2 Feb 2026

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: سینتیسواں سال:1955ء

 سینتیسواں سال:1955ء

2؍ جنوری 1955ء کو زبان کو سیاسی مسئلہ بنانے پر افسوس کا اظہار کیا۔ 

4؍ جنوری 1955ء کو جمعیت کے تحقیقاتی وفد نے رام پور فساد کی رپورٹ میں پولیس کی انتقامی کارروائی کا انکشاف کیا۔

5؍جنوری1955ء کو کسٹوڈین کے مسائل سے متعلق وزیر اعظم ہند پنڈت جواہر لال نہرو کو مکتوب لکھ کر انھیں حل کرانے کی کوشش کی۔

5؍جنوری1955ء کو دینی تعلیمی کنونشن کے ایجنڈے جاری کیے گئے۔

6؍جنوری1955ء کو پنجاب کی ایک مسجد کی بحالی کے لیے ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو مکتوب روانہ کیا گیا۔

8،9،10؍ جنوری 1955ء کو ممبئی میں کل ہند دینی تعلیمی کنونشن منعقد ہوا، جس میں مختلف العقائد علما نے مل کر متفقہ طور پر ’’مرکزی دینی تعلیمی بورڈ‘‘ قائم کیا۔ علاوہ ازیں ہر مکتب خیال کے مطابق نصاب تعلیم مرتب کرنے، استاد وںاور استانیوں کی ٹریننگ کا فیصلہ کیا۔ 

10؍جنوری 1955ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں الجمعیۃ،گوشوارۂ آمدو صرف، ناظموں کا تقرر اور حاجیوں کو مستقل طور پر انکم ٹیکس سرٹیفیکٹ سے مستثنیٰ قرار دینے کے مطالبے پر بحث و فیصلے ہوئے۔

14؍جنوری1955ء کوعازمین حج کو انکم ٹیکس سرٹیفیکٹ سے مستقل طور پر مستثنیٰ قرار دیا گیا، جس میں جمعیت علمائے ہند کی کوششیں شامل تھیں۔

سات سال گذر جانے کے باوجود مسلمانوں کی نکاسی جائداد کے مصائب پر 14؍ جنوری 1955ء کو وزیر اعظم پنڈت نہرو کو مکتوب لکھا گیا۔

یکم فروری1955ء کو اٹھارھویں اجلاس عام کے ایجنڈے جاری کیے گئے۔

11،12،13؍ فروری 1955ء کو کلکتہ میں، مجلس عاملہ،مجلس منتظمہ اور اٹھارھواں اجلاس عام کیا گیا، جس میںصدر کا انتخاب،لینڈ ایکویزیشن بل، صوبائی جمعیتوں کو متحرک و فعال بنانے کے فارمولے،اجتماعی فتویٰ صادر کرنے کے لیے ایک بورڈ کی تشکیل کی تجویز،مذہبی عقائد کے خلاف پرارتھنا میں شرکت کا معاملہ،نصاب قرآن کی تحسین کی تجویز، یوپی میں گاؤ کشی کی ممانعت کا مسئلہ،یوپی میں اردو کو ثانوی زبان تسلیم کرنے کا مطالبہ،حکومت مغربی بنگال سے مقبوضہ مساجد کو واگزار کرانے کا مطالبہ،نکاسی جائداد قانون کو منسوخ کرنے کی تحسین،مسلم تہواروں پر چھٹی کی وضاحت کا مطالبہ،فسادات میں اجڑے مسلمانوں کی بازآباد کاری کا مطالبہ اور تجاویز تعزیت منظور کی گئیں۔

15؍فروری 1955ء کووزیر بحالیات کی طرف سے مکتوب کا جواب دیا گیا اور کسٹوڈین کے متعلق کی گئیں شکایات پر ایکشن لینے کا وعدہ کیا گیا۔

28؍فروری1955ء کو اخبار الجمعیۃ سے متعلق صورت حال واضح کرتے ہوئے وزیر اعظم ہند کو مکتوب لکھا گیا۔

کرنال چنڈی گڑھ میں واقع ایک گاوں پپلی کی ایک مسجد پر کیے گئے ناجائز قبضے سے آزاد کرانے کے لیے وزیر اعلیٰ پنجاب کو مکتوب روانہ کیاگیا۔

جمعیت کی کوشش رنگ لائی اور حکومت ممبئی نے 5؍ مارچ 1955ء کو لینڈ ایکویزیشن بل پر روک لگادی ۔ 

11؍مارچ 1955ء کو افسران کو مکتوب لکھ کر گھوسیوں کے مسائل کو حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

21؍مارچ 1955ء کومرکزی دینی تعلیمی بورڈ کے قواعد و ضوابط شائع کیے گئے۔

30؍ مارچ 1955ء کو الجمعیۃ پریس کا افتتاح کیا گیا۔

30،31؍ مارچ 1955ء کو مرکزی دینی تعلیمی بورڈ کا اجلاس ہوا، جس میں بورڈ کے متعلق دس اہم فیصلے کیے گئے۔

یکم اپریل1955ء کو نیپال کے متعلق الجمعیۃ میںشائع ایک خبر کے حوالے نے حکومت کے اعتراض جتایا۔

7؍اپریل1955ء کو اس کا وضاحتی جواب دیا گیا۔

9؍اپریل1955ء کو محکمۂ کسٹوڈین کے نسٹوں پر ایک عرض داشت پیش کی گئی۔

15؍ اپریل 1955ء کو روسی علما کو عصرانہ دیا گیا۔

5؍مئی1955ء کو حیدرآباد کے مسلمانوں کے متعلق مرکزی حکومت کی ایک رپورٹ کے تعلق سے امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزاد علیہ الرحمہ کو ایک مکتوب ارسال کیا گیا۔

22؍ مئی کو حضرت شیخ الاسلامؒ کی جانب سے اہل وطن کو عید کی مبارک باد پیش کی گئی۔

2؍ جون 1955ء کو کل ہند سطح پر جمعیت کی ممبرسازی کے لیے ایک اہم سرکلر جاری کیا گیا۔

2؍جون1955ء کو وزیربحالیات کی طرف سے جوابی مکتوب موصول ہوا، جس میں کسٹوڈین سے متعلق شکایات کے ازالے کا وعدہ کیا گیا۔

5؍ جون 1955ء کو کل ہند دینی تعلیمی بورڈ کی انتظامی مجلس کے اجلاس میں سات اہم فیصلے لیے گئے۔ 

8؍جون1955ء کو کسٹوڈین سے متعلق چند اصلاحات کی سفارشات پیش کی گئیں۔

21؍جون1955ء کو آسامی مسلمانوں کے مسائل سے متعلق حکومت آسام کو مکتوب روانہ کیا گیا۔

6؍ جولائی 1955ء کو حسب سابق ہندستان کے ساتھ کشمیر کے الحاق کی حمایت کی گئی۔

12؍ جولائی 1955ء کو جمعیت کی کوشش سے حج کوٹہ میں پندرہ فی صدی کا اضافہ کیا گیا۔

14؍ جولائی 1955ء کو وزیر اعظم سے ملاقات کرکے بیرونی ملک کے کامیاب دورے پر مبارک باد پیش کی گئی۔

حجاز مقدس میں سخت گرمی کے باعث حاجیوں؛ بالخصوص حضرت شیخ الاسلامؒ کی راحت رسانی کے لیے18؍ جولائی 1955ء کو سعودی حکومت سے درخواست کی گئی۔ چنانچہ سعودی حکومت نے اسپیشل انتظامات کیے۔

22اور23؍ جولائی 1955ء کو گوا کی غلامی کو ہندستان کے لیے توہین قرار دیتے ہوئے جلد آزاد ہونے کی پیش قیاسی کی۔ 

3؍ اگست 1955ء کو جمعیت کے مطالبہ پر اسسٹنٹ کسٹوڈین کو سرونج پہنچنے کی ہدایت جاری کی گئی۔

4؍ اگست 1955ء کو حضرت مجاہد ملتؒ کی کوششوں سے درگاہ اجمیر شریف بل منظور کیا گیا۔

7؍ اگست 1955ء کو جمعیت کے مطالبے پر گجرات مویشی تاجروں کے اضافی بکنگ کی سہولت فراہم کی گئی۔

16؍ اگست 1955ء کو گوا کی آزادی کے لیے ستیہ گرہ کر رہے ستیہ گرہوں پر پرتگالیوں کے مظالم کی مذمت کی۔

22؍اگست1955ء کو سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب نائب صدر جمعیت علمائے ہند نے دو ٹوک اعلان کیا کہ کشمیر ہندستان کا حصہ ہے۔

28؍ اگست 1955ء کو گوا کی آزادی کی تحریک میں پرجوش حصہ لینے پر طلبۂ مسلم علی گڑھ کی حوصلہ افزائی اور ان کے لیے مالی تعاون کی اپیل کی۔

9؍ ستمبر1955ء کو حضرت سحبان الہند پر قاتلانہ حملہ ہوا، لیکن بحمد اللہ وہ محفوظ رہے۔ 

11؍ ستمبر 1955ء کو کوٹہ فساد پر جمعیت کی تحقیقاتی وفد نے رپورٹ پیش کی۔ 

12؍ستمبر1955ء کو پیپسو اوقاف سے متعلق وزیر داخلہ حکومت ہند کو مکتوب لکھ کر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

13؍ ستمبر 1955ء کو لوک سبھا میں حضرت مجاہد ملتؒ نے شرنارتھیوں کے لیے معاوضہ کے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ بے گھروں کے دلوں پر مرہم رکھنے کی ضرورت ہے۔

16؍ستمبر1955ء کو مرادآباد کی ایک مسجد کے تحفظ کے حوالے سے کلکٹر کو مکتوب لکھا گیا۔

17؍ستمبر1955ء کو مجلس عاملہ کی نئی نام زد فہرست جاری کی گئی۔

20؍ستمبر1955ء کو مظفر نگر کے ایک قبرستان پر ناجائز قبضے کے پیش نظر ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کو مکتوب لکھا گیا۔

30؍ ستمبر 1955ء کو کوٹہ فساد پر کلکٹر کو فون کرکے حالات پر کڑی نگاہ رکھنے کا مطالبہ کیا۔

2؍اکتوبر1955ء کومرادآبا دکی منہدم کردہ مسجد کی تعمیر جلد از جلد مکمل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

8،9؍ اکتوبر 1955ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں تجاویز تعزیت کے علاوہ سیلاب متأثرین کے ساتھ اظہار ہمدردی،تربیتی سینٹر کا قیام،غیر معیاری نصابی کتابوں پر اظہار افسوس، مقبوضہ اوقاف کی واگزاری، تربیتی مرکز کا قیام،یوپی سنی وقت ایکٹ 1936ء پر غور،تعارفی لٹریچر کی اشاعت اورشعبۂ تعلقات و روابط ممالک خارجہ کے قیام کی تجویز پر بحث و گفتگو ہوئی۔

15؍ اکتوبر 1955ء کو کاس گنج میں ہوئے فسادات پر مرکزی و صوبائی تحقیقاتی وفد نے اپنی رپورٹ پیش کی۔

17؍اکتوبر1955ء کو کسٹوڈین کے مظالم کے خلاف وزیر اعظم ہند کو مکتوب لکھ کر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

21؍اکتوبر1955ء کو پیپسو اوقاف سے متعلق حکومت کا وضاحتی مکتوب موصول ہوا۔

26؍اکتوبر1955ء کوپنجاب کے ایک قبرستان پر ناجائز قبضے کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیاگیا۔

14؍ نومبر 1955ء کو وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کی عمر دراز کے لیے دعا کی گئی۔

19؍نومبر1955ء کوقبرستان کی زمین سے متعلق وزیر پنجاب کو مکتوب بھیجا گیا۔

27؍نومبر1955ء کو شاہ سعود کی ہندستان آمد پر ہوائی اڈے پر پھولوں سے استقبال کیا گیا۔

29؍ نومبر 1955ء کو تال کٹورہ گارڈن میں جلالۃ الملک شاہ سعود صاحب فرما رائے سلطنت سعودی عرب کی آمد پر تقریب استقبالیہ رکھا گیا ، جس میں ایک سپاس نامہ بھی پیش کیا گیا۔

5؍دسمبر1955ء کو مرکزی دینی تعلیمی بورڈ کا ایک اعلامیہ جاری کیا گیا۔

17؍دسمبر1955ء کومذہبی مقامات کی مسماری کو روکنے کی گذارش کی گئی۔

22؍دسمبر1955ء کو اشوتی گاوں کے قبرستان کے معاملہ میں مکتوب لکھا گیا۔

23؍ دسمبر 1955ء کو لوک سبھا میں بہار ، یوپی اور دہلی میں اردو کو علاقائی زبان تسلیم کرنے کا مطالبہ پیش کیا۔

26؍ دسمبر1955ء کو مجلس انتظامی دینی تعلیمی بورڈ کے اجلاس میں بیسک مذہبی تعلیم کے بارے میں اہم فیصلے کیے۔


جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: چھتیسواںسال:1954ء

 چھتیسواںسال:1954ء

محمد یاسین جہازی

3؍جنوری1954ء کو خالی شدہ جائدادوں کی نیلامی کے سلسلے میں وزیر بحالیات کو مکتوب لکھ کر چند تجاویز پیش کیں۔

پرجوش مجاہد آزادی خان عبد الغفار خاں صاحب کی رہائی پر 7؍ جنوری 1954ء کو مبارک باد پیش کی گئی۔

 8؍ جنوری 1954ء کو نیروبی مشرقی افریقہ پہنچنے پر ناظم عمومی حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحبؒ کا شان دار خیر مقدم کیا گیا۔

9؍جنوری1954ء کو جمعیت علمائے ہند کے ایک وفد نے وزیر بحالیات سے ملاقات کرکے جائداد نکاسی سے متعلق پریشانیوں سے آگاہ کیا۔

10؍فروری1954ء کو دھار فساد پر وزیر داخلہ کو مکتوب لکھ کر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

17؍فروری1954ء کوغازی آباد کے باشندگان کے مسائل پر وزیر اعلیٰ کو مکتوب لکھا گیا۔

25؍فروری1954ء کوگڑگاوں مسجد پر ناجائز قبضے پر حکام کو مکتوب لکھا گیا۔

امریکہ پاکستان فوجی معاہدہ پر2؍ مارچ 1954ء کو بیان دیتے ہوئے اسے ہندستان کے لیے کھلا چیلنج قرار دیاگیا۔

12؍ مارچ 1954ء کو پارلیمنٹ میں مسلم وقف بل کی زبردست حمایت کی۔

27؍ مارچ 1954ء کو ایوان عام میں حضرت ناظم عمومی صاحب نے اردو تحریک کی مخالفت کو فرقہ پرستی سے تعبیر کیا۔

ڈپٹی کمشنر پنجاب کو6؍اپریل 1954ء کو  مکتوب لکھ کر ایک مسجد کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

9؍اپریل1954ء کو وزیر ریل مسٹر شاستری جی کو مسلم ملازمین کی سرکاری چھٹی کے سلسلے میں ایک مکتوب لکھا گیا۔ 

22؍ اپریل 1954ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میںمشترک دینی تعلیمی کنونشن کی دشواریوںاورحاجیوں کو انکم سرٹیفیکٹ سے مستثنیٰ قرار دینے کے علاوہ چند اہم فیصلے کیے گئے۔

20؍ مئی 1954ء کو کسٹوڈین کے مظالم کے خلاف وزیر اعظم ہند کو مکتوب لکھ کر اس کی جانب متوجہ کیا گیا۔

4؍جون1954ء کو حجاج کرام کو انکم سرٹیفیکٹ سے مستثنیٰ قرار دیا گیا، جس میں جمعیت کی کوششوں کو خاص دخل تھا۔

حضرت شیخ الاسلام نے ہندو بھائیوں اور مسلمانوں کو عید کی مبارک باد پیش کی۔

5؍ جون 1954ء کو علی گڑھ میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات پر فوری اقدام کیا گیا۔

9؍جون1954ء کو علی گڑھ فساد تحقیقاتی وفد نے اپنی رپورٹ پیش کی۔

علی گڑھ فساد  مسئلے کو لے کر 19؍ جون 1954ء کویوپی کے وزیر کو فون کیا گیا۔اور مجسٹریٹ کو مکتوب لکھا گیا۔

9؍جولائی1954ء کو دہرادون کی ایک مسجد کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا۔

20؍جولائی1954ء کو ایک بیان میں صدر جمعیت نے فرمایا کہ مذہب و وطن کی خدمت میرا شعار رہا ہے۔

7؍ اگست 1954ء کو جمعیت سمیت مختلف ریاستی مجالس قانون ساز کے مسلم ممبران کی طرف سے نکاسی جائداد کے ٹریبونل قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

نئی دنیا میں شائع تحریر کو اکابر جمعیت نے 20؍ اگست 1954ء کوجمعیت کو بدنام کر نے اور شخصی انتقام پر مبنی قرار دیا۔ 

22؍ اگست 1954ء میںمتھرا میں بھڑکے فساد پر جمعیت نے تحقیقاتی وفد روانہ کیا۔

23؍اگست1954ء کو ایک مکتوب لکھ کر وزیر اعلیٰ راجستھان کو جودھ پور کی ایک مسجد کے تحفظ کے لیے متوجہ کیا گیا۔

24؍اگست 1954ء کو یوپی میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کو مکتوب لکھ کر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

28؍اگست1954ء کو حیدرآباد کے علاقوں میں فسادات پر کارروائی کے لیے مکتوب لکھا گیا۔

یکم ستمبر 1954ء کو فسادات کے موضوع پر حضرت ناظم عمومی صاحب نے یوپی کے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی۔

2؍ ستمبر1954ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میںحاجیوں کو مستقل طور پر انکم سرٹیفیکٹ سے مستثنیٰ کرنے،چیف منسٹر یوپی سے ملاقات کی تفصیل،حالیہ فسادات کے اسباب و وجوہات پر غوراور تدارک کے فارمولے،مشرقی پنجاب اور پیپسوکے اوقاف کے تحفظ کے لیے کمیٹی کی تشکیل،تبلیغی و اصلاحی رسائل کی تدوین و اشاعت اور متھرا عیدگاہ کے معاملے پر بحث و گفتگو ہوئی۔

4؍ ستمبر1954ء کو حضرت شیخ الاسلام ؒ نے پدم بھوشن کے خطاب کی واپسی کا اعلان کیا۔

18؍ ستمبر1954ء کو فسادات کے موضوع پر جمعیت کے ایک وفد نے وزیر اعظم ہند پنڈت نہرو سے ملاقات کی۔

جمعیت کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں بالآخر 25؍ ستمبر 1954ء کو لوک سبھا میں نکاسی جائداد قانون میں ترمیمات کو منظوری مل گئی۔

7؍ اکتوبر 1954ء کو سیلاب زدگان کی امداد کی اپیل کی گئی۔

12؍اکتوبر1954ء کو ناظم عمومی مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے ایک خطاب میں کہا کہ جدوجہد کرو ؛ لیکن مایوس نہ ہو۔

24؍اکتوبر1954ء کو مسٹر رفیع احمد قدوائی کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا گیا۔

2؍نومبر1954ء کو اعلان کیا گیا کہ اب حاجیوں کو انکم ٹیکس سرٹیفیکٹ لینا ضروری نہیں ہے۔

24؍نومبر1954ء کو ایواکیو پراپرٹی کے انتظامی قوانین میں چند ترامیم پیش کی گئیں۔

یکم دسمبر1954ء کو متھرا کی ایک مسجد کے تحفظ کے لیے وزیر اعلیٰ کو مکتوب لکھا گیا۔

4؍ دسمبر1954ء کو ممبئی میں ہونے والے ’’کل ہند دینی تعلیمی کنونشن کے لیے دعوت نامہ جاری کیا گیا۔

6؍ دسمبر1954ء کو جمعیت کے اعتراض پر دہلی گورنمنٹ نے ’’ادھر ادھر کی کہانیاں ‘‘ نامی کتاب سے قابل اعتراض حصوں کو حذف کرنے کااعلان کیا۔

دسمبر کی مختلف تاریخوں میں تنظیمی استحکام اور جمعیت کی نئی نئی یونٹوں کی تشکیل کے لیے حضرت ناظم عمومی صاحب نے مدھیہ پردیش اور بہار کے اضلاع کا دورہ کیا۔

14؍ دسمبر 1954ء کو کنونشن کی استقبالیہ کمیٹی تشکیل دی گئی۔

19؍دسمبر1954ء کو محکمۂ کسٹوڈین کی من مانی کارروائی کو وزیر اعظم کو مکتوب لکھ کر شکایت کی گئی اور کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

اسی تاریخ کو لکھے ایک دوسرے مکتوب میں وزارت بحالی سے متعلق وزیر اعظم کو چند گذارشات پیش کی گئیں۔

23؍دسمبر1954ء کو بہار فساد پر کارروائی کا مطالبہ کرنے کے لیے ایک تار بھیجا گیا۔

28؍دسمبر1954ء کوثبوت شہریت کے حوالے سے مولانا آزاد کو مکتوب روانہ کیا گیا۔

اسی تاریخ کو ایک مکتوب لکھ کر ثبوت شہریت کے لیے راشن کارڈ کو لازمی قرار دینے سے مستثنیٰ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

29؍ دسمبر1954ء کو ’’اللہ میاں کا حلیہ‘‘ نامی کتاب کو فتنہ قرار دیتے ہوئے مصنف و ناشر کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ 


جمعیت علمائے ہد: قدم بہ قدم: پینتیسواں سال:1953ء

 پینتیسواں سال:1953ء

محمد یاسین جہازی

21؍ جنوری 1953ء کو حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب ؒ ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے کہا کہ فرقہ پرستی سے ملک تباہ ہوجائے گا۔ 

28؍ فروری و یکم مارچ 1953ء کو ممبئی میں منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں حضرت مفتی اعظم مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ کی وفات پر تجویز تعزیت کے علاوہ مذہبی بنیادی تعلیم کے لیے مشترک کنونشن کی ضرورت،معلم حجاج کا مسودہ، مولائے اسلام کی شدھی کی روک تھام،قربانی میں کوٹے کی مخالفت،سیدہ پور فساد پر وزیر اعظم ممبئی سے بات چیت،دستور اساسی میں ترمیم کے لیے کمیٹی کی تشکیل، حیدرآباد کے مسلمانوں کی باز آبادکاری اور لائق علی کابینہ کی عام رہائی کا مطالبہ جیسے امور پر بحث و گفتگو کرکے اہم فیصلے لیے گئے۔

13؍ مارچ 1953ء کو حضرت ناظم عمومی صاحبؒ نے پارلیمنٹ میں ’’مسلم وقف بل‘‘ کی زوردار حمایت کی۔ 

30؍ مارچ 1953ء کو مقامی، ضلعی، اور ریاستی انتخابات کی ہدایات پر مشتمل ایک اہم سرکلر جاری کیا گیا۔

15؍اپریل1953ء کو بھوپال فرقہ وارانہ فسادات پر وزیر اعظم ہند کو مکتوب ارسال کیا گیا۔

3؍ مئی 1953ء کو اس مقدمہ میں جیت ملی، جس میں الجمعیۃ کے پانچ مضامین کو اشتعال انگیز قرار دے کر اسٹیٹ گورنمنٹ نے مقدمہ کردیا تھا۔

نئے ٹیکس لگائے جانے کے خلاف11؍ مئی 1953ء کو گوشت ہڑتال ختم کرانے میں جمعیت کو کامیابی ملی ۔

25؍ مئی 1953ء کواکابرین جمعیت نے تعاون و امداد کی اپیل کی۔

29؍ مئی 1953ء کو ایک سال کے لیے حاجیوں کو انکم ٹیکس سرٹیفکٹ سے مستثنیٰ قرار دینے میں جمعیت کامیاب رہی۔

27؍ جون 1953ء کو کرنل اقبال محمد خاں صاحبؒ نے جمعیت اور دیگر اداروں کو زمینیں وقف کیں۔

7؍جولائی1953ء کو بدایوں فرقہ وارانہ فسادات پر وزیر اعلیٰ یوپی کو مکتوب لکھا گیا۔

8؍جولائی1953ء کو مسلم ملازمین کو کام کے اوقات میں نماز پڑھنے سے منع کرنے کے خلاف وزیر ٹرانسپورٹ کو خط لکھا گیا۔

10؍جولائی1953ء کو شائع ایک خبر میں جمعیت علمائے ہند کی امداد کے نئے نئے طریقوں کا تذکرہ کیا گیا۔

15؍ جولائی 1953ء کو بنگلور کے اردو اخبارات کے ایڈیٹروں کے سامنے حضرت ناظم عمومی صاحبؒ نے اعلان کیا کہ جمعیت علما کانگریس کا دم چھلا نہیں ہے۔

12؍اگست 1953ء کو چوموں فرقہ وارانہ تنازع پر وزیر اعلیٰ کو مکتوب لکھا گیا۔

22؍اگست1953ء کو جنرل سکریٹری عرب لیگ قاہرہ کو مکتوب لکھ کر مراکش اور تیونس میں فرانس کے ظلم و ستم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔

7؍ستمبر1953ء کو ایک اپیل میں فرنچ گورنمنٹ کی طرف سے جاری وحشت و بربریت کے خلاف 15؍ ستمبر1953ء کو یوم مراکش و تیونس منانے کی اپیل کی گئی۔

12،13؍ ستمبر1953ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میںارتداد کی روک تھام کے لیے مذہبی تعلیم کو عام کرنے کی اپیل،صوبہ گجرات کو دفتر منتقل کرنے کی اجازت،دستور اساسی کی ترمیمات کو منظوری،تہواروں کے موقعوں پر فسادات کا انسداد، فرانس کے مظالم کی مذمت،ریاستی جمعیتوں کی پس ماندگی پر اظہار افسوس اور چند دفتری امور زیر بحث آئے۔

6؍ اکتوبر 1953ء کو مرکزی وزیر داخلہ سے پولیس ایکشن میں تباہ شدہ حیدرآبادی مسلمانوں کی باز آبادی کا مطالبہ کیا گیا۔ 

10؍ اکتوبر1953ء کو جام نگر میں اقلیتوں پر ہوئے مظالم کے انسداد کا مطالبہ کیا۔

17؍ اکتوبر 1953ء کو اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے مراکش کے مسئلے میں توجہ دینے کی جمعیت کو یقین دہانی کرائی۔ 

19؍ نومبر1953ء کو مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کو بسانے کے لیے رہ نما ہدایات جاری کی گئیں۔

22؍ نومبر1953ء کو حضرت العلامہ سید محمد سلیمان ندویؒ کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا گیا۔

29؍ نومبر1953ء کو ناگپور میں ناظم عمومی صاحبؒ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ گاؤ ذبیحہ کی پابندی پر جمعیت کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ کشمیر ہندستان کا حصہ ہے اور ہمیں ہندی کی ترویج و ترقی میں دل چسپی لینی چاہیے۔ 

18؍ دسمبر1953ء کو گجرات دورہ کے موقع پر حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہند نے پریس کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں یوروپین کے بجائے ایشائی اقوام کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہیے ۔ اور موجودہ حالات میں مسلمانوں کو کانگریس چھوڑنے کا مشورہ نہیں دے سکتا۔

29؍ دسمبر1953ء کو حضرت ناظم عمومی صاحب نیروبی مشرقہ افریقہ میں منعقد اسلامی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کو مذہبی، تعلیمی اور سماجی امور کے متعلق ادارہ کی ضرورت کا احساس دلایا۔

31؍دسمبر1953ء کوکسٹوڈین کے معاملات پر متعلقہ وزیر کو مکتوب لکھا گیا۔

جعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: چونتیسواں سال: 1952ء

 چونتیسواں سال: 1952ء

محمد یاسین جہازی

2؍جنوری 1952ء کو ناظم عمومی حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحب نے فرمایا کہ فرقہ پرستی کا زہر ہمارے وجود کے لیے خطرہ ہے۔

11؍جنوری1952ء کو شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے قومی اخبار’’راج‘‘ کے جھوٹ- کہ حضرت شیخ الاسلام نے کانگریس سے بیزار کا اعلان کیاہے- کی پرزور تردیدکی۔

14؍جنوری1952ء کو نائب صدر جمعیت علمائے ہند مولانا احمد سعید صاحب نے موروی میں حج کے نام سے اجتماع کرنے پر پابندی لگانے پر وزیراعظم کراچی کو مبارک باد پیش کی۔

12؍فروری1952ء کو الیکشن پر جیت حاصل کرنے پر ناظم عمومی صاحب کو مبارک بادی پیش کی گئی۔

23؍فروری1952ء کوالیکشن میں مسلمانوں کے لیے آبادی کے تناسب سے سیٹیں نہ دینے پر مکتوب لکھ کر کانگریس کو متوجہ کیا گیا۔

19؍مارچ1952ء کو ایک بیان کے ذریعہ ہولی کے موقع پر ہوئے متعدد مقامات پر فسادات کو ایک عنصر کی شرارت کا نتیجہ قرار دیا گیا۔

ممبئی اور کلکتہ کے رسائل میں توہین رسالت ﷺ اور اسلام مخالف مضامین پر 4؍ اپریل 1952ء کو جمعیت علمائے ہند نے سخت احتجاج کیا، جس کی وجہ سے مجرمین کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔

15،16؍ اپریل 1952ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میںتوہین رسالت پر مبنی فلموں پر اظہار نفرت، ماتحت جمعیتوں میں جمود و تعطل پر استصواب، روزنامہ الجمعیۃ، اتبدائی تعلیم، عثمانیہ یونی ورسٹی حیدرآباد کو اردو یونی ورسٹی بنانے، جمعیت کا سیاست سے تعلق، انگریزی اخبار ’’دی میسج ویکلی‘‘،خان عبدالغفار خاں کی رہائی، مولوی عبد الوحید صاحب کا جمعیت سے اخراج،ہولی فسادات پر جمعیت کی خدمات کی تحسین جیسے مسائل و امور پر بحث و گفتگو کی گئی۔

21؍اپریل1952ء کو ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ناظم عمومی صاحب نے اردو زبان کو ہندو مسلم ارتباط کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دیا۔

30؍اپریل1952ء کو مالے گاؤں کی طرف سے انگریزی اخبار کے لیے قابل ذکر تعاون پیش کیا گیا۔

یکم مئی 1952ء کو آل انڈیا اردو میں ناقابل فہم زبان استعمال کرنے پر وزیر اطلاعات و نشریات کو مکتوب لکھا گیا۔

24؍جون1952ء کو صدر جمعیت علمائے ہند نے عید کی مبارک باد پیش کی۔

26؍جون1952ء کو منعقد دعوت عید کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریۂ ہند ڈاکٹر راجندر پرشاد نے کہا کہ جمعیت علما کی خدمات سنہری حروف سے لکھی جائیںگی۔

9؍ جولائی 1952ء کو دہلی کو مسلم اور غیر مسلم زون میں تقسیم کو جمعیت کی جانب منسوب کرنے کو افواہ قرار دیا، اسی طرح انجمن اردو ترقی کی تحریک پر اردو ہفتہ منانے کی اپیل کی۔

10؍ جولائی 1952ء کو مولانا محمد اسماعیل صاحب کو شعبۂ ٔ تنظیم جمعیت کا سکریٹری منتخب کیا گیا۔

25؍جولائی1952ء کومنعقدعصرانہ تقریب میںاہل تیونس کے مطالبات کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔

9؍اگست 1952ء کو امرت پتریکا اخبارمیں سرور کائنات ﷺ کی شان میں دریدہ دہنی کے خلاف جگہ جگہ احتجاج کی ہدایت کی گئی۔

11؍اگست1952ء کو مالے گاؤں میںقربانی کے جانوروں میں کوٹہ مقرر کرنے کی بات کی مخالفت کی گئی۔

 15؍ اگست 1952ء کو یوپی کے ہر مقام پر امرت پتریکا کے خلاف احتجاجی جلسے منعقد کیے گئے۔ 

14؍ستمبر1952ء کو تنظیمی استحکام کے لیے ایک اہم سرکلر جاری کیا گیا۔

19؍ ستمبر1952ء کو مسلم ریلوے ملازمین کی دوبارہ بحالی کے جمعیت کے مطالبہ کو حکومت ہند نے منظور کرنے کا اعلان کیا۔

28؍ستمبر1952ء کو پنڈت جواہر لال نہرو اور وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد سے درخواست کی گئی کہ پولیس ایکشن کے بعد حیدرآباد کے گرفتار تمام مسلمانوں کو رہا کردیا جائے۔

11،12؍ اکتوبر1952ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، جس میںمولوی محمد احمد کاظمی صاحب کے مسلم وقف بل اور مسلم قاضی پر شرعی نقطۂ نظر سے جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی اور چوں کہ یہ دونوں بل عین شریعت کے مطابق تھے، اس لیے عوام الناس سے انھیں منظور کرنے اور حکومت ہند سے اپنی تجاویز سے واقف کرانے کی تحریک چلائی۔اسی میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ کیا کہ اسپیشل میرج بل سے مسلمانوں کو مستثنیٰ کیا جائے۔مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کی آباد کاری ، جمعیت علمائے حیدرآباد کو قرض حسن اور گوشوارۂ آمدو صرف کے مسائل پر بھی میٹنگ میں بحث و گفتگو ہوئی۔

27؍اکتوبر1952ء کو تمام لوگوں سے کاظمی وقف بل پر رائے ظاہر کرنے کی اپیل کی گئی۔ اور اس پر ہورہے شبہات کا مفصل جواب دیاگیا۔

31؍اکتوبر1952ء کو اپیل کی گئی کہ 14؍نومبر1952ء کو وقف بل کی حمایت میں جلسے جلوس منعقد کریں۔

یکم نومبر1952ء کو صدر جمعیت نے بھی وقف بل پر رائے ظاہر کرنے کی اپیل کی۔

13؍نومبر1952ء کو شیخ الاسلام نے ایک بیان میں کہا کہ سرکاری اسکولوں میں مذہبی تعلیم کے انتظام کے لیے حکومت سے گفت و شنید ہورہی ہے۔

3؍دسمبر1952ء کو مذہبی و روحانی پیشواؤں کی توہین آمیز رویے پر وزیر اعظم ہند کو مکتوب لکھا گیا۔

29؍دسمبر1952ء کوہندستان ٹائمز کو مکتوب لکھ کر ناظم عمومی کی طرف منسوب غلط باتوں کی تردید کی گئی۔

31؍ دسمبر1952ء کو رات دس بج کر پچیس منٹ پر مفتی اعظم ہند حضرت مولانا محمدکفایت اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ کا انتقال ہوگیا ۔یکم جنوری 1953ء کوپرید گراؤنڈ میں نماز جنازہ ادا کی گئی اور مہرولی میں تدفین عمل میں آئی ۔ 


جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: تینتیسواں سال:1951ء

 تینتیسواں سال:1951ء

محمد یاسین جہازی

8؍ جنوری 1951ء کو امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزاد ؒ وزیر تعلیم ہند کا اکابرجمعیت نے دیوبند میں پرتپاک خیر مقدم کیا۔

18؍جنوری 1951ء کومولانا حفظ الرحمان صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے حیدرآباد کے ایک اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے اوقاف کی تنظیم اور محکمۂ امور مذہبی کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا۔

25؍جنوری1951ء کو ناظم عمومی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ریاست کشمیر کو ہندستان میں رہنے سے ہندستانی مسلمانوں کے مفاد کا تحفظ ہوگا۔

2؍فروری1951ء کو ناظم عمومی صاحب نے فرمایا کہ ملک کی حفاظت وہی لوگ کرسکتے ہیں، جنھوں نے مردانہ وار آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا ہے۔

9؍ فروری 1951ء کو حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہند نے اراکین جمعیت کو خدمت خلق سے وابستہ رہنے کی تلقین کی۔

22؍ فروری 1951ء کو مردم شماری میں پوری سرگرمی کے ساتھ حصہ لینے اور اپنی مادری زبان اردو لکھوانے کی اپیل و تحریک چلائی۔

8؍مارچ1951ء کو وزارت بحالی (محکمۂ کسٹوڈین ) کو ایک مکتوب لکھ کر محکمہ کے غیرقانونی اقدامات کی طرف متوجہ کیا۔

16؍مارچ1951ء کو (1947ء کے)فرقہ وارانہ فسادات میں بے گھر ہوئے افراد کی رہائش کے لیے محکمۂ کسٹوڈین میں درخواست دینے کی رہنمائی کی گئی۔

18؍ مارچ 1951ء کو فرانسیسی مظالم کی مذمت اور اہل مراکش سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے، 6؍ اپریل1951ء کو یوم مراکش منانے کی اپیل کی۔

20؍مارچ1951ء کو تیونیشیا کے لیڈروں کا خیرمقدم کیا گیا۔

23؍مارچ1951ء کو کیسرپور فساد پر جمعیت علمائے ہند نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی۔

2؍اپریل1951ء کو ایک مکتوب لکھ کر نفرت پھیلانے والے اخبارات کو تنبیہہ کی گئی۔

6؍اپریل1951ء کومولانا احمد سعید صاحب نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ اگر فرانس مراکش کی آزادی کو تسلیم نہ کرے، تو ہندستان تمام تعلقات منقطع کرلے۔

18؍اپریل1951ء کو صدر جمہوریۂ ہند ڈاکٹر راجندرپرشاد نے حیدرآباد جمعیت علماکے استقبالیہ پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علمائے ہند کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔

24؍اپریل1951ء کو ایک بیان میں حیدرآباد میں ہونے والے سترھویں اجلاس عام کے مقاصد کی وضاحت کی گئی۔

26؍ اپریل 1951ء کو حیدرآباد میں مجلس عاملہ کے اجلاس میں ، 27،28،29؍ اپریل 1951ء کو منعقد ہونے والے سترھویں اجلاس عام کی تجاویز کے مسودے مرتب کیے گئے۔

 چنانچہ اجلاس عام میں مذہبی تعلیم، اوقاف کا نظم و نسق،جائداد کی نکاسی کے لیے کسٹوڈین کے مظالم کی مذمت،حیدرآباد کی سرکاری زبان اردو قرار دینے کا مطالبہ،عثمانیہ یونی ورسٹی کو اردو یونی ورسٹی برقرار رکھنے کا مطالبہ،اردو کو فنا کرنے کی کوششوں کی مذمت،نصابی کتابوں میں قابل اعتراض مضامین پر اظہار تشویش اور مصنفین کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ،الحاق کردہ ریاستوں میں بے روزگاری اور اقتصادی تباہ حالی پر تشویش،سقوط حیدرآباد کے بعد مسلمانوں کی آبادی میں رکاوٹوں کو دور کرنے کا مطالبہ،کشمیر کے متعلق اقوام متحدہ کے فیصلے کی مخالفت،خان برادران کی رہائی کا مطالبہ،اسیران حیدرآباد کی عام رہائی کی اپیل اور شکریے کی تجویز منظور کی گئی۔

8؍ مئی 1951ء کو دوہد فساد کی تحقیقات کے لیے وفد بھیجا گیا۔

9؍مئی 1951ء کو بہار کے قیامت خیز قحط کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے ایک دن کی خوراک وزیر اعظم ہند کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اسی طرح نصابی کتابوں میں مذہبی رہ نماؤں کی توہین پر مبنی مضامین کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔

20؍مئی1951ء کو سترھویں اجلاس عام کی کئی اہم قراردادوں کو وزیر اعظم ہند پنڈت جواہر لال نہرو کو بھیج کر عملی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔

2؍جولائی1951ء کو عبادت گاہوں اور مقدس مقامات کی بحالی کے متعلق حکومت راجستھان کو ایک مکتوب روانہ کیا گیا۔

6؍جولائی1951ء کو عید کی مناسبت سے تہنیت کا پیغام دیا گیا۔

یکم اگست 1951ء کو اکابرین امت نے ایک اجتماع میں متفقہ فیصلہ کرتے ہوئے مودودی تحریک اور جماعت اسلامی سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔

9؍اگست1951ء کو ایک مکتوب لکھ کر ہندستان کی پالیسی کا اعلان کیا گیا کہ ہندستان پاکستان پر حملہ کرنے میں پہل نہیں کرے گا۔

17،18؍ اگست 1951ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا،جس میں دستور العمل کی بعض دفعات میں ترمیمات کیں اور الیکشن اور ووٹ کے متعلق اپنے موقف کا اظہار کیا۔ اسی طرح ایک دوسری تجویز میں الیکشن میں فرقہ پرست پارٹیوں پر کڑی رکھنے کا مطالبہ کیا۔ علاوہ ازیں عملی سرگرمیوں کو روبہ عمل لانے کے لیے مجلس تعلیم و تربیت، مجلس نشرواشاعت اور مجلس مالیات تشکیل دی گئی۔

اسی موقع پر منعقد علما کی ایک نشست میں ریڈیو کے ذریعہ رویت ہلال کی اطلاع ملنے سے متعلق ایک فتویٰ بھی مرتب کیا گیا۔

20؍اگست 1951ء کومحکمۂ کسٹوڈین کو ایک اہم مکتوب لکھا گیا۔

14؍ ستمبر 1951ء کو راجستھان میں مسلمانوں پر ہوئے حملے پر ایکشن لینے کا مطالبہ کیا۔

26؍ستمبر1951ء کو یوپی میں اردو کو علاقائی زبان تسلیم نہ کرنے پر احتجاج کیا گیا۔

27؍ ستمبر1951ء کویوپی وقف بورڈ نے جمعیت کے مطالبہ کو منظور کرتے ہوئے جمعیت کا ایک نمائندہ شامل کرنے کو منظوری دی۔

31؍اکتوبر1951ء کوکانگریس کو ووٹ دینے سے متعلق علمائے کرام کے مشورے کو فتویٰ سمجھ لینے پر وزیر اعظم ہند کو صحیح صورت حال سے مطلع کیا گیا کہ مذہب کے نام پر کانگریس کو ووٹ دینے کے لیے کوئی فتویٰ جاری نہیںکیا گیا۔

14؍ نومبر 1951ء کو مصرو ایران کے لیے کامیابی کی دعا کی اپیل کی گئی۔

اسی تاریخ کو وزیر اعظم ہند کی باسٹھویں سال گرہ پر مبارک بادی پیش کی گئی۔

19؍ نومبر1951ء کو یوپی میں اردو کو سرکاری زبان تسلیم کرانے کے لیے ماتحت جمعیتوں کو ہدایت نامہ جاری کیا گیا کہ وہ انجمن ترقی اردو کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

یکم دسمبر1951ء کو صدر جمعیت علمائے ہند نے اپنے خطاب میں مسلمانوں کو نصیحت کی کہ وہ اعلیٰ اخلاق پیدا کریں۔

4؍دسمبر1951ء کو پالن پور کے فرقہ وارانہ فسادات کے متعلق ایک مکتوب لکھ کر حکومت ہند کو آگاہی فراہم کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا، جس پر حکومت ہند کی طرف سے وضاحتی مکتوب بھیجا گیا۔

5؍دسمبر1951ء کو مصریوں کی طرف سے اظہار تشکر کا تار ملا۔ یہ تشکر 16؍نومبر1951ء کو تمام مساجد میں مصریوں کے لیے یوم دعا منانے کی اپیل کے تناظر میں پیش کیا گیا تھا۔

16؍دسمبر1951ء کو کسٹوڈین کے متعلق ایک ضروری اطلاع فراہم کی گئی۔

22؍ دسمبر1951ء کو انگریزی اخبار ’’دی میسج ویکلی‘‘ کا اجرا عمل میں آیا۔

آخر میں الیکشن میںمسلمانوں کی کم نمائندگی پر وزیر اعظم کو ایک مکتوب کے ذریعہ متوجہ کرنے، اور فلسطین کمیٹی کا پس منظر کا مضمون درج کیا گیا ہے، جن کی تاریخوں کا علم نہیں ہوسکا۔ 

31 Jan 2026

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: بتیسواں سال: 1950ء

 بتیسواں سال: 1950ء

محمد یاسین جہازی

5؍جنوری1950ء کو سعودیہ عربیہ کے اقتصادی مشن کوایٹ ہوم دیاگیا ۔

11؍جنوری1950ء کو حضرت مجاہد ملتؒ نے جدید ممبرسازی کی اپیل کی۔

12؍جنوری1950ء کو ترک وطن کے تناظرمیں عارضی اورمستقل پرمٹ والے حضرات کی پریشانیوں کے ازالے کے لیے جدوجہد کی گئی۔

13؍جنوری1950ء کو مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہندستانی مسلمان اپنے آپ کو ہندستانی سمجھیں۔

15؍جنوری1950ء کو مصر کی وفد پارٹی کی جیت پر اس کے سربراہ نحاس پاشا کو مبارک باد دی گئی ۔

27؍جنوری1950ء کو صدر جمعیت علمائے ہند کی طرف سے صدر جمہوریۂ ہندکو اور ہندستان کی جمہوریہ کے افتتاح پر مبارک بادی پیش کی گئی۔

4؍فروری1950ء کو صدر جمہوریۂ ہند ڈاکٹر راجندر پرشاد نے حضرت سحبان الہند کو جوابی مکتوب لکھا۔

11؍فروری1950ء کو ملک سے طوائف کے خاتمہ کی اپیل کی گئی۔

11؍فروری1950ء کو سردار نجیب اللہ خان افغانستان کو عصرانہ دیا گیا۔

11؍فروری1950ء کو وزیر داخلہ حکومت مدھیہ پردیش کو ایک مکتوب لکھ کر 30-31؍ جنوری 1950ء کو ہوئے فرقہ وارانہ فسادات پر قانونی ایکشن لینے کا مطالبہ کیا۔

13،14؍فروری1950ء کو منعقد مجلس عاملہ میںمذہبی تعلیم اور میعاد ممبرسازی پرغورو خوض کیا گیا۔

5؍مارچ1950ء کو حضرت مجاہد ملت نے کلکتہ فساد زدہ علاقوں کادورہ کیا۔

6؍مارچ 1950ء کو حکومت سعودیہ کی طرف سے ناظم عمومی صاحب کو خلعت پیش کی گئی۔

7؍مارچ1950ء کو مشرقی راجستھان کے مسلمان باشندوں سے ایک خصوصی اپیل کی گئی۔

12؍مارچ1950ء کو فسادات کی وجہ سے بنگال میں تبادلۂ آبادی کی مخالفت کی گئی۔

25؍مارچ1950ء کو حضرت شیخ الاسلام کو تمدنی تعلیمات کی انڈین کونسل میں رکن نام زد کیا گیا۔

31؍مارچ1950ء کو مسلمانان ہند کے نام ایک پیغام میں تلقین کی گئی کہ موجودہ حالات سے گھبراکر مسلمان اپنے وطن ہندستان کو نہ چھوڑیں۔

یکم اپریل1950ء کی خبر کے مطابق جمعیت علم کے ایک وفد نے علی گڑھ فساد زدہ علاقوں کا دورہ کیا۔

3؍اپریل1950ء کو حضرت مجاہد ملتؒ نے انڈوپاکستان کے وزرائے اعظم کے درمیان ہونے والی گفت وشنید کے تناظر میں دونوں ممالک کو ایک رہنما مکتوب لکھا۔

7؍اپریل1950ء کو فساد زدہ گوالیار کا دورہ کیا گیا اور امن وامان قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔

12؍اپریل1950ء کو نہرو لیاقت معاہدہ کو عملی جامہ پہنانے کامطالبہ کیا گیا۔

16؍اپریل1950ء کو صوبائی صدورو نظمائے اعلیٰ کی خدمت میں ایک سرکلر جاری کرکے تنظیمی امور کوانجام دینے کی گذارش کی گئی۔

19؍اپریل1950ء کو دہلی میں واقع ایک مزار اور قبرستان کے انہدام سے متعلق وزیر اعظم مسٹر جواہر لال نہرو کو مکتوب لکھا گیا۔

25؍اپریل1950ء کو ٹونک کا دورہ کرکے حالات کو پرامن بنانے کی جدوجہد کی گئی۔

25؍اپریل1950ء کو جمعیت کے ایک وفد نے جے پور کا دورہ کیا ۔

24؍مئی1950ء کو آسام فساد زدہ علاقوں کا دورہ کرکے امن و امان قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔

27؍مئی1950ء کو الور، بھرت پوروغیرہ متأثرہ علاقوں کا دورہ کیا گیا۔

29؍مئی1950ء کو نہرو لیاقت پیکٹ پر نائب صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا احمدسعید صاحب نے ہندو پاک کے مسائل کو حل کرنے والا شان دار فارمولہ قرار دیا۔

6؍جون1950ء کو جبل پور کے کسٹوڈین کی ظالمانہ کارروائیوں کے متعلق ایک چشم کشا مکتوب لکھ کر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ 

19؍جون1950ء کو مدھیہ بھارت میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کا جائزہ لے کر ایک مکتوب لکھ کر وزیر اعلیٰ سے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

25؍جون1950ء کو دھوراجی فساد پر فوری ایکشن لینے کی درخواست کی گئی۔

27؍جون1950ء کو قربانی کے سلسلے میں حکام کے جانب دارانہ رویے پرحکومت یوپی کومکتوب لکھ کومتوجہ کیا گیا۔

8؍جون1950ء کو ایک مکتوب لکھ کر وزیر اعظم ہند پنڈت نہرو کی توجہ اس طرف دلائی گئی کہ مسلم ملازمین کے لیے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے آدھے گھنٹے کی رخصت دی جائے۔

10؍جولائی1950ء کو وزیر اعظم سے ملاقات کرکے ملک گیر فسادات پرتبادلۂ خیال کیا گیا اور اس کے سد باب کامطالبہ کیا گیا۔

16؍جولائی کو عید الفطر کی تہنیت پیش کی گئی۔

29؍جولائی1950ء کو اجمیر کا دورہ کرکے حالات کا جائزہ لیا گیا۔

5؍اگست1950ء کو مولانا آزاد کو ایک مکتوب لکھ کر صوبہ وسطی کے فسادات پر توجہ دلائی گئی۔ 

9؍اگست1950ء کو گوالیار کے حالات کی اصلاح کی کوشش کی گئی۔

10؍اگست1950ء کو منعقد دینی تعلیمی کمیٹی کی میٹنگ میں ابتدائی درجات کے لیے دینی نصاب مرتب کرنے والی کمیٹی نے دینی تعلیم کے رسالے کو منظوری دی۔

12،13؍اگست1950ء کو منعقد مجلس عاملہ کی میٹنگ میںانتخابی تنظیم، حالات حاضرہ، مظلومین کی امداد،اصلاحی و تعمیری خدمات کا دائرہ وسیع کرنے کافیصلہ اور لٹریچر شائع کرنے کے لیے باقاعدہ ایک شعبہ کے قیام کی منظوری کے علاوہ ریڈیو اور ٹیلفون کے ذریعہ رویت ہلال اور نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پربھی غورو خوض کیا گیا۔

30؍اگست1950ء کو جمعیت کے مطالبے پر دہلی میں انفساخ نکاح کے لیے مسلم جج کی اسپیشل عدالت قائم کی گئی۔

31؍اگست1950ء کو سوراشٹرکادورہ کیا گیا۔

18؍ستمبر1950ء کو قربانی کے مسئلے پر یوپی حکام کی روش پرافسوس کا اظہار کیا گیا۔

21؍ستمبر1950ء کونائب صدر جمعیت نے انڈوپاک گڈول کنونشن کو وقت کی اہم ضرورت بتائی۔

26؍ستمبر1950ء کو جمعیت علمائے ہند کی تعلیمی کمیٹی کا مرتب کردہ نصاب پیش کیا گیا۔

2؍اکتوبر1950ء کو مسلم ریلوے ملازمین کی پریشانیوں کے حوالے سے ریلوے منتری سے خط وکتابت کی گئی۔

12؍اکتوبر1950ء کو قصبہ چلمل (بھاگلپور) میں ہوئے فسادات کی مکمل رپورٹ وزیر اعظم مسٹر پنڈت نہرو کے سامنے پیش کی گئی۔

15؍اکتوبر1950ء کو یوپی کے وزیر اعلیٰ کو مکتوب لکھ کر مظفر نگر میں ہوئے فرقہ وارانہ فساد کی طرف توجہ دلائی گئی۔

یکم نومبر1950ء کو ناظم عمومی نے کارکنان جمعیت کو نصیحت کرتے ہوئے گروہ بندی سے باز رہنے کی تلقین فرمائی۔

18؍نومبر1950ء کو الجمعیۃ کا انگریز ایڈیشن ’’دی میسج‘‘ نکالنے کی جدوجہد کو کامیابی کا اشاریہ قرار دیا گیا۔

30؍نومبر1950ء کو ایک مکتوب لکھ کر وزیر اعلیٰ ممبئی سے کسٹوڈین کے اہل کاروں کی ظالمانہ سرگرمیوں کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

18،19؍دسمبر1950ء کو منعقد مجلس عاملہ کی میٹنگ میںسردار پٹیل کے انتقال کو عظیم سانحہ قرار دینے کے علاوہ مذہبی تعلیم پر خصوصی غوروفکر کیا گیا۔چنانچہ ابتدائی مذہبی تعلیم کے لیے مشترک بورڈ قائم کرنے، ابتدائی مذہبی تعلیم کی ذمہ داری جمعیت کو لینے،مرتدین کی واپسی، مکاتب کی امداد،حج فلم پر بندش، جمعیت کابینک اکاؤنٹ، حسابات پراظہار اطمینان،انگریزی اخبار کے لیے کی گئی کوششوں کی ستائش اور گوالیار میںمساجد پر غیر مسلموں کے قبضہ کو ختم کرانے جیسے معاملات پراہم فیصلے لیے گئے۔

19؍دسمبر1950ء کو وزیر بحالی حکومت ہند دہلی کو ایک مکتوب لکھ کر کسٹوڈین اہل کاروں کے متعصبانہ رویوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔


جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: اکتیسواں سال:1949ء

 اکتیسواں سال:1949ء

محمد یاسین جہازی

 1948ء میںماہ ستمبر13؍سے 15؍تک پولیس ایکشن کی وجہ سے سقوط حیدرآباد سے پیدا شدہ تباہ کن حالات میں امن و محبت کا پیغام پہنچانے اور ریلیف ورک کرنے کے لیے جمعیت کے ایک وفد نے 5؍ جنوری 1949ء کو حیدرآباد، شولاپور، بڑودہ اور ممبئی وغیرہ کا دورہ کیا ۔

8؍جنوری1949ء کو اردو کے تحفظ فراہم کرنے کے لیے شعبۂ تعلیمات قائم کیا گیا۔

12؍جنوری1949ء کو میوات اور آگرہ فساد متأثرین کی امداد کی گئی۔

17؍جنوری1949ء کوکسٹوڈین کے مظالم کے خلاف ایک بیان جاری کیا گیا۔

حالات کے جائزہ کے لیے 5؍فروری1949ء کوایک وفد نے کٹک اڈیشہ کا دورہ کیا۔

بعد ازاں7؍فروری1949ء کو یہ وفد مدراس پہنچا۔ پھر24؍فروری1949ء کو راجستھان یونین کے مختلف شہروں میں ریلیف ورک انجام دیتے ہوئے 28؍فروری1949ء کو وفد بڑودہ پہنچا، جہاں اس کا زبردست استقبال کیا گیا۔

7؍مارچ1949ء کو اردو کے مسئلے کو لے کر ایک وفد نے وزیر اعلیٰ یوپی سے ملاقات کی۔ 

9؍ مارچ 1949ء کو منعقد ایک تقریب میں مصرکے اخبار نویسوں نے جمعیت کی خدمات کا اعتراف کیا۔

12؍مارچ1949ء کو جمعیت علما کا وفد مالیگاؤں پہنچا اور خیرسگالی کا پیغام پہنچایا۔

12؍مارچ 1949ء کو منعقد مجلس عاملہ میں جمعیت علمائے ہند کا تعمیری پروگرام کا خاکہ اور پندرہ نکاتی عملی پروگرام بھی پیش کیا گیا۔ آزاد ہندستان کے نئے تقاضے کے پیش نظر دستو رمیں ترمیم کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔

13؍ مارچ1949ء کومجلس مشاورت کی میٹنگ میں اہم فیصلے لیے گئے۔

28؍مارچ 1949ء کو ایک فلم کمپنی نے جمعیت علمائے ہند کے اجلاس کی فلم بندی کی اجازت مانگی، لیکن فلم سازی کی اجازت نہیں دی گئی۔ 

از 16؍تا 18؍ اپریل 1949ء کو لکھنو میں سولھواں اجلاس عام ہوا، جس میں سیاست سے علاحدگی کے بعد آزاد ہند میں عملی پروگرام کا خاکہ،اسکولوں میں پڑھنے والے طلبہ کے لیے مذہبی تعلیم کا انتظام، اوقاف کے تحفظ کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ، نکاح و طلاق کے مسائل کو شریعت کے مطابق حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی کا قیام، حجاج کے ٹیکس کو کم کرنے کا مطالبہ، درگاہ اجمیر کی کمیٹی میں نصف تعداد جمعیت کو منتخب کرنے کا اختیار دینے کا مطالبہ،حکومت یوپی سے بیک وقت دو اختیاری مضمون کے احکام صادر کرنے کی اپیل، حیدرآباد، جے پور، بدایوں اور سہارنپور وغیرہ کے فسادات پر اظہار مذمت اور تجاویز وفیات کے علاوہ تجویز شکریہ پر مشتمل تجاویز منظور کی گئیں۔ 

جمعیت کو مستحکم و منظم کرنے کے لیے جاری تحریک کے نتیجے میں سولہ ریاستوں میں جمعیت کا دائرۂ عمل پھیلا۔

16؍اپریل1949ء کو ندوۃ العلما لکھنو میں تاریخی و تعلیمی نمائش کی گئی۔ 

7؍ مئی 1949ء کو صوبہ بہار میں مڈل اتہاس کی کتاب میں اہانت رسول پر مبنی تصویر شائع کرنے پر احتجاج درج کرایا۔ اور اسی تاریخ میں ٹیلی پرنٹر مشین نصب کی گئی۔

10؍مئی1949ء کو تعلیمی دشواریوں کے پیش نظروزیر تعلیم یوپی سے ملاقات کا فیصلہ کیا گیا۔

17؍مئی1949ء کو ماتحت جمعیتوں کے نام ایک اہم سرکلر جاری کیا گیا۔

26؍مئی1949ء کومجاہد ملت مولانا حفظ الرحمان صاحب اور مولانا شاہد فاخری صاحب یوپی اسمبلی کے بلامقابلہ رکن منتخب ہوگئے۔ 

3؍جون1949ء کو جمعیت علما کے کاموں میں وسعت کے پیش نظر ناظم کا تقرر کیا گیا۔

5؍ جون 1949ء کو دہلی میں فسادات کی کوششوں کو ناکام بنایاگیا اور اس طرح کے فسادات کو روکنے کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیاگیا۔ 

17؍جون1949ء کو فساد زدہ علاقہ سرونج کو دورہ کیا گیا اور ہندو مسلم مفاہمت کی کوشش کی گئی۔ 

21؍جون 1949ء کو ایک مکتوب لکھ کر وزیر اعلیٰ یوپی سے وقت مانگا گیا، تاکہ اردو کے مسئلے پر بات کی جاسکے۔

28؍جون1949ء کو دہلی کے فسادیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

10؍جولائی 1949ء: کسٹوڈین کے مظالم کے خلاف جمعیت نے اپنی جدوجہد جاری رکھی اور 12؍ جنوری 1949ء سے لے کر 13؍اگست 1949ء تک الجمعیۃ میں 5,089 مقبوضہ جائدادوں کی فہرست شائع کرکے قانونی امداد کا اعلان کیا۔

3؍اگست 1949ء کو رائچور میں مساجد کی بے حرمتی کے واقعات کی تحقیق کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔ اسی طرح حیدرآباد کے فیل خانہ کیمپ کو خالی نہ کرانے، اور بہرصورت خالی کرانے کی صورت میں مہلت دینے کا مطالبہ کیاگیا۔

اسی تاریخ کو ہندستانی زبان کے متعلق ارکان قانون ساز کو ایک یاد داشت پیش کی گئی۔

7؍اگست1949ء کو ہندستانی زبان کو ہند یونین کی زبان قرار دینے کے لیے ارکان مجلس قانون ساز کے سامنے ایک یاد داشت پیش کی گئی۔ 

12؍اگست1949ء کو اسمبلی میںناظم عمومی مولانا حفظ الرحمان صاحب نے اردو کو ہند یونین کی دوسری زبان بنانے کی زبردست وکالت کی۔

22؍اگست1949ء کو ایک بیان کے ذریعہ ارکان مجلس عاملہ میں توسیع نہ کرنے کی وجوہات بیان کی گئیں۔

25؍اگست 1949ء کودہرادون کے کاشت کاروں کو قرض تقاوی کی ادائیگی میں مہلت دینے کے لیے ریونیو منسٹر کو مکتوب لکھا گیا۔

یکم ستمبر1949ء کو ہندی زبان کو ہند یونین کی زبان قرار دینے پر افسوس کا اظہار کیاگیا۔ اور اردو کو دوسری سرکاری زبان بنانے کے لیے جمعیت نے انتھک کوشش کی، لیکن اس کے باوجود 15؍ ستمبر1949ء کو ہندی کو سرکاری زبان بنانے کا اعلان کردیا گیا۔

2؍ستمبر1949ء کو منعقد مجلس عاملہ کی میٹنگ میں کسٹوڈین کے مظالم کے خلاف وزیر اعظم مسٹر جواہر لعل نہرو کو ایک میمورنڈم دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ 7؍ستمبر1949ء کو میمورنڈم پیش کیا گیا۔  چنانچہ جمعیت کی کوشش بارآور ہوئی اور 18؍ اکتوبر1949ء کو حکومت نے، جمعیت کے منشا کے مطابق آرڈی نینس میں ترمیم کردی۔

2؍ ستمبر1949ء کومنعقد کانفرنس میں جمعیت نے مضبوط پریس کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا۔

3؍ستمبر1949ء کوپالی فساد کی تحقیقات کے لیے وفد بھیجا گیا۔

3؍ستمبر1949ء کو شائع ایک خبر کے مطابق مولانا ابوالکلام آزاد ؒ نے قومی زبان کے مسودۂ تجویز سے استعفیٰ پیش کردیا۔ 

17؍ستمبر1949ء کوبھیلواڑہ راجستھان میں آر ایس ایس جیسی شدت پسند تنظیم کے ذریعہ پرامن ماحول کو مکندر کرنے سے محفوظ رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ بھیلواڑہ کو مکتوب لکھا گیا۔

20؍ستمبر1949ء کوسیاست میں مضبوط شراکت کے لیے کانگریس میں شرکت کی اپیل کی گئی۔  

21؍ستمبر1949ء کو جوالاسہارنپور کے فساد زدہ علاقوں کا دورہ کیا گیا۔

کشمیر کو انڈین یونین کے ساتھ الحاق کے اعلان پر شیر کشمیرشیخ عبد اللہ کو 26؍ ستمبر1949ء کو مبارک باد پیش کی۔

30؍ستمبر1949ء کوچھتاری فساد ات کی تحقیقات کے لیے وفد بھیجا اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

5؍اکتوبر1949ء کو دہرادون کاشت کاروں کے مسئلے پر وزیر مالیات حکومت اترپردیش کو مکتوب لکھ کر قرض کی ادائیگی میں مہلت کی درخواست کی گئی۔

6؍اکتوبر1949ء کو وزیر اعلیٰ یوپی مسٹر پنتھ کو مکتوب لکھ کر دارالعلوم دیوبند کی تلاشی لینے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ 

14؍اکتوبر1949ء کومردآباد فسادات کی تحقیقات کے لیے وفد روانہ کیا گیا۔

4؍نومبر1949ء کومسٹر جے پرکاش نرائن نے جمعیت اور آر ایس ایس میں زمین و آسمان کا فرق واضح کیا گیا۔

 5؍نومبر1949ء کوانڈونیشیا کی آزادی پر جمعیت نے اس کے پہلے وزیر اعظم ڈاکٹر حتیٰ کو مبارک باد پیش کی۔

اسپیشل میرج ایکٹ پر خصوصی غورو خوض کے لیے 13؍ نومبر1949ء کو مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس ہوا۔

14؍نومبر1949ء کو وزیر اعظم مسٹر جواہر لعل نہرو کو ان کے ساٹھویں یوم پیدائش پر مبارک باد پیش کی گئی۔

7؍دسمبر1949ء کو ایک بے قصور قیدی کی رہائی کے لیے سفارشی خط بھیجا گیا۔

8؍دسمبر1949ء کی ایک خبر سے معلوم ہوا کہ جامع مسجد دہلی پولیس اسٹیشن میں مجاہد آزادی ہند سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب نور اللہ مرقدہ کا اسم گرامی بدمعاشوں کی فہرست میں شامل ہے۔

13؍دسمبر1949ء کو علامہ شبیر احمد عثمانی نور اللہ مرقدہ کے انتقال پرملال پر اکابرین جمعیت نے رنج و غم کا اظہار کیا۔

متفرقات کے عنوان کے تحت، حیدرآباد کے معاملے میںامام الہند سے ایک وفد کی ملاقات پر ، مولانا محمد میاں صاحب کی حضرت امام الہند سے خصوصی گفتگو،ناظم عمومی کے ایک بیان کے ذریعہ مسلم لیگ کو دوبارہ زندہ کرنے کی مذمت،سردار ولبھ بھائی پٹیل کی خدمت میں سقوط حیدرآباد کے تناظر میں حیدرآبادی مسلمانوں کی طرف سے ایک مختصر عرض داشت کی پیشی، کسٹوڈین سے متعلق میمورنڈم، اور کسٹوڈین کے مسائل پر ایک میٹنگ کی روئیداد پیش کی گئی ہے۔


جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: تیسواں سال: 1948ء

 تیسواں سال: 1948ء

محمد یاسین جہازی

یکم جنوری 1948ء کو مسلمان کارخانہ داروں کو متوجہ کرتے ہوئے ریلیف کمیٹی نے قانونی امداد کا اعلان کیا۔

4؍جنوری 1948ء کو پل بنگش دہلی میں بم پھٹنے پر حالات کا جائزہ کے لیے موقع پر پہنچا۔ اور اسی تاریخ کو اراکین ریلیف کمیٹی جمعیت علما نے گاندھی جی سے ملاقات کی۔ 

8؍جنوری1948ء کو مسلمانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر نہ بھاگیں۔ اور کانگریس میں شامل ہوجائیں۔ 

دہلی میں بھی فرقہ وارانہ فسادات کی مسلسل خبروں سے پریشان ہوکر گاندھی جی نے 12؍ جنوری 1948ء کو مرن برت شروع کردیا، جمعیت نے گاندھی جی کی زندگی اور ہندو مسلم، سکھ اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی۔

 جب سبھی فرقوں نے امن قائم کرنے کا عندیہ دیا، تو 21؍جنوری 1948ء کو گاندھی جی نے اپنا برت توڑ دیا؛لیکن 30؍ جنوری 1948ء کو دشمن امن گوڈسے نے گاندھی جی کا قتل کردیا، جس پر جمعیت علمائے ہند نے یکم فروری1948ء کی اپنی مجلس عاملہ میں اس حادثۂ قتل پر افسوس کے اظہارکے علاوہ، لکھنو مسلم کانفرنس کے فیصلے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے فرقہ وارانہ پارلیمانی سیاست سے کنارہ کشی اور جمعیت کا دائرۂ عمل صرف مذہبی اور تمدنی حقوق و فرائض تک محدود رکھنے، پاکستان میں رہ جانے والی شاخوں سے ترک تعلق کا اعلان اور دستور العمل میں ترمیم کے لیے سب کمیٹی کے قیام کے ساتھ پندرھویں اجلاس عام کا فیصلہ کیا۔

13؍ فروری 1948ء کو گاندھی جی کے حادثۂ قتل پر یوم ماتم منانے کا اعلان کیاگیا۔

16؍فروری1948ء کو بریگیڈیر محمد عثمان کو ان کی بہادری پر مبارک بادی پیش کی گئی۔ 

17؍فروری 1948ء سے لے کر 17؍ مارچ 1948ء تک روزنامہ الجمعیۃ پر فرقہ وارانہ اخبار کا الزام لگاکر پابندی لگادی گئی۔

15؍مارچ 1948ء کو مولانا ثناء اللہ امرتسری کے انتقال پر رنج وغم کا اظہار کیا گیا۔ 

20-21؍ مارچ 1948ء کو کل ہند جمعیت کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں گاندھی جی کے حادثۂ قتل پر اظہار افسوس، مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسریؒ کے لواحقین سے اظہار تعزیت، کشمیر میں قومی حکومت کی تشکیل پر شیخ عبد اللہ کو مبارک باد، جمہوری دستور العمل اختیار کرنے پر انڈین یونین کو مبارک باد، جمعیت کی پاکستانی شاخوں سے ترک تعلق کا اعلان اور سیاسی سرگرمیوں سے قطع تعلق کا فیصلہ کیا گیا۔

پھر15-16؍اپریل 1948ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس کیا گیا، جس میں اجلاس عام کی تجاویز پر غورو خوض کیا گیا۔

25؍اپریل 1948ء کوایک پریس کانفرنس میں پندرھویں اجلاس عام کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے جمعیت علما کی سیاست سے علاحدگی کا مطلب بیان کیا گیا۔ 

 26،27،28؍ اپریل 1948ء کو ممبئی میں پندرھواں اجلاس عام کیا گیا، جس میں سیاست سے علاحدگی کا اعلان، جمعیت کی پاکستانی شاخوںسے ترک تعلق، جمہوری طرز حکومت کی تشکیل پر انڈین پارلیمنٹ کو مبارک باد، اردو اور ہندی رسم الخط میں لکھی جانے والی ’’ہندستانی‘‘ زبان کو  انڈین یونین کی زبان قرار دینے کی اپیل، مسلم پرسنل لاء کے نفاذ کے لیے بااختیار قاضی کا تقرر اور صوبائی اسمبلیوں میں مسودۂ قضا منظور کرانے کی اپیل اور مسودہ بنانے کے لیے دس رکنی کمیٹی کی تشکیل، نصاب تعلیم اور طریقۂ تعلیم وغیرہ کے لیے ایک مرکزی مجلس علمی بنانے کے لیے اہل مدارس سے اپیل اور اس کے لیے آٹھ رکنی کمیٹی کی تشکیل، ابتدائی مدارس اور شبینہ مکاتب قائم کرنے کی اپیل، عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم سے محروم نہ رہنے کی تدابیر پر غور کرنے کے لیے سب کمیٹی کا قیام، اوقاف کی بقا و تحفظ کے لیے مسودہ ٔقانون بنانے کے لیے کمیٹی کی تشکیل، اغوا کی گئیں عورتوں کو ہوس پرستوں کے ظلم و ستم سے نجات دلانے کے لیے حکومت ہند اور پاکستان سے مطالبہ ، قیام امن کے لیے حکومت کو مبارک باد اور تباہ حال مسلمانوں کی واپسی کے لیے وزیر اعظم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے مسلمانوں پر ہوئے منظم حملوں کے مجرمین کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں مولانا احمد سعید صاحب کو نائب صدر اور مولانا محمد میاں صاحب اور مولانا عبد الصمد صاحب رحمانی کو ناظم منتخب کیا گیا۔ جملہ عہدے داران کو مبارک باد اور وفات شدگان پر افسوس و تعزیت کا اظہار کیا گیا۔

10؍مئی 1948ء کوگودھرا کے تباہ حال لوگوں کے جائزے کے لیے وفد روانہ کیا گیا۔

17؍مئی 1948ء کو ایک سرکلر کے ذریعہ جمعیت کے دفاتر کو خدمت خلق کے مراکز بنانے کی اپیل کی گئی۔ 

 23؍مئی 1948ء کو پاکستان کو اقلیتوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی نصیحت کی گئی۔

 27؍مئی 1948ء کو صدر جمعیت نے بیان دیا کہ فلسطین پر صرف فلسطینیوں کاحق ہے۔ 

وطن چھوڑ کر جانے والے، یا جاکر واپس وانے والے، یا بھارت میں مقیم افراد کے مکانات، دکانوں، باغات، کارخانوں، زرعی آراضی اور باغات وغیرہ کو محکمۂ کسٹوڈین ظالمانہ طور پر ضبط کرتا جارہا تھا، جمعیت علمانے 28؍مئی 1948ء کو ’’قانونی امدادکمیٹی‘‘ تشکیل دے کر کسٹوڈین کے مظالم کے خلاف عملی جدوجہد کا آغاز کیا اور الجمعیۃ سے دستیاب رپورٹ کے مطابق،27؍ دسمبر 1948ء تک4678؍ مکانات، 2407؍ دکان، 133؍باغات،54؍زرعی آراضی، 142؍کارخانے اور 1815؍کاروباری جائداوں کی واگذاری کی اپیلیں شائع کی گئیں۔ 

6؍جون 1948ء کو عرب لیگ کو ہندستان کی طرف سے مکمل حمایت کی یقین دہانی کے بعد 9؍جون1948ء کو لیگ کی طرف سے شکریے کا تار موصول ہوا۔

15؍جون1948ء کوقبرستانوں پر قبضہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ 

16؍جون1948ء کو سنبھل فساد متأثرین کی خبر گیری کی گئی۔

28؍جون1948ء کوتبادلۂ آبادی کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

24؍جولائی1948ء کو پاکستان سے آنے والے کے لیے پرمٹ کی پریشانیوں کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا گیا۔ 

30؍جولائی 1948ء کویوپی حکومت کی اردو دشمنی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیاگیا۔

 4؍اگست 1948ء کوجمعیت علماکی جدید مجلس عاملہ کی تشکیل عمل میں آئی۔

17؍اگست1948ء کو تقسیم کے نتیجے میں برپا فسادات میں اغوا شدہ عورتوں کی بازیابی کی کوششیں کی گئیں۔

25؍اگست1948ء کو آگرہ فساد متأثرین کی خبر گیری کی گئی۔

12؍ستمبر1948ء کو تعلیمی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی، جس میں آزاد ہندستان میں دینی تعلیم کے فروغ اور اسے عملی طور پر نافذ العمل بنانے پر غوروخوض ہوا۔

14؍ستمبر1948ء کو وزیر اعظم و وزیر تعلیم یوپی سے اردو کو لازمی تعلیمی زبان بنائے جانے کے مطالبہ کو لے کر ملاقات کرنے کی کوشش کی گئی۔

15؍ستمبر1948ء کونظام حیدرآباد کے فوجی ایکشن کو غیر مدبرانہ قرار دیا اور بھارتی فوج کی جیت پر اسے ہند یونین میں شامل کرنے کا خیر مقدم کیا۔ 

22-23؍ ستمبر1948ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں قومی زبان، جبری تعلیم، آگرہ فساد اور تنظیمی استحکام جیسے ایجنڈے پر غورو فکر کیا گیا۔ 

27؍ستمبر1948ء کو حیدرآباد میں ہندی افواج کی کامیابی پر دعائیہ تقریب منعقد کی گئی۔

29؍ستمبر1948ء کوپاکستان چلے جانے کے بعد پھر ہندستان واپس آکر رہنے کی اجازت حاصل کرنے میں کامیابی ملی اور پرمٹ کی پریشانیوں کا ازالہ کرایا گیا۔

8؍اکتوبر1948ء کو راجستھان میں شریعت کورس ختم کرنے پر متعلقہ حکام کو تار بھیج کر اسے بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

19؍اکتوبر1948ء کو تعلیمی کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ایک جزو وقتی اور ایک کل وقتی ، کل دو نصاب تعلیم مرتب کیے جائیں۔

23؍اکتوبر1948ء کواوقاف و قضا کی سب کمیٹیوں کے اجلاس میں اہم فیصلے لیے گئے۔

13؍نومبر1948ء کوہفتۂ جمعیت منانے کی اپیل کی گئی۔

22؍ نومبر سے 29؍ نومبر 1948ء تک ہفتۂ جمعیت منانے کا اہتمام کیا گیا۔

10؍دسمبر1948ء کو جمعیت کی ممبرسازی کے حوالے سے پھیلائی گئی غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اس کا کوئی سیاسی مقصد نہیں ہے۔

11؍دسمبر1948ء کومیواتیوں کی امداد کی گئی۔

15؍دسمبر1948ء کو سری پرکاش کو دی گئی چائے نوشی کی دعوت میں پاکستان سے آمد و رفت کی مشکلات پر تبادلۂ خیالات کیا گیا۔  

26-27؍ دسمبر 1948ء کو بنارس میں مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں مدراس، سی پی، گجرات، ممبئی اور حیدرآباد کے دورے کرنے کے لیے چند وفود مرتب کیے گئے، تعمیری پروگرام کا عملی خاکہ پیش کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی، صوبہ متحدہ کے وقف ایکٹ میں کی گئیں ترمیمات کو منظور کیا گیا اور صوبہ بہار کی تنسیخ زمین داری کے قانون سے اوقاف کو مستثنیٰ رکھنے کے لیے ایک وفد مرتب کیا گیا۔

27؍دسمبر1948ء کو ایک پریس کانفرنس کے ذریعہ حضرت شیخ الاسلام کے متعلق نیشنل ہیرالڈ کی دروغ گوئی کا پردہ فاش کیا گیا۔

اسی تاریخ کو اطراف دہلی میں تباہ شدہ دیہات میں ریلیف ورک انجام دیاگیا۔

حکومت کشمیر کے بے جا تشدد، شیخ عبداللہ اور ان کے رفقا کی گرفتاری پر صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔


جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: انتیسواں سال: 1947ء

 انتیسواں سال: 1947ء

محمد یاسین جہازی

3؍مارچ 1947ء کو شائع ایک خبر کے مطابق شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب ؒ کوجمعیت علمائے ہند کا دوبارہ صدر منتخب کیا گیا۔

وزیر اعظم برطانیہ مسٹرایٹلی نے 20؍ فروری 1947ء کو اعلان کیا کہ جون 1948ء تک ہندستان کو آزاد کردیا جائے گا۔ اس اعلان سے پیدا شدہ نازک صورت حال پر غورو خوض کرنے کے لیے 13تا 15؍ مارچ 1947ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس کیا گیا، جس کی پہلی تجویز میں مسٹر ایٹلی کے اعلان آزادی کا خیر مقدم کرتے ہوئے ، اسے جمعیت علمائے ہند کی طویل جدوجہد کا نتیجہ قرار دیا۔ دوسری تجویز میں فرقہ وارانہ خطوط پر ملک کی تقسیم کو ملک کے لیے بالعموم اور مسلمانوں کے لیے بالخصوص تباہ کن قرار دیا اور پنجاب کی تقسیم کے لیے کانگریس کی رضامندی پر حیرت کا اظہار کیا گیا۔ تیسری تجویز میںآزاد ہندستان میں مسلمانوں کے مذہبی اور قومی تحفظات کے لیے تمام مسلم جماعتوں کا ایک مشترکہ اجتماع بلانے پر زور دیاگیا۔ اور صدر مسلم لیگ کو دعوت عمل دیتے ہوئے متعدد خطوط لکھے، لیکن مسلم لیگ نے اسے منظور نہیںکیا ۔ چوتھی تجویز میں پنجاب میں فرقہ وارانہ فسادات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔پانچویں تجویز میں فسادات بہار کے متأثرین کے ساتھ حکومت بہار سے مکمل انصاف کرنے کا مطالبہ کیا۔

30؍مارچ1947ء کو جمعیت علما نے سکھوں کے کھلے عام تلوار لے کر گھومنے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔

31؍مارچ1947ء کو ایشیائی کانفرنس کے موقع پر اسلامی ممالک کے مسلم نمائندگان کے کے لیے خیرمقدمی اجلاس منعقد کیا گیا۔اور انھیں عصرانہ دیا گیا۔

9؍اپریل1947ء کو وزیرستان سے موصول ایک خط میں اپنا سیاسی موقف واضح کرتے ہوئے مسلم لیگ کے پاکستان کی حمایت سے انکار کیا گیا۔

15؍اپریل1947ء کو مہاراجہ پٹیالہ کے نام تار بھیج کر مسلم اقلیت کے تحفظ کی بات کہی گئی۔ 

16؍اپریل1947ء کو مہاراجہ فریدکوٹ کو تار بھیج کر مسلمانوں کی جان ، عزت اور مال کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا۔

کیبنٹ مشن بھارت میں عارضی قومی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا، تو مسٹر ایٹلی وزیر اعظم برطانیہ نے اپنے 20؍ فروری کے اعلان کے مطابق جلد از جلد مکمل اختیارات ہندستانیوں کو منتقل کرنے کے لیے24؍ مارچ  1947ء کو وائسرائے ویول کی جگہ ماونٹ بیٹن کو ہندستان کا بیسواں اور آخری وائسرائے بناکر بھیجا ۔بیٹن نے ہندستان آتے ہی بھارتی لیڈروں کے نظریات اور رائے عامہ معلوم کرنے کے لیے میٹنگوں اور گفت و شنید کا سلسلہ شروع کردیا۔ انھوں نے بالعموم کیبنٹ مشن کو منظور کرلینے کا مشورہ دیااور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر یہ قابل قبول نہیں ہوگا، تو اس کی متبادل صورت بھی موجود ہے؛لیکن مسلم لیگ کا پاکستان کے لیے اصرار کے پیش نظر کیبنٹ مشن پلان منظور نہیں ہوا۔اور متبادل کے طور پر ماؤنٹ بیٹن نے تقسیم ہند کا پلان پیش کردیا۔ان حالات کے پیش نظر از 9؍تا 11؍ مئی 1947ء کو لکھنو میں جمعیت علمائے ہند نے مجلس عاملہ اور مجلس مرکزیہ (جنرل کونسل) کا اجلاس کیا، جس کی پہلی تجویز میں مسٹر ایٹلی کے اعلان کا خیر مقدم کیا، لیکن فرقہ وارانہ خطوط پرملک کی تقسیم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کیبنٹ مشن پلان کو ہی قبول کرنے کا مشورہ دیا۔ دوسری تجویز میں پورے ہندستان میں ہورہے فرقہ وارانہ فسادات کو پوری دنیا میں ہندستان کو شرمندہ کرنے والا عمل قرار دیتے ہوئے اس سے مکمل بیزاری کا اعلان کیا۔تیسری تجویز میں ہندستانیوں کو تحفظ وطن اور انسداد فسادات کے لیے اسلحہ رکھنے کی عام اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔ چوتھی تجویز میں مسلمانوں کی مذہبی، تعلیمی، اخلاقی اور معاشرتی اصلاح پر زور دیا گیا۔ پانچویں تجویز میں بہار فسادات متأثرین سے متعلق حکومت بہار کی مجرمانہ غفلت کی تلافی کرنے کا مطالبہ دوہرایا۔ چھٹی تجویز میں حکومت یوپی سے گڈھ مکتیشر فساد مظلومین کی امداد کرنے کی اپیل کی۔ ساتویں تجویز میں دستور ساز اسمبلی میں مسلمانوں کی صحیح نمائندگی دینے کا مطالبہ کیا۔ آٹھویں تجویز میں مدح صحابہ سے متعلق حکومت یوپی کے رویہ پر تشویش کا اظہار کیا۔ نویں تجویز میں سندھ کے حروں پر مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔ اور آخری تجویز میں امیر شریعت ثانی بہار حضرت مولانا شاہ محی الدین قادری نور اللہ مرقدہ کے علاوہ دیگر سماجی شخصیات کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدری کے جذبات پیش کیے۔

23؍مئی 1947ء کو ایک مکتوب لکھ کر بہار میں مسلم اقلیتوں کی صحیح نمائندگی کا مطالبہ کیا گیا۔

23؍مئی 1947ء کو مہاراجہ چترال کو تار بھیج کر اسلامی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کی اپیل کی گئی۔ اوربلاقصور گرفتار کیے گئے کارکنان جمعیت کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

30؍مئی1947ء کو گڑگاوں فسادات کے تعلق سے متعلقہ حکام کو تار بھیج کر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

یکم جون1947ء کو آل انڈیا ریڈیو کی اردو کش پالیسیوں پر کڑی تنقید کی گئی ۔

9؍جون1947ء کی ایک رپورٹ کے مطابق کارکنان جمعیت علما کے گڑگاں متأثرین کے درمیان قابل قدر خدمات پیش کیں۔

10؍جون1947ء کو شائع ایک خبر کے مطابق مصیبت زدگان گڑگاوں کی امداد کی گئی۔

15؍جون1947ء کو جاری ایک اپیل میں 17؍جون کو یوم فلسطین منانے کی اپیل کی گئی۔

15؍جون1947ء کی ایک خبر کے مطابق کارکنان جمعیت علما تسلسل کے ساتھ فساد متأثرین کے درمیان ریلیف ورک میں مصروف ہیں۔

15؍ جون 1947ء کو فرقہ وارانہ بد ترین صورت حال کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے ریاست بھرتپور اور جے پور کے نام تار بھیجا۔

18؍جون1947ء شیر گڑھ میں ممکنہ فساد کے پیش نظر فورس تعیینات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔اور اب تک امن وامان قائم رکھنے پر انھیں مبارک باد پیش کی گئی۔

19؍جون1947ء کو گڑگاوں فسادات میں جمعیت علما کی خدمات کی ایک زمینی رپورٹ پیش کی گئی۔

20؍جون1947ء کو گڑگاوں میں امدادی کام جاری رکھنے کے لیے فوجی امداد کا مطالبہ کیا گیا۔

23؍جون1947ء کو منعقد مرکزی تعمیری کمیٹی میں، جمعیت علما کی شاخیں اور مکاتب قائم کرنے کا فیصلہ، تعمیری پروگرام کے عملی خاکے، جمعیت علمائے صوبہ متحدہ کی مجلس عاملہ کے اجلاس کی ضرورت، اور ٹریننگ کیمپ کے قیام جیسی تجاویز منظور کی گئیں۔

24؍جون1947ء کو مولانا حفظ الرحمان صاحب نے وزیر اعظم صوبہ سندھ کو ایک کانفرنس کی معلومات حاصل کرنے کے لیے تار بھیجا۔  

جب مسلم لیگ نے کیبنٹ مشن کے پلان کو منظور نہیں کیا، تو ماونٹ بیٹن نے ہندستان کی تقسیم کا فارمولہ پیش کیا اور 2؍ جون 1947ء کو سبھی ہندستانی لیڈروں کو بلاکر اسے منظور کرالیا۔ پھر اسے مسلم لیگ نے 9-10؍ جون 1947ء کو ،اور14-15؍ جون 1947ء کو کانگریس نے اپنے اپنے اجلاس میں باقاعدہ منظوری دے دی۔ کانگریس کے اجلاس میں صرف مسٹر پروشتم داس ٹنڈن اور جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نور اللہ مرقدہ نے ہی اس تجویز کی مخالفت کی ۔ بعد ازاں 24؍ جون 1947ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس کیا گیا،جس میں تقسیم ہند کو مسلمانوں کے لیے سخت نقصان قرار دیتے ہوئے نہ صرف اس سے بیزاری کا اعلان کیا؛ بلکہ اس کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کی بھی دھمکی دی۔ ان تمام کوششوں کے باوجود ہندستان کی تقسیم نہیں رک سکی اور 14؍ اگست 1947ء کو پاکستان ڈومینین کا اور 15؍ اگست 1947ء کو ہندستان کی مکمل آزادی کااعلان کردیا گیا۔چوں کہ ہندستان کی آزادی میں جمعیت نے انقلاب آمیز قائدانہ کردار ادا کیا تھا، اس لیے ناظم عمومی جمعیت علمائے ہندنے سبھی لوگوں سے دھام دھام سے جشن آزادی منانے کی اپیل کی۔ 

24؍ جون 1947ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں دیگر تجاویز پاس کرتے ہوئے صوبہ بلوچستان کوپاکستان، ہندستان، یا آزاد ریاست رہنے کے سلسلے میں ان کے باشندگان کی صواب دید پر چھوڑنے ، صوبہ سرحد میں ریفرنڈم کرانے کی مخالفت، بصورت مجبوری رائے دہندگان کو ہندستان اور پاکستان کے حق میں رائے دینے کے بجائے آزاد انہ رائے دینے کا مطالبہ، ضلع سلہٹ کو ریاست آسام میں شامل رکھنے اور پانچ کروڑ مسلمانوں کے قومی و ملکی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک عام کانفرنس بلانے پر زور دیا گیا۔ چنانچہ 28-27؍ دسمبر 1947ء کو لکھنو میں امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ کی صدارت میں ’’لکھنومسلم کانفرنس ‘‘ ہوئی، جس میں سبھی مسلم جماعتوں نے متفقہ طور پر فرقہ وارانہ پارلیمانی سیاست سے علاحدگی کا اعلان کیا۔

ہندستان کے اعلان آزادی کے ساتھ ہی پورے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات ہونے لگے، جس میں جمعیت علمائے ہند کے خدام نے جان کی بازی لگاکر متأثرین و مظلومین کی راحت رسانی اور باز آباد کاری کے کام کیے؛ بالخصوص دہلی، گوڑگاوںکوٹ قاسم وغیرہ میں جنگی پیمانے پر خدمات انجام دیں۔ 

3؍جولائی 1947ء کو کوٹ قاسم کے حالات کے متعلق جمعیت علما کے وفد نے اپنی رپورٹ پیش کی۔

23؍جولائی 1947ء کو خط لکھ کر حجاج کے مسائل کو حل کرانے کی کوشش کی۔

26؍جولائی1947ء کو جشن آزادی میں ہر ایک مسلمان کو حصہ لینے کی اپیل کی گئی۔

27؍جولائی1947ء کو فتح پوری مسجد کی بے حرمتی پر دہلی حکومت سے جواب طلب کیا گیا۔

6؍اگست 1947ء کو صدر جمعیت علمانے ایک بیان دے کر کہا کہ انڈونیشیا کی آزادی پر کوئی حرف نہیں آنا چاہیے۔

10؍اگست1947ء کو شائع ایک مضمون کے مطابق سلہٹ میں لیگیوں نے غنڈہ گردی کرتے ہوئے جمعیت علما کے دفتر پر قبضہ کرلیا۔

ہندستان میںہندوؤں کے رحم و کرم پر رہ جانے والے ساڑھے پانچ کروڑ مسلمانوں کے سیاسی، اقتصادی، تعلیمی اور اخلاقی جائزہ لینے کے لیے 13؍ اگست 1947ء کو ، 24؍ سوالات پر مشتمل ایک سروے فارم جاری کیا۔

20؍اگست1947ء کو مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی اور مفتی محمد نعیم لدھیانوی کی تحریر کردہ مکتوب سے پنجاب میں ہندوؤں اور سکھوں کے وحشیانہ مظالم کا علم ہوا۔

28؍اگست1947ء کو پناہ گزیں میواتیوں کے لیے رہائش کے انتظام کا مطالبہ کیاگیا۔ اور بہادر میواتیوں سے امن وشانتی کی اپیل کی گئی۔

اسی تاریخ کو شائع ایک رپورٹ کے مطابق،پلول گڑگاوں میں جمعیت علما کی طرف سے قائم سینٹرل ریلیف کمیٹی نے کارہائے نمایاں انجام دیے۔

28؍اگست1947ء کو ایک بیان کے ذریعہ، باؤنڈری کمیشن کے فیصلے کے بعدمشرقی اور مغربی پنجاب میں انتقال آبادی سے پیدا شدہ نازک صورت حال میں دکانوں اور مکانوں پر ناجائز قبضہ اور مسلمانوں پر وحشیانہ مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔

6؍ستمبر1947ء کو شائع ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ دہلی کے خطرناک علاقوں سے مسلمانوں کو باہر نکالنے کی کارکنان جمعیت علما نے انتھک کوششیں کیں۔

فرقہ وارانہ فسادات کی شدت سے ہجرت کے نام پر راہ فرار اختیار کرتے ہوئے پاکستان جانے والے لوگوں کوپیغام حیات پیش کرتے ہوئے 24؍اکتوبر1947ء کو امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد نے حوصلہ افزا خطاب فرمایا۔

19؍نومبر1947ء کو گڑھ مکتیشور میں فرقہ وارانہ فسادات کے اندیشے کے پیش نظر حفاظتی بندوبست کرنے کا مطالبہ کیا۔اور پچھلے فساد میں متأثرہ پانچ مساجداور ایک عیدگاہ کی مرمت کرائی گئی۔

23؍نومبر1947ء کو جمعیت علمائے صوبہ بنگال نے مدرسہ عالیہ کلکتہ کو جاری رکھنے کا عزم کیا۔

25؍نومبر1947ء کو ناظم عمومی مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے اسمبلی میں دہلی فساد میں شہید مسلمانوں کی تعداد کم بتائے جانے پر ایک بیان سے حقیقت کو اجاگر کیا۔

 فسادات کے ناگفتہ بہ حالات پر کنٹرول کرنے کے لیے جمعیت علمائے ہند نے سنٹرل ریلیف کمیٹی قائم کی تھی،جس کے ذریعہ ناجائز اورفوج داری معاملات میں قانونی امداد فراہم کی گئی۔ اس کمیٹی نے حکومت ہند سے29؍نومبر1947ء کو دہلی فساد متأثرین کی بازآباد کاری کامطالبہ کیا۔ اور خود ناظم عمومی دہلی کے مختلف متأثرہ علاقوں کا دورہ کرکے حالات کا صحیح جائزہ لیتے رہے۔ 

23؍دسمبر1947ء کو جمعیت علما کے ایک وفد نے موضع کھڑی گاوں کا دورہ کیا، جہاں سے فسادیوں نے مسلمانوں کو نکال باہر کردیا تھا۔

24؍دسمبر1947ء کو سینٹرل ریلیف کمیٹی نے گاندھی جی سے ملاقات کرکے دہلی میں ہورہے ناجائز قبضوں کی اطلاع دی اور انتظامی امور کے متعلق مشورے کیے۔

25؍ دسمبر1947ء کو جمعیت علمائے ہند کا ترجمان اخبار روزنامہ الجمعیۃ کا دوبارہ اجرا عمل میں آیا۔

تقسیم ہند کے بعد پانچ کروڑ مسلمانوں کے تحفظ کے مسئلے کر لے کر27-28دسمبر 1947ء کو امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ کی صدارت میںمختلف ملی جماعتوں کی ایک مشترکہ’’لکھنو مسلم کانفرنس‘‘ لکھنو میں منعقد کی گئی، جس میں فرقہ وارانہ پارلیمانی سیاست سے دست برداری کا اعلان کرتے ہوئے، مسلمانوں سے کانگریس میں شامل ہونے کی اپیل اور اپنا دائرۂ عمل تعمیری ، تعلیمی اور تہذیبی دائرے تک محدود کرنے کا فیصلہ لیا۔اسی طرح ایک غیر فرقہ وارانہ کمیٹی قائم کرتے ہوئے ’’انجمن اتحاد و ترقی یونین اینڈ پروگریس کمیٹی‘‘ تشکیل دی گئی۔

جمعیت علمائے ہند نے مسلمانوں کی واحد سیاسی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کو ایک مشترکہ میٹنگ کے ذریعہ ،آزاد ہندستان میں مسلمانوں کے مذہبی و قومی تحفظات کا لائحۂ عمل طے کرنے کی دعوت دی؛ لیکن صدر مسلم لیگ نے اس دعوت کو عملی جامہ پہنانے سے انکار کردیا۔

ان کے علاوہ،متفرقات کے عنوان کے تحت، حکومت دہلی کے رویے سے مسلمانوں کی پریشانیاں،مولانا محمد حنیف سہمی اور مولانا فقیہ الدین کی خدمات کی تحسین،مرکزی ریلیف کمیٹی کی سرگرمیاں، جگادھری (انبالہ) کے مسلمانوں کی حالت زار،بہار میں تعمیری خدمات، مسودات قانون کے لیے بنائی گئی سب کمیٹی کی رپورٹ، سفیر امریکہ مسٹر آصف علی کو اقوام متحدہ میں فلسطین کا موقف رکھنے پر مبارک باد،اور ٹنڈن جی کی فساد انگیز تقریر کے خلاف ناظم عمومی صاحب کا بیان شامل کیا گیا ہے۔


جمعیت علمائے ہند قدم بہ قدم: اٹھائیسوں سال: 1946ء

  اٹھائیسوں سال: 1946ء

محمد یاسین جہازی

یکم جنوری 1946ء کو مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے فتویٰ دیا کہ کانگریس میں شرکت جائز ہے۔

22؍جنوری 1946ء کو ایک استفسار کے جواب میں مفتی اعظم نے لیگ میں شرکت اور اس کی امدادکی حیثیت پر ایک فتویٰ جاری کیا۔

یکم فروری1946ء کو شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب اور مولانا حفظ الرحمان صاحب کے دورے کی تفصیلات شائع کی گئیں۔یہ دورے مسلم پارلیمنٹری بورڈ کے امیدواروں کے لیے ووٹ حاصل کرنے کے لیے مقصد سے کیے جارہے تھے۔

17؍فروری1946ء کو حضرت مفتی اعظم ہند نے خانقاہ امدادیہ تھانہ بھون کے سوالوں کے جوابات پیش کیے۔ 

جب وائسرائے ہند لارڈ واویل نے جداگانہ(مسلمان مسلمان کو اور غیر مسلم غیر مسلم کو ووٹ پر مبنی ) انتخابات کرانے کا اعلان کیا، تو مسلم لیگ نے پاکستان اور اسلامی حکومت کے نعرے کے ساتھ الیکشن میں حصہ لیا، جب کہ جمعیت علمائے ہند تمام مسلم قوم پرور جماعتوں کے مشترکہ پلیٹ فارم’’آزاد مسلم پارلیمنٹری بورڈ‘‘ کے تحت آزادیِ ہند کے نعرے کے ساتھ انتخابی میدان میں اتری ۔مسلم لیگ نے الیکشن جیتنے کے لیے جہاں غنڈہ گردی اور ماردھاڑ سے کام لیا، وہیں فتووں کا بھی سہارا لیا، جب کہ جمعیت علمائے ہند اپنے لوگوں سے امن و امان کی اپیل کرتی رہی۔ 

آواخر دسمبر1945ء تک مرکزی قانون ساز اسمبلی کی 102 ؍نشستوں پر ہوئے الیکشن کے نتائج سامنے آگئے۔ مسلم لیگ نے پاکستان کے نعرے کے ساتھ الیکشن لڑا ، جب کہ جمعیت علمائے ہند نے آزادی ہند کے نام پرمسلم پارلیمنٹری بورڈ کے تحت کانگریس کی حمایت کی۔ اس میں 30؍ نشستیں مسلمانوں کے لیے مخصوص تھیں،ان سب نشستوں پر مسلم لیگ نے جیت درج کرائی، جب کہ کانگریس کو کل 57؍نشستیں ملیں۔ 

بعد ازاں 1946ء میں صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن ہوئے۔اس میں کانگریس نے کل 1585؍ نشستوں میں سے923 ؍نشستیںجیتیں، جو(%58.23)فی صد ہوتا ہے۔ آل انڈیا مسلم لیگ نے 425؍ نشستیں (کل کا %26.81) جیت کر دوسرے درجہ کی جماعت کا مقام حاصل کرلیا، یعنی اس نے مرکزی اسمبلی کے تمام مسلم حلقوں کے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلیوں کے زیادہ تر مسلم حلقوں پر قبضہ کر لیا۔

 اسی طرح ہندستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی (Constituent Assembly) میں کل 389؍ نشستیں تھیں، جن میں سے 292؍ نشستیں برطانوی ہند کے صوبوں کے لیے اور 93؍ نشستیں دیسی ریاستوں کے لیے تھیں۔ دیسی ریاستوں کے نمائندوں کا انتخاب وہاں کے حکمرانوں کی مرضی سے ہوتا تھا۔جو نشستیں برطانوی ہند کے لیے مخصوص تھیں، انھیں پر جولائی 1946ء میں الیکشن ہوئے، جن میں کانگریس نے 207؍ نشستوں (کچھ ذرائع کے مطابق 208) اور مسلمانوں کے لیے مخصوص 78 ؍ نشستوں میں سے مسلم لیگ نے 73؍ نشستوں پر ،اس کے علاوہ دیگر پارٹیوں اور آزاد امیدواروں نے 28؍ نشستوں پر جیت درج کرائی۔ان تینوں انتخابات میں مسلم لیگ کی نمایاں جیت نے پاکستان کا راستہ کھول دیا۔

انتخابات کے بعد حکومتی اختیارات منتقل کرنے کے لیے 17؍ فروی1946ء کو کیبنٹ مشن بھیجنے کا اعلان ہوا۔ 23؍ مارچ 1946ء کو کیبنٹ مشن ہندستان پہنچا اور کانگریس، لیگ اور دیگر لیڈروں سے صلاح و مشورے شروع کیے، لیکن اس کے لیے جمعیت کو مدعو نہیں کیا،جس کے پیش نظر جمعیت نے 28-29؍ مارچ 1946ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا کہ اگر مسلمانوں کے مفاد کے خلاف کوئی دستوری دفعہ شامل کیا گیا، تو جمعیت اس کی مخالفت کرے گی۔ مسلم لیگ نے 4؍ اپریل 1946ء کو مشن سے ملاقات کی ، بعد ازاں 8-9؍ اپریل 1946ء کو دو آئین ساز ادارے بنانے اور ہندستان کو تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ 

مجلس عاملہ کے فیصلے کا فوری اثر ہوا اور کیبنٹ مشن نے 16؍ اپریل 1946ء کو ملاقات کے لیے مدعو کیا۔ جمعیت نے ملاقات سے ایک دن پہلے 15؍ اپریل 1946ء کو مختلف قوم پرور مسلم جماعتوں کے ساتھ مشترکہ میٹنگ کی اور وزارتی مشن کے سامنے پیش کرنے کے لیے ایک فارمولا تیار کیا۔ اور پھر 16؍ اپریل1946ء کو مجلس عاملہ میں پاس کرکے، اسی دن صدر مسلم پارلیمنٹری بورڈ حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ صدر جمعیت علمائے ہندکی قیادت میں ایک وفد نے کیبنٹ مشن سے ملاقات کی اور فارمولا پیش کیا۔مجلس عاملہ کے اس اجلاس میں فارمولا کے علاوہ سید احمد کاظمی کی وفات پر تجویز تعزیت اور آزاد ہند فوج کے تمام ارکان کو غیر مشروط طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ 

آواخراپریل میں مشن نے مسلم لیگ اور کانگریس کے لیڈروں کو تبادلۂ خیالات کی دعوت دی اور ساتھ ہی اپنا مجوزہ منصوبہ پیش کیا۔5؍ مئی 1946ء کو شملہ میں کیبنٹ مشن نے کانفرنس کی، جس میں دونوں پارٹیوں نے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں۔ لیگ کے مطالبۂ پاکستان کے اصرار اور کانگریس کے اکھنڈ بھارت کے دعوے پرقائم رہنے کی وجہ سے کانفرنس ناکام ہوگئی؛ تاہم مشن نے چوبیس نکاتی پلان پیش کرکے عارضی حکومت کے قیام کی کوششوں کو جاری رکھا۔26؍مئی 1946ء کو مشن کی تجاویز پر نیشنلسٹ مسلم رہنماؤں کی طرف سے مشترکہ تبصرہ کیا گیا۔ بعد ازاں 6؍ جون 1946ء کو مسلم لیگ نے، اور25؍ جون 1946ء کو کانگریس نے مشن کے پلان کو قبول کرتے ہوئے عارضی حکومت سازی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ 

ریاست الور میں مسلمانوں پر ہورہے مظالم کی تحقیقات کے لیے جمعیت کے تحقیقاتی وفد کو آنے کی اجازت طلب کرنے کے لیے، پہلے صدر جمعیت نے 3؍ اپریل 1946ء کو، پھر 13؍ اپریل 1946ء کو ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا حفظ الرحمان نے وزیر اعظم ریاست الور کے نام تار بھیجا۔

23؍اپریل1946ء کو افواہوں پر دھیان نہ دیتے ہوئے امن و شانتی قائم رکھنے کی اپیل کی گئی۔

26؍اپریل1946ء کو پانچ لاکھ سے زائد مجمع پر مشتمل ایک عظیم الشان اجلاس کیا گیا، جس میں پاکستان کی حقیقت اجاگر کی گئی۔

30؍اپریل1946ء کوسماجی و دینی اصلاح سے متعلق ایک اہم اپیل کی گئی۔

از 10تا 12؍ جون 1946ء کو مجلس عاملہ مرکزیہ کا اجلاس ہوا، جس میں کیبنٹ مشن کی تجاویز کا تنقیدی جائزہ لیا گیا۔ دیگر تجاویز میں آسام لائن سسٹم میں آباد لوگوں کو بے دخل نہ کرنے کی اپیل،کشمیری عوام پرڈوگرا فوج کے مظالم کی مذمت اور نیشنل کانفرنس کے صدر شیخ عبد اللہ اور ان کے ساتھیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ اور فلسطین میں ایک لاکھ یہودیوں کے داخلہ کی اجازت پر مشتمل برطانوی امریکی تحقیقاتی وفد کی رپورٹ کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کرنے کی اپیل کی گئی اور مسلمانان ہند کے جذبات سے آگاہ کرنے کے لیے 24؍ مئی 1946ء کو ’’یوم فلسطین‘‘ منانے کا اعلان کیا گیا۔

13؍جون1946ء کو کل ہند فلسطین کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

21؍جون1946ء کوسکریٹری عرب لیگ کے برقیہ کا جواب دیاگیا۔

25؍ جون 1946ء کو حضرت مولانا احمد سعید صاحب نائب صدر جمعیت علمائے ہند نے نیشنلسٹ مسلم اسٹوڈینٹس فیڈریشن کو پیغام بھیجتے ہوئے کہا کہ کوئی ملک ایسا نہیں ہے، جس کے انقلاب میں طلبہ کے ہاتھ نہ ہوں۔

12؍جولائی 1946ء کو مسلم لیگیوں کی طرف سے امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ کی ذات کو گستاخیوں کا نشانہ بنانے پرمولانا کی حمایت میں مکتوب لکھا گیا۔ 

پھر28؍ جولائی 1946ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں ساؤتھ افریقہ میں ہندستانیوں کے ساتھ بھید بھاؤ والے قانون پاس کرنے کی مذمت کی اور اس کے خلاف عدم تشدد کی تحریک چلانے والوں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ ایک دوسری تجویز میں آسام لائن سسٹم کے مسئلہ کو حل کرنے کا مطالبہ اور تیسری تجویز میں پوسٹ مینوں کے اسٹرائیک میں مولانا آزادؒ کی ثالثی کو قبول کرنے کا مشورہ دیا گیا۔

چوں کہ مشن پلان میں تقسیم ہند کو قبول نہیں کیا گیا تھا، اس لیے حکومت سازی میں لیگ کی شمولیت کے فیصلے پر اس کے حلقے میں ناپسندیدگی کا اظہار کیاگیا، جس سے متأثر ہوکر 27؍ جولائی 1946ء کو لیگ نے حکومت سازی میں شرکت سے انکار کردیا۔ اور پاکستان حاصل کرنے کے لیے 16؍ اگست1946ء کو ’’ڈائریکٹ ایکشن ڈے‘‘ منانے کا فیصلہ کیا، جو پورے ہندستان میں فرقہ وارانہ فسادات کا باعث بنا۔ 

26؍ اگست 1946ء کو کچھ غنڈوں نے جمعیت کے دفتر پر چھاپا مارااور اسٹاف سے مار پٹائی کی ۔

کیبنٹ مشن کی دعوت پر 2؍ ستمبر1946ء کو کانگریس نے غلام بھارت میں پہلی مرتبہ قومی عارضی حکومت کی تشکیل کی۔جب ڈائریکٹ ایکش ڈے منانے کے باوجود مسلم لیگ کو کچھ ہاتھ نہیں آیا، تو 15؍ اکتوبر1946ء کو عارضی حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔لیکن مسلم لیگ نے سب سے بڑی تاریخی غلطی یہ کی کہ مسلمانوں کی واحد نمائندگی کا دعویٰ کرنے کے باوجود کیبنٹ مشن پلان کے مطابق پانچ مسلم ناموں میں ایک نام غیر مسلم دلت لیڈر جوگندر ناتھ منڈل کاشامل کردیا، جس سے وزارتی پلان میں مسلمانوں کی نمائندگی پینتالیس فی صد سے گھٹ کر پینتیس فی صد رہ گئی۔ 

21تا 24؍ ستمبر1946ء کومجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں انتقال اختیارات کے لیے عارضی قومی حکومت کے قیام پر اظہار اطمینان کیا گیا، تاہم مسلم لیگ کی غلط قیادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ، کانگریس ہائی کمانڈ کے طریق کار پر اعتراض ظاہر کیا گیا۔ دیگر تجاویز میں ملک بھر میں ہورہے فرقہ وارانہ فسادات کی مذمت، ان میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ، زمین داری کے قانون کا خاتمہ،اوقاف سے متعلق غوروفکر کے لیے 26-27؍ اکتوبر 1946ء کو دیوبند میںاجتماع کا فیصلہ، فلسطین سے متعلق تجاویز کو انگریزی اور عربی میں مرتب کراکر عرب ہائی لیگ کے سکریٹری کو بھیجنے اور فرقہ وارانہ فسادات کو جہاد پاکستان قرار دینے کو اذیت ناک بتاتے ہوئے مسلمانوں کو اس سے باز رہنے کی تلقین کی گئی۔

3؍نومبر1946ء کوفسادات میں مسلمانوں کے نامناسب رویے پر ایک بیان جاری کیا گیا۔اسی تاریخ کو جمعیت علما، مسلم لیگ اور کانگریس کو ووٹ دینے سے متعلق استفتے کے جوابات دیے گئے۔

3؍ستمبر1946ء کو توہین رسالت پر مبنی ایک جریدے کے مضمون پروائسرائے ہند سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

3؍ستمبر1946ء کو عید کے دن مسٹر جناح کی جانب سے دعوت اتحاد کا خیرمقدم کیا گیا، لیکن ان کے سابقہ رویے کو دیکھ کر طرز عمل پر تنقید بھی کی گئی۔

6؍نومبر1946ء کو مولانا مفتی محمد نعیم لدھیانوی صاحب سکریٹری جمعیت علمائے ہند گرفتار کرلیے گئے۔اسی تاریخ کو بہار کے فسادات کے تعلق سے صدراور ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے ایک بیان جاری کیا۔

28؍نومبر1946ء کو مظلومین بہار کی امداد واعانت کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی گئی۔

از 14تا 16؍ دسمبر1946ء کو مجلس عاملہ مرکزیہ کا اجلاس ہوا، جس میں بہاراور گڈھ مکتیشر کے خونی فسادات کی مذمت کرتے ہوئے مظلومین کے ساتھ مکمل انصاف کرنے کا مطالبہ کیا گیااور پورے ہندستان میں صلح و آشتی برقرار رکھنے کی اپیل کی گئی۔ اسی طرح کیبنٹ مشن کے گروپنگ سسٹم کو وقتی مصلحت کے پیش منظر تسلیم کرلینے کا مطالبہ کیا گیا ۔ اور آخری تجویز میں حاجی متولی محمد جلیل صاحب کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

20؍دسمبر1946ء کوایک سرکلر نمبر ۷ جاری کیا گیا، جس میں مقامی، ضلعی اور صوبائی یونٹوں کے انتخابات کی تمام کارروائیاں جلد از جلد مکمل کرانے اور آئندہ سال (1947ء )میں ہونے والے اجلاس عام میں شرکت کے لیے مرکزی مجلس منتظمہ کے اراکین کے نام بھیجنے کی گذارش کی گئی۔  

25؍دسمبر1946ء کو سرحد جمعیت علمائے ہند کی امداد کے لیے حضرت شیخ الاسلام ؒ نے ایک اپیل جاری کی۔