بتیسواں سال: 1950ء
محمد یاسین جہازی
5؍جنوری1950ء کو سعودیہ عربیہ کے اقتصادی مشن کوایٹ ہوم دیاگیا ۔
11؍جنوری1950ء کو حضرت مجاہد ملتؒ نے جدید ممبرسازی کی اپیل کی۔
12؍جنوری1950ء کو ترک وطن کے تناظرمیں عارضی اورمستقل پرمٹ والے حضرات کی پریشانیوں کے ازالے کے لیے جدوجہد کی گئی۔
13؍جنوری1950ء کو مسلمانوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہندستانی مسلمان اپنے آپ کو ہندستانی سمجھیں۔
15؍جنوری1950ء کو مصر کی وفد پارٹی کی جیت پر اس کے سربراہ نحاس پاشا کو مبارک باد دی گئی ۔
27؍جنوری1950ء کو صدر جمعیت علمائے ہند کی طرف سے صدر جمہوریۂ ہندکو اور ہندستان کی جمہوریہ کے افتتاح پر مبارک بادی پیش کی گئی۔
4؍فروری1950ء کو صدر جمہوریۂ ہند ڈاکٹر راجندر پرشاد نے حضرت سحبان الہند کو جوابی مکتوب لکھا۔
11؍فروری1950ء کو ملک سے طوائف کے خاتمہ کی اپیل کی گئی۔
11؍فروری1950ء کو سردار نجیب اللہ خان افغانستان کو عصرانہ دیا گیا۔
11؍فروری1950ء کو وزیر داخلہ حکومت مدھیہ پردیش کو ایک مکتوب لکھ کر 30-31؍ جنوری 1950ء کو ہوئے فرقہ وارانہ فسادات پر قانونی ایکشن لینے کا مطالبہ کیا۔
13،14؍فروری1950ء کو منعقد مجلس عاملہ میںمذہبی تعلیم اور میعاد ممبرسازی پرغورو خوض کیا گیا۔
5؍مارچ1950ء کو حضرت مجاہد ملت نے کلکتہ فساد زدہ علاقوں کادورہ کیا۔
6؍مارچ 1950ء کو حکومت سعودیہ کی طرف سے ناظم عمومی صاحب کو خلعت پیش کی گئی۔
7؍مارچ1950ء کو مشرقی راجستھان کے مسلمان باشندوں سے ایک خصوصی اپیل کی گئی۔
12؍مارچ1950ء کو فسادات کی وجہ سے بنگال میں تبادلۂ آبادی کی مخالفت کی گئی۔
25؍مارچ1950ء کو حضرت شیخ الاسلام کو تمدنی تعلیمات کی انڈین کونسل میں رکن نام زد کیا گیا۔
31؍مارچ1950ء کو مسلمانان ہند کے نام ایک پیغام میں تلقین کی گئی کہ موجودہ حالات سے گھبراکر مسلمان اپنے وطن ہندستان کو نہ چھوڑیں۔
یکم اپریل1950ء کی خبر کے مطابق جمعیت علم کے ایک وفد نے علی گڑھ فساد زدہ علاقوں کا دورہ کیا۔
3؍اپریل1950ء کو حضرت مجاہد ملتؒ نے انڈوپاکستان کے وزرائے اعظم کے درمیان ہونے والی گفت وشنید کے تناظر میں دونوں ممالک کو ایک رہنما مکتوب لکھا۔
7؍اپریل1950ء کو فساد زدہ گوالیار کا دورہ کیا گیا اور امن وامان قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔
12؍اپریل1950ء کو نہرو لیاقت معاہدہ کو عملی جامہ پہنانے کامطالبہ کیا گیا۔
16؍اپریل1950ء کو صوبائی صدورو نظمائے اعلیٰ کی خدمت میں ایک سرکلر جاری کرکے تنظیمی امور کوانجام دینے کی گذارش کی گئی۔
19؍اپریل1950ء کو دہلی میں واقع ایک مزار اور قبرستان کے انہدام سے متعلق وزیر اعظم مسٹر جواہر لال نہرو کو مکتوب لکھا گیا۔
25؍اپریل1950ء کو ٹونک کا دورہ کرکے حالات کو پرامن بنانے کی جدوجہد کی گئی۔
25؍اپریل1950ء کو جمعیت کے ایک وفد نے جے پور کا دورہ کیا ۔
24؍مئی1950ء کو آسام فساد زدہ علاقوں کا دورہ کرکے امن و امان قائم کرنے کی کوشش کی گئی۔
27؍مئی1950ء کو الور، بھرت پوروغیرہ متأثرہ علاقوں کا دورہ کیا گیا۔
29؍مئی1950ء کو نہرو لیاقت پیکٹ پر نائب صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا احمدسعید صاحب نے ہندو پاک کے مسائل کو حل کرنے والا شان دار فارمولہ قرار دیا۔
6؍جون1950ء کو جبل پور کے کسٹوڈین کی ظالمانہ کارروائیوں کے متعلق ایک چشم کشا مکتوب لکھ کر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
19؍جون1950ء کو مدھیہ بھارت میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کا جائزہ لے کر ایک مکتوب لکھ کر وزیر اعلیٰ سے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
25؍جون1950ء کو دھوراجی فساد پر فوری ایکشن لینے کی درخواست کی گئی۔
27؍جون1950ء کو قربانی کے سلسلے میں حکام کے جانب دارانہ رویے پرحکومت یوپی کومکتوب لکھ کومتوجہ کیا گیا۔
8؍جون1950ء کو ایک مکتوب لکھ کر وزیر اعظم ہند پنڈت نہرو کی توجہ اس طرف دلائی گئی کہ مسلم ملازمین کے لیے نماز جمعہ کی ادائیگی کے لیے آدھے گھنٹے کی رخصت دی جائے۔
10؍جولائی1950ء کو وزیر اعظم سے ملاقات کرکے ملک گیر فسادات پرتبادلۂ خیال کیا گیا اور اس کے سد باب کامطالبہ کیا گیا۔
16؍جولائی کو عید الفطر کی تہنیت پیش کی گئی۔
29؍جولائی1950ء کو اجمیر کا دورہ کرکے حالات کا جائزہ لیا گیا۔
5؍اگست1950ء کو مولانا آزاد کو ایک مکتوب لکھ کر صوبہ وسطی کے فسادات پر توجہ دلائی گئی۔
9؍اگست1950ء کو گوالیار کے حالات کی اصلاح کی کوشش کی گئی۔
10؍اگست1950ء کو منعقد دینی تعلیمی کمیٹی کی میٹنگ میں ابتدائی درجات کے لیے دینی نصاب مرتب کرنے والی کمیٹی نے دینی تعلیم کے رسالے کو منظوری دی۔
12،13؍اگست1950ء کو منعقد مجلس عاملہ کی میٹنگ میںانتخابی تنظیم، حالات حاضرہ، مظلومین کی امداد،اصلاحی و تعمیری خدمات کا دائرہ وسیع کرنے کافیصلہ اور لٹریچر شائع کرنے کے لیے باقاعدہ ایک شعبہ کے قیام کی منظوری کے علاوہ ریڈیو اور ٹیلفون کے ذریعہ رویت ہلال اور نماز میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پربھی غورو خوض کیا گیا۔
30؍اگست1950ء کو جمعیت کے مطالبے پر دہلی میں انفساخ نکاح کے لیے مسلم جج کی اسپیشل عدالت قائم کی گئی۔
31؍اگست1950ء کو سوراشٹرکادورہ کیا گیا۔
18؍ستمبر1950ء کو قربانی کے مسئلے پر یوپی حکام کی روش پرافسوس کا اظہار کیا گیا۔
21؍ستمبر1950ء کونائب صدر جمعیت نے انڈوپاک گڈول کنونشن کو وقت کی اہم ضرورت بتائی۔
26؍ستمبر1950ء کو جمعیت علمائے ہند کی تعلیمی کمیٹی کا مرتب کردہ نصاب پیش کیا گیا۔
2؍اکتوبر1950ء کو مسلم ریلوے ملازمین کی پریشانیوں کے حوالے سے ریلوے منتری سے خط وکتابت کی گئی۔
12؍اکتوبر1950ء کو قصبہ چلمل (بھاگلپور) میں ہوئے فسادات کی مکمل رپورٹ وزیر اعظم مسٹر پنڈت نہرو کے سامنے پیش کی گئی۔
15؍اکتوبر1950ء کو یوپی کے وزیر اعلیٰ کو مکتوب لکھ کر مظفر نگر میں ہوئے فرقہ وارانہ فساد کی طرف توجہ دلائی گئی۔
یکم نومبر1950ء کو ناظم عمومی نے کارکنان جمعیت کو نصیحت کرتے ہوئے گروہ بندی سے باز رہنے کی تلقین فرمائی۔
18؍نومبر1950ء کو الجمعیۃ کا انگریز ایڈیشن ’’دی میسج‘‘ نکالنے کی جدوجہد کو کامیابی کا اشاریہ قرار دیا گیا۔
30؍نومبر1950ء کو ایک مکتوب لکھ کر وزیر اعلیٰ ممبئی سے کسٹوڈین کے اہل کاروں کی ظالمانہ سرگرمیوں کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیا۔
18،19؍دسمبر1950ء کو منعقد مجلس عاملہ کی میٹنگ میںسردار پٹیل کے انتقال کو عظیم سانحہ قرار دینے کے علاوہ مذہبی تعلیم پر خصوصی غوروفکر کیا گیا۔چنانچہ ابتدائی مذہبی تعلیم کے لیے مشترک بورڈ قائم کرنے، ابتدائی مذہبی تعلیم کی ذمہ داری جمعیت کو لینے،مرتدین کی واپسی، مکاتب کی امداد،حج فلم پر بندش، جمعیت کابینک اکاؤنٹ، حسابات پراظہار اطمینان،انگریزی اخبار کے لیے کی گئی کوششوں کی ستائش اور گوالیار میںمساجد پر غیر مسلموں کے قبضہ کو ختم کرانے جیسے معاملات پراہم فیصلے لیے گئے۔
19؍دسمبر1950ء کو وزیر بحالی حکومت ہند دہلی کو ایک مکتوب لکھ کر کسٹوڈین اہل کاروں کے متعصبانہ رویوں کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔