3 Aug 2026

سوڈان اور جمعیت علمائے ہند

 سوڈان

محمد یاسین جہازی

ہندستان کے غلام کی وجہ سے سوڈان بھی غلام ہے

ملک سوڈان کا پہلا تذکرہ جمعیت علمائے ہند کی تاریخ میں ، 7،8،9/ جون1940ئ کو منعقد بارھویں اجلاس عام کے خطبہ¿ صدارت میں ملتا ہے۔ صدر اجلاس حضرت مولانا حسین احمد مدنی صدر جمعیت علمائے ہند تحریر فرماتے ہیں کہ:

(و) مقاماتِ مقدسہ اور دیار عرب، مصر، شام، فلسطین، سوڈان، شمالی لینڈ وغیرہ، جن میں اسلامی Èبادی ہے اور ہندستان کی غلامی کی وجہ سے یہ سب غلامی کی بیڑیوں میں جکڑے گئے ہیں، Èزاد ہوسکیں گے۔

اس کے بعد 4تا7/ مئی 1945ئ کو منعقد ہونے والے چودھویں اجلاس عام کے خطبہ¿ صدارت حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہندلکھتے ہیں کہ: 

(ط) ممالک ترکیہ، مصر، سوڈان، الجیریا، تیونس، لیبیا وغیرہ کے مسلمان تمھاری غلامی کی وجہ سے ہر وقت خطرے میں ہیں ۔جب بھی کوئی موقع ہوتا ہے، ہندستان سے بے شمار فوج، بے شمار رسد، بے شمار ہتھیار لے جاکر کچل دیا جاتا ہے۔

بعد ازاں انیسویں اجلاس عام منعقدہ :27تا/ 29/اکتوبر 1956ئ میں صدر اجلاس حضرت شیخ الاسلام اختتامی خطاب میں فرماتے ہیں کہ:

 یہ ہندستان ہی تھا، جس کی غلامی کی بدولت انگریز بر ما، چین، ملایا، جاوا، سماترا، نیپال، افغانستان، ایران،مصر، افریقہ، عدن ،سوڈان،بحر ابیض کے کناروں پر واقع تمام ممالک پر چھایا ہوا تھا۔

تقریب استقبالیہ عالی القدر الفریق سید ابراہیم عبودصدر جمہوریہ سوڈان 

22/مئی 1964ئ کو جمعیت علمائے ہند کی طرف سے جمہوریہ سوڈان کے صدر جناب سید ابراہیم عبود کا استقبال کیا گیا اور انھیں سپاس نامہ بھی پیش کیا گیا۔ سپاس نامہ میں کہا گیا کہ:

محترم جناب! نہایت مسرت اور خوشی کے جذبات کے ساتھ جمعیت علمائے ہند کا یہ وفد آپ کو آج جمہوریہ ہند کے دارالحکومت میں خوش آمدید کہتا ہے، بطور ایک عظیم رہنما اور جمہوریہ سوڈان کے معزز سربراہ یہ وفد آپ کا خیرمقدم کرتا ہے، کیوںکہ آپ کی ہمارے ملک میں آمد ایک سچے دوست کی آمد ہے، جو ہمارے دونوں عظیم ممالک کے درمیان خوشگوار تعلقات کو فروغ دے گی اور انھیں مزید مضبوط بنائے گی۔

محترم جناب! جیسا کہ آپ بخوبی واقف ہیں، ہماری اس سرزمین پر آج 46/کروڑ انسان آباد ہیں۔ یہ لوگ، جو مختلف مذاہب کے ماننے والے ہیں، چند سال پہلے تک غیر ملکی حکمرانی کے خلاف آزادی کی جدوجہد میں شانہ بشانہ شریک رہے، اور آج اپنی مادرِ وطن کی تعمیر نو، بہتری اور وقار کے لیے مل کر کوشاں ہیں۔ خوش قسمتی سے ان کی قیادت ان کے محبوب، روشن خیال اور انسان دوست رہنما پنڈت جواہر لال نہرو کے ہاتھوں میں ہے، جنھوں نے دنیا کے چاروں کونوں سے ستائش حاصل کی ہے۔

محترم جناب! جمعیت علمائے ہندõ جو اس وقت آپ کا استقبال کرنے کی اپنی سب سے اہم ذمہ داری انجام دے رہی ہےõ ایک تاریخی اہمیت کی حامل تنظیم ہے، جو ہندستان کے پچاس ملین مسلمانوں کی نمائندگی کرتی ہے، اور اسلام کی تعلیمات کو اپنا رہنما بنا کر اسلام اور وطنِ عزیز کی خدمت میں مصروف ہے۔ شاہ ولی اللہ کے زمانے سے دہلی کے محدثین کے دور سے لے کر آج تک، جمعیت کی قیادت ہمیشہ غیر متزلزل ایمان اور گہرے قومی جذبات سے مضبوط رہی ہے۔ گزشتہ نصف صدی کے دوران اس کی قیادت ایسی عظیم اور باوقار شخصیات کے ہاتھوں میں رہی جیسے شیخ الہند مولانا محمودحسن، (مالٹا کے اسیر)، شیخ الاسلام مولانا حسین احمد مدنی، (مالٹا کے اسیر)، مفتی اعظم مولانا کفایت اللہ، امام الہند مولانا ابوالکلام آزاد،سحبان الہندمولانا احمد سعیداور مجاہدِ ملت مولانا حفظ الرحمان،جن کی قیادت میں جمعیت علمائے ہند نے تحریکِ آزادی میں عظیم قربانیاں پیش کیں۔

جمعیت علمائے ہند کے ہزاروں ارکان نے سامراجی ظلم و ستم کے ہاتھوں شہادت کا تاج پہنا، جلاوطن کیے گئے، قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور اپنی جائیدادوں سے محروم ہوئے؛ لیکن وہ ان کٹھن حالات میں بھی اپنے عزم پر ثابت قدم رہے اور اپنے آپ کو اس نبوی ارشاد کا عملی نمونہ ثابت کیا کہ ’’سب سے افضل جہاد ظالم حکمراں کے سامنے کلمہ¿ حق کہنا ہے۔‘‘

اسی جرأت اور حوصلے کے ساتھ جس کے تحت جمعیت نے آزادی کی جدوجہد میں حصہ لیا، آج بھی یہ تنظیم ملک کی تعمیر نو میں اپنا کردار ادا کر رہی ہے اور ہندستان کے جمہوری و سیکولر آئین کے تحت گزشتہ ہزار سالہ اسلامی ورثے کے تحفظ کی ذمہ داری نبھا رہی ہے۔

محترم جناب! اگرچہ تقسیم ہند کے بعد اس تنظیم کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا، تاہم اللہ پر ایمان کے ساتھ یہ ہر مشکل کا بہادری سے مقابلہ کر رہی ہے اور اپنے مخصوص اعتماد کے ساتھ ہندستانی مسلمانوں کے روشن مستقبل کے لیے اپنی محبوب مادرِ وطن میں کوشاں ہے۔

محترم جناب! اختتام پر ہم اپنی جانب سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور آپ کے توسط سے جمہوریہ سوڈان کے عوام کے لیے اپنی مخلصانہ اور پرخلوص نیک تمنا¶ں کا اظہار کرتے ہیں۔ ہمیں یہ اعزاز حاصل ہوا اور بے حد خوشی ہوئی کہ ہمیں سوڈان کے ممتاز ترین رہنما سے ملاقات کا موقع ملا۔

ہمیں اس بات پر بھی خوشی ہے کہ تحریک آزادی کے عظیم رہنما ڈاکٹر شوکت اللہ انصاریõ جو ہماری جماعت سے وابستہ رہے ہیںõ اس وقت جمہوریہ ہند کے سفیر کی حیثیت سے سوڈان میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ان کی گہری سیاسی بصیرت اور فہم و فراست ہی کا نتیجہ ہے کہ آج ہندستان اور سوڈان کے درمیان گہری دوستی قائم ہے اور باہمی خوشگوار تعلقات مزید فروغ پا رہے ہیں۔

جمہوریہ ہند اور جمہوریہ سوڈان کے درمیان خوشگوار تعلقات ہمیشہ قائم رہیں۔

ہم جمعیت علمائے ہند کے وفد کے ارکان کی حیثیت سے آپ کے مخلص خیر خواہ ہیں۔

(ریکارڈروم)

خرطوم عرب سربراہ کانفرنس سے جمعیت علمائے ہند کی اپیل

29 /اگست سے یکم ستمبر1967ئ تک سوڈان کے دارالحکومت خرطوم میں عرب لیگ کا چوتھا سربراہ اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اجلاس5تا10/جون 1967ئ کی عربõاسرائیل جنگ (چھ روزہ جنگ) میں عرب ممالک کی شکست کے بعد بلایا گیا، تاکہ آئندہ مشترکہ حکمتِ عملی طے کی جا سکے۔

اس اجلاس میں عرب ممالک نے باہمی اتحاد اور مشترکہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا عزم کیا۔اسرائیل کے قبضے میں جانے والے عرب علاقوں کی واپسی کے لیے مشترکہ سیاسی اور سفارتی کوششوں پر اتفاق کیا گیا۔اسرائیل کے بارے میں مشہور ’’خرطوم کی تین نفیاں (Three No's ) منظور کی گئیں:اسرائیل کے ساتھ صلح نہیں۔اسرائیل کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔اسرائیل کے ساتھ مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

مصر اور اردن جیسے جنگ سے متأثرہ عرب ممالک کی مالی و اقتصادی امداد کا فیصلہ کیا گیا، جس کے لیے بالخصوص سعودی عرب، کویت اور لیبیا نے مالی تعاون کی ذمہ داری قبول کی۔

یہ اجلاس عربõاسرائیل تنازع کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا، اور اس کے فیصلوں نے کئی برس تک عرب ممالک کی مشترکہ پالیسی کی بنیاد فراہم کی۔

23،24/ ستمبر1967ئ کو مجلس منتظمہ کے اجلاس کی تجویز نمبر(۹) میں اس اجلاس سے اپیل کی گئی کہ: 

جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس خرطوم (سوڈان )میں عرب سربراہوں کی حالیہ کا نفرنس کو عرب اتحاد کے لیے خوش آئند تصور کرتا ہے اور عرب ملکوں سے پر زور اپیل کرتا ہے کہ وہ اسرائیل کے ناجائز وجود کو ہمیشہ کے لیے ختم کرنے کے واسطے پورے طور پر متحد ہوجائیں اور خدا پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے وسائل اور اپنی توانائیوں کو جارحیت کے تمام نقوش ختم کرنے میں لگا دیں۔

سفرائے عرب کو دعوت افطار

23/ نومبر1969ئ کو جمعیت علمائے ہندنے دفتر جمعیت نئی دہلی میں سفرائے عرب کو افطار پر مدعو کیا۔ اس میں سفیرمتحدہ عرب جمہوریہ عزت مآب جناب امین حلمی، سفیر شام عمر ابو ریشہ، سفیر سعودی عرب شیخ انس یوسف یاسین، سفیر مراکش عبد اللہ عمران، سبراہ عرب لیگ نزار القاضی، اردن کے ناظم امور ڈاکٹر خالد رشیدات، سفیر سوڈان امین مجذوب عبدون کے علاوہ حکومت ہند کے وزیر صنعتی ترقیات جناب فخر الدین علی احمد اور کئی مسلم ممبران پارلیمنٹ شریک ہوئے۔

 (روزنامہ الجمعیۃ،25/ نومبر1969ئ)

آبادی و ترقی کانفرنس کی ملامت اور سوڈان کے موقف کی تائید

اقوام متحدہ کے زیر اہتمام آبادی و ترقی کی بین الاقوامی کانفرنس از5تا 13/ستمبر1994ئ مصر کے دارالحکومت قاہرہ میں ہوئی، جس میں179/ممالک نے شرکت کی۔ اس کانفرنس نے آبادی کے مسئلے کو انفرادی ضروریات اور انسانی حقوق کے تناظر میں دیکھا۔ خواتین کو بااختیار بنانے اور صنفی مساوات کو ترقی کی کلید قرار دیا۔ تولیدی صحت اور حقوق کو عالمی طور پر تسلیم کیا۔ پائیدار ترقی پر زور دیا، خاندان کو معاشرے کا بنیادی ستون کہا اور ترقی پذیر ممالک کے لیے مالی امداد بڑھانے کا مطالبہ کیا۔

اس کانفرنس نے آبادی اور ترقی کے حوالے سے عالمی سوچ کو انسانی حقوق اور پائیداری کی طرف موڑ دیا۔

اس کے بعد 23/ اکتوبر1994ئ کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، جس کی تجویز نمبر(۲) میں اس کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا گیاکہ

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس محسوس کرتا ہے کہ اقوام متحدہ õجو ایک بین الاقوامی ادارہ ہےõ مغرب کا خالص نمائندہ بن کر رہ گیا ہے۔ بوسنیا کے مظلوم اور بے سہارا لاکھوں مسلمانوں کی تباہی و بربادی کے باوجود اقوام متحدہ صرف طفلی تسلیاں دیتی رہی، جس سے اس کی غیر جانب داری کی مبینہ پالیسی کی حقیقت پہلے ہی بے نقاب ہوگئی تھی۔ ادھر گزشتہ 5سے 13/ ستمبر(1994ئ) تک اس کی زیر نگرانی مصر میں منعقد ’’بین الاقوامی آبادی و ترقی کانفرنس‘‘ نے تو اس کی مغرب نوازی اور اسلام دشمنی کو بالکل ہی عالم آشکارا کردیا۔’’ جنسی و تناسلی صحت‘‘ کے مبہم الفاظ کے پردہ میں مشرقی تہذیب و اسلامی معاشرت پر براہ راست حملہ صاف بتارہا ہے کہ یہ نام نہاد بین الاقوامی ادارہ یوروپ کے اشارے پر اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کیا کچھ نہیں کرسکتا۔ اس کانفرنس کی بیشتر قراردادیں مظہر ہیں کہ مغرب کی انسانیت کش وحشیانہ تہذیب کو مشرق پر لادنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ 

جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس اقوام متحدہ کی اس اسلام دشمن پالیسی کی پرزور مذمت اور اس کے اس مجرمانہ رویہ پر سخت نفرت کا اظہار کرتا ہے۔

مصر جو ایک طویل عرصہ تک عالم اسلام کی ذہنی و فکری بالیدگی میں اہم کردار ادا کرچکا ہے، اسلامی علوم و فنون کی نشرو اشاعت میں جس کے علما کا ایک نمایاں مقام رہا ہے، افسوس صد افسوس کہ وہی مصر آج اسلام کی بنیادوں کو متزلزل کرنے کے لیے مغربی طاقتوں کا آلہ¿ کار بنا ہوا ہے۔ حکومت مصر کی یہ ناعاقبت اندیشی باعث تشویش اور قابل مذمت ہے۔ 

مجلس عاملہ کا یہ اجلاس رابطہ¿ عالم اسلامی ، جامعہ ازہر اور مجمع الفقہ الاسلامی کے اس اقدام کو بہ نظر استحسان دیکھتا ہے کہ انھوں نے اقوام متحدہ کے بچھائے ہوئے اس دام صد رنگ سے بر وقت عالم اسلام کو متنبہ کرکے اسلام کی عظیم تر خدمت انجام دی ہے۔ جمعیت علمائے ہند ان اداروں کو اپنا ہر طرح کا تعاون پیش کرتی ہے  اور اس مسئلہ میں ان کے فیصلہ کی مکمل تائید کرتی ہے، نیز مملکت سعودیہ عربیہ ، جمہوریہ¿ عراق، سوڈان اور لبنان نے اسلام مخالف اس کانفرنس کا مقاطعہ کرکے جس اولو العزمی اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ لائق صد مبارک باد اور قابل تقلید ہے۔ آئندہ اس قسم کے مواقع پر دیگر مسلم ملکوں کو بھی اسی عزیمت پسند حکمت عملی کو اختیار کرکے اپنی اسلامی حمیت کا ثبوت دینا چاہیے۔

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد چہارم، ص/

سوڈان پر امریکی پابندی 

عراقی صدر صدام حسین کے خصوصی ایلچی اور عراقی قومی کونسل کے چیرمین ڈاکٹر سعدوون حمادی نے26/مئی 1998ئ کو جمعیت علمائے ہند کے صدر دفتر میںانھی کے لیے منعقد تقریب استقبالیہ میں خطاب کرتے ہوئے امریکی مظالم پر شدید نکتہ چینی کی اور کہا کہ عراق، لیبیا اور سوڈان پر پابندیاں عائد کر کے اس نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کسی مسلم ملک کو ابھرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔(ہفت روزہ الجمعیۃ،12-18 / جون 1998ئ

سوڈان پر امریکی بم باری بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی 

20/اگست1998ئ کو امریکہ نے سوڈان کے دارالحکومت خرطوم کے قریب واقع ’’الشفائ‘‘ دواسازی کی فیکٹری پر بم باری کی۔ یہ حملہ ’’آپریشن انفینیٹ ریچ‘‘ کے تحت کیا گیا، جس کا مقصد7/اگست1998ئ کو کینیا اور تنزانیہ میں امریکی سفارت خانوں پر ہونے والے بم دھماکوں کا جواب دینا تھا، جن کا الزام امریکہ نے اسامہ بن لادن پر لگایا۔ امریکہ کا موقف تھا کہ یہ فیکٹری بن لادن کے نیٹ ورک کو کیمیائی ہتھیار فراہم کر رہی تھی، تاہم بعد میں شدید تنقید ہوئی اور یہ دعویٰ کیا گیا کہ فیکٹری محض ادویات تیار کرتی تھی اور حملے کی معلومات مبینہ طور پر غلط تھیں، جس نے اس اقدام کو بین الاقوامی سطح پر متنازع بنا دیا۔

4/ستمبر1998ئ کوجاری ایک پریس بیان میںجمعیت علمائے ہند سوڈان پر ہوئے ان  امریکی حملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقومی قانون کی خلاف ورزی اور کھلی جارحیت قرار دیا۔ جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا اسعد مدنی نےõ جو اس وقت افریقی و مغربی ممالک کے دعوتی و تبلیغی دورے پر ہیںõنے کہا کہ کسی بھی آزاد اور خود مختار ملک پر حملہ، اس کے اقتدار اعلیٰ اور خود مختاری کی توہین اور قانون و آئیمن کے بجائے اپنی طاقت کا ناجائز استعمال ہے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ جمہوری دور میں امریکی اقدام ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کی شرم ناک مثال ہے۔ مولانا مدنی نے کہا کہ مغربی ممالک کے عوام کا عمومی تأثر ہے کہ ایسے وقت میں افغانستان اور سوڈان پر بم باری کرنا، جب کہ امریکی صدر مختلف طرح کے جنسی معاملے میں پھنسے ہوئے ہیں اور مقبولیت میں تیزی سے کمی آر ہی ہے ،سے توجہ ہٹانے کی مذموم کوشش ہے۔ 

مولانا مدنی نے کہا کہ امریکہ پولیس مین کا رول ادا کر رہا ہے، اور ہر ملک میں اپنی پسند کا اور مفاد کے مطابق نظام حکومت رائج کرنا چاہتا ہے۔ اس نے عمدا سرب ظالموں کے ہاتھوں بوسنیائی عوام کا قتل عام کرایا۔ ترکی اور الجزائر میں جمہوریت کشی اور اسرائیل کے جابرانہ عمل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ صدر جمعیت نے زور دے کر کہا کہ سوڈان اور افغانستان میں امریکہ نے جو مذموم بم باری کی ہے، وہ دہشت گردی کے نام پر مختلف ممالک میں جاری تحریک حریت اور مجاہدین کو دبانے کی منصوبہ بند کوششوں کا ایک حصہ ہے۔ مولانا مدنی نے مزید کہا کہ دہشت گردی بہرحال غلط اور قابل نفرت و مذمت ہے، چاہے عوامی سطح پر ہو، یا حکومتی سطح پر اور امریکہ نے جوکچھ لیبیا،سوڈان اور افغانستان میں کیا ہے، وہ بھی دہشت گردی ہے۔ اگر افغانستان سوڈان میں دہشت گرد ہیں، تو اس سلسلے میں وہاں کی حکومت اور بر سراقتدار گروپ سے بات چیت کرنی چاہیے۔ اس طرح کے معاملات سے نمٹنے کے لیے بین الا قوامی قانون موجود ہے۔ مولانا مدنی نے متنبہ کیا کہ اگر دنیا کے خود مختار ممالک نے امریکہ اور اس کے حلیف ممالک کے غلط اقدامات کا متحدہو کر مقابلہ نہیں کیا، تو دیگر ممالک کے اقتدار اعلیٰ اور خود مختاری کے تحفظ کے لیے سنگین مسائل پیدا ہو جائیں گے۔

 مولانا مدنی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ نماز میں قنوت نازلہ کا اہتمام کریں۔

 (ہفت روزہ الجمعیۃ،4-10/ستمبر1998ئ)

سال و ہجری آغاز تقریب کا انعقاد

جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام میرڈین ہوٹل میں اسلامی سال کے Èغاز اور سنہ ہجری کے تعلق سے 28/مارچ 2001ئ کو ایک پرقار تقریب منعقد ہوئی۔

 اس تقریب میں سعودی عرب، مصر، ایران، عراق، سوڈان، لبیا، ملیشیا وغیرہ بیرون ممالک کے سفیروں، کونسلروں اور نمائندوں کے علاوہ ملک کی دیگر بہت سی دینی اور سیاسی مؤقر و مقتدر شخصیات شریک ہوئیں۔ شرکا میں سے منموہن سنگھ، غلام نبی Èزاد، م افضل، جسٹس قریشی، عزیز برنی، ڈی Èر گوئل، ڈاکٹر سیّد فاروق احمدکے اسما خاص طور سے قابل ذکر ہیں۔

 مصر اور سوڈان کے سفیر نے اپنے ملک اور اپنی طرف سے جمعیت علمائے ہند کو اس کے لیے مبارک باد دی کہ اس نے اس مبارک تقریب کا انعقاد کیا۔

(ہفت روزہ الجمعیۃ،6-12/ اپریل2001ئ)

امریکہ سوڈان وغیرہ ممالک میں انصاف کا تقاضا پورا کرے

مجلس عاملہ منعقدہ: 27،28/ ستمبر2001ئ کی ایک طویل تجویز نمبر(۱) میں دہشت گردی کی سخت مذمت کی گئی ۔ اسی تجویز کے ایک پیراگراف میں کہا گیا کہ:

مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس امریکہ سمیت عالمی برادری سے یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ اسرائیل ، فلسطین، چیچنیا، سوڈان، عراق اور دیگر مقہور ممالک کے سلسلے میں انسانیت و انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے اور فرقے ، مذہب کی بنیاد پر دہشت گردی کی الگ الگ تعریف نہ کرے۔ دہشت گردی، دہشت گردی ہے ، چاہے وہ کوئی فرد کرے یا تنظیم یا سرکار کرے۔

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد چہارم، ص/

عید ملن تقریب سفیر سوڈان کی شرکت

 لی میریڈین ہوٹل میں 29/نومبر2003ئ کو عید ملن کی تقریب منعقد ہوئی، جس میں سیاسی، سماجی شخصیتوں اور مختلف ممالک کے سفرا اور قونصلروں نے شرکت کی۔ تقریب کا افتتاح کرتے ہوئے جمعیت علمائے ہند کے صدر محترم امیر الہند حضرت مولانا سیّد اسعد مدنی دامت برکاتہم نے عید کے مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے انسانی مساوات اور باہمی محبت و رواداری کی سماجی اہمیت کو اجاگر کیا۔ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس جناب احمدی، مذاکرات کار جرمنی برائے عالم اسلام ڈاکٹر سوگر ملک، سفیر سوڈان اور دیگر حضرات نے بھی عید مبارک کے تعلق سے انسانی رشتوں پر اظہارِ خیال کیا۔ (ہفت روزہ الجمعیۃ،12-18/ دسمبر2003ئ)

سوڈانی صدر کو عالمی عدالت میں مجرم بنانے کی کوشش

14/جولائی2008ئ کو ICC پراسیکیوٹر نے دارفور کے جرائم پر عمر البشیر کی گرفتاری کی درخواست دائر کی۔4/مارچ2009ئ کو پہلا وارنٹ اور12/جولائی2010ئ کو دوسرا وارنٹ (نسل کشی سمیت) جاری ہوا۔ بعد ازاں 14/دسمبر2019ئ کو سوڈان کی عدالت نے کرپشن میں دو سال بحالی مرکز کی سزا سنائی۔

9/ نومبر2008ئ کو منعقد انتیسویں اجلاس عام کے خطبہ¿ صدارت میں حضرت مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری صدر جمعیت علمائے ہندنے سوڈان کے ان حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے فرمایاکہ:  

 سوڈانی صدر کو عالمی عدالت سے مجرم قرار دلانے کے علاوہ وہاں صیہونی طاقتوں کے توسط سے باغیوں کو مسلح کرکے ملک میں انتشار اور بدامنی پھیلانے کی کوششوں سے امریکہ اور اس کے حلیفوں کا مقصد بالکل واضح ہوگیا ہے کہ ترقی پذیر ممالک؛ خصوصاً مسلم ممالک کو اُبھرنے کا موقع کسی قیمت پر نہ دیاجائے اور ان کے معدنیاتی ذخائر اور قدرتی وسائل کا استعمال اپنے لیے کرنے کا ہر وہ طریقہ اپنایا جارہا ہے، جس کی آج کی جمہوری اور مہذب دور میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ترقی پذیر ممالک اور جو ناوابستہ تحریک سے جڑے ہوئے ہیں اور وہ تمام امن پسند ممالکõجو امن وترقی کے خواہاں ہیںõ امریکہ اور اس کے حلیفوں کی جارحیت کا مقابلہ متحدہ طور پر کرنے کے لیے آگے آئیں۔

سوڈان پر عائد پابندیوں سے معاشی حالت خراب ہے

بعد ازاں 16/ مئی 2015ئ کو بتیسواں اجلاسِ عام ہوا۔ اس کے صدارتی خطاب میں  حضرت مولانا قاری سیّد محمد عثمان صاحب منصورپوری صدر جمعیت علمائے ہند نے فرمایاکہ: 

 گرچہ سوڈان میں بظاہر پہلے کی سی بحرانی کیفیت نظر نہیں آرہی ہے، وہاں کے حالیہ انتخابات میں عمر البشیر پھر اقتدا رمیں آگئے ہیں،لیکن داخلی و خارجی کشمکش جاری ہے ۔ چوں کہ انتخاب میں کوئی مضبوط اپوزیشن پارٹی تھی اور نہ کوئی لیڈر،اس کے باوجود کہ عمر البشیر نے یورپی یونین اور مغربی ممالک کوکسی حد تک مطمئن کردیا ہے اور عرب ممالک خصوصا سعودی عرب کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کی کوشش کی ہے۔تاہم سوڈان پر عائد پابندیوں کے سبب ملک کی اقتصادی حالت اب بھی خراب ہے،دوسری طرف سیاسی محاذ اورمسلح جدوجہد کا محاذابھی بھی قائم ہے ۔ جنوبی کردفان میں انتخابات نہیں ہوئے ہیں اور وہاں سوڈان پیپلز لیبریشن آرمی نارتھ کا قبضہ ہے،ایسی صورت حال میں کشمکش کے حالات بنے ہوئے ہیں۔

بعد ازاں اس اجلاس کی تجویز نمبر(۵۱) عالم اسلام کے مسائل پر اپنے موقف کو اظہار کرتے ہوئے سوڈان کے متعلق کہا گیا کہ:

سوڈان میں بظاہر پہلے جیسی بحرانی کیفیت نظر نہیں آرہی ہے ،لیکن سوڈان پرعائد پابندیوں کے سبب ملک کی اقتصادی حالت بہت خراب ہے۔

(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص/

خلاصہ

سوڈان کے بارے میں جمعیت علمائے ہند کا موقف: جامع خلاصہ

جمعیت علمائے ہند کی تاریخ میں سوڈان کا پہلا ذکر7تا9/جون1940ئ کے بارھویں اجلاسِ عام کے صدارتی خطبے میں ملتا ہے، جہاں حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے سوڈان سمیت عرب و اسلامی ممالک کی غلامی کو ہندستان کی غلامی سے جوڑا۔ بعد ازاں4تا7/مئی1945ئ کے چودھویں اجلاسِ عام میں بھی انھوں نے مصر، سوڈان، الجزائر، تیونس اور لیبیا کے مسلمانوں کی حالتِ زار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان کی غلامی سے انگریز ان ممالک کو دبانے کے لیے فوج اور وسائل استعمال کرتے ہیں۔ پھر27تا29/اکتوبر1956ئ کے انیسویں اجلاسِ عام میں شیخ الاسلام نے کہا کہ برطانیہ کی عالمی طاقت کا بڑا سبب ہندستان کی غلامی تھی، جس کے ذریعے مصر، سوڈان اور افریقہ کے دیگر علاقوں پر غلبہ قائم رکھا گیا۔

آزادی کے بعد جمعیت نے سوڈان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو بھی اہمیت دی۔22/مئی 1964ئ کو جمعیت علمائے ہند نے نئی دہلی میں جمہوریہ سوڈان کے صدر الفریق سید ابراہیم عبود کا شان دار استقبال کیا اور سپاس نامہ پیش کیا، جس میں ہندستان و سوڈان کی دوستی، نوآبادیاتی جدوجہد اور باہمی تعاون کو سراہا گیا۔

عربõاسرائیل تنازع کے سلسلے میں29/اگست تا یکم ستمبر1967ئ خرطوم (سوڈان) میں عرب لیگ کا چوتھا سربراہ اجلاس منعقد ہوا۔ یہ اجلاس5تا10/جون1967ئ کی چھ روزہ جنگ میں عرب ممالک کی شکست کے بعد بلایا گیا تھا۔ اس میں عرب اتحاد، مقبوضہ عرب علاقوں کی واپسی اور اسرائیل کے بارے میں مشہور ’’تین نفیاں‘‘ (نہ صلح، نہ تسلیم، نہ مذاکرات) منظور کی گئیں، جب کہ مصر اور اردن کی مالی امداد کا بھی فیصلہ ہوا۔ اس کے بعد23õ24/ستمبر 1967ئ کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ نے ایک قرارداد کے ذریعے عرب ممالک سے مکمل اتحاد کی اپیل کی، تاکہ اسرائیل کے ناجائز قبضے کا مقابلہ کیا جا سکے۔

بعد کے برسوں میں بھی سوڈان جمعیت کی سرگرمیوں میں شامل رہا۔23/نومبر1969ئ کو دفتر جمعیت، نئی دہلی میں سفرائے عرب کے اعزاز میں افطار دی گئی، جس میں سوڈان کے سفیر بھی شریک ہوئے۔

اقوام متحدہ کی بین الاقوامی آبادی و ترقی کانفرنس5 تا13/ستمبر1994ئ قاہرہ (مصر) میں منعقد ہوئی، جس میں179/ممالک شریک ہوئے۔ کانفرنس میں تولیدی صحت، خواتین کے حقوق، صنفی مساوات اور پائیدار ترقی پر زور دیا گیا۔ جمعیت علمائے ہند نے23/اکتوبر 1994ئ کی مجلس عاملہ میں اس کانفرنس کی بعض قراردادوں کو اسلامی معاشرت کے خلاف قرار دیتے ہوئے شدید مذمت کی اور سعودی عرب، عراق، سوڈان اور لبنان کی طرف سے اس کانفرنس کے بائیکاٹ کی تائید کی۔

امریکہ کی سوڈان پالیسی کے خلاف بھی جمعیت نے واضح موقف اختیار کیا۔26/مئی 1998ئ کو عراقی رہنما سعدون حمادی نے جمعیت کے صدر دفتر میں خطاب کرتے ہوئے عراق، لیبیا اور سوڈان پر امریکی پابندیوں کو مسلم ممالک کے خلاف پالیسی قرار دیا۔ پھر20/اگست 1998ئ کو امریکہ نے خرطوم کے قریب ’’الشفائ‘‘ دوا ساز فیکٹری پر بم باری کی۔ اس کے جواب میں جمعیت نے4/ستمبر1998ئ کے پریس بیان میں اس حملے کو بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی اور کھلی جارحیت قرار دیا، اور مولانا اسعد مدنیؒ نے اسے طاقت کے ناجائز استعمال کی مثال کہا۔

28/مارچ2001ئ کو اسلامی سالِ ہجری کے آغاز کی تقریب میں سوڈان سمیت کئی مسلم ممالک کے سفرا شریک ہوئے، جب کہ27õ28/ستمبر2001ئ کی مجلس عاملہ نے دہشت گردی کی مذمت کے ساتھ امریکہ سے مطالبہ کیا کہ سوڈان، فلسطین، عراق اور دیگر مظلوم ممالک کے بارے میں انصاف پر مبنی رویہ اختیار کیا جائے۔29/نومبر2003ئ کی عید ملن تقریب میں بھی سوڈان کے سفیر شریک ہوئے۔

دارفور کے بحران کے پس منظر میں14/جولائی2008ئ کو آئی سی سی پراسیکیوٹر نے صدر عمر البشیرکے خلاف درخواست دائر کی،4/مارچ2009ئ کو پہلا اور12/جولائی2010ئ کو دوسرا وارنٹ جاری ہوا۔ اس سے قبل9نومبر/ 2008ئ کے انتیسویں اجلاسِ عام میں مولانا قاری محمد عثمان منصورپوری نے کہا کہ سوڈان کے خلاف عالمی کارروائیاں دراصل مسلم اور ترقی پذیر ممالک کو کمزور رکھنے کی کوشش ہیں۔

آخر میں16/مئی2015ئ کے بتیسویں اجلاسِ عام اور اس کی قرارداد نمبر(۵۱)میں جمعیت نے کہا کہ اگرچہ سوڈان میں پہلے جیسی شدید بحرانی کیفیت نہیں رہی، لیکن بین الاقوامی پابندیوں، سیاسی کشمکش اور مسلح تنازعات کے باعث اس کی معاشی حالت اب بھی خراب ہے، اور عالم اسلام کے مسائل کے ضمن میں سوڈان کے استحکام کی ضرورت پر زور دیا گیا۔

خلاصہ¿ کلام یہ ہے کہ جمعیت علمائے ہند نے1940 سے2015ئ تک مختلف مواقع پر سوڈان کے مسئلے کو عالمِ اسلام، استعمار مخالف جدوجہد، عرب اتحاد، فلسطین کے دفاع، مغربی دبا¶ کے خلاف مزاحمت اور مسلم ممالک کے حقوق کے تناظر میں دیکھا۔ جمعیت نے ایک طرف سوڈان کی آزادی، خودمختاری اور معاشی استحکام کی حمایت کی، اور دوسری طرف خرطوم کانفرنس، امریکی پابندیوں، آبادی و ترقی کانفرنس، دارفور بحران اور عالمی سیاسی دبا¶ جیسے اہم مواقع پر اپنا واضح موقف بھی پیش کیا۔