نیپال اور جمعیت علمائے ہند
محمد یاسین جہازی
یکم اپریل 1955ئ کوحکومت ہند کے وزیر داخلہ جی بی پنت نے ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا محمد حفظ الرحمانؒ کو خط لکھ کر الجمعیۃ میں 24اور 25/مارچ 1955ئ کو نیپال کے بارے میں شائع ہونے والے مضامین پر حکومت کی تشویش سے آگاہ کیا اور پڑوسی ملک ہونے کی وجہ سے الفاظ کے انتخاب میں احتیاط کی ہدایت کی۔ اصل خبر 22/مارچ 1955ئ کے اسٹیٹس مین سے لی گئی تھی۔ 7/اپریل 1955ئ کو مولانا حفظ الرحمانؒ نے جواب دیا کہ الجمعیۃ قومی نقطہ¿ نظر کی حامی ہے ، تاہم خبر دوبارہ شائع کرنا اور 25/مارچ کے مزاحیہ کالم کے تبصرے افسوس ناک تھے ؛ انھوں نے متعلقہ مدیر کو آئندہ ایسی بات نہ دہرانے کی تنبیہ کردی۔
10/اکتوبر 1971ئ کو نیپال کے ترائی علاقے ، خصوصاً راوتہٹ اور بارا اضلاع میں گائے ذبح کیے جانے کی افواہ کے بعد ہندو مسلم فرقہ وارانہ فساد ہوا۔ 51/افراد ہلاک اور تقریباً 64/لاکھ نیپالی روپے کی املاک تباہ ہوئیں۔ حکومت نے پولیس کے ذریعے حالات قابو کیے ، تحقیقاتی کمیشن قائم کیا اور مجرموں کے خلاف کارروائی کی۔ 18/اکتوبر 1971ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ نے شاہ نیپال کو برقیہ بھیج کر قتل و غارت، لوٹ مار اور مسلمانوں کے جان و مال کے نقصان پر تشویش ظاہر کی اور نقصانات کی تلافی اور مجرموں کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
15،16/جنوری 1972ئ کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے تجویز نمبر 9 کے ذریعے شاہ نیپال کی جانب سے فساد کے بعد کیے گئے اقدامات کی تحسین کی؛ خصوصاً مجرموں کی گرفتاری، افسران کی معطلی، مسلمانوں کی دوبارہ آبادکاری و امداد اور آئندہ فرقہ وارانہ فساد روکنے کے لیے آئینی و عملی اقدامات کو قابلِ تقلید قرار دیا۔
31/جنوری 1972ئ کو شاہ مہندر کا انتقال ہوا۔ 15،16/اپریل 1972ئ کی مجلس عاملہ میں جمعیت نے ان کی وفات پر گہرے رنج کا اظہار کیا اور 1971ئ کے فساد کے بعد انصاف پسندانہ اقدامات، مجرموں کی گرفتاری، افسران کی معطلی اور متاثرہ مسلمانوں کی آبادکاری کے لیے ان کی کوششوں کو خراجِ تحسین پیش کیا۔
26/جون 1979ئ کومولانا اسعد مدنیؒ نے کلکتہ میں خطاب کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ آر ایس ایس نیپال کے سرحدی علاقوں میں تربیتی کیمپ اور سرگرمیاں چلا رہی ہے اور نیپال کے راستے اسلحہ کی ترسیل کے بارے میں تشویش ظاہر کی۔ 25،26/نومبر 1983ئ کو انھوں نے مزید الزام عائد کیا کہ نیپال میں آر ایس ایس کے لیے مالی وسائل جمع کیے گئے اور سرحدی تربیتی کیمپوں کے ذریعے غیر قانونی اسلحہ ہندستان میں پہنچایا گیا۔
19/جنوری 1996ئ کی مجلس عاملہ میں ہماچل پردیش اور نیپال وغیرہ میں قادیانیت کے پھیلا¶ سے متعلق مجلس تحفظ ختم نبوت کی رپورٹ پیش ہوئی۔ فیصلہ ہوا کہ نیپال ایک الگ ملک ہونے کی وجہ سے وہاں کے لوگوں سے معلومات حاصل کرکے اپریل، یا مئی 1996ئ میں مناسب مقام پر اجتماع کیا جائے۔ 11/جون 1996ئ کو دوبارہ اس مسئلے پر غور ہوا اور نیپال میں علما کا اجتماع، متاثرہ علاقوں کی نشاندہی، دارالعلوم دیوبند سے رابطہ، تبلیغی جماعت کو متوجہ کرنے اور ردِ قادیانیت کے لیے کارکن مقرر کرنے کی تجاویز پیش کی گئیں۔
یکم ستمبر 2004ئ کو عراق میں 12/نیپالی مزدوروں کے قتل کے ردِعمل میں کاٹھمنڈو میں ہنگامے ہوئے ، جامع مسجد کو نذرِ آتش کیا گیا اور مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ فسادات میں 7/افراد ہلاک ہوئے ، جن میں چار مسلمان ہجوم کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ 10/ستمبر 2004ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ نے جامع مسجد جلائے جانے اور مسلمانوں کے قتل پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے حکومتِ نیپال سے شہریوں کے جان و مال کے تحفظ اور واقعے کو فرقہ وارانہ تعصب کے بجائے انصاف کے ساتھ دیکھنے کا مطالبہ کیا۔
25/اپریل 2015ئ کو نیپال میں 7.8/شدت کا تباہ کن زلزلہ آیا، جس کے بعد 12/مئی 2015ئ کو بھی بڑا زلزلہ آیا۔ مجموعی طور پر 8,800/سے زائد افراد ہلاک، 22,000/سے زائد زخمی ہوئے ، پانچ لاکھ سے زائد مکانات مکمل اور تقریباً 2.7/لاکھ جزوی طور پر تباہ ہوئے ، جب کہ مالی نقصان تقریباً 7/ارب ڈالر تھا۔ 27/اپریل 2015ئ کو جمعیت نے متاثرین سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہوئے فوری طور پر 5 /لاکھ روپے ریلیف کے لیے جاری کیے۔
14،15/مئی 2015ئ کو مجلس عاملہ نے نیپال کے زلزلہ زدگان کے لیے ایک کروڑ روپے کا بجٹ منظور کیا، جب کہ ہنگامی حالات میں ریلیف کے لیے بھی الگ ایک کروڑ روپے مختص کیے گئے۔
10/جون 2015ئ کو جمعیت علمائے ہند اور جمعیت علمائے نیپال نے زلزلہ متاثرہ ضلع گورکھا میں جزوی بازآبادکاری شروع کی اور متاثرہ خاندانوں میں رہائشی شیڈ تقسیم کیے۔ 19،25/جون 2015ئ کے الجمعیۃ کے مطابق گورکھا کے ڈیرہ گا¶ں میں 62/گھر، آرے سوری میں 26/گھر، اہالے میں 4/گھر اور کاٹھمنڈو و اطراف میں 74/شیڈ تقسیم کیے گئے۔ جمعیت کا وفد بھی امدادی کاموں کا جائزہ لینے نیپال گیا۔
10،11/فروری 2023ئ کو جمعیت علمائے نیپال کے صدر اور رکن پارلیمنٹ مولانا خالد قاسمی نے جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ میں خطاب کیا۔ انھوں نے جمعیت کے بقائے باہم اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے نظریے کو سراہا اور بتایا کہ 2008ئ میں مولانا محمود اسعد مدنیؒ کے نیپال دورے کے موقع پر جمعیت علمائے نیپال کا قیام عمل میں آیا۔ مولانا مدنیؒ نے نیپال کی دستور سازی کے دوران مسلمانوں کے حقوق کے لیے کوشش کرنے کی نصیحت کی، جس کے نتیجے میں ان کے مطابق نیپال کے دستور میں 20/مقامات پر مسلمانوں کا ذکر شامل ہوا۔
21،22/نومبر 2025ئ کو مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ کی حیات و خدمات پر منعقدہ دو روزہ سیمینار میں مولانا خالد قاسمی نے شرکت کی اور خطاب میں جمعیت کے اکابر کی سیاسی بصیرت، خدمتِ خلق، دینی جدوجہد اور امت کے مسائل سے درد مندانہ وابستگی کو اجاگر کیا۔ انھوں نے علما میں سیاسی شعور پیدا کرنے اور اکابر کے درد و تڑپ کو زندہ رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔
مجموعی طور پر: نیپال کے سلسلے میں جمعیت علمائے ہند کی سرگرمیوں میں پڑوسی ملک کے ساتھ ذمہ دارانہ صحافتی رویہ، فرقہ وارانہ فسادات پر مسلمانوں کے تحفظ کا مطالبہ، حکومتِ نیپال کے انصاف پسندانہ اقدامات کی تحسین، مذہبی و فکری مسائل پر توجہ، اور قدرتی آفات کے موقع پر مالی و عملی امداد نمایاں طور پر شامل رہی ہے۔