25 Jan 2026

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: اٹھارھواں سال: 1936ء

 اٹھارھواں سال: 1936ء

محمد یاسین جہازی

17؍جنوری1936ء کو انڈیا بل 1935ء کو مسترد کرتے ہوئے دہلی میںحق رائے دہندگی کے معیار میںوسعت لانے کامطالبہ کیا گیا، تاکہ غریب لوگ بھی ووٹ دینے کے اہل بن سکیں۔ 

شرعی عدالتیں نہ ہونے کی وجہ سے مسلم عورتیں ظالم شوہروں سے انفساخ نکاح نہیں کراپاتی تھیں، جمعیت نے اس ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے قانون انفساخ نکاح کا مسودہ تیار کیا اوریکم و 2؍فروری 1936ء کو منعقد مجلس مشاورت کے اجلاس میںمسودۂ قانون انفساخ نکاح میں ترمیم کی گئی۔

3؍فروری1936ء کو منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میںترمیم شدہ مسودۂ قانون فسخ نکاح کی منظوری دی گئی

اسی اجلاس میں حکومت سعودیہ اور انگلش کمپنی کے درمیان حجاز میں کان کنی کے معاہدے کو جزیرۃ العرب میں استعماری طاقتوں کی مداخلت کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے حکومت سعودیہ سے اپیل کہ وہ جزیرۃ العرب کو غیر مسلم اقتدار سے مکمل طور پر محفوظ رکھیں۔ 

اس کے علاوہ کئی ایک تجاویز میں درگاہ اجمیر شریف بل کی بعض دفعات وقف کے اسلامی احکام کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناقابل قبول قرار دیا ۔ مصر کی آزادی پر مصری باشندگان کو مبارک باد پیش کی ۔ حرمین شریفین کے اخراجات کی تکمیل کے لیے پوری دنیا کے مسلمانوں سے عموما اور مصری باشندگان سے خصوصا تعاون کی اپیل کی۔

20؍فروری1936ء کو شرعی وجوہات کی بنا پر الجمعیۃ کو غیر مصور شائع کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔

10؍مارچ 1936ء کو جمعیت درگاہ بل پر غور کرنے کے لیے سب کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں اس بل کو موجودہ صورت میں ناقابل قبول قرار دیا گیا۔ 

10؍مارچ 1936ء کو حضور نظام دکن کی دہلی آمد کے موقع پر صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا مفتی محمد کفایت اللہ صاحب اورناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب کو حضور کی طرف سے خاصہ عنایت کیا گیا۔ 

23؍مارچ1936ء کو صدر جمعیت علمائے ہند نے مسجد شہید گنج کے مقدمہ میں لاہور کی عدالت میں اس کی تاقیامت مسجد ہونے کی شہادت پیش کی۔ 

27-28-29؍مارچ1936ء کو دہلی میں جمعیت علمائے دہلی کا سالانہ اجلاس ہوا، جس میں مختلف قائدین کے پرمغز خطابات کے علاوہ کئی اہم تجاویز منظور کی گئیں۔

2؍اپریل1936ء کو مسلم یونٹی بورڈ کا اجلاس ہوا،جس میں طے ہوا کہ مسلم لیگ کے بجائے مسلم پارلیمنٹری بورڈ پر الیکشن لڑا جائے اور اس میں الیکشن کا مینو فیسٹو بھی شائع کیا گیا۔ 

26؍اپریل1936ء کو ناظم عمومی جمعیت علما نے بمبئی میں منعقد ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سرکاری مسلمانوں اور عالم نما جاہلوں سے بچنے کی تلقین فرمائی۔

26-27-28؍اپریل1936ء کومسٹر جناح کی دعوت پر مختلف اسلامی انجمنوں کے درمیان اتحاد پیدا کرنے کے لیے ایک اجتماع ہوا۔

21؍مئی1936ء کو مسلم پارلیمانی بورڈ کے نام زد اراکین کی فہرست شائع کی گئی۔

24؍مئی1936ء کو جمعیت علمائے ہند کی گزشتہ قومی و ملی خدمات کا ریکارڈ پیش کیا گیا۔ 

27؍مئی1936ء کو مسلم پارلیمنٹری بورڈ کے امیدواروں کی حمایت کا اعلان کیا گیا۔

یکم جون 1936ء کو   فلسطین میں برطانیہ کے ظالمانہ رویہ کی مذمت کی ۔

یکم جون1936ء کو اردو کے حوالے سے گاندھی جی کے متعصابہ رویہ پر افسوس کا اظہار کیا گیا۔

یکم جون1936ء کو مسجد شہید گنج اور کاکو شاہ مزارکے غیر منصفانہ عدالتی فیصلہ پر صدائے احتجاج بلند کیا۔

9؍جون1936ء کوسہ روزہ الجمعیۃ کے چھ شمارے کی عدم اشاعت کا اعلان کیا گیا۔ 

10؍جون1936ء کو احرار یونٹی بورڈ اور جمعیت علمائے ہند کے مشترک اجلاس میں انتخابی بورڈ کے متعلق گفت وشنیدکی گئی۔

27؍ستمبر1936ء کوجمعیت کے اجلاس میں کمیونل ایوارڈ کے متعلق برادران وطن کے پروپیگنڈہ کی سخت مذمت کی گئی۔

27؍دسمبر1936ء کو مولانا احمد سعید صاحب نے نواب اسماعیل خاں کو ووٹ دینے کے لیے مختلف مقامات پرتقریریں کیں۔