12 Feb 2026

تحریک ریشمی رومال کے خدو خال

 تحریک ریشمی رومال کے خدو خال 

مولانا عبدالحمید نعمانی



تحریک ریشمی رومال ، ملک کی آزادی کی جدوجہد کے تناظر میں ایک اہم عنوان کے طور پر ایک خاص اہمیت رکھتی ہے؛ لیکن اس سلسلے میں ابھی تک باقاعدہ ایسی تحریر سامنے نہیں آئی ہے، جس کی بنیاد پر تحریک آزادی کے حوالے سے ایک واضح تصور بنائی جا سکے۔ حضرت شیخ الہندمولانا محمود حسن دیوبندی اور ان کے تلامذہ و رفقا کے بیانات ، خطوط، تحریروں اور انگریزی حکومت کی خفیہ رپورٹوں کا اس قدر حصہ ہماری دسترس میں یقینا آگیا ہے، جس سے اس نتیجے تک پہنچا جاسکتا ہے کہ ریشمی رومال کی تحریک، ملک کو برٹش سامراج کے پنجۂ استبداد وغلامی سے آزادکرانے کے مقصد سے کی جانے والی کوششوں میں سے ایک اہم جدوجہد کے عنوان سے عبارت ہے۔ اس سلسلے کے دو اہم نام ہیں: شیخ الہندمولانا محمود حسن اور مولانا عبیداللہ سندھی امام انقلاب، جن کی جدوجہد آزادی کے اہم مرحلے میں تحریک ریشمی رومال کا ذکر آتا ہے۔ ملک کو آزاد کرانے کے لیے حضرت شیخ الہندؒ کی مختلف سطحوںپر جدوجہدکر رہے تھے۔ اسے عام طور سے ـ’’ تحریک شیخ الہند‘‘ کے نام سے تحریک آزادی کے سلسلے کی دستاویز میں درج کیا گیا ہے، اسی کا ایک اہم باب ریشمی رومال تحریک بھی ہے، برٹش لائبریری میں اس کے متعلق انگریزی حکومت کے خفیہ شعبے کی طرف سے تیار کردہ جو رپورٹیں ہیں، ان کا جو کچھ حصہ سامنے آگیا ہے اور مولانا محمد میاں ؒ نے اپنے تبصرے اور تشریح کے ساتھ تحریک شیخ الہندؒ  انگریزی سرکار کی زبان میں ریشمی خطوط کیس اور کون کیا تھا کے نام سے مرتب کرکے شائع کردیا ہے۔ پوری کتاب کے مطالعہ سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ حکومت کے خفیہ شعبے کے افسران کو بعض معاملات اور ناموں میں مغالطہ ہوا ہے اور خفیہ اطلاعات  کے بعض امور کے درمیان ارتباط پیدا کرنے میں ناکامی ہوئی، اس کا بھی تحریک شیخ الہند ؒ کی پوری اور صحیح تصویر سامنے نہ آنے میں دخل ہے، اس کمی کی تلافی بڑی حد تک شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنیؒ کی اسیر مالٹااور خود نوشت سونح نقش حیات سے ہوتی ہے۔ خصو صا آخر الذکر کتاب میں اس حوالے سے پہلی بار تحریک ریشمی رومال کا قدرے مفصل تعارف نظر آتا ہے، جب کہ اول الذکر کتاب اسیر مالٹا میں مخصوص حالات کے سبب تحریک ریشمی رومال کا ایسے اسلوب میں ذکر کیا گیا، جس سے واضح تصویر نہیں بن پاتی ہے۔ صرف بین السطور میں حقیقت کو پڑھا اور دیکھا جاسکتاہے ، بتایا اور لکھا نہیں جاسکتا ہے، صرف تحریک میں شامل افراد ہی سمجھ سکتے ہیںکہ اشارہ کس طرف ہے، تاہم مخالف و موافق نقاط نظر اور تحریروں کو ملا کر پڑھنے سے تحریک شیخ الہند کا ایک ایسا خاکہ تیار ہوجاتا ہے ، جو یہ بتاتا ہے کہ تحریک ریشمی رومال گرچہ بے احتیاطی اور کچھ لوگوں کی غلطیوں کی وجہ سے کامیاب نہیں ہوپائی ، تاہم آزادی کی جنگ میں اس کا بنیادی رول ایک مسلمہ بات ہے، ریشمی رومال تحریک کے سلسلے میں ایک سوال یہ ہے کہ انگریزی حکمرانی سے آزادی کرانے کے منصوبوں پر مبنی تحریر وں میں کیا تھااور اس کو تحریک ریشمی رومال کا عنوان کیسے ملا، یہ عنوان دیا ہوا کس کا ہے،انگریزی افسران کا یا حضرت شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ یا مولانا عبیداللہ سندھیؒ وغیرہ مسلم مجاہدین کا ہے ؟ دستیاب ذخائر کے مطالعہ سے مترشح ہوتا ہے کہ برٹش افسران نے باہمی افہام و تفہیم کی غرض سے جاری تحریک آزادی کو یہ عنوان دیا تھا، چنانچہ حکومت برطانیہ کی سی آئی ڈی کی رپورٹ میں یہ الفاظ ملتے ہیں کہ’’ زیر نظر کیس کو اپنی آسانی کے لیے ریشمی خطوط کا کیس اس وجہ سے کہتے ہیں کہ اس بارے میں ہمیں گہری اور مکمل واقفیت اگست ۱۹۱۶ ء میں ریشمی کپڑے پر لکھے ہوئے تین خطوط کے پکڑے جانے سے حاصل ہوئی جو کابل میں موجود سازشیوں نے حجاز میں موجود سازشیوں کو روانہ کیے تھے۔‘‘

اس سے اور دیگر دستاویز و تحریروں سے معلوم ہوتا ہے کہ مولانا عبیداللہ سندھی ،مولانا میاں وغیرہ نے شیخ الہندؒ وغیرہ کو جو خطوط روانہ کیے تھے، وہ چوں کہ ریشمی کپڑے پر لکھے گئے تھے، اور ان میں ملک کو آزاد کرانے اور آیندہ کی حکومت سازی اور دیگر تفصیلات تحریر تھیں ، اس کے مد نظر برٹش حکومت کے افسران نے اسے جو ریشمی خطوط کیس قرار دیا تھا، وہی ریشمی رومال تحریک کا عنوان بن گیا ، اس سلسلے کے دیگر خطوط جو تحریک شیخ الہندمیں شامل افراد نے تحریر کیے ہیں ان سے اور حکومت کے کار پردازوں کی طرف سے منصوبہ بندی کرنے والوں کے خلاف قائم مقدمہ کی تفصیلات سے بھی صورت واقعہ پر روشنی پڑتی ہے ، اس سے ان لوگوں کے خیال کی تردید ہوتی ہے ، جو یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ تحریک ریشمی رومال اور آزادی کے لیے جاری تحریکات کے سلسلے میں تحریک شیخ الہند کوئی خاص ایسی چیز نہیں ہے کہ اسے مخصوص رنگ میں پیش کیا جائے۔

رولٹ کمیٹی کی رپورٹ ، نقش حیات( شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی) کی ذاتی ڈائری(از مولانا عبیداللہ سندھیؒ) اور ڈاکٹر ابو سلمان شاہ جہاںپوری اور ڈاکٹر ضیاء الدین لاہوری نے اس سلسلے میں جو مزید تحقیقات کی ہیں، ان سے ریشمی رومال کا رشتہ قطعی سے تحریک آزادی وطن اور اپنی حکومت بنانے کے منصوبے سے قائم ہوجاتا ہے۔ رولٹ کمیٹی کی رپورٹ سے بھی گرچہ شیخ الہندؒ کی اہمیت اور خاص کردار سامنے آتا ہے ، تاہم ا س میں معاملہ ناکافی معلومات یا غلط فہمی سے برعکس کردیا گیا ہے ، یعنی مولانا عبیداللہ سندھی ؒ اصل روح رواں اورمولانا محمود حسن ؒ کو ان سے متاثر اور تابع وق پیرو کار کے طور پر پیش کیا ہے، حالاں کہ یہ حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ مولانا سندھیؒ ، مولانا دیوبندیؒ کے تلامذہ میں سے ہیں اور تحریک شیخ الہندؒ کے فرماں بردار ارکان میں سے تھے۔

دیگر تفصیلات پر ایک نظر ڈالنے سے معاملے کا یہ پہلو بھی سامنے آتاہے کہ حضرت شیخ الہندؒ نے اپنے رفقا کے تعاون سے ترکی کے غالب پاشا سے جو تحریریں حاصل کی تھیں، ان میں سے ایک قدرے تفصیلی تحریر، ہندستان کو آزاد کرانے کے منصوبوں اور فوجی کارروائیوں پر مشتمل تھی، اسے ہی غالب نامہ کے نام سے جا ناجاتا ہے اور اسے حضرت شیخ الہندؒ نے ایک زعفرانی ریشمی کپڑے پر تحریر کرکے ایک صندوق میں خاص طور سے رکھ کر ہندستان بھیجا تھا اور مولانا سندھیؒ تک افغانستان پہنچا دیا گیا تھا۔ حضرت شیخ الہندؒ کے اس ارسال کردہ مکتوب کے جواب میں مولانا عبیداللہ سندھی ؒاور مولانا محمد میاں نے تین خطوط میں دو حضرت شیخ الہندؒ اور ایک شیخ عبدالرحیم سندھی کے نام بھیجے تھے، وہ بھی ریشمی کپڑے پر ہی تحریر کیے گئے تھے، اس لحاظ سے حضرت شیخ الہندؒ اور مولانا عبیداللہ سندھیؒ وغیرہ کے خطوں کا تحریک ریشمی رومال سے رشتہ قائم ہوجاتا ہے ، تاہم حضرت شیخ الہندؒ کی طرف سے ارسال مکتوب کو اولیت اور بنیاد کی حیثیت و درجہ دینا پڑے گا۔

تصویر ذرا واضح شکل میں پیش کرنے کے لیے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مذکورہ حوالوں میں رولیٹ کمیٹی کے نقل کردہ ضروری اقتباسات پیش کردیے جائیں۔ رولٹ کمیٹی کی رپورٹ میں یہ کہا گیا ہے کہ اگست ۱۹۱۶ء میں ریشمی خطوط کے واقعات کا انکشاف ہوا اور حکومت کو اس سازش کا پتا چلا، یہ ایک منصوبہ تھا، جو ہندستان میں اس خیال سے تجویز کیا گیا تھا کہ ایک طرف شمال مغربی سرحدوں پر گڑبڑ پیداکرے اور دوسری طرف ہندستانی مسلمانوں کی شورش سے اسے تقویت دے کر برطانوی راج ختم کردیا جائے۔

اس منصوبہ کو مضبوط کرنے اور عمل میں لانے کے لیے مولوی  عبید اللہ سندھیؒ نامی ایک شخص نے اپنے تین ساتھیوں : عبداللہ ، فتح محمد اور محمد علی کے ساتھ اگست ۱۹۱۵ء میں شمال مغربی سرحد کو پار کیا ، عبید اللہ پہلے سکھ تھا، بعد میں مسلمان ہوا اور دیوبند ضلع سہارنپور کے مذہبی مدرسہ میں تعلیم حاصل کرکے مولوی بنا، وہاں اس نے باغیانہ اور برطانیہ کے خلاف خیالات کا زہر چند مدرسین اور طلبہ میں بھی پھیلایا، جن لوگوں پر اس نے پنا اثر ڈالا تھا، ان میں سب سے بڑی شخصیت مولانا محمود حسن کی تھی، جو مدتوں تک درس گاہ دیوبند کے صدر مدرس رہے۔عبید اللہ چاہتا تھا کہ دیوبند کے مشہور و معروف فارغ التحصیل مولویوں کے ذریعہ ہندستان میں برطانیہ کے خلاف ایک عالم گیر اسلامی ( پان اسلامک) تحریک چلائے ، مگر مہتمم اور ارباب شوریٰ نے اس کو اس کے چند وابستگان کو نکال کر اس تجویز کو درمیان میں ہی ختم کردیا ، مولانا محمود حسن ہر حال میں دیوبند میں ہی رہے اور عبیداللہ سے ان کی ملاقاتیں ہوتی رہیں، مولانا کے مکان پر خفیہ مجالس قائم ہوتیں۔ اور کہاجاتا ہے کہ سرحد کے کچھ آدمی بھی ان میں شریک ہوا کرتے تھے۔۸ستمبر ۱۹۱۵ء کو مولانا محمود حسن نے میاں محمد ایک شخص اور دوسرے دوستوں کے ساتھ مولوی عبیداللہ کی پیروی کی اور ہندستان چھوڑ دیا مگر یہ لوگ شمال کا رخ کرنے کے بجائے عرب کا خطہ حجاز پہنچ گئے، روانہ ہونے سے بیشتر عبیداللہ نے دہلی میں ایک مدرسہ قائم کیا تھااور دو کتابیں شائع کی تھیں ، جن میں اس نے باغیانہ تعصب کی تبلیغ کرکے ہندستانی مسلمانوں کو فریضۂ جہاد سے متاثر کرنا چاہاتھا، اس شخص (عبیداللہ) اور اس کے دوسرے دوستوں اور مولانا (شیخ الہندؒ) کا اہم مقصد یہ تھا کہ بیک وقت ہندستان پر باہر سے حملہ کرایا جائے اور ہندستانی مسلمانوں میں بغاوت بھی پھیلائی جائے ہم اس جدوجہد کی تفصیل بتاتے ہیں ، جو اپنے مقصد کو کامیاب بنانے کے لیے عمل میں لائے۔

      عبداللہ اور اس کے دوستوں نے پہلے ہندستانی متعصب جماعت (مجاہدین) سے ملاقات کی اور بعد میں کابل پہنچے، وہاں عبیداللہ کی ملاقات ، ترکی جرمنی مشن سے ہوئی اور ان کے ساتھ اس نے بھائی چارہ قائم کیا ، کچھ عرصہ بعد اس کا دیوبندی دوست محمد میاں بھی اس سے جاملا، یہ شخص مولانا محمود حسن صاحب کے ساتھ عرب گیا تھا۔اور وہاں سے ۱۹۱۶ء میں جہاد کا ایک اعلان حاصل کرکے واپس آیا تھا، جو مولانا نے حجاز کے ترکی سپہ سالار غالب پاشا سے موصول کیا تھا، یہ دستاویز غالب نامہ کے نام ے مشہو ر ہے، محمد میاں نے اس کی کاپیاں ہندستان اور سرحد دونوں میں تقسیم کیں۔ مولانا عبیداللہ سندھی، ان کے ساتھیوںنے برطانوی حکومت کے خاتمے پر موقتہ حکومت کے لیے ایک تجویز تیار کی تھی، اس تجویز کے مطابق مہندر پرتاپ نامی ایک شخص کو صدر ہونا تھا، یہ شخص ایک معزز خاندان کا جوشیلا ہندو ہے۔ ۱۹۱۴ء کے اخیر میں اسے اٹلی ، سویزر لینڈ اور فرانس جانے کا پاسپورٹ دیاگیا، یہ سیدھا جینوا گیااور وہاں کے بدنام زمانہ ہردیال سے ملا، ہردیال نے اسے جرمن قونصل سے ملایاوہاں سے یہ برلن آیا، بظاہر اس نے وہاں جرمنوں کو اپنی اہمیت کے مبالغہ آمیز تصور سے متاثر کیااور اسے ایک خاص مشن پر کابل بھیجا گیا، خود مولانا عبید اللہ کو وزیر ہند اور مولانا برکت اللہ کو وزیر اعظم بننا تھا، مولانا برکت اللہ کرشن ورماکا دوست اور امریکن غدار پارٹی کا ممبر تھااور برلن کے راستے سے کابل پہنچا تھا، وہ ریاست بھوپال کے ایک ملازم کا لڑکا تھا، اور انگلستان، امریکا اور جاپان کی سیاحت کرچکا تھا، ٹوکیو میں وہ ہندستانی زبان کا پروفیسر مقرر ہواتھا، وہاں اس نے برطانیہ  کے خلاف سخت لب و لہجہ کا ایک اخبار جاری کیا، جس کا نام اسلامک فرنیٹر نئی ( اسلامی برادری) تھا، حکومت جاپان نے اس اخبار کو بند کرکے اسے پروفیسری سے معزول کیا کہ وہ جاپان کو چھوڑ کرامریکہ میں اپنی غدر پارٹی سے جاملا، ۱۹۱۶ء کی ابتدا میںمشن کے جرمنی ممبر اپنے مقصد میں ناکام ہوکر افغانستان سے چلے گئے، ہندستانی ممبر وہیں رہے اور حکومت موقتہ (پرویژنل گورنمنٹ) نے اسے ترکستان کے گورنر اور زاروس کو خطوط بھجے جن میں اسے برطانیہ کے ساتھ چھوڑنے اور ہندستان میں برطانوی حکومت کا خاتمہ کرنے کے لیے امداد کی دعوت دی گئی تھی، ان خطوط پر راجہ مہندر پرتاپ کے دستخط تھے اور یہ خطوط بھی برطانیہ کے ہاتھ آگئے، زار کو جو خط لکھا گیا تھا وہ سونے کی تختی پر تھااور اس کی ایک تصویر میں (رولٹ کمیٹی کے ارکان) دکھلائی گئی ہے، حکومت موقتہ کی ایک تجویز یہ تھی کہ ترکی حکومت سے روابط قائم کیے جائیں، اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے مولانا عبیداللہ نے اپنے پرانے دوست مولانا محمود حسن دیوبندی کے نام ایک خط لکھا، اس خط کو ایک دوسرے خط کے ساتھ ۸؍ رمضان (۹؍جولائی ۱۹۱۶ء) کو محمد میاں  نے لکھاتھا ملا کر ایک لفافہ میں شیخ عبدالرحیم کے پاس حیدرآباد سندھ بھیجا گیا ، شیخ عبدالرحیم تب سے غائب ہے لفافہ پر ایک تحریر تھی، جس میں شیخ عبدالرحیم سے یہ درخواست کی گئی تھی کہ یہ خطوط کسی قابل  اعتماد حاجی کے ہاتھ مولانا محمود حسن کے پاس مکہ معظمہ پہنچائے جائیں اور اگر کوئی دوسرا قابل اعتماد حاجی نہ مل سکے تو شیخ صاحب خود ہی یہ خدمت سر انجام دیں، مولانا محمود حسن کے نام خطوط جو حکومت برطانیہ کے ہاتھ آئے ہیں ، ہم نے خود دیکھے ہیں یہ خطوط زرد ریشم پر صاف اور واضح لکھے گئے ہیں محمد میاں کے خط میں جرمن اور ترک مشن کی سابقہ آمد، جرمنوں کی واپسی اور ترکوں کے معطل ، قیام کے بھاگے (مہاجر) طالب علموں کے واقعات ، غالب نامہ کی اشاعت کا ذکر تھا، اور حکومت موقتہ اور ایک حزب اللہ کے قیام کی تجویز درج تھی، اس میں فوج کی بھرتی، ہندستان سے کرنی تجویز ہوئی تھی، اور اس کا کام اسلامی حکومتوں کے درمیان سلسلہ اتحاد کا قائم کرنا تھا، مولانا محمود حسن سے یہ درخواست کی تھی کہ یہ سارے واقعات سلطنت عثمانیہ تک پہنچا دیں، مولانا عبیداللہ کے خط میں حزب اللہ کا مرتب و مکمل نقشہ تھا، اس فوج کا مرکز مدینہ میں قائم تھا، خود محمود حسن کو سالار اعلیٰ بننا تھا، ثانوی مراکز مقامی سالاروں کے ماتحت قسطنطنیہ ، طہران اور کابل میں قائم ہونے تھے اور کابل کا سالار مولانا عبیداللہ کو بننا تھا، اس فہرست میں تین سرپرستوں ، بارہ جرمنوںاور کئی اور اعلی فوجی عہدوں کے نام درج ہیں ، لاہور کے طلبہ میں ایک کومیجر جنرل بننا تھا، ایک کو کرنل اور چھ کو لیفٹیننٹ کرنل، ان اعلیٰ عہدوں کے لیے جن اشخاص کو تجویز کیا تھا، ان میں سے اکثر کے ساتھ اس تقرر کے بارے میں ملاقات نہ ہوسکی تھی، مگر اس ساری اطلاع کی وجہ سے جو ریشمی خطوط میں لکھا گیا تھاچند پیش بندیا ں مناسب سمجھی گئیںا ور وہ عمل میں لائی گئیں۱۹۱۶ء میں مولانا محمود حسن اور ان کے چار ساتھی برطانوی حکومت کے قبضے میں آگئے، اور وہ اس وقت برطانوی نگرانی میں جنگی قیدی ہیں۔ غالب نامہ پر دستخط کرنے والے غالب پاشا بھی جنگی قیدی ہے، اس نے یہ اقرار کیا ہے کہ محمود حسن پارٹی نے میرے سامنے ایک خط رکھا تھا اور میں نے اس پر دستخط کیے ہیں۔ (نقش حیات صفحہ ۲۹۷ تا ۳۰۳ مطبوعہ مکتبہ دینیہ دیوبند اشاعت ۱۹۹۹ء) 

اس رپورٹ سے واقعہ کی مجموعی تصویر سامنے آجاتی ہے گرچہ رولٹ کمیٹی کے ارکان کو واقعات کا مکمل اور صحیح علم نہیں ہے تاہم ، اس رپورٹ کے مذکورہ اقتباس سے بھی چاہے مبہم طور پر ہی سہی، مولانا محمود حسن کی شخصیت ہی مرکزی کردارکے طور پر سامنے آتی ہے ، اور مولانا سندھی کے خطوط حضرت شیخ الہند کی طرف سے غالب نامہ سے معروف خط کے بھیجے جانے اور ملنے کے بعد صورت واقعہ کو مولانا سندھی نے اپنے خطوط میں تحریر کرکے ارسال کیا تھا، گزشتہ ابتدائی سطور میں یہ سوال سامنے آیا تھا کہ ریشمی خطوط کے بنیادی خط اور مولانا سندھی کی طرف سے ارسال کردہ ریشمی خطوط بنام حضرت شیخ الہندؒ و شیخ عبدالرحیم کے مضامین کیا تھے، جب تک ان کا پورا متن سامنے نہیں ہوگا ، قدرے اطمینان بخش طور پر تحریک ریشمی رومال کا کاکہ نہیں بن پائے گا۔

حضرت مدنیؒ کی نقش حیات ، مولانا عبیداللہ کی ذاتی ڈائری اور مولانا محمد میاں کی علماء ہند کا شاندار ماضی اور علماء حق کے مجاہدانہ کارنامے اور تحریک شیخ الہند اور مقام محمود وغیرہ میں ریشمی خط غالب نامہ کے حوالے سے جو بحث پائی جاتی ہے، اس سے اتنا معلوم ہوجاتا ہے کہ کس طرح برطانوی اقتدار کو ہندستان سے بے دخل کیا جاسکتا ہے ، البتہ اول الذکر دونوں تصنیف میں غالب نامہ رولٹ کمیٹی کے ذیل میں ضرورت بھر جو حصہ نقل کیا گیا ہے ، وہ اس طرح ہے

ایشا یورپ اور افریقہ کے مسلمان اپنے آپ کو ہر قسم کے ہتھیار سے مسلح کرکے خدا کے راستے میں جہاد کرنے کے لیے کود پڑے ہیں، ترکی فوج اور مجاہدین اسلام، دشمنوں پر غالب آگئے ہیں، اس لیے مسلمانو! جس عیسائی حکومت کے بند میں تم پڑے ہوئے ہو، اس پر حملہ کرو، دشمن کو مرنے پر مجبور کرنے کے پختہ عزم کے ساتھ اپنی ساری جدوجہد عمل میں لانے کی جلدی کرو، ان پر اپنی نفرت اور دشمنی کا اظہار کرو، یہ بھی تمھیں معلوم ہونا چاہیے کہ مولوی محمود حسن آفندی (سابق مدرسہ دیوبند ہندستان سے تعلق رکھنے والے) ہمارے پاس آئے اور ہمارا مشورہ طلب کیا، ہم نے اس بارے میں اس (ان) سے اتفاق کیا اور انھیں ضروری ہدایات دیں، اگر وہ تمھارے پاس آئے تو تمھیں اس پر اعتماد کرنا چاہیے اور آدمیوں، روپیوں اور ہر اس چیز سے ان کی امداد کی جائے ، جس کی ضرورت اسے (انھیں) پیش آسکتی ہے۔‘‘ (ذاتی ڈائری ص؍ ۶۰، نقش حیات ص؍۲۰۳ تا ۳۰۴)

یہ پورا غالب نامہ نہیں ہے، بلکہ اس کے کچھ ضروری حصے یہاں وہاں سے نقل کیے گئے ہیں مولانا محمد میاں کی کتاب تحریک شیخ الہند ریشمی خطوط کیس کے مطالعہ سے صاف ہوجاتاہے کہ ان کے سامنے غالب نامہ کا متن نہیں تھا، اس لیے وہ لکھتے ہیں کہ اصل خط کا مضمون غالبا یہ تھا( مذکورہ کتاب ص؍۷۰ ، مطبوعہ الجمعیۃ بکڈپو) ا س کے مد نظر یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ پورا غالب نامہ نقل کردیا جائے تاکہ قاری کو یہ سمجھنے اور فیصلہ کرنے میں آسانی ہو کہ ریشمی خطوط کے بنیادی خط کی کیا اہمیت ہے اور برٹش سامراج نے اسے کیوں اتنی اہمیت دے کر باقاعدہ مقدمہ تیار کیا تھا، غالب نامہ کا متن یہ ہے:

قائم مقام (نمائندہ ) اعلیٰ حضرت خلیفہ رسول رب العالمین، امیر المومنین دام اقبالہ۔

یہ بات کسی پر مخفی نہیں ہے کہ جنگ ،عموماً گذشتہ ایک سال سے ترکی کی اسلامی حکومت کا رخ کیے ہوئے ہے۔ روس، فرانس اور انگریز (دشمنان اسلام) ممالک عثمانیہ پر بری و بحری حملے کر رہے ہیں ۔ اس صورت حال کے پیش نظر حضرت امیر المومنین نے محض اللہ کی نصرت اور خاتم الانبیا علیہ الصلاہ والسلام کی روحانی طاقت کے بھروسے پر جہاد مقدس کا اعلان کردیا ہے ، جس کے جواب میں ایشیا ، یورپ اور افریقہ کے مسلمانوں نے لبیک کہا ہے اور ہر قسم کے ہتھیاروں سے لیس ہوکر میدان جنگ میں کود پڑے ہیں،اللہ کا شکر ہے کہ ترکی فوج اور مجاہدین کی تعداد د شمنان اسلام کی تعداد سے بڑھ گئی ہے اور انھوں نے دشمنوں کی قوت کو مات دیاور اخلاقی طور پر کمزور کردیا ہے۔

چنانچہ روسیوں کی قوت کا ایک بڑا حصہ قفقازیہ میں تباہ کردیا گیا ہے اور ایک لاکھ برطانوی اور فرانسیسی فوج اور ان کے جہاز درۂ دانیال اوردوسرے مقاما ت پر تباہ کردیے گئے ہیں ۔ ترکوں ، جرمنوں اور آسٹریلیوں نے مشرق میں روسیوں کو اور مغرب میں فرانسیسیوں اور بلجیکیوں کو پیچھے دھکیل دیا ہے ۔ ایک تھائی روسی اور فرانسیسی علاقے اور سارے بلجیم اور لاکھوں رائفلوں ، بندوقوں اور دوسرے سامان جنگ پر قبضہ کرلیا ہے اور ہزاروں فوجیوں کو قیدی بنالیا ہے۔ اب بلغاریہ بھی مرکزی قوتوں کے ساتھ شریک ہوکر جنگ میں شامل ہوگیا ہے اور اس نے سربیا کے علاقے میں اندر تک گھس کر وہاں کے لوگوں کو شکست فاش دے دی ہے ، اس لیے میرا یہ پیغام میرے سلام کے ساتھ ان مسلمانوں کو پہنچا دیا جائے جو ان حکومتوں کی غلامی میں ہیں کہ وہ اب مکمل طور پر شکست کھا چکی ہیںاور بالکل لاچار و بے یارو مددگار ہیں اور ان کے یعنی مسلمانوں کے سامنے جس قوت و طاقت کا مظاہرہ کیا جارہا ہے ، وہ محض خیالی ہے۔

مسلمانو! آج تمھاری نجات کا دن ہے، اس لیے اب اپنی ذلت و خواری اور اپنی غلامی پر راضی و قانع نہ رہو، بلاشبہ آزادی، کامیابی، فتح و نصرت تمھارے ساتھ ہے۔اب خواب غفلت سے بیدار ہواور متحد ہوکر اپنے اندر تنظیم و اتحاد پیدا کرو۔ اپنی صفوں کو درست کرواور اپنے آپ کو ان چیزوں سے لیس کرو، جو تمھارے لیے ضروری اور کافی ہوںاور پھر اس ظالم و جابر عیسائی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑے ہو، جس کی غلامی کا کمزور طوق تمھاری گردنوں میں پڑا ہوا ہے۔ اس زنجیر غلامی کو اپنے مذہب کی طاقت اوراپنے دین کی تیز دھار سے کاٹ ڈالو، اس طرح اپنے وجود اور انسانی آزادی کے حقوق کو حاصل کرلو۔ ہم ان شا ء اللہ عنقریب مکمل فتح اور کامیابی کے بعد معاہدے کریںگے توتمھارے حقوق کی پوری طرح حفاظت کریںگے۔

اس لیے اب جلدی کرواور پختہ عزم و ارادہ کے ساتھ دشمن کا گلا گھونٹ کر اسے موت کے منہ میں پہنچادو اور اس سے نفرت و دشمنی کو مظاہرہ کرو۔ ہم تمھاری طرف اعتماد اور بھروسے کی نظر سے دیکھتے ہیں ، اس لیے یہ اچھا موقع ہاتھ سے جانے نہ دو ، بد دل نہ ہو اور خداوند بزرگ و برتر سے دلی مراد پوری ہونے کی امید رکھو۔

تمھیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیے کہ مولانا محمود حسن صاحب (جو پہلے دیوبند ہندستان کے مدرسے میں تھے)ہمارے پاس آئے اور ہم سے مشورہ طلب کیا، ہم اس بارے میں ان سے متفق ہیں اور ان کو ضروری ہدایات دے دی ہیں ، ان پر اعتماد کرو۔ اگر تمھارے پاس آئیں تو روپیے ، آدمیوں سے اور جس چیز کی انھیں ضرورت ہو ، اس چیز سے ان کی مدد کرو۔

دستخط غالب (پاشا)والی حجاز

غالب نامہ کے اس اصل متن اور نقش حیات اور ذاتی ڈائری میں نقل کردہ متن میں کچھ فرق ہے ، مثلا اصل خط میں حضرت شیخ الہند کے ساتھ آفندی کا لفظ نہیں ہے، نیز اس میں ’’اس‘‘ اسے کے بجائے ان اور انھیں کے الفاظ ہیں۔

اس غالب نامہ کا متن ظاہر ہے کہ برٹش حکومت کو اکھاڑ پھینکنے اور اس کے خلاف بغاوت کی دعوت دیتا ہے ۔ یہ شیخ الہند ؒ کی ہدایت کے مطابق ، خان جہاں پور مظفر نگر کے رہنے والے مولانا ہادی حسن حجاز سے ہندستان لے کر آئے تھے، جب کہ برٹش حکومت کی سی آئی ڈی کی رپورٹ میں ’’مولوی محمد میاں‘‘ کا نام تحریر کیا ہے۔

ڈی ڈی دیان کے دستخط کے ساتھ سی آئی ڈی کی رپورٹ میں غالب نامہ کے تعلق سے یہ لکھا گیا ہے کہ : ’’محمود حسن نے حجاز کے والی غالب پاشا سے یقینا غدارانہ ساز باز کی، لیکن یہ معلوم نہیں ہوتا ہے کہ آخر الذکر نے اس مہم میں اس کی زیادہ  ہمت افزائی کی، غالب پاشا نے کہا کہ ترک دوسرے قصوں میں الجھے ہوئے ہیں، وہ نہ تو افغانستان مدد بھیج سکتے ہیں اور نہ ہندستان کو لشکر روانہ کرسکتے ہین، تاہم انھوں نے مولانا کو فرمان جہاد دے دیا، جسے مولوی محمد میاں نے ہندستان بھیج دیا، وہ اس جماعت میں شامل تھے،جو جنوری ۱۹۱۵ء میں لوٹی تھی ، کہا جاتا ہے کہ آزاد علاقہ کے کٹر متعصب قبائل کو ہمارے خلاف مقابلے میں لانے کے لیے اسے بڑے موثر طریقہ پر استعمال کیا گیا، اس کی نقلیں کرکے ہندستان میں تقسیم کرائی گئی تھیں۔

یقین کیا جاتا ہے مولوی محمود حسن اور مولوی خلیل احمد دونوں ۱۹۱۶ء میں کسی وقت حجاز میں جمال اور انور سے ملاقات کی تھی، لیکن ان ملاقاتوں کے بارے میں کسی اور تفصیل کا علم نہیں، مولوی خلیل احمد ستمبر ۱۹۱۶ء میں ہندستان واپس آگئے، جب کہ مولوی محمود حسن اور ان کی جماعت کے چند منتخب اراکین حجاز ہی میں ٹھہرے رہ گئے اور شاید اب بھی مدینہ ہی ہیں۔کسی وقت مولوی محمود حسن کو خیال ہوا تھا کہ وہ حجاز سے قسطنطنیہ جائے ، لیکن ہم نہیں سمجھتے کہ اس نے اپنا یہ ارادہ پورا کرلیا ہو ، ابھی حال تک وہ مکہ تھا۔

ڈی ڈی دیان کی اس رپورٹ میں جن مولانا خلیل احمد کا ذکر سیاسی منصونہ بندی کے ذیل میں کیا گیا ہے ، وہ تفصیلات کے جائزے کے بعد محض افواہ پر مبنی قرار پاتا ہے۔ مولانا مدنیؒ جو بذات خود معاملہ میں شامل اور حضرت شیخ الہندؒ کے ساتھ تھے نقش حیات میں اس سلسلے میں تفصیل سے لکھتے ہوئے بتایا ہے کہ مولانا خلیل احمد صاحب کایہ سفر بمعیت اہلیہ محترمہ صرف حج و زیارت کے لیے تھا، کوئی سیاسی منصوبہ ان کے سامنے نہیں تھا۔ مدینہ طیبہ میں حضرت شیخ الہندؒنے ان کو اپنا ہمنوا بنا لیا تھا، ان کے ساتھ جو دیگر حضرات تھے وہ بھی سیاست سے خالی الذہن تھے ، ان کو سیاسی پارٹی قرار دینا صحیح نہیں ہے، البتہ بعد کی تحقیقات سے جو تفصیلات سامنے آئی ہیںان سے یہ انکشاف ہوتا ہے ، سیاسی معاملات میں پختہ تربیت نہ ہونے اور سیاست سے خالی الذہن ہونے کے سبب ریشمی خط غالب نامہ کے افشا میںایسے حضرات کی بے احتیاطیوں کا دخل ہے ، کچھ ایسی تحریریں بھی سامنے آگئی ہیں، جن سے معلومات ہوتا ہے کہ جن حالات میں حضرت شیخ الہندؒ مولانا محمود حسن اور ان کے خصوصی رفقا انگریزوں کے خلاف آزادی ہند کی تحریک چلارہے تھے، ان سے اتفاق نہیں تھااور اسے پسند نہیں کرتے تھے، اس لیے غالبا ریشمی خط کے راز کو چھپائے رکھنے میں جس احتیاط اور پختہ عملی و ذہنی کوششوں کی ضرورت تھی، وہ نہیں کیں، ایسے حضرات میں مولانا مرتضیٰ حسن چاند پوری حضرت شیخ الہندؒ کے عزیز میاں مسعود وغیرہ کے نام بھی آتے ہیں۔اس کے باوجود اس کی صراحت نہیں ملتی ہے کہ غالب نامہ اس وقت انگریزی سی آئی ڈی کے ہاتھ لگ گیا تھا بلکہ کچھ تحریریں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ غالب نامہ یا حضرت شیخ الہندؒ کی دوسری تحریریںاس کی دسترس میں نہیں آسکی تھیں، البتہ غالب نامہ کے متعلق مولانا عبیداللہ سندھی اور ان دیگر رفقا کے خطوط سے معلوم ہوا ، یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ مولانا سندھی کے زعفرانی ریشمی کپڑے پر لکھے خطوط اور تحریک سے متعلق اس سے وابستہ دیگر حضرات کے اور تحریک سے متعلق مکتوبات بھی دیے جائیں، ان سے ریشمی رومال تحریک کے افہام و تفہیم میں مدد ملے گی اور دیگر متعلقہ امور پر تنقید و تبصرے میں بصیرت و آسانی پیدا ہوگی۔

مولانا عبیداللہ کا خط مولانا محمود حسن کے نام

احوال انجمن دیگر (موسوم) بنام حکومت موقتہ ہند

ایک ہندستانی رئیس مہندرپرتاپ ساکن بندرابن جسے آریاوں کی جماعت سے خاص تعلق ہے اور ہندستانی راجگان سے واسطہ در واسطہ ملتا ہے ۔ گذشہ سال جرمنی  پہنچا۔ قیصر سے ہندستان کے مسئلے میں ایک تصفیہ کرکے اس کا ایک خط بنام روساء ہند و امیر کابل لایا۔

حضرت خلیفۃ المسلمین نے بھی قیصر کی طرح اسے اپنا وکیل ہند بنایا اس کے ساتھ مولوی برکت اللہ بھوپالی جو جاپان و امریکہ میں رہ چکے ہیں ، برلن سے ہمراہ ہوئے۔قیصر کے قائم مقام ایک اور سلطان المعظم کے ایک افسر اس کے ساتھ کابل آئے ، یہ لوگ میرے کابل  پہنچنے سے پہلے سے دس روز قبل پہنچ چکے تھے ، انھوں نے ہندووں کے فوائد کی تائید میں ہندستانی مسئلہ امیر کے سامنے پیش کیا اور کابل میں دونوں نے ایک انجمن کی بنام مذکورہ بالا بنیاد ڈالی ۔ اس کا کا م یہ ہے کہ وہ ہندستان کے معاملات پر مستقبل میں دول عظمیٰ سے معاہدات کرے۔

ایسے اسباب پید اہوگئے کہ انھوں نے مجھ سے اس انجمن میں شامل ہونے کی درخواست کی میں نے اسلامی مفادات کی حفاظت کی نظر سے قبول کیا۔

 (۱) چند روز مباحثات کے بعد اس انجمن نے قبول کرلیا کہ افغانستان اگر جنگ میں شرکت کرتا ہے تو ہم اس کے شاہزدے کو ہندستان کا مستقبل بادشاہ ماننے کو تیا رہیں۔ اور اس قسم کی درخواست امیر صاحب کے یہاں پیش کردی ، لیکن چوںکہ امیر صاحب ابھی شرکت جنگ کے لیے تیار نہیں ، اس لیے معاملہ ملتوی کر رکھا ہے۔

(۲) اس حکومت کی طرف سے روس میں سفارت گئی ، جس میں ایک ہندو اورا یک مہاجر طالب علم تھا جو افغانسان کے لیے مفید اثرات لے کر واپس آئے ، اب روس کا سفیر کابل آنے والا ہے۔ روس کی انگریزوں سے برہمی میں جس کے فیصلے کے لیے کچز جاتا ہوا غرقاب ہوا، ممکن ہے کہ سفارت مذکورہ کا اثر بھی شامل ہو۔

(۳) ایک سفارت براہ ایران قسطنطنیہ اور برلن گئی ہے ، اس میں دونوں ہمارے مہاجر طالب علم ہیں ، امید ہے حضور میں حاضر ہوکر مورد عنایت ہوںگے۔

(۴) اب ایک سفارت جاپان اور چین کو جانے والی ہے۔

(۵) ہندستان میں پہلی سفارت بھیجی گئی، وہ زیادہ کامیاب نہیں ہوئی۔

(۶) اب دوسری سفارت جارہی ہے۔

(۷) تھوڑے دنوں میں ایک دوسری سفارت برلن جانے والی ہے۔

جرمن سفارت سے میرے ذاتی تعلقات بہت اعلیٰ درجے پرہیں ، جس سے اسلامی فوائد میں بہت مدد ملے گی ۔ اس حکومت موقتہ میں راجہ پرتاپ صدر ہیں ، مولوی برکت اللہ بھوپالی وزیر اعظم اور احقر وزیر ہند ۔فقط والسلام(عبیداللہ)

مولانا عبید اللہ سندھی کا خط بنام شیخ عبدالرحیم

۹؍ رمضان یوم دو شنبہ 

(مطابق ۱۰؍ جولائی ۱۹۱۶ء)کابل

سلام مسنون!آپ ضرور ،یہ امانت مدینہ طیبہ میں حضرت مولانا کی خدمت میں کسی معتمد حاجی کی معرفت پہنچا دیں، یہ ایسا کام ہے کہ  اس کے کے لیے مستقل سفر کرنا نقصان نہیں ، اگر آدمی معتمد ہو تو زبانی یہ بھی کہہ دیں کہ حضرت مولانا یہاں آنے کی بالکل کوشش نہ کریں اور مولوی اگر اس حج پر نہ آسکیں تو خیال فرمالیں کہ اس کا آنا ممکن نہیں۔

آپ اس کے بعد خود میرے پاس آنے کی کوشش کریں، کیوں کہ یہاں بہت سے ضروری کام ہیں ، ضرور آئیے، اگر خدا نخواستہ آپ کو معتمد حاجی نہ مل سکے، اور آپ خود بھی نہ جاسکیں، تو مولوی حمد اللہ پانی پت والے سے اس معاملے میں مدد لیں۔ یہ ضروری ہے کہ اس حج کے موقعہ پر یہ اطلاعات حضرت مولانا کے پا س پہنچ جائیں اور وہاں سے جو اطلاع ملے، وہ براہ راست نہ ہوسکے تو مولوی احمد لاہوری کی معرفت ضرور ہی ملنی چاہیے۔عبیداللہ عفی عنہ

اس سلسلے میں تین خطوط کا حوالہ آتا ہے ، اس حساب سے مولانا سندھی کا ایک اور مکتوب حضرت شیخ الہند ؒ کے نام ہونا چاہیے، لیکن ریکارڈ میں ان کے حوالے سے یہ دو ہی خط ملتے ہیںجن مکتوب میں حضرت شیخ الہندؒ کے بھیجے غالب نامہ ریشمی خط کا حوالہ نہیں ملتا ہے ۔ حضرت شیخ الہند کے نام مولانا سندھی کے خط میں کوئی تاریخ مرقوم نہیں ہے لیکن شیخ عبدالرحیم سندھی کے نام مولانا عبیداللہ سندھی کے تحریر کردہ مکتوب سے ایک دن پہلے ۹؍ جولائی ۱۹۱۶ء کو مولانا محمد میاں منصور انصاری نے جو مکتوب مولانا محمود حسن کے نام تحریر کیا ہے، اس میں غالب نامہ اور اس کے متعلق دیگر امور کا حوالہ ملتا ہے۔ اور غالباً تیسرا مکتوب یہی ہے ، اس رائے کو تقویت اس بات سے ملتی ہے کہ کچھ تحریروں میں اس کا ذکر ہے کہ یہ بھی ریشمی کپڑے پر لکھا گیا تھا۔حضرت شیخ الہندؒکا ارسال خط غالب نامہ تو مولانا سندھی اور ان کے دیگر رفقا کے ساتھ اور بھی بہت سے افراد کو مل گیا تھا لیکن اس کا واضح ذکر نہیں ملتا ہے کہ مولانا سندھی کے لکھے خطوط حضرت شیخ الہندؒ کو ملے یا نہیں، اس تناظر میں مولانا محمد میاں کے مکتوب کی ایک اہمیت ہوجاتی ہے ، اس سے ریشمی رومال تحریک کے کئی گوشے سامنے آتے ہیں، خط کا مکتوب کا متن یہ ہے 

مولانا محمد میاں کا خط حضرت مولانا محمود حسن کے نام

از کابل۸؍ رمضان المبارک۔ روز ابتدا

وسیلہ یومی و غدی حضرت مولانا صاحب مد ظلہ العالی،آداب و نیاز مسنونہ

جدہ کے بعد کا حال یہ ہے۔ بمبئی آرام و بے خطر پہنچے، بندر پر اسباب کی تلاشی میں خدام سے دانستہ اغماض برتا گیا ، فللہ الحمد ۔ مولانا مرتضیٰ کام کو ناممکن خیال کرتے ہیں ، اس لیے ان کو کام میں نہیں لیا گیا، مولوی ظہور صاحب بمبئی استقبال کو پہنچے تھے اور محمد حسین راندیر سے ، راندیر میں تحریک چندہ صرف سید صاحب کے خلاف سے ناکام رہی ، راندیر خطیب مکر جانے والے تھے نہ معلوم کیا ہوا، قاضی صاحب نے بعد ملاحظہ والا نامہ سرپرستی قبول فرمائی ، جماعت پر اعتماد بحال رکھ کر کام کرنے کی اجازت دی ، اس کام کو باضابطہ کرنے کے لیے ایک سالہ رخصت لینے کا قصد فرمارہے ہیں، جماعت کا ہر سہ ممبر سرفروشی کررہے ہیں ، مطلوب الگ ہوگیا، سید نور سست، مولانا رائے والے متفق و معاون ہیں، حکیم صاحب پچاس روپے ماہوار مکان پر جاکر خود دیتے رہتے ہیں اور درمیان میں بھی ایک دو بار جاتے رہتے ہیں اور گاہ بگاہ ڈاکٹر صاحب بھی، حنیف کو جماعت، دس روپے جیب خرچ دیتی ہے، وہ مکان پر ہی ہیں، مدرسہ نے ان سے کوئی ہمدردی نہیں کی، مالکان مدرسہ سرکار کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں ، نمائش کے دربار میں شرکت کا فخر بھی نصیب ہونے لگا۔ امیر شاہ مولانا عبدالرحیم صاحب کے دستی کام کے لیے پڑا ہے ، مولانا مدرسہ سے مرعوب ہیں، مگر خدام کی صفائی فرماتے رہتے ہیں مولوی رامپوری نے بھی تائید سے کنارہ کیا، مسعود بھی شکار ہوگیا۔

بندہ حسرت، آزاد سے ملا، دونوں پیکار ہوچکے ہیں ، کیوں کہ بندہ کا لوٹنا حضور تک ممکن نہ تھا، اس لیے آگے بڑھا، غالب نامہ احباب ہند کو دکھا کر حضرات یاغستان کے پاس لایا، حاجی بھی اب مہمند میں ہیں، مہاجرین نے مہمند، باجوڑ، صوات،بینر وغیرہ علاقوں میں آگ لگا رکھی ہے، ان علاقوں میں غالب نامہ کی اشاعت کا خاص اثر ہوا، اس لیے ضروری ہے کہ حسب وعدۂ غالب مصالحت کے وقت یاغستان کی خدمت کا خیا ل رکھا جائے۔ ضعف جماعت ہند سے مہاجرین کو کافی امداد نہیں پہنچ سکی ۔ بندہ یاغستان ایک ماہ قیام کرکے وفد مہاجرین کے ساتھ کابل پہنچا، مولانا سیف جماعت سے الگ ہوکر یہاں مقیم ہیں، ان کے لیے دولت کی طرف سے کام کی تجویز ہورہی ہے ، اعضائے وفد فضلین و عبدالعزیز ہیں۔مولانا الناظم کی توجہات و حاجی عبدالرزاق صاحب کی عنایات سے وفد کو دربار نصر اللہ میں رسائی کی ابتدائی کامیابی بھی ہوئی، بندہ ان سے الگ باریاب ہوا، حضور کے زیر اثر کام اور اس کے اصول کی تفصیل کی گئی ،خاص مقبولیت ہوئی، الحمد اللہ اور ان شا ء اللہ ۔ اس ذیل میں حاضر خدمت ہوںگا۔

یہاں کا حال یہ ہے کہ یہاں فتاویٰ و سفرائے ترک و جرمن پہنچے ، ان کا اعزاز پورا ہوا، لیکن مقصد میں ناکام رہے، وجہ یہ ہے کہ ترکی کا فرض تھا کہ ایام ناطرف داری میں ایران و افغانستان سے ان کی ضروریات معلوم کرتا، اس کے پورا کرنے کی سبیل کرتا اور حسب احوال معاہدہ دوستی کرتا، افغانستان نہ بڑی جنگ میں شرکت کا سامان رکھتا ہے اور نہ کوئی بڑی دولت اس کے نقصانات کی تلافی کا ذمہ دار ہے ، اس لیے شریک حرب نہیں ہوسکتا، اگر ضروری افسران، انجینئران، اسلحہ ، روپیہ دیا جائے اور بصورت غلبۂ کفر عصمت و اعانت کا عہد نامہ کیا جائے، تو شرکت کے لیے تیار ہیں۔ باایں ہمہ سردار نائب السلطنت ، عام سرحدی وزیر آفریدی مہمند ، باجوڑ ، صوات، بنیر، چکسر، غوربند، کرناہ، کوہستان، دیر، چترال وغیرہ میں اپنا اثر منظم کرتے اور ان سے وکلا طلب کر کے عہد شرکت بصورت جنگ لے رہے ہیں۔ یہ کام ایک حد تک ہوچکا ہے، سفرا جرمن واپس اور ترک مقیم ہیں، مگر بے کار۔ تعجب ہے کہ سفرا خالی ہاتھ آئے حتیٰ کہ کوئی کافی سند سفارت بھی نہ لائے ، ا یسی صورت میں کیا ہوسکتا ہے، مولانا الناظم باعافیت ہیں، دولت میں ایک حد تک اعتماد ہوگیا ہے، انگریز ان کو یہاں جاسوس ثابت کرنے کی سعی کرتے رہتے ہیں، جن کا کچھ نہ کچھ اثر بھی ہوتا ہے ۔ مگر الحمد للہ کہ ان کو اب تک پوری کامیابی نہیں ہوئی۔

مہاجرین طلبہ انگریزی اور بعض سکھ بھی اب یہاں حاجی عبدالرزاق صاحب کی مدد و نائب کی مہربانی سے آزاد ہیں اور مولانا الناظم کی زیر سرپرستی دیے گئے ہیں، مصارف بذمہ دولت ہیں۔ کوئی سرکاری کام ان کے ذمہ نہیں ہے۔ البتہ مولانا کے خاص کاموں میں بہ ایمائے نائب السلطنت دست و بازو ہیں، جن کی تفصیل یہ ہے 

ایک جمعیۃ ہندستان آزاد کرانے والی اس کا صدر ایک ہندی راجہ مقیم کابل ہے ، جو کہ سلطان معظم اور قیصر جرمنی کے اعتماد نامہ کے ساتھ یہاں پہنچا ہے۔ ناظم صاحب و مولانا برکت اللہ اس جماعت کے وزرا ہیں ، اس جماعت نے ہندستان میں مراکز و دیگر  دول سے معاہدات کرنے کے لیے حرکت کی ہے ، جس میں ابتدائی کامیابی ہوئی ہے۔اس کام میں عضو متحرک طلبہ ہی ہیں۔ ان میں بعض دربار خلافت ہوکر حاضر خدمت ہوںگے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ 

دوسری جماعت الجنود الربانیہ ۔ یہ فوجی اصول پر مخصوص اسلامی جماعت ہے، جس کا مقصد اولیہ سلاطین  اسلام میں اعتماد پیدا کرنا ہے ، اس کا صدر جس کا نام فوجی قاعدہ سے جنرل یا القائد ہے ، حضور کو قرار دیا گیا ہے اور مرکز اصلی مدینہ منورہ۔ اس لیے خیال ہے کہ حضور مدینہ منورہ میں رہ کر خلافت علیا سے ، افغانستان  ویران کے ساتھ معاہدے کی سعی فرمائیں اور افغانستان کے متعلق ، نیز یا غستان کے متعلق تجویز کو خدام تک پہنچا دینا کافی خیال فرمائیں۔

افغانستان شرکت جنگ کے لیے امور مذکورہ بالا کا طالب ہے جسے اولیا ء دولت عثمانیہ و خلافت ثانیہ تک پہنچانے کی جلد سے جلد تدبیر کیجیے۔کیوں کہ ہندستان میں کفر پر کاری ضرب لگانے کی یہی ایک صور ت ہے ، اہل مدرسہ مولوی محسن، سید نور کے ذریعے سے حضور کو ہند میں لانے کی سعی میں ہیں، کیوں کہ اب یہ معلوم ہوا ہے کہ حجاز میں بھی کام ہوسکتاہے ، ادھر انگریزوں میں پہلی سی عزت بوجہ عدم ضرورت اب نہیں رہی۔

قاضی صاحب، حکیم صاحب، ڈاکٹر صاحب، مولانا رائے والے حضور کو مراجعت ہند کے سخت مخالف ہیں ، یہ خطرہ بوجہ قصۂ غالب کے علم ہونے کے ذریعہ مطلوب ، اب پہلے سے بہت بڑھ گیا ہے ، اس لیے ایسی کسی تحریک کو ہرگز ہر گزمنظور نہ فرمایا جائے۔

مبلغ عطاء حضور کے مکان پر اور سید نور کو ضرورت نہ ہونے کی وجہ سے جماعت کے سپرد کردیا گیا ، بندہ حصول قدم بوسی کی سعی میں ہے ، اللہ تعالیٰ سے امید ہے کہ کامیاب ہوںگا۔ مولانا الناظم، مولانا سیف، فضلین وعبدالعزیز و جملہ مہاجرین طلبہ سلام عرض کرتے ہیں، والسلام

برادر عزیز واحد مولانا حسین ، ان کے والدصاحب وبرادران ، حرمت اللہ و احمد جان صاحبان کی خدمت میں سلام مسنون۔ مدنی خطوط ہند لہ ڈاک کے حوالہ کردیے گئے تھے۔ ڈاکٹر شاہ بخش صاحب کی خدمت میں سلام مسنون عرض ہے۔ و سید ہادی و خدا بخش و حبیب اللہ غازی کو بھی۔

(۲)

تحریر اینکہ در ریاستہا ئے یاغستان خدام والا دین اسلام اٰجزا نمودہ اند۔ نمونہ آن ازین خط و قاصد نواب صاحب دیر و صوات معلوم خواہد شد۔ نواب دیر قوت پنجاہ ہزار فوج دارد بذریعۂ ملا صاحب بابڑہ اورا برائے خلاف انگریز نوشتہ شدہ بود۔ اور زبانی وعدۂ واثق نمودہ است۔ چنانچہ عبدالمتین خان پسر عمراخان غازی مرحوم از کابل فرار شدہ آمدہ۔ نواب دیر اورا جائے دادہ باوجودسخت سعی انگریز اورا نہ بخشید۔ بر ریاست عمراخان مرحوم برادر زادہ اش قابض و سخت حامی انگریز است۔ نواب دیر بمقابلۂ وے از فوج و روپیہ امداد عبدالمتین نمودہ قریب این شدہ است کہ بر ریست جنددل عبدالمتین خان را قابض نماید۔

امید است کہ در امروز و فردا قبضہ شود، ان شاء اللہ۔

عبد المتین بخدمت جناب ملا صاحب بابڑ حاضر شدہ بود ، سخت دشمن کفار است۔ بعد قبضہ ٔ این باقی رؤسائے یاغستان کہ خان خارد خان جار۔ خان نوی کلی ہستند ان شاء اللہ از دوستی کفار نائب خواہند شد۔ چراکہ فوت دیرو قوت جندول ہر دو انیقدر قوی است کہ باقی ہمہ خوانین را تابعداری شان لازم است۔ خوانین علاقہ چارمنگ خورد وخان کوٹلی از اوّل دشمنانِ انگریز اند۔ مجموعہ قوۃ ذاتی شان قریباً یک ہزار نفری است۔ و معہ اقوام آزاد چار منگ (کہ در غزی شریک شان می باشند) تا ۳ ہزار می رسد۔ درین خوانین محمود خان قابل ترین و خادم دین است۔ ان شاء اللہ تعالیٰ از نواب دیروجندول وغیرہم عرضداشتہا ہمراہ خود خواہم آورد۔ این فقط نمونہ کار و احوال است۔ از دربار خلافت امید است کہ از حقوق این نواح غافل نخواہد بود۔ از احیاء ایشیا اوسطے کہ از قوۃ اسلامیہ پرودد زیر اثر کفار است چشم پوشی نتوان کرد۔ برائے ترقی و بقائے خلافت علیہ و حفاظت اسلام در خیال بندہ احیائے ایشیائے اوسطے علیٰ الخصوص ہندوستان از افریقہ کم نیست۔ پس لازم است کہ ماہمہ وسائل خویش را درین باب صرف نمایم فقط۔

محمد میاں عفی عنہ انصاری ابوایوبی

مقام جائے ملا صاحب بابڑہ (باجوڑ)، یاغستان

۱۵؍شوال المکرم ۱۳۳۵ھ

خط مولوی محمد میاں انصاری بنام مولانا حسین احمد مدنی

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بخدمت بابرکت مخدومنا جناب مولانا الشیخ سیّد حسین احمد صاحب مدرس الحرم مع برادران عم فیوضہم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ۔ بندہ جس وقت ہندوستان پہنچا، غوغا تھا کہ حضرت مولانا مدظلہ‘ کو مع کل جماعت کے انگریز نے عدن میں قید کردیا۔ اب یہ مشہور ہے کہ شریف مکہ نے خدانخواستہ حضرت مدظلہم کو گرفتار کرکے انگریزوں کو دے دیا۔ خداتعالیٰ سے اس کی امید نہیں۔ ایک عریضہ حضرت کی خدمت میں ارسال ہے۔ اگر حامل عریضہ کی حضرت سے ملاقات نہ ہو تو آپ صاحبوں میں سے جو بھی موجود ہوں وہ مہربانی فرماکر میرے عریضہ کا ترکی میں ترجمہ کراکر بذریعہ والی مدینہ منورہ بخدمت حضرت انورپاشا وزیر اعظم خلافت سنیہ روانہ فرمادیں ضروری ہے۔ حاملِ عریضہ کو جس قسم کی مدد کی ضرورت ہو اس سے دریغ فرمادیں۔ حضرت والد صاحب کی خدمت میں سلام مسنون اور بچوں کو دعوات پہنچے۔ والسلام مع الاکرام۔

عریضہ  محمد میاں عفی عنہ انصاری ابوایوبی

۱۵؍شوال المکرم ۱۳۳۵ھ

نوٹ: باقی احوال یہ صاحب حاملِ عریضہ زبانی بیان فرمائیں گے، ان کو بھی آپ ترجمہ زبانِ ترکی میں فرماکر بخدمت حضرت عالی انورپاشا روانہ فرمائیں۔ یہ احوال اب معلوم ہوئے ہیں۔ محمد میاں عفی عنہ انصاری

فہرست تحریرات

۱- نمونہ عرضداشت جمعیۃ حزب اللہ یاغستان بخدمت اعلیٰ حضرت سلطان المعظم خلد اللہ ملکہ۔

۲- نمونہ عرضداشت علمائے خوانین یاغستان بجواب نامہ حضرت غالب پاشا والی حجاز بخدمت اعلیٰ حضرت سلطان المعظم۔

۳- عریضۂ بندہ بخدمت حضرت مولانا مدظلہ‘ العالی

۴- فہرست مرکز سرحدیہ منظور کردۂ دولت افغانستان

۵- عریضہ مولوی فضل ربی صاحب بخدمت حضرت مولانا مدظلہ‘ العالی۔

۶- عریضہ نواب دیر بخدمت جناب مُلّا صاحب بابڑہ۔

۷- خط قاضی دیر بنام مولوی فضل ربی صاحب

ان سب کا ترجمہ ترکی میں کراکر اور ایک بڑے لفافہ میں یک جا بند کرکے اس پر حضرت عالی انورپاشا کا پتہ لکھ دیا جائے اور والیِ مدینہ منورہ کی معرفت یا جو صورت احسن آپ کو معلوم ہو اس طریقہ سے حضرت انور میں روانہ فرمائیں۔ رازداری کا نہایت لحاظ رہے اور اصل ترجمہ کی ہمراہ ہو۔ قیصر جرمن کے خطوط ریاست ہائے ہند کے نام راجہ مہندرپرتاپ نے ترکستان سے روانہ فرمائے ہیں۔ ان کے پہنچانے کا جلد انتظام کیا جائے۔ اس ڈاک کا جواب اگر حضرت عالی انورپاشا سے حامل عرائض ہٰذا کے ہاتھ روانہ فرماسکیں تو اس سے یہاں کچھ تحریک پیدا ہوسکتی ہے۔ ورنہ جس افسر ترکی کو لفافہ دیا جائے، اس سے باضابطہ رسید لے کر ضرور روانہ فرمائیں۔ اگر حضرت عالی انورپاشا سے صرف رسید ڈاک حاصل ہوسکے تو نورٌ علیٰ نور۔ یہ امر خوب ذہن نشین کرنا چاہیے کہ اگر ایرانی راہ یا بصورت صلح روس روسی ریل کے ذریعہ سے کچھ عسکر سلطانی حدود دہرات وغیرہ پہنچ جاویں تو نائب السلطنت امیر کابل سے بغاوت بھی کرکے ہند پر حملہ کرسکتا ہے۔ عسکر سلطانی کے حدود افغانستان پر پہنچنے کی صورت میں لازم ہے کہ اس کی صحیح اطلاع ہم کو یاغستان میں جس طرح ہوسکے پہنچانی چاہیے۔ ہم اس نشان پر اعتماد کریں گے جو ہم سے غالب پاشا نے مقرر فرمایا ہے۔ فقط

محمد میاں عفی عنہ انصاری

مولانا محمد میاں انصاری کے یہ مکتوبات اس حوالے سے اہم ہیں کہ وہ تحریک ریشمی رومال کے کئی پہلو اور امور پر روشنی ڈالتے ہیں، حضرت مدنیؒ کے نام اس مکتوب میں نمبروار جن باتوں کا ذکر کیا ہے، ان میں سے بیشتر چیزیں ڈاکٹر ابوسلمان شاہجہاںپوری کی محنت اور کوششوں سے مجلہ ’علم و آگہی‘ کی خصوصی اشاعت تحریکات  ملّی میں شائع ہوچکی ہیں، یہ تحریرات خطوط اور عرض داشت وغیرہ کچھ دوستوں کی عنایت سے خاکسار کو مل گئی ہیں، ان کو بھی یہ نقل کردینا مفید مطلب ہوگا، اس سلسلے کی دستیاب دو خاکے ہیں، جن میں تیار کردہ فوج، جنودِ ربانیہ کے منصوبے کا نقشہ ہے، اور دوسرے جنودِ ربانیہ (خدا ئی لشکر)کے منصب دار ان کی فہرست ہے۔ (جدول ملاحظہ کریں)

منصب داران جنودِ ربانیہ

(الف): مربی (۱) سالار المعظم خلیفۃ المسلمین (۲) سلطان احمد شاہ قاچار، ایران (۳) امیر حبیب اللہ خان، کابل

ب: مردان (۱) انورپاشا (۲) ولی عہد دولتِ عثمانیہ  (۳) وزیر اعظم دولتِ عثمانیہ (۴) عباس حلمی پاشا (۵) شریفِ مکہ معظمہ (۶) نائب السلطنت کابل سردار نصراللہ خاں (۷) معین السلطنت کابل سردار عنایت اللہ خاں (۸) نظام حیدرآباد (۹) والیِ بھوپال (۱۰) نواب رام پور (۱۱) نظام بہاول پور (۱۲) رئیس المجاہدین۔

ج: جنرل یا سالار (۱) سلطان المعظم حضرت مولانا محدث دیوبندی مدظلہ‘ العالی (۲) قائم مقام سالار کابل مولانا عبیداللہ صاحب۔

د: نائب سالار (یا لیفٹیننٹ جنرل) (۱) مولانا محی الدین خاں صاحب (۲) مولانا عبدالرحیم صاحب (۳) مولانا غلام محمد صاحب بہاول پور (۴) مولانا تاج محمود صاحب سندھی (۵) مولوی حسین احمد صاحب مدنی (۶) مولوی حمداللہ خان صاحب (۷) حاجی صاحب ترنگ زئی (۸) ڈاکٹر انصاری (۹) حکیم عبدالرزّاق صاحب (۱۰) ملا صاحب بابرا (۱۱) کوہستانی (۱۲) جان صاحب باجوڑ (۱۳) مولوی ابراہیم صاحب کالوی (۱۴) مولوی محمد میاں (۱۵) حاجی سعید احمد انبیٹھوی (۱۶) شیخ عبدالعزیز شادیش (۱۷) مولوی عبدالکریم صاحب نائب رئیس المجاہدین (۱۸) مولوی عبدالعزیز رحیم آبادی (۱۹) مولوی عبدالرحیم عظیم آبادی (۲۰) مولوی عبداللہ غازی پوری (۲۱) نواب ضمیر الدین (۲۲) مولوی عبدالباری صاحب (۲۳) ابوالکلام (۲۴) محمد علی (۲۵) شوکت علی (۲۶) ظفر علی (۲۷) حسرت موہانی (۲۸) مولوی عبدالقادر قصوری (۲۹) مولوی برکت اللہ بھوپالی (۳۰) پیر اسداللہ شاہ سندھی۔

ہ: معین سالار (میجر جنرل) مولوی سیف الرحمن صاحب، مولوی محمد حسن مرادآبادی، مولوی عبداللہ انصاری، میر سراج الدین بہاول پوری، پاچا ملا عبدالخالق، مولوی بشیر رئیس المجاہدین، شیخ ابراہیم سندھی، مولوی محمد علی قصوری، سیّد سلیمان ندوی، عمادی، غلام حسین، آزاد سبحانی، کاظم بے، خوشی محمد، مولوی ثناء اللہ، مولوی عبدالباری، مہاجر وکیل حکومت موقتہ ہند۔

و: ضابطہ: (کرنل) شیخ عبدالقادر مہاجر، شجاع اللہ مہاجر نائب وکیل دولت موقتہ ہند۔ مولوی عبدالعزیز وکیل وفد حزب اللہ یاغستان، مولوی فضل ربی، مولوی عبدالحق لاہوری، میاں فضل اللہ، صدرالدین، مولوی عبداللہ سندھی، مولوی ابومحمد احمد لاہوری، مولوی احمد علی نائب ناظم نظارۃ المعارف، شیخ عبدالرحیم سندھی، مولوی محمد صادق سندھی، مولوی ولی محمد، مولوی عزیز گل، خواجہ عبدالحئی، قاضی (محی الدین)، قاضی ضیاء الدین ایم اے، مولوی ابراہیم سیالکوٹی، عبدالرشید بی اے، مولوی ظہور محمد، مولوی محمد مبین، مولوی محمد یوسف گنگوہی، مولوی رشید احمد انصاری، مولوی سیّد عبدالسلام فاروقی، حاجی احمد جان سہارنپوری۔

ز: نائب ضابطہ: (لیفٹیننٹ کرنل) فضل محمود، محمد حسن بی اے مہاجر، شیخ عبداللہ بی اے مہاجر، اللہ نواز خاں بی اے مہاجر، رحمت علی بی اے مہاجر، عبدالحمید بی اے مہاجر، حاجی شاہ بخش سندھی، مولوی عبدالقادر دین پوری، مولوی غلام نبی، محمد علی سندھ، حبیب اللہ۔

ح: میجر: شاہ نواز، عبدالرحمن، عبدالحق۔

ط: کپتان: محمد سلیم، کریم بخش۔

ی: لیفٹیننٹ:نادرشاہ۔

(نوٹ) ایک اور فہرست میں محمد علی سندھی اور حبیب اللہ کا نام میجر کی فہرست میں درج ہے۔

نمونہ عرضداشت علماء و خوانین یاغستان

مورخہ یکم رمضان المبارک ۱۳۳۵ھ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

بتوسط غازی فی سبیل اللہ، سر حلقۂ اہل اللہ، تاج الاصفیاء، سلطان العلماء حضرت مولانا محمود حسن صاحب عم فیوضہ‘

بملاحظہ عالی خدام سلطان الدین خاقان البحرین خادم حرمین الشریفین خلیفہ رسول رب العالمین سلطان ابن سلطان اعلیٰ حضرت سلطان محمد خان خامس خلداللہ ملکہ و سلطنتہ

بعد آداب و نیاز مسنونہ قابل دربار شاہانہ معروض آنکہ مامسلمانانِ یاغستان علاقۂ مہمند و باجوڑ وغیرہ تاعلاقہ آلائی حسب ہدایات خدام حضرت سلطان العلماء مولانا محمود حسن صاحب ہندی دریں جنگ حاضرہ قوت خود را بمقابلہ انگریز برحدود پشاور وغیرہ (ہند) صرف نمودہ یک قوۃ عظیمہ را از مقابلہ افواج قاہرۂ آنحضور اقدس باز داشتہ ایم و تااختتام جنگ بعونہ تعالیٰ خواہیم داشت۔ علاوہ ازیں دیگر برادرانِ مادر علاقجات تیراہ (آفریدی) و وزیرستان و مسعودہم دریں زمانہ در جہاد مصروف ہستند۔ چونکہ مایان خدام دربارِ خلافت دشمنی انگریز ظاہر نمودہ بغرض حمایت دین متین خود انگریز را بجنگ و ڈاکہ جات بسیار تکلیف دادہ ایم۔ بدیں وجہ انگریز بعد از ختم جنگ ضرور است کہ قوۃ کاملہ خود را در محو کردن ما صرف نماید۔ وماہرگز قوۃ مقابلہ باقوۃ  کا ملہ اس نداریم۔

لہٰذا بکمال ادب و امید گزارش است کہ حسب وعدۂ قائم مقام خود حضرت غالب پاشا والی و قائد صوبۂ حجاز شریف اوّل در عہد نامہ دولتی صورۃ حفاظت کل یاغستان نمودہ شود۔ و بعد ازاں ملک مادا بذریعہ خدام خویش ترقی دادہ شود۔ باقی احوال از عریضہ جناب مولانا محمد صاحب انصاری ابوایوبی منکشف خواہد شد۔ حق تعالیٰ ملک مارا زیر سایہ سریر خلافت علیہ عثمانیہ سرسبز و شاداب کند آمین ثم آمین۔ فقط والسلام مع الوفا الاکرام۔

عریضہ ادب

مہر غازی مشہور و معروف جناب ملا صاحب بابڑہ مہر صاحبزادہ فضل قادر صاحب بنوری پیرخانہ خوانین علاقہ چارمنگ و نواب دیر و صوات

مہر مولوی فضل ربی صاحب مہاجر

(مہر) محمود خاں، (مہر) مدار خاں، (مہر) زورآور خان، محمد ایوب خاں خان چار منگ خورد، خان چارمنگ خورد ، خان کوٹکی

(۱۰)

خط قاضی دیر بنام مولوی فضل ربی صاحب

فضائل پناہ فواضل دستگاہ جناب مولوی صاحب

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ خیریت طرفین نیک نصیب و نعیمی جناب نواب صاحب خواہش میدارد کہ اگر یک مردم دانندۂ کہ عبارت از ہرتال و سرمہ و زر نیخ دگوگرد۔ و سرب وغیرہ نہایت مہربانی خواہد بود۔ و نیز اگر بکمال سعی و کوشش آں مہرباں توپ و می شود برائے نواب صاحب نہایت مہربانی خواہد بود و نیزیک مردم کار در سلطانی و خواہ کرام دولت بکوشش آں مہرباں وارد و این علاقجات بعید از عنایت نخواہد امید کہ از کمال سعی و کوشش آں مہرباں کارخانہ ہائے نواب صاحب از آہنگراں و ترکانان (ترکھانان) وغیرہ ماہرین فنون و قواعد سلطانی اباد شود۔ توپ مشین گنج ہرچند قسمت کہ صرف شودادا خواہدکرد۔ واین نیاز مند را از تابعدار حقیقی تصور فرمائید۔ از خدمات لائقہ یا دوشاد میفرمودہ باشد۔ و دارندۂ خط ہٰذا ملا صاحب چوکیاش ہرچہ لسانی بیاں نمود صدق دانید زیادہ خیریت فقط۔

۱۲؍شہر رمضان المبارک ۱۳۳۵ھ خادم شرع نبویؐ قاضی…… مہر

تحریک ریشمی رومال کے ایک مرحلے میں راجہ مہندر پرتاپ کا نام بھی خاصا اہم ہے، اس سلسلے کی تحریروں اور خطوط میں بار بار ان کا نام بھی آتا ہے۔ ان کے تعلق سے کچھ باتیں ملتی ہیں، ان کی خودنوشت سوانح کا ذکر ملتا ہے، مگر وہ راقم سطور کی نظر میں نہیں ہے۔ نقش حیات، تحریک شیخ الہند، مقامِ محمود وغیرہ جیسی متعدد کتابوں میں راجا صاحب کے متعلق مختلف قسم کی تفصیلات ملتی ہیں، سردست ان کی طرف سے تحریر کردہ ایک دو نوٹس ملے ہیں، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ وہ بھی نقل کردیے جائیں۔

مہندرپرتاپ آف مرسان (علی گڑھ) صوبہ جات متحدہ کا ایک اہم خط

۵۸۱، سی آئی ڈی شمالی مغربی سرحدی صوبہ کابل کے سراج الاخبار مورخہ ۴؍مئی ۱۹۱۶ء سے یہ اقتباس کیا گیا ہے:

ذیل میں ہم ایک خط شائع کررہے ہیں جو ہمیں سراج الاخبار افغانیہ میں شریک اشاعت کرنے کے لیے کنور صاحب مرسان یعنی راجہ صاحب ہاتھرس سے وصول ہوا ہے جو آج کل افغانستان کی مقدس بادشاہت کے مہمان ہیں۔

ایک بہت اہم مراسلہ

محل باغ بابر شاہ، کابل

مورخہ ۱۵؍اپریل ۱۹۱۶ء

دوست عزیزم، مدیر سراج الاخبار

میں تکلیف دہی کے لیے معذرت خواہ ہوں۔ میں یہ دیکھ کر حیران رہ گیا ہوں کہ مجھے بعض ہندوؤں میں خواہ مخواہ بدنام کیا گیا ہے۔ میں آپ کے (اخبار) کے ذریعے اس غلط بیانی کی تردید کرنی چاہتا ہوں۔

ان اخبارات نے یہ الزام لگایا ہے کہ میں نے خود کو ایک بڑا مہاراجہ ظاہر کیا اور اعلیٰ حضرت قیصر جرمنی میں شامل ہوگیا۔ میرے خلاف یہ جھوٹی الزام تراشی ہے۔ میں نے خود کو کبھی مہاراجہ بلکہ راجہ بھی نہیں کہا، نہ میں کسی کے شامل ہوا نہ میں نے کسی کی ملازمت اختیار کی۔

یہ صحیح ہے کہ جنگ چھڑنے پر میں جرمنی گیا تھا، تاکہ وہاں کی صورتِ حال کا مشاہدہ کرسکوں۔ حکومت نے مجھ پر عنایت کی اور مجھے اگلی خندقوں سے اور ہوائی جہاز سے جنگ کا مشاہدہ کرنے کا موقع دیا۔ مزیدیہ کہ معظم قیصر جرمنی نے خود مجھے باریابی کا موقع دیا۔ اس کے بعد سلطنت جرمنی سے ہندوستان اور ایشیا کا مسئلہ طے کرنے کے بعد اور ضروری تعارف حاصل کرلینے کے بعد مشرق کو واپس ہوا۔ میں نے مصر کے خدیو سے، شہزادوں سے اور وزیروں سے ملاقاتیں کیں اور مشہور آفاق انورپاشا اعلیٰ حضرت خلیفہ سلطان المعظم سے ملاقات اور گفتگو کی۔

میں نے سلطنت عثمانیہ سے مشرق کا اور ہندوستان کا مسئلہ طے کیا اور ان سے بھی ضروری تعارفی دستاویز حاصل کیں۔ جرمن اور ترک افسران مولوی برکت اللہ صاحب کو میرے ہمراہ میری مدد کے واسطے رہنے دیا۔ وہ اس وقت بھی میرے ساتھ ہیں۔

ہزاروں مصائب و مشکلات اور خطرات کا مقابلہ کرکے اور ایک خداترس انسان کی مہربانی سے ہم بغداد و اصفہان ہوتے ہوئے افغانستان پہنے۔ اعلیٰ حضرت امیر کی غیرجانبداری کے باعث ہم یہاں پڑے رہے۔ گوکہ ہم آپ کی حکومت کے مہمان ہیں اور ہمارے ساتھ بڑے احترام کا سلوک کیا جاتا ہے اور ہمیں ہر قسم کا آرام پہنچایا جاتا ہے۔

میرے دوستوں کو یہ بات معلوم ہوجانی چاہیے۔ اگر وہ شکرگزار نہیں تو بھی انھیں آئندہ یاوہ گوئینہیں کرنی چاہیے، میں کسی شخص کا یا کسی قوم کا دشمن نہیں، میں ساری دُنیا کا دوست ہوں۔

ہمارا واحد مقصد یہ ہے کہ ہر شخص اور ہر قوم آزادی کے ساتھ اور آرام کے ساتھ اپنے مکان یا اپنے ملک میں زندگی گزارے اور روئے زمین سے اس قسم کی جنگ و کشاکش کا نشان مٹ جائے۔

جو دنیا کا اور ہندوستان کا خادم اور بودھوں، عیسائیوں، ہندو اور مسلمانوں کا دوست ہے، بعض لوگ کنور صاحب مرسان اور بعض لوگ راجہ صاحب ہاتھرس کہتے ہیں۔ مزید یہ کہ میرے ذاتی نظریات اور میرے افعال کے لیے کوئی بھی شخص، میرا کوئی دوست یا میرا حقیقی بھائی… مرسان یا میرا رشتہ دار مہاراجہ صاحب جنید یا آرٹ اسکول پریم مہادوتالیہ (بندرابن) مطلق ذمہ دار نہیں۔دستخط ایم پرتاپ

مذکورہ تفصیلات سے تحریک شیخ الہند کے تناظر میں تحریک ریشمی رومال، افغانستان میں ملی جلی عبوری حکومت اور دیگر قبائلی علاقوں میں انگریزوں سے ملک کو آزاد کرانے کی جدوجہد کا قدرے واضح خاکہ سامنے آجاتا ہے، یہ اپنے مقاصد میں کس حد تک کامیاب ہوئی، اور اس کے اثرات و نتائج کیا برآمد ہوئے، اور جو ناکامی ہوئی اس کے اسباب و وجوہ کیا تھے، ان پر آج بھی غوروفکر کرنے کی ضرورت محسوس ہوتی ہے، اور جہاں تک تحریک ریشمی رومال کی اہمیت کا معاملہ ہے تو اس کا اندازہ اسی بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ برٹش سامراج نے اس کی حقیقت جاننے کے لیے اپنی طاقت جھونک دی تھی، اور تحریک کے خدوخال کو اُجاگر کرتے ہوئے اس کے اور اس سے جڑے افراد کی سرگرمیوں سے متعلق ریشمی خطوط کیس کے عنوان سے ایک ہزار صفحات پر مشتمل رپورٹ تیار کرکے مقدمہ بنایا گیا، جس میں کہا گیا ہے کہ مندرجہ ذیل اشخاص نے یکم جنوری ۱۹۱۳ء اور یکم جنوری ۱۹۱۷ء کے درمیان برطانوی ہند کے اندر اور باہر سازش کی ہے ملک معظم شہنشاہ کی افواج کے خلاف جنگ کرنے کی، جنگ کے لیے کوشش کرنے کی اور جنگ میں مدد دینے کی کوشش کرنے کی یا اس بات کی کوشش کی ہے کہ ملک معظم شہنشاہ کو برطانوی ہند کے اقتدارِ اعلیٰ سے محروم کردیں، یہ کارروائیاں، ضابطہ فوجداری ہند کی دفعہ ۱۲۱ کے تحت مستلزم سزا ہیں، ایسے ملزم اشخاص میں حضرات مولانا محمود حسن، مولانا عبیداللہ سندھیؒ، مولانا حسین احمد مدنیؒ، مولانا محمد میاں انصاریؒ، مولانا ابوالکلام آزادؒ، مولانا محمد علی جوہر، مولانا مرتضیٰ، مولانا عزیز گل، مولانا برکت اللہ بھوپالیؒ، مولانا حسرت مولانی، کالاسنگھ، مہیندرپرتاپ، مولانا ہادی حسن، محمد مسعود، عبدالحق جیسے ۵۹ حضرات شامل ہیں۔ آخرالذکر تینوں اس معنی کر قابل توجہ ہیں کہ مولانا ہادی حجاز سے ریشمی خط غالب نامہ لے کر آئے تھے اور حضرت شیخ الہندؒ کے عزیز  مسعود حسن کا ذکر دیگر تحریروں کے علاوہ سابقہ نقل کردہ خطوط میں بھی ہے، سے ریشمی خط کا راز افشا ہوا تھا، اور سرکاری گواہ بن گئے تھے اور عبدالحق کے ذریعے مولانا سندھیؒ کی طرف سے لکھے ریشمی خطوط کا معاملہ فاش ہوگیا تھا کہ یہ خطوط انھوں نے اپنی سادہ لوحی سے اپنے قدیم مربی، انگریز نواز، خان بہادر نواز خان کو دے دیے اور خان صاحب نے اپنا اعتبار بڑھانے کے لیے یہ خطوط انگریز افسر سر مائیکل اوڈائر کو پہنچادیے تھے، ان حضرات کے علاوہ کچھ دیگر اشخاص کے بھی نام خطوط اور آزادی کی سرگرمیوں کے افشاء راز کے سلسلے میں آتے ہیں۔ مثلاً کابل کے امیر حبیب اللہ خان، جس کے سامنے سب کچھ تحریک کے مجاہدین کررہے تھے، حضرت مدنی کی ’’نقشِ حیات‘‘ اور دیگر کتابوں میں لکھا گیا ہے کہ وہ ساری سرگرمیوں کی اطلاع انگریز کو دے دیا کرتا تھا، حضرت شیخ الہند اور مولانا عبیداللہ سندھیؒ کو مطلوبہ کامیابی نہیں ملی، تاہم اسے بے اثر اور پوری طرح ناکام نہیں کہا جاسکتا ہے۔ حضرت شیخ الہندؒ کے انتقال اور ریشمی رومال تحریک کے درمیان جنگ عظیم کی وجہ سے عالمی سطح پر حالات بدل گئے تو انھوں نے مالٹا کی قید سے رہائی کے بعد طریقۂ کار میں تبدیلی کرتے ہوئے ملک کی اکثریت اور اس کے نمائندوں کے ساتھ غیرمسلح جدوجہد آزادی کا آغاز کیا، اس تناظر میں گاندھی جی کا حوالہ اور نام بہت اہم ہے، آزادی کی وہی اسپرٹ بعد تک جاری رہی، جو تحریک ریشمی رومال کے دوران تھی، لیکن گاندھی عہد میں اس کے داخل ہونے سے قدرے ہیت اور طریقۂ کار میں تبدیلی آگئی، یہ وقت کا تقاضا بھی تھا، اور ضرورت بھی، عدم تشدد پر مبنی آزادیِ وطن کی جدوجہد سے ملک انگریزوں کی غلامی سے آزاد ہوا، تاہم تحریک شیخ الہندؒ اور اس کے اہم ترین مسلح جدوجہد کا مرحلہ، ریشمی رومال تحریک کے اثرات اور آزادی کی تحریک میں اہم رول سے انکار نہیں کیا جاسکتا ہے، ریشمی رومال تحریک کے اثرات اور کامیابی، ناکامی کے سنجیدہ مطالعہ سے ہمیں کئی اہم سوالات کے جوابات مل سکتے ہیں، اس حوالے سے تحریک ریشمی رومال کا عطیہ اور رول، ایک مسلم بات ہے، اس پر اب حکومت ہند  نے آزادیِ وطن کی جدوجہد میں تحریک شیخ الہندؒ کے رول کی اہمیت کا اعتراف کرتے ہوئے ڈاک ٹکٹ جاری کرکے مہر تصدیق ثبت کردی ہے۔ امید کی جانی چاہیے کہ اس کے اعتراف کا دائرہ مزید وسیع ہوگا اور برادرانِ وطن کو بھی معلوم ہوگا کہ مسلم مجاہدین تحریک کا ملک کو آزاد کرانے میں کیا کیا قربانیاں اور رول رہا ہے۔


8 Feb 2026

جمعیت علما کی ضرورت اور شرعی حیثیت

 جمعیت علما کی ضرورت اور شرعی حیثیت 

مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی قائم مقام ناظم و ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند

دنیا کے تمام مذاہب- جن میں آسمانی تعلیم کا شائبہ تک بھی ہے- اس اصل پر متفق ہیں کہ انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزاد رہنا چاہیے۔ انبیائے مرسلین کی بعثت کا منشا بھی یہی تھا کہ جو انسان خدا کی آزادی جیسی سب سے بڑی نعمت سے محروم کر دیے گئے ہوں، ان کو غلامی سے نجات دلائیں؛بلکہ سچ پوچھیے تو انسان کی غلامی و آزادی ہی کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے، جس کو دین الٰہی کا معیار کہا جاسکتا ہے، جس مذہب میں جس قدر آزادی کی تعلیم ہو، اسی قدر وہ مذہب دین الٰہی (جس کا دوسرا نام دین اسلام ہے) سے قریب ہوگا۔ اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلاَمَ۔ جو دین آزادی کی روح سے محروم ہو، اس کی تعلیمات فلسفۂ آزادی سے معرا ہوں ،وہ ہرگز ہرگز دین الٰہی نہیں ہوسکتا۔ اور نہ خدا کے نزدیک وہ معتبر و مقبول ہوگا۔ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ غَیْرَ الْاِسْلاَمِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ اورآزادی کا مدار عقیدۂ توحید پر ہے، جس کا صاف اور کھلا ہوا مفہوم یہ ہے کہ انسان صرف ایک خدا کی (جو اُن کا اور سارے جہان کا پیدا کرنے والا اور پالنے والا ہے) عبودیت و غلامی کا اقرار کرے اور تنہا اس خدا کی عبادت کرے۔ اس کا یقین رکھے کہ موت، زندگی، نفع، نقصان؛ سب اس کے قبضہ میں ہے۔ ڈر ہو، تو خدا کا۔ جو کچھ مانگنا ہو، تو اس خدا سے مانگے۔ خدا کے سوا نہ کسی سے دبے، نہ ڈرے اور نہ کسی کی غلامی کو گوارا کرے۔

یہ ہی وہ عقیدہ ہے، جس پر خدا کے دین اسلام کی عمارت قائم ہے اور اس عقیدہ کے تسلیم کرنے والے خاکی انسان ارباب علم و معرفت خدا کے قدوسی فرشتوں کے دوش بدوش ہیں۔ شَھِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ وَ اُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ۔

یوں تو پورا نظام عالم اور اس زنجیر کی ہر ہر کڑی اور اس کڑی کا ایک چھوٹے سے چھوٹا جزوخدا کی وحدانیت پر برہان قطعی ہے۔ سَنُرِیْھِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِی اَنْفُسِھِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ۔ یہاں تک کہ خود انسان کا وجود اپنے اندر بے شمار دلائل توحید رکھتا ہے: وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَ وَ فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ۔لیکن تدبر و تفکر کو کام میں لاکر کائنات کے ایک ایک ذرہ سے اللہ سبحانہٗ کی وحدانیت سمجھنا صرف علما کا کام ہے: وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ وَ مَا یَعْقِلُھَا اِلاَّ الْعٰلِمُوْنَ ۔یہ ہی وجہ ہے کہ اہل علم کے سینے خدائے جبار کے جلال وجبروت سے معمور ہیں۔ اور ان کے قلوب خدا کی خشیت و خوف کا مسکن و ماویٰ ہوتے ہیں۔ اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَائُ۔

 یہ چند خصوصیات ہیں، جو علماکی مقدس جماعت کو عام مسلمانوں سے ممتاز کرتی ہیں اور انبیائے مرسلین کی نیابت و وراثت کا مستحق قرار دیتی ہیں۔ اَلْعُلَمَائُ وَرَثَۃُ الْاَنْبِیَائُ۔

علما کی حیثیت اور منزلت شرعیہ

زمانہ پیشیں میں جس طرح انبیائے کرام کو راہِ حق میں مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا اور قربانیاں پیش کیں، اسی طرح علمائے اسلام کو اعلان حق و تبلیغ احکام میں وہ تکالیف برداشت کرنی ہوں گی؛ ورنہ انبیائے بنی اسرائیل کی شرف مماثلت سے دست بردار ہونا پڑے گا۔ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل۔ حق کی قیمت ہے، جو ہر زمانہ میں حق پرستوں سے وصول کی گئی تھی۔ پھر علمائے دین اس سے کیوں کر مستثنیٰ سمجھے جاسکتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوا کہ عالم دین کی حیثیت (خصوصاً جب کہ باطل کا زور ہو، مادی و فانی طاقت خدا کی غیر فانی قوت کے مقابلہ پر اُتر آئے، زمین کے بسنے والے خاکی انسان رب السموات والارض کی بادشاہت میں بغاوت کا جھنڈا بلند کریں) سر فروش داعی اور جاںباز مبلغ کی حیثیت ہے۔ اسی وجہ سے مذہبی سیادت و قیادت بلا شرکت احدے خالص علمائے دین کا حق و فرض شرعی ہے۔

عوام کو علما کی ضرورت

مہمات شرع و ضروریات دین میں علماکی طرف رجوع کرنا اور پھر ان کے فیصلے اور فتاوے کے سامنے سر اطاعت خم کرنا عام مسلمانوں کے فرائض دینی میں داخل ہے۔

 فَسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ بِالْبَیِّنٰتث وَالزُّبُرِ

 اس میں ذرا شک نہیں کہ جو لوگ باقاعدہ علوم شرعیہ کی تحصیل نہیں کرتے،قرآن کریم و حدیث نبوی کے صحیح علم سے بے بہرہ ہیں، وہ کسی حالت میں عوام سے نکل کر ان علما کی صف میں جگہ نہیں پاسکتے، جن کو اوامر و نواہی شرع پر کامل عبور اور مصالح شرعیہ پر بصیرت تامہ حاصل ہے۔ ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ۔ اگر اندھیرا اُجالا ایک شے نہیں ہے اور ایک اندھے اور آنکھوں والے میں فرق ہے، تو یقینا غیر عالم شخص کسی عالم دین کے مماثل نہیں۔ وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ وَلاَ الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْر لیکن جس قدر علما کی سطح قیادتِ مذہبی میں عوام سے بلند تر ہے، اسی مناسبت سے اُن کی ذمہ داری نہایت اہم ہے۔ امت اسلامیہ کی بے راہ روی و غلط کاری کا وبال اگر گہری نظر سے دیکھا جائے، تو علماکی فرض ناشناسی و کوتاہی پر آتا ہے۔

رہنمایان ملت کے فرائض

 احکام اسلام اور ان کے متعلقہ جزئیات کا حکم فقہی بیان کردینے سے ختم نہیں ہوجاتے۔ فرائض کا دائرہ اس سے وسیع تر ہے۔ حکم دینے کے بعد اس طاقت کا وجود بھی ضروری ہے، جو ان کے فیصلہ کو نافذ کرے اور احکامِ شرع کی تعمیل کرائے۔ نیز امت میں اس قابلیت کا پیدا کرنا بھی لابدی ہے، جس سے پیشواؤں کی ہدایات پر عمل پیرا ہوسکے؛ ورنہ فقدان استعداد و عدم موافقت حالات کی صورت میں کتاب اللہ و سنت رسول اللہﷺ کی دعوت اور ان کے احکام کا نشر و ابلاغ دراصل قرآن و حدیث کی توہین کے مرادف ہے۔

پس آج علمائے اسلام کا اہم ترین فرض یہ ہے کہ نظام شرعی کے ماتحت پہلے خود مرکزی طاقت و اجتماعی قوت بہم پہنچائیں اور پھر امت کو مرکز کی دعوت دیں؛ لیکن اس حقیقت کو ایک لمحہ کے لیے بھی فراموش نہ کیا جائے کہ حقیقی رہنمائی اور مقصود اصلاح مسلمانوں کی اس وقت تک محال قطعی ہے، جب تک ہم کو کامل آزادی حاصل نہ ہوجائے۔ استقلال تام ،یا حریت کامل ہی وہ واحد ذریعہ ہے، جو ایک طرف علما کو فرائض کی انجام دہی میں مدد دے گا اور دوسری جانب امت میں قبول و انقیاد کی اہلیت ثابت کرسکتا ہے۔ یہ ہی وہ دعوت الی الخیر ہے، جو فریضۂ امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے بھی مقدم سمجھا گیا ہے۔

وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔(آل عمران:104)صدق اللہ و رسولہ۔

 حقیقتاً آزادی ہی تمام نیکیوں اور خوبیوں کا سرچشمہ ہے۔ جو قومیں اس چیز سے محروم ہیں، ان کے لیے دنیا میں نہ کوئی نیکی نیکی اور نہ کوئی خوبی خوبی ۔نہ خدا کی کسی نعمت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور نہ اس کی رحمت ان پر سایہ فگن ہوتی ہے۔ چوں کہ مقدس اسلام انسانوں کو غلامی سے نجات دلانے کے لیے آیا ہے، اس لیے سب سے پہلے مسلمانوں پر آزادی کے لیے جدوجہد فرض قطعی ہے اور اس فریضہ کا ادا کرنا استیلاء الکفار علی بلاد المسلمین کی صورت میں ڈیڑھ سو برس سے ہندستان کے مسلمانوں پر واجب تھا۔ اب جس وقت کہ خلافت، جزیرۃ العرب و مقامات مقدسہ کو دشمنانِ دین کے تسلط سے پاک کرنا بھی فرض ہوگیا، تو ہمارے پیشوایان مذہب کا ان حالات میں ایک اور صرف ایک فرض ہے؛ وہ فرض یہ ہے کہ علمائے کرام اپنے تمام و کمال ذرائع و اسباب کو حصولِ آزادی کے لیے وقف فرما دیں اور اپنی انفرادی و منتشر طاقت کو ایک مرکز پر لاکر متفقہ طور پر ایک مرتبہ آخری؛ مگر انتہائی کوشش کر کے غلامی کی لعنت کو- جو کم وبیش دو سو سال سے ہمارے گلے کا ہار ہو رہی ہے- دور کردیں۔

علماکی ذمہ داری

اگر اس وقت تساہل و تغافل سے کام لیا، تو اس کا نتیجہ صرف یہ ہی نہ ہوگا کہ ہم ۳۳؍ کروڑ ہندستانی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غلامی کی زندگی ان تمام ذلتوں اور رسوائیوں کے ساتھ (جن سے انسانیت تو درکنار؛ حیوانیت کو بھی عار آتا ہے) بسر کرنے پر مجبور ہوں گے؛ بلکہ مزید براں ہم بد قسمت مسلمانوں کے لیے اس سے کہیں زیادہ تلخ و ناگوار نتائج پیدا ہونے کا یقین ہوتا ہے۔

(۱) (حاکم بدہن خدانخواستہ) اسلامی شوکت خدا کی اس وسیع زمین کے ہر ہر گوشہ میں تا قیام قیامت دفن کردی جائے گی۔

(۲) تقریباً آٹھ سو سال کی سرزمین ہند (جہاں چھ صدیاں حکمراں کی حیثیت میں گزری ہیں) میں مسلمانوں کی مذہبی زندگی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوجائے گا۔

(۳)  سب سے پہلے خود پیشوا اپنی ناکارہ؛ بلکہ اسلام و مسلمانوں کے حق میں سمّ قاتل حیات کو موت کی صورت میں تبدیل کرنے پر مجبور ہوں گے اور اس طرح علما اور مشائخ اپنی سہل انگاری سے نہایت شرم ناک خود کشی کے مرتکب ہوں گے۔

یہ واضح رہے کہ نتائج و خیمہ کی تمام تر ذمہ داری عند اللہ و عند الناس مقدس جماعت علما کے سر عائد ہوگی۔

حقیقی مسئولیت و اصلی ذمہ داری کو علمائے حق کے ایک گروہ نے محسوس کرتے ہوئے نومبر 1919ء میں بمقام دہلی جمعیت علمائے ہند کا سنگ بنیاد رکھا اور آخر دسمبر1919ء میں بمقام امرتسر میں اجلاس منعقد کیے۔ ان میں ابتدائی مسائل پر غور کر کے چند ایسی مفید تجاویز منظور کیں ،جو قابل عمل ہوسکیں۔(جمعیت علمائے ہند کی دو سالہ روداد بابت 1338-39ھ۔ (1919-20ء)، ص؍3-6۔ مضمون:مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی قائم مقام ناظم جمعیت علمائے ہند)

 عدالت (مراد آباد) میں حضرت شیخ الاسلام کا بیان

محمد یاسین جہازی


جہازی میڈیا پر مطالعہ کرنے کے لیے کلک کریں

ڈاکٹر ابوسلمان شاہ جہاں پوری مرحوم تحریر فرماتے ہیں کہ:

ہندستان چھوڑ دو تحریک کا ریزولیوش پاس ہونے سے کچھ حضرت شیخ الاسلام گرفتار ہوئے اور مراد آباد کی عدالت میں آپ پر مقدمہ چلایا گیا۔ اس مقدمے میں حضرت نے جو تحریری بیان دیا تھا، وہ ابھی تک غیر مطبوعہ ہے۔ اس کا ایک حصہ -جو تحریک آزادی کے سلسلے میں حضرت کے بنیادی افکار سیاسی کا آئینہ دار ہے- الجمعیۃ شیخ الاسلام نمبر کے حوالے سے پیش کیا جاتا ہے۔

(شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد سوم،ص؍306)

’’انسان کی طبعی بات ہے کہ اس کو اپنے وطن عزیز سے اس قدر محبت ہوتی ہے کہ دوسری جگہوں سے نہیں ہوتی۔ جس سرزمین میں وہ پیدا ہوتا اور پرورش پاتا ہے، خواہ کتناہی تکلیف دینے والا ہو، مگر انسان کو اس کا کانٹا بھی دوسری جگہ کے پھولوں سے اچھ معلوم ہوتا ہے۔ مشہور شعر ہے: ؎

حب الوطن از ملک سلیمان خوشتر

خار وطن از سنبل و ریحان خوشتر

مگر میں جب کہ اسکول میں پڑھتا تھا، تو مجھ کو تاریخ اور جغرافیہ سے خصوصی دل چسپی پیدا ہوئی اور ہندستان کی پرانی تاریخی عظمتوں اور جغرافیائی قدرتی ہمہ گیر برکتوں نے نہایت گہرا اثر کیا اور پھر اہل ہند کی موجودہ بے کسیوں کا اثر روز افزوں ہوتا رہا۔ طالب علمی کے زمانے میں اس احساس میں ترقی ہی ہوتی رہی۔ اس زمانے کے ختم ہونے پر مجھ کو آزاد ممالک عرب، مصر، شام وغیرہ کی سیاحت اور قیام کی نوبت آئی، آزاد ملکوںکے باشندوں ے میل جول اور ان کے اوطان کی حالتوں سے آگاہی حاصل ہوئی، اس نے میری اپنے وطن سے محبت میں اور زیادتی پیدا کر دی اور اس احساس کو نہایت قوی کر دیا کہ آزادی کس قدر ضروری چیز ہے اور بغیر آزادی کے کسی ملک کے باشندے کس قدر بے بس اور اپنے وطن کی قدرتی فیاضیوں سے محروم ہوتے ہیں۔

میں نے دیکھا کہ یورپین، ایشیاتک، افریکن آزاد اقوام کس طرح اپنی آزادی کے گیت گاتی ہیں اور اس کے لیے ہر قسم کی قربانیوں کو ضروری سمجھتی ہیں۔ ان امور کے مشاہدے کی بنا پر مجھ میں وہ قومی جذبات پیدا ہونے ضروری تھے کہ جن کے ہوتے ہوئے میں ہندستان کی محبت اور اس کی آزادی میں بیش از سعی اور جدو جہد میں کسی کو تا ہی کو روانہ رکھوں۔ اس پر یہ طرہ ہوا کہ گورنمنٹ برطانیہ نے مجھ کو میرے آقا حضرت شیخ الہند مولا نا محمود حسن صاحب قدس سرہ العزیز کے ساتھ -جو کہ مسلمانوں میں آزادی ہند کے سب سے بڑے علم بردار تھے- گرفتار کر کے ایک مہینہ ایجپٹ (مصر) میں جیزہ کے سیاسی قید خانے میں رکھا۔ وہاں مصریوں کا آزادی پسند طبقہ مقید تھا۔ اس کے بعد مجھ کو ہمراہیوں کے ساتھ مالٹا بھیجا گیا، جہاں پر آزاد ممالک یوروپیہ اور ایشیاویہ کے چوٹی کے سیاست دان اور فوجی لوگ مقید تھے۔ڈیڑھ ہزار جرمن اور ڈیڑھ ہزار آسٹرین، بلگیرین، ٹرکش، عرب تھے۔ اس کیمپ میں ہم کو بھی چار برس1916ء سے 1920ء تک رکھا گیا۔ ہم آپس میں روزانہ ملتے تھے اور دنیا کے تمام حالات اور تمام ملکوں کا مطالعہ اور بحث کرتے تھے۔ ان امور کا قدرتی طور پر جو کچھ نتیجہ ہونا چاہیے تھا، وہ ہوا اور ضروری تھا کہ ہو۔ 1920 ء جون میں پھر ہم کو ہندستان لایا گیا۔ جب ہم یہاں پہنچے، تو خلافت کی تحریک زوروں پر تھی، جلیاں والا باغ کے واقعات، رولٹ ایکٹ اور مارشل لا وغیرہ کی مختلف جگہوں کی زیادتیوں نے ہندستان کے تمام باشندوں میں کھلبلی ڈال رکھی تھی اور نان کو آپریشن کی تحریک زوروں پر تھی۔ میں اس قدر متأثر ہوچکا تھا کہ میرا عقیدہ ہوگیا تھا کہ فرقہ واری کی تنگ کلیوں سے نکل کر تمام ہندستانی قوم کواور جملہ باشندگان ہند کو آزاد ہونا از بس ضروری ہے۔ میں نے بیرونی ممالک میں مشاہدہ کیا تھا کہ دوسرے ممالک میں ہندستانی، خواہ مسلمان ہوں یا ہندو، سکھ ہوں یا پارسی وغیرہ وغیرہ ؛ایک ہی نظر حقارت سے دیکھے جاتے ہیں اور سب کو نہایت ذلیل غلام کہا جاتا ہے، سب کو ایک ہی قوم دیکھا جاتا ہے اور با لخصوص سپید نسل والے ان سبھوں کو بہت ذلیل جانتے ہیں اور بات بات پر ایسے طعنے اور ذلت آمیز کلمات کہتے اور معاملات کرتے ہیں کہ جن کاتحمل مشکل ہے۔

خلاصہ یہ کہ میں خلافت، کانگریس، جمعیت علما میں داخل ہو گیا اور نان و ائیلنس کو سیاسی عقیدہ بنا کر تحریک ترک موالات (نان کو آپریشن) کو اپنا عملی پروگرام بنا لیا۔ اس بنا پر میں 1919ء سے آج تک کانگریس اور جمعیت علما کا ممبر ہوں اور ان دونوں کے عقیدے میرے سیاسی عقیدے اور ان کے عملی پروگرام میرے دستور العمل ہیں۔ خلافت کی تحریک اگر آج موجود ہوتی، تو میں اس کا بھی ممبر ہوتا۔ میرا قومی اور زور دار سیاسی عقیدہ ہے کہ جس طرح ہر انگریز، ہر فرانسیسی، ہر جرمنی، ہر امریکن، ہر جاپانی ضروری سمجھتا ہے کہ وہ اپنے ان کو آزاد رکھے اور اپنے آپ کو بھی کسی دوسری قوم کا غلام نہ ہونے دے اور ہر قسم کی قربانی کو اس راہ میں کم سمجھے اور اس جدو جہد کو ایک انگلستان کا اور دوسرے ممالک کا باشند ہ اپنا فرض اور اپنے لیے باعث فخر و مباہات سمجھتا ہے؛ بلکہ موت کو اس پر ترجیح دیتا ہے اور اس کے لیے مسٹر چرچل اور دیگر ذمے داران برطانیہ کی تقریر یں اور تحریریں برابر آتی رہتی ہیں، یہی فلسفہ ہندستانی کا بھی ہے اور ہر ہندستانی کا- خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو- اس کا یہی عقیدہ ہونا چاہیے۔ میں نے اس تحریک آزادی اور باامن جدو جہد میں نہایت سرگرمی کے ساتھ حصہ لیا اور پھر کراچی کے مشہور کیس میں دو برس تک سابرمتی جیل کے اندر نہایت شرافت کے ایام گزارے۔ وہاں سے نکلنے کے بعد بھی برابر میں حسب پروگرام کا نگریس اور جمعیت علما اسی جدوجہد میں مشغول ہوں اور مشغول رہا اور سیکڑوں جلسوں وغیرہ میں تقریریں کیں، متعدد خطبات اور رسالے لکھے، مضامین شائع کرتا رہا۔ اس زمانے میں ،جب کہ جمعیت علما اور کانگریس نے اس جنگ کو ہندستان کے دروازوں تک پہنچتے ہوئے دیکھا اور محسوس کیا کہ کہیں ان ایام میں، جب کہ گورنمنٹ برطانیہ جنگ میں مشغول ہوگی اور اس کی تمام پاور اس کے دشمنوں کے مقابل ہوگی، اندرون ملک بدامنی اور لوٹ مار چوری اور ڈکیتی۔ فرقہ وارانہ لڑائیاں، پرانی دشمنیوںاور خود غرضیوں کے جذبات ظاہر ہو کر کہیں تمام پبلک اور ملک میں ابتری اور ہلاکت نہ پھیلا دیں، ادھر مخالفین برطانیہ اور برطانیہ کی جنگی کارروائیوں کی وجہ سے عام ہندستانیوں کے لیے جو جو مصائب پیش آئیںگے، ان سب کے دور کرنے کے لیے جماعت خدام خلق بنانا ضروری ہے اور سب کو -خواہ کسی جماعت کے آدمی ہوں اور کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں-منظم ہو جانا از بس لازمی ہے۔ فرقہ وارانہ جذبات اور پرانی دشمنیاں، مختلف عقائد سیاسیہ اور مذہبیہ کو اس وقت بھلا دینا اور سب کو خواہ دیہاتی ہوں، قصبات کے باشندے ہوں، خواہ شہری، منظم ہو جانا لازم ہے۔ اس پروگرام کو اس وقت چلانا اور اس کی تلقین کرنا ضروری قرار دیا گیا تھا۔ میں چند مہینوں سے یہی کام کر رہا ہوں اور اس کی تلقین میں نے بچھراؤں کے اس جلسے میں کی تھی۔ افسوس یہ ہے کہ اس پروگرام کے متعلق جو کچھ میں نے کہا تھا،ر پورٹر نے اس کو یک قلم حذف کر دیا ہے۔ میں نے اپنی تقریر میں ان تمام اعتراضات کو ملحوظ رکھتے ہوئے تقریر کی تھی، جو کہ فرقہ وارانہ جذبات کے بھڑ کانے اورلوگوں کولڑانے کے لیے ناعاقبت اندیش اور خود غرض لوگ کیا کرتے ہیں اور ان تمام امورکو پیش نظر رکھا تھا، جن کی بنا پر با وجود اختلاف عقائد و خیالات متحد اور منظم ہونا ضروری ہو جاتا ہے۔ مثلا کہا جاتا ہے کہ ہندو مسلمانوں میں لڑائی بھڑائی پرانے زمانے سے؛ بلکہ ہمیشہ سے اسی طرح چلی آتی ہے، یا کہا جاتا ہے کہ مذہبی اختلافات اور عقائد کا تقاضہ یہی ہے کہ وہ آپس میں لڑیں۔ کبھی گانے اور بجانے کا مسئلہ پیش کیا جاتا ہے۔ کبھی مختلف مقامات کے بلوے دکھائے جاتے ہیں۔ کبھی ہندوؤں کے مظالم پیش کیے جاتے ہیں۔ کبھی مسلمانوں کے مظالم پیش کیے جاتے ہیں۔

علی ہذا القیاس میں نے وہ ہلاکت آمیز مصیبتیں ،جو کہ ایام جنگ ہندستان میں پیش آنے والی ہیں اور وہ مصائب جو کہ برطانوی حکام کی پالیسیوں سے ہندستان کے باشندوں کو انتہائی فلاکت ؛بلکہ ہلاکت کے گھاٹ اتارچکی ہیں اور ان کا خود انصاف پسند اور انسانیت کے ہمدرد مشہور انگریز اقرار کر رہے ہیں، دکھلا ئیں کہ ایسی مصیبت کے وقت میں از بس ضروری ہو جاتا ہے کہ اپنے جھگڑوں کو چھوڑ دیا جائے اور مشتر کہ مصیبت کو دور کرنے کی انتہائی کوشش عمل میں لائی جائے۔ گاؤں میں آگ لگتی ہے، سیلاب آتا ہے، تو لوگ اپنے پرانے جھگڑوں، نسلی تمیز، اختلاف عقائد کو بھلا دینا ضرور سمجھ کر سب کے سب آگ بجھانے میں لگ جاتے ہیں۔ یہی حال تم لوگوں کا ہونا چاہیے، ہندستان میں بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ ہندستانیوں کے موجودہ مصائب کو -جو کہ برطانوی حکام کی غلط پالیسیوں سے پیداہوتے ہیں، جھٹلاتے ہیں اور غافل لوگوں کو دھوکا دے کر کہتے ہیں کہ یہ باتیں چند سر پھروں کی بنائی ہوئی ہیں۔ حال آں کہ واقعہ ایسا نہیں ہے۔ اس لیے میں نے تاریخی شہادتیں( جن میںسے بہت بڑا حصہ مجھ کو یاد بھی ہے اور بہت کثیر حصہ میرے پاس معتبر تاریخوں سے تحریری نوٹ میں ہے )معتبرانگریزوں کے حوالوں سے پیش کی تھیں، ان کے ناموں اور عبارتوں میں خطب عشوا کیا گیا ہے۔ یہ نوٹ میرے پاس موجود ہیں، جن کے مآخذ کو پوری تفصیل کے ساتھ پیش کر سکتا ہوں۔ خلاصہ ان کا ان پالیسیوں پر تنقید کرنا ہے، جو کہ غلط کار برطانوی مدبرین نے ہندستان میں جاری کرکے برطانوی قوم اور برطانوی امپریلزم اور برطانوی تاریخ کو بدنام کیا ہے اور برطانوی رعایا کی بربادی کا سبب بنے ہیں۔ کسی پالیسی اور حکمت عملی اور سسٹم پر تنقید کرنا، اس پر پروٹسٹ اور احتجاج کرنا اس کو پبلک میں پیش کر کے اس کے خطرات کو بتلانا اور اس کے خراب نتائج کو مشہور کرنا نہ قانونا جرم ہے اور نہ اسے گورنمنٹ سے نفرت پھیلانا شمار کیا جاتا ہے۔ ہمیشہ سے انگلستان اور ہندستان میں یہ طرز چلا آتا ہے اور یہ اس زمانے میں از بس ضروری ہے؛ ورنہ کوئی گورنمنٹ اندھیر نگری سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔ اس کو سر جان شور،سول میرٹ، ڈبلیو جی پیڈر، سر ولیم ڈگبی، ایس ٹاونشنڈ ، لارڈ سالسبری، لارڈ ولیم بنٹک، بروکس، ایچ ایم ہنڈولن، ایڈورڈ نامسن، لارڈ کینگ،  ایچ ایچ ولسن، اے اے بروسل، پیٹر فریمین، ڈبلیو ایس بلنٹ، لارڈ نارتھ بروک، مسٹر سیکڈانلڈ وغیرہ کہتے رہے ہیں۔ یقینا یہ لوگ برطانیہ کے دشمن نہ تھے اور نہ برطانوی قوم، یا حکومت سے نفرت پھیلانے والے تھے۔ ہاں! غلط کار مد برین برطانیہ کو ان کی غلط کاریوں سے روکنا چاہتے تھے، جس کا اقرار آج سر اسٹیفورڈ کرپس اور بہت سے بڑے سمجھ دار انگریز کر رہے ہیں اور وہی غلطیاں آج برطانوی قوم اور برطانوی شہنشاہیت کے لیے انتہائی مشکلات کاباعث بنی ہوئی ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگرچہ میں کسی ہندستانی شخص سے اپنے وطن کی محبت اور اس کی آزادی کی خواہش اور اس کے لیے حسب مقدرت جد و جہد کرنے میں پیچھے نہیں ہوں؛ مگر یہ اسپیچ محض اتحاد اور منظم ہونے اور امن و امان کو پھیلانے کے لیے کی گئی تھی، جس کو موجودہ بیان ہی سے ہر ایک سمجھ دار؛ بلکہ معمولی سمجھ والا بھی سمجھ سکتا ہے۔ اس کو قابل اعتراض وہی شخص قرار دے سکتا ہے، جو کہ اہل ہند کے اتحاد اور اتفاق کا مخالف ہے اور چاہتاہے کہ ہمیشہ ان میں جوتی پے زار ہوتی رہے، خواہ ان پر کتنے ہی مصائب کیوں نہ آئیں اورکتنے ہی بربادی پیش کیوں نہ آئے، کبھی بھی یہ منظم نہ ہوں اور نہ آپس میں میل جول کریں۔ 

کیا تعجب کی بات نہیں ہے کہ مجھ کو اتحاد کانفرنس جھنگ مگھیانہ کی صدارت کے لیے سفر کرنے سے روکا گیا اور عین اس تقریر کو -جو کہ اس اتحاد کے لیے کی گئی تھی- باعث اعتراض قرار دیا گیا اور پھر اس تقریر میں -جو میں نے دستور العمل پیش کیا تھا- اس کو حذف کر دیا گیا اور جو نوٹ نقل کیے گئے، اُن کو پورا نہیں لکھا گیا اور نہ ان انگریزوں کے صحیح نام لکھے گئے، جن سے منقول ہیں، نہ ان رسالوں، یا اخباروں کو بتایا گیا، جن میں یہ نوٹ موجود ہیں، نہ ان کی تاریخیں بتائی گئیں، حال آں کہ میری اسپیچ میں یہ سب تھا۔ میری عادت ہے کہ تقریر کرتے ہوئے ان سب چیزوں کا ذکر کیا کرتا ہوں۔ فاضل مجسٹریٹ صاحب نے چوں کہ نمبر گیارہ میں میری جملہ تقریر کا خلاصہ نتیجہ نکالا ہے اور یہ الفاظ تحریر فرمائے ہیں:

’’آپ کی تقریر کے شروع کے حصے میں ایسے جملے استعمال کیے گئے ہیں، جن سے یہ خیال ہوتا ہے کہ انگریزی سرکار ہندو مسلمانوں کے لڑانے کا باعث ہے اور آپ کی کل تقریر سے انگریزی سرکار کی طرف سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔‘‘

اس لیے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اولاً جناب کو اسی نمبر کی طرف توجہ دلاؤں، دوسرے ابتدائی دس نمبروں کی تفصیل بعد میں عرض کروں گا اور چوں کہ اس نمبر کے دوحصے ہیں، ایک کا تعلق ابتدائی تقریر سے ہے ،دوسرے کا کل تقریرسے۔ اس لیے میں اس کو دد حصوں الف اور ب میں تقسیم کر کے پہلے حصہ الف کو، پھر حصہ سب کو پیش کروں گا۔

(حصہ الف) جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ خود غرض اور نفاق پھیلانے والے کہتے ہیں کہ (۱) ہندوؤں اور مسلمانوں میں لڑائی بھڑائی ہمیشہ سے چلی آتی ہے۔ (۲) مذہب کا یہی تقاضا ہے۔ (۳) اور نگ زیب مرحوم بہت متعصب بادشاہ تھا، ہندوؤں اور غیر مسلموں پر اس نے مذہب کے تعصب کی بنا پر بہت مظالم کیے ہیں۔ (۴) ان دونوں فرقوں میں کبھی اتفاق نہیں ہو سکتا وغیرہ وغیرہ۔ ان سب اعتراضوں کو دور کرنے اور غلط ثابت کرنے کے لیے میں نے ایک مشہور انگریز سیاح کپتان الگزینڈر ہملٹن کا قول پیش کیا تھا۔ یہ شخص شہنشاہ اورنگ زیب مرحوم کے زمانے میں ہندستان آیا تھا اور یہاں پچیس برس تک مقیم رہ کر اورنگ زیب ہی کے زمانے میں واپس چلا گیا تھا۔ اس نے اپنا سفرنامہ دو جلدوں میں لکھا ہے، چیف جسٹس حیدر آباد دکن نواب مرزا سمیع اللہ بیگ صاحب نے اس سفرنامے کے مختلف مضامین ترجمہ کر کے رسالہ: ’’ ہند عہد اورنگ زیب‘‘ میں شائع کیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ سفر نامہ جلد اول، ص؍127-128میں دربارۂ شہر ٹھٹھہ ملک سندھ کپتان مذکور کہتا ہے:

’’ریاست کا مسلمہ مذہب اسلام ہے، لیکن تعداد میں اگر دس ہندو ہیں، تو ایک مسلمان ہے۔ ہندوؤں کے ساتھ رواداری پورے طور پر برتی جاتی ہے، وہ اپنے بت رکھتے ہیں اور تہواروں کو اسی طرح مناتے ہیں، جیسے کہ اگلے زمانے میں کرتے تھے، جب کہ بادشاہت خود ہندوؤں کی تھی۔ وہ اپنے مردوں کو جلاتے ہیں،لیکن ان کی بیویوں کو اجازت نہیں ہے کہ شوہروں کے مردوں کے ساتھ ستی ہوں۔‘‘ (ہند عہد اور نگ زیب میں، ص؍۷)

 شہر سورت کے متعلق کپتان مذکور ص؍162 میں لکھتا ہے کہ:

 ’’اس شہر میں تخمینا سومختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں؛ لیکن ان میں کبھی کوئی سخت جھگڑے ان کے اعتقادات وطریقۂ عبادت کے متعلق نہیں ہوتے۔ ہر ایک کو پورا اختیار ہے، جس طرح چاہے، اپنے طریقے سے اپنے معبود کی پرستش کرے۔ صرف اختلاف مذہب کی بنا پر کسی کو تکلیف دینا اور آزار پہنچانا ان لوگوں میں بالکل مفقود ہے۔‘‘

 (الجمعیۃ، دہلی۔ شیخ الاسلام نمبر، ص؍12-13)


مولانا سجادصاحبؒ اور جمعیت علمائے ہند

 مولانا سجادصاحبؒ اور جمعیت علمائے ہند

محمد یاسین جہازی

ابوالمحاسن مولانا محمد سجاد بہاری


حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب علیہ الرحمہ بیسویں صدی کے غلام بھارت میں اسلامی وسیاسی قیادت کے شہ دماغ تھے۔آپ بیک وقت فقہی، قانونی اور سیاسی بصیرت میں امتیاز رکھتے تھے۔ آپ کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ علما اپنی خانقاہوں اور اداروں سے نکل کر سیاسیات میں بھی قوم کی رہبری کریں۔ چنانچہ اس کے لیے عملی قدم بڑھاتے ہوئے ، کل ہند سطح پر علما کی جمعیت قائم کرنے کی کوشش کی؛ لیکن جب اس میں کامیابی نہیں ملی، تو ریاستی سطح پر اس کی شروعات کرتے ہوئے 15؍ دسمبر 1917میں انجمن علمائے بہار قائم فرمایا، جو بعدمیں جمعیت علمائے بہار کہلایا۔1918میںمولانا عبد الحی فرنگی محلیؒ کے ساتھ مل کر خلافت کمیٹی کی تشکیل کی۔دہلی میں منعقد آل انڈیا خلافت کانفرنس کے موقع پر، 23؍ نومبر 1919میں جمعیت علمائے ہند کی تاسیسی میٹنگ میں شرکت فرمائی اور اس طرح آپ کا کل ہند سطح پر علما کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا ۔28؍ دسمبر 1919تا یکم جنوری 1920میں منعقد جمعیت علمائے ہند کے پہلے اجلاس میں پہلی مجلس منتظمہ تشکیل دی گئی ، جس میں آپ کو اس کا رکن منتخب کیا گیا۔19/20/21؍ نومبر1920کو دہلی میں جمعیت علمائے ہند کا دوسرا اجلاس عام ہوا، جس میں برطانوی حکومت کے خلاف عدم تعاون کا مفصل فتویٰ آپ نے ہی مرتب فرمایا، جس پر تقریبا پانچ سو علمائے کرام نے دستخط کیے اور یہ فتویٰ متفقہ فتویٰ علمائے ہند کہلایا۔حضرت مولانا ابوالمحاسنؒ غیر اسلامی ہندستان میں نصب امیر کو ایک ملی فریضہ سمجھتے تھے۔ چنانچہ اس کے لیے عملی قدم اٹھاتے ہوئے  25و26 جون 1921ء کو پٹنہ میں امارت شرعیہ کی داغ بیل ڈالی، جس میں آپ کو نائب امیر شریعت منتخب کیا گیا۔اور مرکزی سطح پر اس کے قیام کی کوشش کرتے رہے۔چنانچہ 18،19،20؍ نومبر1921ء کو جمعیت علمائے ہند کا تیسرا سالانہ اجلاس لاہور میں ہوا تو اس میں آپ ہی کی کوششوں سے امارت شرعیہ فی الہند کی تجویز باتفاق رائے منظور کی گئی ۔ 

’’جمعیت علما نے جو تجویز امارت شرعیہ کے سلسلہ میں پاس کی تھی، وہ بھی انھی کی سعی کا نتیجہ تھا۔‘‘(حیات سجاد، ص؍105۔ مضمون مولانا احمد سعید صاحب ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ہند)

اسی اجلاس میںامیر شریعت کے اختیارات و فرائض کے تعین کے لیے ایک سب کمیٹی بنا ئی گئی،جس میںپندرہ اراکین میں سے ایک رکن آپ بھی تھے ۔آپ ؒہی نے ’’نظام نامہ امیر الشریعۃ فی الہند‘‘ کے نام سے ایک مستقل مسودہ تیار کیا، جسے13؍ دسمبر1921ء کوبدایوں میں منعقد اجلاس میں پیش کیا گیا۔ 20، 21؍ ستمبر 1923   کو مجلس منتظمہ کا اجلاس کا اجلاس ہوا، جس میں جزیرۃ العرب کو غیر مسلم اثر سے پاک کرنے کے وسائل اور بالخصوص حجازی و برطانوی معاہدہ کو اٹھا دینے کے ذرائع پر غور کرنے کے لیے ایک سب کمیٹی بنائی گئی، جس میں آپ کو رکن نامز د کیا گیا۔ 

قادیانیوں کے خلاف فتویٰ

 6؍نومبر1923ء بہ مقام دہلی انسداد فتنہ قادیانی کا اجلاس ہوا، جس میں قادیانیوں کے متعلق فتویٰ مرتب کرنے کے لیے حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب ؒاور مولانا مفتی محمدکفایت اللہ صاحبؒکے ساتھ، آپ کا اسم گرامی بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا۔ 7؍ نومبر1923ء میں جمعیت تبلیغیہ کے اجلاس میں، شدھی اور سنگٹھن کے ارتداد کا مقابلہ کرنے کے لیے جمعیت تبلیغیہ کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، اس کا ایک رکن مولانا ابوالمحاسن ؒ کو بھی بنایا گیا۔اسی اجلاس کی ایک تجویز میں مولانا مبارک صاحب اور مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒ نے اس پر زور دیا کہ شعبہ تبلیغ کا اخبار جاری کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ اور جب مناسب موقع معلوم ہو تو ایک ہفت وار اخبار ضرور نکالنا چاہیے ۔ (خلاصہ کارروائی جمعیت تبلیغیہ، ص؍1، تا؍5)۔

نومسلم  لڑکے اور لڑکیوں کی تعلیم اور صنعت کے لیے تعلیم گاہ کی تجویز

شعبہ تبلیغیہ کے اسی اجلاس میں نومسلموں اور مسلمات کی تعلیم و تربیت اور صنعت و حرفت سکھانے کے لیے ایک درس گاہ کے قیام کی ضرورت پر تجویز پاس کرتے ہوئے ایک ایسی کمیٹی مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، جو اس درس گاہ کے قیام کی اسکیم اور ایسی تدابیر کی رپورٹ پیش کرے، جس کی وجہ سے غیر مستحقین پیشہ ور نو مسلمانوں کا انسداد ہوجائے اور یہ کام کامیابی کے ساتھ جاری ہوسکے۔ اس کمیٹی میں (1) مولانا محمد مظہر الدین صاحب(2) مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کے علاوہ تیسرا نام مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب کا ہی تھا۔ اور مولانا کا اس با ت کا بھی ذمہ دار بنایا گیا کہ وہ 30؍ ستمبر1924ء تک مسودہ تیار کرکے دہلی ارسال فرمائیں گے۔ اسی طرح اس جلسہ میں مولانا محمد منیر الزماں صاحب ناظم جمعیت علمائے صوبہ بنگالہ کا خط پیش ہوا، جس میں صوبہ بنگال میں تبلیغ و اشاعت کا کام کرنے کے لیے ڈھائی ہزار روپیے کی امداد طلب کی گئی تھی، اس پر غور ہوا اور طے ہوا کہ ایک وفد کلکتہ جاکر جماعت منتظمہ کے کارکنوں وغیرہم سے مل کر صوبہ بنگال کے تبلیغی کاموں کے متعلق رپورٹ پیش کرے۔ اس وفد میں بھی مولانا ابوالمحاسن صاحب شامل کیے گئے۔

انہدام مساجد بھرت پورکے خلاف ایکشن

مجلس عاملہ 23 تا 25جون 1924میں انہدام مساجد بھرت پور راجستھان کے بارے میں بحث و گفتگو کی گئی۔واقعہ یہ ہواتھا کہ مساجد بھرت پورکی مسلسل انہدامی کار روائیوں کے خلاف وہاں کے راجہ کرشن سنگھ نے کوئی ایکشن نہیں لیا، تو جمعیت کا ایک سولہ رکنی وفد ا ن کے دربار میں پہنچا اورکسی رعب و خوف کے بغیر دس نکات پر مشتمل ایک ایڈریس پیش کیا، جس میں مساجد کی شرعی اہمیت و حرمت اور اس کے تحفظ کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئی تھیں۔اس وفد میں بھی مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒ شامل تھے۔ (رپورٹ انہدام مساجد بھرت پور، ص؍ 9)

چھٹے اجلاس عام کی صدارت

 11؍ جنوری 1925ء کو جمعیت کا چھٹا اجلاس عام مرادآباد میں ہوا۔ اس کی صدارت ابوالمحاسن حضرت مولانا سید محمد سجاد صاحب نائب امیر الشریعہ صوبہ بہار و اڑیسہ نے فرمائی ۔ اس اجلاس کی تجویز نمبر 24 میں عدمِ تعاون کے پروگرام پر غور کرنے کے لیے ایک سب کمیٹی مقرر کی گئی، جس میں وقت کے اکابرین کے ساتھ آپ کا نام نامی و اسم گرامی بھی شامل تھا۔

ساتویں اجلاس کی کامیابی پر خصوصی مشکور

کلکتہ میں جمعیت علمائے ہند کے ساتویں اجلاس عام منعقدہ 23مارچ1926 میں  ایک تجویز پاس کر کے ، اجلاس کی شاندار کامیابی پر ایک طرف جہاں تمام علمائے کرام کا عموماً شکریہ ادا کیا گیا ،وہیں مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند اور مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نائب امیرالشریعت صوبہ بہار و اڑیسہ کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا گیا۔ 

مدارس عربیہ کے لیے ضروریات زمانہ کے مطابق نصاب

جمعیت علمائے ہند کے آٹھویںسالانہ اجلاس منعقدہ 2؍تا4؍ دسمبر1927ء کی تجویز نمبر 6میںمسلمانوں کی مشغولیت اور کم فرصتی اور ضروریاتِ زمانہ کا لحاظ رکھتے ہوئے مدارسِ عربیہ دینیہ کے نصاب کو ایسے طور پر مرتب کرنے کی بات کہی گئی، جو ان کی مذہبی حالت کو درست کرنے اور مذہبی واقفیت بہم پہنچانے کے ساتھ ساتھ زمانہ کی ضرورتوں کو بھی ایک حد تک پورا کرسکے، اور تمام مدارسِ عربیہ دینیہ کا ایک نظام ہو، اور سب اسی نظام کی پابندی کریں تاکہ یہ تفرق اور انتشار جو مذہب و قوم کے لیے سب سے زیادہ مضرت رساں ہے، دور ہو اور منظم طور پر دینی تعلیم عام ہوجائے، اور تعلیم کا حقیقی فائدہ حاصل ہو۔چنانچہ نصاب بنانے اور اسے مدارس عربیہ میں رواج دینے کی کوشش کرنے کے لیے جو کمیٹی تشکیل دی گئی، اس میں ایک نمایاں نام آپ کا بھی تھا۔

غیر اسلامی ہندستان میں قاضی کے تقرر کا مطالبہ

 اسی اجلاس کی تجویز نمبر 15میں ، غیر اسلامی ہندستان میں مسلمانوں کے نکاح، طلاق اور دیگر عائلی مسائل ومشکلات کے حل کے لیے بااختیار شرعی قاضی مقرر کرنے کے حوالے سے، گورنمنٹ سے اختیارات دینے کا مطالبہ کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی۔ اس کمیٹی میں بھی آپ کا نام شامل کیا گیا۔

بتیا فساد کے خلاف ایکشن

4؍ اگست 1927کو بتیا میں ہندو مسلم فساد برپا ہوگیا۔ مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒ اس وقت امارت شرعیہ پٹنہ میں تھے، وہ اطلاع پاتے ہی فورا بتیا کے لیے روانہ ہوئے اورجائے حادثہ کا مکمل جائزہ لیتے ہوئے قانونی کارروائی کی کوشش کی۔

نہرو رپورٹ پر تنقید

16؍ اگست 1928ء کو نہرو رپورٹ شائع ہوئی۔ اس رپورٹ پر مفصل تبصرہ کرنے کے لیے جو سب کمیٹی بنائی گئی ،اس میں حضرت مولانا ابو المحاسن سجاد صاحب ؒ نے نمایاں حصہ لیا۔

جمعیت کے صدر و ناظم کے استعفوں کا استرداد

جمعیت کی مجلس مرکزیہ کا ایک اجلاس11و 12اگست1929کو مرادآباد میں ہوا۔ اس اجلاس میں حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے فرمایا کہ چوں کہ مجھے بعض چیزیں بحیثیت رکن پیش کرنی ہیں، اس لیے اس جلسہ کی صدارت کے لیے کسی دوسرے صاحب کو منتخب کرلیا جائے اور خود ہی مولانا ابوالمحاسن سید محمد سجاد صاحب کو منتخب فرمایا، جسے ارکان نے منظور کیا۔ فرائض صدارت تفویض کرنے کے بعد مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے صدارت سے اور مولانا احمد سعید صاحب نے عہدہ نظامت سے استعفیٰ پیش کیا۔لیکن دونوں حضرات کے استعفیٰ نامنظور کردیے گئے۔اس نامنظوری کی تائید کرنے والوں میں آپ کا کردار سب سے نمایاں تھا۔

 شاردا ایکٹ کی مخالفت 

اسی اجلاس میںشاردا ایکٹ یعنی تحدید عمر ازدواج و مباشرت کی سفارشات سے متعلق ایک تجویز پاس کرتے ہوئے گورنمنٹ سے مطالبہ کیا گیا کہ 

’’ ان سفارشات کو مسلمانوں کے حق میں ہرگز قانونی شکل نہ دی جائے۔ ورنہ مسلمان اس قانون کو ہرگز تسلیم نہ کریں گے اور جن صورتوں میں کوئی شرعی اجازت موجود ہوگی ، اس میں قانون کی مزاحمت کی ہرگز پروا نہ کریں گے۔

 اس تجویز کے اصل محرک حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒ ہی تھے۔

جمعیت علمائے ہند کی مجلس مرکزیہ کا اجلاس 26، و 28 اکتوبر 1929کو دہلی میں ہوا ۔اس اجلاس کی تجویز نمبر 3میں ساردا بل کو مسترد کرانے کے لیے ایک سب کمیٹی بنائی گئی۔ اس کمیٹی کا رکن آپ کو منتخب کیا گیا۔چنانچہ آپ نے علیٰ الفور ایک مسلم کانفرنس کرنے کی اپیل کی اور لوگوں کو مسلم پرسنل لاء کے تحفظ کے تئیں بیدار کیا۔اسی طرح جمعیت علمائے صوبہ متحدہ کے اختلافات (جس کی وجہ سے وہاں دو جمعیتیں قائم ہوگئی تھیں) کوختم کرانے کے لیے سہ رکنی کمیٹی میں آپ بھی شریک تھے۔

کانگریس میں شرکت کے فیصلے کی جرات مندانہ تائید  

تحریک آزادی کا مشترکہ پلیٹ فارم کانگریس میں شرکت اور عدم شرکت کا مسئلہ کفر و شرک کا مسئلہ بنا ہوا تھا ، ایسے حالات میں جمعیت علمائے ہند نے اپنے نواں سالانہ اجلاس منعقدہ 6مئی 1930بمقام امروہہ میں جب تجویز نمبر 2میں برادران وطن کے ساتھ مل کر آزادی کی لڑائی لڑنے کے لیے کانگریس میں شمولیت کا اعلان کیا، تو بلا کسی پس و پیش کے دیگر اکابرین کی طرح مولانا محمد سجاد علیہ الرحمہ نے بھی اس تجویز کی تائید فرمائی۔ ساتھ ہی آپ کی رائے پر مشتمل یہ تجویز بھی منظور کی گئی کہ 

’’چوںکہ نہرو رپورٹ مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے مطمئن نہ ہونے کی وجہ سے کا لعدم قرار پاچکی ہے اور اس کا کوئی حل اور کوئی حصہ بطور فیصلہ شدہ امر کے پیش نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے جب تک ہندستان کے لیے کوئی ایسا دستورِ اساسی مرتب نہ کرلیا جائے جس پر مسلمان اور دوسری اقلیتیں پورے طور پر مطمئن ہوجائیں اور وہ متفقہ طریقہ سے راؤنڈ ٹیبل کانفرنس (Round Table Conperence) میں پیش کیا جاسکے؛ اس وقت تک اس اجلاس کی رائے میں راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں شرکت کسی طرح مفید نہیں ہے۔‘‘

حالات حاضرہ پر غور کرنے کے لیے جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا ایک ضروری اجلاس 12جولائی 1930کو دفترجمعیت علمائے میں بمقام دہلی منعقدکرنے کا فیصلہ ہوا، جس میں آپ نے خصوصی طور پر شرکت فرمائی۔ (الجمعیۃ 16جولائی1930) 

جمعیت کی نظامت و صدارت کی نیابت

جمعیت علمائے ہند نے 1930میں جب دائرہ حربیہ کی سرگرمیاں شروع کیں، جس کی پاداش میں جہاں دیگر اکابرین جمعیت کی گرفتاری عمل میں آئی، وہیںحضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند بھی گرفتار کرلیے گئے۔ آپ کی گرفتاری کے بعد آپ ہی کو ناظم مقرر کیا گیا۔

’’چوں کہ حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند 20ستمبر1930کو صبح کے وقت گرفتار کرلیے گئے تھے، اس لیے حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے ان کی جگہ مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب کو ناظم مقرر فرمادیا۔ اور مولانا نور الدین صاحب بہاری کو جو آج کل دفتر جمعیت میں ہی مقیم ہیں اور خدمات جلیلہ انجام دے رہے ہیں ، نائب ناظم مقرر فرمادیا ہے۔ یہ دونوں تقرریاں جمعیت عاملہ کی منظوری کی امید پر فوری ضرورت کی وجہ سے عمل میں لائی گئی ہیں۔‘‘ (الجمعیۃ24ستمبر1930) 

اجلاس مجلس عا ملہ منعقدہ 15ء16ء جنوری1931ء کی کارروائی رپورٹ میں آپ کے نام کے ساتھ’’ قائم مقام صدر جمعیت علمائے ہند ،ناظم جمعیت علما ئے ہند اورنا ئب امیر الشر یعۃ صوبہ بہار واڑیسہ لکھا ہوا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو انھی دنوں میں جمعیت علمائے ہند کی نظامت کے ساتھ قائم مقام صدر بھی بنایا گیا تھا۔  

سیلون کے مسلمانوں کے لیے فتویٰ

سیلون کے مسلمانوں کے لیے شریعت اسلامیہ کے بجائے رومن ڈچ قانون نافذ کرنے کے لیے وہاں کی مجلس آئین ساز میں ایک مسودہ پیش کیا گیا، جس کے خلاف وہاں کے مسلمانوں نے جمعیت سے مدد طلب کی، تو اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نے فتویٰ دیا کیا کہ 

مسلمانوں پر شریعت اسلامیہ کے سوا اور کوئی قانون نافذ نہیں ہوسکتا۔ آپ کو اس قسم کے مسودہ قانون کے خلاف نہایت سختی کے ساتھ احتجاج کرنا چاہیے۔ … مسلمانان سیلون کو چاہیے کہ اس قانون کو ہرگز منظور نہ ہونے دیں ۔ جمعیت علمائے ہر قسم کی امداد کے واسطے تیار ہے۔ ‘‘ (الجمعیۃ 5جنوری 1931) 

آپ کے خلاف مقدمہ

حاسدین جمعیت نے جمعیت علمائے ہند کی عمومی مقبولیت کے پیش نظر جن اکابرین جمعیت کے خلاف مقدمہ کیا، ان میں حضرت علامہ مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند ،حضرت مولانا حاجی احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند کے علاوہ حضرت مولانا ابوالمحاسن سید محمد سجاد صاحب قائم مقام ناظم جمعیت علمائے ہندکا نام بھی شامل تھا۔ (الجمعیۃ 16جنوری1931)

تحفظ حقوق مسلم کا مسودہ 

 19مارچ 1931جمعرات کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا ۔ اس کی تجویز نمبر6 میںمسلم حقوق کی حفاظت کے لیے تیار کیے جانے والے مسودہ پر نظر رکھنے کے لیے ایک دس رکنی مشاورتی کمیٹی تشکیل دی گئی ، جس میں سرفہرست آپ کا نام شامل رکھا گیا۔ 

مسلم نیشنلسٹ کانفرنس میں شرکت

مسلمانوں کی مختلف تنظیمیں ان دنوں ہندو مسلم مفاہمت کے فارمولے تلاش کرنے کے لیے اپنی اپنی تجاویز پیش کر رہی تھیں۔ اسی مقصد سے نیشنلسٹ مسلم کانفرنس کرنے کا فیصلہ ہوا، تو جمعیت نے از 31؍ مارچ تا یکم اپریل 1931کو منعقد اپنے دسویں اجلاس عام کراچی میں اس میں شرکت کا فیصلہ کیا اورحضرت مفتی محمد کفایت اللہ صاحب اورحضرت مولانا احمد سعید صاحب کے ہمراہ حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒ نے کانفرنس میں شرکت کی۔ (الجمعیۃ20 اپریل 1931)

 آزاد ہندستان کا دستور اساسی

3؍ اگست 1931کو جمعیت نے اپنے اجلاس سہارن پور میں آزاد ہندستان کے لیے دستور اساسی کا مسودہ ــ’’جمعیت علما کا فارمولہ‘‘ کے نام سے پیش کیا، جس میں تمام مذاہب کی آزادی اور تمام مسلم حقوق کی رعایت کی گئی تھی۔ یہ فارمولہ بھی حضرت مولانا محمد سجاد صاحب ؒ کی فکری کاوش کا نتیجہ تھا۔(حیات سجاد، ص150۔ مضمون حضرت مولانا حفظ الر حمان صاحب سیوہاروی۔ مولانا ابوالمحاسن سجاد حیات و خدمات ، ص؍297۔ مضمون مولانا اسرار الحق قاسمیؒ ۔ تذکرہ ابوالمحاسن ، ص؍448۔ مصنف: مفتی اختر امام عادل صاحب)

الجمعیت اخبار آپ کی ملکیت میں

 گول میز کانفرنس کے اختتام پر حکومت برطانیہ نے مختلف کمیٹیوں کی رپورٹوں، سفارشوں اور تجاویز پر مبنی ایک وضاحتی قرطاس ابیض White paperمارچ 1933ء میں شائع کر دی۔جسے بھارتیوں نے بالکل بھی قبول نہیں کیا اور بھارت کی مکمل آزادی کے لیے دوبارہ سول نافرمانی کی تحریک چھیڑ دی۔ چنانچہ اس کے لیے جمعیت نے 29فروری سے 2مارچ 1932 کو دفتر جمعیت میں مجلس عاملہ کا ایک اجلاس کیا ، جس میں دیگر تجویزوں کے ساتھ تحریک سول نافرمانی کو پوری قوت کے ساتھ شروع کرنے کے تعلق سے دو اہم فیصلے کیے۔ ایک فیصلہ تو یہ کیا کہ مجلس عاملہ کے تمام عہدوں کو ختم کرکے مکمل اختیارات حضرت صدر محترم مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کو دے دیا گیا ۔ اور دوسرا اہم فیصلہ یہ کیا کہ اخبار الجمعیۃ کی ملکیت کو تبدیل کرکے مکمل اختیارات حضرت ابوالمحاسن مولانا محمد سجاد صاحب کے سپرد کردیے گئے ۔

ڈکٹیٹری نظام کی سربراہی

چنانچہ مفتی صاحب نے اپنے اختیارات اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صدر سکریٹری کے عہدے کے بجائے ڈکٹیٹر کا سلسلہ قائم کیا ۔ اور طے کیا کہ ہر ایک ڈکٹیٹر گرفتار ہونے سے پہلے دوسرے ڈکٹیٹر کو نامزد کردے ۔ اسی طرح اس تحریک میں رضاکاروں کی بھرتی کی ذمہ داری حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو دی گئی ۔ حضرت مولانا نے بھی اپنی سیاسی بصیرت کو استعمال کرتے ہوئے اتنی خوب صورتی سے اس نظام کو چلایا کہ اہل دانش مولانا کو ’’جمعیت کا دماغ‘‘ کہنے پر مجبور ہوئے۔ مورخ ملت حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب لکھتے ہیں کہ 

’’…مگر وہ ڈاکٹر جس کو بہت سے انجکشن دے دیے گئے تھے : ابو المحاسن مولاناسجاد صاحب (نائب امیر شریعت صوبہ بہار) تھے، رحمہم اللہ۔ ’دائرہ  حربیہ ‘‘ کے کلیدبردار یہی حضرت تھے۔۔(الجمعیۃ مجاہد ملت نمبر ص88) 

مجلس تحفظ ناموس شریعت کی نظامت

انگریز حکومت کی طرف سے موقع بموقع اسلامی قوانین کے خلاف کبھی شاردا ایکٹ اور کبھی مسودات حج کے خلاف قوانین پاس ہوتے رہتے تھے ۔ چنانچہ ان تمام امور پر تحفظاتی نگاہ رکھنے کے لیے ـــمجلس تحفظ ناموس شریعت قائم کی گئی، تو اس کے ناظم حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب کو ہی بنایا گیا ۔ چنانچہ آپ نے مسودات حج کی مخالفت کرتے ہوئے10جون 1932کو پورے ملک میں عام مظاہرے کا اعلان کیا۔

متفقہ سمجھوتہ کی تلاش

ہندستان کی آزادی میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے پہلے انگریزوں نے گاندھی جی اور والیان ریاست کو لڑانے کی کوشش کی، لیکن اس میں کامیابی نہیں ملی، تو میدان عمل میں موجود الگ الگ مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کی تنظیموں کو آپس میں لڑانے کی سازش رچی ۔ چنانچہ انگریزوں کو اس میں کامیابی مل گئی ۔ ایک طرف انگریزوں نے جہاں ہندو کو مسلمانوں سے لڑاکر فرقہ وارانہ فسادات کرائے، وہیں دوسری طرف مسلمانوں کی مختلف تنظیمیں بھی آپس میں دس و گریباں رہیں، جن میں آپسی سمجھوتہ اور معاہدہ کے لیے لکھنو کے سیلم پور ہاوس میںمیں 16 اکتوبر1932کومسلم کانفرنس ہوئی، جس میں جمعیت علمائے ہند، جمعیت خلافت، نیشنلسٹ پارٹی، شیعہ کانفرنس، مسلم لیگ اور اراکین مسلم کانفرنس نے شرکت کی ۔کانفرنس شروع ہونے سے پہلے جمعیت علمائے ہند کی مجلس شوریٰ کا ایک اجلاس 15اکتوبر 1932کومنعقد ہوا، جس میں حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نے بھی شرکت کی ۔

مسودات حج کی مخالفت

حج کے متعلق تین مسودے اسمبلی میں بحث کے لیے پیش ہونے والے تھے، تو مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نے وائسرائے کو ایک تار بھیج کر ان پر بحث کو ملتوی کرنے کی گذارش کی اور یہ بتایا کہ مسلمانوں کی رائے معلوم کیے بغیر ان پر بحث خطرناک نتائج پیدا کردے گی۔

’’ حج کے متعلق جو تین مسودارت قانون منتخب کمیٹی میں پیش ہونے والے ہیں، مہربانی کرکے ان پر بحث و تمحیص اور غوروفکر کو ملتوی کردیجیے؛ کیوں کہ یہ مسودات پورے طور پر مسلمانوں کی آگاہی کے لیے شائع نہیں کیے گئے ہیں ۔ موجودہ حالات میں جب کہ بہترین دماغ کے مسلمان جیلوں میں محبوس ہیں، اگر حکومت نے ان مسودات کو بغیر مسلمانوں کی صحیح رائے معلوم کیے پاس کردیا تو اس کے نتائج خطرناک ثابت ہوں گے۔ ‘‘ (الجمعیۃ 28 مئی 1932)  

اس کے بعد مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب ؒ نے ایک مفصل خط مسلم ممبران اسمبلی کے نام لکھ کر ان سے اسمبلی میں ان مسودوں کی مخالفت کی اپیل کی۔ یہ خط الجمعیۃ 5اگست 1932کے شمارہ  میں موجود ہے۔

یوم حج اور احترام مساجد منانے کی اپیل

 حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب قائم مقام ناظم مرکزی مجلس تحفظ ناموس شریعت نے 30ستمبر 1932کو ’’یوم احترام مساجد‘‘ منانے کا اعلان کیا۔ جو پورے ملک میں پورے جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ (الجمعیۃ 28ستمبر1932)

الور کے مسلمانوں پر ظلم کے خلاف صدائے احتجاج

ریاست الور میں ہندوں کی طرف سے طرح طرح کے مظالم کے پہاڑ توڑے جانے لگے، جس کے بعد وہ لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور ہجرت کرکے دہلی چلے آئے۔ان ظلم و ستم کے خلاف حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نے آواز اٹھاتے ہوئے مہاراجہ الور کو درج ذیل تار بھیجا

’’29مئی کو حضرت سید مبارک کی مزار کی زیارت کے سلسلہ میں الور کے مسلمانوں پر سخت مظالم ہورہے ہیں ۔ ان کی جان اور عزت خطرہ میں ہے ۔ فوری توجہ کیجیے اور الور کی روایات ا نصاف اور رواداری کو قائم رکھیے ۔ ‘‘ (الجمعیۃ 5جون 1932) 

ضبط شدہ معابد اور اوقاف کو واگذاشت کرانے کی جدوجہد

حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نور اللہ مرقدہ نے مساجد و اوقاف پر حکومت کے ناجائز قبضہ کے خلاف زبردست جدوجہد کی۔ مسلم اراکین اسمبلی کو خط لکھ کر متوجہ کرنے کی کوشش کی ۔ علاوہ ازیں 13ستمبر1932کو اسمبلی کے ارکان سے اپنے فرض کی ادائیگی کی اپیل کرتے ہوئے یہ بھی اپیل کی کہ تمام مقبوضہ مساجد اور اوقاف کے فوٹو بھی حاصل کیے جائیں۔ 

’’ایسٹ انڈیا کمپنی یا اس کے بعد جتنی مساجد اور اوقاف پر حکومت کا قبضہ ناجائز ہے ، ان کو آئینی طور پر واگذاشت کرانے کے لیے ممبران اسمبلی کے نام میں ایک اپیل شائع کرچکا ہوں۔ امید ہے کہ وہ حضرات اس پر خاص توجہ کریں گے ۔ اور اگر انھوں نے غفلت کی تو سمجھا جائے گا کہ وہ اسمبلی میں پبلک کی نمائندگی اور ملت کی خیر خواہی کے لیے نہیں جاتے ۔ اور اس صورت میں بہت ممکن ہے کہ آئندہ انتخابات میں یہ ہی غفلت ان کی ماہ میں مشکلات پیدا کردے ۔ ‘‘ (الجمعیۃ13 ستمبر 1932)

حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب کو نوٹس

’’حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب کو 5ستمبر1932کی رات سوا گیارہ بجے ، آر ڈی نینس اختیارات خصوصی کی دفعہ 54کے ماتحت ایک نوٹس دیا گیا کہ چوبیس گھنٹے میں دہلی کو چھوڑ دیں اور پھر آئندہ نوٹس تک آپ دہلی واپس نہ آئیں۔ نوٹس میں یہ بھی لکھا تھا کہ ’’ اس نوٹس کی خلاف ورزی پر دو سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔ آپ کو یہ نوٹس جامع مسجد کی آزادی قائم رکھنے اور مجلس تحفظ ناموس شریعت کی طرف سے مسودات حج کے متعلق آپ کی سرگرمیوں کو روکنے لیے جاری کیا گیا۔ (الجمعیۃ 5ستمبر 1932) ۔

رکن مجلس عاملہ منتخب

29فروری تا 2مارچ 1932کی مجلس عاملہ میں مجلس عاملہ کو توڑ کر کل اختیارات حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کے حوالے کردیے گئے تھے۔ اور پھر ڈکٹیٹری کا سلسلہ قائم کیا تھا۔ دسویں ڈکٹیٹر جمعیت علمائے ہند نے اپنے اختیارات سے مجلس عاملہ کی عارضی نامزدگی کی۔ سولہ اراکین میں ایک نام آپ کا بھی شامل تھا۔(الجمعیۃ9دسمبر1932) 

دائرہ حربیہ کا اختتام

بارھویں ڈکٹیٹر کے بعد19،20،21اگست 1933کو مرادآباد میں جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اجلاس ہوا، جس میں سول نافرمانی کی تحریک کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے، دائرہ حربیہ یا مجلس حربی کے اس نظام کو بند کردیا گیا ۔اور آئندہ کے لیے عملی پرو گرام مرتب کرنے کی غرض سے ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں آپ کا نام بھی شامل تھا۔ (جمعیت العلما کیا ہے، جلد دوم، ص؍177)

لکھنو یونی بورڈ میں شرکت 

10؍11؍12؍ اگست1934 کو مرا د آباد میں جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔جس میں حضرت مولانا حسین احمد صاحب ،مولانا بشیر احمد صاحب،مولانا احمد سعید صاحب اور مولانا مفتی محمد کفا یت اللہ صاحب  کے ساتھ حضرت مولاناابو المحاسن محمد سجاد صاحب کو لکھنؤ یونٹی بورڈ کے جلسہ مجوزہ19 ؍ اگست1934 ء میں جمعیت کی جانب سے شریک ہوکر انتخابات میں یونٹی بورڈ کے امید واروں کی تائید اور عدم تائید کا فیصلہ کرنے کا پابند بنایا۔ چنانچہ ان اکابرین کے ساتھ آپ نے بھی شرکت کی اور جمعیت کے فیصلے کے مطابق یونٹی بورڈ کو فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔ 

انڈیا ایکٹ 1935اور جمعیت کی تنقید

اس ایکٹ میں ہندستانی فیڈریشن ، وہ ہندستانی صوبے جات جن سے مل کر فیڈریشن بنائیں گی اور برما کے متعلق تفصیلی بحث کی گئی تھی۔ اس میں گورنر جنرلوں کو بے پناہ اختیارات دے دیے گئے اور وزیروں کو صرف مشورہ دینے کا حق دیا گیا۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں: الجمعیۃ یکم فروری 1935) ۔ اس ایکٹ میں بھارتیوں کو کوئی بھی اختیار نہیں دیا گیا تھا، حتیٰ کہ مذہبی امور بھی گورنر جنرل کے اختیار میں دے دیا گیا تھا۔ 

’’خارجی تعلقات، دفاعی ماور اور مذہبی معاملات میں گورنر جنرل کو خاص الخاص ذمہ داری حاصل ہوگی۔ لیکن گورنر جنرل ان امور کی انجام دہی کے لیے مشیر مقرر کرے گا، جن کی تعداد تین سے زیادہ نہ ہوگی، جن کی تنخواہ و شرائط ملازمت ملک معظم باجلاس کونسل مقرر کریں گے۔‘‘ (الجمعیۃ 5فروری1935) 

 حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒ نے اس بل پر زبردست تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ 

’’ہندستانی مسلمانوں کے لیے مذہبی تحفظات کا کوئی اور طریقہ سوائے اس کے ممکن ہی نہیں تھا کہ دستور اساسی میں مستقل دفعات کو بنیادی حقوق کے ماتحت درج کرایا جاتا اور جیسا کہ ابھی عرض کیا جاچکا ہے تمام اسلامی جماعتوں نے اس مطالبہ کو متفقہ حیثیت سے پیش بھی کیا تھا ؛ مگر حکومت برطانیہ کے مدبرین نے اس مطالبہ کو مسترد کرکے ہندستان کے اندر قانون کی دستبرد سے مذہب کو آداز رکھنے کے تمام امکانات کو ختم کردیا اور اب جب کہ پارلمینٹری رپورٹ کی سفارشات کے مطابق جدید دستور اساسی مرتب ہوکر ہمارے سامنے آچکا ہے، اور ہم ان مباحث و دلائل کا نتیجہ بھی دیکھ رہے ہیں، جو مذکورہ رپورٹ میں خاص طور پر بیان کیے گئے ہیں ، ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ آٹھ کروڑ مسلمانان ہند کی یہ خواہش کہ ان کے مذہب میں کسی قسم کی آئینی مداخلت نہ کی جائے، اور اس اصول کو صاف الفاظ میں دستور اساسی کے اندر داخل کردیا جائے، پامال کردی گئی ہے۔ ‘‘ (الجمعیۃ 20جون1935) 

مولانا مرحوم اپنے اسی مضمون میں آگے لکھتے ہیں کہ 

’’اس گر بنیادی حقوق کی دفعہ کو دستور میں داخل کردیا گیا تو مداخلت مذہبی کا دروازہ کامل طور سے ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے گا۔ کیا اس کے بعد بھی کسی کو شبہ ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی حیثیت سے آئین و دستور میں جو چیز ضروری تھی، وہ صرف بنیادی حقوق کی صراحت تھی، جس کے لیے جمعیت علمائے ہند کے محترم ارکان ابتدا سے آواز بلند کر رہے ہیں ۔ مگر برطانوی حکومت کو منظور نہیں ہے؛ کیوں کہ اس سے مذہبی مداخلت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہوجاتا ہے۔‘‘ (الجمعیۃ 24جون 1935) 

کوئٹہ کے قیامت خیز زلزلہ میں امداد

31مئی 1935کو کوئٹہ بلوچستان میں خطرناک زلزلہ آیا۔ 5جون 1935کی الجمعیۃ میں چھپی خبر کے مطابق کوئٹہ کے قرب و جوار کا علاقہ بالکل نیست و نابود ہوگیا۔بیس ہزار انسان ملبہ میں دب گئے ۔ آتش فشاں پہاڑ پھٹ گیا۔ پہاڑیاں زمین میں دھنس گئیں۔اس قیامت خیز تباہی سے متاثرین کی امداد و اعانت کے لیے آگے آئی ۔ایک طرف جمعیت کے صدر حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ نے لوگوں سے مدد کے لیے آگے آنے کے لیے اپیل کی ، وہیں دوسری طرف بچشم خود حالات کا مشاہدہ کرنے کے لیے حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نور اللہ مرقدہ جائے حادثہ کا دورہ کیا اور راحت رسانی کی ہر ممکن کوشش کی۔ 

قانون فسخ نکاح کی تسوید

 اجلاس مجلس مشا ورت جمعیت مرکز یہ علمائے ہند،منعقدہ یکم و ۲؍ فروری 1936ء  میں آپ کا تیار کردہ قانون فسخ نکاح کا مسودہ کو منظور کرلیا گیا۔  اس مسودہ کے حوالہ سے پاس کردہ تجویز میں کہا گیا کہ

’’ جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ جلسہ مسلمان عورتوں کی ان ناقابل برداشت مصائب پر نظر کرتے ہوئے- جن میں وہ مبتلا ہیں اور شرعی دارا لقضانہ ہونے کی وجہ سے ان کا کوئی صحیح حل مسلمانوں کے ہاتھ میں نہیں ہے-اس مسودہ قانون کو منظور کرتا ہے۔ اور مسلم ارکان اسمبلی سے توقع رکھتا ہے کہ وہ علما کی مشترک مجلس شوریٰ اور جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا منظور کردہ مسودہ اسمبلی میں پاس کرانے کی متحدہ قوت سے سعی کریں گے۔

درگاہ بل پر غور کمیٹی

اجلاس مجلس مشا ورت جمعیت مرکز یہ علمائے ہند،منعقدہ یکم و ۲؍ فروری 1936ء میںراجہ غضنفر علی خا ں صاحب کے درگاہ بل پر غور کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ، تو اس میں آپ کا نام بھی شامل تھا۔ 

پنجاب کی مسجد شہید گنج

پنجاب کی مسجد شہید گنج کے تعلق سے بھی آپ کی خدمات نمایاں ہیں۔ چنانچہ آپ نے حکومت پنجاب کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ 

اس وقت حکومت پنجاب اور حکومت ہند کو اس فیصلہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حکومت کے مفاد کے لیے اس گزارش پر میں مجبور ہوں کہ جب متنازعہ فیہ جگہ کا اس فیصلہ کی رو سے حکومت کے نزدیک مسجد ہونا متعین ہوگیا، حکومت اس کے احترام و وقار کے لیے اس جگہ کو سر دست اپنی نگرانی میں لے لے، تاکہ اس کی بے حرمتی کی وجہ سے فساد کا اندیشہ باقی نہ رہے۔ و نیز مزار کاکو شاہ کی جگہ کو بھی سردست اپنی نگرانی میں رکھ کر اس کے فیصلہ کی نگرانی استغاثہ کی طرف سے جلد از جلد دائر کردے۔ ‘‘ (الجمعیۃ یکم جون 1936) 

مسلم انڈی پینڈنٹ پارٹی کے حق میں دورہ

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ منعقدہ 14تا 16؍ جنوری 1934 مرادآباد میں مجالس مقننہ میں شرکت کی تجویز منظور کرلی گئی، تو مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمۃ نے مسلم انڈی پینڈنٹ پارٹی 25؍ اگست 1935کو بنائی ، جس کے امید واروں کو کامیاب بنانے کے لیے آپ نے بھی زبردست کوششیں کیں۔

’’حضرت مولانا محمد سجاد صاحب نائب امیر شریعت صوبہ بہار آج کل دور پر ہیں اور انڈی پنڈنٹ پارٹی کے حق میں امارت شرعیہ کی طرف سے مسلمانوں کو متحد فرمارہے ہیں۔‘‘ (الجمعیۃ ۹ ؍ جنوری 1937) 

یکم اپریل کو یوم مخالفت منانے کی اپیل

’’یکم اپریل1937۔ یکم اپریل 1937کو انڈیا ایکٹ 1935کا عملی طور پر نفاذ کردیا گیا۔ اس کے تحت تمام صوبوں میں وزارتیں قائم کردی گئیں۔ ‘‘ (شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد دوم ، ص؍679) 

اس یکم اپریل کو جمعیت نے یوم مخالفت آئین منانانے کا فیصلہ کیا اور مسلمانان ہند سے خصوصی اپیل کی کہ وہ آئین جدید کے خلاف اظہار ناراضگی کے لیے عام ہڑتال کیا جائے۔اس اپیل میں صدر و ناظم جمعیت کے ساتھ ساتھ آپ بھی شریک عمل تھے۔ (الجمعیۃ 24مارچ1937) 

اخبارات کی رپورٹوں کی شہادت کے مطابق پورے ہندستان میں زبردست ہڑتال ہوا اور یکم اپریل کو پورا ہندستان ٹھہرگیا۔

سیالوکے ہندو مسلم فساد کی تحقیقات 

/11اپریل1937 کو موضع سیالوتھانہ بھوئی میں ایک زبردست فرقہ وارانہ فساد ہو گیا ،جس کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے لیے مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ 

فی الحال یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ڈویژنل آفیسر اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کا اس ڈویژن سے فورا تبادلہ کر دیا جائے اور تحقیقات کے بعد اگر وہ اس فساد کو مشتعل کرنے کے ذمہ دار ثابت ہوں، تو ان کو مناسب تادیب کی جائے۔(الجمعیۃ 20؍ اپریل 1937) 

یوم فلسطین کی تجویز

وقت کے ساتھ ساتھ فلسطین کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہوتا چلا گیا۔جس کو حل کرنے کے لیے  29تا 31اکتوبر1937کو میرٹھ میں آل انڈیا فلسطین کانفرنس کی مجلس عمل کا اجلاس کیا گیا۔ اس میں ایک تجویز پاس کرکے یہ فیصلہ لیا گیا کہ (۱) برطانوی مصنوعات کا بائیکاٹ ۔ (۲) دربار تاجپوشی کا بائیکاٹ۔ (۳) آئندہ عالم گیر جنگ میں برطانیہ کی ہرقسم کی امدادبند کردیا جائے۔ اور ان پر عمل درآمد کرانے کے لیے مجلس تحفظ فلسطین بنائی گئی۔اس میں جمعیت احرار اسلام ہند ، مجلس عمل فسلطین کے علاوہ جمعیت علمائے ہند کے جن نمائندوں کو شامل کیا گیا ، ان میں ایک نام حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ کا بھی تھا۔ اس مجلس نے 15دسمبر سے درج بالا مقاطعات ثلاثہ پر عمل درآمد کرانے کے لیے ملک گیر سطح پر مہم چلائی ۔ تفصیل کے لیے دیکھیں (الجمعیۃ ۵؍ نومبر 1937)

قبول وزارت کا فیصلہ

 انڈیا ایکٹ 1935میں بھارتیوں کے وزیروں کو صرف مشورہ دینے کے اختیارات دیے گئے تھے، جب کہ کل اختیارات انگریز گورنروں کو دیے گئے تھے، اس لیے انتخاب میں بھاری کامیابی کے باوجود کانگریس نے وزارت قبول نہ کرنے کا فیصلہ لیا، گاندھی جی نے مشورہ دیا کہ گورنروں سے عدم مداخلت کی تحریر لینے کے بعد وزارت قبول کریں؛ اس کے برعکس بہار مسلم انڈیپنڈنٹ پارٹی کے صدر حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نائب امیر شریعت بہار نے کانگریس کو مشورہ دیا کہ وہ گاندھی جی کی شرط کو لازمی سمجھے بغیروزارت کو قبول کریں۔

’’دستور جدید کے متعلق کانگریس نے جو پالیسی اختیار کی ہے، وہ بہت خوش آئند ہے ۔ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے نقائص کا موثر مظاہرہ بغیر اس کے نہیں ہوسکتا کہ ذمہ داریوں کو قبول کیا جائے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ اکتوبر 1936میں بہار مسلم انڈیپنڈنٹ پارٹی نے بھی اسی پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ مگر کانگریس نے قبول وزارت کی جو شرط ظاہر کی ہے وہ بالکل بے معنی ہے۔ 

مسلمانان ہند کا فرض ہے کہ وہ بغیر ان قرار دادوں کودیکھے ہوئے کوئی رائے قائم کرنے میں جلدی نہ کریں۔ 

(مولانا) ابوالمحاسن محمد سجاد(بہاری) ۔ ‘‘ (الجمعیۃ 24مارچ 1937)

حالات حاضرہ پر غور کے لیے اکابرین کی میٹنگ

18ستمبر1937کو مسلمانوں کی اجتماعی زندگی اور سیاسیات حاضرہ پر جدید حالات کی روشنی میں غور و فکر کرنے کے لیے حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی، مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب ا ور مولانا احمد سعید صاحب کے علاوہ حضرت مولانا ابوالمحاسن سجادؒ نے بھی اپنے  خیالات پیش فرمائے ۔ مستقبل میں عظیم نتائج کی توقع ہے۔‘‘ (الجمعیۃ 20ستمبر1937) 

 واردھا تعلیمی اسکیم کا جائزہ

۳؍ اگست 1938کو دفتر جمعیت علمائے ہند دہلی میں مجلس عاملہ کا ایک اجلاس ہوا ، جس میں واردھا کی تعلیمی اسکیم پر غور کرنے کے لیے  ایک کمیٹی بنائی گئی۔ اس کمیٹی میں ایک نام آپ کا بھی تھا۔ اس کمیٹی نے ایک جامع رپورٹ پیش کی جو مولانا محمد سجاد صاحب کی نظرو فکر کی شاہ کار تھی۔

بھاگلپور فساد پر ایکشن

29جولائی 1938کو بھاگلپور میں ایک رتھ یاترا کو لے کر ہندو مسلم فساد ہوگیا، جس کے خلاف ایکشن لینے کے لیے مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نائب امیر شریعت و پرسیڈنٹ بہار مسلم انڈی پنڈنٹ پارٹی نے آزاد تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ (الجمعیۃ ۹؍ اگست 1938) 

زرعی انکم ٹیکس سے اوقاف کو مستثنی کرنے کی کامیاب کوشش

صوبہ بہار میں مسلم اوقاف کی جائیداوں کو زرعی انکم ٹیکس کے تحت ٹیکس دینے کا پابند کردیا گیا تھا۔ اس کے خلاف مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒ اور مولانا ابوالکلام آزاد علیہ الرحمہ نے زبردست جدوجہد کی اور بالآخر آپ کو کامیابی ملی ۔ مولانا کی اس کامیابی کا اعتراف جمعیت علمائے بہار کے عظیم الشان اجلاس منعقدہ 27،28، 29مئی 1938ضلع چھپرا میں کیا گیا۔ 

نظارت امور شرعیہ کا مسودہ

 ۳،۴،۵ ؍ مارچ 1939بمقام دہلی جمعیت علمائے ہند کا گیارھواں اجلاس عام منعقد ہوا۔ اس میں مسلمانوں کی ملی و معاشرتی ضروریات کے پیش نظر حکومت سے ناظر امور اسلامی کے عہدہ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اور اس کے لیے خاکہ پیش کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ کو اس کا داعی اور روح رواں بنایا گیا۔ چنانچہ آپ نے بڑی عرق ریزی سے اس کا مسودہ تیار کیا ، جسے جمعیت نے منظوری دی۔ 

مدح صحابہ

1939بھی گذشتہ سالوں کی طرح لکھنو شیعہ سنی اختلافات اور فسادات کا مرکز رہا۔ اس کا اندازہ خود مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نائب امیر شریعت صوبہ بہار کے اس بیان کے ابتدائی اقتباس سے لگایا جاسکتا ہے کہ

’’لکھنو میں حکومت یوپی کے ایک ریزولیشن اور آرڈر سے ابتدا میں سال میں تین دن (عشرہ محرم، چہلم اور اکیس رمضان ) مدح صحابہ یعنی مدح خلفائے ثلاثہ کو پبلک مقامات پر ممنوع قرار دیا گیا۔ لیکن مقامی انتظامی حکام نے اس تین دن کی ممانعت سے ناجائز فائدہ اٹھاکر تمام سال کے ایام میں مدح صحابہ کو پبلک مقامات پر روک دیا؛ بلکہ بعض اوقات مجالس خاص میں مدح صحابہ کو قابل سرزنش سمجھا گیا۔‘‘ (الجمعیۃ 24اپریل 1939) 

چوں کہ یہ سراسر مداخلت فی الدین تھا، اس لیے تمام مسلمانوں نے اپنا مذہبی فرض سمجھتے ہوئے حکومت یوپی کے اس ریزولیشن کے خلاف جدوجہد شروع کرتے ہوئے اس وقت تک تحریک سول نافرمانی جاری رکھنے کا اعلان کیا، جب تک کہ پورے سال مدح صحابہ کرنے کی اجازت نہ مل جائے۔اس تحریک کی قیادت مولاناؒ نے فرمائی۔

 مسئلہ فلسطین

فلسطین کے حالات اور برطانیہ کی دو رخی پالیسی پر مولانا حفظ الرحمان صاحب ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ فلسطین نے آگے کے لیے منزل عمل طے کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ ہر صوبہ کے مرکزی مقام پر11؍ فروری1939 کو فلسطین کی آزادی کے متعلق زبردست جلسے کیے جائیں۔ اور اسی تاریخ کو جلسہ کے بعد ایک موقروفد صوبہ کے وزیر اعظم سے ملاقات کرے۔چنانچہ اس فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے دریافت رپورٹ کے مطابق صوبہ سندھ میں مولانا محمد صادق صاحب کی قیادت میں، صوبہ سرحد میں مولانا عبد الحق صاحب نافع مدرس دارالعلوم دیوبند کی قیادت میں، صوبہ سی پی  میں مولانا چراغ الدین صاحب کی زیر قیادت اور صوبہ بہار میںمولانا ابوالمحاسن سید محمد سجاد صاحبؒ کی زیر قیادت وفد نے اپنے اپنے وزیر اعظم سے ملاقات کی اور فلسطین کے تعلق سے اپنے مطالبات پیش کیے۔(الجمعیۃ 20و 24فروری 1939)

نظامت عمومی کے عہدہ پر

 13؍14؍ جولائی 1940ء،بمقام دفتر جمعیت علمائے ہند گلی قاسم جان دہلی، دو روزہ مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی۔ جس میں  حضرت مولانا احمد سعید صاحب مدظلہ العا لی نے آئندہ نظامت علیا کی خدمات انجام دینے سے قطعاً معذوری ظاہر فرمائی اور شدید اصرار کے باوجود اس خدمت کا بار برداشت کرنے کے لیے آمادہ نہ ہوئے۔ تو مجلس عاملہ نے حضرت ابو المحاسن مولانا محمد سجاد و صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو ناظم اعلیٰ منتخب کیا ۔آپ کا دور نظامت 14؍ جولائی 1940سے شروع ہوا اور 18؍ نومبر1940آپ کی وفات تک جاری رہا۔ 

مکمل آزادی کے بغیر کوئی مطالبات قبول نہیں 

جنگ عظیم دوم میں ہندستانیوں کے تعاون حاصل کرنے کے لیے انگریزوں نے کئی کوششیں کیں؛ لیکن جمعیت اور کانگریس مکمل آزادی کے بغیر کسی بھی قسم کا تعاون پیش کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ جب برطانوی سامراج نے دیکھا کہ ہندستانی عوام کے رویہ میں کوئی لچک پیدا نہیں ہورہی ہے، تو وہ خود جھک گئی اور 8؍ اگست 1940کو اپنے ہندستانی ایجنٹ وائسرائے ہند کے ذریعہ یہ اعلان کرایاکہ 

’’حکومت جنگ کے خاتمہ کے بعد فورا ایک نمائندہ جماعت قائم کرے گی اور تمام متعلقہ مسائل کے جلد از جلد تصفیہ کرنے میں حتیٰ المقدور امداد دے گی۔… عارضی گورنمنٹ کے سلسلہ میں کہا کہ ’’ایگزیکیٹو کونسل میں ہندستان کے نمائندوں کو شامل کیا جائے گا اور ایک جنگی مشاورتی کونسل قائم کی جائے گی ،جس میں ریاستوں اور مجموعی طور پر ہندستان کی قومی زندگی کے دوسرے مفاد کے نمائندے شامل ہوں گے۔

جمعیت علمائے ہند کے رہنماوں نے وائسرائے کی اس پیشکش کو سنا ،تو اسے در خور اعتنا ہی نہیں سمجھا؛ کیوں جمعیت علمائے ہند کے سامنے تو ہندستان کی مکمل آزادی کا نصب العین ہے، جب تک اس کا واضح اعلان نہیں ہوتا، جمعیت علمائے ہند جنگ میں انگریزوں کی امداد سے قطعا انکار کرتی ہے اور کرتی رہے گی۔ 12؍اگست 1940کو جمعیت علمائے ہند کے ناظم مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا :

’’گذشتہ ستمبر میں ہم نے جو فیصلہ کیا تھا کہ برطانوی حکومت کی مدد کے لیے ہم کوئی وجہ جواز نہیں پاتے ہیں، وہ صداقت و دیانت کی حکمت پر مبنی تھا، اس لیے جمعیت علما ان بیانوں اور پیش کشوں پر کوئی دھیان نہیں دے سکتی ہے ؛ کیوں کہ ہندستان کی مکمل آزادی ہمارا فطری حق ہے‘‘۔ (تاریخ جمعیت علمائے ہند، جلد اول، ص؍101- 102۔ مدینہ بجنور، 13و 17؍ اگست 1940۔ شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری جلد سوم، ص؍140) 

وائسرائے کو مکتوب

 یورپ کی موجودہ جنگ کے متعلق جمعیت علمائے ہندکی عدم شرکت کی پالیسی کے علاوہ حضرت مولانا ابو المحاسن محمد سجاد صاحب نے مورخہ ۳؍ جنوری1940ء کو وائسرائے کو ایک مکتوب بھی لکھا جس میں انھوں نے پوری قوت کے ساتھ یہ بات پیش کی کہ جمعیت علمائے ہند کا یہ فیصلہ مذہبی اصول اور قرآن مجید کی تصریحات پر مبنی ہے۔حضرت کا یہ مکتوب کوئی عام مکتوب نہیں ؛ بلکہ ظالم و جابر بادشاہ کے سامنے اعلان حق اور جرات آمیز اقدام کاعملی مظاہرہ ہے۔

جمعیت کی تاریخ نویسی

حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد ؒ نے جمعیت کی تاریخ پر ایک مختصر؛ مگر مستند کتابچہ لکھا تھا۔ جسے حکومت دہلی نے ضبط کرلیا۔اس کتاب کے بار میں مولانا حفظ الرحمان صاحب ؒ نے لکھا ہے کہ 

’’جمعیت علما کی بیس سالہ تبلیغی، دینی، سیاسی، اجتماعی خدمات اور عملی جدوجہد کا ایک مرقع تالیف فرمایا، جو ’’تذکرہ جمعیت علمائے ہند ‘‘ کے نام سے معنون کیا گیا اور یہ عجیب بات پیش آئی کہ باوجود اس امر کے کہ اس ’’تذکرہ‘‘ میں جمعیت علمائے ہند کی گذشتہ خدمات کی فہرست مرتب کرنے اور مسلمانان ہند کے سامنے ان خدمات کی تفصیل کو یکجا کرکے ان کی توجہ کو جمعیت علمائے ہند کی طرف زیادہ متوجہ کرنے کے سوائے اور کچھ نہ تھا؛ مگر حکومت دہلی اس کو بھی برداشت نہ کرسکی اور فورا اس کو ضبط کرلیا اور دفتر کی تلاشی لے کر اس کی تمام کاپیاں حاصل کرلیں۔‘‘ (حیات سجاد، ص؍151)۔

مفتی اختر امام عادل صاحب اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ 

’’افسوس کہ اس دستاویزی کتاب کی ایک کاپی بھی شاید آج محفوظ نہیں ہے۔ اگر یہ تذکرہ محفوظ رہتا ،تو ہمیں یقین ہے کہ یہ جمعیت علمائے ہند کی سب سے مستند تاریخ ہونے کے علاوہ فن تاریخ نویسی کا بھی شاہ کار نمونہ ہوتا؛ لکن قدراللہ ماشاء۔‘‘ (تذکرہ ابوالمحاسن ، ص؍ 450) 

حادثہ وفات

نو دن کی مختصر علالت کے بعد حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ نے 17؍ شوال المکرم 1359، مطابق 18؍ نومبر 1940بروز سوموار شام پونے پانچ بجے پھلواری شریف میں آخری سانس لی ۔ دس بجے رات نماز جنازہ ادا کی گئی اور تقریبا ساڑھے دس بجے خانقاہ مجیبیہ کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ وفات کی خبر بجلی کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی ۔ متعلقین و متوسلین پر سکتہ طاری ہوگیا۔علمی و سیاسی دنیا میں سناٹا پسر گیا۔ جمعیت علمائے ہند اور امارت شرعیہ کے لیے سب سے زیادہ صدمہ کے باعث تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سے زائد مرتبہ تجویز تعزیت پیش کی گئی۔ ۵ ؍۶؍ جنوری1941ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں تجویز پاس کرتے ہوئے کہا گیا کہ 

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ جلسہ زعیم الا مۃ، مجاہد ملّت، مفکر جلیل، عالم نبیل حضرت مولانا ابو المحاسن سید محمد سجاد صاحب ناظم اعلی جمعیت علمائے ہند و نائب امیر شریعت صوبہ بہار کی وفات پر ( جو17؍ شوال 1359(18؍ نومبر1940) کو پھلواری شریف میں ہوئی) اپنے عمیق رنج وا ندوہ کا اظہار کرتا ہے اور اس سانحہ روح فر سا کو مسلمانانِ ہند کے لیے ناقابل تلافی نقصان سمجھتا ہے۔ مولانا کی ذات گرامی مذہب و ملّت اور اسلامی سیاست کی ماہر خصوصی تھی۔ ان کی مذہبی ،قومی ، وطنی خدمات صفحات تاریخ پر آبِ زر سے لکھی جائیں گی اور مسلمانان ہند ان کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔

 یہ مجلس مولانا کی اہلیہ محترمہ اور ان کے صاحبزا دے اور دیگر اعزا کے ساتھ اپنی دلی ہمددری ظاہر کرتی ہے۔ اور رب العزت جل شانہ کی بار گاہ میں دست بد عا ہے کہ مولانا کو جنت  الفردوس میں جگہ دے۔ اور ان کی تر بت کو اپنی رحمتوں کی بارش سے سیراب کرے۔ آمین۔

 تیرھواں اجلاس عام منعقدہ 20/21/22؍ مارچ 1942کے موقع پر شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ خطبہ صدارت میں اپنے قلبی تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ 

’’حضرات! رُفقائے کار کے اس اجتماع میں ہم حضرت مولانا ابوالمحاسن سیّد محمد سجاد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی عظیم اور برگزیدہ شخصیت کو فراموش نہیں کرسکتے، جنھوں نے گذشتہ تیس سال میں مسلمانانِ ہند کی زبردست خدمات انجام دی ہیں۔ اس عرصہ میں مسلمانانِ ہند کی تمام اہم مذہبی اور سیاسی تحریکات میں کوئی ایک تحریک بھی ایسی نہیں ہے ،جس میں مرحوم نے پورے جوش اور سرگرمی کے ساتھ نمایاں حصہ نہ لیا ہو۔ جمعیت علمائے ہند میں ان کی شخصیت بہت اہم تھی۔ اُنھوں نے اپنی تمام زندگی جمعیت علما کی خدمت اور اس کو ترقی دینے کے لیے وقف کردی تھی۔ اپنی زندگی کے آخری دور میں مرحوم جمعیت علمائے ہند کے ناظم اعلیٰ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے، ان کی وفات مسلمانان ہند کے لیے عموماً اور جمعیت علمائے ہند کے لیے ایک ایسا قومی و ملّی صدمۂ عظیم ہے، جس کی تلافی نہیں ہوسکتی۔‘‘

بعد ازاں پہلی تجویز آپ کی وفات حسرت آیات پر ہی پاس کی گئی۔

خلاصہ کلام

قصہ مختصر یہ ہے کہ درج بالا سطور میں تاریخی ترتیب کے اعتبار سے مطالعہ کرلیا کہ بیسویں صدی میں جمعیت علمائے ہند اور مسلمانانِ ہند کی تمام اہم مذہبی اور سیاسی تحریکات میں کوئی ایسی تحریک نہیں ہے، جس میں مولانا محمد سجاد ؒ کا خون جگر اور سوز دماغ شامل نہ رہا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو جمعیت علمائے ہند کا دماغ کہا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازے۔