20 Jan 2026

جمعیت علمائے ہند قدم بہ قدم: پہلا سال: 1919

 پہلا سال: 1919ء

تحریر: محمد یاسین جہازی قاسمی

انگریزوں نے بھارت پربالجبر قبضہ کرکے ، یہاں کی عوام ؛بالخصوص مسلمانوں کو سیاسی، اقتصادی اور مذہبی طور پر تباہ کرنے کی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی تھی۔ ادھر دوسری طرف علمائے امت کے مسلکی اختلافوں نے انھیں اور بھی بے جان کردیا تھا۔ ایسے پرآشوب حالات میں مفکر قوم و ملت حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد علیہ الرحمۃ اٹھے اور بھارت کے اکثر صوبوں میں دورہ کرکے علمائے کرام کو ایک متحدہ پلیٹ فارم تشکیل دینے کی دعوت دی، لیکن کسی نے بھی ان کی آواز پر لبیک نہیں کہا؛ بالآخر مولانا رحمۃ اللہ علیہ نے آل انڈیا کے بجائے ریاستی سطح پر15؍ دسمبر 1917ء میں ’’انجمن علمائے بہار‘‘ کی داغ بیل ڈالی۔بعد ازاں23؍ نومبر 1919ء کو آل انڈیا خلافت کانفرنس کے موقع پر بھارت کے کونے کونے سے علمائے کرام دہلی میں جمع ہوئے تھے، اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے ، مختلف مسالک کے علما23؍ نومبر1919ء اتوار کے دن فجر کی نماز کے بعد سید حسن رسول نما کے مزار پر حاضر ہوکر پہلے رازداری کا حلفیہ لیا۔ پھر اسی روز23؍ نومبر 1919ء کوبعد نماز عشا کرشنا تھیٹر ہال پتھر والا کنواں نئی دہلی میں ایک میٹنگ کی اور ’’جمعیت علمائے ہند ــ‘‘کی تشکیل کی۔ اس میٹنگ میں درج ذیل فیصلے کیے گئے:

(1) جشن صلح کے مقاطعہ کا فیصلہ کیا اور اس میں شرکت کے عدم جواز پر ایک فتویٰ بھی دیا گیا۔ 

(2) جمعیت علمائے ہند کے قیام پر کافی بحث و مباحثہ ہوا اور بالآخر اس کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ 

(3) تمام حاضرین جمعیت کے رکن بنے اور آواخر دسمبر میں امرتسر میں جلسہ کرنے کی تجویز پاس کی۔

(4)  حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کوعارضی صدر اور حافظ احمد سعید صاحب کو عارضی ناظم بنایا گیا۔ 

(5) جمعیت کے مقاصد و ضوابط کا مسودہ تیار کرنے کا فیصلہ لیا اور مفتی محمد کفایت اللہ صاحب اور مولانا محمد اکرام خاں صاحب ایڈیٹر اخبار محمدی کو اس کی ذمہ داری سونپی گئی۔ 

 اس کا پہلا اجلاس عام 28و31؍ دسمبر 1919ء و یکم جنوری 1920ء امرتسر میں کیا گیا۔28؍ دسمبر1919ء بعد نمازعصر کو منعقد پہلی نشست میں باون علمائے کرام شریک ہوئے اور جمعیت علمائے ہند کے قیام کی ضرورت و اہمیت پر درج ذیل بحث و گفتگو ہوئی: 

(1) مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسری نے انعقاد جمعیت اور جلسہ دہلی کی مختصر کیفیت بیان کی۔ 

(2) مولانا ابو تراب محمد عبد الحق صاحب نے سیاست و مذہب کی یگانگت پر تقریر کی۔ 

(3) مولانا عبد الرزاق صاحب نے انعقاد جمعیت کی ضرورت پر زور دیا۔ 

(4) جناب سید جالب صاحب ایڈیٹر اخبار ہمدم نے اپنے خطاب میں کہا کہ میرے نزدیک علما کو جداگانہ جمعیت قائم کرنے کی ضرورت نہیںہے۔ 

(5) مفتی محمدکفایت اللہ صاحبؒ نے جمعیت علمائے ہند کے قیام کی ضرورت پر خطاب کیا اور اس کے اغراض و مقاصد کا اجمالی خاکہ بھی پیش کیا۔ 

(6) مولانا ثناء اللہ صاحب نے مفتی اعظم صاحب کی تائید کی۔

(7) جناب غازی محمود صاحب نے مفتی صاحب کی باتوں سے مکمل اتفاق کا اعلان کیا۔ 

(8) مولانا منیرالزماں صاحب نے ملک گیر جمعیت کے قیام کی ضرورت بتائی۔

(9) مفتی اعظم ہند مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے اغراض و مقاصد کا اجمالی خاکہ پیش کیا۔ بعد ازاں دستوراساسی کو مرتب کرنے کے لیے ایک کمیٹی کی تشکیل عمل میں آئی۔ 

 (10) حاذق الملک حکیم حافظ محمد اجمل خاں صاحب نے جمعیت کے انعقاد پر اپنے دلی اتفاق کا اظہار کیا۔ 

31؍دسمبر1919ء کو دوسری نشست منعقد ہوئی، جس میں خلافت اسلامیہ کے خلیفہ محمد وحید الدین خاں کے نام کا خطبہ پڑھنے، صلح کانفرنس میں بھارتی مسلمانوں کے وفد کے بھیجنے اور اس تجویز کو برطانوی بھارتی بادشاہ جارج پنجم کوبھیجنے کی تجاویزمنظور کی گئیں۔ 

املا کے قاعدہ کی رو سے ’’جمعیت علمائے ہند‘‘ لکھنا چاہیے۔ 

 اس کا پہلا دفتر مدرسہ امینیہ اسلامیہ کشمیری گیٹ دہلی میں قائم کیا گیا۔