31 Jan 2026

جمعیت علمائے ہند قدم بہ قدم: اٹھائیسوں سال: 1946ء

  اٹھائیسوں سال: 1946ء

محمد یاسین جہازی

یکم جنوری 1946ء کو مفتی اعظم ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے فتویٰ دیا کہ کانگریس میں شرکت جائز ہے۔

22؍جنوری 1946ء کو ایک استفسار کے جواب میں مفتی اعظم نے لیگ میں شرکت اور اس کی امدادکی حیثیت پر ایک فتویٰ جاری کیا۔

یکم فروری1946ء کو شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب اور مولانا حفظ الرحمان صاحب کے دورے کی تفصیلات شائع کی گئیں۔یہ دورے مسلم پارلیمنٹری بورڈ کے امیدواروں کے لیے ووٹ حاصل کرنے کے لیے مقصد سے کیے جارہے تھے۔

17؍فروری1946ء کو حضرت مفتی اعظم ہند نے خانقاہ امدادیہ تھانہ بھون کے سوالوں کے جوابات پیش کیے۔ 

جب وائسرائے ہند لارڈ واویل نے جداگانہ(مسلمان مسلمان کو اور غیر مسلم غیر مسلم کو ووٹ پر مبنی ) انتخابات کرانے کا اعلان کیا، تو مسلم لیگ نے پاکستان اور اسلامی حکومت کے نعرے کے ساتھ الیکشن میں حصہ لیا، جب کہ جمعیت علمائے ہند تمام مسلم قوم پرور جماعتوں کے مشترکہ پلیٹ فارم’’آزاد مسلم پارلیمنٹری بورڈ‘‘ کے تحت آزادیِ ہند کے نعرے کے ساتھ انتخابی میدان میں اتری ۔مسلم لیگ نے الیکشن جیتنے کے لیے جہاں غنڈہ گردی اور ماردھاڑ سے کام لیا، وہیں فتووں کا بھی سہارا لیا، جب کہ جمعیت علمائے ہند اپنے لوگوں سے امن و امان کی اپیل کرتی رہی۔ 

آواخر دسمبر1945ء تک مرکزی قانون ساز اسمبلی کی 102 ؍نشستوں پر ہوئے الیکشن کے نتائج سامنے آگئے۔ مسلم لیگ نے پاکستان کے نعرے کے ساتھ الیکشن لڑا ، جب کہ جمعیت علمائے ہند نے آزادی ہند کے نام پرمسلم پارلیمنٹری بورڈ کے تحت کانگریس کی حمایت کی۔ اس میں 30؍ نشستیں مسلمانوں کے لیے مخصوص تھیں،ان سب نشستوں پر مسلم لیگ نے جیت درج کرائی، جب کہ کانگریس کو کل 57؍نشستیں ملیں۔ 

بعد ازاں 1946ء میں صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن ہوئے۔اس میں کانگریس نے کل 1585؍ نشستوں میں سے923 ؍نشستیںجیتیں، جو(%58.23)فی صد ہوتا ہے۔ آل انڈیا مسلم لیگ نے 425؍ نشستیں (کل کا %26.81) جیت کر دوسرے درجہ کی جماعت کا مقام حاصل کرلیا، یعنی اس نے مرکزی اسمبلی کے تمام مسلم حلقوں کے ساتھ ساتھ صوبائی اسمبلیوں کے زیادہ تر مسلم حلقوں پر قبضہ کر لیا۔

 اسی طرح ہندستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی (Constituent Assembly) میں کل 389؍ نشستیں تھیں، جن میں سے 292؍ نشستیں برطانوی ہند کے صوبوں کے لیے اور 93؍ نشستیں دیسی ریاستوں کے لیے تھیں۔ دیسی ریاستوں کے نمائندوں کا انتخاب وہاں کے حکمرانوں کی مرضی سے ہوتا تھا۔جو نشستیں برطانوی ہند کے لیے مخصوص تھیں، انھیں پر جولائی 1946ء میں الیکشن ہوئے، جن میں کانگریس نے 207؍ نشستوں (کچھ ذرائع کے مطابق 208) اور مسلمانوں کے لیے مخصوص 78 ؍ نشستوں میں سے مسلم لیگ نے 73؍ نشستوں پر ،اس کے علاوہ دیگر پارٹیوں اور آزاد امیدواروں نے 28؍ نشستوں پر جیت درج کرائی۔ان تینوں انتخابات میں مسلم لیگ کی نمایاں جیت نے پاکستان کا راستہ کھول دیا۔

انتخابات کے بعد حکومتی اختیارات منتقل کرنے کے لیے 17؍ فروی1946ء کو کیبنٹ مشن بھیجنے کا اعلان ہوا۔ 23؍ مارچ 1946ء کو کیبنٹ مشن ہندستان پہنچا اور کانگریس، لیگ اور دیگر لیڈروں سے صلاح و مشورے شروع کیے، لیکن اس کے لیے جمعیت کو مدعو نہیں کیا،جس کے پیش نظر جمعیت نے 28-29؍ مارچ 1946ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں یہ فیصلہ کیا کہ اگر مسلمانوں کے مفاد کے خلاف کوئی دستوری دفعہ شامل کیا گیا، تو جمعیت اس کی مخالفت کرے گی۔ مسلم لیگ نے 4؍ اپریل 1946ء کو مشن سے ملاقات کی ، بعد ازاں 8-9؍ اپریل 1946ء کو دو آئین ساز ادارے بنانے اور ہندستان کو تقسیم کرنے کا مطالبہ کیا ۔ 

مجلس عاملہ کے فیصلے کا فوری اثر ہوا اور کیبنٹ مشن نے 16؍ اپریل 1946ء کو ملاقات کے لیے مدعو کیا۔ جمعیت نے ملاقات سے ایک دن پہلے 15؍ اپریل 1946ء کو مختلف قوم پرور مسلم جماعتوں کے ساتھ مشترکہ میٹنگ کی اور وزارتی مشن کے سامنے پیش کرنے کے لیے ایک فارمولا تیار کیا۔ اور پھر 16؍ اپریل1946ء کو مجلس عاملہ میں پاس کرکے، اسی دن صدر مسلم پارلیمنٹری بورڈ حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ صدر جمعیت علمائے ہندکی قیادت میں ایک وفد نے کیبنٹ مشن سے ملاقات کی اور فارمولا پیش کیا۔مجلس عاملہ کے اس اجلاس میں فارمولا کے علاوہ سید احمد کاظمی کی وفات پر تجویز تعزیت اور آزاد ہند فوج کے تمام ارکان کو غیر مشروط طور پر رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ 

آواخراپریل میں مشن نے مسلم لیگ اور کانگریس کے لیڈروں کو تبادلۂ خیالات کی دعوت دی اور ساتھ ہی اپنا مجوزہ منصوبہ پیش کیا۔5؍ مئی 1946ء کو شملہ میں کیبنٹ مشن نے کانفرنس کی، جس میں دونوں پارٹیوں نے اپنی اپنی تجاویز پیش کیں۔ لیگ کے مطالبۂ پاکستان کے اصرار اور کانگریس کے اکھنڈ بھارت کے دعوے پرقائم رہنے کی وجہ سے کانفرنس ناکام ہوگئی؛ تاہم مشن نے چوبیس نکاتی پلان پیش کرکے عارضی حکومت کے قیام کی کوششوں کو جاری رکھا۔26؍مئی 1946ء کو مشن کی تجاویز پر نیشنلسٹ مسلم رہنماؤں کی طرف سے مشترکہ تبصرہ کیا گیا۔ بعد ازاں 6؍ جون 1946ء کو مسلم لیگ نے، اور25؍ جون 1946ء کو کانگریس نے مشن کے پلان کو قبول کرتے ہوئے عارضی حکومت سازی میں شمولیت کا اعلان کیا۔ 

ریاست الور میں مسلمانوں پر ہورہے مظالم کی تحقیقات کے لیے جمعیت کے تحقیقاتی وفد کو آنے کی اجازت طلب کرنے کے لیے، پہلے صدر جمعیت نے 3؍ اپریل 1946ء کو، پھر 13؍ اپریل 1946ء کو ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا حفظ الرحمان نے وزیر اعظم ریاست الور کے نام تار بھیجا۔

23؍اپریل1946ء کو افواہوں پر دھیان نہ دیتے ہوئے امن و شانتی قائم رکھنے کی اپیل کی گئی۔

26؍اپریل1946ء کو پانچ لاکھ سے زائد مجمع پر مشتمل ایک عظیم الشان اجلاس کیا گیا، جس میں پاکستان کی حقیقت اجاگر کی گئی۔

30؍اپریل1946ء کوسماجی و دینی اصلاح سے متعلق ایک اہم اپیل کی گئی۔

از 10تا 12؍ جون 1946ء کو مجلس عاملہ مرکزیہ کا اجلاس ہوا، جس میں کیبنٹ مشن کی تجاویز کا تنقیدی جائزہ لیا گیا۔ دیگر تجاویز میں آسام لائن سسٹم میں آباد لوگوں کو بے دخل نہ کرنے کی اپیل،کشمیری عوام پرڈوگرا فوج کے مظالم کی مذمت اور نیشنل کانفرنس کے صدر شیخ عبد اللہ اور ان کے ساتھیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ اور فلسطین میں ایک لاکھ یہودیوں کے داخلہ کی اجازت پر مشتمل برطانوی امریکی تحقیقاتی وفد کی رپورٹ کی مذمت کرتے ہوئے اسے مسترد کرنے کی اپیل کی گئی اور مسلمانان ہند کے جذبات سے آگاہ کرنے کے لیے 24؍ مئی 1946ء کو ’’یوم فلسطین‘‘ منانے کا اعلان کیا گیا۔

13؍جون1946ء کو کل ہند فلسطین کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔

21؍جون1946ء کوسکریٹری عرب لیگ کے برقیہ کا جواب دیاگیا۔

25؍ جون 1946ء کو حضرت مولانا احمد سعید صاحب نائب صدر جمعیت علمائے ہند نے نیشنلسٹ مسلم اسٹوڈینٹس فیڈریشن کو پیغام بھیجتے ہوئے کہا کہ کوئی ملک ایسا نہیں ہے، جس کے انقلاب میں طلبہ کے ہاتھ نہ ہوں۔

12؍جولائی 1946ء کو مسلم لیگیوں کی طرف سے امام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ کی ذات کو گستاخیوں کا نشانہ بنانے پرمولانا کی حمایت میں مکتوب لکھا گیا۔ 

پھر28؍ جولائی 1946ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں ساؤتھ افریقہ میں ہندستانیوں کے ساتھ بھید بھاؤ والے قانون پاس کرنے کی مذمت کی اور اس کے خلاف عدم تشدد کی تحریک چلانے والوں کی حوصلہ افزائی کی گئی۔ ایک دوسری تجویز میں آسام لائن سسٹم کے مسئلہ کو حل کرنے کا مطالبہ اور تیسری تجویز میں پوسٹ مینوں کے اسٹرائیک میں مولانا آزادؒ کی ثالثی کو قبول کرنے کا مشورہ دیا گیا۔

چوں کہ مشن پلان میں تقسیم ہند کو قبول نہیں کیا گیا تھا، اس لیے حکومت سازی میں لیگ کی شمولیت کے فیصلے پر اس کے حلقے میں ناپسندیدگی کا اظہار کیاگیا، جس سے متأثر ہوکر 27؍ جولائی 1946ء کو لیگ نے حکومت سازی میں شرکت سے انکار کردیا۔ اور پاکستان حاصل کرنے کے لیے 16؍ اگست1946ء کو ’’ڈائریکٹ ایکشن ڈے‘‘ منانے کا فیصلہ کیا، جو پورے ہندستان میں فرقہ وارانہ فسادات کا باعث بنا۔ 

26؍ اگست 1946ء کو کچھ غنڈوں نے جمعیت کے دفتر پر چھاپا مارااور اسٹاف سے مار پٹائی کی ۔

کیبنٹ مشن کی دعوت پر 2؍ ستمبر1946ء کو کانگریس نے غلام بھارت میں پہلی مرتبہ قومی عارضی حکومت کی تشکیل کی۔جب ڈائریکٹ ایکش ڈے منانے کے باوجود مسلم لیگ کو کچھ ہاتھ نہیں آیا، تو 15؍ اکتوبر1946ء کو عارضی حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا۔لیکن مسلم لیگ نے سب سے بڑی تاریخی غلطی یہ کی کہ مسلمانوں کی واحد نمائندگی کا دعویٰ کرنے کے باوجود کیبنٹ مشن پلان کے مطابق پانچ مسلم ناموں میں ایک نام غیر مسلم دلت لیڈر جوگندر ناتھ منڈل کاشامل کردیا، جس سے وزارتی پلان میں مسلمانوں کی نمائندگی پینتالیس فی صد سے گھٹ کر پینتیس فی صد رہ گئی۔ 

21تا 24؍ ستمبر1946ء کومجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں انتقال اختیارات کے لیے عارضی قومی حکومت کے قیام پر اظہار اطمینان کیا گیا، تاہم مسلم لیگ کی غلط قیادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے ، کانگریس ہائی کمانڈ کے طریق کار پر اعتراض ظاہر کیا گیا۔ دیگر تجاویز میں ملک بھر میں ہورہے فرقہ وارانہ فسادات کی مذمت، ان میں ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ، زمین داری کے قانون کا خاتمہ،اوقاف سے متعلق غوروفکر کے لیے 26-27؍ اکتوبر 1946ء کو دیوبند میںاجتماع کا فیصلہ، فلسطین سے متعلق تجاویز کو انگریزی اور عربی میں مرتب کراکر عرب ہائی لیگ کے سکریٹری کو بھیجنے اور فرقہ وارانہ فسادات کو جہاد پاکستان قرار دینے کو اذیت ناک بتاتے ہوئے مسلمانوں کو اس سے باز رہنے کی تلقین کی گئی۔

3؍نومبر1946ء کوفسادات میں مسلمانوں کے نامناسب رویے پر ایک بیان جاری کیا گیا۔اسی تاریخ کو جمعیت علما، مسلم لیگ اور کانگریس کو ووٹ دینے سے متعلق استفتے کے جوابات دیے گئے۔

3؍ستمبر1946ء کو توہین رسالت پر مبنی ایک جریدے کے مضمون پروائسرائے ہند سے ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

3؍ستمبر1946ء کو عید کے دن مسٹر جناح کی جانب سے دعوت اتحاد کا خیرمقدم کیا گیا، لیکن ان کے سابقہ رویے کو دیکھ کر طرز عمل پر تنقید بھی کی گئی۔

6؍نومبر1946ء کو مولانا مفتی محمد نعیم لدھیانوی صاحب سکریٹری جمعیت علمائے ہند گرفتار کرلیے گئے۔اسی تاریخ کو بہار کے فسادات کے تعلق سے صدراور ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے ایک بیان جاری کیا۔

28؍نومبر1946ء کو مظلومین بہار کی امداد واعانت کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی گئی۔

از 14تا 16؍ دسمبر1946ء کو مجلس عاملہ مرکزیہ کا اجلاس ہوا، جس میں بہاراور گڈھ مکتیشر کے خونی فسادات کی مذمت کرتے ہوئے مظلومین کے ساتھ مکمل انصاف کرنے کا مطالبہ کیا گیااور پورے ہندستان میں صلح و آشتی برقرار رکھنے کی اپیل کی گئی۔ اسی طرح کیبنٹ مشن کے گروپنگ سسٹم کو وقتی مصلحت کے پیش منظر تسلیم کرلینے کا مطالبہ کیا گیا ۔ اور آخری تجویز میں حاجی متولی محمد جلیل صاحب کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

20؍دسمبر1946ء کوایک سرکلر نمبر ۷ جاری کیا گیا، جس میں مقامی، ضلعی اور صوبائی یونٹوں کے انتخابات کی تمام کارروائیاں جلد از جلد مکمل کرانے اور آئندہ سال (1947ء )میں ہونے والے اجلاس عام میں شرکت کے لیے مرکزی مجلس منتظمہ کے اراکین کے نام بھیجنے کی گذارش کی گئی۔  

25؍دسمبر1946ء کو سرحد جمعیت علمائے ہند کی امداد کے لیے حضرت شیخ الاسلام ؒ نے ایک اپیل جاری کی۔


30 Jan 2026

توہین رسالت کے مجرمین کے خلاف کرنے کےضروری کام

 

توہین رسالت کے مجرمین کے  خلاف کرنے کےضروری کام

بھارت میں مجرمین کے تئیں  گورنمنٹ کی نرم روی اور عدالتوں کی لیٹ لطیف کارروائی کی وجہ سے جس طرح مجرمین بے خوف ہوتے جا رہے ہیں، یہ بہتر بھارت کےلیےبالکل بھی اچھا اشارہ نہیں ہے اوربالخصوص مسلمانوں کےلیے بدترین حالات پیدا ہونے کا پیش خیمہ ثابت ہوتا جارہا ہے۔ ان حالات کے لیے راستے ہموار کرنے میں ہماری جہالت بھی برابر کی شریک ہے، جس کی وجہ سے کبھی کبھار ہمارے حق میں ہونےوالےفیصلےبھی  غیرکے  حق میں چلے جاتےہیں۔ اس لیے موقع بہ موقع کےلیے قانونی معلومات رکھنا بھی بے حد ضروری ہے۔

یتی نرسنگہانند کا معاملہ

29؍ستمبر2024ء کو غازی آباد کے ایک مندر کے مہنت یتی نرسنگہانند نے ایک  پروگرام میں تقریر  کرتے ہوئے  سرور کائنات ﷺ کی شان میں بھیانک گستاخی کی، جس نے بھی اس تقریر کو سنا، وہ مچل کر رہ گیا۔

3؍اکتوبر2024ءکو آلٹ نیوز کے بانی ممبر مشہور فیکٹ چیکر محمد زبیر صاحب نے اپنے ’’ایکس‘‘ ہینڈل سے اس کو اجاگر کیا، جس سے دنیا کو اس گستاخی کے بارے میں معلوم ہوا۔  چنانچہ اسی تاریخ کو صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا محمود اسعد مدنی صاحب نے وزیر داخلہ (امیت ساہ)کو خط لکھ کر اس کے خلاف قانونی ایکشن لینے کا مطالبہ کیا ۔اور 4؍اکتوبر2024ء کو مولانا حکیم الدین صاحب قاسمی  ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند کی قیادت میں ایک وفدنے  کمشنریٹ غازی آباد پہنچ کر اجے کمار مشرا سے ملاقات کی اور شکایت درج کرائی۔

آج بتاریخ 5؍اکتوبر2024ءکو دوبارہ وفد کمشنریٹ  اور اے سی پی آفس پہنچا اور بی این ایس کی مزید دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس سے قبل رات میں بھی مقامی نوجوانوں نے مہنت کے مندر کی طرف کوچ کرکے ایف آئی آر درج کرنے کا دباؤ بنایا تھا۔ ان تمام کوششوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ الحمد للہ گرفتاری عمل میں آگئی ہے۔

یتی نرسنگہا نند کے خلاف  سخت قانونی کارروائی کا ایک اور سنہری موقع

یتی نرسنگہا نند اس سے پہلےہیٹ اسپیچ کی وجہ سے گرفتار ہوچکا ہے۔ اسے ہریدوار ضلع کورٹ نے  7؍فروری 2022 ء کو اس شرط کے ساتھ ضمانت دی تھی کہ آپ دوبارہ نفرتی بیان نہیں دیں گے اور دینے پر ضمانت رد ہوجائے گی۔ اب چوں کہ اس نے دوبارہ نفرتی بیان دے دیا ہے، لہذا اس پر جو کہ پہلے ہی سے دفعہ 153Aاور 295A لگی ہوئی  ہے، مقدمہ نمبر 849-2021ء کے آرڈر کےمطابق اس آرڈر کی پہلی کنڈیشن کی خلاف ورزی  کے تحت قانونی کارروائی کی جائے ۔  اور اس کے لیے application for cancellation of bail فائل کیا جائے ۔ اور چوں کہ ہریدوار ضلع کورٹ میں پہلا مقدمہ درج ہوا تھا، اور اس نے اب یہ ہیٹ اسپیچ غازی آباد میں دیا ہے، لہذا ہرید وار ٹرائل کورٹ میں اپیلیکشن  ڈالی جائے گی ۔ اگر یہاں سے فیصلہ ہمارے حق میں نہیں آتا ہے، تو پھر ہائی کورٹ نینی تال میں اس کے خلاف  عرضی ڈالی جائے گی ۔

توہین رسالت کے مجرم کے لیے قانونی چارہ جوئی کے طریق کار

اگر کوئی شخص کسی بھی مذہب، یامذہبی رہنما ، یا کمیونٹی کے بارے میں کوئی ایسی بات  کہتا، لکھتا،یا کسی بھی ذریعہ سے پھیلاتا ہے، جس سے مذہب، مذہبی رہنما ، اس کے متبعین، یا کمیونٹی کے سینٹی مینٹ ہرٹ (جذبات مجروح) ہوتے ہیں، تو اس کے لیے درج ذیل دفعات کے تحت ایف آئی آر درج کرائی جاسکتی ہے:

BNS(بھارتیہ نیائے سنہتا) کی دفعہ 299(جو IPC میں 295(A)تھی) کی دفعہ لگوائیں۔ اس دفعہ کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی مذہب، یا اس کے فالورس کے بارے میں غلط بیانی کرنا، یا کوئی ایسی بات کہنا جس سے ان کے جذبات مجروح ہوں، قانونا جرم ہے اور جرمانے کے ساتھ تین  سال کی سزا ہے۔

BNSکی دفعہ 196(جو IPC میں (A) 153تھی) کی دفعہ لگوائیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی دھرم گروکے بارے میں کوئی ایسی بات کہنا ، جس سے اس کے فالورس کے جذبات مجروح ہوتے ہوں، یا جس بات سے فرقہ وارانہ جھگڑا ہونے کا خطرہ ہو، قانونا جرم ہے۔ اور اس کے مجرم کو جرمانے کے ساتھ تین سال کی قید کی سزا دی جائے گی۔

BNSکی دفعہ 302(جو IPC میں298تھی) کی دفعہ لگوائیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی مذہب کے بارے میں ایسے گندے الفاظ جیسے گالم گلوچ وغیرہ کرنا، جس سے اس سماج کے لوگوں کے جذبات بھڑک اٹھے، ایسے مجرم کو ایک سے تین سال تک کی سزا کے ساتھ جرمانہ بھی لگایا جاتاسکتا ہے۔ 

BNSکی دفعہ 197C (جو IPC میں153تھی) کی دفعہ لگوائیں۔

اس کا مطلب  یہ ہے کہ کسی بھی مذہب ،زبان ،یا  ذات کے خلاف لوگوں کر بھڑکاتا ہے ، جس سے امن وچین کا ماحول بگڑے، قانونی طور پرجرم ہے۔ اور اس کی سزاتین  سال کی قید ہے۔

BNSکی دفعہ 197D(جو IPC میں153تھی) کی دفعہ لگوائیں۔

کوئی بھی ایسی جھوٹ بات پھیلانا، جس سے بھارت کی ایکتا کو خطرہ لاحق ہو، اس کے مجرم میں کو بھی تین سال قید کی سزا دی جائے گی۔

6۔دفعہ352 کا سیکشن لگوائیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی شخص کسی دوسرے آدمی کو بھڑکاتا ہے،جس سے پبلک کے امن و امان کے زائل ہونے کا خطرہ ہو، یا کسی اور طرح کا جرم کرنے پر اکساتا ہو، یہ قانونا جرم ہے، اور اس کی سزا جرمانے کے ساتھ دو قید ہے۔

 

7۔چوں کہ یتی نرسمہانند نے ابھی کی تقریر میں عورتوں کے ساتھ زنا کا بھی تذکرہ کیا ہے، جو اسلام پر سخت الزام ہے، اس لیے اس کے خلاف BNS79کی دفعہ بھی لگائی جاسکتی ہے۔ اس دفعہ کا مطلب یہ ہے: insult modesty of woman  یعنی عورتوں کی عزت کے بارے میں ایسی بات کہنا، جو غلط بیانی پر مبنی ہو۔ اس کی سزا تین سال قید کے ساتھ جرمانہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔  لہذا یتی کے خلاف ایف آئی آرمیں اس دفعہ کو ضرور شامل کرائیں۔

 عوامی رد عمل

لیگل ایکشن کو مؤثر بنانے کےلیے مسلمانوں کو درج ذیل کام کرنا چاہیے:

1۔ ہندستان بھر کے تھانے میں جہاں جہاں بھی عاشق رسول موجود ہیں، وہاں وہاں پرامن جلوس نکالیں اور توہین رسالت کے مجرمین کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے ہرایک تھانے میں شکایت  درج کرائی جائے ۔اور ایف آئی آر رجسٹر کرانے پر مجبور کیا جائے۔

2۔ ہر مسجد ، اور  دینی اداروں میں یک روزہ، سہ روزہ، پندرہ روزہ  سیرت نبوی ﷺ کے پروگرام  کا سلسلہ جاری کیا جائے۔

3۔ جمعہ کے دن خصوصیت کے ساتھ سیرت نبوی ﷺ پر خطاب کیا جائے ۔ بعد ازاں ایک پرامن جلوس کی شکل میں ڈی ایم، ایس ڈی ایم اور اے ڈی ایم :کسی بھی  دفتر میں پہنچ کر قانونی کارروائی کرنے کے لیے ریپریزینٹیشن پیش کیا جائے۔

4۔ سوشل میڈیاز پر زیادہ سے زیادہ نعت النبی ﷺ اور سیرت پر موجود تحاریر و تقاریر کو شیئر کریں ۔

5۔ ہر شخص انفرادی طور پر خود بھی درود پاک ﷺ کا اہتمام کریں اور اپنے بھائیوں کو بھی اس کی تلقین کریں۔

نوٹ: قانونی دفعات سمجھنے میں سپریم کورٹ آف انڈیا کے وکیل جناب عاقب بیگ صاحب سے مدد لی گئی ہے۔ اور ان کےشکریے کے ساتھ یہ تحریر آپ کی خدمت میں پیش کی جارہی ہے۔

آج کے جمعیت علمائے ہند کے وفد میں جناب عاقب بیگ صاحب، ایڈوکیٹ سپریم کورٹ آف انڈیا، مولانا اسجد صاحب قاسمی صدر جمعیت علمائے ضلع غازی آباد، مولانا غیور احمد قاسمی آرگنائزر جمعیت علمائے ہند، مولانا ضیاء اللہ صاحب قاسمی منیجر الجمعیۃ بکڈپو ، مولانا ذاکر صاحب آرگنائزر جمعیت علمائے ہند،قاری عبدالمعیدصاحب کانپور اور راقم الحروف محمد یاسین جہازی قاسمی شامل تھا۔

آخری گذارش

توہین رسالت مسلمانوں کے لیے ایک نازک اور حساس معاملہ ہے، جس سے عاشقان رسول اکرم ﷺ کا بے قابو ہوجانا ایک فطری امر ہے؛ لیکن ملک کے موجودہ حالات کے پیش نظر حکمت و دانائی کا یہی تقاضا ہے کہ ہم قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے قانونی کارروائی کے لیے ہر ممکن کوشش کریں اور غیر ضروری جذباتیت کے اظہار سے پرہیز کریں۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کی ذات سے قوی امید ہے کہ ہماری کوشش رنگ لائے گی ، مجرم کیفر کردار تک پہنچے گا  اور ہمارے بے چین جذبات کو تسکین ملے گی ، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

محمد یاسین جہازی

9891737350 

27 Jan 2026

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: ستائیسواں سال: 1945ء

 ستائیسواں سال: 1945ء

محمد یاسین جہازی

مولانا اطہر صاحبؒ کٹکی رکن جمعیت علمائے ہند کو ڈھائی سال کی نظر بندی کے بعد 6؍ جنوری 1945ء کو رہا کردیا گیا۔

31؍ جنوری و یکم و 2؍ فروری 1945ء کو مجلس عاملہ کا سہ روزہ اجلاس ہوا، جس میں ریاست دھار کی شاہ مسجد اور مقابر کے قضیہ کی تحقیق کے لیے دو رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اسی طرح آزاد ہندستان کے دستور میں مسلمانوں کی حقیقی پوزیشن پر بھی کافی غورو خوض کیا گیا۔ 

7؍فروری1945ء کو غلط فہمی پر مبنی ایک مراسلہ کی تردید کی گئی۔

7؍مارچ1945ء کو مہاراجہ الور کو تار بھیج کر مسلمانوں کے ساتھ نازیبا رویے پر ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

15؍مارچ1945ء کو جمعیت علمائے ہند اور اہل حدیث افرادکے تعلق سے ایک وضاحتی بیان جاری کیا گیا۔

رسالہ پرچار میں تعلیمات اسلام کے خلاف باتیں لکھنے کی وجہ سے 7؍ اپریل 1945ء کو ایک تار بھیج کر مہاراجہ اندور سے اسے ضبط کرنے کا مطالبہ کیا۔

13؍اپریل1945ء کو مولانا آزاد اور مولانا مدنی کی مسلم لیگ کی جانب سے توہین کی گئی۔ 

14؍اپریل1945ء کی ایک خبر کے مطابق ریاست دھار اور الور کے متعلق مرکزی اسمبلی میں سوال اٹھانے کی کوشش کی گئی۔

14-15؍ اپریل 1945ء کے اجلاس مجلس عاملہ میں آسام لائن سسٹم کو ختم اور مسلمانان برپیٹا پر مظالم کی تحقیقات کا مطالبہ کیاگیا اور ہسٹری آف پرشیا میں نبی کریم ﷺ اور جبرئیل امین علیہ السلام کی فرضی تصاویر شائع کرنے پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے، انھیں کتاب سے نکالنے کا مطالبہ کیاگیا۔اسی طرح سپرو کمیٹی کی سفارشات کی نامنظوری اور اسیران فرنگ کو جلد از جلد رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ 

20؍اپریل1945ء کو مسٹر آصف علی کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔

4،تا7؍ مئی 1945ء کو سہارن پور میں چودھواں عظیم الشان تاریخی اجلاس عام ہوا، جس میں ملک و ملت کے سلگتے مسائل پر طویل بحث و مباحثے کے بعد بائیس تجاویز منظور کی گئیں۔ پہلی تجویز میں امام انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ صاحب سندھیؒ، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ، بانی تبلیغی تحریک حضرت مولانا محمد الیاس صاحب کاندھلویؒ، محدث دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا میاں اصغر حسین صاحبؒ ،شہید ملت جناب خان بہادر اللہ بخش سندھی ؒ کے علاوہ دیگر مشاہیر امت کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ کو تعزیت مسنونہ پیش کیا گیا۔دوسری تجویز میں پرشوتم داس ٹنڈن اور بعض دیگر کانگریس وزیروں اور عہدے داروںکی اردوکے خلاف معاندانہ سرگرمیوں کی مذمت کی گئی۔ تیسری تجویز میں مرکزی جمعیت کے لیے ایک بڑے دفتر کی ضرورت کا اعلان کرتے ہوئے چندہ کی اپیل کی گئی اور اجلاس ہی میں تقریبا چالیس ہزار روپے جمع ہوگیا۔ دفتر کے چندہ کے لیے حضرت شیخ الاسلام ؒ کی ایک چھڑی ایک ہزار میں اور ٹارچ تین سو روپے میں نیلام کیا گیا۔ چوتھی تجویز میں مدارس عربیہ کے فضلا کے لیے سیاسی تربیت گاہ قائم کرنے پر زور دیا گیا۔ پانچویں تجویز میں حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ، حضرت مولانا حبیب الرحمان صاحب لدھیانویؒ،حضرت مولانا نور الدین صاحب بہاریؒ اور جناب رفیع احمد قدوائی صاحبؒ کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ چھٹی تجویز میں 1942ء کی ’’ بھارت چھوڑ دو‘‘ تحریک کے تحت قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والوں کو مبارک باد پیش کی گئی۔ ساتویں تجویز میں مولانا منیر الزماں صاحب اسلام آبادیؒ کی گرفتاری پر غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔ آٹھویں تجویز میں آئینی مسائل کا حل پیش کرنے کے لیے پیش کی گئیں سپرو کمیٹی کی سفارشات میں حق خود ارادیت کی کلیتا نفی، دستور ساز اسمبلی میں اچھوتوں کے لیے جداگانہ نیابت کا استحقاق اور آئندہ آزاد حکومت کی تشکیل کی بعض تفصیلات جمعیت علمائے ہند کے فیصلوں کے خلاف ہونے کی وجہ سے ہندستان کے مسئلہ کے حل کے لیے غیر مفید قرار دیا۔ نویں تجویز میں از 25؍ اپریل، تا 26؍ جون 1945ء کو سان فرانسسکو کانفرنس میں شرکت کرنے والے وفد کی نام زدگی، چوں کہ حکومت ہند نے برطانوی شہنشاہیت کے مفاد کی ترجمانی کی غرض سے کی تھی، اس لیے اس وفدپر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا۔دسویں تجویز میں آسام لائن سسٹم کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مسلمانوں پر ہورہے مظالم کی شدید مذمت کی گئی۔ گیارھویں تجویز میں جنگ عظیم دوم ختم ہونے کے باوجود سیاسی جمود و تعطل پر اظہار تعجب کرتے ہوئے ، مسلمانوں کے مذہبی ، تہذیبی اور سیاسی حقوق کی ضمانت پر مشتمل دستور ہند میں شامل کرنے کے لیے مشہور فارمولہ پیش کیا گیا، جو تاریخ میں ’’جمعیت کا فارمولہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ بارھویں تجویز میں برطانوی حکومت ہند کی طرف سے تعلیمی اقدامات کے لیے پیش کیا گیا سارجنٹ پلان (Sargent Plan) میں مسلمانوں کی مخصوص تعلیمی ضروریات کا تذکرہ نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔تیرھویں تجویز میں اے ہسٹری آف پرشیا نامی کتاب میں نبی اکرم ﷺ اور جبرئیل امین علیہ السلام کی فرضی تصاویر کو نکالنے کا مطالبہ کیا ۔ چودھویں تجویز میں کنٹرول سسٹم کی وجہ سے دیسی صنعت تباہ ہونے کے باعث اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ پندرھویں تجویز میں چمور اور آشتی کے ملزموں کی پھانسی کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔ سولھویں تجویز میںتحقیقاتی وفد کی رپورٹ کی روشنی میں ریاست دھار کی جامع مسجد کو ہندو مہاسبھا کی طرف سے بھوج شالا گرداننے کی شدید مذمت کی گئی۔ سترھویں تجویز میں لکھنو میں پانچ سال سے مدح صحابہ پر پابندی لگانے کی مذمت کرتے ہوئے اس ناانصافی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اٹھارھویںتجویز میں سگریٹ فیکٹری کے مالکان کا مزدوروں کے ساتھ ناانصافی کرنے پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے گورنمنٹ سے سگریٹ مزدوروں کی شکایات کا ازالہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انیسویں تجویز میں ریلوے کو موٹرس سروس کی ماناپولی دینے کی تجویز پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔ بیسویں تجویز میں جمعیت کے ساتھ مسلم مجلس کے اشتراک کو منظوری دی گئی۔ اکیسویں تجویز میں سفر حج کی رکاوٹوں کو دور کرنے کا مطالبہ کیا۔ اور آخری تجویز شکریہ کے الفاظ پر مشتمل تھی۔

4؍ مئی 1945ء کو جمعیت علمائے صوبہ یوپی نے ریاستی سطح پر امیر شریعت منتخب کرنے کی کوشش کی، جو کامیاب نہ ہوسکی۔ 

7؍مئی1945ء کو مجلس مرکزیہ کے اجلاس میں درج ذیل تجاویز منظور کی گئیں: مشاہیر کے انتخاب کی منظوری۔ترمیمات دستور اساسی پر نظر ثانی کے لیے کمیٹی کی تشکیل۔ جمعیت علمائے صوبہ متحدہ آگرہ اور اودھ کی تشکیل۔ علاوہ ازیں عہدے داران کاانتخاب بھی عمل میں آیا۔

29؍مئی 1945ء کو مسٹر آصف علی کی رہائی پر ان کی گرتی صحت دیکھ کر حکومت کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

2؍جون 1945ء کو شام، لبنان اور فلسطین کے خلاف فرانس اور برطانیہ کی مسلم کش پالیسی کی مذمت کی گئی۔

7؍جون1945ء کو جمعیت علما سے غلط فہمی پر مبنی قاری زاہر صاحب کی ایک تحریر کا جواب دیا گیا۔

11؍جون1945ء کو منعقد ایک عظیم الشان جلسے میں ممالک اسلامیہ کے متعلق یورپی حکومتوں کی انتدابی کوششوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے ،شام ، لبنان اور مراکش کے نہتے باشندوں پر فرانسیسی حکومت کے مظالم کی مذمت،فلسطین کے متعلق نئی پالیسی پر اظہار تشویش،ایران پر روسی و برطانوی قبضے پر غم و غصے کا اظہار،اور مفتی اعظم فلسطین کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔اور 22؍جون 1945ء کو یوم ممالک اسلامیہ منانے کی اپیل کی گئی۔  

20؍جون1945ء کو ناظم عمومی مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے کہا کہ ویول پلان کوئی کشش نہیں رکھتا۔ 

28؍ جون 1945ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میںجمعیت کے علاوہ دوسری تنظیموں کے لیڈروں کو بھی مدعو کیا گیاتھا۔ اس مشترکہ اجلاس میں ہندستان کے آئینی مسئلے کو حل کرنے اور انگریزوں سے بھارتیوں کو پاور منتقل کرنے کے حوالے سے ،14؍ جون 1945ء کولارڈ واویل کا پیش کردہ واویل پلان پر غوروخوض کیا گیا اور یہ فیصلہ کیا کہ یہ پلان عارضی وقت کے لیے مناسب ہے۔ اسی طرح اس کا بھی اعلان کیا گیا کہ مسلم لیگ مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت نہیں ہے۔ 

واویل نے اپنے فارمولہ کے مطابق ایگزیکیٹو کونسل کے اراکین کو منتخب کرنے کے لیے 25؍ جون 1945ء کو شملہ کانفرنس بلائی، جس میں کانگریس نے نام پیش کردیے؛ مگر مسلم لیگ نے اس بات پر اصرار کرتے ہوئے نام پیش کرنے سے انکار کردیا کہ کانگریس ہندوؤں کی جماعت ہے، اس لیے اسے مسلمان ممبروں کو نام زد کرنے کا حق نہیں ہے۔یہ حق صرف مسلم لیگ کو ہے؛ کیوں کہ وہی مسلمانوں کی واحد نمائندہ تنظیم ہے۔ اس بے جا اصرار کی وجہ سے 14؍ جولائی 1945ء کو کانفرنس کی ناکامی کا اعلان کردیا گیا۔

11؍جولائی1945ء کو کلکتہ میںجمعیت علمائے ہند کی مخالفت اور پاکستان کے نام پر مسلم لیگ کو الیکشن جتانے کے مقصد سے جمعیت علمائے اسلام قائم کی گئی۔

29؍جولائی1945ء کو نصابی کمیٹی نے تعلیم کا نصابی خاکہ پیش کیا۔ 

31؍جولائی1945ء کو سری نگر کشمیر میں مولانا ابوالکلام آزادؒ کے جلوس پر لیگیوں کی طرف سے حملہ کیا گیا۔  

یکم اگست 1945ء کو علی گڑھ اسٹیشن پر مولانا ابوالکلام آزادؒ کے ساتھ لیگیوں نے توہین آمیز سلوک کیا۔

12؍ستمبر1945ء کو سلہٹ آسام میں جمعیت بلڈنگ کے لیے چندہ میں مولانا مدنی کاٹارچ نیلام کیا گیا۔

اس کے بعد واویل نے ہندستان میں خود مختارقومی حکومت قائم کرنے کے لیے ستمبر 1945میں مرکزی اور صوبائی انتخابات کا اعلان کیا، جس کے پیش نظر ،جمعیت علمائے ہند کی دعوت پر مختلف مسلم تنظیموں اور لیڈروں پر مشتمل 16تا 19؍ستمبر1945ء ، مسلم آل پارٹیز اور جمعیت علما کا چار روزہ اجلاس کیا گیا، جس میں پہلے دو دن مجلس عاملہ کا اور بعد کے دو دن میں مجلس مرکزیہ کا اجلاس ہوا۔16 ؍ ستمبر1945ء :پہلے دن کے اجلاس میںاسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے متعلق غلط اور توہیز آمیزمضامین پر مشتمل کتاب کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا اور پھر آئندہ انتخابات پر طویل بحث و گفتگو ہوئی۔ دوسرے دن 17؍ ستمبر1945ء کے اجلاس میںآئندہ انتخابا ت میں مشترک طور پر حصہ لینے کے لیے تمام آزادی خواہ جماعتوں اور نیشنلسٹ مسلمانوں پر مشتمل ’’مسلم پارلیمنٹری بورڈ‘‘ تشکیل دی گئی، جس کا صدر شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی صاحبؒ کو بنایا گیا۔اس بورڈ کے اراکین نے الیکشن میں صرف مسلم پارلیمنٹری بورڈ کے نام زد، یا تائید کردہ امیدواروں کو ہی ووٹ دینے کی تحریک چلانے کے لیے پورے ملک کا دورہ کیا۔ لیکن مسلم لیگ کے غنڈوں نے پاکستان کا نعرہ لگاتے ہوئے اکابرین ملت؛ بالخصوص شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒصاحب صدر جمعیت علمائے ہند و مسلم پارلیمنٹری بورڈ، حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان سیوہاروی ؒصاحب ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ہند، حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ رکن عاملہ جمعیت علمائے ہند و صدر آل انڈیا کانگریس اور دیگر قومی قائدین کے ساتھ گستاخیاں کیں ؛ حتیٰ کہ انھیں جان سے مارنے کی بھی کوششیں کیں۔  

18اور 19؍ستمبر1945ء کو مجلس مرکزیہ کا اجلاس ہوا، جس کی پہلی تجویز میں ’’مسلم پارلیمنٹری بورڈ‘‘ تشکیل دینے پر تمام آزادی خواہ جماعتوں اور افراد کو مبارک باد پیش کی گئی ۔ دوسری تجویز میں فلسطین کو وطن الیہود بنانے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا اور2؍ نومبر 1945ء کو پورے ہندستان میں یوم فلسطین منانے کی اپیل کی۔ تیسری تجویز میں سفر حج کی رکاوٹوں کو دور کرنے کا مطالبہ کیا۔ چوتھی تجویز میں انڈین نیشنل آرمی کے تمام سپاہیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔پانچویں تجویز میں آزادی خواہ اخبارات و پریس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے پر حکومت برطانیہ کے رویہ کی مذمت کی گئی۔ چھٹی تجویز میں مسلم لیگ اور خاکسار کارکنوں میں ہوئے تصادم کے نتیجے میں قید خاکساروں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ساتویں تجویز میں صوبہ سندھ میں ووٹرفہرست میں ترمیم کامطالبہ کیا گیا۔آٹھویں تجویز میں مسلم آل پارٹیز کانفرنس میںشرکت کا شکریہ ادا کیا گیا اور نویں تجویز تجویز شکریہ پرمشتمل تھی۔اس اجلاس میں ووٹروں کے نام ایک اپیل بھی شائع کی گئی۔ 

29؍ستمبر1945ء کو سید پور بنگال میںمولانا مدنی کو قتل کرنے کی سازش کی گئی ۔

30؍ستمبر1945ء کو کٹیہار میں مولانا مدنی پر حملہ کیا گیا۔

یکم اکتوبر1945ء کو بھاگلپور میں مولانا مدنی پر پتھر پھینکے گئے۔

6؍اکتوبر1945ء کو آزاد مسلم پارلیمنٹری بورڈ کی طرف سے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا۔

9؍اکتوبر1945ء کو فلسطین کے حالات کے مطابق مسٹر ایٹلی ، وزیر اعظم فلسطین اور عرب فیڈریشن کو تار بھیجا گیا۔

9؍اکتوبر1945ء کونواب زادہ لیاقت علی خاں کی پاکستان کی حمایت میں کی گئی تقریر کا جواب دیا گیا۔ 

9؍اکتوبر1945ء کو سرورکائنات ﷺ کی تصویر سازی پر گورنرصوبہ اڈیشہ کو تار بھیجا گیا۔ 

9؍اکتوبر1945ء کو فتح پور اسٹیشن قریب کے مسلم مسافر خانہ بنوانے کی اپیل کی گئی۔ 

16؍اکتوبر1945ء کو حضرت مدنی پر لیگیوں کے حملے کی مذمت کی گئی۔

22؍اکتوبر1945ء کو مولانا آزاد نے مسلمانوں کے نام ایک پیغام میں کہاکہ مسلمان پاکستان کے نام سے فریب نہ کھائیں۔ 

25؍اکتوبر1945ء کو مسلم پارلیمنٹری بورڈ کے لیے دس لاکھ روپے کی اپیل کی گئی۔ 

25؍اکتوبر1945ء کو مسلم لیگ، مسلم پارلیمنٹری بورڈ اور کانگریس کو ووٹ دینے کے تعلق سے چند استفتے کے جوابات دیے گئے ۔ اور ایک اپیل بھی شائع کی گئی۔ 

27؍اکتوبر1945ء کو مولانا مدنی کی گستاخی کے رد عمل کے طور پر مسلم پارلیمنٹری بورڈ کا نیشنل گارڈ بنانے کا اعلان کیا گیا۔اور مجاہد ملت ؒ نے ایک بیان دیتے ہوئے مسٹر جناح سے حضرت مدنی پر حملے کی مذمت کرنے کی اپیل کی۔

28؍اکتوبر1945ء کو مشہور سکھ لیڈر ماسٹر مونا سنگھ نے انکشاف کیا کہ مسٹر جناح کو نظام حیدرآباد کی معرفت برطانوی حکومت ہند پاکستان بنانے کے لیے چھ لاکھ روپے سالانہ دیتی ہے۔  

یکم نومبر1945ء کو مرکزی و صوبائی کونسلوں کے مسلم ووٹروں کے نام مکتوب ارسال کرکے مسلم پارلیمنٹری بورڈ کے امید واروں کو ووٹ ڈالنے کی اپیل کی گئی۔  

2؍نومبر1945ء کو یوم فلسطین منانے کا اعلان کیا گیا۔ 

3؍نومبر1945ء کو سید پور، بھاگلپور اور کٹیہار میں ہوئے حادثہ پر مولانا مدنی نے ایک بیان دیتے ہوئے متوسلین کو صبر و تحمل کی تلقین کی۔ اور اسی تاریخ کو ان حملوں کو مفتی محمد نعیم لدھیانویؒ نے سفلہ خوئی اور کمینہ پن کا بدترین مظاہرہ قرار دیا۔

7؍نومبر1945ء کو گیا کے ایک جلسہ میں لیگیوں نے پتھر بازی کی۔

13؍نومبر1945ء کو مسلم لیگ اور جمعیت کے بارے میں پوچھے گئے سوالوں کے جوابات دیے گئے۔ 

15؍نومبر1945ء کو حضرت مدنی نے حضرت رائے پوری کو ایک خط لکھ کر اپنے حامیوں سے مسلم لیگ کا ساتھ نہ دینے کی اپیل کی۔

15؍ نومبر1945ء کو مسلم پارلیمنٹری بورڈکے امیدواروں کو کامیاب بنانے کے لیے ملک کے مختلف علاقوں کے دورہ کا پروگرام پیش کیا گیا۔ 

 16؍ نومبر1945ء کوجمعیت کے جلسۂ بریلی میں لیگیوں نے ہنگامہ آرائی کی۔

17؍نومبر1945ء کو نائب صدر جمعیت مولانا احمد سعید صاحب نے اسی سال کے بعد لال قلعہ میں عید کی نمازکی امامت فرمائی۔ 

30؍نومبر1945ء کوامروہہ میں مسلم پارلیمنٹری بورڈ کا شان دار جلسہ کیا گیا۔

30؍نومبر1945ء کو الیکشن فنڈ کے لیے امدادی ٹکٹ خریدنے کی اپیل کی گئی۔

7؍دسمبر1945ء کو بند کمرے میں ہوئی رازدارانہ کوگفتگوکوکذب و افترا سے ملمع کرکے مکالمۃ الصدرین کے نام شائع کرنے پر کشف حقیقت کے عنوان سے اس کامدلل جواب دیا گیا۔ 

9؍دسمبر1945ء کو پلول گڑگاؤں کے فسادات پر مسلمانوں کی پریشانیوں کی فہرست پیش کی گئی۔   

15؍ دسمبر1945ء کو مدنی فوج کے قیام کا ارادہ ظاہر کیا گیا۔

واحد نمائندگی کے فریب مولانا احمد سعید صاحب نے زبردست خطاب فرمایا۔

مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے سیاسی ، جغرافیائی اور اقتصادی اعتبار سے پاکستان کا نامعقول اور ملک و ملت کے لیے انتہائی مضر ہونا ثابت کیا۔ 

کشن گنج بہار کے گنیش کالج کے ایک ماسٹر کی نازیبا حرکت پر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

مظلومین بہار کے متعلق مولانا محمد میاں صاحب نے دورہ کے بعد ایک تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے، متأثرین کے متعلق حکومت کے اعداد وشمار کو چیلنج کیا۔

امسال جمعیت کے لیے انتخاب کا سال تھا، جس میں دوبارہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ صاحب کو صدر بنایا گیا۔ 

  مرکزی قانون ساز اسمبلی کے 102 ؍نشستوں میں، مسلمانوں کے لیے کل 30؍ مخصوص نشستوں میں سے سبھی تیس مسلم نشستوں پر مسلم لیگ نے جیت درج کرالی۔ یہ انتخابی نتائج لیگ کے لیے ’’پاکستان‘‘ کے مطالبے کے لیے عوامی حمایت کو ثابت کرنے کے لیے بہت اہم ثابت ہوئے۔  اس کے بعد اگلے سال صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن ہوئے۔ 

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: چھبیسواں سال: 1944ء

 چھبیسواں سال: 1944ء

20؍جنوری1944ء کے ایک مکتوب سے پتہ چلتا ہے کہ کفالت و پرورش کے لیے بنگال قحط زدگان کے لاوارث بچوں کے حصول میں دشواریوں کے پیش نظر ریلیف ورک کا آغاز کیا گیا۔

6؍مارچ 1944ء کو تمام اسلامی جماعتوں سے یہ اپیل کی گئی کہ فلسطین میں داخلۂ یہود سے متعلق قرطاس ابیض کی مدت کے ختم ہونے کے باوجود مزید یہودیوں کو وہاں بسانے کے وعدے کی خلاف ورزی کے خلاف 17؍مارچ 1944ء کو پورے ہندستان میں یوم فلسطین منایا جائے۔ 

حالات حاضرہ پر تبصرہ پر مبنی 19؍مئی 1944ء کو لکھے ایک مکتوب میں مسلم لیگ کے نظریے کو قبول کرنے کی دعوت دی گئی تھی، جس کا جواب دیتے ہوئے حضرت مولانا احمد سعید صاحبؒ نائب صدر جمعیت علمائے ہند نے لکھا کہ پاکستان کا لفظ محض ایک دھوکا ہے۔

پنڈت نہرو کے کشمیر میں داخل ہوتے وقت گرفتاری کی خبر پاکر جون 1944ء کی کسی تاریخ میں حکومت کشمیر کو تار بھیج کر صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔  

 از17؍ تا 19؍جولائی 1944ء میں مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں تجاویز تعزیت کے علاوہ حج کے لیے سفری رکاوٹوں کو دور کرنے کا مطالبہ کیاگیا۔ اسی طرح حج نہ ہونے کی وجہ سے حجاز مقدس میں قحط اور گرانی کے حالات پیدا ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ، غلہ بھیجنے کے لیے حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ، مولانا احمد سعید صاحبؒ اور مولانا بشیر احمد صاحبؒ پر مشتمل سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ 

23؍اکتوبر1944ء کو گورنر اور وزیر اعظم بنگال کے نام تار بھیج کر صدر جمعیت علمائے بنگال حضرت مولانا منیر الزماں صاحب اسلام آبادی کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔

26؍اکتوبر1944ء کو ایک بیان کے ذریعہ جمعیت علمائے ہند کے جلسے پر پابندی لگاکر  امتیازی سلوک کرنے پر احتجاج کیا گیا۔

پھر 8-9؍ نومبر1944ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا۔ اس میں فلسطین کے متعلق امریکہ کے صدر روز ویلٹ (Franklin D. Roosevelt) اور برطانیہ کے وزیر اعظم مسٹر چرچل (Winston Churchill) کے بیان کی مذمت، مدارس کے نصاب کی اصلاح کے لیے مولانا سید سلیمان صاحب ندویؒ، مولانا محمد شفیع حجۃ اللہ صاحب صدر مدرس مدرسہ نظامیہ فرنگی محل لکھنؤؒ، مولانا محمد زکریا صاحب شیخ الحدیث مظاہر علوم سہارنپورؒ، مولانا مناظر احسن صاحبؒ صدر شعبۂ دینیات جامعہ عثمانیہ حیدر آباد، مولانا سعید احمد صاحب ؒرفیق اعلیٰ ندوۃ المصنفین دہلی، ڈاکٹر شہید اللہ صاحب ڈھاکہ، پروفیسر عبد الباری صاحب جامعہ عثمانیہ حیدر آباد، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد صاحب مدنیؒ صدر جمعیت علمائے ہند، مفتی اعظم حضرت مولانا محمد کفایت اللہ صاحبؒ دہلی، حضرت مولانا عبد الحق صاحبؒ مدنی مراد آباد ،مولانا عبد الحلیم صاحب ناظم جمعیت علمائے ہنداورمولانا محمد حفظ الرحمان ؒناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ہندپر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ رویت ہلال کے متعلق آلات جدیدہ کے ذریعہ قبول شہادت اور لاوڈاسپیکر میں نماز پڑھانے سے متعلق استفا لینے کا فیصلہ لیا گیا۔پنجاب اور دہلی میں جبریہ تعلیم سے مذہبی تعلیم کو الگ رکھنے کا فیصلہ منسوخ کرنے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیاگیا۔ دہلی میں سرکاری عمارتوں اور کوٹھیوں کے احاطے میں آنے والی مساجد کے تحفظ کامطالبہ کیا گیا۔پٹیالہ کے قصبہ کلابت کی مسجد، راجپورہ کی قبرستان، مسجد و روضہ امام چشتی کی بے حرمتی اور انہدام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مہاراجہ پٹیالہ ادھی راج سے تحقیقات اورکارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ آبادی اجاڑکر پٹنہ کی توسیعی اسکیم کی مذمت کرتے ہوئے جمعیت علمائے بہار کی تجویز کی تائید کی گئی۔ حضرت مولانا ابوالکلام آزاد ؒصاحب رکن عاملہ جمعیت علمائے ہند، مولانا داود غزنویؒ صاحب، مولانا حبیب الرحمان صاحب لدھیانویؒ اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے سیاسی اسیروں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیاگیا۔ ساتھ ہی مفتی محمد نعیم صاحب رکن جمعیت علمائے ہند سے پابندی ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے، مولانا منیر الزماں ؒ صاحب صدر جمعیت علمائے بنگال کی نظر بندی پر غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔ ایک تجویزمیں امام مولانا عبید اللہ سندھیؒ، مولانا حافظ محمد یوسف صاحبؒ اور دیگر حضرات کی وفات پر افسوس اور تعزیت پیش کی گئی۔ 

14؍نومبر1944ء کو جماعتی انتخابات کے حوالے سے ایک اہم سرکلر جاری کیا گیا۔

جمعیت علمائے ہند قدم بہ قدم: پچیسواں سال: 1943ء

 پچیسواں سال: 1943ء

محمد یاسین جہازی

8؍ اگست 1942ء کو ’’ہندستان چھوڑدو‘‘ تحریک چھیڑتے ہی انگریزوں نے گاندھی جی، کانگریس کے صدر مولانا ابوالکلام آزادؒ اور کانگریس کے دیگر رہ نماوں کے ساتھ اکابرین جمعیت کو بھی گرفتار کرلیا۔ گاندھی جی نے ایام اسیری میں بھی ہندستان کی آزادی کے قابل قبول حل نکالنے کے لیے فروری 1943ء تک خط و کتابت کرتے رہے؛ لیکن وائسرائے ہند لن لتھ گو ٹس سے مس نہ ہوا۔ بالآخر گاندھی جی نے آخری ہتھیار کے طور پر 10؍فروری سے 3؍ مارچ 1943ء تک اکیس روز کا برت رکھا۔ برت کے اختتام کے موقع پرحضرت مولانا احمد سعید صاحب ؒ نائب صدر جمعیت علمائے ہندنے ایک صلح کانفرنس کی قیادت کی، جس کی وجہ سے آپؒ کو گرفتار کرلیا گیا۔ 

گاندھی جی کے برت پر حضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب ؒ ایک اہم بیان دیا اور انھیں دنوں منعقد ایک اجلاس میں مولانا احمد صاحب اور مولانا عبدالماجد صاحب کی گرفتاری پر انھیں مبارک بادی پیش کی گئی۔ 

14؍مئی 1943ء کو خان بہادر اللہ بخش کی مظلومانہ شہادت پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

8؍ستمبر1943ء کو جناب نبی بخش خان صاحب ایم ایل اے مرکزی کی جانب سے موصول ایک خط کا جواب دیتے ہوئے ساردا ایکٹ کی حقیقت کا رسالہ بھیجا گیا۔ 

25-26؍ اکتوبر 1943ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں بنگال کے انسانیت سوز قحط پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ یتیم و لاوارث بچوں کی کفالت کا انتظام کیا گیا۔ اہل خیر سے تعاون کی اپیل کی گئی۔ ابتدائی مصارف کے لیے خزانہ الجمعیۃ سے ایک ہزار پیش کرتے ہوئے ایک وفد کو بنگال بھیج کر جنگی پیمانے پر ریلیف کا کام شروع کیا۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق دس ہزار سے زائد لاوارث بچوں کی پرورش و کفالت کی گئی۔  


جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: چوبیسواں سال:1942ء

 چوبیسواں سال:1942ء

محمد یاسین جہازی

ضلع گورکھپور اور اعظم پور کے دو گاؤں میں قربانی کے موقع پر ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کی حقیقت کا پتہ لگانے کے لیے 27-28؍جنوری 1942ء کو صدر جمعیت علمائے ہند مولانا حسین احمد مدنی صاحب کی قیادت میں ایک وفد نے دورہ کیا اور انگریزوں کی سازش لڑاؤ اور حکومت کرو کو طشت ازبام کیا۔ 

8؍فروری1942ء کو منعقد مجلس استقبالیہ کے اجلاس میں تیرھویں اجلاس عام کے تعلق سے کئی اہم فیصلے لیے گئے۔ 

18-19-20؍مارچ1942ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں کشمیر کے باشندوں کو عام ممبربناکر اجلاس میں شریک کرنے کے فیصلے کے علاوہ اجلاس عام کی تجاویز کے مسودوں کو منظوری دی گئی۔ 

20،21،22؍ مارچ 1942ء کو لاہور میں جمعیت علمائے ہند کا تیرھواں اجلاس عام منعقد ہوا۔ خطبۂ استقبالیہ جناب عبد القادر قصوری صاحبؒ نے اور خطبۂ صدارت صدر اجلاس شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ صدر جمعیت علمائے ہند نے پیش کیا۔ اس خطبہ میں مسلمانوں کے عہد میں ہندو مسلمانوں میں سیاسی و سماجی تعلقات، ایک دوسرے پر اعتماد، باہمی رواداری کے حوالے سے بابر کی وصیت، حاکم بنارس کے نام اورنگزیب کے خط، کپتان الگزینڈر ہملٹن کے سفرنامے، ٹارنس کی تاریخ، جہاں گیر کے توپ خانوں کے ہندو افسران، مرہٹوںکے توپ خانوں کے مسلم کمانڈر، عہد مغلیہ میں ہندو منصب داروں کی تفصیل، ہندو عہدے داروں پر اورنگزیب کے اعتماد اور عطا و بخشش ، اس دور کے ہندو مسلم کے باہمی تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے، اور اب دونوں قوموں میں نفرت و عداوت کو انگریزی حکومت کی لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی کا نتیجہ قرار دیا۔

اس اجلاس میں اکیس تجاویز پاس کی گئیں، جن میں حضرت مولانا ابوالمحاسن سید محمد سجاد علیہ الرحمہ سابق ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند، مولانا ابو حامد محمد عبد الحق صاحبؒ سابق صدر جمعیت علمائے آسام، مفتی محمد عنایت اللہ فرنگی محلیؒ، چودھری افضل حق ؒرکن مجلس احرار اور نواب محمد شاہ نواز صاحب نواب ممدوٹ کی وفات پر حسرت و تعزیت کا اظہار کیا گیا۔اس کے علاوہ مسلکی اختلافات میں شدت پسندی اور گالم گلوچ کی مذمت، اسلامی ممالک؛ بالخصوص عراق، ایران، شام اور فلسطین کے تشویش ناک حالات پر اظہار افسوس، آزاد ہندستان کا دستور ایسے وفاق پر تشکیل دینے کا مطالبہ، جس میں مسلمانوں کو مذہبی، تہذیبی اور سیاسی آزادی حاصل ہو، مکمل آزادی کی حمایت نہ کرنے والا اسٹفرڈ کرپس (Stafford Cripps)کے مشن کی مخالفت اور کسی متحدہ فیصلہ پر پہنچنے کے لیے مسلم اداروں سے متفق ہونے کی اپیل، کاظمی ایکٹ 1939ء میں مسلم قاضی کی شرط ختم کرنے کی مذمت اور اس میں ترمیم کرنے کا مطالبہ، ذات برادری کے نام پر رذیل و کمین سمجھنے کی مذمت اور اسلامی اصول پر عمل کرنے کی تلقین، ایک ہی شہر میں بلا ضرورت دو تین جگہ نماز جمعہ نہ پڑھنے کی اپیل، مدارس اسلامیہ کے نصاب میں تبدیلی اورخود جمعیت سے عملی اقدام کرنے کا مطالبہ، دیسی مصنوعات بنانے کی اپیل، کشمیر مہاراجہ بہادر رائے سے مسلمانوں کے مذہبی و ثقافتی حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ، جنگ عظیم دوم میں شرکت کی مخالفت کے لیے سول نافرمانی کے تحت گرفتار سیاسی اسیروں؛ بالخصوص مولانا حبیب الرحمان صاحبؒ لدھیانوی کو رہا کرنے کا مطالبہ، بلوچستان کو آزاد کرنے کا مطالبہ،مجاہد آزادی مولانا فضل الٰہی وزیر آبادیؒ کی جلاوطنی ختم کرنے کی اپیل، قازاغستان کے قازاغ مجاہدین کے حالات پر اظہار تشویش، حجاج کی پریشانیوں کو دور کرنے کا مطالبہ اور آخری تجویز میں اراکین مجلس استقبالیہ، خاص طور پر جمعیت کے انصار اللہ اور دارالعلوم دیوبند کے جمعیۃ الطلبا کا شکریہ ادا کیا گیا۔ 

23؍ مارچ 1942ء کو اجلاس مجلس مرکزیہ میں عہدے داران کا انتخاب کرتے ہوئے، سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب ؒ اور مولانا سید محمد داود غزنویؒ صاحب کو نائبین صدر، حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحبؒ سیوہاروی کو ناظم عمومی اور فرم حاجی علی خان دہلویؒ کو خازن جمعیت علمائے ہند منتخب کیا گیا۔ 

15؍اپریل1942ء کوخدام خلق کا نظام پیش کیا گیا۔

23؍اپریل1942ء کو حکومت کے مختلف محکموں کو اجلاس عام کی منظور کردہ تجاویز بھیج کر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

25؍اپریل1942ء کو صدر جمعیت علمائے ہند مولانا حسین احمد مدنی صاحب گرفتار کرلیے گئے۔

7؍مئی1942ء کو ہفتہ وار بے باک سہارنپور کے لیے طلب کردہ زر ضمانت فراہم کرنے کی اپیل کی گئی۔

17؍مئی1942ء کو مولانا مبارک حسین صاحب کی رحلت پر تعزیت پیش کی گئی۔

2؍جون1942ء کو ایک سرکاری ورکشاپ کے موقع پر مسلمانوں کی نماز جمعہ کی رخصت کو گھٹانے کے خلاف مکتوب لکھ کر سابقہ رخصت برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا گیا۔

8؍جون 1942ء کومسلم مساوات کے تعلق سے جمعیت علمائے ہند پر کیے گئے اعتراض کا جواب دیا گیا۔ 

6؍ جولائی 1942ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کی گرفتاری پرمبارک باد پیش کرتے ہوئے رہائی کی عملی کوشش، قانون انفساخ نکاح یعنی کاظمی ایکٹ میں ترمیم کا مطالبہ، کاظمی ایکٹ میں جمعیت کی طرف سے پیش کردہ ترمیم کو منظوری اور کلکتہ کے مشہور تاجر خان بہادر شیخ محمد جان کی طرف سے جمعیت کو ماہانہ دو سو روپے امداد پیش کرنے پر شکریہ پر مبنی تجاویز پاس کی گئیں۔ 

ماہ جون اور جولائی1942ء کی مختلف تاریخوں میں شیخ الاسلام کی گرفتاری کے خلاف متعدد اجلاس کیے گئے۔

29؍جولائی 1942ء کو دیواس مالوہ میں بھینس اور پاڑے کی قربانی پر بندش لگانے پر حکومت وقت کے خلاف فتویٰ دیتے ہوئے اسے مداخلت فی الدین قرار دیا گیا۔ 

5؍ اگست 1942ء کو حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ سابق صدر جمعیت علمائے ہند،حضرت مولانا احمد سعید صاحبؒ نائب صدر جمعیت علمائے ہند، حضرت مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی صاحبؒ ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند اور مولانا عبد الحلیم صاحب صدیقی ؒنے،ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام ہندستانیوں کا متفقہ مطالبہ : مکمل آزادی کے مطالبہ کو تسلیم کرے؛ ورنہ ایک فیصلہ کن جنگ کے کے لیے تیار رہے۔ 

8؍ اگست 1942ء کو گاندھی جی کی قیادت میںکانگریس نے ’’ہندستان چھوڑ دو‘‘ (Quit India) تحریک چھیڑتے ہوئے ایک بے تشدد انقلاب کا آغاز کیا۔ اس تحریک میں جہاں کانگریس کے سیکڑوں رہ نماوں کو گرفتار کیا گیا، وہیں جمعیت علمائے ہند نے بھی سرفروشانہ کردار ادا کیا۔

 جمعیت نے 17-18؍ اگست 1942ء کومجلس عاملہ کا اجلاس طلب کیا، جس میں جنگ آزادی میں مسلمانوں کے کردار کے اعلان پرمبنی تجویز پاس کی اور اس کی بار بار اشاعت کرکے ہندستان کے گو شے گوشے میں پھیلادیا۔ اس تحریک میں جمعیت کی شرکت انگریزوں کے لیے سوہان روح ثابت ہوئی، جس کے رد عمل کے طور پرامام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ صدر آل انڈیا کانگریس و رکن عاملہ جمعیت علمائے ہند، حضرت مولانا احمد سعید صاحب نائب صدر جمعیت علمائے ہند، حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحب سیوہارویؒ ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند، حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب ؒ ناظم جمعیت علمائے صوبہ متحدہ آگرہ کے علاوہ سیکڑوں قائدین ملت کوگرفتارکرکے جیلوں میں بند کردیا ،جب کہ مسلم لیگ نے ہندستان چھوڑ دو تحریک کو بغاوت قرار دیتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کہ وہ اس تحریک سے لاتعلق رہیں؛ مگر مسلمانوں نے مسلم لیگ کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے، ہندستان آزاد ہونے تک تحریک جاری رکھی۔

24؍اگست1942ء کو میرٹھ میں آٹھ کارکنان جمعیت علمائے ہند کو ایک جلوس نکالنے کی وجہ سے گرفتار کرلیا گیا۔

23؍ ستمبر1942ء کو اسمبلی میں اسیران فرنگ کے متعلق حکام کے ناروا سلوک کے پیش نظر اسمبلی کی بحث کو ملتوی کرنے کی تحریک پیش کی گئی۔

غالبا اکتوبر1942ء کی کسی تاریخ میں اسلامک نیشنل فیڈرین چین کے نمائندہ مسٹر عثمان کی آمد پر ان کا استقبال کیا گیا اور ایک سپاس نامہ بھی پیش کیا گیا۔ 

یکم نومبر1942ء کو الٰہ آباد جیل میں مولانا مدنی صاحب کے ساتھ سپرنڈنڈنٹ نے گستاخی کی، جس سے پورے ہندستان میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی؛ لیکن حضرت نے متعلقہ افسر کو معاف کردیا۔ 

6؍نومبر1942ء کو فریضۂ حج کی ادائیگی میں حکومت کی طرف سے رکاوٹ ڈالنے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔

جمعیت علمائے پنجاب کے عارضی انتظام کی تائید کی گئی۔ اور ڈاکٹر خان صاحب کی صاحب زادی کی غیر مسلم سے شادی کرنے کی وجہ سے انھیں فہمائش کی گئی۔ 


جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: تئیسواں سال: 1941ء

 تئیسواں سال: 1941ء

محمد یاسین جہازی

ایک اجلاس میں خطاب کرنے کی وجہ سے حضرت مولانا احمد سعید صاحب ؒ نائب صدر جمعیت علمائے ہند کو ایک ماہ قید محض کی سزا دی گئی، لیکن ضمانت داخل کرنے کی وجہ سے 3؍جنوری 1941ء کو رہائی مل گئی۔

امسال مجلس عاملہ کے چار اجلاس ہوئے۔5-6؍ جنوری 1941ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں ، خلع بل کے استفتا کے جوابات کا خلاصہ انگریزی اور اردو زبان میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔اورجمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی ابوالمحاسن حضرت مولانا سید محمد سجاد بہاری علیہ الرحمہ کا 18؍ نومبر1940ء کو انتقال ہوگیا تھا، اس لیے  تجویز تعزیت منظور کی گئی۔

 ہندستان کے وائسرائے لارڈ لن لتگھونے جنگ عظیم دوم میں بھارتیوں کی رائے لیے بغیر ہندستان کی جنگ میں شمولیت کا اعلان کردیاتھا، اسی طرح ڈیفینس آف انڈیاایکٹ 1939ء پاس کرتے ہوئے اظہار رائے کی آزادی پر پابندی لگادی تھی، جس کے خلاف کانگریس کے دوش بدوش جمعیت علمائے ہند نے انفرادی ستیہ گرہ تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور نظم وضبط قائم رکھنے کے لیے دس نکاتی اعلان بھی جاری کیا۔ یہ تحریک دوسرے مرحلے کے طور پر جنوری 1941ء میں شروع ہوئی اور دسمبر 1941ء میں اختتام پذیر ہوئی۔

آواخر جنوری 1941ء میں حضرت شیخ الاسلام کی صدارت میں بمقام ملتان عظیم الشان اتحاد کانفرنس کی گئی۔

20،21؍ اپریل 1941ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، جس میںریاست محمود آباد میں مسلمانوں پر شیعوں کے مظالم کا جائزہ لینے کے لیے مولوی محمد احمد کاظمی اور ڈاکٹر عبد العلی لکھنوی پر مشتمل دو رکنی ٹیم تشکیل دی گئی۔ اور انھیں رپورٹ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس میٹنگ کی دوسری تجویز میں سندھ میں علمائے کرام کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کیاگیا۔ 

یوپی کے حکام کی طرف سے لکھنو کے شیعہ حضرات کو جلوس کی اجازت دے کر طرف داری پر تنبیہہ کرتے ہوئے 22؍اپریل1941ء کو یوپی گورنر کو تار بھیجا گیا۔اسی طرح اسی تاریخ کو نظام الملک خسرو دکن کی والدہ محترمہ کے انتقال پرملال پر تعزیتی تار روانہ کیا گیا۔

8؍مئی 1941ء کو جمہوری حکومت میں مخلوط انتخاب پر غور و خوض کرنے کے لیے ’’مسلمانوں کے افلاس کا علاج اور مسئلۂ انتخاب‘‘ نامی رسالے کو مطالعہ کرنے کی اپیل کی گئی۔

محمودآباد میں شیعی مظالم کی تحقیقات کے لیے وفد بھیجنے کے تعلق سے 29؍مئی 1941ء کو ارسال کردہ مکتوب کا 4؍جون 1941ء کو جواب دیتے ہوئے سیتاپور سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ کسی قسم کی تحقیقات کرنا مناسب نہیں ہے۔  

11؍جون1941ء کو جمعیت علما نے وفد محمودآباد میں دوبارہ وفد بھیجنے کی بات کہی، تاکہ سچائی اجاگر ہوسکے۔

25؍ جون 1941ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس کیا گیا، جس میں ریاست محمود آباد کی رپورٹ اوربنگال وقف ایکٹ کی رپورٹ پر بحث و گفتگو کے علاوہ ریاست الور میں مسلمانوں پر ہورہے مظالم کی تحقیقات کرانے اور جنگ یورپ سے متعلق ہدایات جاری کی گئیں۔ اسی طرح قضیۂ مدح صحابہ کے متعلق ایک بیان شائع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

26؍جون 1941ء کو کولائی الور (راجستھان) کے مسلمانوں پر ہورہے مظالم کے خلاف تار بھیج کر صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔

4؍جولائی1941ء کو محمود آباد میں شیعہ کے مظالم کی تحقیقات کے لیے گئے وفد پر محمود آباد میں داخلہ پر پابندی، اور سبھی ممبران جمعیت علمائے ہند پر دفعہ 144 لگانے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ 

27-28؍جولائی1941ء میں جیور ضلع بلند شہر یوپی میں بھڑکے فرقہ وارانہ فسادات کی تحقیقات کے لیے ایک وفد بھیجا گیا، جس نے دورہ کرکے سچائی پر مبنی رپورٹ پیش کی۔ 

28؍ستمبر1941ء کو ایک سوال کے جواب میں کانگریس میںشرکت کوضروری قرار دیاگیا۔

کشمیر سری نگر میں واقع خپلو میں سنی مسلمانوں پر شیعہ مظالم کے پیش نظر مہاراجہ کشمیر کو تار بھیج کر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

سنڈے نیوز آف امریکہ کی 27؍اپریل1941ء کی ایک اشاعت میںتوہین رسالت کا مضمون شائع کیا گیا، جس کے خلاف سر عبدالرحیم غزنوی نے ہندپارلیمنٹ میں تحریک التوا پیش کی۔ جمعیت علمائے ہند نے 6؍نومبر1941ء کو سر غزنوی کی مکمل تائید کی۔  

 13،14؍ نومبر1941ء کومجلس عاملہ کی میٹنگ میں آزاد ہندستان میں نظام حکومت کی تشکیل ،ممالک اسلامیہ کے خطر ناک پوز یشن، مسلمانوں میں باہمی اتحاد و اتفاق اور یک جہتی پیدا کرنے کے ذرائع، سیاسی جماعتوں میں اپنے مخصوص اور معین مسلک پر قائم رہتے ہوئے رواداری اور متانت و تہذیب کی اہمیت، دیہاتی اور دیسی صنعتوں کی مزید ترقی جیسے متعدد امور پر غور و خوض کیا گیا ۔ 

متعدد وجوہات کی وجہ سے جمعیت علمائے ہند کا تیرھواں سالانہ اجلاس ملتوی ہوتا رہا، جو بالآخر 20-21-22؍مارچ 1942ء کو لاہور میں منعقد ہوا۔ 


26 Jan 2026

میثاق لکھنو 1916ء پر تنقید و تبصرہ کی ایک نظر

 میثاق لکھنو 1916ء پر تنقید و تبصرہ کی ایک نظر

حضرت العلامہ مولانا و مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند

1916ء میں مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان ایک سمجھوتا ہوا تھا۔ اس وقت مسلمانوں کی ایک ہی سیاسی جماعت تھی۔ مسلمانوں میں سیاسی بیداری بھی نہ تھی۔ حکومت خود اختیاری کا بہت زیادہ امکان بھی نہ تھا۔ اس لیے اس وقت اس پیکٹ کے متعلق نہ کچھ زیادہ چر چا تھا اور نہ کسی قسم کے جھگڑے تھے؛ لیکن شاید یہ سن کر آپ کو تعجب ہو گا کہ اس وقت با وجود یکہ علما نے میدان سیاست میں قدم بھی نہ رکھا تھا، نہ جمعیت علما کا وجود تھا، نہ ان کا کوئی سیاسی پلیٹ فارم تھا؛ مگر جوں ہی کانگریس اور مسلم لیگ کا سمجھوتا شایع ہوا، فورا علمائے کرام کی تمام جماعت میں سے صرف ایک ہی شخص اٹھا تھا اور اس نے مسلم لیگ کے سمجھوتے میں وہی خامیاں بیان کی تھیں، جن کی بنا پر آج تمام ہندستان کے مسلمان اس سمجھوتے کو ناپسند اور نا قابل قبول سمجھتے ہیں۔ وہ دور بین اور غائر النظر اور ہمدرد اسلام و مسلمین ہستی حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کی ہے۔ حضرت محترم نے اس وقت ایک اعلان بعنوان ’’مسلمانوں کے مذہبی اور قومی اغراض کی حفاظت‘‘ شایع کیا اور مسلمانوں کو حکومت خود اختیاری کے حصول میں کوشش کرنے کی تاکید کے ساتھ ہی مسلم لیگ کانگریس کے سمجھوتے کی خامیاں بیان کی تھیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم حضرت موصوف کا وہ اعلان تمام و کمال یہاں پر نقل کر دیں، تا کہ آپ یہ اندازہ کرسکیں کہ جمعیت علمائے ہند کے محترم صدر کے کسی وقت سے تحصیل آزادی کے جذبہ بے پناہ کے ساتھ ہی مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کا خیال پیش نظر ہے۔

 (مولانا) احمد سید دہلوی

وہ اعلان یہ ہے:

مسلمانوں کے مذہبی اور قومی اغراض کی حفاظت

صاحب وزیر ہند کی ہندستان میں تشریف آوری کی تقریب میں تمام اقوام ہند میں سیاسی تحریک موجزن ہے۔ تمام چھوٹی بڑی قومیں اپنی آئندہ بہبودی کے متعلق غور و فکر کر رہی ہیں۔ اس وقت ہر شخص کا فرض ہے کہ جس چیز کو قوم کے لیے مفید سمجھے، بغیر کسی پس و پیش کے ظاہر کر دے، اس لیے خاکسار اپنے خیالات کو مسلم پبلک کے سامنے پیش کر کے اپنے فرض سے سبک دوش ہوتا ہے۔

ا۔ کوئی قوم حقیقی ترقی نہیں کر سکتی جب تک کہ اس کے افراد میں اپنے اوپر خود حکومت کرنے کی استعداد نہ پیدا ہو جائے اور حقیقی آزادی اور حقیقی ترقی بغیر حکومت خود اختیاری کے حاصل نہیں ہو سکتی۔

۲۔ آزادی کی خواہش انسان کی طبعی اور جبلی خواہش ہے، اس لیے کوئی فرد بشر بجا طور پر حکومت خود اختیاری کی مخالفت نہیں کر سکتا۔

۳۔ دنیا کی متمدن اور مہذب قو میں ہمیشہ انسانی آزادی اور ترقی میں مساعی رہتی ہیں۔ برطانی گورنمنٹ کی رعایا کے مختلف طبقے بھی ہمیشہ اس کے آرزو مند رہے کہ گورنمنٹ ان کو حکومت خود اختیاری عطا فرمائے اور برطانی گورنمنٹ نے اپنی رعایا کے کئی طبقوں کی یہ آرزو پوری بھی کر دی۔

۴۔ اس وقت کہ گورنمنٹ نے فراخ دلی سے ہوم رول دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، یا اس کی امید کی جاتی ہے اور صاحب وزیر ہند بہادر اسی کے متعلق ہندستانیوں کے خیالات معلوم کرنے تشریف لا رہے ہیں۔ اگر ہندستان کی قومیں ہوم رول کی خواہش کریں اور آزادی کی نعمت حاصل کرنے کی کوشش کریں، تو ان کی یہ خواہش اور کوشش یقینا حق بجانب ہوگی۔

۵۔ ہندستان کی آبادی مختلف العقائد اور متباین الخیالات اقوام سے مرکب ہے اور ایک قوم کے مذہبی اغراض دوسری قوم کے مذہبی اغراض سے متصادم ہیں، اور اس بنا پر یہاں ہمیشہ جھگڑے اور فساد ہوتے رہتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہوم رول کی خواہش کرنے سے پہلے مذہبی تصادم اور تمام اقوام کے مذہبی اور قومی اغراض کی حفاظت کا پورے طور پر خیال کر لیا جائے۔

یہ باتیں تو ایسی ہیں، جن کا تعلق کسی خاص قوم سے نہیں تمام اقوام اس حد تک متساوی الاقسام ہیں۔ اور جہاں تک میرا خیال ہے ،ان وجوہ ستہ کی معقولیت میں کسی کو بھی کلام نہ ہوگا۔ اس کے بعد خاکسار خاص اسلامی طبقے کے متعلق عرض کرتا ہے۔

مسلم پبلک کا اولین فرض ہے کہ وہ سیاسی ترقی کی رفتار میں مذہبی آزادی کی حفاظت کو سب سے زیادہ اہم اور مقدم سمجھے۔ اور’’پہلے ہم مسلمان ہیں، پھر ہندی، یا عربی، ایرانی ،یا چینی وغیرہ‘‘ کے اصول کو لازم سمجھیں، کیوں کہ مسلمانوں کی متحدہ قومیت کا شیرازہ صرف مذہب اور اسلام سے ہی بندھا ہوا ہے۔

اس وقت مسلمانوں کی اصولی تقسیم کے لحاظ سے دو گروہ ہیں:

ا۔ ہوم رول کے طالب۔

۲۔ ہوم رول کے مخالف۔

دوسرے گروہ میں پھر دو قسم کے لوگ ہیں: اول وہ لوگ، جن کو ہوم رول کے معنی اور مفہوم کی خبر نہیں (اور انھیں کی تعداد زیادہ ہے)۔ دوسرے وہ جو کسی خارجی اثر سے متاثر ہو کر اپنے ذاتی اغراض کی خاطر قومی اغراض اور انسانی فطری خواہش کو پامال کرنا چاہتے ہیں۔ ان دونوں فریق کی متفقہ آواز یہ ہے کہ ہمیں ہوم رول کی ضرورت نہیں، ہم گورنمنٹ انگریزی کی حکومت سے خوش ہیں۔ مسلمان ابھی ہوم رول کے لائق نہیں ہوئے۔

لیکن چوں کہ ان کی مخالفت نا واقفیت، یا ذاتی غرض پر مبنی ہے، اس لیے وہ کسی درجہ میں لائق اعتبار نہیں اور نہ مسلمانوں کو ان کی آواز پر کان لگانا چاہیے اور نہ ان کی آواز قومی آواز سمجھی جاسکتی ہے۔ہوم رول کے طالب گروہ میں تمام سمجھ دار، ذی علم، متمدن، مہذب افراد شامل ہیں، مگر اس میں بھی دو فریق ہوگئے۔ فریق اول مسلم لیگ کے ارکان اور اس کے حامی فریق دوم جدید تعلیم یافتہ طبقہ کا ایک معتد بہ حصہ اور تقریباً تمام مذہبی طبقہ اور عامۂ مسلمین کا ایک جم غفیر۔

یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ دونوں ہوم رول کے مطالبہ میں شریک اور اصل مقصد میں متفق ہیں۔ پھر وجہ اختلاف کیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ فریق اول یعنی مسلم لیگ نے ہوم رول کے مطالبہ کا یہ طریقہ اختیار کر لیا ہے۔

ا۔ کانگریس کے ساتھ اتفاق کر لیا اور لیگ اور کانگریس نے متفقہ اسکیم تیار کی۔

۲۔ اس اسکیم میںمسلمانوں کو جو حق نیابت دیا گیا ہے، اس کے لحاظ سے کسی صوبے کی کونسل میں دس فی صدی، کسی میں پندرہ فی صدی کسی میں بیس فی صدی کسی میں تیں فی صدی مسلمان ممبر ہوںگے، صرف صوبہ پنجاب میں پچاس فی صدی مسلمان ہوںگے، یعنی ہندستان کے کسی صوبے میں ان کو اکثریت حاصل نہ ہوگی۔

۳۔ کم تعداد والی قوموں (جن میں سوائے پنجاب کے تمام ہندستان کے مسلمان داخل ہیں) کے قومی اغراض کی حفاظت اس طرح کی گئی کہ ایک قاعدہ مقرر کر دیا گیا کہ کوئی ایسا ریزولیوشن جو کسی غیر سرکاری ممبر نے پیش کیا ہو اور کسی قوم کے اغراض پر اس کا اثر پہنچتا ہو۔ اگر اسی قوم کے نمائندوں کی تین چوتھائی  تعداد اس ریزولیوشن کی مخالفت کر دے، تو وہ ریزولیوشن پاس نہ ہو سکے گا۔

اس قرارداد پر لیگ اور کانگریس کے ممبروں نے سمجھوتا کر لیا ہے اور ارکان لیگ کا خیال ہے کہ یہ سمجھوتا مسلمانوں کے لیے مضر نہیں ہے اور اس میں مسلم پبلک کی قومی اغراض کو کوئی صدمہ نہیںپہنچے گا۔ نیز بعض حامیان لیگ سے یہ بھی سناگیا کہ گورنمنٹ ہوم رول ضرور دے گی۔ اس کی بنیاد پڑچکی ہے، تو اگر ہم اس سمجھوتا کے موافق ہوم رول لینے پر آمادہ نہ ہو جاتے، تو اندیشہ تھا کہ گورنمنٹ ہوم رول دے دیتی اور پھر برادران وطن ہمیں اتنا حصہ بھی نہ دیتے، جتنا کہ اس سمجھوتا میں انھوں نے منظور کر لیا ہے۔

فریق دوم کے خیالات

فریق دوم کہتا ہے کہ مطالبہ ہوم رول ضروری اور ہمارا بھی مقصد ا ہم یہی ہے اور ہم کو ارکان مسلم لیگ کی نیت پر بھی حملہ کرنا مقصود نہیں۔ انھوں نے جو کچھ کیا، مسلمانوں کی خیر خواہی کی نیت سے ہی کیا؛ لیکن ان کے فیصلے کے متعلق ہمیں حسب ذیل شکایتیںہیں:

ا۔ مسلم لیگ نے یہ فیصلہ کرتے وقت عام مسلم رائے حاصل نہیں کی۔ مسلمانوں کی قومی اور مذہبی انجمنوں سے کوئی استصواب نہیں کیا گیا اور اگر چہ ہمیں ان کی نیت پر بدگمانی نہیں؛ تاہم سات آٹھ کروڑ مسلمانانِ ہند کی قسمت کا فیصلہ کرنے میں وہ معصوم بھی نہیں ہیں اور اپنی اس استبدادی کارروائی کے جواب دہ ہیں۔

۲۔ اس سمجھوتے میں مسلمانوں کے قومی اغراض کو صدمہ پہنچنے گا، نہ صرف گمان؛ بلکہ ظن غالب ہے؛ کیوں کہ مسلمانوں کو اس صورت میں کثرت رائے حاصل ہونا ناممکن ہے۔

۳۔ یہ قاعدہ کہ غیر سرکاری ممبر کے پیش کیے ہوئے ریزولیوشن کی اگر کسی قوم کیتین چوتھائی ممبر مخالفت کریں، تو وہ پاس نہ کیا جائے، پرسنل لاء کی حفاظت کے لیے چنداں مفید نہیں؛کیوں کہ سرکاری غیر مسلم ممبروں کے ان ریزولیوشنوں کی جو مسلمانوں کے اغراض قومی کے مخالف ہوں، اس قاعدے سے کوئی روک نہیں ہوئی۔ وہ برابر کثرت رائے سے پاس ہوتے رہیںگے اور غیر سرکاری ممبر اپنے ریزولیوشن کا مقصد سرکاری ممبروں کو سمجھا کر ان کے ذریعے سے پیش کر اسکتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اس قاعدے کا اثر زیادہ سے زیادہ ان تجاویز پر پڑ سکتا ہے، جو غیر مسلم غیر سرکاری ممبروں کی طرف سے پیش کی جائیں؛ لیکن مسلمان ممبروں کے واسطے اپنی اغراض کے لیے مفید تجاویز پاس کرانے کا کوئی راستہ نہیں۔ بخلاف غیر مسلم ممبروں کے کہ وہ اپنی اغراض کے لیے مفید تجاویز جس قدر چاہیں، کثرت رائے سے پاس کر سکتے ہیں۔

۴۔ پنجاب میں پچاس فی صدی مسلم نیابت اس اصول کے موافق بھی صحیح نہیں؛ کیوں کہ پنجاب میں مسلم آبادی کا اوسط اس سے زیادہ ہے۔

۵۔ ہند و تعداد مردم شماری میں تمام ان قوموں کو محسوب کر لیاگیا ہے، جو ہندو دھرم کے معتقد نہیں؛ بلکہ اس کے مخالف ہیں اور یہ اصولا خلاف انصاف ہے۔

۶۔ مسلم لیگ اور کانگریس نے جو سمجھوتا کیا ہے، اس کی پختگی کی طرف سے بھی تقدم کا کوئی اطمینان نہیں کیا گیا۔

۷۔ مسلمانوں کی مذہبی آزادی کے تحفظ کا خیال نہیں رکھا گیا۔

یہ خیال کہ گورنمنٹ ہوم رول ضرور دیتی اور ہم یہ سمجھوتا نہ کرتے، تو اس سے زیادہ نقصان میں رہنے کا اندیشہ تھا، صحیح نہیں؛کیوں کہ ہندستان کو ہوم رول دینے کے نہ یہ معنی ہیں کہ ہندوؤں کو ہوم رول دے دیا جائے۔ اور نہ گورنمنٹ کے ہوم رول دینے کے یہ معنی ہو سکتے ہیں کہ وہ مسلم قومیت اور مسلم حقوق کو پامال کر کے ایک قوم کو حکمراں بنا دیتی۔ اگر مسلمان استقلال اور خودداری اور وقار سے اپنے حقوق کا مطالبہ آئینی طریقے سے کرتے، تو کوئی وجہ نہیں کہ گورنمنٹ اسے نظر انداز کر دیتی۔

اس کے بعد عرض ہے کہ اگر چہ اب وقت نہیں رہا کہ وزیر ہند کی خدمت میں کوئی ایڈریس یا وفد پیش کرنے کی درخواست کی جائے؛ لیکن جن ایڈریسوں اور وفدوں کی اجازت لی جا چکی ہے، ان کے اصحاب و ارکان کو یہ موقع ہے کہ وہ اپنے مجمل ایڈریسوں کی تفصیل میں اس تجویز کے مضمون کو بھی شامل کر لیں، جو ذیل میں درج ہے اور اب سے بہت پہلے شائع کی جا چکی ہے۔

مسلمانوں کی شدید ترین مذہبی ضرورت

اسلامی عقائد کے بموجب بہت سے مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لیے قاضی، یا حاکم کا مسلمان ہونا شرط ہے۔ مثلاً ایک عورت کا نا بالغی کی حالت میں باپ دادا کے سوا کسی اور ولی نے نکاح کر دیا۔ نکاح تو صحیح ہو گیا؛ لیکن عورت کو بلوغ کے وقت یہ اختیار ہوتا ہے کہ اس نکاح کو پسند کر کے باقی رکھے، یا نا راضی ظاہر کر کے فسخ کر دے؛ مگر اسلامی احکام کی رو سے عورت خود نکاح کو فتح نہیں کر سکتی؛ بلکہ ضروری ہے کہ مسلمان قاضی سے مسخ کرائے۔

 اسی طرح کسی عورت کا خاوند چار پانچ سال سے مفقود الخبر ہو گیا ہے اور عورت کے لیے گزارے کی کوئی صورت نہیں، یا اس کے جوان ہونے کی وجہ سے اس کی عصمت محل خطر میں ہے۔ ایسی حالت میں ضرورت ہے کہ مسلمان قاضی سے خاوند کی موت کا حکم حاصل کیا جائے اور عورت عدت وفات پوری کر کے دوسرا نکاح کرلے۔

اسی طرح عبادات و معاملات؛ بالخصوص نکاح، طلاق، میراث، وقف، شفعہ و غیرہ کے ہزاروں مقدمات ایسے ہوتے ہیں، جن میں مسلمان حاکم کے فیصلے اور حکم کی ضرورت ہے ،غیر مسلم حاکم کا حکم، یا فیصلہ شرعی نقطۂ نظر اور اسلامی عقائد کے بموجب کافی نہیں۔

گورنمنٹ انگلشیہ کے شاہی اعلان 1858ء کے بموجب اگرچہ رعایا کو مذہبی آزادی حاصل ہے اور قوانین گور نمنٹ احکام مذہبیہ کے موافق فیصلے کرنے کے مدعی ہیں؛ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ ناقابل انکار حقیقت بھی ہمارے پیش نظر ہے کہ گورنمنٹ کی عدالتوں میں مسلم و غیر مسلم دونوں قسم کے حاکم مسند آراے سر پر حکومت ہوتے ہیں؛ بلکہ اعلیٰ عدالتوں میں غیر مسلم عنصر ہی غالب ہے۔ بہت سے شہر اور قصبے ایسے ہیں، جہاں ایک بھی منصف ،یا جج مسلمان نہیں۔

اس لحاظ سے گورنمنٹ کا اعلان مذکور اور موجودہ قوانین ان مقدمات کے متعلق- جن میں حاکم کا مسلمان ہونا شرط ہے- بالکل غیرمفید اور ناکافی ہیں اور مسلمانوں کی اس شدید ترین مذہبی ضرورت کے پورے ہونے کی کوئی سبیل نہیں ہے۔

ہندستان میں بلامبالغہ ہزاروں عورتیں ایسی ہوں گی، جو اپنے خیار بلوغ کو اس وجہ سے استعمال نہیں کر سکتیں کہ مسلمان حاکم میسر نہیں اور اگر نا واقفیت کی وجہ سے غیر مسلم حاکم سے فسخ نکاح کا حکم حاصل کر کے دوسرا نکاح کر لیتی ہیں، تو وہ اسلامی عقائدکے بموجب گناہ گار اور مرتکب حرام ہوتی ہیں۔

ہزاروں عورتیں جن کے خاوند مفقود ہیں، مسلم عدالت نہ ہونے کے باعث عذاب میں مبتلا ہیں۔ زندگی بے کار ہے۔ رات دن مصیبت جھیلتی ہیں اور اسی طرح بہت سے دینی اور قومی اغراض اسلامی عدالت نہ ہونے کی وجہ سے ملیا میٹ ہو رہے ہیں۔

 مجوزہ درخواست یہ ہے:

 گورنمنٹ مسلمانوں کے خالص مذہبی معاملات اور ان مقدمات کے فیصلے کے لیے -جن میں مسلمان قاضی شرط ہے- ہر ضلع میں ایک شرعی عدالت قائم کر دے اور اس میں ایک مسلمان قاضی (جو علوم شرعیہ کا عالم اور متدین ہو) مقرر کرے اور اس کو ان مقدمات کے متعلق ڈسٹرکٹ حج کے برابر اختیارات عطا کیے جاویں اور ہر صوبے میں ان ماتحت عدالتوں کے احکام کے خلاف اپیل کرنے کے لیے ایک بڑی عدالت قائم کی جائے۔

یہ درخواست کا مجمل خاکہ ہے۔ اس کی اجمالی عام منظوری کے بعد ان احکام کی تعیین -جوان شرعی عدالتوں میں طے ہونے ضروری، یا مناسب ہیں- علمائے ہندستان کی ایک منتخبہ جماعت کر دے گی اور اس کے دیگر مراحل پر بھی مفصل بحث کی جاسکے گی۔

کتبہ محمد کفایت اللہ غفر لہ

مدرس اول مدرسہ امینیہ۔ دہلی 1917ء

حاشیہ:

(۱) ہندستان میں مسلمانوں کی تعداد: 6,66,47,299

(۲)بنگال میں مسلمانوں کی تعداد:2,39,89,719

(۳)پنجاب میں مسلمانوں کی تعداد: 1,09,55,721+