بارھواں سال: 1930ء
محمد یاسین جہازی
9؍جنوری1930ء کو ساردا بل کے خلاف عملی جدوجہد کرنے کی اپیل کی گئی۔
13؍جنوری1930ء کو ساردا بل کے خلاف مظاہرے کے لیے جلوس کمیٹی کی تشکیل کی گئی۔
17؍جنوری1930ء کو ساردا بل کے خلاف عظیم الشان اجلاس اور احتجاجی جلوس نکالا گیا، جس میں کئی تجاویز منظور کرتے ہوئے ساردا بل کو مذہبی مداخلت قرار دیا گیا۔ اسی طرح تحفظ مویشیان بل کی بھی مخالفت کی گئی اور جناب عبدالحی صاحب کے قانون وراثت کی تائید کی گئی۔
24؍جنوری1930ء کو بلند شہر کے حکام کو مظالم کے خلاف تار بھیج کر متوجہ کیا گیا۔
اسی تاریخ کو ظفروال میں سکھوں کی چیرہ دستیوں کے خلاف آواز بلند کی گئی۔نیز ساردا بل کے متعلق وائسرائے کے بیان پر سخت تبصرہ کیا گیا۔
20؍مارچ 1930ء کو منعقد مجلس مرکزیہ میں ساردا بل کے خلاف سول نافرمانی کی تحریک چلانے کی منظوری دی گئی۔
22؍مارچ1930ء کو دربھنگہ جمعیت علما کے اجلاس میں خالص اسلامی نظام کی ضرورت اور آزادی کامل کے اعلان کی تجاویز منظور کی گئیں۔
31؍مارچ1930ء کو ساردا ایکٹ کے خلاف عظیم الشان اجلاس میں یہ چیلنج دیا گیا کہ اگر ساردا ایکٹ کے تاریخ نفاذ :یکم اپریل سے پہلے پہلے مسلمانوں کو مستثنیٰ نہیں کیا گیا، تو سول نافرمانی کی تحریک شروع کردی جائے گی۔
یکم اپریل1930ء سے پورے ہندستان میں جگہ جگہ ساردا ایکٹ کے خلاف سول نافرمانی کرتے ہوئے کم سن بچے اور بچیوں کے نکاح کرائے گئے۔ اسی سلسلے میں جامع مسجد دہلی میں دس ہزار سے زائد مجمع میں صدراور ناظم عمومی نے متعدد نکاح پڑھائے۔
یکم اپریل1930ء کے الجمعیۃ کی اشاعت میں مولانا انور شاہ صاحب کے ایک فتویٰ کے متعلق اہم مضمون شائع کیا گیا، جس میں نمک پر محصول کو ناجائز قراردیا گیا۔
اسی تاریخ کی اشاعت میں ساردا ایکٹ کے خلاف سول نافرمانی سے متعلق غلط فہمیوں کی وضاحت کی گئی کہ یہ سول نافرمانی کانگریس کی نمک تحریک سے کوئی تعلق نہیں رکھتی ہے۔
5؍اپریل1930ء کو مختلف مسلم زعمائے ہند نے مسلمانوں کو تحریک آزادی میں شرکت کی دعوت دیتے ہوئے نمک تحریک میں شامل ہونے کی اپیل کی۔
13؍اپریل1930ء کو اخبار مدینہ نے جمعیت علمائے ہند کو مشورہ دیا کہ سول نافرمانی کی تحریک کو جنگ آزادی کی تحریک سے مربوط کردیا جائے۔
13؍اپریل1930ء کے الجمعیۃ کی اشاعت میں نویں سالانہ اجلاس عام کے ایجنڈے شائع کیے گئے۔
16؍اپریل1930ء کو صدر جمعیت نے ایک بیان جاری کرکے یہ مشورہ دیا کہ ساردا ایکٹ کے خلاف سول نافرمانی کے پیش نظر غیر ضروری طور پر نابالغ بچے بچیوں کے نکاح نہ کرائیں۔
20؍اپریل1930ء کو فریدآباد ضلع گوڑگاوں کی مساجد سے متعلق حکام سے رابطہ کرکے مسائل کو حل کرنے کی درخواست کی گئی۔
24؍اپریل1930ء کے الجمعیۃ میں شائع ایک خطاب میں ناظم عمومی صاحب نے اعلان کیا کہ یاتو انگریز کے غلام بن جاؤ، یا جنگ آزادی کے سپاہی بن جاؤ۔
3-4-5-6؍ مئی 1930ء کو جمعیت علمائے ہند کا نواں سالانہ اجلاس امروہہ میں کیا گیا ، جس میں نہرو رپورٹ کو کالعدم قرار دینے کے بعد مکمل آزای کی تجویز منظور کرنے کی وجہ سے جمعیت اور دیگر ملی تنظیموں نے کانگریس سے اشتراک عمل کیا اور مل کر آزادی کی لڑائی لڑنے کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ اس کے لیے عملی جدوجہد کرتے ہوئے جب کانگریس نے سول نافرمانی کی تحریک کا آغاز 12؍مارچ1930ء کو نمک مارچ سے کرتے ہوئے حکومت کو ٹیکس نہ دینے، بدیسی سامان نہ خریدنے، کھدر کو فروغ دینے اور شراب بند کرنے اور جگہ جگہ جلسے جلوس سے کیا، تو جمعیت نے ایک مستقل نظام ’دائرۂ حربیہ‘‘ بناکر مجاہدانہ کردار ادا کرتے ہوئے ہزاروں کی تعداد میں گرفتاریاں پیش کیں۔ انگریز حکومت نے دائرۂ حربیہ کی سرگرمیوں کو روکنے کے لیے مفتی اعظم مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند، مولانا احمد سعید صاحب ناظم جمعیت علمائے ہند، مولانا ابوالکلام آزاد صاحب رکن جمعیت علمائے ہند، مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب رکن جمعیت علمائے ہند اورہزاروں کی تعداد میں کارکنان جمعیت کے علاوہ کانگریسی ڈکٹیٹروںکو بھی گرفتار کرنا شروع کیا۔
سول نافرمانی کرتے ہوئے پشاور میں 23؍اپریل 1930ء کو ہزاروں لوگوں نے پرامن جلوس نکالا، لیکن انگریزوں نے مشین گن سے حملہ کرکے سیکڑوں لوگوں کو شہید کردیا، جس کے خلاف جمعیت نے صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے شہیدوں کو مبارک بادی اور اہل خانہ سے ہمدردی کا اظہا ر کیا۔
موجودہ بجنور میں واقع ہرداس پور مانڈھے کی مسجدپر دفعہ 144؍لگانے کی مذمت و مخالفت کی۔برطانوی حکام نے انڈین پریس ایکٹ 1910ء کو دوبارہ نافذ العمل کرکے پریس کی آزادی کو چھیننے اور الجمعیۃ پر 500روپے کی زر ضمانت لگانے کے خلاف آواز بلند کی۔
آزادی کے لیے کانگریس کی ہندو مسلم متحدہ پارٹی میں آزادی کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث آریوں اور مہا سبھائیوں کی شرکت کو کانگریس کے اصول کے منافی قرار دے کر انھیں نکال باہر کرنے کا مطالبہ کیا۔
جمعیت نے یہ موقف پیش کیا کہ راؤنڈ ٹیبل لندن کانفرنس میں شرکت اسی وقت مفید ہوگی ، جب کہ سبھی اقلیتوں کو مطمئن کرنے والا فارمولہ کو قابل عمل بنایا جائے۔
30؍مئی 1930ء کو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی نور اللہ مرقدہ سے غلط حالات بتاکر فتویٰ حاصل کرلیاگیا، جسے انجمن صیانۃ المسلمین عن خیانۃ غیر المسلمین نے تشہیر کرکے مسلمانوں کو گمراہ کرتے ہوئے جنگ آزادی سے روکنے اور انگریزوں کے وفادار بنانے کی ہر ممکن کوشش کی۔
8؍جون 1930ء کو ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب پر بزدلوں نے ممبئی میں حملہ کردیا، جس کی وجہ سے آپ کے سر میں شدید چوٹیں آئیں۔
10؍جون1930ء کو منعقد ایک اجلاس میں راؤنڈ ٹیبل کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔
13؍جون1930ء کو روزنامہ انقلاب نے شرکت کانگریس کی تجویز کا غلط مطلب نکال کر جمعیت پر کانگریس کی سازش کا بہتان لگایا، جس کا مفتی اعظم ہند نے مدلل جواب دیا۔
13؍جون1930ء کو شائع ایک خبر کے مطابق جمعیت علما اور کانگریس نے مل کر نمک تحریک کو مہمیز کرتے ہوئے شراب کی دکانوں پر پیکٹنگ شروع کی۔
13؍جون1930ء کو پولیس نے دفتر جمعیت علمائے ہند پر چھاپا مارا۔
14؍جون1930ء کو ناظم عمومی صاحب کی ممبئی سے دہلی آمد پر زبردست استقبالیہ جلوس نکالا گیا۔
14؍جون1930ء کو ایک تقریر میں مولانا حفظ الرحمان صاحب نے بتایا کہ سائمن کمیشن سے متعلق مسلمانوں میں جو خوش عقیدگی پیدا کی جارہی ہے، وہ ایک سازش ہے۔
18؍جون1930ء کو مہرولی مسجد کے قضیہ پر مسلمانوںسے صبروتحمل کی اپیل کی گئی۔
20؍جون1930ء کو یوم شہیدان پشاور کے عنوان سے عظیم الشان اجلاس منعقد کیا گیا۔
28؍جون1930ء کو صدر جمعیت نے سائمن کمیشن کی سفارشات کو ہندستانیوں کی توہین قرار دیا۔
8؍جولائی1930ء کو جمعیت علما اور کانگریس کے کئی رضاکار گرفتار کرکے جیل بھیج دیے گئے۔
12؍جولائی1930ء کو حالات حاضرہ سے متعلق مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی۔
13؍جولائی1930ء کو جمعیت وار کونسل (دائرۂ حربیہ) کی میٹنگ ہوئی۔
17؍جولائی1930ء کو سائمن کمیشن کی رپورٹ کی سخت مذمت کی گئی۔
19؍جولائی1930ء کو مہرولی مسجد کے متعلق احتجاجی اجلاس کیا گیا۔
24؍جولائی1930ء کوکارکنان جمعیت سے متعلق روزنامہ انقلاب کی ایک گمراہ کن خبر کی تردید کی گئی۔
28؍جولائی1930ء کو الامان کے ایک جھوٹے پروپیگنڈے کی تردید کی گئی۔
3؍اگست 1930ء کو مولانا عبدالحلیم صدیقی صاحب گرفتار کرلیے گئے۔
6؍اگست1930ء کو مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی کی گرفتاری کے خلاف ایک عظیم الشان احتجاجی اجلاس کیا گیا۔
8؍اگست1930ء کو مولانا حفظ الرحمان صاحب کی گرفتاری عمل میں آئی، جس کی وجہ سے 10؍اگست1930ء کو زبردست اجلاس گیا اور جلوس نکالا گیا۔
14؍اگست1930 ء کو مولانا شوکت علی صاحب نے جمعیت علمائے ہند اور دیگر مسلم لیڈران کے خلاف نامناسب باتیں کہیں۔
28؍اگست1930ء کو صدر اور ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے اپنی خدمات کانگریس ورکنگ کمیٹی کے پیش کیں۔
28؍اگست1930ء کو رکن دائرۂ حربیہ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری گرفتار کرلیے گئے۔
یکم ستمبر1930ء کو مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب نے مسلم حامیان گول میز کانفرنس سے چند ضروری سوالات کیے۔
10؍ستمبر1930ء کو ابوالمحاسن حضرت مولانا محمد سجاد صاحب کے بڑے صاحب زادے : مولانا حسن سجاد صاحب گرفتار کرلیے گئے۔
10؍ستمبر1930ء کو شائع خبر شاہد ہے کہ مفتی محمد نعیم صاحب لدھیانوی کو استغاثہ کے متعلق بہت زیادہ پریشان کیا گیا۔
16؍ستمبر1930ء کو مفتی اعظم ہند مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب آل انڈیا ورکنگ کمیٹی کے رکن نام زد کیے گئے۔
19؍ستمبر1930ء کو مساجدو مقابر کے انہدام کے خلاف احتجاجی اجلاس کیا گیا۔
19؍ستمبر1930ء کو کمپنی باغ دہلی کے اجلاس میں ناظم عمومی نے زبردست خطاب کرتے ہوئے جنگ آزادی میںمسلمانوں کے بھرپور حصہ لینے کی تحسین کی۔
20؍ستمبر1930ء کو ناظم عمومی مولانا احمد سعید صاحب گرفتار کرلیے گئے۔
20؍ستمبر1930ء کو ابوالمحاسن حضرت مولانا محمد سجاد صاحب کو قائم مقام ناظم عمومی بنایاگیا۔
اسی تاریخ کو ناظم عمومی کی گرفتاری پر مبارک باد دینے کے لیے عظیم الشان اجلاس کیاگیا، جلوس نکالا گیا اور جگہ جگہ ہڑتال کی گئی۔
23؍ستمبر1930ء کو قومی ہفتہ کا آخری دن منایا گیا، جس کے جلوس میں مفتی اعظم ہند نے زبردست خطاب فرمایا۔
25؍ستمبر1930ء کو باڑہ ہندو راؤ میں منعقد ایک اجلاس سے صدر جمعیت نے خطاب فرماتے ہوئے لوگوں کو تحریک سول نافرمانی میں شرکت کی اپیل کی۔
26؍ستمبر1930ء کو جامع مسجد میں خطاب کرتے ہوئے صدر جمعیت نے بدیسی مال کے بائیکاٹ کی اپیل کی۔
3؍اکتوبر1930ء کو رکن دائرۂ حربیہ مولانا نور الدین صاحب بہاری گرفتار کرلیے گئے۔
3؍اکتوبر1930ء کو طلبائے دارالعلوم دیوبند نے مجلس حربی جمعیت علمائے ہند میں شرکت کی۔
4؍اکتوبر1930ء کو مولانا فخرالدین اور مولانا محمدمیاں صاحبان کو گرفتار کرلیا گیا۔
4؍اکتوبر1930ء کوجامع مسجددہلی میں منعقد ایک اجلاس سے خطاب میں مفتی اعظم ہند نے آزادی ہند کے لیے عدم تشدد کی راہ اختیار کرنے کی اپیل کی۔
8؍اکتوبر1930ء کو حالات کو توڑ مروڑ کو پیش کرکے حضرت تھانوی ؒ سے لیے گئے فتویٰ کے سہارے مسلمانوں کو جنگ آزادی میں شرکت سے روکنے کی کوششوں کے خلاف صدر جمعیت علما نے فتویٰ کی حقیقت بتائی۔
9؍اکتوبر1930ء کو مقدمہ سازش لاہور کے خلاف احتجاجی اجلاس کیا گیا۔
11؍اکتوبر1930ء کو مفتی اعظم ہند کو سول نافرمانی میں شرکت کی وجہ سے گرفتار کرلیا گیا۔اور اسی تاریخ کو آپ نے حضرت مولانا حسین احمدمدنی صاحب کو قائم مقام صدر نام زد فرمایا۔
12؍اکتوبر1930ء کو صدرجمعیت مفتی اعظم ہند کی گرفتاری کے خلاف ملک گیر سطح پر احتجاجی اجلاس ، جلوس اور ہڑتال ہوئی۔
15؍اکتوبر1930ء کو رکن دائرۂ حربیہ مولانا عبدالغفور صاحب لدھیانوی گرفتار کرلیے گئے۔
17؍اکتوبر1930ء کو جامع مسجد دہلی میں منعقد ایک اجلاس سے قائم مقام صدر جمعیت نے صدارت کی ذمہ داری نبھانے سے متعلق لوگوں سے تعاون کی اپیل کی۔
21؍اکتوبر1930ء کو مسلمانان افریقہ نے مفتی اعظم ہند کو گرفتاری پر مبارک باد پیش کی۔
28؍اکتوبر1930ء کو نائب ناظم جمعیت علمائے ہند مولانا عبدالصمد رحمانی مونگیر نے مسلمانوں کو قومی و مذہبی فرض یاد دلاتے ہوئے جمعیت کے تعاون کی اپیل کی ۔
31؍اکتوبر1930ء کو جامع مسجد دہلی میں منعقد ایک اجلاس میں حضرت تھانوی ؒ کے فتویٰ کے سہارے مسلمانوں کو گمراہ کرنے کی سازش کو طشت ازبام کیا گیا۔
9؍نومبر1930ء کو مولانا محمد علی صاحب رکن دائرۂ حربیہ کو گرفتار کیا گیا۔
9؍نومبر1930ء کوجامع مسجد دہلی میں تحفظ مساجدسے متعلق ایک اجلاس عام کیا گیا۔
13؍نومبر1930ء کو اسیر فرنگ مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ کی صحت کے بارے میں استفسار کیا گیا۔
13؍نومبر1930ء کو رکن عاملہ مولانا عبدالغفور صاحب گرفتار کرلیے گئے۔
14؍نومبر1930ء کو مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری کی علالت پر صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔
16؍نومبر1930ء کو سیاسی قیدیوں سے متعلق وکلا کی ایک کارروائی پر ناراضگی کا اظہار کیا گیا۔
22؍نومبر1930ء کو جمعیت علما کے دفترپرپولیس نے چھاپہ مارا۔
یکم دسمبر1930ء کو جمعیت علما کے ایک درجن سے زائد رضاکاروں کی گرفتاری عمل میں آئی۔
28؍نومبر1930ء کو رکن جمعیت مولانا محمدصدیق صاحب گرفتار کرلیے گئے۔
20؍دسمبر1930ء کی ایک خبرکے مطابق مفتی اعظم ہند کی ڈاک پر پابندی لگادی گئی ہے۔