27 Jan 2026

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: چوبیسواں سال:1942ء

 چوبیسواں سال:1942ء

محمد یاسین جہازی

ضلع گورکھپور اور اعظم پور کے دو گاؤں میں قربانی کے موقع پر ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کی حقیقت کا پتہ لگانے کے لیے 27-28؍جنوری 1942ء کو صدر جمعیت علمائے ہند مولانا حسین احمد مدنی صاحب کی قیادت میں ایک وفد نے دورہ کیا اور انگریزوں کی سازش لڑاؤ اور حکومت کرو کو طشت ازبام کیا۔ 

8؍فروری1942ء کو منعقد مجلس استقبالیہ کے اجلاس میں تیرھویں اجلاس عام کے تعلق سے کئی اہم فیصلے لیے گئے۔ 

18-19-20؍مارچ1942ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں کشمیر کے باشندوں کو عام ممبربناکر اجلاس میں شریک کرنے کے فیصلے کے علاوہ اجلاس عام کی تجاویز کے مسودوں کو منظوری دی گئی۔ 

20،21،22؍ مارچ 1942ء کو لاہور میں جمعیت علمائے ہند کا تیرھواں اجلاس عام منعقد ہوا۔ خطبۂ استقبالیہ جناب عبد القادر قصوری صاحبؒ نے اور خطبۂ صدارت صدر اجلاس شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ صدر جمعیت علمائے ہند نے پیش کیا۔ اس خطبہ میں مسلمانوں کے عہد میں ہندو مسلمانوں میں سیاسی و سماجی تعلقات، ایک دوسرے پر اعتماد، باہمی رواداری کے حوالے سے بابر کی وصیت، حاکم بنارس کے نام اورنگزیب کے خط، کپتان الگزینڈر ہملٹن کے سفرنامے، ٹارنس کی تاریخ، جہاں گیر کے توپ خانوں کے ہندو افسران، مرہٹوںکے توپ خانوں کے مسلم کمانڈر، عہد مغلیہ میں ہندو منصب داروں کی تفصیل، ہندو عہدے داروں پر اورنگزیب کے اعتماد اور عطا و بخشش ، اس دور کے ہندو مسلم کے باہمی تعلقات کا تذکرہ کرتے ہوئے، اور اب دونوں قوموں میں نفرت و عداوت کو انگریزی حکومت کی لڑاؤ اور حکومت کرو کی پالیسی کا نتیجہ قرار دیا۔

اس اجلاس میں اکیس تجاویز پاس کی گئیں، جن میں حضرت مولانا ابوالمحاسن سید محمد سجاد علیہ الرحمہ سابق ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند، مولانا ابو حامد محمد عبد الحق صاحبؒ سابق صدر جمعیت علمائے آسام، مفتی محمد عنایت اللہ فرنگی محلیؒ، چودھری افضل حق ؒرکن مجلس احرار اور نواب محمد شاہ نواز صاحب نواب ممدوٹ کی وفات پر حسرت و تعزیت کا اظہار کیا گیا۔اس کے علاوہ مسلکی اختلافات میں شدت پسندی اور گالم گلوچ کی مذمت، اسلامی ممالک؛ بالخصوص عراق، ایران، شام اور فلسطین کے تشویش ناک حالات پر اظہار افسوس، آزاد ہندستان کا دستور ایسے وفاق پر تشکیل دینے کا مطالبہ، جس میں مسلمانوں کو مذہبی، تہذیبی اور سیاسی آزادی حاصل ہو، مکمل آزادی کی حمایت نہ کرنے والا اسٹفرڈ کرپس (Stafford Cripps)کے مشن کی مخالفت اور کسی متحدہ فیصلہ پر پہنچنے کے لیے مسلم اداروں سے متفق ہونے کی اپیل، کاظمی ایکٹ 1939ء میں مسلم قاضی کی شرط ختم کرنے کی مذمت اور اس میں ترمیم کرنے کا مطالبہ، ذات برادری کے نام پر رذیل و کمین سمجھنے کی مذمت اور اسلامی اصول پر عمل کرنے کی تلقین، ایک ہی شہر میں بلا ضرورت دو تین جگہ نماز جمعہ نہ پڑھنے کی اپیل، مدارس اسلامیہ کے نصاب میں تبدیلی اورخود جمعیت سے عملی اقدام کرنے کا مطالبہ، دیسی مصنوعات بنانے کی اپیل، کشمیر مہاراجہ بہادر رائے سے مسلمانوں کے مذہبی و ثقافتی حقوق کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ، جنگ عظیم دوم میں شرکت کی مخالفت کے لیے سول نافرمانی کے تحت گرفتار سیاسی اسیروں؛ بالخصوص مولانا حبیب الرحمان صاحبؒ لدھیانوی کو رہا کرنے کا مطالبہ، بلوچستان کو آزاد کرنے کا مطالبہ،مجاہد آزادی مولانا فضل الٰہی وزیر آبادیؒ کی جلاوطنی ختم کرنے کی اپیل، قازاغستان کے قازاغ مجاہدین کے حالات پر اظہار تشویش، حجاج کی پریشانیوں کو دور کرنے کا مطالبہ اور آخری تجویز میں اراکین مجلس استقبالیہ، خاص طور پر جمعیت کے انصار اللہ اور دارالعلوم دیوبند کے جمعیۃ الطلبا کا شکریہ ادا کیا گیا۔ 

23؍ مارچ 1942ء کو اجلاس مجلس مرکزیہ میں عہدے داران کا انتخاب کرتے ہوئے، سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب ؒ اور مولانا سید محمد داود غزنویؒ صاحب کو نائبین صدر، حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحبؒ سیوہاروی کو ناظم عمومی اور فرم حاجی علی خان دہلویؒ کو خازن جمعیت علمائے ہند منتخب کیا گیا۔ 

15؍اپریل1942ء کوخدام خلق کا نظام پیش کیا گیا۔

23؍اپریل1942ء کو حکومت کے مختلف محکموں کو اجلاس عام کی منظور کردہ تجاویز بھیج کر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

25؍اپریل1942ء کو صدر جمعیت علمائے ہند مولانا حسین احمد مدنی صاحب گرفتار کرلیے گئے۔

7؍مئی1942ء کو ہفتہ وار بے باک سہارنپور کے لیے طلب کردہ زر ضمانت فراہم کرنے کی اپیل کی گئی۔

17؍مئی1942ء کو مولانا مبارک حسین صاحب کی رحلت پر تعزیت پیش کی گئی۔

2؍جون1942ء کو ایک سرکاری ورکشاپ کے موقع پر مسلمانوں کی نماز جمعہ کی رخصت کو گھٹانے کے خلاف مکتوب لکھ کر سابقہ رخصت برقرار رکھنے کا مطالبہ کیا گیا۔

8؍جون 1942ء کومسلم مساوات کے تعلق سے جمعیت علمائے ہند پر کیے گئے اعتراض کا جواب دیا گیا۔ 

6؍ جولائی 1942ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ کی گرفتاری پرمبارک باد پیش کرتے ہوئے رہائی کی عملی کوشش، قانون انفساخ نکاح یعنی کاظمی ایکٹ میں ترمیم کا مطالبہ، کاظمی ایکٹ میں جمعیت کی طرف سے پیش کردہ ترمیم کو منظوری اور کلکتہ کے مشہور تاجر خان بہادر شیخ محمد جان کی طرف سے جمعیت کو ماہانہ دو سو روپے امداد پیش کرنے پر شکریہ پر مبنی تجاویز پاس کی گئیں۔ 

ماہ جون اور جولائی1942ء کی مختلف تاریخوں میں شیخ الاسلام کی گرفتاری کے خلاف متعدد اجلاس کیے گئے۔

29؍جولائی 1942ء کو دیواس مالوہ میں بھینس اور پاڑے کی قربانی پر بندش لگانے پر حکومت وقت کے خلاف فتویٰ دیتے ہوئے اسے مداخلت فی الدین قرار دیا گیا۔ 

5؍ اگست 1942ء کو حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ سابق صدر جمعیت علمائے ہند،حضرت مولانا احمد سعید صاحبؒ نائب صدر جمعیت علمائے ہند، حضرت مولانا حفظ الرحمان سیوہاروی صاحبؒ ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند اور مولانا عبد الحلیم صاحب صدیقی ؒنے،ایک اخباری بیان جاری کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ تمام ہندستانیوں کا متفقہ مطالبہ : مکمل آزادی کے مطالبہ کو تسلیم کرے؛ ورنہ ایک فیصلہ کن جنگ کے کے لیے تیار رہے۔ 

8؍ اگست 1942ء کو گاندھی جی کی قیادت میںکانگریس نے ’’ہندستان چھوڑ دو‘‘ (Quit India) تحریک چھیڑتے ہوئے ایک بے تشدد انقلاب کا آغاز کیا۔ اس تحریک میں جہاں کانگریس کے سیکڑوں رہ نماوں کو گرفتار کیا گیا، وہیں جمعیت علمائے ہند نے بھی سرفروشانہ کردار ادا کیا۔

 جمعیت نے 17-18؍ اگست 1942ء کومجلس عاملہ کا اجلاس طلب کیا، جس میں جنگ آزادی میں مسلمانوں کے کردار کے اعلان پرمبنی تجویز پاس کی اور اس کی بار بار اشاعت کرکے ہندستان کے گو شے گوشے میں پھیلادیا۔ اس تحریک میں جمعیت کی شرکت انگریزوں کے لیے سوہان روح ثابت ہوئی، جس کے رد عمل کے طور پرامام الہند حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ صدر آل انڈیا کانگریس و رکن عاملہ جمعیت علمائے ہند، حضرت مولانا احمد سعید صاحب نائب صدر جمعیت علمائے ہند، حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحب سیوہارویؒ ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند، حضرت مولانا سید محمد میاں صاحب ؒ ناظم جمعیت علمائے صوبہ متحدہ آگرہ کے علاوہ سیکڑوں قائدین ملت کوگرفتارکرکے جیلوں میں بند کردیا ،جب کہ مسلم لیگ نے ہندستان چھوڑ دو تحریک کو بغاوت قرار دیتے ہوئے مسلمانوں سے اپیل کہ وہ اس تحریک سے لاتعلق رہیں؛ مگر مسلمانوں نے مسلم لیگ کی اپیل کو مسترد کرتے ہوئے، ہندستان آزاد ہونے تک تحریک جاری رکھی۔

24؍اگست1942ء کو میرٹھ میں آٹھ کارکنان جمعیت علمائے ہند کو ایک جلوس نکالنے کی وجہ سے گرفتار کرلیا گیا۔

23؍ ستمبر1942ء کو اسمبلی میں اسیران فرنگ کے متعلق حکام کے ناروا سلوک کے پیش نظر اسمبلی کی بحث کو ملتوی کرنے کی تحریک پیش کی گئی۔

غالبا اکتوبر1942ء کی کسی تاریخ میں اسلامک نیشنل فیڈرین چین کے نمائندہ مسٹر عثمان کی آمد پر ان کا استقبال کیا گیا اور ایک سپاس نامہ بھی پیش کیا گیا۔ 

یکم نومبر1942ء کو الٰہ آباد جیل میں مولانا مدنی صاحب کے ساتھ سپرنڈنڈنٹ نے گستاخی کی، جس سے پورے ہندستان میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی؛ لیکن حضرت نے متعلقہ افسر کو معاف کردیا۔ 

6؍نومبر1942ء کو فریضۂ حج کی ادائیگی میں حکومت کی طرف سے رکاوٹ ڈالنے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔

جمعیت علمائے پنجاب کے عارضی انتظام کی تائید کی گئی۔ اور ڈاکٹر خان صاحب کی صاحب زادی کی غیر مسلم سے شادی کرنے کی وجہ سے انھیں فہمائش کی گئی۔