہاد کوختم کر دیا جائے۔ آپ نے مغربی اصول حکمرانی کو طاقت اور ضرورت پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ نے جنگ عظیم میں یہودیوں سے رشوت لے کر فلسطین ان کے حوالہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے اور دوسری طرف سلطان ابن سعود نے معدنیات نکالنے کے لیے چھپن برس کے واسطے حجاز کے ریگستانوں کا ٹھیکہ دے کر عالم اسلام کے لیے ایک نئے خطرہ کی راہ پیدا کر دی ہے۔ ہمارا فرض ہے کہ مصطفی کمال پاشا کی طرح منظم و مضبوط ہو کر اس اسکیم کو ناکام بنائیں۔

 شیخ صاحب کے بعد مسٹر بختیار بار ایٹ لا اور سید حبیب نے مختصر تائیدی تقریریں کیں۔

مسئلۂ ہندستان و فلسطین ایک ہے

لاہور کے مشہور سوشلسٹ لیڈر کامریڈ احمد دین نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان اور فلسطین کا مسئلہ ایک ہے۔فلسطین یونین جیک کا وجود ہندستان میں برطانی اقتدار کی وجہ سے ہے۔ آپ نے کہاکہ مسلمانان ہند ہمیشہ ایسے مسئلہ پر متفق اور سر گرم عمل ہوں، جس میں ہندستان کی آزادی کا تصور ہو۔ اثنائے تقریر میں آپ نے یہ بھی واضح کیا کہ مسلم لیگ کے پروگرام میں ہندستان کی آزادی نہیں،لہذا اس مقصد کے حصول کے لیے کانگریس کے ساتھ اشتراک عمل ضروری ہے۔

مولانا حبیب الرحمان کاہنگامہ خیز بیان

مولانا موصوف نے ایک ولولہ انگیز تقریر کی، جس میں یہ واضح کیا کہ اسلامیان ہند کے لیے اس موضوع پر یہ بہتر ین راہ عمل تھی کہ وہ مسئلۂ فلسطین کا حل کانگریس کے ساتھ مل کر پیدا کرتے؛ لیکن جس طرح عرب خان بہادروں(سلاطین عرب)نے فلسطین میں اس ایجی ٹیشن کوابلہ فریب وعدوں سے ختم کرا دیا، اسی طرح ہندستان میں مجلس عمل فلسطین کانفرنس کے چندغداروںنے اس تحریک کو ناکام بنانے کی کوشش کی اور وہ اپنی سعی میں کامیاب ہوگئے۔

باہمی تفریق پر تبصرہ کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ اختلاف عوام میں نہیں ہے؛ بلکہ خواص میںہے اور اب تک یہی سوال حل نہیں ہو سکا ہے کہ کس لیڈر کو زیادہ ہارپہنائے جائیں۔ ہند ومسلم سمجھوتہ پر روشنی ڈالتے ہوئے آپ نے کہا کہ دنیا میں سیاسی سمجھوتوں کی کوئی قیمت نہیں۔ مخالفین کو دنیا میں کوئی نہیں بخشتا۔ انگریزوں نے قلعۂ معلی کے بسنے والوں کو، نادر خان نے امان اللہ خان کے مددگاروں کو اور اتا ترک نے اپنے مخالفین کو دنیا کے سامنے یہ تیغ کر دیا۔

آپ نے کہا کہ اصل چیز قوت ہے۔ اگر قوت نہ ہو گی،توگاندھی جی ،یا جواہر لال کی منظور کردہ فرد مطالبات پاؤں کے نیچے کچل ڈالنے کے قابل ہے۔

مولانا عطاء اللہ شاہ کی تقریر

شاہ صاحب نے ایک مختصر تقریر میں فرمایا کہ میرے نزدیک قبلۂ اول سے زیادہ قبلۂ دویم کا مسئلہ ا ہم اور پریشانی افزا ہے۔ انگریز نے مکہ معظمہ کی گھاٹیوں اور مدینہ منورہ کے صحراؤں کا ٹھیکہ لے لیا ہے۔ خدا انجام بخیر کرے۔ آپ نے کہا کہ مسئلۂ فلسطین بھنور کی طرح قربانی مانگتا ہے۔ اگر دس ہزار مسلمان جیل جانے کے لیے تیار ہیں، تو اس مسئلہ کا حل پیدا ہو سکتا ہے۔ مولانا محمد علی مرحوم کا مقولہ نقل کرتے ہو ئے آپ نے فرمایا کہ اگر اسلامی مرکزیت اور اسلامی حرمت کی بقا کے لیے ہندستان کے آٹھ کروڑ مسلمان بھی مر جائیں، تو کچھ پرواہ نہیں؛کیوںکہ اس قربانی سے باقیپچیس کروڑ اسلامیان عالم ضرور آزاد ہو جائیںگے۔ حضرت شاہ صاحب نے آخر میں مسلمانان دہلی کو عسکری تنظیم کی دعوت دی اور دعا پر جلسہ برخاست کر دیا۔

یوم فلسطین کے سلسلہ میں اسلامیان دہلی نے جس قدر مذہبی حمیت اور اسلامی اخوت کا ثبوت دیا ہے، مستحق مبارک باد ہے۔ نیز مولانا عبد الماجدصاحب ناظم جمعیت علمائے صوبہ دہلی- جن کی مخلصانہ ساعی سے یہ تاریخی جلسہ و جلوس مرتب ہوا- قابل صد ہزارتحسین و تبریک ہیں۔

 (سہ روزہ الجمعیۃ،9؍ستمبر1937ء)

وائسرائے کے نام صدر جمعیت علمائے ہند کا تار

فلسطین میں برطانیہ کے تشدد کو ختم کرنے کی اپیل کرتے ہوئے، 9؍اکتوبر1937ء کو حضرت العلامہ مولانا مفتی محمدکفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے وائسرائے کو درج ذیل تار ارسال فرمایا:

’’فلسطین کے متعلق برطانیہ کے موجودہ تشدد آمیز رویہ نے تمام عالم اسلامی کو مضطرب کر دیا ہے، جو معاملہ اعراب فلسطین کے ساتھ ان کی وطنی تحریک کی پاداش میں کیا جا رہا ہے، یہ انصاف اور آئین کے خلاف ہے ۔

برائے کرم مسلمانان ہندستان کے اضطراب اورغم و غصہ کے جذبات سے برطانوی حکومت کو مطلع کر کے موجودہ تشدد کے انسداد کی صورت نکالیے اور مسلمانان عالم کو مطمئن کیجیے۔

(سہ روزہ الجمعیۃ9؍اکتوبر1937ء)

مجلس تحفظ فلسطین کا قیام

31؍ اکتوبر1937ء کو میرٹھ میں مجلس عمل فلسطین کانفرنس کا اجلاس حضرت مولانا عبد الرحیم صاحب پوپلزئی پشاوری کی صدارت میں متعدد نشستوں اور گرما گرم بحثوں کے بعد ختم ہوگیا۔ اس اجلاس میں طول و عرض ہند کے تقریبا ایک سو لیڈر ان ملت نے شرکت فرمائی، جس میں حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدرجمعیت علمائے ہند، مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند ،مولانا حبیب الرحمان صاحب صدر مجلس احراراسلام، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری،چودھری افضل حق صاحب، مولانا حفظ الرحمان صاحب، مولانا بشیر احمد صاحب، مولانا فخر الدین صاحب (مراد آباد)، مولوی محمد احمد صاحب کاظمی ایم ایل اے، ڈاکٹر حماد فاروقی براسٹریٹ لا،مسٹر ہلال احمدزبیری ایڈیٹر انصاری، سر محی الدین قائد ایڈیٹر الجمعیۃ، شیخ حسام الدین بی اے،جناب عبد الغفور صاحب ایم ایل اے وغیرہ خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔

مجلس عمل کا پہلا عام جلسہ

29؍اکتوبر1937ء کیشب کو مجلس عمل کا ایک عام جلسہ نارائن ہال کے سامنے ایک نہایت وسیع اور خوب صورت آراستہ و پیراستہ پنڈال میں منعقد ہوا۔ ساغر صاحب نے اپنے قومی ترانوں سے پبلک کو محظوظ کیا اور اس کے بعد لیڈران کرام حضرت مولانا حبیب الرحمان صاحب، شیخ حسام الدین صاحب اور مولانا بشیر احمد صاحب نے مسئلۂ فلسطین اور دیگر مسائل حاضرہ پر ولولہ انگیز تقریریں فرمائیں اور مولانا حبیب الرحمان صاحب نے خصوصیت کے ساتھ مسلم لیگ کی موجودہ کارروائیوں پر روشنی ڈالتے ہوئے لیڈر ان مسلم لیگ کی بے عملی، وجاہت پسندی اور تعطل وجمود پر سیر حاصل تبصرہ فرمایا۔

مجلس مضامین میں غورو خوض

30؍اکتو بر1937ء کی صبح مجلس مضامین کا اجلاس بند کمرہ میں شروع ہوا۔ تمام ارکان مجلس عمل، بزرگان احرار اور چند مقتدر لیڈروں نے گفت و شنید میں بے ضابطہ طور پر شرکت کی۔ اس اجلاس میں مسئلۂ فلسطین کا حل تلاش کرنے اور اسلامیان ہند کو اپنے وطنی وملی فرائض بجالانے کے لیے مختلف تجاویز پیش کی گئیں۔ بعض حلقوں کی طرف سے مسئلۂ فلسطین کا حل پیدا کرنے کے لیے سول نافرمانی اور عمل براہ راست کا پروگرام اصرار کے ساتھ پیش کیا گیا اور یہاںتک مطالبہ کیا گیا کہ اگر مجلس عمل نے اس وقت-جب کہ برطانی حکومت فلسطین کے حصے بخرے کرنے اور عربوں کو تباہ وبرباد کرنے پر آمادہ ہو چکی ہے- کوئی مؤثر و عملی قدم نہیں اٹھایا، تو چند رہنما اس پروگرام کو اپنی ذمہ داری پر ملک کے سامنے پیش کریںگے۔ اس تجویز کے مقابلہ میں ایک غالب اکثریت کا رجحان یہ تھا کہ اس وقت ہندستان جس پیچیدہ سیاست سے روشناس ہو رہا ہے، اس کا تقاضہ اس پروگرام کے بالکل منافی ہے۔ نیز فلسطین کے غیر مستقل اور تغیر پذیر حالات کے پیش نظر کوئی انتہا پسندانہ اقدام مفید ہونے کے بجائے مضر ہو سکتا ہے۔ آج دن بھر اسی موضوع پر گفت و شنید رہی اور بالآخر شام کے وقت یہ طے پایا کہ چودھری افضل حق صاحب، مولانا حفظ الرحمان صاحب، مولوی محمد احمد صاحب کاظمی، ڈاکٹر حمادفاروقی اور مسٹر ہلال احمدزبیری پر مشتمل ایک کمیٹی مقرر کیا ہے، جو تمام گفت و شنید اور موجودہ حالات و واقعات کی روشنی میں اصل قرار داد کا مسودہ تیار کرے۔

سب کمیٹی کی قرار داد

سب کمیٹی نے تین گھنٹے کی مسلسل غوروخوض کے بعد شام کے وقت اپنا مسودۂ تجویز ایوان کے سامنے پیش کردیا اور پھر اس پر کافی بحث و تمحیص ہوتی رہی اور چند جزوی ترمیمات بھی پیش کی گئیں۔ قیاس کیا جاتا ہے کہ اس قرار داد کا ما حصل یہ ہے کہ آل انڈیا فلسطین کا نفرنس دہلی نے گزشتہ سال مقاطعات ثلاثہ کے متعلق جوقرار داد منظور کی تھی، اسی کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ اور کسی عملی پروگرام کو خود کرنے اور اس کی تفصیلات پر عمل کرنے لیے ایک نمائندہ کمیٹی تشکیل کی جائے، جو بہت جلد اپنی سفارشات مرتب کرکے پیش کر دے۔

 مغرب کی نماز سے قبل یہ اجتماع کسی آخری اور قطعی نتیجہ پر پہنچے بغیراگلے دن کے لیے ملتوی ہو گیا۔

مجلس عمل کا دوسرا عام جلسہ

آج شب کو مجلس عمل کا دوسراپبلک جلسہ زیرصدارت مولانا حبیب الرحمان صاحب صدر مجلس احرار اسلام ہند منعقد ہوا۔ پنڈال بجلی کے سرخ و سبز اور سفید قمقموں سے جگمگا رہا تھا اور اس خوش آئند اور دل فریب روشنی میں سرخ پوش خدائی خدمت گار،جلسہ گاہ کے اہتمام اور نظم ونسق کے قیام کے لیے چاروں طرف گشت لگاتے ہوئے ایک نہایت ہی خوش نما منظر پیش کر رہے تھے۔ آج کے اجتماع میں تقریباً دس ہزار اسلامیان میرٹھ ملحقات اور ایک ہزاربرادران وطن موجود تھے اور والہانہ انداز میں مقررین کی ولولہ انگیز تقریریں سننے کے لیے بے تاب تھے۔

تلاوت قرآن شریف کے بعد جلسہ کی کارروائی شروع ہوئی۔ جناب ساغر، جاںباز اور مولانا میر ہلالی نے حیات آفریں قومی ترانے پڑھے اور اس کے بعد صدر محترم نے ایک مختصر؛ مگربصیرت افروز تقریر کی۔

مولانا حفظ الرحمان صاحب کی حقائق افروز تقریر

صدر محترم کی تقریر کے بعد مولانا حفظ الرحمان صاحب رکن جمعیت علمائے ہند نے اپنے مخصوص ودل نشیں انداز میں ڈیڑھ گھنٹہ تک ایک مفصل و جامع تقریر کی، جس میں مسئلۂ فلسطین کوواضح کیا۔ اور 1857ء سے آج تک مسلمانوں کی منظم جدوجہد آزادی، علما کی قربانی اور عامۃ المسلمین کی وطنی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ بیسویںصدی کے فن پر وپیگنڈہ نے جہاں اور بہت سے مخرب اخلاق طریقے سکھائے ہیں، وہاں ایک نئی راہ یہ بھی کھول دی ہے کہ وہ نام نہاد لیڈر-جن کے قومی کیریکٹر مشتبہ ہیں-حضرات علما کو مرتد و کافر بتار ہے ہیں اور اپنی اغراض کے لیے مذہبی پیشواؤں پرنا پاک سے ناپاک حملے کر رہے ہیں۔ مولانا نے بہت سے اہم مسائل وقت پر فاضلانہ انداز میں تبصرہ فرمایا اور اپنی سحر پاش تقریر سے عوام وخواص پر نہایت ہی خوشگوار اثر پیدا کیا۔

مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری کی تقریر

مولانا حفظ الرحمان صاحب کی تقریر کے بعد حضرت شاہ صاحب نے قرآن مجید کی آیت: ان الملوک اذا دخلوا قریۃ افسدواھا وجعلوا اعزۃ اہلہا اذلۃ کی تلاوت فرماتے ہوئے اپنی تقریر کا آغاز کیا اور حکومت برطانیہ کی ملوکیت پرستی کو واضح کرتے ہوئے ہندستان کی رجعت پسند قوتوں کا ذکر کیا اور فرمایا کہ مسلم لیگ ہو، یا ہند ومہا سبھا؛ یہ دونوں فرقہ وارانہ انجمنیں اپنی متعلقہ قوموں کو فائدہ پہنچانے کے بجائے ہر عمل و قربانی کے وقت میدان آزادی سے غائب رہتی ہیں اور ملک کی قومی تحریکات کو فائدہ پہنچانے کے بجائے انگریز کی استعماری گرفت کو مضبوط کرتی ہیں۔ 

شاہ صاحب موصوف نے مسٹر جناح کی بے عملی اور اسلامی مفادات سے بے پرواہی کا تذکرہ کرتے ہو ئے فرمایا کہ مسٹر جناح نے مسند خلافت، مسئلۂ فلسطین،مسجد شہید گنج، تحریک موپلہ وغیرہ مواقع پر کوئی خدمت انجام نہیں دی۔ اور جس وقت علم الدین شہید نے راجپال کو رنگیلا رسول، کتاب لکھنے کی سزا میں قتل کیا تھا، تو انہی مسٹر جناح نے علم الدین شہید کے باپ سے دس ہزار روپیہ لے کر مقدمہ کی پیروی کی۔

حضرت شاہ صاحب نے تین گھنٹے تک تقریر فرمائی اور رات کو ۲؍بجے جلسہ بر خاست ہوگیا۔

سبجیکٹ کمیٹی کا دوسرا اجلاس

31؍اکتوبر1937ء کی صبح کو حضرت مفتی صاحب قبلہ بھی دہلی سے تشریف لے آئے اور مجلس مضامین کے اجلاس میں شریک ہوئے۔ آج آپ کی رہنمائی سے مجلس مضامین کی وہ قرار داد- جس پر دو روز سے مسلسل بحث ہورہی تھی- تکمیل کے مدارج تک پہنچ گئی اور موصوف کے مفید مشورہ سے حسب ذیل الفاظ میں منظور ہو گئی :

قرارداد نمبر-۱:مقاطعات ثلاثہ کوجاری رکھنے کا فیصلہ

چوںکہ یہ حقیقت روشن ہو چکی ہے کہ حکومت برطانیہ مسلمانوں کے قبلۂ اول اور مقدس ارض فلسطین کے ایک زرخیز حصہ کویہودیوں کے حوالہ کر دینے اور ارض فلسطین پر اپنی حکومت قائم کرنے اور فلسطین کے اصلی مستحقوں کے، یعنی اعراب فلسطین کو غیر آباد پہاڑی اور صحرائی علاقوں میں دھکیل دینے پر تلی ہوئی ہے اور اس سلسلہ میں انصاف اور آئین کے اصول کو نظر انداز کرنے اور مسلمانوں کے ساتھ اپنے مستحکم موا عید اور اسلامیان عالم کے مذہبی جذبات کو پامال کرنے کا تہیہ کر چکی ہے اور باشندگان فلسطین پر بے پناہ مظالم توڑ رہی ہے اور اس سب کارروائی کا اصل مقصد برطانوی مفاد کی حفاظت اور استعماری پالیسی کی تنفیذ اور ہندستان پربرطانوی قبضہ کا استحکام ہے اور اس صورت حال کو مسلمانان ہند کسی طرح برداشت نہیں کر سکتے، اس لیے مجلس عمل فلسطین کا یہ جلسہ فیصلہ کرتا ہے کہ مقاطعات ثلاثہ :(۱)برطانوی مصنوعات کا بائیکاٹ۔(۲) دربار تاج پوشی کا بائیکاٹ(۳) اور آئندہ عالم گیر جنگ میں برطانیہ کی ہرقسم کی امداد کابند کرنے کی جو قرار داد آل انڈیافلسطین کا نفرنس منعقدہ دہلی میں منظور کی گئی تھیں، اس پر جلد از جلد عمل شروع کردیا جائے۔اس کامفصل پروگرام بنانے اور ملک کی رہنمائی کرنے کی غرض سے ایک مجلس تحفظ مقرر کر دی گئی ہے ، جو اکیس ارکان پر مشتمل ہے اور جس میں جمعیت علمائے ہند اور مجلس احرار اسلام اور مجلس عمل کے نمائندے شامل ہیں۔

تحریک فلسطین کو کامیاب بنانے اور آخری مرحلے تک پہنچانے کے لیے اس مجلس تحفظ فلسطین کو مکمل اختیارات حاصل ہوںگے۔اوریہ مجلس اپنی صواب دید کے مطابق تحریک کو آگے بڑھانے کی اور مقاطعات ثلاثہ کی کامیابی کے لیے جو طریقہ مناسب سمجھے گی، عمل میں لائے گی۔یہ مہم زیادہ سے زیادہ 15؍ دسمبر1937ء تک شروع ہو جائے گی اور اس درمیانی وقفے میں مجلس تحفظ فلسطین مقامی مجالس کے قیام اور رضا کاروں کی بھرتی کے ذریعہ سے مسلمانوں کو منظم کرے گی۔

 مجلس تحفظ کے ارکان حسب ذیل منتخب کیے گئے:

محرک :ڈاکٹر حماد فا روقی۔مؤید: احمد حسین قدوائی۔

جمعیت علمائے ہند سے:(۱) مولانا محمد میاں فاروقی۔ (۲) مولانا حسین احمد صاحب۔ (۳) مولانا حفظ الرحمان صاحب۔ (۴) مولانا فخر الدین صاحب۔ (۵) مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب۔ (۶) مولانا احمد سعید صاحب۔ (۷) مولانا نور الدین صاحب بہاری۔

جمعیت احرار اسلام ہند سے:(۱) مولانا حبیب الرحمان صاحب (۲) چودھری افضل حق صاحب (۳) مولانا مظہر علی صاحب (۳) ماسٹر تاج الدین صاحب (۴) مولانا حامد الانصاری غازی ایڈیٹر ا لجمعیۃ دہلی (۵) محمد احمد صاحب کا ظمی ایم ایل اے۔

مجلس عمل فلسطین سے: (۱)سید مظفر حسین صاحب الٰہ آباد (۲) ڈاکٹر اشرف (۳) مولانا شاہد صاحب فاخری (۴) مسٹر ہلال احمد زبیری (۵) مسٹر سعید رزمی اجمیر (۶) ڈاکٹر محمد حماد فاروقی الٰہ آباد (۷) مولانا قطب الدین صاحب عبد الوالی۔ 

(سہ روزہ الجمعیۃ، 5؍ نومبر 1937ء)

ہندستان کی آزادی کا مسئلہ فلسطین کے مسئلہ سے الگ نہیں

31؍اکتوبر1937ء کی تاریخ کے تیسرے پہرکو جمعیت علمائے ضلع میرٹھ کا اجلاس زیر صدارت حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحب منعقد ہوا، جس میںتمام مقامی علما و طلبا اور ہزاروںمسلمانوں نے شرکت کی۔ صدر موصوف نے جمعیت علماکے بنیادی نصب العین اور اس کی خدمات پر دو گھنٹے تک ایک مبسوط تقریر کی اور مسلمانوں کو جمعیت علما کے نظام سے وابستہ ہونے کی ہدایت کی۔

اسی تاریخ کی شب کو حسب پروگرام مولانا احمد سعید صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند کی تقریر ہوئی۔آپ نے خصوصیت کے ساتھ مسئلۂ فلسطین کے تمام مذہبی وسیاسی پہلوؤں پر روشنی ڈالتے ہوئے واضح کیا کہ ہندستان کی آزادی کا مسئلہ فلسطین کے مسئلہ سے علاحدہ نہیں کیا جا سکتا۔ ہمیں دونوں مسئلے کو ایک ہی زاو یۂ نگاہ سے دیکھ کر ایک ہی وقت میں اور ایک ہی تدبیر سے حل کرنے ہیں۔ (سہ روزہ الجمعیۃ،5؍نومبر1937ء)

فلسطین میں برطانوی پالیسی کیجمعیت علمائے بہار کی مذمت

جمعیت علمائے بہار کا ایک عظیم الشان اجلاس 27،28، 29؍مئی 1938ء کو ضلع چھپرا میں منعقد ہوا، جس کی صدارت حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند نے فرمائی۔ اس اجلاس کی تجویز نمبر(۱۲) میں فلسطین میںبرطانیہ کی مسلم آزارپالیسی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی:

’’جمعیت علمائے صوبہ بہار کا یہ اجلاس حکومت برطانیہ کی اس مسلم آزار پالیسی کے خلاف پرزور صدائے احتجاج بلند کرتا ہے، جو اس نے فلسطین میں مظلوم عربوں کے جذبۂ آزادی کو کچلنے کے لیے اختیار کی ہے اور جس کے ماتحت ہزارہا مسلمانوں کا خون پانی کی طرح ارض مقدس میں بہایا جارہا ہے۔

  (سہ روزہ الجمعیۃ، 9؍جون 1938ء) 

جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی کا بیان

 جب برطانوی فوج کی بربریت اور مذہب کی توہین کی خبریں تسلسل کے ساتھ آنے لگیں، تو حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہندنے ، 28؍جون 1938ء کو در ج ذیل تار وائسرائے کے نام بھیج کر حکومت کو نتائج بد سے آگاہ کیا: 

’’فلسطین کے مسلمانوں پر ناقابل گرفت مظالم کی اطلاعات موصول ہورہی ہیں۔ برطانوی فوجیں قتل و غارت کے علاوہ مسلمانوں کے مذہب کی توہین کا بھی ارتکا ب کر رہی ہیں۔ ان اطلاعات سے ہندستان کے مسلمان سخت مضطرب ہیں۔ مہربانی فرماکر مداخلت کیجیے ، ورنہ نتائج کی ذمہ داری آپ کی حکومت پر عائد ہوگی۔‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ، 28؍جون 1938ء) 

فلسطین میںبرطانوی مظالم کو برداشت نہیں کیا جاسکتا

فلسطین میں برطانیہ کے بڑھتے مظالم کے خلاف مولانا حفظ الرحمان صاحب رکن جمعیت علمائے ہند نے بھی5؍ جولائی 1938ء کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی حکام کا جبرو استبداد ہماری مذہبی حمیت پر ایک سخت حملہ ہے ، جسے بالکل بھی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔ انھوں نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ فلسطین میں موجودہ صورت حالات نے پھر ایک دفعہ ہمیں مجبور کردیا ہے کہ ہم اپنی قوت فیصلہ سے کام لے کر مفید اور مؤثر احتجاج کریں۔

 مولانا کا مکمل بیان درج ذیل ہے:

’’فلسطین میں موجودہ صورت حالات نے پھر ایک دفعہ ہمیں مجبور کر دیا ہے کہ ہم اپنی قوت فیصلہ سے کام لے کر مفید اور مؤثر احتجاج کریں۔ فلسطین کے مسئلہ کا ہندستان کی آزادی کے مسئلہ سے براہ راست تعلق ہے۔ مالٹا اور سوئز سے اس طرف (مشرقی ممالک میں )برطانیہ کی فوجی قوتیں جہاں کہیں بھی متحرک ہوتی ہیں،ان کا مقصد ومنشایہی ہوتا ہے کہ ہندستان پر برطانوی غلبہ کو تقویت پہنچائی جائے۔ 

مسلمانوں کے لیے فلسطین کے مسئلہ کی نوعیت خالص مذہبی ہے۔ فلسطین پر برطانوی تسلط کے صاف معنی یہ ہیں کہ ہمارا قبلۂ اول انگریزی فوجوں کے قبضہ میں ہے۔ اور ہمارے مقامات مقدسہ پر بالواسطہ انگریزی اقتدار ہے۔

فلسطین اور ہندستان

برطانیہ ہندستان کی گردن پر سوار ہے اورہندستان پر قبضہ رکھنے کے لیے سوئز اور فلسطین دو ایسے مقامات ہیں، جو رکاب کا کام دیتے ہیں۔ ایک ہندستانی مسلمان کی حیثیت سے جب میں فلسطین کی غلامی کے مسئلہ پر غور کرتا ہوں، تو مجھے کہنا پڑتا ہے کہ اس مقدس ملک کی بربادی اور غلامی میں ہماری غلامی اور بر بادیوں کا خاص حصہ ہے۔

اس وقت فلسطین میں صبر آزما حالات حد سے گزر چکے ہیں۔ آج ہم برداشت کی آخری سرحد پر کھڑے ہیں۔ ہماری اسلامی حمیت اور مذہبی غیرت کے لیے کوئی جائز دلیل باقی نہیں، جو ہمارے لیے مزید سکون و اطمینان اور سکوت وجمود کی بنیاد بن سکے۔ افراد و اشخاص پر مظالم کے بعد اب مقامات مقدسہ اور کلام مقدس کی بے پناہ بے حرمتی کا بھی نمبر آگیا۔

عمل کا وقت

اب جلسوں، جلوسوں اور مظاہروں کا وقت نہیں رہا؛ بلکہ ضرورت ہے کہ اب جلد از جلد جمعیت علمائے ہند اس مسئلہ کی طرف فوری اور خاص توجہ دے اور اس خالص اسلامی فریضہ کی تکمیل کے لیے زیادہ سے زیادہ مؤثر اقدام کے متعلق تدابیر سوچے اور ان کو بروئے کار لائے۔

متحدہ محاذکی ضرورت

میرے خیال میں فلسطین کے مسئلہ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے اتحاد، بلندیِ حوصلہ اور ثبات و استقلال کی ضرورت ہے۔ میںپوری دیانت کے ساتھ یہ رائے دوںگا کہ جمعیت علمائے ہند کو عملی نقطۂ نگاہ سے میدان میں آکر تمام اسلامی ہند کی رہنمائی کرنا چاہیے۔ اور اس اہم مقصد کے لیے تمام اسلامی مجالس کو -خواہ ان کا سیاسی مسلک اور تنظیم جمعیت علمائے ہند کی تنظیم کے موافق ہو، یا مخالف- دعوت دینی چاہیے کہ وہ ایک خیال کے ماتحت ایک پر وگرام کے لیے ایک ساتھ مل کر اور متحد ہو کر کام کریں۔

مسٹر عزیز احمد وکیل کا بیان

 مسٹر عزیز احمد خاں صاحب وکیل بریلی نے جو اتحاد کی پیشکش کی ہے، اس سے حرف بحرف متفق ہوں۔ ہم عزیز احمد خان صاحب سے اور عزیز احمد خاں صاحب ہم سے، واقف نہیں ہیں۔اگردہ اس راہ میں مخلصانہ اقدام کے لیے تیار ہیں، تو میں ان سے زیادہ خلوص کے ساتھ یہ کہوں گا کہ فلسطین نے ہمارے دلوں کو مدد کی لذت سے مالا مال کر دیا ہے۔ یہ ایک ورثہ ہے، جس کے حصہ دار ہم سب ہیں۔ مجھے یقین ہے کہ جمعیت علمائے ہند استقلال کے ساتھ اور اتحاد کے جذبہ کے ماتحت اپنے حصہ کی قربانیوں سے پہلو تہی نہیں کرے گی۔

میں اپنے علم کی بنا پر یہ اعلان کرنے کی جرأت کرتا ہوں کہ جمعیت علمائے ہندبہت جلد فلسطین کے مسئلہ کے متعلق مجلس عاملہ کا جلسہ طلب کر رہی ہے۔ میں تمام اسلامی مجالس سے عموما جمعیت علمائے ہند اور مجلس عمل فلسطین سے خصوصا درخواست کرتا ہوں کہ جلد از جلد متحدہ محاذ قائم کریںاور مؤثر قدم اٹھائیں۔

 برطانیہ نے 1915ء میں شریف حسین سے جو آزادی کا وعدہ کیا تھا، اگر چہ وہ الفاظ کا ایک فریب تھا؛ مگر آج جو کچھ ہورہا ہے، اس کو دیکھتے ہوئے کسی طرح یہ نہیں کہاجا سکتا کہ بر طانی حکومت کسی حیثیت سے بھی حق پر نہیں ہے۔ برطانیہ نے بد ترین سیاسی اخلاق کا مظاہرہ کیا ہے۔ 1917ء کے اعلان کی رو سے بر طانیہ کی ذمہ داریاں دو گونہ تھیں۔

(۱) فلسطین کے عربوں کی آزادی۔(۲) یہودی وطن کا قیام۔

برطانیہ نے نہایت ہی فریب کے ساتھ اپنی پہلی ذمہ داری کو یکسر نظر انداز کر دیا ہے۔ اور فلسطین کو یہودی وطن بنا کر وہاں یہودی حکومت قائم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔

 میں یہ کہوںگا کہ ہندستان کی ہر مسجد سے فلسطین کی آوازبلند ہوگی اور ہم بیت المقدس کی آزادی کے لیے آخری قربانی پیش کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔

(سہ روزہ الجمعیۃ، 9؍ جولائی1938ء)

مجلس تحفظ فلسطین کا اجلاس

یکم اگست1938ء کو دفتر جمعیت علمائے ہند میں مجلس تحفظ فلسطین کا اجلاس منعقد ہوا۔یہ وہی مجلس ہے، جو جمعیت علمائے ہند، مجلس احرار اسلام ہند اور نیشنلسٹ مسلم پارٹی کے نمائندوں پر مشتمل ہے، اور جس کی تشکیل فلسطین کا نفرنس میرٹھ میں ہوئی تھی۔

چودھری افضل الحق،مولوی مظہر علی اظہر، مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد، مولانا حفظ الرحمان، مولانا نور الدین بہاری، مولانا حامد الانصاری غازی،مسٹر ہلال احمد زبیری اور مسٹرحماد فاروقی نے اجلاس میں شرکت فرمائی۔

 مجلس نے اپنی دونوں نشستوںمیں- جو صبح گیارہ بجے اور شام کو ساڑھے پانچ بجے منعقد ہوئیں- مسئلۂ فلسطین کے مختلف پہلوؤں پر غور کیا اور اس سلسلہ میں جوتازہ اطلاعات اور عربی لٹریچر موصول ہوا ہے، اس کی روشنی میں موجودہ حالات کا جائزہ لیا۔

 دوسری نشست میں حضرت علامہ مفتی محمد کفایت صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کا مشورہ بھی مجلس نے حاصل کیا، اور تقریباپانچ گھنٹے تک بحث و تمحیص جاری رہی۔ کا رروا ئی صیغۂ راز میں ہے۔ کل اس مجلس کا اجلاس پھر ساڑھے سات بجے سے ہو گا۔ کل مزید ارکان کی شرکت بھی متوقع ہے۔

2؍اگست1938ء کی صبح آٹھ بجے سے رات کے آٹھ بجے تک جمعیت علمائے ہند کے دفتردہلی میں مجلس تحفظ فلسطین کی تین نشستیں منعقد ہوئیں، جن میں ان حضرات کے علاوہ -جو کل کے اجلاس میں شریک تھے- باہر سے آنے والے مزید ارکان نے بھی شرکت فرمائی اور بعض غیر ارکان کو بھی مشورہ کے لیے گفتگو کا موقع دیا گیا۔ آج کے غور و خوض اور بحث و تمحیص میں جن اصحاب نے حصہ لیا، ان کے اسمائے گرامی حسب ذیل ہیں:

حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب۔ حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی۔ حضرت مولانا ابو المحاسن محمد سجاد صاحب۔ حضرت مولانا احمد سعید صاحب۔ چودھری افضل حق صاحب (صدر اجلاس)۔ مولانا مظہر علی اظہر صاحب۔ مولانا حفظ الرحمان صاحب۔ مولانا بشیر احمد صاحب۔ مسٹر ہلال احمد صاحب زبیری ۔مسٹر حماد فاروقی۔مولانا ابو القاسم صاحب۔ مولانا نور الدین صاحب بہاری۔ماسٹر تاج محمد صاحب۔ مولانا عبد الحلیم صاحب صدیقی۔ مولانا حامد الانصاری غازی۔ مولانا عبد الصمد صاحب مونگیری۔

چوںکہ تمام گفتگو بند کمرے کے اندر ہوئی اور صیغۂ راز میں تھی، اس لیے نہیں کہا جاسکتا کہ آج کی بحث و تمحیص کی روشنی میں مجلس نے کیا فیصلہ کیا ہے۔ البتہ ان حضرات کے عام رویہ سے -جو مجلس عاملہ میں شریک ہوئے -ایسا ضرور معلوم ہوتا تھا کہ فلسطین کے معاملہ میں جمعیت علمائے ہند، مجلس احرار اور مسلم نیشنلسٹ پارٹی کے نمائندے سنجیدگی کے ساتھ کسی عملی پروگرام پر غور کر رہے ہیں۔

اگر چہ آج دفتر کے باہر اخباری نمائندے جمع تھے اور انھوں نے کارروائی حاصل کرنے کی کوشش کی؛ لیکن اس سلسلہ میں کارروائی کو اس قدر صیغۂ راز میں رکھا گیا ہے کہ کوئی یقینی بات نہیں معلوم ہو سکتی۔مجلس فلسطین کے ارکان اس مرتبہ بہت ہی متأثر معلوم ہوتے ہیں۔ ان کے چہروں کی سنجیدگی سے ظاہر کرتی ہے کہ مجلس نے بہت ہی سنجیدہ فیصلے کیے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مجلس کے ارکان فلسطین کے مسئلہ میں فیصلہ کن کامیابی حاصل کرنے کے لیے زبردست بحث کے بعد ایک فیصلہ کن متحدہ رائے تک پہنچ چکے ہیں۔ گزشتہ ایک ہفتہ کے آثار اور قرائن اس طرف رہنمائی کرتے ہیں کہ مجلس فلسطین کے کام کو سیاسی اختلافات سے بالا تر ہو کر کرنا چاہتی ہے۔ اگر چہ ہندستان کی ہر جماعت سے آگے بڑ ھ کر رہنمائی کرنا اس کا فرض ہے؛ مگروہ دوسری جماعتوں کے مفید تعاون کو اغلباًکسی مرحلہ پر نظر انداز نہیں کرے گی۔ یہ بات تعجب انگیز ہے کہ جمعیت علما کی ورکنگ کمیٹی کے رکن اعلیٰ مولانا حفظ الرحمان صاحب کے بیان میں اتحادکی جو پیشکش موجود تھی، مسلم لیگ کونسل میں اس کا کوئی اثر محسوس نہیں ہوا، تاہم اس بیان کے بعد حالات میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی۔

خیال کیا جاتا ہے کہ تمام معاملات کا انحصار مستقبل کے واقعات پر ہے۔ اگر فلسطین میں موجودہ صورت حال جاری رہی، تو مجلس کے تمام فیصلے اس کے مطابق ہوںگے ۔

تمام فیصلے اس کے مطابق ہوں گے۔ ہندستان کے مسلمان یقینا مجلس کے فیصلوں اور احکام کے منتظر ہوں گے۔ ہمیں امید ہے کہ آئندہ چند دن میں یقینی معاملات پیش کی جا سکیں گی اور مجلس تحفظ فلسطین -جن میں اسلامی ہند کے عظیم القدر رہنما موجودہیں- اپنے فیصلوں سے ان کی صحیح رہنمائی کرسکیں گی۔

 مجلس تحفظ فلسطین کے فیصلوں کی سنجیدگی کا اندازہ اس سے بھی ہوتا ہے کہ جمعیت اور احرار کے حلقوں میں مجلس کا ایک مستقل مرکز می دفتر قائم کرنے اور اس کا نظام مکمل کرنے کے تذکرے ہو رہے ہیں اور اس سلسلہ میں ایک مؤثر اور نتیجہ خیز عملی پروگرام پر بھی زور دیا جارہا ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ مجلس نے آج کوئی قرار داد بھی منظور کرلی ہے۔

مجلس تحفظ فلسطین کا آخری اجلاس کل صبح آٹھ بجے منعقد ہو گا، جس میں تجاویز پر غور کر کے ان کا آخری فیصلہ کیا جائے گا۔ اس کے بعد جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا اجلاس منعقد ہو گا، جو غالباً 4؍ا گست تک جاری رہے گا۔ (سہ روزہ الجمعیۃ،5؍اگست1938ء)

3؍اگست1938ء کو زیر صدارت جناب چودھری افضل حق صاحب دفتر جمعیت علمائے ہند میں مجلس تحفظ فلسطین کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں حسب ذیل حضرات نے شرکت فرمائی:

حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی۔ حضرت مولانا ابو المحاسن صاحب۔ حضرت مولانا احمد سعید صاحب۔ مولانا حفظ الرحمان صاحب۔ مولانا نور الدین صاحب۔ مولانا مظہر علی اظہر صاحب۔ سعید رزمی صاحب۔ ماسٹر تاج الدین صاحب۔ مولانا حا مدا نصاری صاحب غازی۔ ڈاکٹر محمد صاحب فاروقی۔ مولانا ابو القاسم صاحب۔ حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب۔ مولانا عبد الحلیم صاحب صدیقی۔ مولانا بشیر احمد صاحب۔ مولانا عبد الصمد صاحب مونگیری۔ ہلال احمد صاحب زبیری۔

 فلسطین کے عربوں پر برطانیہ کے تشددانہ رویہ اور اس کی یہود نواز پالیسی پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے مسلمانان فلسطین کے ساتھ ہمدردی کے ذرائع پر غور و خوض ہوتا رہا اور پورے دو دن کی بحث و تمحیص کے بعد مجلس جس نتیجہ پر پہنچی ہے، اس کے متعلق ایک متفقہ بیان مرتب کیا گیا۔ اور حسب ذیل تجویز منظورکی گئی:

قرار داد مجلس تحفظ فلسطین 

مجلس تحفظ فلسطین کا یہ جلسہ فلسطین کے جگر خراش وروح فرسا واقعات کے پیش نظر مسلمانان ہند پر قبلۂ اول کی آزادی اور مسلمان بھائیوں کی اعانت و نصرت کا جو فریضہ عائد ہورہا ہے، اس کی ادائیگی کے لیے تجویز کرتا ہے کہ سول نافرمانی کی جائے۔ سول نافرمانی کی تیاری کے لیے تمام ہندستان میں فوراً جلسے شروع کر دیے جائیں۔ فلسطین کمیٹیاں قائم کی جائیں۔ رضا کار بھرتی کیے جائیں اور ان کی مضبوط اور منظم جماعتیں بنائی جائیں اور پوری تیاری کے ساتھ سول نافرمانی کے لیے مستعدی پیدا کی جائے۔ سول نافرمانی کا مؤثر اور نتیجہ خیز طریقہ متعین کرنے کے لیے ہندستان کی دوسری جماعتوں سے مشورہ کرنے اور ملک کو سول نافرمانی کے لیے تیار کرنے کی غرض سے فوراً کام شروع کر دیا جائے، تاکہ 7؍ اکتوبر 1938ء، مطابق 11؍ شعبان1357ھ کو مؤتمر عالم اسلامی کے اجلاس کے بعد -جو فلسطین کے معاملات پر بحث کرنے اور اس کا حل تلاش کرنے کے لیے قاہرہ مصر میں منعقد ہورہی ہے- جس قسم کی سول نافرمانی مناسب ہو، فورا شروع کر دی جائے۔ اسی درمیان میں امکانی کوشش کی جائے کہ ہندستان کی حکومتیں مسلمانان ہند کی طرف سے بر طانی حکومت سے مطالبہ کریں کہ وہ قضیۂ فلسطین کو انصاف اور اعراب فلسطین کی مرضی کے موافق جلد از جلد طے کردے۔

عہدے داران کا انتخاب

 مجلس تحفظ فلسطین کے کام کو آگے بڑھانے کے لیے حسب ذیل عہدے داران منتخب ہوئے:

صدر: حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی۔

نائبین صدر: حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب۔ چودھری افضل حق صاحب۔ مولانا محمد میاں صاحب فاروقی۔ 

جنرل سکریٹری : مولانامحمد حفظ الرحمان صاحب۔

جو ائنٹ سکریٹری: مولانا ابو القاسم صاحب شاہجہا ں پوری۔ مسٹر ہلال احمد زبیری۔

خزانچی: حاجی عبد الغفار صاحب۔

وفود کی تشکیل

مجلس نے چار وفو د حضرت مولانا احمد سعید صاحب، حضرت مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری، حضرت مولانا بشیر احمد صاحب اور حضرت مولانا نعیم صاحب کی قیادت میں منتخب کیے ہیں، جو تمام ہندستان کے مختلف صوبوں کا دورہ کر کے فلسطین کمیٹیاں قائم کریںگے اور اس مسئلہ کے متعلق مسلمانوں کی رائے تیار کریں گے۔ (سہ روزہ الجمعیۃ،9؍اگست 1938ء)

مظلوم عربوں کے ساتھ ہمدردی کے متعلق مجلسِ تحفظِ فلسطین کا فیصلہ 

مجلس تحفظ فلسطین نے اپنے اجلاس منعقدہ یکم و 2؍اگست 1938ء میں جو متفقہ بیان  مرتب کیا، اس کا متن درج ذیل ہے:

فلسطین کی حالتِ زار اور برطانوی حکومت کے ہول ناک مظالم

مسجدِ اقصیٰ بیت المقدس کی حفاظت کا فریضہ اور مسلمانانِ ہند 

مظلوم عربوں کے ساتھ ہمدردی کے متعلق مجلسِ تحفظِ فلسطین کا فیصلہ اور اپیل

تمام مسلمانوں پر یہ حقیقت واضح ہے کہ مسجدِ اقصیٰ بیت المقدس، فلسطین، وہ مقدس اور اہم ترین مقام ہے ،جس کے تقدس کی حفاظت کی خاطرقرون اولیٰ کے مسلمانوں نے قربانیاں دی ہیں اور اپنا خون پانی کی طرح بہایا ہے، اور صدیوںسے مسلمانوں کی حفاظت و سیادت کے ماتحت مسیحی اور یہودی قومیں بھی آزادی کے ساتھ اپنے مذہبی مراسم ادا کرتے چلے آئے ہیں۔

جنگِ عظیم کے مشؤوم نتائج میں یہی مقدر تھا کہ یہ مقدس علاقہ بدنصیب ہندستانی فوجوں کے ذریعہ سے مسلمانوں کی حکومت سے نکل کر برطانوی حکومت کی نگرانی میں آ گیا۔ برطانی حکومت نے ہندستان کی غلامی کی زنجیریں مستحکم کرنے کی غرض سے فلسطینی مسلمانوں کے تمام حقوق کو نظر انداز کرتے ہوئے ’’اعلانِ بالفور‘‘ کے ذریعے یہودیوں سے یہ وعدہ کر لیا کہ فلسطین کو تمھارا قومی وطن بنایا جائے گا۔

اس اعلان کے خلاف فلسطین کے اعراب اسی وقت سے جدوجہد کر رہے ہیں، اور جہاں تک ممکن تھا، انھوں نے آئینی ذرائع سے اعلانِ بالفور کو منسوخ کرانے کی سعی کی۔ لیکن جب ان کی تمام آئینی کوشش بے کار ہوگئیں، اور برطانیہ نے کامل بے پرواہی اور پورے تکبر و غرور سے کام لے کر ان کے صحیح اور جائز مطالبات کو ٹھکرا دیا، تو اعرابِ فلسطین میں بمصداق ’’تنگ آمد بجنگ آمد‘‘ اور ’’جو وقت ضرورت جو… دست بگیر وسرشمشیر تیز‘‘ انھوں نے قانون شکنی اور ہڑتالوں کا طریقہ اختیار کر لیا۔

ان کی تمام تر جدوجہد اور متشددانہ مقابلہ بالکل مجبوری کی حالت میں ہوا ہے۔ حکومتِ برطانیہ کا رویہ ان کے ساتھ اس قدر جابرانہ اور متشددانہ ہے کہ ان کی زندگیاں دشوار ہو گئی ہیں۔ یہودیوں کی کئی لاکھ کی آبادی زبردستی فلسطین میں بسا دی گئی، اور ان کے ساتھ برطانیہ کے ہمدردانہ رویے نے یہودیوں کو اس قدر جری کر دیا ہے کہ وہ بھی عربوں پر طرح طرح کے مظالم توڑ رہے ہیں۔

الغرض، اس وقت اس خطۂ مقدس کے مسلمان باشندے موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ یہودیوں کے بموں کا نشانہ بن کر مر رہے ہیں، اور حکومت کی طرف سے آتش بازی، گولیوں، قید اور جلاوطنی کے شکار بنائے جارہے ہیں۔ ان کی طرف سے فریاد و شیون کا شور بلند ہو رہا ہے، اور تمام عالم کے مسلمانوں سے وہ رو رو کر امداد و اعانت کی اپیلیں کر رہے ہیں۔

ہندستان کے مسلمانوں نے جہاں تک آئینی ایجیٹیشن اور مظاہروں کا تعلق تھا، دو سال کے عرصے میں پورے زور اور طاقت کے ساتھ احتجاج کیا، کانفرنسیں منعقد کیں، جلسے کیے، قراردادیں پاس کیں، ’’یومِ فلسطین‘‘ منائے، تار بھیجے، مگر حکومتِ برطانیہ کے کانوں پر جو نہ رینگی، اور اس کا جابرانہ و متشددانہ رویہ اپنی پوری ہول ناکی اور ہلاکت آفرینی کے ساتھ تیزی سے جاری رہا اورجاری ہے۔

ان حالات میں ہمارے لیے کوئی چارۂ کار نہیں رہا کہ اپنا وہ فریضہ-جو ہم پر قبلۂ اول، مسجدِ اقصیٰ بیت المقدس کی حفاظت اور مسلمان بھائیوں کی نصرت و اعانت کا خدا و رسول کی طرف سے عائد ہوتا ہے- پورا کریں۔ ظاہر ہے کہ ہم موجودہ حالات میں ان کو کوئی مادی، جنگی امداد نہیں دے سکتے، مالی امداد پہنچانا بھی دشوار ہے، مگر ہم اتنا ضرور کرسکتے ہیں کہ برطانوی حکومت پر اپنی انتہائی ناراضی ظاہر کرنے کے لیے اپنے آپ کو قید و بند کی تکلیف اٹھانے اور جیلوں میں جانے کے لیے تیار رہیں۔

اس لیے جمعیت علمائے ہند، مجلسِ احرار اور جمعیت فلسطین کے آزاد خیال مسلمانوں کی مشترک اجلاس نے یہ فیصلہ کیاہے کہ ہندستان کے مسلمانوں پر اس وقت لازم ہو گیا ہے کہ… (ریکارڈ سے ایک ہی صفحہ دستیاب ہوسکا۔ بسیار تلاش کے باوجود بقیہ حصہ نہیں مل سکا۔ (محمد یاسین جہازی)

جمعیت علمائے ہند کی فلسطین پر برطانوی مظالم کی مذمت

مجلس تحفظ فلسطین کے اگلے دن ، 3؍ اگست 1938ء کو حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہند کی صدارت میں مجلس عاملہ کی ایک میٹنگ منعقد ہوئی، جس میں برطانوی مظالم کی مذمت کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی گئی: 

’’جمعیت علما کا یہ جلسہ فلسطین کے جگر خراش اور روح فر سا واقعات اور بر طانوی مظالم کو سخت غم و غصّہ کی نظر سے دیکھتا ہے اور قبلۂ اول کی حفاظت اور مسلمانان فلسطین کی امداد و اعانت کے سلسلہ میں مجلس تحفظ فلسطین نے جو حسب ذیل تجویز پاس کی ہے ،جمعیت عاملہ کا یہ اجلاس اس کی تصدیق و توثیق کرتا ہے اور تجویز کرتا ہے کہ جمعیت علمائے ہند اپنے تمام ذرائع اس تجویز کو کامیاب بنانے میں بر وئے کار لائے اور جمعیت کی صوبہ وار شاخوں اور تمام مسلمانوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ اس مقدس اور مذہبی فریضہ کی ادائیگی میں پورے جوش اور انہماک کے ساتھ قربانی کے لیے کھڑے ہوجائیں۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص؍364)

فلسطین کے لیے بائیکاٹ اور سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز

یکم تا 3؍اگست 1938ء کو منعقد مجلس تحفظ فلسطین کے اجلاس میں بائیکاٹ اور سول نافرمانی کی تحریک کے آغاز کا فیصلہ کیا گیا، جس کی تفصیلات آچکی ہیں۔اس کے علاوہ مجلس عاملہ 3؍اگست1938ء کے اجلاس میں منظور کردہ درج بالا تجویز کو عملی جامہ پہناتے ہوئے پورے ہندستان میں فوجی دستے اور فلسطین کمیٹیاں قائم کرکے جگہ جگہ جلسے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اس سلسلے میں حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہندنے جو بیان دیا ، وہ درج ذیل  ہے:

’’مسئلۂ فلسطین کی اہمیت اور مسلمانوں کے قبلۂ اول کی عظمت اور اعراب فلسطین کی حالت پر غور کرنے کے لیے مجلس تحفظ فلسطین کا جلسہ دہلی میں منعقد ہوا۔ دو دن تک بحث و مباحثہ جاری رہا اور انتہائی غور و فکر کے بعد مجلس نے جو تجویز پاس کی، وہ اخبارات میں شائع ہو چکی ہے۔ مجلس کے صدر حضرت مولانا سید حسین احمد صاحب اور ناظم مولانا حفظ الرحمان صاحب مقرر ہوئے ہیں۔ مجلس کا مرکزی دفتر دہلی میں رہے گا۔ مجلس نے اپنا کام شروع کر دیا ہے۔ سب سے اہم اور ضروری چیز یہ ہے کہ ہر شہر اور ہر قریہ میں فلسطین کمیٹیاں قائم کی جائیں اور ہر ایک کمیٹی رضا کار بھرتی کرے، مسلمانوں میں عام جلسے کیے جائیں اور ان کو بیت المقدس کی اہمیت سے آگاہ کیا جائے۔ جس گاؤں، یا شہر میں فلسطین کمیٹی قائم کی جائے، اس کی اطلاع مرکزی دفتر کو دی جائے۔ یہ تمام کام زیادہ سے زیادہ ستمبر کے آخر تک ہو جائے۔ صوبجاتی حکومتوں سے بھی خط و کتابت شروع کر دی گئی ہے۔ آج حضرت مولانا سید حسین احمد صاحب مدنی کی جانب سے تمام صوبجاتی حکومتوں کو خطوط روانہ کیے جا رہے ہیں، تاکہ ہندستان کی تمام صوبجاتی حکومتیں سول نافرمانی شروع ہونے سے قبل گورنمنٹ برطانیہ کومسلمانوں کے صحیح جذبات اور ہرقسم کے خطرات سے مطلع کر دیں۔ مرکزی مجلس کی جانب سے ملک کے مختلف حصوں میں وفود بھی روانہ ہو رہے ہیں، جو صاحب اس سلسلے میں کوئی جلسہ کرنا چاہیں، ان کو چاہیے کہ وہ مرکزی دفتر کو اطلاع دیں، تاکہ دہلی سے کسی ایسے مقرر کو بھیجا جاسکے، جو فلسطین کے معاملہ میں پوری بصیرت رکھتا ہو اور مسلمانوں کو فلسطین کی اہمیت سمجھا سکتا ہو۔ جو اہل خیر اس سلسلہ میں مالی خدمت کرنا چاہیں،وہ حضرت مولانا سید حسین احمد صاحب ،مولانا حفظ الرحمان صاحب کے نام روپیہ روانہ کریں۔ اوائل اکتوبر میں ہی مسئلۂ فلسطین پر غور کرنے کی غرض سے مصر میں تمام عالم اسلامی کی ایک کا نفرنس منعقد ہو رہی ہے۔ ہندستان سے اس کا نفرنس میں شریک ہونے کے لیے جمعیت علمائے ہند نے حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب اور مولانا عبد الحلیم صاحب صدیقی کو منتخب کیا ہے۔ توقع کی جاتی ہے کہ یہ دونوں حضرات آخر ستمبر تک قاہرہ روانہ ہو جائیں گے۔

 میں آخر میں پھر مسلمانوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ وقت غفلت کا نہیں ہے، ہمارے مظلوم بھائی چشم براہ ہیں۔ فلسطین کی آزادی پر جزیرۃ العرب کی آزادی موقوف ہے۔ اگر ہندستان کے مسلمانوں نے تھوڑی سی ہمت سے کام لیا، تو اللہ تعالیٰ کی امداد ان کے شامل حال ہوگی۔‘‘

 (سہ روزہ الجمعیۃ، 24؍اگست1938ء) 

مجلس تحفظ فلسطین کا چوتھا عظیم الشان اجلاس

17؍اگست 1938ء کو بعد نماز عشار لال کنواں بازاردہلی میں حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحب کی صدارت میں مجلس تحفظ فلسطین کے جلسے میں ایک عظیم الشان جلسہ کیا گیا۔ اس جلسہ کا شارع عام پرمنعقد کرنے کا اعلان کیاگیا تھا؛مگر پولیس نے ٹریفک بند ہونے کے خطرہ سے اس کوممنوع قرار دے دیا، جس کی وجہ سے ملحقہ مکان میں جلسہ کیاگیا۔ جلسہ میں لاؤڈ اسپیکر کا انتظام کیا گیا تھا۔ تمام مکان مسلمانوں سے بھرا ہوا تھا اور ہزاروں آدمی با ہر سٹرک پر بیٹھے ہوئے تھے۔

تلاوت قرآن کے بعد مولانا عبد الماجد صاحب نے فلسطین کے معاملات پر تقریر فرمائی اور اس کے بعد حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحب نے اپنی صدارتی تقریر میں فلسطین کے معاملات کے تمام پہلوؤں کو نہایت پر جوش اور مؤثر پیرایہ میں مسلمانوں پر واضح کیا۔ آپ نے فرمایا کہ ایک مغرور حکومت بہترکروڑ مسلمانوں کو چیلنج کر رہی ہے، مسلمانوں کا فرض ہے کہ وہ اس چیلنج کو قبول کریں اور اپنے عمل سے یہ ظاہر کر دیں کہ وہ فلسطین کے عربوں کے ساتھ پوری ہمدردی رکھتے ہیں۔ اپنی تمام مختلف الخیال مسلمان جماعتوں کو فلسطین کے خالص اسلامی مسئلہ میں متحدہ محاذ پر کام کرنے کی دعوت دی۔ فلسطین کے لیے مجوزہ سول نافرمانی کے سلسلہ میں رضا کاروں کی بھرتی پر آپ نے زور دیا۔ آپ نے فرمایا کہ مسلمانوں کا مذہبی فرض ہے کہ وہ فلسطین کے درد مند بھائیوں کے ساتھ عملی طور پر اپنے ملک کی ہمدردی کا اظہار کریں۔ اور اس مظلومی وبے چارگی کی حالت میں جو کچھ وہ کر سکتے ہیں، اس کے لیے آمادہ ہو جائیں۔ آپ کی تقریر نہایت ولولہ انگیز تھی، جس نے مسلمانوں کے دلوں پر خاص طور سے اثر کیا۔

 آپ کے بعد حضرت مولانا احمد سعد صاحب نے اپنے خاص انداز میں ایک مؤثر تقریر فرمائی اور مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ مجوزہ سول نا فرمانی کے لیے اپنی رضا کارانہ خدمات پیش کریں۔جلسہ ڈیڑھ بجے کے قریب ختم ہوا۔(سہ روزہ الجمعیۃ،20؍اگست 1938ء)

مظلوم فلسطینیوں کی امداد

20؍اگست1938ء کومولانا حفظ الرحمان سکریٹری مجلس تحفظ فلسطین دہلی نے ایک بیان دیتے ہوئے فرمایا کہ قبلۂ اول :مسجد اقصیٰ اور فلسطین کی تباہی و بربادی کی داستان اب کچھ پوشیدہ اور پیچیدہ مسئلہ نہیں رہا۔ مسلمانوں کو اپنے مظلوم بھائیوں اور مقدس مقام کی امداد اور اعانت کے لیے جانی و مالی قربانی پیش کرنی چاہیے۔ ہر جگہ مجالس تحفظ فلسطین قائم کی جائیں اور زیادہ سے زیادہ رضا کار بھرتی کیے جائیں۔

 اس مقدس خدمت کے لیے کم از کم ایک لاکھ ایثار پیشہ رضاکاروں کی ضرورت ہے۔ اسی غرض سے مجلس تحفظ فلسطین کا مرکزی دفتر دہلی میں قائم کیا ہے۔ مجھے آپ کی اسلامی حمیت اور مذہی ودینی غیرت سے متوقع ہے کہ آپ اس وقت تمام اختلافات کو بالائے طاق رکھ کر اس خالص مذہبی و دینی خدمت کے لیے مجلس کی ہر طرح کی اعانت و امداد فرمائیں، تاکہ جلد آنے والے وقت میں ہم زیادہ سے زیادہ مضبوط طریقہ پر اسلامی فریضہ کو خدائے قدوس کے بھر وسے پر انجام دیتے ہوئے دارین کی سرخ روئی حاصل کریں۔

( سہ روزہ الجمعیۃ،24؍اگست1938ء)

حوالہ مذکور کے ص؍۷ پرایک خبر درج ہے کہ 8؍جولائی1938ء کوکنتھاریہ کے اہل خیر مسلمانوں نے مظلومین فلسطین کے لیے دست امداد دراز کیا، چنانچہ پچاس معطین کے اسما مع رقم خبرمیں درج ہیں۔

فوجی بھرتی بل تحریک فلسطین کی تباہی ہے

متوقع جنگ عظیم دوم کے لیے افراد مہیا کرنے کے مقصد سے برطانوی حکومت ہند نے مسٹر اوگلوی ڈیفنس سکریٹری کے ذریعہ فوجی بھرتی بل کو منظوری دی، جس کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئیناظم مجلس تحفظ فلسطین حضرت مولانا محمدحفظ الرحمان صاحب نے 21؍اگست 1938ء کو درج ذیل بیان دیا:

’’مرکزی اسمبلی میں حکومت کی جانب سے فوجی بھرتی کے خلاف تقریر کرنے والے کو مجرم قرار دینے کے لیے جو بل پیش کیا گیا ہے، اس کا سب سے پہلا وار فلسطین کی خالص اسلامی ومذہبی تحریک پر پڑے گا۔ اس کا سب سے بڑا مقصد یہ ہے کہ آئندہ کوئی مسلمان شریعت کے احکام کی بمو جب کسی مسلمان سے یہ نہ کہہ سکے کہ وہ برطانیہ کی فوج میں بھرتی ہو کر اپنے ہی ہاتھوں فلسطین، آزاد قبائل اور ممالک اسلامیہ کو تباہ وبرباد نہ کریں۔ اور اس طرح اپنی عاقبت کی بربادی مول نہ لیں۔

مسلمانوں کو معلوم ہے کہ فلسطین کمیٹی نے مقاطعۂ ثلثہ کی جو تجویز پاس کی ہے، اس کا ایک نمبر یہ بھی ہے کہ فوجی بھرتی کے خلاف سعی کی جائے۔ مولانا حبیب الرحمان صاحب صدر مجلس احرار اسلام پر جو مقدمہ چلا یا گیا ،وہ اسی کا ایک شاخسانہ تھا؛ مگر نہایت افسوس اور قابل شرم منظر یہ ہے کہ اس بل کی حمایت مسلمانوں ہی کی جانب سے کی جا رہی ہے۔ مولانا ظفر علی خان صاحب نے مسلم لیگ کے نمائندہ کی حیثیت سے جو تقریر کی، وہ اخبارات میں شائع ہو چکی ہے۔ دنیا میں ہر بری بات کے لیے بہتر پہلو نکالنے کی سعی ہمیشہ ہوتی رہی ہے اور آج بھی اسی قسم کی افسوس ناک سعی کی جا رہی ہے۔

میں تمام اسلامی جماعتوں سے اسلامی غیرت و حمیت کے نام پراپیل کرتا ہوں کہ وہ اس مسلم کش نا پاک بل کی پر زور مخالفت کریں اور احتجاجی جلسے کر کے حکومت کو متنبہ کر دیں کہ جو مسلمان اس بل کی حمایت کر رہے ہیں، مسلمانوں کی رائے عامہ ہرگز ان سے متفق نہیں ہے۔

خادم ملت محمد حفظ الرحمان کان اللہ لہ۔ ناظم مجلس تحفظ فلسطین دہلی ۔21؍اگست 1938ء۔ (سہ روزہ الجمعیۃ، 28؍اگست 1938ء)  

مسئلۂ فلسطین کے متعلق جوش و خروش

25؍اگست 1938ء کو مجلس تحفظ فلسطین کے زیر سرکردگی مسئلۂ فلسطین کے متعلق بلیماران دہلی میں جلسۂ عام کیا گیا، جس میں حضرت مفتی اعظم ہند، حضرت سحبان الہند، حضرت مجاہد ملت اور مولانا عبدالماجد صاحب نے تفصیل کے ساتھ واقعات فلسطین پر روشنی ڈالی اور مسلمانان ہند کو ان کے فریضۂ مذہبی سے آگاہ کیا۔ (سہ روزہ الجمعیۃ،28؍اگست1938ء)

صدر مجلس تحفظ فلسطین کی تعاون کی اپیل

حضرت مولانا سید حسین احمدمدنی صاحب صدرمجلس تحفظ فلسطین نے 20؍ستمبر1938ء کو  درج ذیل اپیل شائع کی:

’’گورنمنٹ برطانیہ نے فلسطین میں ظلم وستم کی جو گرم بازاری کر رکھی ہے اور یہود کو فلسطین میں آباد کرنے کی پیہم جو سعی جاری ہے، اس کا نتیجہ یہ ہے کہ اعراب فلسطین پر مختلف انواع و اقسام کے ظلم کیے جارہے ہیں۔ ان کے مردوں اور عورتوں پر بلا امتیاز تشدد کیا جا رہا ہے اور گورنمنٹ اپنی قوت سے فلسطین کے اصلی باشندوں کو تباہ کر رہی ہے۔ فلسطین کا مسئلہ ایسی منزل پہ پہنچ گیا ہے کہ اگر مسلمانوں نے اس وقت غفلت سے کام لیا، تو زمین قدس سے ہمیشہ کے لیے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔

قبلۂ اول کی اہمیت کا احساس رکھنے والے حضرات نے مجلس تحفظ فلسطین کا کام توکل علی اللہ شروع کر دیا ہے اور الحمد للہ مسلمانوں کے مذہبی جذبات سے جو توقع تھی، اس کے موافق انھوں نے اس تحریک کا خیر مقدم کیا اورہندستان کے مختلف مقامات پر اس وقت تک بہت سی فلسطین کمیٹیاں قائم ہو چکی ہیں۔ مسلمانوںمیں اعراب فلسطین کی ہمدردی اور اعانت کے جذبات پیدا ہورہے ہیں اور وہ بڑی سے بڑی قربانی اس راہ میں کرنے کو تیار ہیں۔ اگر قاہرہ کا نفرنس میں کوئی نتیجہ خاطر خواہ نہ نکلا،تو وہ سول نافرمانی کرنے پر مجبور ہوںگے۔ اتنی بڑی تحریک کے لیے روپے کی جس قدر ضرورت ہے، وہ محتاج بیان نہیں ہے۔ میں مسلمانوں سے پرزور اپیل کرتا ہوں کہ وہ فراہمی چندہ کا کام پوری قوت سے شروع کر دیں اور جس قدر ممکن ہو سکے، زیادہ سے زیادہ روپیہ جمع کر کے مجلس تحفظ فلسطین کے ناظم اعلیٰ مولانا حفظ الرحمان صاحب کے نام روانہ کریں۔

میں امید کرتا ہوں کہ اہل خیر او راہل دل حضرات میری اس مختصر گزارش پر توجہ فرمائیں گے اور فلسطین کی عزت وحرمت کے تحفظ کے لیے اپنی آمدنی کا ایک معتد بہ حصہ وقف کر کے اللہ جل شانہ اور اس کے حبیب سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم کے دربارمیں اجر عظیم کے مستحق ہوں گے۔‘‘

محمد وحید الدین قاسمی، دفتر مجلس مرکز یہ تحفظ فلسطین دہلی۔ 

(سہ روزہ الجمعیۃ،20؍ستمبر 1938ء)

مجلس تحفظ فلسطین کا اہم اعلان

حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ فلسطین نے 5؍ اکتوبر 1938ء کودرج ذیل بیان دیا:

’’فلسطین سے برطانیہ کے مظالم کی جو اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، وہ نہایت افسوس ناک اور دل خراش ہیں۔ فوجی حکام کو اس قدر وسیع اختیارات دے دیے گئے ہیں کہ وہ فلسطین کی آبادی پر بد ترین وحشیانہ مظالم برپاکر رہے ہیں۔ اخبار بیں طبقہ پر یہ امرپو شیدہ نہیں ہے کہ اس وقت فلسطین میں قیامت برپا ہے۔ گورنمنٹ برطانیہ اس پر تلی ہوئی ہے کہ اپنے استبدادی قوت کے پنچہ سے عربوں کے جذبات کو ہمیشہ کے لیے کچل دے۔ گورنمنٹ برطانیہ کے اس استعماری اور وحشیانہ طرز عمل سے- جس کا مسلمانوں کے مقدس مقامات میں مظاہرہ ہو رہا ہے- مسلمانان ہندستان کی ذمہ داری بہت بڑھ گئی ہے اور ہمارے امتحان کا زمانہ بہت قریب آگیا ہے۔

 میں ہندستان کے مسلمانوں سے اس قدر عرض کر دیناضروری سمجھتا ہوں کہ یورپ عنقریب اس متوقع جنگ میں مبتلا ہونے والا ہے، جس کی پیشین گوئی عرصہ سے کی جارہی تھی۔ اگر یورپ میں جنگ شروع ہو گئی، تو برطانیہ کو اس عام جنگ سے علاحدہ رہنا نا ممکن ہو جائے گا۔ اگر گورنمنٹ برطانیہ اس جنگ میں شریک ہوئی، تو ایسی حالت میں مسلمانوں کو اپنے مذہبی فریضہ سے تغافل نہیں برتنا چاہیے اور مقاطعۂ ثلاثہ، اس تجویز کو- جس کا الہ آباد اور دہلی میں مسلمان معاہدہ کر چکے ہیں -نظر انداز نہیں کر دینا چاہیے۔ جنگ شروع ہوتے ہی بعض صوبوں میں آرمی بل کا نفاذ کر دیا جائے گا اور مسلمانوں کو گورنمنٹ کی فوجی بھرتی اور فوجی امداد کے لیے مجبور کیا جائے گا اور ایسے موقع پر مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جو معاہدہ خدا اور اس کے رسول سے کر چکے ہیں، اس کو پورا کریں اورکسی استبدادی قوت کے جیل خانوں سے ڈر کر کلمۂ حق کے اظہار میں کوتا ہی نہ کریں اور فلسطین کا نفرنس کے متفقہ فیصلوں پرعمل کر کے اللہ اور اس کے رسول کی خوشنودی حاصل کریں۔

خادم ملت :محمد حفظ الرحمان ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ فلسطین دہلی۔ 

(سہ روزہ الجمعیۃ،5؍ اکتوبر 1938ء)

 مؤتمر عالمی قاہرہ میں جمعیت علمائے ہند کی شرکت

7؍اکتوبرسے تا 11؍اکتوبر 1938ء قاہرہ میں دنیائے اسلام کے نمائندوں پر مشتمل عظیم الشان کانفرنس(مؤتمر) کا انعقاد کیا گیا، جس میںمؤتمر کے صاحب المعالی علویہ پاشا کی دعوت پر درج ذیل حضرات نے جمعیت علمائے ہند کے نمائندگان کی حیثیت سے شرکت کی:

 (۱) حضرت مفتی اعظم مولانا کفایت اللہ صاحب۔ (۲) حضرت مولانا عبد الحق صاحب مدنی محدث جامعہ شاہی مرادآباد۔ (۳) مولانا سید محمد یوسف صاحب بنوری استاذ جامعہ اسلامیہ ڈابھیل۔ (۴) مولانا سید احمد رضا صاحب ناظم مجلس علمی ڈابھیل۔ (۵) مولانا عبد الصمد صارم سیوہاروی فاضل دیوبند۔

حضر ت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند اس کانفرنس کی متعلق روداد تحریر فرماتے ہیں کہ: 

25؍جولائی 1938 ء کو قاہرہ سے میرے(مفتی کفایت اللہ صاحب) نام جناب محترم محمد علی علوبہ پاشا صدرلجنۃ برلمانیہ مصریہ للدفاع عن فلسطین کی طرف سے یہ دعوت نامہ موصول ہوا:

 القاہرۃ فی 19 ؍یولیو

حضرۃ صاحب السماحۃ مولا نا کفایت اللہ المعظم مفتی الہند الاعظم ورئیس جمعیۃ العلماء دہلی- السلام علیکم ورحمۃ اللہ ۔وبعد فلعلہ  قد وصل إلی مسامعکم ان  فریقا کبیرا من حضرات الشیوخ والنواب المصریین اعتزم عقد مؤتمر برلمانی عام للبحث فی قضیۃ فلسطین وقد اتصلت مع عدد کبیر من حضرات النواب الشیوخ والزعماء فی البلاد العربیۃ والإسلامیۃ فوصلتنی منہم رسائل عدیدۃ یوافقون بہا علی فکرۃ عقد المؤتمر ویقترح بعضہم عقد المؤتمر فی القاہرۃ فی شہر اکتوبر لاسباب ابدوہا لہا وجاہتہا و جدارتہا وقد اقتنعت بصواب ہذہ الفکرۃ ولعلہ من الملائم ان یکون عقد المؤتمر فی یوم الجمعۃ الموافق شعبان ۱۲؍ شعبان ۱۳۵۷ھ (۷؍ اکتوبر ۱۹۳۸ء)

وسنسعی فی الحصول علی تصریح بذلک من الحکومۃ المصریۃ وقد روعی من الفوروالمناسب ان یشترک ایضا فی ہذا المؤتمر زعماء العرب المسلمین فی الاقطار الاسلامیۃ والعربیۃ التی لیس فیہا برلمانات اتماما للقائدۃ المرجوۃ۔ لذلک یسرنی جدا ان اوجہ الی حضرتکم ہذہ الرسالۃ علی اصل ان تتفضلوا ببث الدعوۃ للاشتراک فی المؤتمربین حضرات الاخوان الزعماء فی قطر کم الکریم وان تتفضلوا بالکتابۃ الی فرصۃ قریبۃ بوجہۃ نظر کم فی ہذا الخصوص وان تزودونی بلائحۃ باسماء الاخوان الذین ترون من المصلحۃ دعوتہم للمؤتمر العتید وارجو ان تتفضلوا بقبول فائق الاحترام۔

محمد علی علوبہ رئیس اللجنۃ البرلمانیۃ المصریۃ للدفاع عن فلسطین

حضرت صاحب السماحہ مولانا کفایت اللہ صاب معظم مفتی اعظم ہندا اور رئیس جمعیت علمائے دہلی! السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ غالبا یہ بات آپ کے گوش گزار ہو چکی ہوگی کہ مصر کے شیوخ اور زعمائے قوم کی ایک بڑی جماعت نے ارادہ کیا ہے کہ فلسطین کے معاملات پربحث کرنے کے لیے ایک پارلیمنٹری کا نفرنس منعقد کی جائے۔ اور بلاد عر بیہ اور اسلامیہ کے زعماوشیوخ کی بہت بڑی تعداد نے اس رائے سے موافقت کی ہے اور میرے پاس ان کے بہت سے مراسلے آ چکے ہیں، جنھیں وہ انعقاد مؤتمر کی تجویز سے اتفاق رائے فرماتے ہیں اور ان میں سے بعض اصحاب نے یہ تجویز بھی فرمائی ہے کہ یہ مؤتمر 12؍ماہ اکتوبر1938ء میں قاہرہ میں منعقد ہو۔ یوم انعقاد جمعہ مبارکہ12؍ شعبان 1357ھ،مطابق7؍اکتو بر1938ء ہو۔ہم کوشش کریں گے کہ حکومت مصر سے اس کی منظوری حاصل کر لیں۔ یہ بھی ضروری اور مناسب سمجھا گیا کہ اس مؤتمر میں اُن ممالک اسلامیہ اور اقطار عربیہ کے نمائند ے بھی شریک ہوں، جن میں پارلیمنٹ قائم نہیں ہے، تاکہ انعقاد مؤتمر سے جو فائدہ مدنظر رکھا گیا ہے، وہ علی الوجہ الاتم حاصل ہو۔ اس لحاظ سے میں دعوت نامہ آپ کی خدمت میں ارسال کرنے میں دلی مسرت محسوس کرتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ آپ اپنی طرف کے زعما ئے مسلمین میں مؤتمر کی دعوت پہنچا دیں گے ۔ اور مجھے جلد تر اس معاملہ میں اپنے نقطۂ نظر سے بھی مطلع فرمائیں گے اور جن حضرات کو اس مؤتمر میں شریک کرنا آپ کے نزدیک مصلحت ہو، ان کے اسم گرامی سے مجھے مطلع فرماکر میری امداد فرمائیںگے۔ امید ہے کہ آپ براہ کرم میری جانب سے تکریم واحترام قبول فرمائیں گے۔

محمد علی علوبہ رئیس لجنہ برلمانیہ مصریہ للدعفاع عن فلسطین۔ 

میں نے یہ دعوت نامہ جمعیت علما کی مجلس عاملہ کے اجلاس منعقدہ 3؍اگست 1938ء میں پیش کر دیا۔ مجلس عاملہ نے اس پر غور و بحث کے بعد حسب ذیل تجویز (درج ذیل تجویز نمبر ۶) منظور کی:

’’مؤتمرعالمِ اسلامی متعلق فلسطین- جو قاہرہ میں منعقد ہونے والی ہے- اس کی شرکت کے لیے محمد علی علویہؒ کا دعوت نامہ- جو مفتی صاحب کے نام آیا ہے- پیش ہوکر قرار پایا کہ اس مؤتمر میں شرکت کرنی چاہیے اور مصا رف کا بندو بست ہوجائے، تو داعی کو اطلاع دے دی جائے کہ دو اصحاب جمعیت کی طرف سے مؤ تمر میں شرکت کریں گے۔ شرکا کے نام یہ ہیں:

۱۔ مفتی صاحب ۔(حضرت مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہند)

۲۔ مولانا عبد الحلیم صاحبؒ۔(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص؍366)

 اس تجویز کے منظور ہونے کے بعد میں نے جناب محمد علی علو بہ پاشا صدر لجنہ بر لما نیہ مصریہ کو ان کے دعوت نامہ کا حسب ذیل جواب ارسال کیا:

 دفتر جمعیۃعلما ء ہند28؍ اگست 1938ء

حضرۃ صاحب السماحۃ مولانا محمد علی علوبۃ رئیس اللجنۃ البرلمانیۃ المصریۃ للدفاع عن فلسطین - القاہرۃ - السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبعد۔ فقد وصل الی کتابکم الکریم علمت مافیہ وانا اتفق بفکرۃ عقد المؤتمر للبحث فی قضیۃ فلسطین ویسرنی ان اخبرکم ان کتابکم عرض علی الجمعیۃ العاملۃ لجمعیۃ العلماء الہند المرکزیۃ وانہا قررت قبول ہذہ الدعوۃ المہمۃ و عزمت توفید رجلین صالحین للنیابۃ عنہا وعن مسلم الہند و امرتنی ان اطلعکم انہا قبلت دعوتکم المبارکۃ متشکرۃ ممتنۃ ۔

وسیصل إلی القاہرۃ (ان شاء اللہ تعالی) مندوبان فی یوم عقدالمؤتمر یوم الجمعۃ الموافق ۱۲؍شعبان ۱۳۶۷ھ (۷؍اکتوبر۱۹۳۸ء)و انی استمرت بأمرکم ببث الدعوۃ بین زعماء ہذا القطر وارجو ان یعزم بعض الزعماء علی الشرکۃ ویمکن ان یرافق مریدالشرکۃ مندوبی جمعیۃ العلماء، ثم انکم سالتمونی ان اکتب الیکم اسماء الاخوان الذین یلائم وصول مکاتب الدعوۃ الیھم منکم۔ فأرسم اسماء بعض الزعماء ینبغی ان توجہوا الیکم مکاتیب الدعوۃ للشرکۃ فی المؤتمر۔

از دفتر جمعیت علمائے دہلی ،28؍اگست 1938ء۔

 حضرت صاحب السماحۃ مولانا محمد علی علوبہ رئیس لجنۃ برلمانیہ مصریہ للدفاع عن فلسطین القاہرہ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ!

 آپ کا مکرمت نامہ پہنچا۔ میں اس کے مضمون سے مطلع ہوا۔ فلسطین کے معاملات پر غورو بحث کے لیے انعقاد مؤتمر کی تجویز سے مجھے اتفاق ہے۔ میں مسرت کے ساتھ آپ کو مطلع کرتا ہوں کہ آپ کا دعوت نامہ جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کے سا منے پیش کیا گیا اور مجلس نے اس دعوت مہمہ کی منظوری کے متعلق تجویز پاس کردی اور یہ عزم کر لیا ہے کہ وہ دومندوب جو -مؤتمر میں جمعیت علمائے ہند کی نمائندگی کریں- شرکت مؤتمر کے لیے روانہ کرے گی۔ مجلس نے مجھے یہ بھی حکم دیا ہے کہ میں آپ کی خدمت میں یہ اطلاع بھیج دوں کہ مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند نے آپ کی دعوت کو تشکر اور امتنان کے سا تھ قبول کر لیا ہے، ان شاء اللہ تعالیٰ جمعیت علماکی طرف سے دو مندوب یوم انعقاد مؤ تمر۱۲؍شعبان۱۳۵۷ھ، مطابق ۷؍کتو بر۱۹۳۸ء کوقاہرہ پہنچ جائیںگے۔ میں نے آپ کے ارشاد کی تعمیل میں اس طرف کے زعما میں مؤتمر کی دعوت پہنچادی ہے اور مجھے آس ہے کہ بعض زعمائے مسلمین شرکت مؤتمر کے ارادہ سے جمعیت العلما کے مندوبوں کے ساتھ شریک سفر ہو جائیں۔

آپ نے اس امر کی خواہش فرمائی ہے کہ جن اکابر کو مؤتمرس شریک کرنامیرے خیال میں قرین مصلحت ہو، اُن کے اسمائے گرامی سے آپ کو مطلع کر دوں، تا کہ آپ اُن کے نام دعوت نامے ارسال فرمادیں، اس لیے ذیل میں چند نام تحریر کرتا ہوں۔ مناسب ہے کہ آپ ان کے نام دعوت نامے جاری فرمائیں:

(۱) حضرت مولانا سید سلیمان ندوی اعظم گڑھ دار المصنفین۔

(۲) مولانا السید حسین احمد صدر المدرسین دار العلوم دیوبند یوپی۔

 (۳)حضرت مولانا ابو المحاسن محمد سجاد نائب امیر الشریعۃ پھلواری شریف پٹنہ بہار۔

(۴)حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی صدر المدرسین جامعہ تعلیم الدین ڈابھیل ضلع سورت۔

 (۵)مسٹر محمد یونس صاحب ایم ایل اے پٹنہ بہار۔ 

(۶)حضرت مولانا عبد الحق المدنی ناظم مدرسہ شاہی مسجد مرادآباد یوپی۔

 وسأخبرکم بتاریخ رحلتی من دھلی باسماء رفقائی ان شاء اللہ وتفضلوا یاسیدی بقبول فائق الاحترام۔

 مخلصکم محمد کفایت اللہ رئیس جمعیۃ علماء ہند

اس خط کے قاہرہ پہنچنے پر جناب کی طرف سے یہ جواب موصول ہوا:

القاہرۃ ،۳؍ دسمبر۱۹۳۸ء

سیدی المفضال صاحب السماحہ مولانا محمد کفایت اللہ رئیس جمعیۃ العلما الھند السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ وبعد فقد وصل کتابکم الکریم نظر الغیاب معالی علوبہ باشافی رحلۃ قصیرۃ إلی اور با اتصلت بہ تیلیفونیا واخبرتہ بمضمون خطابکم الکریم فسرہ روح سما حتکم و غیرتکر علی قضیۃ فلسطین و نرجوان یجزیکم اللہ عن ہذہ المجہود المبارکۃ خیر الجزاء۔

 سیدی! سیکون المتؤتمر شرف الانتفاع بشخصیتکم الفذۃ وآرا ئکم السدیدۃ و قدارسلنا  بطاقات الدعوۃ الیٰ حضرۃ من تفضلتم بکتابۃ اسمائھم فی کتابکم الکریم ونرجو ان یکون لقضیۃ من مسلمی اقوی عون ونصیر وارجوا ان یتفضلوا بقبول عظیم اجلالی و شکری۔ 

سکرتاریۃ المؤتمر حسان ابو رحاب

قاہرہ ۳؍دسمبر ۱۹۳۸ء 

بعد سلام ۔آپ کا مکرمت نامہ پہنچا۔ چوںکہ جناب محمدعلی علوبا شا ایک مختصر سے سفر میں یورپ گئے ہوئے ہیں، اس لیے میں نے ٹیلیفون ملا کر ان سے گفتگو کی اور آپ کے مکرمت نامہ کا مضمون ان کو سنادیا، وہ آپ کی اس مہربانی اور قضیۂ فلسطین کے ساتھ ہمدردی اور دل سوزی سے بہت مسرور ہوئے ۔ ہم امید کرتے ہیں کہ حق تعالیٰ آپ کو ان مساعی مبارکہ کی بہترین جزا عطا فرمائے گا۔ مؤ تمر کو آپ کی یکتا شخصیت اور درست وصحیح رائے سے فائدہ حاصل کرنے کا شرف (ان شاء اللہ تعالی) حاصل ہوگا ۔ جن حضرات اکابر و زعماکے اسمائے گرامی آپ نے تحریر فرمائے تھے، اُن کے نام ہم نے دعوت نامے جاری کر دیے ہیں اور ہمیں امید ہے کہ مسلمانو کی توجہ قضیۂ فلسطین کو حل کرنے میں بڑی مدد گار ثابت ہو گی۔ امید کہ آپ براہ کرم میری طرف سے شکریہ اور عظیم اجلال قبول فرمائیں گے۔

حسان ابو رحاب سکریٹری

 اس خط کے ساتھ ہی دعوتی کارڈ بھی -جو مندوبین کے لیے لجنۃ بر لمانیہ کی طرف سے طبع کرائے گئے تھے-آگئے۔ دعوتی کارڈ کی نقل یہ ہے:

حضرت صاحب…محمد علی علوبہ باشا رئیس اللجنۃ البرلمانیۃ المصریۃ للدفاع عن فلسطین یتشرف بدعوۃ…الحضورالمؤتمر البرلمانی العالمی للبلادالعربیۃ الإسلامیۃ الذی سینعقد بمدینۃ القاہرۃ ابتداء من یوم الجمعۃ۱۲؍ شعبان۱۳۵۷ھ ،۷؍اکتوبر۱۹۳۸ء للبحث فی حالۃ فلسطین الحاضرۃ.

(ترجمہ) حضرت صاحب…محمد علی علو بہ پاشا صدرلجنۃ برلمانیہ مصر یہ آپ کو مؤتمر برلمانی مصری میں -جو بلاد عربیہ اوربلاد اسلامیہ کے مسلمانوں کی کا نفرنس ہے اور جس میں فلسطین کی حالت حاضرہ پر بحث ہوگی اور جو قاہرہ میں ۱۲؍ شعبان ۱۳۵۷ھ، مطابق۷؍کتور ۱۹۳۸ء،کو منعقد ہوگی-شرکت کی دعوت دینے کا شرف حاصل کرتا ہے۔

قاہرہ کانفرنس میں شرکت کے لیے روانگی

مجلس عاملہ کی تجویز میں میرا اورمولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی کا نام تجویز کیاگیاتھا؛ مگر اتفاق کہ مولانا عبدالحلیم صدیقی بعض عوارض کی وجہ سے نہ جاسکے۔اور پاسپورٹ بھی حاصل نہ ہوسکا۔ اس لیے عین وقت پرحضرت مولانا عبد الحق صاحب مدنی کو -جن کے نام دعوت نامہ بھی آچکا تھا- میں نے رفیق سفر بنالیا اور28؍ستمبر 1938ء کو بمبئی سے وکٹوریہ نامی جہاز میں روانہ ہو گیا۔ جہاز میں سوار ہونے کے بعد دوسرے روز مجھے بخار ہو گیا۔ ایک دو روزتک تو اس کو معمولی بخار سمجھا، کچھ زیادہ خیال نہ کیا؛ مگر جب بخار کی شدت بڑھتی گئی، تو جہاز کے ڈاکٹر کی طرف رجوع کیا۔ اُس نے مجھے اپنے کمرے سے منتقل ہو کرہسپتال کے کمرہ میں چلے جانے کی فہمائش کی ۔آخر دوستوں کی رائے سے ہسپتال میں منتقل ہوگیا۔ڈاکٹر نے بخار کو ملیریا بخار سمجھا اور کونین کے انجکشن دیتا رہا۔ اور بڑی مقدارمیں کونین کھلاتا پلاتا رہا۔ اسی حالت میں5؍ اکتوبر 1938ء کو پورٹ سعیدپہنچ کر ایک ہوٹل میں قیام کیا۔ وہاں ایک ڈاکٹر کودکھلایا۔ اُس نے دیکھ کرکہا کہ یہ بخار ملیریا نہیں معلوم ہوتا۔ یہ تو میعادی بخار معلوم ہوتا ہے اورچوںکہ آپ قاہرہ جارہے ہیں، اس لیے وہاں کسی قابل ڈاکٹرسے رجوع کیجیے۔ وہ خون کا امتحان کرکے صحیح رائے قائم کر سکے گا۔بہرحال پورٹ سعیدٹھہر گیا اور دوسرے رفقائے سفر قاہرہ چلے گئے۔ مولانا عبد الحق صاحب مدنی اور میں شام کی گاڑی سے روانہ ہو کر دوبجے شب کو قاہرہ پہنچے۔ راستہ میں اسماعیلیہ کے اسٹیشن پر ایک جماعت استقبال کے لیے موجود تھی۔ جمعیۃ الاخوان کے عہدے دار اور رضاکاران نے اسٹیشن پر خیر مقدم کا مظاہرہ کیا۔ اور لیحیٰ مولانا کفایت اللہ المفتی الاعظم، لیحی جمعیۃ العلماء کے پرجوش نعروں سے اسٹیشن کی فضا گونج اٹھی۔ وہاں سے گاڑی روانہ ہوئی اور جب قاہرہ کے اسٹیشن پر پہنچی، تو وہاں اکابر و زعمائے قاہرہ اورمسلمانوں کی ایک بڑی جماعت استقبال کے لیے موجود تھی۔مگر چوں کہ مجھے اس وقت بخار زیادہ تھا، اس لیے جناب ڈاکٹر عبد الحمید صاحب صدر جمعیۃ الشبان نے استقبال کرنے والے بزرگوں سے معذرت کر دی اور مجھے نہایت آرام سے موٹر میں بٹھاکر جمعیۃالشبان کے عالی شان دفتر کی عمارت میں لے آئے اور اسی مکان میں آخر تک میرا قیام رہا۔ اسی عالی شان مکان میں ہندستان کے تمام مندوبین ٹھہرے ہوئے تھے اور جمعیۃ الشبان نے میزبانی کے تمام فرائض باحسن وجوہ ادا کیے۔ 

میں6؍ اکتوبر کی شام کو آٹھ بجے قاہرہ پہنچا اورصبح کو یعنی ۷؍ اکتوبرشام کومؤتمرکا پہلا اجلاس شام کے پانچ بجے ہونے والا تھا؛ مگرڈاکٹر نے میرا معائنہ کرنے کے بعد یہ قطعی رائے ظاہر کر دی کہ میعادی بخار ہے اور اس میں نقل و حرکت مضر ہے۔ میں نے ہر چند افتتاحی جلسہ میں شرکت کی اجازت مانگی؛ مگرڈاکٹر نے کسی طرح اجازت نہ دی اور جناب علامہ ابراہیم جبالی -جومصری وفدکے صدر کی حیثیت سے ہندستان تشریف لائے تھے- انھوں نے بھی مجھے باصرار شرکت مؤتمر سے روک دیا اور فرمایا کہ آپ کی صحت وعافیت سب سے زیادہ مقدم ہے۔ اور مؤتمر کے اجلاس میں آپ کی نیابت آپ کے رفیق مولانا عبد الحق صاحب کر رہیںگے۔ اس مجبوری کی وجہ سے میں اجلاس میں شریک نہ ہوسکا۔ مگر میں نے فورا پہلے اجلاس میں پڑھنے کے لیے ایک تقریر قلم بند کرادی اور حضرت مولانا عبد الحق صاحب مدنی کو اپنا قائم مقام بنا کر بھیج دیا۔ اجلاس میںہندستانی وفد کے تقریر کرنے والوں میں اول نمبر پر میرانام رکھاگیا تھا۔ اور پہلی کرسی میرے لیے مخصوص تھی۔ جب میں بیماری کی وجہ سے نہ جاسکا، تو مولانا عبد الحق صاحب کو وہ کرسی دی گئی ۔ اور انھوں نے میری طرف سے میری تقریر سنادی۔ اور اس کے بعد بلیغ و شستہ عربی زبان میں تقریر کی۔ میری جانب سے جو تقریر پڑھی گئی، اس کی نقل یہ ہے:

حضرت مفتی اعظم ہند کا خطاب

الحمد للہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفی، اما بعد فاخوانی! قلبی یملاء حزنا مما انا فی الحالۃ التی عجزت فیہا ان القی علیکم من نفثات صدری التی لا تزال تہیج فی زوایاہ حیث مرضت منذ ابحرت و وصلت بی الحال الی حد منعنی الدکتورعن ان اخوض فیما یدفعنی الیہ قلبی وفکرتی ومع ہذا فالقی علیکم کلمۃ وجیزۃ فی ہذہ الحفلۃ الأولی لمؤتمر فلسطین وأرجو اللہ ان یوفقنی فی الحفلات التالیۃ لاظہار ما احاول اظہارہ ۔

سادتی! قضیۃ فلسطین و الطوارق الملمۃ علی مسلمی فلسطین اصبحت علی حالۃ تتقطع لہا الاکباد وتنشق لہا القلوب۔

فلسطین لمسلمی فلسطین، المسلمون لا یمکن ان یرضوا بحکومۃ الخیر علی فلسطین والقسمۃ البریطانیۃ لفلسطین لا یمکن ان یقبلہا المسلمون فی بقاع الارض فضلاً عن مسلمی فلسطین و المسلمون فی الہند فی اشد قلق واضطراب لہذہ الحالۃ القادحۃ واظن انہم قد سبقوا فی ہذا الشعور والاحساس علی کثیر من اخوانہم فی البلاد۔

بل اصبحوا غرضا للملمات فی التضحیۃ لہذا السبیل وقبضت الحکومۃ فی الہند علی بعض زعماء المسلمین وحکمت علیہ بالاسارۃ  الی سنتین وسترون ان شاء اللہ ما یقوم بہ من التفدیۃ والمتضحیۃ اخوانکم فی الہند والسلام۔

ترجمہ:الحمد للہ وکفی وسلام علی عبادہ الذین اصطفے، برادران ملت! مجھے سخت اندوہ والم ہے کہ میں آج مرض کی وجہ سے اپنے اُن جذبات کو -جو میرے سینے میں موجزن ہیں- اپنی زبان سے پیش کرنے کے قابل نہیں ہوں۔ میں جہاز پر سوار ہوتے ہی بیمار ہوگیا اور میںیہاں تک نوبت پہنچ گئی کہ ڈاکٹرنے مجھ کو اس امرمیں حصہ لینے سے منع کر دیا، جس کی طرف میرا دل اور میرے خیالات مجھ کو دھکیل رہے ہیں۔ باوجود اس کے میںمؤ تمر کی اس پہلی نشست میں مختصر سی ایک بات تو عرض کیے دیتا ہوں اور حق تعالیٰ کے فضل و کرم سے امید کرتا ہوں کہ آئندہ نشستوں میں وہ مجھے اپنے خیالات کو مفصل پیش کرنے کی توفیق اور قوت عطا فر مائے۔

سادات کرام! فلسطین کا معاملہ اور مصائب کے پہاڑ -جو مسلمانان فلسطین کے سروں پر آج توڑے جارہے ہیں-ان کی وجہ سے مسلمانوں کے جگرپاش پاش اور قلوب ریزہ ریزہ ہور ہے ہیں۔ فلسطین مسلمانان فلسطین کا ہے۔ وہ ہر گز کسی غیر کی حکومت فلسطین پر برداشت نہیں کر سکتے۔ برطانیہ نے تقسیم فلسطین کی جو تجویز کی ہے، اس کو مسلمانان عالم میں کوئی ایک مسلمان بھی قبول نہیں کر سکتا، پھر یہ کیسے تصور کیا جاسکتاہے کہ فلسطین کے عرب باشند اسے مان لیںگے۔ مسلمانان ہند فلسطین کی موجودہ اضطراب انگیز مصیبت کی وجہ سے انتہائی قلق اور بے چینی میں مبتلا ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ مسلمانان ہند اس شعور و احساس میں بہت سے بلاد اسلامی کے مسلمانوں سے مقدم ہیں؛بلکہ اس معاملہ میں حکومت برطانیہ ہند کی طرف سے مصائب کا شکار ہوچکے ہیں اور ہرقسم کی قربانی پیش کرنے کے لیے تیار ہیں۔ حکومت ہند نے اسی معاملہ میں بعض زعما کو گرفتار کر کے دو سال کی سزا بھی دے دی ہے اور ان شاء اللہ آپ دیکھ لیں گے کہ مسلمانان ہند اس معاملہ میں کہاں تک قربانیاں پیش کرنے والے ہیں۔ والسلام ۔ 

موتمر کی اخباری رپورٹ

اس جلسے میں دیگر مندوبین نے بھی تقریریں کیں اور اسی میں ایک مجلس بنادی گئی ،جو مؤتمر کے لیے تجویزیں تیار کرے۔ اس جلسے کی روئیداد الاہرام نے ۸؍ اکتوبر ۱۹۳۸ء کے پرچہ میں شائع کی، اس کے الفاظ یہ ہیں:

کلمات الھند و اعطیت الکلمۃ للھند وکان اول خطبائھا مولانا کفایت اللہ رئیس جمعیۃ العلماء فی الھند غیر انہ لم یحضر لمرضہ، فالقی کلمتہ أحد الضیوف الہنود وقد وصف فی مستہلہا مبلغ الم المسلمین فی الہندلما وصلت فلسطین من حالۃ محزنۃ وذکر ان الوطن الفلسطینی وإن کان الشان الاول فیہ للفلسطینین الا ان اخوانہم من ابناء الأمۃ الإسلامیۃ الاخری لایرضون أن یتحکم الغیر فیہم ولا یقبلون بحال مشروع التقسیم البریطانی انتقل الشعوب المسلمین الھنود حیال فلسطین فاکد انہم فی اشد القلق والاضطراب لہذہ الحالۃ القادحۃ التی یعانیہا اہل فلسطین وقد اصبحوا غرضا للملمات فی ہذاالسبیل ۔و ختم کلمتہ بان مسلمی الہند سیواصلون تائید فلسطین فی جہادہا۔( الاہر م، ص؍۳، کالم، ۵۔ ۸؍اکتوبر ۱۹۳۸ء)

ترجمہ: اور ہندستانی مسلمانوں کو تقریر کا موقع دیا گیا ۔ ہندستان کے مقررین میں پہلا نمبر مولانا کفایت اللہرئیس جمعیت علمائے ہند کا تھا؛ مگر وہ بیماری کی وجہ سے کانفرنس میں نہ آسکے، تو ان کی تقریر ہندی مہمانوں میں سے ایک صاحب نے کانفرنس میں پڑھی۔  اس تقریر کی ابتدا میں اُس رنج والم کا ذکر تھا، جو ہندستان کے مسلمانوں کو فلسطین کی الم انگیز حالت پر پہنچ رہا ہے۔ پھر یہ ذکر کیا تھا کہ اگرچہ فلسطین کے مسلمانوں کا یہ مقدم حق ہے کہ وہ فلسطین کی آئندہ حکومت کے متعلق فیصلہ کریں؛ لیکن اسلامی دنیا کے دوسرے مسلمان-جو ان کے بھائی ہیں- وہ بھی اس کے روادار نہیں ہیں کہ اہل فلسطین پر کوئی اجنبی طاقت حکمرانی کرے اور برطانیہ کی تجویز کردہ تقسیم فلسطین کسی حال میں قبول نہیں کی جاسکتی۔ پھر مقرر نے ہندی مسلمانوں کے اس شعورو احساس کا ذکر کیا، جو فلسطین کی مصائب الیمہ پر ان میں پیدا ہو رہا ہے، اور اس پر مضبوطی کے ساتھ اظہار خیال کیا کہ وہ سخت فکر میں مبتلا ہیں۔ اور اس معاملہ میں وہ مصیبتوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔

پھر اپنا کلام اس بیان پرختم کیا کہ مسلمانان ہند بر ابر فلسطینی بھائیوں کے جہاد حریت کی تائید کرتے رہیں گے۔ 

اسی اخبارالاھرام مؤرخہ ۹؍اکتوبر ۱۹۳۸ء کے صفحہ ۹ کالم اول پر مجلس مظامین یعنی سبجیکٹ کمیٹی کے اعضا کے نام لکھے ہیں۔ اس کی عبارت درج ذیل ہے: 

وأشیر إلی تألیف لجنۃ لبحث المقترحات التی تقدم إلی المؤتمرمن حضرات المحترمین الاستاذین جبران توینی،و خلیل ابوجودہ عن لبنان، وابراہیم الواعظ، وابراہیم عبد الریادی بک، وابراہیم عطاریاشی،والاستاذ توفیق السمعانی عن العراق، ونسیب البکری بک، ومظہر رسلان باشار، الدکتور توفیق الشیشکلی، والشیخ الدف عن سوریا، و مولانا کفایت اللہ، والاستاذعبد الرحمن الصدیقی، مولانا محمد عرفان عن الھند،والسید عبد الخالق الطریسی، والسید المکی الناصری عن المغرب الاقصی، والسید عبد الرحمن عمر عن الصین، والسید اصیل الغوری عن بلاد المہجروالسید محی الدین العنسی عن الیمن۔

وقد وافق الموتم علی تالیف اللجنۃعلی النحو المتقدم۔

ترجمہ: پھر مجلس مضامین کے ارکان کا انتخاب کیا گیا، جو تجاویز مرتب کر کے مؤتمر میں پیش کرے۔ یہ مجلس ان حضرات پر مشتمل تھی:…اور موتمر نے مجلس مضامین کا یہ انتخاب منظور کر لیا۔

قاہرہ کانفرنس میں صدر جمعیت کی تجاویز

اب مجلس مضامین کے اجلاس ہوتے رہے، میں چوںکہ ڈاکٹر کی ممانعت کی وجہ سے اجلاس میں نہ جاسکتا تھا، اس لیے میں نے مجلس مضامین میں تحریری تجاویز بھیج دیں، جو حسب ذیل تھیں:

(۱) یقرر ہذا المجلس باتفاق تا م ان ارض فلسطین ارض مقد سۃ ، وفیہا المسجد الاقصی ومأثر أخری تتعلق کلہا بالمسلمین وان مسلمی العالم الاسلامی با جمعہ یزعجہم ان یروا فلسطین تحت سیطرۃ ا یۃ حکومۃ کانت غیر مسلمۃ۔

(۲) یجب علی الحکومۃ البریطانیۃ ان ترفع انتدابہا عن فلسطین بکل معنی الکلمۃ ۔

(۳) ان حکومۃ فلسطین تکون حکومۃ مختارۃ وحرۃ تتشکل علی وفق نظام الحکومات الدستوریۃ الجمہوریۃ وان یتوصل انتخاب صدر مجلسہا الدستوری الی مسلمی فلسطین بدون معارضۃ ولا مداخلۃ ایۃ - حکومۃ کانت اجنبیۃ۔

(۴) یلزم علی الفور حجز الیہود ومنعہم عن الدخول فی فلسطین والحالۃ ہذہ ۔

(۵) ان مسلمی الہند یہمھم تقسیم فلسطین جدا وان احدا منہم لا یرضی بتجزیۃ فلسطین بای حالۃ کانت ۔

(۶) أن الحکومۃ البریطانیۃ اذا لم تقلع عن اعمالہا ولم تحل عقدۃ فلسطین الی نہایۃ ہذہ السنۃ الجاریۃ۱۹۳۸ء فلا غرو ان العالم الإسلامی بأجمعہ یکون ملجائاًحینئذ بمقاومۃ الحکومۃ بکل صورۃ بکل ممکنۃ ومکافحۃ قوانینہا احتجاجاً علیہا وان المسلمین علی اختلاف مناطقہم ومواقفہم السیاسیۃ یتعصبون امام امتثال قوانین الحکومۃ ویحتشمون کل مشقۃ تعود علیہم فی تضحیۃ للإسلام والدین ۔

(۱) یہ مجلس بالاتفاق قرار دیتی ہے کہ زمین فلسطین ایک مقدس سرزمین ہے۔ اور اس میں مسجد اقصی مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے و دیگر مآثر اسلامیہ بھی واقع ہیں ،جن کے ساتھ مسلمانوں کا گہرا تعلق ہے اور تمام عالم اسلامی کے مسلمان اس بات سے مضطرب اور بے چین ہیں کہ ارض مقدس فلسطین پر کوئی غیر مسلم طاقت حکمراں نہ ہو۔

(۲) حکومت برطانیہ کو لازم ہے کہ فلسطین پر سے اپنے انتداب کو بالکلیہ ہٹالے۔

(۳) فلسطین کی آئندہ حکومت ایک خود مختار حکومت ہو، جس کا نظام جمہوری حکومتوں کی طرح مرتب کیا جائے اور مجلس حکومت کے صدر کا انتخاب مسلمانان فلسطین کے ہاتھ میں ہو۔ اس میں کسی اجنبی حکومت کو مداخلت کا موقع نہ دیا جائے۔

(۴) یہود کا داخلہ فی الفور بند کر دیا جائے اور ان کواس حالت میں ہرگز فلسطین میں داخل ہونے کی اجازت نہ دی جائے۔

 (۵) مسلمانان ہند تقسیم فلسطین کی تجویز کواضطر اب کی نظر سے دیکھ رہے ہیں، ان میں ایک متنفس بھی تقسیم کی تجویز کو کسی حال میں قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔

 (۶) اگر حکومت برطانیہ ان مظالم سے۱۹۳۸ء  کے ختم تک دست بردارنہ ہوئی اور فلسطین کا عقدہ حل نہ ہوا، تو عجب نہیں کہ تمام عالم اسلامی اضطراری طور پر برطانیہ کے مقابلہ پر کھڑا ہوجائے اور برطانوی حکومت کے مسلمان سول نافرمانی شروع کر دیں، یا اور دیگر ممالک اسلامیہ کے مسلمان اپنی سیاسی ماحول کے موافق برطانوی حکومت کے خلاف ہر ممکن اور مناسب محاذ جنگ اختیار کرلیں۔ 

یہ تجویز میں نے جناب مسٹر عبد الرحمان صاحب صدیقی کے ذریعہ مجلس مضامین میں بھیج دی۔ مجلس نے دیگر تجاویز کے ساتھ اس پر بھی غور کیا اور آخر میں ارکان مجلس نے ایک طویل تجویز مرتب کی اور مسٹر عبد الرحمان صدیقی نے اُس کا مسودہ مجھے لاکر دکھا دیا۔میں نے اس پر اتفاق رائے کا اظہار کر دیا۔ اور مؤتمر کے آخری جلسے منعقدہ 11؍اکتوبر 1938ء میں وہ بالا تفاق پاس ہو گئی۔ وہ تجویز یہ ہے:

موتمر کی تجاویز

(اولا) اعتبار تصریح بلفور باطلا من اساسہ ولا قیمۃ لہ فی نظر العرب والمسلمین۔

(ثانیا) ضرورۃ منع ھجرۃ الیہود لفلسطین من الآن منعا باتا۔

 (ثالثا) رفض تقسیم فلسطین علی ای نحوکان والتمسک ببقائہاقطراً عربیا۔

(رابعا) ضرورۃ انشاء حکومۃ وطنیۃ دستوریۃ بمجلس نیابی منتخب بالتمثیل النسبی من العرب و الیہود وعقد معاہدۃ تحالف ومودۃ بین انجلترا وفلسطین ینتھی بہا الانتداب۔

(خامسا) العفو الشامل عن المتہمین والمحکوم علیہ ہم فی حوادث الثورۃ الفلسطینیۃ واطلاق سراح المعتقلین والمسجونین واعادۃ جمیع المبعدین والمنفین السیاسیین۔

(سادسا) ان تنفیذ الطلبات السابقۃ ہو الحل الوحید لقضیۃ فلسطین وبالتالی لاعادۃ الہدو والسلام الیہا ولایجاد الصداقۃ والثقۃ بین انجلترا و بین العرب والمسلمین والشعوب العربیۃ و الاسلامیۃ فی جمیع اقطارہم والایعتبرون موقف الانجلیز والیہود - منہم موقفا عدائیا جدیرا بان یعامل بمثلہ و ان یقرن بالنتائج الطبعیۃ لہ حیال الصلات السیاسیۃ و الاقتصادیۃ والاجتماعیۃ ۔

(سابعا) حث ملوک وحکومات الامم العربیۃ والإسلامیۃ وشعوبہا علی العمل علی تنفیذ ہذہ القرارات بکافۃ الوسائل الممکنۃ وتبلیغہا إلی ہذہ الحکومات والحکومۃ الانجلیزیۃ وعصبۃ الام۔

(ثامنا) انتخب المؤتمر لجنۃ دائمۃ تنوب عنہ فی اتخاذ ما تراہ من الوسائل المؤدیۃ لتنفیذ ہذہ القرارات مکونۃ من محمد علی علوبہ باشارئیسا و مولود مخلص باشاد فارس بک الخوری وجیران بک التوینی وحمد الباسل باشا و توفیق دوس باشا والدکتور عبد الحمید سعید بک والسید عبد الرحمن الصیدیقی،وجمال بک الحسینی وعونی بک، عبد الہادی والفرید بک روک، یکون مقرہا الرئیسی بمصر ولہا ان تضم الیہا وان توکل عنہا من تشاء با غلبیۃ اصوات اعضائہا۔

(۱) اعلان بالفور جس کی عرب اورمسلمانوںکی نظروں میں کوئی وقعت نہیں ہے، باطل قرار دیا جائے۔

(۲) فلسطین کی جانب ہجرت یہود کو قطعی طور پر فوراً روک دیا جائے۔

(۳) تقسیم فلسطین کی تجویز کو خواہ کسی صورت سے ہو ترک کر دیا جائے اور فلسطین کا عربی ملک رہنا تسلیم کر لیا جائے۔

(۴) فلسطین میں آئندہ حکومت وطنی دستوری اصول پر قائم کی جائے، جس میں عرب اور یہود کی آبادی کے تناسب سے منتخب نمائندوں کی پارلیمنٹ ہواور فلسطین اور برطانیہ کے درمیان ایک معاہدۂ مودت ہو جائے، جس کے ذریعہ سے انتداب ختم کر دیا جائے۔

 (۵) جن لوگوں پر حکومت نے مقدمات چلاکر سزا دے دی ہے، یا جو لوگ مہتم، یا نظربند ہیں، ان کے لیے عفو عام، یا رہائی کا حکم دے دیا جائے اور تمام جلا وطنوں کو واپسی کی اجازت ہو جائے۔

(۶) ان مطالبات کی منظوری ہی قضیۂ فلسطین کا واحد حل ہے اور اسی طریق سے فلسطین میں امن وامان کی واپسی ہوسکتی ہے اور اسی ذریعہ سے انگلستان اورعرب اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور باہمی اعتماد پیدا ہو سکتا ہے ؛ورنہ عرب اور مسلمان مجبور ہوںگے کہ برطانیہ اور یہود کو اپنا دشمن سمجھیں اور وہی معاملہ کریں، جو دشمن کے ساتھ کیا جاتا ہے اور اس کا اثر تمام سیاسی اور اقتصادی اور معاشرتی تعلقات پر پڑے گا۔

(۷) بادشاہوں اور اسلامی حکومتوں کو متوجہ کیا جائے کہ وہ ان تجویزوں کو عملی جامہ پہنائیں اور تمام ممکن وسائل اس کے لیے وقف کر دیں۔ یہ تجاویز ان حکومتوں اور جمعیتہ الاقوام اور برطانوی حکومت کوبھیج دی جائیں۔

(۸) مؤتمر قاہرہ نے حسب ذیل حضرات پر مشتمل ایک کمیٹی بنادی ہے، جو مؤتمر ختم ہونے کے بعد قائم رہے گی اور ان تجاویز کو عملی جامہ پہنانے کے لیے تمام ممکن ذرائع استعمال کرے گی۔ محمد علی علوبہ پاشا صدر ہوں گے۔ مولود مخلص باشا وفارس بک خوری، جبران بک توینی ، حمد باسل باشا، توفیق دوس پاشا،ڈاکٹر عبدالحمید سعیدبک، مسٹر  عبد الرحمان صدیقی، جمال بک حسینی، عونی بک عبد الہادی، فرید بک روک۔ اس کمیٹی کا صدر مقام مصر میں رہے گا۔ اور اسے اختیار ہو گا کہ اپنے ارکان میں اضافہ کرے، یا اپنے اختیارات کو کام میں لانے کے لیے کسی کو قائم مقام مقرر کرے۔

یہ خلاصہ ہے ان تجاویز کا جو مؤتمر کی طویل تجویز میں مندرج ہیں۔ ہم نے طویل تجویز کا ابتدائی تمہیدی حصہ بقصداختصار حذف کر دیا ہے، جس میں شریف حسین اور سرہنری میکموہن کی خط وکتابت نقل کر کے یہ ثابت کیا گیا تھا کہ برطانیہ نے جنگ عظیم کے دوران میں عرب کی آزادی کامل کا جو وعدہ شریف حسین سے کر کے اس کو ترکی سلطنت اور خلیفۃ المسلمین سے بغاوت کرنے پر آمادہ کیا تھا، اسے پورا نہیں کیا اور اعلان بالفور اس عہد کی صریح خلاف ورزی ہے۔

اس تجویز کے بالاتفاق پاس ہوجانے کے بعد مؤتمر کا اجلاس ختم ہوا۔ 

تشکرو امتنان

ناشکری ہوگی اگر رپورٹ ختم کرنے سے پیشتر ان بزرگان قاہرہ کا شکریہ ادا نہ کروں، جنھوں نے اپنی ہمدردیاں میری عیادت اور علاج اور راحت رسانی کے لیے وقف کر دی تھیں۔ ان میں سب سے پہلے ڈاکٹر عبد الحمید سعید بک صدر جمعیۃ شبان المسلمین اور جمعیۃ الشبان کے دیگر ارکان شکریہ کے مستحق ہیں۔ اس اولو الحرم جمعیت نے تمام ہندستانی مندوبین کو اپنا مہمان بنایا اور حق میزبانی با حسن وجود انجام دیا۔

جناب صاحب السماحۃ ڈاکٹر عبد الحمید سعید بک صدر جمعیۃ الشبان المسلمین متعدد مرتبہ میرے پاس تشریف لائے اور علاج اور دیگر ضروریات کا نہایت شغف کے ساتھ انتظام فرماتے رہے۔ میری علالت کے زمانہ میں جن اعیان و افاضل و اکابر مصر نے انتہائی خلوص و محبت کا اظہار فرمایا اور غایت شفقت و احترام ضیف کی جہت سے عیادت کے لیے تشریف لائے، اُن کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

(۱)حضرت صاحب الفضیلۃ الاستاذ الاکبر الشیخ محمدمصطفی المراعی رئیس الازہر الشریف تین مرتبہ تشریف لائے اور نہایت محبت و خلوص کے ساتھ دعائے صحت فرماتے رہے۔(۲)حضرت صاحب السماحۃ السید محمد صادق المجددی وزیر مفوض دولت علیہ افغانستان مقیم قاہرہ۔ (۳) حضرت صاحب الفضیلۃ الاستاذ السید محمد خضر حسین، تفضل سیادتہ واہدی کتابہ نقض الشعر الجاہلی۔ (۴) معالی السید محمد علی علوبہ پاشا رئیس اللجنۃ البرمانیۃ للدفاع عن فلسطین۔ (۵) صاحب الفضیلۃ الشیخ عبد الوہاب النجار احد اعضاء البعثۃ الازہریۃ إلی الھند۔(متعدد بار تشریف لاتے رہے)(۶)صاحب الفضیلۃ والسیادۃ الشیخ ابراہیم الجبالی شیخ معہد طنطا رئیس البعثۃ الازہریۃ إلی الہند تفضل سیادتہ واہدی کتابہ الفرید’’ شفاء الصدور فی تفسیر سورۃ النورابدی من عواطف مود تہ یعجز اللسان عن اداء شکرہ۔ (۷) صاحب الفضیلہ الاستاذ محمد حبیب احمد (قاہرہ)۔ (۸) صاحب السماحۃ احمد بے عیسی اکبر الاطبابمصر۔ (۹) صاحب الفضیلۃ العلامۃ الجوہری الطنطاوی المفسر المشیر تفضل سیادتہ و جاء  عائدا کل یوم غدوۃ و عشیۃ و ابدی من اللطف الشفقۃ ما یفوق البیان۔ (۱۰) صاحب الفضیلۃ الاستاذ الشیخ احمد العد وی المفتش ادارۃ الوعظ احد اعضاء البعثۃ الازہرۃ إلی الہند۔ (۱۱) صاحب الفضیلۃ والسیادۃ الشیخ احمد محمد شاکر القاضی الشرعی۔ (۱۲) صاحب السماحۃ الاستاذ محمد عبد اللطیف الفحام وکیل جامع الازہر ۔(۱۳) الاستاذ محمد صبری عابدین مراقب الشئون الدینیۃ بالمجلس الاسلامی الاعلی۔ (۱۴) صاحب السماحۃ السید ابراہیم عربی نجل المرحوم السید احمد عرابی باشا۔ (۱۵) الاستاذ الدکتور عبد الوہاب غرام (مصر حلوان)۔ (۱۶) صاحب السماحۃ الدکتور محمد الدردیری۔ (۱۷) الشیخ محمد زاہد الکوثری الترکی۔ (۱۸) السید جمال حسینی ابن عمر السد ابن الحسینی المفتی الأعظم (فلسطین) (۱۹) الاستاذ سعید یعقوبی فلسطینی۔ (۲۰) الاستاذ عبد العزیز الاسلامبولی۔ (۲۱) الاستاذ عبد الرحمن العیسوی مدیر سیاستہ العالم الاسلامی (قاہرہ)۔ متعدد بار تشریف لاتے رہے اور لطف وکرم کا اظہار فرمایا۔ (۲۲) صاحب السماحۃ الشیخ عبد الرزاق ابو العزائم ۔ (۲۳) صاحب السماحۃ افندی صلاح الدین بن الشیخ العلامۃ عبد الوہاب النجار۔ (۲۴) الاستاذ محمد محمود احد اعضاء جمعیۃ الاخوان المسلمین۔ (۲۵) الحافظ السید محمود احمد المکی حلمیہ جدیدہ قاہرہ۔ (۲۶) محمد احمد الصحافی (قاہرہ) ۔(۲۷) صاحب السماحۃ عبد الغفور بے مدحت الافعانی۔

ان حضرات کے علاوہ بھی بہت سے علما و اعیان مصر تشریف لائے، جن کے اسمائے گرامی محفوظ نہ رہے۔ حالیہ ہندی کے ارکان اور خصوصا شیخ ریاض الدین حساب فاروقی نے خاص طور پر راحت رسانی کا خیال رکھا اور قاہرہ میں ہندستانی اہل علم -جو بسلسلۂ تحصیل علم، یا دیگر اسباب مصرمیں مقیم ہیں -پوری ہمدردی اور محبت کے ساتھ اکثر اوقات میرے پاس موجود رہے۔ ان میں سے مولانا سید احمد رضا صاحب بجنوری، مولانا محمد یوسف صاحب بنوری مدرس جامعہ اسلامی ڈابھیل ضلع سورت اور مولانا سید ابونصر صاحب اور مولانا محمد عمران صاحب اور مولانا عبد الصمد صاحب اور مولانا سعد الدین صاحب خصوصا مستحق شکریہ ہیں۔

اکابر مصر نے وفود کے اکرام و احترام میں کھانے اور چائے کی دعوتیں دیں، اور اگرچہ میں کسی دعوت میں بیماری کی وجہ سے اور رفیق محترم مولانا عبدالحق صاحب مدنی میری تیمارداری کی وجہ سے اکثر دعوتوں میں شریک نہ ہو سکے؛ لیکن تمام داعی حضرات مکاتیب دعوت اس زبردست خواہش کے ساتھ بھیجے کہ جس طرح ممکن ہو، مجلس دعوت میں میری شرکت ہوجائے۔ مکاتب دعوت میں سے دو تین مکاتیب کی نقل ان حضرات کے خلوص کا اندازہ کرنے کے خیال سے ذیل میں دی جاتی ہے:

 نقل مکتوب دعوۃ منجانب جلا لۃ الملک فاروق الاول ملک مصر دامت دولتہ

بامرحضرۃ صاحب الجلالۃ الملک یتشرف کبیر الامناء بدعوۃ حضرۃ صاحب الفضیلۃ مولانا محمد کفایت اللہ لتناول الشای یوم الخمیس ۱۳؍ اکتوبر۱۹۳۸ء، الساعۃ۳۰:۴ بعد الظہر بقصر رأس التین العامر(عنوان اللفافہ) حضرت صاحب الفضیلۃ مولانا محمد کفایت اللہ مفتی الہند الاعظم رئیس جمعیۃ العلماء بالہند ورئیس الوفد الہندی

نقل مکتوب دعوت منجانب الاستاذ الاکبر شیخ الجامع الازہر:

یتشرف محمد مصطفی المراغی شیخ الجامع الازہر بدعوۃ فضیلۃ المفتی الأکبر مولانا کفایت اللہ لتناول الشای بکلیۃ أصول الدین بشبرافی  تمام الساعۃ الخامسۃ من مساء یوم الجمعۃ۳۰؍ من شعبان ۱۳۵۷ھ، الموافق ۱۴؍اکتوبر ۱۳۳۸ء تکریما لوفود الاقطارالعربیۃ والإسلامیۃ للمؤتمر البرلمانی وتفضلوا بقبول عظیم الاحترام (عنوان اللفافۃ) حضرۃ صاحب الفضیلۃ المفتی الأکبر مولانا کفایت اللہ۔

نقل مکتوب دعوت منجانب صاحب الرفعہ رئیس الوزراء:

یتشرت محمد محمود باشا رئیس مجلس الوزراء بدعوۃ حضرت صاحب السیادۃ مولانا محمد کفایت اللہ لتناول الغداء بسرای الزعفران الساعۃ الدقیقۃ۳۰؍ مساء من یوم الثلاثاء۷؍ شعبان ۱۳۵۷ھ الموافق۱۱؍ اکتوبر ۱۹۳۸ء

نقل مکتوب دعوت منجانب صاحب الرفعہ مصطفے نحاس پاشا:

 مصطفے نحاس باشا یتشرف بدعوۃ حضرت صاحب السماحۃ مولانا السید کفایت اللہ لتناول الشای بدارہ بمصر الجدیدۃ من الساعۃ السابعۃ من مساء یوم الثلاثاء،۱۱؍اکتوبر۱۹۳۸ء تکریما لوفود البلاد العربیۃ والإسلامیۃ  والشرقیۃ (عنوان اللفافۃ) حضرت صاحب السماحۃ مولانا السید کفایت اللہ المفتی الاعظم

ان کے علاوہ جمعیۃ الشبان المسلمین وجمعیۃ الاخوان المسلمین وصاحب الرفعہ مولود مخلص باشا رئیس المجلس النیابی العراقی وصاحب السماحۃ احمد حلاوہ و ادارہ بیت المغرب وصاحب السیادۃ عبد اللہ بک لعلوم عضو المجلس الشیوخ و ادارہ اکتب المرشد العام و نا دی لبنان کی جانب سے شان دار دعوتیں دی گئیں۔ 

آخرمیں مناسب ہے کہ صاحب الفضیلہ سید امین حسینی مفتی اعظم فلسطین کا گرامی نامہ بھی یہاں درج کیا جائے، جو مجھے قاہرہ پہنچتے ہی موصول ہواتھا؛ کیوںکہ مفتی اعظم موصوف نے یہ خبر پاکر کہ میں مؤتمر فلسطین میں آرہا ہوں، پہلے ہی سے بھیج دیا تھا۔ اس گرامی نامہ کا ترجمہ درج کر رہا ہوں - صل عربی خط دفتر میں محفوظ ہے۔

بسم اللہ الرحمن الرحیم - الحمد للہ رب العلمین والصلوۃ والسلام علی سید المرسلین سیدنا محمد و آلہ و صحبہ اجمعین۔ حضرت صاحب السماحۃ والفضیلۃ استاذ علامہ کبیرمولانا کفایت اللہ مفتی اعظم ہند حفظہ اللہ تعالی آمین۔ میں آپ کی خدمت میں اہلاً و سہلااور خیر مقدم پیش کرتا ہوں اور خوش آمدید کہتا ہوں اور آپ کو سلامتی پر مبارک با د دیتا ہوں اور اللہ تعالی سے دعا کرتا ہوں کہ وہ آپ کے قیام مصر کو -جو ایک عمدہ اسلامی شہر ہے- پر لطف اور خوشگوار بنائے اور یہ کہ اللہ تعالی آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے کہ آپ نے محض خدا کے لیے اس کی حرمات مقدسہ کی طرف سے مدافعت اور مسجد اقصیٰ کے خدام اور اماکن مقدسہ کے نگہبان مظلوم فلسطینی مسلمان بھائیوں کی نصرت و امداد کے لیے دور دراز سفر کی زحمت گوارہ فرمائی۔ ظالموں نے فلسطین کے مسلمان مظلوموں پر یہ مظالم توڑے کہ ان کو تتر بتر کر دیا، قتل کیا، ان کے گھر ویران کر دیے، اُن کے مکان منہدم کیے، اُن کے مال ضبط کر لیے، تا کہ وہ تنگ آکران بلاد مقدسہ کو چھوڑ کر بھاگ جائیں۔ دشمن چاہتے ہیں کہ ان پاک شہروں سے خدا کی روشنی اور نور کو بجھا دیں؛ مگر اللہ تعالیٰ ان کی یہ آرزو پوری نہ ہونے دے گا۔ بلاداسلامیہ کے مسلمانوں کی طرف سے ان کو مد د پہنچائے گا، اور ان کو تحمل مصائب کی قوت عطا کرے گا۔ اور ان کو اپنے دینی مرکز کی حفاظت لیے جہاد کی توفیق ا رزانی کرے گا۔ مسلمانان فلسطین کی ہمت اس بات سے قوی ہو رہی ہے کہ روئے زمین کے مسلمان فلسطین کے معاملات میں دل سوزی اور ہمدردی ظاہر کر رہے ہیں۔ اور فلسطینی بھائیوں کی اعتماد کے طریقے اختیار کر رہے ہیں؛ خصوصاً آپ اور دیگر ہندستانی قوی الایمان مسلمان بھائی۔

ہمیں امید ہے کہ بلاد مقدسہ کے بارے میں اور اس کے مظلوم باشندوں کی مصیبتیں کم کرنے اور مظلومین فلسطین کی امداد کرنے میں ہمارے ہندستانی بھائی صف اوّل میں ہوںگے۔ اور ہمیں پوری توقع ہے کہ یہ مؤتمر آپ جیسے غیور مسلمانوں کی توجہ اور اُن کے صدق و اخلاص کی بدولت ایسا درجہ اور اتنی وقعت حاصل کرے گی کہ اللہ تعالیٰ اس کی مساعی کو کامیا ب فرمائے اور متوقع فوائد حاصل ہوجائیں۔ جو شخص خدا کے لیے مظلوم کی مدد کرے گا، خدا تعالی اس کی ضرور مدد کرے گا۔ خدا تعالیٰ آپ کی حفاظت کرے اور آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور اسلام اور مسلمانوں کی نصرت و امداد کے لیے آپ کے وجود مسعود کو تادیر قائم و باقی رکھے۔ آمین۔

سید امین الحسینی

مؤتمر کی کارروائی ختم ہونے کے بعد مؤتمر کی استقبالیہ کمیٹی کی طرف سے تمام ارکان مؤتمر کو بطور یادگار نقرہ تمغے تقسیم کیے گئے۔ میں 20؍ اکتوبر1938ء کو قاہرہ سے روانہ ہو کر یکم نومبر 1938 ء کو بمبئی پہنچا۔

 والحمد للہ اولا واخرا و الصلوۃ والسلام علی نبیہ ورسولہ محمد وآلہ وصحبہ اجمعین ۔

محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ ۔26؍فروری 1939ء۔دہلی۔ (مطبوعہ رپورٹ وفد فلسطین)

کانفرنس کی تجاویز و تجزیہ

قاہرہ میں منعقد اس کانفرنس میں جو تجاویز منظور کی گئیں، وہ درج ذیل ہیں:

۱۔اعلان بالفور کی تنسیخ

 یہ کانگریس اعلان بالفور کی تنسیخ اور نامنظوری کا فیصلہ کرتی ہے ۔ اس کی رائے میں فلسطین کو یہودیوں کا قومی وطن بنانا ناجائز ہے اور یہ ایک ایسا مسئلہ ہے ، جس کو کسی دلیل کی قوت سے جائز نہیں قرار دیا جاسکتا۔ 

۲۔آزاد دستوری حکومت

 کانگریس کی رائے میں فلسطین کے مسئلہ کا واحد حل یہ ہے کہ وہاں آزاد دستوری اور نمائندہ حکومت قائم کی جائے۔

۳۔باہمی میثاق

کانگریس کی رائے میں اب وقت آگیا ہے کہ فلسطین کے معاملہ کو از سر نو ایک نئے نقطۂ نگاہ سے دیکھا جائے۔ اس سلسلہ میں کانگریس ضروری قرار دیتی ہے کہ انگریزی حکومت اور آزادی فلسطین کے مجاہدوں کے درمیان ایک جدید باہمی معاہدہ طے پائے۔ 

۴۔جہاد کا فتویٰ

 قاہرہ کانفرنس نے آخری تجویز نہایت اہم اور مؤثر پاس کی: 

کانفرنس یہ قرار دیتی ہے کہ تمام تجاویز کی نگرانی کرنے اور ان کو عمل میں لانے کے لیے ایک مستقل کمیشن مقرر کیا جائے، جو قاہرہ میں ایک مرکز کے ماتحت کام کرے گا۔ اگر انگریزوں نے کانفرنس کی تجاویز کو منظور نہ کیا، تو کمیشن عربوں کو مشورہ دے گا کہ وہ انگریزوں اور یہودیوں کو اسلامی احکام کے مطابق حربی قرار دیں۔‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ، 16-20؍ اکتوبر 1938ء) 

تجاویز کی ناکامی

تجاویز تو انتہائی اثر انگیز تھیں؛ لیکن خود مسلمانوں ہی کے آپسی تفرقہ کی وجہ سے عملی طور پر کوئی کارروائی نہیں ہوسکی اور کانفرنس اپنے مقصد میں ناکام ہوگئی۔ حضرت علامہ مفتی اعظم صاحب نے ہندستان واپسی پر جن خیالات کا اظہار کیا، ان سے اس حقیقت پر بہ خوبی روشنی پڑتی ہے:

’’یہ بات حیرت انگیز ہے کہ مصر کے مسلمان-جو فلسطین کے پڑوسی ہیں- فلسطین کے حالات سے زیادہ متأثر نہیں۔ اگرچہ کانفرنس میں وزیر اعظم مصر محمود پاشا اور دیگر وزیر بھی شریک تھے؛ مگر فلسطین کے مسئلہ پر ان میں وہ جوش و خروش نہ تھا، جس کی توقع کی جاتی تھی۔کانفرنس کے متعلق بعض حلقوں میں یہ خیال ظاہر کیا جارہا ہے کہ وہ محض برطانیہ کے حق میں ایک قسم کی نمائش تھی۔ ایسا کہنے کے لیے کئی وجوہات تھیں۔ اول تو یہ کہ کانفرنس کے منتظم ان دنوں انگلینڈ گئے، جب کہ کانفرنس کی تیاریاں ہورہی تھیں۔ اور بیان کیا جاتا ہے کہ انھوں نے برطانوی حکام سے صورت حالات پر تبادلۂ خیال کیا ۔ دوسرے اس کانفرنس میں جو تجویزیں پاس ہوئی ہیں، و ہ اس امید پر مبنی ہیں کہ حکومت برطانیہ مسلمانوں کو مطمئن کرنے کے لیے فلسطین کی جانب اپنی پالیسی میں تبدیلی کرے گی۔ حضرت مفتی صاحب نے فرمایا : محض یہ برطانوی حکومت سے درخواست کرنے کی نسبت زیادہ دلیرانہ رہنمائی کی ضرورت تھی۔

وفد پارٹی نے کانفرنس میں اس لیے تعاون نہیں کیا کہ اصل میں وفد پارٹی کے لیڈر نحاس پاشا نے یہ تجویز پیش کی تھی کہ فلسطین کے مسئلہ پر مسلمانوں کا نظریہ معلوم کرنے کے لیے عالم گیر اسلامی کانفرنس کی جائے، اس وقت مصر میں جو پارٹی برسر اقتدار ہے، اس نے نحاس پاشا سے پہلے ہی کانفرنس کرلی۔ اور بیان کیا جاتا ہے کہ کہ وہ اپنی مجوزہ کانفرنس دسمبر میں بلائیں گے۔ اس کانفرنس میں نحاس پاشا سیاسی اختلافات کی بنا پر شریک نہیں ہوئے۔‘‘ 

(سہ روزہ الجمعیۃ، 9؍ نومبر1938ء) 

فلسطین کے تعلق سے جمعیت علمائے ہند کا جہد مسلسل

قاہرہ کانفرنس سے مایوس کن نتائج کے باوجود جمعیت نے اپنی کوشش ترک نہیں کی اور فلسطین کے متعلق اپنی آواز مسلسل بلند کرتی رہی۔ مولانا حفظ الرحمان صاحب ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ فلسطین نے ہندستانی مسلمانوں سے اپیل کی کہ عملی اقدام کے لیے 7؍نومبر1938ء سے ہفتۂ فلسطین منایا جائے۔ مولانا نے اپنے بیان میں کہا کہ: 

’’آل انڈیا مجلس تحفظ فلسطین کے تمام عملی اقدام قاہرہ کانفرنس کے انعقاد تک موقوف تھے۔ قاہرہ کانفرنس منعقد ہوکر ختم ہوچکی ہے، جس کا نتیجہ کچھ نہیں نکلا۔ 

فلسطین کے حالات پہلے سے بہت زیادہ ناگفتہ بہ ہورہے ہیں، اس لیے آل انڈیا مجلس تحفظ فلسطین عنقریب عملی قدم اٹھانے والی ہے۔ اور حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کی واپسی پر -جو اب تک اپنی بیماری کی وجہ سے واپس نہیں آسکے ہیں-پروگرام مرتب کرکے کام شروع کردیا جائے گا۔ قبل ازیں ایک مرتبہ پھر مسلمانان فلسطین کی توجہ دلائی جاتی ہے کہ وہ اعراب فلسطین اور مسجد اقصیٰ کی حفاظت و حرمت کے لیے ہر طرح کی قربانی دینے کو تیار ہوجائیں۔ اور رمضان المبارک کے مقدس ماہ میں ۷؍ نومبر سے 15؍نومبر تک ہفتہ فلسطین مناکر اپنی طاقت و قوت کو منظم و متحد کرلیں۔ 

آل انڈیا مجلس تحفظ فلسطین کی شاخوں اور جمعیت علمائے ہند، مجلس احرار اسلام اور دیگر قومی و مذہبی فعال اداروں کے کارکنان سے درخواست ہے کہ وہ اس ہفتہ کو ہر جگہ اور ہر مقام پر کامیاب بنائیں ۔ پروگرام یہ ہوگاکہ اس ہفتہ میں زیادہ سے زیادہ رضاکار بھرتی کیے جائیں اور مجلس تحفظ فلسطین کے بکثرت معاون بنائے جائیں۔ (سہ روزہ الجمعیۃ، یکم نومبر1938ء)

اس اپیل پر پورے بھارت کے مسلمانوں نے عمل کیا اور ہفتۂ فلسطین مناکر حکومت برطانیہ کو اپنے جذبات سے آگاہ کیا۔

قاہرہ میں صدر جمعیت کا اعزاز

قاہرہ کانفرنس کے موقع پر جمعیت علمائے ہند کے لیے ایک خوشی کی خبر یہ رہی کہ علامہ مراغی شیخ الازہر بذات خود حضرت مفتی اعظم مفتی کفایت اللہ صاحب کی خدمت میں ملاقات کے لیے حاضر ہوئے۔ اور اس خبر کو مصر کے علمی حلقوں میں بڑی اہمیت کے ساتھ پڑھی گئی۔ 

’’قاہرہ۔11؍ اکتوبر۔ آج مصر کے علمی حلقوں میں یہ خبر بہت اہمیت کے ساتھ سنی گئی کہ فضیلۃ الاستاذ حضرت علامہ محمد مصطفیٰ المراغی استاذ اکبر شیخ جامعہ ازہر ، حضرت مفتی اعظم مفتی کفایت اللہ صاحب سے ملاقات کرنے کے لیے اپنی موٹر میں مفتی صاحب کی جائے قیام پر تشریف لائے۔ مفتی صاحب اس وقت آرام فرما رہے تھے اور علالت کی وجہ سے بستر خواب پر تھے، اس لیے شیخ اکبر اپنا کارڈ چھوڑ گئے۔ 

یہ خاص امتیاز تھا۔ شیخ ازہر کا درجہ یہاں شاہ مصر کے بعد ہے۔ شیخ یہاں کبھی کسی ملاقات کے لیے خود نہیں جاتے۔ شیخ اکبر کو ایک ہزار اشرفیاں بطورتن خواہ ملتی ہیں، جو وزیر اعظم کی تن خواہ سے کہیں زیادہ ہے۔ کل حضرت مفتی صاحب نے شکریہ کا خط شیخ اکبر کی خدمت میں بھیج دیا ہے۔‘‘

 (سہ روزہ الجمعیۃ، 16-20؍اکتوبر1938ء) 

قاہرہ سے حضرت مفتی اعظم ہند کامکتوب

حضرت علامہ مفتی کفایت اللہ صاحب کا مکتوب گرامی دفتر جمعیت علمائے ہند میں قاہرہ سے موصول ہوا ہے۔ اس خط سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت محترم کی طبیعت قاہرہ کانفرنس کے دوران میں برابر ناساز رہی۔ مکتوب میں تجویز کا بھی ذکر ہے۔خط کے ایک حصہ سے اس عمیق عقیدت کا مظاہرہ ہوتا ہے، جس کا اظہار حضرت مفتی صاحب کی ذات اور ان کی مخلصانہ خدمات کے متعلق عام طور پر مصر کے علمی اور سیاسی حلقوں میں کیا گیا ہے۔ (مدیر)

حضرت مفتی صاحب قبلہ نے پہلا خط 6؍ اکتوبر کو پورٹ سعید سے لکھا تھا، جس میں حضرت نے اپنی طبیعت کی ناسازی کا مختصر حال درج کیا تھا۔ خط بھی بہت مختصر تھا۔ اس خط سے معلوم ہوتا تھا کہ مفتی صاحب کو بمبئی سے ہی بخار ہو گیا تھا۔ راستے میں بخار ایک سو چار ڈگری تک ہو گیا۔ جب پورٹ سعید پہنچے، جب بھی بخار تھا، لیکن اسی حالت میں حضرت قبلہ نے چند سطریں لکھ کر ہوائی جہاز سے روانہ کر دیں۔ دوسرا خط حضرت نے 11؍ اکتوبر کو لکھا ہے، جو حسب ذیل ہے:

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبر کاتہ۔ آج مؤتمر کا آخری جلسہ ہو رہا ہوگا؛ لیکن مجھ کو ڈاکٹر کی طرف سے اتنی بھی اجازت نہیں کہ اٹھ کر دوچار قدم چل پھرلوں۔ بخار 29؍ ستمبر سے شروع ہوا اور آج تک چوبیس گھنٹہ لازم رہتا ہے۔ کھانا قطعاً بند کر رکھا ہے۔ یہاں کے ڈاکٹر دودھ نہیں دیتے۔ کہتے ہیں چائے سادی پیواور کچھ مت کھاؤ۔ ہم کچھ سموسمیاں بمبئی سے لائے تھے، وہ اسٹیمر میں دوستوں نے کھائی۔ کچھ بچ گئے، وہ یہاں لے آئے۔ وہ کسی وقت جب بہت بے چینی ہوتی ہے، کھا لیتا ہوں۔ یہاں دودو، تین تین ڈاکٹر روزانہ دیکھتے ہیں، باہمی مشورہ سے علاج کرتے ہیں؛ مگر میری سمجھ میں ان کا طریقۂ علاج نہیں آتا۔ دیسی طبیب اور دیسی دواخانہ کا نام نہیں۔

چودھری خلیق الزماں صاحب،عبد الرحمان صدیقی اور حسرت موہانی بڑی ہمد ردی سے دیکھ بھال رکھتے ہیں۔ مولوی سید احمد رضا، مولوی یوسف بنوری، ریاض الدین فاروقی صاحب الجالیۃ، عبد الصمد صاحب بڑی ہمدردی اور دل سوزی سے خبر گیری کرتے ہیں۔ اور بھی ہندستان کے لوگ ہیں، جو نہایت محبت سے پیش آتے ہیں۔مصر کے علمی حلقے کے اکابر، علمائے ازہر کے وکیل، معتمد اور قاضی شرعی اور بہت سے اکا بر آتے رہے، کسی سے ملاقات ہوئی اور کسی سے نیم بے ہوشی کی وجہ سے ملاقات نہ ہو سکی۔ اپنے اپنے کارڈ دے گئے۔ جامع ازہر کے شیخ اکبر محمد مصطفے المراغی- جو مصر میں ملک فاروق کے سوا کسی کے یہاں نہیں جاتے،حتیٰ کہ رئیس الوزراء بھی ان کے مکان پر آئیں گے، شیخ ان کے گھر بھی نہ جائیں گے- وہ ملنے تشریف لائے، اور میں چوںکہ اس وقت نیم بے ہوشی کی حالت میں تھا، اس لیے اپنا کارڈ دے کر چلے گئے۔ بیسیوں دعوتوں کے کارڈآئے ہیں، کسی میں شریک نہ ہو سکا۔ آج رئیس الوزراء کے یہاں دعوت تھی اور شام کو مصطفے نحاس پاشارئیس وفد پارٹی کے یہاں ہے، معذرت نامے بھیج رہا ہوں۔

مؤتمر میں جو تجویز زیر غور تھی، اس کا مسودہ میں نے منگا کر دیکھ لیا تھا۔ اگر وہ پاس ہوگئی، تو کافی ہوگی اور اس کا مفاد یہ ہو گا ایک وفد لندن مطالبات لے کر جائے گا۔ اور وہاں ارباب حل و عقد کے روبر پیش کرے گا۔ پھر اگروہ تسلیم کر لیے گئے، توفبہا؛ ورنہ پھر عالم اسلامی یہ فیصلہ کرلے گا کہ اب انگریز کی اور مسلمانوں کی لڑائی ہے۔ پھر جوملک جو کچھ کرسکے گا، وہ کرے گا۔

موسم یہاں کا دہلی کے موسم سے مختلف نہیں ہے۔ میں اپنی حالت اور بخار کی کیفیت اور ڈاکٹروں کی تشخیص و علاج کو دیکھتے ہوئے اس کی امید نہیں رکھتا کہ23؍ اکتوبر کے جہازسے بھی روانگی ہو سکے۔ اور اگر اس حالت میں اور کوئی نیا تغیر ہوگیا، اور کوئی اور بیماری پیداہوگئی، پھر شاید واپسی ہی نا ممکن ہو جائے گی۔ بہر حال جو کچھ خدا تعالیٰ کو منظور ہو گا، وہ ہوگا۔

محمد کفایت اللہ کان اللہ لہ۔ (سہ روزہ الجمعیۃ،یکم نومبر1938ء)

مجلس تحفظ فلسطین کا اجلاس

21؍دسمبر1938ء کو صبح سے جمعیت علما کے دفتر میں مجلس تحفظ فلسطین کا اجلاس ہو رہا ہے۔ شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد صاحب، حضرت مفتی کفایت اللہ صاحب، مولانا احمد سعید صاحب، مولانا حفظ الرحمان صاحب، مولانا فخر الدین صاحب، مولانا بشیر احمد صاحب، مولانا حبیب الرحمان صاحب، مولانا شاہ صاحب فاخری، مولانا حامد الانصاری غازی، ماسٹرہلال احمد زبیری کے علاوہ متعدد حضرات حصہ لے رہے ہیں۔ کارروائی کو صیغۂ راز میں رکھا جا رہا ہے، پر یس کے نمائندگان کو بھی داخلہ کی اجازت نہیں دی گئی۔ کارروائی کے متعلق یقینی طور پر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ جہاں تک ایک عام قیاس اور اندازہ کا تعلق ہے،یہ کہاجاسکتاہے کہ مجلس کے پیش نظر قاہرہ کانفرنس کے بعد سے اس وقت تک کے حالات، قدس کی موجودہ صورت حال، فلسطین کا نفرنس لندن کے انعقاد سے پیدا ہونے والے نتائج، فلسطین کے مسئلہ میں تمام مسلمانوں کے رجحانات طبیعت اور بالخصوص وہ صورت حال ہے، جو مجلس تحفظ فلسطین کے کاموں میں مسلم لیگ کی طرف سے رکاوٹیں پیدا کرنے کے سلسلہ میں سامنے آگئی ہے۔ 

اندازہ کیا جاتا ہے کہ صبح کی نشست میں مولانا حفظ الرحمان صاحب ناظم مجلس تحفظ فلسطین نے قاہرہ کا نفرنس کے بعد سے اس وقت کے حالات سے متعلق رپورٹ مجلس کے سامنے رکھی ہے۔امید کی جاتی ہے کہ مجلس کے فیصلے بہت جلد سامنے آجائیں گے۔ اور حالات کے پیش نظر نہایت اہم ہوں گے۔(سہ روزہ الجمعیۃ، 20-24؍دسمبر1938ء)

21؍دسمبر سے 22؍ دسمبر تک اراکین مجلس تحفظ فلسطین کا اجتماع دفتر جمعیت علمائے ہند میں منعقد ہوا۔ دو دن کے غور و فکر کا نتیجہ حسب ذیل ہے:

دو دن کی بحث و تمحیص اور موقعہ کی نزاکت اور تمام صورت حالات پر غور کرنے کے بعد مجلس نے طے کیا کہ چوںکہ برطانوی انتدابی حکومت کے مظالم اور تشدد کی پالیسی اس وقت تک فلسطین میں قائم ہے؛ بلکہ اس کے حالیہ اقدامات نے قبلۂ اول اور مسجد اقصیٰ کے تقدس اور احترام کو مجروح کر دیا ہے، نیز فلسطین کے عرب باشندوں کے جائز وطنی مطالبات کی منظوری کا اعلان نہیں کیا؛ یہ واضح کر دینا بھی ضروری ہے کہ قاہرہ کا نفرنس کی قانونی اورآئینی تجاویز کے نتائج ابھی تک ظہور میں نہیں آئے۔ مجلس تحفظ فلسطین، لندن کی مجوزہ کانفرنس میں یہودیوں کو مشتبہ نظر سے دیکھتی ہے اور اس کی یہ بھی قطعی رائے ہے کہ اگرمفتی اعظم فلسطین اور ان کی جماعت کو کا نفرنس میں شرکت کاموقع نہ دیا گیا، تو مسئلۂ فلسطین کا صحیح حل نہیں ہوسکتا۔

 اس لیے مجلس کے لیے فریضۂ مذہبی کی ادائیگی کے طور پر سول نافرمانی کرنے کا اقدام کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے۔ اس اقدام کو مؤثر طریق پر شروع کرنے کا پروگرام زیر غور ہے، جو عنقریب سول نافرمانی شروع کرنے کی تاریخ کے اعلان کے ساتھ شائع کر دیا جائے گا۔

 اجلاس میں کمال پاشا، مولانا شوکت علی، وبیگم صاحبہ مرحومہ ڈاکٹر انصاری کے انتقال پر تجاویز تعزیت پاس کی گئیں۔(سہ روزہ الجمعیۃ،28؍دسمبر1938ء)

برطانیہ کی دو رخی پالیسی اور ہماری منزل

مولانامحمد حفظ الرحمان صاحب ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ فلسطین نے 16؍جنوری 1939ء کو برطانیہ کی دورخی پالیسی پر ایک بیان دیتے ہوئے فرمایا کہ:

’’بار بار اس کا ذکر فضول ہے کہ فلسطین کے عربوں پر جو بے پناہ مظالم ہو رہے ہیں اور وحشیانہ قتل و غارت کا بازار گرم ہے، اس کی مثال ماضی و حال کی کسی جابر سے جابر حکومت میں بھی نہیں پائی جاتی،اب وہاں جو کچھ ہو رہا ہے، صرف اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ مظلوم عربوں کا خون پانی کی طرح ارزاں ہے اور برٹش شہنشاہیت کی جانب سے وہاں انصاف کے علاوہ سب کچھ مہیا ہے۔ خیال تھا کہ ان تمام مظالم کے بعد- جو حکومت کی جانب سے وہاں ہوتے رہے ہیں-ہونے والی گول میز کانفرنس میں مجاہدین فلسطین اور مفتی اعظم کے مقرر کردہ نمائندوںکے ساتھ مل جل کر کوئی ایسا حل ہوجائے گا، جس سے گذشتہ وحشیانہ طرز عمل کی تلافی ہوسکے گی؛ مگر حالیہ انتہائی جبر و تشدد کے دور دورہ سے اندازہ ہوتا ہے کہ حکومت کے سر پرغرور پر ابھی تک استبدادو بر بریت کابھوت سوار ہے۔

لیکن حکومت کے اس طرز عمل سے زیادہ مسلمانان ہند کے اس جمود پر حیرت و تعجب ہے کہ ان میں مظلومین فلسطین کی امداد کے لیے کوئی حرکت پیدا نہیں ہوتی۔ نہ مالی امداد کا جذبہ ہے اور نہ عملی فداکاری کا۔

اول و آخر تجاویز ہیں اور بس۔ مجلس تحفظ فلسطین اپنی فداکارانہ تحریک کو بھی جب ہی چلا سکتی اور کا میاب بنا سکتی ہے ،جب کہ ہندستان کے ہر گوشہ میں مجلس کی شاخیں قائم ہوجائیں اور کم از کم صوبہ کے مرکزی مقام میں مجلس کا نظام اس طرح مضبوط ہو جائے کہ جس وقت مرکز سے اطلاع پہنچے، تو فوراً ہر صوبہ کے مرکزی مقام پر اسمبلی ہال کے سامنے زبردست مظاہرہ کیا جائے اور سمجھ دار اور باوقار اشخاص کا ایک وفد ہر صوبہ کے وزیر عظیم سے اس صوبہ کی پبلک کی جانب سے مل کر اس پر زور دے کہ وہ گورنر جنرل اور حکومت ہند کو مطلع کرے کہ اس صوبہ کے باشندے فلسطین کے متعلق یہ جذبات رکھتے ہیں۔ اگر ان کا لحاظ نہ رکھا گیا، تو پر امن تحریک کے ذریعہ گورنمنٹ برطانیہ کے خلاف جد و جہد جلد ہی شروع کر دی جائے گی۔

مرکز میں اگر تمام صوبوں سے مجالس کے استحکام اور ان کی تیاری کی جلد اطلاعات بہم پہنچ جائیں، تو ہر صوبہ میں پبلک مظاہرہ، مسلم ارکان اسمبلی اور وزیر اعظم حکومت صوبہ سے مطالبہ کا صحیح پروگرام شائع کر دیا جائے۔

 اس لیے ہر صوبہ کے فدا کاروں سے گزارش ہے کہ وہ جلد از جلد اپنے اپنے صوبوں کی مجالس فلسطین اور دیگر انجمنوں کے ان ارکان کی مستعدی اور تیاری سے مطلع کریں، جو اس منزل میں گامزن ہونے کو تیار ہوں۔‘‘

خادم ملت :محمد حفظ الرحمان ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ فلسطین دہلی۔

(سہ روزہ الجمعیۃ، 16؍ جنوری 1939ء)

گیارہ فروری کو فلسطین کی آزادی کا دن منانے کی اپیل

9؍فروری 1939ء کو آل انڈیا مجلس تحفظ فلسطین نے درج ذیل اعلان شائع کرتے ہوئے اپیل کی کہ وہ 11؍فروری1939ء کو فلسطین کی آزادی کا دن منائیں:

’’مجلس تحفظ فلسطین نے ہندستان کے تمام صوبوں میں جمعیت علما، مجلس احرار اسلام اور اپنی شاخوں کو اطلاع دی ہے کہ لندن کا نفرنس میں مجاہدین فلسطین اور مفتی اعظم کے ڈیلیگیشن کی شرکت کے بعد ضروری ہے کہ ہر صوبہ کے مرکزی مقام پر 11؍ فروری کو فلسطین کی آزادی کے متعلق زبردست جلسے کیے جائیں۔ اور اسی تاریخ کو جلسہ کے بعد ایک مؤقر وفد صوبہ کے وزیر اعظم سے ملاقات کر کے یہ مطالبہ پیش کرے کہ وہ صوبہ کے مسلمانوں اور قوم پر وروں کی جانب سے گورنمنٹ آف انڈیا کو مطلع کرے کہ وہ پارلیمینٹ پر زور دے کہ وہ مجاہدین فلسطین کے مطالبات کو ضرور بالضرور منظور کرے؛ ورنہ مسلمانان ہند مجاہدین کی امداد کے لیے گورنمنٹ برطانیہ کے مقابلہ میں مقاومت کے لیے تیار ہیں۔‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ،9؍فروری1939ء)

چیمبر لین کی دو رخی پالیسی پر جمعیت اور مجلس احرار کا احتجاج

1936 سے 1939 ء تک جاری رہنے والی عرب جنگ ، فلسطین کے مستقبل کے نظامِ حکومت پر بات چیت کرنے، برطانوی مینڈیٹ کے خاتمے پر غور کرنے اور کشیدگی کا سیاسی حل نکالنے کے مقصد سے ، برطانوی وزیراعظم مسٹر چیمبر لین کی دعوت پر لندن میں ایک کانفرنس ہوئی، جسے تاریخ میں لندن کانفرنس 1939ء یا سینٹ جیمز پیلس کانفرنس کے نام سے جانا جاتا ہے۔یہ کانفرنس 7؍فروری کو شروع ہو کر 17؍مارچ 1939ء تک جاری رہی۔ اس میں برطانوی حکام، فلسطینی رہنماؤں، اور مصر، عراق، سعودی عرب، یمن اور ٹرانس جارڈن (شرق اردن) کے عرب نمائندوں کے ساتھ ساتھ یہودی وفود نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کی ایک خاص بات یہ تھی کہ عرب وفد نے یہودی نمائندوں کے ساتھ ایک ہی کمرے میں بیٹھنے اور براہِ راست بات چیت سے انکار کر دیا۔ جس کے نتیجے میں برطانوی وزیر اعظم نیویل چیمبرلین اور دیگر حکام کو دونوں وفود کے ساتھ الگ الگ اجلاس منعقد کرنے پڑے۔

اس کانفرنس کے دوران 22؍فروری کو برطانوی اور عرب وفود کے درمیان ایک انتہائی اہم اور فیصلہ کن ملاقات ہوئی۔ اس اجلاس میں برطانوی نوآبادیاتی سیکریٹری میلکم میکڈونلڈ نے عرب وفد کے سامنے برطانوی موقف واضح کیا، جس کے اہم نکات درج ذیل تھے:

فوری آزادی سے انکار: برطانیہ نے فلسطین کی فوری آزادی کے عرب مطالبے کو مسترد کر دیا اور اس کے بجائے ریاستی معاملات میں عربوں کی محدود شمولیت کی ایک اسکیم تجویز کی۔

امیگریشن (آبادکاری): یہودی امیگریشن کو مکمل طور پر روکنے کا عرب موقف بھی نامنظور کر دیا گیا اور اس کی جگہ محدود امیگریشن کی تجویز پیش کی گئی۔

اراضی کی فروخت:یہودیوں کو زمین کی فروخت پر مکمل پابندی کا مطالبہ بھی ٹھکرا دیا گیا۔ اس کے بجائے فلسطین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دی گئی: ایک وہ حصہ جہاں زمین کی فروخت جاری رہے گی، دوسرا جہاں اسے ریگولیٹ (باقاعدہ) کیا جائے گا، اور تیسرا جہاں فروخت ممنوع ہوگی۔

ان تجاویز پر اتفاق نہ ہونے کے باعث اس اجلاس کو 22؍فروری کو ہی ملتوی کر دیا گیا۔ بالآخر، یہ تاریخی کانفرنس 17؍مارچ 1939ء کو کسی بھی فریق کے درمیان حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئی۔ مذاکرات کی اس ناکامی کے بعد، برطانیہ نے یک طرفہ طور پر اپنی پالیسی وضع کی اور مشہورمئی 1939ء کا وائٹ پیپر (White Paper of 1939) جاری کیا۔ اس پالیسی کے تحت فلسطین میں آئندہ پانچ سالوں کے لیے یہودی آباد کاری کو صرف 75,000 ؍افراد تک محدود کر دیا گیا اور یہودیوں کو زمین کی فروخت پر سخت پابندیاں عائد کر دی گئیں۔

اس کے متعلق جناب جاں باز مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ:

’’برطانوی وزیراعظم مسٹر چیمبر لین کی دعوت پر لندن میں7؍فروری1939ء کو فلسطین کانفرنس شروع ہوئی۔ اس میں شمولیت کے لیے عربی وفد-جو عراق، حجاز، مصر، فلسطین ،یمن اور شرق اردن پر مشتمل تھا- انھوں نے عین وقت پریہود وفدکے ساتھ بیٹھنے سے انکار کر دیا۔ اس پر دونوں وفود کے علاحدہ علاحدہ بیٹھنے کا انتظام کر دیا گیا۔کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں چیمبر لین نے کہا:

’’جیسے کہ آپ سب کو معلوم ہے، میری پالیسی امن کی پالیسی ہے۔ میں ہمیشہ اس بات کا قائل رہا ہوں کہ آپس کے جھگڑے باہمی صلاح ومشورے سے طے کر لیے جائیں۔ لہذا ضرورت ہے کہ فریقین ایک دوسرے سے میانہ روی اختیار کریں اور بھائیوں کی طرح رہیں۔ ایسے موقعہ پربہ حیثیت ایک ہمسایہ ملک کے میرا فرض ہے کہ میں فریقین کے درمیان مفاہمت کراؤں اور فریقین کے مطالبات از راہ انصاف طے کرانے کی کوشش کروں۔ گو یہ کام مشکل ہے، تاہم اگر رواداری سے کام لیا گیا، تو تصفیہ ناممکن نہیں۔‘‘

 اس کے بعد عرب وفد کے لیڈر نے عرب اور فلسطین کے مطالبات پیش کرتے ہوئے صرف اتنا کہا:

’’ہمارے مطالبات کو امن اور انصاف کے مطابق طے کیا جائے۔‘‘

 ان مطالبات کے جواب میں چیمبر لین نے یہودیوں سے کہا:

’’ آپ نے فلسطین میں سخت مشکل حالات کا بڑی ہمت سے مقابلہ کیا ہے۔‘‘

 چیمبر لین کی اس دورخی پالیسی کے باعث لندن فلسطین کانفرنس ناکام ہوگئی، تو 15؍ فروری(1939ء) کو شمال مغربی صوبہ سرحد کے احرار رہنماؤں نے جمعیت علمائے سرحد اورفلسطین کمیٹی کے تعاون سے ایک قرارداد کے ذریعہ برطانیہ کو چیلنج کیا گیا کہ اگر فلسطین کے عربوں کے مطالبات منظورنہ کیے گئے، تو تمام ہندستان اور خصوصا سرحد کے عوام سول نافرمانی کریں گے۔ اگر اس سے حالات بگڑ گئے، تو اس کی تمام تر ذمہ داری برطانیہ پر ہوگی۔

اس قرار داد کی ایک نقل وائسرائے ہند کو بھیج دی گئی۔

اسی تاریخ کو بہار کے وزیراعظم سری کرشن سنہاسے احرار اور جمعیت کامشترک وفدملا۔ انھیں فلسطین کے معاملات پر توجہ دلائی گئی۔ جواب میں بہار کے وزیر اعظم نے کہا: آپ کا مطالبہ بجا ہے؛ کیوںکہ فلسطین کے متعلق کانگریس کی پالیسی سب پر عیاں ہے۔ بنا بریں مجھے آپ کے مقصد سے پوری ہمدردی ہے اور میں بحری تار کے ذریعے برطانیہ کو آپ کے جذبات سے مطلع کروں گا۔(کاروان احرار، جلد چہارم، ص؍25)

آل انڈیا مجلس تحفظ فلسطین کا صوبائی پروگرام

وڈہیڈکمیشن کی اسکیم کو منسوخ کرنے کے بعد لندن میں فلسطین کانفرنس کا انعقاد اور اس میں سادہ لوح مجاہدین فلسطین کے نمائندوں کی جبری شرکت شاطران برطانیہ کی ایک سیاسی چال ہے۔ اور اس کا نتیجہ اظہرمن الشمس ہے؛ مگر پھر بھی اس کو مؤثر بنانے اور مدبران برطانیہ کو کانفرنس کے موقعہ پر دعوت غوروفکر دینے کے لیے آل انڈیا مجلس تحفظ فلسطین نے ہندستان کی صوبجاتی حکومتوں کی وساطت سے یہ پیغام11؍ فروری 1939ء کو پہنچا ہی دیا کہ اگر حکومت برطانیہ نے مجاہدین فلسطین کے مطالبات کو تسلیم نہیں کیا، تو ہندستان مجاہدین کی امداد کے لیے ہر قربانی کرنے کو تیار ہے۔

 اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ آل انڈیا مجلس تحفظ فلسطین کی طرف سے ذمہ داران و کارکنان صوبائی مجالس، جمعیت علما، مجلس احرار، مجلس تحفظ فلسطین کے نام ایک سرکلر جاری کیا گیا تھا، جس میں ان کو اطلاع دی گئی تھی کہ وہ اپنے اپنے صوبہ کے مرکزی مقام پر ۱۱؍ فروری کو ایک پبلک جلسہ کریں، جس میں یہ تجویز پاس کی جائے کہ:

صوبہ… کے تمام مسلمان اور قوم پر ور فلسطین میں برطانیہ کے بڑھتے ہوئے مظالم پر اظہار غیض و غضب کرتے ہیں اور برٹش ایمپائرسے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ فورا اپنی رفتار کو بدلے اور مجاہدین کے مطالبات کو تسلیم کرلے ؛ورنہ صوبہ کے تمام مسلمان مجلس تحفظ فلسطین کی زیرنگرانی سول نافرمانی کے لیے تیار  ہیں۔ نیز صو بائی حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اس مطالبہ کو جلد از جلد حکومت ہند کی معرفت برٹش حکومت تک پہنچادے ۔ (تلخیص) ۔ اس کے بعد ایک مؤقر وفد مرتب کر کے صوبہ کے وزیر اعظم سے ملاقات کی جائے اور مذکورہ بالا مطالبہ پیش کیاجائے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں جہاں جہاں وفود نے وزیر اعظموں سے ملاقات کی ہے، وہاں کی امید افزا اطلاعات آرہی ہیں۔ اطلاعات کا خلاصہ یہ ہے کہ وزیر اعظموں نے وفود کے مطالبات کو بغور سنا اور نوٹ کر لیا۔ اور حکومت ہند کی معرفت برٹش حکومت تک پہنچانے کا یقین دلایا۔حسب ذیل صوبوں کی اطلاعات دفتر میں آچکی ہیں:

صوبہ سندھ: حضرت مولانا محمد صادق صاحب صدر جمعیت علمائے سندھ کی قیادت میں وفد مرتب ہوا اور مولانا محمد صدیق صاحب، مولانا حکیم فتح محمد صاحب، مولوی حافظ محمد حسن صاحب، مسٹر حافظ شریف حسین صاحب نے وفد میں شرکت فرمائی۔

صوبہ سرحد:حضرت مولانا عبد الحق صاحب نافع مدرس دار العلوم دیو بند کی قیادت میں وفد مرتب ہوا اور مولانا گلاب آقا صاحب، مولانا حافظ عبد القیوم صاحب پوپلزئی، مولانا عبد الحنان صاحب، مولانا محمد لطیف اللہ صاحب، مولانا سید عبداللہ شاہ صاحب شریک وفد ہوئے۔

صوبہ سی پی:حضرت مولانا چراغ الدین صاحب کی زیر قیادت وفد مرتب ہوا اور مولانامقبول احمد صاحب ،مولانا عبد الرؤف صاحب محوی، مولانا عبد الغفار صاحب شریک وفد ہوئے۔

صوبہ بہار:حضرت مولانا ابوالمحاسن سید محمد سجاد صاحب کی زیر قیادت وفد نے ملاقات کی۔ توقع ہے کہ باقی صوبوں کے ذمہ دار حضرات بھی اپنے ہاں کی تفصیلات سے جلد ہی مطلع فرمائیں گے۔

خادم ملت محمد حفظ الرحمان ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ فلسطین دہلی۔ 

(سہ روزہ الجمعیۃ،24؍ فروری 1939ء)

مقاطعات ثلاثہ کی اپیل

جمعیت علمائے ہند نے اپنا گیارھواں اجلاس عام 3-4-5-6؍ مارچ 1939ء کو منعقد کیا، جس میں جناب ڈاکٹر شوکت اللہ شاہ انصاری صاحب صدر مجلس استقبالیہ نے اپنے خطبۂ استقبالیہ میں فلسطین کی تازہ ترین صورت حال پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ: 

(الف)فلسطین کی جدوجہد آج فیصلہ کن منزل میں ہے اور اِس سلسلہ میں یک طرف برطانوی استعمار نے انتہائی تشدد انگیزی سے کام لیا ہے۔ چنانچہ پچیس ہزار سے زائد برطانوی افواج فلسطین میں مصروف کار ہیں۔ دوسری طرف برطانوی استعمار کی یہ کوشش ہے کہ دفع الوقتی کی خاطر ایک نام نہاد آزاد حکومت کا اعلان کردیا جائے، تاکہ بین الاقوامی حالات کے رُوبہ اصلاح ہونے کے بعد ازسرِ نو اپنا اقتدار مطلق قائم کرلیا جائے۔

الٰہ آباد فلسطین کانفرنس سے لے کر اب تک ہمارے سامنے مقاطعات ثلاثہ یعنی ولایتی مال، شاہی دربار اور فوجی بھرتی کے بائیکاٹ کا پروگرام ہے۔ ہمیں چاہیے کہ بلاامتیاز مسلک ہم جملہ مسلمان جماعتوں کو اوّل فرصت میں ان باتوں پر متحد کرلیں۔ دوسری طرف ہمیں وطن کی استعمار دشمن جہدوجہد میں شریک ہونے کی مسلمانوں کو دعوت دینا چاہیے۔‘‘

بعد ازاں اسی اجلاس میں، جب شیخ التفسیر حضرت علامہ مولانا سیّد عبدالحق صاحب مدنیؒ صدر اجلاس نے اپنا خطبۂ صدارت پیش کیا، تو مسئلۂ فلسطین پر مسلمانوں کو للکارتے ہوئے فرمایا کہ: 

’’غلام ہندستان کے بسنے والے مسلمانو! فلسطین کے موجودہ ہنگامے صرف اسی لیے ہیں کہ تمھاری غلامی کو محفوظ رکھا جائے، تم بہت چیخے اور چیخ رہے ہو۔ مگر تمھاری چیخ وپکار بے کار رہی اور بے کار رہے گی؛ کیونکہ یہاں تمھاری چیخ و پکار براہِ راست برطانیہ کے شہنشاہی مفاد سے ٹکراتی ہے، تمھاری چیخ و پکار صرف اسی وقت سماعت کے قابل ہوسکتی ہے، جب انگریز کا نقصان نہ ہوتا ہو۔ اگر آپ واقعی طور پر فلسطین کو آزاد دیکھنا چاہتے ہیں، تو اس کی صورت صرف یہی ہے کہ اپنی غلامی کی زنجیروں کو کاٹ ڈالیں اور انگریز کی اُن تمام اغراض کا بیڑا بحر روم میں غرق کردیں، جن کی تکمیل کے لیے وہ فلسطین اور مصر کو غلام بنائے ہوئے ہے۔

میرے خیال میں قبلۂ اوّل کی اہمیت، اس کا تقدس، عربی مظلوموں اور معصوموں کا احترام ہمارے اوپر صرف ایک ہی فرض عائد کرتا ہے، یعنی آزادی کی انتہائی جدوجہد۔ 

جمعیت علمائے ہند نے گذشتہ دِنوں میں مجلس تحفظ فلسطین کے نام سے ایک کمیٹی بنائی تھی؛ لیکن افسوس آپ کے جمود اور خنکی نے اس کی سرگرم جدوجہد کو ابھی تک کامیاب نہیں ہونے دیا۔جمعیت علمائے ہند کے موجودہ اجلاس کو اس کے متعلق بھی غور و خوض کرنا ہے۔‘‘

پھر اسی جلاس کی تجویز نمبر(۲۸) منظورکی گئی، جس میں کہا گیاکہ: 

’’مجلسِ مرکزیہ جمعیت علمائے ہند کے سامنے فلسطین کے وفد کی رپورٹ کا ماحصل پیش ہوا، جس کا خلاصہ یہ تھا کہ مؤتمرِ قاہرہ نے جو تجاویز پاس کی تھیں، جمعیت کے نمائندوں نے اس سے اتفاق کیا تھا۔ یہ جلسہ اُن تجاویز کی مزید تصدیق و توثیق کرتا ہے اور قرار دیتا ہے کہ اگر فلسطین کانفرنس لندن ناکامیاب ہوگئی ،یعنی عربوں کے مطالبات منظور نہ کیے گئے اور ان کو مطمئن نہ کیا گیا، تو ہندستان کے مسلمان برطانیہ کی مجوزہ اسکیم ہرگز قبول نہ کریں گے۔ جمعیت علما برطانیہ کی طرف سے اُس تشدد اور آتش بازی اور داروگیر کی تمام کارروائی کی -جو فلسطین میں جاری ہے- سخت مذمت کرتی ہے اور اس کو انسانیت کے خلاف سمجھتی ہے۔ جمعیت علما تمام مسلمانانِ ہند سے توقع رکھتی ہے کہ وہ بلالحاظ فرقہ اور مسلک اس مسئلہ میں متفق ہوکر فلسطین کی نجات کے لیے مجلس تحفظِ فلسطین کی ہدایات کے ماتحت ہر قسم کی قربانیاں پیش کرنے کے لیے آمادہ ہوں گے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص؍387)

اور جیسا کہ عرض کیا گیا کہ لندن کانفرنس ناکام ہوگئی اور برطانیہ نے یک طرفہ طور پر اپنی پالیسی وضع کرتے ہوئے مئی 1939ء کا وائٹ پیپرجاری کیا۔ اس کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے جمعیت کا ترجمان رقم طراز ہے کہ:

’’ ادھر 22؍فروری 1939ء کو برطانی اور عرب ڈیلی گیٹس کے درمیان فلسطین کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں آزاد عرب اسٹیٹ کے متعلق عربوں کا مطالبہ منظور نہیں کیا گیا۔ اسی طرح فلسطین میں یہودیوں کے داخلہ کو قطعی طور پر بند کرنے کا مطالبہ بھی نامنظور کردیا گیا۔ اس طرح یہ کانفرنس تباہ کن انجام کے ساتھ اختتام پذیر ہوئی۔‘‘

 (سہ روزہ الجمعیۃ، 28؍ فروری و یکم مارچ 1939ء) 

جمعیت علما سے مجلس دفاع فلسطین کی دردناک اپیل

23؍مارچ 1939ء کو مفتی اعظم حضرت مولانا محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کے نام دمشق سے ایک تار موصول ہوا کہ’’ مصیبت زدہ فلسطینی بہت زیادہ حاجت مند ہیں ۔ برائے کرام حتی الامکان روپیہ فراہم کیجیے اور بحری تار کے ذریعہ بھیجیے۔ 

’’ہیئۃ العظمی پریسیڈنٹ فلسطین ڈیفنس کمیٹی مشق۔ ہندستان کی موجودہ نازک حالت اور سیاسی کشمکش کے پیش نظر مجلس تحفظ فلسطین ہندیہ… لینے کا ارادہ نہیں رکھتی کہ وہ خود ہندستان سے اعانات جمع کرکے بھیجے؛ لیکن غیرت مند اورحساس قلوب کے مسلمانوں سے یہ امید رکھتی ہے کہ مجاہد ین فلسطین کی بیواؤں اور یتیموں اورمجروحین کے علاج کے لیے جو کچھ بھی وہ کرسکتے ہیں، کریں۔بہتر یہ ہے ہر قصبوں اور شہروں کے مسلمان اپنی اپنی رقوم بحری تار کے ذریعہ سے مصری بنک کو پریسیڈنٹ فلسطین ڈیفنس کمیٹی دمشق کو روانہ کردیں اور ہر رقم کے ساتھ یہ تصریح کر دیں کہ یہ رقم مصیبت زدگان فلسطین کی اعانت کے لیے ہے۔ فلسطین کے مسلمانوں پر اس اس وقت قیامت جیسا ہول ناک وقت آیا ہوا ہے اور وہ عالم اسلامی کی امداد و اعانت کے سخت مستحق ہیں۔

 (سہ روزہ الجمعیۃ، یکم اپریل1939ء)

فلسطینیوں کی امداد رسی

چنانچہ مجلس تحفظ فلسطین کی جانب سے 11؍ مئی1939ء  کو پہلی قسط میں دو سو تیس روپے اور دوسری قسط میں دو سو پچاس روپے مظلومین فلسطین کی امداد کے لیے بھیجی گئی۔

 (سہ روزہ الجمعیۃ، 16؍مئی 1939ء) 

فلسطین کا قرطاس ابیض ناانصافی پر مبنی

لندن کانفرنس کی ناکامی کے بعد جو وائٹ پیپر جاری کیا گیا تھا، وہ پیپر17؍مئی 1939ء کو شائع کیا گیا۔ 

’’لندن، 17؍مئی 1939ء- فلسطین کے متعلق حکومت برطانیہ کا قرطاس ا بیض آج شائع ہوگیا۔ اس میں تجویز کیا ہے کہ فلسطین میں دس سال کے اندر آزاد حکومت قائم ہوجائے گی اور پانچ سال کے اندر سات سو پچاس یہودیوں کو داخلہ کی اجازت ہوگی۔ اس کے بعد ان کا داخلہ بند ہو جائے گا۔ فلسطین میں جو آزاد مملکت قائم ہوگی، اس کے اور برطانیہ کے دوستانہ تعلقات کی بنا پر معاہدہ ہوگا، جس کے ذریعہ دونوں ملکوں کی تجارتی اور اقتصادی ضرورتوں کو تسلی بخش طریقہ پر پورا کیا جائے گا۔ سینڈیٹ کو ختم کرنے کے لیے بین الاقوامی لیگ سے مشورہ کرنا ضروری ہوگا۔ (سینڈیٹ ایک فرمان ہے، جس کے ذریعہ لیگ نے برطانیہ کو فلسطین پر حکومت کرنے کا اختیار دیا تھا۔ آزاد ریاست میں عربوں اور یہو دیوں دونوں کا حصہ ہوگا۔ اور وہ حصہ اس طریقہ پر آپس میں تقسیم ہو گا، جنھیںدونوں فرقوں کے ضروری مفاد کی حفاظت ہوسکے۔ جب تک آزاد ریاست قائم ہو، اس کے درمیانی عرصہ میں حکومت برطانیہ فلسطین کے نظم و نسق کی ذمہ دار ہوگی۔ اس درمیانی عرصہ میں اہل فلسطین کو حکومت میں زیادہ حصہ دیا جائے گا۔ اس طریقۂ کار پر عمل کیا جائے گا، خواہ یہودی اور عرب اس سے فائدہ اٹھائیں، یا نہیں۔ 

منتخب شدہ مجلس آئین ساز

اس مرحلہ پر حکومت نے کوئی منتخب شدہ مجلس آئین ساز کرنے کی تجویز نہیں کی ہے۔ اگر رائے عامہ اس کے حق میں رہی، تو حکومت لیجس لیچر مجلس قانون ساز قائم کر دے گی۔

امن بحال ہونے کے پانچ سال بعد ایک موزوں کمیٹی قائم کی جائے گی، جس میں فلسطین کے، نیز برطانیہ کے نمائندے شامل ہوںگے۔ یہ کمیٹی عبوری دور میں آئینی انتظامات کی حالت پر غور کرے گی اور آزاد فلسطین کے آئین کے متعلق سفارش کر ے گی ۔ 

تمام اسکیم کے لیے لیگ کی منظوری لی جائے گی۔ اور مستقل سینڈیٹ کمیشن اس پر جون میں غور کرے گا۔ اور اس کے بعد لیگ کونسل کے پاس بھیج دی جائے گی۔

قرطاس ابیض پر دارالعوام میں پیر اور منگل کو بحث ہوگی۔ اور اس وقت مسٹر میکڈونلڈ فیصلہ کے اسباب بیان کریںگے۔ ملک معظم کی حکومت اس بارے میں اپنا اطمینان کرے گی کہ تمام متبرک مقامات تک پہنچنے کی آزادی اور تحفظ اور فلسطین کے مختلف فرقوں کی مذہبی جماعتوں کے مفاد اور جائداد کے تحفظ کے معقول انتظام کرلیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ فلسطین میں چند غیر ملکیوں کے مفاد کا بھی مناسب تحفظ ہونا چاہیے۔

ملک معظم کی حکومت اس بات کی پوری کوشش کرے گی کہ حالت پیدا کی جائے کہ دس سال کے اندر آزاد ریاست قائم ہوجائے۔ لیکن اگر التوا کی ضرورت پڑے گی، تو حکومت اہل فلسطین، بین الاقوامی لیگ اورقریب کی عرب ریاستوں سے مشورہ کرے گی۔

اگر التوا لابدی ہوا، توملک معظم کی حکومت ان پارٹیوں(اہل فلسطین، لیگ اور قریب کی عرب ریاستوں) کا تعاون حاصل کر کے اسکیم تیار کرے گی، جس کے ذریعہ جلد از جلد منزل مقصود طے کی جاسکے۔

پانچ سال کے اندر یہودیوں کو اس حساب سے داخلہ کی اجازت دی جائے گی کہ یہودی آبادی کاایک تہائی ہوجائیں۔ اس کے معنی یہ ہوںگے کہ اس سال کے اپریل سے پانچ سال کے اندرسات سو پچاس یہو دیوں کو داخلہ کی اجازت ملے گی۔ پانچ سال کے بعد کسی یہودی کو عربوں کی اجازت کے بغیر داخلہ کی اجازت نہیں ہوگی۔ ہائی کمشنر کو آراضی منتقل کرنے کے متعلق قاعدے و قانون بنانے کا اختیار دیا گیا ہے۔

حکومت میکڈونالڈ کے خط و کتابت کی بنا پر عربوں کے مطالبے نا منظور کرتی ہے۔ حکومت نہ تو عربوں کے اس مطالبہ کو مانتی ہے کہ فلسطین کو عرب اسٹیٹ بنایا جائے اور نہ یہودیوں کے اس مطالبہ کو منظور کرتی ہے کہ فلسطین کو یہودی اسٹیٹ بنایا جائے۔

فلسطین کے متعلق اپنی پالیسی کا اعلان کرنے سے حکومت کی خاص غرض یہ ہے کہ غیر یقینی فضادور ہوجائے؛ کیوںکہ غیر یقینی فضا فلسطین میں جھگڑے کی جڑ ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ دونوں فریق اس کے خلاف نکتہ چینی کریںگے۔‘‘(سہ روزہ الجمعیۃ،20-24؍مئی 1939ء،ص؍5)

چوں کہ اس قرطاس میں فلسطین میں ایک برطانوی عبوری اقتدار اور فوری آزادی دینے سے انکار کرتے ہوئے دس سال بعد مشروط آزادی کی وکالت کی گئی تھی، اس لیے جمعیت علمائے ہند نے27،28،29؍ مئی 1939ء کوحضرت مولانا عبید اللہ صاحب سندھیؒ رکن منتظمہ جمعیت علمائے ہندکی صدارت میں منعقد مجلس مرکزیہ کے اجلاس میں  اس کی شدیدمخالفت کی اور اسے ناانصافی پر مبنی قرار دیا۔

’’ جمعیت علمائے ہند کی مجلس مرکزیہ کا یہ اجلاس بر طانوی حکومت کے قر طاس ابیض کو- جو فلسطین کے متعلق اس نے شائع کیا ہے- عر بوں کے ساتھ نا انصافی اور وعدہ شکنی پر مبنی سمجھتا ہے۔ اور عربوںپر بر طانیہ کے تشدد اور جابر انہ اور ظا لمانہ اقدامات کو نفرت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ برطانوی حکومت کو لازم ہے کہ وہ عربوں کو بغیر مزید تاخیر کے فوراً آزادی دے کر فلسطین میں امن قائم کرے اور مسلمانانِ عالم کے اضطراب اور بے چینی کورفع کرے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تجاویز ، جلد اول، ص؍393)

ہندستان کی آزادی سے فلسطین بھی آزاد ہوگا

جمعیت علمائے ہند کا  بارھواں اجلاس عام 7،8،9؍ جون1940ء کو منعقد ہوا، جس کی صدارت حضرت مولانا سیّد حسین احمد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے فرمایا۔ مولانا نے ہندستان کو آزاد کرانے کی ضرورت پر تبصرہ کرتے ہوئے اپنے خطبۂ صدارت میں فرمایا: 

’’(و)مقاماتِ مقدسہ اور دیار عرب، مصر، شام، فلسطین، سوڈان، شمالی لینڈ وغیرہ، جن میں اسلامی آبادی ہے اور ہندستان کی غلامی کی وجہ سے یہ سب غلامی کی بیڑیوں میں جکڑے گئے ہیں، آزاد ہوسکیںگے۔‘‘

17؍مارچ1944ء کو تمام ہندستان میں یوم فلسطین منایا جائے

چوں کہ لندن کانفرنس کے بعد جاری وائٹ پیپر کی مدت ختم ہونے والی تھی، اس لیے فلسطین کا مسئلہ ایک مرتبہ پھر عالم اسلام کا موضوع بحث بنا۔ ایسے حالات میں جمعیت علمائے ہند نے 6؍ مارچ 1944ء کو تمام اسلامی جماعتوں سے ایک اہم اپیل کی، جس کا متن درج ذیل ہے:

’’عالم اسلام میں آج کل فلسطین کامعاملہ خاص طور پر زیربحث ہے، کیوںکہ 31؍مارچ 1944ء کو فلسطین میںداخلۂ یہود سے متعلق گورنمنٹ برطانیہ کے اس قرطاس ابیض کی مدت ختم ہورہی ہے ، جس میں یہ وعدہ کیا گیا تھا کہ پانچ سال کے بعد گورنمنٹ برطانیہ اور فلسطین کے نمائندے باہم مل کر فلسطین کے لیے ایک فلسطینی حکومت کی تشکیل کریںگے۔ اور اس پانچ سال کی مدت میں صرف پچھتر ہزار یہودی باہر سے فلسطین میں آ سکیںگے؛ لیکن نہایت افسوس کے ساتھ یہ دیکھا جا رہا ہے کہ قرطاس ابیض کی آخری تاریخ ختم ہونے سے پہلے یہودی تحریک صیہونیت کو پھر زندہ کر رہے ہیں۔ اور اس امر کی کوشش کر رہے ہیں کہ فلسطین میں یہودی حکومت قائم کی جائے اور داخلۂ یہود پر کوئی پابندی باقی نہ رہے۔

یہودیوں کو پروپگنڈے نے کی جو بے پناہ طاقت حاصل ہے، اُس سے روز بروز یہ خطرہ بڑھ رہا ہے کہ امریکی حکومت کے ارباب حل و عقدہ یہودیوں کے اس پروپیگنڈے سے متأثر ہوجائیںگے۔ اور اگر امریکہ نے یہودیوں کی حمایت کی، تو گورنمنٹ برطانیہ کا اپنے وعدے کو پورا کرنا اور اس وعدے کی پابندی کرنا- جو اس نے 17؍مئی 1939ء کو غیرمبہم الفاظ میں کیا تھا- دشوار معلوم ہوتا ہے۔ اس خطرہ کا احساس کرتے ہوئے حکومت مصر، عراق، شام، حجاز، یمن وغیرہ نے نہایت سختی سے یہودی پروپیگنڈے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ فلسطین اور تمام عالم اسلامی میں ایک خاص بے چپنی اور اضطراب پھیل رہا ہے۔ ان تمام حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے اس امر کی شدید ضرورت ہے کہ ہندستان کے مسلمان بھی متفقہ طور پر احتجاجی جلسے منعقد کریں اور گورنمنٹ برطانیہ کو حکومت ہند کی معرفت ایک بار اور متنبہ کر دیں کہ اگر گورنمنٹ برطانیہ نے یہودیوں کے پروپیگنڈے سے کوئی اثر قبول کیا، یا امریکی حکومت کی مداخلت کو گوارا کیا، تو یہ اُس وعدے کے بالکل خلاف ہو گا، جو17؍مئی 1939ء کو تمام دنیا کے مسلمانوں سے عموماً اور اعراب فلسطین سے خصوصاً اُس نے کیا تھا اور یہ وعدہ خلافی کی ایسی بدترین مثال ہوگی، جس کی نظیر دنیا میں ملنی ناممکن ہوگی۔ اور اس کا تمام عالم اسلامی کے جذبات پر بہت ہی برا اثر پڑے گا اور اس کے نتائج نہایت ہی خطر ناک ہوںگے۔

 جمعیت علمائے ہند اپنی تمام ماتحت شاخوں اور ہندستان کی دوسری تمام اسلامی جماعتوں سے پر زور مخلصانہ اپیل کرتی ہے کہ وہ 17؍ مارچ1944ء کو جمعہ کے دن بعد نماز جمعہ ملک کے گوشہ گوشہ میں یوم فلسطین کے جلسوں کا انتظام کریں۔ اور ان جلسوں میں بلاکسی اختلاف کے سب حضرات حصہ لیں، تاکہ معلوم ہوسکے کہ ہندستان کے مسلمان مذہبی تعلق کی بنا پر کسی اسلامی مسئلہ میں کس طرح متحد ومشترک ہیں۔ ان جلسوں میں ذیل کی تجویز پاس کی جائے۔ اگر مقامی اعتبار سے کسی ترمیم کی ضرورت پیش آجائے، تو ترمیم کر لی جائے۔ 

تجویز: مسلمانان …کا یہ جلسہ گورنمنٹ برطانیہ سے پرزور مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اپنے قرطاس ابیض میں کیے گئے وعدے پر مضبوطی سے قائم رہے اور یہودیوں کے فلسطین میں داخلہ کو 31؍مارچ کے بعد قطعی بند کر دے اور نمائندگان فلسطین کے مشورہ سے فلسطین کی آئندہ حکومت کی ایسی تشکیل کرے، جو اہل فلسطین اور عالم اسلامی کے لیے موجب اطمینان ہو۔

اگر برطانیہ یہودیوں کی تحریک صیہونیت سے متأثر ہوگئی اور اس نے اپنا صریح اور حتمی وعدہ پورا نہ کیا، تو مسلمانان عالم کے قلوب مجروح ہوجائیں گے اور برطانیہ کے خلاف ان کے جذبات غم و غصے کا طوفان خیز تلاطم برپا ہوجائے گا۔

عبدالحلیم صدیقی ناظم جمعیت علمائے ہند دہلی۔ (ریکارڈ روم)

 صدر امریکہ ووزیر اعظم برطانیہ کے بیانات کی مذمت

امریکی صدر فرینکلن ڈی روزویلٹ نے Zionist Organization of America کی 47؍ویں سالانہ کانفرنس (جو اٹلانٹک سٹی، نیو جرسی میں منعقد ہوئی) کو بھیجا گیا پیغام میں فلسطین کو یہودیوں کی آمد اور نوآبادیاتی سرگرمیوں کے لیے کھولنے کی حمایت کا اعلان کیا۔ یہ بیان برطانوی وائٹ پیپر (1939) کی پالیسی-جو فلسطین میں یہودیوں کی آمد کو محدود کرتی تھی اور یہودی قومی گھر کی بجائے عرب اکثریت کی حفاظت پر زور دیتی تھی-کو تبدیل کرنے کی واضح کوشش تھا۔ روزویلٹ نے Democratic Party کی پلیٹ فارم کا حوالہ دیتے ہوئے یہودیوں کے لیے ’’آزاد اور جمہوری یہودی‘‘ commonwealth (یعنی ریاست) کی تشکیل کی حمایت کی، جو وائٹ پیپر کے فیصلوں کو چیلنج کرتا تھا۔ان کے بیان کا انگریزی متن درج ذیل ہے:

Washington, October 15, 1944

Dear Bob: Knowing that you are to attend the forty-seventh annual convention of the Zionist Organization of America, I ask you to convey to the delegates assembled my cordial greetings.

Please express my satisfaction that, in accord with the traditional American policy and in keeping with the spirit of the‘‘four freedoms,’’the Democratic Party at its July convention this year included the following plank in its platform:

‘‘We favor the opening of Palestine to unrestricted Jewish immigration and colonization, and such a policy as to result in the establishment there of a free and democratic Jewish commonwealth.’’

Efforts will be made to find appropriate ways and means of effectuating this policy as soon as practicable. I know how long and ardently the Jewish people have worked and prayed for the establishment of Palestine as a free and democratic Jewish commonwealth. I am convinced that the American people give their support to this aim and if reelected I shall help to bring about its realization.

]Franklin D. Roosevelt[

یہ بیان WWII کے تناظر میں یہودیوں کی ہولوکاسٹ سے بچاؤ اور فلسطین میں ان کی آبادکاری کی حمایت کرتا تھا، جو برطانوی پالیسی کو بدلنے کی دباؤ ڈالتا تھا۔

اسی طرح برطانوی وزیر اعظم Winston Churchill  چرچل نے برطانوی پارلیمنٹ (House of Commons) میں لارڈ موائن (جو مصر میں برطانوی وزیر رہائشی تھے) کے 6؍نومبر 1944ء کو قتل-جو مبینہ طور پر یہودی دہشت گردوں (Stern Gang) نے کیا-پر ردعمل میں فلسطین میں دہشت گردی کی مذمت کی۔ تاہم، انھوں نے Zionist hopes اور یہودی قومی گھر کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ وہ خود کو یہودیوں کا ’’مستقل دوست اور مستقبل کا معمار‘‘ سمجھتے ہیں۔ یہ بیان 1939ء کے وائٹ پیپر - جو چرچل کی مخالفت میں منظور ہوا تھا اور یہودی ریاست کی راہ میں رکاوٹ تھا-کو تبدیل کرنے کی ان کی پرانی کوششوں پر مبنی تھا۔ چرچل نے واضح کیا کہ دہشت گردی کی صورت میں Zionist dreams کو دوبارہ سوچنا پڑے گا، لیکن ان کی بنیادی حمایت برقرار رہی۔ انھوں نے یہ بیان 17؍نومبر 1944ء کو دیا تھا، جس کا انگریزی متن درج ذیل ہے:

This shameful crime has shocked the world. It has affected none more strongly than those, like myself, who, in the past, have been consistent friends of the Jews and constant architects of their future. If our dreams for Zionism are to end in the smoke of assassins' pistols and our labours for its future to produce only a new set of gangsters worthy of Nazi Germany, many like myself will have to reconsider the position we have maintained so consistently and so long in the past. If there is to be any hope of a peaceful and successful future for Zionism, these wicked activities must cease, and those responsible for them must be destroyed root and branch.

یہ بیانات دونوں رہنماؤں کی مشترکہ کوشش تھیں کہ فلسطین کو یہودیوں کے لیے کھولا جائے اور وائٹ پیپر کی پابندیوں کو ختم کیا جائے، جو بعد میںفلسطین  کی تقسیم اور اسرائیل کی تشکیل کی بنیاد بنیں۔ 

جمعیت علمائے ہند نے اپنی مجلس عاملہ منعقدہ 8، 9؍ نومبر1944ء کی میٹنگ میں ان دونوں بیانات کی مذمت کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ جلسہ فلسطین کے متعلق مسٹر روز ویلٹ صدر امر یکہ کے اظہار خیال اور مسٹر چرچل وزیر اعظم بر طانیہ کے اس بیان کو- جو صدر امریکہ کے بیان کے بعد انھوں نے دیا ہے-سخت غم و غصہ کی نظر سے دیکھتا ہے۔ ان دونوں بیانوں سے مترشح ہوتا ہے کہ صدر امریکہ برطانوی حکومت کے قر طاس ابیض 1939ء میں کیے ہوئے حتمی وعدہ کو بد لوانا چاہتی ہیں۔ اور مسٹر چرچل اپنی سیاسی مصالح کی بنا پر صدر امریکہ کو خوش رکھنے کے لیے اپنے حتمی وعدہ سے ہٹ جانے کی آمادگی ظاہر کر رہے ہیں۔

 جمعیت علمائے ہند- جو اس قر طاس ابیض کو بھی اہل فلسطین کے حق میں نا انصافی سمجھتی تھی- اس سے انحراف کو سخت ترین وعدہ خلافی اور اہل فلسطین کے حق میں صریح ظلم سمجھتی ہے اور حکومت برطانیہ کو مطلع کرتی ہے کہ فلسطین میں یہودی آبادی قائم کرنے کا خیال عالم اسلامی کے لیے ایک کھلا چیلنج ہوگا اور تمام دنیا کے مسلمان ان لوگوں کو- جو ایسا کرنے، یا برطانیہ کو اس کی ترغیب دینے، یا بزور اس کو آمادہ کرنے کی کوشش کریں- سخت نفرت وحقارت سے دیکھتے ہیں اور اس حرکت کو تمام مسلمانوں کے ساتھ بُغض و عناد پر محمول کرتے ہیں۔ نیز یہ جلسہ لندن کی اس کمیٹی کو -جویہو دیوں کی مقصد بر آری اور فلسطین کو وطن الیہود بنانے کے لیے قائم ہوئی ہے اور یہودیوں کی ان وحشیانہ اور متشددانہ کارروائیوں کو- جو فلسطین میں وہ کر رہے ہیں، اور ان کا مقصد برطانوی حکومت کو اہل فلسطین کے حقوق غصب کرنے پر مجبور کرنا ہے -سخت نفرت اور حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اور تمام مساعی کو انسانیت کے خلاف ایک قبیح اور بد نما دھبہ سمجھتا ہے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، تجاویز اور فیصلوں کی روشنی میں، جلد اول، ص؍490)

اس کے بعد 5؍ اپریل 1945ء کو امریکی صدر روزویلٹ نے سعودی فرما روا عبد اللہ ابن عبد الرحمان فیصل السعود کو لکھے خط میں اپنی حکومت کی جس پالیسی کی وضاحت کی، وہ پالیسی بھی ان کے سابقہ بیان کی مؤید تھی۔امریکی صدر نے اپنے خط کے ایک پیرا گراف میں لکھا کہ: 

Your Majesty will recall that on previous occasions I communicated to you the attitude of the American Government toward Palestine and made clear our desire that no decision be taken with respect to the basic situation in that country without full consultation with both Arabs and Jews. Your Majesty will also doubtless recall that during our recent conversation I assured you that I would take no action in my capacity as Chief of the Executive Branch of this Government which might prove hostile to the Arab people. (https://www.jewishvirtuallibrary.org/)

آپ کا یاد ہوگا کہ فلسطین کے متعلق امریکی حکومت کی جو پالیسی تھی ، وہی پالیسی آج بھی برقرار ہے کہ فلسطین کی بنیادی صورت حال کے بارے میں جانے بغیراور عربوں اور یہودیوں دونوں کے ساتھ مشاورت کے بغیر کوئی بھی فیصلہ نہیں لیا جائے گا۔ اور اس حکومت کے ایگزکیٹو برانچ کے چیف کی حیثیت سے ایسی کوئی کارروائی نہیں کروں گا، جو عرب عوام کے لیے دشمنی کا باعث ہو۔

شام، لبنان اور فلسطین کے خلاف فرانس اور برطانیہ کی مسلم کش پالیسی

2؍جون1945ء کو ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب سیوہاروی نے ایک بیان دیتے ہوئے درج ذیل اپیل شائع کی:

’’ابھی فرانس ذلت و رسوائی کے غار سے پوری طرح نکل نہیں پایا۔ یورپ کی روایتی مسلم کش پالیسی کا علم بردار بن کر، شام اور لبنان کی آزادی کے خلاف وحشت ناک مظالم شروع کر دیے اور مظلوم عربوں کو بموں اور گولیوں کا نشانہ بنانا شروع کر دیا۔ ظالم فوجوں نے مقدس شہروں کی بربادی کے لیے اسلحہ سنبھال لیے۔ کل تک جو ڈنکر ک کی جنگ میں بزدل اور نامرد کی طرح میدانِ جنگ سے پیٹھ پھیر کر بھاگا تھا، وہ آج مظلوم نہتوں پر شیر بن کر مجرمانہ بہادری کی مشق کر رہا ہے۔ ع

تفو برتو ائے چراغ گرداں تفو

 کیا! برطانیہ، امریکہ اور روس سے ہم یہ دریافت کرنے کا حق رکھتے ہیں کہ جنگ کے پوری طرح ختم ہونے سے پہلے مقبوضہ چھوٹے چھوٹے ریاستوں پر یہ بے پناہ مظالم آپ کے مستقبل کے عدل و انصاف کی بھیانک تصویر اور مضموم عزائم کا پتہ نہیں دیتے؟

مفتیِ اعظم فلسطین کی مقدس جذبۂ آزادی وطن پر گرفتاری اور ان کے خلاف غداری کا ناپاک الزام، شام اور لبنان کی تسلیم شدہ آزادی کے خلاف ان کی ہول ناک تباہی و بربادی؛ برطانیہ کی لیبر پارٹی کی جانب سے فلسطین کے خلاف یہود نواز پالیسی کا اعلان، فرانس، برطانیہ؛ بلکہ اتحادیوں کی جانب سے صریح مسلم کش پالیسی، فلسطین سے متعلق وعدے کے خلاف غداری، محکوم قوموں کی آزادی کے خلاف جبر و ظلم کا مظاہرہ نہیں تو اور کیا ہے؟ اگر  اپنے وطن اور ملت کی آزادی کے لیے جدوجہد غداری ہے، تو پھر مفتی اعظم فلسطین ہی کیوں غدار ہے؟ اتحادیوں کے تمام ذمہ دار افراد، وزرا اور سپاہی کیوں غدار نہیں ہیں؟ اگر فلسطین عربوں کا ملک ہوتے ہوئے یہودیوں کا وطن بنایا جا سکتا ہے اور یہ عدل و انصاف کے خلاف نہیں ہے، تو پھر انگلستان، امریکہ اور فرانس پر غیر ملکی حکومت کیوں ناقابلِ برداشت سمجھی جاتی ہے؟

آج شام، لبنان اور فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے، ہندستان کے مسلمانوں سے یہ کہنا تو فضول ہے کہ وہ یہ عبرت و بصیرت حاصل کریںگے کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے، محض اس لیے کہ ہندستان اغیار کے پنجے میںہے اور تمام ممالکِ اسلامیہ کی تباہی و بربادی کا راز صرف اس عظیم الشان ملکِ ہندستان کی غلامی کے اندر محفوظ ہے۔

تاہم جمعیت علمائے ہند، اسلامی عالم گیر اخوت کے پیش نظر، اپنی تمام شاخوں سے بالخصوص اور تمام اسلامی جماعتوں سے بالعموم اپیل کرتی ہے کہ وہ وقت کی نزاکت کا لحاظ کرتے ہوئے فوری طور پر ہر جگہ فرانس اور برطانیہ کی مسلم کش پالیسی کے خلاف احتجاجی جلسے کریں اور اپنے غم و غصے کا اظہار کریں اور اسلامی حمیّت و غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے شام و لبنان کی آزادی کامل، فلسطین کو وطن الیہود نہ بنانے کا مطالبہ، اور مفتی اعظم کو سزا نہ دینے کے مطالبے سے متعلق تجاویز پاس کی جائیں۔ حکومت برطانیہ کو متنبہ کیا جائے کہ اگر اس کی مسلم کش پالیسی کا یہ سلسلہ اسی طرح جاری رہا، تو اس کے عواقب و نتائج کی تمام تر ذمہ داری حکومت پر ہوگی۔

منظور شدہ تجاویز حکومتِ ہند اور اخبارات کو روانہ کی جائیں۔

خادمِ ملت، محمد حفظ الرحمان،ناظمِ اعلیٰ، جمعیت علمائے دہلی۔(ریکارڈ روم)

ممالکِ اسلامیہ اور یورپی حکومتوں کی انتدابی کشمکش

ممالک اسلامیہ کی آزادی اوریورپی حکومتوں کی انتدابی کوششوں کی مذمت کرنے کے لیے 11؍جون 1945ء کو جمعیت علمائے ہند نے ایک عظیم الشان اجلاس کیا ، جس میں 22؍ جون کو یومِ ممالکِ اسلامیہ منانے کی اپیل کی۔ اجلاس کی مکمل کارروائی درج ذیل ہے:

’’جمعیت علمائے ہند کی جانب سے 11؍ جون 1945ء کو دہلی میں ایک عظیم الشان جلسہ، بہ صدارت حضرت مولانا احمد سعید صاحب، اردو پارک جامع مسجد میں منعقد ہوا۔ تلاوتِ کلامِ مجید اور قومی نغموں کے بعد صدرِ محترم نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ جلسے کی غرض و غایت بیان فرمائی اور ممالکِ اسلامیہ کی آزادی کے مسئلے پر روشنی ڈالی۔ اس کے بعد مولانا محمد حفظ الرحمان ناظمِ اعلیٰ جمعیت علمائے ہند نے تجویز نمبر ایک پیش کرتے ہوئے ایک مفصل تقریر کی اور ممالکِ اسلامیہ؛ خصوصاً شام، لبنان، الجزائر، مراکش، فلسطین اور عراق وغیرہ پر یورپی حکومتوں کے انتداب کے خلاف زبردست احتجاج کیا اور ممالکِ اسلامیہ کی فوری آزادیِ کامل کا مطالبہ کرتے ہوئے یورپی حکومتوں کے مظالم اور وہ وعدہ خلافیوں کی تاریخ کو دہرایا اور بتایا کہ اس وقت ہندستان میں اس مسئلے پر شدید ہیجان ہورہا ہے اور یہاں کے مسلم و غیر مسلم رہنما اور عوام سبھی اس آواز میں ہم آہنگ ہیں کہ ممالکِ اسلامیہ کو آزاد کیا جائے۔

اس تجویز کی تائید مسٹر ہلال احمد صاحب زبیری نے فرمائی۔ آپ نے ممالکِ اسلامیہ پر یورپی حکومتوں کی انتدابی کشمکش پر سخت اظہارِ مذمت کیا اور بتایا کہ کس طرح شام و لبنان کو فرانس نے دورانِ جنگ میں آزاد کیا تھا اور اب کس طرح وعدہ خلافی کی ہے۔

تجویز نمبر دو مولانا مفتی محمد نعیم صاحب نے پیش فرمائی اور فلسطین کے حالات و اقعات بیان فرمائے اور فلسطین کو وطن الیہود بنائے جانے کی برطانوی منصوبہ بندی پر اظہارِ نفرت و مذمت کیا۔ مولانا اخلاق احمد صاحب دہلوی نے اس کی مؤثر تائید کی اورمولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے تائید مزید کی۔

تجویز نمبر تین مسٹر ہلال احمد صاحب زبیری نے پیش کی اور ایران پر برطانوی قبضہ اور فوجی مداخلت کے سلسلے میں تفصیلی روشنی ڈالی۔ اس تجویز کی تائید مولانا بشیر احمد صاحب نے فرمائی اور مولانا محمدحفظ الرحمان نے تائید مزید کرتے ہوئے مسٹر چرچل کے بیان متعلقہ فوجی مداخلتِ ایران کو قطعی غیر معقول، نا منصفانہ اور سامراجی تسلط کی  تصویر ثابت کیا۔

تجویز نمبر چار مولانا سمیع اللہ صاحب نے پیش کی اور مفتیِ اعظمِ فلسطین کی مجاہدانہ سرگرمیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے انھیں ہر دل عزیز و مقبول قرار دیا اور ان کی رہائی کا پرزور مطالبہ کیا۔ مولانا محمد سعید صاحب نے اس کی تائید فرمائی۔

 آخر میں صدرِ محترم نے تقریر فرمائی اور جلسہ بخیر و خوبی دعا پر ختم ہوا۔

تجاویز حسبِ ذیل ہیں:

تجویز نمبر-۲):فلسطین کے متعلق نئی پالیسی پر اظہار تشویش

 مسلمانان دہلی کا یہ عظیم الشان جلسہ ان بیانات اور اس پالیسی کو- جس کا اظہار فلسطین کے مسئلے میں انگلستان و امریکہ کے بعض ذمہ دار لوگوں کی جانب سے کیا جا رہا ہے- اپنی دلی تشویش اورپریشانی کے ساتھ مسترد کرتا ہے اور حکومتِ برطانیہ کو متنبہ کرتا ہے کہ فلسطین کے متعلق 1939ء کے وائٹ پیپر میں اعرابِ فلسطین سے جو وعدہ کیا گیا تھا، اگر اس کو جلد از جلد پورا نہ کیا گیا، یا اس میں کوئی ایسی تبدیلی کی گئی، جو اعرابِ فلسطین کے لیے مضر اور ان کی اکثریت کو نقصان پہنچانے والی ہو، تو اس کے نتائج بہت خطرناک اور مسلمانوں کی عام ناراضگی و غصے کا موجب ہوں گے۔

محرک: حضرت مولانا مفتی محمد نعیم صاحب لدھیانوی۔

 مؤیدین: مولانا اخلاق احمد صاحب دہلوی۔ مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب۔

تجویز نمبر-۴):مفتی اعظم فلسطین کی رہائی کا مطالبہ

مسلمانانِ دہلی کا یہ عظیم الشان جلسہ مفتیِ اعظم فلسطین کے متعلق حکومتِ برطانیہ کو بتانا چاہتا ہے کہ مفتیِ اعظم عالمِ اسلام کی ایک محبوب ترین اور قابلِ احترام ہستی ہیں۔ ان کی جدوجہد ہمیشہ فلسطین کی آزادی اور اعرابِ فلسطین کے حقوق کی حفاظت پر مرکوز رہی ہے۔ اس لیے اگر ان کے خلاف بین الاقوامی عدالت میں کوئی مقدمہ چلا، یا انھیں سزا دی گئی، تو اس سے عام مسلمانوں کے دلوں میں سخت صدمہ اور ناراضگی کی لہر پیدا ہو جائے گی۔ لہذا یہ جلسہ حکومتِ برطانیہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ مسلمانان عالم کے جذبات و احساسات کا لحاظ رکھتے ہوئے حضرت مفتیِ اعظم فلسطین کو فوراً رہا کرے۔

محرک: مولانا محمد سمیع اللہ صاحب۔

 مؤیدین: مولانا محمد سعید صاحب۔ مولانا مفتی محمد نعیم صاحب۔

فلسطین میں آزاد حکومت قائم کرنے کا مطالبہ

جمعیت علمائے ہند کی مجلس مرکزیہ کا ایک اجلاس18؍ 19؍ ستمبر1945ء کو ہوا، جس کی ایک تجویز میں فلسطین میں آزاد حکومت قائم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے درج ذیل قرارداد منظور کی:

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس مرکزیہ کا یہ اجلاس اس امر کو حد درجہ تشویش ناک جانتا ہے کہ اتحادی حکومتوں؛ خصوصاً ممالک متحدہ امریکہ کے ذمہ دار حلقوں میں فوری رجحان اس کا پایا جاتا ہے کہ فلسطین کو ’’وطن الیہود‘‘ بنا دیا جائے، جس کے خلاف تمام دنیائے اسلام کی طرف سے صدائے احتجاج بلند کی جا رہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں صراحتاً اعلان کیا ہے کہ یہودیوں نے چوں کہ بے گناہ انبیا کو قتل کیا، اس لیے ان پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا اور اس قوم پر ذلت و مسکنت طاری کردی گئی۔ یہی سبب ہے کہ ہزاروں سال سے یہ قوم حکومت کی عزت و شوکت سے محروم رہی ہے اور جب کبھی اللہ تعالیٰ کے منشا کے خلاف دنیا کے کسی حصہ میں یہودیوں کی حکومت قائم کرنے کی کوشش ہوگی، مسلمان قرآنی تصریحات کے بہ موجب یقین کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قہر اور غضب نازل ہوگا اور دنیا اسی قسم کے مصائب سے دو چار ہوگی، جس قسم کے مصائب گزشتہ چھ سال کی عالم گیر جنگ میں اس نے برداشت کیے ہیں۔ لہٰذا جمعیت مرکزیہ علمائے ہند تمام اتحادی زعماسے عموماً اور دنیائے مسیحیت کے سرداروں سے خصوصاً درخواست کرتی ہے کہ عالم انسانی کو تباہی و مصیبت میں دوبارہ ڈالنے سے احتراز کریں اور ارض مقدس فلسطین کو وطن الیہود بنانے کا خیال ترک کردیں اور اہل فلسطین کو سکون اور عافیت سے زندگی بسر کرنے دیں۔

جمعیت مرکزیہ کی رائے میں جمہوریہ امریکہ کے صدر اور برطانیہ کی ترقی پسند مزدور پارٹی کے لیے ہرگز زیبا نہیں کہ اہل فلسطین کو دنیائے متمدنہ کے مسلمہ اصول حق خود ارادیت سے محروم کرکے ممالک غیر کے آباد کاروں کو اس ملک پر مسلط کیا جائے۔ اور برطانوی قدامت پسندوں نے فلسطین کے انتساب کو اپنے دائمی تسلط کا ذریعہ بنانے کی غرض سے جو حکمت عملی اختیار کی تھی، اسے جاری رکھ کر حق و انصاف کا محض اس بنا پر خون کیا جائے کہ فلسطین کے اصل باشندے، یعنی عرب سفید فام نہیں ہیں۔ انتداب کی عمر پوری ہوچکی اور اب وقت آگیا ہے کہ جلد از جلد فلسطین میں عربوں کو کامل آزاد حکومت کے قائم کرنے کا موقع دیا جائے، تاکہ متحدہ اقوام کی مجلس میں ایک نئے امن پسند حلیف کا اضافہ ہوسکے۔

جمعیت مرکزیہ اپنے دفتر کو ہدایت کرتی ہے کہ اس تجویز کی نقول عربی تار کے ذریعہ صدر جمہوریہ امریکہ اور وزیر اعظم انگلستان کو روانہ کرے اور کوشش کرے کہ ہندستان اور یورپ و امریکہ کے انگریزی اخبارات میں اس کی مناسب تشہیر ہوجائے۔

محرک: مولانا عبدالوحید صاحب صدیقی غازی پوریؒ ۔

مؤید: مولانا قاسم صاحب شاہ جہاں پوری ؒ۔

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ،جلد اول، ص؍536)

 فلسطین کو وطن الیہود بنانے کے خلاف احتجاج

مولانا محمد میاں صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند لکھتے ہیں کہ:

’’9؍ اکتوبر1945ء کو جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا سید حسین احمد مدنی صاحب کی جانب سے فلسطین کے متعلق ایک بحری تار مسٹر ایٹلی، ٹرومین، وزیر اعظم فلسطین اور عرب فیڈریشن کے نام بھیجا گیا۔ اس سلسلے میں جمعیت کے ایک پریس نوٹ میں کہا گیا کہ: 

مرکزیہ جمعیت علمائے ہند کے اجلاس (منعقدہ18-19 ؍ستمبر 1945ء دہلی) نے ایک تجویز پاس کی ہے، جس میں ظاہر کیا ہے کہ فلسطین میں متعین مدت کے ختم ہونے کے بعد مین ویٹ (جبریہ حکومت) عربوں کے مفاد، نیز اصول خود ارادیت کے برعکس ہے، نیز صدر امریکہ اور لیبر گورنمنٹ برطانیہ کی اس پالیسی نے کہ ’’سرزمین فلسطین میں یہودیوں کی نو آبادی قائم کی جائے‘‘، مسلمانان ہند کو پریشان کردیا ہے، وہ اس کو رنگ و نسل کے امتیاز کا نہایت مکروہ اور نفرت انگیز تصور کرتے ہیں۔ 

اجلاس مذکور نے مطالبہ کیا ہے کہ فلسطین کے عربوں کی اپنے وطن میں ایک آزاد ریاست ہونی چاہیے ، اور ان کو یونائٹیڈ انڈی پنڈنٹ اسٹیٹس لیگ میں مناسب جگہ ملنی چاہیے۔ 

یہ تار شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد صاحب مدنی مدظلہ صدر جمعیت علمائے ہند کے نام سے روانہ کیا گیا ہے۔

(محمد میاں، ناظم جمعیت علمائے ہند)۔‘‘ )مدینہ بجنور،9؍ اکتوبر1945ء۔ 

( شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد سوم، ص؍814۔شہباز لاہور، 3؍ اکتوبر1945ء)

وہ تار درج ذیل ہیں:

تار بنام پریزیڈنٹ ٹرومین واشنگٹن: جمعیت علمائے ہند-جو ہندستان کے علما کی آل انڈیا مجلس ہے- آپ کی اس روش کے خلاف -جو آپ نے فلسطین کے متعلق اختیار کی ہے- شدید ناراضگی کا اظہار کرتی ہے اور اسے عربوں کے حق میں غیر منصفانہ تصور کرتی ہے۔آپ کی تجاویز اصولاً بے جا ہیںاور ان سے سارے عالم اسلام میں یہودیوں کے خلاف غصے کا پیدا ہونا لازمی ہے۔ ہندستان کے مسلمان ہر اس کارروائی کی مذمت کرتے ہیں، جو فلسطین میں یہودیوں کو مزید بسانے، یا وہاں یہودیوں کی حکومت قائم کرنے کی حمایت میں کی جاتی ہے۔

برائے مہربانی تمام صورت حال پر دوبارہ غور کیجیے اور مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل ہونے سے روکیے۔ مسلمانوں کی سب جماعتیں اس احتجاج میں متفق ہیں۔

مولانا حسین احمد صاحب، صدر جمعیت علمائے ہند۔ (ریکارڈ روم)

تار بنام وزیر اعظم لندن: جمعیت علمائے ہند کی رائے میں فلسطین میں یہودیوں کی آبادکاری کی کارروائی اور اس کو جاری رکھنے کا سلسلہ بنیادی طور پر ناجائز اور غلط ہے۔ ہر وہ کارروائی-جو فلسطین کے عربوں کی آزادی کی رام میں حائل ہو-ہندستان کے مسلمانوں میں لازمی طور پر شدید بے چینی پیدا کردے گی۔ 

مسلمانان ہندصدر امریکہ کی اس بارے میں مداخلت اور یہودیوں کی ناروا حمایت کے طریقہ پر اپنی شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہیں، جس سے اندیشہ ہے کہ ساری عرب اقوام کا امن خاک میں مل جائے گا۔ 

حسین احمد مدنی صدر جمعیت علمائے ہند۔ (ریکارڈ روم)

یوم فلسطین منانے کی اپیل

فلسطین کی بگڑتی صورت حال کے پیش نظر جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب ؒ نے 2؍ نومبر 1945ء کو یوم فلسطین منانے کی اپیل کرتے ہوئے درج ذیل بیان دیا:

’’جرائد اور بحری برقیہ سے معلوم ہوچکا ہے کہ عرب لیگ فلسطین اور عرب ممالک میں 2؍ نومبر کو یوم فلسطین منارہی ہے؛ کیوں کہ یہی دن اعلان بالفور کا ہے۔ جمعیت علمائے ہند کی جانب سے اگرچہ گذشتہ چند ماہ میں یوم فلسطین منایا جاچکا ہے، تاہم عرب لیگ کے اعلان کی اہمیت کے پیش نظر جمعیت علمائے ہند کی اپیل ہے کہ 2؍ نومبر یوم جمعہ کو تمام ہندستان میں یوم فلسطین منایا جائے۔ جامع مسجد میں، یا کسی دوسری جگہ پبلک میدان میں زیادہ سے زیادہ اجتماع ہو، جس میں فلسطین اور داخلۂ یہود کے برخلاف اور اعراب فلسطین کے مطالبۂ آزادی کی تائید میں تجاویز پاس کی جائیں اور وائسرائے ہند و اخبارات کو بذریعۂ تار تجاویز سے مطلع کیا جائے، جمعیت علمائے ہند کی صوبائی ضلع وار اور مقامی شاخوں کے علاوہ مجھے قوی امید ہے کہ دوسری مسلم جماعتیں بھی جمعیت علمائے ہند کے اس اسلامی احتجاج میں شرکت فرماکر اپنی ملی و دینی غیرت و حمیت کا ثبوت دیں گی۔

(مولانا حفظ الرحمان ، ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ہند)۔ (زمزم، لاہور،3؍ نومبر 1945ء)

( شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد سوم، ص؍853۔شہباز لاہور، 30؍ اکتوبر1945ء)

اینگلو امریکن کمیٹی کی رپورٹ

فلسطین کے حوالے سے اینگلو-امریکن کمیٹی ایک مشترکہ انکوائری کمیٹی تھی، جو برطانیہ اور امریکہ کی حکومتوں نے13؍ نومبر 1945ء کو تشکیل دیا۔ور اس میں چھ برطانوی اور چھ امریکی اراکین شامل تھے۔ اس کا بنیادی مقصد دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں یہودیوں کی صورت حال کا جائزہ لینا اور فلسطین میں ان کی آبادکاری سے متعلق مسائل کا حل تلاش کرنا تھا۔

کمیٹی کو دو اہم کام سونپے گئے تھے:

(۱) یورپ میں ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے یہودیوں کی حالت کا جائزہ لینا اور ان کی آبادکاری کے لیے عملی اقدامات کی سفارش کرنا۔

(۲) فلسطین کی سیاسی، اقتصادی اور سماجی صورت حال کا جائزہ لینا، تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ یہودیوں کی مزید ہجرت سے وہاں کے حالات پر کیا اثر پڑے گا۔

کمیٹی نے واشنگٹن، لندن، قاہرہ اور یروشلم میں عوامی سماعتیں کیں اور مختلف فریقوں، بشمول یہودی اور عرب نمائندوں سے شواہد اور گواہیاں سنیں۔

کمیٹی نے اپنی حتمی رپورٹ 20؍ اپریل 1946ء کو لوزان، سوئٹزرلینڈ میں پیش کی۔ اس رپورٹ میں کئی اہم سفارشات شامل تھیں، جن میں سے چند یہ ہیں:

۱۔ حکومتیں تمام بے گھر افراد (بشمول یہودیوں) کے لیے نئے گھر تلاش کریں، بغیر کسی عقیدے، یاقومیت کے فرق کے۔

۲۔ 1946ء میں نازی اور فاشسٹ مظالم کے شکار 100,000 یہودیوں کو فلسطین میں داخلے کے لیے سرٹیفکیٹس جاری کریں۔

۳۔ فلسطین کو نہ تو یہودی ریاست بنایا جائے اور نہ عرب ریاست؛ یہودی عربوں پر اور عرب یہودیوں پر غلبہ نہ کریں، اور مقدس مقامات کی حفاظت کے لیے بین الاقوامی ضمانت دی جائے۔

۴۔ یہودیوں اور عربوں کے درمیان دشمنی کی وجہ سے فلسطین کو مینڈیٹ کے تحت رکھا جائے، جب تک اقوام متحدہ کی ٹرسٹیشپ نہ قائم ہو۔

۵۔ عربوں کی معاشی، تعلیمی اور سیاسی ترقی کو یہودیوں کے برابر لایا جائے، تاکہ معیار زندگی میں فرق کم ہو۔

۶۔ فلسطین کو مینڈیٹ کے مطابق چلایا جائے، یہودی امیگریشن کو فروغ دیا جائے؛ لیکن دیگر طبقات کے حقوق متأثر نہ ہوں۔

۷۔ 1940ء کے لینڈ ٹرانسفر ریگولیشنز منسوخ کیے جائیں، تاکہ زمین کی خرید و فروخت آزاد ہو، لیکن چھوٹے مالکان کی حفاظت کی جائے۔

۸۔ یہودی ایجنسی اور پڑوسی عرب ریاستوں کے ساتھ مشاورت سے بڑے پیمانے پر ترقیاتی منصوبے شروع کیے جائیں۔

۹۔ تعلیمی نظام میں اصلاحات لائی جائیں اور لازمی تعلیم متعارف کرائی جائے۔ 

۱۰۔ تشدد، یا دہشت گردی کی کوششوں کو روکا جائے، اور یہودی ایجنسی امن و امان برقرار رکھنے میں تعاون کرے۔(گروک)

’’برطانی اور امریکی ماہرین کی کمیٹی نے فلسطین کو تقسیم کرنے کی سفارش کی ہے۔ واشنگٹن میں اس کا اعلان کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ میرے خیال میں تقسیم برطانیہ کی منشا سے کی گئی ہے، کیوں کہ امریکی حکومت کی عرب سے اس قسم کی کوئی تجویز پیش نہیں کی گئی تھی۔

برطانی دفتر خارجہ نے اس تجویز کو وفاقی بتایا ہے اور کہا ہے کہ اس کی رو سے عرب اور یہودی صوبے ایک مرکزی حکومت کی نگرانی میں ہوں گے اور یہ حکومت عربوں ، یہودیوں اور انگریزوں پر مشتمل ہوگی۔‘‘ (قومی آواز لکھنو، 25؍ جولائی 1946ء) 

’’نیویارک،4؍ ستمبر۔ رئیس ٹرومین نے آج ایک بیان جاری کیا، جس میں بتایا گیا کہ فلسطین میں داخلے کی کارروائی فی الفور شروع ہوجائے۔ اور اس کے لیے مسئلۂ فلسطین کے مجموعی حل کاانتظار قطعا نہ کیاجائے۔ہماری حکومت اس نقل و حرکت کے سلسلہ میں تیاری کرچکی ہے اور فوری امداد دینے کے لیے تیار ہے۔ ‘‘ (روزنامہ انقلاب لاہور،6؍ اکتوبر1946ء) 

رپورٹ کا ردعمل

اس رپورٹ کو تمام فریقوں نے مسترد کر دیا۔عربوں نے ایک لاکھ یہودیوں کی ہجرت کی سفارش کو سختی سے مسترد کر دیا، جسے وہ فلسطین میں یہودی ریاست کے قیام کی جانب ایک قدم سمجھتے تھے۔عرب اعلیٰ محاذ نے یہودیوں کو فلسطین میں بسانے کے لیے ہمیشہ مخالفت کی۔ چنانچہ اس جماعت کے لیڈر عینی بے عبد الہادی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ: 

اگر ایک لاکھ یہودیوں کو فلسطین میں بسانے کی اجازت دی گئی ، تو عرب سو سال کے لیے برطانیہ کا دشمن ہوجائے گا۔‘‘ (قومی آواز لکھنو، یکم جون1946ء) 

 برطانیہ نے رپورٹ میں شامل سفارشات کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، خاص طور پر ایک لاکھ یہودیوں کی ہجرت سے متعلق سفارش کو۔ برطانیہ کو اس بات کا خوف تھا کہ اس سے عربوں کی طرف سے شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہودی رہنماؤں نے 100,000 یہودیوں کی ہجرت کی سفارش کا خیرمقدم کیا؛ لیکن وہ اس بات سے ناخوش تھے کہ کمیٹی نے فلسطین کو ایک یہودی ریاست قرار دینے سے انکار کر دیا۔

اینگلو امریکن کمیٹی کی رپورٹ پر شیخ الاسلام کا رد عمل

درج بالا اینگلو امریکن کمیٹی کی رپورٹ پر 13؍مئی 1946ء کو شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ نے کہا کہ یہ رپورٹ سخت افسوس ناک ہے اور اس پر عمل کیا گیا، تو نتائج خطرناک ہوںگے۔مولانا کا مکمل بیان درج ذیل ہے:

’’فلسطین کمیٹی کی اس رپورٹ نے- جوبرطانوی اور امریکی نمائندوں پر مشتمل تھی- یہ بات پھر ایک دفعہ واضح طور پر ثابت اور نمایاں کردی ہے کہ یورپین اقوام کی نگاہ میں وعدہ اور ایمان داری کے الفاظ ایک بے معنی اور ایک بے حقیقت چیز ہیں۔ اس رپورٹ نے فلسطین میں مزید ایک لاکھ یہودیوں کے داخلہ کی سفارش کی ہے۔ کمیٹی کی یہ نامعقول سفارش عالم اسلامی کے لیے کھلا چیلنج ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ عالم اسلامی کا بھی یہ فرض ہے کہ وہ اس چیلنج کو قبول کرے، جو برطانوی اور امریکی رپورٹ نے اپنے غرور اور طاقت کے گھمنڈ پر دیاہے۔مجھے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں ہے کہ عربوں نے اس رپورٹ کے خلاف اگرکوئی عملی اقدام کیا اور اپنی آزادی اور اپنے وطن کی حفاظت کے لیے سربکف میدان میں نکلے، تو مسلمانان ہند کی تمام ہمدردیاں اور بقدر استطاعت ہر قسم کی اعانت ان کے لیے وقف ہوں گی اور ہندستان کے مسلمان اپنے مقام مقدس کے خلاف برطانوی اور امریکی عزائم اور ان کی ظالمانہ چیرہ دستیوں کو ہرگز برداشت نہیں کریں گے۔ جمعیت علمائے ہند برسوں سے فلسطین پر انگریزی انتداب اور صیہونی تحریک اور اعلان بالفور کی سخت ترین مخالفت کرتی رہی ہے۔ اور اس سلسلہ میں اعراب فلسطین پر گورنمنٹ برطانیہ جو حیاسوز اور درد انگیز مظالم کرتی رہی ہے، اس کے خلاف بارہا جمعیت علما نے احتجاج کیا ہے۔ اس نے متعدد بار یوم فلسطین منائے، احتجاجی جلسے کیے، بحری برقیوں کے ذریعہ برطانوی اور امریکی حکومتوں کو مسلمانان ہند کے غم و غصہ اور ان کے تأثرات مذہبی سے بارہا آگاہ کیا اور اعراب فلسطین کی مالی اعانت اور امداد بھی کی۔ لیکن نہایت افسوس کے ساتھ اس حقیقت کو ظاہر کرنا پڑتا ہے کہ آج تک طاغوتی طاقتوں پر اس تمام احتجاجی چیخ و پکار کا کوئی اثر نہیںہوا اور وہ برابر اپنے ناپاک ارادوں کو بروئے کار لانے کے لیے سرگرم عمل اور اپنی غیر منصفانہ ریشہ دوانیوں میں مصروف ہیں۔ اور اس موجودہ رپورٹ نے تو ہر قسم کی وعدہ خلافی اور صریح بے ایمانی و ناانصافی کا ریکارڈ ہی مات کردیا ہے۔ اعراب فلسطین اور عربوں کی حکومتیں اور عرب لیگ اس رپورٹ کے خلاف جس جرات اور دلیری سے آواز بلند کر رہی ہیں، اور تمام عرب جہاد حریت کے اعلان پر جس طرح ہم آہنگ و ہم نوا ہیں، وہ ان کی باغیرت فطرت کا تقاضا ہے۔ اور وہ ایسا کرنے میں اخلاقا، مذہبا حق بجانب ہیں اور وہ اس امر کو محسوس کر رہے ہیں کہ عرب کا ترکی سے جدا ہوکر برطانوی اور فرانسیسی انتداب میں داخل ہونا ہی اس تمام تباہی اور بربادی کا اصلی سبب ہے۔ اس رپورٹ سے تمام عالم اسلامی میں جو اضطراب و ہیجان بپا ہے، میں اس بے چینی کے پیش نظرنہ صرف جمعیت علمائے ہند کی جانب سے ؛ بلکہ تمام مسلمانان ہندستان کی جانب سے حکومت برطانیہ کو تنبہ کرنا اپنا فرض سمجھتا ہوں کہ اگر اس اینگلو امریکن رپورٹ کی سفارشات پر عمل کیا گیا، تو اس کے نتائج سخت خطرناک اور نہایت خوف ناک ہوں گے اور ان نتائج کی تمام ذمہ داری برطانیہ اور امریکہ پر ہوگی۔ ابھی وقت ہے کہ کمیٹی کی اس رپورٹ کو مسترد کردیا جائے۔ جو وعدے مسلمانوں سے کیے ہیں، ان کا ایفا کیا جائے اور اپنی اس دیرینہ اسلام کش اور عالم اسلامی سے عداوت کی پالیسی کا اعادہ کرنے اور اس کو دہرانے سے اجتناب کیا جائے۔ میں اس سلسلے میں وزیر اعظم برطانیہ میجر ایٹلی اور صدر جمہوریہ امریکہ مسٹر ٹرومین کو بھی بحری برقیہ کے ذریعہ اطلاع دے رہا ہوں۔

 حسین احمد صدر جمعیت علمائے ہند۔ ‘‘ (روزنامہ اجمل ممبئی، 13؍ مئی 1946)  

فلسطین سے متعلق یوم احتجاج منانے کا اعلان

اینگلو امریکن کمیٹی کی رپورٹ سے پیدا شدہ حالات کے تناظر میں ناظم جمعیت علمائے ہند نے 16؍ مئی 1946ء کو ایک بیان جاری کرتے ہوئے ، 24؍ مئی 1946ء کو فلسطین سے متعلق یوم احتجاج منانے کی اپیل کی ۔ بیان درج ذیلہے:

’’دہلی۔ 16مئی ۔ فلسطین کے متعلق اینگلو امریکن کمیٹی کی رپورٹ نے تمام عالم اسلامی میں ایک اضطراب انگیز ہیجان برپا کردیا ہے۔ ارض فلسطین کے ساتھ تمام دنیا کے مسلمانوں کا جو تعلق ہے، وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔ عالم اسلامی کے جذبات کو جانتے ہوئے اس قسم کی رپورٹ مسلمانوں کے صحیح اورمذہبی جذبات کی بد ترین توہین ہے۔ جمعیت علمانے ہمیشہ گورنمنٹ برطانیہ کے ارباب حل و عقد کو مسلمانوں کے صحیح جذبات سے آگاہ کیا ہے۔ جمعیت علمائے ہند پھر اس ضرورت کو محسوس کر رہی ہے کہ ہندستان کے مسلمان پھر ایک دفعہ متفق ہوکر گورنمنٹ کو مسلمانوں کے ان معتقدات اور جذبات سے آگاہ کردیں، جو ان کو اپنے مقامات مقدسہ کے ساتھ ہمیشہ رہے ہیں۔ 

اور گورنمنٹ برطانیہ اور اس کی حلیف امریکن گورنمنٹ کو واضح طور پر یہ بتادیا جائے کہ اگر اس کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرنے کی کوشش کی گئی، تو اس کے نتائج بہت ہی خطرناک ہوں گے۔ جمعیت علمائے ہند نے اس قسم کی آئینی احتجاج کے لیے 24؍ مئی 1946جمعہ کا دن مقرر کیا ہے، اس دن تمام ہندستان کے مسلمان عام جلسے منعقد کریں اور جلسوں میں ایک متفقہ تجویز پاس کریں اور ہر مقام سے اس تجویز کی ایک نقل وائسرائے ہند کو بھیجی جائے۔

 تجویز حسب ذیل ہے: 

مسلمانان … کا یہ عام جلسہ برطانوی امریکن تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ پر -جس میں مزید ایک لاکھ یہودیوں کے فلسطین میں داخلہ کی سفارش کی گئی ہے- انتہائی نفرت اور غم و غصے کا اظہار کرتا ہے۔ فلسطین کے مختصر رقبہ میں وہاں کے اصل باشندوں پر ایک لاکھ اجنبی سرمایہ پرست یہودیوں کو مسلط کرنا اور ان کو شہری حقوق دے کر حکومت میں ان کو حصہ دار بنادینا؛ باشندگان فلسطین پر نفرت انگیز ظلم و تعدی ہے، جس کو آئین کی دنیا میں کبھی بھی برداشت نہیں کیا جاسکتا۔یہ جلسہ اس حقیقت کا اعلان ضروری سمجھتا ہے کہ فلسطین مقدس مسلمانوں کا قبلۂ اول ہے۔ اس کا احترام مسلمانوں کا جزو ایمان ہے۔ مسلمان اس کی بے حرمتی کو اور اس سرزمین پاک پر یہود کی چیرہ دستی کو قطعا برداشت نہیں کرسکتے۔ جو حکومتیں اس مسئلہ میں اپنے تمام سابقہ وعدوں کو فراموش کرکے یہودیوں کی حمایت کر رہی ہیں، وہ عالم اسلامی کے مذہبی جذبات کو ناقابل برداشت ٹھیس پہنچا رہی ہیں۔ مسلمان اس مذہبی اور خالص دینی ضرر کے لیے ہر ایک قربانی کے واسطے تیار ہیں اور اس مقصد عظیم کی راہ میں ہر قسم کے ایثار و قربانی کو عین سعادت سمجھتا ہے۔ 

یہ جلسہ حکومت برطانیہ اور امریک کو پوری صواب دید کے ساتھ قبل از وقت متنبہ کرتا ہے کہ اگر غیر منصفانہ اور جانب دارانہ رپورٹ کی سفارشات پر عمل کیا گیا، تو اس کے نتائج و عواقب سخت خطرناک ہوں گے اور ان نتائج کی تمام ذمہ داری ان لوگوں پر عائد ہوگی ، جو اس ظالمانہ رپورٹ کی سفارشات پر عمل کرنے سے پیدا ہوں گے۔‘‘ (شہبازلاہور، 17مئی 1946ء )

 برطانوی امریکن تحقیقاتی مشن کی رپورٹ پر جمعیت علما کا رد عمل

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ مرکزیہ کا ایک اہم اجلاس 10،11،12؍ جون 1946ء کو منعقد ہوا، جس قضیۂ فلسطین کا معاملہ پیش ہوکر حسب ذیل تجویز منظور ہوئی:

’’مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس برطانوی امریکن تحقیقاتی مشن کی رپورٹ پر- جس میں مزید ایک لاکھ یہودیوں کے فلسطین میں داخلہ کی سفارش کی گئی ہے- نفرت و غصہ کا اظہار کرتا ہے اور اسے دنیائے اسلام کے لیے ایک چیلنج سمجھتا ہے۔ فلسطین کے مختصر رقبہ میں مزید ایک لاکھ یہودیوں کو داخلہ کی اجازت دے کر انھیں شہری حقوق دینا اور وہاں کی حکومت میں حصہ دار بنانا، وہاں کے اصل باشندوں پر قابل ملامت جبر و تعدی ہے، جسے آئین پسندی کے موجودہ دور میں کسی طرح برداشت نہیں کیا جاسکتا ۔ 

مجلس عاملہ اس حقیقت کا اظہار ضروری سمجھتی ہے کہ فلسطین کی مقدس سرزمین مسلمانوں کا قبلۂ اولیٰ ہے، جس کا احترام تمام مسلمانوں کا جزو ایمان ہے، اس لیے مسلمان اس سرزمین پر یہودیوں کے غلبہ اور ان کی چیرہ دستیوں کو قطعا گوارا نہیں کرسکتے۔ 

مجلس عاملہ حکومت برطانیہ و حکومت امریکہ کو متنبہ کردینا ضروری سمجھتی ہے کہ وہ داخلۂ یہود کے متعلق کمیشن کی سفارشات کو مسترد کردیں اور عالم اسلامی کے مذہبی جذبات کو مشتعل ہونے سے بچالیں۔ مجلس عاملہ عرب ہائی کمیٹی کے سکریٹری کے اس بحری برقیہ کی روشنی میں - جو صدر جمعیت علما کے بحری برقیہ کے جواب میں موصول ہوا ہے-فلسطین کے باشندوں کو خصوصا اور تمام عرب حکومتوں کو عموما یقین دلاتی ہے کہ مسلمانان ہند ان کے جہاد آزادی میں ایسی وابستگی کا اظہار کرتے ہوئے حتیٰ الوسع ہر قسم کی اعانت سے دریغ نہ کریں گے۔

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص؍552)

قضیۂ فلسطین کے سلسلہ میں متحدہ مؤتمر اسلامی کے انعقاد پر غور 

اسی مجلس عاملہ مرکزیہ میں قضیۂ فلسطین کے سلسلہ میں متحدہ مؤتمر اسلامی کے انعقاد کے لیے بمبئی کی آمدہ درخواست پر غور کیا گیا۔ اور مولانا حفظ الرحمان صاحب کو اختیار دیا گیا کہ وہ سید عبد اللہ صاحب بریلوی سے مزید خط و کتابت کر کے بہت جلد مؤتمر کے انعقاد کی تاریخوں کا اعلان کریں۔ (مطبوعہ رپورٹ)

کل ہندفلسطین کانفرنس کا اعلان

13؍ جون 1946ء کو کل ہند فلسطین کانفرنس کے تعلق سے درج ذیل اعلان شائع کیا گیا:

’’قوم پرور مسلمانوں کے تنظیمی اداروں نے ایک کل ہند کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے، تاکہ فلسطین کی صورت حال پر غور کیا جائے، جو برطانی امریکی کمیشن کی رپورٹ کے بعد پیدا ہوگئی ہے۔

یہ کانفرنس دہلی، یا بمبئی میں عنقریب کسی تاریخ میں منعقد کی جائے گی۔ اس کے انتظامات کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے ایک مخصوص کمیٹی بنادی گئی ہے، جو مولانا احمد سعید ، مولانا حفظ الرحمان ، شیخ حسام الدین، شیخ ظہیر الدین اور سید عطاء اللہ شاہ بخاری پر مشتمل ہے۔ ‘‘ 

(قومی آواز لکھنو، 15؍ جون 1946ء) 

افسوس کہ اس کانفرنس کے تعلق سے کوئی معلومات نہیں مل سکیں۔(محمد یاسین جہازی)

عرب لیگ کی طرف سے جمعیت علمائے ہند کو جوابی مکتوب

’’شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد صاحب مدنی مدظلہ کی جانب سے سکریٹری عرب لیگ کو فلسطین کے متعلق ایک بحری برقیہ بھیجا گیا تھا، 21؍جون 1946ء کو اس کے جواب میں سکریٹری عرب لیگ نے حسب ذیل بحری برقیہ حضرت مولانا کے نام بھیجا: 

’’آپ کا بحری پیغام -جو ہمارے لیے بہت زیادہ حوصلہ افزا ہے- موصول ہوا۔ عموما تمام ہندستانی اور خصوصا ہندستانی مسلمان ہم عربوں کے لیے ایک بہت بڑی قوت کا باعث ہیں اور ہمیں آپ کے توسط سے ان کی ہمدردی اور مدد کی پوری امید ہے۔ ہم تہیہ کرچکے ہیں کہ فلسطین کی حفاظت کی خاطر ہم اپنا سب کچھ قربان کردیں گے اور یہی امید ہم تمام ہندستانیوں اور ہندستانی مسلمانوں سے بھی رکھتے ہیں۔ فتح ہماری ہی ہوگی، کیوں کہ خدا ہمارے ساتھ ہے۔ 

عبد الرحمان اعظم سکریٹری عرب لیگ( مصر) 

از دفتر جمعیت علمائے ہند دہلی۔ 21؍ جون 1946۔ ‘‘ (26؍ جون 1946ء)

صدر ٹرومین کے جواب پر جمعیت علمائے ہند کا تبصرہ

مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند لکھتے ہیں کہ: 

’’صدر جمعیت علمائے ہند نے صدر جمہوریہ امریکہ کے نام فلسطین سے متعلق جو تار بھیجا تھا، اس کا جواب قونصل امریکہ مقیم نئی دہلی کی معرفت موصول ہوا ہے۔ اس جواب میں یہودیوں کو فلسطین میں آباد کرنے کی وہی فرسودہ تاویلیں کی گئی ہیں، جن کی بارہا عالم اسلامی کی جانب سے تردید کی جاچکی ہے۔ فلسطین میں دہشت انگیزی کی جو تحریک چل رہی ہے، اخبارات سے معلوم ہوچکا ہے کہ اس میں بھی امریکہ کا ہاتھ ہے، جو یہودیوں کو شہ دے کر فلسطین کے عربوں کو مرعوب کرنا چاہتا ہے۔ امریکہ کا حالیہ بیان بھی اس کی ناپاک ذہنیت کا شرم ناک مرقع ہے۔ اگر امریکہ کے باشندے بقول صدر ٹرومین اس سے دل چسپی رکھتے ہیں کہ فلسطین کو یہودیوں کا ملک بنادیا جائے، تو تمام عالم اسلامی اس ذلیل قصہ کے خلاف متحد ہے اور حکومت امریکہ کی اس ظالمانہ روش پر عربوں اور تمام عالم اسلامی میں غم و غصہ کی جو لہر دوڑ گئی ہے، اس کے نتائج بہت دو رس ہوں گے، جو یقینا امریکہ کو بھی چین و آرام سے نہ بیٹھنے دیں گے۔ 

فلسطین عربوں کا ملک ہے، اس میں امریکہ، یا برطانیہ کو مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے۔ اگر یہ دونوں سلطنتیں اپنے ناپاک مقاصد کا آلۂ کار فلسطین کو نہ بنائیں، تو عرب ایک ہفتہ کے اندر اندر یہودیوں کے سازشوں اور ناپاک عزائم کا قلم قمع کرکے ان سے اپنے ملک کو پاک کرسکتے ہیں۔‘‘

 (روزنامہ الجمعیۃ،18؍ اگست1946ء) 

کل مشرق فلسطین کانفرنس

مجلس عاملہ منعقدہ : 21تا 24؍ ستمبر 1946ء میں کل مشرق فلسطین کانفرنس کا مسئلہ پیش ہوا۔ اور طے ہوا کہ فلسطین سے متعلق جمعیت علمائے ہند کی خدمات کی رپورٹ عربی، یا انگریزی میں مرتب کراکر عرب ہائی لیگ کے سکریٹری کے نام جلد از جلد بھیج دی جائے۔ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص؍560) 

یوم فلسطین منانے کی اپیل

15؍ جون1947ء کو  شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی صدر جمعیت علمائے ہند نے اپیل جاری کی کہ مفتی اعظم فلسطین کے حکم کے مطابق 17؍ جون کو یوم فلسطین منایا جائے۔ ہندستان کی اسلامی جماعتوں نے بھی اس اپیل کی تائید کی ہے۔ جمعیت علمائے ہند کی تمام ماتحت شاخوں کا فرض ہے کہ وہ بھی 17؍ جون کو یوم فلسطین منائیں۔‘‘

 (روزنامہ انصاری 17؍ جون 1947ء)

 فلسطین ناقابل تقسیم ہے:لکھنو مسلم کانفرنس

ہندستان کی آزادی کے بعد تقسیم ہند کے نتیجے میں پیدا شدہ دل خراش حالات کے تناظر میں، امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزاد علیہ الرحمہ کی صدارت میں  27 ،28؍ دسمبر 1947ء کو منعقد لکھنو مسلم کانفرنس میں  فلسطین کا مسئلہ بھی زیر بحث آیا ۔  اس کی تحریک ڈاکٹر سید محمود نے اور تائید سید عبدللہ بریلوی نے کی۔ پھر متفقہ طور پر درج ذیل تجویز منظور کی گئی:

’’مولانا آزادؒ نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ بہت دنوں سے زیر بحث ہے۔ ادارہ متحدہ اقوام میں ہندستانی نمائندوں کو ہدایت کی گئی تھی کہ انڈین یونین عربوں کے حقوق کو تسلیم کرتی ہے اور فلسطین کو ناقابل تقسیم سمجھتی ہے ۔ ظاہر ہے کہ اس کی رائے بالکل درست تھی ؛ لیکن آپ یہاں جمع ہوئے ہیں ، اس لیے اس مسئلہ پر بھی اپنی رائے ظاہر کردینا مناسب ہے۔ ‘‘ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص؍589)

بالآخر وہی ہوا، جس کا ڈر تھا

دوسری عالمی جنگ (یکم ستمبر1939ء تا 2؍ستمبر1945ء)کی تباہ کاریوں کے بعد فلسطین کا مسئلہ عالمی سطح پر ایک نہایت پیچیدہ اور حساس معاملہ بن چکا تھا۔ برطانیہ -جو فلسطین پر اپنے منڈیٹ کے تحت حکمرانی کر رہا تھا- اس مسئلے کے حل میں بڑھتی ہوئی مشکلات کے باعث اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہونا چاہتا تھا۔ چنانچہ اس صورتِ حال نے اقوام متحدہ کو مجبور کیا کہ وہ ایسا حل تلاش کرے، جو عربوں اور یہودیوں دونوں کے حقوق کو مدنظر رکھ سکے۔

اسی پس منظر میں 15؍مئی 1947ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرارداد نمبر (106) کے تحت ’’اقوام متحدہ کی خصوصی کمیٹی برائے فلسطین‘‘ (UNSCOP) قائم کی۔ اس کمیٹی کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ فلسطین کی صورتِ حال کا جائزہ لے کر مسئلے کے حل کے لیے قابلِ عمل تجاویز پیش کرے۔

کمیٹی نے طویل غور و خوض اور مختلف فریقوں سے مشاورت کے بعد اپنی رپورٹ 3؍ستمبر 1947ء کو جنیوا میں پیش کی۔ یہ رپورٹ دو حصوں پر مشتمل تھی: اکثریتی اور اقلیتی رپورٹ۔

اکثریتی رپورٹ- جسے آٹھ اراکین کی حمایت حاصل تھی- نے فلسطین کو دو الگ ریاستوں میں تقسیم کرنے کی تجویز دی۔ اس منصوبے کے مطابق 56؍فی صد علاقہ یہودی ریاست کو، 43؍ فی صد علاقہ عرب ریاست کو دیا جانا تھا، جب کہ یروشلم اور اس کے اطراف کے علاقے کو بین الاقوامی انتظام کے تحت رکھا جانا تھا۔ اس کے برعکس اقلیتی رپورٹ- جسے تین اراکین کی حمایت حاصل تھی- نے ایک وفاقی ریاست کی تجویز پیش کی۔ اس منصوبے کے مطابق فلسطین کو ایک مشترکہ وفاقی ریاست کی شکل دی جاتی، جس میں عرب اور یہودی علاقے اپنی داخلی خودمختاری کے ساتھ ایک مرکزی وفاقی ڈھانچے کے تحت متحد رہتے۔

کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں برطانوی منڈیٹ کی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور اسے ایک طرح کی ’’پولیس اسٹیٹ‘‘ قرار دیا۔

یہی رپورٹ بعد میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی ایڈھاک کمیٹی کے غور کا بنیادی ماخذ بنی۔ بالآخر 29؍نومبر 1947ء کو جنرل اسمبلی نے قرارداد نمبر (181) منظور کر لی، جس کے تحت فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ باضابطہ طور پر منظور کر لیا گیا۔

اس قرارداد کے نتیجے میں 14؍مئی 1948ء کو یہودی قیادت نے فلسطین کے ایک بڑے حصے پر  ’’اسرائیل‘‘ کے نام سے مسلمانوں کے دلوں کے بیچوں بیچ ’’وطن الیہود‘‘ کا زہر بودیا اور ڈیوڈ بن گوریان کو اس کا پہلا وزیر اعظم بنادیا۔لیکن عرب ممالک اور فلسطینی عربوں نے اس تقسیم کو یکسر مسترد کر دیا۔ اسی ردِ عمل کے طور پر فوراً ہی 1948ء کی عرب-اسرائیل جنگ شروع ہوگئی، جس کے اثرات اور کشیدگی آج تک مشرقِ وسطیٰ کی سیاست اور عالمی حالات پر نمایاں طور پر موجود ہیں۔

فلسطین میں صرف وہاں کے باشندے حکومت کا حق رکھتے ہیں

 شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنی صدر جمعیت علمائے ہند نے 27؍مئی1948ء کو  فلسطین کے متعلق حسب ذیل پریس بیان جاری کیا:

’’فلسطین میں جو ہنگامہ آرائی ہورہی ہے، اس کے متعلق بعض احباب جمعیت علمائے ہند کو توجہ دلارہے ہیں۔ میں اس سلسلہ میں اس پالیسی کو پھر ایک دفعہ ظاہر کردینا چاہتا ہوں، جو جمعیت علما نے اپنے مختلف جلسوں میں متعدد بارے طے کرچکی ہے اور جس کا اظہار بیانوں میں بھی کیا جاچکا ہے کہ فلسطین میں حکومت کرنے کا حق صرف فلسطین کے باشندوں کو ہے، خواہ مسلمان ہوں،یا عیسائی ہوں، یا یہودی ہوں، بلا تفریق مذہب جو عرب اس خطۂ زمین پر آباد ہیں، صرف وہی اس ملک پر حکومت کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ جمعیت علما نے مبنی برحقیقت مطالبہ کو کئی مرتبہ پیش کیا ہے کہ فلسطین میں بیرونی لوگوں کا داخلہ بند کیا جائے۔ مختلف گوشوں سے یہودیوں کو وہاں لاکر نہ بسایا جائے اور تحریک صہیونیت کو اس سرزمین پر پرورش نہ کیا جائے؛ لیکن برطانیہ نے جمعیت علما کی کوششوں کو بارآور نہ ہونے دیا اور بیرونی یہودیوں کو آہستہ آہستہ فلسطین میں داخل کرتی رہی۔ اور جب یہودی کافی تعداد میں وہاں داخل ہوگئے، تو فلسطین کو تقسیم کرنے کا تباہ کن فارمولا فلسطین کے باشندوں کے سامنے پیش کردیا اور دنیا سے بالکل انوکھا طریقہ اختیار کیا۔ حالاں کہ جمہوریت کا یہ فیصل شدہ اصول ہے ، جس کو سیکورٹی کو نسل بھی مانتی ہے؛ لیکن مجھے افسوس ہے کہ فلسطین میں دنیا کے ایک مسلمہ اصول کے خلاف کیا جارہا ہے اور عربوں کے قدیم حق حکومت کو غیر ملکی یہودیوں میں تقسیم کیا جارہا ہے۔ ہندستان کی تقسیم سے جو ناقابل تلافی نقصان ہندستان کے باشندوںکو پہنچا ہے، اس کا اعادہ فلسطین میں کیا جارہا ہے اور ایک خوں ریز ہنگامہ آرائی شروع ہوجائے گی۔ برطانیہ وہاں سے رخصت ہورہا ہے۔ یہ کس قدر ناانصافی اور ظلم ہے کہ کسی ملک سے رخصت ہوتے ہوئے اور اس کو آزاد کرتے وقت اس ملک کے باشندوں کو ایک ایسی جنگ میں مبتلا کردیا جائے، جس کا سلسلہ مدتوں تک چلتا رہے اور یورپ کی مستبدانہ طاقتوں کو نہایت آسانی کے ساتھ یہ کہنے کا موقع دیا جائے کہ آزاد شدہ ملک کے باشندوں میں آزادی کی صلاحیت اور اہمیت نہیں تھی اور ہندستان، یا فلسطین کو آزادکرکے برطانیہ نے ایک شدید غلطی اور ایک بڑے جرم کا ارتکاب کیا ہے۔ اس سے زیادہ ایسی تقسیم کا- جو مذہب کے نام پر کی جائے- اور کوئی مفاد نہیں ہے۔ 

اسی تقسیم کے اصول پر ایک طرف ہندستان کو اور دوسری طرف فلسطین کو انسانی خوں ریزی میں مبتلا کیا گیا ۔ روس اور امریکہ کا رویہ بھی حد درجہ افسوس ناک ہے کہ انھوں نے جمہوری اصولوں اور خلاف انصاف خود غرضی پر مبنی سیاست کے ماتحت فلسطینی عرب باشندوں کے جائز حقوق کو پامال کرکے تقسیم کو نہ صرف پامال کیا؛ بلکہ یہودیوں کی نام نہاد حکومت کو بھی تسلیم کرلیا۔

فلسطین کا معاملہ چوں کہ سکیورٹی کونسل میں پیش ہے، اس لیے میں امید کرتا ہوں کہ سکیورٹی کونسل اپنی ذمہ داری کو محسوس کرے گی اور جمہوریت پسند طاقتوں کے اس مسلمہ اصول کی روشنی میں فیصلہ کرے گی اور ہر ملک کے باشندوں کو اپنے اوپر خود حکومت کرنے کا حق حاصل ہے اور دین و دھرم کے اصول پر کسی ملک کو تقسیم کرنا اس ملک کے باشندوں کو تباہ کرنے کے مترادف ہے۔ 

میں آخر میں انڈین یونین کے اس مدبرانہ رویہ پر اس کو مبارک باد دیتا ہوں کہ اس نے فلسطین کے معاملہ میں غیر جانب دارری اختیار کی ہے اور تقسیم کے ظالمانہ طریقۂ کار سے جو حکومت بنائی گئی ہے، اسے ہنوز تسلیم نہیں کیا ہے اور امید کرتا ہوں کہ آئندہ بھی اپنے اس معقول رویہ پر قائم رہے گی۔ مجھے ہر ہندستانی سے توقع ہے کہ وہ فلسطین کے معاملہ میں انصاف پسندی کا ثبوت دے گا اور انڈین یونین کے موجودہ رویہ کو بہ نظر استحسان دیکھے گا۔‘‘

 (روزنامہ الجمعیۃ 29؍مئی 1948ء) 

 صدر جمعیت علمائے ہند کے نامعظام پاشا کا تار

’’آپ کی دلی ہمدردی اور امداد کا پرخلوص وعدہ قابل ستائش ہے ۔ خدا کی عنایت سے فتح ہماری ہوگی‘‘۔

 یہ ہیں وہ الفاظ اس تار کے، جو عظام پاشا سکریٹری عرب لیگ کی طرف سے آج 9؍ جون1948ء، شیخ الہند مولانا حسین احمد صاحب مدنی صدر جمعیت علمائے ہندکے نام دفتر جمعیت علمائے دہلی میں موصول ہوا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ گذشتہ 6؍ جون کو حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی کے ذریعہ عظام پاشا کو مسلمانان ہند کی حمایت کا کامل یقین دلایا تھا۔ عظام پاشا کے اس تار سے عربوں کے عزائم کا پتہ چلتا ہے اور معلوم ہوتا ہے کہ عربوں کو اپنے خدا پر یقین ہے ۔ اور انھیں اعتماد ہے کہ روس اور امریکہ کی یہود نواز پالیسی کے باوجود خدا کی امداد سے اپنے مقصد میں ضرور کامیاب ہوں گے۔ اور بالآخر فتح انھیں کی ہوگی ۔ توقع کی جارہی ہے کہ 11؍ جون کو حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحب ناظم اعلیٰ جمعیت علما کی اپیل پر یوم فلسطین بڑے زور و شور کے ساتھ منایا جائے گا اور اس دن عربوں کی فتح و کامرانی کے لیے دعا کی جائے گی۔

(روزنامہ الجمعیۃ، 11؍ جون 1948ء)

سفیر امریکہ مسٹر آصف علی کو جمعیت علما کا برقی مبارک باد

حضرت مولانا حفظ  الرحمان صاحب ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ہندنے مسٹر آصف علی سفیر ہند متعین امریکہ کو ایک تار بھیجی ہے، جس میں انھیں جمعیت علما کی طرف سے مبارک باد پیش کی گئی ہے کہ آپ نے مجلس اقوام متحدہ میں فلسطین کے مسئلے کو نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ پیش کیا اور اس کی حمایت کا حق ادا کیا۔تار کے الفاظ یہ ہیں:

’’جمعیت علمائے ہند آپ کے اس موقف پر- جو آپ نے مجلس اقوام متحدہ میں فلسطین کے بارے میں اختیار کیا ہے- مبارک باد دیتی ہے۔‘‘

محمدحفظ الرحمان جنرل سکریٹری، جمعیت علمائے ہند۔ (ریکارڈ روم)

خلاصہ

جنگ عظیم اول (28؍ جولائی 1914ء- 11؍ نومبر1918ء) میں برطانیہ نے تین الگ الگ لوگوں سے تین متضاد وعدے کیے۔ یہودیوں سے ان کو قومی وطن دینے کا، عالم اسلام سے تحفظ خلافت کا اور ہندستانیوں سے سوراج کا؛ لیکن جنگ کے اختتام کے بعد، 30؍ اکتوبر 1918ء کو ترکی اور اتحادیوں کے درمیان ہوئی عارضی صلح، بعد ازاں 10؍اگست1920ء کو معاہدۂ سیورے کے ذریعہ اس کی تصدیق وتوثیق کے بعد عالم اسلام سے وعدہ خلافی کرتے ہوئے خلافت عثمانیہ اسلامیہ کی بندر بانٹ کرکے،2؍نومبر1917ء کے بالفور اعلامیہ کے مطابق،24؍جولائی 1922ء کو لیگ آف نیشنز کی کونسل نے فلسطین کا مینڈیٹ برطانیہ کو دینے کا حتمی فیصلہ کرلیا۔ اس طرح خطۂ فلسطین خلافت عثمانیہ کی عمل داری سے نکل کر برطانیہ کی غلامی میں چلا گیا۔

ادھر ہندستانیوں کے ساتھ بھی دھوکہ کرتے ہوئے سوراج دینے کے بجائے ، 18؍جنوری 1919ء کو ’’رولٹ ایکٹ‘‘ شائع کرکے بھارتیوں کی غلامی کی زنجیروں کو مزید جکڑدیا۔ اور ان سب کے پیچھے مشرق وسطیٰ میں مغربی کنٹرول کو برقرار رکھنے کے لیے گہری سازش کافرما تھی، تاکہ وطن الیہود ’’اسرائیل‘‘ کو ایک فوجی چھاؤنی کے طور پر استعمال کیا جاسکے۔

23؍نومبر1919ء کو جمعیت علمائے ہند نے اپنے قیام کے بعد، 10؍اگست 1920ء کو ہوئے سیورے معاہدہ کی رو سے خلافت اسلامیہ کو ٹکڑے ٹکڑے کردینے اور فلسطین میں برطانوی قبضے کے تناظرمیں، 6؍ستمبر1920ء کوکلکتہ کے ایک خصوصی اجلاس میں برطانوی حکومت کے خلاف مکمل بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے،8؍ستمبر1920ء کو اسی فیصلے کو شرعی تقاضاقرار دے کرترک موالات کا فتویٰ دیا، جس پر تقریبا پانچ سو علمائے کرام نے دستخط کیے۔

18تا20؍نومبر1921ء کو منعقد جمعیت علمائے ہند کے تیسرے سالانہ اجلاس عام کی صدارت کرتے ہوئے امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ نے اپنے تقریری صدارتی خطاب میں فلسطین کی تحریم و تحفظ کومسلمانوں کے لیے ضروری قرار دیا۔ 

22؍مارچ 1922ء کو جمعیت علمائے ہند نے فلسطین کو برطانیہ کے بجائے خلافت عثمانیہ کے زیرنگیں رکھنے کا مطالبہ کیا۔اور18تا 20؍اکتوبر1922ء کو منعقد مجلس منتظمہ کے اجلاس میں مجوزۂ مطالبات خلافت میں فلسطین کو بھی شامل رکھا۔ان تمام مطالبات کو نظر انداز کرتے ہوئے، لیگ آف نیشنز نے 29؍ستمبر1923ء مینڈیٹ برائے فلسطین کو قانونی طور پر برطانیہ کے حوالے کرتے ہوئے،یہودیوں کو فلسطین میں آباد کرنے کی اجازت دے دی، جس سے اس خطے میں بڑھتی آبادی سے عدم توازن پیدا ہونے لگا۔

 2؍نومبر1925ء کو مجلس عالیہ اسلامیہ فلسطین نے جمعیت علمائے ہند سے تعاون کی اپیل کی۔

یہودیوں کے لیے نیشنل ہوم کے قیام کی اجازت سے یہودی امیگریشن میں اضافے کے باعث عرب یہودی تنازع شروع ہوا، جس میں سے ایک یروشلم کی مغربی دیوار: دیوار گریہ پر یہودیوں کی دعوے داری تھی، جس کی وجہ سے مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی کے سبب 23-24؍اگست 1929ء کو زبردست فسادات ہوئے، جن کی تحقیقات کے لیے برطانوی حکومت نے ستمبر 1929ء میں ’’شا کمیشن‘‘ تشکیل دی۔ادھر ہندستانی مسلمانوں نے دیوار گریہ پر یہودیوں کی دعوے داری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے 3؍ستمبر1929ء کو عظیم الشان اجلاس عام کیا۔

عرب یہودی بڑھتے فسادات نے عرب مسلمانوں کو معاشی اعتبار سے کمر توڑ کر رکھ دی، جس کی وجہ سے 20؍اکتوبر1929ء کو جماعت مرکزیہ فلسطین کی طرف سے ہندستانی مسلمانوں سے تعاون کی اپیل کی گئی۔

26تا 28؍اکتوبر1929ء کو مجلس مرکزیہ کا اجلاس ہوا، جس میں  جمعیت علمانے ’’شا کمیشن‘‘ پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے،فلسطینی انتداب اور بالفور اعلامیہ کی تنسیخ کا مطالبہ کیا۔

عالم اسلام کی تمام تر مخالفتوں کے باوجود برطانوی وزیر اعظم مسٹر ریمزے میکڈانلڈ فلسطین میں وطن الیہود بنانے میں سرگرم عمل رہا، تو جمعیت علما نے 31؍مارچ 1931ء کو منعقد دسویں اجلاس عام میں برطانیہ کی اس پالیسی کی شدید مذمت کی۔

20؍جون 1933ء کو فلسطین کا ایک مؤقد وفد ہندستان آیا، تو جمعیت علمائے ہند نے اس کا زبردست خیرمقدم کرتے ہوئے جامع مسجد دہلی میں عظیم الشان اجلاس منعقد کیا۔ بعد ازاں 25؍جون 1933ء کو اکابرین جمعیت نے وفد سے خصوصی ملاقات کی۔

فلسطین میں دنیا بھر کے یہودیوں کو لالاکر بسانے کا عمل جاری تھا، جس سے 1936ء سے تقریبا1939ء تک متعدد بار عرب فلسطینیوں اور یہودیوں کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں برطانیہ نے مسلمانوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے۔ انھی دنوں 27تا 29؍مارچ 1936ء کو جمعیت علمائے صوبہ دہلی کا عظیم الشان اجلاس ہوا، جس میں یہودیوں کی آبادی اور برطانوی مظالم کی مذمت کی گئی۔بعد ازاں حضرت العلامہ مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہند نے یکم جون 1936ء کو ایک طویل پریس بیان دے کر فلسطین پر برطانیہ کے قبضے کی مخالفت کی۔ 

برطانیہ کی نوآبادیاتی پالیسی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے، آل انڈیا مسلم لیگ کی طرف سے 19؍جون 1936ء کو’’یوم فلسطین‘‘ منایا گیا۔ بعد ازاں 26؍ ستمبر 1936ء کو شملہ میں ایک عظیم الشان اجلاس کے ذریعہ مسلمانوں کے جذبات سے برطانیہ کو آگاہ کیا اور ساتھ ہی 28؍ستمبر1936ء کو ایک اعلیٰ سطحی وفد لے کر وائسرائے ہند مسٹر لن لتھ گو سے ملاقات کرکے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ فلسطین میں اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے۔

اوائل نومبر1936ء میں جمعیت علمائے ہند نے بھی فلسطین کانفرنس منعقد کی، اس اجلاس میں ایک خط کے ذریعہ مسٹر جواہر لال نہرو نے فلسطینیوں کی تحریک آزادی وطن کی حمایت کرتے ہوئے برطانیہ کو فرقہ وارانہ جھگڑے کرانے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ 

صدر محکمۂ شرعیہ استانبول نے فلسطین کے تعلق سے جمعیت علمائے ہند کی کوششوں کو سراہتے ہوئے 5؍جنوری 1937ء کو ایک مکتوب لکھ کر شکریہ ادا کیا۔

1936ء میں ہوئے عرب اسرائیلی جنگ کی تحقیقات کے لیے برطانیہ نے نومبر1936ء میں ’’پیل کمیشن‘‘ تشکیل دی،جس نے فلسطین کو تین حصوں میں تقسیم کرنے کی سفارش کی۔ 30؍ جولائی 1937ء کو حضرت مفتی اعظم ہند کی صدارت میں جامع مسجد دہلی میں عظیم الشان اجلاس ہوا، جس میں اس کمیشن کی سفارشات کی زبردست مخالفت کرتے ہوئے تقسیم فلسطین کو ناقابل قبول بتایا۔اس کمیشن کو ’’رائل‘‘ یعنی ’’شاہی کمیشن‘‘ کا بھی نام دیا گیا،یکم جون 1937ء کو حضرت مفتی اعظم ہند نے اس کمیشن پر ایک پریس بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانان فلسطین اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہادیںگے، مگر اس تقسیم کو قبول نہ کریںگے۔ 

8؍اگست 1937ء کو مجلس عمل فلسطین کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں رائل کمیشن کی مخالفت کرتے ہوئے 3؍ستمبر1937ء کو فلسطین ڈے منانے کا اعلان کیاگیا۔

17؍اگست1937ء کو منعقد جمعیت علمائے سندھ کے اجلاس میں بھی اس کمیشن کی مخالفت کی گئی۔

24؍اگست1937ء کو تمام زعما ولیڈران ہند نے ایک مشترکہ بیان جاری کرکے 3؍ستمبر 1937ء کو ملک گیر سطح پر ’’فلسطین ڈے‘‘ منانے کی اپیل کی۔چنانچہ پورے ملک میں احتجاج کیا گیا۔ادھر دہلی میں جمعیت علمائے ہند کے بینر تلے عظیم الشان احتجاجی اجلاس ، جلوس اور ہڑتال کی گئی۔

9؍اکتوبر1937ء کو وائسرائے ہند کے نام ایک تار بھیج کر صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مفتی اعظم ہند نے ہندستانی مسلمانوں کے اضطراب کا اظہار کیا اور برطانوی تشدد کو روکنے کا مطالبہ کیا۔

31؍اکتوبر1937ء کو مجلس عمل فلسطین کا ایک اہم اجلاس میرٹھ میں منعقد ہوا، جس میں مجلس تحفظ فلسطین کا قیام عمل میں آیا۔اسی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے فرمایا کہ ہندستان کی آزادی کا مسئلہ فلسطین کے مسئلہ سے الگ نہیں ہے۔اسی اجلاس میں مقاطعات ثلاثہ: (۱) برطانوی مصنوعات کا بائیکاٹ، (۲) دربار تاج پوشی کا بائیکاٹ، (۳) آئندہ جنگ عظیم دوم میں برطانیہ کی ہرقسم کی امداد کا بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا۔

27تا 29؍مئی 1938ء کو جمعیت علمائے بہار کا عظیم الشان اجلاس ہوا، جس میں فلسطین میں برطانیہ کی مسلم آزار پالیسی کے خلاف سخت احتجاج کیاگیا۔

 28؍جون 1938ء کو ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے وائسرائے ہند کو تار بھیج کر برطانوی بربریت کو روکنے کا مطالبہ کیا۔

5؍جولائی1938ء کو مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے ایک بیان میں کہا کہ فلسطین میں برطانوی مظالم برداشت نہیں کیاجاسکتا۔

یکم اگست1938ء کو مجلس تحفظ فلسطین کا پہلا اجلاس ہوا، جس میں تحریک سول نافرمانی چلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

3؍اگست 1938ء کی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں مجلس تحفظ فلسطین کے فیصلے کی تائید کرتے ہوئے قربانی دینے کی اپیل کی گئی۔

17؍اگست1938ء کو مجلس تحفظ فلسطین کا چوتھا عظیم الشان اجلاس کیا گیا، جس میں تحریک سول نافرمانی میں اپنی رضاکارانہ خدمات پیش کرنے کی اپیل کی گئی۔

20؍اگست1938ء کو مظلوم فلسطینیوں کی امداد کی اپیل کی گئی۔

متوقع جنگ عظیم دوم (یکم ستمبر1939ء تا 2؍ستمبر1945ء)میں بھرتی کے لیے برطانوی حکومت ہند نے فوجی بھرتی بل کو منظوری دی، جس کی مخالفت کرتے ہوئے،21؍اگست 1938ء کو ایک بیان میں حضرت مجاہد ملت نے اسے فلسطین کی تباہی سے تعبیر کیا۔

25؍اگست1938ء کو مجلس تحفظ فلسطین کا ایک اور اجلاس ہوا۔

20؍ستمبر1938ء کو صدر مجلس تحفظ فلسطین حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ نے تعاون کی اپیل جاری کی۔

مجلس تحفظ فلسطین کے ناظم اعلیٰ مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے 5؍اکتوبر1938ء کو ایک اپیل میں مقاطعات ثلاثہ کو جاری رکھنے کا اعلان کیا۔

7تا 11؍اکتوبر1938ء فلسطین کے مسائل کو حل کرنے کے لیے دنیائے اسلام کے نمائندوں پر مشتمل قاہرہ میں ایک عالمی کانفرنس ہوئی، جس میں صدر جمعیت حضرت مفتی اعظم ہند کی قیادت میں جمعیت علمائے ہند کے نمائندوں نے شرکت کی اور قضیۂ فلسطین کے حل کے لیے اہم اور مفید تجاویز پیش کیں؛ حتیٰ کہ کانفرنس نے جہاد تک کے اعلان کا امکان ظاہر کیا؛ لیکن مصر کی وفد پارٹی کی عدم شرکت کی وجہ سے ناکانفرنس ناکامی کی شکار ہوگئی۔

اسی موقع پر تاریخ نے سرزمین مصر میں حضرت مفتی اعظم ہند کے لیے سب سے بڑا اعزاز کا منظر دیکھا، جب شاہ مصر کے بعد درجہ رکھنے والی شخصیت شیخ الازہر علامہ مراغی بذات خود حضرت مفتی صاحب کی عیادت کے لیے ان کی جائے قیام پر تشریف لائے۔ 

جمعیت علما نے کانفرنس کی ناکامی سے مایوس ہونے کے بجائے 7؍نومبر1938ء سے ہفتۂ فلسطین منانے کا اعلان کیا۔

31؍دسمبر1938ء کو مجلس تحفظ فلسطین کا اہم اجلاس ہوا، جس میں عملی طور پر تحریک سول نافرمانی کو شروع کرنے کا عندیہ دیا گیا۔

16؍جنوری 1939ء کو ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ فلسطین نے برطانیہ کی تشدد آمیز پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے ہندستانی مسلمانوں کو اس کے تعاون کے لیے آمادہ کیا۔

مجلس تحفظ فلسطین نے 9؍فروری1939ء کو ایک اعلان جاری کرتے ہوئے، 11؍ فروری 1939ء کو ’’یوم آزادی فلسطین‘‘ منانے کی اپیل کی۔

برطانوی وزیر اعظم مسٹر چیمبر لین کی دعوت پر7؍فروری سے شروع ہوکر17؍مارچ 1939ء تک ہونے والی لندن کانفرنس میں عرب وفد نے یہودی وفد کے ساتھ بیٹھنے سے انکار کردیا، جس کی وجہ سے یہ کانفرنس ناکامی کی شکار ہوگئی۔ اسی کانفرنس کے موقع پر مجلس احرار اسلام ہند اور جمعیت علمائے ہند کے مشترکہ وفد نے بہار کے وزیر اعظم سری کرشنا سنہا سے ملاقات کرکے فلسطین کے تعلق سے ہندستانی مسلمانوں کے جذبات سے آگاہ کرتے ہوئے انھیں برطانوی حکومت تک پہنچانے کا مطالبہ کیا۔

آل انڈیا مجلس تحفظ فلسطین کی دعوت پر11؍فروری1939ء کو تمام صوبوں میں فلسطین کی حمایت میں احتجاجی اجلاس کیا گیا۔

جمعیت علمائے ہند نے 3تا 6؍مارچ 1939ء کو منعقد اپنے گیارھویں اجلاس عام کے خطبۂ استقبالیہ میں مقاطعات ثلاثہ کو جاری رکھنے کی اپیل کی ۔ اور تجویز میں برطانیہ کی مجوزہ تقسیم فلسطین کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔

مجلس دفاع فلسطین کی طرف سے 23؍مارچ 1939ء کو ایک تار موصول ہوا، جس میں جمعیت علمائے ہند سے امداد کی اپیل کی گئی۔ چنانچہ جمعیت علما نے اس حوالے سے اپنا کردار ادا کیا۔

لندن کانفرنس کی ناکامی کے بعد برطانیہ کا جاری کردہ قرطاس ابیض 17؍مئی 1939ء کو  شائع کیا گیا ۔ چوں کہ اس میں برطانوی عبوری اقتدار کے خاتمے اور فلسطین کی فوری آزادی کی وکالت نہیں کی گئی تھی، اس لیے 27تا 29؍مئی 1939ء کو منعقد مجلس مرکزیہ کے اجلاس میں اس کی شدید مخالفت کرتے ہوئے، اسے ناانصافی پر مبنی قرار دیاگیا۔

7تا 9؍جون 1940ء کو منعقد بارھویں اجلاس عام کے صدارتی خطاب میں صدر جمعیت مولانا حسین احمد مدنی صاحب نے کہا کہ ہندستان کی آزادی سے فلسطین بھی آزاد ہوگا۔

31؍مارچ 1944ء کو وائٹ پیپر کی مدت کے اختتام کے تناظر میں، جمعیت علما نے 6؍مارچ 1944ء کو ایک اپیل جاری کرتے ہوئے 17؍مارچ 1944ء کو ملک گیر سطح پر ’’ یوم فلسطین‘‘ منانے کا اعلان کیا۔ 

امریکہ کے صدر فرینکلن ڈی روز ویلٹ نے امریکی یہودی تنظیم کے سینتالیسویں سالانہ کانفرنس میں 15؍اکتوبر1944ء کو خطاب کرتے ہوئے فلسطین میں مزید یہودی آبادی کی حمایت کا اعلان کیا۔ اسی طرح برطانوی وزیر اعظم مسٹر ونسٹن چرچل نے 17؍نومبر1944ء کو برطانوی پارلیمنٹ میں ایک بیان دیتے ہوئے یہودی قومی گھر کی حمایت اور خود کو یہودیوں کا مستقل دوست قرار دیا۔ جمعیت علما نے 8-9؍نومبر1944ء کو منعقد اپنی مجلس عاملہ میں ان دونوں بیانات کی مذمت کی اور انسانیت کے خلاف ایک قبیح اور بدنما دھبہ قرار دیا۔

2؍جون1945ء کو ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے شام ، لبنان اور فلسطین کے خلاف فرانس اور برطانیہ کی مسلم کش پالیسی کی مذمت کی۔

11؍جون 1945ء کو جمعیت علمائے ہند نے ایک عظیم الشان اجلاس کیا ، جس میں 22؍ جون کو یومِ ممالکِ اسلامیہ منانے کی اپیل کی۔

جمعیت علمائے ہند کی مجلس مرکزیہ کا ایک اجلاس18؍ 19؍ ستمبر1945ء کو ہوا، جس کی ایک تجویز میں فلسطین میں آزاد حکومت قائم کرنے کا مطالبہ کیاگیا۔

9؍اکتوبر1945ء کو جمعیت علمائے ہند کے صدر حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب نے مسٹر ایٹلی، مسٹر ٹرومین اور وزیر اعظم فلسطین کو بحری تار بھیج کر فلسطین میں یہودی آبادکاری پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اس کی مذمت کی۔

2؍نومبر1917ء کو بالفور اعلامیہ سے قضیۂ فلسطین کا آغاز ہوا تھا، اسی مناسبت سے ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے 2؍نومبر1945ء کو یوم فلسطین منانے کا اعلان کیا۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد یورپ میں یہودیوں کی صورت حال کا جائزہ لینے اور فلسطین میں ان کی آباد کاری کے تعلق سے تحقیقات کے لیے 13؍نومبر1945ء کو اینگلو امریکن کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں تقسیم فلسطین کی سفارش کی گئی تھی۔ 13؍مئی 1946ء کو اس کمیٹی پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے صد رجمعیت حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب نے اسے سخت افسوس ناک قرار دیتے ہوئے 24؍مئی 1946ء فلسطین کے متعلق یوم احتجاج منانے کا اعلان کیا۔

 10تا 12؍جون 1946ء کو منعقد مجلس عاملہ مرکزیہ کے اجلاس میں اینگلو امریکن کمیٹی پر شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اسے ناقابل برداشت قرار دیا گیا۔

13؍جون1946ء کو اس کمیٹی کی رپورٹ سے پیداشدہ صورت حال کے تناظر میں کل فلسطین کانفرنس کرنے کا مشورہ کیا گیا۔

21؍جون1946ء کو سکریٹری عرب لیگ نے ایک تار بھیج کر آگاہ کیا کہ فلسطین کے تحفظ کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔

21تا 24؍ستمبر1946ء کی مجلس عاملہ میں یہ طے کیا گیا کہ فلسطین سے متعلق جمعیت علما کی خدمات کو عربی، یا انگریزی میں مرتب کراکر عرب ہائی لیگ کو بھیجا جائے۔

صدر جمعیت علمائے ہند نے 17؍جون 1947ء کو یوم فلسطین منانے کا اعلان کیا۔

تقسیم ہند کے نتیجے میں پیداشدہ شدید حالات کے تناظر میں27-28؍دسمبر1947ء کو امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ کی صدارت میں لکھنو مسلم کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں فلسطین کو ناقابل تقسیم قرار دیاگیا۔

جنگ عظیم دوم کے بعد 15؍ مئی 1947ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قرارداد نمبر 106 کے تحت ’’اقوام متحدہ کی خصوصی کمیٹی برائے فلسطین‘‘ (UNSCOP) کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اس کمیٹی نے فلسطین کی تقسیم کی حتمی تجویز پیش کی (جسے اقوام متحدہ کی قرارداد 181 کے طور پر جانا جاتا ہے)۔ اس میں 56 ؍فی صد رقبہ یہودی ریاست کو، 43؍فی صد عرب ریاست کو، اور یروشلم کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی تجویز پیش کی گئی تھی۔ اسی بنیاد پر14؍مئی 1948ء کو ’’اسرائیل‘‘ کا قیام عمل میں آیا؛ لیکن غیورعربوں نے اسے قبول کرنے سے انکار کردیا۔

27؍مئی 1948ء کو جمعیت علمائے ہند نے اس کی مخالفت کرتے ہوئے اپنے پریس بیان میں کہا کہ فلسطین میں صرف وہاں کے باشندے ہی حکومت کا حق رکھتے ہیں۔اور6؍جون 1948ء کو عظام پاشا سکریٹری عرب لیگ کو ایک تار بھیج کر ہندستانی مسلمانوں کی طرف سے مکمل حمایت کا یقین دلایا۔

اسی طرح سفیر امریکہ مسٹر آصف علی کو جمعیت علما نے اس بات پر مبارک باد دی کہ انھوں نے اقوام متحدہ میں فلسطین کے مسئلے کو بہت خوبی سے پیش کیا۔