2 Feb 2026

جمعیت علمائے ہد: قدم بہ قدم: پینتیسواں سال:1953ء

 پینتیسواں سال:1953ء

محمد یاسین جہازی

21؍ جنوری 1953ء کو حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب ؒ ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے کہا کہ فرقہ پرستی سے ملک تباہ ہوجائے گا۔ 

28؍ فروری و یکم مارچ 1953ء کو ممبئی میں منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں حضرت مفتی اعظم مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ کی وفات پر تجویز تعزیت کے علاوہ مذہبی بنیادی تعلیم کے لیے مشترک کنونشن کی ضرورت،معلم حجاج کا مسودہ، مولائے اسلام کی شدھی کی روک تھام،قربانی میں کوٹے کی مخالفت،سیدہ پور فساد پر وزیر اعظم ممبئی سے بات چیت،دستور اساسی میں ترمیم کے لیے کمیٹی کی تشکیل، حیدرآباد کے مسلمانوں کی باز آبادکاری اور لائق علی کابینہ کی عام رہائی کا مطالبہ جیسے امور پر بحث و گفتگو کرکے اہم فیصلے لیے گئے۔

13؍ مارچ 1953ء کو حضرت ناظم عمومی صاحبؒ نے پارلیمنٹ میں ’’مسلم وقف بل‘‘ کی زوردار حمایت کی۔ 

30؍ مارچ 1953ء کو مقامی، ضلعی، اور ریاستی انتخابات کی ہدایات پر مشتمل ایک اہم سرکلر جاری کیا گیا۔

15؍اپریل1953ء کو بھوپال فرقہ وارانہ فسادات پر وزیر اعظم ہند کو مکتوب ارسال کیا گیا۔

3؍ مئی 1953ء کو اس مقدمہ میں جیت ملی، جس میں الجمعیۃ کے پانچ مضامین کو اشتعال انگیز قرار دے کر اسٹیٹ گورنمنٹ نے مقدمہ کردیا تھا۔

نئے ٹیکس لگائے جانے کے خلاف11؍ مئی 1953ء کو گوشت ہڑتال ختم کرانے میں جمعیت کو کامیابی ملی ۔

25؍ مئی 1953ء کواکابرین جمعیت نے تعاون و امداد کی اپیل کی۔

29؍ مئی 1953ء کو ایک سال کے لیے حاجیوں کو انکم ٹیکس سرٹیفکٹ سے مستثنیٰ قرار دینے میں جمعیت کامیاب رہی۔

27؍ جون 1953ء کو کرنل اقبال محمد خاں صاحبؒ نے جمعیت اور دیگر اداروں کو زمینیں وقف کیں۔

7؍جولائی1953ء کو بدایوں فرقہ وارانہ فسادات پر وزیر اعلیٰ یوپی کو مکتوب لکھا گیا۔

8؍جولائی1953ء کو مسلم ملازمین کو کام کے اوقات میں نماز پڑھنے سے منع کرنے کے خلاف وزیر ٹرانسپورٹ کو خط لکھا گیا۔

10؍جولائی1953ء کو شائع ایک خبر میں جمعیت علمائے ہند کی امداد کے نئے نئے طریقوں کا تذکرہ کیا گیا۔

15؍ جولائی 1953ء کو بنگلور کے اردو اخبارات کے ایڈیٹروں کے سامنے حضرت ناظم عمومی صاحبؒ نے اعلان کیا کہ جمعیت علما کانگریس کا دم چھلا نہیں ہے۔

12؍اگست 1953ء کو چوموں فرقہ وارانہ تنازع پر وزیر اعلیٰ کو مکتوب لکھا گیا۔

22؍اگست1953ء کو جنرل سکریٹری عرب لیگ قاہرہ کو مکتوب لکھ کر مراکش اور تیونس میں فرانس کے ظلم و ستم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔

7؍ستمبر1953ء کو ایک اپیل میں فرنچ گورنمنٹ کی طرف سے جاری وحشت و بربریت کے خلاف 15؍ ستمبر1953ء کو یوم مراکش و تیونس منانے کی اپیل کی گئی۔

12،13؍ ستمبر1953ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میںارتداد کی روک تھام کے لیے مذہبی تعلیم کو عام کرنے کی اپیل،صوبہ گجرات کو دفتر منتقل کرنے کی اجازت،دستور اساسی کی ترمیمات کو منظوری،تہواروں کے موقعوں پر فسادات کا انسداد، فرانس کے مظالم کی مذمت،ریاستی جمعیتوں کی پس ماندگی پر اظہار افسوس اور چند دفتری امور زیر بحث آئے۔

6؍ اکتوبر 1953ء کو مرکزی وزیر داخلہ سے پولیس ایکشن میں تباہ شدہ حیدرآبادی مسلمانوں کی باز آبادی کا مطالبہ کیا گیا۔ 

10؍ اکتوبر1953ء کو جام نگر میں اقلیتوں پر ہوئے مظالم کے انسداد کا مطالبہ کیا۔

17؍ اکتوبر 1953ء کو اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل نے مراکش کے مسئلے میں توجہ دینے کی جمعیت کو یقین دہانی کرائی۔ 

19؍ نومبر1953ء کو مشرقی پنجاب کے مسلمانوں کو بسانے کے لیے رہ نما ہدایات جاری کی گئیں۔

22؍ نومبر1953ء کو حضرت العلامہ سید محمد سلیمان ندویؒ کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا گیا۔

29؍ نومبر1953ء کو ناگپور میں ناظم عمومی صاحبؒ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ گاؤ ذبیحہ کی پابندی پر جمعیت کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ کشمیر ہندستان کا حصہ ہے اور ہمیں ہندی کی ترویج و ترقی میں دل چسپی لینی چاہیے۔ 

18؍ دسمبر1953ء کو گجرات دورہ کے موقع پر حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہند نے پریس کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں یوروپین کے بجائے ایشائی اقوام کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہیے ۔ اور موجودہ حالات میں مسلمانوں کو کانگریس چھوڑنے کا مشورہ نہیں دے سکتا۔

29؍ دسمبر1953ء کو حضرت ناظم عمومی صاحب نیروبی مشرقہ افریقہ میں منعقد اسلامی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے مسلمانوں کو مذہبی، تعلیمی اور سماجی امور کے متعلق ادارہ کی ضرورت کا احساس دلایا۔

31؍دسمبر1953ء کوکسٹوڈین کے معاملات پر متعلقہ وزیر کو مکتوب لکھا گیا۔