Showing posts with label قیدوبند. Show all posts
Showing posts with label قیدوبند. Show all posts

25 Jan 2026

قائد جمعیت حضرت مولانا محمود اسعدمدنی صاحب ناظم عمومی و صدرجمعیت علمائے ہند کی قیدو بند

 قائد جمعیت حضرت مولانا محمود اسعدمدنی صاحب 

ناظم عمومی و صدرجمعیت علمائے ہند

محمد یاسین جہازی

جمعیت علمائے ہند کی تاریخ محض ایک تنظیمی روداد نہیں؛بلکہ یہ حریت فکر، قربانی اور برطانوی استعمار کے خلاف مسلسل جدوجہد سے عبارت ایک روشن باب ہے۔ اس جماعت کے دو کلیدی عہدوں: صدر اور ناظمِ عمومی کی یہ انفرادیت رہی ہے کہ ان پر فائز ہونے والی اکثر شخصیات نے نہ صرف تحریکِ آزادی کے دوران؛ بلکہ آزاد جمہوری بھارت میں بھی ملی و قومی مفادات کی خاطر زندان کی سختیاں جھیلیں۔

جمعیت علمائے ہند کی ایک صدی سے زائد کی تاریخ میں 19 شخصیات صدور اور نظمائے عمومی ہوئی ہیں،جن میں سے 16 شخصیات نے غلام ہندستان اور آزاد بھارت میں خواہ علامتی ہی کیوں نہ ہو قیدو بند کا سامنا کیا ہے ۔صرف تین شخصیات ہی اس سنت یوسفی سے مستثنی رہی ہیں ،جن کی جزوی تفصیل درج ذیل ہے: 

گرفتار ہونے والی 16 شخصیات:

1. شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندی صدر جمعیت علمائے ہند: ایک مرتبہ

2. مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند و اولین ڈکٹیٹر: دو مرتبہ۔

3. سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم عمومی و نائب صدر و صدر جمعیت علمائے ہند: پانچ مرتبہ۔

4. شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب ڈکٹیٹر ششم و صدر جمعیت علمائے ہند:  چار مرتبہ۔

5. مولانا عبد الحلیم صاحب صدیقی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند: تین مرتبہ ۔

6. مجاہد ملت حضرت مولانا محمد حفظ الرحمن صاحب سیوہاروی ڈکٹیٹر سوم و ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند: چار مرتبہ۔

7. فخر المحدثین حضرت مولانا فخر الدین احمد صاحب نائب صدر و صدر جمعیت علمائے ہند: ایک مرتبہ ۔

8. مورخ ملت حضرت مولانا محمد میاں صاحب دیوبندی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند: چھ مرتبہ۔

9. فدائے ملت حضرت مولانا اسعد مدنی صاحب ناظم عمومی و صدر جمعیت علمائے ہند: پانچ مرتبہ۔

10. حضرت مولانا سید احمد ہاشمی صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند: دو مرتبہ۔

11. مولانا محمد اسرار الحق صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند: دو مرتبہ۔

12. مولانا عبد العلیم فاروقی صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند: ایک مرتبہ۔

13. مولانا ارشد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند: دو مرتبہ۔

14. فاتح قادیانیت حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب منصور پوری صدر جمعیت علمائے ہند: ایک مرتبہ۔

15. قائد جمعیت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب ناظم عمومی و صدر جمعیت علمائے ہند: ایک مرتبہ۔

16. مجاہد دوراں مولانا محمد حکیم الدین صاحب قاسمی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند: دو مرتبہ۔

گرفتار نہ ہونے والی تین شخصیات:

ان کے علاوہ بقیہ درج ذیل تین شخصیات کبھی گرفتار نہیں ہوئیں:

1. ابو المحاسن حضرت مولانا محمد سجاد صاحب بہاری ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند ۔

2. حضرت مولانا عبد الوہاب صاحب آروی صدر جمعیت علمائے ہند ۔

3. مولانا عبد الرازق صاحب بھوپالی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند ۔

جشن جمہوریہ کی مناسبت سے ان شخصیات میں سے صرف ایک شخصیت قائد جمعیت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب دامت برکاتہم کی قیدوبند کی تفصیلات پیش کی جارہی ہیں:

 قائد جمعیت حضرت مولانا محمود اسعدمدنی صاحب 

12؍ اکتوبر1996ء میں،جناب محمد حنیف دائما کمار صاحب کی تحریک پر مجلس عاملہ نے حضرت مولانا محموداسعد مدنی صاحب کو ناظم تنظیم بنایا۔ بعد ازاںمجلس عاملہ منعقدہ: 9؍ نومبر1996ء سے بطور مدعوین خصوصی شرکت کا آغاز کیا۔بعد ازاں 24؍ دسمبر2001ء کو ناظم عمومی نام زد کیے گئے۔اور 7؍اپریل 2008ء تک اس عہدے پر رہے۔ پھر دو سال کے بعد 29؍دسمبر2010ء کو ناظم عمومی نام زد کیے گئے اور 26؍مئی 2021ء تک اس عہدے پر قائم رہے۔ بعد ازاں 27؍مئی 2021ء تا17؍ستمبر2021ء تک عارضی صدر چنے گئے۔ اور پھر 18؍ستمبر2021ء کو مستقل صدر بنائے گئے، جو تادم تحریر صدر جمعیت علمائے ہند ہیں۔

گرفتاری کے اسباب و وجوہات

20،21جون2002ء کو منعقد مجلس عاملہ نے طے کیا کہ اقلیتوں کے مطالبات پرمشتمل ایک میمورنڈم وزیر اعظم کو پیش کیا جائے اور اگر حکومت اس پر کوئی خاطر خواہ توجہ نہ دے، تو اس کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک چلائی جائے۔ ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا محمود مدنی صاحب نے میمورنڈم کا ایک مسودہ پڑھ کر سنایا، اس کے ساتھ مجلس عاملہ کے سامنے مطالبات کی فہرست بھی پیش کی، جسے مجلس عاملہ نے منظوری دی۔

تحریک کا آغاز

مجلس عاملہ: 14؍ ستمبر2002ء میں ملک وملت بچاؤ تحریک کو مؤثر طریقہ پر چلانے کے لیے تحر یک کے کوآرڈینیٹر جناب مفتی اشفاق احمد اعظمی صاحبؒ نے اب تک کی کارگزاری رپورٹ پیش کی۔ میمورنڈم دیے جانے اور اس کے بعد کے حالات پر غور وفکر کرتے ہوئے فیصلہ کیا گیا کہ چوںکہ موجودہ حالات میں تحریک ناگزیر ہوگئی ہے، اس لیے 2؍اکتوبر 2002ء سے اسے شروع کر دیا جائے۔چنانچہ 2؍اکتوبر2002ء سے تحریک کا آغاز کردیا گیا۔ چوں کہ چودہ دنوں تک یہ تحریک چلی اورمولانا محمود مدنی صاحب نے آخری دن اس کی قیادت کی، اس لیے تمام تفصیلات کو چھوڑتے ہوئے ، چودھویں دن کی تفصیلات پیش کی جارہی ہیں:

تحریک کا چودھواں اور آخری دن

ہندستان کو فرقہ پرست طاقتوں سے بچانے اور ملک میں دستور اور قانون کا نظام قائم کرنے اور دلت و مسلمانوں کا استحصال بند کرنے جیسے اہم معاملات کو لے کر جمعیت علمائے ہند کی جانب سے چلائی جا رہی ملک و ملت بچاؤ تحریک کا پہلا دورتیس ہزار سے زائد لوگوں کی گرفتاریوں کے بعد 15؍اکتوبر2002ء منگل کو وزیراعظم کی رہائش گاہ پر زبردست مظاہرہ اور دھرنے اور نعروں کے درمیان اختتام پذیر ہو گیا۔ اس ملک و ملت بچاؤ تحریک کے تحت جیل بھرو مہم نے نہ صرف انتظامیہ کو ہلا کر رکھ دیا؛ بلکہ موجودہ حکومت کی نیند بھی اُڑا دی ہے۔

15؍ا کتوبر کو جب پوری پولیس انتظامیہ جنتر منتر پر گرفتاریاں دینے والے جتھے کا انتظار کر رہی تھی، ملک و ملت بچاؤ تحریک کا ایک جم غفیر پرمشتمل دستہ وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر پہنچ گیا اور مانگوں کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ کی دیواروں سے ٹکرا کر پورے علاقہ میں گونج دیا۔ اس موقع پر جتھے میں شریک لوگوں کو پر امن رہنے کی تلقین کرتے ہوئے جمعیت علمائے ہند کے نوجوان قائد زعیم ملت حضرت مولانا سید محمود مدنی جنرل سکریٹری جمعیت علمائے ہند نے فرمایا کہ کسی بھی عمارت کے استحکام کے لیے اس کے چاروں ستونوں کا مضبوط اور مستحکم ہوناا ضروری ہے۔ مسلمان بھی ملک کا ایک ستون ہیں۔ اس ملک کا مسلمان سیاسی، معاشی اور تعلیمی لحاظ سے ے کمزورہوگا، توملک بھی مضبوط نہیں ہو سکتا۔

مولانا محمود مدنی دس ہزار تین سو تیرہ افراد پر مشتمل جیل بھرو تحریک کے آخری جتھے کی قیادت کر رہے تھے۔ مولانا محمود مدنی نے مزید کہا کہ آر ایس ایس، بجرنگ دل، وشو ہندو پریشد جیسی تنظیمیں آئی ایس آئی کی ایجنٹ ہیں اور فرقہ پرستی کو بڑھاوا دے کر ملک کو کمزور ہی نہیں؛ بلکہ ملک سے غداری کا جرم بھی کر رہی ہیں، جس پر پابندی لگانا نہایت ضروری ہے۔ اگر ہندستان میں بسنے والے بیس کروڑ مسلمانوں کو انصاف اور ان کا دستوری حق نہیں دیا گیا اور آئے دن نت نئے الزام لگا کر اسلام و شعائر اسلام کے خلاف گستاخانہ و مذموم پرو پیگنڈہ اور ان کے ساتھ نانصافی کی روش جاری رہی، تو ملک کمزور ہوگا؛ کیوںکہ اگر وطن عزیز میں مسلمان امن و چین سے نہیں رہ سکیں گے، تو پھر ملک بھی سکون سے نہیں رہ سکتا۔

 مولانا مدنی نے پر جوش انداز میں کانگریس کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر تم چاہتے ہو کہ اس ملک میں گجرات جیسی سیاہ تاریخ -جو دنیا بھر میں مادر وطن کے لیے بدنامی کا باعث بنی ہے- اسے دوبارہ ملک کے کسی دوسرے حصے میں نہ دہرایا جائے، تو اپنی ریاستی حکومتوں میں مسلمانوں کے لیے ہر شعبہ ہائے زندگی میں ریزرویشن، فسادات پر تین گھنٹوں میں قابو نہ پانے والے حکام و انتظامیہ کے افسران کی خود بخود معطلی اور ان کی جان کا دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق معاوضہ، مالی نقصانات کی بھر پائی اور فرقہ پرست تنظیموں پر پابندی کا قانون بنائے، تا کہ اس ملک میں بسنے والی اقلیتوں کو یہ اطمینان ہو کہ کانگریس جو وعدہ کرتی ہے ،اسے پورا کرتی ہے اور مسلمانوں و دیگر اقلیتوں کے جان و مال کے تحفظ میں دل چسپی رکھتی ہے۔ پچھلے دنوں کا نگریس کے زیر انتظام ریاستوں میں فسادات ہوئے، جن میں مہاراشٹر سب سے آگے ہے۔ مالیگاؤں فسادات کے وقت ہم نے ضلعی حکام اور افسران کی معطلی ،یا کم سے کم ان کے ٹرانسفر پر بار بار توجہ دلائی، ہم سے وعدہ بھی کیا گیا؛ مگر معطلی تو بڑی بات، ان کا برائے نام ٹرانسفر کر کے انھیں مالیگاؤں میں ہی اسپیشل آفیسر برائے تحقیقاتی کمیشن بنا کر دوبارہ وہیں مقرر کر دیا، جس کی بنا پر مہاراشٹر میں فسادات کا سلسلہ برابر جاری ہے۔

 وزیر اعظم کی رہائش گاہ حالاںکہ ہائی سیکورٹی والے علاقہ میں ہے ؛لیکن تحریک کے جیالے رضا کار اپنے مجاہد کمانڈر کی رہنمائی میں جس عزم و حوصلہ کے ساتھ اس سیکورٹی کو نظر انداز کرتے ہوئے وزیر اعظم کی رہائش گاہ تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے، وہ منظر بڑاقابل دید تھا۔ سینکڑوں بسیں، دس ہزار سے زائد افراد کو لے کر اس علاقہ میں گھس گئیں اور سب لوگ وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر دھرنا دے کر بیٹھ گئے۔ شروع میں کچھ نعرے بھی لگائے گئے؛ مگر بعد میں قائدین کی ہدایت کی ہدایت پر ہر شخص کو درود پاک کا خاموشی کے ساتھ وارد کرتے ہوئے دیکھا گیا، جس سے وہ سیکورٹی افسران بھی متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ وہ جہاں جمعیت علمائے ہند کے ان رضا کاروں کی جرأت پر حیران تھے، وہیں دوسری طرف مظاہرین اور دھرنا دینے والوں کے خلاف کارروائی کی تیاریوں میں بھی مصروف تھے۔ مگر ہر افسر کی زبان پر صرف ایک ہی سوال تھا کہ ایسے پر امن اور پر سکون مظاہرین پر آخر کس طرح وہ کارروائی کریں۔ اس دوران کئی مرحلے ایسے بھی آئے، جب محسوس ہونے لگا کہ بعض بدطینت اور آر ایس ایس کے غلام افسران پر امن مظاہرین کے خلاف کوئی کارروائی کرنے والے ہیں ؛مگر آخرکار قائد ملت مولانا محمود مدنی کے اس انتباہ کے بعد کہ ہمیں جو کرنا تھا، وہ ہم کر چکے ہیں۔ اب جو آپ کرنا چاہیں، وہ کریں؛ مگر اس کے لیے جو نتائج ہوں گے، اس کی تمام تر ذمہ داری آپ کی اور حکومت کی ہوگی۔ افسران کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ تقریباً دو گھنٹے بعد وزیر اعظم ہاؤس کے افسران میں حرکت پیدا ہوئی اورانھوں نے پیشکش کی کہ وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر وجے گوئل سے گفتگو کے لیے ایک وفد وزیرا عظم ہاؤس آئے۔ چنانچہ جمعیت علمائے ہندکے محترم صدرا میرالہند مولانا مدنی مدظلہ -جو اس تحریک  کے روح رواں بھی ہیں-کی قیادت میںدس رکنی وفد نے -جس میں امیر الہندکے علاوہ مولانا محمود مدنی، حافظ محمد صدیق، مولانا نیاز احمد فاروقی، مولانا حیات اللہ قاسمی، مفتی محمد اشفاق اعظمی، مولانا عبدالحق گجرات، مولانا متین الحق اُسامہ کانپور، مولانا قاری شوکت علی اور جناب شیخ علیم الدین اسعدی شامل تھے -مسٹر گوئل سے ملاقات کی۔ مسٹر گوئل نے وفد کو یقین دلایا کہ جلد ہی وزیر اعظم سے آپ حضرات کے مطالبات پر تفصیلی گفتگو کی جائے گی۔

 مسٹر گوئل کی اس یقین دہانی کے بعد دھرنا ختم کرنے کا اعلان کر دیا گیا۔ تاہم امیر الہند مدظلہ نے یہ صاف کر دیا کہ اگر ہمارے مطالبات کو ٹالنے کی کوشش کی گئی اور ان پر سنجیدگی کے ساتھ غور نہ کیا گیا، تو ہم اس ملتوی شدہ تحریک کو دوبارہ شروع کریں گے اور اس وقت تک جاری رکھیں گے، جب تک حکومت ہمارے مطالبات کو تسلیم نہیں کرے گی۔ 

امیر الہند مدظلہ نے اخباری نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے وزیر اعظم کی طرف سے اپنی جائز مانگوں کا کوئی جواب نہ ملنے کے بعد ہی یہ قدم اُٹھایا۔ آج ملک میں دستوری حقوق کو پامال کیا جا رہا ہے۔ قانون اور امن کی حالت خراب ہے۔ فرقہ پرست طاقتیں عروج پرہیں۔ دلتوں، مسلموں پر ظلم ہو رہے ہیں۔ یہ سب بند ہونا چاہیے اور دنگوں کی ذمہ داری انتظامیہ پر ڈالی جانی چاہیے۔ اقلیتوں کے جان و مال کا معقول معاوضہ دیا جانا چاہیے اور مسلم فرقہ کو نوکریوں میں، تعلیم میں، فوج، پولیس میں، سیاست میں؛ یہاں تک کہ ہر شعبہ میں ریز رویشن دیا جانا چاہیے۔

 امیر الہند نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر موجود ہزاروں لوگوں کے ساتھ ملک و ملت کی سلامتی اوراپنے مطالبات کی کامیابی کے لیے دعا فرمائی، جس کے بعد پورا مجمع بسوں میں سوار ہو کر نظام الدین کالی مسجد کی طرف روانہ ہو گیا، جہاں ان کے قیام و طعام کا بندو بست تھا۔ (ہفت روزہ الجمعیۃ،25-31؍اکتوبر2002ء)

 گرفتاری

ملک و ملت بچاؤ تحریک کے آخری دن کے قائد مولانا محمود مدنی صاحب اور ان کے دیگر رفقا کو 27؍نومبر2006ء کو گرفتار کرکے تہاڑ جیل بھیج دیا گیا۔ بعد ازاں 11؍دسمبر 2006ء کو رہائی عمل میں آئی۔ تفصیلات کے لیے دیکھیے الجمعیۃ کی یہ مکمل رپورٹ:

مسلم مسائل؛ بالخصوص مسلمانوں کو ان کی آبادی کے تناسب سے تمام شعبہ ہائے زندگی میں ریزرویشن ،شہریوں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے جامع قانون اور مسلمانوں کی پس ماندگی کو دور کرنے اور مین اسٹریم میں لانے کے لیے ضروری اقدامات کرے جیسے مطالبات کو لے کر2؍ اکتوبر سے 15اکتوبر2002ء تک ملک وملت بچاؤ تحریک شروع کر کے گرفتاریاں دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ جب حکومت نے تیرہ دنوں تک کوئی توجہ نہیں دی، تو ہم نے استحصال زدہ مظلوموں کے حقوق و اختیارات پر گونگی بہری سرکار کو توجہ دلانے کے لیے تحریک کے آخری دن 15؍اکتوبر 2006ء کو وزیر اعظم ہاؤس پر دھرنا اور گرفتاریاں دیں۔ حکومت نے اس اقدام کو سیکورٹی کے مسئلے سے جوڑ کر جرم مانتے ہوئے خاکسار (مولانا محمود مدنی )سمیت دیگر خدام جمعیت علمائے ہند کے خلاف عدالت سے غیر ضمانتی وارنٹ جاری کر دیا۔

جب وارنٹ آیا، تو ہم ملت کی آواز کو بلند رکھنے اور اس کے مفاد میں عدالت سے ضمانت نہیں کرائی۔ نتیجتا27؍نومبر 2006ء کومولانا محمود مدنی صاحب کو دیگر ارکان جمعیت کے ساتھ 11؍ دسمبر 2006ء تک کے لیے تہاڑ جیل بھیج دیا گیا۔

 جیل جانے سے کچھ قبل میں (مولانا محمود مدنی )نے میڈیا کے سامنے اعلان کیا کہ ایک جمہوری اور آزاد ملک میں جائز مطالبات کو لے کر جد و جہد کرنا کوئی جرم نہیں ہے۔ اگر مظلوموں، محروموں کے حق کی لڑائی کوئی جرم ہے، ہم اس کو بار بار کریں گے اور اس کے لیے ہر سزا بھگتنے کے لیے تیار ہیں۔ 

پٹیالہ کورٹ میں پیشی پر بیان دیا کہ ہم نے کوئی جرم نہیں کیا ہے، اس لیے ضمانت بھی نہیں کرائیں گے۔ اس بیان کے بعدمولانا محمود مدنی کو ان کے دیگر رفقا: مولانا حیات اللہ قاسمی صدر جمعیت علمائے یوپی، مولاناقاری شوکت علی نائب صدر جمعیت علمائے یوپی، جناب حافظ محمد صدیق جنرل سکریٹری جمعیت علمائے یوپی اور سابق منسٹر یوپی، مولانا نیاز احمد فاروقی سکریٹری جمعیت علمائے ہند، شیخ علیم الدین اسعدی کے ساتھ11؍ دسمبر 2006 ء تک تہاڑ جیل بھیج دیا گیا۔ (سکریٹری رپورٹ، ص؍57-58۔ بموقع مجلس منتظمہ،5؍اپریل 2008ء)

سرکردہ افراد اور مسلم تنظیموں کا ردِّعمل 

مسلمانوں کے حقوق کی بازیابی کے لیے چلائی گئی تحریک پر ایف آئی آر درج کرنا اور پھر گرفتاری بہرحال اچھی بات نہیں کہی جاسکتی، جمہوری ملک میں ہر ایک کو احتجاج کا حق ہے اور حق چھیننا ناانصافی ہے۔ قانون کے اطلاق میں بہت ساری باتوں کا خیال رکھا جانا چاہیے۔ مولانا محمود مدنی کی گرفتاری پر مختلف شخصیات نے مذکورہ ردِّعمل کا اظہار کیا۔ 

جماعت اسلامی ہند کے اسسٹنٹ سکریٹری جنرل مجتبیٰ فاروق نے کہا کہ مسلمانوں کی اتنی بڑی تنظیم کے رہنما کے ساتھ یہ سلوک انتہائی تکلیف دِہ ہے۔ بہت بڑے بڑے مجرموں کے کیس خارج ہوئے ہیں۔ یہاں موضوع کو مدنظر رکھا جانا چاہیے تھا۔

مرکزی جمعیت علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا فضیل احمد قاسمی کا کہنا تھا کہ وہ تحریک حقیقت میں مظلوموں اور خصوصاً مسلمانوں کے حق میں تھی اور چوںکہ جمہوری حق کا استعمال کیا گیا تھا، اس لیے گرفتاری اور ایسے معاملے پر کیس درج کرنا ناانصافی ہے۔

 انسٹی ٹیوٹ آف اسلامک اسٹڈیز کے چیئر مین ڈاکٹر منظور عالم نے ردِّعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی پس ماندگی کی آواز حکومت کے ایوان تک پہنچانے کی وہ ایک کوشش تھی اور اس میں بظاہر کامیابی بھی ملی۔ جہاں تک معاملہ عدالت کا ہے، تو وہ حقائق اور شواہد پر کام کرتی ہے۔ ایک اچھا کام بھی اگر ممنوعہ علاقہ میں کیا جائے، تو بہرحال قانون کی فنکشننگ وہاں چالو ہوجاتی ہے۔ میں ان کے ذریعہ چلائی گئی تحریک کی قدر کرتا ہوں۔

مولانایاسین اختر مصباحی کا کہنا تھا کہ اگر انصاف کی طلب میں اُٹھایا جانے والا ان کا قدم خلافِ قانون نہیں تھا، تو ان کے ذریعہ دی جانے والی گرفتاری میں ان کی حکمت عملی ہوگی اور اس حکمت عملی کا بعد میں جو بھی نتیجہ ہو سامنے آئے گا۔ جہاں تک سوال مسلمانوں کی پس ماندگی اور ان پر مظالم کے خلاف آواز اُٹھانے کا ہے، وہ بہرحال جاری رکھنا چاہیے۔

مولانا سیّد عقیل الغروی نے کہا کہ انھیں جیل بھیجنا بڑے، افسوس کی بات ہے، اور میں تہہ دل سے اس کی مذمت کرتا ہوں۔ قانون کے نفاذ میں ہر پہلو کا لحاظ رکھا جانا چاہیے اور اس وقت مسلمانوں کے حقوق کے لیے اٹھائی گئی ان کی کوشش کے خلاف کیس بنانا اور بطور مجرم قانون کا ان پر اطلاق قانون کو غیر انسانی بنانے والی بات ہے۔

شاہی امام مولانا سیّد احمد بخاری نے مولانا محمود مدنی کو جیل بھیجے جانے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ فرقہ وارانہ فسادات اور ظلم و زیادتی کے خلاف احتجاج کرنے پر جو مقدمہ قائم کیا گیا تھا، ملک کی سیکولر سرکار نے اسے آج تک واپس نہیں لیا، جس کی وجہ سے وارنٹ گرفتاری جاری ہوا اور عدالت نے انھیں چودہ روز کے لیے جیل بھیج دیا۔ جمہوریت میں ظلم و زیادتی کے خلاف پرامن احتجاج واحد راستہ ہے اور مولانا محمود مدنی نے احتجاج کرنے کا پرامن راستہ اختیار کرکے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔ انھوں نے حکومت سے مانگ کی ہے کہ مولانا مدنی کے خلاف مقدمہ فوراً واپس لیا جائے اور مولانا کو باعزت رہا کیا جائے۔

شاہی مسجد فتح پوری کے امام ڈاکٹر مفتی محمد مکرم احمد نے مسلمانوں کے حقوق کے لیے وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر مظاہرہ کرنے کی پاداش میں مولانا محمود مدنی اور دیگر کے خلاف مقدمہ درج کیے جانے کی سخت مذمت کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ عوامی مسائل سے جڑے معاملے میں دھرنے، یا مظاہرے کرنا جمہوری حق ہے اور اس طرح کے معاملوں میں فوج داری کا مقدمہ درج کیا جانا قابلِ مذمت ہے۔ علمائے کرام کے ساتھ حکومت کا یہ رویہ تضحیک آمیز اور شرم ناک ہے۔ انھوں نے مرکزی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس سلسلے میں مداخلت کرکے مقدمہ واپس کرائے اور مولانا محمود مدنی کی باعزت رہائی کو یقینی بنائے۔

 آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن کمال فاروقی نے مولانا محمود مدنی کو چودہ دن کے لیے جیل بھیجے جانے پر اپنا ردّ عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ عدالتیں قانون کے مطابق فیصلہ لیتی ہیں؛ لیکن مرکزی حکومت چاہتی، تو یہ نوبت نہ آتی۔ یہ مقدمہ بی جے پی کی قیادت والی این ڈی اے حکومت کے دوران درج کیا گیا تھا، اس پر یوپی اے حکومت کو غور کرتے ہوئے اسے واپس لے لینا چاہیے تھا۔ مولانا محمود مدنی کو اس طرح سے جیل بھیجے جانے سے مسلمانوں میں حکومت کے تئیں اچھا پیغام نہیں گیا ہے۔

آل انڈیا مسلم ایکتا کمیٹی کے چیئرمین قاضی اکرام حسن نے مولانا محمود مدنی کے خلاف اس طرح کا مقدمہ درج کیے جانے کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ جمہوری طریقے سے اپنے حقوق کے لیے آواز اُٹھانے کی پاداش میں اس طرح کا مقدمہ درج کیا جانا حکومت کی بدنیتی کا واضح ثبوت ہے۔ مرکزی حکومت کو اس سلسلے میں فوری طور پر قدم اُٹھاتے ہوئے اس مقدمہ کو خارج کرا دینا چاہیے اور مولانا محمود مدنی کو باعزت طور پر رِہا کرنا چاہیے۔

جمعیت علمائے صوبہ دہلی کے نائب صدر عتیق صدیقی نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنے خصوصی اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے اس مقدمے کو واپس لے لے۔ انھوں نے مولانا مدنی کے اس بیان کی حمایت کی کہ مظلوموں کے حقوق کے لیے آواز اُٹھانا، مظاہرہ کرنا، یا گرفتاری دینا کوئی جرم نہیں ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بھی مولانا مدنی کو جیل بھیجے جانے پر احتجاج کیا ہے۔ بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا سیّد نظام الدین نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ ملک میں روزانہ مظاہرے ہوتے رہتے ہیں، اس میں توڑ پھوڑ بھی ہوتی ہے اور تشدد بھی ہوتا ہے، مگر پولیس کی طرف سے بہت شدت دیکھنے میں نہیں آتی۔ ملک میں امن و انصاف کو قائم رکھنے کے لیے ظلم و زیادتی کے خلاف اگر کوئی احتجاج کیا جاتا ہے، تو یہ ایک جمہوری حق ہے، یہ کوئی جرم نہیں۔ انھوں نے مانگ کی مقدمہ واپس لیا جائے اور مولانا اور ان کے رفقا کو جلد سے جلد رِہا کیا جائے۔

جمعیت علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کو گرفتار کرکے جیل بھیجے جانے کی خبر نے ان کے اپنے ضلع سہارنپور میں زبردست تناؤ پیدا کردیا ہے۔ اور بے شمار تنظیموں نے اس فیصلہ کے خلاف احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔قصبہ سرسادا میں جمعیت کے کارکنان سب سے زیادہ غصہ میں نظر آئے اور سرسادا میں حالات کسی بھی وقت ہنگامہ خیز ہوسکتے ہیں۔

مدرسہ مظاہر علوم وقف کے شیخ الحدیث علامہ عثمان غنی نے اس کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مظلوم کی مدد کرنا انسانیت کا فریضہ ہے۔ اگر کانگریس حکومت کی نگاہ میں مظلوموں کی طرف سے آواز اُٹھانا جرم ہے، تو ہم لوگ یہ جرم بار بار کرنے کو تیار ہیں۔ مولانا محمود مدنی نے اپنے دادا مولانا حسین احمد مدنیؒ اور اپنے والد مولانا اسعد مدنیؒ کی سنت پر عمل کیا ہے۔ کانگریس کی موجودہ بے حس لیڈر شپ کو مولانا حسین احمد مدنیؒ کی تاریخ کو بہت غور سے پڑھنا چاہیے کہ ہندستان کی آزادی میں ان کا کیا رول رہا ہے۔

مدرسہ مظاہر علوم جدید کے ترجمان مولانا محمد نے اس واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مدنی خاندان ہمیشہ ہی ظالم کے خلاف سینہ سپر ہوا ہے، خواہ اس کے لیے انھیں کتنی بھی قربانی کیوں نہ دینی پڑی ہوں۔

ضلع سہارنپور کی معروف دینی درس گاہ معہد اصغر ناظرپورہ کے سرپرست و بانی مولانا عبدالخالق مظاہری نے مولانا محمود مدنی اور ان کے رفقاکے خلاف اس مقدمہ اور اس کی پاداش میں اسیری کو ملک و ملت کے لیے ایک عظیم سانحہ قرار دیتے ہوئے مولانا مدنی کی جرأت و ہمت کی تعریف کی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مقدمہ کو فوراً واپس لے کر مولانا مدنی اور ان کے ساتھیوں کو فوراً رہا کرے۔

جامعہ اسلامیہ ریڑھی تاجپورہ کے مہتمم حضرت مولانا محمد اختر صاحب قاسمی نے مولانا مدنی اور ان کے رفقا پر مقدمہ قائم کرنے اور انھیں جیل بھیجنے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان کے آئین میں اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے آئینی حدود میں رہتے ہوئے احتجاج کرنا ملک کے ہر شہری کا دستوری حق ہے اور اگر جمعیت علمائے ہند اور اس کے کارکنوں نے یہ کیا ہے، تو یہ کوئی جرم نہیں ہے۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ مقدمہ فوراً واپس لیا جائے اور ان بے گناہ اسیروں کو رہا کیا جائے۔

آل انڈیا علما مورچہ کے صدر مولانا یاد الٰہی میرٹھی نے کہا کانگریس ہمارے ضبط کا امتحان نہ لے؛ کیوںکہ اگر ہمارے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا، تو ملک میں کانگریس کا کوئی نام لیوا بھی نہیں رہے گا۔

کیرانہ میں مولانا محمود مدنی کی گرفتاری پر کیرانہ اور قرب و جوار میں شدید ردعمل کا اظہار کیا گیا ہے۔ جمعیت علما کے شہر صدر مولانا قاری نعمت اللہ قاسمی نے کہا کہ کانگریس برسرِاقتدار آئی، تو اس معاملہ کو واپس لے سکتی تھی؛ لیکن نہیں لیا۔اس پارٹی نے یوپی انتخابات جیسے نازک اور حساس موقع پر اپنے ہی پیروں پر کلہاڑی ماری ہے۔ ہم تن من دھن سے اس نازک گھڑی میں جمعیت کے ساتھ ہیں۔ 

جمعیت علمائے ضلع میرٹھ کی ایک ہنگامی میٹنگ ضلع صدر غلام محمد مصطفی کی صدارت میں منعقد کی گئی، جس میںمولانا سیّد محمود مدنی کی گرفتاری پر گہرے رنج و الم کا اظہار کیا اور اسے حکومت کی سازش قرار دیا۔ 

جمعیت علمائے رامپور کے مقامی دفتر میں مولانا محمود مدنی کی گرفتاری پر اظہارِ غم کیا گیا۔ مقررین نے کہا کہ جس جرم میں مولانا کو جیل بھیجا گیا ہے ،اس میں مولانا اور ان کے ساتھیوں کا قصور صرف یہ تھا کہ مسلمانوں کی آواز اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری باجپئی کے کانوں تک پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ اسی پاداش میں ان پر مقدمہ قائم ہوا۔ عدالت نے ان سے کہا کہ وہ اپنی ضمانت کرالیں؛ لیکن انھوں نے اس وجہ سے انکار کردیا کہ جب انھوں نے کوئی جرم کیا ہی نہیں ہے، تو ضمانت کیوں کرائیں۔ (ہفت روزہ الجمعیۃ،8-14؍دسمبر 2006ء)

 رہائی 

11؍دسمبر2006ء کو آپ کی رہائی عمل میں آئی۔ اس سلسلے میں دیکھیے الجمعیۃ کی ایک مکمل رپورٹ:

جمعیت علمائے ہند کی تاریخ رہی ہے کہ اس نے ہمیشہ ظلم کے خلاف اور مظلوموں کے حق کے لیے آواز اٹھائی ہے اور یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ قوم کے لیے دو چار دن تو کیا؛ اگر دو چار، یا دس بیس سال بھی جیل میں رہنا پڑے، تو ہم اس کے لیے تیار ہیں۔ شیخ الاسلام مولانا سیّد حسین احمد مدنیؒ نے اپنی زندگی کے نو سال جیل میں گزار دیے تھے۔

 یہ بات تہاڑ جیل سے رِہا ہونے کے بعد مسجد عبدالنبی میں واقع جمعیت علمائے ہند کے صدر دفتر میں اپنے استقبال کے لیے جمع ہوئے جمعیت علمائے ہند کے سینکڑوں کارکنان سے خطاب کرتے ہوئے ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا محمود مدنی نے کہی۔ ان کے ساتھ جیل جانے والے دیگر پانچ افراد: حافظ صدیق سابق وزیر اُترپردیش اور جنرل سکریٹری جمعیت علمائے یوپی، مولانا حیات اللہ قاسمی صدر جمعیت علمائے یوپی، نیاز احمد فاروقی، قاری شوکت علی اور شیخ علیم الدین اسعدی بھی موجود تھے۔ 

واضح ہوکہ مرکزی حکومت نے 29؍نومبر کو اعلیٰ سطحی غور و خوض کے بعد جمعیت علمائے ہند کے جنرل سکریٹری اور راجیہ سبھا کے رکن مولانا محمود مدنی سمیت آٹھ افراد کے خلاف 15؍اکتوبر2002ء میں وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے باہر مظاہرے کے دوران سیکورٹی قوانین کی خلاف ورزی کرنے سے متعلق مقدمہ کو واپس لے لیاہے، جس کے بعد مولانا محمود مدنی سمیت تمام چھ افراد کو آج شام تہاڑ جیل سے رہا کردیا گیا۔

مولانا محمود مدنی نے اپنی تقریر میں مزید کہا کہ مسلمانوں کے مسائل کو حل کرنے اور انھیں ان کے واجب حقوق دیے جانے سے متعلق وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ کو جلد ہی ایک نوٹس بھیجا جائے گا، جس میں انھیں تیس دن کی مہلت دی جائے گی۔ اگر اس دوران حکومت نے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا، تو اس کے بعد جمعیت علمائے ہند پوری طاقت سے ملک و ملت بچاؤ تحریک چھیڑ دے گی۔ جمعیت جس بات کو سالوں سے کہتی آرہی ہے، اب خود حکومت کی تشکیل کردہ جسٹس سچر کمیٹی نے اپنی رپورٹ میں اس بات کو دلائل اور اعداد و شمار کے ساتھ ثابت کردیا ہے۔ہمارے لیے وہ ایشوز بہت اہم ہیں، جن کے لیے ہم جدوجہد کررہے ہیں اور اس کے لیے ہم کوئی بھی قربانی دینے کے لیے تیار ہیں۔ ہمارا جیل جانا اس کی ابتدا ہے۔ ان شاء اللہ جمعیت اور اس تحریک کے ذریعہ ملت کو عزت حاصل ہوگی۔

مولانا محمود مدنی کے خلاف دائر مقدمہ حکومت کے ذریعہ واپس لے لیے جانے کا آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکن کمال فاروقی نے خیرمقدم کرتے ہوئے کانگریس حکومت کے اس فیصلہ کی ستائش کی ہے کہ اس نے مسلمانوں کے جذبات کا پاس رکھتے ہوئے اور اس سلسلے میں فوری طور پر قدم اٹھاتے ہوئے مقدمہ کو واپس لے لیا اور مولانا محمود مدنی سمیت تمام چھ افراد کی باعزت رہائی کی راہ ہموار کی۔

اس سے پہلے 27؍نومبر کو عدالت سے ضمانت نہ کرانے پر مولانا محمود مدنی سمیت چھ افراد کو حراست میں لے کرچودہ دنوں کے لیے تہاڑ جیل بھیج دیا گیا تھا، جب کہ دیگر دو ملزمان عدالت میں پیش نہیں ہوسکے تھے۔ دو بجے دن میں مولانا دیگر ملزمان کے ساتھ پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں میٹرو پولیٹن مجسٹریٹ سنجے بنسل کی عدالت میں پیش ہوئے۔ چوںکہ ملزمان کی طرف سے ضمانت کی عرضی عدالت میں پیش نہیں کی گئی، اس لیے مجسٹریٹ نے انھیں تحویل میں لے کر جیل بھیج دیا۔ تھانہ چانکیہ پوری، نئی دہلی میں دفعہ 188کے تحت درج یہ معاملہ 17؍اکتوبر 2002ء کو دائر ہوا۔ درج ایف آئی آر نمبر (268/02)کے مطابق ملزمان نے 15؍اکتوبر2002ء کو سابق وزیر اعظم ہند اٹل بہاری باجپئی کی سرکاری رہائش گاہ کے سامنے دھرنا، مظاہرہ اور گرفتاریاں دی تھیں۔ عدالت میں پیش ہونے والوں میں مولانا سیّد محمود مدنی، سابق ممبر پارلیمنٹ حافظ محمد صدیق، محمد نیاز فاروقی، محمد حیات اللہ قاسمی، قاری شوکت علی اور علیم الدین اسعدی شامل تھے۔ دیگر ملزمان محمد متین الحق اُسامہ اور قاری اشفاق احمد عدالت میں پیش نہیں ہوئے، جب کہ ملزان میں شامل جمعیت علمائے ہند کے سابق سرپرست و صدر امیر الہند حضرت مولانا اسعد مدنیؒ کا انتقال ہوچکا ہے۔

عدالت میں مولانا محمود مدنی اپنے سابقہ موقف پر اٹل رہے۔ انھوں نے کہا کہ جب ہم نے جرم کیا ہی نہیں ہے، تو پھر ضمانت کی عرضی کا کیا مطلب۔ انھوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں فرقہ وارانہ فسادات اور ان فسادات میں منصوبہ بند طریقے پر مسلمانوں کے جانی و مالی نقصانات، علاوہ ازیں آزادی سے اب تک کے ساٹھ برسوں میں اقلیتوں اور خصوصاً مسلمانوں کے ساتھ مسلسل ناانصافی کے خلاف اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری باجپئی تک اپنی آواز پہنچانے کے لیے ہم نے ان کی رہائش گاہ پر دھرنا و گرفتاریاں دی تھیں۔ انھوں نے بتایا کہ ہم نے اس وقت ’’ملک و ملت بچاؤ تحریک‘‘ کے تحت ملک گیر پیمانے پر مہم چلاکر دھرنا، مظاہرہ اور گرفتاریاں دی تھیں۔ دس دنوں کی مہم کے دوران لاکھوں لوگوں نے احتجاج کیا تھا،جب کہ 15؍اکتوبر2002ء کو وزیر اعظم کی رہائش گاہ پر مظاہرے میں تقریباً بارہ ہزار کارکنان شریک ہوئے تھے۔ انھوں نے پھر کہا کہ مظلوموں اور پس ماندہ عوام کو انصاف دلانے کے لیے آواز بلند کرنا اگر جرم ہے، تو یہ جرم ہم نے کیا ہے اور ہم بار بار کرتے رہیں گے۔ مولانا محمود مدنی نے کہا کہ ہم نے آئین ہند میں ملے حقوق کے تحت جمہوری طریقے پر مظاہرہ و احتجاج کیا تھا، پھر یہ جرم کیسے ہوگیا۔ مجسٹریٹ کے ذریعہ 11؍دسمبر تک چودہ دِنوں کی جیل کے حکم کے بعد عدالت کے سامنے موجود مولانا کے حامیوں اور جمعیت علمائے ہند کے کارکنان نے نعرے بازی شروع کردی اور کافی دیر تک یہ معاملہ جاری رہا۔ بعد ازاں حامیوں نے تلک مارگ کو کافی دیر تک جام بھی رکھا۔ ان کا مطالبہ تھا کہ مولانا کو اگر جیل ہی لے جانا ہے، تو عام مجرموں کی گاڑی میں نہ لے جائیں؛ لیکن جب انھیں پولیس نے سمجھایا کہ اس گاڑی میں ان کے معیار کا خانہ ہے، تو پھر جام کھول دیا گیا۔

 ادھر موقع پر موجود جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا سیّد ارشد مدنی کا کہنا تھا کہ ظلم کے خلاف احتجاج کو بھی جرم بنا دیا گیا۔ ہم نے پُرامن اور آئین کے مطابق احتجاج اور جیل بھرو تحریک چلائی تھی اور تحریک کے آخری دن اسے جرم بنا دیا گیا۔ واضح رہے کہ25 ؍ نومبر کو غیر ضمانتی وارنٹ کے بعد عدالت میں پہلی پیشی ہوئی تھی اور میٹروپولٹین مجسٹریٹ رویندر بیدی نے 27؍نومبر کو عدالت میں حاضر ہونے کا حکم سنایا تھا۔ اس معاملے میں مولانا محمود مدنی کے وکیل تنویر خاں اور محمد طیب خاں تھے۔

دریں اثنا جمعیت علمائے ہند کے محترم صدر حضرت مولانا سیّد ارشد مدنی مدظلہ‘ نے مولانا محمود مدنی کی گرفتاری کے بعد پیدا ہوئی صورت حال پر کہا کہ پُرامن احتجاج اور اپنے حقوق کے لیے پرامن مظاہرہ کرنا ہر ہندوستانی شہری کا بنیادی حق ہے۔ اسی ضمن میں 15؍اکتوبر2002ء کو جمعیت علمائے ہندکے ہزاروں کارکنان ملّی اور قومی مسائل کے سلسلہ میں اپنے مطالبات اور اپنی آواز کو وزیر اعظم مسٹر باجپئی کے کانوں تک پہنچانے کے لیے ان کی رہائش گاہ کے باہر پرامن احتجاج کرنے کے لیے جمع ہوئے تھے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس معمولی واقعہ کو پولیس و انتظامیہ نے ایک سنگین کیس بنا ڈالا۔ 27؍نومبر 2006ء کو عدالت کی جانب سے جمعیت علمائے ہند کے اہم ذمہ داران کے خلاف وارنٹ جاری کردیے گئے اور عدالت میں پیش ہونے پر ان تمام کو گرفتار کرلیا گیا، جس میں ناظم عمومی مولانا محمود مدنی اور ناظم اعلیٰ اُترپردیش حافظ محمد صدیق بھی شامل ہیں۔ جمعیت علمائے ہند نے ہمیشہ امن و آشتی اور اخوت و بھائی چارے کی تبلیغ و تلقین کی ہے۔ ہم دستور اور قانون کی پاسداری کرنے والے لوگ ہیں۔ ہنگامہ خیزی صورت حال کو مزید نقصان دہ بنا سکتی ہے۔ اس لیے انھوں نے تمام مسلمانوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ہنگامی صورت حال پیدا نہ ہونے دیں اور قانونی لڑائی لڑیں۔

اس سلسلہ میں 28؍نومبر کو جمعیت علمائے ہند کے ایک وفد نے مرکزی وزیر داخلہ شیو راج پاٹل سے ملاقات کی اور انھیں مولانا محمود مدنی سمیت آٹھ افراد کے خلاف دائر مقدمے اور اُس کی پاداش میں جاری غیر ضمانتی وارنٹ کے سبب ان کو چودہ دن کے لیے تہاڑ جیل بھیجے جانے کے بارے میں تفصیل سے بتایا۔جمعیت علمائے ہند کے ترجمان مولانا عبدالحمید نعمانی کے مطابق وفد کی پوری بات سننے کے بعد وزیر داخلہ نے انھیں اشارہ دیا کہ مولانا مدنی جلد رہا کردیے جائیں گے اور ان کے خلاف دائر مقدمے کو بھی واپس لے لیا جائے گا۔ انھوں نے وفد سے بات چیت کے دوران یہ بھی کہا کہ انھیں اس مقدمے کے بارے میں کوئی علم نہیں تھا۔

معتبر اطلاعات کے مطابق جیسے ہی مرکزی حکومت کے علم میں مولانا محمود مدنی اور ان کے رفقاء پر مقدمہ اور ان کو تہاڑ جیل میں بھیجنے کی خبر لائی گئی سرکاری حلقوں میں ایک ہیجان بپا ہوگیا۔ وزیر داخلہ نے وزیر اعظم اور مسز سونیا گاندھی سے رابطہ قائم کیا اور ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ میں اس مقدمہ کو واپس لینے کا فیصلہ لیا گیا، جس کے بعد 29؍نومبر کو عدالت میں اس مقدمہ کی واپسی کی درخواست دی گئی، جسے منظور کرتے ہوئے فاضل میٹروپولٹین مجسٹریٹ سنجے بنسل نے ان تمام لوگوں کو جیل سے فوراً رہا کرنے کا حکم صادر کردیا۔ جیل کے حکام نے بھی فوراً عمل کرتے ہوئے شام کو ۵بجے ان جملہ افراد کو جیل سے رہا کردیا۔ رہائی کے بعد پہلے تہاڑ جیل کے گیٹ پر اور پھر جمعیت علمائے ہند کے مرکزی دفتر میں پرجوش اور شان دار استقبال کیا گیا۔

اپنی رہائی کے بعد جمعیت علمائے ہند کے مرکزی دفتر میں منعقدہ استقبالیہ تقریب میں ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا سیّد محمود مدنی مدظلہ‘ نے صاف صاف اعلان کیا کہ:

’’جمعیت علمائے ہند نے ہمیشہ ہی مظلوموں اور محروم لوگوں کے حق کے لیے لڑائی لڑی ہے اور ان شاء اللہ یہ سلسلہ مستقبل میں بھی جاری رہے گا۔ ملت کے لیے دوچار دن نہیں؛ بلکہ دوچار دس بیس برس بھی ہمیں جیل میں رہنا پڑے، تو ہم اس کے لیے دل و جان سے تیار ہیں۔‘‘

مولانا سیّد محمود مدنی نے ایک بار پھر اعلان کیا کہ مظلوم و مقہور اقلیتوں؛ بالخصوص مسلمانوں کے حقوق کی ضمانت کے لیے وہ بڑی سے بڑی طاقت کا مقابلہ کرنے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ اور اگر پھر ضرورت پڑی، تو وہ کسی نقصان یا تکلیف کی پرواہ کیے بغیر بڑے سے بڑے لیڈر کے دروازے پر دستک دینے سے گریز نہیں کریں گے ،خواہ اس کے لیے کسی بھی آزمائش سے کیوں نہ گزرنا پڑے۔ (ہفت روزہ الجمعیۃ،8-14؍دسمبر2006ء)

خلاصہ یہ کہ آپ کل چودہ دن جیل میں رہے۔