تیسواں سال: 1948ء
محمد یاسین جہازی
یکم جنوری 1948ء کو مسلمان کارخانہ داروں کو متوجہ کرتے ہوئے ریلیف کمیٹی نے قانونی امداد کا اعلان کیا۔
4؍جنوری 1948ء کو پل بنگش دہلی میں بم پھٹنے پر حالات کا جائزہ کے لیے موقع پر پہنچا۔ اور اسی تاریخ کو اراکین ریلیف کمیٹی جمعیت علما نے گاندھی جی سے ملاقات کی۔
8؍جنوری1948ء کو مسلمانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ اپنے گھروں کو چھوڑ کر نہ بھاگیں۔ اور کانگریس میں شامل ہوجائیں۔
دہلی میں بھی فرقہ وارانہ فسادات کی مسلسل خبروں سے پریشان ہوکر گاندھی جی نے 12؍ جنوری 1948ء کو مرن برت شروع کردیا، جمعیت نے گاندھی جی کی زندگی اور ہندو مسلم، سکھ اتحاد کو برقرار رکھنے کے لیے امن و امان برقرار رکھنے کی اپیل کی۔
جب سبھی فرقوں نے امن قائم کرنے کا عندیہ دیا، تو 21؍جنوری 1948ء کو گاندھی جی نے اپنا برت توڑ دیا؛لیکن 30؍ جنوری 1948ء کو دشمن امن گوڈسے نے گاندھی جی کا قتل کردیا، جس پر جمعیت علمائے ہند نے یکم فروری1948ء کی اپنی مجلس عاملہ میں اس حادثۂ قتل پر افسوس کے اظہارکے علاوہ، لکھنو مسلم کانفرنس کے فیصلے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے فرقہ وارانہ پارلیمانی سیاست سے کنارہ کشی اور جمعیت کا دائرۂ عمل صرف مذہبی اور تمدنی حقوق و فرائض تک محدود رکھنے، پاکستان میں رہ جانے والی شاخوں سے ترک تعلق کا اعلان اور دستور العمل میں ترمیم کے لیے سب کمیٹی کے قیام کے ساتھ پندرھویں اجلاس عام کا فیصلہ کیا۔
13؍ فروری 1948ء کو گاندھی جی کے حادثۂ قتل پر یوم ماتم منانے کا اعلان کیاگیا۔
16؍فروری1948ء کو بریگیڈیر محمد عثمان کو ان کی بہادری پر مبارک بادی پیش کی گئی۔
17؍فروری 1948ء سے لے کر 17؍ مارچ 1948ء تک روزنامہ الجمعیۃ پر فرقہ وارانہ اخبار کا الزام لگاکر پابندی لگادی گئی۔
15؍مارچ 1948ء کو مولانا ثناء اللہ امرتسری کے انتقال پر رنج وغم کا اظہار کیا گیا۔
20-21؍ مارچ 1948ء کو کل ہند جمعیت کونسل کا اجلاس ہوا، جس میں گاندھی جی کے حادثۂ قتل پر اظہار افسوس، مولانا ثناء اللہ صاحب امرتسریؒ کے لواحقین سے اظہار تعزیت، کشمیر میں قومی حکومت کی تشکیل پر شیخ عبد اللہ کو مبارک باد، جمہوری دستور العمل اختیار کرنے پر انڈین یونین کو مبارک باد، جمعیت کی پاکستانی شاخوں سے ترک تعلق کا اعلان اور سیاسی سرگرمیوں سے قطع تعلق کا فیصلہ کیا گیا۔
پھر15-16؍اپریل 1948ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس کیا گیا، جس میں اجلاس عام کی تجاویز پر غورو خوض کیا گیا۔
25؍اپریل 1948ء کوایک پریس کانفرنس میں پندرھویں اجلاس عام کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے جمعیت علما کی سیاست سے علاحدگی کا مطلب بیان کیا گیا۔
26،27،28؍ اپریل 1948ء کو ممبئی میں پندرھواں اجلاس عام کیا گیا، جس میں سیاست سے علاحدگی کا اعلان، جمعیت کی پاکستانی شاخوںسے ترک تعلق، جمہوری طرز حکومت کی تشکیل پر انڈین پارلیمنٹ کو مبارک باد، اردو اور ہندی رسم الخط میں لکھی جانے والی ’’ہندستانی‘‘ زبان کو انڈین یونین کی زبان قرار دینے کی اپیل، مسلم پرسنل لاء کے نفاذ کے لیے بااختیار قاضی کا تقرر اور صوبائی اسمبلیوں میں مسودۂ قضا منظور کرانے کی اپیل اور مسودہ بنانے کے لیے دس رکنی کمیٹی کی تشکیل، نصاب تعلیم اور طریقۂ تعلیم وغیرہ کے لیے ایک مرکزی مجلس علمی بنانے کے لیے اہل مدارس سے اپیل اور اس کے لیے آٹھ رکنی کمیٹی کی تشکیل، ابتدائی مدارس اور شبینہ مکاتب قائم کرنے کی اپیل، عصری تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم سے محروم نہ رہنے کی تدابیر پر غور کرنے کے لیے سب کمیٹی کا قیام، اوقاف کی بقا و تحفظ کے لیے مسودہ ٔقانون بنانے کے لیے کمیٹی کی تشکیل، اغوا کی گئیں عورتوں کو ہوس پرستوں کے ظلم و ستم سے نجات دلانے کے لیے حکومت ہند اور پاکستان سے مطالبہ ، قیام امن کے لیے حکومت کو مبارک باد اور تباہ حال مسلمانوں کی واپسی کے لیے وزیر اعظم کی کوششوں کو سراہتے ہوئے مسلمانوں پر ہوئے منظم حملوں کے مجرمین کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں مولانا احمد سعید صاحب کو نائب صدر اور مولانا محمد میاں صاحب اور مولانا عبد الصمد صاحب رحمانی کو ناظم منتخب کیا گیا۔ جملہ عہدے داران کو مبارک باد اور وفات شدگان پر افسوس و تعزیت کا اظہار کیا گیا۔
10؍مئی 1948ء کوگودھرا کے تباہ حال لوگوں کے جائزے کے لیے وفد روانہ کیا گیا۔
17؍مئی 1948ء کو ایک سرکلر کے ذریعہ جمعیت کے دفاتر کو خدمت خلق کے مراکز بنانے کی اپیل کی گئی۔
23؍مئی 1948ء کو پاکستان کو اقلیتوں کے ساتھ بہتر سلوک کرنے کی نصیحت کی گئی۔
27؍مئی 1948ء کو صدر جمعیت نے بیان دیا کہ فلسطین پر صرف فلسطینیوں کاحق ہے۔
وطن چھوڑ کر جانے والے، یا جاکر واپس وانے والے، یا بھارت میں مقیم افراد کے مکانات، دکانوں، باغات، کارخانوں، زرعی آراضی اور باغات وغیرہ کو محکمۂ کسٹوڈین ظالمانہ طور پر ضبط کرتا جارہا تھا، جمعیت علمانے 28؍مئی 1948ء کو ’’قانونی امدادکمیٹی‘‘ تشکیل دے کر کسٹوڈین کے مظالم کے خلاف عملی جدوجہد کا آغاز کیا اور الجمعیۃ سے دستیاب رپورٹ کے مطابق،27؍ دسمبر 1948ء تک4678؍ مکانات، 2407؍ دکان، 133؍باغات،54؍زرعی آراضی، 142؍کارخانے اور 1815؍کاروباری جائداوں کی واگذاری کی اپیلیں شائع کی گئیں۔
6؍جون 1948ء کو عرب لیگ کو ہندستان کی طرف سے مکمل حمایت کی یقین دہانی کے بعد 9؍جون1948ء کو لیگ کی طرف سے شکریے کا تار موصول ہوا۔
15؍جون1948ء کوقبرستانوں پر قبضہ کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
16؍جون1948ء کو سنبھل فساد متأثرین کی خبر گیری کی گئی۔
28؍جون1948ء کوتبادلۂ آبادی کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
24؍جولائی1948ء کو پاکستان سے آنے والے کے لیے پرمٹ کی پریشانیوں کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا گیا۔
30؍جولائی 1948ء کویوپی حکومت کی اردو دشمنی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیاگیا۔
4؍اگست 1948ء کوجمعیت علماکی جدید مجلس عاملہ کی تشکیل عمل میں آئی۔
17؍اگست1948ء کو تقسیم کے نتیجے میں برپا فسادات میں اغوا شدہ عورتوں کی بازیابی کی کوششیں کی گئیں۔
25؍اگست1948ء کو آگرہ فساد متأثرین کی خبر گیری کی گئی۔
12؍ستمبر1948ء کو تعلیمی کمیٹی کی میٹنگ ہوئی، جس میں آزاد ہندستان میں دینی تعلیم کے فروغ اور اسے عملی طور پر نافذ العمل بنانے پر غوروخوض ہوا۔
14؍ستمبر1948ء کو وزیر اعظم و وزیر تعلیم یوپی سے اردو کو لازمی تعلیمی زبان بنائے جانے کے مطالبہ کو لے کر ملاقات کرنے کی کوشش کی گئی۔
15؍ستمبر1948ء کونظام حیدرآباد کے فوجی ایکشن کو غیر مدبرانہ قرار دیا اور بھارتی فوج کی جیت پر اسے ہند یونین میں شامل کرنے کا خیر مقدم کیا۔
22-23؍ ستمبر1948ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں قومی زبان، جبری تعلیم، آگرہ فساد اور تنظیمی استحکام جیسے ایجنڈے پر غورو فکر کیا گیا۔
27؍ستمبر1948ء کو حیدرآباد میں ہندی افواج کی کامیابی پر دعائیہ تقریب منعقد کی گئی۔
29؍ستمبر1948ء کوپاکستان چلے جانے کے بعد پھر ہندستان واپس آکر رہنے کی اجازت حاصل کرنے میں کامیابی ملی اور پرمٹ کی پریشانیوں کا ازالہ کرایا گیا۔
8؍اکتوبر1948ء کو راجستھان میں شریعت کورس ختم کرنے پر متعلقہ حکام کو تار بھیج کر اسے بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔
19؍اکتوبر1948ء کو تعلیمی کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ ایک جزو وقتی اور ایک کل وقتی ، کل دو نصاب تعلیم مرتب کیے جائیں۔
23؍اکتوبر1948ء کواوقاف و قضا کی سب کمیٹیوں کے اجلاس میں اہم فیصلے لیے گئے۔
13؍نومبر1948ء کوہفتۂ جمعیت منانے کی اپیل کی گئی۔
22؍ نومبر سے 29؍ نومبر 1948ء تک ہفتۂ جمعیت منانے کا اہتمام کیا گیا۔
10؍دسمبر1948ء کو جمعیت کی ممبرسازی کے حوالے سے پھیلائی گئی غلط فہمیوں کا ازالہ کرتے ہوئے بتایا گیا کہ اس کا کوئی سیاسی مقصد نہیں ہے۔
11؍دسمبر1948ء کومیواتیوں کی امداد کی گئی۔
15؍دسمبر1948ء کو سری پرکاش کو دی گئی چائے نوشی کی دعوت میں پاکستان سے آمد و رفت کی مشکلات پر تبادلۂ خیالات کیا گیا۔
26-27؍ دسمبر 1948ء کو بنارس میں مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں مدراس، سی پی، گجرات، ممبئی اور حیدرآباد کے دورے کرنے کے لیے چند وفود مرتب کیے گئے، تعمیری پروگرام کا عملی خاکہ پیش کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنائی گئی، صوبہ متحدہ کے وقف ایکٹ میں کی گئیں ترمیمات کو منظور کیا گیا اور صوبہ بہار کی تنسیخ زمین داری کے قانون سے اوقاف کو مستثنیٰ رکھنے کے لیے ایک وفد مرتب کیا گیا۔
27؍دسمبر1948ء کو ایک پریس کانفرنس کے ذریعہ حضرت شیخ الاسلام کے متعلق نیشنل ہیرالڈ کی دروغ گوئی کا پردہ فاش کیا گیا۔
اسی تاریخ کو اطراف دہلی میں تباہ شدہ دیہات میں ریلیف ورک انجام دیاگیا۔
حکومت کشمیر کے بے جا تشدد، شیخ عبداللہ اور ان کے رفقا کی گرفتاری پر صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔