پچیسواں سال: 1943ء
محمد یاسین جہازی
8؍ اگست 1942ء کو ’’ہندستان چھوڑدو‘‘ تحریک چھیڑتے ہی انگریزوں نے گاندھی جی، کانگریس کے صدر مولانا ابوالکلام آزادؒ اور کانگریس کے دیگر رہ نماوں کے ساتھ اکابرین جمعیت کو بھی گرفتار کرلیا۔ گاندھی جی نے ایام اسیری میں بھی ہندستان کی آزادی کے قابل قبول حل نکالنے کے لیے فروری 1943ء تک خط و کتابت کرتے رہے؛ لیکن وائسرائے ہند لن لتھ گو ٹس سے مس نہ ہوا۔ بالآخر گاندھی جی نے آخری ہتھیار کے طور پر 10؍فروری سے 3؍ مارچ 1943ء تک اکیس روز کا برت رکھا۔ برت کے اختتام کے موقع پرحضرت مولانا احمد سعید صاحب ؒ نائب صدر جمعیت علمائے ہندنے ایک صلح کانفرنس کی قیادت کی، جس کی وجہ سے آپؒ کو گرفتار کرلیا گیا۔
گاندھی جی کے برت پر حضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب ؒ ایک اہم بیان دیا اور انھیں دنوں منعقد ایک اجلاس میں مولانا احمد صاحب اور مولانا عبدالماجد صاحب کی گرفتاری پر انھیں مبارک بادی پیش کی گئی۔
14؍مئی 1943ء کو خان بہادر اللہ بخش کی مظلومانہ شہادت پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔
8؍ستمبر1943ء کو جناب نبی بخش خان صاحب ایم ایل اے مرکزی کی جانب سے موصول ایک خط کا جواب دیتے ہوئے ساردا ایکٹ کی حقیقت کا رسالہ بھیجا گیا۔
25-26؍ اکتوبر 1943ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں بنگال کے انسانیت سوز قحط پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔ یتیم و لاوارث بچوں کی کفالت کا انتظام کیا گیا۔ اہل خیر سے تعاون کی اپیل کی گئی۔ ابتدائی مصارف کے لیے خزانہ الجمعیۃ سے ایک ہزار پیش کرتے ہوئے ایک وفد کو بنگال بھیج کر جنگی پیمانے پر ریلیف کا کام شروع کیا۔ دستیاب رپورٹ کے مطابق دس ہزار سے زائد لاوارث بچوں کی پرورش و کفالت کی گئی۔