25 Jan 2026

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: انیسواں سال: 1937ء

 انیسواں سال: 1937ء

محمد یاسین جہازی

یکم جنوری 1937ء : انتخابات میں جمعیت علمائے ہند نے مسلم لیگ کی پارلیمنٹری بورڈ کے اشتراک کے ساتھ سرگرم حصہ لیا۔ 

5؍جنوری 1937ء کوحکومت برطانیہ کی طرف سے سرحد کے آزاد قبائل پر بم باری کی  شدیدمذمت کی گئی۔

5؍جنوری 1937ء سے ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا احمد سعید صاحب نے بہار کے مختلف علاقوں کا دورہ کیا۔

5؍جنوری 1937ء کو صدر محکمۂ شرعیہ استانبول نے خط لکھ کر تحفظ فلسطین کے حوالے سے جمعیت علمائے ہند کی کوششوں پر تشکر کا اظہار کیا۔ 

8؍جنوری1937ء کو انتخابات میں حکومت پرستوں کی مخالفت کی ہدایت کی گئی۔

9؍جنوری1937ء کو مولانا ابوالمحاسن محمد سجاد صاحبؒنے مسلم انڈی پنڈنٹ پارٹی کے امیدواروں کوووٹ دلانے کے لیے دورے کیے۔

16؍جنوری1937ء کو جمعیت علما نے بہار کے مسلمانوں کے نام ایک پیغام جاری کرکے مسلم انڈی پنڈنٹ پارٹی کو ووٹ دینے کی اپیل کی۔ 

17؍جنوری1937ء کو میرٹھ مسلم لیگ پارلیمنٹری بورڈ کے اجلاس میں اکابرین جمعیت نے خطاب کرتے ہوئے مسلم لیگ کو ووٹ دینے کی اپیل کی۔ 

 18؍ جنوری1937ء کو علمائے مصر کی آمد پر ایک استقبالیہ پروگرام میں انھیں سپاس نامہ پیش کیاگیا۔

19؍جنوری1937ء کو ایک اجلاس میں امیدواران مسلم لیگ کی حمایت میں تقریریں کی گئیں۔

24؍جنوری1937ء کو موجودہ انتخابات میں جمعیت علمائے ہند نے اپنی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ کے امیدواروں کو ووٹ دیا جائے، یاپھر اس امید وار کوووٹ دیا جائے، جو سرکار پرست نہ ہو۔

7؍فروری1937ء کو ملک کی مختلف ریاستوں میں ناظم عمومی نے مسلم لیگ کی حمایت میں تقریریں کیں۔اسی طرح مولانا محمد حفظ الرحمان صاحب سیوہاروی نے بھی دورے کیے۔ 

13؍فروری1937ء کو بہار لیجس لیٹو اسمبلی کے نتائج میں بہارمسلم انڈی پنڈنٹ پارٹی نے نمایاں جیت درج کرائی۔ 

28؍فروری1937ء کو کانگریس اور مسلم لیگ کے مکمل نتائج سامنے آگئے۔

9؍مارچ1937ء کو مصری وفد کے استقبال پرجامع ازہر کی طرف سے شکریہ کا خط موصول ہوا۔ 

13؍مارچ1937ء کو انتخاب میں کانگریس کو بھاری کامیابی ملنے کے بعد بعض کانگریسی لیڈروں نے حکومت سازی کے لیے کسی بھی مسلم پارٹی سے تعاون نہ لینے کا بیان دیا، اس فکر کو قومی یک جہتی کے لیے سم قاتل قرار دیاگیا۔

17؍مارچ1937ء کو کانگریسی لیڈران کے بیانات کے خلاف گاندھی جی سے ملاقات کی گئی۔ 

24؍مارچ 1937ء کوایک اعلان جاری کرتے ہوئے اعلان کیا گیا کہ یکم اپریل کو اسی دن سے نافذ ہونے والا انڈیا ایکٹ1935ء  کی مخالفت میں یوم مخالفت آئین منایا جائے؛ کیوں کہ اس ایکٹ میں بھارتیوں کے وزیروں کو صرف مشورہ دینے کے اختیارات دیے گئے تھے۔

 چوں کہ انڈیا ایکٹ 1935ء میں کل اختیارات انگریز گورنروں کو دیے گئے تھے، اس لیے انتخاب میں بھاری کامیابی کے باوجود کانگریس نے وزارت قبول نہ کرنے کا فیصلہ لیا، گاندھی جی نے مشورہ دیا کہ گورنروں سے عدم مداخلت کی تحریر لینے کے بعد وزارت قبول کریں؛ اس کے برعکس جمعیت علما نے 24؍مارچ 1937ء کویہ فیصلہ کیا کہ بلا شرط وزارتیں قبول کی جائیں ، جسے بعد میں کانگریس نے بھی تسلیم کیا اور حکومت سازی کی۔ 

30؍مارچ1937ء کو حالات حاضرہ پر جمعیت کے اکابرین نے مشورے کیے۔

5؍اپریل1937ء کو پٹیالہ اور جے پور میں مسلمانوںپرہورہے مظالم کے خلاف مہاراجہ کو تار بھیج کر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔ 

11؍ اپریل 1937ء کو سیالو بہار میں ہوئے فرقہ وارانہ فسادات کی تحقیقات کی اور حکومت بہار سے اس کے خلاف ایکشن لینے کا مطالبہ کیاگیا۔

20؍اپریل1937ء کو قضیہ ٔ مدح صحابہ میں حضرت مدنی نے اپنی شہادت درج کرائی۔ 

21؍اپریل1937ء کو مولانا مفتی اعظم ہند اور مولانا عبدالشکور صاحب نے اپنی اپنی شہادتیں درج کرائیں۔ 

24؍اپریل1937ء کو دارالعلوم دیوبند کے مہتمم صاحب نے تمام مدارس اسلامیہ سے الجمعیۃ کے خریدار بننے کی اپیل کی۔

24؍اپریل1937ء کو گوشوارۂ آمدو صرف جمعیت علمائے ہند شائع کیا گیا۔ 

3-4-5؍مئی1937ء کو مجلس عاملہ کااجلاس ہوا، جس میں 31؍مارچ1937ء کو کانگریس کے صدر جواہر لال نہرو کا فیصلہ کہ ’’مسلمانوں کو بڑی تعداد میں کانگریس میں شامل کیا جائے‘‘پر طویل بحث و گفتگو کے بعد یہ فیصلہ لیاکہ مسلمانوں کو اجتماعی اور انفرادی طور پر مکمل آزادی کی حمایت کرنے والی پارٹی کانگریس میں شریک ہوکر جنگ آزادی میں اہم کردار ادا کرنا چاہیے۔ اس اجلاس میں گرانی کے سبب الجمعیۃ کے دو صفحات میں تخفیف، پانی پت کے مسلمانوں پر مظالم کے خلاف حکومت کو انتباہ اور رکن جمعیت مولانا نور الدین صاحب ؒ کے استعفی کو نامنظور کیا گیا۔علاوہ ازیں آزاد قبائل پربم باری کی مذمت،ہندو اخبارات کے رویے پر افسوس کا اظہار،فرقہ وارانہ فسادات کو روکنے کے لیے کانگریس سے اپیل پر تجاویز منظور کی گئیں۔

13؍مئی 1937ء کو الجمعیۃ کے صفحات میں تخفیف کا اعلان کیا گیا۔

14؍مئی1937ء کو ایک بیان جاری کرکے مسٹر نہرو اور مسٹر جناح کے درمیان تنازع پر جمعیت علما کا واضح موقف پیش کیا گیا۔ 

14؍مئی1937ء کو نائب ناظم جمعیت علمائے ہند مولانا نور الدین صاحب بہاری کو دہلی بدری کا نوٹس دے کر دہلی سے اخراج کردیا گیا۔ 

15؍مئی1937ء کو صدر اور ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند نے حکومت ہند سے مطالبہ کیا کہ وہ اس اخراج کو منسوخ کردے۔ 

17؍مئی1937ء کو الٰہ آباد نیشنلسٹ کانفرنس میں تمام مسلم جماعتوں نے متفقہ طور پر کانگریس میں شرکت کا فیصلہ کرتے ہوئے مسلم لیگ کی رکنیت سے استعفی دے دیا۔

20؍مئی1937ء:5؍ اپریل کو ایک میٹنگ میں فیصلہ کرنے کے بعد 26؍اپریل کو اکابرین جمعیت نے مسلم لیگ پارلیمنٹری بورڈ کی رکنیت قبول کی تھی؛ لیکن مسٹر جناح کی اسلام مخالف پالیسی، فرقہ وارانہ خطوط پر جداگانہ انتخاب کے مطالبہ اور مکمل آزادی کی حمایت نہ کرنے کی وجہ سے جمعیت سمیت دیگر مسلم پارٹیاں بھی مسلم لیگ سے علاحدہ ہوگئیں۔

9؍جون1937ء کو جمعیت کو مستحکم کرنے کی اپیل کی گئی۔

18؍جون1937ء کو مولاناحسین احمدمدنی صاحب کو دہلی بدری کا نوٹس دیا گیا۔

24؍جون1937ء کو ایک اعلان جاری کرکے مسلمانوں کو جنگ آزادی میں سرفروشانہ کردار ادا کرنے کی دعوت دی گئی۔ 

 20؍جولائی1937ء کو قاہرہ میںمقیم بھارتی مسلمانوں نے ایک مکتوب لکھ کر اپنی بیداری کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ کیا۔ 

30؍جولائی1937ء کو تقسیم فلسطین کی تجویز کے خلاف عظیم الشان احتجاجی اجلاس کیا گیا۔ 

یکم اگست1937ء کو صدرجمعیت علمائے ہند نے رائل کمیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے تقسیم فلسطین کے نظریے کی شدید مذمت کی۔ 

اسی تاریخ کو مفتی اعظم ہندنے شاتم رسول نامی کتاب میں اپنی تقریظ کی تردید کرتے ہوئے اس کی مذمت کی۔ 

8؍اگست1937ء کو منعقد مجلس عمل جمعیت فلسطین نے کئی اہم تجاویز منظور کیں۔ 

9؍اگست1937ء کو جلاوطن مجاہدین آزادی کی وطن واپسی کا مطالبہ کیا گیا۔ 

12؍اگست1937ء کو مسلم اقلیت کے متعلق کانگریس کی پالیسی واضح نہ ہونے کی وجہ سے مسلم لیگ اور کانگریس میں پیدا شدہ دوری کو ختم کرنے کے لیے ناظم جمعیت نے انتھک کوشش کی۔ 

16؍اگست1937ء کو ایک مکتوب لکھ کر یوپی کا وزیر اعلیٰ بننے پر جے بی پنت کو مبارک باد پیش کی گئی۔

17؍اگست1937ء کو سندھ کے اجلاس عام میں جمعیت نے کانگریس میں شرکت کا اعلان عام کیا۔

24؍اگست1937ء کو ایک بیان جاری کرکے رائل کمیشن کے خلاف 3؍ ستمبر 1937ء کو یوم فلسطین منانے کا اعلان جاری کیا گیا۔ 

28؍اگست1937ء کو ملک کی آزادی کی خاطر مسلمانوں سے کانگریس میں شرکت کی اپیل کی گئی۔ 

30؍اگست1937ء کو وزیر اعظم مدراس کو مکتوب لکھ کر گاؤ ذبیحہ سے متعلق مسودہ ٔ قانون کو اسمبلی میں پیش کرنے سے روکنے کی اپیل کی گئی۔

یکم ستمبر1937ء کو جمعیت علمائے صوبہ سرحد کے عہدے داران کے درمیان جاری تنازع کے تناظر میں مولانا نورالدین بہاری نے اعلان حق کرتے ہوئے کہا کہ شخصیت پرجماعت کو قربان نہیں کیاجاسکتا۔ 

3؍ستمبر1937ء کو فلسطین کی حمایت میں ملک گیر ہڑتال اور جلوس نکالے گئے۔

16؍ستمبر1937ء کو جمعیت علمائے سرحد کے تنازع کے معاملے میں ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند کو حکم مقرر کیا گیا۔

اسی تاریخ کو شائع ایک خبر کے مطابق نظام شریعت کے قیام کی کوشش کی گئی اور ساتھ ہی ملک کے مختلف مقامات پر جمعیت علما کی ذیلی اور مقامی شاخوں کا قیام عمل میں آیا۔ 

18؍ستمبر1937ء کومولانا نورالدین صاحب بہاری نے اپنی جلاوطنی کے سلسلے میں ہوم ممبرکی غلط بیانی کی تردید کی۔ 

18؍ستمبر1937ء کو دیوبند میں اکابرین جمعیت کا ایک اہم غیر رسمی مشاورتی میٹنگ منعقد ہوئی۔   

20؍ستمبر1937ء کو ایک مکتوب کے ذریعے جمعیت علما پر کیے جارہے کئی اعتراضات کے تسلی بخش جوابات دیے گئے۔

24؍ستمبر1937ء کو ذبیحہ گاؤ کے متعلق صدر ہندو مہاسبھاکو ایک مدلل مکتوب ارسال کیا گیا۔

27؍ستمبر1937ء کو مفتی محمد نعیم صاحب لدھیانوی کی گرفتاری کے خلاف وزیر اعظم پنجاب کو احتجاجی مکتوب ارسال کیاگیا۔ 

یکم اکتوبر1937ء کو علی گڑھ میںفرقہ وارانہ فساد کے اندیشے کے پیش نظر وزیر اعظم یوپی کو تار ارسال کیا گیا۔ 

دو سال کی مسلسل کوششوں کے بعد شریعت ایکٹ پاس کرانے میں کامیابی ملی تھی؛لیکن  مسٹر جناح کی شریعت ایکٹ پر عمل اختیاری، شریعت پر عمل کرنے کے لیے افسر کے سامنے اقرار اور صرف بلاوصیتی جائداد میں شرعی احکام لاگو ہونے جیسی ترمیمات کے ساتھ شریعت بل 16؍ستمبر1937ء کو منظور کرلیا گیا، جس پر یکم اکتوبر1937ء کو تبصرہ کرتے ہوئے جمعیت علما نے کہا کہ شریعت بل کے ساتھ مسٹر جناح اور اس کے رفقا نے جوغیر دانش مندانہ سلوک کیا ہے، اس نے بل کی روح کو سلب کرلیا ہے۔

 29؍تا 31؍اکتوبر1937ء کو میرٹھ میں آل انڈیا فلسطین کانفرنس میں ’’مجلس تحفظ فلسطین‘‘ تشکیل دی گئی، اور مقاطعات ثلاثہ کو جاری رکھنے کا اعلان کیا گیا۔

31؍اکتوبر1937ء کوایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے حضرت ناظم عمومی صاحب نے مسٹر جناح کی وعدہ فراموشی کو مسلم لیگ سے علاحدگی کا سبب بتایا۔

14؍نومبر1937ء کو جلاوطنی کی مدت گذارکرمولانا نور الدین صاحب بہاری دہلی تشریف لائے۔

21؍نومبر1937ء کو روزنامہ وحدت میں مفتی اعظم ہند پر مالی معاملات پر لگائے گئے الزامات کی خود صاحب معاملہ کے وارث نے سخت تردیدکی۔ 

5؍دسمبر1937ء کو مولانا عبدالحامد صاحب کے استعفے پر ان کی طرف سے کیے گئے جملہ اعتراضات کے جوابات پیش کیے گئے۔ 

14؍دسمبر1937ء کو مرادآباد میں ہوئے ضمنی الیکشن میں رکن عاملہ جمعیت علمائے ہند مولانا بشیر احمد صاحب شکست کھا گئے۔   

18؍دسمبر1937ء کو کانگریس میں مسلمانوں کی باوقار شرکت کے لیے ناظم عمومی نے پنڈت جواہر لال نہرو اور وزیر اعظم یوپی سے ملاقات کی۔

30؍دسمبر1937ء کو دیوبندمیںحالات حاضرہ پر اراکین جمعیت کی ایک غیر رسمی میٹنگ میں کئی فیصلے لیے گئے۔ 

31؍دسمبر1937ء کو گوجرنوالہ کے اخباری نمائندے کے سوالات میں مسلم لیگ میں شرکت اور اس سے علاحدگی پر تسلی بخش جوابات دیے گئے۔