31 Jan 2026

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: اکتیسواں سال:1949ء

 اکتیسواں سال:1949ء

محمد یاسین جہازی

 1948ء میںماہ ستمبر13؍سے 15؍تک پولیس ایکشن کی وجہ سے سقوط حیدرآباد سے پیدا شدہ تباہ کن حالات میں امن و محبت کا پیغام پہنچانے اور ریلیف ورک کرنے کے لیے جمعیت کے ایک وفد نے 5؍ جنوری 1949ء کو حیدرآباد، شولاپور، بڑودہ اور ممبئی وغیرہ کا دورہ کیا ۔

8؍جنوری1949ء کو اردو کے تحفظ فراہم کرنے کے لیے شعبۂ تعلیمات قائم کیا گیا۔

12؍جنوری1949ء کو میوات اور آگرہ فساد متأثرین کی امداد کی گئی۔

17؍جنوری1949ء کوکسٹوڈین کے مظالم کے خلاف ایک بیان جاری کیا گیا۔

حالات کے جائزہ کے لیے 5؍فروری1949ء کوایک وفد نے کٹک اڈیشہ کا دورہ کیا۔

بعد ازاں7؍فروری1949ء کو یہ وفد مدراس پہنچا۔ پھر24؍فروری1949ء کو راجستھان یونین کے مختلف شہروں میں ریلیف ورک انجام دیتے ہوئے 28؍فروری1949ء کو وفد بڑودہ پہنچا، جہاں اس کا زبردست استقبال کیا گیا۔

7؍مارچ1949ء کو اردو کے مسئلے کو لے کر ایک وفد نے وزیر اعلیٰ یوپی سے ملاقات کی۔ 

9؍ مارچ 1949ء کو منعقد ایک تقریب میں مصرکے اخبار نویسوں نے جمعیت کی خدمات کا اعتراف کیا۔

12؍مارچ1949ء کو جمعیت علما کا وفد مالیگاؤں پہنچا اور خیرسگالی کا پیغام پہنچایا۔

12؍مارچ 1949ء کو منعقد مجلس عاملہ میں جمعیت علمائے ہند کا تعمیری پروگرام کا خاکہ اور پندرہ نکاتی عملی پروگرام بھی پیش کیا گیا۔ آزاد ہندستان کے نئے تقاضے کے پیش نظر دستو رمیں ترمیم کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔

13؍ مارچ1949ء کومجلس مشاورت کی میٹنگ میں اہم فیصلے لیے گئے۔

28؍مارچ 1949ء کو ایک فلم کمپنی نے جمعیت علمائے ہند کے اجلاس کی فلم بندی کی اجازت مانگی، لیکن فلم سازی کی اجازت نہیں دی گئی۔ 

از 16؍تا 18؍ اپریل 1949ء کو لکھنو میں سولھواں اجلاس عام ہوا، جس میں سیاست سے علاحدگی کے بعد آزاد ہند میں عملی پروگرام کا خاکہ،اسکولوں میں پڑھنے والے طلبہ کے لیے مذہبی تعلیم کا انتظام، اوقاف کے تحفظ کے لیے کمیٹی بنانے کا فیصلہ، نکاح و طلاق کے مسائل کو شریعت کے مطابق حل کرنے کے لیے ایک کمیٹی کا قیام، حجاج کے ٹیکس کو کم کرنے کا مطالبہ، درگاہ اجمیر کی کمیٹی میں نصف تعداد جمعیت کو منتخب کرنے کا اختیار دینے کا مطالبہ،حکومت یوپی سے بیک وقت دو اختیاری مضمون کے احکام صادر کرنے کی اپیل، حیدرآباد، جے پور، بدایوں اور سہارنپور وغیرہ کے فسادات پر اظہار مذمت اور تجاویز وفیات کے علاوہ تجویز شکریہ پر مشتمل تجاویز منظور کی گئیں۔ 

جمعیت کو مستحکم و منظم کرنے کے لیے جاری تحریک کے نتیجے میں سولہ ریاستوں میں جمعیت کا دائرۂ عمل پھیلا۔

16؍اپریل1949ء کو ندوۃ العلما لکھنو میں تاریخی و تعلیمی نمائش کی گئی۔ 

7؍ مئی 1949ء کو صوبہ بہار میں مڈل اتہاس کی کتاب میں اہانت رسول پر مبنی تصویر شائع کرنے پر احتجاج درج کرایا۔ اور اسی تاریخ میں ٹیلی پرنٹر مشین نصب کی گئی۔

10؍مئی1949ء کو تعلیمی دشواریوں کے پیش نظروزیر تعلیم یوپی سے ملاقات کا فیصلہ کیا گیا۔

17؍مئی1949ء کو ماتحت جمعیتوں کے نام ایک اہم سرکلر جاری کیا گیا۔

26؍مئی1949ء کومجاہد ملت مولانا حفظ الرحمان صاحب اور مولانا شاہد فاخری صاحب یوپی اسمبلی کے بلامقابلہ رکن منتخب ہوگئے۔ 

3؍جون1949ء کو جمعیت علما کے کاموں میں وسعت کے پیش نظر ناظم کا تقرر کیا گیا۔

5؍ جون 1949ء کو دہلی میں فسادات کی کوششوں کو ناکام بنایاگیا اور اس طرح کے فسادات کو روکنے کے لیے کارروائی کا مطالبہ کیاگیا۔ 

17؍جون1949ء کو فساد زدہ علاقہ سرونج کو دورہ کیا گیا اور ہندو مسلم مفاہمت کی کوشش کی گئی۔ 

21؍جون 1949ء کو ایک مکتوب لکھ کر وزیر اعلیٰ یوپی سے وقت مانگا گیا، تاکہ اردو کے مسئلے پر بات کی جاسکے۔

28؍جون1949ء کو دہلی کے فسادیوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

10؍جولائی 1949ء: کسٹوڈین کے مظالم کے خلاف جمعیت نے اپنی جدوجہد جاری رکھی اور 12؍ جنوری 1949ء سے لے کر 13؍اگست 1949ء تک الجمعیۃ میں 5,089 مقبوضہ جائدادوں کی فہرست شائع کرکے قانونی امداد کا اعلان کیا۔

3؍اگست 1949ء کو رائچور میں مساجد کی بے حرمتی کے واقعات کی تحقیق کرانے کا مطالبہ کیا گیا۔ اسی طرح حیدرآباد کے فیل خانہ کیمپ کو خالی نہ کرانے، اور بہرصورت خالی کرانے کی صورت میں مہلت دینے کا مطالبہ کیاگیا۔

اسی تاریخ کو ہندستانی زبان کے متعلق ارکان قانون ساز کو ایک یاد داشت پیش کی گئی۔

7؍اگست1949ء کو ہندستانی زبان کو ہند یونین کی زبان قرار دینے کے لیے ارکان مجلس قانون ساز کے سامنے ایک یاد داشت پیش کی گئی۔ 

12؍اگست1949ء کو اسمبلی میںناظم عمومی مولانا حفظ الرحمان صاحب نے اردو کو ہند یونین کی دوسری زبان بنانے کی زبردست وکالت کی۔

22؍اگست1949ء کو ایک بیان کے ذریعہ ارکان مجلس عاملہ میں توسیع نہ کرنے کی وجوہات بیان کی گئیں۔

25؍اگست 1949ء کودہرادون کے کاشت کاروں کو قرض تقاوی کی ادائیگی میں مہلت دینے کے لیے ریونیو منسٹر کو مکتوب لکھا گیا۔

یکم ستمبر1949ء کو ہندی زبان کو ہند یونین کی زبان قرار دینے پر افسوس کا اظہار کیاگیا۔ اور اردو کو دوسری سرکاری زبان بنانے کے لیے جمعیت نے انتھک کوشش کی، لیکن اس کے باوجود 15؍ ستمبر1949ء کو ہندی کو سرکاری زبان بنانے کا اعلان کردیا گیا۔

2؍ستمبر1949ء کو منعقد مجلس عاملہ کی میٹنگ میں کسٹوڈین کے مظالم کے خلاف وزیر اعظم مسٹر جواہر لعل نہرو کو ایک میمورنڈم دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ چنانچہ 7؍ستمبر1949ء کو میمورنڈم پیش کیا گیا۔  چنانچہ جمعیت کی کوشش بارآور ہوئی اور 18؍ اکتوبر1949ء کو حکومت نے، جمعیت کے منشا کے مطابق آرڈی نینس میں ترمیم کردی۔

2؍ ستمبر1949ء کومنعقد کانفرنس میں جمعیت نے مضبوط پریس کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا۔

3؍ستمبر1949ء کوپالی فساد کی تحقیقات کے لیے وفد بھیجا گیا۔

3؍ستمبر1949ء کو شائع ایک خبر کے مطابق مولانا ابوالکلام آزاد ؒ نے قومی زبان کے مسودۂ تجویز سے استعفیٰ پیش کردیا۔ 

17؍ستمبر1949ء کوبھیلواڑہ راجستھان میں آر ایس ایس جیسی شدت پسند تنظیم کے ذریعہ پرامن ماحول کو مکندر کرنے سے محفوظ رکھنے کا مطالبہ کرتے ہوئے ضلع مجسٹریٹ بھیلواڑہ کو مکتوب لکھا گیا۔

20؍ستمبر1949ء کوسیاست میں مضبوط شراکت کے لیے کانگریس میں شرکت کی اپیل کی گئی۔  

21؍ستمبر1949ء کو جوالاسہارنپور کے فساد زدہ علاقوں کا دورہ کیا گیا۔

کشمیر کو انڈین یونین کے ساتھ الحاق کے اعلان پر شیر کشمیرشیخ عبد اللہ کو 26؍ ستمبر1949ء کو مبارک باد پیش کی۔

30؍ستمبر1949ء کوچھتاری فساد ات کی تحقیقات کے لیے وفد بھیجا اور قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

5؍اکتوبر1949ء کو دہرادون کاشت کاروں کے مسئلے پر وزیر مالیات حکومت اترپردیش کو مکتوب لکھ کر قرض کی ادائیگی میں مہلت کی درخواست کی گئی۔

6؍اکتوبر1949ء کو وزیر اعلیٰ یوپی مسٹر پنتھ کو مکتوب لکھ کر دارالعلوم دیوبند کی تلاشی لینے پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ 

14؍اکتوبر1949ء کومردآباد فسادات کی تحقیقات کے لیے وفد روانہ کیا گیا۔

4؍نومبر1949ء کومسٹر جے پرکاش نرائن نے جمعیت اور آر ایس ایس میں زمین و آسمان کا فرق واضح کیا گیا۔

 5؍نومبر1949ء کوانڈونیشیا کی آزادی پر جمعیت نے اس کے پہلے وزیر اعظم ڈاکٹر حتیٰ کو مبارک باد پیش کی۔

اسپیشل میرج ایکٹ پر خصوصی غورو خوض کے لیے 13؍ نومبر1949ء کو مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس ہوا۔

14؍نومبر1949ء کو وزیر اعظم مسٹر جواہر لعل نہرو کو ان کے ساٹھویں یوم پیدائش پر مبارک باد پیش کی گئی۔

7؍دسمبر1949ء کو ایک بے قصور قیدی کی رہائی کے لیے سفارشی خط بھیجا گیا۔

8؍دسمبر1949ء کی ایک خبر سے معلوم ہوا کہ جامع مسجد دہلی پولیس اسٹیشن میں مجاہد آزادی ہند سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب نور اللہ مرقدہ کا اسم گرامی بدمعاشوں کی فہرست میں شامل ہے۔

13؍دسمبر1949ء کو علامہ شبیر احمد عثمانی نور اللہ مرقدہ کے انتقال پرملال پر اکابرین جمعیت نے رنج و غم کا اظہار کیا۔

متفرقات کے عنوان کے تحت، حیدرآباد کے معاملے میںامام الہند سے ایک وفد کی ملاقات پر ، مولانا محمد میاں صاحب کی حضرت امام الہند سے خصوصی گفتگو،ناظم عمومی کے ایک بیان کے ذریعہ مسلم لیگ کو دوبارہ زندہ کرنے کی مذمت،سردار ولبھ بھائی پٹیل کی خدمت میں سقوط حیدرآباد کے تناظر میں حیدرآبادی مسلمانوں کی طرف سے ایک مختصر عرض داشت کی پیشی، کسٹوڈین سے متعلق میمورنڈم، اور کسٹوڈین کے مسائل پر ایک میٹنگ کی روئیداد پیش کی گئی ہے۔