22 Jan 2026

جمعیت علمائے ہند قدم بہ قدم: گیارھواں سال:1929ء

 گیارھواں سال:1929ء

محمد یاسین جہازی

یکم جنوری 1929ء کو منعقد آل انڈیا مسلم کانفرنس میں بھارت میں مسلمانوں کے حقوق دلانے والادستوری فارمولہ تیار کرنے میں جمعیت نے غیر معمولی کردار ادا کیا۔

9؍فروری1929ء کو منعقد مجلس عاملہ میں کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے میٹنگ ملتوی کردی گئی۔ بعد ازاں یہی میٹنگ یکم و 2؍اپریل 1929ء کو منعقد ہوئی، جس میں افغانستان کی شورش پر جائزہ لیتے ہوئے صدر جمعیت علمائے ہند کی طرف سے ایک اعلان جاری کیا گیا اور مسئلۂ قضا کے متعلق مسودۂ قانون کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل دی گئی۔ 

5؍جولائی1929ء کو ایک مکتوب لکھ کر دھنورہ بلند شہر کے مسلمانوں پر ہندوجاٹوں کے ظلم کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

5؍جولائی1929ء کو پیش کردہ گوشوارۂ آمدو صرف میں 471روپے کی آمد اور 334؍ روپے کے اخراجات پیش کیے گئے۔

9؍جولائی1929ء کورنگون میئر کو برقی پیغام بھیج کر حلال ذبیحہ پر پابندی ہٹانے کا مطالبہ کیا گیا۔

20؍جولائی1929ء کو یوم ولادر رسول پر شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے تبلیغی مظاہرے کی اپیل کی گئی۔ 

24؍جولائی1929ء کو وائسرائے ہند کی چائے کی دعوت میں شرکت پر وضاحتی بیان پیش کیا گیا۔

11؍اور 12؍اگست 1929ء کو مجلس مرکزیہ کے اجلاس میںساردا بل کے خلاف پوری قوت سے لڑائی لڑنے کے لیے’ ’مجلس تحفظ ناموس شریعت ‘‘ تشکیل دے کر عملی طور پر شدید مخالفت کی اور پورے ملک میں زبردست تاریخی ہڑتال کیا۔ گانگریس میں مسلمانوں کی شرکت کے حوالے سے یہ طے کیا کہ جمعیت خلافت، جمعیت علما اور مسلم لیگ کا مشترکہ وفد ’نہرو رپورٹ‘ میں ’’مکمل آزادی‘‘ شامل کرانے کی کوشش کرے۔ اور کانگریس جب تک یہ مطالبہ منظور نہ کرلے، تب تک شرکت کا فیصلہ نہ کیا جائے۔ ریاست الور کے قصبہ بہرور کی شاہی مسجد میں بت رکھ دینے ، موضع کراولی میں ہندوؤں کے مظالم، چوتروا میں نومسلموں پر جبرو تشدد،چوموں، بھساور اور دھنورہ میں غیر مسلموں کی زیادتی کے خلاف جدوجہد کی۔ سیاسی قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی سلوک کرنے پر سیاسی قیدیوں نے مقاطعۂ جوعی کیا، جس کے خلاف جمعیت نے حکومت کو ان کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے لیے متوجہ کیا۔ نہرو رپورٹ سے اتفاق اور عدم اتفاق پر مسلمانوں کے اختلاف کو پریس و اخبارات میں بہت زیادہ اچھالا گیا، جس پر جمعیت نے آپسی نفاق و شقاق دور کرنے اور اپنے حقوق کی حفاظت کے لیے متفقہ جدوجہد کرنے کی اپیل کی۔ صدر جمعیت حضرت مولانا و مفتی محمد کفایت اللہ صاحب اور جنرل سکریٹری مولانا احمد سعید صاحب نے اپنا اپنا استعفیٰ پیش کیا؛ لیکن اراکین جمعیت نے ان پر مکمل اعتماد کرتے ہوئے استعفیٰ منظور نہیں کیا۔

     13؍اگست1929ء کو ایک اپیل جاری کرکے یوم ولادت نبوی کے موقع پر ادا کی جانے والی رسوم سے بچنے کی تلقین کرتے ہوئے شریعت کے دائرے میں رہ کر تبلیغی مظاہرے کرنے کی اپیل کی گئی۔

19؍اگست1929ء کو بارہ ربیع الاول کی مناسبت سے سیرت النبی کے عنوان سے عظیم الشان اجلاس عام کیا گیا۔

3؍ستمبر1929ء کو مظلوم مسلمانان فلسطین کی حمایت میں عظیم الشان اجلاس کیا گیا۔

4؍ستمبر1929ء کو وائسرائے ہند کو برقی پیغام بھیج کر مسودۂ قانون ازدواج سے مسلمانوں کو مستثنیٰ کرنے کی اپیل کی۔

9؍ستمبر 1929ء کو افغانستان سے جنرل نادر خاں نے صدر جمعیت علمائے ہند کے نام ایک پیغام بھیج کر امداد طلب کی۔

13؍ستمبر1929ء کو دوبارہ ساردا بل کی مخالفت کرنے کی اپیل کی گئی۔

16؍ستمبر1929ء کو منعقد ایک میٹنگ میں جمعیت علمائے برما کو جمعیت علمائے ہند کے ساتھ الحاق کا فیصلہ کیا گیا۔ 

27؍ستمبر1929ء کو دہلی میونسپل کمیٹی کی طرف سے قرآن مجید کی تعلیم پر روک لگانے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے کے لیے عظیم الشان اجلاس عام کیا گیا۔

28؍ستمبر1929ء کو جاری ایک رپورٹ میں بھساور میں آریوں کی چیرہ دستیوں کو بے نقاب کیا گیا۔

 29؍ستمبر1929ء کو مسلم رہنمایان دہلی کا ایک اجتماع ہوا، جس میںساردا بل کے خلاف لڑائی لڑنے کی حکمت عملی پر غور وخوض کیا گیا۔

4؍اکتوبر1929ء کو ساردا بل کے خلاف زبردست اجلاس عام کیا گیا۔

8؍اکتوبر1929ء کو ساردا بل کے متعلق مسلمانوں کے متفقہ مطالبہ مرتب کرنے کے لیے مسلمانان دہلی کا ایک نمائندہ اجتماع کیا گیا۔

18؍اکتوبر1929ء کو کابل کی فتح پر مسرت کے اظہار کے لیے عظیم الشان جلسہ منعقد کیا گیا۔

20؍اکتوبر1929ء کو جماعت مرکزیہ فلسطین کی طرف سے امداد کی طلبی پر مسلمانوں سے مظلومین فلسطین کی امداد کی اپیل کی گئی۔

26؍اور 28؍اکتوبر1929ء کو مجلس مرکزیہ کے اجلاس میںفلسطینی مسلمانوں پر کیے جارہے ظلم و جور کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے انتداب فلسطین اور اعلان بالفور کی تنسیخ کا مطالبہ کیا۔ جنرل نادر خاں کے فتح کابل پر اظہار مسرت کرتے ہوئے انھیں مبارک باد پیش کی۔ کانپور میں منعقد ہونے والے سالانہ اجلاس کے لیے مولانا محمد علی جوہر صاحب کی صدارت کے لیے ہورہے جھگڑے کو سلجھاتے ہوئے مولانا محمد معین الدین اجمیریؒ کو صدر جلسہ قرار دیا گیا ۔ جمعیت علمائے صوبہ متحدہ کے قدیم عہدے داروں کی عدم دل چسپی کے باعث متحرک و فعال جدید عہدے داروں کا انتخاب کیا گیا۔ ساردا بل کے متعلق سب کمیٹی کا قیام عمل میںآیا۔دہلی میونسپل کمیٹی کی طرف سے جبری تعلیم قانون کے تحت بچوں کو قرآن مجید کی تعلیم سے محروم رکھنے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔مسیحی مشنریوں کی طرف سے نبی اکرم ﷺ کی فرضی تصویر شائع کرنے پر احتجاج درج کرایا۔جمعیت علمائے ہند، اس کے ذمہ داروں اور شعبۂ تبلیغ پر غلط الزامات عائد کرنے کے جرم میں مولانا مظہر الدین صاحب مالک اخبار الامان اور مولانا سید حبیب شاہ مالک اخبار سیاست کو جمعیت کی ابتدائی رکنیت سے خارج کیا گیا۔علاوہ ازیںچوموںریاست جے پور کے واقعات پر غم و غصے کا اظہار،جوائنٹ کمیٹی وقف حاجی جیون بخش مرحوم کا شکریہ، رضا کاران عسکر اسلامیہ کا شکریہ اور مخلص میزبانوں کے شکریے کی تجاویز منظور کی گئیں۔ 

27؍اکتوبر 1929ء کو منعقد مختلف ملی تنظیموں کی شورائی میٹنگ میں ساردا بل کے خلاف لڑائی کی قیادت جمعیت علما کو سپرد کی گئی تھی، اس کے باوجود مولانا محمد علی جوہر صاحب نے شرکت عمل کے بجائے الگ سے کوشش شروع کی، جس سے عوام میں انتشار کا اندیشہ ہوا، تو جمعیت نے اتحاد و اتفاق کی اپیل کی۔

31؍اکتوبر1929ء کو عاشق رسول علم الدین کی پھانسی کے متعلق صدر جمعیت کو تار موصول ہوا۔ 

یکم نومبر1929ء کو وائسرائے ہند لارڈ ارون نے ہندستان کو درجۂ نو آبادیات دینے کے متعلق ایک بیان جاری کیا۔

 7؍نومبر1929ء کو وائسرائے کے بیان پر رد عمل ظاہر کرتے ہوئے اسے آزادی کامل کے حامیوں کے لیے بے وقعت بتایا۔

7؍نومبر1929ء کو وائسرائے ہند کے نام صدر جمعیت علمائے ہند نے ساردا بل کے خلاف ایک طویل مکتوب لکھ کر اسے مداخلت فی الدین قرار دے کر مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت قرار دیا۔

9؍نومبر1929ء کو ایک بیان جاری کرکے حکومت کی اس حرکت کو مستبدانہ قرار دیا کہ اس نے عاشق رسول جناب علم الدین کی تدفین جنازہ کی نماز پڑھائے بغیر کردی۔

9؍نومبر1929ء کو عامۂ مسلمین کی رائے کے برخلاف ساردا ایکٹ کے تعلق سے وائسرائے سے ملاقات کے لیے مرتب کردہ وفد کو خانہ سازوفد قرار دیا گیا۔

 9؍نومبر1929ء کو مولانا محمدعلی صاحب کی قیادت میں ایک وفد نے ساردا بل سے مسلمانوں کو مستثنیٰ کرانے کے لیے وائسرائے سے ملاقات کی، لیکن وائسرائے نے مایوس کن جواب دیا۔

20؍نومبر1929ء کومجلس تحفظ ناموس شریعت نے اعلان کیا کہ ساردا بل سے مسلمانوں کو مستثنیٰ کرانے کے لیے 29؍نومبر کو ملک گیر پیمانے پر احتجاج کریں۔

24؍نومبر1929ء کو ایک بیان میں صدر جمعیت علمائے ہند نے کہا کہ مجھے معلوم ہوا ہے کہ حکومت ساردا بل کے خلاف مسلمانوں کی سول نافرمانی کی تحریک کو روکنے کے لیے تیاری کر رہی ہے۔

24؍نومبر1929ء کو جمعیت علمائے ہند کی طرف سے ارتداد کے خلاف جاری جدوجہد کا خلاصہ پیش کیا گیا۔

  26؍نومبر1929ء کو ساردا بل کے خلاف پشاور میں احتجاجی اجلاس میں شرکت کنندگان پر پولیس کی زیادتی کی مذمت کی گئی اور مسلمانان پشاور کے جذبۂ فداکاری پر تہنیت پیش کی گئی۔

29؍نومبر1929ء کو جمعیت علمائے ہند کی ہدایت کے مطابق ملک گیر سطح پر پرامن احتجاج اور ہڑتالیں ہوئیں۔

7؍دسمبر1929ء کو فاتح کابل جناب جنرل شاہ ولی خاں کا دہلی ریلوے اسٹیشن پر پرتپاک استقبال کیا گیا۔

9؍دسمبر1929ء کو مجلس تحفظ ناموس شریعت نے کامیاب ہڑتال کے بعد دوسرا قدم اٹھاتے ہوئے ،صوبہ وار، ضلع وار اور مقامی سطحوں تک تحفظ ناموس شریعت کمیٹی تشکیل کرنے کی اپیل کی۔

20؍دسمبر1929ء کو دفتر جمعیت میں ساردا بل کے خلاف چار ہزار ہندو مسلمانوں کا محضرنامہ موصول ہوا۔ 

20؍دسمبر1929ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ کا اعلان کیاگیا۔ 

20؍دسمبر1929ء کو وائسرائے ہند کے حیدرآباد پہنچنے پر صدر جمعیت نے ایک برقی پیغام بھیج کر حیدرآباد کے وقار و اختیارات میں مداخلت نہ کرنے کی اپیل کی۔

21-22؍دسمبر1929ء کو مولانا محمد علی کی صدارت میں کانپور میں آل انڈیا مؤتمر اسلامی اور علما کانفرنس کی گئی، جس کا مقصد ساردا بل کے خلاف جمعیت علمائے ہند کی جدوجہد کو مل رہی کامیابی کے اثرات کو ختم کرنا تھا۔28؍دسمبر1929ء کو شائع الجمعیۃ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہ کانفرنس اپنے مقصد میں بری طرح ناکام رہی۔