1 Aug 2026

سعودی عرب اور جمعیت علمائے ہند

سعودی عرب اور جمعیت علمائے ہند 

محمد یاسین جہازی

پہلی جنگِ عظیم (18/جولائی 1914ئ تا 11/نومبر 1918ئ) کے دوران پورا جزیرہ¿ عرب سلطنتِ عثمانیہ کے زیرِ اقتدار تھا، اس لیے جمعیت علمائے ہند کے نزدیک خلافتِ عثمانیہ کا تحفظ دراصل حرمین شریفین اور پورے جزیرہ¿ عرب کے تحفظ کے مترادف تھا۔ اگرچہ ہندوستانی مسلمانوں نے خلافت کے تحفظ کے وعدے پر برطانیہ کا ساتھ دیا، لیکن جنگ کے خاتمے کے بعد 30/اکتوبر 1918ئ کی عارضی صلح کے ذریعے سلطنتِ عثمانیہ کو تقسیم کردیا گیا، شریف حسین کو حجاز کا بادشاہ اور امیر فیصل کو عراق کا حکمران بنا دیا گیا۔

تحفظِ خلافت کی پہلی عظیم تحریک کے دوران 23/نومبر 1919ئ کو دہلی کے اجلاس میں جمعیت علمائے ہند قائم ہوئی۔ پہلے اجلاسِ عام (28، 31/دسمبر 1919ئ اور یکمßجنوری 1920ئ) میں 12/فروری تا 10/اپریل 1920ئ لندن کی صلح کانفرنس میں مسلم وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا، مگر اس کے نتیجے میں 10/اگست 1920ئ کو معاہدہ¿ سیورے نافذ ہوا، جس نے خلافتِ عثمانیہ کو ٹکڑوں میں تقسیم کردیا۔ اس پر 6/ستمبر 1920ئ کو کلکتہ میں جمعیت نے انگریزی حکومت کے مکمل بائیکاٹ کا فیصلہ کیا اور 8/ستمبر 1920ئ کو ’’متفقہ فتویٰ علمائے ہند‘‘ جاری کرکے ترکِ موالات کو شرعی فریضہ قرار دیا، جس کی بنیاد جزیرہ¿ عرب، مقاماتِ مقدسہ اور خلافت کے تحفظ کو بنایا گیا۔

دوسرے اجلاسِ عام (19، 20، 21/نومبر 1920ئ) میں حکیم محمد اجمل خاں نے خلافتِ عثمانیہ کی تقسیم، مقاماتِ مقدسہ پر غیر مسلم غلبے اور جزیرہ¿ عرب میں برطانوی مداخلت کو مسلمانوں کے مذہبی حقوق پر حملہ قرار دیا، جبکہ شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے واضح کیا کہ شریفِ مکہ کی حکومت حقیقی اسلامی حکومت نہیں، اس لیے حجاز، بیت المقدس، عراق اور دیگر مقدس مقامات کو غیر مسلم اثر سے پاک رکھنا مسلمانوں کا دینی فرض ہے۔

تیسرے اجلاسِ عام (18، 19، 20/نومبر 1921ئ) میں مولانا ابوالکلام آزادؒ نے اعلان کیا کہ جزیرہ¿ عرب صرف حجاز تک محدود نہیں بلکہ عراق بھی اس میں شامل ہے، لہٰذا جب تک اس خطے سے برطانوی اثر ختم نہیں ہوگا، مسلمان برطانیہ سے مصالحت نہیں کرسکتے۔

22ßمارچ 1922ئ کو مجلسِ عاملہ نے مطالبہ کیا کہ فلسطین، شام، عراق، عرب، حجاز، نجد اور یمن سمیت تمام عرب علاقے خلیفۃ المسلمین سلطانِ ترکی کے زیرِ اقتدار رہیں۔ پھر 18، 19، 20/اکتوبر 1922ئ کو مجلسِ منتظمہ نے اعلان کیا کہ خلافت کے مذہبی مطالبات میں کسی قسم کی کمی قابلِ قبول نہیں ہوگی۔ بعد ازاں 24 تا 26/دسمبر 1922ئ کے چوتھے اجلاسِ عام میں مولانا حبیب الرحمن عثمانیؒ نے خلافت کے قیام، مقاماتِ مقدسہ کے تحفظ اور جزیرہ¿ عرب سے غیر مسلم اقتدار کے خاتمے کو مسلمانوں کا فرض قرار دیا۔

9،10/فروری 1923ئ کی مجلسِ منتظمہ میں فیصلہ کیا گیا کہ مدینہ منورہ کے تبرکات اس وقت تک واپس نہ کیے جائیں جب تک حجاز خلیفۃ المسلمین کے قابلِ اعتماد اقتدار میں نہ آجائے، اور اسی اجلاس میں حجاز ریلوے کو پوری امتِ مسلمہ کی مشترکہ ملکیت قرار دیتے ہوئے اس کے انتظام کا حق صرف خلیفۃ المسلمین کو دیا گیا۔

20ßمئی 1923ئ کو برطانیہ اور شریف حسین کے درمیان انگلو۔حجاز معاہدہ طے پایا، جس کا متن 7/جون 1923ئ کو شائع ہوا۔ جمعیت علمائے ہند نے 13 تا 16/جولائی 1923ئ کی مجلسِ منتظمہ میں اس معاہدے کو اسلام اور سرزمینِ حجاز کی توہین قرار دیتے ہوئے اعلان کیا کہ جزیرہ¿ عرب کو ہر قسم کے غیر مسلم اثر سے پاک رکھنا، حجاز کے مذہبی تشخص کی حفاظت کرنا اور اس مقصد کے لیے مسلسل جدوجہد جاری رکھنا تمام مسلمانوں کا فرض ہے۔

20،21/ستمبر 1923ئ کو جزیرہ¿ عرب کی آزادی کے لیے ایک ذیلی کمیٹی قائم کی گئی، جس نے 6/نومبر 1923ئ کے اجلاس میں حالات کا جائزہ لینے کے بعد مزید مشاورت تک فیصلے م¶خر کرنے کی سفارش کی۔ اس سے قبل 15/نومبر 1923ئ کو مفتی محمد کفایت اللہؒ نے پورے ہندوستان میں ’’ہفتہ¿ جزیرہ¿ عرب‘‘ منانے کی اپیل جاری کی۔

پانچواں اجلاسِ عام (29/دسمبر 1923ئ تا یکمßجنوری 1924ئ) مولانا حسین احمد مدنیؒ کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں قرار دیا گیا کہ جزیرہ¿ عرب اور مقاماتِ مقدسہ کو غیر مسلم اقتدار سے آزاد کرانا تمام مسلمانوں کا دینی فرض ہے۔ اجلاس نے یہ بھی اعلان کیا کہ جزیرہ¿ عرب، جس میں عدن بھی شامل ہے، ہمیشہ غیر مسلم تسلط سے پاک رہنا چاہیے، برطانیہ اور عرب حکومتوں کے معاہدے ناقابلِ قبول ہیں، اور جزیرہ¿ عرب کی آزادی کے لیے ہونے والے مظاہروں کے خلاف حکومتی کارروائیاں مذہبی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہیں۔

معاہدہ¿ سیورے کے بعد حجاز میں شریف حسین کی حکومت مسلسل کمزور ہوتی گئی۔ امیرِ نجد عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود نے حجاز کی مہم کا آغاز کیا اور 5/ستمبر 1924ئ کو طائف پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد 3/اکتوبر 1924ئ کو شریف حسین مکہ چھوڑ کر جدہ چلے گئے اور اقتدار اپنے بیٹے علی بن حسین کے سپرد کردیا، جبکہ 13/اکتوبر 1924ئ کو ابن سعود کی افواج مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئیں۔ بالآخر دسمبر 1925ئ میں جدہ بھی ان کے قبضے میں آگیا اور سلطنتِ حجاز کا خاتمہ ہوگیا، جس کے بعد 23/ستمبر 1932ئ کو مملکتِ سعودی عرب کے قیام کا اعلان کیا گیا۔

اسی پس منظر میں جمعیت علمائے ہند کا چھٹا اجلاسِ عام 11 تا 16/جنوری 1925ئ کو مولانا محمد سجادؒ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ صدارتی خطاب میں جزیرہ¿ عرب کو ہمیشہ غیر مسلم اقتدار سے پاک رکھنے، حرمین شریفین کے تحفظ اور رسول اکرم ﷺ کی آخری وصیت کی پاسداری کو مسلمانوں کا بنیادی دینی فرض قرار دیا گیا۔ شریف حسین کی برطانوی حمایت، خلافتِ عثمانیہ سے بغاوت، حجاج پر مظالم اور حجاز میں بدامنی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ طائف اور مکہ پر امیرِ نجد کے قبضے کو شریف حسین کے مظالم کے خاتمے کا سبب قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ جزیرہ¿ عرب کی آزادی کا مقصد صرف اقتدار کی تبدیلی نہیں بلکہ غیر مسلم مداخلت کا مکمل خاتمہ ہونا چاہیے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح کیا گیا کہ حرمین شریفین کا نظم اہلِ حل و عقد کے باہمی انتخاب سے قائم ہونا چاہیے اور مسلمانوں کو باہمی فقہی اختلافات سے بچ کر حرمین کے تحفظ پر توجہ دینی چاہیے۔ استقبالیہ خطبے اور منظور شدہ قرارداد میں بھی امیر ابن سعود کے اس اعلان کی تائید کی گئی کہ حجاز کے مستقبل کا فیصلہ مسلمانانِ عالم کے مشورے سے ہو، جبکہ جزیرہ¿ عرب میں کسی بھی غیر مسلم طاقت کی مداخلت کو ناقابلِ قبول قرار دیا گیا۔

مکہ معظمہ کی آئندہ حکومت کے تعین کے لیے اسلامی م¶تمر کے سلسلے میں 19/جنوری 1925ئ کو شیخ ابو الفضل، امام مسجد الازہر، نے صدر جمعیت مفتی محمد کفایت اللہؒ کو اجلاس ایک سال م¶خر کرنے کا تار بھیجا، مگر 22/جنوری 1925ئ کو مفتی کفایت اللہؒ نے جواب دیا کہ م¶تمر کا فوری انعقاد ہی عرب تنازعات کے حل کا بہترین ذریعہ ہے۔

جمعیت علمائے ہند کی مجلسِ عاملہ نے 26/جنوری 1925ئ کے اجلاس میں فیصلہ کیا کہ جب تک واپسی اور سفری انتظامات مکمل نہ ہوں، مسلمانوں کو سفرِ حج کا ارادہ نہیں کرنا چاہیے۔ اسی فیصلے کے مطابق صدر جمعیت نے اعلان جاری کیا، جو 22/فروری 1925ئ کے سہ روزہ ’’الجمعیۃ‘‘ میں شائع ہوا، جس میں حجاز کی غیر یقینی صورتِ حال کے باعث عازمینِ حج کو احتیاط کی تلقین کی گئی۔

بعد ازاں یکمßمئی 1925ئ کو مکہ مکرمہ کے اکیاون سے زائد علمائ نے مفتی محمد کفایت اللہؒ کے نام ایک مفصل مکتوب بھیجا، جس میں حجاز کے شدید معاشی بحران کا ذکر کرتے ہوئے مسلمانانِ ہند سے مالی تعاون کی اپیل کی گئی اور ابن سعود کے دور میں امن و امان کی بحالی کا بھی ذکر کیا گیا۔ اس اپیل کا ترجمہ 6/مئی 1925ئ کے سہ روزہ ’’الجمعیۃ‘‘ میں شائع ہوا۔

جب حکومتِ ہند نے حجاج کی روانگی کی اجازت دی تو 18/مئی 1925ئ کو مفتی محمد کفایت اللہؒ نے سلطان عبدالعزیز ابن سعود کے نام تار بھیج کر رابغ بندرگاہ، مکہ مکرمہ اور راستے میں حجاج کے قیام، خوراک اور حفاظت کے مکمل انتظامات کی درخواست کی۔ اسی روز ایک عوامی اعلان بھی جاری کیا گیا، جس میں بتایا گیا کہ پہلا جہاز 22/مئی 1925ئ کو روانہ ہوگا، اس لیے عازمینِ حج 17 اور 18/مئی 1925ئ تک بمبئی پہنچ جائیں اور خلافت کمیٹیوں کے ذریعے اپنی اطلاع فراہم کریں، نیز ہر صوبے سے ایک ذمہ دار نمائندہ حجاج کی خدمت کے لیے روانہ کیا جائے۔

حجاز کے حالات کی تحقیقات کے لیے جمعیت علمائے ہند کا وفد

روزنامہ الجمعیۃ میں 14 مئی 1925ئ کو شائع ہونے والی خبر کے مطابق جمعیت علمائے ہند کے صدر حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ نے حضرت مولانا شوکت علی کو تار بھیج کر یہ تجویز پیش کی کہ جمعیت علمائے ہند، خلافت کمیٹی اور مسلم لیگ کا ایک مشترکہ وفد 15 مئی 1925ئ تک حجاز روانہ کیا جائے تاکہ سلطان ابن سعود سے ملاقات کرکے حج کے انتظامات، امن و امان اور حجاج کی سہولتوں کا براہِ راست جائزہ لے کر مسلمانوں کو حقیقتِ حال سے آگاہ کیا جاسکے۔

بعد ازاں جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے 20 مئی 1925ئ کے اجلاس میں مشترکہ وفد کی عدمِ تشکیل پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ جمعیت اپنا مستقل نمائندہ حجاز بھیجے گی۔ اس مقصد کے لیے حضرت مولانا عبدالحلیم صدیقیؒ کو نمائندہ مقرر کیا گیا۔ چنانچہ وہ 5 جون 1925ئ کو جمعیت علمائے ہند کے نمائندے کی حیثیت سے، جبکہ مولانا ابوالمعارف محمد عرفان خلافت کمیٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے روانہ ہوئے۔ بعد میں یہ وفد 10 جون 1925ئ کو کراچی سے جہاز اکبر کے ذریعے مکہ معظمہ کے لیے روانہ ہوا۔


حج کے موقع پر 2 جولائی 1925ئ (مطابق 10 ذی الحجہ 1343ھ) کو سلطان ابن سعود نے وفد کو شرفِ ملاقات بخشا۔ اس موقع پر مولانا عبدالحلیم صدیقیؒ نے ایک اہم خطاب کیا، جس میں حجاز میں قائم امن، مسلمانوں کے اتحاد، حجاز کو بیرونی اثرات سے پاک رکھنے، عالمِ اسلام کی توقعات اور عدل و انصاف کے قیام پر زور دیا۔ یہ خطاب بعد میں 26 اگست 1925ئ کے شمارہ¿ الجمعیۃ میں شائع ہوا۔

وفد 6 اگست 1925ئ کو دہلی واپس پہنچا، جہاں اس کا شاندار استقبال کیا گیا، اور 7 اگست 1925ئ کو جامع مسجد دہلی میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا جس کی رپورٹ 14 اگست 1925ئ کو شائع ہوئی۔ اس جلسے میں وفد کے ارکان نے اپنے مشاہدات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ابن سعود کی حکومت میں راستوں کا امن، حجاج کی سہولتیں اور انتظامات سابقہ حالات کے مقابلے میں بہتر تھے۔ انہوں نے طائف کے واقعات، مزارات کے قبوں کے انہدام، مدینہ منورہ اور مقدس مقامات کے تحفظ سے متعلق سلطان ابن سعود سے ہونے والی گفتگو بھی بیان کی۔ وفد نے یہ بھی واضح کیا کہ بہت سی مشہور افواہیں مبالغہ آمیز یا بے بنیاد تھیں، جبکہ سلطان نے طائف کے سانحے پر افسوس، مساجد کی مرمت، قبور کے بارے میں علمائے اربعہ کے فیصلے کی پابندی اور مدینہ منورہ، جنت البقیع اور شہدائے اُحد کے احترام و حفاظت کی یقین دہانی کرائی۔ ان بیانات کی تفصیلی اشاعت 18 اگست 1925ئ کو ہوئی۔

اسی دوران سلطان ابن سعود نے 18 جولائی 1925ئ کو جمعیت علمائے ہند کے صدر حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ کے نام ایک مکتوب بھی تحریر کیا، جس میں جمعیت کی خدمات کو سراہتے ہوئے وفد کی آمد پر اظہارِ تشکر کیا۔ یہ مکتوب بعد میں 10 اگست 1925ئ کو شائع ہوا۔

مزید برآں، مکہ معظمہ سے آنے والے چار معزز حضرات کے اعزاز میں 28 جولائی 1925ئ (مطابق 6 محرم 1344ھ) کو دہلی میں ایک استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی، جس میں حجاز کے حالات پر سوال و جواب ہوئے۔ مہمانوں نے بتایا کہ قبوں کا انہدام ضرور ہوا، مگر قبروں کی بے حرمتی نہیں کی گئی، مختلف فقہوں کے ماننے والوں کو مذہبی آزادی حاصل تھی، اور ابن سعود کی حکومت میں امن و انصاف نمایاں تھا۔

آخرکار جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے 18 تا 21 جنوری 1926ئ کے اجلاس میں حضرت مولانا عبدالحلیم صدیقیؒ کی رپورٹ اور خدمات کو باضابطہ طور پر سراہا، رپورٹ کو ریکارڈ میں محفوظ کرنے کا فیصلہ کیا اور قرار دیا کہ اس کا مضمون انہی بیانات کے مطابق ہے جو وفد کی واپسی کے بعد مختلف جلسوں اور اخبارات میں شائع ہوچکے تھے۔

حرمین کے قبوں اور مزارات کے متعلق شرعی فتویٰ اور حجاز کے حالات

سلطان عبدالعزیز ابن سعود کی حکومت کے استحکام کے بعد حجاز میں ایسے مزارات، قبوں اور تعمیرات کے انہدام کا سلسلہ شروع ہوا جنہیں سعودی حکومت شرک، بدعات اور عوامی استحصال کا ذریعہ سمجھتی تھی۔ اس کے ردِعمل میں شریفِ مکہ کے حامی حلقوں نے آلِ سعود کے خلاف وسیع پیمانے پر پروپیگنڈا کیا، جس کے نتیجے میں برصغیر کے مسلمانوں میں بھی تشویش پیدا ہوئی اور اس مسئلے کی شرعی حیثیت معلوم کرنے کے لیے متعدد استفتائات بھیجے گئے۔


اسی سلسلے میں 2 ستمبر 1925ئ کو محمد رفیع صاحب نے مفتیِ اعظم ہند حضرت مولانا محمد کفایت اللہؒ سے قبروں پر گنبد، قبے، غلاف، نذر و نیاز، طواف اور انہدامِ مزارات کے بارے میں استفتا کیا۔ مولانا نے اپنے فتویٰ میں واضح فرمایا کہ قبروں کو پختہ بنانا، ان پر قبے و عمارتیں تعمیر کرنا، غلاف چڑھانا، نذر و نیاز، طواف اور سجدہ جیسے اعمال شریعت میں ممنوع اور منکراتِ شرعیہ ہیں، اور اگر سلطان ابن سعود نے ان منکرات کے ازالے کے لیے قبے منہدم کیے تو یہ ان کے نزدیک شرعی حکم کی تعمیل تھی۔ مزید یہ کہ حدیثِ نجد کو بنیاد بنا کر تمام اہلِ نجد یا ابن سعود کو موردِ الزام ٹھہرانا درست نہیں، بلکہ ہر شخص کے عقائد و اعمال ہی اس کے بارے میں رائے قائم کرنے کا معیار ہیں۔ اسی شمارے میں مولانا وحید حسین، مولانا عبدالحلیم صدیقی اور مولانا ولایت احمد کے فتاویٰ بھی اسی م¶قف کی تائید میں شائع ہوئے۔


بعد ازاں 6 اکتوبر 1925ئ کو صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ نے ایک اہم اعلان جاری کیا، جس میں برطانوی کمیشن کی متوقع حجاز آمد پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا کہ جزیرہ¿ عرب کے کسی بھی حصے پر براہِ راست یا بالواسطہ غیر مسلم اقتدار مسلمانوں کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے سلطان ابن سعود سے بھی توقع ظاہر کی کہ وہ جزیرہ¿ عرب کو غیر مسلم اثر سے پاک رکھنے کی ذمہ داری پوری استقامت سے ادا کریں گے، جبکہ مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ باہمی اختلافات چھوڑ کر اس مشترکہ مقصد پر متحد ہوں۔

حرمین کے آثارِ قدیمہ کے انہدام سے متعلق پھیلائی جانے والی مسلسل افواہوں کی حقیقت جاننے کے لیے جمعیت علمائے ہند اور خلافت کمیٹی نے دوسرا مشترکہ وفد تشکیل دیا، جو 23 اکتوبر 1925ئ کو مولانا شوکت علی، مولانا محمد عرفان اور مولانا ظفر علی خان کی قیادت میں حجاز روانہ ہوا۔ دہلی کی جامع مسجد میں رخصتی کا عظیم الشان اجتماع ہوا اور اسی روز رات 10 بج کر 2 منٹ پر وفد دہلی سے بمبئی روانہ ہوگیا، جس کی تفصیل 26 اکتوبر 1925ئ کے سہ روزہ الجمعیۃ میں شائع ہوئی۔

وفد نے 24 نومبر 1925ئ کو مکہ معظمہ پہنچ کر سلطان ابن سعود سے ملاقات کی اور 26 نومبر 1925ئ کو مدینہ منورہ روانہ ہوا۔ 10 دسمبر 1925ئ کو پورٹ سوڈان سے بھیجے گئے تار میں اطلاع دی گئی کہ مسجد ابو قبیس کی مرمت مکمل ہوچکی ہے، مولدِ نبوی کی دوبارہ تعمیر جاری ہے، دیگر آثارِ قدیمہ کے تحفظ کے اقدامات کیے جا رہے ہیں، مدینہ کے آثارِ مقدسہ کی حفاظت کے لیے سلطان نے اپنے فرزند کو وفد کی ہدایات پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے، اہلِ مدینہ کی امداد کے لیے دس ہزار پونڈ مختص کیے گئے ہیں، نہرِ زبیدہ کی مرمت بھی جاری ہے، اور 26 نومبر کی صبح امیر علی کے ہوائی جہاز کے کعبہ کے اوپر پرواز کرنے پر وفد نے مسلمانانِ ہند کی جانب سے احتجاج بھی ریکارڈ کرایا۔

اس کے بعد 14 دسمبر 1925ئ کو مولانا محمد عرفان کا رابغ سے بھیجا گیا تفصیلی خط شائع ہوا، جس میں انہوں نے بتایا کہ وہ 26 اکتوبر 1925ئ کو بمبئی سے روانہ ہوکر 18 نومبر 1925ئ کو رابغ پہنچے۔ انہوں نے عرب ممالک کی مذہبی و سماجی زبوں حالی، برطانوی اثرات، مسٹر فلبی کی سرگرمیوں، مدینہ منورہ کے محاصرے، اہلِ مدینہ کی انتہائی ابتر معاشی حالت، تقریباً 600 مہاجرین کی رابغ میں موجودگی، مدینہ کی سابقہ 20 ہزار آبادی کے منتشر ہونے، شریف علی کی حکومت کی بدانتظامیوں، گنبدِ خضرا پر مبینہ گولہ باری کے پروپیگنڈے کی حقیقت اور مہاجرین کی دردناک کیفیت کو تفصیل سے بیان کیا۔ ان کے مطابق مدینہ کے عوام قحط، بھوک اور محاصرے کا شکار تھے، جبکہ شریفی حکومت نے ان پر شدید مظالم ڈھائے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ سلطان ابن سعود نے مدینہ کے احترام کو برقرار رکھنے اور شہریوں کی امداد کے لیے ضروری احکام جاری کیے تھے، جبکہ شریفی پروپیگنڈے کے برخلاف متعدد الزامات کی حقیقت تحقیق کے بعد مختلف نکلی۔

حجاز کی حکومت، سلطان ابن سعود اور جمعیت علمائے ہند (1925ئ–1926ئ)

25ßاکتوبر 1925ئ (8/ربیع الآخر 1344ھ) کو سلطان عبدالعزیز بن عبدالرحمن آل سعود نے صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ کے نام ایک اہم مکتوب ارسال کیا، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ ان کی جدوجہد کا مقصد حجاز پر شخصی حکومت قائم کرنا نہیں، بلکہ شریفِ مکہ کی حکومت سے حرمین شریفین کو آزاد کرانا ہے۔ انہوں نے لکھا کہ حجاز ان کے پاس ایک امانت ہے، جسے اہلِ حجاز کے منتخب حکمران کے سپرد کیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی تجویز پیش کی کہ حجاز کے حکمران کا انتخاب عالمِ اسلام کی نگرانی میں استصوابِ رائے کے ذریعے ہو، حکومت کی بنیاد اسلامی شریعت پر قائم ہو، حجاز داخلی طور پر خودمختار رہے، کسی ملک کے ساتھ سیاسی معاہدہ نہ کرے، غیر مسلم ریاستوں سے معاشی معاہدات نہ کرے، اور حجاز کی آئینی، مالی، عدالتی اور انتظامی تشکیل عالمِ اسلام کے نمائندوں کی مشاورت سے ہو۔ اس مقصد کے لیے انہوں نے جمعیت خلافت، جماعت اہلِ حدیث اور جمعیت علمائے ہند کے نمائندوں کو بھی آئندہ م¶تمر اسلامی میں شریک کرنے کی دعوت دی۔

اس دوران حجاز میں آل سعود کی فتوحات کا سلسلہ جاری رہا۔ 5/ستمبر 1924ئ کو طائف فتح ہوا، 3/اکتوبر 1924ئ کو شریف حسین مکہ چھوڑ کر جدہ چلے گئے، 13/اکتوبر 1924ئ کو عبدالعزیز کی افواج مکہ مکرمہ میں داخل ہوگئیں، اور بالآخر 24/دسمبر 1925ئ کو جدہ بھی بغیر جنگ کے ان کے قبضہ میں آگیا۔ اسی روز سلطان عبدالعزیز نے حضرت مولانا احمد سعیدؒ ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند کو تار کے ذریعے جدہ کی پرامن فتح کی اطلاع دی۔

ان فتوحات پر 30/دسمبر 1925ئ کو حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ نے سلطان ابن سعود کو مبارک باد کا تار بھیجا اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ حجاز مقدس کو وحدتِ اسلامیہ کا حقیقی مرکز بنائے۔ اس کے جواب میں یکم جنوری 1926ئ کو سلطان عبدالعزیز نے تشکر کا اظہار کرتے ہوئے اطلاع دی کہ بلادِ مقدسہ میں امن قائم ہے، راستے محفوظ اور کھلے ہوئے ہیں، اور دعا کی کہ اللہ تعالیٰ انہیں دین، عباد اور بلاد کی بھلائی کے کاموں کی توفیق عطا فرمائے۔

10ßجنوری 1926ئ کو مدینہ منورہ کے باشندگان سید احمد فیض آبادی اور سید محمود احمد فیض آبادی نے صدر جمعیت علمائے ہند کے نام ایک لاسلکی پیغام بھیجا، جس میں بتایا کہ سلطان عبدالعزیز کے اقتدار کے بعد پورے حجاز میں امن قائم ہوگیا ہے، شریعتِ مطہرہ نافذ ہے، سفر محفوظ ہوگیا ہے، آثارِ مقدسہ کا احترام برقرار ہے اور پہلے پھیلائی گئی بہت سی افواہیں حقیقت کے خلاف تھیں۔

ادھر قاضی محمد عدیل عباسی کے مطابق، 1924ئ میں عبدالعزیز نے طائف اور مکہ فتح کرنے کے بعد اعلان کیا تھا کہ ان کا مقصد مکہ پر شخصی قبضہ نہیں بلکہ شریعت کا نفاذ اور عالمِ اسلام کی مشاورت سے حجاز کا نظم قائم کرنا ہے۔ تاہم 10/جنوری 1926ئ کو قاہرہ سے موصولہ تار کے ذریعے معلوم ہوا کہ انہوں نے "ملک الحجاز و سلطان نجد" ہونے کا اعلان کردیا، حالاں کہ اس سے قبل 24/اکتوبر 1924ئ کو انہوں نے خلافت کمیٹی کو یقین دلایا تھا کہ حجاز کا آخری فیصلہ عالمِ اسلام کی مرضی سے ہوگا۔

اسی پس منظر میں جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا چار روزہ اجلاس 18 تا 21/جنوری 1926ئ کو حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ کی صدارت میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں سلطان ابن سعود کے دعوت نامے، قاہرہ سے 8/جنوری 1926ئ اور آکسفورڈ سے 12/جنوری 1926ئ کو موصولہ تاروں پر غور کیا گیا، جن میں ان کے اعلانِ ملوکیت اور اہلِ حجاز کی بیعت کا ذکر تھا۔ مجلس نے فیصلہ کیا کہ سلطان کو ایک وضاحتی تار بھیجا جائے، جس میں 8/ربیع الآخر 1344ھ (26/اکتوبر 1925ئ) کے مکتوب پر شکریہ ادا کرتے ہوئے م¶تمر اسلامی کے انعقاد کی ضرورت پر زور دیا جائے اور اعلانِ ملوکیت کی وجوہات دریافت کی جائیں۔ اسی اجلاس میں 30/دسمبر 1925ئ کو بھیجی گئی مبارک باد کی توثیق بھی کی گئی، جبکہ م¶تمر اسلامی کے لیے نمائندوں کے انتخاب کا فیصلہ آئندہ اجلاس تک ملتوی کردیا گیا۔

21ßجنوری 1926ئ کو سلطان عبدالعزیز نے اس تار کا جواب دیتے ہوئے وضاحت کی کہ وہ ذاتی طور پر اعلانِ ملوکیت م¶خر کرنا چاہتے تھے، مگر اہلِ حجاز نے متفقہ طور پر ان کی بیعت پر اصرار کیا، جبکہ اہلِ نجد نے بھی یہ مطالبہ کیا کہ اگر انہوں نے بیعت قبول نہ کی تو حجاز کے امن و استحکام کو شدید خطرہ لاحق ہوجائے گا۔ اس مجبوری کے باعث انہوں نے بیعت قبول کی، تاہم یہ یقین دلایا کہ وہ حجاز میں مسلمانوں کے تمام مشروع حقوق کی حفاظت کے اپنے سابق وعدے پر قائم رہیں گے۔

بعد ازاں 18/فروری 1926ئ کو سلطان ابن سعود کا ایک اور مکتوب موصول ہوا، جس میں انہوں نے بلادِ مقدسہ کی تطہیر پر اللہ کا شکر ادا کیا، حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ کی دینی خدمات کی تعریف کی اور اسلام و مسلمانوں کی فلاح کے لیے باہمی تعاون کی امید ظاہر کی۔

مجلس عاملہ (18 تا 21/جنوری 1926ئ) نے مدینہ منورہ کے محتاج باشندوں کی امداد کے لیے "مدینہ فنڈ" قائم کرنے کا بھی فیصلہ کیا، جس کا اعلان بعد میں 2/فروری 1926ئ کے سہ روزہ "الجمعیۃ" میں کیا گیا۔ 2/مئی 1926ئ تک اس فنڈ میں ہزاروں روپے اور چاول جمع ہوچکے تھے، جبکہ 4/اپریل 1926ئ کی رپورٹ کے مطابق سیٹھ حاجی عبداللہ ہارون کے ذریعے جیرانِ رسول ﷺ کی امداد کے لیے مجموعی طور پر 2,06,012 روپے وصول ہوچکے تھے، جس کی تفصیل 22/اپریل 1926ئ کو شائع ہوئی۔

حجازی وفد کی رپورٹ کے بعد جمعیت علمائے ہند کا ساتواں اجلاس عام 11 تا 14/مارچ 1926ئ کو منعقد ہوا، جس میں حضرت علامہ سید سلیمان ندویؒ نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ اب حجاز میں امن قائم ہے، راستے محفوظ ہیں، قبائل مطیع ہیں اور سلطان عبدالعزیز کی صلاحیتوں کی عام شہادت مل رہی ہے۔ انہوں نے آثارِ مقدسہ کی شرعی بنیادوں پر حفاظت، م¶تمر اسلامی کے ذریعے ان کی نگرانی، اور اس موضوع پر قرآن، حدیث اور آثارِ سلف کی روشنی میں ایک عربی یادداشت حکومتِ حجاز کو پیش کرنے کی سفارش کی۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ رائے بھی ظاہر کی کہ ابن سعود نے "ملک" ہونے کا اعلان کرنے میں جلدی کی، کیونکہ حجاز میں وراثتی بادشاہت کے بجائے انتخابی طرزِ حکومت زیادہ موزوں ہے، تاہم انہوں نے اس بات کو باعثِ مسرت قرار دیا کہ سلطان نے حجاز میں عالمِ اسلام کے حقوق کو تسلیم کیا اور مسلمانوں کو اس کے نظم و نسق میں شریک ہونے کا موقع دیا۔

علامہ ندویؒ نے حجاز کے سیاسی، معاشی اور بین الاقوامی مسائل، یورپی طاقتوں کے ممکنہ عزائم، غیر ملکی سرمایہ کاری کے خطرات، مسلم سفیروں کی تقرری، اور عرب اتحاد کی ضرورت پر بھی مفصل گفتگو کی۔ انہوں نے سلطان ابن سعود اور امام یحییٰ کو یورپی طاقتوں خصوصاً برطانیہ اور اٹلی کے ساتھ تعلقات میں انتہائی احتیاط کی نصیحت کی۔

اسی اجلاس (11 تا 14/مارچ 1926ئ) میں جمعیت علمائے ہند نے حجازی وفد کی رپورٹ کی روشنی میں یہ قرارداد بھی منظور کی کہ چونکہ حجاز میں امن بحال ہوچکا ہے، اس لیے اہلِ استطاعت مسلمان بلا تردد حج کے لیے جائیں، تاکہ فریضہ¿ حج کی ادائیگی کے ساتھ جیرانِ بیت اللہ اور جیرانِ رسول اللہ ﷺ کی معاشی امداد بھی ہوسکے، البتہ غیر مستطیع افراد سفرِ حج سے گریز کریں تاکہ خود بھی مشقت سے بچیں اور اہلِ حجاز کے لیے بھی مشکلات پیدا نہ ہوں۔

حکومتِ آل سعود سے م¶تمرِ اسلامی کے انعقاد کی امید

سلطان عبدالعزیز ابن عبدالرحمن آل سعود نے 25/اکتوبر 1925ئ کو حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ صدر جمعیت علمائے ہند کے نام اپنے مکتوب میں حجاز کے مستقبل کا فیصلہ عالمِ اسلام کے سپرد کرنے اور ایک بین الاقوامی م¶تمرِ اسلامی منعقد کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ اسی بنیاد پر جمعیت علمائے ہند نے اس امید کو زندہ رکھا کہ حجاز کی آئندہ حکومت امتِ مسلمہ کی اجتماعی رائے کے مطابق تشکیل پائے گی۔

چنانچہ جمعیت علمائے ہند کے ساتویں اجلاس عام (11 تا 14/مارچ 1926ئ) میں صدرِ اجلاس حضرت علامہ سید سلیمان ندویؒ نے اپنے خطبہ¿ صدارت میں ایک عالم گیر م¶تمرِ اسلامی کی بھرپور تائید کرتے ہوئے فرمایا کہ اس تصور کی ابتدائی دعوت غالباً 1906ئ میں کریمیا کے مسلمان مصلح غصیر نسکی نے مصر میں دی تھی، بعد میں ہندستانی مسلمانوں، جنیوا میں مسلم نوجوانوں اور جمعیت علمائے ہند و خلافت کمیٹی نے اس تحریک کو آگے بڑھایا۔ انہوں نے کہا کہ اگر سلطان ابن سعود اپنے وعدے کے مطابق آئندہ موسمِ حج میں م¶تمر منعقد کرتے ہیں تو یہ عالمِ اسلام کے اتحاد کی اہم پیش رفت ہوگی۔ البتہ انہوں نے ہندستان کے لیے فرقہ وارانہ نمائندگی کے بجائے متحدہ نمائندگی کو زیادہ مناسب قرار دیا۔

اسی اجلاس کی تجویز نمبر (8) میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومتِ حجاز خلافتِ راشدہ کے نمونے پر قائم ہو، اس میں ملوکیت، وراثت اور خاندانی اجارہ داری نہ ہو، غیر مسلم اثرات سے پاک ہو، اور حجاز کی آئندہ سیاسی ہیئت کا آخری فیصلہ عالمِ اسلام کے نمائندہ م¶تمر کے ذریعے کیا جائے۔ جمعیت نے اعلان کیا کہ وہ ایسے م¶تمر میں اپنے نمائندے بھیجنے کے لیے تیار ہے۔

بعد ازاں 28/مارچ 1926ئ کو سلطان عبدالعزیز نے 20/ذی القعدہ 1344ھ (یکم جون 1926ئ) کو مکہ مکرمہ میں م¶تمرِ اسلامی منعقد کرنے کی دعوت جمعیت علمائے ہند سمیت مختلف اسلامی ممالک اور جماعتوں کو ارسال کی۔ اس کے جواب میں جمعیت نے شرکت پر آمادگی ظاہر کرتے ہوئے واضح کیا کہ م¶تمر میں حکومتِ حجاز کی آئندہ تشکیل کا مسئلہ بنیادی طور پر زیرِ بحث آنا چاہیے تاکہ حجاز کو ہمیشہ کے لیے غیر مسلم مداخلت سے محفوظ رکھا جاسکے۔ سلطان نے اپنے جوابی تار میں جمعیت کی دینی غیرت اور حسنِ رائے کی تعریف کی اور یقین دلایا کہ جب تک حکومت قرآن و سنت کے مطابق چلے گی، حرمین محفوظ رہیں گے، تاہم حکومتِ حجاز کی آئندہ آئینی تشکیل کے بارے میں کوئی واضح یقین دہانی نہ کرائی، جس پر سہ روزہ الجمعیۃ (6/اپریل 1926ئ) نے افسوس کا اظہار کیا۔

جمعیت علمائے ہند کی مرکزی مجلس کا اجلاس 20 و 21/اپریل 1926ئ کو منعقد ہوا، جس میں م¶تمرِ حجاز کے لیے حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ کو رئیسِ وفد، مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور مولانا مفتی نثار احمد کانپوریؒ کو ارکان منتخب کیا گیا، جبکہ ضرورت پڑنے پر مولانا محمد عرفانؒ یا مولانا عبدالحلیم صدیقیؒ کو سیکرٹری مقرر کرنے کا اختیار دیا گیا۔ اسی اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ جمعیت علمائے ہند اور خلافت کمیٹی کے وفود مشترکہ مشاورت کے ذریعے متحدہ لائحہ¿ عمل مرتب کریں۔

اسی روز 20/اپریل 1926ئ کو مرکزی خلافت کمیٹی کے اجلاس میں سید سلیمان ندوی، مولانا شوکت علی، مولانا محمد علی اور مسٹر شعیب قریشی کو وفد کے ارکان منتخب کیا گیا اور سید سلیمان ندویؒ کو امیرِ وفد بنایا گیا۔ اجلاس میں مولانا محمد علی اور مولانا شوکت علی نے اعلان کیا کہ وہ اپنے اخراجات خود برداشت کریں گے۔

وفد کے اخراجات کے لیے 29/اپریل 1926ئ کو تقریباً پانچ ہزار روپے کی اپیل شائع کی گئی۔ بعد میں 2 تا 6/مئی 1926ئ کی رپورٹ کے مطابق سیٹھ حاجی عبداللہ ہارون نے 200 روپے، ایم اے بھائی باوا نے 1500 روپے اور محمد عثمان صاحب نے 50 روپے عطیہ دیے۔ 8/مئی 1926ئ کو مجلسِ عاملہ نے مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ کی معذوری کے باعث ان کی جگہ مولانا احمد سعیدؒ ناظمِ جمعیت کو وفد میں شامل کیا، جنہوں نے بھی اپنے اخراجات خود برداشت کیے۔ اسی اجلاس میں ناکافی سرمایہ کے باعث وفد کی روانگی کے لیے ڈھائی ہزار روپے قرض لینے کی منظوری بھی دی گئی۔

صدر جمعیت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ نے اعلان کیا کہ وفد 9/مئی 1926ئ کو دہلی سے روانہ ہوگا۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا نثار احمد پہلے ہی روانہ ہوچکے ہیں، جبکہ مالی مشکلات کے باوجود سلطان ابن سعود کی دعوت اور جمعیت کی نمائندگی کے پیشِ نظر قرض لے کر وفد بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا۔

قاضی محمد عدیل عباسی کے مطابق، اگرچہ 10/جنوری 1926ئ کو ابن سعود کے ’’ملکِ نجد و حجاز‘‘ ہونے کے اعلان کی خبر پہنچی، تاہم انہوں نے مختلف اسلامی ممالک اور ہندستان کی تین جماعتوں—جمعیت علمائے ہند، جمعیت خلافت اور اہلِ حدیث—کو م¶تمر میں مدعو کیا۔ مئی 1926ئ میں دونوں وفود جدہ اور پھر مدینہ منورہ پہنچے۔ 27/مئی 1926ئ کو سلطان سے پہلی ملاقات ہوئی، جبکہ 30/مئی 1926ئ کو سید سلیمان ندویؒ، مفتی محمد کفایت اللہؒ، مولانا محمد علی اور مولانا شوکت علی نے جنت البقیع کے مقابر کی مسماری پر احتجاج کیا۔ سلطان نے جواب دیا کہ قبائل کے شدید دبا¶ اور داخلی فتنہ کے اندیشے کے باعث یہ اقدام ناگزیر ہوگیا تھا۔ 31/مئی 1926ئ کو مجلس العلمائ کے اجلاس میں علامہ سید سلیمان ندویؒ نے آثارِ نبویہ کی حفاظت پر علمی گفتگو کی، لیکن اس پر کوئی م¶ثر بحث نہ ہوسکی۔ بالآخر م¶تمر بعض مفید تجاویز کے باوجود خلافت اور منتخب حکومتِ حجاز کے بنیادی مقاصد حاصل نہ کرسکا اور وفود جولائی 1926ئ میں واپس آگئے۔

بعد ازاں مجلسِ عاملہ کے 21 و 22/ستمبر 1926ئ کے اجلاس میں وفد کے مصارف کی منظوری دیتے ہوئے اس کی کفایت شعاری اور ایثار پر شکریہ ادا کیا گیا، جبکہ 3 و 4/جولائی 1927ئ کے اجلاس میں وفد کی خدمات کو سراہتے ہوئے اس کی رپورٹ کی اشاعت کا اختیار صدرِ جمعیت کو دے دیا گیا۔ پھر جمعیت علمائے ہند کے آٹھویں اجلاس عام (2 تا 5/دسمبر 1927ئ) میں حضرت مولانا محمد انور شاہ کشمیریؒ نے اپنے صدارتی خطاب میں اس بات کو جمعیت کی اہم خدمت قرار دیا کہ اس نے جزیرہ¿ عرب کو غیر مسلم تسلط سے محفوظ رکھنے کے لیے مسلسل علمی اور عملی جدوجہد کی۔

بعد کے برسوں میں بھی جمعیت اور حکومتِ آل سعود کے تعلقات خوشگوار رہے۔ 22/مارچ 1935ئ کو یمن کے وزیرِ خارجہ نے اعلان کیا کہ سلطان عبدالعزیز اور ان کے صاحبزادے پر قاتلانہ حملہ یمن کے بعض زیدی عناصر نے کیا، مگر وہ محفوظ رہے۔ اس پر جمعیت علمائے ہند نے 24/مارچ 1935ئ کو تہنیتی اور دعائیہ تار بھیجا، جس کے جواب میں سلطان نے 28/مارچ 1935ئ کو مختصر الفاظ میں شکریہ ادا کیا۔ بعد ازاں مجلسِ عاملہ کی 3/فروری 1936ئ کی تجویز نمبر (5) میں تمام مسلمان حکومتوں، خصوصاً حکومتِ مصر، سے اپیل کی گئی کہ حرمین شریفین کے لیے وقف شدہ اوقاف کی آمدنی اہلِ حرمین اور بیت اللہ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے حجاز بھیجی جائے، تاکہ حرمین کے مذہبی اور معاشی مفادات کو تقویت حاصل ہو۔

پہلی جنگِ عظیم کے بعد برطانیہ نے عرب دنیا میں اپنے سیاسی و معاشی اثرات کو مستحکم کرنے کی کوششیں تیز کر دیں۔ انہی حالات میں 17/رمضان 1353ھ، مطابق 23/دسمبر 1934ئ کو جدہ میں حکومتِ سعودیہ کے وزیرِ مال اور لندن میں قائم ایک برطانوی معدنیاتی کمپنی کے نمائندے کے درمیان حجاز میں معدنیات کی تلاش اور کان کنی کا معاہدہ طے پایا، جس کی شاہ عبدالعزیز نے 8/ذی قعدہ 1353ھ، مطابق 4/فروری 1935ئ کو توثیق کی۔ اس معاہدے اور شاہی فرمان کا متن یکم اگست 1935ئ کو ہندستانی اخبارات، خصوصاً روزنامہ انقلاب لاہور میں شائع ہوا۔ اس کے تحت کمپنی کو حجاز کے وسیع علاقے میں معدنیات کی تلاش، کھدائی اور استخراج کے لیے طویل مدت تک خصوصی حقوق دیے گئے، البتہ مکہ مکرمہ کے حدودِ حرم اور مدینہ منورہ کے گرد تیس کلومیٹر کا علاقہ مستثنیٰ رکھا گیا۔

جمعیت علمائے ہند نے اس معاہدے کو حجاز کے تقدس اور جزیرہ¿ عرب میں غیر مسلم اثر و رسوخ کے لیے خطرناک قرار دیا۔ چنانچہ مجلسِ عاملہ نے 3/فروری 1936ئ کی تجویز نمبر (2) میں اس کی شدید مخالفت کرتے ہوئے حکومتِ سعودیہ سے اپیل کی کہ وقتی مالی فوائد کے بجائے حجاز کے اسلامی تشخص اور آزادی کو ترجیح دی جائے۔

اسی سلسلے میں 27، 28، 29/مارچ 1936ئ کو جمعیت علمائے دہلی کے سالانہ اجلاس میں عقبہ اور معان میں برطانوی فوجی استحکامات کو عالمِ اسلام اور جزیرہ¿ عرب کی آزادی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا گیا۔ بعد ازاں 3/ستمبر 1937ئ کو آل انڈیا فلسطین کانفرنس کی مجلسِ عمل میں شیخ حسام الدین نے کہا کہ برطانیہ فلسطین کو یہودیوں کے سپرد کرنے کی سازش کر رہا ہے، جبکہ ابن سعود کی جانب سے حجاز کے معدنی علاقوں کا طویل مدت کے لیے ٹھیکہ دینا بھی عالمِ اسلام کے لیے ایک نئے خطرے کی بنیاد ہے۔

فلسطین کے مسئلے پر 24/اگست 1938ئ کو حضرت مولانا احمد سعیدؒ نے مسلمانوں سے بائیکاٹ اور سول نافرمانی کی اپیل کرتے ہوئے واضح کیا کہ فلسطین کی آزادی، جزیرہ¿ عرب کی آزادی سے وابستہ ہے۔ اس کے بعد جمعیت علمائے ہند کے گیارھویں اجلاسِ عام 3، 4، 5، 6/مارچ 1939ئ میں حکومتِ سعودیہ کی جانب سے مکہ مکرمہ کے مہاجرین پر عائد ٹیکس کو ناجائز قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔ پھر مجلسِ مرکزیہ 27، 28، 29/مئی 1939ئ میں جمعیت کے دستور میں ترمیم کر کے "اسلام، مرکزِ اسلام (حجاز)، جزیرہ¿ عرب اور شعائرِ اسلام کی حفاظت" کو باقاعدہ اس کے بنیادی اغراض و مقاصد میں شامل کر دیا گیا۔

دوسری جنگِ عظیم کے دوران حجاز میں شدید قحط اور گرانی پیدا ہوئی، جس پر مجلسِ عاملہ نے 17، 18، 19/جولائی 1944ئ کو اظہارِ تشویش کرتے ہوئے غلہ اور ضروری اشیا حجاز بھیجنے کے لیے حضرت مولانا احمد سعیدؒ، مولانا بشیر احمدؒ اور حضرت مفتی محمد کفایت اللہؒ پر مشتمل کمیٹی مقرر کی۔

بعد ازاں 12/مارچ 1949ئ کو جمعیت کی مجلسِ عاملہ نے حرمین شریفین میں نماز کے لیے مائیکروفون کے استعمال کو بند کرنے کی درخواست شاہِ سعودیہ کو بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ پھر جمعیت کے سولھویں اجلاسِ عام 16، 17، 18/اپریل 1949ئ میں حکومتِ سعودیہ سے حجاج پر عائد ٹیکس اور جہاز راں کمپنیوں سے کرایوں میں کمی کا مطالبہ کیا گیا تاکہ حج عام مسلمانوں کے لیے آسان ہو سکے۔

آزاد ہندستان میں سعودی عرب سے تعلقات کے نئے دور کا آغاز 5/جنوری 1950ئ کو اس وقت ہوا جب جمعیت علمائے ہند نے نئی دہلی کے مرینا ہوٹل میں سعودی اقتصادی وفد کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔ اس کے بعد 6/مارچ 1950ئ کو یہ اطلاع شائع ہوئی کہ سعودی حکومت نے حضرت مولانا حفظ الرحمانؒ اور حضرت مولانا عبد الحق مدنیؒ کو شاہی خلعت سے نوازا، جب کہ یہ خلعت مولانا کرم علی ملیح آبادی، جو 14/فروری 1950ئ کو حجاز سے واپس آئے تھے، اپنے ساتھ لائے۔

حجاج کی سہولت کے لیے حضرت مولانا محمد حفظ الرحمانؒ نے 18/جولائی 1955ئ کو شاہ سعود کو تار بھیج کر شدید گرمی کے پیشِ نظر خصوصی انتظامات اور بالخصوص حضرت شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے لیے سہولتوں کی درخواست کی، جس پر شاہ سعود نے فوری احکامات جاری کیے اور اس کا جواب 20/جولائی 1955ئ کو روزنامہ الجمعیۃ میں شائع ہوا۔

شاہ سعود کے دورہ¿ ہند کے موقع پر 27/نومبر 1955ئ کو دہلی کے پالم ہوائی اڈے پر جمعیت علمائے ہند کے اکابر نے ان کا استقبال کیا۔ اس کے بعد 29/نومبر 1955ئ (13 ربیع الثانی 1375ھ) کو تال کٹورہ گارڈن، دہلی میں جمعیت علمائے ہند کی جانب سے عظیم الشان استقبالیہ منعقد ہوا، جس میں وزیر اعظم جواہر لال نہرو، شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ، حضرت مولانا حفظ الرحمانؒ، متعدد وزرا، سفرا اور ممتاز شخصیات شریک ہوئیں۔ اس موقع پر عربی اور اردو میں سپاس نامے پیش کیے گئے، شاہ سعود نے حرمین شریفین کی توسیع، مسجد نبویؐ کی تعمیر، سعودی عرب و ہند کی دوستی اور عالمِ اسلام کی خدمت کے عزم کا اظہار کیا، جبکہ حضرت شیخ الاسلامؒ نے دونوں ملکوں کے باہمی تعلقات کو ایشیا اور عالمِ اسلام کے لیے نیک شگون قرار دیا۔ اس تقریب کی تفصیلی روداد اور سپاس نامے یکم دسمبر 1955ئ کے روزنامہ الجمعیۃ میں شائع ہوئے۔

سعودی عرب اور جمعیت علمائے ہند کے تعلقات (1956ئ تا 1969ئ)

27 تا 29 اکتوبر 1956ئ کو منعقد ہونے والے جمعیت علمائے ہند کے انیسویں اجلاسِ عام میں شرکت کے لیے سعودی عرب کی متعدد اہم شخصیات کو دعوت دی گئی۔ سعودی سفیر شیخ یوسف الفوزان اور سعودی وزارتِ تعلیم کے سیکریٹری عبدالعزیز بن عبداللہ نے مصروفیات کے باعث شرکت سے معذرت کرتے ہوئے جمعیت کی قومی و دینی خدمات کو سراہا اور اجلاس کی کامیابی کے لیے نیک تمنا¶ں کا اظہار کیا۔ اسی اجلاس میں شاہ سعود کو حرمین شریفین کی توسیع پر خصوصی مبارک باد پیش کی گئی اور ان کی اس خدمت کو تاریخِ اسلام کا عظیم کارنامہ قرار دیتے ہوئے مزید توفیق کی دعا کی گئی۔

5 مارچ 1959ئ کو جمعیت علمائے ہند نے سعودی عرب میں متعین ہندوستان کے سفیر مصطفیٰ محمد کامل قدوائی کے اعزاز میں دہلی میں عصرانے کا اہتمام کیا۔ اس کے بعد 19 اپریل 1959ئ کو مولانا سعید رمضان کی دعوت پر حج کے موقع پر مکہ مکرمہ میں ہونے والے م¶تمر اسلامی عام میں شرکت کے لیے جمعیت نے مولانا سید فخر الحسن اور مولانا سید محمد اسعد کو اپنا نمائندہ مقرر کیا۔

23 نومبر 1961ئ کو شاہ سعود کی علالت پر جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی مولانا محمد حفظ الرحمن نے ان کی صحت یابی کے لیے برقی پیغام بھیجا۔ 27 نومبر 1961ئ کو شاہ سعود نے بوسٹن (امریکہ) سے جوابی پیغام بھیج کر جمعیت اور اس کی تمام شاخوں کا شکریہ ادا کیا اور اپنی صحت میں بہتری کی اطلاع دی۔ اس کے بعد 30 نومبر 1961ئ کو جمعیت نے تمام مسلمانوں سے شاہ سعود کی صحت کے لیے دعا کی اپیل جاری کی۔

8 تا 10 جون 1963ئ کو منعقد ہونے والے بیسویں اجلاسِ عام کے لیے شاہ سعود، شہزادہ فیصل اور سعودی سفیر یوسف الفوزان نے اپنے تہنیتی پیغامات بھیجے اور اجلاس کی کامیابی کی دعا کی۔

19 فروری 1965ئ کو جمعیت علمائے ہند نے دہلی میں عرب ممالک کے مندوبین کے اعزاز میں استقبالیہ منعقد کیا، جس میں شام، فلسطین، اردن، الجزائر، تیونس، لبنان، مصر، سوڈان اور دیگر عرب ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ شامی وفد کے قائد عبدالمعین الملوحی نے اتحادِ امت، فلسطین کی آزادی اور عرب و ہند کے تعلقات پر زور دیا، جبکہ جمعیت نے اپنے سپاس نامے میں عرب دنیا سے دینی، تہذیبی اور تاریخی روابط کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت بیان کی۔

اسی سلسلے میں 26 فروری 1965ئ کو عرب لیگ کے سیکریٹری جنرل عبدالخالق حسونہ کے اعزاز میں استقبالیہ دیا گیا۔ انہوں نے عرب دنیا کی آزادی، فلسطین کے مسئلے اور مسلمانوں کے اتحاد پر اظہارِ خیال کیا، جبکہ جمعیت کے سپاس نامے میں عرب لیگ کی خدمات، فلسطین و الجزائر کی حمایت اور عربی مدارس و علمی تبادلوں کی ضرورت پر زور دیا۔

3 جون 1965ئ کو متحدہ عرب جمہوریہ کے فوجی اتاشی کرنل عبدالستار کے اعزاز میں الوداعی تقریب منعقد کی گئی، جس میں باہمی محبت اور دینی تعلقات کا اظہار کیا گیا۔ بعد ازاں 21 اگست 1965ئ کو لیگ آف عرب اسٹیٹس نے جمعیت کے تہنیتی پیغام کے جواب میں دونوں ممالک کے دوستانہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی۔

15 تا 17 اپریل 1966ئ کے بائیسویں اجلاسِ عام کے موقع پر شاہ فیصل نے مسلمانوں کے اتحاد، باہمی تعاون اور اصلاحِ احوال کے لیے دعا کا پیغام بھیجا اور اپنی نمائندگی کے لیے ہندوستان میں سعودی سفیر محمد الحماد الشبیلی کو نامزد کیا۔ سعودی سفیر نے بھی اجلاس کی کامیابی کی خواہش ظاہر کی، جبکہ عبدالخالق حسونہ اور عرب لیگ کے نمائندہ کلوویس مقصود نے جمعیت کی اسلامی، انسانی اور فلسطینی کاز کی خدمات کو سراہا۔

عرب و اسرائیل کشیدگی کے دوران 25 مئی 1967ئ کو مولانا اسعد مدنی نے مسلمانانِ ہند سے عرب ممالک کی کامیابی کے لیے خصوصی دعا¶ں کی اپیل کرتے ہوئے خلیجِ عقبہ پر عرب ممالک کے حق کی حمایت کی، جس کی تفصیل 27 مئی 1967ئ کے روزنامہ الجمعیۃ میں شائع ہوئی۔ پھر 28 مئی 1967ئ کو جمعیت کے زیر اہتمام اجلاس میں عرب لیگ کے قائم مقام نمائندہ محمد عبدالعزیز الرجبی نے خلیجِ عقبہ پر سعودی عرب اور متحدہ عرب جمہوریہ کے حقِ اقتدار کی وضاحت کی، جبکہ سعودی سفارت خانے کے شیخ حسین نے اعلان کیا کہ اگر امریکہ اسرائیل کی فوجی مدد کرے گا تو سعودی عرب تیل کی فراہمی بند کر سکتا ہے۔ ان بیانات کی تفصیل 30 مئی 1967ئ کے روزنامہ الجمعیۃ میں شائع ہوئی۔

28 اگست 1968ئ کو عرب جمہوریہ کے سبکدوش سفیر عیسیٰ سراج الدین کے اعزاز میں جمعیت علمائے ہند نے وداعی تقریب منعقد کی، جس میں ہند و عرب تعلقات، فلسطین کی حمایت اور باہمی تعاون کو سراہا گیا۔ اس تقریب کی رپورٹ 30 اگست 1968ئ کو شائع ہوئی۔

آخر میں 22 و 23 اگست 1969ئ کو منعقدہ مجلسِ عاملہ نے سعودی سفارت خانے کے ممتاز افسر شیخ حسین اتاشی کے اندوہناک قتل پر گہرے رنج و افسوس کا اظہار کیا، اسے ہندوستان اور سعودی عرب دونوں کے لیے بڑا سانحہ قرار دیا، حکومتِ ہند سے مکمل تحقیقات اور مجرموں کو سزا دینے کا مطالبہ کیا، اور سعودی حکومت، سفارت خانے اور مرحوم کے اہلِ خانہ سے دلی تعزیت و ہمدردی کا اظہار کیا۔

1969ئ تا 1975ئ: سعودی عرب، فلسطین اور عرب کاز کے سلسلے میں جمعیت علمائے ہند کی سرگرمیاں

22 و 23 اگست 1969ئ کو منعقدہ مجلس عاملہ کے اجلاس میں جمعیت علمائے ہند نے حجاز ریلوے کے متعلق اسرائیل اور سامراجی طاقتوں کی ہر قسم کی مداخلت کی شدید مذمت کرتے ہوئے واضح کیا کہ حجاز ریلوے وقفِ اسلامی ہے، اس لیے اس پر پوری امت مسلمہ کا حق ہے۔ اجلاس نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر مقبوضہ علاقے سے دست بردار ہو تاکہ حجاز ریلوے کی تکمیل ممکن ہو سکے۔

اسی پس منظر میں مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر جمعیت کے جنرل سکریٹری حضرت مولانا سید اسعد مدنی کے اظہارِ ہمدردی کے جواب میں 26 ستمبر 1969ئ کو شاہ فیصل نے خط ارسال کیا، جس میں ہندوستانی مسلمانوں کے جذبات پر شکریہ ادا کرتے ہوئے امتِ مسلمہ کے اتحاد اور مقدسات کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ خط 29 ستمبر 1969ئ کے روزنامہ الجمعیۃ میں شائع ہوا۔

23 نومبر 1969ئ کو دفتر جمعیت، نئی دہلی میں عرب ممالک کے سفیروں اور عرب لیگ کے نمائندوں کے اعزاز میں افطار کا اہتمام کیا گیا، جس میں متعدد عرب سفرا، حکومتِ ہند کے وزیر فخر الدین علی احمد اور مسلم ارکانِ پارلیمنٹ نے شرکت کی۔

21 اگست 1970ئ کو جامع مسجد دہلی میں یومِ مسجد اقصیٰ کے موقع پر جمعیت کے زیر اہتمام عظیم الشان جلسہ¿ عام منعقد ہوا، جس میں اسرائیلی جارحیت اور مسجد اقصیٰ میں آتش زنی کی مذمت کرتے ہوئے عرب کاز کی مکمل حمایت کا اعلان کیا گیا۔ سعودی عرب کے ناظم الامور سید یوسف محمد مطبقاتی اور عرب جمہوریہ کے سفیر نے بھی اس موقف کی تائید کی، جبکہ جمعیت کی اپیل پر ملک کے مختلف حصوں میں بھی احتجاجی اجتماعات منعقد ہوئے۔

5، 6 اور 7 مئی 1972ئ کو جمعیت علمائے ہند کے تیئسویں اجلاس عام میں سعودی سفیر شیخ انس یوسف یاسین نے ہندوستانی مسلمانوں اور حکومتِ ہند کی عربوں سے ہمدردی پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ عربوں اور ہندوستانیوں کے تعلقات تاریخی ہیں اور اسرائیل کے 1967ئ کے قبضے کے خلاف ہندوستان کی آواز ہمیشہ یاد رکھی جائے گی۔

یکم ستمبر 1973ئ کو سعودی عرب کے دینی و ثقافتی وفد کا دفتر جمعیت میں استقبال کیا گیا، جہاں جمعیت کی دینی و ملی خدمات کا تعارف کرایا گیا اور وفد نے ان خدمات کو سراہا۔

3 نومبر 1973ئ کو ہندستان کو تیل کی فراہمی میں ممکنہ کمی کی خبروں کے بعد مولانا سید اسعد مدنی نے شاہ فیصل کو برقیہ بھیج کر ہندوستان کو عرب دوست ممالک میں شامل رکھنے کی اپیل کی۔ اس سلسلے میں سعودی ناظم الامور سے ملاقات اور یادداشت بھی پیش کی گئی۔ بعد ازاں 9 نومبر 1973ئ کو شاہ فیصل کی جانب سے ہندستان کو تیل کی سپلائی برقرار رکھنے کے فیصلے پر مولانا اسعد مدنی نے شکریہ کا برقیہ بھیجا، جس کی خبر 11 نومبر 1973ئ کو روزنامہ الجمعیۃ میں شائع ہوئی۔

6 تا 25 اکتوبر 1973ئ کی جنگِ اکتوبر (جنگِ کپور) کے بعد 24 نومبر 1973ئ کو مجلس منتظمہ نے قرارداد منظور کر کے عرب ممالک کی تیل پالیسی کو سراہا اور مشورہ دیا کہ مقبوضہ عرب علاقوں کی آزادی اور فلسطینیوں کے حقوق کی بحالی تک تیل کو سیاسی و اقتصادی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جائے۔ ساتھ ہی شاہ فیصل کا شکریہ ادا کیا گیا کہ انہوں نے ہندوستان کو تیل کی سپلائی میں کسی کمی سے مستثنیٰ رکھا۔

25 مارچ 1975ئ کو شاہ فیصل ریاض میں قاتلانہ حملے میں شہید ہوگئے۔ بعد ازاں 18 جون 1975ئ کو قاتل کو سرِعام سزائے موت دی گئی۔ شاہ فیصل کی وفات پر مولانا سید احمد ہاشمی نے 27 مارچ 1975ئ کو شائع ہونے والی اپیل کے ذریعے ملک بھر میں تعزیتی اجتماعات اور یومِ وفات منانے کی درخواست کی۔

29 مارچ 1975ئ کو جامع مسجد دہلی کے اردو پارک میں جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام عظیم الشان تعزیتی جلسہ منعقد ہوا، جس میں مختلف مذہبی، سیاسی رہنما¶ں، عرب لیگ، سعودی، مصری اور دیگر عرب سفارت خانوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔ مقررین نے شاہ فیصل کی دینی، سیاسی اور ملی خدمات، عرب اتحاد، فلسطین کی حمایت، اسلامی بیداری اور عرب و ہند تعلقات کے فروغ میں ان کے کردار کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔ اس موقع پر ایک جامع تعزیتی قرارداد بھی منظور کی گئی، جس میں شاہ فیصل کی خدمات کو سراہتے ہوئے ان کے لیے دعائے مغفرت اور ان کے جانشینوں کے لیے دعا کی گئی۔ اس جلسے کی تفصیلات 31 مارچ، 2 اپریل اور 5 اپریل 1975ئ کے روزنامہ الجمعیۃ میں شائع ہوئیں۔

بعد ازاں 9 اور 10 اپریل 1975ئ کو مجلس عاملہ کے اجلاس کے دوران جمعیت کے اراکین نے سعودی سفارت خانہ جا کر سفیرِ سعودی عرب سے ملاقات کی اور شاہ فیصل کی شہادت پر تعزیت پیش کی۔

آخر میں 13 اگست 1975ئ کو سعودی عرب کے سفر کے دوران مولانا سید اسعد مدنی نے حکومتِ سعودی عرب سے ہندوستانی حجاج کے مسائل پر گفتگو کی، جس کے نتیجے میں حج کے بعد چالیس روز کی قیام کی پابندی اور اس کے بعد روزانہ تیس ریال فیس کی شرط ختم کر دی گئی۔ اس کی خبر 14 اگست 1975ئ کے روزنامہ الجمعیۃ میں شائع ہوئی۔

1979ئ میں جمعیت علمائے ہند نے ہندوستانی حجاج کو بہتر سہولیات فراہم کرانے کے لیے اپنی کوششیں تیز کیں۔ 12/فروری 1979ئ کو سعودی وزیرِ حج عبد اللہ بوقس کو، جو شاہ خالد کے نمائندہ کی حیثیت سے ہندوستان آئے ہوئے تھے، ایک میمورنڈم پیش کیا گیا، جس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے ہندوستانی رباطوں کی بحالی، مرمت اور بہتر انتظام کا مطالبہ کیا گیا۔ وزیرِ حج نے یہ یقین دہانی کرائی کہ یہ میمورنڈم شاہ خالد کی خدمت میں پیش کیا جائے گا۔ اس کے بعد 16، 17 اور 18/فروری 1979ئ کو منعقدہ کل ہند اوقاف کانفرنس نے بھی سعودی عرب میں ہندوستانیوں کے وقف کردہ رباطوں اور اوقاف کی اصل حیثیت بحال کرنے، ناجائز قابضین کی تحقیقات، حج کے ایام میں ہندوستانی زائرین کے لیے ان کے استعمال اور حرمین کی توسیع کے سبب حاصل ہونے والے معاوضے سے جدید رہائشی سہولتیں فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔

20ßنومبر 1979ئ (مطابق 1/محرم 1400ھ) کو مسجد الحرام پر جہیمان العتیبی کے مسلح گروہ کے قبضے کے واقعہ نے پوری دنیا کو ہلا دیا۔ اس کے اگلے روز 21/نومبر 1979ئ کو جمعیت علمائے ہند نے اس سانحہ کو حرم کی بے حرمتی قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور سعودی حکومت کی کارروائی کو سراہا۔ یہ بیان 22/نومبر 1979ئ کے روزنامہ الجمعیۃ میں شائع ہوا۔ بعد ازاں 28 اور 29/جنوری 1980ئ کو مجلس عاملہ نے باقاعدہ قرارداد منظور کر کے حملہ آوروں کی مذمت اور شاہ خالد، وزیر داخلہ نائف بن عبدالعزیز اور سعودی حکومت کو حرم کے تحفظ پر مبارک باد پیش کی۔

11ßاگست 1981ئ کو جمعیت علمائے ہند کے مرکزی دفتر، مسجد عبدالنبی (آئی ٹی او، دہلی) میں سعودی سفیر شیخ صالح الصقیر کے اعزاز میں الوداعی تقریب منعقد ہوئی۔ مولانا سید اسعد مدنی نے ہندوستان اور سعودی عرب کے مضبوط ہوتے تعلقات میں ان کی خدمات کو سراہا، جبکہ سفیر نے جمعیت، ہندوستانی مسلمانوں اور دونوں ممالک کے تعلقات کے فروغ پر اظہارِ تشکر کیا۔

8 اور 9/مئی 1983ئ کو مجلس عاملہ نے حجاج کے داخلے سے متعلق سعودی حکومت کی نئی پابندیوں پر غور کیا اور فیصلہ کیا کہ رابطہ¿ عالم اسلامی کے سیکریٹری جنرل محمد علی خرکان کو اس سلسلے میں خط لکھا جائے۔

31ßجولائی 1987ئ (مطابق 6/ذی الحجہ 1407ھ) کو ایرانی حجاج کے پرتشدد مظاہرے اور سانحہ¿ حرم میں سیکڑوں افراد جاں بحق ہوئے۔ اس پر 2/اگست 1987ئ کو ناظم عمومی مولانا محمد اسرار الحق قاسمی نے ایران کی پالیسی کو حرمین کے امن کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی۔ 9/اگست 1987ئ کو حج پر موجود صدر جمعیت مولانا سید اسعد مدنی نے ٹیلی فون پر اپنے بیان میں واقعہ کی ذمہ داری ایرانی حکومت پر عائد کی۔ پھر 12/اگست 1987ئ کو جمعیت نے 21/اگست 1987ئ کو ’’یومِ حرم‘‘ منانے کی اپیل جاری کی، جس پر ملک بھر میں احتجاجی اجتماعات اور قراردادیں منظور کی گئیں۔ بعد ازاں 3/ستمبر 1987ئ کو جمعیت کے وفد نے سعودی سفیر فواد صادق مفتی سے ملاقات کر کے اپنا موقف پیش کیا۔

3 اور 4/اکتوبر 1987ئ کو مجلس عاملہ نے سانحہ¿ حرم پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے ’’تحفظِ حرم کانفرنس‘‘ کے انعقاد کی توثیق کی۔ پھر 6/نومبر 1987ئ کو کانفرنس کی قرارداد تیار کرنے کے لیے سہ رکنی کمیٹی قائم کی گئی اور سعودی فرمانروا شاہ فہد کو قرارداد پیش کرنے کے لیے وفد بھیجنے کا فیصلہ ہوا۔ 7/نومبر 1987ئ کو مجلس منتظمہ کے اجلاس میں مولانا اسعد مدنی نے تحفظِ حرم کانفرنس کے اغراض و مقاصد بیان کیے اور سانحہ¿ حرم کے بارے میں ایک قرارداد بھی منظور کی۔

اس کے بعد 8/نومبر 1987ئ (مطابق 16/ربیع الاول 1408ھ) کو نئی دہلی کے سپرو ہا¶س میں عظیم الشان ’’تحفظِ حرم کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی، جس کی صدارت مولانا سید اسعد مدنی نے کی اور افتتاح امامِ حرم شیخ عبداللہ السبیل نے کیا۔ کانفرنس میں حرمین کے تقدس، سعودی حکومت کی خدمات اور ایرانی ہنگامہ آرائی کے خلاف متعدد قراردادیں منظور کی گئیں، سعودی حکومت کی حمایت کی گئی، ایرانی حکومت کی مذمت کی گئی اور اسلامی ممالک سے ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کرنے کی اپیل کی گئی۔

بعد ازاں 11/دسمبر 1987ئ کو بمبئی، 16/دسمبر 1987ئ کو لکھنؤ، 27/دسمبر 1987ئ کو بسن پور (پورنیہ)، 21/فروری 1988ئ کو جون پور اور 25/فروری 1988ئ کو بستی سمیت ملک کے مختلف حصوں میں تحفظِ حرم کانفرنسیں منعقد ہوئیں، جن سے مولانا سید اسعد مدنی نے خطاب کیا اور حرمین کے تحفظ کی ضرورت پر زور دیا۔

آخر میں 9 اور 10/اپریل 1988ئ کو مجلس منتظمہ نے تحفظِ حرم کے سلسلے میں ایک جامع قرارداد منظور کی، جس میں سعودی حکومت کی خدمات کو سراہتے ہوئے ایرانی ہنگامہ آرائی کی شدید مذمت کی گئی، ایران سے سفارتی و اقتصادی تعلقات ختم کرنے، حرمین کے امن کے تحفظ کے لیے م¶ثر اقدامات کرنے اور حجاج کی سلامتی کو یقینی بنانے کی اپیل کی گئی۔

1988ئ سے 2018ئ تک جمعیت علمائے ہند اور سعودی عرب کے تعلقات میں حرمین شریفین کے تحفظ، حج کے انتظامات، فلسطین، عالم اسلام اور سعودی پالیسیوں کے مختلف پہلو نمایاں رہے۔ 11 اپریل 1988ئ کو جمعیت علمائے ہند کا وفد سعودی عرب روانہ ہوا اور 22 اپریل 1988ئ کو واپس آیا۔ اس دوران وفد نے عمرہ ادا کیا، سعودی حکام اور 3 رمضان 1408ھ کو شاہ فہد سے ملاقات کی، جنہوں نے حرمین شریفین کے تحفظ کے سلسلے میں جمعیت کی خدمات کو سراہا۔ بعد ازاں 2 جولائی 1988ئ کو لندن میں منعقدہ تحفظِ حرم کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا سید اسعد مدنیؒ نے 1987ئ کے سانحہ¿ حرم اور ایرانی حجاج کی کارروائیوں پر افسوس کا اظہار کیا۔

11،12 فروری 1989ئ کو مجلس منتظمہ کے اجلاس میں سعودی نمائندہ شیخ عبدالعزیز عمار نے جمعیت کے کردار کو سراہا، مولانا سید ارشد مدنی نے حرمین شریفین کی عظمت پر خطاب کیا، اور تقدسِ حرمین کے تحفظ، سعودی حکومت کے حج انتظامات اور حرمین کی توسیع کی تحسین میں قرارداد منظور کی گئی۔ اس کے بعد 11 جولائی 1989ئ کو حج کے دوران بم دھماکوں کے واقعہ کی جمعیت نے شدید مذمت کی اور اسے اسلام دشمن سازش قرار دیا۔

3 جون 1990ئ کی مجلس منتظمہ نے حج کے دوران امن برقرار رکھنے کے لیے سعودی حکومت کی پالیسی، حرمین شریفین کی توسیع اور 1987ئ کے ایرانی مظاہروں کے تناظر میں کیے گئے اقدامات کی حمایت کی۔ 26 مارچ 1992ئ کو شاہ فہد اور ولی عہد شہزادہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے حضرت مولانا سید اسعد مدنی کو رمضان المبارک کی مبارک باد کے خصوصی پیغامات بھیجے۔

23 مئی 1994ئ کو منیٰ میں رمی جمرات کے دوران پیش آنے والے جان لیوا حادثہ پر 11،12 جون 1994ئ کی مجلس عاملہ نے اظہار افسوس کرتے ہوئے سعودی حکومت کے انتظامات کی تحسین کی اور حج کے انتظامات کسی بین الاقوامی ادارے کے سپرد کرنے کے مطالبات کو مسترد کیا۔ 26 مئی 1995ئ کو جمعیت نے ایران کی جانب سے حج کے دوران سیاسی مظاہروں کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے سعودی حفاظتی اقدامات کی تائید کی۔ 29 اکتوبر 1995ئ کو جمعیت کے پچیسویں اجلاس عام کے لیے امام حرم محمد بن عبداللہ السبیل نے تہنیتی پیغام بھیجا۔

12 نومبر 1996ئ کو چرخی دادری کے فضائی حادثہ پر جمعیت نے تعزیت کا اظہار کیا، شاہ فہد اور سعودی سفیر کو تعزیتی پیغامات بھیجے اور ایک وفد کو جائے حادثہ روانہ کیا۔ 15 اپریل 1997ئ کو منیٰ کے خیموں میں آتش زدگی کے المناک حادثہ کے بعد 17 مئی 1997ئ کی مجلس عاملہ نے شہدائ کے لیے دعائے مغفرت کی، سعودی حکومت کی امدادی کارروائیوں کو سراہا اور حکومت ہند کے اقدامات کی بھی تحسین کی۔

7 مارچ 1999ئ کی مجلس عاملہ میں سعودی حکومت کی نئی حج پالیسی، خصوصاً ویکسینیشن کی شرط، پر غور کیا گیا اور احتجاج کے مختلف طریقوں پر تبادلہ¿ خیال ہوا۔ 29،30 جولائی 1999ئ کو سعودی عرب کے ممتاز عالم شیخ عبدالعزیز بن بازؒ کے انتقال پر تعزیتی قرارداد منظور کی گئی۔

2 جولائی 2000ئ کو اسلامی ماحول میں عصری تعلیم کانفرنس میں سعودی سفیر عبدالرحمن الناصر العویلی نے سعودی عرب کو عالم اسلام کا قلب قرار دیتے ہوئے جمعیت کی تعلیمی خدمات کی تعریف کی۔ اسی سال 23 اکتوبر 2000ئ کے احتجاجی مظاہرہ میں اسرائیل کے خلاف سعودی عرب کے موقف اور فلسطینیوں کی حمایت کی تائید کی گئی۔

2،3 مئی 2001ئ کی تحفظ سنت کانفرنس میں اگرچہ حرمین شریفین کی خدمت، حج انتظامات اور سعودی خدمات کو سراہا گیا، لیکن الجامعۃ الاسلامیہ مدینہ منورہ اور بعض سرکاری مطبوعات کے ذریعے مسلک دیوبند اور ائمہ اربعہ کے خلاف لٹریچر کی اشاعت پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومت سعودی عرب سے اصلاح کا مطالبہ کیا گیا۔

12 جنوری 2006ئ کے منیٰ حادثہ پر جمعیت نے 13 جنوری 2006ئ کو افسوس کا اظہار کرتے ہوئے حجاج کی بے احتیاطی کو بھی ایک سبب قرار دیا۔ اسی طرح یکم فروری 2006ئ کی مجلس عاملہ نے 30 ستمبر 2005ئ کو ڈنمارک کے اخبار میں شائع ہونے والے گستاخانہ خاکوں کی مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کی جانب سے سفارتی احتجاج اور بائیکاٹ کی تحسین کی۔

8 فروری 2007ئ کو سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ کی کوشش سے مکہ معاہدہ طے پایا، جس کی 14 فروری 2007ئ کی مجلس عاملہ نے تحسین کی اور فلسطینی اتحاد کی حمایت کی۔ 6 نومبر 2012ئ کو میانمار کے مسلمانوں کے مسئلہ پر جمعیت نے سعودی عرب سمیت مختلف مسلم ممالک کے سربراہوں کو خطوط روانہ کیے۔

14 اگست 2013ئ کے رباعہ قتل عام کے بعد سعودی حکومت کی مصری فوج کی حمایت پر جمعیت نے 25،26 مئی 2014ئ کی مجلس منتظمہ میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے سعودی حکومت سے اپنی پالیسی پر نظرثانی اور اخوان المسلمون کے معاملہ میں مفاہمت کی اپیل کی، اگرچہ حرمین شریفین کی خدمت اور حج انتظامات کو قابل تحسین بھی قرار دیا۔

12 نومبر 2016ئ کو اجمیر میں جمعیت کے تینتیسویں اجلاس عام کے عالمی نعتیہ مشاعرہ میں سعودی عرب کے معروف شاعر محمد بن عمر سالم العید روس نے شرکت کی اور اتحادِ امت، محبت، امن اور وطن سے وفاداری پر مبنی عربی و اردو کلام پیش کیا۔

آخر میں 30 جون 2018ئ کی مجلس عاملہ میں سعودی عرب میں جاری جدید اصلاحات کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جبکہ 22 اکتوبر 2018ئ کی مجلس عاملہ نے سعودی حکومت کے مبینہ غیر شرعی اقدامات کا معتبر ذرائع سے جائزہ لے کر آئندہ اجلاس میں جامع رپورٹ اور تجویز پیش کرنے کا فیصلہ کیا۔

27 Jul 2026

علامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ اور جمعیت علمائے ہند

 علامہ معین الدین اجمیری رحمۃ اللہ علیہ اور جمعیت علمائے ہند

محمد یاسین جہازی

23/نومبر1919ئ ،مطابق یکم ربیع الاول 1338ھ، بروز اتوار عشا کی نماز کے بعد ، کرشنا تھیٹر ہال پتھر والا کنواں دہلی میںجمعیت علمائے ہند کی تاسیس کے بعد،28، 31/دسمبر1919ئ و یکم جنوری 1920ئ کی الگ الگ تاریخوں میں تین نشستوں پر مشتمل اسلامیہ مسلم ہائی اسکول امرتسر میںاس کا پہلا اجلاس منعقد ہوا۔ اس کی پہلی نشست: 28/ دسمبر 1919ئ،بعد ازاں31/دسمبر1919ئ کو منعقددوسری نشست، اور یکم جنوری1920ئ کو منعقد تیسری نشست میں ، یعنی پہلے اجلاس عام کی ہر نشست میں حضرت العلامہ مولانا محمد معین الدین صاحب اجمیری رحمۃ اللہ علیہ نے شرکت فرمائی۔  

اس تاریخی شہادت کی بنیاد پر یہ دعویٰ کیا جاسکتا ہے کہ حضرت العلامہ اجمیریؒ کا جمعیت علمائے ہند کا تعلق اتنا ہی قدیم ہے، جتنا کہ خود جمعیت کا وجود ہے۔ 

متفقہ فتویٰ علمائے ہند پر حضرت العلامہ کا دستخط

جنگ عظیم اول (28/جولائی 1914ئ تا 11/نومبر 1918ئ )کے موقع پر برطانیہ کی طرف سے مسلمانوں سے خلافت اسلامیہ عثمانیہ کے تحفظ کے وعدوںکے برعکس عارضی صلح (30 / اکتوبر 1918ئ) کی روسے خلافت کے ٹکڑے ٹکڑے کردینے، اور ہندستانیوں کو سوراج دینے کے بجائے رولٹ ایکٹ کے نفاذ(21/مارچ 1919ئ)کے خلاف رد عمل کے طور پر ہندستان میں تحریک ترک موالات اور تحریک خلافت نے جنم لیا۔ اور ان دونوں تحریکوں کی بنیاد عدم تعاون پر رکھا گیا۔ اسی تناظر میں مختلف علمائے کرام کی طرف سے برطانیہ سے ’’ترک موالات‘‘ کے فتوے جاری کیے گئے۔ انھیں فتووں میں ایک فتویٰ ’’متفقہ فتویٰ علمائے ہند‘‘ ہے، جسے 8/ ستمبر1920ئ کوابوالمحاسن حضرت مولانامحمد سجاد صاحب بہاری نائب امیر شریعت بہار نے تحریر فرمایا تھا۔ اور جس پر چار سو سے زائد علمائے کرام نے تائیدی دستخط کیے تھے۔ جن میں ایک شخصیت حضرت العلامہ مولانا محمد معین الدین اجمیری ؒ بھی تھے۔ چنانچہ انھوں اس فتویٰ پر اپنا تائیدی دستخط کرتے ہوئے تحریر فرمایا کہ: 

’’ہذاھوالحق: فقیر معین الدین اجمیری کان اللہ لہ۔‘‘ 

اس زمانے میں حکومت کے خلاف جاری تحریک کی کسی تحریر پر دستخط کرنا ، خود کو موت کے منھ میں دھکیلنا تھا، لیکن حضرت العلامہ نے ظالم وجابر حکومت کے ظلم وتشدد کی پرواہ کیے بغیر اس پر دستخط کرکے، جہاد آزادی ہند میں ایک اہم کردار ادا کیا۔ 

بشرط سرپرستی حضرت اجمیری شعبہ¿ تبلیغ کے قیام کی اجازت

24/فروری1923ئ کو حضرت العلامہ مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب ؒ صدر جمعیت علمائے ہند کو پہلا صدر منتخب کرتے ہوئے، جمعیت علمائے ہند نے ’’شعبہ¿ تبلیغ و حفاظت اسلام‘‘ قائم کیا گیا۔ اور پورے ملک میں جگہ جگہ اس کی شاخیں قائم کی گئیں۔ انھی شاخوں میں سے ایک شاخ راجپوتانہ اجمیر میںقائم کرنے کی منظوری دی گئی؛ لیکن شرط یہ رکھی گئی کہ اس کی سرپرستی حضرت العلامہ اجمیریؒ فرمائیں۔ چنانچہ جمعیت علما کی جمعیت تبلیغیہ کا ایک دو روزہ اجلاس 26، 27/ اگست1924ئ کو منعقدہ ہوا، جس کی تجویز نمبر(۵) میں کہا گیا کہ: 

’’ مولوی محی الدین صاحب اجمیری کا خط پیش ہوا، جس میں اجمیر کے کارکنان خلافت کے تبلیغی مقاصد میں سرگرمی سے کام کرنے کا قصد اور چھ ماہ کے واسطے تین سو روپیہ ماہوار کی امداد کی استدعا کی تھی۔بحث و غور کے بعد قرار پایا کہ: 

اگر صوبہ راجپوتانہ اجمیر میں شعبہ¿ تبلیغ و حفاظت اسلام مولانا معین الدین صاحبؒ کی سرپرستی اور ان کے رفقائے کار کی دل چسپی اور مستعدی کے ساتھ جاری ہوجائے اور بغیر کسی دوسری جماعت کے ساتھ مزاحمت کے وہ شعبہ کا کام چلانے پر اطمینان رکھتے ہوں ، تو وہاں شعبہ¿ تبلیغ کا قیام بہ نگرانی شعبہ¿ تبلیغ و حفاظت اسلام جمعیت علمائے ہند منظور کرلیا جائے اور ان کی اسکیم معلوم کرنے کے بعد مناسب امداد دی جائے۔ 

حضرت اجمیری کی صدارت میں شعبہ¿ تبلیغ کے عام اجلاس کرنے کا فیصلہ

پھر اسی اجلاس  جمعیت تبلیغیہ(26، 27/ اگست1924ئ ) کی قرارداد نمبر(۱۱) میں ایک فیصلہ یہ بھی کیا گیا کہ جب جمعیت علمائے ہند کا اسپیشل اجلاس ہو، تو اسی موقع پر شعبہ¿ تبلیغ کا بھی اجلاس کرلیا جائے، جس کی صدارت حضرت العلامہ مولانا محمد معین الدین اجمیری فرمائیں گے۔ چنانچہ تجویز میں کہا گیا کہ: 

’’ جمعیت تبلیغیہ کا یہ جلسہ طے کرتا ہے کہ اسپیشل اجلاس جمعیت علمائے ہند کے موقع پر ایک شعبہ¿ تبلیغ کا بھی عام جلسہ کیا جائے اور جناب مولانا معین الدین اجمیر صاحبؒ کا نام اس اجلاس کی صدارت کے لیے تجویز کرتا ہے۔‘‘

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، تجاویز اور فیصلوں کی روشنی میں، جلد اول، ص/

تبلیغ کانفرنس کی صدارت

چنانچہ اس کے بعد 14/ جنوری 1925ئ کو جمعیت علمائے ہند کی جمعیت مرکزیہ کا اجلاس ہوا، جس میں حضرت العلامہ نے شرکت فرمائی۔ پھر اس کے اگلے دن 15/جنوری 1925ئ کو تبلیغ کانفرنس منعقد کی گئی، جس کی صدارت حضرت العلامہ موصوف نے فرمائی۔ 

’’سب سے پہلے قرآن شریف کی تلاوت کی گئی۔ اس کے بعد جناب مولانامعین الدین صاحب اجمیریؒ نے ایک فاضلانہ خطبہ¿ صدارت پڑھا۔ خطبہ کا بقیہ حصہ مولوی معظم علی صاحب نے پورا کیا۔‘‘

صدر اجلاس کے لیے تجویز شکریہ کی منظوری

بسیار تلاش کے باوجود ناچیز کو یہ خطبہ¿ صدارت نہیں مل سکا، تاہم اسی اجلاس ( 15/جنوری 1925ئ )کی تجویز نمبر(۵) میں آپ کے لیے شکریہ کی تجویز کی منظور کی گئی۔

 ’’شعبہ¿ تبلیغ کا یہ جلسہ حضرت فاضل علامہ مولانا معین الدین اجمیری صدر اجلاس کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہے کہ مولانا نے باوجود عوائق شدید کے زحمت سفر گوارا فرماکر اجلاس کو قدومی میمنت لزوم سے عزت بخشی اور ارکان شعبہ¿ تبلیغ کی رہنمائی فرمائی۔ حق تعالیٰ حضرت موصوف کو جزائے خیر عطا فرمائے۔ اور مسلمانوں کو آپ کی انفاس طیبہ سے تادیر مستفید رکھے۔‘‘

 (کارروائی رجسٹر)

رکن جمعیت مرکزیہ

14/ جنوری 1925ئ کو پہلی مرتبہ جمعیت مرکزیہ کے اراکین میں آپ کا اسم گرامی کا تذکرہ ملتا ہے۔یہ شہادت ہے کہ آپ اسی تاریخ سے جمعیت مرکزیہ کے رکن بنائے گئے۔ 

تبلیغ الاسلام انبالہ کے لیے حضرت العلامہ کی جدوجہد

حضرت العلامہ کو تبلیغی کاموں سے خاص شغف تھا۔ چنانچہ ایک معاملہ کے متعلق حضرت مفتی اعظم ہند مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے ایک تار میں آپ کا ذکر اس طرح کیا: 

’’ اس وقت جمعیت علمانے کوئی وفدرنگون نہیں بھیجا۔ مولانا معین الدین صاحب معہ رفقا تبلیغ الا سلام انبالہ کی طرف سے گئے ہیں اور اسی کی شارخ نگون میں کھولنا چاہتے ہوںگے۔ تبلیغ الاسلام کا دفترانبالہ میں ہے۔ وہ شعبہ¿ تبلیغ جمعیت علمائے ہند سے جداگانہ انجمن ہے۔‘‘

 (سہ روزہ الجمعیۃ،2/ستمبر1925ئ)

انسداد توہین رسالت کے مشاورتی اجلاس میں نمائندگی

18/اگست 1927ئ کو نئی دہلی میں توہینِ انبیا، بزرگانِ دین اور پیشوایانِ مذاہب کے انسداد کے لیے تعزیراتِ ہند میں ایک واضح دفعہ شامل کرانے کے مسئلے پر غور کرنے کے لیے مقامی مسلم رہنما¶ں اور جمعیت مقننہ کے بعض ارکان کا ایک مشاورتی اجلاس منعقد ہوا، جس کی صدارت نواب سر ذو الفقار علی خاں نے کی۔ اجلاس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ اس قانون کے مسودے کو کسی غیر سرکاری رکن کے بجائے حکومت کی طرف سے پیش کروانے کی کوشش کی جائے، تاکہ یہ بغیر کسی رکاوٹ کے منظور ہو سکے۔

اس موقع پر مولانا محمد علی نے اپنا تیار کردہ مسودہ¿ قانون غور و خوض کے لیے پیش کیا اور اس کی تفصیلات واضح کرتے ہوئے بتایا کہ یہ قانون جہاں ایک طرف دل آزار اور گستاخانہ تحریروں کا انسداد کرے گا، وہیں دوسری طرف نیک نیتی پر مبنی تاریخی و علمی تنقید کے دروازے بھی کھلے رکھے گا۔

اس مسودے پر ملک بھر کے نام ور علما اور قانون دانوں سے مزید مشاورت کے لیے صدرِ مجلس کی تجویز پر ایک زبردست وفد تشکیل دیا گیا، جسے 28/اگست 1927ئ کو شملہ پہنچ کر جمعیت مقننہ کے اراکین اور حکومت سے رابطہ کرنا تھا۔ اس آل انڈیا وفد میں مختلف صوبوں اور مکاتبِ فکر کے سرکردہ رہنما¶ں کو شامل کیا گیا، جن میں اجمیر سے ممتاز عالمِ دین مولانا معین الدین صاحب اجمیریؒ بھی بطور خاص نام زد کیے گئے۔ (سہ روزہ الجمعیۃ، 22/اگست 1927ئ)

پنجاب میں امارت شرعیہ کے قیام میں علامہ اجمیری کا اہم کردار

2/ستمبر 1927ئ کو دربار سیال شریف (پنجاب) میں عرس کے موقع پر جمع ہونے والے علما، مشائخ اور مسلم اکابرین نے امت مسلمہ کے انتشار، زوال اور گستاخانہ لٹریچر کی اشاعت جیسے حوادث پر گہرے غور و فکر کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ان تمام مسائل کا واحد حل اسلامی مرکزیت اور شرعی نظام کا قیام ہے۔

چنانچہ اس مقصد کے لیے حاضرین نے بالاتفاق دربار سیال شریف کے سجادہ نشین حضرت مولانا ضیائ الدین صاحب کو ’’امیرِ شریعت‘‘ منتخب کر کے ان کے ہاتھ پر بیعتِ امارت کر لی۔ امیرِ شریعت کے فرائض میں احکامِ شرعیہ کا احیا، باہمی تنازعات کا تصفیہ اور بیت المال کا قیام (زکوٰۃ، صدقات و عشر کی وصولی اور شرعی مصارف کے لیے) شامل طے پایا۔ اس موقع پر جناب فضل شاہ صاحب سجادہ نشین جلال پور نے مرکزیت اور بیت المال کی اہمیت پر جامع تقریر کی۔

امورِ مہمہ میں امیرِ شریعت کو مشورہ دینے کے لیے بارہ ارکان پر مشتمل ایک مجلس شوریٰ منتخب کی گئی، جس میں حضرت علامہ معین الدین اجمیریؒ بھی شامل تھے۔ اجلاس میں یہ بھی طے پایا کہ فی الحال اسی نظام کو مضبوط کیا جائے اور بعد میں پنجاب کے تمام مشائخ و علما کو دعوت دے کر پورے صوبے کے لیے امارتِ شرعیہ کا مسئلہ طے کیا جائے۔

 آخر میں حاضرینِ مجلس نے اس اہم شرعی نظام کے قیام کے سلسلے میں علامہ معین الدین اجمیری کی گراں قدر مساعی کا شکریہ کے ساتھ اعتراف کیا۔(سہ روزہ الجمعیۃ، 2/ستمبر1927ئ)

 جدید مسائل کی تنقیح و تحقیق کے لیے شرعی کمیٹی کی رکنیت 

2 تا 5/دسمبر 1927ئ کو منعقدہ جمعیت علمائے ہند کے آٹھویں اجلاسِ عام میں مغربی تہذیب، دہریت اور الحاد کے بڑھتے ہوئے اثرات، انگریزی خواں طبقے اور عورتوں میں بڑھتی ہوئی بے پردگی پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور علمائے کرام سے پوری طاقت کے ساتھ ان خطرات کا مقابلہ کرنے کی استدعا کی گئی۔

اسی طرح اجلاس میں واضح کیا گیا کہ سود کی حرمت قرآن پاک کی نصِ قطعی سے ثابت ہے اور کوئی حرام کو حلال نہیں کر سکتا۔ تاہم، یورپین تجارتی تعلقات کے باعث پیدا ہونے والے جدید پیچیدہ مسائل (جیسے سود، انشورنس وغیرہ) کی شرعی تحقیق کے لیے علما اور تجارتی معاملات کے ماہرین پر مشتمل ایک خاص کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اس کمیٹی کا مقصد حالاتِ حاضرہ کی تنقیح و تحقیق کرنا اور شرعی آسانی (تیسیر) کا لحاظ رکھتے ہوئے کتاب و سنت کی روشنی میں مسلمانوں کی رہنمائی کرنا تھا، تاکہ واضح ہوسکے کہ جدید حوادث و معاملات میں سے کون سے امور شرعاً جائز ہیں اور کون سے ناجائز۔

حالاتِ حاضرہ کی تنقیح کے لیے قائم اس اہم کمیٹی میں ملک بھر کے جید علما کے ساتھ مولانا معین صاحب اجمیریؒ کو بھی بطور رکن نام زد کیا گیا۔

چنانچہ اجلاس کی تجویز (۲۲) میں کہا گیا کہ: 

’’چوںکہ مغربی تہذیب اور تمدن کا سیلاب روزانہ تیزی سے بڑھتا Èرہا ہے اور ایشیائی قومیں اپنی شان دار روایات اور مذہبی احکام سے بے گانہ ہوتی جارہی ہیں۔ مسلمان بھی اسلامی تہذیب اور قومی وضع چھوڑ کر یورپین تہذیب اور وضع اختیار کررہے ہیں۔

عورتوں کی بے پردگی بے حیائی کے درجہ تک پہنچ رہی ہے۔ ایک طرف انگریزی خواں طبقہ میں یہ باتیں نہایت سُرعت کے ساتھ سرایت کررہی ہیں۔ دوسری طرف یورپین تجارتی تعلقات نے تجارتی معاملات میں طرح طرح کی اُلجھنیں پید اکردی ہیں، جن سے سود اور انشورنس اور اسی قسم کے بہت سے مسائل پیدا ہوگئے ہیں، اس لیے جمعیت علمائے ہند کا یہ جلسہ علمائے کرام سے پُرزور استدعا کرتا ہے کہ اس Èنے والے خطرہ کا پورا احساس کریں اور اپنی منتشر قوت کو جمعیت علماکے مرکزی دائرہ میں جمع کرکے پوری طاقت کے ساتھ دہریت و الحاد کا مقابلہ کریں۔

جمعیت علمائے ہند کا یہ جلسہ اس اعلان کے ساتھ õکہ سود کی حرمت قرÈن پاک کی نص قطعی سے ثابت ہے اور کوئی شخص کسی حرام کو حلال نہیں کرسکتاõعلما و واقفین معاملاتِ تجارت کی حسب ذیل کمیٹی منتخب کرتا ہے، جو حالاتِ حاضرہ کی تنقیح و تحقیق کرے اور شرعی تیسیر کا لحاظ رکھتے ہوئے، کتاب و سنت کی روشنی میں جمہور مسلمین کی رہ نمائی کرے اور ظاہر کردے کہ حوادثِ جدیدہ میں کتنے امور جائز اور حلال ہیں اور کتنے ناجائز اور حرام۔

کمیٹی کے ارکان یہ ہوں گے:

۱۔حضرت مولانا سیّد محمد انور شاہ صاحبؒ۔ ۲۔ مولانا سیّد حسین احمد صاحبؒ۔

۳۔ مولانا شبیر احمد صاحب عثمانیؒ۔ ۴۔ مولانا سیّد سلیمان صاحب ندویؒ۔

 ۵۔مولانا عبدالقہار صاحبؒ (مروت ملا)۔۶۔ مولانا عبدالحکیم پشاوریؒ۔

۷۔ مولانا نعیم الدین صاحب مراد Èبادیؒ۔۸۔ مولانا عبدالماجد صاحب بدایونیؒ۔

۹۔ مولانا عبدالماجد صاحب دریا Èبادیؒ۔ ۰۱۔ مولانا قطب الدین صاحب فرنگی محلیؒ۔

۱۱۔ مولانا نثار احمد صاحب کانپوریؒ۔ ۲۱۔ مولانا معین صاحب اجمیریؒ۔

۳۱۔ مولانا محمد علی صاحبؒ۔ ۴۱۔ سیٹھ عبداللہ ہارون صاحبؒ۔

۵۱۔ میاں ہاشم غلام علی مصطفی صاحبؒ۔

جمعیت علمائے ہند کے صدر اور سکریٹری اس کمیٹی کے صدر اور سکریٹری ہوں گے اور کمیٹی کو اضافہ¿ ممبران کا اختیار ہوگا۔

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، تجاویز اور فیصلوں کی روشنی میں، جلد اول، ص/

نویں اجلاس عام کی صدارت کے لیے انتخاب

جمعیت علمائے ہند کی مجلس مرکزیہ منعقدہ:11و 12/اگست1929ئ کی میٹنگ میں 3تا 6/مئی 1930ئ کو منعقد ہونے والے نویں اجلاس عام کے انعقاد کے لیے کانپور کی طرف سے موصول دعوت پر غوروخوض کرتے ہوئے اسے منظوری دی گئی اور کثرت رائے سے حضرت العلامہ مولانا محمد معین الدین صاحب اجمیری ؒکو اجلاس کانپور کی صدارت کے لیے منتخب کیا گیا۔ 

نویں اجلاس عام کی صدارت کا تنازع اور اساسی قانون کا مسئلہ

جیسا کہ عرض کیا گیا کہ مجلس مرکزیہ منعقدہ:11و 12/اگست1929ئ کی میٹنگ میں  نویںاجلاس عام کی صدارت کے لیے کثرتِ رائے سے حضرت العلامہ مولانا محمد معین الدین صاحب اجمیریؒ کو صدر منتخب کیا گیا تھا۔ تاہم، کانپور کی مقامی مجلس استقبالیہ کے عہدے داران (مولانا حسرت موہانی، مولانا عبد الکافی اور سید ذاکر علی) چاہتے تھے کہ صدارت مولانا محمد علی جوہر کو دی جائے، کیوںکہ ان کے نزدیک موجودہ سرد مہری کے ماحول میں کانپور کی عوام کو متحرک کرنے کے لیے مولانا محمد علی جوہر کے نام کی کشش ضروری تھی۔

جمعیت علما کا مؤقف یہ تھا کہ ان کے دستورِ اساسی کی دفعہ( 43) کے تحت جمعیت کے سالانہ اجلاس کا صدر صرف ایک ’’عالم‘‘ ہی منتخب ہوسکتا ہے، اور قوانین کی پابندی ہر حال میں لازم ہے۔

کانپور کی مقامی مجلس استقبالیہ نے حضرت اجمیری کو صدارت سے روکنے اور مولانا محمد علی جوہر کی صدارت پر اصرار کرنے کے لیے ، حضرت اجمیری اور مجلس استقبالیہ کے درمیان جو خط و کتابت ہوئی، وہ تمام خطوط مجلس مرکزیہ منعقدہ :26، و 28/ اکتوبر 1929ئ میں پیش کیے گئے۔ 

اجلاس میں پیش کردہ اہم خط و کتابت

اس مجلس مرکزیہ کی کارروائی میں درج ہے کہ: 

مجلس استقبالیہ کانپور کا معاملہ پیش ہوا۔ جناب صدر (حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند)نے شروع سے لے کر اب تک تمام واقعات پر روشنی ڈالی اور مجلس استقبالیہ کی خط وکتابت کا خلاصہ بیان کیا ۔نیز وہ پمفلٹ õجس پر 23/اکتوبر 1929ئ کی تاریخ ثبت ہے ، اور جو مولانا عبدالکافی ، سیدذاکر حسین اور مولانا حسرت موہانی عہدے داران مجلس استقبالیہ کانپور کی جانب سے شائع کیا گیا ہے اور جس میں جمعیت علمائے ہند اور عہدے داران جمعیت پر افسوس ناک اتہامات لگائے گئے ہیںõ تمام و کمال پڑھ کر سنایا۔ اس کے بعد اجلاس کانپور کے صدر منتخب حضرت مولانا معین الدین صاحب اجمیری کی دفتر جمعیت سے مندرجہ ذیل خط و کتابت جلسہ کے سامنے پیش کی گئی:

از اجمیر شریف، 3/ستمبر 1929ئ 

مولانا المکرم دام مجدکم السامی السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ مزاج اقدس!

 مرکزیہ کے مراسلہ مؤرخہ 15/اگست 1929ئ سے معلوم ہوا کہ اجلاس کانپور کے لیے فقیر کو غلبہ¿ آرا سے صدر منتخب کرلیا گیا ہے ، لیکن افسوس ہے کہ فقیر ایسے اجلاس کی قبول صدارت سے قطعا معذور ہے، جس کے ناظمین اور مہتممین تک صدارت کے خلاف مشورہ دے رہے ہیں ۔ اس میں شک نہیں کہ مقامی دشواریاں بھی ایک حد تک قبول صدارت کے لیے مزاحم ہور ہی ہیں اور اسی وجہ سے جواب مراسلہ میں اس قدر غیر معمولی تعویق ہوئی ۔ لیکن وہ بمقابلہ¿ عام قومی و ملی مفاد کے نظر انداز کی جاسکتی تھی۔ اسی وجہ سے میعاد تردد میں اضافہ ہوگیا۔ اس اثنا میں متعدد تحریرات ان حضرات کی جانب سے موصول ہوئیں، جو صدارت فقیر سے اختلاف رکھتے تھے ، ان میں وہ حضرات بھی شامل ہیں، جن کے ہاتھ میں اجلاس کا نظم و نسق ہے ۔ یہ حضرات نہ صرف صدارت فقیر سے اختلاف رکھتے ہیں ؛ بلکہ براہ خیر خواہی و ہمدردی یہ مشورہ دیتے ہیں اور ہدایت کرتے ہیں کہ :

’’ آپ اس نازک موقع پر ایثار سے کام لے کر اپنا نام واپس لے لیں‘‘۔ 

(نامہ مشترک حضرت مولانا حسرت موہانی صدر مجلس استقبالیہ و مولانا عبد الکافی سکریٹری مجلس استقبالیہ) 

اسی نامہ مشترک میں یہ تحریر ہے: 

’’کانپور میں جمعیت العلما کے اجلاس کی تیاری موجود ہ سرد مہری کی فضا میں مولانا محمد علی صاحب کے نام کے ساتھ مشروط تھی اور اسی نام کی کشش سے کانپور کی پبلک اتنے اہم اور دشوار گذار ذمہ داری کے لیے بمشکل تیار کی جاسکی تھی۔ لیکن اس فیصلہ کے بعد جو حال میں 11/اگست 1929ئ کو مرادآباد میں مرکزی کے جلسہ میں مسئلہ¿ صدارت کے متعلق ہوا، جس میں آں جناب (فقیر حقیر) کو آٹھ رائے کے غلبہ سے صدر اجلاس کانپور کے لیے منتخب کیا ہے، کانپور کی پبلک میں کامل بد دلی پیدا ہوگئی ہے ۔ اس لیے کانپور میں جمعیت کے اجلاس کی کامیابی کی کوئی توقع اب باقی نہیں رہی‘‘۔ 

دوسرے خط میں (جو بنام عزیز مولوی محمد نور الدین صاحب ہے) یہ تحریر ہے:

’’میرے خیال میں اہل کانپور کی خواہشات کے خلاف ہوا۔ مولانا معین الدین صاحب فقیر حقیر ہرگز کانپور میں صدارت کبھی کسی طرح گوارہ نہ فرمائیںگے اور اس طرح اپنے اعزاز و وقار کو نہ گرائیں گے۔ (نامہ مولانا عبد الکافی صاحب مؤرخہ 14/ اگست1929ئ)‘‘ 

اسی خط میں ہے کہ :

’’ہم ابھی بہت سے پہلو اور قواعد کے تحت جنگ کریں گے اور کسی طرح محمد علی صاحب کے نام سے دست بردار نہیں ہوں گے۔‘‘

جناب سید ذاکر علی صاحب سکریٹری مجلس استقبالیہ اپنے ولا نامہ مؤرخہ 15/اگست 1929ئ میں یہ اظہار حقیقت کرتے ہیں :

’’ یہ امر یقینی ہے کہ سالانہ اجلاس کے موقع پر مسئلہ¿ انتخاب صدار ت پر ایک سخت جنگ ہوگی۔اب جلسوں میں نہ صرف سخت کلامی؛ بلکہ غیر مہذب کلمات کا استعمال ،طعنہ و تشنیع، غل و شور، گالی گلوچ؛انتہا یہ کہ ہاتھا پائی کی نوبتیں آنی شروع ہوگئی ہیں،جن کو کوئی شریف انسان گوارا نہیں کرسکتا۔ چوں کہ مجھ کو ایک عرصے سے جناب نیاز مندی کا تعلق ہے، اگر اس قسم کے غیر مہذب واقعات کم سے کم درجہ میں بھی پیش آئے، تو میرے لیے ایک مصیبت کا سامنا ہوگا، میں اس خیال سے لرزہ براندام ہوں۔ ان پیچیدگیوں میں انتہائی غور کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوںکہ میں بحیثیت ایک قدیم نیاز مند کے ان تمام واقعات سے مطلع کروں اور یہ بھی عرض کردوں کہ میری رائے میں آپ اس موقع سے گریز کریں اور صدارت قبول نہ فرمائیں۔‘‘

فرمائیے ، جب ذمہ داران اجلاس کے مشوروں کا یہ رنگ و طور ہو، تو ایسی صورت میں à (اسکین صاف نہ ہونے کی وجہ سے دو تین جملے پڑھے نہیں جاسکے) خواہ مخواہ قبول صدارت و ذلیل بنانے پر کوئی خوبی نہیں ہے۔ فقیر کو اصولاً آپ اور آپ کے ہم خیال حضرات کے ساتھ کامل اتفاق ہے کہ جمعیت علما کے اصول اساسی کے ماتحت صدارت اجلاس کے لیے صرف عالم منتخب ہوسکتا ہے۔ یہ ایک دلیل اس قدر مضبوط اور مستحکم ہے کہ اس کے مقابلہ میں دوسرے حضرات کے جملہ دلائل اور براہین ایک خواب پریشان سے زیادہ وقعت نہیں رکھتے ۔ یہ صحیح ہے کہ جناب محمد علی صاحب کی شخصیت نہایت ارفع و اعلیٰ ہے۔ اُن کی صدارت خود اجلاس کے لیے موجب اعزاز ہے۔ ماہرسیاسیات ہونے کے علاوہ اُن کی ذکاوت و طباعی مشہور اور ضرب المثل ہے؛ لیکن اس کا کیا چارہ¿ کا رکہ جمعیت علما کے منظور شدہ اساسی دفعات ان کی صدارت کی تائید میں نہیں ہیں۔ اگر قوانین اس لیے وضع کیے جاتے ہیں کہ ان کی پا بندی کی جائے گی، تو پھر یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ وہی جماعت حق پر ہے، جو دفعات ا ساسیہ کی سختی کے ساتھ پابندی کر رہی ہے۔ اور اس پابندی کے جرم میں مطعون خلائق ہورہی ہے۔ مجھے امید ہے کہ میری معذرت کو قبول فرما کر مجھ کو ممنون بنایا جائے گا۔ اورمجھ سے بدرجہا بہتر کوئی دوسرا صدر منتخب کر لیا جائے گا۔

و السلام فقط۔ فقیر معین الدین کان اللہ لہ ‘‘

جناب صدر کی جانب سے اس خط کا مندرجہ ذیل جواب دیا گیا :

’’محترم حضرت مولانا محمد معین الدین صاحب دام فیوضہم ، السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ۔ جناب کا ولانامہ دربارہ¿ صدارت اجلاس کانپور موصول ہوا تھا ، بعض مشاغل ضروریہ کی وجہ سے خدمت اقدس میں عرض حال نہ کرسکا۔ اب گزارش یہ ہے کہ کانپور کے اجلاس کی کامیابی ان وجوہ کی بنا پر õجو مجلس استقبالیہ کے ذمہ دار حضرات کی تحریرات سے ظاہر ہیںõبظاہر مشکل میں ہے اور اسی وجہ سے آں مکرم نے قبول صدارت سے معذوری کا اظہار فرمایا ہے؛ مگر میری گذارش یہ ہے کہ اگر کانپور کے اجلاس کی مشکلات کا کوئی مناسب حل نکل آیا، تو پھر جناب کو صدارت فرمانے میں کوئی تأمل نہ ہوگا۔ مجھے حق تعالیٰ کے فضل و کرم سے امید ہے کہ مجلس مرکزیہ کے سامنے جب معاملہ جائے گا، تو کوئی نہ کوئی مناسب حل نکل آئے گا۔ امید کہ جناب والا قبول صدارت کے فیصلے سے مطلع فرماکر ممنون فرمائیں گے ۔ امید کہ مزاج اقدس بخیر ہوگا۔ حضرت دیوان صاحب مدظلہ کی خدمت میں سلام مخلصانہ عرض ہے۔

 محمد کفایت اللہ غفرلہ۔ 18/ستمبر 1929ئ۔‘‘

پھر حضرت مولانا معین الدین صاحب کانپور کا مندرجہ ذیل خط موصول ہوا : 

’’از: اجمیر شریف ۔19/ستمبر1929ئ

مخدوم و محترم حضرت مفتی صاحب زید عنایتہ

وعلیکم السلام و رحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ ولانامہ نے ممتاز فرمایا۔ قبول صدارت سے جن مشکلات کی بنا پر فقیر نے معذوری ظاہر کی تھی، اگر حسب ارشاد آں جناب ان مشکلات کا کوئی مناسب حل نکل آیا، جس کی توقع بھی آں جناب نے ظاہر فرمائی ہے ، تو پھر قبول صدارت میں فقیر کو کوئی تأمل نہ ہوگا۔ اطمینان فرمائیں ، قبول صدارت کے متعلق جو موانع تھے، جب وہی زائل کردیے گئے ، تو خواہ مخواہ انکار صدارت پر مجھ کو اصرار کیوں کر ہوسکتا ہے۔ بہرحال ازالہ¿ موانع اور مشکلات کے بعد فقیر فرائض صدارت انجام دینے کے لیے حاضر ہے۔

 فقط والسلام۔ فقیر معین الدین کان اللہ لہ۔‘‘

ان تینوں خطوط کو تمام ارکان نے شروع سے آخر تک سنا اور بعض نے خود بھی دیکھا۔ 

اس کے بعد جناب ناظم صاحب نے فرمایا کہ میں نے مجلس استقبالیہ کے عہدے داران کو ایک خط کے ذریعہ مطلع کیا تھا کہ ان کا معاملہ اس وقت کے جلسہ میں پیش ہونے والا ہے ، اس لیے اگر وہ کچھ فرمانا چاہیں، تو تشریف لاسکتے ہیں۔ چنانچہ میرے خط کے جواب میں انھوں نے جو کچھ لکھا ہے ، وہ جلسہ کے سامنے پیش کیا جاتا ہے ۔ مندرجہ ذیل خط پڑھ کر سنایا گیا:

’’ 18/اکتوبر 1929ئ

بخدمت گرامی جناب صدر جمعیت علمائے ہند ، السلام علیکم! 

کانپور کی مجلس استقبالیہ کے ان تمام عہدے داروں کی جانب سے õجو جناب ناظم صاحب جمعیت مرکزیہ کی تحریر کے بموجب دہلی آئے تھےõ میں یہ تحریر جناب والا کی خدمت میں بھیجتا ہوں: 

باوجود ان تمام واقعات کے õجو گذشتہ فروری سے اب تک پیش آئےõ ہم اس توقع کو لے کر دہلی آئے تھے کہ پورے واقعات کو معلوم ہونے پر ارکان جمعیت و عہدے داران جمعیت کے بے جا طرز عمل کو منصفانہ اصلاح کریں گے، چنانچہ دہلی پہنچ کر شرکت اجلاس کی اجازت حاصل کی گئی جو بمشکل ملی اور پھر بھی ہمارے ساتھ ناگواربرتاؤ کیا گیا اور اجلاس شروع ہونے پر کانپور کے اجلاس کا معاملہ شروع کرنے کی باصرار اجازت چاہی؛ مگر آپ نے اجازت نہیں دی، حالاں کہ یہ محض صدر کے اختیار کی بات تھی اور ہم صبر سے انتظار کرتے رہے۔ دوسرے دن ہم نے اخبار الجمعیۃ میں ’’افسوس ناک تلبیس‘‘ کے عنوان سے ناظم صاحب کا ایک نوٹ پڑھا، جو کذب اور غلط بیانی سے پر تھا، چنانچہ اس کا جواب اخبار ہی کے ذریعہ تحریر کردیا گیا اور گو آثار خلاف تھے، مگر پھر بھی یہ توقع قائم رکھی کہ واقعات کے معلوم ہونے پر ارکان جمعیت ایسا فیصلہ کریں گے ، جو ان کو کرنا چاہیے۔ اسی دوران میں 26/تاریخ کی شب میں جناب حکیم محمد جمیل خاں صاحب کے دولت کدہ پر ساردا بل کی مخالفت میں داعیان مجلس شوریٰ ، معززین شہر و دیگر زعمائے ملت کے ساتھ ہم کو بھی مشورہ اور شرکت کا موقع ملا اور صدارت کی قرار داد کی منظوری ہمارے مواجہ میں ہوئی ۔ 

27/ کو جب جلسہ شوریٰ ہوا، تو ہم نے دیکھا کہ تمام طے شدہ قرار دیں فراموش کردی گئیں۔ آں جناب و ناظم صاحب جمعیت جو طے کرگئے تھے ، اس کے بالکل خلاف عمل میں آیا اور جو صورت حال پیش آئی، وہ آپ کی انتہائی خود غرضی و غلط بیانی و کتمان حق کا بد ترین نمونہ تھی اور اس کے ساتھ بعض ارکان جمعیت کی شورش پسندی اور فساد انگیزی اورآپ کی طرف سے ان کے اس طرز عمل کی اپنی خامشی سے ہمت افزائی غایت قابل تأسف تھی اور اس جلسہ کی صدارت پر جس کے آپ خود داعی تھے، آپ نے انتہائی افسوس ناک طرز عمل سے بلا حصول آرا قبضہ کرکے خود یہ دیکھ لیا کہ نہ صرف وہ تمام حضرات جو اس شوریٰ کے جلسہ میں شرکت کی غرض سے آئے تھے؛ بلکہ انصاف پسند ارکان جمعیت و دیگر زعما بھی متنفر اور بیزار ہوگئے اور آئندہ شرکت نہ کرنے کا انھوں نے فیصلہ کرلیا۔ ‘‘

ہم نے اس امرکو خوب اچھی طرح دیکھ لیا کہ آپ اور آپ کے ہم نوا ایک خاص سیاسی غرض اور ایک خاص مسلک ہی رکھتے اور جمعیت علما کو اپنا آلہ¿ کار بنانا چاہتے ہیں اور ہم کو قطعا مایوسی ہوگئی کہ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کی غرض سے جمعیت کے سالانہ اجلاس کی سعی بیکار ہے ، لہذا ہم نے اب آپ کی اور آپ کے ہمنوا کی ذہنیت اور طرزعمل سے ذاتی واقفیت حاصل کرنے کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہم اپنا مزید وقت ضائع نہ کریں ۔ اب مسلمانان ہند اس کا فیصلہ کریںگے۔

 والسلام۔سید ذاکر علی ، سکریٹری مجلس استقبالیہ کانپور۔‘‘

ان تمام واقعات اور خطوط پر غوروخوض کرنے کے بعد درج تجویز نمبر(۴) بالاتفاق منظور کی گئی:

مجلس استقبالیہ کانپور کی دعوت کا استرداد

جمعیت علمائے ہند کے اس اجلاس کی رائے میں جمعیت کے مجوزہ اجلاس کانپور کی صدارت کے مسئلہ کے سلسلہ میں مجلس استقبالیہ کے عہدے داران: مولانا حسرت موہانیؒ، مولانا عبد الکافیؒ اور سید ذاکر علیؒ نے جو روش اختیار کی ہے، وہ بے حد قابل افسوس ہے ۔ ان حضرات نے جمعیت کے اجلاس کانپور کی کامیابی کو مولانا محمد علیؒ کی صدارت کے ساتھ وابستہ قرار دے کرõ جنھیں وہ اس منصب کے لیے خود ہی انتخاب فرماچکے ہیں اور مولانا معین الدین صاحبؒ منتخب شدہ صدر کو اجلاس کانپور کی صدارت سے دست بردار ہونے پر، جن تخویف و تہدید آمیز طریقوں سے کام لیا ہےõ وہ مسلمانان کانپور کے مسلمہ اخلاقی شہرت کی کھلی ہوئی توہین ہے اور یہ ظاہر کرکےõ کہ اگر مولانا معین الدینؒ نے صدارت قبول کرلی، تو سب و شتم؛ بلکہ ہاتھا پائی تک کی نوبت پہنچ جائے گیõ گویا یہ ثابت کرنا چاہا ہے کہ مسلمانان کانپور اس قسم کی بازاری حرکات کے عادی ہیں۔ اس جلسہ کی رائے میں مسلمانان کانپور اور مجلس استقبالیہ کانپور کے عہدے داران کا یہ الزام بالکل بے بنیاد اور ان کی کھلی ہوئی توہین ہے۔ نیز عہدے داران مجلس استقبالیہ کے 22/اکتوبر کے پمفلٹ اور 28/ اکتوبر کے خط کو پیش نظر رکھتے ہوئےõ جن میں جمعیت علمائے ہند اور اس کے عہدے داران پر نہایت بے بنیاد اتہامات درج ہیں õ یہ جلسہ موجود ہ مجلس استقبالیہ کی دعوت کو مسترد کرنے پر مجبور ہے اور مسترد کرتا ہے۔ 

محرک: مولانا حفظ الرحمان صاحبؒ۔ مؤید: مولانا محمد نعیم صاحبؒ۔ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، تجاویز اور فیصلوں کی روشنی میں، جلد اول، ص/278)

فتنہ کا خاتمہ

اس صدارتی تنازع پر کافی عرصے تک اخبارات (جیسے ’’الجمعیۃ‘‘اور ’’زمین دار‘‘) میں بحث چلتی رہی، حتیٰ کہ جمعیت علمائے صوبہ بمبئی کی جانب سے بھی ایک غیر عالم (مولانا شفیع دا¶دی) کو صدر بنانے پر تنقید کی گئی۔ آخر کار مولانا عبد الماجد دریاآبادیؒ نے صدر و ناظمِ جمعیت کو مکتوب لکھ کر برائے خدا اس بحث کو ختم کرنے کی اپیل کی، تاکہ انگریزی اخبارات کو مسلمانوں کا مضحکہ اڑانے کا موقع نہ ملے، جس کے بعد اختلافی مضامین کا یہ سلسلہ بند ہو گیا۔

’’جمعیت العلما کے گذشتہ اجلاس منعقدہ مرادآباد میں مولانا محمد علی جمعیت کے اجلاس کے صدر اس لیے منتخب نہ ہوسکے کہ جمعیت کے دستور اساسی کی دفعہ (43) ان کے انتخاب میں مانع تھی، ہم نے نہایت تفصیل کے ساتھ ’’زمین دار‘‘ کے ایک افتتاحیہ میں اس موضوع پر بحث کی تھی۔ چاہیے تو یہ تھا کہ اس کے بعد یہ فتنہ دب جاتا؛ لیکن باوجود اس کے بعض افتراق پسند لوگ اس مسئلہ کے متعلق غلط فہمیاں پھیلانے اور عامۃ المسلمین کو جمعیت کے خلاف ابھارنے میں مصروف رہے۔‘‘(سہ روزہ الجمعیۃ، 13/ ستمبر1929ئ) 

اس سے پہلے جمعیت علمائے صوبہ ممبئی نے بھی اسی قسم کی ایک غلطی کی تھی، جس پر کافی دنوں تک اختلافی مباحثے ہوتے رہے۔ 

’’ہمیں یہ دیکھ کر سخت افسوس ہوا کہ جمعیت علمائے صوبہ بمبئی کا جو سالانہ اجلاس ابھی حال میں بمقام بمبئی منعقد ہوا تھا، اس کی صدارت کے لیے ایک غیر عالم کو منتخب کیا گیا تھا۔ ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ مولانا شفیع داودی صاحب کی قومی و ملکی خدمات بے شمار ہیں اور ان کی رہنمائی کی مسلمانوں کو سخت ضرورت ہے؛ مگر اس کے یہ معنی نہیں ہیں کہ انھیں جمعیت علما کے سالانہ اجلاس کا صدر بنادیا جائے، جو ان کے حلقہ عمل سے بالکل باہر ہے۔ ‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ، یکم جولائی 1929ئ) 

 ان حالات کو دیکھتے ہوئے مولانا عبد الماجد صاحب دریابادی ؒ نے صدر و ناظم جمعیت کو درج ذیل مکتوب لکھا: 

’’صدارت جمعیت العلما کی بحث خواہ اصولا کتنی ہی ضروری ہو، برائے خدا اب ختم کرائیے، ورنہ خواہ مخواہ ایک مزید فتنہ کا دروازہ کھل رہا ہے ۔ چنانچہ آج کے انگریزی اخبارات میں بڑے مزے لے لے کر کافی رنگ آمیزیوں کے ساتھ خلافت و الجمعیۃ کے مضامین کا خلاصی ایسوسی ایٹڈپریس کی زبان سے درج ہے اور دونوں فریق کے ساتھ اچھا خاصہ مضحکہ ہے۔ ‘‘ 

(سہ روزہ الجمعیۃ، 24/ جولائی1929ئ) 

چنانچہ اس کے بعد اختلافی مضامین کا یہ سلسلہ بند ہوگیا۔

نویں اجلاس عام کی صدارت

جمعیت علمائے ہند کا نواں اجلاس عام ،کانپور کے بجائے،3/تا/6 مئی/1930ئ امروہہ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت مجلس مرکزیہ کے فیصلے کے مطابق حضرت مولانا شاہ معین الدین صاحب اجمیری نور اللہ مرقدہ نے فرمائی۔ 

خطبہ صدارت کا خلاصہ

حضرت علامہ شاہ معین الدین احمد اجمیریؒ کا یہ تاریخی خطبہ¿ صدارت مسلمانوں کی مذہبی، سیاسی اور معاشی صورتِ حال پر ایک جامع لائحہ¿ عمل پیش کرتا ہے۔ اس طویل خطبے کا انتہائی جامع اور مختصر خلاصہ درج ذیل ہے: 

1۔ مسلمانوں کی زبوں حالی اور اسبابِ زوال

پیشین گوئی کی سچائی: علامہ اجمیری نے حدیثِ نبویؐ کی روشنی میں واضح کیا کہ مسلمان تعداد میں کثیر ہونے کے باوجود سیلاب کے کوڑے کرکٹ کی طرح بے وزن ہو چکے ہیں۔ اس کا سبب ’’وہن‘‘(دنیا کی محبت اور موت کا خوف) ہے۔

مردہ قوم اور شکایات کی فضول گوئی: انھوں نے کہا کہ حکومت یا ہندوؤں سے حقوق پامال کرنے کا شکوہ فضول ہے، کیوںکہ انھوں نے مسلمانوں کو مردہ سمجھ لیا ہے۔ مسلمانوں کو شکایت کرنے کے بجائے اپنی مجاہدانہ زندگی کا ثبوت دینا چاہیے۔

ہلاکت کی قرآنی تفسیر: حضرت ابوایوب انصاریؓ کی روایت سے ثابت کیا کہ مال و جائداد کی اصلاح میں منہمک ہو کر جدوجہد (جہاد) کو ترک کر دینا ہی اصل ’’ہلاکت‘‘ ہے۔

2۔ برطانوی ہند میں اسلامی قوانین کی بتدریج تنسیخ

خطبے میں انگریزی حکومت کی جانب سے شرعِ محمدی میں کی جانے والی پانچ بڑی تبدیلیاں تاریخی ترتیب سے بیان کی گئیں:

1765ئ: شاہ عالم کے فرمان سے کمپنی کو صرف دیوانی اختیارات ملے، مگر بعد میں شریعت کی قید ہٹائی گئی۔

1772ئ: وارن ہیسٹنگز نے دیوانی مقدمات کو شرع سے آزاد کیا، صرف مذہبی رسوم، نکاح اور وراثت تک محدود رکھا۔

1779ئ:نواب ناظم سے فوج داری اختیارات لے کر اسلامی قانونِ تعزیرات میں مداخلت شروع کی گئی۔

1862ئ اور 1872ئ: قانونِ تعزیراتِ ہند (IPC) اور قانونِ شہادت نافذ کر کے اسلامی قوانین کو منسوخ کیا گیا، اور مرتد کو وراثت کا حق دیا گیا۔

منصبِ افتا پر آخری ضرب: مفتیوں اور پنڈتوں کی جگہ انگریز جج آ گئے اور وراثت کو شریعت کے بجائے رسم و رواج کے تابع کر دیا گیا۔

3۔ ساردا ایکٹ کی اصولی و فروعی خرابیاں

علامہ نے ساردا ایکٹ (سنِ نکاح کی حد بندی) کو مسلمانوں کے لیے ایک بڑی مصیبت قرار دیتے ہوئے اس کی درج ذیل خرابیاں گنوائیں:

دینی اکملیت اور منصبِ افتا پر حملہ: یہ ایکٹ مسلمانوں سے بچا کچا ’’منصبِ افتا‘‘ چھین کر اسمبلی کے سپرد کرتا ہے۔ اسلام ایک مکمل نظام ہے، اسے کسی غیر مسلم اسمبلی کی ترمیم کی ضرورت نہیں۔

فطرت سے جنگ اور زنا کا فروغ( سنِ نکاح )لڑکی 14/سال، لڑکا 18/سال مقرر کرنے سے جو بچے پہلے بالغ ہو جائیںگے، وہ چند سال تک تجرد کی زندگی میں گناہ، یا امراض کا شکار ہوںگے۔ ایکٹ نکاح پر پابندی لگاتا ہے، مگر زنا بالرضا کا سدِ باب نہیں کرتا۔

ہندوؤں کے لیے مفید، مسلمانوں کے لیے مضر: یہ قانون مسٹر ہربلاس ساردا نے آریہ سماجی اصولوں کے تحت بنایا تھا۔ ہندوؤں میں رواجِ مجامعت اور نکاحِ ثانی کی ممانعت کے باعث یہ ان کے لیے عذاب تھا، جب کہ اسلام ان خرابیوں سے پہلے ہی پاک ہے۔

مقدس ہستیوں کی توہین: یہ قانون (معاذ اللہ) حضورﷺ اور حضرت عائشہؓ کے نکاح کو بھی مجرمانہ اقدام قرار دیتا ہے۔

آئینی طور پر کالعدم: برطانوی پارلیمنٹ کے اپنے ایسٹ انڈیا ایکٹس 1780ئ اور 1797ئ کے تحت ہندستانیوں کے خاندانی و مذہبی قوانین محفوظ ہیں۔ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کی دفعہ (84) کے تحت اسمبلی کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکتی، جو پارلیمنٹ کے ایکٹ کے خلاف ہو، لہٰذا ساردا ایکٹ قانونی طور پر بھی ایک مردہ نعش اور کالعدم ہے۔

4۔ سیاسی حالات اور تحریکِ آزادی کا لائحہ¿ عمل

نہرو رپورٹ کی مخالفت: 1923ئ کے بعد ملک میں ہندو مہاسبھائی ذہنیت غالب آئی۔ نہرو رپورٹ (1928ئ) میں مسلمانوں کو بحیثیت قوم نکال باہر کرنے کی کوشش کی گئی، جس پر جمعیت نے بھرپور تنقیدی رپورٹ شائع کی۔ بعد میں کانگریس نے اسے راوی میں غرق کر کے ’’مکمل آزادی‘‘ کا اصول اپنایا۔

برطانیہ اصل دشمن: مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن برطانوی اقتدار ہے، جو دنیا بھر میں اسلامی ممالک کی تباہی کا سبب ہے۔ مسلمانوں کو وفاداری کے صلے میں مراعات کی امید رکھنے کی بجائے، برطانوی اقتدار پر ضرب لگانے کے لیے میدان میں اترنا چاہیے، کیوںکہ انگریز اسی کے آگے جھکتا ہے جو لڑتا ہے۔

5۔ جدید معاشی پروگرام (انقلابی تجاویز)

ملک کے 80 /فی صد غریب کسانوں اور مزدوروں کے افلاس کا اصل سبب مانچسٹر کا کپڑا نہیں؛ بلکہ سرمایہ داری اور سود ہے۔ علامہ نے تجویز پیش کی:عدالتوں کے ذریعے سود کی ڈگریاں دینے اور غریبوں کی جائدادیں نیلام کرنے والے قوانین کا استیصال کیا جائے۔سودی کوآپریٹو سوسائٹیوں کا خاتمہ کیا جائے۔امیروں پر سالانہ ٹیکس عائد کر کے ایک فنڈ بنایا جائے، جس سے غریبوں کو قرضِ حسنہ دیا جائے اور محتاجوں، یتیموں اور بیواؤں کی سرپرستی کر کے گداگری کا انسداد کیا جائے۔

6۔ مذہب و سیاست کا تلازمہ اور جمعیت علما کی قیادت

مذہب اور سیاست میں جدائی کا حیلہ: انھوں نے ’’ہمدم‘‘ اخبار اور روشن خیال طبقے کے اس پروپیگنڈے کو مسترد کیا کہ علما سیاست نہیں جانتے۔ اسلام ایک مکمل تمدن ہے، جس میں عبادات کے ساتھ کتاب البیع، جہاد اور امارت سب شامل ہیں۔

اکابرِ ملت کا اسوہ: صوفیائے کرام کا یہ کہہ کر بیٹھ جانا کہ سیاست دین سے الگ ہے، سراسر غلط ہے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ اور خواجہ معین الدین چشتیؒ نے ہمیشہ جہاد اور حق کا نمونہ پیش کیا۔

دستورِ اساسی میں غیر علما کی شمولیت (توسیع) کا رد: انھوں نے جمعیت علما کے دستور میں غیر علما کو شامل کرنے کی مخالفت کی، کیوںکہ اس سے مجلس کی مذہبی روح فنا ہو جائے گی(جیسے علی گڑھ نے اپنی روح بچانے کے لیے کسی عالم کو ٹرسٹی نہیں بنایا۔)

حاصلِ کلام: علما کو تمام تر طعن و ملامت کی پروا کیے بغیر اپنے دستورِ اساسی پر قائم رہنا چاہیے اور اعلائے کلمۃ اللہ کے لیے اس جہادِ آزادی میں علم بردار بننا چاہیے، کیوںکہ احادیث کے مطابق اہلِ حق کا یہ گروہ قیامت تک غالب رہے گا۔

مسلم جمعیتوں کے مشاورتی اجلاس میں شرکت کے لیے انتخاب

برطانیہ کی طرف سے ہندستانیوں کو آزادی نہ دینے کے لیے ایک عذر لنگ یہ بھی پیش کیا تھا کہ ہندستانی خود متحد نہیں ہیں۔ وہ مذہبوں اور فرقوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ اگر ہندستان کی حکومت منتقل بھی کی جائے، تو کس فرقے اور مذہب کو منتقل کی جائے۔ اس کے لیے مختلف فرقوں پر مشتمل مختلف اتحاد کانفرنسیں ہوئیں ۔ اسی طرح خود مسلمانوں کی طرف سے متفقہ مطالبات تیار کرنے کے لیے مسلم تنظیموں کے متعدد اجلاس ہوئے۔ 

مجلس عاملہ منعقدہ :19/مارچ 1931ئ کی تجویز نمبر(۶) میں ایسے ہی ایک مشاورتی جلسے میں شرکت کے لیے حضرت العلامہ معین الدین اجمیریؒ منتخب کیے گئے۔ 

’’جمعیت عاملہ کا یہ جلسہ اس تجویز کو نہایت ضروری اور مناسب خیال کرکے حسب ذیل اصحاب کو اس مشاورتی جلسہ میں شرکت کے لیے منتخب کرتا ہے ۔ ان حضرات کی انتہائی کوشش یہ ہونی چاہیے کہ مسلم حقوق کی حفاظت کے لیے جو مسودہ بنایا جائے ، وہ متفقہ ہو، تمام جمعیتوں کے مطالبات کے مسودے سامنے رکھ کر اس امر میں کوئی دقیقہ باقی نہ رکھا جائے کہ سب مسلمان ایک متفقہ مطالبہ مرتب کرلیں۔ 

یہ جلسہ اس امر کی تصریح کرتا ہے کہ اس مشاورتی جلسہ کے کسی فیصلہ کی جمعیت علمائے ہند اس وقت تک پابند نہ ہوگی، جب تک جمعیت عاملہ، یا مرکزیہ اس کی تصدیق نہ کردے۔ مشاورتی جلسہ میں شرکت کے لیے مندرجہ ذیل حضرات کا انتخاب کیا گیا:

(1) حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒ۔

 (2) حضرت مولانا معین الدین صاحب اجمیریؒ۔

(جمعیت علمائے ہند کی تجاویز، جلد اول، ص/

جمعیت علمائے ہند کی صدارت کی نیابت 

جمعیت علمائے ہند کے دستیاب ریکارڈ میںصدارت کی نیابت کے طور پر کس تاریخ کو آپ کا انتخاب ہوا، اس کا تذکرہ بسیار تلاش کے باوجود نہیں ملا۔ البتہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ مجلس عاملہ منعقدہ:29/فروری تا2/مارچ 1932ئ کے اجلاس میں نائب صدر مولانا نثار احمد کانپوری کے انتقال پر تعزیتی تجویز منظور کی گئی ۔ اور اس کے بعد 5/اپریل1932ئ کو منعقدجامع مسجد دہلی کے ایک جلسہ¿ عام کی کارروائی میں آپ کے نام کے ساتھ ’’نائب صدر جمعیت علمائے ہند‘‘لکھا ہوا ملتا ہے۔ اس سے یہ اندازہ لگانا شاید خلاف واقعہ نہیں ہوگا کہ مجلس عاملہ منعقدہ:29/فروری تا2/مارچ 1932ئ کے اجلاس ہی میں مولانا کانپوری کی جگہ آپ کو نائب صدر منتخب کیا گیا ہوگا، جس پر آپ تا دم واپسیں فائز رہے۔ 

حضرت العلامہ کی صدارت میں احتجاجی اجلاس

5/اپریل 1932ئ کو دہلی کی تاریخی جامع مسجد میں نمازِ جمعہ کے بعد مسلمانانِ دہلی کا ایک عظیم الشان جلسہ¿ عام منعقد ہوا، جس کی صدارت حضرت علامہ معین الدین صاحب اجمیری (نائب صدر جمعیت علمائے ہند) نے فرمائی۔

اجلاس میں علامہ معین الدین اجمیری کی مختصر مگر پُراثر صدارتی تقریر کے بعد مولانا ابو القاسم محمد حفظ الرحمان صاحب سیو ہاروی رکن جمعیت علمائے ہند نے مہاجرین میر پور کے چشم دید حالات بیان فرمائے۔ بعدہ جناب صدر کی طرف سے ایک تجویز منظور ہوئی، جس میں مولانا عبدالماجد صاحب ناظم جمعیت علمائے صوبہ دہلی، حافظ صادر علی صاحب سکریٹری مجلس احرار اسلام دہلی کی سزایابی پران کی خدمت میں مبارک باد پیش کی گئی اور حافظ صادر علی صاحب کو سی کلاس دینے پر حکومت کے رویہ پر احتجاج کیا گیا۔

جلسہ کے بعد جامع مسجد سے مسلمانوں کا ایک جلوس آرڈنینس ڈے منانے کے لیے نکلا۔ خیال یہ تھا کہ حسب دستور جلوس چاؤڑی با زارسے گزرکر نئی سڑک سے گھنٹہ گھر جائے گا ،اس لیے پولیس کی جمعیت بڑشاہدلا پر موجو د تھی؛ لیکن جلوس نے ن راستوں کے بجائے دریبہ کلاں کا راستہ اختیار کیا۔ پولیس کو جس وقت اس کی خبر ہوئی، تو وہ دوڑ کر آئی اور جو لوگ جلوس کے آگے تھے، ان کو گرفتار کر لیا۔ مجمع وہاں سے منتشر ہو گیا۔ اس کے بعد ایک دوسرا جلوس نئی ٹرک سے ہو کر گزرا اور گھنٹہ گھر آیا۔ گھنٹہ گھر سے جب یہ فوارہ کی طرف جاتے ہوئے کوتوال کے سامنے سے گزرا، تو پولیس نے شیخ عبد الواحد کی سرکردگی میں آکر اسے لاٹھیوں سے منتشر کر دیا۔ پہلے جلوس میں بغیر لاٹھی چلائے ہوئے چار آدمی گرفتار کر لیے گئے۔ (سہ روزہ الجمعیۃ،13/اپریل 1932ئ)

الور میں مظالم و ہجرت کا پس منظراور مولانا معین الدین اجمیری کا کردار

ریاست الور میں مسلمانوں پر شدید مذہبی اور سیاسی پابندیاں عائد تھیں، جن کے تحت مذہبی جماعتوں کی جبری رجسٹریشن، چندے کے معائنے، اور بیرونی مبلغین پر پابندی جیسے سخت قوانین نافذ کیے گئے۔ 29/مئی 1932ئ کو حضرت سید مبارکؒ کے عرس کے موقع پر نکلنے والے چادر کے جلوس پر ہندو¶ں اور ریاستی فوج نے حملہ کر دیا، جس میں چار مسلمان شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ ان مظالم کے خلاف مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد نے مہاراجہ الور کو احتجاجی تار بھیجا۔ تشدد کی لہر بڑھنے پر، 24/جولائی 1932ئ کو چودھری یاسین خان کی سرکردگی میں ہزاروں مسلمانوں نے ریاست سے ہجرت کی اور دہلی کی شاہجہانی جامع مسجد کے گرد خیمہ زن ہو گئے۔

الور کے مظلوم مسلمانوں کو جب اپنی دکھی حالت پر دیگر حلقوں سے مایوسی ہوئی، تو انھوں نے لاہور پہنچ کر مجلسِ احرار کے ڈکٹیٹر مولانا معین الدین اجمیری سے ملاقات کی اور اپنی بے بسی کا رونا رویا۔

مولانا معین الدین اجمیری نے فوراً مہاجرین کی امداد کا حکم دیا اور آپ کے حکم پر 29/ جولائی 1932ئ کو مجلس احرار کا ایک اعلیٰ وفد (بشمول مولانا عبدالغفار غزنوی، محمد اشرف اور جاں باز مرزا) دہلی پہنچا۔

 دہلی کی جامع مسجد میں احرار کے کارکنوں نے مہاجرین کے لیے دن رات دوڑ دھوپ کی۔ اسی دوران مسجد کے مکبر پر مجلس احرار کا سرخ پرچم لہرانے لگا، جس سے احرار اور جمعیت علمائے ہند کے درمیان ایک عارضی سیاسی کشمکش اور مسابقت نے جنم لیا۔ بعد ازاں احرار کی مخلصانہ محنت دیکھ کر جمعیت کے اکابرین (مفتی کفایت اللہ، مولانا حسین احمد مدنی اور مولانا احمد سعید) بھی احرار کے اجتماعات میں شامل ہو گئے۔

جناب جاں باز مرزا صاحب تفصیلات کے بعد آخر میں لکھتے ہیں کہ: 

’’آخر دہلی میں احرار کارکنوں نے مہاجرین الور کے لیے اس قدر محنت اور دھوڑ دھوپ کی کہ جمعیت علمائے ہند بھی احرار کی ہمنوا ہو کر ان کے اجتماعات میں شامل ہونے لگی۔ اس سے تحریک الور میں قدرے نئی روح پیدا ہوگئی۔ (کاروان احرار، جلد اول، ص/284)

مسوداتِ حج کے خلاف قرارداد اور علامہ اجمیری کا خطاب

10/جون 1932ئ کو جمعیت علمائے ہند کے اعلان پر جامع مسجد دہلی میں بعد نمازِ جمعہ مسلمانانِ دہلی کا ایک عظیم الشان جلسہ¿ عام منعقد ہوا، جس کی صدارت جمعیت کے پانچویں ڈکٹیٹر حضرت علامہ مولانا محمد عبدالحلیم الصدیقی نے فرمائی۔

تلاوتِ قرآن مجید اور صدرِ جلسہ کی افتتاحی گفتگو کے بعد، حضرت مولانا معین الدین احمد صاحب اجمیریؒ نے حج سے متعلقہ تینوں حکومتی مسوداتِ قانون (Bills) کے مختلف پہلو¶ں پر تفصیلی و پُرمغز تقریر فرمائی۔ علامہ اجمیری نے ان مسودات کے خلاف درج ذیل اہم تجویز تحریک کی،جس کی تائید مولانا محمد سمیع اللہ اور مولانا احمد حسین نے کی اور وہ بالاتفاق منظور ہوئی:

’’مسلمانان دہلی کا یہ عام جلسہ ہر سہ مسودات قانون متعلق حج کو نفرت و حقارت کی نظر سے دیکھتے ہوئے جمعیت علمائے ہند کی مجلس مشاورت منعقدہ مراد آباد کی قرارداد کی تائید و توثیق کرتا ہے اور اس حقیقت کا اعلان کرتا ہے کہ جب تک مسلمان اپنی سرفروشانہ پر امن جد و جہد سے ہندستان کو کامل طور پر آزاد نہ کرائیں گے، اس قسم کے مفاسد کا سد باب نہ ہوگا۔ نیز یہ جلسہ مسلمانوں سے اپیل کرتا ہے کہ موجودہ وقت اور فضا کو غنیمت سمجھ کر اس راہ میں عملی قدم بڑھائیں۔‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ،13/جون1932ئ)

آزادی مخالف برطانوی راج کے حامی مسلم زعما کے خلاف اعلان پر  علامہ معین الدین اجمیریؒ کے دستخط کی اہمیت

ہندستان کی جدوجہدِ آزادی کے نازک ترین دور میں ،جہاں ملک کے لاکھوں فرزند، علما اور عوام برطانوی استعمار کے خلاف قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے تھے، وہیں مسلمانوں کا ایک ایسا طبقہ بھی موجود تھا، جو اپنے نفس اور قومی طاقت پر بھروسہ نہیں رکھتا تھا۔ مسلم کانفرنس کے بعض اراکین اور سر آغا خان جیسے انگریز پسند رہنما¶ں کا شملہ اور لندن سے جاری کردہ بیان اسی غلامانہ اور معذرت خواہانہ ذہنیت کا عکاس تھا، جس میں انگریز کی دوامی غلامی پر رضا مندی ظاہر کرتے ہوئے یہ تأثر دیا گیا کہ گویا ہندستان کے تمام مسلمان آزادی کے خلاف اور برطانوی راج کے وفادار ہیں۔

اس گمراہ کن اور ذلت آمیز پروپیگنڈے کا پردہ چاک کرنے کے لیے یکم جولائی 1932ئ کو جمعیت علمائے ہند اور دیگر جلیل القدر مسلم اکابرین نے ایک تاریخی اور انقلابی مشترکہ اعلان جاری کیا۔ برطانوی حکومت کے شدید جبر، آرڈیننس راج اورسیاسی قیدوبند کے اس انتہائی ہول ناک اور پرخطر دور میں ایسا دوٹوک برطانوی مخالف اعلان جاری کرنا گویا موت کو دعوت دینے کے مترادف تھا۔ برطانوی حکومت کی جانب سے فوری گرفتاری، جائدادوں کی ضبطی اور سخت ترین سزا¶ں کا واضح خطرہ موجود تھا۔

ان شدید ترین خطرات کے باوجود، اس پرخطر اور جرأت مندانہ اعلان پر دیوبند، ڈابھیل اور فرنگی محل کے جید ترین علما کے ساتھ حضرت علامہ معین الدین احمد اجمیریؒ نے بھی دستخط کیا۔ علامہ اجمیریؒ نے اپنی ذاتی حفاظت اور سیاسی عواقب کی پروا نہ کرتے ہوئے اس پرخطر دستاویز پر دستخط کر کے دنیا پر یہ واضح کر دیا کہ ہندستان کا حقیقی اور غیرت مند مسلمان آزادی کی محبت میں کسی سے پیچھے نہیں ہے، اور وہ انگریز کے خود ساختہ نمائندوں کے غلامانہ نظریات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے برادرانِ وطن کے دوش بدوش مکمل آزادی کے لیے جان کی بازی لگانے کو تیار ہے۔

تاریخی ریکارڈ کے لیے اعلان کا مکمل متن درج ذیل ہے: 

ہندستان کی آزادی کے متعلق مسلمانان ہند کا اصل موقف

اراکین جمعیت علمائے ہند اور ہندستان کے دیگر سر بر آوردہ مسلم زعماکی جانب سے حسب ذیل اعلان اس بیان کے جواب میں شائع کیا گیا ہے، جو شملہ اور لندن میں ساتھ ساتھ بعض اراکین مسلم کانفرنس کے دستخطوں سے جاری ہوا ہے:

ابھی حال میں ایک طویل بیان شملہ سے بعض اراکین مسلم کا نفرنس نے شائع کیا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اسی بیان کو انگلستان میں بھی سر آغا خاں نے بعض ترمیمات کے بعد شائع کرایا ہے۔ اس وقت ہمارے سامنے اول الذکر بیان موجود ہے، اس بیان پر دستخط کرنے والوں نے اپنے مخصوص خیالات و آراکا ایسے پیرا یہ میں اظہار کیا ہے کہ ہندستان میں اور ہندستان کے باہر جو لوگ یہاں کے صحیح حالات و واقعات سے نا واقف ہیں، اس کے لیے اس غلط فہمی میں مبتلا ہوجانے کا قوی امکان پیدا ہو جاتا ہے کہ ہندستان کے تمام مسلمانوں کی وہی رائے ہے، جو ان لوگوں نے اپنے بیان میں ظاہر کی ہے۔ اگر یہ حضرات اپنے بیان میں اس امر کی صراحت کر دیتے کہ ہم جو کچھ کہہ رہے ہیں، وہ ہماری ذاتی رائے ہے اور مسلمانان ہند کی اکثریت کے لیے انتہائی تذلیل و توہین کا سامان مہیا نہ کرتے، تو ہمیں اس کی ہرگز ضرورت پیش نہ آتی کہ ہم ایسے وقت میں ان لوگوں کے بیان پر توجہ کریں، جب کہ ملک ایک نہایت نازک دور سے گزر رہا ہے اور موجودہ حالات کے باعث عوام الناس سخت ہیجان و اضطراب میں مبتلا ہیں۔ ملک کے ہزاروں فرزند مصائب برداشت کر رہے ہیں۔ تقریباً پچاسی ہزار مرد اور عورتیں، نوجوان اور بوڑھے، جاہل اور عالم جیل کی تنگ و تاریک کوٹھریوں میں پڑے سورہے ہیں، ہم ان حیرت انگیز دعاوی کو پڑھ کر õجو ان لوگوں نے اپنے بیان میں شائع کیے ہیںõ اس پر مجبور ہو گئے ہیں کہ اپنا ایک بیان شائع کریں، تاکہ صحیح صورت حال روشنی میں آجائے اور ہندستان کے مسلمان بیرون ہند؛ خصوصاً مسلمانان عالم کی نگاہوں میں ذلیل ہونے سے محفوظ رہیں۔

ایک ایسے وقت میں ،جب کہ ہندستان انقلابی دور سے گزر رہا ہے، دوسرے ممالک کی طرح یہاں بھی قدرتی طور پر متعدد سیاسی گروہ اور جماعتیں پیدا ہوگئی ہیں ؛بالخصوص ایسی حالت میں کہ ہندستان مختلف ملتوں کا گہوارہ ہے اور یہاں مذہبی اعتقادات کی بنا پر قوموں کی تقسیم ہے، ان گروہوں اور جماعتوں کا پیدا ہونا اور بھی زیادہ یقینی تھا؛ لیکن ان مختلف الخیال طبقات کو õجو اس وقت ہندستان میں موجود ہیںõ سیاسی اور فرقہ وارانہ حیثیتوں سے حسب ذیل طریقہ پر بآسانی تقسیم کیا جا سکتا ہے:

(۱) ہند¶ں، سکھوں اور مسلمانوں میں، ایسے گروہ موجود ہیں، جو اپنے نفس اور قدرتی اجتماعی قوت پر اعتماد نہیں رکھتے۔ اور نہ انھیں دوسری قوموں سے انصاف و راداری کی کوئی توقع ہے۔ اس گروہ کے افراد انفراد اً واجتماعاً برابر اپنے عجیب و غریب دعاوی پیش کرتے رہتے ہیں اور ان دعاوی کے اظہار میں ذلت آمیز طریقے اختیار کرنے سے کبھی نہیں چوکتے۔ وہ برطانیہ کے ساتھ اپنی انتہا سے زیادہ وفا داری کو اپنے لیے باعث فخر و مباہات سمجھتے ہیں اور بغیر شرم و ندامت محسوس کیے ہوئے برطانیہ کی دوامی غلامی پر اپنی رضا مندی کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ صرف قلم اور زبان کے مالک ہیں اور محض نوک زبان و قلم سے اپنے مقاصد پورے کرنا چاہتے ہیں۔

۲۔ دوسرے گروہ کا مقصد ، جس میں ہر بات کے افراد شامل ہیں، یہ ہے کہ موجودہ طرز حکومت کو دلائل، ترغیب اور گفت وشنید سے بدلا جائے۔ اس گروہ کی سطح یقینا پہلے گروہ سے نسبتابلند ہے۔ وہ ایک ایسا دستور چاہتا ہے، جو تمام ملتوں کے لیے قابل قبول ہو اور جس سے ہندستانی اپنے گھر کے مالک بن سکیں۔ اگر چہ اس گروہ کا عملی میدان بہت زیادہ محدودہے، اور وہ حصول آزادی کے لیے کوئی جدوجہد نہیں کرتا؛ مگر اسے ان تمام تحریکات سے ہمدردی ہوتی ہے، جو ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے ان لوگوں کی طرف سے جاری کی جائیں، جن سے حصول مقصد کے بعض طریقوں میں اسے اختلاف بھی ہے۔ اس گروہ میں مسلمانوں کی تعداد کسی دوسری ملت کے افراد سے کسی طرح کم نہیں ہے؛ مگر ان دونوں گروہوں کی خصوصیت یہ ہے کہ ان میں سے کسی گروہ کو عوام الناس میں کوئی رسوخ حاصل نہیں ہے۔

۳۔ ہر ملت کا تیسرا گروہ قوم کی حقیقی اور قدرتی طاقتوں پر کامل اقتدار رکھتا ہے اور ملک کی زبردست اکثریت اس گروہ کو اپنا قائدورہنما تسلیم کرتی ہے۔ اس گروہ کا مقصد یہ ہے کہ ہندستان کو مندرجہ ذیل اصولوں کے ماتحت برطانوی تسلط سے جلد از جلد نجات دلائی جائے:

(الف)کسی حکمت، یا کسی طبقہ کا مفاد کسی دوسری ملت، یا طبقہ کے مفاد کے ماتحت نہ ہونا چاہیے۔ اور تمام ملتوں کو یہ اطمینان حاصل ہونا چاہیے کہ وہ اپنے ملک پر خود حکومت کرتی ہیں۔

(ب) ہر بات کو دوسری ملت کے مقابلہ میں اپنے سیاسی، مذہبی، اقتصادی اور تمدنی حقوق کی حفاظت کے لیے ضمانتیں حاصل ہونی چاہئیں اور اس کا اطمینان ہونا چاہیے کہ کسی ملت، یا کسی ملک کا(بشمول برطانیہ) تسلط قائم نہیں رہے گا اور کوئی ملت اپنے تحفظ و بقا کے لیے کسی دوسری ملت، یا ملک کی دست نگرنہ رہے گی۔

(ج) وفاقی حکومت کو مکمل ذمہ داری حاصل ہونی چاہیے، جس میں دوسرے ملک کے ساتھ تعلقات خارجہ کی تعیین، تشخیص بھی شامل ہو،اوروفاقی صوبے کاملاً خود مختار ہونے چاہئیں۔ اور صوبہ سرحد ہر حیثیت سے دوسرے صوبوں کے مساوی ہونا چاہیے۔

(د) صوبوں کی از سر نوتقسیم اس اصول پر ہونی چاہیے کہ جن لوگوں کی زبان مشترک ہو اور جو یکساں تمدنی و اقتصادی مفادر کھتے ہوں، ان کو اپنے متعلق فیصلہ کرنے کا خود حق دیا جائے، مثلاً سندھ، اڑیسہ، اور دوسرے علاقے، جن کے باشندے مندرجہ بالا اصول کے مطابق علاحدگی کا مطالبہ کریں۔

(ھ) نظام حکومت کے مصارف ملک کی اقتصادی حالت کے ساتھ مطابقت کرنے کے لیے کم سے کم کر دیے جائیں۔

(و) کسانوں اور مزدوروں کے ایک کی حکومت میں مناسب حصہ ملنا چاہیے۔

انڈین نیشنل کانگریس بھیõ جو ہر ملت کے اس تیسرے گروہ کی نمائندہ انجمن ہےõ ان ہی اصولوں کی پابند ہے۔ جو لوگ عدم تشدد کے ساتھ تحر یک عصبیان دلی پر عقیدہ رکھتے ہیں، ان میں سے ہزاروں جیلوں میں جا چکے ہیں اور ان میں مسلمانوں کی تعدا د اپنی آبادی کے تناسب سے کچھ زیادہ کم نہیں ہے۔

تیسرے گروہ کے مسلمانوں کو دوسری ملتوں کے ان افراد پرõ جو اس گروہ میں شامل ہیںõ ایک خاص امتیاز و تفوق حاصل ہے، اگر چہ مسلمانوں کی ایک کافی تعداد براہ راست بھی کانگریس میں شامل ہے؛ مگران کا ایک زبر دست طبقہ ایسا بھی موجود ہے، جو کانگریس کی حمایت کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی امتیازی انفرادیت کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔ جمعیت علمائے ہند اس طبقہ کی نمائندہ جماعت ہے اور چوںکہ اس میں علمائے اسلام کی غالب اکثریت ہے، اس لیے ہند ستان کی مسلم آبادی کا بہت بڑا حصہ اس کی تقلید و پیروی کرتا ہے، جیسا کہ ان مظاہروں سے وقتاً فوقتاً ثابت ہوتا رہتا ہے، جو جمعیت کی آواز پر ملک کے طول  و عرض میں کیے جاتے ہیں۔ اور جس کی ایک تازہ مثال،10/جون کے عام جلسوں کی صورت میں پیش کی جاچکی ہے۔ نیشنلسٹ مسلم پارٹی õجس کی اکثریت کانگریس میں شریک رہےõ ملک کے با اثر اور انگریز اور انگریزی پسند مسلمانوں پر مشتمل ہے۔ جمعیت علمائے ہند اگرچہ ایک مستقل اور ممتاز انجمن ہے؛ مگر اس کا نصب العین مکمل آزادی ہے، جس پر وہ آج تک برابرعمل پیرا رہی ہے۔ دوسری ملتوں میں سے کسی ملت کی فرقہ وارانہ انجمنوں کا یہ نصب العین نہیں ہے اور نہ اس مقصد کے پیش نظر ان میں سے کسی انجمن نے آج تک کوئی کام کیا ہے۔1930ئ کی تحریک میں جمعیت علمائے ہند اور نیشنلسٹ مسلم پارٹی کے عہدہ داروں اور اراکین نے قید و بند کے مصائب برداشت کیے تھے اور کم سے کم چودہ ہزار مسلمان جیل گئے تھے اور کئی سو مسلمانوں نے اپنی جانیں قربان کی تھیں۔ موجودہ تحریک میںبھی ہزاروں مسلمان جیلوں میں گئے ہیں، جن میں تقریباً چار سو علما شامل ہیں اور صوبہ سرحد کے مسلمانوں کی ایک زبردست تعداد نے جانیں بھی دی ہیں، ان مسلمانوں کی غالب اکثریت جمعیت علمائے ہند کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے تحریک میں شریک ہوئی۔

مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں صحیح صورت حال واضح ہو جاتی ہے اور امید کی جاتی ہے کہ ان سطور کو پڑھ کر ہندستان میں اور ہندستان کے باہر مسلمانان ہند کے مطمح نظر کاصحیح انداز لگایا جاسکے گا۔ ہم نے جس دستور اساسی کا خاکہ اوپر پیش کیا ہے، اس کے ماتحت ہمیں آئندہ کسی ملت کی طرف سے معاندانہ روش کا اندیشہ نہیں ہے۔ حقیقتاً ہمیں اس کا پورا یقین ہے کہ جو نظام حکومت مندرجہ بالا اصولوں پر مبنی ہوگا، اس میں انصاف حاصل کر نا زیادہ آسان ہوگا اور کسی بے انصافی، یا ظلم وتعدی کے خلاف کا میابی کے ساتھ جنگ کی جا سکے گی۔ اب صرف ان لوگوں کا ذکر باقی رہ جاتا ہے، جنھوںنے اپنے حد سے بڑھے ہوئے ادھادھند جوش و خروش سے متأثر ہو کر مغرب کے انقلابی طریقوں کو اختیار کیا ہے اور تشدد کی حر کات پر اترآئے ہیں، ان لوگوں کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے برابر تحریر و تقریر کے ذریعہ کوششیں کی جاتی رہی ہیں، اور ان حالات میں کانگریس پر یہ اتہام لگانا انتہائی دروغ گوئی ہوگی کہ اس نے تشدد کے جرائم سرحد کے مسلمانوں سے کسی قسم کی اقل قلیل ہمدردی بھی ظاہر کی ہے، یا اسے کسی صورت میں برداشت کیا ہے۔ اس بیان کو ختم کرنے سے قبل ہم یہ  واضح کر دینا چاہتے ہیں کہ صوبہ سرحد کے مسلمانوں کے متعلق یہ کہنا کہ انھوں نے تحریک آزادی میں جو حصہ لیاہے، وہ کسی خارجی اثر کا نتیجہ ہے اور اس کا انحصار خود ان کی قوت فیصلہ پر نہیںہے، ان کی انتہائی توہین و تذلیل ہے۔

اس میں شک نہیں کہ فرقہ وارانہ مسئلہ کا کوئی اطمینان بخش حل ابھی تک نہیں ہو سکا ہے؛ مگر اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے۔ اس کے متعلق ہم اس موقع پر ان لوگوں کی واقفیت کے لیے õجو واقعات سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیںõیہ بتادینا چاہتے ہیں کہ جمعیت علمائے ہند، نیشنلسٹ مسلم پارٹی اور کانگریس نے اپنے اپنے فارمولے تیار کیے تھے اور اگر ان سب کو ملاکر ان پر غور کیا جاتا، تو ضرور کوئی ایسا تصفیہ ہو جاتا، جس پر تمام ملتوں کی طرف سے پیش از پیش اتفاق ممکن ہوتا؛ مگر قبل اس کے کہ یہ مقصد حاصل ہو، گاندھی جی کو دفعۃً گول میز کانفرنس میں شرکت کی غرض سے سے لندن جانا پڑا اور جیسے ہی وہ لندن سے واپس آئے، فوراً حکومت نے کانگریس کے خلاف جنگ جاری کردی اور گاندھی جی اور دوسرے لیڈر جیلوں کی چہاردیواروں میں محبوس ہو گئے۔ چنانچہ یہ جنگ ابھی تک جاری ہے۔ برطانوی حکومت نے جو فرقہ وارانہ تصفیہ کا اعلان کیا تھا، اس پر ابھی تک کچھ لوگوں کی نظریں لگی ہوئی ہیں، پرہمیں دیکھنا ہے کہ وہ تصفیہ کسی ایک ملت کے لیے بھی کسی حد تک قابل قبول ہوتا ہے۔

سب سے آخر میں ہم ہندستان کی تمام ملتوں اور بیرون ہند کے باشندوں کو یہ یقین دلانا چاہتے ہیں کہ ہندستان کے مسلمان آزادی کی محبت میں کسی دوسری ملت سے پیچھے نہیں ہیں۔ اور ان کی یہ خواہش ہے کہ وہ امن و اتحاد کے ساتھ زندگی بسر کریں اور اپنے ملک کو انتہائی عروج تک پہنچانے کے لیے برادران وطن کے دوش بدوش جد وجہد میں مصروف رہیں۔ خودداری، خود اعتمادی اور بنی نوع انسان کی فلاح و بہبود مسلمانوں کے مذہبی عقائد میں داخل ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ان اصولوں کے پابند رہ کر اسلام کی زیادہ خدمت انجام دے سکتے ہیں۔

اسمائے گرامی دستخط کنندگان

(طوالت کی وجہ سے دستخط کو درج نہیں کیا جارہا ہے۔)

ہندو مسلم مفاہمت اجتماع میں علامہ اجمیری کو شرکت کی دعوت

لکھنو کے سلیم پور ہا¶س میں 15 اور 16 اکتوبر1932ئ کو ہندو مسلم مفاہمت کے لیے مسلم رہنما¶ں کا ایک اہم اجتماع طلب کیا گیا تھا۔ وقت کی نزاکت کے پیش نظر، جمعیت علمائے ہند کے چھٹے ڈکٹیٹر حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نے 13/اکتوبر 1932ئ کو  جمعیت کے علما کا علاحدہ اجلاس بلانے اوراس نازک مشاورتی اجتماع میں شرکت کے لیے ملک بھر کے چوٹی کے مسلم اکابرین اور علمائے کرام کومدعو کیا۔ مدعو کیے گئے سرکردہ ارکان میں حضرت علامہ معین الدین احمد صاحب اجمیریؒ کو بھی نام زد کیا گیا، تاکہ وہ اس قومی و ملی فیصلے میں اپنا کلیدی مشورہ پیش کرسکیں۔

علامہ اجمیری کے علاوہ اس فہرست میں مولانا سید محمد انور شاہ کشمیری، مولانا شبیر احمد عثمانی، مولانا سید سلیمان ندوی، مولانا ظفر علی خان، مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد، مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی اور مولانا قطب الدین عبدالوالی فرنگی محلی سمیت 24/مقتدر علما شامل تھے۔

(سہ روزہ الجمعیۃ،13/اکتوبر1932ئ)

ہندو مسلم مفاہمت کانفرنس میں حضرت علامہ کو شرکت کی دعوت

ہندو مسلم مصالحت اور باہمی اتحاد کی کوششوں کے سلسلے میں مولانا شوکت علی نے 31/ اکتوبر 1932ئ کو بمبئی سے بذریعہ تارمولانا سید حسین احمد مدنی صاحب سے رابطہ کرکے درخواست کی کہ الٰہ آباد میں 2/نومبر 1932ئ کو ہونے والی اہم کانفرنس کے لیے جمعیت کے رہنما¶ں کو دعوت دی جائے۔

چنانچہ مولانا مدنی نے باہمی مصالحت کے عمل میں مفید شرعی و سیاسی مشوروں کے لیے جمعیت کے مخصوص اکابرین کو الٰہ آباد پہنچنے کی ہنگامی دعوت دی۔ اس اہم کانفرنس کے لیے مدعو کیے گئے مقتدر علما میں اجمیر سے حضرت علامہ معین الدین احمد صاحب اجمیریبھی شامل تھے۔

( سہ روزہ الجمعیۃ، یکم نومبر1932ئ)

علامہ اجمیری کی رکن عاملہ نام زدگی 

برطانوی حکومت کے شدید جبر اور آرڈیننس راج کے باعث، 29/فروری تا 2/مارچ 1932ئ کو منعقد مجلس عاملہ نے مجلس عاملہ کو توڑ کر کل اختیارات حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کے حوالے کردیے گئے تھے۔ اور پھر’’ڈکٹیٹرشپ‘‘ کا سلسلہ قائم کیا گیاتھا۔ دسویں ڈکٹیٹر حضرت مولانامحمد عبداللہ صاحبؒ نے 5/دسمبر1932ئ کو اپنے اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اس سلسلے کو ختم کردیا اور مجلس عاملہ کے لیے عارضی طور پر اٹھارہ شخصیات کو اراکین نام زد کیے۔جن میں ایک نام حضرت العلامہ شاہ معین الدین اجمیریؒ کا بھی تھا۔

 (سہ الجمعیۃ9/دسمبر1932ئ )

فلسطین وفدکے لیے منعقد تقریب استقبالیہ کی صدارت

22/جون 1933ئ کو دہلی کی تاریخی جامع مسجد میں نمازِ مغرب کے بعد فلسطین سے آئے ہوئے معزز وفد (وفدِ فلسطین) کے اعزاز میں مسلمانانِ دہلی کا ایک عظیم الشان استقبالیہ جلسہ¿ عام منعقد ہوا۔جلسے کی صدارت کے لیے جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی حضرت مولانا احمد سعید صاحبؒ نے ان دنوں دہلی تشریف لائے ہوئے حضرت علامہ معین الدین صاحب اجمیریؒ کا اسمِ گرامی پیش کیا، جس کی تائید خواجہ حسن نظامی نے کی اور حاضرین نے باتفاقِ رائے علامہ اجمیری کو جلسے کا صدر منتخب کیا۔

صدرِ محترم (علامہ اجمیری) کی سرپرستی میں کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے مولانا احمد سعید نے معزز مہمانوں کا تعارف کرایا، جن میں فلسطین کے مفتی اعظم حضرت سید امین الحسینی اور مصر کے سابق وزیرِ مالیات محمد علی پاشا شامل تھے۔

معزز مہمانوں اور حضرت مولانا احمد سعید صاحبؒ کے خطابات کے بعد، جلسہ اپنے آخری مرحلے میں پہنچا۔ آخر میں جنابِ صدرحضرت علامہ معین الدین صاحب اجمیریؒ نے بارگاہِ الٰہی میں انتہائی رقت آمیز دعا فرمائی، جس کے بعد یہ تاریخی جلسہ برخاست ہوا۔

( سہ روزہ الجمعیۃ،24/جون 1933ئ)

مجلس مشاورت کی میٹنگ میں شرکت

یکم تا 3/فروری 1936ئ کو مراد آباد میں جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ اور ایک غیر معمولی مجلس مشاورت کے اہم ترین اجلاس منعقد ہوئے۔

اجلاس کی غیر معمولی اہمیت کے پیش نظر جمعیت علمائے ہند نے سہارنپور، تھانہ بھون اور پنجاب کے جید علمائے کرام کو بھی مدعو کیا تھا۔ اس دو روزہ مشترکہ مجلس مشاورت میں بعض اہم ترین مسائل اور خاص طور پر ’’مسودہ¿ فسخِ نکاح‘‘ کے حساس معاملے پر رات کے بارہ بجے تک تفصیلی بحث و تمحیص ہوتی رہی۔ اس مشاورتی عمل میں مقتدر اکابرین کے ساتھ حضرت مولانا معین الدین صاحب اجمیریؒ نے بھی بطورِ خاص شرکت فرمائی۔

 درگاہ بل پر سب کمیٹی کی تشکیل

 مجلس مشاورت کے بعد، 3/فروری1936ئ کی صبح صدرِ جمعیت علمائے ہند حضرت  ملوانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کی صدارت میں مجلس عاملہ کا باقاعدہ اجلاس شروع ہوا۔ اجلاس کے دوران حضرت مولانا معین الدین صاحب اجمیریؒ نے صدرِ مجلس کی اجازت سے ایک اہم ترین تحریک پیش کی، جس کا مقصد راجہ غضنفر علی خان کے پیش کردہ ’’درگاہ بل‘‘ پر تفصیلی غور و خوض کرنا تھا۔

چوںکہ ارکانِ مجلس نے اس بل کے تمام پہلو¶ں (مالہ و ماعلیہ) کا پہلے سے گہرا مطالعہ نہیں کیا تھا، لہٰذا علامہ اجمیریؒ کی تحریک پر مجلس عاملہ نے ایک خصوصی ’’سب کمیٹی‘‘ تشکیل دی۔ اس کمیٹی کے ذمہ یہ کام لگایا گیا کہ وہ درگاہ بل پر تنقیدی نظر ڈال کر شریعت مطہرہ کی روشنی میں حتمی رائے قائم کرے اور اسے پبلک کے لیے شائع کرے۔چنانچہ تجویز کا متن درج ذیل ہے: 

’’بہ اجازت صدر حضرت مولانا معین الدین صاحبؒ نے راجہ غضنفر علی خا ں صاحبؒ کے درگاہ بل پر غور کرنے کی مجلس عاملہ میں تحریک پیش کی ؛ مگر چوں کہ بل اور اس کے مالہ وماعلیہ پر ارکان مجلس نے غور نہیں کیا تھا، اس لیے اس کے متعلق ایک سب کمیٹی حسب ذیل ارکان کی منظور کی گئی، جو بل پر تنقیدی نظر ڈال کر شرعی طریقہ پر رائے قائم کرے اور اسے شائع کردے۔ سب کمیٹی کے ارکان حسب ذیل ہوں گے:

۱۔ مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ۔ ۲۔ مولانا احمد سعید صاحبؒ۔ (داعی)

۳۔ مولانا نور الدین صاحب بہاریؒ۔ ۴۔ مولانا محمد سجاد صاحب بہاریؒ۔

۵۔ مولانا بشیر احمد صاحب کٹھوریؒ۔ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص/

حضرت العلامہ اجمیری کا انتقال اور جمعیت علماکا اظہار تعزیت

17/ جنوری 1882ئ کو پیدا ہونے والی یہ عظیم شخصیت 19/ فروری 1940ئ کو اس دار فانی سے رحلت کرگئے۔حضرت العلامہ کی وفات کے بعد، 3، 4/مارچ 1940ئ کومجلس عاملہ کا اجلاس منعقد ہوا۔ گذشتہ کارروائی کی توثیق کے بعد، صدارت کی جانب سے جلیل القدر مقتدر عالمِ دین اور جمعیت کے سابق نائب صدر حضرت مولانا معین الدین صاحب اجمیریؒ کی وفاتِ حسرت آیات پر گہرے رنج و ملال کا اظہار کرتے ہوئے تعزیت کی قرار داد پیش کی گئی ، جسےبالاتفاق منظور کیا گیا۔

اس کے بعد7، 8، 9 /جون 1940ئ کومنعقد جمعیت علمائے ہند کے بارھواں اجلاسِ عام میں تجویز نمبر(1) کے تحت ملک بھر سے آئے ہوئے ارکان و مندوبین نے کثرتِ رائے سے حضرت مولانا معین الدین صاحب اجمیریؒ کی ملّی، تعلیمی اور سیاسی مساعی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے اسی تعزیتی قرارداد کی باقاعدہ توثیق و منظوری دی۔تجویز کا متن درج ذیل ہے: 

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس حضرت علامہ مولانا معین الدین صاحب اجمیریؒ کی وفات حسرت آیات پر اپنے دلی رنج و غم کا اظہار کرتا ہے۔ حضرت مولانا ایک متبحر عالم اور سرگرم مجاہد تھے۔ ان کی وفات سے مسلمانان ہند ستان کو نقصان عظیم پہنچا ہے۔ یہ جلسہ دعا کرتا ہے کہ حق تعالیٰ مولانا مرحوم کو فردوس بریں میں جگہ دے اور ان کے فیوض کو تاقیامت جاری رکھے اور مسلمانوں کو ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عنایت فرمائے۔ 

یہ جلسہ مولانا مرحوم کے صاحب زادے مولوی عبدالباقی صاحبؒ اور دوسرے اقارب کے ساتھ دلی ہمدردی کا اظہار کرتا ہے اور ان کو یقین دلاتا ہے کہ مولانا مرحوم کی وفات کے صدمہ¿ عظیمہ میں مجلس بھی ان کی شریک ہے۔‘‘ 

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص/

حضرت العلامہ کا مختصر سوانحی خاکہ

مولانا محمد معین الدین اجمیریؒ راجپوتانہ میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد مولانا عبد الرحمان لبیا کے رہنے والے نو مسلم راجپوت تھے۔ اور والدہ بھی داخل اسلام ہوئی تھیں۔ داتا پور (بہار) ان کا گھر تھا۔ مولانا معین الدین اجمیری نے جملہ معقول و منقول کی تعلیم مولانا برکات احمد سے مکمل کی۔ علم ریاضی مولانا لطیف اللہ سے حاصل کیا ۔ ہندستان اور ہندستان سے باہر درس و تدریس کا سلسلہ شروع کیا۔ آپ ڈھائی سال تک مدرسہ نعمانیہ لاہور میں صدر مدرس رہنے کے بعد 1908ئ میں اجمیر تشریف لے گئے۔ 

1909ئ میں مدرسہ معین الحق قائم کیا۔ مولانا انوار اللہ کی تحریک پر مدرسہ معین الحق کو معینیہ عثمانیہ قرار دے کر اس کے لیے ساڑھے بارہ سو روپے ماہانہ جاری کیا۔ مولانا اس مدرسہ کے صدر ہوئے اور پندرہ سال تک یہاں درس دیا۔ سرکار نظام اجمیر نے آپ کے درس سے متأثر ہوکر خلعت شاہانہ عطا کیا۔ 1337ھ (1918ئ)میں کارپردازان مدرسہ اور مولانا میں اختلاف ہوگیا۔ چنانچہ آپ نے استعفیٰ دے دیا۔ 1338ھ (1919ئ) میں دارالعلوم حنفیہ صوفیہ کے نام سے ایک دوسرا مدرسہ قائم کیا۔ وہاں بارہ سال تک درس دیتے رہے۔ 1351ھ (1932ئ) میں مدرسہ کے اراکین آپ کو پھر اپنے یہاں واپس لے آئے۔ لیکن سیاسی اختلاف کے نتیجہ کے طور پر 12/ مارچ 1938ئ کو بحکم سرکار نظام دارالعلوم معینیہ عثمانیہ سے الگ ہوگئے ؛ لیکن اس علاحدگی کے بعد حلقہ¿ درس پوری آب و تاب کے ساتھ قائم رہا۔ 

تحرک خلافت میں مذہبی فتویٰ کے جرم میں دو سال قید رہے۔ جس زمانہ میں مولانا کفایت اللہ اور مولانا احمد سعید صدر و ناظم جمعیت علمائے ہند نظر بند تھے، اس وقت تحریک کی رہ نمائی کے لیے آپ ہر ہفتہ دہلی تشریف لے جاتے تھے۔ آپ نے جمعیت علمائے ہند کے نویں اجلاس عام منعقدہ 3/ تا6/ مئی 1930ئ بمقام امروہہ کی صدارت کی۔ آپ جمعیت علمائے ہند کے مستقل نائب صدر رہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صوبہ راجپوتانہ کی مجلس خلافت کے صدر بھی تھے۔ تحریک کشمیر کے زمانے میں مجلس احرار اسلام کے ڈکٹیٹر رہے۔ ہر سال موسم بہار میں طلبا کا ایک تفریحی جلسہõ جس کو اجمیر کے اصطلاح میں ’’گوٹ‘‘ کہتے ہیںõ منعقد ہوتا۔ آپ طلبا کی خاطر اس میں بھی شریک ہوتے تھے۔ سخت بیماری کے بعد وفات پائی اور خواجہ اجمیری کی درگاہ میں مسجد شاہجہانی کے زیر سایہ دفن ہوئے۔

(جمعیت علمائے ہند، دستاویزات مرکزی اجلاس ہائے عام،جلد دوم، ص/859-60۔ مرتبہ:پروین روزینہ) 

خلاصہ

 جمعیت علمائے ہند کی تاسیس اور ابتدائی وابستگی (1919ئõ1920ئ)

 23/نومبر 1919ئ کو دہلی میں جمعیت علمائے ہند کی تاسیس عمل میں آئی۔ اس کے فوراً بعد 28، 31 دسمبر 1919ئ اوریکم جنوری 1920ئ کو اسلامیہ مسلم ہائی اسکول، امرتسر میں جمعیت کا پہلا اجلاسِ عام تین نشستوں میں منعقد ہوا، اور حضرت علامہ معین الدین اجمیریؒ نے ان تمام نشستوں میں شرکت فرمائی، جو ان کے قدیم ترین تعلق کا ثبوت ہے۔

متفقہ فتویٰ پر دستخط (1920ئ): جنگِ عظیم اول کے بعد برطانوی حکومت کی جانب سے خلافتِ عثمانیہ کے ٹکڑے کرنے اور رولٹ ایکٹ نافذ کرنے (21/مارچ 1919ئ) کے خلاف تحریک ترکِ موالات شروع ہوئی۔ اس سلسلے میں 8/ستمبر 1920ئ کو مولانا محمد سجاد بہاری کا تحریر کردہ ’’متفقہ فتویٰ علمائے ہند‘‘ جاری ہوا، جس پر علامہ اجمیریؒ نے جابر حکومت کے خوف کے بغیر اپنے دستخط ثبت کیے۔

2۔ شعبہ¿ تبلیغ و حفاظتِ اسلام اور کانفرنسیں (1923ئõ1925ئ)

راجپوتانہ میں شعبے کا قیام (1923ئõ1924ئ): 24/فروری 1923ئ کو مفتی کفایت اللہ صاحب کی صدارت میں جمعیت نے ’’شعبہ¿ تبلیغ و حفاظتِ اسلام‘‘ قائم کیا۔ 26 اور 27/ اگست 1924ئ کے اجلاس میں اجمیر (راجپوتانہ) میں اس شعبے کی شاخ قائم کرنے کی منظوری اس شرط پر دی گئی کہ اس کی سرپرستی علامہ اجمیریؒ فرمائیں گے۔

تبلیغ کانفرنس کی صدارت (1925ئ): 14/جنوری 1925ئ کو علامہ اجمیریؒ جمعیت کی مرکزیہ کے رکن بنے اور اگلے ہی دن 15/جنوری 1925ئ کو ہونے والی ’’تبلیغ کانفرنس‘‘ کی صدارت کی اور فاضلانہ خطبہ پڑھا۔ بعد میں وہ ’’تبلیغ الاسلام انبالہ‘‘ کی طرف سے رنگون بھی گئے۔

3۔ قومی و شرعی کمیٹیوں میں کلیدی کردار (1927ئ)

انسدادِ توہینِ رسالت وفد: 18/اگست 1927ئ کو نئی دہلی میں توہینِ انبیا کے انسداد کے لیے قانون سازی پر مشاورتی اجلاس ہوا۔ 28/اگست 1927ئ کو شملہ جانے والے آل انڈیا مشاورتی وفد میں اجمیر سے علامہ اجمیریؒ کو نام زد کیا گیا۔

امارتِ شرعیہ پنجاب کا قیام: 2/ستمبر 1927ئ کو دربار سیال شریف میں امارتِ شرعیہ پنجاب کا قیام عمل میں آیا۔ علامہ اجمیریؒ کو 12/رکنی مجلس شوریٰ کا رکن بنایا گیا اور ان کی مساعی کا شکریہ ادا کیا گیا۔

جدید مسائل کے لیے شرعی کمیٹی: 2 تا 5/دسمبر 1927ئ کو جمعیت کے آٹھویں اجلاس میں سود، انشورنس اور جدید تجارتی معاملات کی شرعی تحقیق کے لیے جید علما (بشمول علامہ اجمیریؒ) پر مشتمل ایک خاص کمیٹی تشکیل دی گئی۔

4۔ صدارتی تنازع اور امروہہ کا تاریخی اجلاس (1929ئõ1930ئ)

صدارت کا مسئلہ (1929ئ): 11 و 12/اگست 1929ئ کو مجلس مرکزیہ نے کثرتِ رائے سے علامہ اجمیریؒ کو نویں اجلاسِ عام کا صدر منتخب کیا۔ تاہم، کانپور کی مقامی استقبالیہ کمیٹی دستورِ اساسی کی دفعہ (43) کے برعکس ایک غیر عالم (مولانا محمد علی جوہر) کو صدر بنانا چاہتی تھی۔ علامہ اجمیریؒ نے اجمیر سے 3/ستمبر 1929ئ کو خط لکھ کر معذرت کی، مگر مفتی کفایت اللہ صاحب کے اصرار پر 19/ستمبر 1929ئ کو دوبارہ رضامندی ظاہر کی۔ کانپور کمیٹی کے نازیبا رویے کی وجہ سے 26 تا 28 /اکتوبر 1929ئ کے اجلاس میں کانپور کی دعوت مسترد کر دی گئی۔

نواں اجلاسِ عام (1930ئ): یہ اجلاس کانپور کے بجائے 3 تا 6 /مئی 1930ئ کو امروہہ میں علامہ اجمیریؒ کی صدارت میں منعقد ہوا۔

خطبہ¿ صدارت کا خلاصہ: اپنے خطبے میں انھوں نے مسلمانوں کے زوال کے اسباب، برطانوی دور میں اسلامی قوانین کی بتدریج تنسیخ (1765ئ تا 1872ئ) کا تاریخی خاکہ پیش کیا۔ انھوں نے سنِ نکاح کی حد بندی کے ساردا ایکٹ کو شرعی اور آئینی طور پر کالعدم قرار دیا، نہرو رپورٹ (1928ئ) کی مخالفت کی، برطانیہ کو اصل دشمن قرار دیا، اور کسانوں و غریبوں کے لیے سود سے پاک انقلابی معاشی پروگرام تجویز کیا۔

5۔ تحریکِ آزادی اور ہجرتِ الور (1931ئõ1933ئ)

مشاورتی جلسہ (1931ئ): 19/مارچ 1931ئ کو مسلم مطالبات کی تیاری کے لیے مشاورتی جلسے میں شرکت کے لیے علامہ اجمیریؒ کو بھی منتخب کیا گیا۔

نائب صدر جمعیت اور احتجاج (1932ئ):29/ فروری تا2/مارچ 1932ئ منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں علامہ اجمیریؒ جمعیت علمائے ہند کے نائب صدر منتخب ہوئے۔ 5/اپریل 1932ئ کو جامع مسجد دہلی میں ان کی صدارت میں آرڈنینس ڈے کے موقع پر عظیم الشان احتجاجی جلسہ ہوا۔

ریاست الور کے مہاجرین کی امداد: مئی 1932ئ میں الور کے مسلمانوں پر مظالم کے بعد جولائی 1932ئ میں ہزاروں مسلمانوں نے دہلی ہجرت کی۔ علامہ اجمیریؒ نے بحیثیت ڈکٹیٹر مجلسِ احرار، 29/جولائی 1932ئ کو احرار کا وفد مہاجرین کی امداد کے لیے دہلی بھیجا، جس میں بعد میں جمعیت کے اکابرین بھی شامل ہو گئے۔

حج مسودات کی مخالفت: 10/جون 1932ئ کو جامع مسجد دہلی میں حج سے متعلق حکومتی بلوں کے خلاف علامہ اجمیریؒ نے مفصل تقریر کی اور قرارداد پیش کی۔

ہندو مسلم مفاہمت کانفرنسیں: اکتوبر اور نومبر 1932ئ میں لکھنو اور الٰہ آباد میں ہونے والی ہندو مسلم مصالحت کی اہم کانفرنسوں میں علامہ اجمیریؒ کو شرکت کی خصوصی دعوتیں دی گئیں۔

وفدِ فلسطین کا استقبال (1933ئ): 22/جون 1933ئ کو جامع مسجد دہلی میں فلسطین کے مفتی اعظم سید امین الحسینی کے اعزاز میں منعقدہ استقبالیہ جلسے کی صدارت علامہ اجمیریؒ نے فرمائی۔

6۔ درگاہ بل سب کمیٹی اور آخری ایام (1936ئõ1940ئ)

درگاہ بل سب کمیٹی (1936ئ): یکم تا 3/فروری 1936ئ کو مراد آباد کے اجلاس میں علامہ اجمیریؒ کی تحریک پر راجہ غضنفر علی خان کے ’’درگاہ بل‘‘ کی شرعی تنقیح کے لیے ایک سب کمیٹی بنائی گئی۔

وفات اور تعزیت (1940ئ): 17/جنوری 1882ئ کو پیدا ہونے والے علامہ معین الدین اجمیریؒ 19/فروری 1940ئ کو وفات پا گئے۔ 3، 4/مارچ 1940ئ کو مجلس عاملہ اور پھر 7 تا 9/جون 1940ئ کو جمعیت کے بارھویں اجلاسِ عام میں ان کی تعزیت کی باقاعدہ قرارداد منظور کر کے ان کی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

7۔ مختصر سوانحی خاکہ

وہ جملہ علوم و فنون اور ریاضی کے متبحر عالم تھے۔ مدرسہ نعمانیہ لاہور میں صدر مدرس رہنے کے بعد 1908ئ میں اجمیر آئے۔ وہاں مدرسہ معین الحق (بعد میں معینیہ عثمانیہ) اور دارالعلوم حنفیہ صوفیہ میں طویل عرصے تک درس و تدریس کے فرائض انجام دیے۔ تحریکِ خلافت میں دو سال قید کاٹی۔ وہ جمعیت کے نائب صدر، راجپوتانہ خلافت کمیٹی کے صدر اور تحریکِ کشمیر کے دوران مجلسِ احرارِ اسلام کے ڈکٹیٹر رہے۔ وفات کے بعد خواجہ غریب نوازؒ کی درگاہ میں مسجد شاہجہانی کے زیرِ سایہ دفن ہوئے۔

محمد یاسین جہازی