15 Sept 2026

ہندستان: مسلمانوں کا وطن اور اس کی شرعی و سیاسی تاریخ

 

ہندستان: مسلمانوں کا وطن اور اس کی شرعی و سیاسی تاریخ

محمد یاسین جہازی

ہندستان مسلمانوں کا اصلی وطن ہے یا نہیں، یہ سوال اپنی بنیاد میں ایک تاریخی سوال نہیں بلکہ ایک سیاسی فتنہ ہے۔ آزادی کے بعد فرقہ پرست عناصر نے اس سوال کو اس لیے زندہ کیا تاکہ اپنی ماضی کی غلطیوں پر پردہ ڈالا جا سکے اور ہندستانی جمہوریت کی بنیاد کو کمزور کرکے ہندو راشٹر کے تصور کو فروغ دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے ماننے والوں کے لیے یہ سرزمین اتنی ہی قدیم ہے جتنی خود انسانیت کی تاریخ۔ مورخ ملت حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب دیوبندی نے اپنے رسالے "ہمارا وطن اور اس کی فضیلت" میں اور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی نے اپنے رسالے "ہمارا ہندستان اور اس کے فضائل" میں تاریخی حوالوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ دنیا کے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کا ورود اسی سرزمین پر ہوا۔ اس لیے اس بحث کو ان دونوں کتابوں کے حوالے کرکے ہم اس تحریر میں اصل موضوع یعنی ہندستان کی شرعی حیثیت کی تاریخ کی طرف بڑھتے ہیں۔

آزادی سے پہلے اس سوال کا کوئی تصور ہی موجود نہ تھا۔ اکابر کی تحریروں میں ہندستان کی شرعی حیثیت پر تو سیر حاصل بحث ملتی ہے لیکن مول نواسی کے حوالے سے کوئی اشارہ تک نہیں ملتا، حتیٰ کہ جمعیت علمائے ہند کی آزادی سے پہلے کی تاریخ میں بھی اس کا کوئی ذکر نہیں۔ اسی لیے اس مقالے کی بنیاد ہندستان کی شرعی حیثیت کے تاریخی ارتقاء پر رکھی گئی ہے۔

ہندستان کی تاریخ میں اس کی شرعی حیثیت پر سب سے پہلی باقاعدہ بحث حکیم الہند حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی قدس سرہ کے یہاں ملتی ہے۔ مشہور مؤرخ مولانا ڈاکٹر ابوسلمان شاہ جہاں پوری نے لکھا ہے کہ شاہ صاحب وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہندستان کے دارالحرب ہونے کا اعلان کیا اور اس ایک اعلان نے ملک کے قابض اقتدار کے خلاف جدوجہد کا فیصلہ کر دیا۔ دراصل ملک کا دارالاسلام سے دارالحرب بن جانا مسلم ہندستان کی سیاسی تاریخ کا نہایت اہم موڑ تھا، لیکن یہ عمل اتنی آہستگی سے وقوع پذیر ہوا کہ شاہ صاحب جیسی صاحب نظر ہستی کے علاوہ وقت کا کوئی مدبر اس کی آہٹ بھی نہ سن سکا۔ بلکہ بعض اہل علم نے اس تبدیلی کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا، چنانچہ 1857 کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد بھی مولانا احمد رضا خان صاحب نے "الاعلام بان الہند دارالاسلام" لکھ کر آزادی کے جہاد کو حرام قرار دے دیا۔

سن 1806 میں دہلی پر قبضے کے بعد انگریزوں نے شاہ عالم کو برائے نام تخت پر بٹھا کر یہ اعلان کیا کہ ملک بادشاہ کا اور حکم انگریز بہادر کا ہے۔ اس ظاہری تقسیم کی وجہ سے بعض علماء کو یہ گمان ہوا کہ ہندستان اب بھی دارالاسلام ہے۔ لیکن شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے انیسویں صدی کی پہلی دہائی میں، جبکہ تخت پر شاہ عالم ثانی متمکن تھے، فتویٰ دیا کہ ہندستان کی سیاسی حیثیت بدل چکی ہے۔ ان کے سامنے اس وقت چار راستے تھے۔ اول یہ کہ قوم کے سیاسی مفادات سے چشم پوشی کرکے خاموش رہا جائے، دوم یہ کہ تن آسان علماء کی طرح ہندستان کو بدستور دارالاسلام کہا جائے، سوم یہ کہ اسے دارالحرب کہہ کر ہجرت کر لی جائے، اور چہارم یہ کہ اسے دوبارہ دارالاسلام بنانے کی جدوجہد کی جائے۔ ابن الوقت رہنماؤں نے پہلا راستہ اختیار کیا، مفاد پرستوں جن میں قادیانی، بریلوی اور سید احمد خان کے نام نمایاں ہیں، نے دوسرا راستہ لیا، تیسرا راستہ کروڑوں مسلمانوں کے لیے عملاً ناممکن تھا، اور چوتھا راستہ جو ہمیشہ اصحاب عزم کا خاصہ رہا ہے، دشوار ترین تھا۔ شاہ صاحب نے اسی چوتھے راستے کو اختیار کیا اور 1808 یا 1809 میں سب سے پہلا فتویٰ جہاد دیا جس کا متن فتاویٰ عزیزی جلد اول صفحہ سولہ اور سترہ پر موجود ہے اور جس میں انہوں نے در مختار اور کافی کے حوالے سے ثابت کیا کہ یہاں امام المسلمین کا حکم جاری نہیں بلکہ نصاریٰ کا حکم بے دغدغہ جاری ہے۔

دوسرا فتویٰ جہاد شاملی کے عنوان سے مشہور ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ تھانہ بھون کے قاضی عنایت علی اور ان کے بھائی قاضی عبدالرحیم علاقے میں ہر دلعزیز تھے لیکن ایک کائستھ سرشتہ دار نے ذاتی عداوت کی بنا پر حاکم ضلع سہارنپور رابرٹ اسپنکی سے جھوٹی شکایت کی کہ عنایت علی انگریزی حکومت سے باغی ہو گئے ہیں اور عبدالرحیم دہلی کے باغیوں کے لیے اسلحہ خریدنے آئے ہیں۔ اسپنکی نے تحقیق کے بغیر قاضی عبدالرحیم کو ان کے رفقاء سمیت پھانسی دے دی۔ اس خبر سے علاقے میں آگ لگ گئی۔ دیوبند، گنگوہ اور نانوتہ سے علماء تھانہ بھون پہنچے اور ایک مجلس شوریٰ منعقد ہوئی جس میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، حافظ محمد ضامن، مولانا مظہر نانوتوی، مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی اور دیگر شریک تھے۔ حاجی امداد اللہ کو امیر جہاد مقرر کیا گیا۔ اس موقع پر استفتاء کیا گیا کہ جب انگریز دلی پر چڑھ آئے اور اہل اسلام کی جان و مال کا ارادہ رکھتے ہوں تو جہاد فرض ہے یا نہیں۔ اس کے جواب میں مفتی صدر الدین، مولانا نذیر حسین اور دیگر سمیت پینتیس علماء نے دستخط کرکے فتویٰ دیا کہ اس شہر والوں پر جہاد فرض عین ہے اور اطراف والوں پر فرض کفایہ۔ یہ فتویٰ پہلے اخبار الظفر دہلی میں شائع ہوا اور پھر 26 جولائی 1857 کی اشاعت میں صادق الاخبار نے اسے نقل کیا۔ اسی فتوے کی بنیاد پر 14 ستمبر 1857 کو شاملی اور تھانہ بھون کی معرکہ آراء لڑائی لڑی گئی۔ اس جنگ کی ناکامی کے بعد علماء پر بے پناہ مظالم ہوئے اور انہیں مجبوراً گوشہ نشینی اختیار کرنی پڑی۔

ایسے ہی مایوسی کے دور میں یکم نومبر 1858 کو ملکہ وکٹوریہ کے اعلان عام معافی کے بعد سرسید احمد خان مسلمانوں کے تعلیمی لیڈر بن کر ابھرے۔ ان کا نقطہ نظر دارالعلوم دیوبند کے بالکل برعکس تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ مسلمان انگریزوں کی مخالفت کرکے باعزت زندگی نہیں گزار سکتے۔ 28 دسمبر 1887 کو ایک بڑے مجمع میں انہوں نے تقریر کی جو 11 اور 12 جنوری 1888 کو اخبار پائینیر میں شائع ہوئی۔ اس میں انہوں نے کہا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں، اگر انگریز چلے گئے تو تخت پر دونوں نہیں بیٹھ سکتے، انتخابی حکومت میں ہندو ہندو کو اور مسلمان مسلمان کو ووٹ دیں گے تو تین چوتھائی اکثریت ہندوؤں کی ہوگی اور مسلمان دائمی غلام بن جائیں گے۔ اس لیے مسلمانوں کو کانگریس میں شریک نہیں ہونا چاہیے اور انگریزی حکومت پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

اس تقریر کے پیچھے دراصل کانگریس کی بنیاد کا پس منظر تھا۔ یکم نومبر 1858 کے اعلان کے بعد جب انگریز حکام کے مظالم جاری رہے اور گورنروں اور وائسرائے تک شکایات بے اثر رہیں تو وائسرائے لارڈ ڈفرن نے کہا کہ انفرادی شکایات کے بجائے اجتماعی جماعت بناؤ۔ چنانچہ 28 دسمبر 1885 کو مسٹر اے او ہیوم کے ہاتھوں بمبئی میں کانگریس کی بنیاد رکھی گئی جس کے پہلے اجلاس میں اٹھہتر ممبر شریک ہوئے جن میں دو مسلمان بھی تھے۔ کانگریس کی بڑھتی مقبولیت سے انگریزوں میں بے چینی پیدا ہوئی تو پرنسپل بیک اور دیگر انگریزوں نے انجمن محبان وطن یعنی انڈین پیٹریاٹک ایسوسی ایشن بنائی اور سرسید پر دباؤ ڈالا کہ وہ کانگریس کے انتہائی مخالف ہو جائیں۔ یہاں تک کہ چند علماء سے فتویٰ دلوایا گیا کہ کانگریس میں شرکت حرام اور پیٹریاٹک ایسوسی ایشن میں شرکت فرض ہے۔ سرسید نے 21 اگست 1888 کو نینی تال سے ایک عریضہ لکھا جس میں کہا کہ اگر کانگریس کے مقاصد پورے ہو گئے تو مسلمانوں کا حال یہودیوں سے بھی بدتر ہو جائے گا جن کے بارے میں خدا نے فرمایا "وضربت علیہم الذلۃ والمسکنۃ"۔

اس پر علمائے حق نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ 1888 تک سرسید کی تحریک زوروں پر رہی تو مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا محمود حسن دیوبند اور دیگر مدارس کے علماء نے اس کی مخالفت کی۔ اس سلسلے میں علمائے لدھیانہ مولانا محمد صاحب اور ان کے بھائیوں نے اطراف ہند سے فتاویٰ جمع کرکے رسالہ "نصرۃ الابرار" مرتب کیا۔ اس میں حضرت گنگوہی کا فتویٰ درج ہے جس میں پوچھا گیا تھا کہ نیشنل کانگریس جو ہندو مسلم سب کے دنیاوی مفاد کے لیے قائم ہوئی ہے اور کسی مذہب کو مضر بحث سے گریز کرتی ہے اس میں شرکت جائز ہے یا نہیں، اور سید احمد خان کی ایسوسی ایشن جس میں پانچ روپے ماہانہ چندہ مانگا جا رہا ہے اور جبراً لوگوں کو شامل کیا جا رہا ہے اس میں شرکت جائز ہے یا نہیں۔ حضرت گنگوہی نے جواب دیا کہ ہنود سے بلا ضرر دینی شرکت جائز ہے لیکن سید احمد سے تعلق نہیں رکھنا چاہیے اگرچہ وہ خیر خواہی کا نام لیتا ہو کیونکہ اس کی شرکت اسلام کے لیے سم قاتل ہے۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن نے 11 دسمبر 1888 کو اس فتوے کی تائید فرمائی۔

انگریزوں کی اسی زہریلی پالیسی کے تحت 1906 میں مسلم لیگ کی بنیاد ڈالی گئی۔ سید طفیل احمد منگلوری اپنی کتاب روشن مستقبل میں لکھتے ہیں کہ تقسیم بنگال کی تیاریوں کے ساتھ ہی کونسلوں میں حقوق دینے کا ڈھونگ رچایا جا رہا تھا۔ وائسرائے کے پرائیویٹ سکریٹری کرنل ڈنلپ اسمتھ نے ایک مضمون بناکر پرنسپل آرچ بولڈ کو دیا، آرچ بولڈ نے 6 جولائی 1906 کو نواب محسن الملک کو بھیجا اور نواب نے فوراً وائسرائے سے ملنے کے لیے وفد مرتب کیا۔ یکم اکتوبر 1906 کو آغا خان کی قیادت میں یہ وفد شملہ میں وائسرائے منٹو سے ملا اور 9 نومبر 1906 کو نواب سلیم اللہ خان نے "مسلم آل انڈیا کنفیڈریشن" کی تجویز دی۔ بالآخر 30 دسمبر 1906 کو نواب وقار الملک کی صدارت میں آل انڈیا مسلم لیگ قائم ہوئی جس کے مقاصد میں برطانوی حکومت سے وفاداری اور غلط فہمیاں دور کرنا شامل تھا۔ اس کے قیام کی اطلاع تار کے ذریعے حکومت کو دی گئی۔ جب یہ خبر انگلستان پہنچی تو ٹائمز نے خوشی منائی کہ اب ہندستان میں صلح نہ رہے گی۔

مسلم لیگ کا پہلا مسلم مخالف کارنامہ 1916 میں سامنے آیا جب کانگریس اور مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس لکھنؤ میں ہوئے۔ 29 دسمبر کو کانگریس نے اور 31 دسمبر کو جناح کی صدارت میں مسلم لیگ نے میثاق لکھنؤ منظور کیا جس میں پہلی بار فرقہ وارانہ بنیاد پر جداگانہ انتخاب اور مخصوص نمائندگی تسلیم کی گئی، پنجاب میں پچاس فیصد اور بنگال میں چالیس فیصد حالانکہ وہاں مسلمان اکثریت میں تھے۔ سید طفیل احمد لکھتے ہیں کہ یہ آئین امن عامہ کے لیے مہلک ثابت ہوا۔ اسی تسلسل میں 1930 میں ڈسٹرکٹ جج میرٹھ مسٹر پوڈن نے تقسیم کا تصور پیش کیا، 1931 میں اس کا خط منظر عام پر آیا اور چودھری رحمت علی نے اس کی تشہیر کی، بالآخر 22 اور 23 مارچ 1940 کو قرارداد لاہور منظور ہوئی۔

اس کے متوازی 1914 سے 1920 تک کے واقعات نے ترک موالات کی بنیاد رکھی۔ 28 جولائی 1914 کو پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی، 2 نومبر 1914، 20 اپریل 1915 اور 5 جنوری 1916 کو برطانیہ نے خلافت کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی لیکن 30 اکتوبر 1918 کی عارضی صلح اور 10 اگست 1920 کے معاہدہ سیورے نے خلافت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ ادھر ہندستانیوں سے سوراج کا وعدہ کرکے 18 اگست 1917 کے خود اختیاری کے وعدے کے برخلاف 18 جنوری 1919 کو رولٹ بل پیش کیا گیا اور 19 مارچ 1919 کو رولٹ ایکٹ منظور ہوا۔ اس کے خلاف گاندھی جی نے 30 مارچ اور 6 اپریل 1919 کو ملک گیر ہڑتال کی اور 13 اپریل 1919 کو جلیانوالہ باغ میں نہتے مجمع پر فائرنگ ہوئی۔ خلافت کی بندر بانٹ کی خبروں پر 18 ستمبر 1919 کو لکھنؤ اجلاس میں ترک موالات کی تجویز آئی اور 17 اکتوبر 1919 کو ملک گیر احتجاج ہوا۔ 3 نومبر 1919 کو دہلی میں گاندھی جی نے تحریک خلافت کی حمایت کی اور 23 اور 24 نومبر 1919 کی دہلی خلافت کانفرنس میں جشن فتح کے بائیکاٹ اور عدم تعاون کا فتویٰ دیا گیا۔ اسی موقع پر 23 نومبر 1919 بروز اتوار بعد نماز عشاء جمعیت علمائے ہند قائم ہوئی جس نے 6 ستمبر 1920 کو کلکتہ میں ترک موالات کی تجویز منظور کی اور 8 ستمبر 1920 کو ابوالمحاسن مولانا محمد سجاد کے مرتب کردہ فتوے پر چار سو چوہتر علماء نے دستخط کیے۔

جمعیت کا دوسرا سالانہ اجلاس 19، 20، 21 نومبر 1920 کو ہوا۔ اس کی دو سالہ روداد میں پہلے ناظم مولانا عبدالحلیم صدیقی نے لکھا کہ علماء کا فرض صرف فقہی حکم بیان کرنا نہیں بلکہ اس کو نافذ کرنے والی طاقت پیدا کرنا بھی ہے اور اس کے لیے کامل آزادی شرط ہے۔ آزادی ہی تمام نیکیوں کا سرچشمہ ہے اور غلام قوم کے لیے کوئی نیکی نیکی نہیں۔ اسی اجلاس میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وطن پرستی اور قوم پرستی بے شک اسلامی اصطلاح نہیں اور شاید یورپ سے لی گئی ہیں لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ اپنی قوم اور وطن کا تحفظ ہمارے فرائض سے خارج ہے۔ جو ملک ایک بار مسلمانوں کے جھنڈے تلے آ جائے اس کا ایک چپہ بھی کفار لینا چاہیں تو شرق سے غرب تک کل اہل اسلام پر دفاع فرض ہو جاتا ہے۔

اس کے بعد تیسرے اجلاس 18، 19، 20 نومبر 1921 میں اعلان کیا گیا کہ ہندستان کو غلامی سے آزاد کرانا مسلمانوں کے مذہبی فرائض میں داخل ہے۔ چوتھے اجلاس 24 تا 26 دسمبر 1922 میں مولانا حبیب الرحمان عثمانی نے فرمایا کہ جمعیت کا نصب العین دو حصوں میں ہے، اندرون ملک مذہبی رہنمائی اور بیرون ملک مذہبی تعلقات کا تحفظ، اور دونوں آزادی کے بغیر ممکن نہیں۔ پانچویں اجلاس 29 دسمبر 1923 تا یکم جنوری 1924 میں حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نے مسلمانوں کے بارہ فرائض گنوائے جن میں سے تیسرا ہندستان کو آزاد کرانا تھا۔ انہوں نے قرآن کی آیات "وقاتلوا فی سبیل اللہ" اور "واعدوا لہم ما استطعتم من قوۃ" سے استدلال کیا کہ اس حکومت سے مقابلہ فرض ہے اور ہندستان کی آزادی انگلستان کی موت کے مترادف ہے۔

اسی دوران جہاد آزادی میں غیر مسلموں کے تعاون کا مسئلہ سامنے آیا۔ فخر المحدثین مولانا انور شاہ کشمیری نے اس کا حل یہ پیش کیا کہ ہندستان نہ دارالاسلام ہے کہ غیر مسلموں سے تعاون لینا ناجائز ہو اور نہ دارالکفر ہے کہ مسلمانوں کا تعاون دینا ناجائز ہو، بلکہ یہ دارالامان ہے۔ چنانچہ انہوں نے 2 تا 5 دسمبر 1927 کو منعقد آٹھویں اجلاس عام کے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ شاہ عبدالعزیز نے جب اسلامیت کا رنگ گہرا تھا تب اسے دارالاسلام نہیں کہا تو آج بدرجہ اولیٰ نہیں ہے، اس لیے دارالامان کے احکام تلاش کرکے رہنمائی کرنی چاہیے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے میثاق مدینہ کی طرف توجہ دلائی۔ اسی نظریے کی بنیاد پر 4، 5، 6 مئی 1930 کو نویں اجلاس میں کانگریس کے ساتھ جمہوریت کے نفاذ کی شرط پر اشتراک عمل کیا گیا۔

متحدہ قومیت اور دو قومی نظریہ کا فرق اسی پس منظر میں واضح ہوتا ہے۔ ہندستان میں صدیوں تک متحدہ قومیت کا تصور رائج رہا لیکن 1867 میں اردو ہندی تنازع پر سرسید احمد خان نے کہا کہ ہندو مسلم ایک قوم نہیں بن سکتے۔ بعد میں علامہ اقبال نے 29 دسمبر 1930 کو الہ آباد میں پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان پر مشتمل خود مختار ریاست کی تجویز دی اور چودھری رحمت علی نے 28 جنوری 1933 کو کیمبرج سے "Now or Never" پمفلٹ میں اسے پاکستان کا نام دیا۔ اس کے برعکس جمعیت کا متحدہ قومیت کا تصور 19 تا 21 نومبر 1920 کے صدارتی خطاب اور 29 دسمبر 1923 کی تجویز نمبر پانچ میں موجود ہے۔ یہ خیال کہ متحدہ قومیت کا پہلا تصور حضرت مدنی کا ہے درست نہیں، البتہ اس پر بحث کا دروازہ حضرت مدنی کے خطاب کے بعد ہی کھلا۔

واقعہ یہ ہوا کہ 7 جنوری 1938 کی شب باڑہ ہندو راؤ دہلی میں حضرت مدنی کی تقریر ہوئی جس میں انہوں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔ بعض اخبارات جیسے ہفت روزہ انصاری 8 جنوری 1938 اور روزنامہ تیج اور پھر احسان 31 جنوری 1938 نے اسے سیاق سے کاٹ کر "اقوام وطن سے بنتی ہیں، مذہب سے نہیں" بنا کر پیش کیا۔ اس پر علامہ اقبال نے 3 فروری 1938 کو قطعہ کہا۔ حضرت مدنی نے 9 فروری 1938 کو مولوی عبدالرشید نسیم طالوت کو خط میں وضاحت کی کہ انہوں نے قومیت کا لفظ استعمال کیا تھا ملت کا نہیں، ملت کے معنی شریعت کے ہیں اور قوم کے معنی افراد کی جماعت کے۔ 10 فروری کو اقبال نے جواب دیا کہ اگر یہ بیان واقعہ ہے تو اعتراض نہیں لیکن اگر مشورہ ہے تو اسلام کے منافی ہے۔ حضرت مدنی نے 26 فروری کو دوسرا خط لکھ کر کہا کہ یہ خبر تھی انشاء نہیں۔ 28 مارچ 1938 کو احسان میں اقبال کا تردیدی بیان شائع ہوا کہ اب اعتراض باقی نہیں۔ بعد میں حضرت مدنی نے کتاب "متحدہ قومیت اور اسلام" میں اس کی تفصیل لکھی کہ میثاق مدینہ کی طرز پر ہندستان کے تمام باشندے ہم وطن ہونے کی حیثیت سے ایک قوم بن کر انگریز کے خلاف متحد ہوں جبکہ ہر مذہب اپنے عقائد میں آزاد رہے۔ اسی سال اگست 1938 میں جون پور کانفرنس اور 7، 8، 9 جون 1940 کے بارھویں اجلاس میں انہوں نے پھر کہا کہ ہم باشندگان ہند بحیثیت ہندستانی ایک اشتراک رکھتے ہیں جو مذہبی اختلاف کے باوجود باقی رہتا ہے جیسے آگ لگنے پر سارے گاؤں والے مل کر بجھاتے ہیں۔

قومیت و وطنیت پر دیگر اکابر نے بھی روشنی ڈالی۔ 11 تا 16 جنوری 1925 کے چھٹے اجلاس میں مولانا محمد سجاد نے وطنی فدویت کو مہلک مرض کہا اور فرمایا اسلامی قومیت کی بنیاد کلمہ لا الہ الا اللہ پر ہے، جغرافیہ پر نہیں۔ 11 تا 14 مارچ 1926 کے ساتویں اجلاس میں مولانا سید سلیمان ندوی نے فرمایا کہ یورپی طرز کی قوم پرستی نسل، وطن اور زبان کی بنیاد پر جاہلیت کی عصبیت ہے جسے اسلام نے ختم کیا، لیکن وطن سے محبت اور اس کی آزادی کے لیے جدوجہد ہر مسلمان کا فرض ہے جیسے صحابہ نے حبشہ میں نجاشی کے دفاع میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ پین اسلامزم اور نیشنلزم ایک ساتھ ممکن ہیں جیسے اہل یورپ اپنی قومیت کے ساتھ پورے یورپ سے بھی محبت رکھتے ہیں۔ اپریل 1930 میں میرٹھ کے بیس ہزار کے اجتماع میں مولانا احمد سعید نے کہا کہ تمہارا مذہب انگریز اور ہندو دونوں سے الگ ہے لیکن قومیت اور وطن میں تم ہندو کے شریک ہو، انگریز تمہارا ہم وطن نہیں۔ 3 تا 6 مارچ 1939 کے گیارھویں اجلاس میں مولانا سید عبدالحق مدنی نے کہا کہ ہم اس کے حامی ہیں کہ ہندستان کے تمام باشندے بیرونی اقوام کے مقابلے میں ہندستانی کہلائیں اور یہی متحدہ قومیت ہے لیکن ہم برداشت نہیں کر سکتے کہ یہ ہمارے مذہبی عقائد پر اثر ڈالے۔

اس کے مقابلے میں ہندو نظریہ میں قومیت کا کوئی مذہبی تصور نہیں ملتا، البتہ ساورکر کے یہاں راشٹر کی تعریف موجود ہے۔ اپنی کتاب Essentials of Hindutva 1923 میں ساورکر نے لکھا کہ ہندو وہ ہے جو سندھ سے سمندر تک کی بھومی کو پتر بھومی اور پنیہ بھومی دونوں مانتا ہو۔ اس معیار پر مسلمانوں کے لیے ہندستان پتر بھومی تو ہے لیکن پنیہ بھومی نہیں کیونکہ ان کی مقدس سرزمین مکہ ہے۔ Hindu Rashtra Darshan میں انہوں نے کہا کہ ہندودم مشترک تہذیب، زبان، تاریخ اور آبائی وطن سے بندھا ہے۔ 1937 میں احمد آباد ہندو مہاسبھا کے انیسویں اجلاس میں انہوں نے کہا کہ ہندستان یک جہتی قوم نہیں بلکہ دو قومیں ہیں ہندو اور مسلم، یہ اعلان مسلم لیگ کی قرارداد پاکستان سے تین سال پہلے ہوا تاہم وہ تقسیم کے حامی نہیں تھے بلکہ ایک اٹوٹ ہندستان میں ہندو قوم کو فیصلہ کن بنانا چاہتے تھے۔ فرق واضح ہے کہ علاقائی قومیت میں ہر شخص محض وطن کی بنیاد پر قوم کا حصہ ہے جبکہ ساورکر کے نزدیک تاریخ، تہذیب اور پنیہ بھومی بھی شرط ہے۔ اس کے برعکس جمعیت کا نظریہ شہریت اور مشترک وطن پر مبنی شمولیتی قومیت کا ہے۔

اسی طرح گولوالکر نے اپنی کتاب We or Our Nationhood Defined 1939 میں قوم کے لیے پانچ وحدتیں بیان کیں۔ ملک، نسل، مذہب، ثقافت اور زبان۔ ان کے نزدیک جو ان پانچ ہندو عناصر سے باہر ہیں وہ اپنی جدا شناخت چھوڑ کر ہی قومی زندگی کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اسی کتاب کے صفحہ 18، 40 سے 46 اور 130 پر انہوں نے لکھا کہ پاکستان بن جانے کے بعد مسلمان راتوں رات دیش بھکت نہیں بن گئے بلکہ خطرہ سو گنا بڑھ گیا ہے۔

پھر دوسری جنگ عظیم کا زمانہ آیا۔ 3 ستمبر 1939 کو جنگ شروع ہوئی اور برطانیہ نے ہندستانیوں سے مشورہ کیے بغیر ہند کو جنگ میں شامل کر دیا۔ 14 ستمبر 1939 کو کانگریس اور 16 تا 18 ستمبر 1939 کو جمعیت نے شرکت سے انکار کیا۔ حکومت نے 17 اکتوبر 1939 کو وائسرائے کی کونسل میں توسیع کی پیشکش کی اور 18 اکتوبر کو انڈیا ایکٹ 1935 پر نظر ثانی کا اعلان کیا لیکن دونوں نے مسترد کر دیا۔ اسی دوران مسلم لیگ نے 27 اگست 1939، 17، 18، 22 اکتوبر 1939 اور 3 فروری 1940 کی قراردادوں میں وفاق کی مخالفت کی اور 13 فروری 1940 کو جناح نے وائسرائے سے ملاقات کرکے 23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں قرارداد لاہور منظور کرائی۔ اس کے جواب میں جمعیت نے 3 اور 4 مارچ 1940 کو دہلی میں آل پارٹیز آزاد مسلم کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا جو 27 تا 30 اپریل 1940 کو منعقد ہوئی اور اعلان کیا کہ ہندستان اپنی جغرافیائی حدود کے ساتھ ایک متحدہ ملک ہے جو تمام باشندوں کی مشترکہ ملکیت ہے اور اس کے چپے چپے میں مسلمانوں کی ملکیت اور شعائر موجود ہیں۔ اس کی تجویز نمبر چھ میں کہا گیا کہ ہندستان کو ہندو ہندستان اور مسلم ہندستان میں تقسیم کرنا ناقابل عمل اور مسلمانوں کے لیے مضر ہے اور اس سے برطانوی سامراج کو فائدہ پہنچے گا۔

پاکستان کی شرعی حیثیت پر بھی دو موقف سامنے آئے۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے مسلم لیگ کی اصلاح کی شرط پر حمایت کی، مولانا مفتی محمد شفیع نے 1945 میں رسالہ "کانگریس اور مسلم لیگ کے متعلق شرعی فیصلہ" لکھا اور مولانا شبیر احمد عثمانی نے کہا کہ پاکستان ایک ابتدائی قدم ہے جو قرآنی حکومت پر منتہی ہو سکتا ہے۔ لیکن مسلم لیگ کے قائدین کے بیانات اس سے مختلف تھے۔ 11 نومبر 1945 کے اخبار منشور میں جناح نے کہا کہ پاکستان ایک جمہوری حکومت ہوگی، ایک پارٹی کی حکومت نہیں ہوگی، اقلیتوں کو حکومت میں مناسب نمائندگی دی جائے گی اور ساتھ ہی کہا کہ یہ حکومت مسلمانوں کی ہوگی۔ مورخ ملت مولانا محمد میاں نے اس پر سوال اٹھایا کہ کیا اسلامی حکومت جمہوری تعریف میں آتی ہے۔

تقسیم کے بعد جب 14 اگست 1947 کو پاکستان بنا تو بعض علماء نے ہجرت کو فرض کہا اور تقریباً دو کروڑ انسان متاثر ہوئے۔ لیکن جمعیت نے تو 2 تا 5 دسمبر 1927 کو ہی انگریزی دور میں ہندستان کو دارالامان کہا تھا تو آزادی کے بعد بدرجہ اولیٰ دارالامان تھا۔ اس لیے اس کے سامنے ہجرت کا مسئلہ ہی نہیں تھا۔ حضرت سید الملت نے لکھا کہ جن کے سامنے نہ موت کا سوال تھا نہ ارتداد کا پھر بھی انہوں نے روزگار، عزت، بچوں کا مستقبل اور خوف کی وجہ سے وطن چھوڑا تو یہ شرعی ہجرت نہیں بلکہ طلب دنیا ہے۔ امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد نے 24 اکتوبر 1947 کو جامع مسجد دہلی سے خطاب میں فرمایا کہ یہ فرار کی زندگی جسے تم نے ہجرت کا مقدس نام دیا ہے اس پر غور کرو، مسجد کے مینار تم سے سوال کرتے ہیں کہ تم نے اپنی تاریخ کو کہاں گم کر دیا، کل جمنا کے کنارے تمہارے قافلوں نے وضو کیا تھا اور آج تمہیں یہاں رہتے ہوئے خوف آتا ہے حالانکہ دہلی تمہارے خون سے سینچی ہوئی ہے۔

اس کے بعد فرقہ پرستوں نے ایک اور دلیل پیش کی کہ 1945 اور 1946 کے تین انتخابات میں مسلمانوں نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا۔ دسمبر 1945 کے مرکزی انتخابات میں 30 مسلم نشستیں، جنوری تا فروری 1946 کے صوبائی انتخابات میں 509 میں سے 425 نشستیں یعنی 83.5 فیصد، اور جولائی 1946 کی قانون ساز اسمبلی میں 73 نشستیں مسلم لیگ نے جیتیں۔ اس لیے اب ہندستان میں مسلمانوں کا مساوی شہری حقوق کا مطالبہ بے بنیاد ہے۔

اس کا پہلا جواب انتخابی نظام کے جائزے میں ہے۔ یہ انتخابات گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت ہوئے جو ایک فرد ایک ووٹ کے اصول پر نہیں تھے۔ ووٹ کا حق صرف جائیداد، ٹیکس، تعلیم اور آمدنی کی سخت شرائط پر ملتا تھا جو زمینداروں، وکیلوں اور اعلیٰ ملازمین تک محدود تھا۔ عام کسان، مزدور اور خواتین محروم تھیں۔ اس وقت کل مسلم آبادی تقریباً 9 کروڑ تھی، قانونی اہل ووٹر تقریباً 90 لاکھ یعنی دس فیصد، اور بالفعل ووٹ ڈالنے والے تقریباً 60 لاکھ یعنی 6.6 فیصد۔ نوے فیصد آبادی پہلے ہی حق سے محروم تھی۔ اس لیے 6 سے 7 فیصد کی رائے کو 9 کروڑ کا اجتماعی فیصلہ کہنا تاریخی اور ریاضیاتی بددیانتی ہے۔ دوسرے جدید جمہوری ریاست میں حقوق کی بنیاد آئین، قانون کی حکمرانی اور مساوات پر ہوتی ہے نہ کہ 80 سال پرانے غیر مساوی انتخاب پر۔

دوسرا جواب جمعیت کی تاریخ سے ہے۔ جمعیت نے 30 مارچ 1919 سے شروع ہونے والی عدم تعاون تحریک سے لے کر 3 نومبر 1919 کو مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے ترک موالات کے فتوے تک، جس میں غیر مسلموں سے نہیں بلکہ انگریز حکومت سے بائیکاٹ کا کہا گیا تھا، ہمیشہ متحدہ قومیت کو بنیاد بنایا۔ 23 نومبر 1919 کو قیام سے لے کر آج تک وہ اسی پر قائم ہے جبکہ ٹو نیشن تھیوری کی اس نے کبھی تائید نہیں کی۔ اس لیے پاکستان کا نام لے کر ہندستانی مسلمانوں کو مشکوک بنانا فکری دہشت گردی ہے۔

وفاداری کے مسئلے پر بھی جمعیت کا موقف دو ٹوک رہا ہے۔ اسلام میں معاہدے کی پابندی مذہبی حکم ہے۔ مولانا انور شاہ کشمیری نے 2 تا 5 دسمبر 1927 کے صدارتی خطبے میں قرآن کی آیات "الا الذین عاہدتم من المشرکین" اور "فما استقاموا لکم فاستقیموا لہم" سے استدلال کرکے کہا کہ اگر برادران وطن مسلمانوں سے منصفانہ معاہدہ کرلیں تو مسلمانوں کو پورا وفادار پائیں گے۔ 27، 28 دسمبر 1947 کی آزاد کانفرنس میں مولانا حفظ الرحمان نے کہا کہ ہم اس ملک کے باشندے اور وفادار ہیں، اگر پاکستان بھی حملہ کرے گا تو مسلمان سب سے پہلے دفاع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بعض حکام مسلمانوں کو پانچواں کالم کہتے ہیں یہ غلط ہے، ہم اس ملک کو اسی طرح اپنا وطن سمجھتے ہیں جس طرح ہندو۔ وفاداری کا مطالبہ تو اس وقت ہوتا ہے جب معاملہ غیر ملکی سے ہو۔

تقسیم کے بعد جب وفاداری کے سوال نے زور پکڑا تو شیخ الاسلام حضرت مدنی نے دیوبند کی جامع مسجد سے فرمایا کہ اس ملک کو تم نے اپنے خون سے سینچا ہے آئندہ بھی سینچنے کا عزم رکھو، یہی حقیقی وفاداری ہے۔ یہ ثابت کرنا وزراء کا فرض ہے کہ وہ عوام کے وفادار ہیں، ہم کو ان سے باز پرس کا حق ہے پھر اس غلامانہ اظہار وفاداری کا کیا مطلب۔ انہوں نے سوال کیا کہ بہار، گڑھ مکتسر اور یوپی میں جو دکھ اٹھائے وہ کس غداری کا نتیجہ تھے، دہلی اور مشرقی پنجاب کی تباہی کس بے وفائی کا صلہ تھی، کلکتہ، نواکھالی، مغربی پنجاب میں ہندو سکھوں نے جو مصائب برداشت کیے وہ کس جرم کی سزا تھے۔ چالیس کروڑ میں سے دس فیصد کو ہی ووٹ کا حق تھا، دس کروڑ میں سے ایک کروڑ، اور اس میں سے بھی ساڑھے چار لاکھ ووٹ تقسیم کے حق میں پڑے یعنی ساڑھے چار فیصد، اس کو پوری قوم پر کیسے تھوپا جا سکتا ہے۔

26، 27، 28 اپریل 1948 کے پندرھویں اجلاس میں مولانا احمد سعید نے کہا کہ جو اس ملک کو اپنا ملک نہیں سمجھتے وہ چلے جائیں، بحری بری ہوائی راستے کھلے ہیں، میں جان بوجھ کر وفاداری کا لفظ استعمال نہیں کر رہا کیونکہ اپنا ملک ہے تو ثبوت کس کے سامنے۔ اسی اجلاس میں مولانا حفظ الرحمان نے کہا کہ بلا شبہ جو پاکستان کی طرف تکتے ہیں وہ چلے جائیں لیکن چار کروڑ مسلمان غدار نہیں، جس طرح جنگ میں جرمن عوام کو ہٹلر ازم کا حامی ہونے کے باوجود مٹایا نہیں گیا بلکہ کہا گیا کہ خطا لیڈرشپ کی ہے، اسی طرح لیگ کے حامی عوام کو معاف کیا جا سکتا ہے۔ وفاداری ڈرانے سے نہیں پریم اور محبت سے پیدا ہوتی ہے۔

27 تا 29 اپریل 1951 کے سترھویں اجلاس میں صدر استقبالیہ مقصود بن منصور مراد آبادی نے کہا کہ وفاداری کا سوال ملک اور دستور سے ہوتا ہے، میں اعلان کرتا ہوں کہ ہم اپنے ملک اور دستور کے وفادار ہیں اور ہر اس حکومت کے وفادار رہیں گے جو دستور پر پورا عمل کرے۔ مسلمانوں کو حجاز، ایران، شام سے بھی ہمدردی ہے تو کیا اس کا مطلب غداری ہے، خود حکومت ہند کو پاکستان سے ہمدردی ہے، وفود جاتے ہیں تو کیا وہ غدار ہے۔ اسی اجلاس میں مولانا حفظ الرحمان نے کہا کہ غداری افراد میں ہو سکتی ہے جماعت غدار نہیں ہو سکتی، پاکستان کی طرف نظر اٹھانا اگر غداری ہے تو مہاتما گاندھی کے سینے میں گولی مارنا بھی کم غداری نہیں۔

9، 10، 11 دسمبر 1960 کے بیسویں اجلاس میں انہوں نے پھر کہا کہ اگر کسی کو پنڈت نہرو سے وفاداری کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں تو حفظ الرحمان سے بھی نہیں، ہندو مسلم سکھ سب ہندستان کے جسم کے ٹکڑے ہیں ناخن میں تکلیف ہو تو پورے جسم کو ہوتی ہے۔ 15 تا 17 اپریل 1966 کے بائیسویں اجلاس میں مولانا سید فخرالدین احمد صدر جمعیت نے کہا کہ حفاظت وطن کے دعوے دار پریشان تھے کہ چھ کروڑ مسلمانوں کا کردار کیا ہوگا لیکن بریگیڈیئر عبدالحمید اور ان کے ساتھیوں نے عمل سے بتا دیا۔ اب بھی وفاداری کا مطالبہ دستور کے احترام کو پامال کرنا ہے۔ اسی اجلاس میں مولانا شاہد فاخری نے کہا کہ ہماری وفاداری زمین اور ملک سے ہے پارٹی سے نہیں، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں۔ 14، 15 جنوری 1983 کی مجلس منتظمہ میں یوپی کے وزیر اوقاف محمد امین انصاری نے کہا کہ حب الوطنی ہمارا ایمان ہے، مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ عبدالرحمان انتولے نے کہا کہ ان کی وفاداری پر شیطان بھی شک نہیں کر سکتا۔ 25، 26 جنوری 1991 کے کل ہند اجتماع میں فاروق عبداللہ نے کہا کہ مسلمان کسی سے وفاداری کا سرٹیفکیٹ نہ لیں۔ 29 اکتوبر 1995 کے پچیسویں اجلاس میں جسٹس سردار علی خان نے کہا کہ اس ہندستان پر مسلمانوں کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کسی اور کا، وزیر فلاح و بہبود سیتا رام کیسری نے کہا کہ کروڑوں مسلمانوں نے موت کے سائے میں ہندستان میں رہنا پسند کیا، اگر ان کی وفاداری پر شک ہے تو شک کرنے والوں کی وفاداری پر مجھے شک ہے۔ اسی اجلاس میں حق شہریت کی تجویز منظور ہوئی جس میں کہا گیا کہ مسلمانوں کا جذبہ وفاداری مذہبی فریضہ ہے، آزادی کے بعد نصف صدی میں ایک مسلمان بھی جاسوسی میں نہیں پکڑا گیا، چین اور پاکستان کی جنگوں میں روشن کردار پیش کیا، اس کے باوجود بنگلہ دیشی دراندازی کا ہوا کھڑا کرکے ووٹر لسٹ سے نام خارج کیے جا رہے ہیں اور شہریت کے ثبوت کے لیے ایسے کاغذات مانگے جا رہے ہیں جو وزراء کے لیے بھی آسان نہیں۔

16، 17 دسمبر 1998 کی مجلس عاملہ نے دینی مدارس اور مساجد کے خلاف مہم کو تشویش کی نظر سے دیکھا۔ 6 جون 1999 کے اقلیتی کنونشن میں مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ مسلمان ایک ہزار سال سے یہاں رہ رہے ہیں حاکم بھی رہے اور محکوم بھی لیکن ہمیشہ مکمل وفاداری کا ثبوت دیا۔ 25 مارچ 2000 کو مولانا اسعد مدنی نے آر ایس ایس سربراہ کے ایس سدرشن کے بیان کہ مسلمان ہندستان کو اپنا ملک سمجھیں کو کھلی شرارت کہا۔ 13 تا 15 اکتوبر 2000 کو آگرہ میں آر ایس ایس کی راشٹریہ سرکشا مہاشور کے بعد 17 اکتوبر 2000 کو مولانا اسعد مدنی نے کہا کہ آر ایس ایس کو اقلیتوں سے وفاداری کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں، وہ خود مین اسٹریم سے باہر رہی ہے، بتایا جائے وہ قومی دھارا کہاں بہہ رہا ہے۔ 21 جون 2002 کی مشاورتی میٹنگ کے میمورنڈم میں کہا گیا کہ مذہب کی بنیاد پر وفاداری پر انگلی اٹھانا قومی عداوت کے مترادف ہے۔ 9 مارچ 2003 کے ستائیسویں اجلاس کے صدارتی خطبے میں مولانا اسعد مدنی نے گولوالکر کے الزام کہ مسلمانوں کی وفاداریاں باہر ہیں اور ان کی آبادی گیارہ سے بائیس فیصد ہو گئی ہے کا جواب دیا کہ سرکاری رپورٹ میں آج بھی بارہ فیصد ہے، یہ جھوٹ اقلیتوں کے خلاف ماحول بنانے کے لیے ہے۔

20، 21 اگست 2006 کی علماء کانفرنس میں راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین کے رحمان نے کہا کہ وطن سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ 15 ستمبر 2006 کی پریس کانفرنس میں مولانا محمود مدنی نے کہا کہ وندے ماترم کو وفاداری سے جوڑنا ملک کو برباد کرنے کی سازش ہے، ٹیگور اور لوہیا نے بھی مانا ہے کہ یہ مسلمانوں کے عقیدے سے ٹکراتا ہے، سپریم کورٹ نے جن گن من کے نہ گانے کو جرم نہیں ٹھہرایا تو وندے ماترم جس کی دستوری حیثیت ہی نہیں اسے کیوں وفاداری کا ثبوت بنایا جا رہا ہے، ملک ہمارے لیے پیارا ہے قابل عبادت نہیں۔ 10 ستمبر 2007 کو انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے بعد بلا تحقیق مسلمانوں پر انگلی اٹھانا بند ہونا چاہیے۔ 31 مئی 2008 کی دہشت گردی مخالف امن کانفرنس میں دہلی گردوارہ کمیٹی کے پرم جیت سنگھ سرنا نے کہا کہ ہم خود 1984 میں اس دور سے گزرے ہیں، ہمیں صفائی دینے کی ضرورت نہیں کہ ہم وفادار ہیں، بدعنوانی دوسرے کریں اور صفائی ہم دیں۔ 9 نومبر 2008 کے انتیسویں اجلاس میں مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ہم اس ملک میں کرایہ دار نہیں ہیں، ہمیں کسی کا احسان نہیں چاہیے بلکہ وسائل میں ہمارا حق دیا جائے۔ 14 فروری 2009 کی امن کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ مسلمان اس ملک کے معمار ہیں، اس ملک کے مالک ہیں کرایہ دار نہیں۔ 3 نومبر 2009 کے تیسویں اجلاس میں انہوں نے کہا کہ یاد رکھو تم اس ملک کے حصہ دار ہو کرایہ دار نہیں، میں جب دنیا کے کسی حصے سے ہندستان کی سرزمین پر قدم رکھتا ہوں تو لمبی سانس لیتا ہوں جو خوشبو یہاں ملتی ہے وہ کہیں نہیں ملتی۔ اسی اجلاس میں سوامی اگنی ویش نے کہا کہ مسلمانوں کو سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں، جمعیت کی قربانی خود سرٹیفکیٹ ہے۔ 15 فروری 2019 کو بنارس میں مولانا حبیب الرحمان اعظمی کی خدمات پر سیمینار میں ناظم عمومی مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ہم ان کے نام لیوا ہیں جنہوں نے مذہب کے نام پر تقسیم کی مخالفت کی تھی اور اپنی مرضی سے اس ملک میں رہنا پسند کیا، ہمیں کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں، بدقسمتی سے ہماری قوم ستر سال سے صفائی دیتی آ رہی ہے۔ 25 ستمبر 2022 کے دھرم سنسد میں پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ ہندستان میرا ماتر بھومی بھی ہے اور پتر بھومی بھی کیونکہ ابوالبشر آدم پر پیغام حق سب سے پہلے اسی سرزمین پر نازل ہوا۔ 12 فروری 2023 کے چونتیسویں اجلاس کے صدارتی خطبے "بھارت ہمارا وطن" میں مولانا محمود مدنی نے کہا کہ بھارت ہمارا وطن ہے جتنا مودی اور بھاگوت کا ہے اتنا ہی محمود کا ہے، نہ محمود ایک انچ آگے ہے نہ وہ ایک انچ پیچھے، یہ دھرتی اسلام کی جائے پیدائش اور مسلمانوں کا پہلا وطن ہے اس لیے اسلام کو باہر سے آیا ہوا کہنا تاریخی طور پر بے بنیاد ہے۔ بھارت ہندی مسلمانوں کے لیے وطنی اور دینی دونوں حیثیتوں سے سب سے اچھی جگہ ہے لیکن اس کے لیے آئین، جمہوریت، انسانی حقوق اور اس کے چار ستون مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور میڈیا کا درست ہونا ضروری ہے۔ اسی اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ مذہبی منافرت وطن کی سالمیت کے لیے خطرہ ہے۔

آخر میں 29 نومبر 2025 کو بھوپال میں مجلس منتظمہ کے اجلاس میں نائب صدر مولانا محمد سلمان بجنوری نے حکومت کے دوہرے رویے پر کہا کہ ہم مدارس اور تمام مسلمانوں کی طرف سے واضح طور پر کہتے ہیں کہ ہم ملک سے غداری کرنے والوں کے ساتھ کبھی نہیں، ملک سے وفاداری ہمارے مذہب کا حکم ہے، معاہدوں کی پابندی ہمارے مذہب کا حکم ہے۔ لیکن ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جس طرح ایک مسلمان کے مشتبہ ہونے پر ٹارگٹ کیا جاتا ہے اپنے ہم مذہب بھائی کی بھی اسی طرح تحقیق کریں اور مجرم کو قرار واقعی سزا دیں۔

 یوں یہ طویل تاریخی سفر اس نتیجے پر منتہی ہوتا ہے کہ ہندستان کی آزادی سے پہلے اس کی شرعی حیثیت پر بحث تو ہوئی لیکن اس کے باشندے ہونے پر کوئی سوال نہ تھا، آزادی کے بعد وفاداری کا سوال اٹھا کر مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی کوشش کی گئی جبکہ حقیقت میں جمعیت علمائے ہند کی قیادت میں مسلمانوں نے ہمیشہ متحدہ قومیت، آئین اور جمہوریت کی بنیاد پر وطن کی آزادی اور حفاظت کو اپنا مذہبی اور وطنی فریضہ سمجھا ہے اور اسی بنیاد پر وہ آج بھی اپنے آپ کو اس ملک کا برابر کا حصہ دار سمجھتے ہیں نہ کہ کرایہ دار۔

 

3 Sept 2026

یمن: مختصر تاریخی جائزہ اور جمعیت علمائے ہند کا موقف

 یمن: مختصر تاریخی جائزہ اور جمعیت علمائے ہند کا موقف

محمد یاسین جہازی

یمن جزیرۂ عرب کے جنوب مغربی حصے میں واقع ہے۔ انیسویں صدی میں عثمانیوں نے دوبارہ یمن میں پیش قدمی کی اور 1872ء میں صنعاء پر قبضہ کرکے شمالی یمن میں اپنا اقتدار بحال کیا، تاہم زیدی اماموں اور قبائل کی مزاحمت جاری رہی۔ دوسری طرف 19 جنوری 1839ء کو برطانیہ نے عدن پر قبضہ کرلیا۔ 1869ء میں نہرِ سویز کھلنے کے بعد عدن برطانیہ کے ہندوستان اور مشرق بعید کے بحری راستے کا اہم فوجی و تجارتی مرکز بن گیا اور 1937ء میں اسے باقاعدہ برطانوی کراؤن کالونی بنا دیا گیا۔

جنگِ عظیم اول کے دوران شمالی یمن عثمانی اقتدار اور زیدی اماموں کے اثر میں، جبکہ عدن اور جنوبی علاقوں پر برطانوی اثر و تسلط تھا۔ 30 اکتوبر 1918ء کو معاہدۂ مدروس کے بعد عثمانی فوجیں یمن سے نکل گئیں اور امام یحییٰ حمید الدین نے شمالی یمن میں خود مختار حکومت قائم کی، جو متوکلی مملکتِ یمن کے نام سے معروف ہوئی۔ امام یحییٰ 1918ء تا 1948ء حکمران رہے، ان کے قتل کے بعد ان کے بیٹے امام احمد نے 1962ء تک حکومت کی۔

22 مارچ 1922ء کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے سلطنت عثمانیہ کی حدود کے متعلق اپنے موقف میں یمن کو بھی شامل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عربی زبان والے علاقوں، جن میں یمن بھی شامل تھا، کو کسی غیر مسلم حکومت کے ادنیٰ دخل و اثر کے بغیر خلیفۃ المسلمین سلطانِ ترکی کے زیر اقتدار داخلی آزادی دی جائے۔

11 تا 14 مارچ 1926ء جمعیت علمائے ہند کے ساتویں اجلاس عام میں حضرت مولانا سید سلیمان ندویؒ نے یمن کے متعلق خبردار کیا کہ اٹلی یمن پر قبضے کی کوشش کرسکتا ہے اور یمن کے اقتصادی تعلقات بڑھا رہا ہے؛ اس لیے سلطان ابن سعود اور امام یحییٰ کو یورپی طاقتوں سے معاہدات کرتے وقت پوری احتیاط برتنی چاہیے۔

1962ء سے 1970ء تک یمن میں جمہوری حکومت کے حامیوں اور سابق زیدی امامتی نظام کے حامیوں کے درمیان خانہ جنگی ہوئی۔ جمہوری دھڑے کو مصر کے صدر جمال عبدالناصر کی حمایت حاصل تھی، جبکہ شاہی دھڑے کو سعودی عرب اور بعض دوسرے عرب ممالک کی مدد حاصل تھی۔ جنگ ختم کرانے کی کوشش میں 24 اگست 1965ء کو جدہ میں شاہ فیصل اور جمال عبدالناصر کے درمیان معاہدہ ہوا، جس میں یمن میں جنگ بندی، بیرونی فوجی امداد کے خاتمے اور یمنی عوام کے ذریعے مستقبل کے نظام حکومت کا فیصلہ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اسی سلسلے میں 23 نومبر 1965ء کو حَرَض کانفرنس ہوئی، مگر فریقین کے اختلافات کے باعث یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔

جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی حضرت مولانا سید اسعد مدنیؒ نے شاہ فیصل اور جمال عبدالناصر کے درمیان مفاہمت پر دونوں کو مبارک باد دی۔ صدر جمال عبدالناصر کا جوابی تار 10 ستمبر 1965ء کو موصول ہوا، جس میں انہوں نے مولانا اسعد مدنی اور مسلمانانِ ہند کے مخلصانہ جذبات پر شکریہ ادا کیا۔

بعد کے دور میں بھی جمعیت علمائے ہند نے یمن کے حالات پر توجہ دی۔ 13 دسمبر 1982ء کو شمالی یمن کے دَمَار علاقے میں شدید زلزلہ آیا، جس میں تقریباً 2800 افراد جاں بحق، 1500 زخمی اور تقریباً سات لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔ 18 و19 دسمبر 1982ء کی مجلس عاملہ میں جمعیت نے یمنی عوام اور حکومت سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور اس سانحے میں ہندوستانی مسلمانوں کی شرکتِ غم کا اعلان کیا۔

2011ء میں عرب بہار کے دوران یمن میں صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف احتجاج شروع ہوئے۔ 23 نومبر 2011ء کو صالح نے ریاض میں اقتدار کی منتقلی کے معاہدے پر دستخط کیے، جس کے بعد 21 فروری 2012ء کو صدارتی انتخاب ہوا اور 27 فروری 2012ء کو عبدربہ منصور ہادی نے اقتدار سنبھالا۔

لیکن سیاسی بحران ختم نہ ہوا۔ حوثی تحریک نے منصور ہادی حکومت کے خلاف بغاوت کرکے ملک کے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا، جس کے نتیجے میں ہادی کو صنعاء سے نکل کر سعودی عرب پناہ لینا پڑی۔ مارچ 2015ء میں ان کی درخواست پر سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کردی، جس سے یمن کی خانہ جنگی مزید شدید ہوگئی۔ جمعیت علمائے ہند نے اس جنگ کو طاقت کے بجائے مذاکرات، جنگ بندی، انسانی حقوق کے تحفظ اور تمام طبقات کی مناسب سیاسی نمائندگی کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔

13 نومبر 2016ء کو جمعیت کے اجلاس میں مولانا محمد سلمان منصورپوریؒ نے یمن کی جنگ اور وہاں ہونے والی تباہی پر تشویش ظاہر کی، جبکہ صدر جمعیت مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوریؒ نے یمن میں مسلم ممالک کے باہم جنگ میں مصروف ہونے اور عالمی طاقتوں کے کردار پر افسوس کا اظہار کیا۔ اسی اجلاس کی تجویز میں سعودی اتحاد کی جنگ، انسانی بحران اور ایران و سعودی عرب کی علاقائی کشمکش کے پس منظر میں فوری سیاسی مذاکرات، انسانی حقوق کی پاس داری اور اقوام متحدہ کی تجاویز کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

بعد کے برسوں میں بھی جمعیت نے یمن کی صورت حال پر تشویش برقرار رکھی۔ 28 و29 مئی 2022ء کی مجلس منتظمہ اور 12 فروری 2023ء کے چونتیسویں اجلاس عام میں یمن سمیت عالم اسلام کے بحرانوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکمرانوں اور عوام سے باہمی اختلافات ترک کرکے سیاسی بصیرت اور باہمی گفت وشنید کے ذریعے مسائل حل کرنے کی اپیل کی گئی۔

اس طرح یمن کی تاریخ میں عثمانی اقتدار، برطانوی تسلط، امامتی حکومت، خانہ جنگی، عرب بہار اور موجودہ سیاسی بحران کے مختلف ادوار گزرے ہیں؛ جبکہ جمعیت علمائے ہند نے مختلف ادوار میں یمن کی خود مختاری، وہاں کے مسلمانوں کے تحفظ، جنگ کے خاتمے، سیاسی مفاہمت اور امن کے قیام کے لیے اپنے موقف اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔