انتیسواں سال: 1947ء
محمد یاسین جہازی
3؍مارچ 1947ء کو شائع ایک خبر کے مطابق شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب ؒ کوجمعیت علمائے ہند کا دوبارہ صدر منتخب کیا گیا۔
وزیر اعظم برطانیہ مسٹرایٹلی نے 20؍ فروری 1947ء کو اعلان کیا کہ جون 1948ء تک ہندستان کو آزاد کردیا جائے گا۔ اس اعلان سے پیدا شدہ نازک صورت حال پر غورو خوض کرنے کے لیے 13تا 15؍ مارچ 1947ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس کیا گیا، جس کی پہلی تجویز میں مسٹر ایٹلی کے اعلان آزادی کا خیر مقدم کرتے ہوئے ، اسے جمعیت علمائے ہند کی طویل جدوجہد کا نتیجہ قرار دیا۔ دوسری تجویز میں فرقہ وارانہ خطوط پر ملک کی تقسیم کو ملک کے لیے بالعموم اور مسلمانوں کے لیے بالخصوص تباہ کن قرار دیا اور پنجاب کی تقسیم کے لیے کانگریس کی رضامندی پر حیرت کا اظہار کیا گیا۔ تیسری تجویز میںآزاد ہندستان میں مسلمانوں کے مذہبی اور قومی تحفظات کے لیے تمام مسلم جماعتوں کا ایک مشترکہ اجتماع بلانے پر زور دیاگیا۔ اور صدر مسلم لیگ کو دعوت عمل دیتے ہوئے متعدد خطوط لکھے، لیکن مسلم لیگ نے اسے منظور نہیںکیا ۔ چوتھی تجویز میں پنجاب میں فرقہ وارانہ فسادات پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔پانچویں تجویز میں فسادات بہار کے متأثرین کے ساتھ حکومت بہار سے مکمل انصاف کرنے کا مطالبہ کیا۔
30؍مارچ1947ء کو جمعیت علما نے سکھوں کے کھلے عام تلوار لے کر گھومنے پر پابندی لگانے کا مطالبہ کیا۔
31؍مارچ1947ء کو ایشیائی کانفرنس کے موقع پر اسلامی ممالک کے مسلم نمائندگان کے کے لیے خیرمقدمی اجلاس منعقد کیا گیا۔اور انھیں عصرانہ دیا گیا۔
9؍اپریل1947ء کو وزیرستان سے موصول ایک خط میں اپنا سیاسی موقف واضح کرتے ہوئے مسلم لیگ کے پاکستان کی حمایت سے انکار کیا گیا۔
15؍اپریل1947ء کو مہاراجہ پٹیالہ کے نام تار بھیج کر مسلم اقلیت کے تحفظ کی بات کہی گئی۔
16؍اپریل1947ء کو مہاراجہ فریدکوٹ کو تار بھیج کر مسلمانوں کی جان ، عزت اور مال کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا۔
کیبنٹ مشن بھارت میں عارضی قومی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوگیا، تو مسٹر ایٹلی وزیر اعظم برطانیہ نے اپنے 20؍ فروری کے اعلان کے مطابق جلد از جلد مکمل اختیارات ہندستانیوں کو منتقل کرنے کے لیے24؍ مارچ 1947ء کو وائسرائے ویول کی جگہ ماونٹ بیٹن کو ہندستان کا بیسواں اور آخری وائسرائے بناکر بھیجا ۔بیٹن نے ہندستان آتے ہی بھارتی لیڈروں کے نظریات اور رائے عامہ معلوم کرنے کے لیے میٹنگوں اور گفت و شنید کا سلسلہ شروع کردیا۔ انھوں نے بالعموم کیبنٹ مشن کو منظور کرلینے کا مشورہ دیااور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر یہ قابل قبول نہیں ہوگا، تو اس کی متبادل صورت بھی موجود ہے؛لیکن مسلم لیگ کا پاکستان کے لیے اصرار کے پیش نظر کیبنٹ مشن پلان منظور نہیں ہوا۔اور متبادل کے طور پر ماؤنٹ بیٹن نے تقسیم ہند کا پلان پیش کردیا۔ان حالات کے پیش نظر از 9؍تا 11؍ مئی 1947ء کو لکھنو میں جمعیت علمائے ہند نے مجلس عاملہ اور مجلس مرکزیہ (جنرل کونسل) کا اجلاس کیا، جس کی پہلی تجویز میں مسٹر ایٹلی کے اعلان کا خیر مقدم کیا، لیکن فرقہ وارانہ خطوط پرملک کی تقسیم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کیبنٹ مشن پلان کو ہی قبول کرنے کا مشورہ دیا۔ دوسری تجویز میں پورے ہندستان میں ہورہے فرقہ وارانہ فسادات کو پوری دنیا میں ہندستان کو شرمندہ کرنے والا عمل قرار دیتے ہوئے اس سے مکمل بیزاری کا اعلان کیا۔تیسری تجویز میں ہندستانیوں کو تحفظ وطن اور انسداد فسادات کے لیے اسلحہ رکھنے کی عام اجازت دینے کا مطالبہ کیا۔ چوتھی تجویز میں مسلمانوں کی مذہبی، تعلیمی، اخلاقی اور معاشرتی اصلاح پر زور دیا گیا۔ پانچویں تجویز میں بہار فسادات متأثرین سے متعلق حکومت بہار کی مجرمانہ غفلت کی تلافی کرنے کا مطالبہ دوہرایا۔ چھٹی تجویز میں حکومت یوپی سے گڈھ مکتیشر فساد مظلومین کی امداد کرنے کی اپیل کی۔ ساتویں تجویز میں دستور ساز اسمبلی میں مسلمانوں کی صحیح نمائندگی دینے کا مطالبہ کیا۔ آٹھویں تجویز میں مدح صحابہ سے متعلق حکومت یوپی کے رویہ پر تشویش کا اظہار کیا۔ نویں تجویز میں سندھ کے حروں پر مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔ اور آخری تجویز میں امیر شریعت ثانی بہار حضرت مولانا شاہ محی الدین قادری نور اللہ مرقدہ کے علاوہ دیگر سماجی شخصیات کی وفات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہمدری کے جذبات پیش کیے۔
23؍مئی 1947ء کو ایک مکتوب لکھ کر بہار میں مسلم اقلیتوں کی صحیح نمائندگی کا مطالبہ کیا گیا۔
23؍مئی 1947ء کو مہاراجہ چترال کو تار بھیج کر اسلامی شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے کی اپیل کی گئی۔ اوربلاقصور گرفتار کیے گئے کارکنان جمعیت کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
30؍مئی1947ء کو گڑگاوں فسادات کے تعلق سے متعلقہ حکام کو تار بھیج کر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
یکم جون1947ء کو آل انڈیا ریڈیو کی اردو کش پالیسیوں پر کڑی تنقید کی گئی ۔
9؍جون1947ء کی ایک رپورٹ کے مطابق کارکنان جمعیت علما کے گڑگاں متأثرین کے درمیان قابل قدر خدمات پیش کیں۔
10؍جون1947ء کو شائع ایک خبر کے مطابق مصیبت زدگان گڑگاوں کی امداد کی گئی۔
15؍جون1947ء کو جاری ایک اپیل میں 17؍جون کو یوم فلسطین منانے کی اپیل کی گئی۔
15؍جون1947ء کی ایک خبر کے مطابق کارکنان جمعیت علما تسلسل کے ساتھ فساد متأثرین کے درمیان ریلیف ورک میں مصروف ہیں۔
15؍ جون 1947ء کو فرقہ وارانہ بد ترین صورت حال کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے ریاست بھرتپور اور جے پور کے نام تار بھیجا۔
18؍جون1947ء شیر گڑھ میں ممکنہ فساد کے پیش نظر فورس تعیینات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔اور اب تک امن وامان قائم رکھنے پر انھیں مبارک باد پیش کی گئی۔
19؍جون1947ء کو گڑگاوں فسادات میں جمعیت علما کی خدمات کی ایک زمینی رپورٹ پیش کی گئی۔
20؍جون1947ء کو گڑگاوں میں امدادی کام جاری رکھنے کے لیے فوجی امداد کا مطالبہ کیا گیا۔
23؍جون1947ء کو منعقد مرکزی تعمیری کمیٹی میں، جمعیت علما کی شاخیں اور مکاتب قائم کرنے کا فیصلہ، تعمیری پروگرام کے عملی خاکے، جمعیت علمائے صوبہ متحدہ کی مجلس عاملہ کے اجلاس کی ضرورت، اور ٹریننگ کیمپ کے قیام جیسی تجاویز منظور کی گئیں۔
24؍جون1947ء کو مولانا حفظ الرحمان صاحب نے وزیر اعظم صوبہ سندھ کو ایک کانفرنس کی معلومات حاصل کرنے کے لیے تار بھیجا۔
جب مسلم لیگ نے کیبنٹ مشن کے پلان کو منظور نہیں کیا، تو ماونٹ بیٹن نے ہندستان کی تقسیم کا فارمولہ پیش کیا اور 2؍ جون 1947ء کو سبھی ہندستانی لیڈروں کو بلاکر اسے منظور کرالیا۔ پھر اسے مسلم لیگ نے 9-10؍ جون 1947ء کو ،اور14-15؍ جون 1947ء کو کانگریس نے اپنے اپنے اجلاس میں باقاعدہ منظوری دے دی۔ کانگریس کے اجلاس میں صرف مسٹر پروشتم داس ٹنڈن اور جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نور اللہ مرقدہ نے ہی اس تجویز کی مخالفت کی ۔ بعد ازاں 24؍ جون 1947ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس کیا گیا،جس میں تقسیم ہند کو مسلمانوں کے لیے سخت نقصان قرار دیتے ہوئے نہ صرف اس سے بیزاری کا اعلان کیا؛ بلکہ اس کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کی بھی دھمکی دی۔ ان تمام کوششوں کے باوجود ہندستان کی تقسیم نہیں رک سکی اور 14؍ اگست 1947ء کو پاکستان ڈومینین کا اور 15؍ اگست 1947ء کو ہندستان کی مکمل آزادی کااعلان کردیا گیا۔چوں کہ ہندستان کی آزادی میں جمعیت نے انقلاب آمیز قائدانہ کردار ادا کیا تھا، اس لیے ناظم عمومی جمعیت علمائے ہندنے سبھی لوگوں سے دھام دھام سے جشن آزادی منانے کی اپیل کی۔
24؍ جون 1947ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں دیگر تجاویز پاس کرتے ہوئے صوبہ بلوچستان کوپاکستان، ہندستان، یا آزاد ریاست رہنے کے سلسلے میں ان کے باشندگان کی صواب دید پر چھوڑنے ، صوبہ سرحد میں ریفرنڈم کرانے کی مخالفت، بصورت مجبوری رائے دہندگان کو ہندستان اور پاکستان کے حق میں رائے دینے کے بجائے آزاد انہ رائے دینے کا مطالبہ، ضلع سلہٹ کو ریاست آسام میں شامل رکھنے اور پانچ کروڑ مسلمانوں کے قومی و ملکی حقوق کے تحفظ کے لیے ایک عام کانفرنس بلانے پر زور دیا گیا۔ چنانچہ 28-27؍ دسمبر 1947ء کو لکھنو میں امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ کی صدارت میں ’’لکھنومسلم کانفرنس ‘‘ ہوئی، جس میں سبھی مسلم جماعتوں نے متفقہ طور پر فرقہ وارانہ پارلیمانی سیاست سے علاحدگی کا اعلان کیا۔
ہندستان کے اعلان آزادی کے ساتھ ہی پورے ملک میں فرقہ وارانہ فسادات ہونے لگے، جس میں جمعیت علمائے ہند کے خدام نے جان کی بازی لگاکر متأثرین و مظلومین کی راحت رسانی اور باز آباد کاری کے کام کیے؛ بالخصوص دہلی، گوڑگاوںکوٹ قاسم وغیرہ میں جنگی پیمانے پر خدمات انجام دیں۔
3؍جولائی 1947ء کو کوٹ قاسم کے حالات کے متعلق جمعیت علما کے وفد نے اپنی رپورٹ پیش کی۔
23؍جولائی 1947ء کو خط لکھ کر حجاج کے مسائل کو حل کرانے کی کوشش کی۔
26؍جولائی1947ء کو جشن آزادی میں ہر ایک مسلمان کو حصہ لینے کی اپیل کی گئی۔
27؍جولائی1947ء کو فتح پوری مسجد کی بے حرمتی پر دہلی حکومت سے جواب طلب کیا گیا۔
6؍اگست 1947ء کو صدر جمعیت علمانے ایک بیان دے کر کہا کہ انڈونیشیا کی آزادی پر کوئی حرف نہیں آنا چاہیے۔
10؍اگست1947ء کو شائع ایک مضمون کے مطابق سلہٹ میں لیگیوں نے غنڈہ گردی کرتے ہوئے جمعیت علما کے دفتر پر قبضہ کرلیا۔
ہندستان میںہندوؤں کے رحم و کرم پر رہ جانے والے ساڑھے پانچ کروڑ مسلمانوں کے سیاسی، اقتصادی، تعلیمی اور اخلاقی جائزہ لینے کے لیے 13؍ اگست 1947ء کو ، 24؍ سوالات پر مشتمل ایک سروے فارم جاری کیا۔
20؍اگست1947ء کو مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی اور مفتی محمد نعیم لدھیانوی کی تحریر کردہ مکتوب سے پنجاب میں ہندوؤں اور سکھوں کے وحشیانہ مظالم کا علم ہوا۔
28؍اگست1947ء کو پناہ گزیں میواتیوں کے لیے رہائش کے انتظام کا مطالبہ کیاگیا۔ اور بہادر میواتیوں سے امن وشانتی کی اپیل کی گئی۔
اسی تاریخ کو شائع ایک رپورٹ کے مطابق،پلول گڑگاوں میں جمعیت علما کی طرف سے قائم سینٹرل ریلیف کمیٹی نے کارہائے نمایاں انجام دیے۔
28؍اگست1947ء کو ایک بیان کے ذریعہ، باؤنڈری کمیشن کے فیصلے کے بعدمشرقی اور مغربی پنجاب میں انتقال آبادی سے پیدا شدہ نازک صورت حال میں دکانوں اور مکانوں پر ناجائز قبضہ اور مسلمانوں پر وحشیانہ مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔
6؍ستمبر1947ء کو شائع ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ دہلی کے خطرناک علاقوں سے مسلمانوں کو باہر نکالنے کی کارکنان جمعیت علما نے انتھک کوششیں کیں۔
فرقہ وارانہ فسادات کی شدت سے ہجرت کے نام پر راہ فرار اختیار کرتے ہوئے پاکستان جانے والے لوگوں کوپیغام حیات پیش کرتے ہوئے 24؍اکتوبر1947ء کو امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد نے حوصلہ افزا خطاب فرمایا۔
19؍نومبر1947ء کو گڑھ مکتیشور میں فرقہ وارانہ فسادات کے اندیشے کے پیش نظر حفاظتی بندوبست کرنے کا مطالبہ کیا۔اور پچھلے فساد میں متأثرہ پانچ مساجداور ایک عیدگاہ کی مرمت کرائی گئی۔
23؍نومبر1947ء کو جمعیت علمائے صوبہ بنگال نے مدرسہ عالیہ کلکتہ کو جاری رکھنے کا عزم کیا۔
25؍نومبر1947ء کو ناظم عمومی مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے اسمبلی میں دہلی فساد میں شہید مسلمانوں کی تعداد کم بتائے جانے پر ایک بیان سے حقیقت کو اجاگر کیا۔
فسادات کے ناگفتہ بہ حالات پر کنٹرول کرنے کے لیے جمعیت علمائے ہند نے سنٹرل ریلیف کمیٹی قائم کی تھی،جس کے ذریعہ ناجائز اورفوج داری معاملات میں قانونی امداد فراہم کی گئی۔ اس کمیٹی نے حکومت ہند سے29؍نومبر1947ء کو دہلی فساد متأثرین کی بازآباد کاری کامطالبہ کیا۔ اور خود ناظم عمومی دہلی کے مختلف متأثرہ علاقوں کا دورہ کرکے حالات کا صحیح جائزہ لیتے رہے۔
23؍دسمبر1947ء کو جمعیت علما کے ایک وفد نے موضع کھڑی گاوں کا دورہ کیا، جہاں سے فسادیوں نے مسلمانوں کو نکال باہر کردیا تھا۔
24؍دسمبر1947ء کو سینٹرل ریلیف کمیٹی نے گاندھی جی سے ملاقات کرکے دہلی میں ہورہے ناجائز قبضوں کی اطلاع دی اور انتظامی امور کے متعلق مشورے کیے۔
25؍ دسمبر1947ء کو جمعیت علمائے ہند کا ترجمان اخبار روزنامہ الجمعیۃ کا دوبارہ اجرا عمل میں آیا۔
تقسیم ہند کے بعد پانچ کروڑ مسلمانوں کے تحفظ کے مسئلے کر لے کر27-28دسمبر 1947ء کو امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ کی صدارت میںمختلف ملی جماعتوں کی ایک مشترکہ’’لکھنو مسلم کانفرنس‘‘ لکھنو میں منعقد کی گئی، جس میں فرقہ وارانہ پارلیمانی سیاست سے دست برداری کا اعلان کرتے ہوئے، مسلمانوں سے کانگریس میں شامل ہونے کی اپیل اور اپنا دائرۂ عمل تعمیری ، تعلیمی اور تہذیبی دائرے تک محدود کرنے کا فیصلہ لیا۔اسی طرح ایک غیر فرقہ وارانہ کمیٹی قائم کرتے ہوئے ’’انجمن اتحاد و ترقی یونین اینڈ پروگریس کمیٹی‘‘ تشکیل دی گئی۔
جمعیت علمائے ہند نے مسلمانوں کی واحد سیاسی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والی آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر کو ایک مشترکہ میٹنگ کے ذریعہ ،آزاد ہندستان میں مسلمانوں کے مذہبی و قومی تحفظات کا لائحۂ عمل طے کرنے کی دعوت دی؛ لیکن صدر مسلم لیگ نے اس دعوت کو عملی جامہ پہنانے سے انکار کردیا۔
ان کے علاوہ،متفرقات کے عنوان کے تحت، حکومت دہلی کے رویے سے مسلمانوں کی پریشانیاں،مولانا محمد حنیف سہمی اور مولانا فقیہ الدین کی خدمات کی تحسین،مرکزی ریلیف کمیٹی کی سرگرمیاں، جگادھری (انبالہ) کے مسلمانوں کی حالت زار،بہار میں تعمیری خدمات، مسودات قانون کے لیے بنائی گئی سب کمیٹی کی رپورٹ، سفیر امریکہ مسٹر آصف علی کو اقوام متحدہ میں فلسطین کا موقف رکھنے پر مبارک باد،اور ٹنڈن جی کی فساد انگیز تقریر کے خلاف ناظم عمومی صاحب کا بیان شامل کیا گیا ہے۔