چھتیسواںسال:1954ء
محمد یاسین جہازی
3؍جنوری1954ء کو خالی شدہ جائدادوں کی نیلامی کے سلسلے میں وزیر بحالیات کو مکتوب لکھ کر چند تجاویز پیش کیں۔
پرجوش مجاہد آزادی خان عبد الغفار خاں صاحب کی رہائی پر 7؍ جنوری 1954ء کو مبارک باد پیش کی گئی۔
8؍ جنوری 1954ء کو نیروبی مشرقی افریقہ پہنچنے پر ناظم عمومی حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحبؒ کا شان دار خیر مقدم کیا گیا۔
9؍جنوری1954ء کو جمعیت علمائے ہند کے ایک وفد نے وزیر بحالیات سے ملاقات کرکے جائداد نکاسی سے متعلق پریشانیوں سے آگاہ کیا۔
10؍فروری1954ء کو دھار فساد پر وزیر داخلہ کو مکتوب لکھ کر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
17؍فروری1954ء کوغازی آباد کے باشندگان کے مسائل پر وزیر اعلیٰ کو مکتوب لکھا گیا۔
25؍فروری1954ء کوگڑگاوں مسجد پر ناجائز قبضے پر حکام کو مکتوب لکھا گیا۔
امریکہ پاکستان فوجی معاہدہ پر2؍ مارچ 1954ء کو بیان دیتے ہوئے اسے ہندستان کے لیے کھلا چیلنج قرار دیاگیا۔
12؍ مارچ 1954ء کو پارلیمنٹ میں مسلم وقف بل کی زبردست حمایت کی۔
27؍ مارچ 1954ء کو ایوان عام میں حضرت ناظم عمومی صاحب نے اردو تحریک کی مخالفت کو فرقہ پرستی سے تعبیر کیا۔
ڈپٹی کمشنر پنجاب کو6؍اپریل 1954ء کو مکتوب لکھ کر ایک مسجد کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
9؍اپریل1954ء کو وزیر ریل مسٹر شاستری جی کو مسلم ملازمین کی سرکاری چھٹی کے سلسلے میں ایک مکتوب لکھا گیا۔
22؍ اپریل 1954ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میںمشترک دینی تعلیمی کنونشن کی دشواریوںاورحاجیوں کو انکم سرٹیفیکٹ سے مستثنیٰ قرار دینے کے علاوہ چند اہم فیصلے کیے گئے۔
20؍ مئی 1954ء کو کسٹوڈین کے مظالم کے خلاف وزیر اعظم ہند کو مکتوب لکھ کر اس کی جانب متوجہ کیا گیا۔
4؍جون1954ء کو حجاج کرام کو انکم سرٹیفیکٹ سے مستثنیٰ قرار دیا گیا، جس میں جمعیت کی کوششوں کو خاص دخل تھا۔
حضرت شیخ الاسلام نے ہندو بھائیوں اور مسلمانوں کو عید کی مبارک باد پیش کی۔
5؍ جون 1954ء کو علی گڑھ میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات پر فوری اقدام کیا گیا۔
9؍جون1954ء کو علی گڑھ فساد تحقیقاتی وفد نے اپنی رپورٹ پیش کی۔
علی گڑھ فساد مسئلے کو لے کر 19؍ جون 1954ء کویوپی کے وزیر کو فون کیا گیا۔اور مجسٹریٹ کو مکتوب لکھا گیا۔
9؍جولائی1954ء کو دہرادون کی ایک مسجد کے تحفظ کا مطالبہ کیا گیا۔
20؍جولائی1954ء کو ایک بیان میں صدر جمعیت نے فرمایا کہ مذہب و وطن کی خدمت میرا شعار رہا ہے۔
7؍ اگست 1954ء کو جمعیت سمیت مختلف ریاستی مجالس قانون ساز کے مسلم ممبران کی طرف سے نکاسی جائداد کے ٹریبونل قائم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
نئی دنیا میں شائع تحریر کو اکابر جمعیت نے 20؍ اگست 1954ء کوجمعیت کو بدنام کر نے اور شخصی انتقام پر مبنی قرار دیا۔
22؍ اگست 1954ء میںمتھرا میں بھڑکے فساد پر جمعیت نے تحقیقاتی وفد روانہ کیا۔
23؍اگست1954ء کو ایک مکتوب لکھ کر وزیر اعلیٰ راجستھان کو جودھ پور کی ایک مسجد کے تحفظ کے لیے متوجہ کیا گیا۔
24؍اگست 1954ء کو یوپی میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کے حوالے سے وزیر اعلیٰ کو مکتوب لکھ کر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
28؍اگست1954ء کو حیدرآباد کے علاقوں میں فسادات پر کارروائی کے لیے مکتوب لکھا گیا۔
یکم ستمبر 1954ء کو فسادات کے موضوع پر حضرت ناظم عمومی صاحب نے یوپی کے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی۔
2؍ ستمبر1954ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میںحاجیوں کو مستقل طور پر انکم سرٹیفیکٹ سے مستثنیٰ کرنے،چیف منسٹر یوپی سے ملاقات کی تفصیل،حالیہ فسادات کے اسباب و وجوہات پر غوراور تدارک کے فارمولے،مشرقی پنجاب اور پیپسوکے اوقاف کے تحفظ کے لیے کمیٹی کی تشکیل،تبلیغی و اصلاحی رسائل کی تدوین و اشاعت اور متھرا عیدگاہ کے معاملے پر بحث و گفتگو ہوئی۔
4؍ ستمبر1954ء کو حضرت شیخ الاسلام ؒ نے پدم بھوشن کے خطاب کی واپسی کا اعلان کیا۔
18؍ ستمبر1954ء کو فسادات کے موضوع پر جمعیت کے ایک وفد نے وزیر اعظم ہند پنڈت نہرو سے ملاقات کی۔
جمعیت کی مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں بالآخر 25؍ ستمبر 1954ء کو لوک سبھا میں نکاسی جائداد قانون میں ترمیمات کو منظوری مل گئی۔
7؍ اکتوبر 1954ء کو سیلاب زدگان کی امداد کی اپیل کی گئی۔
12؍اکتوبر1954ء کو ناظم عمومی مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے ایک خطاب میں کہا کہ جدوجہد کرو ؛ لیکن مایوس نہ ہو۔
24؍اکتوبر1954ء کو مسٹر رفیع احمد قدوائی کی وفات پر تعزیت کا اظہار کیا گیا۔
2؍نومبر1954ء کو اعلان کیا گیا کہ اب حاجیوں کو انکم ٹیکس سرٹیفیکٹ لینا ضروری نہیں ہے۔
24؍نومبر1954ء کو ایواکیو پراپرٹی کے انتظامی قوانین میں چند ترامیم پیش کی گئیں۔
یکم دسمبر1954ء کو متھرا کی ایک مسجد کے تحفظ کے لیے وزیر اعلیٰ کو مکتوب لکھا گیا۔
4؍ دسمبر1954ء کو ممبئی میں ہونے والے ’’کل ہند دینی تعلیمی کنونشن کے لیے دعوت نامہ جاری کیا گیا۔
6؍ دسمبر1954ء کو جمعیت کے اعتراض پر دہلی گورنمنٹ نے ’’ادھر ادھر کی کہانیاں ‘‘ نامی کتاب سے قابل اعتراض حصوں کو حذف کرنے کااعلان کیا۔
دسمبر کی مختلف تاریخوں میں تنظیمی استحکام اور جمعیت کی نئی نئی یونٹوں کی تشکیل کے لیے حضرت ناظم عمومی صاحب نے مدھیہ پردیش اور بہار کے اضلاع کا دورہ کیا۔
14؍ دسمبر 1954ء کو کنونشن کی استقبالیہ کمیٹی تشکیل دی گئی۔
19؍دسمبر1954ء کو محکمۂ کسٹوڈین کی من مانی کارروائی کو وزیر اعظم کو مکتوب لکھ کر شکایت کی گئی اور کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
اسی تاریخ کو لکھے ایک دوسرے مکتوب میں وزارت بحالی سے متعلق وزیر اعظم کو چند گذارشات پیش کی گئیں۔
23؍دسمبر1954ء کو بہار فساد پر کارروائی کا مطالبہ کرنے کے لیے ایک تار بھیجا گیا۔
28؍دسمبر1954ء کوثبوت شہریت کے حوالے سے مولانا آزاد کو مکتوب روانہ کیا گیا۔
اسی تاریخ کو ایک مکتوب لکھ کر ثبوت شہریت کے لیے راشن کارڈ کو لازمی قرار دینے سے مستثنیٰ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
29؍ دسمبر1954ء کو ’’اللہ میاں کا حلیہ‘‘ نامی کتاب کو فتنہ قرار دیتے ہوئے مصنف و ناشر کے خلاف قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔