Showing posts with label فلسفہ اسلام. Show all posts
Showing posts with label فلسفہ اسلام. Show all posts

26 Jan 2026

کائنات عالم کا فطری نظام فلسفہ اسلام قسط سوم

 تمہید چہارم: کائنات عالم کا فطری نظام 

یہ امر مسلم ہے کہ دنیا و جہان میں بڑا سے بڑا اور چھوٹا سے چھوٹا جو بھی کام ہوتا ہے، اس کا کرنے والا درحقیقت خالق کائنات کی ذات ہوتی ہے؛ یہ الگ بات ہے کہ یہ دنیا دارالاسباب ہے اور اس کا بیشتر کام اسباب کے پردے سے ہی ظاہر ہوتا ہے، لیکن چوں کہ ان اسباب کا خالق بھی خالق کائنات ہی ہے، اس لیے ان امور کا حقیقی خالق بھی اللہ تعالیٰ کی ہی ذات ہوگی۔مثال کے طور پر کھانا کھانے میں بھوک مٹانے کی تاثیر ہے، توبھوک کو ختم کرنے کا سبب گرچہ کھانا کھانا ہے، لیکن کھانے میں یہ تاثیر اللہ تعالیٰ نے پیدا کی ہے، لہذا یہاں یہی فیصلہ کیا جائے گا کہ درحقیقت یہ بھوک اللہ تعالیٰ نے ختم کی ہے، گرچہ اس کا ظاہری سبب اس کا کھانا کھالینا ہے۔یہ باتیں گرچہ انتہائی واضح اور بدیہی ہیں، تاہم ان پر دلائل عقلیہ و نقلیہ دونوں موجود ہیں۔

دلائل عقلیہ

 دلائل عقلیہ تو بے شمار ہیں: آگ میں جلانے کی تاثیر، زمین میں بیج ڈالنے سے غلہ پیدا ہونے کا عمل ، پودوں کی جڑوں میں پانی ڈالنے سے پھلوں میں مٹھاس، پھولوں میں رنگت اور پتوں میں ہریالی ؛ یہ سب قدرت کی اشیا میں تاثیر رکھنے کی کرشمہ سازیاں ہیں۔ اللہ پاک نے جن چیزوں میں جس طرح کی صلاحیتیں رکھیںہیں، ان سے اسی طرح کے نتائج پیدا ہوں گے، تاہم یہ ان کی اپنی ذاتی صلاحیت نہیں ہے؛ کیوں کہ اگر معاملہ ایسا ہوتا ، تو حضرت ابراہیم علیہ السلام جس آگ میں پھینکے گئے تھے، اس میں جل کر بھسم ہوجاتے، لیکن تاریخ شاہد ہے کہ ایسا نہیں ہوا۔ بہت سارے مواقع میں دیکھنے میں آیا ہے کہ درخت سے گرگیا،کارکا زبردست ایکسیڈینٹ ہوگیا، اس کو مرجانا چاہیے تھا، لیکن پھر بھی نہیں مرا، اس کو ذرا سا بھی نقصان نہیں پہنچا ؛یہ سب کیا ہے؟ ۔ ظاہر سی بات ہے کہ اس کا جواب اس کے لیے علاوہ کچھ اور نہیں ہوسکتا کہ مشیت ایزدی میں ایسا ہونا نہیں تھا، اس لیے نہیںہوا؛ اگر اسباب ہی فاعل محض ہوتا تو نتیجہ اس کی تاثیر کے خلاف کبھی نہیں آتا، لیکن ان اسباب کے پیچھے ایک غیبی نظام کارفرما ہوتا ہے، اس لیے اس تسلیم کے علاوہ کوئی اور چارۂ کار نہیں ہے کہ اللہ ہی ہر فعل کا فاعل حقیقی اور مؤثر محض ہے، لیکن اس نے چوں کہ اس کائنات کے نظام کا دارومدار اسباب پر رکھا ہے، اس لیے یہاں کے کام اسباب کی تاثیرات اور صلاحیتوں کے مطابق وقوع پذیر ہوںگے۔

دلائل نقلیہ

حضرت عبداللہ ابن سلام رضی اللہ عنہ نے حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ بچہ کبھی باپ کے مشابہ ہوتا ہے اور کبھی ماں کے، ایسا کیوں ہوتا ہے؟ تو سرکار دو عالم ﷺ نے بتایاکہ :

فإذا سبَقَ مائُ الرجلِ مائَ المرأۃِ نزعَ الولدَ، وإذا سبق مائُ المرأۃِ مائَ الرجلِ سبقت الولدَ (البخاری، کتاب:المناقب، باب: کیف اٰخیٰ النبی ﷺ بین أصحابہ)

جب مرد کا پانی عورت کی پانی پر سبقت حاصل کرلیتا ہے، تو بچہ مرد کے مشابہ ہوتا ہے، اور جب عورت کا پانی مرد کے پانی پر سبقت پالیتا ہے، تو عورت مشابہت کھینچ لیتی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بچوں میں خاندانی مشابہت مادہ میں رکھی ہوئی مشابہت کی صلاحیت کی بنیاد پر پائی جاتی ہے۔ایک دوسری حدیث میں ہے کہ 

إنَّ اللہَ خلق اٰدمَ مِن قبضۃِِ قبضھا مِن جمعِ الأرضِ ، فجائَ بنو آدم علیٰ قدرِ الأرضِ، فجاء منھم الأحمرُ والأبیض،والأسودُ، و بینَ ذٰلک،السھل والحزن والخبیث والطیب۔ (سنن الترمذی، تفسیر القرآن عن رسول اللہ ﷺ ، و من سورۃ البقرۃ)

اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو مٹی کی ایسی مٹھی سے پیدا کیا، جس میںپوری روئے زمین کی مٹی شامل کی گئی ہے، لہذا آدم کی اولاد مٹی کی مختلف قسموں کی طرح وجود میں آئی ہے، کوئی مٹی لال ہوتی ہے، کوئی سفید اور کوئی دیگر ، اسی اعتبار سے اولاد آدم کی رنگت اور شکل و صورت بھی مختلف ہے۔ کوئی کالا ہے،کوئی گورا ہے۔ کوئی سرخ ہے اور کوئی درمیان درمیان۔ کوئی ان میں سے نرم خو ہے اور کوئی سخت مزاج۔ کسی کی سرشت میں خباثت پائی جاتی ہے اور کوئی نیک اور صالح ۔تو انسانوں میں رنگ کا ظاہری تفاوت اور اخلاق کا باطنی اختلاف کا سبب یہی ہے کہ ان کی خمیر میں جس صلاحیت و تاثیر کی مٹی شامل ہے، وہ ویسا ہی ہے۔المختصر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ سے مختلف چیزوں میں مختلف صلاحیتیں رکھ دی ہیں اور انھیں صلاحیتوں کے مطابق وہ کام انجام پاتے ہیں اور چوں کہ ان تاثیرات کا خالق خود خدائے پاک ہے، لہذا اسباب کے پردے سے جو کام ہوں گے، اس کا خالق حقیقی بھی خالق کائنات ہی ہوگا۔

تکلیف شرعی اور جزا و سزا کے اسباب ۔ فلسفہ اسلام قسط دوم

 تکلیف شرعی اور جزا و سزا کے اسباب 

ایک انسان کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ جب پوری کائنات اور کائنات کا ذرہ ذرہ خدا تعالیٰ کی ہی مخلوق ہے، تو پھر کیوں صرف انسان ہی کواللہ تعالیٰ کے تمام احکامات کا پابند ہونا پڑتا ہے؟ ایسا کیوں ہے کہ انسان جو بھی عمل کرتا ہے اچھا یا برا ، اس کا بدلہ اس کو دیا جائے گا؟ یہ قانون خدا تعالیٰ کی دیگر مخلوق پر لاگو کیوں نہیں ہے؟ مختصر الفاظ میں اس طرح کہ سکتے ہیں کہ شریعت کا مکلف صرف انسان کو کیوں بنایاگیا ہے؟۔

اس باب میں ہم اسی سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش رہے ہیں۔

اس کے جواب کو سمجھنے کے لیے پہلے چند تمہیدی باتیں سمجھنی ہوں گی:

تمہید اول

(۱)  اللہ تعالیٰ کی بہت سی صفتیں اور بے شمار اسمائے حسنٰی ہیںاور ہر صفت کا دائرہ ٔ کار الگ الگ ہے، مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ کی ایک صفت غفور ہے ، اس کا تعلق صرف مومن بندوں کے ساتھ ہے۔ اللہ تعالیٰ شرک کی مغفرت نہیں کرے گا۔ اسی طرح ایک صفت منتقم کی ہے، اس کا تعلق مشرک کے ساتھ ہے ، ایمان والوں کے ساتھ نہیں ہے۔اسی طرح اس دنیا و جہان کی تخلیق اللہ تعالیٰ کی تین صفات کی کرشمہ سازی ہے اور یہ تینوں صفتیں علیٰ الترتیب کام کرتی ہیں۔ ان کو ابداع، خلق اور تدبیر کہاجاتا ہے۔

ابداع کی تعریف و تشریح

ابداع کے معنی بغیر نمونے کے کوئی چیز بنانے کے ہیں۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے سے کوئی نمونہ موجود نہیں تھا اور نہ اس کا کوئی مادہ و میٹریل موجود تھا، مادہ اور مثال کے بغیر ایک انوکھی چیز پیدا کردی، تو یہ ابداع کہلائے گا۔ ارشاد خداوندی ہے کہ  بَدِیعُ السَّمَوَاتِ وَالأرْضِ ( سورہ: البقرۃ، آیت نمبر: ۱۱۷، پ۱:  اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کے موجد ہیں، انوکھے طریقے پر پیدا کرنے والے ہیں۔

خلق کی تعریف و تشریح

خلق کے لغوی معنی پیدا کرنے اور کسی چیز کے بنانے کے ہیں، لیکن اس میں وہی تخلیق شامل ہوتی ہے، جسے کوئی مادہ لے کر بنایا جاتا ہے یا پھر کسی نمونے کو سامنے رکھ کر کوئی چیزایجاد کی جاتی ہے، جیسے حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش میں مٹی کا مادہ اور جنات کے جد امجد کی تخلیق میں آگ کی آمیزش شامل ہے۔کائنات عالم کی جملہ مخلوق کو کٹیگری میں تقسیم کریں گے، تو یہ تین طرح کی نظر آئیں گی:(۱) جمادات۔ (۲) نباتات۔ (۳) حیوانات۔

جمادات

بے جان چیزوں اور زندگی سے عاری اشیا کا نام جمادات ہے، اس میں نہ ادراک کی صفت ہوتی ہے ، نہ احساس کی ۔ اس میں نشو ونما کی بھی صلاحیت نہیں ہوتی اور نہ ہی ارادہ و قوت کی صفت پائی جاتی ہے۔ اینٹ ،پتھر، سونا،چاندی ، کوئلہ وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔

نباتات

نباتات میں نشو ونما کی صفت ہوتی ہے، لیکن احساس و ارادہ اور ادارک کی قوت نہیں ہوتی۔ اس میں زندگی پائی جاتی ہے، موت کا بھی حملہ ہوتا ہے، لیکن ارادہ و احساس نہ ہونے کی وجہ سے زندگی کی دوسری خصوصیات نہیں پائی جاتیں، جیسے پیڑ، پودے، سبزیاں وغیرہ نباتات ہیں۔

حیوانات

یہ ایسی مخلوق ہے، جس میں احساس، ادراک اور ارادہ ؛تینوں صفتیں پائی جاتی ہیں۔ اس میں سردی، گرمی، زندگی اور موت وغیرہ کا احساس بھی ہوتا ہے اور اپنے ارادہ سے کہیں چل پھر بھی سکتی ہے۔ یہ عقل و ادارک کی خصوصیات بھی اپنے اندر رکھتی ہیں۔چوں کہ حیوانات کی مختلف قسمیں ہیں: کچھ عامل العقل ہیں ، تو کچھ ناقص العقل ، اس لیے پھر اس کی کئی تقسیمیں ہیں۔ انسان اور جانور اس کی سب سے بڑی تقسیم ہے۔پھر انسانوں میں بھی ادراک و تعقل کے درجات کی بنیاد پر مختلف تقسیمیں ہوتی ہیں۔ اور ہر ایک تقسیم کا حکم الگ الگ ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کوئی بچہ ہے یا پاگل ہے، تو اس کا حکم اس سے مختلف ہوتا ہے، جو کامل العقل اورمکمل بصیرت کا حامل ہوتا ہے ۔ان تینوں کو مخلوقات کو موالید ثلاثہ کہاجاتا ہے۔

تدبیر کی تعریف و تشریح

تدبیر کے لفظی معنی انتظام کرنے کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کو خود پیدا کیا، پھر اس کا نظم و انتظام بھی خود ہی فرمارہے ہیں۔اللہ تعالیٰ نے اسباب میں تاثیر رکھی ہے، اس لیے جو کچھ بھی اسباب کے پردے سے وقوع پذیر ہوتا ہے، وہ درحقیقت اللہ ہی کا کارنامہ ہوتا ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ یہ کائنات اللہ پاک کی تین صفات کی کرشمہ سازیاں ہیں: صفت ابداع سے اس عالم کا مادہ بنایا۔ پھر صفت خلق کے تقاضے سے مادہ  لے کر موالید ثلاثہ کو وجود بخشا۔ پھر صفت تدبیر کے ذریعے پورے عالم کا نظم و نسق کو مرتب کیا۔ 

تمہید دوم: عالم مثال کی حقیقت و تشریح

لفظ عالَم عربی ہے۔ اردومیں اس کو دنیا کہاجاتا ہے۔ مختلف اعتبار سے عالم کی الگ الگ تقسیم کی گئی ہے۔کوئی  عالم روحانی اور عالم جسمانی سے تقسیم کرتا ہے اور  کوئی عالم شہادت اور عالم غیب کا نام دیتا ہے، کبھی دنیا و آخرت کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے تو کبھی اسے عالم ظاہری اور عالم باطنی سے پکارتے ہیں۔ لیکن ان دو عالموں کی بیچ میں ایک تیسرا عالم ہے، اور اسی کا نام عالم مثال ہے: اس کی خاصیت یہ ہے کہ یہ سراسر غیر مادی ہے ، اس کی تخلیق میں عناصر اربعہ کا کوئی دخل نہیں ہے۔اس عالم میں معانی بھی کے لیے بھی جسم ہوتے ہیں۔ ہر معنی کو اس کے معنی کی مناسبت سے جسم کا لباس پہنایا جاتا ہے، مثال کے طور پر بزدلی وہاں خرگوش کی شکل میں  اور دنیا پراگندہ بوڑھی عورت کی صورت میں نظر آتی ہے۔اس دنیا میں جتنی چیزیں ہیں، وہ تمام چیزیں عالم مثال میں پائی جاتی ہیںاور دونوں الگ الگ نہیں ہوتیں، بلکہ ایک ہی ہوتی ہیں۔ اور چوں کہ یہ عالم جس طرح مادی نہیں ہے ، اسی طرح زمانی و مکانی بھی نہیں ہے، اس کی جگہ کی تعیین نہیں کی جاسکتی۔اس عالم کے وجود کے لیے احادیث میں بے شمار اشارے ملتے ہیں۔ یہاں طوالت کے خوف سے صرف دو مثالوں پر اکتفا کیا جاتا ہے۔

پہلی مثال

نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ کا ارشاد گرامی ہے کہ:

  یُجاء بالموت یومَ القیامۃِ کأنہُ کبشٌ أملحُ ، …  فَیؤمرُ بہِ فیُذبِحُ  (المسلم، کتاب الجنۃ و صفۃ نعیمھا أھلھا، باب : النار یدخلھا الجبارون والجنۃ یدخلھا الضعفاء)

قیامت کے دن موت کو لایا جائے گا اس کی صورت چتکبرے مینڈھے جیسی ہوگی اور حکم خداوندی سے اس کو ذبح کردیا جائے گا۔ موت ایک امر ربی ہے ، جو معنوی چیز ہے، لیکن عالم مثال میں اس کو مینڈھے کی صورت دے کر ذبح کیا جائے گا۔

دوسری مثال

قَالَ النبی صلیٰ اللہ علیہ وسلم : مارأیتُ فی الخیرِ والشر کالیوم قط،إنہ صورت لی الجنۃُ والنار، حتیٰ رأتُھما وارء الحائط۔ (البخاری، کتاب الدعوات، باب التعوذ من الفتن)

جب سورج گہن ہوا تھا اور آپ نماز پڑھارہے تھے ، تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سامنے والی دیوار میں جنت و جہنم کی تصویر دیکھی۔اب ظاہر ہے کہ جنت و جہنم کا جو طول و عرض ہے ، وہ ایک دیوار میں نہیں سماسکتا، تو یہی کہنا پڑے گا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ منظر آپ  ﷺ کو عالم مثال سے دکھائی ہے۔

سائنس کی شہادت

جدید ٹکنالوجی نے اس مئلے کو سمجھنا اور آسان کردیا ہے ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ ہزاروں کلو میٹر دور کہیں ایک بہت بڑے میدان میں پروگرام ہورہا ہوتا ہے، بذریعہ ٹی وی اس کو لائیو دکھایا جاتا ہے۔ ٹی وی کی اسکرین کچھ انچوں کی ہوتی ہے ، اس کے باوجود اس میںبڑے بڑے میدان اور بڑی بڑی سائز کی چیزوں کا ہوبہو عکس سماجاتا ہے، تو جو ہم دیکھ رہے ہوتے ہیں، وہ اصل نہیں ہوتا اور نہ ہم سے قریب ہوتا ہے ، اس کے باوجود اسے ہم جھوٹ یا غیر واقعی نہیں کہہ سکتے، تو اب اس کو کیا کہاجائے گا؟ یقینا اس کے علاوہ کوئی اور جواب نہیں ہوسکتا ہے کہ وہ اس کی تمثیل ہے اور یہی عالم مثال ہے۔

تمہید سوم: فرشتے اور شیاطین

فرشتے اور انسان کے درمیان گہرا تعلق ہے۔ یہ فرشتے اللہ اور اس کے بندوں کے درمیان رابطہ کا ایک ذریعہ  ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مخلتف فرشتوں کو الگ الگ کاموں پر لگا رکھا ہے ، تاکہ نظام کائنات پوری طرح اپنے محور پر چلتا رہے۔ان فرشتوں کا وجود انسانوں کے لیے ایسا ہی ہے جیسا کہ جب کوئی معزز مہمان آتا ہے، تو اس کی شایان شان آرائش و زیبائش اور استقبال کا انتظام کیا جاتا ہے۔ جب اشرف المخلوقات کو اس دنیا میں خلیفہ بناکر بھیجنا تھا ،تو اس کے اس دنیا میں آنے سے پہلے ہی اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے اس کائنات کے نظام کو منظم کیا ، تاکہ جب وہ آجائے ، تو فرشتوں کے ذریعے اس کی مصلحتوں کی تکمیل ہو۔

فرشتے کی دو قسمیں ہیں : (۱)عالم بالا کے فرشتے ۔ (۲) عالم زیریں کے فرشتے۔

عالم بالا کے فرشتے

عالم بالا کے فرشتے تین طرح کے ہوتے ہیں: (۱) نورانی فرشتے۔ (۲) اعلیٰ درجے کے عنصری فرشتے۔ (۳)  اعلیٰ درجے کے انسانی نفوس۔

نورانی فرشتے

یہ وہ فرشتے ہوتے ہیں، جن کے جسموں کو نور سے بنایا جاتا ہے اور ان میں اعلیٰ قسم کی روح پھونکی جاتی ہے۔یہ عموما عالم بالا اور عرش پر رہتے ہیں، تاہم گاہے بگاہے زمین پر بھی اترتے ہیں۔ ان فرشتوں کے تعلق سے گناہ اور بہیمی حرکتوں کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا ،کیوں کہ نوری مادے میں گناہ کی طاقت و صلاحیت ہی نہیں ہوتی ہے۔

اعلیٰ درجے کے عنصری فرشتے

یہ ایسے فرشتے ہوتے ہیں، جن کے اجسام نور کے نہیں ؛ بلکہ عناصر اربعہ (آگ، مٹی پانی ، ہوا) کے بھاپ سے بنائے جاتے ہیں، پھر ان میں بہترین ارواح ڈالی جاتی ہیں۔ یہ فرشتے بھی پہلے قسم کے فرشتے کی طرح بہیمی گندگیوں سے پاک و صاف ہوتے ہیں۔

اعلیٰ درجے کے انسانی نفوس

اس سے مراد اونچے درجے کے انسانوں کی روحیں ہیں، جیسے انبیا اور بڑے بڑے اولیاء اللہ کی روحیں، جو اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے ملأ اعلیٰ کے قریب قریب ہوتے ہیں۔ جب ان کی وفات ہوجاتی ہیں، تو ان کی روحوں کو عالم بالا کے فرشتوں میں شامل کرلیا جاتا ہے۔جیسے آں حضور صلیٰ اللہ علیہ وسلم نے حضرت جعفر طیار رضی اللہ عنہ کو فرشتوں کے ساتھ اڑتے دیکھا تھا ۔ یہ عالم بالا کے فرشتوں کے ساتھ پرواز تھی۔

عالم بالاکے فرشتوں کے کارنامے

عالم بالا کے فرشتوں کے تین کام ہوتے ہیں: 

پہلا کام

یہ فرشتے ہمہ وقت صرف اور صرف خدائے بزرگ و برتر کی تسبیح و تقدیس میں لگے رہتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی طرف ان کی توجہ اتنی گہری ہوتی ہے کہ وہ کسی چیز کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ یہ ایک لمحہ بھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہیں ہوتے۔

دوسرا کام 

زمین میں چل رہے جو نظام اللہ تعالیٰ کو پسند ہوتا ہے، اس کے حق میں یہ دعائے خیر کرتے رہتے ہیں اور جو نظام خدا تعالیٰ کو ناپسند ہوتا ہے ،ا س کے لیے بد دعائیں کرتے ہیں اور ان پر لعنتیں بھیجتے ہیں۔ جیسے اعمال صالحہ کا نظام اللہ تعالٰی کو پسند ہے ، تو اس کے حق میں دعائے خیر کرتے ہیں اور کفر کا نظام خدا تعالیٰ کو پسند نہیں، تو اس سے بیزاری کا اعلان کرتے ہیں اور اس پر لعنت بھیجتے ہیں جس کے نتیجے میں وہ مصائب و آلام میں گرفتار ہوتا ہے۔

تیسرا کام

اونچے درجے کے فرشتوں کے انوار روح اعظم کے پاس جمع ہوتے ہیں، جس کے بے شمار منھ ہیں اور بہت سے زبانوں میں بات کرتے ہیں ۔ فرشتوں کی روحیں وہاں جمع ہوکر شئی واحد بن جاتی ہیں، جس کا نام حظیرۃ القدس (بارگاہ مقدس )ہے۔یہ بارگاہ مقدس خدا تعالیٰ کے امر و حکم سے یہ طے کرتی ہے کہ انسانوں کو دینی و دنیوی  نقصانات سے بچانے کے لیے کیا تدبیر اختیار کیا جائے، چنانچہ اس کے لیے تین طرح کے فیصلے کیے جاتے ہیں:

(۱) لوگوں کی صلاحیت کے مطابق ان کے دلوں میں الہام کرکے طریقۂ کار بتایا جاتا ہے۔

(۲) لوگوں کو ایسی ذہنی قابلیت یا علم لدنی عطا کردی جاتی ہے، جس کے ذریعے قوم کے لیے صلاح و فلاح اور بھلائی و ترقی کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں ۔

(۳) کوئی ایسی شخصیت پیدا کی جاتی ہے، جو لوگوں کے لیے قابل تقلید بن جاتی ہے ۔ پھر اس کے اور اس کے ساتھ دینے والوں کے لیے حالات سازگار کردیے جاتے ہیں۔ اور ان کی مخالفت کرنے والوں کی کوئی بھی سازش کامیاب نہیں ہوپاتی۔

عالم زیریں کے فرشتے

 یہ فرشتے عالم بالاکے فرشتوں سے کم درجے اور رتبے والے ہوتے ہیں۔ ان کی تخلیق عناصر اربعہ کے لطیف بخارات سے کی جاتی ہے۔ ان کی خاصیت یہ ہے کہ یہ ہر وقت عالم بالا سے ملنے والے احکامات کا انتظار کرتے رہتے ہیں اور جوں ہی انھیں کوئی حکم ملتا ہے، اس کی تعمیل کے لیے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ۔ تعمیل حکم ان کا فطری تقاضہ اور جذبہ ہوتا ہے۔ 

یہ فرشتے انسانوں اور جانوروں کے دلوں میں اثر ڈالتے ہیں، جس سے وہ ارادۂ خداوندی کے مطابق ہروہ کام کرنے پر امادہ اور مجبور ہوتے ہیں، جو ان کی تقدیر وں کا حصہ ہتے ہیں۔

شیاطین

 اس کائنات میں انسان اور فرشتوں کے علاوہ ایک اور جماعت ہے، یہ شیطانوں کی جماعت ہے۔ جب عناصر اربعہ کی ظلمانی بخارات میں سڑن اور بدبو پیدا ہوجاتی ہے، تو وہ نفوس کا تقاضا کرتے ہیں، چنانچہ قالب کے مطابق ان میں روحیں ڈال دی جاتی ہیں،جیسے کہ گندی نالی کی مٹی میں سڑن اور تعفن پیدا ہوجاتا ہے تو خود بخود مچھر اور کیڑے مکوڑے پیدا ہونے لگتے ہیں۔شیطان برے خیالات کا سرچشمہ ہوتا ہے، یہ نیکی اور خیر سے کوسوں دور ہوتے ہیں۔ اس کی کوشش ہمیشہ فرشتوں کی کوششوں کے برخلاف ہوتی ہے۔ یہ لوگوں کے دلوں میں گناہوں اور برے اخلاق کا جذبہ پیدا کرتا ہے اور اور دنیاو آخرت میں تباہی کا سامان بہم پہنچاتا ہے۔

خلاصۂ کلام

خلاصۂ کلام یہ ہے کہ یہاں تین بنیادی مخلوق ہیں: فرشتے، شیطان اور انسان۔فرشتے کی سرشت میں سراسر خیر  ہے، شر کا کوئی بھی عنصر نہیں ہے، اس لیے یہ گناہ کی قدرت نہیں رکھتے۔شیطان کی فطرت شر محض ہے، اس لیے خیر کا کوئی جذبہ اس میں نہیں پایا جاتا ۔ اگر ظاہری طور پر شیطان کا کوئی کام خیر پر مبنی نظر آئے ، تو یقینا وہاں پر اس سے بڑا شر پوشیدہ ہوگا، جیسے کہ شیطان نے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک دن تہجد کی نماز چھوٹنے پر دوسرے دن خود ہی جگانے کے لیے آگیا تھا، تاکہ ان کے تضرع و توبہ سے جو رتبہ بڑھ گیا تھا ، وہ بلند رتبہ دوبارہ نہ مل سکے۔ اور انسان دونوں صفتوں کا سنگم ہے۔ اس کے اندر خیر کا بھی مادہ ہے اور شر کی بھی صلاحیت ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ جب انسان کی عقل و فکر پر شر کی قوت غالب اور خیر کی قوت مغلوب ہوجاتی ہے، تو یہ شیطان سے بھی بدتر ہوجاتا ہے، لیکن جب شر کی قوت پر فتح پالیتا ہے اور خیر کی قوت و صلاحیت آگے بڑھ جاتی ہے ، تو اس کا درجہ فرشتوں سے بھی بالا ہوجاتا ہے۔

انھیں تینوں مخلوقات: انسان، فرشتے اور شیاطین اور انھیں تینوں صفات: خیر، شر اور ان دونوں کے مجموعے کی بنیاد پر مقام و مسکن بھی تین ہی بنائے گئے ہیں؛ پہلا جنت ، جو خیر محض ہے، دوسرا جہنم، جو سراسر مقام شر ہے اور تیسرا دنیا ، جو خیروشر دونوں کا سنگم ہے۔ 


فلسفہ اسلام قسط اول

 محمد یاسین جہازی

حکمت شرعیہ کی تعریف

جس اصول و فن کے ذریعے قوانین اسلام اور اصول دین کی وضع کی علت و حکمت معلوم ہوتی ہے، اسے حکمت شرعیہ کہاجاتا ہے۔احکام اسلام میں کچھ فرائض ہیں اور کچھ وجوب، استحباب ، کراہت وغیرہ ۔ اور ان کے الگ الگ مراتب و درجات ہیں ، اس فن میں ان تمام چیزوں کے اصول و فروع کو بحث کا موضوع بنایا جاتا ہے۔

حکمت شرعیہ کا موضوع

احکام شرعیہ کی حکمتیں اور علتیں  اور اسلامی اعمال و احکام کی خصوصیات اور ان کے رموز و نکات اس فن کے موضوعات میں شامل ہیں۔

غرض و غایت

اس فن کی دو غرض و غایت ہے : ایک عام اور دوسری خاص۔

عام غرض و غایت

تمام اسلامی علوم و فنون کی طرح اس کا بھی عام مقصد یہی ہے کہ اس کے مطالعہ سے سعادت دارین حاصل ہوجائے ۔اور دونوں جہان کی نیک بختی اور کامیابی کا ذریعہ بنے۔

خاص غرض و غایت

احکام اسلام میں بصیرت کی کیفیت پیدا کرنا اس کا خاص مقصد ہے؛ کیوں کہ جو کوئی اعمال اسلامی کی علت و اسرار اور اس کی عقلی توجیہات سے واقف ہوتا ہے ، تو وہ اللہ تعالیٰ کے احکام اور رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کرنے میں کوئی تنگی محسوس نہیں کرتا؛ بلکہ وہ اس یقین کے ساتھ عمل کرتا ہے کہ یہی فطرت کا تقاضا ہے۔ اس کے خلاف کرنا گویا فطرت سے بغاوت کا اعلان ہوگا۔

حکمت شرعیہ کے فائدے

اس علم  کے سر دست تین فائدے ہیں:

(۱) شریعت کے اسرار و رموز سے واقف شخص پورے دین کو علیٰ وجہ البصیرت سمجھ سکتا ہے اور دوسروں کو اس دین کا قائل کرسکتا ہے۔

(۲) اس علم سے واقف شخص غلط عقائد اور کج قیاس آرائیوں سے محفوظ رہتا ہے۔ وہ ہرعقیدے کو پہلے فطرتی اصولوں پر پرکھتا ہے۔ پھر عقلی تقاضے کے مطابق اس کے صحیح ہونے اور غلط ٹھہرانے کا فیصلہ کرتا ہے۔ محض اس بنیاد پر کہ وہ دینی معاملہ ہے ، اس کے آگے سر خم تسلیم نہیں کرتا؛ بلکہ پہلے اس کو خوب ٹٹولتا ہے، پرکھتا ہے ، پھر کوئی فیصلہ کرتا ہے۔

(۳) حکمت شرعیہ جان لینے سے ایمان میں پختگی پیدا ہوجاتی ہے اور مومن کا یقین بالائے یقین ہوجاتا ہے۔

شریعت کا کوئی بھی حکم مصلحت سے خالی نہیں

قرآنی احکامات اور تعلیمات نبوی علیہ السلام پر غور کیا جائے ، تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ خدائے برتر و حکیم کا کوئی بھی حکم مصلحت سے خالی نہیں ہے۔ شریعت جہاں انسان کی رہ نمائی کے لیے کوئی مسئلہ بیان کرتی ہے، وہیں اسی مسئلے میں اس کے لیے دنیوی فوائد بھی پوشیدہ ہوتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ہمیں ہر مسئلے کی مصلحت معلوم ہو یا نہ ہو؛ کیوں کہ شریعت اسلامیہ کے تمام اوامر و نواہی کا آمر و حاکم حکیم و علیم ہے اور حکیم کا کوئی بھی کام حکمت و مصلحت سے خالی نہیں ہوتا۔ اس لیے یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ دین وشریعت کے کسی حکم میں کوئی دنیاوی ضرر ہو ۔ 

اسی طرح یہ امر بھی مسلم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جن اعمال پر جو بھی جزا یا سزا مقرر فرمایا ہے ، ان کے درمیان گہری مناسبت ہوتی ہے۔ ایسا بالکل نہیں ہوسکتا کہ انسان عمل کچھ کرے اور اس کی جزا کچھ اور دیا جائے؛بلکہ جزاو سزا عمل کے مطابق ہی دیا جاتا ہے۔ بے شمار قرآنی آیات اور احادیث مبارکہ میں اس کے شواہد ملتے ہیں، جس کا تفصیلی بیان آگے کی صفحات میں آرہا ہے۔

مسائل کے ساتھ مصالح کا تذکرہ

احادیث میں جابجا مسائل کے ساتھ مصالح کا تذکرہ ملتا ہے۔ بعض موقعوں پر خود زبان نبوت مصلحتوں کا ذکر کرتی نظر آتی ہے، جب کہ بعض دیگر مواقع پر صحابہ کرام رضون اللہ علیہم اجمعین بھی احکام کی علتیں بیان کرتے تھے۔ تابعین اور تبع تبعین نے بھی اس سلسلے کو جاری رکھا اور ان کے بعد علمائے مجتہدین بھی برابر احکام کی مصلحتیں بیان کرتے رہے ہیں۔ہر دور کے علما بھی اپنے اپنے زمانے کے لحاظ سے احکام کے وجوہ و معانی سمجھاتے رہے ہیں اور اپنے دور کے مقتضیات کے مطابق قرآن و احادیث سے مسائل کے ساتھ ان کی مصلحتیں اخذ کرتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ الگ الگ دور کے علمائے کرام کی تحریروں میں ان کے زمانے کے رنگ سے ہم آہنگ مسائل کے ساتھ مصالح کا تذکرہ ملے گا۔اگر فلسفہ کا دور رہا ہے ، تو اس زمانے کے علمائے کرام کی تحریروں میں یہی رنگ نمایاں نظر آئے گا۔ اور اگر مادیاتی اور عقلیاتی دور کی باتیں کریں، تو یہاں بھی یہی عکس نمایاں دکھائی دیگا۔

اعمال پر عمل کرنے کے لیے مصلحتوں کا جاننا ضروری نہیں

اگرچہ یہ امر مسلم ہے کہ احکام میں مصلحتیں پوشیدہ ہوتی ہیں، لیکن ان پر عمل پیرا ہونے کے لیے یہ ضروری نہیں ہے کہ ان کی علتیں اور مصلحتیں بھی معلوم ہوں۔ یہ تو محض بصیرت پیدا کرنے اور ایمان میں تازگی بخشنے کا ایک وسیلہ ہے۔ اس لیے کسی حکم سے پہلو تہی کرنے کے لیے یہ عذر قابل قبول نہیں ہوسکتا کہ ہمیں اس میں کوئی فائدہ نظر نہیں آرہا ہے، اس لیے اس پر عمل بے جا ہے۔ عمل آوری کے لیے بس یہی دلیل کافی ہے کہ یہ حکم اللہ تعالیٰ اور اس کے پاک رسول صلیٰ اللہ علیہ وسلم کی طرف سے فرمایا ہے؛ البتہ اس کی تحقیق ضروری ہے کہ وہ حکم قرآن و یاحدیث سے صراحۃ یا استنباطا صحیح ہے نہیں۔ارشاد خداوندی ہے کہ  وَالَّذیْ إذا ذُکِّرُوا بِاٰیَاتِ رَبِّھَمْ لَمْ یَخِرُّوا عَلَیْھَا صُمّا وَّ عُمْیَانا (سورۃ: الفرقان، آیۃ: ۷۳، پ۱۹:)اللہ کے مخصوص بندوں کی ایک صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ جب ان کو ان کے رب کی باتیںسمجھائی جاتی ہیں، تو وہ ان پر بہرے اندھے ہوکر نہیں گرتے، اس لیے احکام دین کا صرف سرسری مطالعہ یا غیر معتبر لوگوں سے سن لینا کافی نہیں ہے ، اس کی پوری تحقیق ضروری ہے ؛ لیکن جب تحقیق ہوجائے تو اب اس پر عمل درآمد کرنے کے لیے دیر بھی نہیں لگانی چاہیے۔