2 Feb 2026

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: تینتیسواں سال:1951ء

 تینتیسواں سال:1951ء

محمد یاسین جہازی

8؍ جنوری 1951ء کو امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزاد ؒ وزیر تعلیم ہند کا اکابرجمعیت نے دیوبند میں پرتپاک خیر مقدم کیا۔

18؍جنوری 1951ء کومولانا حفظ الرحمان صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے حیدرآباد کے ایک اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے اوقاف کی تنظیم اور محکمۂ امور مذہبی کو برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا۔

25؍جنوری1951ء کو ناظم عمومی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ریاست کشمیر کو ہندستان میں رہنے سے ہندستانی مسلمانوں کے مفاد کا تحفظ ہوگا۔

2؍فروری1951ء کو ناظم عمومی صاحب نے فرمایا کہ ملک کی حفاظت وہی لوگ کرسکتے ہیں، جنھوں نے مردانہ وار آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا ہے۔

9؍ فروری 1951ء کو حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہند نے اراکین جمعیت کو خدمت خلق سے وابستہ رہنے کی تلقین کی۔

22؍ فروری 1951ء کو مردم شماری میں پوری سرگرمی کے ساتھ حصہ لینے اور اپنی مادری زبان اردو لکھوانے کی اپیل و تحریک چلائی۔

8؍مارچ1951ء کو وزارت بحالی (محکمۂ کسٹوڈین ) کو ایک مکتوب لکھ کر محکمہ کے غیرقانونی اقدامات کی طرف متوجہ کیا۔

16؍مارچ1951ء کو (1947ء کے)فرقہ وارانہ فسادات میں بے گھر ہوئے افراد کی رہائش کے لیے محکمۂ کسٹوڈین میں درخواست دینے کی رہنمائی کی گئی۔

18؍ مارچ 1951ء کو فرانسیسی مظالم کی مذمت اور اہل مراکش سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے، 6؍ اپریل1951ء کو یوم مراکش منانے کی اپیل کی۔

20؍مارچ1951ء کو تیونیشیا کے لیڈروں کا خیرمقدم کیا گیا۔

23؍مارچ1951ء کو کیسرپور فساد پر جمعیت علمائے ہند نے اپنی تحقیقاتی رپورٹ پیش کی۔

2؍اپریل1951ء کو ایک مکتوب لکھ کر نفرت پھیلانے والے اخبارات کو تنبیہہ کی گئی۔

6؍اپریل1951ء کومولانا احمد سعید صاحب نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ اگر فرانس مراکش کی آزادی کو تسلیم نہ کرے، تو ہندستان تمام تعلقات منقطع کرلے۔

18؍اپریل1951ء کو صدر جمہوریۂ ہند ڈاکٹر راجندرپرشاد نے حیدرآباد جمعیت علماکے استقبالیہ پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جمعیت علمائے ہند کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں۔

24؍اپریل1951ء کو ایک بیان میں حیدرآباد میں ہونے والے سترھویں اجلاس عام کے مقاصد کی وضاحت کی گئی۔

26؍ اپریل 1951ء کو حیدرآباد میں مجلس عاملہ کے اجلاس میں ، 27،28،29؍ اپریل 1951ء کو منعقد ہونے والے سترھویں اجلاس عام کی تجاویز کے مسودے مرتب کیے گئے۔

 چنانچہ اجلاس عام میں مذہبی تعلیم، اوقاف کا نظم و نسق،جائداد کی نکاسی کے لیے کسٹوڈین کے مظالم کی مذمت،حیدرآباد کی سرکاری زبان اردو قرار دینے کا مطالبہ،عثمانیہ یونی ورسٹی کو اردو یونی ورسٹی برقرار رکھنے کا مطالبہ،اردو کو فنا کرنے کی کوششوں کی مذمت،نصابی کتابوں میں قابل اعتراض مضامین پر اظہار تشویش اور مصنفین کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ،الحاق کردہ ریاستوں میں بے روزگاری اور اقتصادی تباہ حالی پر تشویش،سقوط حیدرآباد کے بعد مسلمانوں کی آبادی میں رکاوٹوں کو دور کرنے کا مطالبہ،کشمیر کے متعلق اقوام متحدہ کے فیصلے کی مخالفت،خان برادران کی رہائی کا مطالبہ،اسیران حیدرآباد کی عام رہائی کی اپیل اور شکریے کی تجویز منظور کی گئی۔

8؍ مئی 1951ء کو دوہد فساد کی تحقیقات کے لیے وفد بھیجا گیا۔

9؍مئی 1951ء کو بہار کے قیامت خیز قحط کے خلاف اعلان جنگ کرتے ہوئے ایک دن کی خوراک وزیر اعظم ہند کو پیش کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔اسی طرح نصابی کتابوں میں مذہبی رہ نماؤں کی توہین پر مبنی مضامین کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔

20؍مئی1951ء کو سترھویں اجلاس عام کی کئی اہم قراردادوں کو وزیر اعظم ہند پنڈت جواہر لال نہرو کو بھیج کر عملی اقدامات کا مطالبہ کیا گیا۔

2؍جولائی1951ء کو عبادت گاہوں اور مقدس مقامات کی بحالی کے متعلق حکومت راجستھان کو ایک مکتوب روانہ کیا گیا۔

6؍جولائی1951ء کو عید کی مناسبت سے تہنیت کا پیغام دیا گیا۔

یکم اگست 1951ء کو اکابرین امت نے ایک اجتماع میں متفقہ فیصلہ کرتے ہوئے مودودی تحریک اور جماعت اسلامی سے لاتعلقی کا اعلان کیا۔

9؍اگست1951ء کو ایک مکتوب لکھ کر ہندستان کی پالیسی کا اعلان کیا گیا کہ ہندستان پاکستان پر حملہ کرنے میں پہل نہیں کرے گا۔

17،18؍ اگست 1951ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا،جس میں دستور العمل کی بعض دفعات میں ترمیمات کیں اور الیکشن اور ووٹ کے متعلق اپنے موقف کا اظہار کیا۔ اسی طرح ایک دوسری تجویز میں الیکشن میں فرقہ پرست پارٹیوں پر کڑی رکھنے کا مطالبہ کیا۔ علاوہ ازیں عملی سرگرمیوں کو روبہ عمل لانے کے لیے مجلس تعلیم و تربیت، مجلس نشرواشاعت اور مجلس مالیات تشکیل دی گئی۔

اسی موقع پر منعقد علما کی ایک نشست میں ریڈیو کے ذریعہ رویت ہلال کی اطلاع ملنے سے متعلق ایک فتویٰ بھی مرتب کیا گیا۔

20؍اگست 1951ء کومحکمۂ کسٹوڈین کو ایک اہم مکتوب لکھا گیا۔

14؍ ستمبر 1951ء کو راجستھان میں مسلمانوں پر ہوئے حملے پر ایکشن لینے کا مطالبہ کیا۔

26؍ستمبر1951ء کو یوپی میں اردو کو علاقائی زبان تسلیم نہ کرنے پر احتجاج کیا گیا۔

27؍ ستمبر1951ء کویوپی وقف بورڈ نے جمعیت کے مطالبہ کو منظور کرتے ہوئے جمعیت کا ایک نمائندہ شامل کرنے کو منظوری دی۔

31؍اکتوبر1951ء کوکانگریس کو ووٹ دینے سے متعلق علمائے کرام کے مشورے کو فتویٰ سمجھ لینے پر وزیر اعظم ہند کو صحیح صورت حال سے مطلع کیا گیا کہ مذہب کے نام پر کانگریس کو ووٹ دینے کے لیے کوئی فتویٰ جاری نہیںکیا گیا۔

14؍ نومبر 1951ء کو مصرو ایران کے لیے کامیابی کی دعا کی اپیل کی گئی۔

اسی تاریخ کو وزیر اعظم ہند کی باسٹھویں سال گرہ پر مبارک بادی پیش کی گئی۔

19؍ نومبر1951ء کو یوپی میں اردو کو سرکاری زبان تسلیم کرانے کے لیے ماتحت جمعیتوں کو ہدایت نامہ جاری کیا گیا کہ وہ انجمن ترقی اردو کی تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔

یکم دسمبر1951ء کو صدر جمعیت علمائے ہند نے اپنے خطاب میں مسلمانوں کو نصیحت کی کہ وہ اعلیٰ اخلاق پیدا کریں۔

4؍دسمبر1951ء کو پالن پور کے فرقہ وارانہ فسادات کے متعلق ایک مکتوب لکھ کر حکومت ہند کو آگاہی فراہم کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا، جس پر حکومت ہند کی طرف سے وضاحتی مکتوب بھیجا گیا۔

5؍دسمبر1951ء کو مصریوں کی طرف سے اظہار تشکر کا تار ملا۔ یہ تشکر 16؍نومبر1951ء کو تمام مساجد میں مصریوں کے لیے یوم دعا منانے کی اپیل کے تناظر میں پیش کیا گیا تھا۔

16؍دسمبر1951ء کو کسٹوڈین کے متعلق ایک ضروری اطلاع فراہم کی گئی۔

22؍ دسمبر1951ء کو انگریزی اخبار ’’دی میسج ویکلی‘‘ کا اجرا عمل میں آیا۔

آخر میں الیکشن میںمسلمانوں کی کم نمائندگی پر وزیر اعظم کو ایک مکتوب کے ذریعہ متوجہ کرنے، اور فلسطین کمیٹی کا پس منظر کا مضمون درج کیا گیا ہے، جن کی تاریخوں کا علم نہیں ہوسکا۔