ہندستان میں مسلمانوں کا وطنی استحقاق، شرعی حیثیت اور وفاداری کی تاریخی حقیقت
محمد یاسین جہازی
مقدمہ و پس منظر
ہندستان کی تاریخ میں مسلمانوں کی وطنی حیثیت اور ان کی حب الوطنی کا مسئلہ آزادی سے قبل کبھی متنازع نہیں رہا۔ آزادی کے بعد کے سیاسی منظرنامے میں فرقہ پرست عناصر نے اپنے ماضی کے کردار پر پردہ ڈالنے اور سیکولر آئین کی بنیادوں کو کمزور کر کے ’ہندو راشٹر‘ کے تصور کو مسلط کرنے کے لیے مسلمانوں کے وطنی استحقاق پر سوال کھڑے کیے۔ تاریخی و مذہبی استدلال کے مطابق اسلام اور مسلمانوں کے لیے یہ سرزمین اتنی ہی قدیم ہے جتنا خود انسانی وجود؛ جیساکہ مولانا سید محمد میاں دیوبندیؒ (رسالہ ہمارا وطن اور اس کی فضیلت) اور شیخ الاسلام مولانا سید حسین احمد مدنیؒ (رسالہ ہمارا ہندستان اور اس کے فضائل) نے واضح کیا ہے کہ ابوالبشر حضرت آدم علیہ السلام کا اولین ورود ہندستان ہی کی دھرتی پر ہوا۔ علاوہ ازیں، ہندستان کے مسلمانوں کی اکثریت یہیں کے قدیم باشندے ہیں، جن کی قبریں اور یادگاریں اسی خاک کا جزو ہیں۔ چنانچہ ہندستان کو مسلمانوں کا اصلی اور فطری وطن تسلیم کرنا محض ایک سیاسی دعویٰ نہیں بلکہ ناقابلِ انکار تاریخی و جغرافیائی حقیقت ہے۔
ہندستان کی شرعی حیثیت کا فقہی نقطہ نظر: دار الاسلام سے دار الامان تک
برطانوی استعمار کے تسلط کے بعد ہندستان کی شرعی حیثیت کا ازسرنو تعین علمائ کی سب سے اہم فکری ذمہ داری بنی۔ 1806ئ میں جب دہلی پر انگریز قابض ہوئے اور مغل تاجدار شاہ عالم ثانی کو محض برائے نام سربراہ بنا کر ’’خلق خدا کی، ملک بادشاہ کا اور حکم کمپنی بہادر کا‘‘ کا نعرہ لگایا گیا، تو حکیم الہند حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ نے 1808ئ/1809ئ میں برصغیر کی تاریخ کا پہلا انقلابی فتویٰ صادر فرمایا کہ ہندستان عملاً’’دار الحرب‘‘ بن چکا ہے۔ شاہ صاحب نے خاموشی، وفاداری، یا اجتماعی ہجرت کے بجائے آزادی کے لیے جدوجہدکو ترجیح دی۔
اس فکری تحریک نے آگے چل کر 1857ئ کی جنگِ آزادی کو جنم دیا۔ دہلی میں مفتی صدر الدین، مولانا عبد القادر اور دیگر ممتاز علما کے دستخطوں سے جہاد کو فرضِ عین قرار دینے کا فتویٰ اخبار الظفر اور بعد ازاں 26/جولائی 1857ئ کو صادق الاخبار میں شائع ہوا۔ اسی فتوے کی روشنی میں 14/ستمبر 1857ئ کو حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ، مولانا محمد قاسم نانوتویؒ، مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور حافظ محمد ضامنؒ کی قیادت میں جنگِ شاملی لڑی گئی۔ اگرچہ اس مسلح جدوجہد میں وقتی شکست ہوئی، مگر یکم نومبر 1858ئ کو ملکہ وکٹوریہ کے اعلانِ عام کے بعدمجاہدین آزادی نے حکمتِ عملی بدلی اور میدان رزم کے بجائے میدان بزم آراستہ کرتے ہوئے 30/مئی 1866ئ کو دارالعلوم دیوبند کی بنیاد رکھی گئی، جس نے فکری تربیت اور آزادی کی تحریکوں کے لیے مسلسل افرادی قوت فراہم کی۔حجۃ الاسلام حضرت مولانامحمد قاسم نانوتویؒ نے اس میں بنیادی کردار ادا کیا۔
ہندستان کی شرعی حیثیت کا دوسرا بڑا موڑ اس وقت آیا جب آزادی کی تحریک میں غیر مسلموں سے اشتراکِ عمل کا مسئلہ زیر بحث آیا۔ حضرت علامہ محمد انور شاہ کشمیریؒ نے جمعیت علمائے ہند کے آٹھویں اجلاسِ عام( 2 تا 5/دسمبر 1927ئ) کے صدارتی خطبے میں واضح کیا کہ ہندستان کو فقہی اصطلاح میں ’’دار الامان‘‘ قرار دیا جانا چاہیے ، جہاں مسلمان اور غیر مسلم میثاقِ مدینہ کی طرز پر ایک باہمی معاہدے کے تحت برطانوی استبداد کے خلاف متحد ہو کر جمہوری حقوق کے لیے لڑ سکتے ہیں۔جب انگریزوں کے دور جبر میںہندستان دارالامان تھا، تو 1947ئ کے بعد ہندستان جمہوری اور آئینی بنیادوں پر بدرجہ¿ اولیٰ ’’دار الامان‘‘قرار پایا،کیوں کہ مسلمانوں کو مذہبی آزادی کسی کی بخشش کے طور پر نہیں؛ بلکہ ایک فطری اور دستوری حق کے طور پر حاصل ہے۔
سیاسی تصورات کا تصادم: سرسید، کانگریس اور جمعیت علمائے ہند
1857ئ کے سانحے کے بعد ہندستانی سیاست میں مختلف رجحانات ابھرے۔ 28 /دسمبر 1885ئ کو اے او ہیوم نے آل انڈیا کانگریس کی بنیاد رکھی۔ اس کے برعکس سرسید احمد خان نے 28/دسمبر 1887ئ کے اپنے خطاب میں مسلمانوں کو کانگریس سے دور رہنے کا مشورہ دیا اور 8/ اگست 1888ئ کو انگریزوں سے وفاداری پر مبنی ’’یونائیٹڈ انڈین پیٹریاٹک ایسوسی ایشن‘‘ کی بنیاد رکھی۔ سرسید نے انگریزی نظام میں مسلمانوں کے دنیوی مفادات دیکھے اور قومیت کو مذہب سے جوڑ کر دو الگ اقوام کا ابتدائی تصور پیش کیا۔
علمائے حق نے سرسید کے اس موقف کو یکسر مسترد کر دیا۔ علمائے لدھیانہ (مولانا محمد، مولانا عبد العزیز، مولانا عبد اللہ) نے ملک گیر سطح پر فتاویٰ جمع کر کے رسالہ نصرۃ الابرار شائع کیا۔ 11/ دسمبر 1888ئ کو حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور شیخ الہند مولانا محمود حسنؒ نے دوٹوک فتویٰ دیا کہ دنیوی و ملی حقوق کی حفاظت کے لیے ہندو¶ں کے ساتھ اشتراک (کانگریس میں شمولیت) جائز ہے ، جب کہ سرسید کی انگریز نواز ایسوسی ایشن مسلمانوں کے حق میں سمِّ قاتل ہے۔
انگریزوں نے اپنی ’’تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کی پالیسی کے تحت یکم اکتوبر 1906ئ کو شملہ وفد اور 30/دسمبر 1906ئ کو ڈھاکہ میں نواب وقار الملک کی صدارت میں آل انڈیا مسلم لیگ کی تشکیل کی راہ ہموار کی، تاکہ مسلمانوں کو قومی تحریک سے کاٹا جا سکے۔ 29-31/ دسمبر 1916ئ کے میثاقِ لکھن¶ میںمسلم لیگ کی کوششوں کی وجہ سے پہلی بار جداگانہ انتخابات کی بنیاد پر مسلم نشستیں طے کی گئیں، جو آگے چل کر یہ طرزِ سیاست مزید شقاق کا سبب بنی۔
اس کے برعکس پہلی جنگِ عظیم کے بعد رولٹ ایکٹ( 19/مارچ 1919ئ) اور جلیانوالہ باغ قتلِ عام( 13/اپریل 1919ئ) کے تناظر میں جب تحریکِ عدمِ تعاون شروع ہوئی، تو 23/نومبر 1919ئ کو دہلی میں خلافت کانفرنس کے دوران جمعیت علمائے ہند کا قیام عمل میں آیا۔ جمعیت نے 6/ستمبر 1920ئ کو کلکتہ کے خصوصی اجلاس میں ترکِ موالات کی تجویز منظور کی اور 8/ ستمبر 1920ئ کو 474 علماکی توثیق سے متفقہ فتویٰ جاری کیا، جس نے برطانوی حکومت سے بائیکاٹ اور ہم وطنوں سے اشتراک کو شرعی فریضہ قرار دیا۔ اسی دوران جب جذباتی فضا میں تحریکِ ہجرتِ افغانستان( 1920ئ) شروع ہوئی، تو جمعیت نے ہجرت کی کبھی باقاعدہ تائید نہیں کی؛ حضرت شیخ الہندؒ اور مولانا آزادؒ نے اس پر کڑی شرائط عائد کیں اور مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے صراحت کی کہ مسلمانوں کے لیے ہندستان چھوڑنے کا تصور ہی باطل ہے ، ان کا فرض یہیں رہ کر جدوجہد کرنا ہے۔
متحدہ قومیت بمقابلہ دو قومی نظریہ و ہندو راشٹر
1920ئ سے لے کر آزادی تک ہندستان میں قومیت کے تین بڑے نظریات مدمقابل رہے:
1۔ متحدہ قومیت (جمعیت علمائے ہند کا نظریہ): جمعیت علمائے ہند کے دوسرے اجلاس (19 تا 21/نومبر 1920ئ) میں مولانا شبیر احمد عثمانیؒ، پانچویں اجلاس (دسمبر 1923ئ) کی تجویز نمبر 5، اور ساتویں اجلاس( 11 تا 14 مارچ 1926ئ) میں علامہ سید سلیمان ندویؒ نے واضح کیا کہ قومیت و وطن پرستی اگرچہ معبود نہیں ہوسکتیں، مگر اپنے وطن کا تحفظ مسلمانوں پر شرعاً فرض ہے۔ اس تصور کو قطعی شکل حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے 7/جنوری 1938ئ کے دہلی کے خطاب میں دی، جس پر علامہ اقبالؒ سے تاریخی علمی مکالمہ بھی ہوا۔ مولانا مدنی نے کتاب ’’متحدہ قومیت اور اسلام‘‘ میں واضح کیا کہ ’’ملت‘‘ دین اور شریعت پر مبنی ہوتی ہے، جب کہ ’’قوم‘‘ اوطان سے بنتی ہے۔ میثاقِ مدینہ کی بنیاد پر ہندستان کے تمام باشندے بحیثیت ہم وطن ایک قوم ہیں، جس میں مسلمانوں کا مذہبی اور تہذیبی تشخص (کلچرل اٹانمی) پوری طرح محفوظ رہے گا۔
2۔ ہندو راشٹر (ساورکر اور گول والکر کا نظریہ): وی ڈی ساورکر نے اپنی کتاب Essentials of Hindutva (1923ئ) میں قومیت کی شرط’’پتر بھومی‘‘ (آبائی وطن) کے ساتھ ’’پنیہ بھومی‘‘ (مقدس سرزمین) قرار دے کر مسلمانوں اور عیسائیوں کو قومی دائرے سے خارج کر دیا، اور 1937ئ میں احمد آباد کے اجلاس میں ہندو اور مسلمان کو دو الگ قومیں قرار دیا۔ بعد ازاں ایم ایس گول والکر نے We, or Our Nationhood Defined(1939ئ) میں جغرافیہ، نسل، مذہب، ثقافت اور زبان کی پانچ وحدتیں پیش کر کے غیر ہندو¶ں کو مکمل طور پر اقلیتی اور ماتحت حیثیت میں ضم ہونے کا نظریہ دیا۔
3۔ دو قومی نظریہ اور مطالبہ¿ پاکستان: علامہ اقبال کے خطبہ¿ الہ آباد( 29/دسمبر 1930ئ) اور چودھری رحمت علی کے پمفلٹ (Now or Never ، 28/جنوری 1933ئ) کے بعد 23/مارچ 1940ئ کو مسلم لیگ نے قراردادِ لاہور منظور کی۔ اس کے مقابلے میں جمعیت علمائے ہند نے 27 تا 30/اپریل 1940ئ کو دہلی میں ’’آل پارٹیز آزاد مسلم کانفرنس‘‘ منعقد کر کے اعلان کیا کہ ہندستان تمام مذاہب کا مشترک وطن ہے اور تقسیم کا مطالبہ ملک اور اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کے مفاد کے لیے تباہ کن ہے۔ 14/اپریل 1940ئ کو مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒ نے بھی اپنے مقالے میں اس منصوبے کے عملی نقائص واضح کیے۔ اگرچہ مولانا اشرف علی تھانویؒ، مولانا شبیر احمد عثمانیؒ اور مفتی محمد شفیعؒ نے اسلامی نظام کے امکان کی امید پر پاکستان کی حمایت کی، تاہم مسلم لیگ کے مغربی و جمہوری ماڈل کے بیانات( 11 /نومبر 1945ئ کا انٹرویو) نے ثابت کیا کہ یہ تصور محض ایک سیاسی سراب تھا۔
1945–46 کے انتخابات کی حقیقت اور ہجرت کا شرعی حکم
فرقہ پرست عناصر کی جانب سے اکثر یہ شوشہ چھوڑا جاتا ہے کہ46-1945ئ کے عمومی انتخابات میں مسلم لیگ نے پاکستان کے نام پر تمام مسلم نشستیں جیت لی تھیں اور یوں تقسیم ہند کے ذریعے مسلمانوں نے اپنا حصہ (پاکستان) حاصل کر لیا تھا؛ لہٰذا اب ہندستان میں مسلمانوں کا کوئی قانونی، یا اخلاقی حق اور حصہ باقی نہیں رہا۔
فرقہ پرستوں کایہ اعتراض تاریخی و ریاضیاتی حقائق کے رو سے مندرجہ ذیل وجوہات کی بنیاد پر درست نہیں ہے:
۱۔ یہ انتخابات گورنمنٹ آف انڈیا ایکٹ 1935ئ کے تحت سخت شرائط (جائیداد کی ملکیت، ٹیکس اور تعلیمی معیار) پر منعقد ہوئے تھے ، نہ کہ بالغ رائے دہی پر۔
۲۔ برصغیر کے تقریباً 9/کروڑ مسلمانوں میں سے صرف 10/فی صد( 90 /لاکھ) کو ووٹ کا حق حاصل تھا، اور عملاً صرف 60 /لاکھ( 6 سے 7/فی صد) نے ووٹ ڈالا۔ تقریباً 93 سے 94 /فی صد عام مسلمان، کسان اور مزدور رائے شماری سے محروم رہے۔ چند فی صد مراعات یافتہ طبقے کی رائے کو پوری مسلم قوم کا حتمی فیصلہ قرار دینا صریح بددیانتی ہے۔
14/اگست 1947ئ کو تقسیم کے بعد جمعیت علمائے ہند نے ہندستان سے پاکستان کی طرف ترکِ وطن کو اسلامی ہجرت ماننے سے انکار کر دیا۔ مولانا محمد میاں دیوبندیؒ کے مطابق یہ ترکِ وطن خوف یا روزگار کے لیے تھا، جسے شرعی ہجرت نہیں کہا جا سکتا۔ 24/اکتوبر 1947ئ کو امام الہند مولانا ابوالکلام آزادؒ نے جامع مسجد دہلی کی سیڑھیوں سے ہجرت کرنے والوں کو جھنجھوڑتے ہوئے کہا تھا کہ یہ فرار کی زندگی تمھارا شیوہ نہیں۔
آزادی کے بعد وفاداری اور مساوی شہریت کے لیے جدوجہد
آزادی کے فوراً بعد جب مسلمانوں کی وفاداری کو مشکوک بنا کر پیش کیا جانے لگا، توجمعیت علمائے ہند نے اصولی موقف اختیار کیا:
۱۔ 27–28/دسمبر 1947ئ (آزاد کانفرنس)میں مولانا محمد حفظ الرحمان سیوہارویؒ نے اعلان کیا کہ مسلمان اس ملک کے وفادار ہیں اور اگر پاکستان بھی حملہ کرے گا، تو قوم پرور مسلمان دفاع میں جان دیںگے ، مگر وفاداری کے نام پر ذلت برداشت نہیں کی جائے گی۔
۲۔ 1947ئ (جامع مسجد دیوبند) میں مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے واضح کیا کہ ایک جمہوری ملک میں عوام حکومت کے وفادار نہیں ہوتے؛ بلکہ حکومت کو عوام کا خادم ہونا پڑتا ہے ؛ مسلمانوں نے خون دے کر آزادی لی ہے ، لہٰذا وفاداری کا غلامانہ اظہار لایعنی ہے۔
۳۔ 26 تا 28/اپریل 1948ئ کے پندرھویں اجلاس میں مولانا احمد سعید دہلویؒ نے فرمایا کہ وفاداری کا ثبوت غیر ملکیوں کے سامنے دیا جاتا ہے ، اپنے وطن میں اپنے ہی لوگوں سے وفاداری کا مطالبہ بے جا ہے۔ اسی اجلاس میں مولانا حفظ الرحمانؒ نے واضح کیا کہ پوری قوم غدار نہیں ہو سکتی؛ جیسے ہٹلر کے بعد جرمن عوام کو معاف کیا گیا، ویسے ہی ہندستانی مسلمانوں پر الزامات تراشنا بند ہونا چاہیے۔
۴۔ 27تا 29/اپریل1951ئ کومنعقدسترھویں اجلاس کے خطبہ¿ استقبالیہ میں جناب نواب مقصود احمد نے صراحت کی کہ وفاداری آئین اور ملک سے ہوتی ہے ، کسی عارضی حکومت سے نہیں۔ حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے سوال کیا کہ کیا گاندھی جی کے سینے پر گولی چلانے والے ملک کے وفادار ہوسکتے ہیں؟
۵۔ 9 تا 11/دسمبر 1960ئ کے بیسویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمدحفظ الرحمان نے تاریخی جملہ کہاکہ:’’اگر پنڈت نہرو سے وفاداری کا ثبوت نہیں مانگا جا سکتا، تو حفظ الرحمان سے بھی نہیں مانگا جا سکتا۔‘‘
۶۔ 15 تا 17/اپریل 1966ئ کے بائیسواں اجلاس کے صدارتی خطاب میں مولانا سید فخر الدین احمدؒ نے بریگیڈیئر عثمان اور عبد الحمید کی شہادتوں کا حوالہ دے کر کہا کہ اقلیت سے وفاداری مانگنا دراصل اسے محکوم بنانا اور ہٹلر ازم کو فروغ دینا ہے۔
جوں جوں دہائیاں گزریں، فرقہ پرستوں نے وفاداری کے ساتھ حقِ شہریت پر حملے شروع کیے۔ 29/اکتوبر 1995ئ کے پچیسویں اجلاس میں جمعیت نے مسلمانوں سے شہریت کے ثبوت مانگنے کے خلاف قرارداد منظور کر کے راشن کارڈ، پٹہ اور پاسپورٹ کو حتمی دستاویز ماننے کا مطالبہ کیا۔ 17/اکتوبر 2000ئ کو مولانا سید اسعد مدنیؒ نے آر ایس ایس کے سہ روزہ کیمپ (آگرہ) کے بیانات کا رد کرتے ہوئے فرمایا کہ مسلمان روزِ اول سے قومی دھارے میں ہیں، جب کہ آر ایس ایس خود آئین اور سیکولر ڈھانچے سے باہر رہی ہے۔ 9/مارچ 2003ئ کو انھوں نے گول والکر کے الزامات کا مدلل رد کیا۔
15/ستمبر 2006ئ کو مولانا محمود مدنی نے پریس کانفرنس میں واضح کیا کہ ’’وندے ماترم‘‘ چوںکہ توحید کے اسلامی عقیدے سے ٹکراتا ہے ، لہٰذا اسے حب الوطنی کی کسوٹی نہیں بنایا جا سکتا۔ 2008ئ اور 2009ئ کے اجتماعات میں مولانا محمود مدنی نے یہ دوٹوک پیغام دیا: ’’مسلمانو! یاد رکھو !تم اس ملک کے حصہ دار ہو، کرایہ دار نہیں ہو!۔‘‘
اس فکر کا تسلسل دورِ حاضر تک جاری رہا۔ 12/فروری 2023ئ کو چونتیسویں اجلاسِ عام میں مولانا محمود اسعد مدنی نے تاریخی جملہ ارشاد فرمایا کہ ’’بھارت جتنا مودی اور بھاگوت کا ہے ، اتنا ہی محمود کا ہے۔ نہ محمود ان سے ایک انچ آگے ہے اور نہ ایک انچ پیچھے ۔‘‘ اور واضح کیا کہ آدم علیہ السلام کے ورود کی وجہ سے یہ دھرتی مسلمانوں کا پہلا وطن ہے۔
بعد ازاں 29/نومبر 2025ئ کو بھوپال میں مجلس منتظمہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد سلمان بجنوری صاحب نائب صدر جمعیت علمائے ہند نے واضح کیا کہ ملک سے وفاداری اور دستوری معاہدے کی پاسداری اسلامی حکم ہے ، لہٰذا حکومت اور اکثریتی طبقے کو بھی اسی اخلاص و دیانت داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو بلاجواز مشکوک بنانے اور یک طرفہ نشانہ بنانے کی روش ترک کرنی چاہیے۔
قصہ مختصر یہ کہ اس تاریخی و دستاویزی جائزے سے یہ حقیقت پایہ¿ ثبوت کو پہنچتی ہے کہ ہندستان مسلمانوں کا اپنا موروثی اور اصلی وطن ہے۔ اس سرزمین سے ان کا رشتہ مذہبی، تاریخی، دستوری اور خون کے نذرانوں سے جڑا ہوا ہے۔ علمائے دیوبند اور جمعیت علمائے ہند نے دارالحرب کے اعلان سے لے کر دارالامان اور متحدہ قومیت کے معاہدے تک ہر موڑ پر ملک کی آزادی اور سالمیت کے لیے اصولی کردار ادا کیا اور تقسیم کے نظریے کی آخری دم تک مخالفت کی۔ ہندستان کا مسلمان ایک آزاد، جمہوری اور سیکولر آئین کے تحت برادرانِ وطن کے شانہ بشانہ اس ملک کا برابر کا مالک و حصہ دار ہے ، جسے اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے کسی فرقہ پرست گروہ سے تصدیق نامہ (سرٹیفکیٹ) لینے کی چنداں ضرورت نہیں۔