25 Jan 2026

جمعیت علمائے ہند: قدم بہ قدم: بیسواں سال: 1938ء

 بیسواں سال: 1938ء

محمد یاسین جہازی

یکم جنوری 1938ء کوضلع بلیا کے ددری میں مسلمانوں پر مظالم کے خلاف یوپی کے وزیر اعظم کو خط لکھ کر انصاف دلانے کا مطالبہ کیاگیا۔

7؍ جنوری1938ء  کو دہلی میں شیخ الاسلام حضرت مولانا حسین احمد مدنیؒ صاحب نے اپنی تقریرمیں کہا کہ ’’قومیں اوطان سے بنتی ہیں، نسل یا مذہب سے نہیں‘‘۔ اس جملے سے مولانا مدنی کا مقصد موجودہ دور میں قوم کی تشکیل وطن سے ہونے کے حوالے سے محض خبر،یعنی بیان واقعہ تھا، انشا نہیں تھا، یعنی مسلمانوں کو ایسا کرنے کا مشورہ دینا مقصود نہیں تھا؛ لیکن اس اجلاس کی غلط رپورٹنگ کی وجہ سے علامہ اقبال نے انشا سمجھ لیا، جس کی وجہ سے انھوں نے ایک قطعہ میں مولانا مدنی کی مخالفت کی۔ علامہ طالوت کے ذریعہ سے خط وکتابت میں مولانا مدنی کی طرف سے اس جملے کی خبر کی وضاحت کے بعد علامہ اقبال نے اپنی بات سے رجوع کرلیا۔

9؍جنوری1938ء کو واردھا تعلیمی اسکیم کو مرتب میں کرنے میں کسی مسلم ممبر کو شامل نہ کرنے پر حکومت اڑیسہ کو تار بھیج کر توجہ مبذول کرائی گئی۔ 

9؍جنوری1938ء کو صدر مسلم لیگ مسٹر جناح کو ایک تار بھیج کر یہ مشورہ دیا گیا کہ 3؍جنوری1938ء کو منعقد کانگریس کے اجلاس میں ہندو مسلم سمجھوتہ کے لیے مسٹر جناح کو مصالحت کی دعوت فیصلے کے تناظر میں بہتر ہے کہ پہلے مسلم کنونشن کرلیا جائے؛ لیکن صدر لیگ نے اس مشورہ کو ٹھکرا دیا ؛ اس کے باوجود ہندستان کی مکمل آزادی ، فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور مسلم حقوق کے تحفظ کے لیے مسلم لیگ اور کانگریس میں مصالحت کرانے کی کئی کوششیں کیں؛ لیکن لیگ کے بے جا مطالبات کی وجہ سے ساری کوششیں رائیگاں ہوگئیں۔ 

وندے ماترم گیت پر پیدا تنازع کے بعد سبھی مذاہب کے لیے یکساں طور پر قابل قبول دعا، یا گیت کی تخلیق، یا تلاش کے لیے مدراس میں ایک کمیٹی بنائی گئی، تو9؍جنوری 1938ء کو جمعیت علمانے وزیر اعظم مدراس کو ایک مکتوب لکھ کر اسلامی نقطۂ نظر کی وضاحت کی اور اس کی رعایت کرنے کی اپیل کی۔ 

25؍جنوری1938ء کو مسجد شہید گنج کی اپیل خارج ہونے پر صدر جمعیت علمائے ہند حضرت مولانا مفتی محمدکفایت اللہ صاحب نے اپنے بیان کے ذریعہ اس کی مخالفت کی۔

9؍ مارچ1938ء  کو سہلٹ میں تقریر کرتے ہوئے شیخ الاسلامؒ نے کہا کہ آزادی ہندستان کی اولین ضرورت ہے۔

20؍اپریل1938ء کو صوبہ بہار کے زرعی ٹیکس سے اسلامی اوقاف کومستثنیٰ کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔چنانچہ حکومت بہار نے اس مطالبے کو منظور کرلیا۔ 

21؍اپریل1938ء کو ابوالمحاسن حضرت مولانا محمدسجاد صاحب نے انڈیا ایکٹ 1935ء کی مخالفت کرتے ہوئے اسے کسانوں کے لیے بھی تباہ کن بتایا۔ 

21؍اپریل1938ء کو علامہ اقبال کا انتقال ہوگیا۔23؍اپریل1938ء کو علامہ کے لیے تعزیتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔ 

25؍اپریل1938ء سے حضرت مولانا احمد سعید صاحب ناظم عمومی جمعیت علمائے ہند اور مولانا حبیب الرحمان صاحب لدھیانوی صدر مجلس احرار اسلام ہند کے درمیان حالات حاضرہ پر خط و کتابت ہوئی۔ 

یکم مئی 1938ء کو ریشمی رومال تحریک سے وابستہ مجاہد آزادی مولانا منصور انصاری کو وطن واپس لانے کی کوشش کی گئی۔

4؍مئی1938ء کو رکن عاملہ جمعیت علمائے ہند مفتی محمدنعیم لدھیانوی کو قید سے رہائی ملی۔

9؍مئی1938ء کو بہار میں اسلامی اوقاف کو زرعی انکم ٹیکس سے مستثنیٰ کرنے والے قانون کے خلاف اظہار خیال کرنے پر ایڈوکیٹ جنرل کی مذمت کی گئی۔

9؍مئی 1938ء کو ایک اعلان کے ذریعہ ماتحت جمعیتوں کے قیام اور الحاق کی ضرورت بتائی گئی۔

12؍مئی1938ء کو لکھنو میں شیعہ سنی تنازع کے پیش نظر شیخ الاسلام نے سنیوں سے سول نافرمانی ترک کرنے کی اپیل کی۔ 

28؍مئی1938ء کو جمعیت علمائے ہند کے تعاون کی اپیل کی گئی۔ 

29؍مئی1938ء کو مرکزی ذمہ داران کی زیر نگرانی جمعیت علمائے بہار کے عظیم الشان اجلاس میں اہم اہم تجاویز منظور کی گئیں۔ 

24؍جون1938ء کو ناظم عمومی صاحب نے 25؍اپریل1938ء کو کلکتہ میں منعقد ایک اجلاس میں ملاؤں کے خاتمہ کے صدر مسلم لیگ کے بیان پر علمی گرفت فرمائی۔

5؍جولائی1938ء کو ایک بیان میںمولانا حفظ الرحمان صاحب نے کہا کہ فلسطین میں برطانوی مظالم کو برداشت نہیں کیا جاسکتا۔

یکم اگست1938ء کو مجلس تحفظ فلسطین کے اجلاس میں سول نافرمانی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔    

3؍ اگست1938ء  کو دہلی میں منعقد مجلس عاملہ کے اجلاس میں فلسطین پر برطانوی مظالم کی مذمت، سرحد کے آزاد قبائل پر بم باری کی مذمت، بنو کے ڈاکے پر حکومت سے صحیح صورت حال بیان کرنے کا مطالبہ، واردھا تعلیمی اسکیم پر غور کرنے کے لیے سب کمیٹی کی تشکیل، سالانہ اجلاس کی دعوت کی منظوری،مسئلۂ فلسطین کو لے کر قاہرہ میں منعقد عالمی کانفرنس میں شرکت کی منظوری،تنظیم امت اسلامیہ کی ضرورت، مشترک تعلیم گاہوں کا نام ’’ودیا مندر‘‘ رکھنے کی مخالفت اور حکومت یوپی سے مدح صحابہ کا قضیہ حل کرنے کے مطالبہ پر مبنی تجاویز منظور کی گئیں۔

8؍اگست1938ء کو بھاگلپور میںہوئے فرقہ وارانہ فسادات کی مذمت کی گئی اور وزیر اعظم صوبہ بہار کو تار بھیج کر قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

13؍اگست1938ء کو برما میں بھڑکے فرقہ وارانہ فسادات پر تار بھیج کر وائسرائے ہند سے قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا گیا۔

17؍اگست1938ء کو مجلس تحفظ فلسطین کے اجلاس میں اپیل کی گئی کہ مسلمان مجوزہ سول نافرمانی کی تحریک میں جوش و جذبے کے ساتھ شرکت کریں۔

20؍اگست1938ء کو مظلومین فلسطین کی امداد دینے والوں کی فہرست شائع کی گئی اور اہل خیر سے مزید تعاون کی اپیل کی گئی۔

20؍اگست1938ء کو مسٹر جناح کی طرف سے جمعیت علما کے اکابرین کے خلاف دروغ گوئی پر ’’مسٹرجناح کا پراسرار معمہ اوراس کا حل‘‘ کے عنوان سے وضاحت پیش کی گئی۔ 

21؍اگست1938ء کو فوجی بھرتی بل کی مخالفت کرتے ہوئے اسے تحریک فلسطین کی تباہی کا موجب بتایا گیا۔

25؍اگست1938ء کو مجلس تحفظ فلسطین کا ایک اور اجلاس کیا گیا۔

فوجی بھرتی بل(آرمی بل) 23؍اگست1938ء کو اسمبلی میں منظور کرلیا گیا۔ اس کی حمایت کرنے والے ممبر اسمبلی مولانا ظفرعلی خاں کوایک مکتوب لکھ کر بل کے خطرناک نتائج سے آگاہ کیا گیا۔

28؍اگست1938ء کو آرمی بل کے متعلق چیف وہپ کانگریس کومکتوب لکھا گیا۔

یکم ستمبر1938ء کو جمعیت علمائے ہند نے عوام سے فوجی بھرتی بل کی مخالفت کرنے کی اپیل کی۔ 

8؍ستمبر1938ء کو جمعیت علمائے ہند پر اعتراضات پر مبنی مولانا شوکت علی صاحب کے خط پر علمی و تحقیقی تبصرہ کیا گیا۔

20؍ستمبر1938ء کو صدر مجلس تحفظ فلسطین نے فلسطین کے حق میں سول نافرمانی کی تحریک چلانے کے لیے تعاون کی اپیل کی۔ 

20؍ستمبر1938ء کو قضیۂ ملکہ باغ مفروضہ مندر پر حقیقت افروز بیان دیا گیا۔

24؍ستمبر1938ء کو کانگریس کے اجلاس میں مولانا حفظ الرحمان صاحب نے جمعیت علمائے ہند کے نظریات کی وضاحت کی اور انھیں منظور کرانے کے لیے جدوجہد جاری رکھی۔

 5؍اکتوبر1938ء کو فلسطین کے ناگفتہ بہ حالات کے پیش نظر مسلمانوں سے اپیل کی گئی کہ وہ فلسطین کانفرنس کے فیصلوں پر عمل کریں۔ چنانچہ پورے بھارت میں فلسطین کمیٹیاں قائم کی گئیں۔

 7؍تا 11؍ اکتوبر 1938ء کو قاہرہ میں منعقد عالمی کانفرنس میں مفتی اعظم کی قیادت میں جمعیت کے ایک وفد نے شرکت کی ۔ مؤتمر کی مایوس کن کارکردگی کے باوجودجمعیت نے از 7؍ تا 15؍ نومبر1938ء  ہفتۂ فلسطین مناکر فلسطین کے حق میں پوری قوت کے ساتھ آواز اٹھائی۔

یکم نومبر1938ء کو مدارس اسلامیہ کے طلبہ کے اندر سیاسی و معاشی شعور پیدا کرنے کے لیے ایک فارمولا پیش کیا گیا۔

5؍نومبر1938ء کو جمعیت علما کی سابقہ کارکردگیوں کے پیش نظر تعاون کی اپیل کی گئی۔

29؍نومبر1938ء کو مولانا شوکت علی مرحوم کے لیے ایصال ثواب کا اہتمام کیا گیا۔

5؍دسمبر1938ء کو ریشمی رومال تحریک کی پاداش میںجلاوطنی کی زندگی گذار رہے مولانا عبیداللہ سندھی کی وطن واپسی کی خوش خبری سنائی گئی۔

21؍دسمبر1938ء کو مجلس تحفظ فلسطین کے اجلاس میںمقاطعۂ ثلاثہ جاری رکھنے اور سول نافرمانی کو شروع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

27؍دسمبر1938ء کومولانا ابوالمحاسن نے صدر مسلم لیگ کو مکتوب لکھ کر عمل کی دعوت پیش کی۔

امسال جمعیت علمائے ہند کے لیے انتخابی سال کی وجہ سے مختلف مقامات پر ضلعی و صوبائی یونٹوں کا انتخاب اور جدید یونٹوں کی تشکیل عمل میں آئی۔