8 Feb 2026

جمعیت علما کی ضرورت اور شرعی حیثیت

 جمعیت علما کی ضرورت اور شرعی حیثیت 

مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی قائم مقام ناظم و ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند

دنیا کے تمام مذاہب- جن میں آسمانی تعلیم کا شائبہ تک بھی ہے- اس اصل پر متفق ہیں کہ انسان کو ہر قسم کی غلامی سے آزاد رہنا چاہیے۔ انبیائے مرسلین کی بعثت کا منشا بھی یہی تھا کہ جو انسان خدا کی آزادی جیسی سب سے بڑی نعمت سے محروم کر دیے گئے ہوں، ان کو غلامی سے نجات دلائیں؛بلکہ سچ پوچھیے تو انسان کی غلامی و آزادی ہی کا مسئلہ ایک ایسا مسئلہ ہے، جس کو دین الٰہی کا معیار کہا جاسکتا ہے، جس مذہب میں جس قدر آزادی کی تعلیم ہو، اسی قدر وہ مذہب دین الٰہی (جس کا دوسرا نام دین اسلام ہے) سے قریب ہوگا۔ اِنَّ الدِّیْنَ عِنْدَ اللّٰہِ الْاِسْلاَمَ۔ جو دین آزادی کی روح سے محروم ہو، اس کی تعلیمات فلسفۂ آزادی سے معرا ہوں ،وہ ہرگز ہرگز دین الٰہی نہیں ہوسکتا۔ اور نہ خدا کے نزدیک وہ معتبر و مقبول ہوگا۔ وَ مَنْ یَّتَّبِعْ غَیْرَ الْاِسْلاَمِ دِیْنًا فَلَنْ یُّقْبَلَ مِنْہُ وَھُوَ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ اورآزادی کا مدار عقیدۂ توحید پر ہے، جس کا صاف اور کھلا ہوا مفہوم یہ ہے کہ انسان صرف ایک خدا کی (جو اُن کا اور سارے جہان کا پیدا کرنے والا اور پالنے والا ہے) عبودیت و غلامی کا اقرار کرے اور تنہا اس خدا کی عبادت کرے۔ اس کا یقین رکھے کہ موت، زندگی، نفع، نقصان؛ سب اس کے قبضہ میں ہے۔ ڈر ہو، تو خدا کا۔ جو کچھ مانگنا ہو، تو اس خدا سے مانگے۔ خدا کے سوا نہ کسی سے دبے، نہ ڈرے اور نہ کسی کی غلامی کو گوارا کرے۔

یہ ہی وہ عقیدہ ہے، جس پر خدا کے دین اسلام کی عمارت قائم ہے اور اس عقیدہ کے تسلیم کرنے والے خاکی انسان ارباب علم و معرفت خدا کے قدوسی فرشتوں کے دوش بدوش ہیں۔ شَھِدَ اللّٰہُ اَنَّہٗ لاَ اِلٰـہَ اِلاَّ ھُوَ وَالْمَلٰٓئِکَۃُ وَ اُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ۔

یوں تو پورا نظام عالم اور اس زنجیر کی ہر ہر کڑی اور اس کڑی کا ایک چھوٹے سے چھوٹا جزوخدا کی وحدانیت پر برہان قطعی ہے۔ سَنُرِیْھِمْ اٰیٰتِنَا فِی الْاٰفَاقِ وَ فِی اَنْفُسِھِمْ حَتّٰی یَتَبَیَّنَ لَھُمْ اَنَّہُ الْحَقُّ۔ یہاں تک کہ خود انسان کا وجود اپنے اندر بے شمار دلائل توحید رکھتا ہے: وَ فِی الْاَرْضِ اٰیٰتٌ لِّلْمُوْقِنِیْنَ وَ فِیْ اَنْفُسِکُمْ اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ۔لیکن تدبر و تفکر کو کام میں لاکر کائنات کے ایک ایک ذرہ سے اللہ سبحانہٗ کی وحدانیت سمجھنا صرف علما کا کام ہے: وَتِلْکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ وَ مَا یَعْقِلُھَا اِلاَّ الْعٰلِمُوْنَ ۔یہ ہی وجہ ہے کہ اہل علم کے سینے خدائے جبار کے جلال وجبروت سے معمور ہیں۔ اور ان کے قلوب خدا کی خشیت و خوف کا مسکن و ماویٰ ہوتے ہیں۔ اِنَّمَا یَخْشَی اللّٰہَ مِنْ عِبَادِہِ الْعُلَمَائُ۔

 یہ چند خصوصیات ہیں، جو علماکی مقدس جماعت کو عام مسلمانوں سے ممتاز کرتی ہیں اور انبیائے مرسلین کی نیابت و وراثت کا مستحق قرار دیتی ہیں۔ اَلْعُلَمَائُ وَرَثَۃُ الْاَنْبِیَائُ۔

علما کی حیثیت اور منزلت شرعیہ

زمانہ پیشیں میں جس طرح انبیائے کرام کو راہِ حق میں مصائب و آلام کا سامنا کرنا پڑا اور قربانیاں پیش کیں، اسی طرح علمائے اسلام کو اعلان حق و تبلیغ احکام میں وہ تکالیف برداشت کرنی ہوں گی؛ ورنہ انبیائے بنی اسرائیل کی شرف مماثلت سے دست بردار ہونا پڑے گا۔ علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل۔ حق کی قیمت ہے، جو ہر زمانہ میں حق پرستوں سے وصول کی گئی تھی۔ پھر علمائے دین اس سے کیوں کر مستثنیٰ سمجھے جاسکتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوا کہ عالم دین کی حیثیت (خصوصاً جب کہ باطل کا زور ہو، مادی و فانی طاقت خدا کی غیر فانی قوت کے مقابلہ پر اُتر آئے، زمین کے بسنے والے خاکی انسان رب السموات والارض کی بادشاہت میں بغاوت کا جھنڈا بلند کریں) سر فروش داعی اور جاںباز مبلغ کی حیثیت ہے۔ اسی وجہ سے مذہبی سیادت و قیادت بلا شرکت احدے خالص علمائے دین کا حق و فرض شرعی ہے۔

عوام کو علما کی ضرورت

مہمات شرع و ضروریات دین میں علماکی طرف رجوع کرنا اور پھر ان کے فیصلے اور فتاوے کے سامنے سر اطاعت خم کرنا عام مسلمانوں کے فرائض دینی میں داخل ہے۔

 فَسْئَلُوْا اَھْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ بِالْبَیِّنٰتث وَالزُّبُرِ

 اس میں ذرا شک نہیں کہ جو لوگ باقاعدہ علوم شرعیہ کی تحصیل نہیں کرتے،قرآن کریم و حدیث نبوی کے صحیح علم سے بے بہرہ ہیں، وہ کسی حالت میں عوام سے نکل کر ان علما کی صف میں جگہ نہیں پاسکتے، جن کو اوامر و نواہی شرع پر کامل عبور اور مصالح شرعیہ پر بصیرت تامہ حاصل ہے۔ ھَلْ یَسْتَوِی الَّذِیْنَ یَعْلَمُوْنَ وَالَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ۔ اگر اندھیرا اُجالا ایک شے نہیں ہے اور ایک اندھے اور آنکھوں والے میں فرق ہے، تو یقینا غیر عالم شخص کسی عالم دین کے مماثل نہیں۔ وَ مَا یَسْتَوِی الْاَعْمٰی وَالْبَصِیْرُ وَلاَ الظُّلُمٰتُ وَ لَا النُّوْر لیکن جس قدر علما کی سطح قیادتِ مذہبی میں عوام سے بلند تر ہے، اسی مناسبت سے اُن کی ذمہ داری نہایت اہم ہے۔ امت اسلامیہ کی بے راہ روی و غلط کاری کا وبال اگر گہری نظر سے دیکھا جائے، تو علماکی فرض ناشناسی و کوتاہی پر آتا ہے۔

رہنمایان ملت کے فرائض

 احکام اسلام اور ان کے متعلقہ جزئیات کا حکم فقہی بیان کردینے سے ختم نہیں ہوجاتے۔ فرائض کا دائرہ اس سے وسیع تر ہے۔ حکم دینے کے بعد اس طاقت کا وجود بھی ضروری ہے، جو ان کے فیصلہ کو نافذ کرے اور احکامِ شرع کی تعمیل کرائے۔ نیز امت میں اس قابلیت کا پیدا کرنا بھی لابدی ہے، جس سے پیشواؤں کی ہدایات پر عمل پیرا ہوسکے؛ ورنہ فقدان استعداد و عدم موافقت حالات کی صورت میں کتاب اللہ و سنت رسول اللہﷺ کی دعوت اور ان کے احکام کا نشر و ابلاغ دراصل قرآن و حدیث کی توہین کے مرادف ہے۔

پس آج علمائے اسلام کا اہم ترین فرض یہ ہے کہ نظام شرعی کے ماتحت پہلے خود مرکزی طاقت و اجتماعی قوت بہم پہنچائیں اور پھر امت کو مرکز کی دعوت دیں؛ لیکن اس حقیقت کو ایک لمحہ کے لیے بھی فراموش نہ کیا جائے کہ حقیقی رہنمائی اور مقصود اصلاح مسلمانوں کی اس وقت تک محال قطعی ہے، جب تک ہم کو کامل آزادی حاصل نہ ہوجائے۔ استقلال تام ،یا حریت کامل ہی وہ واحد ذریعہ ہے، جو ایک طرف علما کو فرائض کی انجام دہی میں مدد دے گا اور دوسری جانب امت میں قبول و انقیاد کی اہلیت ثابت کرسکتا ہے۔ یہ ہی وہ دعوت الی الخیر ہے، جو فریضۂ امر بالمعروف و نہی عن المنکر سے بھی مقدم سمجھا گیا ہے۔

وَلْتَکُنْ مِّنْکُمْ اُمَّۃٌ یَّدْعُوْنَ اِلَی الْخَیْرِ وَ یَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَ یَنْھَوْنَ عَنِ الْمُنْکَرِ وَ اُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ۔(آل عمران:104)صدق اللہ و رسولہ۔

 حقیقتاً آزادی ہی تمام نیکیوں اور خوبیوں کا سرچشمہ ہے۔ جو قومیں اس چیز سے محروم ہیں، ان کے لیے دنیا میں نہ کوئی نیکی نیکی اور نہ کوئی خوبی خوبی ۔نہ خدا کی کسی نعمت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور نہ اس کی رحمت ان پر سایہ فگن ہوتی ہے۔ چوں کہ مقدس اسلام انسانوں کو غلامی سے نجات دلانے کے لیے آیا ہے، اس لیے سب سے پہلے مسلمانوں پر آزادی کے لیے جدوجہد فرض قطعی ہے اور اس فریضہ کا ادا کرنا استیلاء الکفار علی بلاد المسلمین کی صورت میں ڈیڑھ سو برس سے ہندستان کے مسلمانوں پر واجب تھا۔ اب جس وقت کہ خلافت، جزیرۃ العرب و مقامات مقدسہ کو دشمنانِ دین کے تسلط سے پاک کرنا بھی فرض ہوگیا، تو ہمارے پیشوایان مذہب کا ان حالات میں ایک اور صرف ایک فرض ہے؛ وہ فرض یہ ہے کہ علمائے کرام اپنے تمام و کمال ذرائع و اسباب کو حصولِ آزادی کے لیے وقف فرما دیں اور اپنی انفرادی و منتشر طاقت کو ایک مرکز پر لاکر متفقہ طور پر ایک مرتبہ آخری؛ مگر انتہائی کوشش کر کے غلامی کی لعنت کو- جو کم وبیش دو سو سال سے ہمارے گلے کا ہار ہو رہی ہے- دور کردیں۔

علماکی ذمہ داری

اگر اس وقت تساہل و تغافل سے کام لیا، تو اس کا نتیجہ صرف یہ ہی نہ ہوگا کہ ہم ۳۳؍ کروڑ ہندستانی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے غلامی کی زندگی ان تمام ذلتوں اور رسوائیوں کے ساتھ (جن سے انسانیت تو درکنار؛ حیوانیت کو بھی عار آتا ہے) بسر کرنے پر مجبور ہوں گے؛ بلکہ مزید براں ہم بد قسمت مسلمانوں کے لیے اس سے کہیں زیادہ تلخ و ناگوار نتائج پیدا ہونے کا یقین ہوتا ہے۔

(۱) (حاکم بدہن خدانخواستہ) اسلامی شوکت خدا کی اس وسیع زمین کے ہر ہر گوشہ میں تا قیام قیامت دفن کردی جائے گی۔

(۲) تقریباً آٹھ سو سال کی سرزمین ہند (جہاں چھ صدیاں حکمراں کی حیثیت میں گزری ہیں) میں مسلمانوں کی مذہبی زندگی کا ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہوجائے گا۔

(۳)  سب سے پہلے خود پیشوا اپنی ناکارہ؛ بلکہ اسلام و مسلمانوں کے حق میں سمّ قاتل حیات کو موت کی صورت میں تبدیل کرنے پر مجبور ہوں گے اور اس طرح علما اور مشائخ اپنی سہل انگاری سے نہایت شرم ناک خود کشی کے مرتکب ہوں گے۔

یہ واضح رہے کہ نتائج و خیمہ کی تمام تر ذمہ داری عند اللہ و عند الناس مقدس جماعت علما کے سر عائد ہوگی۔

حقیقی مسئولیت و اصلی ذمہ داری کو علمائے حق کے ایک گروہ نے محسوس کرتے ہوئے نومبر 1919ء میں بمقام دہلی جمعیت علمائے ہند کا سنگ بنیاد رکھا اور آخر دسمبر1919ء میں بمقام امرتسر میں اجلاس منعقد کیے۔ ان میں ابتدائی مسائل پر غور کر کے چند ایسی مفید تجاویز منظور کیں ،جو قابل عمل ہوسکیں۔(جمعیت علمائے ہند کی دو سالہ روداد بابت 1338-39ھ۔ (1919-20ء)، ص؍3-6۔ مضمون:مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی قائم مقام ناظم جمعیت علمائے ہند)

 عدالت (مراد آباد) میں حضرت شیخ الاسلام کا بیان

محمد یاسین جہازی


جہازی میڈیا پر مطالعہ کرنے کے لیے کلک کریں

ڈاکٹر ابوسلمان شاہ جہاں پوری مرحوم تحریر فرماتے ہیں کہ:

ہندستان چھوڑ دو تحریک کا ریزولیوش پاس ہونے سے کچھ حضرت شیخ الاسلام گرفتار ہوئے اور مراد آباد کی عدالت میں آپ پر مقدمہ چلایا گیا۔ اس مقدمے میں حضرت نے جو تحریری بیان دیا تھا، وہ ابھی تک غیر مطبوعہ ہے۔ اس کا ایک حصہ -جو تحریک آزادی کے سلسلے میں حضرت کے بنیادی افکار سیاسی کا آئینہ دار ہے- الجمعیۃ شیخ الاسلام نمبر کے حوالے سے پیش کیا جاتا ہے۔

(شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد سوم،ص؍306)

’’انسان کی طبعی بات ہے کہ اس کو اپنے وطن عزیز سے اس قدر محبت ہوتی ہے کہ دوسری جگہوں سے نہیں ہوتی۔ جس سرزمین میں وہ پیدا ہوتا اور پرورش پاتا ہے، خواہ کتناہی تکلیف دینے والا ہو، مگر انسان کو اس کا کانٹا بھی دوسری جگہ کے پھولوں سے اچھ معلوم ہوتا ہے۔ مشہور شعر ہے: ؎

حب الوطن از ملک سلیمان خوشتر

خار وطن از سنبل و ریحان خوشتر

مگر میں جب کہ اسکول میں پڑھتا تھا، تو مجھ کو تاریخ اور جغرافیہ سے خصوصی دل چسپی پیدا ہوئی اور ہندستان کی پرانی تاریخی عظمتوں اور جغرافیائی قدرتی ہمہ گیر برکتوں نے نہایت گہرا اثر کیا اور پھر اہل ہند کی موجودہ بے کسیوں کا اثر روز افزوں ہوتا رہا۔ طالب علمی کے زمانے میں اس احساس میں ترقی ہی ہوتی رہی۔ اس زمانے کے ختم ہونے پر مجھ کو آزاد ممالک عرب، مصر، شام وغیرہ کی سیاحت اور قیام کی نوبت آئی، آزاد ملکوںکے باشندوں ے میل جول اور ان کے اوطان کی حالتوں سے آگاہی حاصل ہوئی، اس نے میری اپنے وطن سے محبت میں اور زیادتی پیدا کر دی اور اس احساس کو نہایت قوی کر دیا کہ آزادی کس قدر ضروری چیز ہے اور بغیر آزادی کے کسی ملک کے باشندے کس قدر بے بس اور اپنے وطن کی قدرتی فیاضیوں سے محروم ہوتے ہیں۔

میں نے دیکھا کہ یورپین، ایشیاتک، افریکن آزاد اقوام کس طرح اپنی آزادی کے گیت گاتی ہیں اور اس کے لیے ہر قسم کی قربانیوں کو ضروری سمجھتی ہیں۔ ان امور کے مشاہدے کی بنا پر مجھ میں وہ قومی جذبات پیدا ہونے ضروری تھے کہ جن کے ہوتے ہوئے میں ہندستان کی محبت اور اس کی آزادی میں بیش از سعی اور جدو جہد میں کسی کو تا ہی کو روانہ رکھوں۔ اس پر یہ طرہ ہوا کہ گورنمنٹ برطانیہ نے مجھ کو میرے آقا حضرت شیخ الہند مولا نا محمود حسن صاحب قدس سرہ العزیز کے ساتھ -جو کہ مسلمانوں میں آزادی ہند کے سب سے بڑے علم بردار تھے- گرفتار کر کے ایک مہینہ ایجپٹ (مصر) میں جیزہ کے سیاسی قید خانے میں رکھا۔ وہاں مصریوں کا آزادی پسند طبقہ مقید تھا۔ اس کے بعد مجھ کو ہمراہیوں کے ساتھ مالٹا بھیجا گیا، جہاں پر آزاد ممالک یوروپیہ اور ایشیاویہ کے چوٹی کے سیاست دان اور فوجی لوگ مقید تھے۔ڈیڑھ ہزار جرمن اور ڈیڑھ ہزار آسٹرین، بلگیرین، ٹرکش، عرب تھے۔ اس کیمپ میں ہم کو بھی چار برس1916ء سے 1920ء تک رکھا گیا۔ ہم آپس میں روزانہ ملتے تھے اور دنیا کے تمام حالات اور تمام ملکوں کا مطالعہ اور بحث کرتے تھے۔ ان امور کا قدرتی طور پر جو کچھ نتیجہ ہونا چاہیے تھا، وہ ہوا اور ضروری تھا کہ ہو۔ 1920 ء جون میں پھر ہم کو ہندستان لایا گیا۔ جب ہم یہاں پہنچے، تو خلافت کی تحریک زوروں پر تھی، جلیاں والا باغ کے واقعات، رولٹ ایکٹ اور مارشل لا وغیرہ کی مختلف جگہوں کی زیادتیوں نے ہندستان کے تمام باشندوں میں کھلبلی ڈال رکھی تھی اور نان کو آپریشن کی تحریک زوروں پر تھی۔ میں اس قدر متأثر ہوچکا تھا کہ میرا عقیدہ ہوگیا تھا کہ فرقہ واری کی تنگ کلیوں سے نکل کر تمام ہندستانی قوم کواور جملہ باشندگان ہند کو آزاد ہونا از بس ضروری ہے۔ میں نے بیرونی ممالک میں مشاہدہ کیا تھا کہ دوسرے ممالک میں ہندستانی، خواہ مسلمان ہوں یا ہندو، سکھ ہوں یا پارسی وغیرہ وغیرہ ؛ایک ہی نظر حقارت سے دیکھے جاتے ہیں اور سب کو نہایت ذلیل غلام کہا جاتا ہے، سب کو ایک ہی قوم دیکھا جاتا ہے اور با لخصوص سپید نسل والے ان سبھوں کو بہت ذلیل جانتے ہیں اور بات بات پر ایسے طعنے اور ذلت آمیز کلمات کہتے اور معاملات کرتے ہیں کہ جن کاتحمل مشکل ہے۔

خلاصہ یہ کہ میں خلافت، کانگریس، جمعیت علما میں داخل ہو گیا اور نان و ائیلنس کو سیاسی عقیدہ بنا کر تحریک ترک موالات (نان کو آپریشن) کو اپنا عملی پروگرام بنا لیا۔ اس بنا پر میں 1919ء سے آج تک کانگریس اور جمعیت علما کا ممبر ہوں اور ان دونوں کے عقیدے میرے سیاسی عقیدے اور ان کے عملی پروگرام میرے دستور العمل ہیں۔ خلافت کی تحریک اگر آج موجود ہوتی، تو میں اس کا بھی ممبر ہوتا۔ میرا قومی اور زور دار سیاسی عقیدہ ہے کہ جس طرح ہر انگریز، ہر فرانسیسی، ہر جرمنی، ہر امریکن، ہر جاپانی ضروری سمجھتا ہے کہ وہ اپنے ان کو آزاد رکھے اور اپنے آپ کو بھی کسی دوسری قوم کا غلام نہ ہونے دے اور ہر قسم کی قربانی کو اس راہ میں کم سمجھے اور اس جدو جہد کو ایک انگلستان کا اور دوسرے ممالک کا باشند ہ اپنا فرض اور اپنے لیے باعث فخر و مباہات سمجھتا ہے؛ بلکہ موت کو اس پر ترجیح دیتا ہے اور اس کے لیے مسٹر چرچل اور دیگر ذمے داران برطانیہ کی تقریر یں اور تحریریں برابر آتی رہتی ہیں، یہی فلسفہ ہندستانی کا بھی ہے اور ہر ہندستانی کا- خواہ وہ کسی مذہب سے تعلق رکھتا ہو- اس کا یہی عقیدہ ہونا چاہیے۔ میں نے اس تحریک آزادی اور باامن جدو جہد میں نہایت سرگرمی کے ساتھ حصہ لیا اور پھر کراچی کے مشہور کیس میں دو برس تک سابرمتی جیل کے اندر نہایت شرافت کے ایام گزارے۔ وہاں سے نکلنے کے بعد بھی برابر میں حسب پروگرام کا نگریس اور جمعیت علما اسی جدوجہد میں مشغول ہوں اور مشغول رہا اور سیکڑوں جلسوں وغیرہ میں تقریریں کیں، متعدد خطبات اور رسالے لکھے، مضامین شائع کرتا رہا۔ اس زمانے میں ،جب کہ جمعیت علما اور کانگریس نے اس جنگ کو ہندستان کے دروازوں تک پہنچتے ہوئے دیکھا اور محسوس کیا کہ کہیں ان ایام میں، جب کہ گورنمنٹ برطانیہ جنگ میں مشغول ہوگی اور اس کی تمام پاور اس کے دشمنوں کے مقابل ہوگی، اندرون ملک بدامنی اور لوٹ مار چوری اور ڈکیتی۔ فرقہ وارانہ لڑائیاں، پرانی دشمنیوںاور خود غرضیوں کے جذبات ظاہر ہو کر کہیں تمام پبلک اور ملک میں ابتری اور ہلاکت نہ پھیلا دیں، ادھر مخالفین برطانیہ اور برطانیہ کی جنگی کارروائیوں کی وجہ سے عام ہندستانیوں کے لیے جو جو مصائب پیش آئیںگے، ان سب کے دور کرنے کے لیے جماعت خدام خلق بنانا ضروری ہے اور سب کو -خواہ کسی جماعت کے آدمی ہوں اور کسی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں-منظم ہو جانا از بس لازمی ہے۔ فرقہ وارانہ جذبات اور پرانی دشمنیاں، مختلف عقائد سیاسیہ اور مذہبیہ کو اس وقت بھلا دینا اور سب کو خواہ دیہاتی ہوں، قصبات کے باشندے ہوں، خواہ شہری، منظم ہو جانا لازم ہے۔ اس پروگرام کو اس وقت چلانا اور اس کی تلقین کرنا ضروری قرار دیا گیا تھا۔ میں چند مہینوں سے یہی کام کر رہا ہوں اور اس کی تلقین میں نے بچھراؤں کے اس جلسے میں کی تھی۔ افسوس یہ ہے کہ اس پروگرام کے متعلق جو کچھ میں نے کہا تھا،ر پورٹر نے اس کو یک قلم حذف کر دیا ہے۔ میں نے اپنی تقریر میں ان تمام اعتراضات کو ملحوظ رکھتے ہوئے تقریر کی تھی، جو کہ فرقہ وارانہ جذبات کے بھڑ کانے اورلوگوں کولڑانے کے لیے ناعاقبت اندیش اور خود غرض لوگ کیا کرتے ہیں اور ان تمام امورکو پیش نظر رکھا تھا، جن کی بنا پر با وجود اختلاف عقائد و خیالات متحد اور منظم ہونا ضروری ہو جاتا ہے۔ مثلا کہا جاتا ہے کہ ہندو مسلمانوں میں لڑائی بھڑائی پرانے زمانے سے؛ بلکہ ہمیشہ سے اسی طرح چلی آتی ہے، یا کہا جاتا ہے کہ مذہبی اختلافات اور عقائد کا تقاضہ یہی ہے کہ وہ آپس میں لڑیں۔ کبھی گانے اور بجانے کا مسئلہ پیش کیا جاتا ہے۔ کبھی مختلف مقامات کے بلوے دکھائے جاتے ہیں۔ کبھی ہندوؤں کے مظالم پیش کیے جاتے ہیں۔ کبھی مسلمانوں کے مظالم پیش کیے جاتے ہیں۔

علی ہذا القیاس میں نے وہ ہلاکت آمیز مصیبتیں ،جو کہ ایام جنگ ہندستان میں پیش آنے والی ہیں اور وہ مصائب جو کہ برطانوی حکام کی پالیسیوں سے ہندستان کے باشندوں کو انتہائی فلاکت ؛بلکہ ہلاکت کے گھاٹ اتارچکی ہیں اور ان کا خود انصاف پسند اور انسانیت کے ہمدرد مشہور انگریز اقرار کر رہے ہیں، دکھلا ئیں کہ ایسی مصیبت کے وقت میں از بس ضروری ہو جاتا ہے کہ اپنے جھگڑوں کو چھوڑ دیا جائے اور مشتر کہ مصیبت کو دور کرنے کی انتہائی کوشش عمل میں لائی جائے۔ گاؤں میں آگ لگتی ہے، سیلاب آتا ہے، تو لوگ اپنے پرانے جھگڑوں، نسلی تمیز، اختلاف عقائد کو بھلا دینا ضرور سمجھ کر سب کے سب آگ بجھانے میں لگ جاتے ہیں۔ یہی حال تم لوگوں کا ہونا چاہیے، ہندستان میں بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ ہندستانیوں کے موجودہ مصائب کو -جو کہ برطانوی حکام کی غلط پالیسیوں سے پیداہوتے ہیں، جھٹلاتے ہیں اور غافل لوگوں کو دھوکا دے کر کہتے ہیں کہ یہ باتیں چند سر پھروں کی بنائی ہوئی ہیں۔ حال آں کہ واقعہ ایسا نہیں ہے۔ اس لیے میں نے تاریخی شہادتیں( جن میںسے بہت بڑا حصہ مجھ کو یاد بھی ہے اور بہت کثیر حصہ میرے پاس معتبر تاریخوں سے تحریری نوٹ میں ہے )معتبرانگریزوں کے حوالوں سے پیش کی تھیں، ان کے ناموں اور عبارتوں میں خطب عشوا کیا گیا ہے۔ یہ نوٹ میرے پاس موجود ہیں، جن کے مآخذ کو پوری تفصیل کے ساتھ پیش کر سکتا ہوں۔ خلاصہ ان کا ان پالیسیوں پر تنقید کرنا ہے، جو کہ غلط کار برطانوی مدبرین نے ہندستان میں جاری کرکے برطانوی قوم اور برطانوی امپریلزم اور برطانوی تاریخ کو بدنام کیا ہے اور برطانوی رعایا کی بربادی کا سبب بنے ہیں۔ کسی پالیسی اور حکمت عملی اور سسٹم پر تنقید کرنا، اس پر پروٹسٹ اور احتجاج کرنا اس کو پبلک میں پیش کر کے اس کے خطرات کو بتلانا اور اس کے خراب نتائج کو مشہور کرنا نہ قانونا جرم ہے اور نہ اسے گورنمنٹ سے نفرت پھیلانا شمار کیا جاتا ہے۔ ہمیشہ سے انگلستان اور ہندستان میں یہ طرز چلا آتا ہے اور یہ اس زمانے میں از بس ضروری ہے؛ ورنہ کوئی گورنمنٹ اندھیر نگری سے محفوظ نہیں رہ سکتی۔ اس کو سر جان شور،سول میرٹ، ڈبلیو جی پیڈر، سر ولیم ڈگبی، ایس ٹاونشنڈ ، لارڈ سالسبری، لارڈ ولیم بنٹک، بروکس، ایچ ایم ہنڈولن، ایڈورڈ نامسن، لارڈ کینگ،  ایچ ایچ ولسن، اے اے بروسل، پیٹر فریمین، ڈبلیو ایس بلنٹ، لارڈ نارتھ بروک، مسٹر سیکڈانلڈ وغیرہ کہتے رہے ہیں۔ یقینا یہ لوگ برطانیہ کے دشمن نہ تھے اور نہ برطانوی قوم، یا حکومت سے نفرت پھیلانے والے تھے۔ ہاں! غلط کار مد برین برطانیہ کو ان کی غلط کاریوں سے روکنا چاہتے تھے، جس کا اقرار آج سر اسٹیفورڈ کرپس اور بہت سے بڑے سمجھ دار انگریز کر رہے ہیں اور وہی غلطیاں آج برطانوی قوم اور برطانوی شہنشاہیت کے لیے انتہائی مشکلات کاباعث بنی ہوئی ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ اگرچہ میں کسی ہندستانی شخص سے اپنے وطن کی محبت اور اس کی آزادی کی خواہش اور اس کے لیے حسب مقدرت جد و جہد کرنے میں پیچھے نہیں ہوں؛ مگر یہ اسپیچ محض اتحاد اور منظم ہونے اور امن و امان کو پھیلانے کے لیے کی گئی تھی، جس کو موجودہ بیان ہی سے ہر ایک سمجھ دار؛ بلکہ معمولی سمجھ والا بھی سمجھ سکتا ہے۔ اس کو قابل اعتراض وہی شخص قرار دے سکتا ہے، جو کہ اہل ہند کے اتحاد اور اتفاق کا مخالف ہے اور چاہتاہے کہ ہمیشہ ان میں جوتی پے زار ہوتی رہے، خواہ ان پر کتنے ہی مصائب کیوں نہ آئیں اورکتنے ہی بربادی پیش کیوں نہ آئے، کبھی بھی یہ منظم نہ ہوں اور نہ آپس میں میل جول کریں۔ 

کیا تعجب کی بات نہیں ہے کہ مجھ کو اتحاد کانفرنس جھنگ مگھیانہ کی صدارت کے لیے سفر کرنے سے روکا گیا اور عین اس تقریر کو -جو کہ اس اتحاد کے لیے کی گئی تھی- باعث اعتراض قرار دیا گیا اور پھر اس تقریر میں -جو میں نے دستور العمل پیش کیا تھا- اس کو حذف کر دیا گیا اور جو نوٹ نقل کیے گئے، اُن کو پورا نہیں لکھا گیا اور نہ ان انگریزوں کے صحیح نام لکھے گئے، جن سے منقول ہیں، نہ ان رسالوں، یا اخباروں کو بتایا گیا، جن میں یہ نوٹ موجود ہیں، نہ ان کی تاریخیں بتائی گئیں، حال آں کہ میری اسپیچ میں یہ سب تھا۔ میری عادت ہے کہ تقریر کرتے ہوئے ان سب چیزوں کا ذکر کیا کرتا ہوں۔ فاضل مجسٹریٹ صاحب نے چوں کہ نمبر گیارہ میں میری جملہ تقریر کا خلاصہ نتیجہ نکالا ہے اور یہ الفاظ تحریر فرمائے ہیں:

’’آپ کی تقریر کے شروع کے حصے میں ایسے جملے استعمال کیے گئے ہیں، جن سے یہ خیال ہوتا ہے کہ انگریزی سرکار ہندو مسلمانوں کے لڑانے کا باعث ہے اور آپ کی کل تقریر سے انگریزی سرکار کی طرف سے نفرت پیدا ہوتی ہے۔‘‘

اس لیے میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اولاً جناب کو اسی نمبر کی طرف توجہ دلاؤں، دوسرے ابتدائی دس نمبروں کی تفصیل بعد میں عرض کروں گا اور چوں کہ اس نمبر کے دوحصے ہیں، ایک کا تعلق ابتدائی تقریر سے ہے ،دوسرے کا کل تقریرسے۔ اس لیے میں اس کو دد حصوں الف اور ب میں تقسیم کر کے پہلے حصہ الف کو، پھر حصہ سب کو پیش کروں گا۔

(حصہ الف) جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ خود غرض اور نفاق پھیلانے والے کہتے ہیں کہ (۱) ہندوؤں اور مسلمانوں میں لڑائی بھڑائی ہمیشہ سے چلی آتی ہے۔ (۲) مذہب کا یہی تقاضا ہے۔ (۳) اور نگ زیب مرحوم بہت متعصب بادشاہ تھا، ہندوؤں اور غیر مسلموں پر اس نے مذہب کے تعصب کی بنا پر بہت مظالم کیے ہیں۔ (۴) ان دونوں فرقوں میں کبھی اتفاق نہیں ہو سکتا وغیرہ وغیرہ۔ ان سب اعتراضوں کو دور کرنے اور غلط ثابت کرنے کے لیے میں نے ایک مشہور انگریز سیاح کپتان الگزینڈر ہملٹن کا قول پیش کیا تھا۔ یہ شخص شہنشاہ اورنگ زیب مرحوم کے زمانے میں ہندستان آیا تھا اور یہاں پچیس برس تک مقیم رہ کر اورنگ زیب ہی کے زمانے میں واپس چلا گیا تھا۔ اس نے اپنا سفرنامہ دو جلدوں میں لکھا ہے، چیف جسٹس حیدر آباد دکن نواب مرزا سمیع اللہ بیگ صاحب نے اس سفرنامے کے مختلف مضامین ترجمہ کر کے رسالہ: ’’ ہند عہد اورنگ زیب‘‘ میں شائع کیا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ سفر نامہ جلد اول، ص؍127-128میں دربارۂ شہر ٹھٹھہ ملک سندھ کپتان مذکور کہتا ہے:

’’ریاست کا مسلمہ مذہب اسلام ہے، لیکن تعداد میں اگر دس ہندو ہیں، تو ایک مسلمان ہے۔ ہندوؤں کے ساتھ رواداری پورے طور پر برتی جاتی ہے، وہ اپنے بت رکھتے ہیں اور تہواروں کو اسی طرح مناتے ہیں، جیسے کہ اگلے زمانے میں کرتے تھے، جب کہ بادشاہت خود ہندوؤں کی تھی۔ وہ اپنے مردوں کو جلاتے ہیں،لیکن ان کی بیویوں کو اجازت نہیں ہے کہ شوہروں کے مردوں کے ساتھ ستی ہوں۔‘‘ (ہند عہد اور نگ زیب میں، ص؍۷)

 شہر سورت کے متعلق کپتان مذکور ص؍162 میں لکھتا ہے کہ:

 ’’اس شہر میں تخمینا سومختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں؛ لیکن ان میں کبھی کوئی سخت جھگڑے ان کے اعتقادات وطریقۂ عبادت کے متعلق نہیں ہوتے۔ ہر ایک کو پورا اختیار ہے، جس طرح چاہے، اپنے طریقے سے اپنے معبود کی پرستش کرے۔ صرف اختلاف مذہب کی بنا پر کسی کو تکلیف دینا اور آزار پہنچانا ان لوگوں میں بالکل مفقود ہے۔‘‘

 (الجمعیۃ، دہلی۔ شیخ الاسلام نمبر، ص؍12-13)


مولانا سجادصاحبؒ اور جمعیت علمائے ہند

 مولانا سجادصاحبؒ اور جمعیت علمائے ہند

محمد یاسین جہازی

ابوالمحاسن مولانا محمد سجاد بہاری


حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب علیہ الرحمہ بیسویں صدی کے غلام بھارت میں اسلامی وسیاسی قیادت کے شہ دماغ تھے۔آپ بیک وقت فقہی، قانونی اور سیاسی بصیرت میں امتیاز رکھتے تھے۔ آپ کی سب سے بڑی خواہش یہ تھی کہ علما اپنی خانقاہوں اور اداروں سے نکل کر سیاسیات میں بھی قوم کی رہبری کریں۔ چنانچہ اس کے لیے عملی قدم بڑھاتے ہوئے ، کل ہند سطح پر علما کی جمعیت قائم کرنے کی کوشش کی؛ لیکن جب اس میں کامیابی نہیں ملی، تو ریاستی سطح پر اس کی شروعات کرتے ہوئے 15؍ دسمبر 1917میں انجمن علمائے بہار قائم فرمایا، جو بعدمیں جمعیت علمائے بہار کہلایا۔1918میںمولانا عبد الحی فرنگی محلیؒ کے ساتھ مل کر خلافت کمیٹی کی تشکیل کی۔دہلی میں منعقد آل انڈیا خلافت کانفرنس کے موقع پر، 23؍ نومبر 1919میں جمعیت علمائے ہند کی تاسیسی میٹنگ میں شرکت فرمائی اور اس طرح آپ کا کل ہند سطح پر علما کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا ۔28؍ دسمبر 1919تا یکم جنوری 1920میں منعقد جمعیت علمائے ہند کے پہلے اجلاس میں پہلی مجلس منتظمہ تشکیل دی گئی ، جس میں آپ کو اس کا رکن منتخب کیا گیا۔19/20/21؍ نومبر1920کو دہلی میں جمعیت علمائے ہند کا دوسرا اجلاس عام ہوا، جس میں برطانوی حکومت کے خلاف عدم تعاون کا مفصل فتویٰ آپ نے ہی مرتب فرمایا، جس پر تقریبا پانچ سو علمائے کرام نے دستخط کیے اور یہ فتویٰ متفقہ فتویٰ علمائے ہند کہلایا۔حضرت مولانا ابوالمحاسنؒ غیر اسلامی ہندستان میں نصب امیر کو ایک ملی فریضہ سمجھتے تھے۔ چنانچہ اس کے لیے عملی قدم اٹھاتے ہوئے  25و26 جون 1921ء کو پٹنہ میں امارت شرعیہ کی داغ بیل ڈالی، جس میں آپ کو نائب امیر شریعت منتخب کیا گیا۔اور مرکزی سطح پر اس کے قیام کی کوشش کرتے رہے۔چنانچہ 18،19،20؍ نومبر1921ء کو جمعیت علمائے ہند کا تیسرا سالانہ اجلاس لاہور میں ہوا تو اس میں آپ ہی کی کوششوں سے امارت شرعیہ فی الہند کی تجویز باتفاق رائے منظور کی گئی ۔ 

’’جمعیت علما نے جو تجویز امارت شرعیہ کے سلسلہ میں پاس کی تھی، وہ بھی انھی کی سعی کا نتیجہ تھا۔‘‘(حیات سجاد، ص؍105۔ مضمون مولانا احمد سعید صاحب ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ہند)

اسی اجلاس میںامیر شریعت کے اختیارات و فرائض کے تعین کے لیے ایک سب کمیٹی بنا ئی گئی،جس میںپندرہ اراکین میں سے ایک رکن آپ بھی تھے ۔آپ ؒہی نے ’’نظام نامہ امیر الشریعۃ فی الہند‘‘ کے نام سے ایک مستقل مسودہ تیار کیا، جسے13؍ دسمبر1921ء کوبدایوں میں منعقد اجلاس میں پیش کیا گیا۔ 20، 21؍ ستمبر 1923   کو مجلس منتظمہ کا اجلاس کا اجلاس ہوا، جس میں جزیرۃ العرب کو غیر مسلم اثر سے پاک کرنے کے وسائل اور بالخصوص حجازی و برطانوی معاہدہ کو اٹھا دینے کے ذرائع پر غور کرنے کے لیے ایک سب کمیٹی بنائی گئی، جس میں آپ کو رکن نامز د کیا گیا۔ 

قادیانیوں کے خلاف فتویٰ

 6؍نومبر1923ء بہ مقام دہلی انسداد فتنہ قادیانی کا اجلاس ہوا، جس میں قادیانیوں کے متعلق فتویٰ مرتب کرنے کے لیے حضرت مولانا محمد انور شاہ صاحب ؒاور مولانا مفتی محمدکفایت اللہ صاحبؒکے ساتھ، آپ کا اسم گرامی بھی کمیٹی میں شامل کیا گیا۔ 7؍ نومبر1923ء میں جمعیت تبلیغیہ کے اجلاس میں، شدھی اور سنگٹھن کے ارتداد کا مقابلہ کرنے کے لیے جمعیت تبلیغیہ کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، اس کا ایک رکن مولانا ابوالمحاسن ؒ کو بھی بنایا گیا۔اسی اجلاس کی ایک تجویز میں مولانا مبارک صاحب اور مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒ نے اس پر زور دیا کہ شعبہ تبلیغ کا اخبار جاری کرنے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ اور جب مناسب موقع معلوم ہو تو ایک ہفت وار اخبار ضرور نکالنا چاہیے ۔ (خلاصہ کارروائی جمعیت تبلیغیہ، ص؍1، تا؍5)۔

نومسلم  لڑکے اور لڑکیوں کی تعلیم اور صنعت کے لیے تعلیم گاہ کی تجویز

شعبہ تبلیغیہ کے اسی اجلاس میں نومسلموں اور مسلمات کی تعلیم و تربیت اور صنعت و حرفت سکھانے کے لیے ایک درس گاہ کے قیام کی ضرورت پر تجویز پاس کرتے ہوئے ایک ایسی کمیٹی مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ، جو اس درس گاہ کے قیام کی اسکیم اور ایسی تدابیر کی رپورٹ پیش کرے، جس کی وجہ سے غیر مستحقین پیشہ ور نو مسلمانوں کا انسداد ہوجائے اور یہ کام کامیابی کے ساتھ جاری ہوسکے۔ اس کمیٹی میں (1) مولانا محمد مظہر الدین صاحب(2) مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کے علاوہ تیسرا نام مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب کا ہی تھا۔ اور مولانا کا اس با ت کا بھی ذمہ دار بنایا گیا کہ وہ 30؍ ستمبر1924ء تک مسودہ تیار کرکے دہلی ارسال فرمائیں گے۔ اسی طرح اس جلسہ میں مولانا محمد منیر الزماں صاحب ناظم جمعیت علمائے صوبہ بنگالہ کا خط پیش ہوا، جس میں صوبہ بنگال میں تبلیغ و اشاعت کا کام کرنے کے لیے ڈھائی ہزار روپیے کی امداد طلب کی گئی تھی، اس پر غور ہوا اور طے ہوا کہ ایک وفد کلکتہ جاکر جماعت منتظمہ کے کارکنوں وغیرہم سے مل کر صوبہ بنگال کے تبلیغی کاموں کے متعلق رپورٹ پیش کرے۔ اس وفد میں بھی مولانا ابوالمحاسن صاحب شامل کیے گئے۔

انہدام مساجد بھرت پورکے خلاف ایکشن

مجلس عاملہ 23 تا 25جون 1924میں انہدام مساجد بھرت پور راجستھان کے بارے میں بحث و گفتگو کی گئی۔واقعہ یہ ہواتھا کہ مساجد بھرت پورکی مسلسل انہدامی کار روائیوں کے خلاف وہاں کے راجہ کرشن سنگھ نے کوئی ایکشن نہیں لیا، تو جمعیت کا ایک سولہ رکنی وفد ا ن کے دربار میں پہنچا اورکسی رعب و خوف کے بغیر دس نکات پر مشتمل ایک ایڈریس پیش کیا، جس میں مساجد کی شرعی اہمیت و حرمت اور اس کے تحفظ کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئی تھیں۔اس وفد میں بھی مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒ شامل تھے۔ (رپورٹ انہدام مساجد بھرت پور، ص؍ 9)

چھٹے اجلاس عام کی صدارت

 11؍ جنوری 1925ء کو جمعیت کا چھٹا اجلاس عام مرادآباد میں ہوا۔ اس کی صدارت ابوالمحاسن حضرت مولانا سید محمد سجاد صاحب نائب امیر الشریعہ صوبہ بہار و اڑیسہ نے فرمائی ۔ اس اجلاس کی تجویز نمبر 24 میں عدمِ تعاون کے پروگرام پر غور کرنے کے لیے ایک سب کمیٹی مقرر کی گئی، جس میں وقت کے اکابرین کے ساتھ آپ کا نام نامی و اسم گرامی بھی شامل تھا۔

ساتویں اجلاس کی کامیابی پر خصوصی مشکور

کلکتہ میں جمعیت علمائے ہند کے ساتویں اجلاس عام منعقدہ 23مارچ1926 میں  ایک تجویز پاس کر کے ، اجلاس کی شاندار کامیابی پر ایک طرف جہاں تمام علمائے کرام کا عموماً شکریہ ادا کیا گیا ،وہیں مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند اور مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نائب امیرالشریعت صوبہ بہار و اڑیسہ کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا گیا۔ 

مدارس عربیہ کے لیے ضروریات زمانہ کے مطابق نصاب

جمعیت علمائے ہند کے آٹھویںسالانہ اجلاس منعقدہ 2؍تا4؍ دسمبر1927ء کی تجویز نمبر 6میںمسلمانوں کی مشغولیت اور کم فرصتی اور ضروریاتِ زمانہ کا لحاظ رکھتے ہوئے مدارسِ عربیہ دینیہ کے نصاب کو ایسے طور پر مرتب کرنے کی بات کہی گئی، جو ان کی مذہبی حالت کو درست کرنے اور مذہبی واقفیت بہم پہنچانے کے ساتھ ساتھ زمانہ کی ضرورتوں کو بھی ایک حد تک پورا کرسکے، اور تمام مدارسِ عربیہ دینیہ کا ایک نظام ہو، اور سب اسی نظام کی پابندی کریں تاکہ یہ تفرق اور انتشار جو مذہب و قوم کے لیے سب سے زیادہ مضرت رساں ہے، دور ہو اور منظم طور پر دینی تعلیم عام ہوجائے، اور تعلیم کا حقیقی فائدہ حاصل ہو۔چنانچہ نصاب بنانے اور اسے مدارس عربیہ میں رواج دینے کی کوشش کرنے کے لیے جو کمیٹی تشکیل دی گئی، اس میں ایک نمایاں نام آپ کا بھی تھا۔

غیر اسلامی ہندستان میں قاضی کے تقرر کا مطالبہ

 اسی اجلاس کی تجویز نمبر 15میں ، غیر اسلامی ہندستان میں مسلمانوں کے نکاح، طلاق اور دیگر عائلی مسائل ومشکلات کے حل کے لیے بااختیار شرعی قاضی مقرر کرنے کے حوالے سے، گورنمنٹ سے اختیارات دینے کا مطالبہ کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی۔ اس کمیٹی میں بھی آپ کا نام شامل کیا گیا۔

بتیا فساد کے خلاف ایکشن

4؍ اگست 1927کو بتیا میں ہندو مسلم فساد برپا ہوگیا۔ مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒ اس وقت امارت شرعیہ پٹنہ میں تھے، وہ اطلاع پاتے ہی فورا بتیا کے لیے روانہ ہوئے اورجائے حادثہ کا مکمل جائزہ لیتے ہوئے قانونی کارروائی کی کوشش کی۔

نہرو رپورٹ پر تنقید

16؍ اگست 1928ء کو نہرو رپورٹ شائع ہوئی۔ اس رپورٹ پر مفصل تبصرہ کرنے کے لیے جو سب کمیٹی بنائی گئی ،اس میں حضرت مولانا ابو المحاسن سجاد صاحب ؒ نے نمایاں حصہ لیا۔

جمعیت کے صدر و ناظم کے استعفوں کا استرداد

جمعیت کی مجلس مرکزیہ کا ایک اجلاس11و 12اگست1929کو مرادآباد میں ہوا۔ اس اجلاس میں حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے فرمایا کہ چوں کہ مجھے بعض چیزیں بحیثیت رکن پیش کرنی ہیں، اس لیے اس جلسہ کی صدارت کے لیے کسی دوسرے صاحب کو منتخب کرلیا جائے اور خود ہی مولانا ابوالمحاسن سید محمد سجاد صاحب کو منتخب فرمایا، جسے ارکان نے منظور کیا۔ فرائض صدارت تفویض کرنے کے بعد مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے صدارت سے اور مولانا احمد سعید صاحب نے عہدہ نظامت سے استعفیٰ پیش کیا۔لیکن دونوں حضرات کے استعفیٰ نامنظور کردیے گئے۔اس نامنظوری کی تائید کرنے والوں میں آپ کا کردار سب سے نمایاں تھا۔

 شاردا ایکٹ کی مخالفت 

اسی اجلاس میںشاردا ایکٹ یعنی تحدید عمر ازدواج و مباشرت کی سفارشات سے متعلق ایک تجویز پاس کرتے ہوئے گورنمنٹ سے مطالبہ کیا گیا کہ 

’’ ان سفارشات کو مسلمانوں کے حق میں ہرگز قانونی شکل نہ دی جائے۔ ورنہ مسلمان اس قانون کو ہرگز تسلیم نہ کریں گے اور جن صورتوں میں کوئی شرعی اجازت موجود ہوگی ، اس میں قانون کی مزاحمت کی ہرگز پروا نہ کریں گے۔

 اس تجویز کے اصل محرک حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒ ہی تھے۔

جمعیت علمائے ہند کی مجلس مرکزیہ کا اجلاس 26، و 28 اکتوبر 1929کو دہلی میں ہوا ۔اس اجلاس کی تجویز نمبر 3میں ساردا بل کو مسترد کرانے کے لیے ایک سب کمیٹی بنائی گئی۔ اس کمیٹی کا رکن آپ کو منتخب کیا گیا۔چنانچہ آپ نے علیٰ الفور ایک مسلم کانفرنس کرنے کی اپیل کی اور لوگوں کو مسلم پرسنل لاء کے تحفظ کے تئیں بیدار کیا۔اسی طرح جمعیت علمائے صوبہ متحدہ کے اختلافات (جس کی وجہ سے وہاں دو جمعیتیں قائم ہوگئی تھیں) کوختم کرانے کے لیے سہ رکنی کمیٹی میں آپ بھی شریک تھے۔

کانگریس میں شرکت کے فیصلے کی جرات مندانہ تائید  

تحریک آزادی کا مشترکہ پلیٹ فارم کانگریس میں شرکت اور عدم شرکت کا مسئلہ کفر و شرک کا مسئلہ بنا ہوا تھا ، ایسے حالات میں جمعیت علمائے ہند نے اپنے نواں سالانہ اجلاس منعقدہ 6مئی 1930بمقام امروہہ میں جب تجویز نمبر 2میں برادران وطن کے ساتھ مل کر آزادی کی لڑائی لڑنے کے لیے کانگریس میں شمولیت کا اعلان کیا، تو بلا کسی پس و پیش کے دیگر اکابرین کی طرح مولانا محمد سجاد علیہ الرحمہ نے بھی اس تجویز کی تائید فرمائی۔ ساتھ ہی آپ کی رائے پر مشتمل یہ تجویز بھی منظور کی گئی کہ 

’’چوںکہ نہرو رپورٹ مسلمانوں اور دوسری اقلیتوں کے مطمئن نہ ہونے کی وجہ سے کا لعدم قرار پاچکی ہے اور اس کا کوئی حل اور کوئی حصہ بطور فیصلہ شدہ امر کے پیش نہیں کیا جاسکتا۔ اس لیے جب تک ہندستان کے لیے کوئی ایسا دستورِ اساسی مرتب نہ کرلیا جائے جس پر مسلمان اور دوسری اقلیتیں پورے طور پر مطمئن ہوجائیں اور وہ متفقہ طریقہ سے راؤنڈ ٹیبل کانفرنس (Round Table Conperence) میں پیش کیا جاسکے؛ اس وقت تک اس اجلاس کی رائے میں راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں شرکت کسی طرح مفید نہیں ہے۔‘‘

حالات حاضرہ پر غور کرنے کے لیے جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا ایک ضروری اجلاس 12جولائی 1930کو دفترجمعیت علمائے میں بمقام دہلی منعقدکرنے کا فیصلہ ہوا، جس میں آپ نے خصوصی طور پر شرکت فرمائی۔ (الجمعیۃ 16جولائی1930) 

جمعیت کی نظامت و صدارت کی نیابت

جمعیت علمائے ہند نے 1930میں جب دائرہ حربیہ کی سرگرمیاں شروع کیں، جس کی پاداش میں جہاں دیگر اکابرین جمعیت کی گرفتاری عمل میں آئی، وہیںحضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند بھی گرفتار کرلیے گئے۔ آپ کی گرفتاری کے بعد آپ ہی کو ناظم مقرر کیا گیا۔

’’چوں کہ حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند 20ستمبر1930کو صبح کے وقت گرفتار کرلیے گئے تھے، اس لیے حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے ان کی جگہ مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب کو ناظم مقرر فرمادیا۔ اور مولانا نور الدین صاحب بہاری کو جو آج کل دفتر جمعیت میں ہی مقیم ہیں اور خدمات جلیلہ انجام دے رہے ہیں ، نائب ناظم مقرر فرمادیا ہے۔ یہ دونوں تقرریاں جمعیت عاملہ کی منظوری کی امید پر فوری ضرورت کی وجہ سے عمل میں لائی گئی ہیں۔‘‘ (الجمعیۃ24ستمبر1930) 

اجلاس مجلس عا ملہ منعقدہ 15ء16ء جنوری1931ء کی کارروائی رپورٹ میں آپ کے نام کے ساتھ’’ قائم مقام صدر جمعیت علمائے ہند ،ناظم جمعیت علما ئے ہند اورنا ئب امیر الشر یعۃ صوبہ بہار واڑیسہ لکھا ہوا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ آپ کو انھی دنوں میں جمعیت علمائے ہند کی نظامت کے ساتھ قائم مقام صدر بھی بنایا گیا تھا۔  

سیلون کے مسلمانوں کے لیے فتویٰ

سیلون کے مسلمانوں کے لیے شریعت اسلامیہ کے بجائے رومن ڈچ قانون نافذ کرنے کے لیے وہاں کی مجلس آئین ساز میں ایک مسودہ پیش کیا گیا، جس کے خلاف وہاں کے مسلمانوں نے جمعیت سے مدد طلب کی، تو اس کے خلاف آواز اٹھاتے ہوئے حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نے فتویٰ دیا کیا کہ 

مسلمانوں پر شریعت اسلامیہ کے سوا اور کوئی قانون نافذ نہیں ہوسکتا۔ آپ کو اس قسم کے مسودہ قانون کے خلاف نہایت سختی کے ساتھ احتجاج کرنا چاہیے۔ … مسلمانان سیلون کو چاہیے کہ اس قانون کو ہرگز منظور نہ ہونے دیں ۔ جمعیت علمائے ہر قسم کی امداد کے واسطے تیار ہے۔ ‘‘ (الجمعیۃ 5جنوری 1931) 

آپ کے خلاف مقدمہ

حاسدین جمعیت نے جمعیت علمائے ہند کی عمومی مقبولیت کے پیش نظر جن اکابرین جمعیت کے خلاف مقدمہ کیا، ان میں حضرت علامہ مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند ،حضرت مولانا حاجی احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند کے علاوہ حضرت مولانا ابوالمحاسن سید محمد سجاد صاحب قائم مقام ناظم جمعیت علمائے ہندکا نام بھی شامل تھا۔ (الجمعیۃ 16جنوری1931)

تحفظ حقوق مسلم کا مسودہ 

 19مارچ 1931جمعرات کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا ۔ اس کی تجویز نمبر6 میںمسلم حقوق کی حفاظت کے لیے تیار کیے جانے والے مسودہ پر نظر رکھنے کے لیے ایک دس رکنی مشاورتی کمیٹی تشکیل دی گئی ، جس میں سرفہرست آپ کا نام شامل رکھا گیا۔ 

مسلم نیشنلسٹ کانفرنس میں شرکت

مسلمانوں کی مختلف تنظیمیں ان دنوں ہندو مسلم مفاہمت کے فارمولے تلاش کرنے کے لیے اپنی اپنی تجاویز پیش کر رہی تھیں۔ اسی مقصد سے نیشنلسٹ مسلم کانفرنس کرنے کا فیصلہ ہوا، تو جمعیت نے از 31؍ مارچ تا یکم اپریل 1931کو منعقد اپنے دسویں اجلاس عام کراچی میں اس میں شرکت کا فیصلہ کیا اورحضرت مفتی محمد کفایت اللہ صاحب اورحضرت مولانا احمد سعید صاحب کے ہمراہ حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒ نے کانفرنس میں شرکت کی۔ (الجمعیۃ20 اپریل 1931)

 آزاد ہندستان کا دستور اساسی

3؍ اگست 1931کو جمعیت نے اپنے اجلاس سہارن پور میں آزاد ہندستان کے لیے دستور اساسی کا مسودہ ــ’’جمعیت علما کا فارمولہ‘‘ کے نام سے پیش کیا، جس میں تمام مذاہب کی آزادی اور تمام مسلم حقوق کی رعایت کی گئی تھی۔ یہ فارمولہ بھی حضرت مولانا محمد سجاد صاحب ؒ کی فکری کاوش کا نتیجہ تھا۔(حیات سجاد، ص150۔ مضمون حضرت مولانا حفظ الر حمان صاحب سیوہاروی۔ مولانا ابوالمحاسن سجاد حیات و خدمات ، ص؍297۔ مضمون مولانا اسرار الحق قاسمیؒ ۔ تذکرہ ابوالمحاسن ، ص؍448۔ مصنف: مفتی اختر امام عادل صاحب)

الجمعیت اخبار آپ کی ملکیت میں

 گول میز کانفرنس کے اختتام پر حکومت برطانیہ نے مختلف کمیٹیوں کی رپورٹوں، سفارشوں اور تجاویز پر مبنی ایک وضاحتی قرطاس ابیض White paperمارچ 1933ء میں شائع کر دی۔جسے بھارتیوں نے بالکل بھی قبول نہیں کیا اور بھارت کی مکمل آزادی کے لیے دوبارہ سول نافرمانی کی تحریک چھیڑ دی۔ چنانچہ اس کے لیے جمعیت نے 29فروری سے 2مارچ 1932 کو دفتر جمعیت میں مجلس عاملہ کا ایک اجلاس کیا ، جس میں دیگر تجویزوں کے ساتھ تحریک سول نافرمانی کو پوری قوت کے ساتھ شروع کرنے کے تعلق سے دو اہم فیصلے کیے۔ ایک فیصلہ تو یہ کیا کہ مجلس عاملہ کے تمام عہدوں کو ختم کرکے مکمل اختیارات حضرت صدر محترم مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کو دے دیا گیا ۔ اور دوسرا اہم فیصلہ یہ کیا کہ اخبار الجمعیۃ کی ملکیت کو تبدیل کرکے مکمل اختیارات حضرت ابوالمحاسن مولانا محمد سجاد صاحب کے سپرد کردیے گئے ۔

ڈکٹیٹری نظام کی سربراہی

چنانچہ مفتی صاحب نے اپنے اختیارات اور سیاسی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے صدر سکریٹری کے عہدے کے بجائے ڈکٹیٹر کا سلسلہ قائم کیا ۔ اور طے کیا کہ ہر ایک ڈکٹیٹر گرفتار ہونے سے پہلے دوسرے ڈکٹیٹر کو نامزد کردے ۔ اسی طرح اس تحریک میں رضاکاروں کی بھرتی کی ذمہ داری حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو دی گئی ۔ حضرت مولانا نے بھی اپنی سیاسی بصیرت کو استعمال کرتے ہوئے اتنی خوب صورتی سے اس نظام کو چلایا کہ اہل دانش مولانا کو ’’جمعیت کا دماغ‘‘ کہنے پر مجبور ہوئے۔ مورخ ملت حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب لکھتے ہیں کہ 

’’…مگر وہ ڈاکٹر جس کو بہت سے انجکشن دے دیے گئے تھے : ابو المحاسن مولاناسجاد صاحب (نائب امیر شریعت صوبہ بہار) تھے، رحمہم اللہ۔ ’دائرہ  حربیہ ‘‘ کے کلیدبردار یہی حضرت تھے۔۔(الجمعیۃ مجاہد ملت نمبر ص88) 

مجلس تحفظ ناموس شریعت کی نظامت

انگریز حکومت کی طرف سے موقع بموقع اسلامی قوانین کے خلاف کبھی شاردا ایکٹ اور کبھی مسودات حج کے خلاف قوانین پاس ہوتے رہتے تھے ۔ چنانچہ ان تمام امور پر تحفظاتی نگاہ رکھنے کے لیے ـــمجلس تحفظ ناموس شریعت قائم کی گئی، تو اس کے ناظم حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب کو ہی بنایا گیا ۔ چنانچہ آپ نے مسودات حج کی مخالفت کرتے ہوئے10جون 1932کو پورے ملک میں عام مظاہرے کا اعلان کیا۔

متفقہ سمجھوتہ کی تلاش

ہندستان کی آزادی میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے پہلے انگریزوں نے گاندھی جی اور والیان ریاست کو لڑانے کی کوشش کی، لیکن اس میں کامیابی نہیں ملی، تو میدان عمل میں موجود الگ الگ مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کی تنظیموں کو آپس میں لڑانے کی سازش رچی ۔ چنانچہ انگریزوں کو اس میں کامیابی مل گئی ۔ ایک طرف انگریزوں نے جہاں ہندو کو مسلمانوں سے لڑاکر فرقہ وارانہ فسادات کرائے، وہیں دوسری طرف مسلمانوں کی مختلف تنظیمیں بھی آپس میں دس و گریباں رہیں، جن میں آپسی سمجھوتہ اور معاہدہ کے لیے لکھنو کے سیلم پور ہاوس میںمیں 16 اکتوبر1932کومسلم کانفرنس ہوئی، جس میں جمعیت علمائے ہند، جمعیت خلافت، نیشنلسٹ پارٹی، شیعہ کانفرنس، مسلم لیگ اور اراکین مسلم کانفرنس نے شرکت کی ۔کانفرنس شروع ہونے سے پہلے جمعیت علمائے ہند کی مجلس شوریٰ کا ایک اجلاس 15اکتوبر 1932کومنعقد ہوا، جس میں حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نے بھی شرکت کی ۔

مسودات حج کی مخالفت

حج کے متعلق تین مسودے اسمبلی میں بحث کے لیے پیش ہونے والے تھے، تو مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نے وائسرائے کو ایک تار بھیج کر ان پر بحث کو ملتوی کرنے کی گذارش کی اور یہ بتایا کہ مسلمانوں کی رائے معلوم کیے بغیر ان پر بحث خطرناک نتائج پیدا کردے گی۔

’’ حج کے متعلق جو تین مسودارت قانون منتخب کمیٹی میں پیش ہونے والے ہیں، مہربانی کرکے ان پر بحث و تمحیص اور غوروفکر کو ملتوی کردیجیے؛ کیوں کہ یہ مسودات پورے طور پر مسلمانوں کی آگاہی کے لیے شائع نہیں کیے گئے ہیں ۔ موجودہ حالات میں جب کہ بہترین دماغ کے مسلمان جیلوں میں محبوس ہیں، اگر حکومت نے ان مسودات کو بغیر مسلمانوں کی صحیح رائے معلوم کیے پاس کردیا تو اس کے نتائج خطرناک ثابت ہوں گے۔ ‘‘ (الجمعیۃ 28 مئی 1932)  

اس کے بعد مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب ؒ نے ایک مفصل خط مسلم ممبران اسمبلی کے نام لکھ کر ان سے اسمبلی میں ان مسودوں کی مخالفت کی اپیل کی۔ یہ خط الجمعیۃ 5اگست 1932کے شمارہ  میں موجود ہے۔

یوم حج اور احترام مساجد منانے کی اپیل

 حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب قائم مقام ناظم مرکزی مجلس تحفظ ناموس شریعت نے 30ستمبر 1932کو ’’یوم احترام مساجد‘‘ منانے کا اعلان کیا۔ جو پورے ملک میں پورے جوش و خروش کے ساتھ منایا گیا۔ (الجمعیۃ 28ستمبر1932)

الور کے مسلمانوں پر ظلم کے خلاف صدائے احتجاج

ریاست الور میں ہندوں کی طرف سے طرح طرح کے مظالم کے پہاڑ توڑے جانے لگے، جس کے بعد وہ لوگ ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے اور ہجرت کرکے دہلی چلے آئے۔ان ظلم و ستم کے خلاف حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نے آواز اٹھاتے ہوئے مہاراجہ الور کو درج ذیل تار بھیجا

’’29مئی کو حضرت سید مبارک کی مزار کی زیارت کے سلسلہ میں الور کے مسلمانوں پر سخت مظالم ہورہے ہیں ۔ ان کی جان اور عزت خطرہ میں ہے ۔ فوری توجہ کیجیے اور الور کی روایات ا نصاف اور رواداری کو قائم رکھیے ۔ ‘‘ (الجمعیۃ 5جون 1932) 

ضبط شدہ معابد اور اوقاف کو واگذاشت کرانے کی جدوجہد

حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نور اللہ مرقدہ نے مساجد و اوقاف پر حکومت کے ناجائز قبضہ کے خلاف زبردست جدوجہد کی۔ مسلم اراکین اسمبلی کو خط لکھ کر متوجہ کرنے کی کوشش کی ۔ علاوہ ازیں 13ستمبر1932کو اسمبلی کے ارکان سے اپنے فرض کی ادائیگی کی اپیل کرتے ہوئے یہ بھی اپیل کی کہ تمام مقبوضہ مساجد اور اوقاف کے فوٹو بھی حاصل کیے جائیں۔ 

’’ایسٹ انڈیا کمپنی یا اس کے بعد جتنی مساجد اور اوقاف پر حکومت کا قبضہ ناجائز ہے ، ان کو آئینی طور پر واگذاشت کرانے کے لیے ممبران اسمبلی کے نام میں ایک اپیل شائع کرچکا ہوں۔ امید ہے کہ وہ حضرات اس پر خاص توجہ کریں گے ۔ اور اگر انھوں نے غفلت کی تو سمجھا جائے گا کہ وہ اسمبلی میں پبلک کی نمائندگی اور ملت کی خیر خواہی کے لیے نہیں جاتے ۔ اور اس صورت میں بہت ممکن ہے کہ آئندہ انتخابات میں یہ ہی غفلت ان کی ماہ میں مشکلات پیدا کردے ۔ ‘‘ (الجمعیۃ13 ستمبر 1932)

حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب کو نوٹس

’’حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب کو 5ستمبر1932کی رات سوا گیارہ بجے ، آر ڈی نینس اختیارات خصوصی کی دفعہ 54کے ماتحت ایک نوٹس دیا گیا کہ چوبیس گھنٹے میں دہلی کو چھوڑ دیں اور پھر آئندہ نوٹس تک آپ دہلی واپس نہ آئیں۔ نوٹس میں یہ بھی لکھا تھا کہ ’’ اس نوٹس کی خلاف ورزی پر دو سال قید یا جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جاسکتی ہیں۔ آپ کو یہ نوٹس جامع مسجد کی آزادی قائم رکھنے اور مجلس تحفظ ناموس شریعت کی طرف سے مسودات حج کے متعلق آپ کی سرگرمیوں کو روکنے لیے جاری کیا گیا۔ (الجمعیۃ 5ستمبر 1932) ۔

رکن مجلس عاملہ منتخب

29فروری تا 2مارچ 1932کی مجلس عاملہ میں مجلس عاملہ کو توڑ کر کل اختیارات حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کے حوالے کردیے گئے تھے۔ اور پھر ڈکٹیٹری کا سلسلہ قائم کیا تھا۔ دسویں ڈکٹیٹر جمعیت علمائے ہند نے اپنے اختیارات سے مجلس عاملہ کی عارضی نامزدگی کی۔ سولہ اراکین میں ایک نام آپ کا بھی شامل تھا۔(الجمعیۃ9دسمبر1932) 

دائرہ حربیہ کا اختتام

بارھویں ڈکٹیٹر کے بعد19،20،21اگست 1933کو مرادآباد میں جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اجلاس ہوا، جس میں سول نافرمانی کی تحریک کو ملتوی کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے، دائرہ حربیہ یا مجلس حربی کے اس نظام کو بند کردیا گیا ۔اور آئندہ کے لیے عملی پرو گرام مرتب کرنے کی غرض سے ایک چار رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں آپ کا نام بھی شامل تھا۔ (جمعیت العلما کیا ہے، جلد دوم، ص؍177)

لکھنو یونی بورڈ میں شرکت 

10؍11؍12؍ اگست1934 کو مرا د آباد میں جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔جس میں حضرت مولانا حسین احمد صاحب ،مولانا بشیر احمد صاحب،مولانا احمد سعید صاحب اور مولانا مفتی محمد کفا یت اللہ صاحب  کے ساتھ حضرت مولاناابو المحاسن محمد سجاد صاحب کو لکھنؤ یونٹی بورڈ کے جلسہ مجوزہ19 ؍ اگست1934 ء میں جمعیت کی جانب سے شریک ہوکر انتخابات میں یونٹی بورڈ کے امید واروں کی تائید اور عدم تائید کا فیصلہ کرنے کا پابند بنایا۔ چنانچہ ان اکابرین کے ساتھ آپ نے بھی شرکت کی اور جمعیت کے فیصلے کے مطابق یونٹی بورڈ کو فیصلہ کرنے پر مجبور کیا۔ 

انڈیا ایکٹ 1935اور جمعیت کی تنقید

اس ایکٹ میں ہندستانی فیڈریشن ، وہ ہندستانی صوبے جات جن سے مل کر فیڈریشن بنائیں گی اور برما کے متعلق تفصیلی بحث کی گئی تھی۔ اس میں گورنر جنرلوں کو بے پناہ اختیارات دے دیے گئے اور وزیروں کو صرف مشورہ دینے کا حق دیا گیا۔ (تفصیل کے لیے دیکھیں: الجمعیۃ یکم فروری 1935) ۔ اس ایکٹ میں بھارتیوں کو کوئی بھی اختیار نہیں دیا گیا تھا، حتیٰ کہ مذہبی امور بھی گورنر جنرل کے اختیار میں دے دیا گیا تھا۔ 

’’خارجی تعلقات، دفاعی ماور اور مذہبی معاملات میں گورنر جنرل کو خاص الخاص ذمہ داری حاصل ہوگی۔ لیکن گورنر جنرل ان امور کی انجام دہی کے لیے مشیر مقرر کرے گا، جن کی تعداد تین سے زیادہ نہ ہوگی، جن کی تنخواہ و شرائط ملازمت ملک معظم باجلاس کونسل مقرر کریں گے۔‘‘ (الجمعیۃ 5فروری1935) 

 حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒ نے اس بل پر زبردست تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ 

’’ہندستانی مسلمانوں کے لیے مذہبی تحفظات کا کوئی اور طریقہ سوائے اس کے ممکن ہی نہیں تھا کہ دستور اساسی میں مستقل دفعات کو بنیادی حقوق کے ماتحت درج کرایا جاتا اور جیسا کہ ابھی عرض کیا جاچکا ہے تمام اسلامی جماعتوں نے اس مطالبہ کو متفقہ حیثیت سے پیش بھی کیا تھا ؛ مگر حکومت برطانیہ کے مدبرین نے اس مطالبہ کو مسترد کرکے ہندستان کے اندر قانون کی دستبرد سے مذہب کو آداز رکھنے کے تمام امکانات کو ختم کردیا اور اب جب کہ پارلمینٹری رپورٹ کی سفارشات کے مطابق جدید دستور اساسی مرتب ہوکر ہمارے سامنے آچکا ہے، اور ہم ان مباحث و دلائل کا نتیجہ بھی دیکھ رہے ہیں، جو مذکورہ رپورٹ میں خاص طور پر بیان کیے گئے ہیں ، ہمیں صاف نظر آتا ہے کہ آٹھ کروڑ مسلمانان ہند کی یہ خواہش کہ ان کے مذہب میں کسی قسم کی آئینی مداخلت نہ کی جائے، اور اس اصول کو صاف الفاظ میں دستور اساسی کے اندر داخل کردیا جائے، پامال کردی گئی ہے۔ ‘‘ (الجمعیۃ 20جون1935) 

مولانا مرحوم اپنے اسی مضمون میں آگے لکھتے ہیں کہ 

’’اس گر بنیادی حقوق کی دفعہ کو دستور میں داخل کردیا گیا تو مداخلت مذہبی کا دروازہ کامل طور سے ہمیشہ کے لیے بند ہوجائے گا۔ کیا اس کے بعد بھی کسی کو شبہ ہوسکتا ہے کہ مسلمانوں کے مذہبی حیثیت سے آئین و دستور میں جو چیز ضروری تھی، وہ صرف بنیادی حقوق کی صراحت تھی، جس کے لیے جمعیت علمائے ہند کے محترم ارکان ابتدا سے آواز بلند کر رہے ہیں ۔ مگر برطانوی حکومت کو منظور نہیں ہے؛ کیوں کہ اس سے مذہبی مداخلت کا دروازہ ہمیشہ کے لیے بند ہوجاتا ہے۔‘‘ (الجمعیۃ 24جون 1935) 

کوئٹہ کے قیامت خیز زلزلہ میں امداد

31مئی 1935کو کوئٹہ بلوچستان میں خطرناک زلزلہ آیا۔ 5جون 1935کی الجمعیۃ میں چھپی خبر کے مطابق کوئٹہ کے قرب و جوار کا علاقہ بالکل نیست و نابود ہوگیا۔بیس ہزار انسان ملبہ میں دب گئے ۔ آتش فشاں پہاڑ پھٹ گیا۔ پہاڑیاں زمین میں دھنس گئیں۔اس قیامت خیز تباہی سے متاثرین کی امداد و اعانت کے لیے آگے آئی ۔ایک طرف جمعیت کے صدر حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ نے لوگوں سے مدد کے لیے آگے آنے کے لیے اپیل کی ، وہیں دوسری طرف بچشم خود حالات کا مشاہدہ کرنے کے لیے حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نور اللہ مرقدہ جائے حادثہ کا دورہ کیا اور راحت رسانی کی ہر ممکن کوشش کی۔ 

قانون فسخ نکاح کی تسوید

 اجلاس مجلس مشا ورت جمعیت مرکز یہ علمائے ہند،منعقدہ یکم و ۲؍ فروری 1936ء  میں آپ کا تیار کردہ قانون فسخ نکاح کا مسودہ کو منظور کرلیا گیا۔  اس مسودہ کے حوالہ سے پاس کردہ تجویز میں کہا گیا کہ

’’ جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ جلسہ مسلمان عورتوں کی ان ناقابل برداشت مصائب پر نظر کرتے ہوئے- جن میں وہ مبتلا ہیں اور شرعی دارا لقضانہ ہونے کی وجہ سے ان کا کوئی صحیح حل مسلمانوں کے ہاتھ میں نہیں ہے-اس مسودہ قانون کو منظور کرتا ہے۔ اور مسلم ارکان اسمبلی سے توقع رکھتا ہے کہ وہ علما کی مشترک مجلس شوریٰ اور جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا منظور کردہ مسودہ اسمبلی میں پاس کرانے کی متحدہ قوت سے سعی کریں گے۔

درگاہ بل پر غور کمیٹی

اجلاس مجلس مشا ورت جمعیت مرکز یہ علمائے ہند،منعقدہ یکم و ۲؍ فروری 1936ء میںراجہ غضنفر علی خا ں صاحب کے درگاہ بل پر غور کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ، تو اس میں آپ کا نام بھی شامل تھا۔ 

پنجاب کی مسجد شہید گنج

پنجاب کی مسجد شہید گنج کے تعلق سے بھی آپ کی خدمات نمایاں ہیں۔ چنانچہ آپ نے حکومت پنجاب کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ 

اس وقت حکومت پنجاب اور حکومت ہند کو اس فیصلہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حکومت کے مفاد کے لیے اس گزارش پر میں مجبور ہوں کہ جب متنازعہ فیہ جگہ کا اس فیصلہ کی رو سے حکومت کے نزدیک مسجد ہونا متعین ہوگیا، حکومت اس کے احترام و وقار کے لیے اس جگہ کو سر دست اپنی نگرانی میں لے لے، تاکہ اس کی بے حرمتی کی وجہ سے فساد کا اندیشہ باقی نہ رہے۔ و نیز مزار کاکو شاہ کی جگہ کو بھی سردست اپنی نگرانی میں رکھ کر اس کے فیصلہ کی نگرانی استغاثہ کی طرف سے جلد از جلد دائر کردے۔ ‘‘ (الجمعیۃ یکم جون 1936) 

مسلم انڈی پینڈنٹ پارٹی کے حق میں دورہ

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ منعقدہ 14تا 16؍ جنوری 1934 مرادآباد میں مجالس مقننہ میں شرکت کی تجویز منظور کرلی گئی، تو مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمۃ نے مسلم انڈی پینڈنٹ پارٹی 25؍ اگست 1935کو بنائی ، جس کے امید واروں کو کامیاب بنانے کے لیے آپ نے بھی زبردست کوششیں کیں۔

’’حضرت مولانا محمد سجاد صاحب نائب امیر شریعت صوبہ بہار آج کل دور پر ہیں اور انڈی پنڈنٹ پارٹی کے حق میں امارت شرعیہ کی طرف سے مسلمانوں کو متحد فرمارہے ہیں۔‘‘ (الجمعیۃ ۹ ؍ جنوری 1937) 

یکم اپریل کو یوم مخالفت منانے کی اپیل

’’یکم اپریل1937۔ یکم اپریل 1937کو انڈیا ایکٹ 1935کا عملی طور پر نفاذ کردیا گیا۔ اس کے تحت تمام صوبوں میں وزارتیں قائم کردی گئیں۔ ‘‘ (شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری، جلد دوم ، ص؍679) 

اس یکم اپریل کو جمعیت نے یوم مخالفت آئین منانانے کا فیصلہ کیا اور مسلمانان ہند سے خصوصی اپیل کی کہ وہ آئین جدید کے خلاف اظہار ناراضگی کے لیے عام ہڑتال کیا جائے۔اس اپیل میں صدر و ناظم جمعیت کے ساتھ ساتھ آپ بھی شریک عمل تھے۔ (الجمعیۃ 24مارچ1937) 

اخبارات کی رپورٹوں کی شہادت کے مطابق پورے ہندستان میں زبردست ہڑتال ہوا اور یکم اپریل کو پورا ہندستان ٹھہرگیا۔

سیالوکے ہندو مسلم فساد کی تحقیقات 

/11اپریل1937 کو موضع سیالوتھانہ بھوئی میں ایک زبردست فرقہ وارانہ فساد ہو گیا ،جس کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے لیے مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ 

فی الحال یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ڈویژنل آفیسر اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس کا اس ڈویژن سے فورا تبادلہ کر دیا جائے اور تحقیقات کے بعد اگر وہ اس فساد کو مشتعل کرنے کے ذمہ دار ثابت ہوں، تو ان کو مناسب تادیب کی جائے۔(الجمعیۃ 20؍ اپریل 1937) 

یوم فلسطین کی تجویز

وقت کے ساتھ ساتھ فلسطین کا مسئلہ مزید پیچیدہ ہوتا چلا گیا۔جس کو حل کرنے کے لیے  29تا 31اکتوبر1937کو میرٹھ میں آل انڈیا فلسطین کانفرنس کی مجلس عمل کا اجلاس کیا گیا۔ اس میں ایک تجویز پاس کرکے یہ فیصلہ لیا گیا کہ (۱) برطانوی مصنوعات کا بائیکاٹ ۔ (۲) دربار تاجپوشی کا بائیکاٹ۔ (۳) آئندہ عالم گیر جنگ میں برطانیہ کی ہرقسم کی امدادبند کردیا جائے۔ اور ان پر عمل درآمد کرانے کے لیے مجلس تحفظ فلسطین بنائی گئی۔اس میں جمعیت احرار اسلام ہند ، مجلس عمل فسلطین کے علاوہ جمعیت علمائے ہند کے جن نمائندوں کو شامل کیا گیا ، ان میں ایک نام حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ کا بھی تھا۔ اس مجلس نے 15دسمبر سے درج بالا مقاطعات ثلاثہ پر عمل درآمد کرانے کے لیے ملک گیر سطح پر مہم چلائی ۔ تفصیل کے لیے دیکھیں (الجمعیۃ ۵؍ نومبر 1937)

قبول وزارت کا فیصلہ

 انڈیا ایکٹ 1935میں بھارتیوں کے وزیروں کو صرف مشورہ دینے کے اختیارات دیے گئے تھے، جب کہ کل اختیارات انگریز گورنروں کو دیے گئے تھے، اس لیے انتخاب میں بھاری کامیابی کے باوجود کانگریس نے وزارت قبول نہ کرنے کا فیصلہ لیا، گاندھی جی نے مشورہ دیا کہ گورنروں سے عدم مداخلت کی تحریر لینے کے بعد وزارت قبول کریں؛ اس کے برعکس بہار مسلم انڈیپنڈنٹ پارٹی کے صدر حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نائب امیر شریعت بہار نے کانگریس کو مشورہ دیا کہ وہ گاندھی جی کی شرط کو لازمی سمجھے بغیروزارت کو قبول کریں۔

’’دستور جدید کے متعلق کانگریس نے جو پالیسی اختیار کی ہے، وہ بہت خوش آئند ہے ۔ گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ کے نقائص کا موثر مظاہرہ بغیر اس کے نہیں ہوسکتا کہ ذمہ داریوں کو قبول کیا جائے ۔ اور یہی وجہ ہے کہ اکتوبر 1936میں بہار مسلم انڈیپنڈنٹ پارٹی نے بھی اسی پالیسی کا اعلان کیا تھا۔ مگر کانگریس نے قبول وزارت کی جو شرط ظاہر کی ہے وہ بالکل بے معنی ہے۔ 

مسلمانان ہند کا فرض ہے کہ وہ بغیر ان قرار دادوں کودیکھے ہوئے کوئی رائے قائم کرنے میں جلدی نہ کریں۔ 

(مولانا) ابوالمحاسن محمد سجاد(بہاری) ۔ ‘‘ (الجمعیۃ 24مارچ 1937)

حالات حاضرہ پر غور کے لیے اکابرین کی میٹنگ

18ستمبر1937کو مسلمانوں کی اجتماعی زندگی اور سیاسیات حاضرہ پر جدید حالات کی روشنی میں غور و فکر کرنے کے لیے حضرت مولانا حسین احمد صاحب مدنی، مولانا مفتی کفایت اللہ صاحب ا ور مولانا احمد سعید صاحب کے علاوہ حضرت مولانا ابوالمحاسن سجادؒ نے بھی اپنے  خیالات پیش فرمائے ۔ مستقبل میں عظیم نتائج کی توقع ہے۔‘‘ (الجمعیۃ 20ستمبر1937) 

 واردھا تعلیمی اسکیم کا جائزہ

۳؍ اگست 1938کو دفتر جمعیت علمائے ہند دہلی میں مجلس عاملہ کا ایک اجلاس ہوا ، جس میں واردھا کی تعلیمی اسکیم پر غور کرنے کے لیے  ایک کمیٹی بنائی گئی۔ اس کمیٹی میں ایک نام آپ کا بھی تھا۔ اس کمیٹی نے ایک جامع رپورٹ پیش کی جو مولانا محمد سجاد صاحب کی نظرو فکر کی شاہ کار تھی۔

بھاگلپور فساد پر ایکشن

29جولائی 1938کو بھاگلپور میں ایک رتھ یاترا کو لے کر ہندو مسلم فساد ہوگیا، جس کے خلاف ایکشن لینے کے لیے مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نائب امیر شریعت و پرسیڈنٹ بہار مسلم انڈی پنڈنٹ پارٹی نے آزاد تحقیقات کا مطالبہ کیا۔ (الجمعیۃ ۹؍ اگست 1938) 

زرعی انکم ٹیکس سے اوقاف کو مستثنی کرنے کی کامیاب کوشش

صوبہ بہار میں مسلم اوقاف کی جائیداوں کو زرعی انکم ٹیکس کے تحت ٹیکس دینے کا پابند کردیا گیا تھا۔ اس کے خلاف مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒ اور مولانا ابوالکلام آزاد علیہ الرحمہ نے زبردست جدوجہد کی اور بالآخر آپ کو کامیابی ملی ۔ مولانا کی اس کامیابی کا اعتراف جمعیت علمائے بہار کے عظیم الشان اجلاس منعقدہ 27،28، 29مئی 1938ضلع چھپرا میں کیا گیا۔ 

نظارت امور شرعیہ کا مسودہ

 ۳،۴،۵ ؍ مارچ 1939بمقام دہلی جمعیت علمائے ہند کا گیارھواں اجلاس عام منعقد ہوا۔ اس میں مسلمانوں کی ملی و معاشرتی ضروریات کے پیش نظر حکومت سے ناظر امور اسلامی کے عہدہ کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ اور اس کے لیے خاکہ پیش کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ کو اس کا داعی اور روح رواں بنایا گیا۔ چنانچہ آپ نے بڑی عرق ریزی سے اس کا مسودہ تیار کیا ، جسے جمعیت نے منظوری دی۔ 

مدح صحابہ

1939بھی گذشتہ سالوں کی طرح لکھنو شیعہ سنی اختلافات اور فسادات کا مرکز رہا۔ اس کا اندازہ خود مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نائب امیر شریعت صوبہ بہار کے اس بیان کے ابتدائی اقتباس سے لگایا جاسکتا ہے کہ

’’لکھنو میں حکومت یوپی کے ایک ریزولیشن اور آرڈر سے ابتدا میں سال میں تین دن (عشرہ محرم، چہلم اور اکیس رمضان ) مدح صحابہ یعنی مدح خلفائے ثلاثہ کو پبلک مقامات پر ممنوع قرار دیا گیا۔ لیکن مقامی انتظامی حکام نے اس تین دن کی ممانعت سے ناجائز فائدہ اٹھاکر تمام سال کے ایام میں مدح صحابہ کو پبلک مقامات پر روک دیا؛ بلکہ بعض اوقات مجالس خاص میں مدح صحابہ کو قابل سرزنش سمجھا گیا۔‘‘ (الجمعیۃ 24اپریل 1939) 

چوں کہ یہ سراسر مداخلت فی الدین تھا، اس لیے تمام مسلمانوں نے اپنا مذہبی فرض سمجھتے ہوئے حکومت یوپی کے اس ریزولیشن کے خلاف جدوجہد شروع کرتے ہوئے اس وقت تک تحریک سول نافرمانی جاری رکھنے کا اعلان کیا، جب تک کہ پورے سال مدح صحابہ کرنے کی اجازت نہ مل جائے۔اس تحریک کی قیادت مولاناؒ نے فرمائی۔

 مسئلہ فلسطین

فلسطین کے حالات اور برطانیہ کی دو رخی پالیسی پر مولانا حفظ الرحمان صاحب ناظم اعلیٰ مجلس تحفظ فلسطین نے آگے کے لیے منزل عمل طے کرتے ہوئے فیصلہ کیا کہ ہر صوبہ کے مرکزی مقام پر11؍ فروری1939 کو فلسطین کی آزادی کے متعلق زبردست جلسے کیے جائیں۔ اور اسی تاریخ کو جلسہ کے بعد ایک موقروفد صوبہ کے وزیر اعظم سے ملاقات کرے۔چنانچہ اس فیصلے پر عمل درآمد کرتے ہوئے دریافت رپورٹ کے مطابق صوبہ سندھ میں مولانا محمد صادق صاحب کی قیادت میں، صوبہ سرحد میں مولانا عبد الحق صاحب نافع مدرس دارالعلوم دیوبند کی قیادت میں، صوبہ سی پی  میں مولانا چراغ الدین صاحب کی زیر قیادت اور صوبہ بہار میںمولانا ابوالمحاسن سید محمد سجاد صاحبؒ کی زیر قیادت وفد نے اپنے اپنے وزیر اعظم سے ملاقات کی اور فلسطین کے تعلق سے اپنے مطالبات پیش کیے۔(الجمعیۃ 20و 24فروری 1939)

نظامت عمومی کے عہدہ پر

 13؍14؍ جولائی 1940ء،بمقام دفتر جمعیت علمائے ہند گلی قاسم جان دہلی، دو روزہ مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی۔ جس میں  حضرت مولانا احمد سعید صاحب مدظلہ العا لی نے آئندہ نظامت علیا کی خدمات انجام دینے سے قطعاً معذوری ظاہر فرمائی اور شدید اصرار کے باوجود اس خدمت کا بار برداشت کرنے کے لیے آمادہ نہ ہوئے۔ تو مجلس عاملہ نے حضرت ابو المحاسن مولانا محمد سجاد و صاحب رحمۃ اللہ علیہ کو ناظم اعلیٰ منتخب کیا ۔آپ کا دور نظامت 14؍ جولائی 1940سے شروع ہوا اور 18؍ نومبر1940آپ کی وفات تک جاری رہا۔ 

مکمل آزادی کے بغیر کوئی مطالبات قبول نہیں 

جنگ عظیم دوم میں ہندستانیوں کے تعاون حاصل کرنے کے لیے انگریزوں نے کئی کوششیں کیں؛ لیکن جمعیت اور کانگریس مکمل آزادی کے بغیر کسی بھی قسم کا تعاون پیش کرنے کے لیے تیار نہیں تھے۔ جب برطانوی سامراج نے دیکھا کہ ہندستانی عوام کے رویہ میں کوئی لچک پیدا نہیں ہورہی ہے، تو وہ خود جھک گئی اور 8؍ اگست 1940کو اپنے ہندستانی ایجنٹ وائسرائے ہند کے ذریعہ یہ اعلان کرایاکہ 

’’حکومت جنگ کے خاتمہ کے بعد فورا ایک نمائندہ جماعت قائم کرے گی اور تمام متعلقہ مسائل کے جلد از جلد تصفیہ کرنے میں حتیٰ المقدور امداد دے گی۔… عارضی گورنمنٹ کے سلسلہ میں کہا کہ ’’ایگزیکیٹو کونسل میں ہندستان کے نمائندوں کو شامل کیا جائے گا اور ایک جنگی مشاورتی کونسل قائم کی جائے گی ،جس میں ریاستوں اور مجموعی طور پر ہندستان کی قومی زندگی کے دوسرے مفاد کے نمائندے شامل ہوں گے۔

جمعیت علمائے ہند کے رہنماوں نے وائسرائے کی اس پیشکش کو سنا ،تو اسے در خور اعتنا ہی نہیں سمجھا؛ کیوں جمعیت علمائے ہند کے سامنے تو ہندستان کی مکمل آزادی کا نصب العین ہے، جب تک اس کا واضح اعلان نہیں ہوتا، جمعیت علمائے ہند جنگ میں انگریزوں کی امداد سے قطعا انکار کرتی ہے اور کرتی رہے گی۔ 12؍اگست 1940کو جمعیت علمائے ہند کے ناظم مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا :

’’گذشتہ ستمبر میں ہم نے جو فیصلہ کیا تھا کہ برطانوی حکومت کی مدد کے لیے ہم کوئی وجہ جواز نہیں پاتے ہیں، وہ صداقت و دیانت کی حکمت پر مبنی تھا، اس لیے جمعیت علما ان بیانوں اور پیش کشوں پر کوئی دھیان نہیں دے سکتی ہے ؛ کیوں کہ ہندستان کی مکمل آزادی ہمارا فطری حق ہے‘‘۔ (تاریخ جمعیت علمائے ہند، جلد اول، ص؍101- 102۔ مدینہ بجنور، 13و 17؍ اگست 1940۔ شیخ الاسلام کی سیاسی ڈائری جلد سوم، ص؍140) 

وائسرائے کو مکتوب

 یورپ کی موجودہ جنگ کے متعلق جمعیت علمائے ہندکی عدم شرکت کی پالیسی کے علاوہ حضرت مولانا ابو المحاسن محمد سجاد صاحب نے مورخہ ۳؍ جنوری1940ء کو وائسرائے کو ایک مکتوب بھی لکھا جس میں انھوں نے پوری قوت کے ساتھ یہ بات پیش کی کہ جمعیت علمائے ہند کا یہ فیصلہ مذہبی اصول اور قرآن مجید کی تصریحات پر مبنی ہے۔حضرت کا یہ مکتوب کوئی عام مکتوب نہیں ؛ بلکہ ظالم و جابر بادشاہ کے سامنے اعلان حق اور جرات آمیز اقدام کاعملی مظاہرہ ہے۔

جمعیت کی تاریخ نویسی

حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد ؒ نے جمعیت کی تاریخ پر ایک مختصر؛ مگر مستند کتابچہ لکھا تھا۔ جسے حکومت دہلی نے ضبط کرلیا۔اس کتاب کے بار میں مولانا حفظ الرحمان صاحب ؒ نے لکھا ہے کہ 

’’جمعیت علما کی بیس سالہ تبلیغی، دینی، سیاسی، اجتماعی خدمات اور عملی جدوجہد کا ایک مرقع تالیف فرمایا، جو ’’تذکرہ جمعیت علمائے ہند ‘‘ کے نام سے معنون کیا گیا اور یہ عجیب بات پیش آئی کہ باوجود اس امر کے کہ اس ’’تذکرہ‘‘ میں جمعیت علمائے ہند کی گذشتہ خدمات کی فہرست مرتب کرنے اور مسلمانان ہند کے سامنے ان خدمات کی تفصیل کو یکجا کرکے ان کی توجہ کو جمعیت علمائے ہند کی طرف زیادہ متوجہ کرنے کے سوائے اور کچھ نہ تھا؛ مگر حکومت دہلی اس کو بھی برداشت نہ کرسکی اور فورا اس کو ضبط کرلیا اور دفتر کی تلاشی لے کر اس کی تمام کاپیاں حاصل کرلیں۔‘‘ (حیات سجاد، ص؍151)۔

مفتی اختر امام عادل صاحب اس حوالے سے لکھتے ہیں کہ 

’’افسوس کہ اس دستاویزی کتاب کی ایک کاپی بھی شاید آج محفوظ نہیں ہے۔ اگر یہ تذکرہ محفوظ رہتا ،تو ہمیں یقین ہے کہ یہ جمعیت علمائے ہند کی سب سے مستند تاریخ ہونے کے علاوہ فن تاریخ نویسی کا بھی شاہ کار نمونہ ہوتا؛ لکن قدراللہ ماشاء۔‘‘ (تذکرہ ابوالمحاسن ، ص؍ 450) 

حادثہ وفات

نو دن کی مختصر علالت کے بعد حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمہ نے 17؍ شوال المکرم 1359، مطابق 18؍ نومبر 1940بروز سوموار شام پونے پانچ بجے پھلواری شریف میں آخری سانس لی ۔ دس بجے رات نماز جنازہ ادا کی گئی اور تقریبا ساڑھے دس بجے خانقاہ مجیبیہ کے قبرستان میں تدفین عمل میں آئی۔ وفات کی خبر بجلی کی طرح پورے ملک میں پھیل گئی ۔ متعلقین و متوسلین پر سکتہ طاری ہوگیا۔علمی و سیاسی دنیا میں سناٹا پسر گیا۔ جمعیت علمائے ہند اور امارت شرعیہ کے لیے سب سے زیادہ صدمہ کے باعث تھا۔ یہی وجہ ہے کہ ایک سے زائد مرتبہ تجویز تعزیت پیش کی گئی۔ ۵ ؍۶؍ جنوری1941ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں تجویز پاس کرتے ہوئے کہا گیا کہ 

’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ جلسہ زعیم الا مۃ، مجاہد ملّت، مفکر جلیل، عالم نبیل حضرت مولانا ابو المحاسن سید محمد سجاد صاحب ناظم اعلی جمعیت علمائے ہند و نائب امیر شریعت صوبہ بہار کی وفات پر ( جو17؍ شوال 1359(18؍ نومبر1940) کو پھلواری شریف میں ہوئی) اپنے عمیق رنج وا ندوہ کا اظہار کرتا ہے اور اس سانحہ روح فر سا کو مسلمانانِ ہند کے لیے ناقابل تلافی نقصان سمجھتا ہے۔ مولانا کی ذات گرامی مذہب و ملّت اور اسلامی سیاست کی ماہر خصوصی تھی۔ ان کی مذہبی ،قومی ، وطنی خدمات صفحات تاریخ پر آبِ زر سے لکھی جائیں گی اور مسلمانان ہند ان کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔

 یہ مجلس مولانا کی اہلیہ محترمہ اور ان کے صاحبزا دے اور دیگر اعزا کے ساتھ اپنی دلی ہمددری ظاہر کرتی ہے۔ اور رب العزت جل شانہ کی بار گاہ میں دست بد عا ہے کہ مولانا کو جنت  الفردوس میں جگہ دے۔ اور ان کی تر بت کو اپنی رحمتوں کی بارش سے سیراب کرے۔ آمین۔

 تیرھواں اجلاس عام منعقدہ 20/21/22؍ مارچ 1942کے موقع پر شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ خطبہ صدارت میں اپنے قلبی تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا کہ 

’’حضرات! رُفقائے کار کے اس اجتماع میں ہم حضرت مولانا ابوالمحاسن سیّد محمد سجاد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی عظیم اور برگزیدہ شخصیت کو فراموش نہیں کرسکتے، جنھوں نے گذشتہ تیس سال میں مسلمانانِ ہند کی زبردست خدمات انجام دی ہیں۔ اس عرصہ میں مسلمانانِ ہند کی تمام اہم مذہبی اور سیاسی تحریکات میں کوئی ایک تحریک بھی ایسی نہیں ہے ،جس میں مرحوم نے پورے جوش اور سرگرمی کے ساتھ نمایاں حصہ نہ لیا ہو۔ جمعیت علمائے ہند میں ان کی شخصیت بہت اہم تھی۔ اُنھوں نے اپنی تمام زندگی جمعیت علما کی خدمت اور اس کو ترقی دینے کے لیے وقف کردی تھی۔ اپنی زندگی کے آخری دور میں مرحوم جمعیت علمائے ہند کے ناظم اعلیٰ کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے، ان کی وفات مسلمانان ہند کے لیے عموماً اور جمعیت علمائے ہند کے لیے ایک ایسا قومی و ملّی صدمۂ عظیم ہے، جس کی تلافی نہیں ہوسکتی۔‘‘

بعد ازاں پہلی تجویز آپ کی وفات حسرت آیات پر ہی پاس کی گئی۔

خلاصہ کلام

قصہ مختصر یہ ہے کہ درج بالا سطور میں تاریخی ترتیب کے اعتبار سے مطالعہ کرلیا کہ بیسویں صدی میں جمعیت علمائے ہند اور مسلمانانِ ہند کی تمام اہم مذہبی اور سیاسی تحریکات میں کوئی ایسی تحریک نہیں ہے، جس میں مولانا محمد سجاد ؒ کا خون جگر اور سوز دماغ شامل نہ رہا ہو۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کو جمعیت علمائے ہند کا دماغ کہا جاتا تھا۔ اللہ تعالیٰ مولانا مرحوم کی مغفرت فرمائے اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازے۔


جمعیت علمائے بسنت رائے کی ایک رپورٹ

 عصر حاضر کے چیلنجیز ، مسائل اور ان کا حل کانفرنس

15؍اکتوبر2020ء کو جمعیت علمائے بسنت رائے کے زیر اہتمام ، مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ گڈا، جھارکھنڈ میں عصر حاضر کے چیلنز ، مسائل اور ان کا حل کے عنوان سے ایک کانفرنس منعقد کی گئی، جس کی مختصر کارروائی درج ذیل ہے:

علمائے کرام نے، تعلیم و تربیت، معیشت و تجارت، مقامی لیڈر شپ کی ضرورت و اہمیت، ہر ہر گاوں میں ایک دینی لیڈر اور ایک سیاسی لیڈر تشکیل دینے کی تجویز کے ساتھ ساتھ جمعیت علمائے ہند کا ممبر بننے اور بنانے جیسے حساس مسائل پر خطاب کیے

جس طرح بھارت کو انگریزوں کی غلامی سے آزاد کرانے کے لیے جمعیت علمائے ہند،آل انڈیا کانگریس ور دیگر تنظیموں نے مل کر ترک موالات کی تحریک چلائی، جس کا نتیجہ یہ نکلاکہ جس وقت مغل سے انگریزوں نے بھارت کوچھینا تھا، تو اس وقت بھارت کی جی ڈی پی % 39تھی، جو بھارت کی آزادی تک گھٹ کر3.052%  رہ گیا تھا۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ بھارتیوں نیبرطانوی حکومت ہند کو اتنا مجبور کردیا کہ وہ اپنے ملازمین کی تنخواہ بھی نہ دے سکنے لگی اورپھر انگریزوں کو بھارت چھوڑنا پڑا۔ ان خیالات کا اظہار مرکز دعوت اسلام جمعیت علمائے ہند کے انچارج مولانا محمد یاسین جہازی نے، مسجد منیر مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ گڈا جھارکھنڈ میں، جمعیت علمائے بسنت رائے کے زیر انتظام عصر حاضر کے چیلنجز اور ان کا حل کے عنوان سے منعقد ایک کانفرنس میں کیا۔ انھوں نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ مودی حکومت بھی بھارت کی جی ڈی پی گراکر اسے ہندو راشٹربنانے میں تلی ہوئی ہے۔ مولانا جہازی نے دلیل دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ مائنس جی ڈی پی -25.20، اخلاقی و سیاسی سپریم: سپریم کورٹ کی خاموشی،پبلک سیکٹر کی نیلامی، روزگار کے مواقع کا خاتمہ، زرعی بل میں سرمایہ داروں کی حمایت، دیش کو اڈانی و امبانی گروپ کے ہاتھوں میں سوپنا، پارلیمنٹ میں اپوزیشن کی بے حیثیتی، جی ایس ٹی کے ذریعہ ریاستوں کو کمزور کرکے رفتہ رفتہ ملک کو صدارتی نظام کی طرف دھکیلنا، فوجوں کے تینوں شعبوں پر آر ایس ایس کے ٹرینڈ بپن راوت کا تقرر وغیرہ وغیرہ؛ سب کے سب ملک کو غلام بنانے کا واضح اشارہ ہے۔انھوں نے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علمائے بسنت رائے اپنی معیشت کو مضبوط بنانے کے لیے لوگوں کو کاروبار سے جڑنے اور ملک کی گرتی معیشت کو سنبھالا دینے کی تجویز پیش کرتی ہے۔

کانفرنس سے جمعیت علمائے بسنت رائے کے ناظم اعلیٰ مفتی محمد نظام الدین قاسمی مہتمم مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہازقطعہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ کسی کو امام بنانا اور اس کی اقتدا کرنا شریعت اسلامی کا مزاج ہے، جماعت کی نمازیں اس کی سب سے بڑی مثال ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہماری دینی سرخروئی کے لیے ضروری ہے کہ ہر گاوں میں ایک دینی لیڈر بنائیں، جن کو مقتدا بناکر اپنے دینی مسائل کو حل کرنا لازم سمجھیں۔ناظم اعلیٰ نے موجودہ سیاسی حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ گاوں میں بسنے والے غریب کسانوں اور مزدوروں کے لیے دستور میں دیے گئے فنڈا مینٹل رائٹس کے تحت درجنوں اسکیمیں سرکار نے جاری کر رکھی ہیں؛ لیکن ہمیں ان کی جان کاری نہ ہونے کی وجہ سے، یہ اسکیمیں ہم تک نہیں پہنچ پاتی ہیں اور بچولیے کھاجاتے ہیں۔ ناظم اعلیٰ نے حل بتاتے ہوئے کہا کہ اپنا وزن پیدا کرنے اور اس طرح کی اسکیمیں زمین پر اتارنے کے لیے ہر ایک گاوں میں ایک ایسا مقامی سیاسی لیڈر بنانا ضروری ہے، جو سیاست کو تجارت نہیں؛ بلکہ سماجی خدمت کا ذریعہ سمجھتا ہو۔انھوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر ہم ہر ہر گاوں میں ایک دینی لیڈر اور سیاسی لیڈربنانے میں کامیاب ہوگئے، تو یہ ہمارے مستقبل کی کامیابی کی ضمانت ہے۔

مفتی محمد زاہد امان قاسمی سکریٹری جمعیت علمائے بسنت رائے نے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاک ڈاون کی وجہ سے یوں تو تعلیم اور اس سے وابستہ افراد کا100% کا نقصان ہوا ہے؛ لیکن اگر صرف مدارس کی بات کریں، تو 2007کی سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق 4% افراد مدارس سے وابستہ تھے۔ گذشتہ تیرہ سالوں میں تعلیم کی طرف بڑھتے رجحانات کو دیکھتے ہوئے% 6 کا اضافہ مان لیا جائے، تو کل% 10پرسینٹ ہوجاتے ہیں۔انھوں نے ڈیٹا پیش کرتے ہوئے کہا کہ  حالیہ اعداد وشمار کے مطابق مسلمان 22کروڑ ہیں۔ 22کروڑ کا دس پرسینٹ 2کروڑ،20لاکھ ہوتے ہیں، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ لاک ڈاون کی وجہ سے 2کروڑ 20لاکھ طلبائے مدارس اور ان کے اساتذہ کا تعلیمی و معاشی نظام چرمرا گیا ہے، جو ہمارے بچوں کی فری تعلیم کے لیے دن رات لگے رہتے تھے۔انھوں نے سامعین کو توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ یہ ڈیٹا یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہمیں اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے کتنے اہم اور ضروری قدم اٹھانا پڑے گا۔سکریٹری جمعیت نے اس کا ایک حل پیش کرتے ہوئے کہا کہ ابنیائے کرام کے علمی وارث ہونے کی وجہ سے، سبھی مقامی علمائے کرام کا قومی اور ملی فریضہ ہے کہ اپنے اپنے گاوں میں چھوٹے چھوٹے بچوں کے لیے منظم مکاتب قائم کریں۔ اسی طرح دوسری تعلیم: حفظ، ناظرہ اور عصریات پڑھنے والوں کے لیے بھی جگہ جگہ انسٹی ٹیوٹ کو فروغ دینے کی کوشش کریں۔ انھوں نے آخر میں لوگوں سے اپیل کی کہ کورونا کے تعلق سے حکومت کی گائڈ لائنس اور ہدایات پر عمل کرنا نہ بھولیں۔

مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ کے نائب مہتمم مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ،مولانا محمد سرفراز قاسمی خازن جمعیت علمائے بسنت رائے نے بھی کانفرنس سے خطاب کیا۔ انھوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ کل ہند سطح پر مسلمانوں کی فکری، علمی، قانونی اور عملی سطح پرکوئی تنظیم ہمارا سہارا ہے، تو اس کا نام ”جمعیت علمائے ہند ہے“۔ انھوں نے جمعیت کے کارناموں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا کہ یہ تنظیم جتنی قدیم ہے، خدمات بھی اتنی ہی عظیم ہیں، جس کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے۔ صحیح بات یہی ہے کہ تقسیم ہند کے قضیہ شر وفساد میں بھارت میں ڈٹے رہنے کے لیے جس تنظیم نے مسلمانوں کو سہارا دیا، اور اس کے بعد آج تک آفات سماوی و انسانی میں انسانیت کی جو مثال جمعیت پیش کرتی ہے،وہ اپنے آپ میں ایک مکمل تاریخ بن جاتی ہے۔ انھوں نے جمعیت علمائے ہند کی ممبرسازی کے طریق کار کی تفصیل پیش کرتے ہوئے کہا کہ 31دسمبر2020تک اس کی ممبرسازی کا وقت ہے، اس میعاد میں بڑی تعداد میں اس جماعت کا ممبر بن کر اس کو مضبوط کرنا ہمارا قومی و ملی فریضہ ہے۔

پروگرام میں بلاک بسنت رائے کی 56مسلم آبادی پر مشتمل بستیوں سے تقریبا 400علمائے کرام، سماجی کارکن اور اہم شخصیات نے شرکت کیں۔ جن میں مولانا محمد یاسین جہازی جمعیت علمائے ہند،مفتی محمد سفیان ظفر صاحب قاسمی صدر جمعیت علمائے بسنت رائے مفتی محمد نظام الدین قاسمی، ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے بسنت رائے، مفتی محمد زاہد امان قاسمی سکریٹری جمعیت علمائے بسنت رائے، مولانا محمد سرفراز قاسمی خازن جمعیت علمائے بسنت رائے، ڈاکٹر تمیز الدین صاحب کیواں صدرجمعیت علمائے ضلع گڈا، ماسٹر عبد الحفیظ صاحب ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ضلع گڈا، مولانا سلیم صاحب سکریٹری جمعیت علمائے ضلع گڈا، مفتی اقبال صاحب نائب صدر جمعیت علمائے جھارکھنڈ، جناب شریف صاحب پرنسپل جامعہ ام سلمہ بسنت رائے، جناب نذیر صاحب پرنسپل مولانا ابوالکلام آزاد کالج بسنت رائے، جناب انظر صاحب سماجی کارکن، جناب ناہید، مفتی عبد السلام امڈیہا،جناب مقیم الدین صاحب، جناب ہارون صاحب پرسیہ، مولانا عرفان صاحب مظاہری، مفتی عباد الرحمان صاحب، مولانا سلیم الدین، قاری کلیم الدین صاحب، مولانا شاہنواز صاحب کیتھیا، مولانا مجیب الحق صاحب امام مسجد جھپنیہاں، مولانا تحسین صاحب  قاسمی، مولانا اکرام صاحب، مولانا مختار صاحب، مولانا غلام رسول صاحب ریسمبا، ماسٹر صدیق صاحب ریسمبا،ماسٹر نسیم صاحب، جناب مقیم الرحمان صاحب سروتیا،مولانا غفران صاحب، مولانا عبد القیوم صاحب اور مولانا مسعود صاحب کے نام قابل ذکر ہیں۔

نظامت کے فرائض مولانا محمد یاسین جہازی نے انجام دیے۔ تلاوت مولانا ابراہیم مظاہری جہازی نے کی۔ مولوی اسماعیل نیا نگر متعلم مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ نے نعت النبی پیش کی۔ مولانا ابراہیم مظاہری جہازی اور  مولوی اسماعیل نیا نگر نے مشترکہ طور پر جمعیت کا ترانہ پیش کیا۔ آخرمیں مفتی محمد سفیان ظفر قاسمی صدر جمعیت علمائے بسنت رائے کی دعا پر پروگرام اختتام پذیر ہوا۔

تقریب استقبالیہ 

جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کے زیر اہتمام،جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ کے کیمپس میں 10؍دسمبر 2025ء بروز بدھ ، جامعہ کی سالانہ تکمیل حفظ قرآن کانفرنس مکمل ہونے کے بعد، دوسری نشست کے طور پر سوا بارہ بجے تقریب استقبالیہ شروع ہوئی۔ اس کی صدار ت حضرت مولانا مفتی محمد اقبال صاحب نائب صدر جمعیت علمائے ضلع گڈا و بانی مہتمم معہد محمود سراج العلوم رجون نے فرمائی۔اس پروگرام کا بنیادی مقصد جمعیت بلاک یونٹ کے صدر مفتی محمد نظام الدین صاحب قاسمی کے دہلی چھوڑ کر علاقے ہی میں رہنے کے فیصلے تناظر میں ان کا تہلکہ خیز استقبال کرنا تھا۔ چنانچہ اسکیجیول کے مطابق سب سے پہلے ٹیکر سے لے کر جامعہ تک پیدل مارچ کرتے ہوئے نعرہ ہائے استقبال و خوش آمدید کے مترنم صداوں کے بیچ ، پھولوں کی بارش اور مالا وگل دستوں کے ساتھ ان کی آمد کا خیر مقدم کیا گیا۔ علاقے کے ائمہ، علما اور جمعیت علما سے وابستہ افراد نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے، مفتی محمد نظام الدین کا گرم جوشی سے استقبال کیا۔ مفتی صاحب علما و عوام کے جلوس کے جلو میں جب تک جمعیت علما کے جھنڈے تک نہیں پہنچے، تب تک فلک شگاف نعرہ ہائے استقبال و تحسین بلند ہوتے رہے۔ بعد ازاں مفتی صاحب نے جھنڈا لہرانے کی رسم ادا کی، اس کے ساتھ ہی ترانۂ جمعیت علما پڑھا گیا۔اسے مشہور مداح رسول مولانا شمیم صاحب مہتمم مدرسہ فخر الاسلام کوریانہ نے اپنی دل کش اور من موہ لینے والی آواز میں پیش کیا۔ 

بعد ازاں نظامت کے فرائض انجام دیتے ہوئے مفتی محمد زاہد امان قاسمی نے پروگرام کو آگے بڑھاتے ہوئے ،مولانا شمس تبریز قاسمی نائب صدر ناظم جمعیت علمائے بسنت رائے کو مائک پر بلایا ، جنھوں نے کلمات ترحیب و تشکر پیش کیا۔ 

اس کے بعد مفتی محمد زاہد امان قاسمی نے جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کی سکریٹری رپورٹ پیش کی، جو 2019سے 2025 تک خدمات پر مشتمل تھی۔ 

پھر مفتی محمد خلیل احمد صاحب استاذ حدیث مدرسہ اصلاح المسلمین چمپانگر بھاگل پور نے استقبال کی شرعی حیثیت کے عنوان سے خطاب کیا، جس میں انھوں نے کہا کہ آج کل مدارس اور دیگر جلسوں میں مقررین کے لیے جو القاب استعمال کیے جاتے ہیں، وہ حد درجہ مبالغہ آمیز اور حقیقت سے بہت دور ہوتے ہیں، ہمیں شریعت کے حکم کو سامنے رکھتے ہوئے اعتدال سے کام لینا چاہیے۔ انھوں نے حدیث کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ کہ جس کی تعریف کی جائے، اسے چاہیے کہ تکبر میں مبتلا ہونے سے بچنے کے لیے تعریف کرنے والے کو تعریف کرنے سے منع کرے۔ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر اعتدال کے ساتھ کسی کا استقبال کیا جائے، تو شریعت اس سے منع نہیں کرتی ہے۔

 بعد ازاں مولانا شمیم صاحب نے زبردست استقبالیہ نظم پیش کی، جس میں مفتی محمد نظام الدین صاحب کی خصوصیات کے تذکرہ کے ساتھ اس پر مسرت کا اظہار کیا کہ علاقے میں ان کے مستقل طور پر رہنے سے اہل علاقہ کو بڑا فائدہ ہوگا ان شاء اللہ تعالیٰ۔

پھر مولانا مجیب الحق صاحب نائب صدر جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے و امام و خطیب جھپنیاں مسجد نے مفتی محمد نظام الدین کا مختصر سوانحی خاکہ پیش کرتے ہوئے ان کا جامع تعارف پیش کیا، جس میں خاندانی پس منظر، تعلیمی اسفار، خدمات کا وسیع دائرہ، سلوک و تصوف سے وابستگی اور علاقے میں ان کے کارہائے نماں کا نمایاں طور پر تذکرہ کیا گیا تھا۔

 اس کے بعد تاثرات کے تحت مولانا محمد سلیم الدین صاحب مہتمم یتیم خانہ باگھاکول نے اپنے قلبی جذبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ مفتی محمد نظام الدین صاحب ہمہ گیر شخصیت ہیں، وہ سیاست، قیادت، تعلیم و تدریس اور تحریر وتقریر گویا ہر فن مولیٰ اور گل سرسبد ہیں۔انھوں نے مزید کہا کہ مفتی صاحب اور ان کے رفقا نے علاقے میں تعلیمی و سماجی بیداری پیدا کرنے میں اہم کردار اداکیا ہے۔

 ڈاکٹر مولانا عبدالمجید ندوی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں نے علاقے کے حالات کے متعلق ’’علاقے میں شیخ برادری کا ذکر جاوداں‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب لکھی ہے، جس میں ثابت کیا ہے کہ علاقے میں پرسہ اسکول اور مدرسہ شمسیہ گورگواں کا بڑا اہم کردار ہے، جنھوں نے ہمیں پاؤں پاؤں چلانا سکھایا ہے؛ لیکن یہ ادارے آج زبوں حالی کے شکار ہیں۔ انھوںنے مفتی صاحب کا علاقے میں خیرمقدم کرتے ہوئے ، انھیں مبارک باد پیش کی اور امید جتائی کہ جامعۃ الہدیٰ کا قیام اورمفتی صاحب کی روزو شب کی محنت علاقے کے کھوئے ہوئے وقارکو واپس دلانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔

 مولانا سجاد ندوی صاحب نے مارٹن لوتھر کا مقولہ سنایا اورمفتی صاحب کو مجاہد کا خطاب  دیتے ہوئے ان کی زندگی کو جہد مسلسل سے تعبیر کیا اورکہا کہ کرگس کے بجائے شاہین کی زندگی ہمارا نصب العین ہونا چاہیے۔

دہلی کے معروف ڈرائے فروٹ تاجر جناب ڈاکٹر انیس الرحمان صاحب-جو دہلی سے اس اجلاس میں شرکت کے مقصد سے ہی تشریف لائے تھے- نے اپنا تأثرات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ مفتی محمد نظام الدین صاحب دہلی کی گرین پارک جامع مسجد میں صرف ایک امام اور خطیب ہی نہیں تھے؛ بلکہ وہ ایک مشن اور تحریک کا نظریہ رکھنے والی شخصیت تھے۔ جب انھوں نے وہاں استعفی پیش کیا، تو دل نے قبول نہیں کیا؛ لیکن جب یہاں ان کی خدمات و کارنامے کو دیکھا ، تو معلوم ہوا کہ وہاں سے زیادہ ضرورت یہاں ہے، اس لیے نم آنکھوں کے ساتھ ہمیں مجبورا الوداع کہنا پڑا۔ اور یہاں آج ان کے استقبال کے حسین منظر کو دیکھ کر یہ اندازہ ہوا کہ آپ سب اپنے عالم، اپنے قائد سے کس درجہ محبت کرتے ہیں۔انھوں نے سلسلۂ کلام جاری رکھتے ہوئے فرمایا کہ علاقہ بہت پس ماندہ ہے اور کام کی سخت ضرورت ہے، ہمیں جب بھی کسی کام کے لیے آواز دی جائے گی، تو ان شاء اللہ تعالیٰ ہم لبیک کہیں گے۔

 بعد ازاں مرکزی جمعیت علمائے ہند کے شعبۂ تصنیف مرکز دعوت اسلام کے معتمد مولانا محمد یاسین جہازی –جنھوں نے مہمان خصوصی کے طور پراس اجلاس میں شرکت کی تھی-نے اپنے خطاب میں کہا کہ موضوع کے اعتبار سے ارادہ یہ تھا کہ علاقے میں جمعیت علمائے ہند کو کم سرمایہ کے باوجود فعال کیسے بنایا جائے کے موضوع پرگفتگو کروں، لیکن قلت وقت کی وجہ سے اس موضوع کو چھوڑتا ہوں۔ انھوں نے آگے کہا کہ مفتی خلیل احمد صاحب نے استقبال کے متعلق حقیقت سے دور القابات استعمال کرنے سے متعلق جو باتیں کہی ہیں، وہ معتدل موقف ہے، تاہم سیرت نبوی اور بزرگان کی سوانح حیات میں اپنی قیادت کی حوصلہ افزائی اور استقبال کے عملی نمونے ملتے ہیں۔ اور مفتی صاحب کا یہ استقبال دراصل اسی فریضہ کی ادائیگی تھی۔ اگرچہ جس آن بان اور شان کے ساتھ ہمیں مفتی صاحب کا استقبال کرنا چاہیے، وہ نہیں ہوپایا، تاہم یہ عمل ہمارے مستقبل کے لیے نمونۂ عمل ہے، جس کا سلسلہ مزید وسیع ہوگا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔انھوں نے جمعیت والے کو ہدیہ بہت ملتا ہوگا کے تصور پر ایک لطیفہ بھی سنایا کہ مجھے ایک بہت بڑی ہستی نے کہا کہ آپ لوگوں کو ہدیہ بہت ملتا ہوگا، جس پر مولانا جہازی نے جواب دیا کہ اتنا ہی ملتا ہے، جتنا آپ نے دیا ہے۔ چوں کہ انھوں نے کبھی کوئی ہدیہ نہیں دیا تھا، اس لیے وہ صاحب اور شریک اجلاس بھی بہت محظوظ ہوئے۔

بعد ازاں مفتی محمد نظام الدین صاحب قاسمی نے ان کے لیے استقبالیہ پروگرام منعقد کرنے پر جمعیت علمائے بسنت رائے کے ذمہ داروں اور ممبروں کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ استقبال دراصل ذمہ داری ہے، اور ان شاء اللہ اس کی ادائیگی میں میں آپ حضرات کی توقع پر پورااترنے کی کوشش کروں گا۔ اور سماج کا ہر ہر فرد اپنی اپنی جگہ ایک ذمہ دار ہے۔ اور اسے اپنی اپنی ذمہ داری نبھانی چاہیے۔انھوں نے مزید کہا کہ نوجوان سماج کا آئینہ ہے، لہذا بہتر سماج کی تعمیر کے لیے ہمارے نوجوانون کو اپنا کردار بھی بہتر بنانا ہوگا۔

 مولانا ادریس صاحب صدر جمعیت علمائے گڈا (ارشد مدنی) و مہتمم امداد القرآن کیواں نے اپنے خطاب میں کہا کہ کام کی توفیق کے لیے صرف صلاحیت کافی نہیں ہے؛ بلکہ مقبولیت بھی ضروری ہے۔ مفتی محمد نظام الدین صاحب کے کارہائے نمایاں اس پر بات گواہ ہیں کہ ان کے اندر صلاحیت بھی ہے اور عند اللہ و عند الناس مقبول بھی ہیں۔ انھوں نے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ میں مفتی صاحب کا علاقے میں خیرمقدم کرتا ہوں اور ان کے تمام کاموں کی مکمل تائید کرتا ہوں۔

اخیر میں اس نشست کے صدر مولانا مفتی محمد اقبال صاحب نے صدارتی خطاب پیش کرتے ہوئے کہا کہ میں، بحیثیت نائب صدر جمعیت علمائے گڈا، بحیثیت صدر لجنۃ العلما والمفتیین اور بحیثیت صدر رابطہ مدارس اسلامیہ ضلع گڈا، حضرت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کے اس تاریخی بیان کی مکمل تائید کرتا ہوں، جو انھوں نے 29؍نومبر 2025ء کو بھوپال میں مرکزی مجلسِ منتظمہ کے اجلاس میں دیا تھا کہ:

’’جب جب ظلم ہوگا، تب تب جہاد ہوگا۔‘‘

انھوں نے سلسلہ ٔکلام جاری رکھتے ہوئے کہا کہ علاقے کے اہل ثروت کو جامعۃ الہدی اور دیگر تمام اسلامی اداروں کے تعاون کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ انھوں نے ترغیب کے لیے دیوبند کی بیوہ کا واقعہ بھی سنایا، جو اپنی کمائی ہوئی دو روٹی میں سے ایک افغانستان کے ایک مجبور و لاچار طالب علم کو دیا کرتی تھی، تاکہ وہ طالب علم دارالعلوم دیوبند میں اپنی تعلیم جاری رکھ سکے۔ چندہ کرتے ہوئے مفتی صاحب نے اعلان کیا کہ کون ایک طالب علم کو حافظ بنانے کا خرچہ اٹھائے گا، جس پر ماسٹر نسیم صاحب لوچنی، جناب یاسین صاحب پکڑیا ، ماسٹر غلام رسول صاحب جہاز قطعہ، ڈاکٹر انیس الرحمان صاحب دہلی (دو بچے) نے لبیک کہا۔ اور نقد بارہ ہزار پانچ سو چودہ روپے ہوئے۔

 مفتی محمد خلیل صاحب سیری چک کی دعا پردو بج کر ایک منٹ پر مجلس اختتام پذیر ہوئی۔ 

نماز ظہر کے بعد تمام حاضرین کی بریانی اور زردہ سے ضیافت کی گئی، جس کی مجموعی تعداد تقریبا پانچ سو تھی۔

 ان دونوں پروگراموں میں عوام کی سینکڑوں تعداد کے لیے جن اہم اہم شخصیات نے شرکت کی، ان میں قاری محمود بسمبر چک، مولانا محفوظ امام مسجدموہن پور، مفتی زاہد حسن بانی مہتمم جامعہ شیخ یونس اسنبنی گڈا، انجینر مقیم الرحمان فاونڈر و پرنسپل الامین اسکول سروتیہ، مولانا خالد اقبال مہتمم جامعہ محی السنہ، مولانا الیاس ثمر ڈائریکٹر و پرنسپل الفتح انٹرنیشنل اسکول کرما، مولانا قاسم بانی مہتمم معہد انور نیموہاں، ماسٹر نظام الدین ناظم اعلیٰ مدرسہ بشیر العلوم کیتھیہ، مفتی زبیر نمائندہ مدرسہ سلیمانیہ سنہولا ہاٹ بھاگل پور، قاری اکرام بانی مہتمم جامعۃ الصالحات کرہریا گڈا، مولانا عبد الرحمان مظاہری ناظم اعلیٰ مدرسہ حمیدیہ ہنوارہ، مولانا آصف قاسمی امام و خطیب مدنی چک، مفتی سجاد قاسمی امام و خطیب موکل چک، حافظ جمشید امام و خطیب سکرام پور، حافظ رئیس مدرسہ اسلامیہ خرد سانکھی، مولانا شمشیر قاسمی امام و خطیب پھنسیہ، قاری محسن بانی مہتمم جامعۃ الطاہرات بنسی پور، قاری محمود بسمبر چک، قاری ضیاء اللہ ناظم اعلیٰ مخزن العلوم دھپرا، مولانا ذیشان قاسمی امام و خطیب بیلا قطعہ، حافظ محسن امام و خطیب بڑی سانکھی، قاری عبدالستار امام و خطیب کپیٹا، مولانا سرفراز قاسمی بڑی سانکھی، قاری کلیم الدین مہتمم مدرسہ اسلامیہ دارالعلوم خورد، مولانا مستقیم پربتہ،حافظ ہاشم امام و خطیب کیتھیا مسجد، جناب آفتاب عالم ناظم اعلیٰ جامعۃ الطاہرات مانجر، ماسٹر نسیم لوچنی خازن جمعیت علمائے بسنت رائے، ماسٹر ازہر کیتھ پورا، ماسٹر ولی سروتیہ خازن جمعیت علمائے ضلع گڈا، ماسٹر مظفر جمنی کولا، مولانا اختر حسین امینی جہازی، مولانا غلام رسول ریسمبا، ماسٹر فیض الدین جہازی، جناب فہیم جہازی، مکھیا صغیر جہازی، جناب انظر احمد پرمکھ بسنت رائے پرکھنڈ، ڈاکٹر خالد جہازی، ماسٹر غلام رسول جہازی، حافظ شفیق امام عیدگاہ جہاز قطعہ،حاجی عبید اللہ جہازی، حافظ اشفاق جہازی، مولانا عبدالقیوم قاسمی جہازی،نسیم بسمبر چک،مفتی عبد اللہ جہازی مدرس مدرسہ اسلامیہ خرد سانکھی،حافظ قمر الہدی رنسی ، قاری سجاد صاحب کیواں،مولانا فیضان قاسمی جہازی، حافظ ہارون رشید پرسیاہائی اسکول اور جناب جمال جہازی صاحب ودیگر اہم شخصیات کے نام قابل ذکر ہیں۔

 سامعین کے تأثرات میں اس بات کا کھل کر اعتراف کیا گیا کہ جامعۃ الہدیٰ جہاز قطعہ کے اس دو سیشن پر مشتمل عظیم الشان پروگرام نے علمی، سماجی اور تنظیمی سطح پر ایک نئی تاریخ رقم کی، جسے علاقے کے لوگ دیر تک یاد رکھیں گے۔

اس پروگرام میں مفتی زاہد امان قاسمی ناظم جمعیت علمائے بسنت رائے نے جو سکریٹری رپورٹ پیش کی، اس کا مکمل متن درج ذیل ہے:

سکریٹری رپورٹ

تمہید

    جمعیت علمائے ہند ملک عزیزکی ایک تاریخی، دینی، سماجی اور ملی تنظیم ہے۔ 2019 سے 2025 تک بسنت رائے بلاک میں جو دینی، سماجی، فکری اور تنظیمی بیداری پیدا ہوئی، وہ نہایت قابلِ قدر اور غیر معمولی کامیابی ہے۔یہ رپورٹ انھی خدمات کا اجمالی وجامع رپورٹ ہے۔

بلاک سطح کی جمعیت کے قیام کا پس منظر

     2019 تک ضلع گڈا کے کسی بھی بلاک میں جمعیت علمائے ہند کی منظم یونٹ قائم نہیں تھی۔ جب مفتی محمد نظام الدین قاسمی صاحب 2019 میں جامعہ مفتاح العلوم جلال آباد سے مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ، جہاز قطعہ میں مہتمم کی حیثیت سے تشریف لائے تو ارادہ ہوا کہ جمعیت علمائے ہند کے پلیٹ فارم سے جڑ کرکے سماجی کام کیا جائے،لیکن کوئی مناسب مشیر کار نہیں تھا۔

دہلی کا سفر اور مشاورت

اسی دوران دہلی کے لیے مفتی صاحب کا سفر ہوا اور جمعیت علما? ہند کے مرکزی دفتر میں موجود مولانا محمد یاسین صاحب جہازی دامت برکاتہم العالیہ معتمد شعبہ مرکز دعوت اسلام سے جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے کو زمین پر اتارنے کے سلسلہ مفصل مشورہ کیا۔انھوں نے اصول اور ضابطے کی روشنی میں بلاک سطح کی جمعیت بنانے کا لائحہ? عمل بتایا۔

جمعیت  علمائے بلاک کا قیام

مشورہ کے بعد بتاریخ: 17?فروری2019 مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ  جہاز قطعہ کی مسجد منیر میں اس وقت کے ضلعی صدر ڈاکٹر تمیز الدین صاحب اور نائب صدر مفتی محمد اقبال صاحب دامت برکاتہم العالیہ کی زیر سرکردگی ایک مجلس منعقد ہوئی۔ جس میں مفتی سفیان ظفر قاسمی کو صدر، مفتی محمد نظام الدین قاسمی کو جنرل سکریٹری، مولانا سرفراز قاسمی کو نائب صدر، مفتی زاہد امان قاسمی نائب سکریٹری اور مولانا سرفراز صاحب قاسمی کو خزانچی منتخب کیا گیا۔

 اس طرح سے ضلع گڈا میں  جمعیت کی باضابطہ بلاک یونٹ قائم ہوئی۔ اور اب الحمدللہ سبھی بلاک میں جمعیت کی یونٹ ہے۔

لاک ڈاؤن اور تنظیمی سرگرمیاں

     2020 میں جب لاک ڈاؤن لگا اور جولائی میں مولانا محمدیاسین صاحب جہازی بھی اتفاق سے گھر  آگئے، تو بقر عید کے بعد یہ مشورہ ہوا کہ  علاقائی دورہ کرکے جمعیت کے کام  کو مضبوط اور پیغام کو عام کیا جائے۔ چنانچہ آپسی تبادلہ خیال کے بعد جن ایجنڈوں کے تحت  پورے بلاک بسنت رائے کی مسلم آبادیوں پر مشتمل باون بستیوں کا  دورہ ہوا۔ اور درج  ذیل سات موضوعات کو گاوں گاوں تک پہنچایا گیا:

(1) بستی بستی  خود کفیل مکاتب کے قیام کی  پرزوراپیل 

(2) ہر مسجد میں درس قرآن اور درس حدیث کا اہتمام 

(3) سماجی اور دینی لیڈر کی ضرورت و اہمیت 

(4) جمعیت علمائے ہند کے ممبر سازی کی اہمیت 

(5) ووٹ بیداری مہم

(6) معاشی بیداری اور تجارت پر زور۔

 دورہ میں بالعموم درج ذیل افراد نے پوری لگن اور جذبے کے ساتھ شرکت کی:

(1) مفتی نظام الدین قاسمی 

(2) مفتی زاہد امان قاسمی 

(3) مولانامحمد یاسین جہازی 

(4) مولانا سرفراز قاسمی جہاز قطعہ 

ان چار افراد کی قیادت میں مختلف دنوں میں مختلف لوگوں کی بھی شرکت رہی۔ اتفاقی طور پر جن افراد کی شرکت رہی ان میں مولانا مجیب الحق صاحب قاسمی امام وخطیب جھپنیاں، قاری محمود صاحب بسمبر چک،مولانا شمیم صاحب مہتمم جامعہ فخر الاسلام کوریانہ، مولانا انصار صاحب جہاز قطعہ مظاہری مفتی سفیان ظفر قاسمی کی شرکت پورے دورے میں صرف ایک دن بگھاکول میں اور مولانا سرفراز صاحب کی شرکت صرف ان کی بستی بڑی سانکھی میں رہی۔

دورہ کا طریقہ کار

دورہ کا طریقہ کار یہ تھا کہ پہلے بستی کا انتخاب کرتے، روزانہ دو بستیوں کا دورہ کرتے، کبھی مشورہ کے بعد تین میں بھی ہو جاتا،ہم لوگ اکثر عصر پڑھ کرکے ایک جگہ ملاقات کرتے اور طے شدہ گاؤں میں مغرب اور عشاء پڑھتے،بعد نماز مغرب اور عشاء مذکورہ عناوین کے تحت مختصر بات چیت اور ملاقات کرکے ترغیب دیتے تھے،مفتی زاہد امان قاسمی زیادہ تر درس قرآن درس حدیث اور مکاتب پر بات کرتے تھے، مولانا محمدیاسین جہازی ووٹ بیداری، مولانا سرفراز صاحب قاسمی جمعیت کی ممبر سازی، مفتی نظام الدین صاحب قاسمی مذکورہ عناوین کا خلاصہ اور دینی و سماجی لیڈر کی ضرورت و اہمیت پر بات کرکے دعا کرا دیتے تھے، اتفاقی طور پر جن کی شرکت ہوتی  ان کو مذکورہ عناوین میں سے کوئی بھی عنوان دے دیا جاتا تھا، جہاں عشاء پڑھتے وہاں سے کھانے کھاکر واپس آتے تھے  یہ سارا نظام مفتی زاہد امان صاحب قاسمی کی نگرانی میں ہوتا تھا ? یہ ایک ماہ سے زائد کا علاقائی دورہ تھا جو یقینا ایک تاریخی دورہ تھا۔

مندرجہ ذیل بستیوں کا دورہ ہوا

. مدنی چک۔ 2. کدمہ۔3. جگت پور۔4. جمنی کولہ۔5. بیلا قطعہ۔6. نیموہاں۔7. شاہ پور بیلڈھیہ۔8. شاہ پور۔9. سرسہ۔10. سمری۔11. بگھاکول۔12. بسنت قطعہ۔13. موکل چک۔14. پکڑیا۔15. کمرہ کول۔16. بنسی پور۔17. چورا۔18. کیتھ پورہ۔19. جھپنیاں۔20. بسمبرچک۔21. لیتھا۔22. دھپرا۔ 23. سہوڑا۔24. راہا۔

25. کپیٹا۔26. جہاز قطعہ۔27. رسمبا۔28. پھسیہ۔29. بیلسر۔30. لوچنی۔31. پچوا قطعہ۔32. مانجر۔33. مہیش ٹکری۔34. بڑی سانکھی۔35. گوپی چک۔36. کیتھیا۔37. رنسی۔38. چینگے۔39. پھلوڑیہ۔40. بیلڈھیہ۔41. پربتہ۔42. پرسیہ۔43. روپنی۔44. بھٹہ۔45. قاسم علی ٹیکر۔46. کوریا نہ۔47. بودرا۔48. رانی دیہہ۔49. سیارڈیہہ۔50. پڑوا خورد۔51. پڑوا کلاں۔52. نکٹا۔53. سوڑنیہ۔

اس مہم کی سکسیس اسٹوری

اس مہم اور علاقائی دورہ سے عوام میں نئی فکر پیدا ہوئی،  کئی  مقامات  پرمکاتب کا قیام ہوا، جو احباب پہلے سے ہی مکاتب چلا رہے تھے ان کو عزم و حوصلہ ملا اور بہت سے ساتھیوں کو یہ احساس ہوا کہ علاقے میں دینی عصری اور سماجی اعتبار سے کام کرنے کی بہت ہی سخت ضرورت ہے اس موقع سے ضمنی الیکشن ہونا تھا، اس میں زبر دست بیداری آئی اور ووٹ فیصد میں بھی کافی اضافہ ہوا ?

دورہ کے بعد تاریخی پروگرام

دورہ کے دوران ایک معمول یہ بھی تھا کہ ہر بستی سے تین سے پانچ افراد پر ایک لسٹ تیار کرتے تھے، جس میں امام، کوئی عالم اور سماجی ذمہ دار کا نام ہوتا تھا،  جب دورہ مکمل ہوا تو تقریبا تین سو لوگوں پر مشتمل مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ میں ظہر سے عصر تک 15/ اکتوبر 2020  ایک عظیم الشان اجلاس عام ہوا، مذکورہ عناوین پر مقالہ لکھا گیا تھا، پروگرام میں سب کو پچاس روپے کے ہدیہ سے ایک ایک فائل دیا گیا اور اس میں مذکورہ عناوین کی فوٹو کاپی بھی دی گئی تھی ? اور انہی عناوین پر بیان بھی ہواتھا، بیان کرنے والوں میں مفتی نظام الدین صاحب قاسمی، مفتی زاہد امان صاحب قاسمی، مولانا یاسین جہازی، مولانا سرفراز صاحب قاسمی تھے، یہ پروگرام مولانا عرفان صاحب مظاہری رحمہ اللہ کی صدارت میں میں ہوا تھا استقبالیہ مفتی سفیان ظفر قاسمی نے پیش کیا تھا، یہ پروگرام بلاک جمعیت کے استحکام کے لیے سنگِ میل ثابت ہوا۔

ممبر سازی اور انتخاب

اس بیداری مہم کے بعد جمعیت کو لوگوں نے قریب سے جانا اور ممبر سازی میں زبر دست انقلاب آیا اور پہلی بار بلاک سطح پر اڑتالیس سو سے زائد ممبر سازی ہوئی جمعیۃ علماء بلاک بسنت رائے ضلع گڈا کی انتخابی نشست کا انعقاد بعد نماز مغرب مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ کے دفتر میں عمل میں آیا، اس انتخاب کی خصوصیت یہ رہی کہ اس میں دستوری انتخابی ضابطہ کی مکمل پاسداری کی گئی، اس میں نگراں کی حیثیت سے مولانا محمد یاسین صاحب جہازی انچارج شعبہ دعوت اسلام جمعیۃ علمائے ہند کی شرکت رہی، مولانا یاسین صاحب نے تلاوت کلام پاک کے بعد انتخاب کے اصول و ضوابط کو نہ صرف پڑھ کر سنایا بلکہ بہت سے مقامات پر استفسار کے بعد مکمل وضاحت کی، اس کے بعد ہی انتخابی کارروائی عمل میں آئی،  چنانچہ ضابطہ کے مطابق 59 افراد مجلس منتظمہ کے ممبران قرار پائے پھر  مجلس منتظمہ کے ان ممبران کے ذریعہ مجلس منتظمہ کے عہدیداران کا انتخاب عمل میں آیا، اس کے مطابق مفتی سفیان ظفر قاسمی استاد مدرسہ حسینیہ تجوید القرآن دگھی کو صدر اور مفتی نظام الدین قاسمی مہتمم مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہازقطعہ کو جنرل سکریٹری مقرر کیا گیا، جمعیۃ کے خازن مولانا سرفراز قاسمی نائب مہتمم مدرسہ رحمانیہ جہازقطعہ قرار پائے جبکہ نائب صدر کے طور پر مولانا محمد سرفراز قاسمی سانکھی سابق استاذ:دارالعلوم الاسلامیہ امارت شرعیہ پھلواری شریف پٹنہ اور قاری ارشاد صاحب کدمہ سابق استاد مدرسہ عربیہ اسلامیہ خرد سانکھی کو منتخب کیا گیا اور نائب ناظم کے طور پر مفتی زاہد امان قاسمی مہتمم جامعہ خدیجۃ الکبری بسنت رائے اور ڈاکٹر نسیم صاحب مانجر اور معاون کے طور پر محمد شاہد جھپنیاں کو منتخب کیا گیا. اس طرح اس انتخابی نشست میں بسنت رائے سے تعلق رکھنے والے 59 اہم افراد  مجلس منتظمہ کے ممبر منتخب کئے گئے اور 8 افراد مجلس عاملہ کے  اراکین منتخب ہوئے یہ اب تک کا باقاعدہ پہلا انتخاب تھا ? اس انتخاب کے کچھ ماہ بعد ہی مفتی نظام الدین صاحب قاسمی جنرل سکریٹری ملازمت کے سلسلہ میں دہلی چلے گیے، کچھ ناگفتہ حالات بھی تھے، اس لیے زمینی طور پر اس باقاعدہ ٹرم میں جمعیت کا کچھ خاص کام نہیں ہوا جب کہ مفتی نظام الدین صاحب قاسمی کے علاوہ سارے ہی افراد بسنت رائے میں ہی موجود تھے۔

ٹرم 2025 کا انتخاب

بتاریخ: 24? اگست 2025 ء بروز: پیر،بوقت: دس بجے دن، بمقام: جامعۃ الہدی جہاز قطعہ گڈا جھارکھنڈ  میں مقامی یونٹ کا انتخابی اجلاس ہوا، جس میں کل ممبران : 3515  کے لیے مجلس منتظمہ اور عہدے داران کا انتخاب عمل میں آیا۔ اس میں بطور صدر مفتی محمد نظام الدین صاحب قاسمی کا غائبانہ انتخاب ہوا،نائبین صدرمولانا شہنواز صاحب قاسمی،مولانا مجیب الحق صاحب قاسمی  اور قاری ارشاد کا انتخاب ہوا،جنرل سکریٹری مفتی زاہد امان قاسمی،نائبین مولانا شمیم صاحب، مولانا شمس تبریز قاسمی اور قاری محسن کا انتخاب ہوا، جبکہ بطور خزانچی قاری کلیم الدین صاحب راہی مدرس جامعۃ الہدی جہاز قطعہ اور ماسٹر نسیم صاحب لوچنی بطور معاون ناظم  منتخب ہوئے۔

مستقبل کا لائحہ عمل

     جمعیت علمائے بلاک بسنت رائے نیجمعیت علمائے ہند کے مقاصد کی روشنی میں آئندہ ٹرم کے لیے درج ذیل اہداف پر کام کرنے کا فیصلہ کیا ہے ?

(1) قائم شدہ مکاتب کو منظم کرنا اور مزید مکاتب کا قائم کرنا 

(2) اصلاح معاشرہ کے تحت طلاق، وراثت، سماجی برائیاں، آپسی تنازعات کا حل، نشہ، سود اور جوا سے تحفظ وغیرہ پر کام کرنا ?

(3) تعلمی و تربیتی پروگرام کا انعقاد 

(4) مدارس کے اساتذہ کا تربیتی ورکشاپ ?

(5) اسکول کے طلبا و طالبات کے لیے دینی بیداری پروگرام ?

(6) تجارتی و معاشی بیداری۔ 

(7) ایس آئی آر پر محنت اور درست رہنمائی، تمام ڈاکومنٹ کی درستگی وغیرہ وغیرہ۔

¡¡




¡v¡¡v¡