27 Jan 2026

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: تئیسواں سال: 1941ء

 تئیسواں سال: 1941ء

محمد یاسین جہازی

ایک اجلاس میں خطاب کرنے کی وجہ سے حضرت مولانا احمد سعید صاحب ؒ نائب صدر جمعیت علمائے ہند کو ایک ماہ قید محض کی سزا دی گئی، لیکن ضمانت داخل کرنے کی وجہ سے 3؍جنوری 1941ء کو رہائی مل گئی۔

امسال مجلس عاملہ کے چار اجلاس ہوئے۔5-6؍ جنوری 1941ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں ، خلع بل کے استفتا کے جوابات کا خلاصہ انگریزی اور اردو زبان میں شائع کرنے کا فیصلہ کیا گیا ۔اورجمعیت علمائے ہند کے ناظم عمومی ابوالمحاسن حضرت مولانا سید محمد سجاد بہاری علیہ الرحمہ کا 18؍ نومبر1940ء کو انتقال ہوگیا تھا، اس لیے  تجویز تعزیت منظور کی گئی۔

 ہندستان کے وائسرائے لارڈ لن لتگھونے جنگ عظیم دوم میں بھارتیوں کی رائے لیے بغیر ہندستان کی جنگ میں شمولیت کا اعلان کردیاتھا، اسی طرح ڈیفینس آف انڈیاایکٹ 1939ء پاس کرتے ہوئے اظہار رائے کی آزادی پر پابندی لگادی تھی، جس کے خلاف کانگریس کے دوش بدوش جمعیت علمائے ہند نے انفرادی ستیہ گرہ تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور نظم وضبط قائم رکھنے کے لیے دس نکاتی اعلان بھی جاری کیا۔ یہ تحریک دوسرے مرحلے کے طور پر جنوری 1941ء میں شروع ہوئی اور دسمبر 1941ء میں اختتام پذیر ہوئی۔

آواخر جنوری 1941ء میں حضرت شیخ الاسلام کی صدارت میں بمقام ملتان عظیم الشان اتحاد کانفرنس کی گئی۔

20،21؍ اپریل 1941ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، جس میںریاست محمود آباد میں مسلمانوں پر شیعوں کے مظالم کا جائزہ لینے کے لیے مولوی محمد احمد کاظمی اور ڈاکٹر عبد العلی لکھنوی پر مشتمل دو رکنی ٹیم تشکیل دی گئی۔ اور انھیں رپورٹ تیار کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی۔ اس میٹنگ کی دوسری تجویز میں سندھ میں علمائے کرام کے قتل کی تحقیقات کا مطالبہ کیاگیا۔ 

یوپی کے حکام کی طرف سے لکھنو کے شیعہ حضرات کو جلوس کی اجازت دے کر طرف داری پر تنبیہہ کرتے ہوئے 22؍اپریل1941ء کو یوپی گورنر کو تار بھیجا گیا۔اسی طرح اسی تاریخ کو نظام الملک خسرو دکن کی والدہ محترمہ کے انتقال پرملال پر تعزیتی تار روانہ کیا گیا۔

8؍مئی 1941ء کو جمہوری حکومت میں مخلوط انتخاب پر غور و خوض کرنے کے لیے ’’مسلمانوں کے افلاس کا علاج اور مسئلۂ انتخاب‘‘ نامی رسالے کو مطالعہ کرنے کی اپیل کی گئی۔

محمودآباد میں شیعی مظالم کی تحقیقات کے لیے وفد بھیجنے کے تعلق سے 29؍مئی 1941ء کو ارسال کردہ مکتوب کا 4؍جون 1941ء کو جواب دیتے ہوئے سیتاپور سپرنٹنڈنٹ نے کہا کہ کسی قسم کی تحقیقات کرنا مناسب نہیں ہے۔  

11؍جون1941ء کو جمعیت علما نے وفد محمودآباد میں دوبارہ وفد بھیجنے کی بات کہی، تاکہ سچائی اجاگر ہوسکے۔

25؍ جون 1941ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس کیا گیا، جس میں ریاست محمود آباد کی رپورٹ اوربنگال وقف ایکٹ کی رپورٹ پر بحث و گفتگو کے علاوہ ریاست الور میں مسلمانوں پر ہورہے مظالم کی تحقیقات کرانے اور جنگ یورپ سے متعلق ہدایات جاری کی گئیں۔ اسی طرح قضیۂ مدح صحابہ کے متعلق ایک بیان شائع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

26؍جون 1941ء کو کولائی الور (راجستھان) کے مسلمانوں پر ہورہے مظالم کے خلاف تار بھیج کر صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔

4؍جولائی1941ء کو محمود آباد میں شیعہ کے مظالم کی تحقیقات کے لیے گئے وفد پر محمود آباد میں داخلہ پر پابندی، اور سبھی ممبران جمعیت علمائے ہند پر دفعہ 144 لگانے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ 

27-28؍جولائی1941ء میں جیور ضلع بلند شہر یوپی میں بھڑکے فرقہ وارانہ فسادات کی تحقیقات کے لیے ایک وفد بھیجا گیا، جس نے دورہ کرکے سچائی پر مبنی رپورٹ پیش کی۔ 

28؍ستمبر1941ء کو ایک سوال کے جواب میں کانگریس میںشرکت کوضروری قرار دیاگیا۔

کشمیر سری نگر میں واقع خپلو میں سنی مسلمانوں پر شیعہ مظالم کے پیش نظر مہاراجہ کشمیر کو تار بھیج کر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

سنڈے نیوز آف امریکہ کی 27؍اپریل1941ء کی ایک اشاعت میںتوہین رسالت کا مضمون شائع کیا گیا، جس کے خلاف سر عبدالرحیم غزنوی نے ہندپارلیمنٹ میں تحریک التوا پیش کی۔ جمعیت علمائے ہند نے 6؍نومبر1941ء کو سر غزنوی کی مکمل تائید کی۔  

 13،14؍ نومبر1941ء کومجلس عاملہ کی میٹنگ میں آزاد ہندستان میں نظام حکومت کی تشکیل ،ممالک اسلامیہ کے خطر ناک پوز یشن، مسلمانوں میں باہمی اتحاد و اتفاق اور یک جہتی پیدا کرنے کے ذرائع، سیاسی جماعتوں میں اپنے مخصوص اور معین مسلک پر قائم رہتے ہوئے رواداری اور متانت و تہذیب کی اہمیت، دیہاتی اور دیسی صنعتوں کی مزید ترقی جیسے متعدد امور پر غور و خوض کیا گیا ۔ 

متعدد وجوہات کی وجہ سے جمعیت علمائے ہند کا تیرھواں سالانہ اجلاس ملتوی ہوتا رہا، جو بالآخر 20-21-22؍مارچ 1942ء کو لاہور میں منعقد ہوا۔