نواں سال:1927ء
محمد یاسین جہازی
18؍مئی 1927ء کو تحفہ پور میرٹھ میں منعقد چمار کانفرنس میں مبلغ جمعیت نے اسلام کی زبردست تبلیغ کی۔
29؍مئی1927ء کو موضع رام پور میں پھیلی شدھی کی افواہ غلط پائی گئی۔
14؍جون1927ء کو کٹرہ نیل کی مسجد کو جلانے کی کوشش کی مذمت کی گئی۔
18؍جون1927ء کو دہلی میں گائے کی قربانی کی ممانعت کو مذہبی مداخلت قرار دیتے ہوئے وائسرائے ہند سے قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیاگیا۔
توہین رسالت پر مبنی رنگیلا رسول اور ورتمان نامی رسالہ لکھا گیا، جس کے خلاف 26؍جون 1927ء کوجمعیت علما نے سخت ایکشن لیتے ہوئے مجرموں کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا۔
30؍جون1927ء کو توہین رسالت کے خلاف زبردست عظیم الشانی احتجاجی اجلاس کیا گیا۔
3-4؍جولائی1927ء کو منعقد مجلس عاملہ کی میٹنگ میں رنگیلا رسول نامی کتاب کے مقدمہ میں جسٹس کنور دلیپ سنگھ کے تعصب اور جانب داری پر مبنی فیصلہ کرنے کی مذمت کرتے ہوئے جسٹس کی معطلی کامطالبہ کیا گیا۔ مسلم آؤٹ لک کے ایڈیٹر و ناشر کی سزایابی پر ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔ ناموس رسالت ﷺ کے تحفظ کے حوالے سے تمام لوگوں کو متحد ہوکر کام کرنے کی اپیل کی گئی۔ایک دوسری تجویز میں ارکان وفد حجاز کی خدمات کا عتراف کیا گیا۔
18؍جولائی1927ء کو ایک رپورٹ میں بتایا گیا کہ گیارہ سو مرتدین مشرف بہ اسلام ہوگئے۔
22؍جولائی1927ء کو صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے توہین رسالت کے خلاف ملک گیر سطح پر احتجاجی اجلاس منعقد کرنے کی اپیل کی۔
6؍اگست1927ء کو ایک اپیل میں اندور فسادات سے متعلق جاری مقدمات کی پیروی کے لیے سرمایہ کی فراہمی کی اپیل کی گئی۔
18؍اگست1927ء کو انسداد توہین رسالت کے متعلق ایک اہم مشاورتی میٹنگ کی گئی،جس میں توہین رسالت کے متعلق قانون بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔اسی میں ملک گیر پیمانے پر ایک وفد تشکیل دے کر برطانوی حکومت ہند سے شملہ جاکر ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
22؍اگست1927ء کو جاری ایک رپورٹ میں مرتدین کی واپسی کی کوششوں کوسراہا گیا۔
2؍ستمبر1927ء کو ایک اجلاس میں پنجاب میں امارت شرعیہ کا قیام عمل میں آیا۔
6؍ستمبر1927ء کو مقبول وارثی کے متعلق جمعیت سے قطع تعلق کا اعلان کیا گیا۔
9؍ستمبر1927ء کومنعقد ایک اجلاس میں ہندو مسلم اتحاد کے لیے،دونوں فرقوں کے درمیان متنازہ فیہ مسائل کی فہرست پیش کی گئی۔
10؍ستمبر1927ء کو تبلیغ کے مقصد سے رسالہ تبلیغ جاری کرنے کا اعلان کیا گیا۔
11؍ستمبر1927ء کو دارالعلوم دیوبند میں طلبہ اور انتظامیہ کے درمیان ہوئے اختلافات کو تصفیہ کرانے میں جمعیت علما کو کامیابی ملی۔
13؍ستمبر1927ء کو پنڈت مدن موہن مالویہ نے صدر جمعیت کی دعوت اتحاد کے جواب میں متحدہ کمیٹی قائم کرنے کی بات کہی۔
22؍ستمبر1927ء کو درجنوں افراد کے قبول اسلام کی رپورٹ جاری کی گئی۔
22؍ستمبر1927ء کو شملہ میں منعقدکانفرنس، اتحاد کمیٹی میں گائے ذبیحہ اور مسجد کے سامنے باجہ بجانے کے مسئلے پر شدید اختلاف ہونے کی وجہ سے ناکام ہوگئی۔
6؍اکتوبر1927ء کو سید آل رسول خاں صاحب سجادہ نشین آستانہ خواجہ معین الدین کی دفتر جمعیت علمائے ہند میں آمد کو مسلکی اختلاف پر کاری ضرب قرار دیا گیا۔
27-28؍اکتوبر1927ء کو منعقد کلکتہ میں اتحاد کانفرنس میں تبدیلی مذہب، ذبیحہ گاؤ اور باجہ ، اور ہندو مسلم اتحاد کے لیے پروپیگنڈہ کرنے کی تجاویز منظور کی گئیں۔
14؍نومبر1927ء کو مجلس عاملہ کے لیے ایجنڈے جاری کیے گئے۔ اور آٹھویں اجلاس عام میں شرکت کی اپیل کی گئی۔
18؍نومبر1927ء کو صدر جمعیت علمائے ہندنے سائمن کمیشن کو ملک کے لیے بدنصیبی قرار دیا ۔
22؍نومبر1927ء کو سائمن کمیشن کو ناظم عمومی نے مسترد کرتے ہوئے جماعتی فیصلہ کے لیے اجلاس عام کے فیصلہ پر اپنی رائے کو ملتوی کیا۔
26؍نومبر1927ء کو آٹھویں اجلاس عام کے لیے ایجنڈے جاری کیے گئے۔
29؍نومبر1927ء کو منعقد مجلس عاملہ میں اجلاس عام کے لیے تجاویز کے مسودے تیار کیے گئے۔
2-3-4-5؍دسمبر1927ء کو منعقد آٹھویں اجلاس عام میں حالات حاضرہ کے متعلق درج ذیل فیصلے کیے گئے:تعزیت مولانا محمد علی مونگیری و مولانا خلیل احمد سہارنپوری۔ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری اور خواجہ عبدالرحمان کی گرفتاری۔مولانا محمد عرفان اور مولانا محمد اسحاق مانسہروی کی جلاوطنی۔ گڑھ مکھتیشریوپی میں ہندوؤں کی لوٹ کھسوٹ کی مذمت۔ بتیا بہار کے ہول ناک فسادات پر اظہار نفرت۔ دینی مدارس کے نصاب میں اصلاح۔ مدارس میں جسمانی ورزش کی ضرورت۔ بدعات و منہیات شرعیہ کی روک تھام۔ عورتوں کو میراث دینے کا مطالبہ۔ لڑکیوں کی شادی پر روپیہ لینے کی رسم کی مخالفت۔ملکی صنعت و تجارت کو فروغ دینے کے لیے صرف دیسی چیزوں کو استعمال کرنے کی اپیل۔صوبہ سرحد میں ایک دارالعلوم اور بیت المال قائم کرنے اور آئینی اصلاحات نافذ کرنے کا مطالبہ۔ برطانوی حکومت ہند سے بااختیار شرعی قاضی مقرر کرنے کا مطالبہ۔قرآن کریم کی اشاعت اور مختلف زبانوں میں ترجمے شائع کرنے کی اپیل۔ حصول آزادی کی کوشش مسلمانوں کے لیے نہ صرف وطنی فریضہ ہے؛ بلکہ یہ اس کا مذہبی فریضہ بھی ہے۔ مسلمانوں کے مذہب بیزار رجحانات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے شریعت کی پابندی کی تاکید کی گئی۔تیراہ میں شیعہ سنی لڑائی پر رنج و افسوس کا اظہار کیا گیا۔ ضروریات جدیدہ کے متعلق شرعی رہ نمائی کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل عمل میں آئی۔اوقاف کی نگرانی کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ہندستان کے لیے نئے دستور بنانے والی برطانوی ٹیم ’’سائمن کمیشن ‘‘ کا مقاطعہ کیا گیا۔ مسلمانوں کے لیے جداگانہ حلقہائے انتخاب کا مطالبہ کرتے ہوئے مخلوط انتخاب کے لیے چند شرائط پیش کی گئیں۔اور آخری تجویز میں مجلس استقبالیہ اور رضاکاران پشاور کا شکریہ ادا کیا گیا۔
11؍دسمبر1927ء کو شاہ افغانستان کی ہندستان آمد پر خیرمقدمی کلمات پیش کیے گئے۔
13؍دسمبر1927ء کو برقی پیغام بھیج کر شاہ افغانستان کا خیر مقدم کیا گیا۔
29؍دسمبر1927ء کو حکیم اجمل خاں کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا گیا۔