23 Feb 2026

آج یوم تاسیس تبلیغی تحریک ہے

 آج یوم تاسیس  تبلیغی تحریک  ہے

آج 24؍فروری ہے۔ تاریخ میں یہی وہ تاریخ ہے، جس دن جمعیت علمائے ہند کے بینر تلے عالمی سطح کی سب سے بڑی تنظیم ’’شعبۂ تبلیغ ‘‘کا قیام عمل میں آیااور حضرت العلامہ مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ صدر جمعیت علمائے ہند،  اولین صدر اور مولانا عبدالحلیم صدیقی صاحب نور اللہ مرقدہ اولین ناظم بنائے گئے۔اور جمعیت علمائے ہند کی اس پیش قدمی کے تقریبا تین چار سال بعد مروجہ ’’تبلیغی جماعت‘‘ کا آغاز ہوا۔

تفصیلات کے لیے وقت کا انتظار ہے۔ذیل میں اس تحریک کا خلاصہ پیش کیا جاتا ہے:

جنگ عظیم اول میں اماکن مقدسہ کے حوالے سے انگریزوں کی بد عہدی کے باعث، ان کے خلاف مسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ گئی، جس سے خلافت تحریک وجود میں آئی۔

گاندھی جی عدم تشدد کے ذریعہ بھارت کو انگریز مکت کرنا چاہتے تھے، اس لیے انھو ں نے مسلمانوں کا ساتھ لینے کے لیے بلا شرط خلافت تحریک کی تائید و حمایت کی۔اس سے ہندو مسلم اتحاد عروج پر پہنچ گیا۔ 

انگریزوں نے اپنی حکومت کے لیے خطرہ محسوس کرتے ہوئے، ہندو مسلم اتحاد کو پارہ پارہ کرنے کے لیے 1921ء میں سنگھٹن تحریک اور 1923ء میں شدھی تحریک چلوائی۔

جمعیت علمائے ہند نے اس ارتدادی تحریک کے خلاف 18-22؍فروری 1921ء کو تبلیغی وفود کو بھیجنے کا فیصلہ کیا۔

تبلیغ حق کے جرم میںاکتوبر1921ء کی کسی تاریخ کو ناظم عمومی حضرت مولانا احمد سعید صاحب گرفتار کرلیے گئے۔

تیسرے اجلاس عام (18-20؍نومبر1921ء ) میں گرفتاری کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی گئی۔

9-10؍فروری 1923ء کو شعبۂ ’’تبلیغ و حفاظت اسلام‘‘ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا اور 24؍فروری 1923ء کو باقاعدہ شعبہ کا آغاز کردیا گیا اور مولانا عبدالحلیم صدیقی صاحب ناظم منتخب کیا گیا۔

15-16؍جولائی 1923ء کو مفتی اعظم حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کو اس شعبہ کا صدر مقرر کیا گیا۔

13-16؍جولائی 1923ء کو منعقد مجلس منتظمہ میں اسے پورے ہندستان کا مرکز قرار دیا گیا۔

10۔ 7 ؍نومبر1923ء کو شعبۂ تبلیغ کے عملی خاکے ترتیب دیے گئے۔

11۔ 26-27؍اگست  1924ء کو دائرۂ عمل بڑھا کر کئی صوبوں میں پھیلایا گیا اور ’’الداعی‘‘ کے نام سے اس شعبہ کا مخصوص اخبار جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

12۔ 26؍ستمبر1924ء میں ہندو مسلم مفاہمت کے لیے جب تبلیغ کو بند کرنے کی بات کہی گئی، تو جمعیت علمائے ہند نے اس کا زبردست دفاع کیا۔

13۔ 15؍جنوری1925ء میں تبلیغ کانفرنس کا انعقاد عمل میںآیا۔بعد ازاں مختلف سالوں میں کی گئی مساعی کا تذکرہ کیا گیا۔ اور سکیڑوں لوگ مشرف بہ اسلام ہوئے۔

14۔ 11-14؍مارچ 1926ء میں سبھی مسلک والوں سے فروعی اختلاف کو بھول کر تبلیغ کرنے کی دعوت دی گئی۔

15۔ بتاریخ 21؍ستمبر 1926ء، سرمایہ کی کمی کی وجہ سے اس شعبہ کی مستقل حیثیت کے بجائے جمعیت میں انظمام کردیا گیا۔

16۔ 10؍ستمبر 1927ء کی خبر کے مطابق پندرہ روزہ ’’تبلیغ‘‘ جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

17۔ نہرو رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے پیش کردہ متبادل فارمولا کے مطالبہ نمبر (۸) میں یہ کہا گیا کہ مذہبی تبلیغ آزاد رہے گی۔

18۔ حسب سابق 1928، 1929، 1930، 1931 اور دیگر سالوں میں تبلیغی وفود بھیجنے، مدارس، مکاتب اور مساجد قائم کرنے، نو مسلماں کی امداد جیسی سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رہا۔ 

19۔ مروجہ تبلیغی جماعت کا آغاز اس کے تقریبا تین چار سال بعد آواخر 1926ء میں ہوا۔ اس کے بانی حضرت مولانا محمد الیاس نور اللہ مرقدہ ہیں۔

20۔ جمعیت نے روز اول سے جماعت تبلیغ کی تائید و تحسین کی۔ اور اکابرین جمعیت تبلیغی اجتماع میں شرکت اور خطاب فرماتے رہے۔

21۔ 2018ء میں جمعیت کے عملہ کے جماعتی تربیت کے لیے قائد جمعیت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب نے مسجد عبد النبی دفتر جمعیت علمائے ہند میں جماعت والوں کو خصوصی دعوت دی۔اور جماعتی نظام قائم کرنے کے لیے کہا۔

22۔ کووڈ لاک ڈاون میں جب مودی حکومت نے جماعیتوں کو کورونا پھیلانے کے لیے مورد الزام ٹھہرایا۔ تو مولانا محمود مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے 2 ؍اپریل 2020ء کو انڈیا ٹو ڈے ٹی وی پر آکر کھل کرجماعتیوں کی حمایت کی اور انھیں بے قصور بتایا۔

23۔ ان جماعتیوں کو قرنطینہ کے نام پر جیلوں میں بند کردیا گیا، ان کے ساتھ ناروا انسانی سلوک کیے گئے اور بہت سے احباب پر مقدمہ بھی قائم کردیا گیا۔ جمعیت نے ان کے سحری، افطاری کا نظم کیا۔ ان کے مقدمات لڑے، انھیں رہا کرایا اور وطن بھیجنے کی حتیٰ الامکان کوشش کی۔اور کورونا لاک ڈاون جیسے سخت حالات میں انھیں تقریبا چھ مہینے تک دفتر جمعیت علمائے ہند میں قیام کرایا۔ 

24۔ 10؍دسمبر 2021ء کو سعودی حکومت نے باقاعدہ جمعہ کے خطبے میں جماعتیوں کو بدعتی، قبر پرست اور دہشت گرد ہونے کا خطبہ پڑھوایا، جس کے خلاف جمعیت نے اعلان حق کرتے ہوئے کہا کہ تبلیغی جماعت ایک پرامن اور دین کی داعی تحریک ہے، اس کے تحفظ اور دفاع کے لیے کسی بھی قربانی سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔

محمد یاسین جہازی

24؍فروری2026ء۔ مطابق 6؍رمضان المبارک 1447ھ بروز منگل۔ 


17 Feb 2026

شب قدر: مسائل، فضائل اور اسراروحکم

 شب قدر: مسائل، فضائل اور اسراروحکم

محمد یاسین جہازی



شریعت اسلامی میں تین چیزیں ہیں: (۱) مسائل: یعنی عمل و عبادت کا طریقہ۔ (۲) فضائل: یعنی اس کے کرنے کا اخروی فائدہ اور ثواب ۔ (۳) اسراروحکم: یعنی فطرت انسانی کے تقاضے کے مطابق ملحوظ حکمتیں اور کسی قدر دنیاوی فائدے۔ 

مسائل کی حیثیت بنیادی ہے، ان کا جاننا سب سے زیادہ اہم ہے۔ کیوں کہ ان کے بغیر انسان کوئی عمل اورعبادت نہیں کرسکتا۔ فضائل ثانوی چیز ہیں، ان کے جاننے سے عبادت کرنے کا ذوق و شوق پیدا ہوتا ہے ۔اور اسراروحکم معلوم ہوجانے سے ذوق و شوق میں اضافہ اورثواب کی امید یقین میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

شریعت اسلامیہ کے ہر حکم اور ہر عمل میں یہ تینوں امتیازات وخصوصیات پائی جاتی ہیں۔ موضوع کی مناسبت سے آئیے دیکھتے ہیں کہ شب قدر میںیہ تینوں خصوصیات کس طرح پائی جاتی ہیں۔

شب قدر کے مسائل

اس رات کوتلاش کرنا، رات بھر ذکرو اذکار میں مشغول رہنا،بتائے گئے امکانی اوقات : رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میںاسے ڈھونڈھنا؛ شب قدر کے مسائل کی باتیں ہیں۔ اس رات کے لیے کوئی مخصوص عمل نہیں ہے، اپنے ذوق وشوق کے پیش نظر ، نفلی نمازیں، تلاوت کلام پاک اور تسبیحات وغیرہ میں سے جو آپ پڑھنا چاہیں، وہ پڑھ سکتے ہیں۔

شب قدر کے فضائل

اس کی فضیلت کلام پاک کی آیتوں اور احادیث مبارکہ دونوں سے ثابت ہیں۔ کلام پاک میں ایک جگہ تیسویں پارہ میںمکمل ایک سورت :سورہ القدر موجود ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ رات ہزار مہینے سے بہتر ہے ۔ حضرت جبرئیل فرشتوں کی جماعت کے جلو میں دنیا میں تشریف لاتے ہیں ۔ اس رات کو فرشتے ہر امر خیر کو لے کر زمین پر آتے ہیں ۔ یہ رات سراپا سلامتی ہوتی ہے ، اس میں شیطان کوئی شرارت نہیں کرپاتا۔ اور پوری رات خیروسلامتی کا سلسلہ برقرار رہتا ہے۔ دوسری جگہ پچیسویں پارہ میں سورہ الدخان کی چوتھی آیت ہے۔اس میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اس رات میں ہر حکمت والا معاملہ طے کیا جاتا ہے ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس رات سے اگلے سال کی اس رات تک جتنے بھی معاملات ہیں، ان تمام کا فیصلہ اسی رات کو کیا جاتا ہے ۔ کون مرے گا، کس کی موت نہیں آئے گی ، کس کی شادی ہوگی ، کس کے یہاں اولاد ہوگی ، کس کو کتنا رزق ملے گااور ان جیسے تمام تقدیرات کے فیصلے کی یہ رات ہوتی ہے۔ المختصرفضیلت میں قرآن کریم کا اترنا، فرشتوں کا نزول، حضرت جبرئیل کی آمد ، عبادت گذار کے لیے دعائے رحمت، پوری رات خیرو سلامتی کا برقرار رہنااورہر انسان کے پورے سال کی تمام چیزوں کا فیصلہ ہونا شامل ہیں۔

متعدد احادیث میں اس کی رات کی فضلیتیں بیان گئی ہیں۔ ایک روایت میں ہے:

من قام لیلۃ القدر ایمانا و احتسابا، غفرلہ ما تقدم من ذنبہ (بخاری، باب فضل من قام رمضان)

ترجمہ: جو شخص لیلۃ القدر میں ایمان کے ساتھ یعنی ثواب کا یقین کرتے ہوئے اور احتساب یعنی ریا وغیرہ کسی بد نیتی کے بغیر عبادت کرے گا، تو اس کے پچھلے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں۔

ایک دوسری روایت میں آیا ہے: 

عن انس ؓ قال دخل رمضان، فقال رسول اللہ ﷺ ان ھذا الشھر قد حضرکم و فیہ لیلۃ خیر من الف شھر ، من حرمھا ، فقد حرم الخیر کلہ، ولا یحرم خیرھا الا محروم (سنن ابن ماجہ، باب ماجاء فی فضل شھر رمضان)

حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رمضان المبارک کا مہینہ آیا ، تو حضور ﷺ نے فرمایا کہ تمھارے اوپر ایک مہینہ آیا ہے، جس میں ایک رات ہے ، جو ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ جو شخص اس رات سے محروم رہ گیا، گویا سارے ہی خیر سے محروم رہ گیا۔ اور اس کی بھلائی سے محروم نہیں رہتا ؛مگر وہ شخص جو حقیقۃ محروم ہی ہے۔

ان کے علاوہ بھی کئی ایک حدیثیں ہیں ، جن میں اس رات کی فضیلت کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

شب قدر کے اسرار و وحکم

اس رات کے اسرار وحکم میں کئی باتیںشامل ہیں : ایک تو یہ کہ یہ رات دیگر راتوں سے الگ کیوں ہے۔ دوسری یہ کہ ایک ہی رات میں تراسی سال چارہ ماہ سے بھی زیادہ عبادت کا ثواب کیوں مل جاتا ہے اور تیسری بات یہ ہے کہ شب قدر کی ضرورت کیا تھی؟۔ ان باتوں کی وضاحت کے لیے پہلے ہمیںیہ جاننا ضروری ہے کہ اللہ کے مقررکردہ بارہ مہینے میں سے رمضان میں کچھ ایسی تبدیلیاں کردی جاتی ہیں ، جو غیر رمضان میں نہیں ہوتیں۔ وہ تبدیلیاں تین طرح کی ہوتی ہیں:(۱) تکوینی نظام میں تبدیلی۔ (۲) اعمال کے ثواب میں اضافہ۔ (۳) روزہ مرہ کے معمولات اور عبادات میں تبدیلیاں۔ ان تینوں حوالے سے سابقہ مضمون میں تفصیلات آچکی ہیں۔ (اس کتاب میں شامل مضمون: رمضان اور تکوینی نظام میں تبدیلیاں ‘‘ کا مطالعہ کریں)

فضائل کی باتوں کو پیش نظر رکھیں ، تو یہ بات خود بخود واضح ہوجائے گی کہ یہ رات دیگر راتوں سے الگ کیوں ہے ؛ کیوں کہ جس رات میں قرآن کریم کا نزول اجلال ہواہو، جس رات میں فرشتے جوق در جوق زمین پر اتریں ، جو رات سراپا خیرو سلامتی والی ہواور جس رات میں انسان کی تمام تقدیرات کے فیصلے کیے جائیں، اگر وہ رات ایک خاص رات ہوتی ہے ، تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے ۔ ایسا ہونا خود انسانی فطرت کے مقتضیات میں سے ہے ؛ کیوں کہ اس کی فطرت میں یہ چیز شامل ہے کہ جب اس کی زندگی کی کوئی تقریب ہوتی ہے تو وہ اس وقت کو خاص بنانے اور اس کو سلیبریٹ کرنے کے لیے عام دنوں سے کچھ الگ کرنا چاہتا ہے، تو بھلا بتائیے جس رات میں انسان کے ایک سال کی زندگی کا فیصلہ ہورہا ہو تو کیا اس رات کو دیگر راتوں سے بالکل الگ اور خاص نہیں ہوناچاہیے۔ اس لیے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اس کو اور راتوں سے ممتاز اور الگ رات بنائی ہے۔ اور جہاں تک یہ بات ہے کہ اس ایک رات کی عبادت سے تراسی سال چارہ ماہ سے بھی زیادہ عبادت کرنے کا ثواب کیوں مل جاتا ہے ۔ تواس حوالے سے پہلی بات تو یہ ہے کہ رمضان اور شب قدر کی رات میں تکوینی نظام میں جو تبدیلیاں کی جاتی ہیں ، ان کا لازمی تقاضا ہے کہ ان لمحات میں کیے جانے اعمال کے اثرات اور نتیجے بھی الگ ہوں ؛ ورنہ تکوینات میں تبدیلی بے معنی ہوجائے گی ، اس لیے صرف اس ایک رات کی عبادتوں کا ثواب ہزار مہینے سے متجاوز ہوجاتا ہے اور دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے امت مسلمہ کو یہ انعام اس لیے مرحمت فرمایا ؛ کیوں کہ یا تو (الف) سابقہ امتوں کی عمریں بہت لمبی ہوتی تھیں اور امت محمدیہ کی بہت تھوڑی ، اس لیے ان کے بدلے امت مسلمہ کو یہ فضیلت بھری رات عطا کی گئی۔یا پھر (ب)ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے بنی اسرائیل کے چار افراد : حضرت ایوب، حضرت زکریا، حضرت حزقیل اور حضرت یوشع علیہم السلام کے اسی اسی سال تک عبادت کرنے اور پل جھپکنے کے برابر بھی نافرنانی نہ کرنے کا تذکرہ کیا ، تو صحابہ کوحیرت ہوئی ، اس پر اللہ نے یہ رات عنایت فرمائی۔یا پھر اس وجہ سے کہ (ج)بنی اسرائیل کا ایک شخص ایک ہزار مہینے تک اللہ کے راستے میں جہاد کرتا رہا ، اس تذکرہ سے صحابہ کو رشک آیا اور یہ رات عطا ہوئی۔المختصر سبب جو بھی ہو، اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ اس بے نہایت انعام کی قدر کرنی چاہیے ۔ بڑا ہی خوش نصیب ہے وہ شخص جس کو اس رات کی عبادت نصیب ہوجائے ۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو شب قدر پالینے اور عبادت کرنے کی توفیق مرحمت فرمائے ، آمین۔