16 Jul 2026

بنگلہ دیش اور جمعیت علمائے ہند کا تاریخی کردار


 بنگلہ دیش اور جمعیت علمائے ہند کا تاریخی کردار

( خلاصہ از 1919 تا 2025)

محمد یاسین جہازی

سقوطِ ڈھاکہ اور قیامِ بنگلہ دیش برصغیر کی تاریخ کا ایک نہایت دردناک اور فیصلہ کن باب ہے، جس کے پس منظر میں 1947ئ سے 1971ئ تک کے لسانی، معاشی، سیاسی اور عسکری عوامل کارفرما تھے۔ قیامِ پاکستان کے فوراً بعد 1948ئ میں اردو کو واحد قومی زبان قرار دینے سے مشرقی پاکستان میں لسانی بے چینی نے جنم لیا، جو 21/فروری 1952ئ کو ایک بڑی تحریک کی صورت میں سامنے آئی۔ بعد ازاں 1956ئ کے آئین اور 1958ئ کے مارشل لائ کے ادوار میں بھی مشرقی پاکستان کو سیاسی نمائندگی نہ مل سکی۔ چنانچہ 1966ئ میں شیخ مجیب الرحمان نے صوبائی خودمختاری کے لیے اپنے مشہور چھ نکات پیش کیے۔ دسمبر 1970ئ کے عام انتخابات میں عوامی لیگ نے قومی اسمبلی میں واضح اکثریت حاصل کی، مگر اقتدار کی منتقلی میں لیت و لعل سے شدید سیاسی بحران پیدا ہو گیا۔ یہ بحران 25/مارچ 1971ئ کو فوجی کارروائی ’’آپریشن سرچ لائٹ‘‘ کی شکل میں کھلی جنگ میں بدل گیا، جس کے ردِعمل میں 26/مارچ 1971ئ کو بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان ہوا اور مکتی باہنی نے گوریلا جنگ شروع کر دی۔ بالآخر 3/دسمبر 1971ئ کو پاکõبھارت باقاعدہ جنگ کا آغاز ہوا، جو محض 13/دن جاری رہنے کے بعد 16/دسمبر 1971ئ کو ڈھاکہ میں پاکستانی افواج کے ہتھیار ڈالنے اور بنگلہ دیش کے ایک خودمختار ملک کے طور پر ابھرنے کے ساتھ ختم ہوئی۔

اس پورے بحران کے دوران اور اس کے بعد، جمعیت علمائے ہند نے ہمیشہ انسانی حقوق اور علاقائی امن کے حق میں ایک جرأت مندانہ اور حقیقت پسندانہ موقف اپنایا۔ 26/مارچ 1971ئ کو بنگلہ دیش کی آزادی کے اعلان اور فوجی کریک ڈا¶ن کے بعد، جمعیت کے ناظم عمومی مولانا سید اسعد مدنی نے مشرقی بنگال میں فوجی مظالم کی شدید مذمت کی اور حریت پسندوں کی حمایت کا اعلان کیا۔ 

14/جولائی 1971ئ کو دہلی میں منعقدہ ’’بنگلہ دیش مسلم کنونشن‘‘ میں ایک ریزولیوشن کے ذریعے شیخ مجیب الرحمان کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا، جسے سروودے لیڈر جے پرکاش نرائن نے بھی سراہا۔

 16/دسمبر 1971ئ کو بنگلہ دیش کی فتح پر17/دسمبر1971ئ کو صدرجمعیت مولانا فخر الدین احمد نے اسے دو قومی نظریے کی شکست اور سیکولرزم و جمہوریت کی فتح قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی کہ اس سے برصغیر میں محبت اور اعتماد کی فضا قائم ہوگی۔

17/دسمبر1971ئ کو ہندستان اور بنگلہ دیش کے خلاف امریکہ کی سازش کی مخالفت کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کیا گیا۔

15-16/جنوری 1972ئ میں جمعیت کی مجلس عاملہ نے بنگلہ دیش کے وجود کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔

بنگلہ دیش کے قیام کے بعد، جمعیت نے وہاں مقیم غیر بنگالی (بہاری) مسلمانوں کے تحفظ کے لیے بھرپور آواز اٹھائی۔چنانچہ مولانا سید اسعد مدنی صاحب نے 11/فروری 1972ئ کو وزیر اعظم شیخ مجیب الرحمان کو خط لکھ کر انسانی ہمدردی کی بنیاد پر انتقامی کارروائیوں کو روکنے اور لسانی اقلیتوں کو تحفظ دینے پر زور دیا۔جب کہ ناظم جمعیت مولانا سید احمد ہاشمی نے اس خط کی نقول بھارتی حکومت کے اعلیٰ وزرا کو بھی ارسال کیں۔

 بعد ازاں، 5، 6 اور 7/مئی 1972ئ کو جمعیت علمائے ہند کا تئیسواں اجلاسِ عام منعقد ہوا، جس کی صدارت حضرت مولانا عبدالوہاب آروی نے فرمائی۔ انھوں نے اپنے صدارتی خطاب میں بنگلہ دیش کو ایک ناقابلِ انکار حقیقت قرار دیتے ہوئے ظالموں کو قدرت کے انصاف سے ڈرایا، جب کہ اسی اجلاس میں آسام کے وزیر صنعت محمد ادریس نے بھی مشرقی پاکستان کے نام پر عدالتوں میں چلنے والے کیسز ختم کرنے کی اپیل کی۔ اسی اجلاسِ عام میں تجویز نمبر (14) منظور کی گئی، جس میں بہاری مسلمانوں پر ہونے والے تشدد پر سخت تشویش کا اظہار کیا گیا اور شیخ مجیب الرحمان کی طرف سے ان کے تحفظ اور ملازمتوں کی یقین دہانی کا خیرمقدم کیا گیا۔

 جب ڈھاکہ کے اخبارات کی طرف سے مولانا اسعد مدنی صاحب پر کچھ گمراہ کن الزامات عائد کیے گئے، تو انھوں نے 23/مارچ 1973ئ کو ایک پریس بیان کے ذریعے، اور پھر 24/ مارچ 1973ئ کو جامع مفتاح العلوم (مئو ناتھ بھنجن) میں تقریر کے دوران ان الزامات کی سختی سے تردید کی اور واضح کیا کہ انھوں نے بہاریوں کے حالات کو مکمل ٹھیک نہیں کہا تھا؛ بلکہ صرف مسلمانوں کی مذہبی حالت کی تحسین کی تھی۔

برصغیر میں پائیدار امن کے قیام کے لیے 2/جولائی 1972ئ کو طے پانے والے تاریخی ’’شملہ معاہدے‘‘ کا جمعیت کی مجلس عاملہ نے 19 اور 20 اگست 1972ئ کے اجلاس میں تجویز نمبر (1) کے تحت شاں دار خیرمقدم کیا اور صدرِ پاکستان کو بنگلہ دیش کے معاملے میں بھی حقیقت پسندی اپنانے کی نصیحت کی۔ اس کے بعد، 28/اگست 1973ئ کے دلی معاہدے کے تحت جب نظر بندوں کی واپسی کا عمل شروع ہوا، تو جمعیت کی مجلس عاملہ نے 29 اور30/اگست 1973ئ کے اجلاس میں ہند، پاک اور بنگلہ دیش کے وزرائے اعظم کو ا باوقار سیاسی تدبیر پر دلی مبارک باد پیش کی۔ اسی تسلسل میں، 24/نومبر 1973ئ کو جمعیت کی مجلس منتظمہ کا اہم اجلاس ہوا، جس کی تجویز نمبر (6) میں تینوں ممالک کے درمیان قیدیوں کے تبادلے کے سہ طرفہ عمل کا خیرمقدم کیا گیا۔ جب پاکستان نے 22/فروری 1974ئ کو لاہور میں منعقدہ دوسری اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر بنگلہ دیش کو باقاعدہ تسلیم کر لیا، تو اس کے نتیجے میں 5 سے 9/اپریل 1974ئ کو نئی دہلی میں تینوں ملکوں کے وزرائے خارجہ کا تاریخی اجلاس ہوا، جس میں 195/جنگی قیدیوں پر مقدمہ نہ چلانے اور تمام محسورین کی واپسی کا حتمی سہ فریقی معاہدہ طے پایا۔ جمعیت کی مجلس عاملہ نے 20 اور 21/اپریل 1974ئ کے اجلاس میں تجویز نمبر (11) کے ذریعے اس تاریخی فیصلے کو برصغیر میں ایک نئے دور کا آغاز قرار دیتے ہوئے سراہا۔

بعد کے برسوں میں بھی جمعیت علاقائی سلامتی اور مسلم حقوق کے لیے سرگرم رہی۔ 15 اور 16/مئی 1976ئ کو جمعیت کی مجلس منتظمہ نے تجویز نمبر (12) کے تحت ان بنگلہ دیشی اخبارات اور رہنما¶ں کی شدید مذمت کی، جو بھارت کے خلاف منافرت پھیلا رہے تھے۔

 23 اور 24/ ستمبر 1978ئ کے مجلس عاملہ کے اجلاس میں آسام سے ہندستانی مسلمانوں کے جبری انخلا پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور’’بنگلہ دیش اقلیتی تحفظ کمیٹی کلکتہ‘‘ کی ایک بدنام زمانہ کتاب کے خلاف قرارداد منظور کی گئی۔

 یکم فروری 1982ئ کو دہلی آئے پاکستانی صحافیوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مولانا اسعد مدنی نے واضح کیا کہ تینوں ملکوں کے درمیان کشیدگی برصغیر کی ترقی میں رکاوٹ ہے۔

 3/مئی 1991ئ کو بنگلہ دیش میں آنے والے ہول ناک طوفان کے بعد جمعیت نے ہائی کمشنر کو امدادی چیک پیش کیا اور ریلیف کمیٹی کے ذریعے متبادل مالی تعاون فراہم کیا۔

 3 اور 4/اکتوبر 1993ئ کو منعقدہ ’’تحفظ شریعت کانفرنس‘‘ میں تجویز نمبر (10) کے ذریعے بنگلہ دیشی دراندازی کے نام پر ہندستانی مسلمانوں کو ہراساں کرنے اور ووٹر لسٹوں سے نام نکالنے کی سخت مذمت کی گئی۔

 22/دسمبر 1996ئ کو جمعیت کے مرکزی دفتر میں بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ عبد الصمد آزاد کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جنھوں نے جنگِ آزادی میں جمعیت کے کردار کی تعریف کی۔

 10/مارچ 1997ئ کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں مولانا اسعد مدنی نے بنگلہ دیش میں عیسائی مشنریوں کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورک پر تشویش کا اظہار کیا۔

2/مئی 2002ئ کو ’’بھارت بچا¶ ریلی‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے بنگلہ دیش میں ہندو¶ں پر ظلم کے جھوٹے پروپیگنڈے کو مسترد کیا۔

 2/مارچ 2005ئ کو بنگلہ دیش کے پارلیمنٹ رکن اور سابق وزیر مفتی وقاص قاسمی نے دفتر جمعیت کا دورہ کیا اور امت مسلمہ کے تعلقات کو وسیع کرنے پر تبادلہ¿ خیال کیا۔

 اسی سال جب 17/اگست 2005ئ کو جماعت المجاہدین بنگلہ دیش نے وہاں سیریل بم دھماکے کیے، تو 18/اگست 2005ئ کو مولانا اسعد مدنی نے اس دہشت گردی کی سخت مذمت کی۔ 

بعد ازاں، 3/ستمبر 2007ئ کو مولانا سید ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی صاحبان نے ایک مشترکہ بیان میں سویڈن کے اخبار میں گستاخانہ کارٹون کی مذمت کے ساتھ ساتھ حکومتِ ہند کی طرف سے ایک متنازع بنگلہ دیشی مصنفہ تسلیمہ نسرین کی مہمان نوازی پر سخت افسوس کا اظہار کیا۔

31/مئی 2008ئ کو ’’دہشت گردی مخالف امنِ عالم کانفرنس‘‘ میں مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی نے برصغیر کے مسلمانوں کی وطن دوستی کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان اور بنگلہ دیش کو دوبارہ ہندوستان سے ملانے کی اپیل کی۔

جدید دور میں روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے ہول ناک مظالم کے خلاف بھی جمعیت علمائے ہند نے بنگلہ دیش کی دھرتی پر تاریخی راحتی اور تعلیمی خدمات انجام دیں۔ میانمار میں 1982ئ کے شہریت قانون، اور پھر 1978ئ، 1991ئ اور 2012ئ کے مظالم کے بعد، جب 25/اگست 2017ئ کو وہاں منظم نسل کشی کا آغاز ہوا، تو ساڑھے سات لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان ہجرت کر کے بنگلہ دیش کے کاکس بازار کیمپوں میں پناہ گزین ہوئے۔ اس نازک وقت میں، 28/ستمبر 2017ئ کو جاری پریس بیان کے مطابق، جمعیت کے جنرل سکریٹری مولانا محمود مدنی کی قیادت میں ایک وفد کاکس بازار پہنچا اور ’’اصلاح المسلمین پریشد بنگلہ دیش‘‘ کے اشتراک سے بڑے پیمانے پر ریلیف آپریشن شروع کیا، جس کے تحت لمبوسیا کیمپ میں علما کے مابین نقد رقم تقسیم کی گئی اور 26/ستمبر 2017ئ کو ’’مدنی مرکز‘‘ کی بنیاد رکھی گئی۔ پناہ گزینوں کی بڑھتی تعداد کے پیش نظر، 17/اکتوبر 2017ئ کو جاری پریس بیان کے مطابق، جمعیت کے وفد نے نیاپاڑہ اور بالو خالی کیمپوں کا تفصیلی جائزہ لے کر وہاں 45 سے زائد عارضی مساجد اور مکاتب قائم کیے، برمی اساتذہ کا تقرر کیا، اور سینکڑوں واش رومز، ہینڈ پمپ اور بیوا¶ں کے لیے رہائشی نظام قائم کیا۔ اس کے بعد، 27/نومبر2017ئ کی پریس ریلیز کے مطابق، جمعیت نے کوتوپالنگ اور موتو چھورا کیمپوں میں ایک ہزار شیلٹر ہومز قائم کیے اور ڈھائی کروڑ مالیت کی فوڈ کٹس تقسیم کیں۔ بالآخر، رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں، 13/مئی 2019ئ کو جمعیت نے یوکے (UK) یونٹ کے تعاون سے مدینہ منورہ کی 25/ہزار کلو گرام کھجوریں ان مظلوم خاندانوں میں تقسیم کیں۔

 اس طرح، 1971ئ کے بحران سے لے کر روہنگیا مہاجرین کی بازآبادکاری تک، جمعیت علمائے ہند نے برصغیر پاک، ہند اور بنگلہ دیش میں امن، انسانیت اور مظلوموں کی داد رسی کے لیے ہمیشہ ایک یادگار اور فعال کردار ادا کیا ہے۔

پاکستان اور ہندستانی مسلمان

 پاکستان اور ہندستانی مسلمان

تقسیمِ ہند، نظریۂ قومیت اور ہندستانی مسلمان: ایک تنقیدی مطالعہ
تمہید و پس منظر
دو قومی نظریے کے مظہر "تشکیلِ پاکستان" کی بنیاد دراصل برطانوی استعمار کی "لڑاؤ اور حکومت کرو" کی پالیسی پر تھی، جسے انگریزوں نے مسلم لیگ کے ذریعے آگے بڑھایا۔ موجودہ دور میں پیش کیا جانے والا "ہندو راشٹر" کا تصور بھی اسی استعماری پالیسی کا تسلسل ہے۔ تاریخ کی ستم ظریفی یہ ہے کہ جنگِ آزادی میں انگریزوں کی وفاداری کرنے والے عناصر، آج پاکستان کا نام لے کر ہندو راشٹر کے قیام کا جواز گھڑ رہے ہیں اور مغل دور میں ہندوؤں پر فرضی مظالم کا رونا رو کر موجودہ مسلمانوں سے انتقام لینے کی سیاست کر رہے ہیں۔
ان سنگین حالات میں یہ سوال نہایت اہم ہو جاتا ہے کہ: کیا واقعی پاکستان کا قیام ہندستانی مسلمانوں کا مطمحِ نظر تھا، اور اس کے حوالے سے ہمارے اکابر و مسلم رہنماؤں کا حقیقی نظریہ کیا رہا؟
مقالے کا خلاصہ
زیرِ نظر مقالہ اسی کلیدی تاریخی اور سیاسی سوالات کا علمی و تنقیدی جائزہ پیش کرتا ہے۔ اس تحقیق میں مستند شواہد کے ساتھ یہ واضح کیا گیا ہے کہ تاریخ کے مختلف نازک موڑ پر ہندستانی مسلمانوں اور ان کے مقتدر رہنماؤں نے کس طرح تقسیمِ ہند کی مخالفت کی اور متحدہ قومیت کا ساتھ دیا۔ چوں کہ اصل مقالہ نہایت طویل اور تفصیلی ہے، اس لیے یہاں اس کا یہ جامع خلاصہ پیش کیا جا رہا ہے، تاکہ قارئین کے سامنے تاریخ کا درست رخ آ سکے۔

محمد یاسین جہازی

 تاریخی شواہد سے واضح ہوتا ہے کہ جہاں برطانوی حکومت نے 1888ء سے 1906ء کے درمیان فرقہ وارانہ سیاست کو فروغ دے کر جداگانہ قومیت کی بنیاد رکھی، وہیں جمعیت علمائے ہند نے 1920ء سے مسلسل اپنے اجتماعات، قراردادوں اور اکابر علما کے خطابات کے ذریعے متحدہ قومیت، ہندو مسلم اتحاد اور مشترکہ جدوجہدِ آزادی کے نظریے کی حمایت کی اور تقسیمِ ہند کے بجائے متحدہ، آزاد ہندستان کو اپنا سیاسی نصب العین قرار دیا۔

ٹو نیشن تھیوری (دو قومی نظریہ) کی بنیاد پر پاکستان کا قیام دراصل متحدہ قومیت کے تصور کے برخلاف برطانوی حکومت کی ’’تفرقہ ڈالو اور حکومت کرو‘‘ (Divide and Rule) کی پالیسی کا نتیجہ تھا۔ کیوں کہ 1857ء کی جنگِ آزادی کے بعد برطانوی حکومت نے اپنی سلطنت کو مستحکم رکھنے کے لیے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان سیاسی و سماجی تفریق کو فروغ دیا اور ہندستانیوں کو متحد کرنے والی ہر قوت کو کمزور کرنے کی منظم کوشش کی۔ اسی حکمتِ عملی کے تحت برطانیہ نے ہندستانیوں کو متحد کرنے والی ہر طاقت کو کچلنے کا منصوبہ بنایا۔ چنانچہ 28؍دسمبر 1885ء کو انڈین نیشنل کانگریس کے قیام کے بعد مسلمانوں کو اس سے دور رکھنے کے لیے 8؍اگست 1888ء کو سرسید احمد خان نے یونائیٹڈ انڈین پیٹریاٹک ایسوسی ایشن قائم کی، جب کہ11؍دسمبر 1888ء کو علمائے لدھیانہ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ، حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور دیگر اکابر علما نے کانگریس میں شرکت کے جواز کا فتویٰ دیا۔ بعد ازاں دسمبر 1893ء میں محمڈن اینگلو اورینٹل ایسوسی ایشن، 1901ء میں محمڈن پولیٹیکل آرگنائزیشن، 6؍جولائی 1906ء کو شملہ وفد کی تیاری، یکم اکتوبر 1906ء کو وائسرائے منٹو سے ملاقات،9؍نومبر 1906ء کو نواب سلیم اللہ خان کی تجویز اور 30؍دسمبر 1906ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے قیام کے ذریعے انگریزوں نے جداگانہ سیاست کو فروغ دیا۔ اسی پس منظر میں بعد ازاں دو قومی نظریہ اور بالآخر پاکستان کے مطالبے نے جنم لیا۔

اس کے برعکس جمعیت علمائے ہند نے اپنے قیام ہی سے متحدہ قومیت اور مشترکہ جدوجہد کا نظریہ اختیار کیا۔ 6؍ستمبر 1920ء کے خصوصی اجلاس میں برطانوی حکومت ہند سے ’’ترک موالات‘‘ کی تجویز منظور کرنے کے بعد اسی شرعی تقاضا قرار دیتے ہوئے، 8؍ستمبر1920ء کو ’’متفقہ فتویٰ علمائے ہند‘‘ کے ذریعے غیر مسلموں کے ساتھ ملکی اور تمدنی تعاون کو شرعاً جائز قرار دیا،جب کہ 28؍اکتوبر 1920ء کو حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ نے بھی اس موقف کی تائید کی۔ 19، 20 اور 21؍نومبر 1920ء کو منعقدکے دوسرے اجلاس عام میں حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ نے ہندو مسلم اتحاد کو آزادی کی بنیاد قرار دیا، اوراسی اجلاس کی قرارداد نمبر (4) میں برادرانِ وطن سے خوشگوار تعلقات استوار رکھنے کی اپیل کی گئی۔

جمعیت علمائے ہند نے 24 تا 26؍دسمبر 1922ء کے چوتھے اجلاس میں فرقہ وارانہ اختلافات ختم کرنے کے لیے مشترکہ کمیٹی قائم کرنے کی قرارداد منظور کی۔ 29؍دسمبر 1923ء تا یکم جنوری 1924ء کے پانچویں اجلاس میں واضح کیا گیا کہ ہندستان کی آزادی باہمی اتحاد سے وابستہ ہے اور قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے والوں کو قوم و ملت کا دشمن قرار دیا گیا۔11 تا 14؍ مارچ 1926ء کے ساتویں اجلاس میں حضرت مولانا سید سلیمان ندویؒ نے ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک مشترکہ وطن کے باشندے قرار دے کر اتحاد پر زور دیا۔27؍اگست 1928ء   کو نہرو رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے جمعیت نے واضح کیا کہ متحدہ قومیت کا مطلب مذہبی یکسانیت نہیں؛ بلکہ تمام مذہبی گروہوں کے حقوق کا تحفظ ہے۔

اسی تسلسل میں 3؍ستمبر 1930ء کو حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہؒ نے قومی ہم آہنگی کی دعوت دی، جب کہ 31؍مارچ اور یکم اپریل 1931ء کے دسویں اجلاس میں گاندھی جی نے بھی اعلان کیا کہ سوراج ہندو مسلم اتحاد ہی سے حاصل ہوسکتا ہے۔3؍اگست 1931ء اور 5؍اکتوبر 1932ء کی مجلس عاملہ اور مجلس شوریٰ کے فیصلوں میں بھی متحدہ قومیت کے اصول پر کاربند رہنے اور اتحادِ اقوامِ ہند کی جدوجہد جاری رکھنے کا اعادہ کیا گیا۔

دو قومی نظریہ کی بنیاد اور متحدہ قومیت

ہندستان میں صدیوں تک متحدہ قومیت کا تصور رائج رہا، تاہم 1867ء میں سرسید احمد خان نے پہلی مرتبہ نظریاتی طور پر ہندوؤں اور مسلمانوں کو دو الگ قومیں قرار دیا۔ اس کی بنیاد 1867ء کے اردو-ہندی تنازع پر پڑی، جب بنارس میں ہندوؤں نے اردو کی جگہ ہندی کو سرکاری زبان بنانے کی تحریک چلائی۔ اس موقع پر سرسید احمد خان نے بنارس کے برطانوی کمشنر مسٹر شیکسپیئر سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہندو اور مسلمان کبھی دل سے ایک قوم بن کر نہیں رہ سکتے، بلکہ مستقبل میں ان کے درمیان مخالفت مزید بڑھے گی۔

بعد ازاں دو قومی نظریے کو جغرافیائی اور سیاسی شکل سب سے پہلے علامہ محمد اقبال نے دی۔ انھوں نے 29؍دسمبر 1930ء کو آل انڈیا مسلم لیگ کے 21؍ویں سالانہ اجلاس منعقدہ الہ آباد کے صدارتی خطبے میں پنجاب، سرحد (موجودہ خیبر پختونخوا)، سندھ اور بلوچستان کو ملا کر ایک خودمختار مسلم ریاست کے قیام کی تجویز پیش کی، جسے شمال مغربی ہندستان کے مسلمانوں کا مقدر قرار دیا۔

اس تصور کو باقاعدہ ’’پاکستان‘‘ کا نام چودھری رحمت علی نے دیا۔ انھوں نے اپنے تین ساتھیوں—محمد اسلم خان، شیخ محمد صادق اور عنایت اللہ خان—کے ساتھ 28؍جنوری 1933ء کو کیمبرج سے ''Now or Never'' کے عنوان سے تاریخی پمفلٹ شائع کیا، جس میں پہلی مرتبہ پنجاب، افغانیہ (شمال مغربی سرحدی صوبہ)، کشمیر، سندھ اور بلوچستان پر مشتمل الگ مسلم وطن ’’پاکستان‘‘ کا مطالبہ پیش کیا گیا۔

اس کے برعکس جمعیت علمائے ہندکے ریکارڈ میں متحدہ قومیت کا تصور 19، 20، 21؍نومبر 1920ء کے دوسرے اجلاسِ عام کے صدارتی خطاب اور 29؍دسمبر 1923ء تا یکم جنوری 1924ء کے پانچویں اجلاسِ عام کی تجویز نمبر (5) میں موجود ہے۔ یہ اس خیال کی تردید کرتا ہے کہ متحدہ قومیت کا پہلا تصور شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کا ہے؛ کیوں کہ حضرت شیخ الاسلام کی تقریر میں اس کا پہلا تذکرہ 7؍جنوری 1938ء کے خطاب میں ملتا ہے۔ البتہ یہ حقیقت ہے کہ وطن کی تشکیلی عناصر میں بحث و گفتگو کا دروازہ حضرت مدنی کے خطاب کے بعد ہی کھلا ہے۔

واقعہ یہ ہوا کہ 7؍جنوری 1938ء کو حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے متحدہ قومیت پر ایک خطاب فرمایا، جس کی غلط رپورٹنگ کے باعث علامہ اقبالؒنے علمی اختلاف کیا۔ 9؍فروری 1938ء اور 26؍فروری 1938ء کے خطوط میں حضرت مدنیؒ نے وضاحت کی کہ ان کا مقصد مذہبی قومیت کی نفی نہیں؛ بلکہ سیاسی اعتبار سے مشترکہ وطن کے باشندوں کے اتحاد کو بیان کرنا تھا، جس کے بعد 28؍مارچ 1938ء کو علامہ اقبالؒ نے بھی وضاحتی بیان جاری کیا۔ اسی سال اگست 1938ء میں جون پور پولیٹیکل کانفرنس میں حضرت مدنیؒ نے فرمایا کہ ہندستان تمام باشندگان کا مشترکہ وطن ہے اور اس کے حقوق کی حفاظت سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

اس نظریے کی مزید وضاحت 3 تا 6؍مارچ 1939ء کے گیارھویں اجلاس عام میں حضرت مولانا سید عبدالحق مدنیؒ نے کی کہ متحدہ قومیت سے مراد صرف مشترکہ وطنی شناخت ہے، مذہبی عقائد، یا تہذیب میں کوئی مداخلت نہیں۔ پھر 7، 8 اور 9؍جون 1940ء کے بارھویں اجلاس عام میں حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے واضح کیا کہ ہندو، مسلمان، سکھ اور دیگر تمام باشندے وطنی اعتبار سے ایک قوم ہیں، اس لیے ملک کی آزادی، دفاع اور مشترکہ مفاد کے لیے باہمی تعاون اسلامی تعلیمات کے مطابق ہے۔

3؍ستمبر1939ء کو دوسری عالمی جنگ شروع ہوئی اور برطانوی حکومت نے ہندستانیوں سے مشورہ کیے بغیر برطانوی ہند کو جنگ میں شامل کر دیا۔ اس کے خلاف14؍ستمبر 1939ء   کو کانگریس اور16 تا 18؍ستمبر 1939ء کو جمعیت علمائے ہند نے اپنے اجلاسوں میں فیصلہ کیا کہ اپنی غلامی کو طول دینے کے لیے اس جنگ میں شرکت نہیں کی جائے گی۔

ہندستانیوں کی حمایت حاصل کرنے کے لیے برطانوی حکومت نے17؍اکتوبر 1939ء   کو وائسرائے کی ایگزیکٹو کونسل میں توسیع، جنگی کونسل کے قیام اور جنگ کے بعد آئین سازی کے لیے کمیٹی بنانے کی تجاویز پیش کیں، لیکن کانگریس نے انھیں مسترد کر دیا۔ اس کے بعد18؍اکتوبر 1939ء کو حکومت نے انڈیاایکٹ1935ء پر جنگ کے بعد نظر ثانی کا اعلان کیا، مگر پھر بھی کانگریس اور مسلم لیگ دونوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ بعد ازاں نومبر 1939ء کے اوائل میں وائسرائے نے صوبائی وزارتوں اور مرکزی ایگزیکٹو کونسل میں توسیع کا بھی وعدہ کیا، لیکن  کانگریس اور جمعیت علمائے ہند دونوں نے مسترد کردیا اور مکمل آزادی کا نصب العین پیش کیا۔ 

اسی دوران مسلم لیگ نے اپنا الگ سیاسی مؤقف اختیار کیا۔ اس کی مجلس عاملہ اور کونسل نے   27؍اگست 1939ء ،17، 18 اور 22؍اکتوبر 1939ء اور3؍فروری 1940ء کی قراردادوں میں وفاقی نظامِ حکومت کی مخالفت کی۔ اور13؍فروری 1940ء کو محمد علی جناح نے وائسرائے لارڈ لن لتھگو سے ملاقات کرکے جنگ میں تعاون کے لیے اپنی شرائط پیش کیں، جن کی بنیاد پر23؍مارچ 1940ء کو لاہور کے منٹو پارک میں محمد علی جناح کی صدارت میں تاریخی اجلاس منعقد ہوا اور مشہور قراردادِ لاہورمنظور کی گئی۔ اس قرارداد میں ہندستان کے شمال مغربی اور مشرقی مسلم اکثریتی علاقوں پر مشتمل خود مختار ریاستوں کے قیام کا مطالبہ کیا گیا، جسے بعد میں ’’قراردادِ پاکستان‘‘ کہا گیا۔

اس کے برعکس جمعیت علمائے ہند نے تقسیم ہند کے نظریے کی مخالفت کرتے ہوئے متحدہ ہندستان کے موقف کو برقرار رکھا۔3 اور 4؍مارچ 1940ء کو جمعیت کی مجلس عاملہ نے دہلی میں آل پارٹیز آزاد مسلم کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا، جو27 تا 30؍اپریل 1940ء کو منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس میں قراردادِ پاکستان کی مخالفت کرتے ہوئے ہندستان کی وحدت، مشترکہ قومیت اور متحدہ آزادی کی حمایت کی گئی۔ بعد ازاں 7، 8 اور 9؍جون 1940ء کو جمعیت علمائے ہند کے بارھویں اجلاسِ عام میں حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے واضح کیا کہ مذہبی اختلاف کے باوجود ہندستان کے تمام باشندے وطنی اعتبار سے ایک قوم ہیں، اس لیے آزادی، دفاعِ وطن اور قومی مفاد کے لیے باہمی اتحاد اور مشترکہ جدوجہد ہی صحیح راستہ ہے۔

23؍مارچ 1940ء کو مسلم لیگ کی قراردادِ پاکستان کے جواب میں 14؍اپریل 1940ء کو حضرت مولانا ابوالمحاسن محمد سجادؒ نے ’’ہندو انڈیا اور مسلم انڈیا‘‘ کے عنوان سے ایک تنقیدی مقالہ تحریر کیا۔ انھوں نے استدلال کیا کہ ہندستان کی مشترکہ آبادی اور جغرافیائی حقیقت کے پیش نظر مذہب کی بنیاد پر تقسیم ناقابلِ عمل تھی اور خصوصاً ہندو اکثریتی صوبوں کے تقریباً تین کروڑ مسلمانوں کے حقوق کے لیے نقصان دہ ثابت ہوگی۔

مولانا کے مطابق مسلم لیگ نے تقریباً ڈھائی سال تک مسلمانوں کے مسائل بیان کیے، مگر ان کے عملی حل کی کوئی مؤثر اسکیم پیش نہ کرسکی۔ انھوں نے اس نظریے کو بھی رد کیا کہ مجوزہ مسلم ریاستیں اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کی حفاظت کریںگی، اور 1857ء، البانیہ اور فلسطین کی مثالوں سے واضح کیا کہ ایسی ضمانت عملی طور پر ممکن نہیں۔

انھوں نے بتایا کہ تقسیم کا تصور 1922ء میں سامنے آیا، 1930ء میں ڈاکٹر اقبال نے اس کی حمایت کی، لیکن گول میز کانفرنسوں میں اسے پیش نہیں کیا گیا۔ مزید برآں، لاہور اجلاس سے تقریباً 18؍ماہ قبل سندھ مسلم لیگ اس اصول کو منظور کرچکی تھی اور دستوری کمیٹی 15؍ماہ تک کوئی آئینی خاکہ بھی تیار نہ کرسکی۔

مولانا نے واضح کیا کہ حقیقی حل تقسیم نہیں؛ بلکہ ایک وفاقی نظام ہے۔ اسی لیے انھوں نے 3؍ اگست 1931ء کو سہارنپور میں جمعیت علمائے ہند کی منظور کردہ وفاقی اسکیم کی تائید کی اور 1935ء کے وفاقی دستور کو حقیقی وفاق قرار دینے سے انکار کیا۔

بعد ازاں 7، 8 اور 9 جون 1940ء کو جمعیت علمائے ہند کے اجلاس عام میں حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے متحدہ قومیت کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ مذہبی اختلاف کے باوجود ہندستان کے تمام باشندے وطن کے اعتبار سے ایک قوم ہیں، اور مشترکہ قومی مفادات کے تحفظ کے لیے باہمی تعاون ہی ملک و ملت کے مفاد میں ہے۔

20، 21، 22؍مارچ 1942ء کو لاہور میں جمعیت علمائے ہند کے تیرھویں اجلاس عام کے دوران پاکستان حامی عناصر نے ’’پاکستان زندہ باد‘‘ کے نعروں سے جلسہ خراب کرنے کی کوشش کی، مگر حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے استقلال اور رضاکاروں کی مستعدی سے حالات قابو میں آگئے۔

19؍مئی 1944ء کو مولانا حسن ندویؒ نے مسلم لیگ کی حمایت میں مکتوب لکھا، جس کے جواب میں 25؍جولائی 1944ء کو مولانا احمد سعیدؒ نے پاکستان کے تصور کو مبہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ نے آزادی کی تحریک کو کمزور کیا اور مسلمانوں کو قومی جدوجہد سے دور رکھا۔

4 تا 7؍مئی 1945ء کو جمعیت علمائے ہند کے چودھویں اجلاس عام میں خواجہ اطہر حسن نے واضح کیا کہ پاکستان کا مطالبہ، جس کی ابتدائی آواز دسمبر 1930ء میں ڈاکٹر محمد اقبال نے اٹھائی اور جسے 23؍مارچ 1940ء کی لاہور قرارداد میں پیش کیا گیا، دراصل سیاسی اختلافات کا نتیجہ تھا، نہ کہ ناگزیر نظریاتی ضرورت۔ انھوں نے استدلال کیا کہ تقسیم سے دو کروڑ اسّی لاکھ مسلمان اقلیتی صوبوں میں غیر محفوظ رہ جائیںگے،جب کہ مجوزہ پاکستان سیاسی، دفاعی اور معاشی لحاظ سے بھی کمزور ہوگا۔ ان کے مطابق ہندستان کے مسلمان اور ہندو مشترکہ وطن، تاریخ اور تہذیب رکھتے ہیں، اس لیے مسئلے کا حل تقسیم نہیں بلکہ متحدہ ہندستان، وفاقی نظام، صوبائی خودمختاری اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق میں مضمر ہے۔

4 تا 7؍مئی 1945ء کو جمعیت علمائے ہند کے چودھویں اجلاس عام میں حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ نے اپنے صدارتی خطاب میں پاکستان کے حامیوں کے دلائل کا تفصیلی جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے تقسیم ہند ضروری نہیں؛ بلکہ ایسا وفاقی دستور بنایا جاسکتا ہے، جس میں مرکز کے اختیارات محدود ہوں، مسلم و غیر مسلم کی مساوی نمائندگی، یا سپریم کورٹ کے ذریعے اقلیتوں کے حقوق محفوظ رہیں۔

مولانا مدنیؒ نے 1857ء کے بعد ہندستان، اندلس، فلسطین اور دیگر مسلم علاقوں کی مثالیں دے کر واضح کیا کہ مسلم حکومتوں نے کبھی دوسرے ممالک کے مسلمانوں کے تحفظ کے لیے جنگ نہیں کی، اس لیے یہ دعویٰ کہ پاکستان میں ہندوؤں سے بدلہ لے کر ہندستانی مسلمانوں کی حفاظت ہوگی، تاریخی اور عقلی اعتبار سے بے بنیاد ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اگر واقعی پاکستان میں خلافتِ راشدہ کے طرز کی اسلامی حکومت قائم ہوسکتی ہو، تو جمعیت سب سے پہلے اس کی حمایت کرے، لیکن مسلم لیگ کی قیادت اور اس کے بیانات اس دعوے کی تائید نہیں کرتے۔

10؍اپریل 1944ء کو سی راج گوپال آچاریہ نے کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان مفاہمت کے لیے مشہور راجا جی فارمولا پیش کیا، جس میں آزادی کے بعد مسلم اکثریتی علاقوں میں رائے شماری، علاحدگی کی صورت میں دفاع، تجارت اور دیگر مشترکہ معاملات پر معاہدوں کی تجویز دی گئی تھی، مگر 30؍جولائی 1944ء کو محمد علی جناح نے اسے ’’کرم خوردہ، لنگڑا اور اپاہج پاکستان‘‘ قرار دے کر مسترد کردیا۔

بعد ازاں 9؍ستمبر تا 27؍ستمبر 1944ء ممبئی میں مہاتما گاندھی اور محمد علی جناح کے درمیان 14؍طویل ملاقاتیں ہوئیں، لیکن پنجاب و بنگال کی مکمل شمولیت، رائے شماری کے طریق کار، آزادی سے پہلے، یا بعد میں تقسیم کے فیصلے، اور دفاع و تجارت کے مشترکہ معاہدوں جیسے بنیادی اختلافات کے باعث کوئی سمجھوتہ نہ ہوسکا۔

 جمعیت علمائے اسلام کا قیام اور تحریکِ پاکستان کی حمایت

11؍جولائی 1945ء کو کلکتہ میں مولانا عبدالقادر آزاد سبحانی کی صدارت میں علما کے اجلاس میںجمعیت علمائے اسلام کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ بعد ازاں 26 تا 29؍اکتوبر 1945ء کو کلکتہ میں اس کا پہلا اجلاس عام منعقد ہوا، جس میں اس کے نصب العین میں مسلم لیگ کی حمایت، پاکستان کی تائید اور اسلامی حکومت و خلافت کے قیام کو بنیادی مقصد قرار دیا گیا۔

12؍ستمبر 1945ء کو سہلٹ (آسام) میں حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے فرمایا کہ پاکستان کے نتیجے میں صرف برطانوی اقتدار مضبوط ہوگا، مسلمانوں کو کوئی حقیقی فائدہ حاصل نہیں ہوگا۔

23؍ستمبر 1945ء کو علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں نواب زادہ لیاقت علی خان نے پاکستان کو مسلم اکثریتی علاقوں کی آزاد اور جمہوری ریاست قرار دیا۔ اس پر 9 ؍اکتوبر 1945ء کو مولانا محمد میاںؒ صاحب نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بننے سے ہندستان تقسیم ہوگا، تو اس سے برطانوی اقتدارہی مضبوط ہوگا، اسلامی حکومت قائم نہیں ہوگی۔

25؍اکتوبر 1945ء کو مولانا حسین احمد مدنیؒ نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ مسلم لیگ کے پاکستان کے نعرے سے دھوکا نہ کھائیں، کیوںکہ یہ انگریز نواز طبقے کی سیاسی مہم ہے۔

اسی 25؍اکتوبر 1945ء کو مفتی اعظم ہند حضرت مولانا محمد کفایت اللہؒ صاحب نے پاکستان کے بارے میں فتویٰ دیتے ہوئے فرمایا کہ اس مطالبے سے اسلام کی قوت ایک محدود خطے تک سمٹ جائے گی اور باقی ہندستان کے کروڑوں مسلمان غیر محفوظ رہ جائیںگے، اس لیے یہ مسلمانوں کے لیے نقصان دہ ہے۔

28؍اکتوبر 1945ء کو راولپنڈی میں ماسٹر مونا سنگھ نے دعویٰ کیا کہ محمد علی جناح کو نظام حیدرآباد کے ذریعے انگریزوں کی طرف سے چھ لاکھ روپے سالانہ ملتے تھے۔ اسی سلسلے میں اخبارات میں یہ بھی شائع ہوا کہ جناح کے اکاؤنٹ میں بڑی رقم آنے پر انکم ٹیکس حکام نے وضاحت طلب کی تھی، جسے پاکستان کی مہم سے جوڑا گیا۔

30؍نومبر 1945ء کو شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق امروہہ کے ایک بڑے جلسے میں مولانا حسین احمد مدنیؒ نے کہا کہ برطانوی حکومت نے 1921ء ہی میں ہندستان کو ہندو اور مسلم ریاستوں میں تقسیم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا اور مسلم لیگ اسی منصوبے کو آگے بڑھا رہی ہے۔

اسی دور میں مولانا احمد سعید دہلویؒ نے مسلم لیگ کے اس دعوے کی تردید کی کہ وہ مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ہے، اور بتایا کہ جمعیت علمائے ہند، احرار، خدائی خدمت گار، شیعہ جماعتیں، یونینسٹ اور دیگر متعدد مسلم جماعتیں مسلم لیگ کے ساتھ نہیں ہیں۔

دسمبر 1945ء میں مولانا محمد حفظ الرحمان صاحبؒ نے ’’تحریک پاکستان پر ایک نظر‘‘ کے عنوان سے مفصل مقالہ تحریر کیا، جس میں سیاسی، مذہبی اور معاشی دلائل سے پاکستان کے منصوبے کا تنقیدی جائزہ لیتے ہوئے واضح کیا کہ مجوزہ پاکستان میں تقریباً 60؍فی صد مسلمان اور 40؍ فی صد غیر مسلم ہوںگے، جب کہ باقی ہندستان میں تقریباً تین کروڑ مسلمان شدید اقلیت بن جائیںگے، اس لیے پاکستان نہ مسلمانوں کے تحفظ کی ضمانت ہے اور نہ سیاسی استحکام کا ذریعہ۔

انھوںنے 1941ء کی مردم شماری کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے پنجاب، سرحد، سندھ، بلوچستان، بنگال اور آسام کی آبادی اور مسلم تناسب کا تجزیہ کیا اور ثابت کرنے کی کوشش کی کہ پاکستان کے بعد بھی غیر مسلم بڑی اور مؤثر اقلیت رہیںگے، جب کہ باقی ہندستان کے مسلمان مزید کمزور ہوجائیںگے۔

تحریک پاکستان کے پس منظر پر گفتگو کرتے ہوئے انھوںنے اخبار’’مدینہ بجنور‘‘ (12؍ اگست 1931ء) میں شائع ایک خط کا حوالہ دیا، جس میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ برطانوی حکام ہندستان کو ہندو اور مسلم حصوں میں تقسیم کرکے اپنی سیاسی اور تجارتی بالادستی مزید 25 تا 30 ؍سال تک برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ اس بنیاد پر انھوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پاکستان کا تصور برطانوی سامراجی مفادات سے ہم آہنگ تھا، نہ کہ ہندستانی مسلمانوں کے حقیقی مفاد سے۔

24؍جنوری 1946ء کو کلاچی (ڈیرہ اسماعیل خان) کے ایک بڑے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے کہا کہ پورا ہندستان مسلمانوں کے لیے ’’پاکستان‘‘ ہے، کیوںکہ اسلاف نے اسے اسلام کی دعوت سے پاکیزہ بنایا۔ ان کے مطابق مسلم لیگ کا مطالبۂ پاکستان دراصل ہندستان کو تقسیم کرکے اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں کو کمزور کرنے کی سازش ہے۔ انھوں نے مسلمانوں سے اپیل کی کہ مسلم لیگ کے بجائے جمعیت علمائے ہند، مسلم پارلیمنٹری بورڈ اور احرار کے امیدواروں کو ووٹ دیں۔

19؍ستمبر 1945ء کو وائسرائے لارڈ ویول نے دسمبر 1945ء تا جنوری 1946ء انتخابات کا اعلان کیا، جس کے بعد 16 تا 19؍ستمبر 1945ء منعقدہ ’’مسلم آل پارٹیز کانفرنس‘‘ میں ’’مسلم پارلیمنٹری بورڈ‘‘ قائم کیا گیا اور حضرت مدنیؒ اس کے صدر منتخب ہوئے۔ بورڈ نے متحدہ اور آزاد ہندستان کی حمایت کی، جب کہ مسلم لیگ نے پاکستان اور اسلامی حکومت کے نعرے پر انتخابی مہم چلائی۔

انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ نے پاکستان کو مرکزی انتخابی مسئلہ بنایا۔ 31؍اگست 1945ء کو محمد علی جناح نے اعلان کیا کہ انتخابات کا مقصد پاکستان کا حصول اور مسلم لیگ کو مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت ثابت کرنا ہے۔ 6؍جنوری 1946ء اور 20؍مارچ 1946ء کو مختلف مذہبی شخصیات اور سجادہ نشینوں کے فتوے اور پیغامات شائع ہوئے، جن میں مسلمانوں سے مسلم لیگ کی حمایت کی اپیل کی گئی، جب کہ 6؍مارچ 1946ء کو یوپی مسلم لیگ کے صدر محمد اسماعیل خاں نے بھی پاکستان کے حق میں ووٹ دینے کی اپیل جاری کی۔

دسمبر 1945ء میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں مسلم لیگ نے مسلمانوں کی تمام 30؍مخصوص نشستیں جیت لیں۔ اس کے بعد فروری اور مارچ 1946ء کے صوبائی انتخابات میں کانگریس نے 923؍نشستیں اور مسلم لیگ نے مسلمانوں کی 492؍مخصوص نشستوں میں سے 425؍نشستیں حاصل کیں۔ پھر جولائی 1946ء میں دستور ساز اسمبلی کے انتخابات میں کانگریس نے 207 (یا 208) اور مسلم لیگ نے مسلمانوں کی 78؍مخصوص نشستوں میں سے 73؍نشستیں حاصل کیں۔ان  انتخابات میں مسلم لیگ کی غیر معمولی کامیابی نے قیام پاکستان کا مطالبہ مزید مضبوط ہوا۔

4؍اپریل 1946ء کو جناح اور کابینہ مشن کی ملاقات ناکام ہونے کے بعد 8 تا 9؍اپریل 1946ء کو مسلم لیگ کے اجلاس میں پاکستان کی تشکیل اور علاحدہ دستور ساز اسمبلیوںکے مطالبات کیے گئے۔ ان مطالبات پر 15؍اپریل 1946ء کو مولانا ابوالکلام آزادؒ نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی اسکیم نہ صرف ہندستان؛ بلکہ خود مسلمانوں کے لیے بھی نقصان دہ ہوگی اور اسلام پاک و ناپاک علاقوں کی تقسیم کو تسلیم نہیں کرتا۔

برطانوی حکومت کے 20؍فروری 1947ء کے اعلانِ انتقالِ اقتدار کے بعد جمعیت علمائے ہند نے مسلم اتحاد کی کوشش کی۔ مولانا محمد حفظ الرحمان صاحبؒ نے محمد علی جناح کو ایک مشترکہ مسلم مجلس مشاورت کی دعوت دی، جو 8؍اپریل 1947ء کو شائع ہوئی۔ جناح نے 3؍اپریل 1947ء کے اپنے جواب (اشاعت: 11؍اپریل 1947ء) میں نئی مجلس کو مسترد کرتے ہوئے مسلمانوں سے مسلم لیگ میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ اس پر مولانا نے 15؍اپریل 1947ء (اشاعت: 2؍مئی 1947ء) کو دوبارہ لکھا کہ حق کا معیار اکثریت نہیں؛ بلکہ دلیل ہے۔ جناح نے 20؍اپریل 1947ء (اشاعت: 2؍مئی 1947ء) کو اپنے مؤقف پر اصرار کیا۔ آخرکار 23؍اپریل 1947ء (اشاعت: 21؍مئی 1947ء) کو مولانا حفظ الرحمان صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے آخری خط میں افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر شوریٰ پاکستان کو مسلمانوں کے حق میں بہتر قرار دیتی، تو جمعیت اسے قبول کر لیتی، مگر جناح کے انکار سے یہ کوشش ناکام ہوگئی۔ اس کے باوجود 9 تا 11؍مئی 1947ء لکھنؤ میں جمعیت کی جنرل کونسل کے اجلاس اور 14؍مئی 1947ء کی پریس رپورٹ میں دوبارہ مسلم لیگ سے مذاکرات کی آمادگی ظاہر کی گئی، جب کہ مسٹر عزیز ہندی نے بھی دونوں جماعتوں کے اتحاد کی اپیل کی۔

مجموعی طور پر اس عرصے میں جمعیت علمائے ہند نے متحدہ ہندستان، مشترکہ قومیت اور آئینی تحفظات کی پالیسی پر زور دیا، جب کہ مسلم لیگ نے پاکستان کے مطالبے کو اپنی انتخابی اور سیاسی جدوجہد کا مرکز بنایا۔ 1945-46ء کے انتخابات میں مسلم لیگ کی غیر معمولی کامیابی نے بالآخر قیامِ پاکستان کی راہ ہموار کر دی، اگرچہ جمعیت علمائے ہند آخری وقت تک تقسیم کے بجائے اتحاد اور باہمی مشاورت کی داعی رہی۔

کیبنٹ مشن، تقسیم ہند کا منصوبہ اور جمعیت علمائے ہند کا موقف

17؍فروری 1946ء کو برطانوی حکومت نے اقتدار کی منتقلی کے لیے کیبنٹ مشن بھیجنے کا اعلان کیا، جو 23؍مارچ 1946ء کو ہندستان پہنچا۔ اگرچہ کانگریس اور مسلم لیگ سے مشاورت کی گئی، لیکن جمعیت علمائے ہند کو نظر انداز کیا گیا۔ اس پر 28-29؍مارچ 1946ء کو جمعیت کی مجلس عاملہ نے فیصلہ کیا کہ مسلمانوں کے مفاد کے خلاف کسی بھی آئینی تجویز کی مخالفت کی جائے گی۔ دوسری جانب 8-9؍اپریل 1946ء کو مسلم لیگ نے کیبنٹ مشن کے سامنے ہندستان کی تقسیم اور دو الگ دستور ساز اسمبلیوں کا مطالبہ پیش کیا۔

جمعیت کے احتجاج کے بعد کیبنٹ مشن نے 16؍اپریل 1946ء کو جمعیت کو مذاکرات کی دعوت دی۔ اس سے قبل 15؍اپریل 1946ء کو قوم پرور مسلم جماعتوں کے مشترکہ اجلاس میں ایک متفقہ فارمولا تیار کیا گیا، جسے 16؍اپریل 1946ء کو حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کی قیادت میں جمعیت کے وفد نے کیبنٹ مشن کے سامنے پیش کیا۔

بعد ازاں 5؍مئی 1946ء کو شملہ میں کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان مذاکرات ہوئے، مگر پاکستان اور متحدہ ہندستان کے مسئلے پر اختلاف برقرار رہنے سے کانفرنس ناکام ہوگئی۔ اس کے بعد کیبنٹ مشن نے عبوری حکومت کا منصوبہ پیش کیا، جسے مسلم لیگ نے 6؍جون 1946ء اور کانگریس نے 25؍جون 1946ء کو قبول کر لیا۔ اسی دوران 10 تا 12؍جون 1946ء کو جمعیت کی مجلس عاملہ نے منصوبے کا جائزہ لے کر اپنا تنقیدی موقف پیش کیا۔

چوںکہ کیبنٹ مشن نے پاکستان کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا تھا، اس لیے مسلم لیگ نے 27؍جولائی 1946ء کو اس منصوبے سے دست برداری کا اعلان کیا اور 16؍اگست 1946ء کو ’’ڈائریکٹ ایکشن ڈے‘‘ منا کر فرقہ وارانہ فسادات کا آغاز کیا۔ اس کے باوجود وائسرائے نے 12؍اگست 1946ء کو کانگریس کو عبوری حکومت بنانے کی دعوت دی، اور 2؍ستمبر 1946ء کو کانگریس نے سات ارکان کے ساتھ عبوری حکومت قائم کی۔ کانگریس کی جانب سے مسلم نمائندوں کی نام زدگی پر جمعیت نے 21 تا 24؍ستمبر 1946ء کے اجلاس میں اعتراض کرتے ہوئے مسلمانوں کی حقیقی نمائندگی کا مطالبہ کیا۔

بعد میں مسلم لیگ نے 15؍اکتوبر 1946ء کو عبوری حکومت میں شمولیت اختیار کی، لیکن پانچ مسلم نشستوں میں ایک نشست غیر مسلم دلت رہنما جوگندر ناتھ منڈل کو دے کر مسلمانوں کی نمائندگی کم کر دی۔

برطانوی وزیر اعظم نے 20؍فروری 1947ء کو جون 1948ء تک اقتدار منتقل کرنے کا اعلان کیا۔ اس پر 13 تا 15؍مارچ 1947ء کو جمعیت کی مجلس عاملہ نے اس اعلان کا خیر مقدم کیا، مگر فرقہ وارانہ بنیاد پر تقسیم ہند اور پنجاب کی تقسیم کی مخالفت کرتے ہوئے تمام مسلم جماعتوں کی مشترکہ مشاورت کی تجویز پیش کی، جسے مسلم لیگ نے قبول نہیں کیا۔

24؍مارچ 1947ء کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن وائسرائے بن کر ہندستان آئے۔ انھوں نے پہلے کیبنٹ مشن پلان پر اتفاق کی کوشش کی، لیکن مسلم لیگ کے اصرار کے باعث بالآخر تقسیم ہند کا منصوبہ پیش کیا۔ اس پر 9 تا 11؍مئی 1947ء کو لکھنو میں جمعیت علمائے ہند کے اجلاس میں برطانوی اقتدار کے خاتمے کا خیر مقدم کیا گیا، مگر تقسیم ہند، تقسیم پنجاب اور تقسیم بنگال کو مسترد کرتے ہوئے کیبنٹ مشن پلان ہی کو واحد قابل عمل حل قرار دیا گیا۔

2؍جون 1947ء کو ماؤنٹ بیٹن نے تقسیم ہند کا منصوبہ ہندستانی رہنماؤں کے سامنے پیش کیا۔ مسلم لیگ نے اسے 9-10؍جون 1947ء اور کانگریس نے 14-15؍جون 1947ء کو منظور کر لیا۔ کانگریس کی 14-15؍جون 1947ء کی نشست میں 212 ارکان شریک ہوئے اور منصوبہ 157؍کے مقابلے میں 29؍ووٹوں سے منظور ہوا۔ اس اجلاس میں صرف مولانا محمد حفظ الرحمان سیوہارویؒ اور پرشوتم داس ٹنڈن نے مخالفت کی۔ 14-15؍جون 1947ء کی کانگریس کی میٹنگ میں مولانا حفظ الرحمان صاحب ؒ نے اپنے خطاب میں کہا کہ تقسیم ہند کانگریس کی متحدہ قومیت کی پالیسی کا خاتمہ اور مسلمانوں کے لیے شدید نقصان کا باعث ہوگی۔

بعد ازاں 24؍جون 1947ء کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے برطانوی حکومت کے 3؍جون 1947ء کے منصوبۂ تقسیم سے مکمل بیزاری کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ تقسیم ہند خصوصاً مسلمانوں کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے، اس سے تقریباً پانچ کروڑ مسلمان ایک بڑی غیر مسلم اکثریت کے رحم و کرم پر چھوڑ دیے گئے، اور اس کی ذمہ داری مسلم لیگ کی پالیسی اور کانگریس کی منظوری دونوں پر عائد ہوتی ہے۔ تاہم جمعیت نے اعلان کیا کہ تقسیم کے بعد بھی مسلمانوں کی دینی، سیاسی، سماجی اور تعمیری خدمت جاری رکھی جائے گی۔

بالآخر تمام مخالفتوں کے باوجود 14؍اگست 1947ء کو پاکستان اور 15؍اگست 1947ء کو آزاد ہندستان وجود میں آئے۔ 14؍اگست 1947ء کو محمد علی جناح نے کراچی میں پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے سامنے برطانوی تاج سے وفاداری کا حلف اٹھایا، جس کے بعد پاکستان کی دستور ساز اسمبلی سے لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے بھی خطاب کیا۔

قیامِ پاکستان کے بعدجمعیت علمائے ہند کا موقف 

تقسیم ہند کے خون آشام فسادات کے بعد 27،28؍دسمبر 1947ء کو لکھنو میں امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ کی صدارت میں مسلم کانفرنس منعقد ہوئی۔ اس موقع پر جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی حضرت مولانا محمد حفظ الرحمانؒصاحب نے واضح کیا کہ جس طرح ہندستان میں فرقہ پرستی قابلِ مذمت ہے، اسی طرح اگر پاکستان ایسی پالیسی اختیار کرے، جس سے ہندوؤں اور سکھوں کا وہاں رہنا ناممکن ہوجائے، تو یہ اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے۔ انھوںنے کہا کہ ایسا پاکستان درحقیقت ’’پاکستان‘‘ نہیں؛ بلکہ ’’ناپاکستان‘‘ ہوگا۔ انھوں نے ہندستانی مسلمانوں کو بھی متنبہ کیا کہ پاکستان، یا مسلم لیگ کے نعروں سے متأثر نہ ہوں اور ہندستان میں مسلم لیگ کو فروغ نہ دیں۔

یکم فروری 1948ء کو مجلس عاملہ کی تجویز نمبر (3) میں جمعیت علمائے ہند نے اعلان کیا کہ 15؍اگست 1947ء کے بعد چوںکہ ہندستان اور پاکستان دو الگ ممالک بن چکے ہیں، اس لیے جمعیت کا تنظیمی دائرہ صرف انڈین یونین تک محدود رہے گا اور پاکستان میں موجود شاخیں آزادانہ طور پر اپنے حالات کے مطابق کام کریںگی۔ اسی فیصلے کی توثیق 20،21؍مارچ 1948ء کو کل ہند جمعیت علما کونسل کے اجلاس میں بھی کی گئی۔

اسی 20،21؍مارچ 1948ء کے اجلاس کے اختتامی خطاب میں حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے آٹھ نکاتی پروگرام پیش کیا، جس کے آخری نکات میں پاکستان کو یہ مشورہ دیا کہ اغوا شدہ عورتوں کی بازیابی میں پوری دیانت سے حصہ لیا جائے، مہاجرین کو عزت و تحفظ کے ساتھ قبول کیا جائے اور پاکستان کے علما حکومت کو اس بات کی تلقین کریں کہ غیر مسلم شہریوں کے جان و مال اور مذہبی و شہری حقوق کی مکمل حفاظت کی جائے تاکہ وہ امن و اطمینان کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔

ہجرت یا فرار

پاکستان کے قیام (14؍اگست 1947ء) کے بعد بعض علما نے ہندستان سے پاکستان ہجرت کو دینی فریضہ قرار دیا، لیکن چوں کہ جمعیت علمائے ہند نے برطانوی غلامی عہد حکومت میں اپنے 2 تا 5؍دسمبر 1927ء کو منعقد اجلاس میں ہندستان کو ’’دارالامن‘‘ قرار دیا تھا، تو آزادی کے بعد تو بدرجۂ اولیٰ ہندستان ’’دارالامن‘‘ تھا، اس لیے جمعیت نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کی طرف نقل مکانی زیادہ تر معاشی، سماجی اور خاندانی اسباب کی بنا پرہورہی ہے، اس لیے اسے اسلامی ہجرت نہیں کہا جاسکتا۔ حضرت سید الملت نے واضح کیا کہ اس طرح کی نقل مکانی ملت کے اجتماعی مفاد کے خلاف ہے۔ اسی تناظر میں امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ نے 24؍ اکتوبر 1947ء کو جامع مسجد دہلی کے تاریخی خطبہ میں مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ خوف کے بجائے اپنے وطن میں ثابت قدم رہیں اور اپنی صدیوں کی تاریخ کو ترک نہ کریں۔

26،27،28؍اپریل 1948ء کو جمعیت علمائے ہند کے پندرھویں اجلاسِ عام میں نائب صدر مولانا احمد سعید دہلویؒ نے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کو نصیحت کی کہ اگر وہ خود کو اسلامی ریاست کہتا ہے، تو اپنی اقلیتوں کے ساتھ عدل و مساوات کا برتاؤ کرے، کیوںکہ وہاں سے خود پاکستان کے حامی مسلمان بھی مایوس ہوکر واپس ہندستان آرہے ہیں۔

اسی اجلاس کے صدارتی خطاب میں حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے واضح کیا کہ تقسیم کے بعد پاکستان اور ہندستان کے مسلمانوں کے سیاسی مفادات الگ الگ ہوچکے ہیں، اس لیے جمعیت کی اولین ذمہ داری انڈین یونین کے مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگرچہ دونوں ملکوں کے خوشگوار تعلقات مطلوب ہیں، لیکن جمعیت ہر معاملے میں ہندستانی مسلمانوں کے مفاد کو مقدم رکھے گی۔

اسی اجلاس میں حضرت مولانا محمد حفظ الرحمانؒ صاحب نے فرمایا کہ 15؍اگست 1947ء کے بعد پاکستان میں اقلیتوں کے تحفظ کے سلسلے میں مولانا آزادؒ کی تجاویز پر عمل نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں حالات مزید خراب ہوئے۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں میں امن اسی وقت قائم ہوسکتا ہے جب ہر فریق اپنی غلطیوں کا اعتراف کرے۔ انھوں نے پاکستان پر زور دیا کہ اسلام کی حقیقی تعلیمات کے مطابق غیر مسلم اقلیتوں کے جان و مال اور مذہبی حقوق کی حفاظت کرے، کیوںکہ اسلامی تاریخ ہمیشہ اقلیتوں کے تحفظ کی گواہ رہی ہے۔ انھوںنے یہ بھی کہا کہ پاکستان کا قیام صرف مسلم لیگ کی کوششوں سے نہیں؛ بلکہ کانگریس کی تقسیم قبول کرنے کی غلطی سے ممکن ہوا اور تقسیم نے برصغیر میں تباہی کو مزید بڑھا دیا۔

23؍مئی 1948ء کو مولانا محمد حفظ الرحمانؒ صاحب نے فری پریس آف پاکستان کو بیان دیتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ ہندستان میں مسلمانوں کے حالات کا حوالہ دینے کے بجائے اپنی اقلیتوں کے ساتھ عدل، جمہوریت، قانون اور اسلامی اصولوں کے مطابق حسنِ سلوک اختیار کرے۔

28؍جون 1948ء کو نائب صدر جمعیت مولانا احمد سعید دہلویؒ نے دہلی میں منعقد ہونے والی ہندستان اور پاکستان کے وزرائے حکومت کی کانفرنس سے قبل ایک اہم بیان جاری کیا۔ انھوں نے دونوں حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ مہاجرین کو عزت و تحفظ کے ساتھ دوبارہ اپنے گھروں میں واپس بسایا جائے، متروکہ املاک کے مسئلے کا منصفانہ حل نکالا جائے، آبادی کے تبادلے کے فیصلے پر نظرثانی کی جائے اور دونوں ممالک کے درمیان آمد و رفت آسان بنائی جائے۔ انھوں نے زور دیا کہ اگر پاکستان خود کو اسلامی ریاست کہتا ہے، تو اسے غیر مسلم شہریوں کی مکمل حفاظت کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے، جیسا کہ خلافتِ راشدہ کی تاریخ میں اقلیتوں کے ساتھ کیا گیا تھا۔

اقلیتوں کے تحفظ کے مسئلے پر ہندستان اور پاکستان کے وزرائے اعظم کے مذاکرات سے قبل 3؍اپریل 1950ء کو حضرت مولانا محمد حفظ الرحمانؒ صاحب نے دونوں حکومتوں کے نام ایک تفصیلی مکتوب ارسال کیا، جو 6؍اپریل 1950ء کو شائع ہوا۔ اس میں انھوں نے تجویز دی کہ دونوں ممالک میں اقلیتوں کو وزارتوں، اعلیٰ سرکاری عہدوں، فوج، پولیس اور دیگر اداروں میں مناسب نمائندگی دی جائے، اقلیتوں کے تحفظ کے لیے مرکزی وزیر مقرر کیا جائے، جان و مال کے نقصانات کا مکمل معاوضہ دیا جائے، فسادات کے مجرموں کو سخت سزائیں دی جائیں، اجتماعی جرمانہ عائد کیا جائے، جبری مذہب تبدیلی کو جرم قرار دیا جائے، اقلیتوں کے تحفظ کے لیے مشترکہ بین الحکومتی بورڈ قائم کیا جائے اور بے گھر افراد کو دوبارہ ان کے گھروں میں آباد کیا جائے۔

چنانچہ 5 تا 9؍اپریل 1950ء تک پنڈت جواہر لال نہرو اور پاکستان کے وزیر اعظم لیاقت علی خان کے درمیان مذاکرات ہوئے، جن میں متعدد امور پر اتفاق ہوا۔ ان میں اقلیتوں کے تحفظ کی حکومتی ذمہ داری، فسادیوں کو سزا، متأثرین کی آبادکاری اور معاوضہ، لوٹے ہوئے مال کی واپسی، اغوا شدہ خواتین کی بازیابی اور افواہیں پھیلانے والوں کے خلاف کارروائی جیسے اہم نکات شامل تھے، جنھیں جمعیت علمائے ہند نے اقلیتوں کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔

ہند و پاک تعلقات جمعیت علمائے ہند کا موقف 

21؍ستمبر 1950ء کو سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید دہلویؒ نائب صدر جمعیت علمائے ہند نے 30؍ستمبر 1950ء کو لکھنو میں منعقد ہونے والے انڈو پاکستان گڈول کنونشن کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے وقت کی اہم ضرورت قرار دیا۔ آپ نے امید ظاہر کی کہ شری پرکاش کی صدارت میں ہونے والے فیصلے دونوں ملکوں کے درمیان امن، خوش حالی، باہمی اعتماد اور بہتر تعلقات کا ذریعہ بنیں گے۔ 

27 تا 29؍اپریل 1951ء کو منعقد جمعیت علمائے ہند کے سترھویں اجلاس عام میں پاکستان سے ہمدردی کے الزام کے جواب میں واضح کیا گیا کہ ہندستانی مسلمان اپنے وطن اور دستورِ ہند کے وفادار ہیں۔ پاکستان، یا دیگر مسلم ممالک سے مذہبی، یا انسانی ہمدردی رکھنے کا مطلب ہرگز وطن سے بے وفائی نہیں۔ وفاداری کا تعلق حکومتوں سے نہیں؛ بلکہ ملک اور اس کے آئین سے ہوتا ہے۔ اس موقع پر حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے بھی واضح کیا کہ کسی پوری جماعت کو غدار قرار دینا غلط ہے اور مسلمانوں سے بار بار وفاداری کا ثبوت طلب کرنا ناانصافی ہے۔ انھوں نے زور دیا کہ ہندو اور مسلمان ملک کی گاڑی کے دو پہیے ہیں اور باہمی محبت ہی قومی اتحاد کی بنیاد بن سکتی ہے۔

اسی اجلاس کے صدارتی خطاب میں حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے فرمایا کہ تقسیم ہند ایک تاریخی حقیقت بن چکی ہے، لہٰذا ماضی کی تلخیوں کو دہرانے کے بجائے ہندستان اور پاکستان کے درمیان اعتماد، تجارت، آمدورفت، باہمی تعاون اور خوشگوار تعلقات کو فروغ دینا دونوں ممالک اور پورے ایشیا کے مفاد میں ہے۔

اسی اجلاس میں جمعیت نے حکومت پاکستان سے خان عبدالغفار خان، خان برادران اور ان کے ساتھیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا، جنھیں 15؍جون 1948ء کو گرفتار کیا گیا تھا اور 16؍جون 1948ء کو تین سال قید بامشقت کی سزا سنائی گئی تھی۔ سزا کی مدت 15؍جون 1951ء کو پوری ہونے کے باوجود ان کی رہائی نہ ہونے پر جمعیت نے شدید تشویش ظاہر کی۔ بعد ازاں 15، 16؍ اپریل 1952ء کی مجلس عاملہ نے بھی اس مطالبے کا اعادہ کیا اور ان کی علالت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فوری رہائی کا مشورہ دیا۔

9؍اگست 1951ء کو حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے ایران کے مذہبی رہنما آیت اللہ سید ابوالقاسم کاشانی کے نام ایک بحری تار بھیجا، جس میں پاکستان کے جنگی پروپیگنڈے کی تردید کرتے ہوئے واضح کیا کہ ہندستان جنگ کا خواہاں نہیں، بلکہ ہمیشہ مسائل کے پرامن حل کا حامی رہا ہے۔ آپ نے یاد دلایا کہ پاکستان نے 20؍جون 1951ء کو پونچھ کے محاذ پر فوجی نقل و حرکت شروع کی، جس کے جواب میں ہندستان نے 10؍جولائی 1951ء کو اپنی سرحدی دفاعی تیاری کی۔ ساتھ ہی پاکستان پر زور دیا کہ وہ جنگ نہ کرنے کے باہمی اعلان کو قبول کرے۔

ہندستان اور پاکستان کا مطلع ایک ہے

18-19؍اگست 1951ء کو رویت ہلال کے مسئلے پر اکابرین جمعیت کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں متفقہ طور پر فیصلہ کیا گیا کہ اگر کسی معتبر مسلم ذریعے سے ثابت ہوجائے کہ کسی مقام پر شرعی شہادت کے ساتھ چاند کا اعلان کیا گیا ہے، تو ہندوستان اور پاکستان دونوں میں اس اعلان پر عمل کرنا جائز ہوگا۔ اس فیصلے پر حضرت مفتی محمد کفایت اللہؒ، حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ، حضرت مولانا حفظ الرحمانؒ اور دیگر ممتاز علما نے دستخط کیے۔

4؍اپریل 1952ء کو حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو خط لکھ کر ممبئی کے رسالہ ’’فلم انڈیا‘‘ (مارچ 1952ء) اور کلکتہ کے رسالہ ’’تومرجبان‘‘ (جنوری 1952ء) میں اسلام، رسول اکرم اور مقدسات اسلام کی توہین پر شدید احتجاج کیا۔ آپ نے واضح کیا کہ پاکستان کی مخالفت، یا اس کی پالیسیوں پر تنقید ایک الگ معاملہ ہے، لیکن اس کی آڑ میں اسلام، یا پیغمبر اسلام کی توہین کسی صورت برداشت نہیں کی جاسکتی۔ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ ایسے عناصر کو سخت سزا دی جائے، تاکہ آئندہ اس قسم کے واقعات کی روک تھام ہوسکے۔

19؍ستمبر 1952ء کو حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحبؒ نے وزیر ریلوے کو خط لکھ کر ان مسلم ریلوے ملازمین کی بحالی کا مطالبہ کیا، جو تقسیم ہند کے بعد پاکستان جا کر واپس ہندستان آگئے تھے اور اپنی ملازمتوں سے محروم ہوگئے تھے۔ جمعیت کی مسلسل کوششوں اور پنڈت نہرو کی مداخلت کے نتیجے میں بہت سے مستحق ملازمین بحال کیے گئے اور پولیس رپورٹ کی بنیاد پر پیدا ہونے والی رکاوٹیں بھی دور کی گئیں۔ اس سلسلے میں ریلوے وزیر لال بہادر شاستری نے بھی حکومت کی پالیسی واضح کی۔

29؍دسمبر 1952ء کو مولانا محمد حفظ الرحمان صاحبؒ نے ہندستان ٹائمز کو وضاحتی خط لکھ کر اس خبر کی تردید کی، جس میں ان کی طرف یہ منسوب کیا گیا تھا کہ ہندستان اور پاکستان میں اقلیتوں کی حالت یکساں ہے۔ آپ نے واضح کیا کہ آپ کا اصل موقف یہ تھا کہ ہندستان نے سیکولر جمہوری دستور اختیار کرکے فرقہ پرستی کا مقابلہ کیا، جب کہ پاکستان میں فرقہ پرستی اب بھی ایک طاقت ور عنصر بنی ہوئی ہے۔

29؍نومبر 1953ء کو ناگپور میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد حفظ الرحمان صاحبؒ نے کہا کہ کشمیر ہندستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور پاکستان کا اس پر کوئی حق نہیں۔

18؍دسمبر 1953ء کو مولانا اسماعیل سنبھلیؒ صاحب رکن عاملہ جمعیت علمائے ہند نے ایک انٹرویو میں واضح کیا کہ اگر ہندستان اور پاکستان کے درمیان جنگ ہوئی، تو جمعیت علمائے ہند ہندستانی مسلمانوں کو ملک کے دفاع کا فریضہ ادا کرنے کی تلقین کرے گی، کیوںکہ جمعیت ہمیشہ فرقہ پرستی کی مخالفت کرتی آئی ہے۔

5؍جنوری 1954ء کو خان عبدالغفار خان، ڈاکٹر خان صاحب اور دیگر متعدد نظربندوں کی رہائی کے بعد حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحبؒ نے 7؍جنوری 1954ء کو نیروبی سے مبارک باد کا برقی پیغام بھیجا اور امید ظاہر کی کہ یہ رہائی ہندستان اور پاکستان کے تعلقات میں بہتری کا ذریعہ بنے گی۔ اسی روز حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ نے بھی تہنیتی برقیہ بھیج کر دعا کی کہ خان عبدالغفار خان دونوں ممالک کے درمیان محبت اور تعاون کو فروغ دیں۔

پاکستان اور امریکہ کے درمیان 19؍مئی 1954ء کو کراچی میں باہمی دفاعی معاونت کے معاہدے (Mutual Defense Assistance Agreement) پر دستخط ہوئے، جس سے پاکستان مغربی دفاعی اتحادوں کی طرف بڑھا۔ تاہم اس معاہدے سے قبل 2؍ مارچ 1954ء کو حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحبؒنے بیان دیا کہ امریکی فوجی امداد ایشیا، خصوصاً ہندستان کے لیے چیلنج ہے اور خدشہ ظاہر کیا کہ پاکستان اس کے نتیجے میں اپنی آزادی اور خودمختاری کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

27؍مارچ 1954ء کو لوک سبھا میں وزارت تعلیم پر بحث کے دوران مولانا محمد حفظ الرحمان صاحبؒ نے اردو مخالف تقاریر کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ پاکستان اور مسلم لیگ کا خوف دکھا کر مسلمانوں کو مرعوب کرنا چاہتے ہیں، مگر یہ حربہ کامیاب نہیں ہوگا۔ انھوں نے واضح کیا کہ ہندستانی مسلمانوں کی حب الوطنی کسی سے کم نہیں، اردو ہندستان کی مشترکہ تہذیبی میراث ہے اور پاکستان کی آڑ میں اردو، یا مسلمانوں کے خلاف تعصب ناقابل قبول ہے۔

11؍تا 13؍فروری 1955ء کو منعقدہ جمعیت علمائے ہند کے اٹھارھویں اجلاس عام کی تجویز نمبر (9) میں مغربی بنگال کے 1950ء کے فسادات میں بے گھر ہونے والے مسلمانوں کی فوری آبادکاری کا مطالبہ کیا گیا۔ اجلاس نے اس بات پر زور دیا کہ مشرقی پاکستان سے آنے والے پناہ گزینوں کی آبادکاری حکومت کی ذمہ داری ضرور ہے، لیکن اس کی آڑ میں مغربی بنگال کے مقامی مسلمانوں کو ان کے اپنے گھروں اور جائیدادوں سے محروم رکھنا دستورِ ہند، عدل اور مساوات کے خلاف ہے۔ اسی لیے حکومت سے امتیازی قانون ختم کرنے اور متأثرہ مسلمانوں کی جلد بحالی کا مطالبہ کیا گیا، جب کہ جمعیت علمائے مغربی بنگال کو اس مقصد کے لیے مجلس عمل قائم کر کے مسلسل جدوجہد کی ہدایت دی گئی۔

4؍جنوری 1958ء کو کشمیر کمیٹی کی جانب سے وزیر دفاع کرشنا مینن کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں مولانا محمد حفظ الرحمانؒ صاحب نے واضح کیا کہ کشمیر ہندستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور کشمیری عوام اس حقیقت کی توثیق کرچکے ہیں، اس لیے پاکستان کی فوجوں کی واپسی کے بعد بھی استصوابِ رائے کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

پاکستان میں 7؍اکتوبر 1958ء کو صدر اسکندر مرزا کی جانب سے آئین کی منسوخی، اسمبلیوں کی تحلیل اور مارشل لا کے نفاذ، نیز 27؍اکتوبر 1958ء کو جنرل ایوب خان کے مکمل اقتدار سنبھالنے کے بعد، 8؍اکتوبر 1958ء کو صدر جمعیت مولانا احمد سعیدؒ نے اس فوجی انقلاب پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے سیاسی انتشار اور باہمی عدم اعتماد کا نتیجہ قرار دیا اور تمام ایشیائی ممالک سے اپیل کی کہ وہ باہمی اختلافات ختم کر کے اتحاد اور یک جہتی اختیار کریں، تاکہ ایسے حالات سے بچا جا سکے۔

7، 8 اور 9؍مارچ 1959ء کو جمعیت علمائے صوبہ ممبئی کی 27؍ویں سالانہ کانفرنس کے تیسرے دن 9 ؍مارچ 1959ء کو یومِ آزاد کے جلسے میں وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو نے اردو میں تاریخی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ پاکستان کا قیام قبول کیا گیا تھا، لیکن اس کے بعد پیدا ہونے والے فسادات، دشمنی اور سرحدی کشیدگی نے دونوں ملکوں کو نقصان پہنچایا۔ انھوں نے زور دیا کہ ہندستان اور پاکستان کے عوام تہذیب، تاریخ اور ثقافت کے اعتبار سے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے دونوں ممالک کو دشمنی ختم کر کے دوستی، اعتماد اور امن کی فضا قائم کرنی چاہیے۔

اسی دوران 5؍مارچ 1959ء کو امریکہ اور پاکستان کے درمیان انقرہ میں دفاعی تعاون کا معاہدہ ہوا۔ اس کے ردِعمل میں 17؍مئی 1959ء کو افریشیائی استحکام سے متعلق ایک اجلاس میں مولانا احمد سعیدؒ نے اس معاہدے کو خطے کے لیے نقصان دہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایک طاقت ور اور کمزور ملک کے درمیان ایسا معاہدہ دراصل امریکہ کی جانب سے پاکستان کو اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنے کی کوشش ہے، جس سے ہندستان اور پاکستان کے درمیان اعتماد کی فضا متأثر ہوگی اور ایشیا میں خوف و شبہات بڑھیں گے۔

2؍فروری 1961ء کو مولانا محمد حفظ الرحمانؒ صاحب نے پنجاب کے وزیر اعلیٰ کو مکتوب لکھ کر ضلع روہتک کے گاؤں تیوری کے مسلمان کسان رمضان کے ساتھ تحصیلدار کی زیادتیوں کی نشاندہی کی اور بتایا کہ دیہی علاقوں میں مسلمانوں کو مختلف انتظامی ہتھکنڈوں کے ذریعے پاکستان ہجرت پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح 10 اور 11؍جون 1961ء کو منعقدہ انڈین مسلم کنونشن میں ڈاکٹر سید محمود نے شکایت کی کہ مسلمانوں کو ملازمتوں اور تجارت میں امتیازی سلوک کا سامنا ہے، انھیں اکثر ’’پاکستان جانے‘‘ کا طعنہ دیا جاتا ہے، جس سے وہ خود کو عملی طور پر دوسرے درجے کا شہری محسوس کرتے ہیں۔

پاکستان سے واپس آنے والے مسلمانوں کی آبادکاری کے سلسلے میں 30؍اگست 1962ء کو مولانا محمد میاں صاحب نے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو مکتوب لکھ کر گودھرا کے ان مسلمانوں کو مستقل رہائش اور شہریت دینے کا مطالبہ کیا، جو 1947۔48ء کے فسادات میں پاکستان چلے گئے تھے اور بعد میں واپس آ گئے تھے۔ اسی روز صدر جمعیت مولانا فخرالدین احمدؒ کی قیادت میں جمعیت کے وفد نے بھی وزیر اعظم سے ملاقات کر کے ان مسلمانوں کو بھارتی شہریت دینے اور ان کی مشکلات دور کرنے کی درخواست کی، جس پر وزیر اعظم نے کارروائی کا یقین دلایا۔

8؍ستمبر 1962ء کو مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند نے آسام میں پاکستانی قرار دے کر ہندستانی مسلمانوں کو بے دخل کیے جانے پر شدید تشویش ظاہر کی اور حکومت ہند و حکومت آسام سے اس امتیازی اور غیر منصفانہ طرزِ عمل کو فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔

بھارت-چین جنگ کے آغاز کے بعد-جو 20؍اکتوبر 1962ء سے 21؍نومبر 1962ء تک جاری رہی- 10؍نومبر 1962ء کو جمعیت علمائے ہند اور کانگریس کے متعدد مسلم رہنماؤں نے مشترکہ اپیل جاری کرتے ہوئے چینی جارحیت کی شدید مذمت کی، ہندستانی مسلمانوں سے قومی دفاع میں بھرپور کردار ادا کرنے کی درخواست کی اور پاکستان کے صدر ایوب خان، عوام اور ذرائع ابلاغ سے اپیل کی کہ وہ ہندستان کی حمایت کر کے ایشیا میں امن، جمہوریت اور بقائے باہمی کے فروغ میں تعاون کریں۔

بعد ازاں 17؍نومبر 1962ء کو نئی دہلی میں مختلف مسلم تنظیموں کے سربراہان کے مشترکہ اجلاس نے بھی چین کی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا کہ ہندستانی مسلمان وطن کے دفاع میں مکمل طور پر متحد ہیں۔ اجلاس نے نوجوانوں سے فوج اور دفاعی خدمات میں شامل ہونے کی اپیل کی، پاکستان کے صدر ایوب خان سے مطالبہ کیا کہ وہ وزیر اعظم جواہر لال نہرو کی براہِ راست مذاکرات کی پیشکش قبول کریں، اور اجلاس کے بعد مختلف مسلم تنظیموں کے وفد نے وزیر اعظم نہرو سے ملاقات کر کے مادرِ وطن کے دفاع میں غیر مشروط تعاون کا یقین دلایا۔

یکم جنوری 1963ء کو جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی حضرت مولانا محمد میاںؒ نے وزیر اعظم ہند پنڈت جواہر لال نہرو کو ایک تفصیلی مکتوب ارسال کیا۔ اس میں 22؍دسمبر 1962ء کے روزنامہ Indian Express میں شائع ہونے والی اس خبر پر تشویش ظاہر کی، جس میں کشمیر کے مسئلہ کو ہندستانی مسلمانوں کے مستقبل سے جوڑا گیا تھا۔ مولانا محمد میاںؒ نے واضح کیا کہ ایسی باتوں سے فرقہ پرست عناصر کو مسلمانوں کے خلاف پروپیگنڈہ کا موقع ملتا ہے، حالاں کہ ہندستانی مسلمانوں کا فیصلہ ہے کہ کشمیر ہندستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور وہ اپنی وفاداری مکمل طور پر ہندستان کے ساتھ وابستہ رکھتے ہیں۔

اسی پس منظر میں جنوری 1963ء میں امروہہ (ضلع مراد آباد) میں جمعیت علمائے اتر پردیش کی مجلس عاملہ نے بھی اس معاملہ پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

8 تا 10؍جون 1963ء کو منعقد ہونے والے جمعیت علمائے ہند کے اکیسویں اجلاسِ عام کی تجویز نمبر (5) میں کشمیر کے کسی بھی حصے کو پاکستان کے حوالے کرنے کی تجاویز کو سختی سے مسترد کیا گیا۔ اجلاس نے واضح کیا کہ کشمیر ایک قومی اور ملکی مسئلہ ہے، مذہبی مسئلہ نہیں، اور جمعیت کے نزدیک کشمیر ہندستان کا قدرتی اور ناقابلِ تقسیم حصہ ہے۔ اس لیے جنگ بندی لائن کو کسی صورت مستقل تقسیم کی لکیر تسلیم نہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

22؍جون 1963ء کو نئی دہلی میں ایک پریس کانفرنس میں جمعیت کے سکریٹری مولانا اسعد مدنیؒ نے اعلان کیا کہ ہندستانی مسلمان پاکستان کی کشمیر میں اور چین کی نیفا و لداخ میں جارحیت کو کبھی برداشت نہیں کریںگے، جمعیت قوم پرستی کی راہ نہیں چھوڑے گی اور کشمیر کی تقسیم کی مخالف رہے گی۔

7 اور 8؍مارچ 1964ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں منظور ہونے والی تجویز نمبر (1) میں مشرقی پاکستان میں ہندو اقلیت پر ہونے والے مظالم اور حکومت پاکستان کی ناکامی پر شدید افسوس، نفرت اور غصے کا اظہار کیا گیا۔ ساتھ ہی آبادی کے تبادلے کی تجویز کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہندستانی مسلمانوں کا تحفظ پاکستان کی پالیسی، یا مصلحت پر منحصر نہیں ہو سکتا۔

اسی اجلاس کی تجویز نمبر (2) میں مشرقی پاکستان میں ہندو اور عیسائی اقلیتوں پر ہونے والے فسادات کی سخت مذمت کی گئی۔ جمعیت نے اسے اسلامی تعلیمات کے خلاف قرار دیتے ہوئے پاکستانی حکومت اور اکثریتی طبقے کو ذمہ دار ٹھہرایا، پاکستانی علما سے اصلاحِ احوال کی اپیل کی اور ہندستانی مسلمانوں کو متأثرین کی امداد کی تلقین کی۔

29 اور 30؍نومبر 1964ء کو منعقدہ نیشنل جمہوری کنونشن میں فخر الدین علی احمد نے اعلان کیا کہ ہندستان کے مسلمان پاکستان کے حملے کی صورت میں ہندوؤں کے ساتھ مل کر وطن کا دفاع کریںگے، کیوںکہ وطن کی محبت اسلام کا تقاضا ہے۔ انھوں نے مسلمانوں کو پاکستان نواز سمجھنے کے رجحان کی بھی سختی سے تردید کی۔

اسی کنونشن میں ڈاکٹر گوپال سنگھ نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات مطلوب ہیں، لیکن دشمنی ہرگز قابل قبول نہیں۔ کنونشن کی تجویز نمبر (3) میں پاکستان کی اقلیتوں کے تحفظ میں ناکامی پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے پاکستان سے حالات بہتر بنانے اور ہندستان میں آنے والے پناہ گزینوں کی امداد کی اپیل کی گئی۔

30؍اپریل 1965ء کو قائم مقام ناظمِ عمومی مولانا محمد سعیدؒ نے سندھ اور رَن کچھ کی سرحد پر پاکستان کی جارحیت پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ تمام تنازعات مذاکرات سے حل ہونے چاہییں۔ انھوں نے اعلان کیا کہ جس طرح مسلمانوں نے تحریکِ آزادی میں حصہ لیا تھا، اسی طرح وہ وطن کے دفاع میں بھی کسی سے پیچھے نہیں رہیں گے۔

13 اور 14؍جون 1965ء کو مجلس عاملہ کی تجویز نمبر (3) میں رَن کچھ اور ہندستانی سرحدوں پر پاکستان کے حملوں کی مذمت کی گئی۔ اجلاس نے کہا کہ اگر ملک پر کسی بھی سمت سے جنگ مسلط کی گئی، تو مسلمان جان و مال کی قربانی دے کر وطن کا دفاع کریںگے، البتہ دونوں ممالک کو اچھے پڑوسیوں کی طرح امن کے ساتھ رہنا چاہیے۔

30؍جون 1965ء کو وزیراعظم لال بہادر شاستری اور حکومت پاکستان کے درمیان رَن کچھ معاہدہ طے پایا، جس کے تحت یکم جولائی 1965ء سے جنگ بندی نافذ ہوئی، فوجوں کی واپسی، گشت کے ضابطے، سرحدی تنازع کے حل، وزارتی مذاکرات اور اختلاف باقی رہنے کی صورت میں بین الاقوامی ٹریبونل کے قیام کا مفصل طریق کار طے کیا گیا۔

اس معاہدہ پر 17 اور 18؍جولائی 1965ء کی مجلس عاملہ اجلاس نے قرارداد منظور کر کے اسے برصغیر میں امن کے لیے مبارک اقدام قرار دیا، وزیراعظم لال بہادر شاستری کو مبارک باد دی اور جنگ کی فضا پیدا کرنے والوں کی مخالفت کی۔

11؍اگست 1965ء کو کشمیر میں پاکستانی دراندازی کے بعد مولانا اسعد مدنیؒ نے صدر جمہوریہ، وزیراعظم، وزرائے داخلہ و دفاع، وزیراعلیٰ کشمیر اور کشمیر کانگریس کو برقی پیغام بھیج کر یقین دلایا کہ جمعیت علمائے ہند اور تمام مسلمان ملک کی سالمیت اور دفاع کے لیے حکومت کے ساتھ ہیں۔

10؍ستمبر 1965ء کو جمعیت کے صدر مولانا فخر الدین احمد نے صدرجمہوریہ اور وزیراعظم کو مکتوب بھیج کر یقین دلایا کہ لاکھوں ارکانِ جمعیت اور تقریباً چھ کروڑ ہندستانی مسلمان وطن کے دفاع میں ہر ممکن تعاون کریںگے۔ انھوں نے مسلمانوں کو فوج، پولیس، ہوم گارڈ اور دیگر دفاعی اداروں میں زیادہ مواقع دینے، فرقہ وارانہ فسادات روکنے اور بے گناہوں کو ہراساں نہ کرنے پر بھی زور دیا۔

19؍ستمبر 1965ء کو جمعیت علمائے ہند نے اپنی تمام ذیلی شاخوں کے نام ایک تفصیلی سرکلر جاری کیا، جس میں وطن کے دفاع کو دینی و قومی فریضہ قرار دیتے ہوئے یاد دلایا گیا کہ 1927ء کے پشاور اجلاس میں حضرت مولانا سید انور شاہ کشمیریؒ نے اعلان کیا تھا کہ اگر کسی مسلمان حکومت نے ہندستان پر حملہ کیا، تو مسلمان اپنے وطن کا بھرپور دفاع کریںگے۔ سرکلر میں سول ڈیفنس، ہوم گارڈ، فرسٹ ایڈ، آگ بجھانے، امن و امان، فوجیوں کی خدمت، جاسوسوں کی اطلاع، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور عوامی اطمینان برقرار رکھنے کے لیے مفصل ہدایات جاری کی گئیں۔

6؍ستمبر 1965ء کو شروع ہونے والی ہند-پاک جنگ 22؍ستمبر 1965ء کی رات جنگ بندی پر ختم ہوئی۔ 23؍ستمبر 1965ء کو جمعیت علمائے ہند نے اس کا خیر مقدم کیا۔ مولانا اسعد مدنیؒ نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل یو تھانٹ کو مبارک باد کا تار بھیجا اور وزیراعظم لال بہادر شاستری کو بھی جنگ بندی قبول کرنے پر خراجِ تحسین پیش کیا۔

8؍اکتوبر 1965ء کو اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی جانب سے جمعیت کے پیغام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے جواب موصول ہوا، جس میں برصغیر میں مستقل امن کی امید ظاہر کی گئی۔

2 اور 3؍اکتوبر 1965ء کی مجلس عاملہ نے قرارداد منظور کر کے کشمیر میں پاکستان کی اندرونی مداخلت اور بیرونی حملے کی شدید مذمت کی، کشمیر کو ہندستان کا جزو قرار دیا، حکومت ہند، مسلح افواج، عوام اور خصوصاً کشمیری مسلمانوں کی حب الوطنی کو سراہا اور کہا کہ مذہبی جذبات بھڑکانے کے باوجود کشمیری مسلمانوں نے ہندستان سے وفاداری کا ثبوت دیا۔

بعد ازاں 18 اور 19؍دسمبر 1965ء کو مجلس منتظمہ نے ہند و پاک کے درمیان مصالحتی کوششوں کی تحسین کرتے ہوئے قرارداد منظور کی کہ جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں؛ بلکہ دونوں ممالک کو باعزت امن، باہمی گفت و شنید اور خوش گوار تعلقات کے ذریعے تمام اختلافات حل کرنے چاہییں، کیوںکہ یہی برصغیر، خصوصاً کشمیر اور دونوں ممالک کے عوام کے مفاد میں ہے۔

22؍اکتوبر 1965ء کو مولانا سید اسعد مدنی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے مغربی بنگال کے وزیر اعلیٰ مسٹر پی سی سین کے اس بیان پر شدید احتجاج کیا، جس میں انھوں نے کہا تھا کہ اگر مشرقی پاکستان میں اقلیتوں پر حملے ہوئے، تو اس کے ردعمل میں مغربی بنگال اور ہندستان کے دیگر علاقوں میں بھی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔ مولانا مدنی نے واضح کیا کہ پاکستانی حکمرانوں کے اقدامات کا بدلہ ہندستانی مسلمانوں سے جوڑنا نہ ملک دوستی ہے اور نہ قومی یک جہتی کے مفاد میں، بلکہ اس سے فرقہ پرست عناصر کو تقویت ملے گی۔

4؍نومبر 1965ء کو مولانا اسعد مدنی نے وزیر اعظم لال بہادر شاستری کو ایک احتجاجی خط لکھا، جس میں ان کی اس تقریر پر اعتراض کیا، جس میں انھوں نے کشمیر کے مسئلہ کو ہندستان کے مسلمانوں سے جوڑا تھا۔ مولانا نے یاد دلایا کہ ہندستان کے مسلمان کشمیر کو ہندستان کا ناقابلِ تقسیم حصہ سمجھتے ہیں اور 1947ء سے اس کے دفاع میں مسلسل قربانیاں دیتے آئے ہیں۔ انھوں نے بریگیڈیئر محمد عثمان، مقبول احمد شیروانی، عبدالحمید اور دیگر شہدا کی قربانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کی حب الوطنی عملی طور پر ثابت ہوچکی ہے، لہٰذا ان کی وفاداری پر شبہ کرنا دستور ہند، سیکولرازم اور جمہوری اصولوں کے خلاف ہے۔ 

15 تا 17؍اپریل 1966ء کو منعقدہ جمعیت علمائے ہند کے بائیسویں اجلاس عام کے خطبۂ استقبالیہ میں مولانا نور اللہ صاحبؒ نے کہا کہ پاکستان کا کشمیر پر مسلم اکثریت کی بنیاد پر دعویٰ فرقہ وارانہ ہے اور سیکولر ہندستان کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ اگر یہی اصول تسلیم کرلیا جائے، تو روس اور چین کے مسلم اکثریتی علاقوں پر بھی پاکستان کو دعویٰ کرنا چاہیے، جو غیر منطقی ہے۔

اسی اجلاس کے خطبۂ صدارت میں مولانا فخر الدین احمدؒ صاحب نے کہا کہ اگرچہ جمعیت علمائے ہند نے 1947ء تک تقسیم ہند کی بھرپور مخالفت کی، لیکن تقسیم کے بعد ہندستان میں رہنے والے مسلمانوں نے اپنی وفاداری اور حب الوطنی کو عملی قربانیوں سے ثابت کردیا۔ 1965ء کی جنگ میں حوالدار عبدالحمید اور دیگر مسلمان سپاہیوں کی قربانیاں اس کا روشن ثبوت ہیں۔

اسی اجلاس میں وزیر آب پاشی جناب فخر الدین احمد نے کہا کہ پاکستان نے کشمیر اور کچھ پر حملے کرکے دوستی کا جواب دشمنی سے دیا، جب کہ ہندستان نے امن کی کوشش جاری رکھی۔ انھوں نے کہا کہ تاشقند معاہدہ کے باوجود اگر پاکستان دشمنی اور پروپیگنڈا جاری رکھے گا، تو ہندستان اپنی آزادی اور سرزمین کے دفاع میں ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہے۔

اپریل 1965ء سے ہندستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپیں شروع ہوئیں، جب کہ اگست 1965ء میں پاکستان کے صدر محمد ایوب خان نے کشمیر میں فوجی کارروائی شروع کی، جس کے نتیجے میں مکمل جنگ چھڑ گئی۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے 22؍ستمبر 1965ء کو جنگ بندی کرائی۔ بعد ازاں 10؍جنوری 1966ء کو ازبکستان کے شہر تاشقند میں ہندستان کے وزیر اعظم لال بہادر شاستری اور پاکستان کے صدر محمد ایوب خان کے درمیان تاشقند معاہدہ ہوا، جس کے تحت جنگ بندی، افواج کی واپسی، سفارتی تعلقات کی بحالی، عدم مداخلت، پروپیگنڈے کے خاتمے، اقتصادی و ثقافتی تعلقات، جنگی قیدیوں کی واپسی، مہاجرین کے مسائل کے حل اور مذاکرات کے تسلسل پر اتفاق کیا گیا۔

15 تا 17؍اپریل 1966ء کے بائیسویں اجلاس عام کی تجویز نمبر (3) میں جمعیت علمائے ہند نے تاشقند معاہدے کی مکمل تائید کرتے ہوئے اسے برصغیر میں امن اور بقائے باہمی کے لیے بنیادی حیثیت دی، تاہم راولپنڈی کانفرنس کے بعد پاکستان کی جانب سے دوبارہ کشیدگی پیدا کرنے پر افسوس کا اظہار کیا۔

اسی اجلاس کی تجویز نمبر (31) میں ان مسلمانوں کے ساتھ ہمدردی ظاہر کی گئی، جو فرقہ وارانہ فسادات کے باعث عارضی طور پر پاکستان گئے، مگر واپس آکر ہندستانی شہریت برقرار رکھنے کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔ جمعیت نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ جو افراد 1947ء سے 1966ء کے درمیان مجموعی طور پر پانچ سال ہندستان میں مقیم رہے ہوں، انھیں ہمدردی کے ساتھ ہندستانی شہریت دی جائے۔

23؍جون 1966ء کو ضلع مظفر نگر میں مولانا اسعد مدنی نے کہا کہ ہندستان اور پاکستان جنگ کے ذریعے اپنے عوام کی حالت بہتر نہیں کرسکتے، اس لیے دونوں ملکوں کو امن اور باہمی تعاون کا راستہ اختیار کرنا چاہیے۔

30؍جنوری 1968ء کو شیخ محمد عبداللہ کے اعزاز میں جمعیت علمائے ہند کی جانب سے منعقدہ استقبالیہ میں انھوں نے کہا کہ ’’اکھنڈ بھارت‘‘ کا نعرہ لگانے والے دراصل پاکستان کے قیام کے جواز کو تقویت دیتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ہندستانی مسلمانوں کے حقوق کا مکمل تحفظ کیا جائے۔ 

22 و 23؍اگست 1969ء کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے پاکستان کی جانب سے ہندستانی اخبارات، رسائل اور علمی و دینی مطبوعات کی آمدورفت پر پابندی کی شدید مذمت کی اور ان پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا۔

2؍اکتوبر 1969ء کو رباط کانفرنس میں پاکستان کی کوشش سے ہندستانی وفد کو شرکت سے روکنے پر جمعیت علمائے ہند نے سخت احتجاج کیا۔ اجلاس نے عرب ممالک سے اپیل کی کہ وہ عرب کاز کے لیے ہندستان کی مسلسل حمایت کو مدنظر رکھیں اور پاکستان کے پروپیگنڈے سے متأثر نہ ہوں۔ ساتھ ہی حکومت ہند پر زور دیا گیا کہ وہ اپنی غیر جانب دار اور اصولی خارجہ پالیسی پر قائم رہے۔

20؍نومبر 1970ء کو مولانا اسعد مدنی نے پاکستان کے ہائی کمشنر سے ملاقات کرکے مشرقی پاکستان میں آنے والے تباہ کن طوفان پر تعزیت کا اظہار کیا اور پاکستان کے عوام کے ساتھ ہمدردی کا پیغام بھیجا۔ 

16؍اپریل 1971ء کو مولانا اسعد مدنی نے مشرقی بنگال میں پاکستانی فوج کی کارروائیوں پر شدید افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ظلم و تشدد کی مذمت کی اور مظلوم عوام سے ہمدردی کا اعلان کیا۔ 

بعد ازاں 26 اور 27؍اپریل 1971ء کو منعقدہ مجلس عاملہ کے اجلاس میں جمعیت علمائے ہند نے باقاعدہ قرارداد منظور کرکے مشرقی بنگال میں ہونے والے انسانیت سوز مظالم، قتل و غارت اور جبر و استبداد کی شدید مذمت کی۔ قرارداد میں کہا گیا کہ اسلام بے گناہوں کے قتل کی اجازت نہیں دیتا، اور اگر پاکستان کی قیادت دانش مندی اور وسعتِ ظرف سے کام لیتی، تو یہ خوںریزی روکی جاسکتی تھی۔ 

مشرقی پاکستان کی علاحدگی، بنگلہ دیش کا قیام اور جمعیت علما کا موقف 

قیامِ پاکستان کے بعد 1948ء میں اردو کو واحد قومی زبان قرار دیے جانے سے مشرقی پاکستان میں لسانی بے چینی پیدا ہوئی، جو 21؍فروری 1952ء کی لسانی تحریک کی صورت میں ظاہر ہوئی۔ 1956ء کے آئین اور 1958ء کے مارشل لا کے بعد بھی مشرقی پاکستان سیاسی طور پر مطمئن نہ ہو سکا۔ اسی پس منظر میں 1966ء میں شیخ مجیب الرحمان نے اپنے مشہور چھ نکات پیش کیے۔ دسمبر 1970ء کے عام انتخابات میں عوامی لیگ نے واضح اکثریت حاصل کی، لیکن اقتدار منتقل نہ ہونے سے بحران شدت اختیار کر گیا۔ 25؍مارچ 1971ء کو فوج نے آپریشن ’’سرچ لائٹ‘‘ شروع کیا، جس کے جواب میں 26؍مارچ 1971ء کو بنگلہ دیش کی آزادی کا اعلان ہوا اور مکتی باہنی کی مزاحمت شروع ہوئی۔ بعد ازاں 3؍دسمبر 1971ء کو پاک-بھارت جنگ شروع ہوئی، جو 16؍دسمبر 1971ء کو ڈھاکہ میں پاکستانی افواج کے ہتھیار ڈالنے اور بنگلہ دیش کے قیام پر ختم ہوئی۔

جمعیت علمائے ہند نے اس پورے بحران میں انسانی حقوق، جمہوری اصولوں اور علاقائی امن کی حمایت کی۔ 16؍اپریل 1971ء کو مولانا سید اسعد مدنی نے مشرقی بنگال میں فوجی کارروائی کی مذمت کی، جس کی توثیق 26، 27؍اپریل 1971ء کی مجلس عاملہ میں قرارداد کے ذریعے کی گئی اور سیاسی حل کی حمایت کا اعلان کیا گیا۔

14؍جولائی 1971ء کو جمعیت علمائے صوبہ دہلی کے زیر اہتمام بنگلہ دیش مسلم کنونشن منعقد ہوا، جس میں پاکستانی فوجی کارروائی کی مذمت، شیخ مجیب الرحمان اور عوامی لیگ کے رہنماؤں کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا اور غلط پروپیگنڈے کی مذمت کی گئی۔ اس موقع پر وزیر خارجہ ہند سورن سنگھ نے کہا کہ اگر پاکستان تقسیم ہوا، تو اس کی ذمہ داری جنرل یحییٰ خان پر ہوگی۔بعد ازاں 23؍ جولائی 1971ء کو معروف رہنما جے پرکاش نارائن نے جمعیت کے اس موقف کو دانش مندانہ اور جرأت مندانہ قرار دیتے ہوئے مبارک باد پیش کی۔

شیخ مجیب الرحمان کو 26؍مارچ 1971ء کو گرفتار کر کے مغربی پاکستان کی جیلوں میں رکھا گیا۔ 18، 19؍ستمبر 1971ء کی مجلس عاملہ نے ان کی رہائی اور مشرقی پاکستان کے سیاسی مسئلے کے پرامن حل کا مطالبہ کیا۔ تقریباً 9 ماہ 14؍دن قید کے بعد وہ 8؍جنوری 1972ء کو رہا ہوئے، 10؍جنوری 1972ء کو ڈھاکہ واپس پہنچے۔

پاکستان کے 3؍دسمبر 1971ء کے حملے کے بعد صدر ہند نے ایمرجنسی نافذ کی۔ 4؍دسمبر 1971ء کو مولانا سید اسعد مدنی نے وزیر اعظم اندرا گاندھی اور وزیر دفاع جگجیون رام کو تار بھیج کر پاکستان کے حملے کی مذمت کی اور ہندستان کے دفاع میں مسلمانوں کے تعاون کا یقین دلایا۔ 17؍ دسمبر 1971ء کو جمعیت کے صدر مولانا فخر الدین احمد نے بنگلہ دیش کے قیام کو اور ہندستان کی کامیابی کو فرقہ پرستی، فوجی آمریت اور دو قومی نظریہ کی شکست اور جمہوریت و سیکولر اقدار کی فتح قرار دیا۔

15، 16؍جنوری 1972ء کی مجلس عاملہ نے بنگلہ دیش کے قیام کو ایک حقیقت تسلیم کرتے ہوئے اسے مظلوم عوام کی کامیابی قرار دیا، پاکستانی فوجی حکمرانوں کے طرزِ عمل پر تنقید کی، شیخ مجیب الرحمان کی قیادت پر اعتماد ظاہر کیا اور امید ظاہر کی کہ بنگلہ دیش عدل و انصاف اور ہمسایہ ممالک سے خوشگوار تعلقات کی مثال قائم کرے گا۔

5، 6، 7؍مئی 1972ء کو جمعیت کے تیئیسویں اجلاس عام میں حاجی محمد فاروق نے اس بات پر زور دیا کہ ہندستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کی خوش حالی ایک دوسرے سے وابستہ ہے، لہٰذا نفرت کے بجائے اعتماد، تعاون اور ترقی کی راہ اختیار کی جائے۔ اسی اجلاس میں ہندو پاک تعلقات کی بحالی، تجارتی، ثقافتی، تعلیمی روابط، آمد و رفت، اخبارات و کتابوں کی آزادانہ ترسیل اور باہمی اعتماد کے فروغ کی قرارداد منظور ہوئی، جب کہ مولانا سید احمد ہاشمی نے برصغیر میں امن و اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔

2؍جولائی 1972ء کو وزیر اعظم اندرا گاندھی اور ذوالفقار علی بھٹو کے درمیان شملہ معاہدہ طے پایا، جس میں جنگ کے بجائے مذاکرات، اقوام متحدہ کے منشور کی پاسداری، علاقائی سالمیت، جنگ بندی لائن کے احترام، سفارتی، تجارتی، مواصلاتی، ثقافتی اور عوامی روابط کی بحالی پر اتفاق ہوا۔ جمعیت علمائے ہند نے 19، 20؍اگست 1972ء کی مجلس عاملہ میں اس معاہدے کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے برصغیر کے امن کے لیے تاریخی قدم قرار دیا اور بنگلہ دیش کو بھی حقیقت پسندانہ انداز میں تسلیم کرنے کی اپیل کی۔

اس کے بعد 28؍اگست 1973ء کو ہندستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان انسانی مسائل، جنگی قیدیوں، شہریوں اور متأثرہ افراد کے تبادلے سے متعلق دہلی معاہدہ طے پایا۔ 29، 30؍اگست 1973ء کی مجلس عاملہ نے اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے شملہ معاہدے کے بعد امن کی جانب دوسرا اہم قدم قرار دیا۔ 24؍نومبر 1973ء کی مجلس منتظمہ نے بھی سہ فریقی واپسی کے عمل اور تینوں ممالک کے درمیان تعلقات معمول پر لانے کی حمایت کی۔

اس معاہدے کے مطابق 24 تا 31؍جولائی 1973ء راولپنڈی اور 18 تا 28؍اگست 1973ء نئی دہلی میں مذاکرات ہوئے۔ معاہدے میں جنگی قیدیوں، پاکستان میں مقیم بنگالیوں، بنگلہ دیش میں مقیم پاکستانیوں اور غیر بنگالیوں کے تبادلے، انسانی بنیادوں پر واپسی اور 195 جنگی قیدیوں کے مسئلے کے حل کے لیے سہ فریقی مشاورت پر اتفاق کیا گیا۔

19؍جنوری 1974ء کو کل ہند رویت ہلال کمیٹی نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کا مطلع ہندستان کے لیے معتبر نہیں ہوگا۔

پاکستان کی جانب سے بنگلہ دیش کو تسلیم کیے جانے کے بعد 20، 21؍اپریل 1974ء کی مجلس عاملہ نے سہ فریقی معاہدے کی توثیق کرتے ہوئے اسے برصغیر میں مستقل امن کی بنیاد قرار دیا اور تینوں ممالک کے درمیان آمد و رفت، مواصلات اور تعلقات کی مکمل بحالی کا مطالبہ کیا۔

اس سے قبل 17؍اپریل 1973ء کو ہندستان اور بنگلہ دیش نے انسانی مسائل کے حل کے لیے مشترکہ اعلامیہ جاری کیا تھا۔ اسی سلسلے کی تکمیل میں 5 تا 9؍اپریل 1974ء نئی دہلی میں ہندستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ کے مذاکرات ہوئے، جن کے نتیجے میں 9؍ اپریل 1974ء کو دہلی سہ فریقی معاہدہ پر دستخط ہوئے۔ اس معاہدے کے تحت 195؍پاکستانی جنگی قیدیوں پر مقدمہ نہ چلانے، تمام جنگی قیدیوں، پاکستانی شہریوں، بنگالیوں اور غیر بنگالیوں کی مرحلہ وار واپسی، انسانی مسائل کے خاتمے، برصغیر میں مصالحت، تعلقات کی بحالی اور پائیدار امن کے لیے جامع لائحۂ عمل طے کیا گیا، جسے جمعیت علمائے ہند نے مکمل حمایت فراہم کی۔

1971ء کی جنگ کے بعد ہندستان اور پاکستان کے درمیان معطل مواصلاتی نظام کی بحالی کے لیے 14؍ستمبر 1974ء کو اسلام آباد میں Agreement on Telecommunication طے پایا، جس کے تحت ٹیلی فون، ٹیلی گرام، ٹیلیکس اور ڈاک کی خدمات بحال کرنے پر اتفاق ہوا۔ اس پیش رفت پر 9،10؍نومبر 1974ء کو منعقدہ جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ نے خیر مقدم کرتے ہوئے اسے دونوں ممالک کے عوام کو قریب لانے والا دانش مندانہ قدم قرار دیا۔ 

بعد ازاں 15،16؍مئی 1976ء کو مجلس منتظمہ نے ہند و پاک تعلقات میں ہونے والی مثبت پیش رفت، سفارتی تعلقات کی بحالی، آمدورفت کے آغاز اور مذاکرات کے ذریعے مسائل حل کرنے کے ماحول کا خیر مقدم کیا۔ اجلاس نے اس توقع کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک اخوت، بھائی چارے اور بقائے باہم کے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے اپنے اختلافات کو پرامن طریقے سے حل کریںگے اور پاکستان بھی مفاہمت اور امن پسندی کی پالیسی اختیار کرے گا۔

28؍دسمبر 1974ء کو پاکستان کے سوات، ہزارہ اور شمالی علاقوں میں شدید زلزلہ آیا۔ اس سانحہ پر یکم جنوری 1975ء کو جمعیت کے ناظم مولانا محمد اسرار الحق قاسمی نے وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کو تعزیتی تار بھیج کر جانی و مالی نقصان پر گہرے رنج کا اظہار کیا اور مرحومین کے لیے مغفرت اور متأثرین کے لیے صبر کی دعا کی۔

15؍دسمبر 1978ء کو پارلیمنٹ میں مسلم یونی ورسٹی ایکٹ پر بحث کے دوران مسلمانوں کو ’’پاکستانی‘‘ کہہ کر نشانہ بنانے کی کوشش پر جمعیت کے ناظم عمومی مولانا سید احمد ہاشمی نے دوٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہندستانی مسلمانوں کو اس الزام سے مرعوب نہیں کیا جاسکتا، وہ اپنے آئینی حقوق حاصل کرتے رہیںگے،جب کہ تقسیم ہند کی ذمہ داری فرقہ پرست ذہنیت پر عائد ہوتی ہے، نہ کہ مسلمانوں پر۔

دونوں ملکوں کے عوامی روابط کو فروغ دینے کی غرض سے 22؍دسمبر 1978ء کو پاکستان کے معروف صحافی سید محمد تقی کے اعزاز میں جمعیت کے دفتر مسجد عبدالنبی میں عصرانہ دیا گیا، جس میں پاکستان کے سفیر نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان غلط فہمیوں کے خاتمے، سفر کی سہولتوں اور بہتر تعلقات پر زور دیا گیا۔

اسی تسلسل میں یکم فروری 1982ء کو پاکستانی وزیر خارجہ آغا شاہی کے ہمراہ آئے پاکستانی صحافیوں کا جمعیت علمائے ہند نے خیر مقدم کیا۔ مولانا سید اسعد مدنی نے کہا کہ ہندستان، پاکستان اور بنگلہ دیش کے صحافیوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ امن اور دوستی کی فضا کو فروغ دیں،جب کہ پاکستانی صحافیوں نے بھی ہمسایہ ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا۔

پاکستان کے صدر جنرل ضیاء الحق نے 5؍جولائی 1977ء کو مارشل لا نافذ کیا، 16؍ستمبر 1978ء کو صدر بنے، 19؍دسمبر 1984ء کو ریفرنڈم کے ذریعے اپنی صدارت کی توثیق حاصل کی اور 23؍مارچ 1985ء کو نئی مدت کا حلف اٹھایا۔ اس موقع پر 25؍دسمبر 1984ء کو جمعیت علمائے ہند نے انھیں مبارک باد دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات، خیر سگالی اور مفاہمت کی خواہش ظاہر کی۔

17؍اگست 1988ء کو فضائی حادثے میں جنرل ضیاء الحق کی وفات کے بعد 18؍اگست 1988ء کو جمعیت علمائے ہند نے تعزیتی بیان جاری کرتے ہوئے ان کی دیانت داری، سادگی اور پاکستان میں اصلاحی کوششوں کو خراج تحسین پیش کیا اور مرحوم کے لیے دعائے مغفرت کی۔

28؍مئی 1991ء کو پاکستان کے معروف رہنما خان عبدالولی خان نے جمعیت علمائے ہند کے مرکزی دفتر کا دورہ کیا، جہاں حضرت مولانا سید اسعد مدنی اور دیگر ذمہ داران سے برصغیر اور ملت اسلامیہ کے مسائل پر تبادلۂ خیال ہوا۔ اسی طرح 20؍ستمبر 1991ء کو پاکستان کے سابق وزیر اعظم غلام مصطفیٰ جتوئی اور سابق وزیر اوقاف مولانا کوثر نیازی نے بھی جمعیت کے دفتر میں تشریف لائے اور جمعیت کی ملی خدمات کو سراہا۔

6؍دسمبر 1992ء کو بابری مسجد کی شہادت کے بعد پاکستان میں اقلیتوں پر ہونے والے حملوں کے تناظر میں 9؍دسمبر 1992ء کو مولانا اسعد مدنی نے بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ اسلام بے گناہ اقلیتوں پر ظلم اور عبادت گاہوں کی تباہی کی اجازت نہیں دیتا۔

کارگل جنگ (3؍مئی تا 26؍جولائی 1999ء) کے دوران جمعیت علمائے ہند نے واضح طور پر پاکستان کی دراندازی کی مذمت کی۔ 6؍جون 1999ء کے اقلیتی کنونشن اور 18،19؍ جون 1999ء کی مجلس عاملہ میں منظور شدہ تجاویز میں پاکستان کو کنٹرول لائن کا احترام کرنے، دراندازی بند کرنے، شملہ معاہدے کے مطابق مسائل حل کرنے اور جنگ سے گریز کی تلقین کی گئی۔ ساتھ ہی حکومت ہند کی سرحدی غفلت پر بھی تنقید کی گئی اور کشمیر کو ہندستان کا اٹوٹ حصہ قرار دیتے ہوئے کشمیری عوام کے مسائل آئینی دائرے میں حل کرنے کی حمایت کی گئی۔

26؍جنوری 2000ء کی مجلس عاملہ میں مولانا اسعد مدنی نے واضح الفاظ میں کہا کہ جمعیت دہشت گردی کی مذمت کرتی ہے، پاکستان سے کوئی ہمدردی نہیں رکھتی اور سرحد پار دہشت گردی ناقابل قبول ہے۔ اسی موقف کو 9؍مارچ 2003ء کے ستائیسویں اجلاس عام میں بھی دہرایا گیا اور پاکستان سے دہشت گردی ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

ہند و پاک دوستی کے فروغ کے لیے 10؍مئی 2003ء کو مولانا محمود مدنی اور ڈاکٹر جے کے جین نے مشترکہ پریس کانفرنس میں دونوں ممالک کے درمیان عوامی رابطوں، میڈیا کے مثبت کردار اور امن کی کوششوں کی حمایت کی۔ اس کے بعد 11؍جون 2003ء کو جمعیت کے وفد نے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی سے ملاقات کرکے پاکستان امن وفد بھیجنے کے منصوبے پر تبادلۂ خیال کیا، جسے وزیر اعظم نے سراہا۔

اسی سلسلے میں 15؍جولائی 2003ء کو مولانا فضل الرحمان کی قیادت میں جمعیت علمائے اسلام پاکستان کا خیر سگالی وفد ہندستان پہنچا۔ واگھا بارڈر، امرتسر، گولڈن ٹیمپل، دیوبند، گنگوہ اور دہلی میں اس کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ 17؍جولائی 2003ء کو دہلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ہندستان اور پاکستان کے تمام مسائل مذاکرات اور شملہ معاہدے کے دائرے میں حل ہونے چاہئیں، کسی تیسرے فریق کی ثالثی قابل قبول نہیں، جب کہ عوامی سطح پر دوستی ہی دونوں ممالک کے بہتر مستقبل کی ضمانت ہے۔

18؍جولائی 2003ء کو لی میریڈین ہوٹل، نئی دہلی میں جمعیت علمائے ہند نے پاکستانی وفد کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد کی، جس میں مولانا فضل الرحمان، مولانااسعد مدنی، مولانا محمود مدنی، شیلا دیکشت، میر واعظ عمر فاروق اور دیگر شخصیات نے خطاب کیا۔ جمعیت نے پیش کردہ سپاس نامے میں اس امر کا اعادہ کیا کہ تنظیم کا مستقل موقف یہ ہے کہ جنگ نہیں؛ بلکہ مذاکرات، امن، خیر سگالی، باہمی احترام اور عوامی روابط ہی برصغیر کے مسائل کا پائیدار حل ہیں، اور ہندستان و پاکستان کے درمیان محبت، اخوت اور اعتماد کے فروغ کے لیے ہر ممکن کوشش جاری رہنی چاہیے۔

 30؍نومبر 2003ء کو صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی نے ہند و پاک کے درمیان لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی اور سیاچن کو بھی اس میں شامل کیے جانے کا خیر مقدم کیا۔ انھوں نے پاکستان کی جانب سے عید کے موقع پر جنگ بندی کی پیش کش اور ہندستان کی مثبت پیش رفت کو دونوں ممالک کے تعلقات کے لیے خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے خطے میں امن کو فروغ ملے گا اور بڑی طاقتوں کی مداخلت کے امکانات کم ہوں گے۔

20؍اکتوبر 2005ء کو جمعیت علمائے ہند کا ایک امدادی وفد پاکستان کے زلزلہ زدہ علاقوں کی امداد کے لیے روانہ ہوا۔ اگرچہ قائد جمعیت مولانا محمود مدنی شدید علالت کی وجہ سے شریک نہ ہوسکے، تاہم وفد مولانا معزالدین اور مولانا عبدالحمید نعمانی کی سربراہی میں پاکستان پہنچا۔ 28؍اکتوبر 2005ء کو چھ روزہ دورہ مکمل کرکے وفد واپس آیا۔ اس دوران مانسہرہ، بالاکوٹ، گڑھی حبیب اللہ، مظفرآباد، ایبٹ آباد اور دیگر متأثرہ علاقوں میں تقریباً اکیاسی لاکھ روپے مالیت کی امدادی اشیا تقسیم کی گئیں، جن میں دس ہزار کمبل، 43؍ہزار ٹینٹ اور چار لاکھ روپے مالیت کے بانس شامل تھے۔ یہ امدادی کام جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے تعاون اور مولانا فضل الرحمان و مولانا عطاء الرحمان کی نگرانی میں انجام پایا۔

17؍مئی 2006ء کو نئی دہلی میں جمعیت علمائے ہند نے پاکستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمان کے اعزاز میں استقبالیہ تقریب منعقد کی۔ اس موقع پر انھوں نے ہند و پاک میں امن، دفاعی اخراجات میں کمی، تعلیم و صحت پر توجہ، دہشت گردی کے خاتمے، افغانستان میں طالبان کو سیاسی عمل میں شامل کرنے اور کشمیر کے مسئلے کے عوامی سطح پر حل کی ضرورت پر زور دیا۔ مولانا محمود مدنی نے بھی امید ظاہر کی کہ اس دورے سے دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوںگے۔

18 و 19؍جون 2007ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں مولانا فضل الرحمان کے اس پیغام کا ذکر ہوا کہ جمعیت علمائے ہند کو کمزور نہیں ہونا چاہیے، کیوںکہ اس کے اثرات پاکستان اور بنگلہ دیش پر بھی مرتب ہوںگے۔ انھوں نے جمعیت کو اپنے مسلک اور عقیدے کا حصہ قرار دیتے ہوئے (الف و میم گروپ میں )اس کے اتحاد پر زور دیا۔

31؍مئی 2008ء کو دیوبند میں منعقدہ دہشت گردی مخالف امن عالم کانفرنس میں مولانا حبیب الرحمان لدھیانوی نے وطن دوستی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہندستانی مسلمان اسی سرزمین کے وفادار ہیں۔ انھوں نے پاکستان اور بنگلہ دیش کو ہندستان سے ملانے کی خواہش کا اظہار بھی کیا اور کہا کہ اس مقصد میں وہ حکومت کے ساتھ ہیں۔

31؍اکتوبر 2008ء کو پاکستان میں آنے والے زلزلے پر جمعیت علمائے ہند نے گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور یاد دلایا کہ 2005ء کے زلزلے کے دوران بھی جمعیت نے وسیع پیمانے پر امدادی خدمات انجام دی تھیں۔

16؍دسمبر 2008ء کو اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عبداللہ حسین ہارون کی جانب سے دارالعلوم دیوبند کے متعلق دیے گئے بیان پر مولانا محمود اسعد مدنی نے صدر پاکستان، پاکستانی ہائی کمشنر، وزارت خارجہ ہند اور اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کو احتجاجی مکتوب بھیجا۔ انھوں نے اس بیان کو دیوبند اور اس کے علماکی توہین قرار دیتے ہوئے فوری معافی اور بیان واپس لینے کا مطالبہ کیا۔ خط میں واضح کیا گیا کہ دارالعلوم دیوبند اور جمعیت علمائے ہند دہشت گردی کے سخت مخالف ہیں اور امن و اخوت کے فروغ کے لیے مسلسل سرگرم ہیں۔ اس کے بعد 30؍دسمبر 2008ء کو مجلس عاملہ نے بھی ایک قرارداد منظور کرکے پاکستانی مندوب کے بیان کی شدید مذمت کی اور حکومت پاکستان سے اسے واپس لینے اور معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔

7؍مارچ 2009ء کو مولانا محمود مدنی نے جنرل پرویز مشرف پر زور دیا کہ وہ ہندستان آ کر پاکستان کی سیاست نہ کریں، کیوںکہ ہندستانی مسلمان اپنے مسائل خود حل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور انھیں ملک کی وسیع سول سوسائٹی کی حمایت حاصل ہے۔

جواب میں جنرل پرویز مشرف نے وضاحت کی کہ ان کا مقصد پاکستان کی سیاست کرنا نہیں؛ بلکہ اپنے موضوع ’’چیلنج آف چینج‘‘ پر اظہارِ خیال کرنا تھا۔ انھوں نے ہندستانی مسلمانوں کی بہتر صورتِ حال پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان بہتر تعلقات کی امید ظاہر کی۔

9؍مارچ 2009ء کو مولانا محمود مدنی نے اپنے ایک بیان کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اسلام، عدم تشدد، امن اور باہمی مکالمے کی تعلیم دیتا ہے۔ انھوں نے کہا کہ بعض پاکستانی سیاست دانوں کی تنقید کی کوئی اہمیت نہیں، جب کہ ہندستانی مسلمانوں کی اولین ذمہ داری اپنے وطن کی ترقی، اتحاد اور قومی مفاد کا تحفظ ہے۔

23؍فروری 2010ء کو جمعیت علمائے ہند نے پاکستان کے قبائلی علاقے میں دو سکھ افراد کے قتل پر شدید تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہر ملک کی حکومت پر اقلیتوں کے جان و مال کا تحفظ آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔

27؍اکتوبر 2015ء کو پاکستان اور شمالی ہندستان میں زلزلے سے ہونے والی ہلاکتوں پر صدر جمعیت مولانا قاری سید محمد عثمان منصورپوری نے اظہار افسوس کیا اور متأثرین کے لیے دعا کی۔

6 اور7؍اپریل 2017ء کو جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے صدسالہ اجتماع، نوشہرہ اضاخیل میں جمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی مولانا محمود مدنی، مولانا حکیم الدین قاسمی اور دیگر نمائندوں نے شرکت کی، جہاں دونوں جماعتوں کے درمیان تاریخی و فکری تعلقات کا اظہار ہوا۔

4؍مئی 2018ء کو علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں محمد علی جناح کی تصویر کے تنازع پر جمعیت علمائے ہند نے واضح کیا کہ اس نے کبھی جناح کے دو قومی نظریے کی حمایت نہیں کی؛ بلکہ ہندستان میں رہ کر اس نظریے کو مسترد کیا ہے، تاہم یونی ورسٹی میں تشدد اور طلبہ پر طاقت کے استعمال کی سخت مذمت کی۔

15؍دسمبر 2018ء کو جمعیت علمائے ہند کی صد سالہ تقریبات کے موقع پر منعقدہ سیمینار میں پاکستان کے رکن قومی اسمبلی مولانا عطا ء الرحمان نے کہا کہ تقسیم کے بعد سرحدیں تو بدل گئیں، لیکن جمعیت کے نظریات اور اکابر کی فکر تقسیم نہیں ہوئی۔

28 اور 29؍مئی 2022ء کو مجلس منتظمہ کے اجلاس میں صدر جمعیت مولانا محمود اسعد مدنی نے دوٹوک انداز میں کہا کہ ہندستانی مسلمانوں نے شعوری طور پر ہندستان میں رہنے کا فیصلہ کیا تھا، اس لیے ’’پاکستان چلے جاؤ‘‘ کا نعرہ ناقابل قبول ہے۔ انھوں نے کہا کہ جمعیت اور مسلمان اپنے وطن کو چھوڑنے والے نہیں۔

20؍مارچ 2024ء کو جمعیت علمائے ہند نے این سی پی سی آر کے چیئرمین پریانک کانونگو کو قانونی نوٹس بھیجا۔ اس کی بنیاد 13؍مارچ 2024ء کے ان کے اس الزام پر تھی، جس میں انھوں نے جمعیت اوپن اسکول پر بیرون ملک، خصوصاً پاکستان سے تعلقات اور منظم جرم جیسے بے بنیاد الزامات عائد کیے تھے۔ جمعیت نے ان الزامات کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے قانونی کارروائی کی تنبیہ کی۔

22؍اپریل 2025ء کو پہلگام میں دہشت گرد حملے کے بعد ہندستان نے پاکستان کے خلاف متعدد سفارتی اور عسکری اقدامات کیے، جن میں سندھ طاس معاہدے کی معطلی، واگہ بارڈر کی بندش، ’’آپریشن مہادیو‘‘ اور 7؍مئی 2025ء کو ’’آپریشن سندور‘‘ شامل تھے، جب کہ 10؍ مئی 2025ء کو جنگ بندی عمل میں آئی۔ اسی دن 7؍مئی 2025ء کو مولانا محمود مدنی نے واضح اعلان کیا کہ اگر پاکستان کی طرف سے جنگ مسلط کی گئی، تو ہندستانی مسلمان پوری قوم کے ساتھ اپنی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہوںگے، کیوںکہ ہندستان کا دفاع ان کی قومی اور آئینی ذمہ داری ہے۔

آخر میں 21 اور 22؍نومبر 2025ء کو مفتی محمد کفایت اللہؒ کی حیات و خدمات پر منعقدہ دو روزہ سیمینار میں ڈاکٹر سوربھ باجپئی نے کہا کہ جب بعض عناصر ہندستانی مسلمانوں سے ’’پاکستان جانے‘‘ کا مطالبہ کرتے ہیں، تو نوجوانوں کو احساسِ کمتری کا شکار ہونے کے بجائے جمعیت علمائے ہند کی آزادی، وطن دوستی، قومی خدمات اور قربانیوں کی تاریخ پیش کرنی چاہیے، کیوںکہ یہی ان کی حقیقی شناخت اور وراثت ہے۔

مجموعی طور پر جمعیت علمائے ہند نے پاکستان سے متعلق ہر معاملے میں اصول، انصاف، امن اور انسانیت کی بنیاد پر اپنا موقف اختیار کیا۔

جمعیت علمائے ہند اور پاکستان: تاریخی تعلقات اور اصولی موقف

جمعیت علمائے ہند نے اپنے قیام (23؍نومبر 1919ء) سے لے کر موجودہ دور تک برصغیر کی سیاست، آزادی ہند، تقسیم ہند، ہند و پاک تعلقات، کشمیر، امن، انسانی ہمدردی، اقلیتوں کے حقوق اور دہشت گردی جیسے اہم مسائل پر ہمیشہ ایک واضح، مستقل اور اصولی موقف اختیار کیا۔ جمعیت کا بنیادی نظریہ متحدہ قومیت، ہندستان کی آزادی، مذہبی ہم آہنگی، جمہوری اقدار، امن، انصاف اور انسانی خدمت رہا ہے، اسی لیے اس نے قیام پاکستان کے نظریۂ تقسیم کی مخالفت کی، مگر تقسیم کے بعد پاکستان کو ایک حقیقت تسلیم کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان امن، خیرسگالی اور باہمی تعاون کی مسلسل حمایت کی۔

تقسیم کے بعد جب بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی، جمعیت علمائے ہند نے جنگ کے بجائے مذاکرات، اعتماد سازی اور عوامی روابط پر زور دیا۔ کشمیر کے مسئلہ پر اقوام متحدہ کی قراردادوں، جنگ بندی اور سفارتی کوششوں کا خیر مقدم کیا گیا۔

اس پورے تاریخی سفر میں جمعیت علمائے ہند نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ پاکستان ایک ہمسایہ اسلامی ملک ہے، لیکن اس سے تعلقات کی بنیاد مذہب نہیں؛ بلکہ انصاف، امن، بین الاقوامی اصول، انسانی ہمدردی اور برصغیر کے عوام کی مشترکہ فلاح ہونی چاہیے۔ اسی لیے جمعیت نے جہاں پاکستان میں آنے والی آفات پر امداد پہنچائی، وہیں اس کی حکومت، نمائندوں، یا پالیسیوں پر ضرورت پڑنے پر کھل کر تنقید بھی کی۔ دوسری جانب ہندستان کے اندر اس نے مسلمانوں کی حب الوطنی، آئینی وفاداری، جمہوری جدوجہد، فرقہ وارانہ ہم آہنگی، اقلیتوں کے حقوق، امن، تعلیم اور قومی اتحاد کو اپنی مستقل پالیسی بنایا۔

ان تمام واقعات سے یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ جمعیت علمائے ہند نے گزشتہ ایک صدی میں پاکستان کے حوالے سے نہ جذباتی طرز عمل اختیار کیا اور نہ دشمنی کی سیاست اپنائی؛ بلکہ ہمیشہ اصول، انصاف، انسانیت، برصغیر میں امن، مذہبی رواداری، دہشت گردی کی مخالفت، انسانی خدمت اور ہندستانی مسلمانوں کی قومی وفاداری کو اپنی پالیسی کا بنیادی ستون بنایا، جو اس کی پوری تاریخ میں مسلسل نمایاں نظر آتا ہے۔