27 Jan 2026

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: چھبیسواں سال: 1944ء

 چھبیسواں سال: 1944ء

20؍جنوری1944ء کے ایک مکتوب سے پتہ چلتا ہے کہ کفالت و پرورش کے لیے بنگال قحط زدگان کے لاوارث بچوں کے حصول میں دشواریوں کے پیش نظر ریلیف ورک کا آغاز کیا گیا۔

6؍مارچ 1944ء کو تمام اسلامی جماعتوں سے یہ اپیل کی گئی کہ فلسطین میں داخلۂ یہود سے متعلق قرطاس ابیض کی مدت کے ختم ہونے کے باوجود مزید یہودیوں کو وہاں بسانے کے وعدے کی خلاف ورزی کے خلاف 17؍مارچ 1944ء کو پورے ہندستان میں یوم فلسطین منایا جائے۔ 

حالات حاضرہ پر تبصرہ پر مبنی 19؍مئی 1944ء کو لکھے ایک مکتوب میں مسلم لیگ کے نظریے کو قبول کرنے کی دعوت دی گئی تھی، جس کا جواب دیتے ہوئے حضرت مولانا احمد سعید صاحبؒ نائب صدر جمعیت علمائے ہند نے لکھا کہ پاکستان کا لفظ محض ایک دھوکا ہے۔

پنڈت نہرو کے کشمیر میں داخل ہوتے وقت گرفتاری کی خبر پاکر جون 1944ء کی کسی تاریخ میں حکومت کشمیر کو تار بھیج کر صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔  

 از17؍ تا 19؍جولائی 1944ء میں مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا، جس میں تجاویز تعزیت کے علاوہ حج کے لیے سفری رکاوٹوں کو دور کرنے کا مطالبہ کیاگیا۔ اسی طرح حج نہ ہونے کی وجہ سے حجاز مقدس میں قحط اور گرانی کے حالات پیدا ہونے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ، غلہ بھیجنے کے لیے حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحبؒ، مولانا احمد سعید صاحبؒ اور مولانا بشیر احمد صاحبؒ پر مشتمل سہ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی۔ 

23؍اکتوبر1944ء کو گورنر اور وزیر اعظم بنگال کے نام تار بھیج کر صدر جمعیت علمائے بنگال حضرت مولانا منیر الزماں صاحب اسلام آبادی کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا۔

26؍اکتوبر1944ء کو ایک بیان کے ذریعہ جمعیت علمائے ہند کے جلسے پر پابندی لگاکر  امتیازی سلوک کرنے پر احتجاج کیا گیا۔

پھر 8-9؍ نومبر1944ء کو مجلس عاملہ کا اجلاس ہوا۔ اس میں فلسطین کے متعلق امریکہ کے صدر روز ویلٹ (Franklin D. Roosevelt) اور برطانیہ کے وزیر اعظم مسٹر چرچل (Winston Churchill) کے بیان کی مذمت، مدارس کے نصاب کی اصلاح کے لیے مولانا سید سلیمان صاحب ندویؒ، مولانا محمد شفیع حجۃ اللہ صاحب صدر مدرس مدرسہ نظامیہ فرنگی محل لکھنؤؒ، مولانا محمد زکریا صاحب شیخ الحدیث مظاہر علوم سہارنپورؒ، مولانا مناظر احسن صاحبؒ صدر شعبۂ دینیات جامعہ عثمانیہ حیدر آباد، مولانا سعید احمد صاحب ؒرفیق اعلیٰ ندوۃ المصنفین دہلی، ڈاکٹر شہید اللہ صاحب ڈھاکہ، پروفیسر عبد الباری صاحب جامعہ عثمانیہ حیدر آباد، شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد صاحب مدنیؒ صدر جمعیت علمائے ہند، مفتی اعظم حضرت مولانا محمد کفایت اللہ صاحبؒ دہلی، حضرت مولانا عبد الحق صاحبؒ مدنی مراد آباد ،مولانا عبد الحلیم صاحب ناظم جمعیت علمائے ہنداورمولانا محمد حفظ الرحمان ؒناظم اعلیٰ جمعیت علمائے ہندپر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ رویت ہلال کے متعلق آلات جدیدہ کے ذریعہ قبول شہادت اور لاوڈاسپیکر میں نماز پڑھانے سے متعلق استفا لینے کا فیصلہ لیا گیا۔پنجاب اور دہلی میں جبریہ تعلیم سے مذہبی تعلیم کو الگ رکھنے کا فیصلہ منسوخ کرنے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیاگیا۔ دہلی میں سرکاری عمارتوں اور کوٹھیوں کے احاطے میں آنے والی مساجد کے تحفظ کامطالبہ کیا گیا۔پٹیالہ کے قصبہ کلابت کی مسجد، راجپورہ کی قبرستان، مسجد و روضہ امام چشتی کی بے حرمتی اور انہدام پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے مہاراجہ پٹیالہ ادھی راج سے تحقیقات اورکارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ آبادی اجاڑکر پٹنہ کی توسیعی اسکیم کی مذمت کرتے ہوئے جمعیت علمائے بہار کی تجویز کی تائید کی گئی۔ حضرت مولانا ابوالکلام آزاد ؒصاحب رکن عاملہ جمعیت علمائے ہند، مولانا داود غزنویؒ صاحب، مولانا حبیب الرحمان صاحب لدھیانویؒ اور کانگریس ورکنگ کمیٹی کے سیاسی اسیروں کو رہا کرنے کا مطالبہ کیاگیا۔ ساتھ ہی مفتی محمد نعیم صاحب رکن جمعیت علمائے ہند سے پابندی ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے، مولانا منیر الزماں ؒ صاحب صدر جمعیت علمائے بنگال کی نظر بندی پر غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔ ایک تجویزمیں امام مولانا عبید اللہ سندھیؒ، مولانا حافظ محمد یوسف صاحبؒ اور دیگر حضرات کی وفات پر افسوس اور تعزیت پیش کی گئی۔ 

14؍نومبر1944ء کو جماعتی انتخابات کے حوالے سے ایک اہم سرکلر جاری کیا گیا۔