18 Sept 2026

ہندستان میں مسلمانوں کا وطنی استحقاق، شرعی حیثیت اور وفاداری کی تاریخی حقیقت

ہندستان میں مسلمانوں کا وطنی استحقاق، شرعی حیثیت اور وفاداری کی تاریخی حقیقت 

محمد یاسین جہازی

مقدمہ و پس منظر

 ہندستان کی تاریخ میں مسلمانوں کی وطنی حیثیت اور ان کی حب الوطنی کا مسئلہ آزادی سے قبل کبھی متنازع نہیں رہا۔ آزادی کے بعد کے سیاسی منظرنامے میں فرقہ پرست عناصر نے اپنے ماضی کے کردار پر پردہ ڈالنے اور سیکولر آئین کی بنیادوں کو کمزور کر کے ’ہندو راشٹر‘ کے تصور کو مسلط کرنے کے لیے مسلمانوں کے وطنی استحقاق پر سوال کھڑے کیے۔ تاریخی و مذہبی استدلال کے مطابق اسلام اور مسلمانوں کے لیے یہ سرزمین اتنی ہی قدیم ہے جتنا خود انسانی وجود؛ جیساکہ مولانا سید محمد میاں دیوبندیؒ (رسالہ ہمارا وطن اور اس کی فضیلت) اور شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ (رسالہ ہمارا ہندستان اور اس کے فضائل) نے واضح کیا ہے کہ ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کا اولین ورود ہندستان ہی کی دھرتی پر ہوا۔ علاوہ ازیں، ہندستان کے مسلمانوں کی اکثریت یہیں کے قدیم باشندے ہیں، جن کی قبریں اور یادگاریں اسی خاک کا جزو ہیں۔ چنانچہ ہندستان کو مسلمانوں کا اصلی اور فطری وطن تسلیم کرنا محض ایک سیاسی دعویٰ نہیں بلکہ ناقابلِ انکار تاریخی و جغرافیائی حقیقت ہے۔

ہندستان کی شرعی حیثیت کا فقہی نقطہ نظر: دار الاسلام سے دار الامان تک 

برطانوی استعمار کے تسلط کے بعد ہندستان کی شرعی حیثیت کا ازسرنو تعین علمائ کی سب سے اہم فکری ذمہ داری بنی۔ 1806ئ میں جب دہلی پر انگریز قابض ہوئے اور مغل تاجدار شاہ عالم ثانی کو محض برائے نام سربراہ بنا کر ’’خلق خدا کی، ملک بادشاہ کا اور حکم کمپنی بہادر کا‘‘ کا نعرہ لگایا گیا، تو حکیم الہند حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ نے 1808ئ/1809ئ میں برصغیر کی تاریخ کا پہلا انقلابی فتویٰ صادر فرمایا کہ ہندستان عملاً’’دار الحرب‘‘ بن چکا ہے۔ شاہ صاحب نے خاموشی، وفاداری، یا اجتماعی ہجرت کے بجائے آزادی کے لیے جدوجہدکو ترجیح دی۔

اس فکری تحریک نے آگے چل کر 1857ئ کی جنگِ آزادی کو جنم دیا۔ دہلی میں مفتی صدر الدین، مولانا عبد القادر اور دیگر ممتاز علما کے دستخطوں سے جہاد کو فرضِ عین قرار دینے کا فتویٰ اخبار الظفر اور بعد ازاں 26/جولائی 1857ئ کو صادق الاخبار میں شائع ہوا۔ اسی فتوے کی روشنی میں 14/ستمبر 1857ئ کو حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ، مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور حافظ محمد ضامنؒ کی قیادت میں جنگِ شاملی لڑی گئی۔ اگرچہ اس مسلح جدوجہد میں وقتی شکست ہوئی، مگر یکم نومبر 1858ئ کو ملکہ وکٹوریہ کے اعلانِ عام کے بعدمجاہدین آزادی نے حکمتِ عملی بدلی  اور میدان رزم کے بجائے میدان بزم آراستہ کرتے ہوئے 30/مئی 1866ئ کو دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی گئی، جس نے فکری تربیت اور آزادی کی تحریکوں کے لیے مسلسل افرادی قوت فراہم کی۔حجۃ الاسلام حضرت مولانامحمد قاسم نانوتویؒ نے اس میں بنیادی کردار ادا کیا۔

ہندستان کی شرعی حیثیت کا دوسرا بڑا موڑ اس وقت آیا جب آزادی کی تحریک میں غیر مسلموں سے اشتراکِ عمل کا مسئلہ زیر بحث آیا۔ حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ نے جمعیت علمائے ہند کے آٹھویں اجلاسِ عام( 2 تا 5/دسمبر 1927ئ) کے صدارتی خطبے میں واضح کیا کہ ہندستان کو فقہی اصطلاح میں ’’دار الامان‘‘ قرار دیا جانا چاہیے ، جہاں مسلمان اور غیر مسلم میثاقِ مدینہ کی طرز پر ایک باہمی معاہدے کے تحت برطانوی استبداد کے خلاف متحد ہو کر جمہوری حقوق کے لیے لڑ سکتے ہیں۔جب انگریزوں کے دور جبر میںہندستان دارالامان تھا، تو 1947ئ کے بعد ہندستان جمہوری اور آئینی بنیادوں پر بدرجہ¿ اولیٰ ’’دار الامان‘‘قرار پایا،کیوں کہ مسلمانوں کو مذہبی آزادی کسی کی بخشش کے طور پر نہیں؛ بلکہ ایک فطری اور دستوری حق کے طور پر حاصل ہے۔

سیاسی تصورات کا تصادم: سرسید، کانگریس اور جمعیت علمائے ہند

1857ئ کے سانحے کے بعد ہندستانی سیاست میں مختلف رجحانات ابھرے۔ 28 /دسمبر 1885ئ کو اے او ہیوم نے آل انڈیا کانگریس کی بنیاد رکھی۔ اس کے برعکس سرسید احمد خان نے 28/دسمبر 1887ئ کے اپنے خطاب میں مسلمانوں کو کانگریس سے دور رہنے کا مشورہ دیا اور 8/ اگست 1888ئ کو انگریزوں سے وفاداری پر مبنی ’’یونائیٹڈ انڈین پیٹریاٹک ایسوسی ایشن‘‘ کی بنیاد رکھی۔ سرسید نے انگریزی نظام میں مسلمانوں کے دنیوی مفادات دیکھے اور قومیت کو مذہب سے جوڑ کر دو الگ اقوام کا ابتدائی تصور پیش کیا۔

علمائے حق نے سرسید کے اس موقف کو یکسر مسترد کر دیا۔ علمائے لدھیانہ (مولانا محمد، مولانا عبد العزیز، مولانا عبد اللہ) نے ملک گیر سطح پر فتاویٰ جمع کر کے رسالہ نصرۃ الابرار شائع کیا۔ 11/ دسمبر 1888ئ کو حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ نے دوٹوک فتویٰ دیا کہ دنیوی و ملی حقوق کی حفاظت کے لیے ہندو¶ں کے ساتھ اشتراک (کانگریس میں شمولیت) جائز ہے ، جب کہ سرسید کی انگریز نواز ایسوسی ایشن مسلمانوں کے حق میں سمِّ قاتل ہے۔

انگریزوں نے اپنی ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کے تحت یکم اکتوبر 1906ئ کو شملہ وفد اور 30/دسمبر 1906ئ کو ڈھاکہ میں نواب وقار الملک کی صدارت میں آل انڈیا مسلم لیگ کی تشکیل کی راہ ہموار کی، تاکہ مسلمانوں کو قومی تحریک سے کاٹا جا سکے۔ 29-31/ دسمبر 1916ئ کے میثاقِ لکھن¶ میںمسلم لیگ کی کوششوں کی وجہ سے پہلی بار جداگانہ انتخابات کی بنیاد پر مسلم نشستیں طے کی گئیں، جو آگے چل کر یہ طرزِ سیاست مزید شقاق کا سبب بنی۔

اس کے برعکس پہلی جنگِ عظیم کے بعد رولٹ ایکٹ( 19/مارچ 1919ئ) اور جلیانوالہ باغ قتلِ عام( 13/اپریل 1919ئ) کے تناظر میں جب تحریکِ عدمِ تعاون شروع ہوئی، تو 23/نومبر 1919ئ کو دہلی میں خلافت کانفرنس کے دوران جمعیت علمائے ہند کا قیام عمل میں آیا۔ جمعیت نے 6/ستمبر 1920ئ کو کلکتہ کے خصوصی اجلاس میں ترکِ موالات کی تجویز منظور کی اور 8/ ستمبر 1920ئ کو 474 علماکی توثیق سے متفقہ فتویٰ جاری کیا، جس نے برطانوی حکومت سے بائیکاٹ اور ہم وطنوں سے اشتراک کو شرعی فریضہ قرار دیا۔ اسی دوران جب جذباتی فضا میں تحریکِ ہجرتِ افغانستان( 1920ئ) شروع ہوئی، تو جمعیت نے ہجرت کی کبھی باقاعدہ تائید نہیں کی؛ حضرت شیخ الہندؒ اور مولانا آزادؒ نے اس پر کڑی شرائط عائد کیں اور مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے صراحت کی کہ مسلمانوں کے لیے ہندستان چھوڑنے کا تصور ہی باطل ہے ، ان کا فرض یہیں رہ کر جدوجہد کرنا ہے۔

متحدہ قومیت بمقابلہ دو قومی نظریہ و ہندو راشٹر

1920ئ سے لے کر آزادی تک ہندستان میں قومیت کے تین بڑے نظریات مدمقابل رہے:

1۔ متحدہ قومیت (جمعیت علمائے ہند کا نظریہ): جمعیت علمائے ہند کے دوسرے اجلاس (19 تا 21/نومبر 1920ئ) میں مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، پانچویں اجلاس (دسمبر 1923ئ) کی تجویز نمبر 5، اور ساتویں اجلاس( 11 تا 14 مارچ 1926ئ) میں علامہ سید سلیمان ندویؒ نے واضح کیا کہ قومیت و وطن پرستی اگرچہ معبود نہیں ہوسکتیں، مگر اپنے وطن کا تحفظ مسلمانوں پر شرعاً فرض ہے۔ اس تصور کو قطعی شکل حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے 7/جنوری 1938ئ کے دہلی کے خطاب میں دی، جس پر علامہ اقبالؒ سے تاریخی علمی مکالمہ بھی ہوا۔ مولانا مدنی نے کتاب ’’متحدہ قومیت اور اسلام‘‘ میں واضح کیا کہ ’’ملت‘‘ دین اور شریعت پر مبنی ہوتی ہے، جب کہ ’’قوم‘‘ اوطان سے بنتی ہے۔ میثاقِ مدینہ کی بنیاد پر ہندستان کے تمام باشندے بحیثیت ہم وطن ایک قوم ہیں، جس میں مسلمانوں کا مذہبی اور تہذیبی تشخص (کلچرل اٹانمی) پوری طرح محفوظ رہے گا۔

2۔ ہندو راشٹر (ساورکر اور گول والکر کا نظریہ): وی ڈی ساورکر نے اپنی کتاب Essentials of Hindutva (1923ئ) میں قومیت کی شرط’’پتر بھومی‘‘ (آبائی وطن) کے ساتھ ’’پنیہ بھومی‘‘ (مقدس سرزمین) قرار دے کر مسلمانوں اور عیسائیوں کو قومی دائرے سے خارج کر دیا، اور 1937ئ میں احمد آباد کے اجلاس میں ہندو اور مسلمان کو دو الگ قومیں قرار دیا۔ بعد ازاں ایم ایس گول والکر نے We, or Our Nationhood Defined(1939ئ) میں جغرافیہ، نسل، مذہب، ثقافت اور زبان کی پانچ وحدتیں پیش کر کے غیر ہندو¶ں کو مکمل طور پر اقلیتی اور ماتحت حیثیت میں ضم ہونے کا نظریہ دیا۔

3۔ دو قومی نظریہ اور مطالبہ¿ پاکستان: علامہ اقبال کے خطبہ¿ الہ آباد( 29/دسمبر 1930ئ) اور چودھری رحمت علی کے پمفلٹ (Now or Never ، 28/جنوری 1933ئ) کے بعد 23/مارچ 1940ئ کو مسلم لیگ نے قراردادِ لاہور منظور کی۔ اس کے مقابلے میں جمعیت علمائے ہند نے 27 تا 30/اپریل 1940ئ کو دہلی میں ’’آل پارٹیز آزاد مسلم کانفرنس‘‘ منعقد کر کے اعلان کیا کہ ہندستان تمام مذاہب کا مشترک وطن ہے اور تقسیم کا مطالبہ ملک اور اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کے مفاد کے لیے تباہ کن ہے۔ 14/اپریل 1940ئ کو مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒ نے بھی اپنے مقالے میں اس منصوبے کے عملی نقائص واضح کیے۔ اگرچہ مولانا اشرف علی تھانویؒ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور مفتی محمد شفیعؒ نے اسلامی نظام کے امکان کی امید پر پاکستان کی حمایت کی، تاہم مسلم لیگ کے مغربی و جمہوری ماڈل کے بیانات( 11 /نومبر 1945ئ کا انٹرویو) نے ثابت کیا کہ یہ تصور محض ایک سیاسی سراب تھا۔

1945–46 کے انتخابات کی حقیقت اور ہجرت کا شرعی حکم

فرقہ پرست عناصر کی جانب سے اکثر یہ شوشہ چھوڑا جاتا ہے کہ46-1945ئ کے عمومی انتخابات میں مسلم لیگ نے پاکستان کے نام پر تمام مسلم نشستیں جیت لی تھیں اور یوں تقسیم ہند کے ذریعے مسلمانوں نے اپنا حصہ (پاکستان) حاصل کر لیا تھا؛ لہٰذا اب ہندستان میں مسلمانوں کا کوئی قانونی، یا اخلاقی حق اور حصہ باقی نہیں رہا۔

 فرقہ پرستوں کایہ اعتراض تاریخی و ریاضیاتی حقائق کے رو سے مندرجہ ذیل وجوہات کی بنیاد پر درست نہیں ہے:

۱۔ یہ انتخابات گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ئ کے تحت سخت شرائط (جائیداد کی ملکیت، ٹیکس اور تعلیمی معیار) پر منعقد ہوئے تھے ، نہ کہ بالغ رائے دہی پر۔

۲۔ برصغیر کے تقریباً 9/کروڑ مسلمانوں میں سے صرف 10/فی صد( 90 /لاکھ) کو ووٹ کا حق حاصل تھا، اور عملاً صرف 60 /لاکھ( 6 سے 7/فی صد) نے ووٹ ڈالا۔ تقریباً 93 سے 94 /فی صد عام مسلمان، کسان اور مزدور رائے شماری سے محروم رہے۔ چند فی صد مراعات یافتہ طبقے کی رائے کو پوری مسلم قوم کا حتمی فیصلہ قرار دینا صریح بددیانتی ہے۔

14/اگست 1947ئ کو تقسیم کے بعد جمعیت علمائے ہند نے ہندستان سے پاکستان کی طرف ترکِ وطن کو اسلامی ہجرت ماننے سے انکار کر دیا۔ مولانا محمد میاں دیوبندیؒ کے مطابق یہ ترکِ وطن خوف یا روزگار کے لیے تھا، جسے شرعی ہجرت نہیں کہا جا سکتا۔ 24/اکتوبر 1947ئ کو امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ نے جامع مسجد دہلی کی سیڑھیوں سے ہجرت کرنے والوں کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فرار کی زندگی تمھارا شیوہ نہیں۔

آزادی کے بعد وفاداری اور مساوی شہریت کے لیے جدوجہد

 آزادی کے فوراً بعد جب مسلمانوں کی وفاداری کو مشکوک بنا کر پیش کیا جانے لگا، توجمعیت  علمائے ہند نے اصولی موقف اختیار کیا:

۱۔ 27–28/دسمبر 1947ئ (آزاد کانفرنس)میں مولانا محمد حفظ الرحمان سیوہارویؒ نے اعلان کیا کہ مسلمان اس ملک کے وفادار ہیں اور اگر پاکستان بھی حملہ کرے گا، تو قوم پرور مسلمان دفاع میں جان دیںگے ، مگر وفاداری کے نام پر ذلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

۲۔ 1947ئ (جامع مسجد دیوبند) میں مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے واضح کیا کہ ایک جمہوری ملک میں عوام حکومت کے وفادار نہیں ہوتے؛ بلکہ حکومت کو عوام کا خادم ہونا پڑتا ہے ؛ مسلمانوں نے خون دے کر آزادی لی ہے ، لہٰذا وفاداری کا غلامانہ اظہار لایعنی ہے۔

۳۔ 26 تا 28/اپریل 1948ئ کے پندرھویں اجلاس میں مولانا احمد سعید دہلویؒ نے فرمایا کہ وفاداری کا ثبوت غیر ملکیوں کے سامنے دیا جاتا ہے ، اپنے وطن میں اپنے ہی لوگوں سے وفاداری کا مطالبہ بے جا ہے۔ اسی اجلاس میں مولانا حفظ الرحمانؒ نے واضح کیا کہ پوری قوم غدار نہیں ہو سکتی؛ جیسے ہٹلر کے بعد جرمن عوام کو معاف کیا گیا، ویسے ہی ہندستانی مسلمانوں پر الزامات تراشنا بند ہونا چاہیے۔

۴۔ 27تا 29/اپریل1951ئ کومنعقدسترھویں اجلاس کے خطبہ¿ استقبالیہ میں جناب نواب مقصود احمد نے صراحت کی کہ وفاداری آئین اور ملک سے ہوتی ہے ، کسی عارضی حکومت سے نہیں۔ حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے سوال کیا کہ کیا گاندھی جی کے سینے پر گولی چلانے والے ملک کے وفادار ہوسکتے ہیں؟

۵۔ 9 تا 11/دسمبر 1960ئ کے بیسویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمدحفظ الرحمان نے تاریخی جملہ کہاکہ:’’اگر پنڈت نہرو سے وفاداری کا ثبوت نہیں مانگا جا سکتا، تو حفظ الرحمان سے بھی نہیں مانگا جا سکتا۔‘‘

۶۔ 15 تا 17/اپریل 1966ئ کے بائیسواں اجلاس کے صدارتی خطاب میں مولانا سید فخر الدین احمدؒ نے بریگیڈیئر عثمان اور عبد الحمید کی شہادتوں کا حوالہ دے کر کہا کہ اقلیت سے وفاداری مانگنا دراصل اسے محکوم بنانا اور ہٹلر ازم کو فروغ دینا ہے۔

جوں جوں دہائیاں گزریں، فرقہ پرستوں نے وفاداری کے ساتھ حقِ شہریت پر حملے شروع کیے۔ 29/اکتوبر 1995ئ کے پچیسویں اجلاس میں جمعیت نے مسلمانوں سے شہریت کے ثبوت مانگنے کے خلاف قرارداد منظور کر کے راشن کارڈ، پٹہ اور پاسپورٹ کو حتمی دستاویز ماننے کا مطالبہ کیا۔ 17/اکتوبر 2000ئ کو مولانا سید اسعد مدنیؒ نے آر ایس ایس کے سہ روزہ کیمپ (آگرہ) کے بیانات کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلمان روزِ اول سے قومی دھارے میں ہیں، جب کہ آر ایس ایس خود آئین اور سیکولر ڈھانچے سے باہر رہی ہے۔ 9/مارچ 2003ئ کو انھوں نے گول والکر کے الزامات کا مدلل رد کیا۔

15/ستمبر 2006ئ کو مولانا محمود مدنی نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ ’’وندے ماترم‘‘ چوںکہ توحید کے اسلامی عقیدے سے ٹکراتا ہے ، لہٰذا اسے حب الوطنی کی کسوٹی نہیں بنایا جا سکتا۔ 2008ئ اور 2009ئ کے اجتماعات میں مولانا محمود مدنی نے یہ دوٹوک پیغام دیا: ’’مسلمانو! یاد رکھو !تم اس ملک کے حصہ دار ہو، کرایہ دار نہیں ہو!۔‘‘

اس فکر کا تسلسل دورِ حاضر تک جاری رہا۔ 12/فروری 2023ئ کو چونتیسویں اجلاسِ عام میں مولانا محمود اسعد مدنی نے تاریخی جملہ ارشاد فرمایا کہ ’’بھارت جتنا مودی اور بھاگوت کا ہے ، اتنا ہی محمود کا ہے۔ نہ محمود ان سے ایک انچ آگے ہے اور نہ ایک انچ پیچھے ۔‘‘ اور واضح کیا کہ آدم علیہ السلام کے ورود کی وجہ سے یہ دھرتی مسلمانوں کا پہلا وطن ہے۔ 

بعد ازاں 29/نومبر 2025ئ کو بھوپال میں مجلس منتظمہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد سلمان بجنوری صاحب نائب صدر جمعیت علمائے ہند نے واضح کیا کہ ملک سے وفاداری اور دستوری معاہدے کی پاسداری اسلامی حکم ہے ، لہٰذا حکومت اور اکثریتی طبقے کو بھی اسی اخلاص و دیانت داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو بلاجواز مشکوک بنانے اور یک طرفہ نشانہ بنانے کی روش ترک کرنی چاہیے۔

قصہ مختصر یہ کہ اس تاریخی و دستاویزی جائزے سے یہ حقیقت پایہ¿ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ ہندستان مسلمانوں کا اپنا موروثی اور اصلی وطن ہے۔ اس سرزمین سے ان کا رشتہ مذہبی، تاریخی، دستوری اور خون کے نذرانوں سے جڑا ہوا ہے۔ علمائے دیوبند اور جمعیت علمائے ہند نے دارالحرب کے اعلان سے لے کر دارالامان اور متحدہ قومیت کے معاہدے تک ہر موڑ پر ملک کی آزادی اور سالمیت کے لیے اصولی کردار ادا کیا اور تقسیم کے نظریے کی آخری دم تک مخالفت کی۔ ہندستان کا مسلمان ایک آزاد، جمہوری اور سیکولر آئین کے تحت برادرانِ وطن کے شانہ بشانہ اس ملک کا برابر کا مالک و حصہ دار ہے ، جسے اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے کسی فرقہ پرست گروہ سے تصدیق نامہ (سرٹیفکیٹ) لینے کی چنداں ضرورت نہیں۔

15 Sept 2026

ہندستان: مسلمانوں کا وطن اور اس کی شرعی و سیاسی تاریخ

 

ہندستان: مسلمانوں کا وطن اور اس کی شرعی و سیاسی تاریخ

محمد یاسین جہازی

ہندستان مسلمانوں کا اصلی وطن ہے یا نہیں، یہ سوال اپنی بنیاد میں ایک تاریخی سوال نہیں بلکہ ایک سیاسی فتنہ ہے۔ آزادی کے بعد فرقہ پرست عناصر نے اس سوال کو اس لیے زندہ کیا تاکہ اپنی ماضی کی غلطیوں پر پردہ ڈالا جا سکے اور ہندستانی جمہوریت کی بنیاد کو کمزور کرکے ہندو راشٹر کے تصور کو فروغ دیا جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے ماننے والوں کے لیے یہ سرزمین اتنی ہی قدیم ہے جتنی خود انسانیت کی تاریخ۔ مورخ ملت حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب دیوبندی نے اپنے رسالے "ہمارا وطن اور اس کی فضیلت" میں اور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی نے اپنے رسالے "ہمارا ہندستان اور اس کے فضائل" میں تاریخی حوالوں سے یہ ثابت کیا ہے کہ دنیا کے پہلے انسان حضرت آدم علیہ السلام کا ورود اسی سرزمین پر ہوا۔ اس لیے اس بحث کو ان دونوں کتابوں کے حوالے کرکے ہم اس تحریر میں اصل موضوع یعنی ہندستان کی شرعی حیثیت کی تاریخ کی طرف بڑھتے ہیں۔

آزادی سے پہلے اس سوال کا کوئی تصور ہی موجود نہ تھا۔ اکابر کی تحریروں میں ہندستان کی شرعی حیثیت پر تو سیر حاصل بحث ملتی ہے لیکن مول نواسی کے حوالے سے کوئی اشارہ تک نہیں ملتا، حتیٰ کہ جمعیت علمائے ہند کی آزادی سے پہلے کی تاریخ میں بھی اس کا کوئی ذکر نہیں۔ اسی لیے اس مقالے کی بنیاد ہندستان کی شرعی حیثیت کے تاریخی ارتقاء پر رکھی گئی ہے۔

ہندستان کی تاریخ میں اس کی شرعی حیثیت پر سب سے پہلی باقاعدہ بحث حکیم الہند حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی قدس سرہ کے یہاں ملتی ہے۔ مشہور مؤرخ مولانا ڈاکٹر ابوسلمان شاہ جہاں پوری نے لکھا ہے کہ شاہ صاحب وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے ہندستان کے دارالحرب ہونے کا اعلان کیا اور اس ایک اعلان نے ملک کے قابض اقتدار کے خلاف جدوجہد کا فیصلہ کر دیا۔ دراصل ملک کا دارالاسلام سے دارالحرب بن جانا مسلم ہندستان کی سیاسی تاریخ کا نہایت اہم موڑ تھا، لیکن یہ عمل اتنی آہستگی سے وقوع پذیر ہوا کہ شاہ صاحب جیسی صاحب نظر ہستی کے علاوہ وقت کا کوئی مدبر اس کی آہٹ بھی نہ سن سکا۔ بلکہ بعض اہل علم نے اس تبدیلی کو تسلیم کرنے سے ہی انکار کر دیا، چنانچہ 1857 کی جنگ آزادی کی ناکامی کے بعد بھی مولانا احمد رضا خان صاحب نے "الاعلام بان الہند دارالاسلام" لکھ کر آزادی کے جہاد کو حرام قرار دے دیا۔

سن 1806 میں دہلی پر قبضے کے بعد انگریزوں نے شاہ عالم کو برائے نام تخت پر بٹھا کر یہ اعلان کیا کہ ملک بادشاہ کا اور حکم انگریز بہادر کا ہے۔ اس ظاہری تقسیم کی وجہ سے بعض علماء کو یہ گمان ہوا کہ ہندستان اب بھی دارالاسلام ہے۔ لیکن شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی نے انیسویں صدی کی پہلی دہائی میں، جبکہ تخت پر شاہ عالم ثانی متمکن تھے، فتویٰ دیا کہ ہندستان کی سیاسی حیثیت بدل چکی ہے۔ ان کے سامنے اس وقت چار راستے تھے۔ اول یہ کہ قوم کے سیاسی مفادات سے چشم پوشی کرکے خاموش رہا جائے، دوم یہ کہ تن آسان علماء کی طرح ہندستان کو بدستور دارالاسلام کہا جائے، سوم یہ کہ اسے دارالحرب کہہ کر ہجرت کر لی جائے، اور چہارم یہ کہ اسے دوبارہ دارالاسلام بنانے کی جدوجہد کی جائے۔ ابن الوقت رہنماؤں نے پہلا راستہ اختیار کیا، مفاد پرستوں جن میں قادیانی، بریلوی اور سید احمد خان کے نام نمایاں ہیں، نے دوسرا راستہ لیا، تیسرا راستہ کروڑوں مسلمانوں کے لیے عملاً ناممکن تھا، اور چوتھا راستہ جو ہمیشہ اصحاب عزم کا خاصہ رہا ہے، دشوار ترین تھا۔ شاہ صاحب نے اسی چوتھے راستے کو اختیار کیا اور 1808 یا 1809 میں سب سے پہلا فتویٰ جہاد دیا جس کا متن فتاویٰ عزیزی جلد اول صفحہ سولہ اور سترہ پر موجود ہے اور جس میں انہوں نے در مختار اور کافی کے حوالے سے ثابت کیا کہ یہاں امام المسلمین کا حکم جاری نہیں بلکہ نصاریٰ کا حکم بے دغدغہ جاری ہے۔

دوسرا فتویٰ جہاد شاملی کے عنوان سے مشہور ہے۔ اس کا پس منظر یہ ہے کہ تھانہ بھون کے قاضی عنایت علی اور ان کے بھائی قاضی عبدالرحیم علاقے میں ہر دلعزیز تھے لیکن ایک کائستھ سرشتہ دار نے ذاتی عداوت کی بنا پر حاکم ضلع سہارنپور رابرٹ اسپنکی سے جھوٹی شکایت کی کہ عنایت علی انگریزی حکومت سے باغی ہو گئے ہیں اور عبدالرحیم دہلی کے باغیوں کے لیے اسلحہ خریدنے آئے ہیں۔ اسپنکی نے تحقیق کے بغیر قاضی عبدالرحیم کو ان کے رفقاء سمیت پھانسی دے دی۔ اس خبر سے علاقے میں آگ لگ گئی۔ دیوبند، گنگوہ اور نانوتہ سے علماء تھانہ بھون پہنچے اور ایک مجلس شوریٰ منعقد ہوئی جس میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکی، حافظ محمد ضامن، مولانا مظہر نانوتوی، مولانا محمد قاسم نانوتوی، مولانا رشید احمد گنگوہی اور دیگر شریک تھے۔ حاجی امداد اللہ کو امیر جہاد مقرر کیا گیا۔ اس موقع پر استفتاء کیا گیا کہ جب انگریز دلی پر چڑھ آئے اور اہل اسلام کی جان و مال کا ارادہ رکھتے ہوں تو جہاد فرض ہے یا نہیں۔ اس کے جواب میں مفتی صدر الدین، مولانا نذیر حسین اور دیگر سمیت پینتیس علماء نے دستخط کرکے فتویٰ دیا کہ اس شہر والوں پر جہاد فرض عین ہے اور اطراف والوں پر فرض کفایہ۔ یہ فتویٰ پہلے اخبار الظفر دہلی میں شائع ہوا اور پھر 26 جولائی 1857 کی اشاعت میں صادق الاخبار نے اسے نقل کیا۔ اسی فتوے کی بنیاد پر 14 ستمبر 1857 کو شاملی اور تھانہ بھون کی معرکہ آراء لڑائی لڑی گئی۔ اس جنگ کی ناکامی کے بعد علماء پر بے پناہ مظالم ہوئے اور انہیں مجبوراً گوشہ نشینی اختیار کرنی پڑی۔

ایسے ہی مایوسی کے دور میں یکم نومبر 1858 کو ملکہ وکٹوریہ کے اعلان عام معافی کے بعد سرسید احمد خان مسلمانوں کے تعلیمی لیڈر بن کر ابھرے۔ ان کا نقطہ نظر دارالعلوم دیوبند کے بالکل برعکس تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ مسلمان انگریزوں کی مخالفت کرکے باعزت زندگی نہیں گزار سکتے۔ 28 دسمبر 1887 کو ایک بڑے مجمع میں انہوں نے تقریر کی جو 11 اور 12 جنوری 1888 کو اخبار پائینیر میں شائع ہوئی۔ اس میں انہوں نے کہا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں، اگر انگریز چلے گئے تو تخت پر دونوں نہیں بیٹھ سکتے، انتخابی حکومت میں ہندو ہندو کو اور مسلمان مسلمان کو ووٹ دیں گے تو تین چوتھائی اکثریت ہندوؤں کی ہوگی اور مسلمان دائمی غلام بن جائیں گے۔ اس لیے مسلمانوں کو کانگریس میں شریک نہیں ہونا چاہیے اور انگریزی حکومت پر بھروسہ کرنا چاہیے۔

اس تقریر کے پیچھے دراصل کانگریس کی بنیاد کا پس منظر تھا۔ یکم نومبر 1858 کے اعلان کے بعد جب انگریز حکام کے مظالم جاری رہے اور گورنروں اور وائسرائے تک شکایات بے اثر رہیں تو وائسرائے لارڈ ڈفرن نے کہا کہ انفرادی شکایات کے بجائے اجتماعی جماعت بناؤ۔ چنانچہ 28 دسمبر 1885 کو مسٹر اے او ہیوم کے ہاتھوں بمبئی میں کانگریس کی بنیاد رکھی گئی جس کے پہلے اجلاس میں اٹھہتر ممبر شریک ہوئے جن میں دو مسلمان بھی تھے۔ کانگریس کی بڑھتی مقبولیت سے انگریزوں میں بے چینی پیدا ہوئی تو پرنسپل بیک اور دیگر انگریزوں نے انجمن محبان وطن یعنی انڈین پیٹریاٹک ایسوسی ایشن بنائی اور سرسید پر دباؤ ڈالا کہ وہ کانگریس کے انتہائی مخالف ہو جائیں۔ یہاں تک کہ چند علماء سے فتویٰ دلوایا گیا کہ کانگریس میں شرکت حرام اور پیٹریاٹک ایسوسی ایشن میں شرکت فرض ہے۔ سرسید نے 21 اگست 1888 کو نینی تال سے ایک عریضہ لکھا جس میں کہا کہ اگر کانگریس کے مقاصد پورے ہو گئے تو مسلمانوں کا حال یہودیوں سے بھی بدتر ہو جائے گا جن کے بارے میں خدا نے فرمایا "وضربت علیہم الذلۃ والمسکنۃ"۔

اس پر علمائے حق نے شدید ردعمل ظاہر کیا۔ 1888 تک سرسید کی تحریک زوروں پر رہی تو مولانا رشید احمد گنگوہی، مولانا محمود حسن دیوبند اور دیگر مدارس کے علماء نے اس کی مخالفت کی۔ اس سلسلے میں علمائے لدھیانہ مولانا محمد صاحب اور ان کے بھائیوں نے اطراف ہند سے فتاویٰ جمع کرکے رسالہ "نصرۃ الابرار" مرتب کیا۔ اس میں حضرت گنگوہی کا فتویٰ درج ہے جس میں پوچھا گیا تھا کہ نیشنل کانگریس جو ہندو مسلم سب کے دنیاوی مفاد کے لیے قائم ہوئی ہے اور کسی مذہب کو مضر بحث سے گریز کرتی ہے اس میں شرکت جائز ہے یا نہیں، اور سید احمد خان کی ایسوسی ایشن جس میں پانچ روپے ماہانہ چندہ مانگا جا رہا ہے اور جبراً لوگوں کو شامل کیا جا رہا ہے اس میں شرکت جائز ہے یا نہیں۔ حضرت گنگوہی نے جواب دیا کہ ہنود سے بلا ضرر دینی شرکت جائز ہے لیکن سید احمد سے تعلق نہیں رکھنا چاہیے اگرچہ وہ خیر خواہی کا نام لیتا ہو کیونکہ اس کی شرکت اسلام کے لیے سم قاتل ہے۔ شیخ الہند مولانا محمود حسن نے 11 دسمبر 1888 کو اس فتوے کی تائید فرمائی۔

انگریزوں کی اسی زہریلی پالیسی کے تحت 1906 میں مسلم لیگ کی بنیاد ڈالی گئی۔ سید طفیل احمد منگلوری اپنی کتاب روشن مستقبل میں لکھتے ہیں کہ تقسیم بنگال کی تیاریوں کے ساتھ ہی کونسلوں میں حقوق دینے کا ڈھونگ رچایا جا رہا تھا۔ وائسرائے کے پرائیویٹ سکریٹری کرنل ڈنلپ اسمتھ نے ایک مضمون بناکر پرنسپل آرچ بولڈ کو دیا، آرچ بولڈ نے 6 جولائی 1906 کو نواب محسن الملک کو بھیجا اور نواب نے فوراً وائسرائے سے ملنے کے لیے وفد مرتب کیا۔ یکم اکتوبر 1906 کو آغا خان کی قیادت میں یہ وفد شملہ میں وائسرائے منٹو سے ملا اور 9 نومبر 1906 کو نواب سلیم اللہ خان نے "مسلم آل انڈیا کنفیڈریشن" کی تجویز دی۔ بالآخر 30 دسمبر 1906 کو نواب وقار الملک کی صدارت میں آل انڈیا مسلم لیگ قائم ہوئی جس کے مقاصد میں برطانوی حکومت سے وفاداری اور غلط فہمیاں دور کرنا شامل تھا۔ اس کے قیام کی اطلاع تار کے ذریعے حکومت کو دی گئی۔ جب یہ خبر انگلستان پہنچی تو ٹائمز نے خوشی منائی کہ اب ہندستان میں صلح نہ رہے گی۔

مسلم لیگ کا پہلا مسلم مخالف کارنامہ 1916 میں سامنے آیا جب کانگریس اور مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس لکھنؤ میں ہوئے۔ 29 دسمبر کو کانگریس نے اور 31 دسمبر کو جناح کی صدارت میں مسلم لیگ نے میثاق لکھنؤ منظور کیا جس میں پہلی بار فرقہ وارانہ بنیاد پر جداگانہ انتخاب اور مخصوص نمائندگی تسلیم کی گئی، پنجاب میں پچاس فیصد اور بنگال میں چالیس فیصد حالانکہ وہاں مسلمان اکثریت میں تھے۔ سید طفیل احمد لکھتے ہیں کہ یہ آئین امن عامہ کے لیے مہلک ثابت ہوا۔ اسی تسلسل میں 1930 میں ڈسٹرکٹ جج میرٹھ مسٹر پوڈن نے تقسیم کا تصور پیش کیا، 1931 میں اس کا خط منظر عام پر آیا اور چودھری رحمت علی نے اس کی تشہیر کی، بالآخر 22 اور 23 مارچ 1940 کو قرارداد لاہور منظور ہوئی۔

اس کے متوازی 1914 سے 1920 تک کے واقعات نے ترک موالات کی بنیاد رکھی۔ 28 جولائی 1914 کو پہلی جنگ عظیم شروع ہوئی، 2 نومبر 1914، 20 اپریل 1915 اور 5 جنوری 1916 کو برطانیہ نے خلافت کے تحفظ کی یقین دہانی کرائی لیکن 30 اکتوبر 1918 کی عارضی صلح اور 10 اگست 1920 کے معاہدہ سیورے نے خلافت کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ ادھر ہندستانیوں سے سوراج کا وعدہ کرکے 18 اگست 1917 کے خود اختیاری کے وعدے کے برخلاف 18 جنوری 1919 کو رولٹ بل پیش کیا گیا اور 19 مارچ 1919 کو رولٹ ایکٹ منظور ہوا۔ اس کے خلاف گاندھی جی نے 30 مارچ اور 6 اپریل 1919 کو ملک گیر ہڑتال کی اور 13 اپریل 1919 کو جلیانوالہ باغ میں نہتے مجمع پر فائرنگ ہوئی۔ خلافت کی بندر بانٹ کی خبروں پر 18 ستمبر 1919 کو لکھنؤ اجلاس میں ترک موالات کی تجویز آئی اور 17 اکتوبر 1919 کو ملک گیر احتجاج ہوا۔ 3 نومبر 1919 کو دہلی میں گاندھی جی نے تحریک خلافت کی حمایت کی اور 23 اور 24 نومبر 1919 کی دہلی خلافت کانفرنس میں جشن فتح کے بائیکاٹ اور عدم تعاون کا فتویٰ دیا گیا۔ اسی موقع پر 23 نومبر 1919 بروز اتوار بعد نماز عشاء جمعیت علمائے ہند قائم ہوئی جس نے 6 ستمبر 1920 کو کلکتہ میں ترک موالات کی تجویز منظور کی اور 8 ستمبر 1920 کو ابوالمحاسن مولانا محمد سجاد کے مرتب کردہ فتوے پر چار سو چوہتر علماء نے دستخط کیے۔

جمعیت کا دوسرا سالانہ اجلاس 19، 20، 21 نومبر 1920 کو ہوا۔ اس کی دو سالہ روداد میں پہلے ناظم مولانا عبدالحلیم صدیقی نے لکھا کہ علماء کا فرض صرف فقہی حکم بیان کرنا نہیں بلکہ اس کو نافذ کرنے والی طاقت پیدا کرنا بھی ہے اور اس کے لیے کامل آزادی شرط ہے۔ آزادی ہی تمام نیکیوں کا سرچشمہ ہے اور غلام قوم کے لیے کوئی نیکی نیکی نہیں۔ اسی اجلاس میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے اپنے خطاب میں کہا کہ وطن پرستی اور قوم پرستی بے شک اسلامی اصطلاح نہیں اور شاید یورپ سے لی گئی ہیں لیکن اس کے یہ معنی نہیں کہ اپنی قوم اور وطن کا تحفظ ہمارے فرائض سے خارج ہے۔ جو ملک ایک بار مسلمانوں کے جھنڈے تلے آ جائے اس کا ایک چپہ بھی کفار لینا چاہیں تو شرق سے غرب تک کل اہل اسلام پر دفاع فرض ہو جاتا ہے۔

اس کے بعد تیسرے اجلاس 18، 19، 20 نومبر 1921 میں اعلان کیا گیا کہ ہندستان کو غلامی سے آزاد کرانا مسلمانوں کے مذہبی فرائض میں داخل ہے۔ چوتھے اجلاس 24 تا 26 دسمبر 1922 میں مولانا حبیب الرحمان عثمانی نے فرمایا کہ جمعیت کا نصب العین دو حصوں میں ہے، اندرون ملک مذہبی رہنمائی اور بیرون ملک مذہبی تعلقات کا تحفظ، اور دونوں آزادی کے بغیر ممکن نہیں۔ پانچویں اجلاس 29 دسمبر 1923 تا یکم جنوری 1924 میں حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نے مسلمانوں کے بارہ فرائض گنوائے جن میں سے تیسرا ہندستان کو آزاد کرانا تھا۔ انہوں نے قرآن کی آیات "وقاتلوا فی سبیل اللہ" اور "واعدوا لہم ما استطعتم من قوۃ" سے استدلال کیا کہ اس حکومت سے مقابلہ فرض ہے اور ہندستان کی آزادی انگلستان کی موت کے مترادف ہے۔

اسی دوران جہاد آزادی میں غیر مسلموں کے تعاون کا مسئلہ سامنے آیا۔ فخر المحدثین مولانا انور شاہ کشمیری نے اس کا حل یہ پیش کیا کہ ہندستان نہ دارالاسلام ہے کہ غیر مسلموں سے تعاون لینا ناجائز ہو اور نہ دارالکفر ہے کہ مسلمانوں کا تعاون دینا ناجائز ہو، بلکہ یہ دارالامان ہے۔ چنانچہ انہوں نے 2 تا 5 دسمبر 1927 کو منعقد آٹھویں اجلاس عام کے صدارتی خطاب میں فرمایا کہ شاہ عبدالعزیز نے جب اسلامیت کا رنگ گہرا تھا تب اسے دارالاسلام نہیں کہا تو آج بدرجہ اولیٰ نہیں ہے، اس لیے دارالامان کے احکام تلاش کرکے رہنمائی کرنی چاہیے اور حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے میثاق مدینہ کی طرف توجہ دلائی۔ اسی نظریے کی بنیاد پر 4، 5، 6 مئی 1930 کو نویں اجلاس میں کانگریس کے ساتھ جمہوریت کے نفاذ کی شرط پر اشتراک عمل کیا گیا۔

متحدہ قومیت اور دو قومی نظریہ کا فرق اسی پس منظر میں واضح ہوتا ہے۔ ہندستان میں صدیوں تک متحدہ قومیت کا تصور رائج رہا لیکن 1867 میں اردو ہندی تنازع پر سرسید احمد خان نے کہا کہ ہندو مسلم ایک قوم نہیں بن سکتے۔ بعد میں علامہ اقبال نے 29 دسمبر 1930 کو الہ آباد میں پنجاب، سرحد، سندھ اور بلوچستان پر مشتمل خود مختار ریاست کی تجویز دی اور چودھری رحمت علی نے 28 جنوری 1933 کو کیمبرج سے "Now or Never" پمفلٹ میں اسے پاکستان کا نام دیا۔ اس کے برعکس جمعیت کا متحدہ قومیت کا تصور 19 تا 21 نومبر 1920 کے صدارتی خطاب اور 29 دسمبر 1923 کی تجویز نمبر پانچ میں موجود ہے۔ یہ خیال کہ متحدہ قومیت کا پہلا تصور حضرت مدنی کا ہے درست نہیں، البتہ اس پر بحث کا دروازہ حضرت مدنی کے خطاب کے بعد ہی کھلا۔

واقعہ یہ ہوا کہ 7 جنوری 1938 کی شب باڑہ ہندو راؤ دہلی میں حضرت مدنی کی تقریر ہوئی جس میں انہوں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں قومیں اوطان سے بنتی ہیں۔ بعض اخبارات جیسے ہفت روزہ انصاری 8 جنوری 1938 اور روزنامہ تیج اور پھر احسان 31 جنوری 1938 نے اسے سیاق سے کاٹ کر "اقوام وطن سے بنتی ہیں، مذہب سے نہیں" بنا کر پیش کیا۔ اس پر علامہ اقبال نے 3 فروری 1938 کو قطعہ کہا۔ حضرت مدنی نے 9 فروری 1938 کو مولوی عبدالرشید نسیم طالوت کو خط میں وضاحت کی کہ انہوں نے قومیت کا لفظ استعمال کیا تھا ملت کا نہیں، ملت کے معنی شریعت کے ہیں اور قوم کے معنی افراد کی جماعت کے۔ 10 فروری کو اقبال نے جواب دیا کہ اگر یہ بیان واقعہ ہے تو اعتراض نہیں لیکن اگر مشورہ ہے تو اسلام کے منافی ہے۔ حضرت مدنی نے 26 فروری کو دوسرا خط لکھ کر کہا کہ یہ خبر تھی انشاء نہیں۔ 28 مارچ 1938 کو احسان میں اقبال کا تردیدی بیان شائع ہوا کہ اب اعتراض باقی نہیں۔ بعد میں حضرت مدنی نے کتاب "متحدہ قومیت اور اسلام" میں اس کی تفصیل لکھی کہ میثاق مدینہ کی طرز پر ہندستان کے تمام باشندے ہم وطن ہونے کی حیثیت سے ایک قوم بن کر انگریز کے خلاف متحد ہوں جبکہ ہر مذہب اپنے عقائد میں آزاد رہے۔ اسی سال اگست 1938 میں جون پور کانفرنس اور 7، 8، 9 جون 1940 کے بارھویں اجلاس میں انہوں نے پھر کہا کہ ہم باشندگان ہند بحیثیت ہندستانی ایک اشتراک رکھتے ہیں جو مذہبی اختلاف کے باوجود باقی رہتا ہے جیسے آگ لگنے پر سارے گاؤں والے مل کر بجھاتے ہیں۔

قومیت و وطنیت پر دیگر اکابر نے بھی روشنی ڈالی۔ 11 تا 16 جنوری 1925 کے چھٹے اجلاس میں مولانا محمد سجاد نے وطنی فدویت کو مہلک مرض کہا اور فرمایا اسلامی قومیت کی بنیاد کلمہ لا الہ الا اللہ پر ہے، جغرافیہ پر نہیں۔ 11 تا 14 مارچ 1926 کے ساتویں اجلاس میں مولانا سید سلیمان ندوی نے فرمایا کہ یورپی طرز کی قوم پرستی نسل، وطن اور زبان کی بنیاد پر جاہلیت کی عصبیت ہے جسے اسلام نے ختم کیا، لیکن وطن سے محبت اور اس کی آزادی کے لیے جدوجہد ہر مسلمان کا فرض ہے جیسے صحابہ نے حبشہ میں نجاشی کے دفاع میں شرکت کی۔ انہوں نے کہا کہ پین اسلامزم اور نیشنلزم ایک ساتھ ممکن ہیں جیسے اہل یورپ اپنی قومیت کے ساتھ پورے یورپ سے بھی محبت رکھتے ہیں۔ اپریل 1930 میں میرٹھ کے بیس ہزار کے اجتماع میں مولانا احمد سعید نے کہا کہ تمہارا مذہب انگریز اور ہندو دونوں سے الگ ہے لیکن قومیت اور وطن میں تم ہندو کے شریک ہو، انگریز تمہارا ہم وطن نہیں۔ 3 تا 6 مارچ 1939 کے گیارھویں اجلاس میں مولانا سید عبدالحق مدنی نے کہا کہ ہم اس کے حامی ہیں کہ ہندستان کے تمام باشندے بیرونی اقوام کے مقابلے میں ہندستانی کہلائیں اور یہی متحدہ قومیت ہے لیکن ہم برداشت نہیں کر سکتے کہ یہ ہمارے مذہبی عقائد پر اثر ڈالے۔

اس کے مقابلے میں ہندو نظریہ میں قومیت کا کوئی مذہبی تصور نہیں ملتا، البتہ ساورکر کے یہاں راشٹر کی تعریف موجود ہے۔ اپنی کتاب Essentials of Hindutva 1923 میں ساورکر نے لکھا کہ ہندو وہ ہے جو سندھ سے سمندر تک کی بھومی کو پتر بھومی اور پنیہ بھومی دونوں مانتا ہو۔ اس معیار پر مسلمانوں کے لیے ہندستان پتر بھومی تو ہے لیکن پنیہ بھومی نہیں کیونکہ ان کی مقدس سرزمین مکہ ہے۔ Hindu Rashtra Darshan میں انہوں نے کہا کہ ہندودم مشترک تہذیب، زبان، تاریخ اور آبائی وطن سے بندھا ہے۔ 1937 میں احمد آباد ہندو مہاسبھا کے انیسویں اجلاس میں انہوں نے کہا کہ ہندستان یک جہتی قوم نہیں بلکہ دو قومیں ہیں ہندو اور مسلم، یہ اعلان مسلم لیگ کی قرارداد پاکستان سے تین سال پہلے ہوا تاہم وہ تقسیم کے حامی نہیں تھے بلکہ ایک اٹوٹ ہندستان میں ہندو قوم کو فیصلہ کن بنانا چاہتے تھے۔ فرق واضح ہے کہ علاقائی قومیت میں ہر شخص محض وطن کی بنیاد پر قوم کا حصہ ہے جبکہ ساورکر کے نزدیک تاریخ، تہذیب اور پنیہ بھومی بھی شرط ہے۔ اس کے برعکس جمعیت کا نظریہ شہریت اور مشترک وطن پر مبنی شمولیتی قومیت کا ہے۔

اسی طرح گولوالکر نے اپنی کتاب We or Our Nationhood Defined 1939 میں قوم کے لیے پانچ وحدتیں بیان کیں۔ ملک، نسل، مذہب، ثقافت اور زبان۔ ان کے نزدیک جو ان پانچ ہندو عناصر سے باہر ہیں وہ اپنی جدا شناخت چھوڑ کر ہی قومی زندگی کا حصہ بن سکتے ہیں۔ اسی کتاب کے صفحہ 18، 40 سے 46 اور 130 پر انہوں نے لکھا کہ پاکستان بن جانے کے بعد مسلمان راتوں رات دیش بھکت نہیں بن گئے بلکہ خطرہ سو گنا بڑھ گیا ہے۔

پھر دوسری جنگ عظیم کا زمانہ آیا۔ 3 ستمبر 1939 کو جنگ شروع ہوئی اور برطانیہ نے ہندستانیوں سے مشورہ کیے بغیر ہند کو جنگ میں شامل کر دیا۔ 14 ستمبر 1939 کو کانگریس اور 16 تا 18 ستمبر 1939 کو جمعیت نے شرکت سے انکار کیا۔ حکومت نے 17 اکتوبر 1939 کو وائسرائے کی کونسل میں توسیع کی پیشکش کی اور 18 اکتوبر کو انڈیا ایکٹ 1935 پر نظر ثانی کا اعلان کیا لیکن دونوں نے مسترد کر دیا۔ اسی دوران مسلم لیگ نے 27 اگست 1939، 17، 18، 22 اکتوبر 1939 اور 3 فروری 1940 کی قراردادوں میں وفاق کی مخالفت کی اور 13 فروری 1940 کو جناح نے وائسرائے سے ملاقات کرکے 23 مارچ 1940 کو لاہور کے منٹو پارک میں قرارداد لاہور منظور کرائی۔ اس کے جواب میں جمعیت نے 3 اور 4 مارچ 1940 کو دہلی میں آل پارٹیز آزاد مسلم کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا جو 27 تا 30 اپریل 1940 کو منعقد ہوئی اور اعلان کیا کہ ہندستان اپنی جغرافیائی حدود کے ساتھ ایک متحدہ ملک ہے جو تمام باشندوں کی مشترکہ ملکیت ہے اور اس کے چپے چپے میں مسلمانوں کی ملکیت اور شعائر موجود ہیں۔ اس کی تجویز نمبر چھ میں کہا گیا کہ ہندستان کو ہندو ہندستان اور مسلم ہندستان میں تقسیم کرنا ناقابل عمل اور مسلمانوں کے لیے مضر ہے اور اس سے برطانوی سامراج کو فائدہ پہنچے گا۔

پاکستان کی شرعی حیثیت پر بھی دو موقف سامنے آئے۔ مولانا اشرف علی تھانوی نے مسلم لیگ کی اصلاح کی شرط پر حمایت کی، مولانا مفتی محمد شفیع نے 1945 میں رسالہ "کانگریس اور مسلم لیگ کے متعلق شرعی فیصلہ" لکھا اور مولانا شبیر احمد عثمانی نے کہا کہ پاکستان ایک ابتدائی قدم ہے جو قرآنی حکومت پر منتہی ہو سکتا ہے۔ لیکن مسلم لیگ کے قائدین کے بیانات اس سے مختلف تھے۔ 11 نومبر 1945 کے اخبار منشور میں جناح نے کہا کہ پاکستان ایک جمہوری حکومت ہوگی، ایک پارٹی کی حکومت نہیں ہوگی، اقلیتوں کو حکومت میں مناسب نمائندگی دی جائے گی اور ساتھ ہی کہا کہ یہ حکومت مسلمانوں کی ہوگی۔ مورخ ملت مولانا محمد میاں نے اس پر سوال اٹھایا کہ کیا اسلامی حکومت جمہوری تعریف میں آتی ہے۔

تقسیم کے بعد جب 14 اگست 1947 کو پاکستان بنا تو بعض علماء نے ہجرت کو فرض کہا اور تقریباً دو کروڑ انسان متاثر ہوئے۔ لیکن جمعیت نے تو 2 تا 5 دسمبر 1927 کو ہی انگریزی دور میں ہندستان کو دارالامان کہا تھا تو آزادی کے بعد بدرجہ اولیٰ دارالامان تھا۔ اس لیے اس کے سامنے ہجرت کا مسئلہ ہی نہیں تھا۔ حضرت سید الملت نے لکھا کہ جن کے سامنے نہ موت کا سوال تھا نہ ارتداد کا پھر بھی انہوں نے روزگار، عزت، بچوں کا مستقبل اور خوف کی وجہ سے وطن چھوڑا تو یہ شرعی ہجرت نہیں بلکہ طلب دنیا ہے۔ امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد نے 24 اکتوبر 1947 کو جامع مسجد دہلی سے خطاب میں فرمایا کہ یہ فرار کی زندگی جسے تم نے ہجرت کا مقدس نام دیا ہے اس پر غور کرو، مسجد کے مینار تم سے سوال کرتے ہیں کہ تم نے اپنی تاریخ کو کہاں گم کر دیا، کل جمنا کے کنارے تمہارے قافلوں نے وضو کیا تھا اور آج تمہیں یہاں رہتے ہوئے خوف آتا ہے حالانکہ دہلی تمہارے خون سے سینچی ہوئی ہے۔

اس کے بعد فرقہ پرستوں نے ایک اور دلیل پیش کی کہ 1945 اور 1946 کے تین انتخابات میں مسلمانوں نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دے دیا تھا۔ دسمبر 1945 کے مرکزی انتخابات میں 30 مسلم نشستیں، جنوری تا فروری 1946 کے صوبائی انتخابات میں 509 میں سے 425 نشستیں یعنی 83.5 فیصد، اور جولائی 1946 کی قانون ساز اسمبلی میں 73 نشستیں مسلم لیگ نے جیتیں۔ اس لیے اب ہندستان میں مسلمانوں کا مساوی شہری حقوق کا مطالبہ بے بنیاد ہے۔

اس کا پہلا جواب انتخابی نظام کے جائزے میں ہے۔ یہ انتخابات گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935 کے تحت ہوئے جو ایک فرد ایک ووٹ کے اصول پر نہیں تھے۔ ووٹ کا حق صرف جائیداد، ٹیکس، تعلیم اور آمدنی کی سخت شرائط پر ملتا تھا جو زمینداروں، وکیلوں اور اعلیٰ ملازمین تک محدود تھا۔ عام کسان، مزدور اور خواتین محروم تھیں۔ اس وقت کل مسلم آبادی تقریباً 9 کروڑ تھی، قانونی اہل ووٹر تقریباً 90 لاکھ یعنی دس فیصد، اور بالفعل ووٹ ڈالنے والے تقریباً 60 لاکھ یعنی 6.6 فیصد۔ نوے فیصد آبادی پہلے ہی حق سے محروم تھی۔ اس لیے 6 سے 7 فیصد کی رائے کو 9 کروڑ کا اجتماعی فیصلہ کہنا تاریخی اور ریاضیاتی بددیانتی ہے۔ دوسرے جدید جمہوری ریاست میں حقوق کی بنیاد آئین، قانون کی حکمرانی اور مساوات پر ہوتی ہے نہ کہ 80 سال پرانے غیر مساوی انتخاب پر۔

دوسرا جواب جمعیت کی تاریخ سے ہے۔ جمعیت نے 30 مارچ 1919 سے شروع ہونے والی عدم تعاون تحریک سے لے کر 3 نومبر 1919 کو مولانا عبدالباری فرنگی محلی کے ترک موالات کے فتوے تک، جس میں غیر مسلموں سے نہیں بلکہ انگریز حکومت سے بائیکاٹ کا کہا گیا تھا، ہمیشہ متحدہ قومیت کو بنیاد بنایا۔ 23 نومبر 1919 کو قیام سے لے کر آج تک وہ اسی پر قائم ہے جبکہ ٹو نیشن تھیوری کی اس نے کبھی تائید نہیں کی۔ اس لیے پاکستان کا نام لے کر ہندستانی مسلمانوں کو مشکوک بنانا فکری دہشت گردی ہے۔

وفاداری کے مسئلے پر بھی جمعیت کا موقف دو ٹوک رہا ہے۔ اسلام میں معاہدے کی پابندی مذہبی حکم ہے۔ مولانا انور شاہ کشمیری نے 2 تا 5 دسمبر 1927 کے صدارتی خطبے میں قرآن کی آیات "الا الذین عاہدتم من المشرکین" اور "فما استقاموا لکم فاستقیموا لہم" سے استدلال کرکے کہا کہ اگر برادران وطن مسلمانوں سے منصفانہ معاہدہ کرلیں تو مسلمانوں کو پورا وفادار پائیں گے۔ 27، 28 دسمبر 1947 کی آزاد کانفرنس میں مولانا حفظ الرحمان نے کہا کہ ہم اس ملک کے باشندے اور وفادار ہیں، اگر پاکستان بھی حملہ کرے گا تو مسلمان سب سے پہلے دفاع کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ بعض حکام مسلمانوں کو پانچواں کالم کہتے ہیں یہ غلط ہے، ہم اس ملک کو اسی طرح اپنا وطن سمجھتے ہیں جس طرح ہندو۔ وفاداری کا مطالبہ تو اس وقت ہوتا ہے جب معاملہ غیر ملکی سے ہو۔

تقسیم کے بعد جب وفاداری کے سوال نے زور پکڑا تو شیخ الاسلام حضرت مدنی نے دیوبند کی جامع مسجد سے فرمایا کہ اس ملک کو تم نے اپنے خون سے سینچا ہے آئندہ بھی سینچنے کا عزم رکھو، یہی حقیقی وفاداری ہے۔ یہ ثابت کرنا وزراء کا فرض ہے کہ وہ عوام کے وفادار ہیں، ہم کو ان سے باز پرس کا حق ہے پھر اس غلامانہ اظہار وفاداری کا کیا مطلب۔ انہوں نے سوال کیا کہ بہار، گڑھ مکتسر اور یوپی میں جو دکھ اٹھائے وہ کس غداری کا نتیجہ تھے، دہلی اور مشرقی پنجاب کی تباہی کس بے وفائی کا صلہ تھی، کلکتہ، نواکھالی، مغربی پنجاب میں ہندو سکھوں نے جو مصائب برداشت کیے وہ کس جرم کی سزا تھے۔ چالیس کروڑ میں سے دس فیصد کو ہی ووٹ کا حق تھا، دس کروڑ میں سے ایک کروڑ، اور اس میں سے بھی ساڑھے چار لاکھ ووٹ تقسیم کے حق میں پڑے یعنی ساڑھے چار فیصد، اس کو پوری قوم پر کیسے تھوپا جا سکتا ہے۔

26، 27، 28 اپریل 1948 کے پندرھویں اجلاس میں مولانا احمد سعید نے کہا کہ جو اس ملک کو اپنا ملک نہیں سمجھتے وہ چلے جائیں، بحری بری ہوائی راستے کھلے ہیں، میں جان بوجھ کر وفاداری کا لفظ استعمال نہیں کر رہا کیونکہ اپنا ملک ہے تو ثبوت کس کے سامنے۔ اسی اجلاس میں مولانا حفظ الرحمان نے کہا کہ بلا شبہ جو پاکستان کی طرف تکتے ہیں وہ چلے جائیں لیکن چار کروڑ مسلمان غدار نہیں، جس طرح جنگ میں جرمن عوام کو ہٹلر ازم کا حامی ہونے کے باوجود مٹایا نہیں گیا بلکہ کہا گیا کہ خطا لیڈرشپ کی ہے، اسی طرح لیگ کے حامی عوام کو معاف کیا جا سکتا ہے۔ وفاداری ڈرانے سے نہیں پریم اور محبت سے پیدا ہوتی ہے۔

27 تا 29 اپریل 1951 کے سترھویں اجلاس میں صدر استقبالیہ مقصود بن منصور مراد آبادی نے کہا کہ وفاداری کا سوال ملک اور دستور سے ہوتا ہے، میں اعلان کرتا ہوں کہ ہم اپنے ملک اور دستور کے وفادار ہیں اور ہر اس حکومت کے وفادار رہیں گے جو دستور پر پورا عمل کرے۔ مسلمانوں کو حجاز، ایران، شام سے بھی ہمدردی ہے تو کیا اس کا مطلب غداری ہے، خود حکومت ہند کو پاکستان سے ہمدردی ہے، وفود جاتے ہیں تو کیا وہ غدار ہے۔ اسی اجلاس میں مولانا حفظ الرحمان نے کہا کہ غداری افراد میں ہو سکتی ہے جماعت غدار نہیں ہو سکتی، پاکستان کی طرف نظر اٹھانا اگر غداری ہے تو مہاتما گاندھی کے سینے میں گولی مارنا بھی کم غداری نہیں۔

9، 10، 11 دسمبر 1960 کے بیسویں اجلاس میں انہوں نے پھر کہا کہ اگر کسی کو پنڈت نہرو سے وفاداری کا مطالبہ کرنے کا حق نہیں تو حفظ الرحمان سے بھی نہیں، ہندو مسلم سکھ سب ہندستان کے جسم کے ٹکڑے ہیں ناخن میں تکلیف ہو تو پورے جسم کو ہوتی ہے۔ 15 تا 17 اپریل 1966 کے بائیسویں اجلاس میں مولانا سید فخرالدین احمد صدر جمعیت نے کہا کہ حفاظت وطن کے دعوے دار پریشان تھے کہ چھ کروڑ مسلمانوں کا کردار کیا ہوگا لیکن بریگیڈیئر عبدالحمید اور ان کے ساتھیوں نے عمل سے بتا دیا۔ اب بھی وفاداری کا مطالبہ دستور کے احترام کو پامال کرنا ہے۔ اسی اجلاس میں مولانا شاہد فاخری نے کہا کہ ہماری وفاداری زمین اور ملک سے ہے پارٹی سے نہیں، حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں۔ 14، 15 جنوری 1983 کی مجلس منتظمہ میں یوپی کے وزیر اوقاف محمد امین انصاری نے کہا کہ حب الوطنی ہمارا ایمان ہے، مہاراشٹر کے سابق وزیر اعلیٰ عبدالرحمان انتولے نے کہا کہ ان کی وفاداری پر شیطان بھی شک نہیں کر سکتا۔ 25، 26 جنوری 1991 کے کل ہند اجتماع میں فاروق عبداللہ نے کہا کہ مسلمان کسی سے وفاداری کا سرٹیفکیٹ نہ لیں۔ 29 اکتوبر 1995 کے پچیسویں اجلاس میں جسٹس سردار علی خان نے کہا کہ اس ہندستان پر مسلمانوں کا بھی اتنا ہی حق ہے جتنا کسی اور کا، وزیر فلاح و بہبود سیتا رام کیسری نے کہا کہ کروڑوں مسلمانوں نے موت کے سائے میں ہندستان میں رہنا پسند کیا، اگر ان کی وفاداری پر شک ہے تو شک کرنے والوں کی وفاداری پر مجھے شک ہے۔ اسی اجلاس میں حق شہریت کی تجویز منظور ہوئی جس میں کہا گیا کہ مسلمانوں کا جذبہ وفاداری مذہبی فریضہ ہے، آزادی کے بعد نصف صدی میں ایک مسلمان بھی جاسوسی میں نہیں پکڑا گیا، چین اور پاکستان کی جنگوں میں روشن کردار پیش کیا، اس کے باوجود بنگلہ دیشی دراندازی کا ہوا کھڑا کرکے ووٹر لسٹ سے نام خارج کیے جا رہے ہیں اور شہریت کے ثبوت کے لیے ایسے کاغذات مانگے جا رہے ہیں جو وزراء کے لیے بھی آسان نہیں۔

16، 17 دسمبر 1998 کی مجلس عاملہ نے دینی مدارس اور مساجد کے خلاف مہم کو تشویش کی نظر سے دیکھا۔ 6 جون 1999 کے اقلیتی کنونشن میں مولانا ارشد مدنی نے کہا کہ مسلمان ایک ہزار سال سے یہاں رہ رہے ہیں حاکم بھی رہے اور محکوم بھی لیکن ہمیشہ مکمل وفاداری کا ثبوت دیا۔ 25 مارچ 2000 کو مولانا اسعد مدنی نے آر ایس ایس سربراہ کے ایس سدرشن کے بیان کہ مسلمان ہندستان کو اپنا ملک سمجھیں کو کھلی شرارت کہا۔ 13 تا 15 اکتوبر 2000 کو آگرہ میں آر ایس ایس کی راشٹریہ سرکشا مہاشور کے بعد 17 اکتوبر 2000 کو مولانا اسعد مدنی نے کہا کہ آر ایس ایس کو اقلیتوں سے وفاداری کا مطالبہ کرنے کا کوئی حق نہیں، وہ خود مین اسٹریم سے باہر رہی ہے، بتایا جائے وہ قومی دھارا کہاں بہہ رہا ہے۔ 21 جون 2002 کی مشاورتی میٹنگ کے میمورنڈم میں کہا گیا کہ مذہب کی بنیاد پر وفاداری پر انگلی اٹھانا قومی عداوت کے مترادف ہے۔ 9 مارچ 2003 کے ستائیسویں اجلاس کے صدارتی خطبے میں مولانا اسعد مدنی نے گولوالکر کے الزام کہ مسلمانوں کی وفاداریاں باہر ہیں اور ان کی آبادی گیارہ سے بائیس فیصد ہو گئی ہے کا جواب دیا کہ سرکاری رپورٹ میں آج بھی بارہ فیصد ہے، یہ جھوٹ اقلیتوں کے خلاف ماحول بنانے کے لیے ہے۔

20، 21 اگست 2006 کی علماء کانفرنس میں راجیہ سبھا کے ڈپٹی چیئرمین کے رحمان نے کہا کہ وطن سے محبت ہمارے ایمان کا حصہ ہے۔ 15 ستمبر 2006 کی پریس کانفرنس میں مولانا محمود مدنی نے کہا کہ وندے ماترم کو وفاداری سے جوڑنا ملک کو برباد کرنے کی سازش ہے، ٹیگور اور لوہیا نے بھی مانا ہے کہ یہ مسلمانوں کے عقیدے سے ٹکراتا ہے، سپریم کورٹ نے جن گن من کے نہ گانے کو جرم نہیں ٹھہرایا تو وندے ماترم جس کی دستوری حیثیت ہی نہیں اسے کیوں وفاداری کا ثبوت بنایا جا رہا ہے، ملک ہمارے لیے پیارا ہے قابل عبادت نہیں۔ 10 ستمبر 2007 کو انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے بعد بلا تحقیق مسلمانوں پر انگلی اٹھانا بند ہونا چاہیے۔ 31 مئی 2008 کی دہشت گردی مخالف امن کانفرنس میں دہلی گردوارہ کمیٹی کے پرم جیت سنگھ سرنا نے کہا کہ ہم خود 1984 میں اس دور سے گزرے ہیں، ہمیں صفائی دینے کی ضرورت نہیں کہ ہم وفادار ہیں، بدعنوانی دوسرے کریں اور صفائی ہم دیں۔ 9 نومبر 2008 کے انتیسویں اجلاس میں مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ہم اس ملک میں کرایہ دار نہیں ہیں، ہمیں کسی کا احسان نہیں چاہیے بلکہ وسائل میں ہمارا حق دیا جائے۔ 14 فروری 2009 کی امن کانفرنس میں انہوں نے کہا کہ مسلمان اس ملک کے معمار ہیں، اس ملک کے مالک ہیں کرایہ دار نہیں۔ 3 نومبر 2009 کے تیسویں اجلاس میں انہوں نے کہا کہ یاد رکھو تم اس ملک کے حصہ دار ہو کرایہ دار نہیں، میں جب دنیا کے کسی حصے سے ہندستان کی سرزمین پر قدم رکھتا ہوں تو لمبی سانس لیتا ہوں جو خوشبو یہاں ملتی ہے وہ کہیں نہیں ملتی۔ اسی اجلاس میں سوامی اگنی ویش نے کہا کہ مسلمانوں کو سرٹیفکیٹ کی ضرورت نہیں، جمعیت کی قربانی خود سرٹیفکیٹ ہے۔ 15 فروری 2019 کو بنارس میں مولانا حبیب الرحمان اعظمی کی خدمات پر سیمینار میں ناظم عمومی مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ہم ان کے نام لیوا ہیں جنہوں نے مذہب کے نام پر تقسیم کی مخالفت کی تھی اور اپنی مرضی سے اس ملک میں رہنا پسند کیا، ہمیں کسی سے سرٹیفکیٹ لینے کی ضرورت نہیں، بدقسمتی سے ہماری قوم ستر سال سے صفائی دیتی آ رہی ہے۔ 25 ستمبر 2022 کے دھرم سنسد میں پروفیسر اخترالواسع نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ ہندستان میرا ماتر بھومی بھی ہے اور پتر بھومی بھی کیونکہ ابوالبشر آدم پر پیغام حق سب سے پہلے اسی سرزمین پر نازل ہوا۔ 12 فروری 2023 کے چونتیسویں اجلاس کے صدارتی خطبے "بھارت ہمارا وطن" میں مولانا محمود مدنی نے کہا کہ بھارت ہمارا وطن ہے جتنا مودی اور بھاگوت کا ہے اتنا ہی محمود کا ہے، نہ محمود ایک انچ آگے ہے نہ وہ ایک انچ پیچھے، یہ دھرتی اسلام کی جائے پیدائش اور مسلمانوں کا پہلا وطن ہے اس لیے اسلام کو باہر سے آیا ہوا کہنا تاریخی طور پر بے بنیاد ہے۔ بھارت ہندی مسلمانوں کے لیے وطنی اور دینی دونوں حیثیتوں سے سب سے اچھی جگہ ہے لیکن اس کے لیے آئین، جمہوریت، انسانی حقوق اور اس کے چار ستون مقننہ، انتظامیہ، عدلیہ اور میڈیا کا درست ہونا ضروری ہے۔ اسی اجلاس کے اعلامیہ میں کہا گیا کہ مذہبی منافرت وطن کی سالمیت کے لیے خطرہ ہے۔

آخر میں 29 نومبر 2025 کو بھوپال میں مجلس منتظمہ کے اجلاس میں نائب صدر مولانا محمد سلمان بجنوری نے حکومت کے دوہرے رویے پر کہا کہ ہم مدارس اور تمام مسلمانوں کی طرف سے واضح طور پر کہتے ہیں کہ ہم ملک سے غداری کرنے والوں کے ساتھ کبھی نہیں، ملک سے وفاداری ہمارے مذہب کا حکم ہے، معاہدوں کی پابندی ہمارے مذہب کا حکم ہے۔ لیکن ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ جس طرح ایک مسلمان کے مشتبہ ہونے پر ٹارگٹ کیا جاتا ہے اپنے ہم مذہب بھائی کی بھی اسی طرح تحقیق کریں اور مجرم کو قرار واقعی سزا دیں۔

 یوں یہ طویل تاریخی سفر اس نتیجے پر منتہی ہوتا ہے کہ ہندستان کی آزادی سے پہلے اس کی شرعی حیثیت پر بحث تو ہوئی لیکن اس کے باشندے ہونے پر کوئی سوال نہ تھا، آزادی کے بعد وفاداری کا سوال اٹھا کر مسلمانوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانے کی کوشش کی گئی جبکہ حقیقت میں جمعیت علمائے ہند کی قیادت میں مسلمانوں نے ہمیشہ متحدہ قومیت، آئین اور جمہوریت کی بنیاد پر وطن کی آزادی اور حفاظت کو اپنا مذہبی اور وطنی فریضہ سمجھا ہے اور اسی بنیاد پر وہ آج بھی اپنے آپ کو اس ملک کا برابر کا حصہ دار سمجھتے ہیں نہ کہ کرایہ دار۔