عراق اور جمعیت علمائے ہند
(خلاصہ)
محمد یاسین جہازی
عراق اور جمعیت علمائے ہند: ایک تاریخی جائزہ
پہلی جنگ عظیم(1914ئتا1918ئ) کے دوران جب ترکی نے جرمنی کا ساتھ دیا، تو بھارتی مسلمانوں کو یہ اندیشہ لاحق ہوا کہ برطانیہ فتح کے بعد سلطنتِ عثمانیہ، خلافت اور مسلمانوں کے مقدس مقامات کو نقصان پہنچائے گا۔ اسی خدشے کے پیش نظر برطانیہ سے وعدے لیے گئے کہ مسلمانوں کے مقاماتِ مقدسہ محفوظ رہیں گے اور خلافت کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا، اور برطانیہ نے 2/نومبر، 20/اپریل1915ئ اور5/جنوری1916ئ کو مختلف اعلانات کے ذریعے یقین دہانی بھی کرائی؛ لیکن جنگ کے بعد ان وعدوں کی خلاف ورزی کی گئی۔ 30/اکتوبر1918ئ کو مدروس کی عارضی صلح کے بعد عراق سمیت عثمانی علاقوں پر اتحادی طاقتوں کا قبضہ مضبوط ہوگیا، اور10/اگست1920ئ کے معاہدہ¿ سیورے کے تحت عراق کو باقاعدہ برطانیہ کے زیرِ اقتدار دے دیا گیا۔ جمعیت علمائے ہند کے نزدیک یہ مسئلہ محض سیاسی نہیں؛ بلکہ تحفظِ خلافت کا بنیادی حصہ تھا، چنانچہ جب لندن کی صلح کانفرنس(12/فروری تا10/اپریل1920ئ) میں بھی خلافت کے مطالبات تسلیم نہ ہوئے، تو 6/ستمبر1920ئ کو جمعیت نے کلکتہ کے خصوصی اجلاس میں برطانیہ سے ترکِ موالات کی تجویز منظور کی۔ اسی سلسلے میں19،20،21/نومبر1920ئ کے دوسرے اجلاسِ عام میں شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے اپنے خطبہ¿ صدارت میں عراق کو خلافت اور اسلامی مقدسات کا مسئلہ قرار دیا اور مولانا شبیر احمد عثمانیؒ نے عراق، شام، فلسطین اور قسطنطنیہ کے مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کا ذکر کیا۔ پھر18،19،20/نومبر1921ئ کے تیسرے اجلاسِ عام میں مولانا ابوالکلام آزادؒ نے واضح کیا کہ عراق کا دو تہائی حصہ، خصوصاً بصرہ اور بغداد، جغرافیائی اعتبار سے جزیرۃ العرب میں شامل ہے، اس لیے جب تک وہاں برطانوی اقتدار باقی رہے گا، مسلمانوں کے لیے برطانیہ سے صلح ناقابلِ قبول ہوگی۔ اسی موقف کو22/مارچ1922ئ کی مجلس عاملہ نے باقاعدہ مطالبے کی صورت دی کہ فلسطین، شام، عراق، عرب، حجاز، نجد اور یمن کو خلیفۃ المسلمین کے زیرِ اقتدار اندرونی آزادی دی جائے، اور18،19،20/اکتوبر1922ئ کی مجلس منتظمہ نے اعلان کیا کہ مطالبہ¿ خلافت خالص مذہبی مطالبہ ہے، جس میں کمی کی گنجائش نہیں۔ 24تا26/دسمبر1922ئ کے چوتھے اجلاس میں مولانا حبیب الرحمان عثمانیؒ نے عراق، شام اور فلسطین کے دفاع کو مسلمانانِ ہند پر فرض قرار دیا۔ 7/نومبر1923ئ کو جمعیت تبلیغیہ نے یہ فیصلہ کیا کہ چوں کہ بغداد میں عیسائی، آریہ اور مرزائی جماعتیں عربی ٹریکٹ شائع کررہی ہیں، اس لیے جواباً عربی ٹریکٹ تیار کرکے عراق بھیجے جائیں، جس کے لیے مولانا انور شاہ کشمیریؒ نے وعدہ فرمایا۔ اس کے بعد29/دسمبر1923ئ تا یکم جنوری1924ئ کے پانچویں اجلاس عام میں مولانا حسین احمد مدنیؒ نے فرمایا کہ حجاز، یمن، عراق، شام اور فلسطین سب جزیرۃ العرب میں داخل ہیں، اس لیے ان تمام مقامات کو غیر مسلم اقتدار سے پاک رکھنا مسلمانوں کا فریضہ ہے۔ 6/اکتوبر1925ئ کو جمعیت کے صدر مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ نے برطانوی کمیشن کی طرف سے عراق کی حدود کی تعیین کی مخالفت کی، اور16/دسمبر1925ئ کو جب لیگ آف نیشنز نے موصل کو عراق کا حصہ قرار دیتے ہوئے برطانوی مینڈیٹ مزید25/سال بڑھادیا، تو مولانا احمد سعید صاحبؒ نے اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ 18تا21/جنوری1926ئ کی مجلس عاملہ نے اس فیصلے کو ترکوں کے حق پر ڈاکہ قرار دیا، اور11تا14/مارچ1926ئ کے ساتویں اجلاس عام میں مولانا سید سلیمان ندویؒ نے عراق و شام کو جزیرۃ العرب کا تکمیلی حصہ قرار دیتے ہوئے برطانیہ کے سازشی معاہدوں پر شدید تنقید کی۔
اس کے بعد3،4،5،6/مارچ1939ئ کے گیارھویں اجلاس عام میں ڈاکٹر شوکت اللہ شاہ انصاری اور مولانا سید عبدالحق مدنیؒ نے عراق، یمن، شام اور فلسطین کی استعمار سے آزادی کی کوششوں کا ذکر کیا۔ دوسری جنگِ عظیم کے دوران25/جون1941ئ کو مجلس عاملہ نے ایک بیان جاری کیا، جس میں عراق سمیت اسلامی ممالک کی مکمل آزادی کا مطالبہ کرتے ہوئے کسی بھی اجنبی طاقت کے اقتدار کو ناقابلِ برداشت قرار دیا۔ 20،21،22/مارچ1942ئ کے تیرھویں اجلاس عام میں مولانا حسین احمد مدنیؒ نے عراق اور ایران پر برطانوی قبضے کا ذکر کیا اور بتایا کہ کیسے راشد علی جیلانی کے معاہدے کی پابندی کے مطالبے پر برطانیہ نے عراق پر ہی قبضہ کرلیا۔ 11/جون1945ئ کو دہلی کی جامع مسجد میں منعقدہ زبردست احتجاجی اجلاس میں مولانا محمد حفظ الرحمان نے شام، لبنان، الجزائر، مراکش، فلسطین اور عراق پر یورپی حکومتوں کے انتداب کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے فوری آزادیِ کامل کا مطالبہ کیا۔ 27تا29/اپریل1951ئ کے سترھویں اجلاس عام کے موقع پر شاہی عراقی سفارت خانے سے پیغام موصول ہوا، اور27تا29/اکتوبر1956ئ کے انیسویں اجلاس عام کے لیے بغداد کے م¶تمر اسلامی کے نائب صدر شیخ محمد محمود صواف کا تہنیتی پیغام آیا۔ 15تا17/اپریل1966ئ کے بائیسویں اجلاس عام میں عراقی صدر فیلڈ مارشل عبدالسلام محمد عارفؒ کی وفات پر رنج و الم کا اظہار کیا گیا۔
1973ئ میں عرب-اسرائیل جنگ(یومِ کپور جنگ) میں عراق و کویت کے اسرائیل کے خلاف شامل ہونے پر7/اکتوبر1973ئ کو جمعیت نے مصر اور شام پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی، اور12/اکتوبر1973ئ کو جامع مسجد دہلی میں عظیم الشان جلسہ منعقد ہوا، جس میں عراقی سفیر ڈاکٹر عبداللہ سلوم نے تفصیلی خطاب کیا۔ 25/نومبر1973ئ کے عرب حمایت کنونشن میں سفیر عراق ڈاکٹر عبداللہ سلیم سامرائی نے تیل کو مؤثر ہتھیار قرار دیا اور ہندستان کی حمایت پر شکریہ ادا کیا۔ 16،17،18/فروری1979ئ کی کل ہند اوقاف کانفرنس نے عراق کے مقدس شہروں میں ہندستانی مسافرخانوں میں زائرین کو سہولت نہ ملنے کا مسئلہ اٹھایا۔
22/ستمبر1980ئ کو شط العرب کے سرحدی تنازع، 1975ئ کے الجزائر معاہدے کی منسوخی، ایرانی اسلامی انقلاب کے پھیلا¶ کے خدشے اور علاقائی بالادستی کی خواہش کے پیشِ نظر عراق نے ایران پر حملہ کرکے آٹھ سالہ ایران-عراق جنگ کا آغاز کیا۔ یکم اکتوبر1980ئ کو مجلس عاملہ نے دونوں ممالک سے جنگ بندی کی اپیل کی۔ 7/جون1981ئ کو اسرائیل نے عراق کی اوسیرک ایٹمی تنصیب پر حملہ کیا، جس کی15،16/جون1981ئ کی ہنگامی مجلس عاملہ نے سخت مذمت کی، اور9،10/اگست1981ئ کی تجویز میں اسے اقوامِ متحدہ کے چارٹر کی پامالی قرار دیا۔ 26،27/دسمبر1981ئ کی مجلس عاملہ نے ایران کی طرف سے پندرہ سو عراقی جنگی قیدیوں کے قتل(خفاجیہ واقعہ) کی مذمت کی۔ 14تا17/اپریل1983ئ کو بغداد میں پہلا عالمی موتمر منعقد ہوا، جس میں مولانا اسعد مدنی صاحبؒ نے ہندستانی وفد کی قیادت کی؛ اسی دوران23/اپریل1983ئ کو روزنامہ الجمعیۃ میں یو این آئی کے حوالے سے ایک غلط خبر شائع ہوئی کہ مولانا اسعد مدنیؒ نے آسام فسادات کے حوالے سے حکومت ہند کو بری الذمہ قرار دیا، جس پر8،9/مئی1983ئ کی مجلس عاملہ نے ایڈیٹر ناز انصاری کو معطل کیا، جو بعد میں11/جون1984ئ کو دوبارہ بحال کیے گئے۔ 25،26/نومبر1983ئ کی مجلس منتظمہ اور6،7،8/اپریل1984ئ کی تعلیمی و ملی کانفرنس نے ایران کی ہٹ دھرمی پر افسوس کرتے ہوئے جنگ بندی کی اپیل دہرائی۔ 22تا25/اپریل1985ئ کو بغداد میں دوسری عوامی اسلامی کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی6،7/مئی1985ئ کی مجلس عاملہ نے تائید کی اور24/مئی1985ئ کو یوم دعا منانے کا فیصلہ کیا۔ 11/مارچ1986ئ کو عراقی علما کے وفد کو عصرانہ دیا گیا۔ یکم نومبر1986ئ اور7/نومبر1987ئ کی مجالسِ منتظمہ نے حکومتِ ایران سے جنگ بند کرنے کی اپیل دہرائی، اور8/نومبر1987ئ کو تحفظ حرم کانفرنس میں مولانا اسعد مدنیؒ اور عراقی سفیر عبدالودود شیخ علی نے خمینی ازم کی شدید مذمت کی۔ 9،10/اپریل1988ئ کی مجلس منتظمہ نے صدام حسین کی جنگ بندی کی کوششوں کو سراہا، اور بالآخر20/اگست1988ئ کو قراردادِ598 کے تحت جنگ بندی نافذ ہوئی، جس پر جمعیت نے اظہارِ مسرت کی ایک تقریب منعقد کی، جس میں عراقی سفیر عبدالودود عبدالکریم نے شرکت کی۔
عراق پر بھاری قرضوں کے بوجھ، تیل کی پیداوار کے تنازع اور سرحدی اختلافات کے باعث2/اگست1990ئ کو عراق نے کویت پر حملہ کرکے اسے اپنا19واں صوبہ قرار دیا۔ 3/ستمبر1990ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ نے اس پر گہری تشویش ظاہر کی اور13،14/اکتوبر1990ئ کی مجلس عاملہ نے عراقی فوج کے کویت سے انخلا کا مطالبہ کرتے ہوئے سعودی عرب اور خلیجی ممالک میں امریکی فوجوں کی موجودگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ 17/جنوری1991ئ کو امریکہ کی قیادت میں آپریشن ڈیزرٹ سٹارم شروع ہوا اور28/فروری1991ئ کو جنگ بندی ہوگئی۔ 22/مارچ1991ئ کو مولانا اسعد مدنیؒ نے اپنی طرف منسوب صدام حسین کی تکفیر کی غلط خبر کی تردید کی، اور یکم و2/دسمبر1991ئ کی مجلس منتظمہ نے عراق پر عائد ناکہ بندی کی سخت مذمت کی، جو بعد میں1991ئ کی قرارداد687 کے تحت مزید سخت کردی گئی تھی۔ 13سے22/جنوری1993ئ اور26،27/جون1993ئ کو امریکہ نے عراق پر فضائی حملے کیے، جن کی17/جنوری1993ئ کی مجلس عاملہ اور16/جولائی1993ئ کے بیان میں پرزور مذمت کی گئی۔ 5تا13/ستمبر1994ئ کو قاہرہ میں آبادی و ترقی کانفرنس منعقد ہوئی، جس کی23/اکتوبر1994ئ کی مجلس عاملہ نے مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب، عراق، سوڈان اور لبنان کے بائیکاٹ کو سراہا۔ 29/اکتوبر1995ئ کے پچیسویں اجلاس عام میں مولانا اسعد مدنیؒ نے عراق اور لیبیا کی ناکہ بندی پر گہری تشویش ظاہر کی۔ 3،4/ستمبر1996ئ کو امریکہ نے آپریشن ڈیزرٹ اسٹرائیک کے تحت عراق پر میزائل داغے، جس کی5/ستمبر1996ئ کو مولانا مدنیؒ نے سخت مذمت کی۔ 24،25/اپریل1998ئ کی مجلس منتظمہ نے عراق پر پابندیوں کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا، اور26/مئی1998ئ کو عراقی پارلیمنٹ کے اسپیکر ڈاکٹر سعدوون حمادی کو جمعیت کے دفتر میں ظہرانہ دیا گیا، جہاں انھوں نے پابندیوں کے المناک اثرات بیان کیے۔ 16تا19/دسمبر1998ئ کو آپریشن ڈیزرٹ فاکس کے تحت امریکہ و برطانیہ نے عراق پر حملہ کیا، جسے مولانا مدنیؒ نے17/دسمبر1998ئ کو کھلی جارحیت اور دہشت گردی قرار دیا۔ 13/مئی2000ئ کے چھبیسویں اجلاس عام میں مولانا مدنیؒ نے عراق پر عائد پابندیوں کے ہٹائے جانے کا مطالبہ دہرایا۔
بالآخر20/مارچ2003ئ کو امریکہ اور برطانیہ نے "آپریشن عراقی فریڈم" کے تحت یہ جھوٹا الزام لگاکر کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار ہیں، عراق پر ہمہ گیر حملہ کیا۔ 7،8/مارچ2003ئ کی مجلس منتظمہ اور9/مارچ2003ئ کے ستائیسویں اجلاس عام میں مولانا اسعد مدنیؒ نے اس جارحیت کی سخت مذمت کی، اور20/مارچ2003ئ کو ایک بیان میں عالمی برادری سے جنگ رکوانے کی اپیل کی۔ 2/اپریل2003ئ کو جمعیت کے زیر اہتمام دہلی میں ہزاروں افراد کا احتجاجی مظاہرہ ہوا، جس میں جنرل سکریٹری مولانا سید محمود مدنیؒ نے خطاب کیا اور امدادی قافلہ بھیجنے کا اعلان کیا۔ 15/جولائی2003ئ کو ہندستان کے دورے پر آئے پاکستانی رہنما مولانا فضل الرحمان نے یہ موقف پیش کیا کہ بزور طاقت امن قائم نہیں کیا جاسکتا۔ 29/مئی2005ئ کے اٹھائیسویں اجلاس عام میں مولانا اسعد مدنیؒ نے واضح کیا کہ عراق میں تباہ کن ہتھیار موجود ہونے کا امریکی دعویٰ جھوٹا ثابت ہوچکا ہے اور امریکی فوجی قبضے کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا۔ یکم مارچ2006ئ کو صدر بش کے دورہ¿ ہند کے خلاف احتجاجی اجلاس میں میدھا پاٹیکر نے کہا کہ بش تیل پر قبضے کے لیے عراق کو برباد کرچکے ہیں۔ 23/مئی2006ئ کے پریس بیان میں امریکی مداخلت کو آزاد ممالک کی خودمختاری کے لیے خطرہ قرار دیا گیا۔ صدام حسین کو13/دسمبر2003ئ کو گرفتار کیا گیا تھا اور دجیل قتل عام کے مقدمے میں5/نومبر2006ئ کو سزائے موت سنائی گئی، جو30/دسمبر2006ئ کو نافذ کی گئی؛ اس پر22/نومبر2006ئ کی مجلس عاملہ اور30/دسمبر2006ئ کے پریس بیان میں سخت افسوس کا اظہار کیا گیا کہ یہ عالمی امن کے ساتھ ظلم اور ناانصافی کی بدترین مثال ہے، اور14/فروری2007ئ کی مجلس عاملہ نے بھی اسی موقف کا اعادہ کیا۔ 31/مئی2008ئ کی دہشت گردی مخالف کانفرنس میں امریکہ کو نمبر ون دہشت گرد ملک قرار دیا گیا۔ 9/نومبر2008ئ کے انتیسویں اجلاس عام اور3/نومبر2009ئ کے تیسویں اجلاس عام میں مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوریؒ نے عراق میں جاری انارکی، امریکی جھوٹ کے بے نقاب ہونے اور عراقی عوام کی مشکلات پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور عراق کو غاصب افواج سے خالی کرانے کا مطالبہ دہرایا۔ 18/دسمبر2011ئ کو بالآخر امریکی فوج کا عراق سے انخلا مکمل ہوا، تاہم19/مئی2012ئ کے اکتیسویں اجلاس عام میں مولانا منصورپوریؒ نے بم دھماکوں اور خودکش حملوں کے جاری رہنے پر تشویش ظاہر کی۔ امریکی انخلا کے بعد شیعہ سنی فرقہ وارانہ کشیدگی بڑھنے کا فائدہ اٹھاکر2014ئ میں داعش نے موصل سمیت عراق کے بڑے حصے پر قبضہ کرلیا، جس پر24/مئی2014ئ کی مجلس عاملہ اور20/جون2014ئ کے پریس بیان میں مولانا محمود اسعد مدنی صاحبؒ نے فرقہ وارانہ نہج پر چلنے والوں کو قابلِ مذمت قرار دیتے ہوئے امن و قانون کی بحالی کی اپیل کی۔ اکتوبر2016ئ میں عراقی افواج نے موصل کی جنگ شروع کی، اور بالآخر13/نومبر2016ئ کے تینتیسویں اجلاس عام میں جمعیت نے داعش کے دہشت پسندانہ عزائم و نظریات سے مکمل بیزاری کا اظہار کرتے ہوئے عراقی حکومت سے اپیل کی کہ وہ اس مسئلے کو شیعہ سنی تناظر میں نہ دیکھے؛ بلکہ تمام طبقات کی شمولیت یقینی بناتے ہوئے بے گھر افراد کی بازآبادکاری کے لیے عالمی تعاون سے کام لے۔