22 Jan 2026

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: دسواں سال: 1928ء

 دسواں سال: 1928ء

محمد یاسین جہازی

14؍جنوری1928ء کواخبار الجمعیۃ کی مالی مشکلات سے دوچار ہونے کی وجہ سے خریدار بننے کی اپیل کی گئی۔

25؍جنوری1928ء کو اپیل کی گئی کہ 3؍فروری کو سائمن کمیشن کے خلاف ملک گیر ہڑتال کی جائے۔ 

6؍فروری1928ء کو شدھی اور سنگھٹن کے ارتدادی طوفان کے مقابلے کے لیے مبلغین اسلام کی تبلیغی خدمات کی ایک رپورٹ پیش کی گئی۔

2؍مارچ1928ء کو چند افراد کو مشرف بہ اسلام کرنے میں کامیابی ملی۔

31؍مارچ1928ء کو مولانا احمد سعید صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند کو مسلم یونی ورسٹی علی گڑھ کورٹ کا بلا مقابلہ ممبر منتخب کیا گیا۔ 

6؍اپریل1928ء کی ایک اپیل میں بتایا گیا کہ آریوں کے مقابلے کے لیے جگہ جگہ مدارس قائم کرنے کی وجہ سے جمعیت علمائے ہند مالی مشکلات کی شکار ہوگئی ہے۔

22؍اپریل1928ء کو کمسنی کی شادی پر مبنی قانون سازی کو مداخلت فی الدین قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت کی گئی۔

26 ؍اپریل1928ء کو جاری ایک رپورٹ میں کئی لوگوں کے اسلام قبول کرنے کا اعلان کیا گیا۔

10؍مئی1928ء کو جمعیت علمائے ہند اور الجمعیۃ کی سخت مالی مشکلات کے وقت سر محمد مزمل اللہ خاں صاحب کی طرف سے گراں قدر عطیہ ملنے پر ان کاشکریہ ادا کرتے ہوئے اس مثالی اور تقلیدی عمل کی دعوت دی گئی۔

22؍مئی1928ء کو ناظم عمومی نے ایک طویل مضمون میں اسلام مخالف بننے والے تین قوانین کا تجزیہ پیش کیا۔

26؍مئی1928ء کو گائے کی قربانی کی ممانعت کو مداخلت فی الدین قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف احتجاجی تار وائسرائے ہند کو بھیج کر مذہب کی آزادی کی بحالی کا مطالبہ کیا گیا۔

29؍مئی1928ء کو جاری رپورٹ میں مختلف تاریخوں میں جگہ جگہ مدارس اسلامیہ کے قائم کرنے کی تفصیلات پیش کی گئیں۔ 

7؍جون1928ء کو مختلف گاؤں میں آریوں کی منظم سازشوں کا پردہ فاش کیا گیا۔

16؍جون1928ء کو عید الاضحی کی مناسبت سے ملک کے کئی حصوں میں گائے کی قربانی کو لے کر ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے خلاف زبردست احتجاجی اجلاس کیا گیا۔

28؍جون1928ء کو مالی مشکلات کو دور کرنے کے لیے ایک اہم پیام جاری کیا گیا۔

27؍ اگست 1928ء کو لکھنو میں مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کا ایک اجلاس کیا گیا، جس میں 16؍ اگست 1928ء کو شائع ہونے والی ’’ نہرو رپورٹ‘‘ پر تنقیدی جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی، جس نے دسمبر میں ’’تنقید و تبصرہ‘‘ کے نام سے اپنا مفصل جائزہ پیش کرتے ہوئے خلاصہ کیا کہ چوں کہ یہ رپورٹ مکمل آزادی کی وکالت کرنے کے بجائے نو آبادیاتی طرز حکومت کی حامی ہے، نیز مسلمانوں کے مفادات کے سراسر خلاف ہے، اس لیے اسے کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جاسکتا۔

3؍ستمبر1928ء کو فضلکہ کے ہندو مسلم فساد کے متعلق گورنربہادر کو مکتوب لکھ کر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

2؍اکتوبر1928ء کو پولٹیکل اجمیر کے نام تار بھیج کر مسلمانوں کے ساتھ ہورہی زیادتی کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

29؍اکتوبر1928ء کو مکرانہ فساد پر مجرمین کے خلاف کارروائی کی مانگ کی گئی۔