6 Aug 2026

جمعیت علمائے ہند اور شام: ایک صدی کی ہمدردی و جدوجہد

جمعیت علمائے ہند اور شام: ایک صدی کی ہمدردی و جدوجہد 

محمد یاسین جہازی 

(خلاصہ)

جمعیت علمائے ہند اور شام کا تعلق محض ایک سیاسی یا جغرافیائی ہم آہنگی نہیں ، بلکہ ایک گہرا مذہبی، اخلاقی اور تاریخی رشتہ ہے ، جس کی بنیاد اسلامی اخوت اور مظلومین کی حمایت کے شرعی اصول پر ہے۔ یہ تعلق تقریباً ایک صدی پر محیط ہے ، اور اس کا آغاز پہلی جنگ عظیم کے بعد سلطنت عثمانیہ کی تقسیم اور شام کے فرانسیسی قبضے سے ہوتا ہے۔

جب پہلی جنگ عظیم11/نومبر1918ء کو ختم ہوئی، تو برطانیہ نے جنگ کے دوران ہندستانی مسلمانوں سے خلافت عثمانیہ کے تحفظ اور ہندستان کو سوراج دینے کے وعدے کیے تھے ، لیکن جنگ کے بعد برطانیہ نے اپنے وعدوں سے منھ موڑ لیا۔30/اکتوبر1918ء کو عارضی صلح کے بعد10/اگست1920ء کو معاہدہ سیورے کے ذریعے شام کو فرانس کے قبضے میں دے دیا گیا۔ چوں کہ شام خلافت عثمانیہ کا حصہ تھا، اس لیے اس تقسیم نے ہندستانی مسلمانوں میں شدید اضطراب پیدا کیا، جس کے نتیجے میں تحریک خلافت کا آغاز ہوا۔23/نومبر1919ء کو تحریک خلافت کا پہلا آل انڈیا اجلاس منعقد ہوا، اور اسی موقع پر علمائے کرام نے مسلمانوں کے لیے ایک متحد پلیٹ فارم کی ضرورت محسوس کی، جس کے نتیجے میں جمعیت علمائے ہند وجود میں آئی۔

ابتدائی دنوں میں ہی جمعیت علمائے ہند نے شام کے مسئلے کو اپنی ترجیحات میں شامل کر لیا۔ 19 سے21/نومبر1920ء کو شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندی کی صدارت میں دوسرے اجلاس عام میں اس شبہے کا قلع قمع کیا گیا کہ ہندستانی مسلمانوں کو شام کے مسلمانوں سے کیا واسطہ؟ مولانا محمود حسن نے واضح کیا کہ مسلمانوں میں باہمی نصرت و معاونت کوئی انسانی معاہدہ نہیں ؛ بلکہ خدائے قدوس کا قائم کردہ اور مذہبی احکام کا حصہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ جس طرح امریکہ والے یورپ میں اپنے معاہدوں کے تحت مدد کرتے ہیں ، اسی طرح مسلمانوں کو ان کا خدا اور رسول حکم دیتے ہیں کہ وہ اپنے دینی بھائیوں کی مدد کریں ، خواہ وہ کہیں کے رہنے والے ہوں ۔ اسی اجلاس میں مولانا شبیر احمد عثمانی نے فرمایا کہ عراق، شام، فلسطین اور تھریس کے کلمہ پڑھنے والے مسلمان ہماری جان و مال اور عزت و آبرو ہیں ، اور ان کی حمایت مذہبی فرض ہے۔ اس طرح جمعیت نے شام کے ساتھ یک جہتی کو مذہبی فریضہ قرار دیا۔

18سے20/نومبر1921ء کو تیسرے اجلاس عام میں امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد نے صدارتی خطاب میں کہا کہ ہمارا مطالبہ جزیرۃ العرب، فلسطین اور شام کے لیے ہے ، اور ان پر غیر مسلم اقتدار قبول نہیں ۔

24 سے26/دسمبر1922ء کے چوتھے اجلاس میں مولانا حبیب الرحمان عثمانی نائب مہتمم دارالعلوم دیوبند نے خلافت و سلطنت اسلامی کے برباد ہونے کے بعد شام سمیت عراق و فلسطین پر غیر مسلم تسلط کے خلاف دفاع کو مسلمانوں پر عائد ہونے والا فرض قرار دیا۔

29 دسمبر1923تا یکم جنوری1924ء کے پانچویں اجلاس میں مولانا حسین احمد مدنی نے شام کو جزیرۃ العرب کا حصہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ غیر مسلم اقتدار کو وہاں سے مکمل ختم ہونا چاہیے۔

جب1925ء میں فرانس نے شام پر اپنے مینڈیٹ کے تحت انتہائی جابرانہ پالیسیاں اپنائیں اور جبل الدروز میں مداخلت، جبری مشقت اور رہنماؤں کی گرفتاری کے خلاف شام کی عظیم بغاوت شروع ہوئی، تو فرانسیسی فوج نے18سے21/اکتوبر1925ء کے درمیان دمشق پر فضائی اور توپ خانے سے بم باری کی، جس میں تاریخی بازار اور رہائشی علاقے تباہ ہو گئے اور تقریباً1000سے1500شہری جاں بحق ہوئے۔ اسی طرح حماۃ پر بم باری اور السویداء پر حملے کیے گئے۔ ان مظالم پر جمعیت علمائے ہند نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔29/نومبر1925کو مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ-جو اس وقت جمعیت کے صدر تھے - نے وائسرائے ہندلارڈ ریڈنگ کو ایک تار بھیجا، جس میں انھوں نے برطانوی وزیراعظم کی اس تقریر پر شدید تعجب کا اظہار کیا ،جس میں کہا گیا تھا کہ فرانس کے مظالم پر اس لیے کوئی کارروائی نہیں کی جا سکتی، کیوں کہ برطانیہ کو بھی اپنی نوآبادیوں میں اسی قسم کی مشکلات کا سامنا ہے۔ مولانا کفایت اللہ صاحب نے وائسرائے کو متنبہ کیا کہ اگر برطانیہ فرانس کے ساتھ شامیوں کے خلاف اشتراک عمل کرے گا، تو ہندستان کے مسلمانوں میں عام بے چینی پیدا ہو جائے گی۔18سے21/جنوری1926میں مجلس عاملہ کی میٹنگ نے فرانس کے وحشیانہ مظالم پر دلی رنج و الم کا اظہار کیا اور شامی بھائیوں کو اپنی ہمدردی کا یقین دلایا۔

11 سے14/مارچ1926میں ساتویں اجلاس عام میں مولانا سید سلیمان ندوی صاحب ؒنے صدارت کرتے ہوئے شام اور دیگر عرب ممالک کے نوجوانوں پر یورپی تہذیب کے اثرات پر تنقید کی اور فرمایا کہ عراق و شام جزیرۃ العرب کے تکمیلی حصے ہیں ، اور برطانیہ و فرانس کو اپنے وعدوں کے مطابق ان سے نکل جانا چاہیے۔ انھوں نے شام کی موجودہ حالت کا تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ شامی احرار کا قتل عام ارمنوں کے قتل عام سے زیادہ روشن دنوں میں انجام دیا گیا ہے ، اور یورپ کو اپنی اس بربریت پر شرمانا چاہیے۔

3 /ستمبر1929ء کو فلسطین کی حمایت میں دہلی میں منعقدہ ایک عظیم جلسے میں مولانا ابوالکلام آزادؒ نے کہا کہ یورپی طاقتوں نے شام اور فلسطین کو اپنی قوت کے استحکام کے لیے چنا ہے ، اور یہودیوں کی حکومت قائم کرنے میں یہی راز مضمر ہے۔

دوسری جنگ عظیم کے دوران جمعیت علمائے ہند کا موقف مزید واضح ہوا۔7سے9/جون 1940 کے بارھویں اجلاس میں مولانا حسین احمد مدنی صاحبؒ نے فرمایا کہ ہندستان کی غلامی کی وجہ سے شام، مصر، فلسطین سب غلام ہیں ، اور ان کی آزادی ہندستان کی آزادی سے مشروط ہے۔25/جون1941کو مجلس عاملہ نے اعلان کیا کہ شام سمیت تمام اسلامی ممالک پر کسی اجنبی طاقت کا تسلط ناقابلِ قبول ہے ، اور مکمل آزادی کا مطالبہ کیا۔

20 سے22/مارچ1942کے تیرھویں اجلاس میں شام، عراق، ایران اور فلسطین کے نازک حالات پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ جب تک استعمار پسند طاقتیں اپنا تسلط نہیں اٹھائیں گی، مسلمان مطمئن نہیں ہوں گے۔

1945 میں جب فرانس نے شام اور لبنان میں اپنی نوآبادیاتی گرفت برقرار رکھنے کے لیے سخت فوجی کارروائی کی، جسے لیونٹ بحران کہا جاتا ہے ، اور29سے31/مئی1945کو دمشق پر توپ خانے اور فضائی حملے کیے ، جس میں تقریباً1000/افراد ہلاک ہوئے ، تو جمعیت علمائے ہند نے فوری ردعمل دیا۔2/جون1945ء کو مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے ایک پریس بیان میں فرانس اور برطانیہ کی مسلم کش پالیسی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شام، لبنان اور فلسطین میں جو کچھ ہو رہا ہے ، وہ ہندستان کی غلامی کا نتیجہ ہے۔ انھوں نے تمام اسلامی جماعتوں سے اپیل کی کہ وہ فوری احتجاجی جلسے کریں اور شام و لبنان کی مکمل آزادی، فلسطین کو یہودیوں کا وطن نہ بنانے اور مفتی اعظم فلسطین کی رہائی کا مطالبہ کریں ۔ 11/جون1945ء کو دہلی میں ایک عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا، جس میں فرانسیسی مظالم کی مذمت کی گئی اور شام و لبنان کی فوری آزادی کا مطالبہ کیا گیا، اور یہ واضح کیا گیا کہ عربی ممالک کے کسی حصے پر کسی بھی اتحادی طاقت کا انتداب عالم اسلام کے لیے ناقابلِ برداشت ہوگا۔

1967 ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران جمعیت علمائے ہند کی سرگرمیاں انتہائی نمایاں رہیں ۔ جب اسرائیل نے شام کو فوجی دھمکیاں دیں اور خلیج عقبہ کی ناکہ بندی پر کشیدگی بڑھی، تو23/مئی1967ء کو مولانا اسعد مدنی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے ایک بیان جاری کیا، جس میں عربوں کی حمایت کا اعلان کیا اور ملک گیر یوم احتجاج منانے کی اپیل کی۔ انھوں نے وزیراعظم اندرا گاندھی اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو برقیے بھیجے اور شام کے سفیر سے ملاقات کر کے ہر قسم کے تعاون کا یقین دلایا۔23/جولائی1967کو جمعیت نے عرب مظلومین کی امداد کے لیے ایک کانفرنس کا انعقاد کیا، جس میں شام کے سفیر کو25,000/روپے کا چیک پیش کیا گیا۔ اس موقع پر شام کے سفیر عمر ابو ریشہ نے ہندستانی عوام کے خلوص کو سراہا اور کہا کہ عربوں کو اگرچہ عارضی شکست ہوئی ہے ، لیکن حق ان کے ساتھ ہے اور آخری فتح انھی کی ہوگی۔ 24 /ستمبر1967کو امداد کی دوسری قسط کے طور پر شام کو مزید50,000/روپے دیے گئے۔

6 /جون1969ء کو جمعیت نے منعقدہ ایک اجلاس میں اسرائیل کے قبضے اور جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کے باوجود اسرائیل نے شام، اردن اور متحدہ عرب جمہوریہ کے علاقوں سے قبضہ نہیں ہٹایا اور اس کی جارحانہ سرگرمیاں جاری ہیں ۔ 23/نومبر1969ء کو جمعیت نے سفرائے عرب کو دعوت افطار دی، جس میں شام کے سفیر بھی شریک ہوئے۔

7/اکتوبر1973ء کو جب مصر اور شام پر اسرائیلی حملہ ہوا، تو مولانا سید احمد ہاشمی نے اس کی مذمت کی اور عربوں کی کامیابی کے لیے یوم دعا منانے کی اپیل کی۔1976میں جب شام نے لبنان کی خانہ جنگی میں فلسطینی گروہوں (پی ایل او) کے خلاف فوجی مداخلت کی اور13/اگست 1976کو تل زعتر کا قتل عام ہوا، تو جمعیت علمائے ہند نے20سے21/اگست1976میں مجلس عاملہ کی میٹنگ میں شام کی اس کارروائی کو سامراجی سازش کا حصہ قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور عرب اتحاد پر زور دیا۔ اور کہا گیا کہ ہزاروں فلسطینیوں ، بچوں اور عورتوں کو بے رحمی سے قتل کرنا فلسطینیوں کی خدمت نہیں ؛ بلکہ ان کے کاز کو نقصان پہنچانا ہے۔

26 سے27/دسمبر1981کو مجلس عاملہ نے اسرائیل کی توسیع پسندانہ عزائم کی مذمت کرتے ہوئے شام کی آزادی اور سالمیت کو خطرے میں نہ پڑنے دینے کا مطالبہ کیا۔

1982 میں شام کے شہر حماہ میں حافظ الاسد کی حکومت نے اخوان المسلمون کی پیش قدمی کو کچلنے کے لیے2/فروری سے28/فروری1982تک ایک سفاکانہ قتل عام کیا، جس میں  40,000 سے45,000/شہری ہلاک ہوئے اور88/مساجد تباہ ہوئیں ۔ یکم اور2/مئی 1982 اور پھر25سے26/نومبر1983کی مجلس عاملہ نے اس نسل کشی کو تاریخ کا سیاہ ترین باب قرار دیتے ہوئے سخت مذمت کی اور شامی حکومت کی مسلم دشمن کارروائیوں کی مذمت کرتے کہاکہ شامی حکومت اپنے ہی شہریوں پر جو مظالم ڈھارہی ہے ، ان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔

5/اکتوبر2003کو جب اسرائیل نے شام کے عین الصاحب کیمپ پر فضائی حملہ کیا، تو 6/اکتوبر2003کو جمعیت علمائے ہند نے اسے اشتعال انگیز اور مشرق وسطیٰ کے امن کے لیے تباہ کن قرار دیا۔

2011 میں 15/مارچ کو شام میں خانہ جنگی شروع ہونے کے بعد جمعیت علمائے ہند نے ہر سال اپنے اجلاسوں میں شام کی الم ناک صورت حال پر تشویش کا اظہار کیا۔19/مئی 2012 کے اجلاس میں حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب منصورپوری صدر جمعیت علمائے ہند نے شام کی حالت کو ناگفتہ بہ قرار دیا اور بتایا کہ قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری ہے۔12 / دسمبر2012اور29/اگست2013کی مجلس عاملہ نے شیعہ سنی کشیدگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے شامی حکومت سے مذاکرات اور تشدد بند کرنے کا مطالبہ کیا، اور غیر ملکی مداخلت کو مسئلہ کا حل نہیں قرار دیا۔24/مئی2014کے اجلاس عام میں بھی عالم اسلام ؛خاص طور پر شام کی صورت حال پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔16/مئی2015کے اجلاس میں بتایا گیا کہ اس وقت تک 300,000 /افراد ہلاک اور19,000,000بے گھر ہوچکے ہیں ، اور شہریوں کو خوراک، ادویات اور رہائش کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

2016 کے دوران شام کے حالات مزید ابتر ہوتے گئے۔27/فروری2016کو امریکہ اور روس کی سرپرستی میں جزوی جنگ بندی ہوئی؛ مگر زیادہ دیر برقرار نہ رہ سکی۔16/جولائی 2016کو شامی حکومت اور روسی افواج نے مشرقی حلب کا مکمل محاصرہ کر لیا اور22/ستمبر 2016سے مشرقی حلب پر شدید فضائی بم باری شروع ہوئی۔13/نومبر2016کے اجلاس عام میں حضرت مولانا قاری محمد عثمان صاحب منصورپوری نے کہا کہ شام مظلوم مسلمانوں کی قربان گاہ بنا ہوا ہے اور عالمی طاقتوں کی مداخلت سے مسئلہ مزید الجھتا جا رہا ہے۔ یکم دسمبر2016 کو مولانا محمود اسعد مدنی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرش کو خط لکھ کر حلب کے انسانی بحران پر فوری عملی اقدام کا مطالبہ کیا۔ 

22/دسمبر2016ء کو مشرقی حلب مکمل طور پر شامی حکومت کے قبضے میں آ گیا۔ بعد ازاں  2018میں جب شامی اور روسی افواج نے18/فروری2018کو مشرقی غوطہ پر وحشیانہ حملہ کیا اور18سے28/فروری2018کے دوران580/سے زائد شہری ہلاک ہوئے اور 400,000 افراد محاصرے میں پھنس گئے ، تو جمعیت علمائے ہند نے27/فروری2018 کو ایک پریس بیان میں اس حملے کی مذمت کی اور عالمی برادری سے اپیل کی کہ وہ محض مذمتی قراردادوں سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرے اور طبی و غذائی امداد کی راہ کھولے۔14/اپریل 2018کو مشرقی غوطہ بھی مکمل طور پر شامی حکومت کے قبضے میں آ گیا۔

28 سے29/مئی2022کو مجلس منتظمہ کے اجلاس میں ایک بار پھر شام اور یمن کی صورت حال پر دکھ اور قلق کا اظہار کیا گیا اور مسلم حکمرانوں سے بیدار مغزی اور دردمندی کے ساتھ حالات کے تقاضے پورے کرنے کی اپیل کی گئی۔

2023 میں جب6/فروری کو ترکیہ اور شام کے سرحدی علاقے میں 7.8شدت کا تباہ کن زلزلہ آیا، جس میں شام میں تقریباً6000/افراد ہلاک اور10,000/زخمی ہوئے اور لاکھوں بے گھر ہوئے، تو جمعیت علمائے ہند نے12/فروری2023کو اپنے چونتیسویں اجلاس عام میں متأثرین کے لیے گہرے دکھ اور صدمے کا اظہار کیا اور10,000,000/روپے کی امداد کا اعلان کیا۔اور زلزلہ متاثرین کے لیے دعا اور تعمیر نو کی اپیل بھی کی۔

یوں جمعیت علمائے ہند کی تاریخ شام کے ساتھ ایک مسلسل رشتے کی عکاس ہے ، جس میں جمعیت نے قیام سے لے کر آج تک شام کے عوام کی ہر مشکل میں ان کے ساتھ مذہبی، اخلاقی اور سیاسی ہمدردی کا اظہار کیا ہے ، خواہ وہ فرانسیسی استعمار کے خلاف جدوجہد ہو، عرب اسرائیل جنگیں ہوں ، حافظ الاسد کے مظالم ہوں ،2011کی خانہ جنگی ہو، یا2023کا زلزلہ۔ جمعیت کا موقف ہمیشہ یہ رہا ہے کہ شام کے مسلمان ہمارے دینی بھائی ہیں ، اور ان کی حمایت و نصرت مذہبی فرض ہے ، اور وہ عالمی برادری سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ شام کے مظلوموں کی آواز کو سنا جائے اور ان کے حقوق کا تحفظ کیا جائے۔