اٹھائیسوں سال: 1946ء
محمد یاسین جہازی
یکم جنوری 1946ء کو مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے فتویٰ دیا کہ کانگریس میں شرکت جائز ہے۔
22؍جنوری 1946ء کو ایک استفسار کے جواب میں مفتی اعظم نے لیگ میں شرکت اور اس کی امدادکی حیثیت پر ایک فتویٰ جاری کیا۔
یکم فروری1946ء کو شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب اور مولانا حفظ الرحمان صاحب کے دورے کی تفصیلات شائع کی گئیں۔یہ دورے مسلم پارلیمنٹری بورڈ کے امیدواروں کے لیے ووٹ حاصل کرنے کے لیے مقصد سے کیے جارہے تھے۔
17؍فروری1946ء کو حضرت مفتی اعظم ہند نے خانقاہ امدادیہ تھانہ بھون کے سوالوں کے جوابات پیش کیے۔
جب وائسرائے ہند لارڈ واویل نے جداگانہ(مسلمان مسلمان کو اور غیر مسلم غیر مسلم کو ووٹ پر مبنی ) انتخابات کرانے کا اعلان کیا، تو مسلم لیگ نے پاکستان اور اسلامی حکومت کے نعرے کے ساتھ الیکشن میں حصہ لیا، جب کہ جمعیت علمائے ہند تمام مسلم قوم پرور جماعتوں کے مشترکہ پلیٹ فارم’’آزاد مسلم پارلیمنٹری بورڈ‘‘ کے تحت آزادیِ ہند کے نعرے کے ساتھ انتخابی میدان میں اتری ۔مسلم لیگ نے الیکشن جیتنے کے لیے جہاں غنڈہ گردی اور ماردھاڑ سے کام لیا، وہیں فتووں کا بھی سہارا لیا، جب کہ جمعیت علمائے ہند اپنے لوگوں سے امن و امان کی اپیل کرتی رہی۔
آواخر دسمبر1945ء تک مرکزی قانون ساز اسمبلی کی 102 ؍نشستوں پر ہوئے الیکشن کے نتائج سامنے آگئے۔ مسلم لیگ نے پاکستان کے نعرے کے ساتھ الیکشن لڑا ، جب کہ جمعیت علمائے ہند نے آزادی ہند کے نام پرمسلم پارلیمنٹری بورڈ کے تحت کانگریس کی حمایت کی۔ اس میں 30؍ نشستیں مسلمانوں کے لیے مخصوص تھیں،ان سب نشستوں پر مسلم لیگ نے جیت درج کرائی، جب کہ کانگریس کو کل 57؍نشستیں ملیں۔
بعد ازاں 1946ء میں صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن ہوئے۔اس میں کانگریس نے کل 1585؍ نشستوں میں سے923 ؍نشستیںجیتیں، جو(%58.23)فی صد ہوتا ہے۔ آل انڈیا مسلم لیگ نے 425؍ نشستیں (کل کا %26.81) جیت کر دوسرے درجہ کی جماعت کا مقام حاصل کرلیا، یعنی اس نے مرکزی اسمبلی کے تمام مسلم حلقوں کے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلیوں کے زیادہ تر مسلم حلقوں پر قبضہ کر لیا۔
اسی طرح ہندستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی (Constituent Assembly) میں کل 389؍ نشستیں تھیں، جن میں سے 292؍ نشستیں برطانوی ہند کے صوبوں کے لیے اور 93؍ نشستیں دیسی ریاستوں کے لیے تھیں۔ دیسی ریاستوں کے نمائندوں کا انتخاب وہاں کے حکمرانوں کی مرضی سے ہوتا تھا۔جو نشستیں برطانوی ہند کے لیے مخصوص تھیں، انھیں پر جولائی 1946ء میں الیکشن ہوئے، جن میں کانگریس نے 207؍ نشستوں (کچھ ذرائع کے مطابق 208) اور مسلمانوں کے لیے مخصوص 78 ؍ نشستوں میں سے مسلم لیگ نے 73؍ نشستوں پر ،اس کے علاوہ دیگر پارٹیوں اور آزاد امیدواروں نے 28؍ نشستوں پر جیت درج کرائی۔ان تینوں انتخابات میں مسلم لیگ کی نمایاں جیت نے پاکستان کا راستہ کھول دیا۔
انتخابات کے بعد حکومتی اختیارات منتقل کرنے کے لیے 17؍ فروی1946ء کو کیبنٹ مشن بھیجنے کا اعلان ہوا۔ 23؍ مارچ 1946ء کو کیبنٹ مشن ہندستان پہنچا اور کانگریس، لیگ اور دیگر لیڈروں سے صلاح و مشورے شروع کیے، لیکن اس کے لیے جمعیت کو مدعو نہیں کیا،جس کے پیش نظر جمعیت نے 28-29؍ مارچ 1946ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا کہ اگر مسلمانوں کے مفاد کے خلاف کوئی دستوری دفعہ شامل کیا گیا، تو جمعیت اس کی مخالفت کرے گی۔ مسلم لیگ نے 4؍ اپریل 1946ء کو مشن سے ملاقات کی ، بعد ازاں 8-9؍ اپریل 1946ء کو دو آئین ساز ادارے بنانے اور ہندستان کو تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا ۔
مجلس عاملہ کے فیصلے کا فوری اثر ہوا اور کیبنٹ مشن نے 16؍ اپریل 1946ء کو ملاقات کے لیے مدعو کیا۔ جمعیت نے ملاقات سے ایک دن پہلے 15؍ اپریل 1946ء کو مختلف قوم پرور مسلم جماعتوں کے ساتھ مشترکہ میٹنگ کی اور وزارتی مشن کے سامنے پیش کرنے کے لیے ایک فارمولا تیار کیا۔ اور پھر 16؍ اپریل1946ء کو مجلس عاملہ میں پاس کرکے، اسی دن صدر مسلم پارلیمنٹری بورڈ حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ صدر جمعیت علمائے ہندکی قیادت میں ایک وفد نے کیبنٹ مشن سے ملاقات کی اور فارمولا پیش کیا۔مجلس عاملہ کے اس اجلاس میں فارمولا کے علاوہ سید احمد کاظمی کی وفات پر تجویز تعزیت اور آزاد ہند فوج کے تمام ارکان کو غیر مشروط طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
آواخراپریل میں مشن نے مسلم لیگ اور کانگریس کے لیڈروں کو تبادلۂ خیالات کی دعوت دی اور ساتھ ہی اپنا مجوزہ منصوبہ پیش کیا۔5؍ مئی 1946ء کو شملہ میں کیبنٹ مشن نے کانفرنس کی، جس میں دونوں پارٹیوں نے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں۔ لیگ کے مطالبۂ پاکستان کے اصرار اور کانگریس کے اکھنڈ بھارت کے دعوے پرقائم رہنے کی وجہ سے کانفرنس ناکام ہوگئی؛ تاہم مشن نے چوبیس نکاتی پلان پیش کرکے عارضی حکومت کے قیام کی کوششوں کو جاری رکھا۔26؍مئی 1946ء کو مشن کی تجاویز پر نیشنلسٹ مسلم رہنماؤں کی طرف سے مشترکہ تبصرہ کیا گیا۔ بعد ازاں 6؍ جون 1946ء کو مسلم لیگ نے، اور25؍ جون 1946ء کو کانگریس نے مشن کے پلان کو قبول کرتے ہوئے عارضی حکومت سازی میں شمولیت کا اعلان کیا۔
ریاست الور میں مسلمانوں پر ہورہے مظالم کی تحقیقات کے لیے جمعیت کے تحقیقاتی وفد کو آنے کی اجازت طلب کرنے کے لیے، پہلے صدر جمعیت نے 3؍ اپریل 1946ء کو، پھر 13؍ اپریل 1946ء کو ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا حفظ الرحمان نے وزیر اعظم ریاست الور کے نام تار بھیجا۔
23؍اپریل1946ء کو افواہوں پر دھیان نہ دیتے ہوئے امن و شانتی قائم رکھنے کی اپیل کی گئی۔
26؍اپریل1946ء کو پانچ لاکھ سے زائد مجمع پر مشتمل ایک عظیم الشان اجلاس کیا گیا، جس میں پاکستان کی حقیقت اجاگر کی گئی۔
30؍اپریل1946ء کوسماجی و دینی اصلاح سے متعلق ایک اہم اپیل کی گئی۔
از 10تا 12؍ جون 1946ء کو مجلس عاملہ مرکزیہ کا اجلاس ہوا، جس میں کیبنٹ مشن کی تجاویز کا تنقیدی جائزہ لیا گیا۔ دیگر تجاویز میں آسام لائن سسٹم میں آباد لوگوں کو بے دخل نہ کرنے کی اپیل،کشمیری عوام پرڈوگرا فوج کے مظالم کی مذمت اور نیشنل کانفرنس کے صدر شیخ عبد اللہ اور ان کے ساتھیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ اور فلسطین میں ایک لاکھ یہودیوں کے داخلہ کی اجازت پر مشتمل برطانوی امریکی تحقیقاتی وفد کی رپورٹ کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کرنے کی اپیل کی گئی اور مسلمانان ہند کے جذبات سے آگاہ کرنے کے لیے 24؍ مئی 1946ء کو ’’یوم فلسطین‘‘ منانے کا اعلان کیا گیا۔
13؍جون1946ء کو کل ہند فلسطین کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔
21؍جون1946ء کوسکریٹری عرب لیگ کے برقیہ کا جواب دیاگیا۔
25؍ جون 1946ء کو حضرت مولانا احمد سعید صاحب نائب صدر جمعیت علمائے ہند نے نیشنلسٹ مسلم اسٹوڈینٹس فیڈریشن کو پیغام بھیجتے ہوئے کہا کہ کوئی ملک ایسا نہیں ہے، جس کے انقلاب میں طلبہ کے ہاتھ نہ ہوں۔
12؍جولائی 1946ء کو مسلم لیگیوں کی طرف سے امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ کی ذات کو گستاخیوں کا نشانہ بنانے پرمولانا کی حمایت میں مکتوب لکھا گیا۔
پھر28؍ جولائی 1946ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں ساؤتھ افریقہ میں ہندستانیوں کے ساتھ بھید بھاؤ والے قانون پاس کرنے کی مذمت کی اور اس کے خلاف عدم تشدد کی تحریک چلانے والوں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ ایک دوسری تجویز میں آسام لائن سسٹم کے مسئلہ کو حل کرنے کا مطالبہ اور تیسری تجویز میں پوسٹ مینوں کے اسٹرائیک میں مولانا آزادؒ کی ثالثی کو قبول کرنے کا مشورہ دیا گیا۔
چوں کہ مشن پلان میں تقسیم ہند کو قبول نہیں کیا گیا تھا، اس لیے حکومت سازی میں لیگ کی شمولیت کے فیصلے پر اس کے حلقے میں ناپسندیدگی کا اظہار کیاگیا، جس سے متأثر ہوکر 27؍ جولائی 1946ء کو لیگ نے حکومت سازی میں شرکت سے انکار کردیا۔ اور پاکستان حاصل کرنے کے لیے 16؍ اگست1946ء کو ’’ڈائریکٹ ایکشن ڈے‘‘ منانے کا فیصلہ کیا، جو پورے ہندستان میں فرقہ وارانہ فسادات کا باعث بنا۔
26؍ اگست 1946ء کو کچھ غنڈوں نے جمعیت کے دفتر پر چھاپا مارااور اسٹاف سے مار پٹائی کی ۔
کیبنٹ مشن کی دعوت پر 2؍ ستمبر1946ء کو کانگریس نے غلام بھارت میں پہلی مرتبہ قومی عارضی حکومت کی تشکیل کی۔جب ڈائریکٹ ایکش ڈے منانے کے باوجود مسلم لیگ کو کچھ ہاتھ نہیں آیا، تو 15؍ اکتوبر1946ء کو عارضی حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔لیکن مسلم لیگ نے سب سے بڑی تاریخی غلطی یہ کی کہ مسلمانوں کی واحد نمائندگی کا دعویٰ کرنے کے باوجود کیبنٹ مشن پلان کے مطابق پانچ مسلم ناموں میں ایک نام غیر مسلم دلت لیڈر جوگندر ناتھ منڈل کاشامل کردیا، جس سے وزارتی پلان میں مسلمانوں کی نمائندگی پینتالیس فی صد سے گھٹ کر پینتیس فی صد رہ گئی۔
21تا 24؍ ستمبر1946ء کومجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں انتقال اختیارات کے لیے عارضی قومی حکومت کے قیام پر اظہار اطمینان کیا گیا، تاہم مسلم لیگ کی غلط قیادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ، کانگریس ہائی کمانڈ کے طریق کار پر اعتراض ظاہر کیا گیا۔ دیگر تجاویز میں ملک بھر میں ہورہے فرقہ وارانہ فسادات کی مذمت، ان میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ، زمین داری کے قانون کا خاتمہ،اوقاف سے متعلق غوروفکر کے لیے 26-27؍ اکتوبر 1946ء کو دیوبند میںاجتماع کا فیصلہ، فلسطین سے متعلق تجاویز کو انگریزی اور عربی میں مرتب کراکر عرب ہائی لیگ کے سکریٹری کو بھیجنے اور فرقہ وارانہ فسادات کو جہاد پاکستان قرار دینے کو اذیت ناک بتاتے ہوئے مسلمانوں کو اس سے باز رہنے کی تلقین کی گئی۔
3؍نومبر1946ء کوفسادات میں مسلمانوں کے نامناسب رویے پر ایک بیان جاری کیا گیا۔اسی تاریخ کو جمعیت علما، مسلم لیگ اور کانگریس کو ووٹ دینے سے متعلق استفتے کے جوابات دیے گئے۔
3؍ستمبر1946ء کو توہین رسالت پر مبنی ایک جریدے کے مضمون پروائسرائے ہند سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیا۔
3؍ستمبر1946ء کو عید کے دن مسٹر جناح کی جانب سے دعوت اتحاد کا خیرمقدم کیا گیا، لیکن ان کے سابقہ رویے کو دیکھ کر طرز عمل پر تنقید بھی کی گئی۔
6؍نومبر1946ء کو مولانا مفتی محمد نعیم لدھیانوی صاحب سکریٹری جمعیت علمائے ہند گرفتار کرلیے گئے۔اسی تاریخ کو بہار کے فسادات کے تعلق سے صدراور ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے ایک بیان جاری کیا۔
28؍نومبر1946ء کو مظلومین بہار کی امداد واعانت کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی گئی۔
از 14تا 16؍ دسمبر1946ء کو مجلس عاملہ مرکزیہ کا اجلاس ہوا، جس میں بہاراور گڈھ مکتیشر کے خونی فسادات کی مذمت کرتے ہوئے مظلومین کے ساتھ مکمل انصاف کرنے کا مطالبہ کیا گیااور پورے ہندستان میں صلح و آشتی برقرار رکھنے کی اپیل کی گئی۔ اسی طرح کیبنٹ مشن کے گروپنگ سسٹم کو وقتی مصلحت کے پیش منظر تسلیم کرلینے کا مطالبہ کیا گیا ۔ اور آخری تجویز میں حاجی متولی محمد جلیل صاحب کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔
20؍دسمبر1946ء کوایک سرکلر نمبر ۷ جاری کیا گیا، جس میں مقامی، ضلعی اور صوبائی یونٹوں کے انتخابات کی تمام کارروائیاں جلد از جلد مکمل کرانے اور آئندہ سال (1947ء )میں ہونے والے اجلاس عام میں شرکت کے لیے مرکزی مجلس منتظمہ کے اراکین کے نام بھیجنے کی گذارش کی گئی۔
25؍دسمبر1946ء کو سرحد جمعیت علمائے ہند کی امداد کے لیے حضرت شیخ الاسلام ؒ نے ایک اپیل جاری کی۔