سولھواں سال: 1934ء
محمد یاسین جہازی
12؍جنوری1934ء کو برطانیہ کے وزیر اعظم کے کمیونل ایوارڈ میں ترمیم پیش کرنے کے لیے تمام مذاہب کی طرف سے متفقہ مطالبہ پیش کرنے کے لیے آل پارٹیز کانفرنس منعقد کرنے کی اپیل کی گئی۔
16؍جنوری1934ء کو اس متحدہ مطالبہ کو پنڈت جواہر لال نہرو کی طرف سے غیر ضروری قرار دینے کے خلاف جمعیت نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے آزادی ہند کے لیے اسے ضروری قرار دیا۔
بتاریخ 14؍15؍16 ؍مارچ1934ء، مرادآباد میں مجلس عاملہ کا اجلاس منعقد ہوا، جس میں خان بہادر حافظ ہدایت حسین صاحب کے وقف بل کو شرعی احکام وقف کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناقابل قبول قرار دیا گیا۔ اور اس میں ترمیمات پیش کرنے کے لیے ایک سب کمیٹی قائم کی گئی۔ علاوہ ازیں خان عبید اللہ خاں کی رہائی ، حکومت کشمیر کے مظالم کی مذمت اوربہار مصیبت زدگان کے تعاون کی اپیل کی تجاویز منظور کی گئیں۔
مرادآباد مجلس عاملہ میں تشکیل کردہ سب کمیٹی نے 18؍اپریل 1934ء کو منعقد مجلس مشاورت میں رپورٹ پیش کی، جسے مجلس عاملہ منعقدہ 19؍اپریل 1934ء نے منظوری دی۔ اس کے علاوہ حصول آزادی کے لیے بین مذاہب باہمی تصفیہ کی ضرورت، سب کمیٹی کے ارکان میں اضافہ اور اجودھیا میں ہندوؤںکے مظالم کی مذمت کی گئی۔
21؍اپریل1934ء کو حکومت نے اجودھیا میں ہندو مسلم سمجھوتے کا اعلان کیا۔
16؍جولائی1934ء کو جمعیت کے اراکین پر پابندی کو زیادتی حکومت کی زیادتی قرار دی گئی۔
یکم اگست 1934ء کو پلول میں ایک گدھے کا نام احمد رکھ کر مسلمانوں کی گئی دل آزاری کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔
5؍اگست1934ء کومولانا آزاد سبحانی (بانی رکن جمعیت علمائے ہند) کو ایک تقریر کے جرم میں گرفتار کرلیا گیا، جنھیں پہلے دو سال،بعد میں چھ ماہ کی قید بامشقت کی سزا سنائی گئی۔
10؍تا 12؍اگست 1934ء میں منعقد مجلس عاملہ کی میٹنگ میں یہ فیصلہ لیا کہ آئندہ ہونے والے انتخابات میں حصہ لیتے ہوئے مسلمانوں کامشترکہ بورڈ مسلم یونٹی بورڈ کے امیدواروں کی اس شرط پر حمایت و تائید کی جائے کہ وہ مذہبی معاملات میں جمعیت علمائے ہند کی رہ نمائی میں کام کریں گے۔
اس اجلاس کی ایک دوسری تجویز میں ممبئی کے فساد کے متعلق کانگریس ورکنگ کمیٹی کی تجویز کی ستائش کی گئی اور ساتھ ہی مسلمانوں سے کانگریس میں شرکت کی اپیل کی گئی۔ ساتھ ہی یونٹی بورڈ کے اجلاس میں شرکت کی تجویز منظور کرتے ہوئے شرکت کنندگان پر مشتمل سب کمیٹی تشکیل دی گئی۔ علاوہ ازیں جمعیت علما کی مالی حالت اور سہ روزہ الجمعیۃ کی ترقی کے لیے ایک سب کمیٹی تشکیل دی گئی ۔
چوں کہ19؍اگست1934ء کو منعقد مسلم یونٹی بورڈ میں جمعیت کی شرط کو پہلے نامنظور کردیا تھا، پھر بعد میں 23؍اگست1934ء کو تمام شرائط کی منظوری کا اعلان کیاگیا ،تو جمعیت علما نے مسلم یونٹی بورڈ کے امیدواروں کی حمایت و تائید کا اعلان کیا۔
چوں کہ امارت شرعیہ بہار و اڑیسہ بھی مسلم یونٹی بورڈ میں شامل ہوکرانتخابی میدان تھی، اس لیے 17؍اگست1934ء کو جمعیت علما کی شرائط کو قبول کرنے کا اعلان کیا۔
24؍اگست1934ء کو ریاست جیند میں ہورہے مسلمانوں پر مظالم کے خلاف جیند کے مہاراجہ کو تار بھیج کر کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔
26؍اگست1934ء کو کارکن جمعیت علمائے ہند مولانا فضل الرحمان صاحب کی قید فرنگ سے رہائی عمل میں آئی۔
6؍ستمبر1934ء کو آگرہ میں ہندو مسلم فسادات کے پیش نظر سمجھوتہ کرانے کی کوشش کی گئی۔
24؍ستمبر1934ء کو ایک استفتا کے جواب میں خواتین کی کونسلوں اور اسمبلیوں کی ممبری کی مشروط اجازت دی گئی۔
24؍ستمبر1934ء کو حاجی وجیہہ الدین صاحب کوووٹ دینے کی اپیل کی گئی۔
28؍ستمبر1934ء کو جمعیت علمائے ہند اور کانپوری جمعیت علما میں انظمام و اتحاد کااعلان شائع کیا گیا۔
13؍اکتوبر1934ء کو قاضی عبدالحمید صاحب کو ووٹ دینے کی اپیل کی گئی۔
13؍اکتوبر1934ء کو امارت شرعیہ بہار کے امیدواروں کو ووٹ دینے کی اپیل کی گئی۔
16؍اکتوبر1934ء کو مسٹر کریم الرضا خان صاحب کو ووٹ دینے کی اپیل کی گئی۔
30؍اکتوبر1934ء کومسلم لیگ کے امیدوار سر محمد یعقوب کی طرف سے جمعیت علما کے اکابرین پر الیکشن کی سرگرمیوں سے باز رہنے کے لیے پیسے لینے کا الزام لگایا گیا، جس کی حضرت مدنی نے تردید فرمائی۔
30؍اکتوبر1934ء کو حضرت مدنی نے اعلان کیا کہ مولوی کریم الرضا خاں صاحب کے خلاف ووٹ دینے والا گناہ گار ہے۔
2؍نومبر1934ء کو صوبہ سرحد میں منعقدایک عظیم الشان اجلاس میں شریعت بل کی پرزور حمایت کی گئی۔
5؍نومبر1934ء کو یونٹی بورڈ کے جملہ امیدواروں کو ووٹ دینے کی اپیل کی گئی۔
9؍نومبر1934ء کوشائع رپورٹ کے مطابق انگریزوں نے بھارت کو لوٹنے کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے دستیاب رپورٹ کے مطابق 9؍ نومبر 1934ء تک بیس کروڑ، اکیس لاکھ،چھپن ہزار،چھتیس( 202156036)روپے کا سونا لوٹ لیا۔
28؍نومبر1934ء اوراس کے بعد مرکزی اسمبلی کے انتخابی نتائج سامنے آئے، جس میں مسلم یونٹی بورڈ کے پانچ امیدواروں نے جیت حاصل کی۔
23؍نومبر1934ء کو جوائنٹ پارلیمنٹری کمیٹی کی رپورٹ شائع کی گئی،جس پر یکم دسمبر1934ء کو جمعیت علمائے ہند نے اپنا موقف پیش کرتے ہوئے ، اسے وہائٹ پیپر سے بدتر اور قرطاس ابیض سے زیادہ مضرت رساں قرار دیا ۔
3؍دسمبر1934ء کو مفتی محمد نعیم صاحب (جو جمعیت علمائے ہند کے ساتویں ڈکٹیٹر رہے تھے) نے حجاز مقدس روانہ ہوتے ہوئے، حصول آزادی کے لیے مسلمانوں کو اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا پیغام دیا۔
14؍دسمبر1934ء کو ملی رہنماؤں کی گرفتاری اور حکومت کی قادیانیت نوازی پرصدائے احتجاج بلند کیا گیا۔