سینتیسواں سال:1955ء
2؍ جنوری 1955ء کو زبان کو سیاسی مسئلہ بنانے پر افسوس کا اظہار کیا۔
4؍ جنوری 1955ء کو جمعیت کے تحقیقاتی وفد نے رام پور فساد کی رپورٹ میں پولیس کی انتقامی کارروائی کا انکشاف کیا۔
5؍جنوری1955ء کو کسٹوڈین کے مسائل سے متعلق وزیر اعظم ہند پنڈت جواہر لال نہرو کو مکتوب لکھ کر انھیں حل کرانے کی کوشش کی۔
5؍جنوری1955ء کو دینی تعلیمی کنونشن کے ایجنڈے جاری کیے گئے۔
6؍جنوری1955ء کو پنجاب کی ایک مسجد کی بحالی کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو مکتوب روانہ کیا گیا۔
8،9،10؍ جنوری 1955ء کو ممبئی میں کل ہند دینی تعلیمی کنونشن منعقد ہوا، جس میں مختلف العقائد علما نے مل کر متفقہ طور پر ’’مرکزی دینی تعلیمی بورڈ‘‘ قائم کیا۔ علاوہ ازیں ہر مکتب خیال کے مطابق نصاب تعلیم مرتب کرنے، استاد وںاور استانیوں کی ٹریننگ کا فیصلہ کیا۔
10؍جنوری 1955ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں الجمعیۃ،گوشوارۂ آمدو صرف، ناظموں کا تقرر اور حاجیوں کو مستقل طور پر انکم ٹیکس سرٹیفیکٹ سے مستثنیٰ قرار دینے کے مطالبے پر بحث و فیصلے ہوئے۔
14؍جنوری1955ء کوعازمین حج کو انکم ٹیکس سرٹیفیکٹ سے مستقل طور پر مستثنیٰ قرار دیا گیا، جس میں جمعیت علمائے ہند کی کوششیں شامل تھیں۔
سات سال گذر جانے کے باوجود مسلمانوں کی نکاسی جائداد کے مصائب پر 14؍ جنوری 1955ء کو وزیر اعظم پنڈت نہرو کو مکتوب لکھا گیا۔
یکم فروری1955ء کو اٹھارھویں اجلاس عام کے ایجنڈے جاری کیے گئے۔
11،12،13؍ فروری 1955ء کو کلکتہ میں، مجلس عاملہ،مجلس منتظمہ اور اٹھارھواں اجلاس عام کیا گیا، جس میںصدر کا انتخاب،لینڈ ایکویزیشن بل، صوبائی جمعیتوں کو متحرک و فعال بنانے کے فارمولے،اجتماعی فتویٰ صادر کرنے کے لیے ایک بورڈ کی تشکیل کی تجویز،مذہبی عقائد کے خلاف پرارتھنا میں شرکت کا معاملہ،نصاب قرآن کی تحسین کی تجویز، یوپی میں گاؤ کشی کی ممانعت کا مسئلہ،یوپی میں اردو کو ثانوی زبان تسلیم کرنے کا مطالبہ،حکومت مغربی بنگال سے مقبوضہ مساجد کو واگزار کرانے کا مطالبہ،نکاسی جائداد قانون کو منسوخ کرنے کی تحسین،مسلم تہواروں پر چھٹی کی وضاحت کا مطالبہ،فسادات میں اجڑے مسلمانوں کی بازآباد کاری کا مطالبہ اور تجاویز تعزیت منظور کی گئیں۔
15؍فروری 1955ء کووزیر بحالیات کی طرف سے مکتوب کا جواب دیا گیا اور کسٹوڈین کے متعلق کی گئیں شکایات پر ایکشن لینے کا وعدہ کیا گیا۔
28؍فروری1955ء کو اخبار الجمعیۃ سے متعلق صورت حال واضح کرتے ہوئے وزیر اعظم ہند کو مکتوب لکھا گیا۔
کرنال چنڈی گڑھ میں واقع ایک گاوں پپلی کی ایک مسجد پر کیے گئے ناجائز قبضے سے آزاد کرانے کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب کو مکتوب روانہ کیاگیا۔
جمعیت کی کوشش رنگ لائی اور حکومت ممبئی نے 5؍ مارچ 1955ء کو لینڈ ایکویزیشن بل پر روک لگادی ۔
11؍مارچ 1955ء کو افسران کو مکتوب لکھ کر گھوسیوں کے مسائل کو حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
21؍مارچ 1955ء کومرکزی دینی تعلیمی بورڈ کے قواعد و ضوابط شائع کیے گئے۔
30؍ مارچ 1955ء کو الجمعیۃ پریس کا افتتاح کیا گیا۔
30،31؍ مارچ 1955ء کو مرکزی دینی تعلیمی بورڈ کا اجلاس ہوا، جس میں بورڈ کے متعلق دس اہم فیصلے کیے گئے۔
یکم اپریل1955ء کو نیپال کے متعلق الجمعیۃ میںشائع ایک خبر کے حوالے نے حکومت کے اعتراض جتایا۔
7؍اپریل1955ء کو اس کا وضاحتی جواب دیا گیا۔
9؍اپریل1955ء کو محکمۂ کسٹوڈین کے نسٹوں پر ایک عرض داشت پیش کی گئی۔
15؍ اپریل 1955ء کو روسی علما کو عصرانہ دیا گیا۔
5؍مئی1955ء کو حیدرآباد کے مسلمانوں کے متعلق مرکزی حکومت کی ایک رپورٹ کے تعلق سے امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزاد علیہ الرحمہ کو ایک مکتوب ارسال کیا گیا۔
22؍ مئی کو حضرت شیخ الاسلامؒ کی جانب سے اہل وطن کو عید کی مبارک باد پیش کی گئی۔
2؍ جون 1955ء کو کل ہند سطح پر جمعیت کی ممبرسازی کے لیے ایک اہم سرکلر جاری کیا گیا۔
2؍جون1955ء کو وزیربحالیات کی طرف سے جوابی مکتوب موصول ہوا، جس میں کسٹوڈین سے متعلق شکایات کے ازالے کا وعدہ کیا گیا۔
5؍ جون 1955ء کو کل ہند دینی تعلیمی بورڈ کی انتظامی مجلس کے اجلاس میں سات اہم فیصلے لیے گئے۔
8؍جون1955ء کو کسٹوڈین سے متعلق چند اصلاحات کی سفارشات پیش کی گئیں۔
21؍جون1955ء کو آسامی مسلمانوں کے مسائل سے متعلق حکومت آسام کو مکتوب روانہ کیا گیا۔
6؍ جولائی 1955ء کو حسب سابق ہندستان کے ساتھ کشمیر کے الحاق کی حمایت کی گئی۔
12؍ جولائی 1955ء کو جمعیت کی کوشش سے حج کوٹہ میں پندرہ فی صدی کا اضافہ کیا گیا۔
14؍ جولائی 1955ء کو وزیر اعظم سے ملاقات کرکے بیرونی ملک کے کامیاب دورے پر مبارک باد پیش کی گئی۔
حجاز مقدس میں سخت گرمی کے باعث حاجیوں؛ بالخصوص حضرت شیخ الاسلامؒ کی راحت رسانی کے لیے18؍ جولائی 1955ء کو سعودی حکومت سے درخواست کی گئی۔ چنانچہ سعودی حکومت نے اسپیشل انتظامات کیے۔
22اور23؍ جولائی 1955ء کو گوا کی غلامی کو ہندستان کے لیے توہین قرار دیتے ہوئے جلد آزاد ہونے کی پیش قیاسی کی۔
3؍ اگست 1955ء کو جمعیت کے مطالبہ پر اسسٹنٹ کسٹوڈین کو سرونج پہنچنے کی ہدایت جاری کی گئی۔
4؍ اگست 1955ء کو حضرت مجاہد ملتؒ کی کوششوں سے درگاہ اجمیر شریف بل منظور کیا گیا۔
7؍ اگست 1955ء کو جمعیت کے مطالبے پر گجرات مویشی تاجروں کے اضافی بکنگ کی سہولت فراہم کی گئی۔
16؍ اگست 1955ء کو گوا کی آزادی کے لیے ستیہ گرہ کر رہے ستیہ گرہوں پر پرتگالیوں کے مظالم کی مذمت کی۔
22؍اگست1955ء کو سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب نائب صدر جمعیت علمائے ہند نے دو ٹوک اعلان کیا کہ کشمیر ہندستان کا حصہ ہے۔
28؍ اگست 1955ء کو گوا کی آزادی کی تحریک میں پرجوش حصہ لینے پر طلبۂ مسلم علی گڑھ کی حوصلہ افزائی اور ان کے لیے مالی تعاون کی اپیل کی۔
9؍ ستمبر1955ء کو حضرت سحبان الہند پر قاتلانہ حملہ ہوا، لیکن بحمد اللہ وہ محفوظ رہے۔
11؍ ستمبر 1955ء کو کوٹہ فساد پر جمعیت کی تحقیقاتی وفد نے رپورٹ پیش کی۔
12؍ستمبر1955ء کو پیپسو اوقاف سے متعلق وزیر داخلہ حکومت ہند کو مکتوب لکھ کر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
13؍ ستمبر 1955ء کو لوک سبھا میں حضرت مجاہد ملتؒ نے شرنارتھیوں کے لیے معاوضہ کے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بے گھروں کے دلوں پر مرہم رکھنے کی ضرورت ہے۔
16؍ستمبر1955ء کو مرادآباد کی ایک مسجد کے تحفظ کے حوالے سے کلکٹر کو مکتوب لکھا گیا۔
17؍ستمبر1955ء کو مجلس عاملہ کی نئی نام زد فہرست جاری کی گئی۔
20؍ستمبر1955ء کو مظفر نگر کے ایک قبرستان پر ناجائز قبضے کے پیش نظر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو مکتوب لکھا گیا۔
30؍ ستمبر 1955ء کو کوٹہ فساد پر کلکٹر کو فون کرکے حالات پر کڑی نگاہ رکھنے کا مطالبہ کیا۔
2؍اکتوبر1955ء کومرادآبا دکی منہدم کردہ مسجد کی تعمیر جلد از جلد مکمل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
8،9؍ اکتوبر 1955ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں تجاویز تعزیت کے علاوہ سیلاب متأثرین کے ساتھ اظہار ہمدردی،تربیتی سینٹر کا قیام،غیر معیاری نصابی کتابوں پر اظہار افسوس، مقبوضہ اوقاف کی واگزاری، تربیتی مرکز کا قیام،یوپی سنی وقت ایکٹ 1936ء پر غور،تعارفی لٹریچر کی اشاعت اورشعبۂ تعلقات و روابط ممالک خارجہ کے قیام کی تجویز پر بحث و گفتگو ہوئی۔
15؍ اکتوبر 1955ء کو کاس گنج میں ہوئے فسادات پر مرکزی و صوبائی تحقیقاتی وفد نے اپنی رپورٹ پیش کی۔
17؍اکتوبر1955ء کو کسٹوڈین کے مظالم کے خلاف وزیر اعظم ہند کو مکتوب لکھ کر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
21؍اکتوبر1955ء کو پیپسو اوقاف سے متعلق حکومت کا وضاحتی مکتوب موصول ہوا۔
26؍اکتوبر1955ء کوپنجاب کے ایک قبرستان پر ناجائز قبضے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیاگیا۔
14؍ نومبر 1955ء کو وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی عمر دراز کے لیے دعا کی گئی۔
19؍نومبر1955ء کوقبرستان کی زمین سے متعلق وزیر پنجاب کو مکتوب بھیجا گیا۔
27؍نومبر1955ء کو شاہ سعود کی ہندستان آمد پر ہوائی اڈے پر پھولوں سے استقبال کیا گیا۔
29؍ نومبر 1955ء کو تال کٹورہ گارڈن میں جلالۃ الملک شاہ سعود صاحب فرما رائے سلطنت سعودی عرب کی آمد پر تقریب استقبالیہ رکھا گیا ، جس میں ایک سپاس نامہ بھی پیش کیا گیا۔
5؍دسمبر1955ء کو مرکزی دینی تعلیمی بورڈ کا ایک اعلامیہ جاری کیا گیا۔
17؍دسمبر1955ء کومذہبی مقامات کی مسماری کو روکنے کی گذارش کی گئی۔
22؍دسمبر1955ء کو اشوتی گاوں کے قبرستان کے معاملہ میں مکتوب لکھا گیا۔
23؍ دسمبر 1955ء کو لوک سبھا میں بہار ، یوپی اور دہلی میں اردو کو علاقائی زبان تسلیم کرنے کا مطالبہ پیش کیا۔
26؍ دسمبر1955ء کو مجلس انتظامی دینی تعلیمی بورڈ کے اجلاس میں بیسک مذہبی تعلیم کے بارے میں اہم فیصلے کیے۔