Showing posts with label مسائل حج: مولانا محم منیر الدین جہازی. Show all posts
Showing posts with label مسائل حج: مولانا محم منیر الدین جہازی. Show all posts

2 May 2026

حج کی مکمل معلومات

مسائل حج

تصنیف: حضرت مولانا محمد منیر الدین جہازی نور اللہ مرقدہ بانی مدرسہ اسلامیہ رحمانیہ جہاز قطعہ گڈا جھارکھنڈ


 بِسْمِ الْلّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ، وَالصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلیٰ سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ، وَ عَلیٰ آلِہِ وَاَصْحَابِہِ اَجْمَعِیْنَ۔

حج کی تعریف

مخصوص زمانہ میں مخصوص افعال کے ساتھ خانۂ کعبہ کی زیارت کا نام حج ہے۔ 

نور الایضاح)

حج زندگی کا ایک اہم فریضہ ہے ، جو مسلمانوں پر ۹ھ میں فرض ہوا تھا؛ لیکن رسول اللہ ﷺ خود وفود کی کثرت اور غزاوات کے اہتمام کی وجہ سے تشریف نہ لے جاسکے، اس لیے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو امیر الحاج بناکر مکہ روانہ کیا، تاکہ وہ لوگوں کو اسلامی شریعت کے موافق حج کرائیں۔ اور نقض عہد کے احکام سنانے کے لیے سورہ براء ت آپ کے ساتھ کردی؛ لیکن جب یہ خیال آیا کہ عرب عہد کے متعلق اقارب ہی کا پیغام قبول کرتے ہیں، تو پیچھے سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو روانہ کیا۔ (نشر الطیب)

حضرت علی رضی اللہ عنہ آں حضرت ﷺ کی اونٹنی عضباء پر سوار ہوکر چلے۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جب آں حضرت ﷺ کی اونٹنی کی آواز پیچھے سے سنی، تو گمان ہوا کہ خود آں حضرت ﷺ تشریف لارہے ہیں ، ٹھہر گئے، دیکھا تو حضرت علیؓ ہیں۔ پوچھا : آپ امیر بن کرآئے ہیں یا مامور؟ حضرت علی ؓ نے فرمایا: امیر تو آپ ہی ہیں، صرف سورہ براء ت سنانے کے لیے آیا ہوں۔ اس کے بعد مکہ پہنچ کر حضرت ابوبکر ؓ نے سب کو حج کرایااور حضرت علی ؓ نے سورہ براء ت پڑھ کر سنائی اور یہ پیغام دیا کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہ کرے اور خانہ کعبہ کا طواف کوئی ننگا ہوکر نہ کرے۔ مسلمانوں کے سوا کوئی جنت نہ جائے گا۔ کافروں میں سے جس نے عہد میعادی باندھا ہے، وہ میعاد پوری کرلے۔ اور جس کا عہد بے میعاد ہے، یا مطلق عہد ہی نہیںہے، اسے چار ماہ کی امان ہے، اس کے بعد اگر مسلمان نہ ہوگا، تو قتل کردیا جائے گا۔ (تواریخ حبیب الہ)

قصہ حجۃ الوداع

۱۰ ؁ میں آپﷺ خود حج کے لیے تشریف لے گئے اور آپﷺ نے ایسے باتیں فرمائیں ،جیسے کوئی کسی کو وداع یعنی رخصت کررہا ہو ،اسی لیے یہ حج حجۃ الوداع کہلایا ،آپﷺ کے حج کی خبر سن کر مسلمان ہر طرف سے جمع ہونے لگے اور ایک لاکھ سے زیادہ مجمع ہوگیا۔اور اسی حج میں جمعہ کے دن نویں ذی الحجہ کو جس دن وقوف عرفہ ہوتاہے اور جو سید الایام ہے آیت :

اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِسَلَامَ

 دِیْنَاً۔

 نازل ہوئی۔ (نشر الطب) 

حجۃ الوداع کا قصہ مسلم کی ایک مفصل روایت میں ہے، جس سے حج ادا کرنے کی کیفیت کے ساتھ بہت سے مسائل پر بھی روشنی پڑجاتی ہے ۔وہ یہ ہے:

 عَنْ جَابِرِ ابْنِ عَبْدِ الْلّٰہِ  رَضِیَ الْلّٰہُ عَنْہُ اَنَّ رَسُوْلَ الْلّٰہِ ﷺ مَکَثَ بالمدینۃ تسع سنین لم یحج ثم اذن فی الناس با لحج فی العاشرۃ ان رسوال اللہ ﷺ حاج فقدم المدینۃ بشر کثیر کلھم یلتمس ان یا تم برسول اللہ ﷺو یعمل مثل عملہ فخرجنا معہ حتی اذا اتینا ذاالحلیفۃ فولد ت اسماء بنت عمیس محمد بن ابی بکر فارسلت الی رسول اللہ ﷺ کیف اصنع قال اغتسلی واستشفری بثوب واحرمی۔

حضرت جابرابن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیا ن کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے مدینہ  میں نو سال تک قیام فرمایا، جس میں حج نہیں کیا ،پھر دسویں سال لوگوں میں اعلان کیا گیا کہ رسول اللہ ﷺحج کرنے والے ہیں ۔پھر تو بہت سے لوگ مدینہ میں آگئے ۔ہر ایک کی یہ جستجو تھی کہ ہم رسول اللہ کی اقتدا کریں اور آپﷺ کی طرح ہم بھی عمل کریں۔ پس ہم لوگ آپﷺ کے ساتھ نکلے، یہاں تک کہ جب ہم ذوالحلیفہ پہنچے، تو اسماء بنت عمیس کو محمد ابن ا بی بکر لڑکا پید اہوا ۔

( ذوالحلیفہ مدینہ سے چھ میل کے فاصلہ پر ہے اور یہی مدینہ والوں کے لیے یا جو مدینہ کی طر ف سے آئے، ان کے لیے میقات ہے۔ آج کل اسی کو بئر علی کہتے ہیں)۔یہیںپر حضرت ابو بکرؓ کی بیوی حضرت اسماء ؓکو لڑکا پیدا ہوا، جس کا نا محمد رکھا) حضرت اسماء ؓنے رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کہلا بھیجا کہ میں کیسے کروں؟ ( یعنی کس طرح احرا م باندھوں ) آ پﷺ نے فرمایا: تو نہالے اور لنگوٹ کس لے اور احرام باندھ لے( احرام کے لیے غسل کرنا مسنون ہے اگر چہ حائض اور نفسا ہو۔ اور یہ غسل بدن کی صفائی کے لیے ہے، طہارت کے لیے نہیں ؛ ورنہ حیض و نفاس والی کو غسل کاحکم نہ ہوتا؛ کیوں کہ ان کو نہانے کے باوجود طہارت حاصل نہیں ہوتی، البتہ بدن کی صفائی ضرورہوجاتی ہے )

پھر رسول اللہ ﷺ نے مسجد میں دورکعت نماز پڑھی(احرام کے لیے وضو و غسل کے بعد دورکعت نماز پڑھنا بھی مسنون ہے اور یہ دو رکعت نماز احرامی کپڑے پہن لینے کے بعد پڑھے تاکہ نما زکے متصل احرام باندھ لے؛ مگر یہ نماز سر چھپا کر پڑھے، کیوں کہ احرام سے قبل کی نماز بے سلے ہوئے کپڑے بھی پہن کر پڑھ سکتا ہے، لیکن احرام کے لیے سلے ہوئے کپڑے اتار دے اور اس کے بعد احرام باندھے۔ رسول اللہ ﷺ نے نماز کے بعد ہی احرام باندھا تھا۔  چنانچہ حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کی حدیث میں ہے :

فلما صلی فی مسجدہ بذی الحلیفۃ رکعتیہ اوجب فی مجلسہ  فاھل بالحج حین فرغ من رکعتیہ (ابو داؤد)

جب آپﷺ نے ذی الحلیفۃکی مسجد میں نما زپڑھی، تو آپ ﷺنے اسی مجلس میں حج واجب کر لیا، پھر آپﷺ نے حج کا تلبیہ پڑھا، جس وقت دورکعت سے فارغ ہوئے اور دوبارہ تلبیہ اس وقت پڑھا جب اونٹنی پر بیٹھے ) 

پھر آپﷺ قصوا ء پر سوار ہوئے، یہاں تک کہ آپﷺ کو لے کر میدان میں کھڑی ہوئی، تو میں نے نگاہ بھر اپنے سامنے سوار اور پیدل کو دیکھا ۔اسی طرح دائیں اور اسی طرح بائیں اور اسی طرح ان کے پیچھے ۔پھر آپ ﷺنے بلند آواز سے تلبیٔہ توحید پڑھا :

 لَبَّیْکَ اَلْلّٰہُمَّ لَبَّیْکَ، لَبَّیْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ، اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ لَاشَرِیْکَ لَکَ۔ 

اور لوگوں نے بھی اپنے اپنے طریقے سے تلبیہ پڑھا ( یعنی مذکورہ بالا تلبیہ پر کچھ بڑھاکر تلبیہ پڑھا، چنانچہ مسلم کی روایت ہے کہ عبداللہ بن عمر مذکورہ بالا تلبیہ پر اضافہ فرماتے اور کہتے: 

لَبَّیْکَ لَبَّیْکَ وَسَعْدَیْکَ وَالْخَیْرَ بِیَدَیْکَ  لَبَّیْکَ وَالرَّغْبَائُ  اِلَیْکَ وَالْعَمَلُ

ہدایہ میں ہے کہ حضور ﷺکے تلبیہ میں زیادتی کرنا  جائز ہے کم کرنا جائز نہیں۔ 

تو رسول اللہ ﷺ نے ان کی کچھ تردید نہیں کی اور آ پ ﷺنے تلبیہ لازم کرلیا ۔یعنی برابر پڑھتے رہے۔حضرت جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ تو صرف حج کی نیت کررہے تھے ،عمرہ کو نہ جانتے تھے ۔( زمانہ جاہلیت میں حج کے موسم میں عمرہ کرنا بدترین گناہ سمجھتے تھے ۔ اسی عقیدے کے موافق حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم صر ف حج کو جانتے تھے اور حج ہی کی نیت رکھتے تھے )یہاں تک کہ ہم لوگ آپ ﷺکے ساتھ خانہ کعبہ پہنچے، تو آپ ﷺنے حجراسود کو بوسہ دیا اور اس کو چھوا۔پھر سات پھیرے کعبہ کا طواف کیا ،تین پھیرے  میں اکڑ کر چلے اور باقی چار پھیرے اپنی چال سے چلے ( چوںکہ اس سفر کا مقصد ہی بیت اللہ  کی زیارت ہے، اس لیے مکہ آکر سب سے پہلے خانہ کعبہ کا طواف کرے اور طواف کو حجراسود کے استلام سے شروع کرے۔ اگر اس طواف کے بعد صفا مروہ کے درمیان سعی بھی کرنی ہو،تو طواف کے تین پھیروں میںرمل کرے اور پورے طوا ف میں اضطباع کرے اور طواف کے ہر پھیرے کے بعد حجر اسود کاا ستلام کرے ۔یہ طواف مفرد کے لیے طواف قدوم ہوگا اور متمتع اور قارن کے لیے عمرہ ہوگا۔ متمتع کے لیے طواف قدوم نہیں ہے اور قارن عمرہ سے فارغ ہوکر طواف قدوم کرے ۔تو قارن کے لیے دو طواف اور دو سعی ہیں: ایک عمرہ کے لیے اور دوسرا طواف قدوم کے لیے۔ چنانچہ آنحضور ﷺ نے دو طواف اوردو سعی کیے تھے ۔ دار قطنی کی روایت میں ہے:

 ان النبی ﷺطافَ طوافَینِ وسَعَیٰ سَعْیَنِ) 

 پھر آ پﷺ مقام ابراہیم پر آئے اور پڑھا :

وَاتَّخِذُوْامِنْ مَّقَامِ اِبْرَاہِیْمَ مُصَلَّیٰ۔

پھر دورکعت نماز پڑھی۔ (طواف کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا واجب ہے اور یہ نماز مقام ابراہیم میں پڑھنا مسنون ہے۔ اگر وہاں موقع میسر نہ ہو تو دوسری جگہ پڑھیں ۔ اگر وقت مکروہ ہو تو اس وقت نہ پڑھیں؛ بلکہ دوسرے وقت میں پڑھیں۔)تو آپﷺ نے مقام ابراہیم کو اپنے اور بیت اللہ کے درمیان میں کیا۔ اور ایک روایت میں ہے کہ آپﷺ نے دونوں رکعتوں میں قل ھو اللہ احد اور قل یا ایھاالکافرون پڑھا او ر حجر اسود کی طرف لوٹے اوراس کو بوسہ دیا پھر دروازے سے صفا کی طرف نکلے)

جب آپ ﷺصفاکے قریب پہنچے ،توآپﷺنے پڑھا:

اِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِالْلّٰہِ 

میں سعی اسی سے شروع کروں گا، جس سے اللہ نے اپنا بیان شروع کیا ہے، یعنی صفا سے( سعی کا صفا سے شروع کرنا واجب ہے اگر مروہ سے شروع کی، تو وہ سعی میں شمار نہ ہوگا)پھر آپﷺ صفا پر چڑھے، یہاں تک کہ بیت اللہ کو دیکھ لیا، پھر قبلہ کا اسقتبا ل کیا، پھر اللہ کی توحید بیان کی ،اس کی بڑائی کی اور فرمایا: 

لا الہ اللہ وحدہ لاشریک لہ لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شئی قدیر لا الہ اللہ وحدہ انجزوعدہ ونصرعبدہ وھزم الحزاب وحدہ

 پھر اس کے درمیان دعا کی۔ آپﷺ نے اسی طرح تین مرتبہ فرمایا (مسنون یہی ہے کہ صفا پر اتنا چڑھے کہ دروازہ سے بیت اللہ نظر آنے لگے اور یہ مقصدپہلی دوسری سیڑی پر چڑھنے ہی سے حاصل ہوجاتا ہے۔ جاہلوں کی طرح بالکل پہاڑ پر نہ چڑجائے کہ وہ سنت کے خلاف ہے پھر استقبال قبلہ کرے اور تکبیر تہلیل اور تحمید کے بعد دعا مانگے اور رسول اللہ ﷺ پر درود بھیجے)پھر آپﷺ صفا سے اترے اور مر وہ کی طرف چلے ،یہاں تک کہ آپ ﷺبطن وادی میں اترگئے۔ پھر آپ ﷺدوڑے یہاں تک کہ آپﷺ بلندی کی طرف چڑ ھنے لگے توآپ ﷺاپنی چال سے چلے یہا ں تک کہ مروہ پر آئے (جہاں سے جہاں تک صفا مروہ کے درمیا ن آپ ﷺنے دوڑلگا ئی ہے، دونوں کے سرے پر سبز پتھر نصب کردیے ہیں، لیکن صفا کی طرف والا میل چھ ہاتھ مسعیٰ کے اندر ہے، اس لیے جب میل چھ ہاتھ کے فاصلہ پر رہ جائے ،تو وہیں سے دوڑلگائے، مسعیٰ کے سرے پر اس کو نصب کرنے کا چوںکہ موقع نہیں تھا، اس لیے چھ ہاتھ اندر مسجد کی دیوار میں نصب کردیا۔پھر آپﷺ نے مروہ پر ویسا ہی کیا، جیسا صفا پر کیا،  یعنی مروہ پر اتنا چڑھے کہ بیت اللہ نظر آنے لگے ،پھر تلبیہ، تہلیل ،تحمید کی اور دعا مانگی؛ یہی مسنون طریقہ ہے۔صفا سے مروہ تک یہ ایک شوط یعنی پھیرا ہوا ) 

یہاںتک کہ جب آپ ﷺکا آخری طواف مروہ پر ہوا ( یعنی سات چکر مروہ پر آکر پورے ہوگئے )تو آپ ﷺنے مر وہ پر سے لوگوں کو پکارا اور لوگ نیچے تھے، پس آپﷺ نے فرمایا :جو کچھ مجھے پیچھے معلوم ہو ا،اگر میں اس کو پہلے جا نتا تو میں قربانی کا جانور ساتھ نہ لیتا اور میں نے اس کو عمرہ کر لیا (طواف اور سعی کو میں نے عمرہ میں شمار کیا ،تم لوگ بھی اس کو عمرہ کر لو، آگے حج کا عمل ہوگا اور سر منڈاواکر عمرہ کے احرام کو ختم کر دو اور عمرہ سے حلال ہوجاؤ،مگر کسی نے سر نہیں منڈایا، سب آپﷺ کو دیکھنے لگے کہ دیکھیں آپﷺ سر منڈاتے ہیں یا نہیں، تو آپﷺ نے اپنا عذر بیان فرمایا کہ میرے ساتھ چوںکہ قربانی کا جانور ہے ،اس لیے میرے لیے عمرہ سے حلال ہونا درست نہیں ہے۔ اگر مجھے پہلے سے معلوم ہوتا کی میری اطاعت نہ کریںگے اور وہ میری عمل کی اقتدا کریں گے، تو میں قربانی کا جانورہی ساتھ نہ لا تا اورمیں سر منڈا کر حلال ہوجاتا، پس تم میں سے جس کے پاس قربانی کا جانور ساتھ نہیں ہے، وہ حلال ہوجائے اور اس کو عمرہ کرلے (جہالت کے عقیدے کو توڑنے کے لیے یہ آپﷺ نے حکم دیا اس لیے کہ وہ ایام حج میں عمرہ کو افجر فجور سمجھتے تھے ورنہ اختیا رہے کہ عمرہ نہ کرے اور ایام حج میں صر ف حج کرے )پھر سراقہ ابن مالک ابن جعشم کھڑے ہوئے اور عرض کیایا رسول اللہ ﷺ!یہ عمرہ حج میں داخل ہوا اسی سال کے لیے یا ہمیشہ کے لیے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ایک ہاتھ کی انگلیوں کودوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیا اور فرمایا: عمرہ حج میں داخل ہوا ،عمرہ حج میں داخل ہوا ہمیشہ کے لیے ،ہمیشہ کے لیے۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ یمن سے رسول اللہ ﷺ کی قربانی کے اونٹ لے کر آ ئے اور حضورﷺ نے فرمایا: جس وقت تم نے احرام باندھا تھا، اس وقت کیا کہا؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں نے کہا: اے اللہ! اسی کا احرام باندھتا ہوں، جس کا احرام تیرے رسول ﷺنے باندھا ہے ۔

حضرتﷺ نے فرمایا: میرے ساتھ قربانی کے جانور ہیں، اسی لیے تو حلال نہ ہوا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ جتنے اونٹ حضرت علیؓ یمن سے لائے اور جو کچھ حضور ﷺ اپنے ساتھ لائے، ان تمام اونٹوں کی تعداد سو کی تھی (جو متمتع اپنے ساتھ قربانی کاجانور لائے وہ عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد حلا ل نہیں ہوتا ہے، اس کے لیے جائز نہیں کہ سرمنڈاکر حلال ہوجائے۔ اگر سرمنڈائے گا تو جزا لازم ہوگی اور آٹھویں ذی الحجہ کو حج کا احرام باندھ کر حج کرنا ہوگا )حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ تمام لوگوں نے احرام اتار دیا اور بال کٹوائے ؛مگر رسول اللہ ﷺ اور وہ لوگ جن کے ساتھ قربانی کے جانور تھے حلال نہیں ہوئے اور نہ بال کٹوائے۔ پھر جب ذی الحجہ کی آٹھویں تاریخ ہوئی تو سب منیٰ کی طرف متوجہ ہوئے اور سب نے حج کا احرام باندھا اور نبی کریم ﷺ سوار ہوئے، تو منیٰ میں ظہر ،عصر ،مغرب ،عشا اور فجر کی نماز پڑھی، پھر تھوڑی دیر ٹھہرے، یہاں تک کہ سورج نکل آیا اور آپﷺ نے خیمہ کو نصب کرنے کا حکم دیا جو سیاہ وسفید دھاری کا تھا۔ (جس کا احرام پہلے سے نہ ہوتو وہ آٹھویں کو حج کا احرام باندھ لے جیسے مکی اور متمتمع۔ اور جس کا احرام پہلے سے ہے، اسے احرام باندھنے کی حاجت نہیں جیسے مفر داور قارن اس سے پہلے ہی احرام باندھ سکتا ہے ،مگر احرام مسجد حرام سے باندھے )پھر رسول اللہ ﷺ نے کوچ فرمایا اور قریش چل کر مشعر حرام ہی کے پاس یعنی مزدلفہ میں قیام کرتے تھے جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں قریش کرتے تھے (مزدلفہ ،منیٰ اور عرفات کے بیچ میں ہے، قریش یہیں وقوف کرتے تھے، رسول اللہ ﷺ نے ان کی مخالفت کی ) پس رسول اللہ ﷺ (مزدلفہ) سے آگے بڑھے یہاںتک کہ عرفہ آئے، تو آپ ﷺنے یہاں دھاری دار خیمہ گاڑا ہوا پایا، آپﷺ اس میں اترپڑے اور جب سورج ڈھل گیا ،تو آپﷺ نے قصوا ء اونٹنی کے کسنے کا حکم دیا تو وہ کس کر لائی گئی توآپ ﷺسوار ہوکر بیچ میدان میں آئے اور لوگوںکو خطبہ دیا اور آپﷺ نے فرمایا: تمھارا خون، تمھارا مال تم پر حرام ہے جیسے کہ آ ج کی حرمت اس مہینہ میں اور اس شہر میں ہے (یعنی جس طرح نویں ذی الحجہ کا دن عرفات کے میدا ن میں سب سے بڑا محترم ہے ،اسی طرح ایک مسلمان کا خون اور اس کا مال محترم ہے۔ نا حق کسی کو نہ مارے اور نہ کسی کا مال لے، اگر ایسا کرے گا تو وہ ایسا ہی گنہگار ہوگا جیسا کہ کوئی عرفات کے میدان میں گناہ کا کام کرے)

خبر دارہو !امر جاہلیت کی ہر چیز میرے قدموں کے نیچے رکھ دی گئی ہے ( یعنی اس کا کوئی بدلہ نہیں لیا جائے گا ) اور خونوں میں سے سب سے پہلا خون جس کو میں ضائع کرتا ہوں وہ ربیعہ ابن حارث کا خون ہے ،بنی سعد میں دودھ پلانے والا تھا، جس کو ہزیل نے قتل کی کیا تھا ۔ اور جاہلیت کا سود بھی ضائع ہے اور میں اپنے سودوں میں سے اول عبا س ابن عبدالمطلب کا سود ضائع کرتاہوں، پس وہ کل کاکل ضائع ہے ۔ ( حضرت ابن عبا س ؓ نے سود کی حرمت سے پہلے لوگوں کو سودی قرض دیا تھا اس کو حضورﷺ نے اصل مع سود سب کو چھوڑ دیا، تاکہ کسی کو اعتراض نہ ہو اور اس معاملہ میں سبقت کرنے کا ثواب ملے ) پس عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو ، اس لیے کہ تم نے ان کو اللہ کی امان میں لیا ہے اور اللہ کے کلمے ہی نے اس کی شرمگا ہ کوحلال کیا ہے اور تمھار اان عورتوں پر یہ حق ہے کہ وہ کسی ایسے کو تمھارے بستر پر نہ لائے، جس کو تم نا پسند کرتے ہو،پس اگر وہ عورتیں ایسا کریں، تو ان کو مارو؛ مگر ضرب شدید نہ مارو۔

اور ان عورتوں کا تمھارے اوپر دستور کے مطابق کھانا کپڑا ہے۔

اور میں نے تم میں ایسی چیزیںچھوڑی ہے کہ اگر تم اس کو مظبوطی سے تھامے رکھو تو تم ہرگز نہ بہکو۔ اور تم لوگ میرے بارے میں پوچھے جاؤگے، پس تم کیا کہو گے؟  صحابہ کرامؓ نے عرض کیا: ہم لوگ گواہی دیتے ہیں کہ آپﷺ نے (احکام )پہنچائے اور اس کا حق ادا کیا اور خوب سمجھایا۔ پس آپﷺ نے شہادت کی انگلی آسماں کی طرف اٹھاتے ہوئے اور لوگوں کی طرف جھکاتے ہوئے فرمایا: اے اللہ! تو گواہ رہ ،اے اللہ! تو گواہ رہ! تین مرتبہ فرمایا ( عرفات کے میدان میں امیر حج کا خطبہ دینا مسنون ہے، اس میں احکام بیان کرے۔ ) 

پھر حضرت بلال ؓ نے اذان دی، پھر اقامت کہی، پس ظہر کی نماز پڑھی، پھر اقامت کہی اور عصر کی نماز پڑھی اور ان دونو ں کے درمیان کوئی نماز نہ پڑھی۔ ( جمع بین الصلاتین یہاں بالاتفاق جائز ہے )پھر رسول اللہ ﷺ سوار ہوئے اور موقف پر آئے تواونٹنی کے پیٹ کو صخرات کی طرف کیا اور جبل مشاۃکو اپنے سامنے کیا اور قبلہ کا استقبال کیا، پھر آپﷺ نے برابر وقوف کیا،یہاں تک کہ آفتاب غروب ہوگیا ۔اور تھوڑی زردی بھی جاتی رہی او رٹکیہ غائب ہوگیا۔ (زول سے غروب تک وقوف کرنا واجب ہے، جیسا کہ آپﷺ نے کیا۔ وقوف کے لیے یوں تو تمام عرفات موقف ہے ،لیکن جبل رحمت کے قریب ذرا اونچے پر جس جگہ بڑے بڑے سیاہ پتھر کا فرش ہے، جناب رسول اللہ ﷺ کا موقف ہے۔ اگر سہولت سے جگہ مل جائے، تو وہاںکھڑارہنا مستحب ہے )اور آںحضرت ﷺ نے حضرت اسامہ ؓ کو اپنے پیچھے بیٹھایا اور چلے، یہاں تک کہ مزدلفہ آئے توآپﷺ نے وہاں مغرب اور عشاء کی نماز ایک اذان اور دو اقامت سے پڑھی اور ان دونوں کے درمیان میں کچھ نہ پڑھا (  یہ جمع تاخیر ہے عشاء کے وقت میں مغرب اور عشاء کی نماز پڑھی جا تی ہے راستہ میں مغرب کی نماز مغرب کے وقت پڑھنا درست نہیں ہے؛ بلکہ مزدلفہ آکر دونوں نمازیں پڑھے اور ایک اذان اور ایک ہی اقامت سے دونوں نماز پڑھے۔ اگرچہ اس حدیث میں دو اقامت کا تذکرہ ہے لیکن دوسری حدیث میں ایک ہی اقامت آئی ہے۔ چنانچہ مسلم ہی کی ایک روایت سعید ابن جبیر سے ہے:

 افضنا مع ابن عمر حتی اتینا جمعا فصلی بنا المغرب و العشاء باقامۃ واحدۃ ثم انصر ف فقال ھکذا صلی بنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فی الھذا لمکان

 یعنی ہم ابن عمر کے ساتھ چلے یہاں تک کہ مزدفلہ آئے، تو ہم کو ابن عمر نے مغرب اور عشاء کی نماز ایک اقامت سے پڑھائی ۔ اسی طرح ترمذی نے روایت کی ہے اوراس کو حسن صحیح کہا ہے ۔ امام ابو حنیفہ اور صاحبین اور سفیان ثوری رحمہم اللہ کا یہی مسلک ہے کہ مغرب اور عشاء کی نماز ایک اذان اور ایک اقامت سے پڑھی جائے۔ (عقود الجواہر المنیفہ)

پھر رسول اللہ ﷺ لیٹ گئے، یہاں تک کہ صبح صادق ہوئی، پھر آپﷺ نے فجر کی نماز جب کہ صبح ظاہر ہوئی اذان اور اقامت سے پڑھی۔ پھر قصواء پر سوار ہوئے، یہاں تک کہ مشعر حرام آئے، پھر قبلہ کے رخ ہوئے، دعا مانگی تکبیر تہلیل کہی اور خدا کی وحدانیت بیان کی اور برابر ٹھہرے، یہاں تک کہ خوب صاف ہوگیا (فجر کی نماز ذرا اندھیرے میں پڑھی او راس کے بعد جبل قذح پر یا اس کے قریب ٹھہرے اور دعا مانگے، تکبیر تہلیل اور تحمید و ثنا کرے۔ وقوف مزدلفہ واجب ہے اور اس کا وقت صبح صادق کے اول وقت سے لے کر آخری وقت تک ہے۔ جو شخص نکلنے کے بعد یا صبح صادق سے پہلے وقوف کرے گا، اس کا وقوف صحیح نہیں ہوگا )طلوع آفتاب سے پہلے آپﷺ نے کوچ کیا اور فضل ابن عباسؓ کواپنے پیچھے اونٹنی پر بیٹھا لیا ۔یہاں تک کہ بطن محسر میں آئے تو اونٹنی کو ذرا تیز کیا ،پھر اس بیچ کے راستے پر چلے، جو جمرہ عقبی ٰکی طرف نکلا ہے، یہاں تک کہ اس جمرہ کے پاس آئے جو درخت کے پاس ہے ۔ پھر آپﷺ نے سات کنکریاں ماریں، ہر کنکری کے ساتھ آپﷺ نے تکبیر کہی۔ کنکریاں ٹھیکرے کے مثل تھیں۔ بطن وادی سے آپﷺ نے کنکریاں ماریں۔ (سورج نکلنے میں جب تھوڑی دیر باقی رہے، تو مزدلفہ سے چل پڑے اور چلنے سے پہلے وہیں سے رمی کے لیے سات کنکریاں لے لے، یہ مستحب ہے اور کنکریاں چنے کی گٹھلی کے برابر لے ۔جب بطن محسر پہنچے تو تیز چلے، سواری کو تیز ہانکے۔ بطن محسر وہ وادی ہے جہاں اصحاب فیل پر عذاب آیا تھا۔ یہ منیٰ اور مزدلفہ میں ہے جس کی پیمائش ۵۴۵گز کے قریب ہے۔ وہاں سے گزر کر جمرہ عقبی پر آئے اور وہاں سات کنکریاں مارے اور تکبیر ہر کنکری پر کہے اور پہلی تکبیر پرتلبیہ بند کردے۔ ا س دن صرف جمرہ اخری کی رمی ہے اور اس کا مستحب وقت سورج نکلنے کے بعد سے ہوتا ہے اور یہ رمی واجب ہے۔ اس کے بعد رسول اللہ ﷺ قربان گاہ کی طرف لوٹے اور تریسٹھ اونٹ اپنے ہاتھ سے نحر کیا اپنی عمر کے سال کی گنتی کے موافق کہ حضورﷺ کی عمر بھی تریسٹھ ہی سال ہوئی)۔ پھر حضرت علیؓ کو دیا تو انھوں نے باقی اونٹ کا نحر کیا اور آپﷺ نے ان کو قربانی میں شریک کیا۔ پھر آپﷺ نے ہر اونٹ سے تھوڑا گوشت لینے کو فرمایا۔وہ گوشت ہانڈی میں کیا اور پکایا گیا۔ پھر دونوں صاحبوں نے گوشت کھایا اور شوربا پیا۔ ( جمرہ عقبی کی رمی کے بعد دوسرا کام قربانی کرنا ہے۔ قارن اور متمتع پر قربانی واجب ہے اور مفرد کے لیے مستحب ہے ۔قران اور متمتع اور افراد کی قربانی کا گوشت کھانا اور دوسرے کو کھلانا سب جائز ہے )۔اونٹ کا نحر اور دوسرے جانوروں کا ذبح کرنا مستحب ہے اور اپنے ہاتھ سے کرنا اولیٰ ہے۔ اگر نہ جانتا ہو تو دوسرے سے کرادے اور وہاں موجودرہے اور اس کے گوشت میں سے تھوڑا سا کھانا مستحب ہے۔ قربانی کے بعد حجامت کرائے، گو اس حدیث میں اس کا تذکرہ نہیں ہے لیکن دوسری حدیث میں ہے کہ آپ نے سر منڈایا۔ چنانچہ مروی ہے:

 عن ابن عمر ان رسوول اللہ ﷺ حلق رأسہ و قصر بعضہم

 حضرت عبد اللہ ابن عمر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے حجۃ الوداع میں سر منڈایا اور آ پﷺ کے اصحا ب میں سے بہت سے لوگوں نے بھی منڈایا اور ان میں سے بعض نے بال کٹوائے۔ (بخاری و مسلم)

حجامت کے بعد عورت کے سوا سب چیزیں حلال ہوجاتی ہیں، جو احرام کی وجہ سے حرام ہوئی تھیں ۔پھر رسول اللہﷺ سوار ہوئے اور (دسویں ہی کو ) بیت اللہ کی طرف (طواف زیارت کے لیے جو کہ فرض ہے ) چلے اور مکہ میں (طواف زیارت کے بعد )ظہر کی نمازپڑھی (بعض حدیث میں آیا ہے کہ آپﷺ نے ظہر کی نماز منیٰ میں آکر پڑھی۔ ملا علی قاری نے مسلم کی حدیث کو ترجیح دی ہے اور فرمایا ہے کہ ظہر کی نماز مکہ میں مسجد حرام میں پڑھ کر منیٰ آئے )پھر بنی عبد المطلب کے پاس آئے جو زمزم کا پانی کنوئیں پر پلا رہے تھے تو آ پﷺ نے فرمایا :اے بنی عبد المطلب! پانی نکالو اگر تمھارے پانی پلانے کی جگہ پر لوگو ں کاہجوم نہ ہوتا، تو میں خود تمھارے سات پانی نکالتا، پھر انھوں نے آپﷺ کو ایک ڈول پانی دیا، آپﷺ نے اس میں سے پیا۔ (مسلم)

(طواف کے بعد زمز م کا پانی پینا مستحب ہے ،خوب سیراب ہوکر پیے اور اپنے اوپر اور کپڑوں پر چھڑکے۔

حج کی فرضیت کا بیان 

اسلا م کی پانچ بنیادی باتوں میں سے ایک حج بھی ہے، چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 بنی الاسلام علی خمس شہاد ۃ ان لا الہ الا اللہ وان محمد ا عبدہ و رسولہ و اقام الصلاۃ وایتاء الزکوٰۃ و الحج و صوم رمضان(متفق علیہ )

یعنی اسلا م کی بنیا د پانچ باتوں پر ہے 

(۱) اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں او رمحمدﷺ اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ 

(۲) نماز کو پابندی سے ادا کرنا۔ 

(۳) زکوٰۃ دینا ۔

(۴) حج کرنا ۔

(۵) رمضان کے روزے رکھنا ۔

حضرت جبرئیل علیہ السلام نے حضور ﷺ سے جب اسلام کے بارے میں سوال کیا تو آپ ﷺنے فرمایا:

 الاسلام ان تشہد ان لا الہ الا اللہ وان محمدا رسول اللہ و تقیم الصـلاۃ  و تؤتی الزکوٰۃ و تصوم رمضان و تحج البیت ان استطعت الیہ سبیل (راوہ مسلم)

یعنی اسلام یہ ہے کہ تو اس بات کی گوہی دے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمدﷺ اللہ کے رسول ہیں اور تو نماز پڑھے اور زکوۃ ادا کرے اور رمضان کے روزے رکھے اور تو بیت اللہ کا حج کرے اگر تو وہاں تک جانے کے سفر خرچ کی طاقت رکھے ۔

ا س حدیث کے اندر حج کے فرض ہونے کی اہم شر ط کو بھی بیان فرمایا، یعنی سفر خرچ کی قدرت ۔ قرآن کے اندر بھی اللہ تعالی نے اس اہم شرط کا تذکرہ کیا ہے چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے:

وَلِلّٰہِ عَلَیٰ النَّاسِ حِجُّ الْبَیْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَیْہِ سَبِیْلَاً وَمَنْ کَفَرَ فَاِنَّ الْلّٰہَ غَنِیٌّ عَنِ الْعٰلَمِیْنَ۔ ( لن تنا لوا البر رکوع  ۱)

 اور اس کے واسطے لوگوں کے ذمہ اس مکان کا حج کرنا (فرض ) ہے، یعنی اس شخص کے ذمہ جو اس کی طاقت رکھے، وہاں تک سبیل کی اور جوشخص منکر ہو تو اللہ تعالی تمام جہان والوں سے غنی ہے۔ ( ترجمہ تھانوی )

سبیل سے مراد سفر خرچ ہے، چنانچہ دارے قطنی کی روایت ہے کہ کسی شخص نے رسو ل اللہ ﷺ سے پوچھاکہ ( من استطاع الیہ سبیلا میں) سبیل سے کیا مراد ہے ؟ آپﷺ نے فرمایا :  الزاد والراحلۃ،  یعنی سبیل سے مراد توشہ اور سواری ہے ۔

اس حدیث کو حاکم نے بخاری مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے اور بھی متعدد طریقوں سے یہ حدیث آئی ہے ایک روایت عبد اللہ ابن عمر کی ہے

 قال جاء رجل الی النبی ﷺ فقال یا رسول اللہ ﷺ مایوجب الی الحج قال الزاد والراحلۃ (رواہ الترمذی وابن ماجہ )

 فرمایا کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت  میں آیا اورعرض کیا: یا رسول اللہ! حج کیا چیز واجب کرتی ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: توشہ او رسواری یعنی جس کو سفر خرچ میسر ہو، اس پر حج کرنا فرض ہے۔ 

حج کے فرض ہو نے کے لیے یہی ایک امتیازی شرط ہے باقی اور شروط وہ دوسرے احکاموں کے اند رمشترک ہیں ،جیسے مسلم کا ہونا ،عاقل بالغ کا ہونا، حربی مسلمان کے لیے اس کی فرضیت کا علم ہونا۔ یہ ایسے شرائط ہیں، جو دوسرے احکام کے فرض ہونے کے لیے بھی ضروری ہیں۔ رہی ایک شرط آزادہونا، تو یہ پہلی شرط کے اندر داخل ہے، اس لیے کہ غلام تو اپنی ذات کا بھی مالک نہیں ہوتا ہے تو دوسری چیز کا کیامالک ہوگااور جب مالک ہی نہیںہوگا تو قدرت سفر خرچ کی کیسے سمجھی جائے گی۔ بہر حال جب حج کے فرض ہونے کی تمام شرطیں پائی جائیں، تو اس کو جلد حج کرلینا چاہیے، کیوںکہ زندگی کا یہ ایک وظیفہ ہے اور ساری زندگی میں صرف ایک ہی دفعہ کر نا فرض ہوتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے:

 عن ابن عباس قال قال رسول اللہ ﷺ یا ایھا الناس ان اللہ کتب علیکم الحج فقام الاقرع ابن حابس فقال أفی کل عام یا رسول اللہ ﷺ قال لو قلتھا نعم لووجبت ولوجبت لم تعملوا بھا ولم تستطیعوا والحج مرۃ  فمن زا د فتطوع ( رواہ احمد والنسائی ولادارمی ، قال ابن الھمام ورواہ الدار قطنیفی سننہ و الحاکم فی المستدرک وقال صحیح علی شرط الشیخین و قال الشمنی ورواہ ابوداؤد و ابن ماجہ)

حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: اے لوگو !بے شک اللہ تعالیٰ نے تم پر حج فرض کیا ہے، تو اقرع ابن حابس کھڑے ہوئے اور عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ کیا ہر سال ؟ آ پﷺ نے فرمایا :اگر میں اس کے جواب میں کہتا: ہاں توہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا، تو تم اس پر عمل نہیں کرسکتے اور اس کی طاقت بھی نہیں رکھتے ہو۔ حج زندگی میں ایک مرتبہ فرض ہے، جو ا س سے زیادہ ہو وہ نفل ہے (مشکوۃ )اس لیے اس فرض کو ادا کر کے جلد سبکدوش ہوجانا چاہیے۔ آںحضرت ﷺ نے فرمایا:

 من اراد الحج فلیعجل (رواہ ابوداؤد والدمی )

جس نے حج کا ارادہ کیا اس کو جلدی کرنا چاہیے۔

دوسری حدیث میں یہ ارشاد ہے کہ فرض حج میں جلدی کرو، نہ معلوم کیا بات پیش آجائے ۔(ترغیب )

ایک اور حدیث میں ارشاد ہے کہ حج میں جلدی کیا کرو، کسی کو بعد کی کیاخبر ہے کہ کوئی مرض پیش آجائے یا کوئی اور ضرورت درمیان میں لاحق ہوجائے ۔(کنز العمال)

ایک اور حدیث میں ہے کہ حج نکاح سے مقدم ہے۔ (کنز)

ایک حدیث میں ہے کہ جس کو حج کرنا ہے، اس کو جلدی کرنا چاہیے۔ کبھی آدمی بیمار ہوجاتاہے اور کبھی سواری کاانتظام نہیں رہتا ہے، کبھی اور ضرورت لاحق ہو جاتی ہے۔ (کنز )

 ایک حدیث میں ہے: حج کرنے میں جلدی کرو،نہ معلوم کیا عذر پیش آجائے (کنز )۔

 ان احادیث کی بنا پر ائمہ میں سے ایک بڑی جماعت کا مذہب یہ ہے کہ جس شخص پر حج فرض ہوجائے ، تو اس کو فور ا ادا کرناواجب ہے ،تاخیر کرنے سے گناہ گار ہوگا ۔ 

حنفیہ کا مفتیٰ بہ مسلک یہی ہے کہ جب حج فرض ہوگیا، تو اس کو جلد اداکرنا واجب ہے۔ یہی مسلک امام ابو یوسفؒ اور امام مالکؒ کا ہے اور امام ابو حنیفہؒ کی دو صحیح روایتوں میں سے زیادہ صحیح روایت یہی ہے کہ واجب علی الفور ہے۔( محیط)

ممکن ہے ،آگے زندگی یا مال وفا نہ کرے اور حج سے محروم دربارے خداندی میں حاضری دینی پڑے اور عتاب اور عذاب الیم میں مبتلا ہوناپڑے۔ جو قدرت رکھتے ہوئے حج نہ کرے، اس پر سخت وعید ہے، چنانچہ حدیث میں ہے:

  عن علی قال: قال رسول اللہ ﷺ: من ملک زادا وراحلۃ تبلغہ الی بیت اللّٰہ ولم یحج فلا علیہ ان یموت یھودیا أو نصرانیا، وذالک ان اللّٰہ تبارک وتعالی یقول: و للہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا (رواہ الترمذی )

حضرت علی ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:جو شخص اپنے توشے اور سواری  کامالک ہو، جو اس کو بیت اللہ تک پہنچا دے اور اس نے حج نہیں کیا تو اس بات میں کوئی فرق نہیں کہ وہ یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر مرے ،اوریہ ا س لیے کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا ہے: وللّٰہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا۔

علماء نے لکھاہے کہ حج کی فرضیت کی ابتدا، اسی آیت شریفہ کے نزول سے ہوئی ہے۔ (عینی ) اس آیت شریفہ میں بہت سی تاکیدیں جمع ہوگئیں ہیں: اول: للہ کا لام، ایجاب کے لیے ہے، جیسا کہ علامہ عینی نے لکھا ہے۔ دوسرے: علیٰ الناس کا لفظ، جو نہایت لزوم پر دلالت کرتاہے، یعنی لوگوں کی گردنوں پر یہ حق لازم ہے۔ تیسرے: علیٰ الناس کے بعد، من استطاع کا ذکر فرمایا، جس میں دو طرح کی تاکید ہے، ایک بدل کی، دوسرے اجمال کے بعد تفصیل کی۔ چوتھے: حج نہ کرنے والے کو من کفر سے تعبیر فرمایا۔ پانچویں اس پر اپنے استغناء اور بے پرواہی کا ذکرفرمایا، جو بڑے غصے کی علامت ہے اور اس کی رسوائی پر دلالت کرتاہے۔ چھٹے: اس کے ساتھ سارے جہان سے استغناء کا ذکر فرمایا، جس سے اور بھی زیاہ غصہ کا اظہار ہوتا ہے۔(اتحاف)

 اس میں کئی نمبر ایسے ہیں، جو عربی سے تعلق رکھتے ہیں۔ میرا مقصد ان کے ذکر کرنے سے یہ ہے کہ اسی ایک آیت میں کئی وجہ سے تاکید اور حج نہ کرنے والوں پر عتاب ہے۔ حضرت ابن عمرؓ سے منقول ہے کہ جو شخص تندرست ہو اور اتنا پیسہ والا ہو کہ حج کوجاسکے اور پھر بغیر حج کے مرجائے، توقیامت میں اس کی پیشانی پر لفظ ’کافر‘ لکھا ہوگا۔ اس کے بعد انھوں نے یہ آیت شریف:

 من کفر فان اللہ غنی عن العٰلمین

  پڑھی(درمنثور)

عن ابی امامۃ قال: قال رسولُ اللّٰہ ﷺ من لم یمنعہ من الحج حاجۃ ظاھرۃ أو سلطان جابر أو مرض حابس فمات ولم یحج فلیمت ان شآء یھودیاأو نصرانیا ( رواہ درقطنی)

حضرت ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس شخص کو کسی ضروری حاجت یا ظالم بادشاہ، یا مرض شدید نے حج کرنے سے نہیں روکا اور (پھر بھی) اس نے حج نہیں کیا اور مرگیا، تو وہ چاہے یہودی ہو کر مرے یانصرانی ہوکر مرے۔ (مشکوٰۃ )

 حضرت عمرؓ سے یہ منقول ہے کہ جو شخص حج کی طاقت رکھتا ہو اور حج نہ کرے، قسم کھاکر کہدو کہ نصرانی مرا ہے یا یہودی مرا ہے۔ ( کنز العمال )

علمائے کرام کے نزدیک حج نہ کرنے سے کافر تو نہیں ہوتا، لیکن قرآنی آیات اور ان احادیث سے سوئے خاتمہ کا ڈر ضرور ہے، اس لیے جہاں تک ممکن ہو حج جلد کرلینا چاہیے۔

حج کی فضیلتوں کا بیان

حج کے بے شمار فضائل ہیں، ہم ا ن فضائل کو اختصار کے ساتھ یہاں درج کرتے ہیں، تاکہ ہیں حج کی قدر و قیمت معلوم ہوجائے اور پھر اس راستے میں جس قدر تکلیفیں اٹھانی پڑے اور جو کچھ بھی خرچ ہوجائے، وہ خوشی خوشی ہم برداشت کرسکیں اور دین و دنیا کے اس لازال فائدے کے سامنے یہ خرچ ہمارے لیے ہیچ ہوجائے اور اس کی خاطر جتنی بھی صعوبتیں ہم کو برداشت کرنی پڑے ،وہ سہل ہو ۔

عن ابی ھــریرۃؓ قال قال رسول اللہ وﷺ  الحج المبرور لیس لہ جزاء الا لاجنۃ (متفق علیہ )

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نیکی والے حج کا بدلہ جنت کے سو اکچھ نہیں ہے ۔

بعض علماء نے کہا کہ حج مبرور کا مطلب یہ ہے کہ اس میں کسی قسم کی معصیت نہ ہو۔ اسی واسطے اکثر حضرات اس کا ترجمہ حج مقبول سے کرتے ہیں کہ جب آداب و شرائط کی رعایت ہوگی، کوئی لغزش اس میں نہ ہوگی، تووہ حج ان شاء اللہ مقبول ہوگا ۔اوربعض کے نزدیک حج مبرور وہ ہے کہ جس کے بعد حاجی کی حالت پہلی حالت سے اچھی ہوجائے۔ اور بعض اہل علم کے نزدیک حج مبروروہ ہے ،جس میں لوگوں کو کھانا کھلائے، اچھی بات کہے، لوگوںکو سلام کرے۔ (جنت کی کنجی )

حضرت جابر ؓ کی حدیث میں ہے کہ حج کی نیکی لوگوں کو کھانا کھلانا اور نرم گفتگو کرنا ہے۔ کثرت سے سلام کرنا حج کی مقبولیت کا باعث ہے۔ (طبرانی)

ایک حدیث میں ہے کہ جب حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ نیکی والے حج کا بدلہ جنت کے سوا کچھ بھی نہیں ہے، تو صحابہ کرا مؓ نے دریافت فرمایا: حضور ﷺ! نیکی والا حج کیا ہے؟ تو حضور ﷺ نے فرمایا: کھاناکھلانا ااور کثرت سے سلام کرنا۔ (کنز) 

 عن ابی ھریرۃ ؓ قال: قال رسول اللہ ﷺ: من حجَّ للّٰہ فلم یرفث ولم یفسق رجع کیوم ولدتہ امُّہ۔ (متفق علیہ )

حضر ت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جوشخص اللہ کے لیے حج کرے، اس طرح کہ اس حج میں نہ رفث ہو یعنی فحش بات اور نہ فسق ہو یعنی حکم عدولی، تو وہ حج سے ایسا واپس ہوتا ہے گویا آج ہی ماں کے پیٹ سے پیدا ہواہے۔

جب بچہ پیدا ہوتا ہے، وہ معصوم ہوتا ہے، اس پر کوئی گناہ، کوئی لغزش، کسی قسم کی کوئی داروگیر ،کچھ نہیں ہوتا۔یہی اثر ہے اس حج کا، جو اللہ کے واسطے کیا جائے ۔ علماء کے نزدیک اس قسم کی احادیث سے صغیرہ گناہ مراد ہواکرتے ہیں؛ مگر حج کے بارے میں جو روایات بکثرت وارد ہوئی ہیں، ان کی وجہ سے بعض علماء کی یہ تحقیق ہے کہ حج سے صغائر اور کبائر سب گناہ معاف ہوجاتے ہیں، جیسا کی معصوم بچہ ہر قسم کے گناہوں سے پاک صاف رہتا ہے۔ اگر ان کے صرف صغائر معاف ہوں، تو پھر معصوم بچہ کی طرح وہ پاک نہ ہوگا اور حضور ﷺ کا ارشاد گرامی غلط ہوجائے گا ۔

اس حدیث میں تین مضمون بیان فرمائے ہیں :

اول: یہ کہ اللہ کے واسطے حج کیا جائے، یعنی اس میں کوئی دنیوی غرض شہرت ،ریا وغیرہ شامل نہ ہو ۔ بہت سے لوگ شہرت اور عزت کی وجہ سے حج کرتے ہیں ۔ اگر چہ اس طرح اس کا فرض ضرور ادا ہوجاتا ہے؛ لیکن حج کے ثواب سے محروم رہ جاتا ہے ؛لیکن اگر محض اللہ کی رضا کی نیت ہو، تو فرض ادا ہونے کے ساتھ ثواب سے بھی مالامال ہوجائے گا۔ حج کے ثواب پر غور کرو اور باطل نیت کو جگہ نہ دو۔ شہر ت اور عزت تو بغیر نیت کے حاصل ہوگی ،پھر نیت بگاڑ کر ثواب کو کیوں کھویا جائے اور اس قدر نقصان کیوں برداشت کیا جائے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ قیامت کے قریب میری امت کے امیر لوگ حج محض سیرو تفریح کے ارادے سے کریں گے۔ (گویا لندن اور پیرس کی تفریح نہ کی حجازکی تفریح کرلی )۔ اور میری امت کا متوسط طبقہ تجارت کی غرض سے حج کرے گا کہ تجارتی مال کچھ ادھر سے لے گئے، کچھ ادھر سے لے آئے ۔اور علماء ریا اور شہر ت کی وجہ سے حج کریں گے ۔( کہ فلاں مولانا نے پانچ حج کیے، دس حج کیے )۔ اور غربا بھیک مانگنے کی غرض سے جائیں گے ۔( کنز العمال )

علماء نے لکھا ہے کہ جو لوگ اجرت کے سا تھ حج بدل کرتے ہیں کہ اس حج سے کچھ دنیوی نفع حاصل ہوجائے، وہ اس میں داخل ہے کہ گویا حج کے ساتھ تجارت کررہا ہے ۔

دوسری حدیث میں آیا ہے کہ بادشاہ اور سلاطین تفریح کی نیت سے حج کریں گے اور غنی لوگ تجارت کی غرض سے اور علما شہرت کی غرض سے اور فقرا سوال کی غرض سے حج کریں گے۔  ( اتحاف )

ان دونوں حدیثوں میں کچھ تعارض نہیں۔ پہلی حدیث میں جو غنی بتائے گئے ہیں، ان سے اعلیٰ درجے کے غنی مراد ہیں، جن کو دوسری حدیث میں سلاطین سے تعبیر کیا ہے، وہ سلاطین سے کم درجہ مراد ہے، جس کو پہلی حدیث میں متوسط طبقہ سے تعبیر کیا ہے ۔ایک حدیث میں ہے کہ حضرت عمر ؓ صفا مروہ کے درمیان ایک مرتبہ تشریف فرماتھے، ایک جماعت آئی، جواونٹوں سے اتری اور بیت اللہ شریف کا طواف کیا، صفامروہ کے درمیان سعی کی۔ حضرت عمرنے ؓ ان سے دریافت کیا:تم کون لوگ ہو؟ انھوں نے عرض کیا: عراق کے لوگ ہیں۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا: یہاں کیسے آنا ہوا؟ انھوں نے عرض کیا:حج کے لیے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ کوئی اور غرض تو نہ تھی، مثلا اپنی میراث کا کسی سے مطالبہ ہو ،یا کسی قرض دار سے اپناروپیہ وصول کرنا ہو، یا کوئی اورتجارتی غرض ہو؟ انھوںنے عرض کیا : نہیں ،کوئی دوسری غرض نہ تھی۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ ازسر نو اعمال کرو، یعنی پہلے کے سارے گناہ تمھارے معاف ہوچکے ہیں۔ (فضائل حج )

دوسری چیز حدیث بالا میں یہ ہے کہ اس میں رفث، یعنی فحش بات نہ ہو۔ اس بارے میں قرآن کی آیت بھی ہے:

 اَلْحَجُّ اَشْھُرٌ مَّعْلُوْمَاتٌ فَمَنْ فَرَضَ فِیْھِنَّ الْحَجَّ فَلَارَفَثَ وَلَا فُسُوْقَ وَلَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ وَمَا تَفْعَلُوْا مِنْ خَیْرٍ یَّعْلَمْہُ الْلّٰہُ۔

 حج (کا زمانہ) چندمہینے ہیں، جو( مشہور و ) معلوم ہیں (یعنی یکم شوال سے دس ذی الحجہ تک )، پس جو شخص ان ایام میں اپنے اوپر حج مقر رکرے، (حج کااحرام باندھے )، تو پھر نہ کوئی فحش بات جائز ہے اور نہ عدولی حکمی درست ہے، اور نہ کسی قسم کا جھگڑا زیباہے۔ ( بلکہ اس کو چاہیے کہ ہر وقت نیک کام میں لگا رہے ۔اور جو نیک کام کروگے، حق تعالیٰ شانہ اس کو جانتے ہیں۔

فحش بات دو طرح کی ہوتی ہیں: ایک وہ جو پہلے سے بھی ناجائز تھی، اس کا گناہ حج کی حالت میں کرنے سے زیادہ ہوجاتاہے۔ دوسر ے وہ جو پہلے جائز تھی، جیساکہ اپنی بیوی سے بے حجابی کی بات کرنا، حج میں وہ بھی جائز نہیں رہتی۔ علمانے لکھا ہے کہ یہ ایک ایسا جامع کلمہ ہے، جس میں ہر قسم کی لغو اور بیہودہ بات داخل ہے، حتی کہ بیوی کے سامنے صحبت کا ذکر کرنا بھی داخل ہے اور آنکھ اور ہاتھ سے اشارہ کرنا بھی، جس سے شہوت برانگیختہ ہو؛ یہ سب لم یرفث میں داخل ہے ۔

تیسری چیز جو اس حدیث میں ذکر کی گئی ہے، وہ فسوق ہے، یعنی حکم عدولی نہ ہونا ہے۔ اس کا بھی مذکورہ بالا آیت میںتذکرہ ہے۔ یہ بھی ایک جامع کلمہ ہے، جو اللہ جل شانہ کی ہر قسم کی نافرمانی کو شامل ہے ۔اس میں جھگڑا کرنا بھی داخل ہے ،یہ بھی حکم عدولی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ حج کی خوبی نرم کلام کرنا اور لوگوں کو کھاناکھلانا ہے، لہذا کسی سے سختی سے گفتگو کرنا نرم کلامی کے منافی ہے، اس لیے ضروری ہے کہ آدمی اپنے ساتھیوں پر بار بار اعتراض نہ کیا کرے ، بدوؤں سے سختی سے پیش نہ آئے اور ہر شخص کے ساتھ تواضع اور خوش خلقی سے پیش آئے۔ علماء نے لکھا ہے کہ خوش خلقی یہ نہیں کہ دوسرے کو تکلیف نہ پہنچائے، بلکہ خوش خلقی یہ ہے کہ دوسرے کی اذیت کوبرداشت کرے ۔

عن ابی ھریرۃ ؓ قال: سئل رسول ﷺ ای عمل افضل؟  قال: الایمان باللّٰہ ورسولہ۔ قیل: ثم ماذا ؟ قال: الجہاد فی سبیل اللّٰہ۔ قیل: ثم ماذا؟ قال: حج مبرور۔ (متفق علیہ )

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول للہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ سب سے بہتر عمل کون سا ہے؟ آپ نے ﷺ نے فرمایا :اللہ اور اس کے رسو ل پر ایمان لانا۔ عرض کیا گیا: پھر کون ؟ آپﷺ نے فرمایا: اللہ کے راستے میں جہاد کرنا۔ عرض کیا گیا :پھر کون؟آپﷺ نے فرمایا: حج مبرور۔

عن ابی ھریرۃؓ عن النبیﷺ انہ قال الحج والعماروفد اللّٰہ ان دعوہ اجابھم، وان استغفروہ غُفرلہ۔ (راوہ ابن ماجہ)

حضرت ابو ہریرہ ؓ بنی کریمﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپﷺ فرمایا کہ حج اور عمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہیں، اگر وہ دعاکریں، خدا ان کی دعاکو قبول کرے اور اگر وہ خدا سے مغفرت چاہیں، خدا اس کو بخش دے۔

عن ابی ھـرہرۃ ؓ قال: سمعت رسول اللہ ﷺ یقول: وفد اللّٰہ ثلاث: الغازی، والحاج، والمعتمر۔ (راوہ النسائی والبیھقی فی شعب الایمان)

حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا کہ آپ فرماتے تھے کہ اللہ کے مہمان تین شخص ہیں :غازی، حاجی اور عمرہ کرنے کرنے والے۔

عن ابن عمر ؓ قال: قال رسول اللہ ﷺ :اذا لقیتَ الحاجَّ فسلم علیہ وصافحہ ومرہ ان یستغفر لہ قبل ان یدخل بیتہ فانہ مغفور لہ۔( رواہ احمد )

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جب تو کسی حج کرنے والے سے ملے، تو اس کو سلام کر اور اس سے مصافحہ کر اور ان سے کہو کہ مغفرت کی دعا کریں، اس سے پہلے کہ وہ اپنے گھر میں آئے کہ اس لیے کہ اس کی بخشش ہوچکی ہے۔ 

حضرت عمر ؓ سے نقل کیا گیا ہے کہ حاجی کی بھی اللہ کے یہاں سے مغفرت ہے اور حاجی ۲۰؍ ربیع الاول تک جس کے لیے دعائے مغفرت کرے، اس کی بھی مغفرت ہے۔ سلف کا معمول تھا کہ حجاج کی مشایعت بھی کرتے تھے اور ان کا استقبال بھی کرتے تھے اور ان سے دعا کی درخواست کرتے تھے۔ (اتحاف ) 

عن ابی ھریرۃ ؓ قال: قال رسول اللہﷺ: العمرۃ الیٰ العمرۃ کفارۃٌ لما بینھما والحج المبرور لیس لہ جزاء الا الجنۃ۔ ( متفق علیہ )

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک عمرہ سے دوسرے عمرہ تک ان دونوں کے درمیانی گناہوں کا کفارہ ہے اورحج مبررو کی جزا جنت کے سوا کچھ نہیں۔

 بعض کا قول ہے کہ حج مقبول کا نام حج مبرور ہے ۔اوربعض علماء کہتے ہیں کہ جس میں ریا اور نمود نہ ہو وہ حج مبرور ہے۔ اور بعض کہتے ہیں کہ جس کے بعدگناہ نہ ہو ۔حسن بصری رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حج کرنے کے بعد دنیا سے بے توجہی اور آخرت کی طرف رغبت پیدا ہوجائے ۔(معلم الحجاج)

عن ابن مسعود ؓ قال: قال رسول اللہ ﷺ: تابعوا بین الحج والعمرۃ فانھما ینفیان الفقر والذنوب کما ینفی الکیر خبث الحدیدوالذھب والفضۃولیس للحج المبرور ثواب الا الجنۃ۔ (رواہ الترمزی و النسائی ورواہ احمد وابن ماجہ عن عمر الی قولہ خبث الحدید)

حضرت عبد اللہ ابن مسعود ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حج اور عمرہ کو ملاؤ، اس لیے کہ وہ دونوں فقر اور گناہوں کو دور کرتے ہیں، جیسے بھٹی لوہے سونے اور چاندی کے میل کودور کرتی ہے اور حج مبرور کا ثواب جنت کے سوا کچھ نہیں ہے ۔(مشکوٰۃ)

اس سے قران کی فضیلت ظاہر ہوئی ۔

عن ابی ھریرۃ ؓ قال: قال رسول اللہﷺ: من خرج حاجا أو معتمرا أوغازیا ثم مات فی طریقہ، کتب اللّٰہ لہ اجر الغازی و الحاج والمعتمر۔(رواہ البیہقی فی شعب الایمان )

حضرت ابو ھریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو حج یا عمرہ یا جہاد کے لیے نکلا، پھر راستے میںمرگیا، تو اللہ تعالیٰ اس کے لیے غازی، حاجی اور عمرہ کرنے والے کا ثواب لکھے گا۔ (مشکوۃ)

یعنی عمل پورا نہ ہونے کے باوجود پورا ثوب ملے گا، جبکہ حج یا عمرہ یا جہاد کے لیے نکل پڑا۔ 

عن ابی ھریرۃ ؓ قال: قال رسول اللہ ﷺ :من خرج حاجا فمات کتب لہ اجرالحاج الیٰ یوم القیامۃ، ومن خرج معتمرا فمات کتب لہ اجر المعتمر الٰی یوم القیامۃ، ومن خرج غازیا فمات کتب لہ اجر الغازی الیٰ یوم القیامۃ۔ (رواہ ابو یعلی من روایۃ ابن اسحٰق و بقیۃ رواتہ ثقات کذا فی الترغیب )

حضرت ابو ھریرہ ؓ بیان کرتے ہیں رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ جو شخص حج کے لیے نکلا اور راستے میں انتقال ہوگیا، اس کے لیے قیامت تک حج کا ثواب لکھا جا ئے گا۔ ( اسی طرح ) جو شخص عمرہ کے لیے نکلا اور (راستے میں)انتقال کرگیا، اس کو قیامت تک عمرہ کا ثواب ملتا رہے گا۔ اور جو شخص جہادکے لیے نکلا، پھر مرگیا، اس کے لیے قیامت تک مجاہد کا ثواب لکھا جائے گا ۔

ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص حج یا عمرہ کے لیے نکلے اور مر جائے، نہ اس کی عدالت میں پیشی ہے، نہ حساب کتاب۔ اس سے کہدیا جائے گا کہ جنت میں داخل ہوجا ۔(ترغیب )

ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓ بیان کرتی ہیں کہ سرکار دوعالم ﷺ نے فرمایا : جوشخص اپنے گھر سے حج یا عمرہ کے راستے سے نکلا اور راہ میں مرگیا، وہ شخص بغیر حساب کے جنت میں داخل کردیا جائے گا۔اللہ تعالی خانہ کعبہ کے طواف کرنے والوں پر فخر کرتا ہے۔ ( بیہقی، دارقطنی) 

ایک حدیث میںہے کہ جواحرام کی حالت میں مرے گا، وہ حشر میں لبیک کہتاہوا اٹھے گا۔ ( کنز العمال)

ایک حدیث میں کہ ہے آدمی کے مرنے کی بہترین حالت یہ ہے کہ حج سے فراغت پر یا رمضان کے روزے رکھ کر مرے۔ (کنز)

عن بــریدۃؓ قال: قال رسول اللہﷺ: النفقۃ فی الحج کالنفقۃ فی سبیل اللّٰہ بسبع مائۃضعف۔ (رواہ احمد ولاطبرانی واسناداحمد حسن کذافی الترغیب )

حضرت بریدہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا: حج میں مال خرچ کرنا جہاد میں مال خرچ کرنے سے سات سو حصے ثواب میں زیادہ ہے ۔ 

ایک حدیث میں آیا ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت عائشہ ؓ سے ارشاد فرمایا کہ تیرے عمرہ کا ثواب تیرے خرچ کی بقدر ہے، یعنی جتنا زیادہ اس میں خرچ کیا جائے گا، اتنا ہی اس میں ثواب ملے گا ۔

ایک حدیث میں ہے کہ حج میں خرچ کرنا اللہ کے راستے میں خرچ کرنا ہے، جس کا ثواب سات سو درجہ زیادہ ہوتا ہے۔ (کنز) 

ایک حدیث میں آیا ہے کہ حج میں خرچ کرنا ایک درم چار کروڑ درم کے برابر ہے، یعنی ایک روپیہ چار کروڑ روپیے خرچ کرنے کے برابر ہے۔ اس کے بعد بھی مسلمان وہاں جاکر روپیے خرچ کرنے میں بخل اور کنجوسی کا خیال کرے تو کس قد رخسارے کی بات ہے۔ (فضائل حج )

عن جابرؓ رفعہ مااعمر حاج  قط قیل لجابر: ماالامعار؟ قال:  ما افتقر۔ ( رواہ الطبرانی فی الاوسط والبزار ورجالہ رجال الحصحیح کذا فی الترغیب ) 

حضرت جابر ؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: حاجی کبھی فقیر نہیں ہوسکتا ۔

ایک حدیث میں ہے کہ حج کرو ،غنی بنوگے۔ سفر کرو، صحتیاب ہوگے۔ (کنز )

 تبدیل آب و ہوا صحت کا سبب ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ لگا تار حج و عمرہ فقر اور گناہوں کو ایسا دور کرتے ہیں، جیساآگ کی بھٹی لوہے کے میل کو دور کرتی ہے۔ (کنزالعمال)

 ایک حدیث میں ہے کہ لگاتار حج و عمرہ برے خاتمہ سے بھی حفاظت کا سبب ہے اور فقر کو بھی روکتے ہیں۔ (کنز العمال)

لگا تارحج و عمرہ کا مطلب یہ ہے کہ حج اور عمرہ کا احرام ایک ساتھ باندھاجائے، جس کو اصطلاح میں قران کہتے ہیں۔یعنی قران برے خاتمے اور فقر سے روکتا ہے اور گناہوں کو دور کرتا ہے ۔

عن ابی موسیٰؓ رفعہ الی النبی ﷺ قال: الحاج یشفع فی اربع مائۃ اھل بیت أو قال من اھل بیتہ، ویخرج من ذنوبہ کیوم ولدتہ امہ (رواہ البزاروفیہ راو لم یسم کذا فی الترغیب)

حضرت ابو موسیؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ حاجی اپنے خاندان کے چار سو آدمیوں کی شفاعت کرے گا اور حاجی اپنے گناہوں سے ایسا پا ک ہوجاتا ہے، گویاآج ہی اپنی ماں کی پیٹ سے پیدا ہوا ہے ۔

عن ابن عبا سؓ مرفوعا: من حج الیٰ مکۃ ماشیا حتی رجع کتب لہ بکل خطوۃ سبعمائۃ حسنۃ من حسنات الحرم، قیل: وما حسنا ت الحرم؟ قال: کل حسنۃ بمائۃ الف حسنۃ۔ (صححہ الحاکم کذا فی العینی قلت وفی المستدرک بلفظ من حج من مکۃ ماشیا حتی رجع الی مکۃ  الحدیث و ھکذا فی الکنز)

 حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس نے مکہ تک پیدل چل کرحج کیا، یہاں تک کہ وہ گھر لوٹ آیا، تو اس کے لیے حرم کی نیکیوں میں سے سات سو نیکیاں لکھی جائیں گی۔ کہا گیا: حرم کی نیکیاں کیا ہیں؟ فرمایا: ہر نیکی ایک لاکھ نیکی کے برابر ہے ۔(حاکم )

اس حساب سے سات سو نیکیاں سات کروڑ کے برابر ہوگئیں۔ اور ہر ہر قدم پر یہ ثواب ہے، تو سارے راستے کے ثواب کا کیا اندازہ ہوسکتا ہے ۔اور یہی حدیث مستدرک میں اس طرح ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: جس شخص نے مکہ سے پیدل چل کر حج کیا، یہاں تک کہ وہ مکہ لوٹ آیا ،تو اس کے لیے ہر قدم پر حرم کی نیکیوں میں سے سات سو نیکیاں لکھی جائیں گی۔ کسی نے عرض کیا: حرم کی نیکیاں کیا ہیں؟ فرمایا: ہر نیکی ایک لاکھ نیکی کے برابر ہے ۔

حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ نے بیماری کی حالت میں اپنی اولاد کے سامنے بیان کیا: میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جس نے مکہ معظمہ سے پیادہ پا حج کیا، اس کے ہر قدم پر سات سو نیکیاں للھی جاتی ہیں، یہاں تک کہ مکہ واپس آجائے اور ہر نیکی حرم کی نیکی کے برابر ہوتی ہے۔ ابن عباسؓ سے ان کی اولاد نے پوچھا: حرم کی نیکی کیا ہے؟ فرمایا: ہر نیکی ایک لاکھ نیکی کے برابر ہے ۔(ابن خزیمہ)

مطلب یہ ہے کہ حاجی اپنے مکان سے سواری پر جائے، لیکن مکہ پہنچ کر منیٰ اور عرفات پیدل جائے اور مکہ معظمہ بھی پیدل ہی آجائے تو اس کوہر قدم پر سات کروڑ نیکیاں ملیں گی۔ اگر گھر سے پیدل حج نہ کرسکے، تو کم از کم مکہ سے منیٰ اور عرفات پیدل ہی جائے اور آئے۔ اور اس میں کوئی دشواری بھی نہیں۔ مکہ سے منیٰ صرف تین میل ہے اور منیٰ سے عرفات چھ میل ہے۔ آٹھویں ذی الحجہ کو تین میل اور نویں کو چھ میل طے کرنا کچھ مشکل نہیں ہے اور ثواب کی کچھ انتہا نہیں ۔

حضر ت آدم علیہ السلام نے ہندستان سے چالیس حج پید چل کر کیے ہیں۔(اتحاف )

اور ایک روایت میں ہے کہ ہزار حج پیدل چل کر کیے ہیں۔ (ترغیب )

حضرت مجاہد ؒکہتے ہیں کہ حضرت ابراہیم اور حضرت اسمٰعیل علیھما السلام پیدل حج کیا ہے ۔(درمنثور)

مغیرہ ابن حکیم سے نقل کیا گیا ہے کہ انھوں نے مکہ سے چل کر پچاس سے زیادہ حج کیے ہیں۔ اورابو العباس سے نقل کیاگیا ہے کہ انھوں نے ۸۰؍ اسی حج پیدل کیے ہیں۔ اور ابوعبداللہ مغربی نے ستانوے حج پیدل کیے ہیں ۔(اتحا ف)

ہے ریت عاشقوں کی تن من نثار کرنا 

رونا  ستم اٹھانا دل سے نیاز کرنا

عن عائشۃؓ مرفوعا: ان الملائکۃ تصافح رکبان الحج وتعتنق المشاۃ ( اخرجہ البیہقی عنھا وضعفہ)    

 حضرت عائشہؓ  حضور ﷺ سے نقل کرتی ہیں کہ فرشتے ان حاجیوں سے جو سواری پر آتے ہیںِ ان سے مصافحہ کرتے ہیں اور جو پیدل چل کر آتے ہیں، ان سے معانقہ کرتے ہیں ،یعنی گلے ملتے ہیں ۔

اور ابن ماجہ میں ہے کہ ملائکہ ان حاجیوں سے مصافحہ کرتے ہیں جوسواری پر جاتے ہیں اور ان حاجیوں سے معانقہ کرتے ہیں، جو پیدل جاتے ہیں ۔

طبرانی میں ہے کہ سوار حاجی کے لیے ہر قدم پر جس کو وہ طے کرتا ہے، سات سو نیکیاں لکھی جاتی ہیں ۔

عن ابی ھریرۃ ؓ قال: قال رسول اللہ ﷺ :اذا خرج الحاج حاجا بنفقۃ طیبۃ و وضع رجلہ فی الغرز فنادیٰ لبیک اللّٰھم لبیک ناداہ مناد من السماء لبیک و سعدیک زادک حلال وراحلتک حلال وحجک مبرور غیر مازور واذا خرج بالنفقۃ الخبیثۃ فوضع رجلہ فی الغرز فنادیٰ لبیک ناداہ مناد من السماء لا لبیک لاسعدیک زادک حرام ونفقتک حرام و حجک مازور غیر مبرور(رواہ الطبرانی فی الاوسط ورواہ الاصبھانی من حدیث اسلم مولیٰ عمر مرسلا مختصرا کذا فی الترغیب و فی الاتحاف بتخریج ابی ذر الھروی فی منسکہ عن ابی ھریرۃ بلفظ اٰخر زائداعلیہ و فی الکنز بمعناہ عن عمرو انس و غیرھما)

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب حاجی حلال مال  کے ساتھ حج کو نکلتاہے اور سواری پر سوار ہو کر کہتا ہے: لبیک اللھم لبیک ،تو فرشتہ بھی آسمان سے (اس کی تائید اور تقویت میں )لبیک و سعدیک کہتا ہے اور کہتا ہے: تیرا توشہ حلال، تیری سواری حلال اور تیرا حج مقبول ہے، اس میں کوئی گناہ نہیں۔ اورجب حر ام مال کے ساتھ حج کو نکلتا ہے اور سوار ی پر سوار ہو کر لبیک کہتا ہے، تو ایک پکار نے والا آسمان سے پکار کر کہتا ہے: نہ تیرا لبیک  ہے اور نہ تیر اسعدیک۔ تیر اتوشہ حرام، تیرا خرچہ حرام، تیرا حج کر نا گناہ ہے، نیکیوں والا حج نہیں ہے ،یعنی تیرا حج مردود ہے، مقبول نہیں ۔

ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص حرام مال سے حج کرے، پھر کہے: لبیک اللھم لبیک، تو اللہ بزرگ برتر فرماتا ہے :

لا لبیک لا سعدیک وحجک مردود علیک (رواہ الشیرازی ابو مطیع)

 یعنی تیر ا نہ حج مقبول، نہ سعدیک مقبول، تیرا حج تیرے منہ پر ماراگیا۔ 

اس لیے اس سفر میں نہایت پاکیزہ اور غیر مشکوک مال ساتھ لینا چاہیے تاکہ حج مقبول ہو اور بجائے ثواب کے عذاب نہ ہو۔ 

حضرت عمرو ابن عنبسہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: سب سے بہترین عمل تو ایمان لانا ہے، اس کے بعدہجرت اور جہاد، پھر دو عمل ایسے ہیں کہ ان سے بہتر کوئی عمل  فضیلت میں نہیں ہے: ایک حج مقبول۔ دوسرا عمرہ مقبول ۔(احمد)

حضرت جابر ابن عبداللہ ؓبیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ حج اورعمرہ کرنے والے اللہ کے مہمان ہیں۔ اللہ نے ان کو  بلایا تھا، سو وہ آئے۔ انھوں نے اللہ سے جو مانگا، اللہ نے ان کو دیا۔ (بزار)

حضرت ابو ہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ حضورﷺ نے حاجیوں کے لیے دعافرمائی ہے:  الٰہی! حج کرنے والوں کو بخش دے اور جن کے لیے وہ مغفرت طلب کرے، ان کو بھی بخش دے۔ (ابن خزیمہ)

حضرت ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: حاجی کی مغفرت کردی جاتی ہے اور جس کے لیے وہ مغفرت طلب کرے۔ (بزار)

حضرت حسین ؓ فرماتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ سے ایک شخص نے عرض کیا: حضور میں کمزور بھی ہوں اور بزدل بھی، فرمایا: ایسا جہاد کر جس میں کانٹا بھی نہ لگے۔ اس نے عرض کیا: ایسا جہاد کون سا ہے جس میں تکلیف نہ پہنچے ؟فرمایا: حج کیا کرو۔ ( طبرانی )

حضرت ماعز ؓ سے روایت ہے کہ سرکار دعالم ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ حضور کونسا عمل افضل ہے؟آپ ﷺنے فرمایا: اللہ پرایمان لانا اور جہاد کے بعد حج مقبول کو تمام اعمال پر اتنی فضیلت ہے ،جیسا مشرق اور مغرب کے درمیان کا فاصلہ۔ ( احمد، طبرانی )

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ حج مقبول کا بدلہ جنت ہی ہے ۔غریبوں کو کھانا کھلانا ،نرمی سے گفتگو کرنا ،کثرت سے سلام کرنا حج مقبول کا باعث ہے۔(طبرانی )

حضرت عبد اللہ بن جریر ؓ سے روایت ہے کہ بنی کریم ﷺ نے فرمایا: اے لوگو!حج کرو کیوں کہ حج گناہوں کو اس طرح دھودیتا ہے، جیسے پانی میل کو صاف کردیتا ہے۔ (طبرانی )

حضرت ابوذر ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور ﷺ نے فرمایا: اللہ کے بنی داؤد علیہ السلام نے التجا کی کہ الٰہی! جو بندہ تیرے گھر کی زیارت کرنے آئے، اس کو کیا ثواب ملے گا ؟ حق جل مجدہ نے فر مایا: اے داؤد! وہ میرے مہمان ہیں ،ان کا یہ حق ہے کہ دنیا میں ان کی خطائیں معاف کردوں اور آخرت میں وہ جب مجھ سے ملاقات کریں، تو ان کی بخش دوں۔ (طبرانی )

حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایاکہ حج کرنے کا ثوا ب جہاد سے چالیس گنا زیادہ ہے ۔(بزار بطولہ)

جب کہ آدمی کمزور اور بزدل ہو، اس کا جہا دمیں شریک ہونا نہ ہونا برابرہو، تو اس کے لیے حج کرنا جہاد کرنے سے چالیس گنا زیادہ ثواب ہے؛ لیکن اگر قوی ،دلیر ہو، جس کا جہاد میں ہوناضرروی ہو، اس کے لیے جہاد افضل ہے حج سے ۔جیسا کہ دوسری روایتوں سے جہاد کی فضیلت حج پر ثابت ہے ۔

حضرت سہل ابن سعد ؓ بیان کرتے ہیں کہ بنی کریم ﷺ نے فرمایا: کوئی مسلمان عصر کے بعد جہاد، یا حج کی نیت سے نہیں چلتا؛ مگر سور ج اس کے گناہو ں کو لے کر غروب ہوجاتا ہے۔ یہ شخص اپنے گناہوں سے بالکل پاک ہوجاتا ہے۔ (طبرانی )

اس سے معلوم ہوا کہ عصر کے بعد حج کے لیے نکلنا افضل ہے ۔ 

عن ابن عمر ؓ قال: سئل رجلٌ رسولَ اللّٰہ ﷺ فقال: ما الحاج؟ قال: الشعث التفل، فقام اٰخر، فقال: یا رسول اللّٰہ! ای الحج افضل؟ قال: العج والثج، فقام اٰخر، فقال: یا رسول اللّٰہ! ما السبیل؟ قال: زاد و راحلۃ۔ (رواہ فی شرح السنۃوروی ابن ماجہ فی سنن الا انہ لم یذکر الفصل الاخیر )

حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ سے کسی نے سوال کیا کہ حاجی کون ہے ؟آپﷺ نے فرمایا :جس کے بال پریشان، میلا کچیلا ہو۔( یعنی غربت مسکنت ظاہرہو تی ہو)۔ پھر دوسرا کھڑ ا ہو ا اور عرض کیا: یارسول اللہ! کون سا حج افضل ہے ؟ فرمایا: خوب تلبیہ پڑھا جائے اور قربانی کی جائے۔ ایک تیسرا کھڑا ہوا اور عرض کیا :یا رسول اللہ! سبیل کیا ہے؟ آپ ﷺنے فرمایا: توشہ اور سواری۔

حج کے فرض ہونے کی شرطوں کا بیان 

جس کے اندر سات شرطیں پائی جائیں گی، اس کے اوپر حج کرنا فرض ہوگا۔ اگر ان سات شرطوں میں سے کوئی شرط نہ پائی گئی، تواس پر حج کرنا  فرض نہ ہوگا اور نہ وصیت کرنی اور نہ حج بدل کرانا ضروری ہوگا۔

 پہلی شرط: اسلام ہے، یعنی حج مسلمان پر فرض ہے کافر پر نہیں۔ کافر ایمان کا مکلف ہے احکام کا نہیں ۔

 مسئلہ : اگر کوئی کفر کی حالت میں اتنا مالدار تھا کہ اگر وہ مسلمان ہوتا تو اس پر حج کرنا فرض ہوجاتا ،لیکن اسلام قبو ل کرنے سے پہلے وہ محتاج ہوگیا، پھر مسلمان ہو ا تو اس پر حج کرنا فرض نہیں ہوگا ۔

مسئلہ: اگر کسی نے کفر کی حالت میں حج کیا، پھر مسلمان ہو ا،تو وہ حج معتبر نہیں۔ اگر اسلام لانے کے بعد سفر خرچ پرقادرہوگا، تواس پر دوبارہ حج کرنا فرض ہوگا ۔ 

مسئلہ: اگر کسی کافر نے مسلمان کو بھیج کر اپنی طرف سے حج کرایا، تو وہ حج بھی صحیح نہیں ہے ۔

مسئلہ: اگر کسی نے حج کرنے کے بعد کفر اختیار کیا، تووہ حج باطل ہوگا۔ دوبارہ اسلام قبول کرنے کے بعد اگر سفر خرچ پر قادر ہوگا، توپھر حج کرنا فرض ہوگا ۔

مسئلہ: کسی کافر نے حج کا احرام باندھا اور وقوف عرفہ سے پہلے مسلمان ہوگیا ،اگر اسلام قبول کرنے کے بعد پھر سے احرام باندھا لیا، تو حج صحیح ہوگیا اور اگر پہلے ہی احرام پر افعال حج اداکرلیے، تووہ حج صحیح نہیں ہوا، دوبارہ حج کرناہوگا ۔

دوسری شرط: حج کی فرضیت کا علم ہے ۔ یہ حربی مسلمان کے لیے ہے جو دارالاسلام میںہے، اس پر ہرحال میں حج فرض ہے، خواہ اس کو حج فرض ہونے کا علم ہو یا نہ ہو ۔حربی مسلمان اگر حج کی فرضیت سے بے خبر ہے، تو اس پرحج کرنا فرض نہ ہوگا۔ اگر بغیر حج کیے مرگیا، تو وہ گناہ گار نہ ہوگا۔

اگر دو مرد مستور الحال، یا ایک مرد اور دو عورتیں مستورالحال، یا ایک مرد عاقل اس کو حج کی فرضیت کی خبر دیں،تو اب اس پر حج کرنا فرض ہوجائے گا، جب کہ حج کے باقی شرائط اس کے اندر موجود ہوں ۔

 تیسری شرط: عاقل ہونا ہے۔ اور چوتھی شرط: بالغ ہونا ہے۔ (ہدایہ) 

بچہ اور دیوانہ پر حج فرض نہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

 رُفع القلمُ عن ثلاثۃ: عن الٓصبی حتی یحلم، و عن المجنون حتی یفیق، وعن النائم، حتی استیقظ۔ (جواھر النیرۃ)

یعنی تین شخصوں سے قلم اٹھالیا گیا ہے: اول بچہ سے یہاں تک کہ بالغ ہوجائے۔دوسرے پاگل سے یہاں تک کہ دیوانگی دور ہو جائے ۔اور تیسرے سونے والے سے یہاں تک کہ بیدار ہوجائے ۔

مسئلہ : نابالغ بچہ نے حج کا احرام باندھا، اس کے بعد وہ بالغ ہوگیا اور حج کرلیا تو فرض ادا نہ ہوگا؛البتہ اگر بالغ ہونے کے بعد دوبارہ احرام باندھ لیا، تو فرض ادا ہوجائے گا اور دوبارہ اس پر حج کرنا فرض نہ ہوگا ۔(ہدایہ) 

مسئلہ: کسی مجنون نے حج کا احرام باندھا اور وقوف عرفہ سے پہلے اچھا ہوگیا اور جنون جاتا رہا، اگر اس نے دوبارہ احرام باندھ لیا، تو فرض ادا ہوجائے گا۔اور اگر دوبارہ احرام نہیں باندھا ؛بلکہ پہلے ہی احرام پر ارکان حج ادا کر لیے، تو فرض ادا نہ ہوگا۔ شرائط پائے جانے پر دوبارہ حج اداکرنا ہوگا ۔

پانچویں شرط: آزا د ہونا ہے ۔ غلام اور باندی پر حج فرض نہیں، خواہ وہ مدبر ہو، یا ام ولد، یا مکاتب، یا کوئی اور۔ (ہدایہ )

مسئلہ:اگر غلام نے مولیٰ کی اجازت سے حج کرلیا، تو فرض ادا نہ ہوگا۔ آازاد ہونے کے بعد اگر شرئط حج پائے گئے، تو اس پر دوبارہ حج کرنا فرض ہوگا ۔

مسئلہ: غلام نے احرام باندھا، اس کے بعد آزاد ہوگیا اور اس کے بعدحج ادا کیا، تو فرض ادا نہ ہوگا اور غلام تجدید احرام بھی نہیں کرسکتا ہے، اس لیے کہ اس پر احرام لازم ہے۔ (ہدایہ )

مسئلہ: غلام اگر مکہ میں ہو، تب بھی اس پر حج کرنا فرض نہ ہوگا، بخلاف مکہ کے فقیروں کے کہ اگر وہ عرفات تک جاسکتے ہیں، تو ان پر حج کرنا فرض ہوگا ۔

چھٹی شرط: سفرخرچ پر قدرت ہوناہے۔ جو لوگ مکہ میں، یا مکہ کے آس پاس نہیں رہتے ہیں، اس کے پاس حوائج اصلیہ کے علاوہ اتنا مال ہو کہ جن لوگوں کا نان و نفقہ ان پر واجب ہے، ان کا نان و نفقہ ا ن کے واپس آنے تک کا دے کراتنا مال بچ رہے کہ اس سے سواری اور سفر خرچ مکہ جانے آنے تک کا پورا ہوسکے ،تو ان پر حج کرنا فرض ہوگا ۔(ہدایہ)

مسئلہ: رہنے کا مکان اور پہننے کے کپڑے ،اسبا ب خانہ داری ،نوکرچاکر اگر قرض ہے، تو قرض کی ادائیگی، سوار ہونے کے لیے سواری اور مکان کی مرمت ،واپس آنے تک کا اپنے اہل وعیال کا خرچ حوائج اصلیہ میں داخل ہے ۔

مسئلہ: دوکاندار کے لیے اتنا سامان تجارت کہ جس سے گزر اوقات کرسکے او رکاشتکار کے لیے ہل بیل اور عالم کے لیے ضروری کتابیں حوائج اصلیہ میں داخل ہیں۔ہر پیشے والے کے لیے اس کے پیشے کے اوزار اور ضروری سامان ضروریات میں شمار ہوگا ۔

مسئلہ: سرمایہ اور مال سے مراد وہ مال ہے، جو اپنی جائز کمائی کا ہے اور خود اس کا مالک ہے ۔اگرکسی نے اتنا مال مانگا دیا، یا مبا ح کردیا، تو اس سے حج فرض نہ ہوگا ۔

مسئلہ: سواری کا ملک ہونا ضروری نہیں۔ اگر کرایہ پر سواری مل گئی، تو وہ بھی کافی ہے ۔

مسئلہ: مکہ والے، یا جو مکہ کے قریب رہتے ہیں اور پیدل سفر کرسکتے ہیں، ان کے لیے سواری شرط نہیںہے؛ البتہ اگر پیدل چلنے سے عاجز ہے، تو اس کے لیے بھی باہر والوں کی طرح سواری شرط ہے اور ضروری زاد راہ مکہ والوں کے لیے بھی شرط ہے ۔

مسئلہ: اگر باہر کارہنے والا فقیر میقات تک پہنچ گیا او ر چلنے پر قادر ہے، تو اس کے لیے مکہ والوںکی طرح سواری شرط نہیں ،زاد راہ شرط ہے ۔

مسئلہ: سواری ایسی ہونی ضروری ہے کہ جس سے کوئی شدید تکلیف نہ ہو اور اس میں ہر شخص کی حالت کا اعتبار ہوگا اور اس کی حیثیت کے موافق عر ف و عادت کے اعتبار سے سواری معتبر ہوگی ۔یہ ضروری نہیں کہ مکہ سے موٹر ہی میں جانا ضروری ہو، لوگ اونٹ پر بھی سفر کرتے ہیں۔ جہاز میں فرسٹ کلاس اور سکنڈ کا ٹکٹ ہونا ضروری نہیں ،ہاں اگر کوئی شخص تیسرے درجہ میں بھی سفر نہیں کرتا ہے اور اس میںسفر کرنے سے شدید تکلیف کا اندیشہ غالب ہے، تو اس کے لیے سکنڈاور فرسٹ کا اعتبار ہوگا۔ 

مسئلہ: مستقل سوار ی کا ہونا ضروی نہیں ہے۔ اگر ایک اونٹ پر شغدف میں د وآدمی شریک ہوکر جاسکیں ،تو یہ بھی کافی ہے ۔

مسئلہ: زاد راہ او رتوشہ میں بھی ہر شخص کا اس کے حال کے موافق اعتبار ہوگا ۔جو شخص عام طور پر جیسا کھاتا ہے، اس کے لیے اسی کا لحاظ ہوگا۔ اگر کوئی شخص گوشت روٹی کا عادی ہے، تو اس کے لیے محض روٹی کافی نہ ہوگی ۔

مسئلہ: زاد راہ سے مراد متوسط درجہ کی مقدار کا زاد راہ ہے، جس میں فضول خرچی بھی نہ اور کنجوسی بھی نہ ہو ۔

 مسئلہ: اگر کوئی شخص حج کرنے کے لیے کسی کو مال ہبہ کرتا ہے ،تو اس کا قبول کرناواجب نہیں ،خواہ ہبہ کرنے والا اجنبی شخص ہو، یا اپنا رشتہ دار ماں باپ بیٹاوغیر ہ؛ لیکن اگر اتنا مال کسی  نے ہبہ کیااور اس کو قبول کرلیا، توحج فرض ہوجائے گا ۔

مسئلہ: کسی کے پاس ایسا مکان ہے کہ ضرورت سے زائد ہے، یا ضرورت سے زائد سامان ہے، یا کسی عالم کے پاس ضرورت سے زائد کتابیں ہیں، یا زمین ،یا باغ وغیرہ ہیں کہ اس کی آمدنی کا محتاج نہیں ہے اور ان کی اتنی مالیت ہے کہ اس کو بیچ کر حج کرسکتا ہے، تو ان کو حج کے لیے بیچنا واجب ہے ۔

مسئلہ: کسی کے پاس اتنا بڑا مکان ہے کہ اس کا تھوڑ اسا حصہ رہنے کے لیے کافی ہے اور باقی کو بیچ کر حج کرسکتا ہیم تو اس کو بیچنا واجب نہیں ہے ؛لیکن اگر ایساکرے، تو افضل ہے ۔

مسئلہ: ایک شخص کے پاس اتنا بڑا مکان ہے کہ اس کو بیچ کر حج بھی کرسکتا ہے اور چھوٹا سا مکان بھی خرید سکتا ہے، تو اس کا بیچنا ضروری نہیں ۔اگر بیچ کر حج کرے، تو افضل ہے۔

مسئلہ: ایک شخص کے پاس اتنا غلہ موجود ہے کہ اس کو سال بھر کے لیے کافی ہے، تو اس کوبیچ کر حج کرنا واجب نہیں ہے۔ ہاں اگر سال بھر سے زائد کے لیے کافی ہے اور زائد کو بیچ کر حج ہوسکتا ہے، تو اس کو بیچ کر حج کرنا واجب ہے ۔

مسئلہ: ایک شخص کے پاس اتنی زمین مزروعہ ہے کہ اگر اس میں سے تھوڑی سے زمین فروخت کردے، تو ا س کے حج کا خرچ اور اہل و عیال کا واپسی تک کا خرچ نکل آئے گا اور باقی زمین اتنی بچی رہے گی کہ واپس آکر اس سے گزر کرسکتاہے، تو اس پر حج فرض ہے ۔اور اگر فروخت کرنے کے بعد گزارے کے لائق نہیں بچتی ہے، تو حج فرض نہیں ۔

مسئلہ: ایک شخص کے پاس حج کے لائق مال موجود ہے؛ لیکن اس کومکان کی ضرورت ہے، یا غلام کی ضرورت ہے، تو اگر حج کے لیے جانے کا وقت یعنی اس وقت عام طور سے وہاں کے لوگ حج کے لیے جاتے ہیں، تو اس کو حج کرنا فرض ہے ۔مکان اور غلام میں صرف کرناجائز نہیں ہے ۔البتہ اگر حاجیوں کے جانے کا وقت نہیں ہے، تو مکان اور غلام میں صرف کرنا جائز ہے ۔

مسئلہ: اگر کسی کے پاس حج کے لائق روپیہ موجود ہے اور نکاح بھی کرنا چاہتا ہے، تو اگر حاجیوںکے حج کے لیے جانے کا وقت ہے، تو اس کو حج کرنا واجب ہے۔ اور اگر حاجیوں کے جانے کا وقت ابھی نہیں آیا ہے، تو نکاح کرسکتا ہے؛ لیکن اگر یہ یقین ہے کہ اگر نکاح نہیں کیا ،تو زنا میں مبتلا ہوجائے گا، تو پہلے نکاح کرے ،حج کو نہ جائے۔

مسئلہ: سرکاری محصول، فیس معلمین اور دیگر اخراجات ضروریہ، جو حاجیوں کو ادا کرنے پڑتے ہیں ،وہ سب زاد راہ میں داخل ہے ۔

مسئلہ: تحائف و تبرکات پر جو رقم خرچ ہوگی، وہ زاد راہ میں شمار نہ ہوگی ۔

مسئلہ: مدینہ منورہ کے سفر کے اخراجات بھی زاد راہ میں شمار نہیںہوگا۔ بعضے لوگ اس کو بھی شمار کرلیتے ہیں اور اس وجہ سے حج کو نہیں جاتے ہیں کہ مدینہ منورہ جانے کا خرچ ان کے پاس نہیں ہے، یہ سخت غلطی ہے ۔مدینہ منورہ کی حاضری ایک بڑی نعمت ہے، لیکن حج فرض ہونے میں اس کو دخل نہیں۔ جس کو اللہ تعالیٰ وسعت دے، اس کو ضرور جانا چاہیے اور جس کے پاس صرف حج کے لائق روپیہ ہو، اس کو محض اس وجہ سے کہ مدینہ منورہ جانے کے لیے روپیہ نہیں، حج کو مؤخر نہیںکرنا چاہیے ۔

مسئلہ: ایک شخص کے پاس اتنا مال موجود تھا کہ اس پر حج فرض ہوگیا؛ لیکن اس نے حج نہیں کیا اور فقیر ہوگیا، تو اس کے ذمہ حج باقی رہے گا اس کو حج کرنے کی کوشش کرناضروری ہے ۔

مسئلہ: حرام مال سے حج کرنا حرام ہے۔ اگر اس نے حج کیا، توفرض ساقط ہوجائے گا؛مگر حج مقبول نہ ہوگا ۔اس بارے میں طبرانی ،اصبہانی اور شیرازی کی حدیثیں گزر چکی ہیں ۔

مسئلہ: ایک شخص پر حج فرض نہیں تھا اور اس نے پیدل حج کرلیا اور حج فرض کی نیت کی ،یا مطلق حج کی نیت کی، تو حج فرض ادا ہوجائے گا ۔اس کے بعد اگر مال دار ہوجائے، تو دوبارہ اس پر حج فرض نہ ہوگا؛ لیکن اگر پہلے نفل کی نیت سے حج کیا تھا،تو مالدار ہونے پر دوبارہ حج کرنا فرض ہوگا۔

ساتویں شرط: حج کے فرض ہونے کی حج کا وقت ملنا ہے، یعنی اتناوقت ملناچا ہیے کہ جس میں چل کر وقت پر حج ادا کرسکے۔

مسئلہ: ابھی حاجیوں کے جانے کا وقت نہیں آیا اور حج کے سب شرائط موجود ہیں، تو ابھی حج فرض نہیں ہوگا۔ اگر وقت آنے سے پہلے کسی کام میں روپیہ صرف کردیا، تو اس پر حج فرض نہیں ہوگا، مگر اس نیت سے روپیہ صر ف کرنا کہ ہم پر حج فرض ہو، مکروہ ہے ۔

مسئلہ: وقت کے ساتھ یہ بھی شرط ہے کہ متوسط اور معتاد رفتار کے ساتھ حج کے وقت مکہ پہنچ سکے ۔اگر شرائط حج پورا ہونے کے بعد اتنا وقت ملے کہ اگر ایک منزل سے زیادہ طے کرے، خواہ روزانہ یا بعض دن ،تو حج مل جائے گا، یا ہوائی جہاز سے سفر کرے، تو حج مل جائے گا، لیکن اگر روزانہ ایک منزل سفر کرے، یا پانی کے جہاز سے جائے، تو حج نہ ملے، تو اس پر حج فرض نہ ہوگا ۔

مسئلہ: وقت میں فرض نماز کا بھی اعتبار ہے ۔فرض کرو کہ اگر کوئی شخص نماز ترک کردے تو پہنچ سکتاہے ،لیکن اگر نماز فرض اپنے اپنے وقت پر پڑھتے ہو جائے، تو نہیں پہنچ سکتا ہے، تو اس پر حج فرض نہ ہوگا۔

 مسئلہ: کوئی شخص نویں ذی الحجہ کو مکہ نہیں پہنچ سکا؛ بلکہ نویں اور دسویں ذی الحجہ کی درمیانی رات میں پہنچا اور وقت اتنا تنگ ہے کہ اھر عشا کی نماز پڑھتا ہے، تو وقوف عرفہ کاوقت ہاتھ سے نکل جاتا ہے او رعرفہ تک نہیں پہنچ سکتا ہے، تو ایسے شخص کو عشا کی نماز قضا کرنی جائز ہے۔ (کذا فی الغنیہ )

اداکے واجب ہونے کی شرطوں کا بیان 

 نفس وجو ب کی شرطوں کا بیان ہوچکا۔ جب وہ ساتوں شرطیں پائی جائیںگی ،تو اس پر حج فرض ہوجائے گا۔ اب یہاں سے اس کا بیان ہے کہ ادا کرنا کب فرض ہوگا۔ ادا کے وجو ب  ہونے کی بھی کچھ شرطیں ہیں۔ جب وہ شرطیں پائی جائیں گی، تو اس پر خود چل کر حج کرنا فرض ہوگا ۔اور اگر اس کے اندر صرف پہلی قسم کی شرطیں پائی جاتی ہیں اور وجوب ادا کی شرطیں نہیں پائی جاتی ہیں ،تو اس پر حج بدل کرنا یا مرتے دم وصیت کرنا واجب ہوگا ۔

وجوب ادا کی پانچ شرطیں ہیں 

اول: تندرست ہونا ۔دوسری: بادشاہ کی طرف سے رکاوٹ کانہ ہونا۔

 عن ابی امامۃؓ قال: قال رسول اللّٰہ ﷺ :من لم یمنعہ من الحج حاجۃ ظاہرۃ، أو سلطان جائر، أو مرض حابس، فمات ولم یحج، فلیمت ان شاء یھودیا أو نصرانیا۔ (راوہ الدارمی)

حضرت ابو امامہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جس شخص کو کسی ضروری حاجت، یا ظالم بادشاہ، یا مرض شدید نے حج سے نہیں روکا اور اس نے حج نہیں کیا اور مرگیا، تو وہ چاہے یہودی ہوکر مرے یا نصرانی ہوکر مرے ۔

تیسری شرط :راستہ کاپر امن ہونا ہے ۔ یہ شرطیں مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے  ہیں۔ چوتھی شرط: عورت کے لیے محرم کا ہونا ہے۔

 عن ابن عباس ؓ قال: قال رسول اللہ ﷺ:لا یخلون رجل بامرۃ ولا تسافرن امـرأۃ الا ومعھامحرم۔ فقال رجل: یا رسول اللہ ﷺ ! اکتتبت فی غـزوۃ کذا وکذا، وخرجت امرأتی حجۃ، قال: اذھب فاحجج مع امرأتک۔ (متفق علیہ)

حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسو ل اللہ ﷺ نے فرمایا: کوئی اجنبی مرد کسی اجنبی عورت کے ساتھ ہرگز تنہائی نہ کرے اور عورت بغیر محرم کے ہرگز سفر نہ کرے۔ تو ایک شخص نے عرض کیا: یا رسول اللہ ﷺ !میں فلاں فلاں غزوہ میں نامز دہوچکا ہوں اور میری عورت حج کرنے کو جارہی ہے۔ حضور ﷺ نے فرمایا: جا اور اپنی عورت کے ساتھ حج کر۔ 

پانچویں شرط: عورت کا عدت میں نہ ہوناہے، یہ دو شرطیں صرف عورت کے لیے ہیں ۔

علما کا اختلا ف ہے کہ بدن کا تندرست ہونا؛ یہ نفس وجوب کی شرط ہے، یاوجوب ادا کی۔ بعضوں نے کہا کہ نفس وجوب کی شرط ہے۔ اسی طرح نہایہ میں اور بحر الرائق میں ہے کہ یہی صحیح ہے۔ ان لوگوں کے قول کی بنا پر مریض، اندھا ،دونوں پاؤں کٹے ہوئے اپاہج، سواری پر نہ ٹھہرنے و الے بڈھے اور لنگڑے پر حج فرض نہ ہوگا ۔نہ اس پر حج بدل کرانا اور نہ وصیت کرنا ضروری ہوگا ۔اور بعض علما نے کہا ہے کہ یہ وجوب ادا کی شرط ہے۔ جامع کی شرح میں قاضی خاں نے اسی کی تصحیح کی ہے اور بہت سے مشائخ نے اسی کو اختیارکیاہے ،انھیںمیں سے ابن ہمام بھی ہیں۔ (شرح لباب)

ان علما کے قول کی بنا پر ایسے لوگوں پر حج بدل کرانا واجب ہوگا، یا مرتے دم وصیت کرنی حج بدل کی واجب ہوگی ۔ یہ اختلاف اس صورت میں ہے کہ معذوری کی حالت میں استطاعت حاصل ہوئی ہو۔ اگر صحت کی حالت میں اس پر حج فرض ہوچکا تھا اور حج ادا نہ کیا، پھر معذور ہوا تو اس پر بالاتفاق حج فرض ہے۔ اس کو حج بدل کرانا ضروری ہے یا مرتے دم وصیت ۔

مسئلہ: اگر کوئی شخص قید میں ہے، یا بادشاہ حج کے لیے نہیں جانے دیتاہے، تو اس پر خود حج کرناواجب نہیں، لیکن اگر حج کرنے کا موقع نہ ملا تو مرتے وقت حج بدل کی وصیت کرنا واجب ہوگا ۔

مسئلہ: کسی کی حق کی وجہ سے قید میں ہے اور اس کو حق ادا کرنے کی قدرت ہے اور اس کے اندر شرئط حج پائے جاتے ہیں،تو اس پر حج ادا کرنا فرض ہے، اس کے لیے قید عذر نہیں؛ اس لیے کہ حق ادا کر کے وہ قید سے نکل سکتا ہے ۔

مسئلہ: حج کے شرئط موجود ہیں؛ لیکن راستہ مامون نہیں ہے۔ کسی ظلم کا خوف ہے، یا کوئی درندہ ہے، یا سمندرمیں ڈوب جانے کاڈرہے، تو ایسی صورت میں حج ادا کر نا فرض نہیں؛ لیکن اگر راستہ مرتے وقت تک مامون نہ ہو، توحج بدل کی وصیت کرنا واجب ہوگی ۔

مسئلہ: راستہ کے پر امن ہونے میں غالب اور اکثر کااعتبار ہے۔ اگر اکثر قافلے صحیح سلامت پہنچ جاتے ہیں اور بعض اتفاقیہ لٹ جاتے ہیں ،تو راستہ مامون سمجھا جائے گا ۔

مسئلہ :اگر سمندر میں اکثر جہاز ڈوب جاتے ہیں، توراستہ مامون نہیں سمجھا جائے گا؛ لیکن اگر اکثر صحیح سلا مت پہنچ جاتے ہیں، تو راستہ مامون سمجھا جائے گا ۔

مسئلہ: اگر کچھ رشوت دے کر راستہ میں امن مل جاتا ہے، تو راستہ مامون سمجھا جائے گا۔ اور دفع ظلم کے لیے رشوت دینی جائز ہے۔ دینے والا گناہ گا ر نہ ہوگا، لینے والا گناہ گار ہے ۔

مسئلہ: کسی پر حج فرض ہے؛ لیکن اس کے ماں باپ بیمار ہیں اور ان کو بیٹے کی خدمت کی ضرورت ہے، تو بلا اجازت جانا مکروہ ہے۔ اور اگر اس کو اس کی خدمت کی ضرورت نہیں اور ان کی ہلاکت کا کوئی اندیشہ نہیں ہے، تو بلا اجازت جانے میں کوئی حرج نہیں ہے، بشرطیکہ راستہ پر امن ہو۔ اور اگر راستہ پر امن نہیں ہے، تو بلااجازت جانا جائز نہیں۔

مسئلہ: دادادادی، نانا نانی ،ماںباپ کی عدم موجودگی میں مثل ماں باپ کے ہیں، ہاں ماں باپ کے ہوتے ہوئے ان کی اجازت کااعتبار نہیں ۔

 مسئلہ : نفلی حج کے لیے والدین کی اجازت کے بغیر جانا مکروہ ہے، خواہ راستہ مامون ہی کیوں نہ ہو، خواہ خدمت کی حاجت ہو یا نہ ہو ۔

مسئلہ: جن لوگوں کا نان ونفقہ ان کے ذمہ ہے اور ان کے نان و نفقہ کا انتظام بھی نہیں  کرکے جارہا ہے،تو ان کی اجازت کے بغیر جانا مکروہ ہے؛ البتہ اگر ان کی ہلاکت کاخوف نہیں ہے ،تو جانے میں کچھ مضائقہ نہیں ہے ۔

مسئلہ : جن کا نان و نفقہ واجب نہیں، ان کی اجازت کی حاجت نہیں، خواہ خوش ہوں، یا ہلاک ہوں ۔

مسئلہ : چھوٹا بچہ ہے او اس کو کوئی رکھنے والا دوسرانہیں ہے، تو تاخیر کے لیے عذر ہے، بچہ خواہ اچھا ہو، یا مریض ہو ۔

مسئلہ : حج فرض ہے، لیکن تھوڑ اسا چلنے کے بعد سانس چڑھ جاتی ہے اور آرام لینے کی حاجت ہوتی ہے، پھر تھوڑا سا چلنے کے بعد سانس چڑھ جاتی ہے اور یہی کیفیت راستہ بھر رہتی ہے، تو اس کے لیے حج کو مؤخر کرنا جائز نہیں؛ ہاں اگر سواری پر بھی سفر نہ کرسکے، تو یہ اس کے لیے عذر ہے ۔

مسئلہ :سفر میں ٹھنڈی ہوا نقصان دیتی ہے اوربلغم جم جاتا ہے اور ضیق النفس بھی ہوجاتا ہے، تو عذر نہیں ۔

مسئلہ: ایسا مرض عذر ہے جس سے سفر نہ ہوسکے، یا شدید تکلیف کا اندیشہ ہو ۔

مسئلہ: عورت پر حج فرض ہے لیکن نہ شوہر سفر میں ساتھ دیتا ہے اور نہ کوئی محرم، تو اس عورت پر حج ادا کرنا واجب نہیں ہے۔ اگر تا حیات ایسا موقع میسر نہ ہو،تو مرتے وقت حج بدل کی وصیت کرجائے۔

مسئلہ: محرم وہ ہے جس سے نکاح کرنا کبھی جائز نہ ہو، خواہ یہ حرمت رشتہ کی وجہ سے ہو، یا دودھ کی وجہ سے یا رشتہ دامادی کی وجہ سے ۔

مسئلہ: محرم کا عاقل با لغ اور دین دار ہونا شرط ہے۔ اگر محرم، یا شوہر فاسق ہو تو اس کے ساتھ جانا جائز نہیں۔ اسی طرح لاابالی اور بے پرواہ بھی نہ ہو ۔

مسئلہ: جو لڑکا ہوشیار اور قریب البلوغ ہے، وہ مثل بالغ کے ہے، اس کے ساتھ جانا جائز ہے ۔

مسئلہ: اگر عورت بیوہ ہے اور کوئی محرم موجو د نہیں ہے، تو حج کرنے کے لیے اس پر نکاح واجب نہیں ۔

مسئلہ: شوہر یا محرم کے بغیر عورت حج کرلے، تو حج ادا ہوجائے گا، لیکن گناہ گار ہوگی۔

مسئلہ: محرم کا مسلمان ہو نا، یا آزاد ہونا شرط نہیں ہے؛ بلکہ غلام اور کافر بھی محرم ہوسکتا ہے؛ لیکن اگرمجوسی ہو تو اس کا اعتبار نہیں؛کیوں کہ ان کے یہاں محرمات سے بھی نکاح جائز ہے۔ اس زمانہ میں کافر کا بھی اعتبار نہیں۔ ممکن ہے کہ اسلام سے برگشتہ کردے ۔

مسئلہ: اگر محرم یا شوہر اپنے خرچ سے جانے کے لیے تیار نہ ہو، تو اس کا خرچہ بھی عورت کے ذمہ ہوگا۔ ایسی صورت میںدوہرے خرچ پر قدرت وجوب حج کے لیے شرط ہوگی؛ ہاں اگر محرم یا شوہر اپنا خرچہ کر کے ساتھ دینے کے لیے تیار ہو تو پھر عورت پر دوہرا خرچ واجب نہ ہو گا۔

مسئلہ: حج کرنے کے لیے محر م یا شوہر کو ساتھ لے جانے پر عورت مجبور نہیں کرسکتی ہے ۔

مسئلہ: بوڑھی عورت اور قریب البلوغ لڑکی کے لیے بھی محرم کا ساتھ ہونا شرط ہے۔(ہدایہ)

مسئلہ: خنثیٰ مشکل کے لیے بھی محرم کا ساتھ ہونا شرط ہے ۔

مسئلہ: محرم کو بھی اسی وقت سفر میں ساتھ جانا جائز ہے جب کہ فتنہ اور شہوت کا اندیشہ نہ ہو۔ اور اگر غلبۂ گمان ہو کہ خلوت میں یا ضرورت کے وقت چھونے سے شہوت ہوجاے گی، تو اس کو ساتھ جانا جا ئز نہیں ۔

مسئلہ: اگر عور ت کو سوار کرنے یا اتار نے کی ضرورت ہے اور شوہر ساتھ نہیں اور شہوت کاخوف ہے خواہ اپنے نفس پر یا عورت پر، تو جہاں تک ممکن ہو، اس سے بچے۔ اور اگر کوئی اتارنے والا نہ ہو، تو پھر موٹا کپڑا ہاتھ اور بدن کے بیچ میں ہونا ضروری ہے ۔ کپڑا اتنا موٹا ہونا چاہیے کہ جس سے حرارت بدن کی ایک دوسرے کو نہ پہنچ سکے ۔

مسئلہ: عورت پر حج فرض ہوگیا اور محرم ساتھ جارہا ہے، تو شوہر فرض حج سے نہیں روک سکتا ہے؛ البتہ اگر محرم ساتھ نہ دے، یا نفلی حج ہو، تو شوہر کو روکنے کا حق ہے ۔

مسئلہ: اگرعورت نے حج کی نذر مانی، تو نذر صحیح ہوگی؛ لیکن شوہر کی اجازت کے بغیر حج کو نہیں جاسکتی ہے۔ اگر حج نہ کرسکی، تو حج بدل کی وصیت کرجائے ۔

مسئلہ: اگر عورت پیدل حج کو جانا چاہے، تو ولی اور شوہر کو روکنے کا حق ہے ۔

 مسئلہ: عام طور سے جس موسم میں لوگ حج کے لیے وہاں سے جاتے ہیں، اگر عورت اس سے پہلے جانا چاہے ،تو شوہر کو روکنے کا حق ہے؛ لیکن اگردوایک روز اس سے قبل جانا چاہے تو نہیں روک سکتا ہے ۔ 

مسئلہ: عورت کو دوسری عورت  کے ساتھ محر م یا شوہر کے بغیر جانا جائز نہیں ۔

مسئلہ: عدت کے اندر عورت کو حج کے لیے جانا واجب نہیں، خواہ وہ عدت موت کی ہو، یا فسخ نکاح کی، یا طلاق کی رجعی ہو، یا بائن ،یا مغلظہ؛ سب کا ایک حکم ہے ۔

مسئلہ: عدت کے اندر اگر عورت حج کو نکل جائے تو حج ہو جائے گا؛ لیکن گناہ گار ہوگی۔

مسئلہ: اگر راستہ میں شوہر طلاق رجعی دیدے، توعورت کو خاوند کے ساتھ رہنا چاہیے، چاہے آگے جائے یا پیچھے لوٹے۔اور شوہر کو بھی عورت سے علاحدہ نہیں ہونا چا ہیے۔ اور بہتر یہ ہے کہ رجعی میں طلاق سے رجوع کرلے ۔

مسئلہ: شوہر نے سفر میں طلاق بائن دی اور اس کے وطن اور مکہ کے درمیان تین روز کی مسافت سے کم فاصلہ ہے، تو عورت کو اختیار ہے ،خواہ وطن واپس ہوجائے، یا مکہ چلی جائے، چاہے محرم ساتھ ہو، یا نہ ہو۔ اور شہر میں ہو،یا جنگل میں ہو؛ مگر وطن کی طرف واپس ہونا افضل ہے۔ اور اگرایک طرف کی مسافت زیادہ ہے اور ایک طرف کی کم، تو جدھر کم ہو ،ادھر ہی کو جائے۔ اور اگر دونوں طرف مسافت مدت سفر کی ہے اور شہر میں ہے، تو اس کو اسی شہر میں عدت گزارنی چاہیے،اگرچہ محرم ساتھ ہو،یہ اما م ابو حنیفہؒ کا قول ہے۔ اور صاحبینؒ کاقول ہے کہ اگر محرم ساتھ ہے، توعدت گزارے بغیر اس شہر سے نکل سکتی ہے ۔

مسئلہ: اگرکسی گاؤں میں عدت لازم ہوئی، یا کسی جنگل میں ،اور وہاں جان ومال کاخطرہ ہے، تو وہاں سے امن کی جگہ میں جاناجائز ہے، خواہ گاؤں ہو، یا شہر؛ مگر وہاں سے بغیر عدت گزارے کہیں نہ نکلے اگر چہ محرم ہو، یہ امام صاحبؒ کے نزدیک ہے۔ اور صاحبینؒ کے نزدیک اگر محرم ہوتو نکلنا جائز ہے ۔

حج صحیح ہونے کی شرطوں کا بیان 

نو شرطوں کے ساتھ حج صحیح ہوتا ہے :

(۱) اسلام: اس کا مفصل بیان ہوچکا ہے ۔

(۲) احرام: بغیر احرام کے حج صحیح نہیں ہوتا، اگرچہ تمام افعال کر لے۔ 

(۳) حج کا زمانہ ہونا : اگر حج کے افعال ان کے وقت پر ادانہ کیے تو حج صحیح نہیں ہوا۔ حج کے تمام افعال موسم حج میں ہوناچاہیے۔

(۴) مکان: یعنی ہر چیز کو ان کی متعین جگہ میں کرنا، مثلا :وقوف کا عرفہ میں ہونا ، طواف کا مسجد حرام میںہونا،ذبح کا حدود حرم میں ہونا،رمی کا منیٰ میں خاص مقام پر ہو نا وغیرہ ذالک۔ اگر یہ افعال اپنی جگہ پر نہ ہوئے، تو حج صحیح نہ ہوا ۔

(۵)  عقل ۔

(۶)  تمیز ہونا :حج کرنے والے کے اندر عقل و تمیز نہیں تو اس کا نائب عقل و تمیز والا ہو۔ 

(۷) احرام کے بعد وقوف عرفہ سے پہلے جماع کا نہ ہونا: اگر احرام کے بعد اور وقوف عرفہ سے پہلے جماع کرلیا، تو حج کا احرام فاسد ہوگیا۔ آگے کے افعال بغیراحرام کے ہوں گے، جس سے حج صحیح نہ ہوگا ۔ یہی ایک فعل ہے، جس سے احرا م فاسد ہوتا ہے، لیکن احرام فاسد ہونے کے باوجود تمام افعال حج پورے کرنے ہوں گے، اگر چہ حج صحیح نہ ہوگا اور آئندہ قضا لازم ہوگی ۔

(۸) افعال حج اپنے سے ادا کرنا: خواہ شرائط ہوں، یا ارکان، یا واجبات؛ البتہ بعض افعال عذر کی صورت میں نائب بھی ادا کرسکتا ہے، جس کا بیان آگے آئے گا۔

(۹) جس سال احرام باندھے، اسی سال حج کرے۔

حج فرض کے صحیح ہونے کی شرطوں کا بیان 

کسی نے حج ادا کر لیا اور اس کی فرضیت ذمہ سے ساقط ہو گئی، اب دوبارہ اس پر حج ادا کرنا فرض نہ ہوگا۔ یہ اسی وقت ہوگا جب حج اداکرنے والے کے اندر نوشرطیں پائی جائیں گی ۔

(۱) حج ادا کر نے والے کے اندر اسلام کا ہونا۔ کافر کے حج کرنے سے حج اسلام نہ ہوگا۔

(۲) اسلام کا تا زیست باقی رہنا ۔ اگر حج کرنے کے بعد عیاذا باللہ مرتد ہوگیا اور اس کے بعد مسلمان دوبارہ ہوا، تو اب دوبارہ اس پر حج کرنا فرض ہوگا، جب کہ شرائط وجوب دوبارہ پائے جائیں ۔

(۳) آزاد ہونا۔ اگر غلام نے مالک کی اجازت سے حج کرلیا، تو فرض ادا نہ ہوگا ۔آزاد ہونے کے بعد اگر قدرت ہوئی، تو دوبارہ حج کرنا فرض ہوگا ۔

(۴) بالغ ہونا ۔ نابالغ کا حج نفل ہے ۔ بالغ ہونے پر استطاعت کی صورت میں دوبارہ حج کرنا واجب ہوگا ۔

(۵) عاقل ہونا ۔ حالت جنون کا حج نفل ہے ۔عاقل ہونے پر دوبارہ حج کرنا ہوگا ۔ جب کہ استطاعت ہو ۔

(۶) خو دحج کرنا ۔ قدرت رہتے ہوئے حج بدل کرائے گا، تو نفل ہوگا، فراض ادا نہ ہوگا۔

(۷) حج کو جماع سے فاسد نہ کرنا۔ فاسد ہو نے کی صورت میں دوبارہ حج کرنا ہوگا ۔

(۸) کسی دوسرے کی طرف سے حج کی نیت نہ کرنا۔ ورنہ دوسرے کی طرف سے حج ہوجائے گا اور اس کے ذمہ فرض باقی رہے گا ۔

(۹) نفل کی نیت نہ کرنا ،ورنہ نفلی حج ہوگا، فرض ادا نہ ہوگا ۔

حج کی شرطوں اور رکنوں کا بیان 

حج کے اندر دو شرطیں اور دوہی فرضیںہیں: پہلی شرط: احرام ہے۔ اور دوسری شرط: حج کا وقت ہونا ہے۔ اور حج کا پہلا رکن :وقوف عرفہ ہے ۔اور دوسرا رکن طواف زیارت ہے، جیسا کہ شروع میں بیان ہوا ۔

حج کے واجبات کا بیا ن 

حج کے اندر چھ چیزیں واجب ہیں: 

(۱) وقوف مزدلفہ: یعنی دسویں ذالحجہ کو طلوع فجر کے بعد اور طلوع شمس سے کچھ پہلے مزدلفہ کے میدان میں ٹھہرنا ۔ 

(۲) سعی کرنا: یعنی صفا و مروہ کے درمیان سات چکر لگا نا، خواہ طواف قدوم کے بعد، یا طواف زیارت کے بعد ۔

(۳) رمی کرنا: یعنی دسویں ،گیارھویں اور بارھویں کو کنکریاں مارنا۔ دسویں کو صرف جمرہ عقبی ٰ میں اور گیارھویں ،بارھویں کو تینوں جمروںمیں ۔

(۴) قارن اور متمتع کو قربانی کرنا ۔

(۵) سرکا بال منڈاوانا، یا کٹوانا ۔ منڈوانا کٹوانے سے بہتر ہے ۔

(۶) میقات سے باہر رہنے والے کو طواف وداع کرنا ۔

تنبیہ

یہ چھ واجبات حج ہیں۔ بعض کتابوں میں واجبات حج ۳۵؍ تک لکھے ہیں۔ اوروہ در اصل ارکان حج کے واجبات ہیں ۔ کچھ احرام کے واجبات ہیں۔ اور کچھ طواف کے، کچھ وقوف کے شرائط ہیں، جن کو واجبات میں لکھ دیے ہیں ۔افعال حج کے واجبات ان شاء اللہ ان افعال کے بیان میں ذکر کیے جائیں گے ۔

مسئلہ : واجبات کا حکم یہ ہے کہ اگر ان میں سے کوئی واجب چھوٹ جائے، تو حج ہوجائے گا، خواہ قصدا چھوڑا، یا بھول کر؛ لیکن اس کی جزا لازم ہوگی، قربا نی یا صدقہ، جیسا کہ جنایات کے بیان میں آئے گا۔ البتہ اگرکوئی فعل کسی معتبر عذر کی وجہ سے چھوٹ گیا، تو جزا لازم نہ ہوگی ۔

حج کی سنتوں کابیان

 یہ سب چیزیں حج کے اندر سنت ہیں: 

 (۱) حدود میقات سے باہر رہنے والوں کے لیے خواہ حج کا احرام باندھا ہو، یا حج اور عمرہ دونوں کا؛ ان کے لیے طواف قدوم کرنا ۔

(۲) طواف قدوم میں رمل کرنا۔ اگر اس میںنہ کیا، تو طواف زیارت ،یا طواف وداع میں رمل کرنا، یعنی تین پھیر ااکڑ کر پہلوان کی طرح منڈھے ہلاتے ہوئے چلنا ۔

(۳) امام کا تین مقام پر خطبہ پڑھنا: ساتویں کو مکہ میں، نویں کو عرفہ میں اور گیارھویں کو منیٰ میں ۔

(۴) آٹھویں اور نویں ذی الحجہ کے درمیان والی رات کو منیٰ میں رہنا ۔

(۵) سورج نکلنے کے بعد نویں ذی الحجہ کو منیٰ سے عرفات کو جانا ۔

(۶) عرفات سے امام کے چلنے کے بعد چلنا ۔

(۷) مزدلفہ میں عرفات سے واپس ہوکر رات کو ٹھہرنا ۔

(۸) عرفہ میں غسل کرنا ۔

(۹) ایام منیٰ میں رات کو منیٰ میں رہنا، یعنی ۱۱،۲۱ ،او ر ۱۳؍ کی رات گزارنا ۔

(۱۰) منیٰ سے واپسی میں محصب میں ٹھہرنا ۔اگر چہ ایک لحظہ کے لیے ہو۔

 ان کے علاوہ اور بھی سنتیں ہیں، جو مسائل اور افعا ل کے ساتھ ان شاء اللہ موقع بموقع ذکر کی جائیں گی ۔

مسئلہ : سنت کاحکم یہ ہے کہ ان کو قصدا ترک کرنابر اہے اور کرنے سے ثواب ملتا ہے، ان کے ترک کرنے سے جزا لازم نہیںہوتی ہے ۔

میقات کا بیان 

وقت معین اور مکان معین کو میقات کہتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ میقات کی دو قسمیں ہیں: میقات زمانی اور میقات مکانی۔

میقات زمانی کا بیان 

پہلی شوال سے دسویں ذی الحجہ تک کا زمانہ، حج کا زمانہ کہلاتا ہے۔ اس کے اندر افعال حج کیے جاتے ہیں ۔ قرآن میں ہے :

الحج اشھر معلومات( سورۃ بقرۃ رکوع۲۵)

 حج (کا زمانہ) چند معلوم مہینے ہیں۔

 اور وہ معلوم مہینے وہی ہیں، جن کو بیان کیا۔ صحابہ کرام سے یہی ثابت ہوا ہے ۔(ہدایہ)

مسئلہ : حج کے افعال خواہ کسی قسم کے ہو:واجب ہو، یا سنت، یا مستحب ؛تمام افعال حج کے مہینوں ہی میں صٓحیح ہوتے ہیں۔ احرا م کے سوا اگر کوئی فعل ان مہینوں سے پہلے کیا، تو صحیح نہ ہوگا، مثلا قارن یا متمتع اگر حج کے مہینوں سے پہلے عمرہ کا طواف کرلے، یا حج کی سعی طواف قدوم کے بعد حج کے مہینوں سے پہلے کرلے ،تو سعی نہ ہوگی ۔طواف قدوم کرنا صحیح ہوگا، لیکن سعی کے لیے موسم حج میں پھر طواف کرنا ہوگا خواہ نفلی طواف ہی سہی ۔

مسئلہ: حج کا احرام حج کے مہینوں سے پہلے باندھنا مکروہ تحریمی ہے ۔

مسئلہ: طواف قدوم کے اکثر شوط شوال میں کیے اور اس کے بعد حج کے لیے سعی کرلی، تو یہ حج کی سعی ہوجائے گی۔ اور اگر شوال کے بجائے رمضان ہی میٓں یہ طواف اور سعی کرلی، تو وہ حج کی سعی نہ ہوگی۔ پھر سے حج کی سعی موسم میں کرنی ہوگی۔ اگر رمضان ہی میں طواف کیا، مگر سعی شوال میںکیا، تو یہ سعی صحیح نہ ہوگی؛ البتہ اگرشوال میں کوئی نفلی طواف کرکے ،پھر سعی کرے تو یہ حج کی سعی ہوجائے گی۔ اگر طواف قدوم کے اکثر پھیرے رمضان ہی میں کیے اورتھوڑے سے شوال میں، تب بھی جائز نہیں ہے ۔ اسی طرح اگر سعی طواف قدوم سے پہلے کرلی، گو شوال ہی میں کی، تو سعی نہ ہوگی ۔ سعی کے لیے پہلے طواف ضروری ہے، خواہ کسی قسم کا طواف ہو، لہذا شوال میں طواف اور سعی ہونا چاہیے۔

میقات مکانی کابیان 

وہ جگہ جہاں سے احرام باندھنا ضروری ہے اور احرام کے بغیر وہاں سے آگے بڑھنا جائز نہیں ہے، اس کی تین قسمیں ہیں : 

(۱) آفاقی کی میقات، یعنی جو لوگ میقات سے باہر رہتے ہیں ۔

(۲) حلی کی میقات یعنی جو لوگ حرم سے باہر رہتے ہیںاور میقات کے اندر کے ہیں، ان کی میقات ۔ 

(۳) حرمی کی میقات، یعنی جو لوگ حرم کے حدو دکے اندر رہتے ہیں، ان کی میقات۔ آفاقیوں کی میقات یہ ہیں : 

(۱) ذوالحلیفہ: یعنی بیر علی مدینہ کی طرف سے آنے والوںکے لیے۔

(۲) ذات عرق: عراق کی طرف سے آنے والوں کے لیے ۔

(۳) جحفہ: شام اور مصر کی طرف سے آنے والوں کے لیے۔

(۴) قرن: نجد کی طرف سے آنے والوں کے لیے۔ 

(۵)  یلملم: یمن اور ہندستان اور پاکستان وغیرہ سے آنے والوں کے لیے۔ (ہدایہ ) 

 ان لوگوں کے لیے رسول ﷺ نے یہی میقاتیں مقرر کی ہیں، چنانچہ حدیث میںہے:

 وقَّتَ رسول  ﷺلا ھل المدینۃ ذالحلیفۃ، و لا ھل الشام الجحفۃ، ولا ھل نجد قرن المنازل، ولا ھل الیمن یلملم، فمن لھم ولمن اتی علیھن من غیر اھلھن لمن کان یرید الحج  والعمرۃ، فمن کان دونھن فمھلہ من اھلہ وکذاک وکذاک حتی اھل مکۃ یھلون منھا ( متفق علیہ) 

رسول اللہ ﷺ نے مدینہ والوں کے لیے ذوالحلیفہ اور شام والوں کے لیے جحفہ اور نجد والو ں کے لیے قرن منازل اور یمن والوں کے لیے یلملم میقات مقررکی ہیں۔ یہ میقات ان میقات والوں کے لیے ہے اور ان کے علاوہ جو بھی ان راستوں سے گزرے ان کے لیے بھی یہی میقات ہے ،جو بھی حج اور عمرہ کے ارادہ سے آئے ۔ اور جو لوگ میقات کے اندر رہتے ہیں، ان کی میقات اپنے اہل سے ہے۔ اسی طرح اور اسی طرح یہاں تک مکہ والے مکہ سے احرام باندھے ۔ (بخاری ومسلم ) 

یعنی جو لوگ میقات مقررہ کے اندر رہتے ہیں، ان کے لیے میقات اپنا گھر ہے۔  افضل یہی ہے کہ گھر سے احرام باندھے، ورنہ کم از کم حدود حرم سے باہر ضرور احرام باندھ لے۔ اور جولوگ حدود حرم میں رہتے ہیں، وہ بھی اپنے گھرسے احرام باندھے، یا حرم کے اندر جہاں سے چاہے ۔ اس حدیث سے تینوں قسم کی میقات معلوم ہوگئی اور آپ ﷺنے فرمایا: 

 مھل اھل المدنیۃ من ذی الحلیفۃ والطریقۃ الا الجحفۃ ومھل اھل العراق من ذات عرق (رواہ مسلم ) 

مدینہ والوں کے لیے میقات ذوالحلیفہ ہے اور دوسرا راستہ جحفہ ہے اور عراق والوں کی ذات عرق ہے ۔(مسلم)

جحفہ رابغ کے قریب مکہ سے تین منزل پر ایک مکان ہے، جو شام والوں کی میقات ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ ایک میقات والے جب دوسری میقات پر پہنچے، تووہی دوسری میقات اس کی میقات ہے ،جیسے مدینہ والوں کے لیے میقات ذوالحلیفہ ہے، جو مدینہ سے تقریبا چھ میل دور ہے، جس کا نام آج کل بیر علی ہے۔ آ پﷺ نے مدینہ والو ں کے لیے جب کہ دوسرے راستے آئے، تو اس کے لیے وہی میقات بتائی، جو شام والوں تھی، یعنی جحفہ۔ ذات عرق ایک مقام کانا م ہے، جو آج کل ویران ہوگیا ہے۔ مکہ مکرمہ سے تقریبا تین روز کی مسافت پر ہے۔ عراق سے مکہ آنے والوں کے لیے آپ نے یہ میقات ٹھہرائی ہے ۔

حلی کی میقات

 جو لوگ میقات میں، یا میقات اور حدود حرم کے درمیان میں رہتے ہیں، ان کے لیے کل زمین حل میقات ہے۔ حدود حرم میں داخل ہونے سے پہلے جہاں چاہے احرام باندھ لے، لیکن گھر سے احرام باندھنا افضل ہے ۔(ہدایہ)

حرمی کی میقات 

حج کے لیے مکہ اور حدود حرم میں رہنے والے کے لیے حرم کی کل زمیں میقات ہے ، حدود حرم میں جہا ں چاہے احرام باندھ لے ۔ (ہدایہ)اور عمرہ کے لیے میقات حل ہے، جیسا کہ حضرت عائشہ ؓ کو آپ  ﷺنے عمرہ کے احرام کے لیے تنعیم بھیجا ۔(بخاری و مسلم )  

مسئلہ : آفاقیوں کے لیے جو میقات بیان کی گئی ہیں، یہ خاص ان ممالک والوں کے لیے بھی میقات ہیں اور جو لوگ دوسرے ممالک کے رہنے والے مکہ مکرمہ کو جاتے ہوئے ان میقاتوں سے گزرتے ہیں، ان کے لیے بھی یہ میقات ہیں ،جیسا کہ روایت سے واضح ہوا۔

مسئلہ : آفاقیوں کے لیے اگر وہ مکہ یا حرم کے ارادے سے سفر کرے، تو اس کو میقات پر پہنچ کر حج یا عمرہ کا احرام باندھنا واجب ہے، خواہ حج یا عمرہ کا ارادہ ہو یا نہ ہو ۔ (ہدایہ)

رسول اللہ  ﷺ نے فرمایا:  

لا یجاوز الوقت الا بالاحرام ( رواہ ابن ابی شیبہ)

 احرام کے بغیر کوئی میقات سے آ گے نہ بڑھے ۔

مسئلہ : مکہ یا حرم میں حج یا عمرہ کے ارادہ سے جائے، یا تجارت و سیر کے لیے جائے، بہر صورت میقات پر پہنچ کر احرام باندھنا واجب ہے۔ (ہدایہ)

مسئلہ : میقات پر آنے سے پہلے بھی احرام باندھنا جائز ہے، بلکہ افضل یہ ہے کہ اپنے گھرہی سے احرام باندھ لے، بشرطیکہ ممنوعات احرم میں مبتلا ہونے کا خوف نہ ہو؛ ورنہ مکروہ ہے ۔ (ہدایہ) 

سئل علی رضی اللہ عنہ عن قولہ عز وجل: واتمو الحج والعمرۃ للّٰہ فقال: ان تحرم من دویرہ اھلک ( رواہ الحاکم فی تفسیرہ من المستدرک وقال: صحیح علی شرط شیخین)

حضرت علی ؓ سے اللہ تعالیٰ کے قول و اتموا الحج  والعمرۃ کے بارے میں سوال کیا گیا،  آپؓ نے فرمایا: حج اور عمرہ کا اتمام یہ ہے کہ اپنے گھر ہی سے احرام باندھو۔ 

مسئلہ: اگر کوئی شخص خشکی میں، یا سمند ر میں ایسے راستہ سے مکہ جارہا ہے کہ اس میں کوئی میقات مذکورہ بالا میقاتوں میں سے نہیں آئے گی، تو اس کو مذکورہ بالا میقات میں سے کسی میقات کی محاذات ( برابری ) سے احرام باندھنا واجب ہے ۔

مسئلہ : اگر ایسے راستہ سے جارہا ہے کہ جس میں میقات مقررہ کوئی نہیں آئے گی، تو اس کو محاذات معلوم کرکے احرام باندھنا چاہیے۔ اگر محاذات معلوم نہ ہو، تو تحری کرے، یعنی غورو فکر سے محاذات کا اندازہ لگائے اور جس جگہ محاذ کا ظن غالب ہو، وہاں سے احرام باندھ لے ۔

مسئلہ : تحری اور غورو فکر اس وقت کرنا چاہیے، جب کہ کوئی بتانے والا موجود نہ ہو، لیکن اگر محاذات کا واقف کا ر اگر موجود ہے، تو اس سے پوچھ لینا واجب ہے؛ لیکن اگر دونوں یکساں ناواقف ہوں اور دونوں کی رائے میں اختلاف ہوجائے، تو پھر اپنی اپنی رائے کے موافق محاذات پر احرام باندھ لے ،دوسرے کے قول کا اعتبار نہ کرے ۔

مسئلہ : اس بارے میں کافر کا قول معتبر نہیں، مثلا جہاز میں انگریز یا کافر بتائے کہ اس جگہ سے میقات کی محاذات ہے، تواس کا قول معتبر نہیں؛ البتہ جہاز کے ملازمین میں سے ایک مسلمان عادل شخص وہاں آمدورفت رکھنے ولا اورجاننے والابتادے ،تو اس کا قول معتبر ہے ۔

مسئلہ: اگرکسی کے راستے میں دو میقاتیں پڑتیں ہیں، تواس کو پہلی میقات سے احرام باندھنا افضل ہے اگر دوسری میقات تک مؤخر کیا، توجائز ہے۔ اسی طرح اگر دو میقاتوں کی محاذات پڑتی ہوں، تو پہلی میقات کی محاذات سے احرام باندھنا افضل ہے ۔

مسئلہ : اگر کسی کو محاذات میقات کا علم نہیں اور نہ کوئی جاننے والا ملا، تو ایسی صورت میں مکہ سے دو منزل پہلے احرام باندھنا واجب ہے، جیسے کوئی ہندستانی سمند ر میں سفر کر کے گیا اور میقات کی محاذات کا علم نہ ہوا ،اور کوئی بتانے والا بھی نہ ملا،تو جدہ سے احرام باندھنا ہوگا۔جدہ مکہ سے دو منزل پر ہے ۔

مسئلہ : راستے میں ایک میقات سے گذرتا ہے اور دوسری میقات کے محاذ (برابری) سے بھی گذر ہوگا، تو میقات سے احرام باندھنا واجب ہوگا، محاذ کااعتبار نہ ہوگا ۔

مسئلہ : مدینہ والوں کو یا جو مدینہ کی طرف سے آئے ،تو وہ ذوی الحلیفہ میں احرام باندھے ۔ جحفہ تک بغیر احرام کے آنا اور جحفہ سے احرام باندھنا مکروہ ہے ۔

مسئلہ : جو آفاقی عمرہ سے فارغ ہو کر مکہ میںمقیم ہو، تووہ مکہ والوں کی طرح حج کا احرام حرم سے اور عمرہ کا احرام حل سے باندھے اور تنعیم سے عمرہ کا احرام باندھنا افضل ہے ۔

مسئلہ: اگرمکی میقات سے باہر نکل آئے، تو واپسی میں اس پر بھی آفاقی کی طرح میقات سے احرام باندھنا واجب ہے ۔

 میقات سے بلا احرام باندھے گذرجانا 

کوئی آفاقی عاقل بالغ میقات سے بغیر احرام کے آگے گذر جائے، تو اس پر واجب ہے کہ لوٹ کر پھر میقات پر آئے اور احرام باندھے۔ اگر میقات پر آکر احرام نہیں باندھا؛ بلکہ وہیں سے احرام باندھ لیا ،تو اس پر دم واجب ہوگا۔ لوٹ کر میقات سے احرام باندھنے میں کوئی دم نہیں ہے ۔

عن بن عباس ؓ قال: اذا جاوز الوقت فلم یحرم حتی دخل مکۃ رجع الیٰ الوقت فاحرم وان خشی ان رجع الیٰ الوقت فانہ یحرم ویحریق لذلک دما ( رواہ اسحاق بن راھویہ فی مسندہ)

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا: جب کوئی شخص میقات سے آگے بڑھ جائے اور احرام نہ باندھے، یہاں تک کہ مکہ آجائے، تو وہ میقات کی طرف لوٹے اور احرام باندھے۔ اور اگر میقات کی طرف لوٹنے میں ( حج فوت ہونے کا یا جان کا )ڈر ہو،تو وہیں احرام باندھ لے اور میقات پر احرام نہ باندھنے کی وجہ سے دم دے ۔

مسئلہ : میقات سے بلا احرام گذرا اور آگے جاکر احرام باندھا اور مکہ پہنچنے سے پہلے لوٹا اور میقات پر پہنچ کر تلبیہ پڑھ لیا، تو دم ساقط ہوگیا۔ اگر تلبیہ نہیں پڑھا ،تو دم ساقط نہیں ہوگا ۔

مسئلہ: میقات پر احرام نہیں باندھا اور آگے چل کر احرام باندھااور مکہ بھی پہنچ گیا، مگر افعال حج شروع نہیں کیا تھا کہ پھر لوٹ کر میقات پر آیا اور تلبیہ پڑھا، تو دم ساقط ہوجائے گا ۔

مسئلہ : میقات سے بغیر احرام کے گذرا اور آگے چل کر احرام باندھا، تو اس پر واجب ہے کہ لوٹ کر میقات پر آئے ،ورنہ گنہگار ہوگا اور دم بھی واجب ہوگا ۔البتہ اگر واپس آنے میں جان ومال کا خطرہ یا حج کے فوت ہونے کا اندیشہ ہو،یا بیماری کی وجہ سے نہیں آسکتا ہے، تو ایسی صورت میں واپس آناواجب نہیں؛ لیکن دم واجب ہوگا، جیسا کہ حضرت ابن عباس ؓ کے قول سے معلوم ہوا ۔

مسئلہ : اگر میقات سے گذر کر آگے احرام باندھا اور پھر میقات پر واپس نہیں آیا، یا کچھ افعال شروع کرنے کے بعد واپس آیا، تودم ساقط نہیں ہوگا، قربانی ہوگی ۔

مسئلہ :جو شخص کسی میقات سے بلا احرام کے گذرا ہے، اس پر یہ واجب نہیں کہ اسی میقات پر واپس آئے؛ بلکہ کسی میقات پر مواقیت مذکورہ میں سے آنا کافی ہے؛ ہاں افضل یہی ہے کہ اسی میقات پر واپس آئے، جس سے گذرا تھا ۔

مسئلہ: کوئی آفاقی میقات سے آگے جانا چاہتاہے، مگر ایسی جگہ جارہا ہے، جو حرم کے حددو کے اندر داخل نہیں ہے؛ بلکہ حل میں ہے ،تووہاں جانے کے لیے میقات سے احرام باندھنا واجب نہیں، بغیر احرام باندھے جاسکتاہے اور پھر وہاں سے حرم کے حدود میں،یا مکہ جانا چاہے ،تو بغیر احرام کے جاسکتا ہے ،اس پر کوئی دم نہیں، یعنی جب حل کسی غرض سے گیا، تو وہ حلی ہوگیا اور حلیوں کے لیے حرم میں بغیر احرام کے جانا درست ہے۔ اس لیے حضور ﷺ نے آفاقیوں ہی کو بغیر احرام کے میقات سے آگے بڑھنے سے منع کیا ہے اور حل میں پہنچ کر اگر وہاں سے حج یا عمرہ کا احرام باندھنا چاہے ،تو حل سے احرام باندھ لے ۔

مسئلہ: میقات پر جو ارادہ ہے اسی کا اعتبار ہے ۔ اگر اس کے بعد ارادہ بدل دے، تو اس کا اعتبار نہیں ۔ میقات پر مکہ کا ،یا حج، یاعمرہ کاارادہ تھا، مگر میقات پر احرام نہیں باندھا، آگے چل کر حل کا ارادہ کیا، تو یہ ارادہ دم ساقط نہیں کرے گا، کیوں کہ بغیر احرام کے آگے بڑھا ہے؛ البتہ اگر میقات ہی کے اندر حل کا ارادہ تھا اور بغیر احرام میقات سے آگے بڑھا، پھر مکہ کا ارادہ ہوگیا، تو اس پر کوئی دم نہیں؛ لیکن اس کو حل کے اندر احرام باندھ لینا چاہیے ۔

مسئلہ : آفاقی شخص اگر حرم میں، یا مکہ میں بلا احرام کے داخل ہوجائے، تو اس پر ایک حج، یا عمرہ کرنا واجب ہوجاتا ہے ۔اگرکئی مرتبہ اسی طرح بلا احرام داخل ہوا،تو اتنا ہی مرتبہ اس پر حج ،یا عمرہ واجب ہوگا ۔

مسئلہ: مکہ میں بغیر احرام کے داخل ہونے کی وجہ سے جو حج یا عمرہ واجب ہواتھا، اس کے قائم مقام حج فرض، یا حج نذر، یا عمرہ نذر ہوجا ئے گا، اگر چہ اس کی نیت نہ کی ہو، بشرطیکہ اسی سال حج یا عمرہ کیا ہوجس سال داخل ہوا تھا۔ اگر یہ سال گذر گیا، تو پھر اس کے لیے مستقل حج یا عمرہ واجب ہوگا ۔

مسئلہ : جو لوگ میقات کے رہنے والے ہیں ،جیسے ذوالحلیفہ والے، یا میقات اور حرم کے درمیان رہتے ہیں، اگر وہ حج یا عمرہ کی نیت سے مکہ جائیں ،تو ان پر حل کے اندر احرام باندھنا واجب ہے ۔(ہدایہ)  اور اگر حج یا عمرہ کے ارادہ سے نہ جائیں، تو ان کے لیے احرام باندھ کر جانا واجب نہیں ہے، بلااحرام مکہ میںداخل ہوسکتے ہیں۔ ایسے ہی وہ آفاقی، جو حل میں مقیم ہو گیا ،ان کو بھی جب حج ،یا عمرہ کا ارادہ نہ ہو،تو بغیر احرام کے مکہ میں داخل ہونا جائز ہے۔(فتح  القدیر )

احرام کا بیان 

جس طرح نماز کے لیے تحریمہ ہو تا ہے کہ نماز کے افعال وہیں سے شروع ہوتے ہیں اور تحریمہ کے بعد بہت سی جائز چیزیں، جو منافی نماز ہیں، ان کے لیے نا جائز ہوجاتی ہیں، اسی طرح احرام کے بعد سے افعال حج شروع ہوتے ہیں اور بہت سی جائز چیزیں اس کے لیے ناجائز ہوجاتی ہیں ۔ احرام کے معنی ہیں: حرام کرنا ۔

نماز کا تحریمہ نیت کے ساتھ تکبیر تحریمہ کہنے سے بندھ جاتا ہے، اسی طرح حج کا احرام نیت کے ساتھ تلبیہ پڑھنے سے بندھ جاتا ہے۔احرام باندھنے سے پہلے حاجی کو پوری طہارت حاصل کرلینا مستحب ہے ۔( نور الایضاح ) 

پوری طہارت یہ ہے کہ زیر ناف اور بغل کا بال صاف کرے۔ ناخن کٹوائے۔ مونچھ کتروائے۔ بیوی ساتھ ہو، تو صحبت سے بھی سکون حاصل کرلے۔ سر منڈوالے یا سر کو صابون وغیرہ سے دھولے۔ بدن کا میل کچیل دور کرے۔ غسل سے فارغ ہونے کے بعد بدن اور سر میں تیل کی مالش کرلے۔ سر وغیرہ میں کنگھی کرلے اور بدن اور کپڑوں میں خوشبو مل لے۔

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے مروی ہے کہ 

کان رسولُ اللّٰہِ ﷺ اذا أرادَ أن یحرم غَسَلَ رأسَہُ بِخطمی و اشنان و دَھَنَہُ بِزیتٍ۔ (دار قطنی)

رسول اللہ ﷺ جب احرام کا ارادہ فرماتے، تو اپنے سر کو خطمی اور اشنان سے دھولیتے اور سر میں زیتون کا تیل لگاتے۔ 

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک دوسری حدیث میں ہے کہ :

قالت: کنتُ اطیبُ رسولَ اللّٰہِ ﷺ لِاِحرامِہِ قبلَ أن یحرمَ و لِحلہِ قبل أی یطوفَ بالبیتِ بطیبٍ فیہِ مسکٌ کأنی انظرُ الیٰ وبیض الطیبِ فی مفارقِ رسولِ اللّٰہِ ﷺ و وھو محرمٌ۔ (متفق علیہ)

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ احرام سے پہلے میں رسول اللہ ﷺ کو احرام کے لیے اور بیت اللہ کے طواف (زیارت) سے پہلے احرام کھولنے کے لیے ایسی خوشبو لگاتی ، جس میں مشک ہوتا تھا، گویا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے سر مبارک میں خوشبو کی چمک دیکھ رہی ہوں ، حالاں کہ آپﷺ محرم ہوتے۔ (بخاری و مسلم)

یعنی احرام کے بعد بھی اس خوشبو کا اثر ظاہر ہوتا، جو احرام سے قبل لگائی جاتی ۔

در مختار میں ہے کہ اگر اس کے پاس خوشبو ہو تو اپنے بدن میں لگائے اور ایسی خوشبو جس کا جسم باقی رہے اپنے کپڑوں میں نہ لگائے، یہی صحیح ہے۔

اور فتاویٰ قاضی خاں میں ہے کہ مستحب یہ ہے کہ سر کی چکٹ ، بدن کا میل کچیل، خطمی ، اشنان وغیرہ سے دھوکر دور کرے اور جونسا تیل چاہے لگائے، خوشبو دار ہو یا بے خوشبو۔ علمائے حنفیہ کا اس پر اتفاق ہے کہ احرام سے پہلے ایسی خوشبو لگانا، جس کا عین باقی نہیں رہتا ہے جائز ہے، اگرچہ اس کی خوشبو احرام کے بعد باقی رہے۔اسی طرح ایسی خوشبو جس کا جسم احرام کے بعد باقی رہے، جیسے مشک اور غالیہ ، ہمارے نزدیک ظاہری روایت میں مکروہ نہیں ہے، اور یہی صحیح ہے ، اسی طرح محیط میں ہے ۔ اور ایسی خوشبو جس کا جسم احرام کے بعد باقی رہے، کپڑوں میں لگانا صاحبین کی دو روایتوں میں سے ایک روایت کی بنا پر کل کے قول پر جائز نہیں۔ (عالمگیری)

احرام کے لیے جو غسل مسنون ہے ، وہ محض صفائی کے لیے ہے، اس لیے وہ بھی غسل کرلے، جو غسل سے پاک نہ ہو، جیسے حیض ، نفاس والی عورت، جیسا کہ حضور ﷺ نے حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کو فرمایا، جب کہ وہ نفاس میں تھیں:

اغتسِلی واستشفری بثوب و احرمی

تو نہالے اور لنگوٹ کس لے اور احرام باندھ لے (مسلم)

 مسئلہ: اگر غسل نہ کرسکے، تو وضو کرے۔ بلا غسل اور وضو کے احرام باندھنا جائز ہے ؛ مگر مکروہ ہے ۔

مسئلہ: اگر پانی نہ ہو تو احرام کے لیے غسل کا تیمم مشروع نہیں ہے ، اس لیے کہ تیمم سے جسم کی صفائی نہیں ہوتی ہے ۔ البتہ نماز کے لیے غسل کا تیمم جائز ہے ۔ پانی نہ ملنے کی صورت میں تیمم کرکے نماز پڑھ لے۔

مسئلہ: احرام کی چادر اتنی لمبی ہو کہ داہنے کندھے سے نکال کر بائیں کندھے پر سہولت سے آجائے اور تہہ بند اتنا ہو کہ ستر اچھی طرح سے چھپ جائے ۔

مسئلہ: احرام میں کرتہ پاجامہ، اچکن ، صدری، بنیان وغیرہ پہننا منع ہے ۔ جو کپڑا بدن کی ہیئت پر سلا ہوا ہو، اس کا پہننا احرام میں جائز نہیں۔ 

مسئلہ: چادر یا لنگی اگر بیچ میں سے سلی ہوئی ہو، تو جائز ہے ،مگر بہتر یہی ہے کہ احرام کا کپڑا بالکل سلا ہوا نہ ہو۔

مسئلہ: احرام کا کپڑا سفید ہونا افضل ہے۔ 

مسئلہ: کمبل ، لحاف، رزائی  وغیرہ احرام میں اوڑھنا جائز ہے۔

مسئلہ: ایک کپڑا بھی احرام میں کافی ہے اور دو سے زائد بھی جائز ہے ۔ رنگین بھی جائز ہے ؛ لیکن کسم یا زعفران میں رنگا ہوا نہ ہو۔

احرام باندھنے کا طریقہ

جب بدن کی صفائی سے فراغت ہوجائے تو سلے ہوئے کپڑے اتار دے اور دو کپڑے نئے سفید بے سلے ایک چادر اور لنگی اوڑھ لے۔ بدن اور کپڑوں میں تیل ، خوشبو جو میسر ہو لگائے۔

عن زید بن ثابت انہ رأیٰ النبی ﷺ یجرد لِاھلالِہِ و غَسَلَ (رواہ الترمذی والدارمی)

زید ابن ثابت سے مروی ہے کہ انھوں نے نبی کریم ﷺ کو دیکھا کہ احرام کے لیے سلے ہوئے کپڑوں سے خالی ہوئے اور غسل فرمایا۔ 

 اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھے ۔ سلام پھیر کر قبلہ ہی رو بیٹھے اور سر کھول کر اسی جگہ نیت کرے ، یعنی دل سے یہ ارادہ کرے کہ حج یا عمرہ یا دونوں کا ارادہ کرتا ہوں ۔ اگر زبان سے بھی نیت کے الفاظ کہہ لے ، تو بہتر ہے ۔ اگر صرف عمرہ کی نیت ہو، تو کہے:

أللّٰھم انی ارید العمرۃ فیَسِّرْھا لی و تَقَبَّلْھَا مِنِّی۔ 

ائے اللہ ! میں نے عمرہ کا ارادہ کیا ہے تو اس کو میرے لیے آسان کر اور میری طرف سے قبول فرما۔

اور حج کا ارادہ ہو تو کہے: 

أللّٰھُمَّ انی اریدُ الحَجَّ فَیَسِّرْہُ لِیْ و تَقَبَّلْہُ مِنّی۔

ائے اللہ! میں نے حج کا ارادہ کیا تو اس کو میرے لیے آسان کر اور میری طرف سے اس کو قبول فرما۔

اور اگر حج اور عمرہ دونوں کا ارادہ ہوتو کہے کہ: 

أللّٰھُمَّ انی اریدُ الحَج والعمرۃَ فَیَسِّرْہُما لِیْ و تَقَبَّلْھُما مِنِّی۔ 

الٰہی! میں حج اور عمرہ کا ارادہ رکھتا ہوں ، تو ان دونوں کو میرے لیے آسان کردے اور تو ان دونوں کو میری طرف سے قبول فرما۔ 

اور اگر عربی میں نہ کہے تو اردو میں کہہ لے۔ اس کے بعد بلند آواز سے تین مرتبہ تلبیہ پڑھے۔ تلبیہ یہ ہے:

لَبّیکَ أللّٰھُمَّ لَبّیکَ، لَبَّیکَ لا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ۔ (ہدایہ)

اس کے بعد درود شریف پڑھے۔ اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے۔ یہ دعا مستحب ہے:

ألْلّٰھُمَّ اِنِّی أسْئَلُکَ رِضَاکَ وَالْجَنَّۃَ وَ اَعُوْذُ بِکَ مِنْ غَضَبِکَ وَالنَّارِ۔ 

الٰہی! میں تجھ سے تیری رضا اور جنت چاہتا ہوں اور تیرے غضب اور دوزخ سے تیری پناہ ڈھونڈھتا ہوں۔ 

اِنَّ النبیَ ﷺ کانَ اذا فَرَغَ مِنْ تْلبِیَتِہِ سَئَلَ اللّٰہَ رِضْوانَہُ والجَنَّۃَ  واسْتَعفَاہُ بِرَحْمَتِہِ مِنَ النَّارِ (رواہ الشافعی)

نبی کریم ﷺ جب تلبیہ سے فارغ ہوئے تو اللہ تعالیٰ سے ان کی رضا مندی اور جنت اور اس کی رحمت سے دوزخ سے پناہ ڈھونڈتے۔ 

و فیِ رِوایۃ الدارمی والبیھقی اَنَّ النبیَ ﷺ کانَ یُصَلِّی علیٰ نَفْسِہِ بعدَ تلْبِیَتِہِ۔ 

نبی اکرم ﷺؑ تلبیہ کے بعد اپنے اوپر درود پڑھتے۔ 

و رویٰ ابو داود والدارقطنی عن القاسم بن محمد ﷺ أنَّہ قالَ یَستحِبُّ للرَّجُلِ الصلوٰۃ علیٰ النبی ﷺ بعدَ التلْبِیَۃِ ۔

تلبیہ کے بعد مستحب ہے کہ نبی کریم ﷺ پر درود بھیجے۔ 

اگر پہلا حج ہو، تو فرض کی نیت خاص طور سے کرنا اور زبان سے کہہ لینا بہتر ہے ۔ نیت کرلینے اور تلبیہ پڑھ لینے کے بعد احرام بندھ گیا ۔ اب ان چیزوں سے بچے جس کا کرنا محرم کے لیے منع ہے۔ 

احرام کی قسمیں

احرام کی چار قسمیں ہیں :

(۱) افراد یعنی صرف حج کا احرام باندھنا۔

(۲) تمتع یعنی اول عمرہ کا احرام باندھنا او رموسم حج میں عمرہ سے فراغت کے بعد حج کا احرام باندھنا۔ 

(۳) قرآن یعنی حج اور عمرہ کا ایک ہی ساتھ احرام باندھنا۔ 

(۴) صرف عمرہ کا احرام باندھنا، حج کے مہینوں کے علاوہ ، خواہ حج سے پہلے یا حج کے بعد یا بغیر حج کے صرف عمرہ کرنا۔ 

جو شخص صرف حج کا احرام باندھے، اس کو مفرد کہتے ہیں۔ اور جو تمتع کرے ، اس کو متمتع کہتے ہیں ۔ اور جو قران کرے، یعنی حج اور عمرہ کا ایک ساتھ احرام باندھے ،اس کو قارن کہتے ہیں۔ اور جو صرف عمرہ کرے ،اس کو معتمر کہتے ہیں۔ 

مسئلہ: حج کی تینوں قسمیں جائز ہیں ، لیکن حنفیہ کے نزدیک سب سے افضل قران ہے ، پھر تمتع ، پھر افراد ۔ (ہدایہ)۔

مسئلہ: آفاقی کے لیے تینوں قسمیں جائز ہیں ، لیکن مکہ والوں کے لیے قران اور تمتع ناجائز ہے۔ 

احرام کے صحیح ہونے کی شرطیں

احرام کے صحیح ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں: 

(۱) اسلام یعنی احرام باندھنے والا مسلمان ہو۔

(۲) نیت اور تلبیہ یا تلبیہ کے قائم مقام کوئی ذکر اور ہدی کے گلے میں پٹہ ڈالنا اور اس کو چلانا بھی تلبیہ کے قائم مقام ہے۔ 

مسئلہ: صرف حج کی نیت کرنے سے احرام درست نہیں ہوتا؛ بلکہ تلبیہ یا اور کوئی ذکر جو اس کے قائم مقام ہو کرنا ضروری ہے ۔ اسی طرح نیت کے بغیر صرف تلبیہ پڑھ لینے سے احرام صحیح نہیں ہوگا؛ بلکہ نیت کے ساتھ تلبیہ پڑھنے سے احرام درست ہوگا۔ (بحر الرائق)

مسئلہ: احرام کے صحیح ہونے کے لیے کسی خاص زمانہ یا کسی خاص مکان یا کوئی خاص ہیئت کی ضرورت نہیں ہے ، اگر کوئی موسم حج سے پہلے اور میقات آنے سے پہلے اپنے گھر ہی سے احرام باندھ لے ، تو درست ہے۔ 

اسی طرح اگر کسی نے سلہ ہوئے کپڑوں ہی میں احرام باندھ لیا ، وہ بھی صحیح ہے ، مگر سلے ہوئے کپڑوں میں احرام باندھنا مکروہ ہے ۔ اور اس کے بعد سلے ہوئے کپڑوں کے پہنے رکھنے سے جزا لازم آئے گی، صدقہ یا قربانی، جس کا بیان آگے آئے گا۔ 

واجبات احرام

احرام میں تین چیزیں واجب ہیں: 

(۱) میقات سے احرام باندھنا۔ 

(۲) ممنوعات احرام سے بچنا۔ 

(۳) ایک مرتبہ تلبیہ پڑھنا۔ 

احرام کی سنتیں

احرام باندھنے کے لیے نو سنتیں ہیں:

(۱) حج کے مہینوں میں احرام باندھنا۔ 

(۲) اپنے ملک کی میقات سے احرام باندھنا جب کہ اس سے گذرے۔ 

(۳) غسل یا وضو کرنا۔ 

(۴) چادر اور لنگی استعمال کرنا۔ 

(۵) دو رکعت نماز پڑھنا۔ 

(۶) تلبیہ پڑھنا۔ 

(۷) تین مرتبہ پڑھنا۔ 

(۸) بلند آواز سے پڑھنا۔ 

(۹) احرام سے پہلے خوشبو لگانا۔ 

احرام کے مستحبات

احرام کے لیے دس چیزیں مستحب ہیں: 

(۱) میل دور کرنا۔ 

(۲) ناخن کترنا۔ 

(۳) بغل صاف کرنا۔ 

(۴) زیر ناف کے بال دور کرنا۔

(۵) احرام کی نیت سے غسل کرنا۔ 

(۶) لنگی چادر نئی سفید یا دھلی ہوئی استعمال کرنا۔ 

(۷) چپل پہننا۔ 

(۸) زبان سے احرام کی نیت کرنا۔ 

(۹) نیت نماز کے بعد بیٹھ کر کرنا۔ 

(۱۰) میقات سے پہلے اپنے گھر ہی میں احرام باندھنا ۔ 

احرام کا حکم

جب احرام باندھ لیا، تو اس کا حکم یہ ہے کہ جس چیز کا احرام باندھا ہے اس کو پورا کرکے ہی احرام کھولے۔ اگر کوئی ایسا فعل بھی ہوجائے، جس سے احرام فاسد ہوجاتا ہے ، تب بھی تمام افعال حج کے ادا کرے اور اگر حج نہ ملے تو عمرہ کرکے حلال ہوجائے ۔ اور اگر کوئی روک دے ، تو قربانی کا جانور ذبح کرنے کے بعد حلال ہو۔ 

مسائل احرام

نیت کے مسائل

مسئلہ: احرام کی نیت دل سے ہونا ضروری ہے۔ زبان سے کہنا صرف مستحسن ہے ، جس کا احرام باندھنا ہے دل میں اس کی نیت کرنی چاہیے کہ حج کا احرام باندھتا ہوں، یا حج اور عمرہ دونوں کا، یعنی قران کا، یا میقات سے عمرہ کا اور حرم سے عمرہ کے بعد حج کا یعنی تمتع کا ۔ اگر دل سے نیت کرلی اور زبان سے کچھ نہیں کہا تو نیت ہوجائے گی۔ 

مسئلہ: اگر کسی نے احرام باندھا اور حج یا عمرہ کسی کی نیت نہ کی، تو احرام صحیح ہوگیا۔ اب اس کو افعال حج یا عمرہ کے شروع کرنے سے پہلے تعیین کرلینا چاہیے ۔ اگر بلا تعینن افعال شروع کردیے؛ اگر عمرہ کے شروع کیے تو عمرہ کا احرام ہوا۔ یا حج کے افعال شروع کیے اور طواف سعی سے پہلے وقوف عرفہ کرلیا ،تو حج کا احرام ہوا۔

مسئلہ: حج کا احرام باندھا لیکن فرض یا نفل کی تعیین نہیں کی تو یہ احرام فرض کا ہوگا، اگر اس پر حج فرض ہے۔ اور اگرنذر یا نفل یا کسی دوسرے کی طرف سے حج کی نیت کرلی تو جیسی نیت کرے گا ویسا ہوگا۔ 

مسئلہ: کسی حج یا عمرہ یا قران کا احرام باندھا اور پھر بھول گیا یا شک ہوگیا کہ کس کا احرام باندھا تھا، تو ایسے شخص کو حج اور عمرہ دونوں کرنا چاہیے۔ اور عمرہ پہلے کرنا چاہیے جس طرح قارن کرتا ہے ؛ لیکن یہ شخص شرعا قارن نہ ہوگا، اس پر قران کی ہدی لازم نہ آئے گی۔ 

مسئلہ: اگر حج بدل ہے ، تو جس کی طرف سے حج کرنا ہے اس کی طرف سے نیت کرے اور زبان سے بھی کہے کہ فلاں کی طرف سے حج کی نیت کی اور اس کی طرف سے احرام باندھا۔ 

تلبیہ کے مسائل

تلبیہ یعنی لبیک کا زبان سے کہنا شرط ہے ، صرف دل سے کہنا کافی نہیں ہے۔ 

مسئلہ: گونگے کو زبانی ہلانی چاہیے اگرچہ الفاظ ادا نہ ہو۔ 

مسئلہ: ہر ایسا ذکر جس سے حق تعالیٰ کی تعظیم مقصود ہو، تلبیہ کے قائم مقام ہوسکتا ہے، جیسے لا الٰہ الا اللہ ۔ الحمد للہ۔ سبحان اللہ۔ اللہ اکبر وغیرہ۔ 

مسئلہ: تلبیہ اردو، فارسی، ترکی وغیرہ سب زبانوں میں جائز ہے۔ اگرچہ عربی میں بھی کہہ سکتا ہے ، مگر عربی میں کہنا افضل ہے۔ (ہدایہ)

مسئلہ: تلبیہ کے خاص الفاظ جو پہلے بیان ہوئے ، ان کا کہنا سنت ہے شرط نہیں ہے۔ اگر کوئی دوسرا ذکر احرام کے وقت کرے گا، تو احرام صحیح ہوجائے گا، لیکن تلبیہ کا چھوڑنا مکروہ ہے۔ 

مسئلہ: احرام باندھتے وقت تلبیہ یا تلبیہ کے قائم مقام کا ایک مرتبہ پڑھنا فرض ہے اور تکرار سنت۔ جب تلبیہ پڑھے ، تین مرتبہ پڑھے۔ 

مسئلہ: زمان و مکان اور حالات کے تغیر کے وقت تلبیہ پڑھنا مستحب ہے ، اس لیے صبح، شام، نماز کے بعد، کسی سے ملتے، جدا ہوتے وقت، اوپر نیچے ہوتے ہوئے، سوار ہوتے ہوئے، اترتے ہوئے تلبیہ پڑھنا چاہیے۔ (ہدایہ)

حضرت سفید ابن زبیر بیان کرتے ہیں کہ میں نے حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے عرض کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے جس وقت احرام باندھا، تو آپﷺ کے تلبیہ کے بارے میں صحابہ کرام کے اختلاف سے حیران ہوں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا میں اس کو سب سے اچھا جانتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے تو صرف ایک حج کیا ہے اور یہیں سے وہ لوگ مختلف ہوئے ہیں۔ رسول اللہ ﷺ حج کے لیے نکلے ، جب ذوالحلیفہ کی مسجد میں دو رکعت نماز پڑھی، تو آپ ﷺ نے اسی مجلس میں احرام باندھا۔ آپ ﷺجب دو رکعت سے فارغ ہوئے، تو آپ  ﷺنے حج کا تلبیہ پڑھا، تو بہت سے لوگوں نے اس کو سنا اور میں نے بھی اس کو یاد رکھا ۔ پھر آپ ﷺسوار ہوئے اور اونٹنی کھڑی ہوئی، تو پھر آپ ﷺنے تلبیہ پڑھا۔اور ایک قوم نے اس کو آپ ﷺ سے محفوظ کیا۔ اور یہ اس لیے کہ لوگ گروہ در گروہ آرہے تھے ، تو جب آپﷺ کو اونٹنی لے کر کھڑی ہوئی اور آپ ﷺ نے تلبیہ پڑھا،تو لوگوں نے سنا اور انھوں نے کہنا شروع کیا کہ جس وقت اونٹنی آپ ﷺ کو لے کر کھڑی ہوئی، اس وقت آپ ﷺ نے تلبیہ پڑھا۔ پھر رسول اللہ ﷺ چلے۔ جب میدان کی بلندی پر چڑھے ،تو پھر آپ ﷺ نے تلبیہ پڑھا، اس کو ایک قوم نے آپ ﷺ سے سنا اور انھوں نے کہنا شروع کیا کہ آپ ﷺ نے احرام کا تلبیہ اس وقت پڑھا جب کہ میدان کی بلندی پر چڑھے۔ خدا کی قسم ! آپ ﷺ نے احرام کا تلبیہ تو نماز کی جگہ ہی پر پڑھا اور اس وقت بھی پڑھا جب کہ اونٹنی آپ ﷺ کو لے کر کھڑی ہوئی۔ اور اس وقت بھی پڑھا جب میدان کی بلندی پر چڑھے، تو جس نے ابن عباس ؓ کے قول کو لیا، تو اس نے مصلیٰ ہی پر احرام کا تلبیہ پڑھا، جب کہ دو رکعتوں سے فارغ ہوئے۔ (ابو داود ، حاکم)

مسئلہ: تلبیہ پڑھنے کے درمیان کسی نے سلام کیا، تو اس درمیان میں جواب دینا جائز ہے ، واجب نہیں ؛ مگر بہتر یہ ہے کہ تلبیہ ختم کرکے جواب دے ، بشرطیکہ سلام کرنے والا چلا نہ جائے۔ 

مسئلہ: فرض اور نفل نماز کے بعد بھی تلبیہ پڑھنا چاہیے ۔ ایام تشریق میں پہلے تکبیر تشریق کہے۔ پھر تلبیہ پڑھے۔ اگر تلبیہ پڑھا تو تکبیر ساقط ہوجائے گی ۔ مگر تلبیہ دسویں تاریخ کی رمی کے ساتھ ساقط ہوجاتا ہے ، اس لیے باقی ایام تشریق میں صرف تکبیر ہوگی۔ 

مسئلہ: اگر مسبوق امام کے ساتھ تلبیہ کہہ لے گاتو نماز فاسد ہوجائے گی ۔ 

مسئلہ: تلبیہ کی کثرت مستحب ہے۔ 

مسئلہ: اگر چند آدمی ساتھ ہوں تو ایک ساتھ مل کر تلبیہ نہ کہیں، علاحدہ علاحدہ کہیں۔ 

مسئلہ: تلبیہ میں آواز بلند کرنا مسنون ہے، لیکن اتنی زیادہ نہیں کہ خود کو یا دوسرے نمازیوں اور سونے والوں کو نقصان پہنچے۔ 

قالَ رسولُ اللّٰہِ ﷺ: أتانی جبرئیلُ فاَمَرَنی أن اٰمُرَ أصحابی أن یرفعوا أصواتَھُم بالاِھلالِ أو التلبیۃِ (رواہ مالک والترمذی و ابو داود والنسائی وابن ماجہ والدارمی و صححہ الترمذی وابن حبان)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : میرے پاس حضرت جبرئیل علیہ السلام آئے ، پس انھوں نے مجھے حکم دیا کہ میں اپنے اصحاب کو حکم دوں کہ تلبیہ پڑھنے میں اپنی آواز کو بلند کریں۔ 

عنایہ میں ہے کہ ہمارے نزدیک دعا اور اذکار میں اخفا مستحب ہے، لیکن اگر اس کے اعلان میں دینی مقصد ہو، جیسے اذان ، خطبہ اور ان کے علاوہ ۔ تلبیہ سے بھی مقصد دین اسلام کی سربلندی کا اظہار ہے ، اس لیے زور سے پڑھنا مستحب ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :

افضلُ الحج والعمرۃ العَجُّ والثَّجُّ۔ (متفق علیہ)

بہترین حج بلند آواز سے تلبیہ پڑھنا اور خون بہانا یعنی قربانی کرنا ہے۔ 

مسئلہ: مسجد حرام ، منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں بھی تلبیہ پڑھو، لیکن مسجد میں زور سے نہ پڑھو۔ 

مسئلہ: طواف اور سعی میں تلبیہ نہ پڑھو۔

مسئلہ: تلبیہ کے الفاظ میں زیادتی کرنا مستحب ہے ، لیکن زیادہ درمیان میں نہ کریں؛ بلکہ بعد میں کریں۔ 

کانَ رسولُ اللّٰہِ ﷺ یرکعُ بذی الحلیفۃَ اَھَلَّ بِھٰؤلائِ الکلماتِ و یقولُ: لَبَّیْکَ ألْلّٰھُمَّ لَبَّیْکَ  لَبَّیْکَ  وَ سَعْدَیْکَ، وَالْخَیْرَ فِیْ یَدَیْکَ والرَّغْبِائُ اِلَیکَ والْعَمَلُ۔ (متفق علیہ)

رسول اللہ ﷺ ذوالحلیفہ میں دو رکعت نماز پڑھتے اور 

لَبّیکَ أللّٰھُمَّ لَبّیکَ، لَبَّیکَ لا شَرِیْکَ لَکَ لَبَّیْکَ اِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَۃَ لَکَ وَالْمُلْکَ، لَا شَرِیْکَ لَکَ۔

کے ساتھ کہتے: 

لَبَّیْکَ ألْلّٰھُمَّ لَبَّیْکَ  لَبَّیْکَ  وَ سَعْدَیْکَ، وَالْخَیْرَ فِیْ یَدَیْکَ والرَّغْبِائُ اِلَیکَ والْعَمَلُ۔

مسئلہ: تلبیہ کے الفاظ میں کمی کرنا مکروہ ہے۔ 

مسئلہ: جب کوئی عجیب چیز نظر آئے تو یہ کہے:

لَبَّیْکَ اِنَّ الْعَیْشَ عَیْشُ الْاٰخِرَۃُ۔ 

مسئلہ: عورت کو تلبیہ زور سے پڑھنا کہ اجنبی مرد سن لے، منع ہے ۔ 

مسئلہ: تلبیہ حج میں رمی کرنے کے وقت تک پڑھا جاتا ہے۔ دسویں ذی الحجہ کو جب جمرہ عقبیٰ کی رمی شروع کرے تو تلبیہ بند کردے، اس کے بعد نہ پڑھے۔ 

اِنَّ النبیَ ﷺ مازالَ یُلَبِّی حتّٰی رَمی جمرۃَ العَقْبَۃِ (متفق علیہ و زاد ابن ماجہ فلما رماھا قطع التلبیۃ) 

نبی کریم ﷺ ہمیشہ تلبیہ کہتے رہے یہاں تک کہ جمرہ عقبہ کی رمی کی یہ تو بخاری مسلم میں ہے اور ابن ماجہ نے اتنا زیادہ کیا ہے کہ پھر جب اس کی رمی کی تو تلبیہ بند کردیا ۔ اور عمرہ میں طواف شروع کرنے تک پڑھا جاتا ہے۔ 

تلبیہ کی فضیلت کا بیان

تلبیہ پڑھنے کا بڑا ثواب ہے۔ حضرت سہل ابن سعد بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : 

ما مِنْ مُسْلِمٍ یُلبِّی اِلَّا لَبّٰی مَنْ عَنْ یَمِینِہِ و شِمالِہِ مِنْ حَجَرٍ وَ شَجَرٍ اوْ مَدَرٍ حَتّٰی تَنقِطِعُ الارضُ مِن۔ ھٰھُنا وَ ھٰھُنا۔ (رواہ الترمذی و ابن ماجۃ)

جب کوئی مسلمان تلبیہ پڑھتا ہے ، پتھر یا درخت یا ڈھیلا جو بھی دائیں بائیں ہوتا ہے، وہ بھی تلبیہ پڑھتا ہے؛ یہاں تک کہ زمین ادھر سے ادھر منقطع ہوجاتی ہے ، یعنی تلبیہ کا سلسلہ دائیں سے بائیں زمین کی آخری حد کو پہنچ جاتی ہے ۔ 

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تلبیہ پڑھنے والے ، تکبیر کہنے والے جنتی ہیں ۔ جب کوئی بندہ حج میں تلبیہ پڑھتا ہے اور تکبیر کہتا ہے تو اس کو بشارت دی جاتی ہے ۔ کسی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! کیا یہ بشارت جنت کی ہوتی ہے ؟ ارشاد فرمایا: ہاں ، جنت کی۔ (طبرانی)

احرام کی نماز کا بیان

دو رکعت نفل احرام کی نیت سے ایسے وقت میں پڑھنا مسنون ہے کہ وقت مکروہ نہ ہو۔

مسئلہ: فرض نماز کے بعد اگر احرام کی نیت کرلی تو یہ بھی کافی ہے ؛ لیکن مستقل دو رکعت نفل پڑھنا افضل ہے۔ 

مسئلہ: جس میقات سے احرام باندھنا ہے، اگر اس جگہ کوئی مسجد ہے تو اس میں نماز پڑھ کر احرام باندھنا مستحب ہے ۔ آں حضرت ﷺ نے ذوالحلیفہ کی مسجد میں نماز پڑھی تھی۔ 

مسئلہ: بغیر نماز پڑھے احرام باندھنا جائز ہے، لیکن مکروہ ہے ۔ اگر وقت مکروہ ہے تو پھر مکروہ نہیں ۔ بغیر نماز کے احرام باندھ لے۔ 

مسئلہ: عورت کو حیض و نفاس کی صورت میں غسل یا وضو کرکے قبلہ رو بیٹھ کر کے تلبیہ پڑھ لینا چاہیے، نماز نہ پڑھے۔ 

مسئلہ:احرام سے پہلے جو نماز احرام باندھنے کے لیے پڑھے، وہ کھلے سر نہ پڑھے؛ البتہ احرام باندھ کر جو نماز پڑھے، وہ کھلے سر پڑھے اور جب تک احرام رہے ، اسی طرح پڑھے۔ احرام کی حالت میں نماز میں بھی سر ڈھانکنا منع ہے۔ 

بیہوش اور مریض وغیرہ کے احرام کا بیان

احرام باندھنے کے وقت اگر کوئی شخص بیہوش ہوجائے، جیسا کہ جہاز میں ہوجاتا ہے، تو ساتھی کو چاہیے کہ اپنا احرام باندھ کر یا اس سے پہلے بیہوش کی طرف سے بھی احرام کی نیت کرکے تلبیہ پڑھ لے ۔ جب ساتھی نے اس کی طرف سے احرام کی نیت کرکے تلبیہ پڑھ لیا تو بیہوش کا احرام بندھ گیا۔ 

مسئلہ: بیہوش کی طرف سے احرام باندھنے کے لیے اس کے کپڑے نکالنا ضروری نہیں، کپڑے نکالے بغیر بھی احرام صحیح ہوجائے گا ؛ مگر اس کے کپڑے نکال لینا چاہیے تاکہ اس پر جزا لازم نہ آئے۔ 

مسئلہ: بیہوش کو جس کا احرام اس کے ساتھی نے باندھا ہے، جس وقت ہوش آجائے تو تعیین احرام کرکے باقی افعال حج خود ادا کرے۔ اور ممنوعات احرام سے بچے۔ اور اگر ہوش نہ آئے تو جس شخص نے اس کی طرف سے احرام کی نیت کی ہے ، وہ یا اور کوئی دوسرا شخص وقوف عرفہ اور طواف وغیرہ اس کی طرف سے نیت کرکے ادا کرے گاتو حج ہوجائے گا۔ بیہوش کو ساتھ لے جانا ضروری نہیں ؛ مگر بہتر یہ ہے کہ ساتھ لے جائے ۔ اور جو شخص ایسے بیہوش کی طرف سے طواف اور سعی کرے ، اس کو اپنا طواف اور سعی علاحدہ کرنی ہوگی۔ ایک ہی طواف اور ایک ہی سعی دونوں کی طرف سے کافی نہ ہوگی۔ البتہ اگر بیہوش کو ساتھ اٹھا کر لے جائے اور اپنی اور اس کی دونوں کی نیت کرے تو اس صورت میں ایک ہی طواف اور سعی کافی ہوگی، اس لیے کہ جب بیہوش پیٹھ پر سوار ہے تو وہ خود طواف کر رہا ہے ، اسی طرح سعی میں شریک ہے۔ 

مسئلہ: اگر بیہوش سے کوئی فعل ممنوعات احرام میں سے ہوگیا ، اگرچہ بلا ارادہ اور بے خبری میں ہوا ہے، اس کی جزا بیہوش پر ہی لازم آئے گی ۔ اس پر لازم نہیں آئے گی جس نے اس کی طرف سے احرام باندھا ہے ۔ 

مسئلہ: جو شخص اپنا احرام باندھے اور بیہوش کی طرف سے بھی احرام باندھے، اگر وہ ممنوعات احرام کرے گا، تو صرف ایک ہی جزا اس پر واجب ہوگی ، اور وہ اپنے احرام کی ہوگی۔ 

مسئلہ: اگر احرام کے بعد کوئی شخص بیہوش ہوجائے، تو اس کو عرفات اور طواف وغیرہ میں ساتھ لے جانا ضروری ہے ، دوسرے شخص کی نیابت کافی نہ ہوگی۔ اور جب ایسے بیہوش کو کوئی دوسرا شخص طواف کرائے تو کرانے والے کے لیے طواف کی نیت کرنی شرط ہے ۔ 

مسئلہ: اگر بیہوش کو خود اٹھا کر طواف کرایا اور نیت طواف کی اپنی طرف سے کرلی تو دونوں کو ایک طواف کافی ہوجائے گا۔ 

مسئلہ: اگر اٹھانے والے حج کا طواف کرتا ہے اور بیہوش کو عمرہ وغیرہ کا طواف کراتا ہے تب بھی جائز ہے، نیت مختلف ہونے کا کچھ مضائقہ نہیں۔ 

مسئلہ: کوئی مریض بیہوش نہ ہواور وہ احرام کے وقت سو جائے اور کسی دوسرے کو احرام باندھنے کے لیے کہہ دے اور دوسرا اس کی طرف سے احرام باندھ لے تو احرام صحیح ہوجائے گا۔ جاگنے کے بعد باقی افعال حج خود ادا کرے اور ممنوعات احرام سے بچے ۔ اور اگر اس کے حکم کے بغیر دوسرے نے احرام باندھ لیا تو اس کا احرام صحیح نہ ہوگا۔ اسی طرح اگر ایسے مریض کو کوئی دوسرا شخص طواف سونے کی حالت میں کرائے تو اس کے لیے بھی اس کا حکم اور فورا طواف کرانا شرط ہے ۔ اگر اس کے حکم کے بغیر یا کچھ دیر کے بعد طواف کرایا تو طواف نہ ہوگا۔ 

نابالغ اور مجنون کے احرام کا بیان

اگر نابالغ بچہ ہوشیار اور سمجھ دار ہے تو وہ خود احرام باندھے اور افعال حج ادا کرے ۔ اور اگر چھوٹا ناسمجھ ہے تو اس کا ولی اس کی طرف سے احرام باندھے۔ 

مسئلہ: ناسمجھ بچہ اگر اپنے سے احرام باندھے اور افعال حج ادا کرے تو اس کا نہ احرام صحیح ہے اور نہ افعال حج؛ البتہ سمجھ دار بچہ کا احرام باندھنا بھی صحیح ہے اور افعال حج بھی۔ 

مسئلہ: سمجھ دار بچہ کی طرف سے ولی احرام نہیں باندھ سکتا ہے ۔ 

مسئلہ: سمجھ دار بچہ جو افعال خود کرسکتا ہے وہ خود کرے اور جو خود نہیں کرسکتا ہے، اس کو اس کا ولی کردے؛ البتہ نماز ، طواف بچہ خود پڑھے ، ولی نہ پڑھے۔ 

مسئلہ: سمجھ دار بچہ خود طواف کرے اور ناسمجھ کو ولی گود میں لے کر طواف کرائے ۔ یہی حکم وقوف عرفات اور سعی و رمی وغیرہ کا ہے۔ 

مسئلہ: ولی کو چاہیے کہ بچہ کو ممنوعات احرام سے بچائے ؛ لیکن اگر کوئی فعل ممنوع بچہ کرے تو اس کی جزا کسی پر واجب نہ ہوگی، نہ بچہ پر ، نہ ولی پر۔ 

مسئلہ: جب بچہ کی طرف سے احرام باندھا جائے تو اس کے بدن سے سلے ہوئے کپڑے نکال دیے جائیں اور چادر اور لنگی اس کو پہنائی جائے۔ 

مسئلہ: بچہ پر حج فرض نہیں ہے ، اس لیے یہ حج نفلی ہوگا۔ 

مسئلہ: بچہ کا احرام لازم نہیں ہوتا۔ اگر تمام افعال چھوڑ دے یا بعض چھوڑ دے تو اس پر کوئی جزا اور قضا لازم نہ ہوگی۔ 

مسئلہ: جو ولی اقرب ساتھ ہو وہ بچہ کی طرف سے احرام باندھے، مثلا باپ اور بھائی دونوں ساتھ ہیں تو باپ کو احرام باندھنا اولیٰ ہے ۔ بھائی وغیرہ باندھ لے گا تب بھی جائز ہے۔ 

مسئلہ: مجنون کا حکم تمام احکام میں ناسمجھ بچہ کی طرح ہے ۔ اگر کوئی احرام کے بعد مجنون ہوا ہے تو ممنوعات احرام کے ارتکاب سے اس پر جزا لازم ہونے میں اختلاف ہے ۔ احتیاطا جزا دیدے، تو بہتر ہے، اس کا حج بلا خلاف صحیح ہوجائے گا۔ اگر احرام سے پہلے مجنون تھا اور اس کے ولی نے اس کی طرف سے احرام باندھا اور پھر وہ ہوش میں آگیا، تواگر اس نے ہوش میں آکر خود دوبارہ احرام باندھ لیااور افعال حج ادا کیاتو حج فرض ادا ہوجائے گا۔ 

عورت کے احرام کا بیان

مرد کی طرح عورت کا بھی احرام ہوتا ہے ، بس فرق اتنا ہے کہ مرد کو سلا ہوا کپڑا پہننا اور سر ڈھانکنا ناجائز ہے ۔ اور عورت کو سلا ہوا کپڑا پہننا اور سرچھپانا واجب ہے اور چہرہ کا چھپانا ناجائز ہے۔ 

عن ابن عمرؓ ان النبی ﷺ قالَ: اِنَّ اِحرامَ الرَّجُلِ فی رأسِہِ و اِحرامَ المرأۃِ فی وجھِھا۔ (رواہ الدارقطنی والبیھقی)

حضرت عبد اللہ ابن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : مرد کا احرام اس کے سر میں ہے اور عورت کا احرام اس کے چہرے میں ، یعنی مرد سر نہ چھپائے اور عورت چہرہ نہ چھپائے۔ 

عورت کو چاہیے کہ احرام کی حالت میں چھوٹا سا رومال سر میں باندھ لے تاکہ سر نہ کھلے جس کا چھپانا عورت پر واجب ہے۔ اگر غیر محرم کا اس کے پاس سے گذر ہو تو چہرہ کو اس طرح سے چھپائے کہ منھ پر کپڑا نہ لگنے پائے۔ 

عن عائشۃَؓ قالتْ: کانَ یَمُرُّونَ بِنا و نحنُ معَ رسولِ اللّٰہِ ﷺ محرمات، فاذا جاوزوا بِنا سَدَلتْ اِحدانا جِلبابِھا مِنْ رأسِھا علیٰ وجْھِھَا فاِذا جاوزونا کَشَفْنَا۔ (رواہ ابو داود)

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ لوگ ہمارے پاس سے گذرتے تھے اور ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ احرام میں تھے تو جب لوگوں کا گذر ہمارے پاس سے ہوتا تو ہم میں سے ایک اپنی چادر کو سر سے چہرہ پر لے آتے ۔ پھر جب آگے بڑھ جاتے تو چہرہ کو کھول دیتے۔ 

اور بخاری کی روایت میں ہے :

وَلاتنتَقِبُ المرأۃُ الْمحرمۃَ 

احرام والی عورت نقاب نہ لگائے۔ 

جس کا مطلب یہ ہوا کہ برقع وغیرہ اس طرح نہ لگائے کہ منھ پر کپڑا لگے ۔ عورت کو اجنبی مرد کے سامنے بے پردہ ہونا منع ہے ، اس لیے کوئی ایسی چیز پیشانی کے اوپر اس طرح لگاکر کپڑا ڈالے کہ کپڑا چہرہ کو نہ لگے۔ 

مسئلہ: عورت کو احرام کی حالت میں سلے ہوئے کپڑے پہننا جائز ہے ، خواہ رنگین ہو یا بلا رنگ؛ لیکن زعفران اور کسنبہ کا رنگا ہوا نہ ہو۔ اگر اس سے رنگا ہوا ہو تو اتنا دھو دے کہ اس کی خوشبو جاتی رہے۔ 

مسئلہ: عورت کو احرام میں زیور، موزے، دستانے پہننا جائز ہے اس لیے کہ یہ سلے ہوئے کپڑوں کے حکم میں ہے اور سلا ہوا کپڑا عورتوں کو پہننا جائز ہے ۔ 

عن سعد بن ابی وقاصٍ انہ کانَ یامر بناتِہِ بِلُبسِ القفازینِ فی الاحرام (رواہ الشافعی) 

حضرت سعد بن وقاص ؓ اپنی بیٹیوں کو احرام کی حالت میں دستانے پہننے کا حکم دیتے تھے۔ لیکن نہ پہننا اولیٰ ہے۔ اس لیے کہ بخاری کی روایت میں ہے کہ 

ولاتلبس القفازین 

یعنی عورت دستانے نہ پہنے۔ 

مسئلہ: عورت کو تلبیہ زور سے پڑھنا منع ہے، اتنی آواز بلند کرے کہ خود کو سنائی دے۔ 

مسئلہ: عورت طواف میں نہ اضطباع کرے اور نہ رمل۔ یعنی نہ تو چادر داہنی بغل میں کو نکال کر بائیں کندھے پر ڈالے اور نہ سینہ نکال کر اکڑ کر چلے ۔ اور نہ سعی میں میلین اخضرین کے درمیان دوڑے؛ بلکہ اپنی چال سے چلے۔ ہجوم کے وقت صفا و مروہ پر بھی نہ چڑھے اور نہ ہجوم کے وقت حجر اسود کو چھوئے، نہ ہاتھ لگائے ، نہ بوسہ دے اور طواف کے بعد دو رکعت مقام ابراہیم میں بھی نہ پڑھے؛ بلکہ جہاں میسر ہو ، وہیں پڑھے۔ 

مسئلہ: عورت کو بالوں کو منڈوانامنع ہے ، اس لیے احرام کھولتے وقت تمام بال کو پکڑ کر ایک انگلی سے کچھ زیادہ بال اپنے ہاتھ سے قینچی سے کاٹ ڈالے، تاکہ سر کے بالوں کا اکثر حصہ کٹ جائے۔ 

مسئلہ: حیض کی حالت میں عورت کو طواف کے علاوہ باقی تمام افعال کرنا جائز ہیں۔ 

عن عائشۃؓ قالت: خرجنا مع النبی ﷺ لانذکُرُ الا الحجَ، فلما کُنَّا بِسَرِفٍ طمثتُ فدخلَ النبی ﷺ و أنا ابکی، فقال: لعلکِ نفستِ؟ قلتُ: نعم، قال: فان ذالک شئی کتب اللّٰہُ علیٰ بناتِ اٰدمَ فافعلی ما یفعلُ الحاجُّ غیرَ أن لاتطوفی بالبیتِ حتّٰی تطھری۔ (متفق علیہ)

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ ہم نبی کریم ﷺ کے ساتھ نکلے اور ہم حج ہی کا ذکر کرتے تھے ، پس جب موضع سرف پہنچے تو مجھے حیض آگیا۔ میرے پاس نبی کریم ﷺ تشریف لائے تو میں رو رہی تھی ۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ شاید تم کو حیض آگیا ؟ میں نے کہا کہ ہاں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ ایسی چیز ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے آدم کی بیٹیوں پر مقرر کردیا ہے ۔ سو جو حاجی کرتے ہیں وہ سب کرو ؛مگر یہ کہ بیت اللہ کا طواف نہ کرو ، یہاں تک کہ پاک ہوجاؤ۔

اگر احرام سے پہلے حیض آجائے، تو غسل کرکے احرام باندھ لے جیسا کہ حضرت اسماء بنت عمیس ؓ سے آپ ﷺ نے فرمایا : اور سب افعال کرے ؛ البتہ طواف اور سعی نہ کرے ۔ پاک ہونے کے بعد طواف اور سعی کرے، اس لیے کہ سعی بغیر طواف کے درست نہیں ہے؛ البتہ اگر طواف سے فارغ ہونے کے بعد حیض آیا تو اب سعی کرسکتی ہے۔ 

مسئلہ: حیض کی وجہ سے طواف زیارت اگر اپنے وقت سے متاخر ہوجائے تو دم واجب نہ ہوگا۔

مسئلہ: اگر واپسی کے وقت حیض آگیا اور طواف ووداع نہ کرسکی، تب بھی دم واجب نہ ہوگا۔ 

عن ابن عباسؓ قال: أمَرَ الناسَ أن یکونَ أخرعھدھم بالبیت الا انہ خفف عن المرأۃ الحائض (متفق علیہ)

حضرت ابن عباس ؓ نے بیان کیا کہ لوگوں کو حکم دیا کہ ان کا آخری کام بیت اللہ کا طواف ہو، مگر یہ کہ حائضہ عورت سے اس کی تخفیف ہوگی (بخاری ، مسلم)

 یعنی حائضہ پر طواف وداع واجب نہیں اور باقی تمام آفاقیوں پر واجب ہے۔ بہتر ہے کہ حائضہ بھی پاک ہوکر طواف کرے۔ 

خنثیٰ مشکل کا احرام

خنثیٰ مشکل یعنی جس کا مرد اور عورت ہونا معلوم نہ ہوتا ہو ، تمام احکام میں عورت کی طرح ہے ، اس کو کسی اجنبی مرد یا عورت کے ساتھ تنہائی جائز نہیں ہے۔ 

ممنوعات احرام کا بیان

ان چیزوں کا بیان ، جس کا احرام کی حالت میں کرنا منع ہے۔ 

مسئلہ: احرام کے بعد عورتوں کے سامنے جماع کا ذکر کرنا ، شہوت سے چھونا، بوسہ لینا؛ سب منع ہے۔ قرآن میں ہے : 

فَمَنْ فَرَضَ فِیْھِنَّ الْحَجَّ فَلا رَفَثَ وَ لَا فُسُوْقَ وَ لَا جِدَالَ فِی الْحَجِّ (سورۃ البقرۃ، آیۃ: )

سو جو شخص ان مہینوں میں حج مقرر کرلے، تو پھر ( اس کو) نہ کوئی فحش بات (جائز) ہے اور نہ کوئی بے حکمی (درست) ہے اور نہ کسی قسم کا نزاع (زیبا) ہے۔ (ترجمہ تھانوی)

یعنی احرام باندھنے کے بعد نہ رفث جائز ہے اور نہ فسوق و جدال درست ہے ۔ رفث، جماع اور فحش کلام اور عورتوں کے سامنے جماع کے ذکر کرنے کو کہتے ہیں ۔ (ہدایہ)

فسوق ہر قسم کا گناہ ؛ کسی وقت جائز نہیں ہے ، لیکن احرام کے بعد اس کا کرنا اور سخت گناہ ہے اور اس سے بچنے کی سخت تاکید ہے۔ جدال یعنی جھگڑا کرنا۔ اگرچہ فسوق میں جدال بھی داخل تھا، لیکن اس کو خاص طورپر الگ ذکرکرنے کا مقصد یہ ہے کہ رفیق سفر سے خاص طور پر جھگڑا نہ کرے اور اس سے بچنے کی بڑی کوشش کرے۔ 

مسئلہ: احرام کی حالت میں کوئی گناہ کرنا خاص طور سے منع ہے۔ جیسا کہ مذکورہ بالا آیت سے معلوم ہوا۔ (ہدایہ)

مسئلہ: ساتھیوں کے ساتھ یا دوسرے لوگوں سے لڑائی جھگڑا کرنا منع ہے جیسا کہ مذکورہ بالا آیت سے معلوم ہوا۔ 

مسئلہ: خشکی کے جانور کا شکار کرنا یا کسی شکاری کو بتانا اور اشارہ کرنا منع ہے ۔ شکاری کی مدد کرنا ، تیر، تلوار، چھری ، چاقو وغیرہ دینا بھی منع ہے۔ (ہدایہ)

مسئلہ: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: 

یَاأیُّھا النَّاسُ اٰمَنُوا لاتَقْتُلُوْا الصَّیْدَ وَ أنْتُمْ حُرُمٌ ۔ (سورۃ المائدۃ، آیہ:)

ائے ایمان والو! وحشی شکار کو قتل مت کرو، جب کہ تم حالت احرام میں ہو۔ (ترجمہ تھانوی)

حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے ابھی تک احرام نہیں باندھا تھا کہ ایک گورخر کا شکار کیا اور اس کے کھانے کے بارے میں سوال کیا، تو آپ ﷺ نے پوچھا: 

أأحدٌ منکم أمرَہُ أن یحملَ علیھا أو أشارَ علیھا (بخاری و مسلم)

کیا کسی نے تم میں سے اس کو حکم دیا کہ اس پر حملہ کرے یا اس کی طرف اشارہ کیا؟ 

اور مسلم اور نسائی کی ایک روایت میں ہے :

ھلْ أشرْتُمْ ھلْ اعَنْتُمْ

یعنی کیا تم نے اشارہ کیا تھا؟ کیا تم نے مدد کی تھی؟ صحابہ کرام نے جواب دیا کہ نہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تو کھاؤ۔ 

اس سے معلوم ہوا کہ شکار کرنا، یا اس کی طرف اشارہ کرنا، اس کا نشان ، پتہ دینا، اس کے شکار کا حکم دینا، اس کی مدد کرنا ، یعنی گھوڑا کوڑا دینا، تیر، تلوار، چھری دینا وغیرہ ؛ اگر محرم کی طرف سے ان باتوں میں سے کوئی بات نہ ہو اور حلال نے شکارکیا ہو تو اس کا گوشت کھانا سب کے لیے جائز ہے۔ 

مسئلہ: خشکی کے شکار کو بھگانا، اس کا انڈا توڑنا، پر اور بازو اکھاڑنا، انڈا یا شکار بیچنا، خریدنا، شکار کا دودھ نکالنا، اس کے انڈے یا گوشت کو بھوننا، پکانا، جوں مارنا،یا دھوپ میں ڈالنا، یا کپڑے کو جوں مارنے کے لیے ڈھونا یا دھوپ میں ڈالنا، یا کسی دوسرے سے جوں مروانا، یا مارنے کے لیے اشارہ کرنا ، خضاب کرنا، تلبید یعنی بالوں کو گوند وغیرہ سے اس طرح جمانا کہ بال چھپ جائیں؛ منع ہے۔ اگر بال نہ چھپیں تو مکروہ ہے۔ 

مسئلہ: محرم کا شکار کیا ہوا جانور حرام ہے ، اس کا محرم اور غیر محرم کسی کو کھانا جائز نہیں ۔ 

مسئلہ: اگر کسی غیر محرم نے حل میں اپنے مطلب سے شکار کیا۔ نہ کسی محرم نے حکم دیا، نہ شکار کو بتایا، نہ نشان، پتہ دیا، نہ اس کی اعانت کی تو اس کا کھانا سب کے لیے جائز ہے خواہ محرم ہو یا غیر محرم۔ 

مسئلہ: خوشبو لگانا، ناخن اور بال کاٹنے، کٹوانے ، سر یا منھ کو ڈھانکنا خواہ سارا یا تھوڑا منع ہے۔ (ہدایہ)

مسئلہ: سلے ہوئے کپڑے جیسے کرتہ، پاجامہ، ٹوپی، عمامہ، اچکن،واسکوٹ،دستانے، موزہ وغیرہ منع ہیں۔ (ہدایہ)

قالَ رسولُ اللّٰہِ ﷺ : لاتلبسوا القمصَ، ولاالعمائمَ، ولا السراویلات، ولا البرانس، و لا الخفافَ، الا احد لایجد نعلَین، فیلْبِس خفین، ولیقطعھما أسفلَ مِنَ الکعْبَیْنِ وَلا تلْبِسُوا مِنَ الثِّیابِ شیئا مسَّہُ زعفرانٌ ولا ورسٌ۔ (متفق علیہ)

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : عمامے، پاجامے،باران کوٹ اور موزے مت پہنو؛ مگر یہ کہ کوئی نعلین نہ پائے تو موزے کو کعبین کے نیچے سے کاٹ کر پہنے اور زعفران اور کسم کے رنگے ہوئے کپڑے مت پہنو۔ 

یہاں کعب سے مراد ٹخنہ نہیں ہے ؛ بلکہ وہ ہڈی ہے جو وسط قدم میں ابھری ہوئی ہے ، اسی طرح ہشام نے امام محمدؒ سے روایت کی ہے ۔ (ہدایہ)

اور بخاری کی ایک روایت میں ہے کہ احرام والی عورت نہ نقاب ڈالے اور نہ دستانے پہنے۔ اور امام شافعی کی ایک روایت میں ہے کہ حضرت سعد ابن ابی وقاص ؓ اپنی بیٹیوں کو احرام کی حالت میں دستانے پہننے کا حکم دیتے تھے۔ یہی مذہب حضرت علی اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنھما کا ہے اور یہی مذہب امام ابو حنیفہؒ کا ہے کہ عورتوں کو حالت احرام میں دستانے پہننا جائز ہے ؛ مگر خلاف سے بچنے کے لیے بہتر یہ ہے کہ نہ پہنے۔ 

مسئلہ: اگر جوتا نہ ہو تو موزوں کو کاٹ کر جوتے کی طرح بناکر پہننا جائز ہے، لیکن اتنا کاٹنا ضروری ہے کہ پیر کے بیچ میں جو ہڈی اٹھی ہوئی ہے ،وہ کھل جائے۔ 

مسئلہ: ایسا جوتا پہنا بھی منع ہے جس میں بیچ کی ہڈی چھپ جائے ، اس لیے ایسے جوتے اور سلیپر کو یاتو کاڈ ڈالے یا اوپر کپڑا وغیرہ کوئی ٹھوس چیز دے، جس سے بیچ کی ہڈی نکل جائے۔ 

مسئلہ : کرتا وغیرہ کو چادر کی طرح اوڑھنا جائز ہے ؛ مگر بہتر اس سے بھی بچنا ہے۔ 

مسئلہ: سر اور منھ پر پٹی باندھنا منع ہے۔ اگر کسی نے بیماری کی وجہ سے ایک دن یا ایک رات باندھ رکھی تو صدقہ واجب ہوگا، بشرطیکہ سر یا منھ چوتھائی سے کم ڈھنکا ہو۔ اگر چوتھائی سے زیادہ ڈھکا رہا تو قربانی واجب ہوگی۔ البتہ اگر ایک دن ایک رات سے کم ڈھکارہا تو صدقہ واجب ہوگا، خواہ چوتھائی سے کم ڈھکا ہو یا چوتھائی سے زیادہ۔ (غنیہ)

مسئلہ: مرد نہ سر چھپائے اور نہ منھ ڈھانکے۔ (ہدایہ)

مسئلہ: زعفران اور کسم اور خوشبو دار چیز سے رنگا ہوا کپڑا پہننا منع ہے، البتہ اگر دھلا ہوا ہو اور خوشبو نہ آتی ہو تو جائز ہے ۔

عن ابن عمرؓ عن النبی ﷺ قال: لاتلبسوا ثوبا مسَّہُ ورسٌ و زعفرانٌ یعنی فی الاحرام الا أن یکونَ غسیلا۔ (رواہ الطحاوی و قال العینی رجالہ ثقات)

حضرت عبداللہ بن عمر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : کسم اور زعفران کے رنگے ہوئے کپڑے مت پہنو، یعنی احرام کی حالت میں مگر یہ کہ دھلا ہوا ہو۔ 

مسئلہ: جو شخص احرام کی حالت میں مرجائے، اس کی تجہیز و تکفین غیر محرم کی طرح کی جائے، اس کا سر ڈھانکا جائے ، کافور اور خوشبو وغیرہ لگائے جائے۔ 

ان ابن عمرؓ: لما مات ابنہ واقد وھو محرم کفنَہُ و خمرَ رأسَہُ و وجھَہُ و قالَ: لولا انا محرمون لحنَّطناکَ یا واقدُ۔ (رواہ مالک)

حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ کا لڑکا واقد کی جب احرام کی حالت میں وفات ہوئی تو ابن عمر نے ان کو کفنایااور اس کے سر اور چہرہ کو ڈھانکا اور فرمایا: اگر ہم احرام میں نہ ہوتے تو ائے واقد! ہم تم کو خوشبو لگاتے۔ 

یعنی احرام کی حالت میں محرم کو خوشبو کا چھونا جائز نہیں ہے، اس لیے اپنے ہاتھ سے خوشبو نہ لگانے کا عذر فرمایا۔ 

حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا: 

اصنعوا بہ ماتصنعون بموتاکم (رواہ مالک)

اپنے میت کے ساتھ جو تم کرتے ہو، وہی اس محرم میت کے ساتھ کرو۔ 

مکروہات احرام کا بیان

مسئلہ: بدن سے میل دور کرنا ، سر داڑھی اور بدن کو صابون وغیرہ سے دھونا مکروہ ہے۔ (ہدایہ)

مسئلہ: بالوں میں کنگھی کرنا یا اس کو اس طرح سے کھجلاناکہ بال یا جوں گر پڑے، مکروہ ہے۔ اس طرح کھجلانا کہ بال یا جوں نہ گرے جائز ہے ۔ اگر بال گرنے کا ڈر نہ ہو تو زور سے بھی کھجلاسکتا ہے۔ 

مسئلہ: داڑھی میں خلال کرنا بھی مکروہ ہے، اگر کرے تو اس طرح کہ بال نہ گرے۔ 

مسئلہ: لنگی کے دونوں پلوں کو آگے سے سینا مکروہ ہے ۔ اگر کسی نے ستر عورت کی حفاظت کے لیے سی لیا تو دم واجب نہ ہوگا، اس لیے کہ یہ بدن کی ہیئت پر سلی ہوئی نہیں ہے۔ 

مسئلہ: چادر میں گرہ دے کر گردن پر باندھنا ، چادر اور لنگی میں گرہ لگانا یا سوئی اور پن وغیرہ لگانا، تاگے یا رسی سے باندھنا مکروہ ہے۔ 

مسئلہ: خوشبو کو چھونا یا سونگھنا، خوشبو والے کی دوکان پر خوشبو سونگھنے کے لیے بیٹھنا، خوشبو دارمیوہ اور خوشبو دار گھاس سونگھنا اور چھونا مکروہ ہے۔ اگر بلا ارادہ خوشبو آجائے تو کچھ حرج نہیں۔ 

مسئلہ: سر اور منھ کے علاوہ اور بدن پر بلا وجہ پٹی باندھنا مکروہ ہے ۔ ضرورت کے وقت باندھ سکتا ہے ۔ 

مسئلہ: کعبہ کے پردہ کے نیچے اس طرح کھڑا ہونا کہ منھ کو یا سر کو لگے مکروہ ہے ۔ اگر سریا منھ کو نہ لگے تو جائز ہے ۔

مسئلہ: لنگی میں نیفہ موڑ کر کمربند ڈالنا جیسا کہ پاجامہ میں کرتے ہیں ، مکروہ ہے۔ 

مسئلہ: ناک، تھوڑی اور رخسار کو کپڑے سے چھپانا مکروہ ہے ۔ ہاتھ سے چھپانا جائز ہے۔

مسئلہ: تکیہ پر منھ کے بل لپٹنا مکروہ ہے ۔ سر یا رخسارے کا تکیہ پر رکھنا جائز ہے ۔

مسئلہ: خوشبو دار کھانا بلا پکا ہوا مکروہ ہے ۔ خوشبو دار پکا ہوا کھانا مکروہ نہیں۔ 

مسئلہ: اپنی عورت کی شرمگاہ شہوت سے دیکھنا مکروہ ہے۔ 

مسئلہ: چوغہ اور قبا وغیرہ کو صرف کندھوں پر ڈالنا بھی مکروہ ہے، اگرچہ ہاتھ آستینوں میں نہ ڈالے ہوں۔ ہاتھ آستینوں میں ڈالنے سے جنایت لازم آئے گی۔ 

مسئلہ: احرام باندھنے کے بعد دھونی دیا ہوا کپڑا پہننا مکروہ ہے۔ 

مباحات احرام کا بیان

ضرورت کی وجہ سے ٹھنڈے یا گرم پانی سے غسل کرنا جائز ہے۔ (ہدایہ)

عن ابی ایوبؓ ان النبی ﷺ کانَ یغسِلُ رأسَہُ وھو محرِمٌ۔ (متفق علیہ)

حضرت ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ احرام کی حالت میں سر دھوتے تھے۔ 

سر کا بال اس طرح دھونا کہ بال نہ ٹوٹے بالاتفاق جائز ہے، لیکن خطمی وغیرہ سے دھونے سے اما م صاحب کے نزدیک دم واجب ہے اور صاحبین کے نزدیک صدقہ ۔ (فتاویٰ قاضی خان)

حضور ﷺ سے پوچھا گیا کہ حاجی کون ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا :

أشعث التفل(ابن ماجہ)

جن کا بال پراگندہ ہو، خوشبو نہ لگائے۔ شعث کے معنی بال کے پراگندگی کے اور تفل کے معنی ترک خوشبو کے ہیں ، یعنی تیل خوشبو ترک کرے صابون وغیرہ سے بال کو صاف نہ کرے۔ (ہدایہ)

مسئلہ: ٹھنڈک حاصل کرنے کے لیے یا گردوغبار دور کرنے کے لیے نہانا جائز ہے ، مگر میل دور نہ کرے۔ پانی میں غوطہ لگانا، حمام میں داخل ہونا، کپڑا پاک کرنا، انگوٹھی پہننا، ہتھیار باندھنا، دشمن سے شریعت کے مطابق جنگ کرنا جائز ہے۔

مسئلہ: ہمیانی (تھیلی) اور پیٹی لنگی کے اوپر یا نیچے باندھنا جائز ہے ، اگرچہ اس میں اپنا یا کسی دوسرے کا روپیہ ہو۔ (ہدایہ)

مسئلہ: گھر یا خیمے کے اندر داخل ہونا ، چھتری لگانا، شغدف و عماری میں بیٹھنا، ریل ، موٹر میں بیٹھنا، یا کسی اور چیز کے سایہ میں بیٹھنا جائز ہے۔ 

عن ام الحصین قالتْ: رأیتُ أسامۃ و بلالا، احدھما اخذَ بخطامِ ناقۃِ رسولِ اللّٰہِ والاٰخرُ رفَعَ ثوبَہُ یستُرُہُ مِنَ الحرِّ حتّٰی رمیٰ جمرۃَ العقْبَۃِ (رواہ مسلم)

ام حصین بیان کرتی ہیں کہ میں نے حضرت اسامہ اور بلال رضی اللہ عنہما کو دیکھا کہ ان دونوں میں سے ایک نے رسول اللہ ﷺ کی اونٹنی کی مہار پکڑی اور دوسرے نے اپنا کپڑا اٹھایا، تاکہ آپ ﷺ کو گرمی سے بچائے۔ (اسی طرح سایہ کیے رہے) یہاں تک کہ آپ ﷺ نے جمرۂ عقبہ کی رمی کی۔ 

عالمگیری میں ہے کہ گھر اور محمل کے سایہ میں کچھ حرج نہیں ۔ اور قاضی خان میں ہے کہ خیمہ کے سایہ میں کچھ حرج نہیں۔ مطلب یہ ہے کہ سایہ میں بیٹھنے میں کچھ حرج نہیں۔ حضورﷺ کے لیے عرفات میں خاص طور سے خیمہ نصب ہوا تھا، جس میں آپ ﷺ آرام کرتے تھے۔ 

مسئلہ: آئینہ دیکھنا، مسواک کرنا، دانت اکھاڑنا، ٹوٹے ہوئے ناخن کاٹنا، پچھنے لگانا، پڑبال نکالنا، بلا خوشبو کا سرمہ لگانا، ختنہ کرانا، آبلہ کو توڑنا، ٹوٹے ہوئے عضو پر پٹی باندھنا جائز ہے۔ 

مسئلہ: بال دور کیے بغیر فصد لینا، ہیضہ وغیرہ کا انجشکن لینا اور چیچک کا ٹیکہ لگوانا جائز ہے۔ 

عن ابن عباسؓ قال: احتجمَ رسولُ اللّٰہِ ﷺ وھو محرمٌ (متفق علیہ)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے احرام کی حالت میں سینگی لگوائی ہے۔ 

عالمگیری میں ہے کہ سینگی لگوانے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ اور لباب میں ہے کہ جب کہ بال دور نہ کرے۔ اور در مختار میں ہے کہ بال کے ازالہ کی صورت میں دم واجب ہوگا۔ اسی سے انجکشن اور ٹیکہ کا حال معلوم ہوگیا۔ 

مسئلہ: لنگی میں روپیہ یا گھڑی کے لیے جیب لگانا جائز ہے ۔ 

مسئلہ: سر اور منھ کے علاوہ دوسرے بدن کو ڈھانکنا، کان، گردن، پیروں کو چادر، رومال وغیرہ سے چھپانا جائز ہے۔ 

مسئلہ: جو داڑھی تھوڑی سے نیچے لٹکی ہوئی ہے، اس کو چھپانا جائز ہے۔ 

مسئلہ: دیگ، طباق، رکابی، چارپائی، سبزہ وغیرہ سر پر اٹھانا جائز ہے۔ 

مسئلہ: خشکی کے اس شکار کا گوشت کھانا جس کو کسی حلال شخص نے حل میں شکار کیا ہواور اسی نے ذبح کیا ہو، محرم نے کسی قسم کی شرکت نہ کی ہو جائز ہے۔ 

مسئلہ: اونٹ، گائے، بکری، مرغی، گھریلو بطخ کو ذبح کرنا اور گوشت کھانا؛ سب جائز ہے۔ جنگلی بطخ کا ذبح کرنا، محرم کو جائز نہیں۔ 

مسئلہ: موذی جانوروں کا مارنا جائز ہے ، جیسے سانپ، بچھو، پسو، چھپکلی، گرگٹ، بھڑ، کھٹمل، مکھی، مردار خور کوا وغیرہ ۔

عن ابن عمرؓ عن النبی ﷺ قال: خمسٌ لاجناحَ علیٰ مَنْ قَتَلَھُنَّ فی الحرمِ والاِحرام، الفارۃُ، والغرابُ، والحداۃُ، والعقربُ، والکلبُ العقورُ۔ (متفق علیہ)

حضرت ابن عمر ؓ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : پانچ چیزیں ایسی ہیں کہ اگر ان کو کسی نے حرم میں یا حالت احرام میں مار ڈالا، تو اس پر کوئی گناہ نہیں ہے: (۱) چوہا۔ (۲) کوا۔ (۳) چیل۔ (۴) بچھو۔ (۵) کاٹنے والا کتا۔ 

اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث میں بچھو کے بجائے سانپ ہے اور غراب کی جگہ میں غراب ابقع ہے یعنی مردار خور کوا۔ (بخاری و مسلم)۔

 پہلی حدیث میں بھی کوا سے مرادمردار خور کوا ہے۔ 

عن ابی سعید الخُدری عن النبی ﷺ قال: یقتلُ المحرمُ السبُعُ العادی۔ (رواہ الترمذی و ابو داود و ابن ماجہ) 

ابو سعید خدری ؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: حملہ کرنے والے درندہ کو مار ڈالے۔ 

در مختار میں ہے کہ حملہ کرنے والے جانور کے مار ڈالنے میں کچھ نہیں ، جب کہ اس کا دفع کرنا قتل کے سوا ممکن نہ ہو۔ اور اگر قتل کے بغیر اس کا دفع کرنا ممکن ہواور پھر بھی قتل کر ڈالے تو اس پر جزا لازم آئے گی۔ 

مسئلہ: لونگ، الائچی اور خوشبو دار تمباکو کے بغیر پان کھانا جائز ہے ۔ اور لونگ،الائچی اور خوشبو دار تمباکو ڈال کر پان کھانا مکروہ ہے۔ 

مسئلہ: ایسا شعر پڑھنا جس میں گناہ کی بات نہ ہوجائز ہے ، ورنہ ناجائز ہے۔ 

مسئلہ: بدن میں گھی یا چربی لگانا مکروہ ہے۔

مسئلہ: گھی، تیل اور چربی کا کھانا جائز ہے۔

مسئلہ: زخم، یا ہاتھ پاؤں کی بوائی اور پٹھن میں تیل لگانا جائز ہے ، بشرطیکہ خوشبو دار نہ ہو۔ 

مسئلہ: مسائل اور دینی امور میں گفتگو کرنا جائز ہے۔ 

مسئلہ: احرام کی حالت میں اپنا یا کسی دوسرے کا نکاح کرنا جائز ہے، لیکن صحبت کرنا جائز نہیں ۔ 

عن بن عباسؓ ان النبی ﷺ تزوجَ میمونۃَ وھو محرمٌ (متفق علیہ)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے احرام کی حالت میں نکاح کیا۔ 

مسئلہ: کپڑوں کی گیٹھری اگر خوب بندھی ہوئی ہے تو اس کا اٹھانا جائز ہے ، ورنہ مکروہ ہے۔ 

مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا بیان

مکہ مکرمہ میں قبرستان مکہ یعنی باب المعلیٰ کی طرف سے داخل ہونا اور باب السفلیٰ سے نکلنا مستحب ہے اگر سہولت سے ممکن ہو ۔ ورنہ جس طرف سے چاہے داخل ہوجائے اور نکل جائے ۔ (بحر الرائق)

عن عائشۃؓ ان النبی ﷺ لما جاء الیٰ مکۃ دخلَھا اعلاھا و خرجَ مِن أسفلِھا (متفق علیہ)

حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب مکہ میں داخل ہوتے تو باب معلیٰ سے داخل ہوتے اور باب سفلیٰ سے باہر نکلتے۔ 

مسئلہ: مکہ میں داخل ہونے کے وقت غسل کرنا مسنون ہے ۔ حضرت نافع بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ ابن عمر ؓ جب بھی مکہ تشریف لاتے تو رات ذی طویٰ میں گذارتے، یہاں تک کہ صبح ہوجاتی اور غسل کرتے اور نماز پڑھتے۔ پھر مکہ میں دن کو داخل ہوتے۔ اور جب مکہ سے کوچ کرتے تو ذی طویٰ سے گذرتے اور رات وہیں گذارتے، یہاں تک کہ صبح ہوجاتی اور تذکرہ کرتے کہ نبی کریم ﷺ ایسا کرتے تھے۔ (بخاری مسلم)

بحرالرائق میں ہے کہ مسنون غسلوں میں سے ایک مکہ میں داخل ہونے کا بھی ہے اور یہ غسل نظافت کے لیے ہے، اس لیے حیض و نفاس والی بھی غسل کرے۔ 

چوں کہ اب زیادہ تر جدہ سے موٹر میں جانا ہوتا ہے، اس لیے جدہ ہی میں غسل کرلے، بعد کو موقع نہیں ملتا ہے۔ 

فتاویٰ قاضی خان میں ہے کہ مکہ میں دن کو داخل ہونا مستحب ہے۔ اور لباب المناسک میں ہے کہ مکہ میں دن کو داخل ہو، یا رات کو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ لیکن دن کو داخل ہونا افضل ہے۔ 

مسئلہ: جب مکہ نظر آئے تو یہ دعا پڑھے:

ألْلّٰھُمَّ اجْعَلْ لِّیْ بِھَا قَرَارَاً وَّ ارْزُقْنِیْ فِیْھَا رِزْقَاً حَلَالَاً۔ 

مسئلہ: مکہ میں نہایت خشوع خضوع کے ساتھ تلبیہ پڑھتے ہوئے نہایت ادب و تعظیم کے ساتھ داخل ہو اور داخل ہوتے ہوئے یہ دعا پڑھے: 

ألْلّٰھُمَّ أنْتَ رَبِّیْ وَ أنَا عَبْدُکَ جِئْتُ لِاُؤدِّیَ فَرْضَکَ وَ اَطْلُبُ رَحْمَتَکَ وَ اَلْتَمِسُ رِضَاکَ مُتَتَبِّعَاً لِّاَمْرِکَ رَاضِیَاً بِقَضَائِکَ، أسْئَلُکَ مَسْئَلَۃَ الْمُضْطَرِّیْنَ اِلَیْکَ، الْمُشْفِقِیْنَ مِنْ عَذَابِکَ الْخَائِنِیْنَ مِنْ عِقَابِکَ أنْ تَسْتَقْبِلَنِیْ الْیَوْمَ بِعَفْوِکَ وَ تَحْفِظْنِیْ بِرَحْمَتِکَ وَ تَجَاوَزَ عَنِّیْ بِمَغْفِرَتِکَ وَ تَعِیْنَنِیْ عَلیٰ أدائِ فَرْضِکَ، ألْلّٰھُمَّ  افْتَحْ لِیْ أبْوَابَ رَحْمَتِکَ وَ ادْخِلْنِیْ فِیْھَا وَ اَعِذْنِیْ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ۔ 

مسئلہ: مکہ کے قبرستان اور مسجد حرام کے درمیان ایک جگہ ہے ، جس کا نام مدعیٰ ہے ، یعنی دعا کرنے کی جگہ۔ پہلے اس جگہ سے بیت اللہ نظر آتا تھا اور حضرت عمرؓ نے اس کو خوب اونچا کرادیا تھا، تاکہ اس پر سے بیت اللہ نظر آئے، لیکن اب مکانات بن جانے کی جہ سے وہاں سے بیت اللہ نظر نہیں آتا ہے ، لیکن اس جگہ دعا مانگنا اب بھی مستحب ہے ، جب مدعی پر پہنچے تو یہ دعا پڑھے:

رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ، ألْلّٰھُمَّ اِنِّی أسْئَلُکَ مِمَّا سَئَلَکَ مِنْہُ نَبِیُّکَ مُحَمَّداً ﷺ وَ أعُوْذُ بِکَ مِنْ شَرِّ مَا اسْتَعَاذَ مِنْہُ نَبِیُّکَ مُحَمَّدَاً ﷺ ۔ 

اور مناقب میں مذکور ہے کہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے ایک شخص کو فرمایا : جو مکہ کے سفر کا ارادہ رکھتا تھا: بیت اللہ شریف کے مشاہدہ کے وقت مستجاب الدعوات ہونے کی دعا کرنا۔ اگر دعا قبول ہوئی تو مستجاب الدعوات ہوجائے گا۔ (بحر الرائق)

مسجد حرام میں داخل ہونے کے آداب کا بیان

خانہ کعبہ کے چاروں طرف جو مسجد ہے، وہی مسجد حرام ہے۔بیت اللہ مسجد حرام کے بالکل بیچ میں ہے۔

مسئلہ: مکہ میں داخل ہوتے ہی مسجد حرام میں حاضر ہونا مستحب ہے۔ اگر فورا ممکن نہ ہو تو اسباب وغیرہ کا بندوبست کرکے سب سے اول مسجد میں حاضر ہونا چاہیے، کیوں کہ اس سفر کا مقصد ہی بیت اللہ کی زیارت ہے۔ (ہدایہ)

مسئلہ: مسجد حرام میں داخل ہونے سے پہلے وضو کرلینا چاہیے، تاکہ اس کے بعد جو افعال کریں، وہ باوضو کریں، جیسے طواف اور نماز ۔ 

عن عروۃ بن الزبیرؓ قال: حجَّ النبیُ ﷺ فاخبرتْنیْ عائشۃؓ أنَّ أوَّلَ شئیٍ بدأَ بہِ حین قدِمَ مکۃَ أنَّہُ توضَّأ ثُمَّ طافَ بالبیتِ (متفق علیہ)

حضرت عروہ بن زبیر ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حج کیا ، تو حضرت عائشہؓ  نے مجھے خبر دی کہ جس وقت آپ ﷺ مکہ میں تشریف لائے تو سب سے پہلا کام آپ ﷺ نے یہ کیا کہ آپ ﷺ نے وضو کیا، پھر بیت اللہ کا طواف کیا۔ 

مسئلہ: اس مسجد میں باب السلام سے داخل ہونا مستحب ہے۔

مسئلہ: تلبیہ پڑھتے ہوئے نہایت خشوع خضوع کے ساتھ دربار الٰہی کی عظمت و جلال کا لحاظ کرتے ہوئے مسجد میں داخل ہو۔ اور پہلے داہنا پاؤں رکھے اور یہ دعا پڑھے:

بِسْمِ اللّٰہِ وَ الصَّلوٰۃُ وَ السَّلامُ عَلیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ رَبِّ اغْفِرْ لِیْ ذُنُوْبِیْ وَافْتَحْ لِیْ أبْوَابَ رَحْمَتِکَ۔ 

مسئلہ: مسجد میں اندر داخل ہونے کے بعد جب بیت اللہ پر نظر پڑے تو تین مرتبہ کہے:

الْلّٰہُ أکْبَرُ لَا اِلٰہَ اِلَّا الْلّٰہُ ۔

اور بیت اللہ کو دیکھتے وقت ہاتھ اٹھاکر یہ دعا پڑھے، جو مسند شافعی میں ابن جریج سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب بیت اللہ کو دیکھتے تو ہاتھ اٹھاتے اور کہتے:

ألْلّٰھُمَّ زِدْ  ھَذا الْبَیْتِ تَشْرِیْفَاً وَّ تَعْظِیْمَاً وَّ تَکْرِیْمَاً وَّ مَھَابَۃً وَّ زِدْ مِنْ شَرَفِہِ وَ کَرَمِہِ مِمَّنْ حَجَّہُ أوْ اعْتَمَرَہُ تَشْرِیْفَاً وَّ تَعْظِیْمَاً وَّ تَکْرِیْمَاً ۔ (فتح القدیر)

اور بیہقی نے سعید بن مسیب ؓ سے بیان کیا ہے کہ وہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمرؓ سے ایک کلمہ سنا ہے ، جس کے سننے والوں میں سے میرے سوا کوئی باقی نہیں رہا۔ جب بیت اللہ دیکھتے تو کہتے:

ألْلّٰھُمَّ أنْتَ السَّلامُ وَ مِنْکَ السَّلامُ فَحَیِّنَا رَبَّنَا بِالسَّلَامِ (فتح القدیر)

بہتر ہے کہ دونوں ہی دعا کو پڑھ لے ۔ اس کے بعد درود پڑھے اور جو دعا چاہے مانگے۔اور اس وقت یہ دعا بھی مستحب ہے جو حضرت عطا سے مروی ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے بیت اللہ کی زیارت کی تو فرمایا : 

أعُوْذُ بِرَبِّ الْبَیْتِ مِنَ الدَّیْنِ وَالْفَقْرِ وَ مِنْ ضَیْقِ الصَّدْرِِ وَ عَذَابِ الْقَبْرِ (زیلعی)

مسئلہ: بیت اللہ کے دیکھتے وقت کھڑے ہوکر دعا مانگنا مستحب ہے ، جو دعائیں جناب رسول اللہ ﷺ سے منقول ہیں اگر وہ یاد ہوں، تو ان کا پڑھنا افضل ہے ؛ لیکن اگروہ دعا یاد نہ ہو، تو جو چاہے دعا مانگے۔ کسی جگہ کوئی خاص دعا معین نہیں ہے کہ اس کا پڑھنا ضروری ہو ، جس دعا میں خشوع حاصل ہو، وہ پڑھے۔ (ہدایہ)

مسئلہ: مسجد حرام میں داخل ہوکر تحیۃ المسجد نہ پڑھے۔ اس کا تحیہ طواف ہے ، اس لیے دعا مانگنے کے بعد طواف کرے ؛ البتہ اگر طواف کرنے کی وجہ سے فرض نماز کے قضا ہونے یا مستحب وقت نکل جانے یا جماعت فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو طواف کے بجائے تحیۃ المسجد پڑھنا چاہیے ، بشرطیکہ وقت مکروہ نہ ہو۔ 

مسئلہ: نماز جنازہ ، سنت مؤکدہ ، وتر کو طواف تحیہ سے پہلے پڑھے اور اشراق و تہجد، چاشت وغیرہ کو طواف سے پہلے نہ پڑھے۔ 

مسئلہ: مسجد حرام میں ؛ بلکہ ہر مسجد میں داخل ہونے کے وقت نفلی اعتکاف کی نیت کرنا مستحب ہے اور نفل اعتکاف تھوڑی دیر کا بھی جائز ہے۔ 

مسئلہ: مسجد حرام میں نماز پڑھنے والے کے آگے طواف کرنے والوں کو گذرنا جائز ہے اور طواف نہ کرنے والوں کو بھی جائز ہے، مگر سجدہ کی جگہ میں نہ گذرے۔

مسجد حرام میں نماز پڑھنے کا بیان

مسجد حرام تمام مسجدوں سے افضل ہے ، اس میں نماز پڑھنے کا بڑا ثواب ہے۔ ایک نماز کا ثواب ایک لاکھ نماز کے برابر ہوتا ہے۔

عن أنس بن مالکؓ قال: قال رسولُ اللّٰہِ ﷺ صلوٰۃُ الرجلِ فی بیتِہ صلوٰۃٌ، و صلوٰتُہ فی مسجد القبائل بخمس و عشرین صلوٰۃً، و صلوٰتُہ فی المسجدِ الذی یجمع فیہ بخمس مائۃ صلوٰۃ، و صلوٰتہ فی المسجد الاقصیٰ بخمسین ألف صـــلوٰۃ، و صلوٰتہ فی مسجدی بخمسین ألف صلوۃ و صلوٰتہ فی المسجد الحرام بمائۃ ألف صلوٰۃ۔ (رواہ ابن ماجہ)

حضرت انس بن مالکؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کسی کی نماز اپنے گھر میں ایک نماز ہے۔ اور اس کی نماز محلہ کی مسجد میں پچیس نماز کے برابر ہے ۔ اور اس کی نماز جامع مسجد میں پانسو نماز کے برابر ہے ۔ اور اس کی نمازمسجد اقصیٰ میں پچاس ہزار نماز کے برابر ہے۔ اور اس کی نماز میری مسجد (یعنی مسجد نبوی) میں پچاس ہزار نماز کے برابر ہے اور اس کی نما ز مسجد حرام میں ایک لاکھ نماز کے برابر ہے۔ 

متعدد احادیث میں یہ مضمون وارد ہے کہ مکہ مکرمہ کی مسجد (یعنی مسجد حرام) میں ایک لاکھ نماز کا ثواب ہے ۔ حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ مکہ میں ایک دن کا روزہ مکہ سے باہر ایک لاکھ روزوں کے برابر ہے ۔ اسی طرح وہاں ایک درم کا ثواب باہر کے لاکھ درم کے برابر ہے ۔ اسی طرح وہاں کی ہر نیکی باہر کی ایک لاکھ نیکی کے برابر ہے۔ (اتحاف)

بہت سی احادیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسجد نبوی کا ثواب مسجد اقصیٰ سے زائد ہے ؛ لیکن اس حدیث میں دونوں کا ثواب پچاس ہزار آیا ہے، اس لیے علما نے ان روایات کی وجہ سے اس حدیث میں یہ توجیہہ فرمائی ہے کہ یہاں ہر مسجد کا ثواب اس سے پہلی مسجد کے اعتبار سے ہے ، یعنی جامع مسجد کا ثواب محلہ کی مسجد کے ثواب سے پانچ سو مرتبہ سے زائد ہے۔ اس صورت میں جامع مسجد کا ثواب بارہ ہزار پانسو ہوگیا ۔ اور مسجد اقصیٰ کا ثواب باسٹھ کروڑ پچاس لاکھ ہوگیا اور مسجد مدینہ کا تین نیل بارہ کھرب پچاس ارب ہوا ۔ اور مسجد حرام کا اکتیس سنکھ پچیس پدم ہوا۔ اس صورت میں مسجد مدینہ کا ثواب مسجد اقصیٰ سے بہت زائد ہوگیا۔ (فضائل حج) 

لہذا مسجد حرام میں نماز پڑھنے کا خاص اہتمام کرنا چاہیے ۔ سیرو تفریح میں اس مسجد کی نماز نہ چھوٹ جائے ۔ مسجد حرام میں اگر صرف ایک دن پانچوں وقت کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کی جائے، تو اس کا ثواب ساری عمر کی نمازوں سے بڑھ کر ہے ۔ مسجد حرام میں خاص ان مقامات میں بھی نماز پڑھنے کی کوشش کرنی چاہیے ، جن مقامات میں رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھی ہے ۔ اور وہ یہ ہیں: مقام ابراہیم کے پیچھے۔ حجر اسود کے سامنے مطاف کے کنارے پر۔ رکن شامی کے قریب کعبہ کے دروازے کے پاس۔ بیت اللہ کے سامنے جو گڑھا ہے ، جن کو مقام جبرئیل بھی کہتے ہیں ۔ بیت اللہ کے سامنے حطیم میں۔ بیت اللہ کے اندر اور حجر اسود اور رکن یمانی کے درمیان ۔ رکن غربی کے سامنے اس طرح کہ باب العمرہ پیچھے ہو۔ مصلی آدم علیہ السلام۔ رکن یمانی کی جانب۔ 

مسئلہ: جس طرح کعبہ سے باہر اس کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا جائز ہے ، اسی طرح کعبہ کے اندر بھی نماز پڑھنا جائز ہے ۔ کعبہ کے اندر نماز پڑھنے کی صورت میں چاروں طرف قبلہ ہے ۔ جدھر کو چاہو نماز پڑھو۔ 

عن ابن عمرؓ قال: دَخَلَ رسولُ اللّٰہِ ﷺ الکعبۃَ والفضلُ و اسامۃُ و زیدٌ و عثمانُ بن طلحۃَ، فکانَ أول من لقیتُ بلالاً فقلتُ أینَ صلَّی النبی ﷺ؟ قالَ: بین ھاتین الساریتین (رواہ ابن ابی شیبۃ و رویٰ الطحاوی والبخاری مسلم نحوہ)

حضرت عبداللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ، فضل، اسامہ ابن زید اور عثمان ابن طلحہ کعبہ میں داخل ہوئے ، تو سب سے پہلے میں نے حضرت بلالؓ سے ملاقات کی، تو میں نے کہا : نبی کریم ﷺ نے کہاں نماز پڑھی؟ فرمایا: ان دونوں ستونوں کے درمیان میں۔ 

مسئلہ: آج کل عورتیں مردوں کی جماعت میں یا آگے پیچھے اس طرح کھڑی ہوجاتی ہیں کہ ان کی محاذات سے یعنی برابر میں کھڑی ہونے سے نماز فاسد ہوجاتی ہے ، اس لیے عورتوں کے برابر میں کھڑے ہونے سے بچے۔ 

مسئلہ: اگر عورتوں کی صف آگے اور مردوں کی صف پیچھے ہو تو مردوں کی نماز نہیں ہوگی۔ 

مسئلہ: محاذات کی صورت میں نماز کے فاسد ہونے کی چند شرطیں ہیں: 

اول: عورت کا قابل جماع ہونا، بالغ ہو یا نابالغ۔

 دوسری: دونوں کا ایک نماز میں شریک ہونا۔

 تیسری: درمیان میں حائل یا ایک آدمی کی جگہ خالی نہ ہونا۔

 چوتھی: عورت میں نماز صحیح ہونے کی شرط پایا جانا، یعنی مجنونہ اور حیض و نفاس والی نہ ہونا۔

 پانچویں: کم از کم ایک رکن کی مقدار نماز میں شریک رہنا۔

 چھٹی: دونوں کا تحریمہ ایک ہونا، یعنی دونوں کسی تیسرے کے مقتدی ہوں یاعورت مرد کی مقتدی ہو۔

 ساتویں: امام کا عورت کی امامت کی نیت نماز شروع کرتے وقت کرنا۔ اگر نیت نہ کی ہو، تو مرد کی نماز فاسد نہ ہوگی۔ عورت کی نماز فاسد ہوجائے گی۔ 

مسئلہ: بیت اللہ کی مسجد میں کعبہ کے چاروں طرف نماز پڑھنی جائز ہے ، لیکن بیت اللہ کا سامنے ہونا ضروری ہے ۔ اگر بیت اللہ سامنے نہ ہوگا تو نماز نہ ہوگی ۔ بیت اللہ سے دوری کی صورت میں تو بیت اللہ کی سیدھ کافی ہوجاتی ہے ۔ مگر قریب ہونے کی صورت میں استقبال عین قبلہ کا ضروری ہے ۔ اگر ذرا بھی قبلہ سے انحراف ہوا تو نماز نہ ہوگی۔ 

مسئلہ: صرف حطیم کا استقبال نماز میں کافی نہیں ہے ؛ بلکہ کعبہ کا استقبال ضروری ہے، چاہے حطیم بیچ میں آجائے۔ 

مسئلہ: جب امام بیت اللہ سے باہر مسجد حرام میں کھڑا ہوکر نماز پڑھا رہا ہے تو مقتدیوں کو چاہیے کہ چاروں طرف سے حلقہ بناکر اقتداء کرے ، یہ درست ہے۔ البتہ جس طرف امام کھڑا ہو، اس طرف مقتدی امام سے آگے کھڑا نہ ہو، ورنہ اس کی نماز نہ ہوگی۔ 

طواف کا بیان

لغت میں کسی چیز کے چاروں طرف چکر لگانے کو طواف کہتے ہیں اور شریعت میں خانہ کعبہ کے چاروں طرف سات مرتبہ گھومنے کو طواف کہتے ہیں ۔ خانہ کعبہ کو دیکھنا اور اس کا طواف کرنا بڑے ثواب کی بات ہے۔ 

عن بن عباسؓ قال: قال رسولُ اللّٰہ ﷺ ان للّٰہِ فی کل یوم و لیلۃ عشرین و مائۃ رحمۃ تنزل علیٰ ھذا البیتِ ستون للطائفین ا ربعون للمصلین، و عشرون للناظرین۔ (کذا فی الدر عن ابن عدی والبیہقی و ضعفہ و ھما  وحسنہ المندری ، و فی الکنز بالفاظ اٰخر وھو فی المسلسلات للشاہ ولی اللّٰہ الدھلوی)

حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ایک سو بیس رحمتیں روزانہ اس گھر پر نازل ہوتی ہیں، جن میں سے ساٹھ طواف کرنے والوں پر اور چالیس نماز پڑھنے والوں پر اور بیس بیت اللہ کو دیکھنے والوں پر ہوتی ہیں ۔

 بیت اللہ شریف کا صرف دیکھنا بھی عبادت ہے۔ حضرت سعید بن المسیب تابعیؒ فرماتے ہیں کہ جو ایمان و تصدیق کے ساتھ کعبہ کو دیکھے، وہ گناہوں سے ایسا پاک ہوجاتا ہے ، جیسا آج ہی پیدا ہو۔ ابو السائب مدنی کہتے ہیں : جو ایمان و تصدیق کے ساتھ کعبہ کو دیکھے، اس کے گناہ ایسے جھڑتے ہیں ، جیسے پتے درخت سے جھڑ جاتے ہیں ۔ اور جو شخص مسجد میں بیٹھ کر بیت اللہ کو صرف دیکھتا رہے، چاہے طواف و نماز نفل نہ پڑھتا ہو، وہ افضل ہے اس شخص سے جو اپنے گھر میں نفلیں پڑھے اور بیت اللہ کو نہ دیکھے۔ حضرت عطا کہتے ہیں کہ بیت اللہ کو دیکھنا بھی عبادت ہے اور بیت اللہ کو دیکھنے والا ایسا ہے جیسا کہ رات کو جاگنے والا، دن میں روزہ رکھنے والا اور اللہ کے راستے میں جہاد کرنے والا اور اللہ کی طرف رجوع کرنے واالا۔ اور حضرت عطا ہی سے یہ بھی منقول ہے کہ ایک مرتبہ بیت اللہ کو دیکھنا ایک سال کی نفلی عبادت کے برابر ہے۔ (در منثور)۔ 

اور طواف کرنے والوں پر جس قدر رحمتیں نازل ہوتی ہیں، وہ اس حدیث سے ظاہر ہے ، اسی واسطے علما نے لکھا ہے کہ مسجد حرام میں تحیۃ المسجد سے طواف افضل ہے۔ 

عن ابی ھریرۃ ؓ ان النبی ﷺ قال: من طافَ بالبیت سبعا ولایتکلم الا بـ سبحان اللّٰہ والحمد للّٰہ ولا الٰہ الا اللّٰہ، واللّٰہ أکبر، ولا حول ولا قوۃ الا باللّٰہ، مُحِیتْ عنہ عشر سیئات و کتب لہ عشر حسنات و رفع لہ عشر درجات، و من طاف فتکلمَ وھو فی تلک الحال خاض فی الرحمۃ برجلیہ کخائض الماء برجلیہ (رواہ ابن ماجہ)

حضرت ابو ہریرہؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: جو شخص بیت اللہ کا سات پھیرا طواف کرے اور اس میں سبحان اللہ،والحمد للہ ولا الٰہ الا اللہ، واللہ اکبرکے سواکوئی کلام نہ کرے، تو اس کے دس گناہ مٹیں گے اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کے دس درجے بلند کیے جائیں گے ۔ اور جو شخص طواف کرے ، پھر اس حالت میں کلام کرے تو وہ خدا کی رحمت میں پاؤں سے گھسنے والا ہے ، جیسے کوئی پانی میں دونوں پاؤں سے گھسے۔ 

طواف کرنے کا طریقہ

بیت اللہ کے سامنے جس طرف حجر اسود ہے، اس طرح کھڑا ہو کہ داہنا مونڈھا حجر اسود کے مغربی کنارے کے مقابل ہو اور سارا حجر اسود داہنی طرف رہے ۔ اس کے بعد طواف کی نیت کرکے داہنی طرف کو اتنا ہٹے کہ حجر اسود بالکل مقابل ہوجائے ۔ا ور حجر اسود کی طرف منھ کرکے حجر اسود کے قریب سامنے کھڑا ہوکر دونوں ہاتھ اس طرح اٹھائے ، جس طرح نماز کے لیے کانوں تک اٹھاتے ہیں ۔ اور ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھے:

بِسْمِ اللّٰہِ اللّٰہُ أکْبَرُ، وَ لِلّٰہِ الحَمْدُ وَ الصَّلوٰۃُ  وَالسَّلامُ علیٰ رَسُوْلِ اللّٰہِ الْلّٰھُمَّ اِیْمَاناً بِکَ وَ وَفَاء اً بِِعَھْدِکَ وَ اِتِّباعَاً لِسُنَّۃِ نَبِیِّکَ محمَّدٍ ﷺ ۔

اس کے بعد ہاتھ چھوڑ کر حجر اسود پر آئے اور دونوں ہاتھ حجر اسود پر رکھے اور منھ دونوں کے بیچ میں رکھ کر بوسہ دے؛ لیکن آہستہ آہستہ دے ، چٹاخے کی آواز نہ پیدا ہو۔ اور بعض کے نزدیک یہ بھی مستحب ہے کہ بوسہ دینے کے بعد حجر اسود پر سر رکھے اور اس کے بعد دوسرا بوسہ دے ، پھر سررکھے۔ پھر تیسرا بوسہ دے اور سر رکھے ۔ اس کے بعد داہنی طرف یعنی بیت اللہ کے دروازے کی طرف چلے اور بیت اللہ بائیں مونڈھے کی طرف رہے۔ اور طواف میں حطیم کو بھی شامل کرلے۔ جب طواف کرتا ہوا رکن یمانی (کعبہ کا جنوبی مغربی گوشہ) پر پہنچے، تو اس کا استلام کرے، یعنی دونوں ہاتھ یا صرف داہنا ہاتھ اس کو لگائے ، بوسہ نہ دے اور اس پر پیشانی وغیرہ نہ رکھے۔ پھر جب حجر اسود پر آئے تو حجر اسود کا استلام کرے، جیسا کہ اول مرتبہ کیا تھا، لیکن ہاتھ نہ اٹھائے۔ ہاتھ صرف پہلی مرتبہ اٹھائے جاتے ہیں اور حجر اسود تک پھر آنے کوشوط (ایک چکر) کہتے ہیں ۔ اسی طرح سات چکر پوری کرے۔ (ہدایہ)

اور ساتویں شوط کے بعد آٹھویں مرتبہ پھر حجر اسود کا استلام کرے۔ اب طواف پورا ہوگیا۔ اس کے بعد دو رکعت طواف مقام ابراہیم کے پیچھے پڑھے ، پہلی رکعت میں قل یا ایہا الکافرون اور دوسری رکعت میں قل ھو اللہ احد پڑھے۔اس کے بعد جو چاہے دعا مانگے؛ لیکن دعائے آدم علیہ السلام اس مقام پر ماثور ہے۔ وہ یہ ہے:

اللّٰھُمَّ اِنَّکَ تَعْلَمُ سِرِّی و علانِیَتیْ فاقْبِلْ معْذِرَتِی، وَ تَعْلَمُ حاجَتِیْ فاعْطِنِی سُؤلِیْ و تعلَمُ ما فی نفسیْ فاغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ، الْلّٰھُمَّ اِنِّی اَسْئَلُکَ اِیْمانَاً یُّبَاشِرُ قَلْبِیْ وَ یَقِیْنَاً صادِقَاً حَتّٰی اَعْلَمُ أنَّہُ لایُصِیْبُنِیْ اِلَّا مَا کَتَبَ لِی و رِضاً بِما قَسَمْتَ لِیْ یا أرْحمَ الرَّاحِمِیْنَ۔ 

پھر دوگانہ طواف پڑھ کر مستحب ہے کہ چاہ زمزم پر جائے اور آب زمزم پیے اور دعا مانگے اس وقت دعا قبول ہوتی ہے۔ 

عن جابرؓ یقولُ: سمعتُ رسولَ اللّٰہ ﷺ یقولُ: مائُ زمزمَ لما شرِبَ لہ (رواہ ابن ماجہ و بسط صاحب الاتحاف فی تخریجہ و قال شیخنا الشاہ الغنی ھذا الحدیث مشھور علیٰ الالسنۃ کثیرا واختلف  الحفاظ فیہ، فمنھم من حسنہ و منھم من ضعفہ والمعتمد الاول الخ۔ و قال ابن حجر فی شرح مناسک النووی قد کثر کلام المحدثین فی ھذا الحدیث والذی استقر علیہ امر محققیھم انہ حسن او صحیح و قول الذھبی انہ باطل وابن الجوزی انہ موضوع مردود)

حضرت جابر ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ، آپ ﷺ فرمارہے تھے کہ زمزم کا پانی جس نیت سے پیا جائے، وہی فائدہ اس سے حاصل ہوتا ہے ۔ 

ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ اگر تو اس کو پیاس بجھانے کے واسطے پیے تو اس کا کام دے ۔اور اگر کھانے کی جگہ پیٹ بھرنے کے لیے پیے تو اس کا کام دے۔ اور اگر کسی مرض سے صحت کی نیت سے پیے تو اس کا کام دے۔ یہ حضرت جبرئیل کی خدمت ہے اور حضرت اسماعیل علیہ السلام کی سبیل ہے۔ (اتحاف)

حضرت عمرؓ نے زمزم کا پانی پیتے ہوئے کہا : یا اللہ! میں قیامت کے دن کی پیاس بجھانے کے لیے پیتا ہوں۔ (کنز)

پانی پی کر ملتزم پر آئے۔ ملتزم حجر اسود اور بیت اللہ کے دروازہ کے درمیان کی دیوار کو کہتے ہیں۔ ملتزم سے لپٹ کر دعا مانگے، یہاں دعا قبول ہوتی ہے۔ 

عن ابن عباسؓ یقول: سمعتُ رسولَ اللّٰہِ ﷺ الملتزمُ موضعٌ یستجاب فیہ الدعائُ۔ ما دعَا اللّٰہَ فیہ عبدٌ الا استجَابَ بھا۔ (کذا فی المسلسلات للشاہ ولی اللّٰہ الدھلوی و ذکرہ الجزری فی الحصن مجملا)

حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا: آپ ﷺ فرماتے تھے: ملتزم ایسی جگہ ہے جہاں دعا قبول ہوتی ہے ۔ کسی بندہ نے وہاں ایسی دعا نہیں کی جو قبول نہ ہوئی ہو۔ 

حضرت ابن عباسؓ سے نقل کیا گیا ہے کہ انھوں نے اس جگہ کھڑے ہوکر اپنے سینہ اور چہرہ کو دیوار سے چمٹا دیا اور دونوں ہاتھوں کو دیوار پر پھیلادیا اور یہ کہا کہ میں نے اسی طرح حضوراقدس ﷺ کو کرتے دیکھا۔ (ابوداود)

حضرت مولانا زکریاصاحب محدث سہارنپوریؒ فضائل حج میں بیان فرماتے ہیں کہ میرے حضرت نور اللہ مرقدہ سے لے کر حضور ﷺ تک ہر استاذ حدیث سناتے وقت اپنا ذاتی تجربہ یہ بتاتے ہیں کہ میںنے اس جگہ دعا کی اور وہ قبول ہوئی اور اس ناپاک کا بھی یہی ذاتی تجربہ ہے ۔اور بعض کہتے ہیں کہ طواف کے بعد اول ملتزم پر آئے ۔ پھر دوگانہ پڑھے ۔ پھر زمزم پر آئے۔ 

تنبیہات

(۱) جس طواف کے بعد صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنا ہو ، اس طواف کے پہلے تین شوط (پھیرے) میں رمل کرے، یعنی اکڑ کر شانہ ہلاتے ہوئے چھوٹے چھوٹے قدم رکھتے ہوئے چلے۔ (ہدایہ)

عن جابرؓ قال: ان رسولَ اللّٰہِ ﷺ لما قدمَ مکۃَ اتیٰ الحجرَ فاستلمَہُ ثم مشیٰ علیٰ یمینہِ فرملَ ثلاثا و مشیٰ اربعا۔ (رواہ مسلم)

حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مکہ میں تشریف لائے تو حجر اسود کے پاس آئے ، پھر اس کا استلام کیا ۔ پھر دائیں جانب چلے اور تین شوط میں رمل کیا اور چار شوط میں اپنی چال چلے۔ 

(۲) اور اس طواف میں شروع سے آخر تک چادر کو دائیں بغل سے نکال کر بائیں کندھے پر دونوں چھور کو ڈال لے اور داہنا کندھا کھلا رہنے دے۔ (ہدایہ)

عن یعلی ابن امیۃ قال: ان رسولَ اللّٰہ ﷺ طافَ بالبیتِ مضطجعاً بِبُردٍ اخْضَرَ۔ (رواہ الترمذی و ابو داود وابن ماجہ والدارمی و حسنہ الترمذی)

یعلی ابن امیہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سبز چادر سے اضطباع کرتے ہوئے بیت اللہ کا طواف کیا۔ 

اس حدیث سے دو باتیں معلوم ہوئیں: ایک طواف میں اضطباع کرنا۔ دوسری یہ کہ احرام کا کپڑا سفید ہونا ضروری نہیں ، اس لیے کہ حضور ﷺ کی چادر سبز تھی۔ اضطباع کی صورت وہی ہے جو بیان ہوا۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ 

عن ابن عباسؓ ان رسولَ اللّٰہ ﷺ و اصحابَہ اعتمروا من الجعرانۃ فرملوا بالبیت ثلاثا و جعلوا أردِیتَھُمْ تحتَ اِبْطِھِمْ، ثُمَّ قَذَفُوا علیٰ عَوَاتِقِھِمِ الیُسْرَیٰ۔ (رواہ ابو داود)

حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے اصحاب نے جعرانہ سے عمرہ کیا تو بیت اللہ کے طواف میں تین شوط میں رمل کیا اور اپنی چادروں کو اپنی بغلوں میں کیں، پھر بائیں کندھوں پر اس کو ڈال لیں۔ 

(۳) طواف کے بعد جو دو رکعت نماز پڑھے اس میں چادر سے دونوں مونڈھوں کو چھپالے، نماز میں اضطباع نہ کرے۔ اضطباع صرف طواف میں ہوتا ہے۔ 

(۴) شروع طواف میں جو ہاتھ اٹھایا جاتا ہے، وہ اس وقت اٹھائے جب حجر اسود کا استبقال کرے اور تکبیر کہتے ہوئے ہاتھ اٹھائے۔ حجر اسود کے استقبال سے پہلے ہاتھ اٹھانا بدعت ہے۔ 

(۵) اکثر طواف کرنے والے حجر اسود اور رکن یمانی کے درمیان میں کھڑے ہوکر نیت کرتے ہیں ، یہ مکروہ ہے ۔ طواف کی نیت کے لیے اس طرح کھڑا ہو کہ داہنا کندھا حجر اسود کے مغربی کنارے کے مقابل میں ہو۔ 

ارکان طواف

طواف کے تین رکن ہیں : 

(۱) طواف خانہ کعبہ سے باہر اور مسجد حرام کے اندر ہونا۔ 

(۲) چار یا چار سے زیادہ شوط کا پورا کرنا۔ 

(۳) اپنے سے طواف کرنا خواہ چل کر یا سواری پر؛ البتہ بیہوش کی طرف سے دوسرا شخص بھی طواف کرسکتا ہے۔ 

عن ابن عباسؓ ان رسولَ اللّٰہِ ﷺ قَدِمَ مکۃَ ھو یشتکی فطافَ علیٰ راحلتہِ کلما اتیٰ علیٰ الرکن استلمَ الرکن بمحجنٍ فلما فرغَ من طوافِہِ اناخَ فصلّٰی رکعتین۔ (رواہ ابو داود)

حضرت عبداللہ بن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب مکہ میں تشریف لائے تو آپﷺ بیمار تھے۔ آپ ﷺ نے سواری پر طواف کیا اور جب جب حجر اسود کے پاس آتے تو حجر اسود کو چھڑی سے چھوتے (اور چھڑی کو چومتے جیسا کہ دوسری روایت میں ہے) پھر جب طواف سے فارغ ہوئے تو اونٹ کو بیٹھایا اور دو رکعت نماز پڑھی۔ 

اس حدیث سے تین باتیں معلوم ہوئیں: 

(۱) سوار ہوکر طواف کرنا۔ 

(۲) جب ہاتھ سے حجر اسود کو نہ چھو اور چوم سکے تو چھڑی وغیرہ سے حجر اسود کو چھوئے اور چومے۔ 

(۳) ضرورت کے وقت میں جانور مطاف میں لے جانا درست ہے۔ 

شرائط طواف

 تین شرطیں تمام طواف کے لیے ہیں، خواہ حج کا طواف ہو یا نہ ہو۔ 

(۱) طواف کرنے والے کے اندر اسلام کا ہونا۔ 

(۲) طواف کی نیت کرنا۔ 

(۳) مسجد حرام کے اندر مطاف میں طواف کرنا اور حج کے طواف کے لیے تین شرطیں زائد ہیں: 

(۱) خاص وقت کا ہونا یعنی حج کا موسم ہونا۔ 

(۲) طواف سے پہلے احرام کا ہونا۔ 

(۳) وقوف عرفہ کا ہونا۔ 

یہ شرطیں طواف زیارت کی ہیں جو حج کا دوسرا رکن ہے۔ 

مسئلہ: بغیر نیت اگر کسی نے بیت اللہ کے سات چکر لگائے تو وہ طواف نہیں ہوا، اس لیے کہ نیت شرط ہے۔ 

مسئلہ: بیت اللہ کی خبر نہ تھی کہ یہی بیت اللہ ہے اور بے خبری میں سات چکر لگادیے تو طواف نہ ہوا۔

مسئلہ: خواہ کسی قسم کا طواف ہو اس میں صرف طواف کی نیت کرلینا کافی ہے ، تعیین طواف کی حاجت نہیں؛ البتہ تعیین کرلینا مستحب ہے ۔ طواف قدوم، یا طواف زیارت، یا طواف وداع یا عمرہ کا طواف کرتا ہوں ، اس طرح نیت متعین کرلینا مسنون ہے۔ اگر تعیین نہ کیا ، جب بھی طواف ہوجائے گا، مثلا دسویں کو صبح صادق کے بعد مطلق طواف کی نیت سے طواف کیا ، تو وہ طواف زیارت ہوجائے گی۔ 

واجبات طواف

طواف کے اندر چھ چیزیں واجب ہیں: 

(۱) وضو و غسل دونوں کا ہونا، یعنی پوری طہارت طواف کے لیے واجب ہے۔ 

عن ابن عباسؓ ان النبی ﷺ قال: الطوافُ حولَ البیتِ مثلُ الصلوٰۃِ الا انکم تتکلمون فیہ فمن تکلم فیہ فلایتکلمن الا بخیر۔ (رواہ الترمذی والنسائی والدارمی، و ذکر الترمذی جماعۃ وقفوہ علیٰ ابن عباس)

حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: بیت اللہ کے گرد گھومنا نماز کی طرح ہے؛ مگر یہ کہ تم اس میں کلام کرتے ہو تو جو شخص طواف میں کلام کرے تو بہتر ہی کلام کرے۔ 

یعنی نماز میں سلام کلام جائز نہیں، مگر طواف میں جائز ہے ؛ لیکن بلا ضرورت کلام نہ کرے اور کرے تو بہتر کلام کرے اور دوسری باتوں میں نماز کی طرح ہے ۔ اور نماز میں دونوں حدیثوں سے طہارت فرض ہے اس لیے کہ دلیل قطعی سے ثابت ہے اور طواف میں واجب ہے اس لیے کہ دلیل ظنی سے ثابت ہے ، اس لیے کہ اس کو ترمذی نے کہا کہ ایک جماعت نے اس حدیث کو ابن عباسؓ پر موقوف کیا ہے، یعنی یہ رسول اللہﷺ کا قول نہیں؛ بلکہ ابن عباس ؓ کا قول ہے۔

(۲) ستر عورت کا ہونا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی امارت میں جو حج ۹ ء میں ادا ہوا تھا، اس میں رسول اللہ ﷺ نے اعلان کردیا تھا کہ: 

لایطوفن بالبیت عریانٌ (متفق علیہ)

ہر گز بیت اللہ کا طواف ننگے ہوکر نہ کریں۔ 

(۳) جو شخص پیدل چل سکتا ہے ، اس کو پیادہ طواف کرنا۔

(۴) داہنی طرف سے شروع کرنا، جیسا کہ حدیث میں گذرا کہ 

ثم مشیٰ علیٰ یمینہ

آپ ﷺ نے دائیں جانب سے طواف شروع کیا۔ 

(۵) حطیم کو شامل کرکے طواف کرنا، اس لیے کہ وہ بھی خانہ کعبہ کا ایک ٹکڑا ہے۔ 

(۶) پورا طواف کرنا، یعنی ساتوں چکر کا پورا کرنا۔ چار شوط رکن ہے اور باقی واجب۔ 

واجبات کا حکم

کسی واجب کے چھوٹنے یا چھوڑ دینے سے طواف کا دوبارہ کرنا واجب ہوگا۔ اگر دوبارہ طواف نہیں کیا تو اس پر جزا واجب ہوگی، جس کا بیان جنایات میں آئے گا۔ 

نوٹ

طواف کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا واجب ہے، جیسا کہ حضور ﷺ نے پڑھا۔ مگر طواف میں داخل نہیں اور بعض نے اس کو طواف میں داخل کرکے سات واجب بتاتے ہیں۔ اور بعض نے حجر اسود سے طواف کا ابتدا کرنا بھی واجب کہا ہے۔ ان کے نزدیک آٹھ واجب ہیں، مگر ظاہر روایت یہی ہے کہ حجر اسود سے ابتدا سنت ہے ، یہی اکثر مشائخ کا قول ہے۔

طواف کی سنتیں

(۱) حجر اسود کا استلام یعنی چھونا اور بوسہ لینا۔ 

(۲) چادر کو دائیں بغل میں سے نکال کر بائیں مونڈھے پر ڈالنا۔ 

(۳) تین پھیرے میں اکڑ کر چلنا۔ 

(۴) باقی میں اپنی رفتار سے چلنا۔ 

(۵) طواف کے بعد اور سعی سے پہلے دوبارہ حجر اسود کا استلام کرنا، جب کہ طواف کے بعد صفا و مروہ کے درمیان سعی کرے۔ 

(۶) حجر اسود کے مقابل میں کھڑے ہوکر تکبیر کہتے وقت ہاتھ اٹھانا۔ 

(۷) حجر اسود سے طواف شروع کرنا۔ 

(۸) طواف کے شروع میں حجر اسود کی طرف منھ کرنا۔ 

(۹) لگاتارتمام چکر پورے کرنا۔ 

(۱۰) کپڑے اور بدن کو نجاست حقیقیہ سے پاک رکھنا سنت ہے۔ 

طواف کے مستحبات

(۱) طواف حجر اسود کی داہنی طرف سے اس طرح شروع کرنا کہ طواف کرنے والے کا پورا بدن حجر اسود کے سامنے گذرتے ہوئے محاذی ہوکر گذرے۔ حجر اسود کی داہنی طرف سے مراد اس کی شرقی جانب ہے، جو بیت اللہ کے دروازے کے طرف ہے۔ اس کی غربی جانب مراد نہیں ہے۔ 

(۲) حجر اسود پر تین مرتبہ بوسہ دینا اور تین مرتبہ اس پر سر رکھنا۔ 

(۳) طواف کرتے ہوئے ماثور دعاؤں کا پڑھنا۔ 

(۴) مرد کو بیت اللہ سے قریب ہوکر طواف کرنا، بشرطیکہ ہجوم اور کسی کو تکلیف نہ ہو۔ 

(۵) عورت کو رات میں طواف کرنا۔ 

(۶) طواف میں بیت اللہ کے پشتہ کو شامل کرلینا۔ 

(۷) اگر طواف بیچ میں چھوڑ دیا ہو یا مکروہ طریقہ پر کیا ہو تو اس کو پھر سے کرنا۔ 

(۸) مباح گفتگو کا ترک کرنا۔ 

(۹) جو چیز خشوع میں حارج ہو اس کو چھوڑ دینا۔ 

(۱۰) دعا اور اذکار کو طواف میں آہستہ پڑھنا۔ 

(۱۱) رکن یمانی (مغربی جنوبی گوشہ) کا استلام کرنا، یعنی چھونا۔ 

(۱۲) جو چیز دل کو مشغول کرنے والی ہو، اس سے نظر بچانا۔ 

مباحات طواف

طواف میں یہ چیزیں مباح ہیں: 

(۱) سلام کرنا۔ 

(۲) چھینک آنے پر الحمد للہ کہنا۔ 

(۳) مسائل شرعیہ کا بتانا اور دریافت کرنا۔ 

(۴) کسی ضرورت سے کلام کرنا۔

(۵) کچھ پینا۔ 

(۶) دعاوں کا ترک کرنا۔ 

(۷) اچھا شعر پڑھنا۔ 

(۸) پاک جوتے وغیرہ پہن کر طواف کرنا۔ 

(۹) کسی عذر کی وجہ سے سوار ہوکر طواف کرنا۔ 

(۱۰) دل دل میں قرآن پڑھنا۔ 

محرمات طواف

یہ سب چیزیں طواف کرنے والوں کے لیے حرام ہیں: 

(۱) جنابت یا حیض و نفاس کی حالت میں طواف کرنا۔ 

(۲) بلا عذر کسی پر چڑھ کر یا سوار ہوکر طواف کرنا۔ 

(۳) بے وضو طواف کرنا۔

(۴) بلا عذر گھٹنوں کے بل یا الٹا ہوکر طواف کرنا۔ 

(۵) طواف کرتے ہوئے حطیم کے بیچ میں کو نکلنا۔ 

(۶) طواف کا کوئی چکر یا اس سے کم چھوڑ دینا۔ 

(۷) حجر اسود کے علاوہ کسی اور جگہ سے طواف شروع کرنا۔ 

(۸) طواف میں بیت اللہ کی طرف منھ کرنا؛ البتہ شروع طواف میں حجر اسود کے استقبال کے وقت جائز ہے ۔ 

(۹) جو چیزیں طواف میں واجب ہیں، ان میں سے کسی کو ترک کرنا۔ 

مکروہات طواف

یہ چیزیں طواف میں مکروہ ہیں: 

(۱) فضول بیہودہ باتیں کرنا۔ 

(۲) خریدو فروخت کرنا یا اس کی بات چیت کرنا۔

(۳) کوئی ایسا شعر پڑھنا جو حمد وثنا سے خالی ہو۔ اور بعض نے مطلق شعر پڑھنے کو مکروہ کہا ہے۔ 

(۴) دعا یا قرآن بلند آواز سے پڑھنا جس سے طواف کرنے والوں اور نماز پڑھنے والوں کو تشویش ہو۔ 

(۵) جس طواف میں رمل اور اضطباع ہو اس کو بلا عذر ترک کرنا۔ 

(۶) حجر اسود کا استلام چھوڑ دینا۔ 

(۷) طواف کے پھیروں میں زیادہ فاصلہ کرنا۔ 

(۸) دو طواف اس طرح اکٹھے کرنا کہ بیچ میں دو رکعت بھی نہ پڑھے؛ لیکن اگر نماز کا مکروہ وقت ہو تو جائز ہے۔ 

(۹) طواف کی نیت کے بغیر تکبیر کے دونوں ہاتھ اٹھانا۔ 

(۱۰) خطبہ اور فرض نماز کی جماعت کھڑی ہوجانے کے وقت طواف کرنا۔ 

(۱۱) طواف کے درمیان کھانا کھانا۔ بعض نے پینے کو بھی مکروہ لکھا ہے۔ 

(۱۲) پیشاب، پاخانے کے تقاضے کے وقت طواف کرنا۔ 

(۱۳) بھوک اور غصہ کی حالت میں طواف کرنا۔ 

(۱۴) طواف کرتے ہوئے نماز کی طرح ہاتھ باندھنا۔ 

(۱۵) کولھے اور گردن پر ہاتھ رکھنا۔ 

طواف کے اقسام

طواف کی سات قسمیں ہیں: 

(۱) طواف قدوم: یعنی آنے کے وقت کا طواف ۔ اس کو طواف تحیہ ، طواف اللقاء اور طواف الورود بھی کہتے ہیں۔ یہ ان آفاقی کے لیے سنت ہے جو صرف حج یا قران کرے۔ تمتع اور عمرہ کرنے والے کے لیے مسنون نہیں ہے ، اگرچہ آفاقی ہو۔ اسی طرح مکہ والوں کے لیے بھی مسنون نہیں ہے؛ البتہ اگر کوئی مکی میقات سے باہر جاکر افراد کا قران کا احرام باندھے اور حج کرے تو اس کے لیے مسنون ہے ۔ اور اس کا وقت مکہ میں داخل ہونے کا وقت ہے۔ 

(۲) طواف زیارت: اس کو طواف رکن اور طواف حج اور طواف فرض بھی کہتے ہیں ۔ یہ حج کا رکن ہے ، اس کے بغیر حج نہیں ہوتا ہے ۔ اور اس کا وقت دسویں ذی الحجہ کی صبح صادق سے شروع ہوتا ہے اور ایام نحر یعنی بارھویں تک کرلینا واجب ہے ۔ اس میں رمل ہوتا ہے اگر اس کے بعد سعی ہو۔ اور احرام کھول کر سلے ہوئے کپڑے پہن لیے ہوں تو اضطباع نہیں ہوتا۔ اور اگر احرام کے کپڑے نہیں اتارے تو پھر اضطباع کرنا چاہیے۔ اگر طواف قدوم کے بعد سعی کرچکا ہے تو دوبارہ سعی نہ کرے اور نہ اس طواف میں رمل اور اضطباع کرے۔ 

(۳) طواف صدر: یعنی بیت اللہ سے واپسی کا طواف ۔ اس کو طواف وداع بھی کہتے ہیں ۔ یہ آفاقی پر واجب ہے ، مکی پر واجب نہیں۔ اسی طرح جو مکہ کو ہمیشہ کے لیے وطن بنالے اس پر واجب نہیں۔ اس طواف میں رمل اور اضطباع نہیں کیا جاتا اور اس کے بعد سعی بھی نہیں ہے۔ یہ تینوں طواف حج کے ساتھ مخصوص ہیں۔ 

(۴) طواف عمرہ: یہ عمرہ کا رکن ہے ۔ اس میں رمل اور اضطباع کرے اور اس کے بعد سعی کرے۔ 

(۵) طواف نذر: یہ نذر ماننے والے پر واجب ہے۔ 

(۶) طواف تحیہ: یہ مسجد حرام میں داخل ہونے والے کے لیے مستحب ہے ، لیکن اگر کوئی دوسرا طواف کرلے تو وہ اس کے قائم مقام ہوجائے گا۔ 

(۷) طواف نفل: یہ جس وقت جی چاہے کرے۔ 

طواف کے مسائل

مسائل استلام

مسئلہ: ہجوم کی وجہ سے اگر استلام نہ کرسکے تو ہاتھ یا چھڑی وغیرہ سے حجر اسود کی طرف اشارہ کرے اور اسی کو چوم لے اور طواف شروع کردے۔ (ہدایہ) 

عن ابی الطفیل قال: رأیتُ رسولَ اللّٰہ ﷺ یطوفُ بالبیتِ  ویستلمُ الرکنَ بمحجنٍ و یُقَبِّلُ (رواہ مسلم)

حضرت ابو الطفیل ؓ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا کہ آپ ﷺ بیت اللہ کا طواف کرتے ہیں اور حجر اسود کو چھڑی سے چھوتے ہیں اور چومتے ہیں جو آپ ﷺ کے ساتھ تھی۔ 

مسئلہ: حجر اسود کو ہاتھ لگانا اور چومنا اس وقت مسنون ہے کہ جب کسی کو تکلیف نہ ہو۔ کسی مسلمان کو سنت کی وجہ سے تکلیف دینا حرام ہے، اس لیے دھکے دے کر استلام نہ کرے۔ (ہدایہ)

عن عمر ان رسولَ اللّٰہِ ﷺ قال لہ انک رجل قوی لاتزاحم علی الحجر فتوذی الضعیف، ان وجدت خلوۃ فاستلمہ الا فاستقبلہ و کبر و ھلل۔ (رواہ احمد) 

حضرت عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان سے فرمایا: تو طاقتور آدمی ہے ۔ حجر اسود پر ہجوم نہ کرنا کہ کمزور کو تکلیف پہنچائے ۔ اگر جگہ خالی ہو تواس کا استلام کرے ورنہ صرف اس کا استقبال کر اور تکبیر و تہلیل کر۔

معلوم ہوا کہ تکلیف دے کر استلام کرنا درست نہیں ہے؛ بلکہ ایسے وقت میں صرف دونوں ہاتھ کو حجر اسود پر رکھے اور ہاتھ چوم لے۔ اگر اس میں بھی دوسرے کو تکلیف پہنچے تو چھڑی وغیرہ سے حجر اسود کو چھوئے اور چھڑی کو چوم لے۔ اگر یہ بھی بلا ایذا کے نہ ہوسکے تو صرف حجر اسود کا استقبال کرے اور تکبیر اور لاالٰہ الا اللہ کہہ لے اور دونوں ہاتھوں کو حجر اسود کی طرف اس طرح کرے کہ حجر اسود پر رکھی ہے اور پھر ہاتھ چوم لے۔ (ہدایہ)

مسئلہ: حجر اسود پر اگر خوشبو لگی ہو اور طواف کرنے والا احرام میں ہو تو اس کا استلام جائز نہیں ؛بلکہ ہتھیلیوں سے اشارہ کرکے اس کو بوسہ دے لے۔ 

مسئلہ: حجر اسود پر چاندی کا حلقہ لگا ہوا ہے ۔ استلام کے وقت اس کو ہاتھ لگانا جائز نہیں ۔ 

مسئلہ: حجر اسود اور بیت اللہ کی چوکھٹ یعنی دہلیز کے علاوہ بیت اللہ کے اور کسی گوشہ یا دیوار کو بوسہ دینا منع ہے ۔ صرف رکن یمانی کو ہاتھ لگائے ، بوسہ نہ دے ۔ اگر ہاتھ نہ لگاسکے تو اشارہ نہ کرے، اس کا صرف چھونا مسنون ہے ۔ اس کی طرف اشارہ وغیرہ مسنون نہیں۔ 

مسئلہ: استلام کے وقت بیت اللہ کی طرف منھ کرنا درست ہے ؛ لیکن طواف کی حالت میں اس کے علاوہ اور وقت میں بیت اللہ کی طرف منھ کرنا منع ہے ۔ 

استلام کے وقت دونوں پاؤں اپنی جگہ پر رکھے اور استلام کرکے سیدھا کھڑا ہوجائے اور طواف شروع کردے ۔ پیچھے نہ ہٹے۔ اس سے لوگوں کو تکلیف ہوتی ہے۔ 

مسائل نماز و طواف

مسئلہ: ہر طواف کے بعد دو رکعت نماز پڑھنا واجب ہے اور افضل یہ ہے کہ مقام ابراہیم میں پڑھے۔ (ہدایہ) مسلم کی طویل حدیث میں گذر چکا ہے کہ طواف کے بعد رسول اللہ ﷺ مقام ابراہیم کی طرف بڑھے اور آپ ﷺ نے پڑھا: 

واتخذوا من مقام ابراھیم مصلیٰ

پھر آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی اور بعد میں اتنا ہجوم ہوگیا کہ رمل نہیں کرسکتا ہے تو رمل موقوف کردے اور طواف پورا کرے۔ 

مسئلہ: اگر رمل کرنا بھول گیا اور ایک چکر کے بعد یاد آیا تو صرف دو میں رمل کرے اور اگر اول کے تین چکر کے بعد یاد آئے تو پھر رمل نہ کرے ، کیوں کہ جس طرح اول کے تین چکروں میں رمل مسنون ہے اسی طرح اخیر کے چار میں رمل نہ کرنا مسنون ہے۔ 

عن ابن عمرؓ قال: کانَ رسولُ اللّٰہ ﷺ اذا طافَ فی الحج او العمرۃ اول ما یقدم سعیٰ ثلاثۃ اطواف و مشیٰ اربعۃ ثم سجد سجدتین ثم یطوف بین الصفا والمروۃ۔ (متفق علیہ)

حضرت عبد اللہ بن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب حج یا عمرہ میں طواف کرتے، تو سب سے پہلے تین طواف میں تیزی سے چلتے یعنی رمل کرتے اور چار میں اپنی رفتار سے چلتے۔ پھر دو رکعت نماز پڑھتے۔ پھر صفا ومروہ کے درمیان چکر لگاتے۔ 

مسئلہ: پورے طواف میں رمل کرنا مکروہ ہے، لیکن کرنے سے کوئی جزا واجب نہ ہوگی۔ 

مسئلہ: کسی مرض یا بڑھاپے کی وجہ سے رمل نہیں کرسکے تو کچھ حرج نہیں۔ 

مسئلہ: رمل کرتے ہوئے بیت اللہ کے قریب چلنا افضل ہے ۔ لیکن اگر قریب ہوکر رمل نہ کرسکتا ہو تو پھر فاصلہ سے رمل کے ساتھ طواف کرنا افضل ہے ۔ محض قریب کی فضیلت حاصل کرنے کے لیے دوسروں کو تکلیف دینا گناہ ہے ۔ اسی طرح بلا رمل بھی مرد کو بیت اللہ کے قریب طواف کرنا افضل ہے ، لیکن اگر قریب ہونے میں دوسروں کو تکلیف ہوتو پھر افضل دور ہی ہے۔

طواف کے پھیروں میں کمی زیادتی کے مسائل

مسئلہ: کسی نے قصدا آٹھ چکر طواف کرلیے تو اس پر واجب ہے کہ چھ چکر اور ملا کر دو طواف پورے کرلے۔ 

مسئلہ: ساتویں چکر کے بعد وہم یا وسوسہ سے آٹھویں چکر کرلیا، تب بھی اس کو دوسرا طواف پورا کرنا لازم ہے۔

مسئلہ: اگر آٹھویں چکر کیا اور یہ گمان تھا کہ ساتواں ہے، لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ آٹھواں ہے تو دوسرا طواف پورا کرنا واجب نہیں ۔ 

مسئلہ: اگر طواف رکن یعنی طواف زیارت میں شک ہوجائے تو اس کو دوبارہ کرلے۔ اور اگر طواف فرض یا واجب کے پھیروں کی تعداد میں شبہ ہوجائے تو جس پھیرے میں شک ہو اسی کو لوٹائے۔ 

مسئلہ: طواف سنت اور نفل میں شک ہو تو غلبہ ظن پر عمل کرے ۔ 

مسئلہ: اگر کوئی عادل شخص طواف کرنے والے کے ساتھ ہو اور وہ تعداد پھیروں کی کم بتائے تو اس کے قول پر احتیاطا عمل کرنا مستحب ہے اور اگر دو عادل شخص بتائیں تو ان کے قول پر عمل کرنا واجب ہے۔ 

تنبیہ: مریض اور بیہوش کے طواف کا حکم بیہوش کے احرام میں گذرچکا ہے ۔ 

زمزم کے پانی پینے کا طریقہ

طواف کی نماز کے بعد آب زمزم پر آئے اور اپنے ہاتھ سے پانی کھینچے۔ اگر سہولت  سے پانی کھینچنا ممکن نہ ہو تو دوسرے کا کھینچا ہوا پانی لے اور بسم اللہ پڑھ کر کھڑے ہوکر یا بیٹھ کر قبلہ رو ہوکر یہ دعا پڑھ کر پیے اور خوب ڈٹ کر پیے۔ 

الْلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ عِلْمَاً نَافِعَاً وَ رِزْقَاً واسِعَاً و شِفَا ئً مِنْ کُلِّ دائٍ

اور تین مرتبہ سانس لے کر پیے اور پھر خدا کی حمد کرے اور سر اور منھ کو بھی پانی ملے اور باقی بدن پر ڈالے ۔ اور جو پانی بچ رہے اس کو کنویں میں ڈال دے یا بدن پر ڈال لے۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ حضور ﷺ نے حضرت عباسؓ سے زمزم کا پانی طلب کیا ۔ انھوں نے عرض کیا کہ اس پانی میں (جس میں پانی کا رکھا ہوا تھا) سب لوگ ہاتھ ڈال دیتے ہیں، گھر میں صاف پانی رکھا ہوا ہے ، اس میں سے لاؤں؟ حضورﷺ نے فرمایا: نہیں، جس میں سے سب پیتے ہیں، اسی میں سے لاؤ۔ انھوں نے پیش کیا۔ حضورﷺ نے پیا اور آنکھوں پر ڈالا، پھر دوبارہ لے کر پیا اور اپنے اوپر دوبارہ ڈالا۔ (کنز)

ایک حدیث میں حضورﷺ کا ارشاد نقل کیا گیا کہ ہم میں اور منافقین میں یہ فرق ہے کہ وہ زمزم کے پانی خوب سیراب ہوکر نہیں پیتے۔ (اتحاف)

ایک اور حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ نے ایک مرتبہ ڈول بھرنے کا حکم فرمایا۔ ڈول بھر کر کنویں کے کنارے پر رکھا گیا ۔ حضور ﷺ نے اس ڈول کو ہاتھ سے پکڑ کر بسم اللہ کہہ کر دیر تک پیا ، پھر فرمایا: الحمد للہ اس کے بعد پھر بسم اللہ کہہ کر دیر تک پیا ، پھر فرمایا: الحمد للہ،پھر ارشاد فرمایا کہ ہم میں اور منافقوں میں یہی فرق ہے کہ وہ خوب سیر ہوکر اس کو نہیں پیتے۔ (اتحاف)

مسائل متفرقہ

مسئلہ: مریض معذور کو طواف کرانے کے لیے اجرت پر اٹھانا جائز ہے ۔ 

مسئلہ: اگر اٹھانے والے نے طواف کی نیت نہیں کی اور معذور بے ہوش نہیں تھا ، اس نے خود طواف کی نیت کرلی تو طواف ہوگیا ۔ اور اگر بیہوش تھا تو طواف نہیں ہوا۔ 

مسئلہ: طواف میں اگر عورت مرد کے ساتھ ہوجائے تو طواف فاسد نہیں ہوتا، نہ مرد کا نہ عورت کا ۔ 

مسئلہ: معذور جس کا وضو نہیں ٹھہرتا، چوں کہ اس کا وضو وقت تک رہتا ہے اور وقت کے نکلنے کے بعد وضو ٹوٹ جاتا ہے ، اس لیے ایسے آدمی کا اگر چار شوط کے بعد وقت نکل جائے تو دوبارہ وضو کرکے طواف پورا کرے اور اگر چار شوط سے کم ہی کیے تھے کہ وقت نکل گیا ، جب بھی وضو کرکے باقی شوط پورے کرسکتا ہے ، لیکن از سر نو طواف کرنا افضل ہے۔ 

مسئلہ: طواف کی جگہ جس کو مطاف کہتے ہیں ، خانہ کعبہ کے چاروں طرف اور مسجد حرام کے اندر اندر ہے، چاہے بیت اللہ سے قریب ہو یا بعید، اور چاہے ستون اور زمزم وغیرہ کو درمیان میں لے کر طواف کرے ، طواف ہوجائے گا۔ 

مسئلہ: اگر کوئی مسجد کی چھت پر چڑھ کر طواف کرے ، اگرچہ بیت اللہ سے اونچا ہوجائے، تب بھی طواف ہوجائے گا۔ 

مسئلہ: مسجد حرام سے باہر نکل کر اگر طواف کرے گا تو طواف نہ ہوگا۔ 

مسئلہ: اگر کوئی طواف میں حطیم کی دیوار پر چڑھ کر طواف کرے، تو طواف ہوجائے گا، لیکن مکروہ ہے۔ 

مسئلہ: طواف میں بالکل خاموش رہنا اور کچھ نہ پڑھنا بھی جائز ہے۔ 

مسئلہ: طواف میں دعا پڑھنا قرآن پڑھنے سے افضل ہے، لیکن دعا میں ہاتھ نہ اٹھائے۔ 

مسئلہ: طواف میں ناجائز امور سے نہایت اہتمام سے بچنا چاہیے ۔ لڑکوں اور عورتوں کی طرف نہ دیکھے اور فضول بات بھی نہ کرے۔ 

مسئلہ: اگر کوئی مسئلہ سے ناواقف ہو تو اس کو حقیر مت سمجھو ، اس کو نرمی سے مسئلہ بتادو۔ 

مسئلہ: عورتوں کو مردوں کے ساتھ مل کے طواف کرنا اور خوب دھکم دھکا کرنا جیسا کہ اکثر عورتیں آج کل کرتی ہیں ، حرام ہے۔ عورتوں کو رات یا دن کو ایسے وقت طواف کرنا چاہیے کہ مردوں کا ہجوم نہ ہو اور طواف میں مردوں سے جہاں تک ہوسکے علاحدہ رہنا چاہیے۔ 

مسئلہ: بادشاہ ، امرااور بڑے لوگ جب طواف کے لیے آتے ہیں، تو ان کے خدام اور ملازمین عام مسلمانوں کو روکتے ہیں اور مطاف سے باہر نکال دیتے ہیں، یہ ناجائز اور گناہ کی بات ہے۔

طواف کی دعائیں

طواف کی نیت دل سے کرے اور زبان سے یہ کہے:

اَلْلّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ طَوافَ بَیْتِکَ الْحَرامِ، فَیَسِّرْہُ لِیْ وَ تَقَبَّلْہُ مِنِّیْ۔ 

جس وقت ملتزم کے سامنے آئے تو یہ پڑھے:

الْلّٰھُمَّ اِیْمَاناً بِکَ وَ تَصْدِیْقَاً بِکِتَابِکَ وَ وَفَاء اً بِِعَھْدِکَ وَ اِتِّباعَاً لِسُنَّۃِ نَبِیِّکَ محمَّدٍ ﷺ ۔

اور جب حجر اسود سے آگے بڑھے اور دروازہ کے سامنے آئے تو یہ دعا پڑھے:

الْلّٰھُمَّ اِنَّ ھذا البیتَ بیتُک والحَرَمَ حرَمُکَ  والامنَ اَمَنُکَ و ھذا مقامُ العائِذِ بکَ مِنَ النَّارِ فاَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ۔

اور جب رکن شامی(شمالی مشرقی گوشہ) کے برابر آئے تو یہ دعا پڑھے:

الْلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوذُ بِکَ  من الشَّکِّ وا لشرْکِ والشِّقاقِ والنِّفاقِ و سُوئِ الاخلاقِ و سُوئِ المُنْقَلَبِ فی الاھْلِ والمالِ والوَلَدِ

اور جب میزاب رحمت (بیت اللہ کے پرنالے) کے برابر آئے تو یہ پڑھے:

الْلّٰھُمَّ اَظِلِّنِی تحتَ ظِلِّ عرْشِکَ یومَ لا ظِلَّ الَّا ظِلُّکَ ولا باقی الا وجْھُکَ و اسْقِنِیْ مِنْ حَوْضٍ نَبِِیََّکَ ﷺ شُرْبَۃً ھَنِیْئَۃً لا اَظْمَاُ بَعْدَھَا اَبَدَاً۔ 

اور جب رکن یمانی سے نکل جائے تو یہ دعا پڑھے:

رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ۔

یہ سب دعائیں سلف سے مروی ہیں جناب رسول اللہ ﷺ سے کوئی خاص دعا ثابت نہیں ہے کہ وہی دعا پڑھے اور دوسری نہ پڑھے۔ طواف کرتے ہوئے تلبیہ نہ کہے۔ جو دعا یاد ہو، وہی پڑھے اور جو ذکر چاہے، کرے۔ 

عن ابی ھریرۃ ان النبی ﷺ قال: من طافَ بالبیتِ سبعاً لایتکلمُ الا بـ سبحان اللّٰہ، والحمدُ للّٰہِ، ولا الٰہ الا اللّٰہُ، واللّٰہ اکبرُ، ولا حولَ ولا قوۃَ الا باللّٰہِ مُحِیتْ عنہ عشَرُ سیئاتٍ و کُتبَ لہ عشرُ حسناتٍ و رُفع لہ عشرُ درجات۔ (روہ ابن ماجہ)

حضرت ابو ہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ فرماتے ہیں کہ جو شخص خانہ کعبہ کا سات پھیرا طواف کرے اور اس میں سبحان اللہ، والحمدُ للہ، ولا الٰہ الا اللہ، واللہ اکبر، ولا حولَ ولا قوۃَ الا باللہ کے سوا کو ئی کلام نہ کرے، تو اس کے دس گناہ مٹائے جائیں گے۔ اور اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور اس کے دس درجے بلند کیے جائیں گے۔ 

اور رکن یمانی اور حجر اسود کے درمیان رسول اللہ ﷺ پڑھا کرتے تھے: 

رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِ۔

عن ابی ھریرۃ ان النبی ﷺ قال: و کل بہ سبعون ملکا یعنی الرکن الیمانی فمن قال: اللھم انی اسئلک  العفو والعافیۃ فی الدنیا والاٰخرۃ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّارِقالوا آمین۔ (رواہ ابن ماجہ)

حضرت ابوہریرہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے رکن یمانی پر ستر فرشتے متعین ہیں، جو شخص  اَلْلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃَ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْآخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّ قِنَا عَذَابَ النَّار کہتا ہے، تو فرشتے آمین کہتے ہیں۔ 

اور رسول اللہ ﷺ سے یہ پڑھنا بھی طواف میں ثابت ہے : 

الْلّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْئَلُکَ الرَّاحَۃَ عِنْدَ الْمَوتِ وَ الْعَفْوَ عِنْدَ الحِسَابِ۔ 

اور رکن یمانی پر پہنچ کر یہ پڑھنا بھی رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے:

الْلّٰھُمَّ اِنِّیْ  اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الُکُفْرِ والْفَاقَۃِ وَ مَواقِفِ الْخِزْیِ فِی الدُّنْیَا وَ الْاٰخِرَۃِ۔ 

اور ملتزم پر کھڑے ہوکر جو دعا چاہے مانگے، اس جگہ دعا قبول ہوتی ہے اور یہ دعا پڑھے:

الْلّٰھُمَّ رَبَّ ھَذَا البیْتِ العَتیقِ اَْعتِقْ رِقابَنا مِنَ النارِ و اَعِدْنَا مِنَ الشَّیْطانِ الرَّجِیْمِ وَ بارِکْ لنا فیما اعْطَیْنَا الْلّٰھُمَّ اجْعَلْنَا مِنْ اَکْرِمِ وَفْدِکَ عَلَیْکَ، الْلّٰھُمَّ لَکَ الْحَمدُ علیٰ نِعْمائِکَ وَ أفْضَلَ صَلَوتِکَ عَلٰی سَیِّدِ اَنْبِیَائِکَ وَ جَمِیْعِ رُسُلِکَ وَ أصْفِیَائِکَ وَ عَلیٰ اٰلِہ وَ صَحْبِہِ و اَوْلِیَائِکَ۔ 

طواف قدوم کے احکام

مسئلہ: طواف قدوم آفاقی کے لیے جو صرف حج کا احرام باندھے ہوئے ہو یا قران کا اس کے لیے سنت ہے ۔ متمتع مکی اور حلی کے لیے مسنون نہیں ہے۔ البتہ اگر مکی اور حلی میقات سے باہر جاکر مکہ آئے تو اس کے لیے بھی مسنون ہے ، جب کہ مفرد یا قارن ہو۔ عمرہ کرنے والوں پر طواف قدوم نہیں ہے۔ 

مسئلہ: طواف قدوم کا وقت مکہ میں داخل ہونے کے وقت سے وقوف عرفہ تک ہے۔ اگر وقوف عرفہ کرلیا اور طواف نہیں کیا تو اس کا وقت ختم ہوگیا۔ اس کے بعد طواف قدوم ساقط ہوگیا ۔ 

مسئلہ: آفاقی سیدھا عرفہ چلا جائے اور وقوف عرفہ کے بعد مکہ آئے تو اس سے طواف قدوم ساقط ہوجاتا ہے۔ 

مسئلہ: طواف قدوم پر قدرت کے باوجود طواف چھوڑ کرعرفات چلا گیا اور وہاں جاکر طواف قدوم کا خیال ہوا۔ اگر نویں کے زوال سے پہلے لوٹ کر طواف کرلیا تو طواف قدوم ہوگیا ، ورنہ طواف قدوم نہیں ہوا۔ 

مسئلہ: طواف قدوم کے بعد اگر صفا و مروہ کے درمیان سعی کا بھی ارادہ ہو تو اس طواف میں اضطباع اور تین شوط میں رمل بھی کرے ، ورنہ اضطباع و رمل نہ کرے۔ 

مسئلہ: مفرد کے لیے سعی طواف زیارت کے بعد افضل ہے اور قارن کے لیے طواف قدوم کے ساتھ سعی کرنا افضل ہے۔ اور جو شخص طواف زیارت سے پہلے حج کی سعی کرلے وہ طواف زیارت کے بعد نہ کرے۔

مسئلہ: وقوف عرفہ سے پہلے اگر کوئی نفلی طواف کرلیا اور طواف قدوم کی نیت نہیں کی، تو بھی طواف قدوم ہوگیا ۔ طواف قدوم کی خاص طور سے نیت کرنا ضروری نہیں ہے۔ 

صفا و مروہ کے درمیان سعی کرنے کا بیان

صفا و مروہ کے درمیان مخصوص طریقے سے سات چکر لگانے کا نام سعی ہے۔ سعی کے معنی دوڑنے کے ہیں۔ 

صفا ومروہ دو پہاڑیاں ہیں، جو مسجد حرام سے متصل ہیں۔اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : 

اِنَّ الصَّفا وَالْمَرْوَۃَ مِنْ شَعَائِرِ اللّٰہِ، فَمَنْ حَجَّ الْبَیْتَ اَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ أنْ یَّطُوَّفَ بِھِمَا و مَنْ تَطَوَّعَ خَیْرَاً فَاِنَّ اللّٰہَ شَاکِرٌ عَلِیْمٌ۔ 

بے شک صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ (کے دین) کی یادگاروں میں سے ہیں، سو جو شخص بیت اللہ کا حج کرے یا عمرہ تو اس پر ذرا بھی گناہ نہیں کہ ان دونوں کے درمیان سعی کرنے پر۔