چونتیسواں سال: 1952ء
محمد یاسین جہازی
2؍جنوری 1952ء کو ناظم عمومی حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحب نے فرمایا کہ فرقہ پرستی کا زہر ہمارے وجود کے لیے خطرہ ہے۔
11؍جنوری1952ء کو شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے قومی اخبار’’راج‘‘ کے جھوٹ- کہ حضرت شیخ الاسلام نے کانگریس سے بیزار کا اعلان کیاہے- کی پرزور تردیدکی۔
14؍جنوری1952ء کو نائب صدر جمعیت علمائے ہند مولانا احمد سعید صاحب نے موروی میں حج کے نام سے اجتماع کرنے پر پابندی لگانے پر وزیراعظم کراچی کو مبارک باد پیش کی۔
12؍فروری1952ء کو الیکشن پر جیت حاصل کرنے پر ناظم عمومی صاحب کو مبارک بادی پیش کی گئی۔
23؍فروری1952ء کوالیکشن میں مسلمانوں کے لیے آبادی کے تناسب سے سیٹیں نہ دینے پر مکتوب لکھ کر کانگریس کو متوجہ کیا گیا۔
19؍مارچ1952ء کو ایک بیان کے ذریعہ ہولی کے موقع پر ہوئے متعدد مقامات پر فسادات کو ایک عنصر کی شرارت کا نتیجہ قرار دیا گیا۔
ممبئی اور کلکتہ کے رسائل میں توہین رسالت ﷺ اور اسلام مخالف مضامین پر 4؍ اپریل 1952ء کو جمعیت علمائے ہند نے سخت احتجاج کیا، جس کی وجہ سے مجرمین کے خلاف قانونی کارروائی کی گئی۔
15،16؍ اپریل 1952ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میںتوہین رسالت پر مبنی فلموں پر اظہار نفرت، ماتحت جمعیتوں میں جمود و تعطل پر استصواب، روزنامہ الجمعیۃ، اتبدائی تعلیم، عثمانیہ یونی ورسٹی حیدرآباد کو اردو یونی ورسٹی بنانے، جمعیت کا سیاست سے تعلق، انگریزی اخبار ’’دی میسج ویکلی‘‘،خان عبدالغفار خاں کی رہائی، مولوی عبد الوحید صاحب کا جمعیت سے اخراج،ہولی فسادات پر جمعیت کی خدمات کی تحسین جیسے مسائل و امور پر بحث و گفتگو کی گئی۔
21؍اپریل1952ء کو ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ناظم عمومی صاحب نے اردو زبان کو ہندو مسلم ارتباط کا سب سے بڑا ذریعہ قرار دیا۔
30؍اپریل1952ء کو مالے گاؤں کی طرف سے انگریزی اخبار کے لیے قابل ذکر تعاون پیش کیا گیا۔
یکم مئی 1952ء کو آل انڈیا اردو میں ناقابل فہم زبان استعمال کرنے پر وزیر اطلاعات و نشریات کو مکتوب لکھا گیا۔
24؍جون1952ء کو صدر جمعیت علمائے ہند نے عید کی مبارک باد پیش کی۔
26؍جون1952ء کو منعقد دعوت عید کے پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے صدر جمہوریۂ ہند ڈاکٹر راجندر پرشاد نے کہا کہ جمعیت علما کی خدمات سنہری حروف سے لکھی جائیںگی۔
9؍ جولائی 1952ء کو دہلی کو مسلم اور غیر مسلم زون میں تقسیم کو جمعیت کی جانب منسوب کرنے کو افواہ قرار دیا، اسی طرح انجمن اردو ترقی کی تحریک پر اردو ہفتہ منانے کی اپیل کی۔
10؍ جولائی 1952ء کو مولانا محمد اسماعیل صاحب کو شعبۂ ٔ تنظیم جمعیت کا سکریٹری منتخب کیا گیا۔
25؍جولائی1952ء کومنعقدعصرانہ تقریب میںاہل تیونس کے مطالبات کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا گیا۔
9؍اگست 1952ء کو امرت پتریکا اخبارمیں سرور کائنات ﷺ کی شان میں دریدہ دہنی کے خلاف جگہ جگہ احتجاج کی ہدایت کی گئی۔
11؍اگست1952ء کو مالے گاؤں میںقربانی کے جانوروں میں کوٹہ مقرر کرنے کی بات کی مخالفت کی گئی۔
15؍ اگست 1952ء کو یوپی کے ہر مقام پر امرت پتریکا کے خلاف احتجاجی جلسے منعقد کیے گئے۔
14؍ستمبر1952ء کو تنظیمی استحکام کے لیے ایک اہم سرکلر جاری کیا گیا۔
19؍ ستمبر1952ء کو مسلم ریلوے ملازمین کی دوبارہ بحالی کے جمعیت کے مطالبہ کو حکومت ہند نے منظور کرنے کا اعلان کیا۔
28؍ستمبر1952ء کو پنڈت جواہر لال نہرو اور وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد سے درخواست کی گئی کہ پولیس ایکشن کے بعد حیدرآباد کے گرفتار تمام مسلمانوں کو رہا کردیا جائے۔
11،12؍ اکتوبر1952ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، جس میںمولوی محمد احمد کاظمی صاحب کے مسلم وقف بل اور مسلم قاضی پر شرعی نقطۂ نظر سے جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی اور چوں کہ یہ دونوں بل عین شریعت کے مطابق تھے، اس لیے عوام الناس سے انھیں منظور کرنے اور حکومت ہند سے اپنی تجاویز سے واقف کرانے کی تحریک چلائی۔اسی میٹنگ میں یہ بھی فیصلہ کیا کہ اسپیشل میرج بل سے مسلمانوں کو مستثنیٰ کیا جائے۔مشرقی پنجاب میں مسلمانوں کی آباد کاری ، جمعیت علمائے حیدرآباد کو قرض حسن اور گوشوارۂ آمدو صرف کے مسائل پر بھی میٹنگ میں بحث و گفتگو ہوئی۔
27؍اکتوبر1952ء کو تمام لوگوں سے کاظمی وقف بل پر رائے ظاہر کرنے کی اپیل کی گئی۔ اور اس پر ہورہے شبہات کا مفصل جواب دیاگیا۔
31؍اکتوبر1952ء کو اپیل کی گئی کہ 14؍نومبر1952ء کو وقف بل کی حمایت میں جلسے جلوس منعقد کریں۔
یکم نومبر1952ء کو صدر جمعیت نے بھی وقف بل پر رائے ظاہر کرنے کی اپیل کی۔
13؍نومبر1952ء کو شیخ الاسلام نے ایک بیان میں کہا کہ سرکاری اسکولوں میں مذہبی تعلیم کے انتظام کے لیے حکومت سے گفت و شنید ہورہی ہے۔
3؍دسمبر1952ء کو مذہبی و روحانی پیشواؤں کی توہین آمیز رویے پر وزیر اعظم ہند کو مکتوب لکھا گیا۔
29؍دسمبر1952ء کوہندستان ٹائمز کو مکتوب لکھ کر ناظم عمومی کی طرف منسوب غلط باتوں کی تردید کی گئی۔
31؍ دسمبر1952ء کو رات دس بج کر پچیس منٹ پر مفتی اعظم ہند حضرت مولانا محمدکفایت اللہ صاحب نور اللہ مرقدہ کا انتقال ہوگیا ۔یکم جنوری 1953ء کوپرید گراؤنڈ میں نماز جنازہ ادا کی گئی اور مہرولی میں تدفین عمل میں آئی ۔