25 Jan 2026

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم:ا کیسواں سال: 1939ء

ا کیسواں سال: 1939ء

محمد یاسین جہازی

13 ؍جنوری 1939ء کو سندھ میں مصنوعی حج پر پابندی لگوانے میں کامیابی پر وزیر اعظم سندھ کو مبارک باد پیش کی گئی۔ 

15؍جنوری1939ء کو دیوبند میں جمعیت کے رہنماؤں کی خفیہ میٹنگ ہوئی۔

16؍جنوری1939ء کو فلسطین کے تئیں برطانیہ کی دورخی پالیسی کی مذمت کی گئی۔

28؍ جنوری1939ء کو نماز ادا کرنے والے چبوترے کو منہدم کرنے کے خلاف مہاراجہ پٹیالہ کو تار بھیجا گیا۔

28؍جنوری1939ء کو فسخ نکاح بل کے متعلق مرکزی اسمبلی کے ممبران کے نام مکتوب ارسال کیا گیا۔ 

 یکم فروری 1939ء کو صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے ایک بیان جاری کرکے کہا کہ ایک آزاد عالمی مؤتمر کی مجلس شوریٰ کے بغیر والی مصر شاہ فاروق کو خلیفہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا، کیوں کہ یہ عالم اسلام کو فتنہ وفساد میں مبتلا کرنے کی انگریزوں کی گہری سازش ہے۔

یکم فروری1939ء کو مسٹر جناح کے بعد سر آغا خاں صاحب کی طرف سے مسلم حقوق کے تصفیہ کو مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے گاندھی جی کو دوسری غلطی پر متنبہ کیا گیا۔

7؍فروری1939ء کو فسخ نکاح بل پر مسلم ممبران کا اجتماع منعقد کیا گیا۔ 

9؍فروری1939ء کو جے پور حادثہ میں مسجدتوڑنے کے بعد پیدا شدہ فرقہ وارانہ صورت حال پر قابو پانے کے لیے وائسرائے کو تار بھیجا گیا۔

9؍فروری1939ء کو اپیل کی گئی کہ وہ گیارہ فروری کو یوم فلسطین منایا جائے۔

13؍فروری1939ء کو حج فلم کی نمائش کی ممانعت کا فتویٰ جاری کیا گیا۔

13؍فروری1939ء کو ناظم عمومی حضرت مولانا احمد سعید صاحب نے ایک بیان دیتے ہوئے کہاکہ 22؍جنوری1939ء کو آریوں کی جانب سے یوم حیدرآباد کے موقع پر جلوس اور اس میں منافرتی نعرہ سے صاف پتہ چل رہا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ تحریک ہے۔

15؍فروری1939ء کوفلسطین کے متعلق چیمبر لین وزیر اعظم برطانیہ کی دو رخی پالیسی پر احتجاج کیا گیا، جو اس نے 7؍فروری1939ء کومنعقدلند ن فلسطین کانفرنس میں اختیار کی تھی۔

20؍فروری1939ء کوفسخ نکاح بل غیر اسلامی طریقے پر منظور کیے جانے پر وائسرائے ہند کو تار بھیج کر عدم نفاذ کی درخواست کی گئی۔

24؍فروری1939ء کو فلسطین کے متعلق ووڈہیڈ کمیشن کی اسکیم کے خلاف آل انڈیا صوبائی مجلس تحفظ فلسطین نے جگہ جگہ پروگرام منعقد کیے۔ 

24؍فروری1939ء کو مسلمانوں کی سیاسی تربیت کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ نے اس کا فارمولا پیش کیا۔

24؍فروری1939ء کو گیارھویں اجلاس عام کے ایجنڈے جاری کیے گئے۔

27؍فروری تا 4؍مارچ1939ء مجلس عاملہ کی میٹنگیں ہوئیں، جس میں ایجنڈوںپر غوروخوض کرتے ہوئے اجلاس عام کے لیے تجاویز منظور کی گئیں۔

3تا6؍مارچ1939ء کوگیارھواں اجلاس عام منعقد ہوا،جس میں، غازی مصطفیٰ کمال پاشا، ڈاکٹری مختار احمد انصاری، ان کی اہلیہ، مولانا شوکت علی جوہر اور علامہ اقبال کی وفات پر تعزیت مسنونہ پیش کرنے کے علاوہ تہذیبی خود مختاری، جمعیت علمائے ہند کی پالیسی کا اعلان، واردھا تعلیمی اسکیم کی رپورٹ، ودیا مندر اسکیم ، صنعت و حرفت میں مسلمانوں کی حق تلفی، کانگریس کے جلسوں میں فرقہ وارانہ نشان کے استعمال کے خلاف احتجاج، صوبہ جاتی حکومتوں میں مسلمانوں کی شکایات، صوبہ سی پی اور اڑیسہ میں مسلم وزارت، ہندستانی زبان کے مفہوم کو بدلنے کی کوشش کی مذمت، جے پور کے خونی حادثہ پر کارروائی کامطالبہ، فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے کی کوشش، سندھیا اور مغل لائن کمپنی میں کرایہ کا مقابلہ ختم کرانے کی اپیل، فیڈریشن کو قبول نہ کرنے کا مشورہ، وزیرستان میں جنگی مہم بند کرنے اور بلوچستان کو تقسیم نہ کرنے کا مطالبہ، تحریک خاکساران کے فتنہ سے بچنے کی اپیل، پروگرام کے دوران اوقات نماز کا خیال رکھنے کی تاکید، قانون فسخ نکاح میں مسلم حاکم کی شرط بڑھانے کا اصرار، جمعیت علمائے ہند اور مجلس احرار کی سرگرمیوں میں اشتراک عمل کی دعوت، قضیۂ مدح صحابہ (رضی اللہ عنہم) کا حل، سعودی حکومت کی طرف سے مہاجر پر ٹیکس ہٹانے کا مطالبہ، سیاسی شاہی اسیروں کی رہائی کی تجویز، مسئلۂ فلسطین کو حل کرنے کی گذارش، غیر کانگریسی صوبجاتی حکومتوں کی شکایات، والیان ریاست کے حقوق کی آزادی کے مطالبہ کی تائید، ریاست حیدرآباد ایجی ٹیشن کی مخالفت، انڈیا ایکٹ کی تنسیخ، مشرقی علوم کی درس گاہوں کی سندوں کو منظوری دینے کا مطالبہ، آسام لائن سسٹم کو منسوخ کرنے کی اپیل، فیض آباد کی ٹیڑھی مسجد کا معاملہ، مجلس استقبالیہ کا شکریہ اور صدر کا شکریہ پر مشتمل 37؍تجاویز منظور کی گئیں۔ اس اجلاس میں خطبۂ استقبالیہ جناب شوکت اللہ شاہ صاحب اور خطبۂ صدارت حضرت مولانا عبد الحق مدنی صاحبؒ نے پیش کیا۔

5؍ مارچ1939ء کو اساتذہ اور طلبائے دارالعلوم نے مکمل جوش و خروش کے ساتھ جمعیت علمائے ہند کے گیارھویں اجلاس عام میں شرکت کی۔

6؍مارچ 1939ء کو ایک رپورٹ میںاجلاس کو زبردست کامیاب قراردیا گیا۔

6؍مارچ1939ء کو گیارھویں اجلاس عام کے پنڈال میں ابنائے قدیم دارالعلوم دیوبند کا ایک عظیم الشان اجلاس منعقد کیا گیا۔

6؍مارچ1939ء کو حضرت شیخ الاسلام نے قضیہ ٔ مدح صحابہ کے تصفیہ کے لیے سول نافرمانی میں حصہ لینے کی اپیل کی۔ 

9؍مارچ1939ء کو بیاور کے علاقے میں مسلمانوں پر مظالم کے خلاف ریاست بھوپال کو تار بھیج کر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

12؍مارچ1939ء کو تری پوری میں منعقد کانگریس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے صدارت کانگریس سے متعلق پیدا شدہ انتشار کوختم کرنے کی اپیل کی ۔ اجلاس میں مولانا نورالدین صاحب بہاری نے بھی خطاب کیا۔

14؍مارچ1939ء کو مولانا مظہر الدین صاحب ایڈیٹر الامان کے لرزہ خیز قتل پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

17؍مارچ1939ء کو تبریٰ ایجی ٹیشن کے خلاف زبردست تحریک سول نافرمانی کا آغاز کرتے ہوئے عظیم الشان اجلاس کیا گیا۔ 

19؍مارچ 1939ء کو نیا گاؤںمظفر پور کے فسادات پر وزیر اعظم بہار کو تار بھیج کر کارروائی کرنے کا مطالبہ کیاگیا۔

23؍مارچ1939ء کو مظلومین فلسطین کے لیے امداد طلب کیے جانے پر 11؍مئی 1939ء کو امدادی رقوم بھیجی گئیں۔

24؍مارچ 1939ء کو ہندستان کے مختلف کونوں سے مدح صحابہ کے حقوق کو حاصل کرنے سے سول نافرمانوں کے جتھے لکھنو پہنچ گئے۔ا ور اس کا سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا۔

27؍مارچ1939ء کومفتی اعظم ، شیخ الاسلام، سحبان الہند، مجاہد ملت اور مولانا عطاء اللہ صاحبان کو قتل کی دھمکی کے خطوط موصول ہوئے؛ لیکن اکابر کے استقلال اور جہد مسلسل میں کوئی کمی نہیں آئی۔ وہ انجام سے بے پرواہ ہوکر میدان عمل میں سرگرم عمل رہے۔

31؍مارچ 1939ء کو ملک گیر سطح پر یوم مدح صحابہ منانے کی اپیل کی گئی۔ 

31؍مارچ1939ء کو حکومت یوپی نے تحریک مدح صحابہ کے مطالبات کو منظور کرلینے کی وجہ سے تحریک سول نافرمانی کے ملتوی کردینے کا اعلان کردیا گیا۔ 

5؍اپریل1939ء کو قلات ایجی ٹیشن کے متعلق رہنمائی کی گئی۔ 

5؍اپریل1939ء کو مسلمانوںپر ہوئے مظالم کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے وزیر اعظم ریاست جے پور کو تار بھیجا گیا۔

5؍اپریل1939ء کو رہبران جمعیت کومل رہی قتل کی دھمکیوں پر مجاہد ملت نے دنداں شکن جواب دیا۔ 

چوبیس برس کی جلاوطنی کے بعد 7؍ مارچ 1939ء کو مولانا عبید اللہ صاحب سندھیؒ کراچی پہنچنے، بعد ازاں 5؍اپریل1939ء کو دہلی پہنچنے پر جمعیت علمانے ان کاشان دار استقبال کیا۔

13؍اپریل1939ء کو سیاسیات حاضرہ سے متعلق جمعیت علمائے ہند سے گیارہ سوالات کیے گئے، جن کے تسلی بخش جوابات دیے گئے ۔

17؍اپریل1939ء کو مولانا عبیداللہ سندھی ؒ کی جمعیت کی رہنماؤں سے خصوصی ملاقات ہوئی۔

27-28-29؍مئی 1939ء کو مرادآباد میں مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں دستور اساسی میں ترمیم، مسئلۂ فلسطین، تبرا ایجی ٹیشن، سنیوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل اور مدح صحابہ پر حکومت کے فیصلے پر رضامندی کے اظہارپر مشتمل تجاویز پاس کی گئیں۔صدر جمعیت حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب اور ناظم عمومی حضرت مولانا احمد سعید صاحب دونوں نے استعفے پیش کیے؛ مگر نامنظور کیے گئے۔ اسی طرح مالی دشواریوں کی وجہ سے الجمعیۃ کی اشاعت پر غور کرنے کے لیے ایک سب کمیٹی تشکیل دی گئی۔ 

اسی اجلاس میں جمعیت نے اپنا جھنڈا متعین کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد 14؍جولائی 1940ء کو درمیان میں پانچ سفید اور چھ کالی دھاری پٹی والا اپنا جھنڈا متعین کیا ۔

30؍مئی 1939ء کو منعقدمیٹنگ میں سب کمیٹی الجمعیۃ اخبار نے فیصلہ کیا کہ9؍ جون 1939ء کے بعداخبار کی اشاعت بند کردی جائے۔ 

24؍اگست1939ء کو ایک مکتوب لکھ کرامرتسر کے ضمنی الیکشن میں کانگریس اور مجلس احرار کے امیدواروں سے اپنی دست برداری کی گذارش کی گئی۔ 

3؍ ستمبر 1939ء سے دوسری عالمی جنگ کا آغاز ہوا، جس میں برطانوی ہند نے ہندستانیوں سے مشورہ کیے بغیر جنگ میںبھارت کی شمولیت اعلان کردیا۔ اس کے خلاف 14؍ ستمبر کو کانگریس نے اور 16تا 18؍ ستمبر کو جمعیت علمائے ہند نے طویل غورو فکر کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ اپنی محکومیت کی عمر بڑھانے کے لیے ہم ہرگز جنگ میں شرکت نہیں کریں گے۔ اور برطانی ہند کے خلاف عملی طور پر مظاہرہ کرتے ہوئے 31؍ اکتوبر تک کانگریسیوں نے وزارت سے استعفے دے دیے۔ جب کہ قادیانیوں اور مسلم لیگ نے جنگ میں برطانوی ہند کی حمایت کی اور وزارت کے استعفیٰ کو اپنے لیے ایک موقع سمجھتے ہوئے 22؍ دسمبر کو ’’یوم نجات ‘‘ منانے کا اعلان کیا۔ چوں کہ اس سے فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھنے اور ہندستان کی آزادی سے مسلمانوں کی بیزاری کا اظہار ہوتا تھا، اس لیے مولانا ابوالکلام آزادؒ اور دیگر مسلم لیڈروں نے مسلم لیگ کے اس رویہ کو تباہ کن قرار دیا۔

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: بیسواں سال: 1938ء

 بیسواں سال: 1938ء

محمد یاسین جہازی

یکم جنوری 1938ء کوضلع بلیا کے ددری میں مسلمانوں پر مظالم کے خلاف یوپی کے وزیر اعظم کو خط لکھ کر انصاف دلانے کا مطالبہ کیاگیا۔

7؍ جنوری1938ء  کو دہلی میں شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ صاحب نے اپنی تقریرمیں کہا کہ ’’قومیں اوطان سے بنتی ہیں، نسل یا مذہب سے نہیں‘‘۔ اس جملے سے مولانا مدنی کا مقصد موجودہ دور میں قوم کی تشکیل وطن سے ہونے کے حوالے سے محض خبر،یعنی بیان واقعہ تھا، انشا نہیں تھا، یعنی مسلمانوں کو ایسا کرنے کا مشورہ دینا مقصود نہیں تھا؛ لیکن اس اجلاس کی غلط رپورٹنگ کی وجہ سے علامہ اقبال نے انشا سمجھ لیا، جس کی وجہ سے انھوں نے ایک قطعہ میں مولانا مدنی کی مخالفت کی۔ علامہ طالوت کے ذریعہ سے خط وکتابت میں مولانا مدنی کی طرف سے اس جملے کی خبر کی وضاحت کے بعد علامہ اقبال نے اپنی بات سے رجوع کرلیا۔

9؍جنوری1938ء کو واردھا تعلیمی اسکیم کو مرتب میں کرنے میں کسی مسلم ممبر کو شامل نہ کرنے پر حکومت اڑیسہ کو تار بھیج کر توجہ مبذول کرائی گئی۔ 

9؍جنوری1938ء کو صدر مسلم لیگ مسٹر جناح کو ایک تار بھیج کر یہ مشورہ دیا گیا کہ 3؍جنوری1938ء کو منعقد کانگریس کے اجلاس میں ہندو مسلم سمجھوتہ کے لیے مسٹر جناح کو مصالحت کی دعوت فیصلے کے تناظر میں بہتر ہے کہ پہلے مسلم کنونشن کرلیا جائے؛ لیکن صدر لیگ نے اس مشورہ کو ٹھکرا دیا ؛ اس کے باوجود ہندستان کی مکمل آزادی ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مسلم حقوق کے تحفظ کے لیے مسلم لیگ اور کانگریس میں مصالحت کرانے کی کئی کوششیں کیں؛ لیکن لیگ کے بے جا مطالبات کی وجہ سے ساری کوششیں رائیگاں ہوگئیں۔ 

وندے ماترم گیت پر پیدا تنازع کے بعد سبھی مذاہب کے لیے یکساں طور پر قابل قبول دعا، یا گیت کی تخلیق، یا تلاش کے لیے مدراس میں ایک کمیٹی بنائی گئی، تو9؍جنوری 1938ء کو جمعیت علمانے وزیر اعظم مدراس کو ایک مکتوب لکھ کر اسلامی نقطۂ نظر کی وضاحت کی اور اس کی رعایت کرنے کی اپیل کی۔ 

25؍جنوری1938ء کو مسجد شہید گنج کی اپیل خارج ہونے پر صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا مفتی محمدکفایت اللہ صاحب نے اپنے بیان کے ذریعہ اس کی مخالفت کی۔

9؍ مارچ1938ء  کو سہلٹ میں تقریر کرتے ہوئے شیخ الاسلامؒ نے کہا کہ آزادی ہندستان کی اولین ضرورت ہے۔

20؍اپریل1938ء کو صوبہ بہار کے زرعی ٹیکس سے اسلامی اوقاف کومستثنیٰ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔چنانچہ حکومت بہار نے اس مطالبے کو منظور کرلیا۔ 

21؍اپریل1938ء کو ابوالمحاسن حضرت مولانا محمدسجاد صاحب نے انڈیا ایکٹ 1935ء کی مخالفت کرتے ہوئے اسے کسانوں کے لیے بھی تباہ کن بتایا۔ 

21؍اپریل1938ء کو علامہ اقبال کا انتقال ہوگیا۔23؍اپریل1938ء کو علامہ کے لیے تعزیتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ 

25؍اپریل1938ء سے حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند اور مولانا حبیب الرحمان صاحب لدھیانوی صدر مجلس احرار اسلام ہند کے درمیان حالات حاضرہ پر خط و کتابت ہوئی۔ 

یکم مئی 1938ء کو ریشمی رومال تحریک سے وابستہ مجاہد آزادی مولانا منصور انصاری کو وطن واپس لانے کی کوشش کی گئی۔

4؍مئی1938ء کو رکن عاملہ جمعیت علمائے ہند مفتی محمدنعیم لدھیانوی کو قید سے رہائی ملی۔

9؍مئی1938ء کو بہار میں اسلامی اوقاف کو زرعی انکم ٹیکس سے مستثنیٰ کرنے والے قانون کے خلاف اظہار خیال کرنے پر ایڈوکیٹ جنرل کی مذمت کی گئی۔

9؍مئی 1938ء کو ایک اعلان کے ذریعہ ماتحت جمعیتوں کے قیام اور الحاق کی ضرورت بتائی گئی۔

12؍مئی1938ء کو لکھنو میں شیعہ سنی تنازع کے پیش نظر شیخ الاسلام نے سنیوں سے سول نافرمانی ترک کرنے کی اپیل کی۔ 

28؍مئی1938ء کو جمعیت علمائے ہند کے تعاون کی اپیل کی گئی۔ 

29؍مئی1938ء کو مرکزی ذمہ داران کی زیر نگرانی جمعیت علمائے بہار کے عظیم الشان اجلاس میں اہم اہم تجاویز منظور کی گئیں۔ 

24؍جون1938ء کو ناظم عمومی صاحب نے 25؍اپریل1938ء کو کلکتہ میں منعقد ایک اجلاس میں ملاؤں کے خاتمہ کے صدر مسلم لیگ کے بیان پر علمی گرفت فرمائی۔

5؍جولائی1938ء کو ایک بیان میںمولانا حفظ الرحمان صاحب نے کہا کہ فلسطین میں برطانوی مظالم کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔

یکم اگست1938ء کو مجلس تحفظ فلسطین کے اجلاس میں سول نافرمانی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔    

3؍ اگست1938ء  کو دہلی میں منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں فلسطین پر برطانوی مظالم کی مذمت، سرحد کے آزاد قبائل پر بم باری کی مذمت، بنو کے ڈاکے پر حکومت سے صحیح صورت حال بیان کرنے کا مطالبہ، واردھا تعلیمی اسکیم پر غور کرنے کے لیے سب کمیٹی کی تشکیل، سالانہ اجلاس کی دعوت کی منظوری،مسئلۂ فلسطین کو لے کر قاہرہ میں منعقد عالمی کانفرنس میں شرکت کی منظوری،تنظیم امت اسلامیہ کی ضرورت، مشترک تعلیم گاہوں کا نام ’’ودیا مندر‘‘ رکھنے کی مخالفت اور حکومت یوپی سے مدح صحابہ کا قضیہ حل کرنے کے مطالبہ پر مبنی تجاویز منظور کی گئیں۔

8؍اگست1938ء کو بھاگلپور میںہوئے فرقہ وارانہ فسادات کی مذمت کی گئی اور وزیر اعظم صوبہ بہار کو تار بھیج کر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

13؍اگست1938ء کو برما میں بھڑکے فرقہ وارانہ فسادات پر تار بھیج کر وائسرائے ہند سے قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

17؍اگست1938ء کو مجلس تحفظ فلسطین کے اجلاس میں اپیل کی گئی کہ مسلمان مجوزہ سول نافرمانی کی تحریک میں جوش و جذبے کے ساتھ شرکت کریں۔

20؍اگست1938ء کو مظلومین فلسطین کی امداد دینے والوں کی فہرست شائع کی گئی اور اہل خیر سے مزید تعاون کی اپیل کی گئی۔

20؍اگست1938ء کو مسٹر جناح کی طرف سے جمعیت علما کے اکابرین کے خلاف دروغ گوئی پر ’’مسٹرجناح کا پراسرار معمہ اوراس کا حل‘‘ کے عنوان سے وضاحت پیش کی گئی۔ 

21؍اگست1938ء کو فوجی بھرتی بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے تحریک فلسطین کی تباہی کا موجب بتایا گیا۔

25؍اگست1938ء کو مجلس تحفظ فلسطین کا ایک اور اجلاس کیا گیا۔

فوجی بھرتی بل(آرمی بل) 23؍اگست1938ء کو اسمبلی میں منظور کرلیا گیا۔ اس کی حمایت کرنے والے ممبر اسمبلی مولانا ظفرعلی خاں کوایک مکتوب لکھ کر بل کے خطرناک نتائج سے آگاہ کیا گیا۔

28؍اگست1938ء کو آرمی بل کے متعلق چیف وہپ کانگریس کومکتوب لکھا گیا۔

یکم ستمبر1938ء کو جمعیت علمائے ہند نے عوام سے فوجی بھرتی بل کی مخالفت کرنے کی اپیل کی۔ 

8؍ستمبر1938ء کو جمعیت علمائے ہند پر اعتراضات پر مبنی مولانا شوکت علی صاحب کے خط پر علمی و تحقیقی تبصرہ کیا گیا۔

20؍ستمبر1938ء کو صدر مجلس تحفظ فلسطین نے فلسطین کے حق میں سول نافرمانی کی تحریک چلانے کے لیے تعاون کی اپیل کی۔ 

20؍ستمبر1938ء کو قضیۂ ملکہ باغ مفروضہ مندر پر حقیقت افروز بیان دیا گیا۔

24؍ستمبر1938ء کو کانگریس کے اجلاس میں مولانا حفظ الرحمان صاحب نے جمعیت علمائے ہند کے نظریات کی وضاحت کی اور انھیں منظور کرانے کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔

 5؍اکتوبر1938ء کو فلسطین کے ناگفتہ بہ حالات کے پیش نظر مسلمانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ فلسطین کانفرنس کے فیصلوں پر عمل کریں۔ چنانچہ پورے بھارت میں فلسطین کمیٹیاں قائم کی گئیں۔

 7؍تا 11؍ اکتوبر 1938ء کو قاہرہ میں منعقد عالمی کانفرنس میں مفتی اعظم کی قیادت میں جمعیت کے ایک وفد نے شرکت کی ۔ مؤتمر کی مایوس کن کارکردگی کے باوجودجمعیت نے از 7؍ تا 15؍ نومبر1938ء  ہفتۂ فلسطین مناکر فلسطین کے حق میں پوری قوت کے ساتھ آواز اٹھائی۔

یکم نومبر1938ء کو مدارس اسلامیہ کے طلبہ کے اندر سیاسی و معاشی شعور پیدا کرنے کے لیے ایک فارمولا پیش کیا گیا۔

5؍نومبر1938ء کو جمعیت علما کی سابقہ کارکردگیوں کے پیش نظر تعاون کی اپیل کی گئی۔

29؍نومبر1938ء کو مولانا شوکت علی مرحوم کے لیے ایصال ثواب کا اہتمام کیا گیا۔

5؍دسمبر1938ء کو ریشمی رومال تحریک کی پاداش میںجلاوطنی کی زندگی گذار رہے مولانا عبیداللہ سندھی کی وطن واپسی کی خوش خبری سنائی گئی۔

21؍دسمبر1938ء کو مجلس تحفظ فلسطین کے اجلاس میںمقاطعۂ ثلاثہ جاری رکھنے اور سول نافرمانی کو شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

27؍دسمبر1938ء کومولانا ابوالمحاسن نے صدر مسلم لیگ کو مکتوب لکھ کر عمل کی دعوت پیش کی۔

امسال جمعیت علمائے ہند کے لیے انتخابی سال کی وجہ سے مختلف مقامات پر ضلعی و صوبائی یونٹوں کا انتخاب اور جدید یونٹوں کی تشکیل عمل میں آئی۔


جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: انیسواں سال: 1937ء

 انیسواں سال: 1937ء

محمد یاسین جہازی

یکم جنوری 1937ء : انتخابات میں جمعیت علمائے ہند نے مسلم لیگ کی پارلیمنٹری بورڈ کے اشتراک کے ساتھ سرگرم حصہ لیا۔ 

5؍جنوری 1937ء کوحکومت برطانیہ کی طرف سے سرحد کے آزاد قبائل پر بم باری کی  شدیدمذمت کی گئی۔

5؍جنوری 1937ء سے ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب نے بہار کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔

5؍جنوری 1937ء کو صدر محکمۂ شرعیہ استانبول نے خط لکھ کر تحفظ فلسطین کے حوالے سے جمعیت علمائے ہند کی کوششوں پر تشکر کا اظہار کیا۔ 

8؍جنوری1937ء کو انتخابات میں حکومت پرستوں کی مخالفت کی ہدایت کی گئی۔

9؍جنوری1937ء کو مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒنے مسلم انڈی پنڈنٹ پارٹی کے امیدواروں کوووٹ دلانے کے لیے دورے کیے۔

16؍جنوری1937ء کو جمعیت علما نے بہار کے مسلمانوں کے نام ایک پیغام جاری کرکے مسلم انڈی پنڈنٹ پارٹی کو ووٹ دینے کی اپیل کی۔ 

17؍جنوری1937ء کو میرٹھ مسلم لیگ پارلیمنٹری بورڈ کے اجلاس میں اکابرین جمعیت نے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ کو ووٹ دینے کی اپیل کی۔ 

 18؍ جنوری1937ء کو علمائے مصر کی آمد پر ایک استقبالیہ پروگرام میں انھیں سپاس نامہ پیش کیاگیا۔

19؍جنوری1937ء کو ایک اجلاس میں امیدواران مسلم لیگ کی حمایت میں تقریریں کی گئیں۔

24؍جنوری1937ء کو موجودہ انتخابات میں جمعیت علمائے ہند نے اپنی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ کے امیدواروں کو ووٹ دیا جائے، یاپھر اس امید وار کوووٹ دیا جائے، جو سرکار پرست نہ ہو۔

7؍فروری1937ء کو ملک کی مختلف ریاستوں میں ناظم عمومی نے مسلم لیگ کی حمایت میں تقریریں کیں۔اسی طرح مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب سیوہاروی نے بھی دورے کیے۔ 

13؍فروری1937ء کو بہار لیجس لیٹو اسمبلی کے نتائج میں بہارمسلم انڈی پنڈنٹ پارٹی نے نمایاں جیت درج کرائی۔ 

28؍فروری1937ء کو کانگریس اور مسلم لیگ کے مکمل نتائج سامنے آگئے۔

9؍مارچ1937ء کو مصری وفد کے استقبال پرجامع ازہر کی طرف سے شکریہ کا خط موصول ہوا۔ 

13؍مارچ1937ء کو انتخاب میں کانگریس کو بھاری کامیابی ملنے کے بعد بعض کانگریسی لیڈروں نے حکومت سازی کے لیے کسی بھی مسلم پارٹی سے تعاون نہ لینے کا بیان دیا، اس فکر کو قومی یک جہتی کے لیے سم قاتل قرار دیاگیا۔

17؍مارچ1937ء کو کانگریسی لیڈران کے بیانات کے خلاف گاندھی جی سے ملاقات کی گئی۔ 

24؍مارچ 1937ء کوایک اعلان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ یکم اپریل کو اسی دن سے نافذ ہونے والا انڈیا ایکٹ1935ء  کی مخالفت میں یوم مخالفت آئین منایا جائے؛ کیوں کہ اس ایکٹ میں بھارتیوں کے وزیروں کو صرف مشورہ دینے کے اختیارات دیے گئے تھے۔

 چوں کہ انڈیا ایکٹ 1935ء میں کل اختیارات انگریز گورنروں کو دیے گئے تھے، اس لیے انتخاب میں بھاری کامیابی کے باوجود کانگریس نے وزارت قبول نہ کرنے کا فیصلہ لیا، گاندھی جی نے مشورہ دیا کہ گورنروں سے عدم مداخلت کی تحریر لینے کے بعد وزارت قبول کریں؛ اس کے برعکس جمعیت علما نے 24؍مارچ 1937ء کویہ فیصلہ کیا کہ بلا شرط وزارتیں قبول کی جائیں ، جسے بعد میں کانگریس نے بھی تسلیم کیا اور حکومت سازی کی۔ 

30؍مارچ1937ء کو حالات حاضرہ پر جمعیت کے اکابرین نے مشورے کیے۔

5؍اپریل1937ء کو پٹیالہ اور جے پور میں مسلمانوںپرہورہے مظالم کے خلاف مہاراجہ کو تار بھیج کر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ 

11؍ اپریل 1937ء کو سیالو بہار میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کی تحقیقات کی اور حکومت بہار سے اس کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیاگیا۔

20؍اپریل1937ء کو قضیہ ٔ مدح صحابہ میں حضرت مدنی نے اپنی شہادت درج کرائی۔ 

21؍اپریل1937ء کو مولانا مفتی اعظم ہند اور مولانا عبدالشکور صاحب نے اپنی اپنی شہادتیں درج کرائیں۔ 

24؍اپریل1937ء کو دارالعلوم دیوبند کے مہتمم صاحب نے تمام مدارس اسلامیہ سے الجمعیۃ کے خریدار بننے کی اپیل کی۔

24؍اپریل1937ء کو گوشوارۂ آمدو صرف جمعیت علمائے ہند شائع کیا گیا۔ 

3-4-5؍مئی1937ء کو مجلس عاملہ کااجلاس ہوا، جس میں 31؍مارچ1937ء کو کانگریس کے صدر جواہر لال نہرو کا فیصلہ کہ ’’مسلمانوں کو بڑی تعداد میں کانگریس میں شامل کیا جائے‘‘پر طویل بحث و گفتگو کے بعد یہ فیصلہ لیاکہ مسلمانوں کو اجتماعی اور انفرادی طور پر مکمل آزادی کی حمایت کرنے والی پارٹی کانگریس میں شریک ہوکر جنگ آزادی میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس اجلاس میں گرانی کے سبب الجمعیۃ کے دو صفحات میں تخفیف، پانی پت کے مسلمانوں پر مظالم کے خلاف حکومت کو انتباہ اور رکن جمعیت مولانا نور الدین صاحب ؒ کے استعفی کو نامنظور کیا گیا۔علاوہ ازیں آزاد قبائل پربم باری کی مذمت،ہندو اخبارات کے رویے پر افسوس کا اظہار،فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے کے لیے کانگریس سے اپیل پر تجاویز منظور کی گئیں۔

13؍مئی 1937ء کو الجمعیۃ کے صفحات میں تخفیف کا اعلان کیا گیا۔

14؍مئی1937ء کو ایک بیان جاری کرکے مسٹر نہرو اور مسٹر جناح کے درمیان تنازع پر جمعیت علما کا واضح موقف پیش کیا گیا۔ 

14؍مئی1937ء کو نائب ناظم جمعیت علمائے ہند مولانا نور الدین صاحب بہاری کو دہلی بدری کا نوٹس دے کر دہلی سے اخراج کردیا گیا۔ 

15؍مئی1937ء کو صدر اور ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ اس اخراج کو منسوخ کردے۔ 

17؍مئی1937ء کو الٰہ آباد نیشنلسٹ کانفرنس میں تمام مسلم جماعتوں نے متفقہ طور پر کانگریس میں شرکت کا فیصلہ کرتے ہوئے مسلم لیگ کی رکنیت سے استعفی دے دیا۔

20؍مئی1937ء:5؍ اپریل کو ایک میٹنگ میں فیصلہ کرنے کے بعد 26؍اپریل کو اکابرین جمعیت نے مسلم لیگ پارلیمنٹری بورڈ کی رکنیت قبول کی تھی؛ لیکن مسٹر جناح کی اسلام مخالف پالیسی، فرقہ وارانہ خطوط پر جداگانہ انتخاب کے مطالبہ اور مکمل آزادی کی حمایت نہ کرنے کی وجہ سے جمعیت سمیت دیگر مسلم پارٹیاں بھی مسلم لیگ سے علاحدہ ہوگئیں۔

9؍جون1937ء کو جمعیت کو مستحکم کرنے کی اپیل کی گئی۔

18؍جون1937ء کو مولاناحسین احمدمدنی صاحب کو دہلی بدری کا نوٹس دیا گیا۔

24؍جون1937ء کو ایک اعلان جاری کرکے مسلمانوں کو جنگ آزادی میں سرفروشانہ کردار ادا کرنے کی دعوت دی گئی۔ 

 20؍جولائی1937ء کو قاہرہ میںمقیم بھارتی مسلمانوں نے ایک مکتوب لکھ کر اپنی بیداری کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔ 

30؍جولائی1937ء کو تقسیم فلسطین کی تجویز کے خلاف عظیم الشان احتجاجی اجلاس کیا گیا۔ 

یکم اگست1937ء کو صدرجمعیت علمائے ہند نے رائل کمیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے تقسیم فلسطین کے نظریے کی شدید مذمت کی۔ 

اسی تاریخ کو مفتی اعظم ہندنے شاتم رسول نامی کتاب میں اپنی تقریظ کی تردید کرتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ 

8؍اگست1937ء کو منعقد مجلس عمل جمعیت فلسطین نے کئی اہم تجاویز منظور کیں۔ 

9؍اگست1937ء کو جلاوطن مجاہدین آزادی کی وطن واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔ 

12؍اگست1937ء کو مسلم اقلیت کے متعلق کانگریس کی پالیسی واضح نہ ہونے کی وجہ سے مسلم لیگ اور کانگریس میں پیدا شدہ دوری کو ختم کرنے کے لیے ناظم جمعیت نے انتھک کوشش کی۔ 

16؍اگست1937ء کو ایک مکتوب لکھ کر یوپی کا وزیر اعلیٰ بننے پر جے بی پنت کو مبارک باد پیش کی گئی۔

17؍اگست1937ء کو سندھ کے اجلاس عام میں جمعیت نے کانگریس میں شرکت کا اعلان عام کیا۔

24؍اگست1937ء کو ایک بیان جاری کرکے رائل کمیشن کے خلاف 3؍ ستمبر 1937ء کو یوم فلسطین منانے کا اعلان جاری کیا گیا۔ 

28؍اگست1937ء کو ملک کی آزادی کی خاطر مسلمانوں سے کانگریس میں شرکت کی اپیل کی گئی۔ 

30؍اگست1937ء کو وزیر اعظم مدراس کو مکتوب لکھ کر گاؤ ذبیحہ سے متعلق مسودہ ٔ قانون کو اسمبلی میں پیش کرنے سے روکنے کی اپیل کی گئی۔

یکم ستمبر1937ء کو جمعیت علمائے صوبہ سرحد کے عہدے داران کے درمیان جاری تنازع کے تناظر میں مولانا نورالدین بہاری نے اعلان حق کرتے ہوئے کہا کہ شخصیت پرجماعت کو قربان نہیں کیاجاسکتا۔ 

3؍ستمبر1937ء کو فلسطین کی حمایت میں ملک گیر ہڑتال اور جلوس نکالے گئے۔

16؍ستمبر1937ء کو جمعیت علمائے سرحد کے تنازع کے معاملے میں ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند کو حکم مقرر کیا گیا۔

اسی تاریخ کو شائع ایک خبر کے مطابق نظام شریعت کے قیام کی کوشش کی گئی اور ساتھ ہی ملک کے مختلف مقامات پر جمعیت علما کی ذیلی اور مقامی شاخوں کا قیام عمل میں آیا۔ 

18؍ستمبر1937ء کومولانا نورالدین صاحب بہاری نے اپنی جلاوطنی کے سلسلے میں ہوم ممبرکی غلط بیانی کی تردید کی۔ 

18؍ستمبر1937ء کو دیوبند میں اکابرین جمعیت کا ایک اہم غیر رسمی مشاورتی میٹنگ منعقد ہوئی۔   

20؍ستمبر1937ء کو ایک مکتوب کے ذریعے جمعیت علما پر کیے جارہے کئی اعتراضات کے تسلی بخش جوابات دیے گئے۔

24؍ستمبر1937ء کو ذبیحہ گاؤ کے متعلق صدر ہندو مہاسبھاکو ایک مدلل مکتوب ارسال کیا گیا۔

27؍ستمبر1937ء کو مفتی محمد نعیم صاحب لدھیانوی کی گرفتاری کے خلاف وزیر اعظم پنجاب کو احتجاجی مکتوب ارسال کیاگیا۔ 

یکم اکتوبر1937ء کو علی گڑھ میںفرقہ وارانہ فساد کے اندیشے کے پیش نظر وزیر اعظم یوپی کو تار ارسال کیا گیا۔ 

دو سال کی مسلسل کوششوں کے بعد شریعت ایکٹ پاس کرانے میں کامیابی ملی تھی؛لیکن  مسٹر جناح کی شریعت ایکٹ پر عمل اختیاری، شریعت پر عمل کرنے کے لیے افسر کے سامنے اقرار اور صرف بلاوصیتی جائداد میں شرعی احکام لاگو ہونے جیسی ترمیمات کے ساتھ شریعت بل 16؍ستمبر1937ء کو منظور کرلیا گیا، جس پر یکم اکتوبر1937ء کو تبصرہ کرتے ہوئے جمعیت علما نے کہا کہ شریعت بل کے ساتھ مسٹر جناح اور اس کے رفقا نے جوغیر دانش مندانہ سلوک کیا ہے، اس نے بل کی روح کو سلب کرلیا ہے۔

 29؍تا 31؍اکتوبر1937ء کو میرٹھ میں آل انڈیا فلسطین کانفرنس میں ’’مجلس تحفظ فلسطین‘‘ تشکیل دی گئی، اور مقاطعات ثلاثہ کو جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔

31؍اکتوبر1937ء کوایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت ناظم عمومی صاحب نے مسٹر جناح کی وعدہ فراموشی کو مسلم لیگ سے علاحدگی کا سبب بتایا۔

14؍نومبر1937ء کو جلاوطنی کی مدت گذارکرمولانا نور الدین صاحب بہاری دہلی تشریف لائے۔

21؍نومبر1937ء کو روزنامہ وحدت میں مفتی اعظم ہند پر مالی معاملات پر لگائے گئے الزامات کی خود صاحب معاملہ کے وارث نے سخت تردیدکی۔ 

5؍دسمبر1937ء کو مولانا عبدالحامد صاحب کے استعفے پر ان کی طرف سے کیے گئے جملہ اعتراضات کے جوابات پیش کیے گئے۔ 

14؍دسمبر1937ء کو مرادآباد میں ہوئے ضمنی الیکشن میں رکن عاملہ جمعیت علمائے ہند مولانا بشیر احمد صاحب شکست کھا گئے۔   

18؍دسمبر1937ء کو کانگریس میں مسلمانوں کی باوقار شرکت کے لیے ناظم عمومی نے پنڈت جواہر لال نہرو اور وزیر اعظم یوپی سے ملاقات کی۔

30؍دسمبر1937ء کو دیوبندمیںحالات حاضرہ پر اراکین جمعیت کی ایک غیر رسمی میٹنگ میں کئی فیصلے لیے گئے۔ 

31؍دسمبر1937ء کو گوجرنوالہ کے اخباری نمائندے کے سوالات میں مسلم لیگ میں شرکت اور اس سے علاحدگی پر تسلی بخش جوابات دیے گئے۔


جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: اٹھارھواں سال: 1936ء

 اٹھارھواں سال: 1936ء

محمد یاسین جہازی

17؍جنوری1936ء کو انڈیا بل 1935ء کو مسترد کرتے ہوئے دہلی میںحق رائے دہندگی کے معیار میںوسعت لانے کامطالبہ کیا گیا، تاکہ غریب لوگ بھی ووٹ دینے کے اہل بن سکیں۔ 

شرعی عدالتیں نہ ہونے کی وجہ سے مسلم عورتیں ظالم شوہروں سے انفساخ نکاح نہیں کراپاتی تھیں، جمعیت نے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے قانون انفساخ نکاح کا مسودہ تیار کیا اوریکم و 2؍فروری 1936ء کو منعقد مجلس مشاورت کے اجلاس میںمسودۂ قانون انفساخ نکاح میں ترمیم کی گئی۔

3؍فروری1936ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میںترمیم شدہ مسودۂ قانون فسخ نکاح کی منظوری دی گئی

اسی اجلاس میں حکومت سعودیہ اور انگلش کمپنی کے درمیان حجاز میں کان کنی کے معاہدے کو جزیرۃ العرب میں استعماری طاقتوں کی مداخلت کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے حکومت سعودیہ سے اپیل کہ وہ جزیرۃ العرب کو غیر مسلم اقتدار سے مکمل طور پر محفوظ رکھیں۔ 

اس کے علاوہ کئی ایک تجاویز میں درگاہ اجمیر شریف بل کی بعض دفعات وقف کے اسلامی احکام کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناقابل قبول قرار دیا ۔ مصر کی آزادی پر مصری باشندگان کو مبارک باد پیش کی ۔ حرمین شریفین کے اخراجات کی تکمیل کے لیے پوری دنیا کے مسلمانوں سے عموما اور مصری باشندگان سے خصوصا تعاون کی اپیل کی۔

20؍فروری1936ء کو شرعی وجوہات کی بنا پر الجمعیۃ کو غیر مصور شائع کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔

10؍مارچ 1936ء کو جمعیت درگاہ بل پر غور کرنے کے لیے سب کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں اس بل کو موجودہ صورت میں ناقابل قبول قرار دیا گیا۔ 

10؍مارچ 1936ء کو حضور نظام دکن کی دہلی آمد کے موقع پر صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب اورناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب کو حضور کی طرف سے خاصہ عنایت کیا گیا۔ 

23؍مارچ1936ء کو صدر جمعیت علمائے ہند نے مسجد شہید گنج کے مقدمہ میں لاہور کی عدالت میں اس کی تاقیامت مسجد ہونے کی شہادت پیش کی۔ 

27-28-29؍مارچ1936ء کو دہلی میں جمعیت علمائے دہلی کا سالانہ اجلاس ہوا، جس میں مختلف قائدین کے پرمغز خطابات کے علاوہ کئی اہم تجاویز منظور کی گئیں۔

2؍اپریل1936ء کو مسلم یونٹی بورڈ کا اجلاس ہوا،جس میں طے ہوا کہ مسلم لیگ کے بجائے مسلم پارلیمنٹری بورڈ پر الیکشن لڑا جائے اور اس میں الیکشن کا مینو فیسٹو بھی شائع کیا گیا۔ 

26؍اپریل1936ء کو ناظم عمومی جمعیت علما نے بمبئی میں منعقد ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سرکاری مسلمانوں اور عالم نما جاہلوں سے بچنے کی تلقین فرمائی۔

26-27-28؍اپریل1936ء کومسٹر جناح کی دعوت پر مختلف اسلامی انجمنوں کے درمیان اتحاد پیدا کرنے کے لیے ایک اجتماع ہوا۔

21؍مئی1936ء کو مسلم پارلیمانی بورڈ کے نام زد اراکین کی فہرست شائع کی گئی۔

24؍مئی1936ء کو جمعیت علمائے ہند کی گزشتہ قومی و ملی خدمات کا ریکارڈ پیش کیا گیا۔ 

27؍مئی1936ء کو مسلم پارلیمنٹری بورڈ کے امیدواروں کی حمایت کا اعلان کیا گیا۔

یکم جون 1936ء کو   فلسطین میں برطانیہ کے ظالمانہ رویہ کی مذمت کی ۔

یکم جون1936ء کو اردو کے حوالے سے گاندھی جی کے متعصابہ رویہ پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

یکم جون1936ء کو مسجد شہید گنج اور کاکو شاہ مزارکے غیر منصفانہ عدالتی فیصلہ پر صدائے احتجاج بلند کیا۔

9؍جون1936ء کوسہ روزہ الجمعیۃ کے چھ شمارے کی عدم اشاعت کا اعلان کیا گیا۔ 

10؍جون1936ء کو احرار یونٹی بورڈ اور جمعیت علمائے ہند کے مشترک اجلاس میں انتخابی بورڈ کے متعلق گفت وشنیدکی گئی۔

27؍ستمبر1936ء کوجمعیت کے اجلاس میں کمیونل ایوارڈ کے متعلق برادران وطن کے پروپیگنڈہ کی سخت مذمت کی گئی۔

27؍دسمبر1936ء کو مولانا احمد سعید صاحب نے نواب اسماعیل خاں کو ووٹ دینے کے لیے مختلف مقامات پرتقریریں کیں۔ 


جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: سترھواں سال: 1935ء

 سترھواں سال: 1935ء

محمد یاسین جہازی

9؍جنوری1935ء کو کولہاپور میں بھڑکے فساد کی مذمت کرتے ہوئے کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ 

20؍جنوری1935ء کو کولہاپور فساد کے خلاف احتجاجی اجلاس کیا گیا۔ 

21؍جنوری1935ء کو مسلم یونٹی بورڈ کے اجلاس میں شیعہ حضرات کی نمائندگی پر غور کیا گیا۔

24؍جنوری1935ء کو برطانی حکومت ہند کی طرف سے انڈیا بل اور اس کے ساتھ ایک میمورنڈم شائع کیا گیا۔

یکم فروری 1935ء کو معلمین حجاج بل کو مداخلت فی الدین قرار دیتے ہوئے اس کی مخالفت میں احتجاجی اجلاس کیا گیا۔ 

8؍مارچ1935ء کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ کے ایک اعلان کے ذریعہ گائے کی قربانی کی ممانعت کے پیش نظر عید الاضحی کے موقع پر فسادات کا اندیشہ ظاہر کیا گیا۔

9؍مارچ1935ء کو مولوی حبیب الرحمان کے نومسلم صاحب زادے کے اغوا کیے جانے پر مہاراجہ جیند کو تار بھیج کر واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔ 

13؍مارچ1935ء کو غازی عبدالقیوم کی پھانسی کے خلاف صدائے احتجاجی بلند کررہے کراچی کے مسلمانوںپر کی گئی فائرنگ کے خلاف سخت احتجاج کیا گیا۔ 

24؍مارچ1935ء کو حجاز کے والی سلطان ابن سعود اور ان کے صاحب زادے پر ہوئے قاتلانہ حملہ کی مذمت کرتے ہوئے ان کے لیے دعائے عافیت کی گئی۔ 

27؍مارچ1935ء کو دفتر الجمعیۃ پر چھاپے مارے گئے اور ضروری دستاویزات پولیس لے کرچلی گئی۔ 

13؍اپریل1935ء کو حکومت بمبئی کی طرف سے حادثۂ کراچی پر آزدانہ تحقیقات نہ کرنے کے اعلان پر اس کے خلاف رد عمل ظاہر کیا گیا۔ 

26؍اپریل1935ء کو حادثۂ کراچی کی آزادانہ تحقیقات کے مطالبہ کے لیے عظیم الشان جلسہ کیا گیا۔ اور اس میں حکومت کی سلور جوبلی میں شرکت کی بھی مخالفت کی گئی۔ اسی کے ساتھ حادثۂ کراچی کی آزادانہ تحقیقات ٹھکرانے پر لیجسلیٹو کونسل سے استعفیٰ دینے والے مسلم ممبران کو مبارک باد دی گئی اور مولانا عطاء اللہ شاہ صاحب کی گرفتاری پر انھیں بھی مبارک باد پیش کی گئی۔ 

26؍مئی1935ء کو کانگریس قومی ہفتہ کے اجلاس میں ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا احمد سعید صاحب نے خطاب کے بعد دیہاتی تنظیم کے لیے خود بھی چندہ دیا اور لوگوں سے بھی دینے کی اپیل کی۔ 

28؍مئی 1935ء کو سب کمیٹی الجمعیۃ نے اپنی رپورٹ پیش کی۔ 

31؍مئی1935ء کو کوئٹہ میں آئے بھیانک زلزلے میں جمعیت علمائے ہند نے ہر ممکن تعاون کرنے کی جدوجہد کی اور زمینی حالات کا جائزہ لینے کے لیے مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب کوئٹہ کے لیے روانہ ہوئے ، لیکن حکومت نے فوجی رقبہ قرار دے کرجانے نہیں دیا۔

3؍جون1935ء کو قومی و مذہبی معاملات پر اہم مشورے کیے گئے۔

4؍جون 1935ء کو صدر جمعیت کی صدارت میںمنعقد اہالیان دہلی کے جلسہ میں مصیبت زدگان زلزلہ کے لیے چندہ کیا گیا۔ 

 6؍جون1935ء کو کوئٹہ میں ریلیف ورک نہ کرنے دینے کی مذمت  اور زلزلہ زدگان سے اظہار ہمدردی کے لیے ایک جلسہ کیا گیا۔ 

9؍جون1935ء کو شہیدان زلزلہ کی لاشوں کو جلانے کی مذمت کی گئی۔

9؍جون1935ء کو مزارات و مساجد کی بے حرمتی کے خلاف وزیر اعظم پٹیالہ کو تار بھیج کر توجہ دلائی گئی۔ 

24؍جون1935ء کو انڈیا ایکٹ -جسے2؍اگست1935ء سے نافذ العمل قرار دیا جانے والا تھا-چوں کہ اس میں مکمل آزادی اور مسلمانوں کے مذہبی حقوق میں عدم مداخلت سے متعلق کوئی مستقل دفعہ نہیں تھی اور گورنرجنرلوں کو بے پناہ اختیارات دے دیے گئے تھے، اس لیے جمعیت نے اس کی مخالفت کی۔

12؍جولائی1935ء کو مسجد شہید گنج کی شہادت کے خلاف زبردست احتجاجی جلسہ کیا گیا۔ 

25؍جولائی1935ء کو مسجد شہید گنج  کی تحریک سے متعلق مسلم لیڈروں میں اختلافات کے باعث جمعیت نے اپنا موقف پیش کیا۔ 

9؍ستمبر1935ء کو مولانا حسرت موہانی کی چند غلط فہمیوںکے ازالے کے لیے جوابی مراسلہ لکھا گیا۔

25؍ستمبر1935ء کو مسجد شہید گنج کی واگزاری کے لیے بے موقع تحریک سول نافرمانی شروع کرنے پر تحریک کے ذمہ دار اتحاد ملت کے سکریٹری کو مکتوب لکھ کر تحریک کو فورا روک دینے کا مطالبہ کیاگیا۔

9؍اکتوبر1935ء کو صدر جمعیت حضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب پر مسجد تحریک شہید گنج سے متعلق افواہ کی تردیدکی گئی۔

 13؍اکتوبر1935ء کو، جب ڈاکٹر امبیڈ کرنے اپنے مذہب سے بیزاری کا اعلان کیا، تو انھیں اسلام قبول کرنے کی دعوت پیش کی گئی۔

18؍اکتوبر1935ء کو ایک جلسے میں،غیر مسلموں کے مظالم سے تنگ آکر کوٹ پتلی سے ہزاروں مسلمانوں کے دہلی ہجرت کرجانے کے پیش نظر جمعیت نے ان کی امدادو بازآباد کاری کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی۔

28؍اکتوبر1935ء کو جمعیت کے متعلق پھیلائی جارہی غلط فہمی کاجواب دیتے ہوئے مسجد شہد گنج کی تحریک میں مکمل معاونت کا اعلان کیا گیا۔ 

28؍اکتوبر1935ء کو مجلس اتحاد ملت کی راول پنڈی کانفرنس میں جمعیت پرلگائے گئے الزامات کی تردید کی گئی۔ 

2؍نومبر1935ء کو مسجد شہید گنج کی واگزاری سے متعلق ایک استفتا کا جواب دیا گیا۔

7؍نومبر1935ء کو صوبہ سرحد میں شریعت بل پاس ہونے پر مبارک باد پیش کی گئی۔ 

یکم دسمبر1935ء کودہرادون میں شعبۂ تبلیغ کا قیام عمل میں آیا۔ 

13؍دسمبر1935ء کومولانا عطاء اللہ شاہ بخاری صاحب کی گرفتاری پر احتجاجی اجلاس کیا گیا۔ 

28؍دسمبر1935ء کو کانگریس کے گولڈن جوبلی منانے میں شرکت کی اپیل کی گئی۔

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: سولھواں سال: 1934ء

  سولھواں سال: 1934ء

محمد یاسین جہازی

12؍جنوری1934ء کو برطانیہ کے وزیر اعظم کے کمیونل ایوارڈ میں ترمیم پیش کرنے کے لیے تمام مذاہب کی طرف سے متفقہ مطالبہ پیش کرنے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کی اپیل کی گئی۔ 

16؍جنوری1934ء کو اس متحدہ مطالبہ کو پنڈت جواہر لال نہرو کی طرف سے غیر ضروری قرار دینے کے خلاف جمعیت نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے آزادی ہند کے لیے اسے ضروری قرار دیا۔ 

بتاریخ 14؍15؍16 ؍مارچ1934ء، مرادآباد میں مجلس عاملہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں خان بہادر حافظ ہدایت حسین صاحب کے وقف بل کو شرعی احکام وقف کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناقابل قبول قرار دیا گیا۔ اور اس میں ترمیمات پیش کرنے کے لیے ایک سب کمیٹی قائم کی گئی۔ علاوہ ازیں خان عبید اللہ خاں کی رہائی ، حکومت کشمیر کے مظالم کی مذمت اوربہار مصیبت زدگان کے تعاون کی اپیل کی تجاویز منظور کی گئیں۔

مرادآباد مجلس عاملہ میں تشکیل کردہ سب کمیٹی نے 18؍اپریل 1934ء کو منعقد مجلس مشاورت میں رپورٹ پیش کی، جسے مجلس عاملہ منعقدہ 19؍اپریل 1934ء نے منظوری دی۔ اس کے علاوہ حصول آزادی کے لیے بین مذاہب باہمی تصفیہ کی ضرورت، سب کمیٹی کے ارکان میں اضافہ اور اجودھیا میں ہندوؤںکے مظالم کی مذمت کی گئی۔ 

21؍اپریل1934ء کو حکومت نے اجودھیا میں ہندو مسلم سمجھوتے کا اعلان کیا۔ 

16؍جولائی1934ء کو جمعیت کے اراکین پر پابندی کو زیادتی حکومت کی زیادتی قرار دی گئی۔ 

یکم اگست 1934ء کو پلول میں ایک گدھے کا نام احمد رکھ کر مسلمانوں کی گئی دل آزاری کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔

5؍اگست1934ء کومولانا آزاد سبحانی (بانی رکن جمعیت علمائے ہند) کو ایک تقریر کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا، جنھیں پہلے دو سال،بعد میں چھ ماہ کی قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔ 

10؍تا 12؍اگست 1934ء میں منعقد مجلس عاملہ کی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا کہ آئندہ ہونے والے انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے مسلمانوں کامشترکہ بورڈ مسلم یونٹی بورڈ کے امیدواروں کی اس شرط پر حمایت و تائید کی جائے کہ وہ مذہبی معاملات میں جمعیت علمائے ہند کی رہ نمائی میں کام کریں گے۔ 

اس اجلاس کی ایک دوسری تجویز میں ممبئی کے فساد کے متعلق کانگریس ورکنگ کمیٹی کی تجویز کی ستائش کی گئی اور ساتھ ہی مسلمانوں سے کانگریس میں شرکت کی اپیل کی گئی۔ ساتھ ہی یونٹی بورڈ کے اجلاس میں شرکت کی تجویز منظور کرتے ہوئے شرکت کنندگان پر مشتمل سب کمیٹی تشکیل دی گئی۔ علاوہ ازیں جمعیت علما کی مالی حالت اور سہ روزہ الجمعیۃ کی ترقی کے لیے ایک سب کمیٹی تشکیل دی گئی ۔

چوں کہ19؍اگست1934ء کو منعقد مسلم یونٹی بورڈ میں جمعیت کی شرط کو پہلے نامنظور کردیا تھا، پھر بعد میں 23؍اگست1934ء کو تمام شرائط کی منظوری کا اعلان کیاگیا ،تو جمعیت علما نے مسلم یونٹی بورڈ کے امیدواروں کی حمایت و تائید کا اعلان کیا۔

چوں کہ امارت شرعیہ بہار و اڑیسہ بھی مسلم یونٹی بورڈ میں شامل ہوکرانتخابی میدان تھی، اس لیے 17؍اگست1934ء کو جمعیت علما کی شرائط کو قبول کرنے کا اعلان کیا۔ 

24؍اگست1934ء کو ریاست جیند میں ہورہے مسلمانوں پر مظالم کے خلاف جیند کے مہاراجہ کو تار بھیج کر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ 

26؍اگست1934ء کو کارکن جمعیت علمائے ہند مولانا فضل الرحمان صاحب کی قید فرنگ سے رہائی عمل میں آئی۔ 

6؍ستمبر1934ء کو آگرہ میں ہندو مسلم فسادات کے پیش نظر سمجھوتہ کرانے کی کوشش کی گئی۔ 

24؍ستمبر1934ء کو ایک استفتا کے جواب میں خواتین کی کونسلوں اور اسمبلیوں کی ممبری کی  مشروط اجازت دی گئی۔ 

24؍ستمبر1934ء کو حاجی وجیہہ الدین صاحب کوووٹ دینے کی اپیل کی گئی۔

28؍ستمبر1934ء کو جمعیت علمائے ہند اور کانپوری جمعیت علما میں انظمام و اتحاد کااعلان شائع کیا گیا۔ 

13؍اکتوبر1934ء کو قاضی عبدالحمید صاحب کو ووٹ دینے کی اپیل کی گئی۔ 

13؍اکتوبر1934ء کو امارت شرعیہ بہار کے امیدواروں کو ووٹ دینے کی اپیل کی گئی۔ 

16؍اکتوبر1934ء کو مسٹر کریم الرضا خان صاحب کو ووٹ دینے کی اپیل کی گئی۔ 

30؍اکتوبر1934ء کومسلم لیگ کے امیدوار سر محمد یعقوب کی طرف سے جمعیت علما کے اکابرین پر الیکشن کی سرگرمیوں سے باز رہنے کے لیے پیسے لینے کا الزام لگایا گیا، جس کی حضرت مدنی نے تردید فرمائی۔

 30؍اکتوبر1934ء کو حضرت مدنی نے اعلان کیا کہ مولوی کریم الرضا خاں صاحب کے خلاف ووٹ دینے والا گناہ گار ہے۔ 

2؍نومبر1934ء کو صوبہ سرحد میں منعقدایک عظیم الشان اجلاس میں شریعت بل کی پرزور حمایت کی گئی۔ 

5؍نومبر1934ء کو یونٹی بورڈ کے جملہ امیدواروں کو ووٹ دینے کی اپیل کی گئی۔

9؍نومبر1934ء کوشائع رپورٹ کے مطابق  انگریزوں نے بھارت کو لوٹنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے دستیاب رپورٹ کے مطابق 9؍ نومبر 1934ء تک بیس کروڑ، اکیس لاکھ،چھپن ہزار،چھتیس(  202156036)روپے کا سونا لوٹ لیا۔

28؍نومبر1934ء اوراس کے بعد مرکزی اسمبلی کے انتخابی نتائج سامنے آئے، جس میں مسلم یونٹی بورڈ کے پانچ امیدواروں نے جیت حاصل کی۔   

23؍نومبر1934ء کو جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کی رپورٹ شائع کی گئی،جس پر یکم دسمبر1934ء کو جمعیت علمائے ہند نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے ، اسے وہائٹ پیپر سے بدتر اور قرطاس ابیض سے زیادہ مضرت رساں قرار دیا ۔

3؍دسمبر1934ء کو مفتی محمد نعیم صاحب (جو جمعیت علمائے ہند کے ساتویں ڈکٹیٹر رہے تھے) نے حجاز مقدس روانہ ہوتے ہوئے، حصول آزادی کے لیے مسلمانوں کو اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا پیغام دیا۔

14؍دسمبر1934ء کو ملی رہنماؤں کی گرفتاری اور حکومت کی قادیانیت نوازی پرصدائے احتجاج بلند کیا گیا۔ 


جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: پندرھواں سال: 1933ء

 پندرھواں سال: 1933ء

محمد یاسین جہازی

  2؍جنوری1933ء کو اتحاد کانفرنس الٰہ آباد کی سب کمیٹی کے اجلاس منعقدہ کلکتہ کی آخری نشست میں ، بنگال کے مسئلہ پر کسی متحدہ فیصلہ پر نہ پہنچنے کی وجہ سے کانفرنس کی ناکامی کے آثار کے پیش نظر خطاب کرتے ہوئے مولانا آزاد ؒ نے فرمایا کہ اصول نہ ملیں، نہ سہی، مصلحت ہی مل جائے۔ اس وقت باہمی اتحاد ہی سب سے زیادہ ضروری چیز ہے۔

5؍جنوری1933ء کو شائع ایک خبر کے مطابق برطانوی  حکومتہند جمعیت علما کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھ رہی تھی۔ 

14؍جنوری1933ء کو مظلومین الور کی حمایت میں عظیم الشان جلسہ کیا گیا۔ 

18؍جنوری1933ء کو مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ قید فرنگ سے آزاد کردیے گئے۔ 

21؍جنوری1933ء کو الور کے واقعات پر مدبرانہ تبصرہ کیا گیا۔ 

27؍جنوری1933ء کو منعقد ایک جلسے میںجمعیت علما کی خدمات کو سراہا گیا۔

3؍فروری1933ء کو گیارھویں ڈکٹیٹر مولانا عبداللہ صاحب کو پہلے گرفتار کیا گیا، پھر دہلی بدری کی نوٹس کی تعمیل کرائی گئی۔ 

10؍فروری 1933ء کو منعقد جمعیت علما کے ایک جلسہ میںموجودہ حکومت کی چیرہ دستیاں بیان کی گئیں۔ 

11؍فروری1933ء کو اسمبلی میں صدر جمعیت علما کی رہائی کا مطالبہ کیاگیا۔

21؍فروری1933ء کو مولانا حبیب الرحمان صاحب لدھیانوی کو ایک نوٹس کے ساتھ رہا کیا گیا۔ 

24؍فروری1933ء کو منعقد ایک جلسے میں غلام اور آزاد قوم کا نفسیاتی فلسفہ بیان کیا گیا۔  

3؍مارچ1933ء کو حکومت پنجاب کی قادیانیت نوازی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔

3؍مارچ1933ء کو سر دفتر جناب شفیع صاحب کو دہلی چھوڑنے کا نوٹس دیا گیا۔ 

6؍مارچ1933ء کو آٹھویں ڈکٹیٹر مولانا اسماعیل صاحب کو رہا کیا گیا۔ 

10؍مارچ1933ء کو علمائے پنجاب کی گرفتاریوں پر احتجاج کیا گیا۔ 

11؍مارچ1933ء کو حضرت ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا احمد سعید صاحب قید فرنگ سے رہا کیے گئے۔ 

17؍مارچ1933ء کو جمعیت کے زیر اہتمام منعقد ایک جلسے میں حضرت شیخ سنوسی کے انتقال پر اظہار تعزیت، فتنۂ قادیانیت کے سد باب کی تدابیر پرتجاویز کی منظوری کے علاوہ ناظم عمومی صاحب کا خصوصی خطاب ہوا۔

24؍مارچ1933ء کو حضرت ناظم عمومی صاحب نے 17؍مارچ 1933ء کو شائع قرطاس ابیض پر اپنی رائے پیش کرتے ہوئے اسے پھاڑ کر پھینک دینے کا مشورہ دیا۔ 

24؍مارچ1933ء  کو حضرت ناظم عمومی صاحب کو جیل سے رہائی پر ایک اعزازیہ استقبالیہ دیا گیا۔

 7؍اپریل1933ء کو مولانا برکت اللہ صاحب کو دہلی بدری کا نوٹس دیا گیا۔ 

14 ؍اپریل کو حضرت علامہ سید سلیمان ندوی صاحب کو عصرانہ دیا گیا۔ 

18؍اپریل1933ء کو دسویں ڈکٹیٹر مولانا عبداللہ صاحب بٹالوی رہا کیے گئے۔ 

19؍اپریل 1933ء کو مولانا فضل الرحمان کٹکی کی رہائی کے لیے مکتوب لکھا گیا۔

28؍اپریل1933ء کو بارھویں ڈکٹیٹر مولانا عبدالحق صاحب نے باطل شکن تقریر فرمائی۔

6؍مئی1933ء کو ڈکٹیٹر اول حضرت العلامہ مفتی اعظم مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند قید فرنگ سے آزاد کیے گئے۔ 

8؍مئی1933ء کو گاندھی جی کے ایک مہینہ تک سول نافرمانی تحریک کے التوا کو حکومت کی صلح پسندی کا امتحان قرار دیا گیا۔

13؍مئی1933ء کو مفتی اعظم نے پہلی بار خطاب فرمایا۔ 

13؍مئی1933ء کو مولانا صغیر احمد کارکن جمعیت علمائے ہند کی رہائی عمل میں آئی۔ 

23؍مئی 1933ء کو بارھویں ڈکٹیٹر نے ایک اور خطاب فرمایا۔ 

27؍مئی1933ء کو تجویز التوائے حج کے خلاف لائحۂ عمل طے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ 

31؍مئی1933ء کو خاتم المحدثین حضرت علامہ انور شاہ صاحب کے انتقال پر تعزیتی اجلاس منعقد کیا گیا۔ 

4؍جون1933ء کو ایک مسلم سیاسی قیدی کے مقاطعۂ جوعی کے استفتا کا جواب دیا گیا۔ 

4؍جون1933ء کو انگریزی حکومت کی طرف سے ریزیڈینسی بازار کی واپسی پر مبارک بادپیش کی گئی۔

16؍جون1933ء کو مولانا سلطان احمد کو نوٹس دینے پر دہلی حکومت کی غیر ذمہ دارانہ حرکت قرار دی گئی۔

20؍جون1933ء کو گاندھی جی کے برت پر قرآن کریم کی تلاوت کے ایک استفتاکا جواب دیا گیا۔ 

21؍جون1933ء کو مولانا حسین احمدمدنی صاحب کو دہلی بدری کا نوٹس دیا گیا۔ 

22؍جون1933ء کو فلسطین کے ایک مؤقر وفد کا استقبال کیا گیا۔ 

24؍جون1933ء کو مولانا حبیب الرحمان صاحب لدھیانوی کو نوٹس دیا گیا۔ 

25؍جون1933ء کو فلسطینی وفد اور اکابرین جمعیت میں خصوصی ملاقات ہوئی۔ 

10؍اگست1933ء کو منعقد ایک عوامی اجلاس میں حج بل کی مخالفت کرتے ہوئے مولانا غزنوی پر حج کی بندش کی مذمت کی گئی اور حکومت کی طرف سے حج انکوائری کمیٹی کی خفیہ رپورٹ پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

19،20اور 21؍اگست 1933ء کو مرادآباد میں منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں محدث عصر حضرت مولانا علامہ انور شاہ صاحب اور انقلابی لیڈر مسٹر سین گپتا کے انتقال پر رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کئی اہم فیصلے لیے گئے۔ مجلس حربی ،یا دائرۂ حربیہ کے نظام کے سلسلہ وار بارھویں ڈکٹیٹر مولانا عبد الحق صاحب کے بعد،مجلس حربی کی سرگرمیوں کو ملتوی کردیا اور حالات کے مطابق حکمت عملی طے کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنا دی گئی۔ ہر سہ مسودات حج کی مخالفت کرتے ہوئے مولانا غزنوی صاحب کو حج سے روکے جانے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔اور حج کے سلسلہ میں خفیہ رپورٹ کی شدید مذمت کی۔فرقہ وارانہ مسائل پر سمجھوتہ نہ ہونے سے افسوس ظاہر کیا، جو آزادی وطن میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ سرحد کے آزاد قبائل پر بم باری کی مذمت کی اور قرطاس ابیض میں گورنروں کے بے شمار اختیارات دینے کی وجہ سے اسے مطلق العنان دستور قرار دیا۔ 

ایک تجویز میں پست اقوام سے سمجھوتہ پر حکومت کی طرف سے مصالحت پر توجہ نہ دینے کو حکومت کی بے حسی قرار دیا۔اسی طرح وائٹ پیپر اور پارلیمنٹری کمیٹی کی کارروائی سے اظہار بیزاری کیا گیا۔ ساتھ ہی گاندھی جی سے ملاقات نہ کرنے پر وائسرائے کے رویے کی مذمت کی گئی۔ 

4؍ستمبر1933ء کے ایک اجلاس میں سرحد کے آزاد قبائل پر بم باری کی مذمت کی گئی۔ اور حجاج کے متعلق مسودۂ قانون کی مخالفت کی گئی۔ 

4؍ ستمبر 1933ء کو افغانستان قونصل جنرل کا مکتوب موصول ہوا، جس کے جواب میں خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا گیا۔

پورے سال کے دوران مختلف تاریخوں میں کارکنان جمعیت علمائے ہند گرفتار کیے جاتے رہے اور رہا بھی ہوتے رہے۔

آواخر چھ مہینے کے الجمعیۃ کی فائلیں نہ ملنے کی وجہ سے مزیدکوئی کارروائی دستیاب نہیں ہوسکی۔ 


جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: چودھواں سال:1932ء

 چودھواں سال:1932ء 

محمد یاسین جہازی

یہ سال جمعیت علمائے ہند کے لیے جہاد آزادی کی تاریخ کے حوالے سے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔ دوسری گول میز کانفرنس کی ناکامی کے بعد ، جب بھارتیوں نے دوبارہ تحریک سول نافرمانی کا آغاز کیا، تو حکومت نے مختلف آر ڈی نینسوں کے ذریعہ بھارتیوںکی آزادی کو کچلنا چاہا، لیکن غیوربھارتیوں اور جمعیت علمائے ہند کے اکابرین و کارکنان حکومت کے خلاف سینہ تان کر کھڑے ہوگئے اور بھارت کو آزاد کرانے کے لیے جہاں فرنگی اسارت کو بخوشی قبول کیا، وہیں کسی بھی قسم کے مصائب برداشت کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے۔

دوسری گول میز کانفرنس (7؍ستمبر تایکم دسمبر1931ء ) کی ناکامی کے بعد وائسرائے کی طرف سے صوبہ سرحد میں آرڈی نینس جاری کرنے کے بعد پیداشدہ صورت حال کے تناظر میں صدر و ناظم عمومی جمعیت علما نے تار بھیج کر5؍جنوری1932ء کو وائسرائے کو متوجہ کیا۔  

5؍جنوری1932ء کو کشمیر معاملہ کو لے کرصدرجمعیت علمائے ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب اور ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا احمد سعید صاحب نے نواب سکندر حیات اوراحراری لیڈروں سے ملاقات کی۔ 

6؍جنوری1932ء کو ناظم عمومی کے مکان کی تلاشی لی گئی۔ 

9؍جنوری1932ء کو لال قلعہ دہلی شاہی مسجد کے انہدام کی کارروائی کو رکوائی گئی ۔

23؍جنوری 1932ء کو میرپورکشمیر میں ڈوگرہ فوج کے مظالم کے خلاف اجلاس و احتجاج کیا گیا۔

24؍جنوری 1932ء کو مختلف الخیال مسلمان لیڈروں کا ایک اہم اجتماع ہوا، جس میں حکومت کی حمایت کی وجہ سے مسلم کانفرنس سے علاحدگی، صوبہ سرحد میں مظالم کی مذمت، دوسری گول میز کانفرنس کا مقاطعہ، حالات حاضرہ پر غور کرنے کے لیے ایک کمیٹی کا تقرر، مظالم کشمیر پر احتجاج اور جمعیت علمائے ہند کے وفد کو آزاد تحقیقات کے لیے سرحدجانے کی اجازت نہ دینے پر غم و غصہ کا اظہار کیا گیا۔

27؍جنوری1932ء کو ناظم عمومی مولانا احمد سعید صاحب کو گرفتار کرلیا گیا۔ 

 30؍جنوری 1932ء کو صوبہ سرحد میں محاکم شرعیہ کے قیام کا مطالبہ کیا گیا۔

6؍فروری1932ء کو یوم سرحد مناتے ہوئے حکومت کے خلاف زبردست احتجاج کیا گیا۔

29؍فروری سے2؍مارچ 1932ء تک مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں مسلمانوں پر حکومت کشمیر کے زہرہ گداز مظالم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرتے ہوئے، آزادی کشمیر کے لیے کوشاں مجلس احرار اور حکومت کشمیر کے درمیان ثالثی کے لیے ہوئے خط و کتابت کو شائع کرنے اور ایک وفد جاکر بذات خود حالات کا مشاہدہ کرنے کے بعد وہاں کے ظلم و ستم سے لوگوں کو واقف کراتے ہوئے ، کشمیر کے حالات کی تحقیق پر مبنی مڈلٹن کمیشن کی رپورٹ میں حکومت کی طرف داری کرنے پر اسے غیر منصفانہ قرار دیا۔اس میں الجمعیۃ کی ملکیت تبدیل کرکے مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحب کو سارے اختیارات حوالے کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ، موجودہ مجلس عاملہ کوتوڑ دیا گیا ۔اور کل اختیارات حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہندکے سپرد کردیے گئے۔ چنانچہ حضرت مفتی صاحب نے اپنی سیاست بصیرت اور فراست ایمانی سے، پہلے سے قائم مجلس حربی، یا دائرۂ حربیہ کے نظام کو دوبارہ جاری کرتے ہوئے ڈکٹیٹری کا سلسلہ قائم فرمایا اور خود کو پہلا ڈکٹیٹر مقرر کیا۔ بعد ازاں علی الترتیب مولانا بشیر احمد، مولانا حفظ الرحمان ، مولانا نور الدین، مولانا عبدالحلیم صدیقی،مولانا حسین احمد مدنی، مفتی محمد نعیم ، مولانا محمد اسماعیل، مولانا سید محمد میاں اور دسویں ڈکٹیٹر مولانا محمد عبداللہ بنائے گئے اور گرفتار ہوتے رہے۔ اسی طرح مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد، ہلال احمد زبیری اور عثمان فارقلیط وغیرہ درجنوں ذمہ داران جمعیت کو نوٹس اور گھر و آفس پر چھاپے پڑتے رہے۔ 

11؍مارچ 1932ء کو ڈکٹیٹر اول صدر محترم حضرت العلامہ مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کوگرفتار کرلیا گیا۔ 

25؍مارچ1932ء کو مجلس احرار دہلی نے خود کو جمعیت علمائے ہند میں مدغم کرلیا ۔

2؍اپریل1932ء کو درجنوں رضاکاران جمعیت کو فرنگیوں نے جیل بھیجا۔ 

5؍اپریل 1932ء کو کارکنان جمعیت نے ایک جلسہ کیا ، جس کی وجہ سے گرفتار کیے گئے۔

5؍اپریل1932ء کو معاون مدیر الجمعیۃ کے سامان کی تلاشی لی گئی۔ 

7؍اپریل1932ء کو ڈکٹیٹر دوم مولانا بشیر احمد صاحب گرفتار کرلیے گئے۔ 

13؍اپریل1932ء کو مہاجرین میر پور کے متعلق جمعیت نے اپنی رپورٹ شائع کی۔

24؍اپریل1932ء کو ڈکٹیٹر سوم حضرت مولانا حفظ الرحمان صاحب گرفتار کرلیے گئے۔

11؍مئی1932ء کو ڈکٹیٹر چہارم مولانا نور الدین صاحب بہاری کو گرفتار کرلیا گیا۔

26-27؍مئی 1932ء کو مرادآباد میں مجلس مشاورت کے اجلاس میںتینوں مسودات حج کو مداخلت فی الدین قرار دیتے ہوئے احتجاج کیا اور ممبئی میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کی شدید مذمت کی۔ 

27؍مئی1932ء کو مرادآباد میں اکابرین جمعیت کا عظیم الشان اجتماع ہوا۔ 

29؍مئی1932ء کو الور کے مسلمانوں پر ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیاگیا۔

9؍جون1932ء کو مولانا عبدالحلیم صاحب نے دشمنان آزادی کے شرم ناک کرتوت کے خلاف ایک بیان دیا۔

10؍جون1932ء کو مسودات حج کے خلاف زبردست مظاہرہ کیا گیا۔ 

11؍جون1932ء کو ڈکٹیٹر پنجم کو دہلی چھوڑنے کا حکم دیا گیا۔ 

یکم جولائی1932ء کو کچھ تنظیموں کی طرف سے پھیلائی جارہی گمراہی کے خلاف جنگ آزادی کے متعلق مسلمانوں کے کامل آزادی کے نصب العین کے متعلق سرکردہ رہنماوں کی طرف سے ایک اپیل جاری کی گئی۔ 

4؍جولائی1932ء کو جمعیت کے دفتر پر چھاپہ مارا گیا۔ 

9؍جولائی1932ء کو ڈکٹیٹر پنجم مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی گرفتار کرلیے گئے ۔ 

16؍جولائی1932ء کو مولانا حسین احمدمدنی صاحب نے ایک بیان میں بھارت میں ری پبلک کے قیام کا مشورہ دیا۔ 

16؍جولائی1932ء کو جمعیت کے ایک جلسہ پر لاٹھی چارج کی گئی۔ 

24؍جولائی1932ء کو مولانا حسین احمدمدنی صاحب نے مسلمانوں سے سستی و غفلت چھوڑ کرجنگ آزادی میں شرکت کی تلقین کی۔ 

 28؍جولائی1932ء کو مولانا مجیب الرحمان صاحب کارکن جمعیت رہا کردیے گئے۔ 

30؍جولائی1932ء کو جناب ہلال احمد زبیری صاحب ایڈیٹر الجمعیۃ کو نوٹس دیا گیا۔

5؍اگست1932ء کو ڈکٹیٹر ششم حضرت مولانا حسین احمد مدنی گرفتار کرلیے گئے۔ 

7؍اگست1932ء کو ڈکٹیٹر ششم کو رہا کردیا گیا۔ 

16؍اگست1932ء کو وزیر اعظم برطانیہ نے کمیونل ایوارڈ پیش کیا اور ساتھ ہی ایک تشریحی بیان بھی دیا۔ 

20؍اگست1932ء کو ڈکٹیٹر ہفتم مولانا مفتی محمد نعیم لدھیانوی نے برطانوی وزیر اعظم کے کمیونل ایوارڈ (فرقہ وارانہ تصفیہ ) پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ فرقہ وارانہ مسئلہ کا فیصلہ اپنی قوت سے ہوگا۔ 

28؍اگست1932ء کو ڈکٹیٹر ہفتم نے کمیونل ایوارڈ کو محض بے سود قرار دیا ۔ 

یکم ستمبر1932ء کو دفتر جمعیت پر چھاپہ مارکر طلبۂ دارالعلوم دیوبند کو گرفتار کرلیا گیا۔ 

2؍ستمبر1932ء کو کارکن جمعیت مولانا صغیر احمد صاحب کو گرفتار کرلیا گیا۔

5؍ستمبر1932ء کو ضبط شدہ جائدادو اوقاف کو واگذار کرانے سے متعلق مولانا ابوالمحاسن مولانا محمد سجاد صاحب نے ایک بیان جاری کیا۔ 

9؍ستمبر1932ء کو ڈکٹیٹر ہفتم مفتی محمد نعیم صاحب لدھیانوی گرفتار کرلیے گئے۔ 

9؍ستمبر1932ء کو ایک اعلان کے ذریعہ احترام مساجد کا دن منانے کی اپیل کی گئی۔ 

16؍ستمبر1932ء کو مسودات حج کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ابوالمحاسن مولانا محمد سجاد صاحب نے ایک بیان جاری کیا ۔ 

17؍ستمبر1932ء کو ڈکٹیٹر دوم مولانا بشیر احمد رہا کیے گئے۔ 

27؍ستمبر1932ء کو جمعیت دفتر کی تلاشی لی گئی۔ 

27؍ستمبر1932ء کو ایک بیان کے ذریعہ طلبائے دارالعلوم دیوبند کو سیاست میں حصہ لینے سے منع کرنے پر انتظامیہ دارالعلوم دیوبند کے اس فیصلہ پر تعجب کا اظہار کیا گیا۔ 

برطانوی حکومت ہند نے جامع مسجد دہلی میں سیاسی جلسے جلوس پر پابندی لگانے کے لیے ایک نوٹس جاری کیا، جس کو جمعیت نے مساجد کی آزادی پر حملہ تصور کرتے ہوئے اس کے خلاف 30؍ستمبر1932ء کواور اس کے علاوہ کئی تاریخوں میں ملک گیر یوم احترام مساجد مناتے ہوئے گرفتاریاں پیش کیں۔ 

  یکم اکتوبر1932ء کو جناب ہلال احمد زبیر ی صاحب کے کی گھر کی تلاشی لی گئی۔ 

یکم اکتوبر1932ء کو فرقہ وارانہ مسائل کے تصفیہ کے لیے مولانا ابوالکلام آزاد اور ڈاکٹر سید محمود کی طرف سے بلائی جارہی آل پارٹیز کانفرنس لکھنو کی تائید کی گئی۔

یکم اکتوبر1932ء کو مولانا حفظ الرحمان صاحب نے آل پارٹیز کانفرنس کی تائید کی۔ 

8؍اکتوبر1932ء کو ڈکٹیٹر ہشتم مولانا محمد اسماعیل صاحب کو گرفتار کرلیا گیا۔ 

13؍اکتوبر1932ء کو آل پارٹیز کانفرنس سے پہلے جمعیت کی مشاورتی میٹنگ بلانے کا فیصلہ کیا گیا۔ 

15؍اکتوبر1932ء کو منعقد جمعیت کی مجلس شوریٰ کا اجلاس ہوا، جس میں فرقہ وارانہ مسائل کے تصفیہ کے لیے جمعیت کا منظور کردہ فارمولہ کو پیش نظر رکھ کر فیصلہ کرنے کا مطالبہ کیا گیا، جسے مجلس عاملہ منعقدہ 3؍اگست 1931ء نے منظور کیا تھا۔ 

15-16؍اکتوبر1932ء کو لکھنو میں مختلف الخیال لیڈروں پر مشتمل آل پارٹیز مسلم  کانفرنس ہوئی،جس میں وزیر اعظم کے کمیونل ایوارڈ کے تناظر میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ3؍ اگست 1931ء کو منعقد جمعیت علمائے ہند کے اجلاس عاملہ میں پاس کردہ ’’جمعیت علما کا فارمولہ‘‘  فرقہ وارانہ مسائل کے تصفیہ کے لیے بہترین فارمولہ ہے ۔ ساتھ ہی مسلمانوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے ساتھ فرقہ وارانہ حقوق طے کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی۔ 

22؍اکتوبر 1932ء کو لاہور کے ایک اخبار نے حکومت ہند کاایک خفیہ مراسلہ شائع کیا، جس میں جمعیت علمائے ہند کو قابو میں لانے کی بات کہی گئی تھی۔ 

23؍اکتوبر 1932ء کو لکھنو کانفرنس کے فیصلے کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈوں سے ہوشیار رہنے کی اپیل کی گئی۔

23؍اکتوبر1932ء کو مولانا منت اللہ رحمانی اور دیگر کارکنان جمعیت کو گرفتار کرلیا گیا۔  

31؍اکتوبر 1932ء کو مختلف مذاہب کے درمیان فرقہ وارانہ حقوق طے کرنے کے مقصد سے منعقد کی جانے والی الٰہ آباد کانفرنس میں شرکت کے لیے جمعیت علمائے ہند کو دعوت دی گئی۔ 

یکم نومبر 1932ء کو جمعیت نے اعلان کیا کہ گول میزکانفرنس پر کوئی توجہ نہ دی جائے۔ 

2؍نومبر1932یء کو الٰہ آباد میں جمعیت کی ایک مجلس مشاورت کی گئی، جس میں مسودات حج کو مداخلت فی الدین قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف جگہ جگہ مظاہرے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ 

3؍نومبر 1932ء سے لے کر مسلسل سترہ دن تک الٰہ آباد میں ہندوؤں ،مسلمانوں اور سکھوں کے درمیان فرقہ وارانہ حقوق پر مشتمل متحدہ مطالبہ کا مسودہ تیار کیا گیا۔ 

4؍نومبر 1932ء کو کارکنان جمعیت پر لاٹھی چارج کیا گیا۔ 

7؍نومبر 1932ء کو ڈکٹیٹرنہم مولانا سید محمدمیاں صاحب گرفتار کرلیے گئے۔ 

12؍نومبر  1932ء کو ڈکٹیٹر ہشتم مولانا اسماعیل صاحب کے گھر کی قرقی کرلی گئی۔ 

25؍نومبر 1932ء کو جمعیت دفتر پر چھاپے ماری کی گئی۔ 

5؍دسمبر 1932ء کو دسویں ڈکٹیٹر جمعیت علمائے ہند مولانا محمد عبداللہ صاحب نے مجلس عاملہ کے اراکین کی نام زدگی کرتے ہوئے سابقہ نظام بحال کردیا۔ 

6؍دسمبر 1932ء کو چند رضاکاران جمعیت رہا کردیے گئے۔ 

10تا12؍دسمبر 1932ء کو لکھنو میں آل پارٹیز مسلم کانفرنس ہوئی، جس میں 17؍ نومبر 1932ء تک ہونے والی آل پارٹیز مسلم کانفرنس الٰہ آبادکے فیصلوں کو منظوری دی گئی ؛ لیکن اس میں مسلم لیگ نے شرکت نہیں کی۔

13؍ دسمبر سے لے کر 24؍دسمبر تک الٰہ آباد میں، آل پارٹیز  لکھنو کانفرنس (منعقدہ: 10تا12؍ دسمبر 1932ء) کے فیصلوں کی تائید کے لیے الٰہ آباد اتحاد(یونٹی) کانفرنس ہوئی ۔ بعد ازاں یہی یونٹی کانفرنس 2؍جنوری 1933ء تک کلکتہ میں منعقد ہوئی، جس میں 17؍نومبر 1932ء تک چلنے والی الٰہ آباد کانفرنس اور  10تا12؍ دسمبر 1932ء کی آل پارٹیز مسلم کانفرنس لکھنو کے فیصلوں کی جزوی ترمیم کے بعد منظوری دی گئی۔

11؍دسمبر1932ء کو منعقد جمعیت علمائے ہند کانپور کی مجلس عاملہ کی میٹنگ میں فرضی جمعیت علمائے کانپور کو مفاہمت کی دعوت دی گئی۔

14؍دسمبر 1932ء کو سردفتر جمعیت کی تلاشی لی گئی اور دہلی بدری کا نوٹس دیا گیا۔ 

28؍دسمبر1932ء کو مولانا مظہر الدین صاحب ایڈیٹر الامان کی طرف سے بنائی گئی فرضی جمعیت علمائے کانپور کے خلاف اعلان جاری کرتے ہوئے اس سے برات کا اعلان کیا گیا۔  

30؍دسمبر 1932ء کو مولانا محمد عبد اللہ صاحب دسویں ڈکٹیٹر جمعیت علمائے ہند کو گرفتار کیا گیا۔


جمعیت علمائے ہند:قدم بہ قدم : تیرھواں سال: 1931ء

 تیرھواں سال: 1931ء

محمد یاسین جہازی

7؍جنوری 1931ء کو مولانا مفتی محمد نعیم صاحب کو سزائے قید سنائی گئی۔  

8؍جنوری1931ء کو جمعیت علمائے آسام کے دفترپر چھاپہ مارا گیا ۔

8؍جنوری1931ء کو مولانا عبدالحلیم صاحب صدیقی کو رہا کیا گیا۔ 

8؍جنوری1931ء کو ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا احمدسعید صاحب کی رہائی عمل میں آئی۔ 

10؍جنوری1931ء کو قید فرنگ سے واپس آنے پر ریلوے اسٹیشن پر حضرت ناظم عمومی صاحب زبردست استقبال کیا گیا۔ 

12؍جنوری1931ء کو مفتی اعظم اور مولانا ابوالمحاسن وغیرہ پر حساب فہمی کے نام پرمقدمہ کیا گیا۔ 

دہلی میں منعقد 15و 16؍جنوری 1931ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں جہاں صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب کو اسارت پر تہنیت پیش کی گئی، وہیں دوسری طرف حکومت کے ذریعہ مجاہدین آزادی کی جائدادوں کو ضبط کرکے نیلام کرنے کی سخت مذمت کرتے ہوئے برادران وطن سے انھیں نہ خریدنے کی اپیل کی۔اسی طرح جمعیت نے کانگریس کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ آزادی کی راہ میں جن لوگوں کی جائدادیں ضبط ہوں گی، آزاد ہندستان میں اس کی حکومت قائم ہونے کے بعد ان سب کی پوری تلافی کردی جائے۔ اس اجلاس میں یہ بھی فیصلہ لیا گیا کہ مسلمان بکثرت کانگریس کا باضابطہ ممبر بنیں۔

26؍جنوری1931ء کو حضرت مفتی اعظم صدرجمعیت علمائے ہند کو قید فرنگ سے رہائی ملی۔ 

 یکم فروری1931ء کو وزیر اعظم برطانیہ کے 19؍جنوری1931ء اور وائسرائے ہند ارون کے 25؍جنوری 1931ء کے بیان پر مولانا ابوالمحاسن مولانا محمد سجادصاحب نے کڑی  تنقید کرتے ہوئے کہ یہ اعلانات کامل آزادی تو دور ؛ خلاصۂ آزادی سے بھی کوسوں دور ہیں۔  

5؍فروری1931ء کو مسلمانان ہند کو دینی و تبلیغی فرض یاد دلاتے ہوئے جمعیت کے تعاون کی اپیل کی گئی۔ 

6؍فروری1931ء کو ازدواج بین الملل کے مسودۂ قانون کی منسوخی پر عظیم الشان اجلاس کیا گیا ۔ 

9؍فروری1931ء کو جمعیت کے خلاف قائم مقدمہ کو عدالت نے خارج کردیا ۔ 

25؍فروری1931ء کو بڑی تعداد میں جمعیت کے رضاکاروں کی رہائی عمل میں آئی۔ 

25؍فروری1931ء کو مولانا حفظ الرحمان صاحب کی رہائی عمل میں آئی ۔ 

9؍مارچ1931ء کو مولانا شوکت علی صاحب کی وطن واپسی اور مولانا محمد علی جوہر صاحب کے انتقال پر تعزیت پیش کرنے کے لیے تعزیتی و استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی۔ 

13؍مارچ1931ء کو حضرت ناظم عمومی صاحب نے گاندھی ارون معاہدہ پر ایک اہم بیان دیا۔ 

16؍مارچ1931ء کو مولانا نور الدین بہاری صاحب رہا کیے گئے۔ 

19؍مارچ 1931ء کو مجلس عاملہ کے اجلاس میں گاندھی ارون مفاہمت کی تائید کرتے ہوئے سردست دائرۂ حربیہ کے جارحانہ اقدام کو ملتوی کرنے کا فیصلہ لیا۔ الجزائر اور مراکش میں مسلمانوں پر ہورہے مظالم کی مذمت کی گئی اور مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے ساتھ ساتھ ان کے پرسنل لاء کے تحفظ کے لیے فارمولہ تیار کرنے کا منصوبہ بنایا گیا۔ اور 22؍مارچ کو یہ فارمولہ گاندھی جی کو دے دیا گیا ۔

28؍مارچ1931ء کو صدر جمعیت نے بھگت سنگھ اور ان کے رفقا کی سزائے موت کو منسوخ کرنے کے لیے تار بھیجا۔

31؍مارچ و یکم اپریل 1931ء کو جمعیت علمائے ہند کے دسویں اجلاس عام میں مولانا محمد علی، سید شاہ محمد زبیر مونگیری اور پنڈت لال نہرو کے انتقال پر اظہار تعزیت اور لواحقین سے اظہار ہمدردی کے علاوہ درج ذیل فیصلے لیے گئے۔(1) ہندو مسلم فسادات بنارس ، مرزا پور ، آگرہ، کانپور پر اظہار نفرت۔(2) مولانا حبیب الرحمان صاحب لدھیانوی و دیگر سیاسی قیدیوں کی رہائی کا مطالبہ۔(3)تمام فدا کا ران آزادی؛ بالخصوص باشندگان صوبہ سر حد کی جنھوں نے جنگ آزادی میں شریک ہوکر قر بانیاں پیش کیں شکریہ(4) حکومت کی طرف سے سر حدی قبائل پر جو بم باری کی گئی، اس پر غم و غصہ کا اظہار۔ (5)گاندھی ار ون مفا ہمت سے اتفاق رائے کا اظہار(6) سول نا فر مانی کا التو ا کرکے رضا کاروں کی بھرتی جاری رکھنے، مسکرات اور بد یشی کپڑوں پر پکٹنگ کرنے اور دیسی کپڑے کے استعمال کی تر غیب دینے کا مشورہ۔(7) آئندہ دستور ا ساسی میں مسلمانوں کی تہذیب و شا ئستگی اور پر سنل لاء کی حفاظت کا مطالبہ۔(8)سردار بھگت سنگھ ، راج گرو اور سکھد یو کی شجا عت کا اعتراف اور ان کے لیے سزائے موت کو قید دوام میں نہ بدلے جانے پر اظہار افسوس۔(9) حبیب نور کے اقدام قتل کے مقدمہ میں چو بیس گھنٹے کے اندر پھانسی دینے پر حکومت سر حد سے ناراضی کا اظہار۔(10) فلسطین میں برطانیہ کی یہو د نواز پا لیسی کی پرزور مذمت۔(11) ہند و مسلم مفا ہمت کا مسودہ مرتب کرنے کا فیصلہ۔(12) صوبہ سر حد کے متولیان اوقاف سے مدارس دینی قائم کرنے کا مطالبہ۔

6؍اپریل1931ء کو خان عبدالغفار خان کا دہلی میں استقبال کیا گیا۔ 

7؍اپریل1931ء کو خان عبدالغفار خاں نے دہلی دفتر جمعیت میں خطاب کیا۔ 

11؍اپریل1931ء کو ریاست قرولی میں ایک قبرستان کے مسئلے پر وہاں کے راجہ کو تار دے کر کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ 

21؍اپریل1931ء کو گول میز کانفرنس میں پیش کرنے کے لیے مسلمانوں کی طرف سے متحدہ مطالبہ تیار کرنے کے لیے مسلم نیشنلسٹ کی جانب سے مولانا ظفر علی خاں صاحب نے جمعیت کو مکتوب ارسال کیا، جس کا مفتی صاحب نے جواب دیا۔

24؍اپریل1931ء کو گول میز کانفرنس میں متحدہ مطالبہ کا فارمولہ تیار کرنے کے لیے ڈاکٹر انصاری صدر نیشنلسٹ مسلم کانفرنس کو مکتوب لکھا۔ 

7؍مئی1931ء کو نماز کے لیے کانگریس کے اجلاس کے التوا کے موضوع پر چل رہی بحث و گفتگو پر جمعیت نے وضاحتی بیان جاری کیا۔ 

8؍جون1931ء کو میسور میں گائے کی قربانی پر لگائی پابندی کے خلاف ریاست میسور کو تار بھیج کر متوجہ کیا۔ 

19؍جون1931ء کو جمعیت کی تبلیغی و اصلاحی کوششوں کی ایک رپورٹ شائع کی گئی۔ 

3؍اگست1931ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں گول میز کانفرنس لندن میں مسلمانوں کی طرف سے پیش کرنے کے لیے ایک فارمولا تیار کیا، جس کو جمعیت علمائے ہند کا فارمولا کہا جاتا ہے۔ اس میں کانگریس کی طرف سے پیش کردہ فارمولا کا تنقیدی جائزہ بھی لیا گیا۔ 

19؍ نومبر1931ء کو احرار قیدیوں کے ساتھ غیر انسانی برتاؤ کرنے کی وجہ سے ایک پریس بیان دیا گیا۔ 

نوٹ: امسال کے بقیہ ایام کے الجمعیۃ کی فائلیں نہ ملنے کی وجہ سے مزید کارروائیاں دستیاب نہیں ہوسکیں۔ 


22 Jan 2026

ہندستان اس طرح آزاد ہوا

 ہندستان اس طرح آزاد ہوا

محمد یاسین جہازی

تاریخ شاہد ہے کہ ہندستان کو آزاد کرانے کے لیے دو طرح کی تحریکیں چلیں:ایک تشدد و مقابلہ آرائی کی؛23؍ جون 1757ء میں سراج الدولہ کی جنگ پلاسی،1783ء میں ٹیپو سلطان کی جنگ میسور،1808ء میں حضرت شاہ عبدالعزیز نور اللہ مرقدہ کاجہاد کا فتوی،14؍ستمبر 1857ء کی جنگ شاملی، 1914-16ء میں ریشمی رومال تحریک اور اگست 1942ء میں آزادیِ ہند فوج اس کے عملی مظاہر ہیں۔گرچہ ان تحریکوںنے اپنے اپنے اثرات مرتب کیے؛ لیکن کامل آزادی پرمنتج نہ ہوسکیں۔

اس کے بعد آزادی ہند کی تاریخ1808ء میں جہاد آزادی کے پہلے فتویٰ سے لے کر 14؍ستمبر1857ء کے دوسرے فتویٰ تک، بعد ازاں 1857ء کی جنگ کے بعد یکم نومبر 1858ء کوملکہ وکٹوریہ کا نونکاتی معافی نامہ،30؍مئی 1866ء میںدارالعلوم دیوبند کا قیام،28؍دسمبر1885ء کوکانگریس کی تشکیل، اس کی مخالفت کے لیے 8؍اگست 1888ء کو انجمن محبان وطن کا قیام،پھر دسمبر1893ء میں محمڈن اینگلو اورینٹیل ایسوسی ایشن، اور پھر 1901ء میںمحمڈن پولیٹیکل آرگنائزیشن کی تشکیل تک پہنچی، جس نے تقسیم بنگالہ کا حادثہ پیدا کیا۔  اس کے بعد 30؍دسمبر 1906ء کو مسلم لیگ اور ہندوؤں میں ہندو مہاسبھا کی تشکیل عمل میں آئی اور فرقہ وارانہ خطوط پر فیصلہ ہونے لگے، جو انگریزکی پالیسی: ’’لڑاؤ اور حکومت کرو‘‘ پر مبنی تھی۔ 26؍ سے 30؍دسمبر 1916ء کو کانگریس اور مسلم لیگ کے درمیان ہوا میثاق لکھنواس کی واضح مثال ہے۔  

اس کے بعد عدم تشدد اور آئینی لڑائی کا سلسلہ شروع ہوا، جس کا باقاعدہ آغاز، تحریک ترک موالات کے ذریعہ جبری غلامی کا وحشیانہ قانون رولٹ ایکٹ کی مخالفت کرتے ہوئے سوراج کے مطالبہ سے ہوا۔ اس (1)تحریک ترک موالات سے لے کر(2)نفرت و شدی کی رکاوٹ، (3)ہندو مسلم اتحاد،(4)جداگانہ انتخابات،(5)سائمن کمیشن،(6)نہرو رپورٹ، (7) نمک تحریک،(8) وطن کی شرعی حیثیت،(9) دائرۂ حربیہ، (10) پہلی گول میز کانفرنس، (11) گاندھی ارون معاہدہ، (12) فرقہ وارانہ حقوق اور مطالبات کی فہرست، (13) دوسری گول میز کانفرنس، (14) ڈکٹیٹر شپ کا دور، (15) کمیونل ایوارڈ، (16) تیسری گول میز کانفرنس، (17) قرطاسِ ابیض، (18) مشترکہ پارلیمنٹری کمیٹی کی رپورٹ، (19) مرکزی قانون ساز اسمبلی کا الیکشن، (20) انڈیا ایکٹ 1935ء، (21) صوبائی انتخابات، (22) مسلم لیگ، کانگریس اور مسلمان؛ شرکت اور عدم شرکت کا مسئلہ، (23) مولانا مدنی اور متحدہ قومیت، (24) مسلم لیگ اور کانگریس کے درمیان اتحادکی کوشش، (25) فوجی بھرتی بل، (26) فیڈریشن قبول نہ کرنے کا مشورہ، (27) جنگِ عظیم دوم، (28) قراردادِ پاکستان اور مسلم قوم پرور جماعتوں کا متفقہ فیصلہ، (29) تحریکِ پاکستان کا سیاسی و اقتصادی جائزہ، (30) انفرادی ستیہ گرہ، (31) کرپس اسکیم ، (32) ہندستان چھوڑدو تحریک، (33) راجہ فارمولا، (34) سپرو کمیٹی کی سفارشات، (35) واویل پلان، (36) الیکشن اور مسلم پارلیمنٹری بورڈ کا قیام، (37) الیکشن اور شرعی فتاویٰ، (38) انڈین نیشنل آرمی کے سپاہیوں کی رہائی کا مطالبہ، (39) کیبنٹ مشن یا وزارتی مشن کا پلان، (40) ماؤنٹ بیٹن پلان (تقسیمِ ہند)جیسی تحریکیں چلیں، جن کے نتیجے میں ہندستان میں آزادی کا سورج طلوع ہوا۔ 

آزادی ہند کی  ان تمام تحریکات کےخلاصہ کامطالعہ کرنے کے لیے جہازی میڈیا۔کام کا وزٹ کریں۔ 

جہازی میڈیا کے مضمون کے لیے یہاں کلک کریں