27 Jan 2026

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: ستائیسواں سال: 1945ء

 ستائیسواں سال: 1945ء

محمد یاسین جہازی

مولانا اطہر صاحبؒ کٹکی رکن جمعیت علمائے ہند کو ڈھائی سال کی نظر بندی کے بعد 6؍ جنوری 1945ء کو رہا کردیا گیا۔

31؍ جنوری و یکم و 2؍ فروری 1945ء کو مجلس عاملہ کا سہ روزہ اجلاس ہوا، جس میں ریاست دھار کی شاہ مسجد اور مقابر کے قضیہ کی تحقیق کے لیے دو رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ اسی طرح آزاد ہندستان کے دستور میں مسلمانوں کی حقیقی پوزیشن پر بھی کافی غورو خوض کیا گیا۔ 

7؍فروری1945ء کو غلط فہمی پر مبنی ایک مراسلہ کی تردید کی گئی۔

7؍مارچ1945ء کو مہاراجہ الور کو تار بھیج کر مسلمانوں کے ساتھ نازیبا رویے پر ایکشن لینے کا مطالبہ کیا گیا۔

15؍مارچ1945ء کو جمعیت علمائے ہند اور اہل حدیث افرادکے تعلق سے ایک وضاحتی بیان جاری کیا گیا۔

رسالہ پرچار میں تعلیمات اسلام کے خلاف باتیں لکھنے کی وجہ سے 7؍ اپریل 1945ء کو ایک تار بھیج کر مہاراجہ اندور سے اسے ضبط کرنے کا مطالبہ کیا۔

13؍اپریل1945ء کو مولانا آزاد اور مولانا مدنی کی مسلم لیگ کی جانب سے توہین کی گئی۔ 

14؍اپریل1945ء کی ایک خبر کے مطابق ریاست دھار اور الور کے متعلق مرکزی اسمبلی میں سوال اٹھانے کی کوشش کی گئی۔

14-15؍ اپریل 1945ء کے اجلاس مجلس عاملہ میں آسام لائن سسٹم کو ختم اور مسلمانان برپیٹا پر مظالم کی تحقیقات کا مطالبہ کیاگیا اور ہسٹری آف پرشیا میں نبی کریم ﷺ اور جبرئیل امین علیہ السلام کی فرضی تصاویر شائع کرنے پر اپنے غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے، انھیں کتاب سے نکالنے کا مطالبہ کیاگیا۔اسی طرح سپرو کمیٹی کی سفارشات کی نامنظوری اور اسیران فرنگ کو جلد از جلد رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ 

20؍اپریل1945ء کو مسٹر آصف علی کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔

4،تا7؍ مئی 1945ء کو سہارن پور میں چودھواں عظیم الشان تاریخی اجلاس عام ہوا، جس میں ملک و ملت کے سلگتے مسائل پر طویل بحث و مباحثے کے بعد بائیس تجاویز منظور کی گئیں۔ پہلی تجویز میں امام انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ صاحب سندھیؒ، حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ، بانی تبلیغی تحریک حضرت مولانا محمد الیاس صاحب کاندھلویؒ، محدث دارالعلوم دیوبند حضرت مولانا میاں اصغر حسین صاحبؒ ،شہید ملت جناب خان بہادر اللہ بخش سندھی ؒ کے علاوہ دیگر مشاہیر امت کی وفات پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ کو تعزیت مسنونہ پیش کیا گیا۔دوسری تجویز میں پرشوتم داس ٹنڈن اور بعض دیگر کانگریس وزیروں اور عہدے داروںکی اردوکے خلاف معاندانہ سرگرمیوں کی مذمت کی گئی۔ تیسری تجویز میں مرکزی جمعیت کے لیے ایک بڑے دفتر کی ضرورت کا اعلان کرتے ہوئے چندہ کی اپیل کی گئی اور اجلاس ہی میں تقریبا چالیس ہزار روپے جمع ہوگیا۔ دفتر کے چندہ کے لیے حضرت شیخ الاسلام ؒ کی ایک چھڑی ایک ہزار میں اور ٹارچ تین سو روپے میں نیلام کیا گیا۔ چوتھی تجویز میں مدارس عربیہ کے فضلا کے لیے سیاسی تربیت گاہ قائم کرنے پر زور دیا گیا۔ پانچویں تجویز میں حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ، حضرت مولانا حبیب الرحمان صاحب لدھیانویؒ،حضرت مولانا نور الدین صاحب بہاریؒ اور جناب رفیع احمد قدوائی صاحبؒ کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔ چھٹی تجویز میں 1942ء کی ’’ بھارت چھوڑ دو‘‘ تحریک کے تحت قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والوں کو مبارک باد پیش کی گئی۔ ساتویں تجویز میں مولانا منیر الزماں صاحب اسلام آبادیؒ کی گرفتاری پر غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔ آٹھویں تجویز میں آئینی مسائل کا حل پیش کرنے کے لیے پیش کی گئیں سپرو کمیٹی کی سفارشات میں حق خود ارادیت کی کلیتا نفی، دستور ساز اسمبلی میں اچھوتوں کے لیے جداگانہ نیابت کا استحقاق اور آئندہ آزاد حکومت کی تشکیل کی بعض تفصیلات جمعیت علمائے ہند کے فیصلوں کے خلاف ہونے کی وجہ سے ہندستان کے مسئلہ کے حل کے لیے غیر مفید قرار دیا۔ نویں تجویز میں از 25؍ اپریل، تا 26؍ جون 1945ء کو سان فرانسسکو کانفرنس میں شرکت کرنے والے وفد کی نام زدگی، چوں کہ حکومت ہند نے برطانوی شہنشاہیت کے مفاد کی ترجمانی کی غرض سے کی تھی، اس لیے اس وفدپر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا۔دسویں تجویز میں آسام لائن سسٹم کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے مسلمانوں پر ہورہے مظالم کی شدید مذمت کی گئی۔ گیارھویں تجویز میں جنگ عظیم دوم ختم ہونے کے باوجود سیاسی جمود و تعطل پر اظہار تعجب کرتے ہوئے ، مسلمانوں کے مذہبی ، تہذیبی اور سیاسی حقوق کی ضمانت پر مشتمل دستور ہند میں شامل کرنے کے لیے مشہور فارمولہ پیش کیا گیا، جو تاریخ میں ’’جمعیت کا فارمولہ‘‘ کے نام سے مشہور ہے۔ بارھویں تجویز میں برطانوی حکومت ہند کی طرف سے تعلیمی اقدامات کے لیے پیش کیا گیا سارجنٹ پلان (Sargent Plan) میں مسلمانوں کی مخصوص تعلیمی ضروریات کا تذکرہ نہ ہونے پر افسوس کا اظہار کیا۔تیرھویں تجویز میں اے ہسٹری آف پرشیا نامی کتاب میں نبی اکرم ﷺ اور جبرئیل امین علیہ السلام کی فرضی تصاویر کو نکالنے کا مطالبہ کیا ۔ چودھویں تجویز میں کنٹرول سسٹم کی وجہ سے دیسی صنعت تباہ ہونے کے باعث اسے ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ پندرھویں تجویز میں چمور اور آشتی کے ملزموں کی پھانسی کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کرنے کا مطالبہ کیا۔ سولھویں تجویز میںتحقیقاتی وفد کی رپورٹ کی روشنی میں ریاست دھار کی جامع مسجد کو ہندو مہاسبھا کی طرف سے بھوج شالا گرداننے کی شدید مذمت کی گئی۔ سترھویں تجویز میں لکھنو میں پانچ سال سے مدح صحابہ پر پابندی لگانے کی مذمت کرتے ہوئے اس ناانصافی کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ اٹھارھویںتجویز میں سگریٹ فیکٹری کے مالکان کا مزدوروں کے ساتھ ناانصافی کرنے پر رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے گورنمنٹ سے سگریٹ مزدوروں کی شکایات کا ازالہ کرنے کا مطالبہ کیا۔ انیسویں تجویز میں ریلوے کو موٹرس سروس کی ماناپولی دینے کی تجویز پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا گیا۔ بیسویں تجویز میں جمعیت کے ساتھ مسلم مجلس کے اشتراک کو منظوری دی گئی۔ اکیسویں تجویز میں سفر حج کی رکاوٹوں کو دور کرنے کا مطالبہ کیا۔ اور آخری تجویز شکریہ کے الفاظ پر مشتمل تھی۔

4؍ مئی 1945ء کو جمعیت علمائے صوبہ یوپی نے ریاستی سطح پر امیر شریعت منتخب کرنے کی کوشش کی، جو کامیاب نہ ہوسکی۔ 

7؍مئی1945ء کو مجلس مرکزیہ کے اجلاس میں درج ذیل تجاویز منظور کی گئیں: مشاہیر کے انتخاب کی منظوری۔ترمیمات دستور اساسی پر نظر ثانی کے لیے کمیٹی کی تشکیل۔ جمعیت علمائے صوبہ متحدہ آگرہ اور اودھ کی تشکیل۔ علاوہ ازیں عہدے داران کاانتخاب بھی عمل میں آیا۔

29؍مئی 1945ء کو مسٹر آصف علی کی رہائی پر ان کی گرتی صحت دیکھ کر حکومت کے رویے پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

2؍جون 1945ء کو شام، لبنان اور فلسطین کے خلاف فرانس اور برطانیہ کی مسلم کش پالیسی کی مذمت کی گئی۔

7؍جون1945ء کو جمعیت علما سے غلط فہمی پر مبنی قاری زاہر صاحب کی ایک تحریر کا جواب دیا گیا۔

11؍جون1945ء کو منعقد ایک عظیم الشان جلسے میں ممالک اسلامیہ کے متعلق یورپی حکومتوں کی انتدابی کوششوں کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے ،شام ، لبنان اور مراکش کے نہتے باشندوں پر فرانسیسی حکومت کے مظالم کی مذمت،فلسطین کے متعلق نئی پالیسی پر اظہار تشویش،ایران پر روسی و برطانوی قبضے پر غم و غصے کا اظہار،اور مفتی اعظم فلسطین کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔اور 22؍جون 1945ء کو یوم ممالک اسلامیہ منانے کی اپیل کی گئی۔  

20؍جون1945ء کو ناظم عمومی مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب نے کہا کہ ویول پلان کوئی کشش نہیں رکھتا۔ 

28؍ جون 1945ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میںجمعیت کے علاوہ دوسری تنظیموں کے لیڈروں کو بھی مدعو کیا گیاتھا۔ اس مشترکہ اجلاس میں ہندستان کے آئینی مسئلے کو حل کرنے اور انگریزوں سے بھارتیوں کو پاور منتقل کرنے کے حوالے سے ،14؍ جون 1945ء کولارڈ واویل کا پیش کردہ واویل پلان پر غوروخوض کیا گیا اور یہ فیصلہ کیا کہ یہ پلان عارضی وقت کے لیے مناسب ہے۔ اسی طرح اس کا بھی اعلان کیا گیا کہ مسلم لیگ مسلمانوں کی واحد نمائندہ جماعت نہیں ہے۔ 

واویل نے اپنے فارمولہ کے مطابق ایگزیکیٹو کونسل کے اراکین کو منتخب کرنے کے لیے 25؍ جون 1945ء کو شملہ کانفرنس بلائی، جس میں کانگریس نے نام پیش کردیے؛ مگر مسلم لیگ نے اس بات پر اصرار کرتے ہوئے نام پیش کرنے سے انکار کردیا کہ کانگریس ہندوؤں کی جماعت ہے، اس لیے اسے مسلمان ممبروں کو نام زد کرنے کا حق نہیں ہے۔یہ حق صرف مسلم لیگ کو ہے؛ کیوں کہ وہی مسلمانوں کی واحد نمائندہ تنظیم ہے۔ اس بے جا اصرار کی وجہ سے 14؍ جولائی 1945ء کو کانفرنس کی ناکامی کا اعلان کردیا گیا۔

11؍جولائی1945ء کو کلکتہ میںجمعیت علمائے ہند کی مخالفت اور پاکستان کے نام پر مسلم لیگ کو الیکشن جتانے کے مقصد سے جمعیت علمائے اسلام قائم کی گئی۔

29؍جولائی1945ء کو نصابی کمیٹی نے تعلیم کا نصابی خاکہ پیش کیا۔ 

31؍جولائی1945ء کو سری نگر کشمیر میں مولانا ابوالکلام آزادؒ کے جلوس پر لیگیوں کی طرف سے حملہ کیا گیا۔  

یکم اگست 1945ء کو علی گڑھ اسٹیشن پر مولانا ابوالکلام آزادؒ کے ساتھ لیگیوں نے توہین آمیز سلوک کیا۔

12؍ستمبر1945ء کو سلہٹ آسام میں جمعیت بلڈنگ کے لیے چندہ میں مولانا مدنی کاٹارچ نیلام کیا گیا۔

اس کے بعد واویل نے ہندستان میں خود مختارقومی حکومت قائم کرنے کے لیے ستمبر 1945میں مرکزی اور صوبائی انتخابات کا اعلان کیا، جس کے پیش نظر ،جمعیت علمائے ہند کی دعوت پر مختلف مسلم تنظیموں اور لیڈروں پر مشتمل 16تا 19؍ستمبر1945ء ، مسلم آل پارٹیز اور جمعیت علما کا چار روزہ اجلاس کیا گیا، جس میں پہلے دو دن مجلس عاملہ کا اور بعد کے دو دن میں مجلس مرکزیہ کا اجلاس ہوا۔16 ؍ ستمبر1945ء :پہلے دن کے اجلاس میںاسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے متعلق غلط اور توہیز آمیزمضامین پر مشتمل کتاب کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا اور پھر آئندہ انتخابات پر طویل بحث و گفتگو ہوئی۔ دوسرے دن 17؍ ستمبر1945ء کے اجلاس میںآئندہ انتخابا ت میں مشترک طور پر حصہ لینے کے لیے تمام آزادی خواہ جماعتوں اور نیشنلسٹ مسلمانوں پر مشتمل ’’مسلم پارلیمنٹری بورڈ‘‘ تشکیل دی گئی، جس کا صدر شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی صاحبؒ کو بنایا گیا۔اس بورڈ کے اراکین نے الیکشن میں صرف مسلم پارلیمنٹری بورڈ کے نام زد، یا تائید کردہ امیدواروں کو ہی ووٹ دینے کی تحریک چلانے کے لیے پورے ملک کا دورہ کیا۔ لیکن مسلم لیگ کے غنڈوں نے پاکستان کا نعرہ لگاتے ہوئے اکابرین ملت؛ بالخصوص شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒصاحب صدر جمعیت علمائے ہند و مسلم پارلیمنٹری بورڈ، حضرت مولانا محمد حفظ الرحمان سیوہاروی ؒصاحب ناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ہند، حضرت مولانا ابوالکلام آزادؒ رکن عاملہ جمعیت علمائے ہند و صدر آل انڈیا کانگریس اور دیگر قومی قائدین کے ساتھ گستاخیاں کیں ؛ حتیٰ کہ انھیں جان سے مارنے کی بھی کوششیں کیں۔  

18اور 19؍ستمبر1945ء کو مجلس مرکزیہ کا اجلاس ہوا، جس کی پہلی تجویز میں ’’مسلم پارلیمنٹری بورڈ‘‘ تشکیل دینے پر تمام آزادی خواہ جماعتوں اور افراد کو مبارک باد پیش کی گئی ۔ دوسری تجویز میں فلسطین کو وطن الیہود بنانے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا اور2؍ نومبر 1945ء کو پورے ہندستان میں یوم فلسطین منانے کی اپیل کی۔ تیسری تجویز میں سفر حج کی رکاوٹوں کو دور کرنے کا مطالبہ کیا۔ چوتھی تجویز میں انڈین نیشنل آرمی کے تمام سپاہیوں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا۔پانچویں تجویز میں آزادی خواہ اخبارات و پریس کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے پر حکومت برطانیہ کے رویہ کی مذمت کی گئی۔ چھٹی تجویز میں مسلم لیگ اور خاکسار کارکنوں میں ہوئے تصادم کے نتیجے میں قید خاکساروں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ ساتویں تجویز میں صوبہ سندھ میں ووٹرفہرست میں ترمیم کامطالبہ کیا گیا۔آٹھویں تجویز میں مسلم آل پارٹیز کانفرنس میںشرکت کا شکریہ ادا کیا گیا اور نویں تجویز تجویز شکریہ پرمشتمل تھی۔اس اجلاس میں ووٹروں کے نام ایک اپیل بھی شائع کی گئی۔ 

29؍ستمبر1945ء کو سید پور بنگال میںمولانا مدنی کو قتل کرنے کی سازش کی گئی ۔

30؍ستمبر1945ء کو کٹیہار میں مولانا مدنی پر حملہ کیا گیا۔

یکم اکتوبر1945ء کو بھاگلپور میں مولانا مدنی پر پتھر پھینکے گئے۔

6؍اکتوبر1945ء کو آزاد مسلم پارلیمنٹری بورڈ کی طرف سے ایک حکم نامہ جاری کیا گیا۔

9؍اکتوبر1945ء کو فلسطین کے حالات کے مطابق مسٹر ایٹلی ، وزیر اعظم فلسطین اور عرب فیڈریشن کو تار بھیجا گیا۔

9؍اکتوبر1945ء کونواب زادہ لیاقت علی خاں کی پاکستان کی حمایت میں کی گئی تقریر کا جواب دیا گیا۔ 

9؍اکتوبر1945ء کو سرورکائنات ﷺ کی تصویر سازی پر گورنرصوبہ اڈیشہ کو تار بھیجا گیا۔ 

9؍اکتوبر1945ء کو فتح پور اسٹیشن قریب کے مسلم مسافر خانہ بنوانے کی اپیل کی گئی۔ 

16؍اکتوبر1945ء کو حضرت مدنی پر لیگیوں کے حملے کی مذمت کی گئی۔

22؍اکتوبر1945ء کو مولانا آزاد نے مسلمانوں کے نام ایک پیغام میں کہاکہ مسلمان پاکستان کے نام سے فریب نہ کھائیں۔ 

25؍اکتوبر1945ء کو مسلم پارلیمنٹری بورڈ کے لیے دس لاکھ روپے کی اپیل کی گئی۔ 

25؍اکتوبر1945ء کو مسلم لیگ، مسلم پارلیمنٹری بورڈ اور کانگریس کو ووٹ دینے کے تعلق سے چند استفتے کے جوابات دیے گئے ۔ اور ایک اپیل بھی شائع کی گئی۔ 

27؍اکتوبر1945ء کو مولانا مدنی کی گستاخی کے رد عمل کے طور پر مسلم پارلیمنٹری بورڈ کا نیشنل گارڈ بنانے کا اعلان کیا گیا۔اور مجاہد ملت ؒ نے ایک بیان دیتے ہوئے مسٹر جناح سے حضرت مدنی پر حملے کی مذمت کرنے کی اپیل کی۔

28؍اکتوبر1945ء کو مشہور سکھ لیڈر ماسٹر مونا سنگھ نے انکشاف کیا کہ مسٹر جناح کو نظام حیدرآباد کی معرفت برطانوی حکومت ہند پاکستان بنانے کے لیے چھ لاکھ روپے سالانہ دیتی ہے۔  

یکم نومبر1945ء کو مرکزی و صوبائی کونسلوں کے مسلم ووٹروں کے نام مکتوب ارسال کرکے مسلم پارلیمنٹری بورڈ کے امید واروں کو ووٹ ڈالنے کی اپیل کی گئی۔  

2؍نومبر1945ء کو یوم فلسطین منانے کا اعلان کیا گیا۔ 

3؍نومبر1945ء کو سید پور، بھاگلپور اور کٹیہار میں ہوئے حادثہ پر مولانا مدنی نے ایک بیان دیتے ہوئے متوسلین کو صبر و تحمل کی تلقین کی۔ اور اسی تاریخ کو ان حملوں کو مفتی محمد نعیم لدھیانویؒ نے سفلہ خوئی اور کمینہ پن کا بدترین مظاہرہ قرار دیا۔

7؍نومبر1945ء کو گیا کے ایک جلسہ میں لیگیوں نے پتھر بازی کی۔

13؍نومبر1945ء کو مسلم لیگ اور جمعیت کے بارے میں پوچھے گئے سوالوں کے جوابات دیے گئے۔ 

15؍نومبر1945ء کو حضرت مدنی نے حضرت رائے پوری کو ایک خط لکھ کر اپنے حامیوں سے مسلم لیگ کا ساتھ نہ دینے کی اپیل کی۔

15؍ نومبر1945ء کو مسلم پارلیمنٹری بورڈکے امیدواروں کو کامیاب بنانے کے لیے ملک کے مختلف علاقوں کے دورہ کا پروگرام پیش کیا گیا۔ 

 16؍ نومبر1945ء کوجمعیت کے جلسۂ بریلی میں لیگیوں نے ہنگامہ آرائی کی۔

17؍نومبر1945ء کو نائب صدر جمعیت مولانا احمد سعید صاحب نے اسی سال کے بعد لال قلعہ میں عید کی نمازکی امامت فرمائی۔ 

30؍نومبر1945ء کوامروہہ میں مسلم پارلیمنٹری بورڈ کا شان دار جلسہ کیا گیا۔

30؍نومبر1945ء کو الیکشن فنڈ کے لیے امدادی ٹکٹ خریدنے کی اپیل کی گئی۔

7؍دسمبر1945ء کو بند کمرے میں ہوئی رازدارانہ کوگفتگوکوکذب و افترا سے ملمع کرکے مکالمۃ الصدرین کے نام شائع کرنے پر کشف حقیقت کے عنوان سے اس کامدلل جواب دیا گیا۔ 

9؍دسمبر1945ء کو پلول گڑگاؤں کے فسادات پر مسلمانوں کی پریشانیوں کی فہرست پیش کی گئی۔   

15؍ دسمبر1945ء کو مدنی فوج کے قیام کا ارادہ ظاہر کیا گیا۔

واحد نمائندگی کے فریب مولانا احمد سعید صاحب نے زبردست خطاب فرمایا۔

مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے سیاسی ، جغرافیائی اور اقتصادی اعتبار سے پاکستان کا نامعقول اور ملک و ملت کے لیے انتہائی مضر ہونا ثابت کیا۔ 

کشن گنج بہار کے گنیش کالج کے ایک ماسٹر کی نازیبا حرکت پر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

مظلومین بہار کے متعلق مولانا محمد میاں صاحب نے دورہ کے بعد ایک تحقیقاتی رپورٹ پیش کرتے ہوئے، متأثرین کے متعلق حکومت کے اعداد وشمار کو چیلنج کیا۔

امسال جمعیت کے لیے انتخاب کا سال تھا، جس میں دوبارہ شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی ؒ صاحب کو صدر بنایا گیا۔ 

  مرکزی قانون ساز اسمبلی کے 102 ؍نشستوں میں، مسلمانوں کے لیے کل 30؍ مخصوص نشستوں میں سے سبھی تیس مسلم نشستوں پر مسلم لیگ نے جیت درج کرالی۔ یہ انتخابی نتائج لیگ کے لیے ’’پاکستان‘‘ کے مطالبے کے لیے عوامی حمایت کو ثابت کرنے کے لیے بہت اہم ثابت ہوئے۔  اس کے بعد اگلے سال صوبائی اسمبلیوں کے الیکشن ہوئے۔