میثاق لکھنو 1916ء پر تنقید و تبصرہ کی ایک نظر
حضرت العلامہ مولانا و مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند
1916ء میں مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان ایک سمجھوتا ہوا تھا۔ اس وقت مسلمانوں کی ایک ہی سیاسی جماعت تھی۔ مسلمانوں میں سیاسی بیداری بھی نہ تھی۔ حکومت خود اختیاری کا بہت زیادہ امکان بھی نہ تھا۔ اس لیے اس وقت اس پیکٹ کے متعلق نہ کچھ زیادہ چر چا تھا اور نہ کسی قسم کے جھگڑے تھے؛ لیکن شاید یہ سن کر آپ کو تعجب ہو گا کہ اس وقت با وجود یکہ علما نے میدان سیاست میں قدم بھی نہ رکھا تھا، نہ جمعیت علما کا وجود تھا، نہ ان کا کوئی سیاسی پلیٹ فارم تھا؛ مگر جوں ہی کانگریس اور مسلم لیگ کا سمجھوتا شایع ہوا، فورا علمائے کرام کی تمام جماعت میں سے صرف ایک ہی شخص اٹھا تھا اور اس نے مسلم لیگ کے سمجھوتے میں وہی خامیاں بیان کی تھیں، جن کی بنا پر آج تمام ہندستان کے مسلمان اس سمجھوتے کو ناپسند اور نا قابل قبول سمجھتے ہیں۔ وہ دور بین اور غائر النظر اور ہمدرد اسلام و مسلمین ہستی حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند کی ہے۔ حضرت محترم نے اس وقت ایک اعلان بعنوان ’’مسلمانوں کے مذہبی اور قومی اغراض کی حفاظت‘‘ شایع کیا اور مسلمانوں کو حکومت خود اختیاری کے حصول میں کوشش کرنے کی تاکید کے ساتھ ہی مسلم لیگ کانگریس کے سمجھوتے کی خامیاں بیان کی تھیں۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ ہم حضرت موصوف کا وہ اعلان تمام و کمال یہاں پر نقل کر دیں، تا کہ آپ یہ اندازہ کرسکیں کہ جمعیت علمائے ہند کے محترم صدر کے کسی وقت سے تحصیل آزادی کے جذبہ بے پناہ کے ساتھ ہی مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کا خیال پیش نظر ہے۔
(مولانا) احمد سید دہلوی
وہ اعلان یہ ہے:
مسلمانوں کے مذہبی اور قومی اغراض کی حفاظت
صاحب وزیر ہند کی ہندستان میں تشریف آوری کی تقریب میں تمام اقوام ہند میں سیاسی تحریک موجزن ہے۔ تمام چھوٹی بڑی قومیں اپنی آئندہ بہبودی کے متعلق غور و فکر کر رہی ہیں۔ اس وقت ہر شخص کا فرض ہے کہ جس چیز کو قوم کے لیے مفید سمجھے، بغیر کسی پس و پیش کے ظاہر کر دے، اس لیے خاکسار اپنے خیالات کو مسلم پبلک کے سامنے پیش کر کے اپنے فرض سے سبک دوش ہوتا ہے۔
ا۔ کوئی قوم حقیقی ترقی نہیں کر سکتی جب تک کہ اس کے افراد میں اپنے اوپر خود حکومت کرنے کی استعداد نہ پیدا ہو جائے اور حقیقی آزادی اور حقیقی ترقی بغیر حکومت خود اختیاری کے حاصل نہیں ہو سکتی۔
۲۔ آزادی کی خواہش انسان کی طبعی اور جبلی خواہش ہے، اس لیے کوئی فرد بشر بجا طور پر حکومت خود اختیاری کی مخالفت نہیں کر سکتا۔
۳۔ دنیا کی متمدن اور مہذب قو میں ہمیشہ انسانی آزادی اور ترقی میں مساعی رہتی ہیں۔ برطانی گورنمنٹ کی رعایا کے مختلف طبقے بھی ہمیشہ اس کے آرزو مند رہے کہ گورنمنٹ ان کو حکومت خود اختیاری عطا فرمائے اور برطانی گورنمنٹ نے اپنی رعایا کے کئی طبقوں کی یہ آرزو پوری بھی کر دی۔
۴۔ اس وقت کہ گورنمنٹ نے فراخ دلی سے ہوم رول دینے کا ارادہ ظاہر کیا ہے، یا اس کی امید کی جاتی ہے اور صاحب وزیر ہند بہادر اسی کے متعلق ہندستانیوں کے خیالات معلوم کرنے تشریف لا رہے ہیں۔ اگر ہندستان کی قومیں ہوم رول کی خواہش کریں اور آزادی کی نعمت حاصل کرنے کی کوشش کریں، تو ان کی یہ خواہش اور کوشش یقینا حق بجانب ہوگی۔
۵۔ ہندستان کی آبادی مختلف العقائد اور متباین الخیالات اقوام سے مرکب ہے اور ایک قوم کے مذہبی اغراض دوسری قوم کے مذہبی اغراض سے متصادم ہیں، اور اس بنا پر یہاں ہمیشہ جھگڑے اور فساد ہوتے رہتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہوم رول کی خواہش کرنے سے پہلے مذہبی تصادم اور تمام اقوام کے مذہبی اور قومی اغراض کی حفاظت کا پورے طور پر خیال کر لیا جائے۔
یہ باتیں تو ایسی ہیں، جن کا تعلق کسی خاص قوم سے نہیں تمام اقوام اس حد تک متساوی الاقسام ہیں۔ اور جہاں تک میرا خیال ہے ،ان وجوہ ستہ کی معقولیت میں کسی کو بھی کلام نہ ہوگا۔ اس کے بعد خاکسار خاص اسلامی طبقے کے متعلق عرض کرتا ہے۔
مسلم پبلک کا اولین فرض ہے کہ وہ سیاسی ترقی کی رفتار میں مذہبی آزادی کی حفاظت کو سب سے زیادہ اہم اور مقدم سمجھے۔ اور’’پہلے ہم مسلمان ہیں، پھر ہندی، یا عربی، ایرانی ،یا چینی وغیرہ‘‘ کے اصول کو لازم سمجھیں، کیوں کہ مسلمانوں کی متحدہ قومیت کا شیرازہ صرف مذہب اور اسلام سے ہی بندھا ہوا ہے۔
اس وقت مسلمانوں کی اصولی تقسیم کے لحاظ سے دو گروہ ہیں:
ا۔ ہوم رول کے طالب۔
۲۔ ہوم رول کے مخالف۔
دوسرے گروہ میں پھر دو قسم کے لوگ ہیں: اول وہ لوگ، جن کو ہوم رول کے معنی اور مفہوم کی خبر نہیں (اور انھیں کی تعداد زیادہ ہے)۔ دوسرے وہ جو کسی خارجی اثر سے متاثر ہو کر اپنے ذاتی اغراض کی خاطر قومی اغراض اور انسانی فطری خواہش کو پامال کرنا چاہتے ہیں۔ ان دونوں فریق کی متفقہ آواز یہ ہے کہ ہمیں ہوم رول کی ضرورت نہیں، ہم گورنمنٹ انگریزی کی حکومت سے خوش ہیں۔ مسلمان ابھی ہوم رول کے لائق نہیں ہوئے۔
لیکن چوں کہ ان کی مخالفت نا واقفیت، یا ذاتی غرض پر مبنی ہے، اس لیے وہ کسی درجہ میں لائق اعتبار نہیں اور نہ مسلمانوں کو ان کی آواز پر کان لگانا چاہیے اور نہ ان کی آواز قومی آواز سمجھی جاسکتی ہے۔ہوم رول کے طالب گروہ میں تمام سمجھ دار، ذی علم، متمدن، مہذب افراد شامل ہیں، مگر اس میں بھی دو فریق ہوگئے۔ فریق اول مسلم لیگ کے ارکان اور اس کے حامی فریق دوم جدید تعلیم یافتہ طبقہ کا ایک معتد بہ حصہ اور تقریباً تمام مذہبی طبقہ اور عامۂ مسلمین کا ایک جم غفیر۔
یہاں پر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب یہ دونوں ہوم رول کے مطالبہ میں شریک اور اصل مقصد میں متفق ہیں۔ پھر وجہ اختلاف کیا ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ فریق اول یعنی مسلم لیگ نے ہوم رول کے مطالبہ کا یہ طریقہ اختیار کر لیا ہے۔
ا۔ کانگریس کے ساتھ اتفاق کر لیا اور لیگ اور کانگریس نے متفقہ اسکیم تیار کی۔
۲۔ اس اسکیم میںمسلمانوں کو جو حق نیابت دیا گیا ہے، اس کے لحاظ سے کسی صوبے کی کونسل میں دس فی صدی، کسی میں پندرہ فی صدی کسی میں بیس فی صدی کسی میں تیں فی صدی مسلمان ممبر ہوںگے، صرف صوبہ پنجاب میں پچاس فی صدی مسلمان ہوںگے، یعنی ہندستان کے کسی صوبے میں ان کو اکثریت حاصل نہ ہوگی۔
۳۔ کم تعداد والی قوموں (جن میں سوائے پنجاب کے تمام ہندستان کے مسلمان داخل ہیں) کے قومی اغراض کی حفاظت اس طرح کی گئی کہ ایک قاعدہ مقرر کر دیا گیا کہ کوئی ایسا ریزولیوشن جو کسی غیر سرکاری ممبر نے پیش کیا ہو اور کسی قوم کے اغراض پر اس کا اثر پہنچتا ہو۔ اگر اسی قوم کے نمائندوں کی تین چوتھائی تعداد اس ریزولیوشن کی مخالفت کر دے، تو وہ ریزولیوشن پاس نہ ہو سکے گا۔
اس قرارداد پر لیگ اور کانگریس کے ممبروں نے سمجھوتا کر لیا ہے اور ارکان لیگ کا خیال ہے کہ یہ سمجھوتا مسلمانوں کے لیے مضر نہیں ہے اور اس میں مسلم پبلک کی قومی اغراض کو کوئی صدمہ نہیںپہنچے گا۔ نیز بعض حامیان لیگ سے یہ بھی سناگیا کہ گورنمنٹ ہوم رول ضرور دے گی۔ اس کی بنیاد پڑچکی ہے، تو اگر ہم اس سمجھوتا کے موافق ہوم رول لینے پر آمادہ نہ ہو جاتے، تو اندیشہ تھا کہ گورنمنٹ ہوم رول دے دیتی اور پھر برادران وطن ہمیں اتنا حصہ بھی نہ دیتے، جتنا کہ اس سمجھوتا میں انھوں نے منظور کر لیا ہے۔
فریق دوم کے خیالات
فریق دوم کہتا ہے کہ مطالبہ ہوم رول ضروری اور ہمارا بھی مقصد ا ہم یہی ہے اور ہم کو ارکان مسلم لیگ کی نیت پر بھی حملہ کرنا مقصود نہیں۔ انھوں نے جو کچھ کیا، مسلمانوں کی خیر خواہی کی نیت سے ہی کیا؛ لیکن ان کے فیصلے کے متعلق ہمیں حسب ذیل شکایتیںہیں:
ا۔ مسلم لیگ نے یہ فیصلہ کرتے وقت عام مسلم رائے حاصل نہیں کی۔ مسلمانوں کی قومی اور مذہبی انجمنوں سے کوئی استصواب نہیں کیا گیا اور اگر چہ ہمیں ان کی نیت پر بدگمانی نہیں؛ تاہم سات آٹھ کروڑ مسلمانانِ ہند کی قسمت کا فیصلہ کرنے میں وہ معصوم بھی نہیں ہیں اور اپنی اس استبدادی کارروائی کے جواب دہ ہیں۔
۲۔ اس سمجھوتے میں مسلمانوں کے قومی اغراض کو صدمہ پہنچنے گا، نہ صرف گمان؛ بلکہ ظن غالب ہے؛ کیوں کہ مسلمانوں کو اس صورت میں کثرت رائے حاصل ہونا ناممکن ہے۔
۳۔ یہ قاعدہ کہ غیر سرکاری ممبر کے پیش کیے ہوئے ریزولیوشن کی اگر کسی قوم کیتین چوتھائی ممبر مخالفت کریں، تو وہ پاس نہ کیا جائے، پرسنل لاء کی حفاظت کے لیے چنداں مفید نہیں؛کیوں کہ سرکاری غیر مسلم ممبروں کے ان ریزولیوشنوں کی جو مسلمانوں کے اغراض قومی کے مخالف ہوں، اس قاعدے سے کوئی روک نہیں ہوئی۔ وہ برابر کثرت رائے سے پاس ہوتے رہیںگے اور غیر سرکاری ممبر اپنے ریزولیوشن کا مقصد سرکاری ممبروں کو سمجھا کر ان کے ذریعے سے پیش کر اسکتے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اس قاعدے کا اثر زیادہ سے زیادہ ان تجاویز پر پڑ سکتا ہے، جو غیر مسلم غیر سرکاری ممبروں کی طرف سے پیش کی جائیں؛ لیکن مسلمان ممبروں کے واسطے اپنی اغراض کے لیے مفید تجاویز پاس کرانے کا کوئی راستہ نہیں۔ بخلاف غیر مسلم ممبروں کے کہ وہ اپنی اغراض کے لیے مفید تجاویز جس قدر چاہیں، کثرت رائے سے پاس کر سکتے ہیں۔
۴۔ پنجاب میں پچاس فی صدی مسلم نیابت اس اصول کے موافق بھی صحیح نہیں؛ کیوں کہ پنجاب میں مسلم آبادی کا اوسط اس سے زیادہ ہے۔
۵۔ ہند و تعداد مردم شماری میں تمام ان قوموں کو محسوب کر لیاگیا ہے، جو ہندو دھرم کے معتقد نہیں؛ بلکہ اس کے مخالف ہیں اور یہ اصولا خلاف انصاف ہے۔
۶۔ مسلم لیگ اور کانگریس نے جو سمجھوتا کیا ہے، اس کی پختگی کی طرف سے بھی تقدم کا کوئی اطمینان نہیں کیا گیا۔
۷۔ مسلمانوں کی مذہبی آزادی کے تحفظ کا خیال نہیں رکھا گیا۔
یہ خیال کہ گورنمنٹ ہوم رول ضرور دیتی اور ہم یہ سمجھوتا نہ کرتے، تو اس سے زیادہ نقصان میں رہنے کا اندیشہ تھا، صحیح نہیں؛کیوں کہ ہندستان کو ہوم رول دینے کے نہ یہ معنی ہیں کہ ہندوؤں کو ہوم رول دے دیا جائے۔ اور نہ گورنمنٹ کے ہوم رول دینے کے یہ معنی ہو سکتے ہیں کہ وہ مسلم قومیت اور مسلم حقوق کو پامال کر کے ایک قوم کو حکمراں بنا دیتی۔ اگر مسلمان استقلال اور خودداری اور وقار سے اپنے حقوق کا مطالبہ آئینی طریقے سے کرتے، تو کوئی وجہ نہیں کہ گورنمنٹ اسے نظر انداز کر دیتی۔
اس کے بعد عرض ہے کہ اگر چہ اب وقت نہیں رہا کہ وزیر ہند کی خدمت میں کوئی ایڈریس یا وفد پیش کرنے کی درخواست کی جائے؛ لیکن جن ایڈریسوں اور وفدوں کی اجازت لی جا چکی ہے، ان کے اصحاب و ارکان کو یہ موقع ہے کہ وہ اپنے مجمل ایڈریسوں کی تفصیل میں اس تجویز کے مضمون کو بھی شامل کر لیں، جو ذیل میں درج ہے اور اب سے بہت پہلے شائع کی جا چکی ہے۔
مسلمانوں کی شدید ترین مذہبی ضرورت
اسلامی عقائد کے بموجب بہت سے مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لیے قاضی، یا حاکم کا مسلمان ہونا شرط ہے۔ مثلاً ایک عورت کا نا بالغی کی حالت میں باپ دادا کے سوا کسی اور ولی نے نکاح کر دیا۔ نکاح تو صحیح ہو گیا؛ لیکن عورت کو بلوغ کے وقت یہ اختیار ہوتا ہے کہ اس نکاح کو پسند کر کے باقی رکھے، یا نا راضی ظاہر کر کے فسخ کر دے؛ مگر اسلامی احکام کی رو سے عورت خود نکاح کو فتح نہیں کر سکتی؛ بلکہ ضروری ہے کہ مسلمان قاضی سے مسخ کرائے۔
اسی طرح کسی عورت کا خاوند چار پانچ سال سے مفقود الخبر ہو گیا ہے اور عورت کے لیے گزارے کی کوئی صورت نہیں، یا اس کے جوان ہونے کی وجہ سے اس کی عصمت محل خطر میں ہے۔ ایسی حالت میں ضرورت ہے کہ مسلمان قاضی سے خاوند کی موت کا حکم حاصل کیا جائے اور عورت عدت وفات پوری کر کے دوسرا نکاح کرلے۔
اسی طرح عبادات و معاملات؛ بالخصوص نکاح، طلاق، میراث، وقف، شفعہ و غیرہ کے ہزاروں مقدمات ایسے ہوتے ہیں، جن میں مسلمان حاکم کے فیصلے اور حکم کی ضرورت ہے ،غیر مسلم حاکم کا حکم، یا فیصلہ شرعی نقطۂ نظر اور اسلامی عقائد کے بموجب کافی نہیں۔
گورنمنٹ انگلشیہ کے شاہی اعلان 1858ء کے بموجب اگرچہ رعایا کو مذہبی آزادی حاصل ہے اور قوانین گور نمنٹ احکام مذہبیہ کے موافق فیصلے کرنے کے مدعی ہیں؛ لیکن اس کے ساتھ ہی یہ ناقابل انکار حقیقت بھی ہمارے پیش نظر ہے کہ گورنمنٹ کی عدالتوں میں مسلم و غیر مسلم دونوں قسم کے حاکم مسند آراے سر پر حکومت ہوتے ہیں؛ بلکہ اعلیٰ عدالتوں میں غیر مسلم عنصر ہی غالب ہے۔ بہت سے شہر اور قصبے ایسے ہیں، جہاں ایک بھی منصف ،یا جج مسلمان نہیں۔
اس لحاظ سے گورنمنٹ کا اعلان مذکور اور موجودہ قوانین ان مقدمات کے متعلق- جن میں حاکم کا مسلمان ہونا شرط ہے- بالکل غیرمفید اور ناکافی ہیں اور مسلمانوں کی اس شدید ترین مذہبی ضرورت کے پورے ہونے کی کوئی سبیل نہیں ہے۔
ہندستان میں بلامبالغہ ہزاروں عورتیں ایسی ہوں گی، جو اپنے خیار بلوغ کو اس وجہ سے استعمال نہیں کر سکتیں کہ مسلمان حاکم میسر نہیں اور اگر نا واقفیت کی وجہ سے غیر مسلم حاکم سے فسخ نکاح کا حکم حاصل کر کے دوسرا نکاح کر لیتی ہیں، تو وہ اسلامی عقائدکے بموجب گناہ گار اور مرتکب حرام ہوتی ہیں۔
ہزاروں عورتیں جن کے خاوند مفقود ہیں، مسلم عدالت نہ ہونے کے باعث عذاب میں مبتلا ہیں۔ زندگی بے کار ہے۔ رات دن مصیبت جھیلتی ہیں اور اسی طرح بہت سے دینی اور قومی اغراض اسلامی عدالت نہ ہونے کی وجہ سے ملیا میٹ ہو رہے ہیں۔
مجوزہ درخواست یہ ہے:
گورنمنٹ مسلمانوں کے خالص مذہبی معاملات اور ان مقدمات کے فیصلے کے لیے -جن میں مسلمان قاضی شرط ہے- ہر ضلع میں ایک شرعی عدالت قائم کر دے اور اس میں ایک مسلمان قاضی (جو علوم شرعیہ کا عالم اور متدین ہو) مقرر کرے اور اس کو ان مقدمات کے متعلق ڈسٹرکٹ حج کے برابر اختیارات عطا کیے جاویں اور ہر صوبے میں ان ماتحت عدالتوں کے احکام کے خلاف اپیل کرنے کے لیے ایک بڑی عدالت قائم کی جائے۔
یہ درخواست کا مجمل خاکہ ہے۔ اس کی اجمالی عام منظوری کے بعد ان احکام کی تعیین -جوان شرعی عدالتوں میں طے ہونے ضروری، یا مناسب ہیں- علمائے ہندستان کی ایک منتخبہ جماعت کر دے گی اور اس کے دیگر مراحل پر بھی مفصل بحث کی جاسکے گی۔
کتبہ محمد کفایت اللہ غفر لہ
مدرس اول مدرسہ امینیہ۔ دہلی 1917ء
حاشیہ:
(۱) ہندستان میں مسلمانوں کی تعداد: 6,66,47,299
(۲)بنگال میں مسلمانوں کی تعداد:2,39,89,719
(۳)پنجاب میں مسلمانوں کی تعداد: 1,09,55,721+