25 Jan 2026

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: پندرھواں سال: 1933ء

 پندرھواں سال: 1933ء

محمد یاسین جہازی

  2؍جنوری1933ء کو اتحاد کانفرنس الٰہ آباد کی سب کمیٹی کے اجلاس منعقدہ کلکتہ کی آخری نشست میں ، بنگال کے مسئلہ پر کسی متحدہ فیصلہ پر نہ پہنچنے کی وجہ سے کانفرنس کی ناکامی کے آثار کے پیش نظر خطاب کرتے ہوئے مولانا آزاد ؒ نے فرمایا کہ اصول نہ ملیں، نہ سہی، مصلحت ہی مل جائے۔ اس وقت باہمی اتحاد ہی سب سے زیادہ ضروری چیز ہے۔

5؍جنوری1933ء کو شائع ایک خبر کے مطابق برطانوی  حکومتہند جمعیت علما کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھ رہی تھی۔ 

14؍جنوری1933ء کو مظلومین الور کی حمایت میں عظیم الشان جلسہ کیا گیا۔ 

18؍جنوری1933ء کو مولانا عطاء اللہ شاہ بخاری ؒ قید فرنگ سے آزاد کردیے گئے۔ 

21؍جنوری1933ء کو الور کے واقعات پر مدبرانہ تبصرہ کیا گیا۔ 

27؍جنوری1933ء کو منعقد ایک جلسے میںجمعیت علما کی خدمات کو سراہا گیا۔

3؍فروری1933ء کو گیارھویں ڈکٹیٹر مولانا عبداللہ صاحب کو پہلے گرفتار کیا گیا، پھر دہلی بدری کی نوٹس کی تعمیل کرائی گئی۔ 

10؍فروری 1933ء کو منعقد جمعیت علما کے ایک جلسہ میںموجودہ حکومت کی چیرہ دستیاں بیان کی گئیں۔ 

11؍فروری1933ء کو اسمبلی میں صدر جمعیت علما کی رہائی کا مطالبہ کیاگیا۔

21؍فروری1933ء کو مولانا حبیب الرحمان صاحب لدھیانوی کو ایک نوٹس کے ساتھ رہا کیا گیا۔ 

24؍فروری1933ء کو منعقد ایک جلسے میں غلام اور آزاد قوم کا نفسیاتی فلسفہ بیان کیا گیا۔  

3؍مارچ1933ء کو حکومت پنجاب کی قادیانیت نوازی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا گیا۔

3؍مارچ1933ء کو سر دفتر جناب شفیع صاحب کو دہلی چھوڑنے کا نوٹس دیا گیا۔ 

6؍مارچ1933ء کو آٹھویں ڈکٹیٹر مولانا اسماعیل صاحب کو رہا کیا گیا۔ 

10؍مارچ1933ء کو علمائے پنجاب کی گرفتاریوں پر احتجاج کیا گیا۔ 

11؍مارچ1933ء کو حضرت ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند مولانا احمد سعید صاحب قید فرنگ سے رہا کیے گئے۔ 

17؍مارچ1933ء کو جمعیت کے زیر اہتمام منعقد ایک جلسے میں حضرت شیخ سنوسی کے انتقال پر اظہار تعزیت، فتنۂ قادیانیت کے سد باب کی تدابیر پرتجاویز کی منظوری کے علاوہ ناظم عمومی صاحب کا خصوصی خطاب ہوا۔

24؍مارچ1933ء کو حضرت ناظم عمومی صاحب نے 17؍مارچ 1933ء کو شائع قرطاس ابیض پر اپنی رائے پیش کرتے ہوئے اسے پھاڑ کر پھینک دینے کا مشورہ دیا۔ 

24؍مارچ1933ء  کو حضرت ناظم عمومی صاحب کو جیل سے رہائی پر ایک اعزازیہ استقبالیہ دیا گیا۔

 7؍اپریل1933ء کو مولانا برکت اللہ صاحب کو دہلی بدری کا نوٹس دیا گیا۔ 

14 ؍اپریل کو حضرت علامہ سید سلیمان ندوی صاحب کو عصرانہ دیا گیا۔ 

18؍اپریل1933ء کو دسویں ڈکٹیٹر مولانا عبداللہ صاحب بٹالوی رہا کیے گئے۔ 

19؍اپریل 1933ء کو مولانا فضل الرحمان کٹکی کی رہائی کے لیے مکتوب لکھا گیا۔

28؍اپریل1933ء کو بارھویں ڈکٹیٹر مولانا عبدالحق صاحب نے باطل شکن تقریر فرمائی۔

6؍مئی1933ء کو ڈکٹیٹر اول حضرت العلامہ مفتی اعظم مفتی محمد کفایت اللہ صاحب صدر جمعیت علمائے ہند قید فرنگ سے آزاد کیے گئے۔ 

8؍مئی1933ء کو گاندھی جی کے ایک مہینہ تک سول نافرمانی تحریک کے التوا کو حکومت کی صلح پسندی کا امتحان قرار دیا گیا۔

13؍مئی1933ء کو مفتی اعظم نے پہلی بار خطاب فرمایا۔ 

13؍مئی1933ء کو مولانا صغیر احمد کارکن جمعیت علمائے ہند کی رہائی عمل میں آئی۔ 

23؍مئی 1933ء کو بارھویں ڈکٹیٹر نے ایک اور خطاب فرمایا۔ 

27؍مئی1933ء کو تجویز التوائے حج کے خلاف لائحۂ عمل طے کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ 

31؍مئی1933ء کو خاتم المحدثین حضرت علامہ انور شاہ صاحب کے انتقال پر تعزیتی اجلاس منعقد کیا گیا۔ 

4؍جون1933ء کو ایک مسلم سیاسی قیدی کے مقاطعۂ جوعی کے استفتا کا جواب دیا گیا۔ 

4؍جون1933ء کو انگریزی حکومت کی طرف سے ریزیڈینسی بازار کی واپسی پر مبارک بادپیش کی گئی۔

16؍جون1933ء کو مولانا سلطان احمد کو نوٹس دینے پر دہلی حکومت کی غیر ذمہ دارانہ حرکت قرار دی گئی۔

20؍جون1933ء کو گاندھی جی کے برت پر قرآن کریم کی تلاوت کے ایک استفتاکا جواب دیا گیا۔ 

21؍جون1933ء کو مولانا حسین احمدمدنی صاحب کو دہلی بدری کا نوٹس دیا گیا۔ 

22؍جون1933ء کو فلسطین کے ایک مؤقر وفد کا استقبال کیا گیا۔ 

24؍جون1933ء کو مولانا حبیب الرحمان صاحب لدھیانوی کو نوٹس دیا گیا۔ 

25؍جون1933ء کو فلسطینی وفد اور اکابرین جمعیت میں خصوصی ملاقات ہوئی۔ 

10؍اگست1933ء کو منعقد ایک عوامی اجلاس میں حج بل کی مخالفت کرتے ہوئے مولانا غزنوی پر حج کی بندش کی مذمت کی گئی اور حکومت کی طرف سے حج انکوائری کمیٹی کی خفیہ رپورٹ پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔

19،20اور 21؍اگست 1933ء کو مرادآباد میں منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں محدث عصر حضرت مولانا علامہ انور شاہ صاحب اور انقلابی لیڈر مسٹر سین گپتا کے انتقال پر رنج وغم کا اظہار کرتے ہوئے کئی اہم فیصلے لیے گئے۔ مجلس حربی ،یا دائرۂ حربیہ کے نظام کے سلسلہ وار بارھویں ڈکٹیٹر مولانا عبد الحق صاحب کے بعد،مجلس حربی کی سرگرمیوں کو ملتوی کردیا اور حالات کے مطابق حکمت عملی طے کرنے کے لیے ایک کمیٹی بنا دی گئی۔ ہر سہ مسودات حج کی مخالفت کرتے ہوئے مولانا غزنوی صاحب کو حج سے روکے جانے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کیا۔اور حج کے سلسلہ میں خفیہ رپورٹ کی شدید مذمت کی۔فرقہ وارانہ مسائل پر سمجھوتہ نہ ہونے سے افسوس ظاہر کیا، جو آزادی وطن میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ سرحد کے آزاد قبائل پر بم باری کی مذمت کی اور قرطاس ابیض میں گورنروں کے بے شمار اختیارات دینے کی وجہ سے اسے مطلق العنان دستور قرار دیا۔ 

ایک تجویز میں پست اقوام سے سمجھوتہ پر حکومت کی طرف سے مصالحت پر توجہ نہ دینے کو حکومت کی بے حسی قرار دیا۔اسی طرح وائٹ پیپر اور پارلیمنٹری کمیٹی کی کارروائی سے اظہار بیزاری کیا گیا۔ ساتھ ہی گاندھی جی سے ملاقات نہ کرنے پر وائسرائے کے رویے کی مذمت کی گئی۔ 

4؍ستمبر1933ء کے ایک اجلاس میں سرحد کے آزاد قبائل پر بم باری کی مذمت کی گئی۔ اور حجاج کے متعلق مسودۂ قانون کی مخالفت کی گئی۔ 

4؍ ستمبر 1933ء کو افغانستان قونصل جنرل کا مکتوب موصول ہوا، جس کے جواب میں خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کیا گیا۔

پورے سال کے دوران مختلف تاریخوں میں کارکنان جمعیت علمائے ہند گرفتار کیے جاتے رہے اور رہا بھی ہوتے رہے۔

آواخر چھ مہینے کے الجمعیۃ کی فائلیں نہ ملنے کی وجہ سے مزیدکوئی کارروائی دستیاب نہیں ہوسکی۔