3 Aug 2026

سوڈان کے بارے میں جمعیت علمائے ہند کا موقف: جامع خلاصہ

 


سوڈان کے بارے میں جمعیت علمائے ہند کا موقف: جامع خلاصہ

محمد یاسین جہازی

جمعیت علمائے ہند کی تاریخ میں سوڈان کا پہلا ذکر7تا9/جون1940ئ کے بارھویں اجلاسِ عام کے صدارتی خطبے میں ملتا ہے، جہاں حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے سوڈان سمیت عرب و اسلامی ممالک کی غلامی کو ہندستان کی غلامی سے جوڑا۔ بعد ازاں4تا7/مئی1945ئ کے چودھویں اجلاسِ عام میں بھی انھوں نے مصر، سوڈان، الجزائر، تیونس اور لیبیا کے مسلمانوں کی حالتِ زار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان کی غلامی سے انگریز ان ممالک کو دبانے کے لیے فوج اور وسائل استعمال کرتے ہیں۔ پھر27تا29/اکتوبر1956ئ کے انیسویں اجلاسِ عام میں شیخ الاسلام نے کہا کہ برطانیہ کی عالمی طاقت کا بڑا سبب ہندستان کی غلامی تھی، جس کے ذریعے مصر، سوڈان اور افریقہ کے دیگر علاقوں پر غلبہ قائم رکھا گیا۔

آزادی کے بعد جمعیت نے سوڈان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو بھی اہمیت دی۔22/مئی 1964ئ کو جمعیت علمائے ہند نے نئی دہلی میں جمہوریہ سوڈان کے صدر الفریق سید ابراہیم عبود کا شان دار استقبال کیا اور سپاس نامہ پیش کیا، جس میں ہندستان و سوڈان کی دوستی، نوآبادیاتی جدوجہد اور باہمی تعاون کو سراہا گیا۔

عربõاسرائیل تنازع کے سلسلے میں29/اگست تا یکم ستمبر1967ئ خرطوم (سوڈان) میں عرب لیگ کا چوتھا سربراہ اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اجلاس5تا10/جون1967ئ کی چھ روزہ جنگ میں عرب ممالک کی شکست کے بعد بلایا گیا تھا۔ اس میں عرب اتحاد، مقبوضہ عرب علاقوں کی واپسی اور اسرائیل کے بارے میں مشہور ’’تین نفیاں‘‘ (نہ صلح، نہ تسلیم، نہ مذاکرات) منظور کی گئیں، جب کہ مصر اور اردن کی مالی امداد کا بھی فیصلہ ہوا۔ اس کے بعد23õ24/ستمبر 1967ئ کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ نے ایک قرارداد کے ذریعے عرب ممالک سے مکمل اتحاد کی اپیل کی، تاکہ اسرائیل کے ناجائز قبضے کا مقابلہ کیا جا سکے۔

بعد کے برسوں میں بھی سوڈان جمعیت کی سرگرمیوں میں شامل رہا۔23/نومبر1969ئ کو دفتر جمعیت، نئی دہلی میں سفرائے عرب کے اعزاز میں افطار دی گئی، جس میں سوڈان کے سفیر بھی شریک ہوئے۔

اقوام متحدہ کی بین الاقوامی آبادی و ترقی کانفرنس5 تا13/ستمبر1994ئ قاہرہ (مصر) میں منعقد ہوئی، جس میں179/ممالک شریک ہوئے۔ کانفرنس میں تولیدی صحت، خواتین کے حقوق، صنفی مساوات اور پائیدار ترقی پر زور دیا گیا۔ جمعیت علمائے ہند نے23/اکتوبر 1994ئ کی مجلس عاملہ میں اس کانفرنس کی بعض قراردادوں کو اسلامی معاشرت کے خلاف قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور سعودی عرب، عراق، سوڈان اور لبنان کی طرف سے اس کانفرنس کے بائیکاٹ کی تائید کی۔

امریکہ کی سوڈان پالیسی کے خلاف بھی جمعیت نے واضح موقف اختیار کیا۔26/مئی 1998ئ کو عراقی رہنما سعدون حمادی نے جمعیت کے صدر دفتر میں خطاب کرتے ہوئے عراق، لیبیا اور سوڈان پر امریکی پابندیوں کو مسلم ممالک کے خلاف پالیسی قرار دیا۔ پھر20/اگست 1998ئ کو امریکہ نے خرطوم کے قریب ’’الشفائ‘‘ دوا ساز فیکٹری پر بم باری کی۔ اس کے جواب میں جمعیت نے4/ستمبر1998ئ کے پریس بیان میں اس حملے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور کھلی جارحیت قرار دیا، اور مولانا اسعد مدنیؒ نے اسے طاقت کے ناجائز استعمال کی مثال کہا۔

28/مارچ2001ئ کو اسلامی سالِ ہجری کے آغاز کی تقریب میں سوڈان سمیت کئی مسلم ممالک کے سفرا شریک ہوئے، جب کہ27õ28/ستمبر2001ئ کی مجلس عاملہ نے دہشت گردی کی مذمت کے ساتھ امریکہ سے مطالبہ کیا کہ سوڈان، فلسطین، عراق اور دیگر مظلوم ممالک کے بارے میں انصاف پر مبنی رویہ اختیار کیا جائے۔29/نومبر2003ئ کی عید ملن تقریب میں بھی سوڈان کے سفیر شریک ہوئے۔

دارفور کے بحران کے پس منظر میں14/جولائی2008ئ کو آئی سی سی پراسیکیوٹر نے صدر عمر البشیرکے خلاف درخواست دائر کی،4/مارچ2009ئ کو پہلا اور12/جولائی2010ئ کو دوسرا وارنٹ جاری ہوا۔ اس سے قبل9نومبر/ 2008ئ کے انتیسویں اجلاسِ عام میں مولانا قاری محمد عثمان منصورپوری نے کہا کہ سوڈان کے خلاف عالمی کارروائیاں دراصل مسلم اور ترقی پذیر ممالک کو کمزور رکھنے کی کوشش ہیں۔

آخر میں16/مئی2015ئ کے بتیسویں اجلاسِ عام اور اس کی قرارداد نمبر(۵۱)میں جمعیت نے کہا کہ اگرچہ سوڈان میں پہلے جیسی شدید بحرانی کیفیت نہیں رہی، لیکن بین الاقوامی پابندیوں، سیاسی کشمکش اور مسلح تنازعات کے باعث اس کی معاشی حالت اب بھی خراب ہے، اور عالم اسلام کے مسائل کے ضمن میں سوڈان کے استحکام کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

خلاصہ¿ کلام یہ ہے کہ جمعیت علمائے ہند نے1940 سے2015ئ تک مختلف مواقع پر سوڈان کے مسئلے کو عالمِ اسلام، استعمار مخالف جدوجہد، عرب اتحاد، فلسطین کے دفاع، مغربی دبا¶ کے خلاف مزاحمت اور مسلم ممالک کے حقوق کے تناظر میں دیکھا۔ جمعیت نے ایک طرف سوڈان کی آزادی، خودمختاری اور معاشی استحکام کی حمایت کی، اور دوسری طرف خرطوم کانفرنس، امریکی پابندیوں، آبادی و ترقی کانفرنس، دارفور بحران اور عالمی سیاسی دبا¶ جیسے اہم مواقع پر اپنا واضح موقف بھی پیش کیا۔