3 Sept 2026

یمن: مختصر تاریخی جائزہ اور جمعیت علمائے ہند کا موقف

 یمن: مختصر تاریخی جائزہ اور جمعیت علمائے ہند کا موقف

محمد یاسین جہازی

یمن جزیرۂ عرب کے جنوب مغربی حصے میں واقع ہے۔ انیسویں صدی میں عثمانیوں نے دوبارہ یمن میں پیش قدمی کی اور 1872ء میں صنعاء پر قبضہ کرکے شمالی یمن میں اپنا اقتدار بحال کیا، تاہم زیدی اماموں اور قبائل کی مزاحمت جاری رہی۔ دوسری طرف 19 جنوری 1839ء کو برطانیہ نے عدن پر قبضہ کرلیا۔ 1869ء میں نہرِ سویز کھلنے کے بعد عدن برطانیہ کے ہندوستان اور مشرق بعید کے بحری راستے کا اہم فوجی و تجارتی مرکز بن گیا اور 1937ء میں اسے باقاعدہ برطانوی کراؤن کالونی بنا دیا گیا۔

جنگِ عظیم اول کے دوران شمالی یمن عثمانی اقتدار اور زیدی اماموں کے اثر میں، جبکہ عدن اور جنوبی علاقوں پر برطانوی اثر و تسلط تھا۔ 30 اکتوبر 1918ء کو معاہدۂ مدروس کے بعد عثمانی فوجیں یمن سے نکل گئیں اور امام یحییٰ حمید الدین نے شمالی یمن میں خود مختار حکومت قائم کی، جو متوکلی مملکتِ یمن کے نام سے معروف ہوئی۔ امام یحییٰ 1918ء تا 1948ء حکمران رہے، ان کے قتل کے بعد ان کے بیٹے امام احمد نے 1962ء تک حکومت کی۔

22 مارچ 1922ء کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے سلطنت عثمانیہ کی حدود کے متعلق اپنے موقف میں یمن کو بھی شامل کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ عربی زبان والے علاقوں، جن میں یمن بھی شامل تھا، کو کسی غیر مسلم حکومت کے ادنیٰ دخل و اثر کے بغیر خلیفۃ المسلمین سلطانِ ترکی کے زیر اقتدار داخلی آزادی دی جائے۔

11 تا 14 مارچ 1926ء جمعیت علمائے ہند کے ساتویں اجلاس عام میں حضرت مولانا سید سلیمان ندویؒ نے یمن کے متعلق خبردار کیا کہ اٹلی یمن پر قبضے کی کوشش کرسکتا ہے اور یمن کے اقتصادی تعلقات بڑھا رہا ہے؛ اس لیے سلطان ابن سعود اور امام یحییٰ کو یورپی طاقتوں سے معاہدات کرتے وقت پوری احتیاط برتنی چاہیے۔

1962ء سے 1970ء تک یمن میں جمہوری حکومت کے حامیوں اور سابق زیدی امامتی نظام کے حامیوں کے درمیان خانہ جنگی ہوئی۔ جمہوری دھڑے کو مصر کے صدر جمال عبدالناصر کی حمایت حاصل تھی، جبکہ شاہی دھڑے کو سعودی عرب اور بعض دوسرے عرب ممالک کی مدد حاصل تھی۔ جنگ ختم کرانے کی کوشش میں 24 اگست 1965ء کو جدہ میں شاہ فیصل اور جمال عبدالناصر کے درمیان معاہدہ ہوا، جس میں یمن میں جنگ بندی، بیرونی فوجی امداد کے خاتمے اور یمنی عوام کے ذریعے مستقبل کے نظام حکومت کا فیصلہ کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اسی سلسلے میں 23 نومبر 1965ء کو حَرَض کانفرنس ہوئی، مگر فریقین کے اختلافات کے باعث یہ کوشش کامیاب نہ ہوسکی۔

جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی حضرت مولانا سید اسعد مدنیؒ نے شاہ فیصل اور جمال عبدالناصر کے درمیان مفاہمت پر دونوں کو مبارک باد دی۔ صدر جمال عبدالناصر کا جوابی تار 10 ستمبر 1965ء کو موصول ہوا، جس میں انہوں نے مولانا اسعد مدنی اور مسلمانانِ ہند کے مخلصانہ جذبات پر شکریہ ادا کیا۔

بعد کے دور میں بھی جمعیت علمائے ہند نے یمن کے حالات پر توجہ دی۔ 13 دسمبر 1982ء کو شمالی یمن کے دَمَار علاقے میں شدید زلزلہ آیا، جس میں تقریباً 2800 افراد جاں بحق، 1500 زخمی اور تقریباً سات لاکھ افراد بے گھر ہوئے۔ 18 و19 دسمبر 1982ء کی مجلس عاملہ میں جمعیت نے یمنی عوام اور حکومت سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا اور اس سانحے میں ہندوستانی مسلمانوں کی شرکتِ غم کا اعلان کیا۔

2011ء میں عرب بہار کے دوران یمن میں صدر علی عبداللہ صالح کے خلاف احتجاج شروع ہوئے۔ 23 نومبر 2011ء کو صالح نے ریاض میں اقتدار کی منتقلی کے معاہدے پر دستخط کیے، جس کے بعد 21 فروری 2012ء کو صدارتی انتخاب ہوا اور 27 فروری 2012ء کو عبدربہ منصور ہادی نے اقتدار سنبھالا۔

لیکن سیاسی بحران ختم نہ ہوا۔ حوثی تحریک نے منصور ہادی حکومت کے خلاف بغاوت کرکے ملک کے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا، جس کے نتیجے میں ہادی کو صنعاء سے نکل کر سعودی عرب پناہ لینا پڑی۔ مارچ 2015ء میں ان کی درخواست پر سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے حوثیوں کے خلاف فوجی کارروائی شروع کردی، جس سے یمن کی خانہ جنگی مزید شدید ہوگئی۔ جمعیت علمائے ہند نے اس جنگ کو طاقت کے بجائے مذاکرات، جنگ بندی، انسانی حقوق کے تحفظ اور تمام طبقات کی مناسب سیاسی نمائندگی کے ذریعے حل کرنے پر زور دیا۔

13 نومبر 2016ء کو جمعیت کے اجلاس میں مولانا محمد سلمان منصورپوریؒ نے یمن کی جنگ اور وہاں ہونے والی تباہی پر تشویش ظاہر کی، جبکہ صدر جمعیت مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوریؒ نے یمن میں مسلم ممالک کے باہم جنگ میں مصروف ہونے اور عالمی طاقتوں کے کردار پر افسوس کا اظہار کیا۔ اسی اجلاس کی تجویز میں سعودی اتحاد کی جنگ، انسانی بحران اور ایران و سعودی عرب کی علاقائی کشمکش کے پس منظر میں فوری سیاسی مذاکرات، انسانی حقوق کی پاس داری اور اقوام متحدہ کی تجاویز کے ذریعے مسئلہ حل کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

بعد کے برسوں میں بھی جمعیت نے یمن کی صورت حال پر تشویش برقرار رکھی۔ 28 و29 مئی 2022ء کی مجلس منتظمہ اور 12 فروری 2023ء کے چونتیسویں اجلاس عام میں یمن سمیت عالم اسلام کے بحرانوں پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے متعلقہ حکمرانوں اور عوام سے باہمی اختلافات ترک کرکے سیاسی بصیرت اور باہمی گفت وشنید کے ذریعے مسائل حل کرنے کی اپیل کی گئی۔

اس طرح یمن کی تاریخ میں عثمانی اقتدار، برطانوی تسلط، امامتی حکومت، خانہ جنگی، عرب بہار اور موجودہ سیاسی بحران کے مختلف ادوار گزرے ہیں؛ جبکہ جمعیت علمائے ہند نے مختلف ادوار میں یمن کی خود مختاری، وہاں کے مسلمانوں کے تحفظ، جنگ کے خاتمے، سیاسی مفاہمت اور امن کے قیام کے لیے اپنے موقف اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔

2 Sept 2026

نیپال اور جمعیت علمائے ہند

 نیپال اور جمعیت علمائے ہند

محمد یاسین جہازی

یکم اپریل 1955ئ کوحکومت ہند کے وزیر داخلہ جی بی پنت نے ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا محمد حفظ الرحمانؒ کو خط لکھ کر الجمعیۃ میں 24اور 25/مارچ 1955ئ کو نیپال کے بارے میں شائع ہونے والے مضامین پر حکومت کی تشویش سے آگاہ کیا اور پڑوسی ملک ہونے کی وجہ سے الفاظ کے انتخاب میں احتیاط کی ہدایت کی۔ اصل خبر 22/مارچ 1955ئ کے اسٹیٹس مین سے لی گئی تھی۔ 7/اپریل 1955ئ کو مولانا حفظ الرحمانؒ نے جواب دیا کہ الجمعیۃ قومی نقطہ¿ نظر کی حامی ہے ، تاہم خبر دوبارہ شائع کرنا اور 25/مارچ کے مزاحیہ کالم کے تبصرے افسوس ناک تھے ؛ انھوں نے متعلقہ مدیر کو آئندہ ایسی بات نہ دہرانے کی تنبیہ کردی۔

10/اکتوبر 1971ئ کو نیپال کے ترائی علاقے ، خصوصاً راوتہٹ اور بارا اضلاع میں گائے ذبح کیے جانے کی افواہ کے بعد ہندو مسلم فرقہ وارانہ فساد ہوا۔ 51/افراد ہلاک اور تقریباً 64/لاکھ نیپالی روپے کی املاک تباہ ہوئیں۔ حکومت نے پولیس کے ذریعے حالات قابو کیے ، تحقیقاتی کمیشن قائم کیا اور مجرموں کے خلاف کارروائی کی۔ 18/اکتوبر 1971ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ نے شاہ نیپال کو برقیہ بھیج کر قتل و غارت، لوٹ مار اور مسلمانوں کے جان و مال کے نقصان پر تشویش ظاہر کی اور نقصانات کی تلافی اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔

15،16/جنوری 1972ئ کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے تجویز نمبر 9 کے ذریعے شاہ نیپال کی جانب سے فساد کے بعد کیے گئے اقدامات کی تحسین کی؛ خصوصاً مجرموں کی گرفتاری، افسران کی معطلی، مسلمانوں کی دوبارہ آبادکاری و امداد اور آئندہ فرقہ وارانہ فساد روکنے کے لیے آئینی و عملی اقدامات کو قابلِ تقلید قرار دیا۔

31/جنوری 1972ئ کو شاہ مہندر کا انتقال ہوا۔ 15،16/اپریل 1972ئ کی مجلس عاملہ میں جمعیت نے ان کی وفات پر گہرے رنج کا اظہار کیا اور 1971ئ کے فساد کے بعد انصاف پسندانہ اقدامات، مجرموں کی گرفتاری، افسران کی معطلی اور متاثرہ مسلمانوں کی آبادکاری کے لیے ان کی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔

26/جون 1979ئ کومولانا اسعد مدنیؒ نے کلکتہ میں خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آر ایس ایس نیپال کے سرحدی علاقوں میں تربیتی کیمپ اور سرگرمیاں چلا رہی ہے اور نیپال کے راستے اسلحہ کی ترسیل کے بارے میں تشویش ظاہر کی۔ 25،26/نومبر 1983ئ کو انھوں نے مزید الزام عائد کیا کہ نیپال میں آر ایس ایس کے لیے مالی وسائل جمع کیے گئے اور سرحدی تربیتی کیمپوں کے ذریعے غیر قانونی اسلحہ ہندستان میں پہنچایا گیا۔

19/جنوری 1996ئ کی مجلس عاملہ میں ہماچل پردیش اور نیپال وغیرہ میں قادیانیت کے پھیلا¶ سے متعلق مجلس تحفظ ختم نبوت کی رپورٹ پیش ہوئی۔ فیصلہ ہوا کہ نیپال ایک الگ ملک ہونے کی وجہ سے وہاں کے لوگوں سے معلومات حاصل کرکے اپریل، یا مئی 1996ئ میں مناسب مقام پر اجتماع کیا جائے۔ 11/جون 1996ئ کو دوبارہ اس مسئلے پر غور ہوا اور نیپال میں علما کا اجتماع، متاثرہ علاقوں کی نشاندہی، دارالعلوم دیوبند سے رابطہ، تبلیغی جماعت کو متوجہ کرنے اور ردِ قادیانیت کے لیے کارکن مقرر کرنے کی تجاویز پیش کی گئیں۔

یکم ستمبر 2004ئ کو عراق میں 12/نیپالی مزدوروں کے قتل کے ردِعمل میں کاٹھمنڈو میں ہنگامے ہوئے ، جامع مسجد کو نذرِ آتش کیا گیا اور مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ فسادات میں 7/افراد ہلاک ہوئے ، جن میں چار مسلمان ہجوم کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ 10/ستمبر 2004ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ نے جامع مسجد جلائے جانے اور مسلمانوں کے قتل پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومتِ نیپال سے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور واقعے کو فرقہ وارانہ تعصب کے بجائے انصاف کے ساتھ دیکھنے کا مطالبہ کیا۔

25/اپریل 2015ئ کو نیپال میں 7.8/شدت کا تباہ کن زلزلہ آیا، جس کے بعد 12/مئی 2015ئ کو بھی بڑا زلزلہ آیا۔ مجموعی طور پر 8,800/سے زائد افراد ہلاک، 22,000/سے زائد زخمی ہوئے ، پانچ لاکھ سے زائد مکانات مکمل اور تقریباً 2.7/لاکھ جزوی طور پر تباہ ہوئے ، جب کہ مالی نقصان تقریباً 7/ارب ڈالر تھا۔ 27/اپریل 2015ئ کو جمعیت نے متاثرین سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے فوری طور پر 5 /لاکھ روپے ریلیف کے لیے جاری کیے۔

14،15/مئی 2015ئ کو مجلس عاملہ نے نیپال کے زلزلہ زدگان کے لیے ایک کروڑ روپے کا بجٹ منظور کیا، جب کہ ہنگامی حالات میں ریلیف کے لیے بھی الگ ایک کروڑ روپے مختص کیے گئے۔

10/جون 2015ئ کو جمعیت علمائے ہند اور جمعیت علمائے نیپال نے زلزلہ متاثرہ ضلع گورکھا میں جزوی بازآبادکاری شروع کی اور متاثرہ خاندانوں میں رہائشی شیڈ تقسیم کیے۔ 19،25/جون 2015ئ کے الجمعیۃ کے مطابق گورکھا کے ڈیرہ گا¶ں میں 62/گھر، آرے سوری میں 26/گھر، اہالے میں 4/گھر اور کاٹھمنڈو و اطراف میں 74/شیڈ تقسیم کیے گئے۔ جمعیت کا وفد بھی امدادی کاموں کا جائزہ لینے نیپال گیا۔

10،11/فروری 2023ئ کو جمعیت علمائے نیپال کے صدر اور رکن پارلیمنٹ مولانا خالد قاسمی نے جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ میں خطاب کیا۔ انھوں نے جمعیت کے بقائے باہم اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے نظریے کو سراہا اور بتایا کہ 2008ئ میں مولانا محمود اسعد مدنیؒ کے نیپال دورے کے موقع پر جمعیت علمائے نیپال کا قیام عمل میں آیا۔ مولانا مدنیؒ نے نیپال کی دستور سازی کے دوران مسلمانوں کے حقوق کے لیے کوشش کرنے کی نصیحت کی، جس کے نتیجے میں ان کے مطابق نیپال کے دستور میں 20/مقامات پر مسلمانوں کا ذکر شامل ہوا۔

21،22/نومبر 2025ئ کو مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ کی حیات و خدمات پر منعقدہ دو روزہ سیمینار میں مولانا خالد قاسمی نے شرکت کی اور خطاب میں جمعیت کے اکابر کی سیاسی بصیرت، خدمتِ خلق، دینی جدوجہد اور امت کے مسائل سے درد مندانہ وابستگی کو اجاگر کیا۔ انھوں نے علما میں سیاسی شعور پیدا کرنے اور اکابر کے درد و تڑپ کو زندہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔

مجموعی طور پر: نیپال کے سلسلے میں جمعیت علمائے ہند کی سرگرمیوں میں پڑوسی ملک کے ساتھ ذمہ دارانہ صحافتی رویہ، فرقہ وارانہ فسادات پر مسلمانوں کے تحفظ کا مطالبہ، حکومتِ نیپال کے انصاف پسندانہ اقدامات کی تحسین، مذہبی و فکری مسائل پر توجہ، اور قدرتی آفات کے موقع پر مالی و عملی امداد نمایاں طور پر شامل رہی ہے۔

28 Aug 2026

متحدہ عرب اور جمعیت علمائے ہند: پس منظر، فیصلے اور خدمات


متحدہ عرب اور جمعیت علمائے ہند: پس منظر، فیصلے اور خدمات 

محمد یاسین جہازی

عرب اتحاد کی کوششوں میں چار اہم تجربے سامنے آئے:

 (۱)عرب لیگ، جو22/مارچ 1945ئ کو قائم ہوئی۔

 (۲) متحدہ عرب جمہوریہ: جو 22/فروری 1958ئ کو مصر و شام کے اتحاد سے وجود میں آئی اور 28/ستمبر 1961ئ کو شام کی علاحدگی سے ختم ہوگئی۔

(۳) متحدہ عرب ریاستیں:جو مصر، شام اور شمالی یمن کا کنفیڈریشن تھا، جو شام کی علاحدگی کے بعد دسمبر 1961ئ میں ختم ہوگیا۔

(۴)متحدہ عرب امارات: جو 2/دسمبر 1971ئ کو چھ امارات کے اتحاد سے قائم ہوا اور فروری 1972ئ میں راس الخیمہ کی شمولیت سے سات امارات مکمل ہوئے۔

عرب لیگ کے ساتھ جمعیت علمائے ہند کے تعلقات

جمعیت علمائے ہند نے عرب دنیا کے مسائل؛ خصوصاً فلسطین، مراکش، تیونس، مصر اور الجزائر کے معاملات میں مسلسل حمایت کا موقف اختیار کیا۔ فلسطین کی بگڑتی صورت حال پر 2/نومبر 1945ئ کو مولانا محمد حفظ الرحمانؒ صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے پورے ہندستان میں ’’یوم فلسطین‘‘ منانے کی اپیل کی اور عرب لیگ کے اعلان کی تائید کی۔

21/جون 1946ئ کو عرب لیگ کے سکریٹری عبد الرحمان اعظم نے جمعیت کے فلسطین سے متعلق پیغام کے جواب میں ہندستانی مسلمانوں کی ہمدردی کو عربوں کے لیے بڑی قوت قرار دیا۔ 9/جون 1948ئ کو عزام پاشا نے مولانا حسین احمد مدنیؒ کے نام تار بھیجا اور ہندستانی مسلمانوں کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔

18/مارچ 1951ئ کو جمعیت نے مراکش میں فرانسیسی مظالم کے خلاف عرب لیگ کے جنرل سکریٹری عزام پاشا کو احتجاجی تار بھیجا۔ 16/نومبر 1951ئ کو مصر و ایران کے حق میں دعا¶ں کی اپیل کی گئی، جس پر 5 /دسمبر 1951ئ کو عرب لیگ کی طرف سے شکریہ کا جواب موصول ہوا۔ 22/اگست 1963ئ کو مراکش اور تیونس میں فرانسیسی جبر کے خلاف عرب لیگ کو پھر احتجاجی مکتوب بھیجا گیا۔

26/فروری 1965ئ کو جمعیت نے عرب لیگ کے سکریٹری جنرل عبد الخالق حسونہ کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔ اس موقع پر جمعیت نے فلسطین اور الجزائر کی حمایت، مصر پر استعماری حملے کی مخالفت اور عرب اتحاد کے لیے اپنی وابستگی کا اظہار کیا؛ حسونہ نے بھی فلسطین کی آزادی اور عرب حقوق کی بحالی کے لیے جمعیت کی حمایت کا شکریہ ادا کیا۔

متحدہ عرب جمہوریہ اور جمال عبد الناصر سے تعلق

جمعیت نے 23/فروری 1960ئ کو جمال عبد الناصر کے ہندستانی دورے کے موقع پر ان کے اعزاز میں استقبالیہ کی درخواست کی، جسے حکومت ہند نے 5/مارچ 1960ئ کو منظور کیا؛ چنانچہ 30/مارچ 1960ئ کو جمعیت نے صدر ناصر کے اعزاز میں استقبالیہ دیا۔ خطاب میں ان کی استعمار مخالف جدوجہد، نہر سویز، بانڈونگ کانفرنس، امن پسندی اور ہندõعرب تعلقات کو سراہا گیا۔

3/جون 1965ئ کو متحدہ عرب جمہوریہ کے فوجی اتاشی کرنل عبد الستار کے اعزاز میں الوداعی تقریب ہوئی، جب کہ 23/جولائی 1965ئ کو یوم آزادی کے موقع پر مولانا اسعد مدنیؒ نے صدر ناصر کو مبارک باد کا پیغام بھیجا۔

15 تا 17/اپریل 1966ئ کے جمعیت کے بائیسویں اجلاس میں عرب لیگ کے سکریٹری جنرل عبد الخالق حسونہ اور عرب لیگ کے نمائندے نے جمعیت کی فلسطین، عرب حقوق، ناوابستگی اور سامراج دشمنی کے موقف کو سراہا۔

1967ئ کی عرب اسرائیل جنگ اور جمعیت کا ردعمل

1967ئ کے بحران میں جمعیت نے عرب ممالک کی بھرپور حمایت کی۔ 23/مئی 1967ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ نے ہندستانی وزیر اعظم، وزیر خارجہ، اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور عرب سربراہوں کو اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاجی تار بھیجے۔ 27/مئی 1967ئ کو شام اور متحدہ عرب جمہوریہ کے سفیروں سے ملاقات کی گئی، جب کہ 28/مئی 1967ئ کو دہلی میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف بڑا احتجاجی اجلاس منعقد ہوا۔جس میں ساٹھ ہزار سے زائد افرادنے شرکت کی اورامریکی انفارمیشن سینٹر کو ایک یادداشت دی گئی، جس میں اسرائیل سے بیت المقدس، متحدہ عرب جمہوریہ، شام اور اردن کے مقبوضہ علاقوں سے انخلا کا مطالبہ کیا گیا۔

 10/اگست 1967ئ کی قومی کانفرنس نے بھی متحدہ عرب جمہوریہ، شام اور اردن پر اسرائیلی حملے کی مذمت اور عرب آزادی کی جدوجہد کی حمایت کی۔ 23–24/ستمبر 1967ئ کی مجلس منتظمہ نے اسرائیلی مظالم کی مذمت کی، جب کہ 24/ستمبر 1967ئ کی عرب تعاون کانفرنس میں ہندستانی مسلمانوں کی طرف سے عرب سفرا کو ایک لاکھ چالیس ہزار روپے نقد اور پینتیس ہزار روپے کا سامان امداد پیش کیا گیا۔

مسلسل سفارتی و عملی تعاون

23/جنوری 1968ئ کو متحدہ عرب جمہوریہ کی مجلس اعلیٰ برائے امور اسلامیہ کے وفد کا جمعیت کے دفتر میں استقبال کیا گیا۔ جمعیت نے فلسطین کے مسئلے پر اپنی مسلسل حمایت کا اعادہ کیا اور وفد نے قرآن کریم کے ریکارڈ، نماز وغیرہ کے ریکارڈ اور جمعیت کی لائبریری کے لیے 500 کتابیں دینے کا اعلان کیا۔

12/مارچ 1969ئ کو متحدہ عرب جمہوریہ کے سفیر نے عرب بحران کے وقت جمعیت کی بھرپور حمایت اور ہمدردی کا شکریہ ادا کیا۔ 13/مارچ 1969ئ کو جنرل ریاض کی وفات پر جمعیت کی تعزیت کا جواب بھی موصول ہوا۔

6/جون 1969ئ کو دہلی میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف جلسہ ہوا اور مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل 1967ئ میں قبضہ کیے گئے عرب علاقوں سے نکلے اور اقوام متحدہ کی نومبر1967ئ کی قرارداد پر عمل کرایا جائے۔

29/اگست 1969ئ کو مسجد اقصیٰ کو آگ لگائے جانے کے خلاف جمعیت نے بڑا احتجاجی اجلاس کیا۔ اسی سال 16/ستمبر 1969ئ کو رباط کی اسلامی کانفرنس میں ہندستان کو دعوت نہ دیے جانے پر جمعیت نے احتجاج کیا، کیوںکہ اس کے نزدیک ہندستانی مسلمانوں کو عالم اسلام سے الگ کرنا ناانصافی پر مبنی تھا۔ 23/نومبر 1969ئ کو عرب سفرا کے لیے افطار کا اہتمام کیا گیا۔

23/جولائی 1970ئ کو صدر ناصر کو یوم انقلاب کی مبارک باد دی گئی۔ 29/ستمبر 1970ئ کو جمال عبد الناصر کی وفات پر جمعیت نے فوری تعزیت کی اور 25–26/اکتوبر 1970ئ کی مجلس عاملہ نے ان کی خدمات، فلسطین اور عرب آزادی کے لیے جدوجہد کو خراج عقیدت پیش کیا۔

متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعلق

متحدہ عرب امارات کے قیام کے بعد جمعیت کے روابط بھی سامنے آئے۔ 9–10/اپریل 1975ئ کی مجلس عاملہ نے شیخ زاید بن سلطان آل نہیان کی طرف سے جمعیت کو دی گئی تین لاکھ روپے کی خطیر مالی امداد پر شکریہ کی قرارداد منظور کی اور ان کی دینی و تعلیمی اداروں کی سرپرستی کو سراہا۔

24/نومبر 1975ئ کو متحدہ عرب امارات کے ثقافتی مشیر شیخ عز الدین ابراہیم کے اعزاز میں استقبالیہ دیا گیا۔ انھوں نے ہندستانی مسلمانوں کے ساتھ مذہبی اور دوستانہ دونوں رشتوں کو اہم قرار دیا اور دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط بنانے کی خواہش ظاہر کی۔ جمعیت نے بھی عرب مسائل، فلسطین اور عرب عوام کی حمایت کو اپنا قدیم اور مستقل موقف قرار دیا۔

خلاصہ¿ مجموعی موقف

جمعیت علمائے ہند کے عرب دنیا سے تعلقات کی بنیادی وجہ اسلامی اخوت، استعمار مخالف جدوجہد، فلسطین کی آزادی، عرب ممالک کی خودمختاری اور مظلوم اقوام کی حمایت تھی۔ اس مقصد کے لیے جمعیت نے محض بیانات تک خود کو محدود نہیں رکھا؛ بلکہ 1945ئ سے 1975ئ تک یوم فلسطین منانے ، عرب لیگ سے خط و کتابت، احتجاجی تار بھیجنے ، عرب سفرا و وفود کے استقبال، احتجاجی جلسوں، قومی کانفرنسوں، قراردادوں، مظاہروں، مالی و مادی امداد اور عرب رہنما¶ں سے مسلسل رابطے کے ذریعے عملی کردار ادا کیا۔ فلسطین اور عرب علاقوں پر اسرائیلی قبضے کے خلاف اس کا بنیادی مطالبہ یہ رہا کہ مقبوضہ عرب علاقوں سے اسرائیلی انخلا، فلسطینی حقوق کی بحالی اور بیت المقدس کی آزادی کو یقینی بنایا جائے۔

یوں جمعیت کی پالیسی میں عرب لیگ، متحدہ عرب جمہوریہ، بعد ازاں متحدہ عرب امارات اور دیگر عرب ممالک کے ساتھ تعلقات محض سفارتی روابط نہیں تھے ؛ بلکہ انھیں فلسطین، عرب آزادی، اسلامی اخوت اور استعمار مخالف جدوجہد کی حمایت کا ذریعہ سمجھا گیا۔

18 Aug 2026

نبی اکرم ﷺ کی تاریخ ولادت اور تاریخ وفات کیا ہے؟

 نبی اکرم ﷺ کی تاریخ ولادت اور تاریخ وفات کیا ہے؟

محمد یاسین جہازی

تاریخ ولادت: 12/ربیع الاول: اعلی حضرت مولانا احمد رضا صاحب۔

تاریخ ولادت:9/ربیع الاول : محمود پاشا فلکی مشہور مصری ہیئت داں ۔

تاریخ ولادت:9/ربیع الاول، مطابق20/اپریل 571ء بروز پیر:ماہر فلکیات مولانا ثمیر الدین قاسمی چیئرمین ہلال کمیٹی لندن۔ 

اقرب الی الصواب: ناسا کے کلینڈر کے حساب سے 12/ربیع الاول23؍اپریل 571 کو جمعرات کا دن پڑتا ہے، جب کہ  یوم پیدائش پیر کے روز ہے۔ اس لیے اقرب الی الصواب 9/ربیع الاول، مطابق20/اپریل 571ء بروز پیر ہے، جیسا کہ دونوں ماہرین فلکیات متفق ہیں۔

تاریخ وفات: 12/ربیع الاول11ھ: اعلی حضرت مولانا احمد رضا صاحب۔

تاریخ وفات: یکم ربیع الاول 11ھ، مطابق27/مئی632:محمود پاشا فلکی ۔

تاریخ وفات: 13/ربیع الاول11ھ، مطابق8/جون632:مولانا ثمیر الدین قاسمی۔

اقرب الی الصواب:12/ربیع الاول11ھ ، مطابق 7؍جون 632 کو اتوار کا دن ہوتا ہے، جب کہ پیر کا دن ہونا ضروری ہے۔لہذا اعلیٰ حضرت کا قول درست معلوم نہیں ہوتا۔

  اسی طرح یکم  ربیع الاول 11ھ، مطابق27/مئی632 کوبدھ کا روز پڑتا ہے، جب کہ پیر کا دن ہونا ضروری ہے۔ لہذا محمود پاشا فلکی  کا قول بھی درست معلوم نہیں ہوتا۔

البتہ 13/ربیع الاول11ھ، مطابق8/جون632 کو پیر کا دن پڑتا ہے، اس لیے مولانا ثمیر الدین قاسمی صاحب کا قول ہی اقرب الیٰ الصواب معلوم ہوتا ہے۔ واللہ اعلم بالصواب۔

سرور کائنات ﷺ کی تاریخ ولادت کے حوالے سے حضرت فاضل بریلوی نور اللہ مرقدہ نے دو الگ الگ سوالوں کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ بالاتفاق دو شنبہ اور صحیح و مشہور قول جمہور ماہ ربیع الاول ہے۔ اس کے بعد کئی صفحات تک علما کے اقوال و تحقیق پیش کی ہے۔ پھر آگے لکھا ہے کہ سائل نے تاریخ کے بارے میں سوال نہیں کیا ہے، تاہم حضرت ؒ نے تاریخ بتاتے ہوئے 12/ کو درست قرار دیا ہے۔ اور پھر مختلف اقوال پیش کیے ہیں ۔ تفصیلات کے لیے دیکھیں : نطق الہلال بارخ ولادۃ الحبیب والوصال، ص/4)

تاریخ ولادت کے حوالے سے علامہ شبلی نعمانی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں کہ

”تاریخ ولادت کے متعلق مصر کے مشہور ہیئت دان عالم محمود پاشا فلکی نے ایک رسالہ لکھا ہے، جس میں انھوں نے دلائل ریاضی سے ثابت کیا ہے کہ آپ کی ولادت 9/ ربیع الاول روز دوشنبہ، مطابق 20/ اپریل 571میں ہوئی تھی“۔ (سیرۃ النبی،ج/1، ص/ 136)

اس مقام پر محشی رقم طراز ہیں کہ

”محمود فلکی نے جو استدلال کیا ہے، وہ کئی صفحوں میں آیا ہے، اس کا خلاصہ یہ ہے۔ (۱) صحیح بخاری میں ہے کہ ابراہیم رضی اللہ عنہ (آں حضرت ﷺ کے صغیر السن صاحب زادے) کے انتقال کے وقت آفتاب میں گہن لگا تھا (ابواب الکسوف، باب الصلاۃ فی کسوف الشمس، 1043) اور 10ھ تھا۔ (اور اس وقت آپ کی عمر کا تریسٹھواں سال تھا۔ (۲) ریاضی قاعدے کے حساب لگانے سے معلوم ہوتا ہے کہ 10ھ کا) گرہن 7/ جنوری 632، 8/ بج کر 30منٹ پر لگا تھا۔ (۳) اس حساب سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر قمری 63برس پیچھے ہٹیں تو آ پ کی پیدائش کا سال 571 جس میں از روئے قواعد ہیئت ربیع الاول کی پہلی تاریخ 12/ اپریل 571کے مطابق تھی۔ (۴) تاریخ ولادت میں اختلاف ہے؛ لیکن اس قدر متفق علیہ ہے کہ وہ ربیع الاول کا مہینہ اور دو شنبہ کا دن تھا اور تاریخ 8سے لے کر 12/ تک میں منحصر ہے۔ (۵) ربیع الاول مذکور کی ان تاریخوں میں دو شنبہ کا دن نویں تاریخ کو پڑتا ہے، ان وجود کی بنا پر تاریخ ولادت قطعا 20/ اپریل 571تھی۔“ (حاشیہ سیرۃ النبی، جلد اول، ص/137)

تاریخ وفات

حضرت فاضل بریلوی رحمۃ اللہ علیہ نے اپنے رسالہ نطق الہلال بارخ ولادۃ الحبیب والوصال کے فصل دوم میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ”قول و مشہور و معتمد جمہور دوازدہم ربیع الاول شریف ہے۔“ (سلسلہ رسائل فتاویٰ رضویہ، جلد چھبیسویں ، رسالہ نمبر4، ص/ 11)۔ پھر کے اس کے بعد متعدد روایتوں کا تذکرہ کرنے کے بعد قول جمہور کو ہی اقرب الیٰ الصواب بتایا ہے۔

صاحب سیرت النبی ﷺ نے قمری مہینوں کا حساب لگاکر ثابت کیا ہے کہ چوں کہ سوموار کا دن ہونا قطعی الثبوت ہے اور 12ربیع الاول کو سوموار ہوتا ہی نہیں ہے، لہذا یہ تاریخ ہوہی نہیں سکتی؛ البتہ صحیح امکانی صورت یکم ربیع الاول ہے، اس لیے تاریخ وفات نبوی ﷺ یکم ربیع الاول ہے۔ تفصیلات کے لیے سیرت النبی کی مکمل عبارت پیش خدمت ہے۔

”تاریخ وفات کی تعیین میں راویوں کا اختلاف ہے۔ کتب حدیث کا تمام تر دفتر چھان ڈالنے کے بعد بھی تاریخ وفات کی مجھ کو کوئی روایت احادیث میں نہیں مل سکی۔ ارباب سیر کے ہاں تین روایتیں ہیں : یکم ربیع الاول۔ دوم ربیع الاول اور 12/ ربیع الاول۔ ان تینوں روایتوں میں باہم ترجیح دینے کے لیے اصول روایت و درایت دونوں سے کام لینا ہے۔ اور روایت دوم ربیع الاول کی روایت،ہشام بن محمد بن سائب کلبی اور ابو مخنف کے واسطہ سے مروی ہے۔ (طبری، ج/4، ص/ 1815)۔ اس روایت کو گو اکثر قدیم مورخوں (مثلا یعقوبی و مسعود وغیرہ) نے قبول کیا ہے؛ لیکن محدثین کے نزدیک یہ دونوں مشہور دروغ گو اور غیر معتبر ہیں ۔ یہ روایت واقدی سے بھی ابن سعد و طبری نے نقل کی ہے۔ (طبقات ابن سعد، جز 2، ص/ 57، جز وفات)۔ لیکن واقدی کی مشہور ترین روایت جس کو اس نے متعدد اشخاص سے نقل کیا ہے، وہ 12/ ربیع الاول کی ہے۔ (ایضا، ص/ 58) البتہ بیہقی نے دلائل میں بسند صحیح سلیمان التیمی سے دوم ربیع الاول کی روایت نقل کی ہے۔ (نور النبراس ابن سید الناس ذکر وفات)۔ لیکن یکم ربیع الاول کی روایت ثقہ ترین ارباب سیر موسیٰ بن عقبہ سے اور مشہور محدث امام لیث مصری سے مروی ہے۔ (فتح الباری، ج/8، ص/ 98)۔ امام سہیلی نے روض الانف میں اسی روایت کو اقرب الیٰ الحق لکھا ہے۔ (ج/2، ص/372 ذکر وفات مطبع جمالیہ مصر: 1332ھ/ 1914)۔ اور سب سے پہلے امام مذکور ہی نے درایۃ اس نکتہ کو دریافت کیا کہ 12/ ربیع الاول کی روایت قطعا ناقابل تسلیم ہے، کیوں کہ دو باتیں یقینی طور پر ثابت ہیں : روز وفات دو شنبہ کا دن تھا(صحیح البخاری1387، و صحیح مسلم60945) اس سے تقریبا تین مہینے پہلے ذی الحجہ 10ھ کی نویں تاریخ کو جمعہ کا دن تھا۔ (صحیح بخاری، تفسیر الیوم اکملت لکم دینکم: 6:460)۔ 9/ ذی الحجہ 10ھ بروز جمعہ سے 12ربیع الاول ذی الحجہ تک حساب لگاؤ۔ ذی الحجہ، محرم، صفر، ان تینوں مہینوں کو خواہ 29-29، خواہ 30-30۔ بعض 30؛ کسی حالت اور کسی شکل سے 12ربیع الاول کو دو شنبہ کا دن نہیں پڑسکتا۔ اس لیے درایۃ بھی یہ تاریخ قطعا غلط ہے۔ دوم ربیع الاول کے حساب سے اس وقت دو شنبہ پڑسکتا ہے، جب تینوں مہینے 29کے ہوں ۔ جب دو پہلی صورتیں صحیح نہیں ہیں ، تو اب صرف تیسری صورت رہ گئی ہے، جو کثیر الوقوع ہے، یعنی یہ کہ دو مہینے 29کے اور ایک مہینہ 30کا لیا جائے، اس حالت میں یکم ربیع الاول کو دو شنبہ کا روز واقع ہوگا اور یہ ثقہ اشخاص کی روایت ہے۔ ذیل کے نقشہ سے معلوم ہوگا کہ اگر 9/ ذی الحجہ کو جمعہ ہو تو اوائل ربیع الاول میں اس حساب سے دو شنبہ کس کس دن واقع ہوسکتا ہے:

مفروضہ صورت1: ذی الحجہ، محرم اور صفر سب 30دن کے ہوں ،6،13۔

 مفروضہ صورت 2: ذی الحجہ،محرم اور صفر سب29 دن کے ہوں ۔2، 9، 16۔

 مفروضہ صورت 3۔ذی الحجہ29، محرم29اور صفر 30کا ہو۔1،8،15۔

 مفروضہ صورت4: ذی الحجہ 30/ محرم29اور صفر29کا ہو۔1،8، 15۔

 مفروضہ صورت 5: ذی الحجہ29، محرم30اور صفر29کا ہو: 1،8،5۔

مفروضہ صورت6: ذی الحجہ 30، محرم29اور صفر30کا ہو: 7، 14۔

مفروضہ صورت7:ذی الحجہ 30، محرم30اور صفر29کا ہو۔7،14۔

مفروضہ صورت8 : ذی الحجہ 29اور محرم30اور صفر30کا ہو: 7،14۔

ان مفروضہ تاریخوں میں میں سے 6-7-8-9-13-14-15خارج از بحث ہیں کہ علاوہ اور وجوہ کے ان کی تائید میں کوئی روایت نہیں ۔ رہ گئیں یکم اور دوم تاریخیں ۔ دوم تاریخ صرف ایک صورت میں پڑ سکتی ہے، جو خلاف اصول ہے۔ یکم تاریخ تین صورتوں میں واقع ہوسکتی ہے اور تینوں کثیر الوقوع ہیں اور روایت ثقات ان کی تائید میں ہیں ، اس لیے وفات نبوی کی صحیح تاریخ ہمارے نزدیک یکم ربیع الاول 11ھ ہے۔ اس حساب میں فقط رویت ہلال کا اعتبار کیا گیا ہے، جس پر اسلامی قمری مہینوں کی بنیاد ہے، اصول فلکی سے ممکن ہے کہ اس پر خدشات وارد ہوسکتے ہیں ۔ کتب تفسیر میں آیت: الیوم اکملت لکم دینکم، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اس آیت کے یوم نزول (9/ ذی الحجہ10ہجری) سے روز وفات تک کے 81دن ہیں ۔ دیکھو ابن جریر، ج/6ص/44و ابن کثیر، ج/2، ص/ 13و بغوی وغیرہ)۔ ہمارے حساب سے9/ ذی الحجہ10ھ سے لے کریکم ربیع الاول تک دو 29اور ایک مہینہ 30لے کر جو ہماری مفروضہ صورت ہے، پورے 81/ دن ہوتے ہیں ۔ ابو نعیم نے بھی دلائل میں بسند یکم ربیع الاول تک تاریخ وفات نقل کی ہے۔ (ص/146)۔“ (حاشیہ سیر ت النبی، جلد دوم، ص/ 530-31)

جدید تحقیقات

جدید فلکیات کے ماہر حضرت مولانا ثمیر الدین صاحب قاسمی چیئرمین ہلال کمیٹی لندن کی تحقیق یہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کی تاریخ پیدائش9/ربیع الاول، مطابق20/اپریل 571ء (ثمیری کلینڈر ، ص؍29)اور تاریخ وصال13/ربیع الاول11ھ، مطابق8/جون 632ء بروز پیر ہے۔ (ثمیری کلینڈر، ص/341)

ماہر فلکیات مولانا ثمیر الدین قاسمی چیئرمین ہلال کمیٹی لندن لکھتے ہیں کہ:

26؍ جنوری 632ءکی شام کو مکہ مکرمہ کے افق پر پونے سات ڈگری (6:44) ڈگری چاند اونچا تھا ، عام حالات میں ؍9 ڈگری پر چاند نظر آتا ہے ،لیکن پونے سات ڈگری پر دور بین سے نظر آنا ممکن ہے اہل فلکیات ایسا کہتے ہیں ، اس لیے جب9؍ذی الحجہ10ھ  کو جمعہ کا دن مانیں، تو یہ کہنا پڑے گا کہ26؍ جنوری632ء  کی شام کو حضوراکرم ﷺ نے چاند دیکھا اور 27؍ جنوری 632ء کو ذی الحجہ10 ھ کی پہلی تاریخ ہوئی ۔ اور جمعہ کے دن 9؍ ذی الحجہ 10ھ ہوئی ۔ یہ ایک حقیقت ہے۔ (ثمیری کلینڈر، ص؍337)

حضرت ماہر فلکیات اسی کلینڈر میں آگے تحریر فرماتے ہیں کہ:

حضور ﷺ کے وصال کی تاریخ:
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا ...... وَقَالَ لَهَا فِي أَيِّ يَوْمٍ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ : يَوْمَ الاثنين ( بخاری شریف ، باب موت یوم الاثنین ، نمبر 1387)
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضور ﷺ کی وفات پیر کے دن ہوئی ہے۔
سیرت ابن اسحاق ، یا سیرہ ابن ہشام میں 12؍ربیع الاول کا تعین نہیں ہے، البتہ دلائل النبوہ ،بیہقی وغیرہ میں ہے۔
 
عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : تُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى الله عليه وَسَلَّم لاثْنَتَى عَشْرَةَ لَيْلَةً مَضَتْ مِنْ شَهْرٍ ربيع الأول (دلائل النبوة للبیہقی ، باب ماجاء فی الوقت واليوم والشهر ، جلد7ص؍235)
لاثْنَتَى عَشْرَةَ لَيْلَةً مَضَت ، کا ترجمہ 12؍  رات اور 12؍دن دونوں گزر گئے، تو13؍ ربیع الاول کو وفات ہوئی ہے، اور اس دن پیر کا دن ہے، کیوں کہ 12؍ربیع الاول کو ہر حال میں اتوار کا دن ہے، جو حدیث کے خلاف ہوگا۔
حضور ﷺکا وصال 13؍ ربیع الاول 11ھ، مطابق8؍ جون 632ء بروز پیر کو ہونی چاہیے۔ (341)

اور یہ شکل نمبر (1) پر منطبق ہوتا ہے، جس میں ذی الحجہ ، محرم اور صفر تینوں مہینے 30 کے  فرض کیا گیا ہے۔ ماہر فلکیات نے چاند کی ڈگریوں کے حوالے سے ، اسی شکل کی رویت کی تفصیلات پیش کی ہیں۔ دیکھیے: ثمیری کلینڈرازصفحات 337تا 341 )


13 Aug 2026

عراق اور جمعیت علمائے ہند: ایک تاریخی جائزہ

عراق اور جمعیت علمائے ہند 

(خلاصہ)

محمد یاسین جہازی

عراق اور جمعیت علمائے ہند: ایک تاریخی جائزہ

پہلی جنگ عظیم(1914ئتا1918ئ) کے دوران جب ترکی نے جرمنی کا ساتھ دیا، تو بھارتی مسلمانوں کو یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ برطانیہ فتح کے بعد سلطنتِ عثمانیہ، خلافت اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کو نقصان پہنچائے گا۔ اسی خدشے کے پیش نظر برطانیہ سے وعدے لیے گئے کہ مسلمانوں کے مقاماتِ مقدسہ محفوظ رہیں گے اور خلافت کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، اور برطانیہ نے 2/نومبر، 20/اپریل1915ئ اور5/جنوری1916ئ کو مختلف اعلانات کے ذریعے یقین دہانی بھی کرائی؛ لیکن جنگ کے بعد ان وعدوں کی خلاف ورزی کی گئی۔ 30/اکتوبر1918ئ کو مدروس کی عارضی صلح کے بعد عراق سمیت عثمانی علاقوں پر اتحادی طاقتوں کا قبضہ مضبوط ہوگیا، اور10/اگست1920ئ کے معاہدہ¿ سیورے کے تحت عراق کو باقاعدہ برطانیہ کے زیرِ اقتدار دے دیا گیا۔ جمعیت علمائے ہند کے نزدیک یہ مسئلہ محض سیاسی نہیں؛ بلکہ تحفظِ خلافت کا بنیادی حصہ تھا، چنانچہ جب لندن کی صلح کانفرنس(12/فروری تا10/اپریل1920ئ) میں بھی خلافت کے مطالبات تسلیم نہ ہوئے، تو 6/ستمبر1920ئ کو جمعیت نے کلکتہ کے خصوصی اجلاس میں برطانیہ سے ترکِ موالات کی تجویز منظور کی۔ اسی سلسلے میں19،20،21/نومبر1920ئ کے دوسرے اجلاسِ عام میں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے اپنے خطبہ¿ صدارت میں عراق کو خلافت اور اسلامی مقدسات کا مسئلہ قرار دیا اور مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے عراق، شام، فلسطین اور قسطنطنیہ کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا ذکر کیا۔ پھر18،19،20/نومبر1921ئ کے تیسرے اجلاسِ عام میں مولانا ابوالکلام آزادؒ نے واضح کیا کہ عراق کا دو تہائی حصہ، خصوصاً بصرہ اور بغداد، جغرافیائی اعتبار سے جزیرۃ العرب میں شامل ہے، اس لیے جب تک وہاں برطانوی اقتدار باقی رہے گا، مسلمانوں کے لیے برطانیہ سے صلح ناقابلِ قبول ہوگی۔ اسی موقف کو22/مارچ1922ئ کی مجلس عاملہ نے باقاعدہ مطالبے کی صورت دی کہ فلسطین، شام، عراق، عرب، حجاز، نجد اور یمن کو خلیفۃ المسلمین کے زیرِ اقتدار اندرونی آزادی دی جائے، اور18،19،20/اکتوبر1922ئ کی مجلس منتظمہ نے اعلان کیا کہ مطالبہ¿ خلافت خالص مذہبی مطالبہ ہے، جس میں کمی کی گنجائش نہیں۔ 24تا26/دسمبر1922ئ کے چوتھے اجلاس میں مولانا حبیب الرحمان عثمانیؒ نے عراق، شام اور فلسطین کے دفاع کو مسلمانانِ ہند پر فرض قرار دیا۔ 7/نومبر1923ئ کو جمعیت تبلیغیہ نے یہ فیصلہ کیا کہ چوں کہ بغداد میں عیسائی، آریہ اور مرزائی جماعتیں عربی ٹریکٹ شائع کررہی ہیں، اس لیے جواباً عربی ٹریکٹ تیار کرکے عراق بھیجے جائیں، جس کے لیے مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے وعدہ فرمایا۔ اس کے بعد29/دسمبر1923ئ تا یکم جنوری1924ئ کے پانچویں اجلاس عام میں مولانا حسین احمد مدنیؒ نے فرمایا کہ حجاز، یمن، عراق، شام اور فلسطین سب جزیرۃ العرب میں داخل ہیں، اس لیے ان تمام مقامات کو غیر مسلم اقتدار سے پاک رکھنا مسلمانوں کا فریضہ ہے۔ 6/اکتوبر1925ئ کو جمعیت کے صدر مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ نے برطانوی کمیشن کی طرف سے عراق کی حدود کی تعیین کی مخالفت کی، اور16/دسمبر1925ئ کو جب لیگ آف نیشنز نے موصل کو عراق کا حصہ قرار دیتے ہوئے برطانوی مینڈیٹ مزید25/سال بڑھادیا، تو مولانا احمد سعید صاحبؒ نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ 18تا21/جنوری1926ئ کی مجلس عاملہ نے اس فیصلے کو ترکوں کے حق پر ڈاکہ قرار دیا، اور11تا14/مارچ1926ئ کے ساتویں اجلاس عام میں مولانا سید سلیمان ندویؒ نے عراق و شام کو جزیرۃ العرب کا تکمیلی حصہ قرار دیتے ہوئے برطانیہ کے سازشی معاہدوں پر شدید تنقید کی۔

اس کے بعد3،4،5،6/مارچ1939ئ کے گیارھویں اجلاس عام میں ڈاکٹر شوکت اللہ شاہ انصاری اور مولانا سید عبدالحق مدنیؒ نے عراق، یمن، شام اور فلسطین کی استعمار سے آزادی کی کوششوں کا ذکر کیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران25/جون1941ئ کو مجلس عاملہ نے ایک بیان جاری کیا، جس میں عراق سمیت اسلامی ممالک کی مکمل آزادی کا مطالبہ کرتے ہوئے کسی بھی اجنبی طاقت کے اقتدار کو ناقابلِ برداشت قرار دیا۔ 20،21،22/مارچ1942ئ کے تیرھویں اجلاس عام میں مولانا حسین احمد مدنیؒ نے عراق اور ایران پر برطانوی قبضے کا ذکر کیا اور بتایا کہ کیسے راشد علی جیلانی کے معاہدے کی پابندی کے مطالبے پر برطانیہ نے عراق پر ہی قبضہ کرلیا۔ 11/جون1945ئ کو دہلی کی جامع مسجد میں منعقدہ زبردست احتجاجی اجلاس میں مولانا محمد حفظ الرحمان نے شام، لبنان، الجزائر، مراکش، فلسطین اور عراق پر یورپی حکومتوں کے انتداب کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے فوری آزادیِ کامل کا مطالبہ کیا۔ 27تا29/اپریل1951ئ کے سترھویں اجلاس عام کے موقع پر شاہی عراقی سفارت خانے سے پیغام موصول ہوا، اور27تا29/اکتوبر1956ئ کے انیسویں اجلاس عام کے لیے بغداد کے م¶تمر اسلامی کے نائب صدر شیخ محمد محمود صواف کا تہنیتی پیغام آیا۔ 15تا17/اپریل1966ئ کے بائیسویں اجلاس عام میں عراقی صدر فیلڈ مارشل عبدالسلام محمد عارفؒ کی وفات پر رنج و الم کا اظہار کیا گیا۔

1973ئ میں عرب-اسرائیل جنگ(یومِ کپور جنگ) میں عراق و کویت کے اسرائیل کے خلاف شامل ہونے پر7/اکتوبر1973ئ کو جمعیت نے مصر اور شام پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی، اور12/اکتوبر1973ئ کو جامع مسجد دہلی میں عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا، جس میں عراقی سفیر ڈاکٹر عبداللہ سلوم نے تفصیلی خطاب کیا۔ 25/نومبر1973ئ کے عرب حمایت کنونشن میں سفیر عراق ڈاکٹر عبداللہ سلیم سامرائی نے تیل کو مؤثر ہتھیار قرار دیا اور ہندستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ 16،17،18/فروری1979ئ کی کل ہند اوقاف کانفرنس نے عراق کے مقدس شہروں میں ہندستانی مسافرخانوں میں زائرین کو سہولت نہ ملنے کا مسئلہ اٹھایا۔

22/ستمبر1980ئ کو شط العرب کے سرحدی تنازع، 1975ئ کے الجزائر معاہدے کی منسوخی، ایرانی اسلامی انقلاب کے پھیلا¶ کے خدشے اور علاقائی بالادستی کی خواہش کے پیشِ نظر عراق نے ایران پر حملہ کرکے آٹھ سالہ ایران-عراق جنگ کا آغاز کیا۔ یکم اکتوبر1980ئ کو مجلس عاملہ نے دونوں ممالک سے جنگ بندی کی اپیل کی۔ 7/جون1981ئ کو اسرائیل نے عراق کی اوسیرک ایٹمی تنصیب پر حملہ کیا، جس کی15،16/جون1981ئ کی ہنگامی مجلس عاملہ نے سخت مذمت کی، اور9،10/اگست1981ئ کی تجویز میں اسے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پامالی قرار دیا۔ 26،27/دسمبر1981ئ کی مجلس عاملہ نے ایران کی طرف سے پندرہ سو عراقی جنگی قیدیوں کے قتل(خفاجیہ واقعہ) کی مذمت کی۔ 14تا17/اپریل1983ئ کو بغداد میں پہلا عالمی موتمر منعقد ہوا، جس میں مولانا اسعد مدنی صاحبؒ نے ہندستانی وفد کی قیادت کی؛ اسی دوران23/اپریل1983ئ کو روزنامہ الجمعیۃ میں یو این آئی کے حوالے سے ایک غلط خبر شائع ہوئی کہ مولانا اسعد مدنیؒ نے آسام فسادات کے حوالے سے حکومت ہند کو بری الذمہ قرار دیا، جس پر8،9/مئی1983ئ کی مجلس عاملہ نے ایڈیٹر ناز انصاری کو معطل کیا، جو بعد میں11/جون1984ئ کو دوبارہ بحال کیے گئے۔ 25،26/نومبر1983ئ کی مجلس منتظمہ اور6،7،8/اپریل1984ئ کی تعلیمی و ملی کانفرنس نے ایران کی ہٹ دھرمی پر افسوس کرتے ہوئے جنگ بندی کی اپیل دہرائی۔ 22تا25/اپریل1985ئ کو بغداد میں دوسری عوامی اسلامی کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی6،7/مئی1985ئ کی مجلس عاملہ نے تائید کی اور24/مئی1985ئ کو یوم دعا منانے کا فیصلہ کیا۔ 11/مارچ1986ئ کو عراقی علما کے وفد کو عصرانہ دیا گیا۔ یکم نومبر1986ئ اور7/نومبر1987ئ کی مجالسِ منتظمہ نے حکومتِ ایران سے جنگ بند کرنے کی اپیل دہرائی، اور8/نومبر1987ئ کو تحفظ حرم کانفرنس میں مولانا اسعد مدنیؒ اور عراقی سفیر عبدالودود شیخ علی نے خمینی ازم کی شدید مذمت کی۔ 9،10/اپریل1988ئ کی مجلس منتظمہ نے صدام حسین کی جنگ بندی کی کوششوں کو سراہا، اور بالآخر20/اگست1988ئ کو قراردادِ598 کے تحت جنگ بندی نافذ ہوئی، جس پر جمعیت نے اظہارِ مسرت کی ایک تقریب منعقد کی، جس میں عراقی سفیر عبدالودود عبدالکریم نے شرکت کی۔

عراق پر بھاری قرضوں کے بوجھ، تیل کی پیداوار کے تنازع اور سرحدی اختلافات کے باعث2/اگست1990ئ کو عراق نے کویت پر حملہ کرکے اسے اپنا19واں صوبہ قرار دیا۔ 3/ستمبر1990ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ نے اس پر گہری تشویش ظاہر کی اور13،14/اکتوبر1990ئ کی مجلس عاملہ نے عراقی فوج کے کویت سے انخلا کا مطالبہ کرتے ہوئے سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجوں کی موجودگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ 17/جنوری1991ئ کو امریکہ کی قیادت میں آپریشن ڈیزرٹ سٹارم شروع ہوا اور28/فروری1991ئ کو جنگ بندی ہوگئی۔ 22/مارچ1991ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ نے اپنی طرف منسوب صدام حسین کی تکفیر کی غلط خبر کی تردید کی، اور یکم و2/دسمبر1991ئ کی مجلس منتظمہ نے عراق پر عائد ناکہ بندی کی سخت مذمت کی، جو بعد میں1991ئ کی قرارداد687 کے تحت مزید سخت کردی گئی تھی۔ 13سے22/جنوری1993ئ اور26،27/جون1993ئ کو امریکہ نے عراق پر فضائی حملے کیے، جن کی17/جنوری1993ئ کی مجلس عاملہ اور16/جولائی1993ئ کے بیان میں پرزور مذمت کی گئی۔ 5تا13/ستمبر1994ئ کو قاہرہ میں آبادی و ترقی کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی23/اکتوبر1994ئ کی مجلس عاملہ نے مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب، عراق، سوڈان اور لبنان کے بائیکاٹ کو سراہا۔ 29/اکتوبر1995ئ کے پچیسویں اجلاس عام میں مولانا اسعد مدنیؒ نے عراق اور لیبیا کی ناکہ بندی پر گہری تشویش ظاہر کی۔ 3،4/ستمبر1996ئ کو امریکہ نے آپریشن ڈیزرٹ اسٹرائیک کے تحت عراق پر میزائل داغے، جس کی5/ستمبر1996ئ کو مولانا مدنیؒ نے سخت مذمت کی۔ 24،25/اپریل1998ئ کی مجلس منتظمہ نے عراق پر پابندیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا، اور26/مئی1998ئ کو عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر سعدوون حمادی کو جمعیت کے دفتر میں ظہرانہ دیا گیا، جہاں انھوں نے پابندیوں کے المناک اثرات بیان کیے۔ 16تا19/دسمبر1998ئ کو آپریشن ڈیزرٹ فاکس کے تحت امریکہ و برطانیہ نے عراق پر حملہ کیا، جسے مولانا مدنیؒ نے17/دسمبر1998ئ کو کھلی جارحیت اور دہشت گردی قرار دیا۔ 13/مئی2000ئ کے چھبیسویں اجلاس عام میں مولانا مدنیؒ نے عراق پر عائد پابندیوں کے ہٹائے جانے کا مطالبہ دہرایا۔

بالآخر20/مارچ2003ئ کو امریکہ اور برطانیہ نے "آپریشن عراقی فریڈم" کے تحت یہ جھوٹا الزام لگاکر کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں، عراق پر ہمہ گیر حملہ کیا۔ 7،8/مارچ2003ئ کی مجلس منتظمہ اور9/مارچ2003ئ کے ستائیسویں اجلاس عام میں مولانا اسعد مدنیؒ نے اس جارحیت کی سخت مذمت کی، اور20/مارچ2003ئ کو ایک بیان میں عالمی برادری سے جنگ رکوانے کی اپیل کی۔ 2/اپریل2003ئ کو جمعیت کے زیر اہتمام دہلی میں ہزاروں افراد کا احتجاجی مظاہرہ ہوا، جس میں جنرل سکریٹری مولانا سید محمود مدنیؒ نے خطاب کیا اور امدادی قافلہ بھیجنے کا اعلان کیا۔ 15/جولائی2003ئ کو ہندستان کے دورے پر آئے پاکستانی رہنما مولانا فضل الرحمان نے یہ موقف پیش کیا کہ بزور طاقت امن قائم نہیں کیا جاسکتا۔ 29/مئی2005ئ کے اٹھائیسویں اجلاس عام میں مولانا اسعد مدنیؒ نے واضح کیا کہ عراق میں تباہ کن ہتھیار موجود ہونے کا امریکی دعویٰ جھوٹا ثابت ہوچکا ہے اور امریکی فوجی قبضے کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔ یکم مارچ2006ئ کو صدر بش کے دورہ¿ ہند کے خلاف احتجاجی اجلاس میں میدھا پاٹیکر نے کہا کہ بش تیل پر قبضے کے لیے عراق کو برباد کرچکے ہیں۔ 23/مئی2006ئ کے پریس بیان میں امریکی مداخلت کو آزاد ممالک کی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔ صدام حسین کو13/دسمبر2003ئ کو گرفتار کیا گیا تھا اور دجیل قتل عام کے مقدمے میں5/نومبر2006ئ کو سزائے موت سنائی گئی، جو30/دسمبر2006ئ کو نافذ کی گئی؛ اس پر22/نومبر2006ئ کی مجلس عاملہ اور30/دسمبر2006ئ کے پریس بیان میں سخت افسوس کا اظہار کیا گیا کہ یہ عالمی امن کے ساتھ ظلم اور ناانصافی کی بدترین مثال ہے، اور14/فروری2007ئ کی مجلس عاملہ نے بھی اسی موقف کا اعادہ کیا۔ 31/مئی2008ئ کی دہشت گردی مخالف کانفرنس میں امریکہ کو نمبر ون دہشت گرد ملک قرار دیا گیا۔ 9/نومبر2008ئ کے انتیسویں اجلاس عام اور3/نومبر2009ئ کے تیسویں اجلاس عام میں مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوریؒ نے عراق میں جاری انارکی، امریکی جھوٹ کے بے نقاب ہونے اور عراقی عوام کی مشکلات پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور عراق کو غاصب افواج سے خالی کرانے کا مطالبہ دہرایا۔ 18/دسمبر2011ئ کو بالآخر امریکی فوج کا عراق سے انخلا مکمل ہوا، تاہم19/مئی2012ئ کے اکتیسویں اجلاس عام میں مولانا منصورپوریؒ نے بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے جاری رہنے پر تشویش ظاہر کی۔ امریکی انخلا کے بعد شیعہ سنی فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے کا فائدہ اٹھاکر2014ئ میں داعش نے موصل سمیت عراق کے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا، جس پر24/مئی2014ئ کی مجلس عاملہ اور20/جون2014ئ کے پریس بیان میں مولانا محمود اسعد مدنی صاحبؒ نے فرقہ وارانہ نہج پر چلنے والوں کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے امن و قانون کی بحالی کی اپیل کی۔ اکتوبر2016ئ میں عراقی افواج نے موصل کی جنگ شروع کی، اور بالآخر13/نومبر2016ئ کے تینتیسویں اجلاس عام میں جمعیت نے داعش کے دہشت پسندانہ عزائم و نظریات سے مکمل بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے عراقی حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلے کو شیعہ سنی تناظر میں نہ دیکھے؛ بلکہ تمام طبقات کی شمولیت یقینی بناتے ہوئے بے گھر افراد کی بازآبادکاری کے لیے عالمی تعاون سے کام لے۔

6 Aug 2026

جمعیت علمائے ہند اور شام: ایک صدی کی ہمدردی و جدوجہد

جمعیت علمائے ہند اور شام: ایک صدی کی ہمدردی و جدوجہد 

محمد یاسین جہازی 

(خلاصہ)

جمعیت علمائے ہند اور شام کا تعلق محض ایک سیاسی یا جغرافیائی ہم آہنگی نہیں ، بلکہ ایک گہرا مذہبی، اخلاقی اور تاریخی رشتہ ہے ، جس کی بنیاد اسلامی اخوت اور مظلومین کی حمایت کے شرعی اصول پر ہے۔ یہ تعلق تقریباً ایک صدی پر محیط ہے ، اور اس کا آغاز پہلی جنگ عظیم کے بعد سلطنت عثمانیہ کی تقسیم اور شام کے فرانسیسی قبضے سے ہوتا ہے۔

جب پہلی جنگ عظیم11/نومبر1918ء کو ختم ہوئی، تو برطانیہ نے جنگ کے دوران ہندستانی مسلمانوں سے خلافت عثمانیہ کے تحفظ اور ہندستان کو سوراج دینے کے وعدے کیے تھے ، لیکن جنگ کے بعد برطانیہ نے اپنے وعدوں سے منھ موڑ لیا۔30/اکتوبر1918ء کو عارضی صلح کے بعد10/اگست1920ء کو معاہدہ سیورے کے ذریعے شام کو فرانس کے قبضے میں دے دیا گیا۔ چوں کہ شام خلافت عثمانیہ کا حصہ تھا، اس لیے اس تقسیم نے ہندستانی مسلمانوں میں شدید اضطراب پیدا کیا، جس کے نتیجے میں تحریک خلافت کا آغاز ہوا۔23/نومبر1919ء کو تحریک خلافت کا پہلا آل انڈیا اجلاس منعقد ہوا، اور اسی موقع پر علمائے کرام نے مسلمانوں کے لیے ایک متحد پلیٹ فارم کی ضرورت محسوس کی، جس کے نتیجے میں جمعیت علمائے ہند وجود میں آئی۔

ابتدائی دنوں میں ہی جمعیت علمائے ہند نے شام کے مسئلے کو اپنی ترجیحات میں شامل کر لیا۔ 19 سے21/نومبر1920ء کو شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کی صدارت میں دوسرے اجلاس عام میں اس شبہے کا قلع قمع کیا گیا کہ ہندستانی مسلمانوں کو شام کے مسلمانوں سے کیا واسطہ؟ مولانا محمود حسن نے واضح کیا کہ مسلمانوں میں باہمی نصرت و معاونت کوئی انسانی معاہدہ نہیں ؛ بلکہ خدائے قدوس کا قائم کردہ اور مذہبی احکام کا حصہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح امریکہ والے یورپ میں اپنے معاہدوں کے تحت مدد کرتے ہیں ، اسی طرح مسلمانوں کو ان کا خدا اور رسول حکم دیتے ہیں کہ وہ اپنے دینی بھائیوں کی مدد کریں ، خواہ وہ کہیں کے رہنے والے ہوں ۔ اسی اجلاس میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے فرمایا کہ عراق، شام، فلسطین اور تھریس کے کلمہ پڑھنے والے مسلمان ہماری جان و مال اور عزت و آبرو ہیں ، اور ان کی حمایت مذہبی فرض ہے۔ اس طرح جمعیت نے شام کے ساتھ یک جہتی کو مذہبی فریضہ قرار دیا۔

18سے20/نومبر1921ء کو تیسرے اجلاس عام میں امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد نے صدارتی خطاب میں کہا کہ ہمارا مطالبہ جزیرۃ العرب، فلسطین اور شام کے لیے ہے ، اور ان پر غیر مسلم اقتدار قبول نہیں ۔

24 سے26/دسمبر1922ء کے چوتھے اجلاس میں مولانا حبیب الرحمان عثمانی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند نے خلافت و سلطنت اسلامی کے برباد ہونے کے بعد شام سمیت عراق و فلسطین پر غیر مسلم تسلط کے خلاف دفاع کو مسلمانوں پر عائد ہونے والا فرض قرار دیا۔

29 دسمبر1923تا یکم جنوری1924ء کے پانچویں اجلاس میں مولانا حسین احمد مدنی نے شام کو جزیرۃ العرب کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیر مسلم اقتدار کو وہاں سے مکمل ختم ہونا چاہیے۔

جب1925ء میں فرانس نے شام پر اپنے مینڈیٹ کے تحت انتہائی جابرانہ پالیسیاں اپنائیں اور جبل الدروز میں مداخلت، جبری مشقت اور رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف شام کی عظیم بغاوت شروع ہوئی، تو فرانسیسی فوج نے18سے21/اکتوبر1925ء کے درمیان دمشق پر فضائی اور توپ خانے سے بم باری کی، جس میں تاریخی بازار اور رہائشی علاقے تباہ ہو گئے اور تقریباً1000سے1500شہری جاں بحق ہوئے۔ اسی طرح حماۃ پر بم باری اور السویداء پر حملے کیے گئے۔ ان مظالم پر جمعیت علمائے ہند نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔29/نومبر1925کو مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ-جو اس وقت جمعیت کے صدر تھے - نے وائسرائے ہندلارڈ ریڈنگ کو ایک تار بھیجا، جس میں انھوں نے برطانوی وزیراعظم کی اس تقریر پر شدید تعجب کا اظہار کیا ،جس میں کہا گیا تھا کہ فرانس کے مظالم پر اس لیے کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی، کیوں کہ برطانیہ کو بھی اپنی نوآبادیوں میں اسی قسم کی مشکلات کا سامنا ہے۔ مولانا کفایت اللہ صاحب نے وائسرائے کو متنبہ کیا کہ اگر برطانیہ فرانس کے ساتھ شامیوں کے خلاف اشتراک عمل کرے گا، تو ہندستان کے مسلمانوں میں عام بے چینی پیدا ہو جائے گی۔18سے21/جنوری1926میں مجلس عاملہ کی میٹنگ نے فرانس کے وحشیانہ مظالم پر دلی رنج و الم کا اظہار کیا اور شامی بھائیوں کو اپنی ہمدردی کا یقین دلایا۔

11 سے14/مارچ1926میں ساتویں اجلاس عام میں مولانا سید سلیمان ندوی صاحب ؒنے صدارت کرتے ہوئے شام اور دیگر عرب ممالک کے نوجوانوں پر یورپی تہذیب کے اثرات پر تنقید کی اور فرمایا کہ عراق و شام جزیرۃ العرب کے تکمیلی حصے ہیں ، اور برطانیہ و فرانس کو اپنے وعدوں کے مطابق ان سے نکل جانا چاہیے۔ انھوں نے شام کی موجودہ حالت کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ شامی احرار کا قتل عام ارمنوں کے قتل عام سے زیادہ روشن دنوں میں انجام دیا گیا ہے ، اور یورپ کو اپنی اس بربریت پر شرمانا چاہیے۔

3 /ستمبر1929ء کو فلسطین کی حمایت میں دہلی میں منعقدہ ایک عظیم جلسے میں مولانا ابوالکلام آزادؒ نے کہا کہ یورپی طاقتوں نے شام اور فلسطین کو اپنی قوت کے استحکام کے لیے چنا ہے ، اور یہودیوں کی حکومت قائم کرنے میں یہی راز مضمر ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران جمعیت علمائے ہند کا موقف مزید واضح ہوا۔7سے9/جون 1940 کے بارھویں اجلاس میں مولانا حسین احمد مدنی صاحبؒ نے فرمایا کہ ہندستان کی غلامی کی وجہ سے شام، مصر، فلسطین سب غلام ہیں ، اور ان کی آزادی ہندستان کی آزادی سے مشروط ہے۔25/جون1941کو مجلس عاملہ نے اعلان کیا کہ شام سمیت تمام اسلامی ممالک پر کسی اجنبی طاقت کا تسلط ناقابلِ قبول ہے ، اور مکمل آزادی کا مطالبہ کیا۔

20 سے22/مارچ1942کے تیرھویں اجلاس میں شام، عراق، ایران اور فلسطین کے نازک حالات پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ جب تک استعمار پسند طاقتیں اپنا تسلط نہیں اٹھائیں گی، مسلمان مطمئن نہیں ہوں گے۔

1945 میں جب فرانس نے شام اور لبنان میں اپنی نوآبادیاتی گرفت برقرار رکھنے کے لیے سخت فوجی کارروائی کی، جسے لیونٹ بحران کہا جاتا ہے ، اور29سے31/مئی1945کو دمشق پر توپ خانے اور فضائی حملے کیے ، جس میں تقریباً1000/افراد ہلاک ہوئے ، تو جمعیت علمائے ہند نے فوری ردعمل دیا۔2/جون1945ء کو مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے ایک پریس بیان میں فرانس اور برطانیہ کی مسلم کش پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شام، لبنان اور فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے ، وہ ہندستان کی غلامی کا نتیجہ ہے۔ انھوں نے تمام اسلامی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ فوری احتجاجی جلسے کریں اور شام و لبنان کی مکمل آزادی، فلسطین کو یہودیوں کا وطن نہ بنانے اور مفتی اعظم فلسطین کی رہائی کا مطالبہ کریں ۔ 11/جون1945ء کو دہلی میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا، جس میں فرانسیسی مظالم کی مذمت کی گئی اور شام و لبنان کی فوری آزادی کا مطالبہ کیا گیا، اور یہ واضح کیا گیا کہ عربی ممالک کے کسی حصے پر کسی بھی اتحادی طاقت کا انتداب عالم اسلام کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگا۔

1967 ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران جمعیت علمائے ہند کی سرگرمیاں انتہائی نمایاں رہیں ۔ جب اسرائیل نے شام کو فوجی دھمکیاں دیں اور خلیج عقبہ کی ناکہ بندی پر کشیدگی بڑھی، تو23/مئی1967ء کو مولانا اسعد مدنی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے ایک بیان جاری کیا، جس میں عربوں کی حمایت کا اعلان کیا اور ملک گیر یوم احتجاج منانے کی اپیل کی۔ انھوں نے وزیراعظم اندرا گاندھی اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو برقیے بھیجے اور شام کے سفیر سے ملاقات کر کے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔23/جولائی1967کو جمعیت نے عرب مظلومین کی امداد کے لیے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں شام کے سفیر کو25,000/روپے کا چیک پیش کیا گیا۔ اس موقع پر شام کے سفیر عمر ابو ریشہ نے ہندستانی عوام کے خلوص کو سراہا اور کہا کہ عربوں کو اگرچہ عارضی شکست ہوئی ہے ، لیکن حق ان کے ساتھ ہے اور آخری فتح انھی کی ہوگی۔ 24 /ستمبر1967کو امداد کی دوسری قسط کے طور پر شام کو مزید50,000/روپے دیے گئے۔

6 /جون1969ء کو جمعیت نے منعقدہ ایک اجلاس میں اسرائیل کے قبضے اور جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے باوجود اسرائیل نے شام، اردن اور متحدہ عرب جمہوریہ کے علاقوں سے قبضہ نہیں ہٹایا اور اس کی جارحانہ سرگرمیاں جاری ہیں ۔ 23/نومبر1969ء کو جمعیت نے سفرائے عرب کو دعوت افطار دی، جس میں شام کے سفیر بھی شریک ہوئے۔

7/اکتوبر1973ء کو جب مصر اور شام پر اسرائیلی حملہ ہوا، تو مولانا سید احمد ہاشمی نے اس کی مذمت کی اور عربوں کی کامیابی کے لیے یوم دعا منانے کی اپیل کی۔1976میں جب شام نے لبنان کی خانہ جنگی میں فلسطینی گروہوں (پی ایل او) کے خلاف فوجی مداخلت کی اور13/اگست 1976کو تل زعتر کا قتل عام ہوا، تو جمعیت علمائے ہند نے20سے21/اگست1976میں مجلس عاملہ کی میٹنگ میں شام کی اس کارروائی کو سامراجی سازش کا حصہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور عرب اتحاد پر زور دیا۔ اور کہا گیا کہ ہزاروں فلسطینیوں ، بچوں اور عورتوں کو بے رحمی سے قتل کرنا فلسطینیوں کی خدمت نہیں ؛ بلکہ ان کے کاز کو نقصان پہنچانا ہے۔

26 سے27/دسمبر1981کو مجلس عاملہ نے اسرائیل کی توسیع پسندانہ عزائم کی مذمت کرتے ہوئے شام کی آزادی اور سالمیت کو خطرے میں نہ پڑنے دینے کا مطالبہ کیا۔

1982 میں شام کے شہر حماہ میں حافظ الاسد کی حکومت نے اخوان المسلمون کی پیش قدمی کو کچلنے کے لیے2/فروری سے28/فروری1982تک ایک سفاکانہ قتل عام کیا، جس میں  40,000 سے45,000/شہری ہلاک ہوئے اور88/مساجد تباہ ہوئیں ۔ یکم اور2/مئی 1982 اور پھر25سے26/نومبر1983کی مجلس عاملہ نے اس نسل کشی کو تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی اور شامی حکومت کی مسلم دشمن کارروائیوں کی مذمت کرتے کہاکہ شامی حکومت اپنے ہی شہریوں پر جو مظالم ڈھارہی ہے ، ان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

5/اکتوبر2003کو جب اسرائیل نے شام کے عین الصاحب کیمپ پر فضائی حملہ کیا، تو 6/اکتوبر2003کو جمعیت علمائے ہند نے اسے اشتعال انگیز اور مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے تباہ کن قرار دیا۔

2011 میں 15/مارچ کو شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد جمعیت علمائے ہند نے ہر سال اپنے اجلاسوں میں شام کی الم ناک صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔19/مئی 2012 کے اجلاس میں حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب منصورپوری صدر جمعیت علمائے ہند نے شام کی حالت کو ناگفتہ بہ قرار دیا اور بتایا کہ قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری ہے۔12 / دسمبر2012اور29/اگست2013کی مجلس عاملہ نے شیعہ سنی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شامی حکومت سے مذاکرات اور تشدد بند کرنے کا مطالبہ کیا، اور غیر ملکی مداخلت کو مسئلہ کا حل نہیں قرار دیا۔24/مئی2014کے اجلاس عام میں بھی عالم اسلام ؛خاص طور پر شام کی صورت حال پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔16/مئی2015کے اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت تک 300,000 /افراد ہلاک اور19,000,000بے گھر ہوچکے ہیں ، اور شہریوں کو خوراک، ادویات اور رہائش کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

2016 کے دوران شام کے حالات مزید ابتر ہوتے گئے۔27/فروری2016کو امریکہ اور روس کی سرپرستی میں جزوی جنگ بندی ہوئی؛ مگر زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔16/جولائی 2016کو شامی حکومت اور روسی افواج نے مشرقی حلب کا مکمل محاصرہ کر لیا اور22/ستمبر 2016سے مشرقی حلب پر شدید فضائی بم باری شروع ہوئی۔13/نومبر2016کے اجلاس عام میں حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب منصورپوری نے کہا کہ شام مظلوم مسلمانوں کی قربان گاہ بنا ہوا ہے اور عالمی طاقتوں کی مداخلت سے مسئلہ مزید الجھتا جا رہا ہے۔ یکم دسمبر2016 کو مولانا محمود اسعد مدنی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرش کو خط لکھ کر حلب کے انسانی بحران پر فوری عملی اقدام کا مطالبہ کیا۔ 

22/دسمبر2016ء کو مشرقی حلب مکمل طور پر شامی حکومت کے قبضے میں آ گیا۔ بعد ازاں  2018میں جب شامی اور روسی افواج نے18/فروری2018کو مشرقی غوطہ پر وحشیانہ حملہ کیا اور18سے28/فروری2018کے دوران580/سے زائد شہری ہلاک ہوئے اور 400,000 افراد محاصرے میں پھنس گئے ، تو جمعیت علمائے ہند نے27/فروری2018 کو ایک پریس بیان میں اس حملے کی مذمت کی اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ محض مذمتی قراردادوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے اور طبی و غذائی امداد کی راہ کھولے۔14/اپریل 2018کو مشرقی غوطہ بھی مکمل طور پر شامی حکومت کے قبضے میں آ گیا۔

28 سے29/مئی2022کو مجلس منتظمہ کے اجلاس میں ایک بار پھر شام اور یمن کی صورت حال پر دکھ اور قلق کا اظہار کیا گیا اور مسلم حکمرانوں سے بیدار مغزی اور دردمندی کے ساتھ حالات کے تقاضے پورے کرنے کی اپیل کی گئی۔

2023 میں جب6/فروری کو ترکیہ اور شام کے سرحدی علاقے میں 7.8شدت کا تباہ کن زلزلہ آیا، جس میں شام میں تقریباً6000/افراد ہلاک اور10,000/زخمی ہوئے اور لاکھوں بے گھر ہوئے، تو جمعیت علمائے ہند نے12/فروری2023کو اپنے چونتیسویں اجلاس عام میں متأثرین کے لیے گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا اور10,000,000/روپے کی امداد کا اعلان کیا۔اور زلزلہ متاثرین کے لیے دعا اور تعمیر نو کی اپیل بھی کی۔

یوں جمعیت علمائے ہند کی تاریخ شام کے ساتھ ایک مسلسل رشتے کی عکاس ہے ، جس میں جمعیت نے قیام سے لے کر آج تک شام کے عوام کی ہر مشکل میں ان کے ساتھ مذہبی، اخلاقی اور سیاسی ہمدردی کا اظہار کیا ہے ، خواہ وہ فرانسیسی استعمار کے خلاف جدوجہد ہو، عرب اسرائیل جنگیں ہوں ، حافظ الاسد کے مظالم ہوں ،2011کی خانہ جنگی ہو، یا2023کا زلزلہ۔ جمعیت کا موقف ہمیشہ یہ رہا ہے کہ شام کے مسلمان ہمارے دینی بھائی ہیں ، اور ان کی حمایت و نصرت مذہبی فرض ہے ، اور وہ عالمی برادری سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ شام کے مظلوموں کی آواز کو سنا جائے اور ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔

3 Aug 2026

سوڈان کے بارے میں جمعیت علمائے ہند کا موقف: جامع خلاصہ

 


سوڈان کے بارے میں جمعیت علمائے ہند کا موقف: جامع خلاصہ

محمد یاسین جہازی

جمعیت علمائے ہند کی تاریخ میں سوڈان کا پہلا ذکر7تا9/جون1940ئ کے بارھویں اجلاسِ عام کے صدارتی خطبے میں ملتا ہے، جہاں حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے سوڈان سمیت عرب و اسلامی ممالک کی غلامی کو ہندستان کی غلامی سے جوڑا۔ بعد ازاں4تا7/مئی1945ئ کے چودھویں اجلاسِ عام میں بھی انھوں نے مصر، سوڈان، الجزائر، تیونس اور لیبیا کے مسلمانوں کی حالتِ زار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان کی غلامی سے انگریز ان ممالک کو دبانے کے لیے فوج اور وسائل استعمال کرتے ہیں۔ پھر27تا29/اکتوبر1956ئ کے انیسویں اجلاسِ عام میں شیخ الاسلام نے کہا کہ برطانیہ کی عالمی طاقت کا بڑا سبب ہندستان کی غلامی تھی، جس کے ذریعے مصر، سوڈان اور افریقہ کے دیگر علاقوں پر غلبہ قائم رکھا گیا۔

آزادی کے بعد جمعیت نے سوڈان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو بھی اہمیت دی۔22/مئی 1964ئ کو جمعیت علمائے ہند نے نئی دہلی میں جمہوریہ سوڈان کے صدر الفریق سید ابراہیم عبود کا شان دار استقبال کیا اور سپاس نامہ پیش کیا، جس میں ہندستان و سوڈان کی دوستی، نوآبادیاتی جدوجہد اور باہمی تعاون کو سراہا گیا۔

عربõاسرائیل تنازع کے سلسلے میں29/اگست تا یکم ستمبر1967ئ خرطوم (سوڈان) میں عرب لیگ کا چوتھا سربراہ اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اجلاس5تا10/جون1967ئ کی چھ روزہ جنگ میں عرب ممالک کی شکست کے بعد بلایا گیا تھا۔ اس میں عرب اتحاد، مقبوضہ عرب علاقوں کی واپسی اور اسرائیل کے بارے میں مشہور ’’تین نفیاں‘‘ (نہ صلح، نہ تسلیم، نہ مذاکرات) منظور کی گئیں، جب کہ مصر اور اردن کی مالی امداد کا بھی فیصلہ ہوا۔ اس کے بعد23õ24/ستمبر 1967ئ کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ نے ایک قرارداد کے ذریعے عرب ممالک سے مکمل اتحاد کی اپیل کی، تاکہ اسرائیل کے ناجائز قبضے کا مقابلہ کیا جا سکے۔

بعد کے برسوں میں بھی سوڈان جمعیت کی سرگرمیوں میں شامل رہا۔23/نومبر1969ئ کو دفتر جمعیت، نئی دہلی میں سفرائے عرب کے اعزاز میں افطار دی گئی، جس میں سوڈان کے سفیر بھی شریک ہوئے۔

اقوام متحدہ کی بین الاقوامی آبادی و ترقی کانفرنس5 تا13/ستمبر1994ئ قاہرہ (مصر) میں منعقد ہوئی، جس میں179/ممالک شریک ہوئے۔ کانفرنس میں تولیدی صحت، خواتین کے حقوق، صنفی مساوات اور پائیدار ترقی پر زور دیا گیا۔ جمعیت علمائے ہند نے23/اکتوبر 1994ئ کی مجلس عاملہ میں اس کانفرنس کی بعض قراردادوں کو اسلامی معاشرت کے خلاف قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور سعودی عرب، عراق، سوڈان اور لبنان کی طرف سے اس کانفرنس کے بائیکاٹ کی تائید کی۔

امریکہ کی سوڈان پالیسی کے خلاف بھی جمعیت نے واضح موقف اختیار کیا۔26/مئی 1998ئ کو عراقی رہنما سعدون حمادی نے جمعیت کے صدر دفتر میں خطاب کرتے ہوئے عراق، لیبیا اور سوڈان پر امریکی پابندیوں کو مسلم ممالک کے خلاف پالیسی قرار دیا۔ پھر20/اگست 1998ئ کو امریکہ نے خرطوم کے قریب ’’الشفائ‘‘ دوا ساز فیکٹری پر بم باری کی۔ اس کے جواب میں جمعیت نے4/ستمبر1998ئ کے پریس بیان میں اس حملے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور کھلی جارحیت قرار دیا، اور مولانا اسعد مدنیؒ نے اسے طاقت کے ناجائز استعمال کی مثال کہا۔

28/مارچ2001ئ کو اسلامی سالِ ہجری کے آغاز کی تقریب میں سوڈان سمیت کئی مسلم ممالک کے سفرا شریک ہوئے، جب کہ27õ28/ستمبر2001ئ کی مجلس عاملہ نے دہشت گردی کی مذمت کے ساتھ امریکہ سے مطالبہ کیا کہ سوڈان، فلسطین، عراق اور دیگر مظلوم ممالک کے بارے میں انصاف پر مبنی رویہ اختیار کیا جائے۔29/نومبر2003ئ کی عید ملن تقریب میں بھی سوڈان کے سفیر شریک ہوئے۔

دارفور کے بحران کے پس منظر میں14/جولائی2008ئ کو آئی سی سی پراسیکیوٹر نے صدر عمر البشیرکے خلاف درخواست دائر کی،4/مارچ2009ئ کو پہلا اور12/جولائی2010ئ کو دوسرا وارنٹ جاری ہوا۔ اس سے قبل9نومبر/ 2008ئ کے انتیسویں اجلاسِ عام میں مولانا قاری محمد عثمان منصورپوری نے کہا کہ سوڈان کے خلاف عالمی کارروائیاں دراصل مسلم اور ترقی پذیر ممالک کو کمزور رکھنے کی کوشش ہیں۔

آخر میں16/مئی2015ئ کے بتیسویں اجلاسِ عام اور اس کی قرارداد نمبر(۵۱)میں جمعیت نے کہا کہ اگرچہ سوڈان میں پہلے جیسی شدید بحرانی کیفیت نہیں رہی، لیکن بین الاقوامی پابندیوں، سیاسی کشمکش اور مسلح تنازعات کے باعث اس کی معاشی حالت اب بھی خراب ہے، اور عالم اسلام کے مسائل کے ضمن میں سوڈان کے استحکام کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

خلاصہ¿ کلام یہ ہے کہ جمعیت علمائے ہند نے1940 سے2015ئ تک مختلف مواقع پر سوڈان کے مسئلے کو عالمِ اسلام، استعمار مخالف جدوجہد، عرب اتحاد، فلسطین کے دفاع، مغربی دبا¶ کے خلاف مزاحمت اور مسلم ممالک کے حقوق کے تناظر میں دیکھا۔ جمعیت نے ایک طرف سوڈان کی آزادی، خودمختاری اور معاشی استحکام کی حمایت کی، اور دوسری طرف خرطوم کانفرنس، امریکی پابندیوں، آبادی و ترقی کانفرنس، دارفور بحران اور عالمی سیاسی دبا¶ جیسے اہم مواقع پر اپنا واضح موقف بھی پیش کیا۔

سوڈان اور جمعیت علمائے ہند

 سوڈان

محمد یاسین جہازی

ہندستان کے غلام کی وجہ سے سوڈان بھی غلام ہے

ملک سوڈان کا پہلا تذکرہ جمعیت علمائے ہند کی تاریخ میں ، 7،8،9/ جون1940ئ کو منعقد بارھویں اجلاس عام کے خطبہ¿ صدارت میں ملتا ہے۔ صدر اجلاس حضرت مولانا حسین احمد مدنی صدر جمعیت علمائے ہند تحریر فرماتے ہیں کہ:

(و) مقاماتِ مقدسہ اور دیار عرب، مصر، شام، فلسطین، سوڈان، شمالی لینڈ وغیرہ، جن میں اسلامی Èبادی ہے اور ہندستان کی غلامی کی وجہ سے یہ سب غلامی کی بیڑیوں میں جکڑے گئے ہیں، Èزاد ہوسکیں گے۔

اس کے بعد 4تا7/ مئی 1945ئ کو منعقد ہونے والے چودھویں اجلاس عام کے خطبہ¿ صدارت حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہندلکھتے ہیں کہ: 

(ط) ممالک ترکیہ، مصر، سوڈان، الجیریا، تیونس، لیبیا وغیرہ کے مسلمان تمھاری غلامی کی وجہ سے ہر وقت خطرے میں ہیں ۔جب بھی کوئی موقع ہوتا ہے، ہندستان سے بے شمار فوج، بے شمار رسد، بے شمار ہتھیار لے جاکر کچل دیا جاتا ہے۔

بعد ازاں انیسویں اجلاس عام منعقدہ :27تا/ 29/اکتوبر 1956ئ میں صدر اجلاس حضرت شیخ الاسلام اختتامی خطاب میں فرماتے ہیں کہ:

 یہ ہندستان ہی تھا، جس کی غلامی کی بدولت انگریز بر ما، چین، ملایا، جاوا، سماترا، نیپال، افغانستان، ایران،مصر، افریقہ، عدن ،سوڈان،بحر ابیض کے کناروں پر واقع تمام ممالک پر چھایا ہوا تھا۔

تقریب استقبالیہ عالی القدر الفریق سید ابراہیم عبودصدر جمہوریہ سوڈان 

22/مئی 1964ئ کو جمعیت علمائے ہند کی طرف سے جمہوریہ سوڈان کے صدر جناب سید ابراہیم عبود کا استقبال کیا گیا اور انھیں سپاس نامہ بھی پیش کیا گیا۔ سپاس نامہ میں کہا گیا کہ:

محترم جناب! نہایت مسرت اور خوشی کے جذبات کے ساتھ جمعیت علمائے ہند کا یہ وفد آپ کو آج جمہوریہ ہند کے دارالحکومت میں خوش آمدید کہتا ہے، بطور ایک عظیم رہنما اور جمہوریہ سوڈان کے معزز سربراہ یہ وفد آپ کا خیرمقدم کرتا ہے، کیوںکہ آپ کی ہمارے ملک میں آمد ایک سچے دوست کی آمد ہے، جو ہمارے دونوں عظیم ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات کو فروغ دے گی اور انھیں مزید مضبوط بنائے گی۔

محترم جناب! جیسا کہ آپ بخوبی واقف ہیں، ہماری اس سرزمین پر آج 46/کروڑ انسان آباد ہیں۔ یہ لوگ، جو مختلف مذاہب کے ماننے والے ہیں، چند سال پہلے تک غیر ملکی حکمرانی کے خلاف آزادی کی جدوجہد میں شانہ بشانہ شریک رہے، اور آج اپنی مادرِ وطن کی تعمیر نو، بہتری اور وقار کے لیے مل کر کوشاں ہیں۔ خوش قسمتی سے ان کی قیادت ان کے محبوب، روشن خیال اور انسان دوست رہنما پنڈت جواہر لال نہرو کے ہاتھوں میں ہے، جنھوں نے دنیا کے چاروں کونوں سے ستائش حاصل کی ہے۔

محترم جناب! جمعیت علمائے ہندõ جو اس وقت آپ کا استقبال کرنے کی اپنی سب سے اہم ذمہ داری انجام دے رہی ہےõ ایک تاریخی اہمیت کی حامل تنظیم ہے، جو ہندستان کے پچاس ملین مسلمانوں کی نمائندگی کرتی ہے، اور اسلام کی تعلیمات کو اپنا رہنما بنا کر اسلام اور وطنِ عزیز کی خدمت میں مصروف ہے۔ شاہ ولی اللہ کے زمانے سے دہلی کے محدثین کے دور سے لے کر آج تک، جمعیت کی قیادت ہمیشہ غیر متزلزل ایمان اور گہرے قومی جذبات سے مضبوط رہی ہے۔ گزشتہ نصف صدی کے دوران اس کی قیادت ایسی عظیم اور باوقار شخصیات کے ہاتھوں میں رہی جیسے شیخ الہند مولانا محمودحسن، (مالٹا کے اسیر)، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، (مالٹا کے اسیر)، مفتی اعظم مولانا کفایت اللہ، امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد،سحبان الہندمولانا احمد سعیداور مجاہدِ ملت مولانا حفظ الرحمان،جن کی قیادت میں جمعیت علمائے ہند نے تحریکِ آزادی میں عظیم قربانیاں پیش کیں۔

جمعیت علمائے ہند کے ہزاروں ارکان نے سامراجی ظلم و ستم کے ہاتھوں شہادت کا تاج پہنا، جلاوطن کیے گئے، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور اپنی جائیدادوں سے محروم ہوئے؛ لیکن وہ ان کٹھن حالات میں بھی اپنے عزم پر ثابت قدم رہے اور اپنے آپ کو اس نبوی ارشاد کا عملی نمونہ ثابت کیا کہ ’’سب سے افضل جہاد ظالم حکمراں کے سامنے کلمہ¿ حق کہنا ہے۔‘‘

اسی جرأت اور حوصلے کے ساتھ جس کے تحت جمعیت نے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا، آج بھی یہ تنظیم ملک کی تعمیر نو میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے اور ہندستان کے جمہوری و سیکولر آئین کے تحت گزشتہ ہزار سالہ اسلامی ورثے کے تحفظ کی ذمہ داری نبھا رہی ہے۔

محترم جناب! اگرچہ تقسیم ہند کے بعد اس تنظیم کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اللہ پر ایمان کے ساتھ یہ ہر مشکل کا بہادری سے مقابلہ کر رہی ہے اور اپنے مخصوص اعتماد کے ساتھ ہندستانی مسلمانوں کے روشن مستقبل کے لیے اپنی محبوب مادرِ وطن میں کوشاں ہے۔

محترم جناب! اختتام پر ہم اپنی جانب سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور آپ کے توسط سے جمہوریہ سوڈان کے عوام کے لیے اپنی مخلصانہ اور پرخلوص نیک تمنا¶ں کا اظہار کرتے ہیں۔ ہمیں یہ اعزاز حاصل ہوا اور بے حد خوشی ہوئی کہ ہمیں سوڈان کے ممتاز ترین رہنما سے ملاقات کا موقع ملا۔

ہمیں اس بات پر بھی خوشی ہے کہ تحریک آزادی کے عظیم رہنما ڈاکٹر شوکت اللہ انصاریõ جو ہماری جماعت سے وابستہ رہے ہیںõ اس وقت جمہوریہ ہند کے سفیر کی حیثیت سے سوڈان میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی گہری سیاسی بصیرت اور فہم و فراست ہی کا نتیجہ ہے کہ آج ہندستان اور سوڈان کے درمیان گہری دوستی قائم ہے اور باہمی خوشگوار تعلقات مزید فروغ پا رہے ہیں۔

جمہوریہ ہند اور جمہوریہ سوڈان کے درمیان خوشگوار تعلقات ہمیشہ قائم رہیں۔

ہم جمعیت علمائے ہند کے وفد کے ارکان کی حیثیت سے آپ کے مخلص خیر خواہ ہیں۔

(ریکارڈروم)

خرطوم عرب سربراہ کانفرنس سے جمعیت علمائے ہند کی اپیل

29 /اگست سے یکم ستمبر1967ئ تک سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں عرب لیگ کا چوتھا سربراہ اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اجلاس5تا10/جون 1967ئ کی عربõاسرائیل جنگ (چھ روزہ جنگ) میں عرب ممالک کی شکست کے بعد بلایا گیا، تاکہ آئندہ مشترکہ حکمتِ عملی طے کی جا سکے۔

اس اجلاس میں عرب ممالک نے باہمی اتحاد اور مشترکہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا عزم کیا۔اسرائیل کے قبضے میں جانے والے عرب علاقوں کی واپسی کے لیے مشترکہ سیاسی اور سفارتی کوششوں پر اتفاق کیا گیا۔اسرائیل کے بارے میں مشہور ’’خرطوم کی تین نفیاں (Three No's ) منظور کی گئیں:اسرائیل کے ساتھ صلح نہیں۔اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔اسرائیل کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

مصر اور اردن جیسے جنگ سے متأثرہ عرب ممالک کی مالی و اقتصادی امداد کا فیصلہ کیا گیا، جس کے لیے بالخصوص سعودی عرب، کویت اور لیبیا نے مالی تعاون کی ذمہ داری قبول کی۔

یہ اجلاس عربõاسرائیل تنازع کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا، اور اس کے فیصلوں نے کئی برس تک عرب ممالک کی مشترکہ پالیسی کی بنیاد فراہم کی۔

23،24/ ستمبر1967ئ کو مجلس منتظمہ کے اجلاس کی تجویز نمبر(۹) میں اس اجلاس سے اپیل کی گئی کہ: 

جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس خرطوم (سوڈان )میں عرب سربراہوں کی حالیہ کا نفرنس کو عرب اتحاد کے لیے خوش آئند تصور کرتا ہے اور عرب ملکوں سے پر زور اپیل کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کے ناجائز وجود کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے واسطے پورے طور پر متحد ہوجائیں اور خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے وسائل اور اپنی توانائیوں کو جارحیت کے تمام نقوش ختم کرنے میں لگا دیں۔

سفرائے عرب کو دعوت افطار

23/ نومبر1969ئ کو جمعیت علمائے ہندنے دفتر جمعیت نئی دہلی میں سفرائے عرب کو افطار پر مدعو کیا۔ اس میں سفیرمتحدہ عرب جمہوریہ عزت مآب جناب امین حلمی، سفیر شام عمر ابو ریشہ، سفیر سعودی عرب شیخ انس یوسف یاسین، سفیر مراکش عبد اللہ عمران، سبراہ عرب لیگ نزار القاضی، اردن کے ناظم امور ڈاکٹر خالد رشیدات، سفیر سوڈان امین مجذوب عبدون کے علاوہ حکومت ہند کے وزیر صنعتی ترقیات جناب فخر الدین علی احمد اور کئی مسلم ممبران پارلیمنٹ شریک ہوئے۔

 (روزنامہ الجمعیۃ،25/ نومبر1969ئ)

آبادی و ترقی کانفرنس کی ملامت اور سوڈان کے موقف کی تائید

اقوام متحدہ کے زیر اہتمام آبادی و ترقی کی بین الاقوامی کانفرنس از5تا 13/ستمبر1994ئ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہوئی، جس میں179/ممالک نے شرکت کی۔ اس کانفرنس نے آبادی کے مسئلے کو انفرادی ضروریات اور انسانی حقوق کے تناظر میں دیکھا۔ خواتین کو بااختیار بنانے اور صنفی مساوات کو ترقی کی کلید قرار دیا۔ تولیدی صحت اور حقوق کو عالمی طور پر تسلیم کیا۔ پائیدار ترقی پر زور دیا، خاندان کو معاشرے کا بنیادی ستون کہا اور ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی امداد بڑھانے کا مطالبہ کیا۔

اس کانفرنس نے آبادی اور ترقی کے حوالے سے عالمی سوچ کو انسانی حقوق اور پائیداری کی طرف موڑ دیا۔

اس کے بعد 23/ اکتوبر1994ئ کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، جس کی تجویز نمبر(۲) میں اس کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیاکہ

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس محسوس کرتا ہے کہ اقوام متحدہ õجو ایک بین الاقوامی ادارہ ہےõ مغرب کا خالص نمائندہ بن کر رہ گیا ہے۔ بوسنیا کے مظلوم اور بے سہارا لاکھوں مسلمانوں کی تباہی و بربادی کے باوجود اقوام متحدہ صرف طفلی تسلیاں دیتی رہی، جس سے اس کی غیر جانب داری کی مبینہ پالیسی کی حقیقت پہلے ہی بے نقاب ہوگئی تھی۔ ادھر گزشتہ 5سے 13/ ستمبر(1994ئ) تک اس کی زیر نگرانی مصر میں منعقد ’’بین الاقوامی آبادی و ترقی کانفرنس‘‘ نے تو اس کی مغرب نوازی اور اسلام دشمنی کو بالکل ہی عالم آشکارا کردیا۔’’ جنسی و تناسلی صحت‘‘ کے مبہم الفاظ کے پردہ میں مشرقی تہذیب و اسلامی معاشرت پر براہ راست حملہ صاف بتارہا ہے کہ یہ نام نہاد بین الاقوامی ادارہ یوروپ کے اشارے پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کیا کچھ نہیں کرسکتا۔ اس کانفرنس کی بیشتر قراردادیں مظہر ہیں کہ مغرب کی انسانیت کش وحشیانہ تہذیب کو مشرق پر لادنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ 

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس اقوام متحدہ کی اس اسلام دشمن پالیسی کی پرزور مذمت اور اس کے اس مجرمانہ رویہ پر سخت نفرت کا اظہار کرتا ہے۔

مصر جو ایک طویل عرصہ تک عالم اسلام کی ذہنی و فکری بالیدگی میں اہم کردار ادا کرچکا ہے، اسلامی علوم و فنون کی نشرو اشاعت میں جس کے علما کا ایک نمایاں مقام رہا ہے، افسوس صد افسوس کہ وہی مصر آج اسلام کی بنیادوں کو متزلزل کرنے کے لیے مغربی طاقتوں کا آلہ¿ کار بنا ہوا ہے۔ حکومت مصر کی یہ ناعاقبت اندیشی باعث تشویش اور قابل مذمت ہے۔ 

مجلس عاملہ کا یہ اجلاس رابطہ¿ عالم اسلامی ، جامعہ ازہر اور مجمع الفقہ الاسلامی کے اس اقدام کو بہ نظر استحسان دیکھتا ہے کہ انھوں نے اقوام متحدہ کے بچھائے ہوئے اس دام صد رنگ سے بر وقت عالم اسلام کو متنبہ کرکے اسلام کی عظیم تر خدمت انجام دی ہے۔ جمعیت علمائے ہند ان اداروں کو اپنا ہر طرح کا تعاون پیش کرتی ہے  اور اس مسئلہ میں ان کے فیصلہ کی مکمل تائید کرتی ہے، نیز مملکت سعودیہ عربیہ ، جمہوریہ¿ عراق، سوڈان اور لبنان نے اسلام مخالف اس کانفرنس کا مقاطعہ کرکے جس اولو العزمی اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ لائق صد مبارک باد اور قابل تقلید ہے۔ آئندہ اس قسم کے مواقع پر دیگر مسلم ملکوں کو بھی اسی عزیمت پسند حکمت عملی کو اختیار کرکے اپنی اسلامی حمیت کا ثبوت دینا چاہیے۔

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد چہارم، ص/

سوڈان پر امریکی پابندی 

عراقی صدر صدام حسین کے خصوصی ایلچی اور عراقی قومی کونسل کے چیرمین ڈاکٹر سعدوون حمادی نے26/مئی 1998ئ کو جمعیت علمائے ہند کے صدر دفتر میںانھی کے لیے منعقد تقریب استقبالیہ میں خطاب کرتے ہوئے امریکی مظالم پر شدید نکتہ چینی کی اور کہا کہ عراق، لیبیا اور سوڈان پر پابندیاں عائد کر کے اس نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی مسلم ملک کو ابھرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔(ہفت روزہ الجمعیۃ،12-18 / جون 1998ئ

سوڈان پر امریکی بم باری بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی 

20/اگست1998ئ کو امریکہ نے سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کے قریب واقع ’’الشفائ‘‘ دواسازی کی فیکٹری پر بم باری کی۔ یہ حملہ ’’آپریشن انفینیٹ ریچ‘‘ کے تحت کیا گیا، جس کا مقصد7/اگست1998ئ کو کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر ہونے والے بم دھماکوں کا جواب دینا تھا، جن کا الزام امریکہ نے اسامہ بن لادن پر لگایا۔ امریکہ کا موقف تھا کہ یہ فیکٹری بن لادن کے نیٹ ورک کو کیمیائی ہتھیار فراہم کر رہی تھی، تاہم بعد میں شدید تنقید ہوئی اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ فیکٹری محض ادویات تیار کرتی تھی اور حملے کی معلومات مبینہ طور پر غلط تھیں، جس نے اس اقدام کو بین الاقوامی سطح پر متنازع بنا دیا۔

4/ستمبر1998ئ کوجاری ایک پریس بیان میںجمعیت علمائے ہند سوڈان پر ہوئے ان  امریکی حملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقومی قانون کی خلاف ورزی اور کھلی جارحیت قرار دیا۔ جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا اسعد مدنی نےõ جو اس وقت افریقی و مغربی ممالک کے دعوتی و تبلیغی دورے پر ہیںõنے کہا کہ کسی بھی آزاد اور خود مختار ملک پر حملہ، اس کے اقتدار اعلیٰ اور خود مختاری کی توہین اور قانون و آئیمن کے بجائے اپنی طاقت کا ناجائز استعمال ہے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ جمہوری دور میں امریکی اقدام ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کی شرم ناک مثال ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ مغربی ممالک کے عوام کا عمومی تأثر ہے کہ ایسے وقت میں افغانستان اور سوڈان پر بم باری کرنا، جب کہ امریکی صدر مختلف طرح کے جنسی معاملے میں پھنسے ہوئے ہیں اور مقبولیت میں تیزی سے کمی آر ہی ہے ،سے توجہ ہٹانے کی مذموم کوشش ہے۔ 

مولانا مدنی نے کہا کہ امریکہ پولیس مین کا رول ادا کر رہا ہے، اور ہر ملک میں اپنی پسند کا اور مفاد کے مطابق نظام حکومت رائج کرنا چاہتا ہے۔ اس نے عمدا سرب ظالموں کے ہاتھوں بوسنیائی عوام کا قتل عام کرایا۔ ترکی اور الجزائر میں جمہوریت کشی اور اسرائیل کے جابرانہ عمل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ صدر جمعیت نے زور دے کر کہا کہ سوڈان اور افغانستان میں امریکہ نے جو مذموم بم باری کی ہے، وہ دہشت گردی کے نام پر مختلف ممالک میں جاری تحریک حریت اور مجاہدین کو دبانے کی منصوبہ بند کوششوں کا ایک حصہ ہے۔ مولانا مدنی نے مزید کہا کہ دہشت گردی بہرحال غلط اور قابل نفرت و مذمت ہے، چاہے عوامی سطح پر ہو، یا حکومتی سطح پر اور امریکہ نے جوکچھ لیبیا،سوڈان اور افغانستان میں کیا ہے، وہ بھی دہشت گردی ہے۔ اگر افغانستان سوڈان میں دہشت گرد ہیں، تو اس سلسلے میں وہاں کی حکومت اور بر سراقتدار گروپ سے بات چیت کرنی چاہیے۔ اس طرح کے معاملات سے نمٹنے کے لیے بین الا قوامی قانون موجود ہے۔ مولانا مدنی نے متنبہ کیا کہ اگر دنیا کے خود مختار ممالک نے امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کے غلط اقدامات کا متحدہو کر مقابلہ نہیں کیا، تو دیگر ممالک کے اقتدار اعلیٰ اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے سنگین مسائل پیدا ہو جائیں گے۔

 مولانا مدنی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نماز میں قنوت نازلہ کا اہتمام کریں۔

 (ہفت روزہ الجمعیۃ،4-10/ستمبر1998ئ)

سال و ہجری آغاز تقریب کا انعقاد

جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام میرڈین ہوٹل میں اسلامی سال کے Èغاز اور سنہ ہجری کے تعلق سے 28/مارچ 2001ئ کو ایک پرقار تقریب منعقد ہوئی۔

 اس تقریب میں سعودی عرب، مصر، ایران، عراق، سوڈان، لبیا، ملیشیا وغیرہ بیرون ممالک کے سفیروں، کونسلروں اور نمائندوں کے علاوہ ملک کی دیگر بہت سی دینی اور سیاسی مؤقر و مقتدر شخصیات شریک ہوئیں۔ شرکا میں سے منموہن سنگھ، غلام نبی Èزاد، م افضل، جسٹس قریشی، عزیز برنی، ڈی Èر گوئل، ڈاکٹر سیّد فاروق احمدکے اسما خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔

 مصر اور سوڈان کے سفیر نے اپنے ملک اور اپنی طرف سے جمعیت علمائے ہند کو اس کے لیے مبارک باد دی کہ اس نے اس مبارک تقریب کا انعقاد کیا۔

(ہفت روزہ الجمعیۃ،6-12/ اپریل2001ئ)

امریکہ سوڈان وغیرہ ممالک میں انصاف کا تقاضا پورا کرے

مجلس عاملہ منعقدہ: 27،28/ ستمبر2001ئ کی ایک طویل تجویز نمبر(۱) میں دہشت گردی کی سخت مذمت کی گئی ۔ اسی تجویز کے ایک پیراگراف میں کہا گیا کہ:

مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس امریکہ سمیت عالمی برادری سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اسرائیل ، فلسطین، چیچنیا، سوڈان، عراق اور دیگر مقہور ممالک کے سلسلے میں انسانیت و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے اور فرقے ، مذہب کی بنیاد پر دہشت گردی کی الگ الگ تعریف نہ کرے۔ دہشت گردی، دہشت گردی ہے ، چاہے وہ کوئی فرد کرے یا تنظیم یا سرکار کرے۔

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد چہارم، ص/

عید ملن تقریب سفیر سوڈان کی شرکت

 لی میریڈین ہوٹل میں 29/نومبر2003ئ کو عید ملن کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں سیاسی، سماجی شخصیتوں اور مختلف ممالک کے سفرا اور قونصلروں نے شرکت کی۔ تقریب کا افتتاح کرتے ہوئے جمعیت علمائے ہند کے صدر محترم امیر الہند حضرت مولانا سیّد اسعد مدنی دامت برکاتہم نے عید کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے انسانی مساوات اور باہمی محبت و رواداری کی سماجی اہمیت کو اجاگر کیا۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جناب احمدی، مذاکرات کار جرمنی برائے عالم اسلام ڈاکٹر سوگر ملک، سفیر سوڈان اور دیگر حضرات نے بھی عید مبارک کے تعلق سے انسانی رشتوں پر اظہارِ خیال کیا۔ (ہفت روزہ الجمعیۃ،12-18/ دسمبر2003ئ)

سوڈانی صدر کو عالمی عدالت میں مجرم بنانے کی کوشش

14/جولائی2008ئ کو ICC پراسیکیوٹر نے دارفور کے جرائم پر عمر البشیر کی گرفتاری کی درخواست دائر کی۔4/مارچ2009ئ کو پہلا وارنٹ اور12/جولائی2010ئ کو دوسرا وارنٹ (نسل کشی سمیت) جاری ہوا۔ بعد ازاں 14/دسمبر2019ئ کو سوڈان کی عدالت نے کرپشن میں دو سال بحالی مرکز کی سزا سنائی۔

9/ نومبر2008ئ کو منعقد انتیسویں اجلاس عام کے خطبہ¿ صدارت میں حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری صدر جمعیت علمائے ہندنے سوڈان کے ان حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایاکہ:  

 سوڈانی صدر کو عالمی عدالت سے مجرم قرار دلانے کے علاوہ وہاں صیہونی طاقتوں کے توسط سے باغیوں کو مسلح کرکے ملک میں انتشار اور بدامنی پھیلانے کی کوششوں سے امریکہ اور اس کے حلیفوں کا مقصد بالکل واضح ہوگیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک؛ خصوصاً مسلم ممالک کو اُبھرنے کا موقع کسی قیمت پر نہ دیاجائے اور ان کے معدنیاتی ذخائر اور قدرتی وسائل کا استعمال اپنے لیے کرنے کا ہر وہ طریقہ اپنایا جارہا ہے، جس کی آج کی جمہوری اور مہذب دور میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ترقی پذیر ممالک اور جو ناوابستہ تحریک سے جڑے ہوئے ہیں اور وہ تمام امن پسند ممالکõجو امن وترقی کے خواہاں ہیںõ امریکہ اور اس کے حلیفوں کی جارحیت کا مقابلہ متحدہ طور پر کرنے کے لیے آگے آئیں۔

سوڈان پر عائد پابندیوں سے معاشی حالت خراب ہے

بعد ازاں 16/ مئی 2015ئ کو بتیسواں اجلاسِ عام ہوا۔ اس کے صدارتی خطاب میں  حضرت مولانا قاری سیّد محمد عثمان صاحب منصورپوری صدر جمعیت علمائے ہند نے فرمایاکہ: 

 گرچہ سوڈان میں بظاہر پہلے کی سی بحرانی کیفیت نظر نہیں آرہی ہے، وہاں کے حالیہ انتخابات میں عمر البشیر پھر اقتدا رمیں آگئے ہیں،لیکن داخلی و خارجی کشمکش جاری ہے ۔ چوں کہ انتخاب میں کوئی مضبوط اپوزیشن پارٹی تھی اور نہ کوئی لیڈر،اس کے باوجود کہ عمر البشیر نے یورپی یونین اور مغربی ممالک کوکسی حد تک مطمئن کردیا ہے اور عرب ممالک خصوصا سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔تاہم سوڈان پر عائد پابندیوں کے سبب ملک کی اقتصادی حالت اب بھی خراب ہے،دوسری طرف سیاسی محاذ اورمسلح جدوجہد کا محاذابھی بھی قائم ہے ۔ جنوبی کردفان میں انتخابات نہیں ہوئے ہیں اور وہاں سوڈان پیپلز لیبریشن آرمی نارتھ کا قبضہ ہے،ایسی صورت حال میں کشمکش کے حالات بنے ہوئے ہیں۔

بعد ازاں اس اجلاس کی تجویز نمبر(۵۱) عالم اسلام کے مسائل پر اپنے موقف کو اظہار کرتے ہوئے سوڈان کے متعلق کہا گیا کہ:

سوڈان میں بظاہر پہلے جیسی بحرانی کیفیت نظر نہیں آرہی ہے ،لیکن سوڈان پرعائد پابندیوں کے سبب ملک کی اقتصادی حالت بہت خراب ہے۔

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص/

خلاصہ

سوڈان کے بارے میں جمعیت علمائے ہند کا موقف: جامع خلاصہ

جمعیت علمائے ہند کی تاریخ میں سوڈان کا پہلا ذکر7تا9/جون1940ئ کے بارھویں اجلاسِ عام کے صدارتی خطبے میں ملتا ہے، جہاں حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے سوڈان سمیت عرب و اسلامی ممالک کی غلامی کو ہندستان کی غلامی سے جوڑا۔ بعد ازاں4تا7/مئی1945ئ کے چودھویں اجلاسِ عام میں بھی انھوں نے مصر، سوڈان، الجزائر، تیونس اور لیبیا کے مسلمانوں کی حالتِ زار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان کی غلامی سے انگریز ان ممالک کو دبانے کے لیے فوج اور وسائل استعمال کرتے ہیں۔ پھر27تا29/اکتوبر1956ئ کے انیسویں اجلاسِ عام میں شیخ الاسلام نے کہا کہ برطانیہ کی عالمی طاقت کا بڑا سبب ہندستان کی غلامی تھی، جس کے ذریعے مصر، سوڈان اور افریقہ کے دیگر علاقوں پر غلبہ قائم رکھا گیا۔

آزادی کے بعد جمعیت نے سوڈان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو بھی اہمیت دی۔22/مئی 1964ئ کو جمعیت علمائے ہند نے نئی دہلی میں جمہوریہ سوڈان کے صدر الفریق سید ابراہیم عبود کا شان دار استقبال کیا اور سپاس نامہ پیش کیا، جس میں ہندستان و سوڈان کی دوستی، نوآبادیاتی جدوجہد اور باہمی تعاون کو سراہا گیا۔

عربõاسرائیل تنازع کے سلسلے میں29/اگست تا یکم ستمبر1967ئ خرطوم (سوڈان) میں عرب لیگ کا چوتھا سربراہ اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اجلاس5تا10/جون1967ئ کی چھ روزہ جنگ میں عرب ممالک کی شکست کے بعد بلایا گیا تھا۔ اس میں عرب اتحاد، مقبوضہ عرب علاقوں کی واپسی اور اسرائیل کے بارے میں مشہور ’’تین نفیاں‘‘ (نہ صلح، نہ تسلیم، نہ مذاکرات) منظور کی گئیں، جب کہ مصر اور اردن کی مالی امداد کا بھی فیصلہ ہوا۔ اس کے بعد23õ24/ستمبر 1967ئ کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ نے ایک قرارداد کے ذریعے عرب ممالک سے مکمل اتحاد کی اپیل کی، تاکہ اسرائیل کے ناجائز قبضے کا مقابلہ کیا جا سکے۔

بعد کے برسوں میں بھی سوڈان جمعیت کی سرگرمیوں میں شامل رہا۔23/نومبر1969ئ کو دفتر جمعیت، نئی دہلی میں سفرائے عرب کے اعزاز میں افطار دی گئی، جس میں سوڈان کے سفیر بھی شریک ہوئے۔

اقوام متحدہ کی بین الاقوامی آبادی و ترقی کانفرنس5 تا13/ستمبر1994ئ قاہرہ (مصر) میں منعقد ہوئی، جس میں179/ممالک شریک ہوئے۔ کانفرنس میں تولیدی صحت، خواتین کے حقوق، صنفی مساوات اور پائیدار ترقی پر زور دیا گیا۔ جمعیت علمائے ہند نے23/اکتوبر 1994ئ کی مجلس عاملہ میں اس کانفرنس کی بعض قراردادوں کو اسلامی معاشرت کے خلاف قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور سعودی عرب، عراق، سوڈان اور لبنان کی طرف سے اس کانفرنس کے بائیکاٹ کی تائید کی۔

امریکہ کی سوڈان پالیسی کے خلاف بھی جمعیت نے واضح موقف اختیار کیا۔26/مئی 1998ئ کو عراقی رہنما سعدون حمادی نے جمعیت کے صدر دفتر میں خطاب کرتے ہوئے عراق، لیبیا اور سوڈان پر امریکی پابندیوں کو مسلم ممالک کے خلاف پالیسی قرار دیا۔ پھر20/اگست 1998ئ کو امریکہ نے خرطوم کے قریب ’’الشفائ‘‘ دوا ساز فیکٹری پر بم باری کی۔ اس کے جواب میں جمعیت نے4/ستمبر1998ئ کے پریس بیان میں اس حملے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور کھلی جارحیت قرار دیا، اور مولانا اسعد مدنیؒ نے اسے طاقت کے ناجائز استعمال کی مثال کہا۔

28/مارچ2001ئ کو اسلامی سالِ ہجری کے آغاز کی تقریب میں سوڈان سمیت کئی مسلم ممالک کے سفرا شریک ہوئے، جب کہ27õ28/ستمبر2001ئ کی مجلس عاملہ نے دہشت گردی کی مذمت کے ساتھ امریکہ سے مطالبہ کیا کہ سوڈان، فلسطین، عراق اور دیگر مظلوم ممالک کے بارے میں انصاف پر مبنی رویہ اختیار کیا جائے۔29/نومبر2003ئ کی عید ملن تقریب میں بھی سوڈان کے سفیر شریک ہوئے۔

دارفور کے بحران کے پس منظر میں14/جولائی2008ئ کو آئی سی سی پراسیکیوٹر نے صدر عمر البشیرکے خلاف درخواست دائر کی،4/مارچ2009ئ کو پہلا اور12/جولائی2010ئ کو دوسرا وارنٹ جاری ہوا۔ اس سے قبل9نومبر/ 2008ئ کے انتیسویں اجلاسِ عام میں مولانا قاری محمد عثمان منصورپوری نے کہا کہ سوڈان کے خلاف عالمی کارروائیاں دراصل مسلم اور ترقی پذیر ممالک کو کمزور رکھنے کی کوشش ہیں۔

آخر میں16/مئی2015ئ کے بتیسویں اجلاسِ عام اور اس کی قرارداد نمبر(۵۱)میں جمعیت نے کہا کہ اگرچہ سوڈان میں پہلے جیسی شدید بحرانی کیفیت نہیں رہی، لیکن بین الاقوامی پابندیوں، سیاسی کشمکش اور مسلح تنازعات کے باعث اس کی معاشی حالت اب بھی خراب ہے، اور عالم اسلام کے مسائل کے ضمن میں سوڈان کے استحکام کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

خلاصہ¿ کلام یہ ہے کہ جمعیت علمائے ہند نے1940 سے2015ئ تک مختلف مواقع پر سوڈان کے مسئلے کو عالمِ اسلام، استعمار مخالف جدوجہد، عرب اتحاد، فلسطین کے دفاع، مغربی دبا¶ کے خلاف مزاحمت اور مسلم ممالک کے حقوق کے تناظر میں دیکھا۔ جمعیت نے ایک طرف سوڈان کی آزادی، خودمختاری اور معاشی استحکام کی حمایت کی، اور دوسری طرف خرطوم کانفرنس، امریکی پابندیوں، آبادی و ترقی کانفرنس، دارفور بحران اور عالمی سیاسی دبا¶ جیسے اہم مواقع پر اپنا واضح موقف بھی پیش کیا۔