ا کیسواں سال: 1939ء
محمد یاسین جہازی
13 ؍جنوری 1939ء کو سندھ میں مصنوعی حج پر پابندی لگوانے میں کامیابی پر وزیر اعظم سندھ کو مبارک باد پیش کی گئی۔
15؍جنوری1939ء کو دیوبند میں جمعیت کے رہنماؤں کی خفیہ میٹنگ ہوئی۔
16؍جنوری1939ء کو فلسطین کے تئیں برطانیہ کی دورخی پالیسی کی مذمت کی گئی۔
28؍ جنوری1939ء کو نماز ادا کرنے والے چبوترے کو منہدم کرنے کے خلاف مہاراجہ پٹیالہ کو تار بھیجا گیا۔
28؍جنوری1939ء کو فسخ نکاح بل کے متعلق مرکزی اسمبلی کے ممبران کے نام مکتوب ارسال کیا گیا۔
یکم فروری 1939ء کو صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب نے ایک بیان جاری کرکے کہا کہ ایک آزاد عالمی مؤتمر کی مجلس شوریٰ کے بغیر والی مصر شاہ فاروق کو خلیفہ تسلیم نہیں کیا جاسکتا، کیوں کہ یہ عالم اسلام کو فتنہ وفساد میں مبتلا کرنے کی انگریزوں کی گہری سازش ہے۔
یکم فروری1939ء کو مسٹر جناح کے بعد سر آغا خاں صاحب کی طرف سے مسلم حقوق کے تصفیہ کو مشکوک نظروں سے دیکھتے ہوئے گاندھی جی کو دوسری غلطی پر متنبہ کیا گیا۔
7؍فروری1939ء کو فسخ نکاح بل پر مسلم ممبران کا اجتماع منعقد کیا گیا۔
9؍فروری1939ء کو جے پور حادثہ میں مسجدتوڑنے کے بعد پیدا شدہ فرقہ وارانہ صورت حال پر قابو پانے کے لیے وائسرائے کو تار بھیجا گیا۔
9؍فروری1939ء کو اپیل کی گئی کہ وہ گیارہ فروری کو یوم فلسطین منایا جائے۔
13؍فروری1939ء کو حج فلم کی نمائش کی ممانعت کا فتویٰ جاری کیا گیا۔
13؍فروری1939ء کو ناظم عمومی حضرت مولانا احمد سعید صاحب نے ایک بیان دیتے ہوئے کہاکہ 22؍جنوری1939ء کو آریوں کی جانب سے یوم حیدرآباد کے موقع پر جلوس اور اس میں منافرتی نعرہ سے صاف پتہ چل رہا ہے کہ یہ فرقہ وارانہ تحریک ہے۔
15؍فروری1939ء کوفلسطین کے متعلق چیمبر لین وزیر اعظم برطانیہ کی دو رخی پالیسی پر احتجاج کیا گیا، جو اس نے 7؍فروری1939ء کومنعقدلند ن فلسطین کانفرنس میں اختیار کی تھی۔
20؍فروری1939ء کوفسخ نکاح بل غیر اسلامی طریقے پر منظور کیے جانے پر وائسرائے ہند کو تار بھیج کر عدم نفاذ کی درخواست کی گئی۔
24؍فروری1939ء کو فلسطین کے متعلق ووڈہیڈ کمیشن کی اسکیم کے خلاف آل انڈیا صوبائی مجلس تحفظ فلسطین نے جگہ جگہ پروگرام منعقد کیے۔
24؍فروری1939ء کو مسلمانوں کی سیاسی تربیت کی ضرورت محسوس کرتے ہوئے شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنی ؒ نے اس کا فارمولا پیش کیا۔
24؍فروری1939ء کو گیارھویں اجلاس عام کے ایجنڈے جاری کیے گئے۔
27؍فروری تا 4؍مارچ1939ء مجلس عاملہ کی میٹنگیں ہوئیں، جس میں ایجنڈوںپر غوروخوض کرتے ہوئے اجلاس عام کے لیے تجاویز منظور کی گئیں۔
3تا6؍مارچ1939ء کوگیارھواں اجلاس عام منعقد ہوا،جس میں، غازی مصطفیٰ کمال پاشا، ڈاکٹری مختار احمد انصاری، ان کی اہلیہ، مولانا شوکت علی جوہر اور علامہ اقبال کی وفات پر تعزیت مسنونہ پیش کرنے کے علاوہ تہذیبی خود مختاری، جمعیت علمائے ہند کی پالیسی کا اعلان، واردھا تعلیمی اسکیم کی رپورٹ، ودیا مندر اسکیم ، صنعت و حرفت میں مسلمانوں کی حق تلفی، کانگریس کے جلسوں میں فرقہ وارانہ نشان کے استعمال کے خلاف احتجاج، صوبہ جاتی حکومتوں میں مسلمانوں کی شکایات، صوبہ سی پی اور اڑیسہ میں مسلم وزارت، ہندستانی زبان کے مفہوم کو بدلنے کی کوشش کی مذمت، جے پور کے خونی حادثہ پر کارروائی کامطالبہ، فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے کی کوشش، سندھیا اور مغل لائن کمپنی میں کرایہ کا مقابلہ ختم کرانے کی اپیل، فیڈریشن کو قبول نہ کرنے کا مشورہ، وزیرستان میں جنگی مہم بند کرنے اور بلوچستان کو تقسیم نہ کرنے کا مطالبہ، تحریک خاکساران کے فتنہ سے بچنے کی اپیل، پروگرام کے دوران اوقات نماز کا خیال رکھنے کی تاکید، قانون فسخ نکاح میں مسلم حاکم کی شرط بڑھانے کا اصرار، جمعیت علمائے ہند اور مجلس احرار کی سرگرمیوں میں اشتراک عمل کی دعوت، قضیۂ مدح صحابہ (رضی اللہ عنہم) کا حل، سعودی حکومت کی طرف سے مہاجر پر ٹیکس ہٹانے کا مطالبہ، سیاسی شاہی اسیروں کی رہائی کی تجویز، مسئلۂ فلسطین کو حل کرنے کی گذارش، غیر کانگریسی صوبجاتی حکومتوں کی شکایات، والیان ریاست کے حقوق کی آزادی کے مطالبہ کی تائید، ریاست حیدرآباد ایجی ٹیشن کی مخالفت، انڈیا ایکٹ کی تنسیخ، مشرقی علوم کی درس گاہوں کی سندوں کو منظوری دینے کا مطالبہ، آسام لائن سسٹم کو منسوخ کرنے کی اپیل، فیض آباد کی ٹیڑھی مسجد کا معاملہ، مجلس استقبالیہ کا شکریہ اور صدر کا شکریہ پر مشتمل 37؍تجاویز منظور کی گئیں۔ اس اجلاس میں خطبۂ استقبالیہ جناب شوکت اللہ شاہ صاحب اور خطبۂ صدارت حضرت مولانا عبد الحق مدنی صاحبؒ نے پیش کیا۔
5؍ مارچ1939ء کو اساتذہ اور طلبائے دارالعلوم نے مکمل جوش و خروش کے ساتھ جمعیت علمائے ہند کے گیارھویں اجلاس عام میں شرکت کی۔
6؍مارچ 1939ء کو ایک رپورٹ میںاجلاس کو زبردست کامیاب قراردیا گیا۔
6؍مارچ1939ء کو گیارھویں اجلاس عام کے پنڈال میں ابنائے قدیم دارالعلوم دیوبند کا ایک عظیم الشان اجلاس منعقد کیا گیا۔
6؍مارچ1939ء کو حضرت شیخ الاسلام نے قضیہ ٔ مدح صحابہ کے تصفیہ کے لیے سول نافرمانی میں حصہ لینے کی اپیل کی۔
9؍مارچ1939ء کو بیاور کے علاقے میں مسلمانوں پر مظالم کے خلاف ریاست بھوپال کو تار بھیج کر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
12؍مارچ1939ء کو تری پوری میں منعقد کانگریس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت شیخ الاسلام نے صدارت کانگریس سے متعلق پیدا شدہ انتشار کوختم کرنے کی اپیل کی ۔ اجلاس میں مولانا نورالدین صاحب بہاری نے بھی خطاب کیا۔
14؍مارچ1939ء کو مولانا مظہر الدین صاحب ایڈیٹر الامان کے لرزہ خیز قتل پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔
17؍مارچ1939ء کو تبریٰ ایجی ٹیشن کے خلاف زبردست تحریک سول نافرمانی کا آغاز کرتے ہوئے عظیم الشان اجلاس کیا گیا۔
19؍مارچ 1939ء کو نیا گاؤںمظفر پور کے فسادات پر وزیر اعظم بہار کو تار بھیج کر کارروائی کرنے کا مطالبہ کیاگیا۔
23؍مارچ1939ء کو مظلومین فلسطین کے لیے امداد طلب کیے جانے پر 11؍مئی 1939ء کو امدادی رقوم بھیجی گئیں۔
24؍مارچ 1939ء کو ہندستان کے مختلف کونوں سے مدح صحابہ کے حقوق کو حاصل کرنے سے سول نافرمانوں کے جتھے لکھنو پہنچ گئے۔ا ور اس کا سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا۔
27؍مارچ1939ء کومفتی اعظم ، شیخ الاسلام، سحبان الہند، مجاہد ملت اور مولانا عطاء اللہ صاحبان کو قتل کی دھمکی کے خطوط موصول ہوئے؛ لیکن اکابر کے استقلال اور جہد مسلسل میں کوئی کمی نہیں آئی۔ وہ انجام سے بے پرواہ ہوکر میدان عمل میں سرگرم عمل رہے۔
31؍مارچ 1939ء کو ملک گیر سطح پر یوم مدح صحابہ منانے کی اپیل کی گئی۔
31؍مارچ1939ء کو حکومت یوپی نے تحریک مدح صحابہ کے مطالبات کو منظور کرلینے کی وجہ سے تحریک سول نافرمانی کے ملتوی کردینے کا اعلان کردیا گیا۔
5؍اپریل1939ء کو قلات ایجی ٹیشن کے متعلق رہنمائی کی گئی۔
5؍اپریل1939ء کو مسلمانوںپر ہوئے مظالم کے خلاف قانونی کارروائی کے لیے وزیر اعظم ریاست جے پور کو تار بھیجا گیا۔
5؍اپریل1939ء کو رہبران جمعیت کومل رہی قتل کی دھمکیوں پر مجاہد ملت نے دنداں شکن جواب دیا۔
چوبیس برس کی جلاوطنی کے بعد 7؍ مارچ 1939ء کو مولانا عبید اللہ صاحب سندھیؒ کراچی پہنچنے، بعد ازاں 5؍اپریل1939ء کو دہلی پہنچنے پر جمعیت علمانے ان کاشان دار استقبال کیا۔
13؍اپریل1939ء کو سیاسیات حاضرہ سے متعلق جمعیت علمائے ہند سے گیارہ سوالات کیے گئے، جن کے تسلی بخش جوابات دیے گئے ۔
17؍اپریل1939ء کو مولانا عبیداللہ سندھی ؒ کی جمعیت کی رہنماؤں سے خصوصی ملاقات ہوئی۔
27-28-29؍مئی 1939ء کو مرادآباد میں مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس ہوا، جس میں دستور اساسی میں ترمیم، مسئلۂ فلسطین، تبرا ایجی ٹیشن، سنیوں سے امن برقرار رکھنے کی اپیل اور مدح صحابہ پر حکومت کے فیصلے پر رضامندی کے اظہارپر مشتمل تجاویز پاس کی گئیں۔صدر جمعیت حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب اور ناظم عمومی حضرت مولانا احمد سعید صاحب دونوں نے استعفے پیش کیے؛ مگر نامنظور کیے گئے۔ اسی طرح مالی دشواریوں کی وجہ سے الجمعیۃ کی اشاعت پر غور کرنے کے لیے ایک سب کمیٹی تشکیل دی گئی۔
اسی اجلاس میں جمعیت نے اپنا جھنڈا متعین کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس کے بعد 14؍جولائی 1940ء کو درمیان میں پانچ سفید اور چھ کالی دھاری پٹی والا اپنا جھنڈا متعین کیا ۔
30؍مئی 1939ء کو منعقدمیٹنگ میں سب کمیٹی الجمعیۃ اخبار نے فیصلہ کیا کہ9؍ جون 1939ء کے بعداخبار کی اشاعت بند کردی جائے۔
24؍اگست1939ء کو ایک مکتوب لکھ کرامرتسر کے ضمنی الیکشن میں کانگریس اور مجلس احرار کے امیدواروں سے اپنی دست برداری کی گذارش کی گئی۔
3؍ ستمبر 1939ء سے دوسری عالمی جنگ کا آغاز ہوا، جس میں برطانوی ہند نے ہندستانیوں سے مشورہ کیے بغیر جنگ میںبھارت کی شمولیت اعلان کردیا۔ اس کے خلاف 14؍ ستمبر کو کانگریس نے اور 16تا 18؍ ستمبر کو جمعیت علمائے ہند نے طویل غورو فکر کے بعد یہ فیصلہ کیا کہ اپنی محکومیت کی عمر بڑھانے کے لیے ہم ہرگز جنگ میں شرکت نہیں کریں گے۔ اور برطانی ہند کے خلاف عملی طور پر مظاہرہ کرتے ہوئے 31؍ اکتوبر تک کانگریسیوں نے وزارت سے استعفے دے دیے۔ جب کہ قادیانیوں اور مسلم لیگ نے جنگ میں برطانوی ہند کی حمایت کی اور وزارت کے استعفیٰ کو اپنے لیے ایک موقع سمجھتے ہوئے 22؍ دسمبر کو ’’یوم نجات ‘‘ منانے کا اعلان کیا۔ چوں کہ اس سے فرقہ وارانہ فسادات بھڑک اٹھنے اور ہندستان کی آزادی سے مسلمانوں کی بیزاری کا اظہار ہوتا تھا، اس لیے مولانا ابوالکلام آزادؒ اور دیگر مسلم لیڈروں نے مسلم لیگ کے اس رویہ کو تباہ کن قرار دیا۔