ایران اور جمعیت علمائے ہند
محمد یاسین جہازی
جمعیت علمائے ہند کے پانچویں اجلاس عام منعقدہ:29؍دسمبر1923ء تا یکم جنوری 1924ء میںشیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی نور اللہ مرقدہ نے صدارتی خطبہ میں دول متحدہ اور ترکی کے درمیان ہوئے معاہدۂ سیورے کی رو سے بلاد اسلامیہ کی تقسیم کی بابت ایران کے متعلق تحریر فرماتے ہیں کہ:
’’اسی تقسیم بلادِ اسلامیہ کی بنا پر انگلستان اور روس میں ایران کی نسبت سمجھوتہ ہوکر قرار پایا کہ شمالی ایران پر روس قابض و متصرف ہوکر اسلام کے ٹمٹماتے چراغ کی رہی سہی روشنی کو وہاں سے بجھادیے اور برطانیہ جنوبی ایران پر اپنا اقتدار جماکر اسلام کے پرچم کو اکھاڑ پھینکے،چنانچہ زار روس نے شمالی ایران پر حملہ کردیا اور نہایت شرم ناک سفاکی اور بربریت کو عمل میں لاتا ہوا شہرہائے ایران اور طوس مقدس، یعنی مشہد شریف وغیرہ کی توہین و تذلیل میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔ انواع و اقسام کے ناقابلِ ذکر جفا وجور کو کام میں لایا اور جب تک اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوگیا ،اُس وقت تک جملہ اسباب درندگی کو ناگزیر ہی سمجھتا رہا۔ گورنمنٹ ایران اور وہاں کی پبلک نے تمام دُنیا سے شکایتیں کیں۔ اُن کی توجہات اور انظار کی اُمید واری ظاہر کی۔ ہندستانی مسلمانوں سنّی اور شیعہ نے پروٹسٹ کیا۔ برٹش گورنمنٹ کو توجہ دلائی؛ مگر جو کام ملی بھگت سے ظہور میں آیا ہو، اُس میں کیا نتیجہ برآمد ہوسکتا ہے۔ اسی طرح برٹش نے بھی اپنی پولٹیکل چالوں اور ڈپلومیسی سے جنوبی حصہ پر رفتہ رفتہ قبضہ جمالیا۔‘‘
تحفظ فلسطین کے لیے ایرانی حکومت کو متوجہ کرنے کی جمعیت سے اپیل
فلسطین میں برطانیہ کے ظالمانہ رویوں کے خلاف جمعیت مسلسل آواز اٹھاتی رہی ہے اور ہندستان میں جگہ جگہ جلسے اور مظاہرے کرتی رہی ہے، انھیں کوششوں کی کامیابی پرسابق صدر محکمۂ شرعیہ استانبول اسعد شقیری نے خط لکھ کرجہاں ایک طرف جمعیت کی کامیابی پر تشکر کا اظہا رکیا، وہیں دوسری طرف یہ درخواست بھی کی کہ جلالۃ الملک شاہ ایران کو مطلع فرمائیے،وہ فلسطین کے تعلق سے اپنا کردار ادا کریں۔مکتوب کا متن درج ذیل ہے:
السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ ۔ میں اپنے اس خط کے ساتھ ایک رسالہ خدمت عالی میں ارسال کر رہا ہوں ، جو فلسطین کے باب میں مسلمانوں اور یہودیوں کے متعلق آیات قرآنیہ، احادیث نبویہ اور اقوال فقہا پر مشتمل ہے ۔ امید ہے کہ ملاحظہ کے بعد یہ رسالہ جناب کی نظر میں شرف قبولیت حاصل کرے گا۔ مہربانی فرماکر رسالہ کے مضمون اور اس کی تفصیلات سے آپ جلالۃ الملک شاہ افغانستان اور جلالۃ الملک شاہ ایران کو مطلع فرمائیے، تاکہ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کو ابتلا و مصائب سے نجات دلانے کا جو فرض ان پر عائد ہوتا ہے، وہ اس سے سبکدوش ہوں۔ اگر جمعیت علمائے ہند کی طرف سے رسالہ کی اشاعت کا انتظام ہوسکے اور آپ وزرا، ارباب حکومت اورمسلمانوں کے اہل حل و عقد کے پاس اس کو پہنچا سکیں، تو بہت ہی مناسب ہے۔
آپ کے اہتمام میں دہلی کے اندر جو فلسطین کانفرنس منعقد ہوئی، اس میں آپ کی مساعی قابل تحسین ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے اور عمر دراز کرکے ہمیشہ آپ کو عافیت میں رکھے۔ واسبغ علیکم نعمہ ظاہرۃ و باطنۃ۔ والسلام علیکم ۔
شہر عکاصع فلسطین، مؤرخہ 20؍رمضان المبارک 1355ھ۔ رئیس التدقیقات الشرعیہ السابق فی الآستانہ اسعد الشقیری۔‘‘ (سہ روزہ الجمعیۃ 9؍ جنوری 1937ء)
ہندستان کی آزادی سے ایران بھی مصائب سے محفوظ ہوسکیں گے
حضر ت مولانا حسین احمد مدنی صدر جمعیت علمائے ہندنے بارھویں اجلاس عام -جو 7،8، 9؍ جون1940ء کو منعقد ہوا تھا-کے خطبۂ صدارت میں ہندستان کو آزاد کرانے کی ضرورت و اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے ایران کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ:
(ہ)اس ملک کی آزادی میں قرب وجوار کے اسلامی ملک مثل یاغستان، افغانستان، ایران وغیرہ بہت سے مصائب اور خطرات سے محفوظ ہوجائیںگے۔
ایران سمیت ممالک اسلامیہ میں برطانوی مداخلت ناقابل برداشت
جمعیت علمائے ہند کا تیرھواں اجلاس عام 20،21،22؍ مارچ 1942ء کو منعقد ہوا، جس کے صدارتی خطبہ میں حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحبؒ صدر جمعیت علمائے ہندنے ایران سمیت ممالک اسلامیہ میں اپنا نقطۂ نظر واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ:
’’ایران کے متعلق یہ کہہ کر- کہ وہاں نازی ازم قوت پکڑ رہا ہے اور روس کو امداد پہنچانے کے لیے ہمارے لیے یہی راستہ اسہل ہے- اس کی غیر جانب داری کو توڑ کر ایران میں برطانوی فوجیں داخل ہوگئیں اور اس کے اہم مقامات پر قبضہ کرلیا گیا۔
جمعیت علما یہ واضح کرینا ضروری سمجھتی ہے کہ ہندستان کے مسلمان ممالک اسلامیہ میں کسی بیرونی مداخلت کو برداشت نہیں کرسکتے۔ ممالک اسلامیہ کے خلاف کسی یورپین، یا ایشیائی طاقت کی تعدی- خواہ وہ جرمن ہو، یا اٹلی ،یا روس، یا برطانیہ، یا جاپان؛ ان کے نزدیک یکساں قابل نفرت و مذمت ہے۔ اور وہ ان اعذار بار دہ سے مطمئن نہیں ہوسکتے ،جو خوش آئند الفاظ میں دنیا کے سامنے اپنی معصومیت ظاہر کرنے کے لیے پیش کیے جاتے ہیں۔‘‘
اسلامی ممالک کے نازک حالات پر اظہار تشویش
پھر اسی تیرھویں اجلاس میں تجویز نمبر(۷) منظور کرتے ہوئے جمعیت علمائے ہند نے اپنا نقطۂ نظر واضح کیا کہ:
’’جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس اسلامی ممالک؛ خصوصاً عراق، ایران، شام و فلسطین وغیرہ کے موجودہ نازک ترین حالات کو نہایت خطرہ کی نظر سے دیکھتا ہے کہ ان اسلامی ممالک کو استعمار پسند طاقتیں کس طرح اپنی اغراضِ فاسدہ میں استعمال کرنے کے لیے مقہور و مجبور کررہی ہیں۔ ان کی تسلیم شدہ آزادی کو پامال کیا جارہا ہے، یا اُن کے فطری حق آزادی سے انھیں محروم کرنے، یا رکھنے کے لیے کیسے کیسے حیلے تراشے جارہے ہیں۔ جمعیت علما بار بار اس امر کا اعلان کرچکی ہے اور آج بھی اس اعلان کا اعادہ کرتی ہے کہ اسلامی ممالک پر کسی اجنبی طاقت کا تسلط اور قہر و غلبہ مسلمانانِ عالم کسی طرح برداشت نہیں کریںگے اور جب تک اسلامی ممالک پر سے استعمار پسند طاقتیں اپنا تسلّط بالکلیہ نہ اُٹھا لیں گی اور ان کو آزادی کامل کی فضا میں سانس لینے کا موقع نہ دیںگی ،اُس وقت تک مسلمان چین سے نہیں بیٹھیں گے اور مطمئن نہ ہوں گے۔
محرک:مولانا احمد سعید صاحبؒ۔ مؤید: مولانا عبدالماجد صاحبؒ۔‘‘
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد اول، ص؍466)
ایران پر روسی و برطانوی قبضے کے خلاف صدائے احتجاج
جمعیت علمائے ہند کی جانب سے 11؍ جون 1945ء کو دہلی میں ایک عظیم الشان جلسہ، بہ صدارت حضرت مولانا احمد سعید صاحب، اردو پارک جامع مسجد میں منعقد ہوا۔ تلاوتِ کلامِ مجید اور قومی نغموں کے بعد صدرِ محترم نے نہایت سنجیدگی کے ساتھ جلسے کی غرض و غایت بیان فرمائی اور ممالکِ اسلامیہ کی آزادی کے مسئلے پر روشنی ڈالی۔
اس اجلاس میںایک تجویز: تجویز نمبر تین مسٹر ہلال احمد صاحب زبیری نے پیش کی اور ایران پر برطانوی قبضہ اور فوجی مداخلت کے سلسلے میں تفصیلی روشنی ڈالی۔ اس تجویز کی تائید مولانا بشیر احمد صاحب نے فرمائی اور مولانا محمدحفظ الرحمان نے تائید مزید کرتے ہوئے مسٹر چرچل کے بیان متعلقہ فوجی مداخلتِ ایران کو قطعی غیر معقول، نا منصفانہ اور سامراجی تسلط کی تصویر ثابت کیا۔
تجویز کا متن درج ذیل ہے:
’’ مسلمانان دہلی کا یہ عظیم الشان جلسہ مملکتِ ایران پر روس و برطانیہ کے اس قبضے اور تصرف کو-جو دورانِ جنگ محض ایک جنگی ضرورت کے ماتحت عارضی قبضہ کہہ کر کیا گیا تھا اور جو باوجود جنگ ختم ہو جانے کے اب تک نہیں ہٹایا گیا- سخت غم و غصے کی نظر سے دیکھتا ہے اور موجودہ قبضے کو روس و برطانیہ کے اس معاہدے کی خلاف ورزی سمجھتا ہے، جو ان دونوں حکومتوں نے اپنی فوجوں کے داخلے کے وقت حکومتِ ایران سے کیا تھا۔ یہ جلسہ حکومتِ برطانیہ اور اس کی حلیف حکومت روس کو آگاہ کرنا چاہتا ہے کہ مسلمان ایران پر ان دونوں حکومتوں کے ناجائز قبضے کو دیر تک برداشت نہیں کرسکتے۔ اور مسلمانوں کی عام خواہش یہ ہے کہ روس و برطانیہ ایران پر سے جلد از جلد اپنا قبضہ ہٹا کر ایران کی آزادی اور اس کے تخلیہ کا اعلان کریں۔‘‘
جمعیت کے اجلاس عام کے لیے سفیر ایران کا پیغام
جمعیت علمائے ہند کا سترھواں اجلاس عام27تا 29؍ اپریل 1951ء کو منعقد ہوا، جس میں سفیر ایران مقیم نئی دہلی کی طرف سے درج ذیل پیغام موصول ہوا:
جناب سفیر محترم کو افسوس ہے کہ وہ اپنی اہم مصروفیات کی وجہ سے کانفرنس میں شریک نہ ہوسکیں گے۔ سفیر محترم کو امید ہے کہ کانفرنس کو ہر قسم کی کامیابی حاصل ہوگی۔ (ایم ایچ پویانی سکریٹری)۔ (روزنامہ الجمعیۃ 29؍ اپریل 1951ء)
ایران کے مذہبی پیشوا جناب سید ابوالقاسم کاشانی کے نام ایک بحری تار
حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے 9؍ اگست 1951ء کو ایران کے مذہبی پیشوا جناب سید ابوالقاسم کاشانی کے نام ایک بحری تار میں پاکستان کے جنگی پیروپیگنڈہ پر اظہار افسوس کیا اور اور انھیں یقین دلایا ہے کہ ہندستان کے اندر نہ تو جنگ و جدال کی تیاری ہورہی ہے اور نہ کوئی ایسی فضا پائی جاتی ہے ۔ مسٹرکاشانی مسئلۂ کشمیر سے خاص دل چسپی لے رہے تھے۔ مولانا کا پورا مکتوب درج ذیل ہے:
جناب سید ابوالقاسم آیت اللہ کاشانی، تہران!
ہم نے آپ کا پیغام پاکستان کے اخبارات میں دیکھا۔ یہ دیکھ کر بڑی مسرت ہے کہ آپ ہند اور پاکستان کے تمام باہمی تنازعات کے لیے پرامن اور دوستانہ تصفیے کے شدت سے آرزومند ہیں۔ ایسے تصفیے کے لیے ہم آپ کی آرزوؤں میں پوری طرح شریک ہیں۔
لیکن ہمیں یہ ضرور اندیشہ ہے کہ باہر کی دنیا صحیح واقعات سے پوری طرح باخبر نہیں ہے، اس لیے کہ واقعات کو بیرونی دنیا کے پریس میں غلط طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ہم اس خاص پہلو پر آپ کو ضرور توجہ دلائیںگے کہ برطانیہ پریس آخر کیوں ہندستان کے حقائق کی غلط ترجمانی کرتا ہے؟ اس لیے کہ یہ حقیقت ہمارے سامنے روشن ہے کہ ہندستان مغربی یورپ کا آلۂ کار بننے سے انکار کرتا ہے۔
ہم پاکستان کی بہبودی کے خواہاں ہیں، لیکن ساتھ ہی انصاف کا تقاضا ہمیں مجبور کرتا ہے کہ حقائق کو تسلیم کریں( نظر انداز نہ کریں)۔ چار برسوں میں حکومتِ ہند نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ ہر قضیے کو پُرامن طریقوں سے حل کیا جائے، لیکن ہمیں افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس کے باوجود حکومتِ پاکستان نے ہند کے ارادوں کے خلاف بے بنیاد افواہ اور پروپیگنڈا شروع کر دیا ہے۔
ہم اپنی ذاتی معلومات کی بنا پر کہہ سکتے ہیں کہ ہندستان میں جنگ و جدال کی تیاری نہیں ہے اور نہ کوئی ایسی فضا ہے۔ ہم آپ کو اور دوسرے تمام احباب کو یقین دل سکتے ہیں کہ ہندستان پر پاکستان کے عائد کردہ حملہ آوری کے تمام الزام قطعی بے بنیاد ہیں۔ پاکستان کی جانب سے ہندستان کی فوجوں کے جمع ہونے کا الزام بھی قدیم انصاف و مساوات کے خلاف ہے، کیوںکہ فوجی دستوں کی سب سے پہلی حرکت پاکستان کی طرف سے ہوئی۔
پاکستان نے کشمیر میں پونچھ کی جانب اپنے دستوں کو 20؍ جون 1951ء کو ہی بھیجنا شروع کر دیا تھا، اور جب پاکستانی دستوں کی ایک روش حقیقت بن کر سامنے آگئی، تب ہند نے اپنی سرحدوں تک اپنے دفاعی دستوں کو 10؍ جولائی کو بھیجا۔
حکومتِ ہند نے بارہا پاکستان کو یقین دلایا ہے کہ ہندستان پاکستان کے خلاف کبھی بھی لشکر کشی کی پہل نہیں کرے گا۔ ہندستان نے پچھلے سال سے بار بار اس پر زور دیا ہے کہ دونوں ملکوں کو دل سے یہ اعلان کرنا چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے ساتھ جنگ کی طرف کبھی بھی رجوع نہیں کریںگے، لیکن افسوس کہ پاکستان نے اس اعلان کے لیے آمادگی نہ دکھائی۔
ہندستان آج بھی بار بار سیاسی پیشکش کو دہرا رہا ہے۔ ان حالات میں ہم سمجھتے ہیں کہ آپ اور ہر امن پسند شہری کو چاہیے کہ وہ پاکستان کو پوری قوت سے یہی مشورہ دے کہ وہ برطانوی پالیسی کا شکار ہو کر غلط راہ پر نہ بڑھے۔ پاکستان کو بھی یہ مشورہ دیجیے کہ باہمی جنگ نہ کرنے کے اعلان کی تائید کرے، تاکہ دونوں ملکوں کے باہمی شکوک و شبہات زائل ہو سکیں۔
(روزنامہ الجمعیۃ ، 11؍ اگست 1951ء)
مصر و ایران کی کامیابی کے لیے دعا کی اپیل
14؍نومبر1951ء کو حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب صدرجمعیت علمائے ہند نے عام مسلمانوں سے اپیل کی کہ وہ 16؍ نومبر1951ء کو جمعہ کے دن تمام مساجد میں پورے خشوع و خضوع کے ساتھ مصر اور ایران کے حق میں دعا کریں، اس لیے کہ مادی اسباب و وسائل کے باوجود مسلمان کا حقیقی راستہ خدا تعالیٰ کے فضل و کرم اور اس کی نصرت پر ہوتا ہے۔
حضرت شیخ الاسلامؒ نے اپنی اپیل میں اس بات پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ برطانیہ اور امریکہ اپنی چیرہ دستیوں کو باقی رکھنے کے لیے عدل و انصاف کے تمام تقاضوں کو پامال کرنے پر تلے ہوئے ہیں اور نہر سوئیز پر قبضہ رکھنے کے لیے فوجیں بھیجی جارہی ہیں۔
( روزنامہ الجمعیۃ، 14؍ نومبر1951ء)
اٹھارھواںاجلاس عام میں سفیر ایران کی شرکت و خطاب
جمعیت علمائے ہند کا اٹھارھواں اجلاس عام،11؍تا 13؍فروری 1955ء کو منعقد ہوا، جس میں شرکت کی دعوت اے اے حکمت سفیر ایران مقیم ہند نئی دہلی کو بھی دی گئی ۔ سفیر موصوف نے درج ذیل جواب دیا:
’’ بہت ہی شکر گزار ہوں کہ آپ نے مجھے اجلاس جمعیت علمائے ہند کی دعوت بھیجی ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں13؍ فروری کو کلکتہ میں ہوں گا اور اجلاس کے آخری دن میں شرکت کی کوشش کروں گا۔‘‘
سفیر ایران کا خطاب
12؍ فروری 1955ء کی شام کو چار بجے اجلاس عام اٹھارھویں اجلاس عام کی تیسری نشست شروع ہوئی۔ اس اجلاس میں ہز ایکس لینسی سفیر ایران علی اصغر حکمت نے دلی مسرت اور تہنیت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ جمہوریۂ ہند کا سیکولر نظام ایک نعمت ہے، جس سے مسلمان آزادانہ بہرہ اندوز ہورہے ہیں۔
اسلام ایک پیغام رحمت ہے، جس کے سامنے اپنے پرائے، عرب اور کالے گورے کا کوئی امتیاز نہیں۔ مسلمان کا فرض ہے کہ وہ اپنے اخلاق و کردار سے عالم انسانیت کے لیے رحمت ثابت ہو۔ بڑی مسرت ہے کہ ہندستان میں علما کی جماعت قیادت کی ذمہ دار ہے۔ ہماری دعا ہے کہ یہ قیادت ملک اور ملت دونوں کے لیے بار آور اور کامیاب ہو۔
ناظم عمومی کا جوابی خطاب
جناب ہیرا لال چوپڑا پروفیسر کلکتہ یونی ورسٹی نے سفیر ایران کی فارسی تقریر کا ترجمہ کیا۔
اس کے بعد ناظم عمومی جمعیت علمائے ہندنے ہز ایکس لینسی سفیر ایران کی تشریف آوری کا شکریہ اداکرتے ہوئے فرمایاکہ جمعیت علمائے ہند کی پوری تاریخ حب وطن کی زریں مثال ہے، اس نے آزادی وطن کے لیے عظیم الشان قربانیاں پیش کیں۔ ان قربانیوں کا محرک عالم انسانیت کی خدمت کا وہی جذبہ تھا،جو رحمت للعالمین صلیٰ اللہ علیہ وسلم کے ایک پیرو میں ہونا چاہیے اور اسی جذبہ کو لے کر جس طرح ایک طرف اس کی کوشش یہ ہے کہ مسلمانوں میں صحیح دینی تعلیم رائج ہو، ان کے اخلاق اسلام کی انسانیت پر ور تعلیمات کے آئینہ دار ہوں۔ دوسری طرف وہ ملک کی ترقی، اہل وطن میں رواداری، اتحاد و اتفاق اور ملک کے جمہوری نظام کو کامیاب بنانے کی سرگرم کوشش کر رہی ہے۔
محترم چوپڑا صاحب نے مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب کی تقریر کا فصیح فارسی زبان میں ترجمہ کیا۔ پھر یہ جلسہ دوسرے وقت کے لیے ملتوی ہوگیا۔
تقریب استقبالیہ شہنشاہ و ملکۂ ایران
17؍ فروری 1956ء کی شام ساڑھے چار بجے جمعیت علمائے ہند کی طرف سے کانسٹی ٹیوشن کلب میں شہنشاہِ ایران، ان کی ملکہ اور ان کی پارٹی کے دیگر ممبروں کو استقبالیہ دیا گیا، جس میں شہنشاہِ ایران کو سنہری جلد میں روزنامہ الجمعیۃ کا ’’ایران ایڈیشن‘‘ اور سپاس نامہ پیش کیا گیا۔جواب میں فارسی میں تقریر کرتے ہوئے شہنشاہِ ایران نے اظہار مسرت کیا اور مسلمانوں کو تلقین کی کہ اس عظیم مملکت میں -جہاں مختلف مذاہب کے لوگ رہتے ہیں- اسلامی احکام کی پابندی کرتے ہوئے ملک کو مضبوط بنائیں اور ایک مضبوط اور زبردست قومیت پیدا کریں، جو ہمیشہ پھلتی اور پھولتی رہے۔
یہ استقبالیہ کانسٹی ٹیوشن کے کلب کے لان میں ایک شان دار پنڈال میں دیا گیا تھا۔جو ہندستان اور ایران کے قومی پرچموں، رنگ برنگی جھنڈیوں اور پھول پتیوں سے سجا ہوا تھا۔ کلام پاک کی آیات اور عربی فارسی میں استقبالیہ جملے اور موٹو سلیقے کے ساتھ آویزاں کیے گئے تھے۔ اعلیٰ حضرت شاہ ایران کی تشریف آوری سے قبل ہی پنڈال معززمہمانوں سے بھر گیا تھا۔ اس مبارک اجتماع میں مرکزی اور ریاستی وزرا، غیر ملکی سفیر، مختلف جماعتوں اور انجمنوں کے نمائندے، شہر کے ہندو مسلم معززین، تمام مشہور اخبارات کے ایڈیٹر، شہر کے سرکردہ اصحاب اور ہمدردان جمعیت علمابڑی بھاری تعداد میں موجود تھے۔
پنڈال کے دروازے پر حضرت مولانا محمدحفظ الرحمان صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند، حضرت مولانا مفتی عتیق الرحمان صاحبؒ، نواب سلطان یارخان صاحبؒ، مولانا قاضی سجاد حسین صاحبؒ نے شہنشاہ ایران کا استقبال کیا۔ اعلیٰ حضرت کے پنڈال میں داخل ہوتے ہی تمام حاضرین احتراماً کھڑے ہو گئے۔
حضرت سحبان الہند مولانا احمد سعید صاحبؒ نے اعلیٰ حضرت کو ایک زرین ہار پہنایا۔ اس کے بعد حضرت مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ مہتم دارالعلوم دیو بندو رکن مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند نے کلام پاک کی چند آیات تلاوت فرمائیں۔ اور استقبالی تقریب کا آغاز ہوا۔ اس کے بعد مسٹر آنند موہن گلزارزرتشی، جناب مانی جائسی اور شاعر انقلاب علامہ انور صابری نے فارسی قصیدے سنا ئے۔ اور اعلیٰ حضرت کی خدمت میں پیش کیے۔
قصائد خوانی کے بعد حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحبؒ ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے فارسی میں سپاس نامہ پڑھا،جس میں ایران وہند کے قدیم وجدید روابط کاتذکرہ کرتے ہوئے جمعیت علما کی خدمات پرروشنی ڈالی گئی تھی۔ اور اعلیٰ حضرت کا خیر مقدم کیا گیا تھا۔
سپاسنامہ کا اردو ترجمہ حضرت مولانا مفتی عتیق الرحمان صاحب نے سنایا ، اور اس کے بعد اعلیٰ حضرت نے فارسی میں جو ابی تقریر کی ، جس کا تر جمہ سفیرہند مامور ایران ڈاکٹر تارا چند صاحب نے اُردو میں کیا جو یہ ہے:
مجھے جمعیت علمائے ہند کے اس اجتماع میں شرکت کرنے پر بہت خوشی ہے؛ خصوصاً اس وجہ سے کہ جمعیت میں اخوت، بین الاقوامی تعاون کی روح اور جذبہ بھی موجود ہے۔ جب کوئی قوم ترقی کے معراج پر پہنچتی ہے، تو اس میں تحمل اور بردباری کے جذبات دیکھنے میں آتے ہیں۔ ہم ایران میں انتہائی قدیم زمانے سے کوشش کرتے رہے ہیں کہ ایسے جذبات ہمارے اندرپائے جائیں۔ ایران میں مختلف فرقے اور مختلف مذاہب کے باشندے بڑے آرام ، امن وامان کے ساتھ زندگی گذار رہے ہیں۔ مجھے امید ہے کہ یہ جمعیت علما اور مسلمانان ہند ہندستان کی ترقی میں اضافہ کریںگے، اور اپنے مذہب کی پابندی کرتے ہوئے اپنے ملک کی جمہور ی حکومت کو مضبوط بنائیںگے۔
اعلیٰ حضرت کی تقریر کا ترجمہ ختم ہونے پر حضرت مولانا محمدحفظ الرحمان صاحب ؒنے اعلی ٰحضرت کا شکریہ ادا کیا۔ اس کے بعد اعلیٰ حضرت واپس تشریف لے گئے۔ اور یہ شان دار تقریب بخیر و خوبی اختتام پذیر ہوئی۔ (روزنامہ الجمعیۃ،20؍ فروری 1956ء)
شہنشاہِ ایران کی فارسی تقریر
از بودن میان جمعیت علمائے ہند بسیار خوش وقتم ومخصوص کہ می بینم کہ در این جمعیتی روح برادری و تفاہم بین ملل و خوبی پیدا است۔ وقتی کہ یک ملتی بہ اوج ترقی می رسد در آں روح تحمل و بردباری مشاہدہ می شود، مادر ایران از قدیم الایام سعی کردیم دربارائی چنیں روحی باشیم۔ در ایران اقوام و ادیان مختلف باہم در انیست کامل زندگانی می کنیم، امید دارم کہ ایں جمعیت و مسلمین مملکت بہ ترقی و پیش رفت کشور روز بروز اضافہ بکنند۔احکام اسلامی را در میان خود با حفظ تمام مقررات مملکت انجام بد ہند۔ (روزنامی الجمعیۃ،20؍ فروری 1956ء)
فارسی سپاس نامہ
بہ پیش گاہ اعلیٰ حضرت ہمایون شاہنشاہ ایران!
اعلیٰ حضرتا - خوشا بخت وخرم روزگار کہ این جمعیت افتخار پذیرائی از رئیس کشوری دارد کہ طیٔ قرون متمادی حتے پیش او تاریخ با آن بستگیہائی پاستانی داشتہ ایم۔ کشور مبارک ایران نہ تنہا ہمسائی دیرینہ وہم نژاد آن دیار رابطۂ نسلی داشتہ اند؛ بلکہ زینت بخش انجمن فرہنگ و تمدن ماست ، ساکنان این مرزد بوم از آداب فیض آثارش نصیب وافی بردہ اند۔
فیوض و افاداتے کہ در تفسیر و فقہ و حدیث و کلام از امثال رازی ، طوسی، زمخشری و بیضاوی، و در تصوف از غزالی، عطار، سنائی و رومی، و در رشتۂ معنویات از سعدی و طوسی، و در ادبیات از فردوسی، حافظ، انوری، خاقانی، قاآنی، و در طب از بوعلی سینا، ابوبکر محمد بن زکریا رازی، وفتح اللہ شیرازی بما رسیدہ ۔ واز پر تو کمالات ایشان آبگینہائی اخلاق و نفسیات ماروشن و درخشان گشتہ،حقیقتے ست چون چشمۂ تابان خورشید جلوہ فرما۔
سلاطین مغول ہند کہ در قرون وسطیٰ برہند حکم فرمائی داشتند وآثار یادگاریہائی از خودباقی گذاشتہ اند تا امروز ہم برجبین این کشور مانند گو ہرتابان مئدخشت، رہین منت دولت و سطوت ایران بودہ اند۔
احتیاج بذکر نیست کہ دران زمان علائق بین این دو کشور سجدے پیش رفت وتوسیع یافتہ بود کہ چہ در اموراجتماعی زیباشناسی، چہ در معماریہائی عالی و مجلل و فن منبت کاری و خوراک و پوشاک مزایائی ہنری ایرانی در بیشتر نقاط این کشور امروز ہم بہ طور بارزی ہویداست۔
نہ تنہا در ادبیات ما؛ بلکہ در بوستان و گلستان این دیار ہم سنبل و شمشاد، لالۂ گل و بلبل از این رابطۂ قدیمی حکایت می کنند۔
بساغنچہاست نو د میدۂ چمن زار ایران کہ ببوستان ہند گفتہ ، واز بوئے دل آویز آنہا تا امروز مشام جان ہندیان معطرست و بسانہالہائی نوخیز فرہنگ و دانش ایرانی کہ بہ مملکت ہند وستان رسیدہ ماہ و پروین آسمان سیاست گشتہ اند ۔
اکنون این مناسبات دیرینہ و مراودات پاکستانی با ورود اعلیٰ حضرت تجدید می شود، دوستی وصمیمیت دوملت حیات نوینی پیدا می کند۔
مطمئن ہستیم کہ تشریف فرمائی اعلیٰ حضرت باین کشور بمنزلہ دیدار دوستانہ ای از دوستان و آشنایان قدیمی ودائمی است نہ دیداری از محفل بیگانگان۔
شاہنشاہا! میہن ماکہ درین روزہا فخرومباہات تاریخی آںرا دارد کہ مقدم گرامی اعلیٰ حضرت را شاد باش گوید،مانند حلقہ گلی ست کرگل و شکوفہائی گوناگون آن از چندین دیار و فرقہائی مذہبی و لسانی ونسلی در انجا شگفتہ، بوئی دل آویز آن ہرکس را متوجہ خود ساختہ است ۔ پایہ و اساس این تنوع روش جدا از مذہب بودن دولت ماست کہ آزادی نظرو فکر وکردارو گفتار بدون نظر بمذا ہب وعقائد را تضمین نمودہ و بہ پیروان ہمہ ادیان اجازۃ دادہ کہ بروش ویژہ خود نموو پیش رفت نماید نگہداری وسر پرستی امور این دولت بر عہدہ آن ’’جواہر‘‘ گران قیمتی ست کہ با طبع غم خوار و عشق سرشار بہ وطن و با علاقہ زیادش بمساوات و عدالت، رہبر محبوب ملت است، گذشتہ ازین حسن و تدبر و کفایت داری اش در امور بین المللی اور ا بعنوان فرشتۂ صلح و امنیت جہانی معرفی نمودہ و ملل و دول جہانی اور ا قہرمان امن و آرامش و پشتیبان اقوام عقب ماندہ تلقی می کنند نخست و زیر آقائی ’’جواہرلال نہرو‘‘ رہبر بزرگ ملی ماو جانشین حقیقی زعیم ہند’’ مہاتما گاندھی‘‘، آن ذات قابل ستائش ست کہ کفایت و شجاعت و استعداد وی مارا دائما تشویق نمودہ و باعث شدہ کہ موفقانہ آخری مراحل راہ آزادی را تحت رہبری و ے پیمودہ و اکنوں ہم باوجود موانع در راہ ترقی و پیش رفت قدم بر میداریم ، نہ فقط ہند؛ بلکہ آسیا وجہان شرق بہ وجود گرامی اش مباہات مے کند و دول نیرومند جہان ہم احترام زیادی باو میگزارند۔
شاہنشاہا!میہن عزیز مارہبران عالی قدرے را کہ شناوران لجۂ علوم عقلیہ و نقلیہ و خواصان دریائی تحقیق و تدقیق اند و قبل از حریت و بعد از محصول آزادی تدبیر سیاسی شان اشکالات و موانع زیاد کشور را برطرف نمودہ و عزم و فداکاری شان بہ ما درس گراں بہائی دادہ مانند مولانا ابو الکلام آزاد وزیر فرہنگ کہ دنیاء علم و تدبر برایشان نازان ست - عطیۂ ایزدی می داند،
روحانیون و علمایٔ این کشور ہم ہموارہ در پیش رفت کشور سہمی داشتہ کہ شایان ستائش است شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدمدنی از ہمیں زمرہ قائدین دینی است کہ مجاہدانش در راہ آزادی کشور باب در خشانی را در تاریخ ہند گشودہ است۔
اعلیٰ حضرتا! جمعیت علمائے ہند کہ خود را مفتخرمی شمارد کہ ورود مسعود اعلیٰ حضرت را خیر مقدم گوید،یک انجمن تاریخی ست کہ با شتر اک مکاتیب خیانی اسلامی در پرتو دین مبین اسلام استقلال کشور و آزادی وجدان و فکر وعمل را ہدف خود قرار دادہ و در راہ استخلاص این مملکت دوش بدوش سائر احزاب سالہایٔ متمادی فداکاری و مبارزہ نمودہ، و پس از استقلال ہم برائے موفقیت قانون اساسی جمہوری و بسط وسائل ترقی و پیش رفت عمومی سہمے وافر می داشتہ است این جمعیت با شعبہاء کثیرہ خود کہ درشہرستانہایٔ کشور دائر کردہ ساعی است کہ بمسلمانان ہند راہ دیانت وامانت و حفاظت و ترقی مآثر و علوم دینیہ را نشان بدہد۔ و برائے این مقصد عظیم تعلیمی مکاتب و مدارس در قریٰ و نقاط پس ماندہ بر پا نمودہ است و اخبارات ور سائل جاری کردہ - وباللہ التوفیق ولہ الحمد ۔
باین اظہارات محقرانہ وچا کرانہ بہ حضور بندگان اعلیٰ حضرت ہمایون شہنشاہ ایران دعا می کنیم۔
روابط دوستانہ ہند و ایران ہمیشہ جاویدان، دوستی این دو کشور پائندہ بماند۔زندہ باد شاہنشاہ عظیم الشان ایران۔
اعضاء جمعیت علمائے ہند
4؍ رجب 1375ھ، مطابق 17؍ فروری1956ء۔
بمقام کانسٹی ٹیوشن کلب نئی دہلی۔(روزنامہ الجمعیۃ،19؍ فروری 1956ء)
سپاس نامہ کا اردو ترجمہ
بخدمت اعلیٰ حضرت ہمایوں شہنشاہ ایران!
اعلیٰ حضرت شہنشاہ ایران! خوشا بخت و خرم روزگار کہ آج ہم اس ملک کے شاہنشاہ ذی وقار کا استقبال کر رہے ہیں، جس سے ہمارا تعلق تاریخ کے عہد قدیم سے ہے۔
کشور مبارک ایران !ہمارا پڑوسی ہی نہیں؛بلکہ نسلا ہندستان کے بہت سے قبائل کا رشتہ دار اور تہذیب و ثقافت کے لحاظ سے ہمارے بزم جہاں آرا کا ہم نشین باکمال ہے، جس کے فیض صحبت سے ہمارے دامن پر ہوئے۔
تفسیر، حدیث، فقہ اور کلام میں، رازی، طوسی، زمخشری اور بیضاوی۔ تصوف میں غزالی، عطار، سنائی، رومی اور سہروردی۔ اخلاق وپند و نصائح میں سعدی، نصیر الدین طوسی۔ ادبیات میں فردوسی، حافظ، انوری، عربی، آملی، صائب، خاقانی، قاآنی۔ طب میں بو علی سینا، محمد بن زکریا، رازی اورحکیم فتح اللہ شیرازی وغیرہ وغیرہ باکمال اساتذہ، مشائخ،، علما، فضلا، ادبا اور شعرا کے کمالات، جس طرح اہل ہند کے اخلاق و نفسیات پر اثر انداز ہوئے، اور ہماری تہذیب و ثقافت کے آبگینے جس طرح ان کی تابانیوں سے درخشاں ہو گئے، وہ آفتاب نیم روز کی طرح ایک نمایاں حقیقت ہے۔
سلطنت مغلیہ -جس کے ترقی یافتہ آثار و مآثرآج بھی ہندستان کی حسین پیشانی پر موتیوںکی طرح چمک رہے ہیں- وہ ایران کی رہین منت تھی۔ اس نے ایران سے رشتہ مضبوط کر کے نہ صرف پر تکلف معاشرت اور آرائش و زیبائش کے لیے ایران کے خوب صورت تحفے پیش کیے؛ بلکہ جس طرح ہمارے فن تعمیر میں ایران کی نازک خیالیاں سموئیں، جس طرح ہمارے فواکہات وملبوسات اور ما کولات و مشروبات میں ایرانی ذوق کی آمیزش کی، اسی طرح ہمارے مرغزاروں، اور کشت زاروں کو لالہ وگل، اور سنبل و شمشاد سے آراستہ کیا؛ انتہایہ کہ ہمارے چمن زاروں کو بلبل و عندلیب کے شیریں اور وجد آفریں نغموں سے طرب انگیز بنایا۔
گلشن ایران کے کتنے ہی غنچے تھے ، جوہندستان آکر چٹخے اور اس مردم خیز زمین کے کتنے ہی نونہال تھے، جو ہندستان پہنچ کر آسمان سیاست کے چاند تارے بنے۔ یہی وہ تعلقات ہیں، جو آج زندہ ہورہے ہیں۔ یہی وہ رشتے ہیں، جن کو جوڑ کر محبت اور دوستی کے پرانے نقشہ میں نیا رنگ بھرا جارہا ہے۔
آج آپ کی تشریف آوری بے گانوں میں نہیں؛ بلکہ یگانوں میں ہے، اور محفل نا آشا نہیں؛ بلکہ محل آشناہے، جس میں تشنہ کامان الفت کو دوبارہ سیراب کیا جارہاہے، اور اس بناپر یقین ہے کہ آداب شاہانہ کی بجا آوری میں جوکچھ ہماری کوتاہیاں ہیں، وہ نظر عفو واغماض سے نوازی جائیں گی۔
مہمان محترم!ہمارا وطن عزیز جو آپ کی تشریف آوری کا تاریخی فخر حاصل کر رہا ہے، وہ ایک گل دستہ ہے، جس میں مختلف مذاہب اور مختلف رنگ ونسل کے پھول اپنی شگفتگی اور دل آویزی کی بہار دکھلا رہے ہیں، جس کی شیرازہ بندی ایک ایسے سیکولر دستور حکومت سے کی گئی ہے، جو ہر ایک تہذیب و ثقافت کو آزادی کی ضمانت دیتے ہوئے نشوونماپانے اور پھولنے پھلنے کا موقع دے رہا ہے، جس کی حفاظت و تربیت اُس ’’جواہر‘‘ گراںمایہ کے سپر د ہے، جو اپنی ہمدرد فطرت، مساوات پسندی اور عدل و انصاف کے باعث صرف وطن عزیزہی کا محبوب رہ نما نہیں ہے؛بلکہ اس کی حسن سیاست، عقل و دانش، اور امن پسندی نے اس کوبین الاقوامی سیات کا ہیرو اور کمزورو بے سہارا قوموں کا پشت پناہ بنا دیا ہے۔
وطن عزیز کا زعیم اعظم، مہاتما گاندھی کا جانشین یہی ’’جواہر لال نہرو‘‘ ہے، جس کے فہم و تدبر اور ہمت و جرأت کے سایہ میں ہندستان نے سفر آزادی کی آخری منزلیں طے کیں اور آزادی کے بعد صرف آٹھ سال کے عرص میں سیکڑوں رکاوٹوں کے ہوتے ہوئے ترقی کی اس منزل پر پہنچ گیا ہے کہ آج پورا ایشیا اس کی عظمت پر نازاں ہے اور دنیا کی با سطوت و باجبروت قومیں اس کو نظر اٹھا اٹھا کر دیکھ رہی ہیں۔
مہمان محترم! وطن عزیز کو ایسے رہ نماؤں پر ناز ہے، جن کا ناخن تدبیر جس طرح سیاست کی الجھی ہوئی گتھیوں کو سلجھاتا ہے، وہ علوم قدیم و جدید کے پیچیدہ معموں کو بھی اس طرح حل کرتا ہے۔ وہ ایک طرف عزم و استقلال، ایثار و استقامت کے پیکر ہیں، تو دوسری طرف دریائے علم کے بہترین شناور، حضرت مولانا ابوالکلام آزادمد ظلہ العالی کی معروف شخصیت ایسے رہ نماؤں کی بہترین مثال ہے، جن کے علوم و معارف سے حکومت ہند بھی فیض یاب ہو رہی ہے اور حکومت کے علمی ادارے بھی، جنھوں نے ہندستان کی آزادی سے پہلے اور آزادی کے بعد اس بلند رہ نمائی کا ثبوت دیا ہے کہ دنیائے علم و تدبراس پر جس قدر ناز کرے؛ کم ہے۔
مہمان عالی جاہ! وطن عزیز کے وسیع دامن ان شاہ پاروں سے مالامال ہیں، جوایک طرف زہد و تقویٰ اور مکارم اخلاق میں نمونۂ سلف ہیں، تو دوسری جانب مقتضیات وطن کے بہترین نباض، ترقی ملک ملت کی شاہ راہوں پر ان کے قدم نہایت چست، وطنی اور قومی تحریکات کے لیے ان کے دماغ روشن اور حوصلے بلند۔
شیخ الاسلام حضرت مولانا سیدحسین احمد صاحب مدنی دامت برکاتہم کی قابل فخرشخصیت ایسے علما کی اعلیٰ مثال ہے، جن کی مجاہدانہ زندگی تاریخی آزادی کا روشن باب ہے۔
فرماں روائے ایران! جمعیت علمائے ہند -جو اس وقت خیرمقدم کا خوش گوار فرض انجام دے رہی ہے- وہ مسلمانان ہند کی مشترک تاریخی جماعت ہے، جس نے اسلام کی سچی تعلیم کو مشعل راہ بنا کر حریت وطن، حریت، فکر، آزادیِ بیان اور آزادی ضمیر کو نصب العین قرار دیا۔ استخلاص وطن کی طویل جد و جہد میں دوسری قوموں اور آزادی خواہ جماعتوں کے دوش بدوش سالہا سال تک عظیم الشان جانی ومالی قربانیاں پیش کیں اور جب سے مادر وطن نے بیرونی اقتدار سے نجات پائی ہے، عوام میں جمہوری مذاق پیدا کرنے، جمہوری نظام حکومت کو زیادہ سے زیادہ کامیاب بنانے اور ملک کے ترقی پذیر عناصر کی تائید وحمایت کے لیے اس کے تمام ذرائع اور وسائل وقف ہیں، ساتھ ہی ساتھ ملک کے طول و عرض میں پھیلی ہوئی بے شمار شاخوں کے ذریعہ وہ مسلمانوں میں ایسی روح اور ایسا اعلیٰ کردارپیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جو دیانت و امانت، تہذیب و ثقافت اور مذہبی علوم کی حفاظت و ترقی کا ضامن بن سکے۔ اور اس مقصد عظیم کے لیے وہ ہندیونین میں بنیادی مذہبی تعلیم کا نظام مستحکم اوراس کی اشاعت کے لیے؛ بالخصوص پس ماندہ دیہات و قصبات میں دینی مکاتب کا وسیع سلسلہ قائم کر رہی ہے۔
وباللہ التوفیق و منہ الاستعان۔
ہم یہ چند جملے خدمت شاہانہ میں پیش کرتے ہوئے تشریف آوری پر مسرتوں کے شاداب گل دستے دوبارہ نذر کر رہے ہیں اور دعا گو ہیں: روابط ہند و ایران زندہ باد و پایندہ باد۔
ہم ہیں اراکین جمعیت علمائے ہند
بتاریخ 4؍ رجب 1375ھ، مطابق 17؍ فروری1956ء۔
بمقام کانسٹی ٹیوشن کلب نئی دہلی۔(روزنامہ الجمعیۃ،19؍ فروری 1956ء)
سفیر ایران کو الوداعی پارٹی
11؍ جنوری 1958ء کو دہلی کے شہریوں اور جمعیت علمائے ہند کی جانب سے سفیر ایران جناب علی اصغر حکمت کے اعزاز میں الود اعی پارٹی دی گئی، جس میں دلی کے سر کردہ حضرات نے شرکت کی۔ اس موقع پر دہلی کے شہریوں اور جمعیت علمائے ہند کی جانب سے سپاس نامے پڑھے گئے، جس کے جواب میں جناب علی اصغر حکمت نے شکریہ ادا کیا اور خصوصیت کے ساتھ جمعیت علمائے ہند کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ اس نے ایک ایسے دور میں -جب کہ اقلیتوں کے مسائل بہت الجھے ہوئے تھے- ہندستان کے مسلمانوں کی صحیح رہ نمائی کی۔ دلی کے شہریوں کی جانب سے لالہ کرپا نرائن سینئر وائس پریسیڈنٹ ولی میونسپل کمیٹی نے انگریزی میں اور جمعیت علمائے ہند کی جانب سے حضرت مولانا مفتی عتیق الرحمان صاحبؒ نے فارسی میں سپاس نامہ پڑھا۔
جلسہ کی صدارت جناب ڈاکٹر تارا چند سابق سفیر ہند متعینہ ایران نے کی۔ ڈاکٹر تارا چند نے اپنی تقریر میں جناب علی اصغر حکمت کی علم دوستی اور ادب پر وری کی پرزور الفاظ میں تعریف کی۔اور آخر میں اپنی نیک خواہشات کا اظہار کیا۔ اور امید ظاہر کی کہ ان کے ایران پہنچنے کے بعد بھی ہندستان کے ساتھ اپنی دل چسپی کو جاری رکھیںگے۔
سفیر ایران کا خطاب
سفیر ایران علی اصغر حکمت نے اپنے اس پر تپاک خیر مقدم کا شکریہ ادا کرتے ہوئے فارسی کا ایک شعر پڑھا، جس کا مطلب یہ تھا کہ محبت صرف ایک ہی طرف سے اور دو سری جانب درد سر نہیں رہا ہے ؛بلکہ محبت دونوں طرف سے رہی۔ ہند ستان اور ایران کے تعلقات ماقبل تاریخ سے ہیں اور یہ تعلقات اسکندر اعظم کے بعد سے اور زیادہ بڑھ گئے ہیں۔ دریائے سندھ و گنگا کے قریب کے رہنے والوں کا تعلق خاص ایران سے رہا ہے اور وہ ایک دوسرے کی محبت میں جکڑے ہوئے ہیں، میں اپنے تأثرات کا اظہار اپنی دو نظموں سے کرتا ہوں، جس کا شری گوپی ناتھ امن کا لکھا ہوا منظوم ترجمہ میرے دوست مضطرککوڑ وی پڑھیںگے۔
اس کے بعد جناب علی اصغر حکمت نے دلی، دلی یونی ورسٹی اور ہندستان سے متعلق اپنی نظمیں پڑھیں اور ان کا بہت اچھا ترجمہ (شری گوپی ناتھ امن کا) ترجمہ مضطرککوڑ وی نے پڑھا۔اس کے بعد اپنی تقریر کا سلسلہ ختم کرتے ہوئے سفیر ایران نے ہندستان کے لیے اپنی بہترین خواہشات کا اظہار کیا،اور کہا کہ خدا سے میری دعا ہے کہ آپ کا ملک زیادہ سے زیادہ ترقی کرے۔ موصوف نے فرمایا کہ واقعی ہندستان ایک ایسا ملک ہے، جو حقیقی معنوں میں امن عالم کا خواہاں ہے۔ سفیر موصوف نے اس بات کا بھی یقین دلایا کہ وہ ہندستان سے جانے کے بعد بھی ہندستان کی یاد کو اپنے دل میں تازہ رکھیں گے۔ موصوف نے نائب صدر دلی میونسپل کمیٹی کے استقبالیہ کا اور جمعیت علمائے ہند کی جانب سے پیش کیے گئے سپاس نامہ کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ میں جمعیت علمائے ہند کا مشکور ہوں کہ اس نے میرا خیر مقدم کیا۔ موصوف نے فرمایا کہ اس نازک دور میں-جب کہ اقلیتوں کا مسئلہ اور دینیات کا مسئلہ بہت دشوار تھا- جمعیت علمائے ہند کی فاضل رہ نمائی میں ہندستان کے مسلمانوں نے صحیح راہ اختیار کی۔ میں اس موقع پر اپنے دوست مولانامحمد حفظ الرحمان کا بھی تذکرہ کرنا چاہتا ہوں، جن کا اس ادارہ میں بڑا حصہ رہا ہے۔
باوا کھبیرسنگھ نے سفیر ایران اور حاضرین کا شکریہ ادا کیا ، جس کے بعد یہ محفل برخواست ہوئی۔(روزنامہ الجمعیۃ،13؍ جنوری 1958ء)
سپاس نامہ کا اردو ترجمہ
سفیر ایران جناب علی اصغر حکمت کے اعزاز میں منعقد الوداعی تقریب میں جمعیت علمائے ہند کی جانب سے حضرت مولانا مفتی عتیق الرحمان صاحبؒ نے فارسی میں جو سپاس نامہ پڑھا، اس کا متن درج ذیل ہے:
پیشگاہ جناب محترم خورشید تابان سبہر دانش و خبرت، آقای علی اصغر حکمت، سفیر کبیر معظم دولت شاہنشاہی ایران( زادت معالیہ)
(از :اراکین جمعیت علمائے ہند)
جناب آقای سفیر کبیر معظم دولت شاہنشاہی ایران!
اکنون کہ دوران مأموریت جناب عالی خاتمہ می یابد و بسلامتی دیار ما را ترک می فرمائید، ایں جانب از طرف خود و بہ نمایندگی از جمعیت علمائے ہند و تمام مسلمانان ہند، بر خود لازم می دانم کہ با قلبی مملو از مہر و محبت و احساسات صمیمانہ، تودیع بجناب محترم عالی عرض نمایم و از خداوند متعال مسئلت می نمائیم کہ بسلامت روی و باز آئی۔
جناب عالی! تودیع و خداحافظی گفتن فریضۂ ایست ناراحت کنندہ و نارضایت بخش؛ ولے چون بچشم ماست کہ حضرت والا معنی سفارت را درک کردہ و بدرستی راستی و بوجہ احسن وظیفہ پُرارزش سفارت را انجام دادہ اند، این فریضہ تلخ ما بہ جذبات تبریک و تہنیت مملو شدہ، خوشگوار می گردد۔ شکراللہ سعیہ۔ زبان ما قاصر است کہ بتوانیم مقام ارجمند و شخصیت محبوب آن دانشمند بزرگ را تعریف و توصیف نمودہ، از اقدامات برجستہ و مساعی جمیلہ آنجناب کہ برای تحکیم روابط بین ہند و ایران مبذول فرمودہ اند، چیزے عرض نمائیم۔ ہمین قدر کافی است کہ بگوئیم آن دانشمند معظم در ظرف مدت کوتاہ اقامت خود در این کشور، توانستید با نیروی فضل و دانش و کیاست و درایت خویش، مہر و علاقہ دیرینہ را کہ قرنہا بین ہند و ایران وجود داشت، بیش از پیش برپایۂ محکم و خلل ناپذیری ٔ استوار ، واساس رابطہ صوری و معنوی ہر دو مملکت را محکم تر گردانیدہ آید۔
شکی نیست کہ با وضع آشفتہ دنیاء امروز و مشکلاتیکہ در سیاست جہان وجود دارد، تنہا ارادہ و فعالیت سیاست داران و دانشمندان بزرگ مثل جناب عالی می تواند ابرہای تاریکی را کہ فضای عالم را متزلزل ساختہ است از بیں بردہ و قلوب ملل جہان را از انوار پاک و مہذب خود روشن سازد۔
سفیر معظم! ما مردم ہند با تمام ملل جہان رابطہ دوستی و محبت داشتہ، ترقی و تعالی ہر ملت و کشورے را باکمال صداقت و ایمان می طلبیم۔ جناب آقای نہرو نخست وزیر ہند،این مطلب را بارفتار شرافت مندانہ و سیاست صلح جویانہ خود بہ ثبوت رسانیدہ است کہ ما ہندیان تاچہ قدرزیادہ بہ پیش رفتی۔ و ارتقای ملل جہاں را می خواہیم۔علاوہ بر دوستی و مودت ما با ایران رابطہ خاص داریم کہ آن را بہ نام رابطۂ تہذیبی و فرہنگی یاد می کنیم، و ہر دو مملکت از دیرزمان ۔ بہ این رشتہ منسلک می یابند۔
ترددے نیست کہ ما ہندیان از خزانہ ہای فرہنگی و تمدن ایران خود را بہرہ ور ساختہ ائم۔ اگر از یک طرف تشنگان ادب و فرہنگ در ہند خود را از سرچشمہ فیض و سلسبیل پاک فردوسیؔ، حافظؔ و سعدیؔ سیراب کردہ ۔ طرف دیگر نیز باآیدہا و نظریات دقیق و عمیق رومیؔ، غزالیؔ و سعدیؔ یاری و کمک خواستہ اند۔ خلاصہ اینکہ در ہر شعب زندگی ہندیان، رونقے او تہذیب و تمدن ایران نمایان است و جلوہ افروز۔
سفیر محترم و معظم! این امر بسیار باعث صد تحسین و مبارک است کہ جناب عالی درین مدت کوتاہ اقامت خود چنانکہ سعی بلیغ فرمودہ اید کہ در نقوش تازۂ تعمیر ہند نو ۔روابط ہندو ایران تابان باشند و درخشان ۔ ہمچنان اقدام عجیب، مستحق صد تحسین، فرمودہ اید کہ آثار روابط قدیم ہند و ایران کہ در احجار بوسیدہ ٔ زنگ آلود شدہ است و پنہان گشتہ، باز جلوہ فرمایند۔ کتاب تألیف حضرت عالی بہ نام ’’نقوش پارسی بر احجار ہند‘‘ در حقیقت نشان می دہد کہ چگونہ قلب پاک و صاف جناب عالی مملو است ازین جذبات فاضلانہ بندگانہ واجب الاحترام۔
آقای محترم! جمعیت علمائے ہند کہ مسلمانان ہند را نمائندگی می نماید، بواسطہ اینکہ ہمیشہ مورد الطاف خصوصی بودہ است پیش کردن ہدیۂ تشکر و امتنان را فریضہ خود می شناسد ۔ و ممنون است کہ در اجلاس ہژدہم این جمعیت (در سال ہزار و نو صد پنجاہ و پنج(1955ء ) در کلکتہ) زحمت شرکت برداشتہ، جمیع مسلمانان ہند را بواسطہ جمعیت علمائے ہند پیام ’’واعتصموا بحبل اللہ جمیعاً، بخطابہ دانشمندانہ خود چناں دادہ کہ از پیرایۂ عمل آراستہ بود۔ و بنکتہایٔ عالمانہ و سیاستمندانہ پیراستہ۔
فجزاکم اللہ احسن الجزاء۔
ای واجب الاحترام مہمان عزیز! حقیقتاً ما خیلے خجلت می کشیم کہ بواسطہ کوتاہی وقت و برنابودی الفاظہایٔ متناسب نمی توانیم بطور اکمل ہدیہ تشکر تقدیم نمائیم۔ بجزاینکہ از جذبات صمیمہ، زبان دعا گویٔ را باز کنیم و بگوئیم :کان اللہ معکم حیثما کنتم۔
اعضاء جمعیت علمائے ہند
20؍ جمادی الثانیہ1377ھ۔ 11؍جنوری 1958ء
بمقام: دہلی پبلک لائبریری، دہلی۔ (ریکارڈروم)
ترجمہ متن سپاس نامہ
ہزایکس لینسی سفیر کبیر ایران! آج ہم آپ کو رخصت کرنے کا ایک فرض انجام دے رہے ہیں، یہ ایک ناخوشگوار فرض ہے؛ مگر اس کا ایک پہلو خوش گوار بھی ہے، جب ہم آپ دورسفارت پر نظر ڈال کر محسوس کرتے ہیں کہ آپ نے سفارت عظمیٰ کے منشا کو صحیح طور پر سمجھااور اس کو دانش مندی و بہترین سلیقہ اور بہت ہی حسین اسلوب سے انجام دیا، تو ہمارے حقیقت شناس جذبات مبارک باد کے لیے مضطرب ہو جاتے ہیں اور رخصت و تودیعہ کا تلخ فریضہ، تہنیت و تبریک کا خوشگوار فرض بن جاتا ہے۔
سفیر محترم! ہمارے وطن عزیز کے تعلقات تمام ہی پڑوسی ممالک سے بہت قدیم ہیں، اور ملک کے مدبر اور انسانیت نواز رہ نما :پنڈت نہرو وزیر اعظم حکومت ہند کی امن پسند اور انصاف پر ور شریفانہ پالیسی نے ان پرانے تعلقات میں مخلصانہ دوستی، خیر سگالی اور خیر اندیشی کے جو اہر درخشاں کر دیے ہیں؛ لیکن ایران سے ہمارا رشتہ صرف پڑوسی اور دوستانہ خیر اندیشی ہی کا رشتہ نہیں؛ بلکہ یہاں تہذیب و ثقافت کے اشتراک کا رشتہ بھی نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔
یہ ناقابل انکار حقیقت ہے کہ ہماری تہذیب نے مخزن ایران سے بہت کچھ لیا ہے۔ جس طرح فردوسی ،حافظ، عرفی کے سرچشموںسے ہمارا ادب سیراب ہوا ہے، اسی طرح ہماری ثقافت کے نظریاتی حصہ نے بھی بہت کچھ غزالی، رومی اور سعدی کے نظریات سے پرورش پائی ہے۔
سفیر معظم! ہمیں مسرت ہے اور ہم آپ کو مبارک باد دیتے ہیں کہ آپ نے ایران کے ان پرائے تعلقات کا نہ صرف احترام کیا؛ بلکہ آپ نے حسن سلیقہ اور رسا طبیعت سے ان کو آگے بڑھانے اور ترقی دینے کی کامیاب کوشش کی۔ آپ نے جس طرح ہند کی تعمیر جدید میں ایرانی روابط کے نقوش کو نمایاں کرنے کی کوشش کی، اسی طرح آپ نے ان پر انے نقوش کو ابھارنے کی بھی کامیاب جدوجہد کی،جو ہندستان کے مختلف گوشوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔آپ کی قابل قدر تصنیف ’’ نقوش پارسی بر امجادہند‘‘ جس طرح آپ کے عالمانہ تفحص،اور فاضلانہ تحقیق کی غیر فانی دستاویز ہے، اسی طرح وہ اس بات کی سند ہے کہ آپ کے دل و دماغ پر اپنے وطن عزیز کی عظمت کا سکہ جما ہوا ہے، اور آپ کس طرح ہند و ایران کے روابط قدیم کو زندہ و جا وید بنانا چاہتے ہیں۔
ایک ایسی مملکت کے سفیر کی حیثیت سے-جس سے وطن عزیز کے تعلقات خیر سگالی کی بنیاد پر محبانہ اور دوستانہ ہیں- آپ کی یہ جد و جہد بہت مبارک، بہت مسعود ، ناقابل فراموش اور قابل صد تحسین ہے۔
سفیر کبیر! جمعیت علمائے ہند-جو بھارت کے مسلمانوں کی نمائندہ جماعت ہے-وہ ممنون احسان ہے کہ آپ نے اس کو ہمیشہ خصوصی تو جہات سے نوازا۔ اس کے اٹھارھویںاجلاس عام منعقدہ کلکتہ1954ء میں شرکت فرما کر اپنے خطاب کے ذریعہ تمام مسلمانان ہند کوواعتصموا بحبل اللہ جمیعا کا نہ صرف پیغام پہنچایا؛بلکہ اپنے عمل کے ذریعہ سے اس کا ایک نمونہ بھی پیش کیا۔ فجزاکم اللہ احسن الجزاء۔
رخصت ہونے والے واجب الاحترام سحبان عزیز! ہم اس تنگ وقت اور چند سطروں میں آپ کے محامدپیش نہیں کر سکتے، اور افسوس ہے کہ آپ کی شایان شان ہدیہ پیش کرنے سے بھی قاصر ہیں؛ ہاں! قدردانی، محبت اور دعا گوئی کے گہرے جذبات کی پر اخلاص نذر پیش کر رہے ہیں، اور ہمارے دلوں کی یہی صدا ہے: کان اللہ معکم حیثما کنتم۔
(روزنامہ الجمعیۃ،13؍ جنوری 1958ء)
سفیر ایران کا اظہار ممنون
سفیر کبیر ایران جناب علی اصغر حکمت نے حضرت محمد مولانا حفظ الرحمان صاحب کے نام اپنے مراسلہ میں جمعیت علما کی طرف سے پیش کیے جانے والے سپاس نامہ کا حسب ذیل الفاظ میں شکر یہ ادا کیا ہے:
با سمہ تعالیٰ۔بخدمت جناب مولانامحمد حفظ الرحمان، دبیر کامل جمعیت علمائے ہند ۔
دوست دانشمند معظم! خطا بہ تودیعیہ را کہ لطفا جہت ملاحظہ ارادت مند ارسال فرمودہ بودند، زیب وصول بخشید، واز الطاف ا ولیائی جمعیت علمائے ہند با لخاصہ آں دانشمند معظم کمال تشکر و امتنان حاصل گردید۔
اکنوںکہ پس از دو روز دیگرعازم وطن است، لازم میدانم یک بار دیگر مراتب سپاس و تشکرات قلبی خود را از مراحم و محبت بائے بے شائبہ دوستان و برادران مسلمانان ہندی خود کہ در تمام ملت اقامت چہار سالہ در ہند از اں برخوردار بودہ ام توسط جناب عالی تقدیم محضر فیض گستر ایشاں بنمایم و امید دارم تحت سرپرستی و ہدایت قائدین و رہبران ان عالم و دور اندیش قاطبہ مسلمانان ہند بیش از پیش در راہ خیر و سعادت دوعالم توفیق کامل حاصل فرمایند۔ و السلام علیکم۔
وانا عبدکم الودود: علی اصغر حکمت
ترجمہ
بخدمت جناب مولانامحمد حفظ الرحمان صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند۔ آپ نے جوالوداعی مراسلہ ارسال فرمایا ہے، موصول ہوا۔ اکابرجمعیت علمائے ہند کی مہربانیوں اور خاص طور پر آپ جیسے عظیم دانش مند شخص کے الطاف کا میں بے انتہا ممنون ہوں۔
اب جب کہ دو دن کے بعد میں وطن جانے کا ارادہ کر رہا ہوں، یہ ضروری سمجھتا ہوں کہ ایک بار اور آپ کے توسط سے اپنے تمام ہندستانی دوستوں اور مسلمان بھائیوں کی ان تمام محبتوں اور مہر بانیوں کا دلی شکریہ ادا کردوں،جن سے میں اپنی چہار سالہ مدت قیام کے دوران بہرہ مند ہوتا رہا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ قائدین و رہبران عالم اور دور اندیش مسلمان لیڈروں کی زیر سر رستی وہدایت یہ تمام حضرات دو عالم کی توفیق کامل اور خیر و سعادت حاصل کریں گے۔ والسلام علیکم۔
آپ کا مخلص دوست : علی اصغر حکمت۔ (روزنامہ الجمعیۃ،13؍ جنوری 1958ء)
جنرل آقائی کو مبارک باد
جدید وقدیم علوم کے مشہور ایرانی ماہر اور ایرانی فوج کے مشہور جنرل آقای حسین علی رزم آرا کو، ان کے ایجادہ کردہ قبلہ نمای رزم آرا پر حضرت مجاہد ملتؒ نے 15؍ جولائی 1959ء کو مبارک باد دیتے ہوئے کہا کہ اس اہم ایجاد سے کم علم نمازیوں کو سمت قبلہ معلوم کرنا آسان ہوگیا ہے۔
(روزنامہ الجمعیۃ،17؍ جولائی 1959ء)
سابق وزیر خارجہ ایران کا پیغام
عید سعید اور سال نو کے موقع پر جناب محترم علی اصغر حکمت صاحب سابق وزیر خارجہ حکومت ایران نے حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحبؒ جنرل سکریٹری جمعیت علمائے ہند کے نام حسب ذیل پیغام مسرت ارسال کرکے عید کی مبارک باد پیش کی :
مقدم عید سعید و سال جدید را بدین رباعی کہ حاکی از حساسات صمیمانہ گوئندہ است،شادباش عرض می کند۔ ؎
ہر جا رویم روی دل ماست سوی تو
ہست آرزویِ ما ہمہ دیدارِ روی تو
مہرِ تو در وجود سرشتند در ازل
از ہر گُلے کہ رُست شنیدیم بوی تو
حضرت مولانامحمد حفظ الرحمان صاحبؒنے اس مکرمت نامہ کا جواب حسب ذیل رباعی میں پیش کیا ہے، جو ان کی خدمت میں بھیج دیاگیا ہے:
صد ہزار اں تشکر وامتنان بہ عطاء رباعی در مقدم عید سعید و سال جدید، این فقیر ہم مودت قلبی وا حساسات خلوص پیش کرد و سلام تحیۃ با اشتیاق ملاقات عرض رسان است۔ ؎
از تن اگر چہ دور می در قلب جا گزینی
چشم اگر چہ حرماں لیکن تو دل نشینی
اے صاحب فتوت یاد تو حرز جانم
اے حکمت یمانی اے رفعت یمینی
(روزنامہ الجمعیۃ،20؍ جنوری 1960ء)
ایران زلزلہ متأثرین سے اظہار ہمدردی
6؍ ستمبر1962ء کو مشرقی ایران کے علاقے میں واقع شہر اغدیرا اور اس کے نواح میں شدیدزلزلہ آیا۔
7؍ ستمبر1962ء کوعمائدین جمعیت: حضرت مولانا مفتی عتیق الرحمان صاحب عثمانیؒ، حضرت مولانا سید محمد میاں صاحبؒ،مولانا محمد وحید قاسمی صاحبؒ اور مولانا سید انیس الحسن صاحبؒ نے ایران کے سفیر محترم ہز ایکسی لینسی اے ایچ مسعود انصاری صاحب سے ملاقات کی اورپیش آمدہ حوادث اور تباہی پر اپنے گہرے تأثرات کا اظہار کیا۔ محترم سفیر موصوف نے عمائدین جمعیت کے اس تعلق خاطر اور خلوص و احساس کا شکریہ ادا کیا۔
مرکزی جمعیت کے ایکٹنگ جنرل سکریٹری حضرت مولانا سید محمد میاں صاحبؒ نے آج ہی شہنشاہ ایران اور وزیر اعظم کو ایک برقیہ بھی ارسال کیا ہے، جس میں جمعیت اور مسلمانان ہند کی جانب سے تأثر اور ہمدردی کا اظہار کیا گیا ۔
صدر محترم کی اپیل
بعد ازاں صدر محترم جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا سید فخر الدین احمد صاحبؒ نے ایران کے مصیبت زدگان کی امداد کے لیے اہل خیر حضرات سے مندرجہ یل اپیل کی، جس میں کہا کہ ایران میں جو لرزہ خیززلزلہ آیا ،ہے جس میں پوری پوری بستیاں تباہ ہوگئی ہیں، مرنے والوں کی تعداد بیس ہزار تک بتائی جاتی ہے اور زخمیوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے، یقینا ایک عظیم اور دردناک حادثہ ہے، جس نے پوری انسانیت کواپنی طرف متوجہ کر لیا ہے۔ مصیبت زدگان کی امداد انسانی اور اخلاقی فرض ہے، جس کو اسلام میں خاص اہمیت دی گئی ہے، اور ایسے ہی موقع پر صدقہ کو صدق ایمان کی دلیل قرار دیا گیا ہے، جو رحمان کی رحمتیں حاصل کرتا ہے اور غضب خداوندی سے محفوظ رکھتا۔ہندستان کے باشندے؛بالخصوص ہندستانی مسلمان ایران جیسے ہر اس ملک سے ملکی روابط کے علاوہ نسلی اور مذہبی روابط بھی رکھتے ہیں۔
آج جب کہ تمام دنیا ایران کے ان مصیبت زدہ انسانوں کی امداد کی طرف متوجہ ہے؛ مسلمانان ہند کا خاص فرض ہے کہ وہ عالی حوصلگی کے ساتھ اس امداد میںحصہ لیں، جو صرف مصیبت زدوں کی امداد نہیں؛ بلکہ خود اپنی اداد ہے۔
مَّن ذَا الَّذِی یُقْرِضُ اللَّہَ قَرْضًا حَسَنًا فَیُضَاعِفَہُ لَہُ أَضْعَافًا کَثِیرَۃً (البقرۃ ،245)
ایرانی سفارت خانہ نے نیشنل اینڈ گرینڈ لیز بینک لائڈس برانچ پارلیمنٹ اسٹریٹ نئی دہلی میں( اکاؤنٹ نمبر 65106) امدادی فنڈ کھول د یا ہے۔ جو احباب اس امدا د اور کار خیر میں حصہ لینا چاہیں، اپنی رقوم براہ راست بنک مذکور’’ایران امداد فنڈ‘‘ کے نام سے اکاؤنٹ نمبر 65106 میں بھیج دیں۔(روزنامہ الجمعیۃ،9؍ستمبر1962ء)
ایرانی زلزلہ متأثرین کے ساتھ جمعیت علما کی اظہار ہمدردی
جمعیت علما کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس 8 ؍ ستمبر 1962 ء کو منعقد ہوا، جس کی تجویز نمبر (۱۱) میں ایران کے قیامت خیز زلزلہ متأثرین سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی:
’’مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند ان دردناک حوادث پر اپنے گہرے تأثر اور قلق کا اظہار کرتی ہے، جو ایران کے حالیہ قیامت خیز زلزلہ کے باعث پیش آئے اور جنھوں نے آناًفاناً میں ہزاروں انسانی جانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیااور سیکڑوں بستیوں کو یکایک کھنڈ رات میں تبدیل کر دیا۔ اتنے بڑے پیمانے پر انسانی آبادی کی تباہی اور بربادی یقینا ً پورے عالم انسانیت کے لیے قلق اور اضطراب کا موجب ہے۔
مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند ان تمام مصیبت زدگان کے ساتھ- جن کی زندگی ان حوادث کا شکار ہوئی- دلی ہمدردی رکھتی ہے اور ان کی فوری امداد،آبادکاری اور دست گیری کو ایک اہم انسانی اور اخلاقی فریضہ سمجھتے ہوئے یقین رکھتی ہے کہ حضرت صدر محترم جمعیت علمائے ہند کی اپیل کے مطابق مسلمانان ہند بھی پوری حوصلہ مندی اور فراخ دلی کے ساتھ مصیبت زدگان ایران کی امداد میں حصہ لیں گے۔‘‘
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد دوم، ص؍
ہز ایکس لینسی ڈاکٹر جلال عبدوہ سفیر ایران برائے ہند کا خطاب
جمعیت علمائے ہند کا بائیسواں اجلاس عام15،16،17؍اپریل 1966ء کو منعقد ہوا، جس کے لیے ہز ایکس لینسی ڈاکٹر جلال عبدوہ سفیر ایران برائے ہند نے اپنی نیک خواہشات پیش کرتے ہوئے لکھاکہ:
مجھے یہ جان کر بڑی مسرت ہوئی کہ جمعیت علمائے ہند کا بائیسواں اجلاس بہار کے قدیم تاریخی شہر گیا میں ہو گا۔ مجھے اس بات کا انتہائی افسوس ہے کہ میں اس سیشن میں شرکت سے معذور ہوں؛ لیکن جمعیت علمائے ہند کی کا میابی کا خواہش مند اور اس کے لیے دعا گو ہوں۔ قومی آزادی کے حصول کے لیے ہندستانی عوام کی عظیم جد و جہد سے جو لوگ واقف ہیں اور پہلی جنگ عظیم کے بعد کے ہندستان کے واقعات سے باخبر ہیں، وہ اس سلسلہ میں جمعیت علمائے ہند کے عظیم حصہ سے بھی روشناس ہیں۔ اس سلسلہ میں حکومت ہند کے سابق وزیر تعلیم مولانا ابوالکلامؒ کو ایران کے عوام ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔ یہ میری دلی آرزو ہے کہ جمعیت علمائے ہند دنیا کے عوام میں امن کی تبلیغ کرے اور اپنے اعلیٰ مقاصد میں عظیم کامیابی حاصل کر ے۔ میں خراج عقیدت اور تہنیت پیش کرتا ہوں۔
ایرانی زلزلہ متأثرین سے اظہار ہمدردی
ایران میں زلزلے سے ہوئی زبردست تباہی پر ایرانی سفارت خانہ کے ذریعہ،3؍ ستمبر 1968ء کو شہنشاہ ایران کو برقیہ بھیج کر ہمدردی کا اظہار کیا۔ (روزنامہ الجمعیۃ،5؍ ستمبر1968ء)
بعد ازاں مجلس منتظمہ کے اجلاس منعقدہ:18،19؍ اپریل 1970ء میںایک تجویز تجویزنمبر-۱۴ کے ذریعہ درج ذیل الفاظ میں اپنی ہمدردی کا اظہار کیا:
جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس ترکی، ایران اور فلپائن وغیرہ کے زلزلوں کے سلسلے میں متأثرہ ہزاروں افراد اور خاندانوں سے اظہارہمدردی کرتا ہے، جو اس مصیبت میں مبتلا ہوئے ہیں۔(از کرسی صدارت)
اس کے بعد یکم اگست1970ء کو بھی ناظم عمومی مولانا سید احمد ہاشمی صاحب نے ایران میں آئے زلزلہ میں نقصان اٹھانے والوں سے ہمدردی کا اظہار کرنے کے لیے اسیرانی سفیر متعین ہند کو ایک تار بھیجا ۔ (روزنامہ الجمعیۃ،3؍ اگست 1970ء)
ایران میںامریکی طرز عمل اور ایرانیوں کے طرز عمل کی مذمت
1979ء میں ایران میں ہونے والے اسلامی انقلاب کے بعد ایران اور امریکہ کے تعلقات تلخ ہوگئے۔ اس تلخی کا سب سے بڑا مظہر 4؍نومبر 1979ء کو ایرانی طلبہ گروپ (مسلم طلبہ فالوورز آف امام خمینی) کی طرف سیتہران میں واقع امریکی سفارت خانے پر قبضہ اور 52؍ امریکی شہریوں کو 444 دنوں (تقریباً 14؍ماہ) تک یرغمال بنائے رکھنا تھا۔
اس کی دو بڑی وجوہات تھیں: پہلی، امریکہ نے ایران کے معزول بادشاہ شاہ محمد رضا پہلوی کو پناہ دے دی تھی، جس سے انقلابی رہنما آیت اللہ خمینی کوسخت مخالفت تھی۔ دوسری، ایرانی عوام میں 1953ء میں امریکہ کی جانب سے ایران کی جمہوری حکومت کا تختہ الٹنے اور شاہ کی آمریت بحال کرنے کی مداخلت کا شدید غصہ تھا۔ ایرانی انقلابیوں کے نزدیک امریکی سفارت خانہ ان مداخلتوں اور سازشوں کا مرکز تھا۔
امریکی صدر جمی کارٹر کی انتظامیہ نے یرغمالیوں کو رہا کروانے کی تمام سفارتی کوششیں ناکام ہونے پر فوجی آپریشن کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ 24؍اپریل 1980ء کو ’’آپریشن ایگل کلا‘‘ (Operation Eagle Claw)کے نام سے تہران میں خفیہ فوجی کارروائی کی گئی، لیکن یہ مشن صحرائی طوفان اور ہیلی کاپٹروں کی تکنیکی خرابیوں کے باعث ناکام ہوگیا۔ اس ناکام آپریشن میں 8؍امریکی فوجی ہلاک ہوگئے۔
یہ بحران بالآخر 20؍جنوری 1981ء کو اس وقت ختم ہوا، جب ایران اور امریکہ کے درمیان الجزائر معاہدے کے تحت یرغمالیوں کو رہا کردیا گیا۔ دل چسپ بات یہ ہے کہ ان کی رہائی امریکہ میں نئے صدر رونالڈ ریگن کے حلف اٹھانے کے چند منٹ بعد عمل میں آئی۔
اس بحران نے ایران-امریکہ تعلقات کو شدید طور پر خراب کر دیا، جو آج تک معمول پر نہیں آسکے۔
27؍ اپریل 1980ء کو منعقدمجلس عاملہ نے امریکہ کے اس طرز عمل کو بے حد نا پسندیدہ قرار دیا، جو اس نے ایران کے علاقوں میں فوج اتارکر پیش کیا۔ اسی طرح مجلس عاملہ نے ایران کے اس عمل کو بھی پسندنہیں کیا ، جو اس نے سفارتی قدروں کی پرواہ کیے بغیر وہاں کے لوگوں کو یرغمال بنالیا۔
پھر 28،29؍ اپریل 1980ء کو مجلس منتظمہ کے اجلاس میں ان دونوں رویوں کی مذمت کرتے ہوئے درج ذیل تجویز نمبر-۶ منظور کی:
’’ جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ جلسہ اس صورت حال پر سخت تشویش کا اظہار کرتا ہے، جو ایران میں امریکہ کی فوجی مداخلت کی کوشش سے پیدا ہوگئی ہے۔ یہ کوشش خدا کے فضل سے ناکام رہی؛ لیکن جس انداز سے اور جس پیمانے پر اس فوجی مداخلت کی تیاری کی گئی تھی اور پھر اس تیاری پر جس قدر وقت اور جنگی مہارت صرف کی گئی تھی، اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر پھر امریکہ نے اس طرح کے کسی غیر ذمہ دارا نہ اورمہم جویانہ اقدام کا اعادہ کیا،تو نہ صرف یہ کہ وسط ایشیا کا؛ بلکہ ساری دنیا کاامن تباہ ہو سکتا ہے۔
مجلس منتظمہ ایران میں یرغمالیوں کے مسئلہ کو ایک ایسا مسئلہ تصور کرتی ہے، جو گفت و شنید سے طے کیا جا سکتا ہے۔ یہ جوامریکی سفارت خانہ کے عہدے داروں اور ملازمین کو یرغمال بنایا گیا ہے،مجلس منتظمہ کی رائے میں وہ تمام سفارتی آدا ب واخلاق کے منافی ہے اور ایک غیر انسانی حرکت ہے؛ لیکن اس سے بھی زیادہ غیر انسانی اقدام یہ ہوگا کہ یرغمالیوں کے مسئلہ کو ایران میں فوجی مداخلت کے لیے بہانہ بنا کر امریکہ ایران اور پورے وسط ایشیا پر اپنا اقتدار قائم کرے ۔اس کا نتیجہ یہ ہوسکتا ہے کہ عالم انسانی ایک تباہ کن ایٹمی جنگ کی زد میں آجائے اور ساری دنیا تباہ و برباد ہوجائے۔
مجلس منتظمہ کا یہ جلسہ دنیا میں ہر ایسے تخیل اور اقدام کی مذمت کرتا ہے، جس سے فوجی مداخلت کے ذریعہ آزاد قوموں کی آزادیاںخطرہ میں آتی ہو اور دنیا میں؛ خصوصاً عالم اسلام میں عالم گیر جنگ کے خطرات بڑھتے ہوں۔
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍
ایران و عراق جنگ پر جمعیت علما کا رد عمل
ایران عراق جنگ بیسویں صدی کی طویل ترین اور تباہ کن جنگوں میں شمار ہوتی ہے۔ اسے ’’خلیج فارس کی پہلی جنگ‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ جنگ 22؍ستمبر 1980 ء کوعراق کے حملے سے شروع ہوئی اور تقریباً آٹھ سال تک جاری رہنے کے بعد 20؍اگست 1988ء کو اقوام متحدہ کی قرارداد United Nations Security Council Resolution 598 کے تحت ختم ہوئی۔ اس طویل جنگ نے نہ صرف دونوں ممالک کو شدید انسانی اور معاشی نقصان پہنچایا؛ بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔
اس جنگ کی بنیادی وجوہات میں سرحدی تنازع، ایرانی انقلاب کے اثرات اور علاقائی طاقت کی کشمکش شامل تھیں۔ ایران اور عراق کے درمیان ’’شط العرب‘‘ کے علاقے پر پرانا سرحدی اختلاف موجود تھا۔ 1979ء میں ایران میں آنے والے انقلاب کے بعد خطے کی سیاسی صورت حال بدل گئی اور عراق کو خدشہ ہوا کہ اس انقلاب کے اثرات اس کے اندر بھی پھیل سکتے ہیں۔ اسی پس منظر میں عراق نے ایران پر حملہ کر کے جنگ کا آغاز کیا۔
نتیجے کے اعتبار سے یہ جنگ کسی واضح فاتح کے بغیر ختم ہوئی۔ جنگ بندی کے بعد سرحدیں تقریباً اسی حالت میں بحال ہو گئیں، جو جنگ سے پہلے تھیں، جسے Status Quo کہا جاتا ہے۔ تاہم اس جنگ کی قیمت دونوں ممالک کو بہت بھاری پڑی۔ محتاط اندازوں کے مطابق دونوں طرف سے دس لاکھ سے زیادہ فوجی اور شہری ہلاک، یا زخمی ہوئے، جب کہ اربوں ڈالر کا انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا۔ اس طرح ایران-عراق جنگ نہ صرف انسانی المیے کی ایک بڑی مثال بنی؛ بلکہ اس نے خطے کی سیاسی و معاشی صورت حال کو بھی طویل عرصے تک متأثر کیا۔
یکم اکتوبر1980ء کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں دونوں ملکوں سے جنگ بندی کی اپیل کی گئی۔ تجویز کا متن درج ذیل ہے:
’’جمعیت علما کی ورکنگ کمیٹی کا یہ اجلاس محسوس کرتا ہے کہ عراق اور ایران کے درمیان باہمی جھگڑے نے جنگ کی جو شکل اختیار کر لی ہے، وہ ایسے نازک وقت میں پورے عالم اسلام کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے، کیوںکہ اس وقت اصل ضرورت اپنے پورے وسائل اور قوت کو یک جا کرنے اور مشترکہ دشمن کے مقابلہ میں محفوظ رکھنے کی ہے۔ خلیج کے علاقہ میں- جوکہ پوری دنیا کے لیے اقتصادی شہ رگ کی حیثیت رکھتا ہے- اس طرح کے جھگڑے سے ساری طاقتیں اپنے عزائم کو پورا کرنے کا بہانے بنا سکتی ہیں۔
اجلاس دونوں ملکوں سے یہ اپیل کرتا ہے کہ جلد از جلد جنگ روک کر باہمی بات چیت کے ذریعے جھگڑے کو طے کریں۔ ورکنگ کمیٹی کا یہ اجلاس عراق کے صدر صدام حسین کے اس اعلان کو بہ نظر استحسان دیکھتا ہے ، جس میں انھوں نے جنگ بندی کی اپیل کی ہے۔اور امید کرتا ہے کہ ایران کے لیڈر بھی فوری طور پر اور بلا تردد ایسا ہی کریں گے۔‘‘
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍
عراقی جنگی قیدیوں کا قتل افسوس ناک
ایران عراق جنگ کے دوران ایرانیوں کے ہاتھوں ڈیڑھ ہزار عراقی جنگی قیدیوں کے وحشیانہ قتل کی خبر موصول ہوئی۔( حالاں کہ اے آئی سرچ کے نتیجے میں اس واقعہ کی تصدیق نہیں ہوتی ہے، اسے جنگ کی افواہ بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔)26؍دسمبر1981ء کو صدر جمعیت علمائے ہند مولانا اسعد مدنی صاحب نے اس واقعہ کی مذمت و افسوس کرتے ہوئے دعا کی کہ ایرانی اسلام کے سچے ہیرو بنیں ۔ جدال و قتال سے اجتناب کریں اور عراق کے ساتھ جنگ بندی قبول کرکے معاملات کو گفتگو کے ذریعہ طے کریں۔ (روزنامہ الجمعیۃ،27؍ دسمبر1981ء)
26،27؍ دسمبر1981ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، اس میں بھی واقعہ کی مذمت کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی:
’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا اجلاس حکومت ایران کے اس اقدام کی سخت سے سخت الفاظ میں مذمت کرتا ہے، جو اس نے پندرہ سو عراقی جنگی قیدیوں کوقتل کر کے نہایت وحشیا نہ جرم اور قابل نفرت عمل کا ارتکاب کیا ہے۔ بین الاقوامی قوانین کے مطابق جنگی قیدی مقدس امانت سمجھے جاتے ہیں، لیکن ایران میں ان کو شہید کر کے اپنے وحشیانہ، آمرانہ اور قابل نفرت رویہ کا ثبوت دیا ہے۔
مجلس عاملہ ان شہیدوں کے لیے دعائے مغفرت کرتی ہے۔ حکومت عراق اور عراقی عوام سے اپنی دلی ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔ ‘‘
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍
ایران سے عراق -ایران جنگ بند کرنے کی اپیل
جمعیت علمائے ہند نے اپنی مجلس منتظمہ کا ایک اہم اجلاس 25،26؍ نومبر1983ء کو منعقد کیا ، جس میں ایران سے خصوصی اپیل کی کہ وہ عراق- ایران جنگ کو فوری طور پر بند کردیں۔ تجویز میں کہا گیاکہ:
’’ ایران اورعراق کی خوںریز جنگ نے عالم اسلام اور تمام امن پسند انسانوں کو سخت بے چینی میں مبتلا کر دیا ہے۔ دونوں ملکوں کی معیشت تباہ ہورہی ہے۔ ہزاروں شہری ہلاک اور تباہ ہو چکے ہیں۔
پورے عالم اسلام اور نا وابستہ ممالک نے ایک رائے ہوکر لڑائی بند کرنے کی اپیل کی ہے، جس کوعراق نے منظور کر لیا ہے؛ لیکن ایرانی حکمراں قیادت نے نہایت تکبراور ڈھٹائی کے ساتھ جنگ بندی سے انکار کر دیا ہے۔ اب ایران کی طرف سے یک طرفہ جنگ جاری ہے اورعراق کے شہریوں اور علاقوں پر بم باری کی جارہی ہے۔
مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند ایران کے افسو س ناک رویہ پرسخت غم و غصہ کا اظہار کرتی ہے اور تمام دنیاکی رائے عامہ سے اپیل کرتی ہے کہ وہ متکبر اور ضدی ایران کوراہ راست پر لانے کی کوشش کریں اور ایران کو دونوں ملکوں کو تباہ کرنے کی مزیدا جازت نہ دیں۔‘‘
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، تجاویز اور فیصلوں کی روشنی میں، جلد سوم، ص؍
تعلیمی و ملی کانفرنس کی جنگ بندی کی اپیل
عراق -ایران جنگ کی شروعات کے چوتھے سال جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام 6، 7، 8؍ اپریل1984ء کو ایک عظیم الشان تعلیمی و ملی کانفرنس ہوئی۔ کانفرنس نے ایران سے اپنی ضدی رویے کو ترک کرکے جنگ بندی کی اپیل کی۔ کانفرنس کی تجویز نمبر-۱۷میں کیا گیا کہ :
’’کل ہند تعلیمی و ملی کا نفرنس کو ایران و عراق کی جنگ پر نہایت دکھ اور سخت تشویش ہے۔ یہ بے معنی لڑائی، جو بیالیس ماہ سے چل رہی ہے، جس میں ہزاروں ایرانیوں اور عراقیوں کی زندگی ختم ہو گئی۔ ہزاروں انسان زخمی و معذور ہو گئے ہیں اور دونوں ملکوں کی معیشت تقریبا تباہ ہو چکی ہے؛ لیکن غیرملکی سامراجی اشتعال انگیزی اور ضد جنگ ختم نہیں ہونے دے رہی ہے اور بے دریغ انسانی خون بہایا جا رہا ہے۔
انجمن متحدہ اقوام، اسلامک کانفرنس اور ناوابستہ ممالک کی کانفرنس لڑائی بند کرنے کی اپیل کو عراق نے غیر مشروط طور پر منظور کیا؛ لیکن ایران کی جانب سے کوئی حوصلہ افزا جواب نہیں ملا۔ مسلمانان ہند کی یہ کل ہند کانفرنس حکومت ایران سے پر زور اپیل کرتی ہے کہ وہ انجمن متحدہ اقوام، ناوابستہ تنظیم اور ساری دنیا کی رائے عامہ کا احترام کرتے ہوئے بلا تاخیر لڑائی بند کر ے اور تاریخ کی بدترین خون ریزی کو ختم کرے۔‘‘
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍
بغداد کانفرنس کے فیصلوں کی تائید
2 سے 5 ؍شعبان 1405 ہجری، بمطابق 22 سے 25؍ اپریل 1985ء تک بغداد میں پاپولر عرب اینڈ اسلامک کانگریس (Popular Arab and Islamic Congress) کا انعقاد ہوا، جسے ’’بغداد کانفرنس‘‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ایک بین الاقوامی اسلامی اور عرب اتحاد کی کوشش تھی، جو ایران-عراق جنگ (1980-1988) کے تناظر میں عراق کی طرف سے منظم کی گئی۔ صدر صدام حسین کی حکومت نے اسے عرب اور مسلم دنیا میں اپنی حمایت مضبوط کرنے اور سعودی عرب کی غلبہ والی آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس (OIC) کا متبادل بنانے کے لیے استعمال کیا۔ کانفرنس کا بنیادی مقصد پین-عربزم اور پین-اسلامزم کو فروغ دینا تھا، تاکہ مسلم گروپوں (مجاہدین، ملی ٹنٹس اور قوم پرستوں) کو متحد کیا جائے۔
اس کانفرنس میں حضرت مولانا اسعد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے ہندستانی مندوب کی حیثیت سے شرکت کی تھی۔ 6،7؍مئی 1985ء کو منعقد مجلس عاملہ کی میٹنگ میں جب عراق -ایران جنگ کے ایجنڈے پر بحث و گفتگو ہوئی، تو حضرت صدر محترم نے کانفرنس کی کارروائیوں اور فیصلوں سے مجلس کو آگاہ کیا۔ مجلس عاملہ نے کانفرنس بغداد کے تمام فیصلوں کی تائید کی اور یہ فیصلہ کیا کہ24؍ مئی1985ء کو ایران و عراق جنگ بندی کے لیے بطور ’’یوم دعا‘‘ منایا جائے۔ چنانچہ مجلس عاملہ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ:
’’مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہندان تجاویز کی تائید کرتی ہے، جو مؤتمرالشعبی الاسلامی کی دوسری کانفرنس بغداد میں ایران سے عراق جنگ کے سلسلہ میں مسلمانان عالم کے نمائندوں نے25 اپریل1985ء کومنظور کی ہیں۔
مجلس عاملہ جمعیت علمائے ہند ایران عراق جنگ کو برادرکشی سمجھتی ہے، جس میں دونوں طرف کے ہزارہاہزار نوجوانوں کا خون بے مقصد بہایا جارہا ہے۔
مجلس عاملہ حکومت ایران اور حکومت عراق سے مؤدبانہ گزارش کرتی ہے کہ وہ جنگ بندی پر راضی ہو کر باہمی صلح کی راہ ہموار کریں اور ایک دوسرے کی سرحدوں کا احترام کریں اور ملت اسلامیہ کو اطمینان بخشیں۔
مجلس عاملہ محسوس کرتی ہے کہ یہ جنگ دشمن اسلام اسرائیل کو تقویت پہنچاتی ہے۔ اور مشرق وسطیٰ کے مسلمانوں کو کمزور کرتی ہے۔
مجلس عاملہ تمام مسلمانان ہند سے اپیل کرتی ہے کہ24؍ مئی بروز جمعہ ’’یوم جنگ بندی‘‘ منائیں اور جنگ بندی کے لیے دونوں حکومتوں سے اپیل کریں اور اس کے لیے دعاکریں اور اپنی تجاویز دونوں حکومتوں کے سفارت خانے کو اور مرکزی دفتر جمعیت علمائے ہند کو روانہ کریں۔‘‘
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍
24؍مئی 1985ء کو یوم دعا منانے میں کوتاہی کا اعتراف
26؍ جون1985ء کو شائع ایک خبر کے مطابق:
’’گذشتہ مجلس عاملہ نے ایران عراق جنگ کے سلسلے میں بغداد میں منعقدہ دوسری ہر دل عزیز کا نفرنس میں پاس کی جانے والی قرار دادوں کی مکمل تائید و حمایت کرتے ہوئے یہ فیصلہ کیا تھا کہ24؍ مئی کو ملک بھر میں ’’یوم دعا‘‘ منایا جائے اور بعد نماز جمعہ قرار داد منظور کر کے دونوں ملکوں کے سفارت خانوں اور مرکزی دفتر جمعیت علمائے ہند کو اس کی کاپیاں بھیجی جائیں۔ اس فیصلے کے مطابق10؍مئی کو دفتر سے جماعتی احباب کو ایک سرکلر بھیج کر یوم دعا منانے کی اپیل کی گئی۔ ساتھ ہی ملک بھر میں پوسٹر بھی بھیجا گیا؛ مگر افسوس کہ یوم دعا کے موقع پر پوری طرح اہتمام نہ کیا جاسکا اور قرارداد کی کاپیاں بہت تھوڑی تعدادمیں مرکزی دفتر کو موصول ہوئیں۔ یہ بات افسوس ناک ہونے کے ساتھ ساتھ جماعتی زندگی میں جمود کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔ چنانچہ 26؍ جون کو صدر محترم کی جانب سے جماعتی احباب کو ایک گشتی مراسلہ بھیج کر اس صورت حال پر تشویش اور افسوس کا اظہار کیا گیا۔ توقع ہے کہ آئندہ ایسے موقعوں پر جماعتی احباب پوری مستعدی کا مظاہرہ کر کے جماعتی زندگی کا ثبوت دیںگے۔‘‘
ایران کی طرف سے عراق-ایران جنگ بند نہ کرنے پراظہار افسوس
یکم نومبر1986ء کو جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا اجلاس ہوا، جس کی تجویز نمبر(۹) میں عراق -ایران باہمی جنگ کو ایران کی طرف سے بند نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے جنگ بندی کی اپیل کی۔ تجویز کا متن درج ذیل ہے:
’’یہ نہایت افسوس ناک اور نا قابل بیان حد تک تکلیف دہ ہے کہ ایران، عراق جنگ چھٹے سال میں داخل ہو چکی ہے۔ ہزار ہا ہزار انسانوں کی ہلاکت اور اربوں ڈالر کی مالیت کی بربادی ہو چکی ہے۔ دنیا کے ہر مہذب ملک اور تمام در د مند رہ نماؤں نے دونوں ملکوں سے جنگ بند کرنے کی بار بار اپیل کی ہے۔
عراق نے انجمن متحدہ اقوام اور دوسرے رہ نماؤں کی اپیل پر جنگ بند کرنے پر بار بار آمادگی ظاہر کی ہے؛ مگر ایران نے برا برانکار کیا ہے، جو نہایت افسوس ناک ہے۔ اس جنگ میں ایران کی بربادی بھی نا قابل بیان حد تک ہو چکی ہے؛ مگراس کے رہ نماؤں کو اپنی ضد، فرسودہ خیالات و عقائد ،ناپاک عزائم اور تعلیّ کی وجہ سے اپنی بربادی کا بھی احساس نہیں ہے۔
جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس حکومت ایران سے درخواست کرتا ہے کہ وہ دنیا کی رائے عامہ اور انجمن متحدہ اقوام کا احترام کرے اور اسلامی تعلیمات کے مطابق وہ صلح کا اقدام کرکے بلا تاخیر جنگ بند کرے، تاکہ مسلمانوں کی یہ خوںریزی بند ہو اور دنیا کے سامنے مسلمان صلح وامن پسند ثابت ہوں۔‘‘
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍
حرم مکہ میں ایرانی خمینی نوازوں کافتنہ و فساد
وہ دن جمعہ کا تھا،اورتاریخ 6؍ذی الحجہ،31؍ جولائی 1987ء تھی۔ اس دن مکہ مکرمہ میں حرم پاک کی حرمت کو پامال کرنے کی جو سعی نا پاک کی گئی، وہ ایسا عظیم سانحہ ہے، جس نے کرۂ ارض پر رہنے والے ایک ارب سے زیادہ مسلمانوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑا دی ہے۔ حرم شریف کے چاروں طرف حسب معمول ایمان افروز اور روحانی فضا تھی، حجاج کرام جوق در جوق سوئے حرم رواں دواں تھے، مسجد حرام کے اندر کعبہ کا طواف جاری تھا، بارگاہ رب العزت میں دیوانہ وار حجاج کرام گریہ وزاری میں مصروف تھے کہ یکایک فضا تبدیل ہوگئی۔ یہ عصر کا وقت تھا، ایرانی حاجی مکہ مکرمہ میں بعد عصر پارکنگ لاٹ کے قریب جمع ہونے شروع ہوئے۔ اس سال1987ء میں ایک لاکھ پچاس ہزار ایرانی حج بیت اللہ کے لیے آئے تھے، انھوں نے زبر دست نعرہ بازی شروع کی۔ جگہ جگہ آیت اللہ خمینی کی تصویروں کے پوسٹر چسپاں کیے۔کھمبوں پر چڑھنے کے لیے سیڑھیاں استعمال کیں، لاٹھیاں اور ڈنڈے گھمانے لگے اور کپڑوں میں چھپا کر لائے ہوئے چاقو اور چھرے ہاتھوں میں لیے یہ لوگ اسی حالت میں حرم شریف کے اندر داخل ہونے کی نیت رکھتے تھے۔ ان کے ناپاک عزائم کو دیکھ کر سعودی شہریوں اور دیگر ملکوں کے حاجیوں نے ایرانیوں کو سمجھانے کی کوشش کی؛ لیکن مظاہرین نے ان کی ایک نہ سنی، اس کے برخلاف سڑکوں پر رکا وٹیں کھڑی کر کے ٹریفک کو معطل کر دیا، جس کی وجہ سے ہزاروں کاروں میں بیٹھی ہوئی عور تیں اور بچے خوف زدہ ہوگئے۔ جب شہریوں اور دیگر حاجیوں کے جلوس کے لیڈروں سے اس ہنگامہ کو ختم کرنے اور کاروں میں پھنسی ہوئی عورتوں اور بچوں کو باہر نکلنے کا موقع دینے کی درخواست کو ٹھکرا کر اپنا جلوس جاری رکھنے پر اصرار کیا، نعرے بازی کرتے ہوئے مسجد حرام کی طرف بڑھتے رہے، جب مقامی شہریوں نے مداخلت کی، تو انھیں دھکے دینے شروع کر دیے۔ اس دوران سیکوریٹی والے -جو وہاں اپنے فرائض انجام دے رہے تھے- مقامی شہر یوں، دیگر حاجیوں اور ایرانی حجاج کے درمیان تصادم کو روکنے کی کوشش کی، تو سیکورٹی والوں پر حملہ کر دیا گیا۔
جب پانی سر سے اونچا ہو گیا ،تو سیکوریٹی والوں کے جوانوں کو حکم دیا گیا کہ وہ مظاہرہ کو جلد ختم کروائیں اور امن و امان بحال کریں۔ اس کے فوراً بعد گڑ بڑ پیدا کرنے والوں نے بھاگنا شروع کیا، اس بھگدڑ کے نتیجے میں بہت سی عورتیں اور بچے کچل کر ہلاک ہو گئے مظاہرین نے موٹر کاروں اور اسکوٹروں کو آگ لگادی۔ سیکوریٹی والوں اور مقامی شہریوں کی کاروں کو تباہ کر ڈالا۔ بہر حال مظاہرین کی انتہائی اشتعال انگیزی کے باوجود سیکوریٹی والوں نے صبرو ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے صورت حال کو معمول پر لانے میں کامیابی حاصل کرلی اور سڑکوں کوحجاج کرام اور شہریوں کے لیے کھول دیا گیا۔
منصوبہ بند سازش
حج کے ایام میں ایرانیوں نے اپنے امام علامہ خمینی کی ہدایت کے مطابق جو ہنگامہ آرائی کی ہے، وہ اسلام کی مرکزیت اور اجتماعیت کے خلاف ایک منصوبہ بند سازش تھی۔ ایرانی شر پسندوں کا مقصد صرف ہنگامہ برپا کرنا نہیں تھا؛ بلکہ خانۂ کعبہ پر قبضہ کرنا تھا، جس کے لیے وہ مختلف ملکوں میں سیمیناروں اور کانفرنسوں کے ذریعہ مسلم رائے عامہ کو گمراہ کرنے کی کوشش کرتے چلے آرہے ہیں۔ حج کے پہلے لکھنو میں، اور پاکستان میں حج سیمینار منعقد کر کے خمینی نوازوں نے یہ مطالبہ کیا تھا کہ حرمین شریفین کو بین الا قوامی کنٹرول میں دے دیا جائے،اس لیے حج کے ایام میں مکہ معظمہ میں ایرانیوں کی ہنگامہ آرائی کو ہمیں اسی پس منظر میں دیکھنا چاہیے، اور یہ سمجھنے میں دیر نہیں کرنا چاہیے کہ دین خمینی کے ماننے والوں کا اصل ارادہ کیا تھا۔
ایران کے شہر تہران سے نکلنے والے اخبار ’’کیہاں‘‘22؍ جولائی 1987 ء میں شائع شدہ حجۃ الاسلام کرو بی کے انٹرویو سے بھی پتہ چلتا ہے کہ ڈیڑھ لاکھ افراد پرمشتمل نام نہاد حاجیوں کا یہ ایرانی قافلہ اپنے امام خمینی کے اشارے پر ایک منظم منصوبہ کے تحت یہاں آیا تھا۔ اس قافلہ میں بیس ہزار سے زائد تربیت یافتہ فوجی بھی تھے ،جن کی قیادت ایک کمانڈر انچیف کر رہا تھا۔ عربی اخبارات سے یہ انکشاف بھی ہو رہا ہے کہ ان ایرانیوں کے ناپاک عزائم میں مکہ معظمہ میں واقع عبادت گاہوں کو نذر آتش کرنا اور بعض اہم تاریخی مقامات پر قبضہ کرنا بھی شامل تھا۔ اس ناپاک منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے بہت سے ذمہ داران قافلہ میں شریک تھے، ان میں ایک سابق فوجی کمانڈر انچیف جنرل سید شیرازی- جو کہ ایران کی سپریم ڈیفینس کونسل کا رکن ہے- وہ بھی شریک تھا۔ دوسرے لوگوں میں ملا مہدی کروبی سپہ سالار قافلۂ حج اور ایران کی پارلیمنٹ کے اسپیکر ہاشمی رفسنجانی کا نمائندہ، اس کے ساتھ ہی ایران کے صدر علی خامنہ ای کا ایک نمائندہ ملا سلطانی، ملا محمد جواد، مجتبیٰ کرمانشاہی اور پارلیمنٹ کے ممبر حمید زادہ شامل تھے۔ یہ سب کچھ اس بات کی دلیل ہے کہ منصوبہ بندی پہلے سے اور بڑے پیمانے پر کی گئی تھی۔
سعودی رد عمل
سعودی حکومت کی ذمہ داری بہت اہم اور بھاری ہے۔ ہر سال اطراف عالم سے لاکھوں حجاج مملکت کا رخ کرتے ہیں۔ سعودی حکام کی یہ کوشش ہوتی ہے کہ حجاج فریضۂ جمع کی ادائیگی کے دوران کسی ناخوشگوار صورت حال سے دوچار نہ ہوں۔ اس کے پیش نظر سعودی حکومت نے ایران کی ہنگامہ آرائیوں کے تئیں نرمی اور اعتدال کا رویہ اختیار کیا اور کوشش یہ رہی کہ افہام و تفہیم سے مقصد پورا ہو جائے؛ لیکن ایران کی شرانگیزی بڑھتی رہی۔ ابتدا میں سیاسی لٹریچرز اور تصویریں آتی رہیں۔ پھر بات ہتھیاروں، آتش گیر اور دھما کہ خیز اشیا تک پہنچ گئی؛ لیکن سعودی حکومت نے ایک طرف چو کسی اور نگرانی میں سختی کردی، تو دوسری طرف ایران کی شر انگیزیوں کو پروپیگنڈہ کا موضوع بنانے سے احتراز کیا؛ ورنہ گذشتہ سال ایک ایرانی جہاز میں کم از کم نو ے بیگ آتش گیر اور دھما کہ خیز مادہ:’’ سی فور‘‘ کی ضبطی کی گئی تھی؛ لیکن ایران اپنے مذموم مقاصد کی راہ میں برابر گامزن رہا اور صورت حال اس نقطہ پر پہنچ گئی کہ اس سال حج کا تقدس برباد ہوگیا۔
(سانحۂ حرم، ص؍3-6)
ایرانی بلوائی مسلح تھے اور بیت الحرام کی طرف بڑھ رہے تھے، تا کہ کعبہ شریف پر قبضہ کرسکیں۔ ابرہان ایران سمجھ رہے تھے کہ بیت الحرام دار الامن ہے، اس لیے سعودی پولیس طاقت استعمال نہیں کرے گی، اس لیے انھوں نے شدت سے خشت باری کی اور وہاں کھڑی گاڑیوں کو آگ لگا دی، جس کے نتیجہ میں بھگدڑ مچ گئی اور بھگدڑ میں چار سو دو افراد ہلاک ہوگئے، مرنے والوں میںدو سو سینتالیس ایرانی، پچاسیسعودی پولیس کے اہل کار اور دوسرے ملکوں کے عازمین حج شامل ہیں۔ زخمیوں کی تعدادچھ سو اننچاس بتائی جاتی ہے۔ سعودی پولیس کے اہل کاروں کو ایرانی مظاہرین نے چاقوؤں اورلاٹھیوں سے مار مار کر ہلاک کیا ہے۔
یہ اللہ کا بہت بڑا احسان ہے کہ خانۂ کعبہ پر ابراہان ایران کا قبضہ کرنے کا منصوبہ ناکام ہوگیا۔ ابراہان ایران اس خوش فہمی میں مبتلا تھے کہ وہ بیت الحرام کے قریب تشددبرپا کریںگے ،تو وہاں دنیا کے گوشے گوشے سے آئے ہوئے عازمین حج ان کا ساتھ دیں گے اور وہ بھی سعودی پولیس پر پل پڑیں گے، اس طرح خانۂ کعبہ پر ان کا قبضہ ہو جائے گا۔ اور قبضہ کرنے کے ساتھ ہی اس کو بین الا قوامی کنٹرول میں دے دیے جانے کا اعلان کر دیا جائے گا۔
بین الاقوامی کنٹرول کا شر انگیز شوشہ
چند سال قبل ایران کے ایما پر یہ شر انگیز شوشہ چھوڑا گیا تھا کہ حرمین کو عالم اسلام کے مشترکہ انتظام میں دیا جائے۔ ایران کی زیر سر پرستی حج سمیناروں اور کانفرنسوں میں بھی اس فتنہ کی مسلسل آبیاری کی جاتی رہی ہے۔ عنوان تو بظاہر خوب صورت ہے؛ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیوں؟ اس کی کیا ضرورت ہے؟ کیا سعودی حکومت حرمین کا نظم ونسق کرنے میں نا کام رہی ہے؟ کیا حجاج نے تکلیفوں اور پریشانیوں کا اظہار کیا ہے؟ کیا حکومت سعودی عرب نے عالم اسلام کے سامنے دست سوال دراز کیا ہے اور حرمین کے انتظام کے سلسلے میں ایران، یا کسی اور اسلامی ملک سے مالی امداد کی درخواست کی ہے۔
جہاں تک حج کے انتظام و انصرام کا تعلق ہے، تو تمام حاجیوں کا تأثریہ ہے کہ سعودی عرب خود کو دنیا کا سب سے خوش قسمت ملک تصور کرتا ہے، جس کے حکام اور عوام کو ہر سال لاکھوں بندگان خدا کی میزبانی کا شرف حاصل ہوتا ہے۔ ہر سال حج کے منصوبوں پر خصوصی توجہ کی جاتی ہے اور دور دراز سے آئے ہوئے عازمین حج کی رہائش اور طعام کا بہتر انتظام کرنے کے لیے سرکاری اور نیم سرکاری ادارے دن رات مصروف رہتے ہیں۔ دنیا کی آبادی میں اضافہ کے ساتھ ہی عازمین حج کی تعداد میں بھی ہر سال اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اتنی کثیر تعداد کی نگرانی اور اس کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کا کام آسان نہیں ہے۔ حرمین شریفین کی توسیع کے علاوہ مشاعر حج، یعنی منیٰ، مزدلفہ اور عرفات میں صرف گذشتہ چند سالوں میں ایسی تبدیلیاں عمل میں آئی ہیں، جن کا تصور یہاں بیٹھ کر ممکن نہیں۔ عرفات میں حجاج کو پانی کی سہولتوں کے لیے خادم الحرمین کے حکم سے لاکھوں ریال کی لاگت سے ایک بڑا ٹینک تعمیر کیا گیا ہے، جس میں بیس ہزار مکعب میٹر پانی کی گنجائش ہے۔حجاج کرام کو ایام حج میں ٹھنڈے پانی کی دو کروڑبیس لاکھ تھیلیاں تقسیم کی گئیں۔ علاوہ ازیں ایک لیٹر پانی کی دس لاکھ چھ ہزار تھیلیاں حرم شریف میں، سات لاکھ پچاس ہزار مزدلفہ میں اور پچاس لاکھ منیٰ و دیگر چونتیس مقامات پر تقسیم کی گئیں۔ روٹی کی تقسیم کو یقینی بنانے کے لیے مکہ مکرمہ میں ساٹھ خود کار بیکریاں ہیں۔ یہ بیکریاں روزانہ روٹی کے بیس لاکھ پیکٹ تیار کرتی ہیں۔ منیٰ میں آج پلوں اور فلائی اوور کا ایک جال بچھا ہوا ہے، جس سے ٹریفک انتہائی سہولت اور آسانی سے گذرتا ہے۔ روشنی کا یہ عالم ہے کہ بلا مبالغہ آپ زمین پر گری ہوئی سوئی اٹھا سکتے ہیں۔ پہاڑیاں کاٹ کر سرنگیں بنائی گئی ہیں۔ اور اس طرح میلوں کی مسافت کو صرف میٹروں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ انتہائی آرام دہ بسوں کی بڑی تعداد محض ایام حج کے لیے مہیا ہے، جب کہ سال کے بقیہ ایام میں ان بسوں کا کوئی مصرف نہیں ہوتا۔ مکہ ،جدہ، مدینہ اور مدینہ ومکہ کے درمیان انتہائی وسیع و عریض اور جدید ترین سہولیات سے آراستہ شاہ راہیں تعمیر کی گئی ہیں، جن پر حجاج کے قافلہ ایک سو بیس اور تیس کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بے خوف و خطر گذرتے ہیں۔
جو لوگ حرمین کو بین الا قوامی کنٹرول میں دیے جانے کی رٹ لگارہے ہیں، انھوں نے کبھی اس کے مضمرات اور مفاسد پر غور کیا ہے، اس سے بڑھ کر یہ کہ اس مفروضہ انتظام کی عملی شکل کیا ہوگی۔ کیا وہ چاہتے ہیں کہ حرمین ایک اکھاڑا بن جائے، جس میں مختلف پہلوان زور آزمائی کریں۔ بے شک سعودی حکومت کا ایک خاص مشرب اور مسلک ہے؛ لیکن وہ عالم کے مسلک سے بنیادی اور اصولی طور پر ہرگز متعارض نہیں۔ سعودی حکومت ہر اس شخص کو- جس کے پاسپورٹ پر مذہب کے خانہ میں اسلام درج ہے، بلا چون و چرا ویزا دیتی ہے۔ وہ آئے، حرمین کی زیارت سے مشرف ہو، اور فریضۂ حج ادا کرے، اس سے بحث نہیں کہ اس کا مسلک و مشرب کیا ہے۔
اتحاد ملی کا پُر فریب نعرہ
ایران کے وسائل نشر و اشاعت نے تخریب کاری سے کام لیتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی حجاج اتحاد ملی کے لیے مظاہرہ کر رہے تھے۔ میں پوچھنا چاہوں کہ ایران کی موجودہ حکومت نے گذشتہ آٹھ سال میں نعرے بازی کے علاوہ کو نسا عملی قدم اٹھایا ہے؟ یہی نہیں؛ اس کے برعکس اگر کہا جائے کہ اس نے اتحاد کی کوششوں کو ڈائنامیٹ کیا ہے، تو بے جا نہ ہوگا۔ البتہ اتحاد ملت کے لیے عصر حاضر میں جو کوششیں کی گئی ہیں، ان کا جائزہ لیا جائے، تو سعودی حکومت کا نام سر فہرست آئے گا۔ ملک عبد العزیز کی ایما پر سب سے پہلے عالم اسلام کے ممتاز رہنماؤں کا ایک اجتماع مکہ میں ہوا۔ یہ1926 ء کی بات ہے ، جب کہ سلطنت عثمانیہ کے خاتمہ اور سقوط خلافت کے بعد مسلمانان عالم بے چینی اور کرب کے عالم میں تھے۔ اس کے نتیجہ میں مشترکہ کوششوں کی ایک بنیاد مؤتمر اسلامی کی شکل میں رکھی گئی، جس میں خود ہندستان کے ممتاز علما اور جمعیت علمائے ہند کے بزرگوں نے شرکت کی۔ اس کے بعد اس کوشش کا احیا شاہ فیصل مرحوم کی پیش قدمی کے نتیجہ میں ہوا،جب کہ بیت المقدس میں آتش زنی کے سانحہ کے بعد پہلی اسلامی چوٹی کا نفرنس مراکش کی راجدھانی رباط میں ستمبر 1969ء میں منعقد ہوئی۔
علامہ خمینی کے پاس ’’اتحاد ملت‘‘ کا کیا منصوبہ ہے؟ کن بنیا دوں پر وہ اتحاد چاہتے ہیں؟ وحدت کلمہ کی بنیاد پر تو پوری دنیا کے مسلمان الحمد للہ متفق ہیں۔ اہل نظر بہ خوبی جانتے ہیں کہ وہ اپنے اصل مقاصد کو سنہرے اور روپہلے غلاف میں لپیٹ کر پیش کر رہے ہیں، تاکہ سادہ لوح عوام ان کے دام فریب میں پھنس جائیں اور ان کو کسی حد تک کامیابی بھی ہوئی ہے، ان کا مقصد تشیع پھیلانا ہے۔(سانحۂ حرم، ص؍7-10)
شاہ فہد کے نام برقیہ
صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی کی طرف سے خادم الحرمین شاہ فہد ین عبدالعزیز السعود کو برقیہ بھیجا گیا، جس میں ایرانیوں کے افعال کی سخت مذمت کی گئی تھی۔امن و امان کی فوری بحالی اور حجاج کرام کی پوری پوری حفاظت کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
شاہ فہد کا پیغام جمعیت علمائے ہند کے نام
2؍ اگست1987ء کو کوسعودی عرب کے سربراہ شاہ فہد بن عبد العزیز السعود نے جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا اسعد مدنی کے نام اپنے پیغام میں ایرانی دہشت گردی کی مذمت کے لیے اظہار تشکر فرمایا ہے۔ شاہ فہد نے اپنے برقیہ میں کہا ہے کہ ہمیں آپ کا وہ پیغام موصول ہوا، جس میں آپ نے ایرانیوں کے افعال کی سخت مذمت کی ہے۔ ایرانیوں نے اس مقدس ماہ اور ایام حج کے دوران مکہ معظمہ اور حرم شریف کے اطراف میں انتشار اور بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کی ،وہ یقینا قابل مذمت ہے۔
آپ نے جن اسلامی جذبات کا اظہار کیا ہے، ہم اس کے لیے بھی بے حد ممنون ہیں۔ سعودی عرب کی حکومت نے اللہ کے مہمانوں کی بہتر سے بہتر خدمت کو عین سعادت سمجھا ہے اور آپ کو یقین دلاتے ہیں کہ اگر اللہ نے توفیق عطا فرمائی، تو ہم ہمیشہ کی طرح حجاج کرام کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرتے رہیں گے، ان کے گھروں کو واپس جانے تک احمقوں کی حماقت سے ان کی حفاظت کرنے کی کوشش کریں گے۔
ہم اللہ تعالیٰ سے دست بہ دعا ہیں کہ وہ ہمارے برادرانِ اسلام کا حج قبول کرے اور انھیں ہر بلا اور آفت سے محفوظ رکھے، آمین۔(سانحۂ حرم، ص؍11)
ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند کا بیان
2؍ اگست1987ء کو جمعیت علمائے ہند کے جنرل سکریٹری مولانا محمد اسرار الحق قاسمی نے اپنے ایک اخباری بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ دو روز سے کچھ ایسی خبریں موصول ہو رہی ہیں، جن پر تشویش اوربے چینی، پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک قدرتی بات ہے۔ آج کے اخبارات سے معلوم ہوا ہے کہ حرم مکہ کے باہر نام نہاد ایرانی حجاج نے نماز جمعہ کے بعد بڑے پیمانے پر مظاہرہ کیا اور تشدد پر اتر آئے اور سعودی پولیس سے جھڑپ میں بہت سے ایرانی مارے گئے۔ ابتدائی اطلاعات سے صحیح صورت حال واضح نہیں، تاہم ایک بات بالکل واضح ہے، وہ یہ کہ ایران کی موجودہ حکومت- جو کہ انقلاب اسلامی کے نام نہاد نعرہ کو اپنا شعار بنا کر پورے عالم اسلام میں تخریب کاری پر آمادہ ہے، اور خاص طور سے گذشتہ چند سالوں سے حرمین شریفین ایرانی حکام کی سازشوں کا نشانہ بنے ہوئے ہیں- اس حکومت نے اب اپنی سازش کو بروئے کار لانے کے لیے حج کے مقدس فریضہ کو آلۂ کار بنایا ہے۔ ایرانی حجاج -جو کہ دراصل وہاں کی حکومت کے تربیت یافتہ نام نہاد انقلابی پاس داران ہیں- وہ ہر سال حرمین شریفین میں ناشائستہ حرکات کا ارتکاب کرتے ہیں۔ یہ چیز کوئی پوشیدہ نہیں؛ بلکہ ایک ایسی کھلی حقیقت ہے، جس کو ہر شخص جانتا ہے، جو حج کے مواقع پر وہاں موجود رہا ہو۔ مگر سعودی حکومت انتہائی ضبط اور صبر سے کام لیتی رہی اور ایران کی موجودہ حکومت برابر صورت حال کو خراب کرنے اور فتنہ پھیلانے کے درپے ہے اور آخر کار یہی ہوا۔ انتہائی افسوس کی بات یہ ہے کہ ایران کی حکومت ہر اسلام اور دین مخالف حرکت کا ارتکاب اسلام کے نام پر کر رہی ہے۔ حج جیسے مقدس فریضہ اور عبادت کو- جس کے متعلق قرآن کریم میں صاف کہاگیا ہے: فلا رفث ولا فسوق ولا جدال فی الحج، سورہ بقرہ ، یعنی حج کے دوران جھگڑا، فساد اور ہر قسم کی بیہودہ حرکات سے احتراز کیا جائے؛ وہاں ایران کے نام نہادحجاج، اطراف عالم سے آنے والے حجاج کے سکون واطمینان اور عبادت کو برباد کرنے پر تلے ہویے ہیں۔ اور مزید طرفہ تماشہ یہ کہ اس کو’’ وحدت ملی ‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ ایران کی حکومت امریکہ دشمنی کا نعرہ لگاتی ہے؛ لیکن اسی شیطانی حکومت سے ہتھیار خرید کر جنگ لڑرہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ حرمین میں نعرہ بازی سے امریکہ یا روس پر کیا اثر پڑے گا۔
ہم ایران کے حکام سے اپیل کرتے ہیں کہ اگر وہ واقعی اسلام کے پیرو کار ہیں، تو اسلام کی تعلیمات پر عمل کریں اور صحیح اسلامی راستہ اختیار کریں۔ اسلام پروپیگنڈہ،نعرہ بازی اور رائے عامہ کو گمراہ کرنے کا نام نہیں۔ ساتھ ہی پوری دنیا کے مسلم ملکوں، اسلامی تنظیموں اور جماعتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ ایران کی اس غلط روش پر سخت احتجاج کریں اور رائے عامہ کو بیدار کر کے ان کے غلط اور نا پاک عزائم کا انکشاف کریں۔ اس موقع پر ہم مرنے والے افراد کے ورثا سے اظہار ہمدردی کرتے ہوئے خدا وند تعالیٰ سے دعاگو ہیں کہ اس وقت چہار دانگ عالم سے آئے ہوئے مسلمان -جو حرمین میں جمع ہیں- وہ بخیر و عافیت فریضۂ حج پورے سکون و اطمینان سے ادا کریں، آمین۔(سانحۂ حرم، ص؍11-12)
صدر جمعیت علمائے ہند کا بیان
9؍ اگست1987ء کو جمعیت علمائے ہند کے صدر حضرت مولانا اسعد مدنی نے -جو کہ حج بیت اللہ کے لیے گئے ہوئے ہیں- بذریعۂ فون حرم مقدس کے واقعہ کی تفصیلات ناظم عمومی مولانا اسرار الحق صاحب کو بتائیں۔ حضرت مولانا مدنی نے اس حادثہ پر- جو کہ حرم کی بے حرمتی اور حج کے دوران خلل اندازی کی بدترین مثال ہے- انتہائی افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پوری ذمہ داری ایران پر ڈالی ہے۔ مولانا مدنی نے کہا ہے کہ ایران کی موجودہ حکومت کے عزائم پر سے رفتہ رفتہ پردہ اٹھتا جا رہا ہے اور نام نہا د اسلامی انقلاب کا اصل چہرہ سامنے آگیا ہے۔ ایرانی حکام نعرہ لگاتے ہیں امریکہ، روس اور اسرائیل کی مخالفت کا؛ لیکن درون پردہ وہ حرمین میں تخریب کاری کر کے عالم اسلام کے مرکز کو کمزور کرنا چاہتے ہیں اور اس طرح ایرانی حکومت دانستہ یا نا دانستہ طور پران اسلام دشمن طاقتوں کا آلۂ کار بنی ہوئی ہے، جن کا مقصد مسلمانان عالم کو کمزور کرنا ہے۔ حیرت و افسوس اس بات پر ہے کہ ایران اس گھناؤنی حرکت کو اتحاد ملت کا نام دیتا ہے۔ مولانا مدنی نے اس واقعہ کے لیے ایران کو پوری طرح ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے ایرانی حکومت کی شدید مذمت کی ہے۔ اور ایرانی حکام سے اپیل کی ہے کہ اگر ان کو اسلام اور مسلمانوں کے مفاد کا ادنیٰ سا بھی لحاظ ہے، تو وہ اپنے ناپاک ارادوں سے باز آئیں۔ مولانا مدنی نے عینی شاہدین کے حوالہ سے بتایا کہ سعودی حکام نے انتہائی صبر و ضبط سے کام لیا؛ لیکن جب کوئی چارۂ کار نہیں رہا، تو مجبورا ایرانی حجاج کی اس بھیڑ کو- جو کہ حقیقت میں حجاج نہیں؛ بلکہ عسکری تربیت یافتہ سپاہی تھے- منتشر کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑا۔ مولانا مدنی نے جمعیت علمائے ہند کے ارکان و ممبران اور مسلمانان ہند سے اپیل کی ہے کہ وہ اس واقعہ پر رائے عامہ کو حقائق سے آگاہ کریں، اور ایران جس مفسدہ پردازی اور تلبیس کاری سے کام لے رہا ہے، اس کا پردہ چاک کریں۔
ساتھ ہی مولانا نے عالم اسلام کے تمام ذمہ داروں سے اپیل کی ہے کہ وہ حرمین کے تقدس کو برقرار رکھنے میں سعودی حکومت سے مکمل تعاون کرتے ہوئے ایران پر زور ڈالیں کہ وہ اس فتنہ اندازی سے باز آئے۔(سانحۂ حرم، ص؍13؍)
21؍ اگست کو یوم حرم منانے کی اپیل
12؍ اگست 1987 ء کو ایک گشتی مراسلہ جاری کر کے ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا محمد اسرارالحق قاسمی نے مسلمانان ہند سے اپیل کی کہ21؍ اگست 1987ء روز جمعہ کو ’’یوم حرم‘‘ کے طور پر منایا جائے۔ اس دن بعد نماز جمعہ حرمین اور قدس کی حفاظت کے لیے دعا کی جائے، اور مساجد میں نماز جمعہ کے بعد اجتماع کیا جائے، جس میں مسلمانوں کو ایرانی حکومت کے عزائم سے روشناس کرایا جائے۔ اس کی مفسدہ پردازی اور تلبیس کاری کا پردہ چاک کیا جائے اور ایرانی حکومت کی مسلسل تخریب کاری پر مذمت کی تجویز منظور کر کے نئی دہلی میں ایرانی اور سعودی سفارت خانوں کو بھیجی جائیں۔
خدا کا شکر ہے کہ جمعیت علمائے ہند کی اپیل پر ملک بھر میں پورے جوش و خروش سے یوم حرم منایا گیا اور ہزاروں کی تعداد میں تجویزیں بھیجی گئیں۔(سانحۂ حرم، ص؍14)
سعودی سفیر سے جمعیت علماکے وفد کی ملاقات
جمعیت علمائے ہند کے وفد نے3؍ ستمبر1987 ء کو نئی دہلی میں سعودی سفیر محترم فواد صادق مفتی سے ملاقات کی۔ ان کو اس سلسلے میں جمعیت علمائے ہند کے موقف اور کارروائیوں سے مطلع کیا گیا۔ وفد میں مولانا فصیح الدین دہلوی، جناب مسعود حسن صدیقی اور راقم السطور (مولانا محمد اسرارالحق قاسمی )شامل تھے۔(سانحۂ حرم، ص؍16)
جمعیت علمائے ہند کی ایرانیوں کی حرکت کی مذمت
3،4؍اکتوبر 1987ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں جمعیت علمائے ہند نے حرم محترم کی بے حرمتی پر ایرانیوں کی حرکتوں کو باعث نفرت اور قابل مذمت قرار دیا۔ تجویز کا متن درج ذیل ہے:
’’مکہ مکرمہ کو تمام دنیامقدس اور قابل احترام مانتی ہے۔ حرم مقدس کی بے حرمتی مسلمان اور معقولیت پسند انسان کے لیے باعث اذیت اور ناقابل برداشت ہے۔ کئی سال سے خمینیت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں مظاہرے اور ہنگامے کر کے صہیونیت کے ناپاک منصوبوں کو پورا کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ اور امسال جوہنگامے اور قتل وغارت گری حج کے نام پر آئے ہوئے ایرانیوں نے کیے ہیں، وہ حد درجہ باعث نفرت اور قابل مذمت ہے۔
جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا جلسہ حرم شریف کی ایرانیوں کے ہاتھوں بے حرمتی اور تقدس کی پامالی کو تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک چیلنج تصور کرتی ہے۔ اور ہندستانی مسلمانوں سے خصوصا اور عالم اسلام سے عموما اپیل کرتی ہے کہ وہ حرم مقدس کے تحفظ کے لیے ہرممکن اقدام اور جد وجہد کریں۔
جمعیت علمائے ہند اور اس کے صدر محترم مولاناسید اسعد مدنیؒ نے بروقت احتجاج کر کے عوام کی رہ نمائی اور ملت کے جذبات کی صحیح ترجمانی کی ہے۔ مجلس عاملہ خادم الحرمین شاہ فہد اور حرم مقدس کے محافظین کو یقین دلاتی ہے کہ ہندستان کے مسلمان اور انصاف پسند عوام ان کے ساتھ ہیں۔ اور حرم شریف کے احترام اور تحفظ کے لیے ان کی دفاعی کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں۔
جمعیت علمائے ہند کی جانب سے تحفظ حرم کانفرنس دہلی کے بلائے جانے کا مجلس عاملہ پر زور خیر مقدم کرتی ہے۔ اور اس کو وقت کی اہم ضرورت محسوس کرتی ہے۔ مجلس عاملہ ملک کے، خصوصا دہلی کے مسلمانوں اور عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اس کانفرنس کو کامیاب بنانے کے لیے ہر ممکن تعاون دیں، تاکہ دشمنان حرم کو احساس دلایا جاسکے کہ ہندستان کا ہر مسلمان حرم مقدس کے تحفظ کے لیے بڑی سے بڑی قربانی پیش کرنے کے لیے تیار ہے۔‘‘
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد سوم، ص؍
حضرت فدائے ملت کا مذمتی بیان
اس کے بعد 7؍ نومبر1987ء کو مجلس منتظمہ کا اجلاس ہوا، جس میں جمعیت علمائے ہند کے صدر فدائے ملت حضرت مولانا اسعد مدنی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے8؍ نومبر1987ء کو ہونے والی ’’ تحفظ حرم کا نفرنس‘‘کی غرض و غایت پر بھی صدر محترم نے تفصیل کے ساتھ روشنی ڈالی۔ آپ نے فرمایا کہ یہ ایک بین الاقوامی اسلام دشمن سازش ہے کہ جس طرح بھی اورجس ذریعہ سے بھی ممکن ہو، عالم اسلام کے مرکز کو کمزور کر دیاجائے، تا کہ پھر عالم اسلام پر اپنی خواہش کے مطابق اپنا تصرف باقی رکھ سکیں۔ واقعہ یہ ہے کہ یہ سازش 1973ء سے جاری ہے۔ اس سال مصر کے ساتھ مل کر عراقی فوجوں نے صحرائے سینا سے اسرائیلی فوجوں کو مار بھگایا تھا۔ اسلام دشمن طاقتوں کو خطرہ ہوا کہ اگر یہی صورت حال رہی، تو مسلم حکومتیں مضبوط ہو جائیں گی۔ چنانچہ انھوں نے پہلے شاہ ایران کو- جن کے پہلے سے ہی اسرائیل سے سفارتی تعلقات قائم تھے- آلۂ کار بنانا چاہا؛ مگر جب وہ اس حد تک جانے کو تیار نہ ہوئے، تو انھوں نے اس مقصد کے لیے خمینی کو- جو اس وقت عراق میں جلا وطنی کی زندگی گزار رہا تھا- منتخب کیا۔ چنانچہ ان کو شاہانہ ٹھاٹ باٹ کے ساتھ فرانس بلایا گیا اور وہاں ان کے قیام کے لیے شاہانہ انتظامات کیے گئے۔ پھر ایک دن وہ آیا کہ ایک جہاز سے سے شاہ ایران اپنے افراد خاندان کے ساتھ ایران سے گئے اور دوسرے جہاز سے خمینی صاحب، اسلام دشمن طاقتوں کے آلۂ کار کے طور پر ایران پہنچے۔
ایران پہنچ کر اور زمام اقتدار سنبھال کر سب سے پہلے انھوں نے اسلام کی نقاب اوڑھی اور اس انقلاب کو اسلامی انقلاب کا نام دے کر عالم اسلام کو دھوکہ میں مبتلا کر دیا؛ مگر ایک سال ہی گذر پایا تھا کہ خمینی نے اپنے محسن عراق کے ساتھ جنگ شروع کر کے اس انقلاب اسلامی کی نقاب کو تار تار کر دیا۔ خمینی نے اس پر بس نہیں کی؛ بلکہ اپنے خفیہ آقاؤں کو خوش کرنے کے لیے عالم اسلام کو کمزور کرنے کی کوششیں شروع کر دیں۔ چنانچہ ہر سال حج کے موقع پر انھوںنے اپنے پاس داران کے ذریعہ حرم مکہ میں ہنگامہ آرائی شروع کرادی، جس کا سلسلہ برابر سات سال سے جاری ہے۔
اس سال سانحۂ حرم پر روشنی ڈالتے ہوئے صدر محترم نے فرمایا کہ خمینی نواز ایرانیوں کا یہ دیرینہ خواب تھا کہ بیت اللہ پر قبضہ کر کے فتنہ و فساد کی اپنے پیش رو قرامطیوں کی تاریخ کو دوہرائیں۔واقعہ یہ ہے کہ اس سال اس ہنگامہ آرائی کا اصل مقصد کعبۃ اللہ پر قبضہ کرنا تھا، جس کو خدا کے فضل و کرم سے سعودی حکومت نے ناکام بنا دیا۔
ہندستان کا غیور اور حساس مسلمان اس حرم مقدس کی تقدیس کی پامالی پر کس طرح خاموش رہ سکتا تھا، چنانچہ چند زر خرید لوگوں کو چھوڑ کر ہندستانی مسلمانوں کی اکثریت نے خمینی اور اس کے پیرو کاروں کی اس حرکت کی نہ صرف مذمت کی؛ بلکہ حج میں جانے کے لیے اس پر پا بندی لگانے کا مطالبہ کیا۔ جمعیت علمائے ہند-جو ہندستانی مسلمانوں کی ہر موقعہ پر ترجمان رہی ہے- نے ضروری سمجھا کہ اپنے نصب العین کی روشنی میں مرکز اسلام کے تحفظ و تقدس کے لیے اپنے جذبات کا بھر پوراجتماعی طور پر اظہار کرے، اسی مقصد کے پیش نظر تحفظ حرم کا نفرس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔ آخر میں صدر محترم نے دعا فرمائی کہ خدا وند تعالیٰ خمینی اور اس کے ہم نواؤں کو عقل سلیم عطا فرمائے۔
(ہفت روزہ مساوات، 13تا26؍ نومبر1987ء، ص؍9-10)
اسی اجلاس مجلس منتظمہ نے پھر ایک تجویز منظور کرتے ہوئے، پوری حقیقت حال کو عوام کے سامنے رکھا۔ تجویز میں کہا گیا کہ:
’’مکہ مکرمہ کو پوری دنیا مقدس مذہب اسلام کا مرکز اور قابل احترام مانتی ہے۔ حرم مقدس کی بے حرمتی، وہاں جنگ وجدال ہر مسلمان اور معقولیت پسند انسان کے لیے باعث اذیت اور ناقابل برداشت ہے۔
کئی سال سے خمینی رجم (حکومت) مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں مظاہرے اور ہنگامے کر رہی ہے، جو صیہونی عناصر اور صیہونیت کے منصوبوں کو پورا کرنے کی کوشش ہوسکتی ہے۔
خمینی کے نمائندوں نے اس سال مکہ مکرمہ میں حرم شریف کے قریب ہی جو ہنگامے اور قتل و غارت گری کی، وہ حددرجہ باعث نفرت اور قابل مذمت ہیں۔ انھوں نے اس کی بھی شرم نہ کی کہ وہ حج کرنے کے نام سے آئے ہوئے ہیں اور دوران حج قرآن کریم میں خصوصا فتنہ وفساد کی ممانعت کی گئی ہے۔ جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کا یہ اجلاس حرم شریف کی خمینی کے ایرانی نمائندوں کے ہاتھوں بے حرمتی اور تقدس کی پامالی پرسخت احتجاج کرتا ہے اور اس کو تمام مسلمانوں کے لیے ناقابل برداشت سمجھتا ہے۔ صیہونی سازش اور قابل نفرت اقدام دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک چیلنج ہے۔
مجلس منتظمہ کو اس پر اطمینان ہے کہ دنیا کے ہرحصہ کے مسلمانوں اور انصاف پسند غیرمسلموں نے اس شیطانی حرکت کی مذمت کی ہے۔ یہاں تک کہ سابق صدر ایران ابوالحسن بنی صدر نے بھی ان ہنگاموں کا ذمہ دار خمینی کو قرار دیا ہے۔
مجلس منتظمہ خادم الحرمین شاہ فہد بن عبدالعزیزؒ اور محافظین حرم مقدس کو یقین دلاتی ہے کہ ہندستان کے انصاف پسند مسلم عوام ان کے ساتھ ہیں۔ اورخمینی فتنہ کے دفاع اور حرم شریف کے احترام وتحفظ کے لیے ان کی جرأت مندانہ اورانصاف پسندانہ کارروائیوں کی حمایت کرتے ہیں۔
مجلس منتظمہ ’’تحفظ حرم کا نفرنس‘‘ کو بروقت اور ضروری اقدام تصور کرتے ہوئے اس کی پرزور تائید کرتی ہے اور یقین دلاتی ہے کہ جمعیت کا ہر فر داور ملک کے مسلمان کا نفرنس کے فیصلوں پر عمل درآمد کریں گے ان شاء اللہ۔
ایران-عراق جنگ بند کرنے کی اپیل
اسی اجلاس مجلس منتظمہ نے اپنی تجویز نمبر(۹) میں ایران-عراق جنگ کی آٹھ سالہ مدت کا تجزیہ کرتے ہوئے فوری طور پر بند کرنے کی اپیل کی۔ تجویز درج ذیل ہے:
’’ایران عراق جنگ آٹھویںسال میں داخل ہوچکی ہے، جس میں اب تک تقریبا بارہ، پندرہ لاکھ انسان مارے جاچکے ہیں۔ اور اسی قدر زخمی ہیں۔ ایک اندازہ کے مطابق تقریبا چار سو سولہ ارب ڈالراس بے مصرف جنگ پر صرف ہوچکے ہیں۔ تیل تنصیبات اور دونوں ملکوں میں بم باری اور حملوں کی بدولت کھربوں روپیہ کی مالیت کا نقصان ہو چکا ہے۔ اس جنگ کی وجہ سے ایران کی معیشت تقریبا تباہ ہوچکی ہے؛ مگر ظالم، سفاک اورضدی قاتل خمینی اپنی ڈھٹائی پر جمے ہوئے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ جس دن یہ بے مصرف جنگ بند ہوئی، ایران کے عوام خمینی رجیم کو ختم کر دیں گے۔اس لیے عام دنیا کے مہذب ملکوں، دردمند رہ نماؤں اور انجمن متحدہ اقوام کی اپیلوں وتجویزوں کے با وجود ایرانی حکمراں اپنی ضد پر قائم ہیں، جب کہ عراق نے شروع ہی سے جنگ بندی کی ہر اپیل اور تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے لڑائی بند کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔
جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کایہ اجلاس ایک بار پھر ایران کے حکمرانوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ جنگ سے باز آجائیں اور اب اپنے ملک کے بے قصور عوام کو تباہی میں نہ ڈالیں۔
مجلس منتظمہ اقوام عالم اورا نجمن متحدہ اقوام سے اپیل کرتی ہے کہ اگر ایران جنگ بندی پر تیارنہ ہو، تو اس کو ہتھیار دیے جانے پر پابندی لگائی جائے، اور اس کی اقتصادی ناکہ بندی کی جائے۔‘‘
خمینی کے ایمان و کفر کا فیصلہ
خمینی کے حکم پر حرم محترم میں ایرانیوں کی شرارتوں کو طشت ازبام کرنے کے لیے جمعیت علمائے ہند 8؍ نومبر1987ء کو ’’تحفظ حرم کانفرنس‘‘ منعقد کیا، جس کی صدارت صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے کی۔اس کانفرنس نے خمینی کے ایمان و کفر کا جائزہ لیا۔ کانفرنس کی مکمل کارروائی درج ذیل ہے:
8؍نومبر1987ء کونئی دلی کے سپرو ہاؤس میں ہزاروں مسلمانوں نے اس اطلاع کا اللہ اکبر کے فلک شگاف نعروں کے ساتھ پر جوش استقبال کیا، جس کے ذریعہ انھیں باخبر کیا گیا کہ ہندستان کے دو سوجید علما اور مفتیان کرام نے خمینی کے واضح اور بے شک وشبہ کفر و ارتداد پر فتویٰ صادر فرمادیا ہے۔
تحفظ حرم کا نفرنس کے اختتام پر حضرت مولانا سید اسعد مدنی صاحب نے مسلمانوں کے اس بے پناہ ہجوم میں سینکٹروں علمائے دین، دانش وران ملت اور مفکرین اسلام کی موجودگی میں ایک بہت بڑے قد آدم کا غذ پر وہ استفتا پڑھ کر سنایا، جس میں خمینی کے معروف اور اسی کے ہاتھوں ضبط تحریر میں آئے ہوئے عقائد و نظریات کو تحریر کر کے اس مدعی امامت کے بارے میں علمائے اسلام و مفتیان شرع محمدی سے استفتا کیا گیا ہے اور ہندستان کے دوسو جید علما و مفتیان حضرات نے ایک ہی جواب تحریر فرمایا ہے کہ ایران کا سربراہ خمینی کا فر، غدار ملت اور خدا ورسول کا باغی ہے۔
سپر و ہاؤس مسلمانوں کے حیرت انگیز و مسرت خیز تاریخی اجتماع سے ایک عجیب منظر گاہ بنا ہوا تھا۔ فرزندان توحید کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر ایک عجیب جوش و خروش اور حرمین شریفین کے ساتھ قلبی، ایمانی عقیدت و محبت کا مظہر تھا۔ سپرو ہاؤس کی اجلاس گاہ کھچا کھچ بھری ہوئی تھی، جہاںتل رکھنے کی جگہ محاورے سے حقیقت بنی ہوئی تھی، اور اسی قدر سامعین کا مجمع اندر سے باہر دوری پر واقع سٹرک تک اجلاس کی کاروائیوں پر گوش بر آواز تھا۔
کافی وسیع و عریض اسٹیج پر امام حرم ایشیخ عبد اللہ السبیل اور ہندستان کے گوشے گوشے سے آئے ہوئے علمائے کرام اور رہنمایان ملت، مفکرین و دانش وران اور ذمہ داران ممالک اسلامیہ موجود تھے۔ اس اجتماع میں عراق کے سفیر برائے ہند نے اپنے ملک کی طرف سے مؤتمر عالم اسلامی کے جنرل سکریٹری اور کویت کے نمائندے نے پیغامات پڑھ کر سنائے۔
کا نفرنس کی بے ضابطہ کاروائیاں دیر تک چلتی رہیں۔ پھر اس کی باضابطہ کارروائی شروع ہوئی۔ سب سے پہلے جناب مولانا قاری فضیل احمد قاسمی ناظم جمعیت علمائے ہند نے نہایت ہی خوش الحانی کے ساتھ تلاوت قرآن پاک سے حاضرین کو حرارت ایمان پہنچائی۔ ان کے بعد مشہور شاعر و صحافی جناب قاری محمد اسحاق صاحب حافظؔ سہارنپوری، قاری برہان احمد اور امیر اللہ اسعدیؔ وغیرہ نے نظمیں پڑھیں۔اور جمعیت علمائے ہند کے قدیم و نو منتخب نائب صدر حضرت مولانا شاہ عون احمد صاحب پھلواری شریف پٹنہ نے تحریک صدارت پیش کی، جس کی تائید پورے مجمع کے علاوہ مولانا عبدالعلیم فاروقی، جناب عزیز الرحمان ایم ایل اے وغیرہ نے فرمائی۔ اجلاس حضرت مولانا سید اسعد مدنی کی صدارت میں شروع ہوا، جس کا افتتاح امام حرم شیخ عبد اللہ السبیل کی تقریر سے ہوا اور اس تقریر کا ترجمہ مولانا فصیح الدین دہلوی مدیر عربی مجلہ ’’الکفاح‘‘ نے پیش کیا۔
خمینی کے متعلق علمائے دین کا فتویٰ
حضرات علمائے کرام و مفتیان شریعت اسلام! گزارش ہے کہ انقلاب ایران کے موجودہ قائد خمینی صاحب نے اپنے جو عقائد اور نظریات کتابوں میں لکھے ہیں، ان کے بارے میں شرعی وضاحت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں۔
۱۔ مثلاً خمینی صاحب لکھتے ہیں :ہمارے مذہب کا بنیادی عقیدہ ہے کہ ہمارے (۱۲) امام اس مرتبہ کے مالک ہیں، جس تک کوئی مقرب فرشتہ اور کوئی نبی مرسل نہیں پہنچ سکتا۔
ان من ضروریات مذہبنا ان لأئمتنا مقا ما لا یبلغہ ملک مقرب ولا نبی مرسل (الحکومۃ الاسلامیۃ، صفحہ 52)
نیز وہ لکھتے ہیں کہ امام کو وہ مقام محمود اور وہ بلند درجہ اور ایسی تکوینی حکومت حاصل ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ اس کے حکم و اقتدار کے آگے سرنگوں ہوتا ہے۔
فان للإمام مقاما محمودا و درجۃً سامیۃً وخلافۃً تکوینیۃ تخضع لولایتہا وسیطرتہا جمیع ذرات الکون۔ (الحکومۃ الاسلامیۃ، ص؍52)
۲۔ اسی طرح خمینی صاحب حضرات صحابۂ کرام کی مقدس جماعت؛ بالخصوص حضرت ابو بکر اور حضرت عمر رضی اللہ عنہما پر سخت لعن طعن اور سب وشتم کرتے ہیں، اور ان کی خلافت کا انکار کرتے ہیں، انھیں خدا و رسول کا با غی اور قرآن کا مخالف کہتے ہیں۔ نیز انھیں کا فروزندیق اور جہنم میں سخت ترین عذاب کا مستحق بتاتے ہیں۔ ملاحظہ ہو: کشف الاسرار، ص؍113تا 120۔ فقط
سائل معزالدین گونڈوی 27؍صفر 1408ھ۔
استفتا کا جواب
الجواب وباللہ التوفیق
اللہ تعالیٰ نے نبی کا مقام تمام انسانوں میں سب سے اعلیٰ بنایا ہے۔ غیر نبی نبی کے مقام تک کبھی نہیں پہنچ سکتا۔ اماموںکو انبیائے کرام سے افضل ماننا اور انھیں خدا کی صفات میں شریک گر داننا کفرو شرک ہے۔
ملاعلی قاری شرح فقہ اکبر میں لکھتے ہیں:
ومنہا ان الولی لا یبلغ درجۃ النبی لأن الأنبیاء معصومون، مأمونون عن خوف الخاتمۃ مکرمون بالوحی،…۔وما نقل عن بعض الکرامیۃ من جواز کون الولی أفضل من النبی کفر وضلالۃ والحاد و جہالۃ۔ (ص؍110)
اور شرح شفا میں ہے:
وکذلک نقطع بتکفیر غلاۃ الرافضۃ فی قولہم ان الأئمۃ المعصومین أفضل من الانبیاء والمرسلین وہذا کفر صریح۔ (ج:2۔ص؍526)
(۲) صحابۂ کرام دین اسلام کے چشم دید اولین گواہ اورشاگرد ہیں۔ قرآن و حدیث ان ہی مقدس جماعت کے ذریعہ ہم تک پہنچا۔ قرآن پاک میں ان کے ایمان کی پختگی، ان کا جنتی ہونا، درجات عالیہ اور رضائے الہی کی خوش خبری اور دیگر فضائل و مناقب متعدد آیات میں اللہ نے بیان فرمائے ہیں۔ ان پر لعن و طعن کرنا، انھیں کا فرو جہنمی کہنا قرآنی آیات کی کھلی ہوئی تکذیب ہے۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کیتئیس سالہ محنت کو ناکام ثابت کرنے کی کوشش ہے۔ دوسرے لفظوں میں قرآن و حدیث یعنی دین اسلام کو کنڈم اور بے کار ثابت کرنا مقصد ہے، اور قرآن وحدیث کی تکذیب اور اہانت رسول یہ سب موجب کفر ہیں۔ نیز صحابۂ کرام سے دشمنی رکھنے والوں کے حق میں قرآن پاک کے اندر لیغیظ بہم الکفار فرمایا گیا ہے۔ قاضی عیاض فرماتے ہیں:
من غاظ أصحاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم فہو کافر۔ قال اللہ تعالیٰ: لیغیظ بہم الکفار۔
فقہا اور محدثین نے بھی ایسے شخص کو بالاتفاق کا فر کہا ہے، چنانچہ ملا علی قاری مرقاۃ میں لکھتے ہیں:
انھم یعتقدون کفرأکثر أکابر الصحابۃ فضلا عن سائر أہل السنۃ والجماعۃ فہو کفرۃ بالاجماع بلانزاع۔
فتاویٰ عالمگیری میں ہے:
الرافضی اذا کان یسب الشیخین ویلعنہما- العیاذ باللّٰہ- فہو کافر و ہولاء قوم خارجون عن ملۃ الاسلام، وأحکامہم أحکام المرتدین۔ کذا فی الظہیریۃ (ج:2۔ ص؍268)۔
اور در مختار میں ہے:
من سب الشیخین أو طعن فیہما کفر ولا تقبل توبتہ (ص؍220)
غرض مذکورہ تمام عقائد و نظریات اسلام دشمنی، قرآن دشمنی اور حدیث دشمنی پر مبنی ہیں،ایسے عقائد کا ماننے والا دائرۂ اسلام سے خارج ہے۔
ومن یبتغ غیر الاسلام دینا ،فلن یقبل منہ۔
فقط واللہ اعلم( مولانا مفتی) حبیب الرحمان خیر آبادی عفا اللہ عنہ مفتی دارالعلوم دیو بند
مہر دار الافتادارالعلوم دیوبند۔
(فرقۂ اثنا عشریہ کے موجودہ رہنما خمینی کے متعلق علمائے دین کا فیصلہ، ص؍42-44)
امام حرم الشیخ عبداللہ السبیل کا خطاب
تحفظ حرم کا نفرنس کے معزز و محترم مہمان خصوصی الشیخ عبداللہ السبیل نے کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے اس عظیم الشان اقدام پر جمعیت علمائے ہند اور اس کے صدر مولانا اسعد مدنی کے ساتھ تمام مسلمانان ہند کو نذرانہ تحسین و تشکر پیش کیا، اور حکومت سعودیہ عرب اور وہاں کے عوام الناس کی طرف سے دلی مبارک باد پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ کانفرنس آپ کا ایک بہت ہی اہم تاریخ ساز اور ملت نواز کا رنامہ ہے، جسے تاریخ اسلام کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ اس کے لیے جزیرہ ٔ عرب اور ساری اسلامی دنیا آپ کی بے حد شکر گزار اور احسان مند ہے۔
امام حرم نے فرمایا کہ دعوت اسلام کی پہلی صدا جزیرۂ عرب سے بلند ہوئی، جو سارے عالم میں پہنچی۔ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو اسلام کے عظیم و اولین مرکز ہونے کا اللہ تعالیٰ نے شرف بخشا اور وعدہ فرمایا کہ ہم اسلام، قرآن اور مرکز اسلام کی حفاظت فرمائیں گے۔ چنانچہ دعوت اسلام سے پہلے ہی جب ابرہہ نے حرمت حرم کو پامال اور بیت اللہ کو برباد کرنے کی جرأت کا فرانہ کی، تو اللہ جل شانہ نے اپنے اس مقدس گھر کی حفاظت فرمائی اور دشمنان حرم کو عبرت ناک سزاؤں سے دوچار ہونا پڑا۔ اسلام قائم ومستحکم ہونے کے بعد سب سے پہلے حرم محترم کی بربادی کا دل خراش منظر قرامطہ کے ہاتھوں دیکھا گیا، جنھوں نے حرم میں زبر دست توڑ پھوڑا اور بتا ہی مچائی، حتیٰ کہ حجراسود کو بھی اکھاڑ کر لے گئے،اور اعلان کیا کہ اب حج ان کے دارالحکومت میں ہوا کرے گا۔ بائیس سال کا طویل زمانہ گزرنے کے بعد پھر حجر اسود کو اس کے صحیح مقام پر نصب کیا جاسکا۔
امام حرم نے فرمایا کہ اسلام سے پہلے جب کفار و مشرکین کا حرم پر قبضہ تھا، حضرت آدم علیہ السلام سے اس وقت تک کعبۃ اللہ کے تقدس و احترام کو باقی رکھا گیا۔ کسی ظالم سے ظالم قوم کو بھی ایسی حرکت کی جرأت نہ ہوسکی۔ پہلی بار قرامطہ کے لوگوں نے یہ کافرانہ قدم اٹھا یا اور اب اس عمل کو ایران کا مدعی امامت خمینی دہرا رہا ہے اور حر مت حرم کو بر باد کرنے پر تلا ہوا ہے۔
امام حرم نے فرمایا کہ ملک عبد العزیز کے اقتدار سے پہلے دنیا کے کسی بھی ملک سے آنے والے حجاج کے لیے نہ تو قرآنی اعلان کے مطابق احاطۂ حرم مامون رہ گیا تھا، اور نہ ہی عرب کی سرزمین کا کوئی حصہ حاجیوں کو جس طرح روز روشن اور مجمع عام میں لوٹ لیا جاتا تھا، وہ تاریخ کی ایک الم ناک اور شرم انگیز داستان بن چکی ہے۔ اس کے علاوہ حجاج کرام کو قیام و طعام اور واپسی تک کے جملہ اور ضروری کی تکمیل، نیز عبادات و ادائیگیِ فریضۂ حج میں طرح طرح کی مشکلات اور دشواریاں در پیش تھیں۔ مکہ مکرمہ میں آنے والے حاجیوں کو تکلیف اور خوف و دہشت کے سوا کچھ بھی میسر نہ تھا۔ یہ صرف سعودی حکومت کی دین ہے کہ اس نے چوری، ڈکیتی، راہزنی اور ایذا رسانی جیسی تمام برائیوں پر بہت جلد کنٹرول کر لیا اور حجاج کرام نہایت اطمینان اور بے خوفی کے ساتھ مناسک حج ادا کرنے آنے لگے۔
امام حرم نے فرمایا کہ حج ایک اسلامی فریضہ اور بہت بڑی عبادت ہے، اس کی ادائیگی کے لیے تمام سہولتیں مہیا کرنا، حجاج کرام کی آمدورفت اور قیام طعام کی سہولتیں، نیز اس کے تحفظ کا انتظام کرنا سعودی حکومت کی پوری پوری ذمہ داری ہے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ سعودی حکومت اپنی ذمہ داریوں کے احساس کے ساتھ پوری طرح متحرک ہے۔ اس نے ماضی کی برائیوں کو جڑ سے اکھاڑ کر پھینک دیا اور حاجیوں کی سہولت و راحت کے کام میں برابر مستعدی کے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ چنانچہ دنیا کے سب سے بڑے اس عظیم اسلامی اجتماع میں آنے والوں کے سفر وو اپسی، ادائیگی فرائض حج، قیام و زیارت، بجلی اور پانی، حفظان صحت اور علاج و معالج وغیرہ کی جملہ سہولتیں اور راحتیں مہیا کی گئی ہیں اور مہمانان حرم کا ہر طرح سے خیال و لحاظ ضروری سمجھا جاتا ہے ۔
امام حرم نے فرمایا کہ جتنا قابل تحسین اور مکمل اطمینان بخش انتظام سعودی حکومت نے کیا ہے اور کر رہی ہے، پہلے اس کا نام ونشان بھی نہیں تھا، اور نہ ہی آئندہ کسی دوسرے سے ایسی امید کی جا سکتی ہے۔ اسی طرح حرمین شریفین کے تحفظ اور بقا کی بھی ذمہ داری سعودی حکومت پرپوری طرح عائد ہوتی ہے، جس سے وہ عہدہ برا ٓنہیں ہو سکتی۔
نعرۂ تکبیر کے فلک شگاف تائیدی و قیمتی نعروں کے بیچ امام حرم نے فرمایا کہ اسی ذمہ داری کے احساس کو بروئے کار لانے میں حکومت مکمل تو جہ سے مصروف ہے اور قرآن کریم کے بتائے ہوئے اس مامن کو حجاج کے لیے ہر طرح سے جائے امن وراحت بنائے رکھنے اور حرم شریف کی عظمت و بقا اور تحفظ کو سلامتی سے ہمکنار رکھنے کے لیے اپنے کو مکلف سمجھتی ہے۔ نیز یہ عزم مستحکم رکھتی ہے کہ -چاہے کتنی ہی بڑی مصیبت اور پریشانیوں سے کیوں نہ دوچار ہونا پڑے- سعودی حکومت حرم محترم پر کسی قسم کی آنچ نہ آنے دے گی۔
انھوں نے کہا کہ قرآن نے حدود حرم میں توحیوانات و نباتات تک کی حفاظت کی تاکید فرمائی ہے۔ پھر خادمان حرمین شریفین یہ بات کس طرح گوارا کر سکتے ہیں کہ خدا کے مہمانوں کو خوف و دہشت اور اذیتوں سے دو چار ہونے دیا جائے۔ ایرانیوں نے یہودیوں کے ہاتھوں میں کھیلنے والے خمینی کی ایما پر کئی برسوں سے حرم پاک پر قبضہ کرنے اور اس کی عظمت و تقدس کی بربادی کی منصوبہ بند سازش کو کامیاب بنانے کی نا پاک مہم چلا رکھی ہے، جو ان شاء اللہ کبھی کامیاب نہ ہوسکے گی۔
آپ نے بتایا کہ ایرانیوں کی اس اسلام دشمن حرکت کی مخالفت و مذمت دنیا بھر کے مسلمانوں نے اور خود تمام عالم میں پھیلے ہوئے شیعوں نے کی ہے؛ حتی کہ خود ایران کے شیعہ باشندوں نے اس سال خمینی فتنہ انگیزی کو کعبۃ اللہ کی بے حرمتی کی نا پاک و مردوو حرکت قرار دیا ہے۔
امام حرم نے آخر میں پھر جمعیت علما، مولانا سید اسعد مدنی اور مسلمانان ہند کی اس بے باک و حق پرست اور حرم نواز کوشش کو نہایت ہی قابل تحسین کہا اور شکریہ ادا کیا۔
سفیر عراق برائے ہندعبدالودود شیخ علی کا خطاب
عراق کے سفیر برائے ہند نے اپنے وزیر اوقاف اور مؤتمر اسلامی عراق کے جنرل سکریٹری کا تہنیت نامہ و پیغام تشکر پڑھ کرسنایا اور کہا کہ خمینی ازم کو اسلام کہہ کر اسلام کی زبردست اہانت کی جارہی ہے۔ خمینی ازم سراسر اسلام دشمن اور شیطانی کارنامہ ہے، جسے اسلام کے خوب صورت لفظ کے ساتھ جوڑ کر عالم اسلام کو فریب دیا جا رہا ہے۔ اس کا اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں۔ یہ یہودیوں کے ساتھ رچی ہوئی سازش کا خوف ناک ڈرامہ ہے۔
انھوں نے کہا کہ ساری دنیا اس حقیقت سے واقف ہے کہ عالم اسلام اور امن پسند ممالک نے جب جب جنگ بندی اور امن و صلح کا پیغام دیا، عراق نے بغیر حیل و حجت اور شرط کے اس کو قبول کیا؛ مگر ایران ہرا پیل کو ٹھکراتا رہا۔ اس کی جارحیت اور انتہا پسند تحریک -جسے ساری دنیا جان اور مان چکی ہے- اب مرکز اسلام کعبۃ اللہ کوبھی اپنی لپیٹ میں لینا چاہتی ہے۔
سفیر عراق نے حرم کا نفرنس کو وقت کے ایک اسلامی فریضہ سے تعبیر کیا اور اس کے انعقاد پر جمعیت علمائے ہند ، مولانا اسعد مدنی اور تمام مسلمانوں اور حاضرین کو مبارک باد دی۔ انھوں نے کہا کہ میں مولانا مدنی کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے ایران عراق جنگ پر تفصیل سے روشنی ڈالی اور حقائق سے آپ کو روشناس فرمایا۔ اب مزید کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ میں تو صرف اشداء علی الکفار، رحماء بینھم کے سلسلے میں تھوڑی سی گزارشات پیش کرنا چاہتا ہوں۔ قرآن نے کہا کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ہر مسلمان کی عزت آبرو اور جان مال کی حفاظت و احترام ہرمسلمان پر فرض ہے۔ کیا خمینی کا اس پر عمل ہے؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے: اشداء علی الکفار رحماء بینہم - محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ لوگ جو ان کے ساتھ ہیں، یعنی صحابۂ کرام اور جملہ مومنین کفرو شرک کے لیے بہت سخت ہیں اور آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ مکمل رحم و محبت کا سلوک کرتے ہیں۔ کیا ایرانی- جو خمینی کے پجاری ہیں- وہ قرآن کے اس فیصلے اور معیار کے مطابق مسلمان ہیں؟ خمینی حکومت مسلمانوں کو قتل اور اسلام کو ختم کرنے پر آمادہ ہے اور اپنی لوگوں کے ساتھ بھر پور تعاون کر رہی ہے، جن کوخمینی اور ایرانی حکمرانوں نے بار بار شیطان کہا ہے، یعنی یہودی، کیا یہودیوں کے ساتھ تعاون کرنے اور اسلام کے ان ازلی دشمنوں کا ساتھ دینے والا مسلمان ہو سکتا ہے ؟جتنے بھی آسمانی صحائف ہیں، ان میں بے جا ایذا رسانی کی کوئی گنجائش نہیں۔ پھر یہ کیسا اسلام ہے اور کیسا امام ہے؟
سفیر عراق نے کہا کہ ہمارا ایرانی عوام سے نہ کوئی جھگڑا ہے، نہ لڑائی؛ بلکہ ہر وہ شخص، جو صدق دل سے کلمہ پڑھتا ہے، وہ ہمارا بھائی ہے۔ حرم کی عظمت کو پامال کرنا ایرانی حکمرانوں کی بدتمیزیوں کا ایک مکروہ نمونہ ہے، جس کی مذمت ہمارے ملک، دنیا کے دوسرے ممالک اور ایران میں رہنے والے شیعہ حضرات کے شدید الفاظ میں کی ہے۔
سفیر محترم نے کہا کہ ہم ایرانیوں سے بھائی کا رشتہ رکھنا چاہتے تھے، جب ان کا دعویٰ تھا کہ ہم بیت المقدس کو صیہونی طاقت سے آزادی دلانا اورفلسطینیوں کے حقوق کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں؛ مگر ہم ان سے الگ ہو گئے، جب یہ دیکھا کہ ایرانی حکمراں تو یہودیوں کی گود میں بیٹھے ہوئے انھیں کے مشن کی کامیابی میں مصروف ہیں۔
انھوںنے عوام سے سوال کیا کہ کیا یہی خمینی کا اسلام ہے؟ اس پر خمینی مردہ باد، اسلام اور حرم محترم زندہ باد کے فلک شگاف نعروں کے ساتھ سامعین نے خمینی کی اسلام دشمنی اور سفیر محترم کی باتوں کو سند صداقت اور تائید بخشی۔
سفیر کویت برائے ہند کی تقریر
سفیر عراق کے بعد کویت کے نمائندے نے بھی اپنی خیالات کا اظہار کیا اور اپنی حکومت کی طرف سے کا نفرنس کا پر زور خیر مقدم کرتے ہوئے تحسین و تشکر کے کلمات ادا کیے۔ نیز حرمین شریفین کے تحفظ اورخمینی ازم کی سرکوبی کے لیے اپنی مکمل حمایت و تعاون کا اعلان کیا۔
(ہفت روزہ مساوات، 13تا26؍ نومبر1987ء، ص؍1و 8)
حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب کی تقریر
حضرت مولانا ارشد مدنی صاحب نے شرح وبسط کے ساتھ ایران کے نام نہاد اسلامی انقلاب پر روشنی ڈالی اور کہا کہ عالم اسلام کو صیہونیت سے زیادہ خطرہ خمینیت سے ہے۔ خمینی اور خمینی نواز عناصر نصیری فرقہ سے تعلق رکھتے ہیں، جو یہود و نصاریٰ سے بڑھ کر اسلام اور مسلمانوں کے دشمن ہیں اور تلبیس سے کام لے کر مسلمانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ خمینی کی تلبیسی سیاست کو بروئے کار لانے کے لیے دنیا کے مختلف ملکوں میں حج سیمینار منعقد کرائے جاتے ہیں، جن میں یہ مطالبہ کیا جاتا ہے کہ حرمین شریفین کا نظم و نسق کسی بین الاقوامی ادارے کے حوالے کر دیا جائے۔ یہ مطالبہ انتہائی پر فریب ہے، جس کا واحد مقصد یہ ہے کہ حرمین شریفین کی مرکزیت اور اجتماعیت کو ختم کر دیا جائے۔ اپنے اس سیاسی مطالبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے امسال مناسک حج کے دوران مکہ معظمہ میں خوں ریزی کرائی گئی۔
مولانا ارشد مدنی نے ایران عراق جنگ پر بھی سیر حاصل بحث کی اور کہا کہ اس جنگ میں اگر عراق کو شکست ہو گئی، تو ایران شام تک پھیل جائے گا اور شام میں نصیری فرقے کی حکومت ہے، جس کے اعتقادات میں یہ بات شامل ہے کہ مسلمانوں کو صفحۂ ہستی سے مٹا دینا کار ثواب ہے۔ یہی عقیدہ خمینی کا بھی ہے، جنھیںصیہونیوں نے تربیت دے کر ایران میں بھیجا ہے۔ عراق کی شکست کی صورت میں ایران، عراق اور شام پرمشتمل وسیع تر خمینی سلطنت قائم ہو جائے گی اور پھر دیگر عرب ممالک اس وسیع تر سلطنت سے بچ نہیں سکیںگے، کیوں کہ ان عرب ملکوں میں بھی خمینی نواز عناصر کی آبادیاں ہیں۔
مولانا ارشد مدنی نے مزید کہا کہ یہ ایران نواز امل ملیشیا ہی ہے، جس نے ہزاروں فلسطینی مجاہدین کو لبنان کے کیمپوں میں تڑ پاتڑپا کر مارا اور انھیں کتے بلی کھانے تک مجبور کیا۔ آخر یہ خمینی نواز عناصر فلسطینی مجاہدین کا قتل عام کر کے اسرائیل کی خدمت نہیں کر رہے ہیں، تو کس کی کر رہے ہیں۔ وسیع ترخمینی سلطنت کے قیام کے بعد سارے عرب ممالک کا حال فوری طور پر لبنان جیسا ہو جائے گا اور اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ وہاں کی موجودہ حکومتیں الٹ جائیں گی اور پھر ان پر خمینیوں کا قبضہ ہو جائے گا۔ ذرا چشم تصور سے دیکھیے کہ عالم اسلام کے لیے خمینیت کتنا بڑا خطرہ ہے اور خمینی کا عفریت کچلنا کتنا ضروری ہے۔
مولانا ارشد مدنی نے بتایا کہ خمینی اور ان کے پیروکار نہ صرف یہ کہ صحابۂ کرام کی عظمت و فضیلت کے منکر ہیں؛ بلکہ قرآن و سنت میں تخدیف و تحریف کے بھی مجرم ہیں۔ مولانا ارشد مدنی نے خمینیت کے ایسے ایسے گوشے اجاگر کیے کہ سامعین انگشت بدنداں رہ گئے اور انھیں اس بات کا اچھی طرح احساس و ادراک ہو گیا کہ فی الواقع خمینیت اسلام کے لیے کتنا بڑا خطرہ ہے۔ مولانا ارشد مدنی نے اپنی تقریر کے بعد درج ذیل تجویز پیش کی، جو مولا نا مرغوب الرحمان کی تائید کے بعد اتفاق رائے سے منظور کی گئی۔
(تحفظ حرم کانفرنس، ص؍26-27۔ تالیف جناب احسن مفتاحی )
تحفظ حرم کانفرنس کی قرارداد
اس کانفرنس نے سانحۂ حرم، خمینی اور ایرانیوں کی سازش کے حوالے سے ایک قرارداد بھی منظور کی، جو درج ذیل ہے:
’’ مکہ مکرمہ اسلام کا مرکز ہے، جس کو تمام دنیا مقدس اور قابل احترام مانتی ہے۔ بیت اللہ شریف پوری دنیا کے مسلمانوں کا قبلہ اور ان کی مرکزیت اور وحدت کا نشان ہے۔ حرم مقدس کی بے حرمتی ہر مسلمان اور ہر معقولیت پسند انسان کے لیے باعث اذیت اور نا قابل برداشت ہے۔ حج اسلام کے ارکان میں ایک اہم اور مقدس رکن ہے۔ ایام حج میں فسق اور جنگ و جدال کی بطور خاص ممانعت کی گئی ہے۔ کئی سال سے خمینی حکومت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں مظاہرے اورہنگا مے کرتی رہی ہے۔ پچھلے سال ایرانی عازمین حج کے پاس بڑی مقدار میں آتش گیر مادہ پکڑا گیا تھا؛ مگر سعودی حکومت نے محض ایرانیوں کی رسوائی اور بدنامی روکنے کی خاطر اس پر کوئی سنگین ایکشن نہیں لیا؛ مگر خمینی نو از ایرانی تو معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل سے تعلق کی بنا پر صیہونیت کے ناپاک منصوبوں کو پورا کرنا چاہتے تھے، اس لیے انھوں نے اس سال جوہنگا مے، قتل و غارت گری اور آتش زنی کی ،وہ حد درجہ باعث نفرت اور قابل مذمت ہے۔ انھوں نے اس کا بھی لحاظ نہیں کیا کہ وہ فریضۂ حج ادا کرنے کے نام پر آئے ہوئے ہیں۔
ایران کا موجودہ نظام حکومت چاہتا ہے کہ حج کو ہنگامہ آرائی اور سیاسی اغراض کے لیے استعمال کرے۔ اس مقصد کے لیے وہ ایک طرف دنیا کی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے اپنے سفارت خانوں کے ذریعہ حج سیمینار اور حج کا نفرنسیں منعقد کراتا ہے اور دوسری طرف اپنے تربیت یافتہ فوجیوں کو بھیج کر حرم کعبہ میں فوٹو، جھنڈے، ڈنڈے استعمال کرنے اور اپنے مظاہروں کو بد ترین ہنگامہ آرائی اور قتل و غارت گری کی شکل دیتا ہے اور خاص نشانہ حرمین شریفین کو بنایا جاتا ہے۔ موجودہ اسلام دشمن، وطن دشمن خمینی حکومت صیہونیت کے اس منصوبہ کو پورا کرنا چاہتی ہے، جس کے ذریعہ حرم محترم کی مرکزیت ختم ہو اور اس کے لیے ایران حرمین پر اپنا تسلط چاہتا ہے، جس کا خمینی اعلان بھی کر چکے ہیں۔ مظاہرہ کے ذریعہ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ ایرانی بلوائی مسلح تھے اور بیت الحرم کی طرف بڑھ رہے تھے، تاکہ کعبہ شریف پر اپنا تسلط جما سکیں اور وہ سمجھ رہے تھے کہ نعروں اور غنڈہ گردی کے ذریعہ صیہونیت اور صیہونیت دوست خمینی کی تمناؤں کو پورا کر سکیں گے، اس لیے انھوں نے ہنگامہ کو تشدد کارنگ دے دیا، شدید پتھراؤ کیا، گاڑیوں کو آگ لگادی، جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچ گئی، جن میں 402 افراد ہلاک ہوئے، ان میں 275ایرانی تھے،85 سعودی عرب کے پولیس مین اور42 افراد دوسرے ملکوں کے عازمین حج تھے۔ زخمیوں کی تعداد تقریبا60 سے زیادہ تھی۔
خمینیوں کے اس ہنگامے اور حرم محترم کے تقدس کی پامالی کو یہ کانفرنس تمام دنیا کے مسلمانوں کے لیے ایک چیلنج تصور کرتی ہے اور اعلان کرتی ہے کہ ہند ستانی مسلمان بڑی سے بڑی قربانی دے کر حرم مقدس کے تحفظ کو اپنے لیے سعادت اور باعث نجات سمجھیں گے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ایران کی موجودہ حکومت کا سامراجی اسرائیل کے ساتھ پوری طرح تعاون اور سمجھوتہ ہے۔ اسرائیل ایران کو امریکی اسلحہ سپلائی کرتا ہے اور خمینی نواز دہشت پسند جماعت اہل بیروت اور لبنان میں فلسطینیوں کا قتل عام کر رہی ہے۔ خمینی نو از امل ملیشیا نے فلسطینی مجاہدین کا محاصرہ کر کے پانی بجلی بند کر کے ان کو مہینوں مردہ جانوروں اور کتوں، بلیوں کا گوشت کھانے پر مجبور کر دیا تھا۔ خمینی نے ایران کے پچاس ہزار یہودیوں کو ایران سے جاکر فلسطین میں بسنے کی اجازت دے کر اسرائیل کی بے پناہ مدد کی ہے۔
یہ عظیم الشان کانفرنس حرمین شریفین کی خدمت اور بے مثال ترقی، حاجیوں کے لیے مثالی امن و امان اور انتظامات کے لیے سعودی حکومت کو مبارک باد دیتی ہے، جس نے حرمین کی توسیع کے علاوہ منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں جو ترقیاتی پروگرام اور حاجیوں کی سہولت کے لیے کام کیے ہیں، ان کا تصور بھی یہاں بیٹھ کر ممکن نہیں۔ حرمین کے لیے بین الاقوامی کنٹرول، یا مسلم ملکوں کا مشتر کہ اقتدار کتنا ہی خوب صورت عنوان ہو؛ مگر اس کے ذریعہ حرم محترم اختلافات اور ہنگاموں کا اکھاڑہ بن جائے گا۔
کا نفرنس حرم مقدس کے تحفظ اور ایرانی ہنگامہ کا کامیاب دفاع کرنے کے لیے سعودی حکومت اور محافظین حرم کو مبارک باد دیتی ہے اور خادم الحرمین شاہ فہد بن عبد العزیزؒ کو یقین دلاتی ہے کہ ہندستان کے مسلمان اور انصاف پسند عوام ان کے ساتھ ہیں اور حرم شریف کے تحفظ اور احترام کے لیے ان کی کارروائیوں کی پرز ورحمایت کرتے ہیں۔ فریضۂ حج کی بااطمینان ادائیگی اور دنیا کے گوشہ گوشہ سے آنے والے حجاج کرام کے جان و مال کے تحفظ کے پیش نظر سعودی عرب سے درخواست کرتی ہے کہ ایرانی یاجو بھی حرم مقدس کے تقدس کو پامال کرے، اس کا داخلہ حجاز مقدس میں ممنوع قرار دیا جائے؛ ورنہ کم سے کم ایرانی حکومت سے یہ ضمانت حاصل کی جائے کہ حرمین شریفین میں کوئی لاقانونیت، ہنگامہ اور مظاہرہ نہیں ہوگا۔
ایرانی حکومت جنگ کے دائرہ کو بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس کی کوشش ہے کہ پڑوسی عرب ممالک خاص طور پر کویت اور سعودی عرب بھی اس جنگ میں پھنس جائیں، جس کا ثبوت حال ہی میں کویت پر راکٹوں کے حملہ سے مل رہا ہے۔ کانفرنس اس حملہ کی شدید مذمت کرتی ہے۔ نیز یہ کانفرنس تمام حکومتوں سے بطور خاص اسلامی حکومتوں سے مطالبہ کرتی ہے کہ ایران کی موجودہ حکومت سے ہر طرح کے تعلقات منقطع کر لیں؛ کیوںکہ یہ حکومت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو پامال کرتی جارہی ہے اور بے قصور بندگان خدا کے خون کو بے دریغ بہا رہی ہے اور سلامتی کونسل کی تجویز نمبر 598 کو کو قبول کرنے سے قطعا منکر ہے۔
یہ کا نفرنس مسلمانانِ عالم، ہندستانی مسلمانوں اور انصاف پسند عوام کو مبارک باد دیتی ہے کہ انھوں نے بھی خمینی رجیم کے ہنگاموں کی ہر گوشہ سے مذمت کی اور مؤثر احتجاج کیا۔
ایران کے سابق صدر ابولحسن بنی صدر نے اس ہنگامہ کو خمینی کی دہشت گردی اور سیاسی اغراض قرار دیا ہے۔
محرک: مولانا ارشد مدنی صاحب استاذ دارالعلوم دیوبند۔
تائید: مولانا مرغوب الرحمان صاحبؒ بجنوری۔
(خصوصی شمارہ ہفت روزہ مساوات، 13تا 26؍ نومبر1987ء)
تحفظ حرم اور ایران -عراق جنگ کے متعلق اہم تجاویز کی منظوری
ملک و ملت کے سلگتے حالات پر غوروفکر کے لیے 9،10؍ اپریل 1988ء کو مجلس منتظمہ کا اجلاس ہوا، جس میں دیگر ایجنڈوں کے علاوہ تحفظ حرم اور ایران-عراق جنگ کی طوالت پر حد سے زیادہ افسوس کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر جنگ بندی کی اپیل کی گئی۔ دونوں تجاویز درج ذیل ہیں:
تحفظ حرم کی بابت سعودی حکومت کے لیے چند تجاویز
مکہ مکرمہ اسلام کا مرکز ہے، جس کو تمام دنیا مقدس اور قابل احترام مانتی ہے۔ بیت اللہ شریف پوری دنیا کے مسلمانوں کا قبلہ اور ان کی مرکزیت اور وحدت کا نشان ہے۔حرم مقدس کی بے حرمتی پرمسلمان اور ہر معقولیت پسندانسان کے لیے باعث اذیت اور ناقابل برداشت ہے۔ حج اسلام کے ارکان میں ایک اہم اور مقدس رکن ہے۔ ایام حج میں فسق اور جنگ وجدال کی بطور خاص ممانعت کی گئی ہے۔ کئی سال سے خمینی حکومت مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں مظاہرے اور ہنگا مے کراتی رہی ہے۔ پچھلے سالوں میں ایرانی عازمین حج کے پاس سے بڑی مقدار میں آتش گیر مادہ پکڑا گیا تھا۔ مگر سعودی حکومت نے محض ایرانیوں کی رسوائی اور بدنامی روکنے کی خاطر اس پر کوئی سنگین ایکشن نہیں لیا؛ مگرخمینی نواز ایرانی تو معلوم ہوتا ہے کہ اسرئیل سے تعلق کی بنا پر صیہونیت کے ناپاک منصوبوں کو پورا کرنا چاہتے تھے۔ اس لیے انھوں نے اس سال جو ہنگامے عین حج کے موقع پر قتل وغارت گری اور آتش زنی کی، وہ حد درجہ باعث نفرت اور قابل مذمت ہے۔ انھوں نے اس کا بھی لحاظ نہیں کیا کہ وہ فریضۂ حج ادا کرنے کے نام پرآئے ہوئے ہیں ۔
جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ کایہ اجلاس خمینی کی ملت کے ہاتھوں حرم شریف کی بے حرمتی اور تقدس کی پامالی کو انتہائی قابل نفرت اور باعث مذمت سمجھتے ہوئے سخت احتجاج کرتا ہے۔ خمینیوں کا یہ عمل عالم اسلام اور کروڑوں امن وانصاف پسند عوام کے لیے ناقابل برداشت ہے۔
ایران کا موجودہ نظام حکومت چا ہتا ہے کہ حج کو ہنگامہ آرائی اور سیاسی اغراض کے لیے استعمال کر ے۔اس مقصد کے لیے وہ ایک طرف دنیا کی رائے عامہ کو گمراہ کرنے کے لیے اپنے سفارت خانوں کے ذریعہ حج سمینار اور حج کانفرنسیں منعقد کراتا ہے اور دوسری طرف اپنے تربیت یافتہ فوجیوں کو بھیج کر حرم کعبہ میں فوٹو، جھنڈے ، ڈنڈے استعمال کرتے اور اپنے مظاہروں کو بد ترین ہنگامہ آرائی اورقتل وغارت کی شکل دیتا ہے اورخاص نشانہ حرمین شریفین کو بنایا جاتا ہے۔ موجودہ اسلام دشمنی خمینی حکومت صیہونیت کے منصوبہ کو پورا کرنا چاہتی ہے، جس کے ذریعہ حرم محترم کی مرکزیت ختم ہو۔ اور اس کے لیے ایران حرمین پر اپنا تسلط قائم کرے، جس کا خمینی اعلان بھی کرچکا ہے۔مظاہرہ کے ذریعہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ ایرانی بلوائی مسلح تھے اور بیت الحرام کی طرف بڑھ رہے تھے، تاکہ مسجد حرام پر اپنا تسلط جمائے اور سمجھ رہے تھے کہ نعروں اور غنڈہ گردی کے ذریعہ صیہونیت اور صیہونیت دوست خمینی کی تمناؤں کو پورا کرسکیں گے، اس لیے انھوں نے ہنگامہ کو تشدد کا رنگ دے دیا ہے، شدید پتھراؤ کیا ،گاڑیوں کو آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچ گئی، جن میں402 افراد ہلاک ہوئے، ان میں 275 ایرانی تھے، 85 سعودی عرب کے پولیس مین اور42 افراد دوسرے ملکوں کے عازمین حج تھے۔ زخمیوں کی تعداد تقریبا60 سے زیادہ تھی۔
خمینیوں کے اس ہنگامے اور حرم محترم کے تقدس کی پامالی کو مجلس منتظمہ تمام دنیاکے مسلمانوں کے لیے ایک چیلنج تصور کرتی ہے اور اعلان کرتی ہے کہ ہندستانی مسلمان بڑی سے بڑی قربانی دے کر حرم مقدس کے تحفظ کو اپنے لیے سعادت اور باعث نجات سمجھیں گے۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ ایران کی موجودہ حکومت کا سامراجی اسرئیل کے ساتھ پوری طرح تعاون اور سمجھوتہ ہے۔ اسرائیل ایران کو امریکی اسلحہ سپلائی کرتا ہے اور خمینی نواز دہشت پسند جماعت بیروت اور لبنان میں فلسطینیوں کاقتل عام کر رہی ہے۔ خمینی نواز ’’امل ملیشیا‘‘نے فلسطینی مجاہدین کا محاصرہ کر کے پانی بجلی بند کر کے ان کو مہینوں مردہ جانوروں اور کتوں، بلیوں کا گوشت کھانے پر مجبور کر دیا تھا۔ خمینی نے ایران کے پچاس ہزار یہودیوں کو ایران لے جاکر فلسطین میں بسنے کی اجازت دے کر اسرائیل کی زبر دست مدد کی ہے۔
مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند حرمین شریفین کی خدمت اور بے مثالی ترقی حاجیوں کے لیے مثالی امن و امان اور انتظامات کے لیے سعودی حکومت کو مبارک باد دیتی ہے، جس نے حرمین کی توسیع کے علاوہ منیٰ، عرفات اور مزدلفہ میں جو ترقیاتی پروگرام اور حاجیوں کی سہولت کے لیے کام کیے ہیں، ان کا تصور بھی یہاں بیٹھ کر ممکن نہیں۔
حرمین کے لیے بین الاقوامی کنٹرول، یا مسلم ملکوں کا مشترکہ اقتدا رکتنا ہی خوب صورت عنوان ہو؛ مگر اس کے ذریعہ حرم محترم اختلافات اور ہنگاموں کا اکھاڑہ بن جائے گا۔
مجلس منتظمہ حرم مقدس کے تحفظ اور ایرانی ہنگامہ کا دفاع کرنے کے لیے سعودی حکومت اور محافظین حرم کو مبارک باد دیتی ہے اور خادم الحرمین شاہ فہد بن عبد العزیزؒ کو یقین دلاتی ہے کہ ہندستان کے مسلمان اور انصاف پسند عوام ان کے ساتھ ہیں اور حرم شریف کے تحفظ اور احترام کے لیے ان کی کارروائیوں کی پرزور حمایت کرتے ہیں۔ فریضۂ حج کی بااطمینان ادائیگی اور دنیا کے گوشہ گوشہ سے آنے والے حجاج کرام کے جان و مال کے تحفظ کی ذمہ داری حکومت سعودی عرب پر ہے۔
مجلس منتظمہ حکومت سعودی عرب سے پر زور مانگ کرتی ہے کہ سابقہ تجربہ اورحادثہ کے پیش نظر خمینی ملت کے لوگوں کو حرم شریف میں داخلہ کی اجازت نہ دے۔
مجلس منتظمہ کو اس خبر پر سخت تشویش ہے کہ امسال بھی ڈیڑھ لاکھ ایرانی حج ادا کرنے کے نام پر حرم شریف آرہے ہیں۔ مجلس منتظمہ کو خطرہ ہے کہ ایرانی حکومت جنگ کے دائرہ کو بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔میدان جنگ کے علاوہ عراق کی شہری اور بے قصور آبادی پر راکٹوں اور میزائلوں سے حملہ کر کے بے شمار شہریوں کو شہید، آبادیوں کو مسمار اورمسجدوں تک کو شہید کیا جا رہا ہے۔ کویت پربم باری کی جاچکی ہے اورحال ہی میں کویت کے جہاز کااغوا کیا گیا ہے۔
ایران عرب ملکوں کی معیشت اور اقتصادیات کو تباہ کرنے کے لیے غیر متحارب اور غیر جانب دار ملکوں کے تیل بردار جہازوں پر حملے کر رہا ہے اور ان میں آگ لگا رہا ہے، تاکہ عرب ملکوں کی تیل کی فروختگی بند ہو جائے اور فاقہ کشی پر مجبور ہوجائیں، جس سے خمینی اور صیہونی مل کر ان ممالک پر بآسانی قبضہ کرسکیں۔ ایران نے اب تک کئی ہندستانی تیل بردارجہا زوں پرحملہ کرکے ان کو تباہ کیا ہے، جس سے حکومت ہند کو کروڑوں روپیہ کانقصان ہوا ہے۔ ہندستان جیسے غیر جانب دارملک اور ایران سے سفارتی تعلقات رکھنے والے ملک پر حملے نہایت شرم ناک اور قابل مذمت ہیں۔
مجلس منتظمہ جمعیت علمائے ہند کا یہ اجلاس عام اسلامی حکومتوں سے اپیل کرتا ہے کہ وہ ایران کی موجودہ حکومت سے اپنے سفارتی وتجارتی تعلقات توڑ لیں، کیوں کہ یہ حکومت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکامات کو پامال کر رہی ہے اور بے قصور بندگان خدا کا مقدس خون بے دریغ بہاکر اسلام کی نافرمانی کر رہی ہے۔
مجلس منتظمہ دنیا کے تمام انصاف پسند حکومتوں اور انجمن متحدہ اقوام سے مطالبہ کرتی ہے کہ وہ ایران کی اقتصادی ناکہ بندی کریں؛کیوں کہ اس نے نہ صرف سلامتی کونسل کی تجویز598کو منظور کر نے اور جنگ روکنے سے انکار کیا ہے؛ بلکہ وہ لاکھوں ایرانی وعراقی انسانوں کا خون بہا رہا ہے اور تیسری جنگ عظیم کو نزدیک لارہا ہے۔ جب کہ عراق نے ہر موقع پرجنگ بندی کی تجویزوں کا خیرمقدم کیا ہے اور لڑائی بند کرنے پر آمدگی ظاہر کی ہے۔
جمعیت علمائے ہند کی مجلس منتظمہ ہندستانی مسلمانوں اور خصوصاجمعیت علمائے ہند کی شاخوں اور کارکنوں کی شکر گزار ہے، جنھوں نے ملک کے کونے کونے میں تحفظ حرم کانفرنسیں کرکے خمینی ازم کی ان حرکتوں کی مذمت کرتے ہوئے مؤثر احتجاج کیا ہے۔ مجلس منتظمہ مسلمانان عالم اور ان تمام انصاف پسند عوام کی شکر گزار ہے، جنھوںنے بڑے پیمانے پر خمینی ملت کی ان حرکتوں پر نفرت ظاہر کی اور سخت مذمت کا اظہا رکیا ہے اور یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔
ایران عراق کی خوں ریز جنگ ملت اسلامیہ کے لیے تباہ کن
جمعیت علمائے ہندکی مجلس منتظمہ کایہ جلسہ آٹھ سالہ خونی ایران عراق جنگ کو ملت اسلامیہ کے لیے نہایت تباہ کن سمجھتا ہے۔ یہ لڑائی جس میں اب تک پندرہ لاکھ انسان مارے جا چکے ہیں اور کھربوں روپیہ کی املاک تباہ ہوئی ہیں، اس وقت تک دونوں جانب سے اس بے مصرف جنگ پر تقریبا پانچ کھرب ڈالر خرچ ہوچکا ہے۔ اب جنگ نہایت کرب ناک دور میں داخل ہوگئی ہے، جب کہ شہری آبادیوں کو بم باری و میزائل کے حملوں سے تباہ کیاجارہا ہے۔
یہ لڑائی صیہونیت کی سازش سے خمینی محض اپنی ضد اور ہٹ دھری سے جاری رکھے ہوئے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ انھوں نے اس وقت تک جتنے ایرانی شہریوں اور عراقیوں کوشہید کیا ہے۔ اگر یہ جنگ وہ بند کر دیتے ہیں، توعوام ( جو محض جنگی پابندیوں کی وجہ سے خاموش ہیں) ان کو بلا تاخیر اقتدار سے محروم کر دیں گے اور ایران کوقتل وخوںریزی اور بربادی سے نجات دلائیںگے، جو خمینی کے دوست صیہونی وسامراجی اسرائیل کو کسی طرح پسند نہیں ہے۔
مجلس منتظمہ حکومت عراق اور اس کے سربراہ صدام حسین کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتی ہے، جنھوں نے امن کی ہر آوازاور انجمن متحدہ اقوام کی ہرا پیل پر لبیک کہا اور جنگ بندی؛ بلکہ جنگ ختم کرنے کو تیار ہوگئے؛ لیکن خمینی نے انجمن متحدہ اقوام کی ہر تجویز اور امن کی ہر اپیل کو ٹھکرایا۔
مجلس منتظمہ تمام دنیاکی انصاف پسند حکومتوں، انجمن متحدہ اقوام اور عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ ایران کی خمینی حکومت کا بائیکاٹ کریں اور اس کو ہتھیاروں کی سپلائی روک کر اور اقتصادی ناکہ بندی کر کے انجمن متحدہ اقوام کی تجویز کو تسلیم کرنے اور لڑائی بندکرنے پر مجبور کر دیں۔
تحفظ حرم کانفرنس لندن سے صدر جمعیت کا خطاب
صدر جمعیت علمائے ہند اور قائد تحریک تحفظ حرم حضرت مولاسید اسعد مدنی ؒنے2؍ جولائی 1988ء کو برطانیہ کے مسلمانوں کی طرف سے منعقدہ عظیم الشان تحفظ حرم کا نفرنس (لندن) کو خطاب کرتے ہوئے پر زور الفاظ میں اپنے اس افسوس کا اظہار فرمایا کہ امن کے شہر مکہ مکرمہ میں بیت اللہ کے تقدس کو پامال کرنے کی ایرانی حجاج نے اپنے آقاؤں کے اشارے پر کوشش کی۔ آپ کا اشارہ گذشتہ حج کے موقع پر اس سانحۂ حرم کی طرف تھا، جس میں خمینی کے حاشیہ بردار پاس داروں نے بیت اللہ کے تقدس کو پامال کر دیا تھا اور جس کے نتیجے میں ایک بڑی تعداد میں لوگوں کو اپنی جان ومال سے ہاتھ دھونا پڑا تھا۔ مکمل تقریر کے لیے دیکھیں:
(ہفت روزہ مساوات، 15تا 21؍ جولائی 1988ء، ص؍10)
ایران عراق جنگ بندی کی امید
ایران-عراق جنگ بندی کے امکانات سے متعلق موصول خبروں پر جمعیت علمائے ہند نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے درج ذیل پریس بیان دیا:
’’19؍جولائی 1988ء کو عالم انسانیت ؛بالخصوص عالم اسلام نے انتہائی فخرو مسرت کے ساتھ یہ خبرسنی کہ گذشتہ سال کی اقوام متحدہ کی ایران عراق جنگ بندی سے متعلق قرار داد 598 کو ایران نے تسلیم کرتے ہوئے آٹھ سالہ طویل جنگ کے خاتمہ کا اعلان کیا ہے۔ یہ جنگ -جو گذشتہ آٹھ سال سے بڑے شدومد کے ساتھ جاری تھی اور جس میں لاکھوں لوگوں کی جانوں کا ضیاع ہو چکا ہے- پوری دنیا نے اس جنگ کو بند کرانے کے لیے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کیا؛ مگر عالمی پیمانے پر نا کامی رہی۔ اب جب کہ عراق کی پیش قدمی جاری تھی ،ایرانی رہنماؤں کو ہوش آیا کہ اب پانسہ عراق کے حق میں ہوتا جارہا ہے، اس لیے اس نے اقوام متحدہ کی جنگ بندی کی قرارداد کو تسلیم کر لینے کا اعلان کر دیا، جب کہ عراق کے لیے اس کی تعریف کی جائے گی کہ مسٹر صدام حسین صدر عراق شروع سے ہی اس کے لیے آمادہ نظر آتے تھے۔ اگر چہ عراق کی حکومت ایرانی حکمرانوں کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے ابھی تک (25؍ جولائی) ایران کے اعلان کو نئی جنگی حکمت عملی سے تعبیر کر رہی ہے، اسی لیے اس نے جنگ بندی کے لیے باہمی بات چیت کی شرط لگائی ہے، جس کو ایران نے مسترد کر کے جنگ میں مزید تیزی پیدا کر دی ہے؛ تاہم امید ہے کہ اب اس جنگ کے خاتمہ کا وقت آگیا ہے اور دونوں ملک بین الاقوامی کوششوں کو اب بہت زیادہ دنوں تک نظر انداز نہ کرسکیں گے۔
(ہفت روزہ مساوات، 5تا 11؍ اگست1988ء، ص؍۴)
ایران-عراق جنگ جنگ بندی پر مسرت کا اظہار
جیسا کہ عرض کیا گیا کہ اقوام متحدہ کی ثالثی کے بعد آٹھ سالہ طویل ایران- عراق جنگ 20؍اگست 1988ء کو بڑی تباہی و بربادی کے بعد کسی نتیجے کے بغیر اختتام پذیر ہوئی۔ جمعیت علمائے ہند-جو روز اول سے اس جنگ کے خلاف تھی-نے 13،14؍ اگست 1988ء کو منعقد اپنی مجلس عاملہ کے اجلاس میں اظہار مسرت کرتے ہوئے کہا کہ:
’’ایران عراق کی آٹھ سالہ بدترین، مہلک عالم اسلام کے لیے ناسور جنگ، جو نہ صرف خلیج کے لیے؛ بلکہ دنیائے اسلام کے لیے باعث الم ناک تھی، جس میں بلا مقصد اربوں ڈالر اور لاکھوں جانیں ضائع، عورتیں بیوہ، بچے یتیم ہو گئے، پورے عالم اسلام کو جس جنگ نے سخت ترین تباہی سے دوچار کر دیا تھا، اور جس جنگ کا طول صرف اسرائیل کے لیے موجب مسرت و اطمینان تھا، الحمد اللہ20؍اگست(1988ء) تک ایسی بدترین اور ہول ناک جنگ کا خاتمہ یقینی ہو گیا ہے۔
جمعیت علما کی مجلس عاملہ اس موقع پر نہایت اطمینان اور خوشی کا اظہار کرتی ہے، اور اس بات پر اظہار مسرت کرتی ہے کہ ایران نے اقوام متحدہ کی امن کونسل کی تجویز کو آخر کار مان لیا، جسے عراق پہلے ہی مرحلے سے مانتا چلا آیا ہے، جس کے نتیجے میں یہ خوشگوار موقع نصیب ہوا۔ نیز مجلس عاملہ ان لوگوں کو مبارک باد دیتی ہے، جن کی کوششوں سے یہ کام انجام پایا۔
(روزنامہ ، الجمعیۃ،26؍اگست1988ء)
ایران عراق فائر بندی پر جمعیت علما کی تقریب مسرت
جب 20؍اگست1988ء کو مکمل طور پر جنگ بندی ہوگئی، تو جمعیت علمائے ہند نے اپنی بے پناہ مسرت کا اظہار کرتے ہوئے ایک تقریب کا انعقاد کیا۔یہاں تقریب کی مکمل کارروائی درج کی جارہی ہے، تاکہ تمام مناظر سے پردے اٹھ سکیں اور اس جنگ بندی کی اہمیت پوری طرح اجاگر ہوجائے۔
’’دنیا بھر کے امن پسندوں کو امید تھی کہ اب جب کہ ایران کی پوزیشن غالب ہے، وہ بھی عراق سے اپنی مغلوبیت کی ہزیمت کا بدلہ چکا کر دنیا بھر کے امن پسندوں کی بات مان لے گا اور ان کو اپنا احسان مند کر دے گا؛ مگر افسوس کہ ایران کی ضدی اور ہٹ دھرم قیادت مسلسل کوششوں کے باوجود بھی جنگ بندی پر آمادہ نظر نہ آئی، اور جب اس پر اس کے سرپرستوں نے بھی دباؤ ڈالنا شروع کیا، تو اس نے جنگ بندی کے منصوبہ میں شرطیں لگا کر اس کو مزید الجھانے کی کوشش کی۔ پھر لوگوں نے دیکھا کہ اچانک جنگ کی صورت حال بدلتی نظر آنے لگی اور عراق -جومسلسل مغلوبیت کی حالت میں صرف اپنے دفاع پر مجبور ہو رہا تھا- یکایک غالب حیثیت اختیار کرنے لگا۔ اس نے ایک بڑی جدوجہد کے بعد اپنے وہ تمام علاقے ایک ایک کر کے ایران کے قبضے سے آزاد کرالیے اور اب اس پوزیشن میں آگیا کہ وہ ہاری ہوئی بازی کو فتح میں بدل سکے۔ ادھر ایرانی قیادت افتراق و انتشار کا شکار ہو کر رہ گئی۔ برسر اقتدار خمینی توازن میں دو گروپ ہو گئے۔ ایک گروپ آیت اللہ خمینی کے جانشیں آیت اللہ منتظری خمینی کے صاحب زا دے اور ملک کے وزیر داخلہ کا تھا، اور دوسرا گروپ پارلیمنٹ کے اسپیکر مسٹر رفسنجانی- جو مسلح افواج کے کمانڈر انچیف بھی ہیں- کا تھا، جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کو مسلح افواج کی حمایت کے ساتھ ساتھ ملک کے صدر مسٹر خامنہ ای کی تائید و حمایت بھی حاصل تھی۔ اول الذکر کے خیال میں غیر مشروط جنگ بندی ملک کی تباہی کے مترادف تھی، جب کہ مؤخر الذکر کا خیال تھا کہ فوری جنگ بندی ملک کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔ بہر حال مؤخر الذکر گروپ غالب آیا او رانھوں نے خمینی پر دباؤ ڈال کر جنگ بندی سے متعلق اقوام متحدہ کی قرار داد598 کی منظوری کا اعلان کر دیا۔
اقوام متحدہ کی اس قرار داد کو عراق نے گذشتہ 22؍جولائی 1988ء کو ہی تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا تھا، جب کہ ایران نے بعد از خرابی بسیار، ٹھیک ایک سال کے بعد اس قرارداد کی منظوری کا غیر مشروط اعلان کیا۔ چوںکہ عراق کی پوزیشن میدان جنگ میں بہتر تھی، اس لیے اب اس نے اس قرار داد پر عمل درآمد کو باہمی گفتگو کے ذریعہ معاملات کے حل کے ساتھ مشروط کر دیا۔ خدا کا شکر ہے کہ ایرانی قیادت نے حالات سے مجبور ہو کر عراق کی اس شرط کو بھی منظور کر لیا اور بالآخر4؍ستمبر1980ء سے جاری اپنے دور کی طویل اور مہلک ترین جنگ ختم ہو گئی۔
یہ تمام صورت حال دنیا بھر کے امن پسندوں؛ بالخصوص عالم اسلام کے لیے نہ صرف باعث تشویش تھی؛ بلکہ ایک ناسور بن چکی تھی۔ نہ جانے کتنے ایمان و اسلام سے لبریز قلوب اس آرزو کو اپنے سینوں میں لیے اس دنیا سے رخصت ہو گئے کہ کاش عالم اسلام کی تباہی کا پیش خیمہ یہ جنگ جلد از جلد ختم ہو جائے۔ آج پورا عالم اسلام؛ بلکہ پوری عالم انسانیت فرحاں و شاداں ہے کہ ایران عراق نے جنگ بندی کے سلسلے میں اقوام متحدہ کی قرار داد کو منظور کر کے انسانیت کو- جو بڑی حد تک تباہ و بر باد تھی- مزید تباہی سے بچا لیا ہے۔ تمام عالم اسلام میں اس پر اظہار مسرت کیا جا رہا ہے۔ دونوں متحارب ملکوں کو جنگ ختم کرنے پر مبارک بادیاں پیش کی جارہی ہیں اور جنگ بندی میں استحکام کے لیے دعائیں مانگی جارہی ہیں۔
اس سلسلہ کی ایک تقریب ہندستان کی راجدھانی نئی دھلی کے اشو کا ہوٹل میں بھی ہندستانی مسلمانوں کی مؤثر جماعت: جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام منائی گئی۔ اس تقریب میں- جس کی صدارت اور جس کا افتتاح صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا اسعد مدنی ایم پی نے فرمایا- عراقی اور سعودی سفرا نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی۔
اس تقریب کا افتتاح کرتے ہوئے صدر محترم جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی ایم پی نے عربی میں خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ پور ے عالم کے لیے یہ بات باعث مسرت ہے کہ خلیج گے دو ملک :ایران اور عراق اقوام متحدہ کی قرارداد کے مطابق جنگ بندی کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔ 20؍ اگست 1988ء - جو فائر بندی کا دن ہے- پوری عالم انسانیت کے لیے تہنیت کا دن ہے۔ آپ نے جنگ کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا کہ اس جنگ نے دس لاکھ سے زائد قیمتی انسانی زندگیوں کا چراغ گل کر دیا، جب کہ اس سے دوگنی تعداد معذوری کا شکار ہو کر اپنے اہل خاندان پر بوجھ بن کر رہ گئی ہے۔
صدر محترم نے فرمایا کہ اگر اقتصادی اور معاشی، نیز دفاعی نقصانات کا اندازہ لگایا جائے، تو وہ بلا مبالغہ کئی کھرب ڈالر تک جاپہنچے گا۔ ان دونوں ملکوں کی جنگ سے صرف مسلمانوں کے دشمن اسرائیل کو فائدہ پہنچا ہے، اس نے ان دونوں ملکوں کے باہمی افتراق و انتشار سے فائدہ اٹھاتے ہوئے لبنان سے فلسطینیوں کو نکالنے میں کامیابی حاصل کرلی۔ اس کو اس جنگ کے ذریعہ ہی یہ حوصلہ ملا کہ اس نے فلسطینیوں کی اقتصادی و معاشی ناکہ بندی کر کے ان کو بھوکوں مرنے، کتے اور بلی کھانے پر مجبور کر دیا۔ شتیلا وغیرہ کیمپوں کی تباہی اسی جنگ کے نتیجہ میں رونما ہوئی۔ آپ نے بڑی صفائی کے ساتھ فرمایا کہ اس بات سے کوئی فائدہ نہیں ہے کہ کہا جائے کہ کس نے زیادتی کی اور اس پر زیادتی ہوئی؛ مگر اتنی بات ضرور کہی جائے گی کہ اس جنگ نے صرف ایرانی قیادت کی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے اس قدر طول کھینچا۔ آپ نے فرمایا کہ ابھی حال ہی میں ہمارے ملک کی شمال مشرقی ریاستوں میں زبردست زلزلہ کی وجہ سے ہزار ہا جانوں کی تباہی ہوئی ہے، اگر چہ ہمارے دل اس سے رنجیدہ اور پژ مردہ ہیں، تاہم یہ بین الاقوامی مسئلہ تھا، اس لیے ان سنگین حالات میں بھی یہ پر مسرت تقریب منعقد کی گئی۔
آپ نے فرمایا کہ ہم اپنے شمال مشرقی ریاستوں کے نقصان زدہ اور مصیبت زدہ بھائیوں سے بھی غافل نہیں ہیں۔ جمعیت علمائے ہند نے ان کی امداد کے لیے پچاس ہزار روپیہ کی رقم منظور کی ہے۔ ایک اعلیٰ سطحی و فد بہار اور زلزلہ زدہ علاقوں کے دورے پر روانہ ہو رہا ہے، جو وہاں موقع پر صورت حال کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کرے گا۔
سفیر عراق جناب عبدالودود عبد الکریم کا خطاب
اس تقریب کو آخر میں مہمان خصوصی سفیر عراق جناب عبدالودود عبد الکریم نے پر جوش اور پر مسرت انداز میں خطاب کیا۔ سفیر موصوف نے دونوں ملکوں کے درمیان جنگ بندی پر اپنی بھر پورمسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ عراق اور اس کے قائد مسٹر صدام حسین نے جنگ بندی سے کبھی بھی انکار نہیں کیا؛ بلکہ جب بھی کسی طرف سے امن کی آواز سنی گئی، اس طرف بھر پور توجہ دی گئی؛ مگر افسوس کہ ایران اور اس کی قیادت نے جنگ بندی کی اپیلوں کو نہ صرف ٹھکرایا ؛بلکہ جنگ کو مزید تیز کر دیا۔ مسٹر عبدالودود نے کہا کہ اس جنگ سے ایران اور عراق میں ہی نہیں؛ بلکہ پوری دنیا کے مسلمان متأثر ہوئے۔ 4؍ ستمبر1980ء ،جب سے یہ جنگ جاری ہے ،عراقی حکمران مسٹر صدام حسین نے نہ معلوم کتنی مرتبہ ایرانی حکمرانوں کی طرف امن اور دوستی کا ہاتھ بڑھایا؛ مگر ہر مرتبہ ایران کی کم فہم قیادت اس ہاتھ کو جھٹکتی رہی؛ بالآخر گذشتہ سال20؍ جولائی1987ء کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اپنی قرار داد598 کے ذریعہ جنگ بندی کی تجویز منظورکی، جس کو عراق کے صدر نے دو دن بعد ہی 22؍جولائی 1987ء کو قبول کرنے کا اعلان کر دیا؛ مگر ایران کے حکمرانوں نے اس قرار داد کو ایسی شرطوں سے مشروط کرنے کی لا حاصل کو ششیں شروع کر دیں، جوکسی بھی آزاد ملک کے لیے قابل قبول نہیں ہو سکتیں۔ ایران نے مطالبہ کیا کہ پہلے عراق کے صدر صدام حسین کو برطرف کر دیا جائے۔ بھلا یہ کیسے ممکن تھا، وغیرہ وغیرہ۔
سفیر عراق نے اس پر خدا کا شکر ادا کیا کہ ایک سال کے طویل عرصہ کے بعد ایران نے عراق کی شرط باہمی گفت وشنید کو منظور کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے اس قرار داد کو منظور کر لیا ہے، جو گذشتہ برس سلامتی کونسل نے جنگ بندی سے متعلق منظور کی تھی۔
اب اللہ کا فضل ہے کہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل اور دیگرسر بر آوردگانِ عالم کی مساعی کے نتیجے میں 20؍ اگست 1988ء کو فائر بندی کا عمل مکمل ہو گیا ہے، اب دونوں ملکوں کی سرحدیں بالکل خاموش ہیں۔ 25؍اگست 1988ء کو جینوا میں عراق کی شرط کے مطابق دونوں ملکوں کے یہ باہمی مذاکرات کا سلسلہ شروع ہونے والا ہے، اس سے امید ہے کہ تمام مسائل گفتگو کی میز پر حل ہو جائیں گے۔
اس تقریب میں متعدد ممالک کے سفرا، ان کے نمائندے، وزرائے حکومت ہند، ممبران پارلیمنٹ اور دہلی کے معزز شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
آخر میں سفیر عراق نے صدر محترم جمعیت علمائے ہند مولانا اسعد مدنی ایم پی کا اس بات کے لیے پر خلوص شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے اخوت اسلامی کا پاس ولحاظ کرتے ہوئے یہ پر مسرت تقریب منعقد کی۔
واقعہ یہ ہے کہ ہندستانی مسلمانوں کی طرف سے ایران عراق جنگ بندی پر یہ پرمسرت تقریب اس بات کا عظیم الشان مظہر ہے کہ ہندستانی مسلمانوں کے قلوب اخوت اسلامی کے پرخلوص جذبے سے نہ صرف سرشار ہیں؛ بلکہ اجتماعی طور پر ان جذبہ کو بروئے کار لا کر ملت اسلامیہ کی فلاح و بہبود کے لیے منصوبہ بند طریقہ پرکو شاںبھی ہیں۔
(ہفت روزہ الجمعیۃ،2-8؍ ستمبر1988ء، ص؍6،7)
ایرانی زلزلہ متأ ثرین کے لیے گراں قدر امداد
اگرچہ ایران-عراق طویل جنگ میں جمعیت علمائے ہند عراق کی حامی تھی، تاہم اس کی خارجہ پالیسی کسی عناد و نفاق پر نہیں؛ بلکہ انسانیت نوازی پر مبنی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ 1990ء میں جب ایران میں بھیانک زلزلہ آیا، تو جمعیت علمائے ہند انسانی ہمدردی کے پیش نظر آگے بڑھی اور ایرانی زلزلہ متأثرین کے لیے امداد کی جدوجہد شروع کردی۔
6؍ جولائی 1990ء کو جاری ایک پریس بیان میں کہا گیا کہ:
’’ایران کے شمال مغربی حصے میں حالیہ زبر دست زلزلے کے متأثرین کے لیے صدر محترم جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا سید اسعد مدنی دامت برکاتہم- جو اس وقت سفر حج بیت اللہ پر ہیں -کی ہدایت پر جمعیت علمائے ہند نے اپنے جمعیت ریلیف فنڈ سے پچیس ہزار روپے کی گراںقد را مداد دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ رقم چیک کی شکل میں ایرانی سفارت خانے کو پیش کر دی گئی ہے۔ چیک کے ساتھ اپنے ایک خط میں صدر محترم دامت بر کاتہم نے اس المیہ میں ایرانی عوام کے غم میں شرکت اور ان سے ہمدردی کا اظہار کیا ہے۔
(ہفت روزہ الجمعیۃ،6-12؍ جولائی 1990ء، ص؍۱)
ایرانی صدر کے خصوصی مشیر کا استقبال
11؍اکتوبر1991ء کو ایرانی صدر کے مشیر خصوصی برائے برادران اہل سنت جناب کو لانا اسحاق مدنی دفتر جمعیت علمائے ہند نئی دہلی میں تشریف لائے۔
صدرجمعیت مولانا اسعد مدنی صاحبؒ اور دوسرے ذمہ داران دفتر نے ان کا استقبال کیا۔ مولانا اسحاق مدنی نے صدر جمعیت علمائے ہند سے ملاقات کی اور عالم اسلام، نیز ہندستانی مسلمانوں کے مسائل پر تبادلۂ خیال کیا۔ مولانا اسحاق مدنی نے اس موقع پر صدر محترم دامت برکاتہم کو ایران کے خصوصی دورے کی دعوت بھی دی۔
مولانا اسحاق مدنی اور ان کے رفقا کی پر تکلف چائے سے تواضع کی گئی۔ مولانا اسحاق مدنی نے جمعیت علمائے ہند اور اس کی قیادت کی اس بات کے لیے تحسین کی کہ وہ ہمہ تن مسلمانوں کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں۔(ہفت روزہ الجمعیۃ،11-17؍اکتوبر 1991ء)
حج کے موقع پر ایرانیوں کے سیاسی مظاہرہ کی مذمت
26؍مئی1995ء کو جمعیت علمائے ہند کے صدر محترم مولانا اسعد مدنی صاحب نے ایران کی طرف سے حج کے موقع پر سیاسی مظاہرہ کے فیصلہ کی شدید مذمت کی ہے۔ مولانا مدنی نے اپنے اخباری بیان میں اسے شرانگیزی قرار دیتے ہوئے اس قسم کی حرکت کو حرمین شریفین کے تقدس اور فریضۂ حج کی حرمت کے منافی قرار دیا ہے۔ اس سلسلہ میں انھوں نے حکومت سعودیہ کی طرف سے امن و امان کے قیام اور حرمین شریفین کے تقدس کو برقرار رکھنے کے لیے تمام حفاظتی اقدامات کی تائید و تحسین کی ہے۔
جمعیت علمائے ہند کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ حرمین شریفین کے تقدس کو ہر حالت میں بحال رکھا جائے۔ چنانچہ ماضی میں جب بھی اس کی خلاف ورزی کی گئی ہے، تو جمعیت علمائے ہند نے اس قسم کی فتنہ انگیزی کی پر زور مذمت کرتے ہوئے حکومت سعودیہ کی حفاظتی و تادیبی کارروائی کی زبردست حمایت کی ہے۔ (ہفت روزہ الجمعیۃ،26؍مئی تایکم جون 1995ء)
ایران کے جوہری ہتھیار کی غلط تشہیر پر امریکہ و اسرائیل کی مذمت
6؍دسمبر2004ء کو جمعیت علمائے ہند کے صدر محترم حضرت مولانا اسعد مدنی صاحب نے ایک پریس بیان میںایشیائی ممالک، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ کے سلسلے میں امریکہ، یورپی ممالک اور اسرائیل کی اختیار کردہ پالیسی کی سخت مذمت کرتے ہوئے، موجودہ بدامنی کے لیے انھیں ذمہ دار قرار دیا اور کہا کہ امریکہ تمام تر شرپرستوں کی سرپرستی کر رہا ہے۔ ایران کی ایٹمی صلاحیت کی میڈیا میں حد سے زیادہ تشہیر اور اسرائیل کی جوہری صلاحیتوں اور امریکہ- جو خود سب سے بڑا جوہری ہتھیاروں کا بھنڈار اور ایٹمی توانائی کا مرکز ہے- کو نظرانداز کردینا عالمی نظام کے توازن کو بگاڑنے اور دوسروں کو دبانے کی کوشش سراسر زیادتی اور ناجائر قدم ہے۔ مولانا مدنی نے ایران کی اس بات کے لیے تحسین کی ہے کہ اس نے دنیا کے سامنے معاملے کے اس پہلو کو بھی رکھا کہ اسرائیل جوہری طاقت حاصل کرچکا ہے۔ بھاری تعداد میں اس کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں اور مزید حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ آخر اس کی طرف عالمی برادری کی توجہ کیوں نہیں ہے۔
(ہفت روزہ الجمعیۃ،17-23؍ دسمبر2004ء)
ایران کی حمایت میںامریکی صدرکے دورۂ ہند کی مخالفت
امریکہ کے صدر جارج ڈبیلو بش نے 29؍جنوری 2002ء، 9؍اگست 2004ء،13؍ جنوری 2006ء اور 31؍جنوری2006ء کی مختلف تاریخوں میںایران کو دھمکی دی کہ اگر وہ جوہری پروگرام کو نہیں روکتا، تو نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
اسی دوران یکم تا 3؍مارچ 2006ء کوبش نے ہندستان کا دورہ کیا، جہاں ہندستان کے وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ سے ملاقات کی اور امریکہ اور ہندستان کے درمیان شہری جوہری ٹیکنالوجی کے تعاون سے متعلق ایک تاریخی معاہدے پر بات چیت ہوئی۔
بش کے اسی دورۂ ہند کی مخالفت کرتے ہوئے جمعیت علمائے ہند نے یکم مارچ 2006ء کو ایک عظیم الشان احتجاجی اجلاس کیا، جس میں مختلف سیاسی و سماجی رہنماؤں نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
سابق وزیر اعظم مسٹر وی پی سنگھ کی تقریر
سابق وزیر اعظم مسٹر وی پی سنگھ نے اپنی تقریر میں جارج ڈبلیو بش کی دباؤ اور دھونس کی پالیسی کی پرزور مذمت کرتے ہوئے کہا کہ امریکی صدر جارج بش کی دباؤ اور دھونس کی پالیسی کی ہم مذمت اور مخالفت کرتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ آخر بش کو ایران کے ہی نیوکلیائی اسلحہ بنانے پر کیوں اعتراض ہے۔ اسرائیل کے پاس بھی تو سینکڑوں بم ہیں، اس نے اسے کبھی کیوں نہیں روکا۔ انھوں نے کہا کہ بش کو ہندستان آنے کے لیے مدعو کرنے سے قبل کم از کم حکومت کو ہندستانی عوام کے جذبات کا خیال رکھنا چاہیے تھا۔
میدھا پاٹیکر کی تقریر
معروف سماجی کارکن میدھا پاٹیکر نے کہا کہ بش کا ہندستان دورہ ہماری بدعنوان سیاست کا نتیجہ ہے۔ انھوں نے بش کی ہندستان آمد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بش تیل پر قبضہ کے لیے عراق کو برباد کرچکا ہے اور اب ایران کو نشانہ بنانے کی کوشش ہے، ایسے شخص کا ہم استقبال نہیں کرسکتے۔
اجلاس نے ڈبلیو بش کے دورۂ ہند کی مخالفت کرتے ہوئے درج ذیل قرارداد بھی منظور کی:
’’یہ عظیم اجلاس عام بش کے دورۂ ہند کو نفرت و بیزاری کی نظر سے دیکھتا ہے، اس میں شامل شرکا اور اس جمہوری ملک کے عوام یہ اعلان کرتے ہیں کہ:
(۱) ہم ان خطرات کو محسوس کرتے ہیں کہ ہم ایک ایسی دنیا میں رہ رہے ہیں، جہاں کچھ عالمی طاقتیں اس بات پر آمادہ ہیں کہ نہایت سفاکی کے ساتھ اپنا مطلق العنان کنٹرول دنیا پر قائم کرسکے۔ ان کے پاس عوامی تباہی کے ہتھیار ہیں۔ ان کا ارادہ ہے کہ دنیا میں توانائی کے جتنے بھی موجودہ اور مستقبل کے ذرائع ہیں، ان پر قبضہ کیا جائے۔ عالم انسانیت کے سامنے اصل مسئلہ یہ ہے کہ تعمیری انداز اختیار کیا جائے نہ کہ لوٹنے اور تباہ کرنے کا۔ ہم اپنے اس یقین کا اعادہ کرتے ہیں کہ کچھ گمراہ افراد، گروہوں اور حکومتوں کی جانب سے جنگ اور تشدد کا جو راستہ اختیار کیا گیا ہے، اس سے دنیا کبھی بھی بہتر نہیں بن سکتی۔ کوئی بھی جنگ دنیا میں امن نہیں لاسکتی۔امن کا راستہ امن سے آتا ہے۔
(۲) ہم امن اور عدم تشدد میں یقین رکھتے ہیں، جب کہ صدر بش کی سوچ اس کے بالکل برعکس ہے۔ عوامی تباہی کے ہتھیاروں کے بڑے بڑے ذخیرے اور دنیا کے بہترین ساز و سامان سے لیس فوجیں ان کے اشارے کی منتظر ہیں۔ وہ جہاں چاہے، ان کا استعمال ان بے گناہ شہریوں کے خلاف کرتا رہتا ہے، جو اپنا تحفظ نہیں کرسکتے۔ ہم لاچاری کے انداز میں اپنے پڑوسی ملک افغانستان پر بم باری ہوتے ہوئے دیکھتے رہے۔ انھوں نے عراقی عوام، ان کی جائداد اور وہاں کی تہذیب کو جھوٹے بہانوں کا سہارا لے کر تباہ کیا۔ ہم تیل جیسے اہم وسائل کی لوٹ کے لیے منظم مسلح فوجوں کے استعمال کی شدید مخالفت کرتے ہیں، اس لیے ہم ایک آواز ہوکر کہتے ہیں کہ ’’بش واپس جاؤ‘‘ تاکہ ہم دنیا میں معاشی، تہذیبی اور سیاسی سامراج کے قیام کی ان کی کوششوں کے خلاف ایک زبردست احتجاج درج کراسکیں۔
(۳) ہم اقوام متحدہ کے اس طرزِ عمل پر بھی ناپسندیدگی اور غم و غصّہ کا اظہار کرتے ہیں، جس طریقے سے وہ ان بنیادی مقاصد پر عمل کررہا ہے، جن کا ذکر اقوام متحدہ کے چارٹر میں ہے۔ اقوام متحدہ، نسل انسانی کو جنگ کی ہول ناکی سے بچانے میں ناکام رہا ہے، ساتھ ہی ایسا ماحول قائم کرنے میں بھی ناکام رہا ہے،جہاں انصاف کا بول بالا ہو، بین الاقوامی قانون کا احترام ہو، مردوں اور عورتوں کے جائز حقوق و اختیارات کا تحفظ کیا جاسکے اور سماجی ترقی کو فروغ دیا جاسکے اور سبھی کی آزادی کا تحفظ کیا جاسکے۔
ہم مندرجہ ذیل نکات کے لیے اپنی حمایت کا اعلان کرتے ہیں:
(۱) امن، سلامتی اور ترقی انسان کے معیارِ زندگی میں سدھار کو تمام ہندستانی خاندانوں اور دنیا کے سبھی شہریوں کے لیے یقینی بنانا چاہیے۔ ہم اپنے اس یقین کا اعادہ کرتے ہیں کہ سماجی، معاشی اور سیاسی میدانوں میں ایسا ماحول پیدا کرنے کے لیے انصاف ایک اوّلین شرط ہے۔
(۲) ہمارے ملک کو جو اصول اور اقدار مربوط رکھے ہوئے ہیں، ان کو مؤثر اور طاقت ور بنانے کے لیے ان سامراجی اور اجارہ دارانہ ذہنیتوں اور کاموں کی مخالفت ضروری ہے، جو کچھ خاص عالمی طاقتیںآج کل اختیار کررہی ہیں۔ ہمارا حکومت ہند سے مطالبہ ہے کہ وہ مساوات، ایمان داری، انصاف اور انسانیت کی اپنی دیرینہ اقدار پر قائم رہے اور امریکہ اور اس کے یوروپی حلیفوں کے دباؤ میں نہ آئے۔ حکومت ہند کو چاہیے کہ وہ صدر جارج ڈبلیو بش جیسے لوگوں کی دادا گری اور دھمکیوں کا اثر نہ لے اور ایرانی عوام کے حقوق اور ان کے مفادات کی حمایت کرے۔
(۳) ہم حکومت سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے بھرپور کوشش کرے کہ اقوام متحدہ کے سبھی ممبران کو مساوی حیثیت اور مواقع حاصل ہوں۔ سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ میں جمہوری عمل کی شروعات کی جائے اور یہ اُس وقت ممکن ہے، جب اُس ’’ویٹو پاور‘‘ کو ختم کردیا جائے ،جو چند ممالک کے ہاتھوں میں ہے۔
امریکہ ایران تنازع پر صدر جمعیت کی پریس کانفرنس
23؍مئی2006ء کو مفتی کفایت اللہ میٹنگ ہال نمبر۱ بہادر شاہ ظفر مارگ نئی دہلی میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس کو خطاب کرتے ہوئے جمعیت علمائے ہند کے محترم صدر حضرت مولانا سیّد ارشد مدنی نے کہا کہ:
’’ دنیا کے ہر آزاد اور خود مختار ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پرامن مقاصد کے لیے ایٹمی طاقت حاصل کرے۔ ہمارا یہ نظریہ صرف ایران کے لیے نہیں؛ بلکہ دنیا کے ہر خود مختار ملک کے لیے ہے۔‘‘ (ہفت روزہ الجمعیۃ،2-8؍جون 2006)
ایران سمیت مشرق وسطیٰ کی صورت حال پر جمعیت علما کی فکر مندی
سلگتے عالمی مسائل کے تناظر میں 14؍ فروری 2007ء کو جمعیت علمائے ہند نے مجلس عاملہ کا اجلاس طلب کیا اور ایران سمیت مشرق وسطی کے سلگتے حالات کا تجزیہ کرتے ہوئے درج ذیل تجویز منظور کی:
’’جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا یہ اجلاس مشرق وسطیٰ؛ خصوصا عراق، فلسطین کے تشویش ناک حالات پر گہری فکرمندی کا اظہار کرتا ہے۔ امریکہ کی بڑھتی مداخلت، قانون و انسانیت کا مذاق اڑاتے ہوئے صدام حسین کو پھانسی، آئے دن جان و مال کی بھاری تباہی و بربادی اور لاقانونیت اور انارکی نے صورت حال کو انتہائی دھماکہ خیز بنادیا ہے۔ امریکہ کی سازش کے نتیجہ میں شیعہ سنی کی محاذ آرائی اور قتل و غارت کے واقعات سے حالات مزید ابتر ہوتے جارہے ہیں۔ قبلۂ اول مسجد اقصیٰ کے قریب اسرائیل کی طرف سے کھدائی کے عمل نے پوری دنیا کے مسلمانوں کو مضطرب اور پورے مشرق وسطیٰ کو بارود کے ڈھیر پر کھڑا کردیا۔ اگر صورت حال پر فوری قابو نہیں پایا گیا، تو قیام امن کا راستہ ، آئندہ ہمیشہ کے لیے مسدود ہوجانے اور تصادم اور خود کش حملوں کا دائرہ مزید پھیل جانے کا قوی اندیشہ ہے۔ایران کے جوہری پروگرام اور ایٹم بم کی افزودگی کا بہانہ بناکر امریکہ کی عملی مداخلت اور خطے پر قبضہ کی مدت بڑھانے کی کوشش تیز تر ہوجائے گی، جس سے خطے کی خود مختاری اور آزاد حیثیت تباہ ہوجائے گی۔ اس کے پیش نظر جمعیت علمائے ہند کی مجلس عاملہ کا اجلاس شدت سے محسوس کرتا ہے کہ :
۱۔ شیعہ سنی متحد ہوکر صورت حال کا مقابلہ کرتے ہوئے ملک کی سالمیت و استحکام کے لیے کوشش کریں اور مسلک و فرقہ کے نام پر قتل و غارت کا سلسلہ روکیں۔
۲۔ عالمی طاقتیں یورپی ممالک اور تیسری دنیا کے امن پسند ممالک قیام امن اور عراق کو انتشار و انارکی سے بچانے کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔ اقوام متحدہ بھی اپنا مؤثر کردار ادا کرتے ہوئے انسانی جان اور سماجی ڈھانچے کو بچانے کے لیے آگے آئے۔
۳۔ عرب ممالک متحد ہوکر اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کریں اور قبلۂ اول مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدام کریں اور مسئلۂ فلسطین کے حل کے لیے متحدہ جدوجہد کی جائے۔
یہ اجلاس سعودی سربراہ ملک عبداللہ کی طرف سے مختلف فلسطین گروپوں میں اتحاد کرانے کی کوششوں کو تحسین کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اور امید کرتا ہے کہ قضیۂ فلسطین کے حل اور مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے ایمان دارانہ اقدامات کیے جائیںگے۔‘‘
(جمعیت علمائے ہند کی تاریخ، جلد پنجم، ص؍
ایرانی صدر کے دورۂ ہند کا خیرمقدم
28؍اپریل2008ء کوجمعیت علمائے ہند نے ہند- ایران تعلقات کے تناظر میں ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے ہند آمد کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ہند- ایران کے ثقافتی، تجارتی وتہذیبی روابط کے لیے بہتر اور امید افزا قدم قرار دیا ہے۔ جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا قاری سید محمد عثمان صاحب منصور پوری نے کہا کہ ہند- ایران کے درمیان قدیم زمانے سے تجارتی وتہذیبی تعلقات خوشگوار رہے ہیں۔ صدر ایران کی ہند آمد سے گیس پائپ لائن پروجیکٹ کی تکمیل کی راہ ہموار ہونے کی امید پیدا ہورہی ہے اور گذشتہ پانچ سالوں سے اس سے متعلق جاری تعطل ختم ہونے کے آثار نظر آرہے ہیں۔ اگر گیس پائپ لائن پروجیکٹ پایۂ تکمیل کو پہنچ جاتا ہے، تو اس سے ہند، ایران اور پاکستان سبھی کو فائدہ ہوگا اور تجارت کا دائرہ مزید وسیع ہوگا۔
مولانا محمود مدنی ایم پی نے کہا کہ ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کا ہند دورہ دوررس نتائج کا حامل ثابت ہوگا۔ہلیری کلنٹن کی طرف سے ایران پر حملے کی دھمکی، امریکہ کی طرف سے ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے ہندستان پر دباؤ بنانے اور پھر ہندستان کی طرف سے دوٹوک جواب کے تناظر میں ایرانی صدر کی ہند آمد سے مستقبل میں اہم اثرات مرتب ہوںگے۔ مولانا محمود مدنی نے ایرانی صدر کے دورۂ ہند کا خیرمقدم کرتے ہوئے حکومت ہند کی طرف سے امریکہ کو جرأت مندانہ جواب کو ملک کے وقار اور اقتدار اعلیٰ کے تحفظ کے تناظر میں اہم قرار دیا ہے۔
ایران کے صدر و دیگر وزرائے مملکت کی حادثاتی موت پر تعزیت
19؍ مئی 2024ء کو ایران کے صدر آیت اللہ ابراہیم رئیسی اور دیگر اعلیٰ حکومتی افسران آذربائیجان کی سرحد پر ایک ڈیم کی افتتاحی تقریب سے واپس آ رہے تھے کہ ان کاہیلی کوپٹرحادثہ کا شکار ہوگیا، جہاں ان سب کی موت واقع ہوگئی۔
20؍مئی2024 ء کو جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود اسعدمدنی صاحب نے ایک پریس بیان جاری کرتے ہوئے اس حادثہ میں ہوئی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہندستان کے عوام اس نازک وقت میں ایران کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔
ایران پر امریکی بم باری کھلی جارحیت
امریکہ نے ایران کی تیزی سے یورینیم افزودگی اور جوہری ہتھیاروں کی ممکنہ تیاری کو روکنے کا بہانہ بناکر 22؍جون2025ء کی رات ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات—فوردو، نطنز اور اصفہان—پر جدید جنگی طیاروں سے فضائی حملہ کردیا۔ ایران نے اسے اپنی خودمختاری پر براہ راست حملہ سمجھا اور جواب میں خطے میں ایک امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا، جس سے دونوں ممالک کے درمیان شدید ردعمل اور دھمکیوں کا سلسلہ شروع ہوا۔
ان دھماکہ خیز حالات میں جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی صاحب نے 23؍ جون2025ء کو ایک پریس بیان میں ہندستانی مسلمانوں کا موقف پیش کرتے ہوئے ایران پر امریکی بم باری کی شدید الفاظ میں مذمت کی اوراسے بین الاقوامی معاہدوں اور اقوامِ متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ۔
مولانا مدنی نے پریس بیان میں مزید کہا کہ:
اسرائیل اس وقت مشرقِ وسطیٰ میں قتل و غارت گری اور دہشت گردی کا محور بن چکا ہے، جسے امریکہ کی مکمل سرپرستی حاصل ہے۔ امریکہ نے ہمیشہ اپنی جارحانہ پالیسیوں کے ذریعے دنیا کو نقصان پہنچایا ہے اور مشرقِ وسطیٰ میں اس کا وجود تریاق کے بجائے زہر میں تبدیل ہوچکا ہے۔ جب تک مشرقِ وسطیٰ کے ممالک باہم متحد ہو کر اپنی سرزمین سے امریکی اڈوں کا خاتمہ نہیں کرتے، اس خطے میں دیرپا امن قائم نہیں ہو سکتا۔ بصورتِ دیگر پورا مشرقِ وسطیٰ یکے بعد دیگرے ان شیطانی سازشوں کا شکار ہوتا رہے گا، جیسا کہ ماضی میں عراق، افغانستان اور لیبیا کے ساتھ ہوچکا ہے اور اب وہی مکروہ کھیل ایران کے خلاف دہرایا جا رہا ہے۔
کسی بھی طاقت ور ملک کو یہ حق نہیں دیا جاسکتا کہ وہ اپنی فوجی برتری کی بنیاد پر دنیا کے کسی بھی خطے میں جارحیت کا استعمال کرے۔ اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں؛ بلکہ یہ دنیا بھر میں بداعتمادی، نفرت اور عدم استحکام کو بڑھاوا دیتی ہیں۔سب کو انسانیت کے طے شدہ اصولوں کا پابند ہونا چاہیے اور ہر وہ اقدام -جو معصوم جانوں کو نشانہ بنائے،انسانی حقوق کی دھجیاں اڑائیاور عالمی امن کو خطرے میں ڈالے- ناقابل قبول ہواور اس کے خلاف کاغذی کارروائی کے بجائے سخت قدم اٹھایا جانا چاہیے۔
مولانا مدنی نے عالمی برادری، اقوامِ متحدہ، انصاف پسند اقوام اور امن دوست طبقات سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیں، جنگ بندی کی کوششوں کو ترجیح دیں اور ایسے طاقت ور عناصر کو قانون کے دائرے میں لانے کے لیے اجتماعی اقدام کریں،جو انسانیت کے خلاف مسلسل جرم کر رہے ہیں، جن میں اسرائیل سرفہرست ہے ۔
ایران کے سپریم لیڈر کی موت پر اظہار افسوس
28؍فروری 2026ء کو کسی جواز اور معقول وجوہات کے بغیر امریکہ اور اسرائیل نے مل کر ایران کے مختلف فوجی اور جوہری مقامات پر اچانک حملے شروع کردیے، جن کے نتیجے میں ، اسی تاریخ کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی موت واقع ہوگئی۔ساتھ ہی ان کی بیٹی، داماد، پوتا؍نواسہ اور بہو کی بھی موت ہوگئی ۔ جمعیت علمائے ہند نے صدر مولانا محمود اسعد مدنی صاحب نے ہندستانی مسلمانوں کا نظریہ و موقف پیش کرتے ہوئے 2؍مارچ 2026ء کو ایک پریس بیان جاری کیا۔ مکمل بیان درج ذیل ہے:
’’ جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے مشرقِ وسطیٰ کی انتہائی دھماکہ خیز اور تشویش ناک صورتِ حال پر گہری فکر و اضطراب کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کے جارحانہ اور اشتعال انگیز اقدامات نے نہ صرف خطے کے امن کو تہہ و بالا کر دیا ہے؛ بلکہ عالمی استحکام کو بھی سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔مولانا مدنی نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے اہلِ خانہ و رفقا کے جاں بحق ہونے پر گہرے صدمے اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کسی ملک کی قیادت کو نشانہ بنانا بین الاقوامی اصولوں اور معاہدوں کے خلاف ہے اور دنیا کو دورِ بربریت کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔ انھوں نے کہا کہ جمعیت علمائے ہند ایران کے عوام کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔ ساتھ ہی مولانا مدنی نے ایران کی جانب سے خطے کے دیگر ممالک میں ہونے والی کارروائیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ صورت حال فوری طور پر امن کے قیام اور اتحاد و ہم آہنگی کی متقاضی ہے۔
مولانا مدنی نے واضح کیا کہ کسی بھی سیاسی یا عالمی تنازع کا حل قتل و خوںریزی نہیں ہو سکتا اور طاقت کے زور پر اپنی بات منانے کی کوششیں نفرت، انتقام اور انسانی المیوں کو جنم دیتی ہیں۔مولانا مدنی نے اقوامِ متحدہ اور عالمی برادری سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری جنگ بندی، کشیدگی کے خاتمے اور بامعنی سفارتی مذاکرات کے لیے فعال اور مؤثر کردار ادا کریں، تاکہ خطہ مزید تباہی سے محفوظ رہ سکے۔ اگر عالمی طاقتوں نے فوری طور پر دانش مندی، انصاف اور سفارتی تدبر کا مظاہرہ نہ کیا، تو اس کے منفی اثرات کسی خطے تک محدود نہیں رہیںگے۔
مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ جمعیت علمائے ہند ہر اس قدم کی مخالفت کرتی ہے، جو دنیا کو انسانیت کش جنگ و بدامنی کی طرف دھکیلتا ہو۔ اس لیے فوری جنگ بندی اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا پرامن حل تلاش کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے۔
خلاصہ
خارجہ پالیسی مذہبی عقائد پر نہیں؛بلکہ ہمیشہ انسانیت، عدل اور عالمی امن کے اصولوں پر بنائی جاتی ہے۔ جمعیت علمائے ہند نے ہمیشہ یہی اصول پیش نظر رکھا ہے ۔
خود ایران کے تناظر میں بات کریں، تو مختلف ادوار میں جمعیت علمائے ہند کے نقطۂ نظر میں تبدیلیاں ہوتی رہی ہیں ۔ اور حمایت و مخالفت کے دونوں پہلو نمایاں نظر آتے ہیں ۔ چنانچہ
ایران بمقابلہ برطانیہ و روس ، جمعیت علمائے ہند نے ایران کی حمایت کی۔
ایران بمقابلہ امریکہ، جمعیت علمائے ہند نے ایران کی حمایت کی ۔
ایران بمقابلہ عراق، جمعیت علمائے ہند نے عراق کی حمایت کی ۔
ایران بمقابلہ سعودی عرب، (سانحۂ حرم کے تناظر میں) جمعیت علمائے ہند نے سعودی عرب کی حمایت کی ۔
ایران بمقابلہ اسرائیل، جمعیت علمائے ہند نے ایران کی حمایت کی ۔
ایران بمقابلہ امریکہ و اسرائیل، جمعیت علمائے ہند نے ایران کی حمایت کی ۔
چوںکہ جمعیت علمائے ہند کا موقف عالمی سطح پر ہندستان کے مسلمانوں کے موقف و نظریات کے طور پر کوڈ کیا جاتا ہے، اس لیے آئیے ایک صدی کی تاریخ میں ایران کے تعلق سے جمعیت علمائے ہند کیخارجہ پالیسیوں کا مختصر جائزہ لیتے ہیں۔
جمعیت علمائے ہند کی تاریخ میں ایران کا پہلا تذکرہ پانچویں اجلاس عام منعقدہ: 29؍دسمبر 1923ء تا یکم جنوری 1924ء کے خطبۂ صدارت میں ملتا ہے، جس میں انگلستان اور روس کے درمیان ایران کی تقسیم کے منصوبے کو بیان کرتے ہوئے شمالی ایران پر روس کے قابض و متصرف ہونے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔
صدر محکمہ ٔ شرعیہ استانبول نے9؍جنوری 1937ء کو ایک خط لکھ کر جمعیت علمائے ہند سے گذارش کی کہ وہ فلسطین اور مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے شاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کو اپنے فرض کی ادائیگی کے لیے متوجہ کرے۔
جمعیت علمائے ہند کے صدر شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی صاحب نے بارھویں اجلاس عام منعقدہ: 7تا 9؍جون 1940ء کے خطبۂ صدارت میں فرمایا کہ ہندستان کی آزادی سے ایران بھی مصائب سے محفوظ رہیںگے۔
اسی طرح تیرھویں اجلاس عام منعقدہ: 20تا22؍مارچ 1942ء کے خطبۂ صدارت میں، حضرت شیخ الاسلام نے ایران سمیت تمام ممالک اسلامیہ کے متعلق اپنا نقطۂ نظر واضح کرتے ہوئے برطانوی مداخلت کو ناقابل برداشت قرار دیا۔پھر اسی اجلاس میں جمعیت علمائے ہند نے تجویز منظور کرتے ہوئے ہندستانی مسلمانوں کاموقف طے کردیا۔
11؍جون1945ء کو سحبان الہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب کی صدارت ایک عظیم الشان اجلاس ہوا، جس میں ایران پر روسی و برطانوی قبضے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔
ایرانی سفیر نے 27تا 29؍اپریل 1951ء کو منعقد سترھویں اجلاس عام کے اپنی نیک خواہشات کا پیغام بھیجا۔
ہندستان اور پاکستان کے باہمی تنازعات کے لیے دوستانہ تصفیے کے لیے کوشش کرنے والے ایران کے مذہبی پیشوا جناب سید ابوالقاسم کاشانی کے نام، 9؍اگست 1951ء کو بحری تار بھیج کر پاکستان کے پروپیگنڈا سے آگاہ کیا۔
حضرت شیخ الاسلام نے 16؍نومبر1951ء کا دن ایران کی کامیابی کے لیے بطور دعا منانے کی اپیل کی۔
11تا 13؍فروری 1955ء کو جمعیت علمائے ہند کا اٹھارھواں اجلاس عام ہوا، جس میں ایران کے سفیر محترم علی اصغر حکمت علی نے خطاب کرتے ہوئے ہندستان کے سیکولر نظام کو نعمت سے تعبیر کیا۔
17؍فروری1956ء کو جمعیت علمائے ہند نے ایران کے شہنشاہ محمد رضا شاہ پہلوی اور ان کی بیوی ثریا اسفند یاری بختیاری کے لیے تقریب استقبالیہ منعقد کی اور انھیں ایک سپاس نامہ بھی پیش کیا گیا۔
سفارت کی مدت پوری ہونے کے بعدایران واپس جانے کی مناسبت سے11؍جنوری 1958ء کو ایران کے سفیر جناب علی اصغر حکمت کو جمعیت علمائے ہند نے الوداعیہ پیش کیا۔
15؍جولائی1959ء کو جدید و قدیم علوم کے ماہر ایرانی فوج کے مشہور جنرل آقای حسین علی رزم آرا کو قبلہ نما ایجاد کرنے پر مجاہد ملت حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے مبارک باد پیش کی۔
20؍جنوری1960ء کو سابق وزیر خارجہ نے ایران جناب علی اصغر علی حکمت نے جمعیت علمائے ہند کو عید کی مبارک باد پیش کی۔
6؍ستمبر1962ء کو مشرقی ایران کے علاقے میں آئے شدید زلزلے میں متأثرین سے، 8؍ستمبر1962ء کو صدرجمعیت علمائے ہندفخر المحدثین حضرت مولانا فخر الدین احمد صاحبؒ نے اپنی ہمدردی کا اظہار کیااور لوگوں سے دست تعاون بڑھانے کی اپیل کی۔
15تا17؍اپریل1966ء کومنعقد جمعیت علمائے ہندکے بائیسویں اجلاس عام کے لیے سفیر ایران ڈاکٹر جلال عبدوہ نے اپنی نیک خواہشات بھیجیں۔
3؍ستمبر1968ء کو شہنشاہ ایران محمد رضا شاہ پہلوی کو ایک برقیہ بھیج کر زلزلہ سے ہوئی تباہی پر اپنی ہمدردی کا اظہار کیا۔ بعد ازاں 18-19؍اپریل1970ء کو منعقد مجلس منتظمہ میں ایک تجویز منظور کرکے زلزلہ متأثرین سے یک جہتی کا اظہار کیا۔
اسلامی انقلاب کے بعد 4؍نومبر1979ء کو، انقلابی رہنما آیت اللہ خمینی کے ہمنواؤں نے امریکی سفارت خانہ پر قبضہ کرکے امریکی شہریوں کو یرغمال بنالیا۔ یرغمالیوں کو رہا کرانے کے لیے 24؍اپریل1980ء کو ’’آپریشن ایگل کلا‘‘ شروع کیا۔ 27؍اپریل1980ء کو منعقد مجلس عاملہ ، بعد ازاں 28-29؍اپریل 1980ء کو منعقد مجلس منتظمہ نے ان دونوں واقعات: ایران میں امریکی طرز عمل اور ایرانیوں کے طرز عمل کی مذمت کی۔
اسلامی انقلاب کو عراق نے اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہوئے، 22؍ستمبر1980ء کو ایران پر بلاوجہ حملہ کردیا، جس سے ایک طویل جنگ کی شروعات ہوگئی۔ اور تقریبا آٹھ سال تک جاری رہنے کے بعد 20؍اگست1988ء کو اقوام متحدہ کی قرار داد 598کے تحت اختتام پذیر ہوئی۔ اس ایران-عراق جنگ پر جمعیت علمائے ہند نے ہمیشہ اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے، ایران سے فوری طور پر جنگ بند کرنے کی اپیل کی۔ چنانچہ یکم اکتوبر1980ء کو مجلس عاملہ میں،بعد ازاں مجلس منتظمہ منعقدہ: 25-26؍نومبر1983ء میں،پھر تعلیمی و ملی کانفرنس منعقدہ: 6-7-8؍ اپریل 1984ء میں دونوں ملکوں سے جنگ بندی کی اپیل کی گئی۔
ایران-عراق جنگ کے دوران ڈیڑھ ہزار عراقی جنگی قیدیوں کے وحشیانہ قتل کی خبر موصول ہونے پر26؍دسمبر1981ء کو صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے اور پھر 26-27؍ دسمبر 1981ء کو مجلس عاملہ نے اس واقعہ پر ایران کی مذمت کی۔
22سے 25؍اپریل 1985ء کو عراق میں دوسری عالمی بغداد کانفرنس ہوئی، جس کا بنیادی مقصد عرب ازم اور پین اسلام ازم کو فروغ دینا تھا۔ اس کانفرنس میں صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے ہندستانی مندوب کی حیثیت سے شرکت کی۔جب 6-7؍مئی 1985ء کو مجلس عاملہ کی میٹنگ ہوئی، تو مجلس عاملہ نے بغداد کانفرنس کی تمام تجویزوں کی تائید کرتے ہوئے 24؍مئی 1985ء کو ایران- عراق جنگ بندی کے لیے یوم دعا منانے کی اپیل کی۔لیکن مکمل تشہیر نہ ہونے کی وجہ سے صحیح طور پر یہ دن نہیں منایا جاسکا۔
یکم نومبر1986ء کو منعقد مجلس منتظمہ میں عراق کی طرف سے جنگ بندی کی پیش قدمی کے باوجود ایران کی طرف سے جنگ بند نہ کرنے پر افسوس کا اظہار کیاگیا۔
ملی اتحاد کا پر فریب نعرہ اور حرمین شریفین کو بین الاقوامی کنٹرول میں دینے کی آیت اللہ خمینی کی منصوبہ بند سازش کے تحت،ایران کے ایک لاکھ پچاس ہزار حاجیوںنے، 31؍جولائی 1987ء کو مکہ مکرمہ کے حرم محترم کے قریب عصر کے وقت خمینی کی تصویروں کے ساتھ احتجاجی نعرے بلند کرنا شروع کیے اور لاٹھی ڈنڈوں اور چاقوں کے ساتھ حرم میں داخل ہونے کی کوشش کرنے لگے، جس کے نتیجے میں بھگدڑ مچ گئی اور چار سو افراد جاں بحق ہوگئے ۔ اس پر2؍اگست 1987ء کو مولانا محمد اسرارالحق قاسمی ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند اور 9؍اگست 1987ء کو مولانا اسعد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی اور اسے حرم محترم کی بے حرمتی قرار دیا۔اور 21؍ اگست 1987ء کو ’’یوم حرم‘‘ منانے کی اپیل کی گئی۔
پھر 3؍ستمبر1987ء کو سعودی سفیر محترم فواد صادق مفتی صاحب سے ملاقات کرکے اس سانحہ سے متعلق جمعیت علمائے ہند کے موقف اور کاررائیوں سے مطلع کیا گیا۔
3-4؍اکتوبر1987ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں حرم محترم کی بے حرمتی کرنے پر ایرانیوں کی سخت مذمت کی گئی۔
7؍نومبر1987ء کو مجلس منتظمہ کے اجلاس میں بھی اس واقعہ کی مذمت کی گئی۔اور ساتھ ہی ایران -عراق جنگ بند کرنے کی بھی اپیل کی گئی۔
8؍نومبر1987ء کو جمعیت علمائے ہند کے زیر اہتمام ’’تحفظ حرم کانفرنس‘‘ ہوئی، علمائے کرام کے خطاب اور قرارداد کے علاوہ ،مولانا معزالدین احمد گونڈویؒ کے استفسار پر دارالعلوم دیوبند کے اس فتویٰ کی تائید کی گئی، جس میں عقائد و نظریات کے تناظر میں آیت اللہ خمینی کو دائرۂ اسلام سے خارج قرار دیاگیا تھا۔
9-10؍اپریل1988ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں تحفظ حرم کی بابت سعودی حکومت کو چند مفید تجاویز پیش کرتے ہوئے ایران-عراق جنگ کو فورا بند کرنے کی اپیل کی گئی۔
2؍جولائی1988ء کو لندن میں ’’تحفظ حرم کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی، جس میں صدر جمعیت مولانا اسعد مدنی صاحب نے خطاب کرتے ہوئے بیت اللہ کے تقدس کو پامال کرنے پر خمینیوں کی شدید مذمت کی۔
19؍جولائی 1988ء کو جنگ بندی کی خبر آنے پر مسرت کا اظہار کیا گیا۔پھر جب 20؍ اگست 1988ء کی تاریخ کو حتمی طور پر جنگ بندی کادن طے کردیا گیا، تو اس سے پہلے ہی 13-14؍ اگست 1988ء کو منعقد مجلس عاملہ میں جمعیت علما نے اپنی مسرت کا اظہار کیا۔ اور پھر اواخر اگست 1988ء کو باقاعدہ ایک تقریب جشن منعقد کرکے ایران-عراق جنگ بندی پر اپنی دلی خوشی کا اظہار کیا۔
ایران کے شمال مغربی حصے میں آئے بھیانک زلزلے پر 6؍جولائی 1990ء کو جمعیت علما نے ایک پریس بیان جاری کرکے ہمدردی کا اظہار کیا اور گراں قدر تعاون پیش کیا۔
11؍اکتوبر1991ء کو ایرانی صدر کے مشیر خاص مولانا اسحاق مدنی صاحب کی دفتر جمعیت علمائے ہند میں تشریف لانے پر ان کا استقبال کیا گیا۔
26؍مئی 1995ء کو مولانا اسعد مدنی صاحب صدر جمعیت علمائے ہند نے حج کے موقع پر ایرانیوں کی طرف سے سیاسی مظاہرہ کی مذمت کی۔ اور حرم محترم کے تقدس کو ہر حالت میں بحال رکھنے کا مطالبہ کیا۔
امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے ایران کے جوہری ہتھیار کی غلط تشہیر پر 6؍دسمبر2004ء کو صدر جمعیت حضرت فدائے ملت مولانا اسعد مدنی صاحب نے سخت مذمت کی۔
2002ئسے لے کر 2006ء تک کی مختلف تاریخوں میں امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی طرف سے ایران کو دھمکی دینے کے تناظر میں، یکم تا 3؍مارچ 2006ء کو امریکی صدر کے ہندستان دورے کی جمعیت علمائے ہند کی طرف سے سخت احتجاجی اجلاس کیا گیا۔ یہ احتجاجی اجلاس ایران کی حمایت میں کیا گیا تھا۔
امریکہ ایران تنازع پر 23؍مئی 2006ء کو صدر جمعیت نے ایک پریس بیان دیتے ہوئے ایران کے جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی حمایت کی۔
14؍فروری 2007ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں ایران سمیت مشرق وسطیٰ کے سلگتے مسائل پر غوروخوض کیا گیا۔
28؍اپریل 2008ء کو ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کے دورۂ ہند کا خیر مقدم کیا گیا۔اور اسے ایران -ہندستان کی ثقافتی، تجارتی اور تہذبی روابط کے لیے امید افزا قدم بتایاگیا۔
19؍مئی 2024ء کو ایرانی صدر آیت اللہ ابراہیم رئیسی اور دیگر اعلی ٰ افسران کی حادثاتی موت پر تعزیت کا اظہار کیا گیا۔
22؍جون2025ء کو جوہری ہتھیار کی ممکنہ تیاری کا بہانہ بناکر امریکہ کی طرف سے ایران پر کی گئی بم باری کی شدید مذمت کی گئی۔
28؍فروری2026ء کو کسی جواز کے بغیر امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر جابرانہ حملے شروع کردیے، جن کے نتیجے میں پہلے ہی دن ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور ان کے چند اہل خانہ کی موت واقع ہوگئی۔ جمعیت علمائے ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی صاحب نے 2؍مارچ 2026ء کو اس حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے سپریم لیڈر و اہل خانہ کے جاں بحق ہونے پر گہرے صدمے کا اظہار کیا۔
