پانچواں سال: 1923ء
محمد یاسین جہازی قاسمی 9891737350
9،10؍ فروری1923ء کو منعقد منتظمہ کے اجلاس میں شدھی سنگھٹن اور دیگر ارتدادی تحریکات پر قدغن لگانے کے لیے شعبۂ تبلیغ و حفاظت اسلام اور انسداد فتنۂ قادیانی کمیٹی کی تشکیل عمل میں آئی۔ صوبہ سرحد کے محسودیوں پر گورنمنٹ کی ظالمانہ کارروائی اور 64؍ موپلوں کو گاڑی میں بند کرکے مارنے پر مذمت کی تجویز پاس کی ۔ اسی طرح اکالیوں پر جیل حکام کے جابرانہ تشدد کو غیر شریفانہ حرکت قرار دیااور عدم تشدد کا مثالی کردار ادا کرنے پر انھیںمبارک باد پیش کی گئی۔
24؍فروری 1923ء کوشعبۂ تبلیغ و حفاظت اسلام کا باقاعدہ آغاز کرتے ہوئے عارضی طور پر ایک مختصر سی جماعت منتخب کرکے کام شروع کردیاگیا۔
ایک غیر مسلم بی آر شرما کے ذریعہ سے تبلیغ و حفاظت اسلام کے مقصد سے 16 ؍اپریل 1923ء اور متعدد تواریخ اشتہارات چھپوائے گئے۔
20؍ جون 1923ء کے اجلاس عاملہ میںترمیم شدہ اصول اساسی کو اجلاس عام میں پیش کرنے اور موپلہ فنڈ کی اشاعت کی منظوری دی گئی۔
13؍ جولائی 1923ء کو ارکان انتظامیہ اور ارکان شوریٰ کی میٹنگ میں شعبۂ تبلیغ و حفاظت اسلام کا مسودہ منظور کیا گیا ۔ علاوہ ازیں سول نافرمانی تحریک کے تحت فلیگ ستیہ گرہ یعنی مظاہر قومی علم کے افراد پر جبرو استعداد کو حکومت کا ظالمانہ فعل قرار دیا۔ اسی طرح گائے کی قربانی کی مخالفت کو شریعت میں مداخلت قرار دیتے ہوئے اس سے دستبردار نہ ہونے کا اعلان کیا، تاہم فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو برقرار رکھنے کے لیے برادران وطن کے جذبات کا خیال رکھنے کی اپیل کی گئی۔حکومت برطانیہ اور شریف مکہ کے درمیان ہوئے معاہدہ کو توہین کا باعث قرار دیا گیا۔ مسلمانوں میں پائے جارہے اونچ نیچ اور چھوا چھوت کے نظریے کی تغلیط کی گئی۔مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کو شعبۂ تبلیغ کا عارضی صدر منتخب کیا گیا۔ شدھی تحریک کو اسلام کے لیے سخت ترین سیاسی حملہ قرار دیتے ہوئے تمام مسلمانان ہند کے نام ایک متفقہ اپیل شائع کرنے کی اپیل کی گئی۔تبلیغی کارروائیوں کی اشاعت کے لیے کئی اخبارات سے معاہدے کیے گئے۔
10؍اگست 1923ء کو دارالعلوم دیوبند کے مہتمم حضرت مولانا حبیب الرحمان صاحب نے حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کے متعلق قادیانیوں کے جلسے میں شرکت نہ کرنے کی مسرت آمیز خبر سنائی۔
مرتد بنائے گئے مسلمانوں کو دوبارہ اسلام میں داخل کرنے کے مقصد سے ذمہ داران شعبۂ تبلیغ نے نقض امن کے اندیشے کے پیش نظر 11؍اگست 1923ء کومجسٹریٹ کورجسٹری بھیج کر تحفظ کا مطالبہ کیا۔
20،21؍ستمبر1923ء کو مجلس منتظمہ کے اجلاس میں جزیرۃ العرب کو غیر مسلموں کے اثرات سے پاک کرنے اور حجاج کی تکالیف کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ۔اسی طرح حضرت اجمیری کی درگاہ پر گولی باری کی مذمت کی گئی۔
20؍اکتوبر1923ء کو سنٹرل سکھ لیگ کے اجلاس کے ذریعہ سکھ اسیروں کی گرفتاری پر انھیں مبارک بادپیش کی گئی۔
اسی طرح 20؍اکتوبر1923ء کو حکومت کے ذریعہ اجمیر میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد کو پابند سلاسل کرنے پر گرفتارشدگان کو مبارک بادی دی گئی ۔
30؍اکتوبر1923ء کو حضرت مجددخلافت غازی مصطفی کمال پاشا کی طرف سے صدر جمعیت علمائے ہند کے نام ایک تار موصول ہوا۔
6؍ نومبر 1923ء کو انسداد فتنہ قادیانی کی سب کمیٹی کی میٹنگ ہوئی، جس میں قادیانی اور لاہوری احمدی فرقہ کو خارج از اسلام قرار دیا۔اسی تاریخ کو سب کمیٹی آزادی جزیرۃ العرب کی بھی میٹنگ ہوئی، جس میں جزیرۃ العرب کی آزادی کی بابت ایک تجویز منظور کی گئی۔
7؍ نومبر1923ء کو جمعیت تبلیغیہ کا اجلاس ہوا، جس میں ملک و بیرون ملک تبلیغی وفود بھیجنے کی تجویز منظور کی گئی۔شعبۂ تبلیغ اسلام نگرام کا مشروط تعاون، شعبۂ تبلیغ کی کارروائیوں کا جائزہ لینے کے لیے سب کمیٹی کی تشکیل اور شعبۂ تبلیغ کی کارروائیوں کی اشاعت کے لیے ایک صفحہ مخصوص کرنے پر الامان کے ایڈیٹر مولانا مظہر الدین صاحب کا شکریہ ادا کیا گیا۔ اس میں ’’الداعی‘‘ کے نام سے ہفت روزہ اخبار نکالنے کی تجویز بھی منظور ہوئی،لیکن وسائل کی قلت کی وجہ سے اسے عملی جامہ نہیں پہنایا جاسکا۔
8؍ نومبر1923ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ میں گردوارہ پربندھک کمیٹی کے کارکنان کی گرفتاری پر ناراضگی کا اظہار کیاگیا۔
15؍نومبر1923ء کومسلمانان ہندسے یوم جزیرۃ العرب منانے کی اپیل کرنے کے لیے ٹیلی گرام بھیجا گیا۔
29-30-31 ؍ دسمبر 1923ء ویکم جنوری 1924ء کو منعقد پانچویں اجلاس عام میں درج ذیل تجاویز منظور کی گئیں: کراچی مقدمہ میں ماخوذ افراد کی برات پر مبارک باد اور ان کی خدمات ملیہ کا اعتراف۔ مولانا حسرت موہانی صاحب کو مبارک باد۔ موپلہ شہیدوں کی یادگار قائم کرنے کی اپیل۔ حکومت ملیہ انگورہ پر کامل اعتماد کا اظہار۔ آزادی حاصل کرنے کے لیے فرقہ وارانہ ہم آہنگی ناگزیر۔ بھارت کے کامل سوراج کے لیے اسپیشل کانگریس دہلی اور بنگال پراونشل کانگریس کی طرف سے پیش کردہ ’’میثاق ملیۂ ہند‘‘ کے مسودہ پر غوروفکر کے لیے سب کمیٹی کی تشکیل۔ جزیرۃ العرب کا غیر مسلم تسلط سے آزاد رکھنا ضروری۔ فرقہ وارانہ فسادات پر اظہار تشویش۔ خواجہ اجمیری کی درگاہ پر گولی باری کی مذمت۔ گردوارہ پربندھک کمیٹی کو خلاف قانون قرار دینا مذہبی مداخلت۔ جزیرۃ العرب کی آزادی کے مظاہرین پر کارروائی مذہبی مداخلت۔ جدید دستورالعمل کی منظوری کاالتوا۔ اجلاس کی صدارت کے لیے مولانا حسین احمدمدنی صاحب کا شکریہ۔ عمومی تجویز شکریہ۔