ساتواں سال: 1925ء
11؍ جنوری 1925ء کو منعقد مجلس عاملہ کی میٹنگ میں، بعد ازاں 11؍تا 16؍ جنوری1925ء چھٹے اجلاس عام میں خطبۂ استقبالیہ اور خطبۂ صدارت کے علاوہ اہم تجاویز منظور کی گئیں۔ جن میں شاہ محمد محی الدین ؒ کو امیر شریعت ثانی منتخب ہونے پر مبارک باد پیش کی گئی اور کوہاٹ، گلبرکہ اور بھارت کے دوسرے مقامات پر ہوئے فرقہ وارانہ و مسلکی جھگڑے پر شدید اضطراب کا اظہار کیاگیا۔ اسی طرح ایک طرف جہاںمراکش کی آزادی کے لیے غازی عبد الکریم و مجاہدین ریف کی سرفروشانہ جدوجہدکی تحسین کرتے ہوئے ان کے تعاون کا اعلان کیا، وہیں ترک موالات و عدم تعاون کی تحریک پر دوبارہ غورو فکر کرنے کے بعدبھی جمعیت نے یہی فیصلہ لیا کہ برطانیہ سے ہر قسم کے موالات حرام ہیں۔ بھارت کے مختلف کونوں میں مساجد کے انہدام کے بڑھتے واقعات کو دیکھتے ہوئے تحفظ مساجد کے لیے مشترکہ لائحۂ عمل طے کرنے کا فیصلہ کیاگیا۔دیگر تجاویز میں سلطان ابن سعود کو شریفیوں سے حرمین شریفین کی تطہیر پر مبارک باد، صوبہ برار کو انگریزوں سے واپس کرنے کے مطالبہ کی تائید،عورتوں کووراثت سے محروم کرنے والے قوانین کی مخالفت، جزیرۃ العرب میں غیر مسلم مداخلت کی تنقید، مجاہدین ریف کو مبارک باد، مکہ معظمہ میں اشیائے خوردونوش کی بندش کی مذمت، تحفظ اسلام کی اپیل، مسلکی فسادات پر افسوس کا اظہار،منتشر قوتوں کی تنظیم اور اشتراک عمل کی دعوت،حکومت ترکیہ سے منصب خلافت قائم رکھنے کی اپیل، نئی دہلی ریلوے اسٹیشن کی مسجد کو شہید نہ کرنے کا مطالبہ، حکومت پنجاب کے غیر معقول فعل کی مذمت اور دیگر فیصلے شامل ہیں۔
14؍جنوری1925ء کو منعقد مجلس مرکزیہ کے اجلاس میں جدید انتخابات عمل میں آئے اور مجلس عاملہ کے اراکین کا بھی انتخاب عمل میں آیا۔
15؍جنوری 1925ء کومنعقد تبلیغ کانفرنس میں مسلمانوں کو بالجبر مرتد بنانے پر حکومت سیام کو انتباہ،ہندو مسلم اتحاد کی ضرورت، فرقہ وارانہ تصفیہ کے لیے آل پارٹیز کانفرنس سے امیدیں، بچوںکوبنیادی تعلیم دلانے کی اپیل اور صدر اجلاس کا شکریہ پر مبنی تجاویز منظور کی گئیں۔
19؍جنوری 1925ء کو عالمی مؤتمر اسلامی کے صدر نے صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کے نام بھیجے ایک تار میں کانفرنس منعقدنہ کرنے کے اسباب بتائے، جس کا جواب دیتے ہوئے صدر جمعیت نے ان کی تردید کی ۔
26؍ جنوری 1925ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں مسودہ حج کمیٹی کا جائزہ لینے کے بعد یہ اعلان کیا کہ موجودہ مسودہ حج کمیٹی امور مذہبی میں صریح مداخلت ہے ،اس لیے جمعیت بل کی زوردار مخالفت کرتی ہے۔
28؍جنوری 1925ء کو شعبۂ تبلیغ کے معائنہ کی رپورٹ پیش کی گئی۔
2؍فروری1925ء سے جمعیت علمائے ہند کا ترجمان سہ روزہ الجمعیۃ کا اجرا عمل میں آیا۔
اسی تاریخ کو شعبۂ تبلیغ اسلام کے کاموںکو جاری رکھنے کے لیے سرمایہ کی فراہمی کی اپیل شائع کی گئی۔
یکم مئی 1925ء کو علمائے مکہ نے صدر جمعیت علما کے نام لکھے ایک مکتوب میں حرمین شریفین کے حالات سے مطلع کرتے ہوئے دست تعاون بڑھانے کی اپیل کی۔
یکم مئی 1925ء کو حجاج کی پریشانیوں کے ازالے کے لیے مساعی حسنہ انجام دی گئیں۔
18؍مئی1925ء کو حج کے متعلق صدر جمعیت نے ایک اہم اعلان شائع کیا۔
اسی تاریخ کویہ اپیل کی گئی کہ ۲۲؍ مئی کو مجاہدین ریف کی فتح و نصرت کے لیے یوم دعا منائی جائے۔ بعدازاں اسی تاریخ کو صدر جمعیت نے سلطان ابن سعود کوایک تار بھیج کر حجاز کی روانگی سے متعلق اہم اطلاع دی۔
نجد کے شہزادہ سلطان بن عبد العزیزکے حجاز پر حملہ کرکے طائف و مکہ پر قبضہ کرلینے اور وہاں کی شعائر مقدسہ کے حوالے سے طرح طرح کی خبریں موصول ہونے کی وجہ سے بھارتیوں میں پیدا اضطراب و بے چینی کے پیش نظر، 20؍ مئی 1925ء کو دیوبند میں منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں حالات حجاز کی تحقیقات کے لیے جمعیت علما، جمعیت خلافت وغیرہ کا مشترکہ وفد حجاز بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ اس اجلاس میں آل مسلم پارٹیز کانفرنس میں اس شرط کے ساتھ شرکت کا فیصلہ کیا کہ اس میں قادیانی مدعو نہ کیے جائیں، لیکن لاہوریوں اور قادیانیوں کو مدعو کرنے کی وجہ سے جمعیت نے اس میں شرکت نہیں کی۔
5؍جون1925ء کو جمعیت اور خلافت کمیٹی کا مشترکہ وفد حجاز کے لیے روانہ ہوا۔
14؍جون1925ء کو وائسرائے کو تار بھیج کر حجاج کے جہاز کو پورٹ سوڈان پر روکنے کے خلاف حجاج کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا۔
18؍جون1925ء کو حج میں کفار سے مدد لینے اور کیا یہ ترک مولات کی خلاف ورزی نہیں ہے، پر مفتی اعظم ہند نے تسلی بخش فتویٰ دیا۔
اسی تاریخ کو سی آرداس کے انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا گیا۔
29؍جون1925ء کو موضع گھروڑا کے مسلمانوں پر ہورہے ظلم کے خلاف آواز اٹھائی۔
2؍جولائی1925ء کو وفد جمعیت و خلافت کی طرف سے مولانا عبدالحلیم صدیقی صاحب نے سلطان ابن سعود کے سامنے خطاب فرمایا۔
10؍جولائی1925ء کو عطیۂ شاہی پر مہاراجہ الور کو شکرانہ کا تار ارسال کیا گیا۔
17؍جولائی1925ء کو اہل طرابلس کی طرف سے تعاون کے لیے شیخ سنوسی کا مکتوب موصول ہوا۔
18؍جولائی1925ء کو آل سعود کی حمایت کرنے پر سلطان ابن سعود کی طرف سے جمعیت علمائے ہند کو شکریہ کا مکتوب موصول ہوا۔
28؍جولائی1925ء کو حجاز کے مہمانوں کے لیے تقریب استقبالیہ منعقد کیا گیا۔
7؍اگست1925ء کو وفد حجازنے واپسی پر جامع مسجد دہلی میں منعقد ایک پروگرام میں حجاز کے حالات کے متعلق اپنے تأثرات بیان کیے۔
آل مسلم پارٹیز کانفرنس میں شرکت اور عدم شرکت کے مسئلے پر ڈاکٹر کچلو اور جمعیت علمائے ہند کے مابین 8؍اگست1925ء سے خط و کتابت ہوئی۔
10؍اگست1925ء کو ریاست جیند میں شعائر اسلام پر حملے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیاگیا۔
20؍اگست1925ء کو مولوی مظہر الدین صاحب ایڈیٹر الامان کے افسوس ناک رویہ کی حقیقت کا انکشاف کیا گیا۔
26؍اگست1925ء کو الجمعیۃ میں تصویریں چھپ جانے پر مدیر مسئول نے اعتذارپیش کیا۔
29؍اگست1925ء کو پانی پت فسادات کے تناظر میں انصاف کا مطالبہ کیا گیا۔
2؍ستمبر1925ء کو حرمین شریفین کے قبوں اور مزارات پر قائم عمارتوں کے انہدام کے متعلق فتویٰ شائع کیا گیا۔
5؍ستمبر1925ء کو ایک میٹنگ میں مولوی مظہرالدین اور مولانا احمد سعید کے درمیان مصالحت کرائی گئی۔
10؍ستمبر1925ء کو ناظم عمومی نے ایک مکتوب لکھ کر مولانا شوکت علی کی توہین کی سخت مذمت کی۔
21؍ستمبر1925ء کوتوہین پر مبنی اس کارٹون کی اشاعت پر غم و غصہ کا اظہار کیا گیا، جسے اسٹار لندن نے ۱۸؍اگست کو شائع کیا تھا۔
23؍ستمبر1925ء کو علی گڑھ میںہندو مسلم فساد کی مذمت کی گئی۔
الجمعیۃ کی مختلف اشاعتوں میں شائع رپورٹوںمی جمعیت نے تبلیغ اسلام کا شان دار فریضہ انجام دیتے ہوئے درجنوں افراد کو ارتداد سے بچایا اور کئی افراد کو مشرف بہ اسلام کیا۔
6؍اکتوبر1925ء کو صدر جمعیت نے حجاز اور شرق اردن کے درمیان سرحدوں کی تعینات کے لیے برطانی کمیشن کی آمد کی مذمت کی ۔
22؍اکتوبر1925ء کو ناظم عمومی نے مہاراجہ کشمیر کو تاج پوشی کی رسم پر مبارک باد پیش کی۔
23؍اکتوبر1925ء کو جمعیت اور خلافت کمیٹی کا ایک وفد حجاز کے لیے روانہ ہوا۔
25؍اکتوبر1925ء کو صدر جمعیت علمائے کے نام سلطان نجد عبد العزیز بن عبد الرحمان الفیصل آل سعود کا مکتوب موصول ہوا، جس میں حجاز کی حکومت کے مسئلہ کو عالم اسلامی کی ایک کانفرنس کے ذریعہ حل کرنے کی تجویز پیش کی گئی۔
2؍نومبر1925ء کو مجلس عالیہ فلسطین کی طرف سے امداد کی اپیل کا تار موصول ہوا۔
7؍نومبر1925ء کوشرومنی گوردوارا پربندھک کمیٹی کو خط لکھ کر مسجد فتح پوری کے سامنے باجہ بجاکر فساد پھیلانے کی سکھوں کی شرانگیز کوشش کی مذمت کی گئی۔
29؍نومبر1925ء کو مسئلۂ شام پربرطانیہ کی خطرناک روش کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔
10؍دسمبر1925ء کو جمعیت علما کے ذریعہ قائم ایک مدرسہ کی رپورٹ پیش کی گئی۔
10؍دسمبر1925ء کو وفد حجاز کی طرف سے موصول تار سے معلوم ہوا کہ شریفیوں نے اہل مدینہ پر زبردست ظلم و ستم ڈھائے ہیں۔
22؍دسمبر1925ء کو مدیر مسئول مولانا ابوالاعلیٰ مودودی صاحب نے مختلف فیہ مسئلہ میں الجمعیۃ کے مسلک کی وضاحت پیش کی۔
24؍دسمبر1925ء کو امام عبدالعزیز کے ذریعہ موصول ایک تار میں جدہ فتح کی خوش خبری سنائی گئی۔
26؍دسمبر1925ء کو موصل اور عراق کے معاملہ پر جمعیت اقوام کے فیصلہ کو جگر سوز فیصلہ قرار دیا گیا۔
30؍دسمبر1925ء کو مدینہ طیبہ اور جدہ کی فتح پر سلطان ابن سعود کو مبارک باد پیش کی گئی۔