20 Jan 2026

جمعیت علمائے ہند قدم بہ قدم: چھٹا سال: 1924ء

 چھٹا سال: 1924ء

محمد یاسین جہازی قاسمی

 3 ؍فروری 1924ء کو گاندھی جی کی رہائی پر صدر جمعیت علمائے ہند نے مبارک بادی کا تار بھیجا۔

9؍ مارچ 1924ء کو منعقد جمعیت علمائے ہند اور مرکزی خلافت کمیٹی کے مشترکہ اجلاس ، اور 23؍ تا 25؍ جون 1924ء کو منعقد مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کی میٹنگ میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ خلافت کے خاتمہ کے خلاف جمعیت اور مرکزی خلافت کمیٹی کا ایک مشترکہ تار اور وفد بھیجا جائے گا، جو ترکی پہنچ کر مصطفی کمال پاشا سے ملاقات کرکے خلافت کی اہمیت اور ضرورت بتاتے ہوئے اسے بحال کرنے کی گذارش کرے گا۔ 

بھرت پور اور بھارت کے دوسرے مقامات پر انہدام مساجد کے مسلسل ہورہے واقعات کی روک تھام کے لیے جمعیت علمائے ہند کا سولہ رکنی وفد مہاراجہ کرشن سنگھ کے دربار میں پہنچا اور انہدام مساجد کو روکنے کی تجاویز پیش کیں۔

گڈہی پرسروہی میں مسلمانوں کی مذہبی رسوم کی ادائیگی میںرکاوٹ کے پیش نظر 14؍اگست1924ء کو  ڈپٹی کمشنر کو تار بھیج کر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

26، 27؍ اگست1924ء کو جمعیت تبلیغیہ کے اجلاس میں تحفظ و اشاعت اسلام کے حوالے سے کئی اہم تجاویز پاس کرکے عملی جامہ پہنایا گیا ، جن میں مدارس، مساجد اور کنویں کی تعمیر، مرتدین کی واپسی ، نو مسلموں کی تعلیم و تربیت اور ضرورت مندوں کی امداد جیسی نمایاں خدمات ہیں۔علاوہ ازیں نومسلمین کی تعلیم اور صنعت سکھانے کے لیے درس گاہوں کا قیام اور مختلف علاقوں میں صوبائی شعبۂ تبلیغ کے قیام کی منظوری دی گئی۔ 

26؍اگست1924ء کو جمعیت علمائے ہند کی چھ سالہ زندگی میں پہلی مرتبہ عوامی طور پر چندے کی اپیل کی گئی۔ 

27،29؍ اگست 1924ء کومنعقد مجلس منتظمہ کے اجلاس میں کشمیر کے ریشم مزدوروں کے پر امن احتجاجیوں پر ظلم وتشدد کرنے پر انگریز حکومت کے رویے کو قابل نفریں اور اقتدار کی رعونت قراردیا۔ مولانا حسرت موہانی کی رہائی پر مسرت کا اظہار کیا گیا۔تحفظ مساجد کے لیے متفقہ کوشش کرنے کی اپیل کی گئی۔ شعبۂ تبلیغ کی طرف سے الداعی اخبار نکالنے کا فیصلہ کیا گیا، لیکن سرمایہ نہ ہونے کی وجہ سے شائع نہیں ہوسکا۔ اسی طرح عنایت اللہ خاں مشرقی بانی خاکسار تحریک کی کتاب ’’تذکرہ ‘‘کو اسلام کے لیے سم قاتل قرار دیا۔

26؍ستمبر سے 2؍اکتوبر1924ء تک اتحاد کانفرنس ہوئی، جس میں جمعیت علمائے ہند نے اہم کردار ادا کیا۔اس کانفرنس کی تجویز نمبر(۱) کے تناظرمیں مرتد کی سزائے قتل پر مفتی محمد کفایت اللہ صاحب، مولانا حسین احمدمدنی صاحب، مولانا شوکت علی صاحب اور مولانا عبدالباری فرنگی محلی نوراللہ مرقدہم کے درمیان اہم مراسلات ہوئے۔ 

مولانا منیر الزماں صاحب اسلام آبادی، ناظمِ عمومی جمعیت علمائے بنگالہ کی جانب سے تبلیغی سرگرمیوں اور دیگر جماعتی امور کے لیے امداد کی درخواست پر 16؍ دسمبر 1924ء امداد کا فیصلہ کرتے ہوئے چوبیس روپے ارسال کیے گئے۔